Fatawa Razaviah Volume 24 in Typed Format

#3697 · پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحیم ط

پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا۔اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا تیرہ۱۳ سال کے مختصر عرصہ میں چوبیسویں۲۴ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتا ب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتا ب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتا ب الوکالۃ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المغاربہ کتاب الامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتا ب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب کتاب الشفعۃ کتاب القسمۃ کتاب المزارعہ کتا ب الصید کتا ب الذبائح کتاب الاضحیہ اور کتاب الحظروالاباحۃ کے حصہ اول ودوم وسوم پرمشتمل تئیس۲۳ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین اشاعت مشمولات مجمودی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
#3698 · پیش لفظ
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
#3699 · پیش لفظ
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضا فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب زید مجدہ اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسارکے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ شائع ہونے والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائے عام طو پر فقہ وفتاوی رضویہ کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحضر والاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پر ہوا لھذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرواباحت کی اشاعت کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کو انتہا قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
یاد ررہے کہ فتاوی رضویہ قدیم جلد میں کتاب الحظروالاباحۃ کے عنوان پر مشتمل جلد جس کی مکتبہ رضا ایوان عرفان بیسلپور نے جلد دہم اور رضا اکیڈمی بمبئی نے جلد نہم کے شائع کیا ہے وہ غیر مرتب اور غیر مبوب ہے اس میں شامل بعض رسائل کی ابتداء وانتہا ممتاز نہیں کچھ رسائل بے نام شامل ہیں جبکہ بعض رسالوں کے مندرجات یکجا ہونےکی بجائےمتفرق منتشر طو رپر مذکور ہیں اس جلد میں شامل دونوں حصوں کے عنوانات ومسائل ایك جیسے ہونے کے باوجود دونوں کی فہرست یکجا نہیں کی گئی۔ لہذا اس کی ترتیب وتبویب خاصا مشکل اور وقت طلب معاملہ تھا۔ راقم نے متوکلا علی اﷲ اس پر کام شروع کیا تو اللہ تعالی کے فضل و کرم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نظر عنایت اور اعلحضرت علیہ الرحمۃ کے روحانی تصرف وکرامت کے صدقے میں توقع سے بھی
#3700 · پیش لفظ
کم وقت میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ الحمدﷲ علی ذلک۔
کتا ب الحظروالاباحۃ کی ترتیب جدید میں ہم نے جن امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱)حظرواباحت سے متعلق فتاوی رضویہ قدیم کے دونوں مطبوعہ حصوں کی (استفتاء میں مذکور)مسائل کے اعتبار سے یکجا تبویب کردی ہے۔
(ب)ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق مسائل مذکور ہونے کی صورت میں ہر مسئلہ کو مستفتی کے نام سمیت متعلقہ باب کے تحت درج کیا ہے۔
(ج)فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل مسائل کو ان کے عنوانات کے مطاب متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د) رسائل کی ابتداء وانتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(ھ)بے نام رسائل کے ناموں کو ظاہر کیا ہے۔
(و)جن رسائل کے مندرجہات ومشمولات یکجا نہ تھے ان کو اکٹھا کردیا ہے۔
(ز)حظرواباحت سے متعلقہ بعض رسائل اعلحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کو بھی مناسب جگہ پر شامل اشاعت کردیا ہے۔
(ح)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب سابق ترتیب سے مختلف ہوگئی لہذا پوری کتاب کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے تیار کرنا پڑی۔
(ط)جلد ہذا میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست مرتب کی گئی۔
(ی)اعلحضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ بعض مقامات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے تبحر علمی کے پیش نظر ایسے مسائل بھی زیر بحث لے آتے ہیں جو متعلقہ ابواب میں سے کسی کے تحت مندرج نہیں ہوسکے ایسے مسائل کے لئے مفصل فہرست کے بعد ہم نے ضمنی مسائل کے عنوان سے الگ فہرست مرتب کی ہے۔
کتاب الحظروالاباحۃ کے مترجم
سوائے ان رسائل کے جن کو اب فتاوی میں نئے سرے سے شامل کیا گیا ہے پوری "کتاب الحظروالاباحۃ" کی عربی اور فارسی عبارات کا مکمل ترجمہ جامع منقول و معقول فاضل جلیل محقق شہیر مصنف کتب کثیرہ فخر الدرسین حضرت مولانا علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کیا ہے جو استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا محمد عبدالسبحان بن مولانا مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث (کھلا بٹ ہزارہ) کے
#3701 · پیش لفظ
صاحبزادے اور استاذالاساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد خلیل صاحب محدث ہزاروی کے نواسے ہیں آپ نے تمام درسیات اپنے والد گرامی سے پڑھیں فارغ التحصیل ہوتے ہی در س وتدریس سے وابستہ ہوگئے اورسالہا سال آپ نے اہلسنت کے معروف ادارے جامعہ رحمانیہ ہری پور میں بطور شیخ الحدیث تدریسی فرائض سرانجام دئے آپ کے آباء وجداد نے ڈنکے کی چوٹ پر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ سرا نجام دیا چنانچہ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی محمد عبد السبحان صاحب اور برادر اکبر حضرت مولانا قاضی غلام محمود صاحب رحمۃاللہ تعالی علیہما کی متعد درسی وغیر درسی تصانیف ارباب علم میں معروف ہیں۔ مناظرہ و ردبدمذہبیاں خصوصا رد وہابیہ میں ان بزرگوں کی خدمات کو اہل سنت وجماعت میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔
چوبیسویں جلد
یہ جلد "کتاب الحظروالاباحۃ" کا چوتھا حصہ ہے جو ۲۸۴ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طورپر ۷۲۰ صفحات پرمشتمل ہے اس جلد میں بنیادی طور پر جن ابواب کو زیربحث لایاگیاہے وہ یہ ہیں:
لہو ولعب امربالمعروف ونہی عن المنکر بیماری وعلاج صحبت وموالات محبت وعداوت جھوٹ وغیبت وبدعہدی ظلم وایذا ہجران وقطع تعلق دعوی قضاء شہادت حسن سلوک حقوق العباد سوگ ونوحہ وجزع وفزع تعزیہ داری تشبہ بالغیر حقہ وپان تصویر جانوروں کی پرورش نام رکھنا خط وکتابت اور سیاسیات۔
دیگر کئی ایك ابواب سے متعلق مسائل کثیرہ پرضمنا گفتگو واقع ہوئی لہذا راقم الحروف نے مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لئے تیارکردی ہے نیز اس جلد میں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگرکہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا مندرج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ باب کی فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل نو ۹ رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں
(۱) الحق المجتلی فی حکم المبتلی (۱۳۲۴ھ)
جذامی کے پاس اٹھنے بیٹھنے اور اس کی خدمت گزاری وتیمارداری کے باعث ثواب ہونے کا بیان۔
(۲) تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (۱۳۲۵ھ)
جہاں طاعون کامرض پیداہوجائے وہاں کے باشندوں سے متعلق حکم شرعی۔
#3702 · پیش لفظ
(۳) مشعلۃ الارشاد الی حقوق الاولاد (۱۳۱۰ھ)
والدین پراولاد کے حقوق کا بیان ۔
(۴) اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد (۱۳۱۰ھ)
حقوق العباد کی تعریف اور ان کی اہمیت کابیان اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے۔
(۵) العطایا القدیر فی حکم التصویر(۱۳۳۱ھ)
بزرگوں کی تصاویر بطورتبرک گھرمیں رکھنے کا حکم شرعی۔
(۶) مسائل سماع (۱۳۲۰ھ)
متصوفہ زمانہ کی مجلس سماع وسرورکاشرعی حکم جس میں راگ ورقص ومزامیر اور معازف ہرقسم کے ہوتے ہیں۔
(۷) الحقوق لطرح العقوق (۱۳۰۷ھ)
والدین زوجین اور اساتذہ کے حقوق کی تفصیل اور ان کی ادائیگی کے طریقے۔
(۸) اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھند وبیان الشھادۃ (۱۳۲۱ھ)
تعزیہ کی حرمت سربازارلنگرلٹانے کی ممانعت اور اہل تشیع کی مجالس مرثیہ کے حکم شرعی کابیان۔
(۹) النور والضیاء فی احکام بعض الاسماء (۱۳۲۰ھ)
اچھے اور برے ناموں کے احکام کابیان۔
ان میں سے مقدم الذکر پانچ رسالے پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل تھے ۔ جبکہ باقی رسائل اب شامل کئے گئے ہیں۔
ذوالحجہ ۱۴۲۳ھ حافظ محمدعبدالستار سعیدی
فروری ۲۰۰۳ء نا ظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#3703 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
لہو و لعب
کھیلتماشہمیلہمزاحناچگاناقوالیمزامیرراگسماعموسیقی وغیرہ سےمتعلق

مسئلہ۱: ازفیروزپورہ ربیع الاول۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ میں کہ گنجفہچوسرشطرنج کھیلناکیساہےاوران میں کچھ فرق ہے یاسب ایك سے ہیں اور گناہ صغیرہ ہیں یاکبیرہ یاعبث اورفعل عبث کاکیا حکم ہےبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
یہ سب کھیل ممنوع اورناجائزہیں اوران میں چوسراورگنجفہ بدترہیںگنجفہ میں تصاویر ہیں اورانھیں عظمت کے ساتھ رکھتے اوروقعت وعزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یہ امر اس کے سخت گناہ کاموجب ہے۔اورچوسرکی نسبت حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
من لعب بالنردشیرفکانماصبغ یدہ فی لحم خنزیر و دمہ ۔رواہ مسلم۔ جس نے چوسر کھیلی اس نے گویااپناہاتھ سورکے گوشت خون میں رنگا۔(اسے مسلم نے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References & صحیح مسلم کتاب الشعر باب تحریم اللعب بالنردشیر €∞قدیمی کتب خانہ کراچی۲/ ۲۴۰€
#3704 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
دوسری حدیث صحیح فرمایا:
من لعب بالنردفقدعصی الله ورسولہ اخرجہ احمد وابوداود وابن ماجہ والحاکم عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ۔ جس نے چوسرکھیلی اس نے خدااوررسول کی نافرمانی کی (احمد ابوداودابن ماجہ اورحاکم نے اسے ابوموسی اشعری
رضی الله تعالےعنہ سے روایت کیا۔ت)
چوسر بالاجماع حرام وموجب فسق وردشہادت ہے فی ردالمحتارعن القہستانی النرد حرام مسقط للعدالۃ بالاجماع (فتاوی شامی میں قہستانی سے نقل کیاگیاہےکہ چوسرکھیلناحرام ہےاس سے بالاجماع عدالت ساقط ہوجاتی ہے۔ت)یہی حال گنجفہ کاسمجھناچاہئے لماذکرنا(اس وجہ سے جس کو ہم نے ذکرکیاہے۔ت)اورشطرنج کواگرچہ بعض علمانے بعض روایات میں چند شرطوں کےساتھ جائزبتایاہے:
(۱)بدکر نہ ہو۔
(۲)نادراکبھی کبھی ہوعادت نہ ڈالیں۔
(۳)اس کے سبب نماز باجماعت خواہ کسی واجب شرعی میں خلل نہ آئے۔
(۴)اس پرقسمیں نہ کھایا کریں۔
(۵)فحش نہ بکیں۔
مگر تحقیق یہ کہ مطلقامنع ہے اورحق یہ ہے کہ ان شرطوں کانباہ ہرگزنہیں ہوتاخصوصاشرط دوم وسوم کہ جب اس کاچسکاپڑجاتا ہے ضرورمداومت کرتے ہیں اورلااقل وقت نمازمیں تنگی یاجماعت میں غیرحاضری بیشك ہوتی ہے جیسا کہ تجربہ اس پر شاہد اور بالفرض ہزارمیں ایك آدھ آدمی ایسانکلے کہ ان شرائط کاپورالحاظ رکھے تونادر پرحکم نہیں ہوتا۔
وانماتبتنی الاحکام الفقھیۃعلی الغالب فلاینظرالی النادرولایحکم الابالمنع کماافادہ المحقق فی فقہی احکام غالب حالات پر مبنی ہوتے ہیں لہذانادرالوقوع پر نگاہ نہیں کی جاتی اس لئے ممانعت کافیصلہ ہی کیاجائے گاجیساکہ محقق ابن ہمام
حوالہ / References مسند امام احمدبن حنبل عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۳۹۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۳€
#3705 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الفتح فی مسئلۃ مجاورۃ الحرم وفی الدرفی مسئلۃ الحمام۔ نے فتح القدیر میں ہمسائیگی حرم کے مسئلہ میں افادہ بخشا۔اور درمختارمیں مسئلہ حمام میں یہی فرمایاہے۔(ت)
توٹھیك یہی ہے کہ اس سے مطلقاممانعت کی جائے۔درمختارمیں ہے:
کرہ تحریمااللعب بالنرد والشطرنج بکسراولہ ویھمل ولا یفتح الانادراواباحہ الشافعی وابویوسف فی روایۃ وھذا اذا لم یقامر ولم یخل بواجب والا فحرام۔ چوسر کھیلنامکروہ تحریمی ہے اورشطرنج بھی۔اورایك روایت میں امام شافعی اورقاضی ابویوسف نے شطرنج کومباح قرار دیاہےاوریہ اس وقت ہوگا جبکہ جوانہ ہواورکسی واجب کی ادائیگی میں خلل بھی واقع نہ ہوورنہ حرام ہوگا(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ھوحرام وکبیرۃعندناوفی اباحتہ اعانۃ الشیطان علی الاسلام والمسلمین کمافی الکافی قہستانی قولہ فی روایۃ الخ وکذااذالم یکثرالخلف علیہ وبدون ھذہ المعانی لاتسقط عدالتہ للاختلاف فی حرمتہ عبد البرعن ادب القاضی۔ ہمارے نزدیك شطرنج کھیلناحرام اورگناہ کبیرہ ہے اوراس کومباح قراردینے میں اسلام اورمسلمانوں کے خلاف شیطان کوامدادفراہم کرناہے جیساکہ کافی میں ہےقہستانی۔قولہ فی روایۃ الخ اوراسی طرح جبکہ دوران کھیل زیادہ قسمیں نہ کھائی جائیںاوربغیران چیزوں کے آدمی کی عدالت ساقط نہیں ہوتی کیونکہ اس کی حرمت میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتاہےعبدالبربحوالہ ادب القاضی۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
یکرہ اللعب بالشطرنج والنردوثلثۃعشرواربعۃ عشروکل لھوماسوی شطرنج اورچوسراورتیرہ اورچودہ کاکھیل مکروہ ہے اورشطرنج کے علاوہ ہرکھیل بالاتفاق حرام ہے
حوالہ / References درمختارکتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۴۸۔۲۴۷€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۳€
#3706 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الشطرنج حرام بالاجماع واماالشطرنج فاللعب بہ حرام عندناوالذی یلعب ان قامر سقطت عدالتہ لم تقبل شہادتہ اھ ملخصا اورشطرنج کھیلنابھی ہمارے نزدیك حرام ہے۔ اوروہ شخص جو کھیلے اگرجوئے کی بازی لگائے تواس کی عدالت ساقط ہوجائے گی لہذااس کی گواہی قبول نہ ہوگی اھ ملخصا(ت)
ہاں اتناہے کہ اگر بدکرنہ ہوتوایك آدھ بارکھیل لینا گناہ صغیرہ ہے اوربدکرہویاعادت کی جائے یااس کے سبب نمازکھوئیں یاجماعتیں فوت کریں توآپ ہی گناہ کبیرہ ہوجائے گی۔اسی طرح ہر کہیل اورعبث فعل جس میں نہ کوئی غرض دین نہ کوئی منفعت جائزہ دنیوی ہوسب مکروہ وبیجاہیں کوئی کم کوئی زیادہ۔درمختارمیں ہے:
وکرہ کل لھولقولہ علیہ الصلوۃوالسلام کل لھو المسلم حرام الاثلثۃ ملاعبتہ باھلہ وتادیبہ للفرسہ ومناضلتہ بقوسہ۔ ہر کھیل مکروہ ہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے ارشاد فرمایامسلمان کاہرکھیل حرام ہے سوائے تین کے خاوندکااپنی اہلیہ سے کھیلنااپنے گھوڑے کوشائستگی سکھاتے ہوئے اس سے کھیلنااپنی کمان کے ساتھ تیر اندازی کرنا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
کل لھو ای کل لعب وعبث فالثلثۃبمعنی واحدکمافی شرح التاویلات الخوالله تعالی اعلم۔ ہرلھویعنی کھیل اوربے فائدہ کام۔پس تینوں ہم معنی ہیں جیساکہ شرح تاویلات میں ہے الخ والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲: از جالندھر محلہ راستہ پھگواڑہ دروازہ مرسلہ شیخ محمد شمس الدین صاحب ۲۲ رجب ۱۳۱۰ھ
راگ یامزامیر کرانا یاسننا گناہ کبیرہ ہے یاصغیرہ اس فعل کامرتکب فاسق ہے یا نہیں
الجوا ب:
مزامیر یعنی آلات لہو ولعب بروجہ لہو ولعب بلاشبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیاء وعلماء دونوں
حوالہ / References فتاوٰی ھندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵€۲
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی۲/ ۲۴۸€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۳€
#3707 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
فریق مقتداکے کلمات عالیہ میں مصرحان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شك نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہےاور حضرات علیہ سادات بہشت کبرائے سلسلہ عالیہ چشت رضی الله تعالی عنھم وعنا بھم کی طرف اس کی نسبت محض باطل وافترا ہے حضرت سیدی فخرالدین زراوی قدس سرہ کہ حضور سیدنا محبوب الہی سلطان الاولیاء نظام الحق والدنیا والدین محمد احمد رضی الله تعالی عنھما کے اجلہ خلفاء سے ہیں جنھوں نے خاص عہد کرامت مہد حضور ممدوح میں بلکہ خود بحکم حضور والا مسئلہ سماع میں رسالہ "کشف القناع عن اصول السماع " تالیف فرمایااپنے اسی رسالہ میں فرماتے ہیں:
سمع بعض المغلوبین السماع مع المزامیر فی غلبات الشوق واما سماع مشائخنا رضی الله تعالی عنھم فبرئ عن ھذہ التھمۃ المشعرۃ من کمال صنعۃ الله تعالی ۔ یعنی بعض مغلوب الحال لوگوں نے اپنے غلبہ حال وشوق میں سماع مع مزامیر سنا اور ہمارے پیران طریقت رضی الله تعالی عنھم کا سننا اس تہمت سے بری ہے وہ تو صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمال صنعت الہی جل وعلا سے خبر دیتے ہیں انتہی۔(ت)
بلکہ خود حضور ممدوح رضی الله تعالی نے اپنے ملفوظات شریفہ فوائد الفواد وغیرہا میں جابجا حرمت مزامیر کی تصریح فرمائیبلکہ حضور والا صرف تالی کو بھی منع فرماتے کہ مشابہ لہو ہےبلکہ ایسے افعال میں عذر غلبہ حال کو بھی پسند نہ فرماتے کہ مدعیان باطل کو راہ نہ ملے
والله یعلم المفسد من المصلح فرضی الله عن الائمۃ ما انصحھم للامۃ۔ الله تعالی مفسد اور مصلح یعنی فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے دونوں کو جانتاہےپس الله تعالی ائمہ کرام سے راضی ہو کہ انھوں نے امت کے لیے کتنی خیر خواہی فرمائی۔(ت)
یہ سب امور ملفوظات اقدس میں مذکور وماثور فوائد الفواد شریف میں صاف تصریح فرمائی ہے کہ مزامیر حرام است (مزامیر یعنی گانے کے آلات کا استعمال حرام ہے۔ت)
کمانقل عنہ رضی الله تعالی عنہ سیدی الشیخ المحقق مولانا عبدالحق المحدث الدھلوی رحمۃ الله جیسا کہ ان سے نقل کیا ہے الله تعالی ان سے راضی ہو میرے اقا شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ الله تعالی علیہ نے
حوالہ / References کشف القناع عن اصول السماع
فوائد الفواد
#3708 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
تعالی علیھم وعلینا بھم۔آمین۔ اور ان کی وجہ سے ہم پربھی اس کی رحمتیں ہوںاے الله ! اس دعا کو شرف قبولیت سے نواز دے۔(ت)
حضور ممدوح کے یہ ارشادات عالیہ ہمارے لیے سند کافیاوران اہل ہوا وہوس مدعیان چشتیت پر حجت کافی۔ہاں جہاد کا طبل سحری کانقارہحمام کا بوقاعلان نکاح کا بے جلاجل دف جائز ہیں کہ یہ آلات لہو ولعب نہیںیوہیں یہ بھی ممکن کہ بعض بندگان خدا جو ظلمات نفس وکدورات شہوت سے یك لخت بری ومنزہ ہو کر فانی فی الله وباقی بالله ہو گئے کہ:
لایقولون الاالله و لایسمعون الاالله بل لایعلمون الا الله بل لیس ھناك الااللہ۔ وہ الله تعالی کے سوا کچھ نہیں کہتےالله تعالی کے سواکچھ نہیں سنتےبلکہ الله تعالی کے بغیر کچھ نہیں جانتے بلکہ وہاں صرف الله تعالی ہی جلوہ گر ہوتاہے۔(ت)
ان میں کسی نے بحالت غلبہ حال خواہ عین الشریعۃ الکبری تك پہنچ کر ازانجا کہ ان کی حرمت بعینھا نہیں
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ اعمال کا دارومدار ارادوں پرہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا(ت)
بعد وثوق تام واطمینان کامل کہ حالاومالا فتنہ منعدم احیانا اس پر اقدام فرمایا ہوولہذافاضل محقق آفندی شامی قدس الله تعالی سرہ السامی ردالمحتار میں زیر قول درمختار:
ومن ذلک(ای من الملاھی)ضرب النوبۃ للتفاخر فلو للتنبیہ فلا باس بہ کما اذا ضرب فی ثلثۃ اوقات لتذکیر ثلث نفخات الصور ۔الخ اسی سے یعنی آلات لہو میں سے فخریہ طور پر نو بت بجانا بھی ہےلیکن اگر ہوشیار کرنے کے لیے بجائی جائے تو کوئی حرج نہیں۔جیساکہ تین اوقات میں یا تین دفعہ نوبت بجائی جائے تاکہ صور اسرافیل کے تین دفعہ پھونکنے کی یاد تازہ ہو الخ(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۸€
#3709 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
فرماتے ہیں:
ھذا یفید ان الۃ اللھو لیست محرمۃ لعینھابل لقصد اللھو منھا اما من سامعھا اومن المشتغل بھا و بہ تشعر الاضافۃ الاتری ان ضرب تلك الالۃ بعینھا حل تارۃ وحرم اخری باختلاف النیۃ بسماعھا و الامور بمقاصدھا وفیہ دلیل لساداتنا الصوفیۃ الذین یقصدون بسماعھا امورا ھم اعلم بھا فلا یبادر المعترض بالانکار کی لایحرم برکتھم فانھم السادۃ الاخیار امدنا لله تعالی بامدادتھم و اعاد علینا من صالح دعواتھم وبرکاتھم ۔ یہ بات فائدہ دیتی ہے کہ آلہ لہو بعینہ(بالذات)حرام نہیں بلکہ ارادہ وعمل لہو کی وجہ سے حرام ہے خواہ یہ سامع کی طرف سے ہو یا اس سے مشغول ہونے والے کی طرف سے ہو "اضافت "سے یہی معلوم ہوتا ہےکیا تم دیکھتے نہیں کہ کبھی اس آلہ لہو کو بعینہ بجانا اور استعمال کرنا حلال ہو تا ہے اور کبھی حراماور اس کی وجہ اختلاف نیت ہےپس کاموں کے جائز اور ناجائز ہونے کا دارومدار ان کے مقاصد پر مبنی ہوتا ہےاس میں ہمارے سادات صوفیہ کی دلیل موجو د ہےکہ وہ سماع سے ایسے رموز کا ارادہ رکھتے ہیں کہ جن کو وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں لہذا اعتراض کرنے والا انکار کرنے میں جلدی نہ کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی برکت سے محروم ہو جائے کیونکہ وہ پسندیدہ سادات ہیں پس ان کی امداد سے الله تعالی ہماری مدد فرمائےاور ان کی نیك دعاؤں اور برکات کا ہم پر اعادہ فرمائے یعنی انھیں ہم پر لوٹادے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بلکہ یہاں ایك درجہ اور وجہ ادق واعمق ہے صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے مروی حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں رب العزت تبارك وتعالی فرماتاہے:
لایزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی بیصر بہ ویدہ یعنی میرا بندہ بذریعہ نوافل میری نزدیکی چاہتا رہتاہے یہاں تك کہ میرا محبوب ہوجاتاہے پھر جب میں اسے دوست رکھتا ہوں تو میں خود اس کاوہ کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۳€
#3710 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
التی یبطش بھا ورجلہ التی یمشی بھا ۔ اور اس کی وہ آنکھ ہوجاتاہوں جس سے دیکھتا ہے اور اس کا وہ ہاتھ جس سے کوئی چیز پکڑتا ہے اور اس کا وہ پاؤں جس سے وہ چلتاہے انتہی۔
اب کہئے کون کہتا اور کون سنتا ہےآواز تو شجرہ طور سے آتی ہے مگر لاوالله پیڑ نےنہ کہا " انی انا اللہ رب العلمین ﴿۳۰﴾ " (یقینا میں ہی تمام جہانوں کا پروردگار الله تعالی ہوں۔ت)
گفتہ او گفتہ الله بود گرچہ از حلقوم عبدالله بود
(اس کاارشاد درحقیقت الله تعالی کاارشاد ہے اگرچہ بظاہر الله تعالی کے بندے کے منہ سے نکلے۔ت)
یہی حال سننے کا ہے ولله الحجۃ البالغۃ(اور خدا ہی کے لیے کامل دلیل ہے۔ت)مگر الله الله یہ عباد الله کبریت احمروکوہ یاقوت ہیں اور نادر احکام شرعیہ کی بنانہیں تو ان کا حال مفید جواز یاحکم تحریم میں قید نہیں ہو سکتا
کماافادہ المولی المحقق حیث اطلق سیدی کمال الدین محمدبن الہمام رحمۃ الله تعالی علیہ فی اخر الحج من فتح القدیر فی مسئلۃ الجواز۔ جیساکہ مولی المحقق نے اس کا افادہ بیان کیا چنانچہ میرے آقا ورہنما کمال الدین محمد بن ہمام رحمۃ الله علیہ نے فتح القدیر بحث حج کے آخر پر مسئلہ جواز میں اس کو مطلق بیان فرمایا (ت)
نہ یہ مدعیان خامکار ان کے مثل ہیں نہ بے بلوغ مرتبہ محفوظیت نفس پر اعتماد جائز
فانھااکذب مایکون اذا حلفت فکیف اذا وعدت۔ جب تو قسم کھائے تو جھوٹ ہوتاہے تو تیرے وعدے کاکیا حال ہوگا۔(ت)
رجما بالغیب کسی کو ایسا ٹھہرالینا صحیحہاں یہ احتمال صرف اتنا کام دے گا کہ جہاں اسکا انتفا معلوم نہ ہو تحسین ظن کو ہاتھ سے نہ دیجئے اور بے ضرورت شرعی ذات فاعل سے بحث نہ کیجئے
ھذا ھوالانصاف فی امثال الباب والله الھادی بالصواب۔ امثال باب میں یہی انصاف ہےوالله الہادی بالصواب۔ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۶۳€
القرآن الکریم ∞۲۸/ ۳۰€
#3711 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
سماع مجرد بے مزامیراس کی چند صورتیں ہیں:
اول: رنڈیوںڈومنیوںمحل فتنہ امردوں کاگانا۔
دوم: جو چیز گائی جائے معصیت پرمشتمل ہومثلافحش یاکذب یا کسی مسلمان یا ذمی کی ہجو یا شراب وزنا وغیرہ فسقیات کی ترغیب یا کسی زندہ عورت خواہ امردکی بالیقین تعریف حسن یا کسی معین عورت کا اگرچہ مردہ ہو ایسا ذکر جس سے اس کے اقارب احبا کو حیا وعار آئے۔
سوم: بطور لہوولعب سنا جائے اگرچہ اس میں کوئی ذکر مذموم نہ ہو۔تینوں صورتیں ممنوع ہیں الاخیرتان ذاتا والاولی ذریعۃ حقیقۃ(آخری دو بلحاظ ذات اور پہلی درحقیقت ذریعہ ہے۔ت)ایسا ہی گانالہو الحدیث ہے اس کی تحریم میں اور کچھ نہ ہو تو صرف حدیث کل لعب ابن ادم حرام الا ثلثۃ (ابن آدم کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے۔ت)کافی ہےان کے علاوہ وہ گانا جس میں نہ مزامیر ہوں نہ گانے والے محل فتنہنہ لہو ولعب مقصود نہ کوئی ناجائز کلام بلکہ سادے عاشقانہ گیتغزلیںذکر باغ وبہار وخط وخال ورخ وزلف وحسن وعشق وہجر ووصل و وفائے عشاق وجفائے معشوق وغیرہا امور عشق وتغزل پرمشتمل سنے جائیں تو فساق وفجار واہل شہوات دنیہ کو اس سے بھی روکا جائے گا
وذلك من باب الاحتیاط القاطع ونصح الناصح وسد الذرائع المخصوص بہ ھذا الشرع البارع والدین الفارغ۔ یہ رکاوٹ یقینی احتیاط کے باب سے ہے اس میں خیر خواہ کی خیرخواہی اور ذرائع کی روك تھام موجود ہے جو اس یکتا وفائق شریعت اورخوبصورت دین سے مخصوص ہے۔(ت)
اسی طرح حدیث:
الغناء ینبت النفاق فی القلب کماینبت الماء البقل ناظر۔رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الملاھی عن ابن مسعود و البیھقی فی شعب الایمان عن جابر گانا بجانا دل میں اس طرح نفاق اگاتا ہے جس طرح پانی ساگ پات اگاتا ہےناظر ہے محدث ابن ابی الدنیا نے اس کو حضرت عبدالله ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ کی سند سے اور امام بیہقی نے
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الجہاد باب ماجاء فی فضل الرمی فی سبیل الله ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۷،€سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب فی الرمی فی سبیل الله ∞ص ۲۰۷€
شعب الایمان ∞حدیث ۵۱۰۰€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۴/ ۲۷۹،€کنز العمال بحواٰلہ ابن ابی الدنیا ∞حدیث ۴۰۶۵۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵/ ۲۱۸€
#3712 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
رضی الله تعالی عنہما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔ شعب الایمان میں حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ کی سند سے حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے روایت کی۔ت)
اور اہل الله کے حق میں یقینا جائز بلکہ مستحب کہئے تو دور نہیںگانا کوئی نئی چیز پیدانہیں کرتا بلکہ دبی بات کو ابھارتا ہے جب دل میں بری خواہش بیہودہ آلائشیں ہوں تو انھیں کو ترقی دے گا اور جوپاك مبارك ستھر ے دل شہوات سے خالی اور محبت خدا ورسول سے مملو ہیں ان کے اس شوق محمود وعشق مسعود کو افزائش دے گا وحکم المقدمۃ حکم ماھی مقدمۃ لہ انصافا(مقدمہ کا حکم وہی ہے جو اس چیز کا حکم کہ جس کے لیے مقدمہ وضع کیا گیا۔ت)ان بندگان خداکے حق میں اسے ایك عظیم دینی کام ٹھہرانا کچھ بے جانہیں۔فتاوی خیریہ میں ہے:
لیس فی القدر المذکو ر من السماع مایحرم بنص ولا اجماع وانما الخلاف فی غیر ماعین والنزاع فی سوی ما بین وقد قال بجواز السماع من الصحابۃ جم غفیر (الی ان قال)اماسماع السادۃ الصوفیۃ رضی الله تعالی عنھم فبمعزل عن ھذا الخلاف بل ومرتفع عن درجۃ الاباحۃ الی رتبۃ المستحب کما صرح بہ غیر واحد من المحققین۔ سماع کے متعلق قدر مذکو ر میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کو نص اور اجماع سے حرام ٹھہرائے ہاں البتہ اختلاف اس کے بغیر ہے کہ جس کو معین کیا گیا اور نزاع اس کے علاوہ ہے کہ جس کو بیان کیا گیا اور صحابہ کرام اور تابعین عظام سے اہل علم کے جم غفیر نے سماع کے جواز کا قول نقل کیاہے(یہاں تك فرمایا)رہاسادات صوفیائے کرام کا سماع تووہ اس اختلاف سے دور ہے بلکہ وہ درجہ اباحت سے رتبہ استحباب تك پہنچا ہوا ہے جیساکہ بہت سے اہل تحقیق نے تصریح فرمائی ہے۔ (ت)
یہ اس چیز کا بیان تھا جسے عرف میں گانا کہتے ہیں اور اگر اشعار حمد و نعت ومنقبت ووعظ وپند وذکر آخرت بوڑھے یا جوان مرد خوش الحانی سے پڑھیں اوربہ نیت نیك سنے جائیں کہ اسے عرف میں گانا نہیں بلکہ پڑھنا کہتے ہیں تو اس کے منع پر شرع سے اصلا دلیل نہیںحضور پر نور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الکراہۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۸۴۔۱۸۳€
#3713 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
کا حسا ن بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ کے لیے خاص مسجد اقدس میں منبر رکھنا اوران کا اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سنانا اور حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم وصحابہ کرام کا استماع فرمانا خود حدیث صحیح بخاری شریف سے واضح اور عرب کے رسم حدی زمانہ صحابہ وتابعین بلکہ عہد اقدس رسالت میں رائج رہنا خوش الحانی رجال کے جواز پر دلیل لائحانجشہ رضی الله تعالی عنہ کے حدی پر حضور والا صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ نے انکار فرمایا بلکہ بلحاظ عورات یا انجشہ روید الاتکسر القواریر ارشاد ہواکہ ان کی آواز دلکش ودل نواز تھی عورتیں نرم ونازك شیشیاں ہیں جنہیں تھوڑی ٹھیس بہت ہوتی ہے غرض مدارکار تحقق وتوقع فتنہ ہےجہاں فتنہ ثابت وہاں حکم حرمتجہاں توقع واندیشہ وہاں بنظر سد ذریعہ حکم ممانعتجہاں نہ یہ نہ وہنہ یہ نہ وہ بلکہ بہ نیت محمود استحباب موجود۔بحمدالله تعالی یہ چند سطروں میں تحقیق نفیس ہے کہ ان شاء الله العزیز حق اس سے متجاوز نہیں
نسأل الله سوی الصراط من دون تفریط والافراط والله اعلم بالصواب۔ ہم الله تعالی سے سیدھی راہ کاسوال کرتے ہیں جوافراط وتفریط سے محفوظ ہوالله تعالی راہ صواب کو خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۳: ازملك بنگالہ شہر نصیر آباد قصہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کارخیر مثل وعظ وغیرہ کے واسطے دھل سے خبر کرنا جائز ہے یانہ یعنی ایسا مقام ہوکہ وہاں عوام الناس بہت ہی دین کے مسئلہ سے ناواقف اور وہاں کوئی علیم جاکر ڈھنڈورہ پٹوائے کہ فلاں روز میں وعظ کروں گا بقصد فائدہ عام اس صورت میں جائز ہو گا یا نہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیےت)
الجواب :
ظاہرجواز ہے اور بذریعہ اشتہار اعلان انسبدرمختار میں ہے:
من ذلك ضرب النوبۃ للتفاخر للتنبیہ فلاباس بہ ۔ اسی لہو میں سے یہ بھی ہے کہ باری پر دف بجانا آپس میں فخر جتانے کے لیےاور اگر آگاہ اور ہوشیار کرنے کے لیے ہو تو کوئی حرج نہیں۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب القدر باب رحمتہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۵۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۸€
#3714 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
درمنتقی میں ہے:
ینبغی ان یکون بوق الحمام یجوز کضرب النوبۃ ۔ مناسب ہے کہ حمام میں حمام کابگل بجایا جائے کیونکہ یہ جائز باری کے دف کی طرح(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وینبغی ان یکون طبل السحر فی رمضان لایقاظ النائمین للسحور کبوق الحمام تامل ۔والله تعالی اعلم۔ یہ بھی مناسب ہے کہ سحری کرنے والوں کے لیے سحری کے وقت طبل بجاناسونے والوں کو جگانے کے لیےحمام کے بگل بجانے کی طرح جائز ہے غور کیجئے۔والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴ تا ۱۲: از الفی ملك مدراس مرسلہ حاجی عبدالرحمن خلف حاجی محمد ہاشم ۱۶ ربیع الاخر ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ گزشتہ ۳ ماہ شوال ۱۳۱۵ھ کو یہاں ایك مسجد میں مولود شریف ہوااکثر خاص اور عام اہل اسلام بقصد سماعت مولود شریف حاضر ہوئےجب میلاد خوانی سے فراغت ہوئی تھوڑے لوگ ان حاضرین سے اٹھ کھڑے ہوئے اور باہم دیگر ہاتھوں کو پکڑ کے حلقہ باندھ گئے اوراس حلقہ کے بیچ میں ایك شخص آکھڑا ہوا اور حلقہ والے لوگ رقص اور تمایل کے ساتھ ہا ہو مچا کے بڑے زور سے الاالله کے طور سے ذکر کرنے کو شروع کئے یہاں رقص اورتمایل کا زور اوروہاں تصفیق کاشور یعنی بیچ میں جو شخص کہ کھڑا تھا اس نے حلقے والوں کے رقص اور تمایل کے وزن پر تصفیق نہایت موزونیت کے ساتھ کرتا تھا جب یہ غل شروع ہوا تو اکثر لوگ اس مجلس کے نکل کر چلے گئے بناء علیہ اس حلقہ میں ایك شخص:
"ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی ﴿۱۲۴﴾" الخ جس کسی نے میرے ذکر سے منہ پھیرا اس کےلیے تنگ گزر ان ہے اور ہم قیامت کے روز اسے اندھا ہونے کی صورت میں اٹھائیں گے الخ(ت)
اس آیت کو پڑھ کے معنی بیان کیا کہ جو شخص ایسے ذکر کے مجلس سے اٹھ جاتا ہے اس کے حق میں الله تعالی
حوالہ / References الدر المنتقی فی شرح الملتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب الکراہیۃ باب فی المتفرقات بیروت ∞۲/ ۵۵۳€
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۳€
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۱۲۴€
#3715 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
فرماتا ہے کہ اس کو قیامت کے روز اندھا کرکے اٹھاؤں گا۔اس مضمون کو بڑے زور شور سے بیان کیادوسرے روز بعض اصحاب علم نے اس شخص سے کہا کہ تو نے جو ذکر سے ہیئت کذائی مذکورہ مراد لیا سوسراسر غلط اور خلاف اصحاب تفسیر ہے دیکھ تفسیر جلالین۔یہ سنتے ہی اس شخص نے کہا کہ تفسیر جلالین ظاہری تفسیر ہے اہل باطن کے لیے قاعدہ دوسرا ہےانجام اس نے تفسیر جلالین کو حقارت کا الزام دیابنابر اس کے دریافت کیا جاتاہے:
(۱)جو مسلمان اس محفل سے نکل گئے وہ قیامت کے روزاندھے ہوکے اٹھیں گے۔یہ بات صحیح ہے یانہیں
(۲)مذکورہ شخص ذکر سے یہ ہیئت کذائی مراد لیاسو درست ہے یانہیں
(۳)"ومن اعرض عن ذکری" سے یہاں کیامراد اور شان نزول اس آیت کاکیاہے
(۴)تفسیرجلالین کی جو حقارت کرے اس کے لئے شرع شریف میں کیاسزاہے
(۵)جومسلمان اس مجلس سے نکل گئے وہ قیامت کے روز اندھے ہوکر اٹھیں گےیہ بات صحیح نہیں تو ایسے الفاظ سے مسلمانوں پرتہمت ڈالنے والاشخص ازروئے اسلام کون ہے
(۶)تفسیرجلالین کی حقارت کرنے والے پرکفرثابت ہوتاہے یانہیں
(۷)ایسے شخص کے پیچھے نمازدرست ہے یانہیں
(۸)تجدیداسلام یاتوبہ لازم ہوتاہے یانہیں
(۹)ان حلقے والوں کاذکر جس کی ہیئت اوپر ذکرکی گئی ہے ایساذکراور رقص اور تصفیق(تالی بجانا)شرع شریف میں درست ہے یا نہیں زاور جوشرع کو ایساویسا سمجھے اور معرفت کادعوی کرے لوگوں کو بموجب شرع شریف کیاکہناچاہئے بینواجزاکم اﷲ فی الدارین(بیان فرماؤ کہ اﷲ تعالی دنیاوآخرت میں تمہیں بہترین عطافرمائے۔ت)
الجواب:
حلقہ ذکرجبکہ نہ بروجہ ریاوسمعہ بلکہ خالصا لوجہ اﷲ ہو فی نفسہ امرمحبوب ومندوب ہے اور اس میں حضور شرعا مامورومطلوب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اذامررتم بریاض الجنۃ فارتعوا۔جب تم جنت کی کیاریوں پرگزرو تو ان کے پھل پھول سے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۰/ ۱۲۴€
#3716 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
تمتع کرو قالوا وماریاض الجنۃ صحابہ نے عرض کی یارسول اﷲ! وہ جنت کی کیاریاں کیا ہیں فرمایاذکرکے حلقے۔
رواہ احمد والترمذی والبیھقی فی شعب الایمان عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند جید۔ مسند امام احمدامام ترمذی اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی بہترین سند سے اس کو روایت کیا۔(ت)
اور یہ رقص اگرمعاذاﷲ بروجہ تصنع وریاء ہے حرام قطعی وجریمہ فاحشہ ہے اور بطورلہوولعب بھی ناجائزومسقط عدالتاور تمایل کے ساتھ مثل رقص فواحش اشد حرامنصاب الاحتساب باب سادس پھرتاتارخانیہ پھرفتاوی خیریہ میں ہے:
مسئلۃ ھل یجوز الرقص فی السماع الجواب لایجوز و ذکرفی الذخیرۃ انہ کبیرۃ ومن اباحہ من المشائخ فذلك الذی صارت حرکاتہ کحرکات المرتعش الخ مسئلہ کیاسماع(قوالی)میں ناچ جائزہے جواب جائز نہیں اور ذخیرہ میں ذکرکیاگیا کہ ناچنا کبیرہ گناہ ہے اورمشائخ میں سے جس نے اسے مباح قراردیا وہ اس کے حق میں ہے جس کی حرکات مثل رعشہ والے کے بے اختیارہوں الخ(ت)
درمختارمیں ہے:
لاتقبل ممن یلعب بلھو شنیع بین الناس کالطنابیر والمزامیر وان لم یکن شفیعا نحوالحداء فلا الا اذا فحش بان یرقصوا بہخانیۃ لدخولہ فی حد الکبائر بحر اھ ملتقطا۔ جو شخص لوگوں میں براکھیل تماشاکرے جیسے طنبور (ستار) کا استعمال اور مزامیر(بانسری)وغیرہآلات راگ وغیرہ کا استعمال تو وہ مردودالشہادۃ ہوگا یعنی اس کی گواہی قابل قبول نہ ہوگی اگر راگ بے حد برانہ ہو جیسے عربی گیت مثلا حدی خوانی تو وہ ممنوع نہیں لیکن اگر اس میں فحش کلام اور ناچ وغیرہ شامل ہوں تو ممنوع ہےخانیہاس لئے کہ وہ کبیرہ گناہوں میں داخل ہوگیابحراھ ملتقطا۔(ت)
حوالہ / References مسندامام احمدبن حنبل مسند انس بن مالك رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۵۰€
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراہۃ مطلب فی الرقص فی السماع دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۷۹€
درمختار کتاب الشہادات باب القبول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۵€
#3717 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
علامہ برکوی طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
یدخل فیہما مایفعلہ بعض الصوفیۃ بل ھو اشد لانھم یفعلونہ علی اعتقاد العبادۃ قال الامام ابو الوفاء بن عقیل رحمہ اﷲ قد نص القران علی النھی عن الرقص فقال و لاتمش فی الارض مرحا وذم المختال بقولہ ان اﷲ لایحب کل مختال فخور والرقص اشد من المرح والبطر وقال ابوبکر الطرطوسی رحمہ اﷲ تعالی فاول من احدثہ اصحاب السامری لما اتخذ عجلا جسدالہ خوار قاموا یرقصون علیہ ویتواجدون وقال البزازی فی فتاواہ قال القرطبی ھذا الرقص حرام بالاجماع وسید الطائفۃ احمد السنوی صرح بحرمتہ ورأیت فتوی شیخ الاسلام جلال الدین الکیلانی ان مستحل ھذا الرقص کافر و للزمخشری فی کشافہ کلمات فیھم تقوم بھا علیھم الطامات وللامام المحبوبی اشد جوکچھ صوفیہ کرتے ہیں وہ اس میں داخل ہے بلکہ زیادہ سخت جرم ہے کیونکہ یہ کام اعتقاد عبادت کی بناپرکرتے ہیںچنانچہ امام ابوالوفا ابن عقیل رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا ناچنے سے منع کرنے پر قرآن مجید کی تصریح موجود ہے۔اﷲ تعالی کاارشاد ہے زمین پراتراکرنہ چلو۔اﷲ تعالی نے اپنے اس ارشاد سے اترانے والے کی مذمت فرمائی بے شك اﷲ تعالی کسی اترانے والےفخرکرنے والے کوپسندنہیں کرتا او رناچنا اترانافخرکرنا ایك جیسے اعمال ہیں بلکہ ناچنا اترانے اور فخر کرنے سے بھی بڑاجرم ہے۔ابوبکرطرطوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا سب سے پہلے جس نے اس بدعت کوایجادکیا وہ اصحاب سامری ہیں جب انہوں نے بچھڑے کاایك ڈھانچہ تیار کیاجو گائے جیسی آواز نکالتاتھا یاجس سے گائے کی آواز کی طرح آواز نکلتی تھی تو وہ کھڑے ہوکر اس کے سامنے ناچنے لگے اور وجدکرنے لگے یعنی جھومنے لگے۔امام بزازی نے اپنے فتاوی بزازیہ میں فرمایا ناچ بالاجماع حرام ہے۔سیدالطائفہ احمد سنوی نے اس کی حرمت کی صراحت فرمائی ہےمیں نے شیخ الاسلام جلال الدین گیلانی کافتوی دیکھا جس میں کہاگیا کہ ناچ کو حلال کرنے والا یعنی جائزقراردینے والا کافرہے۔علامہ زمخشری نے اپنی تفسیر کشاف میں ان کے متعلق ایسے کلمات
#3718 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
من ذلك انتھی قلت من لہ انصاف اذا رای رقص صوفیۃ زماننا فی المساجد والدعوات مختلطا بھم المرد واھل الاھواء والقری من جھال العوام و المبتدعۃ الطغام لایعرفون الطھارۃ والقران و الحلال والحرام بل لایعرفون الایمان والاسلام لھم زعیق وزئیرمثل ھائی وھویئ وھییئ وھیا یقول لامحالۃ ھؤلاء اتخذوا دینھم لھواولعبا اھ ملخصا۔ لکھے ہیں کہ جن سے ان پر بڑے مصائب قائم ہوسکتے ہیں اور امام محبوبی کے کلمات ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اھمیں کہتا ہوں کہ جس کی طبیعت میں انصاف ہو وہ ذرا ہمارے زمانے کے صوفیا کامساجد میں ناچنا کودنا شورمچانادیکھے کہ بےریش لونڈے خواہشات نفسانی کے متوالےجاہل دیہاتی اور بیوقوف بدعتی ان میں ملے جلے ہوتے ہیں جوطہارت سے ناآشناقرآن مجید کے ادب سے ناواقف اور حلال وحرام کی پہچان سے بے بہرہ ہوتے ہیں جوسوائے چیخنے چلانے کے اور کچھ نہیں جانتے ایمان اوراسلام کی معرفت سے لاعلم ہوتے ہیںفرمایا ان لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشابنارکھا ہے اھ ملخصا۔(ت)
ردالمحتار میں مختار سے ہے:
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کرہ رفع الصوت عند قراءۃ القران والجنازۃ والزحف و التذکیر فماظنك عندالغناء الذی یسمونہ وجدا و محبۃ فانہ مکروہ لااصل لہ فی الدین ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے تلاوت قرآننمازجنازہجنگ اوروعظ کے دوران بلندآواز کوناپسند فرمایا۔پھرتمہارا کیاخیال ہے اس چیخ وپکار کے بارے میں جو اس راگ کے وقت ہو جس کو یہ لوگ وجد اور محبت کانام دیتے ہیں۔بلاشبہہ یہ مکروہ ہےدین میں اس کی کوئی اصل نہیں۔(ت)
یوہیں تالیاں بجانا بھی وجوہ مذکور پرناجائزوممنوع ہے۔شامی میں زیرقول شارح:
کرہ کل لھو بقولہ علیہ الصلوۃ والسلام کل لھو المسلم ہرکھیل مکروہ ہے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ مسلمان کا ہر کھیل
حوالہ / References طریقہ محمدیہ الصنف التاسع فی آفات بدن الخ ∞مکتبہ حنفیہ کانسی روڈ کوئٹہ ۲/ ۶۷۔۲۶۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۵€
#3719 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
حرام الا ثلثۃ ۔ سوائے تین کے حرام ہے۔(ت)
علامہ قہستانی سے ہے:
الاطلاق شامل لنفس الفعل واستماعہ کالرقص و السخریۃ والتصفیق فانھا کلہا مکروھۃ لانھا زی الکفار اھ مختصرا اطلاق(یعنی بلاقیدذکرکرنا)نفس فعل اور اس کی سماعت کو شامل ہے جیسے ناچنامذاق کرنا اور تالیاں بجانا۔اس لئے کہ یہ سب مکروہ ہیں کیونکہ یہ عادات کفارہیں۔اھ مختصرا(ت)
اقول:تصدیق اس کی کہ تالی بجانا افعال کفارسے ہےخود قرآن عظیم میں موجود اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
وما کان صلاتہم عند البیت الا مکاء وتصدیۃ " ۔ نہ تھی ان کی نمازکعبے کے پاس مگرسیٹی اور تالی۔
معالم میں ہے:
قال ابن عباس والحسنالمکاء الصفیر والتصدیۃ التصفیق قال ابن عباس کانت قریش تطوف بالبیت وھم عراۃ یصفرون ویصفقون۔ عبداﷲ ابن عباس اور حسن بصری نے فرمایا قرآن مجید میں جولفظ"المکاء"آیاہے اس کے معنی سیٹی بجانا ہے اور تصدیہ کے معنی ہیں تالی بجانا۔ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ قریش کعبہ شریف کاننگے ہوکرطواف کرتے اور سیٹیاں اورتالیاں بجایاکرتے تھے(ت)
اور جو فعل حرام ہے اس میں شریك ہونا اس کاتماشادیکھنابھی حرام ہے۔
کماافادہ فی غیرما مسئلۃ وقدسمعت الان ان الاستماع کالفعل۔ جیسا کہ بہت سے مسائل میں اس کاافادہ کیا اور ابھی آپ نے سنا(پڑھا)کہ سننا فعل کی طرح ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۳€
القرآن الکریم ∞۸/ ۳۵€
معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت وماکان صلاتہم مصطفی البابی حلبی ∞مصر ۳/ ۳۰€
#3720 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
جوہرہ نیرہ پھردرمنتقی پھرردالمحتار میں ہے:
مایفعلہ متصوفۃ زماننا حرام لایجوز القصد و الجلوس الیہ ومن قبلھم لم یفعل کذلک ۔ ہمارے زمانے کے نمائشی صوفی جوکچھ کرتے ہیں وہ حرام ہے لہذا اس کا ارادہ کرنا اور ایسی مجلس میں بیٹھناجائزنہیں اور ان سے پہلے کبھی ایسانہ کیاگیا۔(ت)
ہاں اگرمغلوبین صادقین بے تصنع وبے اختیار یاد محبوب پروجد میں آئیں اور ان ماسوی اﷲ حتی کہ اپنی جان سے بے خبروں کو جام عشق کی پرجوش مستیاں والہ سرگشتہ بنائیں تو یہ دولت عظمی ونعمت کبری ہے جسے بخشیں جسے عطافرمائیںیہ حالت نہ زیرقلم نہ قسم عمل نہ اس پرانکار کا اصلا محل اگرچہ اصحاب تمکین وجبال شامخین ہداۃ مرشدین وقدوہ فی الدین کہ پہاڑ ٹل جائیں اور جنبش میں نہ آئیں ارفع واعلی ہیں خاص وارثان حضرات عالیہ انبیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء ہیں۔
قلت ودون ھؤلاء مرتبۃ الاوساط الصادقین السالکین مسلك الاقتداء بالعاشقین مع الاخلاص المبین کالفجر المبین یریدون القدوۃ لوجدان الطریقۃ لان التعود ربما جر الی الحقیقۃ کما اشار الیہ الامام حجۃ الاسلام فی احیاء العلوم علی ان من تشبہ بقوم فہو منھم وھذا وعر وبرزخ صعب لایقدر علیہ الامن تخلی عن الھوی وقدرعلی نفسہ ان یمسك عنانھا عن الطغوی لیس میں کہتاہوں کہ مرتبۃ الاوساط یعنی اوسط درجہ کے لوگوں کا درجہ جو سچے ہیں ان سے کم ہے ظاہراخلاص کے ساتھجیسے فجرکا اجالا۔وہ عشاق کی اقتداء کرتے ہیں ان کے مسلك پرچلتے ہیں حصول طریقہ کے لئے وہ پیشوائی کاارادہ رکھتے ہیں کیونکہ بعض اوقات عادت حقیقت کی طرف کھینچ لے جاتی ہے جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے علاوہ ازیں جو کسی کی مشابہت اختیارکرے وہ انہی میں سے ہےیہ مسلك مشکل اوربرزخ یعنی متوسط درجہ دشوار ہے اس کی قدرت وہی شخص رکھ سکتاہے جونفسانی خواہش سے مبراہو۔اور اپنے نفس کے گھوڑے کولگام دے کر آگے بڑھنے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۲€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳€
#3721 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
بینہ وبین التصنع المذموم الاکما بین سواد العین وبیاضہ اوشفۃ المرء وفیہ من رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔ سے روکنے اور بازرکھنے پرقادر ہو۔پس اس کے اور تصنع مذموم کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی آنکھ کی سیاہی اور سفیدی کے درمیان ہے یاجتنی آدمی کے ہونٹ اور زبان کے درمیان ہےاور جو کوئی چراگاہ کے چاروں اطراف کے ساتھ چرے تو اس چراگاہ میں چلے جانے کا قوی امکان ہے۔ہم اﷲ تعالی سے درگزر اور عافیت کاسوال کرتے ہیں۔(ت)
نصاب الاحتساب وتاتارخانیہ وفتاوی خیریہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
لہ شرائط ان لایقوموا الامغلوبین ولایظھروا وجدا الاصادقین ۔ اس کے لئے شرائط ہیںایك یہ کہ وہ نہ اٹھیں مگرمغلوب ہوکر اور وجد کااظہار نہ کریں سوائے سچاہونے کی حیثیت کے۔(ت)
منتقی شرح ملتقی پھرشامیہ میں ہے:
شرط الواجد فی غیبتہ ان یبلغ الی حدلوضرب وجھہ بالسیف لایشعر فیہ بوجع ۔ وجدکرنے والے کی وجدانی کیفیت گم سم ہوجانے کی حالت کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ اس حد تك حاوی ہو کہ اگروجد والے کے چہرے پرتلوار کی ضرب(چوٹ)لگائی جائے تو تب بھی اسے درد کا احساس اور شعور نہ ہونے پائے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
فی التتارخانیۃ مایدل علی جوازہ للمغلوب الذی حرکاتہ کحرکات المرتعش وبھذا افتی البلقینی و برھان الدین الابناسی وبمثلہ احباب بعض ائمۃ فتاوی تتارخانیہ میں ہے کہ مغلوب الحال کے وجد کے جواز پر جوچیزدلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی حرکات رعشہ والے کی حرکات کی مانند ہوں۔(یعنی بے ساختہ اور بے اختیار ہوں) علامہ بلقینی اور علامہ برہان الدین ابناسی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب البیوع باب الحلال بین والحرام بین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷€۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۲ €
ردالمحتار شرح تنویرالابصار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۲€
#3722 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الحنفیۃ والمالکیۃ وکل ذلك اذا خلصت النیۃ وکانوا صادقین فی الوجد مغلوبین فی القیام والحرکۃ عند شدۃ الھیام ۔ نے اس پرفتوی دیاہے اور بعض ائمہ حنفیہ اورمالکیہ نے بھی اسی کے مطابق جواب دیاہے۔اور یہ سب کچھ اس وقت ہے جبکہ نیت خالص ہو اور وجدوالے وجد میں سچے ہوں اور اٹھنے بیٹھنے اور حرکت میں جنون عشق کی شدت سے مغلوب ہوں۔(ت)
مجمع الانہر میں زیرقول مذکورملتقی الابحر ہے:
فی التسھیل فی الوجد مراتب وبعضہ یسلب الاختیار فلاوجہ للانکار بلاتفصیل ۔ تسہیل میں ہے کہ"وجد"کے کچھ مراتب ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن میں اختیار سلب ہوجاتا ہے یعنی اختیار بالکل نہیں رہتا۔پھربغیر تفصیل جاننے کے بیمار کی صحت یابی کی صورت پیداہونامشکل ہے۔(ت)
شفاء العلیل علامہ شامی میں ہے:
لاکلام لنا مع الصدق من ساداتنا الصوفیۃ المبرئین عن کل خصلۃ ردیۃ فقد سئل امام الطائفتین سیدنا الجنید ان اقواما یتواجدون ویتمایلون فقال دعوھم مع اﷲ تعالی یفرحون ولوذقت مذاقھم عذرتھم فی صیاحھم وشق ثیابھم اھولاکلام لنا ایضا مع من اقتدی بھم وذاق من مشربھم ووجد من نفسہ الشوق ہماراکلام سچائی پرمبنی ہےہمارے سادات صوفیاگھٹیا عادات سے پاك ہیں پس وہ نمائشی صوفیا سے نہیںچنانچہ دو گروہوں کے امام سیدنا جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ وجد کرتے اور لڑکھڑاتے ہیں(یعنی ادھر ادھر جھومتے ہیں)اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ارشاد فرمایا کہ ان کو چھوڑدو یہ اﷲ تعالی سے خوشی پاتے ہیں اگر تجھے بھی ان جیسا ذوق حاصل ہوتاتو ان کو اس چلانے اور گریبان پھاڑنے میں معذورجانتااھ اور ہماراکلام ان سے بھی نہیں کہ جنہوں نے(مذکورہ
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۸۲€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الکراہیۃ فصل فی المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۵۲€
#3723 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
والھیام فی ذات الملك العلامبل کلامنا مع ھؤلاء العوام الفسقۃ اللئام الذین اتخذوامجلس الذکر شبکۃ لصیدالدنیا الدنیۃ وقضاء لشھواتھم الشنیعۃ الردیۃ ولسنا نقصدمنھم تعیین احدفاﷲ مطلع علی احوالھم اھ مختصرا۔ بزرگوں کی)اقتداء کی اور ان کے مشرب کا ذائقہ چکھا اور اپنے اندر شوق اور جنون عشقملك علام(یعنی اﷲ تعالی کی ذات ستودہ صفات)میں پایابلکہ ہماری گفتگو ان عام لوگوں کے ساتھ ہے جوفاسق اور کمینے ہیں جنہوں نے محفل ذکرکاجال حقیراورمعمولی دنیا کے شکار کے لئے لگارکھاہے اور اپنے بد ترین سفلی جذبات کی تسکین کے لئے محفل ذکر کو آڑبنایا اور ہم اس میں کسی ایك کے تعین کاارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اﷲ تعالی ہی ان کے حالات سے پوری طرح آگاہ اور واقف ہے اھ مختصرا(ت)
اسی کی منہیہ میں نورالعین فی اصلاح جامع الفصولین سے ہے۔علامہ ابن کمال باشا نے اس سوال کے جواب میں فرمایا:
مافی التواجد ان حققت من حرج
ولافی التمایل ان اخلصت من باس
فقمت تسعی علی رجل وحق لمن
دعاہ مولاہ ان یسعی علی الراس
الرخصۃ فیما ذکر من الاوضاع عندالذکر والسماع للعارفین الصارفین اوقاتھم الی احسن الاعمال السالکین المالکین لضبط انفسھم من قبائح الاحوال فھم لایستمعون الا من الالہ ولایشتاقون الالہ ان ذکروہ ناحوا وان وجدوہ جو وجدحقیقت پرمبنی ہو اگرجھومنا اخلاص سے ہو تواس میں کوئی مضائقہ نہیںپھرتوکھڑے ہوکرایك پاؤں پردوڑنے لگا جسے اس کا مولابلائے اس پرواجب ہے کہ سرکے بل دوڑ پڑے۔ذکراورسماع کے وقت اوضاع مذکورہ کی اجازت ہے ان عارفین کے لئے ہے جو اپنے اوقات بہترین اعمال بجالانے میں صرف کرتے ہیں اﷲ تعالی کی راہ اختیار کرتے ہیںاپنے نفس کو قبیح اعمال سے روکنے پرقادرہوتے ہیں پھر وہ صرف اﷲ تعالی ہی سے سنتے اور اسی کے مشتاق رہتے ہیںاگر اس کی یاد میں مصروف ہوں تو نوحہ کرنے لگتے ہیں
حوالہ / References شفاء العلیل رسالہ من رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۷۳۔۱۷۲€
#3724 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
صاحوااذا غلب علیھم الوجد فمنھم من طرقتہ طوارق الہیبۃ فخروذاب ومنھم من برقت لہ بوارق اللطف فتحرك وطاب ھذا ماعن لی فی الجواب۔واﷲ اعلم بالصواب ۔ اگر اسے پالیں تو چیخنے چلانے لگتے ہیں بشرطیکہ وہ وجد سے مغلوب ہوںپھر ان میں کوئی وہ ہیں جنہیں مصائب الہی نے جھنجھوڑا توگرپڑے اورپگھل گئے اور ان میں کوئی وہ ہیں جن پرلطف وکرم کانزول ہوا تو خوش ہوکرمتحرك ہوگئے۔ میرے لئے یہی جواب ظاہرہوا۔اور اﷲ تعالی راہ صواب کو خوب جاننے والاہے۔(ت)
سیدی عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں زیرکلام مذکورمتن فرماتے ہیں:
اعلم ان ھذا الذی سبق ذکرہ فی المتن من عبارات الفقہاء جمیعہ فی حق من ذکرناھم من طائفۃ متصوفۃ اﷲ اعلم بعیانھموالافالوجدوالتواجد الذی تعلمہ الفقراء الصادقون فی ھذا الزمان وبعدہ کما کانوا یعلمونہ من قبل فی الزمان الماضی نور و ھدایۃ واثرتوفیق من اﷲ تعالی وعنایۃ قال المناوی فی طبقات الاولیاء قیل للجنید قدس سرہ ان قوما یتواجدون قال دعوھم مع اﷲ یفرحون وقال النجم الغزی فی حسن التنبہ عند ذکرہ حال المولھین فی اﷲ فی باب تشبہ العاقل بالمجنون والیہ الاشارۃ بقولہ صلی اﷲ تعالی متن میں تمام فقہاء کرام کی جن عبارات کا پہلے ذکرہوا یہ ان صوفیا کے حق میں ہے جو مذکور ہوئے اﷲ تعالی ان کی ذوات سے بخوبی واقف ہےورنہ وجداورتواجد جسے اس زمانے میں سچے فقراء ہی جانتے ہیں اور گزشتہ دور کے فقراء جانتے تھے وہ توایك نورہدایت اور اﷲ تعالی کی توفیق وعنایت کا ایك اثر ہے۔علامہ مناوی نے طبقات الاولیاء میں فرمایا:حضرت جنید بغدادی قدس سرہ سے عرض کی گئی کہ کچھ لوگ وجد کرتے ہیں توفرمایا انہیں اﷲ تعالی کے ساتھ چھوڑدو کہ خوش رہیں۔ فرمایا نجم الغزی نے حسن التنبہ میں اﷲ تعالی کے معاملہ میں لوگوں کاحال ذکرکرتے ہوئے"تشبہ عاقل بالمجنون"کے باب میں کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے اسی طرف اشارہ فرمایا
حوالہ / References منہیۃ علی ہذہ العبارت(شفاء العلیل) ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۷۲€
#3725 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
علیہ وسلم اکثرواذکراﷲ حتی یقولوا مجنون رواہ الامام احمد وابویعلی وابن حبان والحاکم و صححاہ عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ و ربما غلب الولہ علی اھل اﷲ تعالی والوجد حتی یغیبوا من وجودھم فتبدوا منھم احوال وافعال لو صدرت عن مشاھد الفعل لحکموا علیہ انہ خرج عن حد العقل کالرقص والدوران وتخریق الاثواب وھی حالۃ شریفۃ علامۃ صحتھا ان تحفظ علی صاحبھا اوقات الصلوات وسائرالفرائض فترد علیھم فیھا عقولھم وھذا حال جماعۃ من اولیاء اﷲ تعالی منھم الشبلی وابوالحسن النوری وسمنون المحب و سعدون المجنون وامثالھم
روی ابونعیم فی الحلیۃ عن یحیی بن معاذ الرازی انہ سئل عن الرقص فانشد یقول
دققنا الارض بالرقص
علی لطف معانیکا کثرت سے اﷲ تعالی کا ذکرکیا کرو یہاں تك کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں۔امام احمدابویعلیابن حبان اور حاکم نے اس کو روایت کیا اور آخری دونے اس کو صحیح قراردیا۔اور حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اس کو روایت کیاگیا۔اور بعض اوقات"اہل اﷲ"پرحیرت اوروجد کی کیفیت غالب ہوتی ہے یہاں تك کہ وہ اپنے وجود سے غائب ہوجاتے ہیں یااپنا وجود کھوبیٹھتے ہیں تو ان سے ایسے حالات ظاہرہوتے ہیں اگرشاہد فعل سے صادرہوتے تو اس پرحکم لگاتے کہ یہ حدعقل سے خارج ہے جیسے ناچناگھومنا اور کپڑے پھاڑ ڈالنا۔اور یہ ایك شریف حالت ہے اور اس کی صحت کی علامت یہ ہے کہ صاحب حالت پراوقات نمازاوردیگر فرائض محفوظ ہوتے ہیں پھر اس حالت میں ان کی عقلیں لوٹادی جاتی ہیں اور یہ حال اولیاء اﷲ کی ایك جماعت کاہے ان میں سے خواجہ شبلیابوالحسن نوریسمنون محبسعدون مجنون اور ان جیسے دیگراکابرین امت ہیں
چنانچہ محدث ابونعیم نے الحلیہ میں یحیی بن معاذ رازی سے روایت کی ہے کہ ان سے ناچ کے بارے میں پوچھاگیاتو وہ یہ کہنے لگے:ہم نے ناچ سے زمین کو روندا اورپامال کیا(یہ سب کچھ)تیرے معانی سے لطف اندوزہونے کے لئے کیا۔
#3726 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
ولاعیب علی الرقص
لعبد ھائم فیکا
وھذا دقنا الارض
اذا کنا بنادیکا
وامامن اظھر ھذہ الاحوال تعمدا للتوصل الی الدنیا اولیعتقدہ الناس ویتبرکوابہ فھذا من اقبح الذنوب المھلکات انتھی
وقال الغزالی فی الاحیاء ان اباالحسن النوری رحمہ اﷲ تعالی کان مع جماعۃ فی دعوۃ فجرت بینھم مسألۃ فی العلم و ابوالحسن ساکت ثم رفع راسہ و انشد ھم یقول
رب ورقاء ھتوف فی الضحی
ذات شجوھتفت فی فنن
ذکرت الفاوحزنا صالحا
فبکیت حزنا فھاجت حزنی
فبکائی ربما ارقھا
وبکاھا ربما ارقنی
ولقدتشکوفماافھمھا
ولقداشکوفمایفھمنی
غیرانی بالجوی اعرفھا
وھی ایضا بالجوی تعرفنی
قال فما بقی احد من القوم الاقام ناچ کرنے میں کوئی عیب نہیں اس بندہ کے لئے جو تیری ذات میں سرگشتہ اور گم ہوا اور محوہوااور یہ ہمارا زمین کوناچ کے ذریعے روندنا اورپامال کرنا اس لئے ہے کہ ہم تیراارادہ اور قصدکرنے والے ہیںلیکن جس نے ان حالات کو دانستہ طوپردنیا تك رسائی کے لئے ظاہرکیا یا اس لئے کہ لوگ اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس سے تبرك حاصل کریں تو یہ کارروائی مہلك اور تباہ کن گناہوں سے بھی زیادہ قبیح ہےاھ۔
چنانچہ امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا ابوالحسن نوری رحمۃ اﷲ علیہ کسی دعوت میں ایك جماعت کے ساتھ تشریف فرماتھے کہ اچانك ان کے درمیان ایك علمی بحث چھڑگئی اور حالت یہ تھی کہ ابوالحسن نوری بالکل خاموش بیٹھے تھے پھر اچانك سراٹھایا اور یہ اشعار پڑھنے لگے بہت سی کبوتریاں چاشت کے وقت لمبی لمبی آوازیں نکال کر درختوں کی شاخوں پربولنے لگیں۔میں نے محبت اور قابل قدرغم کویادکیا پھر میں غم کی وجہ سے روپڑا اور میرے غم میں ابال اور جوش آگیا۔بسااوقات میری گریہ وزاری نے انہیں نرم کردیا اور بساا وقات ان کی آہ وبکا نے مجھے نرم کرڈالا۔بیشك وہ شکوہ وشکایت کرتی ہیں مگرمیں تو انہیں نہیں سمجھاتا۔اور میں شکایت کرتا ہوں تو وہ مجھے نہیں سمجھاتی مگرمیں اپنے اندرونی سوزعشق
#3727 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الاقام وتواجد ولم یحصل لھم ھذا الوجد من العلم الذی خاضوافیہ وان کان العلم حقا انتھی و لاشك ان التواجد فیہ تشبہ باھل الوجد الحقیقی وھو جائز بل مطلوب شرعا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھو منھم رواہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہھذا اذاکان قصدہ بذلك مجرد التشبہ بھم والتبرك بسیرتھم محبۃ لھم ورغبۃ فی زیادۃ المیل الیھم واما اذاکان مقصدہ ان یعتقدہ الناس و یتبرکون بہ فھوالابس ثوبی زورفھو مذموم ممقوت عنداﷲ تعالی والناس یحملونہ علی المحامل الحسنۃ واما التواجد علی الوجہ الصحیح فقداشار الیہ الشیخ القشیری فی رسالتہ حیث قال قوم قالوا التواجد غیرمسلم لصاحبہ لمایتضمن من التکلف ویبعد عن التحقیق وقوم قالوا انہ مسلم کی وجہ سے اسے پہچانتاہوں اور وہ بھی اپنے اندر موجزن سوز عشق کی وجہ سے مجھے پہچانتی ہے۔پھربقول راوی سب کے سب وجد کرنے لگے اور یہ وجد اس علم کی وجہ سے نہ تھا جس میں وہ الجھے ہوئے تھے اگرچہ علم حق ہے انتہیبلاشبہ اس تواجد میں حقیقی وجدکرنے والوں سے مشابہت ہے اور یہ جائزہے بلکہ شرعا مطلوب ہے چنانچہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے وہ انہی میں سے ہے۔امام طبرانی نے "الاوسط" میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہےیہ تب ہے کہ جب اس سے اس کا ارادہ محض ان سے تشبہ اور ان کی عادات سے برکت حاصل کرنا ہوان سے محبت رکھتے ہوئے او ان کی طرف زیادہ راغب ومائل ہوتے ہوئے۔لیکن اگر اس کامقصد یہ ہو کہ لوگ اس(طریقہ)سے اس کے معتقد ہوجائیں اور اس سے برکت حاصل کریں توپھر وہ جھوٹالباس پہننے والا ہے جو اﷲ تعالی کے نزدیك مذموم ومغضوب ہے(اس کے باوجود)لوگ اچھے محمل پرمحمول اورقیاس کرتے ہیں لیکن صحیح طورپر وجدکرنا تو شیخ قشیری نے اپنے رسالہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایافرمایا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ باہم وجدکرنا صاحب وجد کے لئے ٹھیك نہیں اس لئے کہ وہ تکلف پر مبنی اورتحقیق سے بعید ہے۔اور کچھ لوگ کہتے
#3728 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
للفقراء المجردین الذین ترصدوا لوجدان ھذہ المعانی واصلھم خبرالرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابکوافان لم تبکوا فتباکواانتھی وفی شرعۃ الاسلام من السنۃ ان یقرأ القران بحزن و وجدفان القران نزل بحزن فان لم یکن لہ حزن فلیتحازن انتھی والحاصل ان تکلف الکمال من جملۃ الکمال والتشبہ بالاولیاء لمن لم یکن منھم امرمطلوب مرغوب فیہ علی کل حال اھ ملتقطا۔ ہیں کہ وہ مجرد فقراء کے لئے ٹھیك ہے جو ان کے معانی کے پانے کے منتظر رہتے ہیں اور اس کی اصل اور بنیاد آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث ہے(چنانچہ آپ نے فرمایا) لوگو! رویاکرو اور اگر رونہ سکو تورونی صورت بنایا کرو انتہی۔ شرعۃ الاسلام میں ہے سنت یہ ہے کہ غم کے ساتھ جھوم کر قرآن مجید کی تلاوت کی جائے کیونکہ قرآن مجید غم کے ساتھ نازل ہوا ہے اور اگرکسی میں غم کاتاثر نہ ہو توغمگین صورت بنالیاکرے انتہی۔خلاصہ یہ کہ کسی کمال میں تکلف(بناوٹ) کمال میں شامل ہوتاہے اور جوشخص اولیاء اﷲ میں سے نہیں مگران کی مشابہت اختیارکرتاہے یہ بھی امرمطلوب اور ہر حال مستحسن ہے اھ ملتقطا۔(ت)
مگرظاہر کہ عامہ ناس کا اس میں کچھ نہیں تو صورت مسئولہ میں اس حالت کے شروع ہونے پر لوگوں کاچلانا اصلا کسی طرح محل طعن نہ تھا بلکہ انہیں یہی چاہئے تھا دوحال سے خالی نہیں یہ رقص وتمایل و تصفیق والے محق تھے یامبطلاگرمحق تھے تو عوام جو ان مناصب عالیہ تك بالغ نہیں ان میں شریك ہونامحض بے معنی تھااور مبطل تھے تو ان کی حرکات ذمیمہ کا تماشا دیکھنا خود حرام ونارواتھااور جوامر حرام ولغو میں دائر ہو اس سے احتراز ہی طریق صواب ہے آیہ کریمہ ومن اعرض عن ذکری" کا اس پر ورود کیونکر ممکنجہاں خودبحکم شرع ہی چلاجانا مطلوب ہوآیہ کریمہ میں اعراض عن الذکر سے ایمان نہ لانا مقصودخود آیت قرآنیہ اس ارادے پرشاہد عدل موجودقال اﷲ تعالی: "فاما یاتینکم منی ہدی ۬ فمن اتبع ہدای فلا یضل ولا یشقی ﴿۱۲۳﴾" " ومن اعرض عن ذکری" الآیۃ بعد واقعہ ابلیس لعین وتناول شجرہ حضرت آدم وحوا اور ان کے دشمن کوجنت سے اتارتے وقت ارشاد ہوا
حوالہ / References الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۲۳ تا ۵۲۷
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۱۲۴€
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۱۲۳€
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۱۲۴€
#3729 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
کہ اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے توجومیری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہ ہو نہ سختی جھیلے اور جو میرے ارشاد سے منہ پھیرے اس کے لئے تنگ زندگانی اور اسے ہم روزقیامت اندھا اٹھائیں گے۔اس مضمون کو سورہ بقر میں یوں ادا فرمایا ہے:
" فاما یاتینکم منی ہدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون﴿۳۸﴾ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحب النار ہم فیہا خلدون﴿۳۹﴾" اگرتمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جومیری ہدایت کی پیروی کریں انہیں کچھ خوف نہیں نہ وہ غمگین ہوں اور جوکفرکریں اور میری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے۔
ایك ہی قصہ ہے ایك ہی ارشاد ہے تو خود قرآن عظیم نے شرح فرمادی ہے کہ اعراض عن الذکر سے کفرمراد ہےاب نقل اقوال مفسرین کی حاجت نہ رہیحدیث میں ہے کچھ لوگوں نے چلاچلا کر مسجد میں ذکرکرنا شروع کیا سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے انہیں نکلوادیا اب خواہ یہ نکلوانا اس بناپر ہو کہ ان کے نزدیك ذکرجہرممنوع تھا خواہ اس لئے کہ ان کے چلانے سے نمازیوں پرتشویش تھی خواہ کسی وجہ سے ہوبہرحال جب ایسی حالتوں میں خود ذاکرین کونکلوادینا معیوب نہ ہوا توآپ اٹھ کرچلاجانا کیونکر محل طعن ہوسکتاہےغرض آیت سے نہ یہ ارادہ صحیح نہ ان مسلمانوں پر یہ حکم لگانا درستحلقے میں کا وہ شخص جو اس کاقائل ہوا اگرجاہل ہے تو دو سخت کبیرہ گناہوں کامرتکب ہوا:
اولا: بے علم قرآن عظیم کی تفسیرکرنارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبوا مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما وقال صحیح۔ جو بے علم قرآن میں کچھ بولے وہ اپناٹھکانا دوزخ میں بنالے (امام ترمذی نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے اسے روایت کیااور فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۳۸ و۳۹€
جامع الترمذی ابواب التفسیر باب ماجاء فی الذی یفسرالقرآن برأیہ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹€
#3730 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
ثانیا:بے علم فتوی دینا حکم لگانارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
افتوابغیر علم فضلوا واضلوا۔رواہ الائمۃ احمد و البخاری ومسلم والترمذی وابن ماجۃ عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بے علم فتوی دیا تو آپ گمراہ ہوئے اوروں کوگمراہ کیا(ائمہ کرام احمدبخاریمسلمترمذی اور ابن ماجہ نے عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کوروایت کیا۔ت)
اوراگرذی علم ہے اوردانستہ تفسیرغلط کی غلط حکم لگایا تواشد واعظم کبائر کاارتکاب کیا کہ اﷲ عزوجل پربہتان اٹھایا شریعت مطہرہ پرافتراباندھااﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" و من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا " اس سے بڑھ کر ظالم کون جواﷲ عزوجل پرجھوٹ افتراکرے۔
اس شخص پرتوبہ تو ہرصورت میں فرض ہےجب تك توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نمازسخت مکروہ ہے اور اسے امام بنانا گناہ
لانہ فاسق وفی الغنیۃ شرح المنیۃ محتجا بفتاوی الحجۃ انھم لوقدموا فاسقا یاثمون ۔ اس لئے کہ وہ فاسق ہے(یعنی حدودشرعیہ سے تجاوزکرنے والا ہے)اور غنیہ شرح منیہ میں فتاوی حجہ سے دلیل لاتے ہوئے فرمایا اگرلوگ فاسق کوامامت کے لئے آگے کریں تو گنہگار ہوں گے۔(ت)
اوربرتقدیر علم کہ دانستہ اس کامرتکب ہوا تجدید اسلام ونکاح کابھی حکم ہے کہ جان بوجھ کر رب العزۃ عزجلالہ پرافترا کرنے کو اکثر علماء نے کفرٹھہرایا۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون جھوٹ وہ گھڑتے ہیں جوآیات الہی پر
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی ذھاب العلم ∞امین کمپنی ۲/ ۹۰،€صحیح مسلم کتاب العلم ∞۲/ ۳۴۰€ و صحیح البخاری کتاب العلم ∞۱/ ۲۰،€سنن ابن ماجہ باب اجتناب الرای والقیاس ∞ص۶€ ومسندامام احمدبن حنبل ∞۲/ ۱۶۲€
القرآن الکریم ∞۶/ ۲۱€
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳€
#3731 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
بایت اللہ " ایمان نہیں رکھتے۔(ت)
موضوعات کبیر میں ہے:
ای الکذب علی اﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان الکذب علی غیرھما لایخرجہ عن الایمان باجماع اھل السنۃ والجماعۃ۔ اﷲ تعالی اور اس کے رسول مکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے متعلق جھوٹ کہنا آدمی کو ایمان سے خارج نہیں کرتااہلسنت کااس پر اتفاق ہے۔(ت)
شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی الفتاوی الصغری من قال یعلم اﷲ انی فعلت ھذا وکان لم یفعل کفر ای لانہ کذب علی اﷲ تعالی ۔ فتاوی صغری میں ہے کہ جوشخص یہ کہے کہ اﷲ تعالی جانتاہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اس نے وہ کام نہ کیا ہو تو وہ کافرہوجاتا ہےکیوں اس لئے کہ اس نے اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ھل یکفر بقولہ اﷲ یعلم اویعلم اﷲ انہ فعل کذا کاذبا قال الزاھدی الاکثر نعموقال الشمنی الاصح لا ۔ کیا اپنے اس کہنے سے آدمی کافرہوجائے گا اﷲ تعالی جانتا ہے یاجانتا ہے اﷲ تعالی۔جھوٹا ہونے کی حالت میں کہے کہ اس نے فلاں کام کیا ہےزاہدی نے کہا اکثر اہل علم نے فرمایا کہ ہاں کافرہوجائے گا۔علامہ شمنی نے کہا یہی زیادہ صحیح یہ ہے کہ کافر نہ ہوگا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ونقل فی نورالعین عن الفتاوی نورالعین میں فتاوی سے پہلے قول کی تصحیح
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۶/ ۱۰۵€
الاسرار الموضوعۃ تحت ∞حدیث ۹۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۲۹€
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی ∞مصر ص۱۹۱€
درمختار کتاب الایمان ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۹۲€
#3732 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
تصحیح الاول ۔ نقل کی گئی۔(ت)
اور شرع مطہر کو ایسا ویسا یعنی حقیر جاننے والا توقطعا اجماعا کافرمرتد زندیق ملحدہے ایسا کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جو اس کے کافرومستحق نار ہونے میں شك کرے وہ خود کافرہے اسی طرح جوتفسیرجلالین شریف خواہ کسی کتاب دینی کی فی نفسہ نہ کسی امرخارج عارض کے باعث بلاشبہ و تاویل تحقیر کرے کافرہے مگرکلام مذکورفی السوال نہ تنقیص شرع مطہر میں صریح ہے نہ تحقیر۔جلالین شریف میں نص کریمہ مذکورہ کے وہ معنی کہ اس قائل نے بتائے معانی مذکورہ تفاسیر کے منافی نہیں کہ ان کی تصحیح کو ان کاابطال ضرورہے بلکہ ایك معنی جداگانہ ہیں تو اس کے قول کایہی محمل نہیں کہ معانی ظاہرہ معاذاﷲ باطل ہیں حق وہ ہے جو اہل باطن ان کے خلاف جانتے ہیں بلکہ اس کا مطلب بننے کو اس قدرکافی کہ جو کچھ ان تفاسیر میں ہے یہ معانی ظاہرہ ہیں اور افادات قرآن عظیم انہیں میں محصور نہیں بلکہ ان کے سوا اور نکات انیقہ ولطائف دقیقہ بھی ہیں جنہیں اہل باطن جانتے ہیں اس میں نہ کوئی توہین ہوئی نہ تحقیربلکہ یہ حق ہے اگرچہ اس محل پر آیہ کریمہ کاایراد اور یہ ادعائے مرادباطل ہے تویہاں معاذاﷲ ثبوت کفرکاکوئی محل نہیںشرح عقائد میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھرھا والعدول عنھا الی معان یدعیھا الباطنیۃ لادعائھم ان النصوص لیست علی ظواھرھا بل لھامعان باطنیۃ لایعرفھا الا المعلم وقصد ھم بذاك نفی الشریعۃ بالکلیۃ الحاد لکونہ تکذیب للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ واما ماذھب الیہ بعض نصوص اپنے ظاہری معانی پرمحمول ہواکرتے ہیں لیکن ظاہری معانی سے انہیں ایسے معانی کی طرف پھیردینا کہ جن کافرقہ باطنیہ والے دعوی کرتے ہیں اس لئے کہ ان کا دعوی یہ ہے کہ نصوص اپنے ظواہر پرنہیں محمول ہوتے بلکہ ان کے لئے باطنی اور پوشیدہ معانی ہوتے ہیں اور انہیں صرف معلم جانتاہے اس سے ان کاپوری شریعت کی نفی کاارادہ کرنا کھلا الحاد(بے دینی)ہے اس لئے کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ان احکام میں تکذیب ہے جن کا لانا آپ سے بالبداہت معلوم ہوگیا ہے۔رہی یہ بات
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۵۶€
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶€
#3733 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
المحققین من ان النصوص علی ظواھرھا ومع ذلك فیھا اشارات خفیۃ الی دقائق تنکشف علی ارباب السلوك یمکن التطبیق بینھا وبین الظواہر المرادۃ فھو من کمال الایمان ومحض العرفان اھ باختصار۔ کہ جس کی طرف بعض محققین گئے ہیں یعنی انہوں نے اسے اختیار کیاہے کہ نصوص اپنے ظاہرمعانی رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں باریك اور مخفی اشارات بھی پائے جاتے ہیں جو ارباب سلوك پر منکشف ہوتے ہیں کہ ان میں اورظاہری مراد میں تطبیق ہوسکتی ہے تو یہ کمال ایمان اور خالص عرفان ہے اھ باختصار(ت)
اس بیان سے تمام مراتب سوال کاجواب ہوگیا۔باقی رہایہ امر کہ فلاں شخص یا اشخاص خاص کا وجد حق ہے یاباطلہیہات اس کے ارادہ کی طرف راہ سخت دشوار والہ سرشار ومتصنع ریاکار میں حالت قلب کا تفاوت ہے اور اوساط صادقین متشبہین بالعاشقین واراذل فاسقین مرائین میں فرق اس سے بھی سخت باریك ودقیق ترکہ یہاں صرف نیت کاتغایر ہے اور نیت وقلب دونوں غیب ہیں اور مسلمان پربدگمانی حرام
قال اﷲ تعالی" و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ " (اﷲ تعالی نے فرمایا)اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کاتجھے علم نہیں بیشك کان آنکھ دل سب سے سوال ہوتاہے۔
اورفرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم " اے ایمان والو! بہت گمانوں سے بچو بیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن گمان سے دور رہو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی
حوالہ / References شرح عقائد للنسفی ∞مطبع شوکت اسلام قندھار افغانستان ص۱۱۹ و ۱۲۰€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۳۶€
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۲€
#3734 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
اکذب الحدیثرواہ الائمۃ مالک والشیخان وابو داؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بات ہے(ائمہ کرام مثلا امام مالکبخاریمسلمابوداؤد اور ترمذی نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
امام علامہ عارف باﷲ ناصح فی اﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے اس بحث میں بالتعیین کسی شخص کی نسبت حکم تصنع وریاء لگادینے پرایك طویل وجلیل کلام میں اقامت قیامت فرمائی جس میں سے چندحرف کاخلاصہ یہ کہ سب صوفیہ یکساں نہیںجیسے سب علماء وفقہاء ومدرسین ایك سے نہیںجیسے سب قضاۃ وامراء ووزراء وسلاطین برابرنہیں بلکہ ان میں صالح اصلح فاسد افسد سب طرح کے ہیںناقص قاصرجاہلمسلمانوں کی عیب جوئی کرتے اور کاملوں کوکمال ہی نظرآتا اور عیب پوشی وتاویل فرماتے ہیںپھرفرمایا:
ھذا کلہ فی طائفۃ من المتصوفۃ اوصافھم کذلك و احوالھم اخبث من ذلك وان لم یجز تعیین طائفۃ منھم باعیانھم ولاشخص واحد بعینہ مالم ینکشف فیھم جلیلۃ الامر بالمشاھدۃ والعیان الذی لایحتمل التاویل فی البیان و لایجوز تقلید الناس بعضھم بعضا فی الاخبار عن ذلك مالم یثبت بالبینۃ العادلۃ عندالحاکم یہ سب کچھ صوفیاء کے اس گروہ سے متعلق ہے جن کے اوصاف اس طرح یا اس سے بھی خبیث تر ہیں اگرچہ ان میں سے کسی گروہ کی بلحاظ اشخاص تعیین جائزنہیں اور نہ کسی شخص معین کیجب تك مشاہدے سے امرواضح نہ ہو اور عیاں بھی ایسا ہوکہ جس کے بیان میں کسی شك اور تاویل کی گنجائش نہ ہو۔اور خبرمیں لوگوں کا ایك دوسرے کی تقلید کرناجائزنہیں جب تك حاکم شرع کے روبرو کسی عادل گواہ کے ذریعے کوئی امرثابت نہ ہو۔علاوہ ازیں
حوالہ / References مسندامام احمدبن حنبل مسندابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۲/ ۵۰۴،€صحیح البخاری کتاب الفرائض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۹۵،€صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم الظن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۶،€سنن ابی داؤد کتاب الادب ∞۲/ ۳۱۷€ وجامع الترمذی ابواب البر ∞۲/ ۲۰€
#3735 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الشرعی علی ان الحاکم ایضا یحکم بالظاھر و بواطن الامور معلومۃ عنداﷲ تعالی فلاقطع الاظاھرا واﷲ اعلم بالسرائر واماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذلك فھو ممنوعلاستناد الکل فیہ الی الظن والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم من رؤیتہ ذلك لقال لم اعاینہ انما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف من حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وربما اذا تاملت وجدت خبر ذلك التواتر مستندا فی الاصل الی خبرواحداواثنین والواحد ایضا قولہ مبنی علی الظن والتھمۃ فلایجوز لاحد ان یقول ثبت عندی بالتواتر معصیۃ فلان لان الناس اخبرونی بذلك وھم کثیرونوانما ذلك لغلبۃ الکذب فی الناس خصوصا فی زمانناوکثرۃ الحسد و العداوۃ وربما یفتری احدھم علی رجل بمالاعلم لہ بہ ویخبرالناس بذلك حاکم بھی ظاہر پر حکم لگاتاہے اور پوشیدہ ومخفی امورتواﷲ تعالی ہی کومعلوم ہیں لہذا ظاہری محل یقین ہوسکتاہے اورپوشیدہ بھیدوں کو تو اﷲ تعالی ہی خوب جانتاہے۔رہایہ کہ اس باب میں لوگوں کاایك دوسرے سے خبرتواتر کاوصولتووہ ممنوع ہے کیونکہ اس میں سب کا استناد گمان اور اندازہ ہے۔لوگوں کا ایك دوسرے سے استفادہ خبراس طریقے سے ہرایك نے دوسرے سے اس کی رؤیت(مشاہدے)کا سوال کیا تو اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا میں نے صرف سناہے اور جو یہ کہے میں نے دیکھاہے اگرتم اس کے حال کاانکشاف کرو یعنی چھان بین کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کی سند بھی گمان اور چند وہمی علامات پر ہے خصوصا جب آپ غوروفکر کریں گے تو اس خبرمتواتر کو ایك یا دو کی طرف منسوب پائیں گےاور ایك کا قول بھی ظن اور الزام وتہمت پرمبنی ہوگا لہذا کسی شخص کے لئے یہ کہناجائز نہیں کہ میرے نزدیك فلاں آدمی کاگناہ تواتر سے ثابت ہے اس لئے کہ زیادہ ترلوگوں نے مجھے یہی بتایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ ترجھوٹ ہوتاہے خصوصا ہمارے دورمیں زیادہ حسد اور دشمنی پائی جاتی ہے۔بسااوقات کوئی شخص کسی پرایساافتراباندھتاہے جس کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا اور وہ لوگوں کو اطلاع دیتاہے
#3736 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
ویخبرالناس ینقلونہ فیصل الخبر الی بعض المغرورین بعلمھم المطرودین عن ابواب فضل اﷲ تعالی فیقول وصلنی ھذا عن فلان بالتواتر ولایعلم المسکین ان الذی ینقلون الیہ الکذب ینقلون عنہ ایضا الکذب لغیرہ وبعد ھذا کلہ اذا ثبت فعل المعصیۃ من احد بطریق التواتر اوالروایۃ لم یفد شیئا لان ذکرہ بمعصیۃ بین الناس علی وجہ الذم حرام لان الغیبۃ صدق محرم اماقصد ان یحذر الناس والخبر شائع فی الناس فغیر معتبر نعم قالوا ذلك فیما اذا لم یکن للناس علم بہ وھذا انما استفاد العلم بہ من خبر الناس المتواتر عندہ وعلی کل حال فالسترلعورات المسلمین ھوالمتعین علی صاحب الاستقامۃ فی الدینذکر النجم الغزی رحمہ اﷲ تعالی فی حسن التنبہ فی التشبہان من اخلاق الیھود والنصاری الاتھام والوقوع فی عرض من لم یثبت پھر لوگ وہ بات اس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں پھر یہ خبربعض ایسے لوگوں تك پہنچ جاتی ہے جو اپنے علم پرمغرور اور فریب خوردہ ہوتے ہیں اور فضل خداوندی سے دھتکارے ہوئے ہوتے ہیں۔پھروہ کہتاہے کہ مجھے فلاں شخص کی طرف سے بتواتر یہ بات پہنچی ہے حالانکہ اس بیچارے کو معلوم نہیں ہوتا کہ جو اس کی طرف جھوٹ نقل کرتے ہیں وہ اس سے بھی دوسروں تك جھوٹ نقل کرسکتے ہیں۔ان تمام باتوں کے بعد جب کسی شخص سے بطریق تواتریامشاہدہ گناہ ثابت ہوجائے توپھربھی اس کاتذکرہ بند کردے کیونکہ لوگوں میں بطورغیبت کسی کے گناہ کاتذکرہ حرام ہے اس لئے کہ غیبت سچی بھی حرام ہے لیکن اگر اس نے لوگوں کو ڈرانے اور چوکنا کرنے کے لئے ایسے کیا جبکہ خبرلوگوں میں پھیلی ہوئی اور مشہورہے تو اس کی بات غیرمعتبر ہےہاں اگروہ ایسی بات کہیں جس کالوگوں کوکوئی علم نہیں ہوتا یہ الگ بات ہےیہ اس وقت ہے جب یہ خبر سے علم کا فائدہ حاصل کرے جب کہ لوگوں کی خبر اس کے نزدیك متواترہوبہرحال مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی ان لوگوں پرلازمی ہے جو دین میں استقامت رکھتے ہیںچنانچہ امام نجم غزی رحمۃ اﷲ علیہ تعالی علیہ نے"حسن التنبہ فی التشبہ"میں ذکرکیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اخلاق میں سے یہ ہے کہ دوسروں کو الزام
#3737 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
عنہ وھذا من الخوض فیمالایعنیہ روی الترمذی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہوروی الطبرانی بسند صحیح عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال اعظم الناس خطایا یوم القیمۃ اکثرھم خوضا فی الباطل ورواہ ابن ابی الدنیا فی الصمت باسناد رجالہ ثقات عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرسلا قال فی الاحیاء و الیہ الاشارۃ بقولہ تعالی " و کنا نخوض مع الخائضین ﴿۴۵﴾ " وروی البیھقی فی الشعب عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایزول المسروق منہ فی تھمۃ حتی یکون اعظم جرما من السارق وروی الامام احمد والشیخان والنسائی لگائے جائیں اور ان کی عزت میں ہاتھ ڈالاجائے اور لایعنی وبے مقصد باتوں میں غوطہ زنی کی جائے۔چنانچہ امام ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے کہ آدمی کی اسلامی خوبیوں میں سے ایك یہ ہے کہ لایعنی اور بے مقصد کاموں کو ترك کردے۔
امام طبرانی نے بسند صحیح حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب لوگوں سے بڑا گنہگار وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ باطل میں گھستا رہتاہے۔ابن ابی الدنیا نے خاموشی کے باب میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس کومرسل (یعنی بغیرسند)روایت کیا۔ایسی اسناد سے کہ رواۃ مستند اور معتبر ہیں۔اور اﷲ تعالی کے اس ارشاد میں اسی طرف اشارہ ہے کہ ہم گھسے رہنے والوں کے ساتھ گھسے رہے ہیں۔امام بیہقی نے شعب الایمان میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت فرمائی کہ مائی صاحبہ نے فرمایا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمیشہ مسروق عنہ(وہ شخص جس کامال چوری ہوا)تہمت میں رہے گا یہاں تك کہ وہ چور سے بڑا مجرم
#3738 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال رای عیسی ابن مریم علیہما الصلوۃ والسلام رجلا یسرق فقال اسرقت قال کلا واﷲ الذی لاالہ الاھو فقال عیسی امنت باﷲ وکذبت عینیوھذا الخلق عزیز جدا انتھی فایاك ان تقع فی حق احد ولوبکلمۃ واحذر ان تخوض مع الخائضین خصوصا فی حق فقراء الصوفیۃ اھ بالالتقاط تحصیلا للبرکۃ بکلمات الھداۃ الناصحین وعدۃ لنفسی وللمسلمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ بن جائے گا۔امام احمدبخاریمسلمنسائی اور ابن ماجہ نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بواسطہ ابوہریرہ روایت فرمائی ہے کہ حضرت عیسی ابن مریم علیہما الصلوۃ والسلام نے ایك شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا توفرمایا کیاتونے چوری کی اس نے جھٹ کہا ہرگز ایسانہیںاس خداتعالی کی قسم جس کے سوا کوئی سچامعبود نہیں۔حضرت عیسی نے فرمایا میں اﷲ تعالی پرایمان لایا اور میں نے اپنی آنکھوں کو جھٹلایا یہ لوگ یقینا پیارے ہیں اھ کسی کے حق میں شبہہ کرنے سے بچو اگرچہ کسی ایك ہی کلمہ سے ہو۔اور اس بات سے ہوشیار رہو کہ باطل میں شروع ہونے والوں کے ساتھ شروع ہونے لگو خصوصا فقراء صوفیہ کے حق میںاھ بالالتقاط۔ہدایت یافتہ خیرخواہ ہوں کے کلمات سے حصول برکت کرتے ہوئے اور گنتی کے چندکلمات میرے نفس اور مسلمانوں کے لئے ایك گونہ وعدہ ہیں۔اﷲ تعالی پاك اور برتر سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳: مسئولہ مولوی نوشہ علی صاحب ربیع الاول ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثرلوگ جب فصل آم آتی ہے توباغوں کوجاکر آم کھاتے ہیں اور آپس میں ایك دوسرے کے آموں کی گٹھلیاں مارتے ہیں اور لہوولعب میں مشغول ہوتے ہیںآیا یہ فعل ان کاکیسا ہےجائزیاناجائز اور بر تقدیر عدم جواز کے حرام ہے یابدعت ہے یامکروہ اور برتقدیر بدعت کے بدعت حسنہ ہے یاسیئہ بینواالجواب بحوالۃ الکتب وتوجروایوم الحساب(بحوالہ کتب جواب بیان فرمایئے اور روزحساب اجرپائیے۔ت)
حوالہ / References الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف التاسع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۲۱ تا ۵۲۳€
#3739 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
گٹھلیاں مارنا ناجائزوممنوع ہے مسندامام احمدوصحیح بخاری و مسلم وسنن ابی داؤدوسنن نسائی وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن مغفل مزنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
قال نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الخذف وقال انہ لایقتل الصید ولاینکاء العدو وانہ یفقأ العین ویکسرالسن ۔
فی التیسیر الخذف بمعجمتین وفاء الرمی بحصاۃ اونواۃ لانہ یفقأ العین و لایقتل الصید ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غلایاگٹھلی کنکری پھینك کرمارنے سے منع کیا اور فرمایا اس سے نہ دشمن پروار ہو سکے نہ جانور کاشکاراس کانتیجہ یہی ہے کہ آنکھ پھوڑدے یا دانت توڑدے۔
تیسیر میں ہے"الخذف"میں دوحروف"خ"اور"ذ"' دونوں نقطے والے ہیں اور آخر میں حرف"ف"ہے اس پربھی نقطہ ہے اس کے معنی ہیں گٹھلی وغیرہ پھینکنا۔
اور صرف چھلکوں سے ہم عمرہم مرتبہ لوگ نادرا محض تطبیب قلب کی طورپرباہم مزاح دوستانہ کریں جس میں اصلا کسی حرمت یاحشمت دینی کا ضررحالا یامالا نہ ہو تو مباح ہے۔عالمگیری میں ہے:
قال القاضی الامام ملك الملوکاللعب الذی یلعب الشبان ایام الصیف بالبطیخ بان یضرب بعضھم بعضا مباح غیرمستنکر کذا فی جواھر الفتاوی فی الباب السادس ۔ قاضی امام ملك الملوك نے فرمایا وہ کھیل جو موسم گرما میں نوجوان خربوزوں کے ساتھ کھیلتے ہیں ایك دوسرے کو خربوزے مارتے ہیں یہ کھیل مباح ہے گناہ نہیں۔ جواہر الفتاوی کے چھٹے باب میں اسی طرح مذکور ہے۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب باب الخذف ∞قدیمی کتب خانہ ۲/ ۹۱۹،€صحیح مسلم کتاب الصید باب الخذف ∞قدیمی کتب خانہ ۲/ ۱۵۲،€سنن ابی داؤد کتاب الادب باب الخذف ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۸€
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث نہی عن الخذف مکتبۃ الامام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۴۶۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲€
#3740 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
عوارف المعارف شریف میں ہے:
روی بکربن عبداﷲ قال کان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتبادحون بالبطیخ فاذا کانت الحقائق کانواھم الرجال یقال بدح یبدح اذا رمی ای یترامون بالبطیخ اھ ذکرہ قدس سرہ فی الباب الثلثین۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ بکربن عبداﷲ سے روایت ہے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے صحابہ(بطور تفریح وکھیل کود)ایك دوسرے پرخربوزے پھینکاکرتے تھے جب حقائق یہ ہیں تو پھردرحقیقت وہی کامل مرد ہیں۔جب کوئی چیزپھینکی جائے تو کہاجاتاہے بدح یبدح یعنی صحابہ کرام ایك دوسرے پرخربوزے پھینکاکرتے تھےاھ اس کو صاحب عوارف المعارف نے تیسویں باب میں ذکر فرمایا۔اﷲ تعالی پاکبلندوبالا اور سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴: ازپیلی بھیت بازار ڈرمنڈ گنج دکان خلیل الرحمن عطرفروش مرسلہ محمدمظہرالاسلام صاحب ۲۴رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں:بزرگان دین کے عرس میں شب کو آتشبازی جلانا اور روشنی بکثرت کرنا بلاحاجت اور جوکھانا بغرض ایصال ثواب پکایاگیا ہو اس کو لٹانا کہ جو لوٹنے والوں کے پیروں میں کئی من خراب ہوکر مٹی میں مل گیاہو اس فعل کوبانیان عرس موجب فخراورباعث برکت قیاس کرتے ہیںشریعت عالی میں اس کا کیا حکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
آتشبازی اسراف ہے اور اسراف حرامکھانے کاایسالٹانابے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہےتضیع مال ہےاور تضیع حرامروشنی اگرمصالح شرعیہ سے خالی ہو تو وہ بھی اسراف ہےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵: ازبنگالہ ضلع کمرلہ موضع حریمنگل مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲ربیع الاول شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تاش وشطرنج کھیلنا جائزہے یانہیں بینواتوجروا عنداﷲ(بیان فرماؤ اﷲ کے ہاں سے اجروثواب پاؤ۔ت)
حوالہ / References عوارف المعارف الباب الثلاثون مکتبۃ المشہد الحسینی القاھرہ ∞ص۱۴۲€
#3741 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الجواب:دونوں(تاش وشطرنج)ناجائزہیں اور تاش زیادہ گناہ وحرام کہ اس میں تصاویر بھی ہیں
ومسألۃ الشطرنج مبسوطۃ فی الدر وغیرھا من الحظر والشہاداتوالصواب اطلاق المنع کما اوضحہ فی ردالمحتار واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ شطرنج کامسئلہ بڑی تفصیل کے ساتھ درمختار وغیرہ میں موجود ہے اور صواب(درست اور حقیقت)یہ ہے کہ اس کی مطلقا ممانعت ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں اس کی وضاحت فرمائی گئی۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم نہایت درجہ تام اور پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۶: ۲۸ربیع الآخرشریف ۱۳۲۰ھ مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص میرادوست آیا اور اس نے مجھ سے کہا چلو ایك جگہ عرس ہےمیں چلاگیا وہاں جاکردیکھا کہ بہت اشخاص ہیں اور قوالی اس طریقہ سے ہورہی ہے کہ ایك ڈھول او دوسارنگی بج رہی ہے اور چندقوال پیران پیردستگیر کی شان میں شعرپڑھ رہے ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعت کے اشعار اور اولیاء اﷲ کی شان میں اشعار گارہے ہیں اور ڈھول سارنگیاں بج رہی ہیںیہ باجے مذکورہ توشریعت میں حرام ہیں کیا اس فعل سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور اولیاء اﷲ خوش ہوں گے اور یہ اشخاص مذکورہ حاضرین جلسہ گنہگارہوئے یانہیں اور ایسی قوالی جائزہے یانہیں او راگرجائزہے توکس طرح پر بینواتوجروا فقط۔
الجواب:
ایسی قوالی حرام ہےحاضرین سب گنہگار ہیںاور ان سب کاگناہ ایساکرنے والوں اور قوالوں پرہے اور قوالوں کابھی گناہ اس عرس کرنےو الے پربغیراس کے کہ عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کاگناہ جانے سے قوالوں پرسے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے قوالوں کے ذمہ حاضرین کاوبال پڑنے
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۷€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۳€
#3742 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
سے حاضرین کے گناہ میں کچھ تخفیف ہونہیں بلکہ حاضرین میں ہرایك پراپناپوراگناہ اور قوالوں پراپناگناہ الگ اور سب حاضرین کے برابرجدا اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ وجہ یہ کہ حاضرین کوعرس کرنے والے نے بلایا ان کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا اگر وہ سامان نہ کرتا یہ ڈھول سارنگی نہ سناتے توحاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے اس لئے ان سب کا گناہ ان دونوں پرہوا پھرقوالوں کے اس گناہ کاباعث وہ عرس کرنے والا ہوا وہ نہ کرتا نہ بلاتا تو یہ کیونکر آتے بجاتے لہذا قوالوں کابھی گناہ اس بلانے والے پرہوا
کما قالوا فی سائل قوی ذی مرۃ سوی ان الاخذ والمعطی اثما لانھم لولم یعطوالمافعلوا فکان العطاء ھوالباعث لھم علی الاستر سال فی التکدی و السوال وھذا کلہ ظاھر علی من عرف القواعد الکریمۃ الشرعیۃ وباﷲ التوفیق۔ جیسا کہ طاقتورتوانا اور صحت مندسائل کے بارے میں کہتے ہیں کہ لینے اور دینے والا دونوں گنہگار ہیں اس لئے کہ اگر دینے والے نہ دیتے تو مانگنے والے گداگری کوپیشہ نہ بناتے لہذا یہ عطاء بخشش ہی ان کے ترك مشقت کا اور مانگنے کاباعث ہوئی اور یہ سب کچھ اس شخص پرظاہر اور واضح ہے جوقواعد شرعیہ کریمہ کاعارف ہے۔اور اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے ہی توفیق ملتی ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذلك من اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذلك من اثامھم شیئا رواہ الائمۃ احمد ومسلم والاربعۃ جو کسی امرہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے اور جو کسی امرضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف نہ ہو۔(ائمہ کرام مثلا امام احمدمسلم اور دیگر چارائمہ(ترمذی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷۳€
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ ∞۲/ ۳۴۱€ و مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ بیروت ∞۲/ ۳۹۷،€سنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲/ ۲۷۹ و سنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ∞ص۱۸€
#3743 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ ابوداؤدنسائیابن ماجہ)نے حضرات ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
مسئلہ نص شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے لیاجائے گا یافقہ امام مجتہد رضی اﷲ تعالی عنہ سے اگرنص شارع صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم درکارہے تومزامیر کی حرمت میں احادیث کثیرہ بالغ بحد تواتر وارد ہیں ازانجملہ اجل واعلی حدیث صحیح بخاری شریف ہے کہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیکونن من امتی اقوام لیستحلون الحروالحریر و الخمروالمعازف۔ ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اورباجوں کو۔
حدیث صحیح جلیل متصل
وقد اخرجہ ایضا احمد وابوداؤد وابن ماجۃ و الاسمعیلی وابونعیم باسانید صحیحۃ لامطعن فیھا وصححہ جماعۃ اخرون من الائمۃ کما قال بعض الحفاظ قالہ الامام ابن حجر فی کف الرعاع ۔ نیزامام احمدابوداؤدابن ماجہمحدث اسمعیل اور ابونعیم نے اسے صحیح اسناد کے ساتھ کہ جن میں کوئی طعن نہیں اس کی تخریج فرمائیاور ائمہ کی ایك دوسری جماعت نے اس کو صحیح قراردیا جیسا کہ بعض حفاظ نے کہاہےچنانچہ امام ابن حجرنے "کف الرعاع"میں فرمایا ہے(ت)
احادیث صحاح مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یامحتمل واقعے یامتشابہ پیش نہیں ہوسکتے ہرعاقل جانتاہے کہ صحیح کے سامنے ضعیفمتعین کے آگے محتملمحکم کے حضور متشابہ واجب الترك ہےپھرکہاں قول کہاں حکایت فعلپھرکجا محرم کجامبیحہرطرح یہی واجب العملاسی کوترجیحاور اگرفقہ مطلوب ہے تو خودامام مذہب امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد اور ہدایہ جیسی اعلی درجہ معتمد کتاب کا ارشاد کافی ووافی:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاشربہ باب ماجاء فیمن یستحل الخمر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۳/ ۸۳€۷
مسندامام احمدبن حنبل عن ابی امامہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۲۵۷ و ۲۶۸€
کف الرعاع القسم الثالث عشر تنبیہ ثانی دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۱۳۲ و ۱۳۳€
#3744 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
دلت المسألۃ علی ان الملاھی کلھا حرام حتی التغنی لضرب القضیب وکذا قول ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ابتلیت لان الابتلاء بالمحرم یکون ۔ مسئلہ اس پردلالت کرتاہے کہ کھیل کود کے تمام سامان حرام ہیں حتی کہ(کسی چیزپر)کانے کی ضرب لگاکر گانا(یہ بھی زمرہ حرمت میں داخل ہے)اور اسی طرح امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کایہ ارشاد کہ میں اس میں مبتلا کیاگیا اس لئے کہ ابتلا حرام میں ہواکرتی ہے۔(ت)
غرض حدیث وفقہ کاحکم تویہ ہے ہاں اگرکسی کو قصدا ہوس پرستی منظورہو تو اس کاعلاج کس کے پاس ہے کاش آدمی گناہ کرے اور گناہ جانے اقرار لائے اصرار سے باز آئے لیکن یہ تو اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالے اور الزام بھی ٹالے اپنے حرام کو حلال بنالے۔پھر اسی پربس نہیں بلکہ معاذاﷲ اس کی تہمت محبوبان خدا برسلسلہ عالیہ چشت قدست اسرارہم کے سردھرتے ہیں نہ خدا سے خوف نہ بندوں سے شرم کرتے ہیں حالانکہ خود حضورمحبوب الہی سیدی ومولائی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم وعنابہم فوائد شریف میں فرماتے ہیں:مزامیر حرام ست (گانے بجانے کے آلات کااستعمال کرنا حرام ہے۔ت)مولانا فخرالدین زراوی خلیفہ حضورسیدنا محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہما نے حضور کے زمانہ مبارك میں خود حضور کے حکم احکم سے مسئلہ سماع میں رسالہ کشف القناع عن اصول السماع تحریرفرمایا اس میں صاف ارشاد ہے کہ:
اماسماع مشائخنا رضی اﷲ تعالی عنھم فبریئ عن ھذہ التھمۃ وھو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرۃ من کمال صنعۃ اﷲ تعالی۔ ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کاسماع اس مزامیر کے بہتان سے بری ہے وہ صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمال صنعت الہی سے خبردیتے ہیں۔
ﷲ انصاف اس امام جلیل خاندان عالی چشت کا یہ ارشاد مقبول ہوگا یاآج کل مدعیان خامکار کی تہمت بے بنیاد ظاہرۃ الفساد ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العظیم(جس کا فساد واضح ہے۔گناہوں سے
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاکل والشرب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵۳€
فوائد الفواد
کشف القناع عن اصول السماع
#3745 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
بچنے اور بھلائی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالی بلندمرتبہ بزرگ قدر کی توفیق عطاکرنے سے۔ت)سیدی مولانا محمدبن مبارك بن محمد علوی کرمانی مریدحضور پرنور شیخ العالم فریدالحق والدین گنج شکر وخلیفہ حضورسیدنا محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہم کتاب مستطاب سیرالاولیاء میں فرماتے ہیں:
حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ العزیز می فرمود کہ چندیں چیزمے باید تاسماع مباح شود مسمع ومستمع ومسموع والہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودك نباشد وعورت نباشدومستمع آنکہ می شنودازیادحق خالی نباشد ومسموع آنچہ بگویند فحش ومسخرگی نباشد والہ سماع مزامیرست چوں چنگ ورباب ومثل آں مے باید کہ درمیان نباشد ایں چنیں سماع حلال ست ۔ سلطان المشائخ قدس سرہ العزیز نے ارشاد فرمایا چنداشیاء ہوں تو سماع جائزاور مباح ہوں(۱)مسمع(سنانے والا) (۲)مستمع (سننے والا)(۳)مسموع(جوکچھ سناجائے)(۴)آلات سماع۔ تفصیل:مسمع یعنی سنانے اورکہنے والا بالغ مرد ہو بچہ اور عورت نہ ہو۔مستمع یعنی سننے والا جو کچھ سنے یادحق سے خالی نہ ہومسموعجوکچھ سنیں اور کہیں اس میں فحش گوئی اور مسخرہ پن نہ ہواور آلات سماع مزامیر ہیں جیسے سارنگی اور رباب وغیرہ۔چاہئے یہ کہ وہ درمیان میں نہ ہوں۔پس اس طرح کی قوالی(سماع)جائزاور حلال ہے۔(ت)
مسلمانو! یہ فتوی ہے سرور وسردار سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہ کا۔کیا اس کے بعد بھی مفتریوں کو منہ دکھانے کی گنجائش ہے۔نیز سیرالاولیاء شریف میں ہے:
یکے بخدمت حضرت سلطان المشائخ عرضداشت کہ دریں روزہابعضے ازدرویشاں آستانہ دار درمجمعے کہ چنگ ورباب ومزامیر بودرقص کردند فرمودنیکونہ کردہ اندانچہ نامشروع است ناپسندیدہ است بعد ازاں یکے گفت چوں ایں طائفہ ازاں مقام بیروں آمدند باایشاں گفتند کہ شماچہ گردید دراں جمع مزامیربودسماع ایك خادم نے سلطان المشائخ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ان دنوں آستانے کے بعض درویشوں نے اس مجلس اورمحفل میں ناچ کیا ہے جہاں آلات سماع چنگ ورباب اور سارنگی ومزامیر وغیرہ تھے تو ارشاد فرمایا انہوں نے اچھانہیں کیا کیونکہ جوکام ناجائز ہے وہ پسندیدہ نہیں ہوسکتا۔اس کے بعد ایك کہنے لگا کہ جب یہ لوگ اس حالت سے فارغ ہوئے تولوگوں نے ان سے
حوالہ / References سیرالاولیاء باب نہم دربیان سماع ووجد مؤسسۃ ∞انتشارات اسلامی لاہور ص۰۲۔۵۰۱€
#3746 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
چگونہ شنید ورقص کردید ایشاں جواب دادند کہ ماچناں مستغرق سماع بودیم کہ ندانستیم کہ ایں جامزامیرست یانہ حضرت سلطان المشائخ فرمود ایں جواب ہم چیزے نیست ایں سخن درہمہ معصیتہابیاید ۔ پوچھا کہ یہ تم نے کیاکیاہےاس محفل میں تومزامیر بھی تھے پھرتم نے قوالی بھی سنی او رناچتے بھی رہے۔انہوں نے جوابا بتایا کہ ہم سماع میں اس قدرمستغرق(ڈوبے ہوئے)تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلاکہ مزامیر بھی ہیں یانہیں۔اس پرسلطان المشائخ نے فرمایا کہ یہ کوئی معقول جواب نہیں اس لئے کہ یہ بہانہ توتمام گناہوں میں ملوث ہونے والے کرسکتے ہیں۔(ت)
مسلمانو! کیساصاف ارشاد ہے کہ مزامیر ناجائزہے اور اس عذر کاکہ"ہمیں استغراق کے باعث مزامیر کی خبرنہ ہوئی"کیامسکت جواب عطافرمایا کہ ایساحیلہ ہرگناہ میں چل سکتاہے۔شراب پئے اور کہہ دے شدت استغراق کے باعث ہمیں خبرنہ ہوئی کہ شراب ہے یاپانی۔زناکرے اور کہہ دے غلبہ حال کے سبب تمیزنہ ہوئی کہ جروا ہے یابیگانی۔اسی میں ہے:
حضرت سلطان المشائخ فرمود من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد ودریں باب بسیارغلوکردتابحدیکہ گفت اگر امام راسہو افتدمرد بتسبیح اعلام دہدوزن سبحان اﷲ نگوید زیرا کہ نشاید آوازآں شنودن پس چکندپشت دست برکف دست زندوکف دست برکف دست نزند کہ آں بلہو میماندتا ایں غایت ازبلاہی و امثال آں پرہیزآمدہ است پس درسماع طریق اولی کہ ازیں بابت نباشد یعنی درمنع دستك چندیں احتیاط آمدہ است پس درسماع مزامیر بطریق اولی منع است اھ باختصار حضرت سلطان المشائخ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے منع کیا ہے کہ مزامیر حرمت درمیان میں نہ ہوں اور اس سلسلے میں اس قدرتعدی(شدت)فرمائی کہ ارشاد فرمایا امام اگرنماز میں بھول جائے تو مردسبحان اﷲ کہہ کر آگاہ کرسکتاہے مگرعورت کو اس طرح کہناجائز نہیں کیونکہ اس کی آواز نہیں سنی جانی چاہئے اس کے لئے یہ ہدایت اور حکم ہے کہ وہ اپنے ایك ہاتھ کی پشت پردوسرے ہاتھ کی ہتھیلی مارے لیکن ہتھیلی کوہتھیلی پرنہ مارے کیونکہ یہ عمل لہو میں شمارہوتاہے یعنی تالی بجانا پس اندازہ کرلیاجائے کہ کس حد تك کھیل کوداور لغو کلام سے پرہیزکی ہدایت وارد ہوئی ہے پس سماع میں بطریق اولی منع ہے یعنی تالی بجانے سے بھی
حوالہ / References سیرالاولیاء باب نہم دربیان سماع ووجد مؤسسۃ ∞انتشارات اسلامی لاہور ص۳۱۔۵۳€۰
سیرالاولیاء باب نہم دربیان سماع ووجد مؤسسۃ ∞انتشارات اسلامی لاہور ص ۵۳۲€
#3747 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
ممانعت ہے لہذا مزامیر کے ساتھ قوالی کرنا اس سے زیادہ اشداورممنوع ہے اھ باختصار(ت)
مسلمانو! جوائمہ طریقت اس درجہ احتیاط فرمائیں کہ تالی کی صورت کوممنوع بتائیں وہ اور معاذاﷲ مزامیر کی تہمت ﷲ انصاف کیسا ضبط بے ربط ہے۔اﷲ تعالی اتباع شیطان سے بچائے اور ان سچے محبوبان خدا کاسچا اتباع عطافرمائے امین الہ الحق امین بجاھھم عندك امین والحمد ﷲ رب العالمین(آمیناے سچے معبود! تیری بارگاہ میں جو ان کامقام ومرتبہ ہے اس کے طفیل دعا قبول فرما۔اور سب تعریف اس خداکے لئے ہے جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)کلام یہاں طویل ہے اور انصاف دوست کو اسی قدرکافیواﷲ الہادیواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷: ملك بنگالہ ضلع کجھار ڈاك خانہ لکھی پور بمقام سنگرین مرسلہ جلال الدین
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شادی میں بندوقیں بغرض اعلان چھوڑنا جائزہے یانہیں اور جس شخص نے حرام ثابت کیا بلکہ اس کے یہاں کاکھانا تك حرام قطعی ثابت کیا اس کے حق میں شرع سے کیاحکم ہے
الجواب:
فی الواقع نکاح میں بغرض اعلان بندوقیں چھوڑنے کی ممانعت شرع میں کہیں ثابت نہیں۔ہلال رمضان اور ہلال عید میں صدہا سال سے توپوں کے فائر کئے جاتے ہیں اس سے بھی اعلان ہی مقصود ہوتاہے اس اعلان پرشرعا عمل کاجزئیہ ردالمحتار میں مذکورہے۔نیت ریاوتفاخر نہ فقط شادی کی بندوقوں بلکہ نماز کوحرام کردیتی ہےرسم کااعتبار جب تك کسی فساد عقیدہ پرمشتمل نہ ہو اصل رسم کے حکم میں رہتاہے اگررسم محمودہے محمود ہےمذموم ہے مذموم ہےمباح ہے مباح ہےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸: ازآرہ ضلع شاہ آباد محلہ ترئی مدرسہ حنفیہ مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس ۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بشرف ملاحظہ آقائے نعمت دریائے رحمت حضور پرنورمتع اﷲ المسلمین بقائکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ بدعائے والامع الخیر رہ کرخواہان عافیت سرکار مع جملہ خدام ہوں رسالہ مبارك الکشف شافیا میں جوبعد تفصیل اجمال فرمایاگیاہے کہ یہاں تین چیزیں ہیں ممنوعاتمعظماتمباحات۔قسم اول کاحکم ارشاد فرمایا کہ بعینہ اصل جیسا ہے۔فونوگراف سے سننا گویانہیں بلکہ بعینہ اس مغنیہ کاگانا سننا ہے اس لئے کہ پلیٹ اور گلاس کی آواز نہیں ہوتی اگرچہ اس آواز کا بعینہ وہی آواز ہونامتبادرعبدالعقل نہیں مگر اس تمام تفصیل کے بعد جوابتدائے رسالہ شریفہ میں
#3748 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
درج ہے کسی کو مجال انکار نہیںاور بیشك وہ آواز جوفونوگراف سے نکلتی ہے بعینہ وہ ہی آواز ہے جو اس عورت کے گانے کی ہے مگرعلمائے کرام وصوفیائے عظام نے جب بالمواجہہ کسی کاگانا سننے اور پس پردہ میں فرق فرمایا ہے تویہاں بدرجہ اولی ہونا چاہئے۔حضرت امام غزالی قدس سرہ حضورپرنوروالابرکت سیدی شاہ محمدکالپوری قدسنا اﷲ باسرارہ الشریف نے کسی جگہ تحریر فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص مغنیہ کی آوازمنہ پرکپڑاڈال کرسنے کہ اس کی صورت نہ دیکھ سکے تو اس میں مضائقہ نہیںاگرچہ یہ مضمون میں نے خود ان دونوں حضرات قدسنااﷲ باسرارہم کی کسی کتاب میں نہیں دیکھا مگرامام غزالی رحمہ اﷲ کی نسبت مولوی حکیم عبدالوہاب نے کہاتھا اور حضرت کالپوری قدس سرہ العزیز کی نسبت رجب ۱۳۲۷ھ میں مولوی محمدفاخر صاحب نے مارہرہ شریف میںاگرچہ اسی وقت سے بارہاخیال اس کے دریافت کاہوامگراتفاق نہ پڑاخیرپس اگریہ دونوں مضمون ان حضرات کرام یا اور کسی صاحب نے نہیں تحریرفرمایا جب توکوئی بات ہی نہیںاور اگرتحریرفرمایا ہے توغالبا اس کی وجہ قلت مظنہ فتنہ ہے تو یہاں تو اور اقل قلیل ہے خصوصا اس صورت میں کہ جس کاریکارڈ بھراہوا ہو وہ مرچکی ہو پھردونوں کاحکم ایك کس طرح ہوسکتاہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
یہ مضمون کہ منہ پرکپڑاڈال کررنڈیوں ڈومنیوں کاگانا سنناجائزہے دونوں حضرات ممدوح قدسنااﷲ باسرارہما میں کسی سے ثابت نہیںنہ ہرگز شرع مطہر میں اس کا پتانہ اصول شرع اس کی مساعدنہ ایسی نقول مذہب پرقاضی ہوسکیں۔
(۱)شریعت محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جس طرح فتنہ کوحرام فرمایا دواعی فتنہ کو بھی حرام فرمادیا۔
قال اﷲ تعالی" تلک حدود اللہ فلا تقربوہا " وقال صلی اﷲ تعالی علیہ من رتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا یہ اﷲ تعالی کی حدیں ہیں لہذا ان کے پاس نہ جاؤ۔حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی کسی چراگاہ کے آس پاس جانورچرائے تو قریب ہے کہ چراگاہ میں گھس جائے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۷€
صحیح البخاری کتاب البیوع ∞۱/ ۲۷۵€ و صحیح مسلم کتاب المساقات ∞۲/ ۲۸€
#3749 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
اجنبیہ سے خلوتنظرمسمعانقہتقبیل اس لئے حرام ہوئے کہ دواعی ہیں۔
(۲)دواعی کے لئے مستلزم ہوناضرورنہیں ہزارہاخلوت ونظر بلکہ بوس وکنار واقع ہوتے ہیں اور مدعو الیہ یعنی زنا واقع نہیں ہوتا۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والفرج یصدق ذلك اویکذب بہ رواہ الشیخان وابوداود والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے ارشادفرمایا شرمگاہ اس کی تصدیق یاتکذیب کرتی ہے۔اس کو بخاریمسلمنسائی اور ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت سے بیان فرمایا۔(ت)
(۳)نہ حرمت دواعی وقت افضا پرمقصود ورنہ اجنبیہ سے جملہ امور مذکورہ حلال ہوں جبکہ زنا سے اجتناب کریں
ولایقول بہ احد من المسلمین وانما حرمت الدواعی لکونھا دواعی والدعاء لایستلزم الافضاء۔ اور کوئی مسلمان اس کاقائل نہیں۔دواعی اس لئے حرام کیاگیا کہ وہ مطلوب کے لئے اسباب دعوت ہیں یعنی اس کام تك پہنچانے کے ذرائع اور وسائل ہیںاور داعی کے لئے اس تك رسائی لازم نہیں۔(ت)
(۴)شرع مطہر مظنہ پرحکم دائرفرماتی ہے اس کے بعد وجودمنشاء حکم پرنظرنہیں رکھتی کما عرف فی رخص السفر وغیرھا(جیسا کہ سفروغیرہ کی رخصتوں سے معلوم ہوا۔ت)
(۵)احکام فقہیہ میں غالب کالحاظ ہوتاہے نادر کے لئے کوئی حکم جدانہیں کیاجاتا
صرحوا بہ فی مواضع کثیرۃ وقدنقلنا النصوص علیہ فی الکشف شافیا عن فتح القدیر وعن الدرالمختار وعن الدرالمنتقی وھو دوارفی الکتب لامطمع فیہ ان یستقصی۔ ائمہ کرام نے متعدد اوربکثرت مقامات پراس کی صراحت فرمائی ہےاور ہم نے"الکشف شافیا"میں اس پرنصوص ذکر کئے ہیں جوفتح القدیردرمختار اور الدرالمنتقی وغیرہ کی عبارات پرمشتمل ہیںاور وہ کتب متعددہ میں دائرہیں پس ان کے لئے یہ توقع نہیں کہ اس کا استقصا کیاجاسکے(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب القدر باب قول اﷲ وحرام علی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۷۸،€صحیح مسلم کتاب القدر باب قدرعلی ابن آدم حظہ من الزنا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۶€
#3750 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
ان فوائد کو ملحوظ رکھ کر مغنیہ اجنبیہ کاگانا سننے کی حرمت میں شبہہ نہیں ہوسکتا بیشك وہ داعی ہے او ر داعی حرام حرام اگرچہ مستلزم بلکہ اس وقت مفضی بھی نہ ہو اگرچہ خصوص محل میں داعی بھی نہ ہو اور بعض نفوس مطمئنہ کہ شہوات سے یکسرخالی ہوگئے ان کے لحاظ سے حکم میں تفصیل ناممکن بلکہ وہی حکم عام جاری رہے گا ورنہ خلوت ومس وتقبیل وامثالہا میں بھی حکم مطلق نہ رکھیں تفصیل لازم ہوکہ قلب شہوانی کے لئے حرام ہیں اور نفوس مطمئنہ کے لئے جائز حالانکہ یہ قطعا اجماعا باطل ہے۔
(۶)جبکہ منشاء تحریم داعی ہونا ہے اور اس میں ہرداعی مستقل توایك کی تحریم دوسرے کے وجود پرموقوف نہیں ہوسکتی۔
والالم یکن شیئ منھا داعیا بل المجموع اولم یکن داعیا الاشرط وجودہ وکان الآخر لغواساقطا من البین۔ ورنہ ان میں سے کوئی چیزداعی نہ ہو بلکہ مجموعہ یاداعی نہ ہو مگر اس کے پائے جانے کی شرط سے۔اور دوسرابے فائدہ درمیان سے ساقط ہو۔(ت)
شرع مطہر نے یہاں نفس صوت فتنہ پرحکم فرمایا ہے:
قال اﷲ تعالی " و استفزز من استطعت منہم بصوتک " و عن انس وعن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صوتان ملعونان فی الدنیا والاخرۃ مزمار عندنعمۃ ورنۃ عندمصیبۃ ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا توپھسلادے ان میں سے جس کو تو اپنی آواز سے پھسلاسکتاہے(یہ شیطان سے خطاب فرمایا)اور حدیث میں حضرت انس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہما حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں دو آواز دنیا اورآخرت میں ملعون ہیں(۱)آسائش کے وقت گانا بجانا (۲)مصیبت کے وقت بین کرنا(ت)
تیسری حدیث میں ہے:
عن انس ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من قعد حضرت انس سے روایت ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:جوکوئی گانے والی
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۷/ ۶۴€
کنزالعمال بحواٰلہ البزاروالضیاء عن انس ∞حدیث ۴۰۶۶۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵/ ۲۱۹€
#3751 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الی قینۃ لیستمع منھا صب اﷲ فی اذنیہ الآنك یوم القیمۃ ۔ گویا کے پاس بیٹھ کر اس کاگانا سنے تو اﷲ تعالی قیامت کے دن اس کے دونوں کانوں میں پگھلاہواسیسہ ڈال دے گا۔(ت
چوتھی اور پانچویں حدیث میں ہے:
عن جابر وعبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال نھیت عن صوتین احمقین فاجرین وقداستقصینا علی تخاریجھا فی اکثر من خمسین حدیثااوردناھا فی رسالتنا اتم المعارف فی حق المعازف وباﷲ التوفیق۔ حضرت جابر اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو)کہ آپ نے ارشادفرمایا کہ"مجھے دونادان بدکارآوازوں سے روك دیاگیا۔پچاس سے زائد حدیثوں کی تخریج کرنے میں ہم نے انتہائی کوشش کی جنہیں ہم اپنے رسالہ"اتم المعارف فی حق المعازف"(معرفت کی باتوں کاپورا ہونا آلات ساز کے مٹانے میں)لائے ہیںاور اﷲ تعالی ہی بہترکارسازہے۔(ت)
تونظر کی روککان کے حرام کوکیونکر حلا ل کردے گیاس کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کہاجائے اجنبیہ کوگلے لگانا حلال ہے جبکہ بوسہ نہ لے یامحل بوسہ کو رومال سے چھپالے یا اس کابوسہ لیناجائز ہے جبکہ گلے نہ لگائے۔صوت فتنہ کی تحریم فتنہ نظر پر موقوف ہوتومزامیر کاسننا مطلقا فی نفسہ حلال ہوجائے کہ ان کی طرف نظرکسی کے نزدیك منع نہیں بلکہ انصافا منع نظر کے ساتھ سماعافساد حال وتشویش خیال میں ابلغ ہوگا فان الانسان حریص علی مامنع(انسان کو جن کاموں سے روکاجائے ان کے کرنے کی وہ حرص رکھتاہے۔ت)نفس شیئ مبذول کی طرف اتنا نہیں کھینچتا جتناممنوع کی جانبولہذا بندگان نفس کو نظر اجنبیہ میں نظرحلیلہ سے زیادہ لذت آتی ہے اگرچہ حلیلہ احسن واجمل ہو ولہذا زنان فواحش باآنکہ خودامالہ وجذب میں سعی کرتی ہیں بعد انجذاب تمنع وخودداری کا تصنع دکھاتی ہیں کہ منع اجلب للشوق ہے۔حضرت شیخ سعدی قدس سرہ فرماتے ہیں:
حوالہ / References کنزالعمال بحواٰلہ ابن صغری فی امالیہ ∞حدیث ۴۰۶۶۹€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵/ ۲۲۰،۲۲€۱
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی الرخصۃ فی البکاء علی ا لمیت ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۰€
#3752 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
دیدارمی نمائی وپرہیز مے کنی بازارخویش وآتش ماتیز می کنی
(تودیدار دکھاتا ہے لیکن پرہیز بھی کرتاہےلہذا اپنے بازار اور ہماری آگ کوتیز کرتاہے۔ت)
شرع مطہر نے امورمحمودہ میں بھی اس حکمت پرلحاظ فرمایا ہے ولہذا دن میں تین وقت نمازحرام فرمائی کہ شوق مشتاقان تازہ ہوتارہے ولہذا تجلی کو دوام نہیں ہوتا ولہذا ابتداء میں ایك مدت تك وحی روك لی گئی جس پرکفار نے ودع وقلی کیا اور سورہ کریمہ والضحی نے نزول فرماکر ان کامنہ سیاہ کیا تو کپڑا ڈال کرسننا وہی رنگ لائے گا جو حضرت عارف جامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں:
چویابدبوئے گل خواہد کہ بیند چوبیند روئے گل خواہد کہ چنید
(جب کوئی پھول کی خوشبوپائے توچاہتاہے کہ اس کو دیکھے اور جب پھول کو دیکھ پائے تو چاہتاہے کہ اسے چنے۔ت)
غرض عارف مصالح شریعت احمدیہ وحکم جلیلہ احکام محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ یقین کرے گا کہ اس کی اباحت سخت بدخواہی امت اور ابلیس لعین کو ان پربڑی اعانت ہے۔
(۷)اصوات فتنہ کی حرمت اس لئے نہیں کہ وہ خاص مصوت کے ساتھ فجور کی طرف داعی ہیں جس سے مغنیہ مردہ کا بھراہوا گانا حلال ہوجائے ورنہ سماع مزامیر مطلقا حلال ہوتاکہ وہاں مصوت فجور نامتصوربلکہ اس لئے کہ وہ مفسد قلب ومحرك شہوت ومنبت نفاق ومثبت غفلت ہیں کما افادہ الائمۃ الاعلام وذکرنا طرفامنہ فی الکشف شافیا(جیسا کہ مشہورائمہ نے اس کا افادہ بخشااور ہم نے اس کا کچھ حصہ اپنے رسالے الکشف شافیا میں بیان کیاہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۹: ازمرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ دوم متصل مکان جناب حکیم سیدامیرحسن صاحب مسئولہ سیدحامدحسین صاحب ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
علماء متین ومفتیان شرع مبین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اس مسئلہ میں آپ حضرات کا کیاارشاد ہے کہ سماع کلام حسن منظوم خواہ منثور بالحان بہ لہجہ عربی ہو یامصری یاہندی خواہ سوا ان کے ہو باستثناء قرآن مجید وفرقان حمید برعایت قواعدوقوانین موسیقی بلامزامیر مردصالح معمریاغیرمعمربلکہ امرد سے جبکہ خوف فتنہ وفساد نہ ہوجائز ہے یانہیںچنانچہ علماء وغیرہم مثنوی مولانا روم ونعت وحمدوغیرہم پڑھتے ہیں
حوالہ / References گلستان سعدی باب دوم مطبع اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ص۱۱۵
یوسف زلیخا باب گرفتن زلیخا یوسف را الخ مطبع تاجران کتب خانہ لاہور ص۱۸۹
#3753 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
اگرناجائزہے تو کیا علم قوانین موسیقی ناجائزہے یابعد حصول علم موسیقی رعایت اس کی معیوب ومقبوح ہے حالانکہ علم کسی امر کاقبیح نہیں کیونکہ حضورپرنورسیدیوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوجمیع امور کاعلم بالتفصیل بعطاء الہی حاصل تھا اور ہے۔پھراگررعایت اس کی ناجائزہے توجمیع علماء کو اپنے کلام(منظوم یامنثور)کوجوبوقت وعظ وغیرہ پڑھتے ہیں اور اس میں موسیقی پائی جاتی ہے امتیازحاصل کرنے کے لئے موسیقی سے غیرموسیقی کوفن موسیقی معلوم کرنا ضرورہے تاکہ حق کو باطل سے جداکرلیںکیونکہ یہ قاعدہ کلیہ ہے یعرف الاشیاء باضدادھا(اشیاء اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ت)تو جب تك کہ غیرموسیقی کی ضد کو یعنی موسیقی حاصل نہ ہو اس وقت تك امتیاز بایں ہمہ غیرمتصورورنہ اختلاط باوجود قدرت جائزنہ ہوگا والابرعایت موسیقی ہرکلام خواہ نظم ہو یانثر باستثناء قرآن شریف جائزقرارپائے گا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجروثواب پائیے۔ ت)
الجواب:
جب سامع ومسموع ومسمع ومسمع ومسمع وسماع واسماع سب مفاسد سے پاك ہوں توسننا سناناسب جائزہے اگرچہ بالقصد برعایت قوانین موسیقی ہوخواہ فارسی یااردو یاہندی جوکچھ بھی ہو باستثناء قرآن عظیم موسیقی کی نسبت آواز کی طرف وہ ہے جو عروض کی نسبت کلام کی طرفکلام جب حسن ہو اوزان عروضیہ پرمنظوم کردینے سے قبیح نہ ہوجائے گا۔یوہیں الحان کہ مباح ہو قوانین موسیقی کی رعایت سے ناجائزنہ ہوجائے گا۔حدیث میں فرمایا:
الشعر کلام فحسنہ حسن وقبیحہ قبیح ۔ شعرایك کلام ہےجو اچھاہے وہ اچھاہےاور جوبراہے وہ براہے۔(ت)
سامع تو وہ چاہئے جس کے قلب پرشہوات ردیہ کا استیلانہ ہو کہ سماع کوئی نئی بات پیدا نہیں کرتا بلکہ اسی کو ابھارتاہے جودل میں دبی ہومسموع میں ضرور ہے کہ نہ فحش ہو نہ کوئی کلمہ خلاف شرع مطہرنہ کسی زندہ امرد کا ذکر ہو نہ کسی زندہ عورت کی تعریفنہ ایسی قریب مردہ کانام ہو جس کے اعزہ زندہ ہوں او رانہیں اس سے عارلاحق ہوامثال لیلے سلمے سعاد میں حرج نہیں۔ مسمع بالضم یعنی پڑھنے یاگانے والامرد بوڑھا یاجوان ہوامرد یاعورت نہ ہو۔مسمع بالکسر یعنی آلہ سماع مزامیر نہ ہوں اگر ہو تو صرف دف بے جلاجل جوہیئات تطرب پرنہ بجایاجائے۔مسمع بالفتح جائے سماع مجلس فساق نہ ہو
حوالہ / References السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الحج باب لایضیق علی واحد منہما الخ دارالفکر بیروت ۵/ ۶۸
#3754 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
اور اگرحمدونعت ومنقبت کے سوا عاشقانہ غزلگیتٹھمری وغیرہ ہوتو مسجد میں مناسب نہیں۔سماع یعنی سننا ایسے وقت نہ ہو کہ اس سے نمازباجماعت وغیرہ کسی فرض یاواجب یاامراہم شرعی میں خلل آئے۔اسماع یعنی پڑھنا یاگانا ایسی آواز سے نہ ہو جس سے کسی نمازی کی نماز یاسوتے کی نیند یامریض کے آرام میں خلل آئے۔اور حسن وعشق ووصل وہجر وشراب وکباب کاذکر ہو تو عورات تك آواز نہ پہنچے بلکہ اگرگانے والے کی آوازدلکش ہے تو عورات تك پہنچنے کی مطلقا احتیاط مناسب ہے۔
یاانجشۃ رویدك بالقواریر ۔ اے انجشہ! کانچ کی شیشیوں کالحاظ کرکے اپنی آواز آہستہ کیجئے۔(ت)
ع حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے۔
رہا علم موسیقیاس کے تعلم میں وقت ضائع کرنا صالحین کاکام نہیں بلکہ کم ازکم عبث ہے اور ہرعبث میں تضییع وقت ممنوع۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کے حسن اسلام میں سے یہ ہے کہ جو بے فائدہ اوربے سودکام ہو اسے چھوڑدے(ت)
اور علم اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرقیاس صحیح نہیں کہ وہ بلاتعلم وبے صرف وقت وبے قصد خاص بفن معین تھا حرج اس میں ہے نفس علم میں کوئی حرج نہیں کہ وہ کمال ہےولہذا حضرت عزت جلالہ جس کے لئے ہرکمال واجب اور ہرنقصان بلکہ ہروہ شے جو کمال ونقصان دونوں سے خالی ہو محال بکل شیئ علیم ہے ازلا ابدا وجوبا اور کسی شے کے علم کی اس سے نفی کفرہے توثابت ہوا کہ ہرشے کاعلم مطلقا کیسی ہی ہو عین کمال ہےیوہیں بعد تعلم اس کے قوانین کی اپنے الحان میں رعایت اہل شرف وصلاح کے لئے عیب ہے کہ وہ ذلیلوں رذیلوں کافن ہے او ربالخصوص فاسقین وفاسقات کے ساتھ مشہور ہےایسی تخصیص شرعا شے کو ممنوع کردیتی ہے اگرچہ فی نفسہ اس میں کوئی حرج نہ ہو جیسے جوان یابوڑھے مرد کو ٹوپی انگرکھے یاپاجامے میں چارانگل یا اس سے کم لچکا گوٹا پٹھا لگانا بلاشبہہ بدوضعی ومعیوب ہے کہ فاسقوں اور فحشوں کی وضع ہے اگرچہ فی نفسہ چارانگل تك کی اجازت ہے اور
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب باب مایجوزمن الشعر الخ قومی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۸
جامع الترمذی کتاب الزھد امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۵
#3755 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
منع رعایت موسیقی پرسائل کاوہ شبہہ کہ اس تقدیر پرتعلم موسیقی سب پرواجب ہوگا محض بے اصل وبے معنی ہے آخر اتنا تو مسلم ہے کہ قرآن عظیم میں اس کی رعایت حرام ہے تو بے تعلم موسیقی اگر اس سے بچنا ناممکن تھا توخواہی نخواہی اس کاسیکھنا ہرمسلمان پرفرض عین ہوتا تو یہ وہ فرض ہے کہ صحابہ وتابعین وائمہ وعلماء سب اس سے محروم رہےبات یہ نہیں بلکہ اس کا عکس ہے ممنوع ومعیوب رعایت ہے اوررعایت فعل اختیاری ہے اور فعل اختیاری کوقصد لازم اور قصد بے علم ناممکن تورعایت جبھی کر سکے گاکہ جانتاہو نہ جاننے والا کہ نہ اس سے آگاہ نہ اس کا قصد کرتا ہے اگراتفاقا اس کاپڑھنا کسی شعبہ موسیقی سے موافق ہو جائے تونہ اس پرالزام نہ یہ شرعا ممنوع حتی کہ خود قرآن عظیم میں کما نص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی خیریہ وغیرہ میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)بلکہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یتغن بالقران فلیس منا ۔ جو خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
اور خوش الحانی میں کسی شعبہ سے اتفاقیہ موافقت نادرنہیں بلکہ غالب بلکہ اس فن والوں کے نزدیك لازم ہے الحان میں اگرچہ تان گٹکری نہ ہو مگرتال سم سے خالی نہیں ہوسکتا توناواقف اپنی سادگی کے ساتھ قصد مفسدہ سے بچاہوا نکل جائے گا اور واقف احتیاط کرے گا توقصدا بگاڑے گا اور بنانا چاہے گا تورعایت کی طرف جائے گا لہذا اور بھی ضرور ہواکہ اس فن سے ناواقف رہیں وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰: مرسلہ اراکین بعض انجمن غزہ رجب ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جبکہ سماع میں یہ بات مقررہے کہ اہل کے لئے جائزنااہل کے لئے ناجائزچنانچہ شیخ سعدی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
نگویم سماع ای برادر کہ چیست مگرمستمع رابدانم کہ کیست
(اے بھائی! میں نہیں کہتا کہ سماع کیساہےجب تك یہ نہ جان لوں کہ سننے والا کون ہے۔ت)
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ الخ باب فی حسن الصوت بالقرآن ص۹۶
بوستان سعدی باب سوم دانش سعدی تہران ایران ص۱۸۴
#3756 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
تو آج کل جو مشائخ مزامیر سنتے ہیں ان کے لئے کیوں ناجائز ہواکیونکر وہ اس کے اہل ہیں نااہل سنے تو اس پراعتراض چاہئے یہ تو اسے غذائے روح سمجھتے اور اپنے لئے عبادت جانتے ہیں۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اور ٹھیك راستہ دکھادے۔ت)اہل نااہل کاتفرقہ سماع مجرد میں ہے۔شعر حضرت شیخ سعدی قدس سرہ میں اسی کاذکرہے۔مزامیر میں اہل کی اہلیت نہیںنہ ان کاکوئی اہل نہ وہ کسی کے لئے جائزمگرمجاذیب اورخودرفتہ کہ عقل تکلیفی نہ رکھتے ہوں ان پرایك مزامیر کیاکسی بات کامواخذہ نہیں کہ ع
سلطان نگیرد خراج از خراب
(کیونکہ بنجر اور ویران زمین سے کوئی بادشاہ(لوگوں سے)ٹیکس وصول نہیں کرتا۔ت)
ایسی جگہ اہل عقل میں اہل ونااہل کافرق کرنا ہرکس وناکس کوگناہ پرجری کرنا اور امت مرحومہ پرمکرشیطان لعین کادروازہ کھولنا ہےہرفاسق اسی کامدعی ہوگا کہ ہم اہل ہیں ہم کو حلال ہے علانیہ ارتکاب معصیت کرے گا اور حرام خدا کوحلال بتائے گا اور اپنے امثال عوام جہال کو گمراہ بنائے گاکیاشریعت محمدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایساحکم لاتی ہےحاش ﷲ۔شریعت مطہرہ فتنہ کا دروازہ بندفرماتی ہے اور یہ حکم فتنہ کے روزن کوعظیم پھاٹك کرتا ہےتو کس قدرمبائن شریعت غرا ہےاب دیکھ نہ لیجئے کہ آج کل کتنے نامشخصکتنے بے تمیزکتنے کندہ ناتراشیدہجن کو استنجا کرنے کی تمیز نہیں یہ بھی نہیں جانتے کہ استنجا کرنے میں کیا فرضواجبسنتمکروہحرام ہیں۔وہ گیرواکپڑے رنگ کریاعورتوں کے سے کاکل بڑھاکر رات دن اسی آواز شیطانی میں منہمك ہیں۔نمازیں قضاہوں بلاسےمگرڈھولك ٹھنکنا ناغہ نہ ہواور پھر وہ پیرومرشد ہیں ان کے پاؤں پرسجدے ہوتے ہیں۔ اور علانیہ کہتے ہیں کہ ہم کو رواہےہماری روح کی پاکیزہ غذاہے۔یہ ناپاك نتیجہ اسی اہل ونااہل کے فرق پرجہل کا ہے۔اور ان کا کذب صریح یوں آشکار کہ سماع بے مزامیر جس میں اہل ونااہل کافرق ہے اس کے جوازمیں اس کے اہل نے یہ شرط رکھی ہے کہ جلسہ سماع میں کوئی نااہل نہ ہویہاں تك کہ قوال بھی اہل باطن ہوجیسے بارگاہ حضورسیدنا محبوب الہی سلطان الاولیاء نظام الحق والدین محمدرضی اﷲ تعالی عنہ میں حضرت سیدنا امیرخسرو حضرت سیدی میرحسن علی سجزی قدس سرہما۔بفرض باطل اگر مزامیر میں بھی اہل ونااہل کافرق ہوتا تو اہل وہ تھا کہ کسی نااہل کے سامنے نہ سنتایہ جہل کے اہل عام مجمع کرتے ہیں جس میں فساق
#3757 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
فجار شرابی زناکار سب کاشیطانی بازارلگتاہے اور مزامیر کھڑکتے ہیںیہ اہلیت کی شکل ہےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (گناہوں سے بچنے اور بھلائی کرنے کی قوت بجزاﷲ تعالی بلندمرتبہ اور بزرگ قدر کے توفیق دینے کے کسی فرد میں نہیں۔ ت)ان سب کی گمراہی اور عوام کی بربادی تباہی کاوبال انہیں مولویوں کے سرہے جواہل ونااہل کافرق بتاتے اور حرام خدا کوحلال کرنے کی کوشش کرتے اور امت کی بھیڑوں کوابلیس بھیڑئیے کے پنجے میں دیتے ہیں پھرمزامیر کی حالت بالکل شراب کی مثل ہے قلیلھا یدعوالی کثیرھا تھوڑی سے بہت کی خواہش پیداہوتی ہے الذنب یجری الی الذنب گناہ گناہ کی طرف کھینچتاہے ع
تخم فاسد بار فاسد آورد
(ناقص اور ناکارہ بیج بیکار پھل لاتاہے۔ت)
شدہ شدہ رنڈی کے مجرے تك نوبت پہنچتی ہے پھرحیا یکسرکنارہ کرتی ہےبھری مجلس میں فاحشہ ناچ رہی ہے اور پیرجی صاحب شیخ المشائخ وپیرمغاں وقطب دوراں بنے ہوئے بیٹھے ہیں اور مریدین ھوحق مچارہے ہیںتف بریں اہلیتیہ سب نتائج ملعونہ اسی مداہنت وتحلیل حرام کے فرق اہل ونااہل کے ہیںوالعیاذباﷲ رب العالمین۔دربارہ شطرنج تو خود روایات وجوہ عدیدہ پر ہیں مگر ناصحان امت نے نظربعصریہی فرمایا کہ اس کی اباحت میں امت مرحومہ اور خود دین اسلام پر شیطان کو مدددینا ہے لہذا مطلقا حرام وگناہ کبیرہ ہے تومزامیر کہ نفس امارہ کوشیطان لعین کی ان کی طرف رغبت بہ نسبت شطرنج ہزارہا درجہ زائد ہے کیونکر مطلقا حرام وسخت کبیرہ نہ ہوں گے۔سو میں پچانوے وہ ہوں گے جنہیں شطرنج کی طرف التفات بھی نہیں اور سومیں پانچ بھی نہ نکلیں گے جن کے نفس امارہ کو مزامیر کی شیطانی آوازخوش نہ آتی ہواہل تقوی بھی اپنے نفس کو بالجبر اس سے بازرکھتے ہیں ع
حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے۔کافی شرح وافی للامام حافظ الدین النسفی پھرجامع الرموز پھرردالمحتار میں ہے:
ھوحرام وکبیرۃ عندنا وفی اباحتہ اعانۃ الشیطان علی الاسلام و المسلمین ۔ ہمارے نزدیك وہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اسے مباح قرار دینے میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف شیطان لعین کی مدد کرناہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۵۳،جامع الرموز کتاب الکراھیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۳ /۳۱۹
#3758 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
مسلمانو! زبان اختیارمیں ہے شعریات باطلہ میں العسل مرۃ والخمریاقوتیۃ(شہد کڑواہے اور شراب یاقوتی ہےیعنی یوں کہنا حقیقت ثابتہ کے سراسرخلاف ہے۔ت)کہہ دینے کاہرشخص کواختیارہے شرابی شراب کو بھی غذائے روح وجانفزا وجان پرورکہاکرتے ہیں کہنے سے کیاہوتاہے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جو فرق بتایا ہے ذراانصاف وایمان کے ساتھ اسے سنئے توخود کھل جائے گا ع
کہ باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(اندھیری رات میں تو نے کس کے ساتھ عشق لڑایا۔ت)
ہاں سنئے اور گوش ایمان سے سنئے کہ ارشاد اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کیا ثابت ہےغذائے روح وہ ہے جس کی طرف شریعت محمدیہ علی صاحبہا والہ افضل الصلوۃ والتحیۃبلاتی ہے اور جس کی طرف شریعت مطہرہ بلاتی ہے اس پروعدہ جنت ہے اور جنت ان چیزوں پرموعود ہے جو نفس کومکروہ ہیںاور غذائے نفس وہ ہے جس سے شریعت محمدیہ صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ منع فرماتی ہے اور جس سے شریعت کریمہ منع فرماتی ہے اس پر وعیدنارہے اور نار کی وعید ان چیزوں پرہے جو نفس کو مرغوب ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشھوات۔رواہ البخاری فی کتاب الرقاق بلفظ حجبت وتقدیم الجملۃ الاخیرۃ ومسلم باللفظ عن ابی ھریرۃ و احمد ومسلم والترمذی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما فی صحیحہ۔ جنت ان چیزوں سے گھیردی گئی ہے جو نفس کو ناگوارہیں اور دوزخ ان چیزوں سے ڈھانپ دی ہے جو نفس کو پسند ہیں (امام بخاری نے کتاب الرقاق میں ساتھ لفظ حجبت کے اس کو روایت کیاہے اور آخری جملہ کی تقدیم سے اس کو ذکرفرمایا اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ کے الفاظ سے۔اور احمدمسلم اور جامع ترمذی نے حضرت انس سے(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو)اپنی صحیح میں ذکرفرمایا۔ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الرقاق باب حجبت النار بالشہوات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۶۰،صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷۸
صحیح مسلم کتاب الجنۃ ۲/ ۳۷۸ و جامع الترمذی ابواب صفۃ الجنۃ ۲ /۸۰،مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۵۳،۲۵۴،۲۸۴
#3759 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
یہ حدیث توصحیحین کی تھی اور اس کی تفصیل اس حدیث جلیل میں ہے کہ ابوداؤد ونسائی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لما خلق اﷲ تعالی الجنۃ قال لجبرئیل اذھب فانظر الیھا فذھب فنظرالیھا والی مااعداﷲ لاھلہا فیھا ثم جاء فقال ای رب وعزتك لایسمع بھا احدالا دخلھا ثم حفھا بالمکارہ ثم قال یاجبرئیل اذھب فانظر الیہا فذھب فنظر الیھا ثم جاء فقال ای رب وعزتك لقد خشیت ان لایدخلھا احد قال فلما خلق اﷲ النار قال یاجبرئیل اذھب فانظرالیھا قال فذھب فنظر الیھا ثم جاء فقال ای رب وعزتك لایسمع بھا احد فیدخلہا فحفھا بالشہوات ثم قال یاجبرئیل اذھب فانظر الیھا قال فذھب فنظر الیھا فقال ای رب و عزتك لقد خشیت ان لایبقی احد الادخلھا ۔ جب اﷲ عزوجل نے جنت بنائی جبریل امین علیہ الصلوۃ و السلام کوحکم فرمایا کہ اسے جاکر دیکھجبریل نے اسے اور جو کچھ مولی تعالی نے اس میں اہل جنت کے لئے تیار فرمایاہے دیکھاپھرحاضر ہوکر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم اسے توجوکوئی سنے گا بے اس میں جائے نہ رہے گا۔پھر رب عزوجل نے اسے ان باتوں سے گھیردیا جونفس کو ناگوار ہیں۔پھرجبرئیل کو حکم فرمایا کہ اب جاکر دیکھ۔جبرئیل نے دیکھاپھر حاضرہوکر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم مجھے ڈرہے کہ اب توشاید اس میں کوئی بھی نہ جاسکے۔ پھر جب مولی تبارك وتعالی نے دوزخ پیدا کی جبرئیل سے فرمایا اسے جاکر دیکھجبرئیل نے دیکھا پھرآکر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم اس کاحال سن کرکوئی بھی اس میں نہ جائے گا۔مولی تعالی نے اسے نفس کی خواہشوں سے ڈھانپ دیاپھرجبرئیل کو اس کے دیکھنے کاحکم فرمایا جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اسے دیکھ کر عرض کی اے میرے رب! تیری عزت کی قسم مجھے ڈرہے کہ اب تو شاید ہی کوئی اس میں جانے سے بچے۔
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الجنۃ باب ماجاء حفت النار بالشہوات امین کمپنی دہلی ۲ /۸۰،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی خلق الجنۃ والنار آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹۶،سنن نسائی کتاب الایمان والنذور باب الحلف لعزۃ اﷲ تعالٰی نورمحمدکارخانہ کراچی ۲ /۴۲۔۱۴۱
#3760 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
یہ ہے وہ فرق کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بتایا اور خود رب العزۃ جل جلالہ قرآن عظیم میں نماز کو فرماتاہے:
" و انہا لکبیرۃ الا علی الخشعین﴿۴۵﴾ الذین یظنون انہم ملقوا ربہم وانہم الیہ رجعون﴿۴۶﴾ " بیشك نمازگراں ہے مگر ان خشوع والوں پر جن کو یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملیں گے اور انہیں اس کی طرف پھرکر جاناہے۔
غذائے روح کی یہ پہچان ہےاب مزامیر کو دیکھئے کفارفساقفجار رات دن ان میں منہمك ہیں توواضح ہواکہ وہ شہوات نفس ہیں جب توبندگان نفس امارہ ان پرمٹے ہوئے ہیں غذائے روح ہوتے تو وہ ان کا نام نہ لیتے کہ بندگان نفس غذائے روح کانام لئے تھراتے ہیںہاں وہ عبادت ضرور ہیں مگرکہاں مندروں اور گرجاؤں میں کہ ان کی عبادت مزامیرہی کے ساتھ ہوتی ہے مگرحاشا وہ مسجدوالوں کی عبادت نہیںمسجد کا رب اس سے پاك ہے کہ شیطانی لذتوں سے جن میں کافروں کاحصہ غالب ہو اس کی عبادت کی جائے۔یہ عجب عبادت ہے کہ مندروں گرجاؤں میں ہوتی ہے اور مسجدیں اس سے محرومہندؤں نصرانیوں میں دھڑلے سے رائجاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وائمہ اس سے محفوظ۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالی بلنداورعظیم الشان کی توفیق دینے سے۔ت) یہ اگرعبادت ہے تو ڈوم ڈومنیاںرنڈیاں پیرجی سے بڑھ کر عابد ہیں کہ یہ گھنٹہ بھر اس عبادت سے مشرف ہوں تو وہ چوبیس گھنٹے اسی میں ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم جاہلوں کی شکایت نہیں اگرچہ وہ مشائخ بن بیٹھیں اگرچہ اولیاء کرام کا ارشاد ہے کہ:
صوفی بے علم مسخرہ شیطان ست۔ بے علم صوفی شیطان کامسخرہ ہے۔(ت)
مااتخذاﷲ جاھلا ولیا قط اﷲ نے کبھی کسی جاہل کو اپناولی نہ کیا ع
بے علم نتواں خداراشناخت
(بغیرعلم کے خدا تعالی کی شناخت نہیں ہوسکتی۔ت)
غضب تو ان مولوی کہلانے والے مشائخ نے ڈھایاہے کہ اپنے ساتھ عوام کو بھی شریعت پرجری وبیباك کردیا اہل نااہل کا جھوٹا تفرقہ زبانی کہیں اور جلسے میں دنیا بھر کے نااہل بھریںائمہ دین فرماتے ہیں اے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۴۵
#3761 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
گروہ علماء! اگرتم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکو گے عوام مکروہات پرگریں گےاگرتم مکروہ کروگے عوام حرام میں پڑیں گےاگرتم حرام کے مرتکب ہوگے عوام کفرمیں مبتلا ہوں گے۔
بھائیو! ﷲاپنے اوپررحم کرواپنے اوپررحم نہ کرو امت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پررحم کرو۔چرواہے کہلاتے ہو بھیڑئیے نہ بنو۔اﷲ تعالی ہدایت دےآمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمدوالہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین آمین۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱: ازشہر بریلی روزسہ شنبہ تاریخ ۲۵شعبان ۱۳۳۴ھ
اگرکوئی مجلس خلاف شرع ہو یعنی ناچ یاباجا وغیرہ ہوتو اس میں کھانا وغیرہ کھاناچاہئے اور اس میں شرکت کرنا چاہئے یانہیں اور اگر اس میں کھانا کھاناچاہئے تو وہ کون سی شکل ہے جو شرع کے موافق جائزہوجائے فقط
الجواب:
کسی خلاف شرع مجلس میں شرکت جائزنہیں اور کھانابھی اسی جگہ جہاں وہ خلاف شرع کام ہورہے ہیں تو اس کھانے میں بھی شرکت جائزنہیںاور اگروہ کھانا دوسرے مکان میں ہے وہاں کوئی امرخلاف شرع نہیں توعام لوگوں کوجانےاورکھانے میں حرج نہیں مگر عالم یا مقتداوہاں بھی نہ جائے مگر اس صورت میں کہ اس کے جانے سے وہ امور خلاف شرع بند ہوجائیں گے تو ضرور جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲: امام بخش فریدی ازجام پور ضلع ڈیرہ غازی خان دوشنبہ ۳محرم ۱۳۳۵ھ
سماع فی نفسہ کا قطع نظر اس سے کہ سلسلہ قادریہ اور نقشبندیہ میں نہیں سننے کاکیاحکم ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سماع کہ بے مزامیر ہو اور مسمع نہ عورت ہونہ امرداورمسموع نہ فحش نہ باطلاور سامع نہ فاسق ہونہ شہوت پرتو اس کے جواز میں شبہہ نہیں۔قادریہ وچشتیہ سب کے نزدیك جائزہےورنہ سب کے نزدیك ناجائزوالتفصیل فی رسالتنا اجل التحبیر فی حکم السماع والمزامیر(اس کی تفصیل ہمارے رسالے"اجل التحبیر فی حکم السماع والمزامیر"میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
#3762 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
مسئلہ ۲۳: مرسلہ محمدمنظور عالم ۲صفرالمظفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںاس ملك کے مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ ہارمونیم بجانا اور سننا اور گراموفون بجانا یاسننا قطعی حرام ہےاگردرحقیقت حرام ہے تو اکثر بلادمیں بہت سے علماء ہند نے اس کوجائز رکھاہے او دیدہ دانستہ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اس کی کیاوجہکیاوہ لوگ علم دین سے واقف نہیں ہیں یعنی اجمیرشریفپھلواری شریفبغدادشریف وغیرہ میں زمانہ عرس میں قوالی سنتے ہیں اس کے سامنے ہارمونیم وستارضرورہوتاہے اس کی کیاوجہ ہے ازراہ مہربانی اس کے بارہ میں جیساحکم ہو کس کس طریقہ والے کے نزدیك جائزہے اور کس کس کے نزدیك ناجائزہے جواب سے مطلع فرمائیں۔فقط۔
الجواب:
ہارمونیم ضرورحرام ہےبغدادشریف میں تو اس کانشان بھی نہیںنہ اجمیرشریف میں دیکھنے میں آیانہ فاسقوں کافعل حجت ہو سکتا ہےنہ کسی عالم نے اسے حلال کہااگرکسی نے حلال کہا ہو تو وہ عالم نہ ہوگا ظالم ہوگا۔گراموفون سے قرآن مجید کاسننا ممنوع ہے کہ اسے لہوولعب میں لانابے ادبی ہےاور ناچ یاباجے یاناجائز گانے کی آواز بھی سننا ممنوع ہےاور اگرجائزآواز ہو کہ نہ اس میں کوئی منکر شرعی نہ وہ کچھ محل ادبتو اس کے سننے میں فی نفسہ حرج نہیںہاں لہو کاجلسہ ہوتو اس میں شرکت کی ممانعت ہےاور تفصیل کامل ہمارے رسالہ الکشف شافیا میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴: ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبرعلی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
گاناقوالی مع ساز اورنااہل لوگوں کاجمع ہونا جوصوم صلوۃ کے پابند نہ ہوں خصوصا مستورات کاجمع ہونا جائزہے یاناجائز
الجواب:
گانا مع مزامیر مطلقا ناجائزہے نہ کہ ان منکرات کے ساتھ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵ تا ۲۷: ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالك فلورمل اسلامیہ ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل کے بارے میں:
(۱)جس کی بارات میں کثرت سے باجےروشنیگھوڑے ہوں اور جابجا بارات کی گشتی کی گئی ہو۔ان کانکاح شرعا ہوتاہے یا نہیں اور ایسی بارات میں شریك ہونے سے گناہ ہوگایانہیں
#3763 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
اور شریك ہونے والوں کی دوقسم ہے دونوں کاحکم علیحدہ علیحدہ بیان فرمائیں۔
(۲)بعض توشرکت میں کوئی حرج یاگناہ نہیں سمجھتے۔
(۳)بعض گناہ توسمجھتے ہیں مگر اپنے خاص محلہ یاقرابت دار کی بارات میں اس مجبوری سے شریك ہوتے ہیں کہ نہ شریك ہوں گے توباعث رنج وملال ہوگا اور آپس میں بے لطفی ہوگیکیایہ مجبوری حائل ہوتی ہے
الجواب:
روشنی اور گھوڑے ممنوع نہیںہاں باجے جیسے رائج ہیں ضرور ممنوع ہیں۔شرکت دوطرح ایك بارات کے ساتھ جانا اور دوسرے اس مکان میں جانا جہاں بارات ہے اول کسی عالم یا مقتداء کومطلقا نہ چاہئے جبکہ اس کے ساتھ باجے یا اور کوئی ممنوع شے ہو
لان المقتدی لاینبغی لہ الاختلاط مع اھل الباطل کما فی العلمگیریۃ وغیرھا ولان ذلك یسقط حرمتہ من الاعین وحرمۃ تلك المحرمات من القلوب۔ اس لئے کہ کسی قوم کے دینی پیشوا کو اہل باطل کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھناچاہئے جیسا کہ فتاوی عالمگیری وغیرہ میں مذکورہے اور اس لئے بھی کہ(عام لوگوں سے اگرمیل جول رکھاجائے)تویہ رویہ عام لوگوں کی نگاہوں سے عزت وحرمت کوختم کردیتا ہےاور ان حرام کاموں کی حرمت کو دلوں سے محو کردیتا ہے۔(ت)
اور جو ان ممنوعات کے استحسان کے ساتھ شریك تومطلقا حرام ہے اگرچہ جاہل محض ہواور عوام میں سے کوئی شخص ہے اوروہ ان ممنوعات کی طرف توجہ نہ کرے اورصلہ رحم یامراعات دوستی یامحکومی کے سبب ان ممنوعات سے بچاہوا برات کے ساتھ ہوتوحرج نہیں
واﷲ یعلم المفسد من المصلح کما نصوا علیہ فی اتباع جنازۃ معھا نائحات بل زیارۃ قبور عندھا منکرات کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ اﷲ تعالی فسادکرنے والے کو اصلاح کرنے والے سے خوب جانتا ہے جیسا کہ ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی کہ اگر جنازہ(میت)کے ساتھ رونے پیٹنے والی عورتیں ہوں تو یہ جنازہ کے ساتھ ضرورجائے بلکہ اہل قبور کی زیارت نہ چھوڑے باوجودیکہ وہاں گناہ اور غیرشرعی کام ہورہے ہوں۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶
#3764 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
جیسا کہ فتاوی شامی وغیرہ میں ہے(ت)
اور دوسری صورت یعنی برات کے مکان میں جانااگرباجے وغیرہ منکرات دوسرے مکان میں ہوں توحرج نہیںاور مقتدا کے لئے تین صورتیں ہیںاگرجانے کہ میرے جانے سے منکرات بندہوجائیں گے میرے سامنے نہ کرسکیں گے توجاناضرور ہے لانہ ازالۃ المنکر(کیونکہ اس طرح کرنے سے گناہ کا ازالہ ہے۔ت)اوراگرجانے کہ میں جانے سے انکارکروں گا تومیری خاطر ان لوگوں کواتنی عزیز ہے کہ مجھے لے جانے کے لئے منکرات سے بازرہیں گے توانکار ضرورہےپھر اگر وہ اس کے انکار پرباز رہیں توجاناضرور ہے اگرنہ جائے گا تووہ مخلی بالطبع ہوکر پھر انہیں ا فعال کوکریں گے اور اگرنہ مانیں تو نہ جانا ضرورہےاور اگر اسی مکان میں ہوں توہرگز نہ جائے اور اگرجانے کے بعد شروع ہوں تو فورا اٹھ آئےاور عالم کووہاں جانا اور بھی سخت ترناجائزہے مگراس صورت میں کہ جانے کہ میراجانا منکرات کوبند کردے گا۔جن صورتوں میں ہم نے جوازکاحکم دیا ان میں آپس کی رنجش اور بے لطفی کالحاظ ضرورچاہئے اور جن صورتوں میں شرکت شرعا ناجائزہے ان میں کسی کی رنجش کالحاظ بھی جائزنہیں۔
" ولا یخافون لومۃ لائم " لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ (اچھے لوگ)کارخیر کرنے میں کسی ملامت گرکی ملامت سے خائف نہیں ہوتے۔اﷲ تعالی کی نافرمانی کرنے میں کسی کی اطاعت نہیں۔(ت)
باقی ان معاصی کی وجہ سے نکاح میں کوئی خلل نہیں آتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۸: ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالك فلورمل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اگر بارات میں ڈھول تاشہ انگریزی باجانہ ہوصرف دو ایك جوڑدف بلابانسری کاہوتو یہ جائزہے یانہیں یہ واضح رہے کہ دف بجانے والے کاریگری سے بجاتے ہیں جس میں آواز کانشیب وفراز سروتال ہوتا ہے۔بینواتوجروا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۵۴
کنزالعمال برمز ق۔د۔ن عن علی رضی اﷲ عنہ حدیث ۱۴۸۷۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۶۷،مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۶۶ و ۶۷
#3765 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
الجواب:
اوقات سرور میں دف جائزہے بشرطیکہ اس میں جلاجل یعنی جھانج نہ ہوںنہ وہ موسیقی کے تال سرپر بجایاجائے ورنہ وہ بھی ممنوع۔کما فی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹: ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالك فلورمل اسلامیہ ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیاقوم کے سردار او رعلماء فرض ہے کہ ان مراسم کے مٹانے میں کوشش کریں۔اگرلوگ نہ مانیں توبرادری ترك کردیں ترك برادری میں جو خرابیاں ہیں وہ بھی ملحوظ رہیں:
(۱)برادرانہ پابندی میں مظلوم کی دادرسی اور ظلم کاتدارك ہوتاہے۔
(۲)حق ناحق کافیصلہ آسانی کے ساتھ ہوجاتاہے۔
(۳)محلہ میں اگر کوئی شخص عورت سے ناجائز تعلق رکھتاہے توپنچ اسے برادری سے خارج کردیتے ہیں اور اس کی شادی غمی میں شریك نہیں ہوتےپنچوں اور سرداروں کی عبرت سے۔بالآخر وہ تائب اورنادم ہوتا ہے اورلوگ اس کوبرادری میں شامل کرلیتے ہیںترك برادری سے یہ فوائد جاتے رہیں گےہرشخص آزادومختار ہوجائے گاہاں یہ واضح رہے اگر کوئی شخص تاڑی شراب پیئےبازاری عورتوں سے زناکرےجواکھیلےاپنے یہاں ناچ کرائےمگربرادرانہ طرف سے اس کی بازپرس نہیں ہوتی اور نہ سردار یاپنچ اس کو برادرانہ طریق سے بندکرتے ہیںآیا ایسی برادری کرناچاہئے
الجواب:
علماء اورسرداران پرہدایت ونصیحت فرض ہے اور اہل معاصی کے ساتھ قطع تعلق میں سلف صالحین کے مسلك مختلف رہے ہیں اور مصالح دینیہ کی رعایت سے دونوں صورتیں جائزہیں جس میں مصلحت دیکھیں اور ایسی برادری کہ شراب وزنا سے منع نہ کرے اوراپنے ساختہ قانون کی ذراخلاف ورزی پرسزادے بہت بیہودہ برادری ہے وہ اگر روك سکتے ہیں تو معاصی پرروکنا فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم
#3766 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
مسئلہ ۳۰: ازکمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوزمالك فلورمل اسلامیہ ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
جس جگہ تقریب شادی میں خلاف شرع مراسم کاعام رواج ہوگیا ہو حتی کہ لکھے پڑھے لوگ اس میں مبتلاہوں باوجودیکہ لوگ علماء سے اس کی مذمت وخرابی وعظ میں سن چکے ہوں ایسی جگہ اگرکوئی عامی مسلمان محض بجوش اسلام وحمایت دین یہ التزام کرے کہ جہاں شادی وغیرہ میں خلاف شرع مراسم ہوں گے وہاں نہ شریك ہوگا گو اپناعزیز قریب کیوں نہ ہوکیاایساشخص شرعا قابل مدح ہے
الجواب:
جوایسے جلوسوں میں نہ جانے کاالتزام کرے شرعا محمود ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱:ازکلکتہ ۷۱ آئس فیکٹری لین ڈاکخانہ انٹالی خانقاہ چشتیہ مرسلہ سیدشاہ المبین احمد چشتی نظامی بہاری ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
سماع مزامیر یعنی مروجہ قوالی کاجواز بتحقیق اس امرکے کہ صاحب شرع علیہ التحیات والتسلیمات سے کس قدرصادر ہواتھا بعد اس کے پچھلے قرنوں کے لوگوں نے کس قدربڑھایا اب سماع وقوالی کرنے والے کوکون ساطریقہ اختیارکرناچاہئے
الجواب:
مزامیرحرام ہیںصیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك قوم کاذکرفرمایا: یستحلون الحر والحریر والمعازف زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے۔اور فرمایا:وہ بندراور سورہوجائیں گے۔
ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔حضرت سلطان الاولیاء محبوب الہی نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں:مزامیر حرام ست (گانے بجانے کے آلات حرام ہیں۔ت)
حضرت شرف الدین یحیی منیری قدس سرہ نے اپنے مکتوبات شریفہ میں مزامیر کو زنا کے ساتھ شمارفرمایا۔شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صرف روزعید دف کاسننامنقول ہے وہ بھی نہ بالقصد متوجہ ہوکراور اوقات سرور میں بے جلاجل کادف کہ ہیأت تطرب پرنہ بجایاجائے شرعا جائزہے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاشربہ باب ماجاء فی من یستحل الخمر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۷
فوائدالفواد
#3767 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
قوالی والوں پرلازم ہے کہ مزامیر قطعا ترك کریں اور بوڑھے یاجوان مردوں سے صاف وپاك غزلیں سنیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲: ازضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جب فرائض وواجبات وسنن مؤکدہ کی پابندی لوگوں سے اٹھتی جاتی ہو تو ایسی حالت میں مزامیر کے ساتھ سماع جائزہے کہ نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
مزامیر حرام ہیں اور حرام ہرحال میں حرام رہے گالوگ گناہوں میں مبتلا ہیں اس کے سبب گناہ جائزہوجائے توشریعت کامنسوخ کردینا فاسقوں کے ہاتھ میں رہ جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۳: ازلسبی کوٹلہ ڈاك خانہ خاص ضلع بجنور محلہ سٹھاشہید مرسلہ محمدعبداﷲ خاں ۲۰رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے آپ کاکیاارشاد ہے)اس مسئلہ میں کہ دیکھنا تماشا ٹھیڑ وناٹك وغیرہ کاکہ جن میں اماردگاتے ہیں اور عورتوں کالباس پہن کر سوال وجواب عاشقانہ کرتے ہیں اور اس میں تماشا دیکھنے والی عورتیں بھی ہوتی ہیں اور انہیں کے سامنے الفاظ عاشقانہ مستعمل ہوتے ہیں اور اجرت لیتے وقت باجا بجایاجاتاہے اور ہارمونیم جو ایك باجے کی قسم ہے ہاتھوں سے بجایاجاتاہے وہ بھی بجتاہے اور طبلہ بھی بجتاہےآیا اس تماشے کادیکھنا جائزہے یاناجائز اور اگرناجائز ہے تو اس تماشے کادیکھنے والا کس درجہ کاگناہگار ہے اور اس تماشے کادیکھنے والا مرید بھی کرتاہے اس سے مریدہونا جائزہے یانہیں
الجواب:
حرام حرام حرام بوجوہ حرام
کمالایخفی علی العوام من اھل الاسلام فضلا عن العلماء بل یعرف حرمتہ فی الاسلام من لہ مخالطۃ بالمسلمین من الکفرۃ البعدأ۔ جیسا کہ عوام اہل اسلام پرپوشیدہ نہیں چہ جائیکہ علمائے کرام سے مخفی ہوبلکہ اسلام میں اس کی حرمت اتنی واضح ہے کہ اس کو وہ دور کے کفار بھی جانتے ہیں جومسلمانوں سے میل جول رکھتے ہیں۔(ت)
اس تماشے کادیکھنے والا فاسق معلن ہے اور اسے پیربنانا حرام۔تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للامام الزیلعی وغیرہ کتب معتبرہ میں ہے:
#3768 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس کے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعی طورپر لوگوں کے لئے اس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴: ازجے پوربمعرفت حاجی عبدالجبار صاحب ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیاحکم ہے شریعت مطہر ہ کامسئلہ ذیل میں کہ زیدکہتا ہے کہ قوالی مع آلات مزامیر کے جائزہے اور بکثرت مشائخ کرام نے اسی طرح سنا ہے اور کہتاہے کہ مزامیر ان باجوں کو کہتے ہیں جو منہ سے بجائے جاتے ہیںڈھلکستارطبلہمجیرےہارمونیم سارنگی مزامیر میں داخل نہیں بلکہ ان کا اوردف کاایك حکم ہے۔اگرزمانہ اقدس میں یہ چیزیں موجودہوتیں تو مثل دف کے اس کا بھی حکم فرماتے۔اور کہتا ہے کہ تم لوگ نااہل ہو رموز مشائخ طریقت سے ناواقف ہو اگرحرام ہوتوتمہارے لئے مگر ہمارے لئے جائزہے۔اور کہتاہے کہ امام غزالی علیہ الرحمۃ نے اس کو صاف جائزبتایاہے۔
پس سوال یہ ہے کہ باجے مذکورالصدر کے ساتھ قوالی سننا کیاجائزہے یاحرام اگرحرام ہے تو زیدکے لئے کہ وہ حرام کو بالاعلان حلال کہتا ہے بلکہ خود اہتمام والتزام کے ساتھ سننا اور بالعموم ایسی مجالس میں شرکت کرتاہے کیاحکم ہے اور اس کے پیچھے نماز فریضہ کیسی ہوگی اور مزامیر کی تعریف کیاہے اور باجے مذکور مزامیر ہیں یانہیں جوحکم خدا ورسول جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہو وضاحت سے ارشاد ہوجزاکم اﷲ فی الدارین خیرالجزاء(اﷲ تعالی تمہیں دنیاوآخرت میں سب سے بہتربدلہ عطافرمائے۔ت)
الجواب:
زیدکاقول باطل ومردودہےحدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کالفظ نہیں بلکہ معازف کہ سب باجوں کوشامل ہے یستحلون الحروالحریر والمعازف زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کوحلال سمجھیں گے۔ت) امام غزالی پربھی افتراء ہے کہ انہوں نے ان مذکورات خبیثہ کو صاف ناجائزبتایاہے طرفہ یہ کہ انہوں نے نے کے جواز کی طرف میل کیا جومزامیر سے ہے مشائخ کرام پرافترا ہےحضرت سیدی فخرالدین زراوی خلیفہ حضرت سیدنامحبوب الہی رضی اﷲ عنہما نے"کشف القناع عن اصول السماع"میں
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبرٰی مصر ۱ /۱۳۴
صحیح البخاری کتاب الاشربہ باب ماجاء من یستحل الخمر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۷
#3769 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
کہ بحکم حضورلکھا اس کی تصریح فرمائی کہ باجوں کے ساتھ قوالی سننا ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم پر افترا ہےاس کا کہنا کہ زمانہ اقدس میں طبلہ سارنگی خاك بلاہوتے توحضوران کابھی حکم فرماتے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرسخت شدیدجرأت ہے ایساشخص سخت نااہل ہے اوروں کونا اہل کہتاہے وہ امام بنانے کے قابل نہیں اس کے پیچھے فرض نفل کچھ نہ پڑھاجائے مگریہاں حکم کفر کی گنجائش نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵: ازبنارس مسئولہ جناب مولوی ابراہیم صاحب ۲۷شعبان۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بارات کے ساتھ چنددف بجاتے ہوئے لے چلنا جیسا آج کل مروج ہے یہ جائزہے یانہیں
الجواب:
شادی میں دف کی اجازت ہے مگرتین شرط سے:
(۱)ہیئات تطرب پرنہ بجایاجائے یعنی رعایت قواعد موسیقی نہ ہو ایك یہی شرط اس مروج کے منع کو بس ہے کہ ضرورتال سم پر بجاتے ہیں۔
(۲)بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کو مطلقا مکروہ ہے۔
(۳)عزت داربیبیاں نہ ہوںنص علی کل ذلك فی ردالمحتار(ردالمحتار میں اس سارے مسئلہ کی تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۶: ازالہ آباد مدرسہ سبحانیہ مرسلہ مولوی ابراہیم صاحب ۱۷رمضان ۱۳۳۸ھ
شادی میں ڈھول وغیرہ بجانا اور محرم میں تعزیہ داری کرنا سینہ پیٹنا کیساہے
الجواب:
ڈھول بجاناممنوع ہے اور تعزیہ داری وسینہ کوبی حرامواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷: مولوی عبداﷲ صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گنجفہشطرنجتاشبھگورکھیلنے والے کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
گنجفہ تاش حرام مطلق ہیں کہ ان میں علاوہ لہوولعب کے تصویروں کی تعظیم ہے اور بگھوریاجیون کمینوں کاکھیل ہے اور منع اور صحیح یہ ہے کہ شطرنج بھی جائزنہیں مگرچھ شرطوں سے:
اولا: بدکرنہ ہو۔
#3770 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
ثانیا:اس پرقسم نہ کھائی جائے۔
ثالثا:فحش نہ بکاجائے۔
رابعا:اس کے سبب نمازیا جماعت میں تاخیر نہ کی جائے۔
خامسا:سرراہ نہ ہو گوشے میں ہو۔
سادسا: نادرا کبھی کبھی ہو۔
پہلی تین شرطیں توآسان ہیں مگر پچھلی تین پرعمل نادرہے بلکہ ششم پرعمل سخت دشوارہے شوق کے بعد نادرا ہونا کوئی معنی ہی نہیں لہذا راہ سلامت یہ ہے کہ مطلقا منع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸: ازموضع رہپورہ تحصیل وضلع بریلی ڈاك خانہ ایزٹ نگر مسئولہ عبدالحمیدخاں صاحب ۱۲صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خادم کے موضع سے ایك میل کے فاصلہ پر رام لیلا کامیلہ ہوتا ہے جس میں راون وغیرہ کے بڑے بڑے بت بنائے جاتے ہیںموضع کے بہت سے آدمی اس ہندؤوں کے میلہ میں اس کودیکھنے کی غرض سے جاتے ہیں حضور کے یہاں کے ایك طالب علم مسمی مولاناعبداﷲ کی زبانی میں نے سنا تھا کہ حضور کایہ فتوی ہے کہ جوکوئی ہندؤوں کے میلہ میں شوقیہ زیبائش اور دیکھنے کی غرض سے جاتاہے اس کانکاح ٹوٹ جاتا ہے لیکن کبھی حضور سے روبرونہیں سناایك شخص نے جواکثر جماعت کی نمازپڑھاتاہے یہ کہا کہ میلے میں جانے سے کچھ حرج نہیں وہاں ہم آریہ وغیرہ کے لکچر سننے جاتے ہیں اور جوناچ ہوتے ہیں ان میں ناچنے والیاں مسلمان ہیں لہذا صرف گناہ ہوتا ہے اور کوئی حرج نہیں ہے نکاح وکاح کچھ نہیں جاتاہم تو ایك آدھ پیسہ کی چیزبھی تو خریدلیتے ہیں لہذا خریدوفروخت کابھی بہانا ہوجاتاہے اس لئے وہ گناہ بھی نہیں ہوتا اور یہ بھی کہتاہے کہ اگرمقتدیوں کو یہ یقین ہے کہ اس کے پیچھے ہماری نماز ہوجائے گی تووہ امام چاہے جیسا ہی گنہگار کیوں نہ ہو اس کے پیچھے نمازہوجائے گی یہ شخص شوقیہ ہمیشہ تعزیہ وغیرہ بھی دیکھنے جاتاہے موضع کے تمام لوگ اس کے تابعدار ہیں اور جیسا حضورحکم فرمائیں گے ویساکریں گے لہذا انہوں نے فقیر سے کہا کہ اپنے مرشد قطب العالم امام زمان سے اس میلے اور مذکورہ بالاامام کی بابت دریافت کرو۔فقیر میں یہ جرأت کہاں کہ حضور کے سامنے اتنامفصل قصہ زبانی بیان کرسکے لہذا جواب باصواب ارقام فرمایاجائے۔
الجواب:
ہنود کے میلے میں جانا حرام ہے مگرنکاح نہیں ٹوٹتا جب تك اسے اچھانہ جانےاچھا جانے گا
#3771 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
تو بیشك کافرہوجائے گا اور نکاح ٹوٹ جائے گا ناچ دیکھنا حرام ہے اگرچہ ناچنے والی مسلمان ہو بلکہ اگرمسلمان ہوتو اورسخت ترحرام ہے دو وجہ سےاول اجنبیہ عورت مسلمان کی بے پردگی کافرہ کی بے پردگی سے ہزاردرجے سخت ترہے۔دوم مسلمان عورت کی بے حیائی کافرہ کی بے حیائی سے اورتماشا دیکھنے کے لئے خریدوفروخت کاحیلہ محض جھوٹا ہے خریدوفروخت بازار میں نہیں ہوسکتی اور تعزیہ دیکھنابھی جائزنہیں اور امام جبکہ فاسق معلن ہو اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب مقتدیوں کا اس میں حرج نہ سمجھنا حکم شرعی کونہ بدل دے گا۔آریہ کالکچر سننے جانا اور بھی سخت ترحرام ہے وہ کفربکتے ہیں اور یہ کفرسننے جاتے ہیں ایسے جلسے میں شریك ہونے کو قرآن عظیم نے فرمایاہے: " انکم اذا مثلہم " جب تو تم بھی انہیں جیسے ہواور فرمایا:
" ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جہنم جمیعۨا ﴿۱۴۰﴾ " بیشك اﷲ تعالی ان کافروں اور ان نام کے مسلمانوں ان کے جلسے میں شریك ہونے والوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۹ تا ۴۱: ازقصبہ خداگنج شاہجہانپوری مرسلہ جناب عبدالرزاق صاحب منتظم عشرہ محرم مورخہ ۱۳۳۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اس امر کی کوشش کرتاہے کہ امیروغریب سب سے چندہ جبرا وصول کرکے بریلی سے چہلم میں باجا منگوایاجائے جس کا صرفہ سواسوروپیہ کے قریب ہوگا خواہ فاتحہ امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ ہو یانہ ہو اور اسی نمود اور شیخی کو ثواب جانتاہے باوجودیکہ یہاں باجاانگریزی وغیرہ کاموجود ہے۔
(۲)بکراسی امر کی کوشش کرتا ہے کہ اہل ہنود کو اشتعال دینا نامناسب ہے اس واسطے کہ عشرہ محرم میں منجانب انتظام گورنمنٹ مصالحت ہوچکی ہے علاوہ اس کے ایك مینار عیدگاہ ناتمام پڑاہوا ہے اور ایك چہاردیواری مسجدقطعی نہیں ہے کتے وغیرہ گھستے ہیں پس اگرچندہ فراہم کیاجائے تو اول سبیل شربت بنام امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ ہو اور اس میں سے یہاں کے باجے والوں کو دیاجائے جو بچے مینار اورمسجددرست کرادیاجائے۔
(۳)زیداجہل اورزبردست ہے اعلان کردیاہے کہ بکرکاحقہ پانی بندکردیاجائے اس لئے کہ ہمارے
#3772 · لہو و لعب کھیل،تماشہ،میلہ،مزاح،ناچ،گانا،قوالی،مزامیر،راگ،سماع،موسیقی وغیرہ سےمتعلق
خلاف کرتاہے پس دونوں کاموں میں سے کون ساکام ضروری اور جائزہے اور زید کے ذمہ شریعت کا کیاالزام عائدہوسکتاہے اور قاضی شرع کو کس طرف شامل ہوناچاہئے بینواتوجروا۔
الجواب:
باجا انگریزی ہو خواہ ہندوستانیباجے والے وہاں کے ہوں یا یہاں کے سب حرام اورکارشیطان ہیںان کے لئے چندہ لینا اور دینا حرامتخت تعزیہ خود ناجائز ہیں اور ان میں باجے حرام درحرامجوچندہ دیاجائے فاتحہ ونیازشہدائے کرام میں صرف کیاجائے جبکہ چندہ دہندوں کی اجازت ہو کہ یہ ضروری چیز ہےعیدگاہ کا میناربھی کوئی اہم چیزنہیںاوراگرچندہ دہندوں کی اجازت نہ ہو تو جو بچے ان کو واپس کیاجائے۔یہ حکم شرع کاہے اس کے خلاف جوچاہے گا شریعت کا مخالف اور عذاب الہی کا مستحق ہوگا وہی حقہ میں بندکرنے کے لائق ہیں بکر کی اس وجہ سے بندش اس پرظلم ہے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الظلم ظلمات یوم القیامۃ ظلم کرنے والا قیامت کے دن اندھیروں میں ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
#3773 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
رسالہ
مسائل سماع ۱۳۲۰ھ
(قوالی کے مسئلے)

مسئلہ ۴۲ تا ۴۶: ازریاست ککینہ ضلع رنگ پور ملك بنگالہ مرسلہ مولوی عبداللطیف ہزاری ۳رمضان ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل مفصلہ ذیل میں:
(۱)متصوفہ زمانہ جو مجلس سماع وسرود مرتب کرتے ہیں جس میں راگ و رقص ومزامیر ومعازف ہرقسم کے موجود رہتے ہیں اور جھاڑوفانوس وشامیانہ وفرش ودیگر تکلفات چشتیہ واسرافات بے جا کے علاوہ اہل ونااہل وصالح وفاسق وعالم وجاہل وہندو اور مسلمان وغیرہ کا کچھ تقید نہیں ہوتا سب کو اذن عام رہتاہے اور اطراف واکناف سے بذریعہ خطوط واشتہارات لوگوں کو بلایا جاتاہے آیا اس کاروائی کی قرآن وحدیث یافقہ وتصوف سے کوئی اصل اور حضرت شارع یاصحابہ یامجتہدین وائمہ شریعت و طریقت سے کوئی نقل قولی خواہ فعلی ثابت ہے یانہوبرتقدیرثانی اگر کوئی شخص اس کو مباح بلکہ مستحب اورمسنون وموجب تقرب الی اﷲ سمجھ کر ہمیشہ خود بھی مرتکب رہے اور دوسروں کو بھی راغب کرے حتی کہ اس کی تحریك سے بعض مقامات میں اس فعل کا چرچا شروع ہوجائے اور ہوتاجائے تو ایسا شخص ضال ومضل ٹھہرے گایانہیں
#3774 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
(۲)اس فعل کا منسوب کرنا طرف آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور جمیع اکابرصحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین و مشائخ طریقت کے نہایت درجہ کی گستاخی اور کذب علی الرسول وعلی الصحابہ العدول وعلی من بعدہم من الاکابرالفحول میں داخل ہے یانہ
(۳)جس ملك کے لوگ محض نو مسلم اوراحکام وارکان اسلام سے نہایت بے خبرہوں گویاابھی تك شریعت میں ان کی بسم اﷲ بھی درست نہیں ہوئی اور بسبب قرب زمانہ جاہلیت وحدیث العہدبالاسلام ہونے اور مجاورت اقوام ہنود کے اکثرحق وباطل کی تمیزنہ رکھتے ہوں اور اعتقادا وعملا انواع شرك و بدعت میں گرفتار ہوں تو ایسوں کو اولا عقائداسلامیہ واحکامات شرعیہ کی تلقین ضرورتر ہے یاسب سے پیشتر فن موسیقی اور حقائق ودقائق تصوف ومسئلہ وحدۃ الوجود کی تعلیم مناسب ہے
(۴)ہرگاہ کہ ہرمسلمان پربقدراستطاعت امرمعروف ونہی منکرعموما اورپیروپیشوائے قوم پرخصوصا فرض ہے تو جس پیر کے اکثرمریدنامقیدعیاش طبعنشہ خوارمونچھیں درازریش ندارداور صوم وصلاۃ وغسل وطہارت کے مقدمے میں غایت درجہ کے سستہاں ناچ رنگ وسماع وسرود کی خدمت میں چست ہوں اور وہ کسی کی کن مکن سے غرض نہ رکھے سب کو راضی رکھے اورسب سے راضی رہےپس ایسا پیرتارك فرض او رعاصی ہے یانہ اور وہ پیرکس قسم کاپیرکہلائے گا ہدایت وارشاد کا یا ضلالت والحاد کا
(۵)یہ کہنا کہ ویدہنود میں شرك نہیں ہنود کوبالقطع مشرك کہناصحیح نہیںبتوں کوسجدہ کرنا ان کاباعث کفرنہیں ہوسکتا کہ یہ سجدہ تعظیمی ہے جیسے فرشتوں نے آدم کو کیاتھا اور بتوں سے شفاعت کاامیدوار رہنا ایساہے جیسے اہل اسلام کا انبیاء سے امیدوارشفاعت رہنا اورمشائخ نے اکثراذکاروافکارومراقبات جوگیان ہنود سے لئے ہیںاس قسم کے ہفوات ہدایت وارشاد کے باب سے ہیں یادرپردہ بیخ کنی اسلام کے اسباب ہیں
الجواب:
جواب سوال اول:
جھاڑفانوسشامیانہفروش وغیرہا مباحات فی انفسہا محظورنہیں جب تك نیۃ یاعملا منکرشرعی سے منضم نہ ہوں بلکہ ممکن کہ نیت محمودہ سے محل محمود میں محمودہوجائیں
فان ذلك شان المباح یتبع النیۃ اس لئے کہ وہ مباح کی صفت ہے کہ وہ اچھی بری
#3775 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
حسنا وقبحا وتمحضا للاباحۃ کما نص علیہ فی البحر وغیرہ وقدبیناہ غیرمرۃ فی فتاونا وراجع ماذکر الامام حجۃ الاسلام فی احیاء العلوم من حکایۃ ایقاد بعض الصالحین الف سرج فی مجلس الذکر فانکرہ بعضھم فقال تعال واطفیئ ماکان منھا لغیر اﷲ تعالی فلم یستطع اطفاء شیئ منہا ۔ نیت میں اس کے تابع ہوتا ہے اور اس لئے تاکہ اباحت خالص ہوجائے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور ہم نے متعددبار اسے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے اور اس واقع کی طرف رجوع کیاجائے جوحجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے احیاء العلوم میں ذکرفرمایا کہ ایك بزرگ نے مجلس ذکر میں ایك ہزارچراغ جلائے اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا(یعنی معترض ہوئے کہ یہ اسراف کیاگیاہے)انہوں نے معترضین سے فرمایا کہ آؤ اور جو چراغ ان میں سے غیرخدا کے لئے ہے اسے بجھادوچنانچہ وہ ان میں سے کوئی ایك چراغ بھی نہ بجھاسکے۔(ت)
زینت مباحہ بہ نیت مباحہ مطلقا اسراف نہیںاسراف حرام ہے۔قال تعالی:
" ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفین ﴿۱۴۱﴾ " بے جا خرچ نہ کیاکرو کیونکہ اﷲ تعالی فضول خرچی سے کام لینے والوں کو پسندنہیں کرتا۔(ت)
اور زینت جب تك بروجہ قبیح یابہ نیت قبیحہ نہ ہوحلال ہےقال تعالی:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ " فرمادیجئے اس زیب وزینت کو کس نے حرام کیاہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے۔(ت)
اور حلال وحرام ایك نہیں ہوسکتے ہمیں شق قلوب وتطلع غیوب واساء ت ظنون کاحکم نہیں بل نحسن الظن مہما امکن واﷲ سبحنہ یعلم الضمائر ویتولی السرائر(بلکہ ہم اچھاگمان کرتے ہیں جب تك ممکن ہواو ر اﷲ تعالی پاك ہےدلوں کی پوشیدہ باتیں جانتاہے اور اچھے رازوں سے آشناہے۔ت)کوئی مجلس اگرفی نفسہ منکرات شرعیہ پرمشتمل نہ ہو
حوالہ / References احیاء العلوم کتاب آداب الاکل فصل یجمع آدابا الخ مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ۲/ ۲۰
القرآن الکریم ۷ /۳۱
القرآن الکریم ۷ /۳۲
#3776 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
دقت وغموض افہام قاصرہ پرموجب فتنہ ہوں جیسے حقائق ودقائق وحدۃ الوجود ومراتب جمع وفرق وظہوروبطون وبروزومکون وغیرہا مشکلات تصوفنہ تعمیم اذن بوجہ تعظیم فجاروتکریم کفاروغیرذلك افعال واحوال ناہنجار منجریہ انکارہوبالجملہ حالا ومآلا جملہ منکرات وفتن سے خالی ہو تو عموم اذن وشمول دعوت میں حرج نہیں بلکہ مجلس وعظ وپندبلحاظ پابندی حدودشرعیہ جس قدرعام ہو نفع تام ہو مگرمحفل رقص وسرود اگربفرض باطل فی نفسہ منکر نہ بھی ہوتی تو یہ تعمیم اسے منکرونارواکردیتی سماع مجرد کو ائمہ محققین علمائے عاملین واولیائے کاملین نے صرف اہل پر محدود اور نااہل پرقطعا مسدودفرمایا ہےنہ کہ مزامیر محرمہ کہ خود منکروحرام ہیںسیدمولانا محمدبن مبارك بن محمدعلوی کرمانی مریدحضورپرنورشیخ العالم فریدالحق والدین گنج شکر وخلیفہ حضور سیدنا محبوب الہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کتاب مستطاب سیرالاولیاء میں فرماتے ہیں:
حضرت سلطان المشائخ قدس اﷲ سرہ العزیز می فرمود کہ چندیں چیزمی باید تا سماع مباح شود مسمع ومستمع ومسموع وآلہ سماعمسمع یعنی گویندہ مردتمام باشد کودك نباشدوعورت نباشدومستمع آنکہ می شنودوازیادحق خالی نباشدومسموع انچہ گویند فحش ومسخرگی نباشدوآلہ سماع مزامیرست چوں چنگ ورباب ومثل آں می بایدکہ درمیان نباشداینچنیں سماع حلال ست ۔ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ فرماتے ہیں چندچیزیں ہوں توسماع مباح ہوگا(۱)مسمع یعنی سنانے والابالغ مرد ہو بچہ اورعورت نہ ہو(۲)مستمع یعنی سننے والاجوکچھ سنے وہ یادحق پرمبنی ہو(۳)مسموع(جوکچھ سناگیا)جوکچھ وہ کہیں وہ بیہودگی اور مذاق ولغوسے پاك ہو(۴)اسباب سماع:گانے بجانے کے آلات سارنگیرباب وغیرہچاہئے کہ وہ مجلس کے درمیان نہ ہوں۔اگر یہ تمام شرائط پائی جائیں تو سماع(یعنی قوالی)حلال اورجائزہے۔(ت)
اسی میں ہے:
یکے بخدمت حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالی عنہ عرض داشت کہ دریں روزہا بعضے ازدرویشاں آستانہ دار در مجمع کہ چنگ ورباب ومزامیربودرقص کردند فرمودنیکونکردہ اندانچہ نامشروع ست ناپسندیدہ است ۔ کسی شخص نے حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں یہ شکایت پیش کی کہ آستانہ کے بعض درویشوں نے اس محفل میں رقص کیا ہے جس میں چنگ ورباب اور مزامیراستعمال ہوئے آپ نے فرمایا انہوں نے اچھانہیں کیاکیونکہ جو کام نا جائزہے اسے پسندیدہ قرارنہیں دیاجاسکتا۔(ت)
حوالہ / References سیرالاولیاء باب نہم درسماع ووجدورقص مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ص۰۲۔۵۰۱
سیرالاولیاء باب نہم درسماع ووجدورقص مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ص ۵۳۰
#3777 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
اسی میں ہے:
حضرت سلطان المشائخ فرمودمن منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد۱ ۔ حضرت سلطان المشائخ نے ارشاد فرمایا میں نے منع کیاہے کہ مزامیراورحرام آلات درمیان میں نہ ہوں۔(ت)
خود حضورپرنورسلطان المشائخ محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہ کے ملفوظات طیبات فوائدالفوادشریف میں ہے: مزامیر حرام ست (مزامیرحرام ہیں۔ت)احادیث اس بارے میں حدتواتر پرہیںاور کچھ نہ ہو تو حدیث جلیل جمیل رجیح صحیح بخاری شریف کافی ووافی ہے کہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ۔
حدیث صحیح جلیل متصل لامطعن فیہ سندا و لامتنا الاعند من ھوی فی ھوۃ الہوی کابن حزم و من مثلہ غوی وقد اخرجہ ایضا الائمۃ احمد وابو داؤد و ابن ماجۃ واسمعیل وابونعیم باسانید صحاح لا غبار علیھا وصححہ جماعۃ اخرون من الائمۃ کما قالہ بعض الحفاظ قالہ الامام ابن حجر المکی فی کف الرعاع ۔ ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔(ت)
حدیث صحیحجلیل القدر اور متصل سندوالی ہے اس کی سند اور متن پرکوئی معترض نہیں سوائے اس کے جو خواہش نفس کے گہرے گھڑے میں گرگیاہواور بے راہ ہوگیاہو جیسے ابن حزم اور اس جیسے دیگرلوگنیزا سے ائمہ کرام مثلا امام احمدابو داؤدابن ماجہاسمعیل اور ابونعیم نے ایسی صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیاہے جو شکوك وشبہات سے مبرا ہیں۔ان کے علاوہ بعض دیگرائمہ اورحفاظ نے بھی اس کی صحت کو تسلیم کیا ہےچنانچہ امام ابن حجرمکی نے کف الرعاع میں ارشاد فرمایا۔(ت)
حوالہ / References سیرالاولیاء باب نہم درسماع ووجدورقص مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ص۵۳۲
فوائد الفواد
صحیح البخاری کتاب الاشربہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۳۷
کفّ الرعاع عن محرمات اللہووالسماع مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی ص۲۷۰
#3778 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے فتاوی میں ثابت کیاہے کہ ان پیروان ہوائے نفس کا حضرات اکابر چشت قدست اسرارہم کی طرف سماع مزامیرنسبت کرنا محض دروغ بیفروغ ہے ان کے اعاظم اجلہ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہ پرافتراہےنیز ان کے تمام تمسکات واہیہ کاایك اجمالی جواب موضع صواب ان لفظوں میں گزارش کردیاہے کہ بعض جہال بدمست یانیم ملاہوس پرست یاجھوٹے صوفی بادبدست کہ احادیث صحیحہ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یامحتمل واقعے یامتشابہ کلمے پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں یاقصدا بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیفمتعین کے آگے محتملمحکم کے حضور متشابہ واجب الترك ہے پھرکہاں حکایت فعل پھرکجا محرم کجامبیحہرطرح یہی واجب العملاسی کو ترجیحمگر ہوس پرستی کا علاج کس کے پاس ہےکاش گناہ کرتے اور گناہ جانتے اقرارلاتےیہ ڈھٹائی اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالیں اور الزام بھی ٹالیںاپنے لئے حرام کو حلال بنالیں میں نے یہ بھی واضح کردیاہے کہ ایسی محافل میں جتنے لوگ کثرت سے جمع کئے جائیں گے اسی قدر گناہ ووبال صاحب محفل وداعی پر بڑھے گا۔حضار سب گنہگار اور ان سب کاگناہ گانے بجانے والوں پر اور ان کا ان کا سب کا بلانے والوں پر۔بغیر اس کے کہ ان میں کسی کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہومثلا دس ہزار حضار کامجمع ہے تو ان میں ہرایك پرایك ایك گناہاور فرض کیجئے تین اقوال تو ان میں ہرایك پراپنا گناہ اور دس دس ہزارگناہ حاضرین کےیہ مجموعہ چالیس ہزارچار اور ایك اپناکل چالیس ہزارپانچ گناہ داعی وبانی پر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لاینقص ذلك من اثامھم شیئا۔رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو کسی امرضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پرگناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو۔(امام بخاری کے علاوہ امام احمد اور دیگرپانچ ائمہ کرام نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند کے ساتھ اس کو روایت کیاہے۔ت)
ایسے محرمات کومعاذاﷲ موجب قربت جاننا جہل وضلال اور ان پراصرار کبیرہ شدیدالوبال اور دوسروں
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲/ ۲۷۹، جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۲، سنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ حسنۃ ص۱۹،صحیح مسلم کتاب العلم باب من سنّ حسنۃ اوسیئہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱،مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۹۷
#3779 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
کو ترغیب اشاعت فاحشہ واضلالوالعیاذ باﷲ من سوء الحال(اﷲ تعالی کی پناہ برے حال سے۔ت)رہا رقص اگر اس سے یہ متعارف ناچ مراد ہو تو مطلقا ناجائزہے زنان فواحش کاناچ ہے اور متصوفہ زمانہ سے بھی بعید نہیں بلکہ معہود ومعلوم ومشہورہےجب تو بنصوص قطعیہ قرآنیہ حرام ہے وقد تلوناھا فی فتاونا(اسے ہم نے اپنے فتاوی میں ذکرکیاہے۔ت)اب اسے مستحب وقربت جاننا درکنار مباح ہی سمجھنے پرصراحۃ کفرکاالزام ہے اور اگر کتھکوں کاناچ تثنی وتکسر یعنی لچکے توڑے کے ساتھ ہے جب بھی حرام وموجب لعن ہے کما نطقت بہ الاحادیث وصرح بہ شراح الحدیث(جیسا کہ احادیث اس پرناطق ہیں اور شارحین حدیث نے اس کی صراحت فرمائی ہے)اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف حرکات مضطربہ ہیں کہ نہ خود موزوںنہ منکرات پرمشتملنہ حالا یامآلا فتنے کی طرف منجرنہ اس کے فاعلین اہل ہیأت ووقار بلکہ بازاری خفیف الحرکات بے وقرتوباینہمہ قیود بھی اس کا اقل مرتبہ یہ ہے کہ ایك قسم لہوولغو ہے اورہرلہوولغو ردوباطل اورہرباطل کا ادنی درجہ مکروہ وناجائز۔طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
الرقص وھو الحرکۃ الموزونۃ علی میزان نغمۃ مخصوصۃ(والاضطراب وھوالحرکۃ غیرالموزونۃ فکل)واحد منھما(من)جملۃ(لعب غیرمستثنی)کل لعب ابن ادم حرام الاثلثۃ ملاعبۃ الرجل اھلہ وتادیبہ لفرسہ ومناصلۃ لقوسہ اخرجہ الحاکم فی المستدرك عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وقال صحیح علی شرط مسلم ۔ رقصوہ نغمہ مخصوصہ کے ترازو پرایك موزوں حرکت کانام ہے۔ اضطرابغیرموزوں حرکت کوکہاجاتاہے۔پھر ان میں سے ہر ایك ان کھیلوں میں سے ہے جن کو شریعت نے مستثنی قرارنہیں دیاچنانچہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد وفرمان ہے کہ سوائے تین کھیلوں کے آدمی کاہرکھیل حرام ہےمشروع تین کھیل یہ ہیں:(۱)شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا(۲)اپنے گھوڑے کے ساتھ اس کی سکھلائی کرتے اور تیاری کرتے ہوئے کھیلنا(۳)اپنی کمان کے ساتھ تیراندازی کرنا۔چنانچہ امام حاکم نے مستدرك میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اس کی تخریج فرمائی اور فرمایا یہ حدیث شرط مسلم کے مطابق صحیح ہے۔(ت)
اور اگر وجد مراد ہو تو اگر بے اختیار ہے زیرحکم نہیں کہ ع
سلطان نگیرد خراج از خراب
(کیونکہ بادشاہ بنجر اور غیرآباد زمین سے ٹیکس وصول نہیں کرتے۔ت)
حوالہ / References الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۱۸
#3780 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
بلکہ اگر شوقا الی حضرۃ العزیز الودودجل وعلا ہے تو نعمت کبری ودولت اعلی ہے تابکہ بخشند وکرا ارزانی دارند(تاکہ دیکھاجائے کہ وہ کس پر بخشش فرماتے ہیں اور کس کو ارزاں(سستا)دیتے ہیں۔ت)اور اگر باختیاروتصنع ہو تو مدارنیت پرہے اگرمجمع یامرأی العین میں اظہارمشیخت وجلب قلوب کے لئے ہے قطعا ریا وسمعہ و نفاق وحرام کبیروشرك صغیرہےاب اس کی حرمت بھی ضرور اجماعیہ ہے فقہا نے اس پر قیامت کبری قائم کی اور عبادت سمجھنے والے کو کافرلکھا طریقہ وحدیقہ میں ہے:
ویدخل فیھما ای فی الرقص و الاضطراب(مایفعلہ بعض الصوفیۃ)الذین ینسبون انفسھم الی مذھب التصوف وھم مصرون علی انواع الفسوق والفجور بل ھو اشد لانھم یفعلونہ علی اعتقاد العبادۃ فیخاف علیھم امر عظیم)وھو الکفر باستحلال الحرام(قال العلامۃ ا بوبکر الطرطوسی رحمہ اﷲ تعالی اما الرقص والتواجد)الذی یوجب اللھو عن ذکراﷲ تعالی(فاول مااحدثہ اصحاب السامری لما اتخذ لھم عجلا جسدالہ خوارقاموا یرقصون علیہ و یتواجدون)ای یظھرون الوجد بالفعل المحرم و ھو عبادۃ غیراﷲ کما یفعل ھؤلاء یاکلون الحشیش و یرقصون من نشاط نفوسھم بالمحرم القطعی والکبر والاعجاب ویتواجدون بالوجد الشیطانی اور اس رقص واضطراب میں وہ کام بھی داخل اور شامل ہے جو بعض صوفیاء کیاکرتے ہیں جو اپنے آپ کو طریقہ تصوف کے ساتھ منسلك گردانتے ہیں حالانکہ وہ کئی قسم کے فسق وفجور اور زیادہ سخت قسم کے جرائم پراصرارکرتے ہیں اس لئے کہ وہ یہ کام عبادت کے اعتقاد کے ساتھ کرتے ہیں لہذا(اس عقیدہ کے باعث)ان پرامرعظیم کا خطرہ اور خوف ہے اور حرام کو حلال کہنے کی وجہ سے یہ کفرہے۔چنانچہ علامہ ابوبکر طرطوسی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ رقص اور اظہار وجد جویادالہی سے بے خبر اور غافل کر ڈالے اسے سب سے پہلے ایجاد کرنے والے سامری کے احباب تھے۔جب سامری نے ان کے لئے بچھڑا تیارکیا یعنی بچھڑے کا ڈھانچہ تیارکیا تو اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگیوہ آواز سن کر سامری کے ساتھی اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے آگے ناچنے اور جھومنے لگے اور وجد کا اظہارکرنے لگے یعنی حرام فعل سے اظہار وجد کرتے رہے جو کہ غیرخدا کی عبادت ہے اور قطعی حرامتکبر وخودپسندی کا طریقہ ہے جیسے یہ لوگ کرتے ہیںبھنگ پیتے ہیں اور اپنے آپ کو خوش رکھنے کے لئے ناچتے ہیں
#3781 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
والشہوات النفسانیۃ بین الفسقۃ المختلطین بالمردان الحسان الوجوہ علی سماع الطنابیر والزمور فہودین الکفار وفی التاتارخانیۃ الرقص فی السماع)للآلات المذکورۃ بالحالۃ المزبورۃ (لایجوز) فعلہ و لاحضورہ(وفی الذخیرۃ انہ کبیرۃ وقال البزازی قال القرطبی حرام بالاجماع ورأیت فتوی شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکیلانی ان مستحل ھذا الرقص)الموصوف بما ذکرنا من المحرمات القطعیۃ (کافر لما علم ان حرمتہ بالاجماع اھ ملخصین و تمام الکلام فیھما۔ ستار وغیرہ سے راگ سنتے ہیںفاسقوں کے درمیان شیطانی اور شہوانی جذبات کے ساتھ اظہار وجد کرتے ہیںبے ریش خوبصورت لونڈوں سے اختلاط اور میل جول رکھتے ہیں۔بس یہ کفار کا طریقہ کار ہے۔چنانچہ تتارخانیہ میں ہے کہ بیان کردہ حالات کے مطابق آلات راگ کی وجہ سے سماع کے موقع پر ناچ کرنا جائزنہیں اور نہ وہاں حاضر ہونا درست ہےاور ذخیرہ میں ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔بزازی نے قرطبی کے حوالے سے ذکرکیا کہ یہ قطعی اور بالاتفاق حرام ہےچنانچہ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین کیلانی کا میں نے فتوی دیکھا وہ فرماتے ہیں اس رقص کو حلال کہنے والاکافرہے اس لئے کہ یہ ہمارے ذکرکردہ محرمات سے موصوف(اور ان پرمشتمل ہے)کیونکہ یہ معلوم شدہ ہے کہ اس کی حرمت بالاجماع ہے(خلاصہ کرنے والوں کی عبارت پوری ہوگئی)اور پوراکلام اس میں ہے(ت)
اور اگرخلوت وتنہائی محض میں جہاں کوئی دوسرا نہ ہو بہ نیت محمودہ مثل تشبہ بہ عشاق والہین یاجلب حالات صالحین ہو تو ائمہ شان میں مختلف فیہ بعض ناپسند فرماتے ہیں کہ صدق وحقیقت سے بعیدہے اور ارجح یہ ہے کہ ان نیتوں کے ساتھ جائز بلکہ حسن ہے کہ من تشبہ بقوم فہو منھم (جب کوئی شخص کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ اسی میں شمارہوتاہے۔ت)
ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا ان التشبہ بالکرام فلاح
(اگرتم ان جیسے نہیں ہو پھر ان جیسی صورت بناؤ یعنی ان سے مشابہت اختیارکرو کیونکہ شرفأ سے مشابہت اختیارکرنا ذریعہ کامیابی ہے۔ت)
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۱۹۔۵۱۸
مسندامام احمد بن حنبل حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۵۰
الحدیقۃ الندیۃ الصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۲۶
#3782 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
اور سچی نیت سے نیکوں کی حالت بناتے بناتے خدا چاہے تو واقعیت بھی مل جاتی ہے سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث سےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذا القران نزل بحزن وکابۃ فاذا قرأ تموہ فابکوا فان لم تبکوا فتباکوا۔رواہ ابن ماجۃ ومحمد بن نصر فی الصلوۃ والبیھقی فی الشعب۔ بیشك قرآن غم وکرب کے ساتھ اتراہے تو جب اسے پڑھو تو رؤو اور اگر رونا نہ آئے تو رونی صورت بناؤ(ابن ماجہ اور محمد بن نصر نے کتاب الصلوۃ ار امام بیہقی نے شعب الایمان میں اسے روایت کیاہے۔ت)
حدیقہ ندیہ میں بعد عبارت مذکورہ بیانات نفیسہ ناصحہ مقبولہ ہے:
فان طریق الواجد والتواجد الذی تعلمہ الفقراء الصادقون فی ھذا الزمان و بعدہ کما کانوا یعلمونہ من قبل فی الزمان الماضی نوروھدایۃ واثر توفیق من اﷲ تعالی وعنایۃ الی ان نقل عن حسن التنبہ للعلامۃ النجم الغزی انہ قال بعد ذکر الوجد والتواجد عن اکابر الائمۃ واما من اظھر ھذہ الاحوال تعمدا للتوصل الی الدنیا اولتعتقدہ الناس ویتبرکوا بہ فھذا من اقبح الذنوب المھلکات والمعاصی الموبقات اھ ثم قال فی الحدیقۃ ولاشك ان التواجد وھو تکلف الوجد واظھارہ من غیران اس لئے کہ وجد اور تواجد کا طریقہ جسے اس زمانہ کے سچے فقراء ہی جانتے ہیں جیسا کہ پہلے زمانہ کے لوگ جانتے تھے ایك نورہدایت اور اﷲ تعالی کی توفیق اور اس کی عنایت کا اثر ہوتا ہے یہاں تك کہ حسن التنبہ میں علامہ النجم الغزی سے نقل فرمایا کہ علامہ موصوف نے اکابر ائمہ سے وجد او رتواجد کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا لیکن جس نے ان حالات کو دانستہ دنیا تك رسائی حاصل کرنے اور دنیا طلبی کے لئے ظاہر کیا کہ لوگ اس کے معتقد ہوجائیں اور اس سے برکت حاصل کریں تو یہ رویہ انتہائی قبیح اور مہلك ہے اور تباہ کن جرائم اور گناہوں میں شامل ہے اھپھر حدیقہ ندیہ میں فرمایا:بلاشبہ تواجد بناوٹی اور نمائشی وجد ہے بغیر حقیقی وجدکے۔اور اس میں حقیقی اہل وجد
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوٰۃ باب فی احسن الصوت بالقرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶،شعب الایمان حدیث ۲۱۴۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۳۸۸
الحدیقۃ الندیۃ الصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۲۳ تا ۵۲۵
#3783 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
یکون لہ وجد حقیقۃ فیہ تشبہ باھل الوجد الحقیقی وھوجائز بل مطلوب شرعا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فہو منھم رواہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنھما وانما کان المتشبہ بالقوم منھم لان تشبھہ بھم یدل علی حبہ ایاھم ورضاہ باحوالھم و افعالھم وقد قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الرجل اذا رضی ھدی الرجل وعملہ فھو مثل عملہ رواہ الطبرانی من حدیث عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ(الی ان قال بعد ما اطال واطاب کما ھو دابہ قدس سرہ)اما تکلف الوجد علی الوجہ الصحیح لاجل التشبھہ بالصالحین ولغیر ذلك من المقاصد الحسنۃ فقد اشار الیہ العلامۃ الشیخ القشیری فی اوائل رسالتہ المشھورۃ حیث قال التواجد استدعاء الوجد بضرب اختیار ولیس لصاحبہ کمال الوجد کے ساتھ تشبہ یعنی مشابہت ہے او ریہ جائز بلکہ شرعا مطلوب ہےچنانچہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے وہ انہی میں سے ہے۔امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اسے روایت فرمایا:کسی قوم سے مشابہت اختیار کرنے والا کیوں اسی قوم میں شمار کیا جاتاہےاس کی وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کا کسی قوم سے مشابہت اختیار کرنا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ اس شخص کی ان لوگوں سے دلی محبت ہے اور یہ ان کے حالات وافعال (اور روش)پر راضی ہے اور حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب کوئی مرد کسی شخص کی سیرت اور اس کے عمل سے خوش اور راضی ہو تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے بھی وہی عمل کیا۔امام طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث کے حوالے سے اسے روایت کیاہے یہاں تك کہ اپنی طویل پاکیزہ گفتگو کے بعد جیسا کہ علامہ موصوف کی عادت ہے ارشاد فرمایا رہا یہ کہ وجہ صحیح کے مطابق نمائشی وجد برائے مشابہت صلحاء وبرائے دیگرمقاصد نیك تو یہ ٹھیك اور درست ہے جیسا کہ علامہ شیخ قشیری نے اپنے رسالہ مشہورہ کی ابتداء میں اس کی طرف اشارہ فرمایاہے چنانچہ ارشاد فرمایا"تواجد"کسی نوع کے اختیار سے اپنے آپ پر حالت وجد طاری کرنے کا
#3784 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
اذ لو کان لکان واجد اوباب التفاعل اکثرہ علی اظہار الصفۃ ولیست کذلکفقوم قالوا التواجد غیر مسلم لصاحبہ لما یتضمن من التکلف ویبعد عن التحقیق وقوم قالوا انہ مسلم للفقراء المجردین الذین ترصدوالوجد ان ھذہ المعانی واصلھم خبر الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابکوافان لم تبکوافتباکوااھ وفی شرعۃ الاسلام قال ومن السنۃ ان یقراء القران بحزن ووجد فان القران نزل بحزن فان لم یکن لہ حزن فلیتحازن اھ والحاصل ان تکلف الکمال من جملۃ الکمال والتشبہ بالاولیاء لمن لم یکن منھم امرمطلوب مرغوب فیہ علی کل حال اھ بالاختصار۔ نام ہے جبکہ صاحب وجد میں کمال وجد نہ ہو(یعنی کماحقہ وجد نہ ہو)اس لئے کہ اگر اس میں حقیقی وجد ہوتا تو وہ واجد(وجد کرنے والا)کہلاتا کیونکہ تواجد باب تفاعل ہے اور یہ زیادہ تر حقیقت کی بنا پرنہیںبلکہ بناوٹی ونمائشی اظہارصفت کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض علم والے کہتے ہیں کہ"تواجد"صاحب تواجد کی طرف سے مسلم یعنی تسلیم شدہ اور ٹھیك نہیں کیوں اس لئے کہ یہ تکلف پر مبنی ہوتاہے اور حقیقت سے بعید ہوتاہے جبکہ کچھ لوگوں نے فرمایا کہ ان فقراء کے لئے درست ہے جو مجرد ہوں اور ان معانی کے پالینے کے منتظر اور خواہاں ہوں جو مطلوب ومقصود ہیں اور ان کی دلیل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ لوگو! کم ہنسو اور زیادہ رویاکرو اور اگر رونا نہ آئے تو کم ازکم رونی صورت ہی بنالیاکرو۔شرعۃ الاسلام میں فرمایا سنت یہ ہے کہ قرآن مجید غم کے ساتھ وجد سے پڑھے اس لئے کہ قرآن مجید غم کے ساتھ نازل ہواہے اور اگر غم کی کیفیت طاری نہ ہو تو غمگین صورت ہی بنالی جائےاھ مختصر یہ کہ تکلف کمال بھی منجملہ کمال ہے یعنی کسی کمال میں بناوٹ اور نمائش اختیارکرنا بھی کمال میں شامل ہے اور جو شخص اولیاء اﷲ میں سے نہ ہو اس کا اولیاء اﷲ سے مشابہت اختیارکرنا ایساامرمطلوب ہے جو بہرحال لائق توجہ ہےاختصار سے عبارت مکمل ہوگئی ہے۔(ت)
بالجملہ وجد صوفیہ کرام طالبین صادق اصلا محل طعن نہیں اور دربارہ امر قلب ونیت باطن صادق وکاذب میں تمیز مشکل اور اساءت ظن حرام وباطل " واللہ یعلم المفسد من المصلح " (اﷲ تعالی
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ الصنف التاسع مکتبۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۲۵ تا ۵۲۷
القرآن الکریم ۲ /۲۲۰
#3785 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
فسادی اور مخلص دونوں کو جانتاہے۔ت)ردالمحتار میں نورالعین فی اصلاح جامع الفصولین اور اسی میں علامہ تحریرابن کمال باشاوزیرسے ہے
ما فی التواجد ان حققت من حرج ولاالتمایل ان اخلصت من باس
فقمت تسعی علی رجل وحق لمن دعاہ مولاہ ان یسعی علی الراس الخ
(اگرتواجد سچا اور حقیقی ہوتو کوئی حرج نہیں اور اضطراب(لڑکھڑانے)میں کوئی مضائقہ نہیں بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو پھر توپاؤں پر کھڑا رہ کر دوڑلگاتارہاور اس کے لئے حق ہے جس کو اس کا مولابلائے تو وہ اپنے سر کے بل دوڑتا ہواجائے الخ۔ت)
واﷲ سبحنہوتعالی اعلم۔
جواب سوال دوم:
ان محرمات اباطیل کو معاذاﷲ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف نسبت ضرورحضور میں سوئے ادب اور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء وکذب ہے
" وکفی بہ اثما مبینا ﴿۵۰﴾ " " انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون " یہی کھلاگناہ ہے اور جھوٹ وہی گھڑتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔(ت)
پھر جمیع صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کانام لے دینا کیاجائے ادب۔مشائخ طریقت رضی اﷲ تعالی عنہم میں زیادہ مہربانی حضرات چشت پرہےان کے ارشادات اوپرگزرےاور حضرت مولانافخرالدین زراوی خلیفہ حضورسیدنامحبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہما نے زمانہ حضورمیں خود حکم حضور سے رسالہ کشف القناع عن اصول السماع تحریر فرمایا جس میں ارشاد فرماتے ہیں:
اما سماع مشائخنا رضی اﷲ تعالی عنہم فبریئ عن ھذہ التہمۃ وھو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرۃ من کمال صنعۃ اﷲ تعالی ۔ یعنی ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا سماع اس تہمت مزامیر سے مبراہے وہ تو صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ کہ کمال صنع خداوندی جل وعلا پر آگاہ کریں۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب المرتد داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۰۸
القرآن الکریم ۴ /۵۰
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
کشف القناع عن اصول السماع
#3786 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
بالجملہ ائمہ عارفین وارثان انبیاء ومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اجمعین ضرور ان بہتانوں سے منزہ ہیںحکایت بے سروپا رطب ویابس بے سند معتمد قابل قبول نہیں نہ خلاف بعض مذہب جمہور خصوصا تحریحات جلیلہ کتب مذہب پر کچھ اثر ڈالے ہاں خواہش نفسانی کی پیروی کو اخذوتلفیق بے تحقیق کا ہرشخص کو اختیارہے مغلوبین حال کے افعالاحوالاقوالاعمال نہ قابل استناد ہیں نہ لائق تقلید۔حضرت مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
درحق اوشہد ودرحق تو سم درحق اومدح ودرحق توذم
درحق او ورد ودرحق توخار درحق اونور ودرحق تونار
(اس کے حق میں شہد ہے جبکہ تیرے لئے زہرہےاس کے حق میں تعریف ہے جبکہ تیرے حق میں برائی ہےاس کے لئے تو پھول اور تیرے لئے کانٹاہےاس کے حق میں نورہے جبکہ تیرے حق میں نار(آگ)ہے۔ت)
بالفرض اگرزید بھی اپنے مغلوب الحال ہونے کا دعوی کرے اور مان بھی لیاجائے تو ایك زید وارفتہ وبیخود سہی یہ جو سیکڑوں ہزاروں عوام کا ہجوم وازدحام کرایاجاتا ہے کیایہ بھی سب خدا رسیدہ مغلوب الحال ہوکر آئے ہیں یا دنیابھر سے چھانٹ چھانٹ کر پاگل بوہرے بلائے ہیں جن پر شرع کا قلم تکلیف نہیںاور جب یہ کچھ نہیں تو اس مجمع کی تحریم اور بانی کی تاثیم میں اصلا شك نہیں فانما علیك اثم الا ریسیسین(لہذا کاشتکاروں کا گناہ تمہارے سرہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال سوم:
بدیہیات دینیہ سے ہے کہ اولا عقائد اسلام وسنت پھراحکام صلوۃ وطہارت وغیرہا ضروریات شرعیہ سیکھنا سکھانافرض ہے اور انہیں چھوڑ کر دوسرے کسی مستحب وپسندیدہ علم میں بھی وقت ضائع کرنا حرام نہ کہ موسیقی کہ اس کا ہلکا درجہ لغووفضول اور بھاری پایہ مخزن آثام۔وحدۃ الوجود وحقائق ودقائق تصوف جس طرح صوفیہ صادقہ مانتے ہیں(نہ وہ جسے متصوفہ زنادقہ جانتے ہیں) ضرور حق وحقیقت ہے مگر اس میں اکثر ذوق ہے کہ ان مقامات عالیہ پر وصول کے بعد منکشف ہوتاہے زبانی تعلیم وتعلم سے تعلق نہیں رکھتا اور بہت وہ ہے جسے عوام توعوام آج کل کے بہت مولوی کہلانے والے بھی نہیں سمجھ سکتے
حوالہ / References مثنوی شریف وحی آمد ازحق تعالٰی بعتاب موسٰی الخ دفتر دوم نورانی کتب خانہ پشاور ص۴۴
#3787 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
اور خود اکثر یہ جو پیرومشائخ بنتے ہیں طوطے کی طرح چند لفظ یاد کرلینے کے سوا معانی کی ہوا سے بھی مس نہیں رکھتے پھر کون سکھائے گا اور کون سیکھے گا۔ہاں یہ ضرور ہوگا کہ ایك تو ان انگھڑبتانے والوں کی کج فہمی کہ مطلب کچھ ہے اور سمجھے کچھدوسرے ان معانی کے لئے الفاظ کی نایابی کہ وہ اکثرحال ہے نہ قال۔تیسرے اس پرطرہ کہ ان صاحبوں کی کج مج بیانی کہ جس قدردونوں پہلو حق وحقیقت کے سنبھالے ہوئے بیان میں لاسکتے تھے یہ بتانے والے حضرات اتنے پر بھی قدرت نہیں رکھتے اور اگرقدرت ہو بھی تو حفظ دین وایمان کی پرواکسےچوتھے ان سب پر بالا ان جاہلوں بے تمیزوں کی کودنی جنہیں یہ حقائق ودقائق سکھائے جائیں گے انہیں ابھی سیدھے سیدھے احکام سمجھنے کے لالے ہیں ان متشابہات کو کون سمجھے گا۔غرض اس کا اثرضرور ان کابگڑنا فتنے میں پڑنازندیق مرتد یا ادنی درجہ گمراہ بددین ہوجاناہوگا وبس۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماانت محدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقولھم الاکان علی بعضھم فتنۃ۔ رواہ ابن عساکر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ یعنی جب تو کسی قوم کے آگے وہ بات بیان کرے گا جس تك ان کی عقلیں نہ پہنچیں تو ضرور وہ ان میں کسی پرفتنہ ہوگی(امام ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
امام حجۃ الاسلام محمدغزالی پھرعلامہ مناوی شارح جامع صغیر پھرسیدی عبدالغنی نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں:
ان العامی اذا زنی او سرق خیرالہ من ان یتکلم فی العلم باﷲ من غیراتقان فیقع فی الکفر من حیث لا یدری کمن یرکب لجۃ البحر ولایوف السباحۃ و مکائد الشیطان فیما یتعلق بالعقائد والمذاھب لا تخفی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی عام آدمی بدکاری اور چوری کرے تو باوجود گناہ ہونے کے اس کے لئے یہ عمل اتنا مہلك اور تباہ کن نہیں جتنا بلاتحقیق علم الہی کے بارے میں کلام کرنا مہلك ہے کیونکہ بلاتحقیق اور بغیرپختگی علم کے کہیں وہ کفر کامرتکب ہوجائے گا اور اسے علم بھی نہیں ہوگا اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تیرنا جانے بغیر دریا کی موجوں اور لہروں پر سوار ہونے کےاور شیطان کی فریب کاریاں جو عقائد اور مذاہب سے
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن ابن عباس حدیث ۲۹۰۱۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۲
الحدیقۃ الندیۃ النوع الحادی والعشرون سؤال وتفتیش العوام عن کنہ ذات اﷲ وصفاتہ المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲/
#3788 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
تعلق رکھتی ہیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہیںاور اﷲ تعالی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
جواب سوا ل چہارم :
امربالمعروف ونہی عن المنکر ضرور بنصوص قاطعہ قرآنیہ اہم فرائض دینیہ سے ہے اور بحال وجوب اس کا تارك آثم وعاصیاور ان نافرمانوں کی طرح خود بھی مستحق عذاب دنیوی واخروی۔احادیث کثیرہ اس معنی پرناطق ہیں اور اہلسنت وغیرھم کا واقعہ خود قرآن عظیم میں مذکور۔قال اﷲ تعالی:
" لعن الذین کفروا من بنی اسرءیل علی لسان داود وعیسی ابن مریم ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون ﴿۷۸﴾ کانوا لا یتناہون عن منکر فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون ﴿۷۹﴾ بنی اسرائیل کے کافروں پرلعنت پڑی داؤد و عیسی بن مریم کی زبان سےیہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا برے کام سےایك دوسرے کو منع نہ کرتے تھے ضرور ان کا یہ فعل سخت براتھا۔
اصحاب سبت پر داؤد علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی:الہی! انہیں لعنت کر اور لوگوں کے لئے نشانی بنادے۔بندرہوگئے۔اہل مائدہ پرعیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی دعا کیسورہوگئےوالعیاذباﷲ رب العالمین۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلا واﷲ لتأمرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر او لیضربن اﷲ بقلوب بعضکم علی بعض ثم لیلعننکم کما لعنھم۔رواہ ابوداؤد عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ھذا مختصر۔ یوں نہیںخدا کی قسم یا تو تم ضرور امربالمعروف کروگے اور ضرورنہی عن المنکر کروگے یاضروراﷲ تعالی تمہارے دل آپس میں ایك دوسرے پر مارے گا پھر تم سب پر اپنی لعنت اتارے گا جیسی ان بنی اسرائیل پر۔(امام ابوداؤد نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اسے روایت کیاہےیہ مختصر ہے۔(ت)
مگریہ امرونہی نہ ہرشخص پرفرض نہ ہرحال میں واجبتوبحال عدم وجوب اس کے ترك پریہ احکام نہیں بلکہ بعض
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۷۸
القرآن الکریم ۵ /۷۹
سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب الامروالنہی آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۰
#3789 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
صور میں شرع ہی اسے ترك کی ترغیب دے گی جیسے جبکہ اس سے کوئی فتنہ اشدپیداہوتاہویونہی اگرجانے کہ بے سودہے کارگرنہ ہوگا تو خواہی نخواہی چھیڑنا ضرور نہیں خصوصا جبکہ کوئی امراہم اصلاح پارہاہومثلا کچھ لوگ حریر کے عادی نماز کی طرف جھکے یاعقائد سنت سیکھنے آتے ہیں اور جب حریر وپابندی وضع میں ایسے منہمك ہیں کہ ان پراصرار کیجئے توہرگز نہ مانیں گے غایت یہ کہ آنا چھوڑدیں گے وہ رغبت نمازوتعلم عقائد بھی جائے گی تو ایسی حالت میں بقدرتیسر انہیں ہدایت اور باقی کے لئے انتظار وقت وحالتترك امرونہی نہیں بلکہ اسی کی تدبیر وسعی ہے۔
" واللہ یعلم المفسد من المصلح"
"]" واللہ علیم بذات الصدور﴿۱۵۴﴾ اﷲ تعالی فسادی اور مصلح دونوں سے واقف ہے اور وہ سینے میں پوشیدہ راز جاننے والاہے۔(ت)
بستان امام فقیہ سمرقند پھرمحیط پھرہندیہ میں ہے:
ان الامر بالمعروف علی وجوہ ان کان یعلم باکبر رایہ لوامر بالمعروف یقبلون ذلك منہ ویمتنعون عن المنکر فالامر واجب علیہ ولایسعہ ترکہ ولو علم باکبر رایہ انہ لوامرھم بذلك قذفوہ وشتموہ فترکہ افضل وکذلك لو علم انھم یضربونہ ولا یصبر علی ذلك ویقع بینھم عداوۃ ویھیج منہ القتال فترکہ افضلولوعلم انھم لو ضربوہ و صبر علی ذلك ولایشکو الی امربالعروف کی متعدد قسمیں ہیںاگرکوئی اپنے غالب گمان کی بناپرسمجھتاہے کہ اگر اس نے امربالمعروف کیاتو لوگ اس کی بات تسلیم کریں گے اور گناہ سے بازآجائیں گے تو ایسی صورت میں اس پر امربالمعروف واجب ہوتاہے یعنی اسے ترك کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی اور اگرغالب گمان یہ ہوکہ اس کے امربالمعروف کاالٹا اثرہوگا لوگ الزام تراشی اور گالی گلوچ سے کام لیں گے تو اس صورت میں امربالمعروف نہ کرنا افضل ہے۔اسی طرح اگرجانتاہے کہ امربالمعروف کرنے کی صورت میں لوگ زدوکوب کریں گے اور یہ اسے برداشت نہیں کرسکے گا اور باہمی عداوت وخانہ جنگی کی صورت پیدا ہو جائے گی تو ایسی
#3790 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
احد فلابأس بان ینھی عن ذلك وھو مجاھد ولوعلم انھم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتما فھو بالخیار والامرافضل ۔ صورت حال میں بھی امربالمعروف کاترك کردینا افضل ہے۔اور اگر اسے معلوم ہے کہ لوگ مشتعل ہوکر اسے اذیت پہنچائیں گے مگر وہ صبر کرلے گا اور سختی برداشت کرلے گا اور کسی سے شکوہ شکایت نہیں کرے گا توپھر امربالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسی صورت حال میں اس کا عمل ایك مجاہد کاساعمل متصورہوگااور اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اس کی بات تونہیں مانیں گے البتہ کسی سخت رد عمل کااظہار بھی نہیں ہوگا(یعنی نہ ماننے کے باوجود مارپٹائی اور گالی گلوچ سے کام نہیں لیں گے)تو اس صورت میں اسے اختیارہے کہ امر بالمعروف سے کام لے یانہ لے البتہ یہاں امربالمعروف افضل ہے۔(ت)
لیکن پیری مریدی اگردل سے ہے تو وہاں ایسی صورت کاپیداہونا جس میں امرونہی منجر بضرر ہوں ظاہرا نادرہے ایسے متبوعوں مقتداؤں پر اس فرض اہم کی اقامت بقدرقدرت ضرورلازماور اسی میں ادنی اتباع کے حق سے اداہونا ہے جوباوصف قدرت وعدم مضرت ان کے سیاہ وسپید سے کچھ مطلب نہ رکھے بلکہ ہرحال میں خوش گزر ان کی ٹھہرائی خواہ یوں کہ خود ہی احکام شرعیہ کی پروانہ رکھتا ہو جیسے آج کل کے بہت آزاد متصوف یاکسی دنیوی لحاظ سے پابندی شرع کو نہ کہتاہو جیسے درصورت امرونہی اپنے پلاؤ وقورمے یاآؤ بھگت پرخائف تویہ ضرور پیرغوایت ہے نہ کہ شیخ ہدایت۔واﷲ تعالی اعلم۔
جواب سوال پنجم:
ہنود قطعا بت پرست مشرك ہیں وہ یقینا بتوں کو سجدہ عبادت کرتے ہیں اور بالفرض نہ بھی ہو تو بتوں کی ایسی تعظیم پربھی ضرور حکم کفرہے اورانہیں بارگاہ عزت میں شفیع جاننا بھی کفران سے شفاعت چاہنا بھی کفر کہ قطعا اجماعا یہ افعال واقوال کسی مسلم سے صادرنہیں ہوتےنہ کوئی مسلمان بلکہ کوئی اہل ملت بت کی نسبت ایسا اعتقاد رکھے اور اس میں صراحۃ تکذیب قرآن و مضادت رحمن ہے۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
قال ابن الھمام وبالجملۃ فقد ضم الی محقق ابن الہمام نے فرمایا حاصل یہ ہے کہ وجود ایمان
حوالہ / References فتاوٰی ھندیۃ کتاب الکراہۃ الباب السابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۳۔۳۵۲
#3791 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
تحقیق الایمان اثبات امور الاخلال بھا اخلال بالایمان اتفاقاکترك السجود لصنم وقتل نبی او الاستخفاف بہ او بالمصحف او الکعبۃ الخ۔ کے لئے چندامور کے اثبات کا انضمام کیاجائے گا اور ان میں خلل اندازی بالاتفاق ایمان میں خلل اندازی کے مترادف ہوگی جیسے بت کو سجدہ نہ کرناکسی نبی کو قتل نہ کرنانبی یا مصحف یا بیت اﷲ شریف کی توہین نہ کرنا الخ۔(ت)
اعلام بقواطع الاسلام میں قواعد امام قرافی سے ہے:
ھذا الجنس قدثبت للوالد ولو فی زمن من الازمان وشریعۃ من الشرائع فکان شبھۃ دارئۃ لکفر فاعلہ بخلاف السجود لنحو الصنم اوالشمس فانہ لم یرد ھو ولامایشابھہ فی التعظیم فی شریعۃ من الشرائع فلم یکن لفاعل ذلك شبھۃ لاضعیفۃ و لاقویۃ فکان کافرا ولانظر لقصد التقرب فیما لم ترد الشریعۃ بتعظیمہ بخلاف من وردت بتعظیمہ ۔ یہ جنسوالد کے لئے ثابت ہے اگرچہ کسی زمانے یاکسی شریعت میں ہو پس یہ شبہہ کفرفاعل کے لئے دافع ہوگا بخلاف اس کے کہ مثل بت یا سورج کو سجدہ کیاجائے کیونکہ وہ اور جو بھی اس کے مشابہ ہوتعظیم میںکسی شریعت میں وارد نہیں ہوا لہذا اس کام کے کرنے والے کے لئے کوئی ضعیف اور قوی شبہہ نہیں بس کرنے والا کافرہے اور جس کی تعظیم کے لئے شریعت میں کچھ وارد نہیں ہوا ارادہ تقرب کے لئے اسے نہیں دیکھاجائے گا بخلاف اس کے جس کی تعظیم کے لئے شریعت وارد ہوئی۔(ت)
شفاشریف میں ہے:
کذلك نکفر بکل فعل اجمع المسلمون انہ لایصدر الامن کافروان کان صاحبہ مصرحا بالاسلام مع فعلہ ذلك الفعل السجود للصنم وللشمس اسی طرح سب ایسے کام جن کا صدور کفارسے ہوتاہے اگروہ دعوی اسلام کے باوجود وہ کام کرے تو اس کی تکفیر پرمسلمانوں کا اتفاق ہے اور ہم بھی اس کی تکفیر کرتے ہیں جیسے چاند
حوالہ / References منح الروض الازھر شرح فقہ الاکبر استحلال المعصیۃ ولوصغیرۃ کفر مطبع مصطفی البابی مصر ص۱۵۲
الاعلام بقواطع الاسلام لابن حجر مکی الہیتمی مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی ص۳۴۸
#3792 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
والقمروالصلیب والنار الخ۔ سورج یا کسی بت یا صلیب اورآگ وغیرہ کے آگے سجدہ کرنا الخ(ت)
اسی میں ہے:
کل مقالۃ صرحت بنفی الربوبیۃ او الوحد انیۃ او عبادۃ احد غیراﷲ او مع اﷲ فھی کفر کمقالۃ الدھریۃ والذین اشرکوا بعبادۃ الاوثان من مشرکی العرب واھل الھند والصین اھ مختصرا۔ ہرایسی گفتگو جس سے نفی ربوبیت یا نفی الوہیت کی تصریح اور اظہارہوتا ہو یا اﷲ تعالی کے سوا کسی کی عبادت یا اﷲ تعالی کی عبادت کے ساتھ کسی اور کی عبادت کرنا کفرہے جیسے دہریوں کی گفتگو اور مشرکین عرب میں سے ان لوگوں کی گفتگو جو بت پرستی کی وجہ سے مشرك ہوئے اور اہل ہند اور اہل چین کی گفتگو اھ مختصرا(ت)

اذکار افکار مراقبات کاجوگیوں سے لیاجانا افترائے بیمزہ ہے اور ممکن وشاید سے کوئی کتاب آسمانی نہیں ٹھہرسکتی نہ لیت ولعل سے کوئی صریح مشرك بت پرست قوم کتابی مشرکین ہنود کے شرك وکفر کامنکر ان اقوال مخذولہ تعظیم وشفاعت اصنام کامظہر ضرور بددین گمراہ ملحدکافر ہےوالعیاذباﷲ تعالی۔شفاشریف میں ہے:
ولھذا نکفر من دان بغیر ملۃ المسلمین من الملل او وقف فیہم او شك اوصحح مذھبھم وان اظھر مع ذلك الاسلام واعتقدہ واعتقد ابطال کل مذھب سواہ فہو کافر باظھارہ من خلاف ذلک ۔ لہذا ہم ان لوگوں کی تکفیر فرماتے ہیں جو ملت اسلامیہ نہ رکھنے والوں کاطریقہ اختیارکرتے ہیں یا ان کے معاملہ میں توقف یا شك کرتے ہیں یا ان کے مذہب کو صحیح قراردیتے ہیں اگرچہ باوجود اس روش کے اسلام کا اظہارکریں اور اس پر عقیدہ رکھیں اور اپنے بغیر ہرمذہب کوباطل یقین کریں یہ لوگ کافرہیں اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کا اظہارکیا جس کے خلاف ان سے ظاہرہوا۔(ت)
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ النعمانیۃ ۲/ ۲۷۲
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ النعمانیۃ ۲/ ۲۶۸
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھو من المقالات المطبعۃ الشرکۃ النعمانیۃ ۲/ ۲۷۱
#3793 · مسائل سماع (قوالی کے مسئلے)
عجب شان الہی ہے یہی ناپاك وبیباك بات یعنی اصنام سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو معاذاﷲ ملانا پہلے ایك خبیث نے مسلمانوں کو مشرك بنانے کے لئے لکھی تھی کہ بت پرست بھی شفاعت خواہی اور اس کے مثل افعال ہی بتوں سے کرکے مشرك ہوئےیہی باتیں یہ لوگ انبیاء اولیاء کے ساتھ کرتے ہیں تو یہ اور ابوجہل شرك میں برابرہیںاب یہی مردود وملعون قول دوسرے نے مشرکوں کو مسلمان ٹھہرانے کے لئے کہا کہ بتوں سے شفاعت خواہی ان کی تعظیم حتی کہ انہیں سجدہ کفر نہیں کہ مسلمان بھی توانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تعظیم کرتے ان سے شفاعت مانگتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(گناہوں سے بچنے اور نیکی اپنانے کی طاقت بجزاﷲ تعالی بلند مرتبہ عظیم القدر کی توفیق کے کسی میں نہیں ہم اﷲ تعالی سے عفووعافیت مانگتے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
____________________
رسالہ مسائل سماع ختم ہوا۔
#3794 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
امربالمعروف ونہی عن المنکر

مسئلہ ۴۷: ازکٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سیدکریم خاں صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زمیندار مسلمان کی کچہری میں ایك کائستھ بذریعہ نوکری اسی زمیندار کے ہاں سکونت گزیں ہے اور اس میں ناقوس بجایاکرتاہے اور وہ زمیندار ناقوس بجانے سےا س کو نہیں روکتا ہے تو وہ زمیندار رضابالکفر کے باعث گنہگار ہوگا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
بیشك گنہگار اور سخت گنہگارکہ ازالہ منکر بقدرقدرت فرض ہے خصوصا منکر بھی کیسا کہ شرك کفاروعبادت بتان وناہنجار والعیاذباﷲ العزیز الغفار۔یہ اگر بفرض غلط اسے نوکر رکھ کر منع پر قادر نہ ہو تو موقوف کرنے پرتو قادرہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ من اوی محدثا۔رواہ الامام احمد ومسلم فی صحیحہ والنسائی عن علی کرم اﷲ تعالی وجھہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ کی لعنت اس پر جو کسی شرعی مجرم کو پناہ دے۔(امام احمد اورمسلم نے اپنی صحیح میں اور نسائی نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اسے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۰۸،صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب تحریم الذبح لغیراﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۱۔۱۶۰
#3795 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
مسئلہ ۴۸: ازکلکتہ دھرم تلا ۱۲۴ مرسلہ جناب محمدیونس صاحب ۸رجب ۱۳۲۷ھ
علمائے دین سے سوال ہے کہ اس شخص کاکیاحال ہےزید حتی الامکان اوامرالہی بجالاتاہے مگر نواہی کابھی مرتکب ہوتاہے اور جو اس سے کہاجاتاہے توکہتا ہے: " " ان الحسنت یذہبن السیات (بیشك نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔ت)بینواتوجروا ۔
الجواب:
معصیت کے جواب میں اس آیت کریمہ کو دستاویز بنانا جاہل مغرور کاکام ہے۔
قال اﷲ تعالی " زین لہم الشیطن اعملہم" وقال اﷲ تعالی " ولا یغرنکم باللہ الغرور ﴿۵﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:شیطان نے ان کے لئے ان کے کرتوت (برے اعمال)خوشنما بناڈالے ہیں اور اﷲ تعالی نے فرمایا: لوگو! تمہیں خدا تعالی کے معاملہ میں وہ بڑا فریبی یعنی شیطان دھوکے میں نہ ڈال دے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۹: ازبمبئی عطارگلی کاناکہ مرسلہ مولوی ہدایت رسول صاحب ۲۱ جمادی الاخری
کیافرماتے ہیں حضرات علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کرنا یعنی وعظ کہنا اور حاضرین جلسہ کا اس کو خاموشی اور رجوع قلب کے ساتھ ادب سے سننا مذہبی عبادت ہے یانہیں اور جو اس میں دست اندازی کرے غل مچائے گالیاں بکے اس نے مذہبی توہین کی یانہیں قرآن وحدیث واقوال علماء سے لکھیں اور اجردارین حاصل کریں۔
الجواب:
عالم دین کا امربالمعروف ونہی عن المنکر کرنابندگان خدا کو دینی نصیحتیں کرنا جسے وعظ کہتے ہیں ضرور اعلی فرائض دین سے ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتؤمنون باللہ" تم سب امتوں سے بہترہو جو لوگوں میں ظاہرہوئیں حکم دیتے ہو بھلائی کااور منع کرتے ہو برائی سے اور ایمان لاتے ہو اﷲ پر۔
#3796 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
اور فرماتاہے:
" ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر واولئک ہم المفلحون﴿۱۰۴﴾" لازم ہے کہ تم میں ایك گروہ ایسا رہے کہ نیکی کی طرف بلائے اور بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اور فرماتاہے:
" و ذکر فان الذکری تنفع المؤمنین ﴿۵۵﴾ " ۔ وعظ کہتارہ کہ وعظ مسلمانوں کو فائدہ دیتاہے۔
اور حاضرین کا ادب وخاموشی ورجوع قلب کے ساتھ اسے سنتے رہنا بھی مذہبی عبادت اور دینی فرض ہےاﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" فبشر عباد ﴿۱۷﴾ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ " خوشخبری دے میرے ان بندوں کو جو متوجہ ہوکربات سنتے پھر اس کے بہتر پرعمل کرتے ہیں۔
اس میں دست اندازی کرناغل مچانا گالیاں بکنا ضرورمذہبی توہین اور خاص عادت کفاربے دین ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و قال الذین کفروا لا تسمعوا لہذا القران و الغوا فیہ لعلکم تغلبون ﴿۲۶﴾ " کافربولے اس قرآن کو نہ سنو اور اس کے پڑھے جانے میں غل شورکرو شایدیونہی تم غالب آؤ۔
شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی برادر مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب موضح القرآن میں اس آیت کے نیچے لکھتے ہیں:یہ جاہلوں کا زور ہے شورمچاکر سننے نہ دینا ۔
" فما لہم عن التذکرۃ معرضین ﴿۴۹﴾ کانہم انہیں کیاہوا وعظ سے منہ پھیرے ہیں گویا وہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۱۰۴
القرآن الکریم ۵۱ /۵۵
القرآن الکریم ۳۹ /۱۸۔۱۷
القرآن الکریم ۴۱ /۲۶
تفسیر موضح القرآن برترجمہ شاہ رفیع الدین تحت آیۃ وقال الذین کفروالاتسمعوا الخ ممتاز کمپنی لاہور ۵۲۶
#3797 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
" حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ فرت من قسورۃ ﴿۵۱﴾ " بھڑکے ہوئے گدھے ہیں کہ شیر سے بھاگے ہیں۔
وعظ سے روگردانی تو شیر سے گدھے کابھڑکنا ٹھہرے اس پر غل مچاناگالیاں بکنا کیاچاند پرکتوں کابھونکنانہ ہوگا۔وعظ تو وعظ کہ وہ بنص صریح قرآن مجید فرض مذہبی ہے کتب دینیہ میں تصریح ہے کہ ہرخطبے حتی کہ خطبہ نکاح وخطبہ ختم قرآن کاسننا بھی فرض ہے اور ان میں غل کرنا حرام حالانکہ خطبہ نکاح صرف سنت ہے اور خطبہ ختم نرا مستحب۔درمختار میں آیا ہے:
کذا یجب الاستماع لسائر الخطب کخطبۃ نکاح و خطبۃ عیدوختم علی المعتمد ۔ اسی طرح معتمد قول کے مطابق تمام خطبات کاسننا واجب ہے مثلا خطبہ جمعہعیدیننکاح اور ختم قرآن وغیرہ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ وختم ای ختم القران کقولھم الحمدﷲ رب العلمین حمد الصابرین ۔الخ صاحب درمختار کاقول وختم سے مراد ختم قرآن ہے جیسے اس موقع پر ان کاکہنا ہے الحمدﷲ رب العلمین حمد الصابرین یعنی تعریف اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ایسی تعریف جو صبرکرنے والوں کی تعریف جیسی ہو۔(ت)
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں انواع کلام ممنوع میں ہے:
النوع الثانی والخمسون قطع کلام الغیر من غیر ضرورۃ خصوصا اذا کان فی مذاکرۃ العلم) الشرعی (وقدمر ان السلام علیہ)ای علی الجالس لمذاکرۃ العلم(اثم)لما فیہ من قطع الخیر وایذاء المسلم المتکلم والسامع(وکذا تکلم یعنی کلام کا نوع پنجاہ ودوم بے ضرورت شرعیہ دوسرے کی بات کاٹنا ہے جبکہ وہ علم شرعی کے ذکرمیں ہواور اوپر گزرچکا کہ اس پر اس وقت سلام کرنا بھی گناہ ہے کہ اس میں اسی نیك کلام کاقطع کرنا او رقائل اور سامعین مسلمانوں کو ایذا دیناہے یوہیں جومجلس وعظ میں بیٹھا ہو اسے بھی بات کرناگناہ ہے اگرچہ آہستہ ہی ہو اسی طرح
حوالہ / References القرآن الکریم ۷۴ /۴۹، ۵۰ و ۵۱
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۳
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۵۱
#3798 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
من ھو)جالس(فی مجلس عظۃ)ای وعظ وتذکیر(ولو مع الاخفاء وکذا مجرد التفاتہ وتحرکہ)وقیامہ و اتکائہ (من غیر حاجۃ وکل ھذا سوء ادب وخفۃ و عجلۃ وسفہ بل یتعین التوجہ الیہ والانصات و الاستماع الی ان ینتھی کلامہ بلاالتفات ولاتحرك و لا تکلم اھ مختصرا۔ صرف بے ضرورت ادھر ادھر دیکھنا یاکوئی حرکت وجنبش کرناکھڑا ہوجانا یاتکیہ لگالینا اور یہ سب گستاخی وبے ادبی اور ہلکا پن خفیف الحرکاتی اور جلدبازی اور حماقت ہے بلکہ لازم یہی ہے کہ اسی کی طرف توجہ کئے خاموش کان لگائے سنتے رہیں یہاں تك کہ اس کا کلام ختم ہو اس وقت تك نہ ادھرادھر دیکھیں نہ کوئی جنبش نہ اصلا کچھ بات کریں۔
جب وعظ میں مطلق حرکت او رآہستہ بات بے ضرورت بھی گستاخی وبے ادبی وگناہ ٹھہرے تو غل مچانا گالیاں بکنا کس قدر سخت توہین ہوگا یہ توہین اس عالم دین کی توہین نہ ہوگی جو اس وقت وعظ کرتاہے بلکہ اصل دین اسلام اور خود ہمارے نبی اکرم علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی توہین ٹھہرے گی کہ مسند وعظ اصل مسند حضورپرنور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا النبی انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۴۵﴾ و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا ﴿۴۶﴾" اے نبی! ہم نے تجھے بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈرسناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اورآفتاب روشنی پہنچاتا۔
نیکیوں پرمژدہ دیتابرائیوں پرڈرسناتااﷲ کی طرف مطابق شریعت بلاتا۔یہی معنی وعظ ہے اور آیہ کریمہ
" و ذکر فان الذکری تنفع المؤمنین ﴿۵۵﴾" (لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ نصیحت کرنا ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتاہے۔ت) میں بھی اصل مخاطب حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں یہ کام علمائے دین حضور کی وراثت سے کرتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان العلماء ورثۃ الانبیاء۔رواہ بے شك علماء انبیاء کے وارث ہیں علیہم الصلوۃ
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی والخمسون قطع کلام الغیر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۵۰،الطریقۃ المحمدیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ مطبعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور ۲/ ۹۳۔۱۹۲
القرآن الکریم ۳۳ /۴۵ و ۴۶
القرآن الکریم ۵۱ /۵۵
#3799 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
ابوداؤد والترمذی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ والسلام(امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اسے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
اور نائب جب مسندنیابت پرہوتو اس دربار کی توہین اصل سلطان کی توہین ہےہرعاقل جانتاہے کہ اگرکوئی شخص کسی ادنی درجے کے اجلاس میں غل کرے گا گالیاں بکے تو وہ اس ادنی ہی کی توہین نہ ہوگی بلکہ اصل بادشاہ کیوالعیاذباﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(اﷲ تعالی کی پناہ جو تمام جہانوں کاپروردگار ہےگناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں بجزاﷲ تعالی بلندوبرتراور بڑی شان رکھنے والے کی توفیق عطاکے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ازشہرمحلہ مسئولہ جناب محمد فضل حق صاحب بتاریخ ۸محرم ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید خود بھی تخت الم تعزیہ وغیرہ دیکھناجائز رکھتاہے اور مستورات کو اس قسم کے ہنگاموں میں جانے سے منع نہیں کرتا بلکہ بچوں کو بھی خواہ بنظرثواب خواہ بخیال تماشہ اپنے ساتھ لے جاکر دکھاتا ہے علمائے دین متین اور حامیان سنت رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کیافتوی دیتے ہیں ایسے لوگوں سے جن کا یہ خیال ہے کہ فقیر بن کر سلسلہ میں شامل ہوجائے اور یہ عقیدہ ہے کہ اس طرح اولاد کاتحفظ اور بیمہ جان کاہوجاتا ہےکیا ہونا چاہئےفقیرمذکور کو بھیك دینے اور پیسہ دینے کاکیاحکم ہے اور عقیدہ اور عمل بالا کو کیساجانناچاہئے بینواتوجروا
الجواب:
تخت علم تعزیے وغیرہ سب ناجائز ہیں اور ناجائز کام کو بطور تماشہ دیکھنا بھی حرام لان ماحرم فعلہ حرم التفرح علیہ(اس لئے کہ جس کام کاکرنا حرام ہے اس پر خوشی منانابھی حرام ہے۔ت)اور بچوں کو دکھانے کابھی گناہ اسی پرہے کما فی الاشباہ وغیرہ(جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور عورتوں کو ایسے جلسوں میں جانے کی اجازت دینی حرمت کے سوا سخت بے حرمتی اور نہایت بے غیرتی بھی ہے وفی الخلاصۃ والدر وغیرھما ان اذن کانا عاصیین (خلاصہدرمختار اور ان دو کے علاوہ دوسری کتب فقہ میں مرقوم ہےاگر مردنے(اپنی اہلیہ کوناجائزکام کی)اجازت دی تو میاں بیوی دونوں
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فضل العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷
خلاصۃ الفتاوی کتاب النکاح الفصل الخامس عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۵۳
#3800 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
گنہگار ہوں گے۔ت)اور اس کو ثواب سمجھناگناہ کے علاوہ فسادعقیدہ بھی ہےوالعیاذباﷲ تعالی سلسلہ اولیائے کرام میں کسی ایسے شیخ کے ہاتھ پر داخل ہونا کہ عالم سنی متصل السند غیرفاسق ہو ضرور برکت عظیمہ ہے دنیاوآخرت میں اس کے منافع بے شمارہیں اور اس سے زیادت عمر کی امیدرکھنا بھی بیجانہیں کہ وہ بر یعنی نکوئی ہے اور نکوئی سے رزق بڑھتاہے عمرمیں برکت ہوتی ہے اور یہ کوئی جاہل سے جاہل بھی نہ سمجھے گا کہ اب موت محال ہوگئیہاں بھیك مانگنے کے لئے فقیر بناناحرام ہے اور بے ضرورت شرعیہ و مجبوری محض بھیك مانگناحراماور جوبلاضرورت مانگے اسے دینابھی حرام لکونہ اعانۃ علی المعصیۃ کما فی الدرالمختار(اس لئے کہ یہ بھیك دینا(اس لئے حرام ہے کہ)یہ گناہ کے کام پردوسرے کی مددکرناہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۱:ایك عالم نے اپنے متعدد وعظوں میں سودخوریشراب فروشیشراب نوشیبیع لحم خنزیراکل غیرمذبوح مرغ زنا کاریلواطت واغلام کی حرمت قرآن وحدیث سے بیان کی اور میراث کے مسئلے محمدن لاء(شریعت محمدی)کوچھوڑ کر ہندو لاء (ہندودھرم)قبول کرنے کوکفرصریح بتلایا جس جماعت میں یہ باتیں تھیں بجائے اس کے کہ ان باتوں کو ترك کردیتے اورتوبہ واستغفار کرتے اور خداورسول کے حکم کے آگے سرجھکادیتے خلاف اس کے ضد اور نفسانیت میں آن کر اپنی جماعت کو اکٹھا کرکے اتفاق کرلیا کہ جماعت کا کوئی فرد اپنے ہاں اس عالم کے وعظ کی مجلس منعقد نہ کرے اور اگرکیا تو جماعت سے خارج کردیاجائے گا آیا اس صورت میں شرعا اس جماعت کاکیاحکم ہے اور دوسرے مسلمانوں کو شرعا اس جماعت سے قطع تعلق کرناچاہئے یا نہیں بدلائل شرعیہ جواب لکھ کر عنداﷲ ماجورہوں۔
الجواب:
اس صورت میں جماعت سخت ظالم اور عذاب شدید کی اور اس آیت کریمہ کی مصداق ہے:
" و اذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبہ جہنم " ۔ اور جب اس سے کہاجائے کہ اﷲ تعالی سے ڈرئیے تو اسے گناہمزید ضد(اورطیش)پر آمادہ کرے اور ابھارے پس (بدنصیب)کے لئے دوزخ ہی کافی ہے۔(ت)
اگر وہ لوگ توبہ نہ کریں تو مسلمانوں کو ان سے قطع تعلق چاہئے ورنہ بحکم احادیث کثیرہ وہ بھی
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۰۶
#3801 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
ان کے ساتھ شریك عذاب ہوں گے او شك ان یعمھم اﷲ بعقاب منہ(قریب ہے کہ اﷲ تعالی انہیں اس کے عذاب میں شامل اور شریك فرمائے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۲: جبلپور متصل کوتوالی بساطی بازار مرسلہ عبدالسبحان سوداگر مورخہ ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرہندو لوگ مساجد کے سامنے سے باجابجاتے ہوئے گزرے تو ان کو روکناچاہئے یانہیں اور اگر روکنے میں سرکاری جرم ہو تو ایسی حالت میں مسلمانوں کوکیاکرناچاہئے سرکاری طور سے ہندؤوں کو یہ حکم دیاگیاہے کہ صرف جماعت کے وقتوں میں مساجد کے سامنے باجانہ بجے اور دیگراوقات میں برابر بج سکتاہے اور دیگر اوقات میں اگرکوئی ان کو روکے توسزاکامستحق ہوگاچنانچہ چندآدمیوں کو چھ چھ ماہ کہ سزائے قید بھی ہوچکی ہے۔یہ تو گورنمنٹی حکم ہوگیا اور اب ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مصالحت ہوجاناچاہئے اس شرط پرکہ ہم سال بھر میں صرف پانچ یاسات دن کے لئے یعنی جو ہمارے تہوار ہیں اس میں باجا بجائیں گے مگراوقات نمازچھوڑ کر اور سال بھر تك کسی وقت باجا نہ بجائیں گے اب ایسی حالت میں ہم مسلمانوں کوکیاکرناچاہئے بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسی حالت میں فورا اس مصالحت کو قبول کرناواجب ہے کہ اس میں اسلام کا نفع کثیرہے وہ پانچ سات دن کے استثناء سے تمام سال کے لئے احتراز تام کاوعدہ کرتے ہیں یہ گورنمنٹی فیصلہ سے صدہادرجہ اسلام کے لئے نافع ترہے۔فیصلہ میں مسلمانوں کی طرف سے یہ الفاظ ہوں کہ اوقات جماعت میں ہندو کبھی باجا نہ بجائیں گے اور غیراوقات جماعت میں بھی پانچ سات دن معین کے سوا مساجد کے قریب باجابجانے سے ہمیشہ احتراز رکھیں گےیہ الفاظ نہ ہوں کہ ان معین دنوں میں غیراوقات جماعت میں بجانے پرہم راضی ہیں یااجازت دیتے ہیں اگرچہ حاصل ایك ہی ہے مگر اس عبارت میں معصیت کی اجازت ہے اور معصیت کی اجازت معصیت سے بڑھ کر معصیت ہے اور اس عبارت میں بوجہ استثناء مستثنی حکم سکوت میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۳: ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگرمسلمان ہوپابندصوم وصلوۃ کاہوکسی پیرمولوی کے یہاں نالشی ہو کہ ہمارا معاملہ طے کردو جو ان کے امکان میں ہے اور وہ طے نہ کریں اور نہ سنیں جس کی وجہ سے برباد ہورہاہو۔
الجواب:
یہ بھی محتاج تفصیل ہے کیامعاملہاور پیرمولوی پرکتنا اختیاراور کیوں نہ کیا۔واﷲ تعالی اعلم
#3802 · امربالمعروف ونہی عن المنکر
مسئلہ ۵۴: ازموضع خوردمئو ڈاکخانہ زیدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ سیدصفدرعلی صاحب ۱۲رمضان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین ہندہ کے دولڑکے زیدوعمروہیں زید نے اپنی ماں کوبحکم شرع شریف بجائے کرتی پہننے کے جس کی آستین صرف شانے تك ہوتی ہے پوراہاتھ بغل تك کھلارہتا ہے اور لمبائی بالائے یا زیرناف برائے نام ہوتی ہے کرتا پوری آستین کااور نیچا نصف ران تك پہننے کی ترغیب دی اور افہام وتفہیم کے ساتھ کچھ زبانی سختی بھی کی جس پر ہندہ راغب ہوچکی تھی کہ عمرو نے ہندہ کو صراحۃکنایۃ شہہ دی کہ تم اس کے کہنے کی کچھ پرواہ نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں ہندہ اپنی رغبت سے منحرف ہوگئی۔زید کاقول کیساتھا اور عمرو کی شہہ اور جنبہ داری کیسے ہوئی ہندہ کاعمل کیسا ہے اور آخرت میں اس کی پاداش کیاہے اور ایسی کرتی سے جس کی صراحت کی گئی نماز ہوسکتی ہے یانہیں
الجواب:
عورت اگر صرف محارم کے سامنے ہوتی اور ایسی کرتی پہنے جس میں ہاتھ سب کھلے رہتے ہیں مگر پیٹ ڈھکا ہو خواہ اس کرتی یا دوسرے کپڑے سےاور نماز کے وقت بازوکلائیاں وغیرہ سترپورا چھپارہتاہو تو ایسی عورت کو وہ کرتی پہنناجائزہے اور اسے ترغیب تبدیل کی حاجت نہ تھی اور ماں پرسختی کرناحرام تھا اور دوسرے بھائی کا اس رغبت سے پھیردینا اور عورت کا پھرجانا کچھ گناہ نہ ہوااور اگرعورت کسی نامحرم کے سامنے بھی ہوتی ہے اور وہی کرتی پہنتی ہے اور بدن اور کپڑے سے نہیں چھپاتی یامحارم کے سامنے پیٹ کاکچھ حصہ کھلارہتا ہے یانماز میں بازو یاکلائی کاکوئی حصہ توبلاشبہہ عورت سخت گنہگارہے اور جس نے اسے تبدیل کی ترغیب دی تھی بہت اچھاکیاتھا مگرماں پر سختی جب بھی جائزنہ تھیاور دوسرے بھائی کا اس ترغیب سے پھیردینا اور عورت کاپھرجانا سخت گناہ ہوا ان پر توبہ واجب ہےواﷲ تعالی اعلم
#3803 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
بیماری او رعلاج معالجہ
بیمارپرسیتیمارداریدواعلاججھاڑ پھونکطبابتاسقاط حملمصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق

مسئلہ ۵۵:ازکانپور محلہ بوچڑ خانہ مسجد رنگیان مرسلہ مولوی عبدالرحمن حبشانی طالب علم مدرسہ فیض عام ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۱۴ھ
ماجوابکم ایھا العلماء رحمکم اﷲ تعالی(اے علمائے کرام! اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائےآپ کاکیا جواب ہے کہ)مریض نے دوانہ کی اور مرگیا گنہگار ہوگایانہ
الجواب:
وفی الباب عن الصدیق الاکبر وغیرہ من الائمۃ المتوکلین رضی اﷲ تعالی عنھمفی رد المحتار یاثم بترك الاکل مع القدرۃ علیہ حتی یموت بخلاف التداوی ولو بغیر محرم فانہ لوترکہ حتی مات اس بات میں صدیق اکبر اور دیگرائمہ متوکلین رضی اﷲ تعالی عنہم کاطرزعمل(دلیل)ہے۔فتاوی شامی میں ہے:کھانا کھانے پرقدرت رکھنے کے باوجود کوئی شخص اگرکھانا نہ کھائے اور بوجہ بھوك ہلاك ہوجائے تو گنہگارہوگا۔جیسا کہ ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے کیونکہ علاج سے حیات
#3804 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
لایاثم کما نصوا علیہ لانہ مظنون اھ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ یقینی نہیں بلکہ ایك ظنی چیزہے اھ اﷲ تعالی پاك و برترخوب جانتاہے اور اس عظمت وشان والے کا علم مکمل اور پائدار ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۶: ازاٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹری اٹاوہ ۲ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی جواب ھذا السوال(اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائےاس سوال کے بارے میں آپ کا کیاجواب ہے۔ت)طوائف مریضہ اگرمطب میں آئے تو اس کا علاج کرنامعصیت ہے یانہیں دوسری صورت میں اعانت برمعصیت ہونے میں کوئی شبہہ ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگرمعالجہ زن فاحشہ سے طبیب خود یہی نیت کرے کہ یہ ارتکاب معاصی کے قابل ہوجائے ناسازی طبیعت کہ مانع گناہ ہے زائل ہوجائے جب تو اس کے عاصی ہونے میں کلام نہیں
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی(ت)
اور اگر اس کی یہ نیت نہیں بلکہ عام معالجے جس نیت محمودہ یا مباحہ سے کرتاہے وہی غرض یہاں بھی ہے تو اگرمرض ایذادہندہ ہے جیسے کہ اکثر امراض یونہی ہوتے ہیں جب تو اصلا حرج نہیںنہ اسے اعانت معصیت سے علاقہ بلکہ نفع رسانی مسلمہیادفع ایذائے انسان کی نیت ہے تو اجر پائے گا۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی کل کبد حراء اجر۔رواہ الشیخان (حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:)ہرجگہ گرم یعنی ہرجاندار کی نفع رسانی میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۹
صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲
صحیح البخاری کتاب المساقات ۱/۳۱۸ وکتاب المظالم ۱/۳۳۳ وکتاب الادب ۲/ ۸۸۹،صحیح مسلم کتاب السلام باب فضل سقی البہائم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۷،مسندامام احمدبن حنبل عن ابن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۲۲
#3805 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
عن ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عمرو بن العاص وکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنھم۔ ثواب ہے(بخاری ومسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے اور امام احمد نے ابن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالك رضی اﷲ عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
اور اگر مرض سے کوئی ایذا نہیں صرف موانع زنا سے ہے جس کے سبب اس کا معالجہ ایك زانیہ عورت کے لئے کوئی نفع رسانی نہ ہوگا بلکہ زنا کاراستہ صاف کرے گا مثلا عارضہ رتق یاشدت وسعت(نہ بوجہ سیلان رطوبت)کہ فی نفسہ موذی نہیں مگر اس کا اشتہاء باعث سردی بازار زنان زناکار ہے ایسے معالجہ کو جب کہ امورمذکورہ پرطبیب مطلع ہو اگرچہ برقیاس قول صاحبین من وجہ اعانت کہہ سکیں مگرمذہب امام رضی اﷲ عنہ پریہ بھی داخل ممانعت نہیں کہ یہ تو پاك نیت سے صرف اس کاعلاج کرتا ہے گناہ کرنانہ کرنا اس کا اپنا فعل ہے جیسے راج کاگرجایاشوالہ بنانا یامکان رنڈی زانیہ کو کرایہ پردینا
فی الخانیۃ لوآجر نفسہ یعمل فی الکنیسۃ ویعمر ھالاباس بہ لانہ لامعصیۃ فی عین العمل ۔ فتاوی قاضیخان میں ہے کہ اگرکوئی مزدورگرجے کی تعمیر اور آبادی کے لئے کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ نفس عمل میں کوئی گناہ نہیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
من آجربیتالیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلاباس بہ وھذا عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ اگرکوئی شخص کرائے پرمکان دے اور وہاں آتشکدہگرجایا کلیسا بنادیاجائے یاوہاں سے عام لوگوں پر شراب فروخت ہونے لگے تو حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیك اس میں کرائے پرمکان دینے والے کے لئے کوئی حرج نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۷: ازکلکتہ بتوسط قاضی عبدالوحید صاحب عظیم آبادی منتظم تحفہ حنفیہ ۱۴رجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں حضرات علماء دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا شہرکلکتہ میں
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴
الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی الاستبراء مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰
#3806 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
چنددنوں سے یہ امرمروج ہواہے کہ برائے دفع وبا اکثر محلوں چندچندلوگ ایك ایك فرقہ ہوکر راتوں کو مع علم ونشان وروشنی وغیرہ نکلتے ہیں اور ہرگلی کوچہ وشارع عام میں آوازیں ملاملاکر بآواز بلندشعر
لی خمسۃ اطفی بھا حرالوباء الحاطمہ المصطفی والمرتضی وابناھما والفاطمہ
(میرے لئے پانچ(ہستیاں)ہیں ان کے ذریعے توڑ کر رکھ دینے والی وبا کی گرمی بجھاتاہوں اور وہ پانچ(ہستیاں)یہ ہیں (۱) حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(۲)حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ(۳و۴)ان کے دونوں صاحبزادے (۵) سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ تعالی عنہا۔ت)
کو پڑھتے پھرتے ہیں اس فعل کو قطع نظراہل تشیع کے حضرات علماء اہلسنت وجماعت سے بھی بعض صاحب جائزبتاتے اوراکثر حضرات ناجائز بتاتے ہیں پس شعر مذکور کودافع وبا اعتقاد کرکے بہ ہیئت مذکورہ پڑھتے پھرنا ازروئے شریعت غراعنداہل السنۃ والجماعۃ کیساہے
الجواب:
مضمون شعرفی نفسہ حسن ہے اور محبوبان خدا سے توسل محمود اور ذکرخمسہ پر شبہہ مردود کہ بعدحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چار میں حصرغیرمقصودعددنافی زیادت نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لی خمسۃ اسماءرواہ البخاری عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میرے پانچ نام ہیں۔جبیربن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے بخاری سے روایت کیاہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اعطیت خمسالم یعطھا احد من الانبیاء قبلی رواہ الشیخان عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ مجھے پانچ اوصاف عطاہوئے جومجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے۔بخاری ومسلم نے اس کو جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔(ت)
مگر علم ونشان مہمل اور ان سے توسل باطل اورہیأت مذکورہ لہو اشبہتوسل دعاء ہے اور دعا کا طریقہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الصف قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۲۷
صحیح البخاری کتاب التیمم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸،صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۹
#3807 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
اخفاء۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۵۸: ازضلع نواکھالی ڈاکخانہ دلال بازار موضع لکھی پورہ مرسلہ عبدالودود صاحب ۱۵شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی گاؤں میں مرض ہیضہ جاری ہوتو برائے دفع مرض ہیضہ آج اس میدانکل دوسرے میدان میں سات باراذان کہہ کر ہرروز اس طورپرنماز پڑھنا بہ نیت دفع البلا بہت لوگ جمع ہوکر کے اور شیرینی یاکھیر پکاکرکے اﷲ کے واسطے میدان میں لے جاکر کھاتے ہیں اور بکری کے کان میں سورہ یسین اور سورۃ تبارك الذی پڑھ کر دم کرکے مکان کے چاروں طرف چکر دلاتے ہیں پھر اس بکری کو ذبح کرکے سب کو کھلاتے ہیںآیا یہ باتیں جائزہیں یانہیں
الجواب:
اذان ذکرالہی ہے اور ذکرالہی کے برابرغضب وعذاب الہی سے نجات دینے والی بلاء غم وپریشانی کی دفع کرنے والی کوئی چیز نہیں۔ اﷲ تعالی فرماتاہے:
" الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ﴿۲۸﴾" سن لو اﷲ تعالی کی یادہی سے دلوں کو چین ملتاہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماعمل ادمی عملا انجالہ من عذاب اﷲ من ذکراﷲ قیل ولاالجہاد فی سبیل اﷲقال ولاالجہاد فی سبیل اﷲ الا ان یضرب بسیفہ حتی ینقطع۔رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر بسند صحیح عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما ولابن ابی الدنیا والبیھقی کسی شخص کاکوئی عمل ایسانہیں جو اﷲ تعالی کے ذکر سے زیادہ مفیداور عذاب الہی سے زیادہ نجات دلانے والاہو۔عرض کی گئی کہ کیاخدا کی راہ میں جہاد بھی نہیں۔فرمایا:اﷲ تعالی کی راہ میں جہاد بھی بمقابلہ ذکر کے زیادہ مفید اور نجات کا باعث نہیں مگر یہ کہ اپنی تلوار سے(خدا کے دشمنوں پر)اس قدر وار کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔اس کو امام طبرانی نے"الاوسط" میں اور معجم صغیر میں صحیح سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۳ /۲۸
المعجم الاوسط حدیث ۲۳۱۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۳/ ۱۵۶،الترغیب والترھیب بحولہ المعجم الاوسط والزہد کتاب الذکر والدعاء حدیث ۱۳ مصطفی البابی مصر ۲/۳۹۶
#3808 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لکل شیئ صقالۃ وان صقالۃ القلوب ذکراﷲ وما من شیئ انجا من عذاب اﷲ من ذکراﷲ قال ولاالجہاد فی سبیل اﷲ قال ولو ان یضرب بسیفہ حتی ینقطع ولاحمد وابی بکر بن ابی شیبۃ و الطبرانی فی الکبیر بسند صحیح عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماعمل آدمی عملا انجی لہ من عذاب اﷲ من ذکراﷲ قالوا ولاالجہاد فی سبیل اﷲ قال ولا الجہاد الا ان تضرب بسیفك حتی ینقطع ثم تضرب بہ حتی ینقطع ثم تضرب بہ حتی ینقطع ۔ حوالہ سے روایت کیاہے اور ابن ابی الدنیا اور امام بیہقی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند کے ساتھ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی:ہر شے کی صفائی کے لئے کوئی نہ کوئی چیزہے اور دلوں کی صفائی اﷲ تعالی کے ذکر سے ہوتی ہے کوئی چیز خدا کے عذاب سے نجات کے سلسلے میں ذکرالہی سے بڑھ کر مفید نہیںحتی کہ فرمایا اﷲ تعالی کی راہ میں جہاد بھی نہیں اگرچہ وہ اپنی تلوار سے اس کے ٹوٹنے تك وارکرتا رہے۔ اور مسنداحمدابوبکر ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے معجم کبیر میں بسند صحیح حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی کہ انسان کا کوئی عمل خدا کے عذاب سے چھڑانے اور نجات دلانے کے سلسلے میں اس کے ذکر سے بڑھ کر مفیداور نافع نہیںلوگوں نے عرض کی کیاجہاد فی سبیل اﷲ بھی نہیںفرمایا جہاد بھی ذکر سے بڑھ کر نہیں الا یہ کہ تو اپنی تلوار سے کافروں پر اس حد تك وارکرے کہ تلوارٹوٹ جائے پھروار کرے اور وہ ٹوٹ جائے پھروار کرے اور وہ ٹوٹ جائے۔(ت)
اور نظروطلب دفع بلاوذکرخدا کے لئے جنگل کوجانے کی اصل نماز استسقاء ہےاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لوتعلمون ما اعلم الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاش تم بھی وہ کچھ جانتے جوکچھ میں جانتا ہوںحضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی
حوالہ / References الترغیب والترہیب بحوالہ ابن ابی الدنیا والبیہقی کتاب الذکروالدعاء حدیث ۱۰ مصطفی البابی مصر ۲/ ۳۹۶،شعب الایمان حدیث ۵۲۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۳۹۶
المعجم الکبیر حدیث ۳۵۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۰/ ۱۶۷
#3809 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
لخرجتم الی الصعدات تجأرون الی اﷲ رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم والبیھقی فی الشعب بسند صحیح عن ابی الدرداء والحاکم بسند صحیح عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ کہ تم لوگ بلندیوں کی طرف نکل جاتے اﷲ تعالی کی طرف چیختے چلاتے ہوئےامام طبرانی نے معجم کبیر میں اور حاکم نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو درداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔(ت)
اور سات کے عدد کو دفع ضرر وآفت میں ایك تاثیرخاص ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے مرض وصال شریف میں فرمایا مجھ پر سات مشکوں پرسربستہ کاپانی ڈالو۔صحیح بخاری شریف میں ہے عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لمادخل بیتی واشتد وجعہ قال اھریقواعلی من سبع قرب لم تحلل او کیتھن لعلی اعھد الی الناس ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام جب میرے گھرتشریف لائے تو آپ کے مرض میں اضافہ ہوگیا۔فرمایا مجھ پر ایسے سات مشکیزوں کاپانی بہاؤ کہ جن کے بندھن نہ کھولے گئے ہوں(سربستہ مشکیزے ہوں)شاید میں لوگوں سے کوئی عہد لوں۔(ت)
مواہب شریف میں ہے:
وقدقیل فی الحکمۃ فی ھذا العدد ان لہ خاصیۃ فی دفع ضرر السم والسحر ۔ کہاگیا کہ اس سات کے عدد میں حکمت اور راز یہ ہے کہ اس کو زہر اور جادو کانقصان زائل کرنے میں خاص تاثیرہے۔(ت)
شرح زرقانی میں فتح الباری سے ہے:
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی عن ابی الدرداء کتاب الزھد دارالکتب بیروت ۱۰/ ۲۳۰،المستدرك للحاکم کتاب الرقاق ۴/ ۳۲۰، شعب الایمان حدیث ۷۹۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۴۸۷
صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۳۹
المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الاول المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۵۲۰
#3810 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
وقد ثبت حدیث من تصبح بسبع تمرات عجوۃ لم یضرہ ذلك الیوم سم ولاسحر وللنسائی فی قرأۃ الفاتحۃ علی المصاب سبع مرات وسندہ صحیح ولمسلم القول لمن بہ وجع اعوذ بعزۃ اﷲ وقدرتہ من شرما اجدواحاذر سبع مرات وفی النسائی من قال عند مریض لم یحضر اجلہ اسأل اﷲ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیك سبع مرات ۔ حدیث پاك سے ثابت ہے کہ جو کوئی صبح سویرے سات عجوہ کھجوریں کھالے تو اسے اس دن زہر اور جادو سے نقصان نہیں پہنچے گا۔نسائی شریف میں ہے کہ مصیبت زدہ پرسات مرتبہ فاتحہ پڑھی جائےاس کی سند صحیح ہے۔مسلم شریف میں ہے کہ جس کو درد کاعارضہ ہو اس پریہ کلمات سات مرتبہ پڑھے جائیں: اعوذ بعزۃ اﷲ وقدرتہ من شرما اجد واحاذر یعنی اﷲ تعالی کی عزت اور اس کی قدرت سے پناہ لیتاہوں اس کے شر سے جس کو میں پاتا ہوں اور اس سے ڈرتاہوں(چوکنا رہتا ہوں)سنن نسائی شریف میں ہے کہ جو کوئی ایسے مریض کے پاسجس کی موت مقدرنہ ہوان الفاظ سے سات دفعہ دعاکرے تو وہ صحت یاب ہوجائے گا کلمات یہ ہیں:اسأل اﷲ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیك یعنی میں اﷲ عظمت والے سے سوال کرتاہوں جو بڑے عرش کامالك ہے کہ وہ تجھے شفا عطافرمائے(ت)
جماعت میں برکت ہے اور دعائے مجمع مسلمین اقرب بقبولعلما فرماتے ہیں جہاں چالیس مسلمان صالح جمع ہوتے ہیں ان میں ایك ولی اﷲ ضرورہوتاہے۔حدیث میں ہے:
اذا شھدت امۃ من الامم وھم اربعون فصاعدا اجاز اﷲ تعالی شھادتھم رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء المقدسی عن والد ابی الملیح۔ جب کوئی جماعت حاضر ہو اور چالیس افراد یا اس سے زیادہ ہوں تو اﷲ تعالی ان کی شہادت کو جائز قراردیتا ہے۔امام طبرانی نے معجم کبیرمیں اور ضیاء مقدسی نے ابوالملیح کے والد کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔(ت)
تیسیر شرح جامع صغیر میں فرمایا:
قیل وحکمۃ الاربعین انہ لم یجتمع کہاگیاہے کہ چالیس کے عدد میں حکمت یہ ہے کہ
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۵۸
المعجم الکبیر حدیث ۵۰۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱/ ۱۹۰
#3811 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
ھذا العدد الا وفیھم ولی ۔ یہ تعداد کبھی پوری نہیں ہوتی بجز اس کے کہ ان میں کوئی نہ کوئی ولی ضرورہوتاہے(ت)
مگریہ نمازفرض ہوناچاہئےنفل پڑھیں تو الگ الگورنہ نفل جماعت کثیرہ کے ساتھ مکروہ ہےچارمقتدی ہوں تو بالاتفاق اور تین ہوں تو علی المرجوع۔ درمختارمیں ہے:
التطوع بجماعۃ یکرہ لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کما فی الدرر ۔ نوافل باجماعت پڑھنامکروہ ہے بشرطیکہ بطور تداعی ہوبایں طریقہ کہ چارآدمی ایك کی اقتداء کریںجیسا کہ درر میں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اما اقتداء واحد بواحد اواثنین بواحد فلایکرہ و ثلثۃ بواحد فیہ خلاف بحر عن الکافی۔ لیکن ایك کا ایك کی اقتداء کرنا یادو کا ایك کی اقتداء کرنا مکروہ نہیں اور تین کے ایك کی اقتداء کرنے میں اختلاف ہے۔ البحر الرائق نے الکافی سے نقل کیا(ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں زیرقول شارح لواقتدی ثلثۃ بواحد اختلف فیہ(اگر تین شخص ایك کی اقتداء کریں تو اس میں اختلاف کیا گیاہے۔ت)فرمایا:والاصح عدم الکراھۃ (زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس میں بھی کراہت نہیں۔ت)شیرینی یاکھانا فقراء کو کھلائیں تو صدقہ ہے اور اقارب کو تو صلہ رحم اور احباب کو تو ضیافتاور یہ تینوں باتیں موجب نزول رحمت ودفع بلاو مصیبت ہیں۔ابویعلی انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الصدقۃ وصلۃ الرحم یزیداﷲ بھما فی العمر و یدفع بھما میتۃ بیشك صدقہ اور صلہ رحم ان دونوں سے اﷲ تعالی عمر بڑھاتا ہے اور بری موت کو دفع فرماتا ہے اور
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر حرف الہمزہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱/ ۱۱۰
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۷۶
مراقی الفلاح مع شرح الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل بیان النوافل نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۲۱۱
#3812 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
السوء ویدفع بھما المکروہ والمحذور ۔ مکروہ واندیشہ کو دورکرتاہے۔
ابوالشیخ ابوالدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الضیف یاتی برزقہ ویرتحل بذنوب القوم یمحص عنھم ذنوبھم ۔ مہمان اپنا رزق لے کرآتاہے اور کھلانے والے کے گناہ لے کرجاتاہے اور ان کے گناہ مٹادیتاہے۔
نیزامیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے راوی کہ وہ فرماتے ہیں:
لان اجمع نفرا من اخوانی علی صاع اوصاعین من طعام احب الی من ان ادخل سوقکم فاشتری رقبۃ فاعتقہا ۔ بیشك یہ بات کہ میں اپنے بھائی سے ایك گروہ کو جمع کرکے دو ایك صاع کھانا کھلاؤں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارے بازار میں جاؤں اورایك غلام خرید کر آزاد کردوں۔
یہی حال بکری ذبح کرکے کھلانے کاہے مگرتجربہ سے ثابت ہواہے کہ جان کا صدقہ دینازیادہ نفع رکھتاہے اور قرأت قرآن کا موجب شفا وبرکت ودافع بلاونقمت ہونا خود قرآن مجید سے ثابت خصوصا یسین شریف کہ قضاء حاجات واجابت دعوات کے لئے تریاق مجرب ہےرہا بکری کے کان میں پھونکنا اور اسے مکان کے گرد پھرانا اگر کسی صالح معتمد کے قول سے ثابت ہو تو ازقبیل اعمال مشائخ ہوگا ورنہ عبث ہے۔دفع وبا کے لئے اذان کی تحقیق ہمارے رسالہ نسیم الصبا ان فی الاذان یحول الوبا(صبح کی ہوا اس بارے میں کہ اذان وبا کو ٹال دیتی ہے۔ت)اور اسی غرض سے مسلمانوں کو جمع کرکے کھانا کھلانے اور صدقہ وصلہ وضیافت کے فوائد کابیان ساٹھ حدیثوں سے ہمارے رسالہ مراد القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء(ہمسایوں کی دعوت اور فقراء سے اظہار ہمدردی قحط اور وباء کو پھیردینے والے اعمال ہیں۔ت)اور اعمال مشائخ کے جواز کے ساتھ تفصیل ہمارے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین(انگوٹھے چومنا آنکھوں کی روشنی کاروحانی علاج ہے۔ت)وغیرہا میں ہے۔سبحنہ وتعالی اعلم
حوالہ / References مسند ابی یعلٰی حدیث ۴۰۹۰ مؤسسۃ علوم القرآن ۴/ ۴۷۔۱۴۶
کشف الخفاء بحوالہ ابن ابی شیبہ حدیث ۱۶۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۳۳
الادب المفرد باب ۲۵۵ حدیث ۵۶۶ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص۱۴۸
#3813 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
مسئلہ ۵۹:۲۰ شوال ۱۳۱۹ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ چوں درمحلہ ازمحلات دہ مرض وبا واقع شود مرد مان محلہائے دیگرگوسپندی سیاہ گرفتہ سورہ یسین وتبارك خواندہ درہر دوگوش آں بزدم کردہ باطراف ایں موضعہا برگردانیدہ باجائے اول آوردہ ذبح کنند واستخوان وپوست رادراں زمین دفن کردہ گوشتہارا پزانیدہ پارہ پارہ ازاں بہریك مردم آں وہ تقسیم کنند وایں نظم

لی خمسۃ اطفی بھا حرالوباء الحاطمہ
المصطفی والمرتضی وابناھما والفاطمہ

رابر پرچہ نوشتہ برہرچہار گوشہ آں محلہ آویزند وہمچنیں بخوف مرض چیچك انگریزاں قطرہ ریم بربازوے مردماں زخم کردہ آں نجس رادخل کنند پس ایں ہمہ موافق شرع جائزاست یانہ بینوا بالکتاب وتوجروا عندالحساب۔ علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیافرماتے ہیں کہ جب گاؤں کے کسی محلہ میں مرض بصورت وباپھوٹ پڑے تو دوسرے محلوں والے لوگ ایك سیاہ رنگ کابکراخرید کر لاتے ہیں اور سورہ یسین وسورہ ملك پڑھ کر اس کے دونوں کانوں میں پھونکتے ہیں ازاں بعد اسے گاؤں کے گردگھماتے پھراتے ہیں اور پھرپہلے مقام پر لاکرذبح کردیتے ہیںاس کی کھال اور ہڈیاں وہیں دفن کردیتے ہیں اور گوشت پکاکر گاؤں کے مردوں میں تھوڑا تھوڑا تقسیم کیاجاتاہے اور یہ شعر چار الگ الگ کاغذوں پر لکھ کر گاؤں کے چاروں کونوں میں ایك ایك کاغذ لٹکادیتے ہیں
لی خمسۃ اطفی بھا حرالوباء الحاطمہ
المصطفی والمرتضی وابناھما والفاطمہ
(میرے لئے پانچ نفوس قدسیہ وسیلہ اور سہارا ہیں میں ان کے توسل سے کمرتوڑ وبا کی حرارت اور گرمی کوبجھاتا اور ٹھنڈا کرتاہوں وہ پانچ ہستیاں یہ ہیں:حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمحضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہان دونوں کے صاحبزادے حضرت حسن اور حضرت حسین علیہما السلامحضرت سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اﷲ تعالی عنہا) اسی طرح مرض چیچك کے ازالہ کے لئے بطور علاج انگریز لوگوں کے بازوؤں کو زخمی کرکے ناپاك پیپ کے قطرات ان کے جسم میں داخل کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ ازروئے شرع جائزاوردرست ہے کتاب اﷲ کی روشنی میں وضاحت فرماکر مہربانی فرمائیں تاکہ بوقت حساب عنداﷲ اجروثواب پائیں۔(ت)
الجواب:
ذبح جانورلوجہ اﷲ تعالی وتقسیم لحم اوبہ مسلمین کسی جانور کو اﷲ تعالی کی رضاوخوشنودی کے لئے
#3814 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
وقرأت تبارك ویسین ہمہ امرخوب ومحبوب ست ودردفع بلاباذن اﷲ جل وعلا اثرے تمام دارد ودرگوش بز دمیدن وبہ اطراف موضع گردانیدن ازقبیل خصوصیات اعمال مشائخ ست بسیارے ازامثال اینہا شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی درقول الجمیل آوردہ اند فاما دفن پوست درزمین تضیع مال است واو روانیست لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ کرہ لکم اضاعۃ المال وکثرۃ السوال وقیل وقال رواہ آنست کہ پوست بمساکین بخشند وتعلیق آں شعر بز وائے محلہ نیزجائز و روا وازباب توسل بمحبوبان خداست جل وعلا وعمل ٹیکا دردفع چیچك باذن اﷲ تعالی نفع میدہدوہمچوں تداوی اگرچہ مشتمل برچیزے ازالم بود ممنوع نیست مثل داغ نہادن آری متوکلان رانباید الذین لایسترقون ولایکتوون ولا یتطیرون وعلی ربھم یتوکلون جعلنا اﷲ منھم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ ذبح کرکے اس کا گوشت مسلمانوں میں تقسیم کرنا اور اسی طرح سورۃ یسین اور سورۃ ملك کی تلاوت کرنا بہترین اور مستحسن اعمال ہیں اﷲ تعالی کے اذن سے بلاومصیبت کوٹالنے کامؤثر ذریعہ ہیںجہاں تك بکرے کے کانوں میں سورتیں پڑھ کر پھونکنے گاؤں کے گردگھمانے والے عمل کاتعلق ہے تو یہ ازقبیل خصوصیات اعمال بزرگان دین ہےچنانچہ اس نوع کی بہت سی مثالیں حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی نے اپنی کتاب"القول الجمیل"میں بیان کی ہیں۔رہاکھال کو دفن کر دینے کامعاملہتویہ مال کو ضائع کردینے کے مترادف ہے جو جائزنہیں۔حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ"بیشك اﷲ تعالی نے تمہارے لئے ان تین کاموں کوناپسند فرمایا(۱)مال ضائع کرنا(۲)زیادہ سوال کرنا(۳) ادھرادھر کی بیہودہ اور لغوباتیں کرنا۔ لہذامناسب یہ ہے کہ بکرے کی کھال محتاجوںناداروں کو بطوراعانت وامداد دے دی جائے اور شعرمذکور کاگاؤں کے چاروں اطراف میں لٹکانا روا اور درست ہے اور محبوبان خدا کو وسیلہ بنانے کے باب سے ہے(ان سب پراﷲ تعالی کی رحمت اور سلام ہو)نیز مرض چیچك کے دفاع اور ازالہ کے لئے انجکشن لگوانا باذن اﷲ تعالی نفع بخش ہےاسی طرح ایسی دوا استعمال کرنا یاطریقہ اپنانا جوبظاہر تکلیف دہ بھی ہو شرعا منع نہیں جیسا کہ جسم پرگل یعنی داغ لگوانا وغیرہہاں البتہ اصحاب توکل کے لئے ایساکرنا مناسب نہیںچنانچہ حدیث پاك میں کچھ محبوب بندوں کے
حوالہ / References مسند امام احمدبن حنبل عن مغیرہ بن شعبہ دارالفکر بیروت ۴/ ۲۹۴،صحیح البخاری کتاب الرقاق باب مایکرہ من قیل وقال قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۵۸
#3815 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
بارے میں آیاہے کہ وہ ایسے مقربان بارگاہ ہیں کہ دم او رجھاڑ پھونك نہیں کرواتے نہ داغ لگواتے ہیں اور نہ بدشگونی لیتے ہیں بلکہ اپنے پروردگار پرمکمل بھروسا رکھتے ہیںاﷲ تعالی اپنے فضل وکرم سے ہمیں ان پاك لوگوں میں شامل فرمائے۔اﷲ تعالی پاك برتر اور سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
مسئلہ ۶۰: مسئولہ حافظ امیراﷲ صاحب ۲۰شوال ۱۳۲۲ھ
یہ خط ایك شخص صادق تخلص سیتاپوری کامیرے نام آیاہے اس کی آخری عبارت ملاحظہ فرمائیںعبارت یہ ہے:
اگرآں جاراترك کردہ مابقی راازیں بلا(یعنی طاعون)حفاظت کنند بعقل نزدیك وازمحاظرہ " ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ " دورست۔


زیراکہ حدیثے کہ درعدم فرار وارد شدہ مصنف"سکن الشجون فی حکم الفرار عن وباء الطاعون"بدلائل وبراہین ثابت کردہ کہ اولا طرق روایان حدیث بسیار مخدوش ست یعنی دو نفراز انہا مجہول وغیرثقہ است وثانیا نفس حدیث مقامی ست زیراکہ دروقتے کہ عسکر اسلامی ازبرائے حفاظت ثغور مقرر بودند طاعون آمدوآنہامی گریختند حضرت فرمودند کہ نگریزند۔ خلاصہ بخیال من بااینحالت آنجا سکونت جاہلانہ خودرا بلااند اختن ست فقط۔ اگر ا س جگہ کو چھوڑ دے اورباقیماندہ جگہ کی طاعون کی مصیبت سے حفاظت کی جائے تو یہ عقل کے قریباور آیہ مذکورہ کی ممانعت سے بعید ہے۔قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(ت)
اس لئے کہ جو حدیث طاعون سے نہ بھاگنے کے بارے میں وارد ہوئی ہے مصنف"سکن الشجون فی حکم الفرار عن وباء الطاعون"نے عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اولا توحدیث مذکور کی سندبلحاظ رواۃ حدیث بہت مخدوش ہے یعنی دوآدمی اس میں مجہول اور غیرثقہ ہیںثانیا حدیث مذکور اس مقام سے تعلق رکھتی ہے کہ اس وقت اسلامی فوج اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے مقرر کی گئی پھر وہاں اچانك طاعون پھیل گیا اور لوگ ادھرادھر بھاگنے لگے توحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:وہ نہ بھاگیں۔(خلاصہ کلام) میرے خیال میں اس حالت میں اس جگہ ٹھہرنا جہالت اور اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔فقط۔ (ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
#3816 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
الجواب:
حدیث فرار عن الطاعون کو مخدوش ومجروح او ر اس کے دو روایوں کو مجہول وغیرثقہ نہ کہے گا مگرجاہل یاگمراہ۔حدیث صحیح نقی منقی صفی مصفیصحیحین بخاری ومسلم وموطاء مالك ومسندامام احمد وسنن ابی داؤد وسنن نسائی وغیرہا میں بطریق عدیدہ واسانید جیدہ صحیحہ حد شہرت واستفاضہ پر مروی ہوئی اور اسے مقامی بمعنے مذکور بھی نہ کہے گا مگروہ کہ ارشادات محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو پردہ تاویل باطل وعلیل میں رد کرناچاہتاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تویوں ارشاد فرمائیں:
اذاسمعتم بالطاعون بارض فلاتدخلوا علیہ واذا وقع وانتم بارض فلاتخرجوا منھا فرارامنہرواہ الشیخان وابوداؤد النسائی ومالك واحمد عن عبدالرحمن بن عوف والبخاری ومسلم عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنھم۔ جب تم کسی زمین میں طاعون ہوناسنو تو اس پر داخل نہ ہو اور جب وہاں طاعون آئے جہاں تم ہو تو طاعون سے بھاگنے کے لئے وہاں سے نہ نکلو(بخاریمسلمابوداؤدنسائیامام مالك اور امام احمد نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے اسے روایت کیاہے او ربخاری ومسلم نے اسے اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہم کی سند کے ساتھ بھی روایت کیاہے۔ت)
اور اس کے معنی یہ قراردئیے جائیں کہ کسی جہاد کے وقت طاعون ہوا تھا تو اس جہاد سے بھاگنے کی مخالفت میں فرمائی گئی انا ﷲ وانا الیہ راجعون(یقینا ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں۔ت)یہ تاویل نہیں صریح تحریف وتبدیل ہے اور نہ صرف تبدیل بلکہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافتراکہ حضورنے اس غرض سے فرمایا حالانکہ کسی روایت ضعیفہ میں بھی یہ سبب وغرض ارشاد مذکور نہیں محض اختراع وافتراء ہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب ۱/ ۴۹۴، وکتاب الطب ۲/ ۸۵۲ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۸،سنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب الخروج من الطاعون آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۶،موطاالامام مالك باب ماجاء فی الطاعون میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۷۰۰،مسندامام احمد عن عبدالرحمن بن عوف المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۸۲ و ۱۹۳ و ۱۹۴
#3817 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
وقدقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار ۔ بیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے عمدا مجھ پر جھوٹ کہا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں سمجھ لینا چاہئے۔(ت)
سکن الشجون کیاچیزہے اس کا مصنف کون ہےکشف الظنون تك تو اس کا پتا نہیں کوئی حال کاجاہل مجہول ہوتو ہواکرےالقاء بالایدی الی التھلکۃ(ہاتھوں کوہلاکت میں ڈالنا۔ت)کیاہے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے احکام کو نہ مانناورنہ یہ آیت تحریم جہاد کے لئے عمدہ دستاویز ہوجائے گیجو تہبلکہ چمکتی تلواروں اور برستے تیروں او رتوپ کے متواتر گولوں کے سامنے ہے طاعون میں اس کا عشرعشیر بھی نہیں توجہاداکبر سے زائد حرام ہوگا اور جہاد سے بھاگنا فرض حالانکہ قرآن نے اس کا عکس فرمایا ہے قرآن عظیم ترك جہاد وفرارعن الجہاد ہی کوتہبلکہ فرماتا ہے جسے یہ عبدۃ الہوی ہلاك سمجھیں وہ نجات ہے اور جسے نجات سمجھ رہے ہیں وہ ہلاك ہے۔ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:"کریمہ لاتلقوا"ہم انصار میں اتری کہ جب دین متین کو اﷲ عزوجل نے عزت بخشی اور اسلام پھیل گیا ہم نے کہا اب جہاد کی کیاضرورت ہے اب خانگی امور جو اتنے روزوں سے خراب پڑے ہیں بنالیں اس پرارشاد ہوا:
وانفقوا فی سبیل اﷲ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ " اپنی جان اور مال جہاد میں خرچ کرو اور ترك جہاد کرکے اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔(ت)
معالم شریف میں ہے:
فالتھلکۃ الاقامۃ فی الاھل والمال وترك الجھاد ۔ "التہلکہ"اہل ومال سے وابستہ رہنا اور جہاد کے لئے نہ نکلنا ہے۔(ت)
امام اجل احمدبن حنبل مسندمیں جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفارمن الزحف طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسے جہاد میں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱
معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت آیہ ۲/ ۱۹۵ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۱ و ۱۷۲
معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت آیۃ ولاتلقوا بایدیکم الی التہلکۃ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۷۲
#3818 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
ومن صبرفیہ کان لہ اجر شھید ۔ کفار کو پیٹھ دے کر بھاگنے والااور جو اس میں صبر کئے بیٹھارہے اس کے لئے شہیدکاثواب ہے۔
اور جہاد سے بھاگنے والے کو اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" فقد باء بغضب من اللہ وماوىہ جہنم وبئس المصیر ﴿۱۶﴾" ۔ وہ بیشك اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا بری بازگشت ہے۔
توثابت ہوا کہ طاعون سے بھاگنے والا اﷲ کے غضب میں جاتاہے اورجہنم اس کا ٹھکاناہے اسی کوفرمایا کہ:
" ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ " اپنے ہاتھوں ہلاکت وغضب خدا اور استحقاق جہنم میں نہ پڑو۔
اب بتائیے کہ طاعون سے بھاگنا"تہلکہ"ہے یااپنے رب عزوجل پرتوکل کرکے صابرومقیم رہنا۔اﷲ تعالی توفیق دے کہ احکام محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اپنے ہوائے نفس سے رد نہ کیاجائے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(گناہ سے بچنے او رنیکی کی قوت وطاقت کسی میں نہیں بجزاﷲ تعالی بلندمرتبہ اور عظیم الشان کی توفیق کے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: ۱۷محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید رہنے والا بدایوں کا ہے اور بریلی میں انگریزی ملازم ہےبدایوں سے اپنے عیال واطفال کولانے کامصمم ارادہ کرلیا تھا کہ اس عرصہ میں بدایوں میں طاعون شروع ہوگیااس وجہ سے نہ لاسکااگرشریعت اجازت دے تو زید اپنے متعلقین کو لاکر دنیوی تفکرات اور دوہرے خرچ سے نجات پائے۔
الجواب:
اﷲ عزوجل دل کے خطروں کو جانتاہے اگرواقعی بخوف طاعون وہاں سے ان کا منتقل کرنا
حوالہ / References مسند امام احمد بن حنبل مرویات عبدا ﷲبن جابر انصاری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۳۶۰،کنزالعمال حدیث ۲۸۴۴۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۷۹
القرآن الکریم ۸ /۱۶
القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
#3819 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
مقصود نہیں بلکہ محض اپنے آرام ویکجائی کے لئے بلاشبہہ اجازت ہے بشرطیکہ زوجہ اور بالغ بچوں کو خوب سمجھادے کہ یہ انتقال طاعون سے بچنے کے لئے نہیں نہ تم کہیں بھاگ کرموت سے بچ سکتے ہو میراارادہ قطعی پہلے سے تمہیں بلانے کا تھا بلکہ طاعون کی وجہ سے اتنی دیر کی شاید تمہارا لے جانا ناجائزہو اب کے معلوم ہوا کہ خالص نیت سے لےجانے میں شرعا حرج نہیں تمہیں اسی طرح لے جاتاہوں جیسا کہ طاعون نہ ہونے کی حالت میں لیجاناتم پربھی فرض ہے کہ اپنی نیت صحیح کرو طاعون کا خیال دل میں ہرگز نہ لاؤ جس سے یہ ظاہرہوگا کہ بوجہ خوف طاعون اس منتقل ہونے کو غنیمت جانے گا میں اسے یہیں چھوڑدوں گا یہاں تك کہ اﷲ عزوجل جس کا ہرجگہ حکم نافذ ہے اپناجوحکم چاہے نافذ فرمائےجب یہ تعلیم وتلقین کرے اور ظاہر ہوکہ یہ سچا عقیدہ ان کے دلوں میں جم گیا اور شیطانی خیال نہ رہا اس وقت بے تکلف وہاں سے آئےاس تعلیم میں سمجھ والے بچوں کو بھی شریك کرے اگرچہ بالغ نہ ہوں کہ تعلیم حق کے وہ بھی محتاج ہیںحق سبحنہ ہرجگہ مسلمانوں کو عافیت بخشے اور اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین۔واﷲ تعالی علم۔
مسئلہ ۶۲: ازامروہہ ضلع مرادآباد مرسلہ حکیم ظہوراحمد صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ڈاکٹری دواسیال جس میں شرا ب کاجز ہو حکیم مریض کو استعمال کرائے جائزہے یاناجائز حکیم پرگناہ ہے یانہیں یاایسی ڈاکٹری دوا کہ جس میں شراب کا جز تو نہیں مگر وہ ایسی تیارکی گئی ہے کہ جیسے عطربغیر روغن صندل کے تیارنہیں ہوتا۔برانڈی کا استعمال مریض کو جائز یاناجائز خشك دواشیشی یامحذر کااستعمال مریض کوجائزہے یانہیں علمائے دیوبند ادویہ ڈاکٹری کااستعمال ممنوع فرماتے ہیں۔اگرجوابی کارڈ کافی نہ ہو براہ عنایت بیرنگ لفافہ پرجواب عنایت فرمائیے اﷲ تعالی آپ کو اس کا اجرخیرعطافرمائے گا بینواتوجروا۔
الجواب:
شراب کسی قسم کی ہو مطلقا حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجس بھی۔برانڈی ہو خواہ اسپرٹ خواہ کوئی بلاجس دوا میں اس کا جز ہو خواہ کسی طرح اس کی آمیزش ہو اس کاکھانا پینا بھی حراماس کا لگانا بھی حراماس کا بیچنا خریدنا بھی حرامطبیب کہ اس کا استعمال بتائے مبتلائے گناہ و آثام۔یہی ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح ومعتمد ہے۔ہاں افیون بھنگ وغیرہ خشك چیزیں کہ نشہ لاتی یاتحذیر وتفتیر کرتی ہیں ان کا نشہ حرام ہے اور وہ خود ناپاك نہیں تو ان کا لگانا مطلقا
#3820 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
جائز اور اگر کسی دوا میں ان کا اتنا جز ہوکہ نشہ یاتحذیر نہ لائے تو اس کے کھانے میں بھی حرج نہیں ڈاکٹری ٹنچر وغیرہ رقیق دوائیں عموما اسپرٹ کی آمیزش سے خالی نہیں ہوتیں وہ سب حرام ونجس ہیںہاں کونین وغیرہ کی طرح خشك دوامضائقہ نہیں رکھتی جبکہ اس میں کسی حرام کاخلط نہ ہوان مسائل کی تحقیق درمختار وردالمحتار وفتاوی فقیر میں بروجہ کافی ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۶۳: ازبنارس مرسلہ مولوی ممنون حسن خاں صاحب ڈپٹی کلکٹر ۱۶شعبان معظم ۱۳۳۰ھ
ہادی راہ شریعت جناب مولوی احمدرضاخاں صاحب دامت برکاتکم بعد سلام علیك وآداب عرض ہے کہ عرصہ سے خیریت جناب مقدس کی دریافت نہیںاس وقت ضرورت التماس یہ ہے کہ ایك مسئلہ دریافت طلب ہے جس کو کئی شق میں کرکے گزارش کرتاہوں امید کہ جواب سے جلد سرفراز فرمایاجائے۔مصنوعی دانت کااستعمال جائزہے یانہیں یہ مصنوعی دانت اس طرح بنتے ہیں کہ دانت دیگرممالك غیراسلام سے بن کر آتے ہیں مگر ان کی ترکیب کہ کن کن اجزأ سے بنتے ہیں مجھ کو معلوم نہیں ہے مگرتاہم اب تك میرے علم میں کوئی ایسی چیزان کی ترکیب میں نہیں آئی ہے جس کے داخل ترکیب ہونے کی وجہ سے ان کو میں حرام یاناجائز خیال کروں۔ان دانتوں کو ہندوستانی کاریگر ہرشخص کے منہ اور تالو کی صورت کے مشابہ تالو بناکر اس میں لگادیتے ہیں جو منہ میں لگالیاجاتاہے اور یہ حقیقت مصنوعی دانتوں کی ہے۔دریافت طلب یہ امرہے کہ مندرجہ بالا تالو اگر سونے کایعنی زرکاہو یاکسی اور معدنیات کامثل ایلومینیم کے تومردوں کے لگانے کے واسطے کہاں تك جائزہےایلومینیم وہ معدنیات میں سے ہے جس کے زمانہ حال میں ہلکی ہلکی دیگچیاں اور ظروف وغیرہ بنتے ہیں۔مردوں ا ورعورتوں کے واسطے اور زر اور ایلومینیم کے واسطے اگر شریعت کاحکم جداجداہے تو مفصل جواب سے مطلع فرمائیے چونکہ ضرورت اشد ہے اس لئے جواب سے جلد مطلع فرمایاجائے۔
الجواب:
بوالاملاحظہ جناب گرامی القاب فضائل نصاب جناب مولوی محمدممنون حسن خاں صاحب بہادر بالقابہ دام مجدہ السامی بعد اہدائے ہدیہ سنۃ سنیہ ملتمسبنے ہوئے دانت لگانے میں حرج نہیں۔طاہرقدوس عزجلالہ نے ہرچیز اصل میں پاك بنائی ہے جب تك کسی شے میں کسی نجاست کاخلط ثابت نہ ہوپاك ہی مانی جائے گی۔ردالمحتار میں ہے:
لایحکم بنجاستھا قبل العلم کسی چیز کی نجاست کاحکم نہیں دیاجاسکتا
#3821 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
بحقیقتھا ۔ جب تك کہ اس کی حقیقت معلوم نہ ہو۔(ت)
سونے کا تالو عورتوں کو مطلقا جائزہے اور مردوں کو بضرورت یعنی جبکہ سونے میں کوئی خصوصیت محتاج الیہا ایسی ہوکہ چاندی وغیرہ سے حاصل نہ ہوسکتی ہو ورنہ دوسری دھات اختیارکریں چاندی کی حاجت ہوتو وہ ورنہ ایلومینیم یاجومناسب ہو۔ درمختار میں ہے:
لایشد سنہ المتحرك بذھب بل بفضۃ ویتخذ انفا منہ لان الفضۃ تنتنہ ۔ ہلنے والے دانت کو سونے کے تاروں سے مضبوط نہ کیاجائے بلکہ چاندی استعمال کی جائےہاں البتہ سونے کی مصنوعی ناك بناکر لگائی جاسکتی ہے کیونکہ چاندی میں بدبو پیداہوجاتی ہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
الاصل فیہ التحریم والاباحۃ للضرورۃ وقد اندفعت بالفضۃ وھی الادنی فبقی الذھب علی التحریم والضرورۃ لم تندفع فی الانف دونہ حیث انتن اھ واﷲ تعالی اعلم۔ سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے اور اس کا مباح ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے کیونکہ چاندی سے یہ ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور اس کا استعمال بنسبت سونے کے قریب ہے لہذا سونا اپنی حرمت پرباقی رہے گااور یہ ضرورت ناك لگانے میں بغیر سونے کے پوری نہیں ہوسکتی(لہذا سونے کی مصنوعی ناك لگاناجائزہے)کیونکہ سونے کے علاوہ باقی دھاتوں میں بدبو پیداہوجاتی ہےاھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۴: ازسرنیان ضلع بریلی مرسلہ امیرعلی صاحب قادری ۴رجب ۱۳۳۱ھ
شفاخانہ کی دوا استعمال کرنے کاکیاحکم ہے
الجواب:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارت باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۲۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
الہدایۃ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵۵
#3822 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
مسئلہ ۶۵:اہل ہنود سے بیماری کی دواکرانا کیساہے
الجواب:
طبیب اگر کوئی ناجائز چیز دوامیں بتائے جب تو جائزنہیں اگرچہ طبیب مسلمان ہو اور جائز چیزمیں حرج نہیں اگرچہ کافرہو مگرہندؤوں کی طلب عقلی اصول کے خلاف اور اکثر مضرہوتی ہے لہذا بچناچاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶: ازقصبہ بشارت گنج ضلع بریلی متصل بڑی مسجد مرسلہ نجو خاں فوجدار یعنی باتی والہ ۲۵محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عملیات یعنی تعویذ وغیرہ کتابوں سے کرنا حق ہے یا باطل کس طور سے جواز اور کس طریق سے ناجائز رقم فرمائیں۔
الجواب:
عملیات وتعویذ اسمائے الہی وکلام الہی سے ضرورجائزہیں جبکہ ان میں کوئی طریقہ خلاف شرع نہ ہو مثلا کوئی لفظ غیرمعلوم المعنی جیسے حفیظیرمضانکعسلہون اور اور دعائے طاعون میں طاسوساعاسوساماسوساایسے الفاظ کی اجازت نہیں جب تك حدیث یا آثار یا اقوال مشائخ معتمدین سے ثابت نہ ہویونہی دفع صرع وغیرہ کے تعویذ کہ مرغ کے خون سے لکھتے ہیں یہ بھی ناجائزہے اس کے عوض مشك سے لکھیں کہ وہ بھی اصل میں خون ہےیونہی حب وتسخیر کے لئے بعض تعویذات دروازہ کی چوکھٹ میں دفن کرتے ہیں کہ آتے جاتے ا س پرپاؤں پڑیں یہ بھی ممنوع وخلاف ادب ہےاسی طرح وہ مقصود جس کے لئے وہ تعویذ یاعمل کیاجائے اگر خلاف شرع ہو ناجائز ہوجائے گا جیسے عورتیں تسخیر شوہر کے لئے تعویذ کراتی ہیںیہ حکم شرع کا عکس ہے۔اﷲ عزوجل نے شوہر کوحاکم بنایاہے اسے محکوم بنانا عورت پرحرام ہے۔یونہی تفریق وعداوت کے عمل وتعویذ کہ محارم میں کئے جائیں مثلا بھائی کو بھائی سے جداکرنا یہ قطع رحم ہے اور قطع رحم حرامیونہی زن وشو میں نفاق ڈلوانا۔حدیث میں فرمایا:
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا ۔ جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
#3823 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
بلکہ مطلقا دومسلمانوں میں تفریق بلاضرورت شرعی ناجائزہے۔حدیث میں فرمایا:
لاتباغضوا ولاتدابروا الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکونوا عباداﷲ اخوانا ۔ (لوگو)ایك دوسرے سے عداوت نہ رکھو اور نہ ایك دوسرے سے پیٹھ پھیرو۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد گرامی تک"اے اﷲ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہوجاؤ"۔(ت)
غرض نفس عمل یاتعویذ میں کوئی امرخلاف شرع ہو یامقصود میں توناجائزہے ورنہ جائزبلکہ نفع رسانی مسلم کی غرض سے محمود وموجب اجر۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ۔رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تم میں جس سے ہوسکے کہ اپنے بھائی مسلمان کو کوئی نفع پہنچائے تو پہنچائے۔(امام مسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷:مسئولہ مسلمانان جام جودھپور کاٹھیاواڑ معرفت شیخ عبدالستار صاحب پوربند کاٹھیاوار متصل قندیل ۱۵جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
ہندو کو شفاء بیماری کے واسطے تعویذ دیناجائزہے یانہیں اگرجائزہے تو اس کاطریقہ کیاہے بینواتوجروا۔
الجواب:
کافر کو اگرتعویذ دیاجائے تومضمر جس میں ہندسے ہوتے ہیں نہ کہ مظہر جس میں کلام الہی واسمائے الہی کے حروف ہوتے ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۸: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب ازگونڈل کاٹھیاواڑ یکم صفر ۱۳۳۵ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میںشراب افیون یا ہروہ چیز جو شرعا حرام یاناپاك ہو اس کا کسی مرض میں خارجا ضمادا استعمال کرناکیساہے
(۲)اسی طرح بچوں کو نیند لانے یارونے سے روکنے کی غرض سے دوا میں قدرے افیون کا کھلانا
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب باب ماینہٰی عن التحاسد والتدابرالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۹۶
صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴
#3824 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)شراب بھی حرام ہے اور نجس بھیاس کا خارج بدن پر بھی لگاناجائزنہیں۔اور افیون حرام ہے نجس نہیںخارج بدن پر اس کا استعمال جائزہے۔
(۲)بچے کو سلانا یارونے سے بازرکھنے کے لئے افیون دیناحرام ہے اور اس کا گناہ اس دینے والے پرہے بچے پرنہیںماحرام اخذہ حرام اعطاؤہ (جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۰: مرسلہ سید ولی اﷲ از موضع لوڑ سرا ڈاکخانہ بھدورا ضلع غازیپور ۲۵ربیع الآخر۱۳۳۵ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب کہ جن مواضعات میں کہ عارضہ طاعون کی شکایت ہو قبل اس کے کہ لوگ مرنے لگیں یعنی معا ابتداء علامات وبا مثل مرنا حشرات الارض وغیرہ کا وگندگی وتعفن کا ہونا کہ مقدمہ اس عارضہ مکروہہ کا ہےخدا کی پناہ یا بوقت ابتدا تعداد اموات صاحبان دیہہ اپنے اپنے مکانوں سے باہرہوجائیں یانہ ہوجائیںشرع شریف اس امر میں کیا اجازت دیتی ہے اگرا جازت ہے تو کس وقت اور کس شرط کے ساتھ باہر ہوناچاہئے اور اگر شریعت اجازت نہیں دیتی تو باہر کے نکلنے والے لوگ کس گناہ کے مرتکب ہوں گے مع ثبوت حدیث ونص قرآنی کے مطلع کیاجائے۔
(۲)حکمائے اہل فرنگ جو عام طور سے اعلام دربارہ چھوڑنے مکانوں کے کرتے ہیں اور خود باہر نکل جاتے ہیں اور نیز اہل اسلام کا بہت سا حصہ ان کے تبعیت کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جس طرح دوا کرنا بحالت مرض سنت ہے اسی طرح بحالت خرابی آب وہوا جگہ کا نقل کرنا بھی ایك گونہ علاج ہے تبدیل آب وہوا بھی داخل سنت ہے تو ان لوگوں کی رائے کی تابعداری کرنا ہم سب کو مناسب ہے یانہیںاور بعضے اشخاص کا یہ خیال ہے کہ اس میں بلاموت بھی لوگ مرجاتے ہیں چونکہ کثرت سے لوگ مرتے ہیں اور بیمارپڑتے ہیں تو یہ اعتراض ہوتاہے کہ کیا ایکبارگی اتنے لوگوں کی موت ایك ہی بار تھی خیر ہرایك سوال کی طرف سے معقول تسلی بخش جواب سے اطلاع دیں۔(۳)کتنے میت تك کا جنازہ اکٹھاہوسکتاہے اور نابالغ لڑکی اور لڑکے کا جنازہ بالغ کے ساتھ ہوسکتاہے یانہیں اگرہوسکتاہے تو دعا پہلے بالغ کی پڑھی جائے یانابالغ کی یامحض بالغ کی دعا نابالغ کے لئے کافی ہوسکتی ہے جواب شافی سے ممنون ومشکور کیاجاؤںمع حوالہ حدیث۔(۴)لڑکا اور لڑکی نابالغ ہے اس کی شادی ہوگئی ہے بعد شادی کے لڑکی بیوہ ہوگئی تو عقدثانی کے بارہ میں عدت لیاجائے گا کہ نہیں اگر عدت لیاجائے تو کب تک
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۸۹
#3825 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
(۵)اپنی بیوی میت کا جنازہ شوہرلیجاسکتا ہے کہ نہیں جواب شافی سے ممنون فرمایاجائے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
(۱)طاعون سے بھاگنا حرام ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفارمن الطاعون کالفار من الزحف ۔ طاعون سے بھاگنے والا ایساہی ہے جیسے کہ جہاد میں کافروں کوپیٹھ دے کربھاگنے والا۔
جسے اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" فقد باء بغضب من اللہ وماوىہ جہنم وبئس المصیر ﴿۱۶﴾" وہ بیشك اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کاٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری جگہ پھرنے کی۔
(۲)کیاایسی چیز دوا کے حکم میں آسکتی ہے نہ کہ معاذاﷲ سنت ہونا جس پر اﷲ کاغصب ہو اور جہنم ٹھکانا۔جولوگ اس سے بھاگ کرکہیں بھی جاتے ہیں سب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیںاس کی تفصیل ہمارے رسالہ تیسیرالماعون میں ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ لوگ اس میں بے موت مرجاتے ہیں وہ گمراہ ہیںاس میں قرآن عظیم کاانکار ہے ان پرتوبہ فرض ہے اورتجدید اسلام وتجدید نکاح چاہئےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ کتبا مؤجلا" ۔ کون جان بے حکم خدا نہیں مرسکتی لکھا ہو احکم ہے وقت باندھا ہوا۔
پیڑ سے ایك آدھ پھل ٹپکتا رہتاہے اسی کا ٹپکنا لکھاتھا اور ایك آندھی آتی ہے کہ ہزاروں پھل ایك ساتھ جھڑ پڑتے ہین ان کا ساتھ ہونا ہی لکھاتھا۔ اﷲ تعالی فرماتاہے:
" وکل صغیر وکبیر مستطر ﴿۵۳﴾" ہرچھوٹی بڑی بات سب لکھی ہوئی ہے۔
(۳)سو ودوسو جتنے جنازے جمع ہوں سب پر ایك ساتھ ایك نماز ہوسکتی ہے۔
حوالہ / References مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۸۲،۱۴۵،۱۵۵
القرآن الکریم ۸ /۱۶
القرآن الکریم ۳ /۱۴۵
القرآن الکریم ۵۴ /۵۳
#3826 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
(۴)بالغوں کے ساتھ نابالغوں کی نماز بھی ہوسکتی ہے۔
دونوں دعائیں پڑھی جائیںپہلے بالغوں کی پھرنابالغوں کی۔اور بہرحال اگر دقت نہ ہو تو ہرجنازے پرجدا نمازبہترہے۔ درمختار میں ہے:
اذا اجتمعت الجنائز فافراد الصلوۃ علی کل واحدۃ اولی وان جمع جاز وراعی الترتیب المعھود خلفہ الرجل مما یلیہ فالصبی فالبالغۃ فالمراھقۃ ملتقطا۔ جب متعدد جنازے(میت)جمع ہوجائیں یعنی وہ لائے جائیں تو ہرایك پرالگ الگ نماز پڑھنی بہترہے۔اور اگر سب پراکٹھی نماز پڑھ لے تو یہ بھی جائزہے۔لیکن صفوف کی ترتیب میں مقرر متعارف کی رعایت کرے(اور وہ یہ ہے کہ)امام کے متصل اس کے پیچھے بالغ مرد ہوں پھر نابالغ بچے پھر بالغہ عورتیں اور ازیں بعد قریب البلوغ لڑکیاں ہو ں بیوہ پر موت شوہر کی عدت ضروری ہے اگرچہ وہ خود ایك دن کی بچی اور اس کا شوہربھی کہ مرگیا ایك دن کا بچہ ہو۔
درمختار میں ہے:
العدۃ للموت اربعۃ اشھر وعشر مطلقا وطئت اولا ولو صغیرۃ وفی حق الحامل مطلقا وضع حملھا ولوکان زوجھا المیت صغیرا ۔ عدت وفات چارمہینے اور دس دن علی الاطلاق بغیر کسی قید کےخواہ ہمبستری ہوئی ہو یا نہاگرچہ چھوٹی بچی ہو۔حاملہ کی عدت علی الاطلاق وضع حمل ہے اگرچہ مرنے والا اس کا زوج چھوٹا ہو(ت)
چارمہینے دس دن عدت کرے گی۔
(۵)مرد اپنی زوجہ کا جنازہ اٹھاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۱: ازگونڈل کاٹھیاواڑ۔مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل سنی حنفی قادری ۲۲شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت خصوصا امام اہلسنت مجدد مأتہ حاضرہ صاحب حجت قاہرہ محی الاسلام والمسلمین مولانا مفتی قاری شاہ محمداحمد رضاخان صاحب مدظلہاس مسئلہ میں ایك شخص مسلمان یا غیرمسلمان ایك حکیم یاغیرحکیم کے پاس اس لئے آیا کہ اس کے کسی رشتہ دار عورت کے کسی طور سے حمل رہ گیا حمل کے ظاہرہونے سے اس عورت نیزخویش واقارب کی سخت بے عزتی
حوالہ / References درمختار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۶/ ۱۲۲
درمختار کتاب الطلاق باب العدّۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۵۶
#3827 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
ہونے والی ہے اس لئے خواستگار ہے ایسی دعا کا جس سے حمل ساقط ہوجائے نیز شخص مذکور اس دوا کے عوض میں کچھ رقم بھی پیش کرناچاہتاہےاب عرض یہ ہے کہ اس قسم کا دوادینا اور اس کامعاوضہ لینا اہل سنت وجماعت کے لئے جائزہے یانہیں خصوصا ایسی حالت میں جبکہ کسی سنی مسلمان کی بے عزتی ہونے والی ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرا بھی بچہ نہیں بناجائزہے ورنہ ناجائز کہ بے گناہ کا قتل ہے اور چارمہینے میں بچہ بن جاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: ازموضع چوپرا ڈاکخانہ بالسی ضلع پورنیہ مرسلہ کلیم الدین صاحب ۱۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کھانے پرفاتحہ شریف یا کوئی آیت قرآن کی پڑھ کر دم کرنا درست ہے یانہیں اگردرست ہے تو کس طرح سے پڑھناچاہئے
الجواب:
بہ نیت شفاء سورہ فاتحہ یا اور کوئی آیت پڑھ کر دم کی جائے تو حرج نہیں مگر اس کھانے کی احتیاط اور دوچند ہوجائے گی کہ اس کا کوئی دانہ یاقطرہ گرنے نہ پائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۳:ازموضع گھورنی ڈاکخانہ کرشنگڑھ ضلع ندیا مرسلہ نذیراحمدصاحب ۶جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
نوشیدن دوائے انگریزی کہ دراں اسپرٹ می ماندوحقیقت ایں اسپرٹ نمی دانم رواست یانہ ودریں دیارماہمہ بایں مبتلا ایذا الاماشاء اﷲ کہ رواج طب یونانی ازبس قلیل قیمتش نیزگراں ست کہ ہرکس برآں قادرنمی شود۔ انگریزی دوائی پینا کہ اس میں اسپرٹ کی ملاوٹ ہوتی ہےاور میں اسپرٹ کی حقیقت سے واقف نہیں۔کیا اس کا استعمال کرناجائز ہے یانہیں لیکن ہمارے ان شہروں میں سب اس مرض میں مبتلا ہیں الاماشاء اﷲاس لئے کہ طب یونانی کا رواج بہت کم ہے اور وہ زیادہ قیمتی بھی ہے کہ ہرایك اس علاج کی طاقت نہیں رکھتا۔(ت)
الجواب:
اسپرٹ قسمے ازشراب ست بغایت تند کہ بہ تیزی خودتنہائی قابل نوشیدن نماندہ است شرابہا کہ ازانگلستان آرندہمہ رابآمیزش "اسپرٹ"شراب کی ایك قسم ہے جوانتہائی تیزہونے کی وجہ سے تنہا پینے کے قابل نہیں۔پس جو شرابیں برطانیہ سے منگوائی جاتی ہیں ان
#3828 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
قطرات او تیزمی کنند کہ درفلاں شراب در نودہ قطرہ یك قطرہ اسپرٹ است ودرفلاں در صدقطرہ یك قطرہہمہ شرابہا بآشامیدن نشہ آرد وایں بمجرد شمیدن کہ بوئے اومسکرست لا جرم ہمچو جملہ خمورہم حرام ست وہم نجس ہردوائیکہ درو آمیزش اوباشد بریدن طلائے او کردن یك حرام ست ونو شیدن دوحرام بلکہ اوسہ حرام فراہم کردن حرام خرید نش حرام برداشتنش حرام وبدن باو آلودنش حرام واینجا حرام چہارم خوردنسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم درشرابدہ کس رالعنت فرمودہ است از انان فروشندہ وخریدہ وبردہ اندہ وآنکہ بہ سوئے اوبرداشتہ شود بالجملہ ہرکہ بہیچ گونہ باوتلبس دارد بحرام وخبیث تلوث دہ وہرکہ مسلمان را ازمن بلاباز دارد برائے اواجرصدشہیدست قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تمسك بسنتی عند فساد امتی فلہ اجر مائۃ شھید ۔واﷲ تعالی اعلم۔ سب میں اس کے قطروں کی ملاوٹ انہیں تیز کرنے کے لئے کی جاتی ہے کہ فلاں شراب کے نودس قطروں میں ایك قطرہ اسپرٹ ہےاور فلاں شراب کے سو قطروں میں ایك قطرہ اسپرٹ کی ملاوٹ ہے۔اور سب شرابیں پینے سے نشہ لاتی ہیں اور یہ صرف سونگھنے سے نشہ لاتی ہے اس لئے کہ اس کی"بو" نشہ آور ہے۔بلاشبہہ تمام شرابوں کی طرح یہ حرام ہونے کے علاوہ ناپاك بھی ہے لہذا جس دوائی میں اس کی ملاوٹ ہو اس کا جسم پر ملناپہلا حرام ہے اور پینادوسراحرام بلکہ تیسراحرام ہے۔اس کاحاصل کرنا حرام۔اس کا خریدنااٹھانا اور جسم کو اس سے آلودہ کرنایہ سب کام حرام ہیں۔اور یہاں چوتھا حرام اسے پینا ہے۔سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے شراب کے دس افراد پر لعنت فرمائی ان میں سے یہ لوگ ہیں (۱)فروخت کرنے والا(۲) خریدنے والا(۳)اٹھانے والا(۴) وہ جس تك اٹھاکر لے جائے۔ حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی طرح بھی اس سے وابستہ ہو وہ ایك حرام اور ناپاك چیز سے آلودگی رکھتاہے۔اور جوکوئی کسی مسلمان کو اس مصیبت سے چھڑائے اور اسے روکے اسے سو شہیدوں کا اجرو ثواب ہے۔ چنانچہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس خوش نصیب نے میری سنت کو اس وقت تھاما کہ جب میری امت میں فساد پھیل گیا تو اسے سوشہیدوں کاثواب عطا ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۰،الترغیب والترہیب الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ حدیث ۵ مصطفی البابی مصر ۱/ ۸۰
#3829 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
مسئلہ ۷۴: ازچھپرہ محلہ دھیانوان مرسلہ محمد نبی جان دوافروش ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
زید کے پاس ایك نسخہ مردانگی کا ایك ہندوفقیر کادیاہواہے زید اسے بناکر دینے سے بھی عذر کرتاہے نسخہ بتانے سے بھی خیال اس کا ایساہے کہ لوگ حرام کرنے پرتیار ہوجاتے ہیں اس وجہ سے کسی کو نہیں دیتا ہوں کہ اگروہ حرام کریں گے تو میرے نامہ اعمال میں درج ہوں گے اور عمرو نے یہ سوال کیاکہ مجھے نسخہ بتادو اور جو قسم شرعی لیناچاہو لے لو کیونکہ میں بسبب مرض بواسیر کے سخت پریشان ہوں کہ نامردی کے درجہ پرپہنچاہوں میری شادی عنقریب ہونے والی ہے اگرآپ نسخہ نہیں دیتے ہیں تو مجھے بناکر دے دو اگر نہ دوگے تو میں اپنا دلی راز کہہ کر تمہاری آنکھ میں ذلیل ہوا ڈوب مرنے کے سوا اور مجھے کچھ بن نہیں آتا ہے تو یہ خیال زید کا موجب شرع شریف غلط یاصحیح ہے اور عمرو ایك مرد مسلمان نمازی بھی ہے۔
الجواب:
اگر وہ نسخہ نہ بتائے اسے دوابناکر دے جبکہ اس میں کوئی ناجائزچیزنہ ہورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ جو کوئی تم میں سے اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتاہو تو اسے نفع پہنچانا چاہئے۔(ت)
اور اس کا یہ خیال کہ لوگ حرام کریں گے اور اس پروبال محض غلط ہے مسلمان پربدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم"" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
اور جب اس کی نیت نفع رسانی مسلم ہے تو دوسراگناہ کرے بھی تو اس کامواخذہ اس پر نہیں ہوسکتا۔اﷲ عزوجل فرماتاہے: " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " (کوئی جان کسی دوسری جان کابوجھ
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیہ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
#3830 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
نہ اٹھائے گی۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۵: ازاردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خانصاحب ۲۵شوال ۱۳۳۶ھ
جس محلہ یا جس شہر میں طاعون ہو وہاں کے باشندے کسی دوسرے مقام پر نفرمن قضأاﷲ الی قضاء اﷲ کے خیال سے جاسکتے ہیں یانہیںطاعون وغیرہ میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کا کیاارشاد ہے جو لوگ اس خیال سے اپنے اپنے مکانات چھوڑ کر چلے جاتے ہیں وہ اہل بدعت ہیں یانہیں اور ان کے ساتھ بدعتیوں کا سابرتاؤ کرناچاہئے یانہیں
الجواب:
طاعون کے خوف سے شہر یامحلہ یاگھر چھوڑ کر بھاگنا حرام وگناہ کبیرہ ہےاس کا کافی بیان ہمارے رسالہ تیسیرالماعون للسکن فی الطاعون میں ہے۔رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفار من الزحف ۔ طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسا کفار کو پیٹھ دے کر بھاگنے والا۔
جس کے لئے قرآن عظیم میں فرمایا کہ اس کا ٹھکانا جہنم ہےایسا نفرمن قدراﷲ الی قدراﷲ جہاد سے بھاگنے والابھی کہہ سکتاہے وہ بھی بھاگ کر تقدیر ہی میں جائے گا مگر اس بھاگنے کامنتہی جہنم ہےطاعون عمواس شام میں تھا امیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ وہاں کے عزم سے روانہ ہوچکے تھے جب سرحد شام وحجاز موضع سرغ پرپہنچے ہیں خبرپائی کہ شام میں بشدت طاعون ہے امیرالمومنین نے مہاجرین کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے مشورہ کیا بعض نے کہا حضرت کام کے لئے چلے ہیں رجوع نہ چاہئے بعض نے کہا حضرت کے ساتھ بقیہ اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہماری رائے نہیں کہ انہیں وبا پرپیش کریں پھر انصار کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو بلایا وہ بھی یوہیں مختلف ہوئے پھر اکابر مومنین فتح کو بلایا انہوں نے بالاتفاق نہ جانے کی رائے دی امیرالمومنین نے واپسی کی نداکردیاس پر حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا:أفرار من قدراﷲ کیا تقدیرالہی سے بھاگناامیرالمومنین نے فرمایا:کاش کوئی اور ایسا کہتا نعم نفرمن قدراﷲ الی قدراﷲ ہاں ہم
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۸۲،۱۴۵،۲۵۵الزواجر الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمائۃ دارالفکر بیروت ۲/ ۸۸۔۲۸۷
#3831 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
تقدیرالہی سے تقدیرالہی کی طرف بھاگتے ہیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے جب واپس آئے انہوں نے کہا مجھے اس مسئلہ کے حکم کا علم ہے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوفرماتے سنا:
اذا سمعتم بہ بارض فلاتقدموا علیہ واذا وقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا فرارامنہ۔ جب تم کسی زمین میں طاعون ہوناسنو تو وہاں طاعون کے سامنے نہ جاؤ اور جب تمہاری جگہ واقع ہو تو اس سے بھاگنے کو نہ نکلو۔
اس پر امیرالمومنین حمدالہی بجالائے کہ ان کا اجتہاد موافق ارشاد واقع ہوا اور واپس ہوگئے ۔ایسی جگہ نفرمن قدراﷲ الی قدراﷲ کہناٹھیك ہے کہ موافق حکم ہےطاعون سے بھاگنا فسق ہے بھاگنے والوں سے فاسقوں کاسابرتاؤ چاہئےبدعت بمعنی بدمذہبی نہیںہاں اگر احادیث صحیحہ مشہورہ میں ارشاد اقدس حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم معلوم ہے اور انہیں ردکرتااور اپنی نامرادی وبزدلی کے حکم کو ان پر ترجیح دیتاہے تو ضروربدمذہب ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۷۶: ازشہر جبلپور محلہ کوتوالی مسئولہ حکیم عبدالرحیم صاحب ۹رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمحامداومصلیا ومسلماایك طبیب جس نے علم طب باقاعدہ حاصل کیاہے اور نظری وعملی طریقہ مروجہ سے پوری تکمیل کرچکاہے مگر ان وجوہات سے اپنے پیشے سے ہمیشہ دل برداشتہ اورمتفکر اور وبال اخروی سے خائف رہتاہے کہ دقائق وجزئیات فن کا ہمیشہ بالکلیہ مستحضر فی الذہن رہنا مشکل بلکہ غیرممکن ہے اور جب یہ نہیں تو تشخیص کاصحیح نہ ہونا معلوم۔نیز چونکہ یہ فن ظنی ہے اور ظن غالب وگمان راجح پرعلاج ہوتاہے اگرچہ بتائید حکیم مطلق جل وعلا اکثر تشخیص مطابق واقع ہوتی ہے تاہم غلطی کااندیشہ لگارہتاہے کیونکہ مجربین کامقولہ ہے العلاج رمی السھم فی الظلمات(علاج اندھیروں میں تیراندازی ہے۔ت)نیزعقلحافظہاستحضار ذہانت طباعی بلکہ جو آلات تشخیص مرض ہیں حسب قوائے دماغی مختلف ہیں اسی وجہ سے مریض واحد کی تشخیص میں اطبائے متعدد متحدالرائے بہت کم دیکھے جاتے ہیں اگرچہ سب اپنی تشخیص کو صحیح سمجھے ہوئے ہیں مگر فی الواقع کسی ایك ہی کی رائے صحیح ہوگی اور کبھی طبیب علاج کے غیرمفیدپڑنے سے اپنی خطا فی التشخیص سے واقف ہوکر سنبھل جاتاہے اور علاج میں فورا ترمیم کردیتاہے مگرکبھی اتنے پربھی اس کو یہ معالجہ اسی علاج پربرقرار رکھتاہے کہ تیری تشخیص اور علاج دونوں صحیح ہیں مگرخدا کی طرف سے ابھی صحت کا وقت نہیں آیاہےاس کے علاوہ بھی اور بہت سے وجوہات ہیں جن کے سبب سے وہ اپنے پیشہ طبابت سے تنگ ہےاس صورت
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکر فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۳
#3832 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
میں یہ پیشہ اگرکیاجائے تو ازروئے شرع شریف اس کے ذمے کیا وبال ہے اور وہ اس کا اہل ہے یانہیں اور اگراہل ہے بھی اورپھر ترك کردے تو کوئی شرعی قباحت تولازم نہیں آتی بلادلیل صرف حکم تحریر فرمادیاجائے۔
الجواب:
اہل کو اس کا ترك بلامضائقہ جائزہے جبکہ وہاں اور طبیب اہل موجود ہو اور نااہل کو اس میں ہاتھ ڈالنا حرام ہے اور اس کا ترك فرض۔جس نے اس فن کے باقاعدہ نظریات وعملیات حاصل کئے او ر ایك کافی مدت تك کسی طبیب حاذق کے مطب میں رہ کر کام کیا اور تجربہ حاصل ہوا اکثرمرضی اس کے ہاتھ پر شفاپاتے ہوں کم حصہ ناکامیاب رہتاہو فاحش غلطیاں جیسے بے علم ناتجربہ کارکیاکرتے ہیں تشخیص وعلاج میں نہ کیاکرتا ہو وہ اہل ہے او راسے بنظرنفع رسانی خلائق ومسلمین اس سے دست کش ہونا نہ چاہئے خصوصا جبکہ دوسرا ایسا وہاں نہ ہو۔بعض اوقات تشخیص یاعلاج میں غلطی واقع ہونا منافی اہلیت نہیں کہ غلطی سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام معصوم ہیں وبس۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۷: ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب اﷲ صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیرنگر مدرس مدرسہ قومیہ۔
بانجھ وہ ہوتی ہے جس کے کبھی بچہ نہ ہواہو بعضوں کے ایك یادو بچہ ہوکر بند ہوجاتے ہیں ان کاعلاج بانجھ کا سا ہی کیاجائے یااور طرح۔
الجواب:
ہاں وہی اعمال کافی ہیں کہ جو اقوی کی مدافعت کریں اضعف کی بدرجہ اولی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۸: ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب اﷲ صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیرنگر مدرس مدرسہ قومیہ
رجعت عمل کیاچیزہےکیاعمل کالوٹ جاناکسی بے احتیاطی وغیرہ سے ممکن ہے
الجواب:
ہاں ممکن ہے اور بارہا واقع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹: ازلکھنؤ کارلٹن ہوٹل بتوسط عبدالمجید خانصاحب مرسلہ ننھے موٹرڈریور ۱۵صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر علماء یامولوی صاحب کسی حاجتمند کو خالصا ﷲ کوئی تعویذ یانقش دے دیتے ہیں اور اس سے بفضلہ تعالی نفع ہوجاتاہے تو اس پر اعتقاد واجب ہے یانہیں ایك صاحب فرماتے ہیں کہ تعویذات وغیرہ کا ثبوت کہیں قرآن شریف یاحدیث شریف سے
#3833 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
نہیں ہے واﷲ تعالی اعلم یہ کہاں تك صحیح ہے اس لئے حضور کو تکلیف دی گئی کہ حضورتحریر فرمائیں کہ آیا اس شخص کے مطابق عمل کیاجائے یانہیں
الجواب:
تعویذات بیشك احادیث اور ائمہ قدیم وحدیث سے ثابتاور اس کی تفصیل ہمارے فتاوی افریقہ میں ہےتعویذات اسماء الہی وکلام الہی وذکرالہی سے ہوتے ہیں ان میں اثر نہ ماننے کاجواب وہی بہترہے جو حضرت شیخ ابوسعید الخیر قدس سرہ العزیز نے ایك ملحد کو دیا جس نے تعویذات کے اثر میں کلام کیا حضرت قدس سرہ نے فرمایا:تو عجیب گدھاہے۔وہ دنیوی بڑامغرور تھا یہ لفظ سنتے ہی اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں اور بدن غلیظ سے کانپنے لگا اور حضرت سے اس فرمانے کاشاکی ہوافرمایا میں نے تمہارے سوال کا جواب دیاہے گدھے کے نام کا اثر تم نے مشاہدہ کرلیاکہ تمہارے اتنے بڑے جسم کی کیاحالت کردی لیکن مولی عزوجل کے نام پاك میں اثر سے منکر ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۰: ازموضع ہری پور مرسلہ شوکت علی خاں بتاریخ ۱۹رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدغیرتعلیم یافتہ کسی قریہ میں اپنے آپ کو حکیم مشہور کرے اور وہ اس قسم کی ادویات جانتاہے کہ اسقاط حمل ہوجائے اور وہ کسی عورت حاملہ کو عورت کی خواہش پر یا غیرخواہش پرذریعہ ادویات اسقاط حمل کرائے اور اسقاط عمل میں آئے تو کیا وہ شخص قاتل ہے اور اس کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
جاہل کو طبیب بنناحرام ہےجان پڑجانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہےاور ایساکرنے والا گویاقاتل ہےاور جان پڑنے سے پہلے اگرکوئی ضرورت ہے تو حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۱: ازنیوریا ضلع پیلی بھیت مسئولہ اکبرحسین ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عورت کو بانجھ کرنا کس قدرگناہ ہے اور اس گناہ کی معافی ہے یانہیں حکم شرع بیان فرمائیے۔فقط والسلام
الجواب:
بانجھ کرنا نہ کرنا اﷲ عزوجل کے اختیارمیں ہے بشر کی طاقت نہیں " و یجعل من یشاء عقیما " (اﷲ
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۲ /۵۰
#3834 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
تعالی جس کو چاہے بانجھ کردے۔ت)ہاں ایسی دوا کا استعمال جس سے حمل نہ ہونے پائے اگر کسی ضرورت شدیدہ قابل قبول شرع کے سبب ہے حرج نہیں ورنہ سخت شنیع ومعیوب ہے اور شرعا ایساقصد ناجائزوحرام۔
وقد نھی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الخصاء وعن التبتل والرھبانیۃ وھذا بمعناھا۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خصی کرنے اور الگ تھلگ کٹ کر رہنے اور رہبانیت اختیارکرنے سے منع فرمایااور مانع حمل دوا کا استعمال انہی کے معنی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۲: ازشہر محلہ ملوکپور مسئولہ سراج علی خاں صاحب رضوی ۱۴شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سرطان یا کسی قسم کی شراب کوئی مریض کسی حالت میں استعمال کرسکتاہے یانہیں اگر کوئی شخص اس کو پوشیدہ طور پر کھلائے یاپلائے تو ایسے شخص کے لئے کیاحکم ہے اور مریض اس سے بری الذمہ ہے یانہیں اگر ایسی ادویات سے جن میں مذکورہ بالا اشیاء کامیل ہوجان بچنے کا خیال ہو تو اس کا استعمال کسی طرح جائزہے یانہیں
الجواب:
سرطان کھاناحرام ہے اور شراب بدن پرلگانا بھی حرام ہے۔جان حلال دواؤں سے بھی بچ سکتی ہے اگر اسے بچانامنظور ہے ورنہ حرام دوائیں سوائے گناہ کچھ اضافہ نہ کریں گی جو پوشیدہ طور پر مسلمان کو حرام چیز کھلائے یا پلائے سخت حرام کامرتکب اور شدید سزاکامستوجب ہے مریض پر الزام نہیں اگر اسے خبر نہ تھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: (پوراسوال دستیاب نہیں ہوسکا)
۔۔۔۔۔۔کہ جو طاعون سے مرتاہے وہ کافرہے اور دلیل میں زمانہ موسی علیہ السلام کا واقعہ پیش کرتاہے اس قول سے بکر مخالف حدیث صحیح ہوکر کافر ہوایانہیں اور اس کی زوجہ نکاح سے باہر ہوئی یانہیں اور بصورت توبہ تجدید نکاح لازم ہے یانہیں
الجواب:
متواترحدیثوں سے ثابت ہے کہ طاعون مسلمان کے لئے شہادت ورحمت ہے اور جو مسلمان طاعون میں مرے شہیدہے۔
#3835 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
حدیث ۱:صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد بن حنبل میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الطاعون شہادۃ لکل مسلم ۔ طاعون ہرمسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حدیث ۲:صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مات فی الطاعون فہو شہید ۔ طاعون میں مرنے والا شہیدہے۔
حدیث ۳:مسندامام احمدومعجم کبیر طبرانی وصحیح مختارہ میں صفوان بن امیہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ۔
حدیث ۴:طبرانی نے معجم اوسط اور ابونعیم نے فوائد ابوبکر بن خلاد میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الطاعون شہادۃ لامتی طاعون میری امت کے لئے شہادت ہے۔
حدیث ۵:امام احمد بسند صحیح راشد بن جیش سے ۔
حدیث ۶:طبرانی وابن قانع ربیع بن ایاس انصاری سے ۔
حدیث ۷:احمدوابوداؤد طیالسی وسمویہ وضیا عبادہ بن صامت سے ۔
حدیث ۸:طبرانی کبیرمیں سلمان فارسی سے ۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الشہادۃ سبع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۹۷
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب بیان الشہداء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۳
المعجم الکبیر حدیث ۷۳۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۵۶،کنزالعمال حدیث ۱۱۱۸۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۱۸
المعجم الاوسط حدیث ۵۵۲۷ مکتبہ المعارف ریاض ۶/ ۲۴۹
مسنداحمد بن حنبل عن راشد بن جیش المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۴۸۹
لمعجم الکبیر عن ربیع الانصاری حدیث ۴۶۰۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵/ ۶۸
مسنداحمد بن حنبل عن عبادہ بن صامت المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۳۱۴ و ۳۲۳،مسند ابی داؤد الطیالسی احادیث عبادہ بن صامت حدیث ۵۸۲ دارالمعرفۃ بیروت ص۷۹،کنزالعمال بحوالہ سمویہ عن عبادہ بن صامت حدیث ۱۱۲۲۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۲۳
المعجم الکبیر عن سلمان رضی اﷲ عنہ حدیث ۶۱۱۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۶/ ۲۴۷
#3836 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
حدیث ۹:احمد ودارمی وسعید بن منصور وبغوی وابن قانع صفوان بن امیہ سے ۔
حدیث ۱۰:احمدابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے۔
ان چھ حدیثوں میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الطاعون شہادۃ ۔طاعون شہادت ہے۔
حدیث ۱۱:امام مالك وامام احمد وابوداؤد وامام نسائی وابن حبان وحاکم جابر بن عتیك سے ۔
حدیث ۱۲:ابن ماجہ ابوہریرہ سے ۔
حدیث ۱۳:طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن بسر سے ۔
حدیث ۱۴:عبدالرزاق مصنف میں عبادہ بن صامت سے ۔
حدیث ۱۵:ابن سعد طبقات میں ابوعبیدہ بن الجراح سے ۔
حدیث ۱۶:ابن شاہین علی بن ارقم وہ اپنے والد سے رضی اﷲ تعالی عنہم۔ان چھ حدیثوں میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:المطعون شہید ۔جس مسلمان کو طاعون ہوا وہ شہیدمرا۔
حدیث ۱۷:احمدوابن سعد عسیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون شہادۃ لامتی ورحمۃ لھم طاعون میری امت کے لئے شہادت اور رحمت
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۱۱۲۲۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۲۳
مسنداحمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۰
کنزالعمال بحوالہ مالک،حم،د،ن حب،ك عن جابر بن عیتك حدیث ۱۱۱۸۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۱۷
سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب مایرجی فیہ الشہادۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۰۶
کنزالعمال بحوالہ طب حدیث ۱۱۱۹۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۱۸
المصنف لعبدالرزاق حدیث ۶۶۹۵ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۶۲،کنزالعمال بحوالہ عب عبادہ بن صامت حدیث ۱۱۲۱۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۲۳
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ ابی عبیدہ بن الجراح دارصادربیروت ۳/ ۴۱۴
کنزالعمال بحوالہ ابن شاہین عن علی ابن الارقم حدیث ۱۱۲۲۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۲۴
#3837 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
ورجس علی الکافرین ۔ ہے اور کافروں پر عذاب ہے۔
حدیث ۱۸:صحیح بخاری ومسند احمدوابوداؤد طیالسی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون کان عذابا یبعثہ اﷲ تعالی علی من یشاء وان اﷲ تعالی جعلہ رحمۃ للمؤمنین ۔ طاعون ایك عذاب تھا کہ اﷲ عزوجل جن پر چاہتابھیجتا اور بیشك اﷲ تعالی نے اسے مسلمانوں کے لئے رحمت کردیا۔
حدیث ۱۹:امام احمد وحاکم کنے میں اور بغوی اور حاکم مستدرك اورطبرانی کبیرمیں ابوبردہ اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا کی:
اللھم اجعل فناء امتی قتلا فی سبیلك بالطعن والطاعون ۔ الہی میری امت کو اپنی راہ میں شہادت نصیب کر دشمنوں کے نیزوں اور طاعون سے۔
حدیث ۲۰:باوردی ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا کی:
اللھم اجعل فناء امتی بالطعن والطاعون ۔ الہی میری امت کو دشمن کے نیزوں اور طاعون سے وفات نصیب کر۔
حدیث ۲۱:طبرانی اوسط میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتفنی امتی الابالطعن والطاعون میری امت کاخاتمہ دشمن کے نیزوں اورطاعون
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ حم وابن سعد حدیث ۲۸۴۳۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۷۶
صحیح البخاری کتاب الطب باب اجرالصابر فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۳،کنزالعمال بحوالہ ط،حم،خ عن عائشہ رضی اﷲ عنہا حدیث ۲۸۴۳۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۷۷
مسند احمدبن حنبل حدیث ابی بردہ الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۳۸،المستدرك للحاکم کتاب الجہاد دارالفکر بیروت ۲/ ۹۳،کنزالعمال بحوالہ حم والحاکم فی الکُنٰی حدیث ۲۸۴۴۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۸۰
کنزالعمال بحوالہ الباوردی عن ابی موسٰی الاشعری حدیث ۲۸۴۴۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۸۰
#3838 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
غدۃ کغدۃ الابلالمقیم فیھا کالشھید والفار منھا کالفار من الزحف ۔ سے ہی ہوگا اونٹ کی سی گلٹی ہے جو اس میں ٹھہرارہے وہ شہید کے مانند ہے اور جو اس سے بھاگ جائے وہ ایساہو جیسا کفار کوپیٹھ دے کرجہاد سے بھاگنے والا۔
حدیث ۲۲:صحیح مستدرك میں ابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون وخز اعدائکم من الجن وھو لکم شھادۃ ۔ طاعون تمہارے دشمن جنوں کاچوکا ہے اور وہ تمہارے لئے شہادت ہے۔
حدیث ۲۳:مسنداحمدومعجم کبیر میں ا بوموسی اور اوسط میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فناء امتی بالطعن والطاعون وخز اعد انکم من الجن وفی کل شہادۃ ۔ میری امت کا خاتمہ جہاد وطاعون سے ہے کہ تمہارے دشمن جنوں کا چوکا ہے اور دونوں میں شہادت ہے۔
حدیث ۲۴:ابن خزیمہ وابن عساکر شرحبیل حسنہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ۔
حدیث ۲۵:ابن عساکر معاذرضی اﷲ تعالی عنہ سے دونوں وقفا۔
حدیث ۲۶:شیرازی القاب میں معاذ سے رفعا راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الطاعون رحمۃ ربکم ودعوۃ نبیکم وموت الصالحین قبلکم وھو شہادۃ ۔ بیشك طاعون تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا اور اگلے نیکوں کی موت ہے اور وہ شہادت ہے۔
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طس عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حدیث ۲۸۴۵۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۸۰
المستدرك للحاکم کتاب الایمان الطاعون شہادۃ دارالفکر بیروت ۱/ ۵۰
مسندامام احمدبن حنبل حدیث ابوموسٰی اشعری رضی اﷲ عنہ المکتب اسلامی بیروت ۲/ ۳۹۵،معجم الاوسط للطبرانی حدیث ۸۵۰۷ مکتبہ المعارف ریاض ۹/ ۲۳۳
تہذیب تاریخ دمشق ابن عساکر ترجمہ شرحبیل بن عبداﷲ حدیث فی طاعون عمواس داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۳۰۳
تہذیب تاریخ دمشق ابن عساکر ترجمہ شرحبیل بن عبداﷲ حدیث فی طاعون عمواس داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۳۰۳
کنزالعمال بحوالہ الشیرازی فی الالقاب حدیث ۲۸۴۴۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۷۹
#3839 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
حدیث ۲۷:احمدوطبرانی وابن عساکر انہیں سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یشھداﷲ بہ انفسکم وذراریکم ویزکی بہ اعمالکم ۔ اﷲ تعالی طاعون سے تمہیں اور تمہارے بچوں کو شہادت دے گا اور اس کے سبب تمہارے اعمال ستھرے کرے گا۔
حدیث ۲۸:امام مالك ودارقطنی ابوہریرہ سے ۔
حدیث ۲۹:نسائی عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتے ہیں:
الشھداء خمسۃ المطعون والمبطون والغریق و صاحب الھدم والشھید فی سبیل اﷲ ۔ شہید پانچ ہیں طاعون زدہ اور جو پیٹ کی بیماری سے مراہو اور جو ڈوبے اور جس پر مکان یا دیوار گرے اور وہ کہ جہاد میں شہیدہو۔
حدیث ۳۰:ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ میں غار میں حضوراقدس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ تھا حضور نے دعا کی:اللھم طعنا وطاعونا الہی دشمنوں کے نیزے اور طاعون۔میں نے جانا کہ حضور ان سے اپنی امت کی موت مانگتے ہیں۔
حدیث ۳۱:احمدوطبرانی عتبہ بن عبدسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت میں شہید اور طاعون زدہ حاضرآئیں گے طاعون والے کہیں گے ہم شہید ہیںحکم ہوگا:
انظروافان کانت جراحتھم کجراحۃ الشھداء تسیل دماکریح المسك فھم شھداء۔ دیکھو اگر ان کا زخم شہیدوں کی مثل ہے خون رواں اور مشك کی خوشبو تویہ بھی شہیدہیں۔
حوالہ / References مسند امام احمدبن حنبل عن معاذ بن جبل المکتب اسلامی بیروت ۵/ ۲۴۱،تہذیب تاریخ دمشق کبیر باب تبشیر المصطفٰی صلی اﷲ علیہ وسلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۹۰، ۶/ ۳۰۳
کنزالعمال بحوالہ مالک،قط حدیث ۱۱۱۸۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۱۷
سنن نسائی کتاب الجہاد باب مسئلۃ الشہادۃ نورمحمدکارخانہ کراچی ۲/ ۶۲
کنزالعمال عن ابی بکرالصدیق حدیث ۱۱۷۴۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۵۹۸
#3840 · بیماری او رعلاج معالجہ (بیمارپرسی،تیمارداری،دوا،علاج،جھاڑ پھونک،طبابت،اسقاط حمل،مصنوعی دانت وغیرہ سے متعلق)
فیجدونھم کذلک تو انہیں ایساہی پائیں گے۔
حدیث ۳۲:احمدونسائی عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:روزقیامت شہداء اور وہ جو بچھونے پرمرے طاعون والوں کے بارے میں جھگڑیں گے شہداء کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ہماری طرح مقتول ہوئےبچھونے والے کہیں گے ہمارے بھائی ہیں۔رب عزوجل فیصلہ کے لئے فرمائے گا:
انظروا الی جراحھم فان اشبہ جراحھم جراح المقتولین فانھم منھم ومعھم۔ ان کے زخم دیکھو اگر شہیدوں کے سے ہیں تو وہ انہیں میں سے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔
دیکھیں گے تو ان کے زخم انہیں کے سے ہوں گے فیلحقون بھم یہ شہیدوں میں ملادئیے جائیں گےمتواتر ارشاد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رد کفرہےاور دانستہ ہو تو صریح کفرنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تو ان کو شہید فرمائیں اور یہ شخص کافر کہےاس سے بڑھ کر اور کیا رد ہوگااس شخص پرلازم ہے کہ تائب ہو کلمہ پڑھے اپنی عورت سے نکاح جدید کرے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References مسند احمدبن حنبل عن عتبہ بن عبد ۴/ ۱۸۵ والمعجم الکبیر عن عتبہ حدیث ۲۹۲ ۷/ ۱۱۹
سنن النسائی کتاب الجہاد باب مسألۃ الشہادۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۶۲،مسند احمد بن حنبل عن العرباض بن ساریۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۲۹۔۱۲۸
#3841 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
الحق المجتلی فی حکم المبتلی ۱۳۲۴ھ
(بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)

مسئلہ ۸۴:ازگونڈا ملك اودھ مرسلہ مسلمانان گونڈا عموما وحافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ انجمن اسلامیہ گونڈا ذوالحجہ ۱۳۲۴ھ
زید کا خون جوش کھارہاہے بلکہ ایك دو اعضاء جسم کے بگڑگئے اور احتمال ہوتا ہے کہ آئندہ بھی بگڑجائیں گےایسے شخص کی نسبت اطبا حکم دیتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھاناپینا اور نشست وبرخاست بھی قطعی منع ہے بلکہ اطباء شرع شریف کابھی ایساہی حوالہ دیتے ہیںدریافت طلب یہ امر ہے کہ شرع شریف کا کیا حکم ہے اور ایسے شخص سے اجتناب لازم ہے یا کیا مدلل ومفصل زیب قلم ہو۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ علی دین الاسلام والصلوۃ والسلام علی افضل ھاد الی سبیل السلام وعلی الہ وصحبہ الی یوم القیام بہ نسأل السلام والسلامۃ عن دین اسلام(کی عطاء وبخشش)پر اﷲ تعالی کی تعریف کرتے ہیں اور درودوسلام بھیجتے ہیں اس ہستی پر جو سب سے بہتر اور راہ سلامتی دکھانے والی ہے اور درودوسلام ہو قیامت تك ان کی آل اور ان کے
#3842 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
سیئ الاسقام۔ صحابہ پراور ہم بری بیماریوں سے سلامتی اور حفاظت کے لئے اسی سے درخواست کرتے ہیں۔(ت)
احادیث اس باب میں بظاہر مختلف آئیںہم اولا انہیں ذکر کریں پھر ان کے شرعی معنی کی طرف متوجہ ہوں کہ بتوفیقہ تعالی اس مسئلہ میں حق تحقیق اداہو۔
حدیث اول:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتقوا المجذوم کمایتقی الاسد۔رواہ البخاری فی التاریخ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جذامی سے بچو جیساشیر سے بچتے ہیں(امام بخاری نے تاریخ میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
روایت ابن جریر کے لفظ یہ ہیں:
فرمن المجذوم کفرارك من الاسد ۔رمزالامام الجلیل السیوطی حسنہ علی ما فی التیسیر اوصحتہ علی ما فی فیض القدیر وذکرہ باللفظ الاول فی الجامع الصغیر وباللفظ الاخیر فی الکبیر ۔
اقول:وفی کلیھما ظاھرا ابوھریرۃ فالحدیث عنہ فی صحیح البخاری بلفظ فرمن المجزوم کما تفرمن الاسد وسیأتی والجواب ان العزویتبع اللفظ لاسیما وھو فی البخاری جذامی سے بھاگ جیسا شیر سے بھاگتاہے۔جلیل القدر امام سیوطی(رحمۃ اﷲ علیہ)نے جیسا کہ تیسیرمیں ہے اس کی تحسین فرمائی اور فیض القدیر میں اس کی صحت بیان فرمائی۔ پہلے لفظ سے جامع صغیرمیں اس کا ذکر کیا جبکہ آخری لفظ سے جامع کبیر میں اسے ذکر کیا۔اقول:(میں کہتاہوں کہ)بظاہر دونوں میں ابوہریرہ ہےصحیح بخاری میں اس کی حدیث (روایت)فرمن المجذوم کما تفرمن الاسد کے الفاظ سے ہے (یعنی جذامی سے اس طرح بھاگو
حوالہ / References الجامع الصغیر بحوالہ تاریخ بخاری عن ابی ھریرۃ حدیث ۱۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۵،التاریخ الکبیر حدیث ۴۶۰ دارالبازمکۃ المکرمہ ۱/ ۱۵۵
الجامع الکبیر للسیوطی بحوالہ ابن جریر حدیث ۱۴۷۵۶ دارالفکر بیروت ۶/ ۲۶۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر حرف الہمزہ تحت حدیث المذکور مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱/ ۳۰
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۳۸
صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۸۵۰
#3843 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
مع زیادات معنی۔ جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو)عنقریب آئے گی اور جواب یہ ہے کہ نسبت کرنا لفظ کے تابع ہوتاہے خصوصا جبکہ وہ بخاری میں معنوی اضافہ کے ساتھ مروی ہے۔(ت)
دوسری حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتقوا صاحب الجذام کما یتقی السبع اذا ھبط وادیا فاھبطوا غیرہ۔رواہ ابن سعد فی الطبقات عن عبد اﷲ بن جعفر الطیار رضی اﷲ تعالی عنھما بسند ضعیف۔ جذامی سے بچو جیسا درندے سے بچتے ہیںوہ ایك نالے میں اترے تو تم دوسرے میں اترو۔(ابن سعد نے ''طبقات'' میں حضرت عبداﷲ بن جعفر طیار رضی اﷲ تعالی عنہما سے سندضعیف کے ساتھ اسے روایت کیاہے۔ت)
تیسری حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلم المجزوم وبینك وبینہ قدر رمح او رمحین۔ رواہ ابن السنی وابونعیم فی الطب عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنھما بسند واہ قلت لکن لہ شاھد یاتی۔ مجذوم سے اس طور پر بات کرکہ تجھ میں اس میں ایك دو نیزے کافاصلہ ہو(ابن سنی اور ابونعیم نے باب طب میں حضرت عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے کمزورسند کے ساتھ روایت کیاہے۔میں کہتاہوں کہ اس کے لئے شاہد(تائیدکنندہ)آگے آئے گا۔ت)
چوتھی حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدیموا النظر الی المجذومین۔رواہ ابن ماجۃ و ابن جریر قلت وسندہ حسن صالح۔ مجذوموں کی طرف نگاہ جماکرنہ دیکھو(ابن ماجہ اور ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے۔میں کہتاہوں کہ اس کی سند صالح ہے۔ت)
حوالہ / References الطبقات الکبری ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ دارصادر بیروت ۴/ ۱۱۷،کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن عبداﷲ بن جعفر حدیث ۲۸۳۳۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۵۴
کنزالعمال بحوالہ ابن السنی وابونعیم فی الطب حدیث ۲۸۳۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۵۴
سنن ابن ماجہ کتاب الطب باب الجذام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۱
#3844 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
دوسری روایت میں ہے:
لاتحدوا النظر الی المجذومین۔رواہ ابوداؤد الطیالسی والبیھقی فی السنن بسند حسن ایضا کلھم عن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جذامیوں کی طرف پوری نگاہ نہ کرو(ابوداؤدطیالسی اور بیہقی نے السنن میں سندحسن کے ساتھ اسے روایت کیاہے اور ان سب نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
پانچویں حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدیموا النظر الی المجذومین اذا کلمتموھم فلیکن بینکم وبینھم قدر رمح۔رواہ احمد وابویعلی و الطبرانی فی الکبیر وابن جریر عن فاطمۃ الصغری عن ابیھا السید الشہید الریحانۃ الاصغر وابن عساکر عنھا عنہ وعن ابن عباس معارضی اﷲ تعالی عنھم جمیعا۔ جذامیوں کی طرف نظر نہ جماؤ ان سے بات کرو تو تم میں ان میں ایك ایك نیزے کا فاصلہ ہو۔(امام احمدابویعلی اور طبرانی نے"الکبیر"میں اور ابن جریر نے سیدہ فاطمہ صغری سے انہوں نے اپنے والدبزرگوار سیدشہید ریحانہ اصغر سے اسے روایت کیاہےاور ابن عساکر نے ان سے انہوں نے اپنے والد اور ابن عباس سے بھی اسے روایت کیاہے۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔ت)
چھٹی حدیث:میں ہے جب وفد ثقیف حاضربارگاہ اقدس ہوئے اور دست انور پر بیعتیں کیں ان میں ایك صاحب کو یہ عارضہ تھا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمابھیجا:
ارجع فقد بایعناک۔رواہ ابن ماجۃ واپس جاؤ تمہاری بیعت ہوگئی یعنی زبانی کافی ہے
حوالہ / References السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب لایورد ممرض علی مصح الخ دارالمعرفۃ بیروت ۷/ ۲۱۸،مسند ابی داؤد الطیالسی حدیث ۲۶۰۱ دارالمعرفۃ بیروت ص۳۳۹
مسندامام احمدبن حنبل عن علی کرم اﷲ وجہہ دارالفکر بیروت ۱/ ۷۸،المعجم الکبیر حدیث ۲۸۹۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۳۲۔۱۳۱،کنزالعمال بحوالہ حم ع طب وابن جریر عن فاطمہ الخ حدیث ۲۸۳۳۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۵۶۔۵۵
سنن ابن ماجہ کتاب الطب باب الجذام ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۱
#3845 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
قلت بسند حسن عن رجل من ال الشرید یقال لہ عمروعن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ ورواہ ابن جریر فسمی اباہ الشرید وھو الشرید بن سوید الثقفی ذکر الامام الجلیل السیوطی بالتخریج الاول فی اول الجامع الکبیر وبالاخر فی مسانید جمع الجوامع اقول:بل الحدیث فی صحیح مسلم بلفظ انا قد بایعناك فارجع کما ھو لفظ ابن جریر سواء بسواء وقد جربت مثلہ کثیرا علی ھذا الامام فی کثیر من تصانیفہ الشریفۃ کالجوامع الثلثہ والخصائص الکبری وغیرھا وکان مقصودہ رحمہ اﷲ تعالی ان یجمع لامثالنا القاصرین ماقلما تصل الیہ ایدینا فان اقتصرنا علی ماافادوذھلنا عن المتداولات فالقصور منا لامنہ رحمہ اﷲ تعالی۔ مصافحہ نہ ہونا مانع بیعت نہیں۔(محدث ابن ماجہ نے اسے روایت کیاہے۔میں کہتاہوں کہ سندحسن کے ساتھ آل شرید کے ایك شخص سے اسے روایت کیاہے اور اس کو عمروکہاجاتا ہے اس نے اپنے باپ سے روایت کی(اﷲ تعالی اس سے راضی ہو)اور ابن جریر نے اسے روایت کیااور شرید کے باپ کانام بھی ذکر کیا یعنی شرید بن سوید ثقفیجلیل الشان امامامام سیوطی نے پہلی تخریج میں جامع کبیر کی ابتداء میں اور دوسری تخریج میں جمع الجوامع کے مسانید میں اس کو ذکرفرمایاہے۔میں کہتاہوں بلکہ صحیح مسلم کی حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ واپس ہوجاؤ بیشك ہم نے تمہیں بیعت کرلیاجیسا کہ ابن جریر کے الفاظ ہیںدونوں کے الفاظ یکساں ہیں(کوئی خاص فرق نہیں پایاجاتا)ہم نے اس امام پر ان کی بہت سی تصانیف شریفہ میں اس طرح کی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں اور تجربہ کیاہے جیسا کہ ان کی تینوں جوامع خصائص کبری اور ان کے علاوہ دوسری تصانیفپس اس سے امام موصوف رحمہ اﷲ تعالی کامقصد ان سب چیزوں کوجمع کر دینا ہے(یکجاکرنا)کہ جن تك ہم جیسے کوتاہ نظرلوگوں کے ہاتھوں کی بہت کم رسائی ہوتی ہے۔پھر اگر ہم نے ان کے افادہ پراکتفاء کیااور ہم متداولات کو بھول گئے تو یہ ہماراقصور ہوگا نہ کہ علامہ موصوف کااﷲ تعالی ان پررحم فرمائے۔ت)
ساتویں حدیث:میں ہے حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك مجذوم کو آتے دیکھا انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:
یاانس اثن البساط لایطأ علیہ اے انس! بچھونا الٹ دو کہیں یہ اس پر اپنا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳
#3846 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
بقدمہ۔رواہ الخطیب عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ وفی القلب منہ شیئ۔واﷲ تعالی اعلم۔ پاؤں نہ رکھ دے(خطیب بغدادی نے ان سے یعنی حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیاہے اور اس سے بچھونا الٹ دینے کے متعلق کچھ بات ہے او ر اﷲ تعالی ہی (تمام معاملات کو) بہترجانتاہے۔(ت)
آٹھویں حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے درمیان وادی عسفان پرگزرے وہاں کچھ لوگ مجذوم پائے مرکب کو تیز چلاکروہاں سے تشریف لے گئے اور فرمایا:
ان کان شیئ من الداء یعدی فھو ھذا۔رواہ ابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما والمرفوع منہ عنہ ابن عدی فی الکامل من دون ذکر القصۃ وھو ضعیف۔ اگر کوئی بیماری اڑ کر لگتی ہے تو وہ یہی ہے(ابن نجار نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیاہے اور ابن عدی کے نزدیک"الکامل"میں واقعہ ذکرکئے بغیر یہ مرفوع ہے اور وہ ضعیف ہے۔(ت)
نویں حدیث:میں ہے ایك جذامی عورت کعبہ معظمہ کاطواف کررہی تھی امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا:
یاامۃ اﷲ لاتؤذی الناس لوجلست فی بیتک۔رواہ مالك والخرائطی فی اعتلال القلوب عن ابن ابی ملیکۃ۔ اے اﷲ کی لونڈی! لوگوں کو ایذا نہ دے اچھا ہو کہ تم اپنے گھر میں بیٹھی رہوپھر وہ گھر سے نہ نکلیں(امام مالك اور الخرائطی نے اعتلال القلوب میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
دسویں حدیث میں ہے:
ان عمر بن الخطاب قال للمعیقیب رضی اﷲ تعالی عنھما اجلس منی قید رمح وکان معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اہل بدر(ومہاجرین سابقین اولین رضی اﷲ تعالی عنہم)سے ہیں انہیں یہ مرض تھا امیر المومنین عمرفاروق
حوالہ / References تاریخ بغداد للخطیب ترجمہ عبدالرحمن بن العباس ۵۴۳۲ دارالکتب العربی بیروت ۱۰/ ۲۹۶
کنزالعمال بحوالہ ابن عدی حدیث ۲۸۳۳۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۵۴
کنزالعمال بحوالہ مالك والخرائطی فی اعتلال القلوب حدیث ۲۸۵۰۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۹۶
#3847 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
بہ ذلك الداء وکان بدریا۔رواہ ابن جریر عن الزھری قلت مرسل ولایصح۔ اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان سے فرمایا:مجھ سے ایك نیزے کے فاصلے پربیٹھئے(امام ابن جریر نے زہری سے اسے روایت کیاہےمیں کہتاہوں کہ یہ مرسل ہے اورصحیح نہیں۔ت)
آئندہ حدیثیں اس کے خلاف ہیں۔
گیارہویں حدیث:میں ہے امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے صبح کو کچھ لوگوں کی دعوت کی ان میں معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہ بھی تھے وہ سب کے ساتھ کھانے میں شریك کئے گئے او رامیرالمومنین نے ان سے فرمایا:
خذمما یلیك ومن شقك فلوکان غیرك مااکلنی فی صحفۃ ولکان بینی وبینہ قیدرمح۔رواہ ابن سعد و ابن جریر عن فقیہ المدینۃ خارجۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اپنے قریب سے اپنی طرف سے لیجئے اگر آپ کے سوا کوئی اور اس مرض کاہوتا تو میرے ساتھ ایك رکابی میں نہ کھاتا اور مجھ میں اور اس میں ایك نیزے کا فاصلہ ہوتا(ابن سعد اور ابن جریر نے فقیہ مدینہ خارجہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیاہے۔ت)
بارہویں حدیث:میں ہے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے دسترخوان پرشام کو کھانا رکھاگیا لوگ حاضرتھے امیرالمومنین برآمدہوئے کہ ان کے ساتھ کھاناتناول فرمائیںمعیقیب بن ابی فاطمہ دوسی صحابی مہاجر حبشہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:
ادن فاجلس وایم اﷲ لوکان غیرك بہ الذی بك لما جلس منی ادنی من قید رمح ۔رویاہ قریب آئیے بیٹھئے خدا کی قسم دوسراہوتا تو ایك نیزے سے کم فاصلے پرمیرے پاس نہ بیٹھتا۔(ابن سعد اور ابن جریر نے اسے فقیہ مدینہ خارجہ بن
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن جریر حدیث ۲۸۴۹۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۹۴
کنزالعمال بحوالہ ابن سعدوابن جریر حدیث ۲۸۵۰۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۹۵،الطبقات الکبرٰی ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی دارصادر بیروت ۴/ ۱۱۸
الطبقات الکبرٰی ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی دارصادر بیروت ۴/ ۱۱۸،کنزالعمال بحوالہ ابن سعدوابن جریر حدیث ۲۸۵۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۹۶
#3848 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
عنہ ذلك فی الغداء وھذا فی العشاء۔ زید سے صبح کے کھانے کے بارے میں روایت کیاہے۔جبکہ یہ حدیث رات کے کھانے کے بارے میں مروی ہے۔ت)
تیرہویں حدیث:میں ہے محمود بن لبید انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے بعض ساکنان موضع جرش نے بیان کیا کہ عبداﷲ بن جعفرطیاررضی اﷲ تعالی عنہما نے حدیث بیان کی کہ حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"جذامی سے بچو جیسا درندے سے بچتے ہیں وہ ایك نالے میں اترے تو تم دوسرے میں اترو"۔میں نے کہا واﷲ! اگرعبداﷲ بن جعفر نے یہ حدیث بیان کی تو غلط نہ کہا جب میں مدینہ طیبہ آیا ان سے ملا اور اس حدیث کا حال پوچھا کہ اہل جرش آپ سے یوں ناقل تھےفرمایا:
کذبوا واﷲ ماحدثتھم ھذا ولقد رأیت عمربن الخطاب یؤتی بالاناء فیہ الماء فیعطیہ معیقیبا فیشرب منہ ثم یتناولہ عمر من یدہ فیضع فمہ موضع فمہ حتی یشرب منہ فعرفت انما یصنع عمر ذلك فرارا من ان یدخلہ شیئ من العدوی۔رویاہ عن محمود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲ انہوں نے غلط نقل کی میں نے یہ حدیث ان سے نہ بیان کی میں نے تو امیرالمومنین عمر کو یہ دیکھا ہے کہ پانی ان کے پاس لایاجاتا وہ معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہ کو دیتے معیقیب پی کر اپنے ہاتھ سے امیرالمومنین کو دیتے امیرالمومنین ان کے منہ رکھنے کی جگہ اپنا منہ رکھ کر پانی پیتے میں سمجھتا کہ امیرالمومنین یہ اس لئے کرتے ہیں کہ بیماری اڑ کرلگنے کاخطرہ ان کے دل میں نہ آنے پائے(ابن سعد اور ابن جریر دونوں نے محمود بن لبید انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
ابن سعد کی روایت میں ایك مفیدبات زائد ہے کہ عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا امیرالمومنین فاروق اعظم جسے طبیب سنتے معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے اس سے علاج چاہتےدوحکیم یمن سے آئے ان سے بھی فرمایاوہ بولے جاتا رہے یہ تو ہم سے ہو نہیں سکتا ہاں ایسی دوا کردیں گے کہ بیماری ٹھہر جائے بڑھنے نہ پائے۔امیرالمومنین نے فرمایا:عافیۃ عظیمۃ ان یقف فلایزید بڑی تندرستی ہے کہ مرض ٹھہرجائے بڑھنے نہ پائے۔انہوں نے دوبڑی زنبیلیں بھرواکر اندرائن کے تازہ پھل منگوائے جو
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی دارصادر بیروت ۴/ ۱۱۷،کنزالعمال بحوالہ ابن سعد وابن جریر حدیث ۲۸۵۰۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۹۴
#3849 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
خربوزے کی شکل اور نہایت تلخ ہوتے ہیںپھر ہرپھل کے دودوٹکڑے اور معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہ کو لٹاکر دونوں طبیبوں نے ایك ایك تلوے پرایك ایك ٹکڑا ملناشروع کیاجب وہ ختم ہوگیادوسرا ٹکڑا لیایہاں تك کہ معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہ کے منہ اور ناك سے سبزرنگ کی کڑوی رطوبت نکلنے لگیاس وقت چھوڑ کر دونوں حکیموں نے کہا اب یہ بیماری کبھی ترقی نہ کرے گی۔عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
فواﷲ مازال معیقیب متماسکا لایزید وجعہ حتی مات ۔ واﷲ! معیقیب اس کے بعد ہمیشہ ایك ٹھہری حالت میں رہے تادم مرگ مرض کی زیادتی نہ ہوئی۔
چودھویں حدیث:میں ہے امیرالمومنین صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ کے دربار میں قوم ثقیف کی سفیرحاضر ہوئےکھانا حاضرلایا گیاوہ نزدیك آئے مگر ایك صاحب کہ اس مرض میں مبتلا تھے الگ ہوگئے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا: قریب آؤقریب آئے۔فرمایا:کھاناکھاؤ۔حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
وجعل ابوبکر یضع یدہ موضع یدہ فیاکل ممایاکل منہ المجذوم۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ وابن جریر عن القاسم۔ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ شروع کیا کہ جہاں سے وہ مجذوم نوالہ لیتےوہیں سے صدیق نوالہ لے کر نوش فرماتے رضی اﷲ تعالی عنہ(ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن جریر نے حضرت قاسم بن محمد سے اسے روایت کیا۔ت)
غالبا یہ وہی مریض ہیں جن سے زبانی بیعت پراکتفافرمائی گئی تھی۔
پندرہویں حدیث:جلیل میں ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخذ بید رجل مجذوم فادخلہا معہ فی القصعۃ ثم قال کل ثقۃ باﷲ وتوکلا علی اﷲ۔رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك جذامی صاحب کاہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالے میں رکھا اور فرمایا اﷲ پرتکیہ ہے اور اﷲ پربھروسا۔(ابوداؤدترمذیابن ماجہعبدبن حمیدابن خزیمہابن ابی عاصم
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی ترجمہ معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی دارصادر بیروت ۴/ ۱۸۔۱۱۷
المصنّف لابن ابی شیبہ کتاب العقیقہ حدیث ۴۵۸۷ ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۱۲۹،کنزالعمال بحوالہ ابن ابی شیبہ وابن جریر حدیث ۲۸۴۹۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۹۴
جامع الترمذی ابواب الاطعمہ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم امین کمپنی دہلی ۲/ ۴،سنن ابن ماجہ کتاب الطب باب الجذام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۱
#3850 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وعبد بن حمید وابن خزیمۃ وابن ابی عاصم وابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ وابویعلی وابن حبان و الحاکم فی المستدرك والبیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ وابن جریر والامام الطحاوی کلھم من جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما کذا ذکر الامام الجلیل الجلال السیوطی فی اول قسمی جامعہ الکبیر و زدت انا ابن جریر والطحاوی قلت وبہ علم ان قصرالمشکوۃ علی ابن ماجۃ لیس فی موضعہ ثم الحدیث سکت علیہ وصححہ ابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والضیاء وقال المناوی فی التیسیر باسناد حسن وتصحیح ابن حبان والحاکمقال ابن حجر فیہ نظر اھاقول:لکن فیہ مفضل بن فضالۃ البصری بالباء اخومبارك قال فی التقریب ضعیف وقال الترمذی ھذا حدیث غریب لانعرفہ الامن حدیث یونس بن محمد عن المفضل بن فضالۃ والمفضل بن فضالۃ ھذا شیخ بصری و المفضل بن فضالۃ شیح آخر مصری اوثق من ھذا و اشھر اور ابن السنی نے عمل اللیل والیوم میں ابویعلیابن حبان اور حاکم نے المستدرك میںامام بیہقی نے السنن میںضیاء نے المختارہ میں ابن جریر اور امام طحاوی ان سب نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا ہے چنانچہ جلیل القدر امام جلال الدین سیوطی نے اپنی جامع کبیر کی پہلی قسم میں اسے ذکرفرمایا اور ابن جریر اور امام طحاوی کا میں نے اضافہ کیاہے قلت(میں کہتاہوں کہ)اس سے معلوم ہوا کہ صاحب مشکوۃ کاصرف ابن ماجہ پر اکتفاء کرنا بے محل ہے پھر حدیث مذکورپرسکوت کیاگیالیکن ابن خزیمہابن حبانحاکم اورضیاء نے اس کو صحیح قراردیاہے۔علامہ مناوی نے التیسیر میں اسناد حسن اور ابن حبان اور حاکم کی تصحیح کا قول ذکرکیاہے۔علامہ ابن حجر نے فرمایا کہ اس پراعتراض ہےاھ
اقول:(میں کہتاہوں)لیکن اس میں مفضل بن فضالہ بصری (حرف باء کے ساتھ)مبارك کابھائی ہےچنانچہ التقریب میں کہا کہ وہ ضعیف ہے امام ترمذی نے کہایہ حدیث غریب ہے ہم اس کوصرف یونس بن محمد بواسطہ مفضل بن فضالہ پہچانتے ہیں اور یہ مفضل بن فضالہ شیخ بصری ہے جبکہ اسی نام کا ایك دوسرا مفضل بن فضالہ شیخ مصری ہے جو اس پہلے سے زیادہ ثقہ اور زیادہ مشہورہے۔
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث کل معی بسم اﷲ ثقہ باﷲ مکتبہ امام شافعی الریاض ۲/ ۲۲۰
تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی ترجمہ ۶۸۸۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۰۹
#3851 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وروی شعبۃ ھذا الحدیث عن حبیب بن الشھید عن ابن بریدۃ قال ابن عمر اخذ بید مجذوم"وحدیث شعبۃ اشبہ عندی واصح اھ واخرج ابن عدی فی الکامل ھذا الحدیث للمفضل المذکور وقال لم ارفی حدیثہ انکر من الحدیث قال ورواہ شعبۃ عن حبیب عن ابن بریدۃ ان عمر اخذ بید مجذوم الحدیث اھ ولم یذکر الذھبی فی المیزان فی المفضل ھذا جرحا مفسرا بل ولاغیر مفسرمما یبلغ درجۃ التضعیف البتۃ انما نقل عن یحیی انہ قال لیس ھو بذاك وعن الترمذی ماقدمنا ان المصری اوثق منہ وعن النسائی انہ قال لیس بالقوی۔ اقول: ولا یخفی علیك البون البین بین لیس بالقوی و لیس بقوی وقد روی عنہ ذاك المؤدب الثقۃ الثبت محدث شعبہ نے اس حدیث کو حبیب بن شہید بواسطہ ابن بریدہ روایت کیاہے اور کہاہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك جذامی کاہاتھ پکڑامیرے نزدیك محدث شعبہ کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہےاھ۔محدث ابن عدی نے الکامل میں اس حدیث کو مفضل مذکور کے حوالہ سے اس کی تخریج کی اور کہا ہے کہ میں نے اس سے زیادہ منکر کوئی حدیث نہیں دیکھیپھر اس نے کہا شعبہ نے حبیب سے بواسطہ ابن بریدہ اس حدیث کو روایت کیاہے کہ حضرت عمرفاروق نے ایك جذامی کاہاتھ پکڑا(الحدیث)اھعلامہ ذہبی نے المیزان میں اس مفضل کے بارے میں کوئی مفصل یا غیرمفصل جرح ذکرنہیں کی بلاشبہہ جودرجہ تضعیف تك پہنچتی ہےاور یحیی سے نقل کیاگیاکہ اس نے کہا کہ یہ اس درجہ کی حدیث نہیںامام ترمذی کے حوالے سے ہم پہلے بیان کرآئے ہیں کہ شیخ مصریشیخ بصری سے زیادہ ثقہ (مستندومعتبر)ہے۔امام نسائی سے مروی ہے کہ وہ قوی نہیں۔ اقول:(میں کہتاہوں کہ)تم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ لیس بالقوی اور لیس بقوی دونوں میں واضح اور کھلافرق ہے بلا شبہہ اس مؤدب ثقہ مثبت نے اس سے روایت
حوالہ / References جامع الترمذی کتاب الاطعمہ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم امین کمپنی دہلی ۲/ ۴
الکامل لابن عدی ترجمہ مفضل بن فضالہ مصری دارالفکر بیروت ۶/ ۲۴۰۴
میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
میزان الاعتدال للذہبی حدیث ۸۷۳۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۹
#3852 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وعبدالرحمن بن مھدی ذاك الجبل الشامخ الامام الحافظ قال البخاری فی علی بن عبداﷲ المعروف بابن المدینی مااستصغرت نفسی الاعندہ وقال ابن المدینی فی عبدالرحمن ھذا مارأیت اعلم منہ و کذلك موسی بن اسمعیل ذاك الثقۃ الثبت وجماعۃ لاجرم حسنہ الحافظ واطلاق الصحیح علی الحسن غیرمستنکر وقدصححہ امام الائمۃ ابن خزیمۃ و من تبعہ وقد وجدت لہ متابعا فان الامام الاجل اباجعفر الطحاوی اخرجہ اولابالطریق المذکور فقال حدثنا فھد(یعنی ابن سلیمن بن یحیی)ثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثنا یونس بن محمد الحدیث ثم قال حدثنا ابن مرزوق ثنا محمد بن عبداﷲ الانصاری ثنا اسمعیل بن مسلم عن ابی الزبیر عن جابر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مثلہ اھ قلت وبہ یعلم مافی کلام الامام الترمذی واﷲ تعالی اعلمثم اعلم انہ کی ہے۔عبدالرحمن ابن مہدی جو فن حدیث میں کوہ گراں ہے امام اور حافظ ہے امام بخاری نے علی بن عبداﷲ جو ابن المدینی کے نام سے مشہور ہے کے متعلق فرمایا کہ میں نے صرف اس کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹاسمجھا۔چنانچہ ابن المدینی نے عبدالرحمن کے بارے میں فرمایا میں نے اس سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا اور اسی طرح موسی بن اسمعیل ثقہ ثبت ہے۔اور ایك جماعت بلاشبہہ حافظ نے اس کی تحسین فرمائی اور حسن پر صحیح کا اطلاق غیر معروف نہیں۔امام الائمہ ابن خزیمہ اوران کے ہمنوا ائمہ نے اس کی تصحیح فرمائی اور بلاشبہہ میں نے اس کا متابع پایاہے کیونکہ جلیل الشان امام ابوجعفرطحاوی نے اولا طریق مذکور سے اس کی تخریج فرمائی چنانچہ فرمایا ہم سے فہدیعنی ابن سلیمان بن یحیی نے بیان کیااس نے کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا اس نے کہاہم سے یونس بن محمد نے بیان کیاالحدیث۔پھر فرمایا ہم سے ابن مرزوق نے بیان کیا اس سے محمد بن عبداﷲ انصاری نے اس سے اسمعیل بن مسلم نے بیان کیااس نے ابوالزبیر سے اس نے جابر سےانہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسی حدیث مذکور کی مثل روایت فرمائی اھ قلت(میں کہتاہوں کہ)اس سے امام ترمذی کے کلام کاحال معلوم کیاجاسکتاہے اور درحقیقت اﷲ تعالی ہی سب کچھ اچھی طرح
حوالہ / References شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون وغیرہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷
#3853 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وقع فی الجامع الصغیر لھذا الحدیث رمز حبك اقول:ولم ارہ فی المجتبی بل لیس فیہ لان مدارہ علی ماذکر الترمذی علی المفضل کما علمت والمفضل ھذا لیس من رواۃ النسائی اصلا وقد سقط الحدیث من نسخۃ سیدی علی المتقی قدس سرہ ولذا اوردہ من القسم الاول للجامع الکبیر وقد رمزلہ فیہ دتہ الخ وھوالصحیح الا ان یکون النسائی رواہ فی الکبری فبالنظر الیہ یقال ع وھو بعید ثم الواقع فی المشکوۃ معزیا لابن ماجۃ ماذکرنا اعنی کل ثقۃ باﷲ وفی جامع الترمذی ثم قال کل بسم اﷲ ثقۃ باﷲ وتوکلا علیہ قال العلامۃ علی القاری اما ترك المؤلف البسملۃ مع وجودھا فی الاصول فاما محمولۃ علی روایۃ منفردۃ غریبۃ لابن ماجۃ اوعلی غفلۃ من صاحب المشکوۃ پھرجان لیجئے کہ جامع الصغیر میں اس حدیث کے لئے یہ رمز (حبک)ہے اقول:(میں کہتاہوں کہ)میں نے اس کو مجتبی میں نہیں دیکھا بلکہ اس میں موجود ہی نہیں اس لئے کہ حدیث مذکور کامدارجیسا کہ امام ترمذی نے ذکرکیا مفضل پرہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور یہ مفضل بالکل رواۃ نسائی میں سے نہیں۔میرے آقا علی متقی قدس سرہ کے نسخہ سے حدیث مذکور ساقط ہوگئی ہے اس لئے امام سیوطی جامع کبیر کی پہلی قسم میں اسے لائے ہیں اور اس کے لئے یہ رمز (د تہ)پیش فرمائی الخ۔او ر وہ صحیح ہے ہاں البتہ امام نسائی نے الکبری میں اسے روایت فرمایا تو پھر اس کے پیش نظر (ع) کہاجائے گا لیکن وہ بعیدہے پھر مشکوۃ میں ابن ماجہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے وہی الفاظ واقع ہوئے جو ہم نے ذکر کئے ہیںمیری مراد"کل ثقۃ باﷲ"کے الفاظ سے ہے۔ اور جامع ترمذی کے الفاظ یہ ہیںپھر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کل بسم اﷲ ثقۃ باﷲ توکلا علیہ (اﷲ کا نام لے کر کھائیں اﷲ تعالی پر اعتمادوبھروسا کرتے ہوئے)۔ علامہ علی قاری نے فرمایا مصنف علیہ الرحمۃ کابسم اﷲ چھوڑ دینا باوجودیکہ وہ اصول میں مذکورہے یاتو اس لئے ہے کہ یہ ابن ماجہ
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب باب الفال والطیرۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۹۲
جامع الترمذی ابواب الاطعمہ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم امین کمپنی دہلی ۲/ ۴
#3854 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
او المصابیح اھ۔اقول:سبحن اﷲ ھو انما نقلہ عن ابن ماجۃ فلوزاد البسملۃ نسب الی الفضلۃ ثم لم یتفرد ابن ماجۃ بترك البسملۃ بل ھو کذلك عند ابی داؤد ایضا رواہ عن عثمن بن ابی شیبۃ عن یونس بن محمد وابن ماجۃ عن ابی بکر بن ابی شیبہ ومجاھد ابن موسی ومحمد بن خلف العسقلانی کلھم عن یونس بترك البسملۃ والترمذی عن احمد بن سعید الاشقروابراھیم بن یعقوب کلاھما عن یونس مع البسملۃ فافھم۔ جانتاہےکی منفرد غریب روایت پرمحمول ہے یاصاحب مشکوۃ یاصاحب مصابیح کی غفلت کانتیجہ ہےاھ
اقول:(میں کہتاہوں)اﷲتعالی(عیوب ونقائص سے)پاك ہے(یعنی بڑاتعجب ہے)اس لئے کہ صاحب مشکوۃ نے اسے ابن ماجہ سے نقل فرمایاہے اگربسم اﷲ شریف کااضافہ کرتے تو زیادتی کی طرف منسوب ہوتے اور ترك بسم اﷲ کے معاملہ میں ابن ماجہ ہی منفرد نہیں بلکہ ابوداؤد کے نسخہ میں بھی یونہی بسم اﷲ متروك ہے چنانچہ امام ابوداؤد نے عثمان ابن ابی شیبہ سے بواسطہ یونس بن محمد اس کو روایت کیاہے اور ابن ماجہ نے ابوبکر بن ابی شیبہمجاہدبن موسی اور محمدبن خلف عسقلانی کے حوالہ سے اسے روایت کیاہےسب نے بواسطہ یونس بسم اﷲ کے بغیر روایت کی اور امام ترمذی نے بواسطہ احمدبن سعید اشقراور ابراہیم بن یعقوب بحوالہ یونس "بسم اﷲ"سمیت اس کو روایت کیاہے۔اس مقام کو سمجھ لیجئے۔(ت)
سولہویں حدیث:میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل مع صاحب البلاء تواضعا لربك وایمانا۔رواہ الامام الاجل الطحاوی عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ قلت ھکذا اوردہ فی الجامع کل باللام والذی رایتہ الامام الطحاوی کن بالنونواﷲ تعالی اعلم۔ بلاء والے کے ساتھ کھاناکھا اپنے رب کے لئے تواضع اور اس پر سچے یقین کی راہ سے۔(جلیل القدر امام طحاوی نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ میں کہتاہوں اسی طرح الجامع میں لفظ کل(حرف لام کے ساتھ)ہے لیکن میں نے امام طحاوی کے نسخہ میں کن(حرف نون کے ساتھ)دیکھاہے۔اور اﷲ تعالی سب سے بہترجانتاہے۔ (ت)
حوالہ / References مرقات المفاتیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۵۱
شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷
#3855 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
سترہویں حدیث:میں ہے کہ ایك بی بی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے پوچھا:کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجذوموں کے حق میں فرماتے:
فروامنھم کفرارکم من الاسد۔ ان سے ایسابھاگو جیساشیرسے بھاگتے ہو۔
ام المومنین(رضی اﷲ عنہا)نے فرمایا:
کلاولکنہ لاعدوی فمن عادی الاول۔رواہ ابن جریر عن نافع بن القاسم عن جدتہ فطیمۃ۔ ہرگز نہیںبلکہ یہ فرماتے تھے کہ بیماری اڑ کرنہیں لگتی جسے پہلے ہوئی اسے کس کی اڑ کرلگی۔(ابن جریر نے حضرت نافع بن قاسم سے بحوالہ اس کی دادی فطیمہ کے اسے روایت کیا ہے۔ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)ام المومنین کایہ انکار اپنے علم کی بناء پرہے یعنی میرے سامنے ایسانہ فرمایا بلکہ یوں فرمایا اور ہے یہ کہ دونوں ارشاد حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بصحت کافیہ ثابت ہیں۔
اٹھارہویں سے تیس:تك حدیث جلیل عظیم صحیح مشہور بلکہ متواتر جس سے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے استدلال کیاکہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاعدوی۔رواہ الائمۃ احمدوالشیخان وابوداؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ عــــــہ بیماری اڑ کرنہیں لگتی(ائمہ کرام مثلا امام احمدبخاری ومسلم ابو داؤد اور ابن ماجہ اس کو حضرت ابوہریرہ

عــــــہ: رواہ عنہ بطریق کثیرۃ شتی ھم والامام الطحاوی والدارقطنی فی المتفق والخطیب والبیھقی و ابن جریر واخرون وان نسیہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ من بعد کما رواہ البخاری والطحاوی وابن جریر وغیرھم۱۲منہ۔ متعددومختلف طریقوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے حدیث مذکور کو ان ائمہ مذکورین امام طحاوی اور امام دارقطنی نے متفق میںخطیببیہقیابن جریر اور کچھ دوسروں نے اسے روایت کیاہے اگرچہ بعد میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اسے بھول گئے تھے جیسا کہ بخاریطحاوی اور ابن جریر وغیرہ نے اسے روایت کیاہے ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن جریر حدیث ۲۸۵۰۷ مؤسسۃ الرسالہ بیرو ت ۱۰/ ۹۷
صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰،سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ والتطیر ۲/ ۱۹۰ و مسند احمدبن حنبل عن ابی ھریرہ ۲/ ۲۶۷ و ۳۲۷
#3856 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
واحمد والستۃ الاالنسائی عن انس واحمد و الشیخان وابن ماجۃ والطحاوی عن ابن عمر و احمد ومسلم والطحاوی عن السائب بن یزید و ھم وابن جریر جمیعا عن جابر واحمد والترمذی و الطحاوی عن ابن مسعود واحمد وابن ماجۃ و الطحاوی والطبرانی و ابن جریر عن ابن عباس والثلثۃ الاخیرۃ عن رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیانیز امام احمد اور دیگر چھ ائمہ نے سوائے امام نسائی کے سب نے اس کو روایت کیاہے اور ان پانچ ائمہ نے حضرت انس سے روایت کی ہے۔امام احمدبخاریمسلمابن ماجہ اور امام طحاوی نے حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت فرمائی نیزامام احمدمسلم اور طحاوی نے حضرت سائب بن یزید سے روایت کی۔ابن جریر اور ان سب نے حضرت جابر سے روایت کی۔ امام احمدترمذی اور طحاوی نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی۔امام احمدابن ماجہ طحاوی طبرانی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الطب باب لاعدوٰی ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم باب الطیرۃ والفال ۲/ ۲۳۱،سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ والتطیر ۲/ ۱۹۰ و سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۳/ ۱۳۰ و ۱۵۴
صحیح البخاری کتاب الطب ۲/ ۸۵۹ و کنزالعمال بحوالہ حم وابن ماجہ ۱۰/ ۱۱۸ سنن ابن ماجہ ابواب الطب ۲۶۱
صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰ و مسند احمدبن حنبل عن السائب بن یزید ۳/ ۴۵۰ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶
صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۱ و مسنداحمدبن حنبل عن جابر ۳/ ۲۹۳ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۷
جامع الترمذی ابواب القدر ۲/ ۳۷ و مسنداحمدبن حنبل عن ابن مسعود ۱/ ۴۴۰ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶
مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس ۱/ ۲۶۹ و سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱ شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶
#3857 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ابی امامۃ وابن خزیمۃ والطحاوی وابن حبان وابن جریر عن سعد بن ابی وقاص والامام الطحاوی عن ابی سعید الخدری والشیرازی فی الالقاب و الطبرانی فی الکبیر والحاکم وابونعیم فی الحلیۃ عن عمیر بن سعد الانصاری والطبرانی وابن عساکر عن عبدالرحمن بن ابی عمیرۃ المزنی و ابن جریر عن ام المومنین وایضا صححہ والقاضی محمد ابن عبدالباقی الانصاری فی جزنہ الحدیثی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم بلفظ لایعدی سقیم صحیحا لخصناہ عن الجامع الکبیر مع جمع و زیادات۔ اور ابن جریر نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کی اور آخری تین ائمہ نے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی نیزابن خزیمہطحاویابن حبان اور ابن جریر نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کی۔اور امام طحاوی نے حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کینیز شیرازی نے القاب میں طبرانی نے الکبیر میں حاکم اور ابونعیم نے الحلیہ میں حضرت عمیربن سعدرضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔ طبرانی اور ابن عساکر نے حضرت عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ مزنی سے روایت کیابن جریر نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کرکے اس کی تصحیح فرمائی اور قاضی محمدابن عبدالباقی انصاری نے اپنے جزء الحدیثی میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے ان الفاظ سے روایت فرمائی کسی بیمار سے بیماری اڑ کر کسی تندرست کو نہیں لگتییہ ہم نے جامع کبیر سے جمع کیا اور اضافوں کے ساتھ اس کا ملخص پیش کیاہے۔(ت)
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ ۲/ ۴۱۷ و المعجم الکبیر حدیث ۷۷۶۱،۷۷۶۲ ۸/ ۲۱۶
الجامع الکبیر بحوالہ ابن خزیمہ والطحاوی وابن حبان عن سعد بن ابی وقاص حدیث ۲۶۱۸۴ بیروت ۸/ ۲۹۹
الجامع الکبیر بحوالہ ابن جریر والطحاوی والشیرازی فی الالقاب عن ابی سعد حدیث ۲۶۱۸۵ بیروت ۸/ ۲۹۹
الجامع الکبیر بحوالہ الشیرازی فی الالقاب(طب،حل،کر)عن عمیر بن سعد حدیث ۲۶۱۸۶ بیروت ۸/ ۲۹۹
کنزالعمال بحوالہ کرعن عبدالرحمن حدیث ۲۸۶۰۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۰

کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن علی حدیث ۲۸۶۳۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۶،سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ ۲/ ۱۹۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶
#3858 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
اسی حدیث کے متعدد طرق میں وہ جواب قاطع ہرشك وارتیاب ارشاد ہوا جسے ام المومنین نے اپنے استدلال میں روایت فرمایا صحیحین وسنن ابی داؤد وشرح معانی الآثار امام طحاوی وغیرہا میں حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتیایك بادیہ نشین نے عرض کی:یارسول اﷲ! پھراونٹوں کایہ کیا حال ہے کہ وہ ریتی میں ہوتے ہیں جیسے ہرن یعنی صاف شفاف بدن ایك اونٹ خارش والاآکر ان میں داخل ہوتاہے جس سے خارش ہوجاتی ہے۔حضور پرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: فمن اعدی الاول اس پہلے کو کس کی اڑ کرلگی احمد و مسلم وابوداؤدوابن ماجہ کے یہاں حدیث ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے ارشاد فرمایا:ذلکم القدر فمن اجرب الاول یہ تقدیری باتیں ہیں بھلا پہلے کو کس نے کھجلی لگادییہی ارشاد احادیث مذکورہ عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲبن عباس وابوامامہ وعمیربن سعد رضی اﷲ تعالی عنہم میں مروی ہواحدیث اخیر میں اس توضیح کے ساتھ ہے کہ فرمایا:
الم تروا الی البعیر یکون فی الصحراء فیصبح وفی کرکرتہ اوفی مراق بطنہ نکتۃ من جرب لم تکن قبل ذلك فمن اعدی الاول ۔ کیادیکھتے نہیں کہ اونٹ جنگل میں ہوتا ہے یعنی الگ تھلگ کہ اس کے پاس کوئی بیمار اونٹ نہیں صبح کو دیکھو تو اس کے بیچ سینے یا پیٹ کے نرم جگہ میں کھجلی کادانہ موجود ہے بھلا اس پہلے کو کس کی اڑکرلگ گئی۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)حاصل ارشاد یہ ہے کہ قطع تسلسل کے لئے ابتداء بغیردوسرے سے منتقل ہوئے خود اس میں بیماری پیدا ہونے کاماننالازم ہے توحجت قاطعہ سے ثابت ہوا کہ بیماری خودبخود بھی حادث ہوجاتی ہے اور جب یہ مسلم ہے تو دوسرے میں انتقال کے سبب پیداہونا محض وہم علیل وادعائے بے دلیل رہاجب ایك میں خود پیدا ہوسکتی ہے تو یوہیں ہزار میں:
فلایوسوسن العدوالرجیم فی قلب مریض مردوددشمن(شیطان)کہیں مریض کے دل میں
حوالہ / References صحیح البخاری باب لاعدوی ۲/ ۸۵۹ و صحیح مسلم باب لاعدوٰی ۲/ ۲۳۰،سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ ۲/ ۱۹۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۱۶
کنزالعمال بحوالہ حم وابن ماجہ حدیث ۲۸۵۹۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۱۸ سنن ابن ماجہ ابواب الطب ص۲۶۱
کنزالعمال بحوالہ طب،حل،ك عن عمیر بن سعد حدیث ۲۸۶۱۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۲۱
#3859 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ان القائلین بالاعداء لایحصرون المرض فیہ حتی یلزمھم اعداء الاول فافھم وتثبت۔ یہ وسوسہ نہ ڈال دے کہ تجاوز مرض کے قائل مرض کو اس تعدیہ میں بند تونہیں کرتے کہ ان پر یہ الزام ہوکہ پہلے مریض کو مرض کیسے لگ گیاپس سمجھ لیجئے اور ثابت رہئے۔ (ت)
اکتیسویں حدیث:کہ امام احمدوبخاری ومسلم وابوداؤد وابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسی قدرروایت کی کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایوردن ممرض علی مصح ۔ ہرگزبیمارجانور تندرست جانوروں کے پاس پانی پلانے کونہ لائے جائیں۔
بیہقی نے سنن میں یوں مطولا تخریج کی کہ ارشاد فرمایا:
لاعدوی ولایحل الممرض علی المصح ولیحل المصح حیث شاء فقیل یارسول اﷲ ولم ذلك قال لانہ اذی ۔واﷲ تعالی اعلم۔

قلت وقدرواہ مالك فی مؤطاہ انہ بلغہ عن بکیر بن عبداﷲ بن الاشج عن ابن عطیۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیماری اڑ کرنہیں لگتی اور تندرست جانوروں کے پاس بیمار جانور نہ لائیں اورتندرست جانور والا جہاں چاہے لے جائے عرض کی گئی یہ کس لئے فرمایا:اس لئے کہ اس میں اذیت ہے یعنی لوگ برامانیں گے انہیں ایذاہوگی۔واﷲ تعالی اعلم
قلت(میں کہتاہوں)امام مالك نے اپنی مؤطا میں اسے یوں روایت کیاکہ حدیث مذکور انہیں بکیربن عبداﷲ بن اشج سے بواسطہ ابن عطیہ اس طرح پہنچی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰،سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ باب فی الطیرۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹۰سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب الجذام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۱،صحیح البخاری کتاب الطب قدیمی کتب خانہ ۲/ ۸۵۹،مسنداحمد بن حنبل عن ابی ھریرہ دارالفکر بیروت ۲/ ۴۰۶ و ۴۳۴
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النکاح باب لایوردممرض علی مصح دارصادربیروت ۷/ ۲۱۷
#3860 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
قال لاعدوی ولاھام ولاصفر ولایحل الممرض علی المصح ولیحلل المصح حیث شاء فقالوا یارسول اﷲ وماذاك فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ اذی ھکذا رواہ یحیی مرسلا وتابعہ جماعۃ من رواۃ المؤطا وخالفھم القعنبی وعبداﷲ بن یوسف وابومصعب ویحیی بن بکیر فجعلوہ عن ابی عطیۃ عن ابی ھریرۃ موصولا غیران ابن بکیر قال عن ابی عطیۃ ولاخلف فھو عبداﷲ بن عطیۃ الاشجعی ویکنی اباعطیۃ ووھم بعض رواۃ المؤطا فی جعلہ عن ابی عطیۃ عن ابی برزۃ وانما ھو عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنھما افادہ الزرقانی ۔ ارشاد فرمایا:کسی مرض میں تعدیہ نہیں(کہ مرض اڑ کر دوسرے تندرست آدمی کو لگ جائے)اور الو وغیرہ میں نحوست نہیںماہ صفر کی آمد میں نحوست نہیں۔بیمار جانور کو تندرست جانور کے پاس نہ لائیں بلکہ تندرست جانور کو جہاں چاہیں لے جائیں۔ لوگوں نے عرض کیا یہ کیوں یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس میں اذیت ہے یعنی لوگوں کو ایذا ہوگی۔ یحیی نے بطورارسال(ذکرسند کے بغیر)اس کو روایت کیا اور مؤطا کے راویوں کی جماعت نے اس کی متابعت کی۔ قعنبیعبداﷲ بن یوسفابومصعب اور یحیی بن بکیر نے ان کی مخالت کی۔لہذا بواسطہ ابن عطیہ حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے اسے موصول قراردیا مگریہ کہ ابن بکیر نے ابن عطیہ سے کہا اوراس میں کوئی خلاف نہیں اس لئے کہ وہ عبداﷲ بن عطیہ اشجعی ہے البتہ اس کی کنیت ابو عطیہ ہےبعض رواۃ مؤطا کو یہ وہم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو عن ابی عطیہ عن ابی برزہ کی سند سے ذکرکیا حالانکہ یہ حضرت ابوہریرہ کی سند سے مروی ہے(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو) علامہ زرقانی نے اس کا افادہ کیا۔(ت)
یہ حدیث دونوں مضمون کی جامع ہے۔
بتیسویں حدیث:صحیح جلیل کہ ایسا ہی رنگ جامعیت رکھتی ہے صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاعدوی وفرمن الجذوم کما تفر من الاسد اوردہ الامام الجلیل الجلال السیوطی بیماری اڑ کر نہیں لگتی اور جذامی سے بھاگ جیسا شیر سے بھاگتا ہے۔جلیل القدر امام جلال الدین سیوطی
حوالہ / References مؤطا امام مالك کتاب الجامع باب عیادۃ المریض والطیرۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ص ۷۲۱
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك کتاب الجامع باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۳۳
صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۰
#3861 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
فی جامعہ الکبیر بھذا اللفظ عازیا لابن جریر عن ابی قلابۃ وفی قسمہ الاول بلفظ لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولاصفر واتقوا المجذوم کما تتقوا الاسد عازیا لسنن البیھقی عن ابی ھریرۃو اوردہ فی اول الجامع ایضا بلفظ لاعدوی ولاطیرۃ ولاھامۃ ولا صفروفرمن المجذوم کما تفرمن الاسد عازیا لاحمد والبخاری عن ابی ھریرۃوھو کذلك فی الجامع الصحیح وبہ ظھر ماقدمنا ان العزو یتبع اللفظ فبالنظر الی حدیث ابی قلابۃ عددناہ بحیالہ ولذا اوردناہ بلفظہ وھو بعینہ لفظ البخاری وان اشتمل علی زیادات لاتوقف لھذا المعنی علیھااقول: وابوقلابۃ ھذا ھو عبداﷲ بن زید الجرمی اپنی جامع کبیرمیں ابوقلابہ کے حوالہ سے امام ابن جریر کی طرف سے نسبت کرتے ہوئے اس لفظ سے لائے ہیں اور اس کی پہلی قسم میں ان الفاظ سے لائے ہیں"لاعدوی"یعنی کوئی مرض اڑ کرنہیں لگتا"ولاھامۃ"نہ الو میں نحوست ہے "ولاصفر"نہ ماہ صفر کی آمدمیں کوئی نحوست ہے۔جذامی سے اس طرح بچوجس طرح شیروں سے بچتے ہو(یعنی بھاگتے ہو)بواسطہ ابوہریرہ سنن بیہقی کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ نیزجامع کی ابتداء میں امام سیوطی ان الفاظ سے لائے ہیں کسی مرض میں تجاوز نہیں نہ الو میں نحوست ہے نہ ماہ صفر میںجذامی سے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ مسند احمد اور بخاری کی طرف نسبت کرتے ہوئے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے۔اور وہ جامع صحیح میں اسی طرح ہے۔اس سے ظاہر ہوگیا کہ جو کچھ ہم پہلے بیان کرآئے ہیں کہ نسبت کرنی لفظ کے تابع ہوتی ہے پھرابوقلابہ کی حدیث کے پیش نظر ہم نے اس کے مقابل سے اس کا شمار کیاہے اس لئے ہم اسے اسی لفظ سے لائے ہیں اور وہ بعینہ بخاری کے الفاظ ہیں اگرچہ وہ کچھ اضافوں پرشامل ہے پس اس معنی کاان پر
حوالہ / References جامع الاحادیث للسیوطی مسند ابی قلابہ حدیث ۱۰۱۴۶ دارالفکر بیروت ۱۷/ ۳۱۴
جامع الاحادیث للسیوطی حدیث ۲۶۱۹۱ دارالفکر بیروت ۸/ ۳۰۰
جامع الاحادیث للسیوطی حدیث ۲۶۱۶۸ دارالفکر بیروت ۸/ ۲۹۷
#3862 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
من ثقات التابعین وعلمائھم کثیرالارسال وکان الاولی ان ینبہ علیہ ثم ان العلامۃ الشمس السخاوی قال فی حدیث اتقوا ذوی العاھات المعنی فرمن المجذوم فرارك من الاسد کما ورد فی بعض الفاظ الحدیث وھو متفق علیہ عن ابی ھریرۃ مرفوعا بمعناہ اھ ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول:لم ارہ لمسلم انما فیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لمجذوم انا قد بایعناك فارجع نعم ھو فی حدیث البخاری بلفظ فر من المجذوم کما تفرمن الاسد والیہ وحدہ عزاہ فی المشکوۃ و کذا الامام النووی فی شرح مسلم تحت حدیثہ المذکور وکذا الامام السیوطی فی اول جامعہ الکبیر فاﷲ تعالی اعلم۔ توقف نہیں(یہ معنی ان پرموقوف نہیں)اقول:(میں کہتا ہوں کہ)یہ ابوقلابہ عبداﷲ ابن زیدجرمی ہے جو ثقات تابعین او ر ان کے علماء میں سے ہے یہ کثیرالارسال ہے بہترتو یہ تھا کہ وہ اس پر آگاہ(تنبیہ)کرتا۔علامہ شمس الدین سخاوی نے فرمایا کہ حدیث اتقوا ذوی العاھات کا معنی فرمن المجذوم فرارك من الاسد(یعنی جذامی آدمی سے اس طرح بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو)جیسا کہ حدیث کے بعض الفاظ میں وارد ہواہے اور وہ بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ متفق علیہ مرفوع بالمعنی روایت ہےاھ مجھے یادہے میں نے اسی پر حاشیہ لکھاہے عبارت یہ ہے اقول:(میں کہتاہوں) میں نے اسے صحیح مسلم میں نہیں دیکھااس میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاجذامی شخص کے بارے میں صرف یہی ارشاد مذکورہے کہ ہم نے تمہیں(زبانی)بیعت کرلیالہذا واپس چلے جاؤہاں البتہ بخاری شریف کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں" جذامی شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح تو
حوالہ / References المقاصد الحسنہ حرف الہمزہ حدیث ۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۸
صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳
صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۰
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مجتبائی دہلی بھارت ص۳۹۱
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳
جامع الاحادیث للسیوطی حدیث ۲۶۱۶۸ دارالفکر بیروت ۸/ ۲۹۷
#3863 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
شیرسے بھاگتاہے"صرف اکیلے بخاری ہی کی طرف مشکوۃ میں اس کی نسبت کی گئی ہے۔اسی طرح امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کے ذیل میں لکھاہے اور اسی طرح اپنی جامع کبیر میں ابتداء امام سیوطی نے فرمایا:درحقیقت اﷲ تعالی ہی سب کچھ جانتاہے۔(ت)
اب بتوفیق اﷲ تعالی تحقیق حکم سنئے اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)احادیث قسم ثانی تو اپنے افادہ میں صاف صریح ہیں کہ بیماری اڑ کر نہیں لگتیکوئی مرض ایك سے دوسرے کی طرف سرایت نہیں کرتاکوئی تندرست بیمار کے قریب واختلاط سے بیمارنہیں ہوجاتاجسے پہلے شروع ہوئی اسے کس کی اڑ کرلگی۔ان متواتر وروشن وظاہر ارشادات عالیہ کو سن کر یہ خیال کسی طرح گنجائش نہیں پاتاکہ واقع میں تو بیماری اڑ کر لگتی ہے مگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کاوسوسہ اٹھانے کے لئے مطلقا اس کی نفی فرمائیپھر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واجلہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی عملی کارروائی مجذوموں کو اپنے ساتھ کھلاناان کا جھوٹا پانی پیناان کاہاتھ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر برتن میں رکھناخاص ان کے کھانے کی جگہ سے نوالہ اٹھاکرکھانا جہاں منہ لگا کر انھوں نے پیا بالقصد اسی جگہ منہ رکھ کر خود نوش کرنا یہ اور بھی واضح کررہی ہے کہ عدوی یعنی ایك کی بیماری دوسرے کو لگ جانا محض خیال باطل ہے ورنہ اپنے آپ کو بلاکے لئے پیش کرنا شرع ہرگزروانہیں رکھتی
قال اﷲ تعالی " ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ"" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)آپ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
رہیں قسم اول کی حدیثیںوہ اس درجہ عالیہ صحت پرنہیں جس پراحادیث نفی ہیں ان میں اکثرضعیف ہیں جیسا کہ ہم بیان و اشارہ کرآئے اور بعض غایت درجہ حسن ہیںصرف حدیث اول کی تصحیح ہوسکتی ہے مگروہی حدیث اس سے اعلی وجہ پر جو صحیح بخاری میں آئی خود اسی میں ابطال عدوی موجود کہ مجذوم سے بھاگو اوربیماری اڑ کر نہیں لگتیتویہ حدیث خود واضح فرمارہی ہے کہ بھاگنے کاحکم اس وسوسہ واندیشہ کی بناء پرنہیںمعہذا صحت میں اس کا پایہ بھی دیگراحادیث نفی سے گراہواہے کہ اسے امام بخاری نے مسندا روایت نہ کیا بلکہ بطورتعلیق
حیث قال قال عفان وعفان ھذا چنانچہ امام بخاری نے فرمایا عفان نے کہا یہ عفان
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
#3864 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وان کان من شیوخ البخاری فکثیرامایروی عنہ بالواسطۃ کما فی فتح الباری وعدولہ عن حدثنا المعتادلہ فی جمیع کتابہ الی قال لایکون الا لوجہ وھذا وان کان وصلا علی طریق ابن الصلاح فلیس المختلف فیہ کالمتفق علیہ وقدجزم المحقق علی الاطلاق فی باب العنین من فتح القدیر ان البخاری رواہ معلقا ثم لعلك تقول مالك حصرت الصحۃ فی الحدیث الاول الیس فیما ذکرت حدیث انا قد بایعناك فارجع اقول:انما یرویہ مسلمھکذا حدثنا یحیی بن یحیی اناھشیم ح قال وثنا ابوبکر بن ابی شیبہ قال ناشریك بن عبداﷲ وھشیم بن بشیر عن یعلی بن عطاء عن عمروبن الشرید عن ابیہ رضی اﷲ تعالی عنہ
اگرچہ شیوخ بخاری(اساتذہ بخاری)میں سے ہے تاہم اس سے بسااوقات بالواسطہ روایت کرتے ہیں جیسا کہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہےامام بخاری کاحدثنا(جوتمام کتب میں حسب معمول وحسب عادت ہے)چھوڑ کر لفظ قال اختیار کرنابغیر کسی وجہ کے نہیں ہوسکتااگرچہ علامہ ابن الصلاح کے طریقے پر یہ صورت وصل ہے تاہم مختلف فیہمتفق علیہ کی طرح نہیں۔محقق علی الاطلاق(ابن ہمام)نے فتح القدیر باب عنین میں اس پر یقین اور وثوق کیاکہ امام بخاری نے اسے معلق روایت کیاہے پھر شاید آپ کہیں کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نے پہلی حدیث میں صحت کو منحصر(بند)کردیا حالانکہ جو کچھ آپ نے ذکرکیا اس میں یہ حدیث ہے انا قدبایعناك فارجع واپس ہوجاؤ ہم نے تمہیں زبانی بیعت کرلیا۔اقول:(میں کہتاہوں)امام مسلم اسے اس سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں ہم سے یحیی بن یحیی نے بیان کیا اسے ہشیم نے بتایا"ح"ہم سے ابوبکر بن شیبہ نے بیان کیا اس نے کہا ہم سے شریك بن عبداﷲ اور ہشیم بن بشیر نے بیان کیا اس نے یعلی بن عطاء اس نے عمروبن شرید اس نے اپنے باپ سے روایت کیا
حوالہ / References فتح الباری شرح البخاری کتاب الطب باب الجذام مصطفی البابی مصر ۱۲ /۲۶۴
فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۱۳۳
صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳
صحیح مسلم کتاب السلام باب اجتناب المجذوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۳
#3865 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وقال ابن ماجۃ حدثنا عمروبن رافع ثناھشیم عن یعلی بن عطاء الخ وھشیم بن شریك کلاھما مدلس وقدعنعنا قال فی التقریب ھشیم بن بشیر ثقۃ ثبت کثیر التدلیس والارسال الخفی وقال فی شریك صدوق یخطی کثیرا تغیر حفظہ منذ ولی القضاء بالکوفۃ وقال فی تھذیب التھذیب قال عبدالحق الاشبیلی کان یدلس و قال ابن القطان کان مشہورابالتدلیس اھ قال و یروی لہ مسلم فی المتابعات اھ کماھھنا اخرج لہ بمتابعۃ ھشیم اما قول من قال ان عنعنۃ المدلسین فی الصحیحین محمول علی السماع فاقول:تقلید جامد ولاننکر تحسین الظن فلیس التخمین کالتبیین اصلا۔ رضی اﷲ تعالی عنہ۔محدث ابن ماجہ نے فرمایا ہم سے عمروبن رافع نے بیان کیا اس نے کہا ہم سے ہشیم نے بواسطہ یعلی بن عطاء بیان کیا الخ ہشیم اور شریك دونوں مدلس ہیں اور دونوں نے عن عن کے الفاظ سے روایت کی ہےچنانچہ التقریب میں فرمایا:ہشیم بن بشیر ثقہثبت ہے مگربہت زیادہ تدلیس اور ارسال خفی کرنے والاہے۔اور شریك کے متعلق فرمایا:سچا ہے لیکن کثیرالخطا ہے اس کے حافظہ میں تبدیلی آگئی تھی جب سے وہ کوفہ میں قاضی مقررہوا۔ تہذیب التہذیب میں کہا کہ عبدالحق اشبیلی نے فرمایا:وہ تدلیس کیاکرتا تھا۔اور ابن القطان نے فرمایا:وہ تدلیس میں مشہورتھا اھ۔فرمایا:امام مسلم اس سے متابعات میں روایت کرتے تھےاھ۔جیسا کہ یہاں ہشیم کی متابعت میں اس سے تخریج فرمائی۔لیکن جس نے یہ کہا کہ تدلیس کرنے والوں کا بخاری ومسلم میں عن عن کہناسماع پرمحمول ہے فاقول: (تومیں کہتاہوں کہ) یہ محض اندھی تقلیدہے اگرچہ ہم حسن ظن کے منکرنہیں تاہم تخمین(اٹکل پچو سے کچھ کہنا)بالکل صاف بیان کرنے کی طرح نہیں ہوسکتا۔(ت)
کوئی حدیث ثبوت عدوی میں نص نہیںیہ تومتواتر حدیثوں میں فرمایا کہ بیماری اڑ کرنہیں لگتیاور یہ ایك حدیث میں بھی نہیں آیا کہ عادی طور پر اڑ کرلگ جاتی ہے۔حدیث چہارم کہ"جذامیوں کو نظرجماکر نہ دیکھو ان کی طرف تیزنگاہ نہ کرو"صاف یہ محمل رکھتی ہے کہ ادھر زیادہ دیکھنے سے تمہیں گھن آئے گی نفرت پیدا ہوگی ان
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب الجذام ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۱
تقریب التہذیب لابن حجرعسقلانی تحت حرف الہاء ترجمہ ۷۳۳۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۹
تقریب التہذیب لابن حجرعسقلانی تحت حرف الشین المعجمہ ترجمہ ۲۷۹۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۴۱۷
تہذیب التہذیب من اسمہ شریك ترجمہ شریك بن عبداﷲ ۵۷۷ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن بھارت ۴/ ۳۳۷
تہذیب التہذیب من اسمہ شریك ترجمہ شریك بن عبداﷲ ۵۷۷ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن بھارت ۴/ ۳۳۷
#3866 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
مصیبت زدوں کو حقیرسمجھوگےایك تو یہ خود حضرت عزت کو پسندنہیں پھر اس سے ان گرفتاران بلا کو ناحق ایذا پہنچے گیاور یہ روانہیں۔علامہ مناوی تیسرشرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
(لاتحدواالنظر)لانہ اذی ان لاتعافوھم فتزدروھم اوتحتقروھم ۔ (نظریں جماکرجذامیوں کونہ دیکھو)اس لئے کہ یہ ایذا ہے کہیں تم ان سے گھن نہ کرنے لگو اور ان کو عیب دارسمجھتے ہوئے تحقیرنہ کرنے لگو۔(ت)
علامہ فتنی مجمع بحارالانوار میں فرماتے ہیں:
لاتدیموا النظرالی المجذومین لانہ اذا ادامہ حقرہ و تاذی بہ المجذوم ۔ نگاہ جماکر جذامیوں کو نہ دیکھو اس لئے کہ یہ ایذا ہے جب کوئی نگاہ جماکرانہیں دیکھے تو انہیں حقیرسمجھے گا اور جذامیوں کو اس طرح تکلیف ہوگی۔(ت)
حدیث ششم میں کہ ان ثقفی سے فرمایا:"پلٹ جاؤتمہاری بیعت ہوگئی"متعدد وجوہ ہیں:
(۱)انہیں مجلس اقدس میں نہ بلایا کہ حاضرین دیکھ کر حقیرنہ سمجھیں۔
(۲)حضار میں کسی کو دیکھ کریہ خیال نہ پیدا ہو کہ ہم ان سے بہترہیںخودبینی اس مرض سے بھی سخت تربیماری ہے۔
(۳)مریض اہل مجمع کو دیکھ کر غمگین نہ ہوکہ یہ سب ایسے چین میں ہیں اور وہ بلامیںتو اس کے قلب میں تقدیر کی شکایت پیداہوگی۔
(۴)حاضرین کالحاظ خاطرفرمایا کہ عرب بلکہ عرب وعجم جمہوربنی آدم بالطبع ایسے مریض کی قربت سے برا مانتے ہیں نفرت لاتے ہیں۔
(۵)اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)ممکن کہ خاطر مریض کالحاظ فرمایا کہ ایسامریض خصوصا نومبتلا خصوصا ذی وجاہت مجمع میں آتے ہوئے شرماتاہے۔
(۶)اقول:ممکن کہ مریض رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاتھوں سے رطوبت نکلتی تھی تو نہ چاہا کہ مصافحہ فرمائیںغرض واقعہ حال محل صدگونہ احتمال ہوتاہے حجت عام نہیں ہوسکتا۔ مجمع البحار میں ہے:
ارجع فقد بایعناك انما ردہ واپس چلے جاؤ بے شك میں نے تمہیں(زبانی)
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث لاتحدوا النظرالی مجذومین مکتبہ امام شافعی الریاض ۲/ ۴۹۱
مجمع بحارالانوار تحت حرف الجیم تحت لفظ"جذام"مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۶
#3867 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
لئلا ینظر الیہ اصحابہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیزدرونہ ویرون لانفسھم علیہ فضلا فیدخلھم العجب اولئلا یحزن المجذوم برؤیۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ ومافضلوا بہ فیقل شکرہ علی بلاء اﷲ تعالی ۔ بیعت کرلیاہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جذامی شخص کو لوٹادیا تاکہ حضورعلیہ السلام کے صحابہ کرام اسے دیکھ کرکہیں حقیر اور گھٹیانہ سمجھنے لگیں اور اپنے آپ کو اس پر ترجیح نہ دینے لگیں۔اس طرح ان میں خودبینی پیداہوجائے گی۔حضورعلیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ ذی شان کو اور ان کے فضل وشرف کو دیکھنے سے کہیں جذامی غمگین نہ ہوپھر اﷲ تعالی کی مصیبت اور بلاپر اس کے جذبات شکر میں کمی نہ آجائے۔(ت)
حدیث ہفتم کہ بچھونا لپیٹنے کو فرمایااقول:(میں کہتاہوں۔ت)ممکن کہ اس لئے فرمایا ہوکہ مریض کے پاؤں سے رطوبت نہ ٹپکے۔
حدیث ہشتم کہ اگرکوئی بیماری اڑ کر لگتی ہو تو جذام ہے۔"اگر"کالفظ خودبتارہاہے کہ اڑ کر لگناثابت نہیں۔تیسیرمیں ہے:
قولہ ان کاندلیل علی ان ھذا الامر غیر محقق عندہ اھ اقول:حملہ علی الشك وماکان ینبغی وانما حقہ ان نقول قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کان فی شیئ من ادویتکم خیرففی شرطۃ محجم او شربۃ من عسل الحدیث رواہ احمد والشیخان والنسائی عن جابر گزشتہ حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد حرف"ان"اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر آپ کے نزدیك ثابت اور محقق نہیں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کو شك پرمحمول کرناہرگز مناسب نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ ہم یوں کہیں کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!) اگرتمہاری کسی دوا اور علاج میں خیرہو توپچھنے لگوانے اور شہد پینے میں ہے(الحدیث)امام احمدبخاریمسلم اور نسائی نے حضرت جابر
حوالہ / References مجمع بحارالانوار حرف الجیم تحت لفظ"جذام"مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۱/ ۳۳۶
تیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث ان کان شیئ من الداء الخ مکتبہ امام شافعی ریاض ۱/ ۳۷۳
صحیح بخاری کتاب الطب باب الدواء بالعسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۴۸،صحیح مسلم کتاب السلام باب لکل داء دواء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۵
#3868 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
رضی اﷲ تعالی عنہ ولاشك ان فی العسل خیراکمانطق بہ القران العزیز وفی الحجامۃ ایضا کما دل علیہ المستفیض من الاحادیث القولیۃ و الفعلیۃ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لوکان شیئ سابق القدر لسبقتہ العین رواہ احمد ومسلم و الترمذی عن ابن عباس واحمدوالترمذی وابن ماجۃ بسند صحیح عن اسماء بنت عمیس رضی اﷲ تعالی عنھم لاشك ان القدر لایسبقہ شیئ فاذا ثبت الوجھان فی امثال المقال جاء الاحتمال فبطل الاستدلال۔ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔بلاشبہہ شہد کے استعمال کرنے میں خیر ہے جیسا کہ قرآن عزیز اس پرناطق ہے اور پچھنے لگانے میں بھی خیرہے جیسا کہ مشہور قولی اور فعلی حدیثیں اس پردلالت کرتی ہیں اور حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگرکوئی چیز قضاوقدر سے آگے بڑھ جاتی تو نظربد آگے بڑھ جاتی۔امام احمدمسلمترمذی نے حضرت عبداﷲ بن عباس سے اس کو روایت کیانیزامام احمدترمذی اور ابن ماجہ نے بسندصحیح اسماء دخترعمیسسے اسے روایت کیاہے(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)اس میں کوئی شك وشبہہ نہیں کہ تقدیر سے کوئی چیز آگے نہیں ہو سکتیپھر جب وہ وجوہات اس قسم کی گفتگو میں ثابت ہوگئیں تو کلام میں احتمال پیداہوگیا(لہذا احتمال کے ہوتے ہوئے) استدلال باطل ہوگیا۔(ت)
رہا اس وادی سے جلد گزرجانا اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس میں وہ پانچ وجوہ پیشین جاگزیں جوحدیث ششم کے بارہ میں گزریں فافھم(لہذا اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ت)حدیث نہم کہ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان بی بی کو منع فرمایا اقول: وہاں بھی چاروجہ اولیں جاری کمالایخفی بادنی تأمل(جیسا کہ معمولی غوروفکر کرنے سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہتی۔ ت) حدیث یازدہم ودوازدہم کافقرہ کہ امیرالمومنین نے معیقیب رضی اﷲ تعالی عنہما سے فرمایا دوسراہوتا تو مجھ سے ایك نیزے کے فاصلہ پربیٹھتا اقول: انہیں حدیثوں میں ہے کہ ان کو اپنے ساتھ کھلایااگریہ امرعدوی کاسبب عادی ہوتا تواہل فضل کی خاطر سے اپنے آپ کو معرض بلا میں ڈالنا روانہ ہوتا۔اور تیرہویں حدیث نے توخوب
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن اسماء بنت عمیس المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۴۳۸،صحیح مسلم کتاب السلام باب الطب والمرض الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۰،سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب من استرقی الھین ص۲۵۹
#3869 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ظاہرکردیاکہ امیرالمومنین خیال عدوی کی بیخ کنی فرماتے تھےنری خاطرمنظورتھی تو اس شدت مبالغہ کی کیاحاجت ہوتی کہ پانی انہیں پلاکر ان کے ہاتھ سے لے کر خاص ان کے منہ رکھنے کی جگہ پرمنہ لگاکر خود پیتےمعلوم ہوا کہ عدوی بے اصل ہے تو اس فرمانے کا منشاء مثلا یہ ہوکہ ایسے مریض سے تنفر انسان کاایك طبعی امرہے آپ کافضل اس پرحامل ہے کہ وہ تنفرمضمحل وزائل ہوگیا دوسراہوتا توایسانہ ہوتا۔حدیث سی ویکم کہ تندرست جانوروں کے پاس بیمار نہ لائے جائیں اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کی وجہ خود حدیث مؤطائے امام مالك وسنن بیہقی نے ظاہرکردی کہ یہ صرف لوگوں کے برا ماننے کے لحاظ سے ہے ورنہ بیماری اڑ کرنہیں لگتیولہذا ہم نے اس حدیث کو احادیث قسم اول میں شمار بھی نہ کیا۔اب نہ رہیں مگر پانچ حدیثیں اول دوم سوم پنجم دہم اقول: قطع نظر اس سے کہ ان میں دوم کی سندواہی اور سوم کی خود حضرت عبداﷲ بن جعفررضی اﷲ تعالی عنہما نے جن کی طرف وہ نسبت کی جاتی تھی تکذیب فرمائیاور دہم کہ امیرالمومنین سے ایك صحابی جلیل القدرمنجملہ اصحاب بدرومہاجرین سابقین اولین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کی نسبت اس کا صدورسخت مستبعد تھامتعدد حدیثوں نے اس کا خلاف ثابت کردیا جیسا کہ امیرالمومنین سے مظنون تھا کماسبق ذلك کلہ فھذا منقطع باطنا ومعلول غیرمقبول(یہ سب کچھ پہلے گزرچکاہے لہذا یہ اندرونی طورپرمنقطعمعلول غیرمقبول ہے۔ت)ان میں کسی کاحاصل حدیث اول کے حاصل سے کچھ زائد نہیں اور ان میں وہی صحیح یاحسن ہے تو اسی کی طرف توجہ کافی۔علماء کے لئے یہاں متعدد طریقے ہیں:
اول: اس کے ثبوت میں کلام بہ طریقہ ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کاہے جیسا کہ حدیث ہفدہم میں گزرا۔
اقول:طریقتھا رضی اﷲ تعالی عنھا معروفۃ فی امثال الاحادیث التی ترد علی خلاف ماعندھا من العلم القطعی المستند الی القران العظیم اوالسماع الشفاھی من حبیب الکریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان تنسب راویھا الی السہو والوھم فی السماع والفھم کما قالت فی حدیث امیرالمومنین عمر اقول:(میں کہتاہوں)سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کاطریقہ کار اس قسم کی حدیثوں کے رد میں جو اس علم قطعی کی بناء پرجوان کے نزدیك ثابت شدہ ہے یہ ہے کہ جس کی سندقرآن عظیم یا حضورکریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بالمشافہ سماع پرہے مشہورومعروف ہے کہ سماع وفہم میں راوی کی طرف سہوووہم کی نسبت کرتی ہیں جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے
#3870 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم ان المیت لیعذب ببعض بکاء اھلہ علیہ یرحم اﷲ عمر لاواﷲ ماحدث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ یعذب المومن ببکاء اھلہ ولکن اﷲ تعالی یزید الکافر عذابا ببکاء اھلہ علیہ وقالت حسبکم القران" ولا تزر وازرۃ وزر اخری "رواہ الشیخان وقالت یغفر اﷲ لابی عبدالرحمن ترید ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم فانہ ایضا روی الحدیث کابیہ اما انہ لم یکذب ولکنہ نسی انما مر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی یھودیۃ یبکی علیھا فقال انھم لیبکون علیھا وانھا لتعذب فی قبرھا رویاہ ایضا۔وفی لفظ ام واﷲ ماتحدثون ھذا الحدیث عن الکاذبین ولکن السمع یخطی وان لکم حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے یہ روایت فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا بعض دفعہ میت پرگھروالوں کے رونے سے اسے عذاب دیاجاتاہے۔مائی صاحبہ نے فرمایا اﷲ تعالی عمر(رضی اﷲ تعالی عنہ)پررحم فرمائے خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں یہ ارشاد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانہیں کہ گھروالوں کے رونے کی وجہ سے میت کوعذاب ہوتاہے بلکہ حدیث یوں ہے کہ اﷲ تعالی کافر کے عذاب میں اضافہ فرمادیتا ہے جبکہ اس کے گھروالے اس پرروئیں۔چنانچہ مائی صاحبہ نے فرمایا اس بارے میں تمہیں قرآن مجید کافی ہے (چنانچہ ارشاد ربانی ہے)کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کابوجھ نہ اٹھائے گی۔بخاری ومسلم نے اسے روایت کیاہےاور ام المومنین نے ارشاد فرمایا اﷲتعالی ابوعبدالرحمن یعنی عبداﷲ ابن عمر کو معاف کرے کہ انہوں نے بھی اپنے والدگرامی کی طرح حدیث روایت کردی۔سن لو انہوں نے جھوٹ نہیں کیا البتہ وہ بھول گئے(اصل واقعہ)یہ تھا کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك مردہ یہودیہ کے پاس سے گزرے کہ جس پر رویا جارہاتھا آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اس پرگریہ وبکا کررہے ہیں مگر اس کو قبرمیں عذاب دیاجارہاہے۔بخاری ومسلم دونوں نے اس کو روایت
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجنائز باب قول النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یعذب المیت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۲،صحیح مسلم کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۳
صحیح البخاری کتاب الجنائز ۱/ ۱۷۲ و صحیح مسلم کتاب الجنائز ۱/ ۳۰۳
#3871 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
فی القران مایشفیکم ان لاتزر وازرۃ وزراخری ولکن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان اﷲ عزوجل لیزیدالکافر عذابا ببعض بکاء اھلہ علیہ رواہ الامام الطحاوی وقالت فی حدیثھما ایضا اعنی امیر المؤمنین وابنہ عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھم ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فی نتنی بدر والذی نفسی بیدہ ماانتم باسمع لما اقول منھم رویاہ ایضا انما قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھم لیعلمون الان ماکنت اقول لھم حق و قدقال اﷲ تعالی " انک لا تسمع الموتی"رواہ البخاری
ولما بلغھا حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان کیا ہے۔ایك حدیث کے الفاظ یہ ہیں:سنو لوخدا کی قسم یہ حدیث تم جھوٹوں سے نہیں روایت کرتے لیکن سننے میں بھی غلطی لگ جاتی ہے اور تمہارے لئے قرآن مجید میں تمہاری شفاء کے اسباب موجود ہیں کہ کوئی جان کسی دوسری جان کابوجھ نہ اٹھائے گی لیکن حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالی(مرنے والے)کافرکے عذاب کو اس کے بعض گھروالوں کے رونے کی وجہ سے بڑھادیتاہے۔ امام طحاوی نے اسے روایت کیاہےام المومنین نے ان دونوں کی حدیث کے متعلق ارشاد فرمایا(ان دونوں سے مراد امیرالمومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں) حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بدبودار کفارمقتولین بدر کے متعلق ارشاد فرمایا اس پروردگار کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو کچھ میں ان سے فرمارہاہوں تم ان سے زیادہ نہیں سنتےنیزدونوں نے اس کو روایت فرمایا (یہاں بھی ام المومنین نے یہ ارشاد فرمایا)نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تو یہ ارشاد فرمایاتھا۔اب وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ حق ہے جو میں ان سے کہتاتھا۔حالانکہ بلاشبہہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا یقینا آپ مردوں کو
حوالہ / References شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراہۃ باب البکاء علی المیت الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۶
صحیح البخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۶۶
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماجاء فی عذاب القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
#3872 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان الطیرۃ فی المرأۃ والدار والفرس فغضبت غضبا شدیدا وقالت والذی نزل القران علی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماقالھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما قال اھل الجاھلیۃ کانوایتطیرون من ذلك رواہ الطحاوی وابن جریر عن قتادۃ عن ابی حسان ورواہ ایضا الحاکم والبیہقی وماذلك الا لان العلم عند ھا من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی خلاف ذلك فقد قالت کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یبغض الطیرۃ ویکرھھا رواہ الامام الطحاوی وروی ایضا انہ قیل لعائشۃ ان اباھریرۃ یقول لان یمتلی جوف احدکم قیحا خیرلہ من ان یمتلیئ شعرا فقالت یرحم اﷲ اباھریرہ حفظ اول الحدیث نہیں سناسکتے۔امام بخاری نے اس کو روایت کیاہے۔(یونہی) جب ام المومنین کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی یہ حدیث پہنچی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتگھر اور گھوڑے میں نحوست ہے۔تو آپ بہت زیادہ غضبناك ہوئیں اور فرمایا:اس خدابزرگ وبرتر کی قسم جس نے محمد کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرمقدس قرآن نازل فرمایا کہ حضورپاك نے اس طرح نہیں ارشاد فرمایا بلکہ یوں ارشاد فرمایا کہ دورجاہلیت والے ان چیزوں سے نحوست اور بدشگونی لیتے تھے۔امام طحاوی وابن جریر نے بواسطہ قتادہ بواسطہ ابوحسان اسے روایت کیاہے نیز حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیاہے۔رہایہ کہ ام المومنین ایساکیوں کرتی تھیںاس کی وجہ یہ تھی کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے انہیں جو یقینی علم حاصل تھا وہ مذکورہ روایتی الفاظ کے خلاف تھا۔بلاشبہہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم بد شگونی اور نحوست کے تصور کو مبغوض خیال فرماتے اور ناپسند کرتے تھے۔امام طحاوی نے اسے روایت فرمایا اور یہ بھی روایت فرمایا کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ سے کہاگیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھرجانا بنسبت اشعار سے بھرجانے کے بہترہے
حوالہ / References شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۹
شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۸
#3873 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ولم یحفظ اخرہ ان المشرکین کانوایھاجون رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لان یمتلیئ جوف احدکم قیحا خیرلہ من ان یمتلیئ شعرا من مھاجاۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھ ذلك لانھا سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول ان من الشعر لحکمۃ وسمعتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتمثل بشعر ابن رواحۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وربما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھذا البیت ویأتیك بالاخبار من لم تزود روی الکل الطحاوی کذلك قالت ھھنا لسماعھا منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا عدوی فمن اعدی الاول والسبب فی ذلك مااشرنا تو ام المومنین نے یہاں بھی فرمایا اﷲ تعالی ابوہریرہ پررحم فرمائے کہ انہیں حدیث کاپہلاحصہ یادرہا اور آخری حصہ محفوظ نہ رہا(اصل واقعہ یہ تھا)مشرکین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مذمت کیاکرتے اور آپ کے خلاف بدگوئی سے کام لیتے تھے تو اس بارے میں حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم میں سے کسی کاپیٹ پیپ سے بھرجاتا تو اس کے لئے بہترتھا بنسبت حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ہجواور مذمت والے اشعار سے بھرنے کے اھاور یہ اس لئے فرمایا کہ ام المومنین نے حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے خود سناتھا کہ آپ نے فرمایا بعض اشعار حکمت پرمبنی ہوتے ہیں یاحکمت والے ہوتے ہیںاور یہ بھی سناتھا کہ آپ ابن رواحہ کے اشعارپڑھاکرتے تھے(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)اور کبھی آپ نے یہ شعر بھی پڑھا ویأتیك بالاخبار من لم تزود یعنی تیرے پاس وہ شخص خبریں لائے گا جس کو تونے توشہ نہ دیاسب کو امام طحاوی نے روایت کیاہےیہاں بھی اسی طرح مائی صاحبہ نے ارشاد فرمایا اس لئے کہ خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ سناتھا کسی مرض میں تعدیہ اور تجاوز نہیں ورنہ پہلے مریض کو
حوالہ / References شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب روایۃ الشعرالخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۸
شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب روایۃ الشعرالخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۹
شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب روایۃ الشعرالخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۹
#3874 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
الیہ من ان اخبار الاحاد لاتعارض ماعندھا من القطعی فما وقع من العلامۃ ابی الفرج ابن الجوزی حیث ذکرفی حدیث الشوم فی ثلثان عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قد غلظت علی من روی ھذا الحدیث وقالت انما کان اھل الجاھلیۃ یقولون الطیرۃ فی المرأۃ والداروالدابۃ ثم قال وھذا رد لصریح خبررواتہ ثقات الخ کما نقلہ الامام العینی فی عمدۃ القاری منشؤۃ الغفلۃ عن النکتۃ التی ذکرتھا ثم قولہ وقالت انما کان اھل الجاھلیۃ یقولون الخ اقول: ماقالتہ بل رواتہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کما ھو صریح نص روایۃ الطحاوی ومن ذکرنا جمیعا وای ثقۃ اوثق منھا رضی اﷲ تعالی عنہا۔ کیسے اڑ کرلگ گیا اور اس کا سبب وہی ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرآئے ہیں کہ اخباراحاد اس علم قطعی کاتعارض نہیں کرسکتیں جومائی صاحبہ کے پاس تھا علامہ ابوالفرج ابن جوزی سے(مائی صاحبہ کے متعلق)جو کچھ واقع ہوا اس کامنشاء اس نکتہ سے غفلت ہے جومائی صاحبہ نے ذکر فرمایا(اس کی تفصیل یہ ہے)چنانچہ علامہ ابن جوزی نے ذکرفرمایا کہ حدیث میں تین چیزوں کی نحوست کاذکرآیا ہے:عورت گھرچوپایہ۔اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے اس پر شدت اختیار کی جس نے یہ روایت حدیث بیان کیاور فرمایا کہ اہل جاہلیت یہ کہاکرتے تھے کہ عورتگھر اور چوپائے میں نحوست ہواکرتی ہے۔پھرابن جوزی نے کہا لیکن یہ تو اس حدیث کا صراحتا رد ہے کہ جس کو ثقہ اور مستند راویوں نے روایت کیاہےجیسا کہ امام عینی نے اس کو نقل فرمایا ہے پھرعلامہ ابن جوزی کایہ کہنا کہ مائی صاحبہ نے فرمایا اہل جاہلیت کہاکرتے تھے الخ اقول:(میں کہتاہوں)مائی صاحبہ نے خود تو یہ نہیں فرمایا خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرمائی جیسا کہ وہ روایت طحاوی اور ہمارے ذکرکردہ ان سب لوگوں کی صریح نص ہے۔اور کون سا ثقہ مائی صاحبہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے زیادہ ثقاہت رکھتا ہے۔(ت)
دوم مجذوم وغیرہ سے بھاگنے کی حدیثیں منسوخ ہیںاحادیث نفی عدوی نے انہیں نسخ کردیاعمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں امام قاضی عیاض سے منقول:
ذھب عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وجماعۃ من حضرت عمرفاروق اور سلف کاایك گروہ اس طرف
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری بحوالہ ابن الجوزی کتاب الطب باب الطیرۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۷۳
#3875 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
السلف الی الاکل معہ وان الامر باجتنابہ منسوخ وممن قال بذلك عیسی بن دینار من المالکیۃ اھ وردہ الامام النووی بوجہین احدھما ان النسخ یشترط فیہ تعذر الجمع بین الحدیثین ولم یتعذر بل قدجمعنا بینھما والثانی انہ یشترط فیہ معرفۃ التاریخ و لیس ذلك موجودا ھھنا اقول: نص القاضی ان امیرالمومنین کان یراہ منسوخا فانکان ھذا عن روایۃ کما ھو ظاھر اللفظ لم یرد علیہ شیئ من الوجہین لان الامیرالمومنین لایقول بہ الاعن علم وبعدہ لامساغ للجمع وان امکن باسھل وجہ نعم ان ذکرہ القاضی ظنا منہ فالوجہان وجیھان اقول: وثالثھما ماروینا فی الحدیث الثانی والثلثین حیث جمع صلی اﷲ تعالی علہ وسلم کلا الکلامین فی نسق واحد فاین النسخ لاسیما گئے ہیں کہ جذامی شخص کے ساتھ کھاناجائزہے اور اس سے بچنے کاحکم منسوخ ہے۔او رجن لوگوں نے یہ کہا ان میں عیسی ابن دینار مالکی ہیں اھ لیکن امام نووی نے اسے دووجہوں سے رد کیاہےایك وجہ یہ ہے کہ نسخ کے لئے شرط یہ ہے کہ دو حدیثیں جمع نہ ہوسکیں اور یہاں جمع میں کوئی دشواری نہیں بلکہ ہم نے دونوں حدیثوں کو جمع کردیاہےدوسری وجہ یہ کہ نسخ میں شرط ہے کہ تاریخ معلوم ہو(تاکہ پہلی کو منسوخ اور دوسری کوناسخ قراردیں)اور یہاں یہ موجودنہیں اقول: (میں کہتاہوں)امام قاضی عیاض نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ امیرالمومنین حدیث مذکور کو منسوخ سمجھتے تھے۔اگریہ بات روایت ہے جیسا کہ الفاظ سے ظاہرہوتاہے توپھردونوں وجہیں اس پر واردنہیں ہوسکتیں اس لئے کہ امیرالمومنین بغیر علم کے ایسانہیں فرماسکتے۔اور نسخ کے بعد جمع کی گنجائش نہیں اگرچہ کسی زیادہ آسان وجہ سے ممکن ہو۔ہاں اگرقاضی عیاض نے یہ(دعوی نسخ)اپنے گمان سے ذکرکیاہوتو پھر دونوں وجہیں وجیہہ ہیںاور ان دونوں کے علاوہ تیسری وجہ وہ جس کوہم نے بتیسویں حدیث میں روایت کیاہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دونوں کلاموں کو ایك ترتیب (نسق واحد)میں جمع فرمایا پھرنسخ کہاں ہےچنانچہ
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری بحوالہ ابن الجوزی کتاب الطب باب الجذام ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۴۷
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب لاعدوٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰
#3876 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاعدوی مقدم فیہ علی وفرمن الجذوم وماکان لصدر الکلام ان ینسخ اخرہ۔ خصوصا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کاارشاد "لاعدوی" "وفرمن الجذوم"سے مقدم ہے اور صدرکلام کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ آخر کلام کو منسوخ کردے۔(ت)

سوم بھاگنے کاحکم اس لئے ہے کہ وہاں ٹھہریں گے تو ان پرنظر پڑے گی اور اس سے وہ مفاسد عجب وتحقیر وایذا پیداہوں گے جن کاذکرگزرا۔عمدۃ القاری میں ہے:
قال بعضھم الخبر صحیح وامرہ بالفرار منہ لنہیہ عن النظر الیہ اھ مافی العینی اقول: ولایحتملہ الحدیث الخامس ونظراؤہ ممافیہ الامران یکونوا فیھم بفصل رمح اورمحین۔ بعض اہل علم نے فرمایا حدیث صحیح ہے اور جذامی آدمی سے دوربھاگنے کاحکم اس لئے دیاگیا کہ اس کی طرف دیکھنے کی ممانعت ہے۔جو کچھ عینی میں ہے وہ پوراہوگیاہے اقول: (میں کہتاہوں)پانچویں حدیث اور اس کی امثال اس کا احتمال نہیں رکھتیں اس لئے کہ ان میں یہ امرہے کہ ان جذامیوں سے ایك یا دونیزے دوررہیں۔(ت)
چہارم: امرفرار اس لئے ہے کہ اس کی بدبو وغیرہ سے ایذانہ پائیں۔شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے:
قیل النھی لیس للعدوی بل للتاذی بالرائحۃ الکریھۃ ونحوھا اھ اقول: وھذا ظاھر البعدفافھم۔ کہاگیاکہ نہی تعدیہ مرض کے لئے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کی بدبو وغیرہ سے ایذا نہ ہو اھ اقول:(میں کہتاہوں کہ) یہ بظاہر بعید ہے لہذا اس کو اچھی طرح سمجھ لیناچاہئے۔(ت)
پنجم: قول مشہور ومذہب جمہورومشرب منصورکہ دوری وفرار کاحکم اس لئے ہے کہ اگر قرب واختلاط رہا اور معاذاﷲ قضاوقدر سے کچھ مرض اسے بھی حادث ہوگیا تو ابلیس لعین اس کے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھ بیماری اڑ کر لگ گئی۔یہ اول تو ایك امر باطل کااعتقاد ہوگا اسی قدرفساد کے لئے کیاکم تھا پھر متواتر حدیثوں میں سن کرکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صاف فرمایاہے بیماری اڑ کرنہیں لگتییہ وسوسہ دل میں جمنا سخت خطرناك وہائل ہوگالہذا ضعیف الیقین لوگوں کو اپنادین بچانے کے لئے دوری
حوالہ / References عمدۃ القاری کتاب الطب باب الجذام ادارۃ الطباعۃالمنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۴۷
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب لاعدوٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰
#3877 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
بہترہےہاں کامل الایمان وہ کرے جوصدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما نے کیا اور کس قدرمبالغہ کے ساتھ کیا اگر عیاذا باﷲ کچھ حادث ہوتا ان کے خواب میں بھی خیال نہ گزرتاکہ یہ عدوائے باطلہ سے پیداہوا ان کے دلوں میں کوہ گراں شکوہ سے زیادہ مستقرتھا کہ " لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا " (ہمیں ہرگزکچھ پہنچتا(یاپہنچ سکتا)سوائے اس کے جو اﷲ تعالی نے ہمارے مقدرمیں لکھ دیاہے۔ت)بے تقدیرالہی کچھ نہ ہوسکے گااسی طرف اس قول وفعل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کھلایا اور کل ثقہ باﷲ وتوکلا علیہ(ایك جذامی سے آپ نے فرمایا)اﷲ تعالی پراعتماد اور بھروسا کرتے ہوئے(ہمارے ساتھ)کھائیے۔ت)فرمایا۔امام اجل امینامام الفقہاء وامام المحدثینوامام اہل الجرح والتعدیلوامام اہل التصحیح والتعلیلحدیث وفقہ دونوں کے حاوی سیدنا امام ابوجعفر طحاوی شرح معانی الآثار شریف میں دربارہ نفی عدوی احادیث سعدبن مالك وعلی مرتضی وعبداﷲ بن عباس وابی ہریرہ وعبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عمر وجابر بن عبداﷲ وانس بن مالك وسائب بن یزید وابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہم روایت کرکے فرماتے ہیں:
فقد نفی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم العدوی وفی ھذہ الاثار وقد قال فمن اعدی الاول ای لما کان مااصاب الاول انما کان بقدراﷲ عزوجل کان ما اصاب الثانی کذلکفان قال قائل فنجعل ھذا مضادا لما روی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا یورد ممرض علی مصح کما جعلہ ابوھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قلت لاولکن یجعل قولہ لاعدوی کماقال النبی صلی اﷲ بیشك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان آثار میں(احادیث)تعدیہ مرض کی نفی فرمائیچنانچہ آپ کاارشاد ہے کہ پہلے مریض کو کیسے تعدیہ مرض ہوا بلکہ اﷲ تعالی عزوجل کی تقدیر سے لاحق ہوا۔اس لئے دوسرے کوبھی جو کچھ پہنچا اسی طرح پہنچااگرکوئی قائل یوں کہے کہ ہم اس کو اس حدیث کے متضاد قراردیتے ہیں جو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے کہ کوئی مریض کسی تندرست آدمی کے پاس نہ جائے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہی کہا ہے۔قلت(میں کہتاہوں کہ)ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے ارشاد لاعدوی کو لیتے ہیں جیسا کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۵۱
#3878 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
تعالی علیہ وسلم نفی العدوی ان یکون ابدا ویجعل قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایورد ممرض علی مصح علی الخوف منہ ان یورد علیہ فیصیبہ بقدر اﷲ تعالی مااصاب الاول فیقول الناس اعداہ الاول فکرہ ایراد المصح علی الممرض خوف ھذا القولوقد روینا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ھذہ الاثار ایضا وضعہ یدالمجذوم فی القصعۃ فدل فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایضا علی نفی الاعداء لانہ لوکان الاعداء مما یجوزان یکون اذا لما فعل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مایخاف ذلك منہ لان فی ذلك جرالتلف الیہ وقد نھی اﷲ عزوجل عن ذلك فقال ولاتقتلوا انفسکم ومررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھدف مائل فاسرع فاذا کان یسرع من الھدف المائل مخافۃ الموت فکیف یجوز علیہ ان یفعل مایخاف منہ الاعداءفھذا معنی ھذہ الاثار عندنا واﷲ تعالی اعلم ملتقطا۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا توتعدیہ مرض کی ہمیشہ نفی ہوگی اور ہم حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد"کوئی مریض کسی تندرست پرنہ وارد ہو"کی بنیاد اس اندیشہ پررکھتے ہیں کہ مریض کبھی کبھار صحت مند اور تندرست کے پاس جائے اور پھرتندرست کوتقدیرالہی سے وہی مرض لاحق ہوجائے جس میں مریض مبتلا ہوچکاہو تو لوگ کہیں گے کہ پہلے کامرض(بطورتجاوز)اس میں سرایت کرگیاہے تو پھر اس کہنے کے اندیشہ سے کسی تندرست کا مریض کے پاس جانا یا اس کاالٹ ناپسندکیاگیا اور ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ان آثار میں روایت کی کہ آپ نے خود جذامی کاہاتھ پکڑ کر کھانے کے پیالے میں رکھااس طرح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کااپنا مبارك عمل بھی تعدیہ مرض کی نفی کی دلیل ہے۔اگرتعدیہ مرض کسی طرح امکان رکھتا تونبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کبھی ایساخطرناك کام(جذامی کو اپنے ساتھ کھانا کھلانے والا)نہ کرتے کیونکہ اس میں ایذا کو اپنی طرف کھینچ کرلاناہے حالانکہ اﷲ تعالی بزرگ وبرتر نے اس سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے:(لوگو!)اپنے آپ کو قتل نہ کرورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك جھکے ہوئے (گرنے والے)ٹیلے کے پاس سے گزرے تو گزرنے میں جلدی سے کام لیاجب آپ نے گرنے والے ٹیلے سے گزرتے ہوئے اس
حوالہ / References شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۱۷
#3879 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
خطرے کے پیش نظر کہ کہیں اس کے گرپڑنے سے ہلاکت نہ ہوجائے آپ نے جلدی فرمائیتو پھر آپ کے لئے کیسے رواہے کہ آپ وہ کام کریں کہ جس سے تعدیہ مرض کااندیشہ اور خطرہ رہے۔پھر ہمارے نزدیك ان آثار کایہ مفہوم ہے۔واﷲ تعالی اعلم ملتقطا۔(ت)
عمدۃ القاری میں ہے:
التوفیق بین الحدیثین بماقالہ ابن بطال و ھو ان لا عدوی اعلام بانھا لاحقیقۃ لھاواما النھی فلئلا یتوھم المصح ان مرضھا من اجل ورود المرضی علیھا فیکون داخلا بتوھمہ ذلك فی تصحیح ماابطلہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من العدوی ۔ دونوں حدیثوں میں موافقت ابن بطال کے قول کے مطابق یہ ہے کہ لاعدوی کسی مرض میں تجاوز کے لئے نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ تعدیہ مرض کی کوئی حقیقت نہیںرہا یہ کہ پھر ایسے مریضوں کے ساتھ میل جول سے کیوں روکاگیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تندرست آدمی کو اگرمریض کے پاس آمدورفت کے دوران وہی مرض لگ گیا تو اس کے دل میں وہم پیداہوجائے گا کہ اسے یہ مرض مریض ہی سے لگا ہے اور پھر وہ اس وہم سے تعدیہ مرض کی صحت کا قائل ہوجائے گا کہ جس کا خود حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ابطال فرمایا(ت)
ماثبت بالسنۃ میں جامع الاصول سے ہے:
یقال اعدی المرض اذا اصابہ مثلہ لمقارنتہ و مجاورتہ اومؤاکلتہ ومباشرتہ وقدابطلہ الاسلام کہاجاتاہے اعدی المرض یعنی مرض تجاوز کرگیا جبکہ کسی مریض کے ساتھ میل جول اور اس کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت سے کسی تندرست آدمی کو اسی جیسا مرض لگ جائے(تو اس وقت یہ کہاجاتا ہے کہ مریض کامرض اڑ کر فلاں تندرست آدمی کو لاحق ہوگیاہے)حالانکہ اسلام نے تعدیہ مرض کاابطال کیاہے۔(ت)
اسی میں مشارق الانوار امام قاضی عیاض سے ہے:
العدوی ماکانت تعتقدہ الجاھلیۃ من تعدی داء ذی الداء الی من یجاورہ تعدیہ مرض جس کااعتقاد اہل جاہلیت رکھتے تھے کہ کسی مریض کامرض اس شخص تك تجاوز کرجاتا
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الطب باب لاھامۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۸۸
ماثبت بالسنۃ مترجم ذکرشہرصفر ادارہ نعیمیہ رضویہ سواداعظم لاہور ص۵۲
#3880 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ویلاصقہ ممن لیس بہ داء فنفاہ الشرع وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاعدوی یحتمل النھی عن قول ذلك واعتقادہ و النفی لحقیقۃ ذلك کما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایعدی شیئ شیئا وقولہ فمن اعدی الاول وکلاھما مفھوم من الشرع ۔ اور پہنچ جاتا ہے جو اس مریض سے قرب اور اتصال رکھے باوجودیکہ اس میں پہلے کوئی مرض نہ تھا پس شریعت نے اس اعتقاد کی نفی فرمائی ہےحضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد لاعدوی یہ احتمال رکھتاہے کہ اس کہنے اور اعتقاد رکھنے سے نہی ہو اور اس کی حقیقت کی نفی ہو۔جیسا کہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طرف تجاوز نہیں کرتیاور آپ کا ارشاد گرامی ہے پھر پہلے مریض میں کیسے تعدیہ مرض پیدا ہوا۔اور یہ دونوں باتیں شریعت سے سمجھی گئیں۔(ت)
اسی میں نزہۃ النظرللحافظ ابن حجر سے ہے:
الاولی فی الجمع ان یقال ان نفیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للعدوی باق علی عمومہ و قدصح قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایعدی شیئ شیئا وقولہ فمن اعدی الاول یعنی ان اﷲ سبحنہ وتعالی ابتدأ ذالك فی الثانی کما ابتدأہ فی الاول واما الامر بالفرار من المجذوم فمن باب سدالذرائع لئلا یتفق للشخص الذی یخالطہ شیئ من ذلك بقدراﷲ تعالی ابتداء لابالعدوی المنفیۃ فیظن ان ذلك بسبب مخالطۃ فیعتقد صحۃ العدوی فیقع فی الحرج فامر بتجنبہ حسما للمادۃ واﷲ تعالی اعلم۔ دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں بہتریہ ہے کہ یوں کہاجائے کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تعدیہ مرض کی نفی کرنا اپنے عموم پرباقی ہے اور بلاشبہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی صحیح ہے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز کی طرف تجاوز نہیں کرتیاور آپ کا یہ ارشاد مبارك کہ پہلے میں کیسے مرض ہوا۔اﷲ تعالی پاك وبرتر نے ہی دوسرے مریض کو بھی مرض لاحق کیا جس طرح اس نے پہلے مریض کو لاحق کیاتھا۔جہاں تك جذامی سے دوربھاگنے او ردوررہنے کے حکم کاتعلق ہے تو یہ ذرائع اور وسائل کو بند کرنے کے باب سے ہےیعنی جو شخص تندرست حالت میں جذامی آدمی کے ساتھ اختلاط اور میل جول رکھے اور اتفاقا اسے اﷲ تعالی
حوالہ / References ماثبت بالسنۃ مترجم ذکرشہرصفر ادارہ نعیمیہ سواداعظم لاہور ص۵۲
ماثبت بالسنۃ مترجم ذکرشہرصفر ادارہ نعیمیہ سواداعظم لاہور ص۸۴
#3881 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
کی قضأ وقدر سے وہی مرض لاحق ہوجائے تو وہ یہ کہنے لگے گا کہ یہ مرض اس مریض سے میل جول اور اختلاط کی وجہ سے پیدا ہوگیاہے پھروہ صحت تعدیہ کااعتقاد رکھنے لگے گا اور حرج میں پڑجائے گا بایں وجہ اسے جذامی آدمی سے دور رہنے اور بچنے کاحکم دیاگیاتاکہ شکوك وشبہات پیداہی نہ ہونے پائیں او ر مادہ ہی کٹ جائےواﷲ تعالی اعلم(ت)
شرح مصابیح امام تورپشتی وشرح مشکوۃ علامہ طیبی ومرقاۃ علامہ قاری وشرح الموطا للعلامہ محمدالزرقانی وغیرہا میں ہے:
واللفظ للزرقانی الاکثر ان المراد نفی ذلك وابطالہ کما دل علیہ ظاھر الحدیث ۔ علامہ زرقانی کے الفاظ یہ ہیں اکثر کی رائے یہ ہے کہ اس نفی سے اس کا ابطال مراد ہے جیسا کہ اس پرظاہر حدیث دلالت کرتی ہے(ت)
اشعۃ اللمعات شیخ محقق میں ہے:
اکثربرآنند کہ مراد نفی عدوی وابطال اوست مطلقا چناچہ ظاہراحادیث درآن ست ۔ اکثراہل علم اس نظریہ پرقائم ہیں کہ نفی تعدیہ سے اس کا مطلقا ابطال مرادہے جیسا کہ ظاہر احادیث اس پردال ہیں (ت)
اسی میں ہے:
اعتقاد جاہلیت آں بود کہ بیمارے کہ درپہلوئے بیمارے نشیند یاہمراہ وے بخورد سرایت کند بیماری اوبوے گفتہ اند کہ بزعم اطبا ایں سرایت درہفت مرض است جذام وجرب وجدری وحصبہ وبخرو رمد وامراض وبائیہ پس شارع آنرا نفی کرد وابطال نمود یعنی سرایت نمی باشد بلکہ قادر مطلق ہمچناں کہ اورا بیمار کردایں را اہل جاہلیت کا اعتقاد یہ تھا کہ اگرکوئی تندرست آدمی کسی بیمار کے پہلو میں بیٹھے یا ا س کے ساتھ کھانے پینے میں شریك ہو تو اس مریض کا مرض تندرست آدمی میں سرایت کرجاتا ہے۔کہتے ہیں کہ اطباء کے خیال میں متعدی امراض سات ہیں اور وہ یہ ہیں:(۱)کوڑھ(۲)خارش (۳)چیچك (۴) خسرہ(۵)گندہ دہن ہونا(۶)آنکھوں کی بیماری(۷)وبائی امراض(یعنی
حوالہ / References شرح الزرقانی علی مؤطا امام مالك باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۳۳
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ باب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۶۲۲
#3882 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
نیزکرد ۔ ہیضہطاعون وغیرہ)شارع نے ان سب کے تعدیہ کی نفی فرمائی اور اس کا ابطال کیاپس شارع کی مراد یہ ہے کہ کسی مرض میں سرایت اور تجاوز نہیں(کہ ایك کا مرض بوجہ اختلاط دوسرے کو لگ جائے)بلکہ قادر مطلق نے جس طرح ایك کو بیمار کیا اسی طرح دوسرے کو بھی بیماری لاحق کردی۔(ت)
بالجملہ ان پانچوں اقوال پرعدوی باطل محض ہے یہی مذہب ہے حضرت افضل الاولیاء الاولین والآخرین سیدناصدیق اکبرو حضرت سیدنافاروق اعظم وحضرت سلمان فارسی وحضرت ام المومنین صدیقہ وحضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہم اجلہ صحابہ کرام کااور اسی کو اختیارفرمایا امام اجل طحاوی سیدالحنفیہ وامام یحیی بن یحیی مالکی وامام عیسی بن دینار مالکی وامام ابن بطال ابوالحسن علی بن خلف مغربی مالکی وامام ابن حجرعسقلانی شافعی وعلامہ طاہرحنفی وشیخ محقق عبدالحق محدث حنفی وغیرہم جمہور علمائے کرام رحمہم اﷲ تعالی نے عمدۃ القاری میں طبری سے ہے:
کان ابن عمر وسلمان رضی اﷲ تعالی عنھم یصنعان الطعام للمجذومین ویاکلان معھم وعن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت کان مولی لنا اصحابہ ذلك الداء فکان یاکل فی صحانی ویشرب فی اقداحی وینام علی فراشی ۔ یعنی عبداﷲ بن عمر و سلمان رضی اﷲ تعالی عنہم مجذومین کے لئے کھاناتیارفرماتے اور ان کے ساتھ کھاتے اور ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے مروی ہوا کہ ہمارے ایك غلام آزاد شدہ کویہ مرض ہوگیاتھا وہ میرے برتنوں میں کھاتا میرے پیالوں میں پیتا بچھونوں پرسوتا۔
زرقانی علی المؤطا میں زیرحدیث انہ اذی(بیشك وہ ایذا ہے۔ت)فرمایا:
قال یحیی بن یحیی سمعت ان تفسیرہ فی رجل یکون بہ الجذام فلاینبغی لہ ان ینزل علی الصحیح یؤذیہ لانہ وان کان لایعدی فالانفس تکرھہ وقدقال یحیی بن یحیی نے فرمایا کہ میں نے سنا کہ اس کی تفسیر اس شخص کے بارے میں ہے جس کو مرض جذام ہوجائے تو اسے مناسب نہیں کہ کسی تندرست آدمی کے پاس آئے کہ اسے ایذا ہوگی اس لئے کہ اگرچہ تعدیہ مرض کااعتقاد
حوالہ / References اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۶۲۰
عمدۃ القاری شرح بخاری کتاب الطب باب الجذام ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۴۷
#3883 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ اذی یعنی لاللعدوی ۔ نہ ہوتے ہوئے بھی نفوس پرایسی تکلیف دہ حالت کودیکھنا گراں گزرتا ہے اور بیشك حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایذا ہے یعنی اس کاسبب تعدیہ مرض نہیں۔(ت)
غرض مذہب یہ ہے اور وہ وجوہ تاویل میں اصح واجمع وجہ پنجم
وھھنا ثلثۃ وجوہ اخر لبعض العلماء فالسادس ان الجذام مستثنی من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاعدوی ان لایعدی شیئ شیئا الاھذا وعزاہ فی اشعۃ اللمعات الی الکرمانی الشافعی صاحب الکوکب الدراری فی شرح صحیح البخاری اقول: لم یقلہ بل نقلہ ومارضیہ بل مرضہ فانما حکاہ بقیل کما نقل عنہ فی محمع البحار بل والشیخ نفسہ فی ماثبت بالسنۃ فما ھھنا سبق قلم ثم ھذا القیل لم یعرف لہ قائل ولم یمل الیہ مائل ولایؤیدہ شیئ من الدلائل
والسابع قال البغوی قیل ان الجذام ذورائحۃ تسقم من اطال صحبتہ ومؤاکلتہ اومضاجعتہ ولیس من العدوی بل بعض علماء کے نزدیك یہاں تین اور وجوہ ہیں چھٹی وجہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد عالی لاعدوی سے مرض جذام مستثنی ہے یعنی اس مرض کے ماسوا کوئی شے کسی دوسری شے کی طرف تجاوز نہیں کرتیچنانچہ اشعۃ اللمعات میں شیخ محقق نے علامہ کرمانی شافعی مصنف الکوکب الدراری شرح صحیح بخاری کی طرف اس کو منسوب کیا ہے اقول:(میں کہتا ہوں)اس نے یہ نہیں کہا بلکہ اس کو نقل کیا ہے لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوا بلکہ اس نے تو صیغہ تمریض یعنی صیغہ ضعف سے اسے ذکرکیااور لفظ قیل سے اس کی حکایت کی ہے جیسا کہ اس سے مجمع البحار میں نقل کیاگیاہے بلکہ خود شیخ محقق نے ماثبت بالسنۃ میں اسے نقل کیاہے لیکن یہاں ان سے سبقت قلم(بھول)ہوگئی پھر اس قیل کا قائل معلوم نہ ہو سکا اور کوئی میلان رکھنے والا اس کی طرف مائل نہ ہوا اور نہ کسی دلیل سے اس کی تائید کی۔ساتویں وجہ امام بغوی نے کہا: کہاگیاہے کہ جذام بدبودار بیماری ہے جوکوئی ایسے بیمار سے طویل صحبت رکھے اس کے ساتھ
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المؤطا لامام مالك باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۳۴
#3884 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
من باب الطب کما یتضرر باکل مایعاف وشم مایکرہ والمقام فی مقام لایوافق ھواہ وکلہ باذن اﷲ وماھم بضارین بہ من احد الا باذن اﷲ نقلہ فی المجمع و عزاہ فی الاشعۃ للامام النووی اقول: لعل ھذا ایضا لذاك فان الذی رأیت فی منھاجہ تصویب الوجہ الثامن الاتی ولم یعر ج علی ذکرھذا فاﷲ تعالی اعلم وظنی ان الذی فی نسختی الاشعۃ تصحیف من البغوی فان الذی نقلہ ترجمۃ کلام البغوی سواء بسواء غیران البغوی ایضا لم یقل بہ وانما نقلہ بقیل ممرضا ثم اقول: لاادری ماالتنافی بین بابی العدوی والطب فالطب قائل فی ھذا المرض بالعدوی کما کھائے پئے اور لیٹے تو یہ بیماری اس کو بھی لاحق ہوجاتی ہے اور یہ عدوی میں سے نہیں بلکہ باب طب سے ہے جیسے گھن والی ناپسندیدہ چیز کھانے سے نقصان اور ضررہوتاہے اور اسی طرح ناگوار چیزسونگھنے سے اور ناموافق ہوا والی جگہ(یعنی آلودگی والی فضا)میں ٹھہرنے سے ضررہوتاہے(بس یہاں بھی یہی مرادہے)اور درحقیقت یہ سب کچھ باذن الہی ہوتا ہے(چنانچہ)وہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے مگر اﷲ تعالی کے اذن ومشیت سے۔چنانچہ مجمع البحار میں اس کو نقل کیاہے اور شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں اس کو امام نووی کی طرف منسوب کیاہے اقول:(میں کہتاہوں)شاید یہ بھی اسی طرح ہے کیونکہ میں نے جو کچھ امام نووی کی منہاج میں دیکھاہے وہ آنے والی آٹھویں وجہ کی تصویب ہے اور اس کے ذکر پر اس نے عروج یعنی موافقت نہیں کی اور حقیقت حال کو اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔اشعۃ اللمعات کا جو نسخہ میرے پاس ہے میراخیال ہے کہ اس میں بغوی کی عبارت میں تبدیلی ہوگئی ہے کیونکہ شیخ نے بغوی کے کلام کا ہو بہو ترجمہ نقل کیاہےاس کے باوجود بغوی نے بھی یہ نہیں کہا بلکہ اس نے کلمہ تمریض کے ساتھ اسے نقل کیاہے۔ ثم اقول: (پھرمیں کہتاہوں)میں یہ نہیں جانتا کہ عدوی اور طب کے
حوالہ / References مجمع بحارالانوار تحت لفظ عدا مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳/ ۵۴۴
#3885 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
رضی اﷲ تعالی عنہ حدیث لاعدوی واقامتہ علی روایۃ لایوردن ان ذلك کان ظنہ التضاد بینھما اقول: لیس لمثلی الکلام مع مثل الامام رحمہ اﷲ لکن الذی یعرفہ قاصر مثلی ان انکار الروایۃ لاینحصر فی ظن التضاد بل نسی عنہ سمعہ من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فما وسعہ الا انکارہ حتی لوفرض مودی الحدیثین واحدا من کل جھۃ وانما الالفاظ غیر الالفاظ ونسی سماع احدھما وقیل لہ رویت ھذا الحدیث ھکذا لم یسعہ الا الاباءنعم ھو مذھب الامام المطلبی محمد بن ادریس الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ قال المناوی فی فیض القدیر(اتقوا المجذوم)ای اجتنبوا مخالطتہ فانہ یعدی المعاشر کما جزم بہ الشافعی فی موضع وحکاہ عن الاطباء
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس حدیث لاعدوی کا انکارکیاتھا اور لایوردن والی حدیث کو اس کے مقابل پیش کیاتھا درحقیقت وہ اپنے گمان کے مطابق ان دونوں کے درمیان تضاد سمجھتے تھےاقول:(میں کہتاہوں کہ)مجھ جیسے ناقص شخص کے لئے امام رحمہ اﷲ تعالی جیسی بلند پایہ شخصیت کے ساتھ ہمکلام ہونازیب نہیں دیتا سوائے اس کے جو اسے پہچانتاہےمجھ جیسے تو اس کی معرفت سے قاصر ہیں البتہ کسی روایت سے انکار کرناتضاد کے گمان پرمنحصر نہیں بلکہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اس حدیث کا سماع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بھول گئےاس لئے ان کے لئے سوائے انکار کے کوئی گنجائش نہ رہی لیکن اگر یہ فرض کرلیا جاتا کہ ہرجہت سے دونوں کامفہوم(مودی)ایك ہے البتہ دونوں کے الفاظ مغایر اور الگ الگ ہیں اور جبکہ وہ ایك کا سماع بھول گئےچنانچہ ان سے کہاگیا آپ نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیاہے تو انہیں سوائے انکار کے کوئی اور گنجائش نہ رہی۔ہاں وہ امام مطلبی محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہےچنانچہ علامہ مناوی نے فیض القدیر(شرح جامع صغیر)میں فرمایا حدیث"جذامی سے بچو اور پرہیزکرو"یعنی اس کے میل جول اور اختلاط سے اجتناب کرواس لئے میل ملاپ کرنے والے میں مرض سرایت کرتاہےجیسا کہ امام شافعی نے ایك جگہ اس پر اظہار یقین کیا
#3886 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
والمجربین فی اخرونقلہ غیرہ من افاضل الاطباء اھاقول: وطریقتہ رضی اﷲ تعالی عنہ فی امثال المقام معروفۃ من الاعتماد علی التجارب حتی قال بالقیافۃ وجعلھا حجۃ فی الاحکام الشرعیۃ و حکایاتہ رضی اﷲ تعالی عنہ فیھا مشھورۃ فی مقاصد السخاوی وغیرھا ماثورۃ وتبعہ علیہ احد شیخی مذھبہ الامام ابوزکریا النووی ومن قبلہ الامام ابو عمرو بن الصلاح ومن بعدھما الکرمانی والطیبی و کذا ابن الاثیر فیما ذکر القاری وکذا السخاوی علی شبھتہ فی عبارۃ الموجودۃ فی نسختی المقاصد و وافقھم من علمائنا التورپشتی والقاری کما وافقنا من ائمتھم العسقلانیواضطرب ظاھرا کلام المناوی فقال تحت حدیث اتقوا المجذوم اور ایك دوسری جگہ اطباء اور تجربہ کارلوگوں سے اس کی حکایت بیان فرمائیاور دیگر اہل علم نے طب کے فاضلوں سے اسے نقل کیاہے اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کاطریقہ کار اور دستور اس نوع کے مقامات میں مشہور ومعروف ہے کہ مختلف تجربوں پراعتماد ہے یہاں تك کہ موصوف نے قیافہ شناسی اور اسے احکام شریعت میں حجت قراردینے کاقول پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں موصوف رضی اﷲ تعالی عنہ کے واقعات وحکایات مشہورہیں چنانچہ مقاصد حسنہ میں امام سخاوی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی کتابوں میں منقول ہیں ان کے مذہب والوں میں سے ایك شیخ ابوزکریا نووی نے اس سلسلے میں ان کا اتباع کیاہے اور ان سے پہلے امام ابوعمروبن صلاح اور ان دونوں کے بعد کرمانی طیبی اور اسی طرح ابن اثیر جیسا کہ ملاعلی قاری نے ذکر فرمایاہے اور اسی طرح امام سخاوی نے ذکرکیامگر میرے پاس مقاصد حسنہ کاجو نسخہ ہے اس کی موجودہ عبارت میں کچھ اشتباہ پایاجاتاہے اور ہمارے علماء میں سے ان کی موافقت تورپشتی اور ملاعلی قاری نے کی جیسا کہ ان کے ائمہ میں سے ہماری موافقت علامہ ابن حجرعسقلانی نے فرمائیبظاہر علامہ مناوی کاکلام مضطرب(ناقابل اعتماد)ہے چنانچہ اس حدیث "جذامی سے بچو"کے ذیل میں کہا
حوالہ / References فیض القدیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۱۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۳۷
#3887 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ماقال قال ولایناقضہ خبر لاعدوی لانہ نفی لاعتقاد الجاھلیۃ نسبۃ الفعل لغیراﷲ تعالی الخ وقال تحت حدیث کلم المجذوملئلا یعرض لك جذام فتظن انہ اعداك مع ان ذلك لایکون الا بتقدیراﷲ تعالی وھذا خطاب لمن ضعف یقینہ ووقف نظرہ عند الاسباب اھ ففی ھذا نوع میل الی ماعلیہ الجمہور ووقع نحوہ لعلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطا فی موضع واحد فقال تحت قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحل الممرض علی المصحفربما یصاب بذلك فیقول لوانی مااحللتہ لم یصبہ والواقع انہ لو لم یحلہ لاصابہ لان اﷲ تعالی قدرہ فنھی عنہ لھذہ العلۃ التی لایؤمن غالبا من وقوعھا فی طبع الانسان وھو قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمن المجذوم فرارك من جوکچھ کہاپھرفرمایا کہ یہ حدیث لاعدوی کے مناقض نہیں اس لئے کہ اس میں اعتقاد جاہلیت کی نفی ہے کیونکہ اس میں غیراﷲ کی طرف فعل کی نسبت ہے الخ اور حدیث"کلم المجذوم یعنی مجذوم کے ساتھ دورسے کلام کرو"کے ذیل میں فرمایا ایسا نہ ہو کہ کہیں تجھے مرض جذام لگ جائے اور تو یہ سمجھنے لگے کہ مریض کی بیماری اڑ کر تمہیں لگ گئی حالانکہ تقدیرالہی کے بغیر اس طرح نہیں ہوسکتا۔اور یہ اس کو خطاب ہے جو یقین میں کمزورہواور اس کی نظرصرف ظاہری اسباب پر ہی ٹھہرتی ہو اھاس میں جمہور کے مذہب کی طرف ایك طرح میلان پایاجاتا ہےاور اسی نوع کاوقوع علامہ زرقانی سے شرح مؤطا میں ایك جگہ ہواہے چنانچہ علامہ موصوف نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد"کوئی مریض کسی تندرست آدمی کے پاس نہ جائے"اس لئے کہ اگر اسے مرض لگ جاتاہے توپھر وہ مریض یوں کہنے لگتاہے کہ کاش میں اس کے ہاں نہ جاتا یا اس سے نہ ملتا تو مجھے یہ مرض نہ لگتاحالانکہ فی الواقع اگر یہ مریض کے پاس نہ جاتا تب بھی اس کو یہ مرض لگ جاتا کیونکہ اﷲ تعالی نے اس کے مقدر میں ایسالکھ دیاتھا پس اس علت کی وجہ سے اسے روك دیاگیا کیونکہ طبیعت انسانی غالبا اس کے وقوع سے لاپروا اور بے فکر نہیں
حوالہ / References فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۳۷
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۶۳۸۰ دارالمعرفۃ بیروت ۵/ ۴۱
#3888 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
الاسدوان کنا نعتقد وان الجذام لایعدی لکنا نجد فی انفسنا نفرۃ وکراھیۃ لمخالطتہ اھ فھذا صریح فی وفاق الجمہورثم قال اما النھی عن ایراد الممرض فی باب اجتناب الاسباب التی خلقھا اﷲ وجعلھا اسبابا للھلاك اوالاذی والعبد مامور اتقاء اسباب البلاء اذا کان فی عافیۃ منھا وفی حدیث مرسل عند ابی داؤد انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مر بحائط مائل فقال اخاف موت الفوات اھ ففیہ میل ما الی القول الاخر بل کان جزما بہ لولا قولہ"او الاذی"ثم عاد فقال تحت قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ اذی ای یتاذی بہ لاانہ یعدی ہوسکتی۔او رحضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد" جذامی سے تم اس طرح بھاگو جیسے بوقت خوف شیر سے بھاگتے ہو"کایہی مفہوم ہےاگرچہ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مرض جذام متعدی نہیں ہوتا لیکن اپنے دلوں میں جذامی سے میل جول رکھنے سے نفرت اور کراہت پاتے ہیں اھاور یہ صراحۃ مذہب جمہور سے اتفاق ہے۔پھرفرمایا لیکن مریض کے پاس جانے سے ممانعت کرنا ان اسباب سے بچنے کے باب سے ہے جنہیں اﷲ تعالی نے پیدافرمایا اورانہیں ہلاکت اور تباہی کے اسباب بنایا یاممانعت ایذارسانی کے باعث ہے اور بندہ کواسباب بلا سے بچنے کاحکم دیاگیاہے جبکہ وہ ان سے بچ سکے چنانچہ ابوداؤد کی ایك مرسل(بلاسند)روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك مائل بانہدام(جھکی ہوئی)دیوار کے قریب سے گزرے تو ارشاد فرمایا میں موت فوات سے ڈرتاہوں اھ پس اس میں دوسرے قول کی طرف تھوڑا سامیلان ہے بلکہ اس پراظہاریقین ہے بشرطیکہ اوالاذی کا قول متصل نہ ہوتاپھر سابق کلام کی طرف رجوع کرتے ہوئے حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد انہ اذی(وہ ایذاہے)کےـ ذیل میں فرمایا یعنی اذیت ہوگی(مریض اور تندرست کے لئے)
حوالہ / References شرح الزرقانی علی موطا امام مالك باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۳۳
شرح الزرقانی علی موطا امام مالك باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۴۔۳۳۳
شرح الزرقانی علی موطا امام مالك باب عیادۃ المریض والطیرۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳۳۴
#3889 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ثم نقل عن یحیی بن یحیی ماقدمناہ وقد اذناك ان المائلین الی ھذا القول کالتور پشتی والطیبی والقاری قداعترفوا جمیعا کنص الشیخ المحقق و الزرقانی ان ابطال العدوی راسا ھوالذی علیہ الاکثروناقول: وارجوان لاینکر علیہ بما قال الامام النووی فی شرح مسلم قال جمہورالعلماء یجب الجمع بین ھذین الحدیثین وھما صحیحان قالوا وطریق الجمع ان حدیث لاعدوی المراد بہ نفی ماکانت علیہ الجاھلیۃ تزعمہ وتعتقدہ ان المرض و العاھۃ تعدی بطبعھا لایفعل اﷲ تعالی واما حدیث لا یورد ممرض علی مصحفارشد فیہ الی مجانبۃ ما یحصل الضرر عندہ فی العادۃ بفعل اﷲ تعالی وقدرہ قال فھذا الذی ذکرناہ من تصحیح الحدیثین والجمع بینھما ھو الصواب الذی علیہ جمہور العلماء ویتعین المصیر الیہ اھ فقد یکون المعزوالی جمہور نہ کہ مرض میں تجاوز ہے۔پھرانہوں نے یحیی بن یحیی سے وہی نقل کیاجو ہم پہلے بیان کرآئے ہیں اور بلاشبہہ ہم نے تمہیں آگاہ کردیا ہے کہ جولوگ اس قول کی طرف مائل ہیں جیسے تورپشتیطیبی اور ملاعلی قاری شیخ محقق اور زرقانی کی تصریح کی طرح وہ سب اس بات کے معترف ہیں کہ بالکلیہ تعدیہ مرض کے ابطال کا موقف زیادہ تر اہل علم رکھتے ہیں۔
اقول:(میں کہتاہوں)میں امیدرکھتاہوں کہ جو کچھ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا اس کا انکار نہیں کیاجائے گا (اور وہ یہ ہے)جمہورعلماء نے فرمایا ان دوحدیثوں کو جمع کرنا ضروری ہے اور وہ دونوں صحیح ہیںجمہور فرماتے ہیں دونوں کو جمع کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ حدیث"لاعدوی"سے اس چیز کی نفی مراد ہے کہ جس پر اہل جاہلیت قائم تھے چنانچہ وہ گمان اور اعتقاد رکھتے تھے کہ مرض اور آفت اپنی طبعی حالت سے تجاوز کرتے ہیں نہ کہ اﷲتعالی کی کارکردگی سے۔(رہی حدیث کہ)"مریض تندرست کے پاس نہ جائے"اس میں اس چیز سے بچنے کی راہنمائی فرمائی ہے کہ جس سے بطور عادت اﷲ تعالی کے فضل اور قضاء وقدر سے ضرر حاصل ہوتا ہے۔امام نووی نے فرمایا یہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے(یعنی)دوحدیثوں کی تصحیح اور ان دونوں کو جمع کرنا یہی وہ راہ صواب ہے کہ جس پر جمہور علماء قائم ہیں اور اس کی طرف رجوع کرنامتعین ہے اھ لہذا جمہور علماء کی
حوالہ / References شرح صحیح مسلم للنووی کتاب السلام باب لاعدوٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰
#3890 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
العلماء وجوب الجمع وتصحیح الحدیثین لا خصوص ھذا الجمع وربما یشیر الیہ انہ بعد ذکر ھذا الجمع لم یقل ان ھذا الذی ذکرناہ ھو الصواب الذی علیہ الجمہور بل فسرالمذکور بقولہ من تصحیح الحدیثین والجمع بینھما ولواراد خصوص الجمع لم تکن حاجۃ الی التفسیر اصلا لکون الاشارۃ متصلۃ بذلك الجمع من دون فصل فضلا عن یفسرہ بالاعم وحینئذ یکون قولہ ھذا احترازا عن الوجھین الاولین الذین قدمناھما ان احد الحدیثین غیرثابت لومنسوخ فیکون مثل مانقل ھو فیما بعد عن الامام القاضی عیاض انہ قال وقد ذھب عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وغیرہ من السلف الی الاکل معہ و راوا ان الامر باجتنابہ منسوخ و الصحیح الذی قالہ الاکثرون ویتعین المصیر الیہ انہ لانسخ بل یجب الجمع بین الحدیثین وحمل الامر باجتنابہ والفرار منہ علی الاستحباب و الاحتیاط لاللوجوب واما الاکل طرف دو چیزیں منسوب ہیں ایك وجوب جمع اور دوسری چیزدوحدیثوں کی تصحیح نہ کہ اس جمع کا خصوص کبھی اس کی طرف اشارہ یہ چیز کرتی ہے کہ اس جمع کے ذکرکرنے کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ جس کو ہم نے ذکرکیاہے وہی صواب ہے کہ جس پر جمہوراہل علم قائم ہیں بلکہ مذکور کی اپنے قول "دو حدیثوں کی تصحیح اور انہیں جمع کرنے"سے تفسیر فرمائی۔ لہذا اگر خصوص جمع کاارادہ کرتے تو اس تفسیر کی بالکل ضرورت اور حاجت نہ تھی اس لئے کہ اشارہ اس جمع سے پیوستہ یاوابستہ تھا نہ کہ الگ وجداچہ جائیکہ اس اعم سے اس کی تفسیر کرتے پھر اس صورت میں موصوف کا قول"ھذا" پہلی دو وجوہات سے جن کو ہم پہلے بیان کرچکے ہیںاحتراز ہےایك یہ کہ دونوں حدیثوں میں سے ایك ثابت نہیں یا وہ منسوخ ہے پھر یہ کلام اسی جیسا ہوگا کہ جس کو اس کے بعد امام قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ اور دوسرے اسلاف مریض کے ساتھ کھانا کھانے کے جواز کی طرف گئے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ "امربالاجتناب"(ان سے الگ رہنے کاحکم)منسوخ ہے پس صحیح وہی ہے جو اکثر اہل علم نے فرمایا لہذا اس کی طرف رجوع متعین ہے کہ یہاں کوئی نسخ نہیں بلکہ دوحدیثوں کو جمع کرنا واجب(ضروری)ہےلہذا ان سے الگ اور کنارہ کش رہنے کا امر اور ان سے بھاگنے کاحکم استحبابی اوراحتیاطی ہے۔
#3891 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
معہ ففعلہ لبیان الجواز اھواذن یکون قولہ قالوا وطریق الجمع الخ علی ماھو المتعارف بین العلماء من نقل اقوال جمعبلفظۃ قالوا الا ان مرجعہ جمہور العلماء کیلا یخالف نقل الاکثرین عن الاکثرین منھم التورپشتی والقاری انفسھما واﷲ تعالی اعلمثم من الحجۃ لنا علیھماولا ظاھرا لاحادیث المتواترۃ کما اعترفوا بہ ولامعدل عن ظاھر الابدلیل واین الدلیل وثانیا ماقدمنا عن الامام الطحاوی ان لوکان ذلك من اسباب الہلاك العادیۃ لم یفعلہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولاالخلفاء الراشدون ولاامر بالاکل معھم تواضعاوایمانا فان مجانبتہ حینئذ ماموربہ شرعا لقولہ تعالی " ولا تقتلوا انفسکم " وقولہ تعالی
" ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ " وکان کالجدار المائل وجوبی نہیں۔رہایہ کہ ان کے ساتھ کھاناپیناتو ایساکرنا بیان جواز کے لئے ہےاھ پھر تو موصوف کاقول قالوا وطریق الجمع الخ اس پرمبنی ہے کہ جو علماء کے درمیان متعارف ہے کہ وہ ایك جماعت کے اقوال کو لفظ قالوا سے نقل کرتے ہیں ہاں مگر اس کا مرجع جمہورعلماء ہیں تاکہ اکثر کی نقل اکثر کے مخالف نہ ہو ان میں خود تورپشتی اور ملاعلی قاری شامل ہیں اور اﷲ تعالی ظاہروباطن کو خوب جانتاہے۔پھر ہماری دلیل ان کے خلاف متعدد وجوہ سے ہے اول متواتر حدیثوں کے ظاہر کی دلالت جیسا کہ خود مخالفین کو اس بات کا اعتراف ہےاور ظاہر ہے بغیر دلیل عدول نہیں ہوسکتا اور یہاں دلیل کہاںدوم ہم امام طحاوی کے حوالہ سے پہلے نقل کرچکے ہیں اگر وہ"اختلاط مرض"ہلاکت عادیہ کے اسباب میں سے ہوتا تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور خلفاء راشدین ہرگزایسانہ کرتے (اقدام اختلاط)اور نہ ان کے ساتھ(یعنی مریضوں کے ساتھ) بر بنائے تواضع اورایمان کھانے پینے کاحکم فرماتے کیونکہ پھرتو ان سے علیحدگی اور کنارہ کشی شرعا ماموربہ ہے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو"یا" اپنے آپ کو
حوالہ / References شرح مسلم للنووی بحوالہ قاضی عیاض باب السلام باب لاعدوٰی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۔۲۳۳
القرآن الکریم ۴ /۲۹
القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
#3892 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
والسفینۃ المکسورۃ وقداعترف بہ ھؤلاء المثبتون للعدوی کما ستقفاقول: ولیس من التوکل المعارضۃ مع الاسباب والہجوم علی ماجرت العادۃ بافضائہ الی التباب ولایحل لاحد ان یلقی نفسہ من فوق جبل توکلا علی ربہ عزوجل وایقانا بانہ لایضرہ ان لم یشاء وقد حکی ان الشیطان سال ذلك سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم فقال لااختبر ربی ونصوا بمما نعۃ رکوب البحر عندھیجانہ وبہ ظھر الجواب عن حمل مثبتی العدوی حدیث کل ثقۃ باﷲ وامثالہ علی التوکل ومتارکۃ الاسباب وقد ذکرمن فعل الصدیق الاکبر والفاروق الاعظم ومبالغتھما فی ذلك مایرشدك انہ نص فی ردما ذھبوا الیہولنذکر ھھنا مت قتل کرو"او ریہ گرنے والی دیوار اور ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح ہوگااور اثبات تعدیہ کرنے والے حضرات بھی اس کے قائل اور معترف ہیں جیسا کہ عنقریب آپ آگاہ اور واقف ہو جائیں گےاقول:(میں کہتاہوں)یہ توکل نہیں کہ اسباب کے ساتھ معارضہ(مقابلہ)کیاجائے۔اور جو چیز تباہی وہلاکت تك لے جائے بے سوچے اس میں پڑجانا ہرگز جائزنہیں نیزکسی کے لئے یہ جائزنہیں کہ اپنے آپ کو پہاڑ کے اوپر سے گرائےاﷲ تعالی پرتوکل کانام لیتے ہوئے اور اس یقین و بھروسے کے ساتھ کہ اگر اﷲ تعالی نہ چاہے تو کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی ایساکرناجائزنہیں۔چنانچہ حکایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا حضرت عیسی کلمۃ اﷲ علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلام سے یہی سوال شیطان نے کیاتھا تو آپ نے جواب میں فرمایاکہ میں اپنے پروردگار کاامتحان نہیں کرتا اور اسے نہیں آزماتا۔اہل علم نے صراحت فرمائی کہ سمندرمیں جوش اورطوفان آنے کے وقت بحری سفرنہ کیاجائےاس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ قائلین بالتعدیہ حدیث کل ثقۃ باﷲ اور اس جیسی دوسری حدیثوں کوعمل توکل اور ترك اسباب پر محمول کرتے ہیں۔حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے فعل سے یہ بیان کیا گیا اور اس باب میں ان دونوں کے مبالغہ کرنے میں تمہارے لئے ایسی راہنمائی ہے
#3893 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
کلام العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فانہ جمع مااتی بہ المثبتون وزاد ونذکر فی خلالہ مافتح اﷲ تعالی علینا من وجوہ اختلالہ قال رحمہ اﷲ تعالی قد عــــــہ اختلف العلماء فی التاویل فمنھم من یقول المراد منہ نفی ذلك وابطالہ علی مایدل علیہ ظاھرالحدیث وھم الاکثرون ومنھم من یری انہ لم یرد ابطالھا فقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمن المجذوم فرارك من الاسد اقول: ارادۃ الابطال ھو الظاھر کما اقربہ وماذکر لایصلح صارفا لہ لما علمت من وجوہ التاویلقال وقال صلی اﷲ تعالی جو ان لوگوں کے مذہب کے رد کرنے کے لئے(واضح)نص ہے۔ہمیں یہاں ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کا کلام ذکرکرنا چاہئے کیونکہ اہل اثبات جوکچھ لائے ہیں اس سب کو بمع اضافہ انہوں نے یکجاکیاہے اور ان کی خلل پذیروجوہات کے بارے میں جو اﷲ تعالی نے ہم پرمنکشف فرمائیں اس دوران ہم ان کابھی ذکرکریں گے۔چنانچہ ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ علیہ نے ارشاد فرمایا اہل علم کا اس مسئلہ کی تاویل میں اختلاف ہے ان میں بعض وہ ہیں جو فرماتے ہیں اس سے نفی اور اس کا ابطال مرادہے اس بناپرکہ ظاہرحدیث اس پردلالت کرتی ہےاور وہ اہل علم اکثریعنی(کثیرتعداد میں ہیں اور کچھ دوسرے وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بطلان(تعدیہ)مراد نہیں کیونکہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"جذامی سے ایسے بھاگوجیسے شیرسے بھاگتے ہو"۔ اقول:(میں کہتاہوں)ارادہ ا بطال ہی ظاہر ہے جیسا کہ خود موصوف نے اس کا اقرار کیا اور جوکچھ(اس کے خلاف)ذکرکیاگیا وہ اس کے لئے دافع نہیں جیسا کہ وجوہ تاویل سے تمہیں معلوم ہوگیا
علامہ موصوف

عــــــہ:ھذا کلہ کلام التورپشتی سوی مازاد من شرح المنحۃ ۱۲منہ یہ سب تورپشتی کاکلام ہے ماسوائے اس چیز کے جو شرح المنحہ سے زائد کیاہے ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3894 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
علیہ وسلم لایوردن ذوعاھۃ علی مصح اقول: ھذا اضعف وابعد بعد ماروینا عن المؤطا انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما نفی العدوی ونھی عن ایراد الممرض قالوا وماذاك قال وانما اراد بذلك نفی ماکان یعتقدہ اصحاب الطبعیۃ فانھم کانوا یرون العلل المعدیۃ موثرۃ لامحالۃفاعلمھم ان لیس الامر علی مایتوھمون بل ھو معلق بالمشیۃ ان شاء کان وان لم یشاء لم یکن ۔ اقول: کل شیئ کذلك و جمیع الاسباب متساویۃ الاقدام فی ذلك ولم یات الشرع بنفی الاسباب بل اثبتھا وارشد الی نفی تاثیرھا واعتقاد اصحاب الطبعیۃ فی العین لیس بادون من اعتقادھم فی العدوی ثم لم یات الشرع بنفیھا بل قال العین حققال ویشیر الی ھذا المعنی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم"فمن اعدی الاول"
نے فرمایا حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا افت ومصیبت والے کسی تندرست کے پاس نہ جائیں۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہ زیادہ ضعف او ر زیادہ بعید ہے بعد اس کے کہ ہم نے مؤطا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جب تعدیہ مرض کی نفی فرمائی اور لوگوں کو مریض کے پاس جانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے استفسار کیاکہ یہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔موصوف نے فرمایا کہ اس سے آپ کاارادہ نفی کرنے کاتھا جس کا ارباب طبعیت اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ وہ بلاشبہہ علل متعدیہ کومؤثر سمجھتے تھے اس لئے آپ نے ان لوگوں کو اس بات پرآگاہ فرمایا کہ وہ معاملہ جس کا انہیں وہم ہے وہ اﷲ تعالی کی مشیت سے معلق ہے اگروہ چاہے تو مرض لاحق ہوگا نہ چاہے تو نہیں ہوگا اقول:(میں کہتاہوں)ہرشے اسی طرح ہے او ر تمام اسباب اس میں متساوی اقدام ہیں اور شریعت نے اسباب کی نفی نہیں کی بلکہ انہیں ثابت کیاہے اور ان کی نفی تاثیر کی راہنمائی فرمائی ہے اور نظربد میں اصحاب طبعیت کااعتقاد اس سے کم نہیں جتنا تعدیہ مرض میں ہے۔اور شریعت نے اس کی نفی بھی نہیں فرمائی بلکہ فرمایا:نظرحق ہے۔علامہ موصوف نے فرمایا اور اسی معنی کی طرف حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد فمن اعدی الاول
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3895 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ای ان کنتم ترون ان السبب فی ذلك العدوی لا غیرفمن اعدی الاول اقول: اولا بون بین بین ان یعتقدوا العلل موثرۃ فی العدوی وان یعتقدوا العدوی ھی الموثرۃ وحدھا والثابت عنھم ذلك لاھذا وقد وقع مثل ھذا للمناوی فی التیسیر فقال ھو من الاجوبۃ المسکتۃ اذ لو جلبت الادواء بعضھا بعضا لزم فقد الدواء الاول لفقد الجالب اھ وانت تعلم انہ غیر لازم اصلا مالم یقولوا بالسبب عند سلب الجلب ولیس ھذا زعمھم ولالازم زعمھم و الرجیح الفصیح فی تفسیر الحدیث ماقدمت والیہ جنح الامام الطحاوی کما علمت ذکرہ بلسان المتکلم الامام العینی فی شرح البخاری فقال ای من اجرب البعیر الاول یعنی ممن سری الیہ الجرب فان قلت من بعیر اخر یلزم التسلسل یعنی پہلے آدمی تك کس سے مرض پہنچا یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس میں سبب مرض تعدیہ ہے تو پہلے مریض تك کیسے تعدیہ ہوا اقول: اولا(میں اولا کہتاہوں)دونوں میں فرق ظاہر اور واضح ہے وہ یہ کہ تعدیہ میں علل کے مؤثر ہونے کا اعتقاد رکھیں اور صرف تعدیہ ہی کو مؤثر سمجھیںپس ان سے پہلی شق ثابت ہے نہ کہ دوسری۔اسی کی مثل علامہ مناوی سے تیسیر میں مذکورہوا ہےچنانچہ انہوں نے فرمایا کہ یہ مسکت جوابات میں سے ہے اس لئے کہ اگر امراض میں ایك دوسرے سے کشید ہو توپھر پہلے مریض کا مرض مفقود ہو جانا چاہئے اس لئے کہ اس کے لئے کوئی جالب نہیں اھ تم جانتے ہو کہ یہ قطعا لازم نہیں آتا جب تك وہ سلب جلب کے علاوہ کسی سبب کا قول نہ کریں حالانکہ ان کا یہ خیال (زعم) نہیں اور نہ ان کے زعم سے یہ لازم آتا ہے لہذاصحیحراجح قول وہی ہے جو میں نے پہلے بیان کردیاہے اور امام طحاوی اسی طرف مائل ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیںامام عینی نے شرح بخاری میں متکلم کی زبان میں ذکر کیا ہےچنانچہ فرمایا یعنی پہلے اونٹ کو کس طرح خارش ہوئیاگر تم کہو کہ دوسرے اونٹ سےتو تسلسل لازم آئے گااگرتم کہو کہ کسی دوسرے سبب سے مرض منتقل ہوا تو اس کابیان تمہارے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال الطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث فمن اعدی الاول مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۲/ ۱۷۳
#3896 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وان قلت بسبب اخر فعلیك بیانہ وان قلت ان الذی فعلہ فی الاول ھوالذی فعلہ فی الثانی ثبت المدعی وھو ان الذی فعل فی الجمیع ذلك ھواﷲ الخالق القادر علی کل شیئ وھذا جواب من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی غایۃ البلاغۃ والرشاقۃ اھ
اقول: کل کلامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کذلك کیف وقداوتی جوامع الکلم ولاحاجۃ فی تفسیر الی ماذکرتم من الشق الثانی فانہ اذا اعترف انہ لیس بالعدوی بل بسبب اخر فقد انقطع لثبوت ان للمرض سببا اخر فلیکن الثانی ایضا بذلك السبب فلم تثبت العدوی لعدم الدلیل علی الدعوی و اقول: ثانیا علی کل فای اشارۃ فی من اعدی الاول الی اثبات العدوی عادۃ لاتاثیراقال وبین بقولہ فرمن المجذوم وبقولہ فرمن المجذوم وبقولہ لایوردن ذوعاھۃ علی مصح ان ذمے ہےاگر تم یہ کہو کہ جس نے پہلے کومرض لگایا اسی نے دوسرے کو بھی مرض میں مبتلا کیاتو پھر اس صورت میں ہمارا دعوی ثابت ہوگا۔اور وہ یہ ہے کہ جو سب میں یہ کچھ کرتا ہے وہی اﷲ تعالی ہے جوخالق ہے ہر چیز پر قادر ہے۔ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ جواب انتہائی درجہ بلیغ اور خوب صورت انداز میں سناگیااھ۔اقول:(میں کہتاہوں) حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کاہرکلام اسی طرح فصیح و بلیغ اور جامع ہےاور یہ کیونکر نہ ہو جبکہ آپ کو جوامع الکلم یعنی جامع کلمات سے نوازاگیا۔اور تفسیر میں تمہاری بیان کردہ دوسری شق کی کوئی ضرورت اور حاجت نہیں کیونکہ جب اعتراف ہوگیا کہ یہ اثر عدوی سے نہیں بلکہ کسی دوسرے سبب سے ہے توپھربات ہی ختم ہوگئی اس ثبوت کی وجہ سے کہ مرض کاکوئی دوسراسبب ہے تو پھرہوسکتاہے کہ دوسرے مریض کو بھی اسی سبب سے مرض لاحق ہوگیاہونتیجہ یہ کہ اس صورت میں تعدیہ مرض(مجذومی)ثابت نہ ہوا کیونکہ اس دعوی پرکوئی دلیل موجود نہیں۔و اقول: ثانیا(اور میں ثانیا کہتاہوں کہ)ہرتقدیر پرمتن اعدی الاول میں کونسااشارہ ہے کہ تعدیہ بطورتاثیر توثابت نہیں ہاں البتہ بطور
حوالہ / References عمدۃ القاری کتاب الطب باب لاہامۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱/ ۲۸۸
#3897 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
مداناۃ ذلك سبب العلۃ فلیتقہ اتقائہ من الجدار المائل والسفینۃ المعیوبۃ اقول: فاذن کان یجب التباعد عنہ علی الخواص والعوام وینافیہ ماثبت من فعلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفعل الخلفاء الراشدین وحدیث کل مع صاحب البلاءقال وقد رد الفرقۃ الاولی علی الثانیۃ فی استدلالھم بالحدیثین ان النھی فیھما انما جاء شفقا علی مباشرۃ احد الامرین فتصیبہ علۃ فی نفسہ اوعاھۃ فی ابلہ فیعتقد ان العدوی حق اھ قلت وقد اختارہ العسقلانی فی شرح النخبۃ وبسطنا الکلام معہ فی شرح الشرح ومجملہ انہ یرد علیہ اجتنابہ علیہ الصلوۃ والسلام عن المجذوم عادت ثابت ہے۔علامہ موصوف نے فرمایا حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے ارشاد"جذامی سے دوربھاگو"اوراپنے ارشاد"مصیبت بیماری والے کسی صحتمند تندرست آدمی کے پاس نہ جائیں"میں بیان فرمایا کہ اس کا قرب سبب مرض ہے لہذا اس سے اس طرح بچے جیسے گرنے والی دیوار اورٹوٹ پھوٹی کشتی سے بچتاہے اقول:(میں کہتا ہوں کہ)پھر تو اس سے عوام وخواص سب کو دور رہناچاہئے حالانکہ یہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے فعل کے منافی اور خلاف ہے اور حدیث کل مع صاحب البلاء (صاحب مصیبت کے ساتھ کھانا کھاؤ)کے خلاف ہے۔علامہ موصوف نے فرمایا پہلے فرقہ نے دوسرے فرقہ پر دوحدیثوں کے حوالے سے ان کے استدلال کرنے پررد کیاہے کہ دونوں میں نہی اس شفقت پرمبنی ہے کہ کہیں دو باتوں میں سے ایك سے مباشرت ہوجائے کہ وہ خود بیمار ہوجائے یا اس کے اونٹوں پر کوئی آفت آجائے پھر اس کا یہ اعتقاد ہوجائے کہ تعدیہ مرض حق ہےاھ چنانچہ ابن حجرعسقلانی نے اسے شرح النخبہ میں اختیارکیاہے اور ہم نے شرح الشرح میں پوری تفصیل سے اس بارے میں کلام کیاہے۔اس کامحمل بیان یہ ہے کہ ان پر یہ اشکال واردہوتاہے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3898 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
عند ارادۃ المبایعۃ اقول:قدمرفیہ من الوجوہ مایکفی ویشفی ولایثبت معہا اجتنابہ صلی اﷲ تعالی وسلم عنہ بالمعنی الذی رقمعلی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ربما کان یتنزل من مرتبتہ لیستن بہ قال مع ان منصب النبوۃ بعید من ان یوردلحسم مادۃ ظن العدوی کلاما یکون مادۃ لظنھا ایضافان الامر بالتجنب اظھر فی فتح مادۃ ظن ان العدوی لھا تاثیر بالطبع اقول: اولا قدقدمنا فی تقریر کلام النفاۃ السراۃ مایرشدك الی الجواب الم تر ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد نفی العدوی جھارا واعلن بہ مرارا وقطع عرقہ بقولہ فمن اعدی الاول وقولہ فمن اجرب الاول وقولہ ذلکم القدر علیہ وآلہ وسلم نے اس جذامی سے ارادہ بیعت کے وقت اجتناب فرمایا اقول:(میں کہتاہوں کہ)اس میں اتنی وجوہات بیان ہوئیں کہ جوکافی وشافی ہیں لہذا ان کی موجودگی میں حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا اس جذامی سے اجتناب اس معنی میں ثابت نہیں جو تحریرکیاگیاعلاوہ ازیں یہ بات ملحوظ رہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کبھی کبھی اپنے مقام رفیع سے تنزل فرماکر کوئی ایسا رویہ بھی اختیار فرماتے ہیں کہ اس سے آپ کی سنت قائم ہو اور اس کی اقتداء کی جائے۔علامہ موصوف نے فرمایا اس کے باوجود منصب نبوت سے بعید ہے کہ وہ ظن عدوی کے مادہ کوقطع کرنے کے لئے ایسا کلام فرمائیں جوخود ظن عدوی کے لئے مادہ بن جائے کیونکہ عدوی سے بچنے کاحکم دینا خود مادہ ظن کے انکشاف کوزیادہ کرتاہے کہ عدوی کے لئے طبعی تاثیر ہے اقول:(میں کہتاہوں)اولا بیشك ہم نے نفی کرنے والے افتخار کرنے والے اکابرین کی تقریر کلام میں جو کچھ بیان کیاہے وہ تمہارے لئے جواب کی راہنمائی اور نشان دہی کرتاہے کیاتم نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نفی عدوی برسر عام (کھلم کھلا)فرمائی اورمتعددبار اس کا اعلان فرمایا اور اپنے ان ارشادات سے اعدی الاولفمن اجرب الاولذلکم القدر (یعنی پہلے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3899 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
وقد بلغہ تبلیغا واضحا معروفا عند الکل حتی تواتر عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وشاع وذاع ملأ الاسماع والبقاع فای مثار لھذا الظن بعد کل ھذا الشدد الشن بیدانہ اذقد ازیدت ھذہ الوسوسۃ من قلوب المؤمنین بقیت خشیۃ انھم لانتفاء ھذا التوھم یخالطون المبتلین ولایتحامونھم وفیھم ضعفاء الیقین بل ھم الاکثرون والشیطان یجری من الانسان مجری الدم وکان امراﷲ قدرا مقدورا فان اصاب احدا شیئ یلقی العدو فی قلبہ ان ھذا للعدوی فیفر ھذا بدینہ اشد مما کان یفرلولم یعلم ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قدنفاھافحملتہ رحمتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من رؤف بالمومنین رحیم ان نھاھم عن المخالطۃ اذ بدونھا ان حدث میں کیسے تعدیہ مرض ہواپہلے کو کس نے خارش لگائییہ تقدیرکی باتیں ہیں)اس کی جڑکاٹ دی اور اس کی ایسی تبلیغ فرمائی جو سب کے ہاں مشہورومعروف ہے یہاں تك کہ یہ مسئلہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ و سلم سے تواتر (تسلسل) کی حد تك پہنچ گیا ہے او رلوگوں میں پھیلا اور شائع ہوا اس کی خوب اور بار بار سماعت ہوئی پھر اس شدت بندش کے بعداس گمان کے لئے کون سی گنجائش باقی رہ جاتی ہے بغیر اس کے کہ جب اہل ایمان کے دلوں سے اس وسوسے کا ازالہ کردیا گیا تو یہ خدشہ باقی رہ گیا کہ وہ اس انتفائے وہم کے باعث مصیبت زدہ لوگوں سے اختلاط(میل جول)رکھنے لگیں گے اور ان سے احتراز نہ کریں گے حالانکہ ان میں ضعیف الاعتقاد لوگ کثرت سے ہیں(اور حال یہ ہے)شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح چلتا ہے۔اﷲ تعالی کاحکم ہوکررہتاہے لہذا اگر کسی کو کوئی مصیبت پہنچ گئی تو یہ دشمن(شیطان)اس کے دل میں یہ وسوسہ ڈالے گا کہ یہ سب کچھ متعدی اثرات کانتیجہ ہے یعنی تعدیہ مرض اس کا سبب بنا تو یہ شخص اپنے دین سے زیادہ دور ہوجائے گا بنسبت مصیبت زدہ سے دورہونے کے۔اگر اسے یہ علم نہ ہوا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس عدوی کی نفی فرمائی ہےاس لئے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جومومنوں کے لئے رؤوف اوررحیم ہیں کی رحمت اس سبب سے ہوئی کہ لوگوں کو مریضوں
#3900 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
شیئ والعیاذ باﷲ تعالی لایحدث فساد اعتقاد و اذا کان الامر فی ھذا الباب کما وصفنا لك فھل کان لسد ھذا الباب طریق غیرھذا الطریق الانیق الذی سبلکہ الحکیم الرحیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و اذا کان الامر بالتجنب عندکم شفقا علی ابدانھم فما لکم لاتجیزونہ شفقا علی ایمانھم علیك بالانصابثانیا یاسبحن اﷲ من این جاء ظن التاثیر بالطبع الیس قد نھی الشارع عن اقتحام اسباب الھلاك واسرع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حین مربھدف مائل فھل فیہ فتح باب ظن انھا تؤثر بذاتھا قال وعلی کل تقدیر فلادلالۃ اصلا علی نفی العدوی مبنیا واﷲ تعالی اعلم اقول: اولا ان لم یدل نفی الجنس والنکرۃ الداخلۃ فی خیرالنفی علی عموم النفی فماذا یدل بل لادلالۃ علی تخصیص النفی بکونھا بالطبعواﷲ تعالی اعلموثانیا لم یظھر لی کے ساتھ اختلاط سے منع فرمایا کیونکہ اگر کوئی حادثہ ہوگیا تو فسادا عتقاد نہ ہو اور جب اس باب میں معاملہ یہ ہے جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے بیان کردیا تو اس باب کو بند کرنے کے لئے کوئی اور پسندیدہ اور خوبصورت طریقہ ہے جو حکیم ورحیم نے وضع فرماکر لوگوں کے لئے پیش کیا ہو۔جب تمہارے نزدیك الگ رہنے کاحکم شفقت علی الاجسام کی بدولت ہے تو پھر تمہیں کیا ہوگیاہے کہ لوگوں کے ایمان پر رحم کھاتے ہوئے اسے کیوں جائزنہیں قراردیتے ہوپس انصاف تمہارے ہاتھ ہے۔
ثانیا اے اﷲ پاك تاثیر طبعی کاگمان کہاں سے آگیا۔کیاشارع نے اسباب ہلاکت میں گھسنے سے منع نہیں فرمایاخود حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایك گرنے والی دیوار کے پاس سے جلدی گزرے تو کیا اس میں باب ظن کھلتا ہے کہ تعدیہ مرض بالذات موثرہوتاہے۔اقول:(میں کہتاہوں) اولا اگرنفی جنس اور نکرہ جو محل نفی میں داخل ہے(اگریہ دونوں) عموم نفی پردلالت نہ کریں توپھرعموم نفی پرکون سی چیز دلالت کرے گیبلکہ عدوی طبعی کی نفی کی تخصیص پرکوئی دلالت نہیںواﷲ تعالی اعلم۔وثانیا علامہ موصوف کے اس قول
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3901 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
معنی قولہ علی کل تقدیر فان علی تقدیر تعمیم النفی الدلالۃ علیہ فی غایۃ الظہور فلیتأملقال قال الشیخ التورپشتی واری القول الثانی اولی التاویلین لمافیہ من التوفیق بین الاحادیث الواردۃ فیہ اقول: اولا التوفیق حاصل علی القول الاول ایضا کما بینا ولعلہ لھذا عدل الطیبی عن ھذا التعلیل الی قولہ اری القول الثانی اولی لما فیہ من التوفیق بین الاحادیث و الاصول الطبیۃ التی ورد الشرع باعتبارھا علی وجہ لا یناقض اصول التوحید اھاقول: لاحاجۃ بنا الی تطبیق الشرع باصول الطب الفلسی بل نؤمن بالشرع ونجری نصوصہ علی ظواھرھا فان وافقھا الطب وغیرہ فذاك والارمینا المخالف بالجدار کائنا ماکان والحمدﷲ رب العلمین علامہ موصوف نے فرمایا بہرتقدیر عدوی کے سبب ہونے کی نفی پراصلا کوئی دلالت نہیں اور اﷲ تعالی بخوبی سب کچھ جانتا ہے۔"علی کل تقدیر"کے معنی مجھ پر ظاہر اور واضح نہیں ہوئےکیونکہ تعمیم نفی کی تقدیر پر تو اس معنی میں بہت واضح اور جلی دلالت موجود ہے پس غورکروموصوف نے فرمایا شیخ تورپشتی نے کہا میں دوسرے قول کو دو تاویلوں میں سے زیادہ بہترخیال کرتاہوں کیونکہ اس کو اختیار کرنے سے احادیث واردہ فی الباب میں موافقت اور مطابقت ہوجاتی ہے اقول: اولا(میں اولا کہتاہوں کہ)قول اول پربھی دونوں میں موافقت موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے اور شاید اسی وجہ سے علامہ طیبی نے اس تعلیل سے اس قول کی طرف عدول فرمایا کہ میں دوسرے قول کو زیادہ بہترخیال کرتاہوں کیونکہ اس میں احادیث واردہ اور قواعد طبیہ میں موافقت اور مطابقت ہوجاتی ہے کیونکہ علم طب کے اصول وقواعد کا شریعت نے ایسی وجہ پراعتبار کیاہے کہ وہ اصول توحید کے مناقض اورخلاف نہ ہوں اھ اقول:(میں کہتاہوں)شریعت اور طب فلسفی کے اصول وقواعد میں ہمیں مطابقت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم شریعت پرایمان رکھتے ہیں اور اس کے نصوص کوظاہر پرجاری کرتے ہیں پس اگر طب وغیرہ شرعی اصولوں کی موافقت کرے توٹھیك ہے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
شرح الطیبی لمشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۱۴
#3902 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
و اقول: ثانیا بل التوفیق علی القول الاول اظھر وازھر فان منصب النبوۃ اجل من ان یبالغ فی نفی امر حق ھذہ المبالغۃ ولایرشد الی اثباتہ الابامر محتمل غیر بین وثالثا بل حق التوفیق منحصر فیما اختارہ الجمہور لانہ لیس فیہ صرف شیئ من الاحادیث عن الظاھر و ارتکاب تخصیص من دون ملجیئ ظاھرقال ثم لان القول الاول یفضی الی تعطیل الاصول الطبیۃ ولم یرد الشرع بتعطیلھا بل ورد باثباتھا والعبرۃ بھا علی الوجہ الذی ذکرناہ اقول: لانسلم ان الشرع سلم الطب بتفاصیلھا و الافاضل الثلثۃ التورپشتی والطیبی والقاری ھم الناقلون کغیرھم ان الاطباء یعتقدون الاعداء فی الطاعون والوباء فلوصدقھم الشرع ورنہ مخالف چیزخواہ کوئی بھی ہو اسے پھینك دیں گےاور تمام خوبیاں خداکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے اقول: ثانیا(میں دوبارہ کہتاہوں)بلکہ قول اول پرموافقت ومطابقت زیادہ ظاہر اور روشن ہے اس لئے کہ مقام نبوت اس سے کہیں زیادہ عظیم وجلیل ہے کہ کسی امرحق کی نفی میں وہ اس قدرمبالغہ آمیزی کرے جبکہ اس کے اثبات میں صرف ایسے امر سے راہنمائی ہوسکتی ہو جو محتمل غیرواضح ہے۔ وثالثا (تیسری بات)بلکہ حق توفیق اس میں منحصر ہے کہ جس کو جمہور اہل علم نے اختیار فرمایا کیونکہ اس میں احادیث کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیرنا نہیں پڑتا اور اضطرار ظاہری کے بغیر ارتکاب تخصیص نہیں کرناپڑتا۔علامہ موصوف نے فرمایا اس لئے کہ قول اول اصول طبیہ کے معطل کردینے تك پہنچا دیتاہے حالانکہ شریعت میں ان کاتعطل وارد نہیں بلکہ ان کا اثبات وارد ہے ان کا اعتبار اس طریقے پر ہوسکتاہے جس کو ہم نے بیان کردیاہے اقول:(میں کہتاہوں)ہم یہ نہیں مانتے کہ شریعت نے علم طب کی تمام تفصیلات کوتسلیم کیاہے تین فضلاء تورپشتی طیبی اور ملاعلی قاری تو دوسروں کی طرح ناقل ہیں کہ اطباء طاعون اور وبا میں تعدیہ کااعتقاد رکھتے ہیں اگر شریعت اس بارے میں ان کی تصدیق کرتی تو پھرجہاں
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3903 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
فی ذلك لم یامر بالثبات وعدم الخروج من حیث وقع لکونہ اذ ذاك القاء بالایدی الی التھلکۃ ولم یجعل الفارمنہ کالفار من الزحف بل کان کالفار من جدار یرید ان ینقض مع ان ھذا الامر متواتر عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد وعد علیہ الاجر العظیم فعلم ان مزعومھم ھذا باطل عندالشرع وانما نھی عن الدخول علیہ کما امر بالفرار من المجذوم لانہ عسی ان یدخل فیبتلی بالقدر فیقول اعدیت اویقول لولاالدخول لما ابتلیت ومثل"لو"ھذہ تفتح عمل الشیطان والعیاذباﷲ تعالیقال ویدل علی صحۃ ماذکرنا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد بایعناك فارجع وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل ثقۃ باﷲ ولاسبیل الی التوفیق بین ھذین الحدیثین الامن ھذاالوجہبین بالاول التوقی من اسباب التلفوبالثانی التوکل علی اﷲ جل جلالہ طاعون واقع ہوجائےوہاں لوگوں کو ٹھہرنے اور کہیں باہرنہ جانے کاحکم نہ دیتی کیونکہ پھر تو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا ہوتااور طاعون سے بھاگنے والے کو جنگ سے بھاگنے والے کی طرح قرار نہ دیتی بلکہ وہ گرنے والی دیوار کے پاس سے بعجلت گزرنے کی طرح ہوتاباوجودیکہ یہ حکم آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے متواتر منقول ہے اور اس پراجرعظیم کاوعدہ فرمایاگیاہےپس معلوم ہوا کہ شریعت میں ان کا یہ خیال باطل ہے لہذا جہاں طاعون پھوٹ پڑے وہاں اسی طرح جانا منع ہے جس طرح جذامی کے پاس جانا ممنوع ہے اور اس سے بھاگنے کاحکم ہے اس لئے کہ اگر وہاں جانے کی صورت میں بقضاء وقدر مبتلائے مصیبت ہوگیا تو کہنے لگے گا کہ مجھ پر تعدیہ مرض ہوگیا یایوں کہنے لگے گا کہ اگروہاں نہ جاتا تو مبتلائے مرض نہ ہوتااور یہ حرف"لو"شیطانی عمل کادروازہ کھولتاہےاﷲ تعالی کی پناہ۔علامہ موصوف نے فرمایا اس کی صحت پر جو کچھ ہم نے بیان کیا حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کایہ ارشاد دلالت کرتاہے کہ لوٹ جاؤ ہم نے تمہیں (زبانی)بیعت کرلیاہےاور آپ کایہ ارشاد"اﷲ تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے(میرے ساتھ)کھاؤ"پس ان دو حدیثوں میں موافقت کی اس طریقہ کے سوا اورکوئی صورت نہیں (اور وہ یہ ہے کہ)پہلی حدیث میں اسباب ہلاکت سے بچنے کی تلقین
#3904 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
ولاالہ غیرہ فی متارکۃ الاسباب وھوحالہ عــــــہ اھ(ای کلام التورپشتی قال القاری)ھو جمع حسن فی غایۃ التحقیق واﷲ ولی التوفیق اقول: رحمك اﷲ لقد حجرت واسعا فقد بان وظھر جمع صاف شاف لمع وزھر وقدمنا وجوہ ترجیحہ وماذکر من الجمع ففیہ مافیہ کمااسلفنافان التوقی من فرمائی گئی اور دوسری میں اسباب کوچھوڑ کر محض اﷲ تعالی پربھروسہ اورتوکل کرنے کاطریقہ سکھایاگیاہے وہ اﷲ تعالی کہ جس کی بزرگی بہت بڑی ہے اور اس کے بغیر کوئی اور معبود برحق نہیںاور وہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ایك خصوصی حال ہےاھ یعنی تورپشتی کاکلام مکمل ہوگیا۔ ملاعلی قاری نے فرمایا وہ ایك خوبصورت انتہائی تحقیقی کام جمع ہے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہے اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی تم پررحم فرمائے تم نے توکشادہ کوتنگ کرڈالا اور اس میں رکاوٹ ڈال دی بلاشبہہ ایسی جمع ظاہر اور واضح ہے جو صافشفافروشن اور چمکدار ہے او رہم نے پہلے ہی اس کی وجوہ ترجیح بیان کردی ہیں

عــــــہ:کذا فی نسختی المرقاۃ وعلیہ فالضمیر لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اما کلام التورپشتی فھکذا بعد قولہ متارکۃ الاسباب یثبت بالاول التعرض للاسباب وھو سنۃ وبالثانی ترك الاسباب وھو حالۃاھ فالحالۃ بتاء التانیث لابھاء الضمیر۱۲منہ۔ میرے پاس جومرقاۃ کانسخہ ہے اس میں عبارت اسی طرح درج ہے پس اس کی بنا پر حالہ کی ضمیرحضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف لوٹتی ہےرہاتورپشتی کاکلام تو وہ اس کے قول متارکۃ الاسباب کے بعد اس طرح ہے۔۔۔۔۔۔۔ پس حدیث اول سے اسباب کا استعمال ثابت ہوا اور وہ سنت ہے جبکہ دوسری حدیث سے ترك اسباب کاثبوت ملا اور وہ ایك حالت ہے اھپس لفظ حالۃ صرف"تا"تانیث کے ساتھ ہے نہ کہ"ہ"ضمیر کے ساتھ ۱۲منہ۔(ت)
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
#3905 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
اسباب التلف واجب علی الناس جمیعا لایستثنی من الخواص ولیس التوکل ترك الاسباب ولامضادۃ الحکمۃ ولاالاجتراء علیھا بل اخراج الاسباب عن القلب مع تعاطی النافع وتحاصی الضار وقصر النظر علی المسبب جل وعلا قیدھا وتوکل علی اﷲثم قال القاری تحت قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفر من المجذوم وقد تقدم ان ھذا رخصۃ للضعفاء وترکہ جائز للاقویاء بناء علی ان الجذام من الامراض المعدیۃ الخ اقول: اری کلمات النافین والمثبتین جمیعا مطبقۃ علی ان الامر بالتوقی لضعفاء الیقین و حدیث کل ثقۃ باﷲ وکل مع صاحب البلاء و امثالھما للکاملین صرح بہ ایضا فی المقاصد الحسنۃ و التیسیر وغیرھما وھذا ایضا من اول دلیل علی صحۃ رہی وہ جمع جس کایہاں ذکرکیاگیا تو اس میں وہ کچھ ہے جو ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیاکیونکہ اسباب ہلاکت سے بچنا سب لوگوں پرواجب ہے لہذا اس سے خواص مستثنی نہیں اور توکل ترك اسباب اور ان پر جرأت کرنانہیں اور نہ وہ حکمت کے خلاف ہے بلکہ اسباب کو دل سے نکال دینا اور فائدہ بخش چیز کو لینا اور ضرررساں امو رسے بچنا اور نگاہ کو صرف اﷲ تعالی جل وعلا(جومسبب الاسباب ہے)پر روك رکھنا اس کی قیود کو ملحوظ رکھنا توکل علی اﷲ ہے پھر ملاعلی قاری نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی"مجذوم سے بھاگو"کے ذیل میں فرمایا بلاشبہہ پہلے گزرچکاہے کہ یہ کمزوروں کے لئے رخصت ہے جبکہ قوی حضرات کے لئے اس کا چھوڑنا جائزہے اس بناپر کہ مرض جذام متعدی امراض میں سے ہے الخ اقول:(میں کہتاہوں)نفی اور اثبات کرنے والوں کے کلمات اس پرمتفق ہیں کہ بچنے اور پرہیزکرنے کا حکم ضعیف الاعتقاد لوگوں کے لئے ہے اور حدیث"اﷲ تعالی پراعتماد وبھروسہ رکھتے ہوئے کھاؤ"اور"صاحب مصیبت کے ساتھ کھاؤ پیو"ان دوحدیثوں اور ان جیسی دیگر حدیثوں کابیان کاملین کے لئے ہے۔چنانچہ مقاصد حسنہتیسیر اور ان دو کے علاوہ دیگرکتب میں اس بات کی تصریح کردی گئی ہے او ریہ بھی نفی کرنے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۵
#3906 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
قول النفاۃ فان الاسباب العادیۃ یستوی فیھا الاقویاء والضعفاء فلایلتئم ھذا علی قول المثبتین اما علی قول النفاۃ واضح انہ لاعدوی حقیقۃ وانما الخشیۃ ان یتوھمھا من ابتلی بقدروھذا لایخشی منہ علی الذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون جعلنا اﷲ تعالی منھم بفضل رحمتہ بھم امین! والوں کے قول کی صحت پر پہلی دلیل ہے کیونکہ عادی اسباب میں قوی اور ضعیف برابر اورمساوی ہوتے ہیں لہذا اثبات کرنے والوں کے قول سے یہ موافقت اور مطابقت واضح ہے کیونکہ ان کے نزدیك تودرحقیقت کسی مرض میں تعدیہ ہے ہی نہیںہاں البتہ اس بات کاخطرہ واندیشہ رکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص تقدیرالہی کی بناپر مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے تعدیہ کا وہم ہوجائے گا۔(رہا ان حضرات کامعاملہ)جو سچے مومن اور اپنے پروردگار پرکامل یقین وبھروسہ رکھتے ہیں تو ان سے اس قسم کا خوف اور خدشہ نہیں۔اﷲ تعالی اپنے فضل ورحمت سے جو ان پرہے ہمیں بھی نوازے اور ان لوگوں میں شامل فرمائےآمین!(ت)
بالجملہ مذہب معتمد وصحیح ورجیح ونجیح یہ ہے کہ جذامکھجلیچیچکطاعون وغیرہا اصلا کوئی بیماری ایك کی دوسرے کو ہرگز ہرگز اڑ کرنہیں لگتییہ محض اوہام بے اصل ہیں کوئی وہم پکائے جائے تو کبھی اصل بھی ہوجاتا ہے کہ ارشاد ہوا ہے:انا عند ظن عبدی بی (میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے پاس ہوتاہوں۔ت)وہ اس دوسرے کی بیماری اسے نہ لگی بلکہ خود اسی کی باطنی بیماری کہ وہم پروردہ تھی صورت پکڑکرظاہرہوگئی۔فیض القدیر میں ہے:
بل الوھم وحدہ من اکبراسباب الاصابۃ ۔ بلکہ اکیلا وہماسباب رسائی میں سے سب سے بڑاسبب ہے۔(ت)
اس لئے اور نیزکراہت واذیت وخودبینی وتحقیر مجذوم سے بچنے کے واسطے اور نیز اس دوراندیشی سے کہ مبادا اسے کچھ پیداہو اور ابلیس لعین وسوسہ ڈالے کہ دیکھ بیماری اڑ کرلگ گئی اور اب معاذاﷲ اس امر کی حقانیت اس کے خطرہ میں گزرے گی جسے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باطل فرماچکے یہ اس مرض سے بھی بدترمرض ہوگا ان وجوہ سے شرع حکیم ورحیم نے ضعیف الیقین لوگوں کوحکم استحبابی دیاہے کہ اس سے دور رہیں۔
حوالہ / References مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۵
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۴۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۳۷
#3907 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
اور کامل ایمان بندگان خدا کے لئے کچھ حرج نہیں کہ وہ ان سب مفاسد سے پاك ہیں۔خوب سمجھ لیاجائے کہ دور ہونے کاحکم ان حکمتوں کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ معاذاﷲ بیماری اڑ کر لگ جائے گیاسے تو اﷲ ورسول رد فرماچکے جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اقول:(میں کہتاہوں)پھر ازانجاکہ یہ حکم ایك احتیاطی استحبابی ہے واجب نہیںکماقدمنا عن النووی عن القاضی عن جمہور العلماء(جیسا کہ امام نووی بواسطہ قاضی عیاض ہم جمہور علماء کا قول پہلے بیان کرآئے ہیں۔ت)ہرگز کسی واجب شرعی کامعارضہ نہ کرے گا مثلا معاذاﷲ جسے یہ عارضہ ہو اس کے اولاد واقارب وزوجہ سب اس احتیاط کے باعث اس سے دوربھاگیں اور اسے تنہاوضائع چھوڑدیں یہ ہرگز حلال نہیں بلکہ زوجہ ہرگز اسے ہمبستری سے بھی منع نہیں کرسکتیولہذا ہمارے شیخین مذہب امام اعظم وامام ابویوسف رضی اﷲتعالی عنہما کے نزدیك جذام شوہر سے عورت کو درخواست فسخ نکاح کااختیارنہیںاور خداترس بندے تو ہربیکس بے یار کی اعانت اپنے ذمہ لازم سمجھتے ہیں۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اﷲ اﷲ فی من لیس لہ الا اﷲ۔رواہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ سے ڈرو اس کے بارے میں جس کاکوئی نہیں سوا اﷲ کے۔(محدث ابن عدی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
لاجرم امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
اما الثانی(ای قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فر من المجذوم)فظاھرہ غیرمراد للاتفاق علی اباحۃ القرب منہ ویثاب بخدمتہ وتمریضہ وعلی القیام بمصالحہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
واذ خرجت المقالۃ فی صورۃ رسالۃ ناسب ان نسمھا الحق المجتلی (لیکن دوسری حدیث یعنی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد"مجذوم سے بھاگو")تو اس کا ظاہرمراد نہیںیعنی علماء کا اتفاق ہے کہ مجذوم کے پاس اٹھنا بیٹھنا مباح ہے اور اس کی خدمت گزاری وتیمارداری موجب ثواب۔واﷲ تعالی اعلم۔
اچانك مقالہ رسالہ کی شکل میں ظاہر ہوا لہذا مناسب ہے کہ ہم اس کانام الحق المجتلی
حوالہ / References کشف الخفاء بحوالہ ابن عدی عن ابی ہریرۃ حرف الہمزہ رشدین حدیث ۵۸۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۷۳
فتح القدیر باب العنین وغیرہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۱۳۳
#3908 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
فی حکم المبتلیوالحمدﷲ علی ماانعم وعلم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وسلم۔ فی حکم المبتلی رکھیں(یعنی مصیبت زدہ کاحکم بیان کرنے میں بالکل واضح اور روشن حق)سب تعریف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جس نے انعام فرمایا اور علم سکھایادرودوسلام ہو ہمارے آقاومولی حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی آل اور اصحاب پر۔(ت)
____________________
رسالہ
الحق المجتلی فی حکم المبتلی
ختم ہوا
#3909 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
تیسرالماعون للسکن فی الطاعون ۱۳۲۵ھ
(طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۸۵ تا ۹۳:ازقصبہ نگرام ضلع لکھنو مرسلہ مولوی محمدنفیس صاحب ولد جناب محمد ادریس صاحب ۶صفر۱۳۲۵ھ
علمائے شریعت محمدیہ کا مسائل ذیل میں کیاحکم ہے:
(۱)طاعون کے خوف سے مقام خوف سے فرارکرنا کیساہے
(۲)درصورت جوازفرارحدیث فرار عن الطاعون(جوبخاری میں عبدالرحمن بن عوف سے مروی ہے)کے کیامعنی ہوں گے
(۳)درصورت عدم جوازفرار عن الطاعون کس درجے کی معصیت ہےکبیرہ یاصغیرہ
(۴)گناہ کبیرہ یاصغیرہ پراصرار کرنے والا شرعا کیساہے
(۵)طاعون سے جان کے خوف سے فرار کرنے والے یافرار کی ترغیب دینے والے کے پیچھے نمازپڑھنا کیساہے
(۶)درصورت عدم جواز فرار عن الطاعونسے فرارکرنے والا اور ترغیب دینے والا ایك درجہ میں معصیت کے مرتکب ہوں گے یاکم زیادہ
#3910 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
(۷)مسمی ناقلطاعون سے فرار کو بمقابلہئ حدیث حرمت فرار عن الطاعونجائزہی نہیں بلکہ بلادلیل شرعی احسن سمجھتاہے شرعا وہ کیساہے
(۸)بمقابلہ حدیث صحیح کے کسی صحابی کا قول یا فعل جومخالف حدیث صحیح کے ہو کیا اصول احکام شریعت کے اعتبار سے قابل تقلید یاعمل ہوگاقولی حدیث کے مقابلہ میں کیاصحابی کے فعل کو ترجیح دی جائے گی
(۹)بخیال حفظ صحت بخوف طاعون طاعونی آبادی سے فرار کرکے اسی کے مضافات میں یعنی آبادی سے کم وبیش ایك میل کے ایسے فاصلے پرچلاجانا جوآبادی کے اکثر ضروریات کوپوری کرتا ہو جس کو فنا کہتے ہیں کیاداخل فرارعن الطاعون ہوگا جس کی ممانعت وحرمت حدیث عبدالرحمن بن عوف سے جوبخاری جلد رابع باب مایذکر فی الطاعون میں مروی ثابت ہےاگر یہ خروج داخل فرار عن الطاعون ہوگا تو کیوںجبکہ بخاری جلد رابع باب اجرالصابر فی الطاعون میں حضرت عائشہ رضی اﷲتعالی عنہا سے مروی ہے کہ اگر کسی کے گاؤں میں طاعون ہو اور وہ اپنے شہرمیں استقلال سے ٹھہرارہے تو اس کو اجرشہید کاہوگااس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبدالرحمن بن عوف کی حدیث میں شہرطاعون سے فرار کی ممانعت ہے نہ یہ کہ شہر طاعون کے اندرخروج نہ کیا جائے کیونکہ اگر شہر کے اندربھی خروج کی ممانعت ہوتی تو حدیث عائشہ میں صرف استقلال فی البلد سے اجرشہادت نہ ہوتا بلکہ استقلال فی البیت سے ہوتااور فنا میں نمازجمعہ کی اجازت سے معلوم ہوتا ہے کہ فنائے شہربھی شہرہے پس شہرمیں خروج کرنا کیونکر داخل فرارہوگا کیونکہ بدلیل اجازت جمعہ درفنائے شہر شہر ثابت ہوچکاہے اور فحوائے حدیث عائشہ سے شہر کے اندر خروج کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی اور اگر یہ خروج میں داخل نہ ہوگا تو کیوں جبکہ مسافر کو موضع اقامت کی عمارات سے نکلنے پر فورا قصرواجب ہوجاتاہے جیسا کہ کتب فقہ سے ثابت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ شہر کااطلاق محض عمارات پرہوتاہے نہ کہ فنائے عمارات پراور اس صورت میں حدیث عائشہ کایہ مفہوم ہوگا کہ شہر کی عمارات سے خروج نہ کیاجائے۔پس احد الامرین کے اختیارکرنے سے دوسرے کا کیاجواب ہوگاحدیث عائشہ کاصحیح مفہوم کیاہوگاصورت اول یا آخرہرایك سوال کا جواب نمبروار مدلل ومفصل مع حوالہ کتب عنایت فرمائیے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی حمدہ للنجاۃ اﷲتعالی کے بابرکت نام سے شروع جونہایت رحم کرنے وبے حدمہربان ہےتمام خوبیاں اﷲ تعالی
#3911 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
من البلایاخیر ماعون * وافضل الصلوۃ والسلام علی من جعلت شھادۃ امتہ فی الطعن والطاعون* وعلی الہ وصحبہ الذین ھم لاماناتھم وعھدھم راعون* فلایفرون اذا لاقوا وھم فی اعلاء کلمۃ اﷲ ساعون* وﷲ ورسولہ طواعونالی المعروف داعون* وعن المنکر مناعون÷ کے لئے ہیں کہ جس کی تعریف مصائب سے چھڑانے کے لئے زیادہ مفیدہے۔افضل درودوسلام اس ہستی پر کہ جس کی امت کی گواہی(بطورسند)طعن اور طاعون میں رکھی گئی اور اس کی تمام آل اور تمام صحابہ پرجواپنی امانتوں اور عہد کی رعایت کرنے والے ہیں اور وہ بھاگتے نہیں جبکہ دشمن سے ان کا آمنا سامنا ہو اور وہ اﷲ کے کلمے کو بلند کرنے میں کوشاں رہتے ہیں اﷲ تعالی اور اس کے رسول کے بہت فرمانبردار ہیں اور بھلائی کی دعوت دینے والے اور برائی سے روکنے والے ہیں۔(ت)
طاعون سے فرار گناہ کبیرہ ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفار من الزحف۔رواہ الامام احمد بسند حسن والترمذی وقال حسن غریب و ابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحھما والبزار و الطبرانی وعبدبن حمید عن جابر بن عبداﷲ و احمد بسند صحیح وابن سعد وابویعلی والطبرانی فی الکبیر وفی الاوسط وابونعیم فی فوائد ابی بکربن خلاد عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھم۔ طاعون سے بھاگنے والا ایساہے جیسے جہاد میں کافروں کے مقابلے سے بھاگ جانے والا۔(امام احمد نے سندحسن سے اور امام ترمذی نے اس کو روایت کیااور فرمایا حدیث حسن غریب ہے۔ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحاح میں اس کو روایت کیاہے۔بزارطبرانی اور عبد بن حمیدنے حضرت جابر بن عبداﷲ کے حوالے سےنیز امام احمد نے سندحسن سےابن سعدابویعلی اور طبرانی نے الکبیر اور الاوسط میں اور ابونعیم نے ابوبکر بن خلاد کے فوائد میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حوالہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
اور اﷲ عزوجل جہاد میں کفار کوپیٹھ دے کربھاگنے والے کی نسبت فرماتا ہے:
" فقد باء بغضب من اللہ وماوىہ جہنم وہ بیشك اﷲ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۸۲،۱۴۵،۲۵۵،الزواجر عن اقتراف الکبائر الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمأتہ دارالفکر بیروت ۲ /۸۸۔۲۸۷
#3912 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
وبئس المصیر ﴿۱۶﴾" دوزخ ہے اور کیا بری جائے بازگشت ہے۔
امام ابن حجر مکی زواجر عن اقتراف الکبائر میں فرماتے ہیں:
الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلثمائۃ الفرار من الطاعون ۔ تین سوکبیرہ گناہوں کے بعد ننانوے نمبر پرطاعون سے بھاگنا کبیرہ گناہ ہے۔(ت)
اسی میں بعد ذکرحدیث مذکور بتخریج ترمذی وابن حبان وغیرہما فرمایا:
القصد بھذا التشبیہ انما ھو زجرالفار والتغلیظ علیہ حتی ینزجرولایتم ذلك الا ان کان کبیرۃ کالفرار من الزحف ۔ اس تشبیہ سے مقصود طاعون سے بھاگنے والے کی سرزنش اور اس پرسختی کرناہے تاکہ وہ اس سے باز آجائےاور یہ بات اس کے کبیرہ گناہ ہونے کے بغیرپوری نہیں ہوسکتی جیسے جنگ سے بھاگنا۔(ت)
مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
ضابطہ در وباء ہمیں ست کہ درانجاکہ ہست نباید رفت و ازانجاکہ باشد نباید گریخت اگرچہ گریختن دربعض مواضع مثل خانہ کہ دروے زلزلہ شدہ یاآتش گرفتہ یانشستن در زیر دیوارے کم خم شدہ نزد غلبہ ظن بہلاك آمدہ است امادرباب طاعون جزصبر نیامدہ مگرگریختن تجویزنیافتہ وقیاس ایں برآں مردود وفاسد است کہ آنہا از قبیل اسباب عادیہ اند وایں از اسباب وہمی وبرہر تقدیرگریختن ازانجاجائزنیست وہیچ جا وارد نشدہ وہرکہ بگریز وعاصی ومرتکب کبیرہ ومردودست نسأل اﷲ العافیۃ ۔ وباء میں قاعدہ کلیہ یہ ہےکہ جہاں ہو(یعنی جہاں وباء پھوٹ پڑے)وہاں نہ جائے اور جس جگہ بندہ موجود ہو اور وہاں وباء کی صورت بن جائے تو وہاں سے نہ بھاگے اگرچہ بعض مقامات مثلا وہ گھر جوزلزلے کاشکار ہورہاہو یاجس میں آگ لگ گئی ہو یاگرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہو تو ان تمام مقامات سے ہلاکت کے غالب گمان وامکان کے پیش نظر بھاگ جانے کی اجازت ہے۔لیکن طاعون کے باب میں سوائے صبر کےکچھ نہیں کرناچاہئےلہذا وہاں سے بھاگنے کی تجویز نہیں دی گئی۔پس اس کو اس پرقیاس کرنامردود اور فاسد ہے کہ وہ اسباب عادیہ کے قبیل سے ہے اور یہ اسباب توہم سے ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ۸ /۱۶
الزواجر لابن حجر مکی الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمائۃ دارالفکر بیروت ۲ /۲۸۵
الزواجر لابن حجر مکی الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلاثمائۃ دارالفکر بیروت ۲ /۲۸۸
اشعۃ المعات شرح المشکوٰۃ کتاب الجنائز باب عیادۃ المریض مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۶۳۹
#3913 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
بہرحال اس جگہ سے بھاگناجائزنہیں اور یہ کسی جگہ وارد نہیں ہوالہذا جو کوئی(اس سے)بھاگے توگناہگار ہوگا اور مرتکب کبیرہ اور مردود ہوگا۔ہم اﷲ تعالی سے عافیت چاہتے ہیں۔(ت)
شرح مشکوۃ علامہ طیبی میں زیرحدیث مذکور ہے:
شبہ بہ ای بالفرار من الزحف فی ارتکاب الکبیرۃ ۔ جنگ سے بھاگ جانے کے ساتھ طاعون سے بھاگ جانے کو تشبیہ ارتکاب کبیرہ کی وجہ دی گئی(ت)
شرح مؤطا میں ہے:
قال ابن خزیمۃ انہ من الکبائر التی یعاقب اﷲ تعالی علیھا ان لم یعف ۔ محدث ابن خزیمہ نے فرمایا:طاعون سے بھاگ جانا ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ جن پر اﷲ تعالی عذاب دیتاہے جبکہ وہ معاف نہ فرمائے۔(ت)
صغیرہ پراصرار اسے کبیرہ کردیتاہے اور کبیرہ پر اصرار اور سخت ترکبیرہ۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاصغیرۃ مع الاصرار۔رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ کوئی گناہ اصرار کے بعد صغیرہ نہیں رہتا(محدث دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ت)
فرار کی ترغیب دینے والا فرارکرنے والے سے اشد وبال میں ہے نفس گناہ میں احکام الہیہ سے معارضہ ومخالفت کی وہ شان نہیں جوبرعکس حکم شرع نہی عن المعروف وامربالمنکر میں ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" المنفقون والمنفقت بعضہم من بعض یامرون بالمنکر وینہون عن المعروف" الی قولہ عزوجل" والمؤمنون منافق مرد اور منافق عوتیں آپس میں ایك ہیں برائی کاحکم دیتے اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں دینی
حوالہ / References شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الجنائز عیادۃ المریض ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۲۲
شرح الزرقانی مؤطا الامام مالك باب ماجاء فی الطاعون تحت حدیث ۱۷۲۲ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۴۲
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۷۹۴۴ عن ابن عباس دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۱۹۹
القرآن الکریم ۹ /۶۷
#3914 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
والمؤمنت بعضہم اولیاء بعض یامرون بالمعروف وینہون عن المنکر " بات پر ایك دوسرے کے مددگار ہیں بھلائی کاحکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔
گنہگار اپنی جان کوگرفتار عذاب کرتاہے اور گناہ کی ترغیب دینے والا خود عذاب میں پڑا اور دوسرے کو بھی عذاب میں ڈالنا چاہتاہے جتنے اس کی بات پرچلتے ہیں سب کاوبال ان سب پر اور ان کے برابر اس اکیلے پرہوتاہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من اتبعہ لاینقص ذلك م اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من اتبعہ لاینقص ذلك من اثامھم شیئا۔رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاالبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوسیدھے راستے کی طرف بلائے جتنے اس کی پیروی کریں سب کے برابرثواب پائے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہواور جوگمراہی کی طرف بلائے جتنے اس کے کہے پرچلیں سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو(ائمہ کرام مثلا امام احمد نے اور بخاری کے علاوہ ائمہ ستہ (مسلمابوداؤدترمذیابن ماجہ اور نسائی)نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ کے حوالہ سے روایت کیاہے۔ت)
اور جب طاعون سے فرارکبیرہ ہے تو لوگوں کو اس کی ترغیب دینی سخت ترکبیرہاور دونوں فاسق ہیںاور غالبا اعلان بھی نقد وقت اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی۔ غنیہ میں ہے:
لوقدموا فاسقا یاثمون ۔ اگرلوگ فاسق کو(امامت کے لئے)آگے کریں تو سب گناہگار ہوں گے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۷۱
مسنداحمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۷،صحیح مسلم کتاب العلم باب من سنّ سنۃ حسنۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۳۴۱،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲ /۲۷۹ و جامع الترمذی ابواب العلم ۲ /۹۲،سنن ابن ماجہ باب من سنّ سنۃ الخ ص۹۱
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلّی فصل فی الامامۃ وفیہا مباحث سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
#3915 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
ردالمحتار میں ہے:
فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا فھو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال بل مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لما ذکرنا ۔ اس لئے کہ اس کو امامت کے لئے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ لوگوں پرشرعا اس کی توہین وتذلیل واجب ہے لہذا وہ بدعتی کی طرح ہے ہرحال میں اس کی امامت مکروہ ہے بلکہ شرح منیہ میں یہ بیان کیاگیاکہ اس کے آگے کرنے میں جو کراہت ہے وہ کراہت تحریمی ہے اس وجہ سے جوہم نے بیان کردی۔(ت)
طاعون سے فرار کو جو احسن سمجھتاہے اگرجاہل ہے اور اسے معلوم نہیں کہ احادیث صحیحہ اس کی تحریم میں وارد ہیں اسے تفہیم کی جائے اور اگردانستہ حدیثوں کا انکار کرتاہے تو صریح گمراہ ہے۔ شرح موطاللعلامۃ الزرقانی میں زیرحدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ دربارہ طاعون ہے:
فیہ دلیل قوی علی وجوب العمل بخبر الواحد لانہ کان بمحضر جمع عظیم من الصحابۃ فلم یقولوا لعبد الرحمن انت واحد وانما یجب قبول خبر الکافۃمااضل من قال بھذا واﷲ تعالی یقول ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا وقرئ فتثبتوا فلوکان العدل اذاجاء بنبأ تثبت فی خبرہ ولم ینفذ لاستوی مع الفاسق وھذا خلاف القران ام نجعل المتقین کالفجار قالہ ابن عبدالبر ۔ اس میں قوی دلیل ہے کہ خبرواحد پرعمل کرنا واجب ہے (کیونکہ عبدالرحمن ابن عوف کاحدیث طاعون بیان فرمانا) صحابہ کرام کی ایك عظیم جماعت کی موجودگی میں تھاپھر کسی نے حضرت عبد الرحمن سے یہ نہیں کہا کہ تم ایك اکیلے بیان کررہے ہو(لہذا تمہارے اکیلے پن کے باعث تمہاری بات پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا) لہذا پوری جماعت کی خبرقبول کرنا واجب اور ضروری ہےپس جس کسی نے یہ کہا وہ کس قدر بھٹك گیا اور اﷲ تعالی ارشاد فرماتاہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبرلائے تو خوب تحقیق کرلیاکرواور یوں بھی پڑھاگیا فتثبتوا یعنی ثابت قدم اور مضبوط ہوجایاکرو(یعنی اس کی خبر میں توقف کیاکرو تاکہ پتہ چل جائے)پھر اگر کوئی عادل خبر لائے تو تو اس خبر میں ثابت قدم رہے لیکن اس کی خبر نافذ نہ ہو تو وہ فاسق(غیرمعتبر)کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۷۶
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك باب ماجاء فی الطاعون دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۳۸
#3916 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
ساتھ برابرہوجائے گا حالانکہ یہ بات نص قرآن کے خلاف ہےچنانچہ ارشاد ربانی ہے:"کیاہم پرہیزگاروں کوفاجروں کے برابر کردیں گے" چنانچہ علامہ ابن عبدالبرنے یہی فرمایاہے۔(ت)
جس امر میں رائے واجتہاد کودخل نہ ہو اس میں قول صحابی دلیل قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے ورنہ جس حدیث کی مخالفت کی اگر اس کے راوی خود یہ صحابی ہیں اور مخالفت صرف ظاہر نص کی ہے مثلا عام کی تخصیص یامطلق کی تقیید تویہ اثر صحابی اس حدیث مرفوع کی تفسیر ٹھہرے گا اور اسے اسی خلاف ظاہرپرمحمول سمجھاجائے گا اور مخالفت مفسر کی ہے تو صریح دلیل ہے کہ وہ حدیث منسوخ ہوچکی صحابی کو اس کاناسخ معلوم تھااور اگر یہ خود اس کے راوی نہیں تویہ معاملہ اگر اس قابل نہ تھا کہ ان صحابی پرمخفی رہتا تو ان کی مخالفت اس روایت مرفوعہ کے قبول میں شبہہ ڈالے گی ورنہ حدیث ہی مرجح ہے جیسا کہ غیرصحابہ کے قول وفعل پرمطلقا جب تك حد اجماع تك نہ پہنچے۔مسلم الثبوت میں ہے:
روی الصحابی وحمل ظاھرا علی غیرہ کتخصیص العام فالحنفیۃ علی ماحمل لان ترك الظاھر بلاموجب حرام فلایترکہ الابدلیل قطعا ولوترك نصا مفسرا تعین علمہ بالناسخ فیجب اتباعہ وان عمل بخلاف خبرہ غیرہ فان کان صحابیا فالحنفیۃ ان کان ممایحتمل الخفاء لایضر او لا فیقدح وان کان غیر صحابی ولواکثر الامۃ فالعمل بالخبر اھ مختصرا۔ اگر خود صحابی نے روایت کی اور حدیث کے ظاہر کو غیرظاہر پر حمل کیا جیسے عام کی تخصیصتو اس صورت میں حنفیہ کی رائے وہی ہے جس پر اس نے حدیث کو حمل کیاہے کیونکہ ظاہر کوبغیرکسی سبب چھوڑدینا حرام ہے لہذا بغیر کسی قطعی دلیل کے وہ اسے نہیں چھوڑتا۔اگر کسی نص مفسر کو چھوڑ دے(تو اس کامفہوم یہ ہوگا)کہ حدیث اس کے نزدیك منسوخ ہے اور اس کے علم میں اس کا ناسخ متعین ہے تو اس کی اتباع ضروری ہے اور اگر اس نے کسی دوسرے کی روایت کے خلاف عمل کیا۔اگر یہ خود صحابی ہیں تو اگرمعاملہ خفاء کا احتمال رکھتاہے تو اول کچھ مضرہی نہیں کہ قدح پیداکرے گا اور اگر یہ صحابی نہیں اگرچہ اکثرافراد امت ہوںتو پھر عمل صرف حدیث پر ہوگا اھ مختصرا۔(ت)
اسی میں ہے:
الرازی منا والبردعی والبزدوی والسرخسی ہم میں سے رازیبردعیبزدویسرخسی اور
حوالہ / References مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ وی الصحابی المجمل مطبع انصاری دہلی ص۹۷۔۱۹۶
#3917 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
واتباعھم قول الصحابی فیما یمکن فیہ الرأی ملحق بالسنۃ لغیرہ لابمثلہ ونفاہ الکرخی و جماعۃ وفیما لا یدرك بالرأی فعند اصحابنا اتفاق فلہ حکم الرفع اھ ملتقطا۔ ان کے تابعین(موافقین)فرماتے ہیں کسی صحابی کا قول اگر ایسے معاملہ میں ہو جس میں رائے ممکن ہو تو وہ دوسروں کے لئے سنت سے ملحق ہے نہ کہ خود اس کے لئےلیکن امام کرخی اور ایك گروہ نے اس کی نفی کیاور اگر کسی معاملہ کا ادراك رائے کے ساتھ نہ ہوسکے تو اس پرہمارے اصحاب کااتفاق ہے یہ کہ وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہےاھ ملتقطا(ت)
یہ اجمالی کلام ہے اور نظرمجتہد کے لئے ہے اورحدیث طاعون اسی قبیل سے ہے جس کا بعض بلکہ اکثرصحابہ پربھی مخفی رہناجائے عجب نہ تھا جیسا کہ حدیث صحیحین سے ثابت ہے کہ جب امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو راہ شام میں خبرملی کہ وہاں طاعون ہے صحابہ کرام میں پہلے مہاجرین عظام پھرانصار کرام پھرمشائخ قریش مہاجرین فتح مکہ کو بلاکر مشورے لئے سب نے اپنی اپنی رائے ظاہر کی مگر کسی کو اس بارے میں ارشاد اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم معلوم نہ تھانہ خود امیر المومنین کے علم میں تھا یہاں تك کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اس وقت اپنے کسی کام کو تشریف لے گئے تھے انہوں نے آکر ارشاد والابیان کیا اور اسی پر عمل کیاگیا ۔یونہی صحیحین کی حدیث سے ثابت کہ سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ احدالعشرۃ المبشرہ کو یہ ارشاد اقدس کہ جب دوسری جگہ طاعون ہونا سنو وہاں نہ جاؤ اور جب تمہارے یہاں پیداہو تو وہاں سے نہ بھاگومعلوم نہ تھایہاں تك کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما نے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے محبوب ابن المحبوب اور سعد رضی اﷲ تعالی عنہ کے سامنے کے بچے ہیں انہیں یہ حدیث سنائی بلکہ صحیحین سے یہ بھی ثابت کہ سعد رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان سے سوال کرکے اس کا علم حاصل فرمایا۔
فقد اخرجا عن عامر بن سعدبن ابی وقاص عن ابیہ انہ سمعہ یسأل اسامۃ بن زید ماذاسمعت بخاری ومسلم نے عامر بن سعد عن ابیہ سے تخریج فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے والد بزرگوار حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے خود سنا کہ
حوالہ / References مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ قول الصحابی فیمایمکن فیہ الرأی انصاری دہلی ص۰۸۔۲۰۷
صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکرفی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۳،صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۸
#3918 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الطاعون رجز ارسل علی بن اسرائیل اوعلی من کان قبلکم فاذا سمعتم بہ بارض فلاتقدموا علیہ واذ وقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا فرار منہ ۔ وہ حضرات اسامہ بن زید سے پوچھ رہے تھے کہ آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق کیا سنایہ کہ طاعون ایك عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا ان سے پہلے لوگوں پربھیجاگیا لہذا جب تم اس کے بارے میں سنو کہ فلاں زمین میں پھیل گیا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جس جگہ تم مقیم ہو وہاں طاعون پیداہوجائے تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نہ جاؤ اور(جگہ قیام)نہ چھوڑو۔(ت)
اور اس کے بعد خود اسے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
ای یرسل ارسالا ثقۃ بروایۃ اسامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی ارسال فرماتے ہوئے حضرت اسامہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت پراعتماد کرتے ہوئے(ت)
صحیح مسلم شریف میں بعد ذکرحدیث اسامہ رضی اﷲ تعالی عنہ ہے:
وحدثنیہ وھب بن بقیۃ فذکر بسندہ عن ابراھیم بن سعد بن مالك عن ابیہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بنحوحدیثھم ۔ مجھ سے وہب بن بقیہ نے بیان کیاپھر اس نے اپنی سند سے ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی(اور سند یہ ہے)ابراہیم بن سعد بن مالك کے حوالہ سے اس نے اپنے والدگرامی سعد بن مالك کے حوالہ سے انہوں نے خود حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرمائی۔(ت)
تو دو ایك صحابہ سے جو اس کا خلاف مروی ہوا اطلاع حدیث سے پہلے تھا جیسے عمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ کہ طاعون سے بہت خوب کرتے لوگوں کومتفرق ہوجانے کی رائے دی معاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہ اعلم الناس بالحلال والحرام وامام العلماء یوم القیام(جو سب لوگوں سے زیادہ حلال وحرام کو جاننے والے ہیں اور قیامت کے دن علمائے کرام کے امام ہوں گے۔ت)ہیں ان کا رد شدید کیا اور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث بیان کی اور شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالی عنہ کاتب وحی نے نہایت شدت سے رد کیا اور فرار عن الطاعون سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کامنع فرمانا روایت کیاعمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب منہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۴،صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعن والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۸
صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعن والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۸
#3919 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
نے فورا رجوع فرمائی اور ان کی تصدیق کی۔
اخرج ابن خزیمۃ فی صحیحہ عن عبدالرحمن بن غنم قال وقع الطاعون بالشام فقال عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ ان ھذا الطاعون رجس ففروا منہ فی الادویۃ والشعابفبلغ ذلك شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فغضب وقال کذب عمروبن العاص فقد صحبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعمرواضل من جمل اھلہان ھذا الطاعون دعوۃ نبیکم ورحمۃ ربکم ووفاۃ الصالحین قبلکم الحدیث ولفظ ابن عساکر عن عبد الرحمن بن غنم قال کان عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ حین احس بالطاعون فرق فرقا شدیدا فقال یا ایھا الناس تبددوا فی ھذہ الشعاب وتفرقوا فانہ قد نزل بکم امرمن اﷲ تعالی لا اراہ الا رجزا اوالطوفان قال شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قد صحابنا رسول اﷲ ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبدالرحمن ابن غنم کے حوالے سے تخریج فرمائیفرمایا ملك شام میں طاعون کا مرض پھوٹ پڑا تو حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا(لوگو!)یہ طاعون اﷲ تعالی کاعذاب ہے لہذا اس سے بھاگ کر وادیوں اور پہاڑی گھاٹیوں میں چلے جاؤپھر شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو یہ اطلاع پہنچی تو غضبناك ہوئے اور فرمایا عمروبن عاص نے غلط کہا ہے کیونکہ میں حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہاہوں لیکن عمرو تو زیادہ بھٹکاہوا ہے اپنے گھر کے اونٹ سےبلاشبہہ یہ طاعون تمہارے نبی کی دعوت ہے اورتمہارے پروردگار کی رحمت اور تم سے پہلے نیك لوگوں کی وفات ہے (الحدیث) ابن عساکر حضرت عبدالرحمن بن غنم کے حوالے سے یوں کہتے ہیں اس نے فرمایا حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ کو جب طاعون محسوس ہوا تو وہ انتہائی خوفزدہ ہوئے اور فرمایا(لوگو!)ان گھاٹیوں میں الگ الگ اور منتشرہوجاؤ کیونکہ تم پر اﷲ تعالی کا امر(عذاب)نازل ہوگیاہے اور میں اس کو عذاب یاطوفان ہی خیال کرتاہوںحضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن خزیمہ کر حدیث ۱۱۷۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۶۰۳
#3920 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و انت اضل من حمار اھلك قال عمرو رضی اﷲ تعالی عنہ صدقت قال معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ لعمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ کذبت لیس بالطوفان ولابالرجز ولکنھا رحمۃ ربکم ودعوۃ نبیکم وقبض الصالحین قبلکم الحدیث ورواہ الامام الطحاوی فی شرح معانی الاثار من حدیث شعبۃ عن یزید بن حمیر قال سمعت شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالی عنہ یحدث عن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ ان الطاعون وقع بالشام فقال عمرو تفرقوا عنہ فانہ رجز فبلغ ذلك شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فقال قد صحبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فسمعتہ یقول انھا رحمۃ ربکم ودعوۃ نبیکم وموت الصالحین قبلکم فاجتمعوالہ ولاتفرقوا علیہ فقال عمرو رضی اﷲ تعالی عنہ صدق وللحدیث طریق اخری عن شھر کے ساتھ وقت گزاراہے تم تواپنے گھروالوں کے گدھے سے بھ زیادہ بھٹکے ہوئے ہو۔حضرت عمرو رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا آپ نے سچ کہاہے۔حضرت معاذرضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا آپ نے غلط کہا نہ یہ طوفان ہے اور نہ عذاب بلکہ یہ تمہارے پروردگار کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعاہے اور تم سے پہلے نیك لوگوں کی موت ہے(الحدیث)امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں شعبہ کی حدیث یزیدبن حمیر کے حوالے سے روایت فرمائیفرمایا میں نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے سنا کہ وہ حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے بیان کرتے تھےملك شام میں طاعون واقع ہوا تو حضرت عمرو بن عاص نے لوگوں سے فرمایا کہ اس سے منتشرہوجاؤ اور بکھرجاؤ کیونکہ یہ عذاب ہےجب شرحبیل بن حسنۃ تك یہ خبر پہنچی تو ارشادفرمایا میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہاہوں میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ وہ تمہارے رب کی رحمتتمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے نیك لوگوں کی موت ہے لہذا اس کے لئے جمع ہوجاؤ اور اس سے متفرق و منتشرنہ ہو۔اس پرحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا سچ ہے۔حدیث
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ کر حدیث ۱۱۷۵۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/۶۔۶۰۵
شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی الطاعون الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۵
#3921 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
بن حوشب قال فیھا فقام شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فقال واﷲ لقد اسلمت وان امیرکم ھذا اضل من جمل اھلہ فانظروا مایقول قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا وقع بارض وانتم بھا فلاتھربوا فان الموت فی اعناقکم واذا کان بارض فلاتدخلوھا فانہ یحرق القلوب ۔ کے لئے ایك دوسرا طریق شہربن حوشب کے حوالے سے ہے چنانچہ اس میں فرمایا پھرشرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالی عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا خدا کی قسم میں اسلام لایا جبکہ تمہارا یہ امیر اپنے گھر کے اونٹ سے بھی زیادہ بھٹکاہواہے پھر دیکھو وہ کیاکہتاہے۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب طاعون کسی جگہ واقع ہوجائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو کیونکہ موت تمہاری گردنوں میں لٹك رہی ہےاور جب طاعون کہیں پھوٹ پڑے تووہاں نہ جاؤ کیوں وہ دلوں کو جلادیتاہے(ت)
بعض لوگ اسے امیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف نسبت کردیتے ہیں مگرامیرالمومنین خود فرماتے ہیں کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ میں طاعون سے بھاگاالہی! میں اس تہمت سے تیرے ہاں براءت کرتاہوں۔امام اجل طحاوی روایت فرماتے ہیں:
عن زید بن اسلم عن ابیہ قال قال عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ اللھم ان الناس زعموا انی فررت من الطاعون وانا ابرأ الیك من ذلك ھذا مختصر۔ اسلم کے بیٹے زیدنے اپنے والد اسلم سے روایت کیاس نے کہا امیرالمومنین جناب عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:"یااﷲ! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں طاعون سے بھاگاہوںمیں اس الزام سے تیری بارگاہ میں براءت کااعلان کرتاہوں"۔یہ مختصر ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے طاعون سے بھاگنا حرام فرمایا اس میں کوئی تخصیص شہروبیرون شہر کی نہیںجابر رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث امام احمدوامام الائمہ ابن خزیمہ کے یہاں یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفار من الزحف طاعون سے بھاگنے والاایساہے جیسا جہاد میں
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۱۱۷۵۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۶۰۴
شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی الطاعون الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۱۸
#3922 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
والصابر فیہ کالصابر فی الزحف ۔ کفار کے سامنے سے بھاگنے والا اور طاعون میں ٹھہرنے والا ایساہے جیسا جہاد میں صبرواستقلال کرنے والا۔
انہیں کی دوسری روایت میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفار من الزحف ومن صبر فیہ کان لہ اجرشہید ۔ طاعون سے بھاگنے والاجہاد سے بھاگنے والے کی طرح ہے اور جو اس میں صبر میں کئے رہے اس کے لئے شہید کاثواب ہے۔
ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی حدیث امام احمد کی مسند میں مثل پارہ اول حدیث جابر ہے اور ابن سعد کے یہاں یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفار من الطاعون کالفرار من الزحف ۔ طاعون سے بھاگنا جہاد سے بھاگ جانے کے مثل ہے۔
احمد کی دوسری روایت یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون غدۃ کغدۃ البعیر المقیم بھا کالشھید والفار منھا کالفار من الزحف ۔ طاعون ایك گلٹی ہے جس طرح اونٹ کی وبامیں اس کے نکلتی ہے جو اس میں ٹھہرا رہے وہ شہید کے مثل ہے اور اس سے بھاگنے والاجہاد سے بھاگ جانے والے کی طرح ہے۔
مسند ابویعلی کے لفظ یوں ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
وخزۃ تصیب امتی من اعدائھم من الجن کغدۃ الابل من اقام علیھا کان مرا بطا ومن اصیب بہ کان طاعون ایك کونچاہے کہ میری امت کو ان کے دشمن جنوں کی طرف سے پہنچے گا جیسے اونٹ کی گلٹیجو مسلمان اس پر صبرکئے ٹھہرا رہے وہ ان میں سے ہو
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل عن جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیرو ت ۳ /۲۵۔۳۲۴
مسند احمدبن حنبل عن جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیرو ت ۳ /۳۶۰
الدرالمنثور بحوالہ احمد وعبدبن حمید والبزار وابن خزیمہ عن جابر آیۃ الم ترالی الذین خرجوا عن دیارھم الخ ۱ /۳۱۲
مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۱۴۵
#3923 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
شھیدا والفار منہ کالفار من الزحف ۔ جو راہ خدا میں سرحد کفار پربلاد اسلام کی حفاظت کے لئے اقامت کرتے ہیں اور جومسلمان اس میں مرے وہ شہید ہوا اور جو اس سے بھاگے وہ کافروں کوپیٹھ دے کربھاگنے والے کی مانند ہو۔
معجم اوسط کی روایت یوں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الطاعون شھادۃ لامتی و وخز اعدائکم من الجنغدۃ کغدۃ البعیر تخرج فی الاباط والمراق من مات فیہ مات شھیدا ومن اقام فیہ کان کالمرابط فی سبیل اﷲ ومن فرمنہ کان کالفار من الزحف ۔ طاعون میری امت کے لئے شہادت ہے اور وہ تمہارے دشمن جنوں کاکونچاہے اونٹ کے غدود کی طرح گلٹی ہے کہ بغلوں اور نرم جگہوں میں نکلتی ہے جو اس میں مرے شہید مرے اور جو ٹھہرے وہ راہ خدا میں سرحدکفار پر بانتظار جہاداقامت کرنے والے کی مانند ہے اور جو اس سے بھاگ جائے جہاد سے بھاگ جانے کے مثل ہو۔
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: ان تمام الفاظ حدیث میں صرف طاعون سے بھاگنے پر وعیدشدید اور صبرکئے ٹھہرے رہنے کی ترغیب وتاکید ہےشہریامحلے یاحوالی شہر وغیرہ کی کچھ قیدنہیںتو جونقل وحرکت طاعون سے بھاگنے کے لئے ہوگی اگرچہ شہرہی کے محلوں میں وہ بلاشبہہ اس وعید وتہدید کے نیچے داخل ہے۔
ثانیا: حدیث ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے مروی صحیح بخاری شریفمسند امام احمد رحمہ اﷲ تعالی میں بسندصحیح برشرط بخاری ومسلم برجال بخاری جلد ششم آخر ص۲۵۱ واول ۲۵۲ میں یوں ہے:
حدثنا عبدالصمد ثنا داؤد یعنی ابن ابی الفرات ثنا عبداﷲ بن بریدۃ عــــــہ عن یحیی بن یعمر (ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا(اس نے کہا)ہم سے داؤد ابن ابی الفرات نے بیان کیا(اس نے کہا)ہم سے عبداﷲ بن ابی بریدہ نے

عــــــہ: وقع ھھنا فی نسخۃ المسند المطبوعۃ ابن ابی بریدہ والصواب ابن بریدۃ کما ذکرنا ۱۲منہ۔ مسند احمد کے مطبوعہ نسخہ میں ابن ابی بریدہ لکھاہے مگردرست ابن بریدہ ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References الترغیب والترھیب الترھیب من ان یموت الانسان الاسنان الخ حدیث ۲۵ مصطفی البابی مصر ۲ /۳۳۸،مجمع الزوائد کتاب الجنائز باب فی الطاعون والثابت دارالکتب بیروت ۲ /۳۱۵
المعجم الاوسط حدیث ۵۵۲۷ مکتبۃ المعارف الریاض ۶ /۲۴۹،کنزالعمال بحوالہ طس حدیث ۲۸۴۳۷ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰ /۸۷ و۸۸،جامع الصغیر بحوالہ طس حدیث ۵۳۳۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۳۲۹
#3924 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا انھا قالت سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الطاعون فاخبرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان عذابا یبعثہ اﷲ تعالی علی من یشاء فجعلہ رحمۃ للمؤمنینفلیس من رجل یقع الطاعون فیمکث فی بیتہ صابرا محتسبا یعلم انہ لایصیبہ الاما کتب اﷲ لہ الا کان لہ مثل اجر الشھید ۔ بیان کیا اس نے یحیی بن یعمر سے اس نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایامیں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا۔ت)تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایك عذاب تھا کہ اﷲ تعالی جس پر چاہتابھیجتا اور اس امت کے لئے اسے رحمت کردیاہے تو جو شخص زمانہ طاعون میں اپنے گھر میں صبرکئے طلب ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو خدا نے لکھ دیا ہے اس کے لئے شہید کا ثواب ہے۔
اس حدیث صحیح میں خاص اپنے گھر میں ٹھہرے رہنے کی تصریح ہے۔
ثالثا: ذراغورکیجئے تو اس حدیث اور حدیث بخاری میں اصلا اختلاف نہیںصحیح بخاری کتاب الطب کے لفظ یہ ہیں:
لیس من عبد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا ۔ کوئی ایسا بندہ نہیں کہ طاعون واقع ہو اور وہ اپنے شہرمیں صبر کے ساتھ ٹھہرارہے(ت)
اور ذکربنی اسرائیل میں:
لیس من احد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا محتسبا ۔ کوئی ایساشخص نہیں کہ طاعون واقع ہو پھر وہ اپنے شہرمیں صبر کرتے ہوئے ثواب کی خاطر ٹھہرا رہے۔(ت)
اور بداہۃ معلوم ہے کہ مطلقا روئے زمین میں سے کسی جگہ وقوع طاعون مراد نہیں تو
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۵۲۔۲۵۱
صحیح البخاری کتاب الطب باب اجرالصابرین فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۳
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب حدیث الغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۴
#3925 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
حدیث بخاری میں فی بلدہ اور حدیث احمد میں فی بیتہ برسبیل تنازع یمکث ویقع دونوں سے متعلق ہیں امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
قولہ فی بلدہ مماتنازع الفعلان فیہ اعنی قولہ یقع وقولہ فیمکث ۔ ان کاارشاد"فی بلدہ"اس میں تنازع فعلین(یعنی یمکث اور یقع جو دو فعل ہیں)ان کافی بلدہ جارمجرور میں تنازع ہے اس ہرایك چاہتاہے کہ وہ میرے ساتھ متعلق ہو۔(ت)
تودونوں روایتوں کامطلب یہ ہوا کہ جس کے شہر میں طاعون واقع ہو وہ شہر سے نہ بھاگے اور جس کے خود گھر میں واقع ہو وہ اپنے گھر سے نہ بھاگے اور حاصل اسی طرف رجوع کرگیا کہ طاعون سے نہ بھاگےشہریاگھر سے بھاگنا لذاتہ ممنوع نہیںاگرکوئی ظالم جبارشہر میں ظلما اس کی گرفتاری کوآیا اور یہ اس سے بچنے کو شہر سے بھاگ گیا ہرگز مواخذہ نہیں اگرچہ زمانہ طاعون ہی کا ہو کہ یہ بھاگنا طاعون سے نہ تھا بلکہ ظلم ظالم سےاور اﷲ عزوجل نیت کوجانتاہےولہذا حدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ میں ارشاد ہوا:
اذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا فرارا منہ ۔ جب کسی جگہ طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو توطاعون سے بھاگ کرکہیں باہر دوسری جگہ نہ جاؤ۔(ت)نہ کہ منہا (یعنی جائے طاعون سے۔ت)
اور حدیث اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہماروایت تامہ شیخین میں اس کے مثل اور روایت مسلم میں یوں آئی:
فلاتخرجوا فرارا منہ ۔ جائے طاعون سے باہر نہ جاؤ اس سے بھاگتے ہوئے(ت)
لاجرم شرح صحیح مسلم میں ہے:
اتفقوا علی جوازالخروج بشغل وغرض غیر الفرار و دلیلہ صریح الاحادیث ۔ اہل علم کا اس پر اتفاق ہےبھاگنے کے علاوہ کسی دوسرے شغل اور غرض کے لئے مقام طاعون سے باہر نکلنا جائزہے اور اس کے ثبوت میں صریح احادیث ہیں۔(ت)
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الطب باب اجرالصابرین فی الطاعون ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۱ /۲۶
صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکر فی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۳
صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۸
شرح مسلم للنووی کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۹
#3926 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
اسی طرح حدیقہ ندیہ میں نقل فرمایا اور مقرر رکھااور جب مطمح نظرفرار عن الطاعون ہے نہ کہ عن البلد تو یہ بحث کہ فنائے شہر بھی مثل جمعہ اس حکم میں داخل ہے یامثل سفرخارج محض طاعون سے بھاگنے کے لئے جو نقل وحرکت ہو سب زیرنہی ہے اگرچہ مضافات خواہ فناخواہ شہر کی شہرمیں۔
رابعا: نظرکیجئے توخود یہی حدیث فیمکث فی بلدہ(پھر وہ اپنے شہر میں ٹھہرارہے۔ت)محلات شہر ہی میں تجویز فرار سے صریح ابافرمارہی ہے اس میں فقط اتناہی نہ فرمایا کہ شہرمیں رہے بلکہ صاف ارشاد ہوا:
یمکث فی بلدہ صابرا محتسبا یعلم انہ لایصیبہ الا ماکتب اﷲ لہ ۔ وہ اپنے شہر میں اﷲ تعالی سے اجروثواب کی امید رکھتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ اسے وہی کچھ پہنچے گا جو اﷲ تعالی نے اس کے مقدر میں لکھ دیا ہےصبرکادامن تھامے ہوئے ٹھہرارہے(ت)
اپنے شہرمیں تین وصفوں کے ساتھ ٹھہرے:اول صبرواستقلالدوم تسلیم وتفویض ورضا بالقضاء پرطلب ثوابسوم یہ سچا اعتقاد کہ بے تقدیرالہی کوئی بلانہیں پہنچ سکتی۔اب اس کے حال کو اندازہ کیجئے جس کے شہر کے ایك کنارے میں طاعون واقع ہو اور وہ اس کے خوف سے گھرچھوڑ کر دوسرے کنارے کو بھاگ گیا کیا اسے ثابت قدم وصابر ومستقل وراضی بالقضاء کہاجائے گاوہ ایساہوتا توکیوں بھاگتاشہرمیں اس کا قیام صبر و رضا کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ یہ کنارئہ شہرہنوز محفوظ ہے کل اگر یہاں بھی طاعون آیا تو اسے یہاں سے بھی بھاگتے دیکھ لینااگراب بیرون شہر جاکرپڑا اور وہاں بھی وباپہنچی تومضافات کوبھی چھوڑ کردوسری ہی بستی میں دم لے گا پھرصابرا محتسبا کہاں صادق آیا۔
خامسا: سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرار عن الطاعون کو جس کامماثل فرمایا یعنی جہاد سے بھاگنا اسی کے ملاحظہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ شہرچھوڑ کر دوسرے شہر کو چلے جانے ہی پرفرار محصورنہیں کیا اگرامام مسلمانان بیرون شہر کفار سے جہاد کررہاہو اور کچھ لوگ مقابلہ سے بھاگ کراپنے گھروں میں جابیٹھیں توفرار نہ ہوگا ضرور ہوگا بلکہ گھروں میں جابیٹھنا درکنار اگرمعرکہ سے بھاگ کر اسی میدان کے کسی پہاڑ یاغار میں جاچھپے ضرورعار فرار نقدوقت ہوگی کہ میدان کارزار توہرطرح چھوڑا اور مقابلہ کفار سے منہ موڑانص قرآنی اس پردلیل صریح ہے:
قال اﷲ عزوجل " ان الذین اﷲ تعالی غالب اور بڑی ذات کا ارشاد ہے بیشك تم
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب حدیث الغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۹۴
#3927 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
" تولوا منکم یوم التقی الجمعان انما استزلہم الشیطن ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنہم ان اللہ غفور حلیم﴿۱۵۵﴾ " وقال جل من قائل
" ولقد عفا عنکم واللہ ذو فضل علی المؤمنین﴿۱۵۲﴾ "
" اذ تصعدون ولا تلون علی احد و الرسول یدعوکم فی اخرىکم فاثبکم غما بغم " الآیۃ۔ میں سے جن لوگوں نے دوجماعتوں کے(جنگ کیلئے)آمنے سامنے آجانے والے دن منہ پھیرا۔ان کے بعض افعال کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلادیا بےشك اﷲ تعالی نے انہیں معاف کردیا کیونکہ اﷲ تعالی معاف فرمانے والا بردبار ہےاور اس نے ارشاد فرمایا جوکہنے والوں سے بڑی شان رکھتا ہےبے شك اﷲ تعالی نے تمہیں معاف فرمادیا اور اﷲ تعالی مومنوں پراحسان فرمانے والا ہےاور یادکرو جب تم اوپر چڑھ رہے تھے اور پیچھے مڑ کربھی نہ دیکھتے تھے اور رسول مکرم تمہیں آوازیں دے کربلارہے تھے پھرتمہیں غم پرغم نے آلیا الآیۃ(ت)
معالم میں ہے:
قرأ ابوعبدالرحمن السلمی وقتادۃ تصعدون بفتح التاء والعین والقراءۃ المعروفۃ بضم التاء وکسر العین والاصعاد السیر فی الارض والصعود الارتفاع علی الجبال والسطوح وکلیتا القراء تین صواب فقد کان یومئذ من المنھزمین مصعد وصاعد اھ باختصار۔ ابوعبدالرحمن سلمی اور قتادہ نے اس لفظ تصعدون کے حرف تاء اور عین کو زبر سے پڑھا ہے جبکہ مشہور قرأت تاء کی پیش اور عین کی زیر کے ساتھ ہےپھر وہ اس طور پر ابواب مزید باب افعال سے ہونے کی وجہ سے"الاصعاد"سے بناہے جس کے معنی"زمین میں چلنا"ہے جبکہ پہلے طور پرمجرد ہونے کی وجہ سے لفظ"صعود"سے بناہے جس کے معنی"اوپرچڑھنا بلندی پرجانا"ہے خواہ چھتوں پرہویاپہاڑوں پر۔اور دونوں قراتیں درست اور صحیح ہیں۔پس اس دن کچھ شکست خوردہ لوگ منہ اٹھائے بھاگے جارہے تھے او رکچھ قریبی پہاڑی پرچڑھ رہے تھےاھ باختصار(ت)
سادسا: جن حکمتوں کی بناپر حکیم کریم رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتسلیم نے طاعون سے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۱۵۵
القرآن الکریم ۳ /۱۵۲
معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت آیۃ ولقد عفاعنکم الخ مصطفی البابی الحلبی مصر ۱ /۴۳۴
#3928 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
فرارحرام فرمایا ان میں ایك حکمت یہ ہے کہ اگرتندرست بھاگ جائیں گے بیمار ضائع رہ جائیں گے ان کا کوئی تیماردار ہوگا نہ خبر گیراںپھر جو مریں گے ان کی تجہیز وتکفین کون کرے گاجس طرح خود آج کل ہمارے شہر اور گردونواح کے ہنود میں مشہور ہورہاہے کہ اولاد کو ماں باپماں باپ کو اولاد نے چھوڑ کر اپناراستہ لیا بڑوں بڑوں کی لاشیں مزدوروں نے ٹھیلے پر ڈال کر جہنم پہنچائیںاگر شرع مطہر مسلمانوں کو بھی بھاگنے کاحکم دیتی تومعاذاﷲ یہی بےبسی بیکسی ان کے مریضوں میتوں کو بھی گھیرتی جسے شرع قطعا حرام فرماتی ہے۔ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے:
(لاتخرجوا فرارا منہ)فانہ فرارمن القدر ولئلا تضیع المرضی لعدم من یتعھدھم والموتی ممن یجھزھم ۔ (مقام طاعون سے بھاگ کرکہیں باہر نہ جاؤ)کیونکہ یہ تقدیر الہی سے بھاگنے کے مترادف ہے اور تاکہ بیمار ضائع نہ ہونے پائیں اس لئے کہ اس افراتفری کے باعث مریضوں کی نگہبانی اور حفاظت کے لئے کوئی نہیں ہوگا اور مرنے والوں کی تجہیزوتکفین اور تدفین کے لئے بھی کوئی نہ ہوگا۔(ت)
اسی طرح زرقانی شرح علی مؤطا میں ہے۔عینی شرح بخاری میں بھی اسے نقل کرکے مقرررکھا۔ظاہریہ ہے کہ علت جس طرح غیرشہر کو بھاگ جانے میں ہے یوہیں بیرون شہر جاپڑنے بلکہ محلہ مریضان چھوڑ کرمحلہ صحیحان میں جابسنے میں بھیتو حق یہ کہ بہ نیت فرار مطلقا نقل وحرکت حرام ہے نیز یہ علت موجب ہے کہ نہ صرف طاعون بلکہ ہر وبا کا یہی حکم ہے اھ ولہذا شیخ محقق رحمہ اﷲ تعالی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوہ میں فرمایا:
انچہ دراحادیث مذکورشدہ وبرگریختن ازاں وبیرون رفتن ازشہرے کہ واقع شدہ اشد دراں نہی کردہ ووعیدنمودہ وتشبیہہ بفرار از زحف دادہ برصبربراں بشہادت حکم کردہ مراد وباوموت عام ومرض عام ست ومخصوص بانچہ اطبا تعیین جو کچھ حدیثوں میں ذکرکیاگیاکہ طاعون سے بھاگنا اور شہر سے باہر چلے جانا تو اس سے منع فرمایا گیا اور اس پر عذاب کی دھمکی دی گئی اور اسے جنگ سے بھاگنے کے مترادف قرار دیا گیا اور قدم جماکر وہیں ٹھہرے رہنے پر شھادت کا حکم سنایا گیا لہذا اس سے وبا اور عام موت کا
حوالہ / References ارشاد الساری شرح البخاری کتاب الطب باب مایذکر فی الطاعون دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۳۸۵
شرح الزرقانی علی مؤطا امام مالك تحت حدیث ۱۷۲۱ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۴۰
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الانبیاء ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۶/ ۵۹
#3929 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
نمودہ اندنیست ولہذا دراحادیث بہ لفظ وبا وموت عام مذکورشدہ واگرچہ بلفظ طاعون نیز واقع شدہ امامرادمعنی وباست وغلط کردہ کہ طاعون رابرمصطلح اطباء حمل کردہ ودر غیرآں فرار مباح داشتہ واگر فرضا برہمیں معنی محمول باشد فردے ازوبا خواہد بود نہ مخصوص بآں وایں قائل آں احادیث را کہ دروے لفظ وبا وموت عام واقع شدہ چہ خواہد گفت۔ نسأل اﷲ العافیۃ ۔ ذکرکیاگیا اگرچہ لفظ طاعون بھی وارد ہواہے لیکن اس میں بھی وبا کے معنی مراد ہیں۔لہذا یہ غلطی ہوگئی کہ طاعون کو طبیبوں کی خصوصی اصطلاح پرقیاس کرلیاگیا اس لئے دوسری وبائی امراض سے بھاگنا مباح سمجھاگیااگربالفرض اسی معنی پر بھی کلام کومحمول کیاجائے تو پھر وہ ازقسم وبا ہوجائے گا نہ کہ اس معنی کے ساتھ مخصوص۔لہذا یہ قائل ان حدیثوں کے متعلق کیاکہے گا کہ جن میں لفظ وبا اور موت عام کے الفاظ مذکور ہوئے ہیں۔ہم اﷲ تعالی سے عافیت کاسوال کرتے ہیں۔(ت)
فائدہ: امام احمدمسند اور ابن سعد طبقات میں ابوعسیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسندصحیح روایت کرتے ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتانی جبرئیل بالحمی والطاعون فامسکت الحمی بالمدینۃ وارسلت الطاعون الی الشام فالطاعون شھادۃ لامتی ورحمۃ لھم ورجس علی الکافرین ۔ میرے پاس جبرئیل امی علیہ الصلوۃ والتسلیم بخار اور طاعون لے کرحاضرہوئے میں نے بخار مدینہ طیبہ میں رہنے دیا اور طاعون ملك شام کو بھیج دیاتو طاعون میری امت کے لئے شہادت ورحمت اور کافروں پرعذاب ونقمت ہے۔
صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ کومعلوم تھا کہ طاعون کو ملك شام کاحکم ہوا ہے اور بلادشام فتح کرنے تھے لہذا صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ جو لشکرملك شام کو روانہ فرماتے اس سے دونوں باتوں پریکساں بیعت وعہدوپیمان لیتےایك یہ کہ دشمنوں کے نیزوں سے نہ بھاگنادوسرے یہ کہ طاعون سے نہ بھاگناامام مسدد استاذ امام بخاری ومسلم اپنی مسند میں ابوالسفر سے روایت کرتے ہیں:
قال کان ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ اذا بعث الی الشام بایعھم علی ابوالسفر نے کہا حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ جب کوئی لشکر ملك شام روانہ فرماتے تو ان سے
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الجنائز باب عیادۃ المریض الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۸۔۶۳۷
مسندامام احمد عن ابی عسیب رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۸۱
#3930 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
الطعن والطاعون ۔ یہ بیعت(عہدوپیمان)لیتے کہ ایك تودشمن کے نیزوں سے نہ بھاگنا دوسرے مقام طاعون سے نہ بھاگنا۔(ت)
یہاں سے خوب ثابت وظاہر ہوا کہ مسلمانوں کو فرار عن الطاعون کی ترغیب دینے والا ان کا خیرخواہ نہیں بدخواہ ہے اور طبیبوں ڈاکٹروں کاا س میں صبرواستقلال سے منع کرنا خیر وصلاح کے خلاف باطل راہ ہےاﷲ عزوجل نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سارے جہاں کے لئے رحمت بناکربھیجا اور مسلمانوں پربالتخصیص رؤف رحیم بنایا اور صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے ارحم امتی بامتی ابوبکر (میری امت میں میری امت کے ساتھ سب سے بڑے مہربان ابوبکرصدیق(رضی اﷲ تعالی عنہ)ہیں۔ت)حدیث میں آیا یعنی جو رأفت ورحمت میری امت کے حال پر ابوبکر کو ہے اتنی تمام امت میں کسی کو نہیں
اگرطاعون سے بھاگنے میں بھلائی اور ٹھہرنے میں برائی ہوتی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ اپنی امت پرماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں کیوں ٹھہرنے کی ترغیب دیتے اور بھاگنے سے اس قدر تاکید شدید کے ساتھ منع فرماتے اور صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کہ تمام امت میں سب سے بڑھ کر خیرخواہ امت ہیں کیوں اس سے نہ بھاگنے کاعہدوپیمان لیتےمعلوم ہوا کہ طاعون سے بھاگنے کی ترغیب دینے والے ہی حقیقۃ امت کے بدخواہ اور الٹی مت سمجھانے والے ہیں والعیاذباﷲ تعالیجیسے کوئی بدعقل بے تمیز کج فہم عورت پڑھنے کی محنت استاذ کی شدت دیکھ کر اپنے بچے کو مکتب سے بھاگ آنے کی ترغیب دے وہ اپنے خیال باطل میں اسے محبت سمجھتی ہے حالانکہ صریح دشمنی ہے ع
دوستی بیخرداں دشمنی ست
(بیوقوفوں کی دوستی درحقیقت دشمنی ہوتی ہے۔ت)
بدنصیب وہ بچہ کہ اس کے کہنے میں آجائے اور مہربان باپ کی تاکید وتہدید خیال میں نہ لائے بلکہ انصافا یہ حالت اس مثال سے بھی بدترہے مکتب میں پڑھنے کی محنت سبھی پرہوتی ہے اور شدت بھی غالب واکثری ہے اور جہاں طاعون پھوٹے وہاں سب یا اکثر کامبتلاہونا کچھ ضرورنہیں بلکہ باذنہ تعالی محفوظ ہی رہنے والوں کا شمار زائدہوتاہے ولہذا آگ اور زلزلے پر اس کاقیاس باطل "ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ" (لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاك میں نہ پڑو۔ت)کے نیچے سمجھنامحض وسوسہ ہے کہ ان میں ہلاك غالب ہے جیساکہ کلام حضرت
حوالہ / References مسندامام احمد عن انس رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۸۱
القرآن الکریم ۲ /۱۹۵
#3931 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
شیخ محقق قدس سرہسے گزرا او رسچا ہلاك تو یہ ہے کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد اقدس کو کہ عین رحمت وخیرخواہی امت ہے معاذاﷲ مضرت رساں خیال کیاجائے اور اس کے مقابل طبیبوں اور ڈاکٹروں کی بات کو اپنے لئے نافع سمجھاجائے۔ ع
ببیں کہ از کہ بریدی وبا کہ پیوستی
(دیکھو توسہی کہ تم نے کس سے رشتہ کاٹا اور کس سے رشتہ جوڑا اور ملایا۔ت)
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(کسی کی کوئی طاقت اور قوت نہیں مگر اﷲ تعالی کی عطاء وبخشش سے ہے جوبلندمرتبہ اور عظیم الشان ہے۔ت)ولہذا سلف صالح کاداب یہی رہا کہ طاعون میں صبرواستقلال سے کام لیتے۔امام ابوعمربن عبدالبر فرماتے ہیں:
لم یبلغنی عن احد من حملۃ العلم انہ فر منہ الا ما ذکر المداینی ان علی بن زید بن جدعان ھرب منہ الی السیالۃ فکان یجمع کل جمعۃ ویرجع اذا جمع صاحوابہ فرمن الطاعون فطعن فمات بالسیالہ ۔ یعنی مجھے کسی کی نسبت یہ روایت نہ پہنچی کہ وہ طاعون سے بھاگا ہو مگر وہ جومدائنی نے ذکرکیا کہ علی بن زید بن جدعان طاعون میں شہرسے بھاگ کر سیالہ کوچلے گئے تھے ہرجمعہ کو شہرمیں آکرنمازپڑھتے اور پلٹ جاتے جب پلٹتے لوگ شور مچاتے طاعون سے بھاگا ہے آخرسیالہ میں طاعون ہی میں مبتلا ہوکرمرے۔
یہ علی بن زید کچھ ایسے مستند علما سے نہ تھے امام سفیان بن عیینہ وامام حماد بن زید وامام احمدبن حنبل وامام یحیی بن معین وامام بخاری وامام ابوحاتم وامام ابن خزیمہ وامام عجلی وامام دارقطنی وغیرھم عامہ ائمہ جرح وتعدیل نے ان کی تضعیف کیاور مذہب کے بھی کچھ ٹھیك نہ تھےعجلی نے کہا شیعی تھا بلکہ امام یزید بن زریع سے مروی ہوا رافضی تھاپھر اس کایہ فعل زمانہ سلامت عقل وصحت حواس کابھی نہ تھاآخر عمرمیں عقل صحیح نہ رہی تھیامام شعبہ بن الحجاج نے فرمایا:حدثنا علی قبل ان یختلط (ہم سے علی بن زید نے زمانہ اختلاط عقل سے پہلے بیان کیاہے۔ت)فسوی نے کہا:اختلط فی کبرہ (اس کو بڑھاپے میں اختلاط ہو گیاتھا۔ت) پھرہرجمعہ کو نماز کے لئے شہریعنی بصرہ میں آنا اور نمازپڑھ کر پلٹ جانادلیل واضح ہے
حوالہ / References التمہید لابن عبدالبر عبداﷲ بن عامربن ربیعۃ رقم ۱ المکتبۃ القدوسیہ لاہور ۶ /۱۵۔۲۱۴
میزان الاعتدال ترجمہ علی بن زید ۵۸۴۴ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۲۷
میزان الاعتدال ترجمہ علی بن زید ۵۸۴۴ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۲۸
#3932 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
کہ سیالہ کوئی ایسی ہی قریب جگہ بصرہ سے تھی علی بن زید کا انتقال ۱۳۱ھ میں ہے وہ زمانہ تابعین کاتھاتوثابت ہواکہ مضافات شہرمیں چلاجانا بھی اسی فرار حرام میں داخل ہے جس پریہ شخص تمام شہر میں مطعون وانگشت نماہوا ہرجمعہ کو اس کے پلٹتے وقت اہل شہر میں کہ تابعین وتبع تابعین ہی تھے غل پڑجاتا کہ وہ طاعون سے بھاگا۔والعیاذباﷲ تعالی۔
تنبیہ نبیہ:جس طرح طاعون سے بھاگنا حرام ہے اور اس کے لئے وہاں جانا بھی ناجائز وگناہ ہےاحادیث صریحہ میں دونوں سے ممانعت فرمائیپہلے میں تقدیرالہی سے بھاگنا ہے تودوسرے میں بلائے الہی سے مقابلہ کرنا ہے اور اس کے لئے اظہارتوکل کاعذر محض سفاہت۔توکل معارضہ اسباب کانام نہیں۔امام اجل ابن دقیق العید رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
الاقدام علیہ تعرض للبلاء ولعلہ لایصبر علیہ و ربما کان فیہ ضرب من الدعوی لمقام الصبر او التوکل فمنع ذلك لاغترار النفس ودعوھا مالاتثبت علیہ عند التحقیق ۔ اس پراقدام کرنا اپنے آپ کو مصیبت اوربلاء پر پیش کرناہے اور وہ اس پرصبرنہ کرسکے گا اور کبھی اس میں ایك قسم کی شان دعوی پیداہوجاتی ہے صبراور توکل کے مقام کیپس اس لئے اس سے روك دیاگیا فریب نفس سے بچاؤ کی خاطر اور نفس کے دعووں سے بچاؤ کی خاطر کہ جس پردرحقیقت کوئی استقرار اور ثبات نہیں۔(ت)
اس قدر کی ممانعت میں ہرگز گنجائش سخن نہیںاب رہا یہ کہ جب طاعون سے بھاگنے یا اس کے مقابلہ کی نیت نہ ہو تو شہر طاعونی سے نکلنا یادوسری جگہ سے اس میں جانا فی نفسہ کیساہےاس میں ہمارے علماء کی تحقیق یہ ہے کہ بجائے خود حرام نہیں مگر نظربہ پیش بینی یہاں دوسورتیں ہیں ایك یہ کہ انسان کامل الایمان ہے "قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا " (ہمیں ہرگز کچھ نہیں پہنچ سکتا سوائے اس کے جو اﷲ تعالی نے ہمارے لئے لکھ دیاہے۔ت)کی بشاشت ونورانیت اس کے دل کے اندرسرایت کئے ہوئے ہے اگرطاعونی شہرمیں کسی کام کوجائے اور مبتلاہوجائے تو اسے یہ پشیمانی عارض نہ ہوگی کہ ناحق آیا کہ بلاء نے لے لیا یاکسی کام کو باہرجائے تو یہ خیال نہ کرے گا کہ خوب ہواکہ اس بلاسے نکل آیاخلاصہ یہ کہ اس کا آناجانا بالکل ایساہو جیساطاعون نہ ہونے کے زمانہ میں ہوتاتو اسے خالص اجازت ہے
حوالہ / References شرح الزرقانی علی مؤطاالامام مالك باب ماجاء فی الطاعون تحت حدیث ۱۷۲۰ دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۲۳۸
القرآن الکریم ۹ /۵۱
#3933 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
اپنے کاموں کو آئے جائے جوچاہے کرے کہ نہ فی الحال نیت فاسدہ ہے نہ آئندہ فساد فکرکا اندیشہ ہے اور جوایسانہ ہواسے مکروہ ہے کہ اگرچہ فی الحال نیت فاسدہ نہیں کہ حکم حرمت ہومگرآئندہ فسادپیداہونے کا اندیشہ ہے لہذاکراہت ہے وہ حدیثیں جن میں خود شہرطاعونی سے نکلنے اور اس میں جانے کی ممانعت مروی ہوئی جیسے ایك روایت حدیث اسامہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے الفاظ:
اذا سمعتم بالطاعون بارض فلاتدخلوھا واذاوقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا منھارواہ الشیخان ۔ جب کسی سرزمین میں طاعون واقع ہوجائے تو وہاں نہ جاؤ اور اگرطاعون پھوٹ پڑنے والی جگہ تم موجود ہوتوپھر وہاں سے نہ نکلو۔بخاری ومسلم نے اسے روایت کیاہے۔(ت)
یاایك روایت حدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ کے لفظ:
فاذا سمعتم بہ فی ارض فلاتدخلوھا رواہ الطبرانی فی الکبیر ۔ اگرکسی جگہ طاعون کے ظاہر ہونے کے متعلق سنو تو پھروہاں ہرگز نہ جاؤ۔امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے روایت کیاہے۔(ت)
یاحدیث عکرمہ بن خالد المخزومی عن ابیہ وعمہ عن جدہ رضی اﷲ تعالی عنہ:
اذا وقع الطاعون فی ارض وانتم بھا فلا تخرجوا منھا وان کنتم بغیرھا فلاتقدموا علیھا رواہ احمد و الطحاوی والطبرانی والبغوی وابن قانع ۔ جب کسی خطہ زمین پرطاعون پھیل جائے اور تم پہلے سے وہاں اقامت پذیر ہو توپھر وہاں سے نہ نکلواور اگرتم کسی دوسری جگہ ہو تو مقام طاعون پر نہ جاؤ۔امام احمدطحاویطبرانیبغوی اور ابن قانع نے اسے روایت کیاہے۔(ت)
یہ اگر اپنے اطلاق پررکھی جائیں یعنی نیت فرار ومقابلہ سے مقیدنہ کی جائیں۔
بناء علی ماحقق الامام ابن الھمام اس بناپر کہ شیخ محقق امام ابن ہمام نے یہ تحقیق
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الطب باب مایذکرفی الطاعون قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۳،صحیح مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطیرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۸
المعجم الکبیر حدیث ۲۶۸ و ۲۷۲ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ۱/ ۱۳۰ و ۱۳۱
شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الاجتناب من ذی داء الطاعون ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۵،المعجم الکبیر حدیث ۲۱ ۱۸ /۱۵ وکنزالعمال حدیث ۲۸۴۶۱ ۱۰ /۸۲ ومسنداحمدبن حنبل ۳ /۴۱۶
#3934 · تیسرالماعون للسکن فی الطاعون (طاعون کے دوران گھرمیں ٹھہرنے والوں کےلئے بھلائی کو آسان کرنا)
ان المطلق لایحمل علی المقید وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الیہ ضرورۃ کما فی الفتح ۔ فرمائی ہے کہ حکم مطلق کسی مقید پرمحمول نہیں کیاجائے گا اگرچہ حکم اور حادثہ ایك ہوں جب تك کہ کوئی ضرورت داعی نہ ہو جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔(ت)
تو ان کامحمل یہی صورت کراہت ہے جو ابھی مذکورہوئی اور اطلاق اس بناء پر کہ اکثرلوگ اسی قسم کے ہوتے ہیں اور احکام کی بناء کثیروغالب پرہے۔درمختارمیں ہے:
اذا خرج من بلدۃ بھا الطاعون فان علم ان کل شیئ بقدر اﷲ تعالی فلابأس بان یخرج ویدخل وان کان عندہ انہ لوخرج نجا ولودخل ابتلی بہ کرہ لہ ذلك فلایدخل ولایخرج صیانۃ لاعتقادہ و علیہ حمل النھی فی الحدیث الشریف۔مجمع الفتاوی اھ۔ جب کوئی کسی ایسے شہر سے نکلے جہاں طاعون پھیلاہوا ہو اگروہ جانتا اور پختہ یقین رکھتاہو کہ ہرچیز اﷲ تعالی کی قضا و قدر سے وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کی آمدورفتدخول و خروج میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس کے خیال میں یہ ہو کہ اگریہاں سے باہرچلاگیا تو بچ جاؤں گا اور یہاں سے نہ نکلا تو مرض میں مبتلاہوجاؤں گا توایسے شخص کے لئے نقل وحرکت مکروہ ہے لہذا نہ مقام طاعون پرجائے اور نہ مقام طاعون سے نکلے اپنے اعتقاد کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے۔پس اسی حدیث شریف کی نہی محمول ہےاھ۔(ت)
اسی طرح فتاوی ظہیریہ میں ہے وتمام تحقیقہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار(اس کی پوری تحقیق ہم نے ردالمحتار(فتاوی شامی) کے حواشی پرچڑھادی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
___________
رسالہ
تیسرالماعون للسکن فی الطاعون
ختم ہوا
حوالہ / References فتح القدیر باب الظہار فصل فی الکفّارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۰۸
درمختار مسائل شتٰی قبیل کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۱
#3935 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
صحبت وموالات ومحبت وعداوت

مسئلہ ۹۴: ازریاست بھوپال ۱۳۰۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بھوپال میں کچھ فرانسیسی کفار رہتے ہیںبعض اہل اسلام بے تکلف ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں یہ فعل شرعا کیساہے اور یہ مسلمان اگر منع کئے سے نہ مانیں اور باقی مسلمان اس وجہ سے ان کے ساتھ کھانے سے احتراز کریں توبجاہے یابے جابینواتوجروا(بیان کروتاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
بیشك کفار سے ایسی مخالطت اور ان کے ساتھ ہم پیالہ وہم نوالہ ہونے سے بہت ضرور احتراز کرناچاہئے خصوصا جہاں اسلام ضعیف ہوشرع مطہر سے بہت دلائل اس پرقائم جن کے بعض کہ اس وقت کی نظرمیں ذہن فقیر میں مستحضرہوئے مذکورہوتے ہیں:
اول: قال اﷲ عزوجل:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اور اگرشیطان تجھے بھلادے تویاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۸
#3936 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
اور کافر سے بڑھ کر ظالم کون ہے۔قال اﷲ جل جلالہ:
" فمن اظلم ممن کذب علی اللہ و کذب بالصدق اذ جاءہ الیس فی جہنم مثوی للکفرین ﴿۳۲﴾" اس سے بڑھ کر ظالم جس نے خداپرجھوٹ باندھا اور سچ کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا کیانہیں ہے دوزخ میں کافروں کاٹھکانا۔جب کافر حددرجہ کاظالم ہو اورظالم کے پاس بیٹھنے سے منع فرمایا تو شیروشکر وہمکاسہ ہونا تو اور بدترہے۔
دوم: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ۔رواہ ابو داؤد عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن وعلقہ عنہ الترمذی۔ جومشرك سے یکجاہو اور اس کے ساتھ رہے وہ اسی مشرك کی مانند ہے۔(امام ابوداؤد نے سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے سندحسن کے ساتھ اسے روایت کیا۔لیکن امام ترمذی نے ابوداؤد کے حوالے سے اسے معلق ذکر کیا۔ت)
سوم: فرماتے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا برئ من کل مسلم مع مشرك لاتری نارا ھما اوردہ فی النھایۃ قلت والحدیث نحوہ عندابی داؤد والترمذی بسند رجالہ ثقات۔ میں بیزارہوں اس مسلمان سے جومشرکوں کے ساتھ ہو مسلمان اورکافر کی آگ آمنے سامنے نہ ہوناچاہئے یعنی دوری لازم ہے(علامہ ابن اثیر نہایہ میں اسے لائے ہیںمیں کہتا ہوں اسی جیسی حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں ایسی سند سے مذکورہےکہ جس کے تمام راوی مستندہیں۔ت)
چہارم: فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۹ /۳۲
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الاقامۃ بارض الشرك آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب النہی عن قتل من اعتصم بالسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۵۶
#3937 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
لاتصاحب الامؤمنا ولایاکل طعامك الا تقی۔رواہ احمدوابوداؤد والترمذی وابن حبان والحاکم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ باسانید صحاح۔ صحبت نہ رکھ مگرایمان والوں سے اور تیرا کھانانہ کھائیں مگرپرہیزگار(امام احمدابوداؤدترمذیابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے صحیح سندوں کے ساتھ اسے روایت کیا۔ت)
پنجم: فرماتے رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم:
انما مثل الجلیس الصالح وجلیس السوء کحامل المسك ونافخ الکیر فحامل المسك اما ان یحذیك واما ان تبتاع منہ واما ان تجد منہ ریحا طیبۃ ونافخ الکیر اما ان یحرق ثیابك اما ان تجد منہ ریحا خبیثۃ۔رواہ الشیخان عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ نیك ہم نشین اور بدجلیس کی مثال یوں ہے جیسے ایك کے پاس مشك ہے اور دوسرا دھونکنی دھونك رہاہے مشك والا یا تو تجھے مشك ویسے ہی دے گا یاتو اس سے مول لے گااور کچھ نہ سہی تو خوشبو توآئے گی اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یا تو اس سے بدبوپائے گا۔(بخاری ومسلم نے ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل جلیس السوء کمثل صاحب الکیر ان لم یصبك من سوادہ اصابك من دخانہ۔رواہ ابو داؤد والنسائی۔ یعنی بدوں کی صحبت ایسی ہے جیسے لوہار کی بھٹی کہ کپڑے کالے نہ ہوئے تو دھواں جب بھی پہنچے گا(ابوداؤد اورنسائی نے اسے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل عن ابی سعیدخدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳ /۳۸،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من یومر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۸،جامع الترمذی ابواب الزھد امین کمپنی دہلی ۲ /۶۲
صحیح البخاری کتاب الذبائح باب المسك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۰،صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب استحباب مجالسۃ الصالحین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۳۰
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من یومر ان یجالس الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۸
#3938 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
حاصل یہ ہے کہ اشرار کے پاس بیٹھنے سے آدمی نقصان اٹھاتاہے۔
ششم: حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاك وقرین السوء فانك بہ تعرف۔رواہ ابن عساکر عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ برے مصاحب سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچاناجائے گا(ابن عساکر نے حضرت انس بن مالك کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت)
یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست وبرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں۔
ہفتم: فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اعتبروا الصاحب بالصاحب۔رواہ ابن عدی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آدمی کو اس کے ہمنشین پرقیاس کرو(ابن عدی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود کی سند سے اسے روایت کیا۔ت)
ہشتم: حدیث میں ہے سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتجالسوا اھل القدر ولاتفاتحوھم۔رواہ احمد و ابوداؤد والحاکم۔ منکران تقدیر کے پاس نہ بیٹھونہ انہیں اپنے پاس بٹھاؤ نہ ان سے سلام کلام کی ابتدا کرو(امام احمدابوداؤد اور حاکم نے اسے روایت کیاہے۔ت)
نہم: حدیث میں ہے سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ اختارنی واختارلی اصحابہ واصہار اوسیاتی قوم لیسبونھم وینتقصونھم فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم۔ بیشك اﷲ تعالی نے مجھے پسندفرمایا اور میرے لئے اصحاب و اصہار پسند کئےاور قریب ایك قوم آئے گی کہ انہیں براکہے گی اور ان کی شان
حوالہ / References تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ العنزی الجرجانی الفقیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۲
کنزالعمال بحوالہ عد عن ابن مسعود حدیث ۳۰۷۳۴ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱/ ۸۹
سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی ذراری المشرکین آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۳،سنن امام احمد بن حنبل ترجمہ عمربن خطاب رضی اﷲ عنہ دارالفکربیروت ۱ /۳۰
#3939 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
رواہ ابن حبان والعقیلی واللفظ لہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گھٹائے گیتم ان کے پاس مت بیٹھنانہ ان کے ساتھ پانی پینا نہ کھاناکھانانہ شادی بیاہت کرنا(ابن حبان اور عقیلی نے اسے روایت کیاہےاور عقیلی کے الفاظ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے یہی ہیں۔ت)
جب اہل بیت او رصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے برا کہنے والوں کے لئے یہ حکم ہیں تو اہل کفر اورعیاذا باﷲخدا ورسول کی جناب میں صریح گستاخیاں کرنے والوں کی نسبت کس قدر سخت حکم چاہئے۔
دہم: حدیث میں ہے سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تقربوا الی اﷲ ببغض اھل المعاصی و القوھم بوجوہ مکفھرۃ التمسوا رضا اﷲ بسخطھم وتقربوا الی اﷲ بالتباعد عنھم۔رواہ ابن شاھین فی الافراد عن عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲتعالی کی طرف تقرب کرو اہل معاصی کے بغض سے اور ان سے ترش روئی کے ساتھ ملو او ر اﷲ تعالی کی رضامندی ان کی خفگی میں ڈھونڈو او ر اﷲ کی نزدیکی ان کی دوری سے چاہو۔(ابن شاہین نے کتاب الافراد میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیاہے۔ت)
کافروں سے بڑھ کر اہل معاصی کون ہے جو سراپا معصیت ہیں اور ان کے پاس حسنہ کا نام ہونامحال۔
یازدہم: تجربہ شاہد کہ ساتھ کھانا مورث محبت و وداد ہوتاہے او رکفار کی موالات سم قاتل ہےقال اﷲ تعالی:
"ومن یتولہم منکم فانہ منہم " جو تم میں ان سے دوستی رکھے گا انہیں میں سے شمار کیاجائے گا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المرء مع من احب۔رواہ احمد والبخاری ۔ آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہےیعنی حشرمیں۔
حوالہ / References الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۱۵۳ احمدبن عمران الاخنس دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۱۲۶
کنزالعمال بحولہ ابن شاھین حدیث ۵۵۱۱ و ۵۵۸۵ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۳ /۶۷،۸۱
القرآن الکریم ۵ /۵۱
صحیح البخاری کتاب الادب باب علامۃ الحب فی اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۱
#3940 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی عن انس والشیخان عن ابن مسعود احمد و مسلم عن جابر والترمذی عن صفوان بن عسال وابوداؤد نحوہ عن ابی ذر وفی الباب عن علی وابی ھریرۃ و ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنھم۔ (احمدبخاریابوداؤدترمذی اور نسائی نے حضرت انس کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔نیز بخاری اور مسلم نے عبداﷲ ابن مسعود سےمسنداحمد اور مسلم نے حضرت جابر سےاور ترمذی نے حضرت صفوان بن عسال کے حوالے سے روایت کیاہے۔ابوداؤداور اس جیسے دوسرے محدثین نے حضرت ابوذر سے روایت کیاور اس باب میں جناب علی ابو ہریرہ اور ابوموسی اشعری سے روایت ہےاﷲ تعالی سب سے راضی ہو۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ثلث احلف علیھن وعد منھا لایحب رجل قوما الا جعلہ اﷲ معھم۔رواہ احمد والنسائی والحاکم و البیھقی عن ام المومنین الصدیقۃ والطبرانی فی الکبیر وابویعلی عن ابن مسعود وایضا فی الکبیر عن ابی امامۃ وفی الاوسط والصغیر عن امیرالمومنین علی رضی اﷲ تعالی عنھم باسانیدجیاد۔ میں قسم کھاکرفرماتاہوں کہ جوشخص کسی قوم سے دوستی کرے گا اﷲ تعالی اسے انہیں کاساتھی بنائے گا(مسنداحمدنسائی حاکم اور امام بیہقی نے ام المومنین عائشہ صدیقہ سے اور امام طبرانی نے کبیرمیںاور ابویعلی نے عبداﷲ ابن مسعود سے نیز کبیر میں حضرت ابوامامہ او راوسط اورصغیر میں امیر المومنین حضرت علی کرم وجہہ سے جیدسندوں کے ساتھ اس کوروایت کیاہے۔اﷲ تعالی سب سے راضی ہو۔ت)
ابو قرصافہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب قوما حشرہ اﷲ فی زمرتھم۔رواہ الضیأفی المختارۃ والطبرانی فی الکبیر۔ ہرقوم کے دوستوں کو اﷲ تعالی انہیں کے گروہ میں اٹھائے گا(ضیاء نے مختارہ اور طبرانی نے الکبیر میں اسے روایت کیاہے۔ ت)
حوالہ / References مسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا دارالفکر بیروت ۶ /۱۴۵
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۲۵۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳ /۱۹
#3941 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
دوازدہم: بیشك یہ حرکت مسلمانوں کے لئے موجب نفرت ہوگی اور بلاوجہ شرعی مسلمانوں کومتنفر کرناجائزنہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولاتنفروا۔رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دل خوش کرنے والی بات کہو او رنفرت نہ دلاؤ(ائمہ مثلا امام احمدبخاریمسلم اور نسائی نے حضرت انس کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔ت)
سیزدہم: اقل درجہ اتنا تو ہے کہ یہ بات سننے والوں کے کانوں کوخوش نہ آئے گی اور ایسے فعل سے شرع میں ممانعت ہےحدیث میں آیا سیدالکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ایاك ومایسوء الاذن۔رواہ احمد عن ابی الغادیۃ و الطبرانی فی الکبیر وابن سعد فی الطبقات و العسکری فی الامثال وابن مندۃ فی المعرفۃ و الخطیب فی المؤتلف عن ام الغادیۃ وابونعیم فی المعرفۃ عن حبیب بن الحارث رضی اﷲ تعالی عنھم وعبداﷲ بن احمد فی الزوئد عن العاص بن عمر و الغفاری مرسلا۔ بچ اس بات سے جو کان کو بری لگے(امام احمد نے ابوالغادیہ سے اور طبرانی نے الکبیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اور العسکری نے امثال میں اور ابن مندہ نے المعرفۃ میں اور خطیب نے المؤتلف میں ام الغادیہ سےابونیم نے المعرفۃ میں حبیب بن حارث سے(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو) عبداﷲ بن احمد نے زوائد میں عاص بن عمروغفاری سے بغیر کسی سند کے روایت کیاہے(العکرۃاس لفظ کی صحیح سمجھ میں آئی)۔(ت)
چہاردہم: مسلمانوں کے آگے معذرت کی طرف محتاج کرے گی اور عاقل کاکام نہیں کہ ایسی بات کامرتکب ہورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاك وکل امریعتذرمنہ۔رواہ ایضا الدیلمی بسند حسن عن انس رضی اﷲ اس بات سے بچ جس میں عذر کرنے کی حاجت پڑے۔(دیلمی نے سندحسن کے ساتھ حضرت
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶
مسند امام احمد بن حنبل ترجمہ ابوالغاویۃ دارالفکربیروت ۴/ ۷۶
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۱۷۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۳۱،اتحاف السادۃ المتقین الفصل الثانی فی مراتب الناس دارالفکربیروت ۱۰/۲۵۱
#3942 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
تعالی عنہ قلت فی الباب عن سعد بن ابی وقاص وعن ابی ایوب وعن جابر بن عبداﷲ وعن ابن عمروعن سعد بن عمارۃ رضی اﷲ تعالی عنھم کما فصلناہ فی کمال الاکمال۔ انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا۔میں کہتاہوں اس باب میں سعدبن ابی وقاصابوایوبجابر بن عبداﷲ عبداﷲ بن عمراور سعد بن عمارہ(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)سے روایات موجود ہیں جیسا کہ ہم نے کمال الاکمال میں اس کو مفصل بیان کیاہے۔ت)
پانزدہم صحبت قطعا مؤثر ہے اور طبیعتیں سراقہ اور قلوب متقلبوالعیاذباﷲ رب العالمین۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما سمی القلب من تقلبہ انما مثل القلب مثل ریشۃ بالفلاۃ تعلقت فی اصل شجرۃ تقلبھا الریاح ظھر البطنرواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ وھو عندابن ماجۃ بسند جید مختصرا۔ دل کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ انقلاب کرتاہےدل کی کہاوت ایسی ہے جیسے جنگل میں کسی پیڑ کی جڑ سے ایك پر لپٹا ہے کہ ہوائیں اسے پلٹی دے رہی ہیں کبھی سیدھا کبھی الٹا (امام طبرانی نے الکبیر میں سند حسن کے ساتھ اس کو حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے اور ابن ماجہ میں عمدہ سند کے ساتھ مختصرا موجود ہے۔ت)
اسی لئے مولوی معنوی قدس سرہفرماتے ہیں:
صحبت صالح تراصالح کند صحبت طالح تراطالح کند
دورشواز اختلاط یاربد یاربد بدتر ازمار بد
مار بد تنہا ہمیں برجاں زند یار بد برجان وبر ایماں زند
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ الطبرانی فی الکبیر حدیث ۱۲۱۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ /۲۴۱
مثنوی ولوی معنوی منازعت کردن امراء با یکدیگر نورانی کتب خانہ پشاور دفتراول ص۲۲
گلدستہ مثنوی بکھرے موتی نذیرسنزاردوبازار لاہور ص۹۴
مثنوی مولوی معنوی دفترپنجم نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۷
#3943 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
(اچھے آدمی کی مجلس تجھے اچھاکردے گی اور برے کی مجلس تجھےبرا بنادے گی
جب تك ہوسکے برے ساتھی سے دور رہ کیونکہ براساتھی برے سانپ سے بھی براہے
کیونکہ براسانپ صرف جان کوڈستاہے جبکہ براساتھی جان وایمان دونوں پرضرب لگاتاہے۔ت)
یہ آفت سب سے اشد ہے والعیاذباﷲ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ(اور اﷲ تعالی کی پناہنیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اﷲ تعالی کی توفیق کے بغیرحاصل نہیں ہوتی۔ت)
بالجملہ بلاضرورت شرعیہ اس امرکامرتکب نہ ہوگا مگردین میں مداہن یاعقل سے مبائنسبحان اﷲ کتنے شرم کی بات ہے کہ آدمی کے ماں باپ کواگرکوئی گالی دے اس کی صورت دیکھنےکو روادار نہ رہے اورخدا ورسول کوبراکہنے والوں کوایسایارغار بنائے انا ﷲ وانا الیہ راجعون(بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ و والدہ والناس اجمعین۔رواہ احمدوالبخاری ومسلم ونسائی وابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تك میں اسے اس کی اولاد اور ماں باپ اورتمام آدمیوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔(امام احمدبخاریمسلمنسائی اور ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
دلائل کثیرہیں اور گوش شنواکو اسی قدرکافیپھرجونہ مانے سنگدل ہے اور کافر آگآگ کاساتھ جوپتھردے گا وہ خود اتناگرم ہوجائے گا کہ آدمی کو اس سے بچناچاہئےپس اگراہل اسلام ان لوگوں سے احترازکریں کچھ بے جانہ کریں گے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس شرف وبزرگی والے کاعلم زیادہ تام اور زیادہ پختہ ہے۔ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول من الایمان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷
#3944 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
مسئلہ ۹۵: ازگلگٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سیدمحمد یوسف علی شعبان ۱۳۱۲ھ
جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم سلامت بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ شیعہ کے ساتھ برتاؤ کرناجائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
رافضی وغیرہ بدمذہبوں میں جس کی بدعت حدکفر تك پہنچی ہو وہ تومرتد ہے اس کے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافرذمی کے مانند بھی برتاؤ جائزنہیںمسلمانوں پرلازم ہے کہ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے وغیرہا تمام معاملات میں اسے بعینہ مثل سوئر کے سمجھیں اور جس کی بدعت اس حد تك نہ ہو اس سے بھی دوستی محبت تو مطلقا نہ کریں۔
قال اﷲ تعالی ومن یتولہم منکم فانہ منہم " " ۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا تو وہ یقینا انہی میں سے ہوگا(ت)
اور بے ضرورت ومجبوری محض کے خالی میل جول بھی نہ رکھیں کہ بدمذہب کی محبت آگ ہے اور صحبت ناگ اور دونوں سے پوری لاگ۔رب عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگرتجھے شیطان بھلاڈالے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت)
جاہل کو ان کی صحبت سے یوں ا جتناب ضرورہے کہ اس پراثربد کاذیادہ اندیشہ ہے اور عام مقتدایوں بچے کہ جہال اسے دیکھ کو خود بھی اس بلا میں نہ پڑیں بلکہ عجب نہیں کہ اسے ان سے ملتادیکھ کر ان کے مذہب کی شناعت ان کی نظروں میں ہلکی ہوجائے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
یکرہ للمشہور المقتدی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشر الابقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین یدی الناس ولوکان رجل لایعرف یداریہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیراثم فلاباس بہ کذا فی الملتقط ۔ مشہور پیشواکے لئے ایسے شخص سے میل جول رکھنا جواہل باطل اور اہل شر میں سے ہو مکروہ ہے مگر ضرورت کی حد تك جائزہے(یہ ممانعت اس لئے ہے کہ)کہ لوگوں میں اس کا چرچا ہوجائے گا (جس کے برے اثرات مرتب ہوں گے)اور اگر غیرمعروف شخص ان میں محض اپنے دفاع اور ظلم سے بچاؤ کے لئے گھومے پھرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔الملتقط میں یونہی مذکورہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۵۱
القرآن الکریم ۶ /۶۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶
#3945 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
ابن حبان عقیلی انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ اختارنی واختارلی اصحابا واصھارا وسیأتی قوم لیسبونھم وینتقصونھم فلاتجالسوھم ولا تشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم ۔ بیشك اﷲ عزوجل نے مجھے چن لیا اور میرے لئے یار اور خسرال کے رشتہ دار پسندفرمائے اور عنقریب کچھ لوگ آئیں گے کہ انہیں براکہیں گے اور ان کی شان گھٹائیں گے تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ پانی پینانہ کھاناکھانا نہ شادی بیاہت کرنا(ت)۔
یہ حدیث نص صریح ہےاﷲ تعالی مسلمانوں کو توفیق عمل بخشے۔آمین! واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: ازموضع نگریا کلاں ضلع بریلی مرسلہ وزیرخاں دوم صفر ۱۳۲۱ھ
زید نے بیان کیاکہ میں سیدہوں اور سنت جماعت ہوں اور عید کی نمازبھی زیدنے پڑھائی بعد کومعلوم ہوا کہ زید رافضی ہے اور نمازہاتھ چھوڑ کرپڑھتاہے اور وضوبھی رافضیوں کاکرتاہے ایسی حالت میں سنت جماعت کے واسطے زید کی امامت جائزہے یانہیں اور کھانا کھانازید کے یہاں کا سنت جماعت کوجائزہے یانہیں لڑکوں کے واسطے تعلیم زید کی جائزہے یانہیں زید بیان کرتاہے کہ میں قرآن شریف گیارہ میں پڑھاسکتاہوں فاتحہ گیارہویں شریف کی زید سے دلاناجائزہے یانہیں بینواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
رافضی کے پیچھے نمازمحض باطل ہےہوتی ہی نہیںفرض سرپر ویساہی رہے گا اور گناہ علاوہرافضی کی امامت ایسی ہی ہے جیسی کسی ہندویایہودی کی امامت۔آج کل کے رافضی عموما مرتد ہیں ان کے یہاں کاکھانا یاان کے ساتھ کھانایا ان سے کسی قسم کا میل جول رکھنا گناہ ہے سب عذاب کے مستحق ہوں گے اور بچوں اس سے پڑھوانا سخت حرام اورنری گمراہی ہے۔مسلمانوں پر فرض ہے کہ رافضی کوجداکردیں رافضی سے گیارہویں شریف کی فاتحہ دلاناسخت حماقت ہے اور ایك یہی کیاکسی قسم کی فاتحہ رافضی سے ہرگزنہ دلائی جائے کہ فاتحہ ثواب پہنچانے کے لئے ہے اور رافضی کے پڑھنے سے ثواب نہیں پہنچتا کیونکہ
حوالہ / References الضعفاء للعقیلی ترجمہ ۱۵۳ احمدبن عمران الاخنسی دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۲۶
#3946 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
روافض انکارضروریات دین کے باعث مرتد ہیںپھریہ بھی اس وقت ہے کہ فاتحہ میں رافضی کچھ قرآن پڑھے مگرسنیوں کے لئے فاتحہ میں رافضی سے بھی امیدنہیں خداجانے کیاکچھ ناپاك کلمے بکے گا ان کاثواب پہنچے گا یا اورعذاب ہوگا۔اﷲ تعالی سنیوں کی آنکھیں کھولے اور انہیں توفیق دے کہ گمراہوں سے دور رہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صاف حکم فرمایا ہے کہ ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم بدمذہبوں سے دوررہو اور ان کو اپنے سے دورکروکہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیںقرآن شریف میں فرمایا:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اورتجھے شیطان بھلادے تویادآنے پرپاس نہ بیٹھ ظالم لوگوں کے۔
اوربدمذہب لوگ خصوصا رافضیوں کے یہاں تقیہ بہت ہے یہ بہت اپنے مذہب کوچھپاتے ہیں ان کی بات پرہرگزاعتبار نہ کرناچاہئے جہاں نفع نقصان کچھ نہ ہو وہاں سنی بن جانا ان کاادنی شعبدہ ہے توجہاں دوپیسے کانفع ہووہاں سنی بنتے ہوئے انہیں کیالگتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷: ازقصبہ ٹسوا موضع فریدپور مرسلہ مہدی حسن صاحب
کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں اہل سنت وجماعت کو سادات اہل تشیعہ کے یہاں کی علاوہ نیاز آٹھویں تاریخ حضرت عباس علمدار کے نیازحسین کی مثلا شربت وملیدہ و روٹی ولنگروتبرك مجلس کااہلسنت وجماعت صاحبان کر لیناجائزہے یانہیں
الجواب:
حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس قوم کی نسبت فرماتے ہیں:
لاتجالسوھم ولاتوأکلوھم ولاتشاربوھم ۔ ان کے پاس نہ بیٹھو اور ان کے ساتھ کھانانہ کھاؤ اور ان کے ساتھ پانی نہ پیو۔
لہذا ان کی مجالس میں جانا مطلقا حرام کہ وہ قرآن مجید کی توہین کرتے ہیں اور اسے ناقص جانتے ہیں اور
حوالہ / References صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰
القرآن الکریم ۷ /۶۷
الضعفاء الکبیر ترجمہ۱۵۳ احمدبن عمران الاخنس دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۲۶،کنزالعمال برمزعق عن انس حدیث ۳۲۴۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۲۹
#3947 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
ان کے یہاں سے شربتملیدہلنگر کوئی چیز نہ لی جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۸: ازقصبہ ٹسوا موضع فریدپور مرسلہ مہدی حسن صاحب
کیاارشاد فرماتے ہیں علمائے دین اہل سنت وجماعت اس شخص کی نسبت کہ جو شخص سادات اہل تشیعہ کے یہاں کی نیازحسین علیہ السلام کے لینے سے لوگوں کومنع کرے اور کہے یہ نیازحرام ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
مندرجہ بالا سوال کے جواب سے معلوم ہوگیا کہ منع کرنے والا ٹھیك منع کرتاہے اور اس کامنع کرنابیجانہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۹: ازجادوپور تھانہ بھوجی پورہ تحصیل وضلع بریلی مسئولہ شمشاد علی صاحب ۱۲رجب ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ جس میں ہمیشہ سے گاؤ کشی ہوتی آئی اس سال اس کے ہنود نے مسلمانوں سے نزاع کیا اس گاؤں میں بازار ہوتاتھا وہ لوگوں کوورغلاکردوسرے گاؤ ں اٹھوادیا کہ ان لوگوں کانفع جاتارہےہندوتو ہندوؤں کے کہنے سے چلے ہی گئے بعض مسلمان بھی انہیں کے شریك ہوئے ان سے کہا بھی گیا کہ جس طرح ہنود نے اپنا بازار الگ کر لیا ہے تم بھی الگ بازار مسلمانوں کاکرو اور اس میں شریك ہو اور ہندوؤں کی شرکت نہ کرو مگر وہ نہیں مانتےا س صورت میں ایسے لوگوں کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
افسوس ہے ان مسلمانوں پر جومسلمانوں کی مخالفت میں ہندوؤں کاساتھ دیں اور ان کی جماعت بڑھائیں ان کانفع چاہیں مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں خصوصا وہ بی ایسی بات میں جس کی بنامذہبی کام پرہوان کوتوبہ کرناچاہئے ورنہ اندیشہ کریں کہ اسی حالت میں موت آگئی توحشربھی ہندوؤں ہی کے ساتھ ہوگا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ وفی لفظ لا تساکنوا المشرکین ولاتجامعوھم فمن ساکنھم او جامعھم فھو جوکوئی کسی شرك کرنے والے کے ساتھ جمع ہو اور اس کے ساتھ رہنا سہنا اختیار کرے تو وہ مسلمان بھی اسی کی طرح ہے۔اور بعض روایات میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:شرك کرنے والوں کے ساتھ
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الاقامۃ ارض الشرك آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹
#3948 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
مثلھم رواہ بالاول ابوداؤد عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن وبالاخرالترمذی عنہ تعلیقا۔ رہائش اختیار نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ اجتماع رکھو پھر جو کوئی ان کے ساتھ سکونت اختیارکرے یا ان کے ساتھ جمع ہو تو وہ ان ہی کی طرح ہے۔پہلی حدیث کو امام ابوداؤد نے سمرہ بن جندب رضی اﷲتعالی عنہ کے حوالے سے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے جبکہ دوسری حدیث کو امام ترمذی نے اسی مذکور صحابی سے بطور تعلیق روایت کیاہے۔(ت)
دوسری حدیث ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من کثر سواد قوم فھو منھم ۔ جوکسی گروہ کی جماعت بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔
تیسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
من اعان علی خصومۃ بغیر حق لم یزل فی سخط اﷲ حتی ینزع۔رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنھمابسندحسن۔ جو کسی جھگڑے میں ناحق والوں کومدد دے ہمیشہ خدا کے غضب میں رہے جب تك اس سے باز آئے(ابن ماجہ اور حاکم نے عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے بسندحسن اسے روایت کیاہے۔ت)
چوتھی حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من مات علی شیئ بعثہ اﷲ علیہ۔رواہ احمد و الحاکم عن جابر بن عبداﷲ جو جس حال میں مرے گا اﷲ تعالی اسی حال پر اسے اٹھائے گا (امام احمدوحاکم نے جابر بن عبداﷲ
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی کراھیۃ المقام الخ امین کمپنی دہلی ۱ /۱۹۴
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۵۶۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۵۱۹،کنزالعمال حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۲۲
سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام باب من ادعی مالیس لہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۹،المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ /۹۹
مسندامام احمد بن حنبل عن جابر رضی اﷲ عنہ دارالکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۱۴،المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ۴ /۳۱۳
#3949 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
رضی اﷲتعالی عنھما بسند حسن واﷲ تعالی اعلم۔ رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند حسن اس کو روایت کیاہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: ازموضع سرنیاں مسئولہ امیرعلی صاحب ۱۱جمادی الاولی ۱۳۳۱ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدچندبار اہل ہنود کی برات میں شریك ہوا ہے اور اہرایك غمی شادی میں شریك ہوتاہے اب زید کے یہاں شادی ہے بہت ہنود شامل برات ہوں گے اور زید کے یہاں عورات ڈھول بجائیں گی اور ناچ بھی برات میں ہوگا توزیدکے لئے کیاحکم ہے اورسائل کو کھانے میں شریك ہوناچاہئے یانہیں بینواتوجروا۔
دیگرعمردریافت کرتاہے اہل ہنود مزدوری میں لیا اس کو مزدوری خوراك دینا جو کہ رسم مزدوری کی ہے۔
دیگرعمردریافت کرتاہے کہ میرے کھیت کے پاس ہنود کاکھیت ہے اور اکثر ایسابھی ہے ایك کھیت کے درمیان ایك کھیت ہے اور کام کاشتکاری میں بضرورت کسی کام کے کچھ کہنا پڑتاہے اور بغیرضرورت کے نہیں۔
دیگرکسی ہنود سے کوئی میل کھانے سے نکلتاہوتو انسیت پیداکرے یانہیں فقط۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اس صورت میں ظاہر ہے کہ زید فاسق فاجر ہےسائل اگر اس پرایسا دباؤرکھتاہے کہ اسے روك سے گا توضرور شریك ہوکر روکےاور اگر اسے اتناعزیز ہےکہ اس کاشریك نہ ہونا اسے گوارا نہ ہوگا اوراس کی شرکت کی غرض سے وہ ناجائزباتیں اٹھادے گا تو سائل پرلازم ہے کہ شرکت سے صاف انکارکردے جب تك وہ ان ناپاکیوں سے بازنہ رہےاور اگریہ دونوں باتیں نہیں تو سائل اگرقوم کاپیشوا ہے توہرگزہرگز شریك نہ ہواور اگرعوام میں سے ہے اور وہ حرام جلسہ جلسہ طعام کے مکان میں کھانے والوں کے سامنے ہوگا جب بھی ہرگز نہ جائےاور اگرحرام جلسہ الگ ہے اور کھانے کامکان الگ تواختیارہے اور بہتریہی ہے کہ کوئی مسلمان شریك نہ ہو۔ہندو کومزدوری میں لینا اور مزدوری کی خوراك دیناجائزہے۔ضرورت کے سبب کوئی بات ہندو سے کرلینے میں حرج نہیں جبکہ وہ بات خود ایك جائزامرہو۔دلی انس کسی کافر سے کرناحرام ہےاور ظاہر میل جس میں نہ کافر کی تعظیم ہو نہ مسلمان کی ذلت نہ کوئی طریقہ ناجائز برتاجائے کسی جائزکام کے سبب ہندو سے کرلینے میں حرج نہیں بلا ضرورت اس سے بھی بچے کہ آپس میں راہ ورسم بڑھ کراکثر ناجائزباتوں
#3950 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
تك پہنچاکرتے ہیں
ومن ارتع حول الحمی اوشك ان یقع فیہ واﷲ تعالی اعلم۔ جو شخص کسی چراگاہ کے آس پاس جانور چرائے تو ہوسکتاہے کہ اس کے اندر گھسے اورچلاجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱: ازلکھنو احاطہ محمدخاں متصل دکان ظہوربخش مسئولہ حضرت مولانا سیدمحمد میاں صاحب دامت برکاتہم بروزشنبہ ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ ھ
کافرمرتد مبتدع بدمذہب کوفاسق معلن یا اس کو جس کا ان جیسا ہونا قائل کے نزدیك مترود ہوکوئی رشتہ مثل باپ دادا نانا بھائی بیٹا وغیرہ خود اپنا کہنا یا کسی اور مسلم کاکہناحالانکہ ان کو کافر مرتد وغیرہ جیسے ہیں ویسے ہی مانع یہ کیسا ہے یا ایسے لوگوں کو ابتداء سلام کہنا یا ان سے بخندہ پیشانی پیش آنا ہنسنا بولنا ایسی دوستی رکھنا جیسے دنیادار ہنسنے بولنے کھیلنے کی رکھتے ہیں اور اسی سلسلہ میں انہیں تحائف روانہ کرنا یا ان کی ایسی تعظیم کرنا کہ وہ آئیں توکھڑے ہوگئے تحریرا یاتقریرا انہیں عنایت فرمایاکرم فرمایا مشفق مہربان یاجناب صاحب لکھنا یا اسی طرح کے اور برتاؤ ان سے برتنا جیسے آج کل شائع ہیں کثرت سے خصوصا ایسوں میں کے دنیاوی با اثر لوگوں سےخلاصہ کلام یہ کہ ایسے لوگوں سے ایسابرتاؤ جس سے وہ خوش ہوں یا اس میں اپنی تعظیم جانیں اگرچہ فاعل کی نیت اس خوش یاتعظیم کی ہو یانہ ہو جبکہ مذہبی نقطہ نظر سے انہیں ان کے لائق قبیح ہی سمجھیں جائز ہیں یا ناجائز ناجائز تو کس درجہ کی غرض کہاں تك اس حد تك نہیں پہنچتیں کہ فاعل پربھی خود ان کی طرح حکم کفریابدعت وغیرہ عائد ہو اور اگریہ باتیں کسی دینی یادنیاوی غرض کے لئے کریں توکیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
ان لوگوں کو بے ضرورت ومجبوری ابتدا بسلام حرام اور بلاوجہ شرعی ان سے مخالطت اور ظاہری ملاطفت بھی حرامقرآن عظیم میں قعودمعہم سے نہی صریح موجوداور حدیث میں ان سے بخندہ پیشانی ملنے پرقلب سے نورایمان نکل جانے کی وعیدافعال تعظیمی مثل قیام تو اور سخت تر ہیں تویوہیں کلمات مدح حدیث میں ہے:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب البیوع باب الحلال بین والحرام بین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۵،صحیح مسلم کتاب المساقات باب اخذ الحلال وترك الشبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸
#3951 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ عرش الرحمن ۔ جب کسی فاسق(مرتکب گناہ کبیرہ)کی تعریف کی جائے تو اﷲ تعالی غضبناك ہوجاتاہے اور اس کی اس حرکت سے عرش رحمان لرز جاتاہے(ت)
دوسری حدیث میں ہے ان میں فاسق کاحکم آسان ہے مطلقا حرج نہیں اور مصالح دینیہ پرنظر کی جائے گی اور مرتد مبتدع داعیہ سے بالکل ممانعت اور ضروریات شرعیہ ہرجگہ مستثنی فان الضرورات تبیح المحظورات(اس لئے کہ ضرورتیں ممنوع کاموں کومباح کردیتی ہیں۔ت)رشتہ بتانے میں مطلقا حرج نہیں جیسے عمربن الخطاب وعلی بن ابی طالب مع ان الخطاب واباطالب لم یسلما(حضرت عمرخطاب کے بیٹے اور حضرت علی ابوطالب کے فرزند حالانکہ خطاب اور ابوطالب دونوں مسلمان نہ تھے۔ت)ان کے ساتھ جوبرتاؤ قولا فعلا ممنوع ہے بے ضرورت ان کامرتکب عاصی ہے ان کامثل نہیں جب تك ان کے کفروبدعت وفسق کو اچھایاجائزنہ جانے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲: مرسلہ مصاحب علی طالب علم ۱۴ صفرالمظفر۱۳۳۵ ھ
ایك شخص نے زناوشراب وسود وغیرہ گناہ کبیرہ کاارتکاب کیاہے اور نمازوروزہ وزکوہ وغیرہ افعال نیك بھی کرتاہے اور علماء ومشائخ سے محبت رکھتاہے تواگربہ سبب افعال نیك کے ایسے شخص سے محبت ودوستی ومیل جول رکھاجائے توان آیات اور احادیث کاخلاف لازم آتاہے جس میں فاسق سے بچنے اور دور رہنے اور بغض رکھنے کاحکم ہے اور اگربسبب افعال بد کے ایسے شخص سے پرہیزکیاجائے توان احادیث اور آیات کاخلاف لازم آتاہے جس میں مسلمانوں سے میل جول رکھنے اور اچھابرتاؤ کرنے کاحکم ہے توایسے شخص سے کیسابرتاؤ کیاجائے بینواتوجروا۔
الجواب:
دو وجہ سے محبت وبغض جمع ہوسکتے ہیں بلکہ فاسق سے بغض حقیقۃ اس کے فعل کی طرف راجح ہےنہ ذات کی طرف۔ایسے شخص سے برتاؤ میں طریقہ سلف مختلف رہا اس کامبنی اختلاف احوال ہے جس فاسق کو یہ جانے کہ نرمی وایتلاف سے رو براہ ہو جائے گا وہاں یہی چاہئے جسے یہ جانے کہ شدت واعراض سے متاثر ہوکرافعال قبیحہ چھوڑدے گا وہاں یہی چاہئے اور جس سے کسی طرح امید نہ ہو اس سے مطلقا احترازچاہئے خصوصا دوشخصوں کوایك وہ جو اس کی صحبت بد سے متاثرہونے کا اندیشہ رکھے
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۲۳۰
#3952 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
دوسرا وہ کہ عالم ومقتداء ہوکہ اسے اس سے میل جول کرتاہوا دیکھ کرقلوب عوام سے فسق کی شناخت کم ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۳: مرسلہ دوست خان فیلبان ریاست سکیت ضلع کانگڑہ پنجاب ۲۲ ربیع الآخر۱۳۳۵ ھ
ایك قوم پہاڑ میں چنڈیل کہلاتی ہے اس میں ان کے بڑے مسلمانوں سے ملتے جلتے تھے مگر اب یہ لوگ نہ ملتے ہیں نہ مردہ کی تجہیزوتکفین میں مسلمانوں کو بلاتے ہیں بلکہ مثل ہنود کے داڑھی مونچھ منڈواتے ہیںنہ کسی مسلمان سے سلام علیك لیتے ہیں نہ کبھی نماز روزہ ہوتاہے۔اب بعض مسلمان ان سے ملتے ہیںجو ان سے ملتے ہیں ان کے واسطے کیاحکم ہےفقط
الجواب:
یہ لوگ اگر اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں اور پھرکفر کرتے ہیں تومرتد ہیں اوران سے ملناجلنا مسلمان کو حرام ہےجو مسلمان ان سے ملتے ہیں مستحق عذاب ہیںاور اگر یہ لوگ سرے سے ہندو ہیں مسلمان ہوکرکافر نہ ہوئے تو ان سے کسی دنیاکے لین دین خریدوفروخت میں اتنا ملناجائز ہے جتناہندو سےاور اگر اس سے زائد ملیں اور اپنادوست ولی بنائیں توپھرمستحق عذاب ہیں بلکہ سخت ترواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴ : بخدمت شمس العلماء رأس الفقہاء اعنی جناب مولانا مولوی حاجی ومفتی اعلحضرت مدظلہ العالی!
حضورکی خدمت اقدس میں دست بستہ عرض ہے کہ اگر کوئی قادیانی مسجد کے خرچ کے واسطے روپیہ وغیرہ دے یاکسی طالب علم یا اور شخص کو مکان پربلاکرکھاناکھلائے یابھیج دےان دونوں صورتوں میں کھانا کھانا جائز ہے یانہیں یاوہ روپیہ مسجد میں لگانا کیسا ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
نہ وہ روپے لئے جائیںنہ کھاناکھایاجائےاور اس کے یہاں جاکر کھاناسخت حرام ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵: ازموضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ شیخ امیرعلی رضوی ۲۹ ربیع الآخر۱۳۳۶ ھ
ایك پترول آبپاشی نہرپر وہابی ہے اور ایك ڈاکیا خط تقسیم کرنے والا بھی شیعہ ہےان شخصوں سے بات چیت کرناپڑتی ہے کبھی روٹی کابھی اتفاق اپنے مطلوب کی غرض سے ہوتاہے اور ان کو اپنا دشمن ہی سمجھاجاتاہے میل جول کچھ نہیں کیاجاتا ہے جہاں تك ممکن ہوتاہے بچتے ہیں اور کام کے وقت بات کرناضرور ہوتی ہے۔
#3953 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
الجواب:
اگریہ امرواقعی ہے کہ قلب میں ان سے نفرت وعداوت واقعی ہے اور کوئی میل جول نہیں رکھا جاتا نہر یا خط کے متعلق کوئی بات کبھی کرلی جاتی ہے یاکبھی روٹی دے دی جاتی ہے جس میں کوئی مصلحت صحیح خیال کی گئی ہو توحرج نہیں اور اﷲ دلوں کانورجانتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: ازبلرامپور ضلع گونڈہ محلہ پورنیا تالاب متصل یتیم خانہ مرسلہ نذر محمدآتشباز ۱۷صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شراب خوروں اور چانڈبازوں او رغیرمقلدوں کی طرفداری کرنا اور ان کاساتھ دینابرابر نشست وبرخاست رکھناکیساہےکچھ گناہ ہے یانہیں
الجواب:
غیرمقلدوں کاساتھ اوران کی طرفداری کرناگمراہی وبددینی ہے اور شراب خوروں او رچانڈوبازوں کی طرف داری اگر ان کے اس گناہ میں ہے توسخت عظیم کبیرہ ورنہ بیجا وبد۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگرتمہیں شیطان بھلادے توپھریاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
وہابی غیرمقلد کے گھرشادی بیاہ کرنااس کے ساتھ نمازپڑھنااس کے گھرکھاناکیساہے بینوا توجروا۔
الجواب:
وہابی یاغیرمقلد سے میل جول مطلقا حرام ہے اور اس کے ساتھ شادی بیاہ خالص زناحدیث میں فرمایا:
لاتواکلوھم ولاتشاربوھم ولاتجالسوھم ولاتصلو معھم ولاتصلوعلیھم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ ان کے ساتھ پانی پیونہ ان کے پاس بیٹھو نہ ان کے ساتھ نمازپڑھو نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھوواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۸
کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰
#3954 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
مسئلہ ۱۰۸: موتی بازار لاہور حاکم علی بی اے ۲۵/اکتوبر۱۹۲۰ء
(نقل خط)آقائے نامدار مؤید ملت طاہرہ مولانا وبالفضل اولنا جناب شاہ احمدرضاخاں صاحب دام ظلکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
پشت ہذا پر کا فتوی مطالعہ گرامی کے لئے ارسال کرکے التجاکرتاہوں کہ دوسری نقل کی پشت پر اس کی تصحیح فرماکر احقرنیازمند کے نام بواپسی ڈاك اگر ممکن ہوسکے یاکم ازکم دوسرے روز بھیج دیں انجمن حمایت اسلام کی جنرل کونسل کا اجلاس بروزاتواربتاریخ ۳۱ اکتوبر۱۹۲۰ء منعقد ہوناہے اس میں یہ پیش کرنا ہےدیوبندیوں اور نیچریوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے ہندوؤں اور گاندھی کے ساتھ موالات قائم کرلی ہے اور مسلمانوں کےکاموں میں روڑا اٹکانے کی ٹھان لی ہےﷲ عالم حنفیہ کو ان کے ہاتھوں سے بچائیں اور عنداﷲ ماجورہوںنیازمند دعاگو ہے۔
حاکم علی بی اے موتی بازار لاہور
۲۵ اکتوبر ۱۹۲۰ء
اﷲ تعالی نے ہمیں کافروں اور یہودونصاری کے ساتھ تولی سے منع فرمایاہے مگرابوالکلام زبردست تولی کے معنی معاملت اور ترك موالات کو ترك معاملت"نان کو آپریشن"قراردیتے ہیں اور یہ صریح زبردستی ہے جو اﷲ تعالی کے کلام پا ك کے ساتھ کی جارہی ہے۔مذکور نے ۲۰اکتوبر ۱۹۲۰ء کی جنرل کونسل کی کمیٹی میں تشریف لاکر اطلاق یہ کردیاکہ جب تك اسلامیہ کالج لاہور کی سرکاری امدادبند نہ کی جائے اور یونیورسٹی سے اس کا قطع الحاق نہ کیاجائے تب تك انگریزوں سے ترك موالات نہیں ہوسکتی اور اسلامیہ کالج کے لڑکوں کو فتوی دے دیا کہ اگرایسا نہ ہوتو کالج چھوڑدولہذا اس طرح سے کالج میں بے چینی پھیلادی کہ پھر پڑھائی کاسخت نقصان ہونا شروع ہوگیاعلامہ مذکور کایہ فتوی غلط ہے یونیورسٹی کے ساتھ الحاق رہنے سے اور امداد لینے سے معاملت قائم رہتی ہے نہ کہ موالات جن کے معنی محبت کے ہیں نہ کہ کام کے جو کہ معاملت کے معنی ہں مذکور کی اس زبردستی سے اسلامیہ کالج تباہ ہو رہے ہیں مذکور مولوی محمودحسن صاحب مولوی عبدالحی صاحب تودیوبند خیالات کے ہیں زبردستی فتوی اپنے مدعا کے مطابق دیتے ہیںلہذا میں فتوی دیتاہوں کہ یونیورسٹی کے ساتھ الحاق اور امدادلینا جائزہے میرے فتوی کی تصحیح ان اصحاب سے کرائیں جودیوبندی نہیں مثلا مؤیدملت طاہر حضرت مولنا مولوی شاہ احمدرضاخاں صاحب قادری بریلوی علاقہ روہیل کھنڈاور مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ممالك مغربی وشمالی۔
#3955 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
الجواب:موالات ومجرد معاملہ میں زمین وآسمان کافرق ہے دنیوی معاملت جس سے دین پرضرر نہ ہو سوا مرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں ذمی تومعاملت میں مثل مسلم ہے لھم مالنا وعلیھم ماعلینا(ان کے لئے ہے جوکچھ ہمارے لئے ہےاور ان پروہی کچھ لازم ہے جوکچھ ہم پر لازم ہے۔ت)اور غیرذمی سے بھی خریدفروختاجارہاستجار ہبہاستیہاب بشروطہاجائزخریدنا مطلقا ہرمال کاہرمسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچناہرجائز چیزکاجس میں اعانت حرب یا اہانت اسلام نہ ہواسے نوکررکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو اس کی جائز نوکری کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلا نہ ہو ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینایا اس کاکام کرنا بمصلت شرعی سے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو اس کاہدیہ قبول کرنا جس سے دین پراعتراض نہ ہو حتی کہ کتابیہ سے نکاح کرنا بھی فی نفسہ حلال ہے وہ صلح کی طرف جھکیں تومصالحت کرنامگروہ صلح کہ حلال حرام کرے یاحرام کوحلالیونہی ایك حد تك معاہدہ وموادعت کرنابھی اور جوجائز عہدکرلیا اس کی وفا فرض ہے اور عذر حرام الی غیرذلك من الاحکام(اور اس کے علاوہ باقی احکام۔ت) درمختارمیں ہے:
والمرتدۃ تحبس ابدا ولاتجالس ولاتؤاکل حتی تسلم ولاتقتل اھ قلت وھوالعلۃ فانھا تبقی ولا تفنی وقد شملت المرتد فی اعصارنا وامصارنا فالامتناع القتل۔ (اسلام سے پھرجانے والی)مرتد عورت ہمیشہ قید وبند میں رکھی جائے۔پس اس کے ساتھ نشست برخاست نہ کی جائے یہاں تك کہ وہ مسلمان ہوجائے لیکن وہ قتل نہ کی جائےاھ میں کہتاہوں یہی وہ علت ہے جوہمیشہ باقی رہتی ہے کبھی ختم نہیں ہوتیپس ہمارے زمانے اور ہمارے شہروں میں یہی علت مرتد مرد کوبھی شامل ہے اس لئے کہ اسے قتل نہیں کیاجاسکتا۔(ت)
محیط میں ہے:
اذا اراد الخروج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فان کان امیرا لایخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعھد جب دشمن کے ملك میں اجازت نامہ لے کر پرامن طور پر کاروبار کرنے کے لئے جائے پھراگر امیرایسا ہوکرجانے والے کو اس سے کوئی خوف وخطرہ نہ ہو
حوالہ / References درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۶۰
#3956 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
یعرفون بذلك ولہ فی ذلك منفعۃ فلاباس بان یعصیھما ۔ اور وہ لوگ بھی وعدہ پورا کرتے ہوں بلکہ ایفائے عہد میں مشہور ومعروف ہوںاور اس جانے اور سفرکرنے میں اس کاذاتی فائدہ بھی ہو تو اس کے جانے میں کچھ مضائقہ اور حرج نہیں۔(ت)
ہندیہ میں ہے :
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذلك منہ و کذلك اذا اراد حمل الامتعۃ الیھم فی البحر فی السفینۃ ۔ جب کوئی مسلمان دارحرب میں امان لےکر تجارت کے لئے داخل ہوتو اسے اس سفر سے نہ روکاجائے اور یہی حکم ہے جب کوئی شخص بحری بیڑے میں سامان لادکر ان کی طرف جانا چاہے(تو اسے بھی اس سفر سے نہ روکاجائے)۔(ت)
اسی میں ہے:
قال محمد لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ما شاء الاالکراع والسلاح فان کان خمرا من باریسم او ثیابا رقاقا من القز فلاباس بادخالھا الیھم ولا باس بادخال الصفر والشبھۃ الیھم لان ھذا لا یستعمل للسلاح ۔ امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا اگرکوئی مسلمان اہل عرب کی طرف جوکچھ اٹھاکر لے جاناچاہے تو اس میں کچھ حرج نہیں مگر یہ کہ گھوڑے اور ہتھیار(نہ لے جائے)پھراگرخالص ریشم یاسنہری باریك کپڑے ہوں تو انہیں وہاں جانے میں کچھ حرج نہیں نیز سوناپیتل اور ان جیسی اشیاء کے وہاں لے جانے میں کچھ مضائقہ نہیںا س لئے کہ اشیاء مذکورہ ہتھیاروں کے لئے استعمال نہیں کی جاتیں۔(ت)
اسی میں ہے:
لایمنع من ادخال البغال والحمیر والثور والبعیر ۔ خچرگدھےبیل اور اونٹ وغیرہ لے جانے سے نہ روکا جائے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۱۸۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳
#3957 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
فتاوی امام طاہر بخاری میں ہے:
مسلم آجر نفسہ من مجوسی لاباس بہ ۔ اگرکوئی مسلمان کسی آتش پرست کی نوکری کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
من ارسل اجیرالہ مجوسیا اوخادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یہودی اونصرانی اومسلم واکلہ ۔ اگر کسی نے اپنا آتش پرست مزدوریاخادم بھیجا پھر اس نے گوشت خریدا(پوچھنے پر)اس نے کہا میں نے یہ یہودی یا عیسائی یامسلمان سے خریدارہے(تو اسے سچاسمجھ کر)وہ گوشت کھایاجائے گا(ت)
درمختارمیں ہے:
الکافر یجوز تقلیدہ القضاء لیحکم بین اھل الذمۃ ذکرہ الزیلعی فی التحکیم ۔ اہل ذمہ پرحکم دینے میں کافر کے فیصلہ کی تقلید اوراتباع کرنا جائزہےچنانچہ علامہ زیلعی نے بحث تحکیم میں اس کو بیان فرمایاہے۔(ت)
محیط میں ہے:
قال محمد مایبعثہ ملك العدو من الھدیۃ ان امیر جیش المسلمین او الی الامام الاکبر وھو مع الجیش فانہ لاباس بقبولھا یصیر فیئا للمسلمین وکذلك اذا اھدی ملکھم الی قائد من قواد المسلمین لہ منعۃ ولوکان اھدی الی واحد من کبار المسلمین لیس لہ منعۃ یختص ھوبھا ۔ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا دشمن کابادشاہ اسلامی لشکر کے امیریا امیراکبر کوجوکچھ تحفہ وہدیہ بھیجے جبکہ وہ لشکرمیں ہو تو اس کو قبول کرنے میں کچھ حرج نہیںاور وہ اہل اسلام کے لئے مال غنیمت ہو جائے گایونہی ان کا بادشاہ مسلمانوں کے کسی ایسے قائد کو ہدیہ بھیجے کہ جس میں قوت وزورہو(تو اس کو لینے میں بھی کوئی حرج نہیں)اور اگر وہ مسلمانوں کے کسی بڑے فرد کو ہدیہ پیش کرے کہ جس میں قوت دفاع نہ تووہ پھر اس کے لئے مختص ہوگا۔(ت)
حوالہ / References خلاصۃ القاری کتاب الاجارات الفصل العاشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۴۹
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۱
درمختار کتاب القضاء مطبع مجبتائی دہلی ۲ /۷۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۶
#3958 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
اسی میں ہے:
لو ان عسکرا من المسلمین دخلوا دارالحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذلك لوان امیرالثغور اھدی الی ملك العدوھدیۃ واھدی ملك العدو الیہ ھدیۃ ۔وقال اﷲ تعالی " والمحصنت من الذین اوتوا الکتب من قبلکم اذا اتیتموہن اجورہن " وتمام تحقیقہ فی فتاونا وقال تعالی " و ان جنحوا للسلم فاجنح لہا" وقال تعالی الا الذین عہدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیـا ولم یظہروا علیکم احدا فاتموا الیہم عہدہم الی مدتہم ان اللہ یحب المتقین ﴿۴﴾ وقال تعالی
" واوفوا بالعہد ان العہدکان مسـولا ﴿۳۴﴾" و عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الصلح جائز بین المسلمین الاصلحا احل حراما او حرم حلالا وقال صلی اﷲ تعالی علیہ اگراسلامی فوج دارحرب میں داخل ہوپھر ان کا امیردشمن کے حکمران کو کوئی ہدیہ پیش کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔اور اسی طرح اگرامیرسرحد اسلامی دشمن کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور دشمن کابادشاہ اسلامی امیر کوکوئی تحفہ وہدیہ پیش کرے(تو دونوں صورتوں میں کچھ مضائقہ نہیں)اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اور مسلمان پارساعورتیںاور ان لوگوں کی پارسا عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب عطاہوئی(یعنی اہل کتاب یہودی اور عیسائی)جب تم انہیں ان کے مہر اداکردو (تو پھر ان دونوں سے عقد نکاح کرنا جائز ہے)اور اس کی پوری تحقیق ہمارے فتاوی میں مذکورہے۔اور اﷲ تعالی نے ارشادفرمایا:اگر وہ صلح کے لئے جھك جائیں توپھر تم بھی اس کے لئے جھك جاؤ۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:مگروہ شرك کرنے والے کہ جن سے تم نے معاہدہ کیاپھر انہوں نے تم سے کوئی کمی نہ کی اورتم پر کسی کو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفاصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۶
القرآن الکریم ۵ /۵
القرآن الکریم ۸ /۶۱
القرآن الکریم ۹ /۴
القرآن الکریم ۱۷ /۳۴
المعجم الکبیر حدیث ۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۲۲
#3959 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
وسلم لاتغدروا ۔ غلبہ نہ دیا۔پھر ان سے ان کی طے شدہ مدت تك ان سے کیاہوا وعدہ پوراکرو بیشك اﷲ تعالی ڈرنے والوں کوپسند کرتاہے۔اور اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو!)وعدہ پوراکرو اس لئے کہ وعدے کے بارے میں(اﷲ تعالی کے ہاں)بازپرس ہوگی اورحضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ صلح مسلمانوں کے درمیان جائز ہےمگروہ صلح جوحرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرائے (ایسی جائزنہیں)اور حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!)دھوکہ بازی نہ کیاکرو۔(ت)
وہ الحاق واخذ امداد اگرنہ کسی امرخلاف اسلام ومخالف شریعت سے مشروط نہ اس کی طرف منجرتو اس کے جواز میں کلام نہیں۔ورنہ ضرورناجائز وحرام ہوگا۔مگر یہ عدم جواز اس شرط یالازم کے سبب سے ہوگا نہ بربنائے تحریممطلق معاملت جس کے لئے شرع میں اصلا اصل نہیں اور خود ان مانعین کی طرز عمل ان کے کذب دعوی پرشاہدریلتارڈاك سے تمتع کیا معاملت نہیں۔فرق یہ ہے کہ اخذ امداد میں مال لینا ہے اور ان کے استعمال میں دیناعجب کہ مقاطعت میں مال دیناحلال اور لینا حراماس کاجواب یہ دیاجاتاہے کہ ریل تارڈاك ہمارے ہی ملك میں ہمارے ہی روپے سے بنے ہیںسبحن اﷲ! امداد تعلیم کا روپیہ کیا انگلستان سے آتاہے وہ بھی یہیں کاہے توحاصل وہی ٹھہرا کہ مقاطعت میں اپنے مال سے نفع پہنچانا مشروع اور خود لیناممنوع۔اس الٹی عقل کا کیاعلاج۔مگر اس قوم سے کیاشکایت جس نے نہ صرف شریعت بلکہ نفس اسلام کو پلٹ دیا۔مشرکین سے وداد بلکہ اتحاد بلکہ غلامہ وانقیاد فرض کیا۔خوشنودی ہنود کے لئے شعاراسلام بند اور شعار کفرکاماتھوں پرعلم بلند۔مشرکین کی جے پکارنا ان کی حمد کے نعرے مارنا انہیں اپنی اس حاجت دینی میں جسے نہ صرف فرض بلکہ مدارایمان ٹھہراتے ہیں یہاں تك کہ اس میں شریك نہ ہونے والوں پرحکم کفرلگاتے ہیں اپنامال وہادی بنانا مسجد میں مشرك کو لے جاکر مسلمانوں سے اونچا کھڑاکرکے واعظ مسلمین ٹھہرانا مشرك کی ٹکٹکی کندھوں پراٹھاکر مرگھٹ میں لے جانا مسجد کو اس کاماتم گاہ بنانا اس کیلئے دعائے مغفرت ونمازجنازہ کے اشتہارلگانا وغیرہ وغیرہ ناگفتہ بہ افعال موجب کفرومورث ضلالیہاں تك کہ صاف لکھ دیاکہ اگر اپنے ہندوبھائیوں کوراضی کرلیا تو اپنے خدا کو راضی کرلوگےصاف لکھ دیا کہ ہم ایسامذہب بنانے کی فکر میں ہیں جوہندو ومسلم کا امتیاز اٹھادے گا اور سنگم پریاگ کومقدس علامت ٹھہرادے گا صاف لکھ دیا کہ ہم نے قرآن وحدیث کی تمام عمربت پرستی
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل عن بریدۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۸ /۳۵۸
#3960 · صحبت وموالات ومحبت وعداوت
نثارکردی یہ ہے موالاتیہ ہے حرامیہ ہیں کفریاتیہ ہے ضلال تام فسبحن مقلب القلوب والابصار ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ الواحد القھار(پاك ہے دلوں اور آنکھوں کاپھیرنے والاگناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی قوت کسی میں نہیں بجز اس کے کہ اﷲ تعالی یکتا اور سب سے زبردستمددفرمائے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
#3961 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
ظلم وایذائے مسلم وہجران وقطع تعلق

مسئلہ ۱۰۹: ۹ربیع الآخر ۱۳۰۸ھ ازشہر کہنہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے گھر کسی تقریب میں گائے ذبح کی اور عمرو نے باوجودیکہ مردمسلمان ہے گائے ذبح کرنےکو منع کیا اور جھگڑا کیایہاں تك کہ زید پرنالش کردی یہ فعل عمروکاموافق شرع شریف کے کیساہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجوب:
شرعا وہ مرتکب گناہ ہوا اورنہ صرف حق اﷲ بلکہ حق العبد میں بھی مبتلا اس پرفرض ہے کہ اﷲ تعالی سے توبہ کرے اور زید سے اپنا قصور معاف کرائے۔
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاضرر ولاضرار فی الاسلام ۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ اسلام میں نہ کوئی دکھ ہے نہ دوسرے کو دکھ پہنچانا۔(ت)
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۹۱،نصب الرایۃ باب مایحدثہ الرجل فی الطریق المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴ /۳۸۴
#3962 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
سائل مظہرکہ وہ ایسی جگہ نہ تھی جہاں قانونا گائے ذبح کرناجرم ہو بلکہ وہاں ہمیشہ سے قربانی ہوتی ہے تو اس صورت میں عمرو کی ممانعت ہرگز اس پرمحمول نہیں ہوسکتی کہ اپنے بھائی مسلمان کو حضرت قانونی سے بچانا چاہتاتھا بلکہ محض قصدا ایذاء واضرارتھا اورنالش کرنا اس پردلیل واضح کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالی علم۔
مسئلہ ۱۱۰: ۲۱صفر ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سے محرم کے تخت بنانے میں چندہ کی شرکت کو کہاگیا دس دس آنے سب پر ڈالے تھے اس نے بھی دئیے مگر کہاہم اپنے ذمہ اس کی کرنہ باندھیں گے اگر چاہیں گے دیں گے اور جتنا چاہیں گے دیں گےاس پرلوگوں نے اسے برادری سے نکال دیا اور حقہ پانی ڈال دیا اور کھچڑا جو حضرت امام رضی اﷲ تعالی عنہ کی نیاز کا اس نے پکاکرمسلمانوں میں تقسیم کیا وہ لوگوں کو نہ لینے دیا اور کہایہ بھنگی کے یہاں کاہےاس صورت میں شرع کاکیاحکم ہے بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مذکورہ میں اس شخص کے ذمہ جوالزام برادری والوں نے قائم کیا شرع کی رو سے بالکل باطل ہے وہ اس الزام سے بری ہے بلکہ اس وجہ سے جو لوگ اسے چھوڑے اور برادری سے نکالتے ہیں وہ گنہگار ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتھاجروا ولاتدابروا ولاتباغضوا ولاتنافسوا و کونوا عباداﷲ اخوانا ۔ لوگو! ایك دوسرے کو نہ چھوڑو اور نہ ایك دوسرے سے پیٹھ پھیرو اور نہ آپس میں بغض وکینہ رکھو اور نہ ایك دوسرے پر فخرکرو(اور نہ مقابلہ کرنے کی کوشش کرو۔اﷲ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔(ت)
دوسرا الزام ان لوگوں پریہ ہے کہ ایك فضول وبیجا کام میں شرکت سے انکارپریہ تشدد کیا اور نیاز میں کہ مقبول ومحمود کام ہے رخنہ ڈالنا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: ازملك بنگالہ ضلع نواکھالی مرسلہ مولوی عبدالباری صاحب ۲۳شعبان ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے آپ کاکیافرمان ہے۔ت)کہ
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۶
#3963 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
ایك شخص مال یتیم زبردستی تمام اپنے صرف وخرچ میں لاتاہے اور بیچارہ یتیم حالانکہ اس کے پاس اور کچھ نہیں تھا سوائے اس جائداد کے جو اس شخص نے ظلما لے لی دوسروں سے مانگ کرکھاتاہے اور بسراوقات کرتاہے اور وہ شخص حیلہ وحوالہ کرتاہے اور مشہورعلم داں ہےیہ بھی معلوم ہوا کہ حج بھی کیاہےیہ اعمال اس کے ایسی حالت میں مقبول ہوں گے یانہیں ودیگرعبارات بھی اور نیز اس شخص سے سلام کلام یعنی طریقہ اہل اسلام برتنا چاہئے یانہیں قرآن پاك واحادیث صحیح مع سندبیان فرمائیے۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
ایساشخص سخت ظالمفاجرمرتکب کبائرمستحق عذاب نار وغضب جبار ہے۔قال اﷲ تعالی!
 ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " بیشك جولوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور قریب ہے کہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں جائیں گے۔
قبول عمل وعبادت ہرشخص کاحق سبحانہوتعالی کے اختیار ہےہاں اس ناپاك سے جوعبادت مال کرے گا ہرگزقبول نہ ہوگی۔ حدیث میں ہے:
ان اﷲ طیب لایقبل الاالطیب ۔ بیشك اﷲ تعالی پاك ہے او رپاك چیزہی قبول فرماتاہے۔ (ت)
حج بھی اگر اسی روپے سے کیا تو مستحق مردود ہے۔حدیث میں ہے:جوحرام مال سے حج کوجائے جب لبیك کہے فرشتہ اسے جواب دیتاہے:
لالبیك ولاسعدیك وحجك مردود علیك حتی ترد مافی یدیک ۔ نہ تیری لبیك قبولنہ خدمت قبول اور تیراحج تجھ پرمردود ہے یہاں تك کہ تویہ مال حرام جوتیرے پاس سے واپس دے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۱۰
سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلٰوۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۴۶
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرارالحج الباب الثالث دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۴۳۱،کنزالعمال حدیث ۱۱۸۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵ /۲۴،العلل المتناہیۃ حدیث فی الحج بمال حرام حدیث ۹۳۰ دارنشرالکتب الاسلامیہ مصر ۲ /۷۵
#3964 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
ایسے شخص سے ابتدابسلام ناجائزوگناہ ہے۔درمختار میں ہے:
یکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا ۔ جوکوئی اعلانیہ فاسق ہو اسے سلام دینا مکروہ ہے۔(ت)
مسلمانوں کو ایسے شخص سے میل جول رکھنااس کے پاس موافقت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ چاہئےکہیں اس کی آگ ان میں بھی سرایت نہ کرے۔قال اﷲ تعالی:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگرتجھے شیطان بھلادے تویادآئے پرپاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
وقال تعالی:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار "
والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں آگ چھوئے۔
مسئلہ ۱۱۲: مسئولہ فرحت اﷲ صاحب ازبدایون ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك شخص معزز با وقعت ہے اور علم بھی رکھتاہے اور نیز روزہ نماز کابھی پابند ہےاس کی نسبت چندمعزز اشخاص وایك ہندوحکام اعلی کے روبروجن کے نزدیك وہ شخص باوقعت سمجھاگیایہ لفظ ایك توہین کے ساتھ کہنا کہ یہ شخص قوم کا جولاہہ ہے یہ کہنا بروئے شرع شریف کیساہے اور نیز ایساکہنے والا گنہگار ہے یانہیں اگرہے تو کس درجہ کا گنہگارہے جواب سے تشفی بخشئے۔بینواتوجوا۔
الجواب:
اگر وہ شخص واقع میں قوم کاجولاہہ نہیں توکذب ہواافتراہوامسلمان کی ناحق ایذا ہوئیکہنے والا متعدد کبائرکا مرتکب ہواحق العبد میں گرفتا اور مستحق عذاب نارہوااس پرفرض ہےکہ توبہ کرے اور اس شخص سے اپنی خطا کی معافی چاہے ورنہ طینۃالخبال میں روکاجائے گا حتی یاتی بنفاد ماقال یہاں تك کہ جوبات کہی اس کا ثبوت لائے:اور جبکہ بات خلاف واقع ہے تو اس کا ثبوت کہاں سے
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
#3965 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
لائے گاطینۃ الخبال اس آگ سے زیادہ گرم اور کھولتے ہوئے پیپ اور لہو کی نہرکانام ہے جودوزخیوں کے منہ سے لے کر جمع ہوگی والعیاذباﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)اور اگرواقع میں وہ شخص جولاہا تھا مگر اس کے اظہار میں اس و قت کوئی مصلحت شرعی نہ تھی صرف اس کی ایذا وتفضیح مقصود تھی جب بھی یہ شخص گنہگارہواتوبہ کرنا اور اس سے معافی چاہنا اب بھی فرض ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے کسی مسلمان کوبلاوجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی(طبرانی نے کبیرمیں اس کو حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
اور اگر اس کے اظہار میں کوئی مصلحت شرعی تھی اور بات واقعی تھی تو اس قائل پرکوئی الزام نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۳: ازلکھنؤ امین آباد مسئولہ سیدبرکت علی صاحب بریلوی شنبہ ۲۵شوال ۱۳۳۴ھ
کسی سید کوصحیح النسب سید نہ کہنا بلکہ اس کوناجائز پیشہ وروں(میراثی وغیرہ)سے مثال دیناکیساہے اور اس مثال دینے والے کے پیچھے نمازجائزہے یانہیں اور سید کی بے توقیری کرنے والا گمراہ بدمذہب ہے یانہیں فقط
الجواب:
سنی سید کی بے توقیری سخت حرام ہےصحیح حدیث میں ہے:
ستۃ لعنتھم لعنھم اﷲ وکل نبی مجاب الزائد فی کتاب اﷲ والمکذب بقدراﷲ والمستحل من عترتی ماحرم اﷲ الحدیث ۔ چھ شخص ہیں جن پرمیں نے لعنت کی اﷲ ان پرلعنت کرے اور نبی کی دعاقبول ہے ازانجملہ ایك وہ جوکتاب اﷲ میں اپنی طرف سے کچھ بڑھائے اور وہ جوخیروشر سب کچھ اﷲ کی تقدیر سے ہونے کاانکار کرے اور وہ جومیری اولاد سے اس چیز کو حلال رکھے جو اﷲ نے حرام کیا۔
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۴۳۷۰۳ ۱۶ /۱۰ والمعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ ۴ /۳۷۳
سنن الترمذی کتاب القدر حدیث ۲۱۶۱ دارالفکر بیروت ۴ /۶۱
#3966 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
اور ایك حدیث میں کہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من لم یعرف حق عترتی فلاحدی ثلث اما منافق واما ولدزانیۃ واما حملتہ امہ علی غیر طھر ۔ جومیری اولاد کاحق نہ پہچانے وہ تین باتوں میں سے ایك سے خالی نہیںیا تومنافق ہے یاحرام یاحیضی بچہ۔
مجمع الانہرمیں ہے:
من قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی استخفافا فقد کفر ۔ جو کسی عالم کو مولویا یاسید کومیرو اس کی تحقیر کے لئے کہے وہ کافرہے۔
اور اس میں شك نہیں جوسید کی تحقیربوجہ سیادت کرے وہ مطلقا کافرہے اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے ورنہ مکروہاور جوسید مشہورہو اگرچہ واقعیت معلوم نہ ہو اسے بلادلیل شرعی کہہ دینا کہ یہ صحیح النسب نہیں اگرشرائط قذف کاجامع ہے توصاف کبیرہ ہے اور ایساکہنے والا اسی کوڑوں کاسزاواراور اس کے بعد اس کی گواہی ہمیشہ کو مردوداور اگر شرط قذف نہ ہو توکم ازکم بلاوجہ شرعی ایذائے مسلم ہے اور بلاوجہ شرعی ایذائے مسلم حرامقال اﷲ تعالی:
" والذین یؤذون المؤمنین و المؤمنت بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بہتنا و اثما مبینا ﴿۵۸﴾" جولوگ ایماندار مردوں اورایماندارعورتوں بغیراس کے کہ انہوں نے(کوئی معیوب کام)کیاہو ان کادل دکھاتے ہیں تو بیشك انہوں نے اپنے سرپربہتان باندھنے اور صریح گناہ کابوجھ اٹھالیا(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔
والعیاذباﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم جس نے بلاوجہ شرعی سنی مسلمان کو ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی۔
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۳۴۱۹۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲ /۱۰۴
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر باب المرتدثم ان الفاظ الکفرانواع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۹۵
القرآن الکریم ۳۳ /۵۸
المعجم الاوسط اللطبرانی حدیث ۳۶۳۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴ /۳۷۳
#3967 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
مسئلہ ۱۱۴: قصبہ سادی آباد ضلع غازیپور مرسلہ شیخ محمدعلی حسین صاحب ۲۴ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك شخص مغل خاں نام قوم نٹ کا مسلمان ہوا اور بعدمسلمان ہونے کے وہ نمازپڑھتاہے روزہ رکھتاہے کلام مجید کی تلاوت کرتاہے اس نے مسجدبنوائی ہے اس میں نمازپنجگانہ اداکرتاہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کے گھر کی عورتیں گودنا گودتی ہیں مگر اس نٹ نومسلم کو انکارہے کہ اب کچھ نہیں ہوتا ہے پس ایسے نومسلم کے ساتھ کھانا پینا اور اس کاجھوٹاکھانا اورپانی پیناشرعا جائزہے یانہیں اگرجائزہے توجولوگ ایسے نومسلم کے ساتھ کھانے والوں پرسختی کرتے ہیں ان کو ترك کرتے ہیں اور ان کافضیحتاکرتے ہیں وہ شرع شریف کا مقابلہ کرتے ہیں یانہیں ایسے لوگوں کے بارے میں شرع کاکیاحکم ہے
الجواب:
بدن گودوانا شرعا حرام ہےاور مسلمان پربدگمانی اس سے بڑھ کرحرامجب وہ انکارکرتاہے اورکوئی ثبوت شرعی کافی نہ ہو تو محض بدگمانی کی بناء پر اسے ذلیل سمجھنا اور تقضیح کرناسخت حرام ہےہاں اگرثبوت شرعی سے ثابت کہ یہ فعل اس کے یہاں ہوتا ہے تو اب دوصورتیں ہیںیاتو وہ اس پرراضی نہیں منع کرتاہے بقدرضرورت بندوبست کرتاہے اور عورتیں نہیں مانتیں جب بھی اس پرالزام نہیں
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ کوئی جان کسی دوسری جان کابوجھ(وزن)نہیں اٹھائے گی۔(ت)
اوراگریہ ثبوت شرعی ثابت ہوکہ وہ اس فعل شنیع پرراضی ہے توبلاشبہہ قابل ملامت ولائق ترك ہے کہ یہ نراگناہ نہیں ہے بلکہ اس میں معاذاﷲ بوئے کفرآتی ہے کہ ابھی انہیں ناپاك عادتوں پرقائم ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۵:ازسوائی مادھوپور قصبہ سانگو ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
ولدالزنا کے ساتھ کھانا کھانا اور جبکہ وہ عالم ہوجائے تو اس کی امامت درست ہے یانہیں اور کیا اس کوحرامی کہاجائے گا
الجواب:
اس کے ساتھ کھانا اور بشرط علم اس کے پیچھے نماز دونوں درست ہیں اور اسے اس طور پر
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۴
#3968 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
حرامی کہنا کہ جس میں اسے ایذا ہوجائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۶: ازشہر عقب کوتوالی مسئولہ قیصرحسین ۷شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك تایا ہے اور ایك بہن ہےزید کے تایا اور زید کے والد میں ہمیشہ رنج رہی یہاں تك کہ زید کے والد کاانتقال ہوگیا مگرزید کے والد اپنے بھائی سے ملے نہیںزیداپنے والد کے مرنے کے بعد اپنے تایا سے اور اپنی ہمشیر سے ملتارہاپھر زید کی والدہ کابھی انتقال ہوگیااس کے بعد زید کی بہن اور تایا کے درمیان سخت رنجش ہوگئی۔ اب زید کی بہن اپنے سگے بھائی زید سے یہ کہتی ہے کہ تم اگر اپنے تایا سے ملوگے تومیں تم سے نہیں ملوں گی اگرتجھ سے ملنا منظور ہے تواپنے تایا سے مت ملو۔اب زید کی شادی کاوقت آیا اور زیداپنی بہن کا ایك ہی بھائی ہے اگرزید اپنی بہن کاکہنا نہیں کرتا ہے توزید کی بہن کوانتہادرجہ کاصدمہ ہوتاہے۔چونکہ اس کے والدین کاانتقال ہوچکاہے اوریہ ایك ہی اس کے بھائی ہے اور وہ اس کی شادی میں شریك نہیں ہوسکتی بوجہ تایا کی شرکت کےایسی حالت میں زید کو کیاکرناچاہئے یعنی زید کو اپنی بہن کا کہنا اور خوشی کرناچاہئے اوراپنی بہن کو شادی میں شریك کرناچاہئے یا اپنے تایاکواور اپنی بہن کو چھوڑنا چاہئے یا اپنے تایا کو کیونکہ زیدبغیر اپنے تایا کو چھوڑے ہوئے اپنی بہن کادل خوش نہیں کرسکتا اور نہ اس کی بہن شادی میں شریك ہوسکتی ہے۔
الجواب:
بہن اور چچادونوں ذی رحم محرم ہیں کسی سے قطع کرنا اس کوجائزنہیں اسے چاہئے اپنی بہن کو جس طرح ممکن ہو راضی کرے اگرچہ یوں کہ خفیہ اپنے چچا کو شادی میں شریك ہونے کی دعوت دے اور اپنی بہن سے کہہ دے کہ مجھے ہرطرح تیری خاطر منظور ہے نہ ان کوبلاؤں گا نہ شریك کروں گا اتنا تجھ سے چاہتاہوں کہ وہ اگر اپنے آپ آجائیں تو اس پرمجھ سے ناراض نہ ہو کیونکہ وہ تیرے اور میرے دونوں کے باپ کی جگہ ہیں غیرآدمی بے بلائے ہوئے آجائیں تو ان کونکالنا بے تہذیبی ہے نہ کہ باپ کوغرض جھوٹے سچے فقرے ملاکر دونوں کو راضی کرسکے کرے اور اس پراجرپائے گا میں ان کو نہ بلاؤں گا۔مراد یہ رکھے کہ مں خود ان کو بلانے نہ جاؤں گا اگرچہ آدمی یارقعہ بھیجوںآپ چلے آنے سے یہ مراد رکھے کہ وہ اپنے پاؤں سے چلے آئیں نہ یہ کہ میں اٹھاکر لاؤںغرض پہلوداربات کہے جھوٹے سچے فقرے سے مراد یہی ہے کہ اس کاظاہر جھوٹ اور مرادی معنی سچ۔حدیث میں فرمایا:
ان فی المعاریض لمندوحۃ عن بیشك اشاروں میں گفتگو کرنے میں سے جھوٹ
#3969 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
الکذب ۔واﷲ تعالی اعلم۔ سے آزادی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۷ تا ۱۲۰: ازآگرہ سیدباڑھ عالم گنج مرسلہ تاج محمد صاحب ۱۱شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ زیدشخص تارك صوم وصلوۃغاصبسخت جابروظالم زبردست قابویافتہ ہے وہ چاہے جس کامال جبرا خریدلیتاہے اور پورا روپیہ نہیں دیتاہے ہزارہا روپیہ لوگوں کاماررکھاہے عام لوگ نالاں ہیں اور سخت ظلم یہ ہے کہ جن بندگان خدا کو اپنی مرضی کے خلاف پاتاہے تو اپنے میل کے دس پانچ اشخاص جمع کرکے چاہے جس کاکاروبار بازار نکاح شادی برادری سے خارج کرکے سب بند کردیتاہے کہ جوباعث اشد ایذا رسانی وآبرو ریزی بدنامی تنگی گرسنگی ہتك حرمت کاہوتاہے چونکہ جس شخص کا جوپیشہ ہوتاہے وہ اپنے گزر اوقات اس پیشہ سے کرتاہے جب پیشہ بند ہوجاتاہے تو وہ مظلوم مع اپنے متعلقین کے فاقہ کشی کرکے تباہ وبرباد ہوجاتا ہے حالانکہ تمام برادری کے لوگ اس سے نالاں ہیں لیکن بخوف دم نہیں مارتے خاموش ہیں اس لئے کہ سوال یہ ہے کہ:
(۱)یہ کہ ایساشخص ظالم جابرجہول بحکم خدا ورسول عزوجل وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کس کس سزا کا سزاوارہے
(۲)یہ کہ جابرظالم کے مددگار انکہ جن کے زورظلم ظالم کرتاہے کس کس حکم کے لائق ہیں
(۳)دیگر اہل برادری ایمان داران کوظالم جابرکاناحق مانناچاہئے یا اس کاحکم بجرم زنا وشراب خوری وجبر و ظلم کے اس کو برادری اسلام سے خارج کرنا اور اس سے سلام میل جول خورد نوش لین دین ترك کرنا واجب تھا یاکیا اور اس کے ساتھی ومددگاران کو ظالم سے توبہ کرکے حقارت واجب ہے یاکیا
(۴)جولوگ فتوی سن کرعمل نہ کریں ضدوہٹ کریں مظلوم کی دادرسی نہ کریں حکم ظالم کو خداورسول پر ترجیح دیں ان کے واسطے کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)جس شخص میں امور مذکورہ سوال ہوں وہ مستحق عذاب نار وغضب جبار ولعنت پروردگار والعیاذباﷲ تعالی وہ اﷲ و رسول کو ایذا دیتاہے اور اﷲ ورسول کا ایذا دینے والا فلاح نہیں پاتا۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
حوالہ / References السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات باب المعاریض الخ دارصادر بیروت ۱۰ /۱۹۹
#3970 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
" ان الذین فتنوا المؤمنین و المؤمنت ثم لم یتوبوا فلہم عذاب جہنم و لہم عذاب الحریق ﴿۱۰﴾" بیشك جن لوگوں نے مسلمان مردوں عورتوں کوفتنے میں ڈالا پھرتوبہ نہ کی ان کے لئے جہنم کاعذاب ہے اور ان کے لئے آگ کاعذاب۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقداذی اﷲ ۔ جس نے ناحق کسی مسلمان کو ایذا دی بیشك اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کوایذا دی۔
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" سنتاہے اﷲ کی لعنت ہے ظالموں پر۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الظلم ظلمات یوم القیمۃ ۔ ظلم اندھیریاں ہے قیامت کے دن۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)ظلم کے مددگار ظالم ہین اور اس سے بڑھ کر عذاب وغضب ولعنت کے سزاوار۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" تم پرحرام ہےکہ گناہ اور حد سے بڑھنے میں ایك دوسرے کی مددکرو۔
حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ و ھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام جودیدہ ودانستہ کسی ظالم کے ساتھ اسے مدد دینے چلا وہ اسلام سے نکل گیا(اس کو
حوالہ / References القرآن الکریم ۸۵ /۱۰
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ /۳۷۳
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
صحیح البخاری کتاب المظالم باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱
القرآن الکریم ۶ /۲
#3971 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر والضیاء فی صحیح المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ طبرانی نے معجم کبیرمیں اور ضیاء نے صحیح المختارہ میں اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
(۳)ہاں مددگاروں پرفرض ہے کہ توبہ کریں اور اس کی مدد سے جداہوںاﷲ عزوجل قرآن کریم میں کسی مسلمان کے ساتھ مسخرگی کرنےاس پر طعن کرنےاس کا برا لقب رکھنے سے منع کرکے فرماتاہے:
" ومن لم یتب فاولئک ہم الظلمون ﴿۱۱﴾
" جو ان باتوں سے توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔
ان باتوں کو افعال مذکورہ سوال سے کیانسبتجو ان میں مدد سے توبہ نہ کریں کیسے سخت درجے کے ظالم ہوں گےاہل برادری یاکسی مسلمان کو ظالم کاحکم اس کے ظلموں میں مانناجائزنہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔
اور ظالم بازنہ آئے تو مسلمانوں کوچاہئے اسے برادری سے نکال دیں اس سے میل جول چھوڑدیں اس کے پاس نہ بیٹھیں کہ اس کی آگ انہیں بھی نہ پھونك دے۔اور فرماتاہے اﷲ تبارك وتعالی:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگرتجھے شیطان بھلادے تویادآئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(ت)
(۴)جومظلوم کی دادرسی پرقادر ہو اور نہ کرے تو اس کے لئے ذلت کاعذاب ہے۔حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اغتیب عندہ اخوہ المسلم فلم ینصرہ وھو لیستطیع نصرہ ادرکہ اﷲ تعالی فی الدنیا والاخرۃ۔ رواہ ابن ابی الدنیا جس کے سامنے مسلمان بھائی کی غیبت کی جائے اور یہ اس کی مدد پرقادر ہو اور نہ کرے اﷲ تعالی اسے دنیاوآخرت دونوں میں ذلیل کرے گا۔اس کو
حوالہ / References المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ /۲۲۷
القرآن الکریم ۴۹ /۱۱
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳ /۱۲۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
#3972 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
فی ذم الغیبۃ و ابن عدی فی الکامل عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ محدث ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اورحکم سن کرگناہ پرہٹ کرنااستحقاق عذاب نارہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبہ جہنم ولبئس المہاد﴿۲۰۶﴾" جب اس سے کہا جائے اﷲ سے ڈر تو اسے گناہ کی ضد چڑھے ایسے کو جہنم کافی ہے او رکیابراٹھکانا۔
ابلیس کی پیروی سے حکم خدا و رسول پرنہ چلنا اور ظالم کے حکم پرچلنا گناہ ہے کبیرہ ہے استحقاق جہنم ہے مگر کوئی مسلمان کیسا ہی فاسق فاجر ہو یہ خیال نہیں کرتا کہ اﷲ ورسول کے حکم پر اس کے حکم کو ترجیح ہے ایسا سمجھے توآپ ہی کافرہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۱: ازناتھ دوارہ ریاست اودے پور ملك میواڑ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو قطع رحم اپنی اولاد سے رکھنا اس کی بیماری میں اس کی عیادت ونان نفقہ کی خبر وعلاج ومعالجہ کی تدبیر نہ کرنا اور بعدمرجانے کے سامان تجہیزوتکفین میں شریك نہ ہونا اور کفن وغیرہ غیرشخص کا اﷲ نام دینا حتی المقدور اپنے پاس ہوتے ہوئے یہ برتاؤ اپنی اولاد سے کرناایسے شخص کے واسطے کیاحکم ہے چونکہ یہ شخص علم فقہ وحدیث سے بھی واقفیت رکھتے ہیں اور پندو وعظ کو بھی لوگوں کوکہاکرتے ہیں مگراپنا عمل خلاف شرع آتاہے یسے شخص کے واسطےکیاحکم ہے اس کاجواب باصواب مع حدیث فقہ وآیت کلام کے تحریرفرمائیں خداتعالی آپ کو اجرعظیم عطافرجائے گا۔
الجواب:
اگر اس کا نفقہ شرعا باپ پرلازم تھا مثلا نابالغ بچہ یالڑکی جس کی شادی نہ ہوئی یا جوان لڑکا کہ کچھ کمانے پرقادرنہیں اس کونفقہ نہ دیا توسخت شدیدگناہ میں مبتلاہےاور اگرشرعا اس کانفقہ باپ پر
حوالہ / References ذم الغیبۃ مع موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا حدیث ۱۰۸ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ ۲ /۱۰۰،الکامل لابن عدی ترجمہ ابان بن ابی عیاش دارالفکر بیروت ۱ /۳۷۷،لمطالب العالیۃ باب الزجر عن الاستطاعۃ فی غرض العلم حدیث ۲۷۰۶ عباس احمدالبانی مکۃ المکرمۃ ۳ /۲
القرآن الکریم ۲ /۲۰۶
#3973 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
نہ تھا مثلا لڑکی کہ شوہر والی یاجوان لڑکا کمائی پرقادرہے تواسے نفقہ نہ دینے میں کچھ گناہ نہیں اور علاج ودوا تو کسی پرواجب نہیں خود اپنی واجب نہیں اور اولاد اگرعقوق کرے اور بازنہ آئے یامعاذاﷲ بدمذہب ہوجائے اور باپ اسے چھوڑدے تویہ قطع رحم اس کی اولاد کی طرف سے ہے باپ کی طرف سے نہیںوبال اولاد پر ہے۔سیدنا عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نے ایك لفظ کے سبب اپنے ایك صاحبزادے سے عمربھرکلام نہ فرمایاحضرت مولوی معنوی قدس سرہ شریف کے ایك صاحبزادے نے حضرت شمس تبریز قدس سرہ العزیز کی شان میں گستاخی کیان کے مرنے پرمولوی بیٹے کے جنازے میں شریك نہ ہوئے۔ہاں اگر اولاد کاقصور نہیں توباپ پرقطع رحم کاوبال عظیم ہےکفن نہ دینے کی وہی دوصورتیں ہیں جونفقہ میں تھیںاگر اس کانفقہ باپ پرتھا اور اس نے کفن نہ دیاگناہگار ہوا اور نہ تھا توکفن نہ دینے کا کچھ الزام نہیں۔
مسئلہ ۱۲۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی چہدہ کی بیوی کو اس کے خسر نے روك رکھا ہے اور باوجودتمام اہل محلہ کے کہنے پر اور خداورسول کاواسطہ دینے پربھی روانہ نہیں کرتا اور تمام اہل محلہ نے اس امرکابھی اطمینان دلایا کہ تیری بیٹی کو اگرکسی قسم کی تکلیف ہوگی تواہل محلہ ذمہ دار ہیں۔پس جو شخص اہل محلہ کے کہنے کو اور خداورسول کاواسطہ دینے کو نہ مانے اس کے بارے میں شریعت نبوی کاکیاحکم ہے آیا اس سے تمامی کامیل جول جائزہے یاناجائز صاف ارشاد فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل کوئی وجہ نہیں لکھتا کہ اس نے کیوں روك رکھااگرواقع میں اس کی کوئی وجہ شرع ہوتو اس پرکچھ الزام نہیںنہ محلہ والوں کی ضمانت ماننا اسے ضروراور واسطہ ان باتوں میں ہوتاہے جن میں ضررنہ ہو اور دوسرے کی ضرر کی بات پرواسطہ دیاجائے تو وہ واسطہ دینے والا گنہگارہوتاہےہاں اگرکوئی وجہ شرعی روکنے کی نہیں ہے محض بلاوجہ روکا تووہ روکناہی ظلمپھروہ واسطہ نہ ماننا دوسراظلم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۳: ازشہر محلہ گلاب نگر مسئولہ خدابخش صاحب رضوی صندوق ساز ۲۸رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص زید کو تکلیف دیتا رہتا ہے اور تکلیف دینے پر آمادہ ہے ہرطریق سے تعویذ یاجادو وگیرہا سےاور زید اب تك خاموش ہے اور سب تکالیف سہہ رہاہےایك دوشخص سے معلوم ہوا ہے کہ وہ اب جان لینے پرآمادہ ہےقصہ یہ ہے کہ زیدکامکان ہے وہ یہ کہتاہے کہ مکان مجھ کو مل جائے اور اس کی دلی منشایہی ہے۔زیدکاذاتی مکان ہے بلاوجہ مانگتا ہے
#3974 · ظلم وایذائے مُسلم وہجران وقطع تعلق
اب زیدمتحمل نہیں ہوسکا اب زید بھی یہ چاہتاہے کہ میں ہرطریق سے اس کو تکلیف رساہوں شریعت کہاں تك حکم دیتی ہے
الجواب:
ایذارسانی کے ارادے پرایذا نہیں دے سکتا اپنے بچاؤ کی تدبیرکرسکتاہے جب تك کہ اس کا عزم ایسانہ ثابت ہو کہ بے ایذادئے اپنا بچاؤ نہ ہوسکے گا تو اس وقت صرف اتنی بات جس میں اپنابچاؤ ہوسکے کرسکتاہے اور جوایذا اس نے پہنچائی ہے اس کاعوض اتناہی لے سکتاہے اس سے زیادہ کرے تو اس کا ظلم ہوگا اور اگرصبر کرے تو بہت بہتر۔واﷲ تعالی اعلم
__________________
#3975 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ

مسئلہ ۱۲۴: ۲۰محرالحرام ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںزید اور عمرو نے مال بشراکت خریدکیا پھرزید نے عمرو سے کہا تم اس کو لو یامجھے دو۔زید نے نفع دے کرلے لیاعمرو سے۔عمرونے پھرکہازید سےتم نے بدعہدی کی یعنی شرکت نہیں کی۔آیا یہ بدعہدی ہے یانہیں
الجواب:
جبکہ عمروخودقطع شرکت پرراضی ہوگیا اور نفع لےکر مال دے دیا توزید کے ذمہ کوئی الزام بدعہدی کا نہیں بلکہ جوشخص کسی سے ایك امرکاوعدہ کرے اور اس وقت اس کی نیت میں فریب نہ ہو بعد کو اس میں کوئی حرج ظاہرہو اور اس وجہ سے اس امر کو ترك کرے تو اس پربھی خلاف وعدہ کاالزام نہیںحضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔ یہ بدعہدی نہیں کہ آدمی(کسی شخص سے)وعہد کرے اور نیت اسے پورا کرنے کی ہو اور پورا نہ کرسکےبلکہ بدعہدی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اسے پوراکرنے کاسرے سے ارادہ ہی نہ ہو۔
#4066 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
رواہ ابویعلی مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ابویعلی نے اپنی مسند میں سندحسن کے ساتھ زید بن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: ازشہرکہنہ مرسلہ برکت اﷲ خاں صاحب ۲۱ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وہادیان متین اس مسئلہ میں کہ زید کے حقیت تعدادی ۳بسوہ جس کی قیمت تخمینا دوہزارروپے کے تھی بعوض مبلغ دوسوبیس روپیہ بابت قرضہ بقال خود ذمہ زیدتھا نیلام ہوئی چونکہ بکرایك زبردست اور متمول تھا اس نے بلااطلاع زید کے نیلام حسب قاعدہ انگریزی خریدلیا زید کو بسبب خوف آبروقوت مقابلہ نہ تھی اور بکر نے بزعم زبردستی بجز اس قبضے کے جواز روئے نیلام حاصل ہواتھا اور کوئی کارروائی مثل داخل خارج وغیرہ نہ کرائی اس لئے نام زید کا کاغذات انگریزی میں بد ستورہےپس اس صورت میں زید کو اپنے قبضہ کی چارہ جوئی بمقتضائے مصلحت ازروئے دروغ گوئی کہ جس سے زید کو اپناحق پانے کی قوی امیدہے یانہیں دوسرے یہ کہ زید کو زر نیلام اس وقت بکر کو دیناچاہئے یاجوکچھ بکر نے اس وقت اس جائداد سے تحصیل کیاہے اس میں محسوب ہوناچاہئےبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اپنا حق مردہ زندہ کرنے کے لئے پہلوداربات کہنا کہ جس کا ظاہر دروغ ہو اور واقعی میں اس کے سچے معنے مراد ہوں اگرچہ سننے والا کچھ سمجھے بلاشبہہ باتفاق علمائے دین جائز اور احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے جبکہ وہ حق بے اس طریقے کے ملنامیسرنہ ہوورنہ یہ بھی جائزنہیںپہلوداربات یوں کہ مثلا ظالم نے ظلما اس کی کسی چیز پرقبضہ مخالفانہ اس مدت تك رکھا جس کے باعث انگریزی قانون میں تمادی عارض ہوکر حق ناحق ہوجاتاہے مگرمخالف کے پاس اپنے قبضہ کاکاغذی ثبوت نہیں اس کے بیان پررکھاگیااگریہ اقرارکئے دیتاہے کہ واقعی مثلا بارہ برس سے میراقبضہ نہیں تو حق جاتا اور ظالم فتح پاتا ہےلہذا یوں کہنے کی اجازت ہے کہ ہاں میراقبضہ رہاہے یعنی زمانہ گزشتہ میںاور زیادہ تصریح چاہی جائے تویوں کہہ سکتاہے کہ"آج تك میرا قبضہ چلاآیا"اورنیت میں لفظ"آیا"کو کلمہ استفہام لے جیسے کہتے ہیں آیا یہ بات حق ہے یعنی کیایہ بات حق ہےتو استفہام انکاری کے طور پر اس کلمے کا یہ مطلب ہوا کہ کیا آج تك میراقبضہ چلایعنی ایسانہ ہوا بلکہ میراقبضہ منقطع ہوکر مخالف کاقبضہ چلا یعنی ایسا نہ ہوا بلکہ میراقبضہ منقطع ہوکرمخالف کاقبضہ ہوگیایایوں کہے"کل تك برابرمیراقبضہ رہا آج کاحال نہیں
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ع عن زیدبن ارقم حدیث ۶۸۷۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳ /۳۴۷
#4067 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
معلوم کہ کچہری کیاحکم دے"۔اور لفظ"کل"سے زمانہ قریب مراد لے جیسے نوجوان لڑکے کوکہتے ہیں کل کابچہحالانکہ اس کی عمربیس بائیس سال کی ہےاس معنی پرقیامت کو"روزفردا"کہتے ہیں کل آنے والی ہے یعنی بہت نزدیك ہے۔یامخالف کے قبضے کی نسبت سوال ہوتوکہے"اس کاقبضہ کبھی نہ تھا"یا"کبھی نہ ہوا"اور مراد یہ ہے کہ کبھی وہ وقت بھی تھا کہ اس کا قبضہ نہ تھا۔زیادہ تصریح درکارہو تو کہے"اس کاقبضہ اصلا کسی وقت ایك آن کو نہ ہوا نہ ہے"اور معنی یہ لے کہ حقیقی قبضہ ہرشے پراﷲ عزوجل کا ہے دوسرے کا قبضہ ہونہیں سکتاغرض جو شخص تصرفات الفاظ ومعانی سے آگاہ ہے سوپہلے نکال سکتاہےمگر ان کاجواز بھی صرف اسی حالت میں ہے جب یہ واقعی مظلوم ہے اور بغیر ایسی پہلوداربات کے ظلم سے نجات نہیں مل سکتی ورنہ اوپر مذکورہواکہ یہ بھی ہرگزجائزنہیں۔اب رہی یہ صورت کہ جہاں پہلودار بات سے بھی کام نہ چلے وہاں صریح کذب بھی دفع ظلم واحیائے حق کے لئے جائزہے اس بارے میں کلمات علماء مختلف ہیںبہت روایات سے اجازت نکلتی ہے اور بہت اکابر نے منع کی تصریح فرمائی ہے حتی الوسع احتیاط اس سے اجتناب میں ہے اور شاید قول فیصل یہ ہو کہ اس ظلم کی شدت اور کذب کی مصیبت کو عقل سلیم ودین قویم کی میزان میں تولے جدھر کاپلہ غالب پائے اس سے احتراز کرے مثلا اس کا ذریعہ رزق تمام وکمال کسی ظالم نے چھین لیا اب اگر نہ لے تو یہ اور اس کے اہل وعیال سب فاقے مریںاور وہ بےکذب صریح نہیں مل سکتا تو اس ناقابل برداشت ظلم اشد کے دفع کو امیدہے کہ غلط بات کہہ دینے کی اجازت ہو اور اگر کسی مالدار شخص کے سو دوسو روپے کسی نے دبالئے تو اس کے لئے صریح جھوٹ کی اجازت اسے نہ ہونی چاہئے کہ جھوٹ کافساد زیادہے اور اتنے ظلم کاتحمل اس مالدار پر ایساگراں نہیںحدیث سے ثابت اور فقہ کاقاعدہ مقررہ بلکہ عقل ونقل کاضابطہ کلیہ ہے کہ من ابتلی بلیتین اختار اھونھما ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی۔جوشخص دوبلاؤں میں گرفتار ہو ان میں جو آسان ہے اسے اختیار کرے(یہ وہ کچھ ہے جومیرے پاس تھا اور حق کاپوراپورا علم تومیرے رب ہی کے پاس ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
الکذب مباح لاحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ و المراد التعریض لان عین الکذب حرام قال وھو الحق قال تعالی"قتل الخراصون" جھوٹ حرام ہے او ریہی حق ہے البتہ اپنے حق کے اظہار اور احیاء کے لئے یااپنی ذات کو ظلم ونقصان سے بچانے کے لئے جھوٹ سے کام لینا مباح ہے بشرطیکہ جھوٹ بصورت تعریض یعنی اشارہ کنایہ یاذومعانی الفاظ میں ہو اس لئے
حوالہ / References الاشباہ والنظاء الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۳
#4068 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
الکل عن المجتبی وفی الوھبانیۃ قال
وللصلح جازالکذب اودفع ظالم
واھل لترضی والقتال لیظفروا کہ صریح جھوٹ حرام ہے۔اﷲ تعالی کاارشاد ہے مارے جائیں اٹکل پچو سے کام لینے والے۔یہ سب"المجتبی"سے منقول ہےاور وہبانیہ میں فرمایا:صلح یادفع ظلم کے لئے جھوٹ بولناجائزہے بیوی کی رضاجوئی کے لئے اور جنگ میں حوصلہ افزائی کے لئے بھی جھوٹ بولنا مباح ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الکذب مباح لاحیاء حقہ کالشفیع یعلم بالبیع باللیل فاذا اصبح یشھد ویقول علمت الان وکذا الصغیرۃ تبلغ فی اللیل و تختار نفسھا من الزوج وتقول رأیت الدم الان واعلم ان الکذب قدیباح وقد یجب والضابط فیہ کما فی تبیین المحارم وغیرہ عن الاحیاء ان کل مقصود محمود یمکن التوصل الیہ بالصدق والکذب جمیعا فالکذب فیہ حرام وان امکن التوصل الیہ بالکذب وحدہ فمباح ان ابیح تحصیل ذلك المقصود و واجب ان وجب کما لو رأی معصوما اختفی من ظالم یرید قتلہ اوایذائہ فالکذب ھنا اپناحق ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولنامباح ہے جیسے شفعہ کرنے والے کو بیع کاعلم رات کوہوا تھا صبح کے وقت یہ گواہی دے کہ مجھے ابھی ابھی سودے کے بارے میں علم ہواہے اسی طرح نابالغہ لڑکی رات کوبالغ ہوئی اور اس نے شوہر سے صبح یہ کہا کہ میں نے ابھی ابھی خون حیض دیکھا ہےجان لیجئے کہ جھوٹ کبھی مباح اور کبھی واجب ہوتاہے اس میں ضابطہ جیسا کہ تبیین المحارم وغیرہ میں احیاء العلوم کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ہراچھا مطلوب کہ جس تك صدق وکذب دونوں سے رسائی ہوسکے تو اس صور ت میں جھوٹ بولناحرام ہے اور ہراچھا مطلوب جس تك رسائی صرف کذب سے ہو سکے توجھوٹ بولنا مباح ہے جبکہ اس مطلوب کو حاصل کرنا مباح ہو اور اگر مطلوب حاصل کرنا واجب ہو تو پھر جھوٹ بولنا واجب ہے جیسا کہ بے گناہ(معصوم)کودیکھے جو کسی ایسے ظالم سے روپوش ہو رہاہے جو اسے مارڈالنے یا ایذا پہنچانے کا ارادہ رکھتاہو تو ایسی صورت میں
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۴
#4069 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
واجب وکذالوسألہ عن ودیعۃ یرید اخذھا یجب انکارھا ومھما کان لایتم مقصود حرب اواصلاح ذات البین اواستمالۃ قلب المجنی علیہ الابالکذب فیباخ ولو سألہ سلطان عن فاحشۃ وقعت منہ سرا کزنا اوشرب فلہ ان یقول مافعلتہ لان اظھارھا فاحشۃ اخری ولہ ایضا ان ینکر سراخیہ وینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب المفسدۃ المترتبۃ علی الصدق فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذب وان بالعکس اوشك حرم وان تعلق بنفسہ استحب ان لایکذب وان تعلق بغیرہ لم تجزالمسامحۃ بحق غیرہ والحزم ترکہ حیث ابیح ۔ (اس مظلوم کوبچانے کے لئے)جھوٹ بولنا اور یہ کہنا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا یا مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیںواجب ہے۔اس طرح اگرکوئی ظالم کسی کی امانت کے متعلق پوچھے جس کے لینے کا وہ ارادہ رکھتاہو تو اس امانت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار اور انکارکردیناضروری یعنی واجب ہے حاصل یہ کہ جب کوئی مقصود ومطلوب بغیرجھوٹ کہے پورانہ ہو اس صورت میں جھوٹ بولنا مباح ہے خواہ اس کاتعلق جنگ سے ہو یا مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے سے ہو یا جس کا نقصان ہوا ہو اس کی دلجوئی کے لئے ہو اوراگربادشاہ وقت اس سے ایسے گناہ کے بارے میں دریافت کرے جو اس سے ایسے گناہ کے بارے میں دریافت کرے جو اس سے درپردہ سرزد ہواہو جیسے بدکاری۔شراب نوشی وغیرہ تو اس کے لئے رواہ ہے کہ صاف کہہ دے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ اس کاظاہر کرنا دوسراگناہ ہے اور اس کے لئے یہ بھی جائزہے کہ کسی اور مسلمان بھائی کے بارے میں دریافت کئے پربھائی کابھید ظاہرکرنے سے انکارکر دےاور مناسب ہے کہ آدمی جھوٹ کے فساد کاسچائی کے نتیجے سے تقابل کرے۔اگرسچائی سے فساد کا اندیشہ ہو تو جھوٹ کہناحرام ہے اور اگر اس کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہوتو جھوٹ نہ بولنامستحب ہےاور اگرکسی دوسرے سے تعلق ہوتودوسرے کے حق میں چشم پوشی سے کام لینا یاصرف نظرکرنا جائزنہیں ہے اور ہوشیاری چشم پوشی نہ کرنے میں ہے کیونکہ یہ مباح ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲۶: ازدولت پور ضلع بلندشہر مرسلہ شیرمحمدخاں صاحب ۵/شعبان ۱۳۲۹ھ
کسی امر کاوعدہ مستحکم حلف شرعی محمدیہ سے کرے اس کے خلاف کرنا کیساہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۴
#4070 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
الجواب:
اگر وہ امرواجب وفرض تھا تو اس وعدہ کاخلاف کرناحرام وناجائزہے اور اگر وہ امرناجائزوحرام تھا جیسے کسی نے شراب پینے کابحلف مستحکم وعدہ بحلف کیا تو اس کاخلاف کرنا فرض وواجب ہے اور اگر وہ مباح امرتھا اور کوئی عذر پیش آیا تو خلاف وعدہ جائزہے اور بلاعذر ناپسندہے ہاں وعدہ کرتے وقت ہی دل میں تھا کہ پورا نہ کرے گا توایسا وعدہ کرنابھی حرام ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔رواہ ابو یعلی فی مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کاارادہ یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرےلیکن خلاف ورزی یہ ہے کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور نیت یہ ہے کہ وہ اسے پورا نہ کرے گا۔اس کو ابویعلی نے اپنی مسند میں زیدبن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے بسندحسن اس کو روایت کیا ہے۔اور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲۷:خود جھوٹ بولنا اوردوسرے شخص کو مجبورکرکے جھوٹ بلواناکیساگناہے
الجواب:
بلاضرورت شرعی جھوٹ بولنا اوربلوانا کبیرہ گناہ ہے
قال اﷲ تعالی " قتل الخرصون ﴿۱۰﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:مارے جائیں وہ لوگ جو اٹکل پچو سے باتیں بنانے والے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۸:مسئولہ محمدقاسم کھوکھر ازدہامونکی تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ پنجاب بروزدوشنبہ بتاریخ ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے احناف رحمکم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کہ جو مقتدی اپنے امام کی نیك نامی کوگزند پہنچانے کی غرض سے بچشم حقارت عوام الناس میں اس کی توہین وہجوکرے حالانکہ اس کو سابقہ کئی
حوالہ / References کنزالعمال برمزع عن زید بن ارقم حدیث ۶۸۷۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳ /۳۴۷
القرآن الکریم ۵۱ /۱۰
#4071 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
دفعہ فہمائش بھی کی گئی ہے مگر وہ اپنے ارادہ سے باز نہیں آتاہے ایسے شخص کے حق میں ازروئے شرع شریف بطورتنبیہ سوائے توبہ کے کچھ کفارہ لازم ہے اگرہے تو کیااور کس قدر۔سابقہ ازیں اس شخص نے ایك شرعی معاملہ میں ناجائز امداد دینے پرکفارہ بھی اداکیاہواہےجواب اس کا تفصیل مع اپنے دستخط ومہرثبت تحریرفرمادیں اﷲ تعالی آپ کو جزاء خیرعطافرمائے۔والسلام
الجواب:
جوالزام وہ امام پر رکھتاہے اگرجھوٹا ہے تومفتری اورسخت عذاب کامستحق صحیح حدیث میں ہے جوکسی مسلمان پرجھوٹا الزام رکھے وہ سخت بدبواور سخت گرم پیپ جودوزخیوں کے بدن سے بہہ کر مثل دریا کے ہوجائے گا اس میں ڈالاجائے گا اور حکم دیا جائے گا کہ اسی میں رہ جب تك کہ اپنے کہے ہوئے کاثبوت نہ دے دے اور کہاں سے دے سکے گا جبکہ جھوٹی بات ہے اور اگر الزام سچاہے مگرامام میںوہ عیب خفیہ ہے جسے وہ چھپاتاہے اور ظاہرنہیں کرناچاہتا یہ اس پرمطلع ہوگیا اور اسے شائع کرتاہے توتین گناہوں کا مرتکب ہے اشاعت فاحشہ ایك اور امام کے پس پشت کہا تو غیبت جسے صحیح حدیث میں فرمایا:
الغیبۃ اشد من الزنا ۔ غیبت زنا سے سخت ترہے۔
اور جوامام کے بر ردکہا تویہ ایذائے مسلم ہے اور صحیح حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ کو ایذادی(طبرانی نے اوسط میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن اسے روایت کیا۔ت)
اس پرتوبہ فرض ہے اور امام سے معافی چاہنا اور اسے راضی کرنا بھی کہ حق العبد ہے مگر سوا کوئی مالی کفارہ وغیرہ کچھ نہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۹: ازضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہ حافظ ایس محبوب بھوساول ۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
زید ایك دوسرے کی غیبت کرے تو اس کوکیاکرناچاہئے بینواتوجروا۔
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۶۷۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۳۰۶،مجمع الزوائد باب ماجاء فی الغیبۃ الخ دارالکتب بیروت ۸ /۹۱
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۳۶۳۳ مکتبہ المعارف ریاض ۴ /۳۷۳
#4072 · جھوٹ وغیبت وبدعہدی وغیرہ
الجواب:
غیبت حرام ہے مگرمواضع استثناء میںمثلا فاسق کی غیبت اس کے فسق میں جائزہے حدیث میں فرمایا:لاغیبۃ لفاسق (اگرفاسق کی غیبت کی جائے تو وہ غیبت نہیں۔ت) او ربدمذہب کی برائیاں بیان کرنا بہت ضرورہے حدیث میں ہے:
اترعوون عن ذکرالفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بمافیہ یحذرہ الناس کیاتم بدکار کاذکرکرنے سے گھبراتے ہو تو پھرکب لوگ اسے پہچانیں گےلہذابدکار میں جوکچھ نقائص اور خرابیاں ہیں انہیں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔(ت)
ہاں جس کی غیبت جائز نہیں وہ سخت کبیرہحدیث میں فرمایا:الغیبۃ اشد من الزنا (غیبت زنا کرنے سے بدترہے۔ ت) اسے سمجھانا چاہئے توبہ لیناچاہئےنہ مانے تو اسے چھوڑدیناچاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
#4073 · دعوٰی وقضاء وشہادۃ
دعوی وقضاء وشہادۃ

مسئلہ ۱۳۰ تا ۱۳۵: ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ صاحبزادہ گرامی قدر مولوی سید محمد میاں صاحب زیدت برکاتہم ۳صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
کیاحکم ہے بروئے شرع مطہر مطابق مذہب حنفی مسائل ذیل میں:
(۱)وہ کچہریاں اور وہ حکام جو اپنے فیصلوں اور کاروائی متعلقہ مثل گواہی گواہان وغیرہ میں پابندی شریعت محمدیہ ملحوظ نہیں رکھتے بلکہ خود ساختہ قواعد پر عمل درآمد کرتے ہیں اگراتفاق سے کوئی امرشریعت حقہ کے مطابق ہوجائے یہ اور بات ہے ایسی کچہریوں اورایسے حکاموں کوبالخصوص جبکہ وہ کفار کی ہوں اور وہ حاکم بھی کفار سے ہو عدالت اور حاکم کوعادل یامنصف اور ان کارروائیوں کوفیصلوں کوعادلانہ اور منصفانہ کہنا آیا یہ شرعا کفرہے یاکیا
(۲)بیان دعوی وجواب وامثالہا جن میں آج کل کے پیروکار وکلاقانونی اپنے حسب عادت ایسے الفاظ استعمال کرتے اور پھر ان کی تصدیق وتسلیم فریقین سے ایسے الفاظ سے کراتے ہیں کہ یہ عرضی دعوی وغیرہ ہم کو تسلیم اور ہمارے نزدیك اور علم میں کل مضمون مندرجہ عرضی دعوی ہذا صحیح ہے بلکہ بعض دفعہ لفظ لفظ صحیح کہلواتے لکھاتے ہیں اب بعض فریقین تو وہ ہیں جو ان الفاظ کی موجودگی پرمطلع پھر ان کو سن بھی لیاہو جب بھی توجہ ان کی نفس مطلب سے زائد ہونے کی وجہ سے ان پر کچھ لحاظ نہیں کرتے غافلانہ کبھی عرضی دعوی وغیرہ کوتسلیم کرتے ہیں بعض وہ ہیں جو ان الفاظ کوبراجانتے تسلیم نہیں کرتے ہیں مگر
#4074 · دعوٰی وقضاء وشہادۃ
چونکہ اب عادت عام ہے لہذا لکھ وہ بھی دیتے ہیں کہ یہ سب عرضی دعوی وغیرہ ہم کو تسلیم ہے یا اور جیسے پیروکارکہتاہے ویسے بھی لکھ دیتے ہیں اب ان میں سے ہرہرکاکیاحکم ہے اگرفریق آخر الذکر لفظ سب بلکہ تاکیدا لفظ لفظ بھی تسلیم ہونالکھ دیں مگریہ نیت کرے کہ نفس بیان دعوی جو اس عرضی دعوی میں ہے وہ تسلیم ہےنہ اس کے الفاظ قبیحہ نفس مطلب پر زائد تو کیاحکم ہے
(۳)بعض کاغذات ایسے ہوتے ہیں جن میں حکومت کی جانب سے یہ الفاظ لکھے ہوتے ہیں اور ان کی تصدیق وتسلیم منجانب حکومت چاہی جاتی ہے یافریقین کو اپنے اپنے کاموں میں ان کوجاری کرانے کی ضرورت پڑتی ہے جیسے سمن وغیرہ یاحاکم خود ایسا جملہ کہلواتاہے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں ایسی حالت میں ان تصدیق کرنے والوں سمن اجرا کرنے والوں او ر ان الفاظ کہنے والوں کاکیاحکم ہے اور انہیں کیا زیباہے
(۴)پیروکار قانونی اپنی بحثوں میں حسب عادت خودبلااجازت صریح مؤکلان ایسے الفاظ استعال کرتے ہیں اور وہ بحث ہرپیروکار کے اپنے کے اپنے مؤکل کے حق میں حاکم کے یہاں مسلمہ مؤکل ہوتی ہے اور اگرمؤکل موجود ہوں تو اس پرساکت ہی رہتے ہیں تو اگر وہ دل سے ان الفاظ مخصوصہ کو نہ تسلیم کریں یا ان سے غافل رہیں لحاظ ہی نہ کریں اور اصل مطلب کی بحث کومانیں توپیروکار کے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے ان پر ان کے سکوت کی وجہ سے کوئی قباحت آتی ہے اگرہاں توپیروکار کہنے والے کے برابر یا کم زائد
(۵)انگریزی جوکچہری بنام منصفی ہےعام طور پر اس کو منصفی اور اس کے حاکم کو منصف کہتے ہیں اور اس سے مراد وہی مخصوص کچہری اور اس کاحاکم ہوتاہے انصاف کے اصل معنی سے نیت کاذہن یہ کہتے وقت خالی ہوتاہے اس صورت میں یہ اطلاق کیساہے
(۶)اگر لفظ عدالت سے صرف کچہری حکومت مراد لیاجائے اور عادل منصف سے صرف حاکم تو ان الفاظ کااطلاق کفار فجار پرصحیح ہوگا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
سلطنت اگرچہ اسلامیہ ہو اور حاکم مسلم بلکہ خود سلطان اسلام اور حکم خلاف ماانزل اﷲ کرے اسے عادل کہنے کو ائمہ نے کفر بتایا۔ہندیہ میں امام علم الہدی ابومنصور ماتریدی قدس سرہسے ہے:
من قال لسلطان زماننا جس نے اپنے زمانے کو سلطان کوعادل
#4075 · دعوٰی وقضاء وشہادۃ
عادل فقد کفر ۔ کہا اس نے کفرکیا۔(ت)
امام ممدوح اپنے وقت کے سلطان اسلام کی نسبت ایسافرمارہے ہیں ان کے وصال کو ۱۰۰۱ برس ہوئےکاغذ دعوی کی تصدیق سے تصدیق مضمون مرادہوتی ہے اگرچہ یوہیں لکھاہو کہ لفظ لفظ صحیح ہے اس کامطلب بھی یہی ہوتاہے کہ اس کاکوئی ایجاب یاسلب خلاف واقع نہیں تقویت اطلاقات الفاظ کی طرف اصلا نظرنہیں ہوتی نہ وہ کسی طرح اس سے مفہوم ہو تو خود ان پرکسی صورت میں کچھ الزام نہیں سوا اس کے کہ سکوت علی المنکر ہواوہ وقت قدرت وعدم فتنہ وجہل مرتکب و رجائے اجابت حرام والالا۔ شرط سوم کی مثال یہ ہے مثلا داڑھی منڈاناہرمسلمان جانتاہے کہ شرعا حرام ہےتولازم نہیں کہ یہ داڑھی منڈے سے کہتے پھرئیے کہ یہ حرام ہے اسے چھوڑدےہاں جواپنے قابو کاہو اس سے کہنا ضرور ہےیہی صورت تصدیق کاغذات واجراء میں ہے کہ وہاں بھی تصویب اطلاق لفظ نہ مراد نہ مفہوم اور قدرت علی التغیر معدومرہا ایساجملہ کہلوانا اس سے بھی وہ مضمون ادا کرانا مقصود ہوتاہے نہ کہ نقل باللفظ تونقل بالمعنی میں وسعت عظیم جو باوصف قدرت تبدیل لفظ نہ کرے وہ ضرور مخالفت شرع کامرتکب ہے اور اس لفظ کے لائق حکم شرعی کامستوجب ومستحق ہواپیروکار بھ اصل ادائے مطالب میں اس کاوکیل ہے نہ کہ تعبیر اس سے بطور علم بے ارادہ اصل معنی وضع اول اخلاق اس جرم میں نہیں آسکتا جیسے جارعبدالعزی الفاظ محرمہ اپنے اصل معنی سے تجرید کرکے کسی معنی جائز پرمحمول بناکر بولنا بھی بلاضرورت ملجیہ حرام ہے کہ لفظ کااطلاق ہی حرام تھا وہ موجود ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶: ازسہارنپور مدرسہ مخزن العلوم محلہ لکھی دروازہ مسئولہ محمداسحق ومحمودحسن ۲۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قاضی شہر ترك موالات پرباوجود فرض ہونے مسئلہ مذکورہ کےعامل نہیںآنریری مجسٹریٹ بھی ہے خلاف شرع انگریز قانون کے مطابق مقدمات فیصل کرتاہے مسلمانوں کی شکست پرموجودہ زمانے کی جنگ میں اعدائے اسلام کی خوشی کے جلسہ وجلوس میں شریك ہوبارہ سال سے مجرد ہو باوجود استطاعت نکاح نہ کرے اور سود دیتاہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائزہے یانہیں اور ایسی حالت میں اس کوقاضی شہرتسلیم کیاجائے یانہیں اور اس کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۲۸۱
#4076 · دعوٰی وقضاء وشہادۃ
الجواب:
خلاف شرع مقدمہ فیصل کرناحرام ہےقرآن عظیم میں اس کے لئے تین لفظ ارشاد ہوئے:فسقونظلمونکفرون۔ اور معاذاﷲ شکست اسلام پراگر دل سے خوشی ہو کفرورنہ فسقسوددینا اگرسچی ضرورت ومجبوری وناچاری سے ہے حرج نہیں ورنہ وہ بھی فسق ہے۔صحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سوددینے والے اور اس کاکاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پراور فرمایا وہ سب برابرہیں۔
ایساشخص امام وقاضی بنانے کے لائق نہیں اگرچہ یہاں قاضی شہر نکاح خواں کوکہتے ہیں کہ اس میں اس کی تعظیم ہےاور فاسق کی تعظیم منع۔تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین واجب ہے(ت)
رہابارہ برس سے مجرد ہونایہ کوئی ایسی وجہ نہیں جس پرجزما مواخذہ کیاجائے۔ترك موالات ہرکافر سے مطلقا فرض ہے اور آج سے نہیں ہمیشہ سے فرض ہے یہودونصاری ومجوس کی طرح بلکہ ان سے بھی زائد ہنود سے بھی اتحادوموافقت حرام قطعی ہے اور مجرد معاملت جائزہ کسی کافراصلی سے اصلا منع نہیںاس کی تفصیل ہماری کتاب المحجۃ المؤتمنۃ عــــــہ میں ہے۔حکم شرعی کو الٹ دینا اور اسے حکم شرعی ٹھہرانا دوہراجرم اور سخت ابتداع فی الدین ہے " واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾ " (اور اﷲ تعالی جس کو چاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷: ازیونادرعلاقہ پران ملك مالوہ مسئولہ قاسم علی ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قاضی تارك نمازپنجگانہ رنڈیوں کواپنے گھرنچوائیں
عــــــہ: کتاب الحجۃ المؤتمنہ فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلد ۱۴صفحہ ۴۱۹ پرمرقوم ہے۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
تبیین الحقاء باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
#4077 · دعوٰی وقضاء وشہادۃ
لوگوں کوجمع کرکےگویا اعلان کے ساتھ بلواکے شریك معصیت کریںکیاایسے کام کی اجازت ہے اور ایسا شخص مسلمانوں کاقاضی ہوسکتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
شرع مطہر میں ایسے ناپاك کام سخت حرام ہیں اور ایسافاسق فاجرمرتکب کبائرقاضی بنانے کے لائق نہیںاسے قاضی بنانا حرام ہے۔تبیین الحقائق میں ہے:
فان فی تقدیمہ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ چونکہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے جبکہ شریعت میں لوگوں پراس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق باب فی الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ بولاق مصر ۱ /۱۳۴
#4078 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
حسن سلوک وحقوق العباد
ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین

مسئلہ ۱۳۸: ازاٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظم کلکٹری اٹاوہ ۲ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میںاکثرعورات طوائف اپنے باغ کی پیداواری میں سے کبھی کبھی کچھ ترکاری یاپودینہ یااورپھلوں میں سے اور کبھی شیرینی گلگلے کھچڑا وغیرہ بطورہدیہ وتحفہ کے بھیجاکرتی ہیں ان کالینا عام مسلمانوں کویا اس کے طبیب معالج کوشرعا یاحکم رکھتاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
رنڈیوں کے مال پانچ قسم ہیں:
۱ایک وہ چیز جو انہیں کسی فعل حرام مثلا زنایاغنا یارقص کی اجرت یاآشنائی کی رشوت میں دی گئی یہ نقد ہو یاجنس مطلقا حراماور حکم مغصوبہ میں ہے کہ وہ خود اس کی مالک نہیں ہوتیں کمانص علیہ فی الھندیۃ ودرالمختار وغیرھما(جیسا کہ فتاوی ہندیہ او ردرمختار وغیرہ میں صراحتا فرمایاگیاہے۔ت)
۲دوسرے وہ چیز جوانہوں نے اس جنس حرام سے حاصل کی مثلا کسی نے اجرت یارشوت مذکورہ میں کچھ تھان گلبدن کے دئیے رنڈی نے انہیں بیچ کرروپیہ حاصل کیا ان تھانوں سے ناچ وغیرہ خریدکیا یہ
#4079 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
بھی مطلقا حرام ہے فان الحرام اذاکان البدل ایضا(کیونکہ جب حرام کابدل ہو تووہ بدل بھی حرام ہے۔ت)
۳تیسرے وہ چیز جوانہوں نے اسی نقد حرام کے بدلے یوں حاصل کی کہ اس کے نقد پرعقد واقع ہوا اور وہی اداکیا مثلا جوروپیہ رنڈی کورشوت یا اجرت میں ملا یارشوت واجرت میں ملے ہوئے مثلا تھانوں کو بیچ کرحاصل کیا اس نے بائع کو وہی روپیہ دکھاکر کہا کہ اس کے عوض شیرینی یاگیہوں یاگوشت یافلاں شیئ کی تخم یادرخت کی قلم دے دے یاروپیہ ا س کے سامنے ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز دے اس نے دیں اس نے وہی زر حرام ثمن دے دیا اس صورت میں بھی جو کچھ حاصل کیا مذہب صحیح پرسب حرام وغصب ہے
وقول من قال بحلہ لعدم تعلق العقد بینہ بل مثلہ لعدم تعینہ وان کان قیاسا لکنہ خلاف الاستحسان کما افادہ فی الفتح۔ اور جس نے اس کے حال ہونے کی بات کی اس لئے کہ عین شئی کے ساتھ عقد متعلق نہیں بلکہ مثل غیرمتعین کے ساتھ متعلق ہے اگرچہ قیاس کا تقاضایہی ہے لیکن خلاف استحسان ہونے کی وجہ سے حرام ہے جیسا کہ فتح القدیر میں(محقق ابن ہمام نے)اس کاافادہ دیا(ت)
۴چوتھی وہ چیز کہ نقد حرام سے خریدی مگر عقد وادا دونوں مال حرام پرجمع نہ ہوئے مثلا زر حرام کہ خود اجرت ورشوت میں ملایا ایسی جنس جوپائی تھی اسے بیچ کر حاصل کیا وہ روپیہ دکھاکر اس کے عوض دے دے جب اس نے دی ثمن میں حلال روپیہ دیاوہ حرام روپیہ الگ کرلیا یہاں عقد حرام پرہوا مگرادا اس سے ادانہ ہوئی یابغیرروپیہ دکھائے یا اس کی طرف اشارہ کئے یوہیں کہا کہ ایک روپیہ کی فلاں شے دے اس نے دی اب ثمن میں زرحرام دیا کہ یہاں ادا تو اس سے ہوئی مگرعقد اس پرواقع نہ ہوا تھا اس صورت میں علماء مختلف ہیں بہت سے علماء اسے بھی حرام مطلق بتاتے ہیں
فان الفساد اذاکان لعدم الملک عمل فیما یتعین وما لایتعین اصلا وبدلا علی الاطلاق۔ کیونکہ فساد جب عدم ملکیت کی وجہ سے ہوتو پھر متعین غیر متعین۔اصل اوربدل سب میں علی الاطلاق کرتاہے (ت)
اور بہت سے علماء نے امام کرخی رحمہ اﷲ تعالی کے قول پرفتوی کیا کہ یوں جوچیز مول لے وہ حرام نہیںنقد حرام کی خباثت اس کے بدل میں جبھی آتی ہے کہ عقد وادا دونوں اس پر مجتمع ہوں۔تنویرالابصار میں ہے:
بہ یفتی ومثلہ فی الذخیرۃ اسی قول کے مطابق فتوی دیاگیا اور اسی کی مثل
#4080 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
وغیرھا کما فی جامع الرموز وعلیہ مشت المتون المعتمدۃ النقایۃ والاصلاح والغرر۔ ذخیرہ وغیرہ میں ہے جیسا کہ جامع الرموز میں ہے تمام متون معتبرہ کی یہی روش ہے مثلا النقایہالاصلاح اور الغرر وغیرہ(ت)
۵پانچویں مال مثلا رنڈی نے کسی سے قرض لیا یا اسے گانے ناچنے زناوغیرہ محرمات کی اجرت اور آشنائی کی رشوت سے جدا کسی نے ویسے ہی کچھ انعام دیاہبہ کیا یاسینے پرونے وغیرہا افعال جائزہ کی اجرت میں لیا کہ یہ سب حلال ہے او اس سے جوکچھ حاصل کیاجائے گا وہ بھی حلال ہے
فی فتاوی الامام قاضی خان الرجل اذا کان معربا مغنینان ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح وان کان یاخذہ علی شرط ذو المال علی صاحبہ ان کان یعرفہ و ان لم یعرفہ یتصدق بہ اھ وتفصیل القول فی الحظرمن فتاونا۔ فتاوی قاضی خان میں ہے کہ اگرکوئی آدمی کسی مرد گویا کو بغیرشرط کے کچھ دے دے یاگویا اس شرط پرلے لے کہ بصورت تعارف اور پہچان کے وہ مال وصول کردہ اصل مالک کوواپس کردے گا اورمالک کاپتا نہ لگ سکنے کی صورت میں وہ مال صدقہ کردے گا اھ او ر اس قول کی تفصیل ہمارے فتاوی کی بحث حظرمیں موجودہے(ت)
پس اگرمعلوم ہو کہ یہ تحفہ جووہ لائی ہے اگلے تین مالوں سے ہے تو طبیب وغیرطبیب کسی کولیناجائزنہیں اور اگرمعلوم ہوکہ قسم پنجم سے ہے تو سب کولینا حلال اور قسم چہارم میں لے لے توگنہگارنہیںیہ سب اس حال میں ہے کہ تحفہ کاحاصل اس لینے والے کو معلوم ہو کہ کس قسم کاہے اور بحال عدم علم جب کہ اس کااکثر مال وجہ حرام سے ہوکہ رنڈیوں میں غالب یہی ہے توبہت علماء اس کاتحفہ لینا مطلقا حرام بتاتے ہیں جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ خاص چیزوجہ حلال سے ہے مگراصل مذہب وقول صحیح ومعتمد یہ ہے کہ بحال ناواقفی لیناجائزہے جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ خاص چیزوجہ حرام سے ہےمحررمذہب سیدناامام محمد رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ جب تک ہم کسی چیز کوبعینہ حرام نہ جانیں تو وہ جائزہےہم اسی کواختیار کرتے ہیںاور یہی
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی تسلیم والتسلیم مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۹۴
#4081 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
واصحابہ رضی اﷲ تعالی عنھمذکرہ فی الھندیۃ عن الظھیریۃ عن ابی اللیث عن محمد رحمہ اﷲ تعالی۔ قول حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم کاہے۔اس کو ہندیہ میں بحوالہ ظہیریہ اس نے ابواللیث سے اس نے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کیا۔(ت)
تاہم شک نہیں کہ اگرچہ فتوی جوازہے تقوی احتراز ہےوقد فصلنا القول فیہ فی فتاونا(ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔(ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین حقیقی مادر اور سوتیلی ماں کے حق حقوق کے بارہ میںحقیقی اور سوتیلی ماں میں اور ان کے حق میں کیافرق ہے سوتیلی ماں کو مثل حقیقی والدہ کے سمجھناچاہئے یا حفظ مراتب میں دونوں کے کچھ فرق کرناچاہئے اور کس قدر بینواتوجروا۔
الجواب:
حقیقی ماں اور سوتیلی کے حقوق میں زمین آسمان کافرق ہےحقیقی ماں بذات خود مستحق ہرگونہ خدمت وادب وتعظیم واطاعت کی ہے اور اسے ایذادینی معاذاﷲ ورسول کو ایذادینی ہےاور سوتیلی ماں کا اپنا ذاتی کوئی حق نہیں جوکچھ ہے باپ کے ذریعہ سے ہے یعنی وہ بات نہ ہو جس میں باپ کوایذاء ہو کہ باپ کی ایذاء اﷲ ورسول کی ایذاء ہے جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۰: ازنجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب احمد حسین خاں صاحب ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
(۱)مرید کے پیر پرکیاحقوق ہیں (۲)پیر کے مرید پرکیاکیا حقوق ہیں
الجواب:
(۱)مرید کاپیرپرحق یہ ہے کہ اسے مثل اپنی اولاد کے جانےجوبات بری دیکھے اس سے منع کرےروکےنیکیوں کی ترغیب دے۔حاضروغائب اس کی خیرخواہی کرےاپنی دعامیں اسے شریک کرےاس کی طرف سے براہ نادانی جوگستاخی بے ادبی واقع ہو اس سے درگزرکرےاس پراپنے نفس کے لئے ناراض نہ ہواس کی ہدایت کے لئے غصہ ظاہر کرے اور دل میں اس کی بھلائی کاخواستگار رہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
#4082 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
اس کے مال سے کچھ طلب نہ رہےتابمقدور اس کی ہرمشکل میں مددگار رہے وغیرہ وغیرہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)پیر کے حقوق مرید پر شمار سے افزوں ہیںخلاصہ یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہوکررہےاس کی رضا کو اﷲ کی رضا اس کی ناخوشی کو اﷲ کی ناخوشی جانےاسے اپنے حق میں تمام اولیائے زمانہ سے بہترسمجھےاگرکوئی نعمت بظاہر دوسرے سے ملے تو اسے بھی پیر ہی کی عطا اور اسی کی نظرتوجہ کاصدقہ جانےمال اولاد جان سب اس پرتصدق کرنے کوتیار رہےاس کی جوبات اپنی نظرمیں خلاف شرع بلکہ معاذاﷲ کبیرہ معلوم ہو اس پربھی نہ اعتراض کرےنہ دل میں بدگمانی کو جگہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غلطی ہےدوسرے کو اگر آسمان پر اڑتا دیکھے جب پیر کے سوا دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو سخت آگ جانےایک باپ سے دوسرا باپ نہ بنائےاس کے حضور بات نہ کرےہنسنا توبڑی چیز ہےاس کے سامنے آنکھ کان دل ہمہ تن اسی کی طرف مصروف رکھےجو وہ پوچھے نہایت نرم آواز سے بکمال ادب بتاکر جلدخاموش ہو جائےاس کے کپڑوںاس کے بیٹھنے کی جگہاس کی اولاداس کے مکاناس کے محلہاس کے شہر کی تعظیم کرے۔جو وہ حکم دے کیوں نہ کہے دیرنہ کرےسب کاموں پراسے تقدیم دےاس کی غیبت میں بھی اس کے بیٹھنے کی جگہ نہ بیٹھے۔اس کی موت کے بعد بھی اس کی زوجہ سے نکاح نہ کرےروزانہ اگر وہ زندہ ہے اس کی سلامت وعافیت کی دعابکثرت کرتارہےاوراگر انتقال ہو گیا تو روزانہ اس کے نام پرفاتحہ ودرود کاثواب پہنچائے۔اس کے دوست کادوستاس کے دشمن کادشمن رہے۔غرض اﷲ و رسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد اس کے علاقہ کوتمام جہان کے علاقہ پردل سے ترجیح دے اور اسی پرکاربند رہے وغیرہ وغیرہ۔جب یہ ایساہوگا تو ہر وقت اﷲ عزوجل وسید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحضرات مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی مدد زندگی میں نزع میں قبرمیں حشرمیں میزان پر صراط پر حوض پر ہرجگہ اس کے ساتھ رہے گی۔اس کا پیراگر خود کچھ نہیں تو اس کا پیرتو کچھ ہے یاپیر کا پیر یہاں تک کہ صاحب سلسلہ حضورپرنورغوث رضی اﷲ تعالی عنہ پھر یہ سلسلہ مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ اور ان سے سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ان سے اﷲ رب العلمین تک مسلسل چلاگیاہےہاں یہ ضرور ہے کہ پیرچاروں شرائط بیعت کاجامع ہوپھر اس کاحسن اعتقاد سب کچھ پھل لاسکتاہے ان شاء اﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۲: ازخیرآباد ضلع سیتاپور محلہ میاں سرائے قدیم مدرسہ عربیہ مرسلہ مولوی سیدفخرالحسن صاحب
تفصیل حقوق اﷲ وحقوق العباد کے دیکھنے کی خاص ضرورت درپیش ہے اگرکتب دینیہ میں سے کسی کتاب میں مفصلا حقوق درج ہوں تو نام کتاب سے مع پتہ باب وفصل مشکورفرمائی جائے ورنہ
#4083 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
ایسی کچھ ہدایت فرمائی جائے جس سے پورے طورپر تفصیل حقوق اﷲ وحقوق العبد کی دریافت ہوجائے۔
الجواب:
حقوق اﷲ وحقوق العباد بیشمار ہیں بلکہ تمام شریعت مطہرہ بلکہ فقہین اکبرواصغرسب انہیں کی تفصیل میں ہیں تمام علوم دینیہ کاکوئی حکم ان سے باہرنہیں۔فتاوی فقیر میں حقوق الوالدین وحقوق زوجین وحقوق اولاد کاقدرے بےان ہےکتاب مستطاب احیاء العلوم شریف میں زیادہ تفصیل ہے جلد ثانی کتاب آداب الاخوۃ ملاحظہ ہو۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۳ تا ۱۴۴: مستفسرہ محمد میاں طالب علم بہاری بریلی محلہ سوداگران
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱)والدین کاحق اولاد بالغ کو تنبیہ خیرواجب ہے یافرض (۲)حق والدین اولادپر کس قدر ہے
الجواب:
(۱)جوحکم فعل کاہے وہی اس پرآگاہی دینی ہے فرض پرفرضواجب پہ واجبسنت پہ سنتمستحب پہ مستحب۔مگربشرط بقدرت بقدرقدرت بامیدمنفعتورنہ:
" " علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (لوگو!)اپنی جانوں کی فکرکرولہذا تمہیں کچھ نقصان نہیں جو بھٹک گیا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)اتناہی کہ اداناممکن ہے مگریہ کہ وہ مرجائیں اور یہ ان کو ازسرنوزندہ کرسکے توکرے کہ وہ اس کے وجود کاسبب ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵:ازشہر مدرسہ اہلسنت وجماعت مسئولہ مولوی محمدافضل صاحب کابلی طالبعلم درجہ اول مدرسہ مذکور ۱۶ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
اگر شخصے بچہ کودراتعلیم علم دین نکرد بغیر انگریزی وناگری وعلم خدا و رسول رابچہ نمی داند کہ چہ امرست وچہ نہی الحال اگروالدنے اپنے بیٹے کو دین اسلام نہ سکھایالہذا وہ بچہ انگلش اورناگری کے بغیر اﷲ تعالی اور اس کے رسول گرامی کے علم کونہیں جانتا کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۱۰۵
#4084 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
ایں چنیں پدررابرپسر حق ست یانہ بینواتوجروا۔ ان کاحکم اور نہی کیاہے لہذا اب اس طرح کے والد کا اپنے بیٹے پرکوئی حق ہے یانہیں بیان فرماؤ اور اجرپاؤ۔(ت)
الجواب:
پدراگردرحق پسر تقصیر کرد حقوق پدرذمہ پسر ساقط نتواں شد۔ واﷲ تعالی اعلم اگروالد سے بیٹے کاحق اداکرنے میں کوتاہی اور قصورہوگیا(تو اس کے باوجود)وال کے حقوق بحال ہیں وہ بیٹے سے کبھی ساقط(اور معاف)نہیں ہوسکتے۔اور اﷲ تعالی سب کچھ بخوبی جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴۶ و ۱۴۷: مولوی نذیراحمدصاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی ۲۷محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسائل مفصلہ ذیل میں:
(۱)بی بی کے حقوق شوہرپرکیاہیں (۲)شوہر کے حقوق بی بی پرکیاہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)نفقہ سکنیمہرحسن معاشرتنیک باتوں اور حیاء وحجاب کی تعلیم وتاکید اور اس کے خلاف سے منع التہدیدہرجائزبات میں اس کی دل جوئی اور مردان خدا کی سنت پرعمل کی توفیق ہوتو ماورائے مناہی شرعیہ میںاس کی ایذا کاتحمل کمال خیرہے اگرچہ یہ حق زن نہیں۔
(۲)امورمتعلقہ زن شوی میں مطلقا اس کی اطاعت کہ ان امور میں اس کی اطاعت والدین پربھی مقدم ہےاس کے ناموس کی بشدت حفاظتاس کے مال کی حفاظتہربات میں اس کی خیرخواہیہروقت امورجائز میں اس کی رضا کاطالب رہنااسے اپنا مولی جاننانام لے کرپکارناکسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنااور خداتوفیق دے توبجا سے بھی احتراز کرنا بے اس کی اجازت کے آٹھویں دن سے پہلے والدین یاسال بھر سے پہلے اور محارم کے یہاں جانا وہ ناراض ہو تو اس کی انتہائی خوشامد کرکے اسے منانا اپناہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کرکہنا کہ یہ میراہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے یہاں تک کہ تم راضی ہو یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جوچاہو کرومگر راضی ہوجاؤ۔واﷲ تعالی اعلم۔
#4085 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
مسئلہ ۱۴۸ و ۱۴۹: ازقصبہ حسن پور ضلع مرادآباد تحصیل چنور مرسلہ اشرف علی خاں ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱)ایک شخص کاایک عورت ناکتخذا سے یعنی بلانکاحی کنواری عورت سے باہمی محبت تھی کوئی تعلق ناجائزنہ تھاپھر ا س کانکاح ایک دوسرے مرد سے ہوگیابعد نکاح کے پہلے شخص نے اس عورت سے زناکیااس کے شوہر کومعلوم نہ ہواکچھ مدت کے بعد زناکرنے والے شخص نے اس کے شوہر سے اس طرح معافی چاہی کہ میں نے جوکچھ تمہارا گناہ کیا ہے اس کو معاف کرو یاجو کچھ کہاسناہے معاف کرو۔اس نے کہا کہ معاف کیا۔پھر وہ عورت مرگئی۔اب آپ یہ فرمائیے گا کہ آیا یہ معافی جو اوپرتحریر ہے کافی ہے یانہیں اور اگرناکافی ہے تو کس طرح معافی لیناچاہئے تاکہ یہ گناہ عظیم اﷲ تعالی معاف کردے۔
(۲)وہ کون کون سے گناہ ہیں جو اﷲ اس وقت معاف کرے گا پیشتر اس کابندہ جس کے ساتھ گناہ ہواہے معاف کرے جیسا کہ شوہر والی عورت کازنا۔
الجواب:
(۱)یوں کہنا کہ"جوکہاسنا ہے معاف کرو"اصلا کافی نہیں کہ زنا کہے سنے میں داخل نہیں اور یوں کہنا کہ"میں نے جوتیراگناہ کیاہے معاف کردے"یہ اگر ایسی تعمیموں کے ساتھ کہاکہ زناکوبھی شامل ہوا اور اس نے اسی عموم کے طور پر معاف کیا تو معاف ہوگیا اور اگر اتنی ہی گول مجمل لفظ تھے جس سے اس کا ذہن ایسی بڑی بات کی طرف نہ جاسکے ہلکی باتیں مثلا برابھلاکہنا غیبت کرنا یاکچھ مال وبالینا ان کی طرف ذہن جائے تو یہ معافی انہیں باتوں کے لئے خاص رہے گی اور قول اظہر پر زنا کو شامل نہ ہوگی لہذا اسے اس سے یوں کہناچاہئے کہ دنیامیں ایک مرد دوسرے کا جس جس قسم کاگناہ کرسکتا ہے جسم یاجان یامال یا آبرو وغیرہ وغیرہ کے متعلق ان سب میں چھوٹے سے چھوٹا یابڑے سے بڑا جوکچھ بھی مجھ سے تمہارے حق میں واقع ہوا سب لوجہ اﷲ معاف کردواور اس تعمیم کو خوب اس کے ذہن میں کردے اور اس کے بعد وہ صاف معاف کرے تو امید واثق ہے کہ ان شاء اﷲ تعالی معاف ہوجائے۔
(۲)تمام حقوق العباد ایسے ہی ہیں کہ جب تک صاحب حق معاف نہ کرے معافی نہ ہوگیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰: ازڈاکخانہ چیگانگ محلہ میدنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمدعمر ۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایک شخص نے ایک غیرعورت سے زناکیا او ر اسی عورت کاوالدین اور برادران اور خورداران وغیرہم موجود ہیں اب وہ شخص زناکار اس زانیہ عورت سے معافی لینا چاہتاہے آیا فقط اس زانیہ سے معافی لینا
#4086 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
چاہئے یاوالدین اور برادران اور خورداران سے بھی معافی لیناضروری ہے اور اگرحقوق العباد معاف ہو تو حقوق اﷲ معاف ہوگایانہیں یاتوبہ استغفار سے ہوگا
الجواب:
حقوق اﷲ معاف ہونے کی دوصورتیں ہیں:
اول :توبہقال اﷲ تعالی:
" و ہو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ و یعفوا عن السیات" وہی(اﷲتعالی)ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتاہے اور گناہ معاف کرتاہے(ت)
دوم عفوالہیقال اﷲ تعالی:
" فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء" اﷲ تعالی جس کو چاہے معاف فرمادےاور جس کوچاہے سزا دے۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ہو الغفور الرحیم ﴿۵۳﴾" یقینا اﷲ تعالی سب گناہ بخش دیتاہے کیونکہ وہی گناہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔(ت)
اور حقوق العباد معاف ہونے کی بھی دو۲صورتیں ہیں:
(۱)جوقابل اداہے اداکرنا ورنہ ان سے معافی چاہناصحیح بخاری شریف میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کانت لہ مظلمۃ لاخیہ من عرضہ اوشیئ فلیتحللہ منہ الیوم قبل ان لایکون دینار ولادرھم ان کان لہ عمل صالح اخذ منہ بقدر مظلمۃ وان لم یکن لہ حسنات اخذ من سیئات جس کے ذمہ اپنے بھائی کاآبرو وغیرہ کسی بات کامظلمہ ہو اسے لازم ہے کہ یہیں اس سے معافی چاہ لے قبل اس وقت کے آنے کے کہ وہاں نہ روپیہ ہوگا نہ اشرفیاگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی توبقدر اس کے حق کے اس سے لے کر اسے دی جائیں گی ورنہ اس کے گناہ اس پر
#4087 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
صاحبہ فحمل علیہ ۔ رکھے جائیں گے۔
(۲)دوسرا طریقہ یہ کہ صاحب حق بلامعاوضہ لئے معاف کردےقال تعالی:
" فاعفوا واصفحوا" ۔ تم دوسروں کو معاف کردو اور ان سے درگزرکرو۔(ت)
وقال تعالی:
" الا تحبون ان یغفر اللہ لکم " کیا تم اس بات کوپسند نہیں کرتے کہ اﷲ تعالی تمہیں بخش دے۔(ت)
اور بعض طرق جامعہ جن سے حقوق اﷲ وحقوق العباد باذن اﷲ تعالی سب معاف ہوجاتے جن کی تفصیل ہم نے تعلیقات رد المحتار میں ذکرکی۔
منھا شھادۃ البحرومنھا قتل الصبر ومنھا الحج المبرور وغیرذلک۔ ان میں سے دریائی شہادت ہے ان میں سے روک کرنشانہ سے مارڈالنا ہےاور ان میں سے حج مقبولاور اسی نوع کے دوسرے کام ہیں۔(ت)
عورت اگرمعاذاﷲ زانیہ ہے یعنی زنا اس کی رضا سے ہوا تو اس میں اس کاکچھ حق نہیں تو اس سے معافی کی حاجت کیابلکہ خود اوروں کے حق میں گرفتار ہے جبکہ شوہر یامحارم رکھتی ہو زنا کی اطلاع شوہریااولیائے زن کو پہنچ گئی توبلاشبہہ ان سے معافی مانگناضرورہے بے ان کے معاف کئے معاف نہ ہوگا اور اگر اطلاع نہ پہنچی تو اب بھی ان کاحق متعلق ہوایانہیںدربارہ غیبت علماء نے تصریح فرمائی کہ متعلق نہ ہوگا اور اس وقت ان سے معافی مانگنے کی حاجت نہیں صرف توبہ واستغفار کافی ہےشرح فقہ اکبر میں ہے:
قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی قد تکلم الناس فی توبۃ المغتابین ھل تجوز من غیر ان یستحل من صاحبہ قال فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا لوگوں نے غیبت کرنے والوں کی توبہ کے بارے میں اختلاف کیاہےکیا جس کی غیبت کی اس سے معاف کرائے بغیرتوبہ کرنی جائزہے یانہیں
حوالہ / References صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب من کانت لہ مظلمۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱
القرآن الکریم ۲ /۱۰۹
القرآن الکریم ۲۴ /۲۲
#4088 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
بعضھم لایجوز وھو عندنا علی وجہین احدھما ان کان ذلک القول قدبلغ الی الذی اغتابہ فتوبتہ ان یستحل منہ وان لم یبلغ الیہ فلیستغفراﷲ سبحنہ ویضمر ان لایعود الی مثلہ ۔ بعض نے فرمایا کہ جائزنہیں۔اور اس کی ہمارے نزدیک دوصورتیں ہیںان میں سے ایک یہ ہے کہ جس شخص کی غیبت کی گئی اس کو غیبت کی اطلاع ہوگئی توپھر توبہ کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس سے معاف کرائے اور اگر اسے اطلاع نہیں ہوئی تو اس صورت میں صرف اﷲ تعالی سے معافی مانگے اور اپنے دل میں یہ عہد کرے کہ پھرایسا کبھی نہ کرے گا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
اذا لم تبلغہ یکفیہ الندم ۔ اگرغیبت کی اطلاع(جس کی غیبت کی گئی)اس کو نہ ہو تو پھر صرف ندامت کافی ہے۔(ت)
اوردربارہ زنا اس کی کوئی تصریح نظر سے نہ گزریظاہرا یہاں بھی یہی حکم ہوناچاہئے۔
وقدجاء فی الحدیث الغیبۃ اشد من الزناء ۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ غیبت زنا(بدکاری)سے بھی بدتر گناہ ہے۔(ت)
مگر ازاں جاکہ اس بارے میں کوئی تصریح نظر سے نہ گزری معافی چاہنا مناسب معلوم ہوتاہے کہ اگر اس نے معاف کردیا تواطمینان کافی ہے مگر طلب معافی میں نہ توصاف تصریح زناہوکہ شاید اس کے بعد معافی نہ ہوبلکہ ممکن کہ اس سے فتنہ پیداہو اور نہ اتنی ہی اجمالی پرقناعت کی جائے کہ مجھے اپنے سب حق معاف کردے کہ اس میں عنداﷲ اتنے ہی حقوق معاف ہوں گے جہاں تک اس کا خیال پہنچے لہذا تعمیم عام کے الفاظ ہونا چاہئیں جوہرقسم گناہ کویقینا عام بھی ہوجائیں اور وہ تصریح خاص باعث فتنہ بھی نہ ہومثلا چھوٹے سے چھوٹا بڑے سے بڑا جوگناہ ایک مرد دوسرے کاکرسکتاہے جان مال عزت آبرو ہرشے کے متعلق اس میں سے جوتیرا میں نے گناہ کیاہو سب مجھے معاف کردے۔شرح فقہ اکبر میں ہے:
فی النوازل رجل لہ علی آخر دین نوازل میں ہے ایک شخص کادوسرا مقروض ہو اور
حوالہ / References منح الروض الازھر شرح فقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ المکفرات الخ مصطفی البابی مصر ص۱۵۹
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱
شعب الایمان حدیث ۶۷۴۱ و ۶۷۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۳۰۶
#4089 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
وھو لایعلم بجمیع ذلک فقال لہ المدیون ابرأنی ممالک علی فقال الدائن ابرأتک قال نصیرلایبرأ الاعن مقدار مایتوھم ای یظن انہ علیہ وقال محمد بن سلمۃ یبرأ عن الکل قال الفقیہ ابواللیث حکم القضاء ماقالہ محمد بن سلمۃ وحکم الاخرۃ ماقالہ نصیر وفی القنیۃ من علیہ حقوق فاستحل صاحبہا ولم یفصلھا فجعلہ فی حل بعذران علم انہ لوفصلہ یجعلہ فی حل والا فلا قال بعضھم انہ حسن وان روی انہ یصیر فی حل مطلقاوفی الخلاصۃ رجل قال الآخر حللنی من کل حق ھو لک فأبرأہ ان کان صاحب الحق عالما بہ برئ حکما بالاجماع واما دیانۃ فعند محمد لایبرأ وعند ابی یوسف یبرأ وعلیہ الفتوی اھ و فیہ انہ خلاف ما اختارہ ابواللیث و لعل قولہ مبنی علی التقوی ۔ وہ اس کی پوری تفصیل نہ جانتاہوتومقروض نے قرضخواہ سے کہا جو کچھ بھی تیرامیرے ذمے ہے اس سے میری برأت کر دےاس پر قرض خواہ نے کہا میں نے تیری براءت کر دی۔ امام نصیر نے فرمایا اس کی صرف اتنی ہی مقدار سے برأت ہوجائے گی کہ جتنی مقدار کافرقرضخواہ کو وہم ہوا ہوکہ اس قدرقرض مقروض پرہے لیکن محمد بن سلمہ نے فرمایا کہ سب سے اس کی برأت ہوجائے گی۔فقیہ ابواللیث نے فرمایا قضاء میں تووہی حکم ہے جوکچھ محمد بن سلمہ نے فرمایالیکن آخرت کاحکم وہ ہے جو کچھ امام نصیر نے فرمایا۔اور قنیہ میں ہے اگرکسی پرحقوق ہوں اور اس نے صاحب حقوق سے معاف کردینے کی درخواست کی لیکن ان کی(اس کے آگے) کچھ تفصیل نہ بیان کیااور صاحب حقوق نے انہیں معاف کردیا اس عذر سے کہ وہ جانتاہے کہ اگر ان کی اس کے سامنے تفصیل پیش کی جاتی تو وہ لامحالہ معاف کردیتا تو اس صورت میں وہ معاف ہوجائیں گے ورنہ بصورت دیگر وہ معاف نہ ہوں گے۔ بعض نے فرمایا کہ یہ اچھی تفصیل ہے۔اگرچہ یہ بھی مروی ہے کہ وہ حقوق مطلقا معاف ہوجائیں گے۔خلاصہ میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا کہ تیرا جوبھی میرے ذمے حق ہے وہ مجھے معاف کردے یعنی میرے لئے حلال کر دےتو اس نے برأت کردیاگرصاحب حق ان تمام حقوق کا علم رکھتا ہے توپھر معاف کرانے والا حکما بالاتفاق بری ہو جائے گا۔رہامعاملہ دیانت تو اس میں امام محمد علیہ الرحمۃ
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ المکفرات الخ مصطفی البابی مصر ص۱۵۹
#4090 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
کے نزدیک بری الذمہ نہ ہوگا لیکن قاضی امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک بری الذمہ ہوجائے گااور اسی پرفتوی ہے اھ۔اور اس میں یہ اشکال ہے کہ یہ صورت اس کے مخالف ہے جو فقیہ ابواللیث سمرقندی نے اختیارکیاشاید فقیہ موصوف کاقول تقوی پرمبنی ہو۔(ت)
بالجملہ امرمشکل جوسچے دل سے مولی عزوجل کی طرف رجوع لاتاہے اس کاکرم ضرور اسے قبول فرماتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱ و ۱۵۲: ازفیض آباد مسجد مغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کسی سائل کو یا کسی نالشی کوجو ان کے پاس حاضر ہوامعافی مانگی توبہ کی توحضور سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کس طرح پیش آئے
(۲)کیارسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے جو مسافر ومہمان معزز رئیس دنیا جس سے آمدنی ہوساتھ کھانا کھلایا اور غریبوں پرتوجہ نہیں کیشریعت میں جائزہے
الجواب:
(۱)حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کوجس کاسوال ناحق نہ تھا زجر نہ فرمایانالشیوں کی ہمیشہ بات سنیاور اگر حق پرتھا توداد رسی وفریادرسی فرمائیجس نے توبہ کی توبہ قبول فرمائیجس نے معافی مانگی اسے معافی دی اگرچہ بعض مصلحت دینیہ سے بدیر مگرحدوداﷲ میں کہ بعد وجوب حد اس سے درگزرکاحکم نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غریب نوازی ہی کو تشریف لائے ہیںشبانہ روز سرکار سے غریبوں امیروں سب کی پرورش جاری ہے مگریہ بھی حکم فرمایاہے:
انزلوا الناس منازلھم ۔ لوگوں کو ان کے مراتب ودرجات کے مطابق اتارو(یعنی ان کے مقام کے مطابق ان کی عزت افزائی اور مہمان نوازی کرو)۔(ت)
اور حدیث میں ہے:
اذا اتاکم کریم قوم فاکرموہ ۔ جب کسی قوم کامعزز تمہارے یہاں آئے تو اس کی عزت کرو۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۹
سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب اذا اتاکم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۲
#4091 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حضورایک سائل حاضرہوا اسے ٹکڑا عطافرمایا ایک ذی عزت مسافر گھوڑے پرسوارحاضر ہوا اس کی نسبت فرمایا کہ باعزاز اتارکر کھاناکھلایاجائےسائل کی حاجت اسی قدر تھی اور کسی رئیس کو ٹکڑا دیاجائے توباعث اس کی سبکی اور ذلت کاہو لہذا فرق مراتب ضرورہے اور اصل مدارنیت پر ہے اگرسائل کوبوجہ اس کے فقر کے ذلیل سمجھے اور غنی کو بوجہ اس کی دنیا کے عزت دارجانے توسخت بیجاسخت شنیع ہے اور اگرہرایک کے ساتھ خلق حسن منظورہے توجتنا جس کے حال کے مناسب ہے اس پرعمل ضرور ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: ازبلرام پورضلع گونڈہ محلہ پورینیا تالاب مرسلہ حافظ محمد عین اﷲ صاحب ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)ایک شخص عالم ہے اور اس کو اہل اسلام اور برادری پیشوا جانتے ہیں اور وہ عیال دار ہے اگر برادری میں شادی نکاح میں نیوتا مروجہ لے لے اور کھانا بھی کھائے اور ان کو بطریق نیوتاکچھ نقد دے اور اپنے یہاں کسی لڑکے کی شادی کرے اور برادری کونیوتا دے کرمدعو کرے تو وہ برادری میں منسلک ہوجائے گا اور علم کے درجہ سے گرجائے گا اور پیشوا نہ رہے گا اور برادری کے ہرمعاملہ جائزوناجائز میں شریک ہونا اور تسلیم کرنا اس پرواجب ہوگا۔
(۲)ایک شخص قناعت گزیں ہے اور بجز فتوح غیب کوئی وجہ معاش نہیں رکھتا اور قوم اس کو پیشوا جانتی ہے اور مدخیرات سے اس کو دیتی ہے اور عیال دار ہے اگر وہ بلااکراہ واجبار مثل مذکورہ رسم نیوتاجاری رکھے تو درجہ توکل سے گرجائے گا اور خیرات وغیرہ سے لینا ناجائزہوگا اور شرکت برادری ہرخیروشر میں اس پر واجب ہوگی۔
الجواب:
(۱)جوعالم دین اور پیشوائے مسلمین ہو اسے برادری سے میل جول اور ان کی جائز تقریبوں میں شرکت اور جائز رسموں میں موافقت اور اپنی تقریبوں میں انہیں شریک کرناہرگز نہ ممنوع ہے نہ اس کو درجہ سے کچھ کم کردے وہ کہ تمام عالم سے افضل و اعلی ہیں۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے غلاموں سے ایسے برتاؤ رکھتے۔ہاں ناجائز تقریبوں میں شریک ہوناناجائز رسموں میں ساتھ دینا یہ ضرورناجائز اور عالم وپیشوا کے لئے سخت ترناجائزیہ ضرور درجہ گرادینے والی چیزہے اور یہ محض غلط ہے کہ برادری سے میل جول ناجائزباتوں میں شرکت پربھی مجبورکرے گا کیوں مجبور کرے گا جب یہ عالم ہے اور وہ اسے پیشوا مانتے ہیں صاف کہہ دے کہ فلاں بات ناجائز ہے میں اسے نہیں کرسکتا اور تم بھی نہ کرو۔
#4092 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
(۲)شرکت برادری کاجواب اوپرآگیااور اگرصاحب نصاب وقادر علی الاکتساب ہے تو اسے اب بھی صدقات واجبہ لینا جائز نہیں۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتحل الصدقۃ لغنی ولذی مرۃ سوی ۔ کسی مالدار کسی تندرست اورطاقتور کے لئے صدقہ وخیرات حلال نہیں۔(ت)
اور نظر مسبب جل وعلاء پررکھ کر جائزاسباب رزق کااختیارکرناہرگز منافی توکل نہیںتوکل ترک اسباب کانام نہیں بلکہ اعتماد علی الاسباب کا ترک ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اعقلھا وتوکل علی اﷲ ۔ برتوکل پائے اشتر راببندواﷲ تعالی اعلم اونٹ کوباندھ کر اﷲ تعالی پربھروساکیجئے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۵: ازشہر محلہ پھوٹا دروازہ مسئولہ شیخ نعیم اﷲ صاحب چناں میاں ۴شوال ۱۳۳۸ھ
ذمہ زید حقوق العباد ہوں تو ان کا کیاکفارہ ہے اور کفارہ نہ ہو تو سبکدوشی کی کیاضرورت ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
جس کامال دبایاہے فرض ہے کہ اتنا مال اسے دےوہ نہ رہا ہواس کے وارث کو دےوہ نہ ہوں فقیرکودےبے اس کے سبکدوش نہیں ہوسکتااور جسے علاوہ مال کچھ ایذادی ہو یابراکہاہو اس سے معافی مانگے یہاں تک کہ وہ معاف کردےجس طرح ممکن ہومعافی لےوہ نہ رہا ہواور تھامسلمان تو اس کے لئے صدقہ وتلاوت ونوافل کاثواب پہنچاتا رہےاورکافر تھا تو کوئی علاج نہیں سوا اس کے کہ اپنے رب کی طرف رجوع اورتوبہ واستغفار کرتا رہے وہ مالک وقادرہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۶: ازشہر محلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب ۲۴صفر ۱۳۳۹ھ
کیا ارشاد ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ عورت پر مرد کے اور مرد پرعورت کے کیاکیاحق ہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
مرد پرعورت کاحق نان ونفقہ دینارہنے کومکان دینامہروقت پراداکرنااس کے ساتھ
حوالہ / References مسندامام احمدبن حنبل عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۱۹۲
جامع الترمذی ابواب القیامۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۷۴
#4093 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
بھلائی کابرتاؤ رکھنااسے خلاف شرع باتوں سے بچانا۔قال تعالی:" وعاشروہن بالمعروف " (عورتوں سے اچھی طرح رہنا سہنا کرو۔ت)او ر اﷲ تعالی نے فرمایا:
" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا " اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
اور عورت پرمرد کاحق خاص امورمتعلقہ زوجیت میں اﷲ ورسول کے بعد تمام حقوق حتی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے ان امور میں اس کے احکام کی اطاعت اور اس کے ناموس کی نگہداشت عورت پر فرض اہم ہےبے اس کے اذن کے محارم کے سوا کہیں نہیں جاسکتی اور محارم کے یہاں بھی ماں باپ کے یہاں ہرآٹھویں دن وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے اور بہن بھائی چچاماموںخالہپھوپھی کے یہاں سال بھر بعد اور شب کو کہیں نہیں جاسکتی
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:"اگر میں کسی کو غیرخدا کے سجدے کا حکم دیتا توعورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوھر کو سجدہ کرے"
اورایک حدیث میں ہے:"اگرشوہر کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ کر اس کی ایڑیوں تک جسم بھرگیا ہو اور عورت اپنی زبان سے چاٹ کر اسے صاف کرے تو اس کا حق ادانہ ہوگا" واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷:ازریاست بھرت پورشرقی راجپوتانہ ڈیرہ سیدبشرالدین احمد عرف سیدفقیر احمدصاحب جمعدار ترب پنجم رجمنٹ اول مسئولہ حامد الدین احمدقادری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
چہ میفرمایند علمائے دین احدی ومفتیان شرع محمدی اندریں مسئلہ کہ اخبار وآثاریکہ دین الہی کے علماء اور شرع محمدی کے مفتی حضرات اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ احادیث
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۱۹
القرآن الکریم ۶۶ /۶
جامع الترمذی ابواب الرضاء باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱ /۱۳۸،کنزالعمال برمزحم حدیث ۴۵۸۶۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۵۵۸
مسند امام احمدبن حنبل حدیث معاذ بن جبل المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۲۳۹،کنزالعمال برمزکر حدیث ۴۵۸۶۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۵۵۷
#4094 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
درمواخذہ وتصفیہ حقوق العباد در محشروارد اند مخصوص بحقوق مومنان بذمہ مومنان ہستند یابعموم بحقوق آدمیان یعنی مؤمن و غیرمومن بذمہ مومن اند۔بالعموم حقوق مخلوقات بذمہ انسان مؤمن۔واگرخصمان علاوہ انسان ہم باشند یا انسان زندہ نماندہ باشد یا ازیاد وارفتہ باشد یاقدرت ادائے حقوق نباشد یاگمان عفو از صاحبان حقوق نباشد یاصاحبان حقوق باوجود طلب عفو بحل نسازند۔پس ازروئے شرع شریف حسب مذہب حنفیہ ماتریدیہ چارہ برأت مؤمن ہست یادخول نارواجب وحرمان نجات لابدست۔بینواتوجروا۔ اور آثار قیامت کے دن حقوق العباد کی صلح وصفائی وگرفت کے بارے میں جو وارد ہیں کیا وہ مومنوں کے حقوقمومنوں کے ذمے لازم اور مخصوص ہیں یاصرف انسانی حقوق ہیں کہ جس میں مومن اور غیرمومن برابرہیں۔البتہ وہ مومنوں کے ذمے لازم ہیںیاعام طورپرمخلوق الہی کے حقوق بندہ مومن کے ذمے لازم ہیں۔اگرانسان کے علاوہ دوسری مخلوق بھی فریق مخالف ہویاانسان زندہ نہ رہے یا اس کی یاد سے یہ بات نکل جائے یاحقوق اداکرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا اہل حقوق سے معاف کرنے کی امید نہ ہو یا اہل حقوق معافی طلب کرنے کے باوجود معاف نہ کریںتو ان تمام صورتوں میں شریعت محمدیہ میں مذہب حنفی ماتریدی کے مطابق مومن کے بری الذمہ ہونے کی کیاصورت ہےیاآگ میں جانا ضروری اور رہائی پانے سے محروم ہونا لازمی ہے جو بھی صورت ہو بیان فرماؤ اور اجر و ثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:
اخباروآثار درمطلق حقوق ست مؤمن راباشد یاکافرذمی را انسان راباشد یاحیوان وقد نصوا ان خصومۃ الدابۃ اشد من خصومۃ الذمی وخصومۃ الذمی اشد من خصومۃ المسلم کما فی الخانیۃ و الدر وغیرھما و باجماع اخبار اور آثار مطلق حقوق کے متعلق وارد ہیںخواہ مومن ہویا کافر ذمیانسان ہو یاحیواناس لئے کہ ائمہ کرام نے تصریح فرمائی کہ جانوروں کاجھگڑنا اور فریق مخالف ہوناذمی کافر کی مخالفت سے زیادہ سخت ہےاور ذمی کی مخالفت مسلمان کی مخالفت سے زیادہ سخت ہے جیسا کہ فتاوی قاضیخان اور در مختار وغیرہ میں مذکور ہے۔اور
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
#4095 · حسن سلوک وحقوق العباد (ہدایاوتحائف وغیرہ کالین دین)
اہلسنت ہیچ وعید درحق مسلم قطعی نیست قال اﷲ تعالی ان اﷲ تعالی" ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء " انچہ دراشدیت خصومت ذمی گفتہ اند انہ لایرجی منہ العفو فیبقی فی خصومتہ فاقول ای یطول خصومتہ ولیس فیہ ان الوعید ینفذ ولابد حقوق واصحاب ہمہ رامالک حقیقی حضرت حق ست عز جلالہ " یفعل ما یشاء﴿۴۰﴾ " " یحکم ما یرید ﴿۱﴾ " ۔ نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اہل سنت کا اتفاق ہے کہ کوئی دھمکی مسلمان کے حق میں قطعی نہیں۔چنانچہ اﷲ تعالی کاارشاد ہے کہ بیشک اﷲ تعالی اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیاجائے۔اور اس سے کمتر جس کے لئے چاہیں معاف کر دیتا ہے اور یہ جو وارد ہوا ہے کہ ذمی کی مخالفت زیادہ سخت ہے اس کامطلب یہ ہے کہ اس سے معافی کی امیدنہیں۔پھروہ اپنی مخالفت میں باقی رہے گا۔میں کہتاہوں کہ اس کی مخالفت طویل ہوجائے گی اور اس میں یہ نہیں کہ عذاب کی دھمکی ضرورنافذ ہوگیحقوق واصحاب سب کاحقیقی مالک اﷲ تعالی ہے کہ جس کی عزت بڑی ہے۔لہذا وہ کرتاہے جوچاہے۔اور فیصلہ کرتاہے جس کا ارادہ فرمائے۔ہم اﷲتعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
#4096 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
رسالہ
الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ
(نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہونصلی علی رسول الکریم ط

مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۶۱: ۱۲شعبان ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
مسئلہ اولی:
پسر نے اپنے باپ کی نافرمانی اختیارکرکے کل جائداد پدر پر قبضہ کرلیا اور باپ کے پاس واسطے اوقات بسری کے کچھ نہ چھوڑا بلکہ درپے تذلیل وتوہین پدر کے ہے اور اﷲ جل شانہنے واسطے اطاعت پد ر کے کلام اپنے میں فرمایا ہےصورت ہذا میں اس نے خلاف فرمودہ خدا کیا وہ منکرحکم خداہوا ا نہیں اور منکرکلام ربانی کے واسطے کیا حکم شرع شریف ہے اور وہ کہاں تك گنہگار ہے بینواتوجروا(بیان فرماؤاجرپاؤ۔ت)
الجواب:
پسر مذکور فاسق فاجر مرتکب کبائر عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضب الہی کااستحقاق
#4097 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
باپ کی نافرمانی اﷲ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اورباپ کی ناراضی اﷲ جبار وقہار کی ناراضی ہےآدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔جب تك باپ کو راضی نہ کرے گا اس کاکوئی فرضکوئی نفل کوئی عمل نیك اصلا قبول نہ ہوگاعذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلاء نازل ہوگی مرتے وقت معاذاﷲ کلمہ نصیب نہ ہونے کاخوف ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
طاعۃ اﷲ طاعۃ الوالد ومعصیۃ اﷲ معصیۃ الوالد۔ رواہ الطبرانی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ کی اطاعت ہے والد کی اطاعتاور اﷲ کی معصیت ہے والد کی معصیت(طبرانی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
رضا اﷲ فی رضا الوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالد۔رواہ الترمذی وابن حبان فی صحیحہ والحاکم عن عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اﷲ کی رضاوالد کی رضامیں ہے اور اﷲ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے(ترمذی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اورحاکم نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ھما جنتك ونارک۔رواہ ابن ماجۃ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ماں باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں(ابن ماجہ نے ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
چوتھی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الوالد اوسط ابواب الجنۃ فان شئت فاضع ذلك الباب او احفظہ۔رواہ والدجنت کے سب دروازوں میں بیچ کادروازہ ہے اب توچاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۲۲۷۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۱۳۴
جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲
سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب برالوالدین ایچ ایم سعید کمپنی دہلی ص۲۶۹
#4098 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
الترمذی فی صحیحہ وابن ماجۃ وابن حبان عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سے کھودے خواہ نگاہ رکھ(ترمذی نے اپنی صحیح میں اور ابن ماجہ اور ابن حبان نے ابوالدرداء سے اسے روایت کیا۔ت)
پانچویں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث و الرجلۃ من النساء ۔رواہ النسائی والبزار باسناد جید والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ تین اشخاص جنت میں نہ جائیں گے:ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیوث او ر وہ عورت کہ مردانی کرنے والا اور دیوث اور وہ عورت کہ مردانی وضع بنائے۔(نسائی اوربزار نے اسناد جید کے ساتھ اور حاکم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
چھٹی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا ولا عدلا عاق و منان ومکذب بقدر۔رواہ ابن ابی عاصم فی السنۃ بسند حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تین شخصوں کاکوئی فرض ونفل اﷲ تعالی قبول نہیں فرماتا: عاق اور صدقہ دے کر احسان جتانے والا اور ہرنیکی وبدی کو تقدیرالہی سے نہ ماننے والا(ابن ابی عاصم نے السنۃ میں سندحسن کے ساتھ ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
ساتویں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل الذنوب یؤخرمنھا ماشاء الی یوم القیمۃ الاعقوق الوالدین فان اﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیاۃ قبل الممات سب گناہوں کی سز ااﷲ تعالی چاہے تو قیامت کے لئے اٹھا رکھتا ہے مگرماں باپ کی نافرمانی کہ اس کی سزا جیتے جی پہنچاتاہے۔
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲
سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باپ المنان بما اعطٰی نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۵۷،المستدرك للحاکم کتاب الایمان ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ دارالفکر بیروت ۱ /۷۲
العلل المتناہیۃ باب ذکرالقدر والقدریۃ حدیث ۲۳۹ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ /۱۵۱،مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر دارالکتب العربی بیروت ۷ /۲۰۶
#4099 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
رواہ الحاکم والاصبہانی والطبرانی عن ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (حاکم اور اصبہانی اور طبرانی نے ابی بکررضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
آٹھویں حدیث میں ہے:ایك جوان نزع میں تھا اسے کلمہ تلقین کرتے تھےنہ کہاجاتاتھا یہاں تك کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا:کہہ لاالہ الا اﷲعرض کی نہیں کہاجاتامعلوم ہوا کہ ماں ناراض ہےاسے راضی کیا توکلمہ زبان سے نکلا۔رواہ الامام احمد والطبرانی عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ(امام احمد اور طبرانی نے عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
مگر ان امور سے وہ عاصی اور اس کافعل مخالف حکم خداہوااس کا منکرخداہونا لازم نہیں آتا جب تك یہ نہ کہے کہ باپ کی اطاعت شرعا ضروری نہیں یامعاذاﷲ باپ کی توہین وتذلیل جائز ہے جومطلقا بلاتاویل ایسا اعتقاد رکھتاہو وہ بے شك منکرالہی ہوگا اور اس پرصریح الزام کفروالعیاذباﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ثانیہ:
سوتی مادر پرتہمت بد طرح طرح کی لگائے اس کے واسطے کیاحکم ہے اورسوتیلی مادر کا حق پسر علاتی پرہے یانہیں
الجواب:
حقوق تومسلمان پرہرمسلمان رکھتاہے اور کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرام قطعی ہے خصوصا معاذاﷲ اگرتہمت زنا ہوجس پرقرآن عظیم نے فرمایا:
" یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین ﴿۱۷﴾ " اﷲ تمہیں نصیحت فرماتاہے کہ اب ایسانہ کرنا اگرایمان رکھتے ہو۔
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب البر والصلۃ باب کل الذنوب یؤخر اﷲ ماشاء منہا دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۶،کنزالعمال حدیث ۴۵۵۴۵ بیروت و الدرالمنثور تحت آیات ۱۷ /۲۳،۲۴ و ۴ /۱۷۴
شعب فــــ الایمان حدیث ۷۸۹۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۹۸
فــــــ:تلاش کے باوجود احمدوطبرانی سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نہیں مل سکی شعب الایمان میں انہی الفاظ سے ملاحظہ ہو۔
القرآن الکریم ۲۴ /۱۷
#4100 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
تہمت زنالگانے والے کو اسی کوڑے لگتے ہیں اور ہمیشہ کو اس کی گواہی مردود ہوتی ہے اﷲ تعالی نے اس کانام فاسق رکھایہ سب احکام ہرمسلمان کے معاملے میں ہیں اگرچہ اس سے کوئی رشتہ علاقہ اصلا نہ ہواور سوتیلی ماں توایك عظیم وخاص علاقہ اس کے باپ سے رکھتی ہے جس کے باعث اس کی تعظیم وحرمت اس پربلاشبہ لازماسی حرمت کے باعث رب العزت جل وعلا نے اسے حقیقی ماں کی مثل حرام ابدی کیا۔حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ابرالبر صلۃ الرجل اھل ودابیہ۔رواہ مسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ بیشك سب نکوکاریوں سے بڑھ کر نکوکاری یہ ہے کہ فرزند اپنے باپ کے دوستوں سے اچھاسلوك کرے(مسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ماں باپ کے ساتھ نکوکاری کے طریقوں میں یہ بھی شمارفرمایا:
واکرم صدیقھما۔ابوداؤد ابن ماجۃ و ابن حبان فی صحاحھم عن مالك بن ربیعۃ الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ان کے دوست کی عزت کرنا۔(ابوداؤدابن ماجہ اورابن حبان نے اپنی اپنی صحاح میں مالك بن ربیعۃ الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
باپ کے دوستوں کی نسبت یہ احکام تو اس کی منکوحہ اس کی ناموس کی تعظیم وتکریم کیوں نہ احق وآکد ہوگی خصوصا جبکہ اس کی ناراضی میں باپ کی ناراضی اﷲ تعالی کی ناراضی ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ثالثہ:
اولادپرحق پدرزیادہ ہے یاحق مادر بینواتوجروا(بیان فرماؤاجرپاؤ۔ت)
الجواب:
اولاد پرماں باپ کاحق نہایت عظیم ہے او رماں کاحق اس سے اعظمقال اﷲ تعالی:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب فضل صلۃ اصدقاء الاب والام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۴
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۴۴،سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب صل من کان ابوك یصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۹
#4101 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
" و وصینا الانسن بولدیہ احسنا حملتہ امہ کرہا و وضعتہ کرہا و حملہ و فصلہ ثلثون شہرا " آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیك برتاؤ کیاسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سےاور اسے جنا تکلیف سےاو اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھٹنا تیس مہینے میں ہے۔
اس آیہ کریمہ میں رب العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھرخاص الگ کرکے گنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کوجو اسے حمل وولادت اور دوبرس تك اپنے خون کا عطرپلانے میں پیش آئیں جن کے باعث اس کاحق بہت اشدواعظم ہوگیا شمارفرمایا اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:
" ووصینا الانسن بولدیہ حملتہ امہ وہنا علی وہن و فصلہ فی عامین ان اشکر لی و لولدیک " تاکید کی ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے حق میں کہ پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے سختی پرسختی اٹھاکراور اس کادودھ چھٹنا دو برس میں ہےیہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔
یہاں ماں باپ کے حق کی کوئی نہایت نہ رکھی کہ انہیں اپنے حق جلیل کے ساتھ شمارکیافرماتاہے:شکربجالا میرا اور اپنے ماں باپ کااﷲ اکبر اﷲ اکبر وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمیہ دونوں آیتیں اوراسی طرح بہت حدیثیں دلیل ہیں کہ ماں کاحق باپ کے حق سے زائد ہےام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای الناس اعظم حقا علی المرأۃ قال زوجھا قلت فای الناس اعظم حقا علی الرجل قال امہ۔رواہ البزار بسند حسن والحاکم ۔ یعنی میں نے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی عورت پرسب سے بڑا حق کس کاہےفرمایا شوہر کا میں نے عرض کی اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کاہے فرمایا اس کی ماں کا(بزار نے بسند حسن اورحاکم نے اسے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۶ /۱۵
القرآن الکریم ۳۱ /۱۴
المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ اعظم الناس حقا علی الرجل امہ دارالفکربیروت ۴ /۱۷۵
#4102 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
جاء رجل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من احق الناس بحسن صحابتی قال امك قال ثم من قال امك قال ثم من قال امك قال ثم من قال امك قال ثم من قال ابوک۔رواہ الشیخان فی صحیحھما۔ ایك شخص نے خدمت اقدس حضورپرنورصلوات اﷲ وسلامہ علیہ میں حاضرہوکر عرض کی یارسول اﷲ سب سے زیادہ کون اس کامستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیك رفاقت کروںفرمایا تیری ماںعرض کی پھرفرمایا تیرا باپ۔ (امام بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اسے روایت کیا۔ت)
تیسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اوصی الرجل بامہ اوصی الرجل بامہ اوصی الرجل بامہ اوصی الرجل بابیہ۔رواہ الامام احمدوابن ماجۃ والحاکم والبیھقی فی السنن عن ابی سلامۃ۔ میں ایك آدمی کو وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میںوصیت کرتاہوں اس کے باپ کے حق میں۔(امام احمد اور ابن ماجہ اور حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابی سلامہ سے اسے روایت کیا۔ت)
مگر اس زیادت کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں دینے میں باپ پر ماں کو ترجیح دے مثلا سو روپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانع تفصیل مادرنہیں توباپ کو پچیس۲۵ دے ماں کو پچھتر۷۵یاماں باپ دونوں نے ایك ساتھ پانی مانگا توپہلے ماں کو پلائے پھرباپ کو یادونوں سفر سے آئے ہیں پہلے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۸۳،صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب برالوالدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۲
مسنداحمدبن حنبل حدیث خداش ابی سلامہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۳۱۱،سنن ابن ماجہ ابواب الادب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۸،المستدرك للحاکم کتاب البروالصلۃ باب بر امك دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۰،السنن الکبرٰی کتاب الزکوٰۃ باب الاختیار فی صدقۃ التطوع دارصادربیروت ۴ /۱۷۹
#4103 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ماں کے پاؤں دبائے پھرباپ کےوعلی ہذاالقیاسنہ یہ کہ اگر والدین میں باہم تنازع ہو تو ماں کا ساتھ دے کرمعاذاﷲ باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے یااسے جواب دے یابے ادبانہ آنکھ ملاکربات کرےیہ سب باتیں حرام اور اﷲ عزوجل کی معصیت ہیںنہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کیتو اسے ماں باپ میں سے کسی کاایساساتھ دیناہرگز جائز نہیںوہ دونوں اس کی جنت ونار ہیںجسے ایذا دے گا دوزخ کامستحق ہوگا والعیاذباﷲمعصیت خالق میں کسی کی اطاعت نہیںاگرمثلا ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کاآزار پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہےہونے دے اور ہرگز نہ مانےایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملہ میںان کی ایسی ناراضیاں کچھ قابل لحاظ نہ ہوں گی کہ یہ ان کی نری زیادتی ہے کہ اس سے اﷲ تعالی کی نافرمانی چاہتے ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کوترجیح ہے جس کی مثالیں ہم لکھ آئے ہیںاور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کابھی حاکم وآقا ہےعالمگیری میں ہے:
اذا تعذر علیہ جمع مراعاۃ حق الوالدین بان یتأذی احدھما بمراعاۃ الاخر یرجح حق الاب فیما یرجع الی التعظیم والاحترام وحق الام فیما یرجع الی الخدمۃ والانعام وعن علاء الائمۃ الحمامی قال مشائخنا رحمھم اﷲ تعالی الاب یقدم علی الام فی الاحترام والام فی الخدمۃ حتی لو دخلا علیہ فی البیت یقوم للاب ولوسألامنہ ماء ولم یاخذ من یدہ احدھما فیبدأ بالام کذا فی القنیۃ واﷲ سبحنہ جب آدمی کے لئے والدین میں سے ہرایك کے حق کی رعایت مشکل ہوجائے مثلا ایك کی رعایت سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے توتعظیم واحترام میں والد کے حق کی رعایت کرے اور خدمت میں والدہ کے حق کی۔علامہ حمامی نے فرمایا ہمارے امام فرماتے ہیں کہ احترام میں باپ مقدم ہے اور خدمت میں والدہ مقدم ہوگی حتی کہ اگر گھرمیں دونوں اس کے پاس آئے ہیں توباپ کی تعظیم کے لئے کھڑاہواور اگر دونوں نے اس سے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پکڑا تو پہلے والدہ کو پیش کرےاسی طرح قنیہ میں ہے۔واﷲ سبحنہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۶۵
#4104 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔(ت)
مسئلہ رابعہ:
مابین زن وشوہر حق زیادہ کس کاہے اور کہاں تک
الجواب:
زن وشوہر میں ہرایك کے دوسرے پرحقوق کثیرہ واجب ہیں ان میں جوبجانہ لائے گااپنے گناہ میں گرفتارہوگااگرایك ادائے حق نہ کرے تودوسرا اسے دستاویزبناکر اس کے حق کو ساقط نہیں کرسکتا مگروہ حقوق کہ دوسرے کے کسی حق پرمبنی ہوں اگریہ اس کا ایساحق ترك کرے وہ دوسرا اس کے یہ حقوق کہ اس پرمبنی تھے ترك کرسکتاہے جیسے عورت کانان ونفقہ کہ شوہر کے یہاں پابند رہنے کابدلہ ہےاگرناحق اس کے یہاں سے چلی جائے گی جب تك واپس نہ آئے گی کچھ نہ پائے گیغرض واجب ہونے مطالبہ ہونےبے وجہ شرعی ادانہ کرنے سے گنہگار ہونے میں تو حقوق زن وشوہر برابر ہیں ہاں شوہر کے حقوق عورت پر بکثرت ہیں اور اس پروجوب بھی اشدوآکدہم اس پرحدیث لکھ چکے کہ عورت پرسب سے بڑا حق شوہرکاہے یعنی ماں باپ سے بھی زیادہاور مرد پر سب سے بڑاحق ماں کاہے یعنی زوجہ کاحق اس سے بلکہ باپ سے بھی کمذلك بمافضل اﷲ بعضھم علی بعض (یہ اﷲ تعالی کابعض پربعض کافضل ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲: مسئولہ منشی شوکت علی صاحب فاروقی ۱۴ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ(آپ پر اﷲ تعالی کی رحمت ہواس مسئلہ کے بارے میں آپ کاکیا ارشاد ہے۔ت) کہ بعد فوت ہوجانے والدین کے اولاد پر کیاحق والدین کارہتاہے بینوابالکتاب توجروابالثواب۔
الجواب:
(۱)سب سے پہلاحق بعدموت ان کے جنازے کی تجہیزغسل وکفن ونماز ودفن ہے اور ان کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے ان کے لئے ہرخوبی وبرکت ورحمت ووسعت کی امیدہو۔
(۲)ان کے لئے دعاواستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا۔
(۳)صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کاثواب انہیں پہنچاتے رہناحسب طاقت اس میں کمی نہ کرنااپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نمازپڑھنااپنے روزوں کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزے رکھنابلکہ جونیك کام کرے سب کاثواب انہیں اور سب مسلمانوں کوبخش دینا کہ ان سب کو ثواب
#4105 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا۔
(۴)ان پرکوئی قرض کسی کاہو تو اس کے ادا میں حددرجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کاقرض اداہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھناآپ قدرت نہ ہو تو اور عزیزوں قریبوں پھرباقی اہل خیر سے اس کی ادامیں امداد لینا۔
(۵)ان پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرقدرت اس کے ادامیں سعی بجالاناحج نہ کیاہوتو ان کی طرف سے حج کرنا یاحج بدل کرانازکوۃ یاعشر کامطالبہ ان پر رہا تو اسے اداکرنانمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا وعلی ہذاالقیاس ہرطرح ان کی برأت ذمہ میں جدوجہد کرنا۔
(۶)انہوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعا اپنے اوپر لازم نہ ہواگرچہ اپنے نفس پربارہومثلا وہ نصف جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لئے کرگئے توشرعا تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازت وارثان نافذ نہیں مگر اولاد کومناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشخبری پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں۔
(۷)ان کی قسم بعدمرگ بھی سچی ہی رکھنا مثلا ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو نہیں ان کی قسم کاخیال نہیں بلکہ اس کاویسے ہی پابند رہنا جیساان کی حیات میں رہتا جب تك کوئی حرج شرعی مانع نہ ہو اور کچھ قسم ہی پرموقوف نہیں ہرطرح امورجائزہ میں بعد مرگ بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا۔
(۸)ہرجمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لئے جاناوہاں یس شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچاناراہ میں جب کبھی ان کی قبرآئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا۔
(۹)ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیك سلوك کئے جانا۔
(۱۰)ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ہمیشہ ان کااعزاز واکرام رکھنا۔
(۱۱)کبھی کسی کے ماں باپ کوبراکہہ کرجواب میں انہیں برانہ کہلوانا۔
(۱۲)سب میں سخت تر وعام تر ومدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانااس کے سب اعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہےنیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتاہےاور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پرصدمہ ہوتاہےماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔
#4106 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
اﷲ غفوررحیم عزیز کریم جل جلالہ صدقہ اپنے رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ افضل والتسلیم کا ہم سب مسلمانوں کو نیکیوں کی توفیق دے گناہوں سے بچائےہمارے اکابر کی قبروں میں ہمیشہ نور وسرورپہنچائے کہ وہ قادر ہے اور ہم عاجزوہ غنی ہے ہم محتاج وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل نعم المولی ونعم النصیر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیموصلی اﷲ تعالی علی الشفیع علی الرفیع العفو الکریم الرؤف الرحیم سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین امین والحمدﷲ رب العلمین۔
اب وہ حدیثیں جن سے فقیر نے یہ حقوق استخراج کئے ان میں سے بعض بقدرکفایت ذکرکروں:
حدیث ۱:کہ ایك انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ نے خدمت اقدس حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکرعرض کی:یارسول اﷲ ! ماں باپ کے انتقال کے بعد کوئی طریقہ ان کے ساتھ نکوئی کاباقی ہے جسے میں بجالاؤں۔فرمایا:
نعم اربعۃ الصلاۃ علیھما والاستغفار لھما وانفاذ عھدھما من بعدھما واکرام صدیقھما وصلۃ الرحم التی لارحم لك الا من قبلھما فھذا الذی بقی من برھما بعد موتھما۔رواہ ابن النجار عن ابی اسید الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ مع القصۃورواہ البیھقی فی سننہ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایبقی للولد من برالوالد الا اربع الصلوۃ علیہ والدعاء لہ وانفاذ عھدہ من بعدہ وصلۃ رحمہ واکرام صدیقہ۔ ہاں چار باتیں ہیں:ان پرنمازاورا ن کے لئے دعاء مغفرت اور ان کی وصیت نافذ کرنااور ان کے دوستوں کی بزرگ داشتاور جو رشتہ صرف انہیں کی جانب سے ہونیك برتاؤ سے اس کا قائم رکھنایہ وہ نکوئی ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کے ساتھ کرنی باقی ہے(ابن نجار نے ابی اسید ساعدی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مع قصہ کے روایت کیا۔اوربیہقی نے اپنی سنن میں انہیں روایت کیااور بیہقی نے اپنی سنن میں انہیں رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاکہافرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے:والد کے ساتھ نیکی کی چارباتیں ہیں: اس پرنماز پڑھنا اور اس کے لئے دعامغفرت کرنااس کی وصیت نافذ کرنااس کے رشتہ داروں سے نیك برتاؤ کرنا اس کے دوستوں کا احترام کرنا۔ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۴۵۹۳۴ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۵۷۹
السنن الکبرٰی کتاب الجنائز باب مالا یستحب لولی المیت الخ دارصادر بیروت ۴ /۶۱ و ۶۲
#4107 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
حدیث ۲:کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
استغفار الولد لابیہ من بعد الموت من البر۔رواہ ابن النجار عن ابی اسید بن مالك بن زر ارۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ماں باپ کے ساتھ نیك سلوك سے یہ بات ہے کہ اولاد ان کے بعد ان کے لئے دعاء مغفرت کرے(ابن النجار نے ابی اسید بن مالك بن زرارہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳:کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا ترك العبد الدعاء للوالدین فانہ ینقطع عنہ الرزق۔ رواہ الطبرانی فی التاریخ والدیلمی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آدمی جب ماں باپ کے لئے دعاچھوڑ دیتا ہے اس کارزق قطع ہوجاتاہے(طبرانی نے تاریخ میں اور دیلمی نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴ و ۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا تصدق احدکم بصدقۃ تطوعا فلیجعلھا عن ابویہ فیکون لہما اجرھا ولاینقص من اجرہ شیئا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط وابن عساکر عن عبداﷲ بن عمر ورضی اﷲ تعالی عنہما ونحوہ الدیلمی فی مسند الفردوس عن معویۃ ابن حیدۃ القشیری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب تم سے کوئی شخص کچھ نفل خیرات کرے تو چاہئے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے ثواب میں سے کچھ نہ گھٹے گا(اس حدیث کوطبرانی نے اوسط میں اور ابن عساکر نے عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا اور ایسے ہی دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ ابن حیدہ قشیرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۴۵۴۴۹ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۴۶۳
کنزالعمال الطبرانی فی التاریخ والدیلمی عن انس حدیث ۴۵۵۵۶ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۴۸۲
المعجم الاوسط حدیث ۶۹۴۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۴۷۹
الجامع الصغیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۷۹۴۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۴۸۵
الفردوس بماثور الخطاب عن معاویہ بن حیدۃ حدیث ۶۳۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۱۰۹
#4108 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
حدیث ۶:کہ ایك صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ نے حاضرہوکر عرض کی:یارسول اﷲ! میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی میں نیك سلوك کرتاتھا اب وہ مرگئے ان کے ساتھ نیك سلوك کی کیا راہ ہے فرمایا:
ان من البربعد الموت ان تصلی لھما مع صلوتك وتصوم لھما مع صیامک۔رواہ الدارقطنی ۔ بعد مرگ نیك سلوك سے یہ ہے کہ تواپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے روزے رکھے(اسے دارقطنی نے روایت کیا۔ت)
یعنی جب اپنے ثواب ملنے کے لئے کچھ نفلی نمازپڑھے یاروزے رکھے تو کچھ نفل نماز ان کی طرف کہ انہیں ثواب پہنچائے یانماز روزہ جونیك عمل کرے ساتھ ہی انہیں ثواب پہنچنے کی بھی نیت کرلے کہ انہیں ثواب ملے گا اور تیرا بھی کم نہ ہوگا
کما یدل علیہ لفظ"مع"انہ یحتمل لوجھین بل ھذا الصق بالمعیۃ۔ جیسا کہ لفظ"مع"اس پر دال ہے کیونکہ اس میں مذکورہ دونوں احتمال ہیں بلکہ آخری وجہ معیت کو زیادہ مناسب ہے۔(ت)
محیط پھرتاتارخانیہ پھرردالمحتار میں ہے:
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ ۔ جوشخص نفلی صدقہ دے اس کے لئے افضل یہ ہے کہ تمام ایمان والوں کی نیت کرے کیونکہ انہیں بھی ثواب پہنچے گا اور اس کاثواب بھی کم نہ ہوگا۔ت)
حدیث۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من حج عن والدیہ اوقضی عنہما مغرما بعثہ اﷲ یوم القیمۃ مع الابرار۔رواہ الطبرانی فی الاوسط و الدار قطنی فی جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے یا ان کا قرض ادا کرے روزقیامت نیکوں کے ساتھ اٹھے(اسے طبرانی نے اوسط میں اور دارقطنی نے
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الدارقطنی کتاب الحج باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۳۷
ردالمحتار بحوالہ الدارقطنی کتاب الحج باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۳۶
المعجم الاوسط حدیث ۷۷۹۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۳۹۳
سنن الدارقطنی کتاب الحج باب المواقیت حدیث ۱۱۰ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۶۰
#4109 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
السنن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ سنن میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۸:امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ پر اسی ہزار قرض تھے وقت وفات اپنے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کو بلاکرفرمایا:
بع فیھا اموال عمر فان وفت والا فسل بنی عدی فان وفت والافسل قریشا ولاتعدھم۔ میرے دین(قرض)میں اول تومیرا مال بیچنا اگرکافی ہوجائے فبہا ورنہ میری قوم بنی عدی سے مانگ کرپوراکرنا اگریوں بھی پورا نہ ہو توقریش سے مانگنا اور ان کے سوا اوروں سے سوال نہ کرنا۔
پھرصاحبزادہ موصوف سے فرمایا:اضمنھا تم میرے قرض کی ضمانت کرلووہ ضامن ہوگئے اور امیرالمؤمنین کے دفن سے پہلے اکابر مہاجرین وانصار وگواہ کرلیا کہ وہ اسی ہزار مجھ پر ہیںایك ہفتہ نہ گزرا تھا کہ عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ نے وہ سارا قرض ادا فرما دیا۔رواہ ابن سعد فی الطبقات عن عثمان بن عروۃ(اسے ابن سعد نے طبقات میں عثمان بن عروہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث ۹:قبیلہ جہینہ سے ایك بی بی رضی اﷲ تعالی عنہا نے خدمت اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کی:یارسول اﷲ! میری ماں نے حج کرنے کی منت مانی تھی وہ ادانہ کرسکیں اور ان کاانتقال ہوگیا کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوںفرمایا:
حجی عنھا ارأیت لوکان علی امك دین اکنت قاضیتہ اقضوا اﷲ فاﷲ احق بالوفاء۔رواہ البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ ہاں اس کی طرف سے حج کربھلاتو دیکھ توتیری ماں پر اگر دین ہوتا تو تو اداکرتی یانہیں یونہی خدا کادین اداکرو کہ وہ زیادہ حق ادارکھتاہے(اسے بخاری نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۰:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا حج الرجل عن والدیہ انسان جب اپنے والدین کی طرف سے حج کرتاہے
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکراستخلاف عمررضی اﷲ عنہ دارصادر بیروت ۳ /۳۵۸
صحیح البخاری ابواب العمرۃ باب الحج والنذر عن المیت قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۰،صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب شبّہ اصلًا معلومًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۸۸
#4110 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
تقبل منہ ومنھما واستبشرت ارواحھما فی السماء وکتب عند اﷲ برا۔رواہ الدار قطنی عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ وہ حج اس کی اور اس کے والدین کی طرف سے قبول کیاجاتا ہے اور ان کی روحیں آسمان میں اس سے شاد ہوتی ہیںاور یہ شخص اﷲ عزوجل کے نزدیك ماں باپ کے ساتھ نیك سلوك کرنے والا لکھاجاتا ہے(اسے دارقطنی نے زید بن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۱:کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من حج عن ابیہ وامہ فقد قضی عنہ حجتہ فکان لہ فضل عشر حجج۔رواہ الدارقطنی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے ان کی طرف سے حج اداہوجائے اور اسے دس حج کا ثواب زیادہ ملے۔(دارقطنی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من حج عن والدیہ بعد وفاتھما کتب لہ عتقا من النار وکان للمحجوج عنھما اجر حجۃ تامۃ من غیران ینقص من اجورھما شیئا۔رواہ الاصبھانی فی الترغیب والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کرے اﷲ تعالی اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھے اور ان دونوں کے واسطے پورے حج کاثواب ہو جس میں اصلا کمی نہ ہو۔(اسے اصبہانی نے ترغیب میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الحج باب المواقیت حدیث ۱۰۹ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۶۰
سنن الدارقطنی کتاب الحج باب المواقیت حدیث ۱۱۲ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۲۰
شعب الایمان حدیث ۷۹۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۲۰۵
#4111 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
من برقسمھما وقضی دینھما ولم یستسب لھما کتب بارا و ان کان عاقا نی حیاتہ و من لم یبر قسمھما ولم یقض دینھما و استسب لھما کتب عاقا وان کان بارا فی حیاتھما۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو شخص اپنے ماں باپ کے بعد ان کی قسم سچی کرے اور ان کا قرض اداکرے اور کسی کے ماں باپ کو براکہہ کر انہیں برا نہ کہلوائے وہ والدین کے ساتھ نکوکار لکھاجاتاہے اگرچہ ان کی زندگی میں نافرمان تھا اور جو ان کی قسم پوری نہ کرے اور ان کا قرض نہ اتارے اوروں کے والدین کو براکہہ کر انہیں برا کہلوائے وہ عاق لکھاجائے اگرچہ ان کی حیات میں نکوکارتھا(اسے طبرانی نے اوسط میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من زارقبر والدیہ اواحدھما فی کل یوم جمعۃ مرۃ غفراﷲ لہ وکتب برا۔رواہ الامام الترمذی العارف باﷲ الحکیم فی نوادر الاصول عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ جو اپنے ماں باپ دونوں یا ایك کی قبر پرہرجمعہ کے دن زیارت کوحاضرہوا ﷲ تعالی اس کے گناہ بخش دے اور ماں باپ کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنے والا لکھاجائے(الامام الحکیم عارف باﷲ ترمذی نے نوادر الاصول میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من زارقبر ابویہ اواحدھما یوم الجمعۃ فقرأ عندہ یس غفرلہ۔رواہ ابن عدی عن الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ وفی لفظ من زار قبروالدیہ اواحدھما فی کل جمعۃ فقرأ عندہ یس غفراﷲ لہ بعدد کل حرف منھا۔ رواہ ھو دالخلیلی جو شخص روزجمعہ اپنے والدین یا ایك کی زیارت قبر کرے اور اس کے پاس یس پڑھے بخش دیاجائے(اسے عدی نے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔اور دیگر الفاظ میں۔ ت)جو ہرجمعہ والدین یا ایك کی زیارت قبر کرکے وہاں یس پڑھے یس شریف میں جتنے حرف ہیں ان سب کی
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۵۸۱۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۳۸۴
نوادرالاوصول للترمذی الاصل الخامس عشر دارصادر بیروت ص۲۴
الکامل لابن عدی ترجمہ عمربن زیادبن عبدالرحمان بن ثوبان دارالفکر بیرو ت ۵ /۱۸۰۱
#4112 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وابوشیخ والدیلمی وابن النجار والرافعی وغیرھم عن ام المؤمنین الصدیقۃ عن ابیھا الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ گنتی کے برابر اﷲ تعالی اس کے لئے مغفرت فرمائے(اسے روایت کیاترمذیالخلیلی اور ابوشیخ اور دیلمی اور ابن نجار اور رافعی وغیرھم نے ام المومنین صدیقہ سے انہوں نے اپنے والدگرامی صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے۔ت)
حدیث ۱۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من زارقبر ابویہ اواحدھما احتسابا کان کعدل حجۃ مبرورۃ ومن کان زوارا لھما زارت الملئکۃ قبرہ۔ رواہ الامام الترمذی الحکیم وابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ جو بہ نیت ثواب اپنے والدین دونوں یا ایك کی زیارت قبر کرے حج مقبول کے برابرثواب پائےاور جوبکثرت ان کی زیارت قبرکیاکرتاہو فرشتے اس کی قبر کی زیارت کوآئیں (حکیم ترمذی اور ابن عدی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
امام ابن الجوزی محدث کتاب عیون الحکایات میں بسند خود محمدابن العباس وراق سے روایت فرماتے ہیں ایك شخص اپنے بیٹے کے ساتھ سفرکو گیا راہ میں باپ کا انتقال ہوگیا وہ جنگل درختان مقل یعنی گوگل کے پیڑوں کاتھا ان کے نیچے دفن کرکے بیٹا جہاں جاناتھا چلاگیا جب پلٹ کر آیا اس منزل میں رات کو پہنچا باپ کی قبر پر نہ گیا توناگاہ سنا کہ کوئی کہنے والاکہتاہے:
رأیتك تطوی الدوم لیلا ولاتری علیك باھل الدوم ان تتکلما
وبالدوم ثا ولو ثویت مکانہ فمر باھل الدوم عاج فسلما
(میں نے تجھے دیکھا کہ تو رات میں اس جنگل کو طے کرتاہے اور وہ جو ان پیڑوں میں ہے
حوالہ / References اتحاف السادۃ للمتقین بحوالہ ابی الشیخ وغیرہ بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت دارالفکر بیروت ۱۰ /۳۶۳
نوادرالاصول للترمذی الاصل الخامس عشر دارصادربیروت ص۲۴
الکامل لابن عدی ترجمہ حفص بن سلمہ الخ دارالفکر بیروت ۲ /۸۰۱
شرح الصدور بحوالہ عیون الحکایات باب زیارۃ القبور علم الموتی خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۹۱
#4113 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
اس سے کلام کرنا اپنے اوپرلازم نہیں جانتا حالانکہ ان درختوں میں وہ مقیم ہے کہ اگر اس کی جگہ تو ہوتا اور وہ یہاں گزرتا تو وہ راہ سے پھرکر آتا اور تیری قبرپر سلام کرتا۔ت)
حدیث ۱۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب ان یصل اباہ فی قبرہ فلیصل اخوان ابیہ من بعدہ۔رواہ ابویعلی وابن حبان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جوچاہے کہ باپ کی قبرمیں اس کے ساتھ حسن سلوك کرے وہ باپ کے بعد اس کے عزیزوں دوستوں سے نیك برتاؤ رکھے(ابویعلی وابن حبان نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۸:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من البر ان تصل صدیق ابیکرواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ باپ کے ساتھ نیکوکاری سے ہے یہ کہ تو اس کے دوست سے اچھابرتاؤ کرے۔(طبرانی نے اوسط میں انس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان البر ان یصل الرجل اھل ود ابیہ بعد ان یولی الاب۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری فی الادب المفرد و مسلم فی صحیحہ وابوداؤد والترمذی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ بے شك باپ کے ساتھ سب نکوکاریوں سے بڑھ کریہ نکوکاری ہے کہ آدمی باپ کے بعد اس کے دوستوں سے اچھی روش پرنباہے (اسے ائمہ کرام احمد اور بخاری نے ادب المفرد میں اور مسلم نے اپنی صحیح میں اور ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰:کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
احفظ ود ابیك لاتقطعہ فیطفئ اﷲ اپنے ماں باپ کی دوستی پرنگاہ رکھ اسے قطع
حوالہ / References مسند ابویعلٰی حدیث ۵۶۴۳ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ۵ /۲۶۰
المعجم الاوسط حدیث ۷۲۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۱۴۹
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب فضل صلۃ اصدقاء الاب والام قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۴،کنزالعمال بحوالہ حم خذم،د،ت حدیث ۴۵۴۶۲ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۴۶۵
#4114 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
نورک۔رواہ البخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی الاوسط والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ نہ کرنا کہ اﷲ تعالی نور تیرا بجھادے گا(اسے بخاری نے ادب المفرد میں اور طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تعرض الاعمال یوم الاثنین والخمیس علی اﷲ تعالی وتعرض علی الانبیاء وعلی الاباء والامھات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتھم ویزدادون وجوھھم بیضاء ونزھۃ فاتقوا اﷲ ولا توذوا موتاکم۔رواہ الامام الحکیم عن والد عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہردوشنبہ وپنجشنبہ کو اﷲ عزوجل کے حضوراعمال پیش ہوتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والتسلیم اور ماں باپ کے سامنے ہرجمعہ کووہ نیکیوں پرخوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کی صفائی وتابش بڑھ جاتی ہےتو اﷲ سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے رنج نہ پہنچاؤ(اسے امام حکیم نے اپنے والد عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
بالجملہ والدین کا حق وہ نہیں کہ انسان اس سے کبھی عہدہ برآہو وہ اس کے حیات ووجود کے سبب ہیں تو جوکچھ نعمتیں دینی ودنیوی پائے گاسب انہیں کے طفیل میں ہوئیں کہ ہرنعمت وکمال وجود پرموقوف ہے اور وجود کے سبب وہ ہوئے تو صرف ماں باپ ہونا ہی ایسے عظیم حق کاموجب ہے جس سے بری الذمہ کبھی نہیں ہوسکتا نہ کہ اس کے ساتھ اس کی پرورش میں ان کی کوششیں اس کے آرام کے لئے ان کی تکلیفیں خصوصا پیٹ میں رکھنےپیداہونے میںدودھ پلانے میں ماں کی اذیتیںان کا شکر کہاں تك ادا ہو سکتاہےخلاصہ یہ کہ وہ اس کے لئے اﷲ ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سائے اور ان کی ربوبیت و رحمت کے مظہرہیںولہذا قرآن عظیم میں اﷲ جل جلالہنے اپنے حق کے ساتھ ان کا ذکرفرمایا کہ" ان اشکر لی و لولدیک " حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۸۶۲۸ مکتبۃ المعارف ریاض ۹/ ۲۸۸،کنزالعمال بحوالہ خد،طس،ھب عن ابن عباس حدیث ۴۵۴۶۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۶۴
نوادرالاصول للترمذی الاصل السابع والستون والمائۃ الخ دارصادر بیروت ص۲۱۳
القرآن الکریم ۳۱ /۱۴
#4115 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
حدیث شریف میں ہے کہ ایك صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ نے حاضر ہوکر عرض کی:یارسول اﷲ! ایك راہ میں ایسے گرم پتھروں پر کہ اگرگوشت ان پرڈالا جاتاکباب ہوجاتا میں ۶میل تك اپنی ماں کو گردن پرسوار کرکے لے گیاہوں کیا میں اب اس کے حق سے بری ہوگیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لعلہ ان یکون بطلقۃ واحدۃ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن بریدۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تیرے پیداہونے میں جس قدر دردوں کے جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں شاید ان میں سے ایك جھٹکے کابدلہ ہوسکے(اسے طبرانی نے اوسط میں بریدہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اﷲ عزوجل عقوق سے بچائے اور ادائے حقوق کی توفیق عطافرمائے امین امین برحمتك یا ارحم الراحمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین والحمدﷲ رب العلمین۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: ازبنگالہ ضلع کمرلا موضع ہرمنڈل مرسلہ مولوی عبدالجبار صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کچھ لیاقت رکھنے والا اپنے والدین صالحین کے ساتھ جنگ وجدل وزدوضرب و ظلم وستم کرتاہے اور خود اپنے والدین کوطعنے تشنیع ودشنام کرتا ہے اور لوگوں سے کرواتاہے اور وہ شخص غاصب وکاذب وسارق کے ساتھ موصوف ہےایسے شخص کے پیچھے نمازجائزہے یامکروہ اگرمکروہ ہےتو کون قسم کی مکروہ ہے اور ایسے شخص کے پیچھے جوکوئی بسبب ناواقفی کے نمازپڑھے تونماز اس کودوبارہ پڑھناہوگی یانہیں اور ایسے عاق الوالدین کودعوت کرنا کروانا صدقہ وغیرہ دینا دلوانا درست ہے یانہیں اور اس کے مکان میں دعوت کھانا کیسی ہے اور وہ شخص از روئے شرع شریف کے کس تعزیر کے لائق ہے اوراس کی تائید کرنے والے پراز روئے شرع شریف کیاحکم ہے بادلائل قرآن وحدیث واقوال ائمہ ارشاد فرمایاجائے۔
الجواب:
ایساشخص افسق الفاسقین واخبث مہین ومستحق غضب شدید رب العالمین وعذاب عظیم ونارجحیم ہے۔
حدیث ۱: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طس عن بریدہ حدیث ۴۵۵۰۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۴۷۳،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الصغیر کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی البر وحق الوالدین دارالکتب ۸ /۱۳۷
#4116 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
الاانبئکم باکبر الکبائرالا انبئکم باکبر الکبائر الا انبئکم باکبر الکبائر۔ میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب کبیرہ گناہوں سے سخت تر گناہ کیا ہےکیانہ بتادوں کہ سب کبائر سے بدترکیاہےکیانہ بتادوں کہ سب کبیروں سے شدیدتر کیاہے۔
صحابہ نے عرض کی:ارشاد ہو۔فرمایا:
الاشراك باﷲ عقوق الوالدینالحدیث۔رواہ الشیخان والترمذی عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ تعالی کاشریك ٹھہرانا اور ماں باپ کوستانا الحدیث (اسے امام بخاری ومسلم اور ترمذی نے ابی بکرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث و الرجلۃ من النساء۔رواہ النسائی والبزار بسندین جیدین والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے:ماں باپ کو ستانے والا اور دیوث اورمردوں کی وضع بنانے والی عورت۔(نسائی اور بزار نے جیدسندوں کے ساتھ اور حاکم نے ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا ولاعدلا عاق و منان ومکذب بقدر۔رواہ ابن ابی عاصم فی السنۃ بسند حسن تین شخص ہیں کہ اﷲ تعالی نہ ان کے فرض قبول کرے نہ نفل:ماں باپ کوایذادینے والا اور صدقہ دے کر فقیر احسان رکھنے والا اور تقدیر کاجھٹلانے والا۔
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الشہادات باب ماقیل فی شہادۃ الزور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۶۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الکبائر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۴
جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ ۲/ ۱۲ ابواب الشہادۃ ۲ /۵۴ امین کمپنی دہلی
سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب المنان بما اعطی نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۵۱
المستدرك الحاکم کتاب الایمان ثلثۃ لایدخلون الجنۃ دارالفکربیروت ۱/ ۷۲
العلل المتناہیۃ باب ذکر القدر والقدریۃ حدیث ۲۳۹ دارنشر الکتب الاسلامیہ ۱ /۱۵۲،مجمع الزوائد باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر دارالکتب العربی بیروت ۷ /۲۰۶
#4117 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (اسے عاصم نے السنۃ میں بسند حسن ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے روایت کیا۔ت)
حدیث۴:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ ملعون من عق والدیہ۔رواہ الطبرانی والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائےملعون ہے جو اپنے والدین کوستائےملعون ہے جو اپنے والدین کوستائے۔ (اسےطبرانی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث۵:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ من سب والدیہ۔ رواہ ابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ کی لعنت اس پرجو اپنے ماں باپ کوگالی دے(ابن حبان نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶:کہ ایك جوان کو نزع کے وقت کلمہ تلقین کیانہ کہہ سکانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوخبر ہوئی تشریف لے گئے فرمایاکہہ لاالہ الااﷲ۔کہا:مجھ سے نہیں کہاجاتا۔فرمایا کیوں کہا:وہ شخص اپنی ماں کو ستاتا تھارحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کی ماں کو بلاکرفرمایا:یہ تیرابیٹا ہے عرض کی:ہاں۔فرمایا
ارأیت لو اججت نار ضخمۃ فقیل لك ان شفعت لہ خلیناہ والاحرقناہ اکنت تشفعین لہ۔ بھلا سن تو اگر ایك عظیم الشان آگ بھڑکائی جائے اور کوئی تجھ سے کہے کہ تو اس کی شفاعت کرے جب تو ہم اسے چھوڑتے ہیں ورنہ جلادیں گےکیا اس وقت تو اس کی شفاعت کرے گی۔
عرض کی:یارسول اﷲ! جب توشفاعت کروں گیفرمایا:تو اﷲ کو اور مجھے گواہ کرلے کہ تو اس سے راضی ہوگئی۔اس نے عرض کی:الہی ! میں تجھے اور تیرے رسول کوگواہ کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے سے
حوالہ / References الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی والحاکم من اللواط حدیث ۴ مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۷
موارالظماٰن باب فی الکبائر حدیث ۵۳ المطبعۃ السلفیہ ص۴۳
#4118 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
راضی ہوئیاب سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جوان سے فرمایا:اے لڑکے! کہہ لاالہ الااﷲ وحدہ لاشریك لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔جوان نے کلمہ پڑھا اور انتقال کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الحمدﷲ الذی انقذہ بی من النار۔رواہ الطبرانی عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنھما۔ شکر اس خدا کاجس نے میرے وسیلے سے اس کو دوزخ سے بچالیا۔(اسے طبرانی نے عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷:عوام بن حوشب رحمۃ اﷲ علیہ کو اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں ۱۴۸ھ میں انتقال کیافرماتے ہیں میں ایك محلے میں گیا اس کے کنارے پرقبرستان تھا عصر کے وقت ایك قبرشق ہوئی اور اس میں سے ایك آدمی نکلا جس کاسرگدھے اورباقی بدن انسان کااس نے تین آوازیں گدھے کی طرح کیں پھرقبربند ہوگئیایك بڑھیا بیٹھی کات رہی تھی ایك عورت نے مجھ سے کہا ان بڑی بی کو دیکھتے ہو میں نے کہا:اس کاکیامعاملہ ہے کہا:یہ قبروالے کی ماں ہے وہ شراب پیتاتھا جب شام کو آتا ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹے! خدا سے ڈر کب تك اس ناپاك کوپیئے گا یہ جواب دیتا کہ تو توگدھے کی طرح چلاتی ہے یہ شخص عصر کے بعد مرا جب سے ہر روز بعد عصر اس کی قبرشق ہوتی ہے اور یوں تین آوازیں گدھے کی کرکے پھربندہوجاتی ہے رواہ الاصبہانی وغیرہ(اصبہانی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ت)
اسی طرح غضب وکذب وسرقہ کی حرمتیں ضروریات دین سے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے مکروہ تحریمی قریب بحرام اور واجب الاعادہ ہے کہ نادانستہ پڑھ لی ہو توپھیرناواجب ہے۔صغیرہ میں ہے:
یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم ۔ فاسق کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۱۲صغیری۔(ت)
غنیہ میں ہے:
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۷۸۹۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ /۱۹۸
شرح الصدور بحوالہ اصبہانی فی الترغیب باب عذاب القبر خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۷۱ و ۷۲
الصغیری فی شرح منیۃ المصلی مباحث الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۶۴
#4119 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریمۃ ۔ قاسق کو امام بنانے والے گنہگار ہوں گےکیونکہ اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۱۲غنیہ(ت)
درمختار میں ہے:
کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم وجب اعادتھا ۔ ہروہ نماز جو کراہت تحریمہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۱۲(ت)
ایسے اشدفاسق فاجر سے شرعا بغض رکھنے کاحکم ہے اور جس بات میں اس کا اعزاز واکرام نکلے بے ضرورت ومجبوری ناجائزو ممنوع ہے۔تبیین الحقائق ومراقی الفلاح وفتح المعین وحاشیہ درمختار للعلامۃ الطحطاوی وغیرھا میں ہے:
الفاسق وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ شرعی طور پر فاسق کی توہین واجب ہے ۱۲(ت)
اس کی دعوت کرنا کرانا اس کے یہاں دعوت کھاناکچھ نہ چاہئے۔سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما وقعت بنواسرائیل فی المعاصی نھتھم علماؤھم فلم ینتھوا فجالسوھم واکلوھم وشاربوھم فضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض فلعنھم علی لسان داؤد و عیسی بن مریم ذلك بما عصوا وکانوا یعتدون ۔ جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے ان کے علماء نے منع کیا وہ باز نہ آئے یہ علماء ان کے پاس ان کے جلسوں میں بیٹھے ان کے ساتھ کھانا کھایا پانی پیا تو اﷲ تعالی نے ان مجرموں کے دلوں پر اثر ان پاس بیٹھنے والوں پربھی ڈالا کہ سب ایك سے ہوگئے پھر ان سب پرداؤد وعیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام کی زبان سے لعنت فرمائی یہ بدلہ تھا ان کے گناہوں او رحد سے بڑھنے کا۔
حوالہ / References غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب قضاء الفوائت مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ فصل فی الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۴۳،تبیین الحقائق باب الامامۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۳۴،فتح المعین کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۰۸
مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ داؤد والترمذی کتاب الادب باب الامربالمعروف مطبع مجتبائی دہلی ص۴۳۸
#4120 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وہ سخت سے سخت تعزیر کے قابل ہے جس کی مقدار حاکم شرع کی رائے پرسپرد ہے اور اگر سرقہ شہادت شرعیہ سے ثابت ہوجائے توحاکم شرع اس کاہاتھ کلائی سے کاٹ دے گا اس کی تائید کرنے والے سب سخت گناہگار ہیںقال اﷲ تعالی:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪ " اور گناہ اور زیادتی پرباہم مددنہ کرو۔(ت)
ابھی حدیث سن چکے کہ پاس بیٹھنےساتھ کھانے والوں پر لعنت اتری۔پھرتائید کرنے کرانے والوں کاکیاحال ہوگااﷲ عزوجل پناہ دے اور مسلمانوں کوتوفیق توبہ بخشےآمین!
رہا صدقہ دینا دلانااگر اسے محتاج ضرورت مند ننگا بھوکا دیکھیں تو حرج نہیں جبکہ گناہوں میں اس کی تائیدواعانت کی نیت نہ ہو
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فی کل ذات کبد حراء اجر۔رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن عبداﷲ بن عمرو عن سراقۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنھم۔ ہرگرم جگروالی میں ثواب ہے۔(امام بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہ سے اور اس باب میں عبداﷲ بن عمرو سے انہوں نے سراقہ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہم سے اسے روایت کیا۔ت)
صحیح حدیث میں ہے کہ کتے کوبھی پانی پلانا ثواب ہے حتی غفراﷲ تعالی بہ البغی کما فی الصحاح (حتی کہ اﷲ تعالی نے اس سبب سے فاحشہ عورت کی مغفرت فرمائی۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۴: ۷ ربیع الآخرشریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو جب مرض الموت میں اپنے مرگ کایقین ہوا تو اپنے شوہر زید کو بمواجہہ موجودیں مخاطب کرکے عفو حقوق و تقصیرات کی مستدعی ہوئی اور اپنے جملہ حقوق زید کو معاف کئے دین مہر کو بہ تفصیل علیحدہ معاف کیا زید نے بھی اپنے حقوق وقصور خدمات کی معافی دی اب اس صورت میں کسی قسم کا مواخذہ ایك دوسرے پرعنداﷲ باقی تونہ رہا یا لفظ مجمل جملہ حقوق وقصور کافی
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح البخاری،کتاب المساقات ۱ /۳۱۸۔ابواب المظالم ۱ /۳۳۳۔کتاب الادب ۲ /۸۸۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب قتل الحیّات باب فضل سقی البہائم المحرمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷،مسند احمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۲۲
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات باب فضل سقی البہائم المحرمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷
#4121 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
نہ تھا علیحدہ علیحدہ ہرخطا وحق کی تشریح ضرورتھی اور زید دین مہر سے بری ہوگیا یایہ معافی زمانہ مرض الموت کی حکم وصیت میں متصور ہوکر دوثلث کامواخذہ دار رہے گا اگرچہ ورثاء دنیامیں شرم یارسم کے باعث متقاضی نہ ہوں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
عام حقوق کی معافی جوزید نے ہندہ اور ہندہ نے زید کو کی ان میں ہندہ کے حقوق مالیہ مثل مہر ودیگر دیون کی معافی تواجازت وارثان ہندہ پرموقوف رہے گی کما بیناہ فی الھبۃ من فتاونا(جیسا کہ ہمارے فتاوی میں ہبہ کے باب میں بیان کیاگیاہے۔ ت)ان کے سوا ہندہ کے حقوق غیرمالیہ اور زید کے حقوق مالیہ وغیر مالیہ جو کچھ معاف کنندہ زید خواہ ہندہ کے علم میں تھا وہ سب معاف ہوگیا اور جو علم میں نہ تھا مگرمعمولی حقوق سہل وآسان سے تھا کہ بالخصوص معلوم ہوتا تو معافی میں باك نہ ہوتا وہ بھی معاف ہوگیا اور جو اتنا کثیریاعظیم یا شدید تھا کہ اگرتفصیلا بتایاجائے توصاحب حق معاف نہ کرے ایسے عام مجمل لفظ میں ان حقوق کی معافی ہوجانا علماء میں مختلف فیہ ہے بعض بنظر ظاہر لفظ سب کی معافی مانتے ہیں اور بعض بالخصوص تفصیلا ان کابتاکر معافی مانگنا ضروری جانتے ہیں اول اوسع ہے اور ثانی احوط۔منح الروض الازہر میں ہے:
ھل یکفیہ ان یقول لك علی دین فاجعلنی فی حل ام لابد ان یعین مقدارہ ففی النوازل رجل لہ علی اخر دین۔وھو لایعلم بجمیع ذالك فقال لہ المدیون ابرئنی مما لك علی فقال الدائن ابرأتکفقال نصیر لایبرأ الا مقدار مایتوھم ای یظن انہ علیہ وقال محمد بن سلمۃ یبرأ عن الکلقال الفقیہ ابو اللیث حکم القضاء ماقالہ محمد بن سلمۃ وحکم الاخرۃ ماقالہ نصیروفی القنیۃ من علیہ کیامقروض کے لئے یہ کافی ہے کہ قرض خواہ سے کہے کہ مجھ پر تمہارا قرض ہے مجھے معاف کردے یاضروری ہے کہ قرض کی مقدار معین کرے نوازل میں ہے کہ ایك آدمی کا دوسرے پر قرض ہے اور اسے تمام قرض کاعلم نہیں مقروض اسے کہتا ہے کہ تومجھے اپنا قرض معاف کردےاس نے کہا میں نے تجھے معاف کردیا۔نصیر کہتے ہیں کہ اسی قدر معاف ہوگا جتنا کہ اس کے گمان میں تھامحمدبن سلمہ کہتے ہیں کہ تمام معاف ہوجائے گا۔فقیہ ابواللیث نے فرمایا:قاضی کافیصلہ وہی ہے جومحمدبن سلمہ کاقول ہےاور آخرت کا حکم وہ ہے جو نصیر نے فرمایاقنیہ میں ہے کہ جس شخص پر کسی کے
#4122 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
حقوق فاستحل صاحبھا ولم یفصلھا فجعلہ فی حل یعذر ان علم انہ فصلہ یجعلہ فی حل والا فلا قال بعضھم انہ حسن وان روی انہ یصیر فی حل مطلقاوفی الخلاصۃ رجل قال الاخر حللنی من کل حق ھو لك ففعل فابرأہ ان کان صاحب الحق عالما بہ برئ حکما بالاجماع واما دیانۃ فعند محمد رحمہ اﷲ تعالی لایبرأ عند ابی یوسف یبرأ علیہ الفتوی انتھیوفیہ انہ خلاف ما اختار ابوالیث ولعل قولہ مبنی علی التقوی ۱ھ مافی منح الروض۔اقول:وفی مخالفتہ لما اختار الفقیہ نظر فان الکلام ھھنا فی البراءۃ من الحقوق المجھولۃ لصاحبھا اصلا وثمہ فیما اذا ظن مقدارا وکان الواقع ازید وبینھما بون بین فان من کچھ حق ہوں وہ صاحب حق سے کہے کہ مجھے معاف کردے اور حقوق کی تفصیل نہ کرے صاحب حق اسے معاف کردے تو اگر یہ معلوم ہو کہ صاحب حق حقوق کی تفصیل کوجان کر بھی معاف کردے گا تو معاف ہوجائیں گے ورنہ نہیں۔بعض علماء نے فرمایا:یہ تفصیل عمدہ ہے۔یہ بھی روایت ہے کہ اسے بہرصورت حقوق معاف ہوجائیں گے۔خلاصہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کوکہا تم مجھے اپنا ہرحق معاف کر دواس نے معاف کردیااگر صاحب حق کو علم ہے پھر تو معافی مانگنے والا قضاء ودیانۃ(یعنی فیصلے کے اعتبار سے بھی اور عنداﷲبھی)بری ہوجائے گا اور اگر اسے علم نہیں تو بالاتفاق یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ بری ہوگیارہادیانۃ(عنداﷲ)تو امام محمد کے نزدیك بری نہیں ہوگا امام ابویوسف کے نزدیك بری ہوجائے گا اسی پرفتوی ہے انتہیاس میں اعتراض ہے کہ یہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہے ہوسکتاہے ان کا قول تقوی پرمبنی ہو۔منح الروض کاکلام ختم ہوا۔اقول:(میں کہتاہوں)کہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہونے میں کلام ہے کیونکہ خلاصہ میں اس بارے میں گفتگو ہے کہ ایك شخص کو حقوق کابالکل علم نہیں وہ انہیں معاف کردیتاہے اور فقیہ ابواللیث کی کلام اس میں ہے
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحث التوبہ وشرائطہا مصطفی البابی مصر ص۱۵۹
#4123 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
جعل فی حل مطلقا لم یرد خصوص مافی علمہ امامن جعل فی حل من حق معلوم لہ فانما یذھب ذھنہ الی قدر مافی علمہواﷲ تعالی اعلم۔ کہ ایك شخص کے گمان میں حقوق کی ایك مقدار جبکہ وہ در حقیقت زیادہ تھے اور ان دونوں صورتوں میں بہت بڑافرق ہے کیونکہ جو شخص مطلقا اپنے حقوق معاف کردیتاہے اس کا ارادہ یہ نہیں ہوتاکہ میں صرف وہ حقوق معاف کررہا ہوں جو میرے علم میں ہیں اور جوشخص کسی معین حق کو معاف کرتا ہے تو اس کا ذہن اسی طرف جاتاہے کہ جتنا مجھے علم ہے اسی قدرمعاف کررہاہوں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
نیزمنح الروض میں ہے:
ھل یکفیہ ان یقول اغتبتك فاجعلنی فی حل ام لابد ان یبین مااغتاب ففی منسك ابن العجمی لایعلمہ بھا ان علم ان اعلامہ یثیر فتنۃویدل علیہ ان الابراء عن الحقوق المجھولۃ جائز عندنا لکن سبق انہ ھل یکفیہ حکومۃ ودیانۃ ۱ھ مافی منح الروض اقول:و فی جریان الخلاف المذکور ھھنا نظر فان الغیبۃ لاتصیر من حقوق العبد مالم تبلغہ واذا بلغتہ لم تکن من الحقوق المجھولۃ وقد قال فی المنح نفسہ یانصہ قال الفقیہ ابواللیث کیایہ کافی ہے کہ ایك آدمی دوسرے سے کہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردویایہ ضروری ہے کہ یہ بھی بتائے کہ میں نے تمہاری یہ غیبت کی ہے۔ابن العجمی کے منسك میں ہے کہ اگریہ سمجھتاہے کہ غیبت کے تفصیلا بتانے سے فتنہ پیداہوگا تو اس کااظہار نہ کرےہمارے نزدیك نامعلوم حقوق کے معاف کرنے کاجواز اس پردلالت کرتاہے لیکن یہ بات گزرچکی ہے کہ آیا فیصلے کے اعتبار سے کافی ہے یا دیانت کے طور پر۱ھ(اعلحضرت قدس سرہفرماتے ہیں) اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہاں گزشتہ اختلاف کے جاری ہونے میں کلام ہے کیونکہ غیبت اس وقت تك بندے کاحق نہیں بنتی جب تك اسے نہ پہنچ جائےجب پہنچ جائے تونامعلوم حقوق میں سے نہ رہے گیخود منح الروض میں ہے کہ فقیہ ابو اللیث نے فرمایا:
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحث التوبۃ وشرائطہا مصطفی البابی مصر ص ۱۶۰
#4124 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
قد تکلم الناس فی توبۃ المغتابین ھل تجوز من غیر ان یستحل من صاحبہ قال بعضھم یجوز وقال بعضھم لایجوزوھو عندنا علی وجہین احدھما ان کان ذلك القول قد بلغ الی الذی اغتابہ فتوبتہ ان یستحل منہ وان لم یبلغ الیہ فلیستغفراﷲ سبحنہ ویضمران لایعود الی مثلہوفی روضۃ العلماء سألت ابامحمد رحمہ اﷲ تعالی فقلت لہ اذا تاب صاحب الغیبۃ قبل وصولہا الی المغتاب عنہ ھل تنفعہ توبۃ قال نعم فانہ تاب قبل ان یصیر الذنب ذنبا ای ذنبا یتعلق بہ حق العبد لانھا انہا تصیر ذنبا اذا بلغت الیہقلت فان بلغت الیہ بعد توبتہ قال لاتبطل توبتہ بل یغفراﷲ تعالی لھما جمیعا المغتاب بالتوبۃ والمغتاب عنہ بما یلحقہ من المشقۃلانہ تعالی کریم ولایجمل من کرمہ رد توبتہ بعد قبولھا بل یعفو عنہما جمیعا انتھی الخ۔ کہ غیبت کرنے والا صاحب غیبت(جس کی غیبت کی گئی)سے معافی مانگے بغیرتوبہ کرے تو توا س میں لوگوں نے مختلف باتیں کہی ہیںبعض نے کہا جائزہے اور بعض نے کہانا جائز ہے۔ ہمارے نزدیك اس کی دوصورتیں ہیں:
(۱)وہ بات اس شخص تك پہنچ گئی جس کی غیبت کی گئی تھی تو اس کی توبہ یہ ہے کہ اس شخص سے معافی مانگے۔
(۲)اور اگرغیبت اس شخص تك نہیں پہنچی تواﷲ تعالی سے مغفرت کی دعامانگے اوراپنے دل میں یہ عہد کرے کہ پھر غیبت نہیں کروں گا۔
روضۃ العماء میں ہے کہ میں نے ابومحمد رحمہ اﷲ تعالی سے پوچھا کہ اگرغیبت اس شخص تك نہیں پہنچی جس کی غیبت کی گئی تھی توغیبت کرنے والے کے لئے توبہ فائدہ مند ہوگی انہوں نے فرمایا:ہاں کیونکہ اس نے بندے کے حق کے متعلق ہونے سے پہلے توبہ کرلی ہےغیبت بندے کاحق اس وقت ہوگی جب اس تك پہنچ جائے گیمیں نے کہا کہ اگرتوبہ کے بعد اس شخص تك غیبت پہنچ جائے فرمایا کہ اس کی توبہ باطل نہیں ہوگی بلکہ اﷲ تعالی دونوں کو بخش دے گا غیبت کرنے والے کو توبہ کی وجہ سے اور جس کی غیبت کی گئی اسے اس تکلیف کی وجہ سے جو اسے غیبت سن کرہوئی ہے کیونکہ اﷲ تعالی کریم ہے اس کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ کسی کی تو بہ قبول فرماکر رد فرمابلکہ دونوں کو بخش دے گا انتہی الخ۔(ت)
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحث التوبۃ وشرائطہا مصطفی البابی مصر ص ۱۵۹
#4125 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالی لہ ایسے حقوق عظیمہ شدیدہ جن کی تفصیل بیان ہو تو صاحب حق سے معافی کی امید نہ ہو ظاہرا مجرد اجمالی الفاظ سے معاف نہ ہوسکیں کہ وہ دلالۃ مخصوص ہیں مگر اگر ان الفاظ سے معافی چاہی کہ "دنیا بھر میں سخت سے سخت جوحق متصور ہو وہ سب میرے لئے فرض کرکے معاف کردے" اور اس نے قبول کیا تو اب ظاہرا تمام حقوق بلاتفصیل بھی معاف ہوجائیں گے
للنص علی التعمیم مع التنصیص بالتخصیص علی کل حق شدید عظیم والصریح یفوق الدلالۃ کما نصوا علیہ فی غیرما مسألۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ کیونکہ اس نے کہہ دیاہے کہ مجھے ہرحق معاف کردے او رساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاہے کہ ہربڑے سے بڑا حق میرے بارے میں فرض کرکے معاف کردے اور تصریح دلالت پر فوقیت رکھتی ہے جیسے کہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے۔واﷲ سبحنہوتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد حقوق والدین کے استاد کے حقوق کس قدر ہیںجس استاد نے کچھ علم دینی اور دنیوی کی تعلیم حاصل کی ہو اور ان علوم کے فیضان سے منافع دنیاوی اس کو ونیز دینی حاصل ہوئے ہوں ایسے استاد کے کچھ حقوق از روئے آیہ شریفہ وحدیث صحیح سے بیان فرمائیے گا۔
الجواب:
عالمگیری میں نیز امام حافظ الدین کردری سے ہے:
قال الزند ولیستی حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء و ھو ان لا یفتتح بالکلام قبلہ ولایجلس مکانہ وان غاب ولا یرد علی کلامہ ولا یتقدم علیہ فی مشیہ ۔ یعنی فرمایا امام زندویستی نے کہ عالم کا حق جاہل اور استاد کاحق شاگرد پریکساں ہے اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت(عدم موجودگی)میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے۔
اسی میں غرائب سے ہے:
ینبغی لرجل ان یراعی حقوق استاذہ آدمی کوچاہئے کہ اپنے استاذ کے حقوق وآداب کا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الدعوٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۳۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۷۳
#4126 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وآدابہ لایضن بشیئ من مالہ ۔ لحاظ رکھے اپنے مال میں کسی چیزسے اس کے ساتھ بخل نہ کرے یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضرکرے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت جانے
اسی میں تاتارخانیہ سے ہے:
یقدم حق معلمہ علی حق ابویہ وسائر المسلمین و یتوضع لمن علمہ خیرا ولو حرفا ولاینبغی ان یخذلہ ولایساثر علیہ احد فان فعل ذلك فقد فصم عروۃ من عری الاسلام و من اجلالہ ان لایقرع بابہ بل ینتظر خروجہ ۱ھ مختصر۔
قال اﷲ تعالی: " ان الذین یغضون اصوتہم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی لہم مغفرۃ و اجر عظیم ﴿۳﴾ ان الذین ینادونک من وراء الحجرت اکثرہم لا یعقلون ﴿۴﴾" ۔ یعنی استاد کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھاعلم سکھایا اگرچہ ایك ہی طرف پڑھایا ہو اس کے لئے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہےاپنے استاد پر کسی کو ترجیح نہ دےاگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام کی رسیوں سے ایك رسی کھول دیاستاذ کی تعظیم یہ ہے کہ وہ اندر ہو اور یہ حاضر ہو تو اس کے دروازہ پرہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے اھ مختصرا۔
(اﷲ تعالی نے فرمایا)بیشك اے حبیب! جو لوگ حجروں سے باہرکھڑے ہوکر تمہیں بلاتے ہیں ان میں سے اکثر بیوقوف ہیں وہ صبرکرتے حتی کہ تم خود بخود باہرآجاتے تو ان کے لئے بہترتھا اﷲ تعالی بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
عالم دین ہرمسلمان کے حق میں عموما اور استاد علم دین اپنے شاگر کے حق میں خصوصا نائب حضور پرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہےہاں اگر کسی خلاف شرع بات کاحکم دے ہرگز نہ کرے۔
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۷۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷۹۔۳۷۸
القرآن الکریم ۴۹ /۴ و ۵
مسنداحمد بن حنبل بقیہ حدیث الحکم بن عمر والغفاری المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۶۶
#4127 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ناپسندیدہ چیز ناپسند عمل سے زائل نہیں ہوتی۔ت)نافرمانی احکام کاجواب اسی تقریر سے واضح ہوگیا اس کا وہ حکم کہ خلاف شرع ہو مستثنی کیاجائے گا بکمال عاجزی و زاری معذرت کرے اوربچے اورا گر اس کاحکم مباحات میں ہے تو حتی الوسع اس کی بجا آوری میں اپنی سعادت جانے اور نافرمانی کاحکم معلوم ہوچکا اس نے اسلام کی گرہوں سے ایك گرہ کھول دی۔علماء فرماتے ہیں جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذاپہنچے وہ علم کی برکت سے محرورم رہے گا اور اگر اس کے احکام واجبات شرعیہ ہیں جب تو ظاہر ہے کہ ان کالزوم اور زیادہ ہوگیا ان میں اس کی نافرمانی صریح راہ جہنم ہےوالعیاذباﷲواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۶:
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ درضلع ہزارہ از اضلاع پنجاب دستور آنچنانست کہ اہل علم وتقوی را در مساجد بہرامامت معین می کنند کہ ہم بمسجد نشینند واذان گویند و امامت نمایند وہرکہ ازطلبہ علم آید او را درس قرآن عظیم و علوم دینیہ دہند وچوں ایشاں را از اشتغال بحوائج خود ہا باز می دارند لاجرم تکفل معیشت آناں می کنند وحسب مقدور ہدایا و نذور بخدمت ایشاں می گزارند ہم بریں معمول مردے شریف النسب کبیرالسن عالم دین ورع متقی کہ از نسل پاك حضرات سادات ست بمسجدے از زمانہ دراز مقرر وکارہائے مذکورہ بحسن انتظام انجام میداد وطلبہ راقرآن وفقہ می آموخت مردے ازقوم گوجرکہ دریں دیار از اراذل واجلاف معدود شوند پیشہ آبادی ترك گرفتہ راہ تعلم پیش گرفت وبریں سیدقرآن خواند وکنز وقدوری وغیرہما کتب دینیہ نیزباز ہوائے فلسفہ درسرش کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ضلع ہزارہ میں رواج ہے کہ اہل علم وتقوی کو امامت کے لئے مقرر کرتے ہیں وہ مسجد میں رہتے ہیںاذان کہتے ہیں امامت کراتے ہیں اور جو طالب علم آئے اسے قرآن مجید اور علوم دینیہ پڑھاتے ہیںچونکہ وہ اپنی ضروریات پوراکرنے کی طرف توجہ نہیں دے سکتے اس لئے لوگ ان کی ضروریات پورا کرنے کا ذمہ لے لیتے ہیں اور حسب طاقت ہدیے اور نذرانے ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اسی طریقے پر ایك شخص شریف النسب معمرعالم دینمتقیپرہیزگار جو سادات کی نسل پاك سے ہے مدت سے ایك مسجد میں مقررتھا اور مذکورہ بالاکام اچھی طرح اداکرتاتھاطلباء کو قرآن مجید اور فقہ پڑھاتاتھا گوجر قوم (جو لوگ اس علاقہ میں کم مرتبہ شمار کئے جاتے ہیں)کے ایك آدمی نے اپنا آبائی پیشہ ترك کرکے علم حاصل کرنا شروع کردیا اور انہی سیدصاحب سے قرآن مجیدکنز وقدوری وغیرہ کتب دینیہ پڑھیں
#4128 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
جنبید وبربعضے مردمان چیزے ازطبیعیات والہیات آناں آنچناں کہ مقرر درس ہندیان ست خواند خود را عالمی کبیر گرفت وباستاذ اول کہ معلم علم دین بود بسرکشے برآمد و ازطمع او را معلوم کہ نصیب ائمہ می شود بروے ثابت شود از منصب امامت برآوردن وخود بجائے اوقیام کردن خواست وبربنائے حرفے چند کہ از علوم فلسفیہ آموختہ است خود را براں فقیہ فضل نہاد و اولی تربامامت وا نمود حالانکہ زنہار نہ درعلم دین ہمسنگ اوبود نہ در ورع وتقوی ہمرنگ او حتی کہ از حق استاذیش منکر شد ودر ابتدائ امرقرآن وغیرہ آموختن را وقعی نہ نہاد وموجب حقوق استاذی ندانست آیا ایں چنیں کس سزائے امامت است یانہو اگرباشد پس اولی بامامت آں سید ست یا ایں کس وبہرحال آیا رواباشد کہ آں پیر فقیہ شریف متقی رابے قصوری از منصب امامت برانداز واینکس رابحایش مقرر سازند ومعلوم ست کہ دریں اضلاع آنچنانکہ منصب امامت موجب اعزاز وکرامت ست ہمچناں درمعزولی ازاں تذلیل واہانت اگر کسے بورغلانیدن متصدی ایں کارشد شرعا خاطی وآثم بود یا نہ بینواتوجروا۔ پھر اسے فلسفے کاخبط(جنون سوار)ہواتو کچھ لوگوں نے طبعیات والہیات کاایك حصہ پڑھا جیسے کہ ہندوستان کے مدارس کا طریقہ ہے اور اپنے آپ کو بہت بڑا عالم سمجھنا شروع کردیا اور جس استاذ نے اسے علم دین پڑھایا تھا اس کامقابلہ شروع کر دیاتھا اور آمدنی کی لالچ میں استاد کو برطرف کرواکرخود اس کی جگہ مقرر ہونے کی کوشش شروع کردی اور فلسفے کے چند مسائل پڑھ لینے کی وجہ سے اس فقیہ پراپنی فضیلت بگھارنے لگا اور اپنے آپ کو امامت کا زیادہ حقدار دکھانے لگا حالانکہ نہ علم دین میں اس کے برابر ہے نہ تقوی وپرہیزگاری میںحتی کہ اس کے حق استاذی کاانکار کردیا اور ابتداء میں قرآن مجید وغیرہ پڑھنے کو کچھ اہمیت نہ دی اور نہ ہی اس بناء پر اس کے حق استاذی کو تسلیم کیاآیا ایساشخص امامت کے لائق ہے یانہیں اور اگرامامت کے لائق ہے توامامت کے لئے زیادہ بہتر وہ سید صاحب ہیں یایہ شخص بہرحال کیایہ جائزہے کہ اس معمر شریف(سید)فقیہ اور متقی کو بلاوجہ امامت سے ہٹادیں اور اس کی جگہ اس شخص کومقرر کردیںاور یہ واضح ہے کہ اس علاقے میں جس طرح کسی کوامامت کے لئے مقرر کرنے میں اس کی عزت ہے اسی طرح اسے امامت سے برطرف کرنے میں اس کی توہین اور بے عزتی ہے اگرکوئی شخص بہکانے پر اس کام کے درپے ہوجائے توشرعا گنہگار اور مجرم ہوگایا نہیں بیان فرمائیں اور اﷲ تعالی سے اجرپائیں۔(ت)
#4129 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب ہرکرا درکوچہ علم گزرے وبرفقہ وحدیث نظرے ست روشن تر از سپیدہ صبح می داند کہ آنکس بایں حرکات خودش داد ناحفاظیہا داد بوجوہ چنددرچند قدم از دائرہ شرع بیرون نہاد ویکے ناسپاسی اوستاذ کہ بلائیست بائل ودائست قائل وبرکات علم رامزیل ومبطل والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالی سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمودہ است لایشکراﷲ من لایشکر الناس خدائے را شکر نہ کند آنکہ مردمان راسپاس نیارد اخرجہ ابوداؤد و الترمذی وصححہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وفرمودہ است صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من لم یشکر الناس لم یشکراﷲ ہرکہ مردمان را شکرنہ کرد خدائے عزوجل راسپاس نیاورد اخرجہ احمد فی المسند والترمذی فی الجامع والضیاء فی المختارۃ بسند حسن عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ وعبداﷲ بن احمد فی زوائد المسند عن النعمان بن اے اﷲ! حق اورخالص صواب کی ہدایت فرما۔جسے کوچہ علم میں گزر اور فقہ وحدیث پرنظرہے وہ صبح کی سفیدی سے بھی واضح طور پرجانتاہے کہ اس شخص نے اپنی ان حرکتوں سے نالائقی کاحق اداکردیا ہے اور بے شمار وجوہ کی بناپر شریعت کے دائرے سے قدم باہر رکھ چکاہے:۱اول استاذ کی ناشکری جوکہ خوفناك بلااور تباہ کن بیماری ہے اور علم کی برکتوں کوختم کرنے والی(خداکی پناہ)دوجہان کے سردار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہے:وہ آدمی اﷲ تعالی کا شکربجانہیں لاتا جو لوگوں کا شکریہ ادانہیں کرتا(ابوداؤد وترمذی ازابوہریرہ) حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا لم یشکرالناس لم یشکر اﷲ جس نے لوگوں کاشکریہ ادانہیں کیا اس نے اﷲ تعالی کاشکرادا نہیں کیا۔اس حدیث کوامام احمد نے مسند میںامام ترمذی نے جامع میںضیا نے المختارہ میں سندحسن کے ساتھ ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور عبداﷲ بن احمد نے زوائد المسندمیں نعمان بن بشیر سے روایت کیا۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی شکرالمعروف آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۶،جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی الشکرالخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۷
جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی الشکرالخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۷،مسنداحمدبن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۲ و ۴/ ۲۷۸
#4130 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
بشیر رضی اﷲ تعالی عنہحق عزوجل فرماید:
" لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید ﴿۷﴾" ۔ ہرآئینہ اگرسپاس آرید بیشك بیفزایم وبیشتر بخشم شمار او اگر ناسپاسی ور زید پس بدرستیکہ عذاب من سخت ست وفرمود جلت عظمۃ " ان اللہ لا یحب کل مختال فخور ﴿۱۸﴾" بدرستیکہ خدائے دوست نمی دارد ہربسیار واغل سخت ناسپاس راوفرمود عزشانہ " و ہل نجزی الا الکفور ﴿۱۷﴾" ماکراسزامیدہم۔
وسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود من اولی معروفا فلم یجدلہ جزاء الاالثنا فقد شکرہ ومن کتمہ فقد کفر ہرکہ بادے احسانے کردہ شد واو را عوض نیافت جزآنکہ برائے محسن ثنائے نیك نمودہ پس بہ تحقیق کہ سپاس او نجا آورد وہرکہ پوشید پس بدرستیکہ کافر نعمت شد اخرجہ البخاری فی الادب المفرد وابوداؤد فی السنن و الترمذی فی الجامع وابن حبان فی التقاسیم و الانواع والمقدسی فی المختارۃ برواۃ ثقات عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما ولفظ ت من اثنی فقد شکر ومن کتم فقد کفر ۔ اﷲ تعالی فرماتاہے:لئن شکرتم لازیدنکم و لئن کفرتم ان عذابی لشدید o اگر تم نے شکر اداکیا تو بے شك میں تمہیں او رزیادہ دوں گا اور اگر ناشکری اختیارکرو گے تو(جان لوکہ)بیشك میراعذاب سخت ہے۔
نیزارشاد فرمایا: " ان اللہ لا یحب کل مختال فخور ﴿۱۸﴾"بے شك اﷲ تعالی ہراترانے والے اور فخرکرنے والے کوپسند نہیں فرماتا یہ بھی فرمایا: " و ہل نجزی الا الکفور ﴿۱۷﴾" ہم ناشکرے ہی کو بدلہ دیں گے۔سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:من اولی معروفا فلم یجد لہ جزاء الا الثناء فقد شکرہ و من کتمہ فقد کفر جس کے ساتھ نیکی کی گئی وہ سوائے تعریف کے محسن کے لئے کچھ نہ کرسکا تو اس نے اس کا شکریہ ادا کردیا اور جس نے اس احسان کو چھپایا وہ کافر نعمت(ناشکرا) ہوا۔(بخاری(ادب المفرد)ابو داؤد ترمذی ابن حبانمقدسی ازجابر بن عبداﷲ)۔
۲دوم استاذ کے حقوق کا انکار جو کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۴ /۷
القرآن الکریم ۳۱ /۱۸
القرآن الکریم ۳۴ /۱۷
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی شکرالمعروف آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۷،الترغیب والترہیب الترغیب فی شکر المعروف مصطفی البابی مصر ۲ /۷۷
جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۲۴
#4131 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
دوم انکار حقوقش کہ صریح خرق اجماع مسلمین بلکہ کافہ عقلاء ست وھذا غیرالکفران فانہ ترك العمل وھذاجحد الاصل کما لایخفی وتخصیصش بتلمذ ابتدائے سودش ندہد کہ اجماع مطلق است و درحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آمدہ من لم یشکر القلیل لم یشکرالکثیر ہرکہ اندك راشکر نہ کند بسیار راسپاس نیارد اخرجہ عبداﷲ بن الامام فی الزوائد باسناد لاباس بہ والبیھقی فی السنن عن نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہ وللحدیث تتمۃ وھو عند البیھقی اتم واوردہ ابن ابن الدنیا فی اصطناع المعروف مختصرا۔
سوم آنکہ ایں تحقیر نکوئے واحسان است کہ تعلیم ابتدائی رابجوئے تسنجید ومصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود لاتحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقی اخاك بوجہ طلیق زنہار ہیچ نکوئے راخوار مپندار اگرچہ ایں قدر کہ برادر خود را برائے کشادہ پیش آئی۔اخرجہ مسلم عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مسلمانوں بلکہ تمام عقل والوں کے اتفاق کے خلاف ہےیہ بات ناشکری سے جدا ہے کیونکہ ناشکری تویہ ہے کہ احسان کے بدلے کوئی نیکی نہ کی جائے اور انکار یہ ہے کہ سرے سے احسان ہی کو نہ ماناجائے اور یہ کہنا کہ استاذ نے تو مجھے صرف ابتداء میں پڑھایا تھا اس شخص کے لئے کچھ مفید نہیں کیونکہ اس بات پراتفاق ہے اور حدیث شریف"من لم یشکر القلیل لم یشکرالکثیر"جس نے تھوڑے احسان کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے زیادہ کابھی شکرنہیں کیا۔اس حدیث کو عبداﷲ بن امام نے زوائد میں باسناد(اس میں ہرج نہیں) روایت کیا۔اور امام بیہقی نے سنن میں نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اس حدیث کا تتمہ ہے کہ امام بیہقی کے نزدیك اتم ہے اس کو ابن ابی الدنیا نے اصطناع المعروف میں مختصر طوپر ذکرکیاہے۔
۳سوم اس شخص نے نیکی کو حقیرجانا اور ابتدائی تعلیم کے احسان کی کچھ قدر نہ کی۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: لاتحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقی اخاك بوجہ طلیق ہرگز کوئی شخص نیکی کو معمولی نہ سمجھے گو کہ اتنی ہو کہ تو اپنے بھائی کومسکراکر ملے۔اسے مسلم نے ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حوالہ / References مسند احمدبن حنبل عن نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۷۸ و ۳۷۵
شعب الایمان حدیث ۹۱۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۵۱۶
صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب استحباب طلاقۃ الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۹
#4132 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وفرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یانساء المسلمات لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو فرسن شاۃ اے زنان مسلماناں ہرگز خورد وخوارنہ پندارد ہیچ زن ہمسایہ مرزن ہمسایہ خودرایعنی ہدیہ وتصدق اگرچہ سم گوسپند باشد اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ودرحدیث دیگرآمدہ ولو بظلف محرق اگرچہ سم سوختہ بود وتخصیص زناں ازبہر آں ست کہ سخط وکفران در طبع ایشاں بیشتر ازمردان ست سبحن اﷲ مگر درا بتدائے کارتعلیم نصوح وتربیت روح کمتر وحقیر ترازسم سوختہ گوسپندست کہ اوراوقع ندرند وحقے نہ شمارند۔
چہارم آنکہ ایں حقیر راجعست والعیاذباﷲ تعالی بسوئے تحقیر قرآن ومختصرات فقہ کہ ہرکہ اینہا آموخت گویا ہیچ نیاموخت العظمۃ ﷲ اگر کار بالتزام کشیدی خود کفرقطعی بودے حالانکہ نہ ازاں کہ حرام اشدوخبث ابعد باشد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ علماء فرمود اند مردے صالح پسرش رامعلمی بمعلومے معین کرد ہمیں کہ فرزند سورہ فاتحہ آموخت پدر چارہزار دینار بشکر فرستاد معلم گفت ہنوز چہ دیدہ اند کہ آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:یانساء المسلمات لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو فرسن شاۃ اے مسلمان عورتو! کوئی عورت بھی اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے اگر چہ بکری کا سم ہی کیوں نہ ہو(بخاری ومسلم ازابوہریرہ)ایك اور حدیث میں ہے ولو بظلف محرق اگرچہ جلاہوا سم ہی ہو۔ عورتوں کو خاص طور پر اس لئے فرمایا کہ ناپسندیدگی اور نا شکری میں عورتیں مردوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔سبحان اﷲ! شاید اس شخص نے پرخلوص ابتدائی تعلیم اور روح کی پرورش کوجلے ہوئے سم سے بھی حقیر اور کم مرتبہ جانا کہ اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتا اور نہ ہی اس کاکوئی حق شمار ہوتا ہے۔
۴چہارم خد اکی پناہ استاذ کی ابتدائی تعلیم کو حقیر جاننا قرآن مجید اور فقہ کی مختصرکتابوں کی بے ادبی کی طرف راجع ہے گویا کہ جس نے انہیں پڑھا اس نے کچھ بھی نہیں پڑھا اگروہ شخص اسے لازم پکڑتا تو معاملہ یقینا کفر کی حد تك پہنچ جاتا اب بھی یہ بات شدید حرام اور بدترین خبیث ہے۔ہم اﷲ تعالی سے عفو وعافیت طلب کرتے ہیں۔علماء فرماتے ہیں ایك نیك آدمی نے اپنے لڑکے کو ایك استاد کے سپرد کیا ابھی لڑکے نے سورہ فاتحہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الھبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۹،صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی النفاق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱
سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب ردالسائل نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۳۵۸
#4133 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
اینہا بخشیدہ اند پدرگفت زیں باز پسرم رامعلم نباشی کہ عظمت قرآن در دل نداریوالعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالی۔
پنجم آنکہ باستاذ بمقابلہ برآمدواینہم زائد ناسپاسی ست زیرا کہ اوترك شکرست وایں ایتان خلاف الاتری ان من لم یذکر النعمۃ فقد کفرھا کما اثبتنا بالاحادیث ومن قابلھا باساءۃ فقد زاد وایں در رنگ عقوق باپدرست چراکہ اوستاذ را دروزان پدر نہادہ اند لہذا مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمودہ انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم۔ ہمیں ست کہ من شمارا بجائے پدرم علم می آموزم شمارا اخرجہ احمد والدارمی و ابو داؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔بلکہ علماء گفتہ اند حق استاذ را برحق والدین مقدم دارد کہ ازیشاں حیات بدن ست وایں سب حیات روح ست پڑھی تھی کہ باپ نے چارہزار دینارشکریے کے طور پر بھیجے استاد نے کہا ابھی آپ نے کیادیکھا ہے کہ اتنی مہربانی فرمائی باپ نے کہا اس کے بعد میرے لڑکے کو ہرگزنہ پڑھانا کہ تمہارے دل میں قرآن مجید کی عزت ہی نہیں ہے۔ والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالی۔
۵پنجم استاذ کامقابلہ کرنا یہ بھی ناشکری سے زائد ہے کیونکہ ناشکری تو یہ ہے کہ شکر نہ کیاجائے اور مقابلے کی صورت میں بجائے شکر کے اس کی مخالفت بھی ہے دیکھئے جو شخص احسان کو پیش نظر نہیں رکھتا اس نے احسان کی ناشکری کی ہے جیسے کہ ہم نے احادیث سے ثابت کیا جس نے احسان کے بدلے برائی کی اس لئے تو ناشکری سے بھی بڑا گناہ کیا اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے باپ کی نافرمانی کی جائے کیونکہ استاذ کو باپ کے برابر شمارکیاگیاہےاسی لئے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم میں تمہارے لئے باپ کی حیثیت رکھتاہوں میں تمہیں علم سکھاتا ہوں۔اسے امام احمددارمیابوداؤدنسائیابن ماجہ اور ابن حبان نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب کراھیۃ استقبال القبلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳،سنن النسائی باب النہی عن الاکتفاء فی استطابۃ باقل الخ نورمحمد کارخانہ کتب کراچی ۱ /۱۶،سنن ابن ماجہ باب الاستنجاء بالحجارۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۷
#4134 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
فی عین العلم یبرالوالدین فالعقوق من الکبائر یقدم حق المعلم علی حقھما فھو سبب حیوۃ الروح ھ ملخصا۔ علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالی درتیسیر شرح جامع صغیرمی آرد
من علم الناس ذاك خیر اب
ذاك ابوالروح لا ابوالنطف
وخود پیداست کہ شامت عقوق ازکجا تا کجا ست تا آنکہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورا درجنب اشراك باﷲ داشت واز سخت ترین کبائر انگاشت فقد اخرج الشیخان و الترمذی عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا انبئکم باکبر الکبائر ثلثا قلنا بلی یارسول اﷲ قال الاشراك باﷲ وعقوق الوالدین الحدیثوخود اگراحادیث ایں باب شمردن گیریم دفتری بالیست بلکہ علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کے حق کو والدین حق پرمقدم رکھناچاہئے کیونکہ والدین کے ذریعے بدن کی زندگی ہے اور استاذ روح کی زندگی کا سبب ہے۔عین العلم میں ہے:والدین کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے کیونکہ ان کی نافرمانی بہت بڑاگناہ ہے اور استاذ کے حق کو والدین کے حق پرمقدم رکھناچاہئے کیونکہ وہ روح کی زندگی کا ذریعہ ہے(ملخصا)علامہ مناوی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص لوگوں کو علم سکھائے وہ بہترین باپ ہے کیونکہ وہ بدن کا نہیں روح کاباپ ہےظاہرہے کہ نافرمانی کی شامت کہاں تك ہےحتی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے شرك کے پہلو میں شمارکیا اور بدترین کبیرہ گناہ خیال فرمایا۔امام بخاریمسلم اور ترمذی نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتادوںیہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی۔صحابہ نے عرض کی:فرمائیے۔آپ نے فرمایا: اﷲ تعالی کے ساتھ شرك کرنا
حوالہ / References عین العلم الباب الثامن امرت پریس لاہور ص۳۳۳ تا ۳۳۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث انما انا لکم بمنزلۃ الوالد مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۶۱
صحیح البخاری کتاب الشہادات باب ماقیل فی شہادۃ الزور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۶۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الکبائر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۴،جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ ۲ /۱۲،ابواب الشہادات ۲ /۵۴ امین کمپنی
#4135 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
املاکرد۔
ششم آنکہ ایں معنی باباق غلام از آقائے خودماناست طبرانی از ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ روایت دارد کہ مولائے عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود من علم عبدا ایۃ من کتاب اﷲ تعالی فھو مولاہ ہرکہ بندہ را آیتے ازکتاب خد عزوجل آموخت آقائے او شدوازامیرالمومنین سیدنا علی کرم اﷲ تعالی می آرند کہ فرمود من علمنی حرفا فقد صیرنی عبدا ان شاء باع وان شاء اعتق ہرکہ مراحرفے آموخت پس بہ تحقیق مرابندہ خود ساخت اگرخواہد فروشد واگرخواہد آزاد کندوامام شمس الدین سخاوی درمقاصد حسنہ از امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ بن الحجاج رحمہ اﷲ تعالی مے آرد کہ گفت من کتبت عنہ اربعۃ احادیث اوخمسۃ فانا عبدہ حتی اموت ہرکہ از وے چار یا پنج حدیث نوشتم بندہ اش شدم تاآنکہ بمیرم بلکہ در لفظ دگر گفت ماکتبت عن احد حدیثا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔اور اگر اس قسم کی حدیثیں گننا شروع کردی جائیں تو ان کے لئے دفتر درکاہوگا۔
۶ششم:یہ اسی طرح ہے جس طرح ایك غلام اپنے آقا سے بھاگ جائےطبرانی نے حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالی سے روایت کی کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں "من علم عبد ا ایۃ من کتاب اﷲ تعالی فھو مولاہ" جس نےکسی آدمی کو قرآن مجید کی ایك آیت پڑھائی وہ اس کا آقا ہے۔امیر المومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں من علمنی حرفا فقد صیرنی عبدا ان شاء باع وان شاء اعتق جس نے مجھے ایك حرف سکھایا اس نے مجھے اپنا غلا م بنا لیا چاہے تو مجھے بیچ دے اور چاہے تو آزاد کر دے۔امام شمس الدین سخاوی حدیث کے امیر المومنین شعبہ بن حجاج رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا"من کتبت عنہ اربعۃ احادیث او خمسۃ فانا عبدہ حتی اموت"جس سے میں نے چاریاپانچ حدیثیں لکھیں میں اس کاتاحیات غلام ہوں بلکہ انہوں نے فرمایا"ماکتبت عن احد حدیثا
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۷۵۲۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸ /۱۳۲

المقاصد الحسنۃ تحت حدیث ۱۱۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۴۲۱
#4136 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
الاوکنت لہ عبدا ماحیی یعنی ازہرکہ یك حدیث نوشتہ ام مدۃ العمر اورا بندہ ام۔وایں احادیث وروایات آں زعم باطل رانیز ازبیخ برمی کند کہ تعلیم ابتدائی راقد رے ندانست وخود معلوم ست کہ اباق ازمولی کبیرہ ایست عظمی تاآنکہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آبق راکافر گفتہ است کما رواہ مسلم عن جریر بن عبداﷲ البجلی رضی اﷲ تعالی عنہ و نا پذیراشدن نمازش دراحادیث کثیرہ واردست کحدیث مسلم عنہ وحدیث الترمذی عن ابی امامۃ و حدیث الطبرانی وابن خزیمۃ وابن حبان عن جابر و حدیث الحاکم والمعجمین الاوسط والصغیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والسردیطول۔
ھفتم خود رابراوستاذ فضل می نہد وایں خلاف مامورست اخرج الطبرانی فی الاوسط وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تعلموا العلم وتعلموا الاوکنت لہ عبدا ماحیی"جس سے میں نے ایك حدیث لکھی میں اس کاعمربھر غلام رہاہوں۔یہ حدیثیں اور روایتیں اس باطل خیال کو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہیں کہ ابتدائی تعلیم کی کیاقدر ہے اور واضح ہے کہ آقا سے بھاگ جانا بہت بڑاگناہ ہے حتی کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھاگنے والے غلام کو کافر فرمایا ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیابھاگنے والے غلام کی نمازوں کا نامقبول ہونا بہت سی حدیثوں میں وارد ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبداﷲ سے امام ترمذی نے ابوامامہ سے طبرانیابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت جابر سے حاکم معجم اوسط اور معجم صغیر نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی تمام روایات کے نقل کرنے سے طوالت پیداہوگی۔
۷ھفتم اپنے آپ کو استاذ سے افضل قرار دیتاہے اور یہ خلاف مامور ہے طبرانی نے اوسط میں اور ابن عدی نے کامل میں ابوہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں تعلموا العلم وتعلموا
حوالہ / References المقاصد الحسنۃ تحت حدیث ۱۱۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۲۱
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تسمیۃ العبد الآبق کافرًا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۸
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تسمیۃ العبد الآبق کافرًا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۸
#4137 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
للعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ علم آموزید وبہر علم سکون ومہابت آموز وپیش استاذ کہ شمارا تعلیم کردہ است تواضع وفروتنی ورزید بخردان سعادتمند اگربر اوستاذ چربندہم ازبرکت وفیض اوستاذ دانند وبیشتر ازپیشتر روئے برخاك پالیش مالند
ع کاخرای بادصبا ایں ہمہ آوردہ تست
وبیخرداں شریر دادند چوں سرپنجہ توانائی یابند برپدر پیر بسرہنگی شتابند وسراز خط فرمانش تابند زودبینی کہ چوں بہ پیری رسند کیفر کفران ازدست خود چشند کما تدین تدان ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
ھشتم آنکہ علماء فرمودہ اند ازحق اوستاذ برشاگرد آنست کہ برفراش او نہ نشیند اگرچہ اوستاذ حاضرنہ باشدفی ردالمحتار حاشیۃ الدرالمختار عن منح الغفار عن الفتاوی البزازیۃ عن الامام الزندویستی قال حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو ان لایفتح الکلام قبلہ ولایجلس مکانہ وان غاب للعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ علم سیکھو اور علم کے لئے ادب واحترام سیکھوجس استاذ نے تجھے علم سکھایا ہے اس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیارکرو عقلمند اور سعادت مند اگر استاذ سے بڑے بھی جائیں تو اسے استاذ کا فیض اور اس کی برکت سمجھتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ استاذ کے پاؤں کی مٹی پرسرملتے ہیں ع
آخر اے بادصبا! سب تیراہی احسان ہے
بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زورآزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظرآجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جز ااپنے ہاتھ سے چکھیں گےجیسا کرو گے ویسابھروگےاورآخرت کاعذاب سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔
۸ھشتم علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کا شاگرد پر یہ بھی حق ہے کہ استاذ کے بستر پر نہ بیٹھے اگرچہ استاذ موجود نہ ہودرمختار کے حاشیہ ردالمحتار میں منح الغفار سے انہوں نے فتاوی بزازیہ سے انہوں نے امام زندویستی سے نقل کیا کہ عالم کاحق جاہل پر اور استاذ کا حق شاگرد پربرابر ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اس کی جگہ نہ بیٹھے اگر چہ وہ موجود نہ ہو اور اس کی
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۶۱۸۰ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۱۰۵،الکامل لابن عدی ترجمہ عباد بن کثیر الثقفی دارالفکر بیروت ۴ /۱۶۴۲
#4138 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ولایرد علیہ کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ پس چگونہ روا باشد کہ اوستاذ را بزور ازمنصبش افگنند وخودبجایش برآمدہ لافہا زنند حالانکہ ازمجلس تا معاش واز منصب تافراش فرقے کہ ہست پیداست۔
نھم ہمچنیں فرمودہ اند کہ تلمیذ را در رفتن وسخن گفتن بر اوستاذ تقدم وسبقت نمی رسد کما سمعت انفا پس چساں گوارا آید کہ اورا بالجبر پسترنمایند وخودپیشی وبیشی گرفتہ برمنصہ امامت برآیند۔
دھم آنکہ سیدموصوف گو اوستاذ ایں کس مباش اما آخر مسلما نیست وایں کار کہ فلاں خواست بالبداہت موجب ایذائے اوست وایذائے مسلم بے وجہ شرعی حرام قطعی قال اﷲ ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾" آنانکہ آزار دہند مردان مومن وزنان مومنہ رابے جرم پس بہ تحقیق کہ بات کو رد نہ کرے اور چلنے میں اس سے آگے نہ ہولہذا کس طرح جائز ہوگا کہ استاذ کو طاقت کے ذریعے اس کے مرتبے سے گراکر خود اس کی جگہ بیٹھاجائے اور لافیں ماری جائیں حالانکہ بیٹھنے کی جگہ اور معاش میں اسی طرح بستر اورمرتبے میں واضح فرق ہے(یعنی جب استاذ کی جگہ اور اس کے بستر پربیٹھنا نہیں چاہئیے تو اس کے ذریعہ معاش اور مرتبے کو چھیننا کس طرح درست ہوگا)
۹نھم اسی طرح علماء نے فرمایا ہے کہ شاگرد کو بات کرنے اور چلنے میں استاذ سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے جیسے کہ ابھی گزرا پھر یہ کس طرح درست ہوگا کہ اوستاذ کو مجبور کرکے پیچھے ہٹادیاجائے اور خود منصب امامت سنبھال لیاجائے۔
۱۰دھم سید موصوف اگرچہ اس شخص کے استاذ نہ ہوں آخر مسلمان توہیں اور یہ کام جو اس شخص نے اختیارکیاہے واضح ہے اس میں سیدصاحب کی تکلیف ہے اور مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے اﷲ تعالی نے فرمایا: ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾"""وہ لوگ جوایماندار مردوں
حوالہ / References ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۸۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۸
#4139 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
بہتان وگناہ آشکارا برخود بردا شتند
سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماید من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ہرکہ مسلمانے را آزار داد مرا اذیت رسانید وہرکہ مرااذیت رساند حق تعالی را ایذا کرداے وہرکہ اوسبحانہ را ایذا کرد پس سرانجام ست کہ بگیرد او را اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسنوامام اجل رافعی ازسیدناعلی کرم اﷲ وجہہ روایت کرد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود لیس منا من غش مسلما اوضرہ اوماکرہ ازگروہ مانیست آنکہ بدغا بدی مسلمانے خواہد یاباوضررے رساند یا باوے بمکرپیش آید واحادیث دریں باب بسیاراست بحیث لامطمع فی الاستفتاء۔
یازدھم آنکہ ایں معنی موجب تذلیل آں مسلمان ست کما بین السائل ومصطفی فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اذل عندہ مؤمن فلم ینصرہ وھو یقدر علی ان ینصرہ اذلہ اﷲ علی رؤس الاشہاد یوم القیمۃ یعنی ہرکہ پیش او اور عورتوں کو بغیرکسی جرم کے تکلیف دیتے ہیں بے شك انہوں نے بہتان اور کھلاگناہ اپنے ذمے لے لیا۔
سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اﷲ تعالی کو تکلیف دی یعنی جس نے اﷲ تعالی کو تکلیف دی بالآخر اﷲ تعالی اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسندحسن روایت کیا۔وامام اجل رافعی نے سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کی مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ولیس منا من غش مسلما اوضرہ اوماکرہ یعنی وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکادے یاتکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکرکرےاس بارے میں بے شمار حدیثیں ہیں۔
۱۱یازدھم یہ بات اس مسلمان کی بے عزتی کاسبب ہے جیسے کہ سوال کرنے والے نے بیان کیا اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:من اذل عندہ مؤمن فلم ینصرہ وھو یقدر علی ان ینصرہ اذلہ اﷲ علی رؤس الاشہاد یوم القیامۃ یعنی جس شخص کے
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف ریاض ۴ /۳۷۳
التدوین فی اجناد قزوین باب الشین زیارات حرف ش بیروت ۳ /۸۷
#4140 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
تذلل مسلما نے کردہ شود واوباوصف قدرت قیام بنصرت ننماید حق جل وعلا او را روزقیامت برملا ذلیل ورسوا فرماید اخرجہ الامام احمد عن سھل بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن العظمۃ ﷲ چوں سکوت برتذلیل مسلم باعث چنیں عذاب مولم ست قیاس می باید کرد کہ خود بہ تذلیلش پرداختن ودر وجہ اعزازی کہ او را پیش مسلماناں ست بے وجہ رخنہ انداختن چہ قدرموجب عتاب وغضب رب الارباب باشد والعیاذباﷲ۔
دوازدھم آنکہ شناعت حسد خود نہ چنانست کہ محتاج بیان ست واگرہیچ نبودے جزآنکہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمودہ است لایجتمع فی جوف عبدالایمان والحسد بہم نشود دردل بندہ ایمان وحسد اخرجہ ابن حبان فی صحیحہ و من طریقہ البیھقی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔وفرمودہ است صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والحسد فان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب او قال سامنے کسی مسلمان کی بے عزتی کی جائے اور طاقت کے باوجود اس کی امداد نہ کرے تو قیامت کے دن اﷲ تعالی اسے برملا ذلیل ورسواکرے گا۔اسے امام احمدنے سہیل بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیاتمام عظمتیں اﷲتعالی کے لئے ہیں۔اندازہ کیاجاسکتاہے کہ مسلمان کی بے عزتی کو دیکھ کر خاموش رہنا ایسے عذاب کاباعث ہے تو خود اسے ذلیل کرنے کے درپے ہونا اور جس مرتبہ کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے نزدیك عزت حاصل ہو اس میں رخنہ اندازی کی کوشش کرنا کس قدرعذاب اور اﷲ تعالی کے غضب کاسبب ہوگا۔
۱۲دوازدھم حسد(یہ کوشش کرنا کہ کسی کامرتبہ چھن جائے) کی برائی محتاج بیان نہیں۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لایجتمع فی جوف عبدالایمان والحسد آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔اس ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ایاکم والحسد فان الحسد یاکل الحسنات کماتاکل النار الحطب وقال
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل عن سہل بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۸۷
مواردالظماٰن کتاب الجہاد حدیث ۱۵۹۷ المطبعۃ السلفیہ ص۳۸۵،شعب الایمان حدیث ۶۶۰۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵/ ۲۶۷
#4141 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
العشب دور باشید ازحسد کہ می خورد حسنات راچنانکہ میخورد آتش ہیزم رایا فرمود گیاہ را۔اخرجہ ابوداؤد والبیہقی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہوابن ماجۃ وغیرہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظہ الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب الحدیث۔ودرمسند الفردوس ازمعاویہ بن حیدہ رضی اﷲ تعالی عنہ مرویست کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی عنہ فرمود الحسد یفسد الایمان کما یفسد الصبر العسل حسدتباہ می کند ایمان راچنانکہ تباہ میکند صبر شہد راوصبر بفتح صاد کسر باء عصارہ درختیست بہ تلخی معروف بازحسد نیست جزآنکہ از کسے زوال نعمتی خواہند کما عرفہ بذلك العلماء پس بخودی خودقیام بازالہ آں نمودن پیداست کہ وبال ونکالش تابکجا رسیدنی ست۔
سیزدھم آنکہ شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بکمال رحمت وعنایتے کہ برحال مسلمانان دارد روا نداشتہ است کہ خطبہ برخطبہ مسلمانے کنند یاسوم برسوم وے نمایند العشب حسد سے دور رہو کیونکہ حسدنیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طر ح آگ ایندھن کویافرمایا گھاس کوکھا جاتی ہے(ابوداؤد وبیہقی از ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ابن ماجہ وغیرہ از انس رضی اﷲ تعالی عنہما)۔
مسند الفردوس میں معاویہ ابن حیدہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: الحسد یفسدالایمان کما یفسد الصبرالعسل حسدایمان کواسی طرح تباہ کردیتاہے جس طرح صبر شہد کوتباہ کردیتا ہے۔صبرصاد پرفتحہ اورباء کے نیچے کسرہ ایك درخت کا انتہائی کڑوا نچوڑہے پھر حسد اسے کہتے ہیں کہ کسی کی نعمت کے چھن جانے کی آرزو کی جائے جیسے کہ علماء نے حسد کی تعریف کی ہےپھر کسی کی نعمت کوختم کرکے خود اس کی جگہ پہنچنے کی خواہش کاوبال کہاں تك ہوگا۔
۱۳سیزدھم نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کومسلمانوں کے ساتھ بےحد شفقت ہے اس کے باوجود آپ نے اس بات کو جائز نہ رکھا کہ ایك مسلمان نے کسی عورت کونکاح کاپیغام
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الحسد آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۱۶،شعب الایمان حدیث ۶۶۰۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۲۶۶
سنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب الحسد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۰
کشف الخفاء بحوالہ الدیلمی عن معاویۃ بن حیدہ حدیث ۱۱۲۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۱۷
#4142 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
اخرج الائمۃ احمد والشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ ولایسوم علی سومہ ۔وفی الباب عن عقبۃ بن عامر وعن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم یعنی یکے می خردوبائع ومشتری برچیزے تراضی کردہ اند دیگرے آیدوبہا افزاید وخودببر دیا یکے مرد زنے را خواستگاری کردہ است ورائے برتزویج قرار بگرفتہ دیگرے برخیزد وسببے انگیزد ومخطوبہ اورابحبالہ خود کشید ایں ھمہ ممنوع ونارواست حالانکہ دریں صورتہا محض قرار داد ست نہ حصول پس چساں حلال باشد کہ برمسلمانے دست تعدی دراز نمایند وازوے نعمت موجودہ حاصلہ بربایند ایں خودستم صریح است ومصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود الظلم ظلمۃ یوم القیمۃ ستم تاریکیہاست روز قیامت اخرجہ البخاری ومسلم دے رکھا ہو تو دوسرا بھی دے دے یا ایك آدمی سوداکررہاہو دوسرابھی سودا کرنے لگ جائے(امام احمدبخاری ومسلم از ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ)حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ ولایسوم علی سومہ۔اس سلسلہ میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھی روایت ہے یعنی ایك آدمی کوئی چیز خرید رہاہے خریدار اور فروخت کنندہ دونوں راضی ہوچکے ہیں ایك اور آدمی زیادہ قیمت دے کر وہ چیزلے جاتاہے یا ایك مرد نے کسی عورت کو نکاح کاپیغام دے رکھاہے اور دونوں رضا مند ہوچکے ہیں ایك اور آدمی کسی طریقے سے اس عورت کے ساتھ نکاح کرلیتاہے یہ سب ناجائزاور ممنوع ہے حالانکہ ان صورتوں میں صرف رضامندی تھی کچھ حاصل نہ ہواتھا جب یہ ناجائز ہے تو یہ کس طرح جائزہوگا کہ کسی کو ایك نعمت حاصل ہو اور اس پرزیادتی کرکے اس نعمت کو چھین لیا جائےیہ صریح ظلم ہے۔نبی اکرم
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب البیوع ۱ /۲۸۷ و کتاب الشروط ۱ /۳۷۶ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵۳،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامیۃ بیروت ۲ /۵۰۸ و ۵۲۹
صحیح البخاری ابواب المظالم باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱،جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء فی الظلم امین کمپنی دہلی ۲ /۲۴
#4143 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
والترمذی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما وبسندہ است قول او سبحنہ وتعالی" الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" ۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
چہاردھم آنکہ ایں مسلمان کہ باوے ایں چنیں بدیہا میرود بالخصوص پیروکبیر السن ست وسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود لیس منا من لم یرحم صغیرنا ویعرف شرف کبیرنا از مانیست ہرکہ مہر نکند برخورد ما وبزرگی نشناسد بہرکلاں مااخرجہ احمد والترمذی والحاکم عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنھما بسند حسن بل صحیح وفرمودے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا یعنی بر روش مانیست ہرکہ برخوردان رحم ومرپیراں راتوقیر نکند اخرجہ الاولان صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:الظلم ظلمت یوم القیمۃ ظلم قیامت کے روز کئی اندھیروں کے برابر ہوگا (بخاریمسلم ترمذی از ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما)اس کے لئے اﷲ تعالی کایہ فرمان کافی ہے " " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ ظالموں پرخدا کی لعنت۔والعیاذباﷲ تعالی۔
۱۴چہاردھم خاص طور پر یہ برائیاں جس مسلمان کے ساتھ کی جارہی ہیں بوڑھا اور معمرہےسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لیس منا من لم یرحم صغیرنا ویعرف شرف کبیرنا وہ ہم میں سے نہیں جو بچوں پرمہربانی نہیں کرتا اور بزرگوں کی عزت کونہیں پہچانتا(امام احمدترمذیحاکم از عبداﷲ بن عمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہما)یہ بھی فرمایا: لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا وہ شخص ہمارے طریقے پرنہیں جو بچوں پرمہربانی نہیں کرتا اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا(امام احمدترمذی
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
مسنداحمد بن حنبل عن عمروبن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۸۵ و ۲۲۲،جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴المستدرك للحاکم کتاب الایمان دارالفکر بیروت ۱ /۶۲
#4144 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما و اسنادہ حسن وبنحوہ للطبرانی فی العجم الکبیر عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ عنہ وفرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یعرف حق کبیرنا ولیس منا من غشنا ولایکون المؤمن مؤمنا حتی یحب للمؤمنین مایحب لنفسہ یعنی ازمانیست ہرکہ برخورد سالاں شفقت ومرسال خورداں راحق نشناسد ونہ آنکہ مومناں راخیانت کند ومسلمان مسلماں نمی شود تا آنکہ ہمہ مومنین راہماں خواہد کہ ازبہرجان خود میخواہد اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن ضمیرہ رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان من اجلال اﷲ تعالی اکرام الشیبۃ المسلم الحدیثازتعظیم خداست بزرگ داشتن مسلمان سپید موی اخرجہ ابوداؤد عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
پانزدھم آنکہ پیربالتخصیص علم دینی دارد وباعلما بد بودن وبدی نمودن وابن حبان از ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما وطبرانی از واثلہ بن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ)یہ بھی فرمایا:لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یعرف حق کبیرنا ولیس منا من غشنا ولایکون المؤمن مؤمنا حتی یحب المؤمنین ما یحب لنفسہ وہ ہم میں سے نہیں جو بچوں پرشفقت نہیں کرتا او ربڑوں کاحق نہیں پہچانتا اور وہ شخص جومومنوں کے ساتھ خیانت کرتاہے اور آدمی اس وقت تك مسلمان نہیں ہو سکتا جب تك دوسروں کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے(طبرانی ازضمیرہ رضی اﷲ تعالی عنہ)نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ان من اجلال اﷲ تعالی اکرام ذی الشیبۃ المسلم اﷲ تعالی کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ سفیدبالوں والے مسلمان کی عزت کی جائے۔(ابوداؤد از ابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ)
۱۵پانزدھم وہ معمر بالخصوص علم دین سے بہرورہے اور علماء کے ساتھ براہونا اور ان کے
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان امین کمپنی دہلی ۲ /۱۴،مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۵۷،المعجم الکبیر حدیث ۱۲۲۷۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۴۴۹
المعجم الکبیر عن ضمرہ بن ابی ضمرۃ حدیث ۸۱۵۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۳۰۹
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۹
#4145 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
نچنداں برست کہ بگفتن آیدسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماید لیس من امتی من لم یجل کبیرنا ویرحم صغیرنا ویعرف لعالمنا حقہ از امت من نیست آنکہ تعظیم نکند بزرگ مارا وشفقت ننماید خورد مارا وحق نشناسد عالم مارا اخرجہ احمد فی المسند والحاکم فی المستدرك و الطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسنوفرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثلثۃ لایستخف بحقھم الا منافق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام متقسط سہ کساند کہ سبك نگیرد حق ایشاں را مگرمنافق یکے آنکہ دراسلام مویش سپیدشددوم عالمسوم پادشاہ عادل اخرجہ الطبرانی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بطریق حسنھا الترمذی لغیر ھذا المتن۔
شانزدھم آنکہ ایں ذی علم بالخصوص سیدست وتعظیم ایں نسل طاہر ونسب فاخر از اہم واجبات وایذائے آناں و بدخواہی ایشاں ازاشد موبقات درحدیث ابوالشیخ ساتھ برائی کرنا اتنابرا ہے کہ بیان نہیں کیاجاسکتا سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس من امتی من لم یجل کبیرنا ویرحم صغیرنا ویعرف لعالمنا حقہ وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا او رہمارے بچے پرمہربانی نہیں کرتا اور ہمارے عالم کاحق نہیں پہچانتا(امام احمدحاکمطبرانی فی الکبیر ازعبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ)نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق ذوالشیبۃ فی الاسلام و ذوالعلم وامام متقسط تین شخص ہیں جن کے حق کو صرف منافق خفیف سمجھتاہے(۱)وہ مسلمان جس کے بال سفید ہوچکے ہوں(۲)عالم(۳)عادل بادشاہ(طبرانی نے اس حدیث کو ایسی سند سے روایت کیاجسے امام ترمذی نے ایك اور حدیث روایت کرتے ہوئے حسن قراردیا)
۱۶شانزدھم بالخصوص وہ عالم سید ہیں او ران کی دشمنی سخت ہلاکت کاسبب ہے ابوالشیخ ابن حبان اور دیلمی کی روایت میں ہے:من لم یعرف حق عترتی والانصار
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل عن عبادہ بن الصامت المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۳۲۳،الترغیب والترہیب بحوالہ احمدوالطبرانی والحاکم الترغیب فی اکرام العلماء المصطفٰی البابی مصر ۱ /۱۱۴
المعجم الکبیر عن ابی امامۃ حدیث ۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸ /۳۳۸
#4146 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ابن حبان ودیلمی آمدہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود من لم یعرف حق عترتی و الانصار والعرب فھم لاحدی ثلث اما منافق واما ولد زانیۃ واما امرؤ حملت بہ امہ لغیر طھر ۔ہرکہ نشناسد حق آل من وحق انصار واہل عرب آن بہریکے از سہ وجہ است یامنافق ست یاچہ زنا یامردی کہ ماد رش باودر ایام بے نیای بارور شدہ است۔واخرج ابن عساکر وابونعیم عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ ایضا یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اذی شعرۃ منی فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ زاد ابونعیم فعلیہ لعنۃ اﷲ ملء السماء وملءالارض یعنی سید عالم فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرکہ از من موئ(یعنی ادنی متعلقے)را ایذا داد پس بہ تحقیق مرا آزار رسانید وہرکہ مرا آزار رسانید پس بدرستی کہ حق عزوجل را اذیت کرد پس برونفرین خداست بپری آسمان وبپری زمین واحادیث درجلال عترت طاھرہ وتاکید حقوق آنہا خیمہ بسرحد تواتر زدہ استو والعرب فھم لاحدی ثلث اما منافق واما ولد زانیۃ واما امرؤ حملت بہ امہ لغیر طھر جوشخص میری آلانصار اور اہل عرب کاحق نہیں پہچانتا وہ یا تومنافق ہے یاحرامزادہیا اس عورت کا بچہ ہے جوبے نمازی کے دنوں میں حاملہ ہوئی ہو۔ابن عساکر اور ابونعیم نے حضرت امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں من اذی شورۃ منی فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲزاد ابو نعیم فعلیہ لعنۃ اﷲ ملء السماء وملء الارض یعنی سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے میرے ایك بال(یعنی معمولی سا تعلق رکھنے) کو تکلیف دی بے شك اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اﷲ کو تکلیف دی اس پر زمین وآسمان کے بھرنے کے برابر خدا کی لعنتآل پاك کی عترت اور ان کے حقوق کی تاکید کے متعلق حدیثیں حد تواتر کو
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۵۹۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۶۲۶
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی بن ابی طالب حدیث ۳۴۱۵۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۹۵
کنزالعمال بحوالہ کر وابن المغفل حدیث ۳۵۳۵۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۳۴۹
#4147 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
باﷲ التوفیق۔
ھفدھم آنکہ چوں سیدموصوف حسب تصریح سائل ہم بعلم وہم بتقوی وہم بسن دہم بنسب اجل وافضل ست مستحق بکرامت امامت وتعظیم تقدیم ہموں است کہ ایں ہرچہار از وجوہ احقیت ست کما صرح بہ فی تنویر الابصار وغیرہ عامۃ الاسفار پس منازعتش باوے صراحۃ برخلاف حکم شرع ست " و من یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ " ۔
ھژدھم آنکہ ایں کس میخواہد کہ علم خود را ذریعہ تحصیل دنیا کند ودرحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آمدہ است من اکل بالعلم طمس اﷲ علی وجھہ و ردہ علی عقبیہ وکانت النار اولی بہ یعنی ہرکہ علم راذریعہ جلب مال نماید حق عزوجل روئے اورامسخ فرماید واو را برہردو پاشنہ اش بازگرداند وآتش دوزخ باوسزاوارتر باشد اخرجہ الشیرازی فی الالقاب عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ودر حدیث دیگر ست کہ فرمود صلی اﷲ پہنچی ہوئی ہیں وباﷲ التوفیق۔
ھفدھم جب سیدصاحب موصوف سائل کے کہنے کے مطابق علم وتقوی عمراورنسب میں اعلی اورافضل ہیں تو وہی امامت کی عزت وتعظیم کے لائق ہے اور یہ چاروں باتیں امامت کے زیادہ حقدار ہونے کاسبب ہیں جیسے کہ تنویرالابصار وغیرہ فقہ کی بڑی بڑی کتابوں میں تصریح ہے پس ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا شریعت کے حکم کے خلاف ہے اور جو اﷲ تعالی کی قائم کی ہوئی حدوں سے پھاند گیا اس نے اپنے اوپرظلم کیا۔
۱۸ھژدھم یہ شخص چاہتاہے کہ اپنے علم کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث شریف میں ہے:من اکل بالعلم طمس اﷲ وجہہ وردہ علی عقبیہ وکانت النار اولی بہ جو شخص علم کودنیاکمانے کاذریعہ بناتا ہے اﷲ تعالی اس کے چہرے کو بگاڑ دے گا اور اسے اس کی ایڑیوں پر واپس لوٹادے گا اور دوزخ کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے(شیرازی نے القاب میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی)۔دوسری حدیث میں ہے نبی کریم صلی اﷲ
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۵ /۱
کنزالعمال بحوالہ شیرازی فی الالقات حدیث ۲۹۰۳۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰ /۱۹۶
#4148 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
تعالی علیہ وسلم ومن ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زھدا لم یزدد من اﷲ الا بعدا ہرکہ در علم افزود ودر دنیا بے رغبتی نیفزود ازخدا نیفزود مگردوری اخرجہ الدیلمی عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ واحادیث دریں باب بسیارست۔
نوزدھم آنکہ حرفے چند از فلسفہ مزخرفہ آموختن واندك فضلہ ازکفار سفسطہ بگدیہ اندوختن پیش او گرامی کاریست بدیع و منیع باعث فخر وشرف رفیع کہ بربنایش خود را ازاں سید فقیہ افضل واولی تربامامت می انگارد حالانکہ ایں علوم فلاسفہ اعنی طبیعیات والہیات آنہا کہ مملو ومشحون ست ازضلالات شنیعہ وبطالات فظیعہ تا آنکہ دروے انبارہا ست ازکفر وشرك وانکار ضروریات دین وخروارہا از مضادت قرآن ومحادت فرمان انبیاء ومرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعینوقد فصلنا بعضھا عنقریب فی رسالتنا سمیناھا"مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید"اقمنا فیھا الطامۃ الکبری علی المتھورین من متفلسفی الزمان وباﷲ التوفیق و تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:من ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زھدا لم یزد من اﷲ الا بعدا جس شخص نے علم زیادہ حاصل کیالیکن دنیا سے بے رغبتی زیادہ نہ ہوئی اسے اﷲ تعالی سے دوری کے سوا کچھ نہ ملا(دیلمی ازحضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ)اس بارے میں بے شمار حدیثیں وارد ہیں۔
۱۹نوزدھم وہ شخص جس کے نزدیك ملمع شدہ فلسفہ سیکھنا اور کافروں کی بیہودگی کے باقیماندہ حصے کو گداگری کے ذریعے جمع کرنا بہت بڑاکام ہے اور فخرو ناز کاباعث ہے جس کی بناپر اپنے آپ کو اس سید فقیہ سے امامت کے زیادہ لائق سمجھتاہے حالانکہ فلسفیوں کے یہ علوم یعنی طبیعیات اور الہیات جو بد ترین گمراہیوں سے پرہیں حتی کہ ان میں کفرو شرك اور ضرورت دین کے انکار کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں اور بہت سی باتیں قرآن مجید اور انبیاء ومرسلین کے ارشادات کے مخالف ہیں جیسا کہ ہم نے بعض باتوں کی تفصیل اپنے رسالے "مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید"(جدید منطق کے منہ پرلوہے کے گرز)میں کی ہے ہم نے اس میں اس زمانے کے فلسفے کے دعویداروں پرقیامت قائم کردی ہے ان
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب عن علی حدیث ۵۸۸۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۶۰۲
#4149 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
علیہ التکلان قطعا ازعلوم محرمہ است فی الدر المختار اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین(الی ان قال)وحراما وھو علم الفلسفۃ والشعبدۃ و التنجیم والرمل وعلوم الطباعین والسحر ۔وعلامہ زین بن نجیم مصری رحمہ اﷲ تعالی دراشباہ والنظائر فرماید العلم قدیکون حراما وھو علم الفلسفۃ الخ علامہ ابن حجر مکی رحمہ اﷲ تعالی درفتاوی خودش فرمود ماکان منہ (ای من الطبیعی)علی طریق الفلاسفۃ حرام ۔ وبہمدران ست اما الاشتغال بالفلسفۃ والمنطق فقد افتی بتحریمہ ابن الصلاح وشنع علی المشتغل بھما واطال فی ذلك ویجب علی الامام اخراج اھلھما من مدارس الاسلام وسجنھم وکف شرھم قال وان زعم انہ غیر معتقد لعقائدھم فان حالہ یکذبہ ببیں چساں روشن وسپید میگوید کہ فلسفہ حرام ست وبربادشاہ اسلام واجب کہ اہل آں را از مدارس اسلام بیروں کند وزنداں فرماید تاشرآنہا علوم کا(بغیرتردیدکے)پڑھنا قطعا حرام ہے درمختارمیں ہے: بیشك علم کاپڑھنا فرض عین ہےیہاں تك کہ انہوں نے فرمایا اور کبھی علم کاپڑھنا حرام ہوتاہے جیسے کہ علم فلسفہشعبدہ نجومرملحکمتطبعیہ اور جادو۔علامہ زین بن نجیم مصری رحمہ اﷲ تعالی اشباہ والنظائر میں فرماتے ہیں:علم کاپڑھنا کبھی حرام ہوتاہے جیسے کہ فلسفہعلامہ ابن حجر مکی رحمہ اﷲ تعالی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:حکمۃ طبعیہ کاجوحصہ فلاسفہ کے طریقے پرہو اس کاپڑھنا حرام ہےاسی میں ہے:ابن صلاح نے فلسفے اور منطق کی حرمت کافتوی دیا اور انہیں پڑھنے والے پر سخت طعن وتشنیع کی اور اس بارے میں طویل گفتگو کی بادشاہ اسلام پر واجب ہے کہ ایسے لوگوں کواسلامی مدارس سے نکال کرقید کردے اور ان کے شر کے دروازے کوبند کردے اگرچہ ان کاخیال یہ ہوکہ ہم فلاسفہ کے عقائد کے قائل نہیں کیونکہ ان کی حالت خود انہیں جھٹلارہی ہے اگرفلاسفہ کے عقائد کوپسند نہیں کرتا توفلسفے کاپابند کیوں ہے کبھی ایسابھی دیکھا ہے کہ انسان
حوالہ / References درمختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶
الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۲۵۸
فتاوٰی حدیثیہ مطلب یجوز علم التنجیم مطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۳۵
الفتاوٰی الفقہیۃ باب الاستنجاء دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰
#4150 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
بمسلماناں نرسد ومرد متفلسف کہ دریں جہالات مسمی بعلم توغل دارد وعمر می گزارد اگردعوی کند کہ من بدل عقائد آنہا راجائے ندادہ ام خود حال اوبہر تکذیب اوبسند ست کہ اگر نہ پسند ست چراپائے بندست ہیچ دیدہ انساں ہرچیزے راکہ دشمن دارد باختیار خود باوے عمرگزارد وشبہا باوے سحرکند ومدتہا چنگ بدامنش زند وبحصولش غلغلہ تفاخر افگند وکلہ گو شہا بر آسمان شکند حاش ﷲ ایں ہمہ علامات رضاوایثارست ورنہ با دشمن ساعتی بسربردن شوار ست یاغراب البین لیت بینی و بینك بعد المشرقین ایں ست تقریرکلامش برحسب مرامش رحمہ اﷲ تعالی وماذکرہ فی الفلسفۃ صحیح و من ثم قال الاوزاعی رحمہ اﷲ تعالی تحریمھا ھو الصحیح الصواب واما ما ذکرہ فی المنطق الفلاسفۃ ھو الذی یحرم الاشتغال بہ ویدل لذلك قولہ کف شرھم وقولہ ومعتقد لعقائدھم ھ ملتقطا وفیہ طول کثیر۔
فقیرمیگویم واﷲ سبحنہ یغفرلی از اول دلیل برتحریم وتفلسف وتقبیح حالش حدیثی ست کہ امام عبدالرحمان دارمی درسنن خودش ازسیدنا ایك چیز کو ناپسند رکھنا جوپھر اپنی مرضی سے اپنی تمام عمر اس میں صرف کردےراتیں اس کے پیچھے گزاردے اور مدتوں اس کے ساتھ وابستہ رہے اور اس کے حاصل کرنے پرفخر کرے ہرگز نہیںیہ سب پسندیدگی کی علامتیں ہیں ورنہ دشمن کے ساتھ ایك لحظہ گزارنا بھی مشکل ہوتاہے جدائی کے کوسے(دین سے دورکرنے والے)کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اورمغرب کافاصلہ ہوتاعلامہ نے فلسفہ کے متعلق جوفرمایا وہ صحیح ہے اسی لیے امام اوزاعی نے فرمایا فلسفے کاحرام ہونادرست ہے۔رہامنطق کامسئلہ توفلاسفہ کامنطق پڑھنا حرامعلامہ کاکلام خود اس طرف اشارہ کررہی ہے (کیونکہ ان کے منطق میں ان کے مذہب کے مطابق مثالیں درج ہوتی تھیں کچھ دورنہیں تھا کہ ان کے باربار تکرار سے ذہن میں بیٹھ جائیں ۱۲)



فقیرکہتاہے کہ فلسفے کے حرام ہونے اور ا س کے برائی کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام ابوعبدالرحمان دارمی نے سنن میں سیدنا جابر
حوالہ / References الفتاوٰی الفقہیۃ باب الاستنجاء دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰
#4151 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما روایت کردہ ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بنسخۃ من التورۃ فقال یا رسول اﷲ ھذہ نسخۃ من التورۃ فسکت فجعل یقرأ و وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتغیر فقال ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ ثکلتك الثواکل ماتری مابوجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فنظر عمر الی وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اعوذ باﷲ من غضب اﷲ وغضب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رضینا باﷲ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبیا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والذی نفس محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ لوبدا لکم موسی فاتبعتموہ وترکتمونیلضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیا وادرك نبوتی لاتبعنی ۔یعنی عمررضی اﷲ تعالی عنہ پیش سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نسخہ ازتوریت آورد وعرضداشت کہ یارسول اﷲ ایں نسخہ ایست ازتوریت سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ:ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بنسخۃ من التورۃ فقال یارسول اﷲ ھذہ نسخۃ من التورۃ فسکت فجعل یقرأ و وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتغیر فقال ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ ثکلتك الثواکل ماتری مابوجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فنظر عمر الی وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اعوذ باﷲ من غضب اﷲ وغضب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رضینا باﷲ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبیا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والذی نفس محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ لوبدا لکم موسی فاتبعتموہ ترکتمونیلضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیا وادرك نبوتی لاتبعنی۔ یعنی عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں توراۃ کا ایك نسخہ لائے اور عرض کی: یارسول اﷲ ! یہ توراۃ کاایك نسخہ ہے۔سیدعالم صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References سنن الدارمی باب مایتقی من تفسیر حدیث النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۴۴۱ نشرالسنۃ ملتان ۱ /۹۵
#4152 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
پاسخ نداد وسکوت فرمود عمررضی اﷲ تعالی عنہ خواندن گرفت وچہرہ مبارك سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ازحالی بحالی گردید بجہت شدت غضب وعمرازیں معنی آگاہی نداشت تا آنکہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ گفت اے عمر ترابگریند زنان گریہ کنان نمی بینی حالتیکہ در روئے مبارك سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیداست آنگاہ عمرنظر بالاکرد وجانب چہرہ اقدس دیدگورا گفت بخداپناہ میبرم ازغضب خدا ورسول خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پسندیدم خدائے راپروردگار واسلام رادین ومحمدرانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وازیں کلمہا غضب سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فردمے نشست پس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود بخدائے کہ جان محمد بقبضہ قدرت اوست اگرظاہر شود شماموسی علیہ السلام وشما اتباع اوکنید ومرا بگزارید ہرآئینہ راہ راست گم کردہ باشید واگرموسی بدنیا بودے وزمانہ ظہورنبوتم دریافتی بدرستی کہ مراپیروی کردی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حالاچشم انصاف کشادنی ست توریت کہ کلام الہی ست وقرآن بہ تصدیقش نازل محض بوجہ اختلاط تحریفات کارش بجائے رسید کہ قرأتش چنداں موجب غضب سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایں فلسفہ ملعونہ بکفر و علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیاعمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے پڑھنا شروع کردیاسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاچہرہ مبارك شدت غضب کی وجہ سے ایك حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہاتھاحضرت عمرفاروق کو اس کی خبرنہ تھی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں روئیں تم نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چہرہ انور کی حالت نہیں دیکھ رہے۔تب حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور کے چہرہ انور کودیکھا اور فورا کہا اﷲتعالی اور اس کے رسول کے غضب سے خد اکی پناہ ہم اﷲ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگرتم پر موسی علیہ السلام ظاہرہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے توراہ راست سے بھٹك جاتے اوراگرموسی علیہ السلام دنیامیں ہوتے اورمیری نبوت کے ظہورکے زمانے کو پاتے تومیری پیروی کرتے۔اب انصاف کی آنکھ کھولنی چاہئے کہ توراۃ کلام الہی ہے اور قرآن مجید نے اس کی تصدیق کی ہے لیکن صرف اس بناء پر کہ اس میں تحریف ہوچکی ہے اس کا پڑھنا سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اس قدرناراضگی کاسبب بنایہ مردود فلسفہ جوکہ کفروضلالت
#4153 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ضلال مشحونہ کہ جہلی چنداست برہم نسستہ وراہ دین برخدامش بستہ دربقہ یقین ازگلوئے شان گسستہ العزۃ ﷲ چہ جائے آں دارد کہ او را اجرعظیم پندارند وعمرہا نظربروے گمارند وتخم ودادش بدلہا کارند با اینہمہ سلامت روند غضب اشد رامستحق نشوند لا واﷲ لایکون ولوکرہ المبطلون باز احمد درمسند وبیہقی درشعب الایمان ازجابر رضی اﷲ تعالی عنہ چناں آوردہ اند کہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ باقدس بارگاہ عالم پناہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر آمد وبعرض قدسی رساند کہ انا نسمع احادیث من یھود تعجبنا افتری ان نکتب بعضھا ما از یہود حدیثہا می شنویم کہ مارا خوش می آید آیا بروانگی باشد کہ چیزے ازانہا بنویسیم سیدعالم فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امتھوکون انتم کما تھوکت الیہود و النصاری آیا متحیرید دردین اسلام وکمال وتمام واغنائے تام او کہ دراحادیث دیگراں طمع دارید چنانکہ یہودونصاری دردین خود متحیر شدند وبرعلم الہی قناعت ناکردہ درایں وآں فتادن ودرقیل وقال زدند لقد جئتکم سے بھراہوا اور جہالتوں کامجموعہ ہے اور جس نے دین کے خادموں کے لئے دین کاراستہ بند کیاہواہے اور فلسفیوں نے دین کی زنجیر اپنے گلے سے اتارپھینکی ہے وہ کب اس لائق ہے کہ اس کابہت بڑاثواب گمان کیاجائے اور عمریں اس پرصرف کردی جائیں اور اس کی محبت کودل میں جگہ دی جائے اس کے باوجود محفوظ رہیں اور شدید غضب کے مستحق نہ ہوں بخدا اس طرح نہیں ہوسکتا اگرچہ جھوٹے اسے پسند نہ کریں۔امام احمد نے مسند میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سروردوجہاں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض گزار ہوئے کہ انا نسمع احادیث من یہود تعجبنا افتری ان نکتب بعضھا ہم یہودیوں سے کئی ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں کیا ہمیں اجازت ہے کہ ہم ان میں سے کچھ باتیں لکھ لیا کریںنبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: امتھوکون انتم کماتھوکت الیھود والنصاری کیا تم دین اسلام کے مکمل اور کافی ہونے میں متحیر ہوکہ دوسروں کی باتوں کی طرف توجہ دیتے ہو جیسے کہ یہودی اور عیسائی اپنے مذہب میں متحیر ہوگئے اور اﷲ تعالی کے دئے ہوئے پراکتفا نہ کرکے ادھر ادھر مصروف ہوگئے لقد جئتکم
#4154 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
بھا بیضاء ونقیۃ من ایں ملت وشریعت راسپید وروشن وصاف وپاکیزہ آوردہ ام کہ نہ ہیچ شبہہ رادر ودخلی نہ باوے سوئے چیزے دگرحاجتی ولوکان موسی حیا ماوسعہ الا اتباعی ۔ وخود یہود واحادیث آنہا چہ لائق التفات باشد اگر موسی ہم بدنیا بودے اورانیز جزپیری من گنجائش نداشتی صلی اﷲ تعالی علیك وسلم ومعلوم ست کہ احادیثکہ ہمچو عمررا خوش آید رضی اﷲ تعالی عنہ زنہار مخالف ملت ومنافی شریعت نباشد با اینہمہ نہی نمودند وامت رابراستغناء بشرع مطہر ازہمہ اغیارش دلالت فرمودند فکیف کہ دامن کفار یونان گیرند وبحر صافی را پس پشت انداختہ درتیہ ضلالت بتلخی میرند لایاتی ذلك الاممن سفہ نفسہ ۔
بالجملہ ضرور فلسفہ وضلال متفلسفہ از شمس ازھر وازامس اظہر پس در تحریمش ارتیاب نکند مگرمریض القلب ضعیف الایمان والعیاذ باﷲ وعلیہ التکلان بیاتا عنان بمطلب گردانیم متفلسف مذکور ایں حرام علماء راذریعہ تفاخر و بھا بیضاء نقیۃ میں تمہارے پاس یہ واضح اور پاکیزہ شریعت لایاہوں کہ اس میں نہ تو شك وشبہہ کی گنجائش ہے اور نہ کسی او رچیز کی ضرورت ولوکان موسی حیا ما وسعہ الا اتباعی اگرموسی علیہ السلام دنیامیں ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے سواچارہ نہ ہوتا۔ظاہرہے کہ جو باتیں عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ ایسی شخصیت کوپسندآتی ہوں وہ ہرگز شریعت کے مخالف نہ ہوں گیاس کے باوجود حضور نے منع فرمایا اور بتادیا کہ شریعت مطہرہ کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرور نہیںیہ کس طرح جائزہوگا کہ صاف وشفاف دریا (شریعت مقدسہ)کو پس پشت ڈال کر یونان کے کافروں کا دامن تھاما جائے اور گمراہی کے جنگل میں مصیبت کی موت مول لی جائے یہ وہی شخص کرسکتاہے جس نے اپنے آپ کو حقیر و ذلیل بنادیاہو۔الحاصل یہ فلسفے کانقصان اور فلسفے کے دعویداروں کی گمراہی گزشتہ دن اور سورج سے زیادہ ظاہرہے لہذا اس کی حرمت میں صرف وہی شخص شك کرے گا جس کادل بیمار اور ایمان کمزور ہونعوذباﷲ من ذالک۔آئیے تاکہ اصل مطلب کی طرف
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ احمدوبیہقی فی الشعب باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۰،مسنداحمد بن حنبل عن جابر رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۸۷،شرح السنۃ للبغوی باب حدیث اھل الکتاب المکتب الاسلامی بیروت ۱۰ /۲۷۰
#4155 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
وسیلہ تفضیل وباعث تقدیم درمناجات رب جلیل دانست پیداست کہ کدام تحسین بالاتر ازیں باشد وایں معنی العیاذباﷲ پہلو بکفرزند چنانکہ علماء درفروع کثیرہ تنصیص کردہ اند وامام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام اجل ظہیری وامام فقیہ النفس قاضی خان رحمہم اﷲ تعالی درخلاصہ فرماید من قال احسنت لماھو قبیح شرعا اوجودت کفر یارب مگر متفلسفان بر خویشتن نمی بخشایند کہ ہرفعل محرم بس ناکردہ زبان بتکبرو تفاخر مے کشایند
"کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون ﴿۱۴﴾ " ونسأل اﷲ العافیۃ۔



بستم آنکہ فضل تفلسف رابرفضل تفقہ ترجیح دادن کہ ادعائے اولویت بامامت رامنشاء ومنزع ہمون تواند بودمتضمن تحقیر علم دین ست کما لایخفی وتحقیربروجہ صریح کفر قطعی ست اینجا چوں توجہ دیں کہ مذکورہ بالا شخصفلسفے کادعویدار اس چیز پر فخر کرتاہے کہ بناء بریں اپنے آپ کو فضیلت والا اورامامت کے زیادہ لائق سمجھتاہے جسے علماء نے حرام کہاہے واضح ہے کہ اس سے بڑھ کر اس حرام فعل کی تعریف وتحسین اورکیا ہو سکتی ہے نعوذباﷲ من ذلك اس میں تو ایك پہلو کفر کابھی نکلتا ہے چنانچہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے امام اجل ظہیری اور امام فقیہ النفس قاضیخاں کے شاگرد امام عبدالرشید بخاری رحمہم اﷲ تعالی فرماتے ہیں:خلاصہ میں ہے کہ من قال احسنت لما ھو قبیح شرعا اجودت کفر (جس شخص نے شرعی قبیح کے مرتکب کوکہا کہ تونے اچھاکیا تو وہ کافر ہوگیا)بارالہا! شاید یہ فلسفے کے دعویدار اپنے اوپر رحم نہیں کرتے کہ حرام فعل کی بناء پرفخر اور تکبرکرتے ہیںہاں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھاچکی ہے۔
۲۰بستم فلسفے کی فضیلت کو ترجیح دینا(فقہ کی فضیلت پر)کیونکہ امامت کے زیادہ لائق ہونے کے دعوی کی یہی وجہ ہوسکتی ہے اس میں ضمنا علم دین کی توہین ہے جیسے کہ ظاہر ہے اور علم دین کی صراحۃ توہین کفرہے یہاں چونکہ
حوالہ / References منح الروض الازہرشرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۹
القرآن الکریم ۸۳ /۱۴
#4156 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
پائے تضمن درمیان ست نزاع لزوم والتزام عیان ست کما بیناہ فی مقام الحدید وﷲ الھادی الی المسلك السدید۔
ایں بست وجہ استنجیح ووجیہ مفید فقیہ ومبید سفیہ کہ برنہج ارتجال بحال استعجال سپردخاتمہ نمودہ شد ومانا کہ اگرغوری رود وجوہ دیگر منجلی شود اما ہمیں قدرپسند ست وتطویل ممل نا پسند حالا مسلماناں نگہ کنند کہ شرع مطہر امامت فاسق رانہ پسندیدہ تا آنکہ بسیارے ازعلماء امامتش رامکروہ تحریمی قریب حرام وآناں راکہ بتقدیمش بردارند مبتلائے اثام گفتہ اند علامہ ابراہیم حلبی رحمہ اﷲ تعالی درشرح کبیر منیہ عبارت فتاوی الحجۃ نقل کردہ میفرماید فیہ اشارۃ الی انھم لو قدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلوۃ وفعل ماینافیھا بل ھو الـغالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجز الصلوۃ خلفہ اصلا عند مالك وروایۃ عن احمد وہمیں است ارشاد امام زیلعی درتبیین الحقائق
یہ بات ضمنا آگئی ہے اس لئے یہی کہاجائے گا کہ علم دین کی توہین لازم آئی ہے اس شخص نے اس کا التزام نہیں کیا(اس لئے کفرکاقول نہیں کیاجائے گا)جیسے کہ ہم نے"مقامع الحدید"میں بیان کیا۔
یہ بیس۲۰ عمدہ او ربہترین وجہیں فقیہ کے لئے مفید اور بیوقوف کے لئے تباہ کن قلم برداشتہ فی البدیہ لکھ دی گئی ہیںاگر مزید غورکیاجائے تو اور وجوہ بھی ظاہرہوسکتی ہیں تاہم انہیں پراکتفاء کیاجاتاہے زیادہ کی ضرورت نہیں۔اب مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ شریعت مقدسہ نے فاسق کی امامت کو پسند نہیں کیا حتی کہ بہت سے علماء نے اسے مکروہ تحریمی اور حرام کے قریب فرمایا ہے اور ایسے شخص کوامام بنانے والوں کو گناہ عظیم کامبتلا قراردیاہےعلامہ ابراہیم حلبی کبیر شرح منیہ میں فتاوی حجہ سے نقل کرکے فرماتے ہیں:اس میں اشارہ ہے کہ فاسق کو امام بنانے والے گنہ گار ہوں گےکیونکہ اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ اموردین کاچنداں خیال نہیں کرتا اور شریعت کے لازمی امورکے اداکرنے میں سستی سے کام لیتا ہے کچھ بعیدنہیں کہ وہ نماز کی بعض شرطوں کوبھی ترك کردے اور نماز کے مخالف کوئی کام کربیٹھے بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر غالب یہی گمان ہے اسی لئے امام مالك کے نزدیك اس کے پیچھے نمازبالکل جائزنہیں۔تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۔۵۱۳
#4157 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
شرح کنزالدقائق۔وعلامہ حسن شرنبلالی درمراقی الفلاح شرح متن خودش نورالایضاح ذکرکردش وعلامہ سیداحمد طحطاوی درحاشیہ مراقی رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سبحن اﷲ چوں امامت فاسق بفسق واحدا رانوبت باینجا رسیدست ایں کسے کہ وجوہ عدیدہ ازفسق جمع کردہ کہ ازانہا بعضے روئے بسوئے کفر آوردہ والعیاذباﷲ ہیچ محل آں باشد کہ امام کردن او روا دارند یادرحرمت اقتدایش نزاعی آرند گیرم کہ نماز پس فاسق وجہ حلت دارد اما کسیکہ درنفس اسلامش خلاف راگنجایشے باشد کیست کہ امامت او را حلال انگارد الاتری ان فی تقدیمہ تعظیمہ وھو حرام عند الشرع بالقطع معہذا علماء ما از امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ روایت کردہ اند کہ امامت متکلمان جائز نیست اگرچہ باعتقاد صحیح باشند کما نقلہ الامام الاجل الھندوانی والزاھدی صاحب القنیۃ والمجتبی والامام البخاری صاحب الخلاصۃ والامام العلامۃ المحقق حیث اطلق فی الفتح وہمیں معنی فتواے امام اجل شمس الائمہ حلوائی رحمۃ اﷲ میں امام زیلعی کے ارشاد کابھی یہی مطلب ہے۔علامہ حسن شرنبلالی نورالایضاح کی شرح مراقی الفلاح میں اور علامہ سید احمد طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں بھی اسی طرح فرمایا سبحان اﷲ جب اس شخص کی امامت درست نہیں جس میں ایك فسق پایاجاتا ہو تو اس شخص کو امام بنانا کس طرح درست ہوگا جس میں کئی وجہ سے فسق پایاجاتا ہے اور بعض وجہیں کفر تك پہنچاتی ہیں(نعوذباﷲ من ذلک)کیاکچھ گنجائش ہے کہ علماء ایسے شخص کے امام بنانے کوجائز رکھیں یا اس کی اقتداء کے ناجائز ہونے میں کچھ اختلاف کریں یہ درست ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز ہونے کی ایك صورت ہے لیکن جس شخص کے اسلام ہی میں اختلاف پایا جاتا ہو اس کی امامت کو کون حلال گمان کرے گا کیا تجھے خبرنہیں کہ اسے امام بنانے میں اس کی تعظی ہے اور وہ شرعا قطعی طور پر حرام ہے اس کے باوجود ہمارے علماء امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ متکلمین کی امامت جائزنہیں اگرچہ ان کا عقیدہ صحیح ہو جیسے کہ امام اجل ہندوانی زاہدی صاحب قنیہ و مجتبی امام بخاری صاحب خلاصہ او ر ابن ہمام صاحب فتح القدیر نے نقل کیاامام ا لائمہ شمس الائمہ حلوائی کے فتوی میں
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الفصل الخامس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹
#4158 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
تعالی علیہ بخط مبارکش یافتہ اند کما نص علیہ فی الخلاصۃ وایں روایت راہمہ ائمہ ممدوحین بقبول وتقریر گرفتہ اند ودرتوضیح مراد وتنقیح مفاد طرق عدیدہ رفتہ محط کلام اکثرے آنست کہ اینجا مرادبمتکلم کسے ست کہ درفنون کلامیہ زائد برحاجت توغل دارد ودرتکثیر شکوك وشقاشق عقلہ عمرعزیز ضایع برد افاد ذلك الامام الھندوانی وعلامہ عبدالغنی نابلسی درحدیقہ ندیہ شرح محمدیہ گوید المروی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی ان امامۃ المتکلم وان کان بحق لاتجوز محمول علی الزائد علی قدر الحاجۃ والمتوغل فیہ کما قیل من طلب الدین بالکلام تزندق ولایرید المتکلم علی قانون الفلاسفۃ لانہ لایطلق علی مباحثھم علم الکلام لخروجہ عن قانون الاسلام و ھو من اجزاء الحدکما فی البزازیۃ پس امامت متفلسفان اولی واجدر بعدم جوازست کمالایخفیبالجملہ شرع مطہر زنہارنہ پسندد کہ سیدموصوف را جوان کے خط مبارك سے پایاگیا یہی بات لکھی ہے جیسے کہ خلاصہ میں ہے اس روایت کوتمام ائمہ کاملین نے قبول کیا اور اس کی مراد مختلف طریقوں سے بیان فرمائی ہےاکثر اس طرف گئے ہیں کہ اس جگہ متکلم سے مراد وہ شخص ہے جو علم کلام کے مختلف فنون میں ضرورت سے زیادہ انہماك رکھتاہو اور شکوك وشبہات کی کثرت میں عمرعزیز کوضائع کردے یہ مطلب امام ہندوانی نے بیان فرمایاعلامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں کہ امام ابویوسف سے جو یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ متکلم اگرچہ صحیح عقائد رکھتاہو اس کی امامت ناجائز ہے اس کامطلب یہ ہے کہ جو شخص ضرورت سے زیادہ علم کلام میں توجہ اور توغل رکھتاہو اس کے پیچھے نمازناجائزہے جیسے کہاگیاہے کہ جس نے کلام کے ذریعے علم دین کو طلب کیا وہ زندیق ہوگیا متکلم سے امام ابویوسف کی مراد وہ شخص نہیں جوفلاسفہ کے قانون پرکلام کرتاہو کیونکہ فلسفیوں کی بحثوں کوعلم کلام نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ تو قانون اسلام ہی سے خارج ہیں اور یہ اجزاء حد میں سے ہےجیسا کہ بزازیہ میں ہے جب علم کلام میں غلوکرنے والوں کے پیچھے نمازناجائزہے توفلسفے کے دعویداروں کے پیچھے بطریق اولی ناجائزہوگی
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی من الانواع الثلٰثہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۳۲
#4159 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
باوصف چنیں فضائل واستحقاق کل از منصب امامت بہ آرند وایں کس راباآنہمہ معاصی ومناہی وذواہی وتباہی بجایش بردارند لاجرم ہرکہ بایں کار واجب الانکار پردازد شریك آں متفلسف باشد در اثم ومعاونش در ایذا وظلم مستخف بشان سیادت وعلم ومورد بسیاری ازشنائع مذکورۃ الصدر کمالایخفی علی المنشرح الصدر واﷲ الھادی فی کل ورد وصدر حضرت حق جل وعلافرماید
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" وہمدگرمکنید برگناہ وستم۔وحاکم وعقیلی وطبرانی وابن عدی وخطیب بغدادی باسانید خود ہا ازعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما روایت کنند کہ جناب سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم می فرمایند من استعمل رجل من عصابۃ وفیھم من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین یعنی ہرکہ مردی را ازجماعتی برکارے از کارہائے ایشاں نصب کرد ودر ایشاں کسے ست کہ پسندیدہ ترست جیسا کہ مخفی نہیں۔
الحاصل شریعت مطہرہ ہرگز پسند نہیں کرے گی کہ سید موصوف کو اتنے فضائل اور مستحق ہونے کے باوجود منصب امامت سے برطرف کردیاجائے اور اس شخص کو تمام گناہوں ممنوع حرکتوں کے باوجود ان کی جگہ مقرر کردیاجائے یقینا جو شخص یہ ناپسندیدہ کام کرے گا وہ گناہ اور اس کی امدادایذا ظلمشان سیادت اور علم کی توہین اور بہت ساری سابقہ قباحتوں میں فلسفے کے اس دعویدار کاشریك ہوگا جیسے کہ صاحب شرح صدرپرمخفی نہیںاﷲ تعالی فرماتاہے "ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪"گناہ وظلم میں ایك دوسرے کی امداد نہ کرو۔حاکمعقیلیطبرانیابن عدی اور خطیب بغدادی نے اپنی سندوں سے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من استعمل رجلا من عصابتہ وفیھم من ھو ارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین جو شخص ایك جماعت میں سے کسی آدمی کو ان کے کسی کام پرمقرر کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں میں اس سے زیادہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۲
المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ /۹۲،الضعفاء الکبیر ترجمہ ۲۹۵ حسین بن قیس دارالکتب العلمیہ بیروت ۱
#4160 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ازوے نزد خدا پس تحقیق اوخیانت کرد خدا ورسول ومسلماناں را واخرج ابویعلی عن حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایما رجل استعمل رجلا علی عشرۃ انفس وعلم ان فی العشرۃ افضل ممن استعمل فقد غش اﷲ وغش رسول وغش جماعۃ المسلمین ۔علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالی درشرح تیسیر شرح جامع صغیر زیرحدیث اول گوید من استعمل رجلا من عصابۃ ای نصبہ علیھم امیرا وقیما او عریفا او اماما للصلوۃ امام بخاری درتاریخ وابن عساکر ازابوامامہ باہلی وطبرانی درمعجم کبیر ازمرثد غنوی رضی اﷲ تعالی عنہما راویندکہ سیدعالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماید(وھذ حدیث ابی امامۃ)ان سرکم ان تقبل صلوتکم فلیؤمکم خیارکم اگرشمارا خوش آید کہ نماز شمارمقبول شود باید کہ شمارا بہترین شما امامت کند دارقطنی وبیہقی ازعبداﷲ مقبول بارگاہ الہی آدمی موجود ہے تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں کی خیانت کی ابویعلی نے حذیفہ بن یمان سے روایت کی کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص دس آدمیوں کی جماعت پر ایك شخص کو مقرر کیا حالانکہ اسے علم ہے کہ ان دس آدمیوں میں مقررشدہ آدمی سے افضل موجودہے تو اس نے اﷲ ورسول اورمسلمانوں سے خیانت کیعلامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں سابقہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ من استعمل رجلا من عصابتہ یعنی جس شخص نے کسی آدمی کو ایك جماعت کا امیریامحافظ یانمائندہ یانماز کا امام بنادیا حالانکہ اس سے زیادہ مقبول الہی موجود تھے تو وہ خائن ہےامام بخاری نے تاریخ میںابن عساکر نے ابوامامہ باہلی سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں مرثد غنوی رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان سرکم ان تقبل صلوتکم فلیؤمکم خیارکم اگرتمہیں پسند ہے کہ تمہاری نماز مقبول ہو تو ایسا شخص امام بنے جو تم میں سے افضل ہو
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ع عن حذیفہ حدیث ۱۴۶۵۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۱۹
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث من استعمل رجلا الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۳۹۶
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۲۰۴۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۵۹۶،کنزالعمال بحوالہ طب حدیث ۴۳۴ک۳۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۵۹۷،المعجم الکبیر حدیث ۷۷۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۲۰ /۳۲۸
#4161 · الحقوق لطرح العقوق ۱۳۰۷ھ (نافرمانی کوختم کرنے کے لئے حقوق کی تفصیل)
ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما روایت دارندسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماید اجعلوا ائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم بہتران خودراامام کنید کہ ایشاں سفیر شمایند میان شما وپروردگار شما عزوجل وفی الباب عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر۔
الحاصل خلاصہ حکم آنست کہ ایں کس ازبدترین فساق وفجارست وبوجوہ چنددرچند تعزیر شدید راسزوار وامامتش ممنوع وناروا بلکہ مسلماناں را از صحبتش احتراز اولی وزنہار رخصت نباشد کہ آں سید فقیہ را از امامت براندازند و ایں متفلسف سفیہ رابجایش مقرر وموقر سازند کدمتصدی ایں کارشود خود واجب التعزیر وگنہ گار شود تقدیم کو وامامت ازکجابلکہ ایں کس رامی شاید کہ ازشناعات مذکورہ خود باز آید داغ کفران ازجبینش وفلسفہ ملعونہ راوداع گوید وبرفضل علم وبزرگی حقش ایمان آرد تکلکف وتفلسف و تشدق تصلف راقبیح پندارد وشنیع انگارد واز سرنوکلمہ طیبہ اسلام خواند وبعدازاں تجدیدنکاح بتقدیم رساند فان ذلك ھو الاحوط کما دارقطنی اور بیہقی حضرت عبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:اجعلوا ائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم اپنے بہترین آدمی کو امام بناؤ کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان نمائندے ہیں۔اس بارے میں طبرانی نے معجم کبیر میں واثلہ بن الاسقع سے بھی روایت کی ہے۔
خلاصہ جواب:یہ شخص بدترین فاسق وفاجرہے اور بے شمار وجوہ کی بناء پر سخت سزاکا مستحق ہے اس کی امامت ناجائز اور ممنوع ہے اور مسلمانوں کو اس کی صحبت سے پرہیز کرناچاہئے اورہرگز اجازت نہیں کہ اس سید فقیہ کوامامت سے بر طرف کیاجائے اور فلسفے کے اس دعویدار بیوقوف کو اس کی جگہ مقررکیاجائے جو شخص اس کام کے درپے ہوگا خود اس کے لئے سزاضروری ہے بلکہ اس شخص کو چاہئے کہ مذکورہ بالا خربیوں سے باز آئے اور ناشکری کاداغ اپنے ماتھے سے دھوئے اور مردود فلسفے کو رخصت کرے او رعلم دین کی فضیلت اور اس کے حق کی بزرگی پرایمان لائے فلسفہ پرستی تکلف اوربیہودگی کوبراسمجھے اورناپسند رکھے اور ازسرنوکلمہ طیبہ اسلام پڑھ کر اسلام کی تجدید
حوالہ / References سنن الدارقطنی باب تخفیف القرأۃ الحاجۃ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۹۸
#4162 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
رسالہ
مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد
(والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)

مسئلہ ۱۶۷: ازسورون ضلع ایٹہ محلہ ملک زادگان مرسلہ حامدحسن صاحب ۷جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ باپ پربیٹے کا کس قدرحق ہےاگرہے اور وہ ادانہ کرے تو اس کے واسطے حکم شرعی کیاہے مفصل طور پر ارقام فرمائیے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اﷲ عزوجل نے اگرچہ والد کاحق ولد پرنہایت اعظم بتایا یہاں تک کہ اپنے حق کے برابر اس کاذکرفرمایا کہ
"" ان اشکر لی و لولدیک " حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔مگرولد کاحق بھی والد پرعظیم رکھاہے کہ ولدمطلق اسلام پھر خصوص جوارپھر خصوص قرابتپھر خصوص عیالان سب حقوق کاجامع ہوکر سب سے زیادہ خصوصیت خاصہ رکھتا ہےاور جس قدر خصوص بڑھتاجاتاہے حق اشدوآکد ہوتاجاتاہے۔علمائے کرام اپنی کتب جلیلہ مثل احیاء العلوم وعین العلوم و مدخل وکیمیائے سعادت وذخیرۃ الملوک وغیرہا میں حقوق ولد سے نہایت مختصر طور پر کچھ تعرض فرمایا مگر میں صرف احادیث مرفوعہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف توجہ کرتاہوں فضل الہی جل وعلا سے امید کہ فقیر کی یہ چندحرفی تحریر ایسی نافع وجامع واقع ہو
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۱ /۱۴
#4163 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
کہ اس کی نظیر کتب مطولہ میں نہ ملے اس بارہ میں جس قدر حدیثیں بحمداﷲ تعالی اس وقت میرے حافظہ ونظر میں ہیں انہیں بالتفصیل مع تخریجات لکھے تو ایک رسالہ ہوتاہے اور غرض صرف افادہ احکام لہذا سردست فقط وہ حقوق کہ یہ حدیثیں ارشاد فرمارہی ہیں کمال تلخیص واختصار کے ساتھ شمار کروںوباﷲ التوفیق:
(۱)سب سے پہلا حق وجوداولاد سے بھی پہلے یہ ہے کہ آدمی اپنا نکاح کسی رذیل کم قوم سے نہ کرے کہ بری رگ ضرور رنگ لاتی ہے۔
(۲)دیندارلوگوں میں شادی کرے کہ بچہ پرناناوماموں کی عادات کابھی اثرپڑتاہے۔
(۳)زنگیوں حبشیوں میں قرابت نہ کرے کہ ماں کاسیاہ رنگ بچہ کو بدنمانہ کردے۔
(۴)جماع کی ابتداء بسم اﷲ سے کرے ورنہ بچہ میں شیطان شریک ہوجاتاہے۔
(۵)اس وقت شرمگاہ زن پرنظر نہ کرے کہ بچہ کے اندھے ہونے کااندیشہ ہے۔
(۶)زیادہ باتیں نہ کرے کہ گونگے یاتوتلے ہونے کاخطرہ ہے۔
(۷)مردوزن کپڑااوڑھ لیں جانوروں کی طرح برہنہ نہ ہوں کہ بچہ کے بے حیا ہونے کااندیشہ ہے۔
(۸)جب بچہ پیداہو فورا سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان وام الصبیان سے بچے۔
(۹)چھوہارا وغیرہ کوئی میٹھی چیزچباکر اس کے منہ میں ڈالے کہ حلاوت اخلاق کی فال حسن ہے۔
(۱۰)ساتویں اور نہ ہوسکے توچودھویں ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کرےدختر کے لئے ایک پسر کے لئے دو کہ اس میں بچے کاگویارہن سے چھڑاناہے۔
(۱۱)ایک ران دائی کو دے کہ بچہ کی طرف سے شکرانہ ہے۔
(۱۲)سر کے بال اتروائے۔
(۱۳)بالوں کے برابرچاندی تول کرخیرات کرے۔
(۱۴)سرپرزعفران لگائے۔
(۱۵)نام رکھے یہاں تک کہ کچے بچے کابھی جو کم دنوں کاگرجائے ورنہ اﷲ عزوجل کے یہاں شاکی ہوگا۔
(۱۶)برانام نہ رکھے کہ بدفال بدہے۔
(۱۷)عبداﷲعبدالرحمناحمدحامدوغیرہ باعبادت وحمد کے نام یاانبیاء واولیاء یااپنے بزرگوں میں جو نیک لوگ گزرے ہوں ان کے نام پرنام رکھے کہ موجب برکت ہے خصوصا نام پاک محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ اس مبارک نام کی بے پایاں برکت بچہ کے دنیاوآخرت میں کام آتی ہے۔
#4164 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
(۱۸)جب محمدنام رکھے تو اس کی تعظیم وتکریم کرے۔
(۱۹)مجلس میں اس کے لئے جگہ چھوڑے۔
(۲۰)مارنے براکہنے میں احتیاط رکھے۔
(۲۱)جومانگے بروجہ مناسب دے۔
(۲۲)پیار میں چھوٹے لقب بیقدرنام نہ رکھے کہ پڑا ہوانام مشکل سے چھوٹتاہے۔
(۲۳)ماں خواہ نیک دایہ نمازی صالحہ شریف القوم سے دو۲سال تک دودھ پلوائے۔
(۲۴)رذیل یابدافعال عورت کے دودھ سے بچائے کہ دودھ طبیعت کو بدل دیتا ہے۔
(۲۵)بچے کانفقہ اس کی حاجت کے سب سامان مہیاکرنا خود واجب ہے جن میں حفاظت بھی داخل۔
(۲۶)اپنے حوائج وادائے واجبات شریعت سے جوکچھ بچے اس میں عزیزوں قریبوں محتاجوں غریبوں سب سے پہلے حق عیال واطفال کاہے جو ان سے بچے وہ اوروں کوپہنچے۔
(۲۷)بچہ کوپاک کمائی سے روزی دے کہ ناپاک مال ناپاک ہی عادتیں ڈالتاہے۔
(۲۸)اولاد کے ساتھ تنہاخوری نہ برتے بلکہ اپنی خواہش کو ان کی خواہش کے تابع رکھے جس اچھی چیز کو ان کا جی چاہے انہیں دے کر ان کے طفیل میں آپ بھی کھائے زیادہ نہ ہوتو انہیں کوکھلائے۔
(۲۹)خدا کی ان امانتوں کے ساتھ مہرولطف کابرتاؤ رکھے۔انہیں پیارکرے بدن سے لپٹائے کندھے پر چڑھائے۔
(۳۰)ان کے ہنسنے کھیلنے بہلنے کی باتیں کرے ان کی دلجوئیدلداریرعایت ومحافظت ہروقت حتی کہ نمازوخطبہ میں بھی ملحوظ رکھے۔
(۳۱)نیامیوہ پھل پہلے انہیں کودے کہ وہ بھی تازے پھل ہیں نئے کو نیامناسب ہے۔
(۳۲)کبھی کبھی حسب ضرورت انہیں شیرینی وغیرہ کھانےپہننےکھیلنے کی اچھی چیز کہ شرعا جائزہے دیتارہے۔
(۳۳)بہلانے کے لئے جھوٹا وعدہ نہ کرے بلکہ بچے سے بھی وعدہ وہی جائزہے جس کو پورا کرنے کاقصد رکھتاہو۔
(۳۴)اپنے چندبچے ہوں توجوچیز دے سب کوبرابر ویکساں دےایک کودوسرے پربے فضیلت دینی ترجیح نہ دے۔
(۳۵)سفر سے آئے تو ان کے لئے کچھ تحفہ ضرور لائے۔
#4165 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
(۳۶)بیمار ہوں توعلاج کرے۔
(۳۷)حتی الامکان سخت وموذی علاج سے بچائے۔
(۳۸)زبان کھلتے ہی اﷲ اﷲ پھر پورا کلمہ لاالہ الااﷲ بھرپورکلمہ طیبہ سکھائے۔
(۳۹)جب تمیزآئے ادب سکھائے کھانےپینےہنسنےبولنےاٹھنےبیٹھنےچلنےپھرنےحیالحاظبزرگوں کی عظیمماں باپاستاز اور دختر کوشوہرکے بھی اطاعت کے طرق وآداب بتائے۔
(۴۰)قرآن مجید پڑھائے۔
(۴۱)استاذ نیکصالحمتقیصحیح العقیدہسن رسیدہ کے سپرد کردےاور دختر کونیک پارسا عورت سے پڑھوائے۔
(۴۲)بعد ختم قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔
(۴۳)عقائد اسلام وسنت سکھائے کہ لوح سادہ فطرت اسلامی وقبول حق پرمخلوق ہے اس وقت کابتایا پتھر کی لکیرہوگا۔
(۴۴)حضوراقدس رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت وتعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان وعین ایمان ہے۔
(۴۵)حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آل واصحاب واولیاء وعلماء کی محبت وعظمت تعلیم کرے کہ اصل سنت وزیورایمان بلکہ باعث بقائے ایمان ہے۔
(۴۶)سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کردے۔
(۴۷)علم دین خصوصا وضوغسلنمازوروزہ کے مسائل توکلقناعتزہداخلاصتواضعامانتصدقعدلحیاسلامت صدورولسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل حرص وطمعحب دنیاحب جاہریاعجبتکبرخیانتکذبظلمفحشغیبت حسد کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل پڑھائے۔
(۴۸)پڑھانے سکھانے میں رفق ونرمی ملحوظ رکھے۔
(۴۹)موقع پرچشم نمائی تنبیہ تہدید کرے مگر کوسنانہ دے کہ اس کا کوسنا ان کے لئے سبب اصلاح نہ ہوگا بلکہ اور زیادہ افساد کا اندیشہ ہے۔
(۵۰)مارے تو منہ پرنہ مارے۔
(۵۱)اکثراوقات تہدیدوتخویف پرقانع رہے کوڑاقمچی اس کے پیش نظررکھے کہ دل میں رعب رہے۔
(۵۲)زمانہ تعلیم میں ایک وقت کھیلنے کابھی کہ طبیعت نشاط پرباقی رہے۔
#4166 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
(۵۴)نہ ہرگز ہرگزبہادر دانشمینابازارمثنوی غنیمت وغیرہاکتب عشقیہ وغزلیات فسقیہ دیکھنے دے کہ نرم لکڑی جدھر جھکائے جھک جاتی ہے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورہ یوسف شریف کا ترجمہ نہ پڑھایاجائے کہ اس میں مکرزنان کا ذکر فرمایا ہےپھربچوں کو خرافات شاعرانہ میں ڈالنا کب بجاہوسکتاہے۔
(۵۵)جب دس برس کاہونماز مارکرپڑھائے۔
(۵۶)اس عمر سے اپنے خواہ کسی کے ساتھ نہ سلائے جدابچھونے جداپلنگ پراپنے پاس رکھے۔
(۵۷)جب جوان ہوشادی کردےشادی میں وہی رعایت قوم ودین وسیرت وصورت ملحوظ رکھے۔
(۵۸)اب جو ایسا کام کہنا ہو جس میں نافرمانی کا احتمال ہو اسے امروحکم کے صیغہ سے نہ کہے بلکہ برفق ونرمی بطورمشورہ کہے کہ وہ بلائے عقوق میں نہ پڑجائے۔
(۵۹)اسے میراث سے محروم نہ کرے جیسے بعض لوگ اپنے کسی وارث کو نہ پہنچنے کی غرض سے کل جائداد دوسرے وارث یا کسی غیر کے نام لکھ دیتے ہیں۔
(۶۰)اپنے بعد مرگ بھی ان کی فکر رکھے یعنی کم سے کم دوتہائی ترکہ چھوڑجائے ثلث سے زیادہ خیرات نہ کرے۔
یہ ساٹھ۶۰ حق توپسرودخترسب کے ہیں بلکہ دو۲حق اخیر میں سب وارث شریکاور خاص پسر کے حقوق سے ہے کہ اسے ۶۱لکھنا۶۲پیرنا۶۳سپہگری سکھائے۔۶۴سورہ مائدہ کی تعلیم دے۔۶۵اعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔خاص دختر کے حقوق سے ہے کہ ۶۶اس کے پیداہونے پرناخوشی نہ کرے بلکہ نعمت الہیہ جانے۶۷اسے سیناپرونا کاتنا کھاناپکانا سکھائے۶۸سورہ نور کی تعلیم دے۶۹لکھنا ہرگز نہ سکھائے کہ احتمال فتنہ ہے۷۰بیٹیوں سے زیادہ دلجوئی رکھے کہ ان کا دل بہت تھوڑا ہوتاہے۷۱دینے میں انہیں اور بیٹوں کو کانٹے کی تول برابررکھے۷۲جو چیز دے پہلے انہیں دے کربیٹوں کو دے۷۳نوبرس کی عمر سے نہ اپنے پاس سلائے نہ بھائی وغیرہ کے ساتھ سونے دے۷۴اس عمر سے خاص نگہداشت شروع کرے۷۵شادی برات میں جہاں گاناناچ ہو ہرگز نہ جانے دے اگرچہ خاص اپنے بھائی کے یہاں ہوکہ گاناسخت سنگین جادوہے۔اور ۷۶ان نازک شیشوں کوتھوڑی ٹھیس بہت ہےبلکہ ہنگاموں میں جانے کی مطلق بندش کرے گھر کو ان پر زنداں کردے بالاخانوں پرنہ رہنے دے۷۷گھرمیں لباس وزیور سے آراستہ کرے کہ پیام رغبت کے ساتھ آئیںجب کفوملے نکاح میں دیرنہ کرےحتی الامکان بارہ برس کی عمرمیں بیاہ دے۷۸زنہار کسی فاسق
#4167 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
اجرخصوصابدمذہب کے نکاح میں نہ دے۔
یہ اسی۸۰حق ہیں کہ اس وقت کی نظرمیں احادیث مرفوعہ سے خیال میں آئے ان میں اکثر تو مستحبات ہیں جن کے ترک پراصلا مواخذہ نہیں۔اوربعض آخرت میں مطالبہ ہومگردنیامیں بیٹے کے لئے باپ پرگرفت وجبرنہیںنہ بیٹے کو جائزکہ باپ سے جدال ونزع کرے سواچند حقوق کے کہ ان میں جبر حاکم وچارہ جوئی واعتراض کودخل ہے۔
اول: نفقہ کہ باپ پرواجب ہو اور وہ نہ دے تو حاکم جبرا مقرر کرے گانہ مانے تو قید کیاجائے گا حالانکہ فروع کے اور کسی دین میں اصول محبوس نہیں ہوتے۔
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ لایحبس والد وان علافی دین ولدہ وان سفل الافی النفقۃ لان فیہ اتلاف الصغیر ۔ فتاوی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے نقل کیاہے والد اپنے بیٹے کے قرض کے سلسلے میں قیدنہیں کیاجاسکتا خواہ سلسلہ نسب اوپر تک بلحاظ باپ اور نیچے تک بلحاظ بیٹاچلاجائے البتہ نان نفقہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں والد کوقید کیاجائے گا کیونکہ اس میں چھوٹے کی حق تلفی ہے۔(ت)
دوم: رضاعت کہ ماں کے دودھ نہ ہو تو دائی رکھنابے تنخواہ نہ ملے تو تنخواہ دیناواجب نہ دے توجبرا لی جائے گی جبکہ بچے کا اپنا مال نہ ہویوہیں ماں بعد طلاق ومرورعدت بے تنخواہ دودھ نہ پلائے تو اسے بھی تنخواہ دی جائے گی کما فی الفتح ورد المحتار وغیرھما(جیسا کہ فتح اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)
سوم: حضانت کہ لڑکا سات برسلڑکی نوبرس کی عمر تک جن عورتوں مثلا ماں نانی دادی ہیں خالہ پھپھی کے پاس رکھے جائیں گےاگر ان میں کوئی بے تنخواہ نہ مانے اور بچہ فقیر اور باپ غنی ہے توجبرا تنخواہ دلائی جائے گی کمااوضحہ فی ردالمحتار(جیسا کہ رد المحتار میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ت)
چہارم: بعد انتہائے حضانت بچہ کو اپنی حفظ وصیانت میں لیناباپ پرواجب ہے اگرنہ لے گا حاکم جبرکرے گا کما فی ردالمحتار عن شرح المجمع(جیسا کہ شرح المجمع سے ردالمحتار میں نقل کیاگیاہے۔ت)
پنجم: ان کے لئے ترکہ باقی رکھنا کہ بعد تعلق حق ورثہ یعنی بحالت مرض الموت مورث اس پرمجبور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۷۱
#4168 · مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد (والدین پر)اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل)
ہوتاہے یہاں تک کہ ثلث سے زائد میں اس کی وصیت بے اجازت ورثہ نافذ نہیں۔
ششم: اپنے بالغ پسرخواہ دختر کو غیرکفو سے بیاہ دینا یامہرمثل میں غبن فاحش کے ساتھ مثلا دختر کامہرمثل ہزار ہے پانسو پرنکاح کردیایا بہو کا مہرمثل پانسو ہے ہزارباندھ لینا یاپسر کانکاح کسی باندی سے یادختر کاکسی ایسے شخص سے جو مذہب یانسب یاپیشہ یا افعال یامال میں وہ نقص رکھتاہو جس کے باعث اس سے نکاح موجب عار ہو ایک بار تو ایسانکاح باپ کاکیاہوا نافذ ہوتاہے جبکہ نشہ میں نہ ہومگر دوبارہ اپنے کسی نابالغ بچے کا ایسانکاح کرے گا تواصلا صحیح نہ ہوگا کماقدمنا فی النکاح(جیسا کہ بحث نکاح میں ہم نے اسے پہلے بیان کردیاہے۔ت)
ہفتم: ختنہ میں بھی ایک صورت جبرکی ہے کہ اگر کسی شہر کے لوگ چھوڑدیں سلطان اسلام انہیں مجبورکرے گا نہ مانیں گے تو ان پر جہاد فرمائے گا کما فی الدرالمختار(جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
________________
رسالہ
مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد
ختم ہوا
#4169 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
رسالہ
اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد ۱۳۱۰ھ
(بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۶۸:حق العباد بھی کسی طرح معاف ہوسکتاہے بغیر اس کے معاف کے جس کا حق ہے صاف ارقام فرمائیے اور حق العباد کس قدرہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
حق العبد ہروہ مطالبہ مالی ہے کہ شرعا اس کے ذمہ کسی کے لئے ثابت ہو اورہروہ نقصان وآزار جو بے اجازت شرعیہ کسی قول فعل ترك سے کسی کے دینآبروجسممال یاصرف قلب کو پہنچایاجائے۔تو یہ دوقسمیں ہوئیںاول کودیونثانی کو مظالم اور دونوں کو تبعات اور کبھی دیون بھی کہتے ہیں۔ان دونوں قسم میں نسبت عموم خصوص من وجہ ہے یعنی کہیں تودین پایا جاتا ہے مظلمہ نہیںجیسے خریدی چیز کی قیمتمزدور کی اجرتعورت کا مہروغیرہا دیون کہ عقود جائزہ شرعیہ سے اس کے ذمہ لازم ہوئے اور اس نے ان کی ادا میں کمی وتاخیر ناروانہ برتی یہ حق العبد اس کی گردن پرہے مگرکوئی ظلم نہیںاور کہیں مظلمہ پایا جاتا ہے دین نہیں جیسے کسی کوماراگالی دیبراکہاغیبت کی کہ اس کی خبر اسے پہنچییہ سب حقوق العبد وظلم ہیں مگر کوئی دین واجب الادانہیںاور کہیں دین اور مظلمہ دونوں ہوتے ہیں جیسے کسی کامال چرایاچھینالوٹارشوت
#4170 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
سود جوئے میں لیایہ سب دیون بھی ہیں اورظلم بھی۔قسم اول میں تمام صورعقود ومطالبہ مالیہ داخلدوسری میں قول وفعل وترك کو دین آبروجان جسم مال قلب میں ضرب دینے سے اٹھارہ انواع حاصلہرنوع صدہا صورتوں کوشاملتوکیونکر گناسکتے ہیں کہ حقوق العباد کس قدرہیںہاں ان کاضابطہ کلیہ بتادیاگیاہے کہ ان دوقسموں سے جو امرجہاں پایاجائے اسے حق العبد جانے پھر حق کس قسم کاہو جب تك صاحب حق معاف نہ کرے معاف نہیں ہوتاحقوق اﷲ میں توظاہر کہ اس کے سوا دوسرا معاف کرنے والا کون " ومن یغفر الذنوب الا اللہ ۪" کون گناہ بخشے اﷲ کے سوا۔الحمدﷲ کہ معافی کریم غنی قدیر رؤف رحیم کے ہاتھ ہے والکریم لایأتی منہ الاالکرم(کریم سے سوائے کرم کے کچھ اور صادرنہیں ہوتا۔ت)اور حقوق العباد میں بھی ملك دیان عزجلالہ نے اپنے دارالعدل کایہی ضابطہ رکھاہے کہ جب تك وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوگا اگرچہ مولی تعالی ہمارا اور ہمارے جان ومال وحقوق سب کامالك ہے اگروہ بے ہماری مرضی کے ہمارے حقوق جسے چاہے معاف فرمادے توبھی عین حق وعدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حقوق بھی اسی کے مقرر فرمائے ہوئےاگر وہ ہمارے خون ومال وعزت وغیرہا کومعصوم ومحترم نہ کرتا تو ہمیں کوئی کیساہی آزارپہنچاتا نام کوبھی ہمارے حق میں گرفتارنہ ہوتا۔یوہیں اب اس حرمت و عصمت کے بعد بھی جسے چاہے ہمارے حقوق چھوڑدے ہمیں کیامجال عذرہے مگر اس کریم رحیم جل وعلا کی رحمت کہ ہمارے حقوق کااختیارہمارے ہاتھ رکھاہے بے ہمارے بخشے معاف ہوجانے کی شکل نہ رکھی کہ کوئی ستم رسیدہ یہ نہ کہے کہ اے مالك میرے! میں اپنی داد کو نہ پہنچا۔حدیث میں ہے حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدواوین ثلثۃ فدیوان لایغفراﷲ منہ شیئا ودیوان لایعبأ اﷲ بہ شیئا ودیوان لایترك اﷲ منہ شیئا فاما الدیوان الذی لایغفراﷲ منہ شیئا فالاشراك باﷲ عزوجل واما الدیوان الذی لایعبأ اﷲ بہ شیئا فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ یعنی دفترتین ہیںایك دفترمیں اﷲ تعالی کچھ نہ بخشے گا اورایك دفتر کی اﷲ تعالی کوکچھ پروا نہیں اور ایك دفترمیں اﷲ تعالی کچھ نہ چھوڑے گاوہ دفتر جس میں اصلا معافی کی جگہ نہیں وہ توکفرہے کہ کسی طرح نہ بخشاجائے گا اور وہ دفتر جس کی اﷲ عزوجل کو کچھ پروانہیں وہ بندے کاگناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں کہ کسی دن کاروزہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۱۳۵
#4171 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
من صوم یوم ترکہ اوصلاۃ ترکہا فان اﷲ تعالی یغفر ذلك ان شاء ویتجاوزان شاء و اما الدیوان الذی لایترك اﷲ منہ شیئا فمظالم العباد بینھم القصاص لامحالۃ۔رواہ الامام احمد فی المسند و الحاکم فی المستدرک عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ ترك کیایاکوئی نماز چھوڑدی اﷲ تعالی چاہے تو اسے معاف کردے اوردرگزرفرمائے اور وہ دفتر جس میں سے اﷲ تعالی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کاآپس میں ایك دوسرے پر ظلم ہے کہ اس میں ضروربدلہ ہوناہے(امام احمد نے مسند میں اور حاکم نے مستدرك میں ام المومنین سیدعائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے اس کی روایت فرمائی۔ت)
یہاں تك کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لتؤدن الحقوق الی اھلھا یوم القیمۃ حتی یقادللشاۃ الجلحاء من الشاۃ القرناء تنطحھا۔رواہ الائمۃ احمد فی المسند ومسلم فی صحیحہ والبخاری فی الادب المفرد والترمذی فی الجامع عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك روزقیامت تمہیں اہل حقوق کو ان کے حق اداکرنے ہوں گے یہاں تك کہ منڈی بکری کابدلہ سینگ والی بکری سے لیاجائے گا کہ اسے سینگ مارے(ائمہ کرام نے اس کوروایت کیا مثلا امام احمد نے مسندمیںامام مسلم نے صحیح مسلم میں اما م بخاری نے الادب المفرد میں اور امام ترمذی نے جامع میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ایك روایت میں فرمایا:
حتی الذرۃ من الذرۃ۔رواہ الامام احمد بسند صحیح۔ یہاں تك کہ چیونٹی سے چیونٹی کاعوض لیاجائے گا۔(اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ت)
پھروہاں روپے اشرفیاں توہیں نہیں کہ معاوضہ حق میں دی جائیں طریقہ ادایہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں صاحب حق کو دی جائیں گی اگر اداہوگیا غنیمت ورنہ اس کے گناہ اس پررکھے جائیں گے یہاں تك
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل حدیث ۲۵۵۰۰ داراحیاءالتراث العربی بیروت ۷/۳۴۲،المستدرك للحاکم کتاب الاھوال باب جعل اﷲ القصاص بین الدواب المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۷۶۔۴۷۵
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب نصرالاخ ظالمًا اومظلومًا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۲۰،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۰۱
مسندامام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۶۳
#4172 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
کہ ترازوئے عدل میں وزن پوراہو۔احادیث کثیرہ اس مضمون میں واردازاں جملہ حدیث صحیح مسلم وغیرہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اتدرون من المفلس قالوا المفلس فینا من لادرھم لہ ولا متاع فقال ان المفلس من امتی من یأتی یوم القیمۃ بصلوۃ وصیام وزکوۃ ویأتی قدشتم ھذا وقد قذف ھذا واکل مال ھذا وسفك دم ھذا وضرب ھذا فیعطی ھذا من حسناتہ وھذا من حسناتہ فان فنیت حسناتہ قبل ان یقضی ماعلیہ اخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار ۔والعیاذباﷲ سبحنہ وتعالی۔ یعنی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاجانتے ہو مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کی ہمارے یہاں تو مفلس وہ ہے جس کے پاس زرومال نہ ہو۔فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نمازروزےزکوۃ لے کر آئے اور یو ں آئے کہ اسے گالی دی اسے زنا کی تہمت لگائی اس کامال کھایا اس کاخون گرایا اسے ماراتو اس کی نیکیاں اسے دی گئیں پھراگرنیکیاں ختم ہوچکیں اور حق باقی ہیں تو ان کے گناہ لے کر اس پرڈالے گئے پھرجہنم میں پھینك دیا۔اﷲ تعالی پاك اور بلند وبرترذات کی پناہ۔(ت)
غرض حقوق العباد بے ان کی معافی کے معاف نہ ہوں گے ولہذا مروی ہوا کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:الغیبۃ اشد من الزنا غیبت زنا سے سخت ترہے۔کسی نے عرض کی:یہ کیونکر فرمایا:
الرجل یزنی ثم یتوب فیتوب اﷲ علیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفر لہ حتی یغفر لہ صاحبہ۔رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والطبرانی فی الاوسط عن جابر بن عبداﷲ زانی توبہ کرے تواﷲ تعالی قبول فرمالے اور غیبت والے کی مغفرت نہ ہوگی جب تك وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی ہے(ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ(غیبت کی برائی میں)میں اور امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت جابربن عبداﷲ
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۲۰
المعجم الاوسط حدیث ۶۵۸۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۷/ ۳۰۶
#4173 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
وابی سعیدالخدری والبیھقی عنھما وعن انس رضی اﷲ تعالی عنھم۔ اور حضرت ابوسعیدخدری سے اور امام بیہقی نے ان دونوں کے علاوہ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہم سے اس کی روایت فرمائی۔ت)
پھریہاں معاف کرالینا سہل ہے قیامت کے دن اس کی امیدمشکل کہ وہاں ہرشخص اپنے اپنے حال میں گرفتار نیکیوں کاطلبگار برائیوں سے بیزارہوگا پرائی نیکیاں اپنے ہاتھ آتے اپنی برائیاں اس کے سر جاتے کسے بری معلوم ہوتی ہیںیہاں تك کہ حدیث میں آیاہے کہ ماں باپ کابیٹے پرکچھ دین آتاہوگا اسے روزقیامت پیٹیں گے کہ ہمارادین دے وہ کہے گا میں تمہارابچہ ہوںیعنی شاید رحم کریں وہ تمنا کریں گے کاش اور زیادہ ہوتا۔
الطبرانی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول انہ یکون للوالدین علی ولد ھمادین فاذا کان یوم القیمۃ یتعلقان بہ فیقول انا ولد کما فیودان او یتمنیان لوکان اکثر من ذلك ۔ طبرانی میں ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے کہ والدین کابیٹے پر دین ہوگا قیامت کے روز والدین بیٹے پرلپکیں گے توبیٹا کہے گا میں تمہارا بیٹا ہوں تووالدین کو حق دلایاجائے گا اور تمناکریں گے کاش ہماراحق اورزائدہوتا۔(ت)
جب ماں باپ کایہ حال تواوروں سے امیدخام خیالہاں کریم ورحیم مالك ومولی جل جلالہ وتبارك وتعالی جس پررحم فرماناچاہے گا تو یوں کرے گا کہ حق والے کوبے بہا قصورجنت معاوضہ میں عطا فرماکر عفو حق پرراضی کردے گا ایك کرشمہ کرم میں دونوں کابھلا ہوگا نہ اس کی حسنات اسے دی گئیں نہ اس کی سیأت اس کے سررکھی گئیں نہ اس کا حق ضائع ہونے پایا بلکہ حق سے ہزاروں درجے بہتر افضل پایارحمت حق کی بندہ نوازی ظالم ناجی مظلوم راضیفللہ الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یحب ربنا و یرضی(پھر اﷲ تعالی ہی کے لئے حمدوثناہے جس کی ذات بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت ہے۔ت)حدیث میں ہے:
بینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ یعنی ایك دن حضورپرنورسیدالعالمین صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۷۰
#4174 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
وسلم جالس اذ رأیناہ اضحك حتی بدت ثنایاہ فقال لہ عمر مااضحکك یارسول اﷲ بابی انت وامی۔ علیہ وسلم تشریف فرماتھے ناگاہ خندہ فرمایا کہ اگلے دندان مبارك ظاہرہوئےامیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی یارسول اﷲ میرے ماں باپ حضور پر قربان کس بات پرہنسی آئی
ارشاد فرمایا:
رجلان من امتی جثیا بین یدی رب العزۃ فقال احدھما یارب خذلی مظلمتی من اخی فقال اﷲ تعالی للطالب کیف تصنع باخیك ولم یبق من حسناتہ شیئ قال یارب فیحمل من اوزاریوفاضت عینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالبکاء ثم قال ان ذلك الیوم عظیم یحتاج الناس ان یحمل عنھم من اوزارھم فقال اﷲ للطالب ارفع بصرك فانظر فرفع فقال یارب اری مدائن من ذھب وقصورا من ذب مکللۃ باللؤلؤ لای نبی ھذا اولای صدیق ھذا اولای شھید ھذا قال لمن اعطی الثمن قال یارب ومن یملك ذلك قال انت تمبلکہ قال بماذا قال بعفوك عن اخیك قال یارب فانی قد عفوت عنہ قال اﷲ تعالی فخذ بید اخیك فادخلہ الجنۃ فقال رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند دومردمیری امت سے رب العزت جل جلالہ کے حضور زانوؤں پرکھڑے ہوئےایك نے عرض کی:اے رب میرے! میرے اس بھائی نے جو ظلم مجھ پرکیا ہے اس کاعوض میرے لئے لے۔رب تعالی نے فرمایا:اپنے بھائی کے ساتھ کیاکرے گا اس کی نیکیاں تو سب ہوچکیںمدعی نے عرض کی:اے رب میرے ! تومیرے گناہ وہ اٹھالے۔یہ فرماکر حضوررحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی آنکھیں گریہ سے بہہ نکلیںپھرفرمایا:بیشك وہ دن بڑا سخت ہے لوگ اس کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کاکچھ بوجھ اور لوگ اٹھائیں۔مولی عزوجل نے مدعی سے فرمایا:نظراٹھاکر دیکھ۔ اس نے نگاہ اٹھائی کہا اے رب میرے! میں کچھ شہر دیکھتا ہوں سونے اور محل سونے کے سراپا موتیوں سے جڑے ہوئے یہ کس نبی کے ہیں یا کس صدیق یا کس شہید کے۔مولی تبارك وتعالی نے فرمایا:اس کے ہیں جو قیمت دے کہا:اے رب میرے!بھلا ان کی قیمت کون دے سکتاہے فرمایا: تو۔عرض کی:کیوں کر
#4175 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
ذلك اتقوا اﷲ واصلحوا ذات بینکم فان اﷲ یصلح بین المسلمین یوم القیمۃ۔رواہ الحاکم فی المستدرک والبیھقی فی کتاب البعث والنشور وابو یعلی فی مسندہ وسعید بن منصور فی سننہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ فرمایا:یوں کہ اپنے بھائی کو معاف کردے۔کہا:اے رب میرے ! یہ بات ہے تو میں نے معاف کیا۔مولی جل مجدہ نے فرمایا:اپنے بھائی کاہاتھ پکڑلے اور جنت میں لے جا۔ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے بیان کر کے فرمایا کہ اﷲ تعالی سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو کہ مولی عزوجل قیامت کے دن مسلمانوں میں صلح کرائے گا۔ (حاکم نے مستدرك میں امام بیہقی نے کتاب البعث والنشور میں ابو یعلی نے مسند اورسعید بن منصور نے اپنی سنن میں حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا التقی الخلائق یوم القیمۃ نادی منادیا یااھل الجمع تتارکوا المظالم بینکم و ثوابکم علی۔رواہ الطبرانی عن انس ایضا رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جب مخلوق روزقیامت بہم ہوگی ایك منادی رب العزۃ جل وعلا کی طرف سے نداکرے گا اے مجمع والو! آپس کے ظلموں کا تدارك کرلو اور تمہاراثواب میرے ذمہ ہے۔(امام طبرانی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسندحسن اس کو روایت کیاہے۔ت)
اور ایك حدیث میں ہے حضوروالا صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا:
ان اﷲ یجمع الاولین والاخرین یوم القیمۃ فی صعید واحد ثم ینادی مناد من تحت العرش یااھل التوحید ان اﷲ عزوجل قدعفا عنکمفیقوم الناس فیتعلق بعضھم ببعض فی ظلامات ثم ینادی منادیا اھل یعنی بیشك اﷲ عزوجل روزقیامت سب اگلوں پچھلوں کوایك زمین میں جمع فرمائے گا پھر زیرعرش سے منادی نداکرے گا اے توحید والو! مولی تعالی نے تمہیں اپنے حقوق معاف فرمائے لوگ کھڑے ہوکر آپ کے دنیاوی مظلموں میں ایك دوسرے سے لپٹیں گے منادی پکارے گا اے توحید والو! ایك دوسرے
حوالہ / References مستدرك للحاکم کتاب الاھوال دارلفکر بیروت ۴/ ۵۷۶،الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی الشیخ وابی یعلی والحاکم مکتبۃ العظمی قم ایران ۳/ ۱۶۱
المعجم الاوسط حدیث ۵۱۴۰ مکتبۃ المعارف الریاض ۶/ ۶۷
#4176 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
التوحید لیعف بعضکم عن بعض وعلی الثواب۔رواہ ایضا عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنھا۔ کو معاف کردو اور ثوا ب دنیا میرے ذمہ ہے۔(اسے بھی طبرانی نے سیدہ ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
یہ دولت کبری ونعمت عظمی کہ اکرم الاکرمین جلت عظمتہ اپنے محض کرم وفضل سے اس ذلیل روسیاہ سراپاگناہ کو بھی عطا فرمائے۔ ع
کہ مستحق کرامت گنہگارانند
(گنہگار شرف وبزرگی(عطاکئے جانے کے لائق ہیں۔ت)
اس وقت کی نظرمیں اس کاجلیل وعدہ جمیل مژدہ صاف صریح بالتصریح یاکالتصریح تصریح پانچ فرقوں کے لئے وارد ہوا:
اول: حاجی کہ پاك مالپاك کمائیپاك نیت سے حج کرےاور اس میں لڑائی جھگڑے اورعورتوں کے سامنے تذکرہ جماع اور ہرقسم کے گناہ ونافرمانی سے بچےاس وقت تك جتنے گناہ کئے تے بشرط قبول سب معاف ہوجاتے ہیںپھر اگر حج کے بعد فورا مر گیا تو اتنی مہلت نہ ملی کے حقوق اﷲ عزوجل یابندوں کے اس کے ذمہ تھے انہیں ادایاادا کی فکرکرتا توامیدواثق ہے کہ مولی تعالی اپنے تمام حقوق سے مطلقا درگزرفرمائے یعنی نمازروزہزکوۃ وغیرہا فرائض کہ بجانہ لایاتھا ان کے مطالبہ پربھی قلم عفوالہی پھر جائے اور حقوق العباد ودیون ومظالم مثلا کسی کاقرض آتاہومال چھینا ہوبراکہاہو ان سب کو مولی تعالی اپنے ذمہ کرم پرلے لے اصحاب حقوق کو روزقیامت راضی فرماکر مطالبہ وخصومت سے نجات بخشےیوہیں اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدر قدرت تدارك حقوق اداکرلیا یعنی زکوۃ دے دی نماز روزہ کی قضاادا کی جس کاجومطالبہ آتاتھا دے دیا جسے آزار پہنچاتھا معاف کرالیا جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یامعلوم نہیں اس کی طرف سے تصدق کردیا بوجہ قلت مہلت جو حق اﷲ عزوجل یابندہ کا اداکرتے کرتے رہ گیا اس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کردیغرض جہاں تك طرق برائت پر قدرت ملی تقصیر نہ کی تو اس کے لئے امید اور زیادہ قوی کہ اصل حقوق کی یہ تدبیر ہوگئی اور اثم مخالفت حج سے دھل چکاتھاہاں اگربعد حج باوصف قدرت ان امورمیں قاصررہا تویہ سب گناہ ازسرنو اس کے سرہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے ان کی ادامیں پھرتاخیر وتقصیر گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۱۳۵۸ مکتبۃ المعارف الریاض ۲/ ۲۰۰
#4177 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
ازالہ کو کافی نہ ہوگا کہ حج گزرے گناہوں کودھوتاہے آئندہ کے لئے پروانہ بیقیدی نہیں ہوتا بلکہ حج مبرور کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھاہوکر پلٹے فانا ﷲ وانا الیہ راجعون ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(بے شك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیںگناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اﷲ تعالی بزرگ وبرتر کی توفیق کے بغیر کسی میں نہیں۔ت)مسئلہ حج میں بحمداﷲ تعالی یہ وہ قول فیصل ہے جسے فقیرغفراﷲ تعالی لہ نے بعد تنقیح دلائل ومذاہب واحاطہ اطراف وجوانب اختیارکی نفیس تحقیق بعونہ تعالی فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے بعد ورود اس سوال کے ایك تحریر جداگانہ میں لکھییہاں اس قدرکافی ہے وباﷲ التوفیق(اﷲ تعالی ہی کے کرم سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت)
احادیث: ابن ماجہ اپنی سنن میں کاملا اور ابوداؤد مختصرا اور امام عبداﷲ بن امام احمد زوائد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ابویعلی مسند اور ابن حبان ضعفاء اور ابن عدی کامل اور بیہقی سنن کبری وشعب الایمان وکتاب البعث والنشور اور ضیاء مقدسی بافادہ تصحیح مختارہ میں حضرت عباس بن مرداس اور امام عبداﷲ بن مبارك بسندصحیح اور ابویعلی وابن منیع بوجہ آخر حضرت انس بن مالك اور ابونعیم حلیۃ الاولیا اور امام ابن جریر طبری تفسیر اور حسن بن سفیان مسند اور ابن حبان ضعفاء میں حضرت عبداﷲ بن عمرفاروق اعظم اور عبدالرزاق مصنف اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت عبادہ بن صامت اور دارقطنی وابن حبان حضرت ابوہریرہ اور ابن مندہ کتاب الصحابہ اور خطیب تلخیص المتشابہ میں حضرت زید جدعبدالرحمن بن عبداﷲ بن زیدرضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے بطرق عدیدہ والفاظ کثیرہ ومعانی متقاربہ راوی:
وھذا حدیث الامام عبداﷲ بن المبارك علی سفین الثوری عن الزبیر بن عدی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال وقف النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعرفات وقد کادت الشمس ان تغرب فقال یابلال انصت لی الناس فقام بلال فقال فقال انصتوا لرسول اﷲ صلی اﷲ (یہ حدیث امام عبداﷲ بن مبارك نے امام سفیان ثوری سے انہوں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے۔ت)یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف فرمایا یایہاں تك کہ آفتاب ڈوبنے پرآیا اس وقت ارشاد ہوا اے بلال! لوگوں کومیرے لئے خاموش کربلال نے کھڑے ہوکر پکارا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
#4178 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
تعالی علیہ وسلم فنصت الناس فقال یامعاشرالناس اتانی جبریل انفا فاقرانی من ربی السلام وقال ان اﷲ عزوجل غفر لاھل عرفات واھل المعشر وضمن عنھم التبعات فقام عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ فقال یارسول اﷲ ھذالنا خاصۃ قال ھذا لکم ولمن اتی من بعدکم الی یوم القیمۃ فقال عمر بن الخطاب کثر خیراﷲ وطاب ۔ وسلم کے لئے خاموش ہوجاؤلوگ ساکت ہوئے۔حضور پر نورصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا اے لوگو! ابھی جبریل نے حاضرہوکر مجھے میرے رب کا سلام وپیام پہنچایا کہ اﷲعزوجل نے عرفات ومشعرالحرام والوں کی مغفرت فرمائی اور ان کے باہمی حقوق کا خود ضامن ہوگیا۔امیرالمومنن عمررضی اﷲتعالی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی یارسول اﷲ کیا یہ دولت خاص ہمارے لئے ہےفرمایا تمہارے لئے اور جوتمہارے بعد قیامت تك آئیں سب کے لئے عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا اﷲ عزوجل کی خیرکثیروپاکیزہ ہے انتہی(ت)
والحمدﷲ رب العلمین(اور سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)
دوم: شہید بحرکہ خاص اﷲ عزوجل کی رضاچاہنے اور اس کابول بالاہونے کے لئے سمندرمیں جہاد کرے اور وہاں ڈوب کر شہید ہوحدیثوں میں آیا کہ مولی عزوجل خود اپنے دست قدرت سے اس کی روح قبض کرتا او ر اپنے تمام حقوق اسے معاف فرماتا اور بندوں کے سب مطالبے جو اس پرتھے اپنے ذمہ کرم پرلیتاہے۔
احادیث: ابن ماجہ اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابوامامہ اور ابونعیم حلیہ میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پھپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب اور شیرازی کتاب الالقاب میں حضرت عبداﷲ ابن عمروبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے راوی:
واللفظ لابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یغفر لشھید البر الذنوب کلھا الاالدینو (حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے الفاظ ہیں۔ت)یعنی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جوخشکی میں شہیدہو اس کے سب گناہ بخشے جاتے ہیں مگرحقوق العباد۔
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ ابن مبارك عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۱/ ۳۱۔۳۳۰
#4179 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
یغفر لشھید البحر الذنوب کلھا والدین ۔ اور جودریا میں شہادت پائے اس کے تمام گناہ و حقوق العباد سب معاف ہوجاتے ہیں۔
اللھم ارزقنا بجاھہ عندك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك امین(اے اﷲ! حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس بلند پایہ رتبہ کے طفیل جو ان کا تیری بارگاہ میں ہے ہمیں یہ دولت نصیب فرماآمین۔ت)
سوم شہیدصبریعنی وہ مسلمان سنی المذہب صحیح العقیدہ جسے ظالم نے گرفتار کرکے بحالت بیکسی و مجبور ی قتل کیاسولی دیپھانسی دی کہ یہ بوجہ اسیری قتال ومدافعت پرقادرنہ تھا بخلاف شہید جہاد کہ مارتامرتا ہے اس کی بیکسی وبیدست پائی زیادہ باعث رحمت الہی ہوتی ہے کہ حق اﷲ وحق العبد کچھ نہیں رہتا ان شاء اﷲ تعالی(اگراﷲ تعالی چاہے۔ت)
احادیث: بزار ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسندصحیح راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قتل الصبر لایمر بذنب الا محاہ ۔ قتل صبرکسی گناہ پرنہیں گزرتا مگریہ کہ اسے مٹادیتاہے۔
نیزبزار ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قتل الرجل صبرا کفارۃ لما قبلہ من الذنوب ۔
قال المناوی فی التیسیر ظاھرہ وان کان المقتول عاصیا ومات بلاتوبۃ ففیہ رد علی الخوارج والمعتزلۃ اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول: بل لا محمل لہ سواہ آدمی کابروجہ صبرماراجانا تمام گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا اس کاظاہر مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ مقتول گنہگار ہو اور بغیر توبہ مرجائے۔پس اس میں خارجیوں اور معتزلہ کاردہے اھمجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر لکھا کہ جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۷۷۱۶ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۰۱،سنن ابن ماجہ کتاب الجہاد باب فضل الغزوالبحر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۰۴
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الحدود باب قتل الصبر حدیث ۱۵۴۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۲۱۴
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الحدود باب قتل الصبر حدیث ۱۵۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۲۱۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث قتل الصبر الخ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۲/ ۱۹۳
#4180 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
فانہ ان لم یکن عاصیا لم یمر القتل بذنب وان کان تاب فکذالك فان التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۔ بلکہ اس کے علاوہ اس کا اور کوئی محمل نہیں اس لئے کہ اگرمقتول گنہگار نہ ہوتو پھرقتل کاگناہ پرگزرنہ ہوگا(گناہ ہی نہ ہوتو اس پرگزرکیسا)اور اگر اس نے توبہ کرلی توپھر بھی یہی حکم ہے اس لئے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہوجاتاہے کہ جس کاکوئی گناہ ہی نہیں۔ت)
احادیث مطلق ہیں اور مخصص مفقود وحدث عن البحر ولاحرج اورہم نے سنی المذہب کی تخصیص اس لئے کی کہ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو ان صاب بدعۃ مکذبا بالقدر قتل مظلوما صابرا محتسبا بین الرکن والمقام لم ینظراﷲ فی شیئ من امرہ حتی یدخلہ جہنم۔رواہ ابوالفرج فی العلل من طریق کثیر من سلیم تاانس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکرہ۔ اگرکوئی بدمذہب تقدیرہرخیروشرکامنکر خاص حجراسود ومقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے درمیان محض مظلوم وصابر مارا جائے اور وہ اپنے اس قتل میں ثواب الہی ملنے کی نیت بھی رکھے تاہم اﷲ عزوجل اس کی کسی بات پر نظر نہ فرمائے یہاں تك کہ اسے جنہم میں داخل کرےوالعیاذباﷲ تعالی۔ (ابوالفرج نے العلل میں کثیر بن سلیم تاانس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاپھرپوری حدیث کو ذکرکیا۔ت)
چہارم: مدیون جس نے بحاجت شرعیہ کسی نیك جائز کام کے لئے دین لیا اور اپنی چلتی ادا میں گئی نہ کی نہ کبھی تاخیرناروارکھی بلکہ ہمیشہ سچے دل سے ادا پرآمادہ اور تاحد قدرت اس کی فکرکرتا رہا پھر بمجبوری ادانہ ہوسکا اورموت آگئی تومولی عزوجل اس کے لئے ا س دین سے درگزرفرمائے گا اور روزقیامت اپنے خزانہ قدرت سے ادافرماکر دائن کوراضی کردے گا اس کے لئے یہ وعدہ خاص اسی دین کے واسطے ہے نہ تمام حقوق العباد کے لئے۔
احادیث: احمدوبخاری وابن ماجہ حضرت ابوہریرہ اور طبرانی معجم کبیر میں بسند صحیح حضرت میمون کردی اور حاکم مستدرك اور طبرانی کبیر میں حضرت ابوامامہ باہلی اور احمد وبزار وطبرانی وابونعیم بسندحسن
حوالہ / References العلل المتناہیۃ باب دخول المبتدع النار حدیث ۲۱۵ نشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۱۴۰
#4181 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق اور ابن ماجہ وبزارحضرت عبداﷲ بن عمرو اور بیہقی مرسلا قاسم مولائے حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی واللفظ لمیمون رضی اﷲ تعالی عنہ:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ادان دینا ینوی قضائہ اداہ اﷲ عنہ یوم القیمۃ ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی دین کامعاملہ کرے کہ اس کے ادا کی نیت رکھتاہو اﷲ عزوجل اس کی طرف سے روزقیامت ادافرمائے گا۔
حدیث ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے لفظ مستدرك میں یہ ہیں حضوراقدس صلوات اﷲ وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
من تداین بدین وفی نفسہ وفاؤہ ثم مات تجاوزاﷲ عنہ وارضی غریمہ بماشاء ۔ جس نے کوئی معاملہ دین کیا اور دل میں ادا کی نیت رکھتاتھا پھرموت آگئی اﷲ عزوجل اس سے درگزر فرمائے گا اور دائن کو جس طرح چاہے راضی کرے گا۔
نیك وجائز کی قیدحدیث عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے ظاہر کہ اس میں ضرورت جہاد وضرورت تجہیزوتکفین مسلمان و ضرورت نکاح کو ذکر فرمایا بلکہ بخاری تاریخ اورابن ماجہ سنن اور حاکم مستدرك میں راوی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی مع الدائن حتی یقضی دینہ مالم یکن دینہ فیما یکرہ اﷲ ۔ بیشك اﷲ تعالی قرضدار کے ساتھ ہے یہاں تك کہ اپنا قرض اداکرے جب تك کہ اس کادین اﷲتعالی کے ناپسندکام میں نہ ہو۔
بمجبوری رہ جانے کی قیدحدیث ابن صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہما سے ثابت کہ رب العزت جل وعلا روزقیامت مدیون سے پوچھے گا تونے کاہے میں یہ دین لیا اور لوگوں کا حق ضائع کیاعرض کرے گا اے رب میرے! توجانتاہے کہ میرے اپنے کھانے پینے پہننے ضائع کردینے کے سبب وہ دین نہ رہ گیا بلکہ اتی علی اما حرق واما سرق واما وضیعۃ آگ لگ گئی یاچوری ہوگئی یاتجارت میں ٹوٹا پڑا یوں رہ گیا
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹ ۲۳/ ۴۳۲ و حدیث ۷۹۴۹ ۸ /۲۹۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب البیوع باب ماجاء فی جواز الاستقراض دارالفکر بیروت ۵/ ۳۵۴،کنزالعمال بحوالہ طب عن میمونہ حدیث ۱۵۴۲۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۲۱
المستدرك للحاکم کتاب البیوع ان اﷲ مع الدائن الخ دارالفکر بیروت ۳/ ۲۳
المستدرك للحاکم کتاب البیوع ان اﷲ مع الدائن الخ دارالفکر بیروت ۳/ ۲۳،کنزالعمال بحوالہ تخ،ھ،ك حدیث ۱۵۴۳۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۲۱
#4182 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
مولی عزوجل فرمائے گا:
صدق عبدی فانا احق من قضی عنک ۔ میرابندہ سچ کہتاہے سب سے زیادہ میں مستحق ہوں کہ تیری طرف سے ادافرمادوں۔
پھرمولی سبحنہ وتعالی کوئی چیز منگاکر اس کے پلہ میزان میں رکھ دے گا کہ نیکیاں برائیوں پر غالب آجائیں گی اور وہ بندہ رحمت الہی کے فضل سے داخل جنت ہوگا۔
پنجم: اولیائے کرام صوفیہ صدق ارباب معرفت قدست اسرارہم ونفعنا اﷲ ببرکاتہم فی الدنیا والآخرۃ(ان کے راز پاك کردئیے گئےاﷲ تعالی ہمیں دنیااورآخرت میں ان کی برکتوں سے فائدہ پہنچائے۔ت)کہ بنص قطعی قرآن روزقیامت ہرخوف وغم سے محفوظ وسلامت ہیں۔
قال تعالی " الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیہم ولا ہم یحزنون ﴿۶۲﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)آگاہ ہوجاؤ یقینا اﷲ تعالی کے دوست(ہرخوف اورغم سے محفوظ ہوں گے)نہ انہیں کوئی ڈرہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(ت)
توان میں بعض سے اگربتقاضائے بشریت بعض حقوق الہیہ میں اپنے منصب ومقام کے لحاظ سے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین کوئی تقصیر واقع ہو تومولی عزوجل اسے وقوع سے پہلے معاف کرچکاکہ:
قداعطیتکم من قبل ان تسألونی وقداجبتکم من قبل ان تدعونی وقد غفرت لکم من قبل ان تعصونی ۔ میں نے تمہیں عطافرمادیا اس سے پہلے کہ تم مجھ سے کچھ مانگواو رمیں نے تمہاری درخواست قبول کرلی قبل اس کے کہ تم مجھے پکارواور یقینا تمہاری نافرمانی کرنے سے پہلے میں نے تمہیں معاف کردیا۔(ت)
یوہیں اگرباہم کسی طرح کی شکررنجی یاکسی بندہ کے حق میں کچھ کمی ہو جیسے صحابہ رضوان اﷲ تعالی
حوالہ / References مسند امام احمدبن حنبل عن عبدالرحمن بن ابی بکر المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۹۸،الترغیب والترہیب بحوالہ احمدوالبزارو الطبرانی وابی نعیم مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۰۲
القرآن الکریم ۱۰ /۶۲
مفاتیح الغیب التفسیر الکبیر تحت آیۃ سورۃ القصص وماکنت بجانب الغربی الخ المطبعۃ البہیۃ لمصریۃ ۲۴/ ۲۵۷
#4183 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
علیہم اجمعین کے مشاجرات کہ:
ستکون لاصحابی زلۃ یغفرھا اﷲ تعالی لھم لسابقتھم معی ۔ عنقریب میرے ساتھیوں سے کچھ لغزشیں ہوں گی جنہیں ان کی پیش قدمی کے باعث اﷲ تعالی معاف فرمادے گا۔(ت)
تومولی تعالی وہ حقوق اپنے ذمہ کرم پر لے کر ارباب حقوق کوحکم تجاوزفرمائے گا اور باہم صفائی کراکر آمنے سامنے جنت کے عالیشان تختوں پربٹھائےگاکہ:
" ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخونا علی سرر متقبلین ﴿۴۷﴾" ان کے سینوں کو کینوں اور کدورتوں سے ہم پاك صاف کردیں گے پھر وہ بھائی بھائی ہوکر ایك دوسرے کے آمنے سامنے تخت نشین ہوں گے۔(ت)
اسی مبارك قوم کے سروروسردار حضرات اہل بدررضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین جنہیں ارشاد ہوتاہے:
اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم ۔ جوچاہوکرو کہ میں تمہیں بخش چکا۔
انہیں کے اکابرسادات سے حضرت امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں جن کے لئے بارہا فرمایاگیا:
ماعلی عثمن ماعمل بعد ھذہ ماعلی عثمن ماعمل بعد ھذہ ۔ آج سے عثمان کچھ کرے اس پرمواخذہ نہیںآج سے عثمان کچھ کرے اس پرمواخذہ نہیں۔
فقیرغفراﷲ تعالی کہتاہے حدیث:
اذا احب اﷲ عبدا لم یضرہ ذنب رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس و جب اﷲ تعالی کسی بندے سے محبت کرنے لگے تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتامحدث دیلمی نے
حوالہ / References الجامع الصغیر حدیث ۳۳۵۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۰۱
القرآن الکریم ۱۵ /۴۷
صحیح البخاری کتاب المغازی باب فضل من شہدبدرا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۶۷
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب عثمان ابن عفان امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۱
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۲۴۳۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۷۷،الدرالمنثور بحوالہ القشیری وابن نجار تحت آیۃ ان اﷲ یحب التوابین الخ منشورات مکتبۃ آیۃ العظمٰی قم ایران ۱/ ۲۶۱
#4184 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
الامام القشیری فی رسالتہ وابن النجار فی تاریخہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اسے مسند الفردوس میںامام قشیری نے اپنے رسالہ میں اور ابن نجار نے اپنی تاریخ میں حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اسے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا۔(ت)
کاعمدہ محمل یہی ہے کہ محبوبان خدا اول توگناہ کرتے ہی نہیں ع
ان المحب لمن یحب مطیع
(بے شك محبت کرنے والا جس سے محبت کرتاہے اس کافرمانبردار مطیع ہوتاہے۔ت)
وھذا مااختارہ سیدنا الوالد رضی اﷲ تعالی عنہ(اور اسی کو ہمارے والدگرامی(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)نے پسند فرمایا۔ت)اور احیانا کوئی تقصیر واقع ہو تو واعظ وزاجرالہی انہیں متنبہ کرتا اور توفیق انابت دیتاہے پھر التائب من الذنب کمن لاذنب لہ (گناہوں سے توبہ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہوجاتاہے جس نے کوئی گناہ کیاہی نہ ہو۔ت)اس حدیث کاٹکڑا ہے وھذا مامشی علیہ المناوی فی التیسیر(یہ وہی ہے جس پر علامہ مناوی نے تیسیر میں روش اختیارفرمائی۔ت)اور بالفرض ارادہ الہیہ دوسرے طورپرتجلی شان عفو ومغفرت واظہار مکان قبول ومحبوبیت پرنافذ ہوا تو عفومطلق وارضائے اہل حق سامنے موجودضرر ذنب بحمداﷲ تعالی ہرطرح مفقودوالحمدﷲ الکریم الودودوھذا مازدتہ بفضل المحمود(سب تعریف اس خد اکے لئے جو بزرگ وبرترمعزز اور بندوں کودوست رکھنے والا اور ان کامحبوب ہےیہ وہ ہے جس کا میں نے اﷲ تعالی ستودہ صفات کے فضل وکرم سے اضافہ کیاہے۔ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ کے گمان میں حدیث مذکور ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا ینادی مناد من تحت العرش یااھل التوحیدالحدیث (عرش کے نیچے سے ایك نداکرنے والا نداکرے گا اے توحید پرستوالحدیث۔ت)میں اہل توحید سے یہی محبوبان خدا مراد ہیں کہ توحید خالص تام کامل ہرگونہ شرك خفی واخفی سے پاك ومنزہ انہیں کاحصہ ہے بخلاف اہل دنیا جنہیں عبدالدینار عبدالدرہم عبد طمع عبدہوی عبدرغب فرمایاگیا۔
حوالہ / References الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۲۴۳۲ دارلکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۷۷
المعجم الاوسط حدیث ۱۳۵۸ مکتبۃ المعارف الریاض ۲/ ۲۰۰
#4185 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
وقال اﷲ تعالی " افرءیت من اتخذ الـہہ ہوىہ" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(اے محبوب!)کیا آپ نے دیکھا جس نے اپنی خواہش کواپنامعبود بنارکھاہے۔(ت)
اور بیشك بے حصول معرفت الہی اطاعت ہوائے نفس سے باہرآناسخت دشواریہ بندگان خدا نہ صرف عبادت بلکہ طلب وارادت بلکہ خود اصل ہستی ووجود میں اپنے رب جل مجدہ کی توحید کرتے ہیں لاالہ الا اﷲ(اﷲ تعالی کے سواکوئی سچامعبود نہیں۔ت)کے معنی عوام کے نزدیك لامعبود الااﷲ(اﷲ تعالی کے سوا کوئی ایسانہیں جس کی عبادت کی جائے۔ت)خواص کے نزدیك لامقصود الااﷲ(اﷲ تعالی کے سوا مقصود ومطلوب نہیں۔ت)اہل ہدایت کے نزدیك لامشھود الااﷲ(اﷲ تعالی کے کے سواکوئی ایسانہیں جس کی وحدانیت کی گواہی دی جائے اور جس کی بارگاہ میں مخلوق حاضر ہونے والی ہو۔ت)ان اخص الخواص ارباب نہایت کے نزدیك لاموجود الااﷲ(اﷲ تعالی کے سواحقیقتا کوئی موجود نہیں۔ت)تواہل توحید کاسچانام انہیں کوزیباولہذا ان کے علم توحید کہتے ہیں:
جعلنا اﷲ تعالی من خدامھم و تراب ا قدامھم فی الدنیا ولاخرۃ وغفرلنا بجاھھم عندہ انہ اھل التقوی واھل المغفرۃ امین! اﷲ تعالی ہمیں ان کے خادموں میں شامل فرمائے اور دنیاوآخرت میں ان کے قدموں کی مٹی بنادے اور ان کے اس مرتبہ عالیہ کے طفیل جو ان کا اس کی بارگاہ میں ہے ہمیں بخش دے بیشك وہی اس لائق ہے کہ اس سے خوف رکھاجائے اور وہی بخش دینے کی اہلیت رکھتاہے۔اے اﷲ! میری دعا قبول ومنظور فرما۔(ت)
امیدکرتاہوں کہ اس حدیث کی یہ تاویل تاویل امام غزالی قدس سرہ العالی سے احسن واجودوباﷲ التوفیق۔
پھر ان صورتوں میں بھی جبکہ طرزیہی برتی گئی کہ صاحب حق کو راضی فرمائیں اور معاوضہ دے کر اسی سے بخشوائیں تو وہ کلیہ ہرطرح صادق رہا کہ حق العبد بے معافی عبدمعاف نہیں ہوتا۔غرض معاملہ نازك ہے اور امرشدید اور عمل تباہ امل بعیداور کرم عمیم اوررحم عظیماور ایمان
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۵ /۲۳
#4186 · اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد۱۳۱۰ھ (بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
خوف ورجا کے درمیان۔
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی شفیع المذنبین نجاۃ الہالکین مرتجی البائسین محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العلمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اور ہمیں اﷲ تعالی ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہےاور گناہوں سے کنارہ کش ہونے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت اس کی توفیق وعنایت کے بغیرکسی میں نہیںوہ بلندمرتبہ بزرگ وبرتر ذات ہےاﷲ تعالی کی بے پایاں رحمتیں ہوں گنہگاروں کیلئے سفارش کرنے والی ذات پرتباہ حالوں کے وسیلہ نجات پر اور ناامید ہونے والوں کے مرکز امیدپریعنی ہمارے آقاومولی حضرت محمدمصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وآلہ وسلم پران کی سب اولاد اور ساتھیوں پرسب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کاپروردگارہے اور اﷲ تعالی پاك بلند وبالا سب سے بڑا عالم ہے اور اس عظمت والی ذات کاعلم نہایت درجہ کامل اور محکم ومضبوط ہے۔(ت) ۱۴/جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
_________________
رسالہ
اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد
ختم ہوا
#4187 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
سوگ ونوحہ وجزع وفزع

مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۱: ازمحمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں صاحب رامپوری ۱۹ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اگر کسی شخص مسلمان کے تین بچے سال سال بھر کے یادودوبرس یاتین تین کے کہ قضائے الہی سے فوت ہوجائیں اور وہ شخص رنج کی حالت میں نمازپڑھ کر خدا کاشکر اداکرے اور صبرکرے جب اس شخص نے اپنے بچوں کے مرنے پر اﷲ کاشکرکیا اور صبرکیا تب اس صبر کی جزابچوں کے والدین کوقیامت میں کچھ ملے گی یانہیں بینواتوجروا۔
(۲)جو شخص بچوں کے مرنے پرچلاکرروتے ہیں اس چلاکے رونے سے میت پرکچھ تکلیف ہوتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
(۳)چلاکے روناجائزہے یاناجائز بینواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
(۱)اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" انما یوفی الصبرون اجرہم بغیر حساب ﴿۱۰﴾" یوہیں ہے کہ صبرکرنے والوں کو ان کااجرپوراپورا دیاجائے گابے شمار۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۹ /۱۰
#4188 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
اور فرماتاہے:
" اولئک علیہم صلوت من ربہم ورحمۃ واولئک ہم المہتدون﴿۱۵۷﴾" ایسے لوگوں پردرودیں ہیں ان کے رب کی طرف سے اور مہربانیاور یہی لوگ راہ پانے والے ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامسلم یموت لہ ثلثۃ لم یبلغوا الحنث الا ادخلہ الجنۃ بفضل رحمتہ یاھم۔رواہ الشیخان و النسائی وابن ماجۃ عن انس بن مالك واحمد عن امہ وعن عمروبن عبسۃ وعن ابی ھریرۃ وعبداﷲ بن احمد فی زوائد المسند وابویعلی بسند صحیح والحاکم وصححہ عن الحارث بن اقیش رضی اﷲ تعالی عنھم۔ جس مسلمان کے تین بچے نابالغی میں مریں گے اﷲ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائے گا اس رحمت کی برکت سے جو ان بچوں پرفرمائے گا(امام بخاریمسلمنسائی اور ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك کے حوالہ سے اس کو روایت کیاہے۔احمد نے اپنی والدہ اور عمروبن عبداﷲ اور ابوہریرہ سے روایت کیا۔ابن حبان نے حضرت ابوذر سے اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ سے اور عبداﷲ بن احمد نے زوائدمسندمیں اور ابویعلی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔اور حاکم نے اسے صحیح قراردے کر حضرت حارث بن اقیش سے روایت کیاہےاﷲ تعالی ان سے راضی ہو۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
مامن مسلم یموت لہ ثلثۃ من الوالد لم یبلغوا الحنث الاتلقوہ من ابواب الجنۃ الثمانیۃ من ایھا شاء دخل۔رواہ ابن ماجۃ جس مسلمان کے تین بچے نابالغ مریں گے وہ جنت کے آٹھوں دروازوں سے اس کا استقبال کریں گے کہ جس سے چاہے داخل ہو۔(ابن ماجہ نے اس کو
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۱۵۷
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماقیل فی اولاد المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۴،سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی ثواب من اصیب الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۶،سنن النسائی کتاب الجنائز باب ثواب من احتسب الخ نورمحمدکتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۴
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی ثواب من اصیب الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۶،کنزالعمال حدیث ۶۵۶۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۲۸۴
مسنداحمد بن حنبل معاذبن جبل المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۴۱
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب فصل المصیبۃ اذ احتسب امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۲
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۳۱۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۹۸
کنزالعمال بحوالہ الخطیب عن ابی ھدیۃ حدیث ۴۲۶۰۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۶۵۷
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب معرفۃ المیت من یغسلہ الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۴
الجامع الصغیر بحوالہ الحکیم عن والد عبدالعزیز حدیث ۳۳۱۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۹۹
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی کراھیۃ البکاء امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۹
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۲۴
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اطلاق اسم الکفر علی الطعن فی النسب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۸
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الجنائز باب ماجاء فی النوح مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۳۷۷
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الوعید للنائحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۳
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز،باب فی النہی عن النیاحۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۴
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۵۲۲۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۱۱۰
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضرب الخدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب البکاء عندالمریض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۷
درمختار کتاب الاجارہ فاسدہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹
صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۴۱
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۷۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۸۳
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷
مثنوی معنوی قصہ نواختن مجنون آن سگ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفترسوم ص۱۷
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی محمد الحسن الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۹
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلوٰۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۳۴۶
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
المعجم الکبیر مرویات ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حدیث ۷۶۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳/ ۳۲۔۳۳۱
صحیح مسلم کتاب الصیام باب یوم عاشوراء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۵۹
مسند امام احمدبن حنبل حدیث حضرت مقدام بن معدی کرب دارالفکر بیروت ۴/ ۱۳۱
سنن ابی داؤد کتاب الایمان باب من رأی علیہ کفارۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۱
القرآن الکریم ۵ /۳۵
القرآن الکریم ۱۷ /۵۷

مسندامام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۵۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴
مسنداحمدبن حنبل بقیہ حدیث عبداﷲ بن ابی اوفٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۱۰ /۶۹
القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
کشف الخفاء حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷،اتحاف السادۃ کتاب عجائب القلب بیان تفصیل مداخل الشیطان الی القلب، دارالفکربیروت ۷/ ۲۸۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ باب ادراك الفریضۃ نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۳
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۴
الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۸۳
مجمع بحارالانوار خاتمہ الکتاب دارالایمان المدینۃ المنوّرۃ ۵/ ۳۰۷
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورہ نوح ۷۱ باب ودًا اولا سواعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
فتح الباری بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح مصطفی البابی مصر ۱۰/ ۲۹۵،الدرالمنثور بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایران ۶/ ۲۶۹
تاریخ بغداد ترجمہ ۳۴۶۴ اسحٰق بن محمد دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۴۰۳ و ۴۰۴
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب الترغیب فی اطعام الطعام حدیث ۲۱ مصطفی البابی مصر۲/ ۶۸
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۶۴
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵،المستدرك للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکربیروت ۱/ ۳۸۳
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۲۲۴
المستدرك للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکر بیروت ۱/ ۳۸۳،سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۵
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳ و ۲۱/ ۷
فتاوٰی ھندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶
المقاصد الحسنۃ حدیث ۱۱۷۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۲۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی المجلس السادس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۷
منح الروض الازھر بحوالہ الملتقط فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۰
المواہب اللدنیۃ النوع الثانی اللباس لبس الطیلسان المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۵۰
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۰
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۳
القرآن الکریم ۱۷ /۳۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہٖ الخ عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴
صحیح البخاری کتاب اللباس باب المتشبہین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۴
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب کیف الاختمار آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۲،مسنداحمد بن حنبل عن ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۲۹۴ و ۲۹۶
التیسیر شرح الجامع الصغیرتحت حدیث لیۃ لالیتین مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۳۳۵
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۱۶۴۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۲۵۲،سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب فی المتشبہین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۸
مسنداحمدبن حنبل مسندعبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۰۰،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادب فی المتشبہین دارالکتاب بیرو ت ۸/ ۱۰۳
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل تحت حدیث ۴۴۶۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۴
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸،مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیرو ت ۶/ ۲۶۲
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۸۱
مسنداحمدبن حنبل عن امرأۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۴۳۷
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی النظافۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۷۰ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۴
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۱۶
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ با ب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۷،شرعۃ الاسلام فصل فی اللباس مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۰۲۔۳۰۱
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء ۲/ ۲۱۸ ومسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا ۶/ ۲۶۲
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۱
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۸۱
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۴/ ۲۱۱
مواردالظمٰان باب فیما یحرم علی النساء مما یصف البشرۃ حدیث ۱۴۵۴ المطبعۃ السلفیہ ص۳۵۱
اسرارالموضوعۃ حدیث ۷۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۸۵
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الخاتم حدیث ۴۳۸۳ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۱۷۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
خزانۃ المفتین فصل فی الالفاظ الکفر قلمی نسخہ ۱/ ۲۰۱
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
جامع الفصولین الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۲
منح الروض الازشرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
جامع الفصولین الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۲
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
بحرالرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۱۲۳
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خلاصہ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳
درمختار کتاب الاشربہ مطبع مجتبائی ۲/ ۲۶۱
القرآن الکریم ۲ /۲۹
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجبتائی دہلی ۱/ ۹۴
مسندامام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۲۶،صحیح مسلم کتاب اللباس،باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۹
درمختار مسائل شتٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۰
ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱،صحیح البخاری کتاب البیوع باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۸۳
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۶۶،مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب من لم یدخل شیئا مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۸۸۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۷
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
صحیح البخاری کتاب اللباس باب ماوطی من التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۳۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،کنزالعمال حدیث ۹۳۶۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۵
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب الصور فی البیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۸
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب التصاویرفی الثوب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۶۶
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ و ۱۰۵۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،۲۶۶،کنزالعمال حدیث ۹۳۶۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۵
القرآن الکریم ۷۱ /۲۳
صحیح البخاری کتاب التفاسیر باب وَدًّا وسواعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
الدرالمنثور بحوالہ عبدبن حمید تحت آیۃ ۷۱/ ۲۳ دارحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۷۴۔۲۷۳
صحیح البخای کتاب الجنائز باب بناء المسجد علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ ۱/ ۲۰۱
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر المکتبۃالحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۸۲
مسنداحمد بن حنبل،عن ابی طلحہ ۴/ ۲۸ و صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق ۱/ ۴۵۸،۴۶۸،صحیح مسلم کتاب اللباس ۲/ ۲۰۰ و سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۶،جامع الترمذی ابواب الاب ۲/ ۱۰۳ و وسنن النسائی ص۲۹۹،شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰
شرح معانی الآثار عن ابن عباس ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۴۰۰،صحیح البخاری کتاب المغازی ۲/ ۵۷۰ و کتاب اللباس ۲/ ۸۸۱
صحیح مسلم ۲/ ۱۹۹ و مسنداحمدبن حنبل ۶/ ۳۳۰ وسنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۷
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۰ و ۲۰۱ سنن ابن ماجہ ص۲۱۸ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۱و۴۰۰
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۲ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۱ وشرح معانی الآثار ۲/ ۳۰۴
سنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۶ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰
جامع الترمذی ۲/ ۱۰۴ و مؤطا امام مالك ماجاء فی الصور والتماثیل ص۷۲۶
مسند احمدبن حنبل ۵/ ۲۰۳ و المعجم الکبیر حدیث ۳۸۷ ۱/ ۱۶۲ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰،صحیح البخاری کتاب المناسك ۱/ ۲۱۸ و کتاب الانبیاء ۱/ ۴۷۳ قدیمی کتب خانہ کراچی،سنن ابی داؤد کتاب المناسك ۱/ ۲۷۷ و مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس ۱/ ۳۳۵ و ۳۶۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الثانی الجنس فیمایکرہ فی الصلوٰۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۵۸
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصورۃ تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
الجامع الصغیر کتاب الصلوٰۃ باب فی الامام این تستحب لہ ان یقوم مطبع یوسفی لکھنو ص۱۱
کافی شرح وافی
حاشیۃ الدرر علی الغرر للخادمی کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبعہ عثمانیہ ص۷۰
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۳
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح کتاب االصلوٰۃ فصل فی المکروہات نورمحمدکارخانہ تجارت کتب ص۱۹۹
الہدایۃ کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۳۲۹
فتح القدیر کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۳۵۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان الملائکۃ لاتدخل بیتا الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۴،شرح معانی الآثار کتاب الکراہۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۷۴
القرآن الکریم ۱۶ /۲۱
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۱
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ۱/ ۱۲۲
کافی شرح وافی
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۶۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۷
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۷،۲۸
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۷،۲۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مؤطا الامام محمد باب التصاویر والجرس ومایکرہ منہا آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۸۲
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس تحت حدیث ۴۴۸۹ ۸/ ۲۶۵ و ۲۶۶
صحیح البخاری کتاب المظالم والقصاص باب ھل تکسرالدنان التی فیہا الخمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۳۷
مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۲۴۷
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
سنن النسائی کتاب الزینۃ ذکراشد الناس عذابا میرمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲/ ۳۰۱
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹
بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۲۷
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
العنایۃ شرح الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۲
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۵
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
حاشیہ سعدی چلپی علی العنایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث ۱ /۳۶۳
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۴۳۷
الکافی شرح الوافی
تبیین الحقائق کتا ب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵
الجامع الصغیر کتاب الصلٰوۃ باب فی الامام این یستحب ان یقوم الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۱
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ھامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۳۶۵
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۲
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۳
الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۳
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ ۱ /۶۶ و بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ۱ /۲۸
الہدایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل کراھیۃ الصلٰوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۵۹
العنایۃ شرح الہدایۃ علٰی ہامش فتح القدیر باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۴
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷،بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۲
الکافی شرح الوافی
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الصلٰوۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۸
فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلٰوۃ باب الحدث فی الصلٰوۃ ومایکرہ فی الصلٰوۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۵۷
القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھۃ فی الوضووکیفیات الصلٰوۃ مطبوعہ کلکتہ ص۱۴۹
الدرالمختار کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۳،فتح المعین بحوالہ تمرتاشی کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۴۶
الدررالحکام شرح غررالاحکام باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھیۃ فی الوضوء الخ مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۱۴۹
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۱۶۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۱
بحرالرائق بحوالہ المحیط کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الجنس فیمایکرہ فی الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۵۸
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۹۳
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۶
مرقات المفاتیح شرح المشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب التصاویر الفصل الاول ۸ /۲۷۳
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ داراحیاء التراث العربی ۱ /۴۳۶
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب اذاصلی الٰی ساربۃ اونحوھا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۰
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب مایقطع الصلٰوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۲
شرح معانی الآثار باب المرور بین یدی المصلی الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۳۰۹
فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۷
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ الی الراحلۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۴
فتح لقدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۴
تبیین الحقائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۶،بحرالرائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۸
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷
فتاوٰی ھندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۲
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فصل مایفسدالصلٰوۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۱۹۶
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فصل مایفسدالصلٰوۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۱۹۵
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۶۲
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶،جامع الترمذی ابواب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴
کنزالعمال عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما حدیث ۳۵۲۷۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۳۳۴
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب صلۃ الرحم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸،مسند احمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۶۰و۱۹۴و۱۹۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۸۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶
صحیح البخاری کتاب ابواب العمرہ باب مایقتل المحرم من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۷،صحیح البخاری بدأالخلق باب خمس من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷،صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ ۷۷ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۔۷۳۴
صحیح مسلم کتاب الحج باب مایندب للمحرم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۲
سنن النسائی کتاب الحج باب یقتل المحرم من الدواب نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۵
سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب یقتل المحرم من الدواب آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۵۴
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷
الاشباہ والنظائر بحوالہ الزیلعی الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳
جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح مسلم للنوی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۳۴
جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹
سنن ابی داؤد کتاب الآداب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷
الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن ثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳
الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن الثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۸۴
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹
القرآن الکریم ۵ /۴
جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق باب خمس من الدواب فواسق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فیما یتعلق بالدواب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۸ /۴۵۵،مواردالظمآن باب صلٰوۃالکسوف حدیث ۵۹۵ و ۵۹۶ المطبعۃ السلفیہ ص۱۵۷
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
صحیح بخاری ابواب المظالم والقصاس باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱
القرآن الکریم ۷ /۴۴
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق ۱/ ۴۵۸ وکتاب المغازی ۲ /۵۷۰ وصحیح مسلم کتاب اللباس ۲ /۲۰۰،جامع الترمذی ابواب الاب ۲ /۱۰۳ وسنن النسائی ابواب الصید ۲ /۱۹۳
صحیح البخاری کتاب الذبائح ۲ /۸۲۴ و صحیح مسلم کتاب المساقات ۲/ ۲۱،جامع الترمذی ابواب الصید ۱ /۱۸۰ و سنن النسائی ابواب الصید ۲ /۱۹۴،مسندامام احمدبن حنبل عن ابن عمر ۲ /۴،۳۷۰،۴۷،۶۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹
صحیح البخاری کتاب المظالم باب الدبارعلی الطریق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۳۳،صحیح مسلم کتاب السلام باب فضل سقی البہائم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷
القرآن الکریم ۲ /۲۰۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۲ /۴۷۲
القرآن الکریم ۳ /۹۳
بہجۃ الاسرار عن قول الرجل ای شیئ اعملہ مصطفی البابی مصر ص۷۴
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم علیہ یتحولہم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶
مسنداحمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغاویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶
القرآن الکریم ۳۹ /۵۳
تحفہ اثناعشریہ باب ششم دربحث نبوت الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
المستدرك للحاکم کتاب العلم خطبہ عمربعدماولی علی الناس دارالفکر بیروت ۱ /۱۲۶
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
المواہب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰
القرآن الکریم ۸۹ /۲۹
القرآن الکریم ۳۶ /۳۰
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
صحیح البخاری کتاب الایمان باب خوف المؤمن ان یحبط عملہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲
القرآن الکریم ۴۹ /۱۱
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۹
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳
القرآن الکریم ۱۹ /۱۹
القرآن الکریم ۳ /۱۳۵
القرآن الکریم ۴۲ /۴۳
القرآن الکریم ۶۴ /۱۴
القرآن الکریم ۴۲ /۳۷
القرآن الکریم ۱۲ /۴۰
القرآن الکریم ۴ /۳۵

صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب باب قولہ من ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۰۶،صحیح البخاری کتاب النکاح باب ھل للمرأ ۃ ان تہب نفسہا لاحد قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۶
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تغییرالاسمارء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
صحیح مسلم کتاب الادب باب تغییر الاسم القبیح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
صحیح مسلم کتاب الادب باب تغییر الاسم القبیح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،مسنداحمد بن حنبل عن ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض،بحوالہ ابوبکر ابن العربی،فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت ۲ /۳۹۰
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض،بحوالہ ابوبکر ابن العربی،فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت ۲ /۳۹۰
حاشیہ امام احمدرضاخاں علٰی نسیم الریاض
الاسرار المرفوعۃ حدیث ۶۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۶۵
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسماء تحت حدیث ۴۷۸۱ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۵
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
ردالمحتار بحوالہ فصول العمادی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۶۹۔۲۶۸
ادب المفرد باب احب الاسماء الی اﷲ عزوجل حدیث ۸۱۳ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ص۲۱۱،ابوداؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،سنن النسائی کتاب الخیل باب مایستحب من شیۃ الخیل نورمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۲
التاریخ الکبیر للبخاری باب العین عبداﷲ بن جراد حدیث ۶۳ دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ /۳۵
صحیح البخاری کتاب الادب باب من سمّٰی باسماء الانبیاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۵،صحیح مسلم کتاب الادب باب النہی عن التکنی بابی القاسم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۶،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ الجمع الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷،سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب الجمع بین اسم النبی وکنیۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۷۳،مسنداحمدبن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۰،المعجم الکبیر حدیث ۱۲۵۱۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۷۳،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن عباس حدیث ۴۵۲۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۴۲۱
کنزالعمال بحوالہ الرافعی عن ابی امامہ حدیث ۴۵۲۲۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۲۲
ردالمحتار بحوالہ السیوطی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۸۸۳۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۵
کنزالعمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۱۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۲۲۳،العلل المتناہیۃ باب ذم الخوارج حدیث ۲۶۱ و ۲۶۲ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۶۳
تذکرۃ الموضوعات لمحمدطاہر الفتنی باب فضل اسمہ واسم الانبیاء کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص۸۹
الکامل لابن عدی ترجمہ احمدبن کنانہ شامی دارالفکربیروت ۱ /۱۷۲
الفردوس بمأثور الخطاب عن علی ابن ابی طالب حدیث ۶۱۳۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۳،۴۴
کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن عثمان العمری مرسلًا حدیث ۴۵۲۰۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۱۹
العلل المتناھیۃ باب فضل اسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۲۶۷ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۶۸
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۰۷۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۷۱
تاریخ بغداد ترجمہ محمدبن اسمٰعیل العلوی ۱۰۸۲ دارلکتاب العربی بیروت ۳ /۹۱
کشف الاستار عن زوائد البزار باب کرامۃ اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۱۹۸۸ بیروت ۲ /۴۱۳
فتاوٰی امام شمس الدین سخاوی
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماضراحدکم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۳۵۲
القرآن الکریم ۵۲ /۲۴
صحیح مسلم کتاب الالفاظ من الادب باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث والعشرون الخطاء ضدالصواب المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲ /۲۷۹
رسالہ کلمۃ الحق لصدیق حسن خاں
مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظروالاباحۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/۴۱ و ۴۲
تلخیص المتاح الفن الثالث مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۰۵ و ۱۰۶
التعریفات لسیّد شریف علی الجرجانی باب الالف انتشارات ناصر خسروطہران ایران ص۱۸
المواھب اللدنیۃ المقصدالثانی الفصل اول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۵ تا ۲۱
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۲
القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
القرآن الکریم ۳ /۲۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
مجموعہ فتاوٰی کتاب العقیقہ ومایتعلق بہا وجہ نام عبدالنبی وغیرہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۴
مثنوی المعنوی معاتبہ کردن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصدیق اکبر حامداینڈ کمپنی لاہور دفترششم ص۱۱۷
المواھب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد السابع الرضی بماشرعہ الفصل الاول دارالکتب العلمیۃ ۹ /۱۲۸
تحفہ اثناء عشریہ باب ششم دربحث نبوت الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
مسنداحمدبن حنبل مسندعبداﷲ بن عمرو بن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۰۱،شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۶
القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
صحیح البخاری کتاب الکفالۃ ۱ /۳۰۸ و کتاب الفرائض ۲ /۲۹۷ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی خطبۃ الجمعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۵،صحیح مسلم کتاب الفرائض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶،سنن ابن ماجہ ابواب الصدقات باب من ترك دینا الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۷۶،مسندامام احمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۳۵
القرآن الکریم ۱۷ /۸۵
القرآن الکریم ۱۲ /۷۶
القرآن الکریم ۴۱ /۳۵
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۶،سنن ابی داؤد کتا ب الزکوٰۃ باب صدقۃ الرقیق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۲۵، سنن ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۳۱،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۲ /۲۴۲
نفع المفتی والسائل مسائل متعلقہ بالجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۵
نفع المفتی والسائل مسائل متعلقہ بالجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۵
فتوح الشام لاسحق بن بشر
مختصرتاریخ دمشق لابن عساکر ترجمہ عمربن الخطاب ۱۸۵ دارالفکر بیروت ۱۸ /۳۱۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹
تکملہ ردالمحتار فصل فی مسائل متفرقہ من الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۱،حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۳ /۴۰۹
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱
صحیح البخاری کتاب الدیات باب من اطلع فی بیت قوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۰صحیح مسلم کتاب الآداب باب تحریم النظر فی بیت غیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۲
مسندامام احمدبن حنبل ترجمہ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۸۱
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹
جامع الصغیر حدیث ۴۴۴۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۷۲
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ردجواب الکتاب الخ مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۲/۲۲
المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ /۹۲،کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۲۹۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۴۸
القرآن الکریم ۳ /۱۹۔۱۱۸
شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۶۱
مسند الشہاب باب من اھان صاحب بدعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ /۳۱۹،فتاوٰی حدیثیہ کانت سبابۃ صلی علیہ اطول من الوسطٰی الخ الطبعۃ الجمالیہ مصر ص۲۰۴
القرآن الکریم ۶ /۱۱۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح البخاری کتاب الایمان باب فول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۵
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القرآن الکریم ۲ /۱۵۷
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماقیل فی اولاد المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۴،سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی ثواب من اصیب الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۶،سنن النسائی کتاب الجنائز باب ثواب من احتسب الخ نورمحمدکتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۴
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی ثواب من اصیب الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۶،کنزالعمال حدیث ۶۵۶۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۲۸۴
مسنداحمد بن حنبل معاذبن جبل المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۴۱
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب فصل المصیبۃ اذ احتسب امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۲
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۳۱۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۹۸
کنزالعمال بحوالہ الخطیب عن ابی ھدیۃ حدیث ۴۲۶۰۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۶۵۷
شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب معرفۃ المیت من یغسلہ الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۴
الجامع الصغیر بحوالہ الحکیم عن والد عبدالعزیز حدیث ۳۳۱۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۹۹
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی کراھیۃ البکاء امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۹
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۲۴
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اطلاق اسم الکفر علی الطعن فی النسب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۸
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الجنائز باب ماجاء فی النوح مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۳۷۷
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الوعید للنائحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۳
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز،باب فی النہی عن النیاحۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۴
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۵۲۲۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۱۱۰
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضرب الخدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب البکاء عندالمریض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۷
درمختار کتاب الاجارہ فاسدہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹
صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۴۱
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۷۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۸۳
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷
مثنوی معنوی قصہ نواختن مجنون آن سگ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفترسوم ص۱۷
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی محمد الحسن الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۹
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلوٰۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۳۴۶
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
المعجم الکبیر مرویات ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حدیث ۷۶۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳/ ۳۲۔۳۳۱
صحیح مسلم کتاب الصیام باب یوم عاشوراء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۵۹
مسند امام احمدبن حنبل حدیث حضرت مقدام بن معدی کرب دارالفکر بیروت ۴/ ۱۳۱
سنن ابی داؤد کتاب الایمان باب من رأی علیہ کفارۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۱
القرآن الکریم ۵ /۳۵
القرآن الکریم ۱۷ /۵۷

مسندامام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۵۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴
مسنداحمدبن حنبل بقیہ حدیث عبداﷲ بن ابی اوفٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۵۶
القرآن الکریم ۱۰ /۶۹
القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱
القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
کشف الخفاء حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷،اتحاف السادۃ کتاب عجائب القلب بیان تفصیل مداخل الشیطان الی القلب، دارالفکربیروت ۷/ ۲۸۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ باب ادراك الفریضۃ نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۳
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۴
الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۸۳
مجمع بحارالانوار خاتمہ الکتاب دارالایمان المدینۃ المنوّرۃ ۵/ ۳۰۷
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورہ نوح ۷۱ باب ودًا اولا سواعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
فتح الباری بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح مصطفی البابی مصر ۱۰/ ۲۹۵،الدرالمنثور بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایران ۶/ ۲۶۹
تاریخ بغداد ترجمہ ۳۴۶۴ اسحٰق بن محمد دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۴۰۳ و ۴۰۴
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب الترغیب فی اطعام الطعام حدیث ۲۱ مصطفی البابی مصر۲/ ۶۸
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۶۴
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵،المستدرك للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکربیروت ۱/ ۳۸۳
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۲۲۴
المستدرك للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکر بیروت ۱/ ۳۸۳،سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۵
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳ و ۲۱/ ۷
فتاوٰی ھندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶
المقاصد الحسنۃ حدیث ۱۱۷۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۲۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی المجلس السادس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۷
منح الروض الازھر بحوالہ الملتقط فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۰
المواہب اللدنیۃ النوع الثانی اللباس لبس الطیلسان المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۵۰
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۰
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۳
القرآن الکریم ۱۷ /۳۶
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہٖ الخ عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴
صحیح البخاری کتاب اللباس باب المتشبہین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۴
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب کیف الاختمار آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۲،مسنداحمد بن حنبل عن ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۲۹۴ و ۲۹۶
التیسیر شرح الجامع الصغیرتحت حدیث لیۃ لالیتین مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۳۳۵
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۱۶۴۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۲۵۲،سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب فی المتشبہین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۸
مسنداحمدبن حنبل مسندعبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۰۰،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادب فی المتشبہین دارالکتاب بیرو ت ۸/ ۱۰۳
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل تحت حدیث ۴۴۶۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۴
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸،مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیرو ت ۶/ ۲۶۲
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۸۱
مسنداحمدبن حنبل عن امرأۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۴۳۷
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی النظافۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۷۰ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۴
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۱۶
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ با ب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۷،شرعۃ الاسلام فصل فی اللباس مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۰۲۔۳۰۱
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء ۲/ ۲۱۸ ومسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا ۶/ ۲۶۲
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۱
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۸۱
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۴/ ۲۱۱
مواردالظمٰان باب فیما یحرم علی النساء مما یصف البشرۃ حدیث ۱۴۵۴ المطبعۃ السلفیہ ص۳۵۱
اسرارالموضوعۃ حدیث ۷۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۸۵
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الخاتم حدیث ۴۳۸۳ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۱۷۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
خزانۃ المفتین فصل فی الالفاظ الکفر قلمی نسخہ ۱/ ۲۰۱
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
جامع الفصولین الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۲
منح الروض الازشرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
جامع الفصولین الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۲
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
بحرالرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۱۲۳
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خلاصہ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳
درمختار کتاب الاشربہ مطبع مجتبائی ۲/ ۲۶۱
القرآن الکریم ۲ /۲۹
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجبتائی دہلی ۱/ ۹۴
مسندامام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۲۶،صحیح مسلم کتاب اللباس،باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۹
درمختار مسائل شتٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۰
ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱،صحیح البخاری کتاب البیوع باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۸۳
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۶۶،مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب من لم یدخل شیئا مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۸۸۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۷
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
صحیح البخاری کتاب اللباس باب ماوطی من التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۳۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،کنزالعمال حدیث ۹۳۶۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۵
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب الصور فی البیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۸
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب التصاویرفی الثوب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۶۶
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ و ۱۰۵۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،۲۶۶،کنزالعمال حدیث ۹۳۶۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۵
القرآن الکریم ۷۱ /۲۳
صحیح البخاری کتاب التفاسیر باب وَدًّا وسواعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
الدرالمنثور بحوالہ عبدبن حمید تحت آیۃ ۷۱/ ۲۳ دارحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۷۴۔۲۷۳
صحیح البخای کتاب الجنائز باب بناء المسجد علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ ۱/ ۲۰۱
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر المکتبۃالحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۸۲
مسنداحمد بن حنبل،عن ابی طلحہ ۴/ ۲۸ و صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق ۱/ ۴۵۸،۴۶۸،صحیح مسلم کتاب اللباس ۲/ ۲۰۰ و سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۶،جامع الترمذی ابواب الاب ۲/ ۱۰۳ و وسنن النسائی ص۲۹۹،شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰
شرح معانی الآثار عن ابن عباس ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۴۰۰،صحیح البخاری کتاب المغازی ۲/ ۵۷۰ و کتاب اللباس ۲/ ۸۸۱
صحیح مسلم ۲/ ۱۹۹ و مسنداحمدبن حنبل ۶/ ۳۳۰ وسنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۷
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۰ و ۲۰۱ سنن ابن ماجہ ص۲۱۸ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۱و۴۰۰
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۲ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۱ وشرح معانی الآثار ۲/ ۳۰۴
سنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۶ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰
جامع الترمذی ۲/ ۱۰۴ و مؤطا امام مالك ماجاء فی الصور والتماثیل ص۷۲۶
مسند احمدبن حنبل ۵/ ۲۰۳ و المعجم الکبیر حدیث ۳۸۷ ۱/ ۱۶۲ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰،صحیح البخاری کتاب المناسك ۱/ ۲۱۸ و کتاب الانبیاء ۱/ ۴۷۳ قدیمی کتب خانہ کراچی،سنن ابی داؤد کتاب المناسك ۱/ ۲۷۷ و مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس ۱/ ۳۳۵ و ۳۶۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الثانی الجنس فیمایکرہ فی الصلوٰۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۵۸
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصورۃ تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
الجامع الصغیر کتاب الصلوٰۃ باب فی الامام این تستحب لہ ان یقوم مطبع یوسفی لکھنو ص۱۱
کافی شرح وافی
حاشیۃ الدرر علی الغرر للخادمی کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبعہ عثمانیہ ص۷۰
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۳
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح کتاب االصلوٰۃ فصل فی المکروہات نورمحمدکارخانہ تجارت کتب ص۱۹۹
الہدایۃ کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۳۲۹
فتح القدیر کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۳۵۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان الملائکۃ لاتدخل بیتا الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۴،شرح معانی الآثار کتاب الکراہۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۷۴
القرآن الکریم ۱۶ /۲۱
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۱
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ۱/ ۱۲۲
کافی شرح وافی
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۶۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۷
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۷،۲۸
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۷،۲۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مؤطا الامام محمد باب التصاویر والجرس ومایکرہ منہا آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۸۲
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس تحت حدیث ۴۴۸۹ ۸/ ۲۶۵ و ۲۶۶
صحیح البخاری کتاب المظالم والقصاص باب ھل تکسرالدنان التی فیہا الخمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۳۷
مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۲۴۷
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
سنن النسائی کتاب الزینۃ ذکراشد الناس عذابا میرمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲/ ۳۰۱
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹
بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۲۷
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
العنایۃ شرح الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۲
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۵
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
حاشیہ سعدی چلپی علی العنایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث ۱ /۳۶۳
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۴۳۷
الکافی شرح الوافی
تبیین الحقائق کتا ب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵
الجامع الصغیر کتاب الصلٰوۃ باب فی الامام این یستحب ان یقوم الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۱
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ھامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۳۶۵
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۲
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۳
الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۳
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ ۱ /۶۶ و بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ۱ /۲۸
الہدایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل کراھیۃ الصلٰوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۵۹
العنایۃ شرح الہدایۃ علٰی ہامش فتح القدیر باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۴
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷،بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۲
الکافی شرح الوافی
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الصلٰوۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۸
فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلٰوۃ باب الحدث فی الصلٰوۃ ومایکرہ فی الصلٰوۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۵۷
القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھۃ فی الوضووکیفیات الصلٰوۃ مطبوعہ کلکتہ ص۱۴۹
الدرالمختار کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۳،فتح المعین بحوالہ تمرتاشی کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۴۶
الدررالحکام شرح غررالاحکام باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھیۃ فی الوضوء الخ مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۱۴۹
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۱۶۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۱
بحرالرائق بحوالہ المحیط کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الجنس فیمایکرہ فی الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۵۸
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۹۳
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۶
مرقات المفاتیح شرح المشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب التصاویر الفصل الاول ۸ /۲۷۳
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ داراحیاء التراث العربی ۱ /۴۳۶
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب اذاصلی الٰی ساربۃ اونحوھا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۰
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب مایقطع الصلٰوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۲
شرح معانی الآثار باب المرور بین یدی المصلی الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۳۰۹
فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۷
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ الی الراحلۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۴
فتح لقدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۴
تبیین الحقائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۶،بحرالرائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۸
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷
فتاوٰی ھندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۲
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فصل مایفسدالصلٰوۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۱۹۶
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فصل مایفسدالصلٰوۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۱۹۵
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۶۲
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶،جامع الترمذی ابواب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴
کنزالعمال عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما حدیث ۳۵۲۷۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۳۳۴
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب صلۃ الرحم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸،مسند احمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۶۰و۱۹۴و۱۹۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۸۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶
صحیح البخاری کتاب ابواب العمرہ باب مایقتل المحرم من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۷،صحیح البخاری بدأالخلق باب خمس من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷،صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ ۷۷ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۔۷۳۴
صحیح مسلم کتاب الحج باب مایندب للمحرم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۲
سنن النسائی کتاب الحج باب یقتل المحرم من الدواب نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۵
سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب یقتل المحرم من الدواب آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۵۴
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷
الاشباہ والنظائر بحوالہ الزیلعی الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳
جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح مسلم للنوی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۳۴
جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹
سنن ابی داؤد کتاب الآداب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷
الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن ثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳
الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن الثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۸۴
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹
القرآن الکریم ۵ /۴
جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق باب خمس من الدواب فواسق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فیما یتعلق بالدواب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۸ /۴۵۵،مواردالظمآن باب صلٰوۃالکسوف حدیث ۵۹۵ و ۵۹۶ المطبعۃ السلفیہ ص۱۵۷
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
صحیح بخاری ابواب المظالم والقصاس باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱
القرآن الکریم ۷ /۴۴
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق ۱/ ۴۵۸ وکتاب المغازی ۲ /۵۷۰ وصحیح مسلم کتاب اللباس ۲ /۲۰۰،جامع الترمذی ابواب الاب ۲ /۱۰۳ وسنن النسائی ابواب الصید ۲ /۱۹۳
صحیح البخاری کتاب الذبائح ۲ /۸۲۴ و صحیح مسلم کتاب المساقات ۲/ ۲۱،جامع الترمذی ابواب الصید ۱ /۱۸۰ و سنن النسائی ابواب الصید ۲ /۱۹۴،مسندامام احمدبن حنبل عن ابن عمر ۲ /۴،۳۷۰،۴۷،۶۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹
صحیح البخاری کتاب المظالم باب الدبارعلی الطریق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۳۳،صحیح مسلم کتاب السلام باب فضل سقی البہائم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷
القرآن الکریم ۲ /۲۰۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۲ /۴۷۲
القرآن الکریم ۳ /۹۳
بہجۃ الاسرار عن قول الرجل ای شیئ اعملہ مصطفی البابی مصر ص۷۴
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم علیہ یتحولہم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶
مسنداحمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغاویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶
القرآن الکریم ۳۹ /۵۳
تحفہ اثناعشریہ باب ششم دربحث نبوت الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
المستدرك للحاکم کتاب العلم خطبہ عمربعدماولی علی الناس دارالفکر بیروت ۱ /۱۲۶
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
المواہب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰
القرآن الکریم ۸۹ /۲۹
القرآن الکریم ۳۶ /۳۰
القرآن الکریم ۴ /۸۰
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
صحیح البخاری کتاب الایمان باب خوف المؤمن ان یحبط عملہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲
القرآن الکریم ۴۹ /۱۱
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۹
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳
القرآن الکریم ۱۹ /۱۹
القرآن الکریم ۳ /۱۳۵
القرآن الکریم ۴۲ /۴۳
القرآن الکریم ۶۴ /۱۴
القرآن الکریم ۴۲ /۳۷
القرآن الکریم ۱۲ /۴۰
القرآن الکریم ۴ /۳۵

صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب باب قولہ من ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۰۶،صحیح البخاری کتاب النکاح باب ھل للمرأ ۃ ان تہب نفسہا لاحد قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۶
القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تغییرالاسمارء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
صحیح مسلم کتاب الادب باب تغییر الاسم القبیح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
صحیح مسلم کتاب الادب باب تغییر الاسم القبیح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،مسنداحمد بن حنبل عن ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض،بحوالہ ابوبکر ابن العربی،فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت ۲ /۳۹۰
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض،بحوالہ ابوبکر ابن العربی،فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت ۲ /۳۹۰
حاشیہ امام احمدرضاخاں علٰی نسیم الریاض
الاسرار المرفوعۃ حدیث ۶۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۶۵
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسماء تحت حدیث ۴۷۸۱ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۵
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
ردالمحتار بحوالہ فصول العمادی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۶۹۔۲۶۸
ادب المفرد باب احب الاسماء الی اﷲ عزوجل حدیث ۸۱۳ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ص۲۱۱،ابوداؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،سنن النسائی کتاب الخیل باب مایستحب من شیۃ الخیل نورمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۲
التاریخ الکبیر للبخاری باب العین عبداﷲ بن جراد حدیث ۶۳ دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ /۳۵
صحیح البخاری کتاب الادب باب من سمّٰی باسماء الانبیاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۵،صحیح مسلم کتاب الادب باب النہی عن التکنی بابی القاسم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۶،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ الجمع الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷،سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب الجمع بین اسم النبی وکنیۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۷۳،مسنداحمدبن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۰،المعجم الکبیر حدیث ۱۲۵۱۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۷۳،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن عباس حدیث ۴۵۲۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۴۲۱
کنزالعمال بحوالہ الرافعی عن ابی امامہ حدیث ۴۵۲۲۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۲۲
ردالمحتار بحوالہ السیوطی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۸۸۳۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۵
کنزالعمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۱۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۲۲۳،العلل المتناہیۃ باب ذم الخوارج حدیث ۲۶۱ و ۲۶۲ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۶۳
تذکرۃ الموضوعات لمحمدطاہر الفتنی باب فضل اسمہ واسم الانبیاء کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص۸۹
الکامل لابن عدی ترجمہ احمدبن کنانہ شامی دارالفکربیروت ۱ /۱۷۲
الفردوس بمأثور الخطاب عن علی ابن ابی طالب حدیث ۶۱۳۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۳،۴۴
کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن عثمان العمری مرسلًا حدیث ۴۵۲۰۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۱۹
العلل المتناھیۃ باب فضل اسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۲۶۷ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۶۸
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۰۷۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۷۱
تاریخ بغداد ترجمہ محمدبن اسمٰعیل العلوی ۱۰۸۲ دارلکتاب العربی بیروت ۳ /۹۱
کشف الاستار عن زوائد البزار باب کرامۃ اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۱۹۸۸ بیروت ۲ /۴۱۳
فتاوٰی امام شمس الدین سخاوی
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماضراحدکم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۳۵۲
القرآن الکریم ۵۲ /۲۴
صحیح مسلم کتاب الالفاظ من الادب باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث والعشرون الخطاء ضدالصواب المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲ /۲۷۹
رسالہ کلمۃ الحق لصدیق حسن خاں
مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظروالاباحۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/۴۱ و ۴۲
تلخیص المتاح الفن الثالث مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۰۵ و ۱۰۶
التعریفات لسیّد شریف علی الجرجانی باب الالف انتشارات ناصر خسروطہران ایران ص۱۸
المواھب اللدنیۃ المقصدالثانی الفصل اول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۵ تا ۲۱
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۲
القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
القرآن الکریم ۳ /۲۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
مجموعہ فتاوٰی کتاب العقیقہ ومایتعلق بہا وجہ نام عبدالنبی وغیرہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۴
مثنوی المعنوی معاتبہ کردن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصدیق اکبر حامداینڈ کمپنی لاہور دفترششم ص۱۱۷
المواھب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد السابع الرضی بماشرعہ الفصل الاول دارالکتب العلمیۃ ۹ /۱۲۸
تحفہ اثناء عشریہ باب ششم دربحث نبوت الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
مسنداحمدبن حنبل مسندعبداﷲ بن عمرو بن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۰۱،شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۶
القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
صحیح البخاری کتاب الکفالۃ ۱ /۳۰۸ و کتاب الفرائض ۲ /۲۹۷ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی خطبۃ الجمعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۵،صحیح مسلم کتاب الفرائض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶،سنن ابن ماجہ ابواب الصدقات باب من ترك دینا الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۷۶،مسندامام احمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۳۵
القرآن الکریم ۱۷ /۸۵
القرآن الکریم ۱۲ /۷۶
القرآن الکریم ۴۱ /۳۵
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۶،سنن ابی داؤد کتا ب الزکوٰۃ باب صدقۃ الرقیق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۲۵، سنن ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۳۱،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۲ /۲۴۲
نفع المفتی والسائل مسائل متعلقہ بالجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۵
نفع المفتی والسائل مسائل متعلقہ بالجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۵
فتوح الشام لاسحق بن بشر
مختصرتاریخ دمشق لابن عساکر ترجمہ عمربن الخطاب ۱۸۵ دارالفکر بیروت ۱۸ /۳۱۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹
تکملہ ردالمحتار فصل فی مسائل متفرقہ من الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۱،حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۳ /۴۰۹
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱
صحیح البخاری کتاب الدیات باب من اطلع فی بیت قوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۰صحیح مسلم کتاب الآداب باب تحریم النظر فی بیت غیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۲
مسندامام احمدبن حنبل ترجمہ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۸۱
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹
جامع الصغیر حدیث ۴۴۴۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۷۲
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ردجواب الکتاب الخ مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۲/۲۲
المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ /۹۲،کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۲۹۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۴۸
القرآن الکریم ۳ /۱۹۔۱۱۸
شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۶۱
مسند الشہاب باب من اھان صاحب بدعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ /۳۱۹،فتاوٰی حدیثیہ کانت سبابۃ صلی علیہ اطول من الوسطٰی الخ الطبعۃ الجمالیہ مصر ص۲۰۴
القرآن الکریم ۶ /۱۱۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح البخاری کتاب الایمان باب فول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۵
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
#4189 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
عن عتبۃ بن عبدالسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ سندحسن کے ساتھ عتبہ ابن عبدالسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
ایك بارحضوراقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے یہی حدیث کہ پہلے مذکورہوئی بیان فرمائی صحابہ نے عرض کی:یارسول اﷲ اواثنان یادوفرمایا:اواثنا یا دو۔عرض کی:اوواحد یاایکفرمایا:وواحد یا ایک۔پھرفرمایا:
والذی نفسی بیدہ ان السقط لیجرامہ بسررہ الی الجنۃ اذا احتسبتہ۔رواہ الامام احمد بسند صالح والطبرانی عن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کچابچہ جوگرجاتاہے اگرثواب الہی کی امید میں اس کی ماں صبرکرے تو وہ اپنے نال سے اپنی ماں کو جنت میں کھینچ لے جائے گا۔ (اس کو امام احمد نے سندصالح کے ساتھ اور امام طبرانی نے حضرت معاذرضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲتعالی علیہ وسلم:
اذا مات ولد العبد قال اﷲ لملئکتہ قبضتم ولد عبدیفیقولون نعم فیقول قبضتم ثمرۃ فوادہ فیقولون نعمفیقول ماذاقال عبدی فیقولون حمدك واسترجعفیقول ابنوالعبدی بیتا فی الجنۃ وسموہ بیت الحمد۔رواہ احمد والترمذی وحسنہ جب مسلمان کابچہ مرتاہے اﷲ عزوجل فرماتاہے:تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی۔عرض کرتے ہیں:ہاں۔فرماتاہے:تم نے اس کے دل کاپھل لے لیا۔ عرض کرتے ہیں:ہاں۔فرماتاہے:پھرمیرے بندے نے کیا کہا:عرض کرتے ہی:تیراشکر اداکیااور انا ﷲ وانا الیہ رجعون کہا فرماتاہے:میرے بندے کے لئے جنت میں ایك گھربناؤ اور اس کانام"حمدکامکان"رکھو۔(امام احمد نے اسے روایت کیاہے اور
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل معاذبن جبل المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۴۱
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب فصل المصیبۃ اذ احتسب امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۲
#4190 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
وابن حبان فی صحیح التقاسیم والانواع عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی اور محدث ابن حبان نے"صحیح التقاسیم والانواع"میں حضرت ابوموسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
(۲)چلا کے رونے سے مردے کو ضرور تکلیف ہوتی ہے۔اہلسنت کے مذہب میں موت سے روح نہیں مرتینہ اس کا علم وسمع وبصر زائل ہوتا ہے بلکہ ترقی پاتا ہےجنازہ رکھاہوتاہے لوگ جوکچھ کہتے کرتے ہیں مردہ سب سنتادیکھتاہے۔یہ سب امور احادیث کثیرہ سے ثابت ہیں کما بیناہ فی"حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات"(جیساکہ ہم نے اس مسئلہ کو"حیات الموات فی بیان سماع الاموات"میں بیان کیاہے۔ت)چلاکے رونے سے زندے پریشان ہوجاتے ہیں ایذاپاتے ہیں نہ کہ مردہ جس پر ابھی ایسی سخت تکلیف چلانے کی گزرچکی ہے اس کی پریشانی اس کی ایذابیان سے باہرہے۔پھر وہ تودارحق میں گیا اب اسے ہرمصیبت رنج دیتی اور ہرحسنہ سروربخشتی ہے یہ امر اس کے لئے صدگونہ ایذا کاباعث ہوتاہےبچہ ہو یاجوان اس میں سب یکساں ہیں۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتؤذوا امواتکم بعویل۔رواہ ابن مندۃ والدیلمی عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا۔ چلا کر رونے سے اپنے مردوں کو ایذا نہ دو(محدث ابن مندۃ اوردیلمی نے ام المومنین سیدہ ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك جنازے میں کچھ عورتیں دیکھیں فرمایا:
ارجعن مازورات غیرماجورات انکن لتفتن الاحیاء وتؤذین الاموات۔رواہ سعید بن منصور فی سننہ۔
پلٹ جاؤ وبال سے بھری ثواب سے بریتم زندوں کو فتنوں میں ڈالتی اور مردوں کوایذادیتی ہو(سعیدبن منصور نے اس کو اپنی سنن میں روایت کیاہے۔ت)
امام بکر بن عبداﷲ مزنی تابعی فرماتے ہیں:
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۳۱۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۹۸
کنزالعمال بحوالہ الخطیب عن ابی ھدیۃ حدیث ۴۲۶۰۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۶۵۷
#4191 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
انہ مامن میت یموت الاوروحہ فی ید ملك الموت فھم یغسلونہ ویکفنونہ وھویری مایصنع اھلہ فلم یقدر علی الکلام لنھاھم عن الرنۃ والعویل۔رواہ الامام ابوبکر بن ابی الدنیا۔ مجھے حدیث پہنچی کہ جو مرتاہے اس کی روح ملك الموت کے ہاتھ میں ہوتی ہے لوگ اسے غسل وکفن دیتے ہیں اور وہ دیکھتاہے جوکچھ اس کے گھروالے کرتے ہیں ان سے بات نہیں کرتاکہ انہیں شوروفریاد سے منع کرے(امام ابوبکر بن ابی الدنیا نے اس کو روایت کیا۔ت)
ایك حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ماں باپ پر ان کی موت کے بعد آدمی کے اعمال پیش ہوتے ہیںنیکیوں پرشاد ہوتے ہیں اور ان کے منہ اور زیادہ چمکنے لگتے ہیں فاتقوا اﷲ ولاتؤذوا امواتکم تو اﷲ سے ڈرو اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے ایذا نہ دو۔رواہ الامام الترمذی الحکیم عن والد عبدالعزیز(امام حکیم ترمذی نے عبد العزیز کے والد سے اس کوروایت کیاہے۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المیت لیعذب ببکاء اھلہ علیہ ۔رویاہ الشیخین عن عمروعمررضی اﷲ تعالی عنھما۔ بیشك مردے پر جو اس کے گھروالے روتے ہیں اس سے اسے عذاب والم ہوتاہے(اس کو بخاری مسلم نے عمروعمررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
علماء فرماتے ہیں:
المراد بالعذاب ھوالالم الذی یحصل للمیت اذ سمعھم یبکون اوبلغہ ذلك فانہ یحصل لہ تألم بذلك نقلہ ملاعلی القاری (حدیث مذکورمیں)عذاب سے وہ احساس دکھ مراد ہے جومیت کوحاصل ہوتاہے جو انہیں روتے پیٹے سنتی ہے کیونکہ اس رویہ سے وہ درد والم محسوس کرتی ہےچنانچہ ملاعلی قاری نے
حوالہ / References شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب معرفۃ المیت من یغسلہ الخ خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۴
الجامع الصغیر بحوالہ الحکیم عن والد عبدالعزیز حدیث ۳۳۱۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۹۹
جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی کراھیۃ البکاء امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۱۹
#4192 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
فی المرقاۃ عن السید الشاہ میرك المحدث عن الامام شمس الدین محمد بن محمد بن محمد الجزری انہ قال فی تصحیح المصابیح عندی واﷲ اعلم لکن المراد بالعذاب الخ قلت وقد تخالج صدری قبل ان اطلع علیہ حتی رأیتہ فیھما وﷲ الحمدواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ مرقات شرح مشکوۃ میں سیدمیرك شاہ محدث بخاری کے حوالہ سے اسے نقل فرمایا اس نے امام شمس الدین محمد بن محمد بن محمد جزری سے نقل کیا انہوں نے تصحیح المصابیح میں ذکر فرمایا اﷲ تعالی سب کچھ بہترجانتاہے مگرمیرے نزدیك حدیث مذکور میں عذاب سے دردوکرب مراد ہے الخ میں کہتا ہوں اس پرمطلع ہونے سے پہلے میرے دل میں بھی یہی بات کھٹکتی تھی یہاں تك کہ میں نے ان دونوں بزرگوں کے کلام میں اسے دیکھ لیا۔اور اﷲ تعالی ہی کے لئے تمام خوبیاںمحاسنمحامد ہیں۔او ر اﷲ تعالی پاك اوربرتربڑا عالم ہے۔(ت)
(۳)میت پر چلا کررونا جزع فزع کرنا حرام سخت حرام ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اثنتان فی الناس ھما بھم کفرفی النسب والنیاحۃ۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ و رواہ ابن حبان والحاکم وزادا شق الجیب۔ لوگوں میں دو یا تین کفرہیں کسی کے نسب پرطعنہ اور میت پرنوحہ۔(امام مسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیاابن حبان اور حاکم نے بھی اس کو روایت کیاہے مگرحاکم نے یہ اضافہ"اورگریبان پھاڑنا"۔(ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صوتان ملعونان فی الدنیا والاخرۃ مزمار عند نعمۃ ورنۃ عندالمصیبۃرواہ البزار عن انس دوآوازوں پردنیاوآخرت میں لعنت ہےنعمت کے وقت باجا اور مصیبت کے وقت چلانا(محدث بزار نے اس کو صحیح سند کے ساتھ
حوالہ / References مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃالمصابیح کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۲۲۴
صحیح مسلم کتاب الایمان باب اطلاق اسم الکفر علی الطعن فی النسب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۸
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الجنائز باب ماجاء فی النوح مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۳۷۷
#4193 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ حضرت انس رضی اﷲتعالی عنہ کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
النائحۃ اذا لم تتب قبل موتھا تقام یوم القیمۃ و علیھا سربال من قطران ودرع من جرب رواہ مسلم عن ابی مالك الاشعری۔ چلاکررونے والی جب اپنی موت سے قبل توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن کھڑی کی جائے گی یوں کہ اس کے بدن پر گندھك کاکرتاہوگا اور کھجلی کادوپٹہ۔(امام مسلم نے اسے ابو مالك اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیاہے۔ت)
اور ایك روایت میں ہے:
قطع اﷲ ثیابا من قطران ودرعا من لھب النار۔رواہ ابن ماجۃ عنہ ۔ اﷲ تعالی اسے گندھك کے کپڑے پہنائے گا اور اوپر سے دوزخ کی لپٹ کادوپٹہ اڑھائے گا۔(ابن ماجہ نے اس کو ابومالك اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
ایك حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھؤلاء النوائح یجعلن یوم القیمۃ صفین فی جہنم صف عن یمینھم وصف عن یسارھم فینبحن علی اھل النار کماتنبح الکلاب۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یہ نوحہ کرنے والیاں قیامت کے دن جہنم میں دوصفیں کی جائیں گی دوزخیوں کے دائیں بائیں وہاں ایسے بھونکیں گی جیسے کتیاں بھونکتی ہیں۔(امام طبرانی نے اس کو"الاوسط" میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے روایت کیاہے۔ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی الوعید للنائحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۳
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز،باب فی النہی عن النیاحۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۴
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۵۲۲۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۱۱۰
#4194 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انابرئ ممن حلق وسلق وخرق۔رواہ الشیخان عن ابی موسی الاشعری رحمہ اﷲ تعالی۔ میں بیزارہوں اس سے جو بھدراکرے اور چلاکر روئے اور گریبان چاك کرے(بخاری ومسلم نے حضرت ابوموسی اشعری رحمہ اﷲ تعالی کے حوالہ سے اسے روایت کیا۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الاتسمعون ان اﷲ لایعذب بدمع العین ولابحزن القلب ولکن یعذب بھذا واشار الی لسانہ اویرحم وان المیت یعذب ببکاء اھلہ علیہ۔رویاہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ ارے سنتے نہیں ہوبیشك اﷲ نہ آنسوؤں سے رونے پرعذاب کرے نہ دل کے غم پر(اور زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) ہاں اس پرعذاب ہے۔یارحم فرمائے اور بیشك مردے پر عذاب ہوتاہے اس کے گھروالوں کے اس پرنوحہ کرنے سے۔ (اس کو بخاری ومسلم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔ت)
عالمگیری میں جامع المضمرات سے ہے:
النوح العالی لایجوز والبکاء مع رقۃ القلب لاباس بہ ۔ بلندآواز سے رونا اور بین کرنا(اسلام میں)جائزنہیں لیکن بغیرآواز کے رونا اور آنسوبہاناممنوع نہیں۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لاتصح الاجارۃ لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح و الملاھی ۔ گناہوں پراجارہ(مزدوری کرنا)درست نہیںگانا بجانا روناپیٹنا یہ افعال گناہ ہیںواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم ضرب الخدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
صحیح بخاری کتاب الجنائز باب البکاء عندالمریض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۶۷
درمختار کتاب الاجارہ فاسدہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹
#4195 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
مسئلہ ۱۷۲: ۱۲شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس حدیث کاترجمہ کیاہے اور اس سے میت پر نوحہ کرنے کاجواز بعض غیرمقلدنکالتے ہیںیہ صحیح ہے یانہیں
عن انس قال لما ثقل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جعل یتغشاہ فقالت فاطمۃ واکرب اباہ فقال لھا لیس علی ابیك کرب بعد الیوم فلما مات قالت یاابتاہ اجاب ربادعاہ یاابتاہ من جنۃ الفردوس ماواہ یاابتاہ الی جبرئیل ننعاہ فلما دفن قالت فاطمۃ یاانس اطابت انفسکم ان تحثوا علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم التراب۔رواہ البخاری ۔ بینواتوجروا۔(ترجمہ جواب میں موجود ہے)
الجواب:
انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے جب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کومرض سے گرانی ہوئیبے چینی نے غلبہ کیا حضرت بتول زہرانے کہاہائے میرے باپ کی بے چینیسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قسم کی بے چینی نہیںجب حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا حضرت بتول زہرا نے کہا اے باپ میرے اﷲ کے بلانے پرتشریف لے گئےاے باپ میرے وہ کہ فردوس کے باغ میں جن کاٹھکانااے باپ میرے ہم ان کے انتقال کی مصیبت جبریل سے بیان کرتے ہیں جب سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کودفن کرچکے حضرت بتول زہرا نے فرمایا اے انس! تمہارے دلوں نے کیونکرگواراکیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم اطہر کو خاك میں پنہاں کرو۔یہ حدیث بخاری نے روایت کی۔
حضرت بتول زہرانے یہ کلمات نہ صحیحہ وفریاد کے ساتھ کہے نہ ان میں کوئی غلطی یابے تحقیق وصف بیان فرمایانہ کوئی کلمہ شکایت رب العزۃ وناراضی قضائے الہی پردال تھالہذا اس میں کوئی وجہ ممانعت نہیں۔زرقانی میں ہے:
فقال لھا لاکرب علی ابیك بعدالیوم وھذا یدل علی انھا لم ترفع حضوراقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے فرمایا آج کے بعد تیرے والد گرامی کو گھبراہٹ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۴۱
#4196 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
صوتھا والاانھاھا ۔ اور کوئی بے چینی نہ ہوگییہ ارشاد اس پردلالت کرتاہے کہ سیدہ نے اپنی آواز(کلمات مذکورہ کہتے ہوئے)بلندنہ کی تھی ورنہ آپ منع فرمادیتے۔(ت)
اسی میں فتح الباری سے ہے:
یؤخذ منہ ان تلك الالفاظ کان المیت متصفا بھا انہ لایمنع ذکرہ بھابعد موتہ بخلاف ما اذا لایتحقق اتصافہ بھا فتدخل فی المنع ۔ اس سے استدلال کیاجاتاہے کہ آدمی کے مرنے کے بعد یہ الفاظ کہناجبکہ وہ ان سے متصف ہو منع نہیں بخلاف اس کے کہ آدمی ان سے متصف نہ ہوتو پھرایسے الفاظ کہنا ممانعت میں داخل ہیں۔(ت)
تحریم نوحہ میں احادیث متواترہ موجود ہیں اس سے جواز نوحہ ثابت نہ کرے گا مگرجاہل۔واﷲ الھادی(اﷲ تعالی ہدایت فرمانے والاہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: مسؤلہ سیدمقبول عیسی میاں صاحب بریلی نومحلہ صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس امر کے اہلسنت وجماعت کو عشرہ محرم الحرام میں رنج وغم کرنا جائزہے یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اہل سنت وجماعت کامدارایمان حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت ہے جبتك اپنے ماںباپاولادتمام جہان سے زیادہ حضور کی محبت نہ رکھے مسلمان نہیںخودحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین ۔ تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تك میں اسے اس کے ماں باپ اوراولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارانہ ہوں۔
اور محب کومحبوب کی ہرشے عزیزہوتی ہے یہاں تك کہ اس کی گلی کاکتابھی۔حضرت مولاناقدس سرہ
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۷۳
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد العاشر الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۲۸۳
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷
#4197 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
مثنوی شریف میں حضرت مجنوں رحمہ اﷲ تعالی کی حکایت تحریرفرمائی کہ کسی نے ان کودیکھا کمال محبت کے طورپر ایك کتے کے بوسے لے رہے ہیںاعتراض کیا کہ کتانجس ہے چنیں ہے چناں ہے۔فرمایانہیں جانتا
کاین طلسم بستہ مولی ست ایں پاسبان کوچہ لیلی ست ایں
(جیسے یہ اﷲ کی بنائی ہوئی تصویرہےیہ(کتا)لیلی کی گلی کاچوکیدارہے۔ت)
یہ کتا لیلی کی گلی کا ہے محبان صادق کاجب دنیا کے محبوبوں کے ساتھ یہ حال ہے جن میں ایك حسن فانی کا کمال سہی ہزاروں عیب ونقص بھی ہوتے ہیںتوکیاکہنا ہے ہمارے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جنہیں تمام اوصاف حمیدہ میں اعلی کمالاور جن کا ہرکمال ابدی اور لازوال اور جو ہرعیب ونقص سے منزہ وبے مثالان کا ہرعلاقہ والاسنی کے سرکاتاج ہےصحابہ ہوں خواہ ازواج خواہ اہلبیت رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین۔پھریہ کہنا ہے ان کا جو حضور کے جگرپارے اور عرش کی آنکھ کے تارے ہیں
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حسین منی وانا من حسیناحب اﷲ من احب حسیناحسین سبط من الاسباط ۔ حسین میرااور میں حسین کااﷲ دوست رکھے اسے جو حسین کودوست رکھےحسین ایك نسل نبوت کی اصل ہے۔
یہ حدیث کس قدرمحبت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہےایك بار نام لے کر تین بارضمیر کافی تھی مگرنہیں ہربارلذت محبت کے لئے نام ہی کااعادہ فرمایاکماقالوا فی قول القائل
تاﷲ یاظبیات القاع قلن لنا الیلای منکن ام لیلی من البشر
(خدا کی قسم اے ہموارزمین کے ہرنوں! ہمیں یہ بتادو کیالیلی تم میں سے ہے یاانسانوں میں سے ہے۔ت)
کون ساسنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلاکاغم نہیں یا اس کی یاد سے اس کادل محزون اور آنکھ پرنم نہیںہاں مصائب میں ہم کو صبر کاحکم فرمایا ہےجزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہےاور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارغم ریاء ہے اور قصدا غم آوری وغم پروری خلاف رضاہے جسے اس کاغم نہ ہو اسے بیغم نہ رہناچاہئے
حوالہ / References مثنوی معنوی قصہ نواختن مجنون آن سگ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفترسوم ص۱۷
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی محمد الحسن الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۹
#4198 · سوگ ونوحہ وجزع وفزع
بلکہ اس غم نہ ہونے کاغم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کاایمان ناقص۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۴: جناب انتظام علی خاں چھتہ شیخ منگلو زیرجامع مسجددہلی ۱۸جمادی الآخرہ
ہرمیلاد شریف میں شہادت کابیان اور نوحہ اشعاروں کے پڑھتے ہی میلاد خواں خود روتے ہیں اور دوسروں کوبھی رلاتے ہیں۔ مثال کہ زینبکلثومصغری وغیرہ وغیرہ اس طرح سے پڑھتی تھیں اور روتی تھیں جائزہے یانہیں یعنی اس طرح سے پڑھنا۔
الجواب:
نوحہ ماتم حرام ہےبیان شہادت حسین ناجائزطورپرجاہلوں میں رائج ہے خود ہی ممنوع اورمجلس میلاد مبارك میں کہ مجلس سرورعالم کے ساتھ اس کاملانا اور حماقت۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۵ تا ۱۷۸: ۱۱محرالحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وخلیفہ مرسلین مسائل ذیل میں:
(۱)بعض سنت جماعت عشرہ ۱۰محرم الحرام کونہ تودن بھرروٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔
(۲)ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ہیں۔
(۳)ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔
(۴)ان ایام میں سوائے امام حسن وامام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کے کسی کی نیازفاتحہ نہیں دلاتے ہیںآیا یہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اورسوگ حرام ہےاور چوتھی بات جہالت ہے ہرمہینہ ہرتاریخ میں ہرولی کی نیاز اورہرمسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
#4199 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات

مسئلہ ۱۷۹: ازبسولی ضلع بدایوں مرسلہ خلیل احمدصاحب ۹شوال ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ کابنانا اور دیکھنا ان پردل سے معتقد ہونا اہل سنت وجماعت کوچاہئے یانہیں اور جوایساکرے اس پربموجب شرع کیاحکم صادرہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
تعزیہ رائجہ مجمع بدعات شنیعہ سیئہ ہےاس کابنانادیکھنا جائزنہیںاور تعظیم وعقیدت سخت حرام واشد بدعت۔اﷲ سبحانہ وتعالی مسلمان بھائیوں کوراہ حق کی ہدایت فرمائے۔آمین! واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: ازعیسی نگر ضلع کھیری ملك اودھ مرسلہ سیدمظہرحسن صاحب ۱۵صفر۱۳۲۰ھ
جناب مولوی صاحب! ہم لوگ ساکنان عیسی نگر ضلع کھیری وڈاك خانہ خاص عیسی نگر کے ہیں اور جناب کانام سناہے کہ بریلی میں جناب مولوی احمدرضاخاں صاحب محلہ سوداگران میں بہت بڑے مولوی ہیں اور بہت اچھاحکم شریعت کادیتے ہیں ہمارے یہاں تھوڑے دنوں سے ایك شخص نے واہی بات مچائی ہے کہ محمدی جھنڈا مت کھڑاکرو اور تعزیہ مت بناؤ اورتعزیہ پر مٹھائی چڑھاتے ہیں اسے کھانے کو منع کرتاہے اور خدائی رات میں ڈھول بجانے کو منع کرتا ہے اور مولودشریف رنڈی اور بھانڈی کے یہاں
#4200 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
پڑھنے کو نہیں جاتا کہتاہے مزدوری کرکے لاؤ شیرینی توپڑھ دوں گا یاشیرینی مت لاؤ تمہارے یہاں ویسے ہی پڑھ دوں گا تومولوی صاحب ہم کوشیرینی بغیرثواب کیوں کریں اور ہم تعزیہ وغیرہ بنانا چھوڑدیں تو یہاں مسلمان کانام بھی نہ رہے گا اب ایك مولوی صاحب آئے ہیں وہ مولود شریف اور گیارہویں کوبھی منع کرتے ہیں تومولوی صاحب اور احمد کا جھگڑا خوب ہوا اور جھگڑا ہوکر یہ بات ٹھہری کہ وہ دودوتین تین آدمی مل کر غزلیں سرہلاکرنہ پڑھاکریں اور قصہ ہرنی کانہ پڑھیں صحیح کتاب کی روایات پڑھا کریں اور کھڑے نہ ہوں جب سے احمد ویسے ہی کھڑاہوکر مولود شریف پڑھتاہے اور مولوی صاحب بھی ویسے ہی کھڑے رہتے ہیں اور جوڑ کے خمسہ پڑھتے ان کے پڑھنے کو کہتے ہیں اور جوغزل خود پڑھتے ہیں۔
اب یہ بات ٹھہری ہے کہ جس بات کو تحریر مذکورہ بالامیں اچھا لکھ دیں گے مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی کے وہ ہم سب مل کر کریں گے اور کسی بات کا جھگڑا نہیں ہے جوباتیں اس کاغذ میں اوپر درج ہیں ان میں سے جوجوبات بہتر اورثواب زیادہ جس کے کرنے میں ہو وہ تحریر کردیجئے گا اور گیارہویں کی بابت یہ فیصلہ ہوگیاہے چاہے جس تاریخ میں فاتحہ کرو اور اس کاثواب نذراﷲ کرکے حضرت بڑے پیرصاحب کی روح کو ایصال ثواب کریںیہ مت خیال کرو کہ اگرگیارہویں کو نہ کریں گے تو ہم کو کچھ نقصان ہوگا جس کادل چاہے گیارہویں کرے جس کا دل چاہے دسویں نویں کرے ہروقت ثواب ہے۔
اب ایك بات کو اور منع کرتے ہیں کہ غازی میاں سید سالار کے بیاہ میں مت جاؤ بہرائچاب ہمارے کچھ لوگ وہاں کوبھی نہیں جاناچاہتے ہیں یہاں تك کہ ان کے نشان کو بھی منع کرتے ہیں اور ہماری آپس میں شادی ہےآپ کے جواب آنے کے بعد شادی میں شریك ہوں گےصاف صاف جواب لکھ دیجئے گابہت ثواب کے مرتکب ہوں گےجواب کے واسطے ارسال خدمت منسلك ہے۔
الجواب:
جھنڈا ایك توجہاد کاہوتاہے وہ لشکرسلطان اسلام کے ساتھ خاص ہے یہاں ا س کا اصل محل نہیں کہ یہاں نہ سلطان اسلام نہ لشکراسلام تو اس جھنڈے کاکیاکام۔اور اگرکسی اور غرض سے کوئی جھنڈا بنایاجاتاہو تو اس کامعلوم ہوناچاہئےاگرغرض محمودہ اور اس میں شہرت اور علامت کی حاجت ہے تو حرج نہیں وقدحققنا فی فتاونا(اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔ت)اور اگرغرض مذموم یاعبث وفضول ہے تو منع کرناٹھیك ہے تعزیہ ممنوع ہے شرع میں کچھ اصل نہیں اور جو کچھ بدعات ان کے ساتھ کی جاتی ہیں سخت ناجائزہیں وفصلت بعضھا فی الفتاوی(بیشك میں نے فتاوی میں بعض مسائل کی تفصیل بیان کردی ہے۔ت)مسلمان اتباع احکام شرع سے ہوتے ہیں
#4201 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
نہ امورناجائزہ سے تعزیہ پرجومٹھائی چڑھائی جاتی ہے اگرچہ حرام نہیں ہوجاتی مگر اس کے کھانے میں جاہلوں کی نظرمیں ایك امرناجائز شرعی کی وقعت بڑھانے اور اس کے ترك میں اس سے نفرت دلانی ہے لہذا نہ کھائی جائے۔ڈھول بجاناحرام ہے اور جس رات کانام خدائی رات رکھا ان میں بجائے عبادت گناہ ومعصیت کرناگویا گناہ کومعاذاﷲ عبادت ٹھہرانا ہے اور یہ اور زیادہ حرام ہے۔رنڈیوںڈومنیوںبھانڈوں کے یہاں جو مجلس میلادشریف ان کے حرام مال سے کی جائے ان میں شرکت ہرگز نہ کی جائے
فان اﷲ طیب لایقبل الاالطیب ۔ بلاشبہہ اﷲتعالی پاك ہے اور پاك چیز ہی قبول فرماتا ہے۔(ت)
بلکہ رنڈیوں ڈومنیوں کے یہاں کسی طرح جانانہ چاہئے اگرچہ وہ حلال مزدوری کے مال سے مجلس کریں کہ ان کے یہاں جانے میں تہمت ہے اورتہمت سے بچنے کاحکم ہے۔حدیث میں ہے:
من کان یومن باﷲ والیوم الاخر فلایقفن مواقف التھم ۔ جو اﷲ اورقیامت پرایمان رکھتاہو وہ تہمت کی جگہ کھڑانہ ہو۔
یہ سمجھنا محض غلط ہے کہ بغیر شیرینی کے ثواب نہ ہوگاکیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت شریف کاذکراقدس ویسے ہی موجب ثواب نہیں! ہاں شیرینی میں زیادہ ثواب ہے کہ ذکرشریف کے ساتھ صدقہ فقراء وہدیہ احبا بھی شامل ہوگیا قربت بدنی کے ساتھ قربت مالی بھی ہوگئیمجلس میلادشریف اعلی مستحب ومندوب وبہتر وخوب ہے اور ان میں قیام بھی مستحسن ومرغوب ہے اور گیارہویں شریف بھی حسن ومحبوب ہے اور گیارہویں تاریخ کی تخصیص میں بھی شرعا کوئی حرج نہیںہاں یہ سمجھنا غلط ہے کہ خاص گیارہویں ہی کو ثواب ملے گا اور دن نہ ملے گا۔چندآدمیوں کامل کرخوش الحانی سے پڑھنا بھی جائزہے جبکہ شعرشرعا اچھے ہوں اور راگنی کاقصدنہ کریں مگر امردلڑکوں کو ان میں شریك نہ کیاجائے کہ ان میں فتنہ ہے۔یہ سب مسائل بارہا ذکرہوگئے ہیں۔ہرنی کاقصہ جس قدرحدیث میں آیاہے ضرورمقبول ومعتبرہے اور اس کا پڑھنا اور سنانا سب ثواب ہے ہاں اپنی طرف سے کچھ بڑھادیاہو توغلط ہے اسے نکال دینا ضرورہے۔حدیث میں یہ قصہ یوں ہے کہ رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جنگل میں تشریف رکھتے تھے کہ کسی کے پکارنے کی آواز آئی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دیکھا کسی کونہ پایا پھرنظر
حوالہ / References السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلوٰۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۳۴۶
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
#4202 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
فرمائی تو ایك ہرنی بندھی ہوئی پائی اور اس نے عرض کی:ادن منی یارسول اﷲ! حضورمیرے پاس تشریف لائیں۔رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرنی کے قریب تشریف لے گئےفرمایا:تیری کیاحاجت ہے اس نے عرض کی:
ان لی خشفین فی ذلك الجبل فحلنی حتی اذھب فارضیعھا ثم ارجع الیک۔ اسی پہاڑ میں میرے دوبچے ہیں حضورمجھے کھول دیں کہ میں جاکر انہیں دودھ پلاآؤں پھرحضورکے پاس حاضرہوجاؤں گی۔
حضوررحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تواپنا سچاکرے گی ہرنی نے عرض کی:
عذبنی اﷲعذاب العشار ان لم افعل۔ میں ایسانہ کروں تو اﷲتعالی مجھ پر ان لوگوں کا عذاب کرے جو ظلما لوگوں سے مال تحصیلتے تھے۔
رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے کھول دیاوہ گئیبچوں کو دودھ پلاکرواپس آئیمصطفی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے اسے پھر باندھ دیاوہ بادیہ نشین جس نے یہ ہرنی باندھی تھی ہوشیارہوا اور عرض کی:یارسول اﷲ! حضورکاکوئی کام ہے کہ میں بجالاؤں۔فرمایا:ہاں یہ کہ تو اس ہرنی کوچھوڑدے اس نے چھوڑدی۔وہ ہرنی دوڑتی ہوئی یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ:
اشھد ان لاالہ الااﷲ وانك رسول اﷲ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی سچامعبود نہیں اور یہ کہ بیشك آپ اﷲ کے رسول ہیں
یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی۔
غازی میاں کابیاہ کوئی چیزنہیں محض جاہلانہ رسم ہےنہ ان کے نشان کی کوئی اصل۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: ۲۶محرم ۱۳۳۰ھ
علم تعزیہ کوبناناڈھول تاشہ یا کسی انگریزی باجے کے ساتھ ہندوکہاربیلداروں سے اٹھوانا اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہما کے اسم مقدس کو بتشدید کہنا اور زورزور سے دونوں ہاتھ سے سینہ پیٹنا اور تعزیہ کوبازاروں میں لئے پھرناہندومسلمانوں کوبطورتماشہ کے دکھانا اور دس محرم کو ایك میلہ لگانا اور امام باڑہ میں تعزیہ رکھ کر بتاشہ ریوڑی ہندومسلمانوں سے پڑھوانا اور امام باڑہ پرنوبت رکھوانا اور اس میں روشنی کرنا اور خوب مرصع کرنا اور دس محرم کو ہندوکہاروں یا
حوالہ / References المعجم الکبیر مرویات ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا حدیث ۷۶۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳/ ۳۲۔۳۳۱
#4203 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
بیلداروں سے گڑھا کھدواکر اس میں تعزیہ دفن کرادینا اور تخت کو واپس لانا اور عوام الناس کی یہ مرادیں مانگنا اور ان کافقیر بناناگھرگھر سے مانگ کرنیاز دلوانا اور رنگین ہرے ہرے کپڑے نئے نئے پہننااکثر ایساہوتاہے کہ بچہ پیداہوتے ہی مرجاتاہے ایسی حالت میں یہ مرادمانگنا کہ یاحضرت امام حسین! آپ کی دعا سے اگرہمارابچہ زندہ رہا تو ہم دس برس تك آپ کے نام کے بچہ کوفقیر یابہشتی یاپیك بنادیں گےاور بعد دس برس کے برادری محتاج یامساکین کونہایت خوشی اور جلوس کے ساتھ کھاناکھلاکر فقیری کوختم کرائیں گے اور جابجا مرثیہ جاکر پڑھنا دھنیا بناکربرادری میں بطور حصہ یا عیدی کی طرح بٹووں میں رکھ کر بچوں کے لئے بھیجنا اور کھچڑا پکاکر برادری میں تقسیم کرنا اور خود کھانا محتاجوں کوکھلانا اور یہ کہاں سے ثابت ہواہے اور روٹیاں پکواکر اس طرح لنگر لٹانا کہ ہاتھ میں گرے یاجہاں کہیں اس فعل کا کرنے والا کون ہے اور یہ افعال کس کے ہیں اور مومن کوامام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت کے واقعہ میں ان دس ایام میں کیاکرناچاہئے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
مسلمانوں کو ان ایام میں صدقات وخیرات ومیراث وحسنات کی کثرت چاہئے خصوصا روزے خصوصا روزعاشورکاکہ سال بھر کے روزوں کاثواب اور ایك سال گزشتہ کے گناہوں کی معافی ہے کما ثبت فی الحدیث الصحیح(جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ت)اوربہتریہ ہے کہ نویں دسویں دونوں کا روزہ رکھے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسع ۔ اس لئے کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگرمیں آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور میں نوتاریخ کابھی روزہ رکھوں گا(ت)
حضرت شہزادہ گلگوں قبا امام حسین شہیدکربلا ودیگرشہدائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے نام پاك پرجس قدر ہوسکے تصدق وایصال ثواب کریں بلکہ ان روزوں وغیرہا تمام حسنات کاثواب اسی جناب گردوں قباب کی نذرکریں گرمیوں میں ان کے نام پرشربت بلائیں جاڑے میں چائے پلائیں اور نیك نیت پاك مال سے شربت چائے کھانے کوجتناچاہیں لذیذوبیش قیمت کریں سب خیرہے کھچڑا پلاؤفرنی جوچاہیں اور بے دقت میسر ہو برادری میں بانٹیں محتاجوں کوکھلائیں اپنے گھروالوں کوکھلائیں
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصیام باب یوم عاشوراء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۵۹
#4204 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
نیك نیت سےسب ثواب ہے۔
کما ثبت فی الاحادیث الصحاح حتی قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مااطعمت نفسك فھو لك صدقۃ ۔ جیساکہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہےیہاں تك کہ حضورانور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جوکچھ تو اپنے آپ کوکھلائے وہ بھی تیرے لئے صدقہ ہے۔(ت)
رہایہ کہ کھچڑا کہاں سے ثابت ہواجہاں سے شادی کاپلاؤ دعوت کا زردہ ثابت ہوا۔یہ تخصیصات عرفیہ ہیں نہ شرعیہہاں جو اسے شرعا ضروری جانے وہ باطل پرہے۔روٹیاں پکاکر تقسیم کرنا بھی خیرہے مگرپھینکنامنع ہے اور ان کاپاؤں کے نیچے آنا یاناپاك جگہ گرناسخت شدیدمواخذہ کاموجبایك توروٹی کی بیحرمتی جس کی تعظیم کاحدیث میں حکم فرمایادوسرے نیاز کی چیز کی بے توقیری نیاز کی چیز معظم ہوتی ہے کما دل علیہ حدیث نفیس فی بھجۃ الاسرار(جیسا کہ اس پرایك عمدہ حدیث دلالت کرتی ہے جو بہجۃ الاسرار میں مذکورہے۔ت)بے ادب وہابیوں کاکہنا کہ اس میں توصدقہ کے سبب سے اورخباثت آگئیان کی قلبی خباثت ہے کہ محبوبان خدا کے نام سے انہیں عداوت ہےبہشتی بننااگربدعات سے خالی ہو اوربدعات سے خالی ہو اور محض نام ونقل نہ ہو بلکہ کام اور فعل ہو یعنی پانی بھربھرکر مسلمانوں کوپلائیں وضوکرائیں توضرور اچھاکام اور باعث اجرہے اور اس کا ثواب بھی نذرشہدائے کرام ہوسکتاہے اور پیك بننانری نقالی اوربیہودہ بے معنی ہے اور گھنٹے لٹکانا حدیث میں منع فرمایایوہیں فقیربن کر بلاضرورت ومجبوری بھیك مانگنا حرامکما نطقت بہ احادیث مستفیضۃ(جیسا کہ بہت سی مشہورومعروف حدیثیں اس معنی پرناطق ہیں۔ت)اور ایسوں کودینا بھی حرام لانہ اعانۃ علی المعصیۃ اس لیے کہ یہ گناہ کے کام پر دوسرے کی امداد کرنا ہے جیسا کہ درمختارمیں مذکورہے۔ت)اور وہ منت ماننی کہ دس برس تك ایساکریں گے سب مہمل وممنوع ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانذر فی معصیۃ ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گناہ کے کام میں کوئی نذر(منت)نہیں۔(ت)
حوالہ / References مسند امام احمدبن حنبل حدیث حضرت مقدام بن معدی کرب دارالفکر بیروت ۴/ ۱۳۱
سنن ابی داؤد کتاب الایمان باب من رأی علیہ کفارۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۱
#4205 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
ہاں سیدنا حضرت عالی مقام علی جدہ الکریم ثم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے اپنی حاجت میں استمداد واستعانت وطلب دعاوشفاعت جائزومحبوب
قال اﷲ تعالی "وابتغوا الیہ الوسیلۃ" ۔وقال اﷲتعالی " اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربہم الوسیلۃ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ تعالی کی بارگاہ تك رسائی کے لئے وسیلہ تلاش کرواور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:یہی وہ ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔(ت)
دھنیابنانے کھانے بٹووں میں رکھ کر بچوں کو بھیجنے میں فی نفسہ کچھ حرج نہ تھا مگر وہ مبنی جس کی بنا پریہ کیاجاتاہے شرعاناجائزہےاس کی اصل یوں ہے کہ پان کھانے کے عادی ہیں محرم کے عشرہ میں سوگ کے خیال سے پان چھوڑدیتے ہیں اس کی جگہ پر دھنیا ایجادہوا ہےشریعت نے عورت کو شوہرکی موت پر چارمہینے دس دن سوگ کاحکم دیاہے اوروں کی موت کے تیسرے دن تك اجازت دی ہے باقی حرام ہے اور ہرسال سوگ کی تجدیدتو کسی کے لئے اصلا حلال نہیں پھرحقیقت دیکھئے تودعوی غم بھی جھوٹاغم میں آدمی سے پان نہ کھایاجائے تو دھنیئے کے یہ تکلفات کہ وقت میں اس سے سوجگہ زائد اور خرچ بھی زیادہ اور لذت بھی افزوںیہ ضرور ہوسکیں گےیوہیں عشرہ محرم کے سبزرنگے ہوئے کپڑے بھی ناجائزہیں یہ بھی سوگ کی غرض سے ہیںسوگ میں اصل سیاہ لباس ہے وہ تورافضیوں نے لیا اور انہیں زیبابھی تھا کہ ایك تو ان کے دلوں کی بھی یہی رنگت ہے۔دوسرے یہ کہ سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
الشیعۃ نساء ھذہ الامۃ ۔ شیعہ اس امت کی عورتیں ہیں۔
سوگ وماتم عورتوں ہی کو خوب آتے ہیں۔ہمارے جاہل سنی بھائی سیاہی سے توبچے کہ رافضیوں کی مشابہت نہ ہو مگر اس سے قریب تررنگت سبزی پائی اسے اختیارکیاسبزی جب گہری ہوگی سیاہی لے آئے گی ہلکی سیاہی کوسبزی کہتے ہیںآسمان نیلاہے اسے عربی میں خضراءفارسی میں چرخ سبزہ فامکہتے ہیںاردو میں مسیں بھیگنے کواس وقت بالوں کی سیاہی خوب گہری نہیں ہوتیسبزہ آغاز کوکہتے ہیں
#4206 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
لہذا اس نیت سے یہ بھی ناجائزمسلمان کوچاہئے عشرہ مبارك میں تین رنگوں سے بچے:سیاہسبزسرخسیاہسبز کی وجہیں تومعلوم ہوگئیں اور سرخ آج کل ناصبی خبیث خوشی کی نیت سے پہنتے ہیںسیاہ میں اودانیلاکاسنی۔سبز میں کاہیدھانی پستیئ۔سرخ میں گلابیعنابینارنجی سب داخل ہیں۔غرض جس پر ان میں کوئی رنگ صادق آئے اگر سوگ یاخوشی کی نیت سے پہنے جب توخود ہی حرام ہے ورنہ ان کی مشابہت سے بچنا بہترہےیوہیں مرثیے کہ رائج ہیں سب حرام وناجائزہیں۔ حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن المراثی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔
اور ماتم کرناچھاتی پیٹنا بھی حرام ہے نطقت بتحریمہ احادیث بالغۃ حدالاشتھار(درجہ شہرت تك پہنچی ہوئی حدیثیں اس کے حرام ہونے پر ناطق ہیں۔ت)حسن حسن بتشدید کہنا تو جہالت ہی تھا مگرماتم سخت منع ہے۔یوہیں علمتعزیےتخت جریدے باجےکھیل تماشے سب بیہودہ وبدعت وممنوع ہیں۔یوہیں تعزیہچڑھاواامام باڑے کا مکاناس کی نوبتروشنی آرائش سب بشرح صدرہیںغم والم کانام اور لہوولعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امیدخوشنودی حضرت امام۔اور اس الٹی مت کا کیا ٹھکانا کہ یہ توتعزیہ کی وہ تعظیم کہ گویا معاذاﷲ بعینہ یہی نعش مبارك حضورپرنور امام عالی مقام ہے بلکہ اس سے بھی زائد یہاں تك کہ اسے سجدہ کرنے سے بھی باك نہیں۔اور کہاں یہ حرکت کہ کہاربیلدار وغیرھم کفار اسے اٹھائے پھریں اور اس پر پڑھایہ جائے کہ اسے مومنو! اٹھاؤ جنازہ حسین کا۔استغفراﷲپھرگلی کوچوں میں گشتپھرتوڑتاڑ کردبادینا کتنی شترگربگی ہےپھر مصنوعی کربلا میں جسے حقیقی کے مثل ٹھہراتے ہیںکوئی دقیقہ لغویات وممنوعات کااٹھا نہیں رکھتےرنڈیوں کے جھولے تك ہوتے ہیں بلکہ تختوں پرایك ایك رنڈی جلوہ گرہوتی ہےکہاں امام عالی مقام کی طرف نسبت اور کہاں یہ سخت شنیع حرکتکاش اﷲ عزوجل ہمارے بھائیوں کوسمجھ دیتاکہ ہزاروں روپے جویوں نیکی برباد گناہ لازم میں تباہ کرتے انہیں حضرات شہیدان پاك کے نام پرتصدق کرتےمساکین کودیتے جاڑے میں ان کے لحاف رضائی گرم کپڑے بناتے وغیرہ وغیرہ افعال حسنہ کرتے تو کتنا بہترہوتا۔اﷲ ہدایت دے آمین! واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۵۶
#4207 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
مسئلہ ۱۸۲ و ۱۸۳: مسئولہ مولانا ظفرالدین صاحب ۲۶محرم الحرام ۱۳۳۰ھ
ملفوظات حضرت سیدعبدالرزاق ہانسوی قدس سرہ میں یہ حکایتیں ہیں یانہیں
(۱)محرم کی دس تھی کہ حضرت مولاناممدوح ایك تعزیہ کے ساتھ ہولئے جو جلاہوں کاتھا اور مصنوعی کربلا میں دفن ہونے کے لئے لوگ لئے جاتے تھے آپ کی وجہ سے اورخدام ومریدین بھی ساتھ ہولیے کربلا تك ساتھ ساتھ رہے بلکہ دیر تك قیام فرمایا کچھ دنوں بعد بعض خاص مریدین نے پوچھا تو فرمایا کہ مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم تو امام عالی مقام کو دیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا۔
(۲)انہیں بزرگ کاقصہ ہے کہ ایك دن عاشورہ کومسجد میں بیٹھے وضوکررہے تھے ٹوپی مبارك فصیل پر رکھی تھی کہ یکایك اسی طرح سربرہنہ نیچے تشریف لے آئے اور ایك تعزیہ کے ساتھ ہولئے اس دفعہ لوگوں نے دریافت کیا توفرمایا کہ حضرت سیدۃ النساء تشریف فرماتھیں۔
دونوں روایتیں کہاں تك صحیح ہیں
الجواب:
دونوں حکایتیں محض غلط وبے اصل ہیںتعزیہ داروں کونہ کوئی دلیل شرعی ملتی ہے نہ کسی معتمد کاقولمجبورانہ حکایت بناتے ہیںاسی ساخت کی حکایت کوئی شاہ عبدالعزیز صاحب سے نقل کرتاہےکوئی مولانا شاہ عبدالمجیدصاحب سےکوئی حضرت مولانا فضل رسول صاحب سےکوئی مولوی فضل الرحمن سےکوئی میرے حضرت جدامجد سےرحمۃ اﷲ علیہماو ر سب باطل ومصنوع ہیں۔میں توابھی زندہ ہوں میری نسبت کہہ دیا کہ ہم نے اسے تعزیہ شاید علم بتائے کہ ان کے ساتھ جاتے دیکھا اور اس حکایت کاکذب تو خود اسی سے روشن کہ فرمایا:"مجھے تعزیوں سے کچھ مطلب نہیں ہم توامام عالی مقام کودیکھ کر ساتھ ہولئے تھے کہ ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا"۔سبحان اﷲ! جب تعزیے ایسے معظم ومقبول ومحبوب بارگاہ ہیں کہ خود حضور پرنورامام انام علی جدہ الکریم ثم علیہ الصلوۃ والسلام بنفس نفیس ان کی مشایعت فرماتے ہیںان کے ساتھ چلتے ہیں تو ان سے کچھ مطلب نہ ہونا اﷲ عزوجل کے محبوب ومعظم سے مطلب نہ ہوناہے جوولی تو ولی کسی مسلمان کی شان نہیں۔پھرآگے تتمہ کلام ملاحظہ ہو کہ "ان کے ساتھ اولیائے کرام کامجمع تھا"یہ کاف بیانیہ توہونہیں سکتا ضرور تعلیلیہ ہے یعنی حضرت امام کے ساتھ ہونے پربھی کچھ توجہ نہ ہوتی مگر کیاکیجئے ان کے ساتھ مجمع اولیاء تھا لہذا شامل ہوناپڑا۔عیب بھی کرنے کوہنرچاہئےہاں خوب یاد آیا ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۷ھ کوتلہر سے ایك سوال آیاتھا کہ تونے تعزیہ داری کوجائزکردیاہے اس خبرکی کیاحقیقت ہے ایك
#4208 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
رافضی بڑے فخر سے اس روایت کونقل کرتاہے ایضا تیرا اوردیگر چندعلمائے بریلی کافتوی تیارہوا ہے کہ آیت تطہیر کے تحت میں ازواج مطہرات داخل نہیںاس فتوی کی نقل اس رافضی کے پاس دیکھنے میں آئی ہے فقطاب فرمائیے اس سے بڑھ کر اور کیاثبوت درکارجب زندوں کے ساتھ یہ برتاؤ ہے تواحیائے عالم برزخ کی نسبت جوہوکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۴: امیرعلی سرنیا ضلع بریلی ۱۱محرم ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جواشخاص سنت جماعت ہوں وہ منت تعزیہ وعلم ومہندی کی مانتے ہیں ان کواصل تعزیہ دارکے تعزیہ پر لے جاکر چڑھاتے ہیں اور شیرینی اور کھانا ہرقسم کالیجاکروہاں فاتحہ دیتے ہیں اور اس کوبطورتبرك کے تقسیم کرتے ہیں اور گھر سے لیجاتے وقت چارچارقدم پرمرثیہ بآواز بلند پڑھتے ہیں اور ڈھول تاشے مجیرے وغیرہ کی آواز بلندہوتی ہے اوراکثرچھاتی کوٹتے ہیں اس کوماتم قراردیتے ہیںاکثرعورات کودیکھاہے کہ سات ونوتاریخ کی شام سے اور دس کی فجر سے گشت کرتی ہیں علم ومہندی وتعزیہ اور آدمیوں وغیرہ کانظارہ کرتی ہیں اور اکثر عشرہ کو صبح سے شام تك جس کو کربلا شریف قراردیا ہے ہرایك تماشے دیکھتے ہیں اکثرلوگ اور عورات تعزیہ کودفن کرکے روٹی اور شیرنی قبرپررکھ کرماتم کرتے اور پھرفاتحہ دیتے ہیںدیگر زیدسنت جماعت ہوکر تعزیہ پرجاکر ذکرشہادت یعنی جس کو مجلس قراردیتے ہیں شوق سے جاکر پڑھتے ہیں مرثیہ بھیدیگرایك گاؤں سے دوسرے گاؤں میں یاایك محلہ سے دوسرے محلہ میں تخت یاعلم وغیرہ جائے عمرودیکھنے نہ جائے اور شرکت تربت دےدیگربکرکہتاہے کہ ان یوم میں فاتحہ سوائے امام حسین علیہ السلام کے اور کسی پیغمبر اوراولیاء کرام کی نہیں ہوگی۔دیگرزیدکہتاہے کہ تخت اورتعزیہ وغیرہ کا کام اور خوشنمائی دیکھنے جائے توکوئی نقصان نہیں ہے۔دیگرزیدکہتاہے کہ دس یوم روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ یزید کی ماں نے بغرض لڑائی جیت کے رکھی تھی۔ان سب سوالوں کا شرع میں کیا حکم ہے
الجواب:
علمتعزیےمہندیان کی منتگشتچڑھاواڈھولتاشےمجیرےمرثیےماتممصنوعی کربلا کوجاناعورتوں کاتعزیے دیکھنے کونکلنایہ سب باتیں حرام وگناہ وناجائز ومنع ہیں۔فاتحہ جائزہے روٹی شیرینی شربت جس چیز پر ہومگرتعزیہ پررکھ کریا اس کے سامنے ہوناجہالت ہے اور اس پرچڑھانے کے سبب تبرك سمجھنا حماقت ہے ہاں تعزیہ سے جداجوخالص سچی نیت سے حضرات شہدائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی نیازہو وہ ضرور تبرك ہے وہابی خبیث کہ اسے خبیث کہتاہے خود خبیث ہے۔تعزیہ داروں کے شربت میں بھی شرکت نہ کرے کہ تعزیہ میں شرکت سمجھی جائے گی بلکہ الگ شربت
#4209 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
کرے اور آجکل کہ جاڑے کاموسم ہے شربت کی جگہ چائے ہوناچاہئے۔محرم وغیرہ ہروقت ہرزمانہ میں تمام انبیاء واولیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی نیاز اورہرمسلمان کی فاتحہ جائزہے اگرچہ خاص عشرہ کے دن ہو۔بکرغلط کہتاہے اور شریعت مطہرہ پرافتراء کرتاےجوکام ناجائزہے اسے تماشے کے طورپردیکھنے جانا بھی گناہ ہے۔عشرہ محرم کے روزے بہت ثواب نہایت افضل ہے۔ حدیثوں میں ان کی فضیلت ارشاد ہوئی ہے خصوصا دسویں محرم کاروزہ کہ سال بھر کے روزوں کے برابر ثواب ہے اور ایك سال کے گناہوں کی معافی ہے۔زیدجھوٹا ہے اور شرع شریف پرافتراء کرتا ہے کہ ان روزوں کو حرام بتاتاہے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۵: ازبدایوں محلہ جالندھری مسئولہ محمدادریس خاں صاحب ۲۸محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بنا برشوکت ودبدبہ اسلام تعزیہ بنانا اور نکالنا وعلم وبیرق اور مہندی وغیرہ نکالنا جائزہے یانہیں نیز تعزیہ کوحاجت رواسمجھنا یایہ کہنا کہ تعزیہ ہماری منت کاہے اگربندکریں نہ بنائیں توہمارا نقصان اولادومال ہوگاکیسا ہے تعزیہ دار یا تعزیہ پرست کے ہاتھ کاذبیحہ کھانا درست ہے یانہیں
الجواب:
علمتعزیہبیرقمہندی جس طرح رائج ہیں بدعت ہیں اور بدعت سے شوکت اسلام نہیں ہوتی تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعہ حاجت رواسمجھنا جہالت پرجہالت ہے اور اسے منت جاننا اور حماقتاور نہ کرنے کو باعث نقصان خیال کرنا زنانہ وہم ہے مسلمان کو ایسی حرکات وخیال سے باز آناچاہئے بایں ہمہ تعزیہ دار مسلمان ہے اور اس کے ہاتھ کاذبیحہ ضرورحلال ہے کوئی جاہل ساجاہل مسلمان بھی تعزیہ کو معبود نہیں جانتاتعزیہ پرست کالفظ وہابیہ شرك پرست کی زیادتی ہے جس طرح تعظیم وتکریم مزارات طیبہ پرمسلمانوں کوقبرپرست کالقب دیتے ہیںیہ سب ان کاجہل وظلم ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۶: ازسیتاپور محلہ قضیارہ مکان قاضی سیدمحمد رضاصاحب ۷ربیع الآخر ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ بناناکیساہے اور اس پرشیرینی وغیرہ چڑھاناکیساہے اور بنانے والے اور تعظیم کرنے والے کاعندالشرع کیاحکم ہے اور جوشخص تعزیہ کے ناجوازی کاقائل ہے اس کو کافر یامرتد کہنا اور کافرسمجھ کر اس کے پیچھے نمازنہ پڑھنا کیساہے اور تعزیہ داری میں غلو کرنے والے کے پیچھے نمازپڑھناکیساہے بینواتوجروا۔
#4210 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
تعزیہ رائجہ ناجائز وبدعت ہے اور اس کابناناگناہ ومعصیت اور اس پرشیرینی وغیرہ چڑھانا محض جہالت اور اس کی تعظیم بدعت و جہالت۔اور جوتعزیہ کوناجائزکہے اس بناپر اسے کافر یامرتد کہنااشدعظیم گناہ کبیرہ ہےکہنے والے کوتجدیداسلام ونکاح چاہئے یوہیں اس وجہ سے اس کے پیچھے نمازنہ پڑھنا مردودوباطل ہے البتہ اگر کسی وہابی کوکافرمرتد کہا تومضائقہ نہیںاوروہابی کے پیچھے نمازبیشك ناجائزہےجوتعزیہ داری میں غلو رکھے یا اس سے معروف ہو اگرچہ غلو نہ رکھے اس کے پیچھے بھی نمازنہ چاہئے مگر پڑھیں توہوجائے گیہاں اسے امام بنانا منع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۸۷ تا ۱۹۱: مرسلہ جناب مولوی محمدابوذر ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ دیباسرائے
کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت رحمہم اﷲ وکرمہم اﷲ تعالی مسائل ذیل میں:
(۱)ایصال ثواب برروح سیدناامام حسین علیہ السلام بروزعاشورہ جائزہے یانہیں
(۲)تعزیہ بنانا اور مہندی نکالنا اور شب عاشورہ کوروشنی کرنا جائز ہے یانہیں
(۳)مجلس ذکرشہادت قائم کرنا اور اس میں مرزادبیر اور انیس وغیرہ روافض کے کلام پڑھنا بطور سوزخوانی یاتحت اللفظ جائز ہے یانہیں اور اہل سنت کو ایسی مجالس میں شریك ہونا مکروہ ہے یاحرام یاجائزہے
(۴)حضرت قاسم کی شادی کامیدان کربلامیں ہونا جس بناپرمہندی نکالی جاتی ہے اہلسنت کے نزدیك ثابت ہے یانہیں در صورت عدم ثبوت اس واقعہ میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادی کی نسبت حضرت قاسم کی طرف کرنا خاندان نبوت کے ساتھ بے ادبی ہے یانہیں
(۵)روزعاشورہ کومیلہ قائم کرنااور تعزیوں کودفن کرنا اور ان پرفاتحہ پڑھنی جائزہے یانہیں اور بارھویں اور بیسویں محرم اور بیسویں صفر کو تیجااور دسواں اور چالیسواں اور مجلسیں قائم کرنا اور میلہ لگاناجائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)روح پرفتوح ریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اﷲتعالی عنہ کو ایصال ثواب بروجہ صواب عاشورہ اور ہرروزمستحب ومستحسن ہے۔
(۲)تعزیہ مہندی روشنی مذکور سب بدعت وناجائزہے۔
(۳)نفس ذکر شریف کی مجلس جس میں ان کے فضائل ومناقب واحادیث وروایات صحیحہ ومعتبرہ سے
#4211 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
بیان کئے جائیں اور غم پروری نہ ہو مستحسن ہے اور مرثیے حرام خصوصا رافضیوں کے کہ تبرائے ملعونہ سے کمترخالی ہوتے ہیں اہلسنت کو ایسی مجالس میں شرکت حرام ہے۔
(۴)نہ یہ شادی ثابت نہ یہ مہندی سوا اختراع اخترائی کے کوئی چیز۔نہ یہ غلط بیانی حد خاص توہین تك بالغ۔
(۵)عاشورہ کامیلہ لغو ولہو وممنوع ہے۔یوہیں تعزیوں کادفن جس طورپرہوتاہے نیت باطلہ پرمبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پرفاتحہ جہل وحمق وبے معنی ہے۔مجلسوں اور میلوں کاحال اوپر گزرانیز ایصال ثواب کاجواب کہ ہرروز محمود ہے جبکہ بروجہ جائزہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۲: ازمرادآباد بازار سنبھل مرسلہ اﷲ بخش صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے تعزیہ پرجاکر یہ منت مانی کہ میں یہاں سے ایك خرمالئے جاتاہوں درصورت کام پورا ہونے کے سال آئندہ میں نقرئی خرما تیارکراکر چڑھاؤں گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ نذر محض باطل وناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳: ازملك برار مقام نیریبر سوئنیتھ محلہ داروہ ضلع ایوت محل محمدزماں عرف شیخ جھو چہار شنبہ بتاریخ ۱۲ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص تعزیہ داری کوجائز کہتاہے اگرکوئی انکارکرتاہے توسخت کلامی سے پیش آتاہے چنانچہ پیش امام مسجد نیز واقع تعلقہ دار وہ ضلع ایوت محل ملك برار نے جب انکارکرکے کہا کہ تعزیہ داری سخت منع ہے تواس نے کہا کہ تم خلاف کہتے ہو اور تمہاری امامت جائز نہیں ہے تم سورکھاتے اور حرام کھاتے ہو۔اس پرتمام بستی کے مسلمانوں نے جمع ہوکر اس سے پوچھا توتمام مسلمانوں کوکہا کہ تم سب سورکھاتے ہو۔اور کہا کہ اجرت پرامامت جائزنہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کاقول کہاں تك صحیح ہے کیاتعزیہ داری درست ہے اور اجرت پر امامت جائزنہیںاور جو تمام مسلمانوں کوسورکھانے والا بولے تو وہ گنہگار ہے فاسق ہے یانہیں اسے توبہ کرناچاہئے یانہیں مسلمانوں کو ایسے شخص سے برتاؤ کیارکھناچاہئے ایك مسلمان کی آمدنی کھیتی وتجارت سے بھی ہے اور سود سے بھی ہے ایسے شخص کے یہاں کھاناکھانا درست ہے یانہیں اگر کسی مسلمان نے اس کے یہاں کھاناکھایا تو اس کو سود کھانے والا کہیں گے یاایساکہنا اس کوجائزہے یا نہیں شاہ مدار کے مہینہ سولہ چراغوں کی عید کرنا کتب فقہ سے جائزہے یانہیں
#4212 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
الجواب:
تعزیہ داری ناجائزہے اور فتوی اس پرہے کہ امامت پراجرت لیناحلال ہے کما فی ردالمحتار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ فتاوی شامی اور عام بڑی بڑی کتابوں میں مذکورہے۔ت)جس کے یہاں حلال وحرام دونوں طرح کی آمدنی ہے اس کاکھاناحرام نہیں ہوتا جب تك معلوم نہ ہوکہ یہ خاص کھاناحرام مال سے ہے۔ذخیرہ وفتاوی عالمگیریہ میں امام محمدرضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔ ہم اسی کو اختیارکرتے ہیں جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کونہ جانیں۔(ت)
یہ دوسری بات ہے کہ سودخور کے یہاں کھانااگرچہ حلال مال سے ہوچاہئے یانہ چاہئے مگرمطلقا اس کے کھانے والے کو سود کھانے والا کہناشریعت پرافترأ ہے اور عام مسلمانوں کوایساکہنا اور زیادہ شیطانی لفظ ہے اس پرتوبہ فرض ہے اور مسلمانوں سے معافی مانگےاگرنہ مانے اور اصرار کئے جائے تووہ فاسق ہے اس سے وہی برتاؤ چاہئے جوایك فاسق سے کرنے کاحکم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ جس نے کسی مسلمان کو بلاوجہ شرعی ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی۔
اس نے اتنے مسلمانوں کو ایذادی بےشك وہ ظالم ہوا اور ظالم کے پاس بیٹھنے کو قرآن عظیم میں منع فرمایاقال اﷲتعالی:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " اگرتمہیں شیطان بھلادے توپھریاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو(ت)
یہ سولہ چراغوں کی عیدکیسی ہوتی ہے اس میں کیاکیاجاتاہے کیانیت ہوتی ہے ہمارے دیار میں یہ بالکل نہیں اس کاحال کبھی سننے میں نہیں آیا تفصیل ہونے پرجواب ہوسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
#4213 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
مسئلہ ۱۹۴: مسئولہ سیدمقبول عیسی میاں صاحب بریلی نو محلہ ۷صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس امر کے کہ تعزیہ بنانا بدعت سیئہ ہے۔یاشرك وگناہ کبیرہ بینواتوجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
تعزیہ بنانا شرك نہیں یہ وہابیہ کاخیال ہےہاں بدعت وگناہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۵: ازبدایوں اسلام نگر مرسلہ عزیز حسن کانسٹیبل ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںاگرکوئی شخص تعزیہ بنائے یا تعزیہ پرچڑھاوا چڑھائے یامرثیہ پڑھے یامرثیہ کی مجلس میں شریك ہو یاباجابجائے بجوائے یا اس میں شریك ہو یاشیرینی تقسیم کرے یاکھائے یاکھلائے یاتاریخ مقرر کرکے خیرات کرےمحرم کی ساتویں نویں دسویں تاریخ کو یہ باتیں مذہب اسلام میں جائز ہیں یانہیں اگرجائز ہیں توکیاثبوت ہے ثبوت مع نام کتاب صفحہ وسطر اور قرآن وحدیث سے ہو اگرناجائز ہوتو بھی ثبوت مع صفحہ وسطر قرآن وحدیث سے تحریر فرمائیں۔
الجواب:
شیرینی تقسیم کرناکھاناکھلانافاتحہ دینانیازدلانا اگرچہ تعین تاریخ کے ساتھ ہو جبکہ اس تعین کو واجب شرعی نہ سمجھے یہ باتیں شریعت میں جائزہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ جوکوئی تم میں سے اپنے بھائی کوفائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتاہے تو اسے اپنے بھائی کوفائدہ پہنچانا چاہئے۔(ت)
امام بدرالدین محمود عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں خوبی ایصال ثواب پراجماع امت نقل فرمایا ہے اور فرمایا اہلسنت وجماعت کایہی مذہب ہےباقی جوباتیں سوال میں ہیں تعزیہ اور باجا اور مرثیہ اور مرثیہ کی مجلسیں اور تعزیہ کاچڑھاوایہ سب ناجائزوبدعت و گناہ ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۶: ازموضع اومری کلاں ڈاکخانہ کانٹھ ضلع مرادآباد مرسلہ ظفراحسن صاحب ۶محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اول محرم کاجاری ہونا شاہ تیمور کے وقت سے ہوا جب سنت وجماعت نہیں تھا وہاں کے روضوں کی تصویریں جومنسوب امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کے
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴
#4214 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
روضے تھے اترواکر رکھ کر شاہ اپنا خیال پوراکرلیتاتھا اور چونکہ یہ امربھی حکم خداونیز کسی حدیث نبوی سے ثابت نہیں ہے اس لئے وہ کیاحکم رکھتاہے اور جبکہ محرم کوجاہل لوگ سجدہ کرتے ہیں اورمنتیں لوگ تازیوں پرازقسم اناج پکاہوایاشیرینی چڑھاتے ہیں فاتحہ دیتے ہیں تازیہ کے ساتھ باجہ ہوتاہے اور مرثیہ انیس وغیرہ کے جو سنی نہیں ہیں ان کی تصنیف کے جواصل واقع کے برخلاف طویل ہیں وہ سرراگنی اور کئی آواز سے ڈھپ سے پڑھتے ہیں بازارگلی کوچوں میں آل عبا کی عورتوں کی حالت وہ بیان کرتے ہیں معاذاﷲ تازیوں پرروٹی پکواکر رکھتے ہیں کربلا ایك مخصوص جگہ مقرر کرکے وہاں روٹی بانٹتے ہیں اکثر یہاں بھی آگے پیچھے کی بحث میں لڑائیاں ہوجاتی ہیں عورتیں اکثرمسلمانوں کی بلاپردہ تازیوں پرجاتی ہیں تازیوں کاسوم چہلم کرتے ہیں فاتحہ دلاتے ہیں معذرات گروہ تازیہ داری یہ ہیں ہمیشہ سے یہی رسم جاری ہے ناتعلیم یافتہ کہتے ہیں کہ ہم سجدہ نہیں کرتے محض یادگاری امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ وشہیدان وشب کربلابناتے ہیں اور تازیہ کی وجہ سے صدقہ ہوتاہے تازیہ یادگاری کا باعثبعض کہتے ہیں پھری گدکہ کھیلنے کاموقع ملتاہےنتیجہ صدہاسال سے یہ نکل رہاہے کہ جابجالڑائی دنگہ فساد اس تازیہ کے بدولت ہوتے ہیںامروہہ کاواقعہ قریب کاہے جس میں بہت سے مسلمان جیل خانہ گئے قتل بھی ہوا ہزاروں روپیہ مسلمانوں کا مقدمہ بازی میں خرچ ہو ابہت سے گھرویران ہوگئے۔پس گزارش عالمان ومفتیان شرع سے ہے کہ تازیہ بنانے والے ہمدردی کرنے والےباجہ بجانے والےاس گروہ میں شامل ہونے والےاس طریقہ متذکرہ بالا کہ بموجب صدقہ کے نام سے خرچ کرنے والے کس امر کے مستحق ہیں اور اس طریقہ سے خرچ کسی مد میں شمارہوتاہے یانہیں
الجواب:
تعزیہ جس طرح رائج ہے ضروربدعت شنیعہ ہےجس قدربات سلطان تیمور نے کی کہ روضہ مبارك حضرت امام رضی اﷲ تعالی عنہ کی صحیح نقل تسکین شوق کو رکھی وہ ایسی تھی جیسے روضہ منورہ وکعبہ معظمہ کے نقشے اس وقت تك اس قدرحرج میں نہ تھا اب بوجہ شیعی وشبیہ اس کی بھی اجازت نہیںیہ جوباجےتاشےمرثیےماتمبرق پری کی تصویریںتعزیے سے مرادیں مانگنا اس کی منتیں ماننااسے جھك جھك کر سلام کرناسجدہ کرنا وغیرہ وغیرہ بدعات کثیرہ اس میں ہوگئی ہیں اور اب اسی کانام تعزیہ داری ہے یہ ضرور حرام ہے دبیروانیس وغیرہ اکثرروافض کے مرثیے تبرا پرمشتمل ہوتے ہیں اگرچہ جاہل نہ سمجھیں اور نہ بھی ہوتوجھوٹی ساختہ روایتیں خلاف شرع کلمات اہل بیت طہارت کی معاذاﷲ نہایت ذلت کے ساتھ بیان اور سرے سے غم پروری کے مرثیے کس نے حلال کئے۔حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
#4215 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
وسلم عن المراثی ۔ مرثیوں سے منع فرمایا۔
اور اس کے سبب صدقہ خیرات ہوناجھوٹا عذرہے اﷲ کے بندے کہ تعزیہ وغیرہابدعات کوحرام جانتے ہیں نیازوخیرات کرتے ہیں ربیع الاول شریف میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیازیں ہوتی ہیں ربیع الآخر شریف میں حضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی نیازیں ہوتی ہیں ان میں کون سا تعزیہ ہوتاہے اور بفرض غلط اگرتعزیہ ہی باعث خیرات ہو تو خیرات ایك مستحب چیزہے اور بدعات حراممستحب کے لئے حرام حلا ل نہیں ہوسکتاعجب ان سے کہ مستحب نہ کریں گے جب تك حرام اس کی یاد نہ دلائےپھری گدکا ایك مباح بات ہےمباح کے لئے حرام کیونکر حلال ہوسکتاہے غرض عذرات سب بیہودہ ہیں اور ان افعال کے مرتکب سب گنہگار اورانہیں مدددیناناجائزاور علم تعزیے تخت میں جوکچھ صرف ہوتاہے سب اسراف وحرام اور تعزیے کی نیاز لنگرکا لٹانا روٹیوں کازمین پرپھینکنا پاؤں کے نیچے آنا سب بیہودہ ہے ہاں نیاز کے طورپر سب بدعات سے بچ کر حضرات شہدائے کرام کی نیازکریں تو عین برکت وسعادت ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۷ تا ۲۰۳: ازلہرپور ضلع سیتاپور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ محمدفیض اﷲ طالب العلم بنگالی ۶شعبان ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدعی حنفیت کہتاہے کہ تعزیہ چونکہ نقشہ ہے سیدناحضرت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کے روضہ مقدسہ کااورمنسوب ہے سیدنا امام ہمام رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرفلہذا اس کابنانا امرضروری ہے اور باعث ثواب وقابل تعظیم وذریعہ نجات ہمارے لئے ہے اور جوشخص ان کی تعظیم وبنانے کامخالف ہے وہ یزیدہے پس امور ذیل تحقیق طلب ہیں:
(۱)تعزیہ بناناجائزہے یابدعت اورحرام اور باعث ثواب وتعظیم ہے یاباعث عذاب نارجحیم ہے۔
(۲)اس کے بنانے میں کسی قسم کی امدادجائزہے یانہیں
(۳)اس کابنانے والافاسق مشابہ اہل تشیع ہے یانہیں اوربرتقدیر حرام وبدعت اس کاجائز سمجھنے والا کافرہے یااشدفاسق
(۴)مذہب امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں بھی اس کاثبوت ہے یانہیں برتقدیرثانی اس کا
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل بقیہ حدیث عبداﷲ بن ابی اوفٰی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۵۶
#4216 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
بنانے والامتبع امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ہے یانہیں او ر اس کایہ دعوی کہ میں حنفی ہوں جس سے عوام بھی تعزیہ بنانے کی طرف راغب ہوتے ہیں یہ دھوکادینا ہے یانہیں اور باعث گمراہی ہے یانہیں
(۵)ایسے شخص کواگرحنفی لوگ اپناپیشواوپیربنائیں توجائزہے یاحراماور مریدین پرفسخ بیعت واجب ہے یانہیں اور ایسے شخص کی اقتدافی الصلوۃ جائزہے یامکروہ بکراہت تنزیہی یاتحریمی یاحرام
(۶)منکرین تعزیہ کویزیدیابددین کہنا کیساہے اگرمنکرین محل اس طعن وتشنیع کے نہیں ہیں تویہ قول خود قائلین کی طرف رجوع کرتاہے یانہیں یعنی اس کاوبال وگناہ قائلین پرکتناہوگا اور حدیث شریف کے اس قاعدے کے تحت میں داخل ہوں گے یانہیں کہ اگر کسی کوکافر کہے اور وہ فی الحقیقت ایسانہیں تو قائل خود کافرہوتاہے۔
(۷)بانی تعزیہ چونکہ عام مسلمانوں کے حضوری کاباعث ہوتاہے پس برتقدیر حرام وبدعت حاضرین وبانی دونوں گناہ میں مساوی ہیں یااکمل وانقص ہیں۔
الجواب:
تعزیہ جس طرح رائج ہے نہ ایك بدعت مجمع بدعات ہے نہ وہ روضہ مبارك کانقشہ ہے اور ہوتو ماتم اور سینہ کوبی اورتاشے باجوں کے گشت اورخاك میں دبانا یہ کیا روضہ مبارك کی شان ہے اور پریوں اور براق کی تصویریں بھی شاید روضہ مبارکہ میں ہوں گی امام عالی مقام کی طر ف اپنی ہو سات مخترعہ کی نسبت امام رضی اﷲ تعالی عنہ کی توہین ہے کیاتوہین امام قابل تعظیم ہے۔کعبہ معظمہ میں زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے سیدنا ابراہیم وسیدنا اسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام کی تصویریں بنائیں اور ہاتھ میں پانسے دئے تھے جن پر لعنت فرمائی اور ان تصویروں کومحوفرمادیا یہ توانبیائے عظام کی طرف نسبت تھی کیا اس سے وہ ملعون پانسے معظم ہوگئے یاتصویریں قابل ابقا۔اور اسے ضروری کہنا تو اور سخت ترافترائے اخبث ہے وہ بھی کس پر شرع مطہر پر
قل ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون﴿۶۹﴾ بے شك جواﷲ تعالی کے ذمے جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی کامیاب اوربامرادنہ ہوں گے۔(ت)
اور اس کے منکر کو یزیدکہنا رفض پلید ہے تعزیہ میں کسی قسم کی امدادجائزنہیں۔
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:گناہ اور زیادتی کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۰ /۶۹
#4217 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
والعدون ۪ " معاملات میں ایك دوسرے کی مدد نہ کیاکرو(ت)
طریقہ مذکورہ ضرور فسق واتباع روافض اور تعزیہ کوجائزسمجھنا فسق عقیدہ مگر انکارضروریات دین نہیں کہ کافر ہو نہ اس سے حنفیت زائل ہوکہ گناہ مزیل حنفیت ہو تو سوااجلہ اکابراولیاء کے کوئی حنفی نہ ہوسکے معتزلہ اصولا بددین تھے اور فروعا حنفیجوقول باطل دوسرے کوکہاجائے اس کاوبال قائل پرآتاہے بعینہ وہی قول پلٹنا مطلق نہیں کسی کوناحق گدھاکہنے سے قائل گدھانہ ہو جائے گایوہیں کسی مسلمان سنی کو یزیدکہنے والا یزیدنہ ہوجائے گا بلکہ اس میں روافض کاپیرو۔اس کے پیچھے نمازمکروہ تحریمی ہے ز اور اس سے بیعت ممنوع وناقابل ابقا۔حاضرین میں ہرایك پراپناگناہ ہے اوربانی دواعی پر ان سب کے برابر۔لاینقص من اوزارھم شیئ (اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کمی نہ ہوگی۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۴: ازحبیب والا ضلع بجنور تحصیل دھامپور مرسلہ منظوراحمد صاحب ۱۱شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ بنانے اور ان پرملیدے چڑھانے اور ایسی مجلسیں کرناکہ جس میں اہلبیت کی فضیحت اوررسوائی ہو اور نتیجہ یہ ہوکہ ان کو سجدے کئے جائیں اورمنتیں ان سے مانگی جائیںیہ فعل یا اس فعل میں شرکت کرنے والے کیسے ہیں جائزہیں یاناجائز حالانکہ مسئلہ اصول کاہے کہ فعل مستحب جب کسی لوازم کی وجہ سے وہ اپنے درجہ کو چھوڑ کر واجب یافرضیت میں آجائے تو اس وقت اس کاترك مستحب ہے توا ب بنابراصول کہ یہ مسائل مذکورہ بالاجائزہیں یانہیں نقصان ہے مدلل تحریر کیجئے۔
الجواب:
تعزیہ ناجائزہے اور ایسی مجلس جس میں معاذاﷲ توہین اہلبیت کرام ہو قطعا حرام اور ان میں شرکت ناجائزوحرام۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۵: سلطان الاسلام احمدصاحب اجمیرشریف
تعزیہ بناکے نکالنااس کے ساتھ ڈھول نقارے بجاناقبر کی صورت بناکر جنازہ کی طرح نکالنااس پرپھول وغیرہ چڑھانا جائزہے یانہیں فقط
الجواب:
یہ سب باتیں ناجائزہیں۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱
#4218 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
مسئلہ ۲۰۶: ازریاست راجگڑھ بیادرہایجنسی بھوپالسنٹرل انڈیامسئولہ محمداسمعیل سوار رسالہ باڈی گارڈ ۱۵محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ محرم میں تعزیہ بنانا اور اس سے منتیں مرادیں مانگنیعلم اٹھانےمہندی چڑھانا بچوں کو سبزکپڑے پہنانے او ر ان کے گلوں میں ڈوریاں باندھ کر ان کو حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کافقیربنانادس روز تك سوگواررہنااور اس کے بعد سوئم اور دسواں چالیسواں کرناایسے مرثیوں کاپڑھنا جس میں اہلبیت کے سرپیٹنے اور بین کرنےخلاف شرع امورکاذکرہےاور یہ کہ ان مراسم کی ادائیگی کوحب اہلبیت سمجھنا عام طورسے ہمراہیان یزید کو لعین مردود کافرکہنا حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کوبراکہنا اور اس کو مقتضائے حب علی رضی ا ﷲ تعالی عنہ سمجھناحضرت امام حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہما کو جملہ انبیاء سے بھی رتبہ میں بڑھ کرسمجھنا بایں خیال کہ حضرات صوفیہ کرام نے بھی ایساہی سمجھاہے اور ایساسمجھنے کو عین ایمان کہنا کیساہے بینواتوجروا۔
الجواب:
حضرات امامین رضی اﷲ تعالی عنہما خواہ کسی غیرنبی کوکسی نبی سے افضل کہنا کفرہے۔حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ یا کسی صحابی کوبراکہنا رفض ہے۔ہمراہیان یزید یعنی جو ان مظالم ملعونہ میں اس کے ممدومعاون تھے ضرور خبیث ومردودتھےاور کافروملعون کہنے میں اختلاف ہےہمارے امام کامذہب سکوت ہےاور جو کہے وہ بھی موردالزام نہیں کہ یہ بھی امام احمد وغیرہ بعض ائمہ اہلسنت کامذہب ہےسومدسواںچالیسواں ایصال ثواب ہیں اور یہ تخصیصات عرفیہ ہیں اور ایصال ثواب مستحب باقی مراسم کہ سوال میں مذکورہوئے سب ممنوع وناجائزہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۷ تا ۲۱۹: ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ کھگرسرائے متصل زیارت حبیب اﷲ شاہ مسئولہ محمد فاروق حسین صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین جزاہم اﷲ تعالی خیرالجزاعن المسلمین ان مسائل میں کہ:
(۱)حضرت قاسم بن حسین رضی اﷲ تعالی عنہما کانکاح جناب کبری بنت حسین علیہ السلام سے بروزعاشورہ بمقام کربلاہواتھا یانہیں اور روایات صحیح سے ثابت ہے یانہیںنزدیك اہلسنت وجماعت کے
(۲)تعزیہ داری کس وقت سے جاری ہے
(۳)تعزیہ داری مروجہشب شہادت کور وشنی وغیرہ کرنابروزعاشورہ تعزیہ کودفن کرنا
#4219 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
بروز۱۲محرم سوم کی فاتحہ دینا یوم عاشورہ کے حساب سے چالیسواں کرنااہلسنت وجماعت کے نزدیك جائزہے یانہیں
(۴)ایسی مجلسوں میں شریك ہونا جس میں مرثیہ وغیرہ ہوتے ہیں
(۵)جولوگ ڈھول تاشے بجاتے ہوں ان کوسبیل کاشربت پلانا یامیلہ میں سبیل لگاناجائزہے یانہیں اور ایسی سبیل موجب ثواب ہوگی یاموجب عذاب
(۶)بعد شہادت جناب امام حسین علیہ السلام کی زوجہ جناب شہربانو کہاں گئیں
(۷)حضرت مسلم کے صاحبزادے کوفہ میں شہید ہوئے یانہیں تاریخ طبری میں ہے کہ کوفہ میں صاحبزادے ہمراہ نہ تھے۔
(۸)قوالی کا سننا کن اشخاص کوجائزہے
(۹)تعزیہ بناناجائزہے یانہیں
(۱۰)اگرتعزیہ بنائے تو کس قدرگناہ ہے
(۱۱)انگوٹھے چومنا وقت تلاوت آیہ کریمہ " ما کان محمد ابا احد من رجالکم " (محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ت)اور اذان میں لفظ اشھد ان محمدا رسول اﷲ پرجائزہے یانہیں
(۱۲)بعد شہادت کس قدر سرمبارك دمشق کو روانہ ہوئے تھے اور کس قدر واپس آئے
(۱۳)مہندی وغیرہ کاکس وقت سے رواج ہے
الجواب:
(۱)اس کا کوئی ثبوت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)بہت جدیدہندوستانیوں کی ایجادہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)فاتحہ ہروقت جائزہے اور تعزیہ وغیرہ بدعات ناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
(۴)حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۵) پانی یاشربت ہرمسلمان کو پلاسکتے ہیں اورمیلہ میں سبیل نہ لگائی جائےنہ اس وجہ سے کہ سبیل کی مخالفت ہے بلکہ میلہ میں شرکت کی۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۳ /۴۰
#4220 · تعزیہ اور اس سے متعلقہ بدعات
(۶)مدینہ طیبہ۔واﷲ تعالی اعلم
(۷)یہ نہ مجھے اس وقت یادنہ تاریخ دیکھنے کی فرصتنہ اس سوال کی حاجت۔
(۸)قوالی مع مزامیرسننا کسی شخص کو جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۹)ناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
(۱۰)بدعت کاجوگناہ ہے وہ ہےگناہ کی ناپ تول دنیامیں نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۱۱)اذان سنتے وقت جائز بلکہ مستحب ہے اور آیہ کریمہ سنتے وقت جس طرح رائج ہے ناجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۱۲)حدیث میں فرمایا آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ بیکار باتیں چھوڑے۔
(۱۳)مہندی ناجائزہے اور اس کاآغاز کسی جاہل سفیہ نے کیاہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
#4221 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
رسالہ
اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ
(ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بلندپایہ فوائد)

مسئلہ ۲۲۰ تا ۲۲۷:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
ان احسن تعزیۃ لقلوب المسلمین فیماھجم من البدعات علی اعلام الدین ان الحمدﷲ رب العلمین و افضل الصلوۃ واکمل السلام علی سید الشھداء بالحق یوم القیام وعلی الہ وصحبہ الغرر الکرام امین! دینی شعائر پربدعات کے ہجوم کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں کے لئے بہترین تعزیتاﷲ تعالی رب العالمین کی حمداور قیامت کے روز حق کی شہادت دینے والوں کے سردار پر بہترین صلوۃ اورکامل ترین سلام اور ان کی آل واصحاب ممتاز عزت والوں پر۔آمین!
سوال اول: ۲۴صفر۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ داری کاکیاحکم ہےبینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
#4222 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
الجواب:
تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضہ پرنورشہزادہ گلگوں قباحسین شہید ظلم وجفاصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بناکر بہ نیت تبرك مکان میں ر کھنا اس میں شرعا کوئی حرج نہ تھا کہ تصویرمکانات وغیرہا ہر غیرجاندار کی بنانارکھنا سب جائزاور ایسی چیزیں کہ معظمان دین کی طرف منسوب ہوکر عظمت پیداکریں ان کی تمثال بہ نیت تبرك پاس رکھنا قطعا جائزجیسے صدہاسال سے طبقۃ فطبقۃ ائمہ دین وعلمائے معتقدین نعلین شریفین حضورسیدالکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نقشے بناتے اور ان کے فوائد جلیلہ ومنافع جزیلہ میں مستقل رسالے تصنیف فرماتے ہیں جسے اشباہ ہو عــــــہ امام علامہ تلمسانی کی فتح المتعال وغیرہ مطالعہ کرےمگرجہال بیخردنے اس اصل جائزکوبالکل نیست ونابود کرکے صدہا خرافات وہ تراشیں کہ شریعت مطہرہ سے الاماں الاماں کی صدائیں آئیںاول تونفس تعزیہ میں روضہ مبارك کی نقل ملحوظ نہ رہیہرجگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اس نقل سے کچھ علاقہ نہ نسبتپھر کسی میں پریاںکسی میں براقکسی میں اوربیہودہ طمطراقپھر کوچہ بکوچہ ودشت بدشتاشاعت غم کے لئے ان کاگشتاور ان کے گردسینہ زنیاور ماتم سازشی کی شورافگنیکوئی ان تصویروں کوجھك جھك کرسلام کررہاہےکوئی مشغول طوافکوئی سجدہ میں گراہےکوئی ان مایہ بدعات کومعاذاﷲ معاذاﷲ جلوہ گاہ حضرت امام علی جدہ وعلیہ الصلوۃ والسلام سمجھ کر اس ابرك پنی سے مرادیں مانگتا منتیں مانتاہےحاجت روا جانتاہےپھرباقی تماشے باجے تاشےمردوں عورتوں کاراتوں کومیلاور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پرطرہ ہیں۔غرض عشرہ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاك تك نہایت بابرکت ومحل عبادت ٹھہراہواتھاان بیہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا پھر وبال ابتداع کاوہ جوش ہواکہ خیرات کوبھی بطور خیرات نہ رکھاریاء وتفاخر علانیہ ہوتاہے پھروہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کودیں بلکہ چھتوں پربیٹھ کر پھینکیں گے روٹیاں زمین پر گر رہی ہیں رزق الہی کی بے ادبی ہوتی ہے پیسے ریتے میں گر کر غائب ہوتے ہیںمال کی اضاعت ہورہی ہےمگرنام توہوگیا کہ فلاں صاحب لنگرلٹارہے ہیںاب بہارعشرہ کے پھول کھلےتاشے باجے بجتے چلےطرح طرح کے کھیلوں کی دھومبازاری عورتوں کاہرطرف ہجومشہوانی میلوں کی پوری رسومجشن یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویایہ ساختہ تصویریں بعینہا حضرات شہداء رضوان اﷲ
عــــــہ: ہمارا رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ دیکھئے صلی اﷲ تعالی علی الحبیب وآلہ وبارك وسلم ۱۲منہ۔
#4223 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
تعالی علیہم اجمعین کے جنازے ہیںکچھ نوچ اتارباقی توڑتا ڑدفن کردیئے۔یہ ہرسال اضاعت مال کے جرم ووبال جداگانہ رہے۔ اﷲ تعالی صدقہ حضرات شہدائے کربلا علیہم الرضوان والثناء کا ہمارے بھائیوں کونیکیوں کی توفیق بخشے اور بری باتوں سے توبہ عطافرمائےآمین! اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کانام ہے قطعا بدعت وناجائزوحرام ہےہاں اگر اہل اسلام جائز طورپرحضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کی ارواح طیبہ کوایصال ثواب کی سعادت پراقتصار کرتے تو کس قدر خوب ومحبوب تھا اور اگر نظرشوق ومحبت میں نقل روضہ انور کی حاجت تھی تو اسی قدرجائز پرقناعت کرتے کہ صحیح نقل بغرض تبرك وزیارت اپنے مکانوں میں رکھتے اور اشاعت غم وتصنع الم ونوحہ زنی وماتم کنی ودیگر امورشنیعہ وبدعات قطعیہ سے بچتے اس قدر میں بھی کوئی حرج نہ تھا مگراب اس نقل میں بھی اہل بدعت سے ایك مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کاخدشہ اور آئندہ اپنی اولاد یا اہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعات کااندیشہ ہےاور حدیث میں آیاہے:اتقوا مواضع التھم (تہمت کے مواقع سے بچو۔ ت) اور وارد ہوا:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلایقفن مواقف التھم ۔ جو شخص اﷲ تعالی اور آخرت پرایمان رکھتاہے وہ ہرگزتہمت کے مواقع میں نہ ٹھہرے۔(ت)
لہذا روضہ اقدس حضورسیدالشہداء رضی اﷲتعالی عنہ کی ایسی تصویر بھی نہ بنائے بلکہ صرت کاغذ کے صحیح نقشے پر قناعت کرے اور اسے بقصد تبرك بے آمیزش منہیات اپنے پاس رکھے جس طرح حرمین محترمین سے کعبہ معظمہ اور روضہ عالیہ کے نقشے آتے ہیں یادلائل الخیرات شریف میں قبورپرنور کے نقشے لکھے ہیں والسلام علی من اتبع الھدیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
سوال دوم:
ازامروہہ مرسلہ مولوی سیدمحمدشاہ صاحب میلادخواں ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ
کیاارشاد ہے علمائے دین متین کااس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد شریف میں شہادت نامہ کا
حوالہ / References کشف الخفاء حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷،اتحاف السادۃ کتاب عجائب القلب بیان تفصیل مداخل الشیطان الی القلب، دارالفکربیروت ۷/ ۲۸۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ باب ادراك الفریضۃ نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹
#4224 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
پڑھناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
شہادت نامے نثریانظم جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثرروایات باطلہ وبے سروپا سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پرمشتمل ہیں ایسے بیان کاپڑھنا سننا وہ شہادت ہو خواہ کچھاور مجلس میلاد مبارك میں ہو خواہ کہیں اورمطلقا حرام وناجائزہےخصوصا جبکہ وہ بیان ایسی خرافات کومتضمن ہو جن سے عوام کے عقائد میں تزلزل واقع ہو کہ پھر تو اور بھی زیادہ زہرقاتل ہےایسے ہی وجوہ پر نظرفرماکر امام حجۃ الاسلامی محمد محمد محمدغزالی قدس سرہ العالی وغیرہ ائمہ کرام نے حکم فرمایا کہ شہادت نامہ پڑھناحرام ہے۔علامہ ابن حجرمکی قدس سرہ الملکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:
قال الغزالی وغیرہ یحرمہ علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسن والحسین وحکایتہ الخ امام غزالی وغیرہ نے فرمایا کہ واعظ کے لئے حرام ہے کہ وہ شہادت حسنین کریمین اور اس کے بے سروپاواقعات لوگوں کو سنائے الخ(ت)
پھرفرمایا:
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین ومابعدہ لاینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یجب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبرائتھم من کل نقص بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یأتون بالاخبار الکاذبۃ والموضوعۃ ونحوھا ولا یبینون المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ الخ۔ امام حسین کی شہادت اوراس کے بعد کے واقعات کی روایات کاحرام ہونا جو بیان کیاگیا وہ اس کے خلاف نہیں جو کچھ میں نے اس کتاب میں ذکر کیاکیونکہ یہ سچابیان جو صحابہ کرام کی جلالت شان اور ہرنقص وکمزوری سے ان کی برأت پرمشتمل ہے اس پراعتقاد رکھناواجب ہے بخلاف اس کے جوجاہل واعظین بیان کرتے ہیںوہ جھوٹیبناوٹی اور خودساختہ خبریں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کامحمل نہیں بیان کرتے حالانکہ حق پر عقیدہ رکھناضروری ہے الخ(ت)
حوالہ / References الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۳
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبۃمجیدیہ ملتان ص۲۲۴
#4225 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
یونہی جبکہ اس سے مقصود غم پروری وتصنع وحزن ہوتو یہ نیت بھی شرعا نامحمودشرع مطہر نے غم میں صبروتسلیم اورغم موجود کو حتی المقدور دل سے دورکرنے کاحکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم بتکلف وزور لانا نہ کہ بتصنع وزوربنانانہ کہ اسے باعث قرب و ثواب ٹھہرانایہ سب بدعات شنیعہ روافض ہیں جن سے سنی کو احتراز لازمحاشاﷲ اس میں کوئی خوبی ہوتی توحضور پر نور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات اقدس کی غم پروری سب سے زیادہ اہم وضروری ہوتیدیکھو حضوراقدس صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلی آلہ کاماہ ولادت وماہ وفات وہی ماہ مبارك ربیع الاول شریف ہے پھرعلمائے امت وحامیان سنت نے اسے ماتم وفات نہ ٹھہرایا بلکہ موسم شادی ولادت اقدس بنایا امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
ایاہ ثم ایاہ ان یشغلہ ای یوم العاشوراء ببدع الرافضۃ ونحوھم من الندب والنیاحۃ والحزن اذ لیس ذلك من اخلاق المؤمنین والا لکان یوم وفاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اولی بذلك واحری الخ بچے اور پرہیزکرے اس بات سے کہ کہیں یوم عاشورہ میں روافض اور ان جیسے لوگوں کی بدعات میں نہ مشغول ہوجائے جو رونا پیٹنا اور غم کرناہوتاہے کیونکہ یہ امور مومنوں کے اخلاق سے نہیں ورنہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کایوم وصال ان چیزوں کازیادہ حق رکھتاہے اھ(یعنی اگررونے پیٹنے اور دکھ غم کے مظاہروں کی گنجائش اور اجازت ہوتی تو سب سے زیادہ یہ چیزیں آپ کے یوم وصال پرعمل میں آتیں اور دیکھی جاتیں)۔(ت)
عوام مجلس خواں اگرچہ بالفرض صرف روایات صحیحہ بروجہ صحیح پڑھیں بھی تاہم جو ان کے حال سے آگاہ ہے خوب جانتاہے کہ ذکرشہادت شریف پڑھنے سے ان کامطلب یہی بہ تصنع رونا بہ تکلف رلانا اور اس رونے رلانے سے رنگ جمانا ہے اس کی شناعت میں کیا شبہہ ہےہاں اگرخاص بہ نیت ذکرشریف حضرات اہلبیت طہارت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی سیدہم وعلیہم وبارك وسلم ان کے فضائل جلیلہ ومناقب جمیلہ روایات صحیحہ سے بروجہ صحیح بیان کرتے اور اس کے ضمن میں ان کے فضل جلیل صبرجمیل کے اظہار کوذکرشہادت بھی آجاتااورغم پروری وماتم انگیزی کے انداز سے کامل احترازہوتا تو اس میں حرج نہ تھا مگرہیہات ان کے اطوار ان کی عادات اس نیت خیر سے یکسرجداہیںذکرفضائل شریف مقصودہوتا تو کیا ان محبوبان خدا کی فضیلت صرف یہی شہادت تھیبے شمار مناقب عظیم اﷲ عزوجل نے انہیں عطافرمائے
حوالہ / References الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۸۳
#4226 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
انہیں چھوڑ کر اسی کو اختیارکرنا اور اس میں طرح طرح سے بالفاظ رقت خیز ونوحہ نماومعانی حزن انگیز وغم افزابیان کووسعتیں دینا انہیں مقاصد فاسدہ کی خبریں دے رہاہےغرض عوام کے لئے اس میں کوئی وجہ سالم نظرآنا سخت دشوار ہے پھرمجلس ملائك مآنس میلاد اقدس توعظیم شادی وخوشی وعید اکبر کی مجلس ہیں اذکارغم وماتم اس کے مناسب نہیںفقیر اس میں ذکر وفات والابھی جیسا کہ بعض عوام میں رائج ہے پسند نہیں کرتا حالانکہ حضور کی حیات بھی ہمارے لئے خیر اور حضور کی وفات بھی ہمارے لئے خیرصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔اس تحریر کے بعد علامہ محدث سیدی محمد طاہر فتنی قدس سرہ الشریف کی تصریح نظرفقیر سے گزری انہوں نے بھی اس رائے فقیر کی موافقت فرمائی والحمدﷲ رب العلمینآخرکتاب مستطاب مجمع بحارالانوار میں فرماتے ہیں:
شھرالسرور والبھجۃ مظھر منبع الانوار والرحمۃ شھرربیع الاولفانہ شھر امرنا باظھارالحبور فیہ کل عامفلانکدرہ باسم الوفاۃفانہ یشبہ تجدید الماتموقد نصوا علی کراھیتہ کل عام فی سیدنا الحسین مع انہ لیس لہ اصل فی امھات البلاد الاسلامیۃوقد تحاشوا عن اسمہ فی اعراس الاولیاء فکیف فی سیدالاصفیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی ماہ مبارك ربیع الاول خوشی وشادمانی کامہینہ ہے اور سرچشمہ انواررحمت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کازمانہ ظہور ہےہمیں حکم ہے کہ ہرسال اس میں خوشی کریںتو اسے وفات کے نام سے مکدرنہ کریں گے کہ یہ تجدید ماتم کے مشابہ ہےاور بیشك علماء نے بتصریح کی کہ ہرسال جوسیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کاماتم کیاجاتاہے شرعا مکروہ ہے اور خاص اسلامی شہروں میں اس کی کچھ بنیادنہیںاولیائے کرام کے عرسوں میں نام ماتم سے احتراز کرتے ہیں تو حضورپرنورسیدالاصفیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے معاملہ میں اسے کیونکر پسند کرسکتے ہیں۔فالحمدﷲ علی ماالھم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
سوال سوم:
ازریاست رامپورمحلہ میانگاناں مرسلہ مولوی محمدیحیی صاحب محرم ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہادت نامہ پڑھنا کیساہے اور اس میں اور
حوالہ / References مجمع بحارالانوار خاتمہ الکتاب دارالایمان المدینۃ المنوّرۃ ۵/ ۳۰۷
#4227 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
تعزیہ داری میں فرق احکام کیاہےبینواتوجروا۔
الجواب:ذکرشہادت شریف جبکہ روایات موضوعہ وکلمات ممنوعہ ونیت نامشروعہ سے خالی ہو عین سعادت ہے۔
عند ذکرالصلحین تنزل الرحمۃ ۔ صالحین کے ذکر پراﷲ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے(ت)
اس کی تفصیل جمیل فتاوی فقیرمیں ہے اوراس میں اور تعزیہ داری میں فرق احکام ایك مقدمہ کی تمہید چاہتاہے
فاقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں کہ اﷲ تعالی ہی کی مدد سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت)شے کے لئے ایك حقیقت ہوتی ہے اور کچھ امور زوائدکہ لوازم یاعوارض ہوتے ہیںاحکام شرعیہ شے پر بحسب وجود ہوتے ہیں مجرداعتبار عقلی ناصالح وجود مطمح احکام شرع نہیں ہوتا کہ فقہ افعال مکلفین سے باحث ہے جو فعلیت میں آنہیں سکتا موضوع سے خارج ہے تغائراعتبار سے تغائراحکام وہیں ہوسکتاہے جہاں وہ اعتبارات واقعیہ مفارقہ متعاقبہ ہوں کہ شے کبھی ایك کے ساتھ پائی جائے کبھی دوسرے کےتو ہردوانحائے وجود کے اعتبار سے مختلف حکم دیاجاسکتاہے اور ایسی جگہ مقصود ہے کہ نفس شے کاحکم ان بعض احکام شے مع بعض الاعتبار سے جداہو مگر زوائد کہ لوازم الوجود ہوں ان کے حکم سے جداکوئی حکم حقیقت کے لئے نہ ہوگا کہ لازم سے انفکاك محال ہے جب لوازم میں یہ حال ہے تو ارکان حقیقت کہ سلخ ماہیت میں داخل ہوں ان سے قطع نظر ناممکنپھر ماہیت عرفیہ میں رکنیت تابع عرف ہے اور بعد اجزاء سے سلخ ماہیت کاتغیراعتبار شے نہیں بلکہ تغیرماہیت عرفیہ ہے مثلا نمازعرف شرع میں مجموع ارکان مخصوصہ بہیأت معلومہ کانام ہےاب اگرکوئی ان ارکان سے جدا بلکہ تبدیل ہیأت ہی کے ساتھ ایك صورت کا نام نمازرکھے جوقعود سے شروع اور قیام پرختم ہو اور اس میں رکوع پر سجود مقدمتو یہ حقیقت نمازہی تبدیل ہوگی نہ کہ حقیقت حاصلاور اعتبار مبتدلجب یہ مقدمہ ممہد ہولیا فرق احکام ظاہرہوگیا شہادت نامہ پڑھنے کی حقیقت عرفیہ صرف اس قدر کہ ذکرشہادت شریف حضرات ریحانین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مسلمانوں کے آگے پڑھاجائےمعاذاﷲ روایات کا موضوع وباطل یاذکر کاتنقیص شان صحابہ پرمشتمل ہونا ہرگز نہ داخل حقیقت ہے نہ لازم وجودولہذا جولوگ روایات صحیحہ معتبرہ نظیفہ مطہرہ
حوالہ / References اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰
#4228 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
مثل سرالشہادتین وغیرہ پڑھتے ہیں اسے بھی قطعا شہادت ہی پڑھنا اور مجلس کو مجلس شہادت ہی کہتے ہیں تومعلوم ہواکہ وہ امور نامشروعہ کہ عارض ہوگئے ہنوز عوارض ہی سمجھے جاتے ہیں اور عوارض قبیحہ سے نفس شیئ مباح یاحسن قبیح نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اپنی حد ذات میں اپنے حکم اصلی پررہتی اور نہی عوارض قبیحہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے جیسے ریشمیں کپڑے پہن کر نمازپڑھنا کہ نفس ذات نماز کومعاذاﷲ قبیح نہ کہیں گے بلکہ ان عوارض وزوائد کو توشہادت ناموں میں ان عوارض کالحوق بعینہ ایساہے جیسے آ ج کل بعض جہال ہندوستان نے مجلس میلادمبارك میں روایات موضوعہ وقصص بے سروپا بلکہ کلمات توہین ملائکہ وانبیاء علیہم الصلوۃ والثناء پڑھنا اختیارکیاہےاس سے حقیقت مبتدل نہ ہوئینہ عوارض نے دائرہ عروض سے آگے قدم رکھا جو مجالس طیبہ طاہرہوتی ہیں انہیں بھی قطعا مجالس میلادمبارك ہی کہاجاتاہے اور ہرگز کسی کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی دوسری شیئ ہے جو ان مجالس سے حقیقت وجداگانہ رکھتی ہےبخلاف تعزیہ داری کہ اس کا آغاز اگرچہ یوں ہی سناگیاہے کہ سلطان تیمور نے ازانجاکہ ہرسال حاضری روضہ مقدسہ حضورسیدالشہداء شہزادہ گلگوں قبا علی جدہ الکریم علیہ اصلوۃ والثناء کومخل امورسلطنت دیکھا تو بنظرشوق وتبرك تمثال روضہ مبارك بنوائی اور اس قدر میں کوئی حرج شرعی نہ تھا مگر یہ امرحقیقت متعارفہ سے وجودا وعدما بالکل بے علاقہ ہے اگرکوئی شخص روضہ انورمدینہ منورہ وکعبہ معظمہ کے نقشوں کی طرح کاغذ پرتمثال روضہ حضرت سید الشہداء آئینہ میں لگاکررکھے ہرگز نہ اسے تعزیہ کہیں گے نہ اس شخص کو تعزیہ دارحالانکہ اتنا امرقطعا موجودہے اور یہ ہر سال نئی نئی تراش وخراش کی کھپچی پنیاںکسی میں براقکسی میں پریاںجوگلی کوچے گشت کرائی جاتی ہیں ہرگز تمثال روضہ مبارك حضرت سیدالشہداء نہیں کہ تمثال ہوتی تو ایك طرح کی نہ کہ صدہا مختلفانہیں ضرورتعزیہ اور ان کے مرتکب کوتعزیہ دارکہاجاتاہے تو بداہۃ ظاہر کہ حقیقت تعزیہ داری انہیں امورنامشروعہ کانام ٹھہراہے نہ کہ نفس حقیقت عرفیہ وہی امر جائزہو اور یہ نامشروعات امور زوائدوعوارض مفارقہ سمجھے جاتے ہوںولہذا فقیر نے اپنے فتاوے میں قدرمباح کوذکرکرکے کہا کہ جہال بیخردنے اس اصل جائزکوبالکل نیست ونابود کرکے الخاور آخر میں کہا اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعا بدعت وناجائزوحرام ہے۔یہ اسی فرق جلیل ونفیس کی طرف اشارہ تھا جو اس مقدمہ ممہدہ میں گزرا۔
بالجملہ شہادت نامے کی حقیقت ہنوزوہی امرمباح ومحمود ہے اور شنائع زوائدوعوارض اگر ان سے خالی اور نیت نامحمود سے پاك ہوضرورمباح ہے اور تعزیہ داری کی حقیقت ہی یہ امورناجائزہ
#4229 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
ہیں"اس قدرجائزہے"سے کوئی تعلق نہ رہانہ اس کے وجود سے موجود ہوتی ہے نہ اس کے عدم سے معدومتویہ فی نفسہ نا جائزوحرام ہے۔اس کی نظیر امم سابقہ میں آغاز اصنام ہےود وسواع ویغوث ویعوق ونسرصالحین تھے ان کے انتقال پران کی یاد کے لئے ان کی صورتیں تراشیںبعد مرورزماں پچھلی نسلوں نے انہیں کو معبود سمجھ لیا توکوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان بتوں کی حالت اپنی انہیں ابتدائی حقیقت پرباقی تھی یہ شنائع زوائد عوارض خارجہ تھےولہذا شرائع الہیہ مطلقا ان کے ردوانکار پرنازل ہوئیںبخاری وغیرہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
کانوا اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطن الی قومھم ان انصبوا الی مجالسیھم التی کانوا یجلسون انصابا وسموھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلك اولئك ونسخ العلم عبدت ۔ ودسواع وغیرہ قوم نوح علیہ السلام کے نیك لوگوں کے نام تھے جب وہ وفات پاگئے توشیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان کی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھاکرتے تھے ان کے مجسمے بناکر کھڑے کردو او ر ان کے اسماء کاذکرکرو(یعنی انہیں یادکرو)چنانچہ لوگوں نے ایساہی کیا مگر وہ ان کی عبادت میں مشغول نہیں ہوئے تاآنکہ وہ لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے اور علم مٹ گیا اور پچھلے لوگ یعنی بعد میں آنے والی نسل حقیقت سے ناآشناہوتے ہوئے ان کی پوجاکرنے لگی۔ (ت)
فاکہی عبیداﷲ بن عبیدبن عمیرسے راوی:
قال اول ماحدثت الاصنام علی عھد نوح وکانت الابناء تبرالآباء فمات رجل منھم فجزع علیہ ابنہ فجعل لایصبر عنہ فاتخذ مثالاعلی صورتہ فکلما اشتاق الیہ نظرہ ثم مات ففعل بہ کما فعل ثم تتابعوا عبداﷲ ابن عبید نے کہا سب سے پہلے بت پرستی کاظہورزمانہ نوح میں ہوااوربیٹے اپنے آباء سے حسن سلوك کیاکرتے تھےپھر ان میں سے کوئی شخص مرجاتا تو اس کابیٹا اس کے لئے بیقرار اور بے چین ہوجاتا اور صبرنہ کرسکتااور اپنی تسکین کے لئے اس کی مورتی بنالیتا اور جب اصل کودیکھنے کاشوق ہوتا تو اس شبیہہ کودیکھ کر
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التفسیر سورہ نوح ۷۱ باب ودًا اولا سواعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
#4230 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
علی ذلك فمات الآباء فقال الابناء ما اتخذ اباؤنا ھذہ الا انھا الھتھم فعبدوھا ۔ دل کو تسلی دے لیتا اور جب وہ مرجاتا تو اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیاجاتاعرصہ دراز تك لگاتار اور مسلسل یہ کام ہوتارہااور جب پہلے باپ دادامرگئے تو آنے والی اولاد کہنے لگی کہ یہ تو ہمارے پہلے باپ دادوں کے معبودتھے پھر یہ ان کی عبادت کرنے لگے(پس اس طرح بت پرستی کاآغاز ہوا)۔(ت)
یہ فرق نفیس خوب یادرکھنے کاہے کہ اسی سے غفلت کرکے وہابیہ اصل حقیقت پرحکم عوارض لگاتے اور تعزیہ دار تبدیل حقیقت کو اختلاف عوارض ٹھہراتے اور دونوں سخت خطائے فاحش میں پڑجاتے ہیں وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(اور اﷲ تعالی ہی کی توفیق سے بچاؤ ممکن ہے اور اﷲ سبحانہ وتعالی بڑاعالم ہے۔ت)
سوال چہارم:
ازدھام پورضلع بجنور مرسلہ حافظ سیدبنیاد علی صاحب ۸محرم الحرام ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یوم عشرہ میں سبیل لگانا اور کھانا کھلانے اور لنگرلٹانے کے بارے میں دیوبند کے علماء ممانعت کرتے ہیں ونیز کتب شہادت کوبھیجوامرصحیح ہو عندالشرع ارقام فرمائیے اور مجلس محرم میں ذکرشہادت اور مرثیہ سنناکیساہے بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
پانی یاشربت کی سبیل لگانا جبکہ بہ نیت محمود اور خالصا لوجہ اﷲ ثواب رسانی ارواح طیبہ ائمہ اطہار مقصود ہوبلاشبہہ بہترومستحب و کارثواب ہے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا کثرت ذنوبك فاسق الماء علی الماء تتناثر کما یتناثر الورق من الشجر جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں توپانی پرپانی پلاگناہ جھڑجائیں گے جیسے آندھی میں پیڑ کے
حوالہ / References فتح الباری بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح مصطفی البابی مصر ۱۰/ ۲۹۵،الدرالمنثور بحوالہ فاکہی عن عبیداﷲ بن عبید سورۃ نوح منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایران ۶/ ۲۶۹
#4231 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
فی الریح العاصف۔رواہ الخطیب عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ پتے۔(اس کو خطیب نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے بیان کیا۔ت)
اسی طرح کھاناکھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب وباعث اجرہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ عزوجل یباھی ملئکتہ بالذین یطعمون الطعام من عبیدہ۔رواہ ابوالشیخ فی الثواب عن الحسن مرسلا۔ اﷲ تعالی اپنے ان بندوں سے جولوگوں کوکھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتاہے کہ دیکھو یہ کیسااچھاکام کررہے ہیں(اس کو ابوالشیخ نے ثواب میں حسن سے مرسلا روایت کیا(ت)
مگرلنگرلٹاناجسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتوں پربیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیںکچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیںکچھ پاؤں کے نیچے ہیںیہ منع ہے کہ اس میں رزق الہی کی بے تعظیمی ہےبہت علماء نے تو روپوں پیسوں کالٹانا جس طرح دلہن دولہا کی نچھاور میں معمول ہے منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اﷲعزوجل نے خلق کی حاجت روائی کے لئے بنایاہے تو اسے پھینکنا نہ چاہئےروٹی کاپھینکنا توسخت بیہودہ ہےبزازیہ کتاب الکراہیۃالنوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث میں ہے:
ھل یباح نثرالدراھم قیل لاوقیل لاباس بہ وعلی ھذا الدنانیر والفلوس وقد یستدل من کرہ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الدراھم والدنانیر خاتمان من خواتیم اﷲ تعالی فمن ذھب بخاتم من خواتیم اﷲتعالی قضیت حاجتہ ۔ کیادراہم لٹانامباح ہےبعض نے کہامباح نہیں اور بعض نے کہا کوئی حرج نہیں ہےاسی حکم میں دنانیر اور پیسے ہیںناپسند کہنے والوں نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کہ"دراھم ودنانیر اﷲ تعالی کی مہروں سے مہریں ہیں تو جس نے کوئی مہرپائی اس نے اﷲ تعالی کی مہر سے حاجت پائی"سے استدلال کیا۔(ت)
حوالہ / References تاریخ بغداد ترجمہ ۳۴۶۴ اسحٰق بن محمد دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۴۰۳ و ۴۰۴
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب الترغیب فی اطعام الطعام حدیث ۲۱ مصطفی البابی مصر۲/ ۶۸
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث نورانی کتب خانہ پشاور۶/ ۳۶۴
#4232 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
کتب شہادت جو آج کل رائج ہیں اکثر حکایات موضوعہ وروایات باطلہ پرمشتمل ہیںیوہیں مرثیے ایسی چیزوں کاپڑھنا سننا سب گناہ وحرام ہے۔حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن المراثی۔ رواہ ابوداؤد والحاکم عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا (اسے ابوداؤد اور حاکم نے عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ایسے ہی ذکر شہادت کو امام حجۃ الاسلام وغیرہ علمائے کرام منع فرماتے ہیں کما ذکرہ امام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ(جیسا کہ امام ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں اسے روایت کیاہے۔ت)ہاں اگرصحیح روایات بیان کی جائیں اور کوئی کلمہ کسی نبی یاملك یااہلبیت یاصحابی کی توہین شان کامبالغہ مدح وغیرہ میں مذکورنہ ہونہ وہاں بین یانوحہ یاسینہ کوبی یا گریبان دری یا ماتم یاتصنع یاتجدید غم وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں توذکر شریف فضائل ومناقب حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کابلاشبہہ موجب ثواب ونزول رحمت ہے عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ (صالحین کے ذکر پر رحمت الہیہ نازل ہوتی ہے۔ت)ولہذا امام ابن حجر مکی بعد بیان مذکور کے فرماتے ہیں:
ماذکر من حرمۃ روایۃ قتل الحسین ومابعدہ لا ینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبرائتھم من کل نقصبخلاف مایفعلہ الوعاظ الجہلۃفانھم یأتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولایبینون شہادت حسین رضی اﷲتعالی عنہ کے بیان کی حرمت اور اس کے بعد جوکچھ ذکرکیاوہ میری اس کتاب میں ذکرکردہ روایات کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کی جلالت اورہرنقص سے ان کی برأت پرمشتمل حق کابیان ہے بخلاف جاہل واعظین کے کہ وہ جھوٹ اورموضوع قسم کی خبریں سناتے ہیں اورصحیح محمل اور قابل اعتقاد
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵،المستدرك للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکربیروت ۱/ ۳۸۳
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکربیروت ۶/ ۳۵۰
#4233 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ کوبیان نہیں کرتے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
سوال پنجم:ازمفتی گنج ضلع پٹنہ ڈاك خانہ ایکنگر سرائے مرسلہ محمدنواب صاحب قادری ودیگر سکان مفتی گنج ۲۷/رمضان شریف ۱۳۱۸ھ
یہاں عشرہ محرم میں مجلس مرثیہ خوانی کی ہوتی ہےاور مرثیے صوفیہ کرام کے پڑھے جاتے ہیںاور سینہ کوبی وبین نہیں ہوتا اور میرمجلس سنی المذہب ہےایسی مجلس میں شرکت یا اس میں مرثیہ خوانی کا کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
جو مجلس ذکرشریف حضرت سیدنا امام حسین واہلبیت کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی ہو جس میں روایات صحیحہ معتبرہ سے ان کے فضائل ومناقب ومدارج بیان کئے جائیں اور ماتم وتجدید غم وغیرہ امورمخالفہ شرع سے یکسرپاك ہوفی نفسہ حسن ومحمود ہے خواہ اس میں نثر پڑھیں یانظماگرچہ وہ نظم بوجہ ایك مسدس ہونے کے جس میں ذکرحضرت سیدالشہداء ہے عرف حال میں بنام مرثیہ موسوم ہوکہ اب یہ وہ مرثیہ نہیں جس کی نسبت ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن المراثی ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
سوال ششم:
ازنواب گنج ۲۰ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں:
حوالہ / References الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۲۲۴
المستدرك للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیت دارالفکر بیروت ۱/ ۳۸۳،سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۵
#4234 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
(۱)ایك شخص کہتاہے کہ میں تعزیہ کاچڑھاہوا نہیں کھاتاہوں حضرت امام حسین(رضی اﷲ تعالی عنہ)کی نیاز کاکھاتاہوں۔
(۲)ایك شخص کہتاہے تعزیہ پرکیامنحصرہے چڑھونا کوئی ہومیں نہیں کھاتا ہوں نیازکھاتا ہوں۔
(۳)ایك شخص کہتاہے کہ عشرہ محرم الحرام میں جوکچھ کھانے پینے وغیرہ میں ہوتاہے دس روزتك تعزیہ کاچڑھاہوتاہے۔
(۴)ایك شخص کہتاہے تعزیہ بت ہے بہ سبب لگانے صورت کے۔
(۵)ایك شخص کہتاہے کہ یہ صورت وہ ہے جوبراق اور حور جنت میں ہیں۔
(۶)ایك شخص کہتاہے کہ تعزیہ اور مسجد میں کچھ فرق نہیں بلکہ کہتاہے کہ مسجدمیں کیاہے وہ اینٹ گارا ہی تو ہے جووہاں سجدے کرتے ہو اور تعزیہ میں ابرق کاکاغذ وغیرہ ہیں۔
(۷)ایك شخص نے کہا کہ بھائی یہ باتیں شرع کی ہیں لکھ کر شرع کے سپرد کروآپس میں جھگڑامت کرو۔
(۸)ایك شخص کہتاہے کہ تم شرع نہیں سمجھتے۔
(۹)ایك شخص نے کہاکہ جس حالت میں تم شرع کونہیں سمجھتے ہو تو میں تعزیہ کے چڑھونے کوحرام سمجھتاہوں۔
الجواب:
(۱)پہلاشخص اچھی بات کہتاہے واقعی حضرت امام کے نام کی نیاز کھانی چاہئے اورتعزیہ کاچڑھاہواکھانانہ چاہئےاگر اس کے قول کایہ مطلب ہے کہ وہ تعزیہ کاچڑھاہوا اس نیت سے نہیں کھاتا کہ وہ تعزیہ کاچڑھاہواہے بلکہ اس نیت سے کھاتاہے کہ وہ امام کی نیازہے تو یہ غلط اور بیہودہ ہےتعزیہ پرچڑھانے سے حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کی نیازنہیں ہوجاتیاور اگرنیاز دے کرچڑھائیں یاچڑھاکرنیاز دلائیں تو اس کے کھانے سے احتراز چاہئے اور وہ نیت کاتفرقہ اس کے مفسدہ کودفع نہ کرے گامفسدہ اس میں ہے کہ اس کے کھانے سے جاہلوں کی نظرمیں ایك امرناجائز کی وقعت بڑھانی یاکم ازکم اپنے آپ کو اس کے اعتقاد سے متہم کرتاہےاور دونوں باتیں شنیع ومذموم ہیں لہذا اس کے کھانے پینے سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)دوسرے شخص کی بات میں ذرا زیادتی ہے اولیاء کرام کے مزارات پرجوشیرینی کھانا بہ نیت تصدق لے جاتے ہیں اسے بھی بعض لوگ چڑھونا کہتے ہیں اس کے کھانے میں فقیر کو اصلا حرج نہیں۔
(۳)تیسرے شخص نے نیاز اور تعزیہ کے چڑھاوے میں فرق نہ کیایہ غلط ہے چڑھونا وہی ہے جو تعزیہ پریا اس کے پاس لے جاکر سب کے سامنے نذرتعزیہ کی نیت سے رکھاجائے باقی سب کھانے
#4235 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
شربت وغیرہ کہ عشرہ محرم میں بہ نیت ایصال ثواب ہوں وہ چڑھاوانہیں ہوسکتے۔
(۴)مجسم تصویر کو بت کہتے ہیںاس معنی پروہ تصویریں کہ تعزیہ میں لگائی جاتی ہیں اور مجازا کل کوبھی کہہ سکتے ہیں اور اگربت سے مرادمعبود مطلق ہوتو یہ سخت زیادتی ہے انصاف یہ کوئی جاہل ساجاہل بھی تعزیہ کومعبود نہیں جانتا۔
(۵)اس شخص کایہ محض افتراء ہے کہاں حوروبراق اور کہاں یہ کاغذ پنی کی مورتیں جس سے کہیں زیادہ خوبصورت کسگروں کے یہاں روزبنتی ہیںاور اگر ہوبھی تو حوروبراق کی تصویریں بنانی کب حلال ہیں۔
(۶)یہ شخص صریح گمراہ وبدعقل وبدزبان ہےمسجد کو کوئی سجدہ نہیں کرتانہ اس کی حقیقت اینٹ گارا ہے بلکہ وہ زمین کہ نمازوعبادت الہی بجالانے کے لئے تمام حقوق عباد سے جدا کرکے اﷲ عزوجل کے حکم سے اس کی طرف تقرب کے واسطے خاص ملك الہی پرچھوڑی گئی اب وہ شعائراﷲ سے ہوگئی اور شعائراﷲ کی تعظیم کاحکم ہے قال اﷲ تعالی:
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾ " ۔ اس مجموعہ بدعات کو اس سے کیانسبتمگرجہل مرکب سخت مرض ہےوالعیاذباﷲ۔
(۷)اس شخص نے اچھاکیا مسلمانوں کویہی حکم ہے کہ جوبات نہ جانے خود اس پرکوئی حکم نہ لگائے بلکہ اہل شرع سے دریافت کرےقال اﷲ تعالی:
" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾ " اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگرتمہیں علم نہیں۔(ت)
(۸)اس کے قول کااگریہی مطلب ہے کہ تم لوگ بے علم ہو آپس میں بحث نہ کرو اہل شرع سے پوچھو تو اچھاکیااور اگریہ مراد ہے کہ تعزیہ شرعا اچھی چیزہے تم شرع نہیں سمجھتے تویہ بہت براکہا اور شرع پرافتراء کیا اور اگریہ مقصود ہوکہ شرع سے تومذمت صاف ظاہرہے مگرتم لوگ نہیں سمجھتے تو یہ بھی اچھاکیا۔
#4236 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
(۹)اس کاقول حد سے گزرا ہواہے تعزیہ کاچڑھاواکھانا ان وجوہ سے جوہم نے ذکرکیں مکروہ وناپسند ضرورہے مگرحرام کہناغلط ہےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:"اس بکری کوجوہندو نے اپنے بت کے نام پرمسلمان سے ذبح کرایا اور مسلمانوں نے اﷲ عزوجل کی تکبیر کہہ کرذبح کردی تصریح فرمائی کہ حلال ہے ویکرہ للمسلم مسلمان کے لئے مکروہ ہے"۔
جب وہاں صرف کراہت کاحکم ہے تو یہاں تحریم کیونکر۔واﷲ تعالی اعلم
سوال ہفتم:
از اترولی ضلع علی گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
مجلس مرثیہ خوانی اہل شیعہ میں اہلسنت وجماعت کوشریك وشامل ہوناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
حرام ہے:حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کثر سواد قوم فھو منھم ۔ جس نے کسی قوم کاتشخص کثیربنایا وہ ان میں کاہے۔(ت)
وہ بدزبان ناپاك لوگ اکثر تبرا بك جاتے ہیں اس طرح کہ جاہل سننے والوں کو خبربھی نہیں ہوتی اور متواتر سناگیاہے کہ سنیوں کوجوشربت دیتے ہیں اس میں نجاست ملاتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اپنے یہاں کے ناپاك قلتین کاپانی ملاتے ہیں او رکچھ نہ ہوتو وہ روایات موضوعہ وکلمات شنیعہ وماتم حرام سے خالی نہیں ہوتی اور یہ دیکھیں سنیں گےاور منع نہ کرسکیں گے ایسی جگہ جانا حرام ہےاﷲ تعالی فرماتاہے:
" فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " تویاد آئے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ھندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶
المقاصد الحسنۃ حدیث ۱۱۷۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۴۲۶
القرآن الکریم ۶ /۶۸
#4237 · اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھندوبیان شھادۃ ۱۳۲۱ھ (ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیان شہادت کے احکام سے متعلق بُلندپایہ فوائد)
سوال ہشتم:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ بنانا اور اس پرنذرنیاز کرناعرائض بامید حاجت براری لٹکانا اور بہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا او رموافق شریعت ان امور کو اور جوکچھ اس سے پیدا اور یا متعلق ہوں کتناگناہ ہےاورزید اگر ان باتوں کوجو فی زماننا متعلق تعزیہ داری وعلم داری کے ہیں موافق مذہب اہل سنت کے تصورکرے تو وہ کس قسم کے مرتکب ہوااور اس پرشرع کی تعزیرکیالازم آتی ہےاور ان امور کے ارتکاب سے وہ شرك خفی یا جلی میں مبتلا ہے یا نہیںاو ر اس کی زوجہ اس کے نکاح سے باہر ہوئی یانہیںدرصورتیکہ وہ امور متذکرہ بالا کو داخل عقیدت اہلسنت وجماعت بنظر ثواب عمل میں لاتاہو۔بینواتوجروا۔
الجواب:
افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں بدعت سیئہ وممنوع وناجائزہیں انہیں داخل ثواب جاننا اور موافق شریعت مذہب اہلسنت ماننا اس سے سخت تروخطائے عقیدہ وجہل اشد ہےشرعی تعزیر حاکم شرع سلطان کی رائے پرمفوض ہے باایں ہمہ وہ شرك وکفرہرگز نہیںنہ اس بناء پرعورت نکاح سے باہرہوعرائض بامید حاجت براری لٹکانا محض بہ نیت توسل ہے جو اس کاجہل ہے کہ امورممنوعہ لائق توسل نہیں ہوتے باقی حاجت روا بالذات کوئی کلمہ گوحضرت امام عالی مقام رضی اﷲ تعالی عنہ کوبھی نہیں جانتا کہ معاذاﷲ تعالی شرك ہویہ وہابیہ کاجہل وضلال ہےواﷲ تعالی اعلم فقط
__________________
رسالہ
اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھند وبیان شہادۃ
ختم ہوا
#4238 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
تشبہ بالغیر
شعارکفار وغیرہ
مسئلہ ۲۲۸: ازپیلی بھیت محلہ محمدواصل مرسلہ مولوی محمدوصی احمدصاحب سورتی ۲۴صفر ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دھوتی لباس ہند ہے یاکہ خاص ہنود کالباس ہےایك عالم صاحب کہتے ہیں کہ دھوتی لباس ہنود ہے اور بموجب من تشبہ بقوم فھو منھم (جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے گا تو وہ انہی میں سے شمارہوگا۔ت)کے جومسلمان دھوتی پہنے وہ ہندو ہے اور نماز روزہ وغیرہ کوئی عمل صالح اس کا مقبول نہیں مسلمانوں کو دھوتی پہننے والے کے ساتھ مناکحت ونشست برخاست کھاناپینا کھلانا پلانا صاحب سلامت سب منع ہے بلکہ دھوتی پہننے والا سلام علیك کرے تو اس کے سلام کاجواب بھی نہ دےپس دھوتی پہننے والے کے ساتھ وہی برتاؤ چاہئے جیسا کہ عالم صاحب کہتے ہیں یاکہ مسلمانوں کاسااس بارہ میں جو حکم شریعت ہو ارشاد فرمایاجائے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
#4239 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
الجواب :
اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲتعالی کی توفیق ہی سے کہتاہوں۔ت)اس جنس مسائل میں حق تحقیق وتحقیق حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پرہے:التزامی ولزومی۔التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرزووضع خاص اسی قصد سے اختیارکرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقۃ تشبہ اسی کانام ہے فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کمالایخفی(اس لئے کہ قصداورتکلف کے مفہوم کااس میں لحاظ رکھاگیاہے جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور لزومی یہ کہ اس کاقصد تومشابہت کانہیں مگروہ وضع اس قوم کاشعارخاص ہورہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیداہوگیالتزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر ان سے مشابہت پسند کرے یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو بدعت اور کفار کے ساتھ معاذاﷲ کفرحدیث من تشبہ بقوم فہو منھم جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ انہی میں سے شمارہوگا۔ ت)حقیقۃ صرف اسی صورت سے خاص ہے۔غمزالعیون والبصائر میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہوکافر ۔ ہمارے مشائخ کرام کاا س پر اتفاق ہے کہ جو کوئی کافروں کے کسی کام کواچھا سمجھے تو وہ بلاشبہہ کافرہوجاتاہے یہاں تك کہ انہوں نے فرمایا کہ جوکوئی کھانا کھاتے وقت باتیں نہ کرنے کو اور حالت حیض میں عورت کے پاس نہ لیٹنے کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی اچھی عادت کہے تو وہ کافرہے۔(ت)
دوم: کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے اختیارکرے وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کاموازنہ ہوگا اگرضرورت غالب ہوتو بقدرضرورت کاوقت ضرورت یہ تشبیہ کفرکیا معنی ممنوع بھی نہ ہوگا جس طرح صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں منقول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پرباذن اﷲ غلبہ پایا اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف اناراﷲ تعالی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
#4240 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
نے سخت شورش مچائی تھی دوعالموں نے پادریوں کی وضع بناکر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کوبجھادیا۔خلاصہ میں ہے:
لوشد الزنار علی وسطہ ودخل دارالحرب لتخلیص الاساری لایکفر ولودخل لاجل التجارۃ یکفر ذکرہ القاضی الامام ابوجعفر الاستروشنی ۔ اگر کوئی شخص اپنی کمر میں زنار باندھے او رقیدیوں کو چھڑانے کے لئے دارحرب میں داخل ہوتو کافر نہیں ہوگا او راگر اس مدت میں تجارت کے لئے جائے توکافرہوجائے گا۔امام ابو جعفر استروشنی نے اس کو ذکرکیاہے۔(ت)
ملتقط میں ہے:
اذا شد الزنار او اخذ الغل اولبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب ۔ جب کسی شخص نے زنار باندھا یاطوق لیا یا آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی کے ساتھ یاہنسی مذاق کے طور پر تو کافر ہوگیامگرجنگ میں(دشمن کومغالطے میں ڈالنے کے لئے) بطورتدبیر اکساکرے توکافرنہ ہوگا۔(ت)
منح الروض میں ہے:
ان اشد المسلم الزنار ودخل دارالحرب للتجارۃ کفر ای لانہ تلبس بلباس کفر من غیر ضرورۃ شدیدۃ و لافائدہ مترتبۃ بخلاف من لبسھا لتخلیص الاساری علی ماتقدم ۔ اگرمسلمان زنار باندھ کر دارالکفرمیں کاروبار کیلئے جائے توکافر ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے بغیر کسی شدید مجبوری کے اور بغیر کسی ترتب فائدہ کے لباس کفرپہنا(جو اس کے لئے روانہ تھا)بخلاف اس شخص کے جس نے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لئے لباس کفر(برائے حیلہ)استعمال کیاجیسا کہ پہلے ذکرہوا (ت)
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی المجلس السادس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۷
منح الروض الازھر بحوالہ الملتقط فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
#4241 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
سوم: نہ تو انہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پرحامل ہے بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یایوہیں بطورہزل واستہزاء اس کامرتکب ہوا توحرام وممنوع ہونے میں شك نہیں اور اگروہ وضع ان کفارکامذہبی دینی شعارہے جیسے زنارقشقہچٹیا چلیپاتو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کماسمعت انفا(جیسا کہ تم نے ابھی سنا۔ت)اور فی الواقع صورت استہزاء میں حکم کفر ظاہرہے کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور لزومی میں بھی حکم ممانعت ہے جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریڑی منڈاانگریزی ٹوپیجاکٹپتلونالٹاپردہاگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگرآخرشعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ۔ولہذا علماء نے فساق کی وضع کے کپڑے موزے سے ممانعت فرمائی۔فتاوی خانیہ میں ہے:
الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلك کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ موچی یادرزی فساق وفجار کی وضع کے مطابق معمول سے زیادہ اجرت پرلباس تیارکرے تو اس کے لئے یہ کام مستحب نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد واعانت ہے۔(ت)
مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعا ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترك نہ ہو ورنہ لزوم کا کیا محلہاں وہ بات فی نفسہ شرعا مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی نہ کہ تشبہ کی راہ سےامام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں دربارہ طیلسان کہ پوشش یہود تھی فرماتے ہیں:
اما ماذکرہ ابن اقیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم وقد ارتفع ذلك فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح وقد ذکرہ ابن عبدالسلام رحمہ اﷲ تعالی فی امثلۃ رہایہ کہ جوکچھ حافظ ابن قیم نے یہودیوں کاواقعہ بیان کیاہے تو اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ یہ استدلال اس وقت درست تھا جبکہ مذکورہ چادر ان کا(مذہبی)شعار ہواکرتی تھی لیکن اس دور میں یہ چیز ختم ہورہی ہے لہذا اب یہ عموم مباح میں داخل ہےچنانچہ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کو بدعت مباح کی مثالوں
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۰
#4242 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
البدعۃ المباحۃ ۔ میں ذکرفرمایاہے۔(ت)
امام اجل فقیہ النفس فخرالملۃ والدین قاضی خاں پھر امام محمدمحمدمحمد ابن الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ فصل مکروہات الصلوۃ پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ محمد بن علی دمشقی درمختارمیں فرماتے ہیں:
التشبہ باھل الکتاب لایکرہ فی کل شیئ فانا ناکل ونشرب کما یفعلون ان الحرام التشبہ بھم فیما کان مذموما اوفیما یقصد بہ التشبہ ۔ ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے کھانے پینے وغیرہ کے طورطریقے میں کوئی کراہت نہیں۔ان سے تشبہ ان کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے۔(ت)
علامہ علی قاری منح الروض میں فرماتے ہیں:
اناممنوعون من التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم لامنھیون عن کل بدعۃ ولوکانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن افعال الکفر واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار ۔ ہمیں کافروں اورمنکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیاگیاہے ہاں اگر وہ بدعت جو مباح کادرجہ رکھتی ہو اس سے نہیں روکاگیا خواہ وہ اہل سنت کے افعال ہوں یاکفار اوراہل بدعت کے۔لہذا مدارکارشعار ہونے پرہے۔ (ت)
فتاوی عالمگیری میں محیط سے ہے:
قال ھشام فی نوادرہ ورأیت علی ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی نعلین محفوفین بمسامیر الحدید فقلت لہ اتری بھذا الحدید بأسا قال لافقلت لہ ان سفین و ہشام نے نوادر میں فرمایا میں نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کوایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا جن کے چاروں طرف لوہے کی کیلیں لگی ہوئی تھیںمیں نے عرض کیکیاآپ اس لوہے سے کوئی حرج سمجھتے ہیں توفرمایا کہ نہیںمیں نے
حوالہ / References المواہب اللدنیۃ النوع الثانی اللباس لبس الطیلسان المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۵۰
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۰
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
#4243 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
ثوربن یزید کرھا ذلك لانہ تشبہ بالرھبان فقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یلبس النعال التی لہا شعور وانھا من لباس الرھبان الخ عرض کی لیکن سفیان اورثوربن یزیدتو انہیں پسندنہیں فرماتے کیونکہ ان میں عیسائی راہبوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایسے جوتے پہنتے تھے جن کے بال ہوتے تھے حالانکہ یہ بھی عیسائی راہبوں کالباس تھا الخ۔(ت)
اس تحقیق سے روشن ہوگیا کہ تشبہ وہی ممنوع ومکروہ ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یاوہ شے ان بدمذہبوں کاشعارخاص یافی نفسہ شرعا کوئی حرج رکھتی ہوبغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔اب مسئلہ مسئولہ کی طرفچلئے دھوتی باندھنے والے مسلمانوں کایہ قصد تو ہرگز نہیں ہوتاکہ وہ کافروں کی سی صورت بنائیںنہ مدعی نے اس پربنائے کلام کی بلکہ مطلقا دھوتی باندھنے کو ان سخت شدید اختراعی احکام کاموردقراردیا نہ زنہار قلب پر حکم روا نہ بدگمانی جائز
قال اﷲ تعالی" و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ان باتوں کے پیچھے نہ پڑو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔بے شك کانآنکھ اور دل کے متعلق (بروزقیامت)پوچھاجائے گا۔(ت)
اور فی نفسہ دھوتی کی حالت کودیکھاجائے تو اس کی اپنی ذات میں کوئی حرج شرعی بھی نہیں بلکہ ساتر ماموربہ کے افراد سے ہے اصل سنت ولباس پاك عرب یعنی تہبند سے صرف لٹکتاچھوڑنے اور پیچھے گھرس لینے کافرق رکھتی ہے اس میں کسی امرشرعی کا خلاف نہیں تو دووجہ ممانعت توقطعا منتفی ہیں۔رہا خاص شعارکفارہوناوہ بھی باطل۔بنگالہ وغیرہ پورب کے عام شہروں میں تمام سکان ہندومسلمان سب کایہی لباس ہے۔یوہیں سب اضلاع ہند کے دیہات میں ہندومسلمین یہی وضع رکھتے ہیں۔رہے وسط ہند کے شہری لوگان میں بھی فنائے شہر اور خود شہر کے اہل حرفہ وغیرہم جنہیں کم قوم کہاجاتاہے بعض ہروقت اور بعض اپنے کاموں ضرورتوں کی حالت میں دھوتی باندھتے ہیں۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۳
القرآن الکریم ۱۷ /۳۶
#4244 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
ہاں یہاں کے معزز شہریوں میں اس کارواج نہیں مگر اس کاحاصل اس قدر کہ اپنی تہذیب کے خلاف جاتے ہیں نہ یہ کہ جو باندھے اسے فعل کفرکامرتکب سمجھیں تو غایت یہ کہ ان اضلاع کے شہری وجاہت دار آدمی کوگھر سے باہر اس کاباندھنا مکروہ ہوگا کہ بلاوجہ شرعی عرف وعادت قوم سے خروج بھی سبب شہرت وباعث کراہت ہے۔علامہ قاضی عیاض مالکیامام اجل ابو زکریا نووی شافعی شارحان صحیح مسلم پھر عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی حنفی شارح طریقہ محمدیہ فرماتے ہیں:
خروجہ عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۔ عادت اور عرف کی خلاف ورزی مکروہ اورباعث شہرت ہے(ت)
اور اگروہاں کے مسلمان اسے لباس کفارسمجھتے ہوں تواحتراز مؤکد ہےحرج پیچھے گھرسنے میں ہےورنہ تہ بند تو عین سنت ہے۔اس سے زائد کچھ لفاظیاں شخص مذکور نے کہیں محض بے اصل وباطل اور حلیہ صدق وصواب سے عاطل ہیںبالفرض اگردھوتی باندھنا مطلقا ممنوع بھی ہوتا تاہم اس میں اتناوبال نہ تھا جوشرع مطہر پردانستہ افتراکرنے میں۔
والعیاذباﷲ تعالینسئل اﷲ ھدایۃ سبیل الرشاد و العصمۃ عن طریق الزیغ والفسادامینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اوراﷲ تعالی کی پناہہم اﷲ تعالی سے راہ راست کی رہنمائی چاہتے ہیں اور کجی اور فساد کی راہ سے اے اﷲ! حفاظت چاہتے ہیںیا اﷲ میری دعا قبول فرمااﷲ تعالی پاك وبرتربڑا عالم ہے(ت)
مسئلہ ۲۲۹: مسئولہ مولینا مولوی عبدالحمید صاحب ازبنارس محلہ پرکنڈہ ۱۰ شعبان ۱۳۳۵ھ
زیدکوٹ وکالر ونکٹائی پہنتا ہے اور پیشوری پائجامہ وترکی ٹوپی وبونٹ جوتاپہنتا اور انگریزی فیشن کے بال رکھتا ہے۔عمروکہتاہے کہ اس میں تشبہ بالنصاری ہےاور زید کہتاہے کہ ہرگز نہیں اس لئے کہ ادنی فرق تشبیہ کے لئے کافی ہے۔ان دونوں میں کون حق پرہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جو بات کفار یا بدمذہباں اشرار یافساق فجار کاشعار ہو بغیرکسی حاجت صحیحہ شرعیہ کے
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہٖ الخ عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴
#4245 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
برغبت نفس اس کا اختیار ممنوع وناجائزوگناہ ہے اگرچہ وہ ایك ہی چیز ہوکہ اس سے اس وجہ خاص میں ضرور ان سے تشبہ ہوگا اسی قدرمنع کوکافی ہے اگرچہ دیگروجوہ سے تشبہ نہ ہواس کی نظیر گلاب اور پیشاب ہیں۔شیشہ بھراہوا گلاب اور اس میں ایك قطرہ پیشاب ہے تو وہ ناپاك وخراب ہے نہ کہ پورا شیشہ پیشاب ہو جبھی نجس وخراب ہو۔ولہذا عموما احادیث ارشادات فقہ میں ہرایسی چیز پر حکم حرمت وممانعت دیاہے نہ یہ کہ سر سے پاؤں تك من جمیع الوجوہ ان سے تشبہ ہو اسی وقت منع ہویہ محض جہل یاعقل کافساد ہے اور اگردانستہ ہو تو شریعت مطہرہ سے کھلاعناد ہےابطال و وہم کو یہاں صرف پچیس مسائل حدیث وفقہ سے سنائیں:
مسئلہ۱:صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشابھات من النساء بالرجال ۔ اﷲ کی لعنت ان مردوں پرجوعورتوں سے تشبہ کریں اور ان عورتوں پرجومردوں پر۔
یہ اصل کلی ہے اس کے فروع دیکھئے زنان عرب جو اوڑھنی اوڑھتیں حفاظت کے لئے سرپرپیچ دے لیتیں اس پرارشاد ہوا کہ ایك پیچ دیں دو نہ ہوں کہ عمامہ سے مشابہت نہ ہو عورت کو مردمرد کو عورت سے تشبہ حرام ہے:امام احمد وابوداؤد وحاکم نے بسند حسن ام المومنین ام سلمہ رضی ا ﷲ تعالی عنہا سے روایت کی:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دخل علیھا وھی تختمر فقال لیۃ لالیتین ۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو(کیادیکھا)کہ وہ اوڑھنی اوڑھ رہی ہیں تو ارشاد فرمایا سرپر صرف ایك پیچ دو دو۲پیچ نہ ہوں۔ (ت)
تیسیرشرح جامع صغیرمیں ہے:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس باب المتشبہین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۴
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب کیف الاختمار آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۲،مسنداحمد بن حنبل عن ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۲۹۴ و ۲۹۶
#4246 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
حذرامن التشبہ بالمتعممین ۔ اس خطرہ سے کہ کہیں پگڑی باندھنے والے مردوں سے مشابہت نہ ہوجائے۔(ت)
دیکھو تمام زنانہ لباس دفع تشبہ کے لئے کافی نہ ہوا صرف دوپٹہ کے سرپردوپیچ مورث تشبہ ہوئے۔
مسئلہ۲:ایك عورت کندھے پرکمان لگائے گزری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن اﷲ المتشابھات من النساء بالرجال رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما والحدیث من دون القصۃ عند احمد وابی داؤد والترمذی وابن ماجۃ بل قدتقدم عن البخاری و ایھام التیسیر انھم جمیعا رووا القصۃ لیس بالواقع۔ اﷲ تعالی نے ان عورتوں پرلعنت فرمائی ہے جو مردوں سے تشبہ کریں(امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند سے اس حدیث کو روایت فرمایا۔امام احمد(مسنداحمد)ابوداؤدترمذیابن ماجہ بلکہ امام بخاری سے پہلے گزرچکیان تمام محدثین نے بغیر قصہ ذکرکئے اس کو روایت فرمایامگر مصنف التیسیر کایہ وہم کرناکہ سب نے قصہ مذکورہ سمیت اس کو روایت کیاہے خلاف واقع ہے(لہذا وہم درست نہیں۔ت)
عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما نے ام سعید بنت ام جمیل کوکمان لگائے مردانی چال چلتے دیکھافرمایا:
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول لیس منا من تشبہ بالرجال من النساء ولامن تشبہ بالنساء من الرجالرواہ احمد والطبرانی۔ میں نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوارشاد فرماتے سناوہ عورت ہم میں سے نہیں جومردوں سے مشابہت اختیار کرےاور وہ مرد بھی ہم میں سے نہیں جوعورتوں سے تشبہ اختیارکرے۔امام احمد اور امام طبرانی نے اس کو روایت فرمایا۔(ت)
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیرتحت حدیث لیۃ لالیتین مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۳۳۵
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۱۶۴۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۲۵۲،سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب فی المتشبہین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۸
مسنداحمدبن حنبل مسندعبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۰۰،مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الادب فی المتشبہین دارالکتاب بیرو ت ۸/ ۱۰۳
#4247 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
مسئلہ۳:عورتوں کوحکم فرمایا کہ ہاتھوں میں مہندی لگائیں کہ مردوں کے ہاتھ سے مشابہ نہ ہو۔ابوداؤد ام لمومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہاسے راوی:
ان ھندۃ بنت عتبۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت یانبی اﷲ بایعنی قال لاابایعك حتی تغیری کفیك کانہما کفاسبع ۔ عتبہ کی بیٹی ہندہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے عرض کی:اے اﷲ تعالی کے مکرم نبی! مجھے بیعت فرمائیے۔ارشاد فرمایا:میں تمہیں بیعت نہیں کرتا جب تو اپنی ہتھیلیوں میں(انہیں رنگین کرکے)تبدیلی نہ لائےتیری ہتھیلیاں تودرندے کی ہتھیلیوں کی طرح ہیں۔(ت)
مرقاۃ میں ہے:
شبہ یدیہا حین لم تخضبھما بکفی سبع فی الکراھیۃ لانھا حینئذ شبیھۃ بالرجال ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے ناپسندیدگی کی وجہ سے اسے غیر رنگین ہاتھوں کو جنگلی درندے سے تشبیہ دی کیونکہ اس حالت میں وہ مردوں کے مشابہ ہوگئی۔(ت)
ایك حدیث میں ارشاد ہوا کہ زیادہ نہ ہوتوناخن ہی رنگین رکھیں۔احمدوابوداؤد ونسائی بسند حسن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
اومأت امرأۃ من وراء ستر بیدھا کتاب الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقبض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یدہ فقال ماادری اید رجل ام ید امرأۃ قالت بل ید امرأۃ قال لوکنت امرأۃ لغیرت اظفارك ایك عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیاکہ جس کے ہاتھ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ایك خط تھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کاہاتھ پکڑلیاپھرارشاد فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ کیا یہ کسی مرد کاہاتھ ہے یاعورت کا۔اس نے عرض کی یہ مرد کاہاتھ نہیں بلکہ عورت کاہاتھ ہے۔ ارشاد فرمایا اگرتوعورت ہوتی تو ضرور اپنے ہاتھوں کی سادگی کو مہندی
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل تحت حدیث ۴۴۶۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۴
#4248 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
بالحناء ۔ لگاکرتبدیل کردیتی۔(ت)
شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
وگفتہ اند کہ وجہ کراہت وانکار تشبہ برجال ست وسابقا معلوم شد کہ زنان راتشبہ برجال مکروہ ست ۔ ائمہ کرام نے فرمایا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی ناپسندیدگی اور انکارکرنے کی وجہ مردوں سے مشابہت ہے۔اور پہلے معلوم ہوگیا ہے کہ عورتوں کامردوں سے مشابہت کرنامکروہ ہے (یعنی ناپسندیدہ امرہے)(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بلکہ یہ تعلیل منصوص ہے کہ فرمایا:بے مہندی لگائے اپناہاتھ مرد کاسارکھتی ہو۔
احمد فی مسندہ عن امرأۃ صلت القبلتین مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالت دخل علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اختضبی تترك احدکن الخضاب حتی تکون یدھا کیدالرجل قالت فماترکت الخضاب حتی لقیت اﷲ تعالی وھی بنت ثمانین ۔ مسنداحمدمیں ایك ایسی خوش نصیب عورت سے روایت ہے کہ جس نے آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اقتداء میں دوقبلوں(کعبہ شریف اور بیت المقدس)کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیاس نے کہا کہ میں ایك دفعہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضرہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ہاتھوں کو خضاب سے رنگین کیجئے۔تم میں سے ایکہاتھوں کو خضاب وغیرہ سے رنگنا چھوڑدیتی ہےیہاں تك کہ اس کے ہاتھ مردوں کے ہاتھوں کی طرح(سفید)ہوتے ہیں۔پھر اس کے بعد انہوں نے ہاتھوں پرخضاب لگانانہ چھوڑا حالانکہ ا ن کی عمر اسی سال کی ہوگئی(ت)
مسئلہ ۴:جامع ترمذی میں سیدنا بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸،مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیرو ت ۶/ ۲۶۲
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۸۱
مسنداحمدبن حنبل عن امرأۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۴۳۷
#4249 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
نظفوا افنیتکم ولاتشبھوا بالیھود ۔ اپنے پیش دروازہ زمینیں ستھری رکھو یہودیوں سے تشبہ نہ کرو کہ جب سے ان پرذلت ومسکنت ڈالی گئی ان کی زمینیں میلی کثیف رہتیں۔یہاں محض ایك بیرونی شے پرجسے جسم ولباس سے بھی علاقہ نہیں تشبہ فرمایاگیا۔
مسئلہ ۵:سنن ابی داؤد میں ابن ابی ملیکہ سے ہے:
قیل لعائشۃ ان امرأۃ تلبس النعل فقالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء ۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے عرض کی گی ایك عورت مردانہ جوتا پہنتی ہےفرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان عورتوں پرلعنت فرمائی جومردانی وضع اختیارکریں۔
مرقاۃ میں ہے:
تلبس النعل ای التی تختص بالرجال ۔ تلبس النعل یعنی عورت وہ جوتاپہنتی جومردوں سے خصوصیت رکھتاہے۔(ت)
مسئلہ ۶:نمازمیں کسی فعل وحالت میں اہل کتاب سے تشبہ منع ہوا اور نماز مسلمین کا اپنے عامہ افعال وصفت وہیأت میں ان کی نماز سے جداہونا مانع تشبہ نہ ہوا اسی لئے امام کامحراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ہدایہ میں ہے:
یکرہ ان یقوم فی الطاق لانہ یشبہ صنیع اھل الکتاب من حیث تخصیص الامام بالمکان ۔ امام کامکمل طور پرمحراب میں کھڑاہونا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ کارروائی اہل کتاب سے مشابہت رکھتی ہے اس حیثیت سے کہ امام کی ایك جگہ(محراب)سے تخصیص کردی۔(ت)
مسئلہ ۷:اسی لئے امام کاسب مقتدیوں سے بلندی ممتازپرہونا مکروہ ہوا۔ہدایہ میں ہے:
یکرہ ان یکون الامام وحدہ علی الدکان تنہا امام کاکسی بلندممتاز جگہ کھڑاہونا مکروہ ہے
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی النظافۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۳
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۷۰ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۴۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰
#4250 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
لما قلنا ۔ اور اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کردی۔(ت)
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
عللوہ بانہ تشبہ باھل الکتاب فانھم یتخذون لامامھم دکانا ۔ فقہائے کرام نے اس کی علت یہ قراردی کہ یہ رویہ اہل کتاب سے مشابہت رکھتاہے کیونکہ وہ لوگ اپنے امام کے لئے (سب سے الگ)ایك نمایاںممتاز اوربلند چبوترہ متعین کرتے تھے(ت)
مسئلہ ۸:نماز میں قرآن مجید دیکھ کرپڑھنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك تومفسد نمازہے صاحبین رحمہما اﷲ تعالی نماز صحیح مانتے ہیں مگرمشابہت اہل کتاب کے باعث مکروہ جانتے ہیں۔ہدایہ میں ہے:
اذا قرأ الامام من المصحف فسدت صلاتہ عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وقالا ھی تامۃ الاانہ یکرہ لانہ تشبہ بصنع اھل الکتاب ۔ جب امام(بحالت نماز)قرآن مجید دیکھ کرتلاوت کرے توامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك نمازفاسد ہوجائے گی (یعنی ٹوٹ جائے گی)لیکن ان کے دونامورشاگردوں نے فرمایا نمازپوری ہوگئی مگر اس طرح کرنامکروہ ہے اس لے کہ یہ طریقہ اہل کتاب کی کارروائی سے مشابہت رکھتاہے(ت)
مسئلہ ۹:جہاں جاندار کی تصویر کھلی ہوئی بے اہانت رکھی ہو اگرچہ نمازی کے پس پشتوہاں نمازبوجہ تشبہ مکروہ ہے۔ردالمحتار میں ہے:
وعلۃ حرمۃ التصویر المضاھاۃ لخلق اﷲ تعالی وعلۃ کراھۃ الصلاۃ بھا التشبہ ۔ تصویر کے حرام ہونے کی علت(وجہ)اﷲ تعالی کی تخلیق(بنائی ہوئی چیزوں)میں مشابہت اختیارکرناہے(جوشرکت کاوہم پیداکرتاہے)اور تصویر کے ساتھ نمازپڑھنا مکروہ ہےپس اس کی علت تشبہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۰:یونہی جہت قبلہ میں اگر صلیب ہو نمازمکروہ ہے کہ نصاری سے تشبہ ہے۔رد المحتار
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۰
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۴
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۱۶
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
#4251 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
میں بعدعبارت مذکورہ یہ مسئلہ تصویرہے۔
اقول: والظاھر انہ یلحق بہ الصلیب وان لم یکن تمثال ذی روح لان فیہ تشبھا بالنصاری ویکرہ التشبہ بھم فی المذموم وان لم یقصدہ اھ اقول: فی الصورۃ علۃ اخری سوی التشبہ و ھو امتناع الملئکۃ من دخول بیت ھی فیہ غیرمھانۃ ولم یثبت مثلہ فی الصلیب فلایتأتی الالحاق علی الاطلاق الااذاکانت فی جھۃ القبلۃ وح یلتحق بکافون فیہ ضرام من جمراونار۔واﷲ تعالی اعلم۔ اقول:ظاہریہ ہے کہ تصویر کے ساتھ صلیب کاالحاق کیاجائے جبکہ تصویر کسی جاندار کی نہ ہویعنی صلیب اور تصویر دونوں کا حکم ایك ہے۔اس لئے کہ اس میں عیسائیوں سے مشابہت ہے اور برے کاموں میں ان سے مشابہت رکھنامکروہ ہے اگرچہ غیرارادی طور پرہواھ اقول:(میں کہتاہوں)یہاں تصویر میں "تشبہ"کے علاوہ ایك اور علت(وجہ)بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس گھر میں بغیرتذلیل تصویررکھی ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔اور یہ وجہ(علت)صلیب میں نہیں۔لہذا تصویر کے ساتھ صلیب کاعلی الاطلاق الحاق نہیں ہو سکتامگریہ کہ صلیب جہت قبلہ میں ہو۔پھراس صورت میں اس چولہے او رانگیٹھی سے اس کاالحاق کردیاجائے گا کہ جس میں آگ کے شعلے بھڑك رہے ہوں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱:مرد کو ہتھیلی یاتلوے بلکہ صرف ناخنوں ہی میں مہندی لگانی حرام ہے کہ عورتوں سے تشبہ ہے۔
الحناء سنۃ للنساء ویکرہ لغیرھن من الرجال الا ان یکون لعذر لانہ تشبہ بھن اھ اقول: والکراھۃ تحریمیۃ للحدیث المار لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء مہندی لگانی عورتوں کے لئے سنت ہے لیکن مردوں کے لئے مکروہ ہے مگرجبکہ کوئی عذر ہو(توپھر اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے)اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کے مہندی استعمال کرنے میں عورتوں سے مشابہت ہوگی اھ اقول: (میں کہتا ہوں)کہ یہ کراہت تحریمی ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ با ب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس حدیث ۴۴۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۷،شرعۃ الاسلام فصل فی اللباس مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۰۲۔۳۰۱
#4252 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
فصح التحریم ثم الاطلاق شمل الاظفار اقول: وفیہ نص الحدیث المار لوکنت امرأۃ لغیرت اظفارك بالحناء اما ثنیا العذر فاقول ھذا اذا لم یقم شیئ مقامہ ولاصلح ترکیبہ مع شیئ ینفی لونہ واستعمل لاعلی وجہ تقع بہ الزینۃ۔ گزشتہ حدیث پاك کی وجہ سے کہ جس میں یہ آیا ہے کہ اﷲ تعالی نے ان مردوں پرلعنت فرمائی جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریںلہذا تحریم یعنی کراہت تحریمی صحیح ہوئی۔اور اطلاق (الفاظ حدیث)ناخنوں کوبھی شامل ہے۔ اقول: (میں کہتا ہوں)اس میں بھی گزشتہ حدیث کی صراحت موجود ہے (حدیث:اگر توعورت ہوتی توضرور اپنے سفید ناخنوں کومہندی لگاکرتبدیل کر دیتی)رہاعذر کااستثناء کرناتو اس کے متعلق میری صوابدید یہ ہے کہ(عذر اس وقت تسلیم کیاجائے گا کہ)جب مہندی کے قائم مقام کوئی دوسری چیزنہ ہونیز مہندی کسی ایسی دوسری چیز کے ساتھ مخلوط نہ ہوسکے جو اس کے رنگ کوزائل کردے۔اور مہندی استعمال میں بھی محض ضرورت کی بناپر بطور دوااورعلاج ہوزیب وزینت اور آرائش مقصود نہ ہو۔(ت)
مسئلہ ۱۲:عورت کو اپنے سرکے بال کترنا حرام ہے اور کترے توملعونہ کہ مردوں سے تشبہ ہے۔درمختارمیں ہے:
قطعت شعر رأسھا اثمت ولعنت والمعنی المؤثر التشبہ بالرجال ۔ کسی عورت نے سرکے بال کترڈالے تو وہ گنہگارہوئینیزاﷲ تعالی کی اس پرلعنت برسی۔اور اس میں جو علت مؤثرہ ہے وہ مردوں سے"تشبہ"ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳:مرد کو اپنا سرکھلوانا جسے پان بنواناکہتے ہیں حلال ہے جبکہ اطراف کے بال باقی رکھے اور گوندھے نہیں ورنہ پیشانی یاقفا کے بال مونڈنا مجوس سے تشبہ ہے اور گوندھنا بعض دیگرکفار سے۔ذخیرہ وتاتارخانیہ وہندیہ وردالمحتار میں ہے:
لاباس للرجل ان یحلق وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ وان فتلہ فذلك مکروہ لانہ یصیر مشابھا ببعض الکفرۃ کوئی حرج نہیں کہ مرد اپنے سرکادرمیانی حصہ منڈوائے اور بقیہ بال بغیرگوندھے کھلے چھوڑدےاوراگراس نے انہیں گوندھ ڈالا توایساکرنا مکروہ ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بعض کافروں سے مشابہ
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء ۲/ ۲۱۸ ومسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا ۶/ ۲۶۲
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
#4253 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
والمجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولکن لایحلقون وسط الرأس بل یجزون الناصیۃ ینابیع ۔ ہوجائے گا۔اور ہمارے علاقائی آتش پرست بغیرگوندھے اپنے بال کھلے چھوڑتے ہیں لیکن وہ سرکی چوٹی کے بال نہیں مونڈھتے بلکہ پیشانی کے بال کترڈالتے ہیں۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ یکرہ ان یحلق قفاہ الاعندالحجامۃ ۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ گدی کے بال مونڈھنا مکروہ ہیں مگرجبکہ پچھنے لگوائے۔(ت)
مسئلہ ۱۴:مرد کو ساڑھے چارماشے سے کم وزن کی ایك انگوٹھی ایك نگ کی جائزہے دو یا زیادہ نگ حرام کہ زیور زنان ہوگیا۔ جامع الرموز وردالمحتارمیں ہے:
انما یجوزالتختم بالفضۃ لو علی ھیأۃ خاتم الرجال اما لولہ فصان او اکثر حرم ۔ چاندی کی انگوٹھی پہننا جائزہے بشرطیکہ مردانہ انگوٹھیوں کی شکل وصورت پرہو(نیزاس کا ایك نگینہ ہو)اگردویازیادہ نگینے ہوں توحرام ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۵:چاندی کی مردانی انگوٹھی عورت کو نہ چاہئے اورپہنے توزعفران وغیرہ سے رنگ لے۔شیخ محقق اشعۃ اللعات میں فرماتے ہیں:
زنان را تشبہ برجال مکروہ است تاآنکہ انگشتری نقرہ زنان رامکروہ است واگر بکنند باید کہ رنگ کنند بزعفران وما نندآں ۔ عورتوں کومردوں سے مشابہت اختیارکرنی مکروہ ہے اور اس کالحاظ اس حد تك ہے کہ عورتوں کوچاندی کی انگوٹھی پہننی مکروہ ہے اگر کبھی اتفاقا پہننی پڑے تو اسے زعفران وغیرہ سے رنگ لے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۱
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۸۱
#4254 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
مسئلہ۱۶:مرد کو عورت کی طرح چرخہ کاتنامکروہ ہے کہ زنانہ کام ہے تشبہ ہوگا۔درمختارمیں ہے:
غزل الرجل علی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ ۔ کسی مرد کا عورتوں کی طرح چرخے پرسوت کاتنا مکروہ ہے(ت)
طحطاوی میں ہے:
لمافیہ من التشبہ وقد لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المتشبھین والمتشابھات ۔ اس لئے کہ اس میں تشبہ ہے(اور وہ ممنوع ہے)اس لئے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوںاور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پرلعنت فرمائی ہے(ت)
مسئلہ۱۷:بلاضرورت صحیحہ عورت کو گھوڑے پرچڑھنا منع ہے کہ مردانہ کام ہےحدیث میں اس پر لعنت آئیابن حبان اپنی صحیح میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
یکون فی اخر امتی نساء یرکبن علی مرج کاشباہ الرجال الحدیث وفی اخرہ العنوھن فانھن ملعونات ۔
اقول:وکان مااشتھر حدیثا بلفظ لعن اﷲ الفروج علی السروج ماخوذ من ھذا نقلا بالمعنی۔ میری امت کے آخر میں کچھ ایسی عورتیں ہوں گی جو مردوں کی طرح جانوروں پرسوارہوں گیالحدیثاور اس کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں:ان عورتوں پرلعنت بھیجوکیونکہ وہ ملعون ہیں۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں کہ)گویا مشہورحدیث کے جوالفاظ ہیں وہ اسی حدیث مذکورسے نقل معنوی کے طورپر لئے گئے ہیں "اﷲ تعالی ان فروج(شرمگاہوں)پرلعنت کرے جو زینوں (کاٹھیوں)پرسوارہوں"۔(ت)
مسئلہ ۱۸:مردسیدھے ہاتھ میں انگوٹھی نہ پہنے کہ رافضیوں کاشعارہے۔درمختارمیں ہے:
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۴/ ۲۱۱
مواردالظمٰان باب فیما یحرم علی النساء مما یصف البشرۃ حدیث ۱۴۵۴ المطبعۃ السلفیہ ص۳۵۱
اسرارالموضوعۃ حدیث ۷۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۸۵
#4255 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
یجعلہ لبطن کفہ فی یدہ الیسری و قیل الیمنی الاانہ من شعار الروافض فیجب التحرز عنہ قہستانی وغیرہ اھ اقول: والجواز فی نفسہ لاینافی وجوب الاحتراز لغیرہعلی انہ لم یعزہ للقہستانی وحدہ فلعلہ عن غیرہ فاندفع مافی ش ھذا وقال فی الدر بعدہ قلت ولعلہ کان وبان فتبصر قال ش"ای کان ذلك من شعارھم فی الزمن السابق ثم انقطع فلاینھی عنہ و فی غایۃ البیان قدسوی الفقیہ ابواللیث فی شرح الجامع الصغیر بین الیمین والیسار وھو الحق لانہ قد اختلف الروایات عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ذلك وقول بعضھم انہ فی الیمین من علامات انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں اس طرح پہنے کہ اس کا نگینہ ہاتھ کی اندرونی سطح کی طرف ہو۔اور یہ بھی کہاگیا کہ دائیں ہاتھ میں پہنے۔مگریہ رویہ رافضیوں کاشعار(علامت) ہے۔ لہذا اس سے اجتناب ضروری ہےقہستانی وغیرہ اھ۔اقول: (میں کہتاہوں کہ)کسی چیز کابذاتہ جوازاحتراز لغیرہ کے وجوب کے منافی نہیں۔(وضاحت:ایك چیز بالذات جائزہے لیکن کسی اورچیز کی بناء پرقابل ترك ہے تو ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیںلہذایہ نہ کہاجائے گا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایك چیز جائزبھی ہو اور منع بھی ہواس لئے کہ یہاں جوازوعدم جواز کی جہات بدل گئیں لہذا تناقض نہ پایاجائے گا کیونکہ وجود تناقض کے لئے اتحادجہات ضروری ہے جیسا کہ کتب منطق میں مذکورہے۔یہاں غورکیجئے اصل کے اعتبار سے انگوٹھی دونوں ہاتھوں میں پہننی جائزہےاس میں کوئی قباحت نہیں لیکن چونکہ روافض دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے ہیں لہذا ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی نہ پہنے۔لہذا اگر وہ اس معمول کو چھوڑدیں تو پھردائیں ہاتھ میں بھی پہن سکتاہے۔مترجم)اور اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اس مسئلہ کاانتساب صرف علامہ قہستانی ہی کی طرف نہیں(جیسا کہ ظاہرہے)لہذا یہ مسئلہ
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۰
#4256 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
اھل البغی لیس بشیئ لان النقل الصحیح عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ینفی ذلك اھ وتمامہ فیہ اقول: لیس فیہ زیادۃ علی ھذا بل ذکر روایتین بیانا لقولہ قداختلف الروایات لکن فی المرقاۃ عن شرح السنۃ للامام البغوی تحت حدیث الصحیحین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال اتخذ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خاتما من ذھب وجعلہ فی یدہ الیمنی ثم القاہ الحدیثھذا الحدیث یشتمل علی امرین تبدل الامر فیہما من بعد احدھما لبس خاتم الذھبوصارالحکم فیہ ای التحریم فی حق الرجالوثانیھما لبس الخاتم فی الیمین وکان اخرالامرین من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبسہ فی الیسار اھ وانما یؤخذ بالاخر فالاخر من فعلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ قہستانی کے علاوہ دوسرے اہل علم سے بھی منقول ہےلہذا اس کی شرح"ش"میں جوکچھ کہاگیا اس کا دفاع ہوگیاہے۔اور پھر اس کے بعد درمختار میں ہے اقول:(میں مصنف درمختار) کہتاہوں)شاید یہ زمانہ سابقہ میں شعار روافض تھا لہذا اب ان کاشعارنہیں رہا(لہذا غور سے دیکھئے اور سوچئے)ش(شارح) نے فرمایا یعنی دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا گزشتہ زمانے میں رافضیوں کا شعارتھا اور وہ ختم ہوگیاہے لہذا اب وجہ اشتباہ زائل ہوجانے کی بنا پرممانعت نہ رہی۔اور غایۃ البیان میں ہے کہ فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح جامع صغیر میں دائیں اور بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کویکساں طورپرجائز قراردیاہےاور یہی حق ہے کیونکہ اس باب میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مختلف روایات مروی ہیں۔اور بعض کایہ کہنا کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا باغیوں کی علامت ہے اپنے اندر کچھ حقیقت اور وزن نہیں رکھتاکیونکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے صحیح طور پر منقول ہونا اس کی نفی کرتا۔عبارت مکمل ہوگئی اور پوری تفصیل اس میں موجود۔اقول:(میں کہتاہوں)اس میں اس سے زائد نہیںبلکہ موصوف نے دوروایتیں اپنے قول (قد اختلف الروایات)کی وضاحت کے لئے ذکرفرمائیں۔ لیکن شرح مشکوۃ ملاعلی قاری میں امام بغوی کی شرح السنۃ کے حوالے سے بخاری اور مسلم کی حدیث جو حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند سے مروی ہے اس کے ذیل میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الخاتم حدیث ۴۳۸۳ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۱۷۷
#4257 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
ارشاد فرمایا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے سونے کی انگوٹھی بنوائی پھر اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہناپھر اسے پھینك دیا(الحدیث)اوریہ حدیث دوباتوں پرمشتمل ہےپھر اس کے بعد دونوں میں امر تبدیل ہوگیاان دونوں میں سے ایك یہ ہے کہ سونے کی انگوٹھی پہنیاس میں حکم کی تبدیلی اس طرح ہوئی کہ سونامردوں کے حق میں حرام ہوگیادوسری بات یہ ہے کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔لیکن حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کاآخری امر(طرزعمل)کتب روایات میں یہ آیاہے)کہ آپ نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی اھ(اور اصول یہ ہے کہ)حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے آخری عمل کولیاجاتاہے(یعنی اس پرعمل کیاجاتاہے)اور آپ کاآخری عمل یہی ہے کہ آپ نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۹:بعض اعصار وامصار میں ایك ٹوپی لباس روافض تھی علماء نے فرمایا اس کاپہننا گناہ ہے منح الروض میں ہے:
لبس تاج الرفضۃ مکروہ کراھۃ تحریم وان لم یکن کفرا بناء علی عدم تکفیرھم لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھومنھم ۔ رافضیوں کی ٹوپی پہننامکروہ تحریمی ہے اگرچہ کفرنہیںاس وجہ سے کہ ان کی تکفیرمروی نہیں(اور کراہت کی وجہ یہ ہے کہ)حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے وہ(درحقیقت)ان ہی میں سے ہے(ت)
مسئلہ ۲۰:یہ تومرد وعورت کاتشبہ تھا یاگمراہ سے پھرمعاذاﷲ اس کی خباثت کاشمار جس میں کفار سے تشبہ ہوائمہ دین نے فرمایا بلا ضرورت شرعیہ مجوس کی ٹوپی پہننی کفرہے اگرچہ ہنسی سے پہنے اور اگرکوئی پہنے اور اس پراعتراض ہوتو کہےدل مستقیم چاہے کپڑا کسی وضع کاہووہ کافرہوجائے گا کہ اس نے احکام شریعت کو رد کیا۔خزانۃ المفتین میں ہے:
اذا وضع قلنسوۃ مجوس علی راسہ الاصح انہ یکفر ۔ جب کوئی شخص اپنے سرپر آتش پرستوں کی ٹوپی رکھے تو زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا۔(ت)
ملتقط پھرمنح الروض میں ہے:
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
خزانۃ المفتین فصل فی الالفاظ الکفر قلمی نسخہ ۱/ ۲۰۱
#4258 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
لبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب ۔ آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی سے ایساکیا خواہ ہنسی مذاق سے۔دونوں صورتوں میں کافر ہوگیامگرجبکہ جنگ میں کفار کو فریب دینے کےلئے ایساکیا(ت)
اسی میں فتاوی امام ظہیرالدین مرغینانی سے ہے:
من وضع قلنسوۃ المجوس علی راسہ فقیل لہ فقال ینبغی ان یکون القلب سویاکفر"قال"ای لانہ ابطل حکم ظواھر الشریعۃ ۔ جس نے اپنے سر پرآتش پرستوں کی ٹوپی رکھیپھر اس سے کہا گیا(تو نے ایساکیوں کیا)تو اس نے کہا دل سیدھاہونا چاہئے۔ تو وہ کافرہوگیا فرمایا(یعنی اس کے کفر کی وجہ یہ ہے کہ)اس نے ظاہر شریعت کے حکم کوباطل قراردیا اور اس کارد کیا۔(ت)
مسئلہ ۲۱:وضع کفار کی ٹوپیالگ رومال اس شکل پربناکر سرپررکھنا بھی حرام ہے یہاں تك کہ بعض ائمہ نے اس صورت میں حکم کفر دیا۔جامع الفصولین میں ہے:
جعل مندیلہ یشبہ قلنسوۃ المجوسی ووضعہ علی راسہ کفرلاعنداکثرھم ۔ آتش پرستوں کی ٹوپی کے مشابہ رومال بناکر اپنے سرپررکھاتو ائمہ کرام کے نزدیك کافرہوگیا لیکن اکثرائمہ کے نزدیك ایسانہیں۔(ت)
مسئلہ ۲۲ و ۲۳:ماتھے پرقشقہ تلك لگانا یاکندھے پرصلیب رکھناکفرہے
وفی منح الروضلووضع الغل علی کتفہ فقد کفر اذا لم یکن مکرھا وفیہ عن الملتقطاخذ الغل جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب اھ اقول: وھذا منح الروض میں ہے اگر کسی نے اپنے کندھے پر زنجیر (صلیب)رکھی تو کافرہوگیا بشرطیکہ مجبورنہ کیاگیاہواور اسی (منح الروض)میں فتاوی ملتقط کے حوالے سے ہے۔زنجیر خواہ سنجیدگی سے رکھی یاہنسی مذاق سےدونوں صورتوں میں کافر
حوالہ / References منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
جامع الفصولین الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۲
منح الروض الازشرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
#4259 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
شیئ لایعرف فی دیارنا ولفظ جامع الفصولین وضع صلیبا علی کتفہ کفر اھ وھذا واضح فلعل مافی المنح تصحیف۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہوگیا مگریہ کہ جنگ میں کفار کومغالطہ دینے کے لئے ایساکیا (تو گنجائش ہے)اھ اقول:(میں کہتاہوں)(غل کے معنی زنجیر ہیں) اور یہ اس معنی میں ہمارے شہروں میں متعارف نہیں۔اور جامع الفصولین کے الفاظ یہ ہیں"کسی نے اپنے کندھے پرصلیب رکھی تو بلاشبہ کافرہوگیا اور یہ واضح ہےلہذا منح الروض میں جوکچھ مذکورہواوہ کتابت کی غلطی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴:زنار باندھنا کفرہے۔منح الروض میں ہے:
لوشد الزنار علی وسطہ فقد کفر ای اذا لم یکن مکرھا ۔ اگر کسی نے اپنی کمرپرزنار(علامت کفرکادھاگہ)باندھا توبیشك کافرہوگیا بشرطیکہ اس پرزبردستی نہ کی گئی ہو۔(ت)
اسی میں ملتقط سے ہے:
شدالزنار جادا اوھاز لا یکفر الا اذافعل خدیعۃ فی الحرب ۔ زنار باندھا خواہ سنجیدگی سے ایساکیا یاہنسی مذاق سےتو کافرہوگیا مگر جبکہ جنگ میں دشمن کودھوکے میں ڈالنے کے لئے ایساکیا(تو کسی قدرگنجائش ہے)(ت)
اسی میں محیط سے ہے:
ان شدالمسلم الزنارودخل دارحرب للتجارۃ کفر ۔ اگر کسی مسلمان نے زنار گلے میں باندھا اور دارحرب (دار کفر)میں کاروبار کے لئے گیا تو کافرہوگیا۔(ت)
اسی طرح جامع الفصولین وخزانۃ المفتین میں ہے اشباہ والنظائر میں ہے:
عبادۃ الصنم کفروکذا لو تزنربزنار الیہود والنصاری دخل کنیستھم بت کی پرستسش کفرہےاور اسی طرح حکم کفرہے اگر کسی نے یہودیوں یاعیسائیوں کازنار گلے میں باندھا
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثامن فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۲
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
#4260 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
اولم یدخل ۔ (تو اس حرکت سے کافرہوجائے گا)خواہ ان کے گرجے میں جائے یانہ جائے۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
یکفربشدالزنار فی وسطہ الااذا فعل ذلك خدیعۃ فی الحرب وطلیعۃ للمسلمین ۔ کمر میں زنار باندھنے سے کافرہوجائے گا مگرجبکہ جنگ میں کفار کومغالطہ اور دھوکا دینے کے لئے ایساکرے یالشکراسلام سے کفار کے حالات معلوم کرنے کے لئے پہلے جائے(اور زنار باندھ لے)۔(ت)
مسئلہ ۲۵:زنار بھی نہیں کوئی رسی کاٹکڑا کمر سے باندھا کسی نے کہایہ کیاہےکہازنار۔کافر ہوجائے گا۔خلاصہ وعالمگیریہ وبزازیہ وظہیریہ وجامع الفصولین وخزانۃ المفتین وغیرہ میں ہے:
امرأۃ شدت علی وسطھا حبلا وقالت ھذا زنار تکفر ۔ کسی عورت نے اپنی کمر میں کوئی رسی باندھی(تو اس سے پوچھا گیایہ کیاہے)اس نے جواب دیا یہ زنار ہے تو وہ کافرہ ہو جائے گی۔(ت)
ظہیریہ ومنح الروض میں ہے:وحرم الزوج (اس عورت پرشوہر حرام ہوگیا یعنی وہ نکاح سے نکل گئی۔ت)یہاں تو خود اس چیز ہی میں مشابہت صوری میں کتنافرق ہے مگرنام رکھنے سے کفرآیا توجہاں صورت ونام سب موجود حکم تشبہ کیونکر مفقود۔ بالجملہ ایك بات میں تشبہ کواورباتوں میں تشبہ نہ ہونے سے مندفع جاننا ہرگزکام نہیں مگرمجنوں یابددین کانہ کہ زید کا ادعاء باطلجس کاحاصل یہ کہ سوباتیں تشبہ کی ہوں ایك نہ ہوتو تشبہ نہ رہے گاایسوں کی نگاہ میں شریعت مطہرہ کی توجوقدرہوتی ہے بدیہی ہے مگر انسانی عقل وتہذیب کوبھی رخصت کردیاکیازید کے سے مسلك والا بشرطیکہ مجنون نہ ہوگواراکرے گا کہ سرسے پاؤں تك زنانہ لباس انگیاکرتیکلیوں دارپائچےہاتھ پاؤں میں مہندی رچائے صرف ٹوپی سرپررکھ لے تشبہ نہ رہاکہ ادنی فرق دفع تشبہ کے لئے کافی ہے بلکہ ٹوپی کی بھی کیاحاجت ہے اس زنانے کپڑے کے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر باب الردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵
بحرالرائق کتاب السیر باب احکام المرتدین ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۱۲۳
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خلاصہ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۷۷
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفرصریحًا وکنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵
#4261 · تشبّہ بالغیر (شعارِکفّار وغیرہ)
ساتھ بنت کادوپٹہ بھی سرپر اوڑھئے اور چوٹی بھی گندھوئیےمنہ کی مونچھیں ہی دفع تشبہ کو بس ہوں گی حالانکہ ہر عاقل ایسے شخص کو زنانہ جانے گا بلکہ اگرتمام لباس مردانہ ہو ہتھیار لگائے گھوڑے پرسوارہو اور بات کرے ناك پرانگلی رکھ کر تویقینا تمام عقلاء اس پرہنسیں گے اور اسے زنانہ کہیں گےاس ایك ہی بات کے آگے وہ تمام لباس وسلاح واسپ کام نہ دیں گےجس وضع کفارمیں وہ جھوٹی تاویلیں سوجھیں کیایہ حرکت کرنا بھی قبول کرےگا کہ آخرکافر سے تشبہعورت سے تشبہ پرخبث وشناعت میں ہزار درجہ فائق ہے۔اﷲ عزوجل مسلمانوں کو ہدایت فرمائے۔آمین! واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
#4262 · حقہ و پان
حقہ و پان

مسئلہ ۲۳۰ تا ۲۳۲: ازمظفرنگرکھاتولی مسئولہ اخترمیاں محرر بروزشنبہ تاریخ ۱صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھاتولی میں ایك مولوی صاحب مقیم ہیںحقہ اور پان دونوں استعمال کرتے ہیں اوردونوں کوجائزجانتے ہیں اور سرپرپان کھلوانا جائزبتلاتے ہیں۔اب دریافت طلب یہ امرہے کہ اس کا حکم قرآن وحدیث سے مفصل ومدلل تحریرفرمائیے گا۔
الجواب:
(۱ و ۲)پان بلاشبہہ جائزہے اور زمانہ حضرت شیخ العالم فریدالدین گنج شکر وحضرت سلطان المشائخ نظام الملۃ الدین علیہما الرضوان سے مسلمانوں میں بلانکیر رائج ہےحقہ کا دم لگانا جس طرح جہال وقت افطار کرتے ہیں جس سے حواس صحیح نہیں رہتے حرام ہے اور کثیف اور بدبو رکھاجائے تو مکروہ تنزیہیجیسے کچالہسن اور پیازورنہ مباح خالص ہے۔
(۳)سرپرپان کھلوانا بھی جائزہے جبکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیںہندیہ میں ہے:
ولابأس للرجل ان یحلق وسط راسہ ۔ کوئی حرج نہیں کہ مرد اپنے سر کی چوٹی(سنٹر)مونڈ ڈالے واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
#4263 · حقہ و پان
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ حافظ عبدالمجیدصاحب ازقصبہ تحصیل سوارخاص علاقہ ریاست رامپور بروزسہ شنبہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہ مولانا عبدالحق صاحب اور اصحاب کہف کا جو توشہ ہوتاہے اس میں حقہ پینے والوں کو اگر شریك کرلیاجائے تو کیاقباحت لازم آئے گی اور حقہ پیناشرع شریف میں کیاحکم رکھتاہے
الجواب:
حقے تین قسم ہیںایك وہ جس طرح جہال رمضان شریف میں افطار کے وقت دم لگاتے ہیں جس سے آنکھیں چڑھ جاتی ہیں حواس متغیر ہوجاتے ہیں وہ حرام ہےحدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن مسکر ومفتر ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہرنشہ آور اورجسم میں سستی پیدا کرنے والی چیزکے استعمال سے منع فرمایا ہے۔(ت)
دوسرا وہ جسے بے احتیاط لوگ پیتے ہیں جن کے تازہ ہونے کااہتمام نہ ہو اور تمباکو کثیف وبدبو ہو وہ مکروہ تنزیہی وخلاف اولی ہے جیسے کچا لہسن اور کچی پیازدرمختار میں ہے:
الحاقا بالثوم والبصل ۔ اس کو کچے لہسن اور پیاز کے ساتھ الحاق کیاگیا لہذا دونوں کا ایك حکم رکھاگیا(ت)
تیسرا وہ کہ اسے بدبو سے بچایاجائے اور کسی منکر شرعی پرمشتمل نہ ہو وہ مباح خالص ہے
قال اﷲ تعالی: " خلق لکم ما فی الارض جمیعا ٭ " ۔ (وہی اﷲ تعالی ہے کہ)جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا فرمایا جو زمین میں موجود ہے۔(ت)
توشہ اصحاب کہف میں حقہ نہ پینے کی کوئی شرط نہیں البتہ توشہ حضرت شاہ عبدالحق ردولوی قدس سرہ العزیز میں یونہی معمول ہے کہ حقہ پینے والے کو نہ دیاجائے اس میں کوئی حرج نہیں
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳
درمختار کتاب الاشربہ مطبع مجتبائی ۲/ ۲۶۱
القرآن الکریم ۲ /۲۹
#4264 · حقہ و پان
نہ اس سے حقہ پینے کی مطلقا مذمت ثابت ہوتیحضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی ایك صاحبزادی کے دفن میں فرمایا ان کی قبرمیں وہی اترے جو آج کی رات اپنی عورت کے پاس نہ گیا ہو"۔اس سے اپنی عورت کے پاس جانے کی مذمت ثابت نہیں ہوتییہ مصالح خاصہ ہیں جن کے اسرار اہل باطن جانتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴: ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ عبدالستار بن اسمعیل رضوی بروزشنبہ ۱۷ رجب ۱۳۳۴ھ
تمباکو کاکھانا پان میں یایوں ہی بلاپان کے جائزہے یانہیںتمباکو خالص ہو یا خوردنی خوشبودار جولکھنؤ میں بنتاہے
الجواب:
تمباکو اور حقہ کاایك حکم ہےجیساوہ حرام ہے یہ بھی حرام ہے اور جیساوہ جائزہے یہ بھی جائزبدبو ہے توباکراہت ورنہ بلا کراہت۔فقط ایك فرق ہے جولوگ غیرخوشبو دارتمباکو کھاتے ہیں اور اسے منہ میں دبارکھنے کے عادی ہیں ان کامنہ اس کی بدبو سے بس جاتاہے کہ قریب سے بات کرنے میں دوسرے کو احساس ہوتا ہے اس طرح تمباکو کھاناجائزنہیں کہ یہ نمازبھی یوں ہی پڑھے گا اور ایسی حالت سے نماز مکروہ تحریمی ہے بخلاف حقہ کے کہ اس میں کوئی جرم منہ میں باقی نہیں رہتا اوراس کا تغیرکلیوں سے فورا زائل ہوجاتاہے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۵: مسئولہ معرفت آدم جی سیٹھ اثم بیگ گونڈل اور کاٹھیاواڑ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
حقہچروٹبیڑی کاپیناکیساہے
الجواب:
چرٹ بوجہ نصاری مکروہ ہے اور بیڑی میں حرج نہیں اور حقہ جیساعام طورپررائج ہے مباح اور ترك اولی۔
مسئلہ ۲۳۶: ازتوپخانہ بازارکمپ مسئولہ محمدحسین ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسافر پانی پت کرنال سے آیاہے وہ یہ کہتاہے کہ حقہ پینا اورپان کھاناحرام ہے جو شخص حقہ پیئے گا اور پان کھائے گا اس کے مکان کا آٹا تك نہیں کھائیں گے جنہوں نے کھاناچھوڑدیا وہی لوگ جماعت میں شریك ہوتے ہیں اور دوسروں کونہیں ہونے دیتے وہ یہ کہتے ہیں علیحدہ اپنی نمازپڑھ لوظہر کے وقت جماعت تیارتھی میں نے وضو کرکے جماعت میں شامل ہوناچاہا مجھ کو منع کردیا اور یہ کہا کہ اپنی نماز علیحدہ پڑھ لو میں نے اپنی نماز علیحدہ پڑھ لیعصر کا وقت ہوا جب بھی جماعت
#4265 · حقہ و پان
تیارتھی اس وقت بھی منع کردیاگیا۔
الجواب:
پان بیشك حلال ہےحضرت محبوب الہی نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ بلکہ ان سے پہلے اولیاء کرام نے اس کا استعمال فرمایا ہےحضرت امیرخسرو علیہ الرحمۃ نے اس کی مدح فرمائی اس میں چونے کاجواز کتاب نصاب الاحتساب میں مصرح ہےحقہ کاجواز غمزالعیون وشرح ہدیہ ابن العماد وکتاب الصلح بین الاخوان ودرمختار وطحطاوی وردالمحتار وغیرہ کتب معتمدہ میں مصرح ہےحلال کو حرام کہنا اس شخص کی بڑی جرأت اور یہ کہ پان کھانے والا یا حقہ پینے والاجماعت میں شریك نہ ہو اس کاظلم شدیدبلکہ ضلال بعیدہے وہ اسے حکم شرع ٹھہراکر شرع مطہر پرافتراء کرتاہے اور اﷲپرافتراء کرنے والا عذاب شدید کامستحق ہے اﷲ تعالی فرماتاہے:
"و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ " جوکچھ تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیںاس کے متعلق یہ نہ کہاکرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرامتاکہ تم اﷲ تعالی کے ذمے جھوٹ لگاؤبے شك جو اﷲ تعالی پرجھوٹ باندھتے ہیں یعنی اس کے ذمے جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی کامیاب اور بامرادنہیں ہوسکتے۔(ت)
اس پرتوبہ فرض ہےاگرتوبہ نہ کرے اور اپنے ان احوال وحرکات سے باز نہ آئے تووہی اس کامستحق ہے کہ مسلمان اسے مسجد میں نہ آنے دیں۔درمختارمیں ہے:
وکذا یمنع منہ کل موذ ولوبلسانہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اسی طرح ہرتکلیف دینے والے کو خواہ زبانی ہی ہو اسے مسجد روك دیناچاہئے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۳۷ تا ۲۴۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)حقہ جائزہے یانہیں مولوی پاك بتلاتاہے۔
(۲)تصویرکارکھنابناناجائزہے یانہیں اورجائزکرنے والے پرکیاحکم ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجبتائی دہلی ۱/ ۹۴
#4266 · حقہ و پان
(۳)گاناسنناجائزہے یانہیں مزامیر باجے کے ساتھ یاشادی یاسنت(ختنہ)وغیرہ میں جائزہے یانہیں یعنی بچہ کی سنت وغیرہ میں
(۴)ایك مولوی پیش امام نے یہ فتوی دیاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے پیشاب کیاتھا اورجائزہے۔
(۵)تعزیہ داری جائزہے یانہیں اورایك مولوی نے ان سب کو جائزکردیاہے۔
الجواب:
(۱)حقہ جائزہے مگردم لگانا جس سے حواس میں فرق آتاہے حرام ہےحقہ کاپانی شریعت کے نزدیك پاك ہے اسے ناپاك کہنے والا شرع پرافتراکرتاہے۔
(۲)جاندارکی تصویر بنانا مطلقا حرام ہےجو اسے جائز کہے شریعت پرافتراء کرتاہے گمراہ ہے مستحق تعزیروسزائے نار ہے رکھناتین صورتوں میں جائزہے:ایك یہ کہ چہرہ کاٹ دیاہو یابگاڑ دیاہو۔دوسرے یہ کہ اتنی چھوٹی ہوکہ زمین پررکھ کر کھڑے ہوکر دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل نظرنہ آئے۔تیسرے یہ کہ خواری وذلت کی جگہ پڑی ہو جیسے فرش پاانداز میں ورنہ رکھنابھی حرام ہاں غیرجاندار مثل درخت ومکان کی تصویر کھینچنا رکھناسب جائزہے۔
(۳)مزامیر حرام ہیںبغیر باجے کے سادہ گانا سنت وغیرہ کی شادی میں جائزہے جبکہ نہ اندیشہ فتنہ ہو نہ خفیف الحرکاتی۔
(۴)کھڑے ہوکر پیشاب کرنابدتہذیبی وبے ادبی وسنت نصرانی ومکروہ ومنع ہےحضوراقدس نے ایك باردرد کے عذر سے ایساکیا وہ بھی بڑے اہتمام کے ساتھاور صریح حدیث میں اسے منع فرمایا۔
(۵)تعزیہ داری ناجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: ازبیکانیرمارواڑہ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پان کھانا سنت ہے یاکیا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
پان کھانا نہ سنت ہے نہ مستحب صرف مباح ہےہاں بعض عوارض خارجیہ کے باعث مستحب ہوسکتاہے جیسے نہ کھانے میں میزبان کی دل شکنی ہو یابوسہ زوجہ کے لئے منہ کو خوشبودارکرنے کی نیت سے
#4267 · حقہ و پان
بلکہ واجب بھی جیسے ماں باپ حکم دے اورنہ ماننے میں اس کی ایذا ہویونہی عارض کے سبب مکروہ بھی ہوسکتاہے جیسے تلاوت قرآن مجید میں بلکہ حرام بھی جیسے نمازمیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۳: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
پانچونا اور حقہ اور تمباکو اور سرتی کھاناکیساہے
الجواب:
پان کھاناجائزہے اور اتنا چونا بھی کہ ضرر نہ کرے اوراتناتمباکو بھی کہ حواس پراثرنہ آئےیہاں سرتی تمباکو ہی کہتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
_________________
#4268 · تصویر
تصویر

مسئلہ ۲۴۴: ازپیلی بھیت ۱۹ربیع الآخر۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہرمسلمان کاریگر شبیہ شکرکی حلال جانور اور حرام جانور کی بناتے ہیں نیزشبیہ مسجد جامع دہلی کی بناتے ہیں۔کس شبیہ کابنانا جائزہے اور کس تصویر کاکھاناجائزوناجائزہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جاندار کی تصویر بنانا مطلقا حرام ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون۔اخرجہ احمد ومسلم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سب سے زیادہ سخت عذاب روزقیامت ان پر ہوگا جوجاندار کی تصویر بناتے ہیں(امام احمد اور مسلم نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کی تخریج فرمائی ہے۔ت)
اور اس کی خریدوفروخت بھی جائزنہیں یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں:جوتصویر دارکپڑے بنائے بیچے اس کی
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۲۶،صحیح مسلم کتاب اللباس،باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
#4269 · تصویر
گواہی مردودہے۔
فی الھندیۃ عن المحیط عن الاقضیۃ اذا کان الرجل یبیع الثیاب المصورۃ اوینسجھا لاتقبل شہادتہ ۔ فتاوی ہندیہ میں محیط عن الاقضیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص تصویروں والے کپڑے بنائے یابیچے تو اس کی گواہی نامقبول ہے۔(ت)
اورحرام جانور کی تصویر میں ایك شنیع وبدنسبت ہے جو کھانے والے کی طرف ہوگی کہ اہل عرف تصویر کواصل ہی کے نام سے یادکرتے ہیں تو مثلا تصویر کاکتا کسی نے کھایا تو اسے بھی کہاجائے گا کہ فلاں شخص نے کتاکھایاآدمی کو جیسے برے کام سے بچنا ضرورہے یوہیں برے نام سے بھی بچناچاہئے۔غیرجاندار کی تصویربنانی اگرچہ جائزہے مگردینی معظم چیزمثل مسجدجامع وغیرہ کی تصویروں میں انہیں توڑنا اور کھانا خلاف ادب ہوگا اور وہی بری نسبت بھی لازم آئے گی کہ فلاں شخص نے مسجد توڑی مسجد کو کھالیا اور ان سب باتوں سے خالی ہو توکفار کے تہوار وں ان کے بیہودہ رسم میں ایك طرح کی شرکت ہے جس سے شرعا اجتناب کاحکمبلکہ اگر معاذاﷲ یہ چیزیں خریدنا کھانا خاص بہ نیت دوالی منانے کے ہوتو حکم نہایت سخت ہے اورنرے کھانے پینے کی نیت سے ہو جب بھی ان ایام میں احتراز چاہئےہاں دوالی سے پہلے یاختم کے بعد ایسی چیزوں کی تصویرجوجاندارنہ ہوں نہ ان کے توڑنے یاکھانے سے کوئی مکروہ نسبت لازم آئے بنائیں بیچیں خریدیں کھائیں تو کچھ حرج نہیں۔
فی الدر المختار لواھدی لمسلم ولم یرد تعظیم الیوم بل جری علی عادۃ الناس لایکفر وینبغی ان یفعلہ قبلہ اوبعدہ نفیا للشبھۃ ولو شری فیہ مالم یشترہ قبلہ ان اراد تعظیمہ کفر وان اراد الاکل و الشرب التنعیم لایکفر زیلعی اھ وفی ردالمحتار عن درمختار میں ہے اگر کسی مسلمان نے تحفہ وہدیہ دیا(اگرکسی مسلمان کو ہدیہ دیاگیا)لیکن ہندوتہوار کی تعظیم کاارادہ نہ کیا بلکہ لوگوں کی عادت کے مطابق ایساہوا تو کافرنہ ہوگا۔لیکن مناسب یہ ہے کہ یہ کام تہوار سے پہلے یابعد میں کرے تاکہ شبہہ نہ ہونے پائے اور اگراس نے ہندو تہوار والے دن کچھ خریدا جو پہلے نہیں خریدا تھا تو اگر اس نے تعظیم کاارادہ کیا تو کافر ہوگیااور محض کھانے پینے اور عیش وعشرت کاارادہ کیاتو کافرنہ ہوگازیلعی اھفتاوی شامی میں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۹
درمختار مسائل شتٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۰
#4270 · تصویر
جامع الفصولینالاولی للمسلمین ان لایوافقواھم علی مثل ھذہ الاحوال لاظھار الفرح والسرور اھ ذکرہ فی حق دعوۃ اتخذھا مجوسی لحلق راس ولدہ قلت ولیس ذلك شیئا من رسوم مذھبھم الباطل فماکان کذلك کان اولی بالاجتناب واجدرو الامر واضح لاینکر۔ جامع الفصولین کے حوالے سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے لئے بہتریہ ہے کہ وہ ان حالات میں خوشی اور سرور کا اظہارکرتے ہوئے غیرمسلموں کی موافقت ہرگزنہ کریں اھ اس کو اس دعوت کے حق میں ذکرفرمایا جو کسی مجوسی نے اپنے بچہ کے سرمنڈوانے کے موقع پر کی ہو۔میں کہتاہوں کہ ان کے باطل مذہب کی رسومات میں سے کوئی چیزنہ ہو پھربھی جو اس طرح کاکام ہو اس سے بھی بچنازیادہ بہتر اور زیادہ مناسب ہے اور معاملہ واضح ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔(ت)
یوہیں ان ایام کے قبل یا بعد حلال جانور کی تصویر اگر خود نہ خریدی بلکہ دوسرے نے دی تو اس کے کھانے میں بھی مضائقہ نہیں
فان البأس فی اتخاذہ واشترائہ فاذا عدمالم یبق الا اعدامہ وھو مطلوب لامھروب کما لایخفی واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ حرج تصویر بنانے اور خریدنے میں ہے۔جب یہ دونوں کام نہ ہوں تو صرف اعدام یعنی نہ ہونا باقی رہے گا اور وہی مطلوب ہے نہ کہ مہروب یعنی اس سے بھاگاجائے۔جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس بڑی بزرگی والے کا علم زیادہ کامل اور پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۴۵: ازملاحسن پیشاوری ۲ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ ازجناب سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امتناع تصاویر مطلقہ بہ ثوت رسیدہ است یامقید یعنی کامل یاناقص کہ عکسی ودستی مشہور ست علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ جناب سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تصویروں کا مطلق ممنوع ہونا ثابت ہے یانہیں
حوالہ / References ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۱
#4271 · تصویر
جابجادریں امرمعارضہ ومباحثہ بوقوع رسیدہ بعضے می گویند کہ مطلق تصویر ممنوع ست وبعضے میگویند کہ تصویرے کہ مثل سایہ برکاغذ یابردیوار کشیدہ شدہ باشد ودستی نباشد وسطح نیزہموار باشدآں تصویرکشیدن وباخودداشتن جائزست وانچہ جسم می دارد وازہیزم وآہن ساختہ باشد کہ سطح آں ہموار نباشد جائزنباشد ونگاہ داشتن آں نیزممنوع غیرمشروع ست۔ بینواتوجروا۔ یامقید تصویریں یعنی کامل یاناقصعکسی یادستی ممنوع ہیں یا نہیں جگہ جگہ تصاویرسازی کے متعلق مقابلےان کی نمائش اورمباحثوں تك نوبت پہنچ چکی ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بلاقید مطلق تصویرمنع ہے جبکہ بعض کہتے ہیں کہ جو تصویر سایہ کی طرح کاغذ یادیوار پر بنائی گئی ہو اور ہاتھ سے بنی ہوئی نہ ہو اور اس کی سطح بھی ہمواراوربرابر ہو ایسی تصویر کھینچنا اور اپنے پاس رکھنا جائزہے لیکن وہ تصویر جوجسم رکھتی ہو مٹیلکڑی یالوہے سے بنائی گئی ہو اس کی سطح ہموار اور برابرنہ ہو وہ جائزنہیں پس اس کا محفوظ رکھنا ممنوع اور ناجائزہے۔بیان فرماؤاجرپاؤ(ت)
الجواب:
صورت گری مطلقا حرام ست سایہ دارباشد یابے سایہ دستی باشد یاعکسدرزمان برکت نشان سیدالانس والجان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہردوگانہ تصویرمے ساختند ہم بجسم وہم مسطح و دراحادیث ازمطلق صورت گری نہی اکیدوبرصنعت او وعیدشدید بے تخصیص وتقیید ورود یافت پس جمیع اقسام او زیرمنع درآمد تصویربے سایہ را رواداشتن مذہب بعض روافض ست وبس ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا و ساوہ باتصویر خریدسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ملاحظہ فرمود درون خانہ قدم مبارك نہ نہاد ام المومنین چوں اثر خشم وملال درچہرہ باجمال محبوب ذی الجلال صلی اﷲ تعالی علیہ کسی جاندار کی تصویربنانابغیرکسی قید اورشرط کے حرام ہے خواہ سایہ دارہو یا بے سایہ خواہ ہاتھ کی بنی ہوئی ہو یامحض عکس ہو۔ آقائے انس وجان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ بابرکت میں لوگ دونوں قسم کی تصاویر بنایاکرتے تھے جومجسمات کی صورت میں یامحض عکس اور سایہ کی صورت میں ہوتی تھیں چنانچہ احادیث میں مطلق تصویر سازی پرنہی اوربغیرکسی تخصیص وتقیید کے سخت وعیدوارد ہوئی ہے لہذا تصویر کی تمام اقسام ممانعت میں داخل ہیںاور بے سایہ تصویر کو جائز قرار دینا صرف بعض روافض کامذہب ہے چنانچہ ام المومنین سیدہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا ایك دفعہ تصویر والاتکیہ خرید لائیں اور سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
#4272 · تصویر
وسلم می بیند برخودہمچو بیدمی لرزدوعرضہ می وارد یارسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ ماذا اذنبت یارسول اﷲ من توبہ می کنم بسوئے خدا و رسول خدا چہ گناہ کردم سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود ان اصحاب ھذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ ویقال لھم احیوا ماخلقتم وقال ان البیت الذی فیہ الصور لاتدخلہ الملئکۃ ایں صورتگراں روزقیامت عذاب کردہ شوندوایشاں را گفتہ شود کہ زندہ کنند انچہ آفریدہ اید وفرمودہ خانہ کہ دروتصویر ست فرشتگان در ودر نیایند اخرجہ الشیخان عنھا رضی اﷲ تعالی عنھا پیداست کہ انچہ بروساوہ باشد ہمیں تصویر منقوش وبے سایہ است نہ منحوت ومجسملاجرم علماء بتحریم مطلق تصریح فرمودہ اند مولاناعلی قاری علیہ الرحمۃ الباری درمرقات فرمود قال اصحابنا وغیرھم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ گھرمیں تشریف لاتے ہی دیکھ لیاتوآگے جانے سے قدم مبارك روك لئےام المومنین نے رب ذوالجلال کے محبوب مکرم کے چہرہ مقدس پرغصے اورناراضگی کے اثرات دیکھے توبید کے درخت کی طرح لرزنے اور کانپنے لگیں اور عرض کرنے لگیں اے اﷲ کے رسول! میں اﷲ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں مجھ سے کونسی خطاہوئی ہے یا رسول اﷲمیں اﷲ اور اس کے رسول کی طرف رجوع لاتی ہوں میں نے کون ساقصورکیا سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقینا تصویرساز قیامت کے دن عذاب دئیے جائیں گے ا ور ان سے کہاجائے گا کہ اپنی بنائی ہوئی تصویروں میں جان(روح)ڈالو۔اور ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے۔بخاری و مسلم نے سیدہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے اس کو روایت کیاہے ظاہرہے کہ تکیہ پرتصویر تھی وہ عکسی اور نقاشی ہی ہوگی نہ کہ تراشیدہ مجسمہ۔بلاشبہ اہل علم نے بلاقید مطلق تصویر کے حرام ہونے کی صراحت فرمائی ہےچنانچہ ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ علیہ نے مرقاۃ میں فرمایاہمارے اصحاب اوردیگر علماء کرام نے فرمایا حیوانات کی تصویربنانا شدید حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے کیونکہ اس پرشدید وعید
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱،صحیح البخاری کتاب البیوع باب التجارۃ فیما یکرہ لبسہ للرجال والنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۸۳
#4273 · تصویر
بھذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث سواء صنعہ فی ثوب اوبساط اودرھم اودینار او غیرذلك علامہ شامی درردالمحتار فرماید فعل التصویر غیرجائز مطلقا لانہ مضاھاۃ لخلق اﷲ تعالی ہمدران از بحر الرائق ست صنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاھاۃ لخلق اﷲ تعالی وسواء کان فی ثوب اوبساط اودرھم و اناء وحائط وغیرھا وچوں علت تحریم مشابہت بخلق الہی ست تفاوت نمی کند کہ بخامہ کشند یاعکس رامنطبع سازند زیرا کہ علت ہمہ جاحاصل ست سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود اشدالناس عذابا یوم القیمۃ الذین یضاھون بخلق اﷲ تعالی روزقیامت درسخت عذاب آناں باشند کہ مشابہت می کنند بآفرینش خداوند عزوجل آئی ہے جواحادیث میں مذکور ہے خواہ کسی کپڑے پرتصویر بنائی جائےکسی بچھونے پربنائی جائے یا درہم ودینار اور سکے پر بنائی جائے یاان کے علاوہ کسی بھی اورچیزپر تصویرکشی ناجائز حرام اور شریعت کی خلاف ورزی کاارتکاب ہے۔علامہ شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں تصویربنانا مطلقا جائزنہیں اس لئے کہ یہ اﷲ تعالی کی تخلیق سے مشابہت ہے۔اسی میں بحر الرائق سے نقل ہے کہ تصویرسازی ہرحال میں حرام ہے کیونکہ اس میں تخلیق الہی سے مشابہت ہےخواہ یہ کام کپڑے پرہو یاکسی اورچیزپر مثلا بچھونادرہم دیناربرتن دیوار اورکاغذ وغیرہ۔جب حرام ہونے کی علت اوروجہ بناوٹ الہی کے ساتھ مشابہت ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قلم سے تصویربنائی جائے یاعکسی چھاپ سے کیونکہ یہ علت سب جگہ موجود ہےسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والے وہ لوگ ہوں گے جو اﷲ تعالی کی تخلیق سے مشابہت کرتے تھے۔ قیامت کے دن سخت عذاب والے وہ لوگ ہوں گے جو اﷲ تعالی کی صفت پیدائش(بناوٹ)سے
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۶۶،مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب من لم یدخل شیئا مکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۸۸۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۷
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
#4274 · تصویر
رواہ الائمۃ احمدوالبخاری ومسلم والنسائی عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنھا عبارات ردالمحتار حالا گذشت وہمدر انست علۃ حرمۃ التصویر المضاھاۃ لخلق اﷲ تعالی وھی موجودۃ فی کل ماذکر ایں حکم تصویرگری وصورت کشی ست اما تصویر پیش خود یادرخانہ نگاہداشتن ایں جا تفصیل ست تحریم ومنع اورابچند شرط مشروط کردہ اند کہ اگرھمہ بہم آید نگاہداشتن ناروا باشد ورنہ جائزیکے آنکہ صورت جاندار بحالت جانداری باشد نہ چنانکہ بدیدن نفس صورت بیجان بودنش پیدابود چنانکہ تصویرچہرہ بخلاف آنکہ دست یاپائے چشم یابینی یاگوش ندارد کہ عدم اینہا موجب خروج ازاعضائے ظاھریہ ازسرنساختہ اند یاساختہ راقطع یا محونمودہ اندنگاہداشتنش روا باشد۔دوم آنکہ تصویر درنہایت صغروباریکی نباشد بحدیکہ اگربرزمین نہادہ استادہ ببیند مشابہت کرتے رہے۔ائمہ کرام مثلا حضرت امام احمد بخاریمسلم اور نسائی نے اس کو ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاہےابھی ردالمحتار کی عبارات گزری ہیں اور اسی میں یہ بھی ہے کہ تصویر کے حرام ہونے کی علت تخلیق الہی سے مشابہت ہےاور یہ علت تمام مذکورہ صورتوں میں موجود ہے اور یہ حکم تصویر سازی اورتصویرکشی کے بارے میں ہے۔تصویراپنے سامنے اورروبرو رکھنے اور اپنے گھرمیں محفوظ کرنے وغیرہ کے بارے میں کچھ تفصیل ہے۔تصویر کے حرام ہونے کو اہل علم حضرات نے چندشرائط کے ساتھ مشروط کیاہے اگر سب جمع ہوں تو پھر اس کاحفاظت سے رکھنا ناجائزہے ورنہ جائز۔(۱)زندہ چیز کی تصویر اس کی زندگی کی حالت میں ہونہ اس طرح کہ صرف صورت دیکھنے سے اس کا بے جان ہوناظاہر ہوجائےجیسا کہ چہرہ کی تصویر بخلاف ہاتھ پاؤںآنکھ ناك یا کان نہ رکھتی ہو کہ ان کا نہ ہونا اعضائے ظاہری سے نکلنے کا سبب ہے کہ سر کے ساتھ یہ نہیں بنائے گئے یابنائے گئے مگرانہیں کاٹ دیاگیا ایسی تصویرکو بحفاظت رکھناجائزہے۔(۲)دوسری شرط:تصویرانتہائی چھوٹی اور باریك نہ ہو۔اگرزمین پر
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس باب ماوطی من التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
#4275 · تصویر
تفصیل اعضایش پدیدارنشود ہمچو صورت ساختن حرام ود اشتن جائز۔سوم آنکہ صورت راخوار نداشتہ باشد چنانکہ در فرش پاانداز یادر بساط پامال یابروئے خاك وامثال ذلك کہ ایں چنیں داشتن منظورنیست فی الدرالمختار لایکرہ لو کانت تحت قدمیہ اومحل جلوسہ لانھا مھانۃ اھ فی رد المحتار وکذا لوکانت علی بساط یوطاء او مرفقۃ یتکاء علیھا کما فی البحر اھ وفی الدراوکانت صغیرۃ لا تتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما و ھی علی الارض ذکرہ الحلبی اومقطوعۃ الرأس اوالوجہ اوممحوۃ عضو لاتعیش بدونہ اھ وتمام تفصیلہ فی حواشیہ واﷲ تعالی اعلم۔ رکھی جائے توکھڑی صورت میں دکھائی دے تو دے مگر اس کے اعضاء کی تفصیل ظاہرنہ ہو۔پس اس نوع کی تصویر بناناحرام ہے مگرا س کارکھناجائزہے(۳)تیسری شرط:تصویر کوذلیل حالت میں نہ رکھاجائے کہ فرش پرپاؤں میں پڑی ہو یا بچھونے(قالین وغیرہ)پر پامال ہو یاسطح زمین پرپڑی ہو یا اس نوع کی دوسری صورتیں ہوں کہ اس طرح رکھنا منظورنہ ہو۔درمختارمیں ہے تصویررکھناممنوع نہیں جبکہ قدموں کے نیچے ہو یابیٹھنے کی جگہ پرہو کیونکہ اس صورت میں اس کی تذلیل ہےردالمحتارمیں ہے اسی طرح اگرپامال شدہ بچھونے پرہو یامرفق(آرام گاہ)پرہو جس پرتکیہ لگایاجائے جیسا کہ بحررائق میں ہے۔درمختارمیں ہے یازمین پر ہو مگراتنی چھوٹی ہو کہ اس کے اعضاء کی تفصیل دیکھنے والے پرواضح نہ ہو۔ابراہیم حلبی نے اس کو ذکرکیاہے یا سرکٹاہوا یاچہرہ یا ایسے اعضاء مٹے ہوئے ہوں کہ جن کے بغیرزندگی نہ ہوسکے۔اس کی مکمل تفصیلات اس کے حواشی میں ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۴۶: ۷ شعبان المعظم ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکسی کپڑے پرتصویریں چھپی ہوئی ہوں اس سے نماز پڑھنا جائزہے یانہیں اور اس کو فروخت کرناجائزہے یانہیں اور وہ تصویریں پرندوں کی ہوں۔اور اگر اسی کپڑے کاکوئی عدد تیارہوگیا تو اس کاکیاکرناچاہئے اور وہ تصویریں جس میں جاندار زندہ رہ سکتاہے بینواتوجروا۔ (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۳۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
#4276 · تصویر
الجواب:
کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کاچہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہوکہ زمین پررکھ کرکھڑے سے دیکھیں تو اعضا کی تفصیل ظاہرہو اس طرح کی تصویر جس کپڑے پرہو اس کاپہنناپہنانا یابیچناخیرات کرنا سب ناجائزہےاور اسے پہن کرنمازمکروہ تحریمی ہے جس کادوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ایسے کپڑے پرسے تصویرمٹادی جائے یا اس کاسریاچہرہ بالکل محوکردیاجائے۔اس کے بعد اس کا پہنناپہنانابیچناخیرات کرنااس سے نمازسب جائزہوجائے گا۔اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہوکہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے توایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سریاچہرے پراس طرح لگادی جائے کہ تصویر کااتنا عضومحوہوجائے صرف یہ نہ ہوکہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہوکہ یہ محوومنافی صورت نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۷: مرسلہ محمدصدیق بیگ صاحب مرادآباد ازبریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل دنیامیں عام رواج مصوری کایہ ہے کہ بغیرقلم وروشنائی کے اور بغیر ہاتھ لگائے اس طرح پرتصویر بناتے ہیـں کہ ایك بکس سامان مصوری کاہوتاہے جس کو انگریزی میں کیمرہ میں لگاکر جس شیئ کی تصویرلینامقصود ہواس کوسامنے رکھتے ہیں شیشہ کے اثرسے کشش کے ساتھ تصویر معمولی شیشہ پرجو آتشی شیشہ یعنی لینس کے پاس لگاہوتا ہے آجاتی ہے۔اس کو انگریزی مصالحہ میں ڈال کر کاغذ پرلکھ کر خشك کرتے ہیں اس طرح سے تصویربن جاتی ہے۔ شرع شریف میں اس کی بابت کیاحکم ہے یعنی ایسی تصویر کھینچنے والےکھنچوانے والےرکھنے والےفروخت کرنے والے خریدنے والے کس حد تك گنہگار ہوسکتے ہیں اور جس مکان میں تصویریں ہوں وہاں نماز جائزہے یانہیں یاشرع کے موافق اس میں کوئی گناہ نہیں ہے جواب باصواب سے مطلع فرمائیں۔
الجواب:
شرع نے تصویر حرام فرمائی اور کسی طریقہ ساخت کے ساتھ حکم کومقید نہ فرمایانہ کسی خصوصیت طریقہ کو اس میں دخلنہ فوٹو بے اس کے عزم وفعل وحرکات کے خودبخود بن سکےدستی وعکسی میں صرف تخفیف عمل کا فرق ہے جیسے پیادہ اور ریل۔ جہاں جاناشرعا حرام ہے پیادہ وریل دونوں یکساں ہیں۔وہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مجھے پاؤں کو حرکت دینی نہ پڑی نہ منزل منزل ٹھہرتاگیابالجملہ تصویر عکس ودستی کے بنانےرکھنے سب باتوں کے احکام قطعا ایك ہیں اور فرق کی کوئی وجہ نہیںعرف ہی کودیکھےکیاجوتصویربنانی عرفا توہین وبے حیائی اور قانونی جرم ہے وہ عکسی بناسکتاہے اور وہی عذر کرسکتاہے کہ بے قلم و روشنائی اور بے ہاتھ لگائے بنانیہرگزنہیںتوظاہرہوا کہ عکسی ہونے سے تصویر کے مقاصد میں کچھ فرق نہیں آتا بلکہ بسااوقات کچھ زیادت ہی ہوجاتی ہے اور شیئ اپنے مقاصد ہی کے لحاظ سے ممنوع یامشروع ہوتی ہے
#4277 · تصویر
کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۸:مرسلہ سیدعبدالرشید صاحب جواہرکن ازبمبئی نیاقاضی محلہ چاندبلڈنگ ۴۰ پوسٹ ۹ ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ فوٹو نصف شکل کابنوانا اورخود بنانا کس حد تك جائزہے اور تمام قد کا سراپاعکس کیوں ناجائزہے حدیث وآیات سے جواب مرحمت فرمائیںدونوں صورتوں کانصف قد اور قدتمام کن کن شرعی دلائل سے جائزاورناجائزقراردیاجاتاہے
الجواب:
فوٹو ہویادستی تصویرپوری ہویانیم قدبنانابنوانا سب حرام ہے نیز اس کاعزت سے رکھناحرام اگرچہ نصف قد کی ہوکہ تصویر فقط چہرہ کانام ہےنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اشد الناس عذابا یوم القیامۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی والمصورون ۔ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس پرہے جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا اسے نبی نے قتل فرمایااورتصویروالوں پر۔
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان الملئکۃ لاتدخل بیتا فیہ کلب ولاصورۃ ۔ رحمت کے فرشتے اس گھرمیں نہیں جاتے جس میں کتا یا تصویرہو۔
امام اجل ابوجعفرطحاوی سیدناابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں:
الصورۃ ھو الرأس ۔واﷲ تعالی اعلم۔ فقط چہرہ تصویرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹: مرسلہ محمدتقی مقام بکسرمتصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی رحیم بخش ۳۰ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
تصویرکھینچنا جائزہے یانہیں
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،کنزالعمال حدیث ۹۳۶۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۵
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب الصور فی البیت ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۶۸
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب التصاویرفی الثوب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۶۶
#4278 · تصویر
الجواب:
جاندار کی تصویر کھینچنی حرام ہے۔صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
اشد الناس عذابا یوم القیمۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی والمصورون ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قیامت میں سب سے سخت ترعذاب اس پرہوگا جس نے کسی نبی کو شہیدکیایاجسے کسی نبی نے قتل کیا اور مصور۔
واﷲ تعالی اعلم(ت)
__________________
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ و ۱۰۵۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،۲۶۶،کنزالعمال حدیث ۹۳۶۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۵
#4279 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
رسالہ
العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ
(تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ وعلی الہ وصحبہ المکرمین عندہ
مسئلہ ۲۵۰: ازاحمدآباد محلہ جمالپور متصل مسجدکانچ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۲۹صفرالمظفر۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں شہراحمدآباد میں کاپیاں فوٹوگراف کی قیمت ۰۲/کے بك رہی ہیں او رنمونہ اصل خدمت میں آپ کی مرسل ہے آپ اس کوملاحظہ فرمائیںیہ فوٹو حضرات پیرابراہیم بغدادی عم فیضہ الصوری والمعنوی سجادہ نشین خانقاہ حضرت غوث اعظم حضرت پیران پیرقدس سرہ العزیز کاہے اس کو احمدآبادی وغیرہ تبرك کے طورپر رکھتے ہیں اس کارکھنامکانوں میں حرام ہے یانہیں اور جن مکانوں میں یہ فوٹو ہوگا ان میں رحمت کے فرشتے آئیں گے یانہیں اور اس فوٹو کے رکھنے سے برکت نازل ہوگی یانہیں اور برزخ شیخ جمانے کے لئے فوٹو شیخ کاسامنے رکھ کر اس کا برزخ جماناشریعت وطریقت میں جائزہے یانہیں بینوابیانا شافیا توجروااجرا وافیا(شفابخش بیان فرماؤ اور اﷲ تعالی کی بارگاہ سے پوراپورا اجروثواب پاؤ۔ت)
#4280 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الجواب:
بسم اﷲالرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ الخالق الباری المصور الذی صورنا فاحسن صورنا وخلق وحدہ العالم فقیرہ وقطیرہ وقضی بالعذاب اشد ھو العقاب علی الذین یضاھؤن خلق اﷲ فیخلقوا ذرۃ اولیخلقوا حبۃ اویخلقوا شعیرۃ او الصلوۃ والسلام علی من اتی بمحق الاوثان و توحید الرحمن وحرم التصویر صغیرۃ وکبیرۃ وجعلہ کبیرۃ وعلی الہ وصحبہ وابنہ الاکرم الغوث الاعظم و سائر حزبہ صلوۃ وسلاما توازیان عزہ وتوقیرہ رب انی اعوذ بك من ھمزات الشیطین واعوذ بك رب ان یحضرون۔ ہرقسم کی تعریف وتوصیف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جو (تخلیق کا)اندازہ کرنے والابنانے والا اورتصویرکشی کرنے والا کہ جس نے ہماری صورتیں بنائیں اور ہمیں حسین وجمیل صورتوں سے نوازااور اس نے تنہا ساری دنیا کو پیدا فرمایا خواہ تخم خرما کاگڑھاہو یااورکوئی معمولی چیزہواور اس نے عذاب دینے کا بڑا سخت فیصلہ فرمایا کہ ان لوگوں پرنزول عقاب ہے جواﷲ تعالی کی تخلیق میں اس سے مشابہت اختیارکرتے ہیں تو وہ کوئی ذرہ یاکوئی دانہ یا جو پیداکردکھائیں اوردرودوسلام ان پر جوبتوں کومٹانے اور وحدانیت رحمان کوبیان فرمانے کیلئے تشریف لائے اور انہوں نے چھوٹی بڑی تصویر کوحرام ٹھہرایا او اس کام کو کبیرہ گناہ قراردیااور ان کی آل اورساتھیوں پراور ان کے مکرم شہزادے غوث اعظم(بڑے فریادرس)پراور ان کے باقی تمام گروہ پر(ہدیہ درودوسلام ہو)ایساشاندار درودو سلام کہ ان کی عزت وتوقیر کے برابر اور مساوی ہو۔ اے میرے پروردگار! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوںمیرے پروردگار! میں تیری پناہ چاہتاہوںکہ وہ میرے پاس آئیں(اور مجھے اپنے مکروفریب سے پریشان کریں)۔(ت)
#4281 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اﷲ عزوجل ابلیس کے مکر سے پناہ دےدنیا میں بت پرستی کی ابتداء یوہیں ہوئی کہ صالحین کی محبت میں ان کی تصویریں بناکرگھروں اورمسجدوں میں تبرکا رکھیں اور ان سے لذت عبادت کی تائید سمجھیشدہ شدہ وہی معبود ہوگئیںصحیح بخاری وصحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے آیہ کریمہ:
"و قالوا لا تذرن الہتکم و لا تذرن ودا و لا سواعا ۬ و لا یغوث و یعوق و نسرا ﴿۲۳﴾" کافروں نے کہا ہرگز اپنے خداؤں کونہ چھوڑواور ودسواع یغوثیعوق اور نسر کو کبھی نہ چھوڑو۔(ت)
کی تفسیرمیں ہے:
قال کانوا اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطان الی قومھم ان نصبوا الی مجالسھم التی کانوا یجلسون انصابا وسموھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلك اولئك ونسخ العلم عبدت ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا یہ حضرت نوح(علیہ السلام)کی قوم کے نیك اور پارسالوگوں کے نام ہیںجب وہ وفات پاچکے توشیطان نے بعد والوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ جہاں یہ لوگ بیٹھتے تھے وہیں ان مجالس میں انہیں نصب کردو(یعنی قرینے سے انہیں کھڑاکردو)اور جو ان کے نام(زندگی میں)تھے وہی نام رکھ دوتو لوگوں نے(جہالت سے)ایساہی کیا۔پھر کچھ عرصہ ان کی عبادت نہ ہوئییہاں تك کہ جب وہ تعظیم کرنے والے مرگئے اور علم مٹ گیا(اور ہرطرف جہالت پھیل گئی)توپھر ان کی عبادت شروع ہوگئی۔(ت)
عبدبن حمیداپنی تفسیرمیں ابوجعفر بن المہلب سے راوی:
قال کان ود رجلا مسلما وکان محببا فی قومہ فلما مات عسکروا حول قبرہ فی ارض بابل وجزعوا علیہ فلما رأی ابوجعفرنے فرمایا:"ود"ایك مسلمان شخص تھا جو اپنی قوم میں ایك پسندیدہ اور محبوب شخص تھا جب وہ مرگیا توسرزمین بابل میں لوگ اس کی قبرکے آس پاس جمع ہوئے اور اس کی جدائی پر
حوالہ / References القرآن الکریم ۷۱ /۲۳
صحیح البخاری کتاب التفاسیر باب وَدًّا وسواعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
#4282 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
ابلیس جزعھم علیہ تشبہ فی صورۃ انسان ثم قال اری جزعکم علی ھذا فھل لکم ان اصورلکم مثلہ فیکون فی نادیکم فتذکرونہ بہ قالوا نعم فصورلھم مثلہ فوضعوہ فی نادیھم وجعلوا یذکرونہ فلما رأی ما لھم من ذکرہ قال ھل لکم ان اجعل لکم فی منزل کل رجل منکم تمثالامثلہ فیکون فی بیتہ فتذکرونہ قالوا نعم فصورلکل اھل بیت تمثالامثلہ فاقبلوا فجعلوا یذکرونہ بہ قال وادرك ابنائھم فجعلوا یرون مایصنعون بہ وتناسلوا ودرس امر ذکرھم ایاہ حتی اتخذوہ الھا یعبدونہ من دون اﷲ قال وکان اول ماعبد غیراﷲ فی الارض ود الصنم الذی سموہ بود ۔ بیقرار ہوئے(اور صبرنہ کرسکے)جب شیطان نے اس کی جدائی میں لوگوں کوبیتاب پایا تو وہ انسانی صورت میں ان کے پاس آیا او رکہنے لگا میں اس شخص کے مرنے پرتمہاری بیقراری دیکھ رہاہوں کیا مناسب سمجھتے ہو کہ میں بالکل اس جیسی تمہارے لئے اس کی تصویر بنادوںپھروہ تمہاری مجلس میں رہے پھر اس کی تصویردیکھ کرتم اسے یادکرو۔لوگوں نے کہا ہاں یہ تو اچھی تجویز ہے۔پھرشیطان نے لوگوں کے لئے بالکل اسی جیسی اس کی تصویربنادی اور لوگوں نے اسے اپنی مجالس میں سجارکھا اور اس کی یادکرنے لگے۔ پھرجب شیطان نے دیکھا کہ اس کے ذکر سے لوگوں کی جوحالت ہوتی ہے۔پھرشیطان کہنے لگا کیاتم یہ مناسب کہتے ہوکہ میں تم میں سے ہرشخص کے لئے اس کے گھرمیں اس کے بزرگ کاعکس تیارکرکے سجادوں تاکہ وہ اس کے گھرمیں موجود ہواور تم سب لوگ(انفرادی اوراجتماعی طورپر)اس کاتذکرہ کرتے رہو۔لوگ کہنے لگے ہاں یہ بالکل ٹھیك ہے۔پھر اس نے سب گھروالو ں کے لئے بالکل اسی جیسااس کاایك ایك فوٹوتیارکردیا پھرلوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کافوٹو دیکھ کر اسے یادکرتے رہے۔ راوی نے کہا اور ان کی اولاد نے یہ دور پالیاپھر وہ دیکھتے رہے کہ جو کچھ ان کے بڑے کرتے رہےاور پھر نسل آگے بڑھی (اور پھیلی) جب اس کے ذکر کاسلسلہ کچھ پرانا ہوگیا یہاں تك کہ جہالت سے پچھلے اورآنے والی نسلوں نے اسے خدابنالیا کہ اﷲ تعالی کوچھوڑکر اس کی عبادت کرنے لگے۔(راوی نے کہا)سب سے پہلے زمین پر اﷲ تعالی کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ یہی بت ہے کہ جس کانام لوگوں نے ود رکھاہے۔(ت)
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ عبدبن حمید تحت آیۃ ۷۱/ ۲۳ دارحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۷۴۔۲۷۳
#4283 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
نیزصحیحین بخاری ومسلم میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
لمااشتکی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ذکر بعض نسائہ کنیسۃ یقال لہا ماریۃ وکانت ام سلمۃ وام حبیبۃ رضی اﷲ تعالی عنھما اتتاارض الحبشۃ فذکرتا من حسنھا وتصاویرفیھا فرفع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رأسہ فقال اولئك اذا مات فیھم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا ثم صوروا فیہ تلك الصور و اولئك شرار خلق اﷲ عنداﷲ ۔ جب حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیمارہوئے توآپ کی بعض بیویوں نے ایك گرجے کاذکر فرمایا کہ جس کوماریہ کہاجاتاتھا چنانچہ سیدہ ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اﷲ تعالی عنہما(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو)ملك حبشہ میں تشریف لے گئیں پھرانہوں نے وہاں یہ گرجا دیکھادونوں نے اس کے حسن او ر اس میں سجی تصویروں کاتذکرہ فرمایاتو حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنا سرمبارك اٹھاکرفرمایا:جب ان لوگوں میں کوئی نیك اور صالح آدمی مرجاتا تو اس کی قبرپرمسجد تعمیرکرتے پھر ان تصویروں کوسجاکر اس میں رکھ دیتے وہی اﷲ تعالی کی بدترین مخلوق ہیں۔(ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
صوروا ای صور الصلحاء تذکیرابھم ترغیبا فی العبادۃ لاجلھم ثم جاء من بعدھم فزین لھم الشیطن اعمالھم وقال لھم سلفکم یعبدون ھذہ الصور فوقعوا فی عبادۃ الاصنام ۔ (حدیث شریف میں ہے کہ)وہ نادان لوگ اچھے اورصالح لوگوں کی تصویریں بناکر اپنی عبادت گاہوں میں سجاکررکھ دیتے تاکہ ان کی یاد آتی رہے اور ان کے ذریعے عبادت الہی کی طرف رغبت پیدا ہو۔پھر ان کے بعد جب اورلوگ دنیامیں آئے توشیطان نے پہلوں کے کارنامے ان آنے والے لوگوں کی نگاہوں میں آراستہ کرکے پیش کئے اور ان سے کہاکہ تمہارے اسلاف ان تصویروں کی پرستش کیاکرتے تھےتوپھر یہ بھی ان کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخای کتاب الجنائز باب بناء المسجد علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ ۱/ ۲۰۱
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب اللباس باب التصاویر المکتبۃالحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۸۲
#4284 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب و لاصورۃ ۔رواہ الائمۃ احمد والستۃ والطحاوی عن ابی طلحۃ والبخاری والطحاوی عن ابن عمر وعن ابن عباسومسلم و ابوداؤد والنسائی الطحاوی عن ام المؤمنین میمونۃومسلم وابن ماجۃ والطحاوی عن ام المؤمنین الصدیقۃ واحمد ومسلم والنسائی و الطحاوی و ابن حبان عن ابی ھریرۃ والامام احمد والدارمی وسعید بن منصور وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ وابویعلی والطحاوی وابن حبان والضیاء والشاشی وابونعیم فی رحمت کے فرشتے اس گھرمیں نہیں آتے جس میں کتایاتصویر ہو(ائمہ محدثین مثلا امام احمددوسرے چھ ائمہ حدیث اور امام طحاوی نے حضرت ابوطلحہ سے اس کو روایت فرمایا نیزبخاری اورطحاوی نے حضرت عبداﷲ ابن عمراورحضرت ابن عباس سے اس کوروایت کیا۔امام مسلمابوداؤدسنن نسائی اورطحاوی نے ام المؤمنین سیدہ میمونہ سے اورمسلم وابن ماجۃ اورطحاوی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے اس کو روایت کیاہے۔مسنداحمدمسلمنسائیطحاوی اورا بن حبان نے بحوالہ حضرت ابوہریرہ اس کوروایت کیاہے(اوراسی طرح)امام احمددارمیسعیدبن منصورابوداؤدنسائیابن ماجہابن خزیمہابویعلیطحاویابن حبانالضیاءالشاشی اورابونعیم نے
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل،عن ابی طلحہ ۴/ ۲۸ و صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق ۱/ ۴۵۸،۴۶۸،صحیح مسلم کتاب اللباس ۲/ ۲۰۰ و سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۶،جامع الترمذی ابواب الاب ۲/ ۱۰۳ و وسنن النسائی ص۲۹۹،شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰
شرح معانی الآثار عن ابن عباس ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۴۰۰،صحیح البخاری کتاب المغازی ۲/ ۵۷۰ و کتاب اللباس ۲/ ۸۸۱
صحیح مسلم ۲/ ۱۹۹ و مسنداحمدبن حنبل ۶/ ۳۳۰ وسنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۷
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۰ و ۲۰۱ سنن ابن ماجہ ص۲۱۸ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۱و۴۰۰
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۲ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۱ وشرح معانی الآثار ۲/ ۳۰۴
#4285 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الحلیۃ عن امیرالمؤمنین علی والامام مالك فی المؤطاوالترمذی والطحاوی عن ابی سعید الخدریواحمد والطحاوی والطبرانی فی الکبیر عن اسامۃ بن زید والطحاوی عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہم وقد فصلناھا فی فتاونا۔ حلیہ میں امیرالمومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔نیزامام مالك نے"موطا"میں ترمذی اورطحاوی نے"معجم کبیر"میں حضرت اسامہ بن زید سے اس کو روایت فرمایا۔اور اسی طرح طحاوی نے حضرت ابوایوب انصاری کے حوالہ سے اس کو روایت فرمایااﷲ تعالی ان تمام بزرگوں سے راضی ہو۔اور ہم نے ان سب باتوں کو اپنے فتاوی میں تفصیل سے بیان فرمایاہے(ت)
اور اس میں کسی معظم دینی کی تصویرہونانہ عذرہوسکتاہے نہ اس وبال عظیم سے بچاسکتاہے بلکہ معظم دینی کی تصویر زیادہ موجب وبال ونکال ہے کہ اس کی تعظیم کی جائے گی اور تصویر ذی روح کی تعظیم خاصی بت پرستی کی صورت اورگویا ملت اسلامی سے صریح مخالفت ہے۔ابھی حدیث سن چکے کہ وہ اولیاء ہی کی تصویریں رکھتے تھے جس پر ان کوبدترین خلق اﷲ فرمایا۔انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے بڑھ کر کون معظم دین ہوگا اورنبی بھی کون حضرت شیخ الانبیاء خلیل کبریا سیدناابراہیم علی ابنہ الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کہ ہمارے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد تمام جہان سے افضل واعلی ہیں ان کی اور حضرت سیدنا اسمعیل ذبیح اﷲ وحضرت بتول مریم علیہم الصلوۃ کی تصویریں دیوارکعبہ پرکفارنے منقش کی تھیںجب مکہ معظمہ فتح ہوا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو پہلے بھیج کروہ سب محو کرا دیںجب کعبہ معظمہ میں تشریف فرماہوئے بعض کے نشان کچھ باقی پائے پانی منگاکر بنفس نفیس انہیں دھویا اوربنانے والوں کو قاتل اﷲ فرمایا اﷲ انہیں قتل کرے
ھذا معنی ماروی البخاری فی صحیحہ والامام جوکچھ امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت فرمایا
حوالہ / References سنن ابی داؤد ۲/ ۲۱۶ و سنن النسائی ۲/ ۳۰۰ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰
جامع الترمذی ۲/ ۱۰۴ و مؤطا امام مالك ماجاء فی الصور والتماثیل ص۷۲۶
مسند احمدبن حنبل ۵/ ۲۰۳ و المعجم الکبیر حدیث ۳۸۷ ۱/ ۱۶۲ و شرح معانی الآثار ۲/ ۴۰۰
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰،صحیح البخاری کتاب المناسك ۱/ ۲۱۸ و کتاب الانبیاء ۱/ ۴۷۳ قدیمی کتب خانہ کراچی،سنن ابی داؤد کتاب المناسك ۱/ ۲۷۷ و مسنداحمدبن حنبل عن ابن عباس ۱/ ۳۳۵ و ۳۶۵
#4286 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الطحاوی عن ابن عباس والامام احمد وابوداؤد عن جابر بن عبداﷲ وعمر بن شیبۃ والامام الطحاوی عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنھم کما فصلناہ فی فتاونا۔ اس کامفہوم او رمعنی یہی ہےامام طحاوی نے حضرت عبداﷲ بن عباس سے۔امام احمدابوداؤد نے حضرت جابربن عبداﷲ کے حوالہ سے۔اور عمربن شیبہ اورامام طحاوی نے اسامہ بن زید سے اس کو روایت کیاہے رضی اﷲ تعالی عنہم۔جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو مفصل بیان کیاہے۔(ت)
ہاں بادی النظرمیں یہاں یہ شبہ گزرسکتاہے کہ صاحبزادہ موصوف کی یہ تصویر صرف سینے تك ہے اور انسان اتنے جسم سے زندہ نہیں رہتا۔اوردرمختارمیں ہے کہ جب تصویر سے وہ عضو محوکردیاجائے جس کے بغیرحیات نہ ہو تو وہ ممانعت سے مستثنی ہے۔
حیث قال(اوکانت صغیرۃ)لاتتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما وھی علی الارض ذکرہ الحلبی (او مقطوعۃ الراس اوالوجہ)اوممحوۃ عضو لاتعیش بدونہ(اولغیرذی روح)لایکرہ ۔ چنانچہ فرمایا اگرتصویر اتنی چھوٹی ہوکہ زمین پررکھی ہو تو کھڑے ہوکردیکھنے والے کو اس کے اعضاء کی تفصیل معلوم نہ ہوسکے۔چنانچہ حلبی نے اس کو بیان فرمایا یا اس کا سریاچہرہ کاٹ دیاگیاہو یا اس کے کسی ایسے اندام کو مٹادیاگیاہو کہ جس کے بغیروہ زندہ نہ رہ سکےیاکسی غیرجاندار کی تصویر ہو تو ان ساری صورتوں میں کراہت نہ ہوگی(ت)
اوربنانے کے بعد مٹادینا اور سرے سے نہ ہونا دونوں کاایك حکم ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
قولہ اومقطوعۃ الرأس ای سواء کان من الاصل اوکان لھا رأس ومحی ۔اقول:و باﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔ مصنف کاقول کہ یاتصویر کاسرکاٹ دیاگیایعنی اصل سے اس کا سرنہ ہویاسرہولیکن اسے مٹادیاگیاہو۔اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالی کے کرم ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے آدمی تحقیق کی چوٹی تك پہنچ سکتاہے(ت)
یہاں یہ قول اس کاہوسکتا ہے جس نے خدمت فقہ وحدیث نہ کینہ اسے مقاصد شرع پرنظرملیاولا مقام تنقیح میں سرے سے یہ عبارت درہی محل نظرہے فقیرنے جس قدرکتب فقہیہ متون وشروح
حوالہ / References درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
#4287 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وفتاوی حاضرہیں سب کی طرف مراجعت کیبیان حکم میں اس تعمیم میں درمختار کاسلف نہ پایا یہاں تك کہ بحرودررکہ اکثرماخذ کتاب ہیں ان میں بھی اس کانشان نہیںعامہ کتب مثل ۱بدایہ و۲وقایہ و۳نقایہ و۴کنزو ۵وافی و۶غرر و۷اصلاح و۸منتقی و۹منیہ و۱۰نور الایضاح و۱۱ہدایہ و۱۲شرح وقایہ و۱۳برجندی و۱۴تبیین و۱۵کافی و۱۶درر و۱۷ ایضاح و۱۸مجمع الانہر و۱۹مراقی الفلاح و۲۰فتح القدیرو۲۱عنایہ و ۲۲خانیہ و۲۳خزانۃ المفتین و۲۴ہندیہ حتی کہ خود ۲۵جامع صغیر محررمذہب امام محمدرحمہ اﷲ تعالی میں صرف ذکررأس پر اقتصار فرمایا کہ اگر تصویربے سرکی ہویااس کاسر کاٹ دیں توکراہت نہیںاور۲۶خلاصہ پھر اس کی تبعیت سے ۲۷تنویر الابصار و۲۸حلیہ و ۲۹بحرالرائق و۳۰جامع الرموز و۳۱غنیہ و۳۲صغیری و۳۳شرنبلالی و۳۴عبدالحلیم علی الدرر میں"وجہ"کا اضافہ کیاکہ چہرہ مٹادینا بھی سرکاٹ دینے کی مثل ہے ۳۵ذخیرۃ العقبی و۳۶شلبی علی الزیلعی و۳۷حسن عجیمی علی الدرر و۳۸سعدی افندی علی العنایہ و۳۹مسکین علی الکنزکہ ۴۰سیدابوالسعود ازہری نے بھی کہ درمختارسے کثیرالاخذ ہیں زیادت سے اصلا تعرض نہ کیا اقول:اور ذکر"وجہ"حقیقۃ زیادت نہیں کہ رأس کااطلاق اکثرچہرہ پرآتاہے گردن جداکردینے کو سرکاٹناہی کہتے ہیں تو مقصود خلاصہ اس کاافادہ بھی ہے کہ محوبھی مثل قطع ہے اس کی عبارت یہ ہے:
ان کان مقطوع الراس لاباس بہ ولو محی وجہ الصورۃ فہو کقطع الراس ۔ اگرتصویر کاسرکاٹ دیاگیاتو پھر اس کے رکھنے میں کوئی حرج نہیںاور تصویر کے چہرے کو مٹادیناسرکاٹنے کی طرح ہے۔(ت)
ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)دیگراعضاوجہ وراس کے معنی میں نہیں اگرچہ مدارحیات ہونے میں مماثل ہوں کہ چہرہ ہی تصویر جاندارمیں اصل ہےولہذا سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسی کا نام تصویر رکھا اورشك نہیں کہ فقط چہرہ کو تصویرکہتے اوربنانے والے بارہا اسی پراقتصار کرتے ہیں ملوك نصاری کہ سکہ میں اپنی تصویر چاہتے ہیں اکثر چہرہ تك رکھتے ہیں اور بیشك عامہ مقاصدتصویرچہرہ سے حاصل ہوتے ہیں وانما الشیئ بمقاصدہ(یہی بات ہے کہ شے اپنے مقاصد پرمبنی ہوتی ہے۔ ت)امام اجل ابوجعفر طحاوی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال الصورۃ الراس فکل شیئ لیس لہ راس فلیس بصورۃ ۔ فرمایا:تصویر"سر"کانام ہے لہذا جس چیزکاسرنہ ہو وہ تصویر نہیں(ت)
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الثانی الجنس فیمایکرہ فی الصلوٰۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۵۸
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الصورۃ تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳
#4288 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اور اسی طرف عبارت ہدایہ ناظر:
حیث قال اذا کان التمثال مقطوع الراس فلیس بتمثال ۔ چنانچہ(صاحبہ ہدایہ نے)فرمایا کہ جب کسی مجسمے کا سرکاٹ دیاگیاہو توپھر وہ مجسمہ نہ ہوگا۔(ت)
بلکہ یہ جامع صغیرمیں نص امام کبیرہے:
محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنھم اذا کان راس الصورۃ مقطوعا فلیس بتمثال ۔ امام محمدنے امام ابویوسف کے حوالہ سے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت فرمائی کہ اگرتصویرکاسرکاٹ دیاگیاہے تو پھر وہ بلاشبہہ تمثال(مورتی)نہیں(ت)
لاجرم امام نسفی نے وافی وکافی میں تصریح فرمائی کہ اگرتصویر کاسرمقطوع نہیں کراہت مدفوع نہیں۔
وھذا نصہ لوکان فوق راسہ فی السقف اوبین یدیہ اوبحذائہ صورۃ غیرمقطوع راسھا کرہ ۔ امام نسفی کی تصریح یہ ہےاگرتصویر کسی شخص کے سرکے اوپر چھت میں موجود ہو یا اس کے سامنے ہو یا اس کے مقابل ہو لیکن اس کاسرنہ کاٹاگیاہو توکراہت ہوگی(ت)
ظاہرہے کہ نیم قد یاسینہ تك کی تصویر پربھی صادق ہے کہ اس کاسرمقطوع نہیں توحکم منع مدفوع نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
ثانیا: قول درمختار ہی لیجئے جس پرمحشیوں نے تقریراورخادمی نے حاشیہ دررمیں تبعیت کی
حیث قال مقطوعۃ الراس والمراد ممحوۃ عضولا تعیش بدونہ کالوجہ ۔ چنانچہ اس نے کہا تصویر کاسرکاٹ دیاگیاہومراد یہ ہے کہ اس کے کسی ایسے اندام کومٹادیاگیا ہو کہ جس کے بغیر زندگی نہیں ہوسکتی جیسے چہرہ۔(ت)
بیان مسئلہ میں اگرچہ یہ تعمیم فقیرنے کہیں نہ پائی مگرایك مسئلہ کی دلیل میں کلام فتح سے اس کی
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
الجامع الصغیر کتاب الصلوٰۃ باب فی الامام این تستحب لہ ان یقوم مطبع یوسفی لکھنو ص۱۱
کافی شرح وافی
حاشیۃ الدرر علی الغرر للخادمی کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبعہ عثمانیہ ص۷۰
#4289 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
طرف اشارہ سمجھاگیا:
اذ قال لوقطع یدیھا ورجلیھا لاترفع الکراھۃ لان الانسان قدتقطع اطرافہ وھو حی ۔ جبکہ فتح القدیرمیں فرمایا اگرکسی نے تصویر(فوٹو)کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے توکراہت مرفوع نہ ہوگی اس لئے کہ کبھی انسان کے اطراف یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ دئیے جاتے ہیں مگراس کے باوجودوہ زندہ ہوتاہے۔(ت)
علامہ طحطاوی نے اس سے وہ تعمیم استنباط فرمائی حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا:
افاد بھذا التعلیل ان قطع الراس لیس بقید بل المراد جعلھا علی حالۃ لاتعیش معھا مطلقا ۔ اس تعلیل نے یہ فائدہ دیا کہ قطع الراس کاذکر بطور قیدنہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تصویر کوایسی حالت میں کردینا کہ جس کی موجودگی میں وہ مطلقا زندہ نہ رہ سکے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس استنباط میں نظرظاہرہے
فان حاصل کلام الفتح ان ھذا مکروہ لکونہ علی حالۃ یعاش معھا وکل ماکان کذا فھو مکروہ ولایلزم منہ ان کل ماھو مکروہ فھو کذا فان الموجبۃ الکلیۃ لا تنعکس کنفسھا ووجدت نظیرہ فی الھدایۃ اذقال الطلاق علی ضربین صریح وکنایۃ فالصریح قولہ انت طالق ومطلقۃ و فتح القدیر کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے اس لئے کہ شیئ ایسی حالت پرہے کہ جس کی موجودگی میں زندگی پائی جا سکتی ہے(مرادیہ کہ وہ حالت مانع حیات نہیں)اورہرکام جو اس طرح ہو وہ مکروہ ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا۔ہرکام جو مکروہ ہے وہ اس طرح ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موجبہ کلیہ کاعکس بنفسہا نہیں(یعنی موجبہ کلیہ کاعکس موجبہ کلیہ نہیں) میں نے ہدایہ میں اس کی نظیرپائی ہے کیونکہ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ طلاق کی دو۲قسمیں ہیں:(۱)صریح (۲) کنایہ چنانچہ طلاق صریح کی مثال مثلا یہ
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۳
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح کتاب االصلوٰۃ فصل فی المکروہات نورمحمدکارخانہ تجارت کتب ص۱۹۹
#4290 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
طلقتك فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی لان ھذہ الالفاظ تستعمل فی الطلاق ولاتستعمل فی غیرہ فکان صریحا وانہ یعقب الرجعۃ بالنص ولایفتقر الی النیۃ لانہ صریح فیہ لغلبۃ الاستعمال اھ اقول:فمناط الصراحۃ ھو غلبۃ الاستعمال کما افاد اخرا ممالم یستعمل فی غیرالطلاق کان اولی بالصراحۃ فیہ فلذا علل الصراحۃ بہ فی الالفاظ الثلثۃ وھو لایفید ان یستعمل فی غیرہ نادرا لایکون صریحا فیہ وبالجملۃ وھو تعلیل بما یتضمن العلۃ مع شیئ زائد یفیدہ من باب اولی کذا ھھنا مناط المنع ھو الراس ولووحدہ فاذا کان جمیع مایحتاج الیہ للحیاۃ باقیا تضمن العلۃ شیئ مع زائدہ افاد المنع کہنا(اپنی منکوحہ کومخاطب کرتے ہوئے)توطلاق والی ہے (انت طالق)توطلاق ہوگئی ہے(انت مطلقۃ)میں نے تجھے طلاق دے دی(طلقتک)پس ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہوگئی۔اس لئے کہ الفاظ مذکورہ صرف طلاق میں استعمال کئے جاتے ہیں لہذا کسی دوسرے مفہوم میں استعمال نہیں کئے جاتے(اس لئے یہ طلاق کے الفاظ صریحہ ہیں)لہذا ان میں سے کسی ایك کے وقوع کے بعد رجعت ہوگیاو ریہ محتاج نیت نہیںاس لئے کہ یہ افادیت معنی نہیں"صریح" ہیں اور اس کی وجہ غلبہ استعمال ہے اھ۔اقول:(میں کہتا ہوں۔ ت)صراحت کامدار غلبہ استعمال ہے جیسا کہ آخر میں صاحب ہدایہ نے یہ افادہ پیش کیاجو الفاظ بغیر طلاق نہ استعمال کئے جائیں وہ باب طلاق میں صریح ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ مصنف نے الفاظ ثلاثہ مذکورہ میں صراحت بالطلاق ہونے کی تعلیل ذکرفرمائی ہےیعنی الفاظ مذکورہ طلاق صریح کے الفاظ ہیں اور علت غلبہ استعمال ہے اور یہ اس بات کیلئے مفیدنہیں کہ اگرالفاظ مذکورہ بطورنادر غیر طلاق میں استعمال کئے جائیں توپھر وہ مفہوم طلاق میں صریح نہ ہوں گے(بلکہ اس کے باوجود وہ صریح طلاق کے الفاظ ہیں) (خلاصہ کلام)وہ ایك ایسی چیز
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۳۲۹
#4291 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بالاولی فلاتدافع بین کلامی الھدایۃ اولاواخرا و قد کان افاد ھذا فی الفتح نفسہ اذقال ما غلب استعمالہ فی معنی بحیث یتبادر حقیقۃ اومجازا صریح فان لم یستعمل فی غیرہ فاولی بالصراحۃ فلذا رتب الصراحۃ فی ھذہ الالفاظ علی الاستعمال فی الطلاق دون غیرہ اھ ثم زعم التدافع مع انہ قد اندفع بماقرر۔ کے ساتھ تعلیل ہے جو شیئ زائد سمیت علت پر مشتمل ہےجو بطریق اولی حکم کے لئے مفیدہے پس یہاں بھی اسی طرح ہے کہ منع کامدار رأس(سر)ہے اگرچہ اکیلاہوپھرجب تمام محتاج الیہ حیات باقی ہوں توپھرعلت شیئ زائد پرمشتمل ہوگیتوپھر اس سے ممانعت بطریق اولی کافائدہ ہوگالہذا صاحب ہدایہ کے پہلے اور پچھلے کلام میں کوئی تدافع اورتناقض نہیںفتح القدیر میں بالکل یہی افادہ پیش فرمایاجس لفظ کااستعمال کسی معنی میں غالب اور زیادہ ترہوکہ بطور حقیقت یامجازوہی معنی متبادر ہوتو پھر وہ لفظ اس معنی میں"صریح"ہے۔اور اگرکسی دوسرے معنی میں بالکل استعمال نہ کیاجائے توپھر وہ اولی بالصراحۃ ہوگالہذا یہی وجہ ہے کہ ان الفاظ میں صراحت اس بات پر مرتب ہے کہ الفاظ مذکورہ صرف معنی طلاق میں مستعمل ہیں نہ کہ کسی دوسرے معنی میں اھ پھر اس نے تدافع سمجھا حالانکہ وہ اس کی تقریر(اور اثبات)سے دفع ہوگیا ہے۔(ت)
وﷲ الحمد اسی طرز پرایك بحث میں ان کے تلمیذ امام ابن امیرحاج کے کلام سے اشارہ نکل سکتاہے اور ویساہی اس کاجواب ہے
حیث یقول اما قطع الراس عن الجسد بخیط مع بقاء الراس علی حالہ فلاینفی چنانچہ موصوف فرماتے ہیں اگرسر کو کسی دھاگے سے جدا اور قطع کیاجائے باوجودیکہ سربدستور اپنے حال پرباقی رہے تو اس سے کراہت منفی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطلاق باب ایقاع الطلاق مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۳۵۱
#4292 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الکراھۃ لان من الطیر ماھو مطوق فلایتحقق القطع بذلك کذا ذکروہ ھو قاصر علی الطیر والظاھر ان الکراھۃ لاتنتفی فی غیرہ من الحیوانات بھذا الضنیع کمالاتنتفی فیہ فیحتاج الغیر الی توجیہ غیر ھذاولعل الاولی ان یقال لان الحیوان الحی قدیجعل علی رقبتہ شیئ ساترلھا من خیط اوغیرہ لغرض من الاغراض فیکون ھذا بمنزلتہ فلاتزول بہ الکراھۃ ثم لم اقف علی انہ لو فصل بین نصفہ الاعلی والاسفل بخیط حتی صار کانہ مقطوع شطرین ھل تزول الکراھۃ الظاھر انھا لاتزول کمافی الراس لنحو ماذکرنا انفا فی الراس ولاسیما فی الادمی فان ذلك یکون فیہ بمنزلۃ شد الوسط واﷲ تعالی اعلم اھ۔ اقول:والاتیان نہ ہوگی کیونکہ کچھ پرندے مطوق(یعنی طوق کئے ہوئے ہوتے ہیں)تو اس سے قطع نہیں پایاجاتا چنانچہ ائمہ کرام نے اسی طرح ذکرفرمایا۔اور یہ صرف پرندے میں منحصر(بند) ہے۔لیکن ظاہریہ ہے کہ کراہت باقی حیوانات میں بھی اس توجیہ کے علاوہ کسی اورتوجیہ کی ضرورت ہےشاید اولی یہ ہے کہ کہاجائے کہ کبھی ایساہوتاہے کسی نہ کسی غرض کی وجہ سے۔اکثردھاگہ وغیرہ کسی حیوان کی گردن پررکھ دیاجاتاہے جو اس کی گردن کوڈھانپ دیتاہے۔لہذا یہ اس کی جگہ یعنی اس کے قائم مقام ہےپس اس سے کراہت زائل نہ ہوگی۔ پھرمیں اس پرواقف اور مطلع نہیں ہواکہ اگرنصف اعلی اور نصف اسفل(یعنی اوپراورنیچے کے حصہ میں)کسی دھاگے سے فصل کردیاجائے اور وہ اس طرح ہوجائے کہ گویا دو حصوں میں قطع کردیاگیاہے تو کیااس صورت میں کراہت زائل ہوجائے گی یانہیں ظاہریہ ہے کہ کراہت زائل نہ ہوگیجیسا کہ حالت رأس(سر)میں کراہت زائل نہ ہوگی بشرطیکہ رأس میں اس طریقہ کے مطابق کارروائی کی جائے کہ جس کو رأس میں ہم نے بیان کیاہےخصوصا انسان میں کیونکہ اس میں وہ کاروائی کمربستگی کے قائم مقام ہے۔واﷲ
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4293 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بلفظ الظاھر فی الموضعین من شدۃ ورعہ رحمہ اﷲ تعالی والا فالحکم مقطوع بہ فیھما ولایتوھم احد ان لو ربط خیط فی عنق صورۃ انسان لابھیمۃ اوفی وسطھا ذھب الحکم الشرعی وجاز اقتناؤھاثم لیس حاصلہ الامثل مافی الفتح ان کل ما لاینافی الحیاۃ لاینفی الکراھۃ ولایلزم منہ ان کل ماینافی الحیاۃ ینفی الکراھۃ کمالایخفی الاتری ان کل مالاینافی الانسانیۃ لاینفی الحیوانیۃ اذ لونفی الحیوانیۃ ینافی الانسانیۃ ولیس ان کلما ینافی الانسانیۃ ینفی الحیوانیۃ کالصھیل والنھیق و التوھب فان کل ذلك ینافی الانسانیۃ و لاینافی الحیوانیۃ۔ تعالی اعلماقول:(میں کہتاہوں)لفظ"ظاہر"دوجگہ ذکر کرنے سے مصنف علیہ الرحمۃ کی شدت ورع اور احتیاط ہے ورنہ دونوں میں حکم یقینی ہے اورکوئی یہ وہم نہ کرے کہ اگرکسی انسانی تصویر کی گردن میں کوئی دھاگہ باندھاجائے یا اس کے وسط (درمیان)میں ایساکیاجائے نہ کہ چوپایہ میں۔ پس اس صورت میں حکم شرعی ختم ہوجائے گا اورپھر اس کو محفوظ رکھناجائزہوگا۔پھر اس کا حاصل بالکل وہی ہے جو فتح القدیر میں مذکورہےجوچیزحیات کے منافی نہ ہو تووہ کراہت کی نفی نہیں کرتی اور اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ جوچیزحیات کے منافی ہو وہ کراہت کی نفی کرتی ہے جیساکہ یہ امرمخفی اور پوشیدہ نہیںکیاتم دیکھتے نہیں کہ جوچیز انسانیت کے منافی نہیں وہ حیوانیت کی نفی نہیں کرتی کیونکہ اگر حیوانیت کی نفی ہوتو انسانیت کی نفی ہوجائےاورایسانہیں کہ جوانسانیت کے منافی ہو اس سے حیوانیت کی نفی ہوجائے جیسے صہیل (گھوڑے کا ہنہنانا)اور نہیق(گدھے کاڈھیچوں کرنا)اور ترہب(راہب بننا)اس لئے کہ یہ سب کچھ انسانیت کے منافی ہے لیکن حیوانیت کے منافی نہیں۔(ت)
عجب نہیں کہ مدقق علائی نے انہیں عبارات فتح وحلیہ کودیکھ کریہ تعمیم اضافہ فرمائی ہوحالانکہ وہ مفیدتعمیم نہیںہاں کلام امام ابو جعفر طحاوی میں فقیر نے اس کی طرف اشارہ پایا
حیث قال رحمہ اﷲ تعالی بعد مااحتج علی من قال بکراھۃ الصورۃ مطلقا ولو لغیر حیوان کشجر چنانچہ امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے ان لوگوں کے خلاف استدلال پیش کرنے کے بعدفرمایا جنہوں نے یہ کہہ دیا کہ تصویر مطلقا مکروہ ہے اگرچہ غیرحیوان کی کیوں نہ ہومثلا درخت وغیرہ
#4294 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
مثلا باحادیث فیھا الامر بقطع راس التماثیل مانصہ فلما ابیحت التماثیل بعد قطع راسھا الذی لو قطع من ذی الروح لم یبقدل ذلك علی اباحۃ تصویر مالاروح لہ وعلی خروج مالاروح لمثلہ من الصورمماقدنھی عنہ فی الاثار التی ذکرنا فی ھذا الباب وقدروی عن عکرمۃ فی ھذا الباب ایضا ما حدثنا محمد بن النعمن(نذکربسندہ)عن عکرمۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال الصورۃ الراس الی اخرماتقدم۔ کی تصویران روایات کی وجہ سے کہ جن میں تماثیل (مجسمے)کے سرکاٹنے کاحکم دیاگیا ہےچنانچہ موصوف کی یہ نص ہے۔جب قطع راس(سرالگ کردینا)کے بعد تماثیل کی اجازت دی گئی(اور اسے مباح قراردیاگیا)لہذا اگرذی روح کاسرکاٹ دیاجائے توپھر وہ ذی روح کی صورت نہ رہے گیاو ریہ غیرذی روح کی تصویرکے مباح ہونے کی دلیل ہے اور جس میں روح نہ ہو وہ اس تصویر سے خارج ہے کہ جس سے ان آثار میں منع کردیاگیا کہ جنہیں ہم نے اس باب میں ذکر کیاہےچنانچہ اس باب میں نیزحضرت عکرمہ سے وہ حدیث مروی ہے کہ جس کو ہم سے محمدبن نعمان نے بیان فرمایا ہم اسے سند سے بحوالہ عکرمہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیںفرمایا:تصویرسر کانام ہے۔آخرتك وہی کلام ہے جوپہلے بیان ہوچکا۔(ت)
کلام در کے لئے یہ غایت ابدائے سند ہے اقول:اگرچہ ان کاآخر کلام اور حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے استناد بتارہاہے کہ تصویرنہ رہناحکم منع سے خارج کرنے کامدارہے اور یہی چاہئے کہ شرع نے حکم منع تمثال ظاہر غیرمستہان پرفرمایا تو جب تك تمثال بلااہانت ظاہر ہے منع باقی ہےہاں جب تمثال نہ رہے یااہانت ہومنع نہ رہے گا کہ مناط منع منتفی ہوگیا قطع سرمیں تمثال نہیں رہتی جیسا کہ حدیث ا بوہریرہ وعبارت ہدایہ سے خود کلام امام اعظم سے گزرابخلاف دیگراعضا کہ جب تك چہرہ باقی تصویرباقی اگرچہ اور اعضانہ ہوں ولہذا جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے حدیث آئندہ اورمحرر مذہب امام محمدنے جامع صغیر اورجملہ کتب مذکورہ مذہب متون وشروح وفتاوی میں صرف نفی راس پراقتصارفرمایاواﷲ تعالی اعلمبہرحال اگراسی پرچلئے۔ فاقول:وباﷲ التوفیق(اﷲ تعالی کی توفیق ہی کے سہارے میں کہتاہوں۔ت)تصویر میں حیات
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۳
#4295 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
آپ توکسی حالت میں نہیں ہوتی نہ وہ کسی حال میں جملہ اعضائے مدارحیات کااستیعاب کرتی ہے عکسی میں توظاہرکہ اگرپورے قدکی بھی ہوتوصرف ایك طرف کی سطح بالا کاعکس لائے گی خول میں نصف جسم بھی ہوتا تو عادۃ حیات ناممکن ہوتی نہ کہ صرف نصف سطح اوربت میں بھی اندرونی اعضا مثل دل وجگر وعروق نہیں ہوتے اورڈاکٹری کی ایك تصویرخاص لیجئے جس میں اندرباہر کے رگ پٹھے تك سب دکھائے جاتے ہیں تورگوں میں خون کہاں سے آئے گا غرض تصویر کسی طرح استیعاب مابہ الحیاۃ نہیں ہوسکتی فقط فرق حکایت وفہم ناظرکاہے اگر اس کی حکایت محکی عنہ میں حیات کاپتادے یعنی ناظریہ سمجھے کہ گویا ذوالتصویر زندہ کودیکھ رہاہے تووہ تصویر ذی روح کی ہے اور اگرحکایت حیات نہ کرے ناظر اس کے ملاحظہ سے جانے کہ یہ حی کی صورت نہیںمیت وبے روح کی ہے تو وہ غیرذی روح کی ہے سنن ابی داؤد جامع ترمذی وسنن نسائی وصحیح ابن حبان وشرح معانی الآثار امام طحاوی ومستدرك حاکم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتانی جبریل قال اتیتك البارحۃ فلم یمنعنی ان اکون دخلت الا انہ کان علی الباب تماثیل وکان فی البیت فرام ستر فیہ تماثیل کلب فمربراس التمثال الذی علی باب البیت فیقطع فیصیر کھیأۃ الشجرۃ ومربالستر فلیقطع فلیجعل وسادتین منبوذتین توطان ومرالکلب فلیخرج ففعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ (حضرت ابوہریرہ نے)فرمایاکہ حضورعلیہ الصلوہ والسلام نے فرمایا کہ میری خدمت میں حضرت جبرائیل حاضرہوئے اور فرمایا کہ میں گزشتہ رات آپ کی خدمت میں حاضرہواتھا لیکن مجھے اندرداخل ہونے سے صرف اس چیزنے روکاکہ دروازے پرتصویریں تھیں اور گھر میں بھی باریك پردہ تھا کہ جس پرتصویریں موجود تھیں نیزگھرمیں کتاتھا لہذا آپ اس تصویر کے متعلق فرمادیں کہ اس کاسرکاٹ دیاجائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائےاورپردے کے بارے میں فرمادیں کہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیاجائے اور دومسندیں بنائی جائیں جوزمین پرڈالی اورپاؤں سے روندی جائیںاور کتے کے بارے میں فرمادیجئے کہ اسے باہرنکال دیاجائے توحضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے سب کچھ اس طرح کیا۔(ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان الملائکۃ لاتدخل بیتا الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۴،شرح معانی الآثار کتاب الکراہۃ باب الصور تکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۲
#4296 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
دیکھئے جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم نے بھی عرض کی کہ ان تصویروں کے سرکاٹنے کاحکم فرمادیجئے جس سے ان کی ہیأت درخت کے مثل ہوجائے حیوانی صورت نہ رہے اس کا صریح مفاد تو وہی ہے کہ بے قطع راس حکم منع نہ جائے گا کہ بغیر اس کے نہ پیڑ کی مثل ہوسکتی ہیں نہ صورت حیوانی سے خارجاور اگرتنزل کیجئے تو اس قدرتولازم کہ ایساکردیجئے جس سے وہ ایك بے جان کی صورت معلوم ہو اس سے حالت بے روحی مفہوم ہو ولہذا علامہ سیدطحطاوی رحمہ اﷲ تعالی نے اسی قول در کی شرح میں فرمایا:
قولہ لاتعیش بدونہ انما لاتکرہ الصلوۃ الیھا لانھا صورۃ میت وھو لایعبد اھ اقول:والاولی وھی لاتعبد لان المشرکین انمایعبدون المیت قال اﷲ تعالی " "اموت غیر احیاء نعم لایصورونھم صورۃ میت بل حی۔ مصنف کاارشاد کہ اس کے بغیر زندگی نہ ہو۔پس ایسی تصویر کی طرف منہ کرکے نمازپڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ وہ مردے کی تصویر ہے جبکہ مردے کی عبادت نہیں کی جاتی اھ۔اقول: (میں کہتاہوں کہ)زیادہ بہتریہ ہے کہ کہاجاتا کہ مردے کی صورت کی عبادت نہیں کی جاتیاس لئے کہ مشرك تومردوں کی عبادت کیاکرتے ہیںیہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:"وہ مردے ہیں جو زندہ نہیں"ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مردوں کی صورت پر ان کی تصویریں نہیں بناتے بلکہ زندوں کی صورت پر ان کی تصویریں بناتے ہیں۔(ت)
اور شك نہیں کہ عکسی تصویریں اگرچہ نیم قد یاسینہ تك بلکہ اگر صرف چہرہ کی ہو ہرگزنہ مثل شجرہوتی ہیں نہ مردہذوالصورۃ کی حکایت کرتی ہیں بلکہ یقینا جیتے جاگتے کی صورت دکھاتی ہیںاور ناظرین کا ذہن ان سے حالت حیات ذوالصورۃ ہی کی طرف جاتاہے کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ مردہ کی صورت ہے اور مدار حکم اسی فہم پرتھانہ حیات وموت حقیقی پرجس سے تصویر کوبہرہ نہیں۔آیا نہیں دیکھتے کہ سلاطین نصاری اپنی ایسی ہی ناقص تصویریں سکہ پرمنقوش کراتے ہیں اگر اس سے حالت موت مفہوم ہوتی تو کبھی نہ چاہتے کہ سکہ میں اپنی مردہ کی صورت دکھائیں تو انصافا یہ عبارت درمختار بھی ان تصویروں سے نفی ممانعت نہیں کرتی وہ اس تصویر کے لئے ہے جسے توڑپھوڑ کر اس حالت پرکردیں کہ اس میں حالت حیات کی حکایت نہ رہے جو اسے دیکھے میت بے روح کی صورت جانے۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اور اب عجب نہیں کہ چہرہ کے سوادیگر اعضائے مدارحیات کے عدم اصلی واعدام بنقض وابطال میں معنی مقصود بحکایۃ الحیاۃ عرفا مفہوم ہونے نہ ہونے سے بعض صورمیں فرق پیداہو بخلاف چہرہ کہ سرے سے نہ بنایا یا
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۷۴
القرآن الکریم ۱۶ /۲۱
#4297 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بناہوا توڑدیا بہرحال حکایت نہیں ہوتی کمالایخفی فلیتسأل وباﷲ التوفیق(جیسا کہ یہ بات پوشیدہ نہیںپھرپوچھنا چاہئےاو راﷲ تعالی کے فضل ہی سے توفیق حاصل ہوسکتی ہے۔ت)
ثالثا: بتوفیق اﷲ وجل کے وہ تحقیق بیان کریں جس سے اس مبحث کے تمام علل واحکام واصول وفروع متجلی ہوں۔تصویر ممنوع میں کراہت نمازوحکم ممانعت کی علت مشائخ کرام رحمہم اﷲ تعالی نے مشابہت عبادت صنم بتائیہدایہ میں صراحۃ اسی میں حصر فرمایا:
حیث قال لاباس بان یصلی وبین یدیہ مصحف معلق اوسیف معلق لانھما لایعبد ان وباعتبارہ تثبت الکراھۃ ۔ چنانچہ فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی نمازپڑھے جبکہ اس کے سامنے مصحف شریف یاتلوار لٹکی ہوئی ہو اس لئے کہ ان دونوں کی عبادت نہیں کی جاتیاور باعتبار عبادت کراہت ثابت ہوتی ہے۔(ت)
فتح القدیرمیں ہے:
قولہ وباعتبارہ تثبت الکراھۃ قدم المعمول لقصد افادۃ الحصر ۔ مصنف کایہ کہنا کہ عبادت کی وجہ سے کراہت ثابت ہوتی ہے اس میں معمول کومقدم کیاگیاہے تاکہ حصرکافائدہ حاصل ہو۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لاتعبد اذاکانت صغیرۃ بحیث لاتبدو للناظر و الکراھۃ باعتبار العبادۃ فاذا لم یعبد مثلہا لایکرہ ۔ جب تصویر چھوٹی ہو کہ دیکھنے والے کے لئے واضح نہ ہوتو اس کی عبادت نہیں کی جاتی اور کراہت بلحاظ عبادت ہےپھرجب اس قسم کی تصویر کی عبادت نہ کی گئی توکراہت نہیں۔(ت)
اورمصلی کے کپڑوں پرتصویر ہونے کی ممانعت کوحامل صنم کی مشابہت سے تعلیل فرمایا جیسا کہ ہدایہ وکافی وتبیین میں ہے:
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۱
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۶
#4298 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
واللفظ للھدایۃلو لبس ثوبافیہ تصاویر یکرہ لانہ یشبہ حامل الصنم والصلوۃ جائزۃ فی جمیع ذلك لاستجماع شرائطہا وتعاد علی وجہ غیرمکروہ۔ ہدایہ میں یہ الفاظ ہیں کہ اگرکسی نے ایساکپڑاپہنا کہ جس میں تصویریں ہیں تومکروہ ہے اس لئے کہ یہ حالت بت اٹھانے والے کے مشابہ ہے اور نماز ان تمام صورتوں میں جائز ہےاس لئے کہ اس کی تمام شرائط موجود ہیں البتہ غیرمکروہ صورت پرنماز کولوٹایاجائے۔(ت)
اس حصر کے منافی نہیں کہ وقت عبادت حامل صنم سے مشابہت بھی عبادت صنم سے مشابہت ہے مگرانہیں کتب سے تعلیل مسائل میں دو علتیں اور مفہوم ہوتی ہیںایك یہ کہ جہاں تصویر ممنوع رکھی ہو ملائکہ اس مکان میں نہیں جاتے اور جس مکان میں ملائکہ رحمت نہ آئیں وہ ہرجگہ سے بدترہےدوسرے تعظیم تصویر۔ہدایہ میں ہے:
یکرہ ان یکون فوق راسہ فی السقف او بین یدیہ او بحذائہ تصاویر اوصورۃ معلقۃ لحدیث جبریل انا لاندخل بیتا فیہ کلب وصورۃ ۔ یہ مکروہ ہے کہ کسی انسان کے سر کے اوپرچھت میں تصویرلگی ہوئی ہو یا اس کے سامنے ہو یااس کے مقابل تصویریں ہوں یاکوئی تصویرلٹکی ہوئی ہواور اس کراہت کی وجہ حدیث جبرائیل ہے کہ انہوں نے فرمایا:"ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرہو۔(ت)
کافی میں اتنا زائدکیا:
وبیت لاتدخل فیہ الملئکۃ شرالبیوت ۔ جس گھر میں فرشتے داخل نہ ہوں وہ بدترین گھرہے۔(ت)
امام زیلعی نے دونوں تعلیلوں کو جمع فرمایا:
حیث قال لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ چناچہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے فرمایا اور وہ یہ ہے کہ فرشتے ایسے
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ۱/ ۱۲۲
کافی شرح وافی
#4299 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
کلب ولاصورۃ ولانہ یشبہ عبادتھا فیکرہ ۔ گھرمیں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرہو۔اور اس کی ایك وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں عبادت تصویر کی مشابہت ہے لہذا یہ مکروہ ہے۔(ت)
نیزکتب ثلثہ میں ہے:
لوکانت الصورۃ علی وسادۃ ملقاۃ او بساط مفروش لایکرہ لانھا تداس و توطأ بخلاف مااذا کانت الوسادۃ منصوبۃ اوکانت علی السترۃ لانہ تعظیم لھا اھ ھذا لفظ الھدایۃ ولفظ الکافی والتبیین اوکانت علی الستر اعنی بدون التاء وھواولی کمالایخفی۔ اگرکوئی تصویر پڑے ہوئے تکیے پرہویابچھے ہوئے بچھونے پر ہوتو مکروہ نہیں اس لئے کہ اس صورت میں اسے پامال کیا جاتاہے اور پاؤں میں رکھاجاتاہے بخلاف اس صورت کے کہ جب تکیہ کھڑاکیاجائے یاپردے پرکوئی تصویر ہو(اس صورت میں کراہت ہوگی)اس لئے کہ تصویر کی تعظیم پائی گئی اھ یہ الفاظ ہدایہ کے ہیںاورکافی اورتبیین کے یہ الفاظ ہیں یاکسی پردے پرتصویر کے نقوش ہوں۔میری مراد یہ ہے کہ لفظ ستر کے آخر میں حرف تاء نہیں ہوناچاہئے اور یہ زیادہ بہترہے جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
محقق نے فتح القدیر میں صرف مکان میں تصویرممنوع بروجہ اکرام رکھے ہونے کی کراہت کو نماز کی طرف ساری بتایا اگرچہ تشبہ عبادت نہ ہو
حیث قال لوکانت الصورۃ خلفہ او تحت رجلیہ ففی شرح عتاب لاتکرہ الصلوۃ ولکن تکرہ کراھۃ جعل الصورۃ فی البیت للحدیث ان الملئکۃ لاتدخل بیتا فیہ کلب اوصورۃ الا چنانچہ فتح القدیر نے فرمایا اگرتصویرپس پشت ہو یا اس کے دونوں پاؤں کے نیچے پڑی ہو تو شرح عتاب میں فرمایا کہ اس صورت میں نمازمکروہ نہ ہوگی لیکن تصویر کاگھرمیں رکھنا مکروہ ہے اس حدیث کی بناء پر کہ"اس گھرمیں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتایاتصویر ہو"۔مگر
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۶۶
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۲۲
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۶۷
#4300 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
ان ھذا یقتضی کراھۃ کونھا فی بساط مفروش وعدم الکراھۃ اذاکانت خلفہ وصریح کلامھم فی الاول خلافہ وقولہ(ای صاحب الھدایۃ)اشدھا کراھۃ ان تکون امام المصلی الی ان قال ثم خلفہ یقتضی خلاف الثانی ایضا لکن قدیقال کراھۃ الصلوۃ ثبت باعتبار التشبہ بعبادۃ الوثن ولیسوا یستدبرونہ ولا یوطونہ فیھا ففیما یفھم مماذکرنا من الھدایۃ (ای من الکراھۃ اذاکانت خلف المصلی)نظروقدیجاب بانہ لابعد فی ثبوتھا فی الصلوۃ باعتبارالمکان کما کرھت الصلوۃ فی الحمام علی احد التعلیلین وھو کونھا ماوی الشیاطین فان قیل فلم لم یقل بالکراھۃ ان کانت تحت القدم وماذکرت یفیدہ لانھا فی البیتوبہ یعترض علی المصنف ایضا حیث یقول لایکرہ کونھا اس کاتقاضاتو یہ ہے کہ اگرتصویر کسی بچھے ہوئے بچھونے پرہوتو کراہت ہوگی لیکن اس وقت کراہۃ نہ ہوگی جبکہ تصویر اس کے پیچھے ہو۔اور درصورت اول ائمہ کرام کاصریح کلام اس کے خلاف ہے۔او رصاحب ہدایہ کاارشاد کہ شدید تر کراہت ہوگیاگرکوئی تصویرنمازی کے آگے ہو۔یہاں تك کہ فرمایا پھر اس سے کم درجہ کراہت ہوگی جبکہ تصویر اس کے پیچھے ہو۔اور یہ صورت ثانیہ کے خلاف کاتقاضاکرتی ہے لیکن کبھی یہ بھی کہہ دیاجاتا ہے کہ نمازمیں ثبوت کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں عبادت صنم سے تشبہ ہےحالانکہ کسی صنم کے پجاری دونوں صورتوں میں نہ تو اس سے پیٹھ پھیرتے ہیں نہ ہی اسے پامال کرتے ہیں لیکن جوکچھ ہم نے ہدایہ سے ذکرفرمایا اس سے تویہی مفہوم ہوتاہے کہ اگرتصویر نمازی کے پیچھے ہوتوبھی کراہت ہوگی۔لہذا اس قول میں نظر اور اشکال ہے۔لیکن کبھی یہ جواب دیاجاتاہے کہ بحیثیت مکان کراہت نماز کے ثبوت میں کوئی بعد نہیں۔جیسا کہ ایك تعلیل کے مطابق حمام میں نمازپڑھنا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیاطین کا ٹھکانا(اورمرکز)ہے۔اگرکہاجائے کہ یہ کیوں نہ کہاگیا کہ اگر تصویر پاؤں میں پڑی ہو توبھی کراہت ہوگیحالانکہ جوکچھ بیان فرمایاگیا اس سے تویہ فائدہ حاصل ہوتاہےاس لئے کہ تصویر گھرمیں موجود ہےباوجودیکہ اس سے
#4301 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فی وسادۃ ملقاۃ فالجواب لایکرہ جعلھا فی المکان کذلك لیتعدی الی الصلوۃ وحدیث جبریل مخصوص بذلك اھ ملخصا۔ مصنف علیہ الرحمۃ پراعتراض کیاجاسکتاہے اس لئے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ اگرپڑے ہوئے گدے میں تصویر ہو تو کراہت نہ ہوگیتو اس کاجواب یہ ہے کہ مکان میں بایں طور تصویر رکھنا مکروہ نہیں تاکہ نمازکی طرف تعدیہ ہو۔اور حدیث جبریل اس سے مخصوص ہے اھ ملخصا(ت)
ان کے تلمیذ محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں صرف امتناع ملئکہ کے علت ہونے کااستظہار اور تشبہ پرمدار سے انکارفرمایاہاں اسے موجب زیادت کراہت بتایا
وھذا نصہ فان قیل ان کانت العلۃ فی الکراھۃ کون المحل الذی تقع فیہ الصلوۃ لاتدخلہ الملئکۃ حینئذ لان شرالبقاع بقعۃ لاتدخلہ الملئکۃ فینبغی ان تکرہ الصلوۃ فی بیت فیہ الصورۃ سواء کانت مھانۃ اوغیرمھانۃ فان ظاھر نص الصحیحین عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ یقتضی انہ لاتدخل الملئکۃ ھذا البیت ایضا(ای مافیہ الصورۃ مھانۃ)لان النکرۃ فی سیاق النفی عامۃ غایۃ الامر ان کراھۃ الصلوۃ فیما چنانچہ محقق موصوف کی یہ تصریح ہےاگرکہاجائے کہ کراہت کی علت گھر میں فرشتوں کاداخل نہ ہونا ہے تو جس گھر میں تصویر موجود ہووہاں نمازمکروہ ہو وہ تصویر خواہ تذلیل کی صورت میں ہو یاغیرتذلیل کی صورت میں ہوکیونکہ بخاری اورمسلم کی ظاہر نص یہی چاہتی ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہ ہوں گے جس میں تصویر بصورت تذلیل ہی رکھی ہو کیونکہ نکرہ سیاق نفی میں عام ہوتاہےاور نص جو حضوراکرم(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)سے مروی ہے وہ یہ ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرموجودہو۔(نکرہ سیاق نفی میں عام ہوتاہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث پاك میں لفظ"بیتا" نکرہ ہے جس کا معنی"کوئی گھر"ہے اور یہ"لاتدخلہ"جوجملہ منفیہ ہے اس کے تحت داخل ہے یعنی فرشتے
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۲
#4302 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اذا کانت الصورۃ فی موضع سجودہ اوامامہ اوفوقہ اشد وان کانت العلۃ فی الکراھۃ التشبہ بعبادۃ الصورۃ فلاتکرہ اذالم تکن امامہ ولافوق راسہ لان التشبہ لایظھر الااذاکان علی احد ھذین الوجہین فالجواب ان الذی یظھر ان العلۃ ھی الامر الاول واما الباقی فعلاوۃ تفید اشدیۃ الکراھۃ غیر ان عموم النص المذکور مخصوص باخراج ماتقدم اخراجہ من الکراھۃ اھ ملخصا۔ کسی ایسے گھرمیں نہیں جاتے جہاں کسی بھی حالت میں تصویر موجودہو۔مترجم)انتہائی امریہ ہے کہ نمازمیں اس صورت میں شدید ترکراہت ہوگی جبکہ تصویر محل سجدہ میں ہو یانمازی کے آگے یااس کے اوپراور اگرکراہت کی علت عبادت تصویر سے تشبہ ہو تو اگرتصویر نمازی کے آگے یا اس کے سرکے اوپر نہ ہوتوکراہت نہ ہوگی کیونکہ تشبہ صرف ان دو صورتوں میں ظاہرہوتاہے۔جواب یہ ہے کہ جوکچھ ظاہر ہوتاہے وہ یہ ہے کہ علت صرف پہلاامرہے اور اس کے علاوہ جوکچھ باقی ہے وہ شدیدترکراہت کافائدہ دیتاہے۔علاوہ یہ کہ نص مذکور کاعموممخصوص منہ البعض ہے کہ اس سے وہ کراہت خارج کرد ی گئی کہ جس کے اخراج کا ذکرپہلے آگیاہے اھ ملخصا(ت)
اسی بناپر صورصغار سے نفی کراہت کی دلیل کہ بدایہ وکافی وتبیین وعامہ مشائخ کرام نے افادہ فرمائی اور ان کے شیخ محقق علی الاطلاق نے اس پرتقریر کیاعتراض فرمادیا
فقال اما عدم الکراھۃ اذاکانت الصورۃ صغیرہ لا تظھر للناظر علی بعد فقالوا لانھا لاتعبد والکراھۃ انما کانت باعتبار شبہ العبادۃ وقد عرفت مافی ھذا۔ محقق ابن ہمام نے فرمایارہی یہ بات کہ کراہت نہ ہوگی جبکہ تصویر اتنی چھوٹی ہوکہ دیکھنے والے کے لئے دور سے واضح اور نمایاں نہ ہوتوائمہ فقہ نے عدم کراہت کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس قدر چھوٹی تصویر کی عبادت نہیں کی جاتی اور تحقق کراہت باعتبار شبہ عبادت ہےبلاشبہہ اس میں جو نقص ہے آپ اسے پہچان گئے(ت)
صاحب بحرنے بحرمیں ان کی تبعیت کی بلکہ ان کے استظہار پر جزم کیا
فقال انما لم تکرہ الصلوۃ فی بیت مصنف بحررائق نے فرمایاایسے گھرمیں نمازپڑھنی
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4303 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فیہ صورۃ مھانۃ مع عموم الحدیث ان الملئکۃ لاتدخلہ وھو علۃ الکراھۃ لوجود مخصص(الی ان قال)الا ان تکون صغیرۃ لان الصغار جدا لاتعبد والکراھۃ انما کانت باعتبار شبہ العبادۃ کذا قالوا وقد عرفت مافیہ اھ قال فی منحۃ الخالق مافیہ ای ان العلۃ لیست التشبہ بل عدم دخول الملئکۃ علیھم السلام اھ اقول:کل کلامہ ھھنا ماخوذ عن الحلیۃ و ان لم یعزالیھا ولم یقدم ماقدم ھو لنفی علیۃ التشبہ من لزوم ان لاتکرہ اذا لم تکن امامہ ولا فوقہ فلم یستقم لہ قولہ قدعرفت مافیہ۔ مکروہ نہیں کہ جس میں تصویر کی تذلیل ہو باوجود عموم حدیث کہ تصویر والے گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتےاور ان کا غیردخول کراہت کے لئے علت ہے باوجودیکہ اس کا مخصص موجودہےیہاں تك کہ فرمایامگریہ کہ تصویرچھوٹی ہوکیونکہ بلاشبہہ چھوٹی تصویروں کی عبادت نہیں ہوتیاور کراہۃ باعتبار شبہ عبادت ہےائمہ کرام نے یونہی ذکر فرمایا۔ اور تمہیں معلوم ہے جوکچھ اس میں کمزوری ہے اھمنحۃ الخالق میں فرمایا جوکچھ اس میں ہے(مافیہ)یعنی علت محض تشبہ نہیں بلکہ ملائکہ کرام علیہم السلام کاوہاں عدم دخول ہے اھ اقول:(میں کہتاہوں)یہاں ان کاسارا کلام الحلیہ سے ماخوذ ہے اگرچہ اس کی طرف نسبت نہیں کی اورمقدم نہیں کیا (یعنی پہلے ذکرنہیں کیا)جوکچھ اس نے مقدم کیاتھا"علیۃ"تشبہ کی نفی کے لئے بوجہ اس لزوم کے کہ نمازمکروہ نہیں ہوتی جبکہ تصویرآگے اوراوپرنہ ہو۔لہذا اس کایہ کہنا کہ قدعرفت مافیہ ٹھیك اور مستقیم نہیں۔(ت)
پھرمحقق حلبی نے اثنائے کلام میں دوعلت باقی اعنی تشبہ وتعظیم کی طرف بھی میل فرمایا یہاں تك کہ صورت تشبہ وشبہہ تعظیم کوموجب ٹھہرایااور بحرنے بدستوراتباع کیا
وھذا نص الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا وذکر الاحادیث المخصصۃقال نعم علی ھذا یقال ینبغی ان لاتکرہ الصلوۃ علی بساط فیہ صورۃ وان کانت فی حلیہ کی یہ تصریحاس کے بعد سے جوکچھ ہم اس کے حوالہ سے پہلے بیان کرآئے ہیں اور بعد ذکرفرمانے احادیث مخصصہ کے فرمایا چنانچہ اس نے کہا کہ ہاں اس روش پریہ کہاجاسکتاہے کہ پھرتومناسب ہے کہ نماز ایسے بچھونے پر
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۷،۲۸
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۷،۲۸
#4304 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
موضع السجود لان ذلك لیس بمانع من دخول الملئکۃ کما افادتہ ھذہ النصوص فان قلت الکراھۃ فی ھذہ الصورۃ انما ھی معللۃ بالتشبہ بعبادۃ الاصنام لاغیر قلت یمکن ان یقال وجود التشبہ المذکور فی ھذہ الصورۃ ممنوع فان عباد التماثیل والصور لا یسجدون علیھا وانما ینصبونھا ویتوجہون الیھا بل الذی ینبغی ان یکرہ علی ھذا مااذا کانت الصورۃ امامہ لافی موضع سجودہ اللھم الا ان یقال انھا اذا کانت امامہ فی موضع سجودہ تکون فی الصلوۃ صورۃ الشبہ بالعبادۃ لھا فی حالۃ القیام والرکوع ثم فی حالۃ السجود علیھا ان لم یوجد التشبہ بعبادتھا فھو لایعری عن نوع شبہ بتعظیم الصور لان ذلك یشبہ فی صورۃ الخضوع لھا وتقبیلھا ولاباس بھذا التوجیہ وان لم یذکروہ۔ مکروہ نہ ہوکہ جس میں تصویرہواگرچہ وہ جائے سجدہ میں ہو کیونکہ یہ دخول ملائکہ سے مانع نہیں جیساکہ ان نصوص نے افادہ بخشا۔اگرکہاجائے کہ اس صورت میں کراہت معللہ کی علت صرف تشبہ عبادت اصنام ہے اورکچھ نہیں۔میں کہتا ہوں ممکن ہے یہ کہاجائے کہ اس صورت میں"تشبہ" مذکور کاپایاجانا ممنوع(غیرمسلم)ہے اس لئے کہ مورتیوں اور تصویروں کے پجاری ان پرسجدہ نہیں کرتے بلکہ انہیں کھڑا کرکے ان کی طرف متوجہ رہتے ہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس صورت میں کراہت اس وقت ہو کہ جب تصویر اس کے آگے ہونہ کہ اس کے محل سجدہ میں ہو۔اے اﷲ! تیری ہی نصرت سے یہ کہا جائے کہ جب تصویر اس کے آگے اس کی جائے سجدہ میں ہوتو پھرنماز میں بحالت قیام اوررکوع تشبہ عبادت صورتا پایاجائے گاپھرتصویر پرسجدہ کرنے کی صورت میں اگرچہ تصویر کے لئے تشبہ عبادت نہ پایاجائے گا تاہم یہ حال اس سے خالی نہ ہوگا کہ اس میں تعظیم تصویر کا ایك نوع شبہ ہوگاکیونکہ یہ صورت تصویر کے لئے عاجزی اور اس کی بوسہ زنی کے مشابہ ہوگی اور اس توجیہ کے ذکر کرنے میں کچھ حرج نہیں اگرچہ ائمہ کرام نے اسے ذکرنہیں فرمایا۔(ت)
علامہ شامی نے تشبہ وتعظیم دوعلتیں رکھیں اورامتناع ملائکہ سے تعلیل کونامناسب ٹھہرایا
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4305 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اولا باتباع ہدایہ وغیرہا فرمایا:
علۃ کراھۃ الصلوۃ بھا التشبہ تصویر کے ساتھ نمازپڑھنے کی کراہت کی علت تشبہ عبادت ہے(ت)
پھرچندقول کے بعد لکھا:
قد ظھر من ھذا ان علۃ الکراھۃ فی المسائل کلھا اما التعظیم او التشبہ علی خلاف مایاتی ۔ اس سے یہ ظاہر اور واضح ہوا کہ ان تمام مسائل میں کراہت کی علت دوچیزوں میں سے ایك چیزہے۔(۱)تعظیم
(۲)یاتشبہ عبادت۔اس کے خلاف ہے جوکچھ آگے آئے گا۔ (ت)
پھرایك صفحہ کے بعد کلام مذکورحلیہ وبحرتلخیص کرکے فرمایا:
اقول:الذی یظھر من کلامھم ان العلۃ اما التعظیم او التشبہ کما قدمناہ والتعظیم اعم کما لوکانت عن یمینہ اویسارہ اوموضع سجود فانہ لاتشبہ فیھا بل فیھا تعظیموماکان فیہ تعظیم وتشبہ فھو اشد کراھۃوخبر جبریل علیہ الصلوۃ والسلام معلول بالتعظیم بدلیل الحدیث الاخر وغیرہ فعدم دخول الملئکۃ انما ھو حیث کانت الصورۃ معظمۃ وتعلیل کراھۃ الصلوۃ میں کہتاہوں جوکچھ ان کے(ائمہ کرام کے)کلام سے ظاہر ہوتاہے وہ یہ ہے کہ کراہت کی علت تعظیم یاتشبہ ہےجیسا کہ ہم نے اس کو پہلے بیان کردیاہےاو رتعظیم زیادہ عام ہے جیسا کہ اگر تصویر اس کی دائیں یابائیں طرف ہو یا اس کے محل سجدہ میں ہو(توتعظیم پائی جائے گی)کیونکہ ان صورتوں میں تشبہ عبادت نہیں بلکہ ان میں صرف تعظیم ہےلیکن جس صورت میں تعظیم اورتشبہ دونوں ہوں توپھر اس میں شدید ترکراہت ہوگیاورحضرت جبریل علیہ السلام کی خبر معلول بالتعظیم ہے اس کی دلیل دوسری حدیث وغیرہ ہے اور فرشتوں کاداخل نہ ہونا وہاں ہے جہاں تصویرتعظیم سے رکھی ہواو رنماز کے مکروہ ہونے کی تعلیل تعظیم کو
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
#4306 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بالتعظیم اولی من التعلیل بعدم الدخول لان التعظیم قدیکون عارضا لان الصورۃ اذا کانت علی بساط مفروش تکون مھانۃ لاتمنع من الدخول ومع ھذا لوصلی علی ذلك البساط وسجد علیھا تکرہ لان فعلہ ذلك تعظیم لھا والظاھر ان الملئکۃ لاتمنع من الدخول بذلك الفعل العارض ۔ قراردینا عدم دخول ملائکہ کوتعلیل قراردینے سے کہیں بہتر ہے کیونکہ تعظیم کبھی عارضی ہوتی ہے مثلا تصویر کسی بچھے ہوئے بچھونے پرتذلیل سے پڑی ہوتوپھریہ دخول ملائکہ سے مانع نہ ہوگی۔اس کے باوجود اگر اس بچھونے پرنمازپڑھے اور اس تصویر پرسجدہ کرے تو کراہت ہوگیکیونکہ اس کا یہ فعل تصویر کی تعظیم ہےاور ظاہرہے کہ اس عارضی فعل کی وجہ سے فرشتے وہاں جانے سے نہیں رکتے۔(ت)
عجب یہ کہ علامہ قوام کاکی نے درایہ میں بعض صورتیں تعظیم وتشبہ دونوں منتفی مان کرکراہت ثابت مانی۔درمختارمیں ہے:
اختلف فی مااذا کان التمثال خلفہ والاظھر الکراھۃ ۔ اس میں اختلاف کیاگیا جبکہ تصویر پیٹھ پیچھے ہوزیادہ ظاہریہ ہے کہ کراہت ہوگی الخ(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لکنھا فیہ ایسرلانہ لاتعظیم فیہ ولاتشبہ معراج ۔ لیکن کراہت اس میں زیادہ آسان ہے کیونکہ اس میں نہ تو تعظیم ہے او رنہ تشبہ ہےمعراج۔(ت)
علامہ شامی نے اس نفی کی یہ توجیہ کی:
قلت وکان عدم التعظیم فی التی خلفہ وان کانت علی حائط اوستران فی استدبارھا استھانۃ لھا فیعارض ما فی تعلیقھا من التعظیم بخلاف ماعلی بساط مفروش ولم یسجد علیھا فانہا مستہانۃ میں کہتاہوں اگرتصویر پیٹھ پیچھے ہوتو گویا اس کی کوئی تعظیم نہیں اگرچہ دیوار یاپردے پر ہو اس لئے کہ اسے پیٹھ پیچھے رکھنے میں اس کی توہین وتذلیل ہےاور تصویرلٹکانے میں جو اس کی تعظیم ہے وہ اس کے معارض ہے بخلاف اس صورت کے تصویر بچھائے گئے بچھونے پرہو لیکن اس پرسجدہ نہ کرے پھروہ توبہروجہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
#4307 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
من کل وجہ ۔ ذلیل وخوارہے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)او رعجب تریہ کہ باوصف انتفائے وصفین اثبات کراہت کی یہ توجیہ فرماکر اس کے متصل ہی وہ لکھاکہ:
قدظھر من ھذا ان علۃ الکراھۃ فی المسائل کلھا التعظیم اوالتشبہ وھل ھوالاتفریع علی النقض ۔ اس میں اختلاف کیاگیاجبکہ تصویرپیٹھ پیچھے ہو(کہ اس کاحکم کیاہے)پس زیادہ ظاہریہ ہے کہ کراہۃ ہوگی بیشك اس سے واضح ہوا کہ ان مسائل میں کراہت کی علت تعظیم یاتشبہ ہےاو ریہ تونہیں مگرتفریع برنقض۔(ت)
یہ ہیں بظاہرسات رنگ کے اقوال وانا اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(اورمیں کہتاہوں اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے ہے تحقیق کی بلندیوں تك پہنچنا۔ت)افادات مشائخ کرام کہ ہدایہ واتباع ہدایہ میں مذکور ہوئے ضرور حق وصحیحاورہرغبار سے پاك ونجیح ہیں بیشك سواتشبہ کے کچھ علت نہیںاور بیشك تعظیم علت ہےاور بیشك امتناع ملائکہ علت ہےمتاخرین کے اختلافات وترددات کامنشا ان امورثلثہ میں تفارق سمجھناہے حالانکہ ان میں باہم تلازم ہے تشبہ عبادت بے تعظیم ناممکن ہوناتو بدیہی کہ عبادت غایت تعظیم ہے جہاں اصلا کسی طرح شائبہ تعظیم نہ ہو وہاں شبہ عبادت کیا معنیولہذا اگربساط مفروش میں تصویر ہو اور وہ بساط جانمازنہ ہو نہ مصلی تصویر پرسجدہ کرے تو ہمارے ائمہ کے اجماع سے اصلا کراہت نہیں کہ اب کوئی وجہ تعظیم نہ پائی گئی توتشبہ عبادت کہ یہی علت تھا متحقق نہ ہوا کماتقدم من الکتب الثلثۃ و مثلہ فی سائرھن(جیساکہ تین کتابوں کے حوالے گزرچکے اورباقی کتابوں میں بھی اسی طرح ہے۔ت)یوہیں تعظیم تصویر تشبہ عبادت کومستلزم کہ تعظیم دونوں کوجامع ہے جب اس کادرجہ اعلی عبادت ہے ادنی میں اس سے مشابہت ہے اقول:(میں کہتا ہوں)یہ اس لئے کہ تصویر کوکوئی علاقہ رب عزوجل سے نہیں اور حقیقی مستحق ہرتعظیم وہی حقیقی جلیل عظیم عزجلالہ ہے معظمان دینی کی تعظیم اس کی طرف نسبت وعلاقہ سے ہے وہ غایت عظمت میں ہے تو غایت تعظم اعنی عبادت اسی کے لائق دوسرے کہ اس سے منتسب ہیںاپنی اپنی نسبتوں کے قدر اس کے حکم سے دیگرمعظمات نازلہ کے مستحقتویہ تعظیمیں"اعطاء کل ذی حق حقہ"کے قبیل سے ہوئیں بلکہ حقیقۃ اسی کی تعظیم ہیںولہذا حضورسیدالعالمین اعظم المعظمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ بوڑھے مسلمان اور سنی عالم اورعادل بادشاہ کی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۵
#4308 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
المسلم وحامل القران غیرالغالی فیہ والجافی عنہ واکرام السلطان المقسط رواہ ابوداؤد بسند حسن عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تعظیمیں اﷲ ہی کی تعظیم ہیں(امام ابوداؤد نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کوروایت فرمایا ہے۔ت)
مگرجس وجہ کو اس عظیم حقیقی سے علاقہ نہیں وہ اصلا لائق تعظیم نہیں اور اب جو اس کی ذرا بھی تعظیم کی جائے گی استقلال کی بودے گی کہ علاقہ تبعیت منتفی ہے لاجرم تشبہ عبادت سے مفرنہ ہوگاولہذا امام علام فخرالاسلام نے شرح جامع صغیرمیں فرمایا:
امساك الصورۃ علی سبیل التعظیم ظاھرا مکروہ لان ذلك یشبہ عبادۃ الصنم اھ نقلہ عنہ فی الحلیۃ ۔ برملا بطورتعظیم کسی تصویر کواٹھانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں عبادت صنم سے مشابہت ہے اھ"الحلیہ"میں اس کو اسی راوی (ابوموسی اشعری)سے نقل کیاہے۔(ت)
یوہیں امتناع ملائکہ اسی گھرمیں جانے سے ہوگا جہاں تصویر بروجہ تعظیم رکھی ہو ورنہ ہرگزنہیںحدیث مذکور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی اس میں نص صریح ہےامین الوحی علیہ الصلوۃ والتسلیم نے اپنے نہ حاضر ہونے کی وجہ یہ عرض کی کہ پردہ پرتصویریں منقوش تھیں اور اس کاعلاج یہ گزارش کیاکہ اسے کاٹ کر دومسندیں بنائی جائیں کہ زمین پرڈالی اور پاؤں سے روندی جائیںاگر اس کے بعد بھی امتناع باقی رہتا توعلاج کیاہوا
فانتفی قول العتابی فیماکانت تحت قدمیہ انھا تکرہ کراھۃ جعلھا فی البیوت لاجل الحدیث وقد تقدم عن الفتح انہ خلاف صریح کلامھم اقول:بل خلاف صریح کلام لہذا علامہ عتابی کاقول منفی اورزائل ہوگیا کہ اگر تصویرقدموں میں پڑی ہو توپھربھی کراہت ہوگی کہ وہ گھرمیں موجودہے اور ایساحدیث کی وجہ سے ہےاور فتح القدیر کے حوالہ سے پہلے بیان ہوچکاکہ بات کلام ائمہ کرام کے بالکل صریح خلاف ہے اقول:(میں کہتاہوں)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4309 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
محررالمذھب محمد حیث قال فی مؤطاہ بعدماروی حدیثا فی المعنی وبھذا ناخذ ماکان فیہ من تصاویر من بساط یبسط اوفراش یفرش اووسادۃ فلاباس بذلك انما یکرہ من ذلك فی الستر وماینصب نصبا وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا اھ وقدروی الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ رخص فیما کان یوطأ وکرہ ماکان منصوبا ۔ (یہی نہیں)بلکہ یہ محررمذہب(مذہب کوقلمبند کرنے والا) امام محمد کے کلام کے بھی صریح خلاف ہے جیسا کہ امام محمد نے اپنی موطامیں ارشاد فرمایابعد روایت کرنے حدیث کے اس معنی میںیہی وجہ ہے کہ ہم اسی کواختیارکرتے ہیں کہ جس بچھائے ہوئے بچھونے پرتصویریں ہوں یابچھائے گئے فرش یاتکیے میں ہوں تو ان میں کچھ حرج نہیںہاں اگرپردے پرنقش ہوں یاکسی کھڑی کی ہوئی چیزمیں ہوتو ضرور کراہت ہوگی اور یہی امام ابوحنیفہ اورہمارے عام فقہائے کرام کاارشاد ہے اھ اورامام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے نبی مکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرمائی کہ جوتصویر پامال اورذلیل شدہ ہو آپ نے س کی رخصت اوراجازت دیاور جواستادہ اور بحالت قیام ہو اسے ناپسند فرمایا۔(ت)
ردالمحتارمیں ٹھیك کہاکہ:
عدم دخول الملئکۃ انما ھو حیث کانت الصورۃ معظمۃ ۔ فرشتوں کاکسی گھرمیں داخل نہ ہونا اس وقت ہے جبکہ تصویر عظمت سے رکھی ہو۔(ت)
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
قال الخطابی انما لاتدخل علامہ خطابی نے فرمایا:فرشتے اس گھر میں
حوالہ / References مؤطا الامام محمد باب التصاویر والجرس ومایکرہ منہا آفتاب عالم پریس لاہور ص۳۸۲
المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
#4310 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الملئکۃ بیتا فیہ کلب اوصورۃ ممایحرم اقتناؤہ من الکلاب والصور واما مالیس بحرام من کلب الصید و الزرع والماشیۃ ومن الصورۃ التی تمتھن فی البساط و الوسادۃ وغیرھما فلایمنع دخول الملئکۃ بیتہقال النووی والاظھرانہ عام فی کل کلب وصورۃ وانھم یمتنعون من الجمیع لاطلاق الاحادیث ولان الجر و الذی کان فی بیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تحت السریر کان لہ فیہ عذر ظاھر لانہ لم یعلم بہ ومع ھذا امتنع جبریل علیہ الصلوۃ والسلام من دخول البیت وعللہ بالجرو اھ مانقلہ القاری مقرا علیہ۔
اقول:ماقالہ الامام النووی رحمہ اﷲ تعالی ورحمنا بہ محتمل فی الکلب علی نزاع ظاھر نہیں داخل ہوتے کہ جس میں ایساکتا یاایسی تصویر ہو ان کتوں یا ان تصویروں میں سے کہ جن کامحفوظ رکھنا حرام ہے۔لیکن جس کتے اورتصویر کامحفوظ رکھناحرام نہیں مثلا شکاری کتا یاکھیتی باڑی اور مال مویشی کی حفاظت کے لئے کتا رکھنایاوہ تصویر جوتوہین وتذلیل کی صورت میں بچھونے اور تکیے وغیرہ پرہو (اورایسی تصویرکارکھنا حرام نہیں)لہذا یہ فرشتوں کوگھرمیں داخل ہونے سے نہیں روکتی۔امام نووی نے فرمایا:زیادہ ظاہر یہ ہے کہ حکم مذکورعام ہے ہرکتے اور ہرتصویر کو شامل ہے لہذا فرشتے ان سب وجہوں سے جانے سے رك جاتے ہیں اس لئے کہ احادیث واردہ میں اطلاق ہے(یعنی ان میں کوئی قید مذکورنہیں)اور اس کی ایك وجہ یہ بھی ہے کہ جو بچہ سگ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے کاشانہ اقدس میں تھا وہ تخت کے نیچے روپوش تھا اور اس میں حضورپاك کے لئے ایك واضح عذرتھا کیونکہ آپ کو اس کی پوری تفصیل معلوم نہ تھی(اور اس کی وجہ آپ کی توجہ تھی)پس اس کے باوجود حضرت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام گھرمیں داخل ہونے سے رك گئے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ گھرمیں بچہ سگ موجود ہے اھ جو حضرت ملاعلی قاری نے اقرار کرتے ہوئے نقل فرمائی۔ اقول:
حوالہ / References مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس تحت حدیث ۴۴۸۹ ۸/ ۲۶۵ و ۲۶۶
#4311 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فیما استدل لہ بہ وان تبعہ فیہ الشیخ فی اشعۃ اللمعات ورجع اخرا الی استثناء کلب یحل اقتناؤہ و ذلك لانہ کم من فرق بین مارخصہ الشرع لحاجۃ و بین ماوقع من غیرالمرخص بدون علم وما مثلہ الا کنجاسۃ معفوۃ شرعا واخری کثیرۃ صلی معھا من دون علم بھااما ماذکر فی الصورۃ فلایصرح حدیث جبریل المذکوروایضا اخرج البخاری والامام احمد عن ام المؤمنین انھا کانت اتخذت علی سھوۃ لھا سترافیہ تماثیل فھتکہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالت فاتخذت منہ نمرقتین فکانتا فی البیت نجلس علیھما زاد احمد ولقد رأیتہ متکئا علی احدھما (میں کہتاہوں)جوکچھ امام نووی نے ارشاد فرمایا(اﷲ تعالی ان پررحمت برسائے او ران کے طفیل ہم پربھی رحمت کانزول فرمائے)کتے میں واضح نزاع کی وجہ سے اس کااحتمال ہے کہ جس سے موصوف نے استدلال کیاہے اگرچہ شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ نے بھی اس مسئلہ میں ان کا ساتھ دیاہےاو رآخرمیں اس کتے کااستثناء فرمایا کہ جس کی حفاظت کرنا شرعا حلال اورجائزہےیہ اس لئے کہ بڑا فرق ہے اس کے درمیان کہ جس کی کسی ضرورت سے شریعت نے اجازت اور رخصت دی اور اس کے درمیان کہ بغیر رخصت دئیے بغیر علم واقع ہوا۔اور اس کی مثال نہیں مگر اس مقدارنجاست کی طرح جوشرعا معاف ہے۔ اور دوسری مقدارعفو سے بہت زیادہ ہے کہ بغیرعلم اس کے ساتھ کسی شخص نے نماز پڑھی۔لیکن جوکچھ تصویر (صورۃ)کے بارے میں ذکرکیاگیاہے توذکرکردہ حدیث جبریل اس کی کوئی تصریح نہیں کرتینیزبخاری اور امام احمد نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی کہ مائی صاحبہ نے طاق پر ایك پردہ لٹکایا جس میں نقشی تصویریں تھیںتوحضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المظالم والقصاص باب ھل تکسرالدنان التی فیہا الخمر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۳۷
#4312 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وفیھاصورۃ اھ ۔وماکان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیترك فی البیت شیئا یمنع دخول جبریل علیہ الصلوۃ والتسلیم بل فی حدیثھا رضی اﷲ تعالی عنھا عند الطحاوی قالت اشتریت نمرقۃ فیھا تصاویر فلمادخل علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فراھا تغیر ثم قال یاعائشۃ ماھذہ فقلت نمرقۃ اشتریتھا لك تقعد علیھا قال انا لاندخل بیتا فیہ تصاویر فالحق ان الامتناع مختص بغیر المھانۃواﷲ تعالی اعلم۔ نے اسے پھاڑدالامائی صاحبہ نے فرمایا:پھرمیں نے اس کے دو چھوٹے تکیے بناڈالےوہ گھر میں رکھے ہوتےاور ہم اہل خانہ ان پربیٹھتے(یعنی ان سے ٹیك لگاکربیٹھتے)امام احمد نے اس پراتنا اضافہ کیابلاشبہہ میں نے حضورپاك کودیکھا کہ آپ ان دونوں میں سے ایك پرٹیك لگاکر تشریف فرماہوتے جبکہ اس پر تصویرتھی اھحضوراقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی ہرگزیہ شان نہیں کہ گھرمیں کوئی ایسی چیزچھوڑدیتے جو حضرت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کوگھرمیں داخل ہونے سے روك رکھتیبلکہ امام طحاوی کے نزدیك مائی صاحبہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی روایت کچھ اس طرح ہےفرمایا:میں نے ایك تکیہ خریدا جس میں نقشی تصویریں تھیں پھرجب حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور اسے دیکھا توچہرہ اقدس کارنگ تبدیل ہوگیا اورارشاد فرمایا:(اے عائشہ!)یہ کیاہے میں عرض کی ایك چھوٹا ساتکیہ ہے جومیں نے آپ کی خاطر خریداہےکہ اس سے آپ سہارالگائیں گےارشاد فرمایا:ہم ایسے گھرمیں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں تصویریں ہوں۔حق یہ ہے امتناع ان تصویروں سے مختص ہے جوبغیرتذلیل وتوہین باعزت طریقے سے رکھی ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
توظاہرہواکہ تینوں علتیں متلازم ہیں اور تینوں سے تعلیل صحیح ہے اور ان میں سے ہرایك میں حصربھی کرسکتے ہیںاورمغز تحقیق یہ ہے کہ اصل علت تعظیم ہے تعظیم ہی سے تشبہ پیداہوتاہے اور تعظیم ہی سے ملائکہ رحمت نہیں آتےولہذا اہانت کی صورتیں جائزرکھی گئیں کہ فرش
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۲۴۷
شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب الصورتکون فی الثیاب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۴۰۰
#4313 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
میں ہوں جن پربیٹھیںکھڑے ہوںپاؤں رکھیںیہ تقریر کلام مشائخ ہے وﷲ الحمد۔
ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)جبکہ ہرتعظیم تشبہ عبادت صورت ہے اور ہرتشبہ عبادت ملائکہ کے لئے قطعا موجب نفرت توعارض ولازم میں تفرقہ محض بے اصلتعلیق ونصب میں بھی تعظیم اسی فعل سے عارض ہو ئی نہ کہ نفس ذات صورت کو لازم تھی توبساط مفروش میں جب تصاویر کوموضع سجود میں رکھ کر ان پرسجدہ کیاجائے گا بعینہ انہیں معلق ومنصوب کرنے کے مثل ہوگا اور اس وقت دخول ملئکہ کومنع کرے گا کہ ان کاامتناع بوجہ تعظیم تھا اور تعظیم پائی گئی
فمااستظھرہ الشامی غیر ظاھر فان فرق بان جعلھا فی المفروش اھانۃ لہا فتعارض تعظیم السجود علیھا فذلك امراخر غیر کون التعظیم عارضا وستعلم مافیہ بعون اﷲ تعالی اما قول الحلیۃ ذلك لیس بمانع من دخول الملئکۃ کما افادتہ ھذہ النصوص اقول:لم تفد النصوص ان مجرد جعلھا فی فراش اووسادۃ یخرجھا عن منع الملئکۃ بل قیدتہ بقولہ منبوذتین توطان وللنسائی فی رایۃ یجعل بساطا یوطأ لہذا علامہ شامی نے جس کوظاہر قراردیا ہے وہ (در حقیقت) ظاہرنہیں اور اگریہ فرق کیاجائے کہ بچھے ہوئے فرش میں کسی تصویرکاہونا(اورپیوستگی رکھنا)اس کی توہین وتذلیل ہے اور اس پر سجدہ کرنے کی وجہ سے حصول تعظیم اس کے متعارض ومتصادم ہے تویہ اورچیزہے نہ یہ کہ تعظیم کا عارض ہوناہے اور ابھی تمہیں اﷲ تعالی کی مددسے معلوم ہوجائے گا جوکچھ اس میں کمزوری اورنقص ہے لیکن صاحب حلیہ کایہ کہنا کہ یہ دخول ملائکہ سے مانع نہیں جیسا کہ ان نصوص نے افادہ دیا۔میں اس کے متعلق گزارش کرتاہوں کہ نصوص سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہواکہ کس تصویر کوفرش یا تکیے میں رکھنا اسے امتناع ملائکہ سے نکال دیتاہے بلکہ نصوص نے اس کو اس قول سے مقیدکیاہے کہ وہ تصویریں پھینکی ہوئی پامال شدہ ہوں(تاکہ ان کی صحیح اہانت اور تذلیل ہو)اور امام نسائی
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
سنن النسائی کتاب الزینۃ ذکراشد الناس عذابا میرمحمدکارخانہ کتب کراچی ۲/ ۳۰۱
#4314 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وللطبرانی فی الاوسط رخص فیماکان یوطأ فمن جعلہا فی بساط ثم علقہ علی الجدار کالاستار اووضعہ علی الراس حرم قطعا ومنع الملئکۃ من الدخولفکذا من جعلہا فی بساط ثم سجد علیھا وبالجملۃ القصد ھوالاستھان ولم یحصلالاتری الی مافی البحر عن المحیط اذاکانت علی الوسادۃ ان کانت قائمۃ یکرہ لانہ تعظیم لھا وان کانت مفروشۃ لایکرہ اھ والی مافی الحلیۃ من شرح الجامع الصغیر للامام النووی یکرہ مایکون علی الوسائد الکبار(ای لانتصابہ یکرھا)وکذلك کل شیئ نصیب فیصیر تعظیما لہ فاما اذاکان تحقیر الہ فلاباس کالبساط المفروش والوسادۃ الملقاۃ لان فی ذلك استھانۃ بالصورۃ اھ وقدتقدم معناہ عن الھدایۃ والکافی والتبیین۔ کی رائے میںتصویر کسی ایسے بچھونے میں ہوکہ اسے پامال کیاجائے۔اورامام طبرانی کی"الاوسط"میں ہے۔اس تصویر کی رخصت دی گئی جوپامال کی جائےلہذا جس نے تصویر کوکسی بچھونے میں رکھاپھر پردوں کی طرح دیوار پرلٹکادیا یا اسے سرپررکھ دیا تویہ قطعی طورپرحرام ہے اور دخول ملائکہ سے مانع ہے اور اسی طرح جس نے اسے فرش میں رکھا اورپھراس پر سجدہ کیا۔(خلاصہ کلام)مقصود اس کی توہین وتذلیل ہے جویہاں حاصل نہیں ہواکیاتم نہیں دیکھتے کہ جوکچھ بحررائق میں بحوالہ محیط نقل کیاہے۔اگر کوئی تصویر کسی تکئے پرہو اگروہ کھڑا ہے توکراہت ہوگی کیونکہ اس صورت میں تصویر کی تعظیم ہوگیاور اگر وہ بچھاہواہے تو پھرکراہۃ نہ ہوگی اھ (ارے)تم وہ نہیں دیکھتے جوکچھ حلیہ شرح جامع صغیر امام نووی میں مذکورہے بڑے بڑے تکیوں میں جونقشی تصویریں ہوں(ان کے استعمال میں)کراہت ہےاس لئے کہ ان کے اونچا کرنے سے تصویریں کھڑی رہتی ہیںاور یہ حکم ہرکھڑی چیزکاہے کیونکہ اس میں تصویر کی تعظیم ہےلیکن جب ان کی تحقیر اورذلت ہوتوپھر کچھ حرج نہیں جیسے بچھے ہوئے فرش اورپاؤں میں پڑے ہوئے تکئے وغیرہکیونکہ اس میں تصویر کی توہین وتذلیل ہے
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۵۶۹۹ مکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۳۲۹
بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۲۷
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#4315 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
(جومقصد شریعت ہے) اھ اور اس کامفہوم ہدایہکافی اور تبیین کے حوالہ سے پہلے گزرچکاہے(ت)
ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)تصویر کہ مصلی کے پس پشت ہو اسی حالت میں مکروہ ہے کہ منصوب یامعلق یادیوارپر منقوش یاچسپاں یاآئینہ میں لگی ہو او ریہ قطعا تعظیم ہے
فانتقی قول المعراجلاتعظیم فیہ ولاتشبہ کما تقدم ولیت شعری اذا انتفیا فما الموجب للکراھۃ فان میل الی التمسك بامتناع الملئکۃ قلنا اذلا تعظیم فلاامتناع۔ لہذا مصنف معراج الدرایہ کاقول منفی اور زائل ہوگیا کہ اس صورت میں تعظیم اورتشبہ دونوں نہیںجیسا کہ پہلے گزر چکاہے کاش میں(اس رازکو)سمجھ لیتاکہ جب تعظیم اورتشبہ دونوں منتفی اورزائل ہیں توپھروجہ کراہت کیا ہے۔اگرامتناع ملئکہ کے استدلال کی طرف میلان کیاجائے توہم کہتے ہیں جب تعظیم نہیں توامتناع کہاں ہے(ت)
ثم اقول:شرع مطہر نے جس شے کی تعظیم حرام اور توہین واجب کی اس سے اگرایسابرتاؤکیجئے جس میں ایك جہت سے توہین اوردوسری جہت سے تعظیم ہو وہ حرام وناجائزہی ہوگا اوریہ نہیں کہہ سکتے کہ تعظیم وتوہین متعارض ہوکربرابرہوگئیں۔
اذلایجتمع الحلال والحرام الاغلب الحرام واعتبر ھذا لمن یقبل الوثن ویضربہ بالنعل فھل یقال تکافا التقبیل والضرب فیجوزکلابل یحرم لانہ خلط عملاصالحا واخرسیئا۔ اس لئے کہ حلال اور حرام جمع نہیں ہوتے(مگر بربنائے احتیاط)حرام غالب ہوگا۔اور اس کا اعتبار اس شخص کے(متضاد کام سے)کیاجاسکتاہے کہ وہ ایك طرف توصنم کوچومتا چاٹتاہے اور دوسری طرف دیکھئے تو اس کی حالت یہ ہے کہ وہ جوتوں سے اسے مارتا پیٹتاہے توپھر اس کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ بوسہ بازی اورمارپیٹ دونوں کام باہم برابرہوگئے۔لہذایہ دونوں فعل جائزہوگئےہرگزایسانہیںبلکہ اس کاصنم کوبوسہ دیناحرام ہےیہاں اس صورت میں اس نے اچھے اوربرے فعل کوباہم مخلوط کردیاہے۔(ت)
ولہذا محررالمذہب امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ورحمنابہ(پس اس لئے مذہب کوقیدتحریر میں لانے والے حضرت امام محمداﷲ تعالی ان پر رحم وکرم فرمائے اور ان کے صدقے ہم سب پر بھی رحمت برسائے۔ت)نے کتاب الاصل میں سجادہ یعنی جانمازمیں تصویر کاہونا مطلقا مکروہ ٹھہرایا اگرچہ تصویر پرسجدہ نہ ہوکہ جانمازمعظم ہے تو اس میں تصویرہوناتصویرکی تعظیم ہے اور یہ لحاظ نہ فرمایا کہ جانماززمین پربچھائی جائے گی اور زمین پربچھانا تصویر کی توہین ہے اس پرپاؤں رکھاجائے گا اور
#4316 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
یہ غایت توہین ہے تو وجہ وہی ہے کہ تعظیم مطلقا مکروہ ہے اگرچہ اس کے ساتھ توہین بھی ہوجیسے معظمان دینی کی توہین مطلقا حرام ہے اگرچہ اس کے ساتھ ہزارتعظیمیں بھی ہوں۔ہدایہ میں ہے:
اطلق الکراھۃ فی الاصل لان المصلی معظم ۔ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے کتاب الاصل میں کراہۃ کومطلق رکھا اس لئے کہ جانماز ایك قابل تعظیم چیزہے۔(ت)
عنایہ میں ہے:
معناہ ان البساط الذی اعد للصلوۃ معظم من بین سائرالبسط فاذا کان فیہ صورۃ کان نوع تعظیم لھا ونحن امرنا باھانتھا فلاینبغی ان تکون فی المصلی مطلقا سجد علیھا اولم یسجد ۔ اس کامعنی ہے کہ جوفرش(اورقالین وغیرہ)نماز کے لئے تیارکئے گئے وہ دوسرے تمام فرشوں سے اعلیعمدہ اوربڑے ہیں اور قابل تعظیم ہیںپھرجب ان پرکوئی تصویر ہوتو اس کی ایك گونہ تعظیم ہوگی حالانکہ ہمیں اس کی توہین وتذلیل کرنے کاحکم دیاگیاہے لہذا علی الاطلاق موزوں اورمناسب نہیں کہ تصویر کسی جانمازمیں موجودہو خواہ کوئی اس پرسجدہ کرے یاسجدہ نہ کرے۔(ت)
اسی طرح تبیین وغیرہ میں ہے:
فانتفی ماوجہ بہ العلامۃ الشامی عدم التعظیم فیما اذاکانت خلفہ علی ستراوحائطواستقر عرش التحقیق علی التلازم والعلل الثلاث وﷲ الحمد۔ لہذا وہ کلام زائل اورمنتفی ہوگیا کہ جس سے علامہ شامی نے عدم تعظیم کی توجیہ فرمائی تھی۔اگرکوئی تصویرکسی پردے یا دیوار پرنمازی کے پس پشت ہو(توکراہۃ نہ ہوگی)لہذا عرش تحقیق تینوں علتوں اور تلازم پرقرارپذیرہوگیااوراﷲ تعالی کے لئے ہی بہرنوع تعریف وتوصیف ہے(ت)
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھرمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)تشبہ دوقسم ہے:ایك عام کہ مطلقا تصویر ممنوع کوبروجہ تعظیم رکھنے سے حاصل ہوتاہے کما تقدم
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
العنایۃ شرح الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیھا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۲
#4317 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
تحقیقہ والتصریح بہ عن الامام فخرالاسلام(جیسا کہ اس کی تحقیق پہلے ہوچکیاور امام فخرالاسلام کے حوالے سے اس کی تصریح آگئی۔ت)دوسرا تشبہ خاص کہ اس کے علاوہ نفس نماز میں مصلی کے کسی فعل یاہیأت سے ظاہرہومثلا تصویر کو سامنے رکھ کر اس کی طرف افعال نمازبجالانا یہ اشد واخبث ہے یہ ضرور نفس تعظیم سے اخص ہے
وعلیہ یصدق قول الشامی ان التعظیم اعم وقول الحلیۃ ان لیس مدار بل یوجب زیادۃ ۔ اور اس پرعلامہ شامی کایہ ارشاد کہ تعظیم زیادہ عام ہے بلاشبہہ صادق آتاہےاور مصنف الحلیہ کایہ کہنا کہ یہ ''مدار'' نہیں بلکہ موجب زیادت ہے۔(ت)
جہاں یہ نمازمیں کراہت تحریم ہوگی ورنہ مکان میں اس کابروجہ تعظیم رکھنا توقطعا ممنوع وگناہ ہے
فی الحلیۃ والبحر وردالمحتار ھذہ الکراھۃ کراھۃ تحریم زاد فی البحر ینبغی ان یکون حراما لا مکروھا ان ثبت الاجماع اوقطعیۃ الدلیل لتواترہ ۔ حلیہبحررائق اورفتاوی شامی میں ہے یہ کراہۃ کراہۃ تحریمی ہے۔اور بحررائق میں یہ اضافہ فرمایا:مناسب ہے کہ یہ بجائے مکروہ ہونے کے حرام ہواگراجماع اوردلیل کاقطعی ہوناثابت ہوجائے اس کے تواتر کی وجہ سے۔(ت)
اور اس کے سبب نمازمیں کراہت تنزیہی آجائے گی۔عنایہ میں ہے:
لان تنزیہ مکان الصلوۃ عما یمنع دخول الملئکۃ مستحب ۔ اس لئے کہ جائے نمازکواپنی چیزسے بچانا جوفرشتوں کے داخل ہونے سے مانع ہومستحب ہے(ت)
حاشیۃ علامہ سعدی افندی میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۳۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۵
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
#4318 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فتکون الکراھۃ تنزیھیۃ ۔ لہذا یہ کراہتکراہت تنزیہی ہوگی(ت)
یہ ہے وہ کراہت جومحقق نے مکان سے نماز کی طرف ساری مانیہمارے اس بیان سے ظاہرہوا کہ مسئلہ تصاویر میں دربارہ نمازجولفظ کرہ کتب میں ارشاد ہوا اس سے مراد کراہت تحریمی وتنزیہی سے عام ہے
وعلیہ یستقیم قول الشامیظاھر کلام علمائنا ان مالایؤثر کراھۃ فی الصلوۃ لایکرہ ابقاؤہ وقد صرح فی الفتح وغیرہ بان الصورۃ الصغیرۃ لاتکرہ فی البیت اھ والافعلۃ کراھۃ التحریم فی الصلوۃ ھوا لتشبہ الخاص وفی الابقاء ھو التعظیم وقد اعترف انہ اعم من التشبہ وانتفاء الاخص لایوجب الانتفاء الاعم۔ اقول:وظھر لماقررنا ان السؤال الذی ذکرہ المحقق لم یکن وارد امن اصلہ فان المنتفی عندالاستدبار ھوالتشبہ الخاص والتنحصر الکراھۃ فیہ واقول:ظھرایضا ان الجواب الذی ابداہ لیس مماابداہ بل ھو مفاد کلام المشائخ اور اس پرعلامہ شامی کا قول ٹھیك صادق آتاہے کہ ہمارے علمائے کرام کاظاہرکلام یہ ہے کہ جوچیز نمازکے مکروہ ہونے میں مؤثرنہ ہو تو اس کاباقی رکھنا بھی مکروہ نہیں۔اور فتح القدیر وغیرہ میں یہ تصریح فرمائی کہ گھر میں چھوٹی تصویرہو تو کراہت نہ ہوگی اھ ورنہ نماز میں کراہت تحریمی کی علت تشبہ خاص ہے اور اس کے باقی رکھنے میں تعظیم ہےعلامہ موصوف نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ تشبہ سے تعظیم زیادہ عام ہے او ر(قاعدہ یہ ہے کہ)خاص کاانتفاء عام کے انتفاء کاموجب نہیں۔ اقول:(میں کہتاہوں)جوکچھ ہم نے ثابت کیا اس سے یہ واضح ہوگیا کہ جس سوال کومحقق نے ذکرفرمایا وہ بالکل واردنہیںاس لئے کہ وقت استدبار تشبہ خاص منتفی اور زائل ہےاور کراہۃ اس میں منحصرنہیں و اقول:(اورمیں کہتاہوں)اوریہ بھی ظاہرہوگیا کہ موصوف نے جس جواب کوظاہرقراردیا وہ ظاہرنہیں بلکہ وہ کلام مشائخ اور ان کی تعلیل امتناع ملائکہ
حوالہ / References حاشیہ سعدی چلپی علی العنایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث ۱ /۳۶۳
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۴۳۷
#4319 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وتعلیلھم بامتناع الملئکۃ۔واقول:ظھر ایضا ان السؤال الذی اوردالمحقق الحلبی علی مسألۃ السجود علی التصویر لم یکن من الوارد ایضا لانہ ان انتفی فیہ فالتشبہ الخاص بل لانسلم انتفائہ ایضا فان السجود علی التصویر یشبہ عبادتہ قطعا کما نص علیہ فی الکافی ولفظہ السجود علیھا یشبہ عبادۃ الاوثان والتبیین ونصہ السجود علیھا یشبہ عبادتھا فیکرہ فانتفی ماذکر العلامۃ الشامی ان لاتشبہ فیہ اقول:وظھر ایضا ان الجواب الذی ابداہ فی الحلیۃ وظن انھم لم یذکروہ کلامھم محیط بہ کماعلمت وﷲ الحمد۔اقول:وبتحقیقنا ھذا یحصل التوفیق فی مسألتین الاولی کراھۃ الصلاۃ حیث کانت الصورۃ خلف فمن اثبت وھم الاکثرون سے حاصل ہے_________________
واقول:(اور میں کہتاہوں)اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ تصویر پرسجدہ کرنے کے مسئلہ پرمحقق حلبی نے جوسوال اٹھایا وہ اصلا واردنہیں کیونکہ اس میں اگر انتفاء بھی ہوتو تشبہ خاص کاانتفاء ہوگا بلکہ ہم اس کاانتفاء بھی تسلیم نہیں کرتےکیونکہ تصویر پرسجدہ کرنا یقینا اس کی عبادت کے مشابہ ہے جیسا کہ ''الکافی'' میں اس کی تصریح پائی گئی چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں:کسی تصویر پرسجدہ کرناعبادت صنم کے مشابہ ہے۔اور التبیین کی تصریح یہ ہے:تصویر پرسجدہ کرنا اس کی عبادت کے مشابہ ہے لہذا مکروہ ہےلہذا علامہ کایہ ذکرکرنا کہ اس میں کوئی تشبہ نہیںبلاشبہہ زائل ہوگیا۔اقول:(میں کہتا ہوں)اوریہ بھی واضح ہوگیا کہ "الحلیہ"میں اس کے مصنف نے جس جواب کوظاہرکیاہے اور یہ گمان کیاکہ ائمہ کرام نے اسے ذکر نہیں فرمایا حالانکہ ان کاکلام اس جواب پرمحیط ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیںاور اﷲ تعالی کے لئے ہی تعریف و توصیف ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)ہماری اس تحقیق سے دو مسئلوں کے درمیان موافقت(اورمطابقت) پیداہوگئی۔
پہلامسئلہ جہاں تصویر پس پشت ہو توبھی نمازمکروہ ہے۔جن حضرات نے اس کو
حوالہ / References الکافی شرح الوافی
تبیین الحقائق کتا ب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷
#4320 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وجعلہ فی التنویر الاظھراثبت کراھۃ التنزیہ ومن نفی وھو الذی مشی علیہ صدرالشریعۃ فی شرح الوقایۃ وجزم بہ فی متنہ النقایۃ واعتمدہ فی الغایۃ کما فی التبیین والدرر والامام العتابی کما فی الفتح و تبعہ ابن کمال باشافی الایضاح نفی کراھۃ التحریم۔ والثانیۃ الصلوۃ علی سجادۃ فیھا تصاویر اذا لم یسجد علیھا نفی الامام محمد الکراھۃ فی الجامع الصغیرواثبتھا فی الاصل والکل صحیح بالتوزیع ای یکرہ تنزیھا لاتحریما والوجہ فیھما وجود التشبہ العام دون الخاص وذلك ظاھر فی الاولیاما الثانیۃ فلان وضع التصویر فی المصلی تعظیم لہ کما سمعت وکل تعظیم لہ تشبہ بعبادتہ کما علمت وکل صلوۃ کان معھا التلبس بھذا التشبہ کرھت و لاینافیھا وجود الاستھانۃ بوجہ اخر کما قدمنا فانتفی ماذکر ھھنا فی الحلیۃ حیث قالقلت یلزم ثابت کیاہے وہ اکثریت رکھتے ہیں اور"التنویر"میں اس کو زیادہ ظاہرقراردیاتوکراہت تنزیہی کااثبات فرمایا اور جن لوگوں نے اس کی نفی فرمائیچنانچہ شرح وقایہ میں صدرالشریعہ نے یہی روش اختیارفرمائی اورمتن"النقایہ"میں اس پر اظہار یقین کیا اور"الغایہ"میں اسی پراعتماد کیا جیساکہ تبیین اوردرر اورامام عتابی سے منقول ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہےاور الایضاح میں ابن کمال پاشا نے بھی اس کاساتھ دیا توکراہت تحریمی کی نفی کی۔دوسرامسئلہ: ایسی جانماز پرنمازپڑھنا کہ جس میں تصویریں ہوں جبکہ ان پرسجدہ نہ کرے تو اس صورت میں حضرت امام محمد نے جامع صغیر میں کراہت کی نفی فرمائی۔لیکن کتاب الاصل میں کراہت کو ثابت کیاہےاور یہ سب کچھ بلحاظ توزیع(تقسیم)صحیح ہے یعنی مکروہ تنزیہی اور تحریمی پراور دونوں میں"وجہ"تشبہ عام کاپایاجاناہے نہ کہ تشبہ خاصاورپہلی صورت میں ظاہرہے لیکن دوسری صورت اس لئے کہ جانماز میں تصویررکھنا بلاشبہہ اس کی تعظیم ہے جیسا کہ آپ سن چکےاور تعظیم میں اس کی عبادت سے تشبہ ہے جیسا کہ تمہیں معلوم ہےاو رہرنماز کہ جس میں اس "تشبہ"سے تلبس ہو تو وہ مکروہ ہے اور کسی اوروجہ سے اس میں توہین کاپایاجانا اس کے منافی(اورمتصادم) نہیں جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیاہےلہذا یہاں جوکچھ حلیہ میں ذکر کیاگیاوہ زائل اورختم ہوگیا
#4321 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
علی ھذا ان یکون مافی الاصل موضوعا فی المصلی لاغیر ومافی الجامع فیما عداہ وفیہ مالایخفی اھ ۔ اقول:بل کلاھما فی المصلی ولابعد فیہ التطبیق ما ذکرنا قال رحمہ اﷲ تعالی والاحسن ان یقال ظاھر الکتابین التعارض فیما عداموضع السجود فاما ان یکون مافی الجامع من القید المذکور قیدا اتفاقیا و اما ان یکون ما فی الاصل مقیدا بما فی الجامع اھ و یزیدان التوفیق اما بارجاع مافی الجامع الی مافی الاصل من اطلاق الکراھۃ سواء کانت فی محل السجود اوغیرہ والتقیید بکونھا فیہ وقع وفاقا او بارجاع مافی الاصل الی مافی الجامع بحمل المطلق علی المقید۔ چنانچہ مصنف حلیہ نے فرمایا میں کہتاہوں اس طور پرلازم آتاہے کہ جو کچھ اصل میں مذکورہے وہ اس تصویر کے بارے میں ہو جوصرف جانماز میں رکھی ہوئی ہواورجوکچھ جامع صغیر میں مذکورہے وہ اس کے علاوہ میں ہے اور اس میں جو کمزوری ہے وہ کسی پرپوشیدہ نہیں اھ۔اقول:(میں کہتا ہوں)بلکہ یہ دونوں جانماز کے متعلق ہیںاور اس میں کوئی بعد نہیں بلکہ اس میں وہ طریقہ تطبیق ہے جو ہم نے ذکر فرمایامصنف حلیہ رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ کہاجائے کہ بظاہر دونوں کتابوں میں محل سجود کے علاوہ تعارض ہے(اور دونوں میں مطابقت کی صورت یہ ہے کہ)یایہ ہو کہ جامع صغیر میں جوقیدمذکورہے اس کو قید اتفاقی تسلیم کیاجائے یاجوکچھ اصل میں ہے وہ جامع صغیر کی عبارت سے مقیدہےاھ اورمزید موافقت کی صورت یہ ہے کہ جوکچھ جامع صغیر میں مذکورہے اسے اصل کی طرف راجع کیاجائے یعنی کراہت سے مطلق کراہت مراد ہو خواہ تصویر محل سجدہ میں ہو یامحل سجدہ میں نہ ہواور جامع صغیر میں جوتقیید واقع ہوئی وہ قیداتفاقی تسلیم کی جائے یاجوکچھ اصل میں مذکورہے وہ جامع صغیر کی طرف بایں طریقہ راجع ہے کہ یہاں مطلق مقید پرمحمول ہے۔
حوالہ / References التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۵
#4322 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اقول:وکانہ عند ھذا التحریر لم یتیسرلہ مراجعۃ الجامع الصغیر فان عبارتہ لاتحتمل ماذکر من الغاء القید وانما کان مساغہ لوکان منطوقہ کراھۃ الصلوۃ مقیدا بکون الصورۃ فی محل السجود فکان یفید عدم الکراھۃ فی غیرہ بطریق المفہوم فقال ان القید اتفاقی ولیس کذلك بل اصل منطوقہ ماینافی الاصل اعنی عدم الکراھۃ فاین المساغ لما ذکروھذا نص الجامعلاباس ان یصلی علی بساط فیہ تصاویر ولایسجد علی التصاویر اھ قال رحمہ اﷲ تعالی وھذا اولی(ای الثانی)لانہ لایظھر وجہ القول بکراھۃ الصلوۃ علی بساط کبیر فیہ صورۃ تحت قدم المصلی وھو لازم الاول بخلاف الثانی اھ۔اقول: قد افدناك اقول:(میں کہتا ہوں)یہ تحریر کرتے وقت محقق موصوف کوجامع صغیر کی طرف مراجعت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی اس لئے اس کی عبارت قید مذکور کو لغوقراردینے کااحتمال نہیں رکھتیاور اس کے جواز کی صورت تب ہوسکتی کہ اس کا منطوق(عبارت ملفوظ)یہ ہوتاکہ نماز مکروہ ہوگی جبکہ تصویر محل سجدہ میں ہو۔پھر اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتاکہ اگر محل سجدہ میں تصویر نہ ہوتوکراہت نہ ہوگی۔اوریہ فائدہ بلحاظ مفہوم حاصل ہوتااور کہا کہ قید اتفاقی ہےحالانکہ اس طرح نہیں بلکہ اس کااصل منطوق کتاب الاصل کے منافی ہے۔ میری مراد یہ ہے کہ وہ عدم کراہۃ ہے توجوکچھ علامہ موصوف نے ذکرکیا اس کاجواز کہاں ہے(دیکھئے)جامع صغیر کی یہ تصریح ہےکوئی حرج نہیں اگر ایسے فرش پرنمازپڑھے کہ جس پرتصویریں ہوں جبکہ ان تصویروں پرسجدہ نہ کرے اھ موصوف نے فرمایا(اﷲ تعالی ان پررحم فرمائے)یہ اولی ہے (یعنی دوسری)وجہ کیونکہ اس قول کی وجہ ظاہرنہیں کہ بڑے فرش پرنمازمکروہ ہے کہ جس میں تصویر نمازی کے زیرقدم ہواور یہ اول کولازم ہے بخلاف ثانی اھ ۔
اقول:(میں کہتاہوں)بیشك ہم نے تمہیں
حوالہ / References الجامع الصغیر کتاب الصلٰوۃ باب فی الامام این یستحب ان یقوم الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۱
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ھامش منیۃ المصلی بحوالہ الحلیہ مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۳۶۵
#4323 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الوجہ فتشکرثم لاوجہ یظھر لتقییدہ بالکبیر بعد فرض الصورۃ تحت القدم واﷲ تعالی اعلم وتبعہ البحر فی ھذا البحث کلہ غیرانہ قال اطلق الکراھۃ فی الاصل فیما اذا کان علی البساط المصلی علیہ صورۃ لان الذی یصلی علیہ معظم فوضع الصورۃ فیہ تعظیم لھا بخلاف البساط الذی لیس بمصلی اھ فحمل البساط علی السجادۃ کما حملنا ثم تبع الحلیۃ فقالوتقدم عن الجامع الصغیر التقیید بموضع السجود فینبغی ان یحمل اطلاق الاصل علیہ وانھا اذا کانت تحت قدمیہ لایکرہ اتفاقا اھ۔اقول:قولہ وانھا معطوف علی قولہ ان یحملداخل تحت ینبغی فھو بحث منہ بناء علی ماحمل علیہ کلام الاصل وقد علمت مافیہ بل تکرہ فی المصلی مطلقا اس وجہ کافائدہ بخشا لہذا شکریہ ادا کیجئےپھر لفظ"بساط" کو لفظ "کبیر"سے موصوف اور مقیدکرنے کی کوئی ظاہروجہ موجود نہیں جبکہ یہ فرض کرلیاکہ تصویر(نمازی کے)زیرقدم ہے واﷲ تعالی اعلمبحررائق نے اس پوری بحث میں ا س کی متابعت کی ہے مگریہ کہ فرمایا اصل میں کراہت کومطلق رکھا اس حالت میں جبکہ بچھی ہوئی جانماز پرتصویر ہوکیونکہ جس فرش پرنماز پڑھی جائے وہ قابل تعظیم ہےپھر اس میں کسی کا رکھنا اس تصویر کی بلاشبہہ تعظیم ہے لیکن وہ فرش ہوجانماز نہ ہواھ (یہاں)موصوف نے فرش کو جانمازپرحمل کیاہے جیسا کہ ہم نے حمل کیاہےپھرحلیہ کے اتباع میں فرمایا کہ جامع صغیر کاحوالہ پہلے آچکاکہ اس نے اسے محل سجدہ سے مقیدکیاہے۔لہذا مناسب یہ ہے کہ اصل کے اطلاق کو اس پرحمل کیاجائےاو رجب تصویر دونوں پاؤں کے نیچے ہوتوباتفاق کراہت نہیں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)اس کایہ کہناکہ"وانہا"اس کے قول"ان یحمل"پرمعطوف ہے اور "ینبغی"کے ذیل میں داخل ہے او ریہ اس کی بحث ہے اس بناء پر کہ جس پر اس نے کلام اصل کو حمل کیاہے اور تمہیں معلوم ہے جو کچھ اس میں
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب یفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
#4324 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وان کانت تحت القدم و مافی الدر وغیرہ لایکرہ و لو کانت تحت قدمیہ اومحل جلوسہ لانھا مھانۃ مخصوص بغیر السجادۃ بدلیل الدلیل وقد نقلوا قاطبۃ عن الاصل الاطلاق المرسل فی المصلی وما عللوہ بہ شامل لکل صورۃ کمالایخفی نعم فی بساط غیرہ لایکرہ اذاصلی علیہ ولم یسجد علیھا وان لم تکن تحت قدمیہ بل ولوکانت امامہ لوجودالاھانۃ مطلقا مع عدم التعظیم لوجہ قال فی الحلیۃ نقلا من شرح الجامع الصغیر لفخرالاسلام لایکرہ ان یصلی دون وسادۃ علیھا تصاویر اھ۔اقول:ھو نص نفس الجامع الصغیر ثم المراد بالوسادۃ الصغیرۃ دون کبیرۃ تورث الصورۃ انتصاباکما
کمزوری ہےبلکہ جانماز میں تصویر کاہونا علی الاطلاق مکروہ ہے اگرچہ تصویرزیرقدم ہواور جوکچھ دروغیرہ میں ہے کہ یہ مکروہ نہیں اگرچہ تصویردونوں قدموں کے نیچے ہویا اس کے بیٹھنے کی جگہ میں ہو اس لئے کہ وہ بحالت توہین وتذلیل ہے اوریہ بغیر جانمازمخصوص ہے دلیل وہی دلیل ہے حالانکہ سب نے بالاتفاق کتاب الاصل سے"اطلاق مرسل"نقل کیاہے اور انہوں نے جو اس کی تعلیل ذکرفرمائی وہ ہرتصویر کوشامل ہے جیسا کہ یہ پوشیدہ نہیںہاں کسی دوسرے تصویروالے بچھونے پرنمازپڑھے او رتصویر پرسجدہ نہ کرے تو کراہت نہ ہوگی اگرچہ تصویر اس کے قدموں کے نیچے نہ ہوبلکہ اگرچہ تصویر اس کے آگے ہی ہو اس لئے کہ اس حالت میں مطلقا توہین پائی گئی باوجویکہ تعظیم کسی وجہ سے بھی نہیں۔الحلیہ میں شرح جامع صغیر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا جانماز کے علاوہ کسی اور فرش پر کہ جس میں تصویریں ہوں نمازپڑھے تو کراہت نہیں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)یہ خود جامع صغیر کی تصریح ہے وسادہ یعنی جانماز سے چھوٹی جانمازمرادہے نہ بڑی کہ جس سے تصویر کاقیام پیداہوتاہےجیسا کہ
حوالہ / References درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۲
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی علی ہامش منیۃ المصلی مکروھات الصلٰوۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۳۶۳
#4325 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
تقدمثم لایخفی علیك ان التوفیق الذی ذکرہ الفقیراولی ممااختارہ ھذا المحقق لان فیہ اھمال احدھما فی بعض متناولاتہ وفیما ذکرت اعمال کلیھما فی کلہ فانظر الی کثرۃ الفوائد فی کلام المشائخ رحمھم اﷲ تعالی وھکذا کلامھم اذا امعن فیہ النظر وساعد التوفیق فی اللطیف الخبیر عزجلالہ وﷲ الحمد۔ پہلے گزرچکااورتم پریہ بات پوشیدہ نہ رہے کہ جوموافقت فقیر(امام احمدرضا)نے پیش کی وہ اس سے بہترہے جو اس محقق نے اختیارکی کیونکہ اس میں دومیں سے ایك کے بعض مشمولات کو نظرانداز کردینا ہےاور جوکچھ میں نے اس باب میں ذکرکیا اس میں یہ فوقیت وخوبی ہے کہ سب میں دونوں کو عمل دیناہے۔لہذا مشائخ رحمہم اﷲ تعالی کے کلام میں کثیر فوائد کوملاحظہ فرمائیےاور ان کاکلام ایساہی ہوتا ہے جبکہ اس پرگہری نظرڈالی جائے او رتوفیق دینے میں پروردگار لطیف و خبیر ہے کہ جس کا جلال غالب اور زبردست ہےاور اﷲ تعالی کے لئے ہرتعریف وتوصیف ہے۔(ت)
ثم اقول:وبہ استعین(پھرمیں کہتاہوں اسی سے طلب مدد کرتے ہوئے۔ت)تنقیح علت اگرچہ بفضلہ تعالی بروجہ احسن ہوئی مگر ابھی ایك اورتنقیح عظیم باقی ہے جبکہ علت کراہۃ تشبہ عبادت ہے خاص ہویاعامتوضرور ہے کہ وہ تصویرجنس مایعبدہ المشرکون(تصویر اس جنس سے ہوکہ جس کی مشرکین عبادت کرتے ہیں۔ت)سے ہوکہ جسے مشرکین پوجتے ہی نہیں وہ بت کے حکم میں نہیں کہ اس کے بروجہ تعظیم رکھنے یا اس کی طرف نمازپڑھنے میں معاذاﷲ عبادت بت سے تشبہ ہوولہذا جابجا کراہت کوعبا دت اور اس کے عدم کو عدم سے تعلیل فرماتے ہیں کہ یہ مشرك اس کی عبادت نہیں کرتےلہذا کراہت نہیں مثلا:
(۱)اتنی چھوٹی تصویر کہ زمین پررکھ کردیکھو تواعضاکی تفصیل نہ معلوم ہومورث کراہت نہیں کہ اتنی چھوٹی کی عبادت مشرکین کی عادت نہیں۔ہدایہ وکافی وتبیین میں ہے:
لوکانت الصورۃ صغیرۃ بحیث لاتبدو للناظر لایکرہ لان الصغار جدالاتعبد ۔ اگرتصویراتنی چھوٹی ہوکہ دیکھنے والے کیلئے واضح نہ ہو تومکروہ نہیں اس لئے کہ اتنی چھوٹی تصویروں کی پرستش نہیں ہوتی۔(ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
#4326 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فتح القدیرمیں ہے:
فلیس لہا حکم الوثن فلاتکرہ فی البیت ۔ لہذا ایسی تصویر کے لئے حکم صنم نہیں لہذا اس کاگھر میں رکھنا مکروہ نہیں۔(ت)
اور اس بارے میں امیرالمومنین فاروق اعظم وحضرت عبداﷲ بن مسعود وحذیفہ بن الیمان ونعمن بن مقرن وعبداﷲ بن عباس وابوہریرہ وابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہم صحابہ اور سیدنا دانیال علیہ الصلوۃ والسلام سے آثارمروی ومذکورہیں کما بینھا فی الحلیۃ(جیسا کہ انہیں حلیہ میں بیان فرمایا۔ت)
(۲)سربریدہ یاچہرہ محوکردہ کہ اس کی بھی عبادت نہیں ہوتیاور بھنویں اورآنکھیں مٹادینا کافی نہیںنہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دینا نفی کراہت کرے۔تبیین وبحرمیں ہے:
مقطوعۃ الراس لاتکرہ لانھا لاتعبد بدون الراس عادۃ ولااعتبار بازالۃ الحاجبین اوالعینین لانھا تعبد بدونھما ۔ سربریدہ تصویررکھنا مکروہ نہیں اس لئے کہ بغیرسر عادتا اس کی عبادت نہیں کی جاتی لیکن دونوں ابرواوردونوں آنکھیں مٹادینے کاکچھ اعتبارنہیںاس لئے کہ ان کے بغیر بھی اس کی عبادت کی جاتی ہے۔(ت)
ہدایہ میں فرمایا:
ممحو الراس لیس بتمثال لانہ لایعبد بدون الراسؤ اگرسرمحوکردیاجائے یعنی مٹادیاجائے تووہ تصویر اورمورتی نہ رہے گی کیونکہ بغیرسراس کی عبادت نہیں کی جاتی(ت)
عنایہ میں ہے:
انہ لایعبد بلاراس فکان کالجمادات ۔ اگرسرنہ ہوتو اس کی عبادت نہ ہوگی کیونکہ وہ محض بے جان چیزوں کی طرح ہے۔(ت)
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۶۳
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ ۱ /۶۶ و بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ۱ /۲۸
الہدایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۱۲۲
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
#4327 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
خلاصہ وفتح و حلیہ وبحرمیں ہے:
واللفظ لہ لااعتبار بقطع الیدین او الرجلین اھ وکذا ھو فی الخلاصۃ ثم الحلیۃ بحرف التردید ولفظ المحقق لوقطع یدیھا ورجلیھا لاترفع الکراھۃ اھ اعنی بحرف الجمع وھو المراد۔ بحرالرائق کے الفاظ یہ ہیں:اگردونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں تو ان کاکچھ اعتبار نہیں اھ او راسی طرح خلاصہ اورپھر حلیہ میں حرف تردید(لفظ او)کے ساتھ ہے اور محقق کے الفاظ یہ ہیں:اگردونوں ہاتھ اوردونوں پاؤں کاٹ ڈالے تو کراہت ختم نہ ہوگی اھ میری مراد یہ ہے کہ(یہاں پر عبارت) حرف جمع(یعنی لفظ واؤکے ساتھ)ہے اور یہی مراد ہے۔(ت)
غنیہ میں دونوں مسئلہ صغیرہ ومقطوعۃ الراس کی تعلیل میں لکھا:
لانھا لاتعبد فانتفی التشبہ الذی ھو سبب الکراھۃ ۔ اس لئے کہ(تصویرصغیر اورمقطوع الرأس)کی عبادت نہیں کی جاتیلہذا وہ شبہہ زائل ہوگیا جوکراہۃ کاسبب ہے۔(ت)
(۳)شمع یاچراغ یاقندیل یالیمپ یالالٹین یافانوس نمازمیں سامنے ہوتو کراہت نہیں کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی اوربھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یابھٹی یاچولہا یاانگیٹھی سامنے ہوں تومکروہ کہ مجوس ان کوپوجتے ہیں عنایہ میں بعد عبارت مذکورہ آنفا ہے:
فصار کالصلوۃ الی شمع اوسراج فی انھما لایعبد ان و یکرہ لوکان بین یدیہ کانون فیہ جمراونارموقدۃ ۔ پھر وہ شمع یاچراغ کی طرح ہے کہ ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے کیونکہ ان کی عبادت نہیں کی جاتی(لہذا کراہت نہیں) لیکن نماز مکروہ ہے جبکہ نمازی کے سامنے ایساچولہا رکھاہو کہ جس میں بھڑکتی ہوئی آگ کے انگارے ہوں۔(ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۸
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل کراھیۃ الصلٰوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۵۹
العنایۃ شرح الہدایۃ علٰی ہامش فتح القدیر باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
#4328 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فتح زیرمسئلہ شمع ہے:
لانھم لایعبدونہ بل الضرام جمرا اونارا ۔ اس لئے کہ مشرکین اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ بھڑکتے انگارے یاآگ کی۔(ت)
تبیین الحقائق وبحرالرائق میں ہے:
قال رحمہ اﷲ تعالی او شمع اوسراج لانھما لایعبدان والکراھۃ باعتبارھا وانما یعبدھا المجوس اذاکانت فی الکانون وفیھا الجمر اوفی التنور فلایکرہ التوجہ الیھا علی غیرذلك الوجہ اھ اقول:البحر تبع التبیین فی قولہ والکراھۃ باعتبارھا فرجع الی الصواب۔ دونوں نے فرمایا(اﷲ تعالی ان پررحم فرمائے)شمع یاچراغ کی طرف(بحالت نمازمنہ کرنا مکروہ نہیں اس لئے کہ ان دونوں کی عبادت نہیں کی جاتیاور کراہت عبادت کی وجہ سے ہواکرتی ہے اور آتش پرست آگ کی عبادت کرتے ہیں جبکہ چولھے اورتنور میں آگ کے انگارے ہوں۔لہذا اس کی طرف رخ کرنا بغیر اس وجہ کے ہو تو مکروہ نہیں اھ اقول:(میں کہتا ہوں) مصنف بحررائق نے تبیین کے اس قول"کراہت بلحاظ عبادت ہوتی ہے"میں اس کا اتباع کیا لہذا وہ راہ صواب کی طرف لوٹ گیا۔(ت)
کافی میں ہے:
ان قطع الراس فلاباس بہ لانہ لایعبد بلا راس ولہذا لوصلی الی تنور اوکانون فیہ نارکرہ لانہ یشبہ عبادتھا والی قندیل اوشمع اوسراج لالعدم التشبہ ۔ اگرتصویر کاسرکاٹ دیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ بغیر سرتصویر کی عبادت نہیں کی جاتی۔لہذا اگر ایسے چولہے یاتنور کی طرف نماز پڑھے کہ جس میں آگ ہو تو مکروہ ہے کیونکہ اس کی عبادت کے مشابہ ہےاور اگرقندیل یاشمع یا چراغ کی طرف(منہ کرکے نمازپڑھے)توکراہۃ نہیں اس لئے کہ اس میں کوئی تشبہ عبادت نہیں۔(ت)
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ فصل ویکرہ للمصلی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۴
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۷،بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۲
الکافی شرح الوافی
#4329 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
محیط امام شمس الائمہ سرخسی پھرہندیہ میں ہے:
من توجہ فی صلوتہ الی تنور فیہ نار نتوقد اوکانون فیہ ناریکرہ ولوتوجہ الی قندیل اوالی سراج لم یکرہ ۔ جو شخص اپنی نمازمیں ایسے تنور یاچولہے کی طرف منہ کرے کہ جس میں آگ بھڑك رہی ہو توکراہۃ ہوگیلیکن اگرقندیل یاچراغ کی طرف منہ کرے تو کراہت نہ ہوگی۔(ت)
فتاوی امام اجل قاضی خاں میں ہے:
یکرہ ان یصلی وبین یدیہ تنوراوکانون فیہ نار موقدۃ لانہ یشبہ عبادۃ النار وان کان بین یدیہ سراج اوقندیل لایکرہ لان لایشبہ عبادۃ النار ۔ یہ مکروہ کہ آدمی(اس حالت میں نمازپڑھے)کہ اس کے آگے ایساتنور یاچولہا ہوکہ جس میں آگ بھڑك رہی ہواس لئے کہ یہ صورت عبادت آگ کے مشابہ ہے اور اگر اس کے سامنے چراغ یاقندیل ہوتومکروہ نہیں کیونکہ یہ عبادت آگ کے مشابہ نہیں۔(ت)
اسی طرح اس سے لایکرہ تك خزانۃ المفتین میں ہے:
اقول:ھذہ نصوص الائمۃ الاجلۃ فسقط مافی القنیۃ ان المجوس یعبدون الجمر لاالنار الموقدۃ اھ وان تبعہ فی الدر و التمرتاشی ثم السید ابوالسعود الازھری ثم السید الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی وایضا الدررولفظہ لان المجوس لا یعبدون اللھب بل الجمر اھ ومثلہ فی مجمع الانھر واشار اقول:(میں کہتاہوں)یہ جلیل القدرائمہ کی تصریحات ہیں۔ لہذا قنیہ میں جو ہے وہ ساقط ہوگیا کیونکہ آتش پرست آگ کے انگاروں کی عبادت کرتے ہیں نہ کہ آگ کے شعلوں کی اھ مصنف درمختار امام تمرتاشیسیدابومسعود ازہری سید طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح اور مصنف الدرر ان سب بزرگوں نے اس کا اتباع کیا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: مجوس آگ کے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الصلٰوۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰۸
فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلٰوۃ باب الحدث فی الصلٰوۃ ومایکرہ فی الصلٰوۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۵۷
القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھۃ فی الوضووکیفیات الصلٰوۃ مطبوعہ کلکتہ ص۱۴۹
الدرالمختار کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۳،فتح المعین بحوالہ تمرتاشی کتاب الکراھیۃ باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۴۶
الدررالحکام شرح غررالاحکام باب مایفسدالصلٰوۃ وکیفیات الصلٰوۃ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
#4330 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الیہ الشرنبلالی فی مراقیہ ثم الزاھدی نفسہ اظھر ضعفہ اذ قال بعدہ حتی قیل لاتکرہ الی النار الموقدۃ اھ۔اقول:ان کان صحیحا انھم لایعبدونھا فما معنی تعبیرھذا القیل بقیل الا ان یقال ان الموقدۃ فلما تخلو عن جمر وفیہ نظر بل لاتشمل علیہ الاقرب الانتھاء ثم ربما تکون الموقدۃ من حشیش ونحوہ ولاجمر ثمہ واﷲ تعالی اعلم۔ شعلوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ آگ کے انگاروں کی عبادت کیاکرتے ہیں اھ اور اسی طرح مجمع الانہر میں ہےاور علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے پھرخودعلامہ زاہدی نے اس کے ضعف کی طرف لفظ قیل کے ساتھ اس کی تعبیر فرمائیچنانچہ اس کے بعد اس نے کہا یہاں تك کہ یہ کہاگیاہے کہ شعلہ زن آگ کی طرف (نماز میں منہ کرنا)مکروہ نہیں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں) اگریہ بات صحیح ہے کہ آتش پرست نری آگ کی عبادت نہیں کرتے تو اس کی تعبیر لفظ قیل کے ساتھ کرنے کاکیامطلب ہے مگر یہ کہ کہاجائے کہ شعلہ زن آگ بہت کم انگاروں سے خالی ہوتی ہےلیکن یہ موجب اشکال ہے۔بلکہ انگاروں پرصرف آخرمیں مشتمل ہوتی ہے(اور یہ بھی غورکرناچاہئے کہ)بسا اوقات آگگھاس اور اس جیسی چیزوں سے جس میں بالکل (برائے نام بھی)انگارے نہیں ہوتے۔واﷲ تعالی اعلم
(۴)مصحف شریف
(۵)تلواروغیرہ ہتھیار کاسامنے ہونا مکروہ نہیں کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی۔
کما فی الکتب الثلثۃ وعامۃ الکتب ولفظ الامام الزیلعیانھما لایعبدان و باعتبارھا تثبت الکراھۃ و فی استقبال المصحف تعظیمہ وقدامرنابہ ۔ جیسا کہ تین کتابوں اور عام کتابوں میں مذکورہے اور امام زیلعی کے الفاظ یہ ہیں ان دونوں کی(مصحف شریف اورتلوار کی)عبادت نہیں کی جاتی۔اورکراہت باعتبار عبادت ثابت ہوتی ہے او رمصحف شریف کی طرف منہ کرنااس میں اس کی تعظیماور ہمیں اس کی تعظیم کرنے کاحکم دیاگیاہے۔(ت)
حوالہ / References القنیۃ المنیۃ کتاب الکراھیۃ باب الکراھیۃ فی الوضوء الخ مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۱۴۹
تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۱۶۷
#4331 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اقول:(میں کہتاہوں)یہ وہی فرق نفیس ہے کہ صدرکلام میں فقیرنے گزارش کیا
ولفظ البحر اما المصحف فلان فی تقدیمہ تعظیمہ وتعظیمہ عبادۃ والاستخفاف بہ کفرفانضمت ھذہ العبادۃ الی عبادۃ اخری فلاکراھۃ اھ فاحفظہ فانہ ینفعک۔ بحرالرائق کے الفاظ یہ ہیں رہا مصحف تو اس کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے اور اس کی تعظیم بلاشبہ عبادت ہے اور اس کا استخفاف کفرہے۔پھر یہ عبادت ایك دوسری سے پیوستہ ہوگئی لہذا بالکل کراہت نہ رہی اھ پھراس کو یادرکھئے بلاشبہہ یہ آپ کو فائدہ دے گا۔(ت)
(۶)تصویر صغیرپرقیاس فرماکر مستورسے بھی نفی کراہت کیکہ ظاہر نہ ہونے میں اس کے مثل ہے جیسے جیب یابٹوے میں روپیہ یابعض ترکی ٹوپیوں میں کہ نصاری کی بنائی ہوتی ہیں اندر کی جانب تصویرہوتی ہے ان صورتوں میں نمازمکروہ نہیں مگر نا جائزتصویریں حفاظت سے رکھ چھوڑنا خود ہی منع ہے اگرچہ صندوق میں بند رکھے اور نہ کھولے اگرچہ وہاں نمازمکروہ نہ ہوگی۔ محیط وخلاصہ وحلیہ وبحرمیں ہے:
رجل فی یدہ تصاویر وھویؤم الناس لاتکرہ امامتہ لانھا مستور بالثیاب فصار کصورۃ فی نقش خاتم و ھو غیر مستبین اھ ولفظ الخلاصۃ اذا کانت فی یدہ (وفی نسخۃ علی یدیہ)وھو یصلی لاباس بہ لانہ مستور بثیابہ وکذا لوکانت علی خاتمہ اھ عزافی کسی شخص کے بازو میں تصویریں ہیں اور لوگوں کی امامت کراتاہے تو اس کی امامت مکروہ نہ ہوگی اس لئے کہ یہ تصویریں کپڑوں سے چھپی ہوئی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے انگوٹھی کے نقش میں تصویر ہوجبکہ وہ واضح نہ ہو اھ خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں:اگرکسی کے بازو میںاورایك نسخہ میں ہے اس کے دونوں بازوؤں میں تصویر ہو اور وہ اس حالت میں نمازپڑھے تو کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ کپڑوں سے ڈھانپی ہوئی ہیں۔اور اسی طرح اگر انگوٹھی پرتصویرہو اھ
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۳۱
بحرالرائق بحوالہ المحیط کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الجنس فیمایکرہ فی الصلٰوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۵۸
#4332 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
الحلیۃ العبارۃ الاولی للمحیط والخلاصۃ معا وفرق فی البحر فاحسن وقال تحت قول المحیط وھو یفید ان المستبین فی الخاتم تکرہ الصلوۃ معہ اھ۔اقول: العادۃ ان الخاتم لایکون علیھا الاغیرمستبین بل لعل الخاتم لایحتمل الا ایاہ فقول المحیط وھو غیرمستبین لبیان العلۃ الجامعۃ بین نقش الخاتم والمستورقال البحرویفیدانہ لایکرہ ان یصلی و معہ صرۃ اوکیس فیہ دنانیر اودراھم فیھا صور صغار لاستتارھا اھ واعترض فی النھر بان عدم الکراھۃ فی الصغار غنی عن التعلیل بالاستتاربل مقتضاہ ثبوتھا اذا کانت منکشفۃ وسیأتی انھا لاتکرہ الصلوۃ لکن یکرہ کراھۃ تنزیہ جعل الصورۃ فی البیت لخبر ان الملئکۃ لاتدخل بیتا چنانچہ حلیہ میں پہلی عبارت کی محیط اورخلاصہ کی طرف نسبت کیاور بحررائق میں بہت اچھے انداز سے فرق کیا ہے اور محیط کے قول کے ذیل میں فرمایا اور اس سے یہ فائدہ برآمد ہواکہ اگرانگوٹھی میں نقوش واضح ہوں تو اس کے ساتھ نمازپڑھنا مکروہ ہے اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)عادت کے مطابق انگوٹھی پرنقوش واضح نہیں ہوتے بلکہ شاید انگوٹھی غیرواضح نقوش کے علاوہ کوئی اوردوسرا احتمال ہی نہیں رکھتی لہذامحیط کایہ کہنا کہ انگوٹھی کے غیرواضح نقوش ہواکرتے ہیں ایسی علت کے بیان کے لئے ہے جو انگوٹھی کے نقش مستور کے لئے جامع ہے۔صاحب بحررائق نے فرمایا:اس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اگرتھیلی یابٹوہ میں درھمدیناررکھے ہوں اور ان کے ساتھ نمازپڑھے جبکہ ان میں چھوٹی چھوٹی تصویریں ہوں توکراہۃ نہ ہوگی اس لئے کہ وہ مستورہیں اھ النہرالفائق میں اس پر اعتراض کیا کہ چھوٹی تصویروں میں بوجہ صغر عدم کراہت کے لئے کافی ہے لہذا تعلیل بالاستتار کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا مقتضی ثبوت کراہت ہے جبکہ وہ کھلی ہوں۔ابھی آئے گا کہ نمازمکروہ نہ ہوگیلیکن گھرمیں تصویررکھنا مکروہ تنزیہی ہے اس حدیث کی بناء پر کہ"اس گھرمیں فرشتے نہیں جاتے جس میں
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
#4333 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فیہ کلب اوصورۃ اھ نقلہ فی المنحۃ مقرا علیہ اقول:وھو کماقال وکان زیادۃ الصغار وقع وفاقا فان المعھود فی الدراھم والدنانیر ھی الصغار لکن فی قولہ لکن ماقد علمت ان الصغار لاتکرہ فی البیت ایضا کما مرتصریحہ عن الفتحوقد تظافروا علی نقل اثارفیھما عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم وقدمنا عن الامام فخرالاسلام ان امساك الصورۃ علی سبیل التعظیم ظاھرا مکروہ الخ فقید بالظاھر فغیرہ لایؤثر کراھۃ لافی الصلوۃ ولافی الامساکقال البحر ویفیدانہ لوکان فوق الثوب الذی فیہ صورۃ ثوب ساتر لہ فانہ لایکرہ ان یصلی فیہ لاستتارھا بالثوب الاخر واﷲ سبحنہ اعلم اھ کتا یا تصویر ہو اھ منحۃ الخالق میں اس کا اقرارکرتے ہوئے اسے نقل فرمایا۔اقول:(میں کہتاہوں)او روہ اسی طرح ہے جیسا کہ موصوف نے کہا ہےگویاچھوٹے پن کا اضافہ اتفاقیہ واقع ہو اکیونکہ درھم ودینار میں نقوش تصویر کاچھوٹا ہوناایك امرمعہود ہے لیکن اس کے قول"لکن یکرہ"میں آپ جانتے ہیں کہ چھوٹی تصویر گھرمیں ہوتو کوئی کراہت نہیں۔جیسا کہ اس کی تصریح فتح القدیر کے حوالہ سے پہلے گزرچکی۔ائمہ کرام نے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے ایسے آثار نقل کرنے پر باھم اتفاق اور تعاون فرمایا اور ہم اس سے پہلے فخرالاسلام کے حوالے سے ذکرکرچکے ہیں کہ برملاکسی تصویر کوبطور تعظیم اٹھائے رکھنامکروہ الخ موصوف نے اپنے کلام میں "الظاھر"کی قیدلگائیپس اس کاواضح مفہوم یہ ہے کہ اگر تصویر ظاہرنہ ہوتوپھرکراہت میں اس کاکوئی اثرنہیںنہ نماز میں اورنہ اسے اٹھائے رکھنے میںمصنف بحررائق نے فرمایا:اس سے یہ فائدہ برآمد ہواکہ جس کپڑے میں کوئی تصویر ہوپھر اس کے اوپر کوئی دوسرا کپڑا ڈال کر اسے چھپالیا جائے تو پھرایسے کپڑے پر نمازپڑھنی مکروہ نہیں اس لئے کہ وہ دوسرے کپڑے
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۲۷
#4334 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اقول:ولاقرۃ عین فیہ لمن یمسك التصاویر فی صندوقہ لینظر فیھا متی شاء فانھا وان کانت مستورۃ مادامت فی الصندوق لکنہ یفتحہ ویخرجھا فتظھر فیاتی التحریم والامساك لامر ممنوع ممنوع کمن امسك امرأۃ لیفجربھا فھو فی اثم الفجورحین لا یفجر لان الاعمال بالنیاتنسأل اﷲ السلامۃ بل لوامسکھا ولم یقصد النظر فیھا متی شاءکان فیہ حفظ مافیہ الفساد فکان کامساك الۃ اللھو کمن لا یضرب قال الامام الاجل قاضی خان فی فتاواہ لو امسك شیئا من ھذہ المعازف والملاھی یکرہ ویاثم وان کان لایستعملھا لان امساك ھذہ الاشیاء للھو عادۃ ۔ سے چھپالیاگیاہے۔اور اﷲ تعالی پاك ومنزہ ہےوہ سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔اقول:(میں کہتاہوں)اس میں کوئی آنکھوں کی ٹھنڈك نہیں اس آدمی کے لئے جو اپنے صندوق میں تصویریں بند کررکھے اس مقصد کے لئے کہ جب چاہے صندوق کھول کرانہیں دیکھ لےمذکورہ تصویریں اگرچہ صندوق میں بند ہونے کی وجہ سے مستورہیں جب تك کہ صندوق میں ہیں لیکن جب وہ صندوق کوکھولے گا اور انہیں نکالے گا تو وہ سامنے آجائیں گی پھرحرمت پیداہوجائے گی کیونکہ کسی امرممنوع کے لئے کسی چیز کو روکے رکھنا بھی ممنوع ہےاس کی مثال اس آدمی جیسی ہے کہ جس نے کسی عورت کو اپنی نگرانی میں پابندکررکھاتھا تاکہ موقع پر اس سے بدکاری کاارتکاب کرےپھرجس وقت تك وہ بدکاری نہ کرے گا اس وقت بھی بدکاری کرنے کے گناہ میں گرفتارہوگا اور اس لئے کہ اعمال کامدارانسانی ارادوں پرہےلہذاہم اﷲ تعالی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیںبلکہ اگر اس نے اسے روك رکھا اور جب چاہے دیکھنے کاارادہ بھی نہ کیا تو پھربھی اس میں یہ خرابی ہے کہ اس نے اس صورت میں اسی چیز کی حفاظت کی جس میں فساد ہے اور اسی طرح یہ ہے کہ جیسے کوئی آدمی گانا بجانا نہیں کرتا لیکن گانے کے آلات واسباب کو
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۹۳
#4335 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اپنے پاس روکے رکھتاہے چنانچہ ہمارے ایك جلیل القدرامام فقیہ قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں ارشادفرمایا کہ اگرکوئی شخص گانے بجانے اورلہو میں سے کسی چیز کو اپنے پاس روکے رکھے مکروہ ہے اور وہ اسی طرح کرنے سے گنہگار ہوگا اگرچہ انہیں اپنے استعمال میں نہ لائےکیونکہ اس قسم کے آلات واسباب کو روکے رکھنا عادتا کھیل تماشے کے لئے ہی ہوتاہے۔(ت)
(۷)چاندسورجستاروں اوردرختوں کی تصویریں نمازمیں سامنے ہوں توحرج نہیں کہ مشرکین نے اگرچہ ان اشیاء کوپوجا مگران تصویروں کی عبادت نہیں کرتےسومنات اگرچہ معبدقمرتھاسوم بمعنی قمرہے اورناتھ بمعنی مالکمگر اس میں بت تھا جسے صورت روحانیت قمرقراردیاتھا نہ شکل ہلالی یاقمری یابدری کی تصویرردالمحتارمیں درایہ شرح ہدایہ سے ہے:
فان قیل عبدالشمس والقمر والکواکب والشجرۃ الخضراء قلنا عبد عینہ لاتمثالہ اھ اقول:وبہ ظھر بطلان مابحث القاری فی المرقاۃ اذ قال ماعبد من دون اﷲ ولو کان من الجمادات کالشمس والقمر ینبغی ان یحرم تصویرہ اھ وھو کماتری بحث غریب ساقط لادلیل علیہ ولااثر لہ فی کلام الائمہ بل مخالف لاطلاقات جمیع کتب المذھب متونا وشروحا وفتاوی واﷲ الموفق ھذاثم قال العلامۃ الکاکی فعلی ھذا ینبغی ان یکرہ اگریہ کہاجائے سورجچاندستارے اور سرسبزدرختوں کی عبادت کی جاتی ہے(توپھر ان کی تصویروں کاکیاحکم ہے)ہم اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اشیاء مذکورہ کی عین ذات کی عبادت کی جاتی ہے نہ کہ ان کی تصویروں کی اھ اقول:(میں کہتاہوں)اس سے اس قول کا باطل ہوناواضح ہو گیا کہ ملاعلی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں جس سے بحث کیچنانچہ موصوف نے فرمایا کہ اﷲ تعالی کے سوا جس کی عبادت کی جائے اگرچہ وہ بے جان چیزوں میں سے ہو جیسے سورج اورچاند وغیرہتومناسب یہ ہے کہ اس کی تصویرحرام قراردی جائے اھ یہ جوکچھ فرمایاجیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ایك بحث غریب ہے جودرجہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اس امر پرکوئی دلیل نہیںاورنیزائمہ کرام کے کلام میں اس کی کوئی نشانی موجودنہیں بلکہ وہ ایك مخالف کلام ہےان تمام اطلاقات کے لئے جو مذہبی کتابوں میں متون
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۶
مرقات المفاتیح شرح المشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب التصاویر الفصل الاول ۸ /۲۷۳
#4336 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
استقبال عن ھذہ الاشیاء قال الشامی ای لانھا عین ماعبد بخلاف مالوصورھا واستقبل صورتھا ۔اقول: تفریع عجیب وبحث غریب فالمسافرون فی الفضاء والبحر بمالایجدون ملجاء من استقبال الشمس فی العصروالقمرفیھا وفی المغرب اوفی العشاء ولامحید لھم عن استقبال الکواکب فی العشاء واین یھرب المصلی فی الغیاض والریاض عن استقبال شجرۃ خضراء بل ربما لایجدلہ سترۃ غیرھا فیلجأ الیھا بحکم الشرع وروی الامام احمد وابوداؤد وعن المقداد بن الاسود رضی اﷲ تعالی عنہ قال مارایت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ شروح اورفتاوی کی صورت میں موجودہیںاور اﷲ تعالی ہی اس کی توفیق بخشنے والا ہےعلامہ کاکی نے فرمایا کہ پھر تو اس بنا پر مناسب یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کی بعینہ ذات کی طرف منہ کرنامکروہ ہے چنانچہ اورعلامہ شامی نے فرمایا کہ تمام وہ چیزیں جن کی عبادت کی جاتی ہے ان کا عین ہیں بخلاف اس کے کہ ان کی تصویر بنائیں اور پھر اس تصویر کی طرف منہ کریں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)یہ ایك عجیب تفریع اورنادربحث ہے کہ مسافر کھلی فضا اور سمندر میں کوئی ٹھکانا نہیں پاتے عصر کے وقت سورج کی طرف منہ کرنے سے اور چاند کی طرف منہ کرنے سے اور مغرب یاعشاء میں اور عشاء کے وقت ستاروں کی طرف منہ کرنے سے لوگ کہیں نہیں بھاگ سکتے۔اور جنگلات اورباغات میں نمازی کہاں بھاگ کر جاسکتاہے کیونکہ جنگلوں اورباغوں میں ہرے بھرے درختوں کی طرف منہ کرنے سے بلکہ بسااوقات وہ ان کے بغیر کوئی سترہ ہی نہیں پاتاپھرحکم شریعت کی بناپر ان کی طرف پناہ لیتاہےامام احمد اور امام ابوداؤد نے مقداد بن اسود سے روایت کی(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)موصوف نے فرمایا میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو کسی
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایہ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ الخ داراحیاء التراث العربی ۱ /۴۳۶
#4337 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
وسلم صلی الی عود ولاعمود ولاشجرۃ الاجعلہ علی حاجبہ الایسر اوالایمن ولایصمدلہ صمدا ثم ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما نھی عن الصلوۃ حین تشرق الشمس وحین تستوی وحین تتدلی للغروب ولم یقیدہ بکونھا قبالۃ المصلی بل اینما کانت و لو وراء ظھرہ ولوفی غیم غلیظ و عللہ بانھا تکون اذ ذاك بین قرنی الشیطن لابانھا عبدت من دون الرحمن ولعل شدۃ بعدھا و القمر والنجوم تغنی عن السترۃ فلابی داؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا صلی احدکم الی غیر السترۃ فانہ یقطع صلوتہ الحمار والخنزیر والیھودی والمجوسی والمرأۃ ویجزئ عنہ اذا مروا بین یدیہ علی قذفۃ بحجر وللطحاوی یکفیک لکڑیکسی ستون اور کسی درخت کی طرف نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا مگر آپ نے انہیں اپنے دائیں یابائیں ابرو کی طرف رکھا اور بالکل ان کی طرف سیدھ نہ فرمائیاورحضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کو اس وقت نمازپڑھنے سے روکا جب سورج چڑھ رہاہو یا دوپہر کے وقت وسط آسمان میں ٹھہرجائے یاغروب کے قریب ہوجائےاور اس کو اس بات سے مقیدنہ کیاکہ وہ نمازی کے سامنے اور اس کے مقابل ہو بلکہ جہاں بھی ہو اس کے لئے یہی حکم دیا اگرچہ وہ اس کے پس پشت ہو اور گہرے بادل میں چھپاہواہواور اس کی تعلیل یہ بیان فرمائی کہ اوقات مذکورہ میں سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان ہوتاہے نہ یہ کہ اس وقت خدائے رحمان کے علاوہ اس کی پرستش کی جاتی ہے شاید اس کی وجہ زیادہ دور ہونا ہے چاند اور ستارے نمازی کو سترہ سے بے نیاز کردیتے ہیں (مطلب یہ کہ ان کے آگے کسی آڑ کی ضرورت نہیں)چنانچہ ابوداؤد میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی ذات گرامی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:اگرتم میں سے کوئی شخص بغیرسترہ کے نمازپڑھے توگدھاسوریہودیآتش پرست اور عورت اس کی نماز کو قطع کردیتے ہیںاور جب وہ اس کے آگے سے گزریں تو اس کی طرف سے یہی کافی ہے کہ ایك پتھر پھینکنے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب اذاصلی الٰی ساربۃ اونحوھا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۰
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب مایقطع الصلٰوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۰۲
#4338 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
اذا کانوامنك قدررمیۃ وفی صلوۃ الھندیۃ عن التتارخانیۃ ان کانت القبور وراء المصلی لایکرہ فانہ ان کان بینہ وبین القبر مقدار مالوکان فی الصلوۃ و یمر انسان لایکرہ فھھنا ایضا لایکرہ اھ اما الشجرفاقول:کونہم عبدوا نوعا اوشخصا من الشجر لایلزم کراھۃ الاستقبال الا الی ذلك النوع او الشخص بخصوصہ لاالی کل شجرۃ ولیس ذلك مثل التمثال فان الحکم متعلق بنفسہ من دون نظر الی کونہ صورۃ ماعبدوہ اولا کما سیاتیك تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالی بخلاف الاعیان فلا یعتبر فیھا الجنس بل خصوص ماعبد علی وجہ کی مقدار دورہو(یعنی اگر اتنی مقدار دور سے گزریں تو کوئی حرج نہیں)اور امام طحاوی کی روایت میں ہے(اے نمازی!) تجھے یہی کافی ہے کہ گزرنے والا تجھ سے ایك تیرپھینکنے کی مقدارہو۔فتاوی عالمگیری بحث صلوۃ میں تاتارخانیہ کے حوالے سے منقول ہے اگرقبریں نمازی کے پس پشت ہوں تو کوئی کراہت نہیں بشرطیکہ نمازی اور قبر کے درمیان اتنی مقدار مسافت ہوکہ جتنی نمازمیں نمازی کے آگے ہونی چاہئے کہ اگرکوئی آدمی اس کے آگے سے گزرے توکراہت نہ ہوتو یہاں بھی اس قدر مسافت ہو تو کراہت نہ ہو گی اھ۔رہا درختوں کامعاملہفاقول:(تو اس کے متعلق میں کہتاہوں کہ) مشرکین کسی نوع یاکسی فرد معین درخت کی عبادت کرنے سے اس کی طرف منہ کرنے سے کراہت لازم آئے گی مگریہ اس وقت ہوگا جبکہ اس نوع یاخصوصی فرد کی طرف منہ کرے اور یہ معاملہ ہردرخت کے ساتھ نہیںاس کی وجہ یہ ہے کہ اس کامعاملہ تصویرجیسانہیں اس لئے کہ حکم اس کی ذات سے وابستہ ہے اس پرنظرکئے بغیر کہ یہ اس کی تصویر ہے کہ جس کی پہلے مشرکین نے عبادت کی یانہیں جیسا کہ ان شاء اﷲ تعالی عنقریب اس کی تحقیق تیرے پاس آجائے گی بخلاف اعیان (ذوات)کہ ان میں
حوالہ / References شرح معانی الآثار باب المرور بین یدی المصلی الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۳۰۹
فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰
#4339 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
عبد الا تری الی مامر من الفرق بین تنور فیہ نار وبین شمع وسراج اولا تری ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یستتر فی صلوتہ براحلتہ ولم یمنعہ عن ذلك کونھا من جنس الحیوان الذی یعبدہ المشرکون نوع البقر وعبدوا شخص عجل السامریاخرج الشیخان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یعرض راحلتہ فیصلی الیھا وفی الفتح ان استتر بظھر جالس کان سترۃ وکذا الدابۃ واختلفوا فی القائم اھ وفیہ وفی الھندیۃ عن النھایۃ قالوا حیلۃ الراکب ان ینزل جنس کااعتبارنہیں کیاجاتا بلکہ اس میں جس کی عبادت کی جائے جس وجہ پرعبادت کی جائے اس خصوص کو پیش نظر رکھاجاتاہے۔کیاآپ نہیں دیکھتے اس گزشتہ فرق کو جو ایسے تنور کہ جس میں آگ ہو اور شمع اورچراغ کے درمیان کیاگیاہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی نمازمیں اپنی سواری(ناقہ)کوپردہ اورآڑ بناتے اور اس رویہ سے آپ کو یہ چیز نہ روکتی کہ ناقہ اس جنس حیوان میں سے ہے کہ جس کی ایك قسم گائے کی مشرکین عبادت کرتے رہے اورسامری کے بنائے ہوئے فرد معین بچھڑے کی پرستش کرتے رہےچانچہ بخاری اورمسلم نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام جب نمازپڑھنے کاارادہ فرماتے تواپنی سواری(ناقہ)کوچوڑائی میں بٹھادیتے پھر اس طرف منہ کرکے نمازپڑھتے۔فتح القدیر میں ہے اگرکسی بیٹھے ہوئے شخص کی پیٹھ کو(نمازپڑھتے وقت)پردہ بنائے توپھر اس کے لئے سترہ کے قائم مقام ہےاور کسی دوسرے جانور کابھی یہی حکم ہےاور کھڑے ہونے والے شخص میں ائمہ کرام نے اختلاف کیاہے اھ اوراس میں اورفتاوی عالمگیری میں نہایہ کے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ الی الراحلۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۴
#4340 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
فیجعل الدابۃ بینہ وبین المصلی فتصیر ھی سترۃ فیمر اھ فالذی تحرر بماتقرر کراھۃ استقبال خصوص حیوان اوشجر اخضر یعبدہ المشرکون ان نوعا فنوعا اوشخصا فذلك الشخص عینا دون غیرہ من نوعہ بشرط ان لایکون بینہ وبین المصلی اکثر ممایؤثم المار ھذا ماظھر لی وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ حوالے سے ہے۔ائمہ فقہ نے فرمایا(سفرمیں سترہ کے لئے تجویز وتدبیر یہ ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے والا سوار ہے توزمین پر اترےپھرگزرنے والا اپنے اورنمازی کے درمیان اپنے جانور کوآڑبنالےپس یہی اس کے لئے سترہ کی حیثیت رکھتاہے اھ اور جوکچھ اثبات کردہ حقیقت کے مطابق تحریرہوا کہ مشرکین جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں بربنائے خصوص خواہ وہ حیوان ہو یا کوئی سرسبزوشاداب درخت ہونمازمیں اس کی طرف منہ کرنامکروہ ہےاگرنوع ہوتواس نوع کایہی حکم ہے۔اگرشخص(یعنی فردمعین ہوتو)پھرعین(یعنی اس فرد معین کا یہی)حکم ہے۔لہذا اس نوع میں سے کوئی دوسرا مرادنہ ہوگا۔بشرطیکہ اس کے اور نمازی کے درمیان اتنی زیادہ مسافت نہ ہو کہ جس سے گزرنے والا گناہگارہوتاہے۔اور یہ وہ تحقیق ہے جو مجھ پرظاہرہوئے۔اور مجھے امید ہے کہ وہ ضرورمبنی برصواب ہوگی بشرطیکہ اﷲ تعالی چاہے۔ اور اﷲ تعالی سب سے بڑاعالم ہے(ت)
ان تمام مسائل سے واضح ہواکہ تشبہ کے لئے اس شے کاجنس مایعبدہ المشرکون سے ہوناضروری ہے
اقول:(میں کہتاہوں)اب یہاں متعدد سوال پیداہوتے ہیں:
اول:اعیان میں تو اس کے معنی ظاہر ہیں کہ خود وہی نوع یاشخص ہوجس کی عبادت مشرکین کرتے ہیں مگرتصویر میں ہرگزیہ معنی نہیں شمس وقمر کی تصویر نہ گھرمیں رکھنا مکروہ نہ نمازمیں سامنے ہونے سے کراہتحالانکہ وہ معبودان باطل ہیںاور ہر انسان وحیوان کی تصویررکھنا بھی حراماور اس سے نمازبھی مکروہحالانکہ مشرکین ان سب کی عبادت نہیں کرتےاس کا منشا کیا ہےوہ جوگزراکہ شمس وقمر کے عین کی عبادت ہوتی ہےنہ تصویر کییہاں بدرجہ اولی وارد ہے کہ ان کے نہ عین کی عبادت ہوتی ہے نہ تصویرکیاگرکہئے وہ ذی روح نہیں یہ ذی روح ہیںہم کہیں گے یہی توسوال ہے کہ جب مدارعبادت پرہے تو معبود باطل توغیرذی روح کی تصویرکیوں نہ منع ووجہ کراہت ہوئیاور ذی روح
حوالہ / References فتح لقدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۴
#4341 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
غیرمعبود کی تصویرکیوں حرام وموجب کراہت ٹھہری۔
دوم: سربریدہ وچہرہ محوکردہ کو استثناء فرمایا کہ ان کی عبادت نہیں ہوتی۔ظاہر ہے کہ یہ نفی نفی امکان نہیں کہ مشرکوں کی بدعقلی سے کسی چیز کی عبادت محال کیا مستبعد بھی نہیںجب وہ صرف لنگ اور جلہری کی پوجاکرتے ہیں توان کے ساتھ باقی بدن بھی اگرہو ا اور سرنہ ہوا توکون مانع ہے مگرمراد نفی عادت ہے کہ تن بے سر کی عبادت ان کی عادت نہیں۔تبیین الحقائق و بحرالرائق سے گزرا:
لانھا لاتعبد بدون الراس عادۃ ۔ اس لئے کہ بطورعادتبغیرسرتصویر کی عبادت نہیں کی جاتی (ت)
اب واضح سوال ہے کہ تصویر کے چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دینے کے بعد جوازکیوں نہ ہوا کہ ایسے لوتھڑے کی عبادت بھی ان کی عادت نہیں بلکہ بھنویں او رآنکھیں مٹادینے پربھی یہی سوال ہوسکتاہے کہ اس حالت پربھی عبادت کی عادت محل منع ہے اگرکہئے بے سروچہرہ حیات نہیں رہتی اور ان اعضاء کے بغیرممکن ہےہم کہیں گے تومدارحیات پرہوانہ عادت عبادت پرہذا خلف حیات کو اس لئے تھا کہ اصل مناط یعنی عادۃ معبود ہونا بے حیات منتفی ہے نہ اس لئے کہ حیات ہی اصل مناط ہے کہ وہ باقی ہوتو حکم ثابت رہے اگرچہ عادت عبادت معدوم ہو۔
سوم:سربریدہ واطراف بریدہ میں توموت وحیات سے فرق کرلیا چھوٹی تصویر اوراطراف بریدہ میں کیافرق ہےقابلیت حیات دونوں میں ہے اور عادۃ عبادت دونوں کی نہیں ہوتی بلکہ بڑی تصویر صرف مستوررہنے سے کیوں قابل استثناء ہو گئی اتنا خارجی تغیر کہ صرف ایك ہیأت بدلی مفید ہوا اور یہ عظیم تغیر نفس جسم میں کہ چاروں ہاتھ پاؤں جڑ سے کاٹ دئیے کام نہ ایا حالانکہ پردہ ڈالنا اعزاز کابھی پہلو رکھ سکتاہے اور دست وپاکاٹ دیناصریح اہانت ہے۔
چہارم:کیافرق ہے کہ زید یامثلا بکر کی تصویر گھرمیں بے اہانت رکھنا حرام اور مانع ملئکۃ رحمۃ علیہم الصلوۃ والسلامحالانکہ مشرکین نہ زید اوربکری کوپوجتے ہیں نہ ان کی تصویروں کواور گائے کاگھرمیں بے اہانت رکھناجائزحالانکہ وہ خود ان کی معبودہ باطلہ ہے اور باندھنا بغرض اہانت نہیں بلکہ حفظ ہے اور بہت گائے بیل بے باندھے بھی رکھے جاتے ہیںاگرکہئے گائے کارکھنا
حوالہ / References تبیین الحقائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۶۶،بحرالرائق باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۸
#4342 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
دودھ کے لئے ہے اور تصویر سے کوئی غرض صحیح نہیںہم کہیں گے غرض صحیح کے چاردرجے ہیںضرورتحاجتمنفعت زینت۔گائے اگرچہ درجہ سوم میں ہے لوگ تصویر کو درجہ چہارم میں رکھتے ہیں توبے غرض یہ بھی نہ ہوئیمعہذا اور اغراض بھی تصویر میں ہوسکتی ہیں مثلا معرکہ جہاد کی تصویر جس میں اﷲ عزوجل نے مسلمانوں کو کافروں پرغلبہ عطافرمایا ہوکہ اس کے مشاہدہ سے مسلمانوں کی عزت کفار کی ذلت کاسماں نظرآئے گا نعمت الہی کی یادہوگی ان بندگان خدا کی طرح دین کے لئے جانفشانی کاشوق پیداہوگا الی غیرذلك من المصالح(ان بیان کردہ فوائد کے علاوہ اور بھی بہت سے مصالح ہیں۔ت)حالانکہ ان نیتوں سے بھی اس کارکھنا حرام وناجائزہی ہے توواجب ہوا کہ تصویر میں مایعبد کے وہ معنی لئے جائیں اور ایسامناط تجویزکیاجائے جس سے یہ سب سوالات مرتفع ہوجائیں اور تمام مسائل منع واجازت اس پرمنطبق آئیں فاقول:وباﷲ التوفیق(پھرمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے ہی کہتاہوں۔ت)یہاں مناط منعنہ صورت کی عبادت ہوناہے نہ ذوالصورۃ کینہ اس کی نوع نہ جنس قریب کی۔نہ اس کا اس حالت پرہونا کہ ذوالصورۃ اس حال پر ہو تو زندہ رہے ان میں سے کچھ کسی وجہ پرنہ وہ سوال مرتفع ہوں نہ فروع ملتئم بلکہ مناط تصویر کا معنی وثن میں ہوناہے جیسا کہ محقق نے فتح میں اشارہ فرمایا:
حیث قال کما تقدم لیس لھاحکم الوثن فلاتکرہ فی البیت ۔ جیسا کہ پہلے گزرچکا(کہ اس حالت میں)تصویر کے لئے حکم صنم نہیںلہذا اس کاگھرمیں ہونا مکروہ نہیں۔(ت)
ولہذا صورت حیوانیہ کی تخصیص ہوئی کہ غیرحیوان کی تصویربت نہیںبت ایك صورت حیوانیہ مضاہات خلق اﷲ میں بنائی جاتی ہے تاکہ ذوالصورۃ کے لئے مرأت ملاحظہ ہو اور شك نہیں کہ ہرحیوانی تصویرمجسم خواہ مسطح کپڑے پرہو یاکاغذ پردستی ہو یا عکسی اس معنی میں داخل ہے توسب معنی بت میں ہیں اور بت اﷲ عزوجل کامبغوض ہے توجوکچھ اس کے معنی میں ہے اس کا بلا اہانت گھرمیں رکھناحرام اور موجب نفرت ملائکہ کرام علیہم الصلوۃ والسلام اسی قدر سے بحمداﷲ تعالی سب سوال حل ہوگئے تصویر کواکب تصویرحیوانی نہیں کہ معنی بت میں ہو اور تصویر انسان وحیوان اگرچہ مشرکین ان کی عبادت نہ کرتے ہوں معنی بت میں ہے تومبغوض رب العزت ہےسوال اول
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۶۳
#4343 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
حل ہواتنورصورت حیوانی ہی نہیں اورگائے ہے مگرخودمخلوق رب العزت نہ کہ مضاہات خلق اﷲ میں مرات ملاحظہ ہونے کو بنائی ہوئی کہ مبغوض الہی ہوتویہ بھی معنی بت میں نہیںسوال چہارم حل ہواپھرصورت حیوانی کہاجانا اور اس کے لئے مرأۃ ملاحظہ ہونا دونوں کامدارچہرہ پرہےاگرچہرہ نہیں تو اسے صورت حیوانی نہ کہاجائے گااس پرایك توامین الوحی جبریل علیہ الصلوۃ و السلام کا قول گزراکہ ان کے سرکاٹ دیجئے کہ ہیأت درخت پرہوجائیںدوسرے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کاارشاد گزرا کہ صورت سرکانام ہے جس کے سرنہیں وہ صورت نہیںتیسرے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کاارشاد گزرا کہ سرکاٹ دیا تو صورت نہ رہیچوتھے اس پراول دلیل ارشاد اقدس حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہے:
اذا قاتل احدکم اخاہ فلیجتنب الوجہ فان اﷲ خلق ادم علی صورتہرواہ مسلم عن ابی ھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ حکی النووی فی شرحہ ثلثۃ اقوال امثلہا واعدلھا واصحھا واحملھا ان المراد اضافۃ تشریف واختصاص کقولہ تعالی ناقۃ اﷲ وکما یقال فی الکعبۃ بیت اﷲ ونظائرہ اھ تم میں سے جب کوئی شخص اپنے بھائی سے آمادہ جنگ ہوتو اس کے چہرے کو بچائے کیونکہ اﷲ تعالی نے حضرت آدم کواپنی صورت پر پیدافرمایا۔امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت فرمایا۔امام نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں علی صورتہ کے متعلق تین اقوال کی حکایت فرمائی ان میں سب سے زیادہ حمل والا قول یہ ہے کہ اس اضافت سے شرافت واختصاص مراد ہے۔اﷲ تعالی کے اس ارشاد"ناقۃ اﷲ"(اﷲ تعالی کی اونٹنی)کی طرحاورجیسا کہ کعبہ شریف کے بارے میں کہاجاتاہے"بیت اﷲ"(اﷲ تعالی کاگھر)اور اسی طرح اس کے باقی نظائروامثال اھ(ت)
تکریم صورت کو صرف تعظیم وجہ پرمقصود فرمایا اور مرأۃ ملاحظہ ہونے کاوجودا وعدما اس پر دوران خودظاہر چہرہ ہی سے معرفت ہوتی ہے چہرہ دیکھا اور باقی بدن کپڑوں سے چھپاہے تو کہے گا میں اسے پہچانتاہوںاورچہرہ نہ دیکھا تونہیں کہہ سکتا اگرچہ باقی بدن دیکھاہوولہذا اگرعورت نے اپنا منہ کھول کرگواہوں کو دکھایا اورکہا میں لیلی بنت زید ہوں اورکچھ اقراریا عقدکیا گواہوں کواس پر گواہی دیناجائزہے او رانہیں اس کی زندگی بھرگواہان شناخت کی اصلا حاجت نہیں کہ منہ دیکھ کر انہیں خودشناخت ہوگئی وہ اسے دیکھ کر
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب النہی عن ضرب الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۷
#4344 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بتاسکتے ہیں کہ یہی وہ عورت ہے جس نے ہمارے سامنے اقرارکیااوراگرمنہ کھول کرنہ دکھایاتوگواہان شناخت کے بعد بھی یہ گواہی نہیں دے سکتے کہ فلاں عورت نے یہ اقرارکیابلکہ اتناکہیں کہ ہمارے سامنے ایك عورت نے یہ اقرار کیا اورفلاں فلاں شہود نے ہم سے بیان کیاکہ یہ فلاں عورت ہے۔عالمگیری میں ہے:
لوکشفت امرأۃ وجھھا وقالت انا فلانۃ بنت فلان لا یحتاجون الی شھود المعرفۃ فان ماتت یحتاجون الی شاھدین یشھدان انھا کانت فلانۃ بیت فلان واذا لم تسفر وجھھا وشھد شاھدان انھا فلانۃ بنت فلان لم یحل لھما ان یشھدا بذلك یعنی علی اقرار فلانۃ انما یجوز ان یشھدا ان امرأۃ اقرت بکذا وشھد عندنا شاھدان انھا فلانۃ بنت فلان ھکذا فی الملتقط ۔ اگرکسی عورت نے اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا اور کہامیں فلاں دختر فلاں ہوں تو اس صورت میں لوگوں کوپوری زندگی شناخت کرانے کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں(اس لئے کہ چہرے سے پوری طرح شناخت اور تعارف حاصل ہوگیا) پھر اگروہ مرجائے تولوگوں کو اس بات کی ضرورت ہوگی کہ دوگواہ یہ گواہی دیں گے کہ فلاںدخترفلاں ہے اور اگر اس نے اپناچہرہ کھول کرنہ دکھایا تو پھردوگواہ یہ گواہی دیں گے کہ وہ فلاں دخترفلاں ہے لیکن ان دو گواہوں کے لئے یہ جائزنہیں کہ وہ یہ گواہی دیں کہ وہ فلاں عورت ہے کہ جس نے اقرار کیا تھا۔ہاں البتہ یہ جائزہے کہ وہ یونہی گواہی دیں کہ ایك عورت نے اقرارکیا ہے اورہمارے پاس دو گواہوں نے گواہی دی کہ وہ عورت فلاں دختر فلاں ہےفتاوی ملتقط میں اس طرح مذکورہے۔(ت)
اسی میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
اختلف المشائخ فی جوازتحمل الشہادۃ علی المرأۃ اذ کانت متنقبۃبعض مشائخنا قالوا لایصح التحمل علیھا بدون رؤیۃ وجھھا وبعض مشائخنا توسعوا فی ھذہ وقالوا مشائخ کرام نے اس بارے میں اختلاف کیاہے کہ جب عورت نقاب پوش ہوتو اس پرگواہی دینے کے جواز کی کیا صورت ہوگی چنانچہ ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ چہرہ دیکھے بغیرعورت کے متعلق گواہی نہیں دی جاسکتیلیکن ہمارے بعض مشائخ نے اس میں کچھ وسعت وگنجائش
حوالہ / References فتاوٰی ھندیہ کتاب الشہادات الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۳
#4345 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
یصح عندالتعریف وتعریف الواحد کفی والمثنی احوط والی ھذا مال الشیخ الامام المعروف بخواھر زادہ والی القول الاول مال الشیخ الامام شمس الاسلام الاوزجندی والشیخ الامام ظھیرالدین و ضرب من المعقول یدل علی ھذا فانا اجمعنا علی انہ یجوز النظر الی وجھھا لتحمل الشھادۃ اھ قلت فقد اجمعوا علی حصول المعرفۃ برؤیۃ الوجہ حتی جاز التحمل اجماعا وعلی عدمھا بعدم معرفتھا لم یجز التحمل عند قوم اصلا واحتیج لما التعریف عند اخرین مقاصد۔ رکھی ہےاور یہ فرمایا ہے کہ تعارف اورشہرت کے وقت اس کے متعلق گواہی دینا صحیح ہے اورصرف ایك آدمی کی پہچان کافی ہے اور دو میں زیادہ احتیاط ہے۔چنانچہ شیخ امام جو خواہر زادہ کے لقب سے مشہورہیں اسی طرف مائل ہیں جبکہ شیخ امام شمس الاسلام اوزجندی اور شیخ امام ظہیرالدین پہلے قول کی طرف مائل ہیں چنانچہ معقول قسم اس پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ ہم نے اتفاق کیاہے کہ تحمل شہادت کے لئے عورت کے چہرہ کی طرف دیکھنا جائزہے اھ میں کہتاہوں ائمہ کرام نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ چہرہ دیکھنے سے شناخت اور معرفت حاصل ہوتی ہے یہاں تك کہ(اس صورت میں) تحمل شہادت بالاتفاق جائزہےاور اگررؤیت نہ ہوتو معرفت نہ ہوگی لہذا بعض لوگوں کے نزدیک(اس صورت میں)تحمل شہادت بالکل جائزنہیں۔لیکن کچھ دوسروں کے نزدیك مقاصد میں اس کے لئے شناخت کی ضرورت ہوتی ہے۔(ت)
اہل تصویر ہی کودیکھئے جوتصویر کسی کی یادگارکے لئے بنوائیں ہرگز بے چہرہ اس پرراضی نہ ہوں گے نہ اپنے مقصود کو مفیدجانیں گے اگرچہ باقی تمام بدن کی تصویر ہو اور بارہانیم قد بلکہ صرف چہرہ پرقناعت کرتے اور اسے اپنے مقصد کے لئے کافی سمجھتے ہیں جیسا کہ مصوروں میں بکثرت دائروسائر اورسکہ کی تصویروں سے ظاہراورخودیہ تصویر جس سے سوال ہے اس پرشاہد کہ اس کا بنانا یادگارہی کے لئے تھا اور نصف سینہ تك قناعت کی توبداہۃ ثابت ہواکہ صرف چہرہ ہی وہ چیز ہے کہ تصویرکو معنی بت میں کرتا ہے اور صرف چہرہ ہی اس معنی کے افادہ میں کافی ہوتا ہے تویہاں جنس مایعبد سے مراد صرف معنی بت میں ہونا ہے اگرچہ نہ خود وہ معبود مشرکین ہو نہ اس کاذوالصورۃ تو وہ اس حالت پرہوکہ مشرکین اپنی عبادت کے لئے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشہادات الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۲
#4346 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
عادۃ لازم رکھتے ہیں کہ یہ سب زوائد ہیں اور یہاں غیرملحوظ۔یہاں صرف اس قدردرکارہے کہ تصویر کسی صورت حیوانیہ کے لئے مرأۃ ملاحظہ ہو اور اس کامدار صرف چہرہ پرہے توقطعا یہ سب تصویریں معنی بت میں ہیں اور ان کامکان میں باعزاز رکھنا نصب کرناچوکھٹوں میں رکھ کردیوارپرلگانایاپردے یادیواریاکسی اونچی رہنے والی شے پراس کامنقوش کرنا اگرچہ نیم قدیا صرف چہرہ ہو یادیوارگیروں پرانسان یا حیوان کے چہرے لگانا یاپانی کے نل کے منہ یالاٹھی کی بالائی شام پرکسی حیوان کاچہرہ بنوانا یا ایسی کسی بنی ہوئی چیزکورکھنا استعمال کرنا سب ناجائزوحرام ومانع دخول ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام اور اس مکان میں نمازیقینا مکروہپھر اگرتشبہ خاص بھی پایاجائے جیسے مصلی کے سامنے ہوناتونمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہکیا کوئی کہہ سکتاہے کہ قدآدم آئینے جن میں اتنی بڑی بڑی آدمیوں اورجانوروں کی تصویریں ہوں دیوارقبلہ میں نصب کرکے ان کی طرف نماز پڑھنے میں نہ عبادت صورت کی مشابہت ہے نہ شرع مطہر کی مخالفتحاشاہرگزکوئی نہیں کہہ سکتاتوثابت ہواکہ صواب عامہ کتب ائمہ کے ساتھ ہے جن میں صرف قطع راس ومحو وجہ پراکتفافرمایا اوردیگراعضاء کا ان پرقیاس ہرگزنہ روایۃ منقول نہ درایۃ مقبول۔ لاجرم سربریدہ میں ممانعت نہ ہوئی کہ معنی بت میں نہ رہیاور دست وپا بریدہ ناجائزہوئی کہ معنی بت باقی سوال دوم حل ہوا اتنی چھوٹی تصویر کہ نظرمیں متمیزنہ ہو مرأۃ ملاحظہ نہیں کہ آپ ہی زیرملاحظہ نہیں یونہی مستورکہ وہ بھی خود ملاحظہ سے مہجور مرأۃ ملاحظہ ہونا تواوردوراورمعنی بت کے حصول کویہ بھی ضرورکہ مشرکین بتوں کواسی لئے بناتے ہیں کہ ان کے آلہ مزعومہ باطلہ کے مرأۃ ملاحظہ ہوں تویہاں بھی وہ معنی مفقودسوال سوم حل ہوا
وﷲ الحمد حمداکثیرا طیبا مبارکا فیہ کمایحب ربنا ویرضی وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا والہ و صحبہ ابداھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق وقدکان یختلج فی قلبی الکلام علیہ منذز مان وکنت ارجوان یفتح اﷲ تعالی بالحق فھذا اﷲ تعالی کے لئے ہی بے حساب وشمار تعریف وتوصیف ہے پاکیزہایسی میں برکت رکھی گئی جیسا کہ ہمارا پروردگار پسند فرمائے اور اﷲ تعالی ہمارے آقا اورہمارے مولاپررحمت برسائے اوران کی تمام آل اورساتھیوں پرہمیشہ ہمیشہ رحمت ہواور مناسب یہ ہے کہ تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے اور اﷲ تعالی ہی توفیق دینے کامالك ہے۔مدت سے میرے دل میں اس پرکلام کرنے کی بات کھٹك رہی تھی او رمیں یہ بھی امید رکھتا تھا
#4347 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
او ان یسرہ المولی سبحنہ وتعالی ولہ الحمد اقول وبہ انفصل وﷲ الحمد خلاف مانقلہ القہستانی عن المحیط فی اتخاذ الراس ونقلہ عنہ فی ردالمحتار ولم یذکروا فیہ ترجیحا فثبت بحمداﷲ تعالی ترجیح المنع اقول:ثم لایذھبن عنك وان المراد بالاتخاذ الاقتناء کما فی قول القہستانی بعدہ باسطریکرہ اتخاذ الصور فی البیوت ثم قولہ بعدہ لایکرہ اتخاذھا ان صغرت اما اصطناعہ فلایجوز بحال وان صرح علماؤنا بجواز اتخاذ الانف والسن والاصبع من فضۃ لمقطوعھا فان الفرق بین ماذکروا وبین اتخاذ الرأس ممالایخفی علی بلید فضلا عن عاقلواﷲ تعالی اعلم۔ کہ(اس معاملہ میں)اﷲ تعالی مجھ پرحق کھول دے گا یہاں تك کہ یہ وقت آپہنچاکہ جس میں اﷲ تعالی پاك اوربرترنے (اس عقدہ کو)مجھ پرآسان کردیا لہذا اسی کے لئے تعریف و ستائش ہے اقول:(میں کہتاہوں)جبکہ اﷲ تعالی کے لئے حمدو ستائش ہے اس سے وہ اختلاف الگ اورجداہوگیا کہ جس کو علامہ قہستانی نے محیط کے حوالے سے سربنانے کے متعلق نقل کیا اور فتاوی شامی میں اس کونقل فرمایا لیکن اس میں ائمہ کرام نے کوئی ترجیح ذکرنہیںمیں کہتاہوں پھرآپ سے کہیں یہ بات رہ نہ جائے کہ یہاں اتخاذ سے اقتناء(حفاظت کرنا)مرادہے جیسا کہ چندسطروں بعد علامہ قہستانی کایہ قول موجود ہے گھروں میں حفاظت سے تصویریں رکھنا منع ہیں"۔ لیکن اس کے کچھ بعد انہوں نے فرمایا کہ اگر تصویریں چھوٹی چھوٹی ہوں تو ان کاگھروں میں رکھنامکروہ نہیں لیکن ان کابنانا کسی حال میں بھی جائزنہیںاگرچہ ہمارے علماء کرام نے یہ تصریح فرمائی کہ چاندی کی ناکدانت اور انگلی بنانا جائزہے اور اس کی وجہ ان کامقطوع ہونا ہے اس لئے کہ جوکچھ انہوں نے ذکرفرمایا اس کے اور سربنانے کے درمیان واضح فرق ہے جو کسی بے عقل سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ صاحب عقل سے مخفی رہ جائےواﷲ تعالی اعلم(ت)
رابعا اقول: وباﷲ التوفیق(میں تعالی کی توفیق ہی کے حوالے سے کہتاہوں)
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فصل مایفسدالصلٰوۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۱۹۶
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فصل مایفسدالصلٰوۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ /۱۹۵
#4348 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
ایك اورنکتہ بدیعہ ہے جس پرتنبہ لازمیہاں چارصورتیں ہیں:
اول: تصویر کی توہین مثلا فرش پا انداز میں ہونا کہ ا س پرچلیں پاؤں رکھیں یہ جائزہے اورمانع ملائکہ نہیں اگرچہ بنانا بنوانا ایسی تصویروں کابھی حرام ہے کما فی الحلیۃ والبحر وغیرھما(جیسا کہ حلیہبحررائق اور ان دوکے علاوہ دوسری کتابوں میں مذکورہے۔ت)
دوم:جس چیزمیں تصویرہو اسے بلااہانت رکھنا مگروہ ترك اہانت بوجہ تصویرنہ ہو بلکہ اور سبب سے جیسے روپے کوسنبھال کررکھنا زمین پرپھینك نہ دینا کہ یہ بوجہ تصویرنہیں بلکہ بہ سبب مالاگرسکہ میں تصویر نہ ہوتی جب بھی وہ ایسی ہی احتیاط سے رکھاجاتایہ بحال ضرورت جائز ہے جس طرح روپے میں کہ تکریم تصویر مقصود نہیں اوربے تصویرکایہاں چلنانہیں اور اس پرسے تصویرمٹائیں توچلے گانہیں الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوع کاموں کومباح کردیتی ہیں۔ت)یوہیں اسٹامپ کی تصویریں اورڈاك کے ٹکٹاگر ان کی تصویریں ایسی چھوٹی نہ ہوں کہ زمین پررکھ کر کھڑے ہوکر دیکھنے سے تفصیل اعضا ظاہرنہ ہو جیسے اشرفیمہراس کے رکھنے کاویسے ہی جوازہے کہ اس کی تصویریں ایسی ہی چھوٹی ہیں اور بلاضرورت داخل کراہت کہ اگرچہ ترك اہانت دوسری وجہ سے ہے مگر لازم توتصویر کی نسبت بھی آیاحالانکہ ہمیں اس کی اہانت کاحکم ہےعنایہ سے گزرا:
نحن امرناباھانتھا ۔ ہمیں تصویروں کی توہین وتذلیل کاحکم دیاگیاہے۔(ت)
تو ترك اہانت میں ترك حکم ہے اور ضرورت نہیں کہ حکم جوازلائےچاقو وغیرہ جوتصویریں ہوتی ہیں اسی حکم میں داخل ہیں اگربڑی ہوں تو انہیں مٹادے یاکاغذ وغیرہ لگادے ورنہ مکروہ ہے۔یہ بھی اس وقت کے رکھنے والے کو اس شے سے کام ہو تصویر مقصود نہ ہوورنہ صورت سوم میں داخل ہوگا۔
سوم: ترك اہانت بوجہ تصویرہی ہومگرتصویر کی خاص تعظیم مقصود نہ ہوجیسے جہال زینت وآرائش کے خیال سے دیواروں پر تصویریں لگاتے ہیں یہ حرام ہے اور مانع ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کہ خود صورت ہی کااکرام مقصود ہوا اگرچہ اسے معظم وقابل احترام نہ مانا۔
چہارم: صرف ترك اہانت نہ ہوبلکہ بالقصد تصویر کی عظمت وحرمت کرنااسے معظم دینی سمجھنااسے تعظیما بوسہ دیناسر پر رکھنا آنکھوں سے لگانااس کے سامنے دست بستہ کھڑاہونااس کے لائے جانے
حوالہ / References العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب مایفسدالصلٰوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۶۲
#4349 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
پرقیام کرنااسے دیکھ کرسرجھکانا وغیرذلك افعال تعظیم بجالانا یہ سب سے اخبث اورقطعا یقینا اجماعا اشدحرام وسخت کبیرہ ملعونہ ہے اور صریح کھلی بت پرستی سے ایك ہی قدم پیچھے ہے اسے کوئی مسلمان کسی حال میں حلال نہیں کہہ سکتا اگرچہ لاکھ مقطوع یاصغیر یامستور ہویہ قیدیں سب صورت سوم تك تھیں قصدا تعظیم تصویر ذی روح کی حرمت شدیدہ عظیمہ میں نہ کوئی تقیید ہے نہ کسی مسلمان کاخلاف متصوربلکہ قریب ہے کہ اس کی حرمت شدیدہ اس ملت حنفیہ کے ضروریات سے ہوتو اس کا استحسان بلکہ صرف استحلال یعنی جائزجاننا ہی سخت امرعظیم کاخطرہ رکھتا ہے والعیاذباﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت) صورت مذکورہ سوال یہی صورت چہارم ہے کہ اسے تبرك کے طورپررکھنا اس کے سبب نزول برکت جاننا اسے برزخ ٹھہرانا رب عزوجل تك وصول کاذریعہ بنانایہ سب وہی سخت اشدکبیرہ ہے او رعادۃ اس حالت میں اس کے ساتھ وہی افعال تعظیم بجا لائیں گے جن کے حلال جانے پرتجدیداسلام مناسب ہے۔
نسأل اﷲ السلامۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ہم اﷲ تعالی سے(جان وایمان کی سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔گناہوں سے بچنے اوربھلائی کرنے کی کسی میں طاقت نہیں مگریہ کہ اﷲ تعالی بڑی شان والاتوفیق عطافرمائے۔(ت)
ناواقف سمجھتے ہیں کہ حضورپرنورسیدالاسیادامام الافرادواہب المراد باذن الجوادغوث الاقطاب والاوتادسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ(سادات کے سردارافراد کے پیشوااﷲ تعالی سخی کی اجازت سے مرادیں پوری کرنے والےقطبوں کے فریادرس اور اوتاد کے فریادرسہمارے آقاسب سے بڑے فریاد رساﷲ تعالی ان سے راضی ہو۔ت)ان کی اس حرکت سے خوش ہوں گے کہ ان کے صاحبزادہ کی ایسی تعظیم کی حالانکہ سب سے پہلے اس پرسخت ناراض ہونے والے سخت غضب فرمانے والےحضوراقدس ہوں گے رضی اﷲ تعالی عنہ۔اﷲ تعالی ہدایت واستقامت بخشےآمین!
واذقد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ وکان ترصیفھا فی النصف الاول من شھرالنور والسرور شھر ربیع الاول ۱۳۳۱ ھ ناسب ان اسمیھا اچانك جلدی میں کیاہوا کام ایك رسالے کی صورت میں معرض وجود میں آگیا جبکہ ا س کی ترتیب وتالیف نوروسرور کے مہینے کے نصف اول یعنی ماہ ربیع الاول ۱۳۳ اھ میں ہوئیلہذا مناسب معلوم ہواکہ میں اس کایہ نام رکھوں
#4350 · العطایاالقدیرفی حکم التصویر ۱۳۳۱ھ (تصویرکے حکم کے بارے میں قدرت والے کی عطائیں)
بعطایاالقدیر فی حکم التصویر۱۳۳۱ھ وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ وسلم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ العطایاالقدیر فی حکم التصویر(بے پایاں قوت وطاقت رکھنے والے پروردگار کے بے شمار عطیات ونوازشات سے تصویر کاحکم بیان کرنے کے بارے میں۔ت)اور اﷲ تعالی درودو سلام ہمارے آقااورہمارے مولاپربھیجے جو کہ محمدکریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں اور ان کی آل اورسب ساتھیوں پر اور اﷲ تعالی پاك وبرتر سب سے زیادہ علم رکھتاہے اوراس کاعلم کہ جس کی شان بڑی ہے سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ پختہ ہے(ت)
__________________
رسالہ
العطایا القدیر فی حکم التصویر
ختم ہوا
#4351 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
جانوروں کاپالنالڑانا اور ان پررحم وظلم

مسئلہ ۲۵۱: ازبلگرام شریف ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم ۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پالنا طیور جیسے طوطاطوطیلالمیناپدی وخروس خانگی کابغرض جی لگنے کے اور لڑوانا ان کا علی الرسم کیساہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
لڑانا مطلقا ناجائزوگناہ ہے کہ بے سبب ایذائے بیگناہ ہے حدیث صحیح میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن التحریش بین البھائمرواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ و صححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جانوروں کو(لڑائی پر) اکسانے اورآمادہ کرنے سے منع فرمایاہےابوداؤد اورترمذی نے اس کو روایت کیاہے اورحضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کی تحسین وتصحیح فرمائی۔ (ت)
اورجانوران خانگی مثل خروس وماکیان وکبوتراہلی وغیرہا کاپالنا بلاشبہ جائزہے جبکہ انہیں
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶،جامع الترمذی ابواب الجہاد باب فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴
#4352 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
ایذاسے بچائے اور آب ودانہ کی کافی خبرگیری رکھےخودحدیث میں مرغ سپید پالنے کی ترغیب ہے:
البیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال قال رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم الدیك یؤذن بالصلوۃ من اتخذ دیکا ابیض حفظ من ثلثۃ من شرکل شیطان وساحر وکاھن وفی الباب عن ابی زید الانصاری عند الحارث فی مسندہ وعن انس بن مالك عند ابی الشیخ فی العظمۃ وعن خالد بن معد ان مرسلا عندالبغوی فی المعجم وعن ام المؤمنین وعن انس عند الحارث وعن غیرھم رضی اﷲ تعالی عنھم۔ امام بیہقی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مرغ نماز کے لئے اذان دیتاہے جس کسی نے سفید مرغ پالا وہ تین آفتوں سے محفوظ ہوگیا (شیطان کے شرسے(۲)جادوگرکے شرسے(۳)کاہن کے شرسے۔اس باب میں حضرت ابوزید انصاری سے روایت ہے جوحارث نے اپنی سندمیں ذکر کی ہے۔حضرت انس بن مالك سے روایت ہے جوابوالشیخ نے العظمۃ میں بیان فرمائی اور خالد نے بن معدان سے مرسلا(یعنی سند کے ذکرکے بغیر)روایت ہے جوامام بغوی نے المعجم میں ذکرفرمائی۔اور حارث اوردوسرے ائمہ کے نزدیك ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے۔(ت)
مگرخبرگیری کی یہ تاکید ہے کہ دن میں ستردفعہ پانی دکھائے کماورد فی الحدیث(جیساکہ حدیث میں وارد ہواہے۔ت)ورنہ پالنا اوربھوکاپیاسارکھناسخت گناہے
فانہ ظلم والظلم علی الحیوان اشد من الظلم علی الذمی الاشد من الظلم علی سلم کمانص علیہ فی الدر المختار ۔وقد قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کفی بالمرء اثما ان یضیع من کیونکہ یہ ظلم ہے اور کسی جانور پرظلم کرنا ذمی(کافر)پرظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے جوکہ مسلمان پر ظلم کرنے سے بھی زیادہ سخت ہےجیسا کہ درمختار میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔اور رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کے گناہ کے لئے یہی کافی ہے کہ جس کی روزی کا
حوالہ / References کنزالعمال عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما حدیث ۳۵۲۷۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۳۳۴
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
#4353 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
یقوترواہ الامام احمد وابوداؤد والنسائی و الحاکم والبیھقی عن عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما بسند صحیح۔ وہ ذمہ دار ہو اس کوضائع کردے۔امام احمدابوداؤدنسائی حاکم اوربیہقی نے صحت سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ ابن عمرورضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی روایت فرمائی۔(ت)
رہاجانور ان وحشی کاپالنا جیسے طوطیمینالالبلبل وغیرہاعالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب ودانہ میں تقصیرنہ کرے
حیث قال حبس بلبلا فی قفس وعلفھا لایجوز کذا فی القنیۃ ۔ جیسا کہ صاحب قنیہ نے کہاکہ کسی نے بلبل پنجرے میں قید کیاہو اور اگراسے آب ودانہ دے تب بھی جائزنہیںالقنیہ میں اسی طرح مذکورہے(ت)
مگرنص صریح حدیث صحیح واقوال ائمہ نقد و تنقیح سے صاف جواب واباحت مستفادہے جبکہ خبرگیری مذکور بروجہ کافی بجا لائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قتل کرناسانپ کاجائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ ت)
الجواب:
قتل سانپ کامستحب ہےاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کے قتل کاحکم کیاہے یہاں تك کہ اس کے قتل کی حرم میں اورمحرم کوبھی اجازت ہے اور جو خوف سے چھوڑدے اس کے لئے لفظ لیس منی (وہ شخص مجھ سے یعنی میرے طریقے سے اسے کوئی تعلق نہیں۔ت)حدیث میں وارد
فی صحیح البخاری قال عبداﷲ بینا نحن مع رسول اﷲ تعالی علیہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبداﷲ بن مسعودنے فرمایا کہ ہم ایك دفعہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب صلۃ الرحم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸،مسند احمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۶۰و۱۹۴و۱۹۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثلاثون فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۸۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶
#4354 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
وسلم فی غار اذ نزلت علیہ والمرسلت فالتلقیناھا من فیہ وان فاہ لرطب بھا وخرجت حیۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اقتلوھا قال فابتدرناھا فسبقتنا قال فقال وقیت شرکم کما وقیتم شرھا ۔ ساتھ غارمیں تھے جبکہ آپ پرسورہ مرسلت نازل ہوئی اورہم نے اسی وقت آپ کے منہ مبارك سے اسے حاصل کیا جبکہ آپ کامبارك دہن اس سے تروتازہ تھاپھراچانك وہاں ایك سانپ نکلا توحضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے مارڈالو۔ہم نے اس کے مارنے میں بڑی جلدی کی لیکن وہ ہم سے سبقت کرتے ہوئے بھاگ گیا۔اس آپ نے یہ ارشاد فرمایا وہ تمہارے شر سے بچ گیا اورتم اس کے شر سے بچ گئے۔(ت)
اور اسی کے مثل مسلم ونسائی نے روایت کیا:
وفی صحیح مسلمسأل رجل ابن عمر مایقتل الرجل من الدواب وھو محرم قال حدثنی احدی نسوۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یامربقتل الکلب العقور والفارۃ والعقرب والحدیا والغراب والحیۃ قال وفی الصلوۃ ایضا ۔ وفی سنن النسائی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال خمس یقتلھن محرمالحیۃ و صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایك آدمی حضرت عبداﷲ ابن عمر سے پوچھ رہاتھا کہ جب کوئی آدمی حالت احرام میں ہوتو وہ کون کون سے جانور مارسکتاہے آپ نے فرمایا کہ امہات المومنین میں سے ایك بی بی صاحبہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے بحالت احرام بعض جانوروں کومارڈالنے کاحکم فرمایا اوروہ بعض یہ ہیں:(۱)کاٹنے والاکتا (۲)چوہا(۳)بچھو(۴)چیل(۵)کوا(۶)سانپ۔ان سب کو مارڈالنے کاآپ حکم فرمایاکرتے تھے اور فرمایا:نماز میں بھی ان کے بارے میں یہی حکم ہے۔سنن نسائی میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب ابواب العمرہ باب مایقتل المحرم من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۷،صحیح البخاری بدأالخلق باب خمس من الدواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷،صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ ۷۷ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۔۷۳۴
صحیح مسلم کتاب الحج باب مایندب للمحرم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۲
#4355 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
والفارۃ والحدأۃ والغراب الابقع والکلب العقور وفی سنن ابی داؤد عن ابی ھریرۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال خمس قتلھن حلال فی الحرم الحیۃ والعقرب واحداءۃ والفارۃ والکلب العقور ۔ وفی صحیح مسلم ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر محرما بقتل حیۃ بمعنی وفی سنن ابی داؤد عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اقتلوا الحیات کلھن فمن خاف ثأرھن فلیس منی ۔ سے رویت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ انہیں محرم مارسکتاہے:(۱)سانپ(۲)چوہا (۳)چیل (۴) سیاہ وسفید نشان والا کوا(۵)کاٹنے والاکتا۔سنن ابوداؤد میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ انہیں حدودحرم میں بھی مارڈالنا حلال اورجائزہے:(۱)سانپ(۲)بچھو(۳) چیل (۴)چوہا(۵) کاٹ کھانے والا کتا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے محرم کومنی میں سانپ مار ڈالنے کاحکم فرمایا نیزسنن ابی داؤد میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمام سانپوں کومارڈالو پھرجوکوئی ان کے خون کے مطالبے سے خوف کھائے وہ مجھ سے نہیں۔(ت)
لیکن قتل اسی سانپ کاکہ سپیدرنگ ہے اور سیدھاچلتاہے یعنی چلنے میں بل نہیں کھاناقبل انداز وتحذیرکے ممنوع ہے
فی سنن ابی داؤد عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم:اقتلوا الحیات کلھا الاالجان الابیض الذی کانہ قضیب فضۃ وروی الزیلعی عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اقتلوا سنن ابوداؤد میں حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے روایت ہے کہ تمام قسم کے سانپ مارڈالو مگر وہ سفید سانپ جواس طرح نظرآئے کہ گویاوہ چاندی کی چھڑی ہے۔امام زیلعی نے آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الحج باب یقتل المحرم من الدواب نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۵
سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب یقتل المحرم من الدواب آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۵۴
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۶
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷
#4356 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
ذا الطفیتین والابتر وایاکم والحیۃ البیضاء فانھا من الجن وفی الترمذی قال عبداﷲ بن المبارك انما یکرہ من قتل الحیات الحیۃ التی تکون دقیقۃ کانھا فضۃ ولاتلتوی فی مشیۃ ۔ آپ نے فرمایا کہ جس سانپ کی پیٹھ پردوسفیدخط ہوں یاوہ چھوٹی دم والاہو اسے مارڈالو لیکن سفید سانپ کرمارنے سے پرہیزکرو اس لئے کہ وہ جنات میں سے ہے۔جامع ترمذی میں ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن مبارك نے فرمایا اس سانپ کو مارڈالنا مکروہ یعنی ناپسندیدہ عمل ہے جو باریك ہوتاہے جو دیکھنے میں چاندی کی طرح ہے اور اپنی چال میں بل کھاتے ہوئے نہیں چلتا۔(ت)
اور اسی طرح وہ سانپ جومدینہ کے گھروں میں رہتے ہیں بے انذار وتحذیرکے نہ قتل کئے جائیں مگرذوالطیفتین کہ اس کی پیٹھ پر دوخط سپید ہوتے ہیں اورابتر کہ ایك قسم ہے سانپ کی کبود رنگ کوتاہ دماور ان دونوں قسم کے سانپوں کاخاصہ ہے کہ جس کی آنکھ پر ان کی نگاہ پڑجائے اندھاہوجائےزن حاملہ اگرانہیں دیکھ لے حمل ساقط ہو کہ اس طرح کے سانپ اگرمدینہ طیبہ کے گھروں میں بھی رہتے ہوں تو ان کامارنا بے انذارکے جائزہے۔
فی صحیح مسلم قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان بالمدینۃ نفرا من الجن قداسلموا فمن رای شیئا من ھذہ العوامر فلیؤذنہ ثلاثا فان بدالہ بعد فلیقتلہ فانہ شیطان اھ(والعوامر ھی التی تسکن البیوت تؤذی)وفی روایتہ ان لھذہ البیوت عوامر فاذا رأیتم شیئا ھنا فخرجوا صحیح مسلم میں ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے جنات ہیں جومسلمان ہوگئے ہیں لہذا جوکوئی گھروں میں ان سے کسی کوآباد دیکھے توتین مرتبہ انہیں آگاہ کردے اگراس کے بعد بھی ان میں سے کوئی دکھائی دے یعنی وہ غائب نہ ہوتو اسے مارڈالاجائے اس لئے وہ شیطان ہے اھ عوامر وہ ہیں جوگھروں میں رہتے ہیں اور لوگوں کوایذاپہنچاتے ہیں اوراسی کی روایت میں ہے کہ ان گھروں میں کچھ رہنے والے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر بحوالہ الزیلعی الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳
جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
#4357 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
علیھا ثلاثا فان ذھب والافاقتلوہ فانہ کافر وفی روایۃ ان بالمدینۃ جنا قداسلموا فاذارأیتم منھم شیأا فاذنوہ ثلثۃ ایام فان بدالکم بعد ذلك فاقتلوہ انما ھو شیطان وفی سنن ابوداؤدوقال القاضی عیاض۔ سانپ ہیں اگرتم ان میں سے یہاں کسی کودیکھو تو اسے تین مرتبہ نکل جانے کاکہواگروہ چلاجائے تو فبہا ورنہ اسے مارڈالو کیونکہ وہ کافرہے۔اور ایك روایت میں ہے کہ مدینہ منورہ میں کچھ جن مسلمان ہوگئے ہیں اگران میں سے تم کسی کو گھروں میں دیکھو تو تین روز تك اسے متنبہ کرتے رہو لیکن اس کے بعد بھی وہ اگردکھائی دے تواسے مارڈالواس لئے کہ وہ شیطان ہے۔اور سنن ابی داؤد میں ہے اورقاضی عیاض نے فرمایا۔(ت)
لیکن بعض علماء نے قتل ان سانپوں کاکہ گھروں میں رہتے ہیں مطلقا بے انذار کے ممنوع ٹھہرایاہے اورمنشاء اس کا اطلاق لفظ بیوت ہے بعض احادیث میں ہے:
فی صحیح مسلم کان ابن عمر یقتل الحیات کلھن حتی حدثنا ابولبابۃ بن عبدالمنذر البدری ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن قتل جنان البیوت فامسک وفی روایۃ نھی عن قتل الجنان التی فی البیوت انتھتوالجنان بجیم مکسورۃ و نون مفتوحۃ ھی الحیات جمع جان وھی الحیۃ الصغیرۃ وقیل صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمرہرقسم کے سانپوں کومارڈالتے تھے یہاں کہ کہ ابولبابہ بن عبدالمنذر بدری نے بیان فرمایا کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کومارڈالنے سے منع فرمایا ہے توپھر وہ اپنے اس عمل سے بازآگئے۔اور ایك روایت میں ہے کہ آپ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کومارڈالنے سے منع فرمایا اھ حدیث میں لفظ الجنان حرف جیم کے زیر اور نون کے زبر کے ساتھ متلفظ ہے جس کے معنی سانپ کے ہیں یہ لفظ جان کی جمع ہے اور جان چھوٹے سانپ کو
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
#4358 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
الدقیقۃ الخفیفۃ وقیل الدقیقۃ البیضاء کذا قال النووی وفی روایۃ انہ قدنھی عن ذوات البیوت ۔ کہتے ہیںاوریہ بھی کہاگیاہے کہ باریك اورہلکا پھلکا سانپ اور یہ بھی کہاگیاکہ باریك اور سفید سانپ۔امام نووی نے اسی طرح فرمایاہے۔ایك روایت میں ہے کہ آپ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کے مارڈالنے سے ممانعت فرمائی۔(ت)
مگریہ مذہب ضعیف غیرمختارہے اور جواب اس کایہ ہے کہ یہاں مرادبیوت سے بیوت مدینہ ہیںنہ بیوت مطلقا اور احادیث مذکور جن میں اذن بیوت مقیدہے مفسران حدیثوں کے مفسرہیں۔
قال الامام النووی قال المارزی لاتقتل حیات مدینۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الابانذارھا کماجاء فی ھذہ الاحادیث فاذا انذرھا ولم تنصرف قتلھا واماحیات غیرالمدینۃ فی جمیع الارض و البیوت والدور فیندب قتلھا من غیرانذار لععموم الاحادیث الصحیحۃ فی الامر بقتلھاو"قال الامام النووی ایضا"قالوا فاخذ بھذہ الاحادیث فی استحباب قتل الحیات مطلقا وخصت المدینۃ بالانذار للحدیث الوارد فیھا وسببہ ماصرح بہ فی الحدیث انہ سلم طائفۃ من الجن بھا اھ امام نووی نے فرمایا کہ امام مارزی نے فرمایا کہ مدینہ منورہ کے سانپوں کوبغیرمتنبہ کرنے کے نہ مارا جائےجیسا کہ ان احادیث میں آیاہےپھر جب انہیں تنبیہ کرے اور اس کے باوجود وہ غائب نہ ہوں توپھرمارڈالے۔لیکن جوسانپ مدینہ طیبہ کے علاوہ باقی زمینمکانات اور گھروں میں رہتے ہوں مستحب ہے کہ انہیں بغیرڈرائے مارڈالاجائے۔ان صحیح احادیث کی بناپر جوسانپوں کومارڈالنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں امام نووی نے بھی فرمایا کہ اہل علم نے علی الاطلاق فرمایاہے کہ سانپوں کومار ڈالنے کے استحباب میں ان احادیث کو لیاگیا ہےالبتہ مدینہ منورہ کے سانپوں کی انذار یعنی ڈراوے کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے یہ اس حدیث کی بناپرہے جومدینہ شریف کے بارے
حوالہ / References شرح مسلم للنوی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴
#4359 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
میں وارد ہوئی اور اس کاسبب وہ حدیث ہے کہ جس میں صراحت کی گئی کہ مدینہ طیبہ میں جنات کا ایك گروہ مسلمان ہوگیاہےاھ۔(ت)
اورطریقے انذاروتحذیر کے مختلف ہیںایك یہ کہ یوں کہاجائے میں تم کو قسم دلاتاہوں اس عہد کی جو تم سے سلیمان بن داؤدعلیہما السلام نے لیاکہ ہمیں ایذامت دو اور ہمارے سامنے ظاہر مت ہو۔
قال الامام النووی واما صفۃ الانذار فقال القاضی روی ابن حبیب عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ یقول انشد کن بالعھد الذی اخذ علیکم سلیمن ابن داؤد ان لاتؤذونا ولاتظھرن لنا ۔ امام نووی نے فرمایا کہ انذار کی کیفیت کے متعلق قاضی عیاض کا ارشاد ہے کہ ابن حبیب نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمائی کہ آپ فرماتے تھے کہ سانپوں کوڈرانے والا یوں کہے کہ میں قسم دلاتاہوں اس عہد کی جو تم سے سلیمان بن داؤد(علیہماالسلام)نے لیاتھا کہ ہمیں تکلیف نہ دو او رنہ ہمارے سامنے آؤ۔(ت)
دوسرے یہ کہ اس طرح کہاجائے ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں بوسیلہ عہدنوح وعہدسلیمان ابن داؤدعلیہم السلام کے کہ ہمیں ایذامت دے
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا ظھرت الحیۃ فی المسکن فقولوا لھا انا نسئلك بعھد نوح وبعھد سلیمان بن داؤد ان لاتؤذینا فان عادت فاقتلوھا رواہ ابوعیسی الترمذی ثم قال ھذا حدیث حسن غریب ۔ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب گھر میں کوئی سانپ دکھائی دے تو اس سے یوں کہو کہ ہم تجھ سے عہدنوح اورعہدسلیمان بن داؤدکے طفیل یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ایذا نہ پہنچاؤ(اگر وہ یہ عہد نہ مانیں اوردوبارہ گھر میں ظاہرہوں توانہیں مارڈالو)امام ابوعیسی ترمذی نے اس حدیث کوروایت کرکے فرمایا یہ حسن غریب ہے۔(ت)
حوالہ / References شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب قتل الحیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۳۴
جامع الترمذی ابواب الصید باب فی قتل الحیات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۹
#4360 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
تیسرے یہ کہ میں تمہیں قسم دلاتاہوں اس عہد کی جوتم سے نوح علیہ السلام نے لیا میں تمہیں قسم دلاتاہوں اس عہد کی جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا کہ ایذامت دو۔
کما فی سنن ابی داؤد ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سئل عن حیات البیوت فقال اذارأیتم منھن شیأا فی مساکنکم فقولوا انشد کن العھد الذی اخذ علیکن سلیمان ان لاتؤذوا فان عدن فاقتلوھن ۔ جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کے متعلق پوچھاگیاتوفرمایا کہ جب تم لوگ اپنے گھروں میں سانپوں کی طرح کوئی چیزدیکھو تو ان سے یوں کہو کہ میں تمہیں اس عہد کی قسم دلاتاہوں جوتم سے حضرت نوح نے لیاتھا میں تمہیں اس عہد کی قسم دلاتاہوں جوتم سے حضرت سلیمان نے لیاتھا(ان دونوں پر سلام)کہ ہمیں ایذامت دو۔(ت)
چوتھے یہ کہ لوٹ جاخداکے حکم سے۔
پانچویں یہ کہ مسلمان کی راہ چھوڑدے۔
قال الطحاوی یقال لہا ارجعی باذن اﷲ تعالی او خلی طریق المسلمین اھ ملخصا وغیرذلک۔ امام طحاوی نے فرمایا کہ سانپ سے یوں کہاجائے کہ تواﷲ تعالی کے حکم سے واپس چلاجایا یوں کہاجائے کہ مسلمانوں کاراستہ چھوڑدےیا اس کے کچھ اور الفاظ کے ذریعے اس چلے جانے کوکہےاھ ملخصا(ت)
بالجملہ قتل سانپ کامستحب اورسپید اورساکن بیوت مدینہ کاسوا ذوالطیفتین اورابتر کے بے انذاروتحذیر کے ممنوع ہے مگرطحاوی کے نزدیك بے انذار میں بھی کچھ حرج نہیں او رانذار اولی ہے۔
فی الاشباہ والنظائر قال الطحاوی لابأس ان بقتل الکل لانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عاھدالجن ان لایدخلوا بیوت امتہ ولایظھروا انفسھم الاشباہ والنظائر میں ہے کہ امام طحاوی نے فرمایاکہ ہرقسم کے سانپوں کو بغیرڈرائے مارڈالنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ حضورصلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے جنات سے عہدلیاتھاکہ میری امت کے گھروں میں نہ داخل ہونا اورنہ ان کے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الآداب باب فی قتل الحیات آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۷
الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن ثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۸۳
#4361 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
فاذا خالفوا فقد نقضوا عھدھم فلاحرمۃ لھم اولاولی ھو الانذار والاحذار اھ واﷲ تعالی اعلم۔
سامنے ظاہرہوناجب وہ اس عہد کی مخالفت کریں تو گویا وہ عہدشکنی کے مرتکب ہوئے لہذا ان کی حرمت باقی نہ رہی ہاں البتہ انہیں ڈرانا اورہوشیارکرنازیادہ بہترہےاھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیل اوربکرے کو خصی کرنا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
بالاتفاق جائزہے کہ اس میں منفعت ہے۔خصی کاگوشت بہترہوتاہے اور خصی بیل محنت کی زیادہ برداشت کرتاہےاورتحقیق یہ ہے کہ اگرجانورکے خصی کرنے میں واقعی کوئی منفعت یادفع مضرت مقصود ہوتو مطلقا حلال ہے اگرچہ جانور غیرماکول اللحم ہومثلا بلی وغیرہ ورنہ حرام ہےاسی اصل کی بناء پرہمارے گھوڑے کوخصی کرنا بھی جائزجانتے ہیں جبکہ مقصود دع شرارت ہواگرچہ بعض منع فرما تے ہیں:
لمافیہ من تقلیل آلۃ الجہاد اقول الموجود لایعدم والمرھوم لایعتبر الاتری ان العزل یجوز عن الامۃ مطلقا وعن الحرۃ باذنھا بخلاف الاکل فان فیہ اعدام موجود۔ اس لئے کہ اس میں آلہ جہاد کی تقلیل ہےمیں کہتاہوں کہ موجود معدوم نہیں ہوتا اورموہوم کا اعتبارنہیں ہوتا کیاتم نہیں دیکھتے کہ لونڈی سے"عزل"علی الاطلاق جائزہے جبکہ آزاد عورت سے اس کی اجازت پرموقوف ہے بخلاف کھانے کے کہ اس میں موجود کومعدوم کرناہے۔(ت)
ہاں آدمی کاخصی کرنا بالاجماع مطلقا حرام ہے۔درمختارمیں ہے:
وجاز خصاء البھائم حتی الھرۃ واما خصاء الادمی فحرام قیل والفرس وقیدوہ بالمنفعۃ والافحرام ۔ چوپایوں کوخصی کرنا جائزہے لیکن آدمی کوخصی کرنا حرام ہے اور کہاگیا کہ گھوڑے کوبھی۔اورفقہائے کرام نے خصی کرنے میں فائدہ اورنفع کی قید لگائی ہے اور اگریہ نہ ہو تو پھرحرام ہے۔(ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر بحوالہ الطحاوی الفن الثالث احکام الجان ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۸۴
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
#4362 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ قیل والفرس ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ لا باس بہ عند اصحابنا وذکرشیخ الاسلام انہ حرام ۔واﷲ تعالی علم۔ مصنف کاقول"والفرس"شمس الائمہ حلوانی نے ذکرفرمایا کہ گھوڑے خصی کرنے میں ہمارے اصحاب کے نزدیك کوئی حرج نہیں جبکہ شیخ الاسلام نے ذکرفرمایا کہ اسے خصی کرنا حرام ہےط۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۴: ۲۰ربیع الآخرشریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ سگ کاپالناجائزہے یانہیں اورکبوتر پالنا بلااڑانے کےبٹیربازی ومرغ بازی وشکرہ وبازپالنا اور ان سے شکارپکڑوانا اورکھانا درست ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
شکراوب ازپالنادرست ہےاور ان سے شکار کرانا اوراس کاکھانا بھی درست ہے۔
لقولہ تعالی "وما علمتم من الجوارح" الآیۃ۔ اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اورجن زخمی کرنے والے جانوروں کوتم نے شکار کرنے کاطریقہ سکھارکھاہے۔ (ت)
مگریہ ضرورہے کہ شکارغذا ودوا یاکسی نفع صحیح کی غرض سے ہومحض تفریح ولہوولعب نہ ہوورنہ حرام ہےیہ گنہگار ہوگااگرچہ ان کاماراہواجانور جبکہ وہ تعلیم پاگئے ہوں اور بسم اﷲ کہہ کرچھوڑا ہو حلال ہوجائے گا۔
فان حرمۃ فی کونہ ذکاۃ شرعیۃ لکن سمی اﷲ تعالی وضرب الغنم من قفاہ حر الفعل کسی شکاری جانور کومحض تفریح طبع کے طورپر شکار کرنے کے لئے چھوڑنے کی حرمت اس کے شرعی طورپرذبح ہونے کے منافی یامخالف نہیں لیکن اﷲ تعالی کانام لے کرچھوڑے جیسے کسی شخص نے اﷲ تعالی کانام لے کربکری کی گدی کی طرف سے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹
القرآن الکریم ۵ /۴
#4363 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
وحل الاکل۔ ضرب لگائی اگرچہ فعل حرام ہے مگر اس کاکھانا حلال ہے۔(ت)
اوربٹیر بازیمرغبازی اور اسی طرح ہرجانور کالڑانا جیسے مینڈھے لڑاتے ہیں لعل لڑاتے ہیں یہاں تك کہ حرام جانوروں مثلا ہاتھیوں ریچھوں کالڑانا بھی سب مطلقا حرام ہے کہ بلاوجہ بے زبانوں کوایذاہے حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن التحریش بین البھائم اخرجہ ابوداؤد والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما وقال الترمذی حسن صحیح ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جانوروں کے لڑانے سے منع فرمایا(امام ابوداؤد اورامام ترمذی نے اس کوحضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا اور امام ترمذی نے فرمایا:حدیث حسن صحیح ہے۔ت)
کبوتر پالنا جبکہ خالی دل بہلانے کے لئے ہو اور کسی امرناجائز کی طرف مؤدی نہ ہوجائزہے اور اگرچھتوں پرچڑھ کراڑائے کہ مسلمانوں کی عورات پرنگاہ پڑے یا ان کے اڑانے کوکنکریاں پھیکنے جوکسی کاشیشہ توڑیں یاکسی کی آنکھ پھوڑیں یاکسی کادم بڑھائے اورتماشا ہونے کے لئے دن بھر انہیں بھوکا اڑائے جب اترنا چاہیں نہ اترنے دیں ایساپالنا حرام ہےدرمختارمیں ہے:
یکرہ امساك الحمامات ولو فی برجھا ان کان یضربا لناس بنظر او جلب والاحتیاط ان یتصدق بھا ثم یشتریھا اوتوھب بلہمجتبیفان کان یطیرھا فوق السطح مطلعا علی عورات المسلمین و یکسر زجاجات الناس برمیہ تلك الحمامات عزر ومنع کبوتروں کوروك رکھنا اگرچہ ان کے برجوں میں ہو مکروہ ہے اگرلوگوں کونقصان پہنچاہودیکھنے یا پکڑنے کی وجہ سےاور احتیاط یہ ہے کہ انہیں خیرات کردیاجائے پھرانہیں خریدے یا اسے ہبہ کئے جائیںمجتبیپھراگرچھتوں پرچڑھ کر اڑانے کہ مسلمانوں کی پردہ دار خواتین پرنگاہ پڑے یا انہیں اڑانے کے لئے کنکرپھینکنے جن سے لوگوں کے گھروں کی کھڑکیوں روشندانوں
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۴،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۶
#4364 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
اشدالمنع فان لم یمتنع ذبحھا المحتسب وصرح فی الوھبانیۃ بوجوب التعزیر وذبح الحمامات ولم یقیدہ بما مر ولعلہ اعتمد عادتھم واما للاستیناس فمباح اھ۔ کے شیشے ٹوٹنے کی نوبت آئے تو یہ سخت منع ہے اور اگر اس حرکت سے بازنہ آئے توحاکم شہر انہیں ذبح کراڈالے۔ اور وہبانیہ میں تصریح ہے کہ اس صورت میں سزادینا اور کبوتروں کو ذبح کرڈالنا واجب ہے اور اس نے گزشتہ قید کا ذکرنہیں کیا شاید اس نے فقہائے کرام کی عادت پراعتمادکیاہے اور اگرکبوترپروری صرف دل بہلانے اور انس کے لئے ہوتو مباح ہےاھ(ت)
صحیح بخاری وغیرہ میں عبداﷲ بن عمر اورصحیح ابن حبان میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت امرأۃ النار فی ھرۃ ربطتھا فلم تطعمھا ولم تدعھا تاکل من خشاش الارض ۔ ایك عورت دوزخ میں گئی ایك بلی کے سبب کہ اسے باندھا رکھاتھانہ اسے کھانادیانہ چھوڑاکہ زمین کے چوہے وغیرہ کھالیتی۔
ابن حبان کی حدیث میں ہے:
فھی اذا قبلت تنھشھا قبلھا واذا ادبرت تنھشھا ۔ وہ بلی دوزخ میں اس عورت پرمسلط کی گئی ہے کہ اس کا آگا پیچھا دانتوں سے نوچ رہی ہے۔
ایك حدیث میں حکم ہے کہ جوجانور پالو دن میں ستربار سے دانہ پانی دکھاؤ نہ کہ گھنٹوں پہروں بھوکا پیاسا رکھو اورنیچے آنا چاہے تو آنے دو۔
علماء فرماتے ہیں جانورپرظلم کافرذمی پرظلم سے سخت ترہے اورکافر ذمی پرمسلمان ظلم سے اشد کما فی الدرالمختار وغیرہ (جیساکہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ت)اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
صحیح البخاری کتاب بدؤالخلق باب خمس من الدواب فواسق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۶۷
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان فصل فیما یتعلق بالدواب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۸ /۴۵۵،مواردالظمآن باب صلٰوۃالکسوف حدیث ۵۹۵ و ۵۹۶ المطبعۃ السلفیہ ص۱۵۷
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
#4365 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
فرماتے ہیں:
الظلم ظلمت یوم القیامۃ ۔ ظلم ظلمتیں ہوگاقیامت کے دن۔
اوراﷲ تعالی فرماتاہے:
" ان لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۴۴﴾" سن لو اﷲ کی لعنت ہے ظلم کرنے والوں پر۔
کتاپالناحرام ہےجس گھرمیں کتاہو اس گھرمیں رحمت کا فرشتہ نہیں آتاروز اس شخص کی نیکیاں گھٹتی ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ۔رواہ احمد والشیخان والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی طلحۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ فرشتے نہیں آتے اس گھرمیں جس میں کتا یا تصویرہو۔(امام بخاریمسلماحمدترمذینسائی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من اقتنی کلبا الا کلب ماشیۃ اوضاریا نقص من عملہ کل یوم قیراطان۔رواہ احمد والشیخان والترمذی والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔ جوکتاپالے مگرگلی کاکتا یاشکاریروز اس کی نیکیوں سے دو قیراط کم ہوں(ان قیراطوں کی مقداراﷲ ورسول جانے جل جلالہصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)(امام احمدبخاریمسلم ترمذی اور نسائی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند کے ساتھ اس کو روایت کیاہے۔ت)
حوالہ / References صحیح بخاری ابواب المظالم والقصاس باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱
القرآن الکریم ۷ /۴۴
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق ۱/ ۴۵۸ وکتاب المغازی ۲ /۵۷۰ وصحیح مسلم کتاب اللباس ۲ /۲۰۰،جامع الترمذی ابواب الاب ۲ /۱۰۳ وسنن النسائی ابواب الصید ۲ /۱۹۳
صحیح البخاری کتاب الذبائح ۲ /۸۲۴ و صحیح مسلم کتاب المساقات ۲/ ۲۱،جامع الترمذی ابواب الصید ۱ /۱۸۰ و سنن النسائی ابواب الصید ۲ /۱۹۴،مسندامام احمدبن حنبل عن ابن عمر ۲ /۴،۳۷۰،۴۷،۶۰
#4366 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
توصرف دوقسم کے کتے اجازت میں رہے ایك شکاری جسے کھانے یادوا وغیرہ منافع صحیحہ کے لئے شکار کی حاجت ہونہ شکار تفریح کہ وہ خود حرام ہےدوسرا وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہوورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیںغرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیںآخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتےخلاصہ یہ کہ اﷲتعالی کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۵: ازبنگالہ ضلع جسرڈاکخانہ محمودپور موضع دہنوائل مرسلہ عزیزالرحمن ۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںجانوروں کاخصی کرانا جیسے بیلبکرامرغ وغیرہ جائزہے یانہیں اگرجائزہے تو کس طرح پر اور یہ طریقہ کہاں سے ہے اور کس نے جاری کیا
الجواب:
جانوروں کے خصی کرنے سے اگرکوئی منفعت جائزہ مقصودہویاگوشت اچھاہونا جیسابیلبکری وغیرہ میں مقصود ہوتاہے یا شرارت دفع کرنا جیساکہ گھوڑے وغیرہ میں قصد کیاجاتاہے جب تو جائزہے ورنہ حرامصرف گھوڑے کے باب میں علماء ممانعت کی طرف گئےمگرتحقیق یہ ہے کہ منفعت کے لئے ہوتو وہ بھی جائزہے البتہ آدمی کوخصی کرنا مطلقا حرام ہے۔اوریہ طریقہ خصی کرنے کامشہور ومعروف اورزمانہ اسلام آنے سے پشترجاری ہے۔
فی الدرالمختار جازخصاء البھائم حتی الھرۃ واما خصاء الادمی فحرام قیل والفرس وقیدوہ بالمنفعۃ والافحرام فی ردالمحتار قولہ قیل الفرس ذکر شمس الائمۃ الحلوانی درمختارمیں ہے کہ جانوروں کوخصی کرنا جائزہے یہاں تك کہ بلے کوخصی کرنابھی مباح اورجائزہےجہاں تك انسان کاتعلق ہے اسے خصی کرنے کی اجازت ہرگزنہیںمرد کو خصی کرنا حرام ہےیہ بھی کہاگیا ہے کہ گھوڑے کوخصی کرنا حرام ہےاور اس کے خصی کئے جانے کے جواز
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶
#4367 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
انہ لاباس بہ عند اصحابنا وذکرشیخ الاسلام انہ حرامقولہ وقیدوہ ای جواز خصاء البھائم بالمنفعۃ وھی ارادۃ سمنھا اومنعھا عن العض بخلاف بنی آدم فانہ یراد بہ المعاصی فیحرمافادہ الاتقانی عن الطحاوی اھ واﷲ تعالی اعلم۔ کوعلماء کرام نے اس کے فائدے کے ساتھ مشروط اورمقید کیاہے ورنہ اس کوخصی کرنا حرام کہاہے۔
فتاوی شامی میں مصنف کے قول قیل الفرس کے ذیل کیاہے کہ ہمارے اصحاب گھوڑے کو خصی کرنا جائزقراردیتے ہیں البتہ شیخ الاسلام نے بیان فرمایاکہ یہ حرام ہے۔مصنف کاقول قیدوہ یعنی جانوروں کوخصی کرنے کاجواز کسی منفعت سے مقیدہے مثلا جانور کوموٹا اورطاقتوربنانایا یہ کہ وہ شوخی اور شرارت سے بازآجائے گا بخلاف بنی آدم کے کہ اس کے خصی ہونے یاکئے جانے سے کئی قسم کے گناہ جنم لیں گے۔علامہ اتقانی نے امام طحاوی کے حوالے سے یہ حکمت پیش کی ہے اھ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۶: ۹ربیع الاول شریف:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کبوتر اڑانا اورپان اورمرغ بازیبٹیر بازیکنکیابازی اور فروخت کرنا کنکیا اوڈور اور مانجھا جائزہے یاناجائز اوران لوگوں سے سلام علیك کرنا اور سلام کا جواب دینا واجب ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
کبوترپالناجائزہے جبکہ دوسروں کے کبوترنہ پکڑےاورکبوتراڑاناکہ گھنٹوں ان کو اترنے نہیں دیتے حرام ہے اور مرغ یابٹیر کالڑانا حرام ہے۔ان لوگوں سے ابتداء بسلام نہ کی جائے جواب دے سکتے ہیںواجب نہیں۔کنکیا اڑانے میں وقتمال کاضائع کرناہوتاہے۔یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیا ڈوربیچنا بھی منع ہے احتراز کریں تو ان سے بھی ابتداء بسلام نہ کی جائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۷:اگربلی یاکتا وغیرہ آدمیوں کی چیز کانقصان کرتے ہوں یاکاٹ کھاتے ہوں توان کامارڈالناجائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
کاٹتے ہوں تو درست ہے قتل ان کا۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۹
#4368 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۰: ازشہرکہنہ ۱۲ رجب ۱۳۳۵ھ بارہ دری مسئولہ مصطفی علی خاں
جناب مولوی صاحب بعدادائے آداب کے گزارش یہ ہے کہ آپ کی خدمت میں آدمی بھیجتاہوں مہربانی فرماکر سوالوں کاجواب عنایت فرمادیجئے:
(۱)کنکیا اگرآکرگھرپرگرجائے اورمعلوم نہ ہوکہ کس کی ہے لے لینے سے گناہ تونہیں
(۲)کنکیا اڑاناگناہ ہے یانہیں
(۳)بلی تکلیف دیتی ہو توا س کوبستی میں چھڑوانا گناہ تونہیں ہے
الجواب:
(۱)کنکیا لوٹناحراماورخودآکرگرجائے تو اسے پھاڑڈالےاوراگرمعلوم نہ ہو کہ کس کی ہے توڈور کسی مسکین کودے دے کہ وہ کسی جائزکام میں صرف کرلےاورخودمسکین ہوتواپنے صرف میں لائےپھرجب معلوم ہوکہ فلاں مسلم کی ہے اور وہ اس تصدق یا اس مسکین کے اپنے پرراضی نہ ہو تودینی آئے گی اور کنکیا کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں۔
(۲)کنکیا اڑانا منع ہے اورلڑانا گناہ۔
(۳)بلی اگرایذادیتی ہو تو اسے باہرچھوڑدینے میں حرج نہیں اورتیزچھری سے ذبح بھی کرسکتے ہیں مگر چھڑوانا ایسی جگہ جائزنہیں جہاں سے وہ اپنے کسی رزق تك نہ پہنچ سکے۔فقط۔
مسئلہ ۲۶۱: ازمقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار مرسلہ قاضی قاسم میاں ۱۱صفر۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تواریخ حبیب الہ ص ۹۲ میں بحوالہ مشکوۃ شریف بروایت حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲ تعالی عنہ نقل ہے کہ حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك قصہ نوجوان انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کو ارشاد فرمایا کہ مکانوں میں ایك قسم کے سانپ ہوتے ہیں کہ عوامر کہلاتے ہیں جب سانپ مکان میں نمودارہو تو تودیکھتے ہی نہ مارڈالو کہ تین دن اسے کہہ دو کہ پھرنہ نکلیوپھراگر وہ دکھائی دے تو اسے مار ڈالو۔دریافت طلب یہ ہے کہ اس طرح کہہ کرکیا سانپ کوچھوڑدیاجائے یامارڈالناچاہئے کیاجن بھی سانپ کی شکل نمودار ہوتے ہیں اور ان کی کچھ نشانی ہے یانہیں
الجواب:
یہ حکم حدیث میں مدینہ طیبہ کے لئے تھا اورجگہ اس کی حاجت نہیں کماحققہ الامام الطحاوی فی شرح معانی الآثار(جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
#4369 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
مسئلہ ۲۶۲: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسئولہ مولوی محمدافضل صاحب ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ بوزینہ رادرخانہ خودپرورش کردن مکروہ ہست یانہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ بندر کو اپنے گھرمیں پالنا مکروہ اورناپسندیدہ کام ہے یانہیں۔(ت)
الجواب:
بلے زیراکہ او ازفسقہ است واز وے جز ایذا نیاید واگربارے مسخرخواہد چنانکہ قلندران می کنند ایں خود حرامست کما فی الدرالمختاروھو تعالی اعلم۔ ہاں بیشک(اس کاپالنامکروہ ہے)اس لئے کہ وہ فاسق جانوروں میں شمارہے۔پس اس سے سوائے ایذارسانی اورکچھ نہیں ہوتااگرکبھی تابع کیاجائے جیساکہ قلندرلوگ (آزاد منش) کیاکرتے ہیں تویہ بھی حرام ہے جیسا کہ درمختارمیں مذکور ہے۔وھوتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۳: ازفریدپور مرسلہ جناب جدالحسین صاحب مورخہ ۲۲جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرگائے یابھینس کابچہ مرجائے اور اس بچہ کے چمڑے کوسکھاکربصورت بچہ کے بناکر اور گائے کے سامنے رکھادودھ دوہنا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۴: ازمیڑتاروڈ مارواڑ ریاست جودھپور مسئولہ عبدالقادر صاحب ۲۶جمادی الاولی
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین کہ چیونٹیوں کودانہ ڈالنا جائزہے یاناجائز تحریرفرمائیںایك شخص ایك مولوی کے پاس گیا اور کہا کہ میں تنگ دست ہوںمولانافرمانے لگے چیونٹیوں کودانہ ڈالاکرو۔اس نے یہ فعل کیایہ ثواب ہے یانہیں
الجواب:
جائز وکارثواب ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فی کل ذات کبدرطبۃ اجر رواہ الشیخان ہرجاندار کی خدمت کرنے میں اجرہےبخاری ومسلم
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المظالم باب الدبارعلی الطریق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۳۳،صحیح مسلم کتاب السلام باب فضل سقی البہائم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷
#4370 · جانوروں کاپالنا،لڑانا اور ان پررحم وظلم
عن ابی ھریرۃ واحمد عن عبداﷲ بن عمرووکابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنھم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ میں حضرت ابوہریرہ سے اس کو روایت کیااور امام احمد نے عبداﷲ بن عمرو سے اور ابن ماجہ نے سراقہ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہم سے اس کو روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
__________________
#4371 · نام رکھنے کابیان
نام رکھنے کابیان

مسئلہ ۲۶۵: ازکلکۃ دھرم تلا ۱۲۴ مرسلہ جناب محمدیونس صاحب ۸رجب ۱۳۲۷ھ
علمائے دین سے سوال ہے کہ اس شخص کاکیاحال ہےبکرنے اپنی اولاد کے نام تین زبانوں میں رکھ چھوڑے ہیں عربی انگریزی ہندیایك لڑکے کامطیع الاسلام ہےدوسرے کاپالسلڑکی کا نام کنول دیویجواس سے کہاجاتا ہے توکہتاہے کہ زبان کافرق ہے مگربرے نہیں۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
یہ اس کافعل شیطانی شیطانی حرکت ہے۔قال اﷲ تعالی:
"یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾" اے ایمان والوا! اسلام میں مکمل طورپرداخل ہوجاؤ اورشیطان کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہاراکھلادشمن ہے۔(ت)
طحطاوی علی الدرالمختار وابوالسعود الازہری علی الکنزمیں ہے:
قسم یختص بالکفار کجرجس ناموں کی ایك قسم کفار سے مختص ہے جیسے جرجس
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۰۸
#4372 · نام رکھنے کابیان
وپطرس ویوحنافھذا لایجوز للمسلمین التسمی بہ لما فیہ من المشابھۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ پطرس اوریوحنا وغیرہ لہذا اس نوع کے نام مسلمانوں کے لئے رکھنے جائزنہیں کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۶: ازنینی تال کاشی پور ڈاکٹراشتیاق علی بروزیك شنبہ ۱۸صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
بعض لوگ اپنے نام کے آگے صدیقی اوررضوی لکھاکرتے ہیں جیسے سعیداﷲ صدیقی واشتیاق علی رضویتویہ لکھناجائزہے یانہیں اگرلکھاجائے توکچھ کناہ ہےفقط۔
الجواب:
اگرنسبت صحیح ہے جائز ورنہ حرام۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۷: مرسلہ محمدفیاض الرحمن صاحب روڑ کی کیمپ ۲۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنے نام کے ساتھ اسرائیلی لکھتاہے جس طرح اورلوگ قریشی صدیقی چشتی وغیرہ لکھتے ہیں کیالفظ اسرائیلی ایك حنفی المذہب شخص کے لئے صرف نسبت ظاہرکرنے کوجائز ہوتا ہے مناسب ہے کہ بنی اسرائیل کی کچھ تفصیل کردی جائے کیونکہ اکثرلوگ زید پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ نسبت ایك حنفی المذہب کے لئے ناجائز ہےجبکہ زید کچھ تھوڑی تفصیل یہ بیان کرتاہے کہ حضرت یعقوب کادوسرا اسم گرامی اسرائیل تھا جن کے خاندان میں ہم لوگ ہیں امید کہ حضور عالی تشریح اورتفصیل کے ساتھ جلدسے جلد بیان فرمائیں تاکہ اگرکوئی گناہ ہو تو فورا اس نسبت وترك کردیاجائے۔
الجواب:
اسرائیل سیدنایعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کانام مبارك ہے۔قال اﷲ تعالی:
"کل الطعام کان حـلا لبنی اسرءیل الا ما حرم اسرءیل علی نفسہ من قبل ان تنزل التورىۃ " ۔ سب کھانے بنی اسرائیل کے لے حلال تھے مگر وہ چیزجو اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام)نے نزول تورات سے پہلے اپنی ذات پر حرام ٹھہرالی(اونٹ کاگوشت اور دودھ وغیرہ)۔(ت)
زیداگرنسبا بنی اسرائیل سے ہے تو اس کا اپنے آپ کواسرائیلی کہنابجاہے اور اس کے ناجائز
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۲ /۴۷۲
القرآن الکریم ۳ /۹۳
#4373 · نام رکھنے کابیان
ہونے کی کوئی وجہ نہیں البتہ اب یہ لفظ مسلمانوں میں اجنبی ساہوگیا ہے لوگ اسرائیلی کومحمدی کے مقابل سمجھتے ہیں اور اجلہ اکابر کے کلام پاك میں یہ مقابلہ آیا ہے حضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
یا اسرائیل قف واسمع کلام المحمدی ۔ ٹھہرجائیے اسے اسرائیلی! ذرامحمدی نسبت رکھنے والے(یعنی ایك مسلمان محمدی)کاکلام سن لیجئے(ت)
نسبت نسب ومذہب دونوں اعتبارسے ہوتی ہے اور یہاں بحسب نسب یہ نسبت بہت کم مسموعلہذاعوام مسلمین اسے سن کرچونکتے ہیں اوربلاضرورت ایسی بات پراقدام شرع مطہر کوپسندنہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولاتنفروا ۔ (لوگو!)خوشخبری سنایاکرو لہذا ایك دوسرے کو نفرت نہ دلایا کرو(ت)
دوسری حدیث میں ہے:
ایاك ومایسوء الاذن ۔ اس سے بچو جوکانوں کوبری لگے(یعنی غیبت سے بچو)(ت)
لہذاپنے نام کے ساتھ یہ نسبت لکھنی نامناسب وقابل ترك ہے مگرگناہ وحرام اب بھی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۸: از امرتسر کڑہ گرباسنگھ متصل مسجدکنجری والی دروازہ بھگتا نوالہ مرسلہ منشی نبی بخش ۲۳شعبان ۱۳۳۵ھ
حامی سنتماحی بدعتمجددزماں جناب مولاناصاحب بفضل اولینا دامت فیوضہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ بعد سلام مسنون الاسلام کے خداوندکریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آنجناب کاوجود مبارك واسطے گنہگاروں کی ہدایت کےاوراشرار و دشمنان دین محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مکروفریب کوملیامیٹ کرنے کے لئے پیداکیا۔دعاہردم ہے کہ خداوندکریم تا زمانہ ابد الدہرآنجناب کوسلامت باکرامت رکھے۔بعدازاں خدمت بابرکت میں ملتمس ہوں کہ بندے کانام نبی بخش ہے۔چونکہ فرقہائے اشرار زمانہ خصوصا گروہ وہابیہ میں یہ مرض ہے کہ مسلمانوں سے بات بات کی مخالفت کرتے ہیں اگرچہ ان کاسراسر نقصان ہی ہوتا ہے۔بندے کانام توپہلے ہی وہابیوں کے جلانے کے لئے تھا لیکن بندے نے ان کو اور بھڑکاناچاہا یعنی اپنانام بجائے نبی بخش کے عبدالنبی کردیا۔نام تبدیل کرنے سے پہلے بندے نے ازحد
حوالہ / References بہجۃ الاسرار عن قول الرجل ای شیئ اعملہ مصطفی البابی مصر ص۷۴
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم علیہ یتحولہم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶
مسنداحمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغاویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶
#4374 · نام رکھنے کابیان
غورکرلیاجتناکہ ہوسکاکہ کہیں ان کی مخالفت میں اپنانقصان نہ ہو یعنی کئی مسلمانوں کانام عبدالمحمدعبدالنبیعبدالرسول لکھاہوا دیکھالیکن وہ سب مولوی عالم ہیں اور بندہ محض بے علم ہےاور سب سے بڑھ کر قولہ تعالی"قل یعبادی" الخ پڑھ کر بے فکر ہوکر نام تبدیل کردیا جوکہ ایك عرصہ تك لکھتا رہا لیکن جناب شاہ صاحب جوکہ بندے کے دینیات کے استاد ہیں کسی شخص نے ان کی خدمت میں ذکرکیا کہ منشی نبی بخش جوخط وہابیوں کولکھتاہے اس میں ان کوجلانے کے لئے اپناعبدالنبی لکھ دیتا ہے۔پھر اس شخص نے بندے کو آکر کہاکہ جناب شاہ صاحب فرماتے تھے کہ نبی بخش ازحد غلطی کرتاہے کیونکہ خداونکریم کا بندہ بننا تو اسان ہے لیکن جناب رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کابندہ ہوجانا ازحد مشکل ہے بلکہ ایسا نام لکھنا آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بے ادبی کرناہے۔اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ جناب حضرت مولانا احمدرضاخان صاحب باوجود مجدد زماں ہونے کے اپنااسم مبارك عبدہ المذنب عبدالمصطفی لکھاکرتے ہیں جب سے بندہ نے اس شخص سے یہ بات سنی اسی وقت سے عبدالنبی نہیں لکھا کیونکہ جناب حضرت سیدشاہ صاحب ازحد فقیہ عالم فاضل تصوف میں کامل شریعت میں پکے ہیں بندے کو ان کافرمان ماننے میں ذرابھی عذرنہیں لیکن کہنے والادوسرا شخص ہے شاید اس نے سمجھنے میں غلطی کھائی ہو اور بندے میں باعث رعب شاہی کے اتنی جرأت نہیں کہ جناب شاہ صاحب سے دریافت کر سکے لہذا خدمت بابرکت میں مؤدبانہ ملتمس ہوں کہ جناب براہ بندہ نوازی ارشاد فرمادیں کہ بندہ اپنا نام عبدالنبی لکھ سکتاہے یانہیں اور جوشخص پہلے اپنانام عبد الرسولعبدالمحمد لکھتے ہیں وہ کیوں لکھتے ہیں ایسے طور پر جواب تحریر فرمادیں کہ بندہ سمجھ سکے اورہدایت پائے اور جواپنانام بندہ عبدالنبی لکھ سکوں تو کس طرح لکھ سکتاہوںکوئی بغیر تبدل یاکوئی لفظ زیادہ کرناپڑے گا یانہیں امید ہے آنجناب جلدی جواب ارسال فرمائیں گےوالسلام
الجواب:
ہرمسلمان پرلازم ہے کہ اپنے آپ کو حضوراقدس صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کامملوك جانےتمام عالم ہی ان کے رب عزوجل کی عطا سے ان کی ملك ہے شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناعشریہ میں توریت مقدس سے نقل فرماتے ہیں کہ رب عزوجل حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت فرماتاہے:
ملك الارض و رقاب الامم ۔ احمدمالك ہیں تمام زمین اور مالك ہیں سب امتوں کی گردنوں کے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۹ /۵۳
تحفہ اثناعشریہ باب ششم دربحث نبوت الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
#4375 · نام رکھنے کابیان
شاہ ولی اﷲ صاحب ازالۃ الخفامیں حدیث نقل کرتے ہیں امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کوجمع فرماکر اس مجمع کے سامنے خطبہ میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکرشریف کرکے فرمایا:
کنت عبدہ وخادمہ کالسیف المسلول بین دیہ ۔ میں حضورکاعبدتھا بندہ تھاخادم تھا اورحضور کے سامنے تیغ برہنہ کی طرح تھا۔
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں روایت فرماتے ہیں حضرت اعشی مازنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے خدمت اقدس میں حاضرہوکر عرض کی:
یامالك الناس ودیان العرب ۔ اے تمام آدمیوں کے مالك اورعرب کے جزاوسزادینے والے۔
شفاء امام قاضی عیاض ومواہب لدنیہ امام احمد قسطلانی میں ہے حضرت سیدنا سہل بن عبداﷲ تستری رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
من لم یرنفسہ فی ملك النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یذق حلاوۃ سنتہ ۔ جواپنے آپ کونبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کامملکوك نہ جانے اس نے ان کی سنت کامزہ نہ چکھا۔
بالجملہ اس معنی پرتمام جہان ان کی ملك ان کابندہ ان کاعبد ہے یوں اپنالقب عبدالنبیعبدالرسولعبدالمصطفی رکھناعین سعادت ہےاور اس سے اسلام وکفر کافرق روشن ہے کہ اﷲ عزوجل کی عبدیت سے کسی کافرکوبھی استنکاف نہ ہوگا حتی کہ وہابیہ بھی بڑی خوشی سے اپنے آپ کو عبداﷲ کہیں گے اگرچہ واقع میں شیخ نجدی کے بندے اورعبدالشیطان ہیںمگرمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کابندہ ہرگز اپنے آپ کونہ بتائیں گےعبدالنبی اورعبدالشیطان دونوں عبداﷲ ہیںوہ عبدالنبی ہیں جن کوفرمایا:
"فادخلی فی عبدی ﴿۲۹﴾ و ادخلی جنتی ﴿۳۰﴾" (اے نفس مطمئنہ)میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔(ت)
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب العلم خطبہ عمربعدماولی علی الناس دارالفکر بیروت ۱ /۱۲۶
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
المواہب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰
القرآن الکریم ۸۹ /۲۹
#4376 · نام رکھنے کابیان
اور وہ عبدالشیطان ہیں جن کوفرمایا:
"یحسرۃ علی العباد ما یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزءون ﴿۳۰﴾ " ہائے افسوس(نافرمان)بندوں پرکہ ان کے پاس(خداکا)کوئی رسول نہیں آتامگر یہ اس کے ساتھ ہنسی ومذاق کرتے ہیں (ت)
مگرعبدالشیطان ہرگزعبدالنبی عبدالمصطفی نہیں ہوسکتا اور اسے معاذاﷲ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین سے کیاعلاقہنقل کرنے والے نے ضرور غلط نقل کیا یا غلط سمجھاہاں عبدبمعنی بندہ خاص یعنی مطیع وفرمانبردار ہونا ضروردشوار ہے اوربایں معنی عبداﷲ وعبدالنبی ایك ہے کہ:
"من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جوشخص رسول اﷲ کی اطاعت کرتاہے اس نے درحقیقت اﷲ تعالی کی اطاعت کی۔(ت)
اس معنی پراپنے آپ کو اس وصف عظیم سے یادکرنا ضرورتذکیہ نفس وخودسرائی ہے کہ بنص قرآن مجیدحرام ہےقال اﷲ تعالی"فلا تزکوا انفسکم " (اﷲ تعالی نے فرمایا:"اپنے نفوس کوپاکیزہ بناؤ۔ت) جولوگ اپنالقب مطیع النبیمطیع الرسول رکھیں جاہل بیخرد ہیں یا قرآن عظیم کے دانستہ مخالف۔خودانہیں کا قول ان کی تکذیب کوبس ہے جومطیع النبی ومطیع الرسول ہوگاہرگز اپنے نفس کاتذکیہ نہ کرے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۹: ازقادر گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سیدظہورالحسین حسینی قادری رزاقی ۲۲جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
عبدالمصطفیعبدالرسولعبدالنبیغلام مصطفیغلام رسولغلام نبیغلام محمدغلام احمدغلام پنجتنعبدالعلیعبدالحسینغلام علیغلام حسینغلام دستگیرغلام غوثغلام محی الدینغلام پیرغلام مرشدغلام مولی بخشغلام بخشپیربخش نذرمصطفی نذرپنجتننذرحسیننذرعلینذرمحی الدیننذرپیر خادم علیخادم غوثکنیزمصطفیکنیزپنجتن کنزمرتضی کنزحسین کنیز غوثکنیزمرشدکنیزفاطمہ وغیرہ اس طرح کانام رکھنا جائزہے یانہیں اورجائز ہے توعلمائے متقدمین ومتاخرین میں اس طرح کانام کس کس کاہے اور اس کاجوازفقہ سے ثابت ہے یانہیں اورا س کے جواز میں آپ کاکوئی رسالہ ہے یانہیں اگر ہے تو اس کا کیانام اورکس قیمت پرملتاہے
#4377 · نام رکھنے کابیان
الجواب:
فقیرکے اس بارے میں تین رسالے ہیں جومیرے مجموعہ فتاوی میں ہیں۔ایك دربارہ غلام مصطفی اور اس کاجواز دلائل سے ثابت کیاہے۔دوسرا دربارہ عبدالمصطفی اور اس میں یہ تحقیق کیاہے کہ توصیفا بلاشبہہ جائزاور اجلہ صحابہ سے ثابت کراہت کہ بعض متاخرین نے لکھی جانب تسمیہ راجع ہے۔تیسرے میں اسمائے کثیرہ سے بحث ہے اور اس میں محمدبخش اور اس کے امثال کا جواز ثابت کیا ہے۔یہ تینوں رسالے ابھی طبع نہ ہوئے۔علامہ عابد سندی مدنی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے طوالع الانور میں اور حاشیہ درمختار میں عبدالنبی و عبدالرسول کاجواز بہت احادیث سے ثابت کیاہے۔علامہ جمال بن عبداﷲ بن عمر رحمۃ اﷲ علیہ مفتی حنفیہ بمکہ مکرمہ کے فتاوی میں بھی اس کاجوازمصرح ہے۔کنیز ونذر وخادم کے ساتھ نام رکھنے میں بھی حرج نہیںزمانہ سلف میں رواج نہ ہونا مستلزم ممانعت نہیں دودوتین تین ناموں پرمشتمل نام رکھنا جیسے محمدعلی حسین اس کابھی رواج سلف کھبی نہ تھا سادے ایك لفظ کے نام ہوتے تھے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰ تا ۲۷۲: ازمرادآباد مرسلہ مولوی محمدعبدالباری صاحب ۷صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)اگرکوئی شخص کسی سنی حنفی رضائی قادری کو لہبڑا کہے جوتصغیر لہبی کی ہے وہابی کاہے تو ایسے شخص کاشرع شریف کے موافق کیاحکم ہے حنفی رضاعی مذکوردرحقیقت ان الفاظ کامحل نہیں تویہ لفظ اسے کہنے والے پرعائد ہوں گے یانہیں اگرنہ ہوں توکہاں جائیں گے
(۲)ایساشخص جو ایسے بے جا الزام سنی رضائی پرلگائے اور اس کااکل بھی حلال نہیں بلکہ کھلاہوا مشتبہ اورحرام ہے تواس قول فعل شرع کے احکام میں کہاں تك معتبرہوسکتاہے
(۳)یہی شخص کسی مسلمان سے بلاسخت کلامی ودشنام کے گفتگو نہیں کرتا اورکہتاہے مسجد کے لوٹوں میں جوپانی بچناہے وہ قطعی ناپاك ہے یہاں تك کہ اس پانی کو دوسرے برتن وغیرہ میں ڈالو گے تو وہ برتن بھی نجس ہوجائے گا اور مسجد میں اس کے فرش یابوریے پرکبھی نماز نہیں پڑھتا اپنے خاص کپڑے پر جس پرچندہ اور کپڑے ہیں نمازپڑھتاہے اس قسم کے عادات نمازمیں کہاں تك ناجائزہیں
الجواب:
(۱)سنی مسلمان کولہبڑا کہنافسق ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سباب المسلم فسوق ۔ مسلمان کوبلاوجہ شرعی براکہنا فسق ہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب خوف المؤمن ان یحبط عملہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲
#4378 · نام رکھنے کابیان
اﷲ تعالی فرماتاہے:
" ولا تنابزوا بالالقب بئس الاسم الفسوق بعد الایمن ومن لم یتب فاولئک ہم الظلمون ﴿۱۱﴾" مسلمانو! آپس میں ایك دوسرے کو برے لقب سے یاد نہ کرو ایمان کے بعد فسق کیاہی برانام ہے اور جوتوبہ نہ کرے وہی لوگ ظالم ہیں۔
آیہ کریمہ بتارہی ہے کہ تم نے مثلا سنی مسلمان کالقب لہبڑا رکھاتو وہ تمہارے کہنے سے لہبڑا نہ ہوجائے گا مگرتمہارانام بد گیا مومن سے فاسق ہوگیا کتنی بری تبدیلی ہے اور جو توبہ نہ کرے وہی ظالم۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ایساشخص اگراکل حلال بھی کھاتاہو جب بھی اس کاقول فعل شرع میں معتبرنہیں نہ کہ جبکہ اکل حلال کبھی طرہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)مسلمان سے سخت کلامی ودشنام کاحکم جواب اول میں گزرا مسجدکے لوٹوں کاپانی ناپاك بتانا باطل ہے اپنامصلی خاس بنظراحتیاط رکھنے میں حرج نہیں بلکہ درمختارمیں اسے افضل بتایایہ جبکہ مسجد کی چٹائیوں کواپنی وہم پرستی سے ناپاك نہ جانے اور عام مسلمانوں کو کہ ان پرنمازپڑھتے ہیں خطا پر اپنے سے کم احتیاط وحقیرنہ سمجھے ورنہ وہی حقیر اورپنجہ شیطان کا اثیر ہے۔ و العیاذباﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۳: ازبھاگلپور
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مولوی اشرف علی کامریدہےنام اس کا معز الدیناس نے معیذالدین کسی خط میں لکھااس پرایك شخص نے سمجھایا کہ اس طرح پرلکھنے سے معنی بدل جاتاہے اور نعوذباﷲ مسلمانوں کو ایسانام نہیں رکھناچاہئے کیونکہ اس وقت یہ معنی ہوتاہے کہ دین سے پناہ مانگنے والالیکن اس کمبخت نے نہ مانا او ریہ کہاکہ میں اپنے حضرت کے پاس برابر اسی املاسے خط لکھتاہوں لیکن حضرت نے کبھی نہ منع فرمایا اور نہ کوئی برائی اس میں بتائی۔لہذا گزارش ہے کہ جو شخص اپنا نام معیذالدین بالیابعدالعین وقبل الذال رکھے اور صحیح بتائے تو اس کے واسطے شرعا کیاحکم ہے اور لغت ومحاورہ سے اس کے کیامعنی ہیں پس اس کو بصورت مسئلہ کے خدمت والامیں روانہ کرتاہوں۔
الجواب:
علمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کانام بنام جن میں تھانوی کانام ہے کافر ومرتد بتایا اور شفائے امام قاضی وبزازیہ ومجمع الانہر وغیرہ کے حوالے سے صراحۃ فرمایا:
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۹ /۱۱
#4379 · نام رکھنے کابیان
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔ جوکوی ان کے کفر وعذاب میں شك کرے تو وہ کافرہے۔ (ت)
جو ان کے کفرمیں شك کرے وہ بھی کافرہے نہ کہ وہ جو انہیں مسلمان جانیںنہ کہ وہ جو انہیں پیرومرشد جانیںایسوں کے اقوال وافعال سے کیاسوال۔معیذالدین کے یہ معنی ہیں"دین کوپناہ دینے والا"اور اپنا نام ایساسخت رکھناسخت عظیم تزکیہ نفس وخودستائی ہے اور وہ حرام ہے۔
قال تعالی "فلا تزکوا انفسکم ہو اعلم بمن اتقی ﴿۳۲﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو!)اپنی جانوں کی پاکیزگی نہ بتایاکرو اس لئے کہ اﷲ تعالی اچھی طرح جانتاہے کہ کون پرہیزگار ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
العارف باﷲ تعالی الشیخ سنان فی کتابہ تبیین المحارماقام الطامۃ الکبری علی المستسمین بمثل ذلك وانہ من التزکیۃ المنھی عنہا فی القران و من الکذب اھ واﷲ تعالی اعلم۔ عارب باﷲ حضرت شیخ سنان نے اپنی کتاب تبیین المحارم میں اس طرح کے نام رکھنے والوں کے خلاف حجت قاہرہ قائم کی(اور فرمایا)یہ ایساتذکیہ اورجھوٹ ہے کہ قرآن مجید میں اس سے منع فرمایاگیاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۴: ازلشکر گوالیار محلہ حیدرگنج مسئولہ حافظ نبی محمد ۱۳محرم ۱۳۳۹ھ
حضور سے کسی وقت میں ایك فتوی طلب کیاتھا جواب آگیا مگر اس کے ساتھ ہی میرے نام پر اعتراض فرمایاتھا کہ یہ نام رکھنا حرام ہےاور وجہ کوئی تحریرنہیں فرمائی تھیہمارے شہر کے مفتی مقبول حسین صاحب فرماتے ہیں کہ ناجائز نہیںاس واسطے گزارش ہے کہ آپ اس جملہ کو بالتفصیل تحریرفرمادیجئے گا اور اس کے ساتھ ہی اسی ذیل میں نام بھی خاکسار کاتحریرفرمادیجئے تاکہ اس کو گزٹ کراکر عام لوگوں کومطلع کیاجائے مگر میرے نام میں محمدیا احمدضرورہوناچاہئے چونکہ میرانام بزرگوں نے نبی محمد رکھاہے اور اسی نام سے پکاراجاتاہوں مگرحضور نے فرمایا ہے کہ تمہارانام ناجائزہے شریعت کیوں اس نام کوناجائز کر رہی ہے
حوالہ / References درمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۹
#4380 · نام رکھنے کابیان
اس کاسبب حضورخلاصہ تحریرفرمائیں اورنام بھی دوسرا تجویزفرمائیں حضورہی جونام تجویزفرمائیں گے وہی مشتہرہوگا وہ یوں کیاجائے گا کہ نام میرا نبی محمدشریعت کے خلاف تھا سواب فلاں نام تجویز ہوا ہے۔
الجواب:
اس مسمی پرمحمول ہوتاہے یہ زید ہے او وصف عنوان سے جوسمجھاجاتا ہے وہ بھی متضمن حمل ہے تو اس میں اپنے آپ کو نبی کہنا اورکہلوانا ہے اور یہ قطعا حرام ہےاور علم میں وضع جدیدکاعذر بارد ہے وضع اول ضرور ملحوظ رہتی ہے ولہذارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے برے نام اور تزکیہ کے نام تبدیل فرمادئیے کیاکوئی گواراکرے گا کہ اپنا نام یا اپنے بچے کانام شیطان یا ولدالشیطان رکھے حالانکہ وضع جدیدمیں تو خاص یہ ذات مقصود ہے جب اپنے آپ کو شیطان کہناگوارا نہیں کرتا نبی کہنا اور کہلوانا روا رکھتاہے اور یہ خیال کہ نیت دعوی نبوت کی نہ تھی سچ ہے جبھی تو حرام ہواورنہ کفرہوتاآپ اپنا نام نبیل احمد رکھئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: ازشہر ۲۸جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیا عبدالنبی نام رکھناجائزہے کہ نہیں
الجواب:
اپنے آپ کو عبدالنبی کہناجائز ہے مگرنام عبداﷲ رکھاجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶ تا ۲۷۷:مرسلہ مولوی عابدعلی صاحب سیتری ڈاك خانہ سیف اﷲ گنج ضلع سلطان پور ۱۷ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
(۱)احمدبخشمحمدبخشنبی بخشرسول بخشحسین بخشپیربخشمداربخشوغیرہ نام رکھنا از روئے احکام شریعت جائزہے یانہیں اگرنہیں تو اس میں شرك ہے یاکیا اور اگرکوئی شخص ایسے ناموں کے رکھنے کو منع کرے اور نام رکھنے والا منع کرنے والے کو مشرك بتائے اور وہابی ٹھہرائے اورناقابل امامت قراردے اور بالفاظ واضح یہ ثابت کرنا چاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب تك نہ بخشیں گے خدائے پاك نہ بخشے گا اور اس کے ثابت کرنے کے لئے آیات قرآنی غیرمتعلق کاحوالہ دے تو ایساشخص کسی خطاب کامرتکب ہوا یا نہیں اور کس خطاب کا اور یہ بھی مخفی نہ رہے کہ نام رکھنے والا اپنے کوعالم کہتاہے اور مجمع عام میں ایسی تقریرکرتاہے۔
(۲)جوشخص اپناخطاب اپنی جسمانی وضع اپنا لباس اپناضروری دیگراسباب مثل ہندوؤں کے رکھے اورنماز کا بھی پابندنہ ہو ایساشخص عالم کہلائے گا یامصداق من تشبہ بقوم فھو منھم ۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳
#4381 · نام رکھنے کابیان
(جوکوئی کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ اسی میں شمارہے۔ت)کاہوگا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
(۱)یہ نام شرعا درست ہیںان میں معاذاﷲ کسی طرح کوئی شرك نہیںنہ شرع سے کہیں ممانعت ہےبلکہ قرآن عظیم سے اس کاجواز ثابت ہےحضرت جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مریم سے کہا:
" انما انا رسول ربک ٭ لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾ " میں توتمہارے رب کابھیجاہوا ہوں اس لئے کہ میں تم کوایك ستھرا بیٹادوں۔
قرآن عظیم سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کوجبریل بخش بتا رہا ہے۔پھربخش معنی عطا کے لئے متعین نہیں بمعنی حصہ وبہرہ بھی کثیرالاستعمال ہے۔معہذا علمائے دین تصریح فرماتے ہیں کہ اگرملحد کہے انبت الربیع البقل(بہارنے سبزہ اگایا۔ت)تو اس کے الحاد پر محمول ہےاور اگرمسلم کہے تویقینا تجوز ہے اور اس کا اسلام ہی قرینہ بس ہے کما نص علیہ فی الفتاوی وغیرھا (جیساکہ فتاوی اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں میں اس کی صراحت کردی گئی۔ت)منع کرنے والا اگربربنائے اصول وہابیت منع کرتا ہے تو اس پرلزوم وہابیت بے جانہیں"ومن یغفر الذنوب الا اللہ ۪" (سوائے اﷲ تعالی کے کون گناہ معاف کرنے والاہے۔ت)اپنا ایمان ہےاور "ولمن صبر و غفر ان ذلک لمن عزم الامور ﴿۴۳﴾ " (بے شك جس نے صبراختیار کیا اور معاف کیا توبیشك یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ت)بھی ایمان ہے" و ان تعفوا و تصفحوا و تغفروا فان اللہ غفور رحیم ﴿۱۴﴾" (اوراگرتم معاف کرو اور درگزرکرو اوربخش دوتو اﷲ تعالی بخشنے والامہربان ہے۔ت)بھی ایمان ہے"و اذا ما غضبوا ہم یغفرون ﴿۳۷﴾ " (اور جب وہ غصہ میں ہوجائیں تومعاف کردیتے ہیں۔ت)بھی ایمان ہےاس قسم کے استدلال خارجیوں کی ایجادہیں کہ امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہ الکریم پرحکم کفرلگایا کہ انہوں نے غیرخدا کوحکم بنایاحالانکہ اﷲ عزوجل فرماتاہے "ان الحکم الا للہ " (اﷲ تعالی کے سوا کسی کا
#4382 · نام رکھنے کابیان
حکم نہیں۔ت)اورنہ دیکھا کہ وہی رب عزوجل فرماتاہے:
"فابعثوا حکما من اہلہ وحکما من اہلہا " توپھرایك پنچ مرد کے خاندان میں سےاور ایك پنچ عورت کے خاندان میں سے مقررکرو۔(ت)
یہ مضمون کہ جب تك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بخشیں گے اﷲ عزوجل نہ بخشے گا۔اس قائل سے پہلے حضرت شیخ سعدی قدس سرہنے فرمایا:
ارحم الراحمین نہ بخشاید بے رضائے تویارسول اﷲ
(سب سے زیادہ رحم وکرم فرمانے والا(اﷲ تعالی)نہ بخشے گایارسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)جب تك آپ کی مرضی نہ ہوگی۔ت)
حقوق العباد میں کہاجاتاہے کہ جب تك صاحب حق نہ بخشے اﷲ عزوجل نہ بخشے گااس کے یہ معنی کسی کے وہم میں نہیں آسکتے کہ معاذاﷲ اس کی مغفرت پر رب العزت قادرنہیں یامغفرت ذنوب میں کوئی اس کاشریك ہےبندوں کامالك بھی وہی ہے اوربندوں کے حقوق کامالك بھی وہی ہے مگرصاحب حق کی دلداری کے لئے اس کی مغفرت اس کے بخشنے پرموقوف رکھی پھر وہ دلداری کہ اسے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی منظور ہے اس کی مقدارکاجاننا کس کامقدور ہےصحیح بخاری میں ہے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں"اری ربك یسارع فی ھواک" میں حضورکے رب کودیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتاہے۔حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رحمۃ للعالمین بناکربھیجے گئے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں رؤف رحیم ہیں ان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں ہے ان کی بھلائیوں پرحریص ہیں جیسے کہ قرآن عظیم ناطق:
"لقد جاءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف بیشك تمہارے پاس تمہاری ہی جانوں میں سے(ایك عظیم الشان)رسول تشریف لائے کہ تمہارا مشقت میں پڑنا انہیں نا گوارگزرتاہےوہ تمہاری
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۳۵
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب باب قولہ من ترجی من تشاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۰۶،صحیح البخاری کتاب النکاح باب ھل للمرأ ۃ ان تہب نفسہا لاحد قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶۶
#4383 · نام رکھنے کابیان
رحیم ﴿۱۲۸﴾" (اصلاح کی)بہت چاہت اورحرص رکھتے ہیں۔اور مسلمانوں پربڑی شفقت اور رحم فرمانے والے ہیں(ت)
تمام عاصیوں کی شفاعت کے لئے تو وہ مقررفرمائے گئے "و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنت" (اور اپنی شان کے خلاف امور کے لئے استغفار کیجئے(یعنی طلب بخشش کیجئے)اورمسلمان مردوں اورعورتوں کے لئے بھی۔ت)کیا وہ ان میں کسی کی بخشش نہ چاہیں گےکیامسلمان کامشقت میں پڑنا ان پرگراں نہ ہوگایہ تونص آیت کے خلاف ہےضرور وہ کہ جس کا بخشنا حضورنہ چاہیں گے وہ ہوگا جومسلمان نہیںاورجو مسلمان نہیں اﷲ اسے نہ بخشے گاواﷲ تعالی اعلم
(۲)خطاب ولباس ووضع اسباب میں کفار سے مشابہت ممنوع ہے اور عالم ہوکر ایساکرے تو اورسخت معیوب ہے مگر فھو منھم (تووہ انہی میں سے ہے۔ت)اس کے لئے ہے جوکفار کے دینی شعار میں بالقصد معاذ اﷲ اس کی پسندکے طور پرکی جائے۔واﷲ تعالی اعلم
___________________
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۱۲۸
القرآن الکریم ۴۷ /۱۹
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳
#4384 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ
(بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اجالا اور روشنی)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۲۷۸: مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب فاروقی ۶جمادی الاولی ۱۳۲۰ھ
علماء دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ چہ مے فرمایندکہ بعض شخص اس طرح نام رکھتے ہیںعلی جاننبی جانمحمدجانمحمد نبیاحمدنبینبی احمدمحمدیسینمحمدطہغفورالدینغلام علیغلام حسینغلام غوثغلام جیلانیہدایت علی۔پس اس طرح کے نام رکھناجائز ہیں یانہیں مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوی میں ہدایت علی نام رکھنا ناجائز بتایا ہے اس میں حق کیاہے بینواتوجروا۔شوکت علی فاروقی عفی عنہ
الجواب:
محمدنبیاحمدنبینبی احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پربے شماردرودیںیہ الفاظ کریمہ حضور ہی پرصادق اورحضورہی کو زیبا ہیںافضل صلوات اﷲ واجل تسلیمات اﷲ علیہ وعلی آلہ۔دوسرے کے یہ نام رکھناحرام ہیں کہ ان میں حقیقۃ ادعائے نبوت نہ ہونامسلم ورنہ خالص کفرہوتا۔مگرصورت ادعاء ضرور ہے او وہ بھی
#4385 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
یقیناحرام ومحظور ہے۔
اور یہ زعم کہ اعلام میں معنی اول ملحوظ نہیں ہوتےنہ شرعا مسلم نہ عرفا مقبول۔معنی اول مراد نہ ہونے میں شك نہیں مگرنظر سے محض ساقط ہونا بھی غلط ہےاحادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بکثرت اسماء جن کے معنی اصلی کے لحاظ سے کوئی برائی تھی تبدیل فرمادئیے۔جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یغیر الاسم القبیح ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ برے نام کوبدل دیتے۔
سنن ابی داؤد میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عاصی وعزیز وعتلہ وشیطان وحکم وغراب و حباب وشہاب نام تبدیل فرمادئیےقال ترکت اسانیدھا للاختصار (امام ابوداؤد نے فرمایا میں نے اختصارکے لئے ان کی سندیں چھوڑیں۔ت)
اصرم کا نام بدل کر زرعہ رکھا رواہ عن اسامۃ بن اخدری رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے اسامہ بن اخدری رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے روایت کیا۔ت)عاصیہ کانام جمیلہ رکھا رواہ مسلم عن ابن عمررضی اﷲ تعالی عنھما(اسے مسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)برہ کانام زینب رکھا اور فرمایا:
لاتزکوا انفسکم اﷲ اعلم باھل البر منکم۔رواہ مسلم عن زینب بنت ابی سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اپنی جانوں کوآپ اچھانہ بتاؤ خدا خوب جانتا ہے کہ تم میں نیکوکار کون ہے۔(اسے مسلم نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
برہ کے معنی تھے زن نیکوکاراسے خودستائی بتاکرتبدیل فرمایا۔
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تغییرالاسمارء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
صحیح مسلم کتاب الادب باب تغییر الاسم القبیح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
صحیح مسلم کتاب الادب باب تغییر الاسم القبیح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۱
#4386 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
اور ارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم:
انکم تدعون یوم القیمۃ باسمائکم واسماء اباءکم فاحسنوا اسمائکم۔رواہ احمد وابوداؤد عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ بسندجید۔ بے شك تم روزقیامت اپنے اور اپنے والدوں کے نام سے پکارے جاؤگے تو اپنے اچھے نام رکھو۔(اسے احمد اور ابوداؤد نے ابوالدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسندجید روایت کیا۔ت)
اگر اصلی معنی بالکل ساقط النظرہیں توفلاں نام اچھا فلاں براہونے کے کیامعنیاور تبدیل کی کیاوجہاورخود ستائی کہاںمسمی پر دلالت کرنے میں سب یکساں۔معہذا انہیں لوگوں سے پوچھ دیکھئے کیا اپنی اولادکانام شیطان ملعونرافضی خبیث خوك (سور)وغیرہ رکھنا گواراکریں گے ہرگزنہیں توقطعا معنی اصلی کی طرف لحاظ باقی ہے پھرکس منہ سے اپنے آپ اوراپن اولاد کو نبی کہتے اورکہلواتے ہیںکیاکوئی مسلمان اپنایا اپنے بیٹے کارسول اﷲ یاخاتم النبیین یاسیدالمرسلین نام رکھنا روارکھے گا حاشا وکلاپھر محمدنبیاحمدنبینبی احمدکیونکر رواہوگیایہاں تك کہ بعض خدا ناترسوں کانام نبی اﷲ سنا ہےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمکیا رسالت وختم نبوت کاادعاحرام ہے اور نری نبوت کاحلالمسلمانوں کولازم ہے کہ ایسے ناموں کوتبدیل کردیں
ہیچ پسند وخردجان فروز تاج شہی برسرك کفش دوز
(عقلجان کوروشن ومنور کرنے والی اس بات کوکب گواراکرتی ہے کہ شاہی تاج ایك معمولی کفش دوز(موچی)کے سرپرسجایاجائے ۔ت)
عجب نہیں کہ ایسی علیل تاویل ذلیل تخییل والے شدہ شدہ اﷲ عزوجل یاالہ العالمین نام رکھنے لگیں کہ آخرعلم میں اصلی معنی تو ملحوظ نہیں والعیاذباﷲرب العالمین(اﷲ تعالی کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگارہے۔ت)اور نہ بھی رکھیں تو اس نام رکھنے کاجوازتوانہیں خواہی نخواہی مانناہوگاجوتقریر محمدنبی کے جواز میں گھڑیں گے بعینہ وہی اﷲ عزوجل نام رکھنے کے جواز میں جاری ہوگیاصلی معنی وہاں مرادنہیں تویہاں بھی نہیں وہ بے لحاظ معنی تبرکاکیوں نہ جائز ہوگا آخرنام الہی میں نام نبی سے زیادہ ہی برکت ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بجزاﷲ تعالی بلند
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،مسنداحمد بن حنبل عن ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴
#4387 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
مرتبہ بزرگ شان کی توفیق کے کسی میں نہیں۔ت)یونہی نبی جان نام رکھنا نامناسب ہے اگرجان ایك کلمہ جداگانہ بنظرمحبت زیادہ کیاہوا جانیں جیسا کہ غالب یہی ہے جب تو ظاہر ادعائے نبوت ہو اور اگر ترکیب مقلوب سمجھیں یعنی جان نبیتو یہ تزکیہ خودستائی میں برہ سے ہزاردرجے زائد ہونبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسے پسند نہ فرمایا یہ کیونکرپسند ہوسکتاہے یہاں تبدیل میں کچھ بہت حرج بھی نہیں ایک"ہ"بڑھانے میں گناہ سے بچ جائے گا اور اچھاخاصہ جائزنام پائیے گا۔محمدنبیہ احمدنبیہنبیہ احمدنبیہ جان کہا اورلکھاکیجئے۔نبیہ بمعنی بیدارہوشیار ہے۔یونہی یسین وطہ نام رکھنا منع ہے کہ اس مائے الہیہ و اسمائے مصطفی صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم سے ایسے نام ہیں جن کے معنی معلوم نہیںکیاعجب کہ ان کے وہ معنی وں جوغیرخدا اور رسول میں صادق نہ آسکیں تو ان سے احتراز لازمجس طرح نامعلوم المعنی رقیہ منترجائز نہیں ہوتا کہ مبادا کسی شرك وضلال پر مشتمل ہو۔امام ابوبکر ابن العربی کتاب احکام القرآن میں فرماتے ہیں:
روی اشھب عن مالك لایتسمی احد بیسن لانہ اسم اﷲ وھوکلام بدیع وذلك ان العبد یجوزلہ ان یسمی باسم الرب اذاکان فیہ معنی منہ کعالم وقادر وانما منع مالك من التسمیۃ بھذا الاسم لانہ الاسماء التی لایدری مامعناھا فربما کان ذلك معنی یتفرد بہ الرب تعالی فلاینبغی ان یقدم علیہ من لایعرف لمافیہ من الخطر فاقتضی النظرالمنع منہ ۔ اشہب نے امام مالك سے روایت کی ہے کہ کوئی شخص بھی یس نام نہ رکھے کہ یہ اﷲ تعالی کانام ہے اور یہ نادرکلام ہے یہ اس لئے کہ بندے کے لئے جائز ہے کہ رب کے نام پراپنا نام رکھے جبکہ اس میں وہ معنی پایاجائے جیسے عالمقادر وغیرہاورامام مالك نے یہ نام رکھنے سے اس لئے منع فرمایا کہ یہ ان اسماء سے ہے جن کے معنی معلوم نہیںہوسکتاہے اس کا وہ معنی ہوجو رب تعالی کے لئے خاص اور منفردہولہذا مناسب نہیں کہ یہ نام رکھاجائے جبکہ اس کے ممنوع معنی معلوم ہی نہ ہوں پس نظر اور احتیاط کاتقاضا یہی کہ نام رکھنے سے منع کیاجائے۔(ت)
علامہ شہاب الدین احمدخفاجی حنفی مصری نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں:وھو کلام نفیس (یہ ایك نفیس اورشاندارکلام ہے۔ت)
حوالہ / References نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض،بحوالہ ابوبکر ابن العربی،فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت ۲ /۳۹۰
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض،بحوالہ ابوبکر ابن العربی،فصل فی اسمائہٖ درالکفر بیروت ۲ /۳۹۰
#4388 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
فقیرنے اس کے ہامش(حاشیہ)پرلکھا:
قدکان ظھر لی المنع عنہ لعین ھذا المعنی لکن نظرا الی انہ اسم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمولاندری معناہ فلعل لہ معنی لایصح فی غیرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ ولعل ھذا اولی مماتقدم لان کونہ اسم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اظھر واشھر فلایکون لہ معنی یتفرد بہ الرب عزوجلواﷲ تعالی اعلم۔ بے شك مجھ پر اس معنی کی بعینہ ممانعت ظاہرہوگئی ہے لیکن اس حقیقت کوپیش نظر رکھتے ہوئے یہ نام نہ رکھے جانے کے حق میں ہوں کہ یہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانام مبارك ہے اور ہم اس کے معنی سے واقف نہیںہوسکتاہے اس کاکوئی ایسامعنی ہوجوحضورعلیہ الصلوۃ السلام کے لئے خاص ہو اور آپ کے سواکسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال درست نہ ہو شاید یہ وجہ پہلی وج سے زیادہ مناسب ہے اس لئے اس لفظ کاحضوعلیہ السلام کے لئے بطور مقدس نام کے ہونا زیادہ ظاہر اورمشہورہے۔لہذا اس کے لئے کوئی ایسامعنی نہیں کہ جس سے اﷲ تعالی جلیل القدرمنفردہو لیکن(اس رازکو) اﷲ تعالی ہی سب سے بہترجانتاہے۔(ت)
بعینہ یہی حال اسم طہ کاہے والبیان البیان والدلیل الدلیل(بیان وہی سابقہ ہے اوردلیل بھی وہی مرقوم ہے۔ت) لفظ پاك محمدان میں شامل کردینا ممانعت کی تلافی نہ کرے گا کہ یس وطہ اب بھی نامعلوم المعنی ہی رہے اگروہ معنی مخصوص بذات اقدس ہوئے تو محمدملانا ایساہوگا کہ کسی کانام رسول اﷲ نہ رکھا محمدرسول اﷲ رکھایہ کب حلال ہوسکتاہے وھذا کلہ ظاہر جدا(اور یہ تمام خوب ظاہرہے۔ت)یوں ہی غفورالدین بھی سخت قبیح وشنیع ہےغفور کے معنی مٹانے والااﷲ عزوجل غفور ذنوب ہے یعنی اپنی رحمت سے اپنے بندوں کے ذنوب مٹاتاعیوب چھپاتا ہےتو غفورالدین کے معنی ہوئے دین کامٹانے والایہ ایساہوا جیسے شیطان کانام رکھناجسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تبدیل فرمادیاہاں دین پوش تقیہ کوش یہ ایساہوا جیسے رافضی نام رکھنا۔
بہرحال شدید شناعت پرمشتمل ہے اس سے توعاصیہ نام بہت ہلکا تھا جسے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے تغییر فرمادیا کہ معاصی کاعرفا اطلاق اعمال تك ہے اوردین پوشی کی بلاملت وعقائد پروالعیاذباﷲ رب العالمین(اﷲ تعالی کی پناہ جو تمام جہانوں کامالك اورپروردگارہے۔ت)
حوالہ / References حاشیہ امام احمدرضاخاں علٰی نسیم الریاض
#4389 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
حدیث میں ہے:الفال موکل بالمنطق (فال بولنے کے حوالے کی گئی۔ت)
بعض برے ناموں کی تبدیل کایہی منشا تھا کماارشد الیہ غیرماحدیث(جیساکہ بہت سی احادیث نے اس کی رہنمائی فرمائی۔ت)
مولاناقاری مرقاۃ میں نقل فرماتے ہیں:الاسماء تنزل من السماء نام آسمان سے اترتے ہیںیعنی غالبا اسم ومسمی میں کوئی مناسبت غیب سے ملحوظ ہوتی ہے اہل تجربہ نے کہاہے: ع
مزن فال بد کاورد حال بد
(بری فال مت نکالواس لئے کہ وہ براحال لائے گی۔ت)
اللھم احفظنا وارحمنا(یاﷲ! ہماری حفاظت فرما اور ہم پر رحم کر۔ت)
فقیرنے بچشم خود ایسے قبیح ناموں کاسخت برا اثرپڑتے دیکھا ہے بھلے چنگے سنی صورت کوآخرعمرمیں دین پوش ناحق کوش ہوتے پایا ہے۔
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اللھم یاقوی یاقدیر یا رحمن یارحیم یاعزیز یا غفور صلی وسلم وبارك علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وثبتنا علی دینك الحق الذی ارتضیتہ لانبیائك و رسلك و ملائکتك حتی نلقاك بہ وعافنا من البلاء والبلوی و الفتن ماظھر منھا وما بطنوصل وسلم وبارك علی سیدنا محمد والہ اجمعین ہم اﷲ تعالی سے عفووعافیت کاسوال کرتے ہیں اے طاقت و زور والےاے بے حد رحم فرمانے والے والےاے ہمیشہ رحم کرنے والےاے زبردست ذات(سب پرغالب) اے (گناہوں کی)پردہ پوشی کرنے والے)اور انہیں معاف فرمانے والے(مالک)ہمارے آقاومولی حضرت محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم پردرود وسلام اوربرکات نازل فرما اور ان کی آل اولاد اور ساتھیوں پربھیاور ہمیں اپنے دین حق پراستوار رکھ جودین تونے اپنے انبیائے کرام اور رسولان عظام اورملائکہ کرام کے لئے پسندفرمایا تا آنکہ ہم اسی دین پر
حوالہ / References الاسرار المرفوعۃ حدیث ۶۳۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۱۶۵
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسماء تحت حدیث ۴۷۸۱ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۳۵
#4390 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
وارحم عجزنا فاقتنا بھم یاارحم الراحمین امین والصلوۃ والسلام علی الشفیع الکریم والہ وصحبہ والحمدﷲ رب العلمین۔ قائم رہتے ہوئے تیرے ساتھ جاملیں اور ہمیں ظاہرباطن(کھلے چھپے) فتنوںمصیبتوں اور ابتلاؤں سے عافیت عطافرما اورہمارے آقا حضرت محمدکریم پررحمت وبرکت اورسلام نازل فرماان کی طفیل ہمارے عجز اور فاقہ میں ہماری حمات اورمدد فرما اے سب سے بڑے رحم کرنے والےآمیندرودوسلام ہو شفیع کریم کی ذات اقدس پر اور ان کی تمام آل اولاد اورساتھیوں پر۔تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پرورد گار ہےآمین۔(ت)
اور ایك سخت آفت یہ ہوتی ہے کہ ایسے قبیح نام والے اپنے نام کے ساتھ حسب رواج نام پاك محمد ملاکر لکھتےکہتے اور اسی کی اوروں سے طمع رکھتے ہیںاگر کوئی خالی ان کانام اقدس لکھے تو گویا اپنی حقارت جانتے اور آدھانام لینا سمجھتے ہیںحالانکہ ایسے برے معنے کے ساتھ اس نام پاك کاملانا خود اس نام کریم کے ساتھ گستاخی ہے۔یہ نکتہ ہمیشہ یاد رہے کہ ان امور کی طرف اسی کوالتفات وتنبہ عطافرماتے ہیں جسے ایمان وادب سے حصہ وافیہ بخشتے ہیں وﷲ الحمداسی بناء پر فقیرکبھی جائزنہیں رکھتاکہ کلب علیکلب حسینکلب حسنغلام علیغلام حسینغلام حسننثارحسینفداحسینقربان حسینغلام جیلانی وامثال ذلك کے اسماء کے ساتھ نام پاك ملاکر کہاجائےاللھم ارزقنا حسن الادب ونجنا من مورثات الغضبامین(اے اﷲ! ہمیں حسن ادب سے نواز اوراسباب غضب سے بچا۔آمین۔ت)
نظام الدینمحی الدینتاج الدین اور اسی طرح وہ تمام نام جن میں مسمی کا معظم فی الدین بلکہ معظم علی الدین ہونا نکلے جیسے شمس الدین بدرالدین نورالدین فخرالدینشمس الاسلام بدرالاسلام وغیرذلکسب کوعلماء اسلام نے سخت ناپسند رکھا اورمکروہ وممنوع رکھااکابردین قدست اسرارھم کہ امثال اسلامی سے مشہور ہیںیہ ان کے نام نہیں القاب ہیں کہ ان مقامات رفیعہ تك وصول کے بعد مسلمین نے توصیعا انہیں ان لقبوں سے یادکیاجیسے شمس الائمہ حلوائی۔فخرالاسلام بزدوی تاج الشریعۃصدرالشریعۃیونہی محی الحق والدین حضورپر نور سیدنا غوث اعظممعین الحق والدین حضرت خواجہ غریب نواز وارث النبی سلطان الہند حسن سنجریشہاب الحق والدین عمرسہروردیبہاؤالحق والدین نقشبندقطب الحق والدین بختیارکاکی شیخ الاسلام فریدالحق والدین مسعودنظام الحق والدین سلطان الاولیاء محبوب الہیمحمدنصیرالحق والدین چراغ دہلوی محمود وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ونفعنا ببرکاتہم فی الدنیا والدین۔
حضور نورالنور سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عن کالقب پاك خودروحانیت اسلام نے رکھاجس کی
#4391 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
روایت معروف ومشہور اوربہجۃ الاسرار شریف وغیرہ کتب ائمہ وعلماء میں مذکور حق سبحانہوتعالی فرماتاہے: "فلا تزکوا انفسکم " (پس آپ اپنی جانوں کوستھرا نہ بناؤ۔ت)۔فصول عمادی میں ہے:
لایسمیہ بما فیہ تزکیۃ ۔ کوئی اس نام کے ساتھ نام نہ رکھے جس میں تزکیہ کااظہار ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
یؤخذ من قولہ ولابمافیہ تزکیۃ المنع عن نحو محی الدین وشمس الدین مع مافیہ من الکذب والف بعض المالکیۃ فی المنع منہ مؤلفا وصرح بہ القرطبی فی شرح الاسماء الحسنی وانشد بعضھم فقال
اری الدین لیستحیی من اﷲ ان یری
وھذا لہ فخر وذاك نصیر
فقد کثرت فی الدین القاب عصبۃ
ھم مافی مراعی المنکرات حمیر
وانی اجل الدین عن عزہ بھم
واعلم ان الذنب فیہ کبیر
ونقل عن الامام النووی انہ کان یکرہ من یلقبہ بمحی الدین ویقول لا اجعل من دعانی بہ فی حل ومال الی ذلك العارف باﷲ تعالی الشیخ سنان فی کتابہ مصنف کے قول"لابمافیہ تزکیۃ"سے معلوم ہوتاہے ممانعت مثل محی الدین وشمس الدین نام رکھنے میں ہےعلاوہ اس کے اس میں جھوٹ بھی ہےاور بعض مالکی علماء نے ایسے ناموں کے ممنوع ہونے میں ایك کتاب لکھی ہےاورقرطبی نے اس کی تصریح شرح اسماء حسنی میں کی ہےاور بعض نے اس بارہ میں کچھ اشعار لکھے ہیںپس کہاہے:
میں دیکھتاہوں دین کو حیاکرتاہے اﷲ تعالی سے جو دکھایاجائے حالانکہ یہ اس کے لئے فخر ہے اور یہ اس کے لیے نصیر یعنی مددگار ہےتحقیق بہت ہوئے دین میں القاب اس کے مددگاروں کے۔یہ وہ لوگ ہیں جوبرائیوں کی رعایت میں گدھے ہیں او ر تحقیق دین کی موت ان جیسے لوگوں نے ساتھ اس کی عزت میں کی ہے او رجان لے کہ اس میں ان کابڑاگناہ ہے۔
اورامام نووی سے نقل کیاہےکہ وہ محی الدین کے ساتھ اپنے ملقب ہونے کوناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص مجھے اس لقب سے پکارے گا میں اسے معاف نہیں کروں گا اور اس کی طرف مائل ہوئے شیخ سنان عارف باﷲ اپنی کتاب
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
ردالمحتار بحوالہ فصول العمادی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
#4392 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
تبیین المحارم واقام الطامۃ الکبری علی المتسمین بمثل ذلك وانہ من التزکیۃ المنھی عنہا فی القران ومن الکذب قال ونظیرہ مایقال للمدرسین بالترکی افندی وسلطانم ونحوہ ثم قال فان قیل ھذہ مجازات صارت کالاعلام فخرجت عن التزکیۃ فالجواب ان ھذا یردہ مایشاھد من انہ اذا نودی باسمہ العلم وجد علی من ناداہ بہ فعلم ان التزکیۃ باقیۃ الخ۔ تبیین المحارم میںاور اس طرح کے نام رکھنے والوں کے خلاف حجت قاہرہ قائم کی اور فرمایا کہ تحقیق یہ وہ تزکیہ ہے جس سے قرآن مجید میں منع کیاگیا ہے اور جھوٹ سے ہے اور کہا مثل اس کے وہ جوکہاجاتاہے واسطے مدرسین کے ترکی میں آفندی وسلطانماور اس کی مثل پھرکہا ہے پس اگر کہا جائے یہ مجازات ہیں جوناموں کی طرح ہوگئے ہیں پس تزکیہ سے نکل گئے توجواب یہ ہے کہ ہمارامشاہدہ اس بات کو رد کرتاہے کیونکہ اگر ان اشخاص کو ان کے اسماء اعلام سے پکارا جائے تو پکارنے والے پر لوگ غصہ کریں گےپس معلوم ہوا کہ تزکیہ کے لئے باقی ہے الخ(ت)
سترہ نام کہ سائل پوچھے ان میں سے یہ دس ناجائزوممنوع ہیں باقی سات میں حرج نہیںعلی جانمحمدجان کاجوازتوظاہر کہ اصلی نام علی ومحمدہے اورجان بنظرمحبت زیادہاورحدیث سے ثابت کہ محبوبان خداانبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پرنام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تسموا باسماء الانبیاء۔رواہ البخاری فی الادب المفرد وابوداؤد والنسائی عن انبیاء کے ناموں پرنام رکھو(امام بخاری نے ادب المفرد میں امام ابوداؤداورنسائی نے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۶۹۔۲۶۸
ادب المفرد باب احب الاسماء الی اﷲ عزوجل حدیث ۸۱۳ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ص۲۱۱،ابوداؤد کتاب الادب باب فی تغییرالاسماء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۰،سنن النسائی کتاب الخیل باب مایستحب من شیۃ الخیل نورمحمدکتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۲
#4393 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
ابی وھب الجشمی ولہ تتمۃ والبخاری فی التاریخ بلفظ سموا عن عبداﷲ بن جرادرضی اﷲ تعالی عنہ ولہ تتمۃ اخری۔ ابو وہب جشمی کے حوالے سے اسے روایت کیااور اس کے لئے تتمہ ہےنیزامام بخاری نے تاریخ میں سموا کے لفظ سے حضرت عبداﷲ بن جراد رضی اﷲ تعالی عنہ کی سنت کے ساتھ اسے روایت کیا اور اس کے لئے دوسراتتمہ ہے۔(ت)
اورمحمدواحمد ناموں کے فضائل میں تواحادیث کثیرہ عظیمہ جلیلہ وارد ہیں:حدیث(۱)صحیحین ومسنداحمد وجامع ترمذی وسنن ابن ماجہ میں حضرت انس(۲)صحیحین وابن ماجہ میں حضرت جابر(۳)معجم کبیرطبرانی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سموا باسمی ولاتکنوا بکنیتی ۔ میرے نام پرنام رکھو اورمیری کنیت نہ رکھو۔
حدیث(۴)ابن عساکر وحافظ حسین بن احمد عبداﷲ بن بکیر حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
من ولد لہ مولود فسماہ محمدا حبا لی وتبرکا باسمی کان ھو ومولودہ فی الجنۃ ۔ جس کے لڑکاپیداہوا اور وہ میری محبت اورمیرے نام پاك سے تبرك کے لئے اس کانام محمدرکھے وہ اور اس کالڑکا دونوں بہشت میں جائیں۔
حوالہ / References التاریخ الکبیر للبخاری باب العین عبداﷲ بن جراد حدیث ۶۳ دارالباز مکۃ المکرمۃ ۵ /۳۵
صحیح البخاری کتاب الادب باب من سمّٰی باسماء الانبیاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۵،صحیح مسلم کتاب الادب باب النہی عن التکنی بابی القاسم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۶،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ الجمع الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷،سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب الجمع بین اسم النبی وکنیۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۷۳،مسنداحمدبن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۰،المعجم الکبیر حدیث ۱۲۵۱۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۷۳،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن عباس حدیث ۴۵۲۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۴۲۱
کنزالعمال بحوالہ الرافعی عن ابی امامہ حدیث ۴۵۲۲۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۲۲
#4394 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی فرماتے ہیں:
ھذا امثل حدیث ورد فی ھذا الباب واسنادہ حسن ۔ جس قدرحدیثیں اس باب میں آئیں یہ سب میں بہترہے اور اس کی سندحسن ہے۔
ونازعہ تلمیذہ الشامی بماردہ العلامۃ الزرقانی فراجعہ۔ان کے شامی شاگرد نے اس میں نزاع کیاکہ جس کو علامہ زرقانی نے رد کیاتھا لہذا اس کی طرف رجوع کریں۔(ت)
حدیث(۵)حافظ ابوطاہر سلفی وحافظ ابن بکیر حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:روزقیامت دو شخص حضرت عزت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے حکم ہوگا انہیں جنت میں لے جاؤعرض کریں گے: الہی ! ہم کس عمل پرجنت کے قابل ہوئے ہم نے تو کوئی کام جنت کانہ کیا۔ رب عزوجل فرمائے گا:
ادخلا الجنۃ فانی الیت علی نفسی ان لایدخل النار من اسمہ احمد ومحمد ۔ جنت میں جاؤ میں نے حلف فرمایا ہے کہ جس کانام احمد یا محمد ہودوزخ میں نہ جائے گا۔
یعنی جبکہ مومن ہو ارمومن عرف قرآن وحدیث وصحابہ میں اسی کوکہتے ہیں جوسنی صحیح العقیدہ ہوکما نص علیہ الائمۃ فی التوضیح وغیرہ(جیساکہ توضیح وغیرہ میں ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت)ورنہ بدمذہبوں کے لئے توحدیثیں یہ ارشاد فرماتی ہیں کہ وہ جہنم کے کتے ہیں ان کاکوئی عمل قبول نہیںبد مذہب اگرچہ حجراسود ومقام ابراہیم کے درمیان مظلوم قتل کیاجائے اوراپنے اس مارے جانے پر صابر وطالب ثواب رہے جب بھی اﷲ عزوجل اس کی کسی بات پر نظرنہ فرمائے اور اسے جہنم میں ڈالے۔یہ حدیثیں دارقطنی وابن ماجہ وبیہقی وابن الجوزی وغیرہم نے حضرت ابوامامہ وحذیفہ وانس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیںاور فقیر نے اپنے فتاوی میں متعدد جگہ لکھیں تو محمدعبدالوہاب
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ السیوطی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۸۸۳۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۸۵
کنزالعمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۱۲۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۲۲۳،العلل المتناہیۃ باب ذم الخوارج حدیث ۲۶۱ و ۲۶۲ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۶۳
#4395 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
نجدی وغیرہ گمراہوں کے لئے ان حدیثوں میں اصلا بشارت نہیںنہ کہ سیداحمدخان کی طرح کفار جن کامسلك کفرقطعی کہ کافرپر توجنت کی ہوا تك یقینا حرام ہے۔
حدیث(۶)ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت نبیط بن شریط رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
قال اﷲ تعالی عزوجل وعزتی وجلالی لااعذب احدا تسمی باسمك بالنار یامحمد رب عزوجل نے مجھ سے فرمایا اپنی عزت وجلال کی قسم جس کانام تمہارے نام پرہوگا اسے دوزخ کاعذاب نہ دوں گا۔
حدیث(۷)حافظ ابن بکیر امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیںحدیث(۸)دیلمی مسندالفردوس میں موقوفا راوی کہ مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیںحدیث(۹)ابن عدی کامل اور ابوسعد نقاش بسندصحیح اپنے معجم شیوخ میں راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ما اطعم طعام علی مائدۃ ولاجلس علیھا وفیھا اسمی الا قد سوا کل یوم مرتین ۔ جس دسترخوان پرلوگ بیٹھ کرکھاناکھائیں اوران میں کوئی محمد یااحمدنام کاہو وہ لوگ ہر روز دوبارمقدس کئے جائیں۔
حاصل یہ جس گھر میں ان پاك ناموں کاکوئی شخص ہو دن میں دوبار ا مکان میں رحمت الہی کانزول ہو۔لہذا حدیث امیر المؤمنین کے لفظ یہ ہیں:
مامن مائدۃ وضعت فحضر علیھا من اسمہ احمد ومحمد الا قدس اﷲ ذلك المنزل کل یوم مرتین ۔ کوئی دسترخوان بچھایانہیں گیا کہ اس پر ایسا شخص تشریف لائے جس کانام احمد اور محمدہو(صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم)تو اﷲ تعالی ہرروز دوبار اس گھرکو تقدس بخشتا ہے یعنی مقدس کرتاہے(اورہر روز دوبار وہاں اس کی رحمتوں کانزول ہوتا ہے۔مترجم)۔(ت)
حوالہ / References تذکرۃ الموضوعات لمحمدطاہر الفتنی باب فضل اسمہ واسم الانبیاء کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص۸۹
الکامل لابن عدی ترجمہ احمدبن کنانہ شامی دارالفکربیروت ۱ /۱۷۲
الفردوس بمأثور الخطاب عن علی ابن ابی طالب حدیث ۶۱۳۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۴۳،۴۴
#4396 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
حدیث(۱۰)ابن سعد طبقات میں عثمان عمری مرسلا راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماضر احدکم لوکان فی بیتہ محمد و محمدان و ثلثۃ ۔ تم میں کسی کاکیانقصان ہے اگر اس کے گھر میں ایك محمدیا دو محمدیاتین محمدہوں۔
ولہذا فقیرغفراﷲ تعالی نے اپنے سب بیٹوں بھتیجوں کاعقیقے میں صرف محمدنام رکھا پھرنام اقدس کے حفظ آداب اور باہم تمیز کے لئے عرف جدامقرر کئے بحمداﷲ تعالی فقیرکے پانچ محمد اب موجود ہیں سلمھم اﷲ تعالی وعافاھم والی مدارج الکمال رقاھم (اﷲ تعالی ان سب کو سلامت رکھے اور عافیت بخشے اورانہیں مدارج کمال تك پہنچائے۔ت)اور پانچ سے زائد اپنی رہ گئے جعلھم اﷲ لنااجرا وذخرا وفرطا برحمتہ وبعزۃ اسم محمد عندہ امین(اﷲ تعالی اپنی رحمت کے صدقے اوراسم محمد کی اس عزت وتوقیر کے صدقے جو اس کی بارگاہ میں ہے ہمارے لئے اپنی رحمت اور ان کی ذات کوذریعہ اجرذخیرہ اورپیشرو بنادےآمین۔ت)
حدیث(۱۱)ظرائفی وابن الجوزی امیرالمومنین مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما اجتمع قوم قط فی مشورۃ وفیھم رجل اسمہ محمد لم یدخلوہ فی مشورتھم الا لم یبارك لھم فیہ ۔ جب کوئی قوم کسی مشورے کے لئے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص محمدنام کاہو اور اسے اپنے مشورے میں شریك نہ کریں ان کے لئے مشورے میں برکت نہ رکھی جائے۔
حدیث(۱۲)طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
من ولد لہ ثلثۃ فلم یسم احدھم محمدا فقد جھل ۔ جس کے تین بیٹے پیداہوں اور وہ ان میں کسی کانام محمد نہ رکھے ضرورجاہل ہے۔
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن سعد عن عثمان العمری مرسلًا حدیث ۴۵۲۰۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۴۱۹
العلل المتناھیۃ باب فضل اسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۲۶۷ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۱۶۸
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۰۷۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۷۱
#4397 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
حدیث(۱۳)حاکم وخطیب تاریخ اوردیلمی مسندمیں امیرالمومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا سمیتم الولدمحمدا فاکرمواہ واوسعوا لہ فی المجلس والاتقبحوا لہ وجھا ۔ جب لڑکے کانام محمدرکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لئے جگہ کشادہاور اسے برائی کی طرف نسبت نہ کرو اس پربرائی کی دعا نہ کرو۔
حدیث(۱۴)بزارمسندمیں حضرت ابورافع رضی اﷲتعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا سمیتم محمدا فلاتضربوہ ولاتحرموہ ۔ جب لڑکے کانا محمدرکھو تو اسے نہ مارو نہ محروم رکھو۔
حدیث(۱۵)فتاوی امام شمس الدین سخاوی میں ہے ابوشعیب حرانی نے امام عطا(تابعی جلیل الشان استاذ امام الائمہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہما)سے روایت کی:
من اراد ان یکون حمل زوجتہ ذکرا فلیضع یدہ علی بطنھا ولیقل ان کان ذکرا فقد سمیتہ محمدا فانہ یکون ذکرا ۔ جوچاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکاہو اسے چاہئے اپناہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کرکہے:اگر لڑکاہے تومیں نے اس کانام محمدرکھا۔ان شاء اﷲ العزیزلڑکاہی ہوگا۔
سیدنا امام مالك رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
ماکان فی اھل بیت اسم محمدا لاکثرت برکتہ ۔ ذکرہ المناوی فی شرح التیسیر تحت الحدیث العاشر والزرقانی فی شرح جس گھروالوں میں کوئی محمدنام کاہوتا ہے اس گھر کی برکت زیادہ ہوتی ہے(دسویں حدیث کے ذیل میں علامہ مناوی نے اس کو شرح تیسیر میں ذکرفرمایا اور اسی طرح علامہ زرقانی نے
حوالہ / References تاریخ بغداد ترجمہ محمدبن اسمٰعیل العلوی ۱۰۸۲ دارلکتاب العربی بیروت ۳ /۹۱
کشف الاستار عن زوائد البزار باب کرامۃ اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۱۹۸۸ بیروت ۲ /۴۱۳
فتاوٰی امام شمس الدین سخاوی
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ماضراحدکم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۳۵۲
#4398 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
المواھب۔ شرح مواہب للدنیہ میں ذکرکیاہے۔ت)
بہتریہ ہے کہ صرف محمد یا احمدنام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انہیں اسمائے مبارکہ کے وارد ہوئے ہیں۔غلام علیغلام حسینغلام غوثغلام جیلانی اور ان کے امثال تمام نام جن میں اسمائے محبان خدا کی طرف اضافت لفظ غلام ہوں سب کاجواز بھی قطعا بدیہی ہے۔فقیرغفراﷲ تعالی لہنے اپنے فتاوی میں ان ناموں پرایك فتوی قدرے مفصل لکھا اورقرآن وحدیث اورخودپیشوایان وہابیہ کے اقوال سے ان کاجوازثابت کیا اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"یطوف علیہم غلمان لہم کانہم لؤلؤ مکنون ﴿۲۴﴾" ان کے غلام گشت کرتے ہوں گے گویا وہ موتی ہیں محفوظ رکھے ہوئے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایقولن احدکم عبدی کلکم عبیداﷲ ولکن لیقل غلامی ھذا مختصر۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہرگز تم میں اب کوئی اپنے مملوك کویوں نہ کہے کہ میرابندہ تم سب خدا کے بندہ ہو ہاں یوں کہے کہ میراغلام۔(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
وہابیہ کے شرك ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہیں کہ خود قرآن وحدیث میں بھرے ہوتے ہیں خداورسول تك ان شرك دوستوں کے حکم شرك سے محفوظ نہیں والعیاذباﷲ رب العالمین(خدا کی پناہ جو تمام جہانوں کاپرورد گار ہے۔ت)
مزہ یہ ہے کہ لفظ غلام کی اسمائے الہیہ جل وعلا کی طرف اضافت خود ممنوع ہے اﷲ کاغلام نہ کہاجائے گاغلام کے معنی حقیقی پسر ہیںولہذا عبید کوشفقۃ عربی میں غلام اردو میں چھوکراکہتے ہیںسیدی علامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں زیرحدیث فرماتے ہیں:
ولکن لیقل غلامی وجاریتی وفتائی مگروہ یوں کہے میراغلاممیری باندیمیراجوان
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۲ /۲۴
صحیح مسلم کتاب الالفاظ من الادب باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
#4399 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
وفتاتی مراعاۃ لجانب الادب فی حق اﷲ تعالی لانہ یقال عبداﷲ وامۃ اﷲ ولایقال غلام اﷲ وجاریۃ اﷲ ولافتی اﷲ ولافتاۃ اﷲ ۱ھ باختصار۔ میری لونڈی۔اﷲ تعالی کے معاملہ میں تقاضائے ادب کوملحوظ رکھاجائے کیونکہ اس کی نسبت سے یوں کہاجاتا ہے۔اﷲ تعالی کابندہاﷲ کی بندیاوریہ نہیں کہاجاتا کہ اﷲ تعالی کاغلام یااﷲ تعالی کی لونڈی اور فتی اور فتاۃ(جوان مردجوان عورت)کوبھی اﷲ تعالی کے نام کے ساتھ منسوب نہیں کیاجاتا۱ھ باختصار(ت)
سبحان اﷲ! یہ عجیب شرك ہے جوخود حضرت عزت کے لئے روانہیں بلکہ اس کے غیرہی کے لئے خاص ہے مگر ہے یہ کہ وہابیہ کے دین فاسد میں محبوبان خداکانام ذرا اعزاز وتکریم کی نگاہ سے آیا اور شرك نے منہ پھیلایاپھرچاہے وہ بات خدا کے لئے خاص ہونا درکناخدا کے لئے جائزبلکہ متصور ہی نہ ہوآخر نہ دیکھا کہ ان کے پیشوانے تقویۃ الایمان میں قبرپرشامیانہ کھڑاکرنا مورچھل جھلنا شرك بتادیااور اسے صاف صاف ان باتوں میں جوخدانے اپنی تعظیم کے لئے خاص کی ہیں گنادیا یعنی اس کے معبود نے کہہ دیا ہے کہ میری ہی قبرپرشامیانہ کھڑاکرنا میری ہی تربت کومورچھل جھلنا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(اﷲ تعالی بزرگ وبرترشان والے کی توفیق کے بغیرگناہوں سے بچنے اورنیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ ت) آخرنہ سناکہ ان کے طائفہ غیرمقلدان کے اب نئے پیشوا صدیق حسن خاں قنوجی بھوپالی آنجہانی اپنے رسالہ کلمۃ الحق میں لکھ گئے ع
چوغلام آفتابم از آفتاب گویم
(جب میں سورج کاغلام ہوں توپھرسب کچھ سورج ہی کے حوالہ سے کہوں گا۔ت)
خداکی شان غلام محمدغلام علیغلام حسینغلام غوث تو معاذاﷲ شرك وحرام اورغلام آفتاب ہونایوں جائز وبے ملامحالانکہ ترجمہ کیجئے توجیسا فارسی میں غلام آفتاب ویساہی عربی میں مشرکین عرب کا نام عبدشمسہندی میں کفار کانام سورج داس زبانیں مختلف ہیں اورحاصل ایکولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اورنیکی کرنے کی طاقت سوائے اﷲ تعالی بزرگ وبرتر بڑی شان والے کی توفیق کے کسی میں نہیں۔ت)ہدایت علی کاجواز بھی ویساہی ظاہر وباہر
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث والعشرون الخطاء ضدالصواب المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲ /۲۷۹
رسالہ کلمۃ الحق لصدیق حسن خاں
#4400 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
جس میں اصلا عدم جواز کی بونہیںوہابیہ خذلہم اﷲ تعالی کے محبوبان خداکے نام سے جلتے ہیں آج تك ان کے کبراء نے بھی اس میں کلام نہ کیا البتہ مولوی عبد الحی صاحب لکھنوی کے مجموعہ فتاوی جلداول طبع اول صفحہ ۲۶۴ میں اس نام پر اعتراض دیکھاگیا اول کلام میں توصرف خلاف اولی ٹھہرایاتھا آخرمیں ناجائزوگناہ قراردے دیاحالانکہ یہ محض غلط ہے۔اس کاخلاصہ عبارت یہ ہے:
استفتاء
کسے نام خودہدایت علی می داشت بایہام اسمائے شرکیہ تبدیل نمودہ ہدایت العلی نہاد شخصے برآں معترض شد کہ لفظ ہدایت مشترك ست بین میین اراء ۃ الطریق وایصال الی المطلوب و ہکذا لفظ علی بغیرالف ولام مشترك است بین اسمائے الہیہ و حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔مجیب گفت دریں صورت تائید اثبات مدعائے من ست چہ ہرگاہ لفظ ہدایت وعلی مشترك شدبین معنیین پس چہاراحتمال مے شوند یکے ازاں از ہدایت معنی اول وازعلی اﷲ عزوجل شانہدوم ازہدایت معنی ثانی زعلی جل جلالہسوم ازہدایت معنی اول وازعلی حضرت علی کرم اﷲ وجہہچہارم ازہدایت معنی ثانی وازعلی حضرت علی پس سہ احتمال اول خالی ازممانعت شرعیہ ہستند البتہ رابع خالی ازممنوعیت نیست چہ درجملہ اسمائے شرکیہ مفہوم مے شود پس ہراسم کہ دائر شودبین اسمائے شرکیہ و عدمہ احتراز ازاں لابدی ست بلکہ واجب واگرکسے براسم متنازع فیہ قیاس نمودہ برعبداﷲ شرك ثا بت کند یا یاعلی گفتن ممانعت نماید آیا قیاس اوصحیح ایك شخص کانام ہدایت علی تھا اس نے اسے شرکیہ نام خیال کرتے ہوئے اسے ہدایت العلی سے بدل دیا پھر اس پریہ اعتراض کیاگیا کہ لفظ"ہدایت"اراء ۃالطریق(راستہ دکھانا) اورایصال الی المطلوب(مطلوب ومقصود تك پہنچادینا ہے)ان دو معنوں میں مشترك ہے اسی طرح لفظ"علی"بغیر الف لام اسمائے الہیہ سے بھی ہے اور حضرت سیدنا علی رضی اﷲ تعالی عنہ کانام بھی ہے یعنی خالق ومخلوق دونوں میں مشترك ہے۔جواب دینے والے نے کہاکہ اس صورت میں میری سوچ کی تائید پائی جاتی ہے وہ اس طرح کہ جب لفظ ہدایت اورعلی دومعنوں میں مشترك ہوا تو چاراحتمال پیدا ہوگئے (۱)ہدایت سے پہلامعنی اورعلی سے اﷲ تعالی کی ذات مراد ہو۔(۲)ہدایت سے دوسرا معنی اورعلی سے اﷲ تعالی مراد ہو (۳)ہدایت سے پہلامعنی اورعلی سے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ مراد ہوں(۴)ہدایت سے دوسرامعنی اور علی سے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ مراد ہوں۔پس تین اول الذکر احتمال شرعی
حوالہ / References ∞ست یانہ؟ €&بیّنواتوجروا€∞۔€ ∞ممانعت نہیں رکھتے،البتہ چوتھے احتمال میں ممانعت کا پہلو موجود ہے،پس تمام اسماء شرکیہ س یہی مفہوم ظاہرہوتا ہے لہٰذا جونام اسماء شرکیہ وغیر شرکیہ مشترکہ وغیرمشترکہ میں دائرہوتا ہو اس سے پرہیز لازمی اور واجب ہے،اگرکوئی شخص اسم مختلف فیہ پر قیاس کرتے ہوئے یاعلی کہنے کی ممانعت کرے تو اس کاقیاس درست متصورہوگا یا نہ؟ بیان فرماؤتاکہ اجروثواب پاؤ۔€
∞الجواب:€
∞ھوالمصوب لفظ علی کہ ازاسمائے الٰہیہ ست الف لام برآں زائدمیشود برائے تعظیم چنانکہ درالفضل والنعمان وغیرہ برلفظ علی کہ ازاسمائے مرتضٰی ست لام داخل نمی شود بناء ً علیہ ہدایت العلی اولٰی ست ازہدایت علی،چہ دراولٰی اشتباہ اضافت ہدایت بسوئے علی مرتضٰی نیست،ودرصورت ثانیہ بسبب اشتراك لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراك لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراك لفط علی اشتباہ امر ممنوع موجودودراسامی ازہمچواسم کہ ایہام مضموم غیرمشروع سازداحتراز لازم بہ ہمیں سبب علماء ازتسمیہ بعبدالنبی وغیرہ منع ساختہ اند وامّا درعبداﷲ وغیرہ پس ایہام امرغیرمشروع نیست وہمچنیں دریاعلی ہرگاہ مقصود ندائے پروردگار باشد نزاعی نیست۔
حررہ ابوالحسنات عبدالحَی € ∞وہی ٹھیك بتانے والاہے،لفظ علی جوکہ اﷲتعالٰی کے ناموں میں سے ہے اس کے ساتھ برائے تعظیم الف لام زائد ہوگا جیسے الفضل،النعمان وغیرہ اور لفظ علی جوبطور نام سیدنا حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے استعمال ہوتاہے اس کے ساتھ الف لام زائد نہیں ہوتا لہٰذا اس بناء پرنام ہدایت العلی بنسبت ہدایت علی کے زیادہ بہترہے اس ئے کہ اول الذکر میں ہدایت کی نسبت کا حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ اشتباہ نہیں پایاجاتا اور دوسری صورت میں بوجہ استعمال لفظ ہدایت کے اشتراك کے سبب ایہام(مغالطہ)پیداہوتاہے اور لفظ علی میں اشتراك کی وجہ سے امرممنوع کا اشتباہ موجود ہے،پس اس سے پرہیز ضروری ہے،یہ وجہ ہے کہ علمائے کرام عبدالنبی نام رکھنے سے منع کرتے ہیں لیکن عبداﷲ وغیرہ میں ایہام غیر مشروع نہیں،اسی طرح یاعلی میں اگر اﷲ تعالٰی کوندا کرنا مقصودہو تو کوئی نزاع نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ابوالحسنات عبد الحَی نے اسے تحریرکیا۔(ت)€
#4401 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
ست یانہ بینواتوجروا۔ ممانعت نہیں رکھتےالبتہ چوتھے احتمال میں ممانعت کا پہلو موجود ہےپس تمام اسماء شرکیہ س یہی مفہوم ظاہرہوتا ہے لہذا جونام اسماء شرکیہ وغیر شرکیہ مشترکہ وغیرمشترکہ میں دائرہوتا ہو اس سے پرہیز لازمی اور واجب ہےاگرکوئی شخص اسم مختلف فیہ پر قیاس کرتے ہوئے یاعلی کہنے کی ممانعت کرے تو اس کاقیاس درست متصورہوگا یا نہ بیان فرماؤتاکہ اجروثواب پاؤ۔
الجواب:
ھوالمصوب لفظ علی کہ ازاسمائے الہیہ ست الف لام برآں زائدمیشود برائے تعظیم چنانکہ درالفضل والنعمان وغیرہ برلفظ علی کہ ازاسمائے مرتضی ست لام داخل نمی شود بناء علیہ ہدایت العلی اولی ست ازہدایت علیچہ دراولی اشتباہ اضافت ہدایت بسوئے علی مرتضی نیستودرصورت ثانیہ بسبب اشتراك لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراك لفظ ہدایت بحسب استعمال واشتراك لفط علی اشتباہ امر ممنوع موجودودراسامی ازہمچواسم کہ ایہام مضموم غیرمشروع سازداحتراز لازم بہ ہمیں سبب علماء ازتسمیہ بعبدالنبی وغیرہ منع ساختہ اند واما درعبداﷲ وغیرہ پس ایہام امرغیرمشروع نیست وہمچنیں دریاعلی ہرگاہ مقصود ندائے پروردگار باشد نزاعی نیست۔
حررہ ابوالحسنات عبدالحی وہی ٹھیك بتانے والاہےلفظ علی جوکہ اﷲتعالی کے ناموں میں سے ہے اس کے ساتھ برائے تعظیم الف لام زائد ہوگا جیسے الفضلالنعمان وغیرہ اور لفظ علی جوبطور نام سیدنا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے استعمال ہوتاہے اس کے ساتھ الف لام زائد نہیں ہوتا لہذا اس بناء پرنام ہدایت العلی بنسبت ہدایت علی کے زیادہ بہترہے اس ئے کہ اول الذکر میں ہدایت کی نسبت کا حضرت علی مرتضی کے ساتھ اشتباہ نہیں پایاجاتا اور دوسری صورت میں بوجہ استعمال لفظ ہدایت کے اشتراك کے سبب ایہام(مغالطہ)پیداہوتاہے اور لفظ علی میں اشتراك کی وجہ سے امرممنوع کا اشتباہ موجود ہےپس اس سے پرہیز ضروری ہےیہ وجہ ہے کہ علمائے کرام عبدالنبی نام رکھنے سے منع کرتے ہیں لیکن عبداﷲ وغیرہ میں ایہام غیر مشروع نہیںاسی طرح یاعلی میں اگر اﷲ تعالی کوندا کرنا مقصودہو تو کوئی نزاع نہیں کوئی اختلاف نہیں۔ابوالحسنات عبد الحی نے اسے تحریرکیا۔(ت)
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب الحظروالاباحۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/۴۱ و ۴۲
#4402 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)مگریہ جواب سخت عجب عجاب ہے یتساوی ھزلا بل یساوی ھزلا(جواب مذکورخوش طبعی کے برابرہے بلکہ ہنسی مذاق کے مساوی ہے۔ت)اولا: اس تمام کلام مختل النظام کامبنی ہی سرے سے پادر ہوا ہے ممنوع ایہام ہے نہ کہ مجرد احتمالی ولوضعیفابعیدا(اگرچہ ضعیف اوربعیدہو۔ت)ایہام واحتمال میں زمین وآسمان کافرق ہےایہام میں تبادر درکا ہے ذہن اس معنی ممنوع کی طرف سبقت کرےنہ یہ کہ شکوك محتملہ عقلیہ میں کوئی شق معنی ممنوع کی بھی نکل سکے۔تلخیص میں ہے:
الایھام ان یطلق لفظ لہ معنیان قریب وبعید ویراد بہ البعید ۔ ایہام یہ ہے کہ ایسالفظ بولاجائے جودومعانی رکھتاہوایك معنی قریب اوردوسرامعنی بعیدہو اور اس لفظ کوبول کرمعنی بعید مراد لیا جائے۔(ت)
علامہ سیدشریف قدسی سرہ الشریف کتاب التعریفات میں فرماتے ہیں:
الایھام ویقال لہ التخییل ایضا وھو ان یذکر لفظ لہ معنیان قریب وغریب فاذا سمعہ الانسان سبق الی فھمہ القریب و مراد المتکلم الغریب واکثر المتشابھات من ھذا الجنس ومنہ قولہ تعالی: والسموت مطویات بیمینہ ۔ ایہام تخییل بھی کہلاتاہے مرادیہ ہے کہ ایسا لفظ ذکرکیاجائے کہ اس کے دومعنی ہوں ایك قریب اوردوراغریبجب کوئی بندہ اسے سنے تو اس کافہم معنی قریب کی طرف لپکے(یعنی وہی متبادر الی الفہم ہو)لیکن متکلم کی مراد معنی غریب ہو۔زیادہ تر متشابہات اسی قسم سے ہوتے ہیںاوراﷲ تعالی کا ارشاد کہ "اس دن سب آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں طومار کی طرح لپٹے ہوں گے"اسی قسم سے ہے۔(ت)
مجرد احتمال اگرموجب منع ہو تو عالم میں کم کوئی کلام منع وطعن سے خالی رہے گازیدآیا گیا اٹھا بیٹھاعمرو نے کھایا پیاکہا سنا مجیب صاحب نے سوال دیکھاجواب لکھا وغیرہ وغیرہ سب افعال اختیاریہ کی اسناد دو معنی کومحتمل۔ایك یہ کہ زید وعمرو مجیب نے اپنی قدرت ذاتیہ مستقلہ تامہ سے یہ افعال کئےدوسرے قدرت عطائیہ ناقصہ قاصرہ سے اول قطعا شرك ہے لہذا ان اطلاقات
حوالہ / References تلخیص المتاح الفن الثالث مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۰۵ و ۱۰۶
التعریفات لسیّد شریف علی الجرجانی باب الالف انتشارات ناصر خسروطہران ایران ص۱۸
#4403 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
سے احتراز لازم ہوجائے گا اور یہ بداہۃ قطعا اجماعا باطل ہے۔فاضل مجیب نے بھی عمربھر اپنے محاورات روزانہ میں ایسے ایہامات شرك برتے اور ان کی تصانیف میں ہزار درہزار ایسے شرك بالایہام بھرے ہوں گےجانے دیجئے نماز میں وتعالی جدك توشایدآپ بھی پڑھتے ہوں"جد"کے دوسرے مشہور ومعروف بلکہ مشہور تر معنی یہاں کیسے صریح شدید کفرہیں عجیب کہ اتنے بڑے کفرکا ایہام جان کر اسے حرام نہ مانا توبات وہی ہے کہ ایہام میں تبادر وسبقت واقربیت درکارہے اور وہی ممنوع ہے نہ کہ مجرد احتمالیہ فائدہ واجب الحفظ ہے کہ آج کل بہت جہلا ایہام احتمال میں فرق نہ کرکے ورطہ غلط میں پڑتے ہیں۔
ثانیا: ایسی ہی نکتہ تراشیاں ہیں تو صرف ہدایت علی پرکیوں الزام رکھئے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے نام پاك علی کو اس سے سخت ترشنیع کہئے وہاں توچار احتمالوں سے ایك میں آپ کو شرك نظرآیا تھایہاں برابر کامعاملہ نصفانصف کاحصہ ہے۔علی کے دومعنی ہیں علو ذاتی کہ بالذات للذات متعالی عن الاضافات ہو(بلندی بالذات یعنی ذاتی بلندی بغیر کسی سبب اور واسطہ کے صرف اس ہستی پاك ہی کے لئے ہے جو تمام اضافتوں اورنسبتوں سے مبرا اوربلند ہے۔ت)دوسرا اضافی کہ خلق کے لئے ہے اول کااثبات قطعا شرك تو علی میں ایہام شرك ہدایت علی سے دوناٹھہرے گا ولایقول بہ جاھل فضلا عن فاضل(کوئی جاہل بھی یہ نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ کوئی فاضل یہ کہے۔ت)
ثالثا: ایك علی ہی کیا جس قدر اسمائے مشترکہ فی اللفظ میں الخالق والمخلوق ہیںجیسے رشید وحمیدوجمیل وجلیل وکریم وعلیم وحلیم ورحیم وغیرہا سب کا اطلاق عباد پر ویساہی ایہام شرك ہوگا جوہدایت علی کے ایہام سے دوچند رہے گاحالانکہ خود حضرت عزت نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں کسی کو ایك کسی کو دونام اپنے اسمائے حسنی سے عطا فرمایا اور حضور پرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے طیبہ میں توساٹھ سے زیادہ آئے کمافصلہ العلماء فی المواھب وغیرھا(جیساکہ علماء کرام نے مواہب لدنیہ وغیرہ میں مفصل بیان دیاہے۔ت) خودحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا نا م پاك حاشر بتایاصحابہ کرام وتابعین وائمہ دین میں کتنے اکابرکانام مالك تھا ان کے ایہام کوکہئےدرمختار وغیرہ معتمدات میں تصریح کی کہ ایسے نام جائزہیں اورعباد کے حق میں دوسرے معنی مراد لئے جائیں گے نہ وہ جو حضرت حق کے لئے ہیں۔
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصدالثانی الفصل اول المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۵ تا ۲۱
#4404 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
جاز التسمیۃ بعلی ورشید وغیرھما من الاسماء المشترکۃ ویراد فی حقنا غیرما یراد فی حق اﷲ تعالی ۔ علیرشید اور ان کے علاوہ دیگراسماء مشترکہ کے ساتھ کسی کا نام رکھناجائز ہے لہذا ہمارے حق میں وہ معنی مراد لیاجائے گا جواﷲ تعالی کے حق میں مراد نہیں لیاجاتا۔(ت)
کیوں نہیں کہتے کہ ایسے نام بوجہ اشتراك ناجائزہیں کہ دوسرے معنی شرك کااحتمال باقی ہےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (گناہوں سے محفوظ رہنے اورنیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں سوائے اﷲ تعالی بزرگ وعظیم ذات کی توفیق کے۔ت)
رابعا: سائل نے اپنی جہالت سے صرف عبداﷲ میں شرك سے سوال کیاتھا حضرت مجیب نے اپنی نبالت سے وغیرہ بھی بڑھا دیا کہ اپنے نام نامی کو ایہام شرك سے بچالیں مگرجناب کی دلیل سلامت ہے تو اس ایہام سے سلامت بخیر ہے۔عبدالحی میں دوجزوہیں اوردونوں کے دودومعنیایك عبدمقابل الہدوم مقابل آقا۔
قال اﷲ تعالی" و انکحوا الایمی منکم و الصلحین من عبادکم و امائکم " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لوگو! تم میں سے جونکاح کے بغیر (یعنی غیرشادی شدہ)ہیں اورجوتمہارے صالح غلام اور لونڈیاں ہیں ان کے ساتھ نکاح کردو(ت)
دیکھو حق سبحانہنے ہمارے غلاموں کو ہمارا عبدفرمایایوں ہی ایك حی اسم الہی کہ حیات ذاتیہازلیہابدیہواجبہ سے مشعراور دوسرا من وتوزید وعمروسب پر صادقجس سے آیت کریمہ "تخرج الحی من المیت" (اے اﷲ تعالی! تو مردے سے زندہ نکالتاہے۔ت)وغیرہا مظہر اب اگر عبد بمعنی اول اورحی بمعنی دوم لیجئے قطعا شرك ہے وہی چار صورتیں ہیں اور وہی ایك صورت پرشرك موجودپھر عبدالحی ایہام شرك سے کیونکر محفوظاس سے بھی احتراز لازم تھابعینہ یہی تقریرحضرت بابرکت فاضل کامل صحیح العقیدہ سنی مستقیم جناب مستطاب مولانا مولوی عبدالحلیم
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۲
القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
القرآن الکریم ۳ /۲۷
#4405 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
رحمۃ اﷲ علیہ کے اسم میں جاری ہوگی ملاحظہ ہو کہ یہ تشقیق وتدقیق کہاں تك پہنچی نسأل اﷲ سلامۃ(ہم اﷲ تعالی سے سلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)فقیرکے نزدیك ظاہرا یہ پھڑکتی ہوئی برہان حضرت مجیب کوجناب سائل کے فیض سے پہنچیسائل نے ذکرکیمجیب نے بے غور کئے قبول کرلی ورنہ ان کاذہن شاید ایسی دلیل ذلیل علیل کلیل کی طرف ہرگزنہ جاتا جس سے خود ان کانام نامی بھی عادم الجواز ولازم الاحتراز قرارپاتا۔
خامسا: یاعلی کوفرمایاجاتاہے کہ جب مقصود ندائے معبود تو نزاع مفقودجی کیا وجہ یہاں بھی صاف دوسرا احتمال موجوداپناقصد نہ ہونا ایہام واحتمال کانافی کب ہوسکتاہےایہام تو کہتے ہی وہاں ہیں جہاں وہ معنی موہم مراد متکلم نہ ہوںتلخیص وتعریفات کی عبارتیں ابھی سن چکے اور اگر قصد پرمدار واعتماد ہے تو ہدایت علی پرکیا ایراد ہےوہاں کب معنی شرك مقصودومراد ہے۔
سادسا: علی پرالف لام لاناکب ایسے عالمگیرشرك سے نجات دے گاعلماپرلازم نہ آتاسہی صفۃ پرتو قطعا آسکتاہے اور وہ یقینا صفات مشترکہ سے ہے تو احتمال اب بھی قائم اور احتراز لازمبلکہ سراجیہ وتاتارخانیہ ومنح الغفار وغیرہا سے توظاہرکہ العلی باللام نام رکھنا بھی رواہےردالمحتارمیں ہے:
فی التاترخانیۃ عن السراجیۃ التسمیۃ باسم یوجد فی کتاب اﷲ تعالی کالعلی والکبیر والرشید والبدیع جائزۃ الخ ومثلہ فی المنح عنھا وظاھرہ الجواز ولومعرفا بال ۔ تتارخانیہ میں فتاوی سراجیہ سے نقل کیاگیاہے کہ ایسے نام رکھناجواﷲ تعالی کی کتاب میں اﷲ تعالی کی صفات کے طورپر پائے جاتے ہیں جیسے علیکبیررشید اوربدیع وغیرہ جائزہے الخاوراسی طرح منح الغفار میں سراجیہ سے نقل کیاگیاہے پس بظاہر یہ جائزہے اگرچہ وہ ال سے معرفہ ہو۔(ت)
سابعا: جب گفتگو احتمال پرچل رہی ہے تو معنیین ایصال الی المطلوب واراءۃ طریق میں تفرقہ باطلایصال وراءۃ دونوں دومعنی خلق وتسبب پرمشتمل بمعنی خلق دونوں مختص بحضرت احدیت ہیںکیاارائت بمعنی خلق رؤیت غیر سے ممکن ہے اور بمعنی تسبب دونوں غیر کے لئے حاصل ہیںکیاانبیاء سے ایصال بمعنی سببیت فی الوصول نہیں ہوتا فطاح التفرقۃ وزاح الشقشقۃ(پس
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۶۸
#4406 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
دونوں میں تفرقہ نابودہوگیا اور تذبذب زائل ہوگیا۔ت)ہاں یوں کہئے کہ ادھرعلی مشترك ادھر ہدایت خلق وتسبب دونوں میں مستعملیوں چاراحتمال ہوئےمگراب یہ مصیبت پیش آئے گی کہ جس طرح ہدایت بمعنی خلق غیرخدا کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی بمعنی محض تسبب حضرت عزت جل جلالہکی طرف نسبت نہیں پاسکتی ورنہ معاذاﷲ اصل خالق ومعطی دوسرا ٹھہرے گا اور اﷲ عزوجل صرف سبب وواسطہ ووسیلہاس کاپایہ شرك بھی اونچاجائے گا کہ وہاں توتسویہ تھا یہاں اﷲ سبحانہ پرتفضیل دیناقرارپائے گاعلی پرلام لاکر اول کاعلاج کرلیا اور اس دوم کاکہ اس سے بھی سخت ترہے علاج کدھرسے آئے گا اب ایك لام نیا گھڑکرہدایت پرداخل کیجئے کہ وہ معنی خلق میں متعین ہوجائے اوراحتمال تسبب اٹھ کر ایہام شرك وبدتر از شرك راہ نہ پائے۔
ثامنا: ایك ہدایت کیاجتنے افعال مشترکۃ الاطلاق ہیں سب میں اسی آفت کاسامنا ہوگاجیسے احسان وانعاماذلال واکرامتعلیم وافہامتعذیب وایلامعطا ومنعاضرارونفعقہر وقتلنصب وعزل وغیرہا کہ مخلوق کی طرف نسبت کیجئے تومعنی خلق موہم شرك اور خالق کی طرف تومعنی تسبب مشعرکفر۔
بہرحال مفرکدھراگرکہئے خالق عزوجل کی طرف نسبت ہی دلیل کافی ہے کہ معنی خلق مراد ہیںہم کہیں گے مخلوق کی جانب اضافت ہی برہان وافی ہے کہ معنی تسبب مقصود ہیںولہذا علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ امثال انبت الربیع البقل وحکم علی الدھر(بہار نے سبزہ اگایا اوردہرنے مجھ پر حکم کیا۔ت)میں قائل کاموحد ہونا ہی قرینہ شافی ہے کہ اسناد مجازعقلی ہے اب بحمداﷲ اس ایہام کی بنیاد ہی نہ رہی۔
تاسعا: آپ نے(باآنکہ اسمائے الہیہ توقیفیہ ہیں اور خصوصا آپ بہت جگہ صرف نہ واردہونے نہ منقول ہونے کوحجت ممانعت جانتے ہیں)حق سبحانہکانیانام مصوب ایجاد فرمایا ہرجواب کی ابتداء ھوالمصوب(وہی درست راستہ بتانے والاہے۔ت)سے ہوتی ہے یہ کب احتمال شنیع سے خالی ہےتصویب جس طرح ٹھیك بتانے کو کہتے ہیں یونہی سرجھکانے کواورمثلا جو سر جھکائے بیٹھاہو اسے مصوباوردونوں معنی حقیقی ہیں تو آپ کے طور پر اسی کلمے میں ایہام تجسیم ہے اورتجسیم کفروضلال عظیم ہے۔
عاشرا: جب مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہکی طرف اضافت ہدایت کااشتباہ امرممنوع کا اشتباہ اورموجب لزوم احتراز ہے تو بالقصد اس جناب ہدایت مآب کی طرف ضافت ہدایت کس درجہ
#4407 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
سخت ممنوع ومعترض الاحتراز ہوگییہاں مولی علی کوہادی کہنا حرام ہوگیا حالانکہ یہ احادیث صریحہ واجماع جمیع ائمہ اہلسنت و جماعت کے خلاف ہےشاید یہ عذرکیجئے کہ ہدایت بمعنی خلق کا اشتباہ موجب منع تھا اس معنی پر اضافت قصدیہ ضرور حرام بلکہ ضلال تام ہےنہ بمعنی تسبب کہ جائز ومعمول اہل اسلام ہےمگریہ وہی عذرمعمول ہے جس کارد گزرچکاکیاجب مولی علی کی طرف اضافت کا اصلا قصد ہی نہ ہو اس وقت تو بوجہ اشتراك معنی مولی علی کی جانب ہدایت بمعنی خلق کی اضافت کا اشتباہ ہوتا ہے اور جب بالقصد خود حضرت مولی علی ہی کی طر اضافت مراد ہوتواب وہ اشتراك معنی جاتا رہتا اور اشتباہ راہ نہیں پاتااگرمانع اشتباہ مخلوق کااس معنی کے لئے صالح نہ ہوناہے توصورت عدم قصد میں کیوں مانع نہیںاور اگرباوصف عدم صلوح اشتباہ قائم رہتاہے توصورت قصدمیں کیوں واقع نہیں۔
حادی عشر: نہ صرف امیرالمومنین علی بلکہ انبیائے کرام ورسل عظام وخود حضورپرنورسیدالانام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والتسلیم کسی کی طرف اضافت ہدایت اصلا روانہ رہے گی کہ بوجہ احتمال معنی دوم ایہام شرك ہےاب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کوہادی کہنا بھی حرام ہوگیااوریہ قرآن عظیم وصحاح احادیث واجماع امت بلکہ ضروریات دین کے خلاف ہے۔
ثانی عشر: خودجناب مجیب نے اپنے فتاوی جلدسوم ۸۶ میں اس لزوم احتراز کاردصریح فرمادیا اورادعائے ایہام کافیصلہ بول دیا۔فرماتے ہیں:
سوال:عبدالنبی یامانند آں نام نہادن درست است یانہ
جواب:اگراعتقاد ایں معنی ست کہ ایں کس کہ عبدالنبی نام دارد بندہ نبی است عین شرك است واگرعبدبمعنی غلام مملوك ست آں ہم خلاف واقع است واگرمجازا عبدبمعنی مطیع ومنقاد گرفتہ شود مضائقہ ندارد لیکن خلاف اولی ستروی مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم قال لایقولن احدکم عبدی و سوال:عبدالنبی یا اس جیسا نام رکھنادرست ہے یانہیں
جواب:اگریہ اعتقاد ہوکہ عبدالنبی نام والا شخص نبی کابندہ ہے توعین شرك ہے اور عبدبمعنی غلام مملوك مرادہو تو یہ خلاف واقع ہے اوراگرمجازا عبدبمعنی مطیع لیاہوتومضائقہ نہیں ہے لیکن خلاف اولی ہےامام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے اشاد فرمایا:کوئی شخص ہرگزعبدی(میراعبد)اورامتی(میری باندی) نہ کہے
#4408 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
امتی کلکم عباد اﷲ وکل نسائکم اماء اﷲ ولکن لیقل غلامی وجاریتی وفتائی وفتاتی انتھی ۔ تم سب مرداﷲتعالی کے بندے اور تمہاری تمام عورتیں اﷲ تعالی کی باندیاں ہیںلیکن اگرکہتاہو توغلامی(میراغلام) جاریتی(میری خادمہ)فتائی(میراغلام)فتاتی(میری لونڈی) کہے انتہی۔(ت)
اقول:قطع نظر اس سے کہ یہ جواب بھی بوجوہ مخدوش ہے اولا: عبدوبندہ میں سوائے اختلاف زبان کے کوئی فرق نہیں ایك دوسرے کا پورا ترجمہ ہےعبدہ وبندہ دونوں عربی وعجمی دونوں زبانوں میں الہ وخدا ومولی وآقا دونوں کے مقابل بولے جاتے ہیں توعبد بمعنی بندہ کومطلقا عین شرك کہہ دینا ایساہی ہے کہ کوئی کہے کہ عین سے مراد عین ہے توغلط ہے اورچشمہ مقصود ہو توصحیح
حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی مثنوی شریف میں حدیث شرائے بلال رضی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں جب صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے انہیں خریدلیا اوربارگاہ رسالت میں حاضرہوئے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم نے ہمیں شریك نہ کیااس پرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کیا:
گفت ما دوبندگان کوئے تو کردمش آزاد ہم برروئے تو
(عرض کیاکہ ہم دونوں آپ کے کوچہ کے غلام ہیںمیں نے اس کو آپ کے رخ انور پر آزاد کردیا۔ت)
لاجرم جوتفصیل عبد میں ہے وہی بندہ میں۔
ثانیا: عبدبمعنی بندہ وبمعنی مملوك میں یہ تفرقہ کہ اول شرك اورثانی خلاف واقع ہے محض بے اصل وضائع ہےمملوك بھی ملك ذاتی حقیقی وملك عطائی مجازی دونوں کومشتمل اور اول میں قطعا شرك حاصل اوربندہ بھی مقابل خدااورخواجہ دونوں مستعملاورثانی سے یقینا شرك زائل۔
ثالثا: آپ نے تو عبدبمعنی ملوك کوخلاف واقع یعنی کذب ٹھہراکر اس ارادے کوشرك سے اتارکر گناہ مانا مگر ائمہ دین و اولیائے معتمدین وعلمائے مسندین قدس اﷲ تعالی اسرارہم اجمعین اس اعتقاد کومکمل ایمان مانتے اور اس سے خالی کوحلاوت ایمان سے بے بہرہ جانتے ہیںحضرت امام اجل عارف باﷲ سیدسہل بن عبداﷲ تستری رضی اﷲ تعالی عنہ پھرامام اجل قاضی عیاض شفاشریف پھرامام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں نقلاوتذکیرا پھرعلامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض پھر علامہ محمدبن عبدالباقی
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب العقیقہ ومایتعلق بہا وجہ نام عبدالنبی وغیرہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۴
مثنوی المعنوی معاتبہ کردن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصدیق اکبر حامداینڈ کمپنی لاہور دفترششم ص۱۱۷
#4409 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
زرقانی شرح مواہب میں شرحا وتفسیرا فرماتے ہیں:
من لم یر ولایۃ الرسول علیہ فی جمیع احوالہ ولم یرنفسہ فی ملکہ لایذوق حلاوۃ سنتہ ۔ جوہرحال میں نبی صلی اﷲتعالی علیہ وآلہ وسلم کو اپنا والی اور اپنے آپ کو حضور کامملوك نہ جانے وہ سنت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حلاوت سے اصلا خبردار نہ ہوگا۔
رابعا: مولانا شاہ عبدالعزیزصاحب تحفہ اثناء عشریہ میں نقل فرماتے ہیں کہ حق سبحانہ وتعالی زبورشریف میں فرماتاہے:
یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیك من اجل ذلك بارك علیك فتقلد السیف فان بھائك وحمدك الغالب(الی قولہ)الامم یخرون تحتك کتاب حق جاء اﷲ بہ من الیمن والتقدیس من جبل فاران وامتلأت الارض من تحمید احمد وتقدیسہ و ملك الارض ورقاب الامم ۔ اے احمد! تیرے لبوں پررحمت نے جوش مارا میں اسی لئے تجھے برکت دیتاہوں تو اپنی تلوار حمائل کرکہ تیری چمك اورتیری تعریف ہی غالب ہے سب امتیں تیرے قدموں میں گریں گیسچی کتاب لایااﷲ برکت وپاکی کے ساتھ مکہ کے پہاڑ سےبھرگئی زمین احمد کی حمداور اس کی پاکی بولنے سےاحمدمالك ہوا ساری زمین اورتمام امتوں کی گردنوں کاصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
کیازبور پاك کے ارشاد کوبھی معاذاﷲ خلاف واقع کہاجائے گا۔
خامسا امام احمد مسند میں بطریق ابی معشر البراء ثنی صدقۃ بن طیلسۃ ثنی معن بن ثعلبۃ المازنی والحی بعد ثنی الاعشی المازنی رضی اﷲ تعالی عنہاور عبداﷲ بن احمد زوائدالمسندمیں بطریق عوف بن کھمس بن الحسن عن صدقۃ و طیلسۃ الخاورامام ابوجعفر طحطاوی شرح معانی الآثار میں بطریق ابی معشر المذکور نحو روایۃ احمدسندا ومتنا اور ابن خیثمۃ وابن شاھین بھذا الطریق وبغیرہ اور بغوی وابن السکن وابن ابی عاصم بطریق الجنید بن امین بن ذروۃ بن نضلۃ بن بھصل الحرمازی عن ابیہ عن جدہ نضلۃ۔
حوالہ / References المواھب اللدنیۃ المقصد السابع الرضی بماشرعہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹ و ۳۰۰،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصد السابع الرضی بماشرعہ الفصل الاول دارالکتب العلمیۃ ۹ /۱۲۸
تحفہ اثناء عشریہ باب ششم دربحث نبوت الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
#4410 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
حضرت اعشی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ یہ خدمت اقدس حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں اپنے بعض اقارب کی ایك فریاد لے کرحاضر ہوئے اور اپنی منظوم عرضی مسامع قدسیہ پرعرض کی جس کی ابتداء اس مصرع سے تھی ع
یامالك الناس و دیان العرب
(اے تمام آدمیوں کے مالك اور اے عرب کے جزاو سزا دینے والے)
حضرت اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی فریاد سن کرشکایت رفع فرمادینبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایك شخص کامالك کہنا آپ کے گمان میں معاذاﷲ کذب تھا تو تمام آدمیوں کامالك بتانا یامالك الناس کہہ کر حضورکوندا کرنامعاذاﷲ سنکھوں مہاسنکھوں کذب کا مجموعہ ہوگاحالانکہ یہ حدیث جلیل شہادت دے رہی ہے کہ صحابی حضورکومالك تمام بشرکہا اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مقبول ومقرررکھا۔
سادسا: بات یہ ہے کہ آپ کے خیال شریف میں مالك ومملوك کے یہی معنی تھے کہ زیدعمروکو تانبے کے کچھ ٹکوں یاچاندی کے چند ٹکڑوں پرخریدے جبھی تو محمد رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مالکیت کوخلاف واقع فرمادیا حالانکہ یہ مالکیت سخت پوچ لچرمحض بے وقعتبے قدرہے کہ جان درکنار گوشت پوست پربھی پوری نہیںسچی کامل مالکیت وہ ہے کہ جان وجسم سب کومحیط اورجن وبشر سب کوشامل ہے یعنی اولی بالتصرف ہونا کہ اس کے حضور کسی کو اپنی جان کابھی اصلا اختیارنہ ہو یہ مالکیت حقہ صادقہ محیط شاملہ تامہ کاملہ حضور پرنورمالك الناس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوبخلافت کبری اور حضرت کبریا عزوعلا تمام جہاں پرحاصل ہے۔قال اﷲ تعالی "النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم" نبی زیادہ والی ومالك ومختارہےتمام اہل ایمان کا خود ان کی جانوں سے۔
وقال اﷲ تعالی تبارك " وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و اﷲ و (اﷲ تبارك وتعالی نے فرمایا)نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو جب حکم کردیں اﷲ اوراس کے رسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیار رہے اپنی جانوں کااور جوحکم
حوالہ / References مسنداحمدبن حنبل مسندعبداﷲ بن عمرو بن العاص المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۰۱،شرح معانی الآثار کتاب الکراھۃ باب الشعر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
القرآن الکریم ۳۳ /۶
#4411 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
 رسولہ فقد ضل ضللا مبینا ﴿۳۶﴾" نہ مانے اﷲ ورسول کاتو ہو صریح گمراہ ہوا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اولی بالمؤمنین من انفسھمرواہ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں زیادہ والی و مالك ومختارہوں تمام اہل ایمان کاخود ان کی جانوں سے(اسے بخاریمسلمنسائی اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اگریہ معنی مالکیت جناب مجیب کے خیال میں ہوتے تو محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مالکیت کوخلاف واقع نہ جانتے اور خود اپنی جان اورسارے جہان کو محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ملك مانتے اور اس سے زائد مرتبہ حق حقائق ہے جس کے سننے کو گوش شنواسمجھنے کو دل بینادرکار ہے۔
"وما اوتیتم من العلم الا قلیلا ﴿۸۵﴾" "وفوق کل ذی علم علیم ﴿۷۶﴾" "وما یلقىہا الا الذین صبروا وما یلقىہا الا ذو حظ عظیم ﴿۳۵﴾" ۔ تمہیں صرف تھوڑاساعلم دیاگیاہےہرعلم والے پربڑے علم والاہےنہیں پاتے اس کو مگرجولوگ صبروالے ہوں مگر عظیم حصہ۔(ت)
سابعا: حدیث صحیح مسلم محض بے محل مذکور ہوئی حدیث میں تعلیم تواضع ونفی تکبر اور آقاؤں کو ارشاد ہے کہ اپنے غلاموں کوعبد نہ کہونہ کہ کہ غلام بھی اپنے کواپنے مولی کاعبد یادوسرے ان کوان کے عبیدنہ کہیںیہ ہے قرآن کہ ہمارے غلاموں کوہماراعبد فرمارہاہےآیت عنقریب گزری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
صحیح البخاری کتاب الکفالۃ ۱ /۳۰۸ و کتاب الفرائض ۲ /۲۹۷ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب الجمعۃ فصل فی خطبۃ الجمعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۵،صحیح مسلم کتاب الفرائض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶،سنن ابن ماجہ ابواب الصدقات باب من ترك دینا الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۷۶،مسندامام احمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۳۵
القرآن الکریم ۱۷ /۸۵
القرآن الکریم ۱۲ /۷۶
القرآن الکریم ۴۱ /۳۵
#4412 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
لیس علی المسلم فی عبدہ ولا فی فرسہ صدقۃ رواہ احمد والستۃ عن ابی ھریرۃ۔ مسلمان پر اپنے عبد اور اپنے گھوڑے میں زکوۃ نہیں(اسے احمد اوراصحاب ستہ نے ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
فقہ کامحاورہ عامہ وائمہ صدراول سے آج تك مستمرہ ہے:اعتق عبدہ ودبرعبدہ(اس نے اپنے عبد کوآزادمدبربنایا۔ت)خود مولوی مجیب صاحب اپنے رسالہ نفع المفتی مسائل متعلقہ جمعہ میں فرماتے ہیں:ان اذن المولی عبدہ لہا یتخیر (اگرمولی اپنے عبد کو اجازت دے تو اسے اختیارہوا۔ت)وہیں ہے:وللمولی منع عبدہ (مولی کواختیارہے کہ عبد کوروك دے۔ت)
عجب ہے کہ زیدوعمروبلکہ کسی کافرمشرك کے غلام کو اس کاعبدکہنے پرحدیث وارد نہ ہو اور محمدرسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں کوان کاعبد کہنے پرمعترض ہواور سنئے توسہی امام ابوحذیفہ اسحق بن بشر فتوح الشام اورحسن بن بشران اپنی فوائد میں ابن شہاب زہری وغیرہ تابعین سے راوی کہ امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے ایك خطبہ میں برسرمنبرفرمایا:
قدکنت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فکنت عبدہ وخادمہ ۔ میں حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگارہ میں تھا تو میں حضورکاعبدتھا حضورکابندہ اورحضورکاخدمتی تھا۔
نیز ابن بشران امالی اورابواحمددہقان جزء حدیثی اورابن عساکر تاریخ دمشق اورلالکائی کتاب السنہ میں افضل التابعین سیدنا سعیدبن المسیب بن حزن رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویجب امیرالمومنین حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے منبراطہر حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرکھڑے ہوکر خطبہ فرمایا حمدودرودکے بعد فرمایا:
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۶،سنن ابی داؤد کتا ب الزکوٰۃ باب صدقۃ الرقیق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۲۵، سنن ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۳۱،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۲ /۲۴۲
نفع المفتی والسائل مسائل متعلقہ بالجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۵
نفع المفتی والسائل مسائل متعلقہ بالجمعۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۰۵
فتوح الشام لاسحق بن بشر
#4413 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
ایھاالناس انی قدعلمت انکم کنتم تونسون منی شدۃ وغلظۃ وذلك انی کنت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکنت عبدہوخادمہ ۔ لوگو! میں جانتاہوں کہ تم مجھ میں سختی ودرشتی پاتے تھے اور اس کاسبب یہ ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور میں حضورکابندہ اورحضورکاخدمت گزار تھا۔
اب توظاہر ہواکہ حدیث مسلم کو اس محل سے اصلا تعلق نہیںذرا وہابی صاحب بھی اتناسن رکھیں کہ یہ حدیث نفیس جس میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے آپ کو عبدالنبیعبدالرسولعبدالمصطفی کہہ رہے ہیںاور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا مجمع عام زیرمنبرحاضرہےسب سنتے اورقبول کرتے ہیں۔
جناب شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی نے بھی ازالۃ الخفا ابوحذیفہ وکتاب مستطاب الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ میں استنادا ذکرکی اور مقرررکھیامیرالمومنین کوبجرم ترویح تراویح معاذاﷲ گمراہ بدعتی لکھ دیایہاں عیاذا باﷲ مشرك کہہ دیجئےاور آپ کے اصول مذہب نامذہب پرضرور کہنا پڑے گا مگرصاحبو! ذراسوچ سمجھ کرکہ شاہ ولی اﷲ صاحب کادامن بھی اسی پتھر کے تلے دباہوا ہے ع
یوں نظردوڑے نہ برچھی تان کر
اپنا بیگانہ ذرا پہچان کر
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمخیربات دورپہنچیلفظ عبد وبندہ کی تحقیق تام وتفصیل احکام فقیر کی کتاب مجیرمعظم شرح اکسیر اعظم میں ملاحظہ ہو۔
یہاں یہ گزارش کرنی ہے کہ مولوی مجیب صاحب کے اس فتوی نے ادعائے ایہام کاکام تمام کردیاعبدالنبی میں جناب کے نزدیك تین احتمال تھے:ایك شرکایك کذبایك صحیحتوناجائزاحتمال جائزسے دونے تھےبا ایں ہمہ اس کاحکم صرف خلاف اولی فرمایا جوممانعت وکراہت تحریمی درکنار کراہت تنزیہی کوبھی مستلزم نہیںہرمستحب کاخلاف ترك خلاف اولی ہے مگرمطلقا تنزیہی نہیں۔ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابد لھا من دلیل خاص ۔ مستحب کوترك کرنے پرکراہت لازم نہیں کیونکہ کراہت کے لے دلیل چاہئے۔(ت)
حوالہ / References مختصرتاریخ دمشق لابن عساکر ترجمہ عمربن الخطاب ۱۸۵ دارالفکر بیروت ۱۸ /۳۱۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴
#4414 · النوروالضیاء فی احکام بعض الاسماء ۱۳۲۰ھ (بعض ناموں کے احکام کے بارے میں اُجالا اور روشنی)
اسی میں تحریرالاصول سے ہے:
خلاف اولی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترك صلوۃ الضحی بخلاف مکروہ تنزیھا ۔ خلاف اولی وہ ہے جس کے لئے نہی کاصیغہ استعمال نہ ہواہو جیسے چاشت کی نمازکاترك ہے بخلاف مکروہ تنزیہہ کے۔(ت)
توہدایت علی جس میں چاراحتمالوں سے صرف ایك باطل ہےیعنی جائزاحتمالات ناجائز سے تگنے ہیں یہ کس طرح خلاف اولی درکنار مکروہ تنزیہی سے بھی گزرکرلازم الاحتراز ہوگیااربعہ کے حساب سے تواسے خلاف اولی کانصف بھی نہ ہوناچاہئے تھا بلکہ ۴ /۳ یعنی مباح مساوی طرفین سے اگرسیربھردوری پرخلاف اولی کہاجائے توہدایت علی میں صرف ڈیڑھ پاؤ ہوگئی اس لئے ۳ /۲ ۴ /۱ مجہول پس ۴ /۱ ۳ /۲۸ /۲ خیریہ حساب تو ایك تطییب قلوب ناظرین تھا حق یہ کہ ہدایت علی میں اصلا کوئی وجہ کراہت تنزیہی کی بھی نہیںلزوم احتراز تو بڑی چیزہےاورفی الواقع ہرادنی عقل والا بھی سمجھ سکتاہے کہ عبدالنبی سے ہدایت کونسبت ہی کیاہےجب وہ صرف خلاف اولی ہے تو اسے خلاف اولی کہنابھی محض بے جاہےکلام یہاں کثیرہے اور جس قدر مذکورہوا طالب حق کے لئے کافی۔واﷲ یقول الحق ویھدی السبیلواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کتبہ
عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
محمدی سنی حنفی قادری ۱۳۰۱ھ
عبدالمصطفی احمدرضاخاں
_________________
رسالہ
النوروالضیاء فی احکام وبعض الاسماء
ختم ہوا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴
#4415 · خط وکتاب (بلا اجازت کسی کاخط روکنا،کھولنا،اورپڑھنا وغیرہ)
خط وکتاب
بلا اجازت کسی کاخط روکناکھولنااورپڑھنا وغیرہ

مسئلہ ۲۷۹: حافظ محمود حسین تلمیذ رشیداحمدگنگوہی ۱۱ربیع الآخرشریف ۱۳۱۲ھ
ایك لفافہ بند جس پرمکتوب الیہ کانام اس طرح درج تھا زوجہ مولوی محمدفخرالدین وغلام محی الدین کے پاس پہنچےڈاکیہ نے لاکرحاجی رمضان ملازم مولوی محمدفخرالدین کو دیاحاجی موصوف مردناخواندہ ہے اس لفافہ کوہمشیرہ زادمولوی محمدفخرالدین صاحب کے مکان پرلائے اور کہا کہ کس کے نام کا یہ خط ہے مولوی صاحب موصوف کے ہمشیرہ زاد نے جو اس پرلکھا تھا ان سے کہہ دیا اور ان کو واپس دے دیادوسرے وقت حاجی موصوف دوبارہ اس خط کو مولوی صاحب موصوف کے ہمشیرہ زاد کے مکان پرلائے اورچندصاحب باہرمکان میں بیٹھے تھے اس کالفافہ پڑھوایاچونکہ مولوی محمد فخرالدین صاحب کی زوجہ جو احد المکتوب الیہما تھیں وہ انتقال کرچکی تھیں اور دوسرامکتوب الیہ یعنی غلام محی الدین کا نام جوساتھ میں لکھاہواتھا وہ سمجھ میں نہیں آتاتھا کہ کون شخص ہے فی الجملہ مولوی صاحب کے دونوں ہمشیرہ زادے موجود تھےایك کی رائے ہوئی کہ خط کو واپس کر دیاجائے دوسرے نے خیال کرکے کہ کاتب کاجونام اس پرلکھاہوا تھا وہ ایساتھا کہ اس کو تعلق زوجہ مولوی محمد فخرالدین صاحب یعنی اپنے ماموں صاحب کی زوجہ سے تھا او راب ان کاانتقال ہوا اس خیال سے کہ یہ ٹکٹ چسپاں لفافہ واپس کرنے میں شاید ضائع ہوجائے اورکوئی قصدکاتب یا مکتوب الیہا ضروری ہواہو اس کوچاك کرکے سرسری نگاہ سے اس کی ابتداء کو دیکھا جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ بیشك مولوی صاحب
#4416 · خط وکتاب (بلا اجازت کسی کاخط روکنا،کھولنا،اورپڑھنا وغیرہ)
یعنی اپنے ماموں صاحب کی زوجہ کاہی یہ خط ہے اور چونکہ وہ امرجو ابتداء سے معلوم ہوگیا اس خط کے پڑھنے سے متعلق مکتوب الیہا کے تہائی سے معلوم ہوا کہ ان لڑکیوں کے پیام کی نسبت اس میں لکھاہوا تھااس لئے بدون پورا پڑھے ہوئے خط کے اس کو لفافہ میں رکھ کے چاك شدہ بدون بند کئے ہوئے حاجی رمضان خاں جو اس خط کو لائے تھے ان کودے دیا اور کہہ دیا کہ حافظ غفورالدین صاحب یعنی برادرمکتوب الیہامرحومہ کودے دیں پس صورت حال یہ ہے اس کی نسبت یہ سوال ہے کہ خواہرزادہ مولوی صاحب نے لفافہ چاك کرکے اس کوسرسری گناہ سے دیکھ کے پھر اس کوجس شخص سے متعلق مضمون اس کا نظرآیا واپس بھیج دیاایساکرنے میں وہ عندالشرع گنہگار ہے یا موافق نیت اپنی کے عنداﷲ وعندالشرع ماجور ہے اور زوج مکتوب الیہا کے ملك عرب میں ہیں وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔بینواتوجوا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں شخص مذکور گنہگار ومستحق وعیدہےحدیث میں ہے حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من نظر فی کتاب اخیہ بغیر اذنہ فانما ینظر فی النار۔رواہ ابوداؤد فی سننہ والحاکم وصححہ وابن منیع فی مسندہ والقضاعی وغیرھم فی حدیث عنا بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ جو اپنے بھائی کاخط بے اس کی اجازت کے دیکھے وہ بلاشبہہ آگ دیکھ رہاہے(امام ابوداؤد نے اس کو اپنی سنن میں روایت کیا اور محدث حاکم نے اس کی صحت تسلیم فرمائی اور ابن منیع نے اپنے مسند میں اور قضاعی وغیرہ نے حدیث ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے روایت کی۔ت)
علماء فرماتے ہیں خط کاتب کی ملك ہے یہاں تك کہ اگروہ لکھے کہ اس پرجواب لکھ دے تو خود مکتوب الیہ کو اس میں تصرف جائز نہیں مالك کو واپس دینالازمواپس نہ چاہے تو بحکم عرف مکتوب الیہ مالك ہوجائے گا۔جوہرہ نیرہ ومنح الغفار شرح تنویرالابصار وحاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے:
رجل کتب الی اخر کتابا وذکرفیہ اکتب الجواب علی ظھرہ لزمہ ردہ ولیس لہ التصرف فیہ ایك آدمی نے کسی دوسرے آدمی کوخط لکھا اور اس میں یہ ذکرکیا کہ اسی قرطاس سوال کی پشت پر جواب لکھ دیں توا س خط کاواپس کرنا لازم ہوجاتاہے۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹
#4417 · خط وکتاب (بلا اجازت کسی کاخط روکنا،کھولنا،اورپڑھنا وغیرہ)
والا مبلکہ المکتوب الیہ عرفا ۔ اور اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوتااوراگریہ صورت نہ ہوتو عرف اور رواج کے مطابق مکتوب الیہ یعنی جس کی طرف خط لکھاگیا وہ اس کامالك ہوگیا۔(ت)
یہاں کہ خط مکتوب الیہ کے ہاتھ میں پہنچنے ہی نہ پایا بلاشبہہ ملك کاتب پرباقی رہا
فان التملیك لایتم قبل القبض حتی لومات احدھما قبل التسلیم بطل کما نص علی فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر ۔ کیونکہ تملیک(کسی کومالك بنانا)قبضہ کرنے سے پہلے تام (مکمل)نہیں ہوتی اس لئے کہ سپردگی سے پہلے دونوں میں سے کوئی ایك اگرانتقال کرجائے تومعاملہ باطل ہوجاتاہے جیسا کہ درمختار وغیرہ بڑی کتب عربی میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔(ت)
بے اس کے اذن کے لفافہ چاك کرناملك غیر میں تصرف ناجائز ہواکہ شرعا حرام ہےحدیث وفقہ کاحکم تو یہ ہےباقی رہے اس کے بیہودہ عذرات جن کی بنا پر وہ نہ صرف اپنی برأت بلکہ الٹا ماجوری کامتمنی ہے بدتر ازگناہ ہیں واپسی میں ضائع ہونے کا اندیشہ تھاتویہ کاتب تھا مکتوب الیہ تھاکون تھا رکھنا واپس کرنا اس سے کیامتعلق تھا اس کے پاس لفافہ پڑھنے کو آیاتھا پرھ کرلانے والے کودے دیتا جومطالبہ ہوتا اس کے ذمہ ہوتا اسے مداخلت بیجاکاکس نے حکم دیاتھا ایسی ہی خیراندیشی مدنظر تھی توخط محفوظ رہنے کی ہدایت کرکے کاتب کواطلاع دی ہوتی وہ جوکہتا اس پرعمل کیاجاتانہ یہ غضب وخیانت کہ ملك غیرچاك نامہ غیرمیں نظر بےباك یعنی زید نے ایك بکری عمروکہ ہدیۃ بھیجیعمرو مرچکاتھا لانے والا بکرکے پاس لایایہاں جنگل میں شام ہوگئی واپس کرنے میں اندیشہ تلف تھا بکرنے بکری براہ خیراندیشی وہیں ذبح کرکے چھ لییہ خیال کہ شاید کوئی امرضروری مفیدکتاب یا مکتوب الیہا ہویہ خیال نہ کیاکہ شاید کوئی امر رازکاہو جس پر اطلاع میں ان کی مضرت ہوپرائے مکان میں بے استیذان جانا شرع نے احتمال ضرر کے سبب حرام فرمایا اوراحتمال نفی کی بنا پراجازت نہ دی یہ خیالات سب مناقض شرح محض وسوسہ شیطانی تھے کہ معصیت پرباعث ہوئے سرسری نگاہ سے دیکھنا بھی دیکھنا ہے آخراس سے مضمون پراطلاع پائی تویہ کیاعذر ہو سکتا ہے جیسے کسی کے دروازہ میں سے جھانکے اور کہے ہم نے بغورتو نہیں دیکھا۔اسی بنا پر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس حالت میں اس کی آنکھیں پھوڑدیں تو کچھ
حوالہ / References تکملہ ردالمحتار فصل فی مسائل متفرقہ من الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۱،حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۳ /۴۰۹
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱
#4418 · خط وکتاب (بلا اجازت کسی کاخط روکنا،کھولنا،اورپڑھنا وغیرہ)
الزام نہیں۔
فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:من اطلع فی بیت قوم بغیر اذنھم فقد حل لھم ان یفقأوا عینہ ۔ بخاری اورمسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی نے لوگوں کے گھروں میں بغیران کی اجازت کے جھانك کردیکھا تو بے شك ان گھر والوں کیلئے حلال ہے کہ اس کی آنکھ نکال دیں۔(ت)
بلکہ دوسری حدیث میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایمارجل کشف سترا فادخل بصرہ من قبل ان یؤذن فقداتی حدا لایحل لہ ان یأتیہ ولوان رجلا فقأعینہ لھدرت۔رواہ الامام احمد فی مسندہ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوشخص کوئی پردہ کھول کر قبل اجازت نگاہ کرے وہ ایسی ممنوع بات کامرتکب ہے جو اسے جائزنہ تھی اور اگرکوئی اس کی آنکھ پھوڑدے توقصاص نہیں۔(امام احمدنے اس کو اپنی مسندمیں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ ت)
انصاف سے دیکھئے تولفافہ چاك کرکے خط پڑھنا بھی ایك قسم کاپردہ کھول کرنگاہ کرناہے اور فقط ابتدائی مضمون دیکھاپورانہ پڑھا یعنی دروازہ ہی میں سے جھانکا سارامکان کب نظرپڑا اور طرفہ یہ کہ چاك شدہ بے بند کئے واپس کیاشاید اسے بھی ذلیل نیك نیتی ٹھہرادیاجاتا کہ فریب ہوتا توبند کردیاجاتا کیابند کرنے میں گناہ تھا جو اس سے بازرہنا وجہ برأت ہوا یعنی مکان غیرمیں بے اجازت قفل توڑکرجائیے اورنیك نیتی کاثبوت یہ کہ ہم نے دروازہ کھلاہی چھوڑدیاطرہ یہ کہ خط زید بنام عمروبکرنے دیکھا اور خالد کوبھیج دیا گویا خود مالك خط تھا کہ جوچاہاکیاجب ساراخط نہ دیکھاتھا توکیامعلوم شاید اس میں کوئی مضمون خالد کے خلاف ہی ہوتا اس کامطلع ہونا ان مسلمانوں کے ضررکاسبب ہوتاغرض یہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الدیات باب من اطلع فی بیت قوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۰صحیح مسلم کتاب الآداب باب تحریم النظر فی بیت غیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۲
مسندامام احمدبن حنبل ترجمہ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۸۱
#4419 · خط وکتاب (بلا اجازت کسی کاخط روکنا،کھولنا،اورپڑھنا وغیرہ)
سب حرکات عقل وشرع دونوں کے خلاف تھیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیمواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(گناہوں سے کنارہ کش ہونے اوربھلائی کرنے کی قوت کسی میں موجود نہیں بجزاﷲتعالی عظمت وشان والے کی توفیق کے۔اﷲ تعالی پاك وبرتر اوربڑاعالم ہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۰: ۱۰/صفر۱۳۲۱ھ
خالد کو اس کے چچا نے ہدایت کی کہ باہمی نزاع کی بابت خط وکتابت مسدود رہنا قرین مصلحت ہے اب اگرظن غالب کی بناپر بکر اپنے بھتیجے خالد کے خطوط خود وصول کرکے اس کو نہ دے حالانکہ خالد تبری کرتا ہے کہ ہرگزمیرے کسی خط میں اس ہدایت کاخلاف نہ کیاگیامگر بکرکو بوجہ مرتبہ بادر ہونے کے سبب خالد کی یقین نہیں آیا ان وجوہ سے بکر معصیت کامرتکب قرارپائے گا یانہیں نیزاگر ان میں بابت نزاع باہمی تذکرہ ہوتوکیا بکر کو امور متذکرہ بالا کا اختیارحاصل ہے یانہیں
الجواب:
بکرکواصلا اختیارنہیںنہ خالد کے خطوط روکنے کانہ دیکھنے کااور وہ ضرورگنہگارہوگاحدیث میں ارشاد ہواکہ جوبلاضرورت دوسرے کا خط دیکھے وہ جہنم کی آگ دیکھتاہے ۔اوربدگمانی دوسراگناہ ہے اورتجسس تیسراگناہ۔اوریہ سوال کہ اگران میں خلاف ہدایت ہو تو امومذکورہ کا اختیار ہے یانہیں محض بے معنی ہے بے دیکھے کیونکرمعلوم ہوگا کہ خلاف ہدایت ہےغرض یہ سب کاروائی خود خلاف ہدایت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۱:ازملك گجرات ضلع احمدآباد شہرپیران پاٹن محلہ محمدی دارہ معرفت سیدعبدالقادر صاحب رسیدہ اصغراحمدصاحب بنگالی پنجشنبہ ۱۶ شوال ۱۳۳۴ھ
حضرت شمس علماء الدیناسوۃ الحکماء المحققیناعنی مخدومنا ومکرمنا جناب مولانا احمدرضاخان صاحب حفظہم الواہب من النوائب۔بعد الف الف سلام معروض اینکہ حضور والا کے ارشاد کے بعد جب مراجعت الی الکتب کیا فی الواقع جواب لسان وعلی الفور واجب ہےاورعلامہ مناوی نے تخیربین اللفظ والمراسلۃ(زبانی جواب دینا اوربذریعہ خط جواب دونوں میں(مکتوب الیہ کو) اختیارہے۔ت)لکھاہے مگرعلامہ شامی نے اسی کا بعد ہی خط کاجواب دینے کو واجب لکھاہے وھو لکن فی الجامع الصغیر للسیوطی"ردجواب الکتاب حق کردالسلام" (لیکن امام سیوطی نے جامع صغیر میں فرمایا خط کاجواب دینابالکل سلام کے زبانی جواب دینے کی طرح واجب ہے۔ت)اگر اس میں
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الدعاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۰۹
جامع الصغیر حدیث ۴۴۴۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۷۲
#4420 · خط وکتاب (بلا اجازت کسی کاخط روکنا،کھولنا،اورپڑھنا وغیرہ)
کوئی خلاف ہوتو اصلاح فرماکر مرہون منت فرمائیں فقط۔
الجواب:
مولانا المکرم ذی اللطف والکرم اکرمکم المولی تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ہمارے نزدیك جواب سلام علی الفور ہے تاخیرمیں اثم ہوگا حتی قالوا لو اخرالی آخرالکتاب کرہ(یہاں تك فرمایا کہ اگر اس نے جواب لکھنے تك سلام کے جواب میں تاخیرکی تومکروہ ہے۔ت)علامہ مناوی شافعی ہیں یوں ہی امام سیوطی ولہذا عبارت مذکورہ کے بعد مناوی میں ہے:
وبہ قال جمع شافعیۃ منھم المتولی والنووی فی الاذکار زاد فی المجموع انہ یجب الرد فورا ۔ شافعیوں کے ایك گروہ نے یہی فرمایاان میں سے متولی اورامام نووی ہیںچنانچہ امام نووی نے الاذکار میں ذکرکیا اور المجموع میں یہ اضافہ کیا کہ سلام کاجواب دیناواجب ہے۔(ت)
اورحدیث کی سند بشدت ضعیف ہےاوراس کارفع ثابت نہیںہاں جواب کتاب حتی الوسع ضروردیناچاہئے ولوبعد حین(اگرچہ کچھ عرصہ کے بعد ہو۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ردجواب الکتاب الخ مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۲/۲۲
#4421 · سیاسیات (ممبری،ووٹ،الیکشن اورتنظیم سازی وغیرہ)
سیاسیات
ممبریووٹالیکشن اورتنظیم سازی وغیرہ

مسئلہ ۲۸۲: مسئولہ محمدباقرخاں صاحب ڈپٹی کلکٹر پنشنر رائے بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ میں جو اندرحد میونسپلٹی ہے ایك شخص احمدنامی زبان کچہری وزبان انگریزی سے بخوبی واقف ہے اور شریف خاندان اورقابلیت انتظامی میں ماہر اورمعزز عہدوں پرممتاز رہا منجملہ دیگرمسلمان ممبروں کے ایك ممبرمیونسپل ہے اور بحیثیت ممبری قوم کے کام بھی نہایت دیانت وامانت سے کر رہاہے اب زمانہ ممبری احمد کا قریب الاختتام ہے لہذا احمدمذکورپھرامیدوار ممبری کاہے لیکن اس کے مقابلے میں ایك شخص معمولی حیثیت کاجو محض اردوجانتاہے عمرنامی امیدوار ممبری کھڑاہواہے اس شخص کوانتظامی قابلیت میں کچھ مس نہیں ہے اور نہ کبھی اس کو ایساتجربہ ہواہے پس عمر نے اپنی کامیابی کی یہ تدبیر اس حیلہ سے سوچی ہے کہ اگر وہ ممبرمنتخب ہوگیا تومبلغ ڈیڑھ سوروپیہ واسطے کارخیر کے دے گا یعنی ایك آنہ فنڈ میں جو اس قصبہ میں ہے دے گاتاکہ سیکریٹری ودیگر حصہ ممبران ایك آنہ فنڈ کی کامیابی میں کوشش بلیغ کریں بس ایسی صورت میں مسلمانوں کو احمد کی معاونت کرنی چاہئے جونہایت بیدامغزی اوردیانت سے ممبری کے کام بخوبی انجام دے رہاہے یاعمر کی جوامور انتظامیہ کوانجام دینے کے قابل نہیں ہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
#4422 · سیاسیات (ممبری،ووٹ،الیکشن اورتنظیم سازی وغیرہ)
الجواب:
ممبری کوئی شرعی بات نہیں مگریہ ضرورہے کہ اگرحالت وہ ہے جوسوال میں مذکورہے تواحمد کے مقابل عمرکے لئے کوشش عقل ونقل سے دور ہے جب وہ حسب بیان سائل ذی علم متدین نفع رساں مسلمین ہے تو اس پرایسے عاری کی ترجیح صرف ڈیڑھ سوروپیہ کے لالچ سے جہل مبین ہےحدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل رجلا علی عشرۃ وفیھم من ھوارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ وجماعۃ المسلمین ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس نے دس آدمیوں پرکسی کو افسرکیا اور ان میں وہ ہے جو اﷲ کو اس سے زیادہ پسندہے تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں کی سب خیانت کی۔
مسئلہ ۲۸۳: ازدھو راجی متصل ناریل مسجد مرسلہ احمدعلی چامڑیا ۳ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں ملك کاٹھیاوارمیں تعلیم کی حالت بہت خراب ہونے کی وجہ سے مختلف شہروں کے مسلمانوں نے مل کر ایك رائے ہوکر ہرشہر کاایك ایك دودوشخص منتخب کرکے ۹۵ ممبروں کی کمیٹی مقام راجکوٹ قائم کی ہے جس کانام مسلم ایجوکیشنل ایسوسی ایشن رکھاہےجس میں سنت جماعت ممبر ۹۴ اورایك خوجہاس ایجوکیشنل ایسوسی ایشن کی طرف سے ہرسال کسی ایك بڑے شہر میں جلسہ عام مسلمانوں کامنعقد ہوتاہے جس میں ہرخاص وعام آسکتاہے اور جس میں مسلمانوں کی ترقی کے ریزولیشن پاس ہوتے ہیں اور اسٹیٹ اورگورنمنت کے پاس سے حق مانگے جاتے ہیں اور ہر شہرمیں مسلمانوں کی طرف سے جومدرسے جاری ہیں ان کے کورس ایك کرنے میں اوردینی اوردنیاوی تعلیم کی ترقی کرنے میں کوشش کی جاتی ہے فی الحال ایك انسپکٹر ایسوسی کی طرف سے مقرر ہے جوکہ ہرمدرسہ میں جاکر تعلیم کی جانچ کرتاہے اور ایك بورڈنگ بھی اس سال مسلمانوں کے واسطے ایسوسی ایشن نے تیارکی ہے اور ایسوسی ایشن کا تعلق ہندوستان میں کسی شہر سے نہیں ہے ان کے سالانہ جلسے میں ہم اہلسنت وجماعت شریك ہوسکتے ہیں یا نہیں اور ایسوسی ایشن کمیٹی کے ممبربھی ہوسکتے ہیں یانہیں ہمارے ائمہ دین شرح تفصیل کے ساتھ بیان فرماکر احقرکو مشرف فرمادیں۔
نوٹ: ہمارے یہاں خوجہ آغاخان یاخارجی یاسیدنا کوکہتے ہیں۔بینواتوجروا۔
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ۴ /۹۲،کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۲۹۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۲۴۸
#4423 · سیاسیات (ممبری،ووٹ،الیکشن اورتنظیم سازی وغیرہ)
الجواب:
خوجہ کو اسلامی جلسہ کارکن بناناحرام اورمخالفت شارع علیہ الصلوۃ والسلام ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
"یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾ ہانتم اولاء تحبونہم و لا یحبونکم وتؤمنون بالکتب کلہ و اذا لقوکم قالوا امنا٭ و اذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾" اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمہاری نقصان رسانی میں گئی نہ کریں گے وہ جی سے چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑو۔بیران کے مونہوں سے ظاہرہوچکا اور وہ جو ان کے سینوں میں دباہے اوربھی بڑاہے ہم نے تمہارے سامنے نشانیاں کھول دیں اگرتم میں عقل ہے ارے یہ جو تم ہو تم تو ان سے محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت نہیں کرتے حالانکہ پورے قرآن پرایمان لائے اور جب تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور جب اکیلے ہوتے ہیں توتم پرانگلیاں چباتے ہیں جلن سےاسے محبوب! تم ان سے فرمادو کہ مرجاؤ اپنی جلن میںبیشك اﷲ دلوں کی جانتاہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ جس نے بدمذہب کی توقیر کی بیشك اس نے دین اسلام ڈھادینے میں مدد دی۔
دوسری حدیث میں ہے:
من لقیہ بالبشر فقد استخف بما انزل علی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ جوکسی بدمذہب سے بکشادہ پیشانی ملابیشك اس نے حقیرسمجھااس چیز کوجو محمدصلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم پر اتاری گئی۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۱۹۔۱۱۸
شعب الایمان حدیث ۹۴۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ /۶۱
مسند الشہاب باب من اھان صاحب بدعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ /۳۱۹،فتاوٰی حدیثیہ کانت سبابۃ صلی علیہ اطول من الوسطٰی الخ الطبعۃ الجمالیہ مصر ص۲۰۴
#4424 · سیاسیات (ممبری،ووٹ،الیکشن اورتنظیم سازی وغیرہ)
فتاوی الحرمین میں یہ مضمون مفصل ہے جس پرعلمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق مہریں کیں سنی بھائیوں کوچاہئے کہ اپنے دین کی قدرکریں اوربدمذہب کو رکنیت سے فورا جداکردیں اﷲ فرماچکاکہ وہ تمہاری بھلائی کبھی نہ چاہیں گے جہاں تك بن پڑے نقصان ہی پہنچائیں گے قرآن وحدیث کے مقابل یہ جاہلانہ خیال نہ کریں کہ ۹۴ سنیوں میں ایك بدمذہبی کیا اثرکرے گی دیکھو چورانوے ۹۴ قطرے گلاب ہو اور ایك بوند پیشاب ڈال دو سب پیشاب ہوجائے گااہل مجلس ان احکام شرعیہ کا اتباع کریں اور مجلس کو خالص اہلسنت کی کرلیں اور اگر اپنی بیجاہٹ پرقائم رہیں توشرعی احکام سن چکے کہ وہ دین اسلام کے ڈھادینے پرمدد دیتے ہیں اورجوکچھ محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پراترا اس کی تحقیر کرتے ہیں تومسلمانوں پرلازم کہ انہیں اور ان کی مجلس کویك لخت چھوڑدیں " لیقترفوا ما ہم مقترفون ﴿۱۱۳﴾" (چاہئے کہ وہی کمائیں جوکچھ وہ کما رہے ہیں۔ت)کبھی اس میں شریك نہ ہوں۔
قال اﷲ تعالی " و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاف فرمایا:اگرتمہیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے توپھریاد آنے پرظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت)
اوراصلا اس کی مدد نہ کریں
قال اﷲ تعالی "ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو!)آپس میں گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایك دوسرے کی مدد نہ کیاکرو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۸۴: حافظ شمس الدین بیلپور محلہ درگاپرشاد ضلع پیلی بھیت ۲۵/صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سلطان المعظم سلطنت روم خلفۃ المسلمین ہیں یا نہیں موجودہ حالت میں مسلمانوں میں ان کی ہمدردی کرناچاہئے یانہیں اگراس وقت میں ہم کوئی ہمدردی نہ کریں توگنہگارتونہ ہوں گے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سلاطین اسلام نہ صرف سلاطین اسلام کہ ہرجماعت اسلام نہ صرف جماعت کہ ہرفرد اسلام کی
#4425 · سیاسیات (ممبری،ووٹ،الیکشن اورتنظیم سازی وغیرہ)
خیرخواہی ہرمسلمان پرلازم ہے لحدیث الدین النصح لکل ملسم (حدیث"دین ہرمسلمان کی خیرخواہی کانام ہے"کے مطابق۔ت)مگرہرفرض بقدرقدرت ہے اور ہرتکلیف بشرط استطاعت کمانطق بہ الکلام العزیز(جیسا کہ اس مسئلہ کوکلام عزیز نے بیان فرمایا۔ت)نامقدور بات پرابھارنا جوموجب ضررمسلمین ہوخیرخواہی مسلمین نہیں بدخواہی ہے مثلا دریامیں طوفان ہے کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں جوکنارے پرہیں اور تیرنانہیں جانتے انہیں مجبورکرناکہ ان کے بچانے کے لئے طوفان میں کود پڑو ان کابچانا نہیں بلکہ ان کاڈبونا ہے۔مشرکوں کی یہ کھلی چال ہے جس سے وہ مسلمانوں کوتباہ کرناچاہتے ہیں اورعقل کے اوندھے بصیرت کے اندھے انہیں اپناخیرخواہ سمجھ رہے ہیں حالانکہ قرآن کریم صاف فرماچکاہے کہ وہ تمہاری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مصیبت میں پڑودشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے او روہ جو ان کے دلوں میں دبی ہے اوربڑی ہے ہم نے عاقلوں کے لئے نشانیاں صاف بیان فرمادیں ۔مولی تعالی کے اتنے صاف ارشاد پربھی آنکھیں نہیں کھلتیں اوربدخواہوں کوخیرخواہ مانے ہوئے ہیںمولی عزوجل ہدایت دے۔آمین! واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
نوٹ
جلد۲۴سیاسیات کے عنوان پرختم ہوئی
جلد۲۵ان شاء اﷲ کتاب المدانیات سے شروع ہوگی۔
__________________________________
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب فول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۵
القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
#19696 · الحق المجتلٰی فی حکم المبتلٰی (بیماری کے شکار شخص کے حکم سے متعلق واضح وروشن حق)
نقل التورپشتی والطیبی والقاری والزرقانی والشیخ المحقق وغیرھم ان العدوی بزعم الطب فی سبع کما تقدم عن الشیخ ویستوی فی ذلك کونہا الکیفیۃ فیہ اوالخاصیۃ فان کلا الفصلین من مسائل الطب ولیس بھا انما یعتقدون ان العدوی انما تکون اذا کانت لابسبب یعقل والقائلون الاعداء ولانظرلھم الی انہ بالکیفیۃ اوبالخاصیۃ فمن قال بالاعداء ولولرائحۃ فقد قال بالعدوی۔والثامن ان النفی اعداء المرض من دون اذن اﷲ تعالی کمازعمہ اھل الجاھلیۃ اما الاعداء عادۃ باذن اﷲ تعالی فثابت ولذا امر بالفرار ونھی عن ایراد الممرض ولااعلمہ اعنی اثبات العدوی العادیۃ ثابتا عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم الامایفیدہ کلام الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالی فیما تقدم من انکار ابی ھریرۃ
باب میں کیامنافات اور تضاد ہے کیونکہ طب اس مرض میں تعدیہ کی قائل ہے جیسا کہ تورپشتیطیبیملاعلی قاریزرقانی اور شیخ محقق اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہاہے کہ اطبا کے خیال میں تعدیہ مرض سات قسم کی امراض میں ہوتاہے جیسا کہ شیخ کے حوالہ سے پہلے مذکورہوا۔تعدیہ مرض خواہ کسی کیفیت سے ہو یاکسی خاصیت سےاس میں دونوں برابر اور مساوی ہیں کیونکہ دونوں فصلیں طب کے مسائل میں سے ہیںاور یوں نہیں کہ عدوی بغیر کسی معقول سبب کے ہوجائے اس لئے کہ جولوگ تعدیہ امراض کے قائل ہیں وہ تعدیہ پراعتقاد رکھتے ہیں باوجودیکہ وہ اس پرنگاہ نہیں رکھتے کہ وہ کس کیفیت سے ہوا ہے یاکس خاصیت سےلہذا جو شخص تجاوزمرض کاقائل ہو خواہ بدبوہی کے سبب سے کیوں نہ ہو وہ درحقیقت تعدیہ مرض کا قائل ہے۔ آٹھویں وجہ تعدیہ مرض کی نفی اس صورت میں ہے کہ اسے اﷲ تعالی کے اذن اور ارادہ کے بغیرتسلیم کیاجائے جیسا کہ دورجاہلیت والوں کاخیال اور زعم تھالیکن اگر اﷲ تعالی کے اذن اور ارادہ سے عادتا ماناجائے(توپھر خلاف شریعت نہ ہونے کی وجہ سے)ثابت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سے بھاگنے کاحکم دیاگیا اور اس مرض کے مریض کو تندرست آدمی کے پاس جانے سے منع کیاگیاہے۔اور میں نہیں جانتا کہ عدوی عادیہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہ سے ثابت ہے۔ہاں مگر امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ کا گزشتہ کلام اس بات کو تقویت پہنچاتاہے کہ
Scroll to Top