Home Page

 

Random Quotes from Fatawa Razaviah of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمۃ اللہ علیہ

فسقِ عقیدہ ، فسقِ عمل سے سخت تر ہے

— Wrong belief is more severe than wrong action

Source: Fatawa Razaviah Volume 5

About Alahazrat Network

Alahazrat Network is a digital Islamic knowledge platform dedicated to presenting the scholarly legacy of Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi (رحمہ اللہ). Explore authentic Books, Articles and key extracts, on Aqeedah, Fiqh, and Tasawwuf.


اعلیٰ حضرت نیٹ ورک ایک علمی اسلامی پلیٹ فارم ہے جو امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ اور اہلِ سنت کے اکابر علماء کی علمی میراث کو محفوظ اور عام فہم انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہاں عقائد، فقہ اور تصوف سے متعلق مستند کتب، مضامین اور منتخب اقتباسات دستیاب ہیں۔

Read & Search Holy Quran Online

Explore with our advanced Ayah-based search engine. Featuring the authentic Kanzul Iman (Urdu/English) and Tafseer Khazain ul Irfan. Database format for effortless learning—jump to any Surah or Ayah with Translation On/Off toggles.

🔔 Recently Uploaded

Stay updated with the latest books and scholarly articles added to our network.

Browse New Uploads


Imām Aḥmad Riḍā Khān al-Ḥanafī (1856–1921) (Alahazrat) was a great Sunni scholar and jurist. His books preserve authentic Ahl-e-Sunnah beliefs and guide Muslims in Aqeedah, Fiqh, and spirituality. Read more: All Books • Download: Downloads.


کتبِ اعلیٰ حضرت۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اہلِ سنت کے عظیم امام، فقیہ اور مجدد تھے۔ آپ کی تصانیف عقائدِ اہلِ سنت کی حفاظت کرتی ہیں اور دین میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مکمل کتب: یہاں کلک کریں • ڈاؤن لوڈ: یہاں کلک کریں۔


فتاویٰ رضویہ امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان الحنفی القادری البریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ عظیم الشان فقہی و اعتقادی مجموعہ ہے جو فقہ حنفی کی علمی تاریخ میں ایک بے مثال حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مجموعہ اسلامی فقہ، عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، فتاویٰ رضویہ آج بھی علما، مفتیانِ کرام، طلبۂ علم اور عام مسلمانوں کے لیے ایک مستند مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صرف فتاویٰ کا مجموعہ نہیں بلکہ فقہِ اسلامی، عقیدۂ اہلِ سنت اور دین فہمی کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے، جو ہر دور میں رہنمائی فراہم کرتا رہے گا سیاست، جدید مسائل اور امت کو درپیش نت نئے سوالات پر اعلیٰ حضرت کے مدلل اور مستند فتاویٰ پر مشتمل ہے۔


Fatawa Razaviah is the monumental collection of juridical and theological verdicts authored by the great Imām of Ahl al-Sunnah, Imām Aḥmad Riḍā Khān al-Ḥanafī al-Qādirī al-Baraylawī (رحمة الله عليه). This extraordinary work occupies a unique position in the intellectual history of the Muslim world and the Indian subcontinent. Fatawa Razaviah is not merely a collection of legal opinions; it is a comprehensive intellectual legacy that continues to guide scholars, jurists, students, and the wider Muslim community. Its relevance, authority, and scholarly rigor make it an enduring reference for understanding Islamic law and Sunni theology across generations.

Fatawa Razaviah Volume 20 in Typed Format

#5253 · پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحیم

پیش لفظ
الحمدﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عہدحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظرعام پرلانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہواتھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکاہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ "العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ" کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ/مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا گیارہ سال کے مختصر عرصہ میں بیسویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الطہارت کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتاب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتاب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتاب الوکالہ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المضاربہ کتاب الامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتاب الاکراہ کتاب الحجر اور کتاب الغصب پرمشتمل انیس۱۹ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
#5254 · پیش لفظ
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
#5255 · پیش لفظ
بیسویں جلد:
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ہشتم مطبوعہ المجدد احمدرضا اکیڈمی کراچی کے صفحہ ۲۵۶ سے آخر تک ۳۳۴ سوالوں کے جوابات اور ۵۹۸ صفحات پرمشتمل ہے اس جلد میں شامل دو رسالوں "ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ" اور "الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلودالاضحیۃ" کا انتہائی نفیس وسلیس اردوترجمہ محقق جلیل بحرالعلوم حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کے قلم گوہر بارکا ثمرہے حضرت قبلہ مفتی صاحب اہل سنت وجماعت کے لئے عظیم سرمایہ اور اﷲ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ فتاوی رضویہ قدیم وجدید کی اشاعت کے سلسلہ میں آپ کی مساعی جمیلہ ناقابل فراموش ہیں۔ اس عظیم فتاوی کو سمجھنے کے لئے آپ کی نہایت عمدہ تقدیمات وتحریرات اور پرمغز تبصرے بہت حد تک مفید ومعاون ثابت ہوئے ہیں۔ اس عظیم الشان علمی وفقہی شاہکار کو منظرعام پرلانے میں آپ نے مجاہدانہ کردار اداکیا۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آپ کی شبانہ روز محنت درد مسلک اورانتھک کوششوں کے باعث فتاوی رضویہ کاخاصا حصہ ضائع ہونے سے بچ گیا لہذا مفتی صاحب تمام اہلسنت وجماعت کےمحسن اور شکریہ کے مستحق ہیں رضا فاؤنڈیشن کے تمام ارکان مفتی صاحب کے تحقیقی تبلیغی اور اشاعتی کارناموں پر انہیں دل کی گہرائیوں سے بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں مذکورہ بالا دونوں رسالوں کاترجمہ اگرچہ مکمل طور پر لفظی نہیں ہے تاہم منشاء مصنف علیہ الرحمہ کی کامل وضاحت کرتاہے جیسا کہ خود مترجم موصوف رقمطراز ہیں کہ "یہ نہ بالکل ترجمہ ہے نہ خلاصہ نہ شرح حسب ضرورت کہیں اختصار کہیں تفصیل اور کہیں مساوات سے کام لیاہے منشاء صرف یہ ہے کہ مصنف علیہ الرحمہ کے کلام کی پوری ترجمانی عام فہم انداز میں کر دی جائے جلد ہشتم قدیم میں مذکورہ بالا دو رسالوں کے علاوہ اس جلد کی باقی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ راقم الحروف نے کیاہے اس سے قبل گیارہویں بارہویں تیرہویں سولہویں سترہویں اٹھارہویں اور انیسویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الشفعۃ کتاب القسمۃ کتاب المزارعۃ کتاب الذبائح کتاب الصید کتاب الاضحیۃ اور باب العقیقہ کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ و کلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیربحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیار کردی گئی ہے انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تین رسالے بھی اس جلد کی زنیت ہیں:
#5256 · پیش لفظ
(۱) سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء (۱۳۱۲ھ)
تکبیر کہہ کر بزرگوں کے نام پر ذبح کئے جانے والے جانوروں کاحکم
(۲) ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
بھیڑ کی قربانی کے جائز ہونے کا اثبات
(۳) الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
چرمہائے قربانی کے مصارف کی تحقیق
یادرہے کہ رسالہ "انفس الفکر فی قربان البقر" اور اس کے متصل بعد ہندوستان میں گاؤکشی سے متعلق نومسائل جوکہ فتاوی رضویہ قدیم جلد ہشتم میں شامل تھے چونکہ کتاب السیر سے زیادہ مطابقت رکھتے تھے اس لئے وہ کتاب السیر پرمشتمل جلد چہاردہم جدید کاحصہ بن چکے ہیں اس لئے وہ اس جلد میں شامل نہیں ہیں۔
صفر المظفر۱۴۲۲ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
مئی ۲۰۰۱ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#5257 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بسم الله الرحمن الرحیم

کتاب الشفعۃ
(شفعہ کا بیان)

مسئلہ ۱: ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ میں کہ زید ہندو ایك قطعہ زمین کا مالك تھااپنے کارندے کی معرفت سب اہل محلہ پر ارادہ بیع کاا علان کرتا رہاکسی نےخواہش خریداری نہ کیبکر مسلمان نے جو بذریعہ فیصلہ ثالثی ایك قطعہ زمین ملحقہ قطعہ مذکورہ کا قبل بیع مالك ہوچکا تھااسے خریداا وریہ قطعہ بکر قطعہ خالد کا جز ء تھا کہ اب تقسیم ہوگئی ہے۔اور قطعہ خالد کہ وہ بھی مسلمان ہے قطعہ زید کی پشت پر واقع ہے۔مگر اس کی راہ قطعہ زید کی راہ سے بالکل جداہے اور قطعہ زید قطعہ بکر دونوں کے راہ ایك کوچہ سربستہ میں ہےتکمیل بیع سے چھ دن بعد خالد نے بکر مشتری سے کہایہ زمین میرے ہاتھ بیچ ڈال ورنہ میں بذریعہ شفعہ لے لوں گا۔بکر نے کہا میں خود شفیع تھامیرے سامنے تیرا شفعہ نہیں خالد ڈیڑھ مہینے تك خاموش رہا اور وپیہ پیش نہ کیابلکہ کہا تمھیں مبارك ہوبعدہ روپیہ پیش کیا اور آمادہ خریداری ہوااس صورت میں خالدشفیع ہے یانہیں اور اس کا حق شفعہ ساقط ہو ایا نہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
صور ت مستفسرہ میں خالد کو ہر گز استحقاق شفعہ نہیں۔
اولا: وہ جار ملاصق ہے۔اور بکر شریك فی حق المبیع۔ درمختارمیں ہے:
#7129 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
لو کان المشتری شریکا وللدار جارفلا شفعۃ للجار مع وجودہ اھ ملخصا۔ اگر مشتری مکان میں خود شریك ہو تو اس کی موجودگی میں پڑوسی کو اس مکان میں شفعہ کاحق نہیں ہے اھ ملخصا۔(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
لوکان الثالث جار افقط فلاشفعہ لہ لان المشتری خلیطفیقدم علی الجار ۔ اگر تیسرا آدمی صرف پڑوسی ہو تو اس کو شفعہ کاحق نہیں ہے کیونکہ مشتری خود شریك ہے لہذا وہ پڑسی پر مقدم ہے۔(ت)
ثانیا: اگر شفیع ہوتا بھی تو اس کا مشتری سے طالب بیع ہونا خود ہی اسقاط شفعہ کے لئے بس ہے۔ درمختارمیں ہے:
یبطلہا ان استاجرہا اوساومہا بیعا اواجارۃ ملتقی" او طلب منہ ان یولیہ عقد الشراء ۔ مبیع کو اجارہ پر مانگا۔یا اجارہ یا بیع کے طورپر بھاؤ لگایا تو اس کا حق شفعہ باطل ہوجائے گا۔ملتقی یا مشتری سے شراء کا متولی ہونا چاہا۔(ت)
منح الغفار میں ہے:
لان بالاقدام علی الشراء من المشتری اعرض عن الطلب وبہ تبطل الشفعۃ انتہی ۔
اقول: ومن ھھنا علم جہل بعض من یدعی عــــــہ العلم۔ حیث قال فی جواب ھذاالسوال معللا لا نعدام شفعۃ کیونکہ اس کا مشتری سے خریدنے کا اقدام شفعہ کے طلب سے اعراض ہے جبکہ اس اعراض سے شفعہ باطل ہوجاتاہے انتہی(ت)

عــــــہ:وھو امیرا حمد سہسوانی ۱۲۔
حوالہ / References & درمختار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ہی فیہ اولا €∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱۵€
العقود الدریۃ کتاب الشفعۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۸۱€
درمختار کتاب الشفعۃ باب یبطل الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱۵€
ردالمحتاربحوالہ منح الغفار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۵۲€
#7130 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
خالد ان خالدا اعرض عن الاشتراء من المشتری ھذہ المدۃ فلایفید عرض الثمن بعد ذلك اھ بالتعریبفانظرکیف جعل المسقط مثبتاو الاعراض عن المسقط مسقطا۔ومن جہلہ ایضا التعلیل بعدم طلب المواثبۃفانہ لاذکر لہ فی السوالفمن این لك انہ لم یواثب ومن جہلہ ایضا التعلیل الثالث بان قطعۃ بکر لما کانت جزء من قطعۃ خالد فالبکر شفیع بنفسہلان الرجل فی امثال الصورۃ یکون شفیعا بدون القبض فکیف والبکر قابضقال فی الہندیۃ ولوا شتری دار اولم یقبضہا حتی بیعت داراخری بجنبہافلہ الشفعۃ کذا فی محیط السرخسی فثبت انہ لا شفعۃ لخالد مع بکر اھ معربا۔اقول:کون قطعۃ بکر جزء من قطعۃ خالد ان جعلہ شفیعا فلقطعۃ خالد لا لقطعۃ زیدوانما الکلام فی قطعۃ زیدوایضا شفعۃ بکر مبتنیۃ علی کونہ شریکا لقطعۃ زید فی الطریق حقلو لم یکن ھناك خالد ولاارضہ لکان بکر شفیعا ایضافقد اخطاء من وجہیناھمال المبنی الحقیقی والبناء علی امراجنبی وایضا کیف ینفی ہوئے کہا کہ خالد نے اس مدت میں مشتری سے خریدنے سے اعراض کیا لہذا اس کے بعد خالد کا ثمن کی پیشکش کرنا مفید نہ ہوگا اھ عربی کے ساتھتو غور کرو اس نے کس طرح مسقط کو مثبت اور مسقط سے اعراض کو شفعہ کے لئے مسقط بنایااور اس کی یہ بھی جہالت ہے کہ حق شفعہ کے عدم مطالبہ کویہاں علت بنایا حالانکہ اس کا سوال میں کوئی ذکر نہیں ہے تو اے مدعی علم! تجھے کہاں سے معلوم ہوگیا کہ اس نے اس حق کا مطالبہ نہیں کیااور ایك جہالت یہ بھی ہے کہ اس نے تیسری علت یہ بنائی کہ بکر کا قطعہ زمین خالد کے قطعہ کا جز ہے تو یوں بکرخود شفیع ہوا کیونکہ اس جیسی صورت میں بغیر قبضہ کے آدمی شفیع ہوجاتاہے جبکہ بکر قابض ہےتو کیوں شفیع نہ ہو ہندیہ میں ہے اگر مکان خریدا اور ابھی قبضہ نہ کیا تھا کہ پڑوس میں ایك مکان فروخت ہوا تو اس خریدار کو شفعہ کا حق ہے۔ محیط میں یوں ہے۔تو ثابت کہ خالد کو شفعہ کا حق بکر کے مقابلہ میں نہیں ہے اھ اقول:(میں کہتاہوں)بکر کے قطعہ کا خالد کے قطعہ کا جز ہونا اگر شفعہ کو بنائے تو خالد کے قطعہ کے لئے بنائے نہ کہ بکر کے قطعہ کے لئےحالانکہ بات بکر کے قطعہ کے ہورہی ہےنیز یہ کہ بکر کو شفعہ کاحق زید کے قطعہ کے راستہ میں شریك ہونے پر مبنی ہے اور وہ برحق ہے خواہ وہاں خالد اور اس کی زمین نہ ہوبکر پھر بھی شفیع ہے تو اس نے دو طرح کی خطائیں کیںحقیقی مبنی کومہمل بنانا اور اجنبی چیز کو مبنی بنانانیز یہ صاحب اپنے(بیان کی

ھذا کون خالد شفیعالامکان ان یکونا شفیعین فان فزعت الی الترجیحفہو امرزائد علی ماذکرت و قد کان فیہ المغنیعلی انہ لا یتم الکلام الا بضم المقدمۃ القائلۃ ان حق الشفعۃ یثبت للمشتری ایضاوھی مقدمۃ غامضۃفذکر الواضح وترك الدقیق جہل فاضحاوعدول عن الطریق وبالجملۃ فمفاسد التکبر وادعاء التصدر اکثر من ان تحصر فانظر الی این صار حال العلم والرجل یدعی شمس العلماءویکتب ذلك مع اسمع نفسہمع مافیہ من البدع والطغیانوسلاطۃ اللسانوالطعنوالوقیعۃ فی جمیع علماء الزمانبل وکثیر ممن قبلہم من اھل السنۃ والعرفانفاﷲ المستعان و لاحول ولا قوۃ الاباﷲ العزیز الرحمن۔ روشنی میں)خالد کے شفعہ کی نفی کیسے کرسکتے ہیں جبکہ دونوں کاشفیع ہونا ممکن ہو۔اگر آپ کو ترجیح کی مجبوری ہے تو یہ آپ کے بیان کردہ سے زائد ہے حالانکہ اسمیں مستغنی کرنے والا امر موجود ہے۔علاوہ ازیں یہ کلام اس مقدمہ کے بغیر تام نہیں کہ مشتری کو بھی شفعہ کا حق ثابت ہوتاہے جس کو یہاں ضم کرنا ضروری تھا اور یہ مقدمہ قابل وضاحت تھاتو مقدمہ غامضاہ اور دقیق کو ترك کرنا اور واضح کو ذکر کرنا کھلی جہالت ہے۔یا طریقہ بیان سے انحراف ہے۔خلاصہ یہ کہ اپنے کوبڑا ظاہر کرنے اور تکبر کرنے میں بیشمار مفاسد ہیںآپ غور کرلیں کہ کہاں علم کایہ حال جبکہ دعوی کررہا ہے شمس العلماء ہونے کااورپھر خود اپنے نام کے ساتھ یہ لقب لکھتاہے حالانکہ اس میں بدعت اورتعلیزبان درازیطعن اور زمانہ کے تمام علماء کرام بلکہ بہت سے پہلے کے اہل سنت واہل عرفان پربڑائی کا دعوی ہے لاحول ولاقوۃ الا بالله العزیز الرحمن۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب السابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۰۰€
#7131 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
ثالثا: اس کاکھنا تمھیں مبارك ہو صریح دلیل رضا وتسلیم ہے۔اور شفعہ بعد تسلیم باطل۔
تنویر میں ہے۔یبطلھا تسلیمہا بعد البیع اھ ملخصا۔(بعد از بیع اسے تسلیم کرنا شفعہ کو باطل کردیتاہے اھ ملخصا۔ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲: مسئولہ مولوی سیدمحمد جان صاحب ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر پر اس کی زوجہ کا دین مہر بمقدار(بیس ہزارروپیہ عہ//)کے لازم ہے۔بکر نے ایك مکان خریدابعد خریداری کے وہ مکان اپنی زوجہ کے ہاتھ بعوض اس کے دین مہر کے بیع کرد یا بعوض دین مہرکے بعوض کیاتو اس صورت میں خالد کہ مکان مذکور کا شفیع ہے اس کا شفعہ پہنچتاہے یا
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعہ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۶ /۲۱۵€
#7132 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
نہیں اوراگر زوجہ کو بلاعوض ہبہ مجرد کردے تو شفعہ ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر بعوض مہر بیع کی یا ہبہ بالعوض کیایعنی یوں کہا یہ مکان میں نے بعوض تیرے مہر کے تجھے دیااور زوجہ نے قبول کیا تو شفعہ لازم ہے۔اگر چہ مکان قبضہ زوجہ میں نہ آیا ہو۔
لان الشفعۃ تعتمد زوال الملك عن المالك والملك فی البیع الصحیح یزول بمجرد العقد من دون توقف علی القبض والھبۃ بعوض بیع ابتداء وانتہاءکما فی الہدایۃ والدرالمختار وغیرھما من الاسفار۔ کیونکہ شفعہ کا مدار مالك سے ملکیت کے زوال پر ہے جبکہ صحیح بیع میں عقد بیع سے ہی ملکیت زائل ہوجاتی ہے۔مشتری کے قبضہ پر موقوف نہیں ہوتیاور ہبہ بالعوض ابتداء اور انتہاء بیع ہےجیسا کہ ہدایہ اوردرمختار وغیرہما کتب میں ہے۔(ت)
اور اگر ہبہ بشرط العوض کیا یعنی یوں کہا کہ یہ مکان میں نے تجھے ہبہ کیا بشرطیکہ تو مجھے مہر ہبہ کردےاور زوجہ نے مہر بخش دیتو شفعہ ثابت نہ ہوگاجب تك مکان قبضہ زوجہ میں نہ آجائےجب باذن شوہر زوجہ قبضہ کاملہ کرے گیاس وقت شفیع کا شفعہ ثابت ہوگا۔
لانہا ھبۃ ابتداء فلا یزول الملك الا بالقبضفاذا وجد القبض عادت بیعافتثبت الشفعۃ۔ کیونکہ یہ ابتداء ہبہ ہے لہذا ہبہ میں قبضہ کے بغیر واہب کی ملکیت زائل نہ ہوگیتو جب قبضہ پایا جائے گا تو ہبہ بیع بن جائے گا تو شفعہ ثابت ہوجائے گا۔(ت)
اور اگر ہبہ مجرد کیا تو اصلا شفعہ نہیں
فی الہدایۃ لا شفعۃ فی ھبۃ الا ان تکون بعوض مشروط لانہ بیع انتہاء ولا بد من القبض وان لا یکون الموھوب ولا عوضہ شائعا لانہ ھبۃ ابتداء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہدایہ میں ہے ہبہ میں شفعہ نہیں ہوتا مگر جب وہ عوض کے ساتھ مشروط ہوکیونکہ ایسی صورت میں وہ انتہاء بیع قرا ر پاتاہے تو قبضہ ضروری ہے۔اور موہوب اور اس کاعوض شائع نہ ہو کیونکہ یہ ابتداء ہبہ ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الہبہ باب مایصح رجوعہ ومالایصح ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۹۔۲۸۸€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
الہدایہ کتاب الشفعۃ باب ماتجب فیہ الشفعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۰۲€
#7133 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مسئلہ ۳: مسئولہ مولوی سید محمد جان صاحب ۲۳ ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے ایك قطعہ اراضی خریدااور واسطے ثبوت اپنے قبضہ کے ایك شاخ درخت واقع اراضی مشریہ کو قطع شروع کیااس وقت بکر کو اطلاع بیع لینے اراضی کی ہوئیبکر اسی وقت موقع پر زید کے پاس گیا اورکہا میں اس اراضی کا شفیع ہوں مجھ کو دے دوزید نے کہا تمھارا شفعہ دو وجہ سے جائز نہیںایك نظیرادوسرے میں خود شفیع ہوں۔پھر کچھ گفتگو نہ ہوئیبعد ایك مہینہ بارہ روز کے بکر نے زید سے کہا کہ روپیہ لے لوجس قیمت کویہ اراضی خریدی ہے اور اراضی مجھ کو دے دوزید نے روپیہ نہ لیا اور کہاکہ حق مواثبت جاتارہا اوربعد چند عرصہ کے زید نے وہ اراضی بذریعہ ہبہ مطلق منتقل کردی اور دستاویز مصدق پررجسٹری کردیوقت اطلاع ہبہ شفیع مدعی ہوا کہ مجھ کو اطلاع ہبہ کی نہ تھیاب جو مجھے اطلاع ہوئی تو میں اس انتقال کا بھی شفیع ہوںان صورتوں میں شفعہ بکر جائز ہے یانہیں اور یہ انتقال ہبہ قبل تصفیہ باہمی زید وبکر کے درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
شفیع اگر بفور استماع خبر طلب شفعہ کرکے مشتری یا مکان کے پاس جاکر طلب تقریر کرےاور اگر مبیع ہنوز قبضہ بائع میں ہو تو اس کے پاس طلب بھی کافی ہے۔اور اس طلب دوم میں بھی بشرط قدرت دیر نہ لگائی تو ان امور سے اس کا شفعہ مستقر ہوجاتاہے کہ بے صدور مبطل باطل نہ ہوگا۔درمختارمیں ہے:
یطلبہا لشفیع طلب المواثبۃ ثم یشہد علی البائع لوالعقار فی یدہ اوعلی المشتری وان لم یکن ذاید او عند العقاروھذا لابد منہحتی لو تمکن ولو بکتاب او رسولولم یشہد بطلت شفعتہوان لم یتمکن منہ لا تبطل اھ ملخصا۔ شفیع استقرار حق طلب کرکے پھر بائع کے پاس گواہ بنائے اگر پراپرٹی اس کے قبضہ میں ہو یا مشتری کے ہاں گواہ بنائے اگرچہ زمین اس کے قبضہ میں نہ ہویا فروخت شدہ زمین پر ایسا کرے۔اوریہ ضروری ہے حتی کہ اگر اس کویہ بذریعہ خط یا بذریعہ قاصد بھی ممکن ہو اور وہ ایسا نہ کر ے تو اس کا شفعہ باطل ہوجائے گا اور اگر اس کویہ قدرت نہ ہوئی تو باطل نہ ہوگا اھ ملخصا۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
الحق متی ثبت واستقر لایسقط اور حق جب ثابت ہوجائے اور استقرار ہوجائے
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱۲€
#7134 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الاباسقاطہ الخ۔ تو خود ساقط کئے بغیر ساقط نہ ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
تستقربالا شہاد ای بالطلب الثانیوھو طلب التقریر والمعنی اذا اشہد علیہا لاتبطل بعد ذلك بالسکوت الا ان یسقطہا بلسانہ اویعجز عن ایفاء الثمن فیبطل القاضی شفعتہ الخ۔ شفعہ کاگواہ بنانے یعنی دوسری طلب پر استقرار ہوجاتاہے یہ دوسری طلب برائے پختگی ہے اور معنی یہ ہواکہ جب شفعہ پر گواہ بنالیے تو اس کے بعد سکوت سے باطل نہ ہوگا ہاں اگر خود اپنی زبان سے ساقط کرے یا ثمن کی ادائیگی سے عاجز رہےتو قاضی اس کے شفعہ کو باطل قرار دے گا۔الخ(ت)
پس اگر تمام مدارج طلب ابتدائی وطلب ثانی کے بجالا یا تو بیشك اس کا حق مؤکد ہوگیااور مشتری کا خود شفیع ہونا اس کے حق کا مانع نہیںغایب یہ ہے کہ اگر دونوں مساوی درجہ کے شفیع ہے اور مشتری مزاحمت کرے تو مبیع دونوں میں نصف نصف ہوجائے۔
فی الدرالمختار لو کان المشتری شریکا وللدار شریك اخر فلہما الشفعۃ ۔ درمختارمیں ہے کہ اگر مشتری شریك ہو اورمبیع مکان میں کوئی اور شریك بھی ہو تو دونوں شریکوں کو شفعہ کا حق ہوگا۔(ت)
اور روپیہ بطور طلب شفعہ پیش کرنا کہ میں شفیع ہوں اپنا روپیہ لے۔اور شیئ مشفوع مجھے دے کچھ مضر نہیں۔
لانہ لایدل علی الرغبۃ عنہا بل فیہافی الدرالمختار الاصل ان الشفعۃ تبطل باظہار الرغبۃ عنہا لافیہا ۔ کیونکہ یہ اس سے اعراض پر دال نہیں ہے بلکہ اس میں دلچسپی کا اظہار ہے درمختار میں ہے قائدہ یہ ہے کہ اعراض کرنے سے شفعہ ساقط ہوتاہے اس دلچسپی سے ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
ہاں یوں روپیہ پیش کرنا کہ قیمت لے اور مکان میرے ہات بیچ ڈالالبتہ مسقط شفعہ ہے۔
فی الدرالمختار یبطلہا ان طلب منہ ان یولیہ عقد الشراء ۔ درمختارمیں ہے کہ شفیع اگر یہ مطالبہ کرے کہ مجھ سے شراء کرتو اس مطالبہ سے شفعہ کا باطل ہوجائے گا۔(ت)
حوالہ / References الہدایہ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۳۹۲€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۱۳۹€
درمختار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ھی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱€۵
درمختار کتاب الشفعۃ باب ما تثبت ھی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱€۵
درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱۵€
#7135 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اورہبہ مجردہیں اگرچہ شفعہ نہیںمگر مشتری بوجہ ہبہ خواہ کسی طریقہ اتنقال کے حق شفیع کو ساقط نہیں کرسکتا کہ اس کا دعوی شفعہ بربنائے بیع ہے۔جو مالك اول نے اس مشتری کے ہاتھ کینہ بربنائے اس ہبہ کے جو یہ مشتری دوسرے کے لئے کرتاہےایسی حالت میں شفیع کو اختیار ہوتاہے کہ مشتری کے تمام تصرفا ت کو ردکردے اور مبیع بذریعہ شفعہ لے لے۔
فی الدرالمختار ینقض الشفیع جمیع تصرفاتہ ای المشتری حتی الوقف والمسجد والمقبرۃ والھبۃ زیلعی وزاھدی ۔ (جواب نامکمل ملا) درمختار میں ہے کہ شفعہ حاصل کرلینے کے بعد شفیع مشتری کے تمام تصرفات ختم کردے گا حتی کہ وقفمسجدمقبرہ اورہبہ تك کو توڑ دے گازیلعی وزاہدی(ت)
مسئلہ ۴:۱۶ رجب ۱۳۰۷ھ از بدایوں مردہی ٹولہ شیخ حامد حسن صاحب مختار

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ مکان تعدادی(ما سہ للعہ ۹گرہ)جانب شمال مینڈھو عظیم الله کا تھا۔اس کےجانب جنوب رحمو کا مکان تعدادی(صہ للعہ ۵ گرہ)کااس سے جنوب کو نیاز احمد کا مکان تھارحمو کامکان مینڈھو ونیاز احمد نے خرید کیااورباہم تقسیم ہوگئی(لعہ للعہ ۷ گرہ)اراضی شمال مینڈھو کو ملیاس نے اپنے مکان شمال میں شامل کرلی اب مینڈھووعظیم الله کا مکان(ما سہ لعہ)علاوہ آبچك کے ہوگیااور(مہ لعہ ۱۴گرہ)جنوبی نیاز احمدکوملیاس نے اپنے مکان جنوبی میں ملا لی نیاز احمد اپنامکان جس میں اراضی مشتری یہ بھی شامل تھی بدست وزیرالدین بیع کردیاتخمینا دس برس ہوئےکہ وزیر الدین مشتری نے ہر چہار سمت سے بطور خود اپنا پختہ مکان تعمیرکرلیافرمائےکہ جب تقسیم ہوکر تین مکان سے دو مکان ہوگئےاو ردرمیان میں دیوار موجود ہے اور کوئی شرکت دیوار میں
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۲€
#7136 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بھی نہیںاور راستے دکانوں مکانوں کے جانب غرب شارح عام میں ہیں اور دونوں کی آبچکن جانب شرق اپنی اپنی جداگانہ زمین میں۔تو وزیر الدین مشتری مکان نیاز احمد کو نسبت(لعہ للعہ ۷ گرہ)اراضی مشتریہ مینڈھوں کیحق خلیط کا حاصل ہے یا شفیع جار کاوزیرالدین گمان کرتاہے کہ رحمو کا مکان میرے بائع نیاز احمد اور مینڈھو نے مشترکا خریدا تھالہذا مجھے حق خلیط حاصل ہےیہ گمان اس کا شرعا صحیح یا باطل ہے بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ نہ ایك مکان کی راہ دوسرے میں نہ دونوں کی کسی کوچہ سربستہ غیر نافذہ میںنہ ایك کو دوسرے سے آبچك کا تعلقتو بالاتفاق ان میں سے کسی کے مالك کو دوسرے سے علاقہ خلیط نہیںبلکہ ہر ایك دوسرے کا مجاز محض ہے۔درمختارمیں ہے:
للخلیط فی حق البیع ھوا لذی قاسم وبقیت لہ شرکۃ فی حق العقار کالشرب والطریق خاضین فلو عامین فلاشفعۃ بھما اھ ملخصا۔ تقسیم شدہ مبیع کے حقوق میں شرکت مثلا پانی اور راستہ خاص ہوں یاعام۔باقی ہوتو بھی خلیط کو اس شرکت کی وجہ سے شفعہ نہیں اھ ملخصا۔(ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے:
جارملاصق بابہ فی سکۃ اخریاویکون بابہ وباب ذلك الجار معا الی الطریق العام ۔ پڑوسی جس کادروازہ دوسری گلی میں ہو یا دونوں کا شار ع عام کی طر ف سے ملاہو۔(ت)
وزیر الدین کاخیال ہے میرابائع مینڈھو ایك زمین مشترك کےخلیط تھےجس کا ایك حصہ میرے بائع اور ایك مینڈھو کے مکان میں پڑالہذا میں اس کا خلیط ہوںمحض باطل ہے۔کہ جب تقسیمیں ہوگئیں حدیں پڑگئیںدیواریں کھنچ گئیراہیں پڑگئیںپھر خلط کہاںحضور پرنور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلاشفعۃ اخرجہ الامام البخاری ۔ جب حد بندی ہوجائے اور راستہ تبدیل ہوجائے تو اب شریك کو شفعہ کاحق نہیںاس کوبخاری
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱۱€
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الشفعۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۸€
صحیح البخاری بؤاب الشرکۃ فی الارضین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۹€
#7137 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
وغیرہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اور دیگر نے حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
اذا اقتسما الارض وخطا خطا فی وسطہا ثم اعلی کل منہما شیئا حتی بنیا حائطافکل منہما جارلصاحبہ فی الارض ۔ جب دو شریکوں نے زمین تقسیم کرلی اور درمیان میں خط کھینچ لیا پھر دونوں نے کچھ خرچہ کرکے دیوار بنادی تو دونوں ایك دوسرے کے پڑوسی قراراپائیں گے(ت)
غرض اگلے وقتوں کی شرکت پر اب دعوی حق خلط کرنا عجب دعوی ہے جس کا بطلان ہر ذی عقل پر ظاہر۔فضلا عن ذی فضل۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵: از بدایوں مردی ٹولہ شیخ حامد حسن وکیل ۱۶ رجب ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مینڈھو وعظیم الله کا مکان(ما صہ للعہ)گز کا ہے جس میں جانب شمال(ما مہ للعہ۹گرہ)ان کی موروثی اور(لعہ للعہ ۷ گرہ)جنوبی خاص مشتریہ مینڈھو ہے جو اسے بذریعہ شراء بعد تقسیم نیاز احمد ملی تھی مینڈھو عظیم الله نے منجملہ مکان تعدادی(ماصہ لعہ)گز کے===== گز کے زمین جانب شمال میں باستثنائے آبچك شرقی وعلمہ بدین تعینین کہ شرقا غربا(عہ عہ)گزرا اور جنوبا شمالا ہے گز بدست حامد حسن بیع کی(ما عہ عہ)گز منجملہ مکان باقی رہیاس بقیہ(ما عہ سہ)گز سے(لہ لعہ ۱۴ گرہ)گز اراضی شمالی تنہا مینڈھو نے بایں الفاظ بدست حامد حسن مذکور بیع کی کہ منجملہ(ما عہ سہ گز کے لعہ ۱۴ گرہ)گز میری اراضی بروئے تقسیم خانگی باہمی اراضی عظیم الله
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۶۶€
#7138 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
سے جانب شمال ہے۔لہذا باستثنائے آبچك بیع کی)اس(لہ لعہ ۱۴ گرہ)گز منجملہ اس(لعہ للعہ)گز کے بھی شامل ہے جو خاص مشریہ مینڈھو تھیاور یہ کل تعدادی(ما سہ لعہ)گز اس وقت تك بلا کسی حد فاصل کے ہےنقشے میں جہاں جہاں نقطے دئے گئے ہیں وہاں کوئی دیوار یا حد نشان نہیں صرف تعیین سمت و مقدار گز کے اسے ایك ذہنی امتیاز ہے۔یہم قطعہ زمین سے جسے آبچك کہا جاتاہے یہ بھی بلا کسی حد فصل کے مجموعہ مکان کا ایك غیر متمیز ٹکڑا ہے جسے بے پیمائش کے تعین نہیں کرسکتاغرض کل مکان قطعہ واحدہ ہے۔اس میں سے بقیہ(للعہ ۲ گرہ)گز جنوبی وکل آبچك و عملہ واقعہ مشریہ حامد حسن کو مینڈھوو عظیم الله نے بدست وزیر الادین ہمسایہ جنوبی بیع کیااس مکان او ر مکان وزید الدین مشتری کے بیچ میں ایك دیوار خاص مملوك وزیر الدین فاصل ہے۔دونوں مکان کی راہیں جانب غرب شارع عام میں ہیں۔اور دونوں کی آبچکیں اپنی اپنی خاص زمین میں جانب مشرق ہیںدونوں کاپانی اپنی خاص زمین میں ہوتاہوا شرق مکانات مختلفہ میں گزر جاتاہے۔فرمائیے کہ ایسی صورت میں اراضی مبیعہ حامدحسن کو حق شفیع خلیط ہے یانہیں اور شرعا اس استحقاق سے وہ کل زمین حامد حسن کو ملنا چاہئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وزیر الدین ا س مکان مینڈھو وغیرہ کا جارمحض ہے کہ نہ اسے کوئی شرکت نفس مبیع میںنہ حق مبیع میں اور تقریر ونقشہ سوال سے ظاہرکہ آبچك کی زمین بھیج باہم مشترك نہیںبلکہ دونوں آبچکیں ایسے مختلف مکانوں کے جداگانہ ٹکڑے ہیں جن میں ایك کا کوئی حق دوسرے سے متعلق نہیںصرف اتصال ہی اتصال ہے توجوار سے زیادہ اسے کوئی استحقاق نہیںنفی خلط کے لئے بیچ میں دیوارہی ہونا ضروری نہیں کہ اراضی آبچك میں جہاں دیوارنہیں شرکت وخلط مانیںبلکہ مجرد و تعیین وامتیاز کافی ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
اذا کان نہر علاہ لرجل واسفلہ لرجل فاشتری رجل نصیب صاحب اعلی النہر فطلب اسفل النہر الشفعۃ فالشفعۃ لہ بالجوار وکذلك لواشتری رجل نصیب اسفل النہر فالشفعۃ لصاحب الاعلی بالجوارکذا فی المبسوط اھ ملخصا۔ اگرایسی نہر ہو کہ اس کا اوپر والا حصہ ایك شخص کو اور نیچے والادوسرے کا ہو تو کسی آدمی نے اوپر والے کا حصہ خرید لیا تو نیچے والے کو شفعہ کے مطالبہ کاحق ہے اس کا یہ شفعہ پڑوسی والا ہوگااوریونہی اگر کسی نے نیچے والے کاحصہ خریدا ہو تو اوپر والے کا شفعہ ہو تو وہ شفعہ پڑوسی والاہوگا۔مبسوط میں یوں ہے اھ ملخصا(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷۱€
#7139 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اور حامدحسین خلیط فی حق المبیع ہےکہ مکان واحد کا ایك حصہ مشاع خرید نےسےمشتری شریك فی العین ہو جاتاہے۔یوں ہی اس میں سے ایك حصہ معین محدود بتعین سمت و مقدار خریدنے سے خلیط فی الحق ہوجاتاہے۔جب تك حدیں فاصل ہوکہ انقطاع تعلق نہ ہوجائے زیر قول درمختار:
ان باع رجل عقارا الا ذرا مثلا فی جانب حد الشفیع فلا شفعۃ لعدم الاتصال وکذا لاشفعۃ لو ووھب ھذ القدر للمشتری و قبضہ ۔ اگر کسی نے اپنی زمین فروخت کی مگر شفیع کی حد کی طرف ایك گز کو فروخت نہ کیا تو پڑوسی کو شفعہ کا حق نہ ہوگا کیونکہ اس کی حد سے اتصال نہ پایا گیااور یوں ہی اگر اس نے اتنا حصہ مشتری کو ہبہ کردیا اور قبضہ دے دیا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الظاھر ان المرد وھبۃ بعد بیع ماعداہذا القدر بقرینۃ قولہ للمشتری ومثلہ مالو باعہ لہ لانہ صار شریکا فی الحقوقفلاشفۃ للجار اھ یعنی مثل الھبۃ فی عدم الشفعۃ مالو باع البائع ھذا الزراع الباقی فی البیع الاول المشتری القطعۃ الاولیلانہ بشرائہ القطعۃ الاولی صار شریاکا فی حقوق القطعۃ الثانیۃوھی الذراع المبیع ثانیافجار الداروان کان لہ حق الجوار فی ھذا الذراعلوجود الاتصال لکن لاشفعۃ لہ لان المشتری خلیط فی الحقوق فلا شفعۃ معہ للجار المحض۔ ظاہر یہ ہے کہ اس کی مراد بیع کے بعد مشتری کوہبہ کرناہے اس پر قرینہ للمشتری کا لفظ ہے اوریونہ اگر وہ اتنا حصہ اس نے بعد میں مشتری کو فروخت کردیا ہوکیونکہ وہ مشتری اب حقوق میں شریك ہوچکا ہے اس لئے اب پڑوسی کو شفعہ کا حق نہ ہوگا اھ یعنی شفعہ نہ ہونے میں وہ صورت کہ بائع نے پہلی بیع میں سے باقیماندہ گز کو پہلے مشتری کے پاس فروخت کیا تو ہبہ کی طرح پڑوسی کا شفعہ نہ ہوگا کیونکہ وہ مشتری پہلے قطعہ کو خریدنے کی بناء پر دوسرے باقیماندہ حصہ کے حق میں شریك ہوگیا تو اگر چہ جگہ کے پڑوسی کو پڑوس کی وجہ سے اس باقیماندہ میں اتصال ہے لیکن اس کا شفعہ نہیں کیونکہ مشتری حقوق میں شریك بن گیا لہذا اس کے مقابلہ میں محض پڑوسی کو حق شفعہ نہ رہا۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۱۶€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۵۴€
#7140 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اسی میں ہے:
مشتری الذراع صارشریکا فی الحقوق فیقدم علی الجار کما قدمناہ ۔ باقیماندہ گزمیں مشتری حقوق کا شریك ہوگیا لہذا وہ پڑوسی پر مقدم ہوگاجیسا کہ پہلے گزرا۔(ت)
پس حامد حسن نے جس وقت پہلا قطعہ ===== گزبتعیین سمت ومقدار خریداباقی تمام زمین مملوکہ مینڈھو وعظیم الله میں خلیط فی الحق ہوگیااسی طرح دوسرے بار کی خریداری نے اس کا بھی استحقاق قائم رکھااور جبکہ وہ مکان مع آبچك وغیرہ بتمامہ قطعہ واحدہ ہےتو اس کے مجموع سے حق حامد حسن متعلق ہواجس سے کسی جز کو مستثنی ماننےکی کوئی وجہ نہیں کما لا یخفی علی احد(جیسا کہ کسی پرمخفی نہیں ہے۔ت)اور خلیط فی الحق جار محض پر شرعا مقدم کہ جار خریدے تو یہ بذریعہ شفعہ اس سے سب پرواپس لے سکتاہے۔کما فی الکتب قاطبۃ(جیسا کہ معتبر کتب میں ہے۔ت)عالمگیری میں ہے:
یراعی فیہا الترتیب فیقدم الشریك علی الخلیط والخلیط علی الجار ۔ اس میں ترتیب کی رعایت ہوگی تو شیریك مقدم ہوگا خلیط پراور خلیط مقدم ہے پڑوسی پر۔(ت)
پس ثابت ہوا کہ جس قدر زمین آبچك وغیرہ آبچك بدست وزیر الدین جار محض بیع کی گئی تمام وکمال حامد حسن شفیع خلیط فی حق المبیع کو بذریعہ شفعہ ملنی چاہئےاگر وہ شرائط طلب کما ینبغی بجالایا ہواور عملہ اگر چہ جب اپنی زمین سے بیچا جائے محل شفعہ نہیںشرح المجمع علامہ ابن ملك میں ہے:
وبیع النخل وحدہ اوالبناء وحدہ فلا شفعۃ لانہما الاقرار لہما بدون العرصۃ ۔ کھجور کے درخت کی علیحدہ یا عمارت کی علیحدہ بیع میں شفعہ نہیں کیونکہ زمین کے بغیر ان کو قرار حاصل نہیں ہے۔(ت)
مگر اس کابیع میں داخل ہونا زمین میں استحقاق شفعہ کا مانع نہیںردالمحتارمیں ہے:
الصفقۃ وان اتحدت فقد اشتملت علی مافیہ الشفعۃ وعلی مالیست فیہ سودا ایك ہواور وہ ایسے حصوں پرمشتمل ہو کہ بعض شفعہ ہو سکتاہے اوردوسرے بعض میں نہیں ہوسکتا تو شفعہ والے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشفعہ باب مایبطلہا دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعہ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۶۔۱۶۵€
ردالمحتاربحوالہ شرح المجمع کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۳۸€
#7141 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
فیحکم بہا فیما تثبت فیہ اداء لحق العبد کذا فی درر البحار وشرح المجمع اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ میں بندے کا حق ہونے کی وجہ سے پورے سودے پر شفعہ کا حکم ہوگاکہ بندے کاحق ادا ہوسکےجیسا کہ درالبحاراور شرح المجمع میں ہے اھوالله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶: از بدایوں شیخ حامد حسن صاحب وکیل ۹ رمضان المبارك ۱۳۰۷ھ
بدایوں سے دوبارہ یہ سوال بعبارات طوال آیا جس کا خلاصہ یہ کہ کل مکان ۲۰۲ گز کا ظاہر کیا گیا ہے اوربیع اول بدست حامد حسن مین سے ======== گز نکل کر(ما عہ عہ)گز باقی تھااس میں سے منجملہ(ماعہ عہ)گز کے(لہ لعہ ۱۴ گرہ)گز شمالی کہ بروئے تقسیم خانگی حق مینڈھو ٹھہریمینڈھو نے بایں حدودمعینہ بدست حامد حسن بیع کی اراضی آبچك زمین مبیعہ مملوکہ مقروبردار مقروبعد مکان سعد الله وغیرہ۔
غربی جنوبی شمالی
راستہ اراضی عظیم الله اراضی مشریہ حامد حسن
پھر باقی بدست وزیر الدین بیع ہوئیاس مکان اور مکان وزیر الدین کا پانی اپنی اپنی خاص آبچکوں میں ہوکر شرقی مکانوں کے صحن مملوکہ سعد الله وغیرہ میں ملتاہے۔اور وہاں یہ دونوں پانی اور ان مکانوں کے پانی سب ایك ہوکر اسی صحن مملوك کے دروازے سے نکل کر راہ میں گزر جاتے ہیںاس صور ت میں وزیر الدین کو دعوی شرکت فی حقوق المبیع ہے۔اورحامد حسن شفیع کو بدیں وجہ کہ کوئی تمیز خارجی نہیں دعوی شرکت فی نفس المبیع ہےپس شرعا کیاحکم ہے۔اور عملہ کہ اس مبیع بارسوم پر قائم اور بیع میں داخل ہےشفعہ میں داخل رہے گایانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حامدحسن کو حق شفع حاصل ہے۔اور وزیر الدین کو اس کے مقابل کوئی استحقاق مزاحمت نہیں کہ اگر چہ زمین کا محمدود بحدود معینہ ہونا ہی اس کے امتیاز وابطال شیوع کےلئے بس ہے۔جس قطعہ کا آغاز وانجام جدا بتاسکیں وہ مشاع کب ہوامگر از انجا کہ ہنوز مکان میں حدیں فاصل نہ پڑیںدیواریں نہ کھنچیںراہیں نہ پھریںصرف ذہنی امتیازات ہیںتو حامد حسن کو بیع میں ایك اعلی درجہ کا حق خلیط فی حقوق المبیع حاصل ہے۔اوریہ استحقاق اس کے لئے اسی وقت سے ثابت ومسلم تھا جب سے اس نے == گز کا پہلا قطعہ خریداردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتا ب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۷€
#7142 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مشتری الذراع صار شریکا فی الحقوق فیقدم علی الجارکما قدمناہ ۔ باقیماندہ گز کو خریدنے والا مشتری حقوق میں شریك بن گیا ہے تو وہ پڑوسی پر مقدم ہوگا۔جیسا کہ پہلے ہم نے ذکر کیا۔(ت)
او رمکان وزیر الدین کو اس مبیع کے سیل آب سے جو علاقہ ہے اگر روایت تاتارخانیہ پر نظر کیجئے تو اصلا قابل التفات نہیں۔اس میں صاف تصریح ہے کہ ایك مکان کا پانی خود اس دار مبیعہ میں بہتا ہو جب بھی یہ شرکت فی الحقوق نہ ٹھہریگی اور صرف جوار محض قرارپائے گاعالمگیریہ میں ہے:
لرجل مسیل ماء فی داربیعت کانت لہ الشفعۃ بالجوار لابالشرکۃ ولیس المسیل کالشرب کذا فی التتارخانیۃ ۔ فروخت ہونے والی حویلی میں سے دوسرے شخص کا پانی بہتا ہے تو ا س پانی والے کو حویلی میں پڑوسی ہونے کی وجہ سے شفعہ کا حق شریك والا شفعہ نہ ہوگا اور پانی کا بھناسیرابی کا حکم نہیں رکھتا۔یوں تاتارخانیہ میں ہے۔(ت)
اوراگر روایت محیط وذخیرہ پر عمل کیجئے تو حامد حسن کہ شریك فی الطریق ہے۔وزیر الدین سےجو صرف میل آب میں ایك علاقہ رکھتا ہے قطعامقدم ہے کہ اس کے ہوتے اسے کوئی استحقاق نہیں مزاحمت نہیںعالمگیری میں ہے:
صاحب الطریق الوی بالشفعۃ من صاحب مسیل الماء کذا فی المحیط ۔ راستے والا شفعہ میں پانی کے بہاؤوالے سے اولی ہےیوں محیط میں ہے۔(ت)
ردالمحتار حاشیہ درمختارمیں ہے:
قال فی الدرالمنتقی ونقل البرجندی ان الطریق اقوی من المسیل فراجعہ انتہی ۔ قلت نقلہ عن الذخیرۃ کما رأیتہ فیہ۔ الدرالمنتقی میں فرمایا جس کو برجندی نے نقل کیا کہ راستہ کاحق پانی کے بہاؤ سے اقوی ہے۔تو اس کی طرف مراجعت چاہئےمیں کہتاہوں کہ انھوں نے اس کوذخیرہ سے نقل کیا ہے جیسا کہ میں نے اس میں دیکھا ہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷€۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۶۷€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۴۰€
#7143 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بہر حال حامد حسن اس تمام زمین مبیع کو مع اس کے جو اس مبیع پر قائم اورا س بیع میں داخل ہے بذریعہ شفعہ لے سکتاہے عملہ جب اپنی زمین کے ساتھ بیع میں آئے تو بالتبع وہ بھی محل شفعہ ہوجاتاہے۔ردالمحتارمیں ہے:
خرج البناء والاشجار فلا شفعۃ فیہا الا بتبعیۃ العقار وان بیع بحق القراردرمنتقی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ عمارت اور درخت خارج ہوگئے تو ان میں شفعہ نہ ہوگا بغیر زمین کے تابع بنےاگرچہ قرار وبقاء کی شرط پر فروخت کئے ہوں درمنتقیوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷: ۳ شوال ۱۳۱۰ھ
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس صورت میں کہ ملوخاں نے ایك قلعہ حویلی معہ اراضی جس کے شمال میں ملحق حویلی محمد خاںجنوب میں ملحق رفیع الدین کی ہے۔کلن خاں اور علی حسن خان شخص غیر کے ہاتھ بیع کردیاور اس کی خبر پاکر محمد خان ورفیع الدین ہمسایہ بائع مستدعی شفعہ ہوئےچنانچہ کلن خاں وعلی حسن خان مشتری حال نے حسب دعوی شفعہ محمد خاں کے نام بیعنامہ لکھ دیارفیع الدین نے نالش شفعہ کی ہے۔پس رفیع الدین مدعی بذریعہ شفعہ بمقابلہ محمد خاں مشتری شفعہ کے کامیابی شرعا حاصل ہوسکتاہےیادونوں شفیعوں کو قطعہ مشفوعہ تقسیم ہوسکتاہے تو کس مقدار سے یعنی مساوی یا کم وبیش بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں رفیع الدین کل مکان مشفوع بذریعہ شفعہ محمدخاں سے پائے گا کہ محمد خاں کا اس کو مشتری اول سے خریدنا اس کے ملك کو تسلیم کرنا ہے اور اس کی ملك تسلیم کرنا بیع اول کے تسلیم شفعہ سے اعراضاورشفعہ سے اعراض حق شفعہ کا مسقطتو محمد خاں اس مکان کا شفیع نہ رہا اور رفیع الدین کا استحقاق باقیلہذا وہ کل مکان محمدخان سے لے سکتاہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:
لوکان الشفیع الحاضر اشتری الدار من المشتری ثم حضر الغائب فان شاء اخذ کل الدار بالبیع الاول ایك حاضر شفیع نے مشتری سے مکان خریدلیاپھر دوسرا شفیع جو غائب تھا حاضر ہوگیا تو اس کو اختیار ہے چاہے تو پورا مکان پہلے سودے پر
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۳۸€
#7144 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
وان شاء اخذ کلہا بالبیع الثانی اورچاہےدوسرے سودے پر پور امکان شفعہ کے ذریعہ حاصل کرلے۔(ت)
اسی میں ہے:
قدبطل حق الشفیع الحاضر بالشراءلکون الشراء دلیل الاعراض ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ حاضر شفیع نے اپنا حق شفعہ خریداری کی وجہ سے باطل کرلیاکیونکہ خریدنا شفعہ سے اعراض کی دلیل ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۸ تا ۱۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:بینوا توجروا
(۱)بعد علم بیع قبل قبضہ کرنے مشتری کے شیئ مبیع پر دعوی شفعہ ہوسکتاہے یانہیں
(۲)ایك شخص کے احاطہ واحد ہ میں چند منازل ہیں جن کا دروازہ ایك ہی ہے اور حدودا ربعہ اس کی ایك ہی ہیںاس احاطہ کے ایك طرف زید کا مکان ملحق ہے۔اب یہ کل مکان بیع کیاجائےتو آیا اس صورت میں زید اس قطعہ کو بذریعہ شفعہ لے سکتاہےجو اس کے مکان سے متصل ہے یا کل مکان کو۔
(۳)جس محلہ میں رواج شفعہ نہ ہو وہاں شرعا دعوی شفعہ ہوسکتاہے یا نہیں
(۴)اگر قبل بیع ہمسایہ خریداری سے انکار کرے۔پھر بعد بیع دعوی شفعہ کرے تو مسموع ہوگا یا نہیں
(۵)اگر شفیع مشتری کی طرف سے وکیل خریدنے کا ہو تو اس کا شفعہ قائم رہے گایا نہیں
الجواب:
(۱)شفعہ بمجرد بیع ثابت ہوتاہے۔قبضہ مشتری کی حاجت نہیں۔ہدایہ میں ہے:
یشہد علی البائع ان کان المبیع فی یدہ معناہ لم یسلم الی المشتری ۔ اگر مبیع زیرقبضہ بائع ہو تو وہاں گواہی قائم کرے اس کا معنی یہ ہے کہ ابھی مشتری کو نہ سونپا ہو۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷€۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۸€
الہدایۃ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ الخ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۳۹۱€
#7145 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
درمختارمیں ہے:
ثم یشہد علی البائع لو العقار فی یدہ اوعلی المشتری وان لم یکن ذاید باختصارواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اگر زمین بائع کے قبضہ میں ہو تو وہاں گواہی قائم کرے یا مشتری کے پاس گواہ بنائے اگر چہ زمین اس کے قبضہ میں نہ ہو باختصاروالله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
(۲)کل کو کہ جب احاطہ واحددروازہ واحد ہے تو وہ دار واحد ہے۔ہدایہ میں ہے:
الداراسم لما ادیر علیہ الحدود ۔ جس دائرہ پر حدود قائم کی گئی ہیں اس کو دار کہتے ہیں۔(ت)
اورواحد کے کسی ٹکڑے سے جسے اتصال ہو وہ کل دار کا شفیع ہےحتی کہ اگر ایك شخص صرف ایك جانب بقد ایك بالشت کے اتصال رکھتاہو اور دوسرا تینوں جانب بروجہ کمال تو دونوں شفعہ میں برابر ہیں۔ ردالمحتارمیں ہے:
الملاصق من جانب واحد ولو بشبر کالملاصق من ثلثۃ جوانبفہما سواء اتقانی ۔ ایك جانب سے اتصال اگر چہ ایك بالشت ہو تو وہ باقی تین اطراف والے سے اتصال کے برابر ہے اتقانی(ت)
یہاں تك کہ اگر دارواحد اپنے جمیع منازل کے ساتھ شخص واحد کے ہاتھ بیچےاور شفیع چاہےکہ بذریعہ شفعہ ان میں سے صرف وہ منزل لے جس سے اس کا مکان متصل ہے۔تو ہر گز اجازت نہ دیں گےاگرچہ بیچنے والے جدا جدا ہوں بلکہ کل لے یا کل ترك کرے۔عالمگیری میں ہے:
ان اراد الشفیع ان یاخذ بعض المشتری دون البعض وان یاخذ الجانب الذی یلی الدرار دون الباقی لیس لہ ذلك بلا خلاف بین اصحابناولکن یاخذ الکل اویدع ایك غیر ممتاز مبیع میں سے شفیع بعض حصہ کو لینا چاہے اور کچھ چھوڑنا چاہے اور اپنے دار سے متصل حصہ کو شفعہ میں لینا اور باقی کو چھوڑنا چاہے تو اس کو یہ اختیار نہیںاس میں ہمارے اصحاب کا کوئی اختلاف نہیںلیکن وہ سب کو لے یا سب کو
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱€۲
الہدایۃ کتاب البیوع باب الحقوق ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۸۸€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۴۰€
#7146 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
لانہ لواخذ البعض دون البعض تفرقت الصفقہ علی المشتری سواء اشتری واحد من واحد او واحد من اثنین اواکثر حتی لوارادالشفیع ان یاخذ نصیب احد البائعین لیس لہ ذلك الخ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ چھوڑے کیونکہ اگر بعض کو لے اور بعض کو نہ لے تو اس سے مشتری پر سودا متفرق ہوجائے گا خواہ ایك مشتری نے ایك بائع متفرق ہوجائے گا خواہ ایك مشتری نے ایك بائع سے ایك نے متعدد حصہ داروں سے خریدا ہو حتی کہ اگر دو فروخت کرنے والوں میں سے ایك کے حصہ کولینا چاہے تو شفیع کویہ اختیار نہیں ہے الخوالله تعالی اعلم۔(ت)
(۳)بیشك ہوسکتاہے اگر چہ شہر بھر میں رواج نہ ہو کہ شفعہ حکم شرعی ہے۔رواج وغیرہ پر مبنی نہیں وھذا ظاہر جدا(یہ بالکل ظاہر ہے۔ت)والله اعلم۔
(۴)ضرور مسموع ہوگاحق شفعہ بعد بیع ثابت ہوتاہے۔تو قبل از انکار کوئی چیز نہیں۔درمختارمیں ہے:
یبطلہا تسلیمہا بعد البیع لاقبلہ ۔ بیع کے بعد شفعہ کو چھوڑنا اس کو باطل کرتاہے بیع سے پہلے باطل نہیں کرتا۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
تسلیم الشفعۃ قبل البیع لایصح وبعدہ صحیح ۔واﷲ تعالی اعلم۔(۵)نعم فی الدرالمختار تثبت لمن شری اصالۃ اووکالۃ ۔ بیع سے قبل شفعہ کو چھوڑنا صحیح نہیںاس کے بعد صحیح ہے۔ والله تعالی اعلم۔(ت)ہاں درمختارمیں ہے اصالۃ یا وکالۃ جو خریدے اس میں شفعہ ثابت ہوگا۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
وکیل المشتری اذا اتباع فلہ الشفعۃ واﷲ تعالی اعلم۔ مشتری کا وکیل اگر خریدے تو اس کو حق شفعہ ہوگا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷€۵
درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱€۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸€۲
درمختار کتاب الشفعۃ ماثبت ھی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۵€
الہدایۃ کتاب الشفعۃ باب مایبطل بہ الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۴/ ۴۰۵€
#7147 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مسئلہ ۱۳: از اوجین محلہ مرزاباڑی مرسلہ میاں آفتاب حسین ۲۲ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ عمرو اپنا مکان فروخت کرتاہے زید ہمسایہ عمرو خریداری پر مستعد ہے مگر مالك مکان غیر ہمسایہ کو مکان دیتاہے۔پس حق شفعہ خرید کر مکان میں اول میں درجہ ہمسایہ کو پہنچا ہے یاغیر کو
الجواب:
شفیع کے لئے حق شفعہ بعد بیع ثابت ہوتاہے۔مکان جب تك بیع نہ ہو شفیع مزاحمت نہیں کرسکتاہاں جب مالك غیر ہمسایہ کے ہاتھ بیچ ڈالے اس کے بعد ہمسایہ کے لئے بذریعہ شفعہ حق مطالبہ ہے اگر شرائط طلب بجا لاکر دعوی کرے گامکان خریدار سے کراسے دلا دیا جائے گا۔تنویر الابصارمیں ہے:تجب بعدالبیع (شفعہ بیع کے بعد لازم ہوتاہے۔ت)درمختارمیں ہے:
اسقط الشفیع الشفعۃ قبل الشراء لم یصح لفقد شرطہوھو البیع انتہی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خریداری سے قبل اگرشفیع نے شفعہ ساقط کیا تو صحیح نہیں کیونکہ شفعہ کی شرط جو کہ بیع ہے نہ پائی گئی انتھی والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴: سیگرام پورتحصیل بسولی ضلع بدایوں مرسلہ شیخ برکت الله زمیندار ۱۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا شتکار ہےاس کو زمیندار نے زمین اپنی سکونت کے واسطے دی جس میں اس نے چوپال اور مکان بنایااور اس کاشتکار نے کھیت میں باغ لگایا اب یہ مکان چوپال اس نے فروخت بدست زمیندار کیاایسی حالت میں اس بائع کے شرکاء شفیع ہوسکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ کاشتکار صرف عملہ مکان ودرختان مالك ہے۔زمین اس کی ملك نہیں تو مجرد عملہ ودرخت میں کسی کے لئے شفعہ نہیں۔
فی ردالمحتار فی البزازیۃ لاشفعۃ فی الکردار لانہ نقلی کالبناءوالاشجار ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہےچوپال میں شفعہ نہیں کیونکہ وہ منقول چیزہے جس طرح عمارت
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتا ب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۱€
درمختار شرح تنویر الابصار کتا ب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۱€
#7148 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
ونحوہ فی النہایۃ والذخیرۃ والتتارخانیۃ عن السراجیۃ اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور درختوں وغیرہ میں نہیں ہے۔نہایہتاتارخانیہ اورذخیریہ میں سراجیہ سے منقول ہے۔اھ ملخصا۔والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر سے(مامہ عہ)روپیہ قرض لئے اور تین مکان رہن کردئے جبکہ مدت گزری ار روپیہ ادا نہ ہوابکر نے نالش کرکے مع سود وخرچہ(مالہ لعہ لعہ)کے ڈگری پائیاس میں تینوں مکان جن کی قیمت کی حیثیت قریب پانسو روپیہ کے تھیچھیاسٹھ روپیہ میں نیلام ہوگئےنیلام کارندہ بکر نے خریدا اور بعدہاپنے آقا کے لئے خریدا ظاہر کرکے بنام بکر لکھ دیابکر نے ان مکانات پر قبضہ نہ کیازیدچھ سات برس تك بدستور قابض رہااس سے قبل از نیلام خواہ اس کے بعد کبھی کوئی بات ایسی صادرنہ ہوئی جو اس نیلام کے اجازت یارضامندی پر دلیل ہویہاں تك کہ دونوں انتقال کرگئےاور بعد زید وارثان زید قابض ہوئےاب ورثائے بکر نے نالش کرکے ڈگری دخلیابی حاصل کیاور ہنوز دخل نہ ہوا تھا کہ ڈگری بدست خالد بیع کردیاس خالد کو بھی دخل نہیں ملا ہے۔اس صورت میں عمرو حویلی مذکور کا شفیع مدت دخل یابی خالد شفعہ طلب کرسکتاہے یانہیںاور اگر خالد اپنی ڈگری ضائع کردے اورحق دخلیابی سے بعوض یا بلاعوض دستبردار ہوتو شفیع کے حق شفعہ کی کیا حالت ہوگی بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مستفسرہ میں ان مکانات پر ہر گز کسی طرح دعوی شفعہ نہیں پہنچتا کہ شفعہ کے لئے مکان کا ملك مالك سے خارج ہونا ضروری ہے۔
فی ردالمحتار فی الفتاوی الصغری الشفعۃ تعتمد زوال الملك عن البائع الخ۔ ردالمحتار میں فتاوی صغری سے منقول ہے۔شفعہ کامدار بائع کی ملکیت کا زوال ہے۔الخ(ت)
اوریہاں وہ مکانات شرعا ملك زید سے خارج نہ ہوئےیہ بیع نیلام جو بلااجازت واقع ہوئی غیر مالك کی بیع تھی جسے شرع میں بیع فضولی کہتے ہیںاور وہ اجازت مالك پر موقوف رہتی ہے۔
فی فتاوی الامام قاضی خاں اذا باع الرجل امام قاضی خاں کے فتاوی میں ہے جب بائع نے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۳۸€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۳۸€
#7149 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالك ۔ غیر کا مال فروخت کیا تو ہمارے نزدیك یہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی۔(ت)
اب کہ زید خود ہی ان مکانات پر قابض رہاپھر وہ بالااجازت انتقال کرگیا بیع باطل ہوگئییہاں تك کہ وارثان زیدکو بھی اجازت کااختیار نہیں۔
فی الہندیۃ اذا مات المالك لاینفذ باجازۃ الوارث ۔ ہندیہ میں ہے کہ جب مالك فوت ہوجائے تو وارث کی اجازت سے بیع نافذ ہوگی۔(ت)
درحقیقت نہ بکر ان مکانوں کا مالك ہے نہ اس کے ورثہ نہ خالد خریدار پر ڈگریبلکہ وہ سب متروکہ زید ہیںاور ورثائے بکر کو صرف اپنی مقدار قرض کے مطالبہ پہنچتاہے وبساور دعوی شفعہ فقط عقد مبادلہ میں ہے نہ انتقال بوراثت میں
فی العالمگیریۃ لا تجب الشفعۃ مالیس ببیع ولا بمعنی البیع حتی لا تجب بالھبۃ والصلۃ والمیراث و الوصیۃ ۔ عالمگیری میں ہےجب تك بیع یا معنی بیع نہ پایا جائے تو شفعہ لازم نہ ہوگا۔حتی کہ ہبہصلہمیراث اور وصیت میں لازم نہ ہوگا۔(ت)
پس عمرو کو زنہار استحقاق شفعہ حاصل نہیںشرع مطہر کا تویہ حکم ہے۔اور حکم نہیں مگر شرع مطہر کے لئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶:زید ہندو ہے۔اس نے ایك مکان بنایاایسی زمین دیہہ میں کہ آبادی او اراضی اس دیہہ کی ملکیت مشترکہ ہےدس بارہ اشخاص کیاب اس زید مذکور نے صرف اس مکان وبناء سکنی اپنی کو بہ ثمن متعدد ہاتھ ایك شخص کے کہ مکان خاص رہنے اس کے کا تخمینا پچاس قدم کے فاصلہ سے ہے فروخت کیامگر راضی داخل بیع نہیں ہے۔صرف عملہ وبناء کوفروخت کیا ہے۔اب بعد انقضائے عرصہ دو ماہ کے منجملہ اور شرکاء کے ایك شریك کہ وبھی پچاس قدم اس مکان مبیعہ سے رہتاہےبگمان شفیع ہونے کے شفعہ شرعی بربنائے دعوی قائم کرتاہے۔ایسی صور ت میں عندالشرع شریف اس عملہ مبیعہ زید ہندو پر شفعہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الوقوف ∞نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۵€۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۵۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۶۰€
#7150 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الجواب:
قطع نظر اس سے کہ وہ فی نفسہ شفیع ہونے کی صلاحیت رکھتاہے۔اور طلب مواثبت واشہاد وغیرہما امور لازمہ جس کے بغیر شفعہ باطل ہوجاتاہے بجالایا یانہیں۔دعوی اس کا صو رت مستفسرہ میں راسا باطل ہے کہ بناء محل شفعہ نہیں اور اس میں قصدا وبالذات شفعہ ثابت نہیں ہوسکتا۔
کمافی تنویر الابصار وشرحہ الدرالمختار لاتثبت قصدا الا فی عقار لا بناء ونخل اذا بیعا قصدا ولو حق القرار خلافا لما فہمہ ابن الکمال لمخالفتہ المنقول کما افادہ شیخنا الرملی اھ ملخصاوذکر ہ من قبل فقال فردہ شیخنا الرملی وافتی بعدمہا تبعا للبزازیۃ وغیرھا فلیحفظ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیساکہ تنویر الابصارمیں اور اس کی شرح درمختارمیں ہےکہ شفعہ قصدا صرف زمین میں ہوسکتا ہے عمارت او ر کجھور کے درخت میں شفعہ نہیںجب ان کو قصدا فروخت کیا جائے اگرچہ بشرط قرار فروخت کیا جائےیہ ابن کمال کے فہم کے خلاف ہے کہ انھوں نے منقول کے خلا ف کہا جیسا کہ ہمارے شیخ رملی نے افادہ کیا اھ ملخصا انھوں نے قبل ازیں ذکر کیا ہے اور کہا کہ ہمارے شیخ رملی نے اس کارد کیا ہے اور عدم شفعہ کافتوی بزازیہ وغیرہا کی اتباع میں دیا ہے پس اسے محفوظ کرلو۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك کوٹھری جس کا صحن مملوك عمرو اور اس صحن میں اس کوٹھری کے اور عــــــہ ہے اور سقف اس کی ملك بکر ہے۔اور اس کی دوجانب بھی مکانات بکر واقع ہیں بکر کے ہاتھ فروخت کی اس صورت میں شفیع اس کا بکر ہے یا عمرواور عمرو کو بدعوی شفعہ وہ کوٹھری مل سکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں شفیع اس کا عمرو ہے نہ کہ بکراور اگر عمرو شرائط شفعہ بجالایا تھا تو بدعوی شفعہ
عــــــہ: اصل میں اس طرح ہےاغلب یہ ہے کہ عبارت اس طرح ہو"اسی کوٹھری کے برابر ایك کوٹھری اور ہے"عبدالمنان اعظمی ۔
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ھی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۴€
درمختار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ہی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۱€
#7151 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اس کوٹھری کو بکر سے لے سکتاہے کہ جب طریق اس مکان کا زمین عمرو میں ہے تو عمرو خلیط فی حق المبیع ہوااور بکر اسی وجہ سے کہ مالك علو ہے اور اس کے مکانات کوٹھری کے دونوں جانب ہیں محض جوار ہے۔اور خلیط جار پر شرعا مقدم مکانات بکر دونوں جانب ہونے سے وہ صرف جارہوسکتا ہے۔اسی طرح قابض علو ہونا بھی اگر بوجہ ملك ہو تو فقط مثبت جوار ہے۔ورنہ لغو بحث۔
فی الفتاوی العالمگیریۃ سفل بین رجلین و لاحدھما علیہ علو بینہ وبین اخر فباع الذی لہ نصیب فی السفل والعلو نصیبہ فلشریکہ فی السفل الشفعۃ فی السفل ولشریکہ فی العلو الشفعۃ فی العلوا ولاشفعۃ لشریکہ فی السفل فی العلو ولا لشریکہ فی العلو فی السفل لان شریکہ فی السفل جار للعلو و شریك فی حقوق العلو ان کان طریق العلو فیہ وشریکۃ فی العلو جار للسفل اوشریك فی الحقوق اذا کان طریق العلو فی تلك الدار فکان الشریك فی عین البقعۃ اولی ۔وفی الفتوی قاضی خاں باع صاحب السفل سفلہ کان لصاحب العلوان یاخذ السفل بالشفعۃ لان السفل متصل بالعلو فکانا جارین ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے نچلی منزل دو حضرات کی مشترکہ ہے اور دونوں میں سے ایك کا اس پر بالاخانہ ہے جس میں کوئی تیسرا شخص بھی شریك ہے تو نچلی منزل والوں میں سے جس کا بالاخانہ میں حصہ ہے اس نے اپنےنچلے اور اوپر والے حصوں کو فروخت کیا تو نچلے شریك کو نچلے حصہ میں اور اوپر والے شریك کو اوپر والے حصہ میں شفعہ کا حق ہے نیچے والے کو اوپراور اوپروالے شریك کو نیچے والے حصہ میں شفعہ کا حق نہیں ہے کیونکہ نیچے والا شریك بالاخانہ کا پڑوسی ہے اور اگر بالاخانہ کا راستہ مشترکہ ہو تو وہ بالاخانہ کے حقوق میں بھی شریك ہے اور یوں ہی بالاخانہ کا حصہ دار نیچے والے حصہ کا پڑوسی ہے اگر راستہ بالاخانہ نیچے والی منزل میں سے گزرتا ہو توہ بھی نچلی منزل کے حقوق میں شریك ہو گا لہذا پڑوسی یا حقوق میں شریك کی بنسبت عین مبیع میں شریك کا حق مقدم اور اولی ہے۔اور فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ نچلی منزل والےنے اپناحصہ فروخت کیا تو اوپر والے کو شفعہ کا حق ہے کیونکہ نچلی اور اوپر منزل میں اتصال ہے تو دونوں پڑوسی قرار پائیں گے۔(ت)
غرض بہر حال بکر جار محض سے زائد نہیں اور عمرو خلیط فی حق المبیع ہے کہ راستہ مکان مبیع کا اس
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۶۷€
فتاوی قاضی خاں کتاب الشفعۃ فصل فی ترتیب الشفعاء ∞نولکشورلکھنؤ ۴/ ۸۶۴€
#7152 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
کی زمین مملوك ہے۔اور شرعا خلیط جار پر مقدم۔کما ھو فی عامۃ الکتب(جیسا کہ یہ عام کتب میں ہے۔ت)پس صورت مسئولہ میں برتقدیر مدعی ہونے کسی شریك فی نفس المبیع کے عمرو ہے۔نہ بکر اور عمرو شرائط شفعہ بجالایا تو در صورت عدم مزاحم مکان مبیع کو بکر سے لے سکتاہے۔والله تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان واقع کوچہ غیر نافذہ ایك شخص اجنبی کے ہاتھ کہ اس مکان سے کوئی علاقہ شفعہ نہیں رکھتا فروخت ہواراستہ اسی مکان کا اراضی پیش دروازہ زید ہے۔اور راہ دونوں کو شارع عام تك مشترکپس زید بعد بجا آوری شرائط شفعہ بحسب شفعہ دعوی کرتاہے۔اس صورت میں وہ مکان زید کو مل سکتاہے یانہیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں زید خلیط فی حق المبیع ہے۔اور حق شفع اس کے لئے ثابتپس جس صورت میں کہ وہ سب شرائط بجالایا اگر کوئی خلیط فی نفس المبیع مدعی شفعہ نہ ہوتو مکان اسے قطعا مل سکتاہے والله تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
الجواب الصحیح محمد نقی علی میاں
مسئلہ ۱۹: ۲۷ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان کی اراضی میں زید کے چند ورثہ شریك ہیںان میں سے بعض نے اپنے حصے عمرو شخص اجنب کے ہاتھ بیع کردئےپھر ان اشخاص میں سے جنھوں نے اپنے حصے بیع نہیں کئے تھے ایك نے اسی عمرو کے ہاتھ اپنا حصہ بیع کردیااب ان اشخاص مذکورین میں ایك شخص شفیع ہے۔تو یہ شخص عمرو اجنب پر ترجیح رکھتاہے یانہیں اور اس اراضی مبیعہ کو عمرو سے شفعہ میں لے سکتا ہے یانہیںبینوا توجروا
الجواب:
عمرو جبکہ ایك حصہ اسی زمین کا خرید چکاہے۔اور ہنوز حدود جدا نہ ہوں تو وہ بھی شریك ہے اور یہ شفیع بھی شریك ہے تو کسی دوسری پر ترجیح نہیںاگر اس شریك نے بیع ثانی کی کل مبیع کا مطالبہ بذریعہ شفعہ کیا اور عمرو دینے پر راضی نہ ہواتو نصف شفیع کو دلادیں گے اور عمرو راضی ہوگیا تو کل دلادیں گے۔
#7153 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
فی ردالمحتار باع احد شریکین فی دارحصہ منہا للاخرفجاء ثالث وطلب الشفعۃ فان کان شریکا قمست بینہ وبین المشتری لانہما شفیعان ای اذا طلب ولم یسلم للشفیع الاخر اھ مختصرا۔واﷲ تعالی اعلم ردالمحتارمیں ہے ایك مکان میں دوشریکوں میں سے ایك نے اپنا حصہ شریك کے پاس فروخت کیا تو ایك تیسرا شخص آیا اس نے شفعہ کا مطالبہ کیا اگر وہ بھی مکان میں شریك ہو تو وہ مکان شفیع اور مشتری میں مشترکہ قرار پائے گاکیونکہ وہ دونوں شفعہ کےحقدار ہیں یعنی جب تیسرے نے اپناحق شفعہ نہ چھوڑا اور مطالبہ پرقائم رہا اھ مختصرا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰: از دیورنیا تحصیل بہیڑی ۱۷ صفر مظفر ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ موضع دیورنیا میں تخمینا دو بسوہ زمینداری ہے۔منجملہ اس کے تخمینا ۵ کچوانسی خلیل الدین کے پاساور ۱۰ کچوانسی خواجہ بخش کے پاساو نمبرداری دونوں بسوہ پر خواجہ بخش کی ہے۔دیگر نے انہی دو بسوہ سے ۱۶ بسوانسہ خلیل الدین کے ہاتھ بیع کیتو شفعہ خواجہ بخش اور خلیل الدین کس کو کتنا پہنچتاہے بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ دیہہ مملوکہ ہے کہ زمیندار اس میں اپنے اپنے حصوں کے مالك ہیںتو بلا شبہ اس میں حق شفعہ جاری ہے اور خلیل الدین مشتری اور خواجہ بخش دونوں شفیع ہیںخواجہ بخش اگر طلب مواثبت وغیرہ شرائط بجالایا اور کل مبیع ۱۶ بسوانسی پوری پر بذریعہ شفعہ دعوی کیا تو اگر خلیل الدین مزاحمت کرے تو آٹھ بسوانسی خلیل الدین کے پاس رہیں گےاور آٹھ بسوانسی شفعہ خواجہ بخش کو دلادی جائینگی اس بات پر کچھ لحاظ نہ ہوگا کہ ان میں ایك دوکچوانسی کا مالك ہے اور دوسرا دس کااور اگر خلیل الدین مزاحمت نہ کرے بلکہ کل دے دے تو کل خواجہ بخش کو ملے گیاور اگر خواجہ بخش نے کل مبیع پردعوی نہ کیا بلکہ یہ سمجھ کر کہ مجھے آدھی ملیں گیابتداء آٹھ ہی بسوانسی پر شفعہ چاہاتو اس کا حق شفعہ ساقط ہوااب کچھ نہ پائے گاردالمحتارمیں ہے:
ذکر فی الخیریۃ ان کون الارض عشریۃ اوخراجیۃ لا ینافی الملك ففی کثیر من الکتب ارض الخراج او العشر خیریہ میں مذکور ہے کہ زمین کا عشری یا خراجی ہونا ملکیت ہونے کے منافی نہیں ہے تو بہت سی کتب میں ہے کہ مملوکہ عشری یاخراجی زمین کا فروخت کرناوقف
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ھی فیہ اولا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۲€
#7154 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مملوکۃ یجوز بیعہا وایقافہا وتورث فتثبت فیہا الشفعۃ بخلاف السطانیۃ التی تدفع مزارعۃ لاتباع فلا شفعۃ فیہا الخ۔ کرنامیراث ہونا جائز ہےتو ان میں شفعہ ثابت ہوگا۔بخلاف سرکاری زمین جو مزارعت میں دی جائے اور قابل فروخت نہ ہو اس میں شفعہ نہیں ہے الخ۔(ت)
درمختار میں ہے:
لوکان المشتری شریکا وللدار شریك اخر فلہما الشفعۃ ۔ اگر خریدر خود شریك تھا جبکہ اس میں کوئی اور بھی شریك ہو تو دونوں کو شفعہ کا حق ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی القنیۃ اشتری الجار دارا ولہا جار اخر فطلب الشفعۃ وکذا المشتری فہی بینہما نصفینلانہما شفیعان قال ابن الشحنۃ فقولہ وکذا المشتری ای اذا طلب ولم یسلم للشفیع الاخروفی کلام ابن الشحنۃ اشارۃ الی ان قول القنیۃ فطلب الشفعۃ المراد بہ انہ لم یسلم اکل للاخر لاحقیقۃ الطلب فلاینا فی ماقدمناہ عن الخانیۃ ان الاصیل لایحتاج الی الطلب ۔ قنیہ میں ہے ایك نے پڑوس والا مکان خریدا جبکہ اس مکان کا پڑوسی ایك اور شخص بھی ہے تو اس نے شفعہ کا مطالبہ کیا تووہ اور مشتری دونوں اس مکان میں شریك ہونگےکیونکہ وہ دونوں برابر کے شفیع ہیںابن شحنہ نے کہاتو اس کا قول یوں مشتری بھییعنی جب وہ شفعہ کا مطالبہ کرے اور دوسرے کو اپنا حق نہ چھوڑےاور ابن شحنہ کے کلام میں یہ اشارہ ہے کہ قنیہ کے قول"توشفعہ طلب کیا"اس سے مراد یہ ہے کہ دوسرے کو کل نہ سونپایہ مراد نہیں کہ حقیقتا طلب کیاتویوں خانیہ سے ہمارے ذکر کردہ کے منافی نہ ہوا کہ اصل شخص طلب کرنے کا محتاج نہیں ہے۔(ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
تملك بلاخذ بالتراضی او بقضاء القاضی بقدر رؤس الشفعاء لاالملك ۔ رضا مندی یا قاضی کی قضاء سےشفعہ کرنے والوں کی تعداد کے مطابق نہ کہ ملکیت کے مطابق حاصل کرنے پر مالك ہوجائیں گے۔(ت)

درمختار میں ہے:
لو طلب احدالمشریکین النصف بناء علی انہ یستحقہ فقط بطلت شفعتہ ا ذ شرط صحتہا ان یطلب الکل کما بسطہ الزیلعی فلیحفظ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر دونوں شریك حضرات میںسے ایك نے نصف کا مطالبہ صرف اپنے استحقاق کے مطابق کیا تو شفعہ باطل ہوگیا کیونکہ شفعہ کی صحت کے لئے شرط ہے کہ وہ کل کا مطالبہ کرےجیسا کہ زیلعی نے اس کو مبسوط پر بیان کیااسے محفوظ کرنا چاہئے والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشر والخراج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۵۶€
درمختار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ھی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۵€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب ما تثبت ھی فیہ اولا داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۱€
درمختار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۱€
#7155 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مسئلہ ۲۱:ازاوجین علاقہ گوالیار مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲جمادی الاولی ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان پابند شرع برحق اس مسئلہ میںایك چشمہ گنگا بائی ومتھرا بائی کے مکان کا شرق رویہ ملحق مکان حکیم رحمت علی صاحب اور طرف جنوب شارع عام اور مغرب رویہ اس مکان کے صرف مکان رحمت علی صاحب ہےاس چشمہ کو ایك برہمن غیر محلہ کو سات سو روپیہ میں فروخت کیاازاں جملہ دس روپیہ بیعنامہ ہوااس برہمی سے لے لئےجب حکیم صاحب کو خبر پہنچی تو بوقت دستاویز دعوی حق شفعہ کیا تو اس عورت نے بعدم دعوی حق شفعہ حکیم صاحب اس چشہ کو جو منضم مکان حکیم صاحب ہے اس برہمن کو خیرات کردیااس خیال سے کہ دعوی حکیم صاحب رد ہوجائےاس صورت میں بحق شفعہ دعوی حکیم صاحب درست ہے یانہیں بیان فرمائیں بعبارت کتب علماء رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین۔
الجواب:
اگر شفیع شرائط طلب بجالایا تو اس کا حق شفعہ ثابت ہے۔اور اس خیرات کردینے سے شفعہ حاصل نہ ہواجب بیع تمام ہوچکی مشتری کا مالك ہوگیابائعہ کی اس میں ملك نہ رہیاب یہ اسی کا مال اس پر خیرات کرنے والی کوناور اگر خیرات یوں واقع ہوئی کہ بعد دعوی شفعہ بائعہ ومشتری نے باہم بیع کو فسخ کرلیاپھر بائع نے مبیع مشتری پرخیرات کردیتو یہ مشتری کا ایك تصرف تھا جسے شفعیع توڑ سکتاہےبائع ومشتری کا باہم بیع فسخ کرلینا تیسرے شخص کے حق میں بیع جدید ہوتاہے یعنی مشتری نے اب وہ چیز بائع کے ہاتھ بیچ ڈالی اور مشتری کی بیع درکنار وقف تك کو شفیع رد کرسکتا ہے ان تصرفات سے اس کے حق شفعہ میں کوئی خلل
#7156 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
نہیں آتا درمختارمیں ہے:
ینقض الشفیع جمیع تصرفات المشتری حتی الوقف والمسجد والمقبرۃ والھبۃزیلعی وزاھدی ۔ مشتری کے کئے ہوئے تصرفات حتی کہ وقفمسجد مقبرہہبہ جیسے کو بھی شفیع کالعدم کردےزیلعی و زاہدی۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لوتصرف المشتری فی الدار المشتراۃ قبل اخذ الشفیع بان وھبہا وسلمہا اوتصدق بہا اوأجرھا او جعلہا مسجدا وصلی فیہا او وقفہا وقفا اوجعلہا مقبرۃ ودفن فیہافللشفیع ان یاخذ وینقض تصرف المشتری کذا فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں ۔ اگر مشتری نے خرید کردہ پراپرٹی میں شفیع کے قبضہ سے قبل تصرفات کئے یوں کہ ہبہ کرکے قبضہ دے دیااس کو صدقہ کردیااجرت پر دے دیااس کومسجد قرار دے کر اس میں نماز پڑھی گئیمکمل وقف کردیایا قبرستان بنا کر اس میں دفن کا عمل کیا تو شفیع کو قبضہ کرکے ان تمام تصرفات کو ختم کرنےکا حق ہے۔قاضی خاں کی شرح جامع الصغیر میں یوں ہے۔(ت)
اسی میں ذخیرہ سے ہے:
المشتری لہ ان یبیع ویطیب لہ الثمن غیر ان للشفیع ان ینقض اھ مختصرا۔ مشتری کوفروخت کرنے کا جواز ہے اور وہ ثمن اس کے لئے طیب ہے مگر شفیع کو اختیار ہوگا کہ وہ ان تصرفات کو توڑ دے اھ مختصرا۔(ت)
تنویر میں ہے:
الاقالۃ فسخ فی حق المتعاقدین بیع فی حق ثالث اھ ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اقالہ فریقین کے حق میں فسخ ہے اورتیسرے شخص کے حق میں وہ جدید بیع ہے اھ ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱€۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸۱€
درمختار کتاب البیوع باب الاقالۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۴۔۳۳€
#7157 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مسئلہ ۲۲: از شہر کہنہ بریلی مرسلہ مولوی سید کرامت علی ۴ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شریعت غراء محمدیہ اس صورت میں کہ زید کا ہمسایہ عمرو ہے اور دونوں کے مکان ایك ہی قطعہ میں واقع ہے۔صرف دیوار پر درمیان میں ہے۔اور دروازہ دونوں کا متصل ہرایك جانب کو بفاصلہ تین چار گزرکےاور کوئی دوسرا شخص ایساقریب نہیں رہتا جس کا دروازہ ملحق بدروازہ زید ہو۔سوائے عمرومذکور کےاب زید نے بنظر تکلیف دہی عمرو کی اپنی زمین مذکورہ کا تبادلہ بکر کے زمین سے جو بفاصلہ تقریبا دو صد گز ہےکرکے اقرار نامہ تحریر کردیا یعنی اپنی زمین بکر کے بیع کردیااب اس حالت میں عمرو کو حق شفعہ زمین پہنچتاہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ضرور حق شفعہ پہنچتاہے اگرچہ بجائے لفظ بیع مبادلہ زمین بزمین کہااگر چہ بجائے بیعنامہ اس مبادلہ کا اقرار نامہ لکھااس لئے کہ ان عقود میں معنی ہی معتبر ہیںخاص لفظ کی حاجت نہیں۔ہدایہ میں ہے:
اعطیتك بکذا اوخذہ بکذا فی معنی قولہ بعت واشتریت لانہ یؤدی معناہ المعنی ھو المعتبر فی ھذہ العقود ۔ میں نے تجھے اتنے عوض میں دیا یا اتنے عوض میں لےیہ بعت و اشتریت کے معنی میں ہے کیونکہ یہ ان کے ہم معنی ہیں اور ان عقود میں معنی ہی معتبر ہے۔(ت)
اور مال کا مال سے بدلنا بھی معنا بیع ہے عالمگیری میں ہے:
اما تعریفۃ فمبادلۃ المال بالمال بالتراضی ھکذا فی الکافی ۔ بیع کے تعریفرضامندی سے مال کا مال کے بدلے دیناکافی میں اس طرح ہے۔(ت)
اسی میں ہے :
لوقال لاخرعوضت فرسی بفرسك فقال وانا فعلت ایضا فہذا بیع ۔ اگر ایك نے دوسرے کو کہامیں نے اپنا گھوڑا تیرے گھوڑے کے بدلے میں دیادوسرے نے کہا میں نے بھی کر لیاتو یہ بیع ہے۔(ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۲€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۵€
#7158 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اسی کی کتاب شفعہ میں ہے:
اما شرطہا فانواع منہا عقدا لمعاوضۃ وھو البیع او ماہو بمعناہ(الی ولہ)ومنہا معاوضۃ المال بالمال ۔ شفعہ کے شرائط کئی ہیںان میں ایك عقد معاوضہ ہے۔اور وہ بیع یا اس کا ہم معنی ہے(تااس کے قول)اور ان میں سے مال کا مال سے تبادلہ ہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
اذا مالك العقار بعوض ھو مال وجبت فیہ الشفعۃ ۔ جب پراپرٹی کا کسی مال کے عوض مالك بن گیا تو اس میں شفعہ لازم ہوتاہے۔(ت)
یہ خاص جزئیہ اس مسئلہ کاہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳: از ریاست رامپور محلہ بنگلہ آذاد خاں مطبع دبدبہ سکندری مرسلہ فاروق حسن خاں ۷ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
زید نے دعوی دلاپانے ایك قطعہ سراکا جس کا منفرد عمرو مشتری ہے۔اور دوسرے قطعہ سراکا جس کے عمرو مذکور وبکر وخالد وفہیم ونعیم پانچ اشخاص مشترکا خریدارہیںباظہار حق شفعہ بہ نمبر ہائے جدا گانہ بنام مشتریان مذکور عدالت میں رجوع کیامشتریان مذکور بعد علم بالبیع ادائے طلب مواثبت واشہاد زید کے منکر ہیںزید نے جو شہادتیں دربارہ طلب مواثبت عدالت میں پیش کیں ان سے طلب مذکور ثابت نہ ہوئیپس زید اعتراف عدم ثبوت طلب موثبت اپنی طلب مواثبت پر خود خواستگار بجاآواری حلف کا ہے۔علماء ماہرین علم فقہ سے دریافت طلب یہ امر ہے کہ بصور ت مسئلہ نسبت ادائے طلب مواثبت قول زید کا مع الیمین مقبول ہوگا یا باقتضائے روایات مفتی بہا واقوال مستندہ فقہیہ بسبب ہونے تحلیف علی فعل الغیر مشتریان سے علم طلب مواثبت زید پر قسم لی جائے گیاور فریق ثانی نے جواستفتاء عدالت میں پیش کیا ہے اس کی نقل بجنسہ ہمرشتہ سوال ہذا ہے۔نظر بمضمون سوال ہذا وتوجہ بروایات وعبارات سوال وجواب مندرجہ استفتاء گزرانیدہفریق ثانی بحوالہ روایات مفتی بہا با ستدلال اقوال مستندہ کتب فقہ جواب مرحمت ہو۔بینوا توجروا
الجواب:
یہ مسئلہ معرکۃ الآرا ومزلۃ الاقدام ہے۔فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس سوال کے ورود پر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ البا ب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۶۰€
الہدایۃ کتاب الشفعۃ باب ماتجب فیہ الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۴ /۴۰۰€
#7159 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
عبارات کثیرہ علماء کو بظاہر نہایت متخالف ومتعارض تھیں بکثرت جمع کیںاور ان کے محط انظارومنزع کلام و منظر مراد وملحظ مرام پر بتوفیقہ تعالی نظریں ڈالیں او ربعد تحقیق وتدقیق وتطبیق وتوفیق وہ حکم نفیس مشید بالاصول و مؤید بتظافر العقول والمنقول منقح کرلیا جس نے بحمدالله تعالی ان تمام عبارات متعارضہ کو یك زبان کردیا اور تصادم و تزاحم یك لخت اٹھ گیااور مختلف ظنوں کو مختلف مناشی سے اکابر علماء مثل علامہ ابن قاضی سماوہ وعلامہ حموی و علامہ ابوالسعود ازہری وعلامہ سائحانی اور شامی رحمہم الله تعالی کو پیدا ہوئے تھے بعونہ سبحانہ سب کاکشف حجاب واظہار صواب کیافقیر نے اس تحریر کامل النحریر کانام "افقہ المجاوبۃ عن حلف الطالب علی طلب المواثبۃ"رکھا۔وضاحت مرام وازاحت اوہام تو اسی تحریر پر محمول۔یہاں نفس حکم بکمال اجمال مذکور۔ سوال کہ یہاں ارسال ہوااور دوسرا کہ فتوی منسبلکہ میں تھادونوں نہایت گول اور ناتمام ہیں ان میں سے کسی پر ایك حکم قطعی کہ یہاں شفیع کا حلف لیں گے یا مشتری کاہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ حق تفصیل ہے۔اولا نظر کی جائےآیا شفیع نے طلب اشاد بینہ عادلہ سے ثابت کردی یا وہ بھی ناکام رہیدرصورت ثانیہ ہر گز شفیع کا حلف نہ لیا جائے گا۔نہ مسموع ہوگا کہ شفیع ثبوت حق شفعہ کا دعوی کرتاہے۔اور مشتری منکر ہے۔اور شرعا حلف منکر پر ہے نہ کہ مدعی پر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حدیث مشہورمیں فرماتے ہیں:
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر ۔ مدعی پر گواہ اور منکر پر قسم لازم ہے۔(ت)
ولہذا عامہ کتب معتمدہ میں تصریح فرمادی کہ بحال وانکار مشتری شفیع اپنی طلب بے گواہوں کے ثابت کرہی نہیں سکتا۔
ہدایہ وتبیین الحقائق وتکملہ طوری میں ہے:
لانہ یحتاج الی اثبات طلبہ عندالقاضی ولایمکنہ ذلك الابالاشہاد ۔ کیونکہ قاضی کےہاں وہ اپنی طلب کو ثابت کرنے کا محتاج ہے جبکہ یہ گواہ بنائے بغیر ا س کےلئے ممکن نہیں۔(ت)
اور اگر طلب شہاد بینہ شرعیہ سے ثابت ہوچکی ہے۔تو اب طلب مواثبت کے باب میں تین صورتیں ہیں:
(۱)اگر شفیع اپنی طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت اس طلب اشہاد مشہود ومعہود ثابت بالبینہ سے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الرھن باب اذا اختلف الراھن والمرتہن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۳۲،€جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء فی البینۃ علی المدعی ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۰،€سنن الکبرٰی للبیھقی کتاب الدعوی والبنیات دارصادر بیروت ∞۱۰/ ۲۵۲€
الہدایہ کتاب الشفعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۳۹۰€
#7160 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
پہلے بیان کیا اور مدعی ہواہے کہ اسی وقت بمجرد علم بالبیع میں طلب مواثبت بجالایاتھاتو ہرگز بے بینہ مسموع نہیںنہ شفیع کا حلف اصلا قابل سماعت کہ وہ باقرار خود سبقت علم مان چکا ہے اور اس کی معیت کا ایك ایسی طلب کے لئے مدعی ہے جو ہنوز مجہول وغیر ثابت ہے۔
فکیف یصدق فیما ھو غیر بین ولا مبین مع توقف ثبوت حقہ علیہ۔ تو غیر واضح چیز میں وہ کیسے تصدق کرے جبکہ اپنے حق کو ثابت کرنا خو د اس پر موقوف ہے۔تو اور کون واضح کرے گا۔ (ت)
وہ حصول طلب فی الماضی کا مدعی ہے اور مشتری منکر۔
والاصل العدم ومن ادعی خلاف الاصل فعلیہ تنویر دعواہ بالبینۃ۔ عدم اصل ہے اور جوشخص اصل کے خلاف کا دعوی کرے اس پر اپنے دعوی کو روشن کرنا گواہی کے ساتھ ضروری ہے۔ (ت)
وہ ایك ایسی چیز کی حکایت کررہاہے جو اس وقت اس کے اختیار سے باہر ہے کہ وہ سبقت علم کا مقر ہوااور طلب مواثبت کا وقت اسی فور میں تھا اس وقت احداث طلب پر قدرت نہیں رکھتا۔اور جو ایسی شیئ کا حاکی ہو اس کا قول بے بینہ مسموع نہیں
درروغرر میں ہے:
من حکی مالایملك استئنافہ للحاللایصدق فیما حکی بلا بینۃ ۔ جس کو فی الحال نافذکرنے کامالك نہیں تو اس کی حکایت بغیرگواہی قابل تصدیق نہ ہوگی۔(ت)
یہی معنی ہیں تصریحات کے کہ طلب مواثبت بے بینہ کے ثابت نہیں ہوسکتی۔
ای اذا کان طلب المواثبتۃ وحدہ بخلاف مایاتی فانہ لم یثبت فیہ انفرادہ عن طلب الاشہادکما ستعلم وطلب واحد ربما یقوم مقام الطلبین فبعد اثبات طلب الاشہاد بالشہود اوثبوتہ باقرارالمشتری لایحتاج الی ا ثبات طلب المواثبۃ یعنی جب طلب مواثبت الگ ہو یہ آئندہ آنیوالی صورت کے برخلاف ہے جہاں طلب مواثبت میں اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ طلب اشہاد سے خالی ہے جیسا کہ عنقریب تجھے معلوم ہوگا جبکہ ایك ہی طلب وہ مطالبوں کے قائم مقام ہوسکتی ہے تو گواہوں کے ذریعہ طلب اشہاد کے اثبات یا خود مشتری کے اقرار سے ثبوت کے بعد شفیع کو اب طلب مواثبت کے اثبات
حوالہ / References الدررالمحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الشفعۃ باب ماتکون ھی فیہ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۶€
#7161 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
منفرزاعنہفان ادعی المشتری الانفراز بتقدم العلم علی الاشجار فعلیہ البینۃ لاعلی الشفیع۔ کی الگ طور پر ضرورت نہیںتو اگرمشتری یہ دعوی کرے کہ شفیع کو طلب اشہاد سے قبل بیع کا علم تھا اور اس نے مواثبت نہ کی تو اس صور ت میں مشتری پر لازم کہ وہ اس پر گواہی پیش کرے نہ کہ شفیع پر۔(ت)
غایۃ البیان شرح الہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے:
المراد من المطالبۃ طلب المواثبت والاشہاد فیہ فی المجلس لیس بشرط والشراط ھو نفس الطلب۔و انما یشہد فیہ لانہ لایصدق علی الطلب الابینۃ ۔ مطالبہ سے مرا دطلب مواثبت ہے۔رہا شہاد(گواہ بنانا)تو اس کا اس مجلس میں پایا جانا شرط نہیں ہے شرط صرف نفس طلب ہے۔اس میں گواہ بنانا صرف اس لئے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر طلب کی تصدیق نہ ہوسکے گی۔(ت)
نہایہ امام سغناقی ومعراج الدرایہ پھر نتائج الافکار وشروح ہدایہ میں ہے:
طلب المواثبۃ لاینفك عن الاشہاد فی حق علم القاضی ۔ طلب مواثبت قاضی کے علم کے اعتبار سے اشہاد سے جدانہیں ہوسکتی۔(ت)
ان دونوں صورتوں میں سبیل یہی ہے کہ شفیع چاہے تو مشتری سے حلف لے۔اوریہاں حلف فعل غیر پر ہے۔مشتری کا حلف محض علم پر ہوگا کہ والله مجھے معلوم نہیں کہ اس زید مدعی نے یہ طلب مواثبت جس کا یہ مدعی ہے ادا کی ہو تنویر الابصارو در مختارمیں ہے:
لوانکر المشتری طلب المواثبۃ فانہ یحلف علی العلم ۔ اگر مشتری طلب مواثبت کا انکار کرے تو وہ اپنے علم کی قسم کھائے گا(کہ یہ مجھے معلوم نہیں)۔(ت)
وجیز امام کردری میں ہے:
انکر طلب الشفیع مواثبۃ حلفہ علی العلموان طلبہ عند مشتری نے شفیع کی طلب مواثبت کاانکارکیا تو اپنے علم کی قسم کھائے گا اور اگر شفیع نے مشتری سے
حوالہ / References غایۃ البیان
نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ برفتح القدیر کتاب الشفعۃ باب مایبطل بہ الشفعۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/ ۳۳۶€
درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۷€
#7162 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
لقائہ فعلی البتات ۔ ملاقات کے وقت طلب کا دعوی کیا تو اس صور ت میں مشتری قطعی قسم کھائے گا(کہ شفیع نے قبل ازیں مواثبت نہیں کی)۔ (ت)
اشباہ میں ہے :
انکر المشتری طلب الشفعۃ حین علم فالقول لہ مع یمینہ علی نفی العلم ۔ مشتری نے طلب کا انکار کیا کہ شفیع نے بیع کی خبر سننے پر مواثبت نہیں کی تو مشتری اپنے علم کی قسم کھائیگا اور اس کی بات مان لی جائے گی۔(ت)
خزانۃ المفتین میں فتاوی کبری سے ہے:
المشتری اذا انکر طلب الشفعۃ عند سماع البیع فالقول لہ مع الیمین علی العلم باﷲ ما یعلم ان الشفیع حین علم بالبیع طلب ۔ مشتری نے طلب شفعہ کا انکار کیاکہ شفیع نے بیع کی خبر سننے پر مواثبت نہیں کی تو اپنے علم کی قسم پر اس کی بات قبول کرلی جائے گی اور یوں کہے گا کہ الله کی قسم مجھے علم نہیں کہ شفیع نے سن کر موقعہ پر طلب کی ہو۔(ت)
ہندیہ میں ملتقط سے ہے:
المشتری اذا انکر طلب الشفیع الشفعۃ عند سماع البیع یحلف علی العلموان انکر طلبہ عند لقائہ حلف علی البتات ۔ شفیع کا بیع کی خبر سننے پر طلب کا اگر مشتری انکا ر کرے تو اپنے علم کی قسم دے گا۔اور اگر اس کی ملاقات کے موقعہ پر طلب کا مشتری انکار کرے تو قطعی قسم دے۔(ت)
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے۔اسی میں محیط امام سرخسی سے ہے:
اذا انکر المشتری طلب الشفعۃ فیقول لہ لم تطلب الشفعۃ حین علمت بل ترکت الطلب وقمت عن المجلس والشفیع مشتری طلب شفعہ کاانکار کرتے ہوئے شفیع کو کہے کہ تو نے بیع کی خبر سن کر شفعہ طلب نہ کیا بلکہ تو مجلس سے اٹھ گیا اور طلب کو ترك کیااور شفیع کہے کہ میں نے
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۶۷€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الشفعۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۸۷€
خزانۃ المفتین کتاب الشفعۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۱۹۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۴€
#7163 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
یقول طلبت فالقول قول المشتری فلا بد من الاشہاد وقت الطلب توثیقا ۔ اس وقت طلب کیا ہے تو مشتری کی بات مانی جائے گی اسی لئے کہ وقت الشہاد ضروری ہے تاکہ معاملہ پختہ ہو۔(ت)
اور اگر شفیع نے طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت اس طلب الشہاد ومشہود سے پہلے نہ بیان کیابلکہ صراحۃ تصریح کردی کہ جس وقت میں نے طلب اشہاد کی اسی وقت مجھے علم ہواتھا اس سے پہلے علم بالبیع نہ تھاتو شفیع ہی کا قول حلف کے ساتھ مقبول ہے۔ا سے طلب مواثبت پر جداگانہ گواہی دینے کی حاجت نہیںمشتری اگر دعوی کرے کہ طلب اشہاد سے پہلے شفیع کوعلم بالبیع ہولیا تھااور اس نے اس وقت طلب مواثبت نہ نکی تو اب مشتری مدعی ہے۔یہ گواہی دےاسی لئے کہ اب یہ حصول علم فی الماضی کا ادعا کرتا اور شفیع منکر ہے۔
والحادث یضاف الی اقرب الاوقاتوالاصل العدم فمن خالف ھذین الاصلین فعلیہ البینۃ۔ نیا معاملہ اقرب وقت کی طر ف منسوب ہوگااور یہ کہ عدم اصل ہے۔جو شخص ان دونوں قاعدوں کے خلاف کرے تو اس پر گواہ لازم ہوں گے (ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لوقال الشفیع لم اعلم بالشراء الاالساعۃ کان القول قولہوعلی المشتری البینۃ انہ علم قبل ذلك ولم یطلب ۔ اگر شفیع کہے کہ مجھے خریداری کا علم نہ تھا اب ہواہےتو اس کاقول معتبر ہوگا۔اور مشتری گواہی پیش کرے کہ اس کو پہلے علم ہوچکا اور اس نے طلب نہ کیا۔(ت)
سراجیہ میں ہے :
الشفیع اذا طلب الشفعۃ فقال المشتری علمت بالبیع قبل ھذا ولم تطلب وقال الشفیع علمت بہ الساعۃ فالقول للشفیع ۔ شفیع نے طلب کیا تو مشتری نے کہا تجھے قبل ازیں بیع کا علم ہوگیا تھا تو نے مطالبہ نہ کیا جبکہ شفیع کہے کہ مجھے ابھی علم ہوا ہے تو شفیع کی بات قبول ہوگی۔(ت)
خزانۃ االمفتین میں فتاوی ظہیریہ اور عالمگیری میں محیط سے ہے:
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الشفعۃ فصل فی ترتیب الشفعاء ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۶۶€
فتاوٰی سراجیہ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞نولکشور لکھنؤ ص۱۱۰€
#7164 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
لو قال الشفیع علمت الساعۃ وانا اطلبہا وقال المشتری علمت قبل ذلك ولم تطلب فالقول قول الشفیع ۔ اگر شفیع نے کہا مجھے اب علم ہو ااور طلب کررہاہوں مشتری نے کہا تو نے پہلے علم ہونے کے باوجود طلب نہیں کیا ہے تو شفیع کی بات مانی جائے گی۔(ت)
یوہیں اگر شفیع نے طلب اشہاد ثابت کردی اور طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت متقدم اصلا معین نہ کیا بلکہ لوگوں مجمل کہا کہ معا علم ہوتے ہی میں نے شفعہ طلب کیا تو اس صورت میں بھی شفیع کا حلف معتبر ہے اگر واقع میں اسی وقت طلب اشہاد سے پہلے علم نہ ہوا تھا جب تو ظاہر اور ہوچکا تھااور فورا طلب مواثبت کرلی تھی اگرچہ اس وقت کوئی دوسرا موجودنہ تھا ت وہ اپنے اس حلف میں عندالله سچاہے اور قاضی اس گول لفظ کو اسی طلب معلوم مشہود پر حمل کرے گا اور اس سے زیادہ تفصیل وقت کی شفیع کو تکلیف نہ دیگایہی منشا ہے ان عبارات کا کہ شفیع کو اگر چہ تنہائی میں علم بالبیع ہو معا زبان سے طلب شفعہ کرلے کہ عند الله تعالی اس کا شفع ساقط نہ ہو اور وقت حاجت حلف کرسکے۔فتاوی بزازیہ میں ہے:
یصدق علی انہ طلب کما علم مع الحلف ۔ شفیع نے کہا میں نے علم ہوتے ہی طلب کیا تو قسم کے ساتھ اس کی تصدیق کردی جائے گی۔(ت)
دررمیں ہے:
اذا اسمع بالبیع فی مکان خال عن الشہود فسکت تبطل شفعتہواذا قال طلبت الشفعۃ ولم یسمعہ احد لا تبطلحتی اذا حضر عند القاضیوقال الشفیع طلبت الشفعۃ ولم اترکہا وحلف علی ذلك کان بارا فی یمینہ ویثبت طلب المواثبۃ ۔ جب ایسی جگہ اس نے بیع کی خبر سنی جاں کوئی گواہ نہ تھا تو یہ خاموش رہااس کا شفعہ باطل ہوجائے گا ا و رجب یہ کہے کہ میں نے وہاں طلب کیا اور کسی نے نہ سنا شفعہ باطل نہ ہوگا حتی کہ جب قاضی کے ہاں حاضر ہوکر شفیع نے کہا میں نے شفعہ طلب کیا اور ترك نہیں کیا اور قاضی نے اس پر قسم لی او راس نے قسم کھائی تو اپنی قسم میں سچا ہوگا۔اورطلب مواثبت ثابت ہوجائے گی۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
ان لم یکن بحضرتہ احد یطلب من غیراشہادلان ھذا الطلب صحیح من غیرا شہاد والاشہاد لمخالفۃ الجحود۔والطلب لا بد منہ کیلا یسقط حقہ فیما بینہ وبین اﷲ تعالی ولیمکنہ الحلف اذا حلف ۔ اگر کوئی بھی حاضر نہ ہو تب بھی طلب بغیر گواہی کردے کیونکہ یہ بغیر گواہوں کے طلب صحیح ہوگی اور گواہی تو انکار کے مقابلہ کے لئے ہوتی ہے جبکہ طلب ضروری ہے تاکہ اس کا عندالله حق ساقط نہ ہواور اس سے قسم لی جائے تو قسم دینا ممکن ہو۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۴€
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الشفعۃ الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۶۶€
الدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الشفعۃ باب ماتکون ھی فیہ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۵€
تبیین الحقائق کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ المکتبۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵/ ۲۴۳€
#7165 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
کفایہ میں ہے:
ذکرفی المبسوط لو لم یکن بحضرتہ احد حین سمع ینبغی ان یطلب الشفعۃوالطلب صحیح من غیر اشہادوالاشہاد لمخالفۃ الجحود فینبغی لہ ان یطلب حتی اذا احلفہ المشتری امکنہ ان یحلف انہ طلبہا کما سمع ۔ مبسوط میں ذکر فرمایا کہ اگر کوئی بھی اس کے پاس موجود ہو تو بیع کی خبر سنتے ہی شفعہ طلب کرنا مناسب ہے جبکہ بغیر گواہ بنائے طلب صحیح ہے گواہ تو انکار کے مقابلہ کے لئے ہے تو اس کوطلب کرنا مناسب ہےتاکہ جب اس سے مشتری قسم لے تو اس کو یہ قسم دینا ممکن ہو کہ میں نے سنتے ہی طلب کیا ہے۔ (ت)
متتبع کلمات علماء بہت جگہ تصریح پائے گا کہ جب دربارہ میں طلب شفیع ومشتری میں اختلاف ہے قول قول مشتری ہے۔اور بہت جگہ یہ کہ قول قول شفیع ہےاس ظاہری اضطراب میں توفیق وتطبیق بتانے والی وہی عبارات کثیرہ ہیں جن میں تفصیل فرمادی کہ شفیع نے طلب مواثبت کو وقت سابق کی طرف مسند کیا تو قول قول مشتری ہے۔اورگول چھوڑا کوئی وقت اس کا بیان نہ کیا صرف اتناکہ کہ بمجرد علم میں نے بطلب کی تو قول قول شفیع ہے۔خانیہ وبزازیہ ودرر وغرر وجامع الفصولین وسراجیہ وواقاعات المفتین وفتاوی صغری ومحیط و مبسوط وفتاوی ظہیریہ ووھبانیہ وخزانۃ المفتین وتکملہ طوری وحواشی رملی وشامی وشرح وھبانیہ وغیرہا کتب کثیرہ میں یہ توفیق وتفصیل ارشاد ہوئیامام اجل قاضی الشرق والغرب شیخ المذھب سیدنا امام ابویوسف نوادرمیں فرماتے ہیں:
اذا قال الشفیع طلبت الشفعۃ حین علمت فالقول قولہولو قال علمت امس و طلبت اوکان البیع امس و طلبتہا فی ذلك الوقت لم یصدق الا ببینۃ اھ نقلہ العلامۃ الطوری فی تکملہ البحر۔ جب شفیع کہے میں نے علم ہونے پر شفعہ طلب کیا تو اس کا قول معتبر ہوگا اور اس نے کہا مجھے گزشتہ روز علم ہوا اور میں نے طلب کیا یا یوں کہا کہ بیع گزشتہ روز ہوئی اور میں نے طلب کیااسی وقتتو بغیر گواہی اس کی تصدیق نہ کی جائے گیاھ اس کو علامہ طوری نے بحر کے تکملہ میں نقل کیا ہے۔ (ت)
امام جلیل خصاف شرح ادب القاضی میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/ ۳۰۷€
تکمہ من البحرالرائق کتاب الشفعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۱۲۹€
#7166 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
قال المشتری اشتریت ھذہ الدار منذ سنۃ وقد علم الشفیع شرائی ولم یطلب فأسالہ عن ذلکفان القاضی یسأل المدعی متی اشتریت ھذہ الدار فان قال الشفیع طلبت الشفعۃ حین علمت فان القاضی یکتفی منہ بہذا المقدارلان لایمکنہ ان یقول اشتراھا منذ سنۃ لاحتیاجہ الی اثباتہ فاحترز عنہ بذکر طلب الشفعۃ۔فان قال لہ المشتری طلبت حین علمت فالقول للشفیعلانہ فی ھذہ الحلۃ ظہر علمہ للقاضی مقارنا للطلببخلاف ما اذا قال الشفیع علمت منذکذ اوطلبت وقال المشتری ما طلبت کان القول للمشتری اذا لم یظہر للقاضی بالاسناد لذلك الوقت فیحتاج الی الاثباتونظیرہ البکر اذا زوجت اھنقلہ العلامۃ الشرنبلالی فی تیسیر المقاصد شرح نظم الفرائد۔ مشتری نے کہامیں نے یہ دار ایك سال سے خرید رکھاہے اور شفیع کو میری خریداری کا علم ہوا اور طلب نہ کیتو اس سے سوال کریں تو اگر قاضی مدعی شفعہ سے سوال کرے کہ اس دار کی خریداری کب ہوئیتو شفیع نے اگر کہا میں نے علم ہوتے ہی طلب کی تو قاضی اس کی اس قدربات کو کافی قرار دے گاکیونکہ شفیع کویہ ممکن نہیں کہ وہ یوں کہے کہ مشتری نے سال سے خرید رکھا ہے وہ طلب کے اثبات کا محتاج بنےلہذا اس بیان سے احتراز کرتے ہوئے طلب شفعہ کو ذکر کیا ہے۔تو اگر مشتری اس کو کہے کہ تو نے علم کے وقت طلب کیا تھا تو شفیع کی بات معتبر ہوگی کیونکہ اس حالت میں طلب اور علم اکٹھے قاضی پر ظاہر ہوئےاس کے برخلاف اگر شفیع یوں کہے کہ میں نے اتنی مدت سے جانا اور طلب کی اور مشتری طلب کا انکار کردے تو مشتری کا قول معتبر ہوگا کیونکہ قاضی پر اس وقت کی طلب ظاہر نہ ہوئی تو اثبات کامحتاج ہوگا۔ اور اس کی نظیر باکرہ لڑکی کا نکاح ہے۔اس کو علامہ شرنبلالی نے تیسیر القاصد شرح نظم الفرائد میں نقل فرمایاہے۔(ت)
امام فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے ہیں:
ان قال المشتری انی قد اشتریت ھذہ الدار التی یرید ان یاخذھا بالشفعۃ منذ سنۃ وقد علم ھذ المدعی بشرائی اگر مشتری کہے کہ میں نے یہ دارسال سے خرید کر رکھا ہے جس کو وہ شفعہ کی بناء پر حاصل کرنا چاہتاہے اور اس مدعی شفعہ کو میری خریداری کا علم ہوا تو
حوالہ / References شرح ادب القاضی للخصاف تیسیر المقاصد شرح نظم الفرائد۔
#7167 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
ولم یطلب الشفعۃ یقول القاضی للمدعی متی اشتری ھذہ الدار فان قال المدعی طلبت الشفعۃ حین علمت کان صحیحا اکفاہ ذلك فان قال المشتری ماطلبت حین علمت کان القول الشفیعوان قال الشفیع علمت منذ سنۃ وطلبت وقال المشتری لم تطلب کان القول قول المشتریوھو کالبکراذا زوجت فبلغہا الخبر فردت فاختصما الی القاضی فقال الزوج حین بلغہا الخبر سکتتوقالت رددت حین علمتکان القول قولہاوان قالت علمت یوم کذا و رددت لا یقبل قولہا(الی ان قال)ولو قیل للشفیع متی علمت فقال امس اوفی یومی قبل ھذہ الساعۃ لایقبل قولہ الاببینۃ ۔ اس نے طلب نہ کی تو اس صورت میں قاضی مدعی سے کہے گا کہ یہ دار کب سے خرید اگیا تو مدعی نے اگر جواب میں کہا کہ میں نے علم کے وقت ہی طلب کی تھی تو مدعی کا یہ بیان صحیح ہوگا اور قاضی اس کو کافی قرار دے گا تو مشتری اگر کہے کہ تو نے علم کے وقت طلب نہ کی تو شفیع کی بات معتبر ہوگیاور اگر شفیع نے یوں کہا کہ میں نے سال سے جانا اور طلب کی اور مشتری کہے تو نے اس وقت طلب نہ کی تو مشتری کا قول معتبر ہوگایہ معاملہ باکرہ لڑکی کے نکاح کی طرح ہے کہ اس کو نکاح کی خبر پہنچی تو اس نے نکاح کو رد کیا تو خاوند بیو ی کا یہ اختلاف قاضی کے سامنے پیش ہو تو خاوند کہے اس کو جب نکاح کی خبر پہنچی تو یہ خاموش رہی اور عورت کہے میں نے علم ہوتے ہی رد کردیا تھا تو عورت کی بات معتبر ہوگی اور اگر عورت کہے کہ مجھے فلاں روز علم ہوا اور میں نے رد کردیا تھا تو عورت کی بات معتبر نہ ہوگی(یہاں تك فرمایا)او ر اگر شفیع کوکہا گیاتونے کب معلوم کیا تو اس نے کہا گزشتہ روز یاآج ایك گھنٹہ قبل تو شفیع کی بات بغیر گواہی قبول نہ ہوگی۔(ت)
علامہ مولی خسرو غررمیں فرماتے ہیں:
قال الشفیع طلبت حیط علمت فالقول لہ بیمینہولو قال علمت امس وطلبتہ کلف اقامۃ البینۃ ۔ شفیع کہے جس وقت مجھے علم ہوا اس وقت میںطلب کی تو اس کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگیاور اگر کہے مجھے گزشتہ روز علم ہوا اور میں نے طلب کی تو اسے گواہی کاپابند کیاجائے گا۔ (ت)
دررمیں ہے:
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الشفعۃ فصل فی ترتیب الشفعاء ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۶۶€
الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الشفعہ باب ماتکون ہی فیہ ∞میرمحمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۶€
#7168 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
کلف اقامۃ البینۃ ولایقبل قولہ لانہ اضاف الطلب الی وقت ماض فقد حکی مالایملك استئنافہ للحال و من حکی مالا یملك استئنافہ للحال لایصدق فیما حکی بلا بینۃواذا لم یضف الطلب الی وقت ماض بل اطلق الکلام اطلاقا تامافقد حکی مایملك استئنافہ للحال لانہ نجعلہ کانہ علم بالشراء الآنوطلب الشفعۃ الآن فلذا جعل القول قولہ کذا فی العمادیۃ وغیرھا ۔ اس کو گواہی کا پابند کیا جائے گا اور اس کی بات قبول نہ ہوگی کیونکہ اس نے طلب کو ماضی کی طرف منسوب کیا ہے تو ایسی بات کوحکایت کیا جس کو فی الحال نافذ کرنےپر قادرنہیںاور جو شخص ایس بات کی حکایت کرے جس کو وہ فی الحال ابتداء نافذ کرنے کا مالك نہ ہوتو اس حکایت میں اس کی تصدیق بغیر گواہی نہ ہوگیاور شفیع جب طلب کو ماضی کی طرف منسوب نہ کرے گا بلکہ کلام کو مطلقا ذکر کرے تو یہ ایسی بات کی حکایت ہوگی جس کو ابتداء نافذ کرنے کا فی الحال مالك ہے کیونکہ ہم اس کو یوں سمجھیں گے کہ ا بھی اس کو خریداری کا علم ہوا ہے اور ابھی شفعہ طلب کیا ہے اس لئے شفیع کی بات معتبر ہوگیعمادیہ وغیرہ میں یوں ہے۔(ت)
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ت)ان عبارات توفیق کا جس طرح یہ مطلب نہیں کہ مجرد اضافت طلب بزمان ماضی شفیع کو مدعی کو دے گا کہ اسے قاضی کے حضور اضافت الی الماضی سے کیاچارہ کہ دونوں مواثبت واشہاد کا طلب عندالقاضی سے پہلے ہونالازمیہاں تك کہ اگر بفور علم طلب تملك سے آغاز کیا اور وہ طلبیں پہلے نہ کرلیں شفعہ باطل ہوجائے گا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
صرح علمائنا قاطبۃ انہ متی تمکن من طلب الاشہاد لم یشھد بطلت شفعتہ فلو اضرب عنہ ومضی الی المحکمۃ ابتداء وطلب عند القاضی بطلت والطلب عند القاضی متأخر عن الطلبین ای طلب المواثبۃ و الاشہاد فاذا قدمہ علیہما اوعلی احدھما ہمارے تما م علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ جب بھی طلب اشہاد پر قدرت ہوئی اور گواہی نہ بنائے تو اس کا شفعہ باطل ہوجائے گا اور اگر اس نے اول وقت میں طلب نہ کی اور محکمہ قضاء کی طرف چل پڑا اور قاضی کے پاس جاکر طلب کی شفعہ باطل ہوگا جبکہ قاضی کے ہاں طلب پہلی دو طلب کے بعد ہوتی ہے پہلی طلب مواثبت ہے دوسری طلب اشہاد ہے اور جب قاضی کے ہاں طلب کوپہلی دونوں یا ایك
حوالہ / References الدرالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الشفعۃ باب ماتکون ھی فیہ ∞میر محمدکتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۶€
#7169 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بطلت شفعتہ۔ولیس فی ھذا اختلاف بین ائمتنا فیما علمت ۔ طلب سے مقدم کردیا تو اس کا شفعہ باطل ہوگا۔اورمیرے علم کے مطابق اس میں ہمارے ائمہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔(ت)
ناچار عندالقاضی نسبت الی الماضی ہی کرے گاولہذا فتح الله المعین میں فرمایا:
انہ لایستحلف الا اذا اسند الطلب الی الزمن الماضی ۔ شفیع سے قسم نہ لی جائے گی مگر جب اس نے طلب کو زمانہ ماضی کی طرف منسوب کیا قسم لی جائیگی۔(ت)
اسی طرح یہ معنی بھی زنہار مراد نہیں ہوسکتا کہ شفیع کا اتنا کہہ دینا کہ"میں نے بمجرد علم طلب کی"مطلقا کا فی ووافی ہے اگرچہ اس طلب کا زمانہ طلب اشہاد سے مقدم بتا چکا ہو۔ایسا ہی ہوتا ہو جس صورت میں اہل توفیق نے قول شفیع معتبر نہ رکھایعنی علمت امس وطلبت(مجھے گزشتہ روز علم ہوا اور میں نے طلب کی۔ت)واجب تھا کہ اس میں بھی قبول ہوتا۔اور فرق محض ضائع رہتا کہ شفیع یہاں طلب مواثبت سےخبردے رہا ہے۔اور وہ نہیں ہوتی مگر بفور علمتو اس طلبت کے معنی قطعا یہی ہے کہ طلبت کما علمت(میں نے طلب کیا جب مجھے معلوم ہوا۔ت)ولہذا اس صورت میں عدم قبول قول شفیع کو سراجیہ میں بلفظ فاء تعقیب بیان کیاکہ:
الشفیع لو قال طلبت الشفعۃ حین علمت کان القول لہولو قال علمت منذ کذا فطلبت وقال المشتری ماطلبت فالقول للمشتری ۔ شفیع نے اگر کہا میں نے اسی وقت طلب کی جب مجھے علم ہوا تو اس کا قول معتبر ہوگا اور اگر کہا مجھے فلاں دن سے معلوم ہے تو میں نے طلب کی تھی اورمشتری کہے تو نے طلب نہ کی تھی تو مشتری کی بات معتبر ہوگی۔(ت)
شرح مبسوط میں خاص انھیں الفاظ اتصال پر حکم عدم قبول دیا:
حیث قال کما نقل عنہ فی جامع الفصولین برمز "شصل"بلغت بکرا فقالت جہاں انھوں نے فرمایا جیسا کہ ان سے جامع الفصولین میں منقول ہے برمز"شصل"باکرہ لڑکی بالغ ہوئی
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الشفعۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۵۴€
فتح المعین کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳/ ۳۲۹€
فتاوٰی سراجیہ کتاب الشفعۃ ∞نولکشورلکھنؤ ص۱۱۰€
#7170 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
رددت کما بلغتوالزوج یقول سکت فالقول للزوج فکذا لوقال طلبت الشفعۃ کما سمعت فقال المشتری سکت فالقول للمشتری ۔ تو اس نے کہا میں نے اپنا نکاح ردکیا جب یہ خبرپہنچی اور خاوند کہتاہے تو خاموش رہی تو خاوند کی بات معتبرہوگی تو یوں ہی اگر شفیع کہے جب مجھے معلوم ہوا میں نے شفعہ طلب کیا تو مشتری کہے تو خاموش رہاتو مشتری کی بات معتبرہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
لو لم یکن عندھا شہود فاذا وجدتہم فلو بلغت بحیض تقول حضت الان و نقضتہفاشہد واعلیہ و لو بلغت باحتلام اوبسن تقول کما بلغت نقضتہ فاشہدوا اوتقول اشہدواانی بلغت ونقضتہ فان قالوا متی بلغت تقول کما بلغت نقضتہ ولا تزید علی ھذا الانہا لو قالت بلغت قبل ھذ اونقضتہ حین بلغت لاتصدق ۔ اگر بالغ ہونے کے وقت گواہ موجود نہ تھے اور اس نے گواہ پاکر گواہی بنائی تو اگر وہ لڑکی حیض کے ساتھ بالغ ہوئی ہو تو یوں کہے کہ مجھے ابھی حیض آیا ہے اور میں نکاح کو توڑتی ہوں تم اس پر گواہ ہوجاؤاور اگر وہ احتلام یا عمرو کی بناء پر بالغ ہوئی ہو تو یوں کہے جونہی میں بالغ ہوئی میں نے نکاح توڑدیا تو تم گواہ ہوجاؤیاکہے تم گواہ بن جاؤ میں بالغ ہوئی اور میں نے نکاح توڑدیااگروہ پوچھیں تو کب بالغ ہوئیجواب میں کہے جیسے ہی میں بالغ ہوئی میں نے نکاح توڑ دیا اور اس پر مزید کچھ نہ کہےکیونکہہ اس نے کہا میں قبل ازیں بالغ ہوئی اور میں نے توڑ دیاجب بالغ ہوئی تو اس کی بات قابل تصدیق نہ ہوگی۔(ت)
دیکھو زمانہ متقدم بتانے کی حالت میں ادعائے فورا اتصال کو بھی رد فرمادیاغرض نہ مدار قبول مجرد ادعائے اتصال پر ہےنہ مناط عدم قبول محض اضافت بماضیبلکہ طلب شہود معہود سے اتصال کا صراحۃ بیان یا طلب مواثبت کے لئے کوئی وقت متقدم علی وقت الاشہاد نہ بیان کرنااور صرف بیان اتصال پر قانع ہونا درکار ہےکہ عینا یا احتمالا یہی طلب مشہود مراد ہوسکےاو رطلب مشہود سے تقدم علم کا اقرار موجوب عدم قبول قول ہے۔اگر چہ لاکھ مدعی اتصال ہوںاوریہیں سے ظاہر ہواکہ جس طرح طلبت کما علمت
حوالہ / References جامع الفصولین بحوالہ"شصل"الفصل الخامس والعشرون فی الخیارات ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲€۸
جامع الفصولین بحوالہ"شصل"الفصل الخامس والعشرون فی الخیارات ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۸€
#7171 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
(علم ہوتے ہی میں نے طلب کی۔ت)سے طلب عند القاضی مراد نہیں ہوسکتی
لما علمت ان اتصالہ بالعلم مبطل للشفعۃ لعدم تقدم الطلبین۔ اس وجہ کی بناء پر جوتجھے معلوم ہوئی کہ قاضی کے ہاں علم سے متصل گواہی شفعہ کو باطل کرتی ہے کیونکہ اس سے قبل د وطلب نہ پائی گئیں(ت)
یوہیں کوئی طلب مجہول جس کا بیان محض مدعی کی زبان سے ہومقصود ماننا بھی بدیہی البطلان ہے۔
لما تقدم ان مدع فیہ فکیف یقبل قولہ ولما علمت انہ یضیع علی ھذا الفرق المطبق علیہ من اھل التوفیق ولما من نصوص السراجیۃ وشرح المبسوط علی بطلانہ۔ اور گزشتہ کی بناء پرکہ وہ مدعی ہے تو اس کا قول کیسے معتبر ہو اور اس بناء پر جو تم معلوم کرچکے کہ وہ تمام اہل توفیق کے متفقہ علیہ فرق کو نظر انداز کررہا ہے اور سراجیہشرح المبسوط کی اس کے بطلان پر نصوص کی بناء پر۔(ت)
لاجرم اس سے مرادوہی طلب اشہاد ہے جبکہ مشہود و معہود اور بینہ عادلہ یا اقرار مشتری سے ثابت و معروف ہوتو حاصل تنقیح و تحقیق وعطر تنقید وتدقیق بحمدالله تعالی وہی نکلا کہ طلب اشہاد ہر گز بے گواہان یا اعتراف مشتری ثابت نہیں ہوسکتی نہ بے اس کے ثبوت کے طلب مواثبت پر ہر گز حلف شفیع لیا جاسکتاہے ہاں جب وہ ثابت ہو اور طلب مواثبت کے لئے کوئی زمانہ طلب شہاد سے پہلے اگر چہ ایك ہی ساعت حفیفہ ہوبیان نہ کیابلکہ صراحۃ اسی طلب اشہاد کو طلب مواثبت بنایابایں معنی کہ اسی وقت علم ہوا تھامعا طلب اشہاد کی کہ دونوں طلبوں کے قائم ہوئییا طلب مواثبت کے لئے اصلا کوئی وقت نہ بتایاصرف اتنے کہنے پر قانع ہوا کہ میں نے معلوم ہوتے ہی طلب کیتو اس صور ت میں قول شفیع بحلف معتبر ہوگا۔ورنہ قول قول مشتری ہے۔
ھکذا ینبغی التحقیق۔واﷲ ولی التوفیقاتقن ھذا فانك لاتجدہ فی غیر ہذا العبد الضعیفواﷲ بعبادہ لطیفوالحمد اﷲ رب العالمینواﷲ تعالی اعلم و علمہ جل مدہ اتم واحکم۔ تحقیق یوں مناسب ہے۔اور الله تعالی توفیق کا مالك ہے۔اس کو مضبوط کرلو کیونکہ اس عبد ضعیف کے بغیر اس کو نہ پاؤ گےاور الله تعالی اپنے بندوں پر مہربان ہے۔الحمدالله رب العالمین والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ ۲۴: ۱۶ذی القعدہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اگر شفعہ کی اطلاع دے دی گئی ہو دو آدمیوں
#7172 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
کے رو برو اور اس شخص نے لینے سے انکار کیاتو اب وہ شفعہ مانگتاہےاستحقاق اس کا باقی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر بیع ہوجانے کے بعد شفیع نے شفعہ سے انکار کیااگرچہ ہنوز اسے خبر بیع بھی نہ پہنچی ہویاخبر سن کر شفعہ لینے سے منکر ہوایا سکوت ہی کیاتو شفعہ ساقط ہوگیااب اسے دعوی شفعہ کا استحقاق نہیں جبکہ اس خبرمیں کوئی ایسی بات نہ بیان کی گئی ہو جس سے شفعہ لینے نہ لینے میں شفیع کی غرض بدلتی ہوورنہ اگر پیش ازبیع اس سے کہا گیا کہ یہ مکان بکنے والا ہے تو شفعہ چاہے گااس نے انکار کردیا اور جب بکا تو فورا طالب شفعہ ہوایا بعد بیع خبر بیع اسی غلط طور پر پہنچی جس سے رغبت وعدم رغبت مختلف ہو مثلا زر ثمن زیادہ بتایا گیا یامشتری کسی اور شخص کو ظاہر کیاگیاپانسو کو بکا تھااس سے کہا گیا چھ سو کو بکا ہے تو شفعہ لے گااس نے انکار کیااور بعد کو معلوم ہوا کہ پانسو بیع ہوئی ہے۔تو فورا شفعہ طلب کیا یا مکان زید کے ہاتھ بکا تھاشفیع کو خبردی گئی عمرو نے خریدا ہے۔اس نے شفعہ سے انکار کیاپھر اطلاع ہوئی کہ زید نے خریدا تو فورا خواستگار شفعہ ہواتو ان سب صورتوں میں انکار سے شفعہ ساقط نہ ہوگا۔وہ پاسکتاہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے:
تسلیم الشفعۃ قبل البیع لایصح وبعدہ صحیح علم الشفیع بوجو الشفعۃ اولم یعلموعلم من اسقط الیہ ھذا الحق اولم یعلم کذا فی المحیط ۔ بیع سے قبل شفعہ کو سونپ دینا صحیح نہیں اس کے بعد صحیح ہے شفیع کو لزوم شفعہ کا علم ہو یا نہ ہوجس کے حق میں شفعہ کا ساقط کر رہا ہے اس کا علم ہویانہ ہومحیط میں یوں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
مایبطل بہ حق الشفعۃ بعد ثبوتہاختیاری و ضروری والاختیاری صریح ودلالۃاما الاول نحوان یقول الشفیع ابطلت الشفعۃ اواسقطہا او ابرأتك عنہا اوسلمتہااو ثبوت کے بعد شفعہ کو باطل کرنے وا لا عمل اختیاری ہے اور ایك ضروری ہے اختیاری صریح ہے اور بطور دلالۃ بھیلیکن اختیاری صریح مثلا شفیع یوں کہے میں نے شفعہ باطل کیا یا میں نے ساقط کیامیں نے تجھ کو اس سے بری کیا میں نے سونپ دیا۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸۲€
#7173 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
نحو ذلك سواء علم بالبیع اولم یعلم ان کان بعد البیع ھکذا فی البدائع ۔ ان کی مثل او رالفاظ یہ الفاظ بیع کے بعد کہے خواہ بیع کاعلم ہویانہ ہوبدائع میں یوں ہے۔(ت)
اس میں ہے:
اذا قیل لہ ان المشتری فلان فسلم الشفعۃ ثم علم انہ غیرہ فلہ الشفعۃ واذا قیل لہ ان المشتری زید فسلم ثم علم انہ عمرو وزید صح تسلیمہ لزیدو کان لہ ان یأخذ نصیب عمروکذا فسرہ الجوہرۃ النیرۃ ولواخبر ان الثمن الف فسلم فاذ الثمن اقل من ذلك فہو علی شفعتہ فلو کان الثمن الفاء اواکثر فلاشفعۃ کذ افی الذخیرۃ ۔ جب اسے بتایا گیا مشتری فلاں شخصتو اس نے شفعہ چھوڑ دیاپھر اسے معلوم ہوا کہ کوئی اور ہے تو اسے شفعہ کا حق باقی ہے۔جب اسے بتایا گیا کہ مشتری زید ہے تو اس نے شفعہ چھوڑ دیا پھر بعد میں معلوم ہو اکہ زید کے ساتھ کوئی دوسرا بھی مثلا عمرو شریك ہے تو زید کے حق میں چھوڑنا صحیح ہوگا او رعمرو کے حصہ میں اسے شفعہ کا حق ہے_____ جوہر نیرہ نے اس کی یوں تفسیر کی ہے جب معلوم ہو اکہ مبیع کی قیمت ہزار ہے تو اس نے شفعہ چھوڑدیا بعد میں معلوم کہ ثمن اس سے کم ہے تو اس کا شفعہ قائم رہے گاہاں اگر ثمن ہزار یا زائد ہو تو پھر شفعہ نہ ہوگا ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فالاصل فی جنس ھذہ المسائل ان ینظر ان کان لا یختلف غرض الشفیع فی التسلیم صح التسلیم و بطلت الشفعۃ وان کان یختلف غرضہ لم یصح وھو علی شفعتہ کذ افی البدائع ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس قسم کے مسائل میں ضابطہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ شفعہ چھوڑ نے کی غرض بعد میں تبدیل نہیں ہوتی تو چھوڑنا برقراررہے گا اور شفعہ باطل ہوگا اور غرض تبدیل ہوجائے تو شفعہ باقی رہے گا اور ساقط نہ ہوگابدائع میں یوں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س باب میں کہ ایك کوچہ غیر نافذہ میں ایك
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتا ب الشفعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸€۲
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الشفعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸۴€
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الشفعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۸۳€
#7174 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مکان زید کا ایسا واقع ہے جس پر حق شفعہ خلیط فی الطریق چنداشخاص باشندگان کوچہ مذکور پہنچاہے۔اور ان میں سے بعض کوعلاوہ حق شفعہ خلیط فی الطریق کے حق شفعہ جارملاصق بھی حاصل ہے۔مکان مذکور کی پچھیت کی طرف عمرو کا مکان واقع ہے۔ا ور جس کا دروازہ دسرے کوچہ میں ہے اور اس کا حق شفعہ جارملاصق ہے۔زید مالك مکان مشفوعہ نے اپنے مکان کی کچھ اراضی جو پچھیت کی طرف اورمکان عمرو سے متصل تھیوہ بدست عمرو فروخت کیچونکہ اراضی مذکور مکان مشفوعہ باشندگان کوچہ غیر نافذہ کاجز ہے۔اس لئے استفتاء اس امر کا مطلوب کوہ شفیعان خلیط فی الطریق اور شفیعان جارملاصق کو حق شفعہ مکان مشفوعہ کے ایك جز پر شرعا پہنچتا ہے یانہیں بینوا توجروا
واسطے سہولت کے نقشہ پشت ہذاپر تحریر کیا جاتاہے
#7175 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الجواب:
کل مکان بیع کیا جائے گا خواہ بعضہر صورت میں خلیط فی نفس المبیع وشریك فی حق المبیع کا شفعہ ہے اور جا رملا صق کا بھیاگر خاص اس جز مبیع سے اتصال رکھتاہوالالاالا علی روایۃ مشکلۃدرمختار وغیرہ عامہ کتب میں ہے:
باع عقارالاذراعا مثلا فی جانب حد الشفیع فلا شفعۃ لعدم الاتصال فی ردالمحتار استشکل السائحا ن ھذہ الحیلۃ بما نقلہ الشرنبلالی عن عیون المسائل دار کبیرۃ ذات مقاصیرباع منھا مقصورۃ فلجار الدا ر الشفعۃ لان المبیع من جملۃ الدار وجار الدار جار المبیعوان لم یکن متصلا بہ اھاقول المشکل مافی العیون لاماہناتأمل اھ ما قال العلامۃ الشامی و کتبت علیہ ان المحشی قدم صدر الکتاب عن القہستانیان الملاصق المتصل بالمبیع ولم حکما کما اذا بیع بیت من دار فان الملاصق لہ ولاقصی الدار فی الشفیع سواء اھ وھو کسی نے شفیع سے متصل ایك گز چھوڑ کر باقی زمین فروخت کی تو عدم اتصال کی وجہ سے شفعہ نہ ہوسکے گاردالمحتارمیں ہے اس حیلہ پر سائحانی نے اشکال پیش کیا جس کو شرنبلالی نے عیون المسائل سے نقل کیا کہ کسی نے بڑی حویلی جوکہ کئی چھوٹے کمروں پر مشتمل ہے میں سے یك چھوٹا مکان فروخت کیا تو اس حویلی کے پڑوسی کو شفعہ کا حق ہےکیونکہ وہ مبیع مکان حویلی کا حصہ ہے تو پوری حویلی کا پڑوسی اس مبیع کا پڑوسی ہے اگر چہ یہ مبیع مکان پڑوسی سے متصل ہی نہیں ہے اھ۔میں کہتاہوں کہ عیون المسائل کا ذکر کردہ خودمشکل ہے نہ کہ جویہاں مذکور ہے۔غور کروعلامہ شامی نے جو بیان کیا وہ ختم ہوامیں نے شامی پر حاشیہ لکھا ہے کہ محشی یعنی علامہ شامی نے کتا ب کی ابتداء میں قہستانی سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا کہ مبیع سے متصل اگر حکمی طو ر بھی ہوتو وہ متصل حصہ اور حویلی فروخت شدہ کاانتہائی حصہ شفعہ میں برابرہیں مثلاکسی نے حویلی میں سے ایك کمرہ فروخت کیا تو اس کمرہ سے متصل حصہ سمیت تمام دار شفعہ میں برابر ہے اھ۔
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۶€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۵۴€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۴۰€
#7176 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مثل ما فی العیون ومثلہ ایضا فی الہندیۃ عن المحیط عن شرح ادب القاضی للخصافووجہ اشکالہ ان ماھنا مصرح بہ فی عامۃ کتب المذھب العتمدۃ متونا وشروحا وفتاویفماخالفہ فہو المشکل لاھذا۔ اقول:ویؤید ماھنامانص علیہ المتون ان سبب الشفعۃ اتصال ملك الشفیع بالمشتریوظاہر ان المشتری اذا کان مفرزا مفصولا عن ملك الشفیع لم یکن بینہما اتصالولایکفی الاتصال بالواسطۃ والا لکان الجار الغیر الملاصق المحاذی ایضا شفیعا ولا قائل بہ۔ولاینکر علیہ بماصرحوا بہ ان الماصق بشبر کالملاصق بجمیع حدودوذلك لان الاتصال بجزالشیئ اتصال بالشیئولا نسلم ان لاتصال بجزء من شیئ یکون اتصالا بجزئہ الاخرالاتری ان العمامۃ الملاصقۃ لرأس زید ملاصقۃ لزید لا لرجلہ والنعل المتصل برجل زید متصلۃ بزید لا برأسہفاتضح ان روایۃ العیون مشکلۃ والحاصل ان المبیع اذا کان الکل کفی الاتصال بجزئہ واذا کان جزء معین من شیئ
یہ عیون المسائل میں مذکور کی مثل ہئے اور اسی کی مثل ہندیہ میں ہے محیط سے انھوں نے خصاف کی شرح ادب القاضی سے نقل کیا ہے۔اس کے اشکال کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جو مذکور ہے وہی تمام معتمد کتب مذہب متون وشروح اور فتاوی میں تصریح شدہ ہے تو جوان کی تصریحات کے خلاف ہے وہ مشکل ہے نہ کہ یہمیں کہتاہوں یہاں پر ذکرکردہ کی تائید میں تمام متون کی نصوص ہیں کہ شفعہ کا سبب خرید کردہ چیز شفیع کی ملکیت کا اتصال ہے اور ظاہر بات یہ ہے کہ جب خریدکردہ چیز شفیع کی ملکیت سے علیحدہ فاصلہ پر ہو تو اتصال نہ ہوگا جبکہ بالواسطہ اتصال کافی نہیں ہے نہ ورنہ پڑوسی کا پڑوسی غیر اتصال والا بھی شفیع بن جائے گا حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اس پر یہ بیان وار دنہیں ہوسکتاجس کی تصریح یوں ہے کہ ایك بالشت کا اتصال جمیع حدود کا اتصال اور یہ اس لیے کہ چیز کی جز سے اتصال چیز سے اتصال ہے لیکن ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ ایك جز سے اتصال اس کی دوسری جز سے اتصال ہے۔آپ دیکھ رہے کہ عمامہ کا اتصال سرے سے ہونے کی وجہ سے زید کے پاؤں سے اتصال نہیں اور زید کے پاؤں کو اس کے جوتے کااتصال ہے اس کے سر سے اتصال نہیں ہے۔تو واضح ہوگیا کہ عیون المسائل والی روایت مشکل ہے اور حاصل یہ کہ جب کل مبیع ہو تو اس کی کسی جز کا اتصال شفعہ کے لئے کافی ہے اور جب کوئی معین جز مبیع ہو تو
#7177 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
لم یکف الاتصال بجزئہ الاخرفان الاتصل بالجزء اتصال بالکل مجملالابکل جزء منہ فردا فرادا فافترقا ۔ اس مبیع کی دوسری جزء کااتصال کافی نہیں کیونکہ جزء کے اتصال سے کل کا اتصال مجمل ہوتاہے نہ کہ ہر ہر جز ء سے فردا فردا ہوتاہے۔تو یوں دونوں صورتوں میں مختلف ہیں۔(ت)
شریك فی حق المبیع کے لئے مبیع سے اتصال ضرور نہیں۔صرف شرکت حق مثل طریق خاص وغیرہ کافی ہے۔درمختارمیں ہے:
فی شرح المجمع وکذا للجار المقابل فی السکۃ الغیر النافذۃ الشفعۃ ۔ شرح مجمع میں ہے یونہی بندگلی کا سامنے والا پڑوسی بھی شفعہ کا حقدارہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
وجہہ ابوالسعود بان استحقاقہا فیہ الشرکۃ فی حق المبیع فلاتعتبر الملاصقۃ ۔ اس کی وجہ ابوسعود نے یہ بیان کی کہ بند گلی کا استحقاق شفعہ مبیع کو حقوق میں شرکت پر مبنی ہے اس میں اتصال کا اعتبار نہیں ہے۔(ت)
ا ور چند شرکاء حق میں اگر ایك جار ملاصق بھی ہے باقی نہیں تو اسے ان باقیوں پر کوئی ترجیح نہ ہوگیوہ سب یکساں ہیں
عالمگیریہ میں بدائع سے ہے:
الشفعۃلاہل السکۃ کلہم یستووی فیہا الملاصق وغیر الملاصق لانہم کہم خلطاء فی الطریق ۔ بندگلی والوں کو شفعہ کاحق مساوی ہے خواہ اتصال والے ہو یا نہ ہوں کیونکہ وہ تمام گلی کے راستہ میں شریك ہیں۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں خالدبکریحیییوسفیعقوب اور سامنے کو چاروں مکان اور کوٹھی والے سب اس جز مبیع کے یکساں شفیع ہیںان کے ہوتے عمرو اور اس کے برابر کےچاروں محلہ دار جن کے دروازے دوسرے کوچہ میں ہیں شفیع نہیں ہوسکتے جبکہ او رکوئی استحاق نہ رکھتے ہووالله تعالی اعلم
حوالہ / References جدا لممتار علی ردالمحتار
درمختار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۱€
ردالمحتار کتاب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۴۱€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ البدائع کتاب الشفعۃ البا ب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۶۶€
#7178 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مسئلہ ۲۶: مرسلہ عبدالعزیز ونورمحمد واحسان کریم قصبہ آنولہ ضلع بریلی محلہ کٹرہ پختہ بتاریخ ۴ جمادی الاول ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے ایك قطعہ مملوکہ مقبوضہ اپنا جس کا نقشہ ذیل میں درج ہے۔اپنی حین حیات بروئے فرائض شرعی خالد پسرہندہ زوجہکلثوم ومریم وزبیدہ ومیمونہ دختران کو تقسیم کرکے مالکانہ قابض ودخیل کرادیاخالد اپنے حق پر جدا گانہ اور ہندہ زوجہ اور ہر چہار دختران مشترکا اپنے حق پر مالکانہ قابض ہوگئےاور درمیان مکان کی دیوار سرخ رنگ قائم کرلیقطعہ شمالی خالد کی او رجنوبی ہندہاور ہرچہاردختران کے قبضہ میں رہابعد وفات زید کے ہندہ اور ہر چہار دختران زید نے اپناقطعہ جنوبی عبدالله کے ہاتھ بیع کردیابعد فوت عبدالله مذکور کے اس کے ورثاء نے قطعہ جنوبی مذکور بدست شیخ نوراحمد فروخت کردیا اور نوراحمد اب تك مالکانہ قابض ہے۔خالد کے مرنے پر عمرو پسررضیہ زوجہصفیہ وذکیہ و رشدیدہ وحمیدہ ودختران ورثاء خالد شمالی متروکہ خالد پر مالکانہ قابض ہوگئے۔جوکہ محدود بدیں حدود اربعہ ہے۔مکان اور صحن مکان عبدالعزیز مکان حافظ مظہر مکان نوراحمد مکان عبدالعزیز واحسان کریم عمرو وغیرہ۔ورثاء خالد نے اپنا حق قطعہ شمالی بدست عبدالعزیز بیع کرنا چاہا او رمعاہدہ باہمی عبدالعزیز ہوگیا باخذ رسید مبلغ عــــــہ زربیعانہ عبدالعزیز مذکور سے حاصل کرلیا نوراحمد شفیع بھی آمادہ خریداری تھا کہ احسان کریم مذکور نے خبر بیع مذکور سن کر کچھ قیمت بڑھائیرشیدہحمیدہ ودختران خالد نے اپنے حق حقوق کابیعنامہ بنام نوراحمد شفیع کے کردیا۔ہنوز رجسٹری نہیں ہوئی ہے کہ عمرو نے خلاف معاہدہ باہمی عبدالعزیز کے مع رضیہ مادر کے کل مکان متروکہ خالد کابیعنامہ اپنی اور رضیہ کی جانب سے بنام احسان کریم تحریرکردیااور ایك دستبرداری لادعوی وراثت شفیعہ وغیرہ ہشیرگان کی جانب سے تحریر کراکربغرض تصدیق رجسٹری میں پیش کی شفیعہ ذکیہ نے تصدیق اس کی کردیاور رشیدہ وحمیدہ نے کہ جن کی بلاعلم واطلاع کاروائی دستبرداری کی ہوئی تھی اور یہ اپنے حق کا بیعنامہ بھی بنام نوراحمد تحریر کرچکی تھیںتحریر دست برداری سے انکار کردیااور بیعنامہ موسومہ نوراحمد کی رجسٹری کرادیچونکہ معاہدہ بیع پیشتر سے عبدالعزیز وعمرو وغیرہ منعقد ہوا تھاحالانکہ گفتگو بیع کی نوراحمد مذکور سے بھی تھیبکرعمرو وغیرہ نے مبلغ(مہ روپیہ)بطور بیعنامہ عبدالعزیز سے بہ تحریر رسید حاصل کرلی تھیایسی صورت میں جبکہ عبدالعزیز دوجانب سے اور نوراحمد ایك جانب سے اور احسان کریم ایك جانب سے کچھ مکان کی وجہ سے استحقاق شفیع رکھتے ہیںبلکہ نور احمد بوجہ خریداری مقدم کے شفیع خلیط بقیہ حقوق عمرو ورضیہ شفیعہ وذکیہ پہنچ چکاہے۔تو بلحاظ واقعات متذکرہ صدر کون شخص مستحق خریداری مکان متنازعہ کا ہے۔اور شرعاکس کو پہنچتاہے۔عبدالعزیز کے مکان کا درووازہ بھی دوسرے محلہ میں ہے۔بینوا توجروا
#7179 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الجواب:
بیان سائلان سے واضح ہواکہ عبدالعزیز سے صرف گفتگو بیع ہوئی تھی اور بیعنامہ دیا گیا عقد بیع تمام نہ ہو اتھانور احمد کلکتہ میں ہےاس نے اپنے ایك بھائی کو اس قطعہ کی خریداری کے لئے لکھااس نے وکالۃ نوراحمد کے لئے اس میں سے رشیدہ وحمیدہ کے حصے خرید لئےعبدالعزیز ونوراحمد دونوں خلیط فی حق المبیع ہیںاور احسان کریم محض جار ملاصق کہ اس کا راستہ اس کو چہ غیر نافذہ میں نہیںجب عبدالعزیز کو معلوم ہوا خود اس کا بیان ہے کہ اس نے مشتری مذکور یعنی وکیل نوراحمد سے جاکر کہا کہ میری گفتگوبیع سابق سے ہے۔یہ حصے جنتے کو تم نے خریدے ہیں انھیں داموں کو مجھے دے دو ورنہ میں شفیع ہوں شفعہ سے لے لوں گااس کہنے سے عبدالعزیز کا ان دونوں حصوں میں شفعہ جاتا رہا کہ اس نے طلب شفعہ نہ کی بلکہ ابتداء انھیں داموں کو خریدنا چاہا۔اور نہ دینے کی حالت میں بذریعہ شفعہ لے لینے کی دھمکی دییہ امر مبطل شفعہ ہےدرمختار میں ہے:
یبطلہا ان ساومہا بیعا اواجارۃ اوطلب منہ ان یولیہ عقد الشراء اگر شفیع نے مشتری سے بیع یا اجارہ یا ا س کی شراء کا ولی (وکیل)بننے کا مطالبہ کرے تو اس سے شفعہ کا حق باطل ہو جائے گا۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعہ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۵€
#7180 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
پس نوراحمد دوحصوں کا مالك مستقل ہوگیا جس سے کوئی نہیں لے سکتااگر وہاں اورکوئی شفیع مثل کریم بخش وغیرہ بادائے شرائط طالب شفعہ نہ ہوا ہورہی احسان کریم کے ہاتھ بیع جس میں کل مکان صررف زوجہ وپسر خالد نے اس کے ہاتھ بیچا اور دختران خالد کونامستحق قرار دیاشفیعہذکیہ تو بوجہ تصدیق و اقرار نامستحق ٹھہریںمگر رشیدہ وحمیدہ نے اقرار نہ کیا بلکہ اپنی بیع کی بنام نوراحمد کے تکمیل کرادیتو بعض مبیع احسان کریم کے ہاتھ سے نکل گیااور بقیہ کی بیع معرض زوال میں اگئی یعنی احسان کریم کو اختیار ہوگاچاہئے دو حصہ رشیدہ وحمیدہ علاوہ بقیہ مکان بحصہ قیمت لینا قبول کرے۔خواہ کل بیع کردےفتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا کان المشتری شیئا واحدا واستحق بعض قبل القبض اوبعدہ فللمشتری الخیار فی الباقیان شاء اخذہ بالحصۃ وان شاء ترك ۔ اگر خرید شدہ چیز ایك ہو اور اس کے بعض حصہ کا استحقاق ثابت ہو جائے خواہ قبضہ سے قبل یا بعد ثابت ہو تو مشتری کو باقی حصہ میں اختیار ہوگا اگر چاہے تو باقی کو اس قیمت کے حصہ پر لے یا چاہے تو چھوڑ دے۔(ت)
پس اگر احسان کریم نے بیع رد کردی تو سرے سے مبنائے شفعہ ہی کی بیع تھی جاتار ہے گااور وہ بقیہ قطعہ ایسا ہوجائے گا گویابکا ہی نہیں کسی کو اس میں حق شفعہ نہ ہوگااور اگر بقیہ بحصہ قیمت لینا قبول کیااور نوراحمد شرائط شفعہ بجالایا تو اب وہی عبدالعزیز وغیرہ سب پرمرجح رہے گا کہ اب بوجہ خریداری حصہ رشیدہ وحمیدہ نوراحمد خلیط فی نفس المبیع ہوچکاہے۔اور عبدالعزیز صرف خلیط فی حق المبیع ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷: ۳۰ شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو کا ایك مکان اور دکان کے مالك تھےزید عمرو کی ملکیت کا شفیع تھاعمرو نے اپنا حصہ دکان ومکان مذکور کا بکرکے ہاتھ فروخت کیاتو زید بفور سنے اس خبرکے مع چند آدمیوں کے جوکہ گواہ طلب شفیع کے ہیںاور جن کے سامنے کہ زید نے شرائط شفیع بغور سننے خبر بیع کے ادا کی ہیںجن میں سے کہ ایك زید کا قریبی رشتہ دارونیز عمرو بکر کا بھی رشتہ دار ہے ودیگر لوگ زید کے ملنے والے دوست ہیںبکر کے پاس بغرض طلب شفیع گیاروپیہ رومال میں باندھ کر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور۳/ ۱۶۶€
#7181 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اپنے ہاتھ میں لے گیا اور بکر سے جاکر اس نے کہا کہ میں ان حصہ دکان ومکان کا شفیع ہوںتم نے اس حصہ کو کیسے خریدکیا میں خریدوں گا۔زیدنے زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں روپیہ لایاہوںقیمت لو اور یہ جائداد میرے نام کروبکر نے زید کی گفتگو کے جواب میں جائداد مذکور دینے سے انکار کردیازید کے اس امر کے اظہار نہ کرنے سے کہ میں روپیہ لایاہوں قیمت لو اور یہ جائداد میرے نام کردوحالانکہ روپیہ اسی نیت سے لے گیا تھا اور وہ اس کے ہاتھ میں موجود تھا صرف زبان سے اس کا ذکر نہیں کیاتو ایسی حالت میں مراتب شفیع بموجب شرع شریف پورے طور سے ادا ہوئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
نہ روپے لے جانا ضرور نہ مشتری سے روپیہ لانا کاذکر ضروریہ سب بیکار ومہمل باتیں ہیںمگر طلب مواثبت ایسے لفظ سےجس سے فی الحال طلب ثابت ہوضرور ہے۔سائل نے بعد دریافت بیان کیا کہ میں نے خبر سنتے ہی یہ لفظ کہے تھےکہ میں اس کا شفیع ہوںریاض الدین نے کیسی خریدی میں خریدوں گااس سے طلب فی الحال ثالث ثابت نہیں ہوتی"خریدوں گا"سے اگر یہ مراد ہےکہ مشتری سےخریدوں گاجب تو ظاہر ہے کہ مشتری سے خریداری کا ذکر شفعہ کو باطل کردیتاہے۔درمختارمیں ہے:
یبطلہا شراء الشفیع من المشتری وکذا ان ساومہا بیعا واجارۃ اوطلب منہ ان یولیہ عقد الشراء (ملخصا) شفیع کا مشتری سے خریدنا ا وریونہی بیع یا اجارہ کا سودا کرنا یا عقد شراء کا ولی بننے کا مطالبہ کرنا اس کے حق شفعہ کو باطل کر دیتا ہے۔ملخصا(ت)
اور اگر یہ مراد ہو کہ بائع سے خریدوں گا تو یہ بھی طلب شفعہ نہیںخریداری تملك بالرضا ہے۔اور شفعہ تملك بالجبر در مختارمیں ہے:
تملیك البقعۃ جبرا علی المشتری بما قام علیہ ۔ شفعہ کسی ٹکڑا زمین کا مشتری سے اس پر لازم قیمت کے ساتھ جبر امالك بننے کا نام ہے۔(ت)
اورا گر مجازا یہی معنی مرادلئے جائیں کہ بذریعہ شفعہ لے لوں گاتویہ بھی وعدہ وانذار ہے۔طلب فی الحال نہیںعالمگیری میں ہے:
لوقال الشفعۃ لی اطلبہا بطلت اگرکہا میرا شفعہ ہے میں اس کی طلب کروں گاتو
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعہ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۵€
درمختار کتاب الشفعہ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۱۰€
#7182 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
شفعتہولو قال للمشتری انا شفیعك واخذ الدار منك بالشفعۃ بطلت ۔ اس کا شفعہ باطل ہوگااوراگر مشتری کو کہا میں تیرا شفیع ہوں اور شفعہ کی بناء پر تجھ سے دار لوں گا تو شفعہ باطل ہوگیا۔ (ت)لہذا صورت مسئولہ میں زید کا شفعہ باطل ہوگیا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸: از ریاست رامپور کٹرہ جلال الدین خاں مرحوم مرسلہ پیرازدہ غلام معین الدین صاحب پنجم صفر ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دعوی کیا کہ مسماۃ فلاں نے اراضی فلاں اتنی قیمت کو فلاں شخص سے میری غیبت میں خریدیاور میں خلیط فی الطریق ہوں مشتریہ جارملاصق ہے۔میراحق مقدم ہے اور میں شرائط شفعہ بھی ادا کرچکا ہوںمسماۃ مجیب ہوئی کہ زید نےہر گز شرائط شفعہ اد انہ کئےنہ مکان مشفوع بہازید کا مملوکہ ہے۔اور دعوی پر تمادی ہے۔ب بلکہ زید تسلیم الشفعہ کرچکاہے۔زیداور مسماۃ سے ثبوت طلب ہوا۔زید نے جو شہادت پیش کی عندالعدالت ناکافی قرار دے کر نامقبول فرمائی گئیایك وجہ عدالت نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ شہادت مدعی کو نقائض سے مبرامان لیاجائے تب بھی شہادت جو مدعی علیہا کی جانب سے گزریاس سے تسلیم شفعہ بعد ا ز بیع ثابت ہے۔لہذادعوی خارج اور منجانب مدعی کئی استفتاء پیش ہوئے ہیںاس بارہ میں کہ خلیط فی الطریق جارہ ملاصق پر مقدم ہے۔کیا یہ استفتاء مفید ہوسکتے ہیںمدعی نے تمادی سے بچنے کی غرض سے دو گواہوں سے یہ ثابت کرایا کہ میں وقت بیع مقام رچھا میں موجود تھا یعنی رامپور میں نہ تھامدعی علیہا کی جانب سے جو شہادت تسلیم شفعہ کی پیش ہوئی ہیں اس سے کماحقہ ثابت ہے کہ بعد تصدیق بیعنامہ اسی روز مدعی کو علم بیع ہوااور مدعی نے تسلیم شفعہ کیاتو کیا شہادت مذکور منجانب مدعی واسطے ثبوت کے کافی ہےاور تمادی مرتفع ہوسکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اس مسئلہ میں زوائد سے قطع نظر کرکے صررف دوباتوں پر نظر کافی ہے۔
اولا گواہان مدعیان کا ان کی ملك دار مشفوع بہا میں ہونے کی نسبت صرف اتنا بیان کہ وہ مکان مدعیوں کی ملك یا ان کا موروثی ہے اظہارات شہود ومدعیان دیکھے جائیںاگران کے بیان میںصرف اسی قدر ہو کہ اور یہ ظاہر نہ کیا ہو کہ شرائے مشتریہ سے پہلے یہ مکان یاجز مکان مدعیان تھا اور اب تك ہے۔ہمارے علم میں ملك مدعیان سے خارج نہ ہواتو ایسی شہادت ثبوت دعوی شفعہ کے لئے ہر گز بکارآمد
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعہ باب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲€
#7183 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
نہیں کہ مدعاعلیہا دار مشفوع بہا میں ملکمدعیان کی منکر ہے۔اور یہ اس طریقہ پر جو شرعا درکار ہے یعنی ملك متقدم علی البیع ومستمرالی الآن پر اقامت بینہ نہ کرسکےتنویر الابصار ودرمختار وردالمحتارمیں ہے:
اذا طلب الشفیع سأل القاضی الخصم عن مالکیۃ الشفیع لما یشفع بہ فان اقربہا او نکل عن الحلف علی العلماوبرھن الشفیع انہا مبلکہ(بان یقولا انہا ملك ھذا الشفیع قبل ان یشتری ھذا المشتری ھذا العقاروھی لہ الی الساعۃ ولم نعلم انہا خرجت عن مبلکہفلو قالا انہا لہذا الجار لایکفی کما فی المحیط)سألہ عن الشراء ھل اشتریت ام لا اھ جب شفیع نے طلب کی توقاضی شفیع کی اس ملکیت کے متعلق سوال کرے جس کی وجہ سے وہ شفعہ کررہا ہے۔تو اگر مخالف فریق اس کی اس ملکیت کا اقرارکرے یا اپنے علم پرقسم دینے سے انکار کرے یا شفیع اپنی اس ملکیت پر گواہی پیش کردے کہ وہ اس کی ملکیت ہیں ہے یوں کہ دونوں گواہ کہہ دیں کہ مشتری کی خریداری سے قبل یہ زمین اس کی اب تك ملك ہے۔اور اس کی ملکیت سے خارج ہوجانے کا ہمیں علم نہیں ہے۔اگر گواہ یہ کہیں کہ وہ اس پڑوسی کی ہے تو کافی نہ ہوگا جیساکہ محیط میں ہےقاضی مشتری سے سوال کرے کہ کیا تو نے اسے خریدا ہے یانہیں۔اھ(ت)
جبکہ شہادت گواہان مدعیان اس طریقہ مطلوبہ شرع پر نہ تھیحاکم پر لازم تھا کہ فقط اسی قدر پر مقدمہ ختم کردیتا اور دعوی خارج کرتامقدمہ کا آگے بڑھانا محض تطویل ہوئی۔
ثانیا: گواہان مدعا علیہا جنھوں نے دربارہ تسلیم مدعیان شہادت دی ہے کہ روز بیع بعد بیع معین الدین خاں نے مدعیوں کو اطلاع بیع اراضی مشفوعہ دیاور ان سے کہا کہ اگر تمھیں لینا منظور ہو لے لوانھوں نے کہا جواب دیا کہ ہم کو ضرورت نہیں بحیث ادا نہایت کافی ووافی شہادت ہےاس کے الفاظ پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں بے معنی ہےاس میں فقط اتنا دیکھنا چاہئے کہ گواہوں کی حالت کیسی ہے اگر ان میں دو گواہ بھی قابل قبول شرع ہوں تو فیصلہ بحق مدعا علیہا لازم ہے۔ملاحظہ تحریر سے ظاہرہوا کہ حکم مجوز نے گواہان مشتریہ پر اعتماد کیا کہ اور ان کے بیان پر فیصلہ رہااور جانب مدعیان سے ان پر کوئی جرح قابل لحاظ شرع نہ کی گئیتو اس صورت میں واقعہ میں حکم یہی ہونا چاہئے کہ دعوی شفعہ ساقطا ور مشتریہ مطالبہ سے بری ہے۔
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشفعۃ باب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۲،€ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب الشفعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۴۴€
#7184 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اس کے مقابل مدعیوں کی یہ گواہیاں کہ ہم یہاں نہ تھے شہادت علی النفی ہیں قابل لحاظ نہیںنہ وہ فتوی دوخلیط جار پر مقدم ہے۔کچھ مفید مدعی ہوسکتے ہیں کہ اول تو خلیط ہونا ہی پایہ ثبوت کو نہ پہنچاپھر بعد تسلیم شفعہ خلیط فی نفس المبیع کا بھی کچھ حق نہیں رہتا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹ و ۳۰: از ریاست رامپور کٹرہ خلاں خاں مرحوم مرسلہ غلام معین الدین خاں ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۲۶ھ
(۱)حاکمان شریعت مفتیان ملت کے حضور تمام کاغذات مقدمہ اصغرعلی خاں عرف بنے خاں مدعی بنام شہنشاہی بیگم مشتریہ وتصور شاہ بائع مدعا علیہا نمبری ۱۹۳/۲ دعوی شفہ بر اراضی واقعہ کٹرہ جلا ل الدین خاں فیصلہ مفتی عدالت ریاست رامپور واقع ۲۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کی نقول باضابطہ پیش کرکے درخواست ہے کہ شرع مطہر کے حکم سے اس مدقدمہ میں فیصلہ بحق مدعاعلیہا ہونا صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مقدمہ مذکورہ کے متعلق عرضی دعوی وعرض مدعی مورخہ ۱۶مارچ ۱۹۰۷ ء بجواب استفسار حکمواظہارات عبد الطیب خاں وڈاکٹر مدن خاںوعلی بہادر خانوصفدر علی خاں ولد عباس خان و بشیرالدین خانوضیا ء الدین خاںواحمد حسن خاںوصفدر علی خاں ولد نثار علی خاں وعبدالغنی خاں نہ کس گواہان اصغرعلی خاں مدعیوفیصلہ مفتی صاحب حاکم مجوز کی نقول باضابطہ فقیر کے سامنے پیش ہوئےاور سائل نے بیان کیا کہ شہنشاہی بیگم مدعاعلیہہا کی طر ف سے اس مقدمہ میں صرف دو گواہ نیاز حسین خاں وعزیز محمد خاں پیش ہوئےاو ران کا بیان اس مقدمہ میں بھی بعینہ وہی ہے جو انھوں نے مقدمہ سید محمد شاہ میں بنام شہنشاہی بیگم مذکورہ میں کیا ہے۔او رجس کی نقول باضابطہ اس وقت یہاں دارالافتاء میں حاضر ہے۔نیز حاکم نے فیصلہ میں ان کے بیانوں کا خلاصہ ذکر کیااور تحقیقات موقع پر شہادت سعیدالدین خاں کا بھی بیان لکھا ہے جس میں اصغر علی خاں و سید محمد شاہ دونوں مدعیوں کا بعد بیع تسلیم شفعہ مذکورہےاور مجوز نے دونوں فیصلوں میں بعد اس بیان کے کہ شہادات شہود مدعیان میں نقائص ہیںبرتقدیر نقائص ان تین گواہان مدعیہ کے بیان پر مدار فیصلہ رکھاہے کہ ان سے دونوں مدعیوں کا بعد بیع طلب شفعہ سے انکار کردینا ثابت ہے۔تو ان کوکسی طرح استحقاق دعوی نہ رہااور گواہان اصغر علی خاں جو وقت بیع اس کا رام پور میں نہ ہونا بیان کرتے ہیں گواہان نفی ہیں کہ مسموع نہیںمگر ہماری رائے میں گواہان مدعاعلیہا اس مقدمہ میں حاجت سے محض زیادہ ہیں جن کی شہادت پر بحث کی اصلا ضرورت نہیںولہذا ان کے اظہارات کی نقل پیش نہ ہونا اس مقدمہ میں بیاں حکم سے مانع نہیںنہ اس پر نظر کہ عزیز محمد خاں نے اصغر علی خاں کی نسبت کہاولدیت نامعلوم شکل جانتاہوں نہ اظہار سے ثابت کہ
#7185 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
گواہ نے مدعی کو اشارہ سے بتایانہ اس پر لحاظ کی حاجت کہ سعید الدین خاں دوسرے مقدمہ کا گواہ ہے جس کا مدعی شخص آخر ہےگو مدعاعلیہ وہی ہے۔اس کا بیان ا س مقدمہ کا شاہد بناکر کہا تك قابل استناد ہے۔یہ سب امور زوائد ہیںمدعی شفعہ میں لازم ہے کہ یا تو مدعہ مقر ہو کہ دار مشفوع بہا شفیع کی ملك ہےیا شفیع اسے بینہ سے ثابت کرے اور یہ بھی نہ ہو تو شفیع مدعاعلیہ کا حلف چاہے اور وہ قسم کھانے سے انکار کردےبے ان صورتوں کے دعوی شفعہ ہرگز ثابت نہیں ہوسکتازیلعی میں ہے:
اذا تقدم الشفیعوادعی الشراء وطلب الشفعۃ عندا لقاضیولم یخل بشیئ من شروطہاقبل علی المدعی علیہ فسألہ عن الدار التی یشفع بہا ہل ہی ملك الشفیع ام لاو ان کانت ھی فی یدالشفیع وھی تدل علی الملك ظاھرالان الظاھر لایصلح للاستحقاق فلا بد من ثبوت مبلکہ بحجۃفیسألہ عنہ فان انکر ان یکون ملکالہ یقول للمدعی اقم البینۃ انہا ملککفان عجز عن البینۃ وطلب یمینہ استحلف المشتری باﷲ مایعلم انہ مالك للذی ذکرہ مما یشفع بہفان نکل اوقامت للشفیع بینۃاو اقر المشتری بذلك ثبت ملك الشفیع فی الدار التی بشفع بہا وثبت السبب وبعد ذلك یسأل القاضی شفیع نے قاضی کے ہاں آگے بڑھ کر خریداری کا دعوی کیا اور شفعہ طلب کیااور دعوی کی شرائط میں کوتاہی نہ ہوپھر قاضی مدعاعلیہ کی طرف متوجہ ہوکر اس سے اس دار کے متعلق سوال کرے گا جس کی بناء پر شفیع شفعہ کا دعوی کرتاہے کہ کیا یہ شفیع کی ملکیت ہے یانہیں اگر چہ وہ دار شفیع کے قبضہ میں ہو قبضہ کے باوجود سوال حالانکہ قبضہ ملکیت پر ہی ظاہرا دلالت کرتاہے یہ اس لیے کہ ظاہر چیز استحقاق ثابت نہیں کرتی تو اس کی ملکیت کے ثبوت کے لئے کوئی دلیل ضروری ہےلہذاقاضی مدعا علیہ سے مدعی کی ملکیت کا سوال کرے گااگر مدعی علیہ اس کی ملکیت کا انکار کرے تو قاضی مدعی کوکہے گا کہ اپنی ملکیت پر گواہ پیش کرتو اگر وہ گواہ لانے سے عاجز ہے او رمدعی علیہ سے اس پر قسم لینے کا مطالبہ کرے توقاضی مدعی علیہ سے یوں قسم لے کہ مدعی جس بناء پر شفعہ کررہاہے تو اس ذکر کردہ پر اس کی ملکیت کوجانتاہے تو مدعی علیہ اگر قسم سے انکار کرے یا شفیع کے گواہ شہادت دے دیں یا خود مشتری اس کی ملکیت کا اقرار کردے تو جس دار کی بناء پر شفعہ طلب کرتاہے اس کی ملکیت شفیع کے لئے ثابت
#7186 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
المدعی علیہ ھل اشتریت ام لا الخ ملخصا ۔ ہوجائیگی یوں شفعہ کا سبب ثابت ہوجائیگا اس کے بعد قاضی مدعی علیہ(مشتری)سے سوال کرے کیا تو نے یہ دار خریدا ہے یا نہیں الخ ملخصا(ت)
اس مقدمہ میں ظاہر ہے کہ مدعاعلیہا ملك شفیع کی منکر ہے۔نہ شفیع نے حلف چاہا نہ اس نے حلف سے انکار کیاتو صرف صور ت شہادت رہیاو روہ محض ناکافی گزرییہاں شہادت اس مضمون کی درکار ہے کہ دار مشفوعہ کی بیع سے پہلے دار مشفوع بہا شفیع کی ملك تھی او راب تك اس کی ملك ہے ہمارے علم میں جب سے اب تك اس کی ملك سے خارج نہ ہوئیمحیط وہندیہ میں ہے:
ان یقر المدعی علیہ بشراء الدار وینکر کون المدعی شفیعہا بالدار التی حدہا وینکرکون الدرا التی حدہا ملکا اللمدعیاحضر المدعی الشہود وشہد کل منہم ۔(ملخصا)۔
گواہی میدہم کہ خانہ کہ بفلاں موضع ست حد ہائے وے کذا وکذا ملك ایں مدعی بودیپیش از انکہ ایں مدعی علیہ مرایں خانہ راخریدوبرملك وے ماند تا امروز وامروز ایں خانہ ملك ایں مدعی ست۔ مدعی علیہ دا ر کی خریداری کا اقرا رکرے اور شفیع جس مکان کی بناء پر مدعی کے بیان کردہ دار پر مدعی کی ملکیت کا انکار کرے تو مدعی گواہ پیش کرے اور ہر گواہ شہادت دے(ملخصا)۔(ت)
میں گواہی دیتاہوں کہ جو مکان فلاں موضع میں ہے اس کی حدود یوں یوں ہیں وہ اس مدعی کی ملکیت میں دعی علیہ کے اس خاص مکان کو خریدنے سے قبل تھی اورآج یہ مکان اس مدعی کا ہے۔(ت)
ا وریہ اس لئے کہ اگر وقت بیع دار مشفوع بہا ملك شفیع میں نہ تھاتو اس سبب سے اس میں استحقاق شفیع نہیں ہوسکتا اگر چہ بعد بیع یہ دار مشفوع بہاوراثت یا بیع یاہبہ یا وصیت وغیرہا سے ملك مدعی میں آجاوےعالمگیریہ میں ہے:
الشفعۃ شرطہا ملك الشفیع وقت الشراء فی الدار التی یاخذبہا شفعہ کی صحت کے لئے یہ شر ط ہے جس دار کی بناء پر شفعہ کادعوی ہے اس پر مشتری کی خریداری
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ المطبعۃالکبرٰی الامیر ∞بولاق مصر ۵/ ۴۵۔۲۴۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المحاضر والسجلات محضر فی دعوی الشفعۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۶۰۷€
#7187 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الشفعۃ ۔ تك شفیع کی ملکیت قائم ہو۔(ت)
اسی میں ہے:
رجل اوصی لہ بدارولم یعلم حتی بیعت دار بجنبہا ثم قبل الوصیۃ فلا شفعۃ لہ ۔ ایك شخص نے اس کے لئے ایك مکان کی وصیت کی حالانکہ اس کو ابھی تك وصیت کا علم نہ ہوا حتی کہ اس مکان کے پڑوس میں کوئی مکان فروخت کیا اس کے بعد اس کو علم ہوا توصیت قبول کی۔تو اب شفعہ نہ ہوگا۔(ت)
اور اگر شفیع بعد بیع وطلب شفہ قبل قضائے قاضی دار مشفوع بہا کو بیع کردےتو شفعہ ساقط ہوجاتاہے ۔درمختارمیں ہے:
یبطلہا بیع مایشفع بہ قبل القضاء بالشفعۃ مطلقا ۔ جس کے سبب شفعہ کا حق ہواس کو قاضی کے فیصلہ سے قبل فروخت کردینا شفعہ کو مطلقاباطل کردیتاہے۔(ت)
تو لازم ہے کہ قبل بیع دار مشفوعہ سے اس وقت تك مشفوع بہا میں شفیع کی ملك مستمر پر شہود شہادت دیںاس کی طرف کچھ میلان اس مقدمہ میں بظاہر صرف ضیاء الدین خاں کے بیان میں ہے کہ اس مکان مشفوعہ کے پورب کی جانب مکان اصغر علی خاں موروثی واقع ہے اور وہ قبل بیع مشفوعہ سے اس وقت تك وہ اس پر مالك وقابض ہیں اور حقیقۃ دیکھئے تو اصلااسے بھی اس مطلوب سے مس نہیںمکان مشفوعہ سے پورب کی جانب ہزاروں میل تك ہے۔نہیں معلوم کہ گواہ جس کو اصغر علی خاں کا موروثی ومملوك بملك مستمر بتارہا ہے کس عملے بلکہ کس شہر میں واقع ہے۔جبکہ دار مشفوع بہا کی طرف نہ اشارہ نہ اس کے حدود کا بیان تو صرف اتنی تعریف کہ وہاں پورب کو ہے کیا کام دے سکتی ہے۔باقی آٹھ گواہوں سے چا رنے ملك شفیع کا اصلا ذکر ہی نہ کیاصفدر علی خاں ولد نثار علی خاں نے اتنا کہا کہ"یہ بات کہہ کر اصغرعلی خاں اپنے مکان موروثی میں گئے اصغرعلی خان کو چہ غیر نافذہ میں اپنے مکان موروثی کے دروازہ پر بیٹھے تھےمیں نے آٹھ روز سے نماز نہیں پڑھیداڑھی مظہر کی جو برابر ہے" اس کا بھی وہی حال ہے اس سے یہ بھی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ البا ب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۶€۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ البا ب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۶۴€
درمختار کتاب الشفعۃ باب مایبطلہا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۵€
#7188 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
نہ کھلا کہ اصغر علی خاں کا مکان موروثی دار مشفوعہ کے محلہ واقع ہے یا شہر کے دوسرے کنارے پرتو مشفوع بہا کی ملك سے اس میں بھی اصلا بحث نہیںعلی بہادر خاں نے کہا سید تصور شاہ کے مکان سے پورب کو مکان موروثی مدعی کاملاہوا ہے۔معلوم نہیں تصور شاہ کے کسی مکان سے ہاں دو گواہیاں ملك مشفوع بہا کا پتا دے رہی ہیںصفد ر علی خاں ولدعباس خاں نے کہا مکان موروثی مدعی سے کھپریل مکان متنازعہ کے دکھن کہ دیوار ودرمیان میں ہے"اس سے جار ملاصق ہونا معلوم ہوااگر چہ مدعی خلیط فی المبیع ہونے کا مدعی ہے۔بشیر الدین خاں نے کہا"جس مکان کی کوٹھی کی اراضی فروخت ہوئی ہے اس مکان سے پورب کی جانب کی مکان اصغر علی خاں کا ہے۔اور وہ مکان اصغر علی خاں کا موروثی ہے ان دونوں مکانوں کا راستہ بھی ایك ہی کوچہ میں ہے"اوریہی گواہ بمقدمہ سید محمد شاہ بنام شہنشاہی بیگم مذکورہ بیان کرچکا ہے کہ اس کی ڈاڑھی چٹکی میں آجاتی ہے۔ اول ڈاڑھی کترواتا تھا اب توبہ کرلی اب نہیں منڈائے گاان سب گواہیوں میں یہی گواہی چست ہے کہ اس نے ان لفظوں سے کہ"جس مکان کی کوٹھی کی اراضی فروخت ہوئی ہے"اپنے تنگ خیال کے مطابق تعیین مکان بھی کی اور دونوں کا راستہ ایك ہی کو چہ میں ہونے سے خلط فی حق المبیع بھی بتایامگر تتمام نقائص سے قطع نظر کرکے ان میں سے کسی نے مورث کا نام تك نہ لیاا س کی تاریخ موت بتانا تو بڑی بات ہےتونری موروثی ہونے سے کیا کھلا کہ یہ مکان کب سے اصغر علی خاں کی ملك ہے ممکن کہ وہ مورث جس کے ترکہ سے یہ مکان مدعی کو وراثۃ بعد بیع دار مشفوعہ مراد ہوتو اس مکان کے ذریعہ سے مدعی کو کیا استحقاق شفعہ ہوسکتاہےشہادت اس لئے ہوتی ہے کہ حق حاکم پر ظاہر ہوان شہادتوں کا اجمال واہمال یہ ہے کہ مجوزنے فیصلہ میں کہا کہ گواہان مدعی نے یہ نہ بیان کیا کہ مدعی مورث کا بیٹا ہے یا بھائی ہے یاکون"جب قاضی کو مورث کا ہی پتہ نہ چلا تو تاریخ موت کیونکر معلوم ہوسکتی ہے جس سے جانا جائے کہ دار مشفوعد بہا عندالبیع ملك شفیع تھی یا نہیںلاجر م شہادتیں محض مہمل ہیں اور دعوی اصلا پایہ ثبوت کو نہ پہنچاردالمحتارمیں ہے:
لوقالا انہا لہذا الجار لایکفی کما فی المحیط ۔ اگر دونوں گواہ یہ کہیں کہ مکان اس پڑوسی کا ہے تو کافی نہیں جیسا کہ محیط میں ہے۔(ت)
لہذا واجب تھا کہ دعوی خارج ہوجیسا کہ مفتی ریاست نے کیااور لازم ہے کہ اپیل نامنظوروالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴€
#7189 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
(۲)حکام شریعت علماء ملت کے حضور تمام کاغذات مقدمہ سید محمد شاہ مدعی بنام شہنشاہی بیگم مشتریہ وتصور شاہ بائع مدعا علیہا نمبری ۲۰۵/۴ دعوی شفع براراضی واقعہ کٹرہ جلال الدین خاںفیصلہ مفتی ریاست رامپور واقع ۲۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کی نقول با ضابطہ حاضر کرکے کہ شرع شریف کے حکم سے اس مقدمہ فیصلہ بحق مدعاعلیہا ہونا صحیح یا کیا بینوا توجروا
الجواب:
اس مقدمہ کے متعلق عرضی دعوی وجواب دعوی از جانب شہنشاہی بیگمورد جواب از جانب مدعی واظہار عثمان خاں وعبد الرزاق خاں وسید دلاور علی خاں ونتھو خان وبشیر الدین خاں وعبدالغفار خاں گوہان مدعی و نیاز حسین خاں وعزیز محمد خان وامین الدین خان وسعید الدین خاں گواہان مدعاعلیہما وروبکار مفتی صاحب حاکم مجوز کے نقول باضابطہ فقیر کے سامنے پیش ہوئیںاس دعوی کی حالت دعوی اصغر علی خاں مدعی بنام شہنشاہی بیگم مذکورہ سے بھی بدترہے مشہود مدعی میں صرف تین گواہوں نے مکان مدعی ملك ہونے کی طرف توجہ کیازیں جملہ عبدالغفار خاں کا بیان ہے"مکان جانب مشرق مملوك بائع کا ہےاور جانب غرب شفیع کا ہے پکھا دونوں مکان کا مشترکہ ہے"یہ گواہ ایك ایسے دو مکانوں کا قصہ بیان کرتاہے جسکا پکھا مشترك اور ان میں ایك مملوك بائع دوسرا شفیع کا ہےمگر اس کی شہادت کچھ پتانہیں دیتی کہ وہ مکان کس شہریا شہر کے کس گوشہ میں واقع ہیں شہادت میں نہ مکانوں کی تعییننہ ان کی طرف اشارہ یہ شہادت اس پایہ کی ہے کہ مقدمہ اصغر علی خاں بنام شہنشاہی بیگم میں شہادت علی بہادر خاں تھینتھو خاں نے کہا"یہ مکان سید محمد شاہ کا جس کی وجہ سے دعوی شفعہ کیا ہے موروثی ہے سید دلاورعلی نے کہا"مکان شفیع کا مملوکہ موروثی ہے"لفظ اگرچہ مطلق تھا مگر اظہارمیں لکھا کہ"نشان دہی کردی"تو انھیں دو گواہوں سے ملك مشفوع بہا کا پتا چلا شہنشاہی بیگم یہاں بھی مشفوع بہا میں ملك مدعی سے منکر ہے اور مدعی نے نہ اس سے حلف لیا نہ اس نے حلف سے انکار کیا بلکہ مدعی نے شہادت پر اپنے کام کامدار رکھااور وہ حسب قاعدہ شرع ادانہ ہوئی کہ کسی شہادت میں بیع مشفوعہ سے پہلے مشفوع بہا کا ملك مدعی ہونا اور اب تك بالاستمرار اس کی ملك میں رہنا اصلا مذکور نہیںمقدمہ اصغر علی خاں میں اگر چہ دعوی محض مجمل تھابجواب استفسار حاکم اور تفصیل نہ کرسکاتو نام موث تو بتادیایہاں اس قدر بھی نہیںبیان مدعی یا بیان شاہد ان کسی سے پتانہیں چلتا کہ یہ مکان محمد شاہ کو بیع مشفوعہ کے کتنے مہینے بعد میراث میں ملا ہےبیع مشفوعہ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۶ء کو ہوئیاور شہادتیں ۱۳۹۹ جون ۱۹۰۷ء کو ہیں کیا اگر ۸ جون ۱۹۰۷ء تك سید محمد شاہ کاکوئی مورث باپ یا بھائی یا چچا وغیرہم اس مکان مشفوع بہا کا مالك رہااور اس تاریخ اس کی وفات ہوئیاورمکان ملك سید محمد شاہ میں آیا تو ۹ جون
#7190 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
کو گواہوں کاکہناکہ یہ مکان شفیع کا موروثی ہےغلط ہوگاہر گز نہیںضرور صحیح وحق ہوگامگر مدعی کے کسی مصرف کا نہیںاس کی ملك تو وقت بیع مشفوعہ سے پہلے ہواور اب تك مستمر رہےاس کا ثبوت درکارتھاجس کا نام تك کسی شاہد نے نہ لیاتو ایسی شہادتیں محض ناکافی اور بے معنی ہیںاور دعوی اصلا پایہ ثبوت کونہ پہنچا اجناس وذخیرہ ومحیط وغیرہا میں ہے:
ینبغی ان یشہدوا ان ھذہ الدار التی بجوار الدار المبیعۃ ملك ھذا الشفیع قبل ان یشتری ہذا المشتری ہذا الدارو ہی لہ الی ھذا الساعۃ لانعلمہا خرجت عن ملکہ فلوقالا ان ھذہ الدارلہذا الجار لا یکفی ۔ گواہ یوں شہادت دیں کہ مبیع مکان کے پڑوس میں یہ مکان اس مشتری کے اس مکان کو خریدنے سے قبل شفیع کی ملکتی میں اس قت تك ہے اور اس کی ملکیت سے خارج ہونا ہمیں معلوم نہیںتو اگر صرف یہ کہیں کہ یہ مکان اس پڑوسی کا ہے تو اتنا کافی نہیں ہے۔(ت)
معہذا شہنشاہی بیگم کی طرف سے جو شہادتین نیاز حسین خان وعزیز محمد خاں وسعید الدین خاں نے دیں وہ اس پیمانے پر جو آج کل تمام ہند میں رائج اور جملہ مقدمات اور خودا س مقدمہ میں مدعی ومدعی علیہ سب کے شہود اسی رنگ پر چلے اور چلتے ہیں اس امر کا ثبوت دے رہے ہیں کہ سید محمد شاہ نے بعد بیع خبر سن کر تسلیم شفعہ کردیاور طلب سے انکار کیااگریہ پیمانہ مقبول نہیں تو خود شہادت شہود مدعی ایك اور وجہ سے مردود ہوئیاو ر مقبول ہو تو بطلان شفعہ ثابت ہوگیاجیسا کہ فیصلہ میں مذکور ہےبہرحال دعوی شفعہ محض ناثابت ہےاور اپیل اصلا قابل منظور نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك بیعنامہ مکان کا قبل نکاح زبیدہ جس کا نکاح اس کے پسر کے ساتھ ہونے والا ہے۔بدیں مضمون لکھ کر زر ثمن کی وصولیابی کا اقرار لکھ کر معاف کردیااس قسم کا بیعنامہ معافی کاشرعا جائز ہے یاناجائز اگر بعد نکاح زید یا اس کے ورثاء انکار وصولیابی زر ثمن کا کرکے کہیں کہ بیعنامہ بطور قرض لکھا گیا تھا شرعا قرض قرارپائے گا یا نہیں اور کبھی شفیع کی شفعہ اس قسم کے بیعنامہ میں ہوسکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
میں کہ فلاں ابن فلاں ساکن رامپور ہوں جوکہ ایك منزلہ مکان چنیں وچناں واقع رامپور محدودہ ذیل
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الاجناس والمحیط والذخیرۃ کتاب الشفعۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۹€
#7191 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
مملوکہ ومقبوضہ میرا ہے۔وہ اب میں نے بحالت صحت نفس وثبات عقل بلااکراہ واجبار ورغبت اپنے مع جمیع حقوق و مرافق بعوج مبلغ پانچسو روپیہ چہرہ دار ہمدست مسماۃ زبیدہ جس کا نکاح حسب خواہش میری بکر پس نطفے میرے سے بتاریخ امروز ہوگا بیچااور بیع کیا میں نے اور مکان مبیعہ مشتریہ مذکورہ کو مثل ذات اپنی کے مالك وقابض کردیامیں نے زرثمن تمام وکمال مشتریہ سے وصول پایامیں نے یعنی زرثمن اس کا بوجہ محبت فطری بکر پسر مذکور کے زبیدہ مشتریہ کو معاف کیا میں نے پس نجشش ومعافی مجھ کو اور قائم مقامان میرے کو دعوی زرثمن کا نہیں ہے اور نہ ہوگا تقابض البدلین واقع ہوااب مجھ بائع کو مکان مبیعہ سے کچھ سروکار نہ ہوگااگر کوئی سہیم یا شریك پیدا ہو تو جواب دہ میں بائع ہوں۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع مطلقا صحیح ہےا ورا گر ایجاب وقبول بیع قبل معافی ثمن اقع ہوئے تھے وتو معافی ثمن بھی صحیح ہےاب زیدیا وارثان زید کو اس جائداد خواہ اسکے زرثمن میں اصلا دعوی نہیں پہنچتاہاں اگر قبل قبول مشتریہ یا وکیل مشتریہ معافی ثمن بائع نے لکھی اور اس کے بعد مشتریہ کی طرف سے قبول واقع ہوا تو معافی صحیح نہ ہوگیبیع صحیح ہوگیاورثمن دینا آئے گا جب تك بائع بعد قبول مشتریہ کی طرف نہ کرےرہا شفعہ وہ ہر حال میں ثابت ہےاگرچہ ثمن معاف ہوجائےکل ثمن شفیع اگر شرط بجالائےلے سکے گاکہ ثمن کی معافی سے شفیع کا فائدہ نہیں اٹھا سکتاعالمگیری میں ہے:
اذا حط کل الثمناووھبہاوأبراہ عنہفان کان ذلك قبل قبض الثمن صح الکل الخ ۔ جب مشتری کو بائع تمام ثمن ساقط کردے یا ہبہ کردے یا ثمن سے اس کو بری کردے تو اگر ثمن پر بائع کے قبضہ سے قبل ہو تو یہ سب جائز ہے۔الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الذخیرۃ اذا حط کل الثمناووھب اوأبرا عنہ فان کان قبل قبضہ صح الکل ولا یلتحق باصل العقد فی البدائع من الشفعۃولو حط جمیع الثمن و لا یسقط عنہ شیئ لان ذخیرہ میں فرمایااگر تمام ثمن ساقط کردے یا ہبہ کردے یا اس کو بری کردے اگر ثمن پر اپنے قبضہ سے قبل کرے تو سب صحیح ہے اور یہ ثمن چھوڑنا اصل عقد سے ملحق نہ ہوگا بدائع کے شفعہ میں ہے اگر بائع نے مشتری سے کل ثمن ساقط کئے تو وہ شفیع سے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۷۳€
#7192 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
حط کل الثمن لایلتحق باصل العقدلانہ لو التحق لبطل البیع لانہ یکون بیعا بلاثمن فلم یصح الحط فی حق الشفیع و صح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ ۔ ساقط نہ ہوں گے کیونکہ کل ثمن کا اسقاط اصل عقدسے ملحق نہ ہوتا کیونکہ اگر اصل بیع سے ملحق ہو تو بیع باطل ہوجائے اس لئے کہ وہ بیع بلاثمن قرار پائیگیتو وہ شفعی کے حق میں اسقاط نہ ہوگامشتری کے حق میں صحیح ہوگا اور مشتری کو ثمن سے برأت ہوگی اھ(ت)
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
قال بعتك ھذا الشیئ بعشرۃ دراہم ووھبت لك العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جاز البیعولایبرأ المشتری عن الثمن لایجب الابعد قبول البیعفاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان ابرأ قبل السبب فلا یصح اھواﷲ تعالی اعلم۔ بائع نے کہا میں نے تجھے یہ چیز دس دراہم کے بدلے فروخت کی اور میں نے تجھے وہ دس ہبہ کئے پھر مشتری نے بیع قبول کرلی تو بیع صحیح ہوگی اور مشتری ثمن سےء بری نہ ہوگا جبکہ ثمن کا وجوب بیع کو قبول کرنے کے بعد ہوتا ہے اگر قبول کرنے سے قبل مشتری کو بری کردے تو یہ سبب سے قبل بری کرنا ہوگا جوکہ صحیح نہیں ہے اھ والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲: از بدایوں سوتھ محلہ مرسلہ نواب عبدالله خاں ۳ ربیع الاول شریف ۱۳۲۸ھ
حنفی المذہب جارکو وہابی غیر مقلد پر حق شفعہ حاصل ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیشك حاصل ہےتمام کتب فقہ میں حکم شفعہ عام معلق ہےہدایہ میں ہے:
الشفعۃ واجبۃ للخلیط فی نفس البیعثم للخلیط حق المبیع کشرب والطریقثم للجار ۔ عین مبیع میں شریك کو شفعہ کا حق لازم ہے پھر مبیع کے حقوق میں شریك کو جیسے زمین کو سیراب کرنے والے پانی اور اس کے راستے میں شرکت ہو اس کے بعد پڑوسی کو حق ہوگا۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع والثمن داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۶۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی احکام البیع الفاسد ∞نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۴۹€
الہدایہ کتاب الشفعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۳۸۷€
#7193 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
درمختار میں ہے:
سبیہا اتصال ملك الشفیع بالمشتری بشرکۃ او جوار ۔ شفعہ کا سبب خرید کردہ کے ساتھ شفیع کی ملك کااتصال بطور شرکت یابطور پڑوس ہو۔(ت)
اسی میں ہے:
الشفعۃ للجار الملاصق ۔ شفعہ کا حق متصل پڑوس کو ہے۔(ت)
عالمگیری می ہے:
اذا اسلم الخلیط وجبت للجار ۔ جب شریك شفعہ کو چھوڑ دے تو پھر پڑوسی کا حق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
للجار حق الشفعۃ اذا کان الجار قد طلب الشفعۃ حین سمع البیع ۔ پڑوسی کو شفعہ کا حق تب ہے کہ اس نے بیع کو سنتے ہی طلب کی ہو۔(ت)
قاضی خاں میں ہے:
الشفعۃ حق شرع نظرا لمن کان شریکا اوجارا عند البیع ۔ حق شفعہ شریك یا پڑوسی کی رعایت کے لئے مشروعات ہے بوقت بیع(ت)
اصلا کہیں یہ قید نہیں کہ بائع یا مشتری کا مقلد ہو ناضروری ہے ورنہ حق شفع نہ ہوگا جو اس کا ادعا کرے کسی کتاب معتبر میں دکھائےاور ہر گزنہ دکھا سکے گا۔اور جب تمام کتب میں حکم بلا شبہہ عام ہےتو اپنی طرف سے تخصیص کب قابل سماعت ہے۔ ناواقف جاہل کو یہاں دوہی شبہے عارض ہوسکتے ہیں ایك یہ کہ غیر مقلد شفعہ جار کا قائل نہیں تو وہ اپنے زعم میں اس مطالبہ سے بری ہے۔دوسرے یہ کہ غیر مقلد بہت مسائل اصول دین میں اہل حق کا مخالف ہے۔وہ ا یك دین ہی جداگانہ رکھتاہے تو ہمارے دین کے احکام اسے شامل نہ ہوں گےاور یہ دونوں شبہے محض باطل وبے معنی ہیںکتابوں میں صاف تصریح ہے کہ اگر کھلے کافرنے
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتائی دہلی ۲ /۱۱۔۲۱۰€
درمختار کتاب الشفعۃ ∞مطبع مجتائی دہلی ۲ /۱۱۔۲۱۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۶۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۶۷€
فتاوی قاضیخاں کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۸۶۰€
#7194 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
دوسرے کے ہاتھ مکان بیچا اور مسلمان اس کا شفیع ہے۔مسلمان کو شفعہ ملے گاتو کھلے کفار جن کے یہاں شفعہ سرے سے کوئی چیز ہی نہیں اور وہ صراحۃ نفس اسلام سے منکر ہیںجبکہ اپنے خیال میں عدم شفعہ یا تخالف دین کے سبب شفعہ سے بری نہ ہوئےتو غیر مقلد کہ اصل شفعہ کا قائل ہےاگرچہ شفعہ جوار میں کلام کرےاور دین اسلام کا دعوی رکھتاہے اگرچہ اپنے دعوے میں غلط کار ہوکیونکہ اپنے خیال یا تخالف مذہب کے باعث شفعہ سے بری ہوسکتاہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
لواشتری ذی من دار بخمر اوخنزیر وشفیعہا ذمی اومسلم وجب الشفعۃ عند اصحابنا ۔ اگر کسی ذمی نے ذمی سے مکان بعوض شراب یا خنزیر خریدا اور ا س پر شفعہ کرنیوالا ذمی ہو یامسلمان ہو اس کو ہمارے اصحاب کے نزدیك شفعہ کا حق ہے۔(ت)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
المسلم والکافر والکبیر والصغیر والذکر والانثی فی الشفعۃ لہم وعلیہم سواء ۔ مسلمانکافربڑاچھوٹامرد اور عورت شفعہ ان کے حق میں ہو یا خلاف ہو سب برابر ہیں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
اذاشتری ذمی بخمر اوخنزیر ان کان شفیعہا مسلما اخذ بقیمۃ الخمر والخنزیر وبالاسلام یتاکد حقہ لا ان یبطل اھ ملتقطا۔ جب شراب یا خنزیر کے عوض کسی ذمی نے مکان خریدا اگر مسلمان شفعہ کا حقدار ہو تو شراب اورخنزیر کی قیمت کے عوض شفعہ حاصل کرے گااسلام اس کے حق کو مضبوط بناتاہے نہ کہ باطل کرتاہے اھ ملتقطا(ت)
بالجملہ مدعاعلیہ اپنے کسی خیال ومذہب کے باعث اس حق کو مدعی کے لئے باطل نہیں کرسکتااور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ شرعی مطہر نے حق شفعہ شفیع سے وضع ضرور کے لئے مشروع فرمایا ہےمدعی کہ اپنا ضرر دفع کرنا چاہتاہےمدعاعلیہ یہ جواب کیونکر دے سکتاہے کہ میرے خیال ومذہب میں تو اپنے ضرر کے دفع کا استحقاق نہیں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۹۴€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الشفعۃ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۸۶۰€
الہدایہ کتاب الشفعۃ باب الشفعۃ ∞مطبع یوسفی نولکشور لکھنؤ ۴ /۹۸۔۳۹۷€
#7195 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
رکھتاایسا جواب کب قابل التفات ہوسکتاہےہدایہ میں ہے:
الاتصال علی ھذہ الصفۃ انما انتصب سببا فیہ لدفع ضررالجواب اذ ھو مادۃ المضار علی ماعرف ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس طریقہ کا اتصال پڑوس کے ضرر کو دفع کرنے کے لئے سبب ہے کیونکہ پڑوس محل ضرر ہے جیسا کہ معروف ہے۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۳: مسئولہ محمد حیدر حسن خاں رامپوری ۲۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان کاحصہ فروخت ہواشفیع جو خلیط فی نفس المبیع ہے اس نے خبر سن کر فورا طلب مواثبت کیادا کے وقت چند اشخاص شفیع کے پاس موجود تھےاور اس جگہ سے مکان مبیعہ بھی نظر آتا ہے۔شفیع طلب مواثبت کرکے خود اشخاص مذکورہ کو ساتھ لےکر مکان مبیعہ کے پاس آیاسب آدمی مکان کے دروازے کے پاس کھڑے رہے اور شفیع مکان کے اندر چلا گیا اور وہاں پردہ کرایااور پھر باہر آکر سب آدمیوں کو مکان کے اندر لے گیاتب شفیع نے طلب اشہاد ادا کیشفیع اگر چاہتا تو جس جگہ اس نے طلب اول ادا کی تھی اور وہاں سے مکان مبیعہ بھی نظر آتا تھا اس جگہ طلب ثانی بھی ادا کر سکتا تھایہ امر دریافت طلب ہے کہ شفیع نے جو دو تاخیریں ادا ئے طلب اشہاد میں کیںیہ دونوں تاخیریں یا ان میں سے کوئی مبطل شفعہ ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نہ شفعہ باطل ہوا نہ طلب اشہاد میں تاخیر ہوئینہ یہاں طلب مکرر کی حاجت تھیبلکہ وہی طلب مواثبت جو اس نے دار مبیعہ کے منظر میں کیجہاں وہ مکان کے سامنے اور حسب بیان زبانی سائل نے صرف پچاس قدم کے فاصلہ پر تھاوہی دونوں طلبوں کا کام دے گئیاصل یہ ہے کہ یہاں طلب خصومت سے پہلے دو طلبیں لازم کی ہیںایك بفور علم اگرچہ اس وقت وہاں اور کوئی نہ ہودوم احدالمعاقدین یا مبیع کے سامنےاورا گر وقت علم احدالبائعین حاضر یا مبیع پیش نظرہےتو یہی طلب اول و ددم دونوں ہوجائیں گیپھر طلب اشہاد میں حاضرین سے یہ کہنا کچھ ضرور نہیں کہ تم گواہ ہوجاؤ بلکہ فی الواقع دونوں میں سے کسی طلب میں گواہوں کا موجود ہونا ہی شرط نہیںوہ صرف ثبوت دینے کے لئے درکارہوتے ہیں جبکہ مشتری انکار کرے تو گواہوں کے سامنے طلب مواثبت منظر مبیعہ میں کرنا بدرجہ اولی طلب اشہاد
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الشفعہ ∞مطبع یوسفی نولکشور لکھنؤ ۴/ ۳۸۸€
#7196 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بھی ہے اگر چہ گواہوں سے نہ کہا ہو کہ گواہ رہواور یہیں سے ظاہر ہے کہ اس کے بعد شفیع کا شہود کو دروازہ پر پھر اندر لے جانا اور طلب کرنا سب فضول وزوائد از حاجت تھاجس کی تاخیر بلکہ عدم سے بھی شفعہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔درمختارمیں ہے:
لو اشہد فی طلب المواثبۃ عنداحد ھؤلاء(ای البائعین والمبیع)کفاہ وقام مقام الطلبین ۔ اگر شفعہ کی طلب پر ان میں سے کسی کے اس گواہ بنائے یعنی خرید وفروخت کرنے والوں اور مبیع کے پاس تو اس کو کافی ہے اور یہ عمل دونوں طلب کے قائم مقام ہوگا۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
انما یحتاج الی طلب المواثبۃ ثم الی طلب الاشہاد بعد اذا لم یمکنہ الاشہاد عند طلب المواثبۃ بان سمع الشراء حال غیبۃعن المشتری والبائع والدار اما اذا سمع عند حضرۃ ھؤلاء الثلث(ای احد ھم کما لایخفی)واشہد علی ذلك فذلك یکفیہ و یقوم مقام الطلبین کذا فی خزانۃ المفتین ۔ طلب مواثبت کے بعد طلب اشہاد کی ضرورت تب ہوگی جب طلب مواثبت پر وہ گوہ نہ بنا سکےمثلا یوں کہ شفیع نے خریداری کی خبر مشتری بائع اور مبیع مکان سے غائب ہونے پر سنی لیکن جب ان کی موجودگی میں سنی ہو اور اس وقت گواہ بھی اس طلب پر قائم کرلئے ہوں تو اسےکافی ہے اور یہ عمل دو طلب کے قائم مقام ہوگا خزانۃ المفتین میں اسی طرح ہے(ت)
قاضی خاں وعقود الدریہ وغیرہمامیں ہے:
انما سمی الثانی طلب الاشہاد لا لان الشہادۃ شرط بل لتکمنہ اثبات الطلب عند جحود الخصم ۔ چنانچہ دوسری طلب کانام طلب اشہاد ا س لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اس میں گواہ بنانا شرط ہے تاکہ مخالف فریق کے انکار پر ثابت کرسکے(ت)
نتائج الافکار میں بدائع سے ہے:
حوالہ / References درمختار کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۳€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الشفعۃ فصل فی الطلب ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۶۱€
#7197 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
اماالاشہاد علی ھذا الطلب فلیس بشرط و انما ھو لتوثقۃ علی تقدیر الانکر کما فی الطلب الاول ۔ دوسری طلب میں گواہ بنانا شرط نہیں بلکہ اس لئے گوہ بنائے کہ مخالف کے انکار پر اپنے حق کو ثابت کرسکے جیساکہ پہلی طلب میں شرط نہیں ہے۔(ت)
فتح الله المعین میں ہے:
الاشہاد علی الطلب التقریر لیس بشرط کما فی البدائع ۔ طلب تقریریعنی طلب ثانی میں گواہ بنانا شرط نہیںجیسا کہ بدائع میں ہے۔(ت)
ہندیہ میں محیط سرخسی سے ہے:
اما طلب الاشہاد فہو ان یشہد علی الطلب المواثبۃ حتی یتأکد الوجوب بالطلب علی الفورولیس الاشہاد شرطا لصحۃ الطلب لکن لیتوثق حق الشفعۃ اذا انکر المشتری طلب الشفعۃ واﷲ تعالی اعلم۔ طلب اشہاد یہ ہے کہ طلب مواثبت یعنی پہلی طلب پر گواہ بنائے تاکہ فوری طورپر طلب کا وجوب پختہ ہوجائے جبکہ صحت طلب کے لئے اس وقت گواہ بناناشرط نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ مخالف فریق جب انکار کرے تو یہ اپنے حق شفعہ کو مضبوط بناسکے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴ تا ۳۸: از ریاست رامپور مسئولہ مفتی عبدالقادر خاں صاحب مفتی ریاست رام پور ۱۰جمادی الاولی ۱۳۲۸ھ
مقدمہ فخر الدین خان بنام حیدر حسن خان ومسماۃ منور بیگم بنت محمد شفیع خاں میں مسل مع فتاوی مدخلہ بغرض ملاحظہ حاضر ہےبعد ملاحظہ روئداد واظہارات گواہان سوالات ذیل کا جواب عطا ہو:
(۱)آیا جس حالت میں کہ شفیع کو اطلاع بیع ایسی جگہ پہنچی کہ در مشفوعہ سے قریب ہواور دار مشفوعہ پیش نظر ہو اس وقت شہود کے سامنے طلب واحد طلب مواثبت وطلب اشہا دونوں کی جگہ کافی ہوجائیگی یا دو طلب جدا گانہ کی حاجت ہے
(۲)صورت مذکورہ میں اگر ایك بار طلب کرکے وہاں سے اٹھ کر دار کے پاس شہود کو لے جائے اور ہنوز طلب ثانی نہ کرے بلکہ اندر جاکر پردہ کراکر شہود کو اندرلیجا کر وہاں طلب دوم کرے تو یہ تاخیر موجب
حوالہ / References نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ فتح القدیر کتا ب الشفعۃ باب طلب الشفعہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/ ۳۰۸€
فتح المعین کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۳۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲€
#7198 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بطلان شفعہ ہوگی یا نہیں
(۳)گواہوں کے سامنے اگر طلب بروجہ شرعی کرلی او ریہ نہ کہا کہ گواہ ہوجاؤتو طلب اشہادمیں کوئی خلل ہے یانہیں
(۴)اگر طلب اول بروجہ کافی ایسے طورپر نہ کی کہ طلب اشہاد کے بھی قائم مقام ہوتیاور پھر کاروائی مذکور ہ سوال دوم عمل میں لایا۔تویہ دلیل اعراض ومسقط شفعہ ہے یا اس قیاس پر کہ مصرواحد میں اقرب کو چھوڑکر ابعد کے پاس جانے سے حرج نہیں ہوتا شفعہ باطل نہ ہوگا
(۵)طلب اول کے جو الفاظ مدعی وشاہدان نے بیان کئے ہیں آیا وہ کافی ووافی ہیں جن سے وہی طلب قائم مقام طلبین ہوجائیگی یا نہیں بالآخر حکم اخیر مطلوب ہے کہ اس روئداد مسلم کی رو سے شفعہ ثابت ہے یا ساقط بینوا توجروا۔
الجواب:
کاغذات ملاحظہ ہوئےپہلے تین سوالوں کا وہی جواب ہے جو قبل ملاحظہ مسل لکھا گیا تھاشرع مطہر نے دو۲ باتیں لازم فرمائیں ایك طلب بفور علمدوم اس طلب کا بتعیین مطلوب بائع یا مشتری یا مشفوع کے سامنے ہونا طلب دوم کی اتنی ہی حقیقت ہے خاص اس لفظ کی کہ گواہ ہوجاؤکچھ حاجت نہیںنہ یہ کہناداخل حقیقت اشہاد ہے۔اشہاد اعطائے ماخذ ہے یعنی دوسرے کے لئے اپنے تصرف پر تحصیل شہادتاور بدیہی ہے کہ حصول شہادت کے لئے شاہد کے سامنے صرف وقوع درکار ہے۔نہ کہ متصرف اسے اشہاد باللسان بھی کرےیہاں تك کہ اگر متصرف بعدتصرف شاہد کو شہادت سے منع بھی کردے اصلا موثر نہیںفتح القدیر میں ہے:
الاتفاق علی ان من سمع اقرار رجللہ ان یشہد علیہ بما سمع منہوان لم یشہدہ بل ولو منعہ منہ الشہادۃ بما سمع منہ ۔ اس پراتفاق ہے کہ جس نے کسی شخص کا اقرار سنا تو واس کو یہ حق ہے کہ اس کی سنی بات پر گوہی دے اگر چہ اقرار کرنے والا اس کو گواہ نہ بنائے بلکہ وہ گواہی سے منع کرے تو بھی گواہی دے سکتاہے۔(ت)
اور جب حصول شہادت بے اس قول کیے گوہ ہوجاؤ ثابت ہےتو جو تصرف متصرف بمشہد شہود اس لئے کرے کہ وہ شاہد ہوجائیںقطعا وہ شاہد ہوجائیں گےاور قطعا ان کے لئے اس وصف شہادت کا حصول اس نے
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الشہادات باب الشہادۃ علی الشہادۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۲۷€
#7199 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
چاہا۔اور اسی کے فعل مذکورہ سے یہ وصف ان کو حاصل ہواتو بلاشبہ اس نے دونوں کے لئے تحصیل شہادت کیاور اسی قدر حقیقت اشہاد ہےقال اﷲ تعالی " واشہدوا اذا تبایعتم۪ " خرید وفروخت کرتے وقت اشہاد کرلووقال اﷲ تعالی " و اشہدوا ذوی عدل منکم " جب طلاق دو یا رجعت کرو اپنے میں سے دو ثقہ کوگواہ کرلو۔عالم میں کوئی اس کا قائل نہیں کہ عقود وفسوخ میں گواہ کرتے وقت متصرف کا زبان سے یہ کہنا ضرور ہےکہ گواہ ہوجاؤبلکہ طلب دوم خواہ اول کسی میں نفس وجود شہود ہی ضرور نہیںکما نصوا علیہ فی البدائع والخانیۃ والمحیط واشار الیہ فی الہدایۃ وغیرھا(جیسا کہ اس پر بدائعخانیہ اور محیط کی نصو ص ہیں اور ہدایہ وغیرہ میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ت)بلکہ مقصود شرع وہی دو۲باتیں ہیں ایك طلب فوری ۲دوسری محضراور الثلثۃ میں طلب بتعییناکثر یہ ہوتاہے کہ شفیع کو خبر بیع وہاں پہنچی ہے کہ عاقدین ومبیع سے کچھ حاضر نہیں ناچار دو طلبوں کی حاجت ہوئی کہ محضر کا انتظار کرے تو فوری جاتاہے۔اور فقط فور پر قانع ہو توو محضر نہیں اور جب خبیر عین محضر میں پہنچی تو تعداد طلب کی اصلا حاجت نہیںطلب واحدہی دونوں کا کام دے گا۔
لاجتماع الفور والمحضرمعا والمسئلۃ دوارۃ فی الکتب وقد ذکر نا بعض نصوصہاولا تنس ماقدمنا من معنی الاشہاد ومن حقیقۃ طلب الاشہاد کیلا تزل من ظاھر کثیر من العبارات۔ فوریت اور حاضری دونوں کے اجتماع کی وجہ سےجبکہ یہ مسئلہ کتب میں عام دائر ہے اور ہم نے بعض کتب کی نصوص ذکر کردی ہیں اور ہمارا بیان معنی اشہاد اور طلب کی حقیقت کو نہ بھولنا تاکہ تو بہت سی کتب کی ظاہر عبارات سے نہ پھسلے(ت)
جواب سوال چہارم: صورت مستفسرہ میں ضرور شفعہ باطل ہوجائے گااور قریب کہ چھوڑ کر بعید کی طرف جانے سے استناد محض باطل وخرط القتادمصرواحد میں اس کا جواز اس صورت میں ہے کہ بعید تك جانے میں قریب پر گزرنہ ہواور اگر راہ میں قریب پرگزرااور اسے چھوڑکر بعید کی طرف گیاقطعا شفعہ باطل ہوجائے گا۔اور یہ ضرور دلیل اعراض ہے۔ محیطسرخسی بزازیہخانیہہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے:
لو کان الکل فی مکان حقیقۃ وطلب من اگریہ تمام امور برمحل پائے جائیں اور بعید جگہ والے کو
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۲€
القرآن الکریم ∞۶۵/ ۲€
#7200 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
ابعدھا وترك الاقرب جازفکذا ھذا الا ان یصل الی الاقرب ویذھب الی الابعد فحنیئذ تبطل ۔ طلب کرے اور قریب والے کو چھوڑ دےتو جائز ہے تویہ بھی ایسے ہے ہاں اگر قرب پر پہنچ کر ابعد کی طرف جائے تو اس وقت شفعہ باطل ہوجائے گا۔(ت)
اوریہاں یہی ہوابیرون دربھی اشہاد کرسکتا تھااور اسے چھوڑ کر اند رگیااور پردہ کرایااور شہود کولے گیااس وقت طلب کیتو یہ اقرب پر گزر کر ابعد کی طرف جانا ہوااو ریہ ضرور مبطل شفعہ ہے۔
جوا ب سوال پنجم: بیان مدعی وگواہان مدعی کے ملاحظہ سے جو کچھ نظرفقہی میں واضح ہوتاہے۔ان الفاظ کا ناکافی ہوناہے۔حاضر کی تعیین اشارہ سے ہوتی ہے اور غائب کی تسمیہ سے کہ دار میں ذکر حدودہے۔کتب علماء انھیں احد الوجہین سے مالامال ہیں اور تصریح ہے کہ مجہول کی طلب صحیح نہیں۔خلاصہ وجیز امام کردری میں ہے:
یستحق بطلب وہو نوعان مواثبۃ وقد ذکرہ اشہاد ھو ان یشہد قائلا اطلبہا اوعبارۃ یفہم منہا طلب الدار ویذکر الحدود ۔ شفعہ کا استحقاق طلب سے ہوتاہے اور طلب دو قسم ہے ایك طلب مواثبت جس کا ذکر انھوں نے کردیا ہے اور دوسری قسم طلب اشہاد ہےوہ یہ کہ میں شفعہ طلب کررہاہوںیاکوئی اور عبارت جس سے جس مکان کی طلب سمجھی جائےکہہ کر گواہ بنائے اور مکان کے حدودبھی ذکر کرے۔(ت)
محیط سرخسی وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
انمایصلح طلب الاشہاد بحضرۃ المشتری او البائع والمبیع فیقول عند حضرۃ واحد منہمان فلانا اشتری ھذہ الدار و دارا ویذکر حدودھا الاربعۃ الخ۔ مشتری یا بائع یا مبیع کے پاس یوں کہے فلاں نے یہ مکان خریدا اور اس کی حدود اربعہ کو ذکر کرے تو طلب درست ہوگی الخ (ت)
فتاوی ذخیرہ ونتائج الافکا رمیں ہے:
صورۃ ھذا الطلب ای یحضر الشفیع عند اس طلب اشہاد کی صورت یہ ہے کہ شفیع اس مکان
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۶۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲€
#7201 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الدار ویقول ان فلانا اشتری ھذا الدار اویحضر المشتری ویقول ھذا مشتری من فلان داراالتری حدودہا کذا الخ اوالبائع ویقول ھذا باع من فلان دارا التی حدودھا کذا الخ ۔ کے پاس حاضر ہوکر کہے کہ تحقیق فلاں نے یہ مکان خریدا ہے یا مشتری کے پاس حاضر ہوکر کہے کہ اس نے فلاں حدود اربعہ والا مکان خریدا ہے یا بائع کے پاس حاضر ہوکر کہے اس نے فلاں حدود ولا مکان فروخت کیا ہے۔الخ(ت)
فتاوی قاضیخاں میں ہے:
صورۃ طلب الاشہاد ان یقول الشفیع للمشتری حین لقیہ اطلب منك الشفعۃ فی دار اشتریتہا من فلان التی احد حدودھا کذا والثانی کذا الثالث کذاوالرابع کذا(الی قولہ)ولابد ان یبین انہ شفیع بالشرکۃ او بالجواراوفی الحقوقویبین الحدود لتصیر الدار معلومۃ ۔ طلب اشہاد کی صورت یہ ہے کہ شفیع جب مشتری کے پا س آئے تو کہے میں تجھ سے اس مکان کا شفعہ طلب کرتاہوں جو تو نے فلاں شخص سے خریدا ہے۔اور جس کی حدود میں سے ایك یہ ہے دوسری یہ اور تیسری یہاور چوتھی یہ ہے(اس کے قول)اور ضروری ہے کہ وہ بیان کرے کہ میں شرکت کی بناء پر شفیع ہوں یا پڑوس کی بنا پر شفیع ہوں یا حقوق میں شرکت کی بناء پر شفیع ہوںاور حدود کو بیان کرے تاکہ مکان متعین ہو جائے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
صورۃ ھذا الطلبان یقول ان فلانا اشتری ھذا الدار الخ اس طلب اشہاد کی صور ت یہ ہے کہ فلاں نے یہ مکان خریدا ہے الخ(ت)
یہ محضر دار میں ہےپھر فرمایا:
وعن ابی یوسف یشترط تسمیۃ المبیع وتجدیدہ لان المطالبۃ لاتصح الا اور امام ابویوسف رحمۃ الله تعالی علیہ سے مروی ہے کہ مبیع کانام اور اس کی حدود کا ذکر شرط قراردیا گیا ہے کیونکہ مطالبہ صرف معلوم چیز میں
حوالہ / References نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ فح القدیر کتاب الشفعۃ والخصومۃ فیہا ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/ ۳۱۱€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الشفعۃ فصل فی الطلب ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۶۲€
الہدایۃ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۳۹۱€
#7202 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
فی معلوم ۔ صحیح ہوتاہے۔(ت)
یہ غیبت دار ومحضر احدالعاقدین میں ہے۔ غایۃ البیان علامہ اتقائی میں مختصر امام کرخی رحمہ الله تعالی سے ہے :
یسمی الدار والارض والموضع ویحدو حتی یستوثق لنفسہ ۔ دارزمین اور موضع کانام لے کر ذکر کرے اور اس کی حدود کو بیان کرے تاکہ اپنے لئے معاملہ کو پختہ کرلے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال القدوری فی شرحوانما شرط ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی تسمیۃ المبیع والتحدیدلان المطالبۃ لا تصح الا فی معلومفاذا اشہد علی الطلب ولم یبین المطلوب لم یکن للمطالبۃ اختصاص بمبیع دون مبیعولایتعلق بہا حکم ۔ قدوری نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ الله تعالی نے بیع کانام اور اس کی حدود کو ذکرکرنا شرط قرار دیا ہے کیونکہ مطالبہ معلوم چیز میں ہی صحیح ہوتاہے تو جب اس نے طلب اشہاد کیا اور مطلوب کو نہ بیان کیا تو پھر مطالبہ کا اختصاص کسی ایك مبیع سے نہ ہوسکے گا اور نہ ہی حکم کا تعلق اس سے ہوگا(ت)
یہاں جبکہ دار مشفوعہ سامنےحاضر تھیاشارہ ضرور تھااس کا ذکر مسل بھرمیں کہیں نہیںلہذا حکم وہی چاہئے جوامام قدوری نے فرمایا:لایتعلق بہا حکم(نہ ہی حکم کا تعلق اس سے ہوگا۔ت)ایسی مہمل طلب پر کوئی حکم نہیں ہوسکتادوسرا فتوی مدخلہ مدعی ملاحظہ ہواوہ صحیح نہیں اور اس پر کلام اسی فتوی فقیر سے واضحوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: از ریاست رامپور محلہ مسئولہ جناب غلام حبیب خاں صاحب عرف بدھن میاں صاحب ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ زید وبکر ایك باغ میں نصف نصف کے شریك تھےزید نے اپنا حصہ نصفی بدست خالد بیع کیابکر بحق شفعہ دعویدار ہوا اور
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الشفعۃ باب طلب الشفعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۳۹۲€
غایۃ البیان
غایۃ البیان
#7203 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
بکرنے گواہان طلب مواثبت واشہاد روبروئے عدالت پیش کیںگواہان بکر کا بیان ہے کہ جس وقت مخبر نے حال مبیع کا ظاہر کیا تو بکر گھبراکر کھڑا ہوگیااور فورا اس نے یہ کہا کہ جس قیمت واقعی کو نصف باغی بیع ہوا ہے اسی قیمت کو میں نے بحق شفعہ خود لیا پس یہ امر یعنی بیھٹے سے کھڑے ہوکر طلب مواثبت کرنا داخل تاخیر ہے یانہیںدوم یہ کہ بعد طلب مواثبت بکر کا چھڑی لینے گھر میں جانااور گھر میں سے فورا واپس آکر مشتری کے مکان پر جانا اور وہاں طلب اشہاد بجالانا شرعا تاخیر میں داخل ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جہاں طلب اشہاد کو جانا تھا اس کے بعد اور شفیع کی حالت پرنظر کی جاجائےاگر یہ اتنی دور بے عصا کے نہ جاسکتا تھا تو چھڑی لینے کے لئے گھر میں جانا اور س کے ملنے پر فورا آکر رواناہونا تاخیر نہیںاگر چہ اس کی تلاش میں دس بیس منٹ ہوگئے ہوں کہ امورضرورت شرعا مستثنی ہیںاور اگر تلاش دیر کے بعد کی یا مل جانے کے بعد بلاضرورت دیرلگائی یا سرے سے عصا کی حاجت ہی نہ تھیصرف حسب عادت ہاتھ لینے کے لئے یہ دیر کی تو یہ ضرورتاخیر ہے اور داخل عذر نہیںیہ طلب اشہاد میں تھارہا طلب مواثبت سے پہلے اس کا کھڑا ہوجانا اور بعد قیام الفاظ ملك اداکرناوہ مطلقا مسقط شفعہ وقاطع فورہے۔بلکہ فور درکنار قیام سے مجلس بھی بدل گئیتو روایت ضعیفہ پر بھی شفعہ کی گنجائش نہ رہیہندیہ میں ہے :
طلب الاشہاد مقدربالتمکن من الاشہاد فمتی تمکن من الاشہاد عند حضرۃ واحد من ھذہ الاشیاء ولم یطلب الاشہاد بطلت شفعتہ نفیا للضرر عن المشتری کذا فی محیط السرخسی ۔ طلب اشہاد کسی ایك کے پاس گواہ بنانے کی قدرت پر موقوف ہے تو جب کسی ایك کے پاس اس کو گواہ بنانے کی قدرت ہوئی اور اس نے طلب نہ کی تو اس کا شفعہ باطل ہوجائے گا تاکہ مشتری کے ضرر کو ختم کیا جائےمحیط سرخسی میں ایسے ہی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الشفیع اذا علم فی اللیل ولم یقدر علی الخروج و الاشہاد الی کذا فی الحاوی فی الفتاوی ۔ جب شفیع کو خریداری کا علم رات کو ہو اور جاکر اشہاد کی طلب پر قاد رنہ ہوا الخ حاوی فی الفتاوی میں یوں ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۲€
فتاوی ہندیہ کتاب الشفعۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۷۳€
#7204 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
فتاوی امام اجل قاضی خاں میں ہے:
طلب المواثبۃ فوقتہ فور علم الشفیع بالبیع و روی ھشام عن محمد۔الی۔یشترط الطلب فورالعلم اھ مختصرا۔واﷲ تعالی اعلم۔ طلب مواثبت کا وقت شفیع کو بیع کے علم کے فورا بعد ہے اور ہشام نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ علم کے فورا بعد طلب کو شرط قرر دیا گیا ہے۔اھ مختصرا والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۰: از موضع شوپری تحصیل آنولہ ضلع بریلی مسئولہ واحد علی خاں ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ایك بڑے قطعہ اراضی میں جو صرف ایك زمیندار کی ملکیت ہےاور بہت سے اشخاص بطور رعایا اس اراضی میں اپنے اپنے صرف لاگت سے مکان تیار کرکے رہتے ہیںجب تك وہ آباد رہتے ہیںان سے زمیندار کچھ مزاحمت نہیں کرتااور بروقت بھاگ جانے یا اٹھ جانے کے اس ملبہ وغیرہ کا زمیندار مالك ہوجاتاہےیا بروقت فروخت کڑیتختہاینٹ وغیرہ زمیندار اس قیمت سے چہارم لیتاہے لیکن کسی باشندہ کو زمین فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہےایسی حالت میں جب ایك باشندہ اپنا ملبہ وغیرہ کسی دوسرے باشندے کے ہاتھ فروخت کرےتوتیسرا شخص جو مبیعہ کے ملحق رہتاہے دعوی شفعہ کرتاہےتو یہ دعوی اس کا صحیح ہے یاباطلاورا گر مالك زمین زمیندار مذکورہ دعوی اپنے حق شفعہ کرے تو وہ کرسکتاہے یا نہیں
الجواب:
جبکہ وہ زمین کا مالك نہیںاور تنہا عملہ بیچتاہے۔تو اس میں ہر گز حق شفعہ نہ جا ر کو ہے نہ مالك زمین زمیندار کودرمختار میں ہے:
لاتثبت فی بناء ونخل بیعا قصدا ولومع حق القرار بالاختصارواﷲ تعالی اعلم۔ عمارت اور درخت کی قصدا بیع میں شفعہ ثابت نہ ہوگا خواہ برقرار رکھنے کی شرط بھی رکھی ہو بالاختصار۔والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۱: از شہر بریلی فراشی محلہ مسئولہ مقصود علی خاں ۶ محرم ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بعمر ۱۷ سال ہےوہ شرائط شفعہ طلب کرسکتاہے یا نہیں اور اس کو اختیار طلب شفعہ کا شرعا حاصل ہے یانہیں بینو توجروا
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الشفعۃ فصل فی الطلب ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۸۶۰€
درمختار کتاب الشفعۃ باب ماتثبت ھی فیہ اولا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۱۴€
#7205 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
الجواب:
شفعہ طلب کرسکتاہے اور اگر اس انتظارمیں کہ مجھے طلب کااختیار ہے یانہیں طلب نہ کیا تو اب نہیں کرسکتا لفوات المواثبۃ (مواثبت کے فوت ہونے کی وجہ سے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲: زاز موضع ریونڈڈاك خانہ مونڈہ ضلع مرادآباد مسئولہ محمد اسمعیل خاں کارندہ ۱۴ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عمرو نے اپنا مکان زید کے ہاتھ فروخت کیازید اس مکان میں خریدار کانہ تو شفعہ کررکھتا تھا اورنہ اس مکان پر قابض ہے اور نہ اس کے پاس کرایہ پر ہے بخلاف زید کے بکر کا مکان عمرو کے اس مکان فروخت شدہ کے درمیان دیوار کے نیچے واقع ہے۔ایك درمیانی دیوارعمرو کے مکان اور بکر کے مکان کو قطع کرتی ہے۔بکر اس کا شفیع ہے اور کچھ ماہ پیشتر سے یہ مکان بکر نے کرایہ پرلے کر قبضہ کررکھاہے۔اور اس نے جامع مسجد کے پیش امام صاحب اور اکثر مسلمانوں کے روبرو اس زید والے مکان کے خریدلینے کا اعلان کیا ہے۔زید والے مکان میں کئی حصہ دار ہیں

منجملہ ان حصہ داروں کے کہ جو آپس میں بھائی بہن کارشتہ رکھتے ہیں ایك حصہ دار کا معاہدہ ہوچکا ہے کہ مکان بکر کو دیا جائے گا اور اطمینان کے لئے پیشتر بذریعہ کرایہ نامہ قبضہ کرایا گیا ہےزید نے یہ مکان جامع مسجد کے لئے چندہ فراہم کرکے خرید کیا ہے۔ جامع مسجد اس مکان سے چارمکان درمیان میں دے کر واقع ہےمسجدنہ تو بکر کے مقابلہ میں شفعہ رکھتی ہےنہ مسجد کے کسی صرف کا یہ مکان ہے۔سنا جاتا ہے کہ ایك صاحب نے کہ اپنا مکان جامع مسجد کی بلا قیمت دیتے ہیںیہ شرط کی ہے کہ اگر وہ مکان جو بکر کے پاس بطور کرایہ کے ہےاور جس میں وہ شفیع ہے بطورقیمت مسجد کے نام خریدلیا جائے گا تو میں بھی بلاقیمت مکان دے دوں گا۔غالبا بکر کی ایذا رسانی اور تکلیف مد نظر رکھتے ہوئے یہ شرط لگائی گئی ہےبکر کو اول تو مکان دیا بھی نہیں جاتا اور اگر بکر اہت دینا گوارا کیا جاتاہے تو قیمت بےحدا ضافہ کرکے دینا بیان کیا جاتاہے۔بکر اضافہ قیمت کو بالکل گوارانہیں کرتا او وہ ہر گز اس بات پر رضامند نہیں ہےکہ کچھ بھی اضافہ دے
#7206 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
ایسی صورت میں کیا مسجد کو ایسی خریداری جائز ہےاور زید کا اصلی قیمت سے اضافہ لینا کس حد تك داخل حسنات ہوگا۔اور زید کو ایسا کرنے میں کچھ ثواب مل سکتا ہے جبکہ مکان کے شفیع کا حق باطل کیا جاکر مکان خریدا جائےاور پھر مسجد کی منفعت کے لئے قیمت اصلی سے زائد بڑھا کر دینا گوارا کیا جائےباہم مسلمانوں میں اس بارے میں اتفاق نہیںاکثر اس مکان کی خریداری کے خلاف ہیں کیونکہ مسجد ایك سوکئی روپیہ کی مقروض ہے وہ ادا ہونا چاہئےپھر شامیانہ ادھر میں پڑے ہیں جس کے نہ ہونے سے نمازیوں کو تکلیف ہےایك مکان عین مسجد کے فرش پر واقع ہے۔اس کو خریدنہیں کیا جاتاہے۔اس عمرو والے مکان سے پہلے کچھ دن ایك مکان اور مسجد کے سامنے کا فروخت ہوگیا وہ نہیں خریدکیا گیا مسجد کے بعض ممبران کی رائے اس مکان کی خریداری کی نہیںمسجد کے پیش امام کو معلوم تھا کہ یہ مکان بکر نے خریداری کی نیت سے کرایہ پر لیا ہے۔او ربکر کو تنگی مکان کی سخت تکلیف ہے۔جواب براہ کرم پشت عریضہ ہذا پر مہر وغیرہ سے مرتب فرماکر مرحمت فرمایا جائےجواب کے لئے پتہ یہ ہوگا: بمقام موضع ریونڈ ڈاکخانہ مونڈہضلع مرادآبادڈیرہ زمیندارمیں پہنچ کر محمد اسمعیل خاں کارندہ کو ملے۔
الجواب:
قبل بیع شفیع کا کوئی حق نہیںنہ پہلے سے اس کے پاس کرایہ پر ہونا۔یا اس کا اعلان کرنا کہ میں اس مکان کو خریدوں گا۔یا پیشتر کسی حصہ دار سے معاہدہ ہوجانااسے کوئی ترجیح دے سکتاہےبعد بیع خبر پاتے ہی اگر طلب مواثبت وطلب اشہاد بجالائے تو اس وقت ان کا حق ثابت ہوتاہے۔اور اس حالت میں اسے اضافہ کی کیا ضرورتجنتے کو بیع ہوا اتنے ہی میں لے گایہاں سوال میں یہ ہے کہ بکر سے اضافہ مانگتے ہیں اور وہ اضافہ پر راضی نہیںیہ اگریوں ہے کہ وہ طلب مذکور بجانہ لایایا اس کے بعدخریدنا چاہااور اضافہ پر راضی نہ ہوا تو اس کا کوئی حق نہ رہااور اسے نہ دینا اصلا حکم نہیں۔اور دوسرے کا شفیع نہ ہونا اسے کچھ فائدہ نہ دے گا جبکہ خود اس کا شفعہ نہ رہاباقی جو باتیں سوال میں لکھی ہیں کہ دوسرے نے اس مکان کی خریداری پر اپنا مکان مفت دینے کوکہایا مسجد پر قرض ہےیا شامیانے ادھوری ہیں یا قریب کا مکان پہلے بکانہ خریدااب موجود ہےاسے نہیں لیا جاتابعض ممبروں کی رائے اس کی خریداری کی نہ تھیامام کو بکر کاارادہ معلوم تھابکر کو مکان کی تکلیف ہےسب بے علاقہ باتیں ہیںچندہ چندہ دہندوں کی ملك رہتاہے۔اگر انھوں نے سپرد متولی مسجد نہ کردیا تھا اس سے پہلے مکان مول لےکر نذر مسجدکیاجب تویہ سوال ہی متعلق نہیں کہ اصل قیمت سے زیادہ لینے میں کوئی گناہ ہوا خریدار کو اختیارہے جتنے پر چاہے رضا دے۔
قال اﷲ تعالی " الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " ۔ الله تعالی نے فرمایا:مگر یہ کہ کوئی سودا تمھاری باہمی رضا مندی کاہو۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴/ ۲۹€
#7207 · کتاب الشفعۃ (شفعہ کا بیان)
او ر اگر سپرد متولی مسجد کردیامتولی نے اصل قیمت سے زائد کو خریداتوا گر زیادت فاحش ہے اور اس میں کوئی مصلحت نہیں راجعہ مسجد کی نہیںتو بیشك وہ گنہ گار ہوا اور تاوان مسجد کو دے گا۔یا بیع فسخ کی جائے گیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: از ضلع شاہجہان پور ڈاکخانہ جگرام پور گورہ رائے پور مسئولہ علی حسن خاں صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زمین بیچنے کا ارادہ کیا توعمرو کو کہلا بھیجاعمرو نے کل تین ہزار روپیہ اس زمین کا لگایازیادہ سے انکار کیا اس پر بکر کے ہاتھ زید نے اپنی زمین مذکورہ فروخت کردی پانچ ہزار پراب عمرو بذریعہ حق شفعہ اس زمین کو لینا چاہتاہےدونوں کایعنی عمرو بکرکا زید کی زمین سے دہرا ملا ہےاور عمرو نے بیع زمین مذکور کے وقت سے بہت روز کے بعد اپنی ناخوشی ظاہر کیایسی صورت میں عمرو کو حق شفعہ اس زمین مبیع کا حاصل ہے۔اور بیع اول باطل ہوجائے گی یا اس کے برعکس بینوا توجروا
الجواب:
بیع سے پہلے عمرو کاخریداری سے انکار کردینا اس کے حق شفعہ کو ساقط نہیں کرتااگر بکر کے ہاتھ بیع کی خبر سنتے ہی عمرو طالب شفعہ ہوا اور اپنی طلب پر گواہ حسب قاعدہ کرے تو اسے دعوی شفعہ پہنچتاہے۔اور اگر دیر کے بعد ناراضی ظاہر کی اور طالب شفعہ ہوا تو اس کا حق ساقط ہوگیاوالله تعالی اعلم۔
#7208 · کتاب القسمۃ (تقسیم کا بیان)
کتاب القسمۃ
(تقسیم کا بیان)

مسئلہ ۴۴: ا ز پیلی بھیت یکم جمادی الاولی ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی اکبر نے انتقال کیاچار پسر دوست محمدحفیظ اللہکریم اللہرحمت اللہدو دخترجواںموتی وارث ہوئےکریم اﷲ نے وفات پائیاس کا بیٹا ننھو ہے۔رحمت اﷲ فوت ہوااس کی بیٹیاں اعجوبہ ومحمدی ہیں دوست محمدحفیظ اللہننھو نے جائداد متروکہ مشترکہ کی تقسیم کے لئے زید کوپنچ مقر رکیا مگر جوان موتی عجوبہمحمدی اس پنچایت میں اصلا شامل نہ تھیںپنچ نے تمام جائداد متروکہ جس میں ان سب کے حصص شرعیہ تھےصرف انھیں تین وارثوں پر جنھوں نے اسے پنچ کیا تھا تقسیم کردیاور پنچایت نامہ میں لکھ دیا کہ"حصہ شرعی دختران اکبر اور دختران رحمت اﷲ کے ہر سہ فریق بقدر رسدی ذمہ دار ودیندار رہیں گےوہ چاروں عورتیں اس تقسیم پر راضی نہیںاس صورت میں یہ پنچایت صحیح و نافذ ہے یانہیں اور پنچ نے جو تقسیم کی وہ بحال رہے گی یا توڑ دی جائے گی بینوا توجروا
الجواب:
یہ پنچایت محض مہمل اور تقسیم بیہودہ ومختل ہے۔پنچ کوباقی وارثوں کے حصص میں تصرف کا کس نے اختیار دیا تھاحکم پنچ کا صرف انھیں تك ہوتاہے جو اسے پنچ کریںباقی کسی پر کچھ ولایت نہیں رکھتاہدایہ میں ہے:
حکمہ لایلزمہ لعدم التحکیم منہ ۔ اس کا حکم لازم نہ ہوگا کیونکہ اس کی طرف سے تحکیم نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب ادب القاضی کتاب التحکیم ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۳€
#7209 · کتاب القسمۃ (تقسیم کا بیان)
تقسیم کے معنی یہ ہیں کہ حصے جدا جدا ہوجائیںیہاں جدائی نہ ہوئی کہ چاروں عورتوں کے حصے سب میں مختلط ہیںتو یہ تقسیم شرعا نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
باستحقاق بعض شائع ظہر شریك ثالث لہما و القسمۃ بدون رضاہ باطلۃ ۔ چیز کے کچھ شائع میں استحقاق پائے جانے سے ایك تیسرا شریك بھی پہلے دونوں کے ساتھ ظاہر ہوا جبکہ شریك کی رضا کے بغیر تقسیم باطل ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
باستحقاق جزء شائع ینعدم معنی القسمۃ وھو الافراز ۔ شائع چیز میں استحقاق کی وجہ سے تقسیم کا معنی وقت ہوجاتاہے اور تقسیم یہ جدا کرنا ہوتاہے۔(ت)
علماء فرماتے ہیںاگر چند ورثہ قاضی کے یہاں رجوع لائیں کہ مورث نے انتقال کیا اور یہ ترکہ چھوڑاہم میں تقسیم ہوجائےاور گواہی دیں کہ ہمارے سوا کوئی وارث نہیںقاضی تقسیم کردےپھراوروارث ظاہر ہو جو کل متروکہ میں سے کسی حصہ شائعہ مثل سدس یا ثمن وغیرہ کا مستحق ہوتو بالاجماع وہ تقسیم توڑدی جائیگیہدایہ میں ہے:
لو استحق نصیب شائع فی الکل تفسح بالاتفاق ۔ اگر کل میں سے کسی شائع حصہ کا کوئی مستحق ظاہر ہوا تو بالاتفاق تقسیم فسخ ہوجائے گی۔(ت)
اسی میں ہے:
لانہ لوبقیت القسمۃ التضرر الثالث بتفرق نصیبہ فی النصیبین ۔ کیونکہ اگرتقسیم کو باقی رکھا جائے تو تیسرے کو نقصان ہوگا بوجہ ایں کہ اس کا حصہ باقی دو حصوں میں متفرق ہوگیا۔ (ت)
جبکہ قاضی کی تقسیم جس کی ولایت عموم رکھتی ہے۔اور وہ بھی اس طرح کہ اس نے دانستہ کسی وارث کو ضررنہ پہنچایا تھا بعدظہور وارث دیگر کے یقینا فسخ کی جاتی ہے تو پنچ کی تقسیم جس کی ولایت فقط اس کے پنچ کرنے والوں پر ہے او روہ بھی یوں کہ اس نے دیدہ دانستہ اور وارثوں کے ہوتے ہوئے ترکہ صرف تین پر بانٹ دیااور باقیوں کو حصہ رسدہر ایك کے حصہ میں ٹکڑا ٹکڑا لینے کا مستحق ٹھہرایاکیونکہ قابل تقسیم ہوسکتی ہے پس صور ت مستفسرہ میں واجب ہے کہ وہ پنچایت رد کی جائے اور وہ نارواتقسیم توڑ دی جائےاور از سر نو سب وارثوں پر تقسیم شرعی عمل میں آئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References الہدایہ کتاب القسمۃ باب دعوی الغلط فی القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۹€
الہدایہ کتاب القسمۃ باب دعوی الغلط فی القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۹€
الہدایہ کتاب القسمۃ باب دعوی الغلط فی القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۸€
الہدایہ کتاب القسمۃ باب دعوی الغلط فی القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۹€
#7210 · کتاب القسمۃ (تقسیم کا بیان)
مسئلہ ۴۵: از ریاست رامپور محلہ کنڈہ مسئولہ جناب محمد سعادت علی خان صاحب ۲۶ شوال ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص چند گھروں کے جو ایك شہر میں ہیں بالاشتراك مالك ہیںایك حصہ دار ان گھروں میں سے اپنے حصہ کی تقسیم چاہتاہے۔ا ور وہ اپنے حصہ سے بعد علیحدہ ہونے کے بھی نفع اٹھا سکتاہےاور وہ چاہتاہے کہ ہر گھر میں سے مجھ کو علیحدہ حصہ ملےایسی حالت میں ازروئے شرع شریف سب گھروں کی یکجائی تقسیم کی جائےگی یا ہر گھر کی جداگانہ تقسیم ہوگی بینوا توجروا
الجواب:
اگر ہر مکان میں اس کا حصہ قابل اتنفاع ہے تو ہر مکان سے جدا جدا اسے حصہ دیا جائے گاہر گھر میں علیحدہ تقسیم ہوگا درمختار میں ہے:
دورمشترکہ قسم کل وحدھا منفردۃ مطلقا ولو متلازقۃ اوفی محلتین او مصرین ۔واﷲ تعالی اعلم۔ چند مشترکہ مکانات میں ہر ایك مکان کو جدا جدا تقسیم کیا جائے گا اگرچہ وہ آپس میں ملے ہوئے ہوں یا دو محلوں میں یا دو شہروں میں میں ہوںواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب القسمۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۰€
#7211 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
کتاب المزارعۃ
(مزارعت کا بیان)

مسئلہ ۴۶ تا۴۹: مسئولہ محمد مبارك الله از پیلسپانہ ضلع مرادآباد ۲۶ رجب ۱۳۲۹ھ
(۱)شرع شریف کے نزدیك کا شتکار کوئی حق موروثیت جیسے قانون انگریزی کے اندر ہے کہ جو شخص بارہ سال سے زائد ایك زمین کو کاشت کرے تو زمیندار کو پھر کوئی مجاز بیدخلی وغیرہ کا نہیں رہتاحاصل ہے یا نہیں اگر ہے تو خیر اور حق۔
(۲)نہیں تو یہ کاشتکار حلف تلف اور مظالم ہے یانہیں
(۳)اور اس وقت یہ کاشتکار جو زمین کو نہیں چھوڑتا ہےاور لگان حیثیت زمین سے کم دیتاہےاور زمیندار بحیثیت قانون انگریزی دعوی سے مجبور ہےتو یہ کاشکتار متبع قانون انگریز ی کا اور مقدم ومرجح قانون کاحکم شریعت پر ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اس کا کیاحکم ہے اور یہ ظالم اور زمیندار مظلوم ہوایا نہیں
(۴)اور اگر کوئی زمیندار بعد انکار کاشتکار کے دعوی بے دخلی مجبورا دائر کرے تو صرف اس کا جو کچھ کچہری میں ہوا اس کے لینے کا مستحق ہے یانہیں
الجواب:
مجرد مرور مدت سے کچھ نہیں ہوتا اگرچہ بیس برس کاشت کرےجب مدت اجارہ ختم ہوگئی شرعا
#7212 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
اس سے نکال کر دوسرے کو دینا مطلقا جائز ہے خواہ زمین مملوکہ ہویا موقوفیا سلطانیردالمحتارمیں اوائل بیوع میں ہے:
امامجرد وضع الیدعلی الدکان ونحوہا و کونہ یستاجرہا عدۃ سنین بدون شیئ مماذکر (او یاتی) فہو غیر معتبرفللموجر اخراجہا من یدہ اذا مضت مدۃ اجارتہ وایجارھا لغیرہ کما اوضحناہ فی رسالتنا تحریر العبارۃ ۔ مثلا دکان پرخالی قبضہ رکھنااورکئی سال سے اجارہ پر لیاہونا مذکورہ یا آیندہ ذکر ہونے والی اشیاء کے بغیر ہوتو وہ غیر معتبرہے تو اجارہ پر دینے والے کو مدت اجارہ ختم ہونے کے بعد قبضہ کو چھڑانے اور دسرے کو اجارہ پر دینے کا حق ہے جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالہ تحریر العبارۃ میں واضح کردیا ہے۔(ت)
ہاں اگر زمین ناقابل زراعت تھی اس نے اسے بنایا کمایااس میں چوگزی وغیرہ کھودے یا اس میں اپنی دوسری زمین سے لاکر مٹی بچھائی یا پیڑ لگائے یا کوئی عمارت بنائی
ویقال للاول الکرابوالاخر دھو مااذا اضاف فیہا شیئا من ملکہ کتراب وغرس وبناء الکردار و القبۃواذا فعل ھذ افی الحوانیت یمسی جدکا او کدکافان کان ممالاینقل ویرکب للقرار کالبنا و الاغلاقیسمی سکنی والکل یقال لہ مسکۃ ومشد مسکۃوھناك اطلاقا ت اخرکما یعلم من مساقاۃ العقود وبیوع ابن عابدین۔ پہلی کو کراباور دوسری کو دھوم کہتے ہیں اور اس میں اپنی کسی ملکیت کا اضافہ کیا مثلا مٹی ڈالییا پودے لگائے دالان اور قبہ بنایا اور اگر یہ تصرفات دکانوں میں کئے تو اسے جدك یا کدکیا مشد مسکد کہتے ہیںاور دیگر اطلاقات بھی یہاں ہیں جیسا کہ عقود الدریہ کے باب مساقاۃ اور ابن عابدین کے بیوع سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔(ت)
تواگر وہ زمین مملوکہ نہیں بلکہ سلطانی ہے یعنی میت المال کیجسے یہاں سرکاری کہتے ہیںیاوقف ہے توالبتہ ان کاروائیوں سے اس کے لئے حق قرار ثابت ہوگا کہ بلاوجہ شرعی وہ زمین کبھی اس کے قبضہ سے نہ نکالی جائے گیاور وہ مرجائے تو اس کا بیٹا ا س کے قائم مقام ہوگا۔مع تفاصیل مذکورہ فی الفقہجامع الفصولیں وغیرہ میں ہے:
بنی المستاجر اوغرس فی ارض الوقف اجارہ پرلینے والے نے وقف زمین میں تعمیر کی یا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۷€
#7213 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
صارلہ فیہا حق القراروھو المسمی بالکردارلہ الاستبقاء باجرالمثل ۔ پودے لگائے تو اس کو اس زمین میں برقرار رہنے کا حق ہوگا اور اس کو"کردار"کہتے ہیں اس کرایہ دار کو مثلی اجرت پر باقی رکھنے کا حق ہوگا۔(ت)
خیریہ میں ہے:
وقد صرح علمائنا بان لصاحب الکردار حق القرار وھو ان یحدث المزارع والمستاجر فی الارض بناء اوغرسااوکبسا بالتراب باذن الواقف او باذن الناظرفتبقی فی یدہ ۔ اورہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ"کردار"والے کو برقرار رہنے کا حق ہے اور"کردار"یہ ہے کہ مزارع یا مستاجر زمین میں کوئی تعمیر کرے یا پودے لگائے یا مٹی بھرےواقف یا متنظم کی اجازت سے ایسا کیا ہو تو اس کو قبضہ برقرار رکھنے کا حق ہے۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
اذا کان لوقف جامع ارض سلیخۃ معطلۃ غیر صالحۃ للزارعۃفاذن متولی الوقف لزیدبحرثہا و صلاحہا وکبسہاو زراعتہا لیدفع قسمہا لجہۃ الوقف ففعل زید ذلك کلہ ثبت لہ حق القرارفیہا تبقی بیدہ باجر مثلہااوبان یؤدی قسمہا المتصارف لجہۃ الوقف المذکور ۔ اگر وقف زمین افتادہ معطل جو زراعت کے قابل نہ ہو تو وقف کے متولی نے زید کو آباد کرنے اور درست کرنےمٹی ڈالنے اور کاشت کرنے کی اجازت دی کہ وہ وقف کی مدمیں حصہ دے تو زید نےیہ تمام کاروائی کردی تو اس کو زمین پر قرار کا حق حاصل ہوگا اور مثلی اجرت پر اسی کے قبضہ میں رہے گیاور وہ متعارف حصہ وقف کی مد میں دیتارہے گا۔(ت)
ہاں اس کے سبب وقف پر اندیشہ ہویا اجرت نفس زمین کی بڑھ جائےاور یہ اضافہ پر راضی نہ ہوتو بیدخل کردیا جائے گایونہی اگر تین سال زمین معطل چھوڑ دے گا اس کا حق قرارجاتارہے گا بیوع ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ بحوالہ جامع الفصولین والقنیۃ والخلاصۃ وغیرہا کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۷۹€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ جامع الفصولین والقنیۃ والخلاصۃ وغیرہا کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۷۹€
العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۲۲€
#7214 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
فی اوقات الخصاف حانوت اصلہ وقف و عمارتہ لرجلوھو لایرضی ان یستاجر ارضہ باجر المثلی قالو ان کانت العمارۃ بحیث لو رفعت یستاجر الاصل باکثر مما یستاجر صاحب البناکلف رفعہ ویؤجر من غیرہوالایترك فی یدہ بذلك الاجر اھ یفید انہ احق من غیرہ حیث کان مایدفعہ اجر المثل۔ خصاف کے باب اوقات میں ہے کہ دکان کی زمین وقف ہے اور اس کی عمارت کسی شخص کی ہے اور وہ اس زمین کی مثلی اجرت پر راضی نہیں ہوتا توعلماء نے فرمایا کہ متولی کو چاہئے کہ اگر عمارت اٹھائی جاسکتی ہو تو زمین کسی دوسرے کو پہلے کی نسبت زیادہ اجرت پر دے دے اور پہلے کو عمارت اکھاڑنے پر مجبور کرے اور دوسرے کو اجرت پر دے دےاور اگر عمارت اکھاڑنا ممکن نہ ہو تو پہلے کے پاس اسی اجرت پررہنے دے۔ (ت)
اسی کے وقف میں ہے:
حیث کان یدفع اجرۃ مثلہا لم یوجد ضرر علی الوقف فتترك فی یدہ فلومات کان لورثتہ الاستبقاء الااذا کان فیہ ضرر علی الوقف بوجہ مابان کان ھو او وارثہ مفلسااوسئی المعاملۃاومتغلبا یخشی علی الوقف منہ اوغیر منہ او غیر ذلك من انواع الضرر ۔ اگر مستاجر مثل اجرت دیتاہے اور وقف کو ضرور نہ ہو تو اسی کے پاس رہنے دی جائے اور اگروہ فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء کو باقی رکھنے کا حق ہوگا ہاں اگر وقف کو کسی طرح اس میں ضررہو مثلا دکان بوسیدہ ہے اور ورثاء مفلس ہوں یا وہ لاپرواہ ہو یا وہ غلبہ پانےکی کوشش میں ہوں اس سے وقف کو خطرہ ہو یا کوئی کسی قسم کا ضرر ہو تو واپس لے(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
سئل فی ذی مسکۃ فی ارض ترکھا ثلث سنوات اختیارا منہ بلاون عزر شرعیفہل سقطت مسکتہ الجواب سقط حقہ بالترك ان سے کرایہ دار کی بنائی عمارت کے متعلق سوال ہوا کہ وہ کریہ دارتین سال سے اپنی مرضی پر دکان کو چھوڑ رکھے بغیر عذر شرعی کے تو کیا اس سے عمارت پر اس کا حق ختم ہوجائے گا جواب
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۶€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۱€
#7215 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
المذکور کما افتی بہ الخیرالرملی والشیخ اسمعیل ویاتی مثلہ عن المعروضات ۔ یہ ہے کہ ہاں اس سے اس عمارت پر مبنی حق ختم ہوجائے گا جیسا کہ خیرالدین رملی اور شیخ اسمعیل نے یہ فتوی دیاہے اور معروضات سے اس کی مثل آئیگا(ت)
اور اگر زمین مملوك ہے۔جیسے عام دیہات کی زمین کہ زمیندار کی ملك ہوتی ہے تو اس میں شرعا ہر گز کبھی کسی طرح کاشت کار کو حق قرار ثابت نہ ہوگا اگر چہ اس نے اس میں باغ بھی لگایاعمارت بھی بنائی ہوجب اجارہ یعنی اس کے پٹہ کی مدت ختم ہو گئی زمیندار کو اختیار ہوگا کہ زمین اس سے نکال لے اور اس کے درخت وعمارت کی نسبت اسے حکم دے کہ زمین خالی کردے اور درختوں کے کاٹنے عمارت کے کھودنے میں زمین کا زیادہ نقصان دیکھے تو کٹنے کھودنے کے بعد جو قیمت ان درختوں اور عمارت کی ہو اس سے کٹوانے کھدوانے کی اجرت مجرا کرکے کاشتکار کو دے دےاور پیڑاو رعمارت خود لے لےاور اگر کاشت کار سے کوئی مدت معین نہیں ٹھہرییونہی سال بسال کاشت کرتا ہے تو ہر ختم سال پر زمیندار کو زمین خالی کرانے اور آئندہ اسے زراعت کی ممانعت کردینے کا اختیار ہوگا اگرچہ کاشت کرتے پچاس برس گزر گئے ہوںعقود ریہ میں ہے:
قال فی التجنیس رجل اشتری من رجل سکنی لہ فی حانوت رجل اخرمرکبا بمال معلوم لصاحب الحانوت ان یکلف المشتری رفع السکنی وان کان علی المشتری ضررلانہ شغل مبلکہ ۔ تجنیس میں فرمایا کہ ایك شخص نے دوسرے شخص کی دکان میں رہائشی انتظام کررکھا تھا تو اس رہائشی شخص سے کسی تیسرے شخص نے اس کا وہ رہائشی انتظام خرید لیا کچھ مال کے بدلے قبضہ لیا تو دکان کے مالك کو حق ہے کہ وہ اس مشتری کو رہائش اٹھانے پر مجبور کردے اگر چہ مشتری کو ضرر بھی ہو کیونکہ مشتری نے اس کی ملکیت کو مشغول کررکھاہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
لکن اذا کان ہذ الجدك المسمی بالمسکنے قائما فی ارض وقففہو من قبیل مسألۃ البناء اوالغرس فی الارض المحتکرۃ لصاحب الاستبقاء باجرۃ مثل الارض لیکن یہ جدك جس کو سکنی کہتے ہیں اگر وقف زمین میں ہو تو ہو کرایہ کی زمین پر عمارت اور پودے لگانے کے مسئلہ کی طرح ہے ا سے اگر وقف زمیں کو ضرر نہ ہو تو اس کو مثلی اجرت کے ساتھ زمین
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۲۲€۲
العقود الدریۃ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/۲۱۸€
#7216 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
حیث لاضرر علی الوقف وان ابی الناظر نظرا للجامنبی علی مامشی علیہ فی متن التنویروافتی بہ المؤلف تبعا للخیر الرملیوقدمنا الکلام علیہ فی کتاب الاجاراتولاینا فیہ مافی التجنیس من ان لصاحب الحانوت ان یکفلہ رفعہلان ذلك فی الحانوت الملکوالفرق ان الملك قد یمتنع صاحبہ عن ایجارہویرید ان یسکنہ بنفسہ اویبیعہاویعطلہ بخلاف الموقوف المعد للایجارفانہ لیس للناظر الا ان یوجرہ فایجارہ من ذی الید باجرۃ مثلہ اولی من ایجارہ من اجنبی لما فیہ من النظر للوقف ولذی الید ۔ کو باقی رکھنے کا حق ہوگا اگرچہ وقف کانگران انکا رکرے تاکہ دونوں جانب کی رعایت ہوسکےمتن تنویر کے بیان پر بنا کرتے ہوئے اور اس پر مؤلف نے خیرالدین رملی کی اتباع میں فتوی دیا ہے اس پر ہم نے کتاب اجارات میں کلام کردیا ہے۔اور یہ بیان تجنیس میں مذکور کے منافی نہیں کہ دکانوں کے مالك کو حق ہے کہ وہ تجاوزات کو اکھاڑنے پرمجبور کرے کیونکہ تجنیس کا یہ بیان نجی ملکیت کے متعلق ہےوجہ فرق ہےکہ نجی مالك کبھی اپنی ذاتی رہائش یا فروخت یا فارغ رکھنے کے لئے کرایہ پر نہیں دینا چاہتا بخلاف وقف شدہ زمین کہ جس کو کرایہ پر دینے کے لئے ہی تیار کیاگیا ہے تو نگران کو کرایہ کے بغیر چارہ نہیں ہے تو کسی اجنبی کو دینے کی نسبت قابض کو مثلی اجرت دینا اس کے لئے بہتر ہوگا لہذا اس میں وقف اور قابض دونوں کی رعایت ہے۔(ت)
فتاوی خیریہ کتاب المزارعۃ میں ہے:
لیس لصاحب التیمار رفع ایدیہم عنہاو لاقلع اشجارہماذا المفوض الیہ من السلطان تناول الخراج ولیس لہ ملك فیہا حتی یملك نزع ید مزارعیہا الذین صارلم فیہا کردار بغرس للاشجار والتصرف الکائن منہم فی سائر الاعصار ۔باختصار سرکاری زمین کے نگران کویہ حق نہیں ہے کہ وہ کرایہ داروں کو ان درختوں سے بے دخل کرے او رنہ ہی وہ درختوں کو کاٹ سکتاہے کیونکہ سلطان کی طرف سے اس نگران کو صرف خراج وصول کرنے کا اختیار ہے نہ کہ اس کو مالکانہ اختیارات ہیں تاکہ وہ مزارعین کا جن کا وہاں درخت لگانے میں دخل ہے ان کو وہاں سے بے دخل کرے جبکہ ایسی زمینوں میں مزارعین کو درخت لگانے کا عام شہروں میں رواج ہے باختصار (ت)
حوالہ / References العقود الدریہ کتاب المساقات باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۲۱۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب المزارعۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۶۷€
#7217 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
ردالمحتار کتاب الاجارہ میں قول مصنف:
ردالمحتار کتاب الاجارہ میں قول مصنف:لواستاجر ارض وقفوغرس فیھا ثم مضت مدۃ الاجارۃ فللمستاجر استبقاء ھا باجرالمثلی اذالم یکن فی ذلك ضرر ولو ابی الموقوف علیہم الاالقلع۔لیس لہم ذلك ۔ اگر کسی نے وقف زمین کو کرایہ پرلے کر وہاں پودے لگائے پھر کچھ مدت اجارہ جاری رہا تو اس کو مثلی اجرت پر اس اجارہ کو باقی رکھنے کا حق ہے بشرطیکہ اس سے ضرر نہ ہو اور اگر نگران ان کو ہٹانے پر بضد ہو تو اس کو یہ حق نہیں۔(ت)
کے تحت فرمایا:
قید بالوقف لما فی الخیریۃ عن حاوی الزاھدی عن الاسرار من قولہ بخلاف مااذااستاجر ارضا ملکا لیس للمستاجر ان یستبقیہا کذلك ان ابی المالك الاالقلعبل یکلفہ علی ذلکالا اذا کانت قیمۃ الغراس اکثر من قیمۃ الارضفیضمن المستاجر قیمۃ الارض فیضمن المستاجر قیمۃ الارض للمالک فیکون الاغراس والارض للغارسوفی العکس یضمن المالك قیمۃ الاغراس فتکون الارض و الاشجارلہوکذا الحکم فی العاریۃ اھ مافی الشامی۔ اقول:واستنثناءہ مااذا اکانت قیمۃ مصنف نے وقف کے ساتھ مقید اس سبب سے جس کو خیریہ نے حاوی الزاہدی سے اس نے الاسرار سے نقل کیا یہ قول کہ بخلاف جب وہ نجی ملکیت کو اجارہ پرلے تو مستاجر کو اس دخل کی بنا پر اس زمین کو باقی رکھنے کا حق نہیں ہے جبکہ ملك ان درختوں کو اکھاڑدینے پر مجبور کرے بلکہ مالك اس کو اس پر مجبور کرسکتاہے ہاں اگر درختوں کی قیمت زمین کی قیمت سے زائد ہو تو پھر مستاجر زمین کی قیمت کا ضمان مالك کو دے کر درختوں اور زمین کا خود مالك بن جائے گااور اگر معاملہ بالعکس ہو تو پھر مالك درخت اکھاڑ دینے کا ضامن بنے گا اور درختوں اور زمین کا مالك ہوجائے گااور عاریتا لی ہوئی زمین کاحکم بھی یہی ہے اھ شامی کا بیان ختم ہوا۔(ت)اقول:(میں کہتاہوں)اس کا درختوں کی قیمت کا
حوالہ / References درمختار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۳€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹€
#7218 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
الغراس اکثر مبنی علی مسألۃ غصب الساحۃ بالمھملۃ وفیہا معترك عظیموالارجع عندنا انہ لایتملك الارض کرھا وان کانت قیمۃ بنائہ وغرسہ اکثرلقول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیس لعرق ظالم حق ۔ زمین کی قیمت سے زائد ہونے کو مالك کے اختیار سے مستثنی کرنا یہ خالی زمین کو غصب کرنے پر مبنی ہے اس میں عظیم معرکہ آرائی ہے جبکہ ہمارے ہاں ارجح یہ ہے کہ مستاجر زمین کا جبرا مالك نہیں بن سکتا اگر چہ عمارت اور پودوں کی قیمت زمین سے زائد ہو کیونکہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ظالمانہ دخل کا کوئی حق نہیں ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
فان مضت المدۃ فلعہا وسلمہا فارغۃ الا ان یغرم لہ الموجر قیمۃ البناء و الغرس مقلوعا ویتملکہقال فی البحرافاد انہ لایلزمہ القلع ولو رضی المؤجر بدفع القیمۃلکن ان کانت تنقص یتملکہا جبرا علی المستاجر ولافبر ضاہ ۔ اگر مدت اجارہ ختم ہوگئی ہو تو مستاجر اپنے دخل کو ختم کرتے ہوئے درختوں کو اکھاڑ کر خالی زمین مالك کو واپس کرے مگر یہ کہ اگر مالك اکھڑے درختوں اور تعمیر کی قیمت کوبرداشت کرکے خود ان کا مالك بن جائےبحرمیں فرمایا کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ مستاجر کو درخت اکھاڑنا لازم نہیں اگر ملك قیمت دینے کو تیارہو لیکن اگر درخت اکھاڑنے سے زمین کو نقصان ہو تو پھر مالك جبرا درخت لے سکے گا ورنہ مستاجر کی رضا سے درختوں کا مالك بن سکے گا(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ مقلوعا فی الشرنبلالیۃای مامورا مالکہما بقلعہما و ماتن کا قول"اکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت"شرنبلالی نے فرمایا:یعنی درختوں اور تعمیر کے مالك کو اکھاڑنے
حوالہ / References جامع الترمذی ابوب الاحکام باب احیاء ارض الموات ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۶،€سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الغصب دارصادر بیروت ∞۶/ ۹۹،€سنن ابی داؤد باب احیاء الموات ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱€
درمختار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۳€
#7219 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
انما فسرناہ بکذالان قیمۃ المقلوع ازید من قیمۃ المامور بقلعہلکون المؤنۃ مصروفۃ للقلع کذا فی الکفایۃ اھ۔
اقول:وبماذکر نا تبین ان ماوقع فی حاوی الزاھدی من قولہیثبت حتی القرار فی ثلثین سنۃفی الارض السلطانیۃ والملکوفی الوقف فی ثلث سنین الخ فہو و زان حملہ فی العقود الدریۃ علی الکردارحیث قال المراد بہ(ای بحق القرار)الاعیان المتقومۃ لامجرد الامر المعنویویدل علی ذلك قولہ فی البزازیۃ لاشفعۃ فی الکرداری ای البناء ویسمی بخرار زم حق االقرارلانہ نقلی اھ مع ان فی ھذا الحمل ایضا کلاما عندی لان حق القراربمعنی الکردار لایتوقف علی مرور الاعصاروانما مبناہ علی النظر للجانبین و رفع الضرارکما تقدم وفی اجارۃ الخیریۃ لہ الاستبقاء حیث لاضرر علی الجہۃ(ا ی جہۃ الوقف) و لزوم الضرر علی الغارس
کے حکم ر جو قیمت ہوہم نے یہ تفسیر اس لئے کی ہے کہ کبھی کھڑے درختوں کی قیمت اکھاڑنے کے حکم والی قیمت سے زائد ہوتی ہے کیونکہ اکھاڑنے کا خرچہ بھی ان پر پڑتاہےکفایہ میں یوں ہے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)ہمارے ذکر کردہ سے واضح ہواکہ حاوی الزاہدی کے اس قول کہ سرکاری اور ملکیتی زمین میں تیس۳۰ سال قبضہ اور قف کی زمین میں تین سالہ قبضہ سے حق القرار ثابت ہوجاتاہے اس میں کلام ہے اس حق القرار کو اگر چہ عقود الدریہ میں کردار پر محمول کیا ہے جہاں انھوں نے کہاہے کہ اس سے یعنی حق القرار سے مرادقیمتی سامان (اعیان) مرا دہے نہ کہ صرف معنوی معاملہاس پر اس کا قول کہ بزازیہ میں ہے کہ تعمیر شدہ کرداری میں شفعہ نہیں ہےجس کو خوارزم میں حق القرار کہتے ہیںکیونکہ یہ منقولہ چیز ہے اھ جبکہ میرے نزدیك اس معنی پر حمل میں بھی کلام ہےکیونکہ حق القرار بمعنی کردار کس مرور زمانہ پر موقوف نہیں ہے اس کی بنیاد تو صرف فریقین کی رعایت اور دفع ضر رپر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور خیریہ کے باب الاجارہ میں ہے مستاجر کو قبضہ باقی رکھنے کااختیار ہے جب وقف کی جہت کو ضررنہ ہو اور پودے لگانے پر لزوم ضرر
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹€
العقود الدریۃ بحوالہ حاوی الزاہدی کتا ب المساقات باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۱۸€
العقود الدریۃ بحوالہ حاوی الزاہدی کتا ب المساقات باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۱۸€
#7220 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
وانت علی علم ان الشرع یابی الضرر خصوصا والناس علی ھذاوفی القلع ضرر علیہم وفی الحدیث الشریف عن النبی المختار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاضرر و لاضرار فی الاسلام اھ وفی وقف الدر فی المنیۃ حانوت لرجل فی ارض وقففابی صاحبہ ان یستاجر الارض باجر المثلان العمارۃ لورفعت تستاجر باکثر مما استاجرہ امربرفع العمارۃ وتوجر لغیرہ و الاتترك فی یدہ بذلك الاجر ومثلہ فی البحر اھ قال الشامی لان فیہ ضرورۃبحرعن المحیطو ظاہر التعلیل ترکہا بیدہ ولوبعد فراغ مدۃ الاجارۃ لانہ لو امر برفعہا لتوجر من غیرہ یلزم ضررہو حیث کان یرفع اجرۃ مثلہا لم یوجد ضرر لعلی الوقف فتترك فی یدہ لعدم الضرر علی الجانبین الخو
میں حرج بھی نہ ہواور آپ کو معلوم ہے کہ شریعت ضرر کو برداشت نہیں کرتی خصوصا جب عوام مبتلا ہوں جبکہ درخت اکھاڑنے میں ضرر ہے۔حدیث شریف میں حضور نبی مختار صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے"اسلام میں ضرر دینا اور ضررمیں مبتلا روانہیں ہے"اھ۔اوردرمختار میں منیہ سے منقول ہے کہ کسی شخص کی وقف زمین میں دکان ہو او وہ دکان والا مثلی اجرت پر آئندہ اجرت پر انکار کرے جبکہ عمارت اٹھادی جائے تو وہ زمین اس کی اجرت سے زیادہ اجارہ پر دی جاسکتی ہے تو ا س مستاجر کو اپنی عمارت اٹھالینے کا پابند کیا جائے اور وہ زمین غیر کو اجارہ پر دی جائےورنہ اسی اجرت میں اسی کے قبضہ میں رہنے دی جائےاس کی مثل بحر میں ہے۔اھ علامہ شامی نے فرمایاکیونکہ ا س میں ضرورت ہے۔محیط سے بحر میں ہے اور علت کا ظاہر بتانا ہے کہ اس کے قبضہ میں رہنے دی جائے اگرچہ مدت اجارہ ختم ہوچکی ہو کیونکہ اگر اس کو عمارت اٹھانے کا پابند کیا او ر غیر کو دی جائے تو اس سے مستاجر کو ضرر ہوگا جبکہ اٹھادینے کے باوجود مثلی اجر ت نہ ملے تو وقف کو نقصان ہے لہذا اسی کے قبضہ میں رہنے دی جائے اس میں دونوں فریقوں کی رعایت ہے الخ اور
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۳۱€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۷۵۔۳۸۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۱€
#7221 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
علی کلفلفظۃ الملك لامحل لہ ھناکما قدمناعن نفس حاوی الزاھدی عن الاسرار فضلا عن سائر معتمدات الاسفار۔ بہر صورت حاوی الزاہدی کا وہاں ملك کو ذکر کرنا بے محل ہے جیسا کہ خود حاوی الزاہدی کی الاسرار سے نقل ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں چہ جائیکہ معتمد کتب کو ذکرکیا جائے۔(ت)
بالجملہ دیہات مملوکہ میں کاشتکار کے لئے کسی مدت میں حق قرار جسے آج کل حق موروثی کہتے ہیں شرعا ہر گز حاصل نہیں ہوتا۔وہ صرف قانونی بات ہے تو اگر بے رضائے زمیندار بدعوی موروثی جبرا قابض ہےیالگان اس کی مرضی سے کم دےتو عندالله وہ کاشتکار ضرورظالم وغاصب وگنہگارا ورحق العبد میں گرفتار ہےیہاں اگر چہ قانونی مجبوری زمیندار کو عاجز رکھے مگر روز قیامت الله عزوجل کے حضور کاشتکار کو کوئی عذر نہ ہوگاباایں ہمہ اگر زمیندار دعوی بے دخلی دائر کردے تو کاشتکار کے خرچہ پانے کا مستحق نہیں کہ مدعی کو خرچہ دلانابھی حکم شریعت کے بالکل خلاف ہے اگر چہ مدعی مظلوم ہی ہوعقود الدریہ میں ہے:
سئل فی رجل کفل اخر عند زید بدین معلوم ثم طالبہ زید بہ والزمہ بہ لدی القاضیفطلب زید ان یدفع لہ الرجل قدر ما صرفہ فی کلفۃ الالزامفدفعہ لہویرید الرجل مطالبۃ زید بماقبضہ من کلفۃ الالزامفھل لہ ذلکالجواب نعم اھ باختصار و کتب المولی المنقح رحمہ اﷲ تعالی ہامشہ لایلزم بکلفۃ الالزام۔ ایك مقروض شخص نے دوسرے شخص کو زید کے معلوم قرضہ کا کفیل بنایاپھر زید نے اس کفیل پر قرض کا لزوم بنانے کے لئے اس کفیل کو قاضی کے ہاں طلب کرایا تو قاضی کے ہاں کفیل پر الزام ہوگیا تو اب زید اپنے مقروض شخص سے قاضی کے ہاں الزام کے خرچہ کامطالبہ کرے اور وہ خرچہ زید کو دے دے ا ور اب وہ مقروض شخص زید سےخرچہ کی دی ہوئی رقم کا واپس لینے کے لئے مطالبہ کرے تو کیا اس کو واپس لینے کےلیےمطالبہ کا حق ہے۔الجوابہاں حق ہے اھ اس کے حاشیہ پر تنقیح کرنیوالے حضرت نے لکھا کہ الزام کی کاروائی کاخرچہ لازم نہیں کیا جاسکتا۔(ت)
ہاں اگر زمیندار اس سے کہہ دے کہ آئندہ سے اس زمین پر اتنی لگان تجھے دینی ہوگیاور کاشتکار نہ اضاہ کرے نہ زمین چھوڑے بلکہ خاموش رہے اور زراعت کئے جائےتو اس کا وہ سکوت ہی شرعا قبول ٹھہرے گا اور اس دن سے وہی لگان اس پر لازم ہوگیمگر زمیندار اس سے وصول نہیں کرسکتا۔
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب الکفالۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۳۰۸€
#7222 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
تو یہ خرچہ کی رقم اس آتے ہوئے میں وصول کرلے کہ اس کالینا قانونا بنام خرچہ ممکن ہےاور شرعا بوجہ اضافہ جائز ہے۔درمختار میں ہے:
السکوت فی الاجارۃ رضا وقبولفلو قال للساکن اسکن بکذا والا فانتقل اوقال الراعی لارضی بالمسمی بل کذافسکتلزم ماسمی ۔ عقد اجارہ میں سکوت رضا اور قبول قررپاتاہے تو اگر مالك نے کرایہ دار رہائشی کو کہا"اتنے معاوضہ پر رہائش رکھنی ہو تو ٹھیك ہے ورنہ یہاں سے منتقل ہوجاؤیا نگران نے اسے کہا میں مقررہ معاوضہ لینے پر راضی نہیں بلکہ اتنا چاہتاہوں توکرایہ دا رخاموش رہا تو اس پر مالك کاذکر کردہ لازم ہوجائے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی التتارخانیۃاکتری دارا سنۃ بالف فلما انقضت قال ان فرغتہا الیوم والا فہی علیك کل شہر بالف والمستاجر مقرلہ بالدارفانہ نجعل فی قدر ماینقل متاعہ باجر المثلوبعد ذلك بما قال المالك ۔ تاتارخانیہ میں ہے سالانہ ایك ہزار کرایہ پر مکان دیا سال ختم ہونے پر اس نے کرایہ دار کو کہا اگر توآج مکان فارغ کردے تو بہتر ورنہ ماہانہ کرایہ ایك ہزار تجھ پر لازم ہو گا جبکہ کرایہ دار مکان کی ملکیت کا معترف ہے تو ا س کو سامان منتقل کرنے کی مدت مثلی اجرت پر ہم تسلیم کرینگے اور اس کے بعد مالك کے قول کے مطابق ادا کرے گا۔(ت)
اسی طرح اگر خود زمین کی لگان بڑھ گئی وہ اوراس کے گردوپیش کی مینیں پہلے ایك روپیہ بیگھہ تھیںاب مثلا دو۲ روپے بیگھ ہو گئیںاور اس کی مدت اجارہ ختم ہوگئیاور مالك نے اضافہ چاہاتو اس پر بھی شرعا دو۲ روپے کی شرح لازم ہوگیاگر چہ نہ صرف سکوت بلکہ کاشتکار صراحۃ انکار کرتارہا ہو
لانہ لما تمت اجارتہوطلب المالك الزیادۃ فابی صار غاصبا والارض معدۃ للاستغلالولیس للمزارع تاویل ملك لعدمہ ولاعذر لانتہائہفیجب علیہ کیونکہ جب کرایہ داری کی مدت ختم ہوگئی ہو اور مالك زائد کرایہ طلب کرتاہو تو مستاجر کے انکار کردینے کے بعد رہائش غاصبانہ ہوگی جبکہ زمین کرایہ حاصل کرنے کے لئے ہی مختص ہے اور مزارع کو ملکیت کابھی عذر نہیں کیونکہ وہ مالك نہیں اور نہ ہی مدت
حوالہ / References درمختار کتاب الاجارہ مسائل شتی عن الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۶€
ردالمحتار کتاب الاجارہ مسائل شتی عن الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۶€
#7223 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
باجرۃ المثلوھی الان ربیتان۔ اجارہ کے ختم ہونے میں عذر ہے تو اس پر مثلی اجرت کا کرایہ لازم ہوگا جوکہ اب د وروپیہ(مثلا)ہے(ت)
درمختار میں ہے:
منافع الغصب لاتضمن عندناالا فی ثلثفیجب اجر المثل ان یکون المغصوب وقفا اومال یتیم او معدا للاستغلالالا فی المعد للاستغلال اذا سکن بتاویل ملکاو عقد فلا شیئ علیہ اھ ملتقطا۔ غصب کے منافع ہمارے نزدیك قابل ضمان نہیں ہیں سوائے تین مواقع کے ایك یہ کہ مغصوب وقف ہو تو اس کی مثلی اجرت لازم ہوگیدوسرا یہ کہ وہ مغصوبہ چیز یتیم کا مال ہو تیسرایہ کہ وہ چیز کرایہ حاصل کرنے کے لئے مختص ہوہاں اگر ملکیت کی تاویل سے اس کرایہ والی زمین میں رہائش پذیر ہو تو پھر اس پرکوئی ضمان لازم نہ ہوگا اھ ملتقطا(ت)
تو بنام خرچہ جو کچھ ملے اس اجافہ میں جو شرعا اس پر لازم ہوچکا وصول کرلے لانہ ظفر بجنس حقہ(کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس پر قابض ہوا۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
اذا لم یمکنہ الرفع للحاکمفاذا اظفر بمال مدیونہ لہ الاخذر دیانۃبل لہ الاخز من خلاف الجنس علی ما نذکرہ قریبا ۔ جب حاکم کے ہاں پیش کرناممکن نہ رہے تو جب اپنے مدیون کے مال پر کامیابی پالے تو قبضہ میں لے لے۔یہ اس کو دیانۃ اجازت ہوگی بلکہ اس کو اپنے حق کی جنس کے خلاف بھی اس کا مال ملے تو قبضہ کرلے جیسا کہ ہم عنقریب ذکرکریں گے۔ (ت)
اور اگر اجارہ کی کچھ مدت مقرر نہ کی یوں ہی سال بسال کاشت کرتا چلا آتاہے۔جب تو ختم ہرسال پر زمیندار کواختیارات مذکورہ حاصلاور احکام مذکورہ نافذہ ہیںکہ اس سے ہر سال پر نیا اجارہ منعقد ہوتاہے کما اشرناالیہ(جیسا کہ ہم نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے)۔درمختارمیں ہے:
اجرحانوتا کل شہر بکذاصح فی واحد فقط واذا تم الشہرفلکل فسخہا بشرط حضور الاخر فسخہا بشرط حضور الاخر لانتہاء العقد الصحیحوفی ایك دکان کسی معینہ معاوضہ پر ماہانہ اجرت پر دی تو صرف ایك ماہ کا یہ اجارہ صحیح ہوگا اور جب مہینہ ختم ہوجائے تو دونوں میں سے ہر ایك فریق کو اس کے فسخ کااختیار ہوگا بشرطیکہ
حوالہ / References درمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۔۲۰۸€
ردالمحتار کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۰۰€
#7224 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
کل شہر سکن فی اولہ صح العقد فیہ ایضا الخ باختصار دوسرا فریق وہاں موجود ہوکیونکہ صحیح عقد ختم ہوگیا ہے اور جس مہینہ کی ابتداء میں وہاں رہائش پذیر رہا اس مہینہ کے اجارہ کا عقد بھی صحیح قرار پائے گا الخ باختصار(ت)
بالجملہ یہ قاعدہ کلیہ نفسیہ جلیلہ حفظ کرنے کا ہے کہ جب کسی کا دوسرے پر کچھ آتاہو۔یا ا س سے لینے کاشرعا حق رکھتاہواور اپنے اس حق تك قانونا نہ پہنچ سکتاہو۔تو اس کے وصول کے لئے کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہے ہوا ورجرم کی حد تك پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزااور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روانہیں۔
قال تعالی " ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ" وقد جاء الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ینہی المومن ان یذل نفسہ ۔ الله تعالی نے فرمایا:اپنے ہاتھوں ہالاکت میں نہ پڑواور حدیث شریف میں حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ آپ نے مومن کو اپنا نفس ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔(ت)
مگر جب کوئی ایسا ذریعہ پائے کہ قانونا کوئی رقم اس سے وصول کرسکے تو اجازت ہے کہ اس نیت جائزہ سے اسے لے اگر چہ قانونا کسی دوسرے نام سے ملے
فان الشیئ اذا اوصل الی مستحقہ من المستحق علیہجعل واصلا من الجہۃ التی یستحقہکما فی الدرالمختار وقدقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما الکل امری مانوی ۔ تو بیشك جب مستحق کو اپنے مدیون کی کوئی چیز ہاتھ لگے تو اس کو استحقاق کے طریقہ پر پہنچنا تصور کیا جائیگا جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے۔حالانکہ حضو ر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: اعمال کا اعتبار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کا ثمرہ ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الاجارۃ الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۹۵€
مسند اما احمد بن حنبل ترجمہ حضرت حذیفہ رضی الله تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۵/ ۴۰۵€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
#7225 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
اور یہ ضرور ہے کہ شرعی اجازت سے آگے نہ لےمثلا سو روپے آتے تھے تو سو یا سو سے کم لے سکتاہے زیادہ جائز نہیںاو ریہ بھی لحاظ رہے کہ شرع مطہر جس طرح برے کام سے منع فرماتی ہے یونہی برے نام سےتو ایسے ذریعہ سے بچے جس میں اگرچہ یہ اپنی نیت کے سبب لیتا آتایا ایك شیئ مباح لیتا ہو جس میں اس پر مواخذہ نہیں مگر وہ ظاہری ذریعہ ایساہو جس سے بدنامی ہولوگ اسے مرتکب حرام سمجھیںغیبت کریںجیسے سود کا نامتو اس سے بھی بچے اور صبرکرےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰ تا ۵۳: از موضع نگلہ ہریرتحصیل موانہ ڈاکخانہ بہلادورضلع میرٹھ مرسلہ سید اکبر علی ۳ شعبان ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاشتکار موروثی ہے اور لگان بحساب د و روپیہ فی بیگھ زمیندار کو اداکرتاہے۔اور وہ زمین جو زیر کاشت موروثی زید ہے اصل میں للعہ فی بیگھ کے لگان کی ہے کیونکہ اس اراضی سے ملحقہ اور ہم حیثیت اراضی مبلغ للعہ فی بیگھ لگان پر کاشت کرائی جاری ہے اور دوسرے کاشت کار خوشی سے للعہ فی بیگھ لگان پر کاشت کرتے ہیں زمیندار کا بہت بڑا نقصان ہے اور کاشتکار مذکور زمیندار کے کہنے سے لگان میں اضافہ نہیں کرتا اور کہتاہے کہ شرعا نالش کردوبعد ہوجانے ڈگری کے لگان زیادہ دوں گااور زمیندار خود تو اضافہ نہیں کرسکتا کیونکہ کاشت کار رضامند نہیںاور کچہری سے بچند وجوہ ہونہیں سکتا۔اس معاملہ میں وکلا سے بہت سے زیادہ تحقیق کرلی گئی ہے اگر کاشت کار لگان اس وقت جبکہ قانون نے اس پر واجب کیا ہے نہ اد ا کرےاور زمیندار محض اپنے نقصان کی تلافی کی غرض سے لگان کے روپیہ پرسودلگادے اورکہہ دے کہ میں اپنے لگان میں لیتاہوں تو کچھ گناہ نہیں ہے۔اس طریقہ سے کچھ تلافی نقصان ہوجائے گی۔
دوم: یہ کہ اگر زمیندار کچہری میں ایك سچی بات کو چھپائے اور جھوٹی بات کو ظاہر کرے تو اپنے نقصان کی معمولی سی تلافی کرسکتاہے اور اراضی موروثی کا اس کے قبضہ سے نکل جانا بھی ممکن ہے۔اس جھوٹی بات کو ظاہر کرنے سے جو زمیندار محض اپنے نقصان کی تلافی کی غرض سےکرتاہے کوئی گناہ ہوگا یا نہیں
سوم: یہ کہ کاشتکار موروثی کا کوئی حق ہے یانہیں
چہارم: یہ کہ شریعت مطہرہ کے نزدیك زمیندارکی مالی نقصان کی تلافی مال سےکیونکر ممکن ہے فقط
الجواب:
جواب سوال اول وسوم وچہارم:شرع مطہر کے نزدیك مملوك زمینوں میں جیسی عام دیہات کی زمینیں ہیں کہ زمیندار ان کے مالك ہیںاصلا کبھی کسی طرح حق موروثی حاصل نہیںشرعا
#7226 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
وغیرہ اجرت کے لحاظ سے یونہی اگر قسط چوکنے سے یالگان تقاوی وغیرہ پر سود کا نام کرے اور سود کی نیت نہ ہو بلکہ اسی دین میں وصول کرے تو یہ رقم بھی شرعا اس کے لئے مال حرام نہ ہوگیمگر اس سے احتراز یوں لازم ہے کہ شرع نے جس طرح برے کام سے منع فرمایا برے نام سے بھی منع فرمایااور اپنے آپ کو بلاضرورت شرعیہ مطعون کرنا مسلمانون کو اپنی غیبت وبدگوئی میں مبتلا کرنا شرعا منع ہے۔سو دکے نام لگانے سے لوگ اصل حقیقت کونہ جانیں گےاور اسے معاذالله سودخو رکہیں گےبد نام کریں گےیہ کس کس کو اپنی نیت اور معاملہ کی اصل حالت بتاتا پھرے گاایسی بات سے احتراز چاہئے بخلاف خرچہ اگھائی سہیل بیگار معمولی ورائج اشیاء کے کہ عوام ان پر مطعون وبدنام نہ کریں گےغرض کاشتکار کہ شرعا ناجائز قبضہ رکھے مدیون بنانے کے وہ طریقے ہیں اور اپنے مالی نقصان کی تلافی کی یہ صورتیںبغیر ان طریقوں کے صرف اس وجہ سے کہ گرد وپیش کی زمینوں کی شرح بڑھ گئی ہے۔کاشت کار پر دو روپے بیگھہ سے زیادہ کچھ واجب نہ ہوگاا وریہ زیادہ لے گا تو ناواجب لے گااس مجمل بیان کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اس میں شرعی اطاعت بھی رہے اور قانونی رعایت بھی اور مالی حفاظت بھی اور ان اصول و مسائل سے آج کل کے بہت ذی علم بھی غافل ہیں عوام تو عواماب ہم بعض عبارات ذکرکریں کہ تفصیل موجب تطویل۔
فی ردالمحتار عن الخیریۃ عن الحاوی عن الاسرار اذا استاجر ارضا ملکا لیس للمستاجر ان یستبقیہا کذلك ان ابی المالك الا القلع بل یکلفہ علی ذلك ۔ ردالمحتار میں ہے خیریہ سے ہے انھوں نے حاوی سے بحوالہ الاسرار نقل کیا کہ اگر کسی نے کسی نجی ملکیت کو اجارہ پرلیا تو مستاجر کو حق نہیں کہ اس کو اپنے لئے باقی رکھےجس طرح سرکاری زمین کو باقی رکھ سکتاہے جبکہ مالك اس کو اپنے تجاوزات ختم کرنے پر مصر ہو بلکہ مالك ا س کو پابند بناسکتا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
قال للسالکن اسکن بکذا اوالا فانتقلفسکتلزم مایسمی ۔ جب مالك نے کرایہ دار کو کہا اگر رہنا ہو تو اتنے معاوضہ پر رہو ورنہ منتقل ہوجاؤں تو اس پر کرایہ دار خاموش رہا تو مالك کا ذکر کردہ معاوضہ اس پر لازم ہوجائیگا(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹€
درمختار کتاب الاجارۃ مسائل شتی من الاجارۃ ∞مطبع مجتائی دہلی ۲/ ۱۸۶€
#7227 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
یجب اجر المثل فی المعد للاستغلال ۔ کرایہ حاصل کرنے کے لئے مخصوص شدہ زمین کی مثلی اجرت لاز م ہوگی۔(ت)
اسی میں ہے:
الاصل ان المستحق بجہۃ اذا وصل الی المستحق بجہۃ اخری اعتبر واصلا بجہۃ مستحقہ ان وصل الیہ من المستحق علیہ والافلاوتمامہ فی جامع الفصولین ۔ مستحق کو اس کااستحقاق کسی دوسرے طریقہ سے بھی ملے تو وہ استحقاق کے طریقہ پر ہی متصور ہوگا بشرطیکہ اس کو مدیون کی جانب سے پہنچےورنہ نہیں اس کی تمام بحث جامع الفصولین میں ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
اذا لم یمکنہ الرفع للحاکم فاذا ظفر بمال مدیونہ لہ الاخذ دیانۃبل لہ الاخذ من خلاف الجنس ۔ جب اس کوحاکم کئے ہاں پیش کرناممکن نہ رہے تو جب اپنے مدیون کا مال ہاتھ لگے تو دیانۃ اس کو لینا جائز ہے بلکہ حق کی جنس کے خلاف بھی مال ملے تو لینے کا حق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الفتوی الیوم علی جواز الاخذ عندالقدرۃ من ای مال کان ۔واﷲ تعالی اعلم۔ آج کل فتوی یہ ہے کہ مدیون کے کسی بھی مال پر قدرت پائے تو لینا جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
جواب سوال دوم:جھوٹ بولنا حرام ہےہاں اپنا حق وصول کرنے یا اپنے اوپر ظلم دفع کرنے کے لئے پہلودار بات کی اجازت ہے۔جس کا ظاہر کذب ہو اور باطن میں صحیح معنی مراد ہوںوہ بھی اسی حالت میں کہ صدق محض سے وہ حق نہ ملے اور ظلم نہ ٹلےورنہ یہ بھی جائز نہیں درمختارمیں ہے:
الکذب مباح لا حیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ و المراد التعریضلان عین اپنے حق کو ثابت اور ظلم کو ختم کرنے کے لئے جھوٹ مباح ہے اس جھوٹ سے مراد تعریض ہے نہ کہ
حوالہ / References درمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۔۲۰۸€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸€
ردالمحتار کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۰۰€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۵€
#7228 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
الکذب حرام ۔ عین جھوٹ کیونکہ یہ حرام ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حیث ابیح التعریض لحاجۃ لایباح لغیرہالانہ یوھم الکذب ۔ جہاں کسی حاجت کی وجہ سے تعریض جائز ہے وہاں بغیر حاجت جائز نہیںکیونکہ تعریض جھوٹ کا وہم پیدا کرتی ہے۔ (ت)
ہاں اگر ظلم شدید ایسا ہو کہ قابل برداشت نہیںضرر ایسا سخت ہے جس کا مفسدہ کذب کے مفسدہ سے بڑھ کر ہے اور ا س کا دفع بے کذب ناممکن ہو تو بمجبوری اجازت پاسکتاہے لان الضرورات تبیح المحظورات(کیونکہ ضروریات ممنوع چیزوں کو مباح کرتی ہیں۔ت)ردالمحتارمیں منقول:
ینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب بالمفسدۃ المترتبۃ علی الصدق فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذبوان بالعکس اوشك حرم ۔وقد نقلنا القول فیہ فی فتاوناواﷲ تعالی اعلم۔ جھوٹ کے فساد اور صدق پر مرتب ہونیوالے فسا کا تقابل کیا جانا مناسب ہے اگر صدق پرمرتب فساد شدید ہو تو جھوٹ مباحاور گر معاملہ بالعکس ہو یا دونوں صورتوں میں شك ہو توپھر کذب حرام ہے فیصلہ کن قول ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۴: ا زکرتولی مرسلہ حکیم رضا حسین خاں سلمہ ۷ جمادی الآخرۃ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مشترك گاؤں میںاگر ایك شریك بے اذن دیگر شرکاء خود کاشت کرےتو جائز ہے یانہیں اور دیگر شرکاء اس سے اپنے حصے کی لگان لیں گے یاکیا بینوا توجروا
الجواب:
زمین مشترك میں ایك شریك کا زراعت کرنا اگر باذن جمیع شرکاء ہے بلاشبہ رواہےپھر جبکہ وہ زمین گاؤں کی ہے۔اور دیہات کی زمین اجارہ ہی کےلئے ہوتی ہے تو جب تك تصریح نہ ہوجائے کہ لگان نہ لیا جائے گاشرکاء کے حصے کا اس پر لگان آئے گا۔
حوالہ / References درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۴€
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷۵€
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷۴€
#7229 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
لان الاتجارۃ من الشریك جائزۃ لعدم الشیوع فی المنافع الحادثۃ اذا کل تحدث علی مسلکہ امالملکہ او للاجارۃبخلاف الاجارہ من احد شریکہاواجارۃ البعض من غیر الشریك حیث لاتجوز للشیوع کما فی الہدایۃ والدر ۔ تمام شرکاء کی طر ف سے اجارہ حاصل کرنا جائز ہے کیونکہ اب منافع میں شیوع نہ ہوگا کیونکہ پیدا ہونے والے تمام منافع اس کو اپنی ملکیت کی وجہ یااجارہ کی وجہ سے حاصل ہوں گے بخلاف جبکہ تمام شرکاء میں سے ایك یا بعض سے اجارہ کرے تو ناجائز ہوگا کیونکہ ا ن صورتوں میں شیوع پایاجائے گاجیسا کہ ہدایہ اور درمختار میں ہے۔(ت)
اور اگر شرکاء کے خلاف مرضی زراعت کرے گا گنہ گاروغاصب ہوگاپھر اگر اس کی زراعت سے زمین کو نقصان پہنچا تو حصص کے لئے اس نقصان کا تاوان دے گااور اگر کوئی نقصان نہ پہنچا تو کچھ نہ دے گااس صور ت میں لگان عائد نہیں ہوسکتا۔
لانہا وان کانت معدۃ للاستغلال فالشریك یتصرف فیہا بتاویل الملکوالتصرف بہ بتاویل العقد یمنع الاجر فی المعد بخلاف الوقف ومال الیتیم حیث یجب فیہما مطلقا کما بینہ فی الدرالمختار ورد المحتار ۔ کیونکہ اگر چہ وہ زمین کرایہ داری کے لئے تیار رکھی ہے تو شریك کا اس میں تصرف ملکیت کی تاویل سے ہے جبکہ عقد کی تاویل کرایہ داری والی چیز میں اجرت کے لئے مانع ہے بخلاف وقف اور مال یتیم کےکیونکہ ان میں اجرت لازم ہے۔جیسا کہ درمختاراور ردالمحتارمیں یہ بیان کیا ہے۔(ت)
اوراگر نہ شرکاء کا صریح اذن تھا نہ ممانعتبلکہ ان سے بے پوچھے بطور خود اس نے زراعت کی تو اس میں حکم منقول ومنصوص تویہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ زراعت یا اس خاص زراعت سے زمین کو نقصان پہنچے گایا زراعت نہ کرنے سے زمین کی طاقت بڑھے گیتو اس صور ت میں شرکاء سے بے پوچھے اس کا زراعت کرلینا صورت غصب میں داخل ہےاور حکم وہی ہے کہ نقصان کاتاوان ہےلگان کچھ نہیںا ور اگر معلوم ہے کہ
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۳€۹
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
درمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۰۹۔۲۰۸€
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۳۲€
#7230 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
زراعت سے زمین کو منفعت ہوگیتو یہ صورت صورت اجازت میں داخل ہے کہ اگر چہ صراحۃ اذن نہ ہوامگر بوجہ منفعت دلالۃ اذن ہے۔اس صورت میں بھی حکم یہ لکھتے ہیں کہ لگان دینا نہ آئے گا۔ہاں شرکاء کو یہ اختیار ہوگا کہ اپنے اپنے حصوں کی قدر وہ بھی اتنی اتنی مدت تك اس کی زراعت کرلیںمثلا دو شریك تھےایك ایك ثلث کا ثلث والے نے ایك سال زراعت کی تو دو ثلث والا دو سال زراعت کرسکتاہے۔اقول:مگر یہ حکم اس صورت کا ہے کہ زمین اجارہ کے لئے معدومعروف نہ ہو کہ اس صورت میں اگرچہ بوجہ منفعت دلالۃ اذن ہے مگر اذن عاریت واجارہ دونوں کو محتمل ہے۔اور عاریت اقل ہے۔تو وہی متعین ہے۔اور اجارہ بلا دلیل ثابت نہیں۔لہذا اجر واجب نہ آیامگر جو زمین معدللاستغلال ہے۔جیسے زمین دیہات اس میں ثبوت اذن بحکم اعداد وعہد بروجہ اجارہ ہی مانا جائے گا۔جب تك صراحۃ نفی اجازت یا تصریح عاریت نہ کردیں لان المعروف کالمشروط و ھذا ظاھر جدا(کیونکہ معروف چیز مشروط کی طرح ہے اور یہ بالکل واضح بات ہے۔ت)تو یہ صورت مثل صورت اولی یعنی زراعت باذن صریح شرکاء ہوگیاور لگان لازم آئے گااسے نہ مانئے تو بحال مفنعت اذن دلالۃ ثابت ہونااگر وہاں چل سکے جہاں کوئی مزارع موجود نہیںتو آباد دیہات میں اس کا ثبوت سخت دشوار ہے کہ غیر شخص زراعت کرتا تو شریك دیگر کو اپنے حصہ کی اجرت ملتیاورشریك نے خود کاشت کیاور لگان دلائیں نہیںصرف یہ اختیار دیں کہ اتنی مدت یہ بھی زراعت کرلےاورممکن کہ یہ زراعت کے لئے آمادہ نہ ہواس کے اسباب نہ رکھتا ہواس کے کاموں کا متحمل نہ ہوان کی فرصت نہ پاتا ہوتو اس کا حصہ بلا معاوضہ دوسرے کے تصرف میں رہااس پر رضا واذن دلالۃ ماننا بہت مشکل ہے۔بخلاف اس صورت کے کہ لگان لازم کریں کہ صریح نفع حاصل ہے یہ دونوں صورتیں علم کی تھیںاور اگر کچھ نہ معلوم ہو کہ زراعت سے زمین کو مضرت پہنچے گی یا منفعتاس کا حکم نہیں لکھتےاقول:وہ صورت مضرت کے حکم میں ہے کہ دلالۃ ثبوت اذن بوجہ علم منفعت تھا جب یہ نہیں وہ نہیںتو نہ ہوا مگر مطلقا بلااذن تصرفاوریہی غصب ہے۔
وذلك لان الاصل فی التصرف فیما فیہ ملك لغیرہ الحظر الاباذنہ ولودلالۃ ولم یوجد ھوولاھی۔ اس لئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ غیر کی ملك میں تصرف اس کی اجازت کے بغیر ممکن ہے اگر چہ وہ اجازت دلالۃ ہوجبکہ یہاں کسی طرح اجازت نہیں۔(ت)
جامع الفصولین فصل ۳۳ بحث"انتفاع بمشترک"میں ہے:
یغرم الزارع لشریکہ نقصان نصف الارض لو انتقصت لانہ غاصب ایك شریك نے زمین کی کاشت کی تو وہ دوسرے شریك کے نصف حصہ کے نقصان کا ضمان دے گا۔
#7231 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
فی نصیب شریکہ(مز)وعن مز رحمہ اﷲ تعالی لو غاب احدھما فلشریکہ ان یزرع نصف الارضولو اراد الزراعۃ فی العام الثانی زرع النصف الذی کان زرعہویفتی بانہ لو علم ان الزرع ینفع الارض ولاینقصہا فلہ ان یزرع کلہاولو حضرا الغائب فلہ ان ینتفع بکل الارض مثل تلك المدۃ لرضا الغائب فی مثلہ دلۃولو علم ان الزرع ینقصہا او الترك یتفعہا ویزیدھا قوۃ فلیس للحاضر ان یزرع فیہا شیئا اذا الرضا لم یثبت ھنالك کذا (قفظ) ۔ بشرطیکہ کاشت سے زمین کو نقصان ہو کیونکہ وہ اپنے شریك کے نصف کا غاصب ہے(مز)اور مز رحمۃ الله تعالی سے مروی ہے کہ اگر ایك شریك غائب ہو تو دوسرے شریك کو نصف زمین کاشت کرنے کا اختیار ہے۔اور اگر دوسرے سال بھی زراعت کرنا چاہے تو اسی حصہ کو کاشت کرےاور فتوی یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ زراعت زمین کے مفید ہے نقصان دہ نہیں ہے تو تمام زمین کو کاشت کرے اور غائب شریك آجائے تو اس کو حق ہوگا کہ وہ بھی اتنی ہی مدت کل زمین کو اپنے کاشت کرے یہ ا س لئے کہ مفید ہونے کی صورت میں غائب کی دلالۃ رضا ہے۔اور اگر معلوم ہو کہ کاشت زمین کے لئے نقصان دہ ہے۔یاترك زراعت مفید ہے اور زمین کے لئے مزید قوت کا بعث ہے تو پھر حاضر شریك کو کوئی چیز کاشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگیکیونکہ نقصان کی صورت میں دوسرے شریك کی رضا ثابت نہیں ہے۔یوں"قفظ"میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار کتاب الغصب میں ہے:
نقل(ای فی تنویر البصار)اولا عن العمادیۃ عن محمد(فذکر ماقدمنا عن الجامع قال)ثم نقل عن"القنیۃ"ان الحاظر لایلزمہ فی المالك المشترك اجرولیس للغائب استعمالہ بقدر تلك المدۃ لان المہایاۃ بعد الخصومۃقال وبینہما تدافع الا ان یفرق بین الارض و تنویر الابصارمیں اولا عمادیۃ سے بحوالہ امام محمد رحمہ الله تعالی نقل کیااور جامع الفصولین سے ہمارے نقل کردہ کے موافق ذکر کیاپھر انھوں نے قنیہ سے یہ نقل کیا کہ حاضر شریك پر مشترکہ ملکیت میں کوئی اجرت لازم نہیں ہوتی اور غائب کو اتنی مدت زمین کو استعمال کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ کیونکہ بدلہ کا لین دین قاضی کے ہاں خصومت کے بعد ہتاہے اور کہا کہ ان دونوں منقولہ عبارتوں میں اختلاف ہے الایہ کہ زمین اور
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثالث والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۹€
#7232 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
الداروھو بعید اوانہما روایتانثم نقل عن الخانیۃ ان مسئلۃ الدار کمسئلۃ الارضوان للغائب ان یسکن مثل ماسکن شریکہوان المشائخ استحسنوا ذلك و ھکذا روی عن محمد وعلیہ الفتوی ۔ دار کا فرق قائم کیا جائے اور یہ بعید ہے یا یہ کہا جائے یہ دو مختلف روایتیں ہیں اس کے بعد انھوں نے خانیہ سے نقل کیا کردار کا مسئلہ اور زمین کا مسئلہ ایك ہے کہ مکان میں بھی شریك غائب کو اتنی مدت سکونت کا حق ہے جتنی مدت حاضر شریك سکونت پذیر رہا ہواور اس کو مشائخ نے پسند فرمایا ہے اور امام محمد رحمہ الله تعالی سے بھی اسی طرح منقول ہےاوراسی پر فتوی ہے۔(ت)
نیز جامع الفصولین میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
(فص)سکن دار مشترکۃ بغیبۃ شریکہ لایلزمہ اجر حصتہ ولو معدۃ للاستغلال(الی قولہ)علل فی(ذ)بانہ سکن بتاویل الملك فلا اجر(واقعۃ الفتوی)زرع ارضا بینہ وبین غیرہ ھل لشریکہ ان یطالبہ بربع او ثلث بحصۃ نفسہ کما ھو عرف ذلك الموضع اجیب بانہ لایملك ذلك یغرمہ نقصان نصیبہ فی الارض لو انقصت ۔ (فص)ایك شریك مشترکہ مکان میں دوسرے کی غیر موجودگی میں سکونت پذیر رہا تو اس پر کوئی اجرت لازم نہ ہوگی اگرچہ مکان کرایہ داری کے لئے تیار کیا ہوان کا بیان اس قول تك کہ(ذ)میں اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ وہ ملکیت کی تاویل پر سکونت پذیر ہوا ہے تو اجرت لازم نہ ہوئیواقعۃ الفتوی میں ہے کہ اپنی اور غیر کی مشترکہ زمین میں کاشت کرے تو کیا دوسرے شریك کو اس سے ربع یاثلث کرے تو کیا دوسرے شریك کو اس سے ربع یاثلث کا اپنے حصہ کے طور پر مطالبہ کا حق ہے جیسا کہ وہاں معروف ہے جواب دیا گیا کہ دوسرے شریك کو یہ حق نہیں ہےہاں اگر زمین کو کاشت سے نقصان ہوا تو اس کو اپنے نصف کے نقصان کا ضمان لینا رواہوگا۔(ت)
اقول:یہ ہے کہ وہ ح کم کہ اس صورت زراعت بے اطلاع کا شرکاء پر کتب میں مذکور ہےمگر یہ احکام عرف کے ساتھ دائر ہیںاور یہاں دیہات میں عموما صرف دئر وسائریہ ہے کہ زمین کا اجارہ پراٹھنا ہی منفعت جانتے ہیں اور اس کا پڑا رہنا ہی نقصان سمجھتے ہیں کہ وہ صرف معدللاجارہوتے ہیں اس کے بعد اس پر کوئی نظر نہیں ہوتی کہ زراعت اس کے لئے نفع ہے یا ترکتو یہاں یہ صورت صورت اولی یعنی اذن دلالۃ میں منحصر ہےاور بوجہ اعداد اجر لازممگر کوئی خاص زراعت ایسی فرض کی جائے کہ زمیندار اس پر
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۲۔۱۳۱€
جامع الفصولین الفصل الثالث والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۹€
#7233 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
راضی نہ ہوتے ہوں اور اسے مضرارض جانتے ہوں تو وہ مستثنی رہے گیاس تقریر پر دربارہ دیہات خلاصہ حکم یہ ہے کہ شریك کو زراعت کرنا مطلقا جائز اور حصہ شرکاء کا لگان مطلقا لازم ہےمگر اس صورت میں کہ دیگر شرکاء نے صراحۃ منع کردیا ہو۔یا کوئی ایسی زراعت کرے جس سے زمین بگڑتی ہواور زمیندار اس پر راضی نہ ہوتے ہوںان دونوں صورتوں میں نقصان زمین کا تاوان دے گا اگر واقع ہواور لگان نہ آئے گااور شرکاء نے صراحۃ بلا لگان اجازت دیتو لگان نہیںاور زراعت جائزہے ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ میری طرف سے ہے اور علم حق میرے رب کے پاس ہے۔ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: مسئولہ حمد سید علی صاحب طالب العلم از کانپور مسجد حاجی بدنو شطرنجی محل ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ملك بنگالہ میں ظاہرا ملك تین قسم پر منقسم ہے:
اول ملك شاہی
دوم ملك زمینداری
سوم ملك رعیتی
رعایا زمیندار کو خراج دیتے ہیںاور زمیندار بادشاہ کوبادشاہی اصل مالك زمین کا ہےاور بالکل تصرفات کا اختیار رکھتا ہے۔ زمین عــــــہ بادشاہ کے تحت میں زمین کا مالك ہے۔اور زمیندار کے تصرفات بادشاہ کے تصرفات کے تابع ہیںاور رعیت زمیندار کے تابع ہےزمیندار رعایا کو زمین ومکان میں جتنے تصرفات کے لئے حکم دیتاہےاسی کا اس کو اختیار ہوتاہے زیادہ نہیں اس حالت میں کوئی رعیت دوسری رعیت کے پاس اگر اپنی رعیتی زمین کو بیچے تو قیمت کے فی تولہ چارآنہ حساب سے(یا کم و بیش)زمیندار کی سرکارمیں نذرانہ دینا ہوتاہے مثلا زید اگر اپنی رعیتی زمین کو عمرو کے پاس قیمت دو سو روپے بیچےاور عمرو دو سو روپے دے کر قبالہ کرلےاور زید وعمرو میں خریدوفروخت ہوگیاتو اب عمرو زمیندار کے سرکارمیں فی تولہ چار آنہ کے حساب سے دو سو کی نذر پچاس روپے علاوہ خراج کے جب تك ادانہ کرے گا تب تك خریدی ہوئی زمین کی بابت زید کے نام کو خارج کر کے عمرو کے نام کو اپنے دفتر میں ثابت نہ کرے گاعمرو کو اس زمین پر تصرف کرنے نہ دے گاپس نذر مذکور علاوہ خراج کے زمیندار کو لینا شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا بالدلائل(دلائل کے ساتھ بیان کرکے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
جو زمیندار آباواجداد کے وقت سے وراثۃ مالك زمین چلے آتے ہیں یا جس نے ایسے مالکوں
عــــــہ: فی الاصل کذالك لعلہ"زمیندار"۔
#7234 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
سے بیع وہبہ وغیرہ کسی عقد صحیح شرعی سے ملك حاصل کی وہ زمیندار اس زمین کا شرعا مالك ہے اب یہ زمین جو ایك کاشتکار نے دوسرے کے ہاتھ بیع کی اس بیع سے اگر وہ خریدنے والا کاشتکار اس زمین کا مالك مستقل نہیں سمجھا جاتا بلکہ زمیندار کو نذرانہ دینے کے بعد بھی کاشت کارہی سمجھا جاتاہے تو یہ بیع محض باطل ہے۔
کاشت کار اول نے جو ثمن کاشتکار دوم سے لیا وہ اس کے لئے ناجائز ہے۔اس پر واجب ہے کہ کاشتکار دوم کو واپس دےاور یہ نذرانہ کہ زمیندار کو دیا جائے گا کہ سال اول اجرت زمین میں اضافہ تصور کیا جاتا تو زمیندار کو جائز ہوتامگر ظاہرا وہ اضافہ نہیں سمجھاجاتا۔بلکہ پہلے کاشتکار کی جگہ دوسرے کو قائم کرنے کی رشوت تو یہ زمیندار کو بھی جائز نہیںہاں جبکہ کاشتکار اول اس اجارہ سے دوسرے کے لئے دست بردار ہوچکااور زمیندار نے دوسرے کو مستاجر قبول کرلیا تو یہ دوسرا شرعا مستاجر ہوگیا خراج کہ زمیندار اس سے لے گا زمیندار کو حلال ہے۔ظاہرا صورت یہی واقع ہوتی ہوگینہ یہ کہ کاشتکار کی بیع بیع شرعی سمجھی جائے اور کاشتکار دوم زمین کا مالك مستقل قرار پائےاور اگر بالفرض کہیں ایسا ہو اور کاشتکار اول کا دوسرے کے ہاتھ بیچنا بیع فضول ہو اور زمیندار کا اس نذرانہ پر قبول کرنا زر ثمن میں اضافہ اور بیع کی اجازت ہے۔تو وہ روپیہ جو کاشتکار اول کو ملا برضائے زمیندار اس کے لئے حلال ہے۔اور وہ نذرانہ کہ زمیندار نے لے لیا اس کے لئے جائز ہے۔مگر اب جو خراج زمیندار اس کا شت کار دوم سے لے گا یہ حرام وباطل ہے کہ اس تقدیر پر کاشت کار دوم زمین کامالك مستقل ہوگیاغیر مالك کا مالك سے خراج لینا کیا معنیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶: از شہر بریلی محلہ فراشی ٹولہ مرسلہ مقصود علی خاں ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ اگر زمیندار بٹائی کے کھیت کو خواہ وہ کفار کی کاشت میں ہو یا مسلمان کاشتکار ہوچار اشخاص اہل ہنود یا مسلمان کے بیچ اس بٹائی کے کھیت کی کنکوت کرادے اور کاشت کار جو زمین کی کاشت کرتا ہو اس سے کہہ دے کہ اگر تجھ کو یہ تخمینہ منظور ہو تو اس کو کاٹ لے۔اور زمیندار کا حصہ جو طے پایا ہو دے دینااور اگر منظور نہ کرے تو اس تخمینہ کو منسوخ کردےایسی صورت میں جبکہ کاشتکار بھی تخمینہ منظور کرلے تو یہ تخمینہ شرعا جائز ہے یا نہیں اور اس کی کمی بیشی کا مواخذہ ہوگا یا نہیں جبکہ زمیندار کو اگر اس تخمینہ سے بیشی ہو تو اس کا کچھ خیال یعنی بیشی کا نہ ہواور اگر اس تخمینہ سے کم ہو تو زمیندار پرکا شتکار کا مواخذہ جبکہ وہ تخمینہ منظور کرچکا ہو۔ہوگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
کنکوت باطل ہےشرعا اس کا کچھ اعتبار نہیںنوے من تخمینہ ہوا اور زمیندار کاشتکار دونوں نے منظور کرلیااور آدھے پر بٹائی ہے۔تو اگر سو من پیدا ہوا زمیندار کے پابچ من کا شتکار پر اور رہے۔اسے
#7235 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
جائز نہیں کہ پچاس من کی جگہ پچپن من خود لے اور پینتالیس من زمیندار کو دےاور اگر اسی من پیدا ہو تو زمیندار کا حق صرف چالیس من ہے پانچ من زیادہ لینا اسے حرام ہے۔ورنہ مسلمان کاشتکار کے حق میں ماخوذ رہے گااس کی باطل منظوری کہ برخلاف مقتضائے عقد وبے اذن شرع ہے۔کچھ معتبر نہیںہدایہ میں ہے:
من اشتری زیتا علی ان یزنہ بظرفہفیطرح عنہ مکان کل ظرف خمسین رطلافہو فاسد وان اشتری علی ان یطرح بوزن الظرف جاز۔لان الشرط الاول لا یقتضیہ العقدوالثانی یقتضیہ ۔ اگر کسی نے اس شرط پر زیتون خریدا کہ میں اپنے پیمانہ سے ناپ کروں گا اور اس ہر پیمانہ پر پچاس رطل کاٹوں گاتویہ عقد باطل ہے۔اور اگر اس شرط پر خریدا کہ پیمانہ کے وزن برابر شمار ہوگا تو عقد جائز ہوگا کیونکہ پہلی شرط عقد سے لاتعلق ہے جبکہ دوسری شرط عقد کے موافق ہے۔(ت)
ہاں ہندو کاشتکار سے اس کی مرضی ومنظوری کی بناء پر اگر ایسے زیادہ مل جائے تو حرج نہیں
لجواز ان یاخذ منہم بغیر غدر ولو بعقد ان وقع بین مسلمین کان فاسدا کما بیناہ فی بیوع فتاونا واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ ہندوؤں سے غدر کے بغیر جو ملے لینا جائز ہے اگرچہ وہ ایسے عقد کے ذریعہ ملے جو مسلمانوں میں ہو تو فاسد قرار پائے جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کے بیوع میں بیان کیا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۷: از بنارس گرانٹ بازار مسجد نواب ٹونك مرسلہ محمد شفیع صاحب ۴ رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
ایك زمیندار نے کاشت کار کو بخوشی ورضامندی اپنی بیس بیگھہ اراضی کا پٹہ دوامی لکھ دیا اس شرط پر کہ فی بیگھہ اڑھائی روپے لگان جس کا جملہ پچاس روپیہ ہوتاہے۔اس قدر مالگزاری سال بسال ادا کیا کرواور ان اراضی کو چاہے خود کاشت کرو یا دوسروں سے کاشت کراؤمگر مال گزاری اس کی حسب تحریر مندرجہ تم سے ادا کریں گےاگر قسط پر ادا نہ کروگے تو بنالش حق ادا کرنے کا ہم زمیندار کو ہوگا۔اب کاشتکار ان اراضی کو خودہی کاشت کرتاہےا ور دوسروں سے بھی کاشت کراتاہے۔اور جب دوسرے کاشتکار کے ساتھ بندوبست کرتاہے تو فی بیگھہ پانچ روپے لیتاہے اور جب بارہ برس گزر گیا تو وہ اراضی انگریزی کاغذات میں قانونا موروثی لکھی گئییعنی اب ان اراضیوں کو زمیندار زبردستی بے دخل کرنے کا مستحق نہیںاگر بخوشی ورضامندی اپنی کاشت کار واپس کردے تو زمیندار واپس کرسکتا ہےیا اگر مال گزاری کا شتکار
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۶۱€
#7236 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
نے ادا نہ کیا تو بنالش گورنمنٹ زمیندار کو بذریعہ ڈگری کاشتکار سے وصول کرا دے گااور اراضیوں کو بھی واپس کرادے گااگر کاشتکار بعد ڈگری زمیندار کے مال گزاری کچہری میں داخل کردیایا زمیندار کو دے کر رسید حاصل کیا تو پھر کاشت کار ان اراضیوں سے بے دخل نہ ہوگا بدستور قائم رہے گاایسی حالت میں کاشتکار کو کاشتکار شکمی سے نفع لینا شرعاجائز ہے یانہیں اور کاشتکار جو خود کاشت کرتاہے اس کی پیداوار سے کھانا جائز ہے یانہیں اگر زمیندار کاشت کار کو زبردستی بے دخل کرے تو کچہری میں استغاثہ کرنے کا حق شرعا پہنچتاہے یانہیں
الجواب:
پٹہ دوامی شرع میں کوئی عقد لازم نہیں۔ہر سال تمام پر وہ عقد ختم ہوتا اور طرفین کی رضا سے نیا شروع ہوتاہے۔ہر سال ختم ہونے پر شریعت مطہرہ کے نزدیك طرفین کو اختیار ہے کہ اس عقد سے باز رہیںمملوك زمین مدت گزرنے سے شریعت کے حکم میں عقد لازم نہیں ہوتا یہ قانونی بات ہے شرعی حکم نہیںاگر رضائے زمیندار ہے تو جب تك بھی ہے کاشت کار اس میں کاشت کرسکتاہے۔اور دوسروں کو ذیلی بھی بناسکتاہے۔مگر زرلگان جتنا خود ادا کرتا ہے اس سے زیادہ دوسرے سے نہیں لے سکتااگر لے گا مال خبیث ہوگامگر تین صورتوں میںایك یہ کہ لگان کی جنس بدل دے مثلا زمیندار سے روپے ٹھہرے ہیں یہ ذیلی سے سونا یا نوٹ ٹھہرا ئے یا اس زمین میں کوئی مالیت کی چیز مثل کنویں کے اضافہ کرے یا اس زمین کے ساتھ دوسری زمین ملاکر مجموع کو ذیلی کاشت میں دےمثلا ڈھائی روپے بیگھہ پر اس سےلی ہے۔یہ ایك بیگھہ زمین اس میں اور شامل کرکے مجموع ۲۱ بیگھہ بلاتفصیل ذیلی کو ایك سوپانچ روپے پردےیہ صورتیں جائز ہیںاور اگر زمیندار کی رضامندی نہ ہو اور وہ اس سے زمین چھوڑ دینے کو کہے اوریہ موروثیت کے دباؤ سے جبرا نہ چھوڑے تو شریعت کے نزدیك گنہ گار ہوگااوراس میں جوتنا اس کو ناجائزجو ناج پیدا ہوگا خباثت سے خالی نہ ہوگااور ذیلی کو دے گا تو وہ روپیہ بھی اس کے لئے ناجائز ہوگا اور اسے حکم ہوگا کہ زمیندار کو دے دے یا فقیروں پر تصدق کرے اور اول اولی ہے۔جو شخص ایك مسلمان ہونے کی حیثیت سے حکم شریعت پر عمل کرنا چاہےتو حکم یہ ہے ورنہ وہ جانے اور اس کا کاموالله تعالی اعلم۔
اللہم ارزقنا حسنا واسعا بحق مولانا محمد النبی الامی نبی الانبیاء والمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ و الہ وصحبہ اجمعین۔ اے الله ! ہمیں وسیع نیکی عطا فرما حضور نبی المرسلین ہمارے آقا محمد النبی الامی صلی الله تعالی علیہ والہ وصحبہ اجمعین کے وسیلہ سے۔(ت)
#7237 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
مسئلہ ۵۸ تا ۶۱: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی خان ۱۴ ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کہ مالك کافر ہو یا مسلمانرعایا اس کو بعض زمین کی مال گزاری دے اور بعض کی نہیںاس کے لئے کیا حکم ہے۔آیا وہ رعایا عندالله وعندالرسول ماخوذ ہوگا یا نہیں
(۲)جس زمین کی رعایا مال گزاری دیتی ہے اس میں درخت لگایااب اس درخت کے فروخت کرتے وقت مالك اس کی قیمت کا چوتھائی حصہ مانگتاہے۔نہ دینے پر الله ورسول کے نزدیك ماخوذ تو نہیں
(۳)کسی کھیت کے قریب مالك کی زمین غیر آباد ہے۔رعایا نے اپنی زمین کے ساتھ اس غیر آباد زمین کو آبا کرلیاتویہ جائز ہے یانہیں
(۴)ایك شخص کی زمین مثلا ۴ کٹھا ہے سروے ناپ نے غیر کی زمین لے کر ۵ کٹھا لکھ دیا ہے اب اس زمین کو وہ شخص اپنے تصرف میں لاسکتا ہے یانہیں اگر تصرف میں لائے تو عندالله ماخوذ ہوگایانہیں
الجواب:
(۱)جو مالگزاری مقرر ہوئی اسی کا نہ ادا کرنا ظلم وحرام ہے اگر چہ زمین والا کافر ہو۔
قال اﷲ تعالی " یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬ " ۔ الله تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت)
(۲)مالك زمین کا اس درخت میں کچھ حق نہیںاس کا مانگنا ظلم ہے۔
(۳)جائز ہے جبکہ مالك کو لگان دے یا وہ معاف کردے۔
(۴)اگر وہ کٹھا اس دوسرے کی ملك ہے تو بے اس کی اجازت کے غصب وحرام ہے۔اور اگر وہ بھی کاشتکار ہے اور اس کے پٹے کی میعاد ابھی باقی ہے تو بےاس کی اجازت کے ناجائز ہے لانہ ان لم یملك رقبتہا فقد ملك منفعتہا(اگرچہ اس کے رقبے کا مالك نہیں تو وہ اس کے نفع کا مالك ہے۔ت)اور اگر یہ بھی نہیں تو سابقا یالاحقا اجازت زمیندار درکارہے۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۶۲ تا ۶۵: مسئولہ مولوی محمد رضاخاں سلمہ ۲۳ جمادی الآخرہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید سے اس کی رعایا نے جس میں مسلم ومشرك دونوں ہیں بیس روپے ایك سال کے واسطے قرض مانگے اور لگان کھاتے کا جو قرض چاہ رہا ہے بیس روپے ہے۔اس نے کہا کہ بیس روپے تم کو بلا سودی
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۱€
#7238 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
بغیر کسی نفع کے دئے جاسکتے ہیںمگر تم کو اپنے کھاتے پر معہ ۸/ سال بھر کے اضافہ کرنے ہوں گےیہ صورت جائز ہے یانہیں
(۲)جن اسامیوں سے کہ بقایا پچھلی وصول کرنا خواہ وہ تمسك ہے یا معاہدہ زبانی ان سے ۳ / روپیہ یا چھ آنہ روپیہ اس صورت میں لینا اول اپنا اصلی مطالبہ لے لیا گیا تھاپھر زید نے مشرك کاشتکار سے کہاکہ مطالبہ تیرا اداہوگیا اب تو بیع سلم کے اس قدر روپے اور ادا کرو یہ رقم لینا جائز ہوگی یا نہیں
(۳)اگرکاشت کار نے اپناحساب سمجھا تو وہ رقم جو زائد ہے اس کو حساب میں بتایا جاسکتاہے یانہیں
(۴)جو تمسکات کہ ۱۳۲۱ ف میں لکھے جاچکے ان کا وصول بھی اس طرح ہوسکتاہے یانہیں کہ تمھارا اصل مطالبہ ادا ہوگیااب اتنا بیع سلم کا دے دواگر دس روپے کسی مسلمان سے زائد لئے گئے او راس کا مطالہ صحیح او ل لے لیا اور ان دس روپوں کے عوض مسلم یا مشرك کو سیربھر گیہوں یہ کہہ کر دے دئے کہ ہم یہ گیہوں اتنے کو فروخت کرتے ہیں اور اس نے بخوشی لے لئے تو یہ جائز ہے اگریہ جائز نہیں تو کیا صورت ہے کہ مال مشترك سے منتفع ہوں
الجواب:
(۱)یہاں کے مشرکین کے ساتھ یہ صورت جائز ہے مسلمان کے ساتھ حرام ہے کہ یہ قرض سے نفع لینا ہےاور حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۔ قرض کے ذریعہ جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو د ہے۔
خلاصہ میں ہے:
القرض بالشرط حرام والشرط لغو بان یقرض علی ان یکتبہ بہ الی بلد کذا لیوفی دینہ اھ کذا عــــــہ فی الدرالمختار واﷲ تعالی اعلم۔ قرض کے ساتھ شرط لگانا حرام ہے اور شرط لغو قرار پائے گی مثلا یوں کہ اس شرط پر قرض دوں گاکہ مجھے لکھ دے کہ قرضہ فلاں شہر سے وصول کرلوں اھ درمختار میں یوں ہے۔والله تعالی اعلم۔

عــــــہ: فی الاصل درمختار میں ہے والمراد ان عبارۃ الخلاصۃ فی الدرالمختار عبدالمنان الاعظمی ۔
حوالہ / References کنز العمال ∞حدیث ۱۵۵۱۶€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶ /۲۳۸€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الخامس ∞۳ /۵۴۔۵۳€
درمختار بحوالہ خلاصۃ الفتاوی کتاب البیوع فصل فی القرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰€
#7239 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
(۲)یہاں کے مشرکین کے ساتھ اگرابتداء معاہدہ کاشت اس صورت پرکیا جائے کہ یہ زمین مثلا اتنے سال کےلئے روپے بیگھہ پر تمھیں دیاگر کسی فصل یا سال تمام پر(جو باہم ٹھہر جائے)بقایارہے گی تو سوائی یا ڈیوڑھی یا دونی(جو قرار پائے)اس زمین کی اجرت متصورہوگی۔تو حسب قرار ادا لے سکتا ہے۔اور اگر پہلے معاہدہ صرف روپے بیگھہ پر ہوااور باقی ٹوٹنے کے بعد باقی میں اس سے زیادہ کیا چاہے تو یہ حرام ہے کہ خلاف معاہدہ ہے۔
قال اﷲ " یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬ " ۔ الله تعالی نے فرمایا اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت)
اور اگر باقی میں زیادہ نہ لے بلکہ اس سے صاف کہہ دے کہ باقی پوری ادا ہوگئی اس کا تم پر کچھ نہ رہامگر وقت پر ادا کرنے کا اتنا حرجہ دےتو یہاں کے مشرکین سے جائزچاہے اس کا فرضی نام بیع سلم رکھے والله تعالی اعلم۔
(۳)پہلی صورت میں کہ وہ داخل معاہدہ تھی حساب میں بتائی جاسکتی ہے۔اور دووسری صورت میں اس کا حساب سے ادا کرنا لازم ہوگایعنی یوں کہے گا کہ بقایا لگان تو تجھ پر اس قدرہے۔اور بوجہ تاخیر اتنا بیع سلم کادینا ہوگا۔والله تعالی اعلم۔
(۴)ہاں ہوسکتا ہے جبکہ مزارع یہاں کا مشرك ہےوالله تعالی اعلم۔مسلمان سے مطلقا ناجائزاور فرض ہے کہ اسی کے وہ روپے اسے واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے ورثہ کو دےان کا پتہ نہ چلے تو اس کی طرف تصدق کرے بخوشی کا لفظ بے معنی ہے بغیردباؤ کے ناممکن ہے کہ کوئی دس روپے کے بدلے سیر بھر گیہوں پر راضی ہواور اگریہاں کا مشرك ہے اور اس سے قید معاہدہ پر زیادہ لیا گیا تو وہ بھی حسب بیان جواب دوم ناجائز ہے گیہوں کایہ معاملہ اس سے کرنا فضول ہے کہ یہ دس روپے بروجہ خبیث آئےاس مشرك کی ایسی رضا سے وہ خبیث نہ جائے گا کہ وہ دباؤ کی رضا ہے نہ کہ حقیقۃاور حقیقۃ بھی ہو تو اس پر مواخذہ حق الله کا ہے کہ خلاف حکم کیابلکہ سیر بھر گیہوں کسی مسلما ن محتاج کے ہاتھ جتنے کو وہ بخوشی راضی ہو بیع کرے پھر وہ روپیہ بہ نیت تصدق مال خبیث اس محتاج کو دےپھر اس سے گیہوں کے زرثمن میں لے۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۱€
#7240 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
مسئلہ ۶۶: از سنبھل ضلع مرادآباد محلہ دہلی دروازہ مرسلہ محمد ظہیر الدین ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید زمیندار نے ایك کاشتکار کو اپنی اراضی بنابرکاشت بدیں شرط دس روپیہ لگان پر دی کہ پانچ روپیہ فصل خریف پر اور پانچ روپیہ فصل ربیع پر اد اکرتارہےبحالت عدم ادائے زر بقایا سوا یا یعنی بجائے ایك روپیہ کے سوا روپیہ لگان کا لیا جائے گاوقت مقررہ پر لگان کے نہ ادا کرنے کی صورت میں فصل بہ فصل وسال درسال لگان میں زیادتی ہوتی رہے گییہ زیادتی لگان کے بمقابلہ اراضی کے کی گئی ہے۔آیا یہ زیادتی لگان کی جائز ہے یا ناجائز داخل سود ہے
الجواب:
یہ محض حرام وسود ہے بلکہ اس شر ط کی وجہ سے وہ اجارہ ہی فاسد وحرام ہوگیافان الاجارۃ تفسد بالشرط الفاسد کالبیع بانہا احد السبعین(کیونکہ فاسد شرط سے اجارہ فاسد ہوجاتا ہے جس طرح بیع فاسد ہوجاتی ہے کہ وہ سترمیں سے ایك ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷: از سنگرام پور ڈاکخانہ خاص ضلع بدایون مسئولہ شیخ ضیا الدین جناب مولنا مولوی احمد رضاخاں صاحب!
بعد سلام علیك کے گزارش ہے کہ میرے قریب ایك موضع دھنوپورہ ہے۔وہاں پر ٹھاکر دلاور سنگ زمیندار موضع مذکور کے ہیںاس پر ایك ہزار روپیہ ۱۴/ آنے کے سود سے دیگر اشخاص کا قرض ہے۔اب دلاور سنگھ ایك ہزار ہم سے بلاسود مانگتے ہیں اور(صہ عہ) پختہ اراضی سیر واسطے پانچ سال بالعوض ایك ہزارروپے کے دیتے ہیںبعد پانچ سال کے ان کی اراضی چھوٹ جائے گیاورہمارا روپیہ بے باق ہوجائیگاشرعا جائز ہے یاناجائز اور اگر ناجائز ہے توکس طریقہ سے جائز ہوسکتی ہے فقط زیادہ سلام
الجواب:
یہ صورت بلا شبہ جائزہے۔زمیندار اپنی مملوکہ خالی زمین کو دوسرے کے رہن یا اجارے میں نہیںایك مدت معینہ پانچ برس کے لئے ایك اجرت معینہ پر ہزار روپیہ پر اجارہ دیتا ہے اور باہمی رضا سے زر اجرت پیشگی دینا قرار پاتاہے۔اس میں کچھ حرج نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۸: از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ عنایت حسین صاحب ۲۹ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك اراضی کا لگان بندوبست میں عہ۴/ مقرر ہوااب اس اراضی کی حیثیت عا ۸/ کی ہے کسی شخص نے مبلغ مہ پیشگی پانچ سال کا لگان اس وقت کی حیثیت سے ادا کرکے لیاس طرح پر اس کا لینا جائز ہے یانہیں یاکسی شخص نے بجائے عا ۸/ روپیہ کی شرح کے عا سے بھی
#7241 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
وہ جائز ہوسکتی ہے یانہیں اور اگر جائز ہوگی تو کن کن وجوہات سے جائز ہوگا۔
الجواب:
بندوبست میں جو مقرر ہوا اس کی پابندی عاقدین پر لازم نہیں باہم زمیندار کا شتکار میں جس قدر پر رضامندی ہوجائے کم پر خواہ زائد پر۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۹: از موضع دیورنیا ضلع بریلی مسئولہ شرف الدین ومسیح الدین زمیندار ۳۰ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ کاشتکار کو اپنی موروثی اراضی مصدقہ بندوبست بشرح عہ ۴/ بیگھہ خام کسی دوسرے شخص یعنی اپنے ذیلی کاشتکار کو مبلغ مہ لے کر پانچ سال کو پٹہ پر دینا جائز ہے یانہیں اور یہ مبلغ پچاس روپے اسی میعاد پنجسالہ میں ذیلی کاشتکار کے وصول ہوجائیں گے اور عہ ۴/ لگان زمیندار کو یہی ذیلی کاشتکار ادا کرے گا۔مکرر یہ کہ شرح لگان مصدقہ بندوبست عہ ۴/ لحاظ نہ کیا جائے خواہ بجائے عہ ۴/ کے ۶/ باہم کاشتکار اصلی وذیلی طے ہو یا مبلغ عا ۸/ یا اور کم وبیش بینوا توجروا
الجواب:
کاشتکار کو جائز نہیں کہ جو زمین اس کے پاس جتنے لگان کو ہے اس سے ایك پیسہ زائد پرذیلی کو دےجتنا زیادہ مقرر کرے گا اسے لینا ناجائز ہوگامگر تین صورتوں میں جائز ہے:
(۱)اس کے ساتھ اپنے پاس سے اور کوئی چیز ملا کر دونوں کو مجموعۃ زیادہ پر دے۔
(۲)اس زمین کو کنواں کھود کریا اور کام نفع کا بڑھاکر کرایہ پر دے۔
(۳)کرایہ کی جنس بدل دےمثلا اس کے پاس دس روپے سال پر ہے یہ ذیلی کو ایك اشرفی کرائے پردے یاجتنی اشرفیاں ٹھہریں یو نہی نوٹ یا پیسہ یا اکنیاںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۰: از ضلع سکھر سندھ ڈاکخانہ ڈھرکی مقام بھرچونڈی شریف درگاہ عالیہ سلسلہ قادریہ مسئولہ خدا بخش صاحب ۲۳ رمضان ۱۳۳۹ھ چہار شنبہ
بخدمت عظامی منزلت شمس الشریعت حضرت مولنا صاحب سلمہ ربہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزی قانون کے مطابق جو شخص پانچ برس متواتر اپنی غیر آباد زمین کا محصول(یعنی خراج)نہیں دیتا وہ زمین اس کی ملك سے نکل کر گورنمنٹ کی ہوجاتی ہے کہ بعد دس برس گزرنے کے بغیر رضامندی شخص مذکور کے دوسرے کو دے دیتے ہیں۔آیا زمین مذکورہ بالا بموجب شرع شریف مالك کی ملك سے نکل کر گورنمنٹی بنتی ہے یا نہیں اور اس زمین کا لینا درست ہے یانہیں اگر کسی نے خریدی ہو تو واپس دے یا نہیں اگر دے تو جو خرچ اس زمین پر کیا ہے اس سے واپس لے یا نہیں نیز یہ کہ اگر مشتری مالك کو دے جب بھی گورنمنٹ
#7242 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
اس کو نہیں دیتی بغیر درخواست کےاور درخواست بسبب مفلسی کے وہ نہیں دیتا۔بینوا توجروا
الجواب:
شریعت میں اس وجہ سے زمین ملك مالك سے نہیں نکل سکتیاس کا خریدنا ناجائز ہوگااور خرید لی تو مالك کو واپس دینا واجب ہوگااور جو قیمت وغیرہ دینے میں خرچ ہو وہ مالك سے واپس نہیں لے سکتالانہ ھو المضیع لمالہ(کیونکہ اس نے اپنا مال ضائع کیا۔ت)اس پر حکم شرعی یہ ہے یہ بجالائے اگرچہ اس کے کرنے کو گورنمنٹ تسلیم نہ کرے۔اس کا الزام اس پر نہ ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
#7243 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
کتاب الذبائح
(ذبح کابیان)
مسئلہ ۷۱: شہر بریلی محلہ ابراہیم پورہ مسئولہ از عزیز الدین ۳ شوال ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ذبیحہ بعد غروب آفتاب وقبل طلوع آفتاب مکروہ ہے یانہیں اور اگر مکروہ ہے تو کس طرح ہوگااور اگر ایسے ہی وقت مذکور میں بلی کسی پرند یا مرغ کو ہلاك کرےاورذبح کچھ تھوڑا خون ذبیحہ فورا یا کچھ دیر بعد دےتو اس کے واسطے کیا حکم ہے آیا ذبیحہ جائز ہوگیا یانہیں اور وہ ذبیحہ اگر جائز ہوگیا تو وہ بھی مکروہ ہے یا نہیں اور اگر مکروہ ہے تو کیسا بینوا توجروا
الجواب:
رات کو ذبح کرنا اندیشہ غلطی کے باعث مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے۔اور ضرورت واقع ہو مثلا صبح کے انتظار میں جانور مرجائے گا تو کچھ کراہت نہیں لانہ الان مامور بہ حذرا عن اضاعۃ المال اھ(کیونکہ مال کے ضائع ہونے کے خطرہ کی بناء پر وہ اب اس کا مامور ہے۔اھ ت)پھر کراہت اس فعل میں ہے ذبح اگر صحیح ہوجائے ذبیحہ میں کچھ کراہت نہیں لتبین ان الغلط لم یقع(واضح ہوجانے پر کہ غلطی نہ ہوئی۔ت) درمختار میں ہے:
کرہ تنزیہا الذبح لیلا لاحتمال غلطی کے احتمال کی وجہ سے رات کو ذبح کرنا
#7244 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
الغلط ۔ مکروہ تنزیہی ہے۔(ت)
حرمت حلت کا مدا رخون نکلنے نہ نکلنے پر نہیںبلکہ یہ ثابت ہونا چاہئے کہ وقت ذبح جانور زندہ تھاا گر یہ معلوم ہو اور خون اصلانہ دے حلال ہےاور اگرنہ ثابت ہو اور خون زندہ کا سادے تو بعض دفعہ کہیں رکا ہوا خون کچھ دیر بعد مردے کے بھی نکلتا ہے جانور حلال نہ ہوگاحیات کی علامت یہ ہے کہ جانور تڑپے یا منہ آنکھ بند کرے یا پاؤں سمیٹے یا اس کے بدن کے بال کھڑے ہوجائیں
درمختارمیں ہے:
ذبح شاۃ مریضۃ فحرکت وخرجت الدم حلت والا لاان لم تدرحیاتہ عندا لذبح و ان علم حیاتہ حلت مطلقا۔وان لم تتحرك ولم یخرج الدمذبح شاۃ لم تدرحیاتہا وقت الذبحان فتحت فاہا لاتوکل و ان ضمتہ اکلتوان فتحت عینہا لا توکلوان ضمتہا اکلتوان مدت رجلہا لاتوکلوان قبضتہا اکلت و ان نام شعرہا لا توکلوان قام اکلتوہذا کلہ اذا لم تعلم الحیاۃ وان علمت وان قلت اکلت مطلقا بکل حال زیلعی ۔ مریضہ بکری کو ذبح کیا تو اس نے حرکت کی اور خون نکلا حلال ہوگئیورنہ نہیںیہ جب ہے کہ ذبح کے وقت اس کا زندہ ہونا مشکوك ہو اور اگر زندہ ہونا یقینی ہو تو مطلقا حلال ہوگی اگر چہ اس نے حرکت نہ کی اور نہ خون جاری ہوا ہواگر ذبح کے وقت زندہ ہونا مشکوك ہو تو ذبح کرنے پر اس نے منہ کھولا تو نہ کھا یا جائے اور اگر اس وقت منہ بندکیا تو کھا لیا جائے گا یوں اگر اس نے آنکھیں کھول رکھیں تو نہ کھایا جائے اور اگر بند رکھیں تو کھایا جائےاگر ٹانگیں دراز رکھیں نہ کھایا جائے اگر سمٹ لیں تو کھایا جائے اگر اس کے بال کھڑے نہ ہوئے تو نہ کھایا جائے اور کھڑے ہوں تو کھایا جائے یہ سب اس صورت میں ہے جب ذبح کے وقت زندہ ہو نا یقینی نہ ہو اوراگر زندہ ہونے کا یقین ہو تووہ مطلقا کھانا جائز ہے خواہ کسی حال میں ہوزیلعی (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ اوخرج الدم ای کما یخرج من الحیقال فی البزازیۃ وفی شرح الطحطاوی اس کا قول کہ خون نکلے یعنی جس طرح زندہ سے نکلتاہے بزازیہ میں کہااور شرح طحطاوی میں ہے۔
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۲ €
درمختار کتاب الذبح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۰€
#7245 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
خروج الدم لایدل علی الحیاۃ الا اذ اکان یخرج کما یخرج فی الحی عندا لامام وھو ظاھر الروایۃ (باختصار) واﷲ تعالی اعلم۔ خون نکلنا زندہ ہونے کی دلیل صرف اس صورت میں ہے کہ اس طرح نکلے جس طرح زندہ سے نکلتا ہے امام اعظم رحمہ الله تعالی کے مذہب میں اور وہی ظاہروایت ہے۔(باختصار)۔ (ت)
مسئلہ ۷۲: از شہر کہنہ بریلی ۹ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ
ایك مولوی صاحب آئے ہیںوہ کہتے ہیں بسم الله والله اکبر لا الہ الا الله اللہم منك ولك کہنا چاہئے بسم الله الله اکبر بغیر واؤ کے جو رائج ہورہا ہے مکروہ ہے۔اس میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
بغیر واؤ کے مستحب ہے۔اسے مکروہ کہنا صحیح نہیںبلکہ تنویر الابصاروغیرہ میں واؤ بڑھانے کو مکروہ فرمایابہر حال بلا واؤ کے خالی از کراہت وپسندیدہ ومستحب ہونے میں کلام نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ذبح کرتاہے دوسرا پاؤں یا سر ذبیحہ کا پکڑے ہے دونوں پر بسم الله ضرور ہے یا ذابح کو کافی ہے اور اگر مددگار نے بسم الله ترك کی قصدا یا یہ مددگار کوئی کافر ہندو وغیرہ تھاتو ذبیحہ حلال رہا یا مردار ہوا بینوا توجروا
الجواب:
اصل ذابح پر تکبیر کہنی لازم اور اسی کی تکبیر کا فی ہے۔سریا پاؤں پکڑنے والے کی تکبیر کی اصلا حاجت نہیں نہ اس کا کافر مشرك ہونا کچھ مضر۔
فان الذبح انما ھو قطع العروق لا الاخذ بالراس والقوائد کما لایخفی۔ ذبح جانو ر کی رگوں کے کاٹنے کا نام ہے جانور کے سروپاؤں پکڑنے کا نام نہیںجیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت)
ہاں اگر ایك نے دوسرے کو نفس ذبح میں مدد دیمثلا زید ذبح کر تا ہے عمرو نے دیکھا اس کا ہاتھ ضعیف ہے ذبح میں دیر ہوگی اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا اور دونوں نے مل کر چھری پھیری تو بیشك دونوں میں جوکوئی قصدا تکبیر نہ کہے گا جانور حرام ہو جائے گایونہی اگر ان میں کوئی کافر مشرك تھا تو بھی ذبیحہ مردار ہوگیا
فی الدرالمختار تشترط التسمیۃ من درمختار میں ہے کہ ذبح کرنے والے پر بسم الله
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۶€
#7246 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
الذابح وفیہ عن الخانیۃ ارادۃ التضحیۃ فوضع یدہ من یدالقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبحسمی کل وجوبا فلو ترکھا احد ھمااوظن ان تسمیۃ احد ہما تکفی حرمت الخواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب۔ پڑھنا لازم ہے اور اس میں خانیہ سے ہے قربانی کرتے ہوئے اپنا ہاتھ قصاب کے ہاتھ کے ساتھ ذبح میں رکھا اور ذبح میں مدد کی تو ہر ایك بسم الله پڑھےتو اگر ایك نے نہ پڑھا یا خیال کیا کہ ایك کا پڑھنا کافی ہے تو جانور حرام ہوگا الخوالله سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب(ت)
مسئلہ ۷۴: ۱۳ صفر ۱۳۳۲ھ:
چہ فرمایند علمائے دیں اندریں مسئلہ کہ بہنگام ذبح کردن حیوان وذابح سوئے کدامے بایداستادوراس حیوان کدام جانب می کنداستقامۃ اشاعت ست کہ بوقت ذبح حیوان سروی بجنوب می کند وچہرہ ذابح بقبلہ مے کندخلاصہ آنکہ اگر بجانب شمال وجنوب ومشرق شدہ ذبح سازدپس چہ حکم داردآیا کہ جائزمے شود یا بدعتاگر بدعت شود کدام بدعتوکدام اولی ست مع ادلہ تصریحا تحریر فرمایند۔بینوا توجروا علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ حیوان کو ذبح کرتے ہوئے حیوان کا سر کس طرف ہونا چاہئے اور ذبح کرنے والا کس جانب کھڑا ہومشہور ہے کہ ذبح کے وقت جانور کا سر جنوب کی طر ف اور ذبح کرنے والا رو بقبلہ ہوخلاصہ یہ ہے کہ جنوبشمال اور مشرق کی طرف ہو کر ذبح ہوا تو کیاحکم ہےکیا جائز ہوا یا بدعت ہوئیاگر بدعت ہے تو کون سیاو رکون سی جانب اولی ہے دلائل کے ساتھ صراحۃ تحریر فرمایا جائے۔بینوا توجروا(ت)
الجواب:
سنت متوارثہ آن ست کہ روئے خود و روئے ذبیحہ ہر دو سوئے قبلہ کندوسر ذبیحہ در بلاد ما کہ قبلہ سوئے مغرب ست جانب جنوب بود تاذبیحہ بر پہلو چپ خودش خوابیدہ باشدوپشت او جانب مشرقتاروئے سمت قبلہ بودوذابح سنت یہ چلی آرہی کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رو ہوہمارے علاقہ میں قبلہ مغرب میں ہے اس لئے سر ذبیحہ جنوب کی طرف ہونا چاہئے تاکہ جانور بائیں پہلوں لیٹا ہو اور اس کی پیٹھ مشرق کی طر ف ہو تاکہ ا س کا منہ قبلہ کی طرف ہوجائےاور ذبح کرنے والا
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۵€
#7247 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
پائے راست خود برصفحہ راست گردنش نہادہ ذبح کنداگر توجہ یا توجیہ بہ قبلہ ترك کند مکروہ استاو راگر بر پہلوئے راستش خواباند نزد بعض اجلہ ائمہ مالکیہ حرام گرددخوردنش روانبود پس احتراز ازاں مناسب ومؤکد ترشد خروجا عن الخلاف احمد ودارمی و ابوداؤد وابن ماجہ از جابر رضی الله تعالی عنہ روای قال ذبح النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجوأینفلما وجہہما قال انی وجہت وجہی للذی فطر السموت والارض ۔ الحدیث۔وبخاری ومسلم اسامی عــــــہ وابن ماجہ از انس رضی اﷲ تعالی عنہ آوردند قال ضحی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بکبشین املحینفرأیتہ واضعاقدمہ علی صفائحہما یسمی و یکبر فذبحہما بیدہ ۔امام عینی درعمدۃ القاری فرمود فالتکبیر مع التسمیۃ مستحب وکذا وضع الرجل علی صفحۃ عنق الاضحیۃ اپنا دایاں پاؤں جانورکی گردن کے دائیں حصہ پر رکھے اور ذبح کرے اور خود اپنا یا جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا ترك کیا تو مکروہ ہےاگر جانور دائیں پہلو لٹایا تو بعض اجلہ ائمہ مالکی کے نزدیك حرام ہوجائیگا اور ا س کاکھانا جائز نہ ہوگالہذا اس سے پرہیز میں تاکید ہے تاکہ خلاف سے بچایا جائےاحمد دارمیابوداؤد اورابن ماجہ نے حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قربانی کے روز دو خصیچتکبرےسینگوں والے دنبے ذبح فرمائےآپ نے جب ان کو قبلہ رولٹا یا تو آپ نے یہ دعا پڑھیانی وجہت وجہی للذی فطر السموت والارض الحدیث۔بخاری ومسلمدارمی اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا انھوں نے کہا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ چتکبرےموٹے دنبے ذبح فرمائے تومیں نے دیکھا کہ آپ نے اپنا پاؤں مبارك جانو رکی گردن کے ساتھ والے حصہ پر رکھا اور بسم الله پڑھی اورتکبیر کہی تو دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا امام عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا بسم الله کے ساتھ تکبیر مستحب ہے اور یوں قربانی کے

عــــــہ:ھکذا فی الاصل لعلہ"الدارمی"۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب مایستحب من الضحایا ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳€۰
صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۵۔۸۳۴،€صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۵۶€
#7248 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
الایمین واما التسمیۃ فہی شرط ۔وہمدرانست قال ابن القاسم الصواب ان یضجعہا علی شقہا الا یسر وعلی ذلك مضی عمل المسلمینفان جہل فاضجعہا علی الشق الاخر لم یجز اکلہا ۔درتنویر الابصار کرہ ترك التوجہ الی القبلۃ ۔دردرمختار ست لمخالفتہ السنۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جانور کی گردن کے دائیں پہلو پر پاؤں رکھنا مستحب ہے لیکن بسم الله پڑھنا شر ط ہےاور اسی میں ہے ابن قاسم نے فرمایا بہتر یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو لٹایا جائے مسلمانوں کا یہی طریقہ جاری ہے اگر جہالت کی اور جانور کو دوسرے پہلو لٹایا تو کھانا جائزنہ ہوگا۔تنویر الابصارمیں ہے کہ قبلہ کی جہت کا ترك مکروہ ہے۔درمختارمیں ہے کہ یہ سنت کے مخالف ہےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۵: از شہر لاہور مرسلہ انوارالحق تحصیل چونیاں روز جمعہ ۲ ۱ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس طرح ذابح پر تسمیہ پڑھنا ضروری ہے اسی طرح معین ذابح پر تسمیہ پڑھنا ضروری ہے یانہیں اور معین ذابح کس کو کہتے ہیں
الجواب:
معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذابح کا ہاتھ کمزور ہوذبح میں دقت دیکھے تو دوسرا اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر دونوں مل کر ہاتھ پھیریںاس صورت میں دونوں پر تکبیر واجب ہے۔اگر ان میں سے کوئی بھی قصدا تکبیرنہ کہے گاذبیحہ مردار ہوجائے اگرچہ دوسرا تکبیر کہےدیوبندی قول محض غلط وجہالت ہے۔تکبیر ذابح پر لازم فرمائی گئی ہےاور ہاتھ پاؤں پکڑنا ذبح نہیں ہاتھ پاؤں پکڑنے والا مثل رسی کے وہی کام دے رہا ہے جو ایك رسی دیتی ہے۔اس پر تکبیرلازم ہونا درکناراگر مجوسی یا بت پر ست ہاتھ پاؤں پکڑے گا ذبیحہ میں خلل نہ آئے گاتنویر الابصارمیں تھا:تشترط التسمیۃ (بسم الله پڑھنا شرط ہے۔ت)در مختار میں اس طرح کی شرح فرمادی:من الذابح (ذبح کرنے والے سے۔ت)ردالمحتارمیں فرمایا:
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۲۱/ ۱۵€۵
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب من ذبح الاضاحی بیدہ ادارۃالطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۲۱/ ۵۵،۱۵۴€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲€۸
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲€۸
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
#7249 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
شمل ما اذا کان الذابح اثنین فلو سمی احد ہما وترك الثانی عمدا حرم اکلہ ۔ جب ذبح میں دو شخص شریك ہوں تو بسم الله پڑھنا دونوں پر شرط ہے۔اگر ایك نے پڑھا اور ایك نے پڑھنا ترك کیا یا یہ خیال کیا کہ ایك کا پڑھنا کافی ہے کھانا حرام ہوگا۔(ت)
درمختارمیں خانیہ سے ہے:
فوضع یدہ مع یدا لقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبحسمی کل وجوبا فلو ترکہا احدہما وظن ان تسمیۃ احدہما تکفی حرمت ۔ ذبح کرنے میں معاون نے قصاب کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی ذبح میں چھری پررکھا تو دونوں بسم الله بطور وجوب پڑھیںایك نے نہ پڑھادوسرے نے ترك کیا یا ایك کے پڑھنے کو کافی جاناجانورحرام ہوگا۔(ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں ہے:
یشترط تسمیۃ من اعان الذابح بحیث وضع یدہ علی المذبح کما وضع الذابح حتی لو ترك احدہما التسمیۃ لایحلذکرہ فی فتاوی قاضی خاں ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ذبح میں معاون نے اپنا ہاتھ قصاب کے ساتھ چھری پر رکھا تو دونوں کا بسم الله پڑھنا شرط ہےاگر ایك نے بسم الله کو ترك کیا تو حلال نہ ہوگا۔اس کو فتاوی قاضیخاں میں ذکر کیا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۶: مرسلہ بھولا گھمیار دکاندار سیہراؤںڈاکخانہ پٹیتحصیل قصور ضلع لاہور ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین حنفیہ اس مسئلہ میں کہ ذبح کے وقت جس بکرے کی گھنڈی سر کی طرف ایك چھلہ دار بھی نہ رہے وہ عندالشرع حلال ہے یاحرام بینوا توجروا
الجواب:
اس مقام میں تحقیق یہ ہے کہ ذبح میں گھنڈی کا اعتبار نہیںچاروں رگوں میں سے تین کٹ جانے پر مدارہے۔اگر ایك یا دو رگ کٹی حلال نہ ہوگا اگرچہ گھنڈی سے نیچے ہواور اگر چاروں یا کوئی سی تین کٹ گئیں تو حلال ہے اگر چہ گھنڈی سے اوپر ہورد المحتار میں ہے:
ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل اگر گھنڈی سے اوپر ذبح میں چار میں سے تین رگیں

قطع ثلثۃ من العروق فالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی والا فالحق خلافہاذلم یو جد شرط الحل باتفاق اہل المذہبویظھر ذلك بالمشاہدۃ اوسوال اہل الخبرۃفاغتنم ہذا المقال ودع عنك الجدال ۔وھو تعالی اعلم۔ کٹ گئیں جو ہدایہ کے شارحین نے رستغفنی کی اتباع میں کہا وہ حق ہے ورنہ حق اس کے خلاف ہے کیونکہ اہل مذہب کی متفقہ شرط برائے حلت نہ پائی گئی یہ معیار مشاہدہ سے ظاہر ہوگا یا ماہرین سے پوچھنے پر ظاہرہوگا اس مقالہ کوغنیمت سمجھو اور جھگڑا ختم کرو والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۲€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۵€
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الذبائح ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۱۹۱€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۷۸€
#7250 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
مسلہ ۷۷: از چوئی زیریں مسجد کلاں ضلع ڈیرہ غازی خاں مرسلہ جناب عبدالله صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۳۵ھ
جناب حضرت مولنا وبالفضل اولناجناب شمس العلماء ومفتی العصر سلامتحضور انورمذبوحہ فوق العقدہ کامسئلہ جو اختلاف میں ضبط ہےآں صاحب مہربانی فرماکر مرجح قول کو بدلائل تحریر فرماکر دستخط فرمادیںتکلیف سے بالکل عفو کریں۔
الجواب:اس مسئلہ پر تحقیق وقول فیصل یہ ہے کہ ذبح فوق العقدہ سے اگر چاروں یا تین رگیں کٹ گئیں ذبح ہوگیاجانور حلال۔اور اگر صرف د وہی کٹیں حلقوم ومری نیچے رہ گئےذبح نہ ہوااو ر جانور مرداریہ بات دیکھنے سے معلوم ہوسکتی ہےخود پہچان نہ ہو تو پہچان والوں کے بیان سے۔ردالمحتارمیں ہے:
والتحریر للمقام ان یقال ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل قطع ثلثۃ من العروقفالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی والا فالحق خلافہاذ لم یوجد شرط الحل باتفاق اہل المذہبویظہر ذلك بالمشاہدۃ او سوال اہل الخبرۃ فاغتنم ہذا المقالودع عنك الجدال اھ مقام کی وضاحت یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ اگرگھنڈی سے اوپر ذبح میں تین رگیں کٹ گئی ہوں تو شراح ہدایہ نے رستغفنی کی اتباع میں جو کہا وہ حق ہے ورنہ حق اس کے خلاف ہے کیونکہ اہل مذہب کی متفقہ شرط برائے حلت نہ پائی گئییہ معیار مشاہدہ سے یا ماہرین کے بتانے پر ظاہر ہوگا اس مقالہ کو غنیمت سمجھو اور جھگڑا ختم کرو اھاس
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۷۸€
#7251 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
وفیما کتبت علیہ فان قلت سیأتی عن البدائع ان الاوداج متصلۃ من القلب بالدماغفیحصل فریہا بالذبح فوق العقدۃ ایضا لامحالۃولاشك ان ذلك بین اللبۃ والحیینفیجب الحلقلت سنذکر ھناك ان المراد ثمۃ بالاوداج الودجان اذھما المتصلان من الدماغ الی القلب لا الحلقوم والمری ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ پر میں نے حاشیہ میں نے لکھا اگر تجھے اعتراض ہوکہ بدائع سے عنقریب نقل ہوگا کہ اوداج رگیں دل ودماغ سے متصل ہوتی ہیں توگھنڈی سے اوپر ذبح کرنے میں لازما یہ رگیں کٹ جائیں گی اور اس میں شك نہیں کہ یہ جبڑوں اور لبہ کے درمیان میں ہے۔تو گھنڈی سے اوپر ذبح میں حلال ہوجانالازمی ہے۔میں جواب میں کہوں گا کہ وہاں اوداج سے دو دوجان رگیں مراد ہیں کیونکہ یہ دونوں دل تا دماغ متصل ہوتی ہیںباقی دو یعنی حلقوم اورمری مراد نہیں ہیںوالله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۷۸: از شہر گورکھپور محلہ اسمعیل پور مرسلہ محمد عبدالواسع صاحب حنفی ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص ذبیحہ کو ذبح کرتا ہو اور اس کے ساتھ دوسرا ایك او رجو شریك حال ہو کر ذبیحہ کے اعضاء پکڑے ہوئے ہےاگر ذبحہ کرنے کے علاوہ یہ ایك اس کا شریك حال تکبیر نہ کہے تو کیا ذبیحہ حرام ہوجائے گا یعنی کیا ذبح کرنے والا اور اس کے شریك حال دونوں کےلئے ذبح کے وقت تکبیر کہنا لازم وضروری ہے یانہیں
الجواب:
ذبیحہ کا ہاتھ پاؤں پکڑنے والا بندش کی رسی کی طرح ہے۔اس پرتکبیر کچھ ضروری نہیں بلکہ وہ اہل تکبیر میں سے بھی ہونا ضروری نہیںاگر مشرك یا مجوسی ہو جب بھی ذبیحہ میں فرق نہ آئے گاوہ معین ذابح جس پر تکبیر کہنا ضرور ہے وہ ہے کہ ذابح کا ہاتھ ضعیف ہو تنہا اس کی قوت سے ذبح نہ ہوسکتاہویہ شخص نفس فعل میں اس کی امداد کرے اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھے اور ذبح دونوں قوتوں کے اجتماع سے واقع ہواس حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ایك بھی قصدا چھوڑے گا ذبیحہ مردار ہوجائے گا لانہ اذا اجتمع المبیح والمحرم غلب المحرم(کیونکہ مباح کرنے والی اورحرام کرنیوالی دلیلیں جمع ہوں تو حرام کی دلیل کو غالب کیا جاتاہے۔ت)درمختارمیں ہے:
حوالہ / References جدالممتار علی ردالمحتار
#7252 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
وتشترط التسمیۃ من الذابح حال الذبح اھ فدل علی عدم اشتراطہا من غیر الذابح۔ حالت ذبح میں ذبح کرنے والے کے لئے بسم الله پڑھنا شرط قرار دیا گیا ہے اھ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ غیر ذابح کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
اذا کان الذابح اثنین فلو سمی احدہما و ترك الثانی عمدا حرم اکلہ کما فی التاترخانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب دو مل کر ذبح کریں توایك نے بسم الله پڑھی اور دوسرے نے قصدا ترك کی تو اس کا کھانا حرام ہےجیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۹ و ۸۰: از چوہر کوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دیں دریں مسائل:
(۱)حکم ذبح فوق العقدہ نوشتہ شدہ بمن رسیدلیکن جناب اعلیحضرت فیصلہ ہانہ کردہ۔ہمیں اختلاف دریں ملك بسیار ستکسے می گوید کہ ہر چاررگ بریدہ شودکسے می گوید کہ نہبراہ کرم مولنا صاحب بکدام روایت قائل استہر چہ رائے مولوی صاحب واتفاق فتوی استتحریر فرمایند تاکہ بر اں عمل درآمد کردہ باشد۔
(۲)بریتیم قربانی واجب ست یانہ علمائے دین کیا فرماتے ہیں ان مسائل میں:
(۱)فوق العقدہ(گھنڈی کے اوپر)ذبح کا حکم لکھا ہوامجھے ملالیکن جناب اعلیحضرت نے فیصلہ نہ فرمایااس ملك میں اس مسئلہ میں کثیر اختلاف ہے کوئی کہتاہے چاروں رگیں کٹی ہوئی ہونی چاہئیںکوئی اس کے خلاف کہتاہےبرائے مہربانی مولوی صاحب جس روایت کے قائل ہوں اور جو رائے ہو اور فتوی کا جس پر اتفاق ہو وہ لکھیں تاکہ اس پر عمل کیا جائے۔
(۲)یتیم پر قربانی واجب ہے یانہیں
الجواب:
(۱)اجماع ائمہ ماست کہ اگر سہ رگ بریدہ شود ذبیحہ حلال ست و ایں معنی بمشاہدہ یا رجوع باہل خبرت تواں دریافت ہمیں درفتوی سابقہ نوشتہ شدہ وہمیں است فیصلہ علامہ شامی و ردالمحتار (۱)ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے کہ اگر تین رگیں کٹ گئی ہوں تو ذبیحہ حلال ہےیہ معیار شاہدہ سے یا ماہر سے دریافت کریںپہلے فتوی میں یہی لکھا گیا تھا اور یہی فیصلہ علامہ شامی کا ردالمحتارمیں
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۷€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۲€
#7253 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
وانچہ یکبار برائے امتحان مشہور فقیر شد آنست کہ بذبح فوق العقد نیز رگہا بریدہ مے شود۔والله تعالی اعلم۔ ہے اور ایك بار اس فقیر نے بطور امتحان مشاہدہ کیا تو فوق العقدہ سے بھی تمام رگیں کٹی ہوئی تھیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۱: از سرال ڈاکخانہ بشندور تحصل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عقدہ مذبوح بطرف صدر ہوجائے توکیا حکم ہے
قال عینی وذکر العقدۃ لافی کلام اﷲ و لافی کلام رسول اﷲ عزوجل وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ علامہ عینی رحمہ الله تعالی نے فرمایا عقدہ(گھنڈی)کاذکر الله عزوجل اور سول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے کلام میں موجود نہیں ہے۔(ت)
اس مسئلہ میں تردد ہے۔
الجواب:کم از کم تین رگیں کٹنا لازم ہےاگر عقدہ طرف را س رہا اور تین سے کم رگیں کٹیں مردار ہوگیا اور عقدہ طرف صدررہا اور ذبح بین اللبہ واللحیین ہوااور تین رگیں کٹ گئیں حلال ہوگیاھو التحقیق الذی لایحل العدول عنہ(یہی تحقیق ہے اس سے عدول نہ چاہئے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۲:از مدرسہ اسلامیہ عربیہ ریلوی ہمایوں پوسٹ پٹ میاں تعلقہ شکار پور ضلع سکھر مسئولہ محمد محسن علی ہاشمی مدرس اول ۸ شوال ۱۳۳۵ھ
چہ مے فرمایند علمائے عظام دریں مسئلہ کہ مذبوح فوق العقعدہ حلال ست یاحرام بینوا توجروا کیا فرماتے ہیں علمائے عظام اس مسئلہ کہ فوق العقدہ ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے یا حرام بینوا توجروا(ت)
الجواب:
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الذکاۃ مابین اللبۃ و اللحیین ۔ولا شك ان حضو رصلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ذبح لبہ اور دو جبڑوں کے درمیان ہے اور شك نہیں کہ مافوق العقدہ
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الذبائح المکتب الامدادیۃ مکہ المکرمہ ∞۴/ ۱۳۷€
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ کتاب الذبائح المکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴/ ۱۸۵€
#7254 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
مافوق العقدۃ مما یلیہا بین المحلین وکلام التحفۃ و الکافی وغیرہما یدل علی ان الحلق یستعمل فی العنق کما فی ابن عابدین فتحریر العلامۃ عندی ما افادہ فی رد المحتار اذ قال والتحریر للمقامان یقال ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل قطع ثلثۃ من العروقفالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی و الا فالحق خلافہ اذا لم یوجد شرط الحل باتفاق اہل المذہبویظہر ذلك بالمشاہدۃ او سوأل اہل الخبرۃ فاغتنم ہذا المقال ودع عنك الجدال ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ان دونوں کے درمیان سے متصل ہے اور کافی اور تحفہ وغیرہما کاکلام دلالت کرتاہے کہ حلق کا استعمال گردن پر ہوتاہے جیسا کہ ابن عابدین کے کلام میں ہے تو علامہ ابن عابدین کا فیصلہ کن کلام میرے نزدیك معتبر ہے جس کا انھوں نے ردالمحتار میں افادہ کیا جب انھوں نے فرمایا:تحریر مقام یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ فوق العقدہ ذبح میں اگرتین رگوں کا کٹنا پایا گیا تو حق وہ ہے جو شراح ہدایہ نے رستغفنی کی اتباع میں کہا ورنہ حق اس کے خلاف میں ہے کیونکہ تین رگیں نہ کٹنے کی صورت میں اہل مذہب کی متفقہ شرط حلال ہونے کی نہ پائی گئی اور یہ معیار مشاہدہ یا ماہرین سے پوچھنے پر معلوم کیا جاسکتاہےاس مقالہ کو غنیمت سمجھو اور تنازع ختم کرووالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۳: از شہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ جناب مولوی نواب سلطان احمد خاں صاحب زید مجدہم بتاریخ ۴ صفر المظفر قدسی ۱۳۳۰ھ
بندوق سے ایك ہرن شکار ہواچونکہ اس وقت چاقو یا چھری موجودنہ تھےتو ایك سوار کو گاؤں کی طرف چھری لینے کو دوڑا یا اتنے میں ہرن قریب مرنے کے ہوگیاتوایك زمیندار سے جو اتفاقیہ وہاں موجود تھا درانتی جس سے چارہ کاٹا جاتا ہےدندانہ دار ہوتی ہے لی گئیاور ایك مرد عادل مسلمان نے ذبح کیااس شکار کو کھا یاگیااس پر چند لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے آلہ سے ذبح کیا ہوا حرام ہے۔تو یہ اعتراض ان کا بجاہے یا بیجاہے بینوا توجروا
الجواب:
درانتی بھی آلات ذبح سے ہےردالمحتارکتاب الصیدمیں ہے:
لو نصب شبکۃ وکان بہا الۃ جارحۃ اگر ایسا جال لگایا جس کے ساتھ کوئی آلہ جارحہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۸۷€
#7255 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
کمنجل وسمی علیہ وجرحہ حل عندنا کما لو رماہ بہا انتہی مختصرا۔ لگا ہوا ہو مثلا منجلاور بسم الله پڑھی ہو اور آلہ نے اسے زخمی کردیا تو ہمارے نزدیك حلال ہوجائے گاجیسا کہ آلہ جارحہ پھینکنے کی صورت میں حلال ہوجاتاہے۔انتہی مختصرا۔(ت)
تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
المنجل کمنبر حدیدۃ ذات اسنان یقضب بہا الزرع وقیل ھو مایقضبہ العود من الشجر ۔ منجل بروزن عنبروہ ایك دانتوں والا لو ہے کا آلہ(درانتی) ہےاس کے ساتھ فصل کو کاٹا جاتاہے۔اور بعض نے کہا کہ اس کے ساتھ دخت کی ٹہنی کاٹی جاتی ہے۔(ت)
مگر اس سے ذبح کر نا ممنوع وگناہ ہے کہ بے سبب ایذا ہے۔جیسے کند چھری یا اس سے بھی زائدذبائح الہندیہ میں محیط امام سرخسی سے ہے:
الکلیلۃ یجوز الذبح بہا ویکرہ ۔ کند چھری سے ذبح جائز ہے اور مکروہ ہے۔(ت)
لیکن ایسی صورت میں کہ جانور مرا جاتاہے اور اس کے سو اکوئی آلہ نہیںاجازت بعید نہیں۔
فان الضرورات تبیح المحذورات ۔وربما یفیدہ قول الدرالمختار کل تعذیب بلا فائدہمثل قطع الراس و السلخ قبل ان تبرد ای تسکن عن الاضطراب اھ فہذا وان کان تعذیبا فلا فائدۃ بل للضرورۃ۔ ضروریات مباح کردیتی ہیں ممنوعات کواور درمختارکا قول اس کےلئے مفید ہے کہ سر دہونے سے قبل یعنی اضطراب ختم ہونے سے قبل جانور کا سرکاٹنا اور جانور کی کھال اتارنا مثلا یہ بےفائدہ عذاب ہے اھ تویہ اگرچہ بے فائدہ عذاب دینا ہے لیکن ضرورت کی وجہ سے ہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۲€
تاج العروس شرح القاموس باب اللام فصل النون داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۸/ ۱۲۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۷€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۱۸€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
#7256 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
پھر اگر رگیں کٹنے سے پہلے جانور میں مذبوح کی حیات سے زیادہ حیات باقی تھی جب تو بالاتفاق حلال ہوگیااور اس کا کھانا بے تامل روااور اس پر اعتراض محض باطل وبے جااور اگر آلہ کند تھا اور بہت سختی کرنی پڑی کہ اکثر رگیں کٹنے سے پہلے ہی دانتوں کی رگڑوںصدموں سے اس کی روح فنا ہوگئی یا رہی تو صرف اتنی ہی رہی جو بعد ذبح ہوتی ہے کہ فقط موت کا تڑپنا باقی ہوتا ہے۔ اس کے بعد دو چار پہر جی نہیں سکتاتو اس صورت میں یہاں کہ اور کوئی آلہ ملتا ہی نہ تھا اختلاف علماء ہے بعض فرماتے ہیں حرام ہوگیاکہ ذکوۃ اختیاری یعنی رگوں کے کاٹنے سے اس کی موت نہ ہوئیبلکہ سبب موت قطع عروق سے پہلے ہی متحقق ہو لیااور بعض نے کہا حلال ہے جب آلہ میسر نہ تھا یہ بھی ایك زکوۃ اضطراری کی شکل میں آگیااور رجحان موجود ہ جانب حرمت ہی پایا جاتاہے۔اور اسی میں احتیاط
نقل المصنف ان من التعذر مالو ادرك صیدہ حیا او اشرف ثورہ علی الہلاك وضاق الوقت عن الذبح اولم یجد الۃ الذبح فجرحہ حل فی روایۃ ۔ مصنف نے نقل کیا متعذر صورتوں میں یہ کہ شکار کو زندہ حالت میں پایا یا وہ موت کے قریب تھااور ذبح کرنے والے کو وقت کی تنگی تھی یا ذبح کا آلہ نہ پایا تو ایسی صورت میں اگر زخمی کردیا تو حلال ہوگا یہ ایك روایت ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الاولی ان یقول فی قولہ لان نقلہ المصنف عن القنیۃ معزوا الی بعض المشائخ وقال البعض الاخر لایحل اکلہ الا اذا قطع العروق۔افادہ ط ۔ روایت کی بجائے ایك قول کہنا مناسب ہے کیونکہ اس کو مصنف نے قنیہ سے بحوالہ بعض مشائخ نقل کیا ہے اور بعض دیگر نے کہا اس کا کھانا حلال نہیں جب تك اس کی رگیں نہ کاٹ دےاس کا افادہ علامہ طحطاوی نے کیا۔(ت)
اورہندیہ کی عبارت یہ ہے:
اشرف ثورہ علی الہلاك ولیس معہ الا مایجرح مذبحہ جانور موت کے قریب ہے اور ذبح کرنیوالے کے پاس صرف ایسی چیز ہے جو ذبح والے مقام کو زخمی
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۹€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۳€
#7257 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
ولو طلب الۃ الذبح لایدرك ذکاتہ فجرح لایحلالا اذا قطع العروق قال القاضی عبدالجبار یحل ان جرحہ کذا فی القنیۃ ۔ کرسکتاہےاور اگر وہ ذبح کاآلہ تلاش کرے تو جانور مردار ہوجائے ایسی صور ت میں مقام ذبح کو زخمی کردینے سے حلال نہ ہوگا جب تك اس کی رگوں کو کاٹ نہ دےقاضی عبدالجبار نے کہا ہے اگر زخمی کردیا جس سے موت واقع ہوئی تو حلال ہے یوں قنیہ میں ہے۔(ت)
تنویر الابصارودرمختار وردالمحتار کتاب الصید میں ہے:
ان ادرکہ الرامی والمرسل حیا ذکاہ وجوبافلوترکہا حرموکذا یحرم لو عجز عن التذکیۃ(بان لم یجد الۃ او لایبقی من الوقت مایمکن تحصیل الالۃ والا ستعداد للذبح)لان العجز عن التذکیۃ لایحل الحرام اھ ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کتا چھوڑنے والے یا تیر مارنے والے نے شکار کو زندہ پایا تو اس کو ذبح کرنا واجب ہے اگر نہ کیا تو حرام ہوگا اور یونہی اس صور ت میں ذبح کرنے سے عاجز رہا تو بھی حرام ہوگاعجز کی صورت یہ کہ ذبح کاآلہ نہ پائے یا اتنا وقت نہ پایا کہ آلہ حاصل کرسکے یا ذبح کی استعداد نہ پائےکیونکہ عجز حرام کوحلال نہیں کرتا اھ ملتقطا۔والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۸۴ و ۸۵:از ڈیرہ اسمعیل خاں ملك وزیر ستان چھاؤنی ٹانك پوسٹ کرگٹی ورکس کمپنی مرسلہ مولوی اکبر حسین صاحب اسٹون ۲۶۰۴ ۱۳رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:لوہے کی پتی کی چھری بنی ہونہ اس میں دستہ ہو نہ دستہ کی جگہ پر کوئی سوراخ ہواس سے ذبح کرنا درست ہے یانہیں یہ جگہ فیلڈ ہے اور گرمی بہت سخت اور دھوپ میں کام کرنا پڑتاہے۔یہاں روزہ رکھنا چاہئے یانہیں
الجواب:
اگر اس میں کسی طرف دھار رکھی گئی ہو جیسے چھری میںتو دھار سے ذبح جائز ہےاور دھار نہ ہو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸€۸
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۳،€ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۳€
#7258 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
تو ذبح ناممکن اور جانور مردار ہوجائے گانص علیہ الامام النسفی فی الکافی(اس پر امام نسفی نے کافی میں نص فرمائی ہے۔
اگر دھوپ میں کام کرنے کے ساتھ روزہ ہوسکے اور آدمی مقیم ہو مسافر نہ ہو تو روزہ فرض ہے اور اگر نہ ہوسکے روزہ رکھنے سے بیمار پڑ جائےضرر قوی پہنچےتو مقیم غیر مسافر کو ایسا کام کرنا حرام ہے۔اگر ترك پر قدرت نہ ہو اور کسی طرح نہ ممکن ہو قضا رکھےوالله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۶: از سرنیا ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
کوئی جانور دیوار سے دب گیاگردن مٹی سے دب گئیتو کس ترتیب سے ذبح کرے
الجواب:
اگر اندیشہ ہے کہ نکالنے تك اس کا دم نکل جائے گاتو جہاں چاہے تکبیر کہہ کر خون نکال دے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: مرسلہ مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی پیلی بھیت ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بھنگی نے ظاہر کے نام کا بکرا مانااسے ایك فقیر مسلمان نے بھنگی کے گھر جاکر ذبح کیا اور اس کا کلیجہ نکال کر بھونااور اس فقیر کے ہمراہ چار مسلمان اور تھےپانچوں نے کھایافقیر کافر ہوا یامسلمان رہا مرتکب حرام ہوا یا نہیں اور بقیہ آکلین کاکیا حکم ہے اور یہ ذبیحہ حلال ہے یاحرام مثل میت ہے یا ا س سے کچھ اوترتا اور جو اس ذبیحے کو حلال بتائے وہ برتقدیر حرمت کافر ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ذابح اگر غیر خدا کے نام پرذبح کرے یعنی وقت ذبح جس طرح تکبیر کا حکم ہے یہ غیر خدا کانام لے مثلا بسم الله کی جگہ باسم فلاں کہے تو ذبیحہ قطعا حرامقال اﷲ تعالی " وما اہل بہ لغیر اللہ" (الله تعالی نے فرمایا:جس کو غیرالله کے نام پر ذبح کیاگیا۔ (ت) اسی طرح اگر مسلمان عــــــہ کلمہ گو نے اس ذبح
عــــــہ: خصصت الکلام بالمسلم لان المشرك میں نے مسلمان کو خاص ذکر کیا کیونکہ مشرك اگرچہ
(باقی اگلےصفحہ پر)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۳€
#7259 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
سے غیر خدا کی عبادت کا قصد کیا اور اہل اسلام اراقۃ دم لوجہ الله سے جس طرح کا تقرب الله جل جلالہ کی طرف
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لاتحل ذبیحتہ مطلقا وان سمی اﷲ تعالی وقصد بہ التقرب الیہ وحدہ وعزوجل والکتابی تحل ذبیحتہ اذا سمی اﷲ تعالی وحدہ وان قصد بہ التقرب الی غیرہ تعالیقال النیشاپوری فی تفسیرہ قال مالك و الشافعی وابوحنیفۃ و اصحابہاذا ذ بحوا علی اسم المسیح فقد اہلوا بہ لغیر اﷲ فوجب ان یحرمواذا ذبحوا علی اسم اﷲ فظاہر اللفظ یقتضی الحل ولا عبرۃ بغیر اللفظ اھ وقال فی الہندیۃ عن البدائع لو سمع منہ یعنی من الکتابی ذکر اسم اﷲ تعالی لکنہ عنی باﷲ تعالی وعزوجل المسیح علیہ السلام قالوا توکل الااذانص فقال بسم اﷲ الذی ھو ثالث ثلثۃ فلا یحل الخ ۔اقول: الله وحدہ تعالی کے نام اور اسی کاتقرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کرے تب بھی اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگااور اہل کتاب (یہودی یا عیسائی)اگر الله تعالی کے نام پر ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ حلال ہوگا اگر چہ وہ غیر الله کے تقرب کے لئے ذبح کرے۔علامہ نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ امام مالکشافعیابوحنیفہ او ران کے اصحاب نے فرمایا کہ اگر عیسائی مسیح کے نام پر ذبح کریں تو اس نے یقینا غیر الله کے نام پر ذبح کیالہذا ضروری ہے کہ وہ ذبیحہ حرام ہو۔اور اگر وہ الله تعالی کے نام پر ذبح کریں تو ظاہر الفاظ کے اعتبارپر وہ ذبیحہ حلال ہوگا اورغیر لفظ کا اعتبار نہ ہوگا اھہندیہ میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ اگر کتابی عیسائی سے ذبح کے وقت الله تعالی کا نام سنا لیکن اس نے الله تعالی سے مراد مسیح علیہ السلام کو لیا توفقہاء نے فرمایا کہ اس کا ذبیحہ کھایا جائے گا جب تك کہ صریح الفاظ میں یوں نہ کہے الله کے نام سے جو تین میں سے تیسرا ہے۔اگر صریح طور پر ایسے کہے تب حرام ہوگا الخ اقول: (میں کہتاہوں) (باقی اگلےصفحہ پر)
حوالہ / References غرائب القرآن(تفسیر النیسابوری) ∞تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۷۲€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۵€
#7260 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
چاہتے ہیںاس نے اس ذبح سے اسی نوع کا تقرب غیر خدا کی طرف چاہاتو بھی حرمت ذبیحہ میں کلام نہیںاگر چہ اس پر زبان سے خالص تکبیر ہی کہی ہو کہ جب اس نے غیر خدا کو معبود قرار دیا یا اس ذبح سے اس کی عبادت کا قصد کیا مرتد ہوگیا اور مرتد کا ذبیحہ حلال نہیںمگر نازلہ مسئولہ سائل ان صورتوں سے بری ہے کہ یہ تو یقینا معلوم کہ کوئی کلمہ گو ذبح کرتے وقت بسم الله کی جگہ باسم ظاہر ہر گز نہیں کہتانہ زنہار کسی مسلمان پر یہ گمان ہوسکتا ہےکہ وہ غیر خدا کی عبادت چاہے اور ظاہر واہر بھنگیوں وغیرہم کفا رکے باطل معبودان کو معاذالله معبود قرار دےتو لاجرم اس نے الله ہی کے نام ذبح کیا اور عبادت غیر خدا کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آیابلکہ اصلا اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کہ اس کی جان دینے سے فقیر مسلم اس معبود باطل کی مجرد تعظیم(جومثل تعظیم اہل دنیا بوجہ غناء انحائے تعظیم الہی سے نہیں ہوسکتی)منظور رکھی ہوکہ مسئلہ ذبح عند قدوم الامیرکو اس سے تعلق ہوسکےانصاف یہ ہے کہ اس طرح کے فقیروں کو صرف اپنے کھانے سے غرض ہوتی ہےکافر بلاکر لے گیا انھوں نے تکبیرکہہ کر بطور مسلمانان ذبح کیا اور اپنے کھانے کے قابل کردیااس کے سوا انھیں دوسری نیت فاسد ہ کا مرتکب جاننا مسلمان پر نری بدگمانی ہے جو بنص قطعی قرآن حرام۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم " ۔ الله تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والسرفیہ مااشرنا الیہ ان الکتابی لایخرج بہذا عن کونہ کتابیا فتحل اذا جرد التسمیۃ ﷲ تعالی کما ان المشرك لایخرج عن الاشراك بتجرید التسمیۃ فلا تحل وان سمی اﷲ تعالی اما المسلم لیخرج بہذا القصد عن الاسلام فلا تحل ھکذا ینبغی ان یفہم ھذا المقام ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز۔ اس میں نکتہ یہ ہے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ عیسائی و کتابی خالص الله تعالی کا نام لینے اور مراد مسیح علیہ السلام لینے پر کتابی ہونے سے باہر نہ ہوگالہذا اس کا ذبیحہ حلال جس طرح مشرك خالص الله تعالی اور اسی کا تقرب مراد لینے سے شرك سے باہر نہ ہوگا لہذا اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا جبکہ مسلمان غیر الله کا تقرب وعبادت مراد لینے پر اسلام سے باہر ہوجاتاہے لہذا وہ ذبیحہ حلال نہ ہوگااس مقام کو یوں سمجھنامناسب ہے ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز (ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۲€
#7261 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیثرواہ الائمۃ مالك والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا)گمان سے دور رہو کہ گمان سے بڑھ کر کوئی بات جھوٹی نہیں الحدیث(اس کو ائمہ مالکبخاریمسلمابوداؤد اور ترمذی نے ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اور دل کے ارادے پر حکم کرنا خصوصا ایسا کہ صراحۃ خلاف ظاہر وموہوم مضمحل بلکہ محض غلط باطل ہےبیشك جرم عظیم ہے۔
قال اﷲ تعالی" و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ " ۔
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افلاشققت عن قلبہ حتی تعلم أقالہا ام لا اخرجہ مسلم عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما۔ الله تعالی نے فرمایا:بے یقین بات کے پیچھے نہ پڑ بیشك کانآنکھدل سب سے سوال ہوناہے(ت)
(رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا)تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ دل کے عقیدے پر اطلاع پاتا(اس کو مسلم نے اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔ت)
سیدی عارف بالله احمد زروق روح الله تعالی روحہ فرماتے ہیں:
انما ینشؤا الظن الخبیث عن القلب الخبیث ذکرہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ۔ خبیث گمان خبیث دل سے نکلتا ہے۔(اس کو سیدی عبدالغنی النابلسی نے حدیقۃ الندیۃ میں ذکر کیا ہے۔ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب النکاح باب لایخطب علی خطبۃ اخیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷۲ و ۸۹۶،€صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۶،€جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء فی ظن السوء ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۳۶€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ لا الٰہ الا الله ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۸€
الحدیقۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الرابع والعشرون ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۸€
#7262 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
تفسیر کبیر میں فرمایا:
انما کلفنا بالظاہر لابالباطن فاذا ذبحہ علی اسم اﷲ وجب ان یحل ولا سبیل لنا الی الباطن ۔ ہم ظاہر کے مکلف میں باطن کے نہیںتو جب اس نے الله تعالی کے نام پر ذبح کیا تو ضرور حلال ہوگاہمیں اس کے باطن کی طرف راہ نہیں ہے۔(ت)
منیہ وذخیرہ وشرح وہبانیہ ودرمختار وغیرہ میں ہے:
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الادمی بہذاالنحر ۔ ہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ اس نے اس ذبح سے کسی آدمی کا تقرب چاہا ہے۔(ت)
دیکھو ائمہ دین وعلماء معتمدین کیونکر صاف تصریحیں فرماتے ہیں کہ ہمیں باطن کی طرف کوئی راہ نہیںظاہر پر عمل کاحکم ہے۔ جب مسلمان نے خدا کانام لے کر ذبح کیا واجب ہوا کہ ذبیحہ حلال ہوہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ اس نے ذبح سے آدمی کی طرف تقرب چاہاہوجبکہ فقہائے عدول کے یہ اقوال خدا اور رسول کے وہ ارشادتواب سوئے ظن پر بنا نہ کرے گا مگر خبیث الباطن کج نہاد
" وما اللہ بغفل عما تعملون﴿۸۵﴾ " " و اللہ لا یحب الفساد﴿۲۰۵﴾" ۔ الله تعالی غافل نہیں اس سے جو تم کرتے ہواور الله تعالی فساد کو پسندنہیں فرماتاہے۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں وہ ذبیحہ قطعا حلال ہےاور اس فقیر اور اس کے ساتھ والوں نے لحم مذکی کھایا نہ مردارفقہائے کرام نے خاص اس جزئیہ کی تصریح فرمائی کہ مثلا مجوسی نے اپنے آتشکدے یامشرك نے اپنے بتوں کے لئے مسلمان سے بکری ذبح کرائی اور اس نے خدا کا نام پاك لے کر ذبح کی بکری حلال ہے۔کھائی جائےفتاوی عالمگیری وفتاوی تاتارخانیہ و جامع الفتاوی میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہماوالکافر لالہتہم توکللانہ سمی اﷲ تعالی ۔ مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے اتشکدہ کے لئے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کےلئے الله تعالی کے نام سے ذبح کی تو وہ کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے الله تعالی کے نام کو ذکر کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)∞تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳€ المطبعۃ البہیۃ ∞مصر ۵/ ۲۳€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€۰
القرآن الکریم ∞۲/ ۸۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۰۵€
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ التتارخانیہ عن جامع الفتاوی کتاب الذبائح ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶€
#7263 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
البتہ مسلمان کے لئے اس صورت میں کراہت لکھتے ہیںہندیہ میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے:ویکرہ للمسلم (مسلمان کے لئے کراہت ہے۔ت)ظاہر ہے کہ مسلمان کو ایسا فعل کرنا نہ تھا کہ اس میں بظاہر گویا اس کافر کا کام پورا کرنا اور اس کے زعم میں اس کے قصد مذموم کا آلہ بننا ہےاگر چہ حقیقت امر بالکل اس کے مباین ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)بالجملہ اس مسئلہ میں حق یہ ہے کہ یہاں صرف وقت ذبح قول ونیت ذابح کااعتبار ہے۔اگر ذابح مسلم نے الله ہی کے لئے ذبح کیا اور وقت ذبح الله ہی کا نام لیا تو ذبیحہ قطعا حلال۔اگر چہ مالك نے کسی کے نام پر مشہور کررکھا ہو۔
قال اﷲتعالی " وما لکم الا تاکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ" ۔ الله تعالی نے فرمایا:تمھیں کیا ہوا کہ تم الله تعالی کے نام پر ذبیحہ کو نہیں کھاتے۔(ت)
یوں ہی کتابی کا ذبیحہاگر وقت ذبح خالص نام خدالے۔
قال تعالی " وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ " ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:اہل کتاب کا طعام تمھارے لئے حلال ہےوالله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ کھال مذبوح حلال مثل گائےبھینسبکریمرغ وغیرہ کے حلال ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
مذبوح حلال جانور کی کھال بیشك حلال ہے۔شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگر چہ گائےبھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔
فی الدرالمختار اذا ماذکیت شاۃ فکلہا * سوی سبع ففیہن الوبالفحاء ثم خاء ثم غین *ودال ثم میمان وذال انتہی فالحاء الحیاء درمختارمیں ہے جب بکری ذبح کی گئی تو سات اجزاء جن میں وبال ہے کے ماسوا کو کھاؤساتھ یہ ہیں:حپھرخپھر غاور دپھر دو میماور ذ انتہی حا حیاء کی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۸۶€
القرآن الکریم ∞۶ /۱۱۹€
القرآن الکریم ∞۵/۵€
درمختار مسائل شتی ∞مطبع مجتائی دہلی ۲ /۳۴۹€
#7264 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
وھو الفرجوالخاء الخصیۃوالغین الغدۃوالدال الدم المسفوحوالمیمان المرارۃ والمثانۃوالذال الذکر۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ وہ شرگاہخاء خصیہ کیغین غدود کیدال دم مفسوخ کیاور دومیم مرارہ(پتہ)اور مثانہاور ذال ذکر ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بدن حیوان ماکول اللحم میں کیا کیا چیزیں مکروہ ہیں بینوا توجروا
الجواب:
سات چیزیں تو حدیثوں میں شمار کی گئیں:(۱)مرارہ یعنی پتہ(۲)مثانہ یعنی پھکنا(۳)حیاء یعنی فرج(۴)ذکر(۵)انثیین (۶)غدہ (۷)دم یعنی خون مسفوح۔
اخرج الطبرانی فی المعجم الاوسسط عن عبداﷲ بن عمرو ابن عدی۔والبیہقی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکرہ من الشاۃ سبعا المرارۃ والمثانۃ والحیاء والذکر والانثیین والغدۃ والدم وکان احب الشاۃ الیہ مقدمہا ۔ طبرانی نے معجم الاوسط میں عبدالله بن عمرو اور ابن عدی سے اور بیہقی نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم ذبیحہ جانور کے سات اجزاء کو مکروہ فرماتے تھے سات یہ ہیں:مرارہ(پتہ) مثانہ حیاء (شرمگاہ)ذکرخصیےغدود اور خوناور آپ کوبکری ذبیحہ کا مقدم حصہ پسند تھا۔(ت)
ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:خون تو حرام ہے کہ قرآن عظیم میں اس کی تحریم منصوصاور باقی چیزیں میں مکروہ سمجھتاہوں کہ سلیم الطبع لوگ ان سے گھن کرتے ہیں اور انھیں گندی سمجھتے ہیںاور الله تعالی فرماتاہے :
" ویحرم علیہم الخبئث " یہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان پر سب گندی چیزیں حرام فرمائیگاحاشیہ طحطاوی میں ہے:
قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اما الدم امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا لیکن خون
حوالہ / References المعجم الاوسط ∞حدیث ۹۴۸۶€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۱۰ /۲۱۷€
القرآن الکریم ∞۷ /۱۵۷€
#7265 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
فحرام بالنص واکرہ الباقیۃ لانہا مما تستخبثہ الانفس ۔قال اﷲ تعالی " ویحرم علیہم الخبئث " ۔ تو وہ حرام ہے قرآنی نص سے ثابت ہے اور باقی کو میں مکروہ تحریمہ سمجھتاہوں کیونکہ ان سے نفوس نفرت کرتے ہیں اور جبکہ الله تعالی نے فرمایا " ویحرم علیہم الخبئث " (ت)
اسی طرح ینابیع میں ہے کما سیأتی(جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ت)اور مختار ومعتمدیہ ہے کہ کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے یہاں تك کہ امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کا شانی قدس سرہ نے بلفظ حرمت تعبیر کی۔عالمگیری میں ہے:
اما بیان مایحرم اکلہ من اجزاء الحیوان سبعۃ الدم المسفوح والذکر و الانثیان والقبل والغدۃ والمثانۃ و المرارۃ ۔ لیکن یہ بیان کہ حیوان کے اجزاء میں سے جن کا کھانا حرام ہے وہ سات ہیں:بہنے والا خونذکرخصیےشرمگاہغدودمثانہ اور پتہ(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
کرہ تحریما من الشاۃ سبعالخ ۔ بکری کے سات اجزاء مکروہ تحریمی ہیں الخ(ت)
درمختار میں ہے:
وقیل تنزیہا والاول اوجہ ۔ بعض نے کہا مکروہ تنزیہی ہیں جبکہ پہلا قول زیادہ معتبر ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
وھو ظاہر اطلاق المتون الکراھۃ ۔ یہی ظاہر ہے کہ متون نے کراہت کو مطلق ذکر کیا۔(ت)
مغنی المستفتی عن سوال المفتی میں ہے:
المکروہ تحریما من الشاۃ سبع الخ۔ بکری کے سات اجزاء مکروہ تحریمی ہیں۔(ت)
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار مسائل شتی دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۶۰€
القرآن الکریم ∞۷ /۱۵۷€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ البدائع کتاب الذبائح البا ب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۰€
درمختار شرح تنویر الابصار مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۹€
درمختار شرح تنویر الابصار مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۹€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاءالتراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۷€
مغنی المستفتی عن سوال المفتی
#7266 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
یہ تو سات۷ بہت کتب مذہبمتون وشروح وفتاوی میں مصرح اور علامہ قاضی بدیع خوارزمی صاحب غنیہ الفقہاء وعلامہ شمس الدین محمد قہستانی شارح نقایہ وعلامہ محمد سیدی احمد مصری محشی درمختار وغیرہم علماء نے دو چیزیں اور زیادہ فرمائیں(۸)نخاع الصلب یعنی حرام مغز اس کی کراہت نصاب الاحتساب میں بھی ہے(۹)گردن کے دو پٹھے جو شانوں تك ممتد ہوتے ہیںاور فاضلین اخیرین وغیرہما نے تین اور بڑھائیں(۱۰)خون جگر(۱۱)خون طحال(۱۲)خون گوشت یعنی دم مسفوح نکل جانے کے بعد جو خون گوشت میں رہ جاتاہے۔ بحرالمحیط میں ہے:
الغدد والذکروالانثیان والمثانۃ و العصبان اللذان فی العنق والمرارۃ والقصید مکروہ اھ ملخصا۔ غدودذکرخصیےمثانہگردن کے دو پٹھےپتہپیٹھ کاگودا مکروہ ہیں اھ ملخصا(ت)
جامع الرموز میں اس کے بعد ہے:
وکذا الدم الذی یخرج من اللحم والکبد والطحال ۔ یوں ہی وہ خون جو گوشتجگر اور تلی سے نکلے(ت)
ذبائح الطحطاوی میں ہے:
الذکر والانثیان والمثانۃ والعصبان اللذان فی العنق والمرارۃ تحل مع الکراہۃوکذا الدم الذی یخرج من اللحم والکبد والطحان دون الدم المسفوح وھل الکراھۃ تحریمیۃ اوتنزیہیۃ قولان ۔ ذکرخصیےمثانہگردن کے دو پٹھےپتہ کراہت کے ساتھ حلال ہیںاسی طرح وہ خون جو گوشتجگر اور تلی سے نکلے جو بہنے والے خون سے بچا ہوا ہواور کیا یہ کراہت تحریمی یا تنزیہی دو قول ہیں(ت)
اسی میں مسائل شتی میں ہے:و زید نخاع الصلب (اور مزید پیٹھ کا گودا۔ت)
اقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی اوج التحقیق(میں کہتاہوں اور الله تعالی کی توفیق سے ہی تحقیق کی بلندی تك وصول ہے۔ت)علماء کی ان زیادت سے ظاہر ہوگیا کہ سات میں حصر مقصود نہ تھا۔
حوالہ / References جامع الرموز بحوالہ المحیط کتاب الذبائح مکتبہ الاسلامیہ ∞گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۵€۱
جامع الرموز بحوالہ المحیط کتاب الذبائح مکتبہ الاسلامیہ ∞گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۵۱€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۱۵۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مسائل شتی ∞مکتبہ عربیہ کوئٹہ ۴/ ۳۶۰€
#7267 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
بلکہ صرف باتباع نظم حدیث ونص امام ان پر اقتصار واقع ہوااور خود ان علمائے زائدین نے بھی قصد استیعاب نہ فرمایایہ امر انھیں عبارات مذکورہ سے ظاہراور اس پر دوسری دلیل واضح یہ کہ جگر وطحال وگوشت کے خون گنے اور(۱۳)خون قلب چھوڑ گئے حالانکہ وہ قطعا ان کے مثل ہے۔یہاں تك کہ عتابیہ وخزانۃ وقنیہ وغیرہامیں اس کی نجاست پر جزم کیااور اسی طرح امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں فرمایااگرچہ روضہ ناطفی ومراقی الفلاح ودرمختار وردالمحتار و غیرہا اسفار میں طہارت کو مختار رکھااور ظاہر ہے کہ نجاست مثبت حرمت ہے اور طہارت مفید حلت نہیںحلیہ میں ہے:
فی القنیۃ دم قلب الشاۃ نجس والیہ مال کلام صاحب الہدایۃ فی التجنیس وفی خزانۃ الفتاوی دم القلب نجس ودم الکبد والطحال لا ۔ قنیہ میں ہے بکری کے دل کا خون نجس ہے۔تجنیس میں صاحب ہدایہ کا میلان اسی طرف ہے۔اور خزانۃ الفتاوی میں ہے کہ دل کا خون نجس ہے تلی اور جگر کا خون نجس نہیں ہے۔(ت)
رحمانیہ میں ہے:
فی العتابیۃ دم القلب نجسودم الکبد والطحال لا ۔ عتابیہ میں ہے دل کا خون نجس ہے۔جگر اور تلی کا خون نجس نہیں۔(ت)
اورنیز عدم حصر پر ایك اور دلیل قاطع یہ ہے کہ عامہ کتب میں دم مسفوحاور ان کتابوں میں دم لحم وکبد وطحال کو شمار کیاتو اس سے واضح کہ کلام اعضاء سے اخلاط تك متجاوز ہوااور بیشك اخلاط سے(۱۴)مرہ بھی ہے یعنی وہ زرد پانی کہ پتہ میں ہوتا ہے جسے صفر کہتے ہیںاور ہمارے علماء کتاب الطہارۃ میں تصریح فرماتے ہیں کہ اس کا حکم مثل پیشاب کے ہےبلکہ بعض نے تو مثل خون کے ٹھہرایادرمختار میں ہے:مرارۃ فی حیوان کبولہ (حیوان کا پتہ پیشاب کی مانند ہے۔ت)حلیہ میں ہے:
قیل مرارۃ الشارۃ کالدم وقیل کبولہا خفیفۃ عند ھما طاہرۃ عند محمد ۔ بعض نے کہا ہے پتہ جانور کا خون کی طرح ہے۔بعض نے کہا پیشاب کی طرح ہے۔شیخین کے نزدیك نجاست خفیفہ ہے۔ امام محمد رحمہ الله تعالی کے نزدیك پاك ہے۔(ت)
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
رحمانیہ
درمختار کتاب الطہارۃ باب الاستنجاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۷€
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#7268 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
بہر حال کھانا اس کا بیشك ناجائز ہے کما ھوالمذہب فی البول(جیسا کہ پیشاب کے بارے میں ان کا مذہب ہے۔ت)باوجود اس کے یہاں شمار میں نہ آیایونہی اخلاط سے بلغم ہے کہ جب براہ بینی مند فع ہوجیسے بھیڑ وغیرہ میں مشاہد ہے۔اسے عربی میں مخاط اور فارسی میں آب بیتی کہتے ہیں(۱۵)اس کا کھانا بھی یقینا ناجائزصرح بہ فی العقود الدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ(یہی تصریح عقود الدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے۔ت)یہ بھی یہاں غیر معدود اور منجملہ دماء(۱۶)وہ خون بھی ہے جو رحم میں نطفہ سے بنتاہے منجمد ہوکر علقہ نام رکھا جاتاہے۔وہ بھی قطعا حرام۔نہایہ وتبیین الحقائق وردالمحتار وغیرہامیں ہے:
العلقۃ والمضغۃ نجسان کالمنی ۔ علقہ(منجمد خون)اور مضغہ(ابتداء تخلیق کا خون اور لوتھڑا)منی کی طرح ناپاك ہے۔(ت)
یہ بھی نہ گنا گیاتو واضح ہوگیا کہ عامہ کتب میں لفظ سبع(سات)صرف باتباع حدیث ہے۔جس طرح کتب کثیرہ میں شاۃ (بکری)کی قیدکما مرعن تنویر الابصار ومغنی المستفتی ومثلہ فی غیرھما(جیسا کہ تنویر الابصاراور مغنی المستفتی سے گزرااور اس کی مثل ان کے غیر میں ہے۔ت)حالانکہ حکم صرف بکری سے خاص نہیںیقینا سب جانوروں کا یہی حکم ہے حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قولہ من الشاۃ ذکر الشاۃ اتفاقی لان الحکم لا یختلف فی غیرہا من الماکولات ۔ بکری کاذکر اتفاقی ہے کیونکہ دوسرے جانورں کے ماکولات میں فرق نہیں(ت)
تو جیسے لفظ شاۃ محض باتباع حدیث واقع ہوااور اس کا مفہوم مراد نہیںیونہی لفظ سبع اور اہل علم پر مستتر نہیں کہ استدلال بالفحوی یا اجرائے علت منصوصہ خاصہ مجتہد نہیںکما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی تبعا لمن تقدمہ من الاعلام(جیسا کہ اس پر علامہ طحطاوی نے اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی اتباعی میں نص کی ہے۔ت)اور یہاں خود امام مذہب رضی الله تعالی عنہ نے اشیاء ستہ کی علت کراہت پر نص فرمایا کہ خباثت ہے۔اب فقیر متوکلا علی الله تعالی کوئی محل شك نہیں جانتا کہ دبر یعنی پاخانے کا مقامکرش یعنی اوجھڑیامعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیںبیشك دبرفرج وذکر سے اور کرکش و امعاء مثانہ سے اگر خباثت میں زائد نہیں تو کسی
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ نہایہ وزیلعی کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۰۸€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مسائل شتی دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۳۶۰€
#7269 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
طرح کم بھی نہیںفرج وذکر اگر گزر گاہ بول ومنی ہیں دبرگزر گاہ سرگین ہےمثانہ اگر معدن بول ہے شکنبہ و رودہ مخزن فرث ہے اب چاہے اسے دلالۃ النص سمجھئے خواہ اجرائے علت منصوصہالحمدلله بعد اس کے فقیر نے ینابیع سے تصریح پائیکہ امام رضی الله تعالی عنہ نے دبر کی کراہت پر تنصیص فرمائیرحمانیہ میں ہے:
فی الینابیع کرہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الشاۃ سبعۃ اشیاء الذکر والانثیین والقبل والدبر والغدۃ و المثانۃ والدمقال ابوحنیفۃ الدم حرام بالنصوالستۃ نکرہہا لانہا تکرہہا الطبائع ۔ ینابیع میں کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بکری کے سات اجزاء ذکرخصیےمادہ کی شرمگاہپاخانہ کی جگہغدود مثانہ اور خون کو مکروہ فرمایااور امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:خون نص کے ذریعہ حرام اور باقی چھ کو ہم مکروہ سمجھتے ہیں کیونکہ طبائع ان سے نفرت کرتے ہیں۔(ت)
(۲۰)وہ گوشت کا ٹکڑا جو رحم میں نطفہ سے بنتا ہے جسے مضغہ کہتے ہیںاجرائے حیوان سے ہے۔اور وہ بھی بلا شبہ حرام عام ازیں کہ مخلقہ ہویا غیر مخلقہیعنی ہنوز اس میں اعضاء کی کلیاں پھوٹی ہوں یا صرف لوتھڑا ہو
فقد اسلفنا عن السغناقی والزیلعی والشامی انہا نجسۃومعلوم ان کل نجس حراموقد قال فی الہدایۃ فی الجنین التام الخلقۃ انہ جزء من الام حقیقۃ لانہ متصل بہا حتی یفصل بالمقراض الخ قلت ویدل علیہ صحۃ الاستثناء وھو حقیقۃ فی الاتصال واذا کان ذلك کذالك فالمضغۃ اولی بالجزئیۃ وھذا یدل ان السبع لم تستوعب الاجزاءفضلا من الاخلاط اخوات الدماء۔ ہم سغناقیزیلعی اور شامی سے پہلے نقل کرچکے ہیں کہ وہ نجس ہے۔اور ہر نجس کا حرام ہونا معلوم ہے اور ہدایہ میں فرماچکے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں مکمل خلقت بچہ ماں کا جز ہے کیونکہ وہ حقیقی جز ہے حتی کہ اس کو کاٹ کر جدا کیا جاتا ہےمیں کہتاہوں اور اس پر استثناء کی صحت دلالت کرتی ہے اور استثناء کی حقیقت اتصال ہے تو جب معاملہ یوں ہے تو مضغہ بطریق اولی ماں کا جز ہے۔اس سے اس بات پر دلالت ہے کہ سات کا عدد پورے اجزاء کو شامل نہیں چہ جائیکہ خون کی آمیزش سے پیدا ہونے والے امور کو شامل ہوں۔(ت)
حوالہ / References رحمانیہ
الہدایہ کتاب الذبائح ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۳۸€
#7270 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
(۲۱)ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك بچہ تام الخلقۃ بھی کہ من وجہ جز و حیوان ہے یتصل بالام ویتغذی بغذائہاویتنفس بتنفسہا(ماں سے متصل ماں کی ماں کی غذا سے اور اس کی سانس سے سانس پاتاہے۔ت)حرام ہے خواہ اس کے پوست پر بال آئے ہوں یا نہیںمگر جبکہ زندہ نکلے اور ذبح کرلیںہدایہ میں ہے:
من نحرناقۃ اوذبح بقرۃفوجد فی بطنہا جنینا میتا لم یوکلاشعر اولم یشعر ۔ جس نے اونٹنی یا گائے ذبح کی تو اس کے پیٹ میں بچہ مردہ ہو تونہ کھایا جائے اس پر بال ہوں یا نہ ہوں۔(ت)
شامی میں علقہ ومضغہ کی نجاست لکھ کر فرماتے ہیں:وکذا الولد اذالم یستہل (یونہی بچہ جب نہ چیخے۔ت)
(۲۲)یونہی نطفہ بھی حرام ہے خواہ نر کی منی مادہ کے رحم میں پائی جائے یا خود اسی جانور کی منی ہوردالمحتارمیں ہے:
فی البحروالتتارخانیۃ ان منی کل حیوان نجس ۔ بحر اور تتارخانیہ میں ہے کہ ہر حیوان کی منی نجس ہے۔(ت)
اب سات کے سہ گونہ سے بھی عددبڑھ گیا اور ہنوز اور زیادات ممکن وہ سات اشیاء حدیث میں آئیںاور پانچ چیزیں کہ علماء نے بڑھائیںاور دس فقیر نے زیادہ کیںان بائیس مسائل اور باقی فروع وتفاریع سب کی تفصیل تام وتحقیق تمام فقیر کے رسالہ المنح الملیحۃ فیما نہی من اجزاء الذبیحۃ میں دیکھی جائےالحمد ﷲ ما الہمواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۹۰: ا ز جڑودہ ضلع میرٹھ مرسلہ سید صابر جیلانی صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جانور کی کون سی چیز جائز اور حلال ہے اور کون سی چیز ناجائز وحرام ہے
الجواب:
حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں(۱)رگوں کا خون(۲)پتا
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الذبائح ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۳۸€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۰۸€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۰۸€
#7271 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
(۳)پھکنا(۴)و(۵)علامات مادہ ونر(۶)بیضے(۷)غدود(۸)حرام مغز(۹)گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تك کھنچے ہوتے ہیں (۱۰)جگر کا خون(۱۱)تلی کا خون(۱۲)گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے لکھتا ہے(۱۳)دل کا خون(۱۴)پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتاہے(۱۵)ناك کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے(۱۶)پاخانہ کا مقام(۱۷)اوجھڑی(۱۸)آنتیں (۱۹)نطفہ(۲۰)وہ نطفہ کہ خون ہوگیا(۲۱)وہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا(۲۲)وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا۔
مسئلہ ۹۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زندہ جانور کا کوئی عضو مثلا دنبہ کی چکی کاٹ کر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جو عضو مچھلی اور ٹیڑی کے سوا کسی زندہ جانور سے جدا کرلیا جائے مردہ ہے اور کھانا اس کا حرام۔
رواہ الحافظ ابوعیسی محمدن الترمذی عن ابی واقد اللیثی رضی اﷲ تعالی عنہ قال قدم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المدینۃ وھم یحبون اسنمۃ الابل ویقطعون الیات الغنم فقال صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم مایقطع من البیہمۃ وھی حیۃ فہو میتۃ قال الحافظ والعمل علی ہذا عند اھل العلم فی الہدایۃ فی مسائل السمك اذا قطع بعضہا فمات یحل اکل ما ابین ومابقی لان موتہ بافۃ وما ابین من الحقوان کان میتا فمیتتہ حلال ۔واﷲ تعالی اعلم بحقیقۃ الحال۔ ابو عیسی محمد ترمذی نے ابو واقد لیثی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضو رصلی الله تعالی علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ زندہ اونٹوں کی کہانوں اور دنبوں کی چکیوں کو کاٹ کھانا پسند کرتے تھے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:زندہ جانور کا کاٹا ہوا حصہ مردار ہو حافظ ترمذی نے فرمایا:اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے ہدایہ کے مچھلی کے مسائل میں ہے کہ اگر مچھلی کا کچھ حصہ کاٹ کر جدا کرلیا اور مچھلی مرجائے تو اس کے دونوں ٹکڑے حلال ہیں کیونکہ اس کی موت سماوی ہوتی ہے تو زندہ سے ٹکڑا جدا کیا ہوا اگر چہ مردہ ہے لیکن اس کا مردہ حلال ہے۔الله تعالی حقیقت حال بہتر جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الصیدباب ماجاء فی ماقطع من الحی فہو میت ∞امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۷۹€
الہدایۃ کتاب الذبائح ∞مطبع یوسفی لکھنو دہلی ۴/ ۴۴۱€
#7272 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
مسئلہ ۹۲:موضع بکہ جیبی والاعلاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاك خانہ کوٹ نجیب الله خاں مرسلہ مولوی شیر محمدصاحب ۲۳ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذبح کس شخص کا جائز اور کس کا ناجائز ہے
الجواب:
جنمرتدمشرکمجوسیمجنونناسمجھ اور اس شخص کا جو قصدا تکبیر ترك کرے ذبیحہ حرام و مردار ہے۔اور ان کے غیر کا حلال جبکہ رگیں ٹھیك کٹ جائیںاگر چہ ذابح عورت یا سمجھ والا بچہ یا گونگایا بے ختنہ ہواور اگر ذبیحہ صید ہو تو یہ بھی شرط ہے کہ ذبح حرم میں نہ ہوذابح احرام میں نہ ہو
فی الدرالمختار شرط کون الذابح مسلما حلالا اوکتابیا ولومجنونا اوامرأۃ اوصبیا یعقل التسمیۃ والذبح ویقدر اواقلف اواخرس لاوثنی ومجوسی ومرتد وجنی وتارك تسمیۃ عمدا اھ ملخصا فی رد المحتارقولہ مجنوناالمراد بہ المعتوہ کما فی العنایۃ عن النہایۃ لان المجنون لاقصد لہ ولانیۃ لان التسمیۃ شرط بالنص وھی بالقصد الخواﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے ذبح کرنے والے مسلمان کا حالت احرام میں نہ ہونایا کتابی ہواگرچہ مجنون ہو یا عورت ہو یا بچہ عقلمند ہو جو بسم الله وذبح کو سمجھتاہو اور قادر ہوبے سنت ہو یا گونگا ہوبت پرستمجوسیمرتدجن اور قصدا بسم الله کو ترك کرنے والا نہ ہو اھ ملخصاردالمحتارمیں ہے اس کا قول"مجنون ہو"سے مراد معتوہ(نیم پاگل)ہے کیونکہ مکمل مجنون کا قصد نہیں ہوتا او رنہ نیت ہوتی جیسا کہ عنایہ میں نہایہ سے ہے کیونکہ قصد کے بغیر بسم الله کی شرط پوری نہیں ہوتی جبکہ بسم الله پڑھنا نص سے ثابت ہے الخوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۳: ازاوجین مرسلہ ملایعقوب علی خاں یکم رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے نامدار مفتیان ذوی الاقتدار اس مسئلہ میں کہ اقوام بواہر اور عورات اور خروعنی عــــــہ اور کتابی اور مجوسی اورنصرانی اور مردم مشرکیہ سب بہ تکبیر الله اکبر ذبح کریں درست ہے یانہیں اور اہل علم ذبح کرے اور ہندو جانور کو دبائے تو مددگار اور ذابح دونوں پر تکبیر کہنا واجب ہے یا فقط ذبح کنندہ
عــــــہ: ھکذا فی الاصل ۱۲۔
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۸۸€
#7273 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
پر اور سوائے ذابح کے اور نے تکبیرنہ کہی تو وہ جانور حلال ہے یاحرامبسند عبارت کتب بیان فرمائیں بینوا توجروا
الجواب:
مسلمان وکتابی کا ذبیحہ حلال ہے اگر چہ عورت یا عنین ہو اور ان کے سوا مشرك مجوسیمرتد کسی کا ذبیحہ اصلا حلال نہیں اگرچہ تکبیر کہہ کر ذبح کریںدرمختارمیں ہے:
شرط کون الذابح مسلما اوکتابیا ولوامرأۃ لاذبیحۃ غیر کتابی من وثنی و مجوسی و مرتد اھ ملخصا۔ ذبخ کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ہونا اگر چہ عورت ہوشرط ہےکافر غیر کتابی مثلا بت پرستمجوسی اور مرتد نہ ہواھ ملخصا۔(ت)
قوم بوہرہ میں جو شخص صرف بدعت رفض وغیرہ رکھتاہو اور اس کے ساتھ ضروریات دین کا منکر نہ ہو تو اس کا بھی ذبیحہ حلال کہ اگرچہ بدعتی مذہب ہے مگر اسلام رکھتاہےاور اگر ضروریات دین سے کسی امر کا انکار کرے گو دعوی اسلام رکھتا اور کلمہ طیبہ پڑھتا ہوجیسے آج کل اکثر روافض زمانہ کا حال ہے تو کافر مرتد ہے اور اس کا ذبیحہ حرام مطلقا کما حققناہ فی السیر من فتاونا بتوفیق الله سبحنہ تعالی(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کے باب سیر میں اس کی تحقیق کی ہے۔بتوفیق الله تعالی۔ت) نصاری زمانہ کہ علی الاعلان الوہیت وابنیت بندہ خدا وزادہ کنیز خدا سیدنا مسیح عیسی بن مریم علیہم الصلوۃ والسلام کے قائل ہیںان کے بارہ میں مختلف بہت مشائخ کرام ان کے ذبیحہ کو حرام فرماتے ہیں یہاں تك کہ کہا گیا اسی پر فتوی ہےمگر ظاہر الروایہ اطلاق حل ہے والتحقیق فی سیرفتاونا(اور ہمارے فتاوی کے باب سیر میں اس کی تحقیق ہے۔ت)بہرحال اس قدر ضروری ہے کہ مسلمان کو ان کے ذبیحہ سے احتراز چاہئےبلکہ مجمع الانہر میں ہے:
النصاری فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحم اﷲ تعالیوعدم الضرورۃ متحققوالاحتیاط واجب لان فی حل ذبیحتہم اختلاف العلماء کما بیناہ فالا خذ بجانب الحرمۃ اولی ۔ ہمارے زمانے میں نصرانی عیسی علیہ السلام کی ابنیت کی تصریح کرتے ہیں الله تعالی ان کو قبیح کرے جبکہ عدم ضرورت بھی متحقق ہے اور واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے لہذاحرام ہونے کا پہلو اولی ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
مجمع الانہر کتاب النکاح باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۳۲۸€
#7274 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
پھریہ بھی اس حالت میں ہے کہ وہ ذبح بطور ذبح کریں ورنہ جانور کو گلا گھونٹ کرمارڈالایا گلے میں ایك طرف چھری بھونك دی رگیں نہ کاٹیں جیسا کہ فقیر نے جہاز میں بچشم خود معائنہ کیا تو اس کے حرام قطعی ہونے میں اصلا کلام نہیں کہ ایسا مقتول تو مسلمان کے ہاتھ کا بھی مردار ہے نہ کہ کافر کااور جو شخص جانور کو دبائےیا ہاتھ پاؤں پکڑے ایسے مددگار پر تکبیر ضرور نہیںنہ اس کے ہندو وغیرہ ہونے سے کچھ حرج کہ وہ ذابح نہیںہاں جو نفس فعل ذبح میں مدد دے یعنی ذابح کا ہاتھ مثلا کمزور تھا اس نے بھی اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر پھیرا کہ دونوں کے فعل سے ذبح واقع ہواتو ایسی حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ان میں جو قصدا تکبیر نہ کہے گا یا حرام الذبیحۃ مثلا ہندومجوسیمرتد ہوگا تو جانور حرام مردار ہوجائے گا درمختارمیں ہے: تشترط التسمیۃ من الذابح (ذابح کا تسمیہ پڑھنا شرط ہے۔ت)اسی میں ہے:
ارادالتضحیۃ فوضع یدہ مع یدالقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبح سمی کل وجوبا فلو ترکہا احدہما او ظن ان تسمیۃ احد ہما تکفی حرمت ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ قربانی کے ارادے سے اپنا ہاتھ قصاب کے ہا تھ کے ساتھ ذبح کرنے میں شریك کیا اورذبح میں مدد کی تو دونوں پر بسم الله پڑھنا واجب ہے اگر ایك نے پڑھنا ترك کیا یا یہ خیال کیا کہ ایك کا پڑھنا کافی ہے تو ذبیحہ حرام ہوگا والله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۴: از گلکٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ۷ شعبان معظم ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ کے یہاں کا ذبح کراکھانادیگر جس کا عقیدہ درست نہ ہو اس کا ذبح کھانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
آج کل کے رافضی تبرائی علی العموم کا فر مرتد ہیںشاید ان میں گنتی کے ایسے نکلیں جو اسلام سے کچھ حصہ رکھتے ہوںان کا عام عقیدہ یہ ہے کہ یہ قرآن شریف جو بحمدالله تعالی ہمارے ہاتھو ں میں موجود ہے یہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعد پورا نہ رہااس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یاآیتیں صحابہ کرام اور اہلسنت نے معاذا لله کم کردیںاور یہ بھی ان کے چھوٹے بڑے سب مانتے ہیں کہ حضرت مولا علی ودیگر ائمہ اطہار کرم الله تعالی وجوہہم اگلے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل تھے یہ دونوں عقیدے خالص کفر ہیں جو شخص
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲€۸
درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۵€
#7275 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
قرآن مجید سے ایك حرفایك نقطہ کی نسبت ادنی احتمال کے طور پر کہے کہ شاید کسی نے گٹھادیا یا بڑھادیا یابدل دیا ہو وہ کافر ہے اور قرآن عظیم کا منکریونہی جو کسی غیرنبی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ بھی کافرا ور جبکہ ان اشقیاء نے باوصف ادعائے اسلام عقائد کفر اختیار کئے تو مرتد ہوئےفتاوی عالمگیری میں ہے:
ھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامہم احکام المرتدین ۔ یہ قوم ملت اسلامیہ سے خارج ہے ان کے احکام مرتدین والے ہیں۔(ت)
اور مرتد کے ہاتھ کا ذبیحہ نراحرام ومردار سوئر کی مانند ہے اگرچہ اس نے لاکھ تکبیریں پڑھ کر ذبح کیا ہودرمختارمیں ہے:
لاتحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی و مرتد ۔ غیر کتابی کا ذبیحہ حلال نہیں ہے خواہ وہ بت پرست ہو مجوسی ہو یا مرتد ہو۔(ت)
اسی طرح جس مذہب کا عقیدہ حد کفر تك پہنچا ہوجسے نیچیری کہ وجود ملائکہ ووجود جن وجود شیطان وجود آسمان وصحت معجزائے انبیائے کرام علیہم الصلوۃوالسلام وحشر ونشر وجنت و نار بطور عقائد اسلام وغیرہا بہت ضروریات دینیہ سے منکر ہیں۔یونہی وہ وہابی کہ حضورپر نور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مثل سات یا چھ یا دو یا ایك خاتم النبیین کسی طبقہ زمین میں کبھی موجود مانے یا ہمارے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو نبوت ملنی جائز جانے اور اسے آیۃ وخاتم النبیین کے مخالف نہ سمجھےیانبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین شان اقدس کے لئے حضور کو بڑا بھائیاپنے آپ کو چھوٹا بھائی کہےیا حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نسبت یہ ناپاك کلمہ لکھے کہ مرکر مٹی میں مل گئےوعلی ہذالقیاس جو بد مذہب ضروریات دین اسلام میں سے کسی عقیدہ کا منکر ہو یا اس میں شرك کرے یا تاویلیں گھڑےباجماع تمام علماء اسلام وہ سب کے سب کافر ومرتد ہیں اگر چہ لوگوں کے سامنے کلمہنماز قرآن پڑھتےروزہ رکھتےاپنے آپ کو سچا پکا مسلمان جتاتے ہوں کہ جب وہ ضروریات اسلام کے منکر ہوئے تو انھوں نے خدا ورسول وقرآن کو صاف صاف جھٹلایاپھریہ جھوٹے طورپر کلمہ وغیرہ کیا نفع دے سکتاہے۔نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی منافق لوگ کلمہ ونماز پڑھتے اور اپنے آپ کوقسمیں کھاکھاکر مسلمان بتاتے تھے اور الله تعالی نے ان کی ایك نہ سنی اور صاف فرمایا " و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾ " الله گواہی دیتاہے کہ یہ لوگ نرا جھوٹا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
القرآن الکریم ∞۶۳/ ۱€
#7276 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
دعوی اسلام کرتے ہیں:
خاص ایسے لوگوں کے کفر میں ہر گز شك نہ کیا جائے کہ جو ان کے عقیدہ پر مطلع ہوکر پھر سمجھ بوجھ کر ان کے کفر میں شك کرے وہ خود کافر ہوجاتاہے۔درمختارمیں ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر اھ واما ارتدادہم فہو الصحیح الثابت المنصوص علیہ کما اوضحناہ بتوفیق اﷲ تعالی فی السیر من فتاوینا وفی رسالتنا" المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ"۔ جو ان کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ کافر ہے اھ لیکن ان کاا رتداد توصحیح ثابت منصوص علیہ ہے جیسا کہ ہم نے الله تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی کے باب السیر میں واضح کر دیا ہے نیز اس اپنے رسالہ"المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ" میں بیان کیا ہے۔(ت)
اس قسم کے ہر بدمذہب کا ذبیحہ مردار وحرامان کے ساتھ نکاح حرام وباطل ومحض زناان کے ساتھ کھانا پینا بیٹھنا اٹھناملنا جلنا کوئی برتاؤ مسلمان کا ساکرنا ہر گز ہرگز کسی طرح جائز نہیںہاں جو مذہب دین اسلام کی ضروری باتوں سے کسی بات میں شك نہ کرتاہوصرف ان سے نیچے درجہ کے عقیدوں میں مخالف ہوںجیسے رافضیوں میں تفضیلییا وہابیوں میں اسحاقی وغیرہم وہ اگرچہ گمراہ ہے کافر نہیں اس کے ہاتھ کاذبیحہ حلال ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۵: از گونڈہ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
یہ جو اکثر کتب دینیہ میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ درست ہے تو آج کل یہود ونصاری جو ہیں ان کاذبیحہ درست ہے یانہیں
الجواب:
شك نہیں کہ نصاری الوہیت وابنیت عبدالله وابن امتہسیدنا مسیح ابن مریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی صاف تصریح کرتے ہیں جو نصاری ایسے ہیں اور یوہیں وہ یہود کہ ابنیت عبدالله عزیر علیہ الصلوۃ والسلام مانیں ان کا ذبیحہ حلال ہونے میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہےجمہورمشائخ جانب حرمت گئے اور کہا گیا کہ اسی پر فتوی ہے۔اور بکثرت محققین تحقیق جواز فرماتے ہیں کہ یہی ظاہر الروایۃ اوریہی اقوی من حیث الدلیل ہے
حوالہ / References درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶€
#7277 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
وقد حققناہ فی فتاونا بما یتعین المراجعۃ الیہ(ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کر دی ہے اور اس کی طرف مراجعت کی جائے۔ت)مستصفی میں ہے:
فی مبسوط شیخ الاسلام یجب ان لایاکلوا ذبائح اہل الکتاب اذا اعتقدوا ان المسیح الہوان عزیرا الہ و لایتزوجوا نسائہموقیل علیہ الفتوی لکن بالنظر الی الدلائل ینبغی ان یجوز الا کل والتزوج ۔ شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے جب کہ اہل کتاب کا عقیدہ ہو کہ مسیح علیہ السلام الله ہےتو ان کے ذبیحہ کو مت کھاؤ اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو۔اور یوں اگر عزیر علیہ السلام کو الہ کہتے ہوںبعض کے نزدیك اس پر فتوی ہے لیکن دلائل کی روشنی میں کھانا اور نکاح کرنا جائز ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
صح نکاح کتابیۃوان اعتقدواالمسیح الہاوکذا حل ذبیحتہم علی المذہب بحر اھ مختصرا۔ کتابیہ عورت سے نکاح جائز ہے اگر چہ وہ مسیح کے الہ ہونے کا عقیدہ رکھےیونہی ان کا ذبیحہ مذہب میں جائز ہے بحر اھ مختصرا۔(ت)
ہاں کراہت میں شك نہیں کہ جب بیضرورت کتابی خالص کے ذبیحے کو علماء ناپسند کرتے ہیں تو یہ بدتر درجے میں ہیں
فتح القدیرمیں ہے:
یجوز تزوج الکتابیات والاولی ان لایفعلولایاکل ذبیحتہم الا لضرورۃ ۔ کتابی عورتوں سے نکاح جائز ہے اور اولی یہ ہے کہ نہ کیا جائے اور ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائےماسوائے ضرورت کے۔(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
النصاری فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحہم اﷲ تعالیوعدم الضرورۃ متحققوالاحتیاط واجب۔ لان ہمارے زمانہ کے نصرانی عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی ابنیت کی تصریح کرتے ہیں الله تعالی ان کو قبیح کرے۔ضرورت بھی متحقق نہیں ہے اور احتیاط واجب ہے کیونکہ ان کے
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۸۹€
درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸€۹
فتح القدیر کتاب النکاح فصل فی المحرمات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵€
#7278 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
فی حل ذبیحتہم اختلاف العلماء کما بیناہ فالاخذ بجانب الحرمۃ اولی عند عدم الضرورۃ ۔ ذبیحہ کے حلال ہونے میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ضرورت نہ ہو تو حرمت کی جانب کو ترجیح ہے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ ذبح بطور ذبح کریںاور وقت ذبح خالص الله عزوجل کا نام پاك لیںمسیح علیہ الصلوۃ والسلام کا نام شریك نہ کریں اگر چہ دل میں مسیح ہی کو خدا جانیںبالجملہ نہ قصدا تکبیر چھوڑیں نہ تکبیر میں شرك ظاہر کریں ورنہ جو ذبیحہ ان شرائط سے خالی ہو وہ مسلمان کا بھی حرام ومردار ہوتاہے چہ جائیکہ کتابی ردالمحتارمیں ہے:
لاتحل ذبیحۃ من تعمد ترك التسمیۃ مسلما او کتابیا نص القران ۔ قصدا بسم الله کو ترك کرنے والے کا ذبیحہ حلال نہیں ہے وہ مسلم ہو یا کتابی قرآن کی نص کی بناء پر۔(ت)
درمختارمیں ہے:
شرط کون الذابح مسلما اوکتابیا ذمیا اوحربیا الا اذا سمع منہ عندالذبح ذکر المسیح ۔ ذبح کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ذمی یا حربی ہونا شرط ہے۔ہاں اگر ذبح کے وقت ان سے مسیح کانام سنا جائے تو ناجائز ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ولوسمع منہ ذکر اﷲ تعالی لکنہ عنی بالمسیح قالوا یوکل الا اذا نص فقال باسم اﷲ الذی وہوثالث ثلثۃ ہندیۃ ۔ اگر عیسائی سے الله تعالی کا نام سنا لیکن اس سے مراد اس نے مسیح کا لیا تو فقہاء نے فرمایا کھالیا جائے ہاں اگر صراحۃ"باسم الله تعالی جو کہ تین کا تیسرا ہے"کہیں تو نہ کھائیں ہندیہ (ت)
نصاری زمانہ کاحال معلوم ہے کہ نہ وہ تکبیر کہیں نہ ذبح کے طور پر ذبح کریںمرغ وپرند کا تو گلا گھونٹتے ہیںاور بھیڑ بکری کو اگر چہ ذبح کریںرگیں نہیں کاٹتےفقیر نے بھی اسے مشاہدہ کیا ہے۔
ذیقعدہ ۱۲۹۵ھ میں کپتان کی ملك سے سمور کا ایك مینڈہا جہاز میں دیکھا گیا جسے وہ چالیس روپے
حوالہ / References مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب النکاح باب المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۳۲۸€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۰€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۸۸€
#7279 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
کے خریدبتاتا تھامول لینا چاہا کہ گوشت درکار تھانہ بیچا اور کہا جب ذبح ہوگا گوشت کاحصہ خرید لیناذبح کیا تو گلے میں ایك کروٹ کو چھری داخل کردی تھی رگیں نہ کاٹیںاس سے کہہ دیا گیا کہ اب یہ سوئر ہے ہمارے کسی کام کا نہیں بلکہ نصاری کے یہاں صد سال سے ذبح شرعی نہیںفتاوی قاضی خاں میں نقل فرمایا:
النصرانی لاذبیحۃ لہ۔وانما یا کل ہو ذبیحۃ المسلم و یخنق ۔ نصرانی کا ذبیحہ ہی نہیںوہ مسلمان کا ذبیحہ کھا لیتاہے اور وہ جانور کا گلا گھونٹتاہے۔(ت)
تو نصارائے زمانہ کا ذبیحہ ضرور حرام یہود کا حال معلوم نہیں۔اگر ان کے یہاں بھی ترك تکبیر یا ذبح کی تغیر ہو تو حکم حرمت ہے ورنہ بے ضرورتناپسندی وکراہت والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص فرقہ غیر مقلدین یا فرقہ قادیانی یا وہابیہ سے ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ واسطے اہل سنت وجماعت کے کھانا جائز ہوگا یا نہیں
الجواب:
قادیانی صریح مرتد ہیں۔ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے۔اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافرہی ہیںورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے خصوصا وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہویہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہاء کرام کے طورپر حرام و مردار کا کھانا ہوگالہذا احتراز لازم ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷: ا زبریلی محلہ قراولاں مسئولہ عبدالکریم خیاط قادری رضوی ۲۳ محرم ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کا خسر دیوبندی ہے وہ اپنی قیمت سے گوشت خرید کر بھیجتاہے۔لانے والا بھی دیوبندی ہے تو یہ گوشت حلال ہے یانہیں نیز دیوبندی کی قربانی کا گوشت کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
دیوبندی کا ذبیحہ مردار ہے۔اور دیوبندی کا بھیجا ہوا گوشت اگرچہ مسلمان کا لایا ہوا ہو مردار ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۸: از نجیب آباد مسئولہ جناب احمد حسن خاں صاحب رضوی بتاریخ ۲۸ محرم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعض اوقات وہابیوں سے ذبیحہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخاں کتاب الحظروالاباحۃ مسائل مایکرہ ومالایکرہ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۷۸€
#7280 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
کرایا جاتاہے جس کا گوشت گھر میں پکتا ہے کھاناکیساہے
الجواب:
وہابی رافضی قادیانی وغیرہم جن جن کی گمراہی حد کفر تك ہے ان کا ذبیحہ مردارہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۹۹: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خاں صاحب رضوی ۲۸ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ وہابی یا رافضی کا ذبیحہ گائے یا بکری یا مرغی کا جائز ہے یا نہیں اور وہابیہ اور رافضی کے یہاں کا گوشت پکا ہوا بطور دعوت کھانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
وہابیہ اور رافضی کا ذبیحہ مردا رہے اور ان کے یہاں کا گوشت کھانا حرام ہے۔فتاوی ظہیریہ وفتاوی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے: احکامہم احکام المرتدین (ان کے احکام مرتدین کے احکام ہیں۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰ و ۱۰۱: از ڈونگر پور ملك میواڑ راجپوتانہ مکان جمعدار سمندرخاں مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)بوہروں کے یہاں کا ذبیحہ کیا ہوا گوشت ان کے یہاں کا پکا ہوا کھانا اہلسنت وجماعت کھاسکتے ہیں یانہیں
(۲)اور کوئی شخص ذبیحہ کرتاہو اور اس سے اپنی اور اپنے بچوں کی گزر اوقات کرتاہو وہ خدا کے یہاں مواخذہ حشرمیں تونہ ہوگا یا نامہ اعمال میں اس کے کچھ لکھا جائے گا بینوا توجروا
الجواب:
(۱)بوہرے کہ اسمعیلی رافضی ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردارہے۔اور ان کے یہاں کا گوشت پکا ہوا بھی حرام ہےمگریہ کہ مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت سے اس وقت تك مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا ہوگوشت کے علاوہ باقی کھانوں پراگر چہ قطعی حکم حرمت مگر بہرحال احتراز ہی مناسب ہے۔
(۲)ذبح کا پیشہ شرعا ممنوع نہیںنہ اس پر کچھ مواخذہ ہے اگر چہ گائے ذبح کرنے کا پیشہ ہووہ جو حدیث لوگوں نے دربارہ ذابح بقروقاطع شجر بنارکھی ہے محض باطل وموضوع ہے۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴€
#7281 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
مسئلہ ۱۰۲: از شہر کہنہ بریلی محلہ کوٹ مرسلہ محمدود علی صاحب بنگال ۲ صفر ۱۳۳۱ھ
عورت کاذبح کیا ہوا حلال اور درست ہے یانہیں
الجواب:
عورت کا ذبیحہ جائز ہے جبکہ ذبح کرناجانتی ہواور شرائط حلت مجتمع ہودرمختارمیں ہے:
شرط کون الذابح مسلما اوکتابیاولو امرأۃ (باختصار) واﷲ تعالی اعلم۔ ذبح کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ہونا شرط ہے اگر چہ عورت ہو(باختصار)۔(ت)
مسئلہ ۱۰۳: مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگریاسادات ضلع بریلی
عورت کے ہاتھ کا ذبیحہ جائزہے یانہیں
الجواب:
مسلمان عورت کے ہاتھ کاذبیحہ جائز ہے جبکہ وہ ذبح کرنا جانتی ہو اور ٹھیك ذبح کردےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴: از مقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں مسئولہ سید احمد حسین صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نماز وروزہ کرتاہے لیکن شراب خور ہےسفلہ وچنڈو وبھنگ وغیرہزنا وحرام خوریچوریآگ دیتاہے۔مگر ان فعلوں کو برا جانتاہے تو ایسے شخص کا ذبیحہ درست ہے یانہیں
الجواب:
اس صورت میں زید فاسق ہے۔مستحق عذاب جہنم ہے۔مگر اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵ تا ۱۰۷:از بھوٹابھوٹی موٹولانگر علاقہ جام نگر کا ٹھیاوار مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صدیقی حنفی ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ
(۱)اگر ایك مرد نے طاہر عور ت کو بغیر نکاح کے گھر میں رکھا ہے آیا اس شخص کا ذبیحہ کھانا درست ہے یانہیں
(۲)قربانی کرنا واجب ہےاگر کوئی شخص ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی صبح صادق کے بعد اور نماز سے
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
#7282 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
پہلے قربانی کرے تو وہ قربانی جائزہے یانہیں
(۳)قربانی کے حصے تین کرناایك حصہ اپنا دوسرا خویش واقارب کاتیسرا مسکینوں کاآیا گر مساکین لوگ اسلام میں سے نہیں ہیںتو اس حصہ کا کیاحکم ہےا ور اگر کسی شخص نے قربانی کی اور تین حصے نہیں کئے اور سارا گھر میں رکھ لیا آیا قربانی درست ہے یانہیں
الجواب:
(۱)اگر بالفرض اس پر زنا ثابت بھی ہو جب بھی زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے کہ ذبح کے لئے دین سماوی شرط ہے اعمال شرط نہیںاور اتنی بات پر کہ گھر میں رکھاہے۔اور ہمارے سامنے نکاح نہ ہوانسبت زنا کربھی نہیں سکتےبنص قطعی قرآن مجید حرام شدید ہے۔بلکہ اگر گھرمیں بیبیوں کی طرح رکھتاہواور بیبیوں کا سا برتاؤبرتتا ہو تو ان کو زوج وزوجہ ہی سمجھا جائے گا اور ان کی زوجیت پر گواہی دینی حلال ہوگی اگر چہ ہمارے سامنے نکاح نہ ہواکما فی الہدایۃ والدرالمختار والہندیۃ وغیرھا(جیسا کہ ہدایہدرمختار اورہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
(۲)دیہات میں عید جائز نہیں۔قربانی اگر گاؤن میں ہو طلوع صبح کے بعد ہوسکتی ہے اگرچہ شہری نے اپنی قربانی وہاں بھیج دی ہواور اگر قربانی شہرمیں ہو جہاں نماز عید واجب ہے تو لازم ہے کہ بعد نماز ہواگرنماز سے پہلے کرلی قربانی نہ ہوئی اگر چہ قربانی دیہاتی کی ہو کہ اس نے شہر میں کیدرمختارمیں ہے:
(اول وقتہا بعد الصلاۃ ان ذبح فی مصر)ای لو اسبق صلوۃ عید ولوقبل الخطبۃ لکن بعد ہا احب(وبعد طلوع فجر یوم النحر ان ذبح فی غیرہ)والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری اراد التعجیل ان یخرجہا الخارج المصر فیضحی بہا اذا اطلع الفجر۔مجتبی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر شہر میں قربانی دینی ہو تو اس کا وقت نمازکے بعد شروع یعنی نماز عید سے پہلے ہو اگر چہ قربانی خطبہ سے پہلے کرے بعد از خطبہ افضل ہےاور قربانی شہر میں نہ ہو تو اس کا اول وقت بعد از طلوع فجر بروز عید قرباناس فرق میں قربانی کا مقام معتبر ہے نہ کہ قربانی والے کا مقام شہری کے لئے قربانی جلدی کرنے کاحیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے خارج لیجا کر فجر کے بعد قربانی کرےمجتبیوالله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲€
#7283 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
(۳)تین حصے کرناصرف استحبابی امرہے کچھ ضروری نہیں چاہے سب اپنے صرف میں کرلےی یا سب عزیزوں قریبوں کو دے دےیا سب مساکین کو بانٹ دیںیہاں اگر مسلمان مسکین نہ ملے تو کافر کو اصلا نہ دے کہ یہ کفار ذمی نہیںتو ان کو دینا قربانی ہو خواہ صدقہاصلا کچھ ثواب نہیں رکھتادرمختارمیں ہے:
اماا لحربی ولو مستامنا فجمیع الصدقات لایجوز لہ اتفاقابحر عن الخانیۃ وغیرہا ۔ حربی اگر مستامن بھی ہو تو اس کو کوئی بھی صدقہ دینا بالاتفاق ناجائز ہے۔بحر نے خانیہ وغیرہا سے نقل کیا۔(ت)
بحرالرائق میں معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے:
صلتہ لاتکون براشرعاولذا لم یجز التطوع الیہ فلم یقع قربۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس سے صلہ شرعا نیکی نہیں اسی لئے اس کو نفلی صدقہ بھی جائز نہیں لہذا عبادت نہ بنے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸: از سرنیاضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
زید نماز روزے سے بالکل بے خبر ہے اور ذبح کے وقت کلی بھی نہیں کرتاتو اس کاذبح کیساہے
الجواب:
اگر مسلمان ہے اور ذبح کرنا جانتاہے اورتکبیر کہے تو ذبح ہوجائے گا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹: از گوری ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
ایك شخص مسلمان کلمہ گو اپنی بدقسمتی سے ادائے نماز میں غفلت کرتاہےپس اس صورت میں ذبیحہ و ضیافت اس کا مسلمانوں کو کھانا ونماز جنازہدفن مقبرہ مومنین میں جائز ہے یانہیں اگر نہیں تو کس دلیل سےذبیحہ اہل کتاب وضیافت مسلمانوں کو جائز کیا گیا
الجواب:
ضرور اس کا ذبیحہ جائزاور اس کے جنازہ کی نمازاور اسے اسلامی طور پر دفن کرنا مسلمانوں پر فرض
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۱€
بحرالرائق کتاب الزکوٰۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۲۴۸€
#7284 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اما الدیوان الذی لایعبؤاﷲ بہ شیئا فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہمن صوم یوم ترکہاوصلوۃ ترکہافان اﷲ تعالی یغفر ذلك ان شاء ویتجاوز ۔ حضو رصلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بناء پر کہ گناہوں کا دفتر الله تعالی کے ہاں اس کی حیثیت نہیں ہے تو بندے کا اپنے نفس پر ظلم اس کے اور اس کے رب کے درمیان معاملہ ہے کسی دن کا روزہ یا کوئی نماز ترك کی ہو تو الله تعالی چاہے تو اسے بخش دے اور درگزر فرمادے۔(ت)
ضیافت بھی جائز ضرورہے اس سے بچنے نہ بچنے میں عمل سلف مختلف ہے کما فصلہ الامام حجۃالاسلام فی الاحیاء (جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی علیہ الرحمۃ نے احیاء العلوم میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ت)اسکا بیان ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰: از مدرسہ مڈھاوی ڈاکخانہ کوراولی ضلع میں پوری مرسلہ محمد بختیار صاحب مدرس ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
قصاب پیشہ شخص جو ذبح کرے اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یانہیں
الجواب:
درست ہے جبکہ تکبیر کے ساتھ ذبح کرےفتاوی بزازیہ میں ہے:
یلزم علی ھذا الجاھل ان لا یاکل ماذبح القصاب ۔و اﷲ تعالی اعلم۔ ایسے جاہل کو لازما آتاہے کہ وہ قصاب کے کسی ذبیحہ کو نہ کھائےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۱: از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ قصاب کا ذبیحہ جائزہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ذبح قصاب وغیرہ سب کا ایك حکم ہے۔مسلمان یا کتابیعاقل ہونا چاہئے کہ ذبح جانتاہو اور عمدا تسمیہ ترك نہ کرےکسی قوم یا پیشہ کی تخصیص محض جہالت ہےدرمختارمیں ہے:
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل ∞حدیث ۲۵۵۰۰€ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۷/ ۳۴۲،€مسند احمد بن حنبل از مسند عائشہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی ∞بیروت ۶/ ۲۴۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیۃ کتا ب الصید الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۲€
#7285 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
لایعطی اجر الجزار منہا لانہ کبیع ۔ قربانی کا کوئی حصہ قصاب کی اجرت میں نہ دے کیونکہ یہ معاوضہ سوداکاری کے معنی میں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لانہ انما یعطی الجزار بمقابلۃ جزرہ ۔ کیونکہ یہ قصاب کے عمل کے بدلے میں دے گا۔(ت)
خانیہ میں ہے:
وضع صاحب الشاۃ یدہ مع یدالقصاب فی المذبح واعانہ علی الذبحسمی کل وجوبا الخ(ملخصا) بکری والے نے ذبح میں قصاب کے ساتھ اپنا ہاتھ شریك کیا تو دونوں پر بسم الله پڑھنا وجب ہے۔الخ(ملخصا)۔(ت)
بزازیہ میں ہے:
لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لا یذبحفیلزم علی ھذا الجاہل ان لایاکل ماذبحہ القصاب ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بے شك قصاب نفع حاصل کرنے کے لئے ذبح کرتاہے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو ذبح نہ کرے گاتوایسے جاہل پر لازم آتاہے کہ قصاب کا ذبیحہ نہ کھائےوالله سبحانہ و تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۲:از اوجین علاقہ گوالیار مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
خنثی جانور کا ذبیحہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
خنثی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتاہودونوں سے یکساں پیشاب آتاہوکوئی وجہ ترجیح نہ رکھتاہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتاویسے ذبح سے حلال ہوجائے گااگر کوئی کچا گوشت کھائےکھائےدرمختارمیں ہے:
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۴€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۹€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاضحیۃ فصل مسائل متفرقہ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۵۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیہ کتا ب الصید الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۲€
#7286 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
ولابالخنثی لان لحمہا لاینضجشرح وھبانیۃ ۔ خنثی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیںشرح وہبانیہ۔(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثی لان لحمہا لاینضج کذا فی القنیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ خنثی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیں قنیہ میں اسی طرح ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۳: از کلکتہ دھرم تلا اسٹریٹ نمبر ۱۶۲ مرسلہ حافظ عبدالرحمان صاحب ۳ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بکری بچہ جنیاور بعد جننے کے مرگئیاب وہ بچہ ایك کتیا کا دودھ پی کر سیانا ہوا پس وہ بچہ حلال ہے یاحرام بینوا توجروا
الجواب:
اگر ایسا سیانا ہوگیا کہ دودھ چھٹے کچھ مدت گزریجب تو بالاتفاق بلاکراہت حلال ہے۔یونہی دودھ پیتے کو چند روز اس دودھ سے جدا رکھ کر حلال جانور کا دودھ یا چارا دیااور اس کے بعد ذبح کیا جب بھی بالاتفاق بے کراہت حلال ہے۔اور اگر اسی حالت میں ذبح کرلیا تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔اس صورت میں کراہت بھی محل نزاع نہیںہاں اس میں اختلاف ہے کہ یہ کراہت تنزیہی ہے یعنی کھانا بہترنہیںاور کھالے تو گناہ نہیںیا تحریمی یعنی کھانا ناجائز وگناہ ہے۔عامہ کتب میں معتمدہ مذہب مثل نوازل وخلاصہ وخانیہ وذخیرہ وبزازیہ وتبیین الحقائق وتکملہ لسان الحکام للعلامۃ ابراہیم حلبی ودرمختار وغیرہا میں قول اول ہی پر جزم فرمایا اور خود محرر مذہب سیدنا امام محمدرحمہ الله تعالی علیہ سے اس پر نص صریح آیااور شك نہیں کہ وہی اقوی من حیث الدلیل ہے۔درمختارمیں ہے:
حل اکل جدی غذی بلبن خنزیر لان لحمہ لایتغیر وما غذی بہ یصیر مستہلکا لایبقی لہ اثر ۔ بھیڑ کے جس بچے نے خنزیر کا دودھ بطور خوراك پیا تو اسے کھانے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا گوشت متغیر نہ ہوا اور جو خوراك دی گئی وہ ہلاك ہوگئی اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب لاضیحہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۹€
درمختار کتاب الحظروا لاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶€
#7287 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
خلاصہ میں ہے:
فی النوازل لو ان جدیا غذی بلبن الخنزیر فلا باس باکلہفعل ھذا قالوا لاباس باکل الدجاج الذی یخلط ولا یتغیر لحمہوالذی روی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال تحبس الدجاجۃ ثلثۃ ایام کان للتنزیہ (باختصار)۔ نوازل میں ہے جو بچہ خنزیر کے دودھ کی خوراك سے پرورش پایا اس کو کھانے میں حرج نہیں ہے اسی لئے فقہاء نے فرمایا جو مرغ گندگی کھائے اور اس کا گوشت متغیر نہ ہو تو کھانے میں حرج نہیں ہےاو ر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد کہ مرغی کو تین دن قید رکھ کر ذبح کیا جائےیہ ارشاد تنزیہ کے طور پر ہے۔(باختصار)(ت)
اسی سے تکملہ لسان میں فرمایا اسی طرح بقیہ کتب میں مذکور ہےہندیہ کی کتاب الکراہیۃ میں قنیہ سے ہے:
ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالی جدی او حمل یرضع بلبن الاتان یحل اکلہ ویکرہ ۔ امام محمد رحمہ الله تعالی نے فرمایابکری یاگائے کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے اس کا کھانا حلال ہے اور مکروہ ہے۔ (ت)
اسی قنیہ میں بعض علماء سے قول ثانی نقل کیاوہی ظاہرا کلام فتاوی کبری وخزانۃ المفتین کا مفاداور امام اعبدالله بن مبارك رحمۃ الله تعالی علیہ کے ارشاد سے مستفادردالمحتارمیں ہے:
فی شرح الوہبانیۃ عن القنیۃ راقما انہ یحل اذا ذبح بعد ایام والا لا ۔ شرح وہبانیہ میں قنیہ سے نقل کیا کہ اگر چند روز کے بعد ذبح کیا تو حلال ہے ورنہ نہیں۔(ت)
سیدا بو السعود ازہری فتح الله المعین حاشیہ کنزمیں فرماتے ہیں:
الجدی اذا ربی بلبن الا تانقال ابن المبارك یکرہ اکلہ قال واخبرنی رجل عن الحسنقال اذا ربی الجدی بلبن الخنزیر لاباس بھیڑ کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے تو ابن مبارك نے فرمایا اس کا کھانا مکروہ ہے مجھے یك شخص نے حسن سے خبردی انھوں نے کہا بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے توحرج
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصید الفصل الخامس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۰€۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۹€
ردالمحتار کتاب الکراہیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۷€
#7288 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
بہ۔قال معناہ اذا اعتلف ایاما بعد ذلك کالجلالۃ کذا بخط شیخنا عن الخانیۃ ۔ نہیںانھوں نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے بعد وہ چارہ کھاتا رہا تووہ جلالہ یعنی گندگی کھانیوالے جانور کی طرح ہے ہمارے شیخ کے سے یوں خانیہ سے منقول ہے۔
ہندیہ کی کتاب الصید والذبائح میں ہے:
الجدی اذا کان یربی بلبن الاتان والخنزیران اعتلف ایامافلا باس لانہ بمنزلۃ الجلالۃ والجلالۃ اذا حبست ایاما فعلفت لاباس بہا فکذا ہذاکذا فی الفتاوی الکبری ۔ بکری کا بچہ گدھی یاخنزیر کے دودھ سے پرورش پائے پھر چند روز چارہ کھالے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ گندگی کھانے والے جانور کی طرح ہے اور یہ گندگی کھانے والا اگرچند روز قیدمیں رکھا جائے اور چارہ کھائے تو کوئی حرج نہیں اسی طرح یہ بھی ہےفتاوی کبری میں ایسے ہی ہے۔(ت)
اسی طرح خزانۃالمفتین میں برمز فتاوی کبری سے منقول:
فقدعلق نفی الباس علی الاعتلاف فافاد وجودہ عند عدمہوالباس انما ہو فیما ینہی عنہ۔ انھوں نے حرج کی نفی کو چارہ کھانے سے معلق کیا ہے تو چارہ نہ کھانے کی صورت میں حرج کا وجود ثابت ہوتاہے اور حرج کا تعلق ممنوع چیز ہے(ت)
لہذا اختلاف علماء سے بچنے کے لئے اسلم وہی ہے کہ چند روز کا وقفہ دے کر ذبح کریںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۴: از شیرپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد منگل خانصاحب تعلقدار ۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك بچہ ہرنی کا کتی کا دودھ پی کر پرورش ہوا اس کا گوشت کھانا جائزہے یا نہیں
الجواب:
اگر اب دودھ چھوڑے ہوئے ایك زمانہ گزرا تواس کا گوشت حلال ہے۔اور اگر اب بھی پیتاہے تو چند روز وہ دودھ چھڑائیں پاك دودھ پلائیں یا چارہ کھلائیںیہاں تك کہ پیٹ میں وہ دودھ
حوالہ / References فتح المعین علی الکنز لمنلا مسکین کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۸۶€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۰€
#7289 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
بالکل نہ رہے۔اس وقت اسے ذبح کرکے کھاسکتے ہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
الجدی اذا کان یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باس لانہ بمنزلۃ الجلالۃوالجلالۃ اذا حبست ایاما فعلفت لا باس بہا فکذا ہذاکذا فی الفتاوی الکبری ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بھیڑ کا بچہ اگر گدھی یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے اور بعد میں چند روز چارہ کھائے تو حرج نہیں ہے کیونکہ وہ جلالہ (گندگی کھانے والے جانور)کی طرح ہے اور جلالہ کو چند روز قید میں رکھا جائے چارہ کھائے تو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے۔تویہ بھی ایسا ہےفتاوی کبری میں یونہی ہے۔ و الله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۵: از شہرکہنہ اپربرہما مرسلہ محمد یعقوب صاحب امام مسجد شہر مذکور ۱۷محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی جانور آدمی کا دوددھ پئے گا تو اس کا گوشت کھانا کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
جس جانور نے آدمی کا دودھ پیا ہو وہ اس کے باعث حرام نہیں ہوجاتااگر چہ پوری پرورش انسان بلکہ خنزیر کے دودھ سے پائی غایت یہ کہ چند روز بند کرکے چارہ کھلائیں یا حلال جانور کا دودھ پلائیںاس کے بعد ذبح کریںخانیہ میں ہے:
لوان جد یاغذی بلبن الخنزیر لاباس باکلہ ۔ بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس کے کھانے میں ممانعت نہیں۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
الجدی یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باس ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بھیڑکا بچہ اگر گدھی یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے تو اس نے چند روز بعد میں چارہ کھالیا تو کھانے میں حرج نہیں ہے والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الذبائح ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۵۲€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۰€
#7290 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
مسئلہ ۱۱۶: مرسلہ مولانابخش ہولاپاڈنگ چاہ بگان ڈاکخانہ لٹاکوباڑی ضلع ڈونگ بتاریخ ۷ شعبان ۱۳۳۳ھ
جناب مولانااحمد رضاخاں صاحب مصدر اشفاق فراواں ومحزن الطاف بیکراں برحال بیکساںبعد سلام مسنون اسلام مشہورضمیر مبین یاد کے عرصہ بعید منقضی ہوتاہے کہ خاکسار نے حضور کے گوش گزار کیا تھا کہ کوئی مشرك یا کافر کسی جانور کو کالی یا بھوانی کے بھوگ چڑھاوےاور بل دینے کو لے جائے اور بل نہ دے یعنی گردن نہ مارےصرف کان کاٹ کر چھوڑ دے یہ کہہ کر کے "یابھوانی یا کالی یہ تمھارا بھوگ ہے"تو اس جانور کو ذبح کرنا اور کھانا مسلمانوں کو جائزا ور درست ہے یانہیں ہم نے ان کو بموجب آیہ شریف" وما اہل بہ لغیر اللہ" (ذبح کے وقت غیرالله کا نام پکارا گیا۔ت)منع کیا کہ جس جانور یا مٹھائی وغیرہ کو مشرك یا کافر اپنے بتوں کو چڑھائیں وہ نہ کھانا چاہئےتو وہ لوگ کہتے ہیں کہ عالموں نے فتوی دیاہے کھانے کے لئےاس وجہ سے ہم لوگ چڑھائے ہوئے جانور کو کھاتے ہیںچونکہ اس زمانہ میں بہت سا اختلاف ہورہاہے اور لوگوں نے کئی ایك طریقہ اختیار کیاہے اس لئے آپ سے التجا ہے کہ آپ گویا اس وقت کے امام ہیں ہادی گمراہاں سمجھ کردرخواست کرتے ہیں شاید ہم غلطی پر ہوں اور آپ کے باعث ہم کو راہ راست نصیب ہو لله جواب خط سے ضرور سرفراز فرمائیںاس کا اجر آپ کو الله تعالی عطا فرمائے گاجواب کے لئے لفافہ خط کے ساتھ شامل خدمت والا میں ارسال کرتاہوں
الجواب:
مشرکین اپنے بتوں کے لئے سانڈ چھوڑتے اسے سائبہ کہتے جسے کان چیر کر چھوڑتے اسے بحیرہ کہتے اور ان جانوروں کو حرام جانتےالله تعالی نے ان کو رد فرمایا کہ:
" ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب و اکثرہم لا یعقلون ﴿۱۰۳﴾" الله نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا اور نہ بحار اور نہ وصیلہ اور نہ حامیہاں کافر لوگ الله پر جھوٹا افتراء باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں(ت)
یعنی یہ باتیں الله نے تو ٹھہرائیں نہیں لیکن کافر ان پر جھوٹ باندھتے ہیںتو ان جانوروں کو حرام بنانا کافروں کا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۳€
القرآن الکریم ∞۵/ ۱۰۳€
#7291 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
قولاور قرآن مجید کے خلاف ہے۔اور آیہ مااہل بہ لغیر اﷲ اس جانور کے لئے ہے جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا جائے چھوڑے ہوئے جانور سے اسے کوئی تعلق نہیں نہ کہ مٹھائی تك پہنچےیہ تعصب وہابیوں کے جاہلانہ خیال ہیں کہ"جانداریا بے جان ذبیحہ ہو یا غیرجس چیز کو غیر خدا کی طرف منسوب کرکے پکاریں گے حرام ہوجائیں گی"ایسا ہو تو ان کی عورتیں بھی ان پر حرام ہوں کہ وہ بھی انھیں کی عورتیں کہہ کر پکاری جاتی ہیں الله تعالی کا نام ان پر نہیں لیا جاتاایسے بیہودہ خیالوں سے بچنا لازم ہے۔ہاں بت کے چڑھاوے کی مٹھائی پر شاد مسلمانوں کو نہ لینا چاہئے کہ کافر اسے صدقہ کے طور پر بانٹتے ہیںوہ لینا ذلت بھی ہے اور معاذالله جو چیز انھوں نے تعظیم بت کے لئے بانٹی اس کا ان کے موافق مراد استعمال بھی ہے بخلاف چھوڑے ہوئے جانور کے کہ اس کا کھانا کافروں کے خلاف مراد اور ان کی ذلت ہےاس میں حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ فتنہ نہ ہوورنہ فتنہ سے بچنا لازم ہے۔
قال اﷲ تعالی " الفتنۃ اشد من القتل" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:فتنہ قتل سے شدید تر ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷: مسئولہ مسلماناں کاٹھیاواڑ جام جودھپور معرفت شیخ عبدالستار پوربند کاٹھیاواڑ ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
اس ملك میں رواج ہے کہ اہل ہنود بکریوں کے چرواہے مندروں پر بکرا چڑھانے کے واسطے لے جاتے ہیں اور اس کے ذبح کرنے کے واسطے مسلمان قصاب کو بلاتے ہیں اور اکثر قصاب نہیں ہوتے تو پیش امام کو لے جاتے ہیں اور بعدذبح کے وہ گوشت انھیں لوگوں پر تقسیم کیا جاتاہے اس گوشت کالینا جائز ہے یانہیں اور ذبح کرنے کے واسطے جانا چاہئے یانہیں اور قصاب وہاں سے گوشت لے کر فروخت کرتے ہیں ان سے خرید کر کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ذبح میں ذابح کی نیت شرط معتبر ہےاگر کافر اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرائے اور مسلمان الله عزوجل کے لئے اس کانام لے کر ذبح کرے جانور حلال ہوجائے گا مگریہ فعل مسلمان کے لئے مکروہ ہےاور اس گوشت کا اس سے لینا بھی نہ چاہئے کہ اس میں کافر کے زعم میں اس کے مقصد باطل کو پورا کرنا ہے اور یہ گوشت گویا اس کی طرف سے تصدق لینا ہے۔
والید العلیا خیر من الید السفلی اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔تو یہ
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۹۱€
#7292 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
ولا ینبغی لید کافر ان تکون اعلی من ید مسلم و المسئلۃ منصوص علیہا فی العالمگیریۃ والتتارخانیۃ انہ یحل ویکرہ للمسلم ۔ مناسب نہیں کہ کافر کا ہاتھ مسلمان کے ہاتھ سے افضل ہو اس مسئلہ پر عالمگیری میں نص ہے تاتارخانیہ میں ہے حلال ہے اور مکروہ ہوگا مسلم کے لئے(ت)
ہاں قصاب وغیرہ جس مسلمان نے اس سے گوشت لیا اور بعد ذبح مسلم نظر مسلم سے غائب نہ ہوا تھا اسکے خریدنے میں حرج نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸: مرسلہ شیخ گھورا موضع یکسٹرا ڈاکخانہ ایٹاری ضلع شاہ آباد آرہ ۱۷ صفر ۱۳۳۵ھ
اگر ہندو کسی جانور یعنی بکرا بکریبھیڑا بھیڑی وغیر ہ کو کسی اپنے دیوتا کے نام پر یا دیوتا کی جگہ پر لے جاکر اس کا کان کاٹ ڈالے اور بعدمیں اس جانور کو کسی مسلمان کے ہاتھ بیچ ڈالے اور وہ مسلمان اس جانور کو شرعی طریقہ پر ذبح کرکے کھائے تو وہ جانور یا اس کا کھانا حلال ہے یاحرام بینوا توجروا
الجواب:
حلال ہے
قال اﷲ تعالی " وما لکم الا تاکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ
" ۔ واﷲتعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:تمھیں کیا ہوا کہ نہیں کھاتے جس پر الله تعالی کانام پکا راگیاوالله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۹ و ۱۲۰:ازچتوڑ گڑھ علاقہ اودیہ پور راجپوتانہ مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب ۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ بروز شنبہ
(۱)سانڈ حرام ہے یا حلالفتاوی عبدالحی صاحب لکھنؤ جلد سوم میں حرام لکھا ہے اس بناء پر کہ وہ سانڈ مالك کی ملك سے خارج نہیں۔
(۲)خراطین یا کسی مکروہ تحریمی یا حرام شے کا جلاکرکھانا یا جس شیئ میں جلائی ہے مثلا گھی وغیرہ اس کا کھانا کیسا ہے
الجواب:
(۱)سانڈ اگر الله کے لئے ذبح کرلیا جائے گا تو اس کے گوشت کی حلت میں تو کوئی کلام ہی نہیں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الذبائح البا ب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۱۹€
#7293 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
قال اﷲ تعالی ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ" " ۔ الله تعالی نے فرمایا:الله تعالی نے بحیرہ اور سائبہ نہیں بنائے۔ (ت)
کافروں کا یہ اعتقاد تھا کہ کان چیر کر چھوڑ دیا یا بحار کردیا تو اس کا کھانا حرام ہےقرآن عظیم نے اس کا رد فرمادیارہا ملك غیر کی وجہ سے حرام ہونا یہ معصوم وغیر معصوم میں عدم تفرقہ سے ناشی ہے۔کافرکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن نہ مستامن منہیعنی نہ وہ اس کی امان میں ہو نہ یہ اس کی امان میںاس سے صرف غدر حرام ہےہاں ایك اور راہ سے یہاں عدم جواز آسکتاہےوہ یہ کہ یہ صورت اگر قانونا جرم ہو تو ایسا مباح جومسلمان کو معاذالله ذلت پر پیش کرے شرعا ممنوع ہوجاتاہےوالله تعالی اعلم۔
(۲)حرام شیئ جلنے کے بعد بھی حرام ہی رہے گی اور دوسری شیئ میں اگر ایسی مخلوط ہوگی کہ تمیز ناممکن ہےتو اسے بھی حرام کردے گی
اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حلال اور حرام مجتمع ہوں تو حرام کو غلبہ ہوتاہےوالله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۱: از ملك آسام مقام نوعلی گاؤں ضلع شیپ ساگر مرسلہ پیر ملا مولوی سید عبدالمجید صاحب ۱۶ رمضان ۱۳۱۳ھ
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ایك بیل غیر الله کے نام پر چھوڑا ہوا ہے آیا اس جانور کو کھانا جائز ہے یانہیں اس مسئلہ میں کہ یہاں پر بہت اختلاف ہے اس کو معہ دلیل تحریر فرمائیں
الجواب:
اس چھوڑدینے سے وہ جانور حرام نہیں ہوجاتا۔
قال اﷲ تعالی ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا وصیلۃ ولا حام ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب و اکثرہم لا یعقلون ﴿۱۰۳﴾" ۔ الله تعالی نے فرمایا:بحیرہسائبہوصیلہ اور حام الله تعالی نے نہیں بنائے لیکن کافروں نے الله تعالی پر جھوٹ افتراء باندھا جبکہ ان کی اکثریت بے عقل ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/ ۱۰۳€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۴۴€
القرآن الکریم ∞۵/ ۱۰۳€
#7294 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
تفسیر مدارك شریف میں ہے:
یفترون علی اﷲ الکذب فی نسبتہم ہذا التحریم الیہواکثرھم لایعقلون ان اﷲ تعالی لایحرم ذلك ۔ الله تعالی پر ان کے حرام کرنے کی نسبت میں افتراء باندھتے ہیں جبکہ ان کی اکثریت بے عقل ہے الله تعالی نے ان کو حرام نہیں کیا(ت)
مگر اس چھوڑدینے سے وہ ملك مالك سے بھی خارج نہیں ہوتااسی کی ملك پر باقی رہتاہے کہ بیل چھوڑنے والے چھوڑتے وقت نہ یہ کہتے کہ جو اسے پکڑلے اس کا مالك ہوجائےنہ وہ ہر گز اس کا پکڑنا روا رکھتے ہیںبلکہ ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ یہ یونہی چھوٹا پھرےتو جانور بدستور انھیں کا مملوك رہتاہےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لو سیب دابۃوقال لاحاجۃ لی الیہاولم یقل ہی لمن اخذہا فاخذہا الانسان لا تکون لہ ۔ اگر کوئی جانور آزاد چھوڑ دیا گیا اور یہ نہ کہا جو پکڑے اس کا ہوگا تو کوئی انسان پکڑلے تو وہ اس کا مالك نہ بنے گا۔(ت)
اس وجہ سے اس کاپکڑناذبح کرناکھانا کچھ جائز نہیں کہ وہ ملك غیر ہے یہاں تك کہ اگر مالك اجازت دے دے بلاشبہ حلال ہوجائےیااگر کسی شخص کا اس بیل چھوڑنے والے پر کچھ دین آتاہو مثلا اس نے کچھ مال اس کا چھینا یا چرایا یا سود یا رشوت میں لیا ہو اور اس سے وصول کی امید نہیں تو یہ شخص اپنے آتے میں اس بیل کو لے سکتاہے جبکہ اس کی قیمت اس کے مقدار حق سے زائد نہ ہو
وھی مسئلۃ الظفر بخلاف الجنس الحق المفتی الان بجواز اخذہ کما فی ردالمحتار وغیرہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ مسئلہ اپنے حق کے خلاف جنس پر قابو پانے کا ہے جس پر آج کل فتوی ہے کہ قابو پاناجائز ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۲: از اودے پور میواڑ مہارانا ہائی اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب ۱۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بکرا جو شیخ سدو کے نام سے یا دوسرے کسی بزرگ کے نام سے موسوم کیا جائےاور وہ بکرا الله کے نام کے ساتھ ذبح کیا جائے اس کا کھانا مسلمان
حوالہ / References مدارك التزیل(تفسیر النسفی) تحت آیۃ یفترون علی اﷲ الکذب الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۱/ ۳۰۵€
فتاوی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۲€
ردالمحتار کتا ب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۵€
#7295 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
کو جائز ہے یانہیں اور " وما اہل بہ لغیر اللہ" سے مراد قبل ذبح کے پکارا جاناہے یا وقت ذبح کے
الجواب الملفوظ
اصل کلی اس میں یہ ہے کہ ذابح کی نیت اور وقت ذبح اس کے تسمیہ کا اعتبار ہے اس کے سوا کسی بات کا لحاظ نہیںاگر مالك نے خاص الله عزوجل کے لئے نیت کی ہے اورذابح نے بسم الله کی جگہ بسم فلاں کہایا بسم الله ہی کہا اور اراقت دم سے عبادت غیر خدا مقصود رکھی ذبیحہ مردار ہوگیااور اگر مالك نے کسی غیر خدا اگر چہ بت یا شیطان کےلئے نیت کی اور اسی کے نام کی شہرت دی اور اسی کے ذبح کرنے کے واسطے ذابح کودیااور ذابح نے خاص الله عزوجل کے لئے اس کانام پاك لے کر ذبح کیابنص قطعی قرآن حلال ہوگیا۔
قال اﷲ تعالی " وما لکم الا تاکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ" ۔ الله تعالی نے فرمایا:تمھیں کیا ہوا کہ اس چیزمیں سے نہ کھاؤ جس پر الله کانام ذکر کیا گیا۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
مسلم ذبح شاہ المجوسی لبیت نارھم او الکافر لا لہتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالی ویکرہ للمسلم کذا فی التاتارخانیۃ ۔ مسلمان نے مجوسی کی بکری ذبح کی ان کے آتشکدہ کے لئےیا کسی کافر کی بکری ان کے معبودوں کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے الله تعالی کا نام لے کر ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔(ت)
اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے رسالے سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء میں ہے اور شیخ سدو کوئی بزرگ نہیں بلکہ ایك خبیث روح ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳:از قصبہ کلی ناگر تھانہ مادھوٹانڈہ پرگنہ پورنپورضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد اکبر علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے شیخ سدو کے نام سے مرغ وغیرہ ذبح
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۳€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۱۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶€
#7296 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
کرایاا ورمیلاد بھی زید نے پڑاھوایاتو زید کے مکان پر میلاد پڑھنا جائز ہے یانہیںاور کھانا زید کا میلاد خواں نے کھایا تو وہ اس کے حق میں کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
ذکر میلاد شریف بہ نیت ہدایت پڑھےا ور اس میں ایسی ارواح کی تکریم سے ممانعت کرے جن کا اسلام تك معلوم نہیںبلکہ بعض علماء نے انھیں ارواح خبیثہ لکھااور وہ مرغ وغیرہ ذبیحہ نہ کھائے جو ایسوں کےلئے ذبح ہوااور بہتریہ ہے کہ اس کے یہاں کا اور کھانا بھی نہ کھائےجب تك وہ توبہ نہ کرے زجرالہ و توبیخا اور اگر یہ عالم مقتدی ہے تو ایسوں کے ساتھ اور انکے یہاں کھانا کھانے سے احترازاور اہم ہے۔کما نص علیہ فی الہندیۃ وغیرھا(جس طرح کہ ہندیہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از کلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان میں چچا اور بھائی اور بھتیجا رہتے ہیںاور حقہ پانی ان سب کاایك ہےاور بھتیجے نے شیخ سدو کے نام سے جانور ذبحہ کیا اور کوئی مولوی صاحب اس کے چچا یا بھائی کے یہاں آکر ٹھہرےاو رمولوی صاحب کو معلوم ہوگیا کہ ان کا بھتیجا غیر الله کے نام کا جانور ذبح کرواتاہے اور چچا اور بھائی کوکھلاتاہےتو جو مولوی صاحب اس کے چچا کے یہاں مقیم ہیں ان مولوی صاحب کو ان کے گھر کا کھانا درست ہے یا نہیں اور مولوی صاحب سے کہا گیا کہ اس کے گھر کا کھانا نہ کھاؤتو درجواب مولوی صاحب نے کہا کہ تم کون ہو ہم کسی کا کہنے کو نہیں مان سکتے ہیں مولوی صاحب کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جانور جو الله عزوجل کے نام پر ذبح کیا جائے اور اس سے الله عزوجل ہی کی طرف تقرب مقصود ہو اگر چہ اس پر باعث مسلمان کا اکرامیا اولیاء کرام کاخواہ اموات مسلمین کو ایصال ثواب یا اپنے کوئی جائز مثل تقریب شادی ونکاح وغیرہ یا جائز انتفاع مثل گوشت فروشی قصاباں ہو تو اس کے جائز وحلال ہونے میں شك نہیںالله تعالی فرماتاہے:
" وما لکم الا تاکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ
" تمھیں کیا ہوا کہ اس چیز سے نہ کھاؤ جس پر الله سبحانہ کانام پاك لیا گیا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶/ ۱۱۹€
#7297 · کتاب الذبائح (ذبح کابیان)
مگر خبیث روحوں کو منانا تقرب الی الله نہیں ہوسکتاشیخ سدو بھی ارواح خبیثہ سے شمار کیا گیا ہےتو ذبح کرنے والے کی نیت اگر شیخ سدو کی طرف تقرب کی ہو جانور بلا شبہ مردار ہوجائے گااگر چہ بظاہر تکبیر ہی کہہ کر ذبح کیا گیا ہویہاں ذابح کی ہی نیت کا اعتبار ہے اگر چہ مالك کی نیت کچھ ہومثلامالك نے خالص الله عزوجل کے لئے ذبح کرنے کو جانوردیا ہےذابح نے اسے کسی بت کی بھینٹ چڑھادیا جانور بیشك حرام ہوگیا مالك کی نیت کچھ نفع نہ دے گییوہیں مالك نے اگر کسی بت یا شیطان ہی کے لئے ذبح کرنے کو کہا اور ذابح نے معبود برحق جل جلالہ کے لئے ذبح کیا جانور بیشك حلال ہےمالك کی نیت کچھ نقصان نہ دے گیپس صورت مذکورہ میں اگر ذابح نے سدو کی طرف تقرب کی نیت سے ذبح کیا اور ان مولوی کو اس کا یہ حال معلوم تھاپھر اس سے گوشت کھایاتویہ شخص مردار خور ہوااور اس کے پیچھے نماز منع ہےاور اگراسے ذابح کی نیت معلوم ہوگئی تھی کہ اس نے وہ نیت فاسدہ نہ کی بلکہ خالص الله عزوجل کے لئے ذبح کیاتو اگر چہ جانور حلال ہوگیا مگر بہتر اس سے بچنا تھا جبکہ مالك نے غیر خدا کے تقرب کے لئے دیا تھاخصوصا اس شخص کو جو مولوی کہلاتاہو اور لوگ اس کے فعل کو حجت جانتے ہوںعالمگیری میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لالہتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالی ویکرہ للمسلم ۔ مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے معبود کے آتشکدہ کے لئے یا کسی کافر کی بکری اس کے معبود کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے الله تعالی کے نام سے ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے۔(ت)
اور اگرنیت معلوم نہ تھی اور یہ جان چکا تھا کہ یہ لوگ شیخ سدو کے منانے والے ہیںاور بچنا اور اہم تھا کہ ارواح خبیثہ کے منانے والوں اور اس سے استعانت کرنے والوں کا ظاہر حال سخت مخدوش ہےاور ایسی جگہ شہادت سے احتراز لازم اور اگر گوشت نہ کھایا بلکہ اور کھانا کھایا تو جب مولوی کہلاکر ایسے لوگوں کے یہاں اکل طعام کہ قلوب المسلمین میں شبہہ ڈالے ہر گز مناسب نہ تھاوالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاوار ۵/ ۲۸۶€
#7298 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء ۱۳۱۲ھ
(اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)

بسم الله الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۲۵: در رد فتوی بعض معاصرین ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
ا ز لشکر گوالیار ڈاك دربار بجواب سوال مولوی نور الدین صاحب اوائل ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صور ت میں کہ زید نے ایك بکرامیاں کا اور عمرو نے ایك گائے چہل تن کی اور مرغ مدار کا پالا اور پال کران کو باتکبیر ذبح کیا یا کرالیا اس کا کھانا مسلمانوں کو عندالشرع جائزہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
حامدا لك ومصلیا ومسلما علی حبیبك والہ یاوہاب اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔ یا الله ! تیرے لئے حمد کرنے والا اور تیرے حبیب صلی الله تعالی علیہ وسلم پر صلوۃ وسلام پڑھنے والا ان کی آل پرحق و صواب کی رہنمائی فرما اے میرے رب !(ت)
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ت)حق اس مسئلہ میں ہے کہ حلت وحرمت ذبیحہ میں حال وقول ونیت ذابح کا اعتبار نہ کہ مالك کامثلا مسلمان کا
#7299 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
جانور کوئی مجوسی ذبح کرے تو حرام ہوگیا اگر چہ مالك مسلم تھااور مجوسی کا جانور مسلمان ذبح کرے تو حلال اگر چہ مالك مشرك تھایا زید کا جانور عمرو ذبح کرے اور قصدا تکبیر نہ کہے حرام ہوگیااگرچہ مالك برابر کھڑا سو بار بسم الله الله اکبر کہتا رہے اور ذابح تکبیر سے ذبح کرے تو حلالاگر چہ مالك ایك بار بھی نہ کہےذابح کلمہ گو نے غیر خدا کی عبادت وتعظیم مخصوص کی نیت سے ذبح کیا توحرام ہوگیا اگر چہ مالك کی نیت خاص الله عزوجل کے لئے ذبح کی تھی۔
یونہی ذابح نے خاص الله عزوجل کے لئے ذبح کیا تو حلال اگر چہ مالك کی نیت کسی کے واسطے تھی تمام صورتوں میں حال ذابح کا اعتبار ماننا اور اس شکل خاص میں انکار کرجانا محض تحکم باطل ہے جس پر شرع مطہر سے اصلا دلیل نہیںولہذا فقہائے کرام خاص اس جزئیہ کی تصریح فرماتے ہیں کہ مثلا مجوسی نے اپنے آتشکدہ یا مشرك نے اپنے بتوں کے لئے مسلمان سے بکری ذبح کرائی اور اس نے تکبیر کہہ کر ذبح کی حلال ہےکھائی ہےاگر چہ یہ بات مسلم کے حق میں مکروہفتاوی عالمگیری وفتاوی تاتارخانیہ و جامع الفتاوی میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لا لھتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالی ویکرہ للمسلم ۔ مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کسی اور کافر کی اس کے معبودوں کے لئے ذبح کی تو بکری کھائی جائے کیونکہ اس نے الله تعالی کے نام سے ذبح کی ہے اور یہ عمل مسلمان کو مکروہ ہے۔(ت)
پھر مسلمان ذابح کی نیت بھی وقت ذبح کی معتبر ہے اس سے قبل وبعد کا اعتبار نہیں ذبح سے ایك آن پہلے تك خاص الله عزوجل کے لئے نیت تھیذبح کرتے وقت غیرخدا کے لئے اس کی جان دیذبیحہ حرام ہوگیاوہ پہلی نیت کچھ نفع نہ دے گییونہی اگر ذبح سے پہلے غیر خداکے لئے ارادہ تھا ذبح کے وقت اس سے تائب ہو کر مولی تبارك وتعالی کے لئے اراقت دم کی تو حلال ہوگیا یہاں وہ پہلی نیت کچھ نقصان نہ دے گیردالمحتارمیں ہے:
اعلم ان المدار علی القصد عند ابتداء الذبح ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ذبح کی ابتداء میں قصد کا اعتبار ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۶€
#7300 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
غرض ہر عاقل جانتاہے کہ تمام افعال میں اصل نیت مقارنہ ہےنماز سے پہلے خدا کے لئے نیت تھی تکبیر کہتے وقت دکھاوے کے لئے پڑھیقطعا مرتکب کبیرہ ہوااور نماز ناقابل قبول اور اگر دکھاوے کے لئے اٹھا تھا نیت باندھتے وقت تك یہی قصد تھا جب نیت باندھی قصد خالص رب جل وعلا کے لئے کرلیا تو بلا شبہ وہ نماز پاك وصاف وصالح ہوگئیتو ذبح سے پہلے کی شہرت پکار کاکچھ اعتبار نہیںنہ نافع نفع دے نہ مضر ضررخصوصا جبکہ پکارنے والا غیر ذابح ہو کہ اسے تو اس باب میں کچھ دخل ہی نہیں
کما قدعلمت وہذاکلہ ظاہر جدا لا یصلح ان یتناطح فیہ قرناء وجماء۔ جیسا کہ معلوم ہے اور یہ تمام ظاہرہے اس میں بالکل گنجائش نہیں کہ اس میں بحث کی جائے۔(ت)
پھر اضافت معنی عبادت میں منحصر نہیں کہ خواہی نخواہی مدار کے مرغ یا چہل تن کی گائے کے معنی ٹھہرالئے جائیں کہ وہ مرغ وگاؤ جس سے ان حضرات کی عبادت کی جائے گیجس کی جان ان کے لئے دی جائے گیاضافت کو ادنی علاقہ کافی ہوتاہےظہر کی نمازجنازہ کی نمازمسافر کی نمازامام کی نمازمقتدی کی نمازبیمار کی نمازپیرکار وزہ۔اونٹوں کی زکوۃکعبہ کا حججب ان اضافتوں سے نما زوغیرہ میں کفر وحرمت درکنار نام کو بھی کراہت نہیں آتیتو حضرت مدار کے مرغحضرت احمد کبیر کی گائے فلاں کی بکری کہنے سے یہ خدا کے حلال کئے ہوئے جانور کیوں جیتے جی مرداراور سور ہوگئے کہ اب کسی صورت حلال نہیں ہو سکتےیہ شرع مطہر پر سخت جرأت ہےخودحضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان احب الصیام الی اﷲ تعالی صیام داؤد واحب الصلوۃ الی اﷲ عزوجل صلوۃ داؤد رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما الا الترمذی فعندہ فضل الصیام وحدہ ۔ بیشك سب روزوں میں پیارے الله تعالی کو داؤد کے روزے ہیں اور سب نمازوں میں پیاری داؤد کی نماز ہے علیہ الصلوۃ والسلام(اس کو ائمہ صحاح ستہ اور امام محمد نے عبدالله بن عمرر ضی الله تعالی عنہما سے روایت کیاہے لیکن امام ترمذی کی روایت میں صرف روزوں کی فضیلت کا ذکر ہے۔ت)
علماء فرماتے ہیں مستحب نمازوں میں صلوۃ الولدین یعنی ماں باپ کی نماز ہے۔
فی ردالمحتار عن الشیخ اسمعیل عن شرح شرعۃ الاسلام من المندوبات صلوۃ التوبۃ ردالمحتارمیں شیخ اسمعیل سے بحوالہ شرح شرعۃ الاسلام منقول ہے کہ مستحب نمازوں میں صلوۃ التوبہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التہجد باب من نام عندالسحر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۲ و ۴۸€۶
صحیح مسلم کتا ب الصیام با ب النہی عن صوم الدہر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۶۷€
#7301 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
وصلوۃ الوالدین ۔ اور صلوۃ والدین ہے۔(ت)
سبحان اللہ! داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی نمازداؤد علیہ السلام کے روزےماں باپ کی نماز کہنا صوابپڑھنا ثواباور جانور کی اضافت وہ سخت آفت کہ قائلین کفارجانور مردارکیا ذبح نماز روزے سے بڑھ کر عبادت خدا ہے یا اس میں شرکت حرام ان میں روا ہے۔خود اضافت ذبح کا فرق سنئےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ من ذبح لغیر اﷲ رواہ مسلم والنسائی عن امیر المومنین علی ونحوہ احمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم۔ خدا کی لعنت ہے اس پر جو غیر خدا کے لئے ذبح کرے(اس کو مسلم اور نسائی نے امیرالمومنین علی رضی الله تعالی عنہ اور اس کی مثل امام احمد نے ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
دوسری حدیث میں ہےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من ذبح لضیفذبیحۃ کانت فداء ہ من ۔رواہ الحاکم فی تاریخہ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو اپنے مہمان کے لئے جانور ذبح کرے وہ ذبیحہ اس کا فدیہ ہو جائے آتش دوزخ سے(اس کو امام حاکم نے اپنی تاریخ میں حضرت جابر رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
تو معلوم ہوا کہ ذبیحہ میں غیر خدا کی نیت اور اس کی طرف نسبت مطلقا کفر کیا حرام بھی نہیںبلکہ موجب ثواب ہے تو ایك حکم عام کفر وحرام کیوں کر صحیح ہوسکتاہے۔
ولہذا علماء فرماتے ہیںمطلقا نیت غیر کو موجب حرمت جاننے والا سخت جاہل اور قرآن و حدیث وعقل کا مخالف ہےآخر قصاب کی نیت تحصیل نفع دنیا اور ذبائح شادی کا مقصود برات کو کھانا دینا ہےنیت غیر تویہ بھی ہوئیکیا یہ سب ذبیحے حرام ہوجائیں گے یونہی مہمان کے واسطے ذبح کرنا درست وبجا ہے کہ مہمان کا اکرام عین اکرام خدا ہےدرمختارمیں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتا ب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۶۲€
صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب تحریم الذبح لغیر الله ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۶۰€
الجامع الصغیر بحوالہ الحاکم فی التاریخ ∞حدیث ۸۶۷۲€ دارلکتب العلمیۃ بیروت ∞۲/ ۵۲۶€
#7302 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
لو ذبح للضیف لایحرم لانہ سنۃ الخلیل و اکرام الضیف اکرام اﷲ تعالی ۔ جس نے مہمان کی نیت سے ذبح کیا توحرام نہیں کیونکہ یہ خلیل علیہ السلام کی سنت اور مہمان کا اکرام ہےاور مہمان کا اکرام الله تعالی کا اکرام ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال البزدوی ومن ظن انہ لایحل لانہ ذبح لاکرام ابن ادم فیکون اہل بہ لغیر اﷲ تعالی فقد خالف القران والحدیث و العقل فانہ لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لایذبح فیلزم ہذا الجاہل ان لایاکل ماذبح القصاب وما ذبح للولائم و الاعراس والعقیقۃ ۔ بزازی نے کہا اور جس نے گمان کیا کہ وہ اس لئے حلا ل نہیں کہ اس میں بنی آدم کا اکرام ہے تو یہ غیر الله کے نام سے ذبح ہوا تو اس نے قرآن وحدیث اور عقل کے خلاف بات کی کیونکہ بلا شبہ قصاب اپنے نفع کے لئے ذبح کرتاہے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو وہ ذبح نہ کرےتو ایسے جاہل کو چاہئے کہ وہ قصاب ذبح کردہ کونہ کھائے اور ولیمہ اور شادی اور عقیقہ کے لئے ذبح کردہ بھی نہ کھائے۔(ت)
دیکھو علمائے کرام صراحۃ ارشاد فرماتے ہیں کہ مطلقا نیت ونسبت غیر کو موجب حرمت جاننا اور ما اھل بہ لغیر اﷲ میں داخل ماننا نہ صرف جہالت بلکہ جنون ودیوانگی اور شرع وعقل دونوں سے بیگانگی ہےجب نفع دنیا کی نیت مخل نہ ہوئی تو فاتحہ اور ایصال ثواب میں کیا زہر مل گیااور اکرام مہمان عین اکرام خدا ٹھہرا تو اکرام اولیاء بدرجہ اولی۔
ہاں اگر کوئی جاہل اجہل یہ نسبت واضافت بقصد عبادت غیر ہی کرتاہے تو اس کے کفر میں شك نہیں۔پھر اگر ذابح اس نیت سے بری ہے تو جانور حلال ہوجائے گا کہ نیت غیر اس پر اثر نہیں ڈالتی کما حققناہ انفا(جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ت)
مگر جب کہ حدیثا وفقہا دلائل قاہرہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ اضافت معنی عبادت ہی میں منحصر نہیںتو صرف اس بناء پرحکم کفر محض جہالت وجرأت وحرام قطعی اور مسلمانوں پر ناحق بدگمانی ہےتم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ آدمیوں کا جانور کہنے سے عبادت آدمیان کا ارادہ کرتے ہیںاور انھیں اپنا معبودوخدا بنانا چاہتے ہیں۔
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۶€
#7303 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
الله عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت سے گمان سے بچو بے شك کچھ گمان گناہ ہیں۔
اور فرماتا ہے:
" و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ " بے یقین بات کے پیچھے نہ پڑبیشك کانآنکھ اور دل سب سے سوال ہوناہے۔
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الطن اکذب الحدیث رواہ الائمۃ مالك والشیخان وابوداؤد و الترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے(اس کو امام مالکشیخینابوداؤد اور رترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالہا ام لا رواہ مسلمعن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہ۔ تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ دل کے عقیدے پر ا طلاع پاتا۔(اس کو امام مسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
امام عارف بالله سید احمد زروق رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
انما ینشأ الظن الخبیث عن القلب الخبیث بدگمانی خبیث دل سے ہی پیدا ہوتی ہے

نقلہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرح الطریقۃ المحمدیۃ۔ (اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی نے شرح طریقہ محمدیہ میں نقل کیا ہے۔ت)
والہذا منیہ وذخیرۃ وہبانیۃ ودرمختار وغیرہا میں ارشاد فرمایا:
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الادمی بہذا النحر ۔ ہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس ذبح سے آدمی کی طرف تقرب چاہتاہو۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۲€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۳۶€
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول عزوجل من بعد وصیۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴،€صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم الظن الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۶€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم الظن الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۷€
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الخلق الرابع والعشرون ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۸€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰€
#7304 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
ردالمحتار میں ہے:
ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وہذا بعید من حال المسلم ۔ یعنی اس تقرب سے تقر ب بروجہ عبادات مراد ہے کہ اس میں کفر ہے اوراس کا خیال مسلمان کے حال سے دور ہے۔
بلکہ علماء تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود ذابح خاص وقت تکبیر میں یوں کہے"بسم الله بنام خدائے بنام محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم"تویہ کہنا کہ مکروہ تو بیشك ہے مگر کفر کیسا! جانور حرام بھی نہ ہوگاجبکہ اس لفظ سے اس کی نیت حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم محض ہونہ معاذالله حضور کو رب عزوجل کے ساتھ شریك ٹھہراناامام اجل فقیہ النفس قاضی خاں اپنے فتاوی میں تحریر فرماتے ہیں:
رجل ضحی وذبح وقال بسم اﷲ بنام خدائے بنام محمد علیہ السلام قال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲ تعالی ان اراد الرجل بذکر اسم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بتبجیلہ و تعظیمہ جازولاباس و ان ارادبہ الشرکۃ مع اﷲ لا تحل الذبیحۃ ۔ کسی نے بنام خدا محمد علیہ السلام قربانی کی یا ذبح کیا شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ الله تعالی نے فرمایا: اگر اس شخص نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے نام سے صرف تعظیم و تبجیل مراد لی تو جائز ہے اور اگر الله تعالی کے ساتھ شریك بنایا تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا ۔ (ت)
بلکہ اس سے بھی زائد خاص صورت عطف میں مثلا"بنام خدا وبنام فلاں"جس سے صاف معنی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاضحیۃفصل فی الانتفاع بالاضحیۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۵۰€
#7305 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
شرکت ظاہر ہے اگر چہ مذہب صحیح حرمت جانور ہے مگر حکم کفرنہیں دیتے کہ وہ امر باطنی ہےکیا معلوم کہ اس کی نیت کیا ہے۔
درمختارمیں ہے:
ان عطف حرمت نحوباسم اﷲ واسم فلان ۔ اگر الله تعالی کے نام پر دوسرے نام کا عطف کیا تو حرام ہے مثلا بسم الله واسم فلاں۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ھوا لصحیح وقال ابن سلمۃ لاتصیر میتۃ لانہا لو صارت میتۃ یصیر الرجل کافرا خانیۃ قلت تمنع الملازمۃ بان الکفر امر باطن والحکم بہ صعب فیفرق کذا فی شرح المقدسی شرنبلالیۃ ۔ وہی صحیح ہے اور ابن سلمہ نے فرمایا مردار نہ ہوگا کیونکہ اگر مردار کہیں گے تو ذبح کرنے والے کو کافر قرار دینا ہوگا خانیہ میں کہتاہوں یہ ملازمہ ممنوع ہے کیونکہ کفر باطنی امر ہے اور اس کا حکم دشوار ہے تو فرق کرنا ضروری ہے شرح مقدسی میں اسی طرح ہے شرنبلالیہ (ت)
الله اکبر! خود ذابح کا خاص تکبیر ذبح میں نام خدا کے ساتھ نام غیر ملاکر پکارے اورکافر نہ ہو جب تك معنی شرك کا ارادہ نہ کرے بلکہ بے عطف"بنام خدا بنام محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم"کہے اور اسی نام پاك کے لینے سے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہی چاہے حضور کی عظمت ہی کے لئے خاص وقت ذبح بنام خدا کے ساتھ بنام محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم کہے تو جانورمیں اصلا حرمت وکراہت بھی نہیں مگر پیش از ذبح اگر کسی نے یوں پکاردیا کہ"فلاں کا بکرا فلاں کی گائے"تو پکارنے والا مشرك اور اس کے ساتھ یہ لفظ منہ سے نکلتے ہی جانور کی بھی کایا پلٹ ہوکر فورا بکری سے کتا گائے سے سور اگر چہ وہ منادی غیر ذابح ہو اگرچہ ابھی نہ وقت ذبح نہ دم تکبیر معاذاللہ وہ لفظ کیا تھے جادو کے انچھر تھے چھوتے ہی جانور کی ماہیت بدل گئی ایسے زبردستی کے احکام شرع مطہر سے بالکل بیگانہ ہیں۔
بڑی دلیل ان کے قصد عبادات غیر ومعنی شرك پر یہ پیش کی جاتی ہے کہ"اس ذبح کے بدلے گوشت خرید کر تصدق کرنا ان کے نزدیك کافی نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ ایصال ثواب مقصود نہیں بلکہ خاص ذبح للغیر وشرك صریح مراد ہے اگر چہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مطلب صرف ایصال ثواب ہی ہے"۔
حوالہ / References درمختار کتاب الذبح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
ردالمحتار کتاب الذبح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۱€
#7306 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اقول: اس سے صرف اتنا ثابت ہوا کہ خاص ذبح مراد ہے ذبح للغیر کہاں سے نکلا کیا ثواب ذبح کوئی چیز نہیں یا گوشت دینے میں وہ بھی حاصل ہوجاتاہے عنایہ میں ہے:
التضحیۃ فیہا افضل من التصدق بثمن الاضحیۃ لان فیہا جمعا بین التقرب باراقۃ الدم والتصدق والجمع بین القربتین افضل اھ ملخصا۔ اس صورت میں قربانی کرنا اس کی قیمت کے صدقہ سے افضل ہے کیونکہ قربانی میں دونوں قربتیں حاصل ہوتی ہیں خون بہاؤ اور صدقہ بھی جبکہ دو قربتوں کو جمع کرنا افضل ہے اھ ملخصا۔ (ت)
معہذا عوام ایسی اشیاء میں مطلقا تبدیل پر راضی نہیں ہوتے مثلا جوآٹے کی چٹکی روزانہ اپنے گھر کے خرچ سے نکالتے ہیں اور ہر ماہ اسے پکاکر حضور پرنور سید ناغوث الاعظم رضی الله تعالی عنہ کی نیاز دلا کر محتاج کو کھلاتے ہیں اگر ان سے کہے کہ یہ آٹا جو جمع ہوا ہے اپنے خرچ میں لائیے اور اسی کے عوض اور پکائیے کبھی نہ مانیں گے حالانکہ آٹے میں کوئی ذبح کا محل نہیں اور ذبح میں بھی اگر اس جانور کے بدلے دوسرا جانور دیجئے ہر گز نہ لیں گے حالانکہ ادائے ذبح میں دونوں ایك سے تو ا س کا کافی نہ سمجھنا اسی خیال تعیین وتخصیص کی بنا پر ہے نہ معاذالله اس توہم باطل پر خصوصا جبکہ وہ بیچارے صراحۃ کہہ رہے ہیں کہ حاشالله ہم عبادات غیر نہیں چاہتے صرف ایصال ثواب مقصود ہے۔
اوراگر انصاف کیجئے تو دربارہ عدم تبدیل ان کا وہ خیال بے اصل بھی نہیں اگرچہ انھوں نے اس میں تشدد زیادہ سمجھ لیا ہو جن چیزوں پر نیت قربت کرلی گئی شرع مطہر میں بلا وجہ ان کا بدلنا پسند نہیں لاسیما اذا کان النزول الی الناقص کما ھہناوکل ذلك ظاھرا جدا (خصوصا جبکہ اعلی سے ادنی کی طرف تنزل ہو جیسا کہ یہاں ہے اوریہ تمام نہایت ظاہر ہے۔ ت)
ولہذا اگر غنی قربانی کے لئے جانور خریدے اوراس معین کی نذر نہ ہو تو جانور متعین نہیں ہو جاتا اسے اختیار ہے کہ اس کے بدلے دوسرا جانور قربانی کرے پھر بھی بدلنا مکروہ ہے کہ جب اس پر قربت کی نیت کرلی تو بلا وجہ تبدیل نہ چاہئے۔ ہدایہ میں ہے:
بالشراء للتضحیۃ لایمتنع البیع ۔ قربانی کے لئے خرید بیع کے لئے مانع نہیں۔ (ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References العنایۃ علی ہامش القدیر کتاب الاضحیۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/ ۴۳۲€
الہدایۃ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۳€
#7307 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
ویکرہ ان یبدل بہا غیرھا ۔ اورا س قربانی کے جانور کو تبدیل کرنا مکروہ ہے۔ (ت)
اسی طرح تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے۔
بالجملہ مسلمانوں پر بدگمانی حرام اور حتی الامکان اس کے قول وفعل کو وجہ صحیح پر حمل واجب اور یہاں ارادہ قلب پر بے تصریح قائل حکم لگانے کی اصلا راہ نہیں اور حکم بھی کیسا کفر وشرك کا جس میں اعلی درجہ کی احتیاط فرض یہاں تك کہ ضعیف سے ضعیف احتمال بچاؤ نکلتا ہو تو اسی پر اعتماد لازم کما حقق کل ذلك الائمۃ المحققون فی تصانیفہم الجلیلۃ (جیسا کہ ائمہ محققین نے اپنی تصانیف میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ ت)
اگر بالفرض بعض کو رد ل احمقوں پر بہ ثبوت شرعی ثابت بھی ہو کہ ان کا مقصود معاذالله عبادات غیر ہے تو حکم کفر صرف انھیں پر صحیح ہوگا ان کے سبب حکم عام لگادینا اورباقی لوگوں کی بھی یہی نیت سمجھ لینا محض باطل۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری
" ۔ (الله تعالی نے فرمایا) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ (ت)
پس حق یہ ہے کہ نہ مطلقا اس نام پکارنے پر حکم شرك صحیح نہ اس وجہ سے جانور کو مردار مان لینا درست بلکہ حکم شرك کے لئے قائل کی نیت پوچھیں گے اگر اقرار کرے کہ اس کی مرادعبادات غیر ہے تو بے شك مشرك کہیں گے ورنہ ہر گزنہیں اور حکم حرمت صرف قول وفعل ونیت ذابح خاص وقت ذبح پر مدار رکھیں گے اگر مالك خواہ غیر مالك کسی کلمہ گو نے معاذالله اسی نیت شرك کے ساتھ ذبح کیا تو بے شك حرام کہ وہ اس نیت سے مرتد ہوگیا اور مرتد کا ذبیحہ نہیں اور اگر الله عزوجل کے لئے جان دی اور قصدا تکبیر نہ کی تو بیشك حلال اگر چہ اس پر باعث ایصال ثواب یا اکرام اولیاء یا نفع دینا وغیرہا مقاصد ہوں اگر چہ مالك غیر ذابح کی نیت معاذالله وہی عبادات غیر ہو اگر چہ پیش از ذبح یا غیر ذابح نے وقت ذبح کسی کا نام پکارا ہو مالك سے وہ نیت ناپاك ثابت ہونا بھی ذابح پر کچھ موثر نہیں جب تك خود اس سے بھی اسی نیت پر جان دینا ثابت نہ ہو کہ جب اس سے وہ نیت ثابت نہیں اور مسلمان اپنے رب عزوجل کا نام لے کر ذبح کررہاہے تو اس پر بدگمانی حرام و نارواہے اوہام تراشیدہ پر مسلمان کو معاذالله مرتکب کفر سمجھنا حلال خدا کو حرام کہہ دینا نام الہی عزوجل جو وقت تکبیر لیا گیا باطل وبے اثر ٹھہرانا ہر گز وجہ صحت نہیں رکھتا الله عزوجل فرماتاہے:
" وما لکم الا تاکلوا مما ذکراسم تمھیں کیا ہوا کہ نہ کھاؤ اس جانور سے جس کے
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۹€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
#7308 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اللہ علیہ" ذبح میں الله کانام یاد کیا گیا۔
امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں:
انما کلفنا بالظاہر لابالباطن فاذا ذبحہ علی اسم اﷲ وجب ان یحل ولا سبیل لنا الی الباطل ۔ یعنی ہمیں شرع مطہر نے ظاہر پر عمل کا حکم فرمایا ہے باطن کی تکلیف نہ دی جب اس نے الله عزوجل کا نام پاك لے کر ذبح کیا جانور حلال ہوجانا واجب ہوا کہ دل کا ارادہ جان لینے کی طرف ہمیں کوئی راہ نہیں
یہ چند نفیس وجلیل فائدے حفظ کے قابل ہیں کہ بہت ابنائے زمان ان میں سخت خطا کرتے ہیںـ
وباﷲ العصمۃ والتوفیق وبہ الوصول الی التحقیق (حفاظت وتوفیق الله تعالی کی طرف سے ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق تك رسائی ہے۔ ت) والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۲۶: از شہر بریلی مسئولہ عبدالجلیل طالب علم ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گائے ذبح کی گئی او اس کا پیٹ جب چاك کیا توا س میں سے ایك بچہ زندہ کامل اعضا کا نکلا مگر اس کے جسم میں بال نہیں آیا ہے اس حالت میں بچہ کا گوشت حلال ہوجائے گا یا نہیں ذبح کرنے سے اور مردہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
بچہ کہ مردہ نکلے حرام اور زندہ نکلے اور ذبح کرلیا تو حلال والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں ۳ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے مدقق ومحققین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو بچہ مردہ بکری مذبوحہ کے شکم سے برآمدہو بمذاہب امام اعظم کوفی رحمۃ الله علیہ حلال ہے یاحرام بیان فرمائیں بعبارت کتب رحمۃ الله علیہم اجمعین۔
الجواب:
ناجائز ہے ہدایہ وعالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶/ ۱۱۹€
مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) ∞تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳€ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۵/ ۲۳€
#7309 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
من نحرناقۃ اوذبح بقرۃ فوجد فی بطنہا جنینا میتالم یو کل اشعراولم یشعر وہذا عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وقال ابویوسف ومحمدرحمہما اﷲ تعالی اذا تم خلقہ اکل۔ کسی نے اونٹنی یا گائے ذبح کی تو اس کے پیٹ میں بچہ مردہ پائے تو اسے نہ کھایا جائے اس پر بال ہوں یا نہ ہوں اور یہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك ہے اور امام ابویوسف اور امام محمدرحمہما الله تعالی نے فرمایا اگر وہ بچہ تام الخلقت ہو تو کھانا چاہئے۔ (ت)
اسی طرح درمختارو غیرہ عائمہ کتب میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸ تا ۱۳۱: از ریاست کوٹہ راجپوتانہ ملك ہاڑوتی قصبہ سانگور مسئولہ مسلمانان سانگور ۲۱ رمضان ۱۳۳۵ھ
ہادی دین پناہ شریعت علمائے عظام ومفتیان کرام سلمکم الله تعالی بعد سلام علیك کے گزارش یہ ہے کہ یہاں پرقصبہ سانگور ریاست کوٹہ راجپوتانہ میں کٹھیك لوگ قدیم زمانے سے گوشت کی دکان کرتے چلے آرہے ہیں اور مسلمان بھی انھیں کے یہاں سے خریدتے ہیں ان کھٹکوں کا دو ایك مرتبہ کچہری میں مردار گوشت کا مقدمہ جاچکاہے۔ اس لئے بوجہ شکوك اب ان کے یہاں سے مسلمانوں نے گوشت لینا قطعا بن دکردیا اور مسلمان قصائی آباد کرکے اس کے یہاں سے خریدنا شروع کردیا ہے مگر دو ایك مسلمان جن کا تجارتی تعلق چمڑے وغیرہ کا کھٹکوں کے ساتھ ہے وہ ایسا کہتے ہیں کہ یہ ضداور نیا مسئلہ ہے جب ایك مدت سے مسلمان کھٹکوں کے یہاں کا گوشت لیتے چلے آرہے ہیں اور تمام جگہ کھٹك ہی لوگ فروخت کرتے ہیں تو یہ ایك نئی بات پیدا کرکے کھٹکوں کو ناحق نقصان دیا جارہاہے کیا پہلے زمانے میں کوئی عالم نہ تھے وہ کیوں کھا گئے ان کے ایسا کہنے پر بہت سے مسلمان برگشتہ ہورہے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے دنیا کی بدنامی کا خوف ہے اور اصلی جواب کے منتظر ہیں مسلمانوں کی طرف سے کھٹکوں کے ساتھیوں کو سمجھایا گیا کہ تم ان سے بموجب شرع اس طرح پر انتظام کرادو:
(۱) نگراں مسلمان رہیں۔
(۲) گوشت مختلف مکانوں پر نہ ہو جہاں مسلمان تجویز کریں۔
(۳) دبانے والا (۴) ذبح کرنے والا مسلمان ہو۔
ان چاروں شرطوں میں سے وہ شرط اول دوم وچہارم پر رضامند ہوتے ہیں لیکن یہ رضامندی بھی
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الذبائح ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۳۸€
#7310 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
ان کی قیاسا نئے انتظام کو قطع کرنے کے لئے معلوم ہوتی ہے دائمی نہیں معلوم ہوتی اس لئے حسب ذیل امور دریافت طلب ہیں:
(۱) کیا دو شخص کے ورغلانے سے مسلمانوں کو پرانی بات پر جمارہنا چاہئے اور جو شخص اس پر صاد کرے اورحکم شرع ایك فضول اور بناوٹی بات بتائے اور آج تك تائب نہ ہو مسلمان اس کے ساتھ کیا سلوك کریں
(۲) کیا مسلمانوں کو ہندو کھٹکوں کے یہاں پر گوشت خریدنے کی ممانعت کا حکم سنایا جاتاہے یہ نیا مسئلہ اور بناوٹی بات ہے
(۳) جو شخص مسلمان باوجود سمجھانے کے مسلمان قصائی کو چھوڑ کر پرانی روش پرضدا ہندو کھٹکوں کے یہاں پر گوشت لینے پرآمادہ ہو اس پر کیاحکم ہے
(۴) کیا کسی شخص کی خاطر سے ہمارے مذہب کے ایسے حکم کو جس سے ہمارے ایمان میں خلل آنے کا ڈرہو چھوڑ دینا رواہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱) حکم شرعی یہ ہے کہ مشرك یعنی کافر غیر کتابی سے گوشت خریدنا جائز نہیں اور اس کا کھانا حرام ہے اگر چہ وہ زبان سے سو بار کہے کہ یہ مسلما ن کاذبح کیا ہوا ہے اس لئے کہ امرونہی میں کافر کا قول اصلا مقبول نہیں درمختارمیں ہے:
خبر الکافر مقبول بالاجماع فی المعاملات لا فی الدیانات ۔ معاملات میں کافر کی خبر بالاجماع مقبول ہے دینی معاملہ میں مقبول نہیں ۔ (ت)
نہایہ وغیرہا میں ہے:
من الدیانات الحل والحرمۃ ۔ دیانات میں سے حلال وحرام ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی التاترخانیۃ قبیل الاضحیۃ عن جامع الجوامع لا بی یوسف تاتارخانیہ میں قربانی کے بیان سے تھوڑا پہلے ابویوسف کی جامع الجوامع سے منقول ہے کسی نے
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€۷
ردالمحتار بحوالہ النہایۃ کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۹€
#7311 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
من اشتری لحما فعلمانہ مجوسی واراد الرد فقال ذبحہ مسلم یکرہ اکلہ اھ ومفادہ ان مجرد کون البائع مجوسیا یثبت الحرمۃ فانہ بعد اخبارہ بالحل بقولہ ذبحہ مسلم کرہ اکلہ فکیف بدونہ ۔ گوشت خریدا تو معلوم ہوا کہ فروخت کرنے والا مجوسی ہے اور اس نے واپس کرنا چاہا تو مجوسی نے کہا اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے اس کا کھانا مکروہ ہے اھ تو اس کا مفادیہ ہے کہ خالی فروخت کرنے والے کا مجوسی ہونا حرمت کو ثابت کرتاہے کیونکہ مجوسی کے اس بیان کے بعدکہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے جو کہ حلال ہونے کی خبر ہے کھانا مکروہ ہے تو اس کے خبر نہ دینے کی صورت میں کیسے مکروہ نہ ہوگا۔ (ت)
ہاں اگر وقت ذبح سے وقت خریداری تك وہ گوشت مسلمان کی نگرانی میں رہے بیچ میں کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو اور یوں اطمینان کافی حاصل ہو کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تو اس کا خریدنا جائز اور کھانا حلال ہوگا جب یہ حکم شرعی معلوم ہوگیا جواب سوالات ظاہر ہوگیا وہ پراناطریقہ شرعا محض حرام تھا اس پر جمنا حرام سخت حرام اگر چہ دو نہیں دو لاکھ ورغلائیں جو حکم شرع کو بناوٹی بتائے اگر جاہل ہے سمجھا یا جائے ورنہ اس پر لزوم کفر ہے توبہ کرے تجدید اسلام کرے اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید یہی حکم اس کے ساتھیوں کا ہے یہ لوگ جب تك تائب نہ ہوں مسلمان ان سے میل جول نہ کریں الله تعالی فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" اور کبھی شیطان تجھ کو بھلادے تویادآنے پر ظالم قوم کے پاس مت بیٹھ (ت)
(۲) یہ ممانعت خاص حکم شریعت ہے اور اس کے بناؤٹی کہنے والے کے ایمان پر خطرہ ہے کما تقدم انفا۔
(۳) ایسا شخص حرام خوار حرام کار مستحق عذاب پروردگار سزاوار عذاب نارہے تعزیر شرعی یہاں کون کسے دے سکتا ہے یہی بس ہے کہ مسلمان اس سے یك لخت قطع تعلق کردیں
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ (الله تعالی نے فرمایا) ظلم کرنے والوں کی طرف میلان نہ کرو کہ تم کو آگ مس کرے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۹€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
#7312 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
(۴) ہر گز روانہیں اور ایسی خاطر ملعون وہ شرطیں جو ان سے کی جارہی ہیں ان میں مسلمانوں کی نگرانی اس طرح کی ہو جیسی ہم نے بیان کی کہ وقت ذبح سے وقت خریداری تك کسی آن مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوورنہ کافی نہیں اور دبانے والے کا مسلمان ہونا کچھ ضرور نہیں ذبح کرنے والا مسلمان چاہئے۔
مسئلہ ۱۳۲: از اٹاوہ محلہ اورنگ آباد مرسلہ فضل حسین صاحب سوم جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شہر میں گوشت ہندو کھٹك فروخت کرتے ہیں اور انتظام ذبح یہ ہے کہ گورنمنٹی مذبح بناہوا ہے بعد ملاحظہ ڈاکٹر انگریزی کے (عام اس سے کہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو) اس مذبح میں کل جانور ذبح ہوتے ہیں کھٹك گوشت بناکر بازار میں لاکر فروخت کرتے ہیں مذبح پر ایك مسلمان جاتاہے جس کی نسبت معلوم ہوا کہ ذبح وہی شخص کرتاہے اگر چہ عادت مستمرہ وطریقہ مقررہ تویہی ہے لیکن ممکن ہے کہ بخلاف ورزی اس حکم گورنمنٹی کے کوئی جانور خفیۃ اپنے گھروں پر ذبح کرکے اس کا گوشت بھی انھیں جانوروں کے گوشت میں ملاکر فروخت کرلیں چنانچہ ایسے مقدمات بھی ہوتے اور وہ لوگ سزا پاتے ہیں شہادت اس امر کی کہ گوشت جو فروخت ہورہا ہے اس جانور کا ہے جس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے بجز قول اس کا فرکے جو گوشت فروخت کررہاہے اور کوئی نہیں ہے اورنہ وقت ذبح سے وقت فروخت تك بالاتصال وہ گوشت کسی مسلمان کے زیر نظر رہا اگر چہ عادت معہودہ کے موافق کہا جاسکتاہے کہ مذبح گورنمنٹی میں ذبح ہوا ہے اور وہاں مسلمان معمولا جاتاہے اور ایسے مقدمات بھی پیش آتے ہیں کہ بیماری مویشی وغیرہ بخوف ڈاکٹر کے معائنہ کے گھر پر ذبح کرلیتے ہیں۔ اور اس گوشت میں شامل کرلیتے ہیں جو مذبح کے مذبوح جانور وں کا ہے پس ایسی حالت میں اس ہندو کھٹك سے خریدا ہوا گوشت کھانا جائز وحلال ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس سے گوشت کاخریدنا کھانا کھلانا ناجائز ہے کہ حیوان جب تك زندہ تھا حرام تھا ذبح شرعی سے حلال ہوگیا اور اس کا حصول ثابت نہ ہوا والیقین لایزول بالشك (شك سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ ت) اور وہ کافر غیر کتابی اگر کہے بھی کہ یہ مسلمان کا ذبیحہ ہے تویہ خبر خصوصا امردیانت وحلت وحرمت میں ہیں۔ اور ان امور میں کافرکی خبر محض باطل و نامعتبر ہے درمختاروہدایہ وتبیین و ہندیہ وغیرہاعامہ کتب میں ہے:
خبر الکافر مقبول بالاجماع فی المعاملات لافی الدیانات ۔ معاملات میں بالاجماع کافر کی خبر مقبول ہے دیانات میں مقبول نہیں۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتب الحظر والاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۷€
#7313 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اشباہ میں اسی قاعدہ کے تحت میں ہے:
الشاۃ فی حال حیاتہا محرمۃ فالمشتری مستمسك باصل التحریم الی ان یتحقق زوالہ ۔ بکری زندہ حرام ہے تو خریدار نے اس کے اصل حال کو دلیل بناکر حرام کردیا تا وقتیکہ اس اصل یقین کا زوال نہ ہوجائے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے:
لاتحل حتی یعلم انہاذکاۃ مسلم لانہا اصلہا حرام وشککنا فی الذکاۃ المبیحۃ ۔ کھاناحلال نہیں جب تك یقینی علم نہ ہوجائے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے کیونکہ اصل میں حرام ہے اور ہمیں مباح بنانے والے ذبح میں شك ہے۔ (ت)
تاتارخانیہ میں جامع الجوامع امام ابویوسف سے ہے:
من اشتری لحما فعلم انہ مجوسی واراد الرد فقال ذبحہ مسلم یکرہ اکلہ اھ۔ کسی نے گوشت خریدا اور معلوم ہے کہ فروخت کرنیوالا مجوسی ہے تو واپس کرنا چاہا تو مجوسی نے کہا اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے اس کا کھانا مکروہ ہے اھ (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ومفادہ ان مجرد کون البائع مجوسیایثبت الحرمۃ فانہ بعد اخبارہ بالحل بقولہ ذبحہ مسلم کرہ اکلہ فکیف بدونہ تأمل ۔ اس کا مفاد یہ ہے کہ محض بائع کا مجوسی ہونا ہی حرمت کو ثابت کردے گا کیونکہ اس نے اس کے حلال ہونے کی خبر دیکہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے اس کے باوجود جب کھانا مکروہ ہو ا تو ایسی خبر کے نہ ہونے پر کیسے حلال ہوسکتاہے غور کیجئے۔ (ت)
بخلاف اس کے کہ مسلمان اپنے کسی نوکر یا مزدور مشرك کو گوشت لینے بھیجے اور وہ خریدکر لائے اور کہے میں نے مسلمان سے خریدا ہے اس کا کھانا جائز ہوگا جبکہ قبل میں اس کا صدق جمتاہو کہ اب یہ اصالۃ دربارہ معاملات قول کافر کا قبول ہے اگر چہ حکم دیانت کو متضمن ہوجائے گا تبیین الحقائق پر ہندیہ میں ہے:
حوالہ / References الاشباہ النظائر الفن الاول القاعدہ الثالثۃ اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۸۹€
فتح القدیر
ردالمحتار بحوالہ التاتارخانیہ کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۹€
ردالمحتار بحوالہ التاتارخانیہ کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۹€
#7314 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
لایقبل قول الکافر فی الدیانات الا اذا کان قبول قول الکافر فی المعاملات یتضمن قبولہ فی الدیانات فح تدخل الدیانات فی ضمن المعاملات فیقبل قولہ فیہا ضرورۃ ۔ دیانات میں کافر کا قول مقبول نہیں ماسوائے اس کے کہ جب معاملات میں اس کا قول ہو نے پر دیانات میں مقبول ہونے کو متضمن ہو تو ایسی صورت میں دیانات معاملات میں داخل قرار پاتے ہیں۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الجواب ان قولہ شریتہ من المعاملات و ثبوت الحل والحرمۃ فیہ ضمنی فلما قبل قولہ فی الشراء ثبت ما فی ضمنہ بخلاف مایأتی وکم من شیئ یثبت ضمنا لاقصدا ۔ جواب یہ ہےکہ اس کا یہ کہنا کہ میں نے اسے خریدا ہے یہ معاملات کی بات ہے اورحلال وحرام ہونا اس میں ضمنی چیز ہے تو جب خریداری کے متعلق اس کا قول مقبول ہے تو ضمنی امر بھی ثابت ہوجائے گا آئندہ بیان اس کے خلاف ہے تاہم بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوجاتی ہیں وہ قصدا ثابت نہیں ہوتیں۔ (ت)
ولہذا اگر وہ نوکر کہے کہ بائع مشرك تھا گوشت حرام ہوگا معلوم ہو اکہ بیچنے والے کا مشرك ہونا ہی حرمت گوشت کےلئے کافی ہے تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
قال اشتریت اللحم من کتابی فیحل او قال اشتریتۃ من مجوسی فیحرم ۔ اس نے کہا میں نے یہ گوشت کتابی شخص سے خریدا ہے تو حلال ہوگا یا اس نے کہا میں نے مجوسی سے خریدا ہے توحرام ہوگا (ت)
ہاں جب تك وہ گوشت ذابح مسلم خواہ او ر کسی مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو تو اس مسلمان اور نیز دوسرے کو اس مسلم کی خبر پر کہ یہ وہی گوشت ہے جو مسلمان نے ذبح کیا خریدنا اور کھانا سب جائز ہے کہ اب خبر مسلم ہے نہ کہ کافر مگر وہ مخبر ثقہ نہ ہو تو قلب پر اس کا صدق جمنا شرط ہوگا۔
فی التنویر شرط العدالۃ فی الدیانات و یتحری فی الفاسق والمستور ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ تنویر میں ہے دینی امورمیں عدالت شرط ہے اور فاسق یا مستور الحال شخص کی خبرمیں غور وفکر کرےوالله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ بحوالہ تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ الباب ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۰۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۹€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۷€
#7315 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
مسئلہ ۱۳۳:۷ محرم الحرام ۱۳۱۳ھ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے گوسفند ذبح کیا ہوا اپنے ایك ملازم غیر کتابی کے ہاتھ مکان کو بھیجا اور آرندہ ذبیحہ نے یہاں کہا کہ یہ ذبیحہ فلاں شخص مسلم نے بھیجاہے۔ کھانا اس کامسلمان کو جائزہے یانہیں
الجواب:
اگر قرائن کی رو سے اس کافر کے اس قول میں شك پیدانہ ہو ظن غالب اس کے صدق ہی کاہو تو مسلمان کے لئے اس ذبیحہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہدیہ لانا از قبیل معاملات ہے اور معاملات میں کافر کی بات مقبول او ر جب یہ مان لیا گیا کہ یہ ذبیحہ فلاں مسلم کا بھیجا ہوا ہے تو اس کے ضمن میں حلت بھی مسلم ہوگئی اگر چہ ابتداء حلت حرمت طہارت نجاست وغیرہا امور خالصہ دینیہ میں کافرکا قول مقبول نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
من ارسل اجیرا لہ مجوسیا اوخادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یہودی اونصرانی اومسلم وسعہ اکلہ لان قول الکافر مقبول فی المعاملات الخ ۔ جس نے اپنا مجوسی مزدور یا خادم گوشت خریدنے بھیجا تو اس نے واپس آکر کہا میں نے یہودی یا نصرانی یا مسلمان سے خریدا ہے تو مزدور یا غلام کا خریدا ہوا گوشت کھاناجائز ہے کیونکہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے۔ الخ (ت)
تبیین الحقائق ودرمختارمیں ہے:
المعاملات یقبل فیہا خبر کل ممیز حرا کان اوعبدا مسلما کان اوکافرا کبیرا او صغیرا لعموم الضرورۃ فان الانسان قلما یجد المستجمع لشرائط العدالۃ لیعاملہ اویستخدمہ اویبعثہ الی وکلائہ ونحوذلك و لا دلیل مع السامع یعمل بہ سوی الخبیر الخ۔ معاملات میں ہر باتمیز شخص کی بات مقبول ہے وہ آزاد ہو یا غلام مسلمان ہو یاکافر وہ بڑا ہو یا نابالغ ہو کیونکہ ضرورت عام چیزہے جبکہ انسان معاملہ یا خدمت لینے یا اپنے وکلاء کے پاس بھیجنے کے لئے شرائط عدالت پر پورا اترنے والے کو بہت کم پاتا ہے اور سامع کے پاس خبر کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی جس پر عمل کیا جائے۔ (ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتا ب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۵۱€
تبیین الحقائق کتا ب الکراہیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۱۲€
#7316 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
عالمگیری میں ہے:
یقبل قول الواحد فی المعاملات مسلما کان اوکافرا دفعاللحرج ومن المعاملات الوکالات والمضاربات و الرسالات فی الہدایا والاذن فی التجارات کذا فی الکافی اھ ملخصا۔ معاملات میں ایك شخص کی بات قبول کی جائے گی خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو تاکہ حرج کو ختم کیا جاسکے اور معاملات میں سے مضاربت اور ہدیہ وغیرہ کا قاصدبنانا تجارت کی اجازت دینا بھی ہے اسی طرح کافی میں ہے اھ ملخصا۔ (ت)
نیز تبیین میں ہے:
فاذا قبل فیہا قول المیز وکان فی ضمن قبول قولہ فیہا قبولہ فی الدیانات یقبل قولہ فی الدیانات ضمنا ضررورۃ وکم من شیئ لایصح قصدا یصح ضمنا و لان کل معاملۃ لاتخلو عن دیانۃ فلو لم یقبل فیہا فی ضمن المعاملات لادی الی الحرج بخلاف الدیانات المقصودۃ (ت) تو جب اس میں باتمیز شخص کی بات قبول ہے تو اس کے ضمن والی دینی چیز بھی اس کی قبولیت سے ضرورۃ ضمن میں قبول ہوگی اور اس لئے بھی کہ کوئی معاملہ بھی دینی امر سے خالی نہیں ہوتا تو اگر وہ معاملہ میں ضمنا ثابت نہ ہو تو حرج کا باعث ہوگا جبکہ بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی ہیں اور قصدا صحیح نہیں ہوتیں اس کے برخلاف مقصود دینیات کہ وہ ضمنا صحیح نہیں ہوتے ملخصا (ت)
ہاں اگر بنظر قرائن اس کی بات میں شك پڑے کچھ فریب معلوم دےتو ہر گز نہ کھائے کہ ذبیحہ کی حلت مشکوك وموہوم بات سے ثابت نہ ہوگی
فان الحیوان ماکان حیا کان حراما وانما یحل بذبح مشروع فلا یثبت الطاری بالشک۔ کیونکہ جانور جب تك زندہ ہے کھانا حرام ہے وہ صرف شرعی طریقہ سے ذبح کرنے سے حلال ہوتاہے تو اصل کے خلاف وارد ہونیوالی چیز شك سے ثابت نہ ہوگی۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الکراہیۃ الباب الاول الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۰€
تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۱۲€
#7317 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
یقبل قول المملوك ولو انثی والصبی فی الہدیۃ وقیدہ فی السراج بما اذا غلب علی رائہ صدقہم اھ ملخصا۔ غلام عورت ہو یا بچہ ہو اس کی بات قبول ہوگی ہدیہ میں اور کہ اس بات کو سراج میں اس قید سے مقید کیا ہے کہ اس کی رائے میں اس مملوك غلام کی سچائی غالب ہواھ ملخصا (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ثم قال کمافی المنح وان لم یغلب علی رأیہ ذلك لم یسعہ قبولہ منہم لان الامر مشتبہ علیہ اھ قال الاتقانی لان الاصل انہ محجور علیہ والاذن طاری فلا یجوز اثباتہ بالشك ۔ الخ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ پھر منح میں کہا گیا کہ اگر اس کی سچائی پر غلبہ ظن نہ ہو تو پھر اس کی بات کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ معاملہ اس پر مشتبہ رہے گا اھ اتقانی نے کہاکہ اصل ممانعت ہے اوراجازت بعد والی چیز ہے لہذا شك کے ساتھ اجازت ثابت نہ ہوگی الخ والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۳۴: از ضلع لاہور مقام چونیا مسئولہ انوارالحق بروز چہارشنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اس شہر میں حلال خور یعنی چوہڑے درپردہ گائے ذبح کراکے گوشت فروخت کرتے ہیں بعض مسلمان ان سے خریدلیتے ہیں اگر ان سے منع کیا جائے تو زید کہتاہے کہ مولوی عبدالحی کے فتاوی میں لکھاہے اگر جانور کو مسلمان ذبح کرے اور فروخت کافر کرے تو کھاناجائز ہے جب شریعت جاز کرتی ہے تو تم کیوں نفرت کرتے ہو یا حضرت ! چوہڑوں سے گوشت کھانا مسلمان کو بہت برا معلوم ہوتاہے برائے مہربانی تحریر فرمائیں کہ اگر جائز ہو تو نفرت نہ کی جائے۔ فقط
الجواب:
گوشت میں اصل یہ کہ جانور مثلا گائے جب تك زندہ ہے اس کا گوشت حرام ہے اگر کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائے مردار اور حرام ہوگا "ما ابین فی حی فھو میت"(زندہ جانور سے گوشت کاٹا تو وہ حرام ہے)
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۷€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۰€
#7318 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
حلت ذکات شرعی سے ثابت ہوتی ہےتو جب ذبح شرعی معلوم ومتحقق نہ ہو تو حکم حرمت ہےکافر نے مسلمان سے راس ذبح کرائی اور قبل اس کے کہ مسلمان کی نگاہ سے غائب ہوانھیں سے خریدلیایہ جائز ہے اور اگر مسلمان نے ذبح کیا اور اس کے بعد جانور اس کی نظر سے غائب ہوگیا"اور کافر عــــــہ گوشت اس کی حلت وطہارت کرنا چاہتاہے۔"اور حلت وحرمت وطہارت ونجاست خالص امور دیانت ہیںاورامور دیانت میں کافر کی خبر محض نامعتبر ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾" ۔ الله تعالی نے فرمایا:الله تعالی ہر گز کافروں کو مومنوں پر راہ نہ دے گا۔(ت)
مسلمان اس کے گوشت کی خریداری سے نفرت واعراض کرتے ہیںبہت صحیح وبجا ہےیہی حکم شرع ہےبلکہ چوہڑے چمار اگر مسلمان سے ذبح کرائیں او ر ہنوز نگاہ سے غائب نہ ہو جب بھی خریدنا نہ چاہئے جبکہ قلوب اس سے تنفر کرتے ہوں
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:بشروا ولا تنفروا ۔و عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:ایاکم ومایتغدر منہ فان الخبر لایتغدر منہوعنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاك ومایسؤالاذن ۔ھذا وفصلناہ فی فتاونا حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے بشارت دینے والے بنو اور نفرت پیدا نہ کرو۔اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے:باعث غدر سے بچو جبکہ خبر باعث غدر نہیں ہےاور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم سے مروی ہے۔کانوں کو تکلیف دہ بات سے بچاؤ۔

عــــــہ:اصل میں اسی طرح ہےمگر ہونا اس طرح چاہئے:"اور کافر گوشت فروش اس کی حلت و طہارت ثابت کرنا چاہتاہے۔" عبد المنان اعظمی۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴/ ۱۴۱€
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی الله علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶€
المستدر ك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ∞۴/ ۳۲۷،€کشف الخفاء للعجلونی ∞حدیث ۸۶۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱/ ۲۴۷€
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادبۃ رضی الله تعالٰی عنہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۴/ ۷۶،€کشف الخفاء للعجلولی ∞حدیث ۸۶۶€ و ۸۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴۷€
#7319 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
بتوفیق اﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔ اسے ہم نے بتوفیق الہی اپنے فتاوی میں تفصیل سے بیان کردیا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۵: از رامہ ڈاك خانہ جاتلی تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۸ شوال ۱۳۳۸ھ
مذبوحہ شدہ مالك کو دستیاب ہوجائےذابح نامعلوم ہےکیا یہ مذبوحہ حلال ہوگی یا نہیں
الجواب:
حلال ہے مگر جب کہ اس گمان کا محل ہو کہ ذابح مرتد یا مشرك یا مجوسی ہے۔حلبی وشامی علی الدرر میں ہے:
الاولی ان یقال ان کان الموضع مما یسکنہ او یسلك فیہ مجوسی لایوکل والا اکل ولایعترض بشأن ترك التسمیۃ عمدافان ہذا موہوم لایعارض الراجح ۔و اﷲ تعالی اعلم۔ یہ کہنا بہترہےایسا موضع جہاں مجوسی رہتا ہو وہاں اس کا آنا جانا ہو تو وہاں کانہ کھایا جائے ورنہ کھایا جائےاور قصدا بسم الله کو ترك کی صورت سے اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ یہ احتمال موہوم ہے جو راجح احتمال کا مقابل نہیں بن سکتا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۶:از موضع بکاجبی والاعلاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاکخانہ کوٹ نجیب الله خاں مرسلہ مولوی شیر محمد ۲ رمضان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ اگر کوئی شخص کسی کی بکری یا او ر کوئی حلال جانور چرا کر ذبح کرے تو وہ جانور اس کے ذبح کرنے سے حلال ہوجائے گا یا نہیں اور اس کا کھانا کیسا ہے اور اس ذبح کرنیوالے کے لئے کیاحکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
یہ شخص ملك غیر میں بے اس کی اجازت کے تصرف کرنے سے گنہ گار ہوامگر اگر یہ ذبح کرنیوالا اہل ذبح ہے اور تکبیر اس نے قصدا ترك نہ کی تو جانور کاذبیحہ صحیح ہوگیا یہاں تك کہ اگر یہ جانور مالك نے خاص قربانی کے لئے خریدا تھا اور اس شخص نے ایام قربانی میں اپنی طرف سے ذبح کرلیااور مالك نے یونہی ذبح کیا ہوا اس سے لے لیا تو مالك کی قربانی ادا ہوگئی اور اگر مالك نے تاوان لے لیا تو ذابح کی قربانی اد اہوگئی اور اگر
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۷€
#7320 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
کوئی شخص کسی کا جانور چوری یا غصب سے لے کر ذبح کرےاور ابھی پکانے یا بھوننے نہ پایا ہوتو مالك کو اس کا لے لینا اور خود کھانا حلالاور جسے وہ اجازت دے اسے بھی حلالہاں بے اس کی اجازت کے یہ ذبح کرنیوالا نہ خود کھا سکتاہے نہ دوسرے کو کھلاسکتاہے اسے حرام ہے جب تك اس کا تاوان ادانہ کرےیہ حرمت تعلق غیر کے سبب ہے نہ اس وجہ سے کہ ذبح صحیح نہ ہواجس طرح ذابح کے پکالینے یا بھوننے کے بعدمالك کو اس کے لے لینے کا اختیارنہیں کہ اب ذابح اس کامالك ہو گیا اصل مالك کو صرف تاوان لینے کا اختیار رہاجب یہ تاوان لے لے گا ذابح کو اس کا کھانا حلال ہوجائے گادرمختار میں اشباہ سے ہے:
لو شراہا بنیۃ الاضحیۃ فذبحہا غیرہ بلااذنہ فان اخذہا مذبوحۃ ولم یضمنہ اجزأتہ۔وان ضمنہ لا تجزئہ وہذا اذا ذبحہا عن نفسہواماا ذا ذبحہا عن مالکہا فلاضمان علیہ ۔ اگر قربانی کی نیت سے بکری خریدی تو کسی دوسرے شخص نے اس کی اجازت کے بغیر اسے ذبح کردیا تو اگر مالك نے وہ ذبح شدہ بکری رکھ لی اور اس سے ضمان نہ لیا تو مالك کی قربانی جائز ہوگی اور اگر ضمان لیا تو قربانی جائز نہ ہوگی یہ اس صورت میں ہے کہ جب ذبح کرنے والے نے اپنی طرف سے جانور ذبح کیا ہو اور اگر اس نے مالك کی طرف سے ذبح کیا تو اس پر ضمان نہ ہوگا۔(ت)
عالمگیریہ میں محیط سرخسی سے ہے:
رجل ذبح اضحیۃ غیرہ عن نفسہ بغیر امرہفان ضمنہ المالك قیمتہا یجوز عن الذابح دون المالك لانہ ظہر ان الاراقۃ حصلت علی مبلکہ وان اخذھا مذبوحۃ تجزئ عن المالك لانہ قد نواہا فلیس یضرہ ذبح غیرہ لہا ۔ کسی شخص نے غیر کی قربانی کو اپنی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر ذبح کرلیا تو مالك نے اس کو جانور کی قیمت کا ضامن بنایا تو وہ قربانی ذبح کرنے والے کی طرف سے ہوگی مالك کی نہ ہوگی کیونکہ واضح ہوگیا کہ ذبح کرنے والے نے اپنی طرف سے قربانی دی ہے اور اگر مالك نے ذبح شدہ کو لے لیا تو قربانی مالك کی جانب سے ادا ہوئی کیونکہ اس نے قربانی کی نیت کررکھی تھی تو غیر کا ذبح کرنا مضرنہ ہوگا۔(ت)
تنویرمیں ہے:
حوالہ / References درمختار بحوالہ الاشباہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۴€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الاضحیۃ البا ب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۰۲€
#7321 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
ان غصب وغیر فزال اسمہ واعظم منافعہ ضمنہ و ملکہ بلاحل انتفاع قبل اداء ضما نہ کذبح شاۃ و طبخہا اوشیہا اھ ملخصا۔ اگر دوسرے شخص نے جانور غصب کیا اور اس میں کوئی تغیر کردیا تو اس کا نام زائل ہوگیا اور اس کے منافع بڑھالئے ضمان دیا تو مالك ہوجائے گا اور ضمان کی ادائیگی سے قبل اس کو انتفاع حلال نہ ہوگا مثلا ذبح کرکے پکالیا یا بھون لیا تو مالك ہوجائے گا۔اھ ملخصا (ت)
اسی میں ہے:
ذبح شاۃ غیرہ طرحہا المالك علیہواخذ قیمتہا او اخذہا وضمنہ نقصانہا ۔ غیر کی بکری ذبح کی تومالك نے اس کے ذمہ ڈال دی اور اس کی قیمت وصول کرلی یا وہ ذبح شدہ بکری مالك نے رکھ لی اور نقصان کا ضمان وصول کرلیا (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لانہ اتلاف من وجہ لفوات بعض المنافع کالحمل و الدروالنسل و بقاء بعضہا وھو اللحم درر۔ کیونکہ یہ من وجہ اتلا ف ہے حاملہ ہونےدودھ اور نسل کے اعتبار سے اورمن وجہ باقی ہے گوشت کے اعتبار سے درر(ت)
اسی طرح ہدایہ وغیرہا میں ہے:
فظہران ماوقع فی اخرالصید من الدر المختاربما نصہ ورأیت بخط ثقۃ سرق شاہ فذبحہا بتمسمیۃ فوجد صاحبہا ھل توکلالاصح لالکفرہ بتسمیتہ علی الحرام القطعی بلا تملك ولا اذن شرعی اھ فیحرر اھ فغیر معتمد ولا محررلمخالفتہ لما تو درمختار کے باب الصید کے آخر میں جو واقع ہے وہ غیر معتمداورغیر محرر ہےوہ عبارت یہ ہے"میں نے ثقہ عبارت میں پایا کہ کسی نے بکری چوری کرکے ذبح کرلی اور اس پر بسم الله پڑھی تو مالك ناراض ہواکیا وہ کھائی جائے گی (جواب) اصح یہ ہے کہ نہ کھائی جائے کیونکہ حرام قطعی پر بسم الله پڑھنے سے کفر ہونے کی بناء پر ملکیت اور اذن شرعی کے بغیر یہ عمل ہوا"اھ اس کو واضح کیا جائے اھ
حوالہ / References درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰€۶
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۶€
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۲۳€
درمختار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۴€
#7322 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
فی الدر وغیرہ عامۃ معتمدات المذہبولذا قال فی ردالمحتار المعتمد خلافہ بدلیل قولہم بصحۃ التضحیۃ بشاۃ الغصب واختلافہم فی صحتہا بشاۃ الودیعۃ ولذا قال السائحانیاقول:ھذا ینا فی ما تقدم فی الغصبوفی الاضحیۃ فلا یعول علیہ اھ ما فی ردالمحتاراقول:و یؤید حدیث شاۃ ذبحت بغیر اذن مالکہاوقدمت للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فاخبرہ بذلك لحمہافلم یتناول منہ وامر بحملہ الا ساریواﷲ تعالی اعلم۔ یہ اس لئے غیر معتبر ہے کہ درمختار اور دیگر عام کتب مذہب کے بیان کے خلاف ہے اور اسی لئے ردالمحتار میں فرمایا اس کا خلاف معتمدعلیہ ہے اس پر دلیل فقہاء کا یہ قول ہے کہ غصب شدہ بکری کی قربانی صحیح ہےاور امانت بکری کے متعلق اختلاف کیااور اسی لئے سائحانی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ یہ غصب میں بیان شدہ کے خلاف ہے اور قربانی کے بیان سے بھی مخالف ہےردالمحتارکا بیان ختم ہوا
اقول:(میں کہتاہوں) اس کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے مالك کی اجازت کے بغیر ذبح شدہ بکری حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی اور آپ کو واقع بتایا گیا تو آپ نے وہ گوشت نہ کھایا اور آپ نے وہ گوشت قیدیوں کو دے دینے کا حکم فرمایاوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی کافر نے ایك بکری پر اہلال لغیرالله کیااور بنام خدا ذبح کرنا چاہاپھر کسی کے کہنے سے ذبح موقوف کرکے ایك شخص کو ہبہ کردیا نہ کہ اس غیر کے نام پر بلکہ جیسےآپس میں ایك دوسرے کو ہبہ کرتے ہیںآیا موہوب لہ کو خدا کے نام پر ذبح کرکے کھانا اس کا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
عندالتحقیق کریمہ " وما اہل بہ لغیر اللہ" میں اہلال وقت ذبح مقصودیعنی اس وقت اگر نام غیر خدا لیا گیا حرام ہےاس معنی پر آیہ کریمہ کو صورت مسئولہ سے کچھ علاقہ ہی نہیںاوربعض نے جو پیش از ذبح جانور پر نام غیر خدا پکاردینا مراد رکھاان کے نزدیك بھی استمرار اسی کاتادم شرط حرمت ہے۔استدلال
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۷€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۳€
#7323 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
شاہ عبدالعزیز صاحب کا حدیث"ملعون من ذبح لغیر اﷲ" (جس نے غیر اﷲ کے نام پر ذبح کیا وہ ملعون ہے۔ت) اور عبارت نیشاپوری:
اجمع العلماء لو ان مسلما ذبح ذبیحۃ وقصد بذبحہا التقرب الی غیر اﷲ صار مرتدا ذبیحتہ ذبیحۃ مرتد ۔ علماء کا اجماع ہے کہ اگر مسلمان نے جانور کوغیر الله کے تقرب کےلئے قصد کرتے ہوئے ذبح کیا تووہ مرتد ہوجائے گااس کا ذبیحہ مرتد کے ذبیحہ کی طرح ہوگا۔(ت)
سے اس کا صاف مؤید ہےیہ مطلب ہر گز نہیں کہ جب ایك بار اس پر نام خدا کا پکاردیا گیانجس العین ہوگیا اب اگرچہ وہ نیت جاتی بھی رہے اور وقت ذبح تقرب الی الله ہی مقصود ہواور نام بھی خدا ہی کا لیا جائے حرام رہے گاحالانکہ علت حرمت مرتفع ہوگئی اور ارتفاع علت کو ارتفاع معلول لازمشاہ صاحب اپنی تفسیرمیں فرماتے ہیں:
آرے ذکر نام خدا براں جانور وقتے فائدہ می دہد کہ تقرب بغیر خدا ازدل دور کردہوخلاف آں شہرت دادہ آواز دیگر دہند کہ ما ازیں کار برگشتیم ۔ ہاں اس جانور پر خدا کا نا م ذکر کرنا تب فائدہ مند ہوگا جب غیر خدا کے تقرب کو دل سے نکال دے اور غیر خدا کے تقرب کے خلاف کو شہرت دے اور لوگوں کو بتائے کہ اس کا م سے باز آگیا ہوں۔(ت)
اس عبارت سے صاف ظاہر کہ اگربعد اہلال للغیر ونیت فاسدہ زائل ہوجائے تو جانور قطعا حلال ہےخصوصا صورت مسئولہ میں کہ یہاں تو وہ بکرا صاحب اہلال کی ملك ہی نہ رہادوسرے شخص کا مملوك ہوگیا کیا صرف ایك بار نام خدا پکار دینے سے اس میں وہ حرمت ابدی ونجاست سرمدی آگئی کہ اب اگرچہ وہ نیت بھی جاتی رہیاور اہلال للغیر بھی موقوف ہوجائے بلکہ جانور صاحب اہلال کی ملك بھی نہ رہےاور ملك ثانی خاص خدا کے نام پرذبح کرےباایں ہمہ اس کی حرمت نہ جائے یہ امر بالبداہۃ باطلاور اس بکر کی حلت میں باتفاق فریقین کوئی شبہ نہیںوالله تعالی اعلم وحکمہ عزاسمہ احکم۔
حوالہ / References فتح العزیز (تفسیر عزیزی) ∞تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳ مطبع مجتبائی دہلی ص۶۱€۰
فتح العزیز (تفسیر عزیزی) ∞تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳ مطبع مجتبائی دہلی ۶۱۱€)
فتح العزیز (تفسیر عزیزی) ∞تحت آیۃ ۲/ ۱۷۳ مطبع مجتبائی دہلی ۶۱۱)€
#7324 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
مسئلہ ۱۳۸: ۱۴ رمضان المکرم ۱۳۱۴ھ
جنگل میں صبح کے وقت بیل مذبوحہ پایامگر ذابح معلوم نہیں کہ کافر ہے یا مسلماناگر مسلمان ہے تو بسم الله الله اکبر کہی ہو یانہآیا مذبوحہ حلال ہے یاحرام اگر حلال ہے تویہ جزئیہ کون سی کتاب میں ہے اور کون سے باب میں ہے یا " وما اہل بہ لغیر اللہ" میں داخل کیا جائے کون سی دلیل کے ساتھ بینوا توجروا
الجواب:
ان بلاد میں کہ مومن اور کافرمشرکملحدزندیق ہر قسم کے لوگ رہتے ہیںایسا نامعلوم الحال ذبیحہ حلال نہ سمجھا جائے گا۔
کمابینہ فی الدرالمختار وردالمحتار من اخر الصید فراجعہما وفیہ تفصیل لا یعدو ماقلناہواﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار کے باب الصید کے آخر میں اس کو بیان کیا ہے تو دونوں کتب کی طرف رجوع کرو اور اس میں تفصیل ہے جو ہمارے بیان کردہ سے زائد نہیں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۹: از بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ عبدالرشید خاں ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
اور مدار صاحب کا مرغہ کرنا کیسا ہے او رکھانا اس کا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جو جانور مسلمان نے الله کا نام لے کر ذبح کیا اور الله عزوجل کے لئے اس کی جان دے وہ حلا ل ہےمرغ مزار پر لے جانا نہ چاہئے نہ مرغ کی خصوصیت ضروری سمجھنا چاہئےجو ذبح جہاں ہو الله کے لئے کرے ان کا ثواب ان کی روح کو پہنچا دے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۰: مسئولہ انوارالحق چونیاں ضلع لاہور بروز یك شنبہ بتاریخ ۱۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
فتاوی شاہ عبدالعزیز صاحب کا حنفی المذہب کے مطابق ہے یاکہ نہیںاورنیز اس میں لکھاہے کہ پیر کے نام کا بکرا حرام ہےخواہ وقت ذبح تکبیر کہی جائےاب اے وارث النبی صلی الله تعالی علیہ سلم! تحریر فرمائے کہ شاہ صاحب اس مسئلہ میں غلطی پر ہیںیا یہ کہ اس فتاوی کی عبارت سمجھنے میں غلطی ہے اس
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۳€
درمختار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۴€
ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۶€
#7325 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
فتوے کی تمام عبارت دو تین ورق پڑھ کر تحریر فرمائیںاور نیز حضور نے کئی دفعہ پڑھابھی ہوگا۔
الجواب:
اس مسئلہ میں حق یہ ہے کہ نیت ذابح کا اعتبار ہے اگر اس نے اراقۃ دم تقربا الی الله کی اور وقت ذبح نام الہی لیا جانور بنص قطعی قرآن عظیم حلال ہوگیا۔
قال اﷲتعالی مالکم ان لاتاکلوا مما ذکر اسم اﷲ علیہ ۔ الله تعالی نے فرمایا:تمھیں کیا ہوا کہ تم اسے نہیں کھاتے جس پر الله کانام پکارا گیا۔(ت)
تفصیل فقیر کے رسالہ"سبل الاصفیاء"میں ہےشاہ صاحب سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئیاور وہ نہ فقط فتاوی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہےاورنہ ایك ان کا فتاوی بلکہ کسی بشر غیر معصوم کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں سے کچھ متروك نہ ہوسید نا امام مالك رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کل ماخوذ من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذہ القبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ تمام حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سوا ہر ایك اپنے قول پر ماخوذ ہوگا اور قول کو اس پر رد کیا جائے گاوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۱: از رام گڑھ سیٹھاں علاقہ سیکر شیخاوٹیمدرسہ نور الاسلاممسئولہ عبدالعزیز ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ پیروں کا بکرا جو مانتے ہیں جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ذبح الله عزوجل کے نام پر کیا جائے اور ثواب پیروں کو پہنچا یا جائےنہ اس میں حرج نہ اس کے ماننے میں حرجمسلمان یہی کرتے ہیں اور ان کا مقصود ہوتاہےاس کے خلاف سمجھنا بدگمانی ہےکمافی الدرالمختار (جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ت) اوریہ بدگمانی حرام ہےکمافی القران العظیم (جیساکہ قرآن عظیم میں ہے۔ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: از ریاسی ریاست جموں مولانا امام الدین گاذر مرسلہ پیر سید غلام شاہ کشمیری ۱۷ صفر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك بکری کو شیر یا چیتے نے گلے سے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶/ ۱۱۹€
#7326 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
پکڑا اور خون پینے کے لئے رگوں کو چھیدڈالا باسنانہاور بکری زندہ ہےاگر ذبح کی جائے تو حلال ہوسکے گی یا نہیں ادھر کشمیر اور پونچھ کے مفتی عدم حلت کا فتوی دیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ وجیزامام کردری اور فتاوی عالمگیری میں ایسے جانور کوحرام لکھا ہے
شاۃ قطع الذئب اوداجہا لا تحل بالذکوۃ وھی حیۃ ۔ بھیڑئیے نے بکری کی اوداج (گلے کی رگیں) کاٹ دیں اور ابھی زندہ تھی تو ذبح کردی گئی تو حلال نہ ہوگی۔(ت)
سے استدلال کرتے ہیںاورنیز کہتے ہیں کہ چار رگیں کاٹنی فرض تھیں وہ شیر نے کاٹ ڈالیںحالانکہ شیر رگیں بالکل نہیں کاٹتا صرف انھیں بیچ میں سے چھید ڈالتا ہےمثلا رگ کی اصل صورت یہ ہےزخمی اس طرح ==== کردیتاہےبسا اوقات دو ہی رگوں کو دانت مارتا ہےموافق مذہب امام اعظم رضی الله تعالی عنہ جواب ارشاد فرمایا جائےاگر (ولو فرض) عقدہ توڑ جائے اور سب مذبح کھا جائےتو اس صورت میں کیاحکم ہوگا بینوا بالکتاب تو جروا یوم الحساب (کتاب سے بیان فرمائیے یوم حساب اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
الله عــــــہ عزوجل فرماتاہے:
عــــــہ:ایضا فتوائے مولوی محمد مرتضی از بلکوٹڈاکخانہ اوڑیریاست کشمیر کہ در تحریم مقطوع الاوداج من السبع بود ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ ایں عبارت نوشتہ شد فی الواقع اگر درندہ محل ذبح کہ مابین اللبۃ واللحیۃ ست دو یا بیشتر اوداج رابرید کہ اتصال آنہا بد ماغ یا سینہ منقطع شد حالاذبح نتواں شد نیز مولوی مرتضی از بلکوٹ ڈاکخانہ اوڑیریاست کشمیرنے درندہ کی قطع کردہ اوداج (گلے کی رگیں) پر جانور کو حرام قرارد ینے کا فتوی ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ کو دیاوہ عبارت یہ ہے:اگر فی الواقع درندے نے مقام ذبح جولبہ اورلحیہ کے درمیان ہے میں د ویا زیادہ اوداج کو کاٹ دیا ہو کہ ان کا تعلق دماغ یا سینے سے منقطع ہوگیا ہو ایسی صور ت میں (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الوجیز کتاب الذبائح الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۱،€فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الذبائح الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۸€
#7327 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
" حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اہل لغیر اللہ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ما ذکیتم " ۔ تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور سوئر کا گوشت اور جس کے ذبح میں غیر خدا کانام لیا گیا اور گلا گھونٹیاور لاٹھیوں سے ماری اور اوپر سے گرنے والیاور جسے کسی نے سینگ مارااور درندہ کی کھائی ہوئیمگر جسے تم ذبح کرلو
یہ استثناء تمام مذکورات کی طرف راجع ہے جس سے متعلق ہوسکتاہےظاہر ہے کہ خون اور گوشت ذبح نہیں ہوسکتےعجب نہیں کہ اضافہ لفظ لحم میں یہی حکمت ہو کہ صلاحیت استثنا نہ رہےاور مردار اور جو ایك بار ذبح ہوچکی صالح ذبح نہیںبحمدالله تعالی یہاں سے وہابیہ کا رد ہوگیاما اہل سے اگر ما ذبح مرادلیتے ہیں جیساکہ یہی حق اور یہی تفسیر ماثور ہے۔تو قبل ذبح کسی کا نام پکارنے سے کیوں حرام بتاتے ہیں اور مطلق پکارنا مراد لیتے ہیںتو جب اسے نام خدا پر ذبح کیا گیا کیونکر حرام کہتے ہیںحالانکہ الله عزوجل فرماتاہے:" " الا ما ذکیتم ۔(مگر جسے تم ذبح کرلو۔ت) یہ چیزیں حرام ہیں مگر جسے تم ذبح کرلو وہ حلال ہے پہلی صورت میں تویہی تھا کہ
لفوات محلہ پس الا ماذکیتم صادق نیاید آرے اگر دندان زدہ رگ راقدرے شگافتہست کہ خرق باشد نہ قطع یا درغیر محل مذکور چنانکہ در سریا برصدر ومجروحہ ہنوز زندہ است آںذبح کردہ شد حلال می شود لبقاء محل الذبح فید خل فی قولہ تعالی الا ماذکیتم تحقیق وتفصیل ایں مسئلہ درفتوائے فقیر جلد ہفتم کتاب الذبائح استوباﷲ التوفیق والله سبحانہ وتعالی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ وہ جانور ذبح کے قابل نہ ہوگا کیونکہ ذبح کا محل فوت ہوگیاپس قرآن کاحکم الا ماذکیتم صادق نہ آئیگاہاں اگر رگوں کو زخم ہوا اوروہ قدرے پھٹ گئی ہوں او رمکمل قطع نہ ہوئی ہوں یا محل ذبح مذکور کے غیر مثلا سریا سینہ کو درندے نے کاٹ دیا اور زخمی جانور ابھی زندہ ہو اور ذبح کرلیا گیا تو حلال ہوگا کیونکہ ذبح کا محل باقی تھا تو الله تعالی کے ارشاد الا ماذکیتم میں داخل ہوگیااس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوی جلد ہفتم (جو کہ اب بیسویں ہے) کتا ب الذبائح میں ہےتوفیق الله تعالی سے ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/ ۳€
القرآن الکریم ∞۵/ ۳€
#7328 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
بغیر خدا کے بتائے وہابیہ نے اپنی طرف سے حرام کہہ دیااور دوسری صورت جو خود وہابیہ لیتے ہیں اس سے بھی سخت تر ہے کہ جسے الله عزوجل نے حلال بتایا اسے حرام بتاتے ہیںوالعیاذبالله تعالیپانچ اشیاء سے باقی ماندہ میں جو مرگئی صالح ذبح نہ رہیاور جس میں کچھ بھی حیات باقی ہے اگر چہ کتنی ہی خفیف ہواگر چہ اس کی حالت کتنی ہی ردی ہواگر چہ اس میں صرف مذبوح کی سی تڑپ باقی ہوجب ذبح کرلی جائیگی مطلقا حلا ل ہو جائے گی اگرچہ ذبح کے وقت نہ خون دے نہ تڑپے جبکہ وقت ذبح اس میں حیات ثابت ہو اس لئے کہ رب عزوجل نے استثناء میں کوئی تفصیل نہ فرمائییہی ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا مذہب ہےاور اسی پر فتویدرمختارمیں ہے:
ذبح شاۃ مریضۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت والا لاان لم تدرحیاتہ عندالذبح وان علم حیاتہ حلت مطلقا وان لم تتحرك ولم یخرج الدموہذا یتأتی فی منخنقۃ و متردیۃ ونطیحۃ والتی بقرا لذئب بطنہافذکاۃ ہذہ الاشیاء تحلل وان کانت حیاتہا خفیفۃوعلیہ الفتوی لقولہ تعالی الا ماذکیتم من غیر تفصیل ۔ بیمار بکری کو ذبح کیا جبکہ اس نے حرکت کی اور خون نکلا تو حلال ہےورنہ نہیں بشرطیکہ ذبح کے وقت زندہ ہونا معلوم نہ ہو سکااور اگر اس موقعہ پر زندہ ہونا معلوم تھا تو مطلقا حلال ہے اگر چہ حرکت نہ کی اور نہ خون نکلاہویہ صورت گلہ گھونٹی ہوئیاوپر سے گرنے والیسینگ زدہاور جس کا پیٹ درندے نے پھاڑ دیا ہومیں پائی جاتی ہے تو ایسے جانور ذبح کردئے جائیں تو حلال ہوں گےاگر چہ ذبح کے وقت خفیف سی زندگی معلوم ہوجائے اور اسی پر فتوی ہے الله تعالی کے قول الاماذکیتم مطلق کی بناء پر۔(ت)
ولہذا ہمارے علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر درندہ نے جانور کا پیٹ چاك کردیایابالکل سر سےجداکر کے لے گیااور ابھی اس میں حیات باقی ہے ذبح کرنے سے حلال ہوجائےوجیز کردری جس سے بحوالہ عالمگیری سوال میں استدلال ہےاس کی پوری عبارت کتاب السیرسے چند سطر پہلے یہ ہے:
شاۃ قطع الذئب اوداجہا وھی حیۃ لاتذکی لفوات محل الذبحولو بقرالذئب بطنہا وھی بھیڑئیے نے بکری کی اوداج (گلے کی رگیں) کاٹ دیں ابھی زندہ ہے مگر ذبح کے قابل نہ ہو تو ذبح نہ ہوگی کیونکہ ذبح کا محل نہ رہااور بھیڑئیے نے
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰€
#7329 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
حیۃ تذکی لبقاء محل الذ بح فتحل لوذبحت ولو انتزع الذئب راس الشاۃ وبقیت حیۃ تحل بالذبح بین اللبۃ واللحیین ۔ اس کا پیٹ پھاڑ دیا اور ابھی زندہ ذبح کے قابل ہے تو ذبح کی جائے کیونکہ ذبح کا محل باقی ہےاور اگر بھیڑئیے نے سر کاٹ لیا ابھی زندہ تھی اور ذبح کرلی گئی لبہ اورلحیہ کے درمیان سے تو حلال ہوگی۔(ت)
صورت مسئولہ کا آیہ کریمہ کے اطلاق اورہمارے امام اعظم کے مذہب مفتی بہ میں داخل ہونا ظاہر ہے اور عبارت وجیز اس سے متعلق نہیں۔وجیز میں وہ صورت منع کی ہےدرندہ رگیں قطع کردےاور سوراخ کرنا قطع کردینا نہیں کہ اس میں سینہ سے سر تك رگوں کا اتصال بحال رہتاہےاور قطع اس وصل کا فصل کردیناہے۔ردالمحتارمیں علامہ علی مقدسی سے ہے:
المراد بقطعہما فصلہما من الراس اوعن الاتصال باللبۃ ۔ کاٹنے سے مراد یہ کہ سرسے جدا کرلیا یا لبہ سے تعلق کاٹ دیا۔(ت)
جواب مسئلہ کو اسی قدر بس ہےاور اگر تحقیق مقام درکار ہو فاقول: وبالله التوفیق (تومیں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) وجیز کی عبارت مذکورہ میں تین فرعیں ہیں
اول: بھیڑیا نے بکری کی رگہائے گردن کاٹ دیں۔
دوم: پیٹ چاك کردیا۔
سوم: سر جدا کردیا۔
پہلی میں حکم دیا ہے کہ ذبح نہیں ہوسکتیاور دو باقی میں فرمایا ذبح کرلیں حلال ہوجائے گااول و سوم کے حکم میں بظاہر صریح تناقض ہےیہ رگیں دماغ سے دل تك ہوتی ہیںبدائع وفتاوائے امام قاضی خاں وردالمحتاروغیرہامیں ہے:
الاوداج متصلۃ من القلب بالدماغ ۔ اوداجدل تا دماغ متصل ہوتی ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الذبائح الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۸€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۸۷€
ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۵،€بدائع الصنائع کتاب الذبائح والصید فصل واما بیان شروط حل الاکل ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۵۲€
#7330 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
تو جب سر جدا کردیا قطعایہ رگیں قطع کردیںتو فرع اول کے حکم سے فرع سوم میں بھی حرمت چاہئے تھی اور حکم یہ دیا کہ ذبح کرے تو حلال ہے۔ا ب اگر یوں توفیق کیجئے کہ ہمارے امام کے نزدیك صحت ذبح کے لئے مطلقا حیات درکار ہےاگرچہ اسی قدر جو مذبوح میں بعد ذبح ہوتی ہےاور صاحبین کے نزدیك اتنی حیات کافی نہیںامام محمد فرماتے ہیں بس اس سے زائد ہواورشرط نہیںاور امام ابویوسف فرماتے ہیں:نہیںبلکہ یہ چاہئے کہ اتنے زخم کے بعد جانبر ہوسکےہدایہ میں ہے:
لو انہ ذکاہ حل اکلہ عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فیہ حیوۃ خفیۃاوبینۃو علیہ الفتویلقولہ تعالی الا ما ذکیتم مطلقا من غیر فصل وعند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی اذ اکان بحال لایعیش مثلہ لایحل لانہ لم یکن موتہ بالذبحوقال محمد رحمہ اﷲ تعالی ان کان مثلہ فوق مایعیش المذبوح یحلوالا فلا لانہ لامعتبر بہذہ الحیوۃ ۔ اگر ذبح کے وقت خفیف سی زندگی بھی ہو اور ذبح کرلی گئی تو امام صاحب رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك اس کا کھانا حلال ہےاور اسی پر فتوی ہے الله تعالی کے ارشاد الا ماذکیتم مطلق کی بناء پرجس میں کوئی تفصیل نہیں ہےاور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی کے نزدیك وہ ایسی حالت میں ہوکہ زندہ نہ رہ سکے تو حلال نہ ہوگی کیونکہ ایسی صورت میں اس کی موت ذبح سے واقع نہ ہوگیاور امام محمد رحمہ الله تعالی عنہ کے نزدیك ایسی حالت میں ہوکہ ذبح شدہ سے زیادہ دیر تك زندہ رہ سکتی ہو تو ذبح کرنے سے حلال ہوگی ورنہ نہیںکیونکہ ایسی زندگانی کااعتبار نہیں کیا جاتا۔(ت)
فرع اول قول صاحبین پر مبنی ہے کہ قطع اوداج کے بعد حیاتحیات مذبوح سے اصلا زائد نہیں ہوتیلہذا وہ حکما میت ہےاور میت محل ذبح نہیںتو اب ذبح نہیں کرسکتے لفوات محل الذبحاور فرع سوم قول امام پر مبنی ہے کہ اگرچہ سر جداہوگیا مگر جبکہ جانور ابھی تڑپ رہا ہے حیات باقی ہے اگر چہ حیات مذبوح سے زائد نہیں سہیلہذا محل ذبح ہے ذبح کرلیں حلال ہوجائے گااور فرع دوم میں اگر صرف جلد چاك ہوئی کہ سی کر اندمال وحیات متصور ہو تو بالاجماع حلال ہےاور نامتصور ہو تو صرف قول امام پریوں اگر توفیق کریں جب تو ظاہر ہے کہ فرع اول سے استناد صحیح نہیںکہ وہ خلاف قول امام وخلاف مذہب مفتی بہ ہے اور اگر ایسی تاویل چاہئے کہ وہ بھی قول امام کی طرف رجوع کرآئے تو اب فوات محل ذبح میں تنقیح مناط
حوالہ / References الہدایہ کتاب الصید ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۰۳€
#7331 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
کرنی ہوگی فاقول: وبہ نستعین اس فوت کے یہ معنی تو بداہۃ نہیں کہ محل ذبح مابین اللبۃ واللحیین تھا وہ معدوم ہوگیا کہ کلام قطع اوداج میں ہےنہ اس صورت میں کہ بھیڑیا سینہ تك ساری گردن کاٹ کر لے گیانہ یہ معنی ہیں کہ محل ذبح اوداج تھیں وہ فنا ہوگئیں کہ قطع تفریق اتصال ہے نہ کہ اعداملاجرم یہ معنی ہیں کہ محل اگر چہ باقی ہے مگر اس میں قابلیت فعل ذبح کی نہ رہیتو محل من حیث ہو محل فوت ہوگیااگرچہ ذات باقی ہےاب فنائے قابلیت میں نظر چاہئے کہ کس صورت میں اس کا فوت ہوناہےیہاں اس کی تین صورتیں متصور:
اول: یہ کہ اب معنی ذبح متحقق نہیں ہوسکتے۔
دوم:مقصود ذبح فوت ہوگیااور شے جب مقصود سے خالی ہو باطل ہوجاتی ہے۔
سوم: معنی ذبح قبل ذبح فعل غیر ذبح شرعی سے متحقق ہولئےاور ذبح صالح کی تکرارنہیںمذبوح کو ذبح نہیں کرسکتےولہذا اگر مسلمان نے جانور ذبح کردیا اور وہ ابھی پھڑك رہا ہےدوبارہ مجوسی نے ذبح کیا حرام نہ ہوگااو ر اس کا عکس ہو توحلال نہ ہوسکے گافان الذبح لا یعاد(کیونکہ ذبح دہرایا نہیں جاتا۔ت) اول کی طرف راہ نہیں کہ معنی ذبح قطع اوداج حی بین اللبتہ واللحیین ہے۔کنز میں فرمایا:الذبح قطع الاوداج (ذبح کی اوداج کو کاٹنا ہے۔ت) پھر فرمایا:والذبح بین الخلق واللبۃ (ذبح حلق اور لبہ کے درمیان ہے۔ت) تبیین الحقائق میں فرمایا:
والمیت لیس بمحل للذکاۃ ۔ میت محل ذبح نہیں۔(ت)
جب تك جانور زندہ ہے اور گلا اور اس پر وہ رگیں باقی ہیں ضرور قابل قطع ہیں تو معنی ذبح متحقق نہ ہوسکنا کیا معنیقطع اوداج کا جواب اوپر معلوم ہولیا کہ فرع سوم میں بھی قطع اوداج متحقق ہے۔اور حکم حلت ہے یونہی دوم کی گنجائش نہیںاگرکہئے مقصود ذبح انہاردم تھا اور وہ فعل سبع سے ہولیاتو یہ وجودا وعدما ہر طرح باطل ہے۔فرع سوم میں انہاردم ہوگیا اور قابلیت ذبح باقی ہے اور وقت ذبح حیات معلوم ہو اور ذبح سے خون نہ نکلے حلت ہوجائے گیکما تقدمحالانکہ انہاردم نہیںاگر کہے مقصود ذبح ازباق روح ہےاور وہ اس صورت میں فعل سبع کی طرف منسوب ہوگانہ کہ جانب ذبحتویہ وہی قول صاحبین غیر مفتی بہ ہے کماقدمنا عن الہدایۃ (جیسا کہ ہدایہ میں سے گزرچکا ہے۔ت) معہذا فرع سوم اس
حوالہ / References کنز الحقائق کتاب الذبائح ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶€۱
کنز الحقائق کتاب الذبائح ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶۲€
تبیین الحقائق کتاب الصید المطبعۃ الکبرٰی الامیرییہ ∞بولاق مصر ۶/ ۵۲€
#7332 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
پر بھی نقض کو موجودلاجرم صورت سوم مقصود یعنی جہاں قبل ذبح قطع اوداج بین اللبۃ واللحیین واقع ہولے وہاں محل ذبح نہ رہا یعنی محلیت وقابلیت ذبح فوت ہوگئی کہ ذبح دوبار ہ نہیں ہوتااورجہاں یہ معنی قبل ذبح متحقق نہ ہوئے عام ازیں کہ سرے سے اوداج قطع ہی نہ ہوئیں یا کسی ایسے فعل سے کہ انسان کی طرف منسوب نہ ہو قطع تو ہوئیں مگر موضوع ذبح پر قطع نہ ہوئیں ا ورہنوز حیات باقی ہے وہاں محل ذبح فوت نہ ہواذبح کرسکتے ہیں او رموجب حلت ہوگااب فروع میں تطابق ہوگیا اور صورت مسئولہ کاحکم بھی کھل گیافرع سوم سے مراد اس طرح سرجدا کرنا ہے کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہو کہ اگر چہ قطع واقع ہو مگر محل ذبح میں نہ ہوا تو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئے اور فرع اول سے مراد وہ قطع اوداج ہے کہ بین اللبۃ واللحیین ہوکہ اب تقدم معنی ذبح سے قابلییت ذبحا ور الا ماذکیتم کے تحت میں داخل ہونے کی صلاحیت نہ رہی اور یہی صورت کہ اس فرع ملتقط میں مرادہےجو بظاہر فرع سوم کے صریح مناقض ہےاسی عالمگیری میں عبارت وجیز سے پہلے ہے:
سنور قطع راس دجاجۃ فانہا لا تحل بالذبح وان کان یتحرك کذا فی الملتقط ۔ مرغی کا سر بلی نے کاٹ دیا تو وہ ذبح کرنے سے حلال نہ ہوگی اگرچہ وہ ذبح کے وقت حرکت کرے ملتقط میں یوں ہے۔(ت)
اور فرع دوم خود ظاہر ہے کہ اس میں سرے سے قطع اوداج ہی نہیںاب تمام فروع متفق اور سب مذہب امام ہمام رضی الله تعالی عنہ پر منطبق ہیںھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق (یوں تحقیق چاہئے کہ الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت) ظاہر ہے کہ صورت سوال فرع دوم کے مثل ہےاور اس میں بھی قطع نہیں اور ذبح قطع ہےتو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئےکیا اگر جانور کی رگہائے گردن برمے سے چھیددیں ذبح ہوجائے گاہر گز نہیںکہ چھیدنا قطع کرنا نہیں تو محلیت ذبح ضرور موجود ہے اور بعد ذبح حلت لازمیہیں سے دو سوال باقی کا جواب ظاہر ہوگیا اور سب مذبح کھالیا محل ذبح نہ رہایونہی اگر عقدہ توڑ لیا تو قطع اوداج محل ذبح میں بھی واقع ہوابہر حال اب قابلیت ذبح نہ رہیحلت نہیں ہوسکتی اور اگر عقدہ سے اوپر صرف سر جدا کرلیا کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہوا تو محل ذبح باقی ہےبعد ذبح حلت چاہئے اگر ہنوز روح باقی ہوھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی (میری سمجھ میں یوں ہےعلم حق تو میرے پروردگار کے ہاں ہے۔ت) والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۷€
#7333 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
مسئلہ ۱۴۳: مسئولہ والی علی صاحب کانسٹبل از تھانہ بہیڑی ضلع بریلی ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ کتا کسی جانو رکو پکڑلےاور اس جانور کے زخم کتے کی پکڑ کا ہوجائےاور بعد میں جانور ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے یاحرام
الجواب:
شکاری کتا جبکہ بسم الله کہہ کر چھوڑا گیا اگر جانور اس کے زخم سے مرجائے تو حلال ہےاور اگر زندہ ملے اور ذبح کرلیا جائے تو حلال ہے زاس کے زخم سے جانور میں کوئی حرج نہیں آتاوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ و ۱۴۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) اگرذبیحہ ذبح کیا جائے اور وہ بعد میں ایك دیر کے خون دےتو کھانا اس کا جائز ہے یانہیں
(۲) عورت یا لڑکے کے ذبیحہ کیساہے بینو توجروا
الجواب:
(۱) پہلی صورت میں حلت میں کوئی شبہ نہیںخروج خون علامت حیات ہےاور بعد دیر کے نکلنا اس کا غیر مانعبلکہ اگر خون نہ دے عــــــہ فقط حرکت کرے اور تڑپے تاہم کھانا اس کا جائز ہے کہ شرط حلت حیاۃ عندالذبح ہے نہ کہ خروج دم۔
فی تنویر الابصار ذبح شاۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت ۔ تنویر الابصار میں ہے:ذبح کرنے پر بکری نے حرکت کی یا خون نکلاتو حلال ہوگی(ت)
(۲) عورت ولڑکے کا ذبیحہ اگر وہ قواعد وشرائط ذبح سے واقف ہیں اور مطابق شرع ذبح کرسکتے ہیں بلا ریب حلال ہے
فی الدرالمختار وشرط کون الذابح مسلما ولوامرأۃ او صبیا یعقل التسمیۃ درمختار میں ہے:مسلمان اگر چہ عورت یا بچہ ہو شرط یہ ہے کہ بسم الله اورذبح کو جانتا ہو

عــــــہ: لکنہ فیہ اختلاف ذکرہ فی الہدایۃ فی کتاب الصید ۱۲ منہ۔ لیکن اس میں اختلاف ہے جس کو ہدایہ کی کتاب الصید میں ذکر فرمایا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۰€
#7334 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
والذبح ویقدر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور اس عمل پر قادرہووالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤ میش قریب المرگ کو ذبح کیا گیااختلاف اس امر میں ہے کہ وہ زندہ تھی کہ مرچکی تھیذبح کرنے والا نیز چند اور شخص کہتے ہیں کہ وہ زندہ تھی لیکن دو شخص کی یہ رائے ہے کہ وہ مرچکی تھیبعد ذبح کے کسی عضو نے جنبش نہ کیدریافت طلب امریہ ہے کہ ایسی صورت میں اس کا کھانا جائز ہے یانہیںواقعات یہ ہیں کہ یہ بھینسیں بعد ذبح کرنے کے ایك قصاب کے ہاتھ دس روپیہ میں فروخت کردی تھی وہی دونوں شخص جو کہتے ہیں کہ وہ مرگئی تھی قصاب کو بہکا دیاقصاب مذکور نے اس کا گوشت دفن کردیا اور کھال لے گیا اور بریلی فروخت کر ایاگوشت کی قیمت اس کو معاف کردی گئی صرف کھال کی قیمت جو چھ روپے اس کو طے کردی گئی تھیاور وہ اس نے بریلی میں بہت منافع کے ساتھ فروخت کیا طلب کی جاتی ہے لیکن وہ چھ روپے دینے سے بھی انکار کرتا ہےاور کہتاہے کہ تم لوگوں نے مردہ جانور کی کھال نکلواکر مجھے ناپاك کردیامیرے برادری والے مجھے نکال دیں گےمیں قیمت نہیں دوں گادریافت طلب یہ بات ہے کہ اس قصاب پر کیا برائی آسکتی ہےاگر یہ خیال کرلیا جائے کہ وہ مرگئی تھی اور دھوکا میں ایسا کیا گیا۔
الجواب:
ذبح ہوتے وقت بھینس کا زندہ ہونا خوب معلوم تھایا ذبح کے بعد وہ تڑپییا ایسا خون دیا جیسا زندہ جانور سے نکلتاہےیا اور کوئی علامت زندہ کی پائی گئیمثلا منہ یا آنکھ بند کی یا پاؤں سمیٹے یا بدن کے بال کھڑے ہوئے تو وہ حلال ہے اور کھانا جائزاور قصاب پر دس روپے واجباور اگر وقت ذبح اس کا زندہ ہونا تحقیق نہ تھانہ بعد ذبح کوئی علامت زندگی کی پائی عــــــہ گئی نہ ایسا خون نکلانہ وہ حرکت کیبلکہ بالکل ساکن رہییا منہ یاآنکھ کھل گئییا پاؤں پھیل گیایا بال بچھ گئےتو بھینس حرام ہےاور قصاب پر ایك پیسہ بھی واجب نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: مسئولہ احمد حسن بنگالی طالبعلم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
صدقہ کا جانور بلاذبح کئے جانور ہی کسی مصرف صدقہ کو دیا جائے تو جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
عــــــہ:اصل میں تحریر ہے ـ:"ڈالی گئی"۱۲ عبدالمنان الاعظمی۔
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
#7335 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
الجواب الملفوظ
اگر صدقہ واجبہ ہے اور وجوب خاص ذبح کا ہے تو بے ذبح ادانہ ہوگامگر اس حالت میں کہ ذبح کے لئے وقت متعین تھا جیسے قربانی کے لئے ذی الحجہ کی دسویں گیارھویں عــــــہ اور وہ وقت نکل گیا تو اب زندہ تصدق کیا جائے گا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸:مسئولہ شیخ محمد وزیر صاحب پٹیل از قصبہ تحصیل اون ضلع ایوت محال ملك برار ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا ایك بیٹا بکر چالیس روپیہ کا ملازم سرکار ہےزید کا آبائی واجدادی پیشہ یہ ہے کہ روزانہ ہربز قصاب کے مکان پر جانااور جس قدر بکریاں ذبح کرنے کی ہوںان کو ذبح کردینا اور ان کی اجرت میں فی راس ایك آنہ پیسہ یا پاؤ بھر گوشت لیناچلا آتاہےاورنیز ہر مواضعات قریب میں جاکے قوم ہندو کے مکان پر جو ان کی پرستش کا بکرا ہوتاہےاس کو ذبح کردیتاہےاور اس کی اجرت لیتاہےیہ پیشہ اس وقت تك جاری ہےاور سناگیا ہے کہ ذابح البقر وقاطع الشجر ودائم الخمر کی بخشش میں احتمال ہےاگر اس مسئلہ کی کچھ بنیاد ہے اور یہ سچ ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں براہ کرم بواپسی ڈاك جواب باصواب سے سرفراز فرمائے
الجواب:
گائے بکری کا ذبح کرنا جائزہے
قال اﷲ تعالی " ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ " ۔ الله تعالی نے فرمایا:بیشك الله تعالی نے تمھیں حکم دیا ہے کہ گائے کو ذبح کرو۔(ت)
وہ قول کہ لوگوں میں مشہور ہے محض بے اصل ہےقطع شجر کی بھی اجازت قرآن عظیم میں موجود ہے۔
قال اﷲ تعالی " ما قطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن الله تعالی نے فرمایا:تم نے جو سبز درخت کاٹے یا ان کو تم نے باقی کھڑا رہنے دیا تو یہ الله تعالی

عــــــہ:اصل میں بارھویں نہیں ہے غالبا ناقل کا سہو ہے ۱۲ عبدالمنان الاعظمی۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۶۷€
#7336 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اللہ " کے حکم سے ہوا۔(ت)
ہاں دائم الخمر البتہ مرتکب سخت کبیرہ اور مستحق عذاب نار ہےمگر یہ کہنا اس کی نسبت بھی باطل ہے کہ اس کی مغفرت کبھی نہیں ہوگی یہ صرف کافر کے لئے ہےمسلمان کیسا ہی گنہگار ہو زیر مشیت ہے چاہے عذاب فرمائے تو اس کا عدل ہےچاہے بلا عذاب بلکہ بلاحساب بخش دے تو اس کافضل ہے۔
" ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء " الله تعالی نہ مغفرت فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شریك ٹھہرایا جائےاور مغفرت فرمائے گا اس سے کم کو جس کو وہ چاہے گا۔ (ت)
پھر مسلمانوں میں سے جس پر عذاب فرمائے گا ہر گز وہ عذاب دائم نہ ہوگاانجام بلاشبہ مغفرت ہےاور جب ان جانوروں کا ذبح جائز ہے اس پر اجرت مقرر کرکے لینا بھی جائز ہے کماہوحکم مباح یحتاج الی عمل (جیسا کہ ہر مباح محتاج العمل کا حکم ہے۔ت)
اب یہاں متعدد صورتیں ہیںسائل دو اجرتیں بتاتاہےایك آنہ یا پاؤ بھر گوشتیہ اگر یوں ہے کہ کبھی ایك آنہ مقرر کرلیا جاتاہے کبھی پاؤ بھر گوشت تو وہ آنہ جائز ہےاور گوشت کہ اسی جانور کا قرار پاتاہے ناجائز ہے لانہ کقفیزالطحان (کیونکہ یہ پیسنے والے آٹے کا حصہ قفیز کی طرح ہے۔ت) بلکہ اگر اس جانور کا نہ ٹھہرے جب بھی گوشت کثیرالتفاوت چیز ہے۔
لانہ قیمی فلا یصلح دینا علی الذمۃ ویقع فیہ النزاع وکل ماکان کذالك یورث الفساد۔ کیونکہ یہ قیمت والی چیز جو کسی کے ذمہ دین نہیں بن سکتی اور اس میں تنازعہ ہوتاہے اور جو ایسی چیز ہو وہ فساد برپا کرتی ہے۔(ت)
اوراگر یہ معنی ہیں کہ تعین کچھ نہیں ہوتا کبھی ایك آنہ دیتے ہیں کبھی گوشتتویہ جہالت اجرہےجہالت اجر مفسد اجارہ ہے۔
بہرحال اجرت میں گوشت کا قدم درمیان ہے اجارہ فاسد ہےا ور عقد فاسد حرام و ازقبیل ربا ہےاور اس کا عادی ہونا ضرور موجب فسقاور اس کا پیشہ کرنے والا فاسق معلناور فاسق معلن کو امام بنانا گناہاوراس کے پیچھے نما ز مکروہ تحریمی کہ پڑھنا منعاور پڑھی تو پھیرنا واجب۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵۹/ ۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۴۸ و ۴/ ۱۱۶€
#7337 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
فتاوی حجہ وغنیہ میں ہے:ولو قدموا فاسقایأ ثمون (اگر فاسق کو امام بنایا تو بنانیوالے گنہگار ہوں گے) زیلعی وغیرہ میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا ۔ کیونکہ آگے کرکے امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا ان پر اس کی اہانت لازم تھی۔(ت)
رہا یہ کہ وہ ہند و کی پرستش کا بکرا اس کے یہاں جاکر ذبح کرتاہےاور اس کے ذبح سے تعظیم الہی کی نیت کرتا اور الله عزوجل کا نام لیتاہےتو جانور حلال ہوجائے گامگریہ فعل اس کے لئے مکروہ ہے فی الہندیۃ توکل ویکرہ للمسلم (ہندیہ میں اسے حلال اور مسلمانوں کے لئے مکروہ کہا گیاہے۔ت)اور اگر اس کافر ہی کی نیت پر ذبح کرتاہے تو جانور تو مردار ہوا ہی اس ذابح کا ایمان بھی بچنا مشکل ہے۔مگر ظاہر یہ ہے کہ مسلمان پر حتی الامکان بدگمانی کی اجازت بھی نہیں کہ اس کا مقصود فقط اپنے ٹکے سیدھے کرنا ہوگا نہ کہ معبود باطل کی تعظیم کہ مسلمان سے متوقع نہیںنہ معبود حق کی تعظیم کا خیال آتا ہوگاتویوں بھی یہ فعل سخت شنیع اور جانور کی جان کی ناحق تضییع ہےپھر اس کی امامت سے احتراز چاہئے کہ وہی احتیاط جو ہمیں اس پر بدگمانی نہیں کرنے دیتی نماز میں اسے امام نہ بنانے دے گی
فان سوء الظن شیئوالحزم شیئ اخروہذا من باب الخروج ومن اتقی الشبہات فقد استبراء لدینہ و عرضہواﷲ تعالی اعلم۔ بدگمانی علیحدہ چیز ہےاور احتیاط دوسری چیز ہےاوریہ علیحدہ رہنا ہےاور جو شخص شبہات سے بچا تو اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ بنالیا والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۹: مرسلہ غلام نبی صاحب ساکن موضع میانہ ٹھٹہ ضلع گوجرانوالا ڈاك خانہ موز اتوار۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی چراغ دین امام مسجد نے ایك بکرا ذبح کیا اور اس کا چمڑا مسمی حاکو قوم خاکروب نے اتارا اور گوشت بنایااور گوشت مذکور کو چند مسلمانوں نے مل کر تقسیم کرلیا اور اپنے گھروں میں پکا کر کھایاکیا وہ گوشت کھانا جائز ہے یانہیں اس بات کا خلاصہ حال مع ثبوت حدیث و
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱€۲
تبیین الحقائق کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۱/ ۱۳۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۴۶€
#7338 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
قرآن شریف ارسال فرمائیںاور اس مسئلہ کو اخبار ودبدبہ سکندری شائع کرادیں۔
الجواب:
جب وہ جانور مسلمانوں نے الله عزوجل کے لئے تکبیر کہہ کر ذبح کیا تو حلال ہوجانے میں کوئی شبہہ ہی نہ رہاخاکروب کا گوشت بنانا وہ اگر اس وجہ سے ہے کہ بکرا اسی کی ملك تھا اور اس نے اپنے ظاہر پیروغیرہ کسی معبود باطل کے لئے ذبح کرایا تو اس کا کھانا مسلمانوں کو مکروہ ہے کمانص علیہ فی الہندیۃ (جیسا کہ ہندیہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت) اسی طرح اگر کسی معبود باطل کے لئے ذبح نہ کرایابلکہ اس نے ان کی دعوت کی تھی تو اس دعوت کا ہی قبول کرنا نامناسب تھااور اگر بکرا مسلمان کی ملك تھا اور اس سے بنوایااور وہ اپنا ناپاك پیشہ کرتاہے اور اس کے ہاتھ خوب پاك نہ کرالئے تھےتو سخت بے احتیاطی کیاور اگر اس کے ہاتھ پاك کرائے تھے یا وہ قوم کا خاك روب ہے یہ پیشہ نہیں کرتاتو یہ دیکھا جائے کہ وہاں کے عرف میں خاك روب کی چھوئی ہوئی چیز سے پرہیز کرتے اور اس کے استعمال کو معیوب جانتے ہیں یانہیںاگر جانتے ہیںاور ان لوگوں نے بے پروائی کی تو مصلحت دینی کے خلاف کیا اور نافرمانی کے مرتکب ہوئےحضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: بشروا ولا تنفروا (خوشخبری دومنافرت پیدا نہ کرو۔ت) دوسری حدیث میں ہے:ایاك ومایسوء الا ذن (کانوں کے لئے تکلیف دہ بات سے بچو۔ت)تیسری حدیث میں ہے:
ایاك وما یعتذرمنہ فان الخبر لا معتذرمنہ ۔ معذرت والی چیز سے بچوتو بیشك خبر معذرت خواہی والی چیز نہیں ہے۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ بکرا وقت ذبح سے مسلمانوں کے ہاتھ میں پہنچنے تك مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوااور اگر ذبح کرکے اسے دے دیا اور کوئی مسلمان دیکھتا نہ رہااس نے گوشت بنایا اور مسلمانوں کو دیا تو اب اس کا کھانا سرے سے حلال ہی نہ رہا
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ والعلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶€
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیۃ رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامیہ بیروت ∞۴/ ۷۶،€کشف الخفاء للعجلونی ∞حدیث ۸۶۶ و ۸۶۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱/ ۲۴۷€
المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ∞۴/ ۳۲۷،€کشف الخفاء للعجلونی ∞حدیث ۸۶۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴۷€
#7339 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
فان الکافرلایقبل قولہ فی الدیانات ۔ دین کے امور میں کافر کی بات قابل قبول نہیں۔(ت)
ہاں اگر اس کو اجیر کیا ہو تو جواز رہے گا
لان الکافر یقبل قولہ فی المعاملات وان تضمنت شیئا من الدیاناتوکم من شیئ یثبت ضمنا لایثبت قصدا ۔وتبیینہ فی التبیین وغیرہ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ کافر کی بات معاملات میں اگر چہ وہ دیانات کو متضمن ہوںقابل قبول ہےجبکہ بہت سے امور ضمنا ثابت ہوتے ہیں اور قصدا ثابت نہیں ہوتےاس کی وضاحت تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۰: از ملك بنگالہ ضلع نواکھالی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ گھوڑے کا گوشت کھانا ازروئے شرع شریف کے جائز ہے یانہیں اگر جائزہے تو احادیث سے ثابت ہے یا قول فقہاء سے اور فتوی قول امام اعظم پر ہے یا صاحبین بینوا توجروا
الجواب:
صاحبین کے نزدیك حلال ہےاور امام مکروہ فرماتے ہیںقول امام پر فتوی ہوا کہ کراہت تزیہی ہے یا تحریمیاور اصح وراجح کراہت تحریم ہے۔
صححہ الامام قاضی خاں فی فتاواہوقد قالوا انہ فقیہ النفس ولا یعدل عن تصحیحہ وقال الشامی ثم نقل ای القہستانی تصحیح کراہۃ التحریم عن الخلاصۃ والہدایۃ والمحیط والمغنی و القاضی خاں و العمادیۃ وغیرھا وعلیہ المتون اھ ومعلوم ان الترجیح للمتون وانہا الموضوعۃ امام قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں اس کی تصحیح فرمائی ہے جبکہ فقہاء نے فرمایا:قاضی خان فقیہ النفس ہیںلہذا اس کی تصحیح سے عدول نہ ہوگااور علامہ شامی نے فرمایا کہ پھرقہستانی نے خلاصہہدایہمحیطمغنیقاضی خاں اور عمادی وغیرہاسے کراہت تحریمہ کی تصحیح نقل کی ہےاور کہا کہ اس پر متون وارد ہیں اھ اور واضح بات ہے کہ ترجیح متون کو ہے اور وہ مذہب کو نقل کرنے کے لئے وضع
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۱۲€
تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ فصل فی الاکل والشرب المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۱۲€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۳€
#7340 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
لنقل المذہب فلا یعار ضہا ما فی کفایۃ البیہقی بخلاف انہ ظاہر الروایۃ و لافتوی الجمہور (عہ) المنقول بقیل بعد ما قدمنا(عہ) من التصحیحات الجلیلۃ للائمۃ الجلۃ۔ کئے گئے ہیں۔لہذا ان کا خلاف جو کفایۃ البیہقی میں بیان کیا ہے وہ متون کے معارض نہیں ہوسکتااور یہی ظاہر الروایۃ ہےاور قیل کے ساتھ نقل شدہ جمہور کا فتوی بھی ان کا معارض نہیں ہوسکتا خصوصا ہماری ذکر کردہ اجلہ ائمہ کی تصحیحات کے بعد (ت)
بہر حال مسئلہ اس قابل نہیں کہ اس پر فتوی فساد دیا جائےیا فریق بندی عمل میں آئےوالله الموفق والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۲ رمضاں المبارك ۱۳۱۰ھ
ماقولکم غفر اﷲ لکم ھذہ المسئلۃ افیدو نا یرحمکم اﷲ تعالی دربارہ اکل فرسبعض قائل بکراہت تحریمی و بعض بکراہت تنزیہیولیکن بہر صورت شیرش جائز داشتہ اندتحقیق دریں باب چیست علمائے کرام الله تعالی تمھاری مغفرت فرمائے آپ کااس مسئلہ میں کیا قول ہےہمیں افادہ فرماؤالله تعالی تم پر رحم فرمائےگھوڑے کا گوشت کھانے میں بعض مکروہ تحریمہ اور بعض مکروہ تنزیہیہ کے قائل ہیںجبکہ اس کے دودھ کو بہر صورت جائز مانتے ہیںاس مسئلہ میں تحقیق کیا ہے۔(ت)
الجواب:
درمسئلہ گوشت اسپ علماء رامعترك عظیم ستوتصحیح نیز مختلف وکراہت قول امام ستبس اسلم احتراز تام ست ہمچناں بر مذہب امام درشیر او نیزاختلاف کردہ اندامام قاضی خاں بتحریم رفتہودر درمختار جواز را وجہ گفتہبریں روایت وجہ فرق خود پیدا ست کہ گھوڑے کے گوشت کے مسئلہ میں علمائے کرام کا عظیم معرکہ ہے اور تصحیح بھی مختلف ہےکراہت امام صاحب رضی الله تعالی عنہ کا قول ہےپس مکمل احتراز میں بہتری ہےاور اس کے دودھ کے متعلق بھی امام صاحب رحمہ الله تعالی کے مذہب کے بیان میں اختلاف ہےامام قاضی خاں علیہ الرحمۃ حرمت کی طرف گئے اور درمختار نے جواز کو وجہ قرار دیا ہے۔اس

عہ:لفظ"جمہور"اندازہ سے بنایا گیا ۱۲ عبدالمنان۔
عہ:اندازہ سے"بعد"کا لفظ بڑھایا ۱۲ عبدالمنان ۔
#7341 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
درتحلیل لحم تقلیل آلہ جہاد ست بخلاف لبنباز ایں ہمہ برتقدیرے ست کہ بحد سکر نہ رسدورنہ تعمدایں بالاتفاق ممنوع باشدکمالا یخفی۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار کی روایت کے مطابق گوشت اوردودھ میں فرق کا واضح بیان ہے کہ گوشت کو حلال کردینے میں آلہ جہاد کی قلت پیدا کرنا ہے جبکہ دودھ کا معاملہ اسکے خلاف ہےاور دودھ کی بحث اس حد تك ہے جس میں سکر یعنی نشہ نہ ہوورنہ قصدا ا تنی مقدار پینا ممنوع ہے جیساکہ مخفی نہیں ہے۔والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۲: از دارا گنج ضلع بجنور مرسلہ ممتاز مسیح صاحب ایم اے مشن مورخہ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ہادی دین جناب مولانا صاحب! عرض مدعایہ ہے کہ اہل سنت وجماعت حنفی مذہب میں گھوڑا اور اقسام اور اس کے مثل خچر وگدھے کے حلال ہیں یا حرام یا ان تینوں جانوروں میں سے کون سا جانور حلال ہے مہربانی فرماکر بحوال حدیث شریف یا قول علماؤں کے جواب سے مشرف فرمائے۔
الجواب:
گدھا حرام ہےیونہی وہ خچر جو گدھی سے پیدا ہواگرچہ باپ گدھا نہ ہواور ہمارے امام اعظم علیہ الرضوان کے مذہب میں گھوڑا مکروہ تحریمی ہے یعنی قریب بحرامیونہی وہ خچر جس کی ماں گھوڑی ہوحدیث میں ہے:
نہی علیہ اجل الصلوۃ والسلام یوم خیبر عن لحوام الحمر الاھلیۃ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خیبر کے روز پالتو گدھے کے گوشت کو ممنوع فرمایا۔(ت)
مسئلہ ۱۵۳: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں ۱۶ صفر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ڈپٹی امداد علی صاحب نے رسالہ امداد المسلمین میں الو کے بارہ میں لکھا ہے کہ عالمگیری میں لکھا ہے:البوم یوکل (الو حلال ہے۔ت)اور طحطاوی میں ہے:
یوکل القمری والسوادین والزر زور والصصل والہدھد والبوم والطاؤس ۔ قمریسوادینزرزورصلصلہدہدبوم طاؤس نامی پرندے حلال ہیں۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الذبائح والصید الخ باب لحوم الحمر الانسیۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۲۹€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح والصید الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۰€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۱۵۷€
#7342 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اور شا می میں ہے:
فی غررالافکار عندنا یوکل الخطاف والبوم ۔ غرر الافکار میں ہے اور ہمارے نزدیك خطاف اور بوم نامی پرندے حلال ہے۔(ت)
اورمیزان میں ہے:
من ذلك قول الائمۃ الثلثۃ فی المشہور عنہم انہ لا کراھۃ فی مانہی عن قتلہ کالخطاف والہدہد و الخفاش و البوم الببغاوالطاؤس مع قول الشافعی فی ارجح القولین انہ حرام ۔ ائمہ ثلثہ سے ان کا مشہور قول کہ جن پرندوں کے ہلاك کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کو کھانے میں کراہت نہیں ہے اسی قبیل سے ہےمثلا خطافہدہدخفاش۔بومببغا اور طاؤس نامی پرندےامام شافعی رحمہ الله تعالی کے دو قول میں سے راجح قول میں یہ حرام ہے۔(ت)
اور حیاۃ الحیوان دمیری شافعی رحمہ الله تعالی سے بھی ثابت ہےشافعی کے نزدیك حرام ہونانہ حنفیہ کے نزدیك تمام کتب ہائے معتبرہ فقہ سے بوم کا حلال ہونا ثابت ہے۔یہاں تك کہ خلاصہ کلام ڈپٹی صاحب مذکور ہےاور فتاوی ہندیہ ترجمہ فتاوی عالمگیری کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ قول ظاہر بوم سے مراد یہی الو ہے کہ پرند معروف ہےاور شاید کوئی اورمعنی مراد ہوںوالله تعالی اعلماس واسطے مترجم نے بیعنہ لفظ چھوڑ دیا اس مسئلہ میں تحقیق جو بیان فرمائیں کہ صدق وکذب وہابیہ ظاہرہو۔فقط
الجواب:
عبارت عالمگیری جوامداد المسلمین میں نقل کیاس کے شروع میں لفظ قیل واقع ہےاصل عبارت یوں ہے:
قیل الشقراق لایوکل والبوم یوکل ۔ یعنی بعض نے کہا کہ کہ شقراق نہ کھایا جائے اور بوم کھایا جائے۔
یہ لفظ اس قول کے ضعف پر دلیل ہوتاہےاور یہ بتاتا ہے کہ اس کی طرف بعض گئے ہیںاکثر علماء
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۴€
المیزان الکبرٰی کتا ب الاطعمۃ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۵۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۰€
#7343 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
خلاف پر ہیںاور حیاۃ الحیوان کا حوالہ تو سرے سے غلط ہے اس میں کہیں نہیں لکھا کہ حنفیہ حلال جانتے ہیں اس میں صرف شافعیہ کے دو قول لکھے ہیںعبارت اس کی یہ ہے:
الحکم یحرم اکل جمیع انواعہاقال الرافعی ذکر ابوعاصم العبادی ان البوم کالرخموکذلك الضوعومن شافعی رحمہ اﷲ قول انہ حلال ۔ حکم یہ ہے کہ تمام اقسام حرام ہیںرافعی نے کہا ابوعاصم العبادی نے ذکر کیا ہے کہ رخم کی طرح بوم حرام ہےاور اسی طرح ضوع بھی حرام ہےاور امام شافعی حرام ہے اور امام شافعی کا ایك قول ہے کہ یہ حلال ہے۔(ت)
خیرا ن سب سے قطع نظر کرکے اس مسئلہ کی طرف چلئےیہی عالمگیری وطحطاوی وشافعی ومیزانجن سے امداد المسلمین میں یہ عبارتیں نقل کیںان میں اوروںج کے سوا ہماری تمام کتب مذہب اور صحاح احادیث سید المرسلین صلی الله تعالی علیہم اجمعین میں صاف صریح حکم قطعی کل بلااستثناء وتخصیص موجود ہے کہ ہر پرنداپنے پنجہ سے شکار کرنے والے حرام ہےجیسے ہر درندہ دانتوں سے شکار کرنے والےعالمگیری میں بدائع سے ہے:
لایکل کل ذی مخلب من الطیر ۔ یعنی حرام ہے ہر پنچہ والا پرند۔
طحطاوی میں ہے:
لایل سباع الوحوش والطیر اھ ملخصا۔ درندے وحشی وپرند سب حرام ہیں اھ ملخصا۔
حموی پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے:
الدلیل علیہ انہ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم نہی عن اکل کل ذی ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر رواہ مسلم وابوداؤد وجماعۃو السرفیہ ان طبیعۃ ھذہ الاشیاء مذمومۃ شرعا فیخشی ان یعنی دلیل اس پر یہ ہے کہ حضور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ہر درندے کیلے والے اور ہر پرندے پنچہ والے کے کھانے سے منع فرمایامسلم وابوداؤد وغیرہما ایك جماعت محدثین نے یہ حدیث روایت کیاور اس میں راز یہ ہے کہ ان چیزوں کی خصلت شرعا بدہے تو اندیشہ ہے کہ
حوالہ / References حیاۃالحیوان باب الباء الموحدۃ مصطفی الباب ∞مصر ۱ /۲۲۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۸۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۵۷€
#7344 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
یتولد من لحمہا شیئ من طباعہا فیحرم اکراما لبنی آدم کما انہ یحل ما احل اکرامالہ ۔ ان کا گوشت کھانے سے کچھ خصلت ان کی سی آدمی میں پیدا ہوجائےلہذا انسان کی عزت کے لئے ان کا کھانا حرام ہواجیسے کہ اس کی عزت ہی کے لئے حلال جانور حلال کے گئے
میزان امام شعرانی میں ہے:
من ذلك اتفاق الائمۃ الثلثۃ علی تحریم کل ذی ناب من السباع ومخلب من الطیر یعدوبہ علی غیرہ (الی ان قال)لانہ فیہ قسوۃ من حیث انہ یقسر غیرہ و یقہرہ من غیر رحمۃ بذلك الحیوان المقسور فیسری نظیر تلك القسوۃ فی قلب الاکل لہ۔واذاقسی قلب العبد صار لا یحن قلبہ الی موعظۃ وصار کالحمار ۔ یعنی انھیں مسائل سے ہے امام ابوحنیفہ وامام شافعی وامام احمدر ضی الله تعالی عنہم کا اتفاق کہ ہر کیلے والا درندہ اور ہر پنچہ والا پرندہ جو دوسرے پر اس کیلے یا پنجے سے حملہ کرتاہے حرام ہےاس لئے کہ اس میں سنگدلی ہے کہ وہ بیدردی سے مجبور ومغلوب کرتاہےتو ایسی ہی سنگدلی اس کے کھانیوالے میں سرایت کرے گیاور جب آدمی کا دل سخت ہوجاتاہے تو کسی نصیحت کی طرف میل نہیں کرتا اور آدمی سے گدھا ہوکر رہ جاتاہے۔
میں کہتاہوں یوں ہی کتب طیبہ سے ثابت کہ الو کھانے والا آدمی سے الو ہوکر رہ جاتاہے والعیاذ بالله رب العلمین۔
غرض یہ قاعدہ کلیہ شرعیہ ہے جس پر ائمہ حنفیہ کا اجماع ہےاور اس سے ہر گز کوئی پنچہ والا پرندہ کہ سباع طیر سے ہو مستثنی نہیں اور شك نہیں کہ الو پنچہ والا پرندہ ہے۔بلکہ اس کے پنجے بہت شکاری پرندوں سے زیادہ قوی اور تیز ہیںاور شك نہیں کہ گوشت اس کی خوراك ہےا ور شك نہیں کہ وہ اپنے سے کم طاقت پرندوں پر حملہ کرتاہےیہ سب باتیں یقینا معلوم ہیںاور فقیر کے سامنے بہت شکار پیشہ مسلمانوں نے بیان کیا کہ یہ پرندہ شکاری ہےپانچ عــــــہ سکان بریلی نے کہ ان میں چار صاحب قوم کے قراول
عــــــہ:نیاز محمدخاں ابن رحم خاں ونذیر خان ابن وزیر خاں وعنایت الله خاں ابن کرم علی خاں وغلامی خان ابن حسن خاں قراول ساکناں بہاریپور محلہ قراؤلان ومحمد خاں ابن گل خان افغان ساکن شہر کنہ ۱۲۔
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۵۵،€ردالمحتارعلی الدرالمختار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۳€
المیزان الکبرٰی کتاب الاطعمۃ مصطفی الباب ∞مصر ۲ /۵۷€
#7345 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اور پانچوں نمازی نیك سنی صحیح العقیدہ ہیںہفدہم ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ کو میرے سامنےاس مضمون کی شہادت ادا کیاور ان میں بعض نے کہا ہمارے سامنے توتے کو شکارکر لے گیابعض نے کہا کھونٹی پر شکرہ بندھا تھا شکرہ کو مار لے گیاحالانکہ شکرہ اتنا بڑا اور قوی اور خود شکاری جانور ہےاور الو کی منقار بہت چھوٹی ہوتی ہے کہ چونچ سے اس کاقابو میں آنا معقول نہیںنہ کہ ایسا زور کہ بندش توڑ کر زندہ لے جائےلاجرم پنجہ سے شکار کیااور یہ امر اس جانور کی قوت سے کچھ عجب نہیں کہ وہ شکرہ سے بھاری جانور کو شکار کرلیتا ہےعلامہ زکریا بن محمد بن محمود انصاری قزوینی کتاب عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات میں اس کا حال لکھتے ہیں:
تصطاد السنانیر الضعاف وتعادی الغراب وھو ذلیل بالنھار اما باللیل فلا یقدر علیہ شیئ من الطیور ۔ الو کمزور بلیوں کو شکار کرلیتا ہےکوے سے اس کو دشمنی ہےدن کو ذلیل ہوتا ہے مگر رات میں کوئی پرند اس پر قدرت نہیں رکھتا۔
مرآت الاصطلاحات عنبر شاہی میں ہے:
چنگ بالفتح بروزن سنگ قلاب آہنی وپنجہ آدمی وحیوان درندہ شکاری چوں باز وشاہین وشیر وپلنگ وامثال آں واز شعر طوطی ہند امیر خسرو دہلوی جنگ بوم واقع شدہوبوم ہرچند جانور شکاری نیستبدیں معنی کہ مردم بداں شکارنمی کنند لیکن فی الحقیقۃ ذومخلب ست کہ صیدمے نمایدچنانچہ دیدہ شد وشعر مذکور این ست
بوم کہ باشد کہ بچنگ دراز
طعمہ برد از دہن جرہ باز چنگ بروزن سنگ ہےلوہے کے شکنجے اور آدمی کے پنجے شکاری اوردرندے حیوان جیسے بازشاہینشیرچیتااور ان کی ہم مثل کو چنگ کہتے ہیںطوطی ہند امیر خسرودہلوی کے شعر میں چنگ الو کے لیے استعمال ہوا ہے اگرچہ مشہور شکار کاپرندہ اس معنی میں نہیں کہ آدمی اس کاشکار نہیں کرتا لیکن حقیقتاوہ اپنے پنجے سے شکار کرتا ہے جیسا کہ مشاہدہ میں آیا ہے وہ شعر یہ ہے:
الوجس کاپنجہ دراز ہے
منہ سے کھاتا ہے باز والی جرات (ت)
حوالہ / References عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات النوع السادس من الحیوان ∞(بوم)€مصطفی البابی ∞مصر ص ۲۷۱€
مرآت الاصطلاحات عنبر شاہی
#7346 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
غرض جب وہ شکاری جانور ہے تو اس کے حرام ہونے میں اصلا جائے کلام نہیںرہا بعض عبارت حنفیہ میں لفظ بوم کی نسبت لفظ یوکل وارد ہونا اقول: نہ وہ اجماعی قاعدہ فقہ حنفی وحدیث نبوی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے مقابل ہو سکتا ہے نہ مشاہدات کو رد کر سکتا ہے اس سے بالتعین الو کی حلت ثابت ہی نہیں ہوتیزبان عرب میں لفظ بوم خاص الو کے لیے موضوع نہیںبلکہ ہر اس پرند پر اطلاق کیا جاتا ہے جو شب کو اپنے آشیانہ سے نکلتا ہے۔علامہ دمیری حیاۃ الحیوان میں فرماتے ہیں:
قال الجاحظ وانواعھا الھامۃ والصدی والضوع والخفاش وغراب اللیل والبومۃ وھذہ الاسماء کلھا مشترکۃ ای تقع علی کل طائر من طیر اللیل یخرج من بیتہ لیلاقال وبعض ھذہ الطیور یصید الفار وسام ابرص والعصافیر وصغارالحشرات وبعضھا یصید البعوضومن طبعھا ان تدخل علی کل طائر فی وکرہ وتخرجہ منہ وتاکل فراخہ وبیضہ وھی قویۃ السلطان باللیل لایحتملھا شیئ من الطیر جاحظ نے کہااور اس کے اقسام ہامہصدیضوعخفاش غراب اللیلبوم نامی پرندے ہیں اوریہ تمام نام مشترك ہیںیعنی رات کو اپنے گھر سے نکل کر پرواز کرنے والے ہر پرندے پربولتے ہیںاورکہا ان پرندوں میں سے بعض چوہےچھپکلیچڑیوں اور چھوٹے چھوٹے حشرات کوشکار کرتے ہیں اور ان میں سے بعض مچھروں کاشکار کرتے ہیں اور وہ طبعی طورپرہرپرندے کے گھونسلے میں داخل ہوکر اس کو اڑاتا ہے اور اس کے چوزوں اور انڈوں کوکھاجاتے ہیں اور رات میں وہ قوی تسلط والے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی پرندہ ایسی قوت نہیں پاتا۔(ت)
توجن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے الو مراد نہیں بلکہ وہ پرند شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہیہ معنی امام عتابی کی تصریح سے ثابت ہیں۔علامہ قہستانی جامع الرموز میں لکھتےہیں:
لاباس بما لیس بذی مخلب کالبوم فی روایۃ عن ابی یوسفکما فی العتابی۔ امام ابو یوسف رحمہ الله تعالی سے ایك روایت یہ ہے کہ جن پرندوں کےپنجے نہیں ہیں ان کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیساکہ عتابی میں ہے۔(ت)
پس حنفیہ کی طرف حلت چغد کی نسبت ایك دھوکا ہے کہ اشتراك لفظ بوم سے پیداہوا
حوالہ / References حیاۃ الحیوان باب الباء الموحدۃ ∞(البوم)€مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۲۲۶€
جامع الرموز بحوالہ العتابی کتاب الذبائح ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳ / ۳۴۹€
#7347 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
وبالله التوفیق۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: ازاوجین مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
مولنا صاحب مجمع فضائل ومنبع فواضل فرید العصروحید الزمانمخدوم مکرمی دام افضالکم بعد تمہید مراسم فدویت وارزوئے حصول سعادت مواصلت کہ عمدۃ مقاصد ہر دو جہاں ہے التماس پرداز ہے کہ حضور نے حرمت بوم کے باب میں جو فتوی ارسال فرمایااس میں یہ عبارت مرقوم ہے وہ سمجھ میں نہ آئی کہ جن کتابوں میں ذکر اکل ہے ان میں بوم سے مراد الو نہیں بلکہ وہ پرندہ شب مقصود ہے جو پنجہ شکاری نہیں رکھتا جیسے چمگادڑ وغیرہیہ معنی عتابی تصریح سے ثابت نہیں
لاباس بمالیس بذی مخلب کالبوم الخ۔ جو پرندہ پنجے والا نہ ہو اس کے کھانے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ بوم ہے۔الخ۔(ت)
تو کیا چمگادڑ اور باگل بھی حلال ہے جواب بالتشریح بیان فرمائیے۔زیادہ نیازبینوا توجروا
الجواب:
چمگادڑ چھوٹاہو یا بڑا جسے ان دیار میں باگل کہتے ہیںاس کی حلت حرمت ہمارے علمائے کرام رحمہ الله تعالی میں مختلف فیہ ہے بعض اکابر نے اس کے کھانے سے ممانعت فرمائی ہے اس وجہ سے کہ وہ ذی ناب ہےمگر قواعد حنفیہ کے موافق وہی قول حلت ہے زمطلقا دانت موجب نہیں بلکہ وہ دانت جن سے جانور شکار کرتاہوظاہر ہے کہ چمگادڑ پرند شکاری نہیںولہذا درمختار میں قول حرمت کی تضعیف فرمائیہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
اما الخفاش فقد ذکر فی بعض المواضع انہ یوکلوفی بعض المواضع انہ لا یوکل لان لہ نابا اھ ورأیتنی کتبت علی ہامشہ مانصہ فیہ انہ لایصید بنابہ و لایصول ولیس کل مالہ ناب حراما۔ چمگادڑ کے متعلق بعض مواضع میں ذکر ہے کہ کھایا جائے اوربعض مواضع میں ہے کہ نہ کھایاجائے کیونکہ اس کے کیلے ہوتے ہیں اھمجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ اپنے کےلے سے شکارنہیں کرتا اور نہ ہی یہ حملہ آور ہوتاہے اور ہر کیلے والا حرام نہیں ہوتا۔(ت)
حوالہ / References جامع الرموز بحوالہ العتابی کتاب الذبائح ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳ /۳۴۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۰€
#7348 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
برجندی میں ہے:
ذکر فی المحیط ان فی الخفاش اختلاف العلماء اھ ۔ محیط میں مذکور ہےکہ چمگادڑ میں علماء کا اختلاف ہے اھ (ت)
درمختارمیں ہے:
وقیل الخفاش لانہ ذوناب ۔ بعض نے کہا چمگادڑ حرام ہے کیونکہ یہ کیلے والا ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الاتقانی وفیہ نظرلان کل ذی ناب لیس بمنہی عنہ اذا کان لایصطاد بنایہ اھ اتقانی نے کہا ہے اور اس میں اعتراض ہے کیونکہ ہرکیلے والا حرام نہیں ہے جبکہ وہ اپنے کیلے سے شکار نہ کرتاہو اھ (ت)
برجندی میں ہے:
المراد الناب الذی ھو سلاح وذوالناب الحیوان الذی ینہب بالناب اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ ناب (کیلے)سے مراد وہ ہے جو ہتھیار بنےاور کیلے والا جانور وہ ہے جو کیلے کے ساتھ حملہ اور ہووالله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ ۱۵۵: از درتحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۱۴ رجب ۱۳۱۵ھ
جو کواکہ دانہ کھاتاہے اور رنگ میں بالکل سیاہ ہوتاہےاس کا کیا حکم ہے اور جو کوا کہ دانہ اور نجاست دونوں کھاتاہے اس کا کیاحکم ہے
الجواب:
دانہ خور کوا کہ صرف دانہ کھتااور نجاست کے پاس نہیں جاتا جسے غراب زرع یعنی کھیتی کا کوا کہتے ہیںچھوٹا سا سیاہ رنگ ہوتاہے اور چونچ اور پنجے غالبا سرخوہ بالاتفاق جائز ہےاور مردار خورکوا جسے غراب ابقع بھی کہتے ہیں کہ اس کے رنگ میں سپیدی بھی سیاہی کے ساتھ ہوتی ہے بالاتفاق ناجائز ہے۔
حوالہ / References شرح النقایہ للبرجندی کتاب الذبائح ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۳€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۹€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۴€
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الذبائح ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۳€
#7349 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اور اسی حکم میں پہاڑی کوا بھی داخل کہ بڑا اوریك رنگ سیاہ ہوتاہے اور موسم گرما میں آتاہےاور خلط کرنیوالا جسے عقعق کہتے ہیں کہ اس کے بولنے میں اواز عق عق پیدا ہوتی ہے۔اس میں اختلاف ہےاور اصح حل مگر کراہت تنزیہہ میں کلام نہیں
ھذا خلاصۃ مافی الدرالمختار وردالمختار والمقام بعد یحتاج الی زیادۃ تحریم وضبط وتقریر لعل اﷲ یسیرہ فی تحریر اخر واﷲ تعالی اعلم۔ یہ درمختار اور ردالمحتار میں بیان شدہ کا خلاصہ ہے جبکہ یہ مقام ابھی زیادہ تحریم وضبط اور تقریر کا محتاج ہے ہوسکتاہے کہ الله تعالی کسی اور تحریر میں اس کو آسان کردےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۶: مسئولہ مولوی محمد ایوب صاحب سنھبل مرادآبادی ۳ جمادی الاولی ۱۳۲۵ھ
کواحرام ہے یانہیں الو حرام ہے یانہیں
الجواب:
یہ کوے کہ ہمارے دیار میں پائے جاتے ہیں سب حرام ہیںالو حرام ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷: از شاہجہان پور ڈاك خانہ نادر شاہیان مقام میران پوریعقوب شاہ خاں بروز یکشنبہ ۱۸/ ۱۳۳۴ ھ
جناب قبلہ دام اقبالہ بعد سلام علیکم عرض ہے کہ پیلو کے انڈے اور گوشت اور پالنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
سب جائز ہے۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے کی حلت کاحکم کس وقت سے جاری ہوااور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بھی اس کا گوشت تناول فرمایا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
گائے کی حلت شریعت قدیمہ ہے۔الله عزوجل قرآن عظیم میں فرماتاہے:
" ہل اتىک حدیث ضیف ابرہیم المکرمین ﴿۲۴﴾ اذ دخلوا علیہ فقالوا" یعنی کیا آئی تیرے پاس خبر ابراہیم کے عزت دار مہمانوں کی جب وہ اس کے پاس آئے بولے
حوالہ / References ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۵€
#7350 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
سلما قال سلم قوم منکرون ﴿۲۵﴾ فراغ الی اہلہ فجاء بعجل سمین ﴿۲۶﴾ دوسری جگہ فرمایا:" بعجل حنیذ ﴿۶۹﴾" ۔ سلامکہا سلام انجانے لوگ ہیں پھر جلد ی کرتا اپنے گھر گیا سوان کے کھانے کو لے آیا ایك فربہ بچھڑا بھنا ہوا۔
احادیث سے ثابت ہے کہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے قربانی کیاور قربانی کا گوشت کھانے کا حکم فرماتےمگر خود حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے تناول فرمایا یانہیںاس بارے میں کوئی تصریح حدیث اس وقت پیش نظر نہیںوالله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۵۹: از شہر بریلی محلہ قاضی ٹولہ شہر کہنہ مرسلہ محمد عمران صاحب ۱۶ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب سرور کائنات صلی الله تعالی علیہ وسلم نے گوشت گائے کا کھایا یانہیں
الجواب:
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے گائے کی قربانی فرمائی اوراس کے کھانے کھلانے کاحکم فرمایا خود بھی ملاحظہ فرمایا یا نہیںاس عــــــہ کا ثبوت نہیںدنیا کی ہزاروں نعمتیں ہیں کہ حضور نے قصدا تناول نہ فرمائیںگوشت گاؤ کی مذمت میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے صحیح نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ و ۱۶۱: مسئولہ معرفت سیٹھ آدم جی گونڈل کاٹھیاوار ہاشم بیگ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)کبوتر کھانے میں کسی قسم کی کراہت ہے
(۲)عقیقہ کا گوتشت ماں باپ کھائیں یا نہیں
الجواب:
(۱)کچھ نہیں۔
عــــــہ:حدیث مسلم کتاب الزکوۃ کہ بریرہ رضی الله تعالی عنہ کے لئے گوشت گاؤ صدقہ میں آیاوہ حضور کے پاس لایا گیا اور حضورسے عرض کیا گیا کہ یہ صدقہ ہے کہ بریرہ کو آیافرمایا اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ۔اس سے بظاہر تناول فرمانا معلوم ہوتاہے ۱۲ حجۃ الاسلام حامدر ضا رضی الله عنہ۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵۱ /۲۴ تا ۲۶€
القرآن الکریم ∞۱۱ /۶۹€
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اباحۃ الہدیۃ للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۵€
#7351 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
(۲)کھائیںاس کا حکم مثل قربانی ہےتین حصے مستحب ہیںایك اپنا ایك عزیزوں قریبوں کا ایك مسکینوں کاوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲: مرسلہ محمد حکیم الدین از ضلع پورینہ موضع چوپڑا ۴ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ خرگوش پنجہ والا ناخن دار مگر شترکی مانند ہے اور ہر چند میں حیض مثل عورتوں کے ہوتی ہےاس کا کھانا حلا ل ہے یاحرام لہذا بعض علماء کی زبانی سنا گیا ہے کہ خرگوش پنجہ والا ناخن دارحرام ہے جو خرگوش کہ حلال ہوتاہے اس کے کھر ہوتاہے مانند بکری وبیل وغیرہ کےجناب والا ! اس پر بھی ہم کو اطمینان کل نہیں ہوتاہے۔اس لئے بخدمت فیض د رجت یہ کمترین بطور عریضہ ھذا روانہ کرتاہے ضرور بالضرور جواب سے اس ذرہ بےمقدار کو آفتاب درخشا فرمائیں گے۔زیادہ والسلام۔
الجواب:
خرگوش ضرور حلال ہےاسے حرام جاننا رافضیوں کا مذہب ہےخرگوش کے پنجے ہی ہوتے ہیںکھر والا خرکوش دینیا کے پردہ پر کہیں نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳ و ۱۶۴: مرسلہ مولوی حافظ مصاحب علی صاحب از مقام جاورہ مورخہ یکم رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)بعض کفار جو کہ گوشت خور نہیں ہیں تالاب یا ندی سے مچھلیاں پکڑوا کر دیگر تالاب یا ندی محفوظ میں ڈلوادیں اس غرض سے کہ مسلمان مچھلیاں پکڑواکر نہ کھاسکیںتو کیا ایسے تالاب یا ندی سے مسلمانوں کو مچھلیاں پکڑواکر کھانا جائز ہے یانہیں
(۲)زیدبکرعمروخالد نے مل کر ایك کمپنی قائم کرکے ایك کارخانہ جاری کیا اور عام طور پر اعلان کردیا کہ جس کا دل چاہے اس کارخانہ میں شریك ہوجائےفی حصہ ایك صد روپیہ قرار پایا ہے جو شخص جس قدر حصے خریدنا چاہے اسی قدر روپیہ کا منافع دیا جائے گا۔اوراگر کارخانہ میں نقصان ونفع ہوگا تو حصہ کے تناسب سے نقصان کا زیر بار ہونا پڑے گا۔خریدار حصہ سے خواہ ایك حصہ خریدے یا دس حصہ تین مرتبہ کرکے روپیہ کمپنی میں وصول کیا جائے گاکارخانہ کو اختیار ہے جو کام چاہے جاری کرے کسی خریدار حصہ کو امور کارخانہ میں واہل کارخانہ یعنی منیجر وغیرہ کے امور میں دخل اندازی کا اختیارنہ ہوگاخریدار کو صرف نفع یا نقصان سے غرض ہےاور خریدار حصہ اپنے خرید شدہ نفع یا نقصان سے فروخت کرنے کا مجاز ہوگاپس سوال یہ ہے کہ ایسے کارخانہ میں شرکت اور اس کے بعد خرید وفروخت مذکور جائز ہے یانہیں نیز یہ خرید وفروخت کس بیع میں داخل ہے
#7352 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
الجواب:
(۱)مچھلیاں پکڑنے سے ملك ہوجاتی ہے اور دوسرے دریا میں چھوڑنے سے ملك سے خارج نہیں ہوتیںنہ دوسرے کو ان کالینا جائز ہوتاہے۔مسلم ہو یا کافرجب تك چھوڑنے والے نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ اس کی ہیں جو ان کو لےتو ملك غیر ہونے کے سبب سے ان میں ممانعت آئے گیمگر از انجا کہ یہ کفار نہ ذمی ہیں نہ مستامن نہ ان سے اس بارہ میں کوئی معاہدہ ہےلہذا اب بھی وہ مچھلیاں حکما ایسی ہی ہیں جیسی پکڑنے سے قبل تھیںان کا ارادہ فاسد ان پر رد کیا جائے گا اور مسلم کافر جو کوئی پکڑے اس کے لئے مباح ہوگی۔والله تعالی اعلم۔
(۲)اگر وہ تجارت بروجہ شرعی ہو عقود فاسدہ یا ربا کو دخل نہ ہو تو اس میں شرکت جائز مگر اپنے روپیہ کا حصہ دوسرے کے ہاتھ بیچنا اور اس کا خریدنا دونوں حرام۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵: از کلگٹ ایجنسی مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کے ہاتھ کا ذبح ناجائز ہے جیسے کہ ہنود اس کے ہاتھ کی پکڑی مچھلی کھانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہےاگر چہ اس کے ہاتھ میں مرگئی یا اس نے مارڈالی ہو کہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں جس میں مسلمان یا کتابی ہونا ضرور ہو۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۶ و ۱۶۷: ا زبنگالہ ۱۸ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین اس حیوان کے بارے میں جو کہ عجائب المخلوقات میں بایں طور بیاں کیا گیا ہے:
ومنھا سمکۃ مدورۃ ذنبہا اطول من ثلثۃ اذرع وعلی وسط ذنبہا شوکۃ معقفۃ شبہ کلاب وھی سلاحہا تضرب بہا وھی نمراء بیاضہا فی غایۃ اللبیاض ونقد سواد ھا فی غایۃ السوادو لہا منخران علی ظہر ھا وفم علی بطنہا وفرج کفرج النساء انتھی ان میں سے ایك مچھلی گول قسم کی دم تین ہاتھ لمبی ہے اور اس کی دم کے درمیان میں کنڈے کی شکل میں ایك ٹیڑہا کانٹا ہے وہ اس کا ہتھیا ر ہے۔وہ مچھلی نہایت سفید ہے جس پر گہرے سیاہ رنگ کے نقطے ہوتے ہیں اس کے نتھنے اس کی پیٹھ پر اور اس کا منہ پیٹ پر اس کی شرمگاہ عورتوں کی شرمگاہ کی طرح ہوتی ہے۔انتہی (ت)
حوالہ / References عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات بحر فارس المقالۃ الثانیۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۸۸€
#7353 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
اگر یہ مچھلی ہو تو اس کو عربی میں کیا کہتے ہیں اور فارسی میں اس کا کیا نام ہے اور ہندی میں اس کا اس مخصوص بہ کیا ہے۔بحوالہ کتب تحریر فرمائیے
(۲)اور جریث کو اہل ہند کیا کہتے ہیں اور وہ کون سی مچھلی ہے اس کی عوارضات مختص بہا کو بوضاحت بیان فرمائیےغایۃ الاوطار میں لکھا ہے کہ جریث کو بعض اہل ہند سجگی کہتے ہیںکیا یہ صحیح ہے۔اگر غلط ہے تو پھر سجگی کیا شے ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ مچھلی کہ عجائب المخلوقات میں ذکر کی اگر اس کا وجود ہر دو عالم مثالی وخیالی سے باہر ثابت ہو تو ان نوادر سے ہے۔جو بہ مرور دہور کبھی کسی سیاح کی نظر پڑے اور عامہ ناس ان کے رسم واسم سے آگاہ نہیں" و ما یعلم جنود ربک الا ہو " (اور تمھارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ت)علامہ قزوینی کو خود اس کا نام معلوم ہوتا تو لکھتےوہ خود اس کے عجائب دہر سے ہونے کے معترف ہیں عبارت مذکورہ سوال کے بعد کہا والبحرلا تحصی عجائبہ (سمندر کے عجائبات بے شمار ہیں۔ت)اسے جریث گمان کرنا صحیح نہیںجریث ایك کثیر الوجود مچھلی سواحل پر ارزانی سے بکنے والی ہے محرر المذہب سیدنا امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ مبسوط میں روایت فرماتے ہیں:
عن عمرو بن شوذب عن عمرۃ بنت ابی طبیخ قالت خرجت مع ولیدۃ لنافا شترینا جریثہ بقفیز حنطۃ فوضعناھا فی زنبیل فخرج راسہا من جانب وذنبہا من جانب فمر بنا علی رضی اﷲ تعالی عنہ فقال بکم اخذت قالت فاخبرتہ فقال ما اطیبہ وارخصہ و او سعہ للعیال ۔ یعنی عمرہ بنت ابی طبیخ نے کہا میں اپنی کنیز کے ساتھ جاکر ایك جریث ایك قفیز گیہوں کو خرید کرلائی جو زنبیل میں سمائیایك طرف سے سر نکلا رہا ایك طرف سے دماتنے میں مولا علی کرم الله وجہہ کا گزر ہوافرمایاکتنے کو لی میں نے قیمت عرض کی۔فرمایا:کیا پاکیزہ چیز ہے اور کتنی ارزاں اور متعلقین پر کتنی وسعت والی۔
ولہذا علامہ قزوینی نے اسے عجائب میں ذکر نہ کیا البتہ جری کانام لیا اور اسے مارماہی سے تفسیر کیا کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۷۴ /۳۱€
عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات حر فارس المقالۃ الثانیۃ فصل فی عجائبہ مصطفی البابی ∞مصر ص۸۸€
المبسوط للامام محمد رحمۃ الله تعالٰی علیہ
#7354 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
بزعم بعض وہی جریث ہے۔اس تقدیر پر خود انھوں نے اس نادر مچھلی اور جریث میں فرق کیااسے عجائب بحر فارس اور اسے عجائب ہند میں لکھا۔اس کی وسط دم پر کانٹا بتایا تھا اور جری کی پیٹھ پر ایك چیز مثل عمود لکھیاور وہ منخزین وفم وفرج کا ذکر یہاں نہ کیا
حیث قال منہا (ای من عجائب بحرالہند)سمکۃ مدورۃ یقال لہا مارماھی علی ظہرھا شبہ عمود و محددالراس لا تقوم لہا فی البحر سمکۃ الا تضربہا بذلك العمود و تقتلہا ۔ جہاں انہوں نے فرمایا کہ ہندوستان کے سمندر کے عجائبات میں سے ایك گول مچھلی ہے جس کو مارماہی کہا جاتاہے اس کی پیٹھ پر عمودی شکل محدد سروالا کانٹا ہوتاہےسمند ر میں جو مچھلی اس کی زد میں آئے اس کو وہ اپنے مدور کانٹے سے ہلاك کردیتی ہے۔(ت)
اور تحقیق یہ ہے کہ یہ دوسری مچھلی بھی نہ مارماہی ہے۔نہ مارماہی جریث مارماہی گول نہیں بلکہ لمبی بالکل سانپ کی شکل پر ہوتی ہے۔عربی میں اسے جری بکسر وتشدیدرااور جری بالفتح اور جریت بتائے فوقانیہ بروزن جریث اور صلور وسلور اور انقلیس و انکلیسبفتح ہمزہ ولام ہر دو انقلیس وانکلیس بکسر ہر دو اور فارسی میں مارماہی اور ہندی میں بام کہتے ہیںجاحظ نے کہا وہ پانی کا سانپ ہے یعنی صورۃ نہ کہ حقیقۃبعض نے کہا وہ سانپ اور مچھلی کے جوڑے سے پیدا ہےقزوینی نے اسے پر جزم کااور صحیح یہ کہ یہ بھی بے ثبوت ہے بلکہ وہ سانپ سے جدا ایك خاص نوع ماہی ہے۔اہل فن نے ان اسمائے مذکورہ اعنی جری وصلور و انقلیس میں بہت اختلاف کیا۔بہت نے انھیں مارماہی کا غیر جاناکسی نے کہا جری بے سنے کی مچھلی کو کہتے ہیںکسی نے کہا ایك قسم ماہی ہے جس کے سرودم باریك اور پشت چوڑی ہوتی ہے۔کسی نے کہا انکلیس چھوٹی مچھلی کی شکل پر ایك جانور ہے جس کی دم کے پاس مینڈك کے پاؤں کے مثل دو۲ پاؤں ہوتے ہیںاور ہاتھ نہیں ہوتےبصرہ کی نہروں میں پایا جاتاہے۔بعض نے کہا بحرین کی مچھلی ہے۔اس جانور کو شلق بالکسر یا شلق مثل کشف کہتے ہیںکسی نے کہا شلق بھی انکلیس اور انکلیس جریث ہے کسی نے کہا انکلیس مارماہی اور صلور جریث ہے بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ مارماہی ایك معروف مشہور مچھلی مستطیل الخلقۃ مشابہ مارہے نہ کہ مدور ارشاد الساری شرح صحیح البخاری زیر حدیث:
قال ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما طعامہ میتۃ الا ماقدرت منہا والجری ابن عباس رضی الله تعالی عنہما نے فرمایا کہ اس کی خوراك میتہ ہے مگر کچھ بھون لی جاتی ہے اور جری
حوالہ / References عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات بحرالہند فصل فی جزائرھذاالبحر مصطفی البابی ∞مصر ص۸۴€
#7355 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
لاتاکلہ الیہود ونحن ناکلہ فرمایاالجری بکسر الجیم والراء والتحتیۃ المشددتین وبفتح الجیم و الجریث بمثناۃفوقیۃ بعد التحتیۃ ضرب من السمك یشبہ الحیات وقیل سمك لا قشرلہ۔وقیل نوع عریض الوسط دقیق الطرفین ۔ کو یہودی نہیں کھاتے اور ہم کھاتے ہیںاور آپ نے فرمایا جری جیم اور راء کے کسرہ اور دو مشدد یاء اور جیم کے فتح کے ساتھ پڑھا جائےاور جریث آخر میں ثاء سے پہلے یاء ہےاور یہ مچھلی سانپ کی طرح ہوتی ہےاور بعض نے کہا کہ اس پر چھلکا نہیں ہوتا اور بعض نے بتایا کہ درمیان سے چوڑی اور آگے پیچھے سے باریك ہوتی ہے۔(ت)
مجمع بحارالانوار میں علامہ زرکشی سے ہے:
الجری بکسر جیم وراء مشددۃ وتشدید یاء ضرب من السمك یشبہ الحیات وقیل نوع غلیظ الوسط رقیق الطرفینوقیل مالا قشرلہ ۔ جری جیم اور راء کے کسرہ اور شد کے ساتھ اور آخر میں مشدد یاء ہے یعنی مارماہی جو سانپ کے مشابہ ہوتی ہے۔بعض نے کہا درمیان سے موٹی اور آگے پیچھے سے باریك ہوتی ہے۔ اور بعض نے کہا اس پر چھلکا نہیں ہوتا (ت)
اسی میں ہے:
لا تاکلوا الانکلیس بفتح ہمزۃ وکسرھا سمك شبیہ بالحیات (ای مارماہی)والا نقلیس لغۃوکرہ لرداء ۃ غذائۃ لالانہ حرام ۔ الانکلیس بفتح ہمزہ یاکسرہ ہے کومت کھاؤیہ سانپ کی مانند ایك مچھلی ہے یعنی مارماہیایك لغت میں الانقلیس کہا جاتا ہے اس کو کھانا اس لئے مکروہ ہےکہ کہ اس کی غذا ردی ہے اس لئے نہیں کہ وہ حرام ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الذبائح والصیدوالتسمیۃ باب قول الله تعالٰی احل الکم صید البحر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۲۵)€(ارشاد والساری شرح صحیح البخاری کتاب الذبائح والصیدوالتسمیۃ باب قول الله تعالٰی احل الکم صید البحر دارالکتاب العربی بیروت ∞۸ /۲۶۷€
مجمع بحار الانور اب الجیم مع الراء تحت الجری مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۱ ∞/۳۵۰€
مجمع بحار الانور باب الہمزہ مع النون تحت انکلس مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱ /۱۲۵€
#7356 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
لاتاکلوا الصلور والانقلیس ھما الجری والمارماہی نوعان من السمك کالحیۃ ۔ صلور اور انقلیس کو نہ کھاؤاور ان کا نام جری اور مارماہی ہے یہ دونوں سانپ کے مشابہ مچھلیاں ہیں۔(ت)
قاموس میں ہے:
الصلور کسنور الجری فارسیتہ المارماھی ۔ صلورسنور کے ہم وزن ہے اس کا نام جریاور فارسی میں مارماہی کہتے ہیں۔(ت)
تاج العروس میں ہے:
وھو السمك الذی یکون علی ھیاۃ الحیات و منہ حدیث عمار ضی اﷲ تعالی عنہ لا تاکلوا الصلروالا الانقلیس ۔ یہ سانپ شکل کی مچھلی ہےحضرت عمار رضی الله تعالی عنہ نے اسی کے متعلق فرمایا:صلور اور انقلیس کو نہ کھاؤ۔(ت)
اسی میں ہے:
قال احمد بن الحریش قال النضر الصلور الجریث و الانقلیس مارماھی ۔ احمد بن حریش نے کہا کہ نضر نے کہا کہ صلور وہ جریث ہے اور انقلیس وہ مارماہی ہے۔(ت)
انھیں دونوں میں ہے:
(الانقلیس)الصلور الجری قال اللیث ھی (سمکۃ کالحیۃ)وقال غیرہ الجریث کانکلیس وھو قول ابن الاعرابی ۔ "الانقلیس"صلورجری ہے۔لیث نے کہا یہ مارماہی ہے یعنی سانپ کی طرح مچھلی ہے اور ان کے غیر نے کہا "جریث" انکلیس کی طرح ہے اور یہ ابن اعرابی کا قول ہے۔(ت)
حوالہ / References مجمع بحار الانوار باب الصاد مع اللام تحت"صلور"مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ∞۳ /۳۴۷€
القاموس المحیط فصل الصاد باب الراء تحت"الصلور"مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۷۴€
تاج العروس فصل الصاد باب الراء تحت"الصلور"داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۴۰€
تاج العروس فصل الجیم من باب الثاء تحت الجریث داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۶۰۹€
تاج العروس فصل القاف من باب السین داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۲۲۱€
#7357 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
حیاۃ الحیوان الکبری میں ہے:
الانکلیس بفتح الہمزۃ واللام وکسرھما معاسمك شبیہ بالحیات ردی الغذاء و ھو الذی یسمی الجری والمار ماھیوقال الزمخشری قیل انہ الشلق وقال ابن سیدہ ھو علی ھیئۃ السمك صغیر لہ رجلان عند ذنبہ کرجل الضفدع ولایدلہ یکون فی انہار البصرۃ ولیس لفظہ عربیا اھ ملخصا۔ "انکلیس"ہمزہ اور لام پر فتح اورکسرہ بھی یہ سانپ شکل کی مچھلی ہے جس کی غذا ردی ہے اس ك نام جری اور مارماہی ہے۔زمخشری نے کہا کہ بعض نے شلق کہا ہے۔ابن سیدہ نے کہا یہ عام مچھلی کی طرح ہوتی ہے اور ضفدع (مینڈک)کے پاؤں کے طرح اس کی دم کے نیچے دو پاؤں ہوتے ہیں اور اس کے اگلے پاؤں نہیں ہوتےبصرہ کے دریاؤں میں پائی جاتی ہے اور عربی میں اس کا نام نہیں ہے اھ ملخصا۔(ت)
قاموس وتاج میں ہے:
(الشلق بالکسرااوککتف سمکۃ صغیرۃ)او علی خلقۃ السمکۃ لہا رجلان عند الذنب کرجلی الضفدع لا یدان لہاتکون فی انہار البصرۃوقیل ہی من سمك البحرین ولیست بعربیۃ (او)ھی (الانکلیس) من السمك وھو الجری والجریث عن ابن الاعرابی ۔ شلق کسرہ کے ساتھ یاکتف کے وزن پر ہے۔یہ چھوٹی مچھلی ہے یا مچھلی کے مشابہ مخلوق ہے۔اس کی دم کے نیچے مینڈك کے پاؤں کی طرح پاؤں ہوتے ہیں اور اس کے اگلے پاؤں نہیں ہوتے اور یہ بصرہ کے دریاؤں میں پائی جاتی ہے بعض نے کہا کہ یہ بحری مچھلی ہے اور عربی میں اس کا نام نہیں ہے۔یا یہ انکلیس ہے جو مچھلی کی قسم ہے۔اور اس کو جری کہتے ہیں اور جریث بھییہ ابن اعرابی سے منقول ہے۔(ت)
عجائب قزوینی بیان حیوانات بحر میں ہے:
جری ھوالذی یقال لہ مارماہی متولد جری جس کو مارماہی کہتے ہیں یہ نسل مچھلی اور سانپ
حوالہ / References حیاۃ الحیوان باب الہمزۃ الانکلیس مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۶۴€
القاموس المحیط فصل الشین من باب القاف مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۲۵۹،€تاج العروس فصل الشین من باب القاف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۶ /۳۹۹€
#7358 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
من الحیۃ والسمك قال الجاحظ انہ یاکل الجردان ۔ سے پیدا ہوتی ہے جاحظ نے کہا ہے کہ یہ جردان کھاتی ہے۔(ت)
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:
ماقیل ان المار ماہی متولد من الحیۃ لیس بواقع بل ھو جنس شبیہ بہا صورۃ ۔ جویہ بتایا گیا کہ مار مارہی کی نسل سانپ اورمچھلی سے پیدا ہے ایسا واقع نہیں ہے بلکہ وہ مچھلی کی جنس ہے جو صورت میں سانپ کے مشابہ ہے۔(ت)
جس طرح ان اسامی میں اختلافات ہوئے یونہی ایك جماعت نے جریث بھی مارماہی کا نام جانااوراسے وہی مچھلی مشابہ مارماناعمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
الجری قال عیاض ھو من السمك مالا قشرلہ وقال ابن التین ویقال لہ ایضا الجریث وقال الازھری الجریث نوع من السمك یشبہ الحیات ویقال لہ ایضا المارماھیوالسلور وقیل سمك عریض الوسط دقیق الطرفین اھ مختصرا۔ جری کے متعلق عیاض نے کہا وہ مچھلی ہے جس پر چھلکا نہیں ہے۔اور ابن تین نے کہا اس کو جریث بھی کہتے ہیں اور ازہری نے کہا جریث مچھلی قسم ہے جو سانپ کے مشابہ ہے اس کو مارماہی بھی کہتے ہیں اور سلور بھیبعض نے کہا یہ درمیان سے چوڑی اور آگے پیچھے سے باریك ہوتی ہے اھ مختصرا۔ (ت)
مجمع البحار میں ہے:
الجری قیل ھوالجریث المارماھی ملخصا۔ جری کے متعلق کہا گیا کہ جریث مارماہی ہے اھ ملخصا (ت)
اسی میں نہایہ سے ہے:
فی ح علی رضی اﷲ تعالی عنہ قال ح میں لکھا ہے کہ علی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ
حوالہ / References عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات المقالۃ الثانیۃ القول فی حیوان الماء مصطفی البابی ∞مصر ص۹۷€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الذبائح فصل فیما یحل اکل ولایحل داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۱۴€
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب قول الله تعالٰی احل لکم صید البحر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۲۱ /۱۰۵€
مجمع بحار الانوار باب الجیم الراء تحت"الجری"مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱ /۳۵۰€
#7359 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
الجریث ھو نوع من السمك یشبہ الحیات ای المارماھی ۔ جریث مچھلی کی قسم جو سانپ کے مشابہ ہے۔یعنی مارماہی (ت)
تاج العروس میں ہے:
(الجریث کسکیت سمک)معروف ویقال لہ الجری وھو نوع من یشبہ الحیاتویقال لہ بالفارسیۃ المارماھی اھ ملتقطا۔ جریث بروزن سکیت معروف مچھلی ہے۔اس کو جری کہا جاتا ہے اور مچھلی کی قسم سانپ کے مشابہ ہے اس کو فارسی میں مارماہی کہتے ہیں اھ ملتقطا۔(ت)
حیاۃ الحیوان میں ہے:
الجریث ھو ھذا السمك الذی یشبہ الثعبان وجمعہ جراثی ویقال لہ ایضا الجری بالکسر والتشدید وھو نوع من السمك یشبہ الحیۃویسمی بالفارسیۃ مارماھیوقد تقدم فی الہمزۃ انہ الانکلیس قال الجاحظ انہ یاکل الجردان وھو حبۃ الماء وحکمہ الحل اھ باختصار۔ جریث یہ مچھلی ہے جو سانپ کے مشابہ ہے اس کی جمع جراثی ہے۔اس کو جری بھی کہتے ہیں کسرہ اور شد کے ساتھوہ مچھلی ہے جو سانپ کے مشابہ ہے اس کو فارسی میں مارماہی کہتے ہیںاور ہمزہ کی بحث میں گزرا کہ یہ انکلیس ہےجاحظ نے کہا یہ جردان کھاتی ہے۔اور یہ پانی کا سانپ ہے اس کا یہ حکم ہے کہ وہ حلال ہے اھ باختصار (ت)
مگر فقہائے کرام جسے جریث کہتے ہیں وہ یقینا مارماہی کے سواء دوسری مچھلی ہے کہ متون وشروح و فتاوی میں تصریحا دونوں کا نام جدا جدا ذکر فرمایالاجرم مغرب میں کہا:ھو غیر المار ماھی (وہ مارماہی کا غیر ہے۔ت)علامہ ابن کمال باشا اصلاح وایضاح میں فرماتے ہیں:
(والجریث والمارماہی)الجریث نوع من السمك غیر المار ماھی ذکرہ فی المغربو انما افردھما بالذکر لما کان الخفاء فی کونہما (جریث اور مار ماہی)جریث مچھلی کی قسم ہے جو مارماہی کا غیر ہے۔یہ مغرب میں مذکور ہے۔ان دونوں کو علیحدہ اس لئے ذکر کیا کہ ان کے مچھلی ہونے میں خفا ہے۔
حوالہ / References مجمع بحار الانوار باب الجیم مع الراء تحت"جرث"مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱/ ۳۹۔۳۳۸€
تاج العروس فصل جیم من باب الثاء تحت"الجرث"داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۰۹€
حیاہ الحیوان باب الجیم الجریث مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۲۷۴€
المغرب
#7360 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
من جنس السمکولمکان الخلاففیہما لمحمد ذکرہ صاحب المغرب ۔ نیز ان کے حکم میں محمد رحمۃ الله تعالی علیہ کا اختلاف ہے اس کو صاحب مغرب نے بیان کیا ہے۔(ت)
حاشیۃ الکمثری علی الانور میں ہے:
الجریث نوع من السمك غیر مار ماھی ۔ جریث مچھلی کی قسم ہے جو مار ماہی کا غیر ہے۔(ت)
یہ ایك سیاہ رنگ گول مچھلی ڈھال کی مانند ہے اسے فارسی میں ماہی کول کہتے ہیں۔درمختارمیں ہے:
(الجریث)سمك اسود (والمارماہی)سمك فی صورۃ الحیۃ وافردھما بالذکر للخفاءوخلاف محمد ۔ (جریث)سیاہ رنگ کی مچھلی ہے۔(مارماہی)یہ سانپ کی شکل کی مچھلی ہے۔ان دونوں کو علیحدہ اس لئے ذکر کیا ہے ان کے مچھلی ہونے میں خفاء ہے اور امام محمد رحمہ الله تعالی کا اس میں اختلاف بھی ہے۔(ت)
(جریث)سیاہ رنگ کی مچھلی ہے۔(مارماہی)یہ سانپ کی شکل کی مچھلی ہے۔ان دونوں کو علیحدہ اس لئے ذکر کیا ہے ان کے مچھلی ہونے میں خفاء ہے اور امام محمد رحمہ الله تعالی کا اس میں اختلاف بھی ہے۔(ت)عمدۃ القاری میں بعد عبارت مذکورہ ونقل اقوال مسطورہ ہے:قلت الجریث سمك اسود (میں کہتاہوں"جریث"سیاہی رنگ کی مچھلی ہے۔ت)فتح الله المعین حاشیۃ الکنز للعلامۃ الازہر ی میں ہے:
الجریث سمکۃ سوداء قالہ العینی وقال الوافی الجریث بکسر الجیم والراء وتشدیدھا نوع من السمك مدورۃ کالترس ۔ جریث سیاہ رنگ کی مچھلی ہے۔یہ علامہ عینی نے فرمایا ہے۔جبکہ وافی نے کہا کہ جریث را اور جیم کے کسرہ اور شد کے ساتھمچھلی کی قسم ہے جو ڈھال کی طرح گول ہوتی ہے۔(ت)
اسی طرح طحطاوی وشامی وغیرہمامیں ہے:
عازییہ لابی السعود وزل قلم العلامۃ ط فجعلہ عنہ عن العینی وانما ذلك صدرالکلام فقطامام الاخیر انھوں نے اس کو ابوسعود کی طرف منسوب کیا ہے جبکہ علامہ طحطاوی کا قلم پھسلا ہے تو انھوں نے اس کو ابوسعود سے علامہ عینی سے منقول بتایا ہے۔یہ
حوالہ / References اصلاح وایضاح علامہ ابن کمال پاشا
حاشیۃ الکمثری علی انوار الاعمال
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۹€
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب قول الله تعالٰی احل لکم صید البحر ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۲۱ /۱۰۵€
فتح المعین کتاب الذبائح فصل فیما یحل وفیما لایحل ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۷۴€
#7361 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
فعن الوافی کما اسمعناك نصہ۔ ابتداء کلام میں ہے اور آخر میں وافی سے منقول بتایا جس کو ہم نے ذکر دیا ہے۔(ت)
ذخیرۃ العقبی میں ہے:یقال لہ بالفارسیۃ ماھی کول (اسے فارسی میں ماہی کول کہاجاتاہے۔ت)سچگی میری زبان کا لفظ نہیںغایۃ الاوطار والے دونوں مترجم دہقانی تھےدیہاتوں کی زبان دیہاتی جانیںوالله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۶۸: ا زبریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں ۲ رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
ماقولکم غفراﷲ لکم فی ھذہ المسئلۃ افیدونا یرحکم اﷲ خوردن ماہی بسیار کو چك بحاشیہ مالابدمنہ مکروہ تحریمی نوشہ است اس مسئلہ میں آپ کا کیا ارشاد ہے ہمیں مطلع فرمائیں الله تعالی آپ پر رحم فرمائے کہ مالابدمنہ میں نہایت چھوٹی مچھلی کو کھانا مکروہ ہے تحریمی لکھاہے
الجواب:
ماہی ریزہ کہ شایان شق شوف نباشد وہمچناں شکم چاك ناکردہ بریاں کنندشنزدا مام شافعی حرام ستونزد سائر ائمہ حلال رضی الله تعالی عنہم اجمعین کمانص علیہ فی معراج الدرایۃثم ردالمحتارونصہ لو وجدت سمکۃ فی حوسلۃ طائر تؤکلوعند الشافعی لا تؤکل لان کالر جیع ورجیع الطائر عندہ نجسوقلنا انما یعتبر رجیعا اذا تغیر و فی السمك الصغار التی التی تقلی من غیر ان یشق جوفہ۔فقال اصحابہ لایحل اکلہلان رجیعہ باریك ریزہ کی طرح مچھلی جس کا پیٹ چاك نہیں ہوسکتااور یوں بے چاك بھون کر کھائی جاتی ہے یہ امام شافعی رحمہ الله تعالی کے نزدیك حرام ہے اور باقی ائمہ کرام کےنزدیك حلال ہے۔(رحمہم الله تعالی)جیسا کہ معراج الدرایہ میں تصریح ہے اور پھر ردالمحتار میں یوں فرمایا کہ اگر پرندے کے گھونسلہ میں مچھلی پائی جائے تو وہ کھائی جائےاور امام شافعی رحمہ الله تعالی کے ہاں کھانا جائز نہیں کیونکہ وہ پرندوں کی بیٹھ کی طرح ہے جبکہ ان کے ہاں پرندے کی بیٹھ نجس ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ بیٹھ تب ہوسکتی ہے جب اس کا رنگ متغیر ہواور امام شافعی کے اصحاب چھوٹی مچھلی جس کو چاك کئے بغیر بھون لیا جاتاہے۔کہ متعلق فرماتے ہیں اس کا کھانا حلال نہیں ہے کیونکہ ا س کی بیٹھ نجس ہے۔اور باقی
حوالہ / References ذخیرۃ العقبٰی کتاب الذبائح ∞نولکشور کانپور ۴ /۵۷۲€
#7362 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
نجس وعند سائر الائمۃ یحل اھ آرے درجواہر الاخلاطی دیدم کہ بکراہت تحریم تصریح وہمیں را تصحیح کردہ استحیث قال اسمك الصغار کلہا مکروھۃ کراھۃ التحریم ھو الاصح پس اسلم اجتناب ست۔و اﷲ تعالی اعلم۔ تمام ائمہ کرام کے نزدیك حلال ہے۔اھہاں میں نے جواہر الاخلاطی میں دیکھا ہے انھوں نے اس کے مکروہ تحریمہ ہونے میں تصریح کی ہے۔اور اسی کی تصحیح کی ہے جہاں انھوں نے فرمایا کہ چھوٹی مچھلیاں تمام مکروہ تحریمہ ہیں اور یہی صحیح ہے پس اجتناب بہترہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۹: مرسلہ محمد علی اکبر کوڑا سال سویم ڈھاکہ تاریخ ۱۴ جمادی الاول ۱۳۳۳ھ
کہ سوکھی مچھلی (جو دیار بنگالہ میں معروف ومشہور ہے)کھانا جائز ہے یانہیں اور برتقدیر حلال ہونے کے اگر کوئی حرام کہے تو اس کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
مچھلی تر ہو یا خشکمطقا حلال ہے۔
قال تعالی " احل لکم صید البحر" ۔ الله تعالی نے فرمایا:حلال کیا گیا تمھارے لئے بحری شکار کو۔(ت)
سوائے طافی کے جو خود بخود بغیرکسی سبب ظاہر کے دریا میں مرکر اترا آتی ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
السمك یحل اکلہ الاماطفا منہ ۔ مچھلی کھانا حلال ہے ماسوائے پانی پر تیرنے والے مرکر۔(ت)
خشك مچھلی کا کسی نے استثناء نہ کیااگر حرام کہنے والا جاہل ہے اسے سمجھا یا جائےاور ذی علم ہے تو اس پر حلال خدا کے حرام کہنے کا الزام عائد ہے۔اسے تجدید اسلام وتجدیدنکاح چاہئےہاں اگر وہاں سوکھی مچھلی ماہی دریا کے سوا کسی خشکی کے جانور کا نام ہے جیسے ریگ ماہیتو اس کا حال معلوم ہونا چاہئےاگر ریگ ماہی کی طرح حشرات الارض سے ہے تو ضرور حرام ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
جمیع الحشرات وھو ام الارض لاخلاف حشرات الارض مٹی سے پیدا شدہ ہے ان چیزوں کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۶€
جواہر الاخلاطی کتاب الذبائح ∞قلمی نسخہ ص۲۸۷€
القرآن الکریم ∞۵ /۹۶€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۸۹€
#7363 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
فی حرمۃ ھذہ الاشیاء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۰: مسئولہ مولوی غلام گیلانی صاحب شمس آباد ضلع کیمل پور ۲۵ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض ملکوں میں مچھلی خشك اور گوشت خشك کھایا جاتاہےقبل پکانے کے تو تو اس میں سخت بدبو ہوتی ہے مگر بعد پکنے کے بھی بدبو باقی رہتی ہےکیا اس کا کھانا جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع ایسی سخت بدبودار چیز علاوہ اس کے کہ نفاست طبع کے خلاف ہےنظافت دین سے بھی جدا ہے۔وبنی الدین علی النظافۃ (دین کی بنیاد نظافت پر ہے۔ت)مسموع ہوا کہ اس کے مستعلمین کے بدن و دہن میں اس کی بو بس جاتی ہے۔یہ علاوہ کراہت اکل کے اور بلائے شدید اور ملائکہ کو ایذا ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الملئکۃ تتاذی لما یتاذی بہ بنوادم ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جس سے بنی آدم اذیت پائیں اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں (ت)
اور ایسی حالت میں ان کو قرآن مجید پڑھنا منع ہے۔حدیث میں ہے:
طیبوا افواھکم فانہا طرق القران ۔ اپنے منہ صاف رکھو کیونکہ یہ قرآن کا راستہ ہیں۔(ت)
بلکہ جو بدبو پر مشتمل ہو اسے مسجد میں جانا حرام ہے۔اور جماعت میں شامل ہونا ممنوع ہے اور جبکہ اس سے ضرر غالب متحقق ہوتو حرمت میں کیا شبہ ہے۔فان المضار کلہا حرام (سب ضرر رساں چیزیں حرام ہیں۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۱: مرسلہ از چاند پور ضلع بجنور محلہ پتیا پاڑہ مکان محمد حسین خاں زمیندار
مچھلی بے ذبح کیوں جائز ہے
الجواب:
خون مفسوح ناپاك ہے وہ بدن میں رہے اور جانور مرجائے تو تمام گوشت پوست نجس وحرام ہوجاتاہے۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۲۸۹€
صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوبا ابصلا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹€
کنز العمال ∞حدیث ۲۷۵۲و ۲۷۵۳€ مؤسستہ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۶۰۳€
#7364 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
ذبح سے مقصود اس کا جدا کرنا ہے۔ولہذا حدیث صحیح میں ارشاد ہوا:
ماانہر الدم وذکر اسم اﷲ علیہ فکلوا الحدیث رواہ السئۃ عن رافع بن خدیج عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جس کا خون بہا دیا گیا اور اس پر الله تعالی کا نام ذکر کیا گیا تو اسے کھاؤالحدیثاس کو صحاح ستہ کے ائمہ نے روایت کیا رافع بن خدیج سے انھوں نے بنی پاك صلی الله تعالی علیہ وسلم سے۔(ت)
اورفرمایا:
انہرالدم بما شئت واذکر سم اﷲ رواہ احمد و النسائی وابوداؤد وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ خون بہادے جس سے تو چاہے۔اور الله تعالی کا نام ذکر کراس کو احمد نسائیابن ماجہابن حبان اور حاکم نے عدی بن حاتم رضی الله تعالی عنہ سے انھوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے۔(ت)
اور وارد ہوا:
کل مافری الاوداج ۔الحدیث۔رواہ ابن ابی شیبۃ عن رافع بن خدیج والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو چیز اوداج کو کاٹ دے۔الحدیثاس کو ابن ابی شیبہ نے حضرت رافع بن خدیج سےاور طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی الله تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
مچھلی اور ٹیری میں خون ہوتاہی نہیں کہ اس کے اخراج کی حاجت ہوغیر دموی کے نزدیك میں ہمارے یہاں صرف یہی دو حلال ہیںلہذا صرف یہی بے ذبح کھائے جاتے ہیںشافعیہ وغیرہم کے نزدیك کہ اور دریائی جانور بھی کل یا بعض حلال ہیں وہ انھیں بھی بے ذبح جائز جانتے ہیں کہ دریا کے کسی جانور میں خون نہیں ہوتا۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتا ب الذبائح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۲۷ و ۸۳۱ و ۸۳۲،€صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب جواز الذبح بکل ما انہرام الدم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۵۶€
سنن النسائی کتاب الضحایا اباحۃ الذبح بالعود ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۰۵،€مسند احمد بن حنبل حدیث عدی بن حاتم المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۲۵۸€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الصید من قال اذا انہر الدم الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۵/ ۳۸۹€
#7365 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
مسئلہ ۱۷۲: شمس الہدی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی محلہ سوداگراں ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
حضور پرنور کا اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہے کہ مچھلی کو اس کی آنت وغیرہ کے کھانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
مکروہ ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: مسئولہ شوکت علی صاحب ۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ (علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ت)کہ کھانا جھینگا کا درست ہے یانہیں مکروہ ہے یاحرام
الجواب:
حمادیہ میں علماء کے دونوں قول نقل کئے ہیںکہ بعض حرام کہتے ہیں اور بعض حلال۔
حیث قال الدود الذی یقال لہ جھینکہ عند بعض العلماء لانہ لایشبہ السمکو انما یباح عندنا من صید البحر انواع السمکوھذا لایکون کذلک و قال بعضہم حلال لانہ یسمی باسم السمك ۔ جہاں انھوں نے کہا کہ وہ کیڑا جسے جھینگا کہا جاتاہےبعض کےنزدیك حرام ہےکیونکہ وہ مچھلی کےمشابہ نہیں ہے۔جبکہ ہمارے نزدیك سمندری شکار میں مچھلی کی اقسام ہی مباح ہیںاور جھینگا ان میں سے نہیں ہے۔اور بعض نے کہا یہ حلال ہے کیونکہ اس کا نام مچھلی ہے۔(ت)
اقول:عبارت حمادیہ سے ظاہر یہی ہے کہ ان کے نزدیك قول حرمت ہی مختار ہے کہ اسی کو تقدیم دی والتقدیم ایۃ التقدیم(مقدم کرنا مقدم بنانے کی علامت ہے۔ت)اور جھینگے کو دودیعنی کیڑا کہا او رکیڑے حرام ہیںاور اہل حلت کی طرف سے دلیل میں یہ نہ کہا وہ مچھلی ہے بلکہ یہ کہ اس پر مچھلی کا نام بولا جاتاہے۔تحقیق مقام یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں مچھلی کے سوا تمام دریائی جانور مطلق حرام ہیںتو جن کے خیال میں جھینگا مچھلی کی قسم سے نہیں ان کے نزدیك حرام ہواہی چاہئے مگر فقیر نے کتب لغت وکتب طب و کتب علم حیوان میں بالاتفاق اسی کی تصریح دیکھی کہ وہ مچھلی ہے۔قاموس میں ہے:
الاربیان بالکسر سمك کالدود ۔ اربیان کسرہ کے ساتھکیڑے کی طرح مچھلی ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی حمادیہ کتاب الصید والذبائح ∞قلمی نسخہ ص۵۶۷ و ۳۳۲€
القاموس المحیط باب الواؤ فصل الراء مصطفی البابی ∞مصر ۴/ ۲۳۵€
#7366 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
صحاح وتاج العروس میں ہے:
الاربیان بیض من السمك کالدود یکون بالبصرۃ ۔ اربیان سفید مچھلی ہے کیڑے کی مانند بصرہ میں ہوتی ہے۔(ت)
صراح میں ہے:اربیان نوعے از ماہی ست (جھینگامچھلی کی ایك قسم ہے۔ت)منتہی الارب میں ہے:
نوعے از ماہی ست کہ آنرابہندی جھینگا میگویند ۔ مچھلی کی ایك قسم ہے اسے ہندی میں جھینگا کہتے ہیں۔(ت)
مخزن میں ہے:
روبیان اور اربیان نیز آمدہ بفارسی ماہی روبیان نامند ۔ روبیان اور اربیان بھی آیا ہے۔فارسی میں اس مچھلی کو روبیان کہتے ہیں۔(ت)
اسی طرح تحفہ میں ہے۔تذکرہ داؤد انطا کی میں ہے:
روبیان اسم لضرب من السمك یکثرببحراالعراق و القلزم احمر کثیر الارجل نحوالسرطان لکنہ اکثر لحما ۔ روبیان مچھلی کی قسم ہےبحر عراق اور بحرا قلزم میں بکثرت پائی جاتی ہے یہ سرخ رنگ اور کثیر پاؤں والے کیکڑے کی طرح ہوتی ہے لیکن وہ گوشت میں زیادہ ہے۔(ت)
حیاۃ الحیوان الکبری میں ہے:
الروبیان ھو سمك صغیر جدا احمر ۔ روبیان بہت چھوٹی مچھلی سرخ رنگ ہوتی ہے۔(ت)
حوالہ / References تاج العروس باب الواؤ والیاء فصل الراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱۰/ ۱۴۳€
الصراح فی لغۃ الصحاح باب الواؤ والیاء ∞نولکشور لکھنؤ ص۴۵۴€
متن الارب باب الراء فصل الباء ∞مطبع اسلامیہ لاہور ۲/ ۹۲€
مخزن الارویۃ فصل الراء مع الواؤ ∞نولکشور کانپور ص۳۱۳€
تذکرۃ اولی الالباب لداؤ دانطاکی الباب الثالث حرف الراء مصطفی الباب ∞مصر ۱/ ۱۷۱€
حیاۃ الحیوان باب الراء المہملۃ تحت الروبیانۃ مصطفی الباب ∞مصر ۱/ ۵۲۸€
#7367 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
جامع ابن بیطارمیں ہے:
روبیان سمك بحری تسمیہ اھل مصر الفرندس واھل الاندلس یعرفونہ بالقمرون ۔ روبیان سمندری مچھلی ہے۔مصر والے لوگ اسے فرندس اور اہل اندلس اسے قمرون کے نام سے جانتے ہیں۔(ت)
انوار الاسرارمیں ہے:
الروبیان سمك صغار جدا احمر ۔ روبیان بہت چھوٹی مچھلی سرخ رنگ ہوتی ہے۔(ت)
تو اس تقدیر پر حسب اطلاق متون وتصریح معراج الدرایہ مطلقا حلال ہونا چاہئے کہ متون میں جمیع انواع سمك حلال ہونے کی تصریح ہے۔
والطافی لیس نوعا براسہبل وصف یعتری کل نوع۔ طافی کوئی قسم نہیں ہے بلکہ یہ ایك وصف ہےجو ہر قسم کو لاحق ہوسکتاہے۔(ت)
اور معراج میں صاف فرمایا کہ ایسی چھوٹی مچھلیاں جن کا پیٹ چاك نہیں کیا جاتا اور بے آلائش نکالے بھون لیتے ہیں امام شافعی کے سوا سب ائمہ کے نزدیك حلال ہیںردالمحتارمیں ہے:
وفی معراج الدرایۃ ولو وجدت سمکۃ فی حوصلۃ طائر توکل وعند الشافعی لا توکل لانہ کالرجیع ورجیع الطائر عندہ نجسوقلنا انما یعتبر رجیعا اذا تغیر و فی السمك الصغار التی تقلی من غیر ان یشق جوفہ فقال اصحابہ لا یحل اکلہ لان رجیعہ نجس وعند سائر الائمۃ یحل ۔ اور معراج الدرایہ میں ہے اگر پرندے کے گھونسلے میں مچھلی پائی جائے کھائی جائےاور امام شافعی کے نزدیك نہ کھائی جائے کیونکہ پرندے کی بیٹھ کی طرح ہےاور ان کے ہاں پرندے کی بیٹھ نجس ہے اور ہم کہتے ہیں بیٹھ تب بنے گی جب متغیر ہوجائے گیاور چھوٹی مچھلی جس کو بغیر چاك کئے بھون لیا جاتاہے شافعی حضرات فرماتے ہیں حلال نہیں ہےکیونکہ اس کی بیٹھ نجس ہے۔اور باقی ائمہ حلال کہتے ہیں۔(ت)
مگر فقیر نے جواہرالاخلاطری میں تصریح دیکھی ہے کہ ایسی چھوٹی مچھلیاں سب مکروہ تحریمی ہیں اور یہ کہ یہی صحیح تر ہے۔
حوالہ / References الجامع المفردات الادویۃوالاغذیۃ حرف الراء تحت روبیان دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲/ ۴۴۵€
انوارالاسرار
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۶€
#7368 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
حیث قال السمك الصغار کلہا مکروھۃ کراۃ التحریم ھو الاصح ۔ جہاں کہں کہ چھوٹی تمام مچھلیاں مکروہ تحریمہ ہیں یہی صحیح ہے۔(ت)
جھینگے کی صورت تمام مچھلیوں سے بالکل جدا اور گنگچے وغیرہ کیڑوں سے بہت مشابہ ہے۔اور لفظ ماہی غیر جنس سمك پر بھی بولا جاتاہے۔جیسے ماہی سقنقورحالانکہ وہ ناکے کا بچہ ہے کہ سواحل نیل پر خشکی میں پیدا ہوتا ہے۔اور ریگ ماہی کہ قطعا حشرات الارض اور ہمارے ائمہ سے حلت روبیان میں کوئی نہیں معلوم نہیں اورمچھلی بھی ہے تو یہاں کے جھینگے ایسے ہی چھوٹے ہیں جن پر جواہر اخلاطی کی وہ تصحیح وارد ہوگیبہرحال ایسے شبہہ واختلاف سے بے ضرورت بچنا ہی چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴ تا ۱۷۶: از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ۲ رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ
ماقولکم غفرالله لکم ھذہ المسائل افیدونا یرحمکم اﷲ تعالی:
(۱)جھینگا خوردن چہ حکم دارد
(۲)پوست بیضہ خوردن
(۳)نسج عنکبوت خوردن ان مسائل میں آپ کا کیاحکم ہے ہمیں بتاؤںالله تعالی تم پر رحم فرمائے:
(۱)جھنگا کا کھانا کیا حکم رکھتاہے
(۲)انڈے کا چھلکا کھانا
(۳)مکڑے کا جالا کھانا
الجواب:
(۱)مختلف فیہ است۔ہر کہ از جنس ماہی دانستہ حلال گفتہ فان السمك بجمیع انواعہ حلال عندنا۔ہر کہ غیراو گمان بردہ بحرمت رفتہ اذکل مائی ماخلا السمك حرام عندنااسلم در ہمچوں مسائل اجتناب است الحمد لله فقیر و اہل بیت فقیر عمر باست کہ نخوردہ ایم ونہ ہرگز ارادہ خوردنش دادیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)پوست بیضہ جز اوست پس درحلت و (۱)مختلف فیہ ہے۔جو حضرات اس کو مچھلی کی قسم کہتے ہیں حلال کہتے ہیںکیونکہ مچھلی کی تمام اقسام ہمارے نزدیك حلال ہیںاور جو حضرات اس کو غیر مچھلی کہتے ہیں وہ حرام مانتے ہیں کیونکہ مچھلی کے ماسوا تمام آبی جانور ہمارے نزدیك حرام ہیںایسے مسائل میں اجتناب بہترہےالحمدالله اس فقیر اور اس کے گھروالوں نے عمر بھر نہ کھایا اور نہ اسے کھائیں گے والله تعالی اعلم۔
(۲)انڈے کا چھلکا انڈے کے حکم میں ہے کیونکہ
حوالہ / References جواہرالاخلاطی کتاب الذبائح ∞قلمی نسخہ ص۲۲۹۔۲۸۷€
#7369 · سُبُل الاصفیاء فی حُکمِ الذبح للاَوْلیَاء ۱۳۱۲ھ (اولیاء الله کے لئے ذبح کرنے میں اصفیاء کے طریقے)
حرمت بحکم اوست ہمچوں جلد حیوانوالله تعالی اعلم۔
(۳)تصریح ایں جزئیہ ایدوں بخیال نیست نہ اینجا کتب حاضر دارم اما ظاہر ممانعت است ہمچوں خانہ زنبور کما نص علیہ فی الہندیۃ عن الملتقط عن الامام خلف بن ایوب رحمہ الله تعالی زیراکہ نسجش متولد از لعاب اوست۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس کا جزء ہے جیسا کہ حیوان کی کھالوالله تعالی اعلم۔
(۳)مکڑے کے جالے کا حکم خیال میں نہیں ہے اور نہ ہی یہاں میری کتب ہیں لیکن ظاہری طور پر ممنوع ہے جس طرح زنبور کا گھر ممنوع ہے جیسا کہ ہندیہ میں ملتقط سے اور وہاں امام خلف بن ایوب رحمہ الله تعالی سے منقول ہے کیونکہ جالا مکڑے کے لعاب سے بنتاہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۷۷: از موضع ڈرہال ضلع مراد آباد مرسلہ شیخ محمد اسمعیل صاحب ۲۱ شوال ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ ملائم ہڈی کو چبالیتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں اور ایك ہڈی ملائم گائے کے نشانہ میں ہوتی ہے جس کو چبنی کہتے ہیں اور اسے گوشت کے ساتھ کھالیتے ہیں۔بینوا توجروا
الجواب:
جانور حلال مذبوح کی ہڈی کسی قسم کی منع نہیں جب تك اس کے کھانے میں مضرت نہ ہواگر ہو تو ضرر کی وجہ سے ممانعت ہوگینہ اس لئے کہ ہڈی خود ممنوع ہے۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۵/ ۲۹۰€
#7370 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
کتاب الصید
(شکار کا بیان)
مسئلہ ۱۷۸: ۱۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
(آپ کا کیا فرمان ہے)اندریں مسئلہ کہ ایك شخص روز شکار بندوق کا شوقیہ کھیلتاہے۔پس بحکم شرع شریف کے کس قدر شکار کھیلناجائز ہے اور کس وقت میں اور وہ شکاری ہر روز شکار کھیلنے سے گنہگار ہوتاہے یانہیں دریں امورچہ حکم داردبینوا مفصلا توجرو اکثیرا۔
الجواب:
شکار کہ محض شوقیہ بغرض تفریح ہوجیسے ایك قسم کا کھیل سمجھا جاتاہے ولہذا شکار کھیلنا کہتے ہیںبندوق کا ہوخواہ مچھلی کاروزانہ ہو خواہ گا ہ گاہ۔مطلقا باتفاق حرام ہے۔حلال وہ ہے جو بغرض کھانے یا دوایاکسی اور نفع یا کسی ضرر کے دفع کو ہو آج کل بڑے بڑے شکاری جو اتنی ناك والے ہیں کہ بازار سے اپنی خاص ضرورت کے کھانے یا پہننے کی چیزیں لانے کو جانا اپنی کسر شان سمجھیںیا نرم ایسے کہ دس قدم دھوپ میں چل کر مسجد میں نماز کے لئے حاضر ہونا مصیبت جانیںوہ گرم دوپہرگرم لو میں گرم ریت پر چلنا اور ٹھہرنااور گرم ہوا کے تھپیڑے کھانا گوارا کرتے اور دو۲ دو۲ پہر دو۲ دو۲دن شکار کے لئے گھر بار چھوڑے پڑے رہتے ہیں کیا یہ کھانے کی غرض سے جاتے ہیںحاشا وکلا بلکہ وہی لہو ولعب ہے اور بالاتفاق حرامایك بڑی پہچان یہ ہے کہ ان شکاریوں سے اگر کہے مثلا مچھلی بازار میں ملےگی وہاں سے لے لیجئے ہر گز قبول نہ کرسکیں گےیا کہئے کہ اپنے
#7371 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
پاس سے لائے دیتے ہیںکبھی نہ مانیں گے بلکہ شکار کے بعدخود اس کے کھانے سے بھی چنداں غرض نہیں رکھتے بانٹ دیتے ہیں تو یہ جانا یقینا وہی تفریح وحرام ہے۔ درمختارمیں ہے:
الصید مباح الا للتلہی کما ھو ظاھر ۔ شکار مباح ہے مگر لعب کے طور پر مباح نہیں۔(ت)
اسی طرح اشباہ وبزازیہ ومجمع الفتاوی وغنیہ ذوی الاحکام وتاتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا میں عامہ اسفار میں ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۹: معرفت مولوی امام بخش صاحب طالب علم مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ وحید احمد خاں ۱۸ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شکار تفریحا کھیلنا حرام ہےزید کہتاہے کہ شکار اگر گوشت کھانے کے واسطے کھیلا جائے تو کچھ حراج نہیں کیونکہ ہم روز گوشت ہی کھاتے ہیں اور چونکہ آج کل گوشت مہنگا ہے اس واسطے شکار سے ہم کو فائدہ ہوگااور اگر یہ کہو کہ کسی جان بے فائدہ لینا ٹھیك نہیں توروز گوشت کیوں کھاتے ہوزیدکی اس گفتگو پر یہ سوال کیا گیا کہ تم مہنگے کا سوا ل پیش کرتے ہواور اگر تمھیں شکار سے پیٹ ہی بھرنا مقصود ہے تو روز شکار کیوں نہیں کھیلتے تاکہ تم کو پورا فائدہ حاصل ہوگاہے گاہے کیوں شکار کھیلتے ہووہ بھی اپنے ہمعمروں کو ساتھ لے جاکراس سے یہ ظاہر ہوا کہ تم تفریحا ہی شکار کھیلتے ہوجس کی اجازت شرع شریف نہیں دیتی یہ بے نواحضور سے مستفتی ہے کہ زید کی گفتگو صحیح ہے یا نہیں اور زید کی یہ تاویل قابل سماعت ہوگی یا نہیں جبکہ نہ مجبوری ہے نہ کسی بیماری کی صحت شکار کے گوشت سے مدنظر ہے۔
الجواب:
تفریح کے لئے شکار حرام ہے۔اور غذا یا دوا کے لئے مباح ہے۔اور نیت کا علم الله کو ہے۔اگر واقعی وہ کھانے ہی کے لئے شکار کو جاتاہے تفریح مقصود نہیں تو حرج نہیںاور اس کی علامت یہ ہے کہ مچھلی کے شکار کو جانا چاہئےاور مچھلیاں بازار میں ملتی ہوں اور دام رکھتاہونہ خریدے بلکہ شکارہی کرکے لائے اور وہ تکالیف ومصائب جو اس میں ہوتی ہے گوارا کرے تو ہر گز اسے کھانا مقصو دنہیں بلکہ وہی تفریح والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: مسئولہ علی احمد صاحب ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شکار مچھلی کا کھانا جائز ہے یاناجائز شکار چارہ تلی سے اور گھیسے سے کھیلا جاتاہے۔
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱€
#7372 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
الجواب:
کسی جانور کا شکار اگر غذا یا دوا یا دفع ایذا یا تجارت کی غرض سے ہو جائز ہے اور جو تفریح کےلئے ہو جس طرح آج کل رائج ہے اور اسی لئے اسے شکار کھیلنا کہتے اور کھیل سمجھتے ہیںاور وہ جو کھانے کے لئے بازار سے کوئی چیز خرید کر لانا عارجانیںدھوپ اور لو میں خاك اڑاتے اور پانی بجاتے ہیںیہ مطلقا حرام ہے۔کما نص علیہ فی الاشباہ والدرالمختار وغیرہا (جیسا کہ اشباہ اور درمختار وغیرہما میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)پھر مچھلی کا شکار کہ جائز طور پرکریںاس میں زندہ گھیسا پروناجائز نہیںہاں مارکر ہو یا تلی وغیرہ بے جان چیز تو مضائق نہیںیہ سب اس فعل کی نسبت احکام تھےرہی شکار کی ہوئی مچھلی اس کا کھانا ہر طرح حلال ہےاگر چہ فعل شکار ان ناجائز صورتوں سے ہوا ہووالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱:از حیدرآباد دکن محلہ افضل گنج اقامت گاہ مفتی لطف الله صاحب علی گڑھ جج ریاست حیدرآباد مرسلہ جناب صاحبزادہ مولوی سید احمد اشرف میاں صاحب متوطن کچھوچھا شریف ضلع فیض آبادشاگردرشید مفتی صاحب مذکور ۳ محرم الحرام شریف ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ بندوق کی گولی سے مارا شکار حلال ہے یا حرامگولی کو حلت صیدمیں تیر کاحکم ہے یانہـیں لمبی شکل کی جو گولیاں ہوتی ہے ان کا کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
بندوق کی گولی دربارہ حلت صید حکم تیر میں نہیںاس کا مارا ہوا شکار مطلقاحرام ہے۔کہ اس میں قطع وخرق نہیںصدم ودق وکسر وحرق ہےشامی میں ہے:
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاخراق و الثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذالیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم ۔ یہ مخفی نہیں کہ تابنے کی گولی کا زخم اس کے جلانے اور ثقل کی وجہ سے ہے جو بذریعہ شدید دباؤ کے حاصل ہوتاہے کیونکہ دھار نہیں ہوتی تو شکار حلا نہ ہوگااور یہی ابن نجیم کافتوی ہے۔ (ت)
مطلول شکل کی جوگولیاں ہیں اولا: وہ بھی دھار دار نہیں ہوتی بلکہ تقریبا بیضوی شکل پر سنی جاتی ہیںاور آلہ کا حدید یعنی تیز ہونا اگرچہ شرط نہیں مگر محدد یعنی باڑھ دار ہونا کہ قابل قطع وخرق ہو ضرور ہے۔ثانیا: اگر بالفرض گولی تیر کی طرح دھار دار رہی بنائی جائے اور اسے بطور معہود بندوق سے سرکریں جب بھی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۰۴€
#7373 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
ثبوت حلت میں نظر ہے کہ صرف دھار دار کا وجود ہی کافی نہیںبلکہ تیقن بھی ضروری ہےاس کی دھار سے قطع ہونا ہی باعث قتل ہوا۔اور یہاں ایسا نہیں کہ اس کا احراق وصدمہ شدید قاتل ہے کما سمعت انفا (جیسا کہ ابھی آپ نے سنا۔ت)تو محتمل کہ یہی وجہ قتل ہوا ہونہ قطعاور بحالت شك و احتمال حکم حرمت ہے۔ہدایہ میں ہے:
الاصل فی ھذہ المسائل ان الموت اذا کان مضافا الی الجرح بیقین کان الصید حلالاواذا کان مضافا الی الثقل بیقین کان حراماوان وقع الشك و لایدری مات بالضرح او بالثقل کان حراما احتیاطا ۔ ان مسائل میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر موت یقینی طور پر زخم کی طرف منسوب ہو تو شکار حلال ہےاور اگر وہ ثقل کی طرف منسوب ہو تو یقینا حرام ہےاور اگر شك ہو اور معلوم نہ ہو کہ زخم سے مرا ہے یا ثقل سے تو احتیاطا حرام ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لایوکل مااصابہ البندقۃ فمات بہا لانہا تدق وتکسر ولا تجرح و کذلك ان رماہ بحجر وکذلك ان جرحہ قالو اتاویلہ اذا کان ثقیلا وبہ حدۃ لاحتمال انہ قتلہ بثقلہ۔الخ واﷲ تعالی اعلم۔ بندوق لگنے سے ہلاك شدہ کو نہ کھایا جائے کیونکہ وہ دباؤ سے توڑتی ہے زخم نہیں کرتیاور اسی طرح اگر پتھر مارااور دباؤ سے زخمی ہواوضاحت یہ ہے کہ اگر پتھر بھاری ہو اور اس کی دھار ہو تو حرام ہے کیونکہ احتمال ہے کہ ثقل کے دباؤ سے ہلاك ہواہواس لئے حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۲: ۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
بسم الله الرحمن الرحیمچہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب (اس باب میں علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں۔ت)کہ ایك شخص نے بسم الله کہہ کر شکار پر بنددق چلائیپس جس وقت جاکر دیکھا تو کوئی آثار اس میں زندگی کے نہ تھے اور نہ جنبش تھیجس وقت کہ اس کو ذبح کیا تو خون نکلا اچھی طرح سےپس وہ شکار حلال ہے یاحرام اوراگر اس کو حلال نہ کرتے تو حلال ہو تایاحرام اور
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الصید ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۵۰€۹
الہدایۃ کتاب الصید ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۵۰۸ و ۸۰۹€
#7374 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
درصورت نہ نکلنے خون کے بھیجواب تحریر فرمائے۔
الجواب:
اگر ذبح کرلیا اور ثابت ہوا کہ ذبح کرتے وقت اس میں حیات تھی مثلا پھڑك رہا تھا یا ذبح کرتے وقت تڑپا اگر چہ خون نہ نکلایا خون ایسا دیا جیسا مذبوح سے نکلا کرتاہے اگر چہ جنبش نہ کییا کسی اور علامت سے حیات ظاہر ہوئی تو حلال ہے۔اور اگر بندوق سے مارکر چھوڑدیا ذبح نہ کیا یا کیا مگر اس میں وقت ذبح حیات کا ہونا ثابت نہ ہوا تو حرام ہے۔غرض مدار کا اس پر ہے کہ ذبح کرلیا جائے اور وقت ذبح اس میں رمق حیات باقی ہواگر چہ نہ جنبش کرے نہ خوں دے حلال ہوجائے گاورنہ حرامدرمختار میں ہے:
ذبح شاۃ مریضۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت والا لا ان لم تدرحیاتہ عند الذبح وان علم حیاتہ حلت مطلقاوان لم تتحرك ولم یخرج الدم وھذا یتأتی فی منخنقۃ ومردیۃ ونطیحہوالتی بقر الذئب بطنہا فذکاۃ ھذ الاشیاء تحلل وان کانت حیاتہا خفیفۃ وعلیہ الفتوی لقولہ تعالی الا ماذکیتم من غیر فصل اھ وفی ردالمحتارعن البزازی عن الاسبیجابی عن الامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ خروج الدم لایدل علی الحیاۃ الااذ کان یخرج کما یخرج من الحی قال وھو ظاہر الروایۃ ۔ مریض بکری ذبح کی تو اس نے حرکت نہ کی اور خون نکلا تو حلال ہے ورنہ نہیں بشرطیکہ ذبح کے وقت زندہ ہونا نہ معلوم ہوسکا اور اگر زندہ ہونا یقینا معلوم ہے تو مطلقا حلا ل ہے اگر چہ حرکت نہ کرے اور خون نہ نکلے یہ صورت گلہ گھونٹنےاوپر سے گرنے والے اور سینگ زدہ میں متحقق ہوتی ہے اور جس کا پیٹ بھیڑئیے نے پھاڑ دیا ہو وہاں یہ صورت ہوسکتی ہے تو ایسے جانور کا ذبح ہونا حلال کردے گا اگرچہ ان کی خفیف زندگی معلوم ہےاسی پرفتوی ہے کیونکہ الله تعالی کا ارشاد ہے:الا ما ذکیتم یعنی جس کو تم نے ذبح کردیابلا تفصیل یہ حکم ہے اھ اور ردالمحتارمیں بزازی سے انھوں اسبیجابی سے انھوں نے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ محض خون نکلنا حیات کی دلیل نہیں مگر ایسا نکلے جیسے زندہ سے نکلتاہے تو حیات کی دلیل ہے۔اور یہ ظاہر الروایۃ ہے۔(ت)
اسی کی کتاب الصید میں ہے:
المعتبر فی المتردیۃ واخواتہا کنطیحۃ اوپر سے گرنے والی اور اسی جیسی مثلا سینگ زدہ
حوالہ / References درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۰€
ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۶€
#7375 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
وموقوذۃ وما اکل السبع والمریضۃ مطلق الحیاۃ وان قلت کما اشرنا الیہ وعلیہ الفتوی ۔ لاٹھی زدہدرندہ کی کھائی ہوئیاور مریضہ میں مطلق حیات معتبر ہے اگر چہ حیات قلیل ہی ہو جیسا کہ ہم نے اس طرف اشارہ کردیا ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
مدارك التزیل میں ہے:
الموقوذۃ التی اثخنوہا ضربا بعصی اوحجر ۔ موقوذۃ وہ ہے جس کو لاٹھی یا پتھر سے مارا ہو۔(ت)
معالم میں ہے:
قال قتادۃ کانوا یضربونہا بالعصی فاذا ماتت اکلوھا اھ فظہران المضروب بکل مشقل کالبندقۃ ولو بندقۃ الرصاص کلہ من الموقوذۃ فیحل بالذکاۃ وان قلت الحیاۃ۔ قتادہ نےکہا جاہلیت میں لوگ لاٹھی مارتے جب مرجاتی تو اسے کھاتے تھے اھتو ظاہر ہوا کہ کسی دباؤ والی چیز سے ضرب لگی ہوئی جیسے بندق اگر چہ تابنے کی گولی ہو تو وہ موقوذہ یعنی لاٹھی زدہ کے حکم میں ہے تو وہ ذبح سے حلال ہوگی اگر چہ حیات قلیل ہو۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاحراق و الثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذلیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم واﷲ تعالی اعلم۔ مخفی نہیں کہ تانبےکی گولی کا زخم جلانے اور ثقل سے جوشدید دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔بنتاہے۔کیونکہ دھار نہیں ہوتیلہذا اس زخم سے حلال نہ ہوگیاسی پر ابن نجیم نے فتوی دیا ہے والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۳€
مدارک التنزیل (تفسیر نسفی) ∞تحت آیۃ ۵/ ۳€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۱/ ۲۶۹۹€
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن ∞تحت آیۃ ۵/ ۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۷€
ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۰۴€
#7376 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
مسئلہ ۱۸۳:از گونڈہ بہرائچ مکان مولوی مشرف علی صاحب مرسلہ حضرت سید حسین حید رمیاں صاحب ۱۵جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ بندوق کا شکار کھانا جبکہ تکبیر کے ساتھ سر کی جائے کیا حکم رکھتاہے بینوا توجروا
الجواب:
اگر زندہ پایا اور ذبح کیاذبح کے سبب حلال ہوگیا ورنہ ہر گز نہ کھایا جائےبندوق کا حکم تیر کی مثل نہیں ہوسکتایہاں آلہ وہ چاہےے جو اپنی دھار سے قتل کرے۔اور گولی چھرے میں دھارنہیںآلہ وہ چاہئے جو کاٹ کرتاہو۔اوربندوق توڑکرتی ہے نہ کہ کاٹ ردالمحتارمیں ہے:
لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھوبالاحراق و الثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذ لیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم ۔ مخفی نہیں کہ تانبے کی گولی کا زخم جلانے اور ثقل جو شدید دباؤ سے حاصل ہوتے ہیں سے بنتاہے کیونکہ گولی کی دھار نہیں ہوتیلہذا اس سے حلال نہ ہوگیاس پر ابن نجیم نے فتوی دیا ہے۔(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لایحل صید البندقۃ وما اشبہ ذلك و ان خرق لانہ لایخرق الا ان یکون شیئ من ذلك قد حدد وطولہ کالسہم وامکن ان یرمی بہیفان کان کذلك و خرقۃ بحدہ حل اکلہ انتہیوبہ اندفع ماظن بعض اجلہ علماء کالنفور من الحرمۃ بالرصاس الکبیر لثقلہ دون الحبات لخفتہا وذلك لان مناط الحل لیس ھی الخفۃ بل الحد والخرقوبدیھی بندوق وغیرہ کا شکار اگر چہ زخمی ہوجائے حلال نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں نہیںہاں اگر گولی کی لمبی دھار ہو تو تیر کی مانند ہونے کی بناء پر اسکی طرف پھینکی جاسکے اور وہ چیر دے تو اس کا کھانا حلال ہوگااھ اس بیان سے کانپور کے بعض اجلہ علماء کا یہ گمان مدفوع ہوگیا کہ بڑی تانبے والی گولی سے حرام ہے کیونکہ وہ بھاری ہوتی ہے اور چھرے دار گولی سے حلال ہوگی کیونکہ چھرے باریك ہوتے ہیںیہ اس لئے کہ حلت کا مدار خفیف وباریك ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مدار
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۰۴€
فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الصید والذبائح ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۵۳€
#7377 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
ان لاشیئ من ذلك فی الحبات الا تری الی ماقال فی الدرالمختار لو کانت یعنی البندقۃ خفیفہ بہا حدۃ حل حیث لم یقتصر علی الخفۃ زاد بہا حدۃ۔ولابد من قید اخر ترکہ وصرحۃ بہ وھو من تصیبہ بحدھا کما مر عن الا مام فقیہ النسف۔وھی مسئلۃ المعراض الشہیرۃ فی الکتبفالصواب اطلاق المنع واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ دھار دار اور چیرنا ہے اور یہ چیز چھروں یعنی دانوں میں بدیہی طور پر نہیں پائی جاتیآپ دیکھ نہیں رہے جو درمختار میں فرمایا کہ باریك گولی کی دھار ہو تو حلال ہے یہاں انھوں نے صرف خفت پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ دھار کو زائد ذکر کیا اور ایك اور قید بھی ضروری جس کو واضح ہونے کی وجہ سے ذکر نہ کیا وہ یہ کہ دھار لگنے سے زخمی ہو جیسا کہ اما م فقیہ النفس (قاضی خاں)کا کلام گزرااور کتب میں معراض کے عنوان سے یہ مسئلہ مشہور ہے تویہی درست ہے کہ گولی کا شکار مطلقا منع ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۴:از کراچی بندر محلہ جمعدار گل محمدمکرانی مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب مکرانی ۳۵ شعبان ۱۳۱۱ھ
چہ می فرمایند علمائے کرام رحمکم ربکم اندریں مسئلہ کہ اگر شخصے شکار بہ تفنگ یعنی بندوق کردوبذریعہ بندقہ رصاص یعنی گولی یا چھرہ شکار زخمی شد وشخص مذکور وقت سرکدن بندوق بسم الله الرحمن ا لله اکبر ہم گفتہ اماجانور مذکور قبل ازذبح مردآیا آں جانور شرعا حلال ست یا حرام دریں مسئلہ درمیاں علمائے بندر کراچی مباحثہ واختلاف افتادہ است۔آخر الامر طرفین بریں قرار دادہ اند کہ ہر جو ابیکہ علمائے کرام بریلی دہندجانبین تسلیم نمایند۔بینوا توجروا یوم الحساب۔ علمائے کرام رحمہم الله تعالی کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص بندوق سے شکار کرے اور تانبے کی گولی یا چھرہ سے شکار زخمی ہو کر ذبح سے قبل مرجائے اور وہ بندوق چلاتے وقت بسم الله الله اکبر پڑھ لے تو کیا وہ جانور حلال ہے یاحرام اس مسئلہ میں بندر کراچی کے علماء کا مباحثہ واختلاف ہے بالآخر دونوں فریقوں نے قراردیا کہ علمائے بریلی جو بتائیں ہم تسلیم کرلیں گےجواب دو اجر پاؤ قیامت کے روز۔(ت)
الجواب:
حلال نیست زیرا کہ آلہ آں باید کہ دم برندہ دارد نہ آنکہ صدمہ شکنندہ یا گرمی سوزندہ حلال نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے خون بہانے والا آلہ چاہئے نہ کہ وہ جو ٹکڑا کر توڑے یا گرمی سے
حوالہ / References درمختار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۳€
#7378 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
کمافی ردالمحتار۔واﷲ تعالی اعلم۔ جلائےجیسا کہ ردالمحتارمیں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۵: ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کتے کا پکڑا ہوا شکار مسلمان کھاسکتے ہیں یا نہیں ایك خرگوش کو کتے نے اس طرح پکڑا ہے کہ اس کے دانت خرگوش کے جس میں پیوستہ ہوگئے ہیںاور بہت سارا جسم اس کا چبا ڈالا ہے کہ خرگوش کے جسم میں خون جاری ہےہنوز ابھی جان باقی ہے۔پس اس کو ذبح کرکے کھاسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
بسم الله کہہ کر تعلیم یافتہ کتے کو جو شکار کرکے مالك کےلئے چھوڑ دیا کرے خود نہ کھانے لگے غیر حرم کے حلال جانوروحشی پر جو اپنے پاؤں یا پروں کی طاقت سے اپنے بچاؤ پرقادر تھا چھوڑااور کتا اس کے چھوڑنے سے سیدھا شکار پر گیا یا ا سکے پکڑنے کی تدبیر میں مصروف ہوا بیچ میں اور طرف مشغول یا غافل نہ ہوگیا اور اس نے شکار کو زخمی کرکے مارڈالا یا ایسا مجروح کردیا اس میں اتنی ہی حیات باقی ہے جتنی مذبوح میں ہوتی ہے کچھ دیرتڑپ کر ٹھنڈا ہوجائے گا اور کتے کو چھوڑنے میں کوئی کافر مجوسی یا بت پرست یا ملحد یا مرتدجیسے آج کل نصاریرافضینیچریوہابیقادیانی وغیرہمخلاصہ یہ کہ مسلمان یا کتابی کے سوا کوئی شریك نہ تھانہ شکار کے قتل میں کتے کی شرکت کسی دوسرے کتے نا تعلیم یافتہ یا سگ نیچری یا کسی اور جانور نے کہ جس کا شکار ناجائز ہو اور چھوڑنے والا چھوڑنے کے وقت سے شکار پانے تك اسی طرف متوجہ رہابیچ میں کسی دوسرے کا م میں مشغول نہ ہواتو وہ جانور بے ذبح حلال ہوگیااور ان چودہ شرطوں سے ایك میں بھی کمی ہوا ورجانور بے ذبح مرجائے تو حرام ہوجائے گا ورنہ حرم کاشکار تو ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتا۔باقی صورتوں میں ذبح شرعی سے حلال ہو جائے گاتنویر الابصار و درمختار و ردالمحتار میں ہے:
(الصید بخمسۃ عشرشرطا)خمسۃ فی الصائد وھو ان یکون من اھل الذکاۃ وان یوجد منہ الارسال وان لا یشارکہ فی الارسال من لایحل صیدہوان لا یترك التسمیۃ عامدا۔وان لایشغل بین الارسال و الاخذ کوئی شکار کل پندرہ شرطوں سے مباح بنتاہے پانچ شرطیں شکاری میں پائی جائیں کہ۱وہ ذبح کرنے کا اہل ہو۲اور وہ خود کتے کو شکار پر چھوڑے۳اور اس کے ساتھ چھوڑنے میں ایسا شخص شریك نہ ہو جس کا شکار حلال نہیں ہوتا۴اور وہ قصدا بسم الله کو ترك نہ کرے۵اور کتا چھوڑنے اور شکار کر پکڑلینے تك
#7379 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
بعمل اخروخمسۃ فی الکلب ان یکون معلما وان یذھب علی سنن الارسالوان لا یشارکہ فی الاخذ ما لایحل صیدہ وان یقتلہ جرحاوان لایاکل منہ و خمسۃ فی الصیدان لا یکون من بنات الماء الا السمك وان یمنع نفسہ بجناحیہ اوقوائمہ وان لا یکون متقویا بنابہاو بمخلبہوان یموت بہذا قبل ان یصل الی ذبحہ اھقلت ومعنی قولہ ان یموت ای حقیقۃ اوحکما بان لایبقی فیہ حیاۃ فوق المذبوح کما نص علیہ فی الدرواوضحہ المحشی۔ درمیاں میں کسی اور عمل میں مصرو نہ ہو اور پانچ شرطیں کتے میں پائی جائیں (۱)سکھایا ہو اہو۔(۲)سیدھا شکار کی طرف جائے (۳)کتے سے شکار کو وصول کرنیوالا ایسا شخص نہ ہو جس کا شکار حلال نہیں ہوتا (۴)شکار کو کتا زخمی کرکے مارے (۵)اور خود شکار کو نہ کھائے۔اور پانچ شرطیں شکار میں پائی جائیں (۱)پانی میں پیدا ہونے والا شکار صرف مچھلی ہو۔(۲)وہ بھاگ کر ایا اڑکر اپنا دفاع کرسکے (۳ و ۴)کیلی دانت یا پنچوں والا نہ ہو۔(۵)ذبح تك رسائی سے قبل مرجائے اھ میں کہتاہوں اس کا کہنا کہ مرجائےیعنی حقیقۃ مرجائے یا حکما مرجائے مذبوح سے زائد اس میں حیات نہ ہو جیساکہ درمختارمیں تصریح ہےاور محشی نے اس کو واضح کیا ہے۔(ت)
انھیں میں ہے:
شرط کون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم ان کان صیدافصید الحرم لا تحلہ الذکاۃ مطلقا (اوکتابیا ولو مجنونا )اھ ملخصا۔والمراد بہ المعتوہ کما فی العنایۃ عن النہایۃ لان المجنون لا قصد لہ ولا نیۃ لان التسمیۃ ذبح کرنے والے کے لئے مسلمان جو حالت احرام اور حرم میں نہ ہو۔شرط ہےاور شکار ہو تو ضروری ہے کہ حرم سے باہر ہو کیونکہ حرم کا شکار ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتا مطلقا ذبح کرنے والا اہل کتاب میں سےہو اگر چہ ذبح کرنے والا مجنون ہو اھ ملخصا۔مجنون سے مراد معتوہ (ابتدائی جنون)ہو جیسا کہ عنایہ میں نہایہ سے نقل کیا ہے کیونکہ کامل جنون والا
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۱،€ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۹۷€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۸€
#7380 · کتاب الصید (شکار کا بیان)
شرط بالنص وہی بالقصد وصحۃ القصد بما ذکر نا یعنی قولہ اذا کان یعقل التسمیۃ والذبیحۃ ویضبط اھ ش۔ قصد اور نیت کا اہل نہیں ہے کیونکہ بسم الله پڑھنا منصوص شرط ہے اور وہ قصد کے بغیر ممکن نہیں اور قصد کی صحت ہمارے ذکر کردہ سے ہوتی ہے یعنی اس کا قول کہ وہ بسم الله اور ذبح اور ضبط کو سمجھتاہواھ ش۔(ت)
ان سب شرائط کے ساتھ جس خرگوش کو کتے نے مارا مطلقا حلال ہے اور اگر ہنوز مذبوح سے زیادہ زندگی باقی ہے تو بعد ذبح حلال ہے۔اس کے دانت جسم میں پیوست ہوجانا وجہ ممانعت نہیں ہوسکتاقرآن عظیم نے اس کا شکار حلال فرمایا اور شکار بے زخمی کئے نہ ہوگا اور زخمی جبھی ہوگا کہ اس کے دانت اس کے جسم کو شق کرکے اندر داخل ہوں اور یہ خیال کہ اس صورت میں اس کا لعاب کہ ناپاك ہے بدن کو نجس کردے گادو وجہ سے غلط ہے۔
اولا: شکار حالت غضب میں ہوتاہے اور غضب کے وقت اس کا لعاب خشك ہوجاتاہے۔
ولذافرق جمع من العلماء فی اخذہ طرف الثوب ملا طفا فینجس او غضبان فلا۔ اس لئے علماء کی ایك جماعت نے کتے کے پاك کپڑے کو پیار سے منہ میں لینے اور غصہ کی حالت میں لینے میں فرق کیا ہے کہ جانور پیار سے منہ میں لے تو ناپاك اور غصہ میں لے تو پاك ہے۔(ت)
ثانیا: اگر لعاب لگا بھی تو اخر جسم سے خون بھی نکلے گاوہ کب پاك ہے جب اس سے طہارت حاصل ہوگی اس سے بھی ہوجائے گیوالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۸۸€
#7381 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
کتاب الاضحیہ
(قربانی کا بیان)

مسئلہ ۱۸۶: از موضع مہچندی ضلع پیلی بھیت مرسلہ حاجی نصرالدین صاحب ۱۴ محرم ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جلد چہارم کتاب شرح وقایہ کتاب الاضحیہ ص ۴۳ میں تحریر ہے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جو شخص دیکھے تم میں سے چاند ذی الحجہ کا اور ارادہ کرے قربانی کا تو چاہئے کہ اپنے بال اور ناخن کو روك رکھے یعنی نہ کاٹےروایت کیا جماعت نےاب ایك شخص اہل اسلام کا ارادہ قربانی کرنے کا ہےتو وہ شخص دیکھنے چاند ذی الحجہ کے سے اپنے بال اور ناخن نہ روك رکھے یا حجامت کرالےیا اس نے یہ حکم نہ مانااور رسول مقبول صلی اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم کی حکم عدولی کرے تو اس کے واسطے شرع شریف میں سے کیا حکم ہے اور کیاکہا جائے گا جواب تحریر فرمائے اور قربانی اس کی صحیح طورپر ہوگی یا کوئی نقص اس کی قربانی میں عائد ہوگا بینواتوجروا
الجواب:
یہ حکم صرف استحبابی ہے کرے تو بہترہے نہ کرے تو مضائقہ نہیںنہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہبلکہ اگر کسی شخص نے ۳۱ دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہوگیاتو وہ اگرچہ قربانی کاارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا اب دسویں تك رکھے گا تو ناخن وخط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا
#7382 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
اور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے۔فعل مستحب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔
فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ وفی المضمراتعن ابن المبارك فی تقلیم الاظفار وحلق الرأس فی عشر ذی الحجۃقال لا تؤخرالسنۃوقد ورد ذلك ولایجب التاخیر اھ فہذا محمول علی الندب بالاجماع الا ان نفی الوجوب لا ینافی الاستحباب فیکون مستحبا الا ان استلزم الزیادۃ علی وقت اباحۃ التاخیرونہایتہ مادون الاربعینفلا یباح فوقہا اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتارمیں ہےکہ منیہ کی شرح اور مضمرات میں ابن مبارك سے نقل کیا کہ ناخن کاٹنا اور سر منڈانا ذوالحجہ کے دس دنوں میں اپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ سنت کو مؤخر نہ کیاجائے جبکہ اس کے متعلق حکم واردہے تاہم تاخیر واجب نہیں ہے اھ تویہ استحباب پر محمول ہے اور وجوب کی نفی استحباب کے منافی نہیں ہے لہذا مستحب ہے ہاں اگر اباحت کی مدت پر تاخیر کو مستلزم ہو تو مستحب نہ ہوگااباحت کی مدت کی انتہا چالیس روز ہے تو اس سے زیادہ تاخیر مباح نہ ہوگی اھ مختصرا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۷:مرسلہ ڈاکٹر واعظ الحق سعد اﷲ پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۵ ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ
قربانی ایام تشریق تك جائز ہے یانہیں
الجواب:
قربانی یوم نحر تك یعنی دسویں سے بارھویں تك جائز ہےآخر ایام تشریق تك کہ تیرھویں ہےجائز نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: مرسلہ مولوی حاجی الہ یار خاں صاحب تاجر کتب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
رامپور میں عیداضحی شنبہ کے دن ہوئی اور بریلی میں ایك شنبہ کواب درصورت عدم اطلاع کے جن لوگوں نے سہ شنبہ کو قربانی کیاور بعد میں اس کے مطلع ہوئےان لوگوں کی قربانی درست ہوئی یا نہیں اب ان پر کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۶۵€
#7383 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الجواب:
دوسرے شہر کی رؤیت مجرد حکایات واخبار سے ہر گز ثابت نہ ہوگیمثلا چند آدمی اگر چہ کیسے ہی عادل ثقہ ہوں یہاں آکر بیان کریںوہاں فلاں دن رؤیت ہوئی یا عید کی گئییا حکم دیا گیایا ہمارے سامنے گواہیاں گزریںیا منادی پھریکچھ قابل التفات نہیں کہ امر شرعی کا ثبوت بروجہ شرعی چاہئےخانگی طو ر کا یقین کوئی چیز نہیںگو عوام تو عوام اس زمانے کے بہت ذی علم بھی یقین شرعی وعرفی کے فرق سے غافل ہیں
فی الدرالمختار وحاشیۃ ردالمحتار(لا لو شہدوا برؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ )فانہم لم یشہدوا بالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانماحکوا رؤیۃ غیرھمکذا فی فتح القدیرقلت وکذا لو شہدوا برؤیۃ غیرھموان قاضی تلك المصر امرا لناس بصوم رمضان لانہ حکایۃ لفعل القاضی ایضا ولیس بحجۃ بخلاف قضائہ الخ۔ درمختار اور اس کے حاشیہ ردالمحتار میں ہے اگر لوگوں نے غیر کی رؤیت پر شہادت دی تو جائز نہیں کیونکہ یہ محض حکایت ہے کیونکہ انھوں نے اپنی رؤیت پر شہادت دی اورنہ غیر کی شہادت پر مبنی شہادت دی انھو ں نے تو صرف غیر کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔یوں ہی فتح القدیر میں ہے۔میں کہتاہوں اگر وہ غیر کی رؤیت پر شہادت بھی دیں تب بھی یہی حکم ہے اوریونہی اگر وہ اس شہر کے قاضی کے اس حکم پر شہادت دیں کہ اس نے لوگوں کو رمضان کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ قاضی کے فعل کی حکایت ہے اور یہ حجت نہیں ہے بخلاف جبکہ وہ قاضی کی قضاء پر شہادت دیں وہ حجت ہے الخ(ت)
پس اگر رامپور کی خبر اسی طرح یہاں آئی جب تو سہ شنبہ کی قربانی میں ا صلا خلل نہیں
لانہم بنوھا علی امر شرعی وھو اکمال العدۃ ثلثین عندالغمۃ ولم یثبت مایردہ فلایخاطبون لابہا وقع عند ھم۔ کیونکہ انھوں نے شرعی حکم کو مبنی قرار دیا وہ تیس کی گنتی پوری کرنا جب بادل ہوں اور اس شرعی حکم کو رد کرنے والی کوئی چیز ثابت نہیں جبکہ لوگ اپنے ہاں پائی جانی والی دلیل کے مخاطب ہیں۔(ت)
اگر چہ انھوں نے خلاف احتیاط بیشك کیا کہ قطع نظر اس سے کہ افضل وفاضل یعنی دہم یازدہم چھوڑ کر سب میں گیا درجہ اختیار کیاجب اگلےچاند کی تاریخ میں بھی احتمال تھااور بے رؤیت وشہادت صرف تیس
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۹€
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۹۴€
#7384 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
پورے کرنے پر بنائے کارہوئی تھی تو شنبہ کی عید بھی ایك احتمال رکھتی تھیایسی حالت میں فی التاخیر افات پر نظر کرکے سہ شنبہ تك بیٹھا رہنا نہ چاہتے تھاعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ بحالت احتمال مستحب ہے بارھویں تك دیر نہ لگائے اور دیر ہوجائے تو مستحب ہے کہ اس قربانی سے کچھ اپنے یا اپنے اغنیاء کے صرف میں نہ لائے بلکہ بالکل را ہ خدا میں اٹھائے۔ شرح نقایہ قہستانی میں ہے:
لوشك فی یوم الاضحی فاجب ان لا یوخر الی الیوم الثلث والافاحب ان یتصدق کلہ ۔ اگر قربانی کے دن میں شك ہو تو تیسرے دن تك مؤخر نہ کی جائے ورنہ تمام گوشت کو صدقہ کرنے مجھے پسند ہے۔(ت)
باایں ہمہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی قربانی قضاء ہوگئیالبتہ افضل یہ ہے کہ جس قدر گوشت وغیرہ اپنے یا اور اغنیاء کے صرف میں آگیا ہو اس کی قیمت لگاکر صدقہ کریںاور نیز جانور مذبوح وزندہ میں بوجہ ذبح جو تفاوت قیمت ہوگیا وہ بھی خیرات کریںمثلا زندہ ایك روپیہ کو آیا تھا اور ذبح کیا ہوا بارہ آنے کو جاتا تو چار آنے اور تصدق کئے جائیں عالمگیری میں ہے:
اذا شك فی یوم الاضحی فالمستحب ان لایؤخر الی الیوم الثالث فان اخر یستحب ان لا یاکل منہ و یتصدق بالکل فیتصدق بفضل مابین المذبوح و غیر المذبوح لانہ لو وقع فی غیر وقتہ لا یخرج عن العہدۃ الا بذلك کذا فی المحیط السرخسی ۔ اگر قربانی کے دن میں شك ہو تو مستحب یہ ہے کہ تیسرے روز تك مؤخر نہ کی جائے اور مؤخر ہوجائے تو پھر مستحب یہ ہے کہ تمام گوشت صدقہ کیا جائے اور خود کچھ نہ کھائے اور مذبوح اور غیر مذبوح میں قیمت کے فرق زائد کو صدقہ کرے کیونکہ اگر قربانی اپنے فروخت سے باہر ہو تو اس کے بغیر عہدہ برآہ نہیں ہوتا یوں محیط سرخسی میں ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
فان اکل تصدق بقیمۃ ما اکل اھ ذکرہ فی الناذر و افادالشامی ان النذر اگرکھالیا تو جنتا کھایا اس کی قیمت کو صدقہ کرے اھ انھو ں نے یہ نذر ماننے والے کو فرمایا اس پر علامہ شامی
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الاضحیہ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۵۷۔۳۵€۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب لثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۵€
درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲€
#7385 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
لیس بقید بل کذلك الحکم فی کل ماوجب التصدق بہقلت واذا وجب ھذا فی واجب التصدق ندب الیہ فی مندوبہ کالتصدق باللحم وبفضل ما بین المذبوح الی غیر المذبوح کما لایخفی لان المقصود الاحتیاط للخروج عن العہدۃ بالیقین فکل ماکان علی العھدۃ لو تیقن القضاء لایکون مستحبا ھنالدفع المراءھذا مما لایضن بہ خفاء۔ نے یہ افادہ فرمایا کہ نذر کی قید نہیں بلکہ ہر چیز جس کا صدقہ واجب ہواس کا یہی حکم ہےمیں کہتاہوں جب واجب صدقہ کا یہ حکم تو نفلی صدقہ میں گوشت کو صدقہ کرنا اور مذبوح اور غیر مذبوح سے فرق میں زائد کو صدقہ نفل ہوگاجیسا کہ مخفی نہ ہے کیونکہ مقصد یقینی طور پر عہدہ برآمد ہونا ہے تو ذمہ دار کو اگر عہدہ برآہونے کا یقین ہوجائے تو یہ مستحب نہیں ہے تاکہ ریا کاری نہ بن پائے اس میں خفا کا گمان نہیں ہے۔(ت)
ہاں اگر بطریق موجب شرح وہاں کی خبر ثالث ہومثلا دو گواہ عادل نےآکر خود اپنی رؤیت پر گواہی دی یا دار القضا میں قاضی شرعی نے باستجماع شرائط ان کے سامنے حکم دیا انھوں نے اس حکم پر شہادت ادا کییا وہاں کے دو عادل اہل رؤیت نے انھیں بعبارت معتبرہ شرع اپنی شہادت کا حامل کیاانھوں نے شہادۃ علی الشہادۃ باستیعاب شرائط گزارییا وہاں کی خبر مستفیض ومشتہر ہوگئیبایں معنی کہ رامپور سے متعدد گروہ آئے اور سب یك زبان یہی خبر لائے تو نہ یہ اصلی مخبر وحاکی دو تین شخص تھے ان کی زبانی نقل درنقل ہو کر شہر میں شہرت ہوگئی کہ یہ اصلا قابل اعتبار نہیںوان اشتبہ کثیر علی العوام ومن ضاھاھم(اگرچہ یہ بات بہت سے عوام اور ان جسے لوگوں پر مخفی ہے۔ت)ایسی حالتوں میں بیشك وہاں کی رؤیت بروجہ شرعی ثابت ہوجائے گی۔
فی فتح القدیر و ردالمحتار مااسمعناك ففی الدر المختار وحاشیتہ للعلامۃ الطحطاوی(یلزم) ثبوت الہلال سواء کان ہلال الصوم اوالفطر(اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب)کان یتحمل اثنان الشہادۃ اویشہد علی حکم القاضیاویستفیض فتح القدیر میں اور ردالمحتار میں بیان کردہ ہم نے آپ کو سنا دیا ہے اور درمختار اور اس کے حاشیہ طحطاوی میں ہے کہ رمضان کا ہلال ہویا فطر کا اس کاثبوت مشرق والوں پر مغرب والوں کی رؤیت سے لازم ہوجاتاہے جب مغرب والوں کی رؤیت مشرق والوں کے ہاں موجب طریقہ سے ثابت ہو مثلا دو گواہ بنیںشہادت پر قاضی کی قضاء پر یا رؤیت
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۰€
#7386 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الخبربخلاف مااذا خبرا ان اھل بلدۃ کذا رأوہ لانہ حکایۃ اھ حلبی الخ۔ کی خبر مستفیض ہوجائے بخلاف اس صورت کے کہ دو شخص یہ خبر دیں کہ فلاں شہر والوں نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ محض حکایت ہے اھ حلبی الخ(ت)
علامہ مصطفی رحمتی حاشیہ درمختارمیں فرماتے ہیں:
معنی الا ستفاضۃ ان تأتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منہم یخبر عن اہل تلك البلدۃ انہم صاموا عن رؤیۃ الخ نقلہ الشامی وقواہ۔ خبر مستفیض کا معنی یہ ہے کہ وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر جماعت یہ خبر دیں کہ وہاں کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے الخ اس کو علامہ شامی نے نقل کیااور اسے قوی قراردیا ہے۔(ت)
اور علامہ شامی نے اگر چہ دربارہ اضحیہ مطلع کو معتبر ماننے کا استظہار فرمایا۔
حیث قال اختلاف المطالع انما لم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃوھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انہا کاوقات الصلوات یلزم کل قوم العمل بما عندھم فیجزئ الا ضحیۃ فی الیوم الثالث عشر عــــــہ وان کان علی رؤیا غیر ھم ھو الرابع عشر ۔ جہاں انھوں نے کہا کہ روزہ میں مطالع کا اختلاف صرف اس لئے معتبر نہیں کہ روزے کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے او ریہ قربانی کے کے معاملہ کے خلاف ہے تو ظاہر یہ ہے کہ قربانی کا معاملہ اوقاف نماز کی طرح ہے ہر علاقہ کی قوم پر وہی لازم ہے جو اس کے ہاں ثابت ہو۔لہذا تیسرے دن قربانی جائز ہے اگر چہ وہ دن دوسروں کے ہاں چوتھا دن بنتاہو۔(ت)
مگریہاں اس کی گنجائش نہ ملے گی کہ مسئلہ قربانی میں مطالع شمس سے کام نہیںجو ایك ہی فرسخ یعنی تین میل پر
عــــــہ: لایخفی ان الثالث والرابع عشروقعا سہوا وانما مقصودہ رحمہ اﷲ تعالی الثانی و الثالث عشر ۱۲ منہ قدس سرہ۔ شامی میں تیرہ اور چودہ تاریخ کا ذکر سہوا ہواجبکہ مقصد بارھویں اور تیرھویں تاریخ کا بیان ہے ۱۲ منہ قدس سرہ(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۹،€حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصوم دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۴۴۹€
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۹۴€
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۹۶€
#7387 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
مختلف ہوجاتے ہیں:
کما نص علیہ علماء الہیئۃ قلت بل الحق انہا تختلف فی میل واحد بل اقل من ذلکغیر ان التفاوت لقلتہ جدا لایستبین لنا الا فی نحو فرسخ۔ جیسا کہ اس پرعلماء ہیئت نے تصریح کی ہے میں کہتاہوں بلکہ حق یہ ہے کہ وہ ایك میل بلکہ اس سے کم میں مختلف ہوجاتے ہیں لیکن وہ اختلاف اتنا قلیل ہوتاہے کہ ہمیں صرف فرسخ کی مسافت تك معلوم ہوسکتاہے۔(ت)
بلکہ یہاں غرض مطالع قمر سے ہے کہ چوبیس فرسخ یعنی بہتر میل سے کم میں نہیں بدلتےجن کے اس حساب سے کہ ایك میل کوس کے پانچ ثمن کا نام ہے
کما تشہد بہ التقادیر الدائرۃ بن اھل اللسان اذا اقیست الی الامیال المنصوبۃ فلا عبرۃ بما تلہج بہ متعلم النصاری جیسا کہ اہل لسان کے ہاں معروف اندازے اس پر شاہد ہے جبکہ گاڑے ہوئے میلوں کا حساب کیا جائے تو نصاری کے شاگردوں کے قول کا اعتبار نہیں۔(ت)
پینتالیس کو س ہوئے۔
فی ردالمحتار فی شرح المنہاج للرملی وقد نبہ التاج التبریزی علی ان اختلاف المطالع لایمکن فی اقل من اربعۃ وعشرین فرسخا وافتی بہ الوالد والاوجہ انہا تحدیدیۃ کما افتی بہ ایضا اھ فلیحفظ انتہی اقول: والمنفی ھو الامکان العادی وان زعمت الفلاسفۃ ما زعمت فان اﷲ علی کل شیئ قدیر۔ ردالمحتار اور شرح منہاج امام رملی میں ہے۔اور تاج الدین تبریزی نے اس پر تنبیہ کی ہے کہ چوبیس فرسخ سے کم میں مطالع کا اختلاف ممکن نہیں ہے اور والد گرامی نے اس پر فتوی دیا ہے اور اس اندازہ کا تحدیدی ہونا مناسب ہےجیسا کہ انھوں نے یہ بھی فتوی دیا ہے اھ محفوظ کرو انتہیمیں کہتا ہوں امکان عادی کی نفی کی گئی ہے اگر چہ فلاسفہ جو چاہے خیال کریںتو بیشك اﷲ تعالی ہر چیز پر قادر ہے(ت)
اور بریلی سے رامپور کا فاصلہ براہ دائرہ طول کہ علم ہیئت میں اسی کا لحاظ ہےاس
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۹۶€
#7388 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
مقدار عــــــہ کے نصف کو بھی نہیں پہنچتا اور اگر حساب عامہ ہی لیجئے تو بھی اس سے بہت کم ہے۔بہر حال وہ تفاوت ہر گز نہیں جس کے باعث چاند کے مطلع بدلتے ہیںلاجرم جب ثبوت شرعی پہنچے گا قطعا ظاہر ہوجائے گا کہ سہ شنبہ کی قربانیاں ایام نحر گزر جانے کے بعد تیرھویں تاریخ واقع ہوئی اب وہ احکام تصدق جو صورت بالا میں بطور افضلیت واستحباب مذکور ہوئے تھے سب واجب ہوجائیں گے کما ظھر مما مر(جیسا کہ گزشتہ سے ظاہر ہوا۔ت)
تحقیق ان مسائل کی فقیر کے رسالہ "ازکی الاھل بابطلال مااحدث الناس فی امر الہلال" میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: از ایرایاں محلہ سادات ضلع فتح پور مسئولہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ۲۳ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ امسال اخبار وغیرہ سے معلوم ہوا کہ بقر عید کو ۲۹ کا چاند ہوا مگر معقول سند نہ ملنے سے تیس کے حساب سے عیدالاضحی ہوئیتوقربانی ۱۲ تاریخ کو ۳۰ کے حساب سے کرے یا احتیاطا اختلاف کی وجہ سے ۱۱ تك کرلے ۱۲ کو نہ کرے۔
الجواب:
دربارہ رؤیت کا کچھ اعتبار نہیں۔ہمیں حکم ہے کہ ۲۹ کا چاند اگر ثابت نہ ہو تو ۳۰ دن پورے کرلیں فان غم علیکم فاکملوا العدۃ ثلثین(اگر بادل ہوجائے تم پر تو تیس کی گنتی پوری کرو۔ت)۳۰ کے حساب سے بارھویں تك قربانی بے تکلف کریں احتمالات کا شریعت میں کچھ اعتبار نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: از بنگالہ شہر اسلام آباد چاٹگام موضع ادھونگر مرسلہ مولوی عبدالجلیل صاحب ۷ ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
چہ فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں صورت کہ درخانہ شخصے وہ کس موجوداستوقربانی بر ہریك ایشاں واجب استپس شخصے مذکور گاوے خریداز طرف ہفت کس قربانی نمود وازجانب سہ کس ہیچ نکردووقت قربانی فوت گردید علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك گھر میں دس حضرات موجود ہیں اور ان سب پر قربانی واجب ہو تو گھر والے شخص نے سات حضرات کی طرف سے گائے خریدی اور قربانی کردیاور باقی تین حضرات کی قربانی نہ ہوئی اور

عــــــہ:طول رامپور قید لو یعنی ۱۱۴/۳۶ طویل بریلی قید لط یعنی ۱۱۴/۵۹ فصل بقدر ہا کج یعنی ۰/۲۳ میل تقریبا ۲۵۔۳/۱ جن کے سولہ کوس سے بھی کم ہوئے ولہذا دونوں شہر کے نصف النہار میں تفاوت صرف بقدر ہا الب ہوتا ہے یعنی جب یہاں ۱۲ بجتے ہیں وہاں بارہ بجنے میں دیڑھ منٹ باقی ہوتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔منہ قدس سرہ العزیز
#7389 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
پس از بواقی ساقط شودیا بمقدار آں مرفقراء و مساکین راصدقہ کنند شرعا چہ حکم است۔بینوا بسنۃ الکتاب توجروا من الملك الوھاب۔ قربانی کاوقت ختم ہوگیا تو کیا باقی حضرات کی قربانی ساقط ہوجائے گی یا وہ حضرات کی مالیت کو فقراء ومساکین پر صدقہ کریںشرعا کیا حکم ہے بتاؤ اور اجر اپنے عطا کرنے والے مالك سے پاؤ۔(ت)
الجواب:
از شہ باقی ساقط نشود فان الاضحیۃ واجبۃ عینا لا کفایۃ وچوں وقت گزشتہ است واجب است کہ ہر ایك ازیں سہ کساں قیمت گوسپندے کہ دراضحیہ کافی شودبرفقرا صدقہ کند فی الدر لمختار ترکت التضحیۃ ومضت ایامہا تصدق غنی بقیمۃ شاۃ تجزئ فیہا اھ ملتقطا۔واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ باقی تین سے قربانی ساقط نہ ہوگی کیونکہ واجب عینی ہے واجب کفایہ نہیں ہے جب وقت گزر گیا تو ان کو چاہئے کہ وہ بکرے کی قیمت فقراء پر صدقہ کریںدرمختار میں ہے کہ قربانی چھوٹ گئی ہو تو وقت ہوجانے پر غنی شخص بکرے کی قیمت صدقہ کردے تو اس سے کفایت حاصل ہوجائے گی اھ ملتقطا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۱۹۱: ۲ ۱ ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زید کے پاس مکان سکونت کے علاوہ دو ایك اور ہوں تو اس پر قربانی واجب ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
واجب ہے جبکہ وہ مکان تنہا یا اس کے اور مال سے کہ حاجت اصلیہ سے زائد ہومل کر چھپن روپے کی قیمت کو پہنچیںاگر چہ مکانوں کو کرایہ پر چلاتاہو یا خالی پڑے ہوں یا سادی زمین ہوبلکہ مکان سکونت اتنا بڑا ہے کہ اس کا ایك اس کے جاڑے گرمی کی سکونت کے لئے کافی ہو اور دوسرا حصہ حاجت سے زائد ہو اور اس کی قیمت تنہا یا اسی قسم کے مال سے مل کر نصاب تك پہنچے جب بھی قربانی واجب ہے۔اسی طرح صدقہ بھی۔
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ ان کان لہ عقار ومستغلات ملك اختلف المشائخ ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ زمین اور آمدن والی ملکیت ہو تو متاخرین فقہاء رحمہم اﷲ تعالی نے
حوالہ / References درمختار کتا ب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲€
#7390 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
المتاخرون رحمہم اﷲ تعالی فالزعفرانی و الفقیہ علی الرازی اعتبرقیمتہا وابوعلی الدقاق وغیرہ اعتبرا الدخل۔واختلفوا فیما بینہمقال ابوعلی الدقاق ان کان یدخل لہ من ذلك قوت سنۃ فعلیہ الاضحیۃ ومنہم من قال قوت شہرومتی فضل من ذلك قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ الخ ونحوہ فی ردالمحتار ولم یذکر ترجیحا ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہاقول:بہ جزم فی الخانیۃ من صدقۃ الفطر ولم یحك خلافا حیث قال وما زاد علی الدار الواحدۃ والد ستجات الثلثۃ من الثیاب یعتبر فی الغناء اھ ثم قال واذ اکان لہ دار لا یسکنہا ویؤاجرھا اولا یؤاجرھا یعتبر قیمتھا فی الغناء وکذا اذا اسکنہا و فضل عن سکناہ شیئیعتبر فیہ قیمۃ الفاضل فی النصاب ویتعلق بہذا النصاب احکام وجوب صدقۃ الفطر والاضحیۃ وحرمۃ وضع الزکاۃ فیہ ووجوب نفقۃ الاقارب اھ اختلاف کیا ہے۔تو زعفرانی اور فقیہ علی رازی نے ان کی قیمت کا اعتبار کیا اور ابوعلی الدقاق وغیرہ نے ان کی آمدن کا اعتبار کیا ہے اور پھر آمدن کے اعتبار والوں کا آپس میں اختلا ف ہواابو علی الدقاق نے کہا اگر سال بھر کی آمدن حاصل ہوجائے تو قربانی واجب ہے اور ان میں سے بعض نے مہینے کا قول کیا ہے آمدن میں سے سال بھر میں دو سو درہم فاضل بچ جائیں یا اس سے زائد تو اس پر قربانی واجب ہے الخ اور ردالمحتار میں اسی کی مثل مذکور ہے اور انھوں نے ترجیح کو ذکر نہ کیامجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ میں یوں لکھا ہے۔عبارت یہ ہےاقول(میں کہتاہوں)خانیہ میں اس پر جز فطرانہ کے متعلق کیا ہے اور انھوں نے اختلاف کو ذکر نہ کیاجہاں انھوں نے فرمایاجو ایك مکان اور تین جوڑے لباس سے زائد ہوں وہ غناء میں شمار ہوگا اھپھر فرمایا اگر اس کا مکان ہو جس میں رہائش پذیر نہیں اس کو کرایہ پر دیا ہو یا نہ دیا ہو تو اس کی قیمت کے اعتبار سے غناء میں شمار ہوگااور یوں اگر مکان میں رہائش پذیر ہو اور رہائش سے کچھ کمرے زائد ہوں تو زائد کی قیمت کو نصاب میں شمار کیا جائے گا اور اس نصاب سے صدقہ فطر اور قربانی زکوۃ لینے کی حرمت اقارب کا نفقہ کے احکام متعلق ہوجائیں گے اھ۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۲€
فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الصوم فصل فی صدقہ الفطر ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الصوم فصل فی صدقہ الفطر ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۷€
#7391 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
وھکذا انقل الکلام عنہا برمزہ"خ"فی خزانۃ المفتین وکذلك ذکر فی البزازیۃ اقوال المتاخرین کالزاعفرانی والدقاق وغیرھما مقدما قول الزعفرانی ان العبرۃ بالقیمۃ ثم قال وعند الثانی رحمہ اﷲ ھو موسر بالضیاع۔ اھ وفی الہندیۃ عن الخلاصہ عن الاجناس لو کان لہ دار فیہا بیتان شتوی وصیفی و فرش شتوی وصیفیلم یکن بہا غنیا فان کان لہ فیہا ثلث بیوت و فیمۃ الثالث مائتا درھم فعلیہ الاضحیۃ الخومثلہ فی البزازیۃ وقال قبلہ لو کان فی داراجارۃ فاشتری ارضا بنصاب وبنی فیہا منزلا یسکنہ لزمت اھوبالجملۃ قد تظافرت الروایات علی الایجاب وھو الموافق لاطلاق المتون والشروح من قولہم کما فی الہدایۃ وغیرھا واجبۃ علی الحر المسلماذا کان مالکا لمقدار النصاب فاضلا عن
اور خزانۃ المفتین میں خانیہ کی اس کلام کو اس کی رمز"خ"کے ساتھ ذکر کیا اور یوں ہی بزازیہ نے متاخرین کے اقوال کو ذکر کیا اور زعفرانی کے قول کو دوسروں پر مقد کیا کہ قیمت کا اعتبار ہے اور پھر کہا کہ امام ثانی(امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی)کے نزدیك زمینوں کی وجہ سے غنی قرار پائے گا اھاور ہندیہ میں خلاصہ سے بحوالہ اجناس ذکر کیا کہ اگر مکان میں دو کمرے ہوں موسم سرما اور دوسرا موسم گرما کے لئے ہو اور سردی اور گرمی کے بستر ہوں تو اس سے غنی شمار نہ ہوگااور اگر مکان کے تین کمرے ہوں اور تیسرے کی قیمت دو سو درہم ہو تو اس پر قرانی لازم ہوگی الخ اور ا س کی مثل بزازیہ میں مذکور ہے انھوں نے اس سے قبل ذکر کیا اگر کوئی کرایہ کے مکان میں ہو تو اس نے نصاب برابر قیمت سے زمین خرید کر مکان بنایا اور اس میں رہائش پذیرہوا تو اس پر قربانی لازم ہے اھخلاصہ یہ کہ اس پر قربانی کوواجب کرنے والی روایات کثیرہ متفق ہیں اور یہی متون اور شروح کے اطلاق کے موافق ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہ کا قول ہے کہ آزاد مسلمان جب اپنی رہائش لباس ضروری سامان
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۶۸۷€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۳€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۸۷€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۸۷€
#7392 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ وھو المنقول من احد شیخی المذھب والخلاف انما جاء عن المتأخرین ثم ھوالاحوط فعلیہ فلیکن التعویل فان قلت الیس قد احالو یسار الاضحیۃ علی یسار صدقۃ الفطر واحال فی التنویر یسار ھا علی نصاب یحرم الصدقۃحیث قال صدقۃ الفطر تجب علی کل مسلم ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ وان لم ینم وبہ تحرم الصدقہ اھ وقال فی الدرمن مصارف الزکوۃ لایصرف الی غنییملك قدر نصاب فارغ من حاجتہ الاصلیۃ من ای مال کان اھ وقال فی رد المحتار ذکر فی الفتاوی فیمن لہ حوانیت ودور للغلۃ لکن غلتہا لاتکفیہ ولعیالہ انہ فقیر و یحل لہ اخذا الصدقۃ عن محمد وعند ابی یوسف لاحل کذا لولہ کرم لاتکفیہ غلتہ اھ سے زائد مقدار نصاب کا مالك گھوڑےہتھیار اور غلام وغیرہ سے زائد مقدار نصاب کا مالك ہو تو قربانی واجب ہےاور وہی مذہب کے ایك شیخ سے بھی منقول ہے اور اختلاف متاخرین میں پیدا ہوا ہےپھریہ باعث احتیاط ہے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئےاگر تو اعتراض کرے کہ فقہاء کرام نے قربانی کے معیار وجوب کو صدقہ فطر کےمعیار وجوب کی طرف پھیرا ہے اور تنویر میں قربانی کو صدقہ واجبہ کی حرمت کے معیار پر لاگو کیا ہے جہاں انھوں نےکہا کہ صدقہ فطر ہر ایسے مسلمان پر واجب ہے جو اپنی اصل حاجت سے زائد نصاب والا ہو اگر چہ وہ نصاب نامی نہ ہو اور اسی نصاب سے صدقہ واجبہ لینا حرام ہوجاتاہے اھ۔اور درمختار میں مصارف زکوۃ کے باب میں کہا کہ زکوۃ غنی پر صرف نہ کی جائے غنی وہ ہے کہ اپنی اصلی حاجت سے فارغ قدر نصاب کا مالك ہو خواہ کوئی بھی مال ہو اھ اور رد المحتار میں کہا کہ فتاوی میں مذکور ہے ایسے شخص کے متعلق جو دکانوں اور مکانوں کا مالك ہو جن کو کرایہ پر دیا ہو لیکن ان کا کرایہ اس کو اور اس کے عیال کو کفایت نہیں کرتا تو وہ فقیرہے۔امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك اس کو زکوۃ حلال ہے اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك حلال نہیں ہے۔
حوالہ / References الہدایہ کتاب الزکوٰۃ باب صدقۃ الفطر ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۱۸۸€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ باب صدقۃ الفطر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۳۔۱۴۲€
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۱€
#7393 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
وفی التتارخانیۃ عن الصغری لہ داریسکنہا لکن تزید علی حاجتہ بان لایسکن الکل یحل لہ اخذ الصدقۃ فی الصحیحوفیہا سئل محمد عمن لہ ارض یزرعہااو حانوت یستغلہااور دار غلتہا ثلثۃ الاف ولا تکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ یحل لہ اخذ الزکوۃ وان کانت قیمتہا تبلغ الوفاءوعلیہ الفتوی و عندھما لایحل اھ الکل ملخصاتقلت نعم یفتی بہذا فی حرمۃ الصدقۃوبہ جزم فی الخانیۃ وخزانۃ المفتینقالا لو کان لہ حوانیت او دار غلۃ تساوی ثلثۃ الافوغلتہا لا تکفی لقوتہ وقوۃ عیالہ یجوز صرف الزکوۃ الیہ وکذا لو کان لہ ضیعۃ تساوی ثلثۃ الاف ولا یخرج منہا مایکفی لہ ولعیالہ یجوز لہ اخز الزکوۃ اھ ثم لم یمنعہا ھذا علی جزمہما فی مسئلۃ الاضحیۃ اوریونہی اگر انگو رہوں اور ان کی آمدن اسے کافی نہ ہو اھاور تتارخانیہ میں فتاوی صغری سے منقول ہے کسی کا مکان رہائشی ہو لیکن حصہ حاجت سے زائد نہ ہو اور سب میں رہائش نہ ہو تو صحیح قول میں اس کو زکوۃ لینا حلال ہے اور اس میں ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ سے سوال کیا گیا کہ کسی کی زراعت والی زمین ہو یا دکانیں کرایہ پر دی ہو یا مکانات کرایہ والے ہوں اور ان کی آمدن تین ہزار ہوا اور وہ اس کو اور اس کے عیال کو سال بھر کے لئے کافی نہ ہو تو اس کو زکوۃ لینا حلال ہے اگر ان کی قیمت خرچہ کو پورا کرتی ہواور اسی پر فتوی ہے اور شیخین کے نزدیك حلال نہیں ہے اھیہ تمام عبارتیں ملخص ہیںجواب میں کہتاہوں ہاں زکوۃ کے حرام ہونے کے لئے یہ فتوی ہے اور اسی پر خانیہ اور خزانۃ المفتین میں جزم کیا ہے ان دونوں نے کہا کہ اگر دکانیں اور مکان کرایہ پر دئے ہوں جن کی آمدن تین ہزار ہو اور یہ آمدن اس کو اور اس کے عیال کو کافی نہ ہو تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے اور یوں اگر زرعی زمین ہو جس کی قیمت تین ہزار ہو جبکہ اس سے حاصل ہونے والا غلہ اتنا نہیں کہ اس کو اور اس کے عیال کو کافی ہو تو اس کو زکوۃ لینا جائز ہے اھپھر یہ زکوۃ لینے کا جواز ان دونوں حضرات کے جزم کے مطابق قربانی کے مسئلہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۵€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الزکوٰۃ فصل فیمن یوضع فیہ الزکوٰۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۲۴،€خزانۃ المفتین کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۷€
#7394 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
بمارأیت ولا تلازم بین حل الصدقۃ و سقوط الواجبات المالیۃحتی صرح العلماء ان من لہ نصاب سائمۃ لا تساوی مائتی درھم تحل لہ الزکوۃ وتلزم الزکوۃفی ردالمحتار عن الشرنبلالیۃ عن الجوھرۃ عن الامام المرغینانی اذا کان لہ خمس من الابل قیمتہا اقل من مائتی درھم تحل لہ الزکوۃ وتجب علیہ اھ وتمامہ تحریرہ فیہ ولا شك ان الزکوۃ اضیق وجوبا من صدقۃ الفطر والا ضحیۃ فلا غرو ان وجبتا علی صاحب الضیاع والمستغلات لمبلکہ نصابا فاضلاوحلت لہ الصدقۃ لعدم کفایۃالغلۃ لہ و لعیالہ معایبقی خلاف مفہوم ما افادہ فی التنویر ولا حرج فیہ بعد ماجاءت من العلماء تلك النصوص بالتکثیرواﷲ تعالی اعلم۔
کے لئے مانع نہیںجیسا کہ تم نے دیکھاجبکہ زکوۃ کے حلال ہونے اور واجبات مالیہ کے ساقط ہونے میں تلازم نہیں ہے حتی کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ جس کے پاس سائمہ جانوروں کا نصاب موجود ہو اور ان جانوروں کی قیمت دو سو درہم کے مساوی نہ ہو تو اس کو زکوۃ لینا حلال ہے اس کے باوجود جانوروں کی زکوۃ اس پر واجب ہےاور ردالمحتار میں شرنبلالی بحوالہ جواہر امام مرغینانی سے منقول ہے کہ اگر کسی کے پاس پانچ اونٹ ہوں جن کی قیمت دو سو درہم سے کم ہو اس کو زکوۃ حلال ہے باوجود یہ کہ اس پر اونٹوں کی زکوۃ واجب ہے اھ اور ا س مکمل بحث وہاں موجود ہے اور اس میں شك نہیں کہ زکوۃ کا وجوب صدقہ فطر اور قربانی کے وجوب سے کڑاہے تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ صدقہ فطر اور قربانی زمین وغیرہ کی آمدن والے پر واجب ہوں جبکہ وہ آمدن اصل حاجت سے زائد نصاب برابر اور ساتھ ہی اس کو زکوۃ لینا حلال بھی ہو کیونکہ زمین کی آمدن اس کو اور اس کے عیال کو کافی نہ ہوہاں تنویر کے مفاد مفہوم کا خلاف باقی رہا تو اس میں علماء کی کثیر نصوص آجانے کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۲: مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب از بانکی پو ر پٹنہ ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ
ایك شخص برائے نام صاحب جائدا د ہے۔سو روپیہ سالانہ آمدن کی جائداد ہے۔وہ شخص(ہہ۔للعہ)ماہوار کا نوکر بھی ہے۔جو اس کی ضروریات دنیویہ کو کافی ہے۔کسی سال میں کچھ نہیں بچتا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۵€
#7395 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
اس کی بیوی کے پاس تقریبا(معہ ۷۰)روپیہ کا زیور ہے۔۵۰ کا طلائی باقی نقرئیاب ایسی صورت میں یہ تو ظاہر ہے کہ زکوۃ میاں بی بی دو میں کسی پر واجب نہیں مگر صدقہ فطر وقربانی ان دونوں یا ایك پر واجب ہے یانہیں اور ہے تو کس پر
الجواب:
ستر روپیہ کا زیور اگر مملوك زن ہے ار اس پر قرض نہیں تو اس پر نہ صرف اضحیہ وصدقہ فطر بلکہ زکوۃ بھی فرض ہے کہ اگر چہ (صہ)کے سونے(عہ)کی چاندی میں کسی کی نصاب کامل نہیںمگر سونے کو چاندی کرنے سے چاندی کی نصاب کامل مع زیادہ ہوجائے گیہاں شوہر پر صدقہ واضحیہ بھی نہیںاگر چہ زیو رمذکور بھی اسی کی ملك ہو کہ تمام کا قرض محیط ہے۔مگر ان علماء کے نزدیك کہ ایجاب صدقہ واضحیہ میں قیمت جائداد کا اعتبار کرتے ہیں اور راجح ومفتی بہ اول ہے واﷲ تعالی اعلم۔ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
ان کان لہ عقار ومستقلات ملك اختلف المشائخ المتاخرون رحمہم اﷲ فالزعفرانی والفقیہ علی الرازی اعتبر اقیمتہاوابو علی الدقاق وغیرہ اعتبر الدخلواختلفوا فیما بینہمقال ابوعلی الدقاق ان کان یدخل لہ من ذلك قوت سنۃ فعلیہ الاضحیۃ و منہم من قال قوت شہر و متی فضل من ذلك قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ ۔ اگر کسی کی زمین اور آمدن والی ملکیت ہو متاخرین مشائخ کااختلاف ہے تو زعفرانی اور فقیہ علی رازی نے قیمت کا اعتبار کیا ہے اور ابو علی الدقاق وغیرہ نے آمدن کا اعتبار کیا ہے اور ان کا اپس میں اختلاف ہوا اور ابوعلی الدقاق نے کہا اگر اس کو ان اشیاء سے سال بھر کے خرچہ کی آمدن ہو تو اس پر قربانی واجب ہے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ماہانہ خرچہ کی آمدن ہو اور جب سال بھر میں دو سو درہم یا زائد فاضل بچ جائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
سئل محل عمن لہ ارض یزرعیہا او حانوت یستغلہا او دار غلتہا ثلثۃ الاف ولاتکفی لنفقتہ ونفقۃ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے سوال کیا گیا ایسے شخص کے متعلق کہ اس کی زرعی زمین یا دکان یا مکان کا کرایہ آمدن تین ہزار ہے اور اس کے اور
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۲€
#7396 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
عیالہ سنۃ یحل لہ اخذالزکوۃ وان کانت قیمتہ تبلغ الوفاء وعلیہ الفتوی وعندھما لا یحل ۔ اس کے عیال کے سال بھر کے نفقہ کے لئے کافی نہیں اس کو زکوۃ حلال ہے اگر چہ ان کی قیمت کفایت کو پہنچی ہواور اسی پر فتوی ہے اور شیخین کے نزدیك حلال نہیں۔(ت)
درمختار کے صدقہ فطر میں ہے:
تجب علی کل مسلم ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ وان لم ینموبہذا النصاب تحرم الصدقۃ وتجب الاضحیۃ ونفقۃ المحارم علی الراجح اھ قلت فالذی لہ ارض قیمتہا الوف کما وصف لو کان تجب علیہ الاضحیۃ لحرمت علیہ الزکوۃ لکنہا لم تحرم فالاضحیۃ لم تجبواﷲتعالی اعلم۔ ہر مالك نصاب مسلمان پر کہ اس کی اصل حاجت سے زائد ہو اگر چہ یہ نصاب نامی نہ ہو تو راجح قول پر محارم کا نفقہ اور قربانی واجب ہے اور اس نصاب سے زکوۃ لینا حرام ہوجاتاہےمیں کہتاہوں جس کے پاس زمین ہے جس کی قیمت ہزاروں ہے جیسے بیان کیا گیا ہے اگر اس پر قربانی واجب ہے تو اس کو زکوۃ لینا حرام ہے لیکن زکوۃ حرام نہیںلہذا قربانی واجب نہیں واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۳:از سرکار مارہرہ شریف مرسلہ حضور سیدنا سید مہدی حسن میاں صاحب سجادہ اقدس دامت برکاتہم ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
اعلیحضرت محترم خادمانہ عرض ہے۔فقیر رضوی کی عمر گیارہ سال کچھ ماہ کی ہے۔زیور اس کے پاس غالبا ساٹھ روپے کا ہے۔بالغ نہیں ہے۔قربانی اس کے ذمہ واجب ہپے یا نہیں پیر برکات عمر سترہ سالہ خلف بھائی جان مرحوم بے ماں باپ کا ہے لیکن اس کی والدہ کا زیور وظروف مسی وپار چہائے پوشیدنی ہیں جو بغضب ایك شخص کے پاس ہیں جن کے ملنے کی کسی قسم کی امید اس کو کسی زمانہ میں نہیں وہ مالك ووارث ان چیزوں کا ضرور ہے مگر اس کے قبضہ سے قطعی باہر ہیں اور صحیح طور سے یہ بھی نہیں معلوم کہ ان چیزوں کا وجود ہے یانہیں۔اس کے ذمہ قربانی ہے یانہیں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۵€
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب صدقہ الفطر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۴۲و۱۴۳€
#7397 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الجواب:
حضور والہ آداب غلامانہ معروضنابالغ اگر چہ کسی قدر مادار ہو نہ اس پر قربانی ہے نہ اس کی طرف سے اس کے باپ وغیرہ پرحضرت صاحبزادہ صاحب اگراس مال کے سوا اپنی حاجت اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کے مالك ہیں تو ان پر قربانی ہے ورنہ نہیںوہ مال کہ نہ کبھی اس کے ملنے کی امید ہو نہ اس کا وجو د ہی معلوممثل معدوم ہے۔اس کے سبب وجوب نہ ہوگا۔زیادہ حد ادب۔
مسئلہ ۱۹۴: ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں۔سائل دریافت کرتاہے کہ قربانی ولی کرے تو سب گھروالوں کی طرف سے ہوجائے گی کیونکہ سب اولاد شامل ہے مثلا بیٹے اور بیٹوں کی اولادنواسے وغیرہ اور سب مال اسباب کا دادا جو جوکہ ولی ہے مالك ہے۔اور دوسروں کو اختیارات بالکل نہیں ہیںاور ولی اپنے دل میں خیال کرکے قربانی یا دیگر صدقات یا زکوۃ یا میلاد شریف کرتاہے اس صورت میں سب کی طرف سے قبول ہوگی یا ولی کی طرف سے بینوا توجروا
الجواب:
ایك قربانی نہ سب کی طرف سے ہوسکتی ہےنہ سوا مالك نصاب کے کسی اور پر واجب ہے۔اگر اس کی نابالغ اولاد میں کوئی خود صاحب نصاب ہو تو وہ اپنی قربان جدا کرےیونہی زکوۃ جس جس پر واجب ہے یہ الگ الگ دیںایك کی زکوۃ سب کی طرف سے نہیں ہوسکتیجو چیز واجب شرعی نہیں مثلا صدقہ نفل ومیلادمبارك وہ بھی ایك کے کرنے سے سب کی طرف سے نہ قرار پائے گاہاں کرنے والا ہر ایك کا اگرچہ فرض ہو اپنی اولاد اور گھروالوں جن کو چاہئے پہنچا سکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۵: از مدرسہ منظر الاسلام مرسلہ مولوی احسان علی صاحب متعلم مدرسہ مورخہ ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نصاب کے لئے یہ بھی شرط ہےکہ ۵۲۔۱/۲(ساڑھے باون) تولے چاندی یا ۷۔۲/ ۱(ساڑھے سات)تولے سونابمقدار اس کے روپیہ موجود ہوں جب قربانی واجب ہے یا کہ اتنے مقدار کی مالیت ہو چاہے اس کے پاس کاشت ہو یا چوپائے ہوں اگر ایسے شخص کے پاس ۶۰ روپیہ کی بھینس یا بیل ہے تو اس پر قربانی ہے یانہیں کسی شخص کو ہزار روپیہ ماہوار کی آمدنی ہے لیکن بزمانہ قربانی ایك روپیہ بھی اس کے پاس موجود نہیںوہ شخص قرض لے کر قربانی کرے گا یا کہ نہیںعلی ہذا القیاس کاشت فروخت کرکے قربانی کرے گا یا نہیں بینوا توجروا
#7398 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الجواب:
قربانی واجب ہونے کے لئے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ کے مال کا مالك ہوچاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشتکاشتکار کے بل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ان کا شمار نہ ہوہزار روپیہ ماہوار کی آمدنی والا آدمی قربانی کے دن ۵۶ روپیہ کا مالك نہ ہویہ صور ت خلاف واقعہ ہے۔اور اگر ایسا فرض کیا جائے کہ اس وقت وہ فقیر ہے تو ضرور اس پر قربانی نہ ہوگیاور جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں وہ چاہے قرض لے کر کرے یااپنا کچھ مال بیچےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶: ۱۳ ذوالحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك بکری پارسال قربانی کے ارادہ سے لی گئیاس نےگھر میں آکر دودھ دیااور لوگوں نے کہایہ بکری دودھ کی ہےاس کی قربانی مت کروتو اس کے عوض ایك مینڈھا قربانی کردیااور بکری کو گاؤں بھیج دیاوہاں جاکر وہ گابھن ہوگئیپھر اس کو مکان پر بلا لیایہاں آکر دو بکری بیائیاور ان کا بھی یہی ارادہ کیا کہ جب یہ دونوں بکری سال بھر کی ہوجائیں گی ان کی بھی قربانی کردی جائے گیاس کا دودھ بھی اپنے کام میں آیابعد کو بکری مع اس کے بچوں کے گاؤں بھیچ دی گئیپھر اب اس کو گاؤں سے منگوالیا قربانی کے لئےتو اس کے آثار سے معلوم ہوا کہ گابھن ہے اس کی قربانی نہیں کی بلکہ اس کے عوض میں ایك مینڈھا قربانی کردیا گیا۔
پس اس صورت میں بکری کا دودھ کام آسکتاہے یانہیں اورآیا اس بکری کو فروخت کرنایا لینا جائز ہے اپنے لئے یہ بکری کا دودھ ڈھائی روپیہ میں پارسال خریدی گئی تھی اور پار سال جو مینڈھا اس کے عوض میں قربانی کیا گیا اس کی قیمت یا دنہیں۔اور اب کے جو مینڈھا قربانی کیا گیا دو روپیہ چھ آنہ میں خریدا گیا تھا۔بینوا توجروا
الجواب:
دودھ کے جانور یا گابھن کی قربانی اگرچہ صحیح ہے مگر ناپسند ہے۔حدیث میں اس سے ممانعت فرمائیسائلہ جبکہ غنیہ مابلکہ نصاب ہے تو بہ نیت قربانی بکری خریدنے سے خاص اسی کی قربانی اس پر لازم نہ ہوئی اسے بدل لینے کا اختیار تھادودھ دیتی دیکھ کر اس کے عوض مینڈھا کردیااس سال گابھن خیال کرکے بھی مینڈھا کیا کچھ حرج نہ ہوااس بکری کا پالنابیچنادودھ پینا سب رواہے۔
وکراھۃ الانتفاع بلبن الاضحیۃ وصوفہا قربانی سے قبل اس جانور کے دودھ اور اون سے انتفاع
#7399 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
قبل التضحیۃ انما کان لانہ التزام اقامۃ القربۃ بجمیع اجزائہا کما فی الدر افاذا اقام القربۃ بغیر ھابقیت علی حکم ملکہ المطلق المتصرف علی ان منہم من اجازھما اعنی الانتفاع باللبن والصوف للغنی مطلقا لو جوبہا فی الذمۃ فلا یتعین کما فی الدر عن الزیلعی قال الشامی والجواب ان المشتراۃ للتضحیۃ متعینۃ للقربۃ الی ان یقام غیرھا مقامہا اما کراھۃ الاستبدلال فشیئ خارج عما نحن فیہ لان الکلام فی حلا الانتفاع بہا بیعا وحلبا بعد ما ابدلت بل ھی الکراھۃ فی غیرھا اذا وجدہا ذات در او حمل لو رود الحدیث بالنہی عنہماواﷲ تعالی اعلم اس لئے مکروہ ہے کیونکہ اس نے اس جانور کو جمیع اجزاء سمیت قربت کے لئے لازم بنایا ہے جیسا کہ درمختارمیں ہے تو جب اس نے قربت دوسرے جانور سے قائم کرلی تو اب یہ اس کی مطلق ملك والے تصرف میں ہوگیاعلاوہ ازیں بعض نے دودھ اور اون سے غنی کو اتنفاع مطلقا جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس کے ذمہ واجب ہے لہذا یہ جانور متعین نہ ہوا جیساکہ در مختار میں زیلعی سے منقول ہے۔علامہ شامی نے اس کے جواب میں فرمایا کہ خریداری قربانی کے لئے ہونے کی وجہ یہ جانور متعین رہے گا جب تك دوسرا اس کے قائم مقام نہ بنالے لیکن دوسرے سے تبدیل کرنے کی کراہت علیحدہ معاملہ ہے وہ ہماری بحث سے خارج ہے کیونکہ یہاں اس جانور کو تبدیل کرنے کے بعد اس کی بیع اور دودھ سے انتفاع حلال ہونے میں بحث ہے بلکہ کراہت دودھ یا حمل پائے جانے کی وجہ ہے اس لئے بوجہ الغیر ہوسکتی ہے کیونکہ دودھ اور حمل والی کی نہی پر حدیث وارد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۷ تا ۱۹۸: از شہر بریلی مسئولہ منشی شوکت علی صاحب رضوی محرر چونگی شب ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)قربانی کس پر ہے اور واجب ہے یافرض
(۲)آج کل ہندوستان میں گائے کی قربانی بعض مسلمان مشرکوں کی خوشنودی کےلئے منع کرتے ہیں اورکہتے ہیں بکری کی قربانی کی جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
(۱)صاحب نصاب جو اپنے حوائج اصلیہ سے فارغ چھپن روپے کے مال کا مالك ہو اس پر قربانی
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€۴
درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۴€
ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۹€
#7400 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
واجب ہے۔
(۲)مشرکوں کی خوشنودی کے لئے گائے کی قربانی بند کرنا حرام حرام سخت حرام ہے۔اور جو بند کرے گا جہنم کے عذاب شدید کا مستحق ہوگا اور روز قیامت مشرکوں کے ساتھ ایك رسی میں باندھا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹: از موضع غنی پور ضلع منواکھال ڈاکخانہ صفدر گنج مرسلہ مولوی عبدالعزیز ۲۶ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں مثلا تین بھائی ہیں کہ تینوں ایك ساتھ رہتے ہیںجبکہ قربانی کا وقت آیا تو تینوں آپس میں مل کر بڑا بھائی کو حکم کیا کہ تم ہمارے نام کی ایك بکری خرید کر قربانی کرواس میں دو تین روپیہ جو بھی خرچ ہوں اس کا دعوی ہم نہیں رکھتے ہیں اس حالت میں قربانی ہوگا یا نہیں۔میرے یہاں بعض علماء فرماتے ہیں کہ قربانی بالکل جائز نہیں ہوگیکیونکہ شریك دار کا حصہ معاف کرنے سے بھی معاف نہیں ہوتااس فساد میں بہت سے لوگوں نے قربانی چھوڑدیاکیونکہ بعض تو ایسے ہیں کہ انھوں کے مال حصہ کرنے سے صاحب نصاب نہیں رہتے ہیںان علماؤ ں نے فرمایا ہیں کہ جنھوں کا مال حصہ کرنے سے صاحب نصاب نہیں رہتے ہیںانھوں کو قربانی ناکرنا چاہئےاگر چہ قربانی جائز ہے تو ان علماؤں کے حق میں کیا حکم ہے
الجواب المطول
مال شرکت میں جس کا حصہ بقدر نصاب نہ ہو نہ اس کے پاس اپنا اور کوئی خاص مال اتنا ہو کہ حصہ کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائےاس پر قربانی واجب نہیںیعنی نہ کرے گا تو گنہ گار ہوگا نہ یہ کہ اس کو قربانی نہ چاہئے یہ محض غلط ہے بلکہ کرے گا تو ثواب پائے گا بلکہ بہ نیت قربانی جانور خریدے گا تو اس پر بھی خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجائے گی نہ کرے گا اور اس جانور کو دوسرے سے بدل نہیں سکتا کہ اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہوئیدرمختارمیں ہے:
وفقیر ماشراھا لہا لو جوبہا علیہ بذلك حتی یمتنع علیہ بیعہا ۔ اور فقیر نے واجب نہ ہونے کے باوجود خریدی ہے اس لئے اس کو فروخت ممنوع ہے(ت)
ایك شریك اگر دوسرے شرکای کے اذن سے زر مشترك سے جانور خاص اپنی قربانی کے لئے خرید کراپنی طرف سے قربانی کرے تو بلاشبہ جائز ہے۔اور قربانی صحیح ہوجائے گیخواہ ان میں شرکت عقد ہو
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۲€
#7401 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
یا شرکت ملکبیان اس کا یہ کہ یہاں پانچ صورتیں ہیں:
۱ایك شرکت ملك کی اور چار شرکت عقد کیکہ ۲شرکت مفاوضہ ہو یا ۳شرکت عنانمطلق ہے خریدوفروخت میںجیسے یہ کہیں کہ جو کچھ ہم خریدیں وہ ہمارے آپس میں مشترك ہے۔یا ۴شرکت جن خاص اجناس میں قرار پائی ہے یہ جانور کہ اسے قربانی کو خریدا ان اجناس سے ہے۔۵اخیر صورت یہ ہے کہ یہ شرکت خاص ہےاور جانور اس کی جنس تجارت سے نہیں اول و اخیر یعنی شرکت ملك و شکل اخیر میں تو ظاہر ہے کہ یہ جانور خاص اس خریدنے والے کی ملك ہوگا۔
لان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ کما فی الاشباہ وغیرھابل قال فی الدر وغیرہ لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ الخ قال الشامی لانہ اذا لم یکن وکیلا بالشراء وقع الملك لہ فلا اعتبار بالاجازۃ بعد ذلك لانہا انما تلحق الموقوف لا النافذ ۔ کیونکہ خریداری جب مشتری پر بطور نفاذ پائی نجائے تو نافذ ہوجائیگیجیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔بلکہ درمختاروغیرہ میں کہا اگر غیر کے لئے خریدی تو خود اس پر نافذ ہوگی الخ شامی میں فرمایا کیونکہ غیر کا وکیل خریداری میں یہ نہیں ہے تو اس کی ملکیت قرار پائی گی تو اس کے بعد کی اجازت معتبر نہ ہوگی کیونکہ بعد کی اجازت موقوف بیع کا لاحق ہوسکتی ہے نافذ کو نہیں لاحق ہوسکتی۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
شریك العنان لہ ان یشتری مالیس من جنس تجارتہا ویقع الشراء لہ ویطالب بالثمن وکذا یقع الشراء لہ من جنس تجارتہما بعد ماصار المال عروضا اھ قلت و لم اذکر شرکت عنان میں شریك کواختیار ہے کہ وہ مسلمہ تجارت کے غیر کو خریدے جبکہ خریداری شریك کی اپنی ہوگی اور بائع اس سے ثمن کا مطالبہ کرے گا اوریونہی جب ان کی مسلمہ تجارت کی جنس کو خریدے نقد مال کے سامان بن جانے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۲۳،€فتاوی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب البیوع الفضل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۱۹،€ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۰€
درمختار کتاب البیوع فضل الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۷€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۵۱€
#7402 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
ھذا الاخیر لان الفرض انہ اشتری بدراہم الشرکۃ۔ کے بعد اھمیں کہتاہوںمیں آخر صورت کو ذکر نہ کروں گا کیونکہ یہاں مشترکہ دراہم سے خریدنا مفروض ہے۔(ت)
غایت یہ کہ ثمن جو مال شرکت سے ادا کیا ہے اس میں حصہ دیگر شرکاء کا اسے تاوان دینا ہوگا جبکہ شرکاء نے قیمت خریداری ثمن میں اپنے اپنے حصہ اسے ہبہ کئے ہوں کہ شیئ قابل قسمت میں ہبہ صحیح نہیں یا قبل شراء اپنے حصوں سے ابراء کیا ہو کہ ابراء یعنی معافی دین سے ہوتی ہے یہاں ابھی دین نہیںیا ابراء معلق کیاہویعنی جب تو اپنے لئے شرکت کے مال سے خریدے تو ہم نے تجھے اپنے حصے معاف کئے کہ ابراء صالح تعلیق نہیںعالمگیریہ میں ہے:
احدالمشرکین اذا قال لشریکہوھبت لك حصتی من الربح قالو ان کان المال قائما لا تصح لکونہا ہبۃ المشاع فیما یقسموان کان الشریك استھلك المال صحت الہبۃ لکونہا اسقاطا حینئذ کذا فی الظہیریۃ . دونوں شریکوں میں سے ایك نے دوسرے کو کہا میں نے اپنے حصے کا نفع تجھے ہبہ کردیا تو فقہاء نے فرمایا اگر نقد مال موجود ہو تو یہ ہبہ درست نہ ہوگا کیونکہ قابل تقسیم چیز کا مشاعی حصہ ہے اوراگر شریك نے مال کو ہلاك کردیا ہو تو ہبہ صحیح ہوگا کیونکہ اس صورت میں ہبہ کا مطلب حصہ کو ساقط کرنا ہے۔ظہیریہ میں یوں ہے۔(ت)
عینی پھر بحرالرائق پھر ردالمحتارمیں ہے:
انہ ای الابراء تملیك من وجہ حتی یرتد بالردوان کان فیہ معنی الاسقاط فیکون معتبرا بالتملیکات فلا یجوز تعلیقہ بالشرط ۔ کسی کو بری کرنا من وجہ تملیك ہے حتی کہ رد کردینے سے ابراء ہوجاتاہے اگر چہ اس میں اسقاط کا معنی ہے۔لہذا تملیکات میں معتبر ہوگا اس لئے شرکا کے ساتھ اس کی تعلیق جائز نہیں۔(ت)
ایضاح الکرمانی پھر عزمیہ پھر شامیہ میں ہے:
قال ان دخلت الدارفقد ابرأتك اگرکہا تو گھر میں داخل ہوجائے تو میں نے تجھے بری کیا۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۳۸۱€
ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۵€
#7403 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
وقال لمدیونہ اوکفیلہ اذا ادیت الی کذااومتی ادیت اوان ادیت الی خمس مائۃ فانت بری عن الباقی فہو باطل ولا ابراء ۔ اور اپنے مدیون یا کفیل کو کہا اگر تو مجھے اتنے یا جب ادا کرےیا یوں کہا اگر تو مجھے پانسو ادا کرے تو باقی سے بری ہے۔تو یہ باطل ہے کوئی برائت نہ ہوئی(ت)
ہندیہ میں قنیہ سے ہے:
قال ائمۃ بلخ التحلیل یقع علی ماھو واجب فی الذمۃ لا علی عین قائم ۔ بلخ کے ائمہ نے فرمایا جو ذمہ میں واجب ہواس سے برائت ہوتی ہے نہ کہ عین موجود مال سے(ت)
مگر اس سے جانور میں شرکاء کی ملك نہیں ہوتیخیریہ میں ہے :
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المشتری للاب ۔ باپ کے مال کے ساتھ خریداری کرنے سے یہ لازم نہیں اتا کہ خرید کردہ چیزباپ کی ہوجائے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
مااشتراہ احدھما لنفسہ یکون لہ و یضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترك ۔ ان میں سے کسی نے چیز کو اپنے لئے خریدا تو اسی کی ہوگیہ اور وہ اپنے شرکاء کے حصے کا ضامن ہوگا اگر خریداری میں مشترکہ مال دیا ہو(ت)
اور تین صورتوں میں اگر چہ جانور سب شرکاء کی ملك مشترك ٹھہرے گا مگر جبکہ وہ سب اسے اذن دے چکے کہ خاص اپنی طرف سے قربانی کردےاور یہ ناممکن ہے بے اس کے کہ جانور خاص اس کی ملك ٹھہرےتو ان کایہ اذن جانور میں سے اپنا اپنا حصہ اس کو ہبہ کرنا ہوگااور جانور قابل قسمت نہیں جو شیئ ناقابل قسمت ہو اس میں ہبہ مشاع صحیح ہےتو تنہا یہی اس جانور کا ملك ہوگیااور قربانی اس کی بلاد غدغہ صحیح ہوگئی اور اب اس پر ثمن میں حصہ شرکاء کا بھی تاوان نہیں آسکتامحیط پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۲۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۲€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۳۸€
#7404 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الشراء حال الشرکۃ لو من جنس تجارتہما فہو للشرکۃوان اشہد عند الشراء انہ لنفسہ لانہ فی النصف بمنزلۃ الوکیل بشراء شیئ معین وان لم یکن من تجارتہما فہولہ خاصۃ ۔ اگر جنس تجارت کو شرکت کے مال سے خریدا تو وہ شرکت کی ہوگی اگر چہ وہ خریداری کے وقت اپنی ذاتی ہونے پر بھی گواہ بنالےکیونکہ وہ معین چیز کی خریداری میں نصف کا وکیل ہے۔ ہاں اگر وہ چیز جنس تجارت میں سے نہ ہو تو اس کی ذاتی ہوگی۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
اذا اذن احدا المتفاوضین لصاحبہ ان یشتری جاریۃ فیطأہا ففعل فہی لہ بغیر شیئ لان الجاریۃ دخلت فی الشرکۃ علی البتات جریا علی مقتضی الشرکۃاذھما لایملکان تغییرہ فاشبہ حال عدم الاذنغیر ان الاذن یتضمن ھبۃ نصیبہ منہ لان الوطئ لا یحل الا بالمالکولاوجہ الی اثباتہ بالبیع(ای انہ ھلك بالشراء)لما بینا انہ یخالف مقتضی الشرکۃ فاثبتناہ بالہبۃ الثابتہ فی ضمن الاذن اھ مختصرا بزیادۃ مابین الہلالین للایضاح۔ جب شرکت مفاوضہ کے ایك شریك نے دوسرے کو لونڈی خرید کر وطی کی اجازت دے دی ہو اور اس نے ایسے کرلیا تو وہ لونڈی بلا عوض اس کی ہوجائے گی کیونکہ وہ لونڈی شرکت میں ہے۔شرکت کا مقتضی یہی ہے کیونکہ عقد شرکت کے بعد دونوں میں سے کوئی اس کو متغیر نہیں کرسکتا لہذا وہ وطی گویا کہ بلااذن متصور ہوئی مگر اجازت دینا اپنے حصے کو ہبہ کردینے کو متضمن ہے کیونکہ وطی مستقل ملکیت کے بغیر حلال نہیں ہوتی اور اس ملکیت کو بیع کی طرف منسوب کرنا یعنی یہ کہنا وطی کرنے والا خریدنے سے مالك ہوگیا درست نہیں کیونکہ یہ مقتضی شرکت کے منافی ہے تو ہم نے ملکیت کو اس ہبہ سے ثابت کیا ہے جو اذن کے ضمن میں پایا گیا اھ مختصرا۔اور وضاحت کےلئے ہلالین میں درج شدہ عبارت کا اضافہ کیا ہے۔(ت)
یہ لوگ جنھوں نے قربانی ناجائز ہونے کا فتوی دیا اور لوگوں سے قربانیاں چھڑادیں فقہ سے بے بہرہ معلوم ہوتے ہیں اور جو ایسا ہواسے فتوی دینا حرام ہے۔نسأل اﷲ العفو والعافیۃ و حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۳۔۳۴۲€
الہدایہ کتاب الشرکۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ انڈیا ۲/ ۶۱۶€
#7405 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الجواب المختصر
صورت مستفسرہ میں قربانی بلا شبہ جائز ہے۔اور بعض کا وہ شبہ محض بے اصل وباطل ہے۔اجازت اباحت ہے۔اور اباحت وہبہ میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔قربانی تو یوں جائز کرلیمال مشترکہ سے شریکوں کا کھانا پہننا کہ زمانہ رسالت سے بلانکیر رائج ہے سب حرام ہوجائے گا کہ ہبہ مشاع ہو ا اور ہبہ مشاع ہو اا ور ہبہ مشاع ناجائز ہے حالانکہ رب عزوجل فرماتاہے:
" و ان تخالطوہم فاخونکم" ۔ اگر تم آپس میں ملالو تو تمھارے بھائی ہیں۔(ت)
اور فرماتاہے:
" لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا " تمھیں حرج نہیں کہ تم اکھٹے کھاؤ یا متفرق۔(ت)
اس فتوی کے انداز سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ فتوی دینے والے لوگ فقہ نہیں جانتے نہ اس کام کے اہل ہیںاور نااہل کو فتوی دینا حرام اور سخت کبیرہ ہے۔حدیث میں ہے:
من افتی بغیر لم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ جو بغیر علم کے فتوی دے آسمان وزمین کے فرشتے اس پر لعنت کریں۔والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰: بمقام گھوسیا ضلع مرزا پور ڈاکخانہ اورائی مرسلہ جناب اکمل الدین صاحب مورخہ ۲۸ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس بارے میں کہ ہمارے موضع میں زمانہ قدیم سے تمام مسلمان حنفی المذہب ہوتے چلے آرہے ہیں مگر عرصہ چند روز ہوا کہ سات آدمیوں نے مذہب اہلحدیث کو اختیار کرلیا ہے اور ہمارے بزرگوں نے بڑی سعی کوشش سے قید کی مصیبت کو برداشت کرکے گورنمنٹ سے تین دن کی قربانی کا حکم جاری کرالیا تھا لیکن اس سال اسی فرقہ اہل حدیث سے ایك شخص نے کپتان کے روبرو
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲/ ۲۲۰€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۶۱€
کنز العمال بحوالہ بن عساکر عن علی ∞حدیث ۲۹۰۱۸€ موسستہ الرسالۃ بیروت ∞۱۰/ ۱۹۳،€الفقیہ والمتفقہ باب ماجاء من الوعید لمن افتی بغیر علم ∞حدیث ۱۰۴۳€ دار ابن جوزی ∞ریاض ۲/ ۳۲۷۸€
#7406 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
دستخط کردئے کہ ہم لوگ ایك روز قربانی کریں گے لہذ اہم لوگو ں کے خیال میں یہ بات آئی ہے کہ اسی سال میں دستخط کرنے کی وجہ سے دو روز کی قربانی منسوخ ہوگئیآئندہ خدا جانے ایك دم سے منع ہوجائے تو کیا تعجب ہے اور یہ گروہ تقلید کے بالکل منکر ہیں لہذا دستخط کنندہ کے ذمہ عائدہ ہوتاہے یانہیں اگر عائد ہوتا ہے یانہیں اگر عائد ہوتا ہے تو مع دلیل کے تحریر فرمائے اور ان لوگوں کو اپنے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے دیا جائے یا نہیں دوسرے یہ کہ ثناء اﷲ اپنی کتاب"اہل حدیث کا مذہب"کے صفہ ۵۲ میں لکھا ہےکہ عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ رکوع کے وقت چونکہ تطبیق کرگئے تھے دونوں ہاتھوں کو زانوں پر نہ رکھتے تھےچنانچہ صحیح مسلم میں ان کا یہی مذہب ثابت ہے بلکہ اپنے شاگردوں کو تاکید مزید اسی عمل کی کیا کرتے۔لہذا اس کی سند صحیح ہے یا لغو۔
الجواب:
غیر مقلدین گمراہ بدین ہیںان پر بوجہ کثیرہ کفرلازم ہے۔جس کی تفصیل"الکوکبۃ الشہابیۃ"میں ہے کہ حسب تصریحات قرآن عظیم واحادیث وائمہ ستر وجہ سے لزم کفر بیان کیاہے۔ان کا مساجد میں کوئی حق نہیں۔اور قربانی کے دو دن چھوڑدینے کا ان سے کیا تعجبوہ سارادین ہی قربان کئے بیٹھے ہیں جس کی تفصیل الکوکبۃ الشہابیہ وحسام الحرمین والاستمداد علی اجیال الا رتداد وغیرھا کتب میں شائع ہوچکی۔خوشنودی ہنودکے لئے گاؤ کشی بند کرنا یا اس کی توسیع میں جو اﷲ و رسول نے دیکمی قبول کرنا مسلمانوں کا کام نہیں۔
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار "
وقال اﷲ تعالی" واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾" واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تم ظلم کونیوالوں کی طر ف میلان نہ کرو۔تو تم کو آگ جہنم چھوئےاور اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی اور اس کا رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ ان کو راضی کریں اگر مومن ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۱: ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں شہر میں قبل نماز عید بعد طلوع شمس قربانی جائز ہے یانہیں اور اہل قریہ یا کہ شہر والے اپنی قربانی کو گاؤں بھیج دیں تو ان کوبعد صبح قبل نماز عید قربانی کرلیں توجائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۹/ ۶۲€
#7407 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
الجواب:
شہر میں قربانی اگر چہ ساکن دہ کی طرف سے وہ روز واول پیش از نماز عید(اور اگر نماز عید کسی عذر سے نہ پڑھیں تو پیش از خروج وقت نماز عید)ناجائز و نامعتبر ہے۔اور بیرون شہر اگر چہ فنائے مصر غیر متصل بمصر ہواگر چہ قربانی ساکن شہر کی ہوپیش نماز بعد طلوع فجر تاریخ دہم جائز ہے۔
فی الدرالمختار اول وقتہا بعد الصلوۃ ان ذبح فی مصرای بعد اسبق صلوۃ ولو قبل الخطبۃلکن بعد ھا احب وبعد مضی وقتہا لو لم یصلو اعلیہ العذر ویجوز فی الغد وبعدہ قبل الصلوۃ لان الصلوۃ فی الغد تقع قضاء لااداءزیلعی وغیرہو بعد طلوع فجر یوم النحر ان ان ذبح فی غیرہ والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری ارادان یخرجھا لخارج المصر فیضحی بہا اذ ا طلع الفجر اھ فی رد المحتار لخارج المصرای الی مایباح فیہ القصر قہستانی اھوفیہ"من باب صلوۃ المسافر "یشرط مفارقۃ ماکان من توابع موضع الاقامۃ کربض المصروھو ماحول المدینۃ من بیوت و مساکن فانہ فی حکم المصر وکذا القری المتصلۃ بالربض فی الصحیح درمختار میں ہے قربانی کا وقت نماز کے بعد ہے اگرشہر میں کرے یعنی نماز پڑھنے کے بعد اگر چہ خطبہ سے قبل ہولیکن خطبہ کے بعد مستحب ہے اور اگر عید کی نماز نہ پڑھیں تو نماز کا وقت گزر جانے کے بعداور دوسرے اور تیسرے اور تیسرے روز نماز سے قبل کیونکہ دسرے روز عید کی نماز قضاء ہوگی نہ کہ ادازیلعی وغیرہاور اگر گاؤں میں ذبح کرنی ہو تو عید کے روز صبح طلوع ہونے کے بعدقربانی میں ذبح کرنے کی جگہ معتبر ہے قربانی کرنے والے کی جگہ معتبرنہیںتو شہری کے لئے جلدی قربانی کا حیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے باہر لے جائے تو فجر طلوع ہونے کے بعد قربانی کرے اھرد المحتارمیں ہے:شہر سے باہر اتنی دور لے جائے جہاں سے مسافر کےلئے قصر شروع ہوتی ہے۔قہستانی اور اس کے باب صلوۃ المسافر میں ہے کہ قصر جائز ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے شہر کے توابع سے نکل جائے شہر کے توابع کی مثال ڈیرے وغیرہ اور وہ شہر کے ارد گرد کے مکانات ہیںاور شہر سے متعلق رہائش گاہیں شہر کے حکم میں ہیںاو ر یوں وہ دیہات جو شہر کے باڑوں سے متصل ہوں صحیح قول میں
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲€
ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۲€
#7408 · کتاب الاضحیہ (قربانی کا بیان)
بخلاف البساطین ولو متصلہ بالبناء لانہا لیست من البلدۃ امدادواما الفناءوھو المکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتی والقاء التراب فان اتصل بالمصر اعتبر مجاوزتہ وان انفسل بغلوۃ اومزرعۃ فلا اھواﷲ تعالی اعلم۔ شہر کے حکم میں ہیں بخلاف باغات کے اگر چہ وہ عمارت سے متصل ہوں کیونکہ آبادی میں شمار نہیںامداد الفتاویلیکن فناء شہر وہ ہے جو شہری سہولیات کے لئیے بنائی گئی ہو جیسا کہ جانوروں کے باڑے اور مردے دفن کرنے اور کوڑا وغیرہ ڈالنے کی جگہ اور اگر شہر سے متصل ہوں تو ان سے گزر جانا معتبر ہوگا اور اگر شہر سے فاصلہ پر تیراندازی یا زراعت تك ہو تو وہاں سے گزر جانا ضروری نہیں اھ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۲: از مخدم پور ڈا کخانہ ترہٹ ضلع گیا مرسلہ سید رضی الدین حسین صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
جناب مستطاب مخدومنا زاد مجدھم دیہات میں قربانی حسب دستور ہو یانہ ہوکیونکہ مسئلے اس کے جمعہ کے مسئلے سے ملتے ہیں زیادہ حد نیاز
الجواب:
قربانی میں شہر و دہ بلکہ آبادی جنگل سب برابر ہیںجن شرائط سے شہروالوں پر واجب ہوتی ہے انھیں شرائط سے گاؤں بلکہ جنگل کے رہنے والے پر بھی واجب ہے فقط مقیم ہونا چاہئے کہ شہرمیں نہ ہو پھر مسافر سے بھی اس کا وجوب ساقط ہے نہ یہ کہ ممانعت ہواگر کرے گا فضل ہوگا ثواب پائے گا۔
فی الدرالمختار التضحیۃ علی حرمسلم مقیم بمصر او قریۃ اوبادیۃ عینی فلا تجب علی مسافر اھ ملتقطا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے آزاد شہر یا گاؤں یا بادیہ میں مقیم مسلمان پر واجب ہےعینیتو مسافر پر واجب نہیں ہے اھ ملتقطا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ المسافر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۲۵€
درمختار کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۱€
#7409 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ
(بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)

مسئلہ ۲۰۳:از کانپور مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی احمد حسن صاحب مدرس اعلی مدرسہ فیض عام کانپور اواخر رمضان مبارك ۱۳۱۴ھ
علم الھدی سمی المصطفی باسمہ الذی بشربہ عیسی بزیادۃ لفظ معناہ المرتضی دامت عنایتکم
ازا حمد حسن عفی عنہ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہوبعد ازیں آنکہ دریں وقت یك استفتاء از پنچاب آمدہ استونہایت غور طلب ست اکثر علمائے پنچاب دریں امر کہ شیدہ اند لکن بمنزل مقصود نرسیدہ اندوجواب استفتاء یك شخصے کہ مایہ علم اتم دارد نوشہ لکن چونکہ جواب مخالف معمول ست قبول نمی کننداکنوں جواب را نقل کردہ بخدمت سامی ارسال ست۔ہرچہ تحقیق جناب (خلاصہ)ہدایت کے نشانحضرت مسیح کی بشارت والےنام میں رسول مقبول کے ہم ناماورجناب مرتضی کے اسم مبارك کے ہم مادہمولا احمد رضا خاں صاحب زید مجدہم۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہپنجاب سے ایك سوال آیا ہے جس کے جواب کے لئے بہت سے علماء سرگرداں ہیں لیکن منزل مقصود مفقود ہے۔ایك پر مغز عالم نے ایك جواب تحریر کیا وہ معمول قدیم کے خلاف ہے اس لئے عوام اور علماء کوئی قبول نہیں کرتامیں سوال وجواب دونوں ہی خدمت میں ارسال کررہاہوںجواب اگر صحیح نہ ہو تو وجہ غلط
#7410 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اواناثا فتلك عشرۃ کاملۃوحسبت ان الحیوان المذکور و المسئول عنہ لیس داخلا فی الخمسۃ لانہ لو کان داخلہ فیہا لما فسروا الضان بان تکون لہ الیۃ بل عمموہ بما تکون لہ الیۃ اولا حتی صارت انواع الشاۃ اوالغنم ثلثۃ والکل ستۃواذ لیس فلیس فان قیل یدخلون الجاموس فی البقر فما السرفی عدم ادخال الحیوان المسئول عنہ فی الضان مع انہ یؤید ادخالہ فیہ تفسیر اہل اللغۃ لفظ الضان بمیشکما فی الغیاث وغیرہقلت لعلہ ان الجاموس اکمل من البقر فی اللحم والقیمۃوالحیوان المسئول عنہ ناقص عن الضان فی العضو ای الالیۃ۔فالحاق الاکمل بالکامل اولی من الحاق الناقص بالکامل و اما تفسیر اھل اللغۃ فمعناہ ان العرب (۳)جوموس(بھینس)(۴)ضان(دنبہ)(۵)معز(بکری)اور مذکر ومؤنث دونوں کو شامل کردیا جائے تو کل دس قسمیں ہوتی ہیں:
پہلی دلیل:سوال میں ذکر کی ہوئی ہندوستانی بھیڑ اپنی شکل و صورت کے لحاظ سے اگر شامل ہوسکتی ہے تو ضاں(دنبہ) میں اگر اس میں شمار نہ ہوئی تو پھر کسی قسم میں شمار ہونے کا سوال ہے یوں غلب ہے کہ ضان یعنی دنبہ کی تعریف میں یہ قید ہے کہ اس کے الیہ(چکی)ہوتی ہے اور بھیڑ کے چکی نہیں ہوتی ہےاس لئے ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ بھیڑ قربانی کاجانور ہے ہی نہیں اس لئے اس کی قربان جائز نہیںاس امرپر قرینہ یہ ہے کہ اگر بھیڑ کو قربانی کے جانور میں شریك کرنا مقصو دہو تا تو دنبہ کی تعریف میں چکی ہونے کی قید نہ لگاتے بلکہ ایسا لفظ بولتے جو بھیڑ اور دنبہ دونوں کو عام ہواور ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ مقصد اس نوع کی شریك کرناہی نہیں ہے۔
دوسری دلیل: ایك بات یہ ہے بھی ہے کہ ازروئے شرع غنم یا شاۃ کی دو ہی قسم بنائی گئی ہے۔ضان اور معز اگر بھیڑ کو بھی قربانی کا جانور مان لیا جائے تو ایك کے اضافہ کے بعد غنم کی ۳ قسم ہوجائے گی اور سب کا مجموعہ پانچ کے بجائے چھ ہوجائے گا
حوالہ / References غیاث اللغات باب خادمعجمہ فصل ضاد معجمہ مع الف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۱۲€
غیاث اللغات فصل کاف ∞فارسی مع واؤ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳۱€
#7411 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کما یطلقون لفظ الضان علی ماتکون لہ الیۃ کذلك الفرس یطلقون علیہ لفظ میش فموداھما واحد کما یشعر بہ عبارۃ الغیاثگوسفند بمعنی میش مقابل بز چنانکہ معزدرعربی مقابل ضان ست کما استفاد من القاموس و الصراحوبعضے نوشتہ اند کہ اطلاق گوسفند برمیش و بز ہر دو آمدہاز سراجانتھی عبارۃ الغیاث۔ جوتصریحات علماء کے بالکل خلاف ہے۔اس لئے ثابت یہی ہوا کہ یہ قربانی کا جانور ہی نہیں ہے۔
ایك شبہ:شکل وصورترنگ وروپفوائد اور تاثیر میں ہزار اختلاف ہوتے ہوئے بھینس کو بقر میں شامل مانا تو صرف دم کے اختلاف کی وجہ سے بھیڑ دنبہ میں کیوں شامل نہیں کی گئی
جواب:بھینس قیمت اور گوشت میں گائے سے عمدہ ہے۔اور بھیڑ دنبہ سے چکی میں ناقص ہے اس لئے یہ بات قرین قیاس ہے کہ اکمل او ر عمدہ کو کامل کے ساتھ شمار کیا جائےاوریہ بات غلط ہے کہ ناقص کو کامل کے ساتھ جوڑا جائےاسی لئے بھینس کو گائے میں شمار کیا اور بھیڑ کو دنبہ میں نہیں۔
دوسرا شبہ:اہل لغت نے ضان کا ترجمہ فارسی کے لفظ میش سے کیا ہے جو بھیڑ اوردنبہ دونوں کو عام ہے پس اہل لغت کے اس محاورہ کے موافق اہل شرع کو بھی بھیڑ کو دنبہ میں شامل ماننا چاہئے۔
جواب:اہل لغت کی تشریح کے موافق لفظ میش بھیڑ اور دنبہ دونوں کو عام نہیں بلکہ میش صرف دنبہ کو کہتے ہیں۔
فارسی میں لفظ گوسفندی لفظ میش طرح لفظ بز کا مقابل ہے جیسا کہ عربی میں لفظ معز ضان کا مقابل ہے۔قاموس وصراح دونوں سے یہی ثابت ہے۔
البتہ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ فارسی کا لفظ گوسفند لفظ میش کا ہم معنی نہیں بلکہ میش وبز(دنبہ و بکری)دونوں کو عام ہے۔ (غیاث اللغات)
پس ازیں عبارت صاف معلوم می شود کہ آں حیواں کہ عرب آن راضان گویند فرس آں رامیش گویندوانچہ عرب آں معز گویند فرس آں رابز گویندلاان لفظ میش عام یطلق علی الضان اس عبارت سے صاف ظاہر ہوگیا کہ اہل عرب کے نزدیك جو جانور ضان کہلاتاہے اہل فارس اس کو میش کہتے ہیں(اور اہل اردو دنبہ کہتے ہیں اور اہل عرب جس کو معز کہتے ہیں اہل فارس اسی کو بز کہتے ہیںنہ یہ کہ لفظ میش کے اطلاق میں بھیڑ داخل ہے۔
حوالہ / References غیاث اللغات فصل کاف ∞فارسی مع واؤ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳€۱
غیاث اللغات فصل کاف ∞فارسی مع واؤ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳۱€
#7412 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وعلی الحیوان المسئول عنہ ولو سلم ان لفظ میش فی لغۃ الفرس بمعنی ذوات الصوف اعم من ان یکون لہا الیۃ اولا لیشتمل الضاف والحیوان المسئول عنہ فتفسیر اہل الغۃ لفظ الضان بلفظ میش تفسیر بالاعم وھو جائز اذا کان المقصود ھو التیمیز عن بعض ماعداہ ۔وذکرہ الفاضل اللاھوری فی بحث خواص الاسم۔ ایك اور جواب:اور اگر بطور تنزل ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ اہل لغت کے نزدیك میش کااطلاق اون والے پر ہوتاہے تب بھی ہم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اس سے ان کی مراد بھیڑ ہے۔اسکے بیان کے لئے ہم کو تھوڑی تفصیل میں جانا ہوگا۔
کسی چیز کی تعریف اس کے مساوی لفظ سے بھی کی جاتی ہے۔جیسے انسان کی تعریف لفظ ناطق سے کی جائے(کہ جن جن افراد پر انسان دلالت کرتا ہے ناطق بنی اس اس پر دلالت کرتاہے)اور کبھی تعریف کے لئے معرف سے عام لفظ بھی استعمال کیاجاتاہے جیسے السعدانۃ نبت(کہ سعدانہ ایك مخصوص گھاس کا نام ہے)جبکہ نبت ہر گاس کو کہا جاتاہے۔اول الذکر تعریف کامل ہے اور ثانی ناقصالغرض تعریف دونوں ہی ہے۔
اگر معرف کو بعض امور سے ممتاز کرنا ہے تو عام لفظ سے بھی تعریف جائز ہے (فاضل لاہوری بحث خواص اسم)
وھہنا کذلك اوالمقصود من تفسیرہ بہ تمیزہ عن بعض ماعداہ کالمعز والبقرفانہما من ذوات الشعر و لو قیل ان غرضھم من تفسیر الضان بلفظ میش ان الضان ماکان من ذوات الصوف سواء کان لہ الیۃ اولا کما ان میش کذلك فبعد التسلیم لایصیر حجۃ علینا لان الحجۃ علینا تفسیر الفقہاء لا تفسیر اھل اللغۃووجب علینا اتباع الفقہاء تویہاں بھی ضان کا ترجمہ لفظ میش سے کردیا جس کا مفہوم اون والا۔لیکن اس سے اہل لغت کی غرض ضان میں بھیڑکو شامل کرنے کی نہیں تھی بلکہ دنبہ کو گائےبھینس اور بکری سے ممتاز کرنا ہے کہ وہ اون والے جانور نہیںاور دنبہ اون والا جانور ہے۔اور جب ضان کو بھیڑ سے بھی ممتاز کرنا ہوا تو اس کی تعریف چکی والے جانور سے کی۔
جوب الجواب:اگر ہماری بات کایہ جواب دیا جائے کہ اہل لغت کے اطلاق کو یہاں تعریف مساوی سے پھیر کر تعریف عام قرار دینا ایك بے دلیل
حوالہ / References کلام لفاضل اللاھوری
کلام لفاضل اللاھوری
#7413 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
لااھل الغۃ وھم کثیر امایخا لفون اھل اللغۃ عمدا کما قال الچلپی علی شرح الوقایۃفی باب الاضحیۃ قولہ الجذع شاۃ لہا ستۃ اشھر ای فی مذہب الفقہاءو انما قیدنا ہ بہذا الان عند اھل اللغۃ الجذع من الشاۃ ماتمت لہا سنۃ کذا فی النہایۃ والعینی علی الکنزفی باب الاضحیۃ وجاز الجذع من الضاع لا غیر۔وھو ماتمت لہ ستۃ اشہر عند الفقہاء وفی کتاب الزکاۃ والمعز کالضان ویؤخذ الثنی فی زکاتہا لا الجذع وھو مااتی علیہ اکثر ھاوھذا اتفسیر الفقہاء و عند اھل اللغۃ الجذع ماتمت لہ سنۃوطعن فی الثانیۃ ۔ اور ادعائی بات ہے۔اس لئے قابل تقسیم نہیں ظاہر ہے کہ ان کامنشاء ضاں کا ترجمہ پیش کرکے یہی ظاہر کرناہے کہ وہی جانور ہے جس کے اون ہوتاہے چکی ہویا نہ ہواس سے ان کو کوئی غرض نہیں تو لغۃ بھیڑ دنبہ میں شامل ہوئی
جواب:چلئے اہل لغت کا مطلب وہی ہے جو آپ کہتے ہیںلیکن ہمارے لئے حجت اہل لغت کی بات نہیں ہے اہل فقہ کی بات ہے جب وہ ضان کے معنی چکتی والا کہتے ہیں تو وہی مانا جائے گااور بھیڑ دنبہ میں شامل نہ ہوگی۔
رہ گئی یہ بات کہ اہل فقہ اور اہل لغت کے معانی میں اختلاف ہوتاہے۔تو اس کی نظیر قربانی کے جانور میں ہی لفظ جذع ہے کہ اہل فقہ چھ ماہ کے بچے کوکہتے ہیں
اہل لغت ایك سالہ بچہ کواور مسئلہ کاحل اہل فقہ کے قول پر ہی دیا جاتاہے۔چلپی علی شرح الوقایہعینی علی الکنز)
واما تفیسر الضان عــــــہ بما کان من ذوات شبہ نمبر ۳: بعض فقہاء نے بھی تو ضان کی تعریف

عــــــہ:عبرالمجید ھکذا اوالعبارۃ فی الاصل ھکذا الضان ماکان من ذوات الصوف ولمعز من ذوات الشعر ۔ قہستانی ۱۲۔عبدالمنان الاعظمی۔ مجیب نے یوں تعبیر کیا ہے حالانکہ اصل کتاب میں یوں ہے ضان وہ ہے جو اون والا ہو اور معز جو بالوں والا ہو قہستانی ۱۲ عبدالمنان الاعظمی
حوالہ / References ذخیرۃ العقبیٰ حاشیہ شرح الوقایہ کتاب الاضحیہ ∞نولکشور کانپور ۴/ ۵۷€۷
رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق کتاب الاضحیہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰€۵
رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق کتاب الزکوٰۃ باب صدقۃ السوائم ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۷۱€
جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ کنبد قاموس ایران ۲/ ۳۰۶€
#7414 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الصوف والمعز بما کان ذوات الشعرکما فعل بعضہم فتفسیر کل واحد منہما تفسیر بالاعمکما یشعر بہ من لاالمساویوغرضہم من ھذا التفسیر تمیز کل واحد من الاخرالاتری ان البقروالجاموس من ذوات الشعرء فلو کان تعریف بالمساوی بطل الطرد فہکذا تعریف الضان۔ "مالہ صوف"(جس کے اون ہو)سے کی ہے۔جس کے معنی صاف یہی ہوئے کہ بھیڑ بھی اس میں شامل ہے۔
جواب:جی ہاں قہستانی نے یہ تعریف کی ہے۔"الضان ماکان من ذوات الصوف والمعز ماکان ذوات الشعر" لیکن اس کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں کہ یہ تعریف بالا عم ہے۔ بکری اور بیل سے دنبہ کو ممتاز کرنے کے لئے ہے۔بھیڑ سے ممتاز کرنے کے لئے نہیں(جب اس کی ضرورت ہوئی تویہ تعریف کیا"مالہ الیۃ"جس کی چکتی ہوتاکہ بھیڑ نکل جائے)
ہماری اس بات پر قرینہ یہ ہے کہ تعریف میں لفظ من استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہوتے ہیںتو تعریف کی عبارت کا ترجمہ یہ ہوا ضان اون والے جانوروں میں سے بعض ہے اور دوسرا قرینہ یہ ہے کہ بکری کی تعریف میں یہی کہا گیا ہے۔"ماکان ذوات الشعر" جو بالوں والی ہو۔تواگر اس عبارت کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ بکری بال والے جانوروں میں سے بعض ہے تو بیل بھینس وغیرہ بھی بکری میں شامل ہوجائیں گےپس اس مجبوری سے جب بکری والی تعریف کو بالاعم قرار دیا جائے تو ضان والی تعریف کو بھی تعریف بالاعم قرار دیں(کیونکہ دونوں جملے ساتھ ساتھ ہیں تو دونوں کاحکم یکساں ہوناچاہئے۔
الان نکتب عبارات الکتب الموجودۃ فانظر فیہا حق النظر حتی یتبین لك الحق والحق احق بان یتبع (م)وصح الجذع من الضان(ش)الجذع شاۃ لہا ستۃ اشہروالضان بما تکون لہ الیۃ(م)والثنی فصاعدا من الثلثۃ(ش)ای من اشاۃ اعم من ان یکون ضانا او معزاومن البقرومن حوالے:اب ہم کتابوں سے حواالے پیش کرتے ہیں جس سے حق واضح اور روشن ہوجائے گا:
(۱)ضان کا جذعہ قربانی میں جائزہے یعنی شش ماہہ بچہ اور ضان چکتی والے جانور کوکہتے ہیںثنی اور اس سے بڑی عمر والے جانور تینوں اقسام کے جائز ہیں یعنی شاۃ میں دنبہ ہو یا ۲بکری اور گائے میں ۳ گائے ہو یا ۴بھینس اور اونٹ(شرح وقایہ من عینی)(۲)مصنف کے مذکورہ بالا قول میں ان جانوروں کی طرف اشارہ ہے جن کے علاوہ قربانی جائز نہیں
#7415 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الابل ۔شرح وقایہ من عینیقولہ وصح الجذع الی قولہ من الثلثۃ اشارۃ الی بیان الانواع التی لاتجوز الاضحیۃ الابہاوتصریح بینہا التی لاتجوز فیما دونہ چلپی علی شرح الوقایۃمن عینیوصح الجذع ذوستۃ اشہر من الضان ان کان بحیث لوخلط بالثنایا لایمکن التمییز من بعدوصح الثنی فصاعدا من الثلثۃ والثنی ھو ابن خمس من الابل و حولین من البقر والجاموس۔وحول من الشاۃ اھ در مختار من عینیقولہ من الضان ہو مالہ الیۃ منح قید بہ لانہ لا یجوز الجذع من المعز وغیرہ بلا خلافکما فی المبسوط قہستانی والجذع من البقرا بن سنۃومن الابل ان اربعبدائعقولہ من الثلثۃ ای الاتیۃ وھی الابل۔والبقربنوعیہ والشاۃ بنوعیہ رد المحتار من عینی ومن سنن الاسلام التضحیۃ بالانعام التضحیۃ ذبح الاضحیۃ والانعام بالفتح جمع نعم بفتحین اورایسی عمروں کا بیان ہے جن کے علاوہ قربانی جائز نہیں (حاشیہ شرح وقایہ چلپی من عینی)
(۳)ضان کا اتنابڑا بچہ جو چھ ماہ کا ہو لیکن دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو(درمختار عینی)
ضان جس کے چکتی ہویہ چکتی کی قید اس لئے لگائی کہ بکری گائے اور اونٹ کے جذعہ کا استثناء مقصود تھابکری کا جذعہ چھ ماہ کا ہوتاہے اور گائے کا سال بھر کا اور اونٹ کا چار سال کا اور"من الثلاثۃ"کا لفظ جس کا ذکر آگے آرہا ہے یہ اونٹ اور بقر ان دونوں نوعوں کے ساتھ اور اسی طرح اپنی دو نوں قسموں کے ساتھ(ردالمحتار من عینی)
(۴)اور انعام کی قربانی مسنون ہےانعام چوپایہ کوکہتے ہیں اضحیہ کے معنی قربانی ہیںمطلب یہ ہے کہ ضان کا چھ ماہہ بچہیا سات ماہہ بچہ کی قربانی مسنون ہے اور ایك سالہ بچہ کی بھیلیکن اس کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے۔ضان ہو کہ معزاور اونٹ اور بقر کا ثنی بھی قربانی کے لئے جائز ہے۔ اونٹ کا ثنی پانچ سالہ اور بقر کا دوسالہ اور شاۃ کا ایك سالہ۔ا ور جذعہ کے لئے ضان کی قید اس لئے لگائی کہ بکری چھ ماہہ جائز نہیںاورضان چکتی والے جانور کو
حوالہ / References شرح الوقایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنو، ۴/ ۹۳€
ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃ شرح الوقایہ کتاب الاضحیۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۵۷۴€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲ و ۲۳۳€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیرت ∞۵/ ۲۰۴€
#7416 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وھو ذوات القوائم الاربع یعنی ان من السنۃ التضحیۃ بالجذع من الضانوھو ماتم لہ ستۃ اشہروقیل سبعۃ اشہروبالثنی فصاعدا من شاۃ اعم من ان یکون ضانا او معزاومن الابل والبقر مطلقاوھو ای الثنی ابن خمس من الابل۔وحولین من البقرۃ وحول من الشاۃ والمعز۔ والجذع بفتحتی الجیم والدالوقیدناہ بالضان و ھو مالہ الیۃ۔لان الجذع من المعز لاتجوز بہ التضحیۃ و قولنا مطلقا اشار الی انہ یجوز المذکور والانثی من جمیع ماذکروان الجاموس داخل فی البقر ھکذا ذکرہ فی الفروع اھویختار من الشاۃ الکبش ای الذکر من الغنم فان الانثی منہ اعنی النعجۃ وکذا المعز و ان جازہ لکن الکبش ھوا الاولی انتہی مااردناہ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام من عینیوالکبش افضل من النعجۃ ھی الانثی من الضان قاموس رد المحتار من عینیقولہ الجذع من الضاف ھو ذوات الصوف من الغنم التی لہ الیۃکما فی منح الغفار وغیرہ التعلیق الممجد علی مؤطا امام محمد من عینی ۔وعن کہتے ہیں اوپر کی عبارت میں ایك جگہ مطلقا کا لفظ آیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکر ہوکہ مؤنثاوربھینس گائے میں داخل ہے۔اور شاۃ میں افضل مادہ نہیں بلکہ نر ہے۔دونوں نوعوں کا یہی حکم ہے۔مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام)
(۵)اور مصنف نے"جامع من الضان"کہااورضان وہ اون والا جانور ہے جس کے چکتی ہوایسا ہی منح الغفار وغیرہ میں ہے۔(تعلیق الممجد من عینی)
(۶)اور نر مینڈھا مادہ سے افضل ہے اور یہ ضان کا مؤنث ہے۔قاموس۔(ردالمحتار)
(۷)مسنہ ہی ذبح کرو۔یہ نہ ملے تو ضان کا"جذعہ"اس حدیث کی شرح میں تفصیلات ہیںہم مذہب حنفی کے موافق بیان کرتے ہیںقربانی کے جانور کی تین نوعیں ہیںاونٹ بقر غنم۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اور اصحابہ سے ان کے علاوہ قربانی ثابت نہیںغنم کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ معزر کو فارسی
حوالہ / References مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن الاضحیۃ ∞مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ ص۲۱€۸
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن الاضحیۃ ∞مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ ص۲۲۰€
ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۵€
التعلیق الممجد علی مؤطا لامام محمد مع المؤطا کتاب الضحایا ومایجز منہا ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۲۸۰€
#7417 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
جابر رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تذبحو ا لامسنۃ بضم میم وکسرسین ونون مشددۃ فرمودہ زبح نہ کنید مگر مسنہ لاان یعسر علیکم فتذبح جذعۃ من الضانمگر آنکہ دشوارشود بہم سانیدن مسنہ برشماپس ذبح کنید جذعہ را از میش جذع بفتح جیم وذال رواہ مسلم شرح ایں حدیث تفصیلے دارد آنرا موافق مذہب حنفی بیان کنیمودر شرح موافق مذاہب اربعہ ذکر کردہ شدہ است بدانکہ اضحیہ جائز نیستمگر ازاہل وبقر وغنموروایت کردہ نشدہ است ازاں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونہ از اصحاب وے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین جزا صناف ثلثہ ازذبائح وغنم ووصنف معزکہ آنرا بزگویندوضان کہ آنرا میش خوانندوجاموس بسیں مہملہ کہ معرب گاؤ میش ست نو ع از بقرت وجائز استاز جمیع اں اقسام ثنی انتہی مااردناہ اشعۃ المعات علی المشکوۃ۔
فان قبل قلت فیما سبق الحجۃ علینا تفسیر الفقھاء لا تفسیر اھل اللغۃورأیت الآن ترجمۃ الشیخ لفظ الضان بمیش وھو من اعاظم مقلدی الحنفیۃ وانت نقلتہ ایضا للسندفلم لاتقول بجواز اضحیۃ الحیوان المسئول عنہ بعدقلت لاتفرح بترجمۃ الشیخ مثلا کما فرح العامۃ بھا میں بز کہتے ہیںاور ضاں کو میش اور جاموس گاؤ میش کا معرب ہے یہ گائے کی ہی ایك قسم ہے۔اور ان سب کاثنی جائزہے۔(اشعۃ اللمعات)









سوال:آپ نے اس سے قبل کہا کہ ضان کا ترجمہ میش (بھیڑ)اہل لغت کرتے ہیںاور اہل فقہ یہ ترجمہ کرتے ہیں تو ہم بھی تسلیم کرلیتے کہ ضان بھیڑ کو شامل ہے اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ صاحب اشعۃ المعات توائمہ وحدیث میں سے ہیںاور انھوں نے بھی وہ اہل لغت والا ترجمہ کیا ہے تو آپ کو کیا عذر ہے۔
جواب:شیخ محقق کے اس ترجمہ سے جاہلوں کی طرح خوش
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیہ الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۰۸€
#7418 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وجوزوا التضحیۃ بالحیوان المسئول عنہ فضلو او اضلو نعوذ باﷲ منہافان لفظ میش لغۃ الفرس لالغتنافاما حقیقۃ فیما لہ الیۃ ومجاز فی الحیوان المسئول عنہلکونہ من ذوات الصوف مثل مال الیہ۔اوبالعکس واما مشترك بینہافعند تفیسر الضان بہ کما فسرہ الشیخ بہ لا یجوز ان یراد بہ معالا نہ یلزم الجمع بین الحقیقۃ والمجازولو بین معینی مشترك فی اطلاق واحدوبطلانہما لایخفی علی الکلمع انہ حنیئذ یصیر للغنم لواشاۃ اصناف ثلثۃالمعز ومالہ الیۃ ومالا الیۃ لہ ویخالف قول الشیخ فیما بعد وغنم دوصف است وقال الشامی والشاۃ بنوعیۃ ۔وھکذا وان ارید بہ عموم المجازی ای ما کان من ذوات الصوف فلا یلزم الجمع بالمعنین الا ان التخالف بینہ وبین قول الشیخ وغیرہ المذکورین باق وھو ظاہروکاف فی عدم ارادتہم فاما ان یراد بہ الحیوان المسئول عنہ فقط حقیقۃ کان اومجازافیخرج مالہ الیۃ من باب التضحیۃ۔و ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ شیخ کے اس لفظ میش سے دنبہ اور بھیڑ دونوں ہی مراد ہوں گےیا ان میں سے کوئی ایك اور دونوں ہی مراد ہوں گے تو بطور حقیقت مجازیا اشتراك یا عموم مجازتو حقیقت ومجازیا اشتراك کے طور پر دونوں معانی کا ایك ساتھ مراد لینا اصول لسان کے اعتبار سے ناجائز ہے۔اور بطور عموم مجاز دونوں ایك ساتھ مراد لینے پر یہ خرابی لازم آتی ہے کہ قربانی کے کل چھ قسم کے جانور ہوتے ہیںحالانکہ ہم ثابت کرآئے ہیں کہ پانچ ہی ہیںاور ایك ہی مراد لیںاور وہ بھیڑ ہو تو دنبہ چھوٹ جاتاہے جو بالاتفاق قربانی کا جانور ہے۔
مزید سوال:آپ کی یہ ساری تقریر ضان کے معنی دنبہ مراد لینے پر بھی جاری ہوتی ہےتو یہ مراد لینا بھی ممنوع ہوا۔
جواب:جب فقہاء نے چکتی والا کہہ کر اسی جانور کو متعین کردیا تو اب ہم کو اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ وہ معنی مجازی ہیں یا حقیقی یا بطور اشتراک۔
پس ان نصوص فقہیہ کی روشنی میں ہمارا فیصلہ تو یہی ہے کہ بھیڑ کی قربانی ناجائز ہے۔اگر دوسری کسی کتاب میں اس کے جواز کا حکم ہو بھی تو احتیاط اس سے بچنے میں ہی ہے کہ عدم جواز کے یہ دلائل
حوالہ / References اشعۃاللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیۃ الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۰۸€
ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۴€
#7419 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
یصیر النوع الخامسمن الانواع الخمسۃ بہا الحیوان المسئول عنہلامالہ الیۃ و ھو خلاف الاجماع اویراد بہ مالہ الیۃ فقط حقیقۃ کان او مجاز فیحرم الحیوان المسئول عنہ من البین کما ہو حقہ وہو المطلوب۔واجراء ہذا التفصیل بعینہ فی لفظ الضان ان کما وقع فی الحدیث والمتون بان یقال لفظ الضان لفظۃ لغۃ العرب لالغتنا فاما حقیقۃ فیما لہ الیۃ و مجاز فی الحیوان المسئول عنہ الی قولنا وھو المطلوبفقیل تفسیرہ بما تکون لہ الیۃ یمکن ویحصل الفائدۃ منہوھی الاستقرار علی المطلوب واما بعد تفسیرہ بمالہ الیۃ کما فعل الفحول من العلماءفلا فائدۃ فیہ لانہ یعلم من ھذا التفسیران مراد الفقہاء بالضان مالہ الیہ سواء کان معنی حقیقیا او مجازیا فما مطلبنا فی الاجراء وتطویل المسافۃ فطننت بل علمت من ھذہ النقول ان التضحیۃ بالحیوان المسئول عنہ لا تجوز۔وقد سمعت تحقیقۃبما لا مزید علیہ انفا فاقول ما انا علیہوعلیہ التعویل ھو عدم جواز التضحیۃ بہفان اصبت فمن اﷲ تعالیوان اخطأت فمعنی ومن الشیطان وان وجد فی الکتب الاخر المعتمدۃ علیہا قاہرہ ہم نے ظاہر کردئے۔
اوریہ کہنا کہ بزرگوں سے ایسا ہوتا آیا ہےیا میش کے معنی بھیڑ ہیں یہ تار عنکبوت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے یہ فتوی صحیح ہو تو اﷲ تعالی کی طرف سےاور غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سےواﷲ تعالی اعلم۔
(نظام الدین مدرس اسلامیہ احمد پور شرقیہ)
#7420 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الغیر الموجودۃ عندی جوازھافح ترك التضحیۃ بہ اولی لان مقتضی الاحتیاط ح ھو عدم الجواز علی ما علم من اصول الفقہھذا بالنواجذ ولا یلتقف الی قول المخالفین القائلین بالجواز فان اقوی دلائلہم "وجدنا علیہ اسلافنا" وتعلم حالہ وما سوی ھذا الدلیل من تفسیر الضان بلفظ میش وما کان من ذوات الصوففاوھن من بیت العنکبوت کما مرھذا ماظہر لی ولعل عندی غیری احسن من ھذا۔ المجیب نظام الدین مدرس مدرسۃ الاسلامیہ احمد پور شرقیہ۔
الجواب:
الحمدﷲ الذی خصنا بالاکرام وعمنا بالانعام خلق لنا الانعامللتقرب والاطعاموکثیر من الحاج ثمانیہ ازواج من الضان اثنینو من المعز اثنینآ الصوف حظرام الشعر حجرا بالاذناب امرام علی الا لا یاقصرومن الابل اثنینومن البقر اثنینا با لبخت جدام فی العراب حصرآ الجاموس ردام طائف البقرآبطول وقصر وصغر وکبرفی عضو او شعرللنوع غیراوبالحصر ضررنبؤنی بعلم ان کان لکم خبروالصلاۃ والسلام علی السید الاعز والہ وصبحہ کل کریم معز۔عدد اس خدا کی تعریف جس نے ہم کو اکرام کے ساتھ خاص فرمایا اور انعام کے کو ہم پر عام فرمایااور حاجیوں کے لئے اور ہمارے لئے چارپائے بنائے کہ کھائیں بھی اور قربانی بھی کریں۔
یہ آٹھ جوڑے ہیںضان کے دو اور معز کے دو۲تو کیا اون والے ممنوع ہیں یا بال والےیا دم والوں پر روك ہے یا چکتی والوں پراور اونٹ کے دو اور گائے کے بھی دوتو کیا بختی اونٹوں پر انحصار ہے یا اعراب پراور بھینس مردود ہے یا گائے کی مختلف اصناف لانبی(لمبی)اور ناٹییا کسی عضو یا بال کی چھوٹائی بڑائینوع کو بدلنے والی اورحصر کو قائم کرنیوالی ہے تمھیں علم ہو تو مجھے بتاؤاور صلاۃ وسلام ہو
#7421 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اصواف الضاف واشعار المعز۔و بعد فلا شك ان ھذا لحیوان من بہیمۃ الانعامومن الاغنام ومما تجوز التضحیۃ بہ باجماع اھل الاسلام مسئلۃ واضحۃ جلیلۃ النبیان غنیۃعن البیانلا تتناطح فیہا عنز ان وتد توارث التضحی بہ المسلمونوعلماؤھم متظافرونطبقۃ فطبقۃ وجیلا بعد جیل من دون نکیر منکرولا مراء عقیل فمن نسبہم جمیعا الی الضلال والاضلال فقد عتاوعصیوشق العصایولی ماتولیولسوف یری وقد کان الاعراض عن مثل ھذا امثل واحریفان الامر اذانتہی الی انکار الواضحات کان السبیل ترك التحاورفانہا ھی المقاطیع للحجج الشامخاتوالبراھین الغرفمن یماری فیہا فیما ذا یوقنوبای حدیث بعد ھا یؤمن ولکن وجوب اخماد الباطل وارشاد الغافل۔والرفق بضعفاء المسلمین کیلا یقعوا فی ضلال مبین و تحسین الظن بالمسلم العاقلفانہ ربما عثرفاذا ذکر تذکرواذا بصر ابصروانما العاقل من اقر وما اصر فاذاعلم الخبر ھجر الہجری وانکرا لمنکر و ربك غفارلمن استغفرکل ذلك یدعون ان نأتی فی الباب بعدۃ تنبیہات تمام معززین کے سردا ر پران کی آل پراصحاب پر جو کریم اور معزز ہیںبھیڑوں کی اون اور بکریوں کے بال برابر۔حمد و صلاۃ کے بعد بلا شبہ بھیڑ بکریوں اور انعام میں شمار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے اور اس کی قربانی جائز ہے۔ یہ مسئلہ خود واضح اور بیان سے بے نیاز ہے۔اس کی قربانی مسلمانوں میں شروع ہی سے متوارث ہے علماء کے تمام گروہ اور مختلف جماعتوں نے اس میں کبھی کوئی اختلاف اورجدال نہیں کیاتو بلاامتیاز سبھی کو گمراہ او گمراہ گر کہنا سرکشی اور جرم ہے۔اور امر محبوب سے روگردانیجس کا انجام آئندہ معلوم ہوگا۔اس مسئلہ پر خامہ فرسائی سے چشم پوشی ہی بہتر تھی کیونکہ یقینیات جہاں دلائل کے پر جلتے ہیںجو ایسی باتوں کا انکار کرے پھر کس بات کااقرار کرے گا اور کس پر ایمان لائے گالیکن باطل کو بجھانا اور غافل کو بتاناکمزور اہل اسلام کو گمراہی سے روکنااور یہ خوش گمانی بھی کہ پھسلنے والا سنبھالے سنبھل بھی جاتاہے۔راہ دکھاؤ تو کوئی کوئی دیکھ بھی لیتاہے۔اور واقعی عقلمند وہ ہے جوہر بات پرخواہ مخواہ اصرارنہ کرےاورحقیقت آشکار ہو تو یاوہ گوئی اور انکار چھوڑ دے تو پروردگار غفور و رحیم ہے۔ان سب باتوں نے ہمیں چند تنبیہات پرمجبور کیاسبحان اﷲ چمکتے سورج پر کیا حجاب میں تمھیں ہدایت کرتاہوں کہ بیکار امیدوں یا ملال کے چکریا طیش
#7422 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
تقرر الصواب وتمیط الحجاب ویا سبحن اﷲ ھل من حجابعلی وجہ شمس تجلت من سحاب ھذا وایاك ثم ایاك ان یلھیك الا ملاویطغیك الملل او یستخفك الطیشفیاخذك العجل۔قبل ان تجمع الکلمات الاخربالاول فانی اریدان استدرجك من الرفیع الی الرقیعومن ذی سم الی اشم حتی اوقفك علی شمس تتضا ء لا دونہا الظلم فعسی ان یعتریك وھم وباتیك مایزیحاوتمسی فی حلم اوستصبح فیما یریحعلی انی قد علمت ان السبیل وعر الی ایضاح الجلیاتوانما الجادۃ المسلوکۃ اظہار الخبیاتلکنی اتنزل لك الی وھدۃ وقعتولا الو ان ارفعك الی الحق ما استطعت فاقول: وتوفیق بالقریب المجیدعلیہ توکلت والیہ انیب
۱ الاول:قال ربنا عزمن قائل "" واحلت لکم الانعمالی قولہ عزوجل " ثم محلہا الی البیت العتیق ﴿۳۳﴾" وقال
سبحنہ وتعالی" و لکل امۃ جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقہم من بہیمۃ الانعم " ۔فقد اذا دجل جلالہ ان الانعام کلہا محل المنسکوانہا التی یتقرب بنحرھا وذبحا الی ربنا وربہا دون سائر البہائم والحیواناتقال کے فوران میں پھنس کر پوری بات دیکھے سنے بغیر جلد بازی نہ کر بیٹھنامیں تمھیں ادنی سے اعلی تك آہستہ آہستہ لے کر چل کر سورج کے پاس کڑا کردوں گا جہاں تاریکیاں کافور ہیں کیونکہ جہاں وہم پیدا ہوتاہے اس کا ازالہ بھی ہوتاہے اور رات کے بھیانك خواب سے صبح کو چھٹکارا بھی مل جاتاہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ توضیع تر پوشیدہ امور کی ہوتی ہے۔ اور بدیہات کی تفیہم مشکل ہے۔میں نے حق کی طرف رہنمائی میں کوتاہی نہیں کی ہے۔




تنبیہ اول:اس بات کے بیان میں کہ صرف انعام ہی قربانی کے جانور ہیں:اﷲ تعالی ارشاد فرماتاہے:تمھارے لئے حلال کئے گئے انعام سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے تو دور ہوں بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے ایك اﷲ کے ہوکرپھر اس کا ساجھی کسی کونہ کرواور جو اﷲ کا شریك کرے کہ وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچھك لے جاتے ہیںیا ہوا اسے کسی دوسری
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۲/ ۳۰ تا ۳۳€
القرآن الکریم ∞۲۲/ ۳۴€
#7423 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الامام محی السنۃ البغویفی معاملۃ التنزیل "لیذکروا اسم اﷲ علی مارزقہم من بہیمۃ الانعام" عند نحرھا وذبحہاوسماھا بہیمۃ الانعاملانہا لا تتکلموقال بہیمۃ الانعام لانہا لا تتکلم وقال بہیمۃ الانعام قید بالنعم لان من البہائم مالیس من الانعامکالخیل والبغال والحمیرلایجوز ذبحہا فی القرابین اھ و لااری مرتا با یرتاب فی ان حیواننا ھذا من بہیمۃ الانعامبانہ اھلی ذات قوائم اربع و ظلفقال فی المصباح المنیر لغۃ الفقہالا نعام ذات الخفوالظلفوھی الابلوالبقروالغنم اھ فان کنت فی ریب من ھذا فانبئنا مما ذاتراہ امن الوحوش ام من السباعام من الطیورام من الہوامام ذوات الحوافرام نوع اخر مقطوع الدابرمابہ علم ولا عنہ مخبر۔ جگہ پھینکتی ہے بات یہ ہے اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرےتو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔تمھارے لئے انعام میں فائدے ہیں ایك مقررہ میعاد تکپھر ان کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تك اور ہر امت کےلئے ہم نے ایك قربانی مقرر فرمائی کہ اﷲ کا نام لیں اس کے دئے ہوئے بے زبان چوپایوں پرتو تمھارا معبود ایك معبود ہے تو اسی کے حضور گردن رکھو۔ (سورہ حج۔پ ۱۷)
ان آیات کا مفاد یہ ہے کہ جانوروں میں صرف انعام ہی قربانی اور ہدایا کے لئے مخصوص ہیںحضرت امام بغوی نے اس مضمون پر تفسیر معالم میں دوسری آیت کے تحت تصریح فرمائییعنی ان جانوروں کے ذبح اور نحر کے وقت بسم اﷲ اﷲ اکبر کہو ان جانوروں کو انعام کہنے کی وجہ ان کا نہ بولنا ہے۔انعام کی قید اس لئے لگائی کہ کچھ بہائم ایسے ہیں کہ قربانیوں میں ذبح نہیں کئے جاتےجیسے گھوڑا خچرگدھا ____ اتنا ثابت ہوجانے کے بعد اس کی ضرورت تو نہ تھی کہ ہم بھیڑ کاانعام ہونا بھی ثابت کریںاوریہ کہ اہلی ہے وحشی نہیں ہے دو کھر والا چوپایہ ہےمگر ہم شہادتیں فراہم کررہے ہیں:
انعام کھردار جانور اور خف والےیہ اہلبقرغنم ہیں(مصباح المنیر)
اگر اس کے بعد بھی شبہ ہو تو بتاؤکیا وحشی ہے یا درندہ ہےکہ پرندہ ہے یا حشرات الارض میں سے ہےسم والوں ہے یاکوئی ایسی قسم جس کی نسل ختم ہوگئی ہے۔
حوالہ / References معالم التنزیل لی ھامش الخازن ∞تحت آیۃ ۲۲/ ۳۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۵/ ۱۸€
المصباح المنیر النون مع العین مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۸۴۔۱۸۳€
#7424 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الثانی۲: قال جل ذکرہ " و من الانعم حمولۃ و فرشا "
۔ قال الشاہ عبدالقادر الدہلوی رحمہ اﷲ تعالی فی ترجمۃ الکریمۃ پیداکئے مواشی میں لدے والے اور دبے وقال فی فوائدہا لدنے والے اونٹ اور بیلاور دبے بکری اور بھیڑ ۔
الثالث۳:اجمع المسلمون واعترف الرجلان الغنم من الاضاحیوقد علم من یفرق بین البہم والبہم ان ھذا من الغنم قال اﷲ عزوجل
" و من البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما" ۔قالالفاضل رفیع الدین الدھلوی فی ترجمۃ اور گائے سے اور بھیڑ بکری سے حرام کیں ہم نے اوپر ان کے چربیاں ان کی ۔
الرابع۴: انما المرجع فی امثال الامور الی علماء اللسان و کما علم کل من یعلم اللسن الثلث ان الحیوان الذی یسمی بالہندیۃ بکری وذکرہ بکرا
تنبیہ دوم:اس بات کے ثبوت میں کہ بکری انعام میں سے ہے:ارشاد الہی ہے"من الانعام حمولۃ وفرشا۔شاہ عبد القادر رحمۃ اﷲ علیہ نے ترجمہ فرمایا:"پیدا کئے مواشی میں لدنے والے اور دبے"اور فوائد میں فرمایا:"لدنے والے اونٹ اور بیلاور دبنے والے بھیڑ اور بکری"۔
تنبیہ سوم: بھیڑکے قربانی کے جانور ہونے پر اجماع ہے:مفتی سابق نے اعتراض کیااور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ غنم قربانی کے جانوروں میں سے ہے۔اور چوپایوں کے درمیان فرق جاننے والے یہ خوب جانتے ہیں کہ بھیڑ غنم میں شامل ہے قرآن عظیم کی آیت
" و من البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما"کا ترجمہ فاضل رفیع الدین دہلوی فرماتے ہیں:"اور گائے سے اور بھیڑ بکری سے حرام کیں ہم نے اوپر ان کے چربیاں ان کی"۔
ایضا تنبیہ چہارم:اس بات کا فیصلہ کہ بھیڑ غنم میں داخل ہے یا نہیں۔وہی حضرات علماء کرسکتے ہیں جن کو تینوں زبانوں میں مہارت ہو تو ان زبانوں کا عالم یہ خوب جانتاہے کہ جس جانور کو ہندی میں بکری اور
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶/ ۱۴€۲
موضع القرآن ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۲ مطبع مصطفائی انڈیا ص۱۴€۶
موضع القرآن ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۲ مطبع مصطفائی انڈیا ص۱۴۶€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۴۶€
ترجمۃ القرآن الرفیع الدین ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۶ ممتاز کمپنی لاہور ص۶۳۔۱۶۲€
#7425 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ھوالذی یسمی بالفارسیۃ بزوفی الاطلاق الاعم گوسپندوبالعربیۃ معزاوفی الاعم غنما وشاۃ و ذکرہ تیسا وماعزاوانثاۃ عنزا۔وما عزۃ کذلك علموا ان الحیوان الذی یسمی بالہندیۃ بہیڑوذکرہ مینڈھاوعند قوم وانثاہ بھیڑ ولقوم بھیڑی ھو الذی یسمی بالفارسیۃ میشوبالاطلاقین الاخص و الاعم گوسفندوذکرہ المناطح فوچوبالعربیۃ ضانا وبالاطلاقین شاۃوغنماوذکرہ کبشا وضانا وانثاہ نعجۃ وضائنۃقال اﷲ عزوجل
" ثمنیۃ ازوج من الضان اثنین و من المعزاثنین " قال فی موضح القران پیدا کئے آٹھ نر ومادہ بھیڑ میں سے دواور بکری میں سے دو وفی ترجمۃ الرفیعۃ آٹھ جوڑے بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو ۔وقال الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی ترجمتہا آفریدہشت قسم رازگوسفند دو قسم واز بز دوقسم ۔وقال الفاضل یوسف چلپی فی ذخیرۃ العقبی حاشیۃ شرح الوقایۃ اس کے نرکو بکرا کہتے ہیںفارسی میں اسی کو بز اور عام بول چال میں گوسپند اور عربی میں معزاور عام بول چال میں غنم وشاۃ کہتے ہیں اس کے مذکر کو"تیس"اور ماعز کہتے ہیں اور مؤنث کو عنز اور ماعزہ کہتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی معروف بات ہے کہ ہندی میں جس جانور کو بھیڑ جس کا مذکر مینڈھا اور بعض کی زبان میں بھیڑا کہتے ہیںاسی کی مؤنث کو بعض لوگ بھیڑ اور بعض بھیڑی کہتے ہیںاسی کو فارسی میں میش اور عام بوچال میں گوسفند اس کا مذکر مناطح قوچ کہلاتاہے یہی عربی میں ضان اور دونوں اطلاقوں میں شاۃ و غنم کہلاتاہے اس کا مذکر ضان وکبش اور مؤنث کو نعجہ کہا جاتاہے۔
" ثمنیۃ ازوج من الضان اثنین و من المعزاثنین "پیدا کئے آٹھ نر ومادہ بھیڑے اور بکری سے دو(از موضح القرآن) آٹھ جوڑے بھیڑوں میں سے اور دو۲ بکری میں سے دو (شاہ رفیع الدین)آفرید ہشت قسم از گوسفند دو قسمواز بز دو قسم(شاہ ولی اللہ)۔
ضانضائن کی جمعماعز کے خلاف۔اور یہ غنم کی ہی دو۲ نوعیں ہیںپہلے کو فارسی میں میش اور ثانی کو بز
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶/ ۱۴۳€
موضح القرآن ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳ مطبع مصطفائی انڈیا ص۱۴۶€
ترجمۃ القرآن الرفیع الدین ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳ ممتاز کمپنی لاہور ص۱۶۲€
ترجمۃ القرآن(فارسی)لولی اﷲ الدہلوی تحت آیۃ ∞۶/ ۱۴۳ مطبع ہاشمی دہلی ص۴۹۔۱۴۸€
#7426 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ضانا جمع ضائن خلاف الماعذوھما نوعان من جنس الغنمیقال للاول بالفارسی میش وللثانی بزوالشاۃ اسم جنس یشملہا کالغنم ویقال لہا بالفارسی گوسفند کذا فی الصحاحوالاسماء اھ باختصاروقد ترجم فی النفائس بہیڑ ا بالفاسیۃ بمیش نروبالعربیۃ بکبش وضان وقال فی تحفۃ المؤمنین بہیڑ بہندی غنم است ثم قال غنم ضان ست ثم قال ضان بفارسی میش نامند ۔ بھیڑا فارسی میں میش نر اور عربی میں ضان ہے (نفائس) وفی المنتخب الرشیدی ضان میش ضائن میش نر وفی الصراح ضائن میش نرخلاف ماعز والجمع ضانخلاف معز اھ ۔ فان کان فی مریۃ بعد فلیقم و لیعد فلیذھب بقطیع منہ الی العرب والفرس و لیدرفیہا بلاد اوقری وجبالا ومفاوزولیسأل کل اھل ناد من حاضروبادورجلوامرأۃ کہتے ہیں اور غنم کے ہی ہم معنی لفظ شاۃ ہے جس کا اطاق دونوں نوعوں پر ہوتاہے اور اس معنی میں فارسی لفظ گوسفند بولا جاتاہے اسماء اور صحاح میں ایسا ہی ہے(مختصرا)(ذخیرہ عقبی چلپی)
بھیڑہندی میں غنم ہے۔اور غنم ضان ہے اور ضاں فارسی میں میش ہے(تحفۃ المومنین)
ضان میشضان نر۔(منتخب رشیدی)
ضائن میش نرخلاف ماعز۔اور اس کی جمع ضان خلاف معز(صراح)۔
ان سب شہادتوں میں ضان اور میش ایك ہی چیز قرار دی گئی ہے اور اسی کو ہندی بھیڑ بتایا گیا ہےاگر اس کے بعد بھی شبہہ ہو کہ یہ دونوں ایك نوع نہیں ہیںتو بھیڑ کا ایك گلہ لے کر عرب اور فارس کے شہروں اوردیہاتوں میں پھر کر جنگلوں اور پہاڑوںآبادیوں اور ویرانوں میں گھوم گھوم کر ہر ایك
حوالہ / References ذخیرۃ العقبٰی کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الاموال ∞نولکشور کانپور ۱/ ۱۲۷€
النفائس
تحفۃ المومنین مع مخزن بن الادویۃ الباء مع الہاء ∞نولکشور کانپور ص۱۶€۹
تحفۃ المومنین مع مخزن بن الادویۃ الغین مع المیم ∞نولکشور کانپور ص۴۲۵€
تحفۃ المومنین مع مخزن بن الادویۃ الصاد مع الالف ∞نولکشور کانپور ص۳۹۷€
منتخب اللغات مع غیاث اللغات باب الضاد مع النون ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸۲€
الصراح فی الغۃ الصحاح باب النون فصل الضاد ∞نولکشور لکھنؤ ص۴۱۸€
#7427 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وحر وامۃوعالم وجاہلوسائر و قافل فان اخبرہ العرب جمیعا ان ھذا ضانغنمشاۃکبشنعجۃوقالت الفرس ایں ست میشوگوسپندنرو ومادہفلیصدق بالحقوان اعربت العرب ان ھذا عصفوراوکلب عقور اوفیل ماسور و تفرست الفرسفقالت خرگوراوچرغ پرزور اوچغد شبکورفہو معذور۔
الخامس۵: ارأیت ان انکر منکران ھذا المہیب الثقیل ذا الخرطوم الطویلالذی یقال لہ بالہندہا تہی وگج لیس ھو الذی یقال لہ بالعربیۃ فیلوبالفارسیۃ پیل فہل عندك علیہ من حجۃ ودلیلالاالرجوع الی اھل اللسنوابانۃ ان اطباقہم علی امثال ذلك من باب التواتر المورث للیقینکما ان من جحد وضع بمبئی اوکلکتہمثلا لہذا البلد المعلومفلا دواء لہ الا الانباء بان الناس مطبقون علی ان ھذا البلد بہذا مسمی وبہ موسوم فان عاند وعاد وعاود اللدادفمالہ من طب الا الا فتصاد۔
السادس۶:من الظن زعم الحاق الجوامیس بالبقروانما عرفت الا ضحیۃ علی خلاف القیاس لکونہا تقربا بارقۃ دم شہری ودیہاتیعالم وجاہل سے سوال کروتو سارے عرب یہ کہیں یہ ضان ہے غنم ہے۔شاۃ ہے کبش ہےنعجہ ہے۔اور فارسی کہیں یہ میش ہے گوسپند ہے۔تو حق بات تسلیم کرواور اگر عرب اس کو گوریاکٹکھنا کتا یا ہاتھی یا اہل فارس اس کو گورخر یا چیتا یا الو کہیں تو تم معذور ہوگے۔
تنبیہ پنجم تائید مزید:لمبی اور دراز اسونڈ والے ہاتھی کو کوئی فیل نہ مانے تو اس کے علاوہ کیا سبیل ہے کہ اہل عرب سے یہ کہلا دیا جائے کہ ہمارے یہاں سب لوگ اسے فیل ہی کہتے ہیں جیسے اگر کوئی بمبئی کا انکا رکرےتو اس کی سبیل بھی یہی ہے کہ اسے بمبئی شہر دکھا کر لوگوں سے کہلادیا جائے کہ سب لوگ اسی کو بمبئی کہتے ہیں:





تنبیہ ششم: بھینس کو گائے کے ساتھ لاحق نہیں کیا گیا:یہ کہنا بھینس کو گائے کے ساتھ ازروئے قیاس لاحق کیا گیا غلط ہے کیونکہ یہ مسئلہ
#7428 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وازھاق روح فکیف یسوغ الالحاق فیہاولو ماغ لکانت المہا والوعول والظبا احق انہ تلحق بالبقرا و المعزقال العلامۃ الاتقانی فی غایۃ البیانالتضحیۃ امر مستفاد بالشرع بخلاف القیاسلان کون اراقۃ الدم قربۃ غیرمعقول المعنی فاقتصر علی مورد الشرعولہذا لم تجز التضحیۃ بشیئ من الوحش اھ وقال العینی فی رمز الحقائق انہا عرفت بالنص علی خلاف القیاس فیقتصر علیہا اھ۔ وقال العلامۃ الطوری فی تمکلۃ البحرالرائق جواز ھا عرف بالشرع فی البقر الاھل دون الوحشی والقیاس ممتنع . اھ ومثل ذلك فی کثیر من الکتب و انما الشان انہم علموا انہا من نوع البقر فتناولہما النص تناول اولیا من دون حاجۃ الی الحاقبہذا علل کما نص علیہ فی الہدایۃ والخانیۃ والذر وشرح النقایۃ للبرجندی وفی الجامع الرموز عن جامع المضمرات ومجمع الانہر عن المحیطوفتح اﷲ المعین عن التبیین و البحرالرائق عن الوالو الجیۃوالہندیۃ عن البدائع۔ قیاسی ہے ہی نہیںاگر قیاس پر مدار ہوتا تو سفید نیل گائے کو گائے کے ساتھاور پہاڑی بکری اورہرن کو بکری کے ساتھ لاحق کرنا بدرجہ اولی بہترہوتا لیکن ایسا جائز نہیں۔
علامہ اتقائی نے غایۃ البیان میں فرمایا:"قربانی کا مسئلہ بالکلیہ غیر قیاسی ہے کیونکہ خون بہانا کار ثواب ہویہ بات غیر معقول ہے۔ اس لئے جن جانوروں کو شرع نے جائز قرار دے دیا ان کے علاوہ مثلا وحشی جانوروں کی قربانی شرعا جائز نہیں"علامہ عینی نے رمز الحقائق میں تحریر فرمایا:"قربانی حکم الہی سے خلاف قیاس ثابت ہوتی ہےتو اسی پر اقتصار کیا جائے گا"۔علامہ طوری تکملہ بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں تصریح فرماتے ہیں:"قربانی کا جواز شرح مطہر میں انھیں جانوروں میں ثابت ہے جو اہلی ہوں وحشی میں نہیں اور یہاں قیاس کو باریابی کی اجازت نہیں"
تو حقیقت حال یہ نہیں ہوئی کہ اکمل کو کامل کے ساتھ لاحق کیا گیابلکہ حقیقت یہ ہے کہ علماء کے نزدیك بھینس کا گائے کی ہی نوع میں ہونا ثابت ہوا تو انھوں نے کہا کہ قرآن کا لفظ بقر
حوالہ / References غایۃ البیان
رمز الحقائق فی شرح کنز الدقائق کتاب الاضحیۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۵€
تکملہ من البحرالرائق کتاب الاضحیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۱۷۷€
#7429 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وردالمحتار عنہا وعن المغرب وان اقترحت جلیت لك نقولہافانی لم اثر فی ھذہ الرسالۃ شیئاالا من الکتب التی منحنی بی فہی عندی فی ملکی ویدی حتی انہم اخذوا علی لفظۃ توھم التغایر بینہما کقول الکنزالجاموس کالبقر کما فی التبیین و البحر والنہر والشرنبلالیۃومجمع الانہر وابی السعود وغیرھا مع انہ ان انما ھو کقولہ ایضا البخت کالعراب بید ان اول المسئلۃ کان ھناك بلفظ الابل فلم یوھم التشبیہ وھہنا بلفظ البقرفاوھمثم لما ذا استکثر من ھذاالفصل وانت الناقل عن رد المحتار قولہ البقر بنوعیہ اھوعن مفاتیح الجنان ان الجاموس داخل فی البقر اھ۔وعن الاشعۃ جاموس
بھینس کو شامل ہے اس لئے مسئلہ ہذا کے الحاق والے قاعدہ کے سہارے کی بالکل ضرورت نہیںیہ امور ہدایہخانیہرمز الحقائقتکملہ طوریمستخلص الحقائقشرح ملامسکینطحطاوی علی الدرشرح نقایہ برجندیجامع الرموزجامع المضمرات مجمع الانہر عن المحیطفتح اﷲ المعین عن التبیین بحر الرائق۔ والوالجیہہندیہعن البدائعردالمحتار عن البدائع و عن مغرب منصوص ہیںضرورت پر ساری کتابیں پیش کی جاسکتی ہیںالحمدﷲ ساری کتابیں میری ذاتی ہیںہاں ان حضرات نے ایك لفظ ایسا ضرور کہا ہے جس سے یہ شبہ ہوگا کہ گائے اوربھینس میں تغایر ہے اور وہ کنزتبیین بحر نہر شرنبلالیہ مجمع النہر ابی سعودوغیرہ میں ذکر کیا ہوا لفظ "الجاموس کالبقر"ہے لیکن اس سے دھوکا کھانا غلط ہے کیونکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے علماء اونٹ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں"البخت کالاعراب"بیان مسئلہ میں اونٹ مقسم کی طرح پیش کیا گیا ہے۔اس کے باوجود جب بخت واعراب دو نوع نہ ہوئے تو صرف کاف تشبیہ کی وجہ سے بقر وجاموس دو نوع کیسے ہوں گے اور خاص کر مجیب صاحب کو
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶/ ۷€
تکملہ من البحرالرائق کتاب الاضحیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۱۷۷€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴€
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن الاضحیۃ ∞مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸ٍ ۲€
#7430 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
نوعے از بقر ست فمالی اراك نقل العبارات وتنبؤ عنہا کان لم تسمعہاکلا بل تسمع وتفہم ثم تحیلاما سمعناك نقول انہم یدخلون الجاموس فی البقرویقولون انہ نوع منہثم عدت تعد الا نواع خمسۃوتعجل النوع یقابل جنسہوبالجملۃ قد تبیین بطلان تخمیس الا نواعوعد الجاموس نوعا براسہ۔ثم لایخفی علی کل ذی حجی مالم یکن اغلظ طبعا من الجوامیسمابین البقروالجاموس من البون البین صورۃ ومعنییبائن الوضع الوضع و الطبع الطبعواللحم اللحمواللبن اللبنوالطعم الطعموالحمل الحملوالمزاج المزاجوالاثار الاثار والافعال الافعالوالخواص الخواصحتی حکم القیاس انہا نوعان متباینانوان الجوامیس لا تجوز التضحیۃ بہاوانما الاجزأ حکم الاستحسان قال فی الخلاصۃ ثم الاتقانی فی شرح الہدایۃ و الحلبی فی تکملۃ لسان الحکام الجاموس یجوز فی الضحایا تو یہ شبہہ ہونے کی کوئی وجہ نہیںکیونکہ انھوں نے خود ہی ردالمحتار کی عبارت"البقر بنوعیہ"اور مفاتیح الجنان کا حوالہ"ان الجاموس داخل فی البقر"(بھینس گائے میں شامل ہے)۔اور اشعۃ اللمعات سے"جاموس نوع از بقر" (بھینس گائے کی ایك قسم ہے)نقل کیا ہے حیرت ہوتی ہے کہ اس کے باوجود کس طرح مجیب نے قربانی کے جانور کی پانچ قسمیں کیںاور بھینس کو الگ ایك نوع قرار دیا پس واضح ہوا کہ پانچ نوع قرار دینا غلطاور بھیڑ کو چھٹی قرار دے کر اس سے انکار کرنا غلط درغلط ہے۔


ایك بات یہ بھی قابل غور ہےکہ گائے اور بھینس میں صورۃ اور معنا بناوٹطیبعتگوشت اور دودھمزے اور اعمال وآثار میں تباین ظاہری ہے جس کے پیش نظر عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ان دونوں میں تباین نوعی ہے۔اور بھینس کی قربانی نہ ہونا چاہئے مگر جائز ہےتو یہ ایك خلاف قیاس حکم ہے۔
خلاصہ اتقانیحلبی میں:"بھینس کی قربانی استحسانا جائز ہے"
فاضل عبدالحی لکھنوی کی شرح مختصر وقایہ میں
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیہ الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۰۸€
#7431 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
والہدایا استحسانا اھوفی شرح مختصر الوقایۃ للفاضل عبدالعلی الجاموس کالبقرۃ لانہ نوع منہافی الروضۃ ھذااستحسان و القیاس انہ لا یجوز اھ وتغایر ہما فی العرف ظاہرولذا لو حلف لایاکل لحم البقر لم یحنث باکل لحم الجاموسکما فی زکوۃ الہدایۃولا بعکسہکما فی ایمان الخانیۃوما اذا یعنی مجرد الوفاق فی عدد الاعضاء مع الخلاف فی جمع مامرفان ذلك حاصل فی الخیل والعیر ایضا مع انہمانوعان متباینان قطعا عرفا وشرعابل لك ان تقول لا وفاق فی العدد ایضافان لبقر جلد ا متدلیا من مبدأ حلقہ الی منحرہولیس ذلك للجاموسوالشعر یعم بدن البقر ولیس علی جمع الجاموس الا شذر مزرفاذا استحسنوا مع کل ذلك ان الجوامیس لیست الا من نوع البقرکانت ضئین الہند احق بان تعد من نوع اضؤن العربفانہما الاخلف بینہما فی شیئ ہے"بھینس گائے کی طرح ہے یہ اسی کی ایك نوع ہے"روضہ میں ہے:"اس کی قربانی استحسانا جائز ہے قیاس میں تو جائز نہ ہونا چاہئے۔"عرف کے اعتبار سے گائے اور بھینس کا تغایر ظاہر ہےاسی لئے اگر کوئی قسم کھائے کہ گائے کا گوشت نہیں کھائے گاتو بھینس کا گوشت کھانے سے حانث نہ ہوگایہ مسئلہ ہدایہ کتاب الزکوۃ میں ہےاور خانیہ میں ہے بھینس کی قسم کھائی تو گائے کا گوشت کھانے سے حانث نہ ہوگااور اگر خالی اعضاء کی تعداد میں موافقت کی وجہ سے گائے اور بھینس کے ایك نوع ہونے کا خیال کیا جائے اور تو گھوڑے گدھے میں اس سے زیادہ یکسانیت ہے حالانکہ وہ دونوں عرفا اور شرعا ہر لحاظ سے دو متبائن نوعیں ہیںاور تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ گائے اور بھینس میں اعضاء کی تعداد میں بھی موافقت نہیں ہے کیونکہ گائے کی گردن میں فاضل کھال لٹکتی ہے جو بھینس میں نہیں ہوتیاور گائے کے سم پر گھنا بال پورے بدن پر اگا رہتا ہے اور بھینس کے جنس پر چند قلیل بال ہوتے ہیں پس جب ان سارے اختلافات کے باوجود استحسان میں گائے اور بھینس کے ایك جنس ہوئے تودنبہ اور بھیڑ کے ایك جنس ہونے میں کیا شبہہ ہوسکتاہے
حوالہ / References خلاصۃالفتاوی الفصل الرابع ∞مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۱۴€
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الاضحیہ ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۱۹۵€
#7432 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مما وصفنا حتی لو ان ضائنین منہما متشابہی اللونوالجثۃ نظر ھما ناظر من قدام لم یکد یمیز بینہما کضائنین کذلك من ارض واحدۃنعم الالیۃ من احدھما عریضۃ قصیرۃ ومن الاخری ضئیلۃ طویلۃ ومثل ھذا الخلف بل اکثر منہ کثیرا مایوجد فی افراد نوع واحد باختلاف الاراضی واختلاف المادۃ وغیرہ ذلک۔
الاتری الی غلظ شفاہ الحبشوصغر عیون الترك فطس انوف الصین ولبعض من اتراك الوحوش علی عصعصہ لحمۃ زائدۃ قدر شبر یشبہ الذنب والہنۃ الناتیۃ بین الشفرین لاتوجد خلقۃ فی نساء المغربوربما یکون لانسان ستۃ اصابع وذکر الفقہاء ما اذا کان للمرءیدان فی یداو رجلان فی رجل اوکفان فی کفھل یجب غسلہا فی الوضوءکما فی البحروالنہروالدروالہندیۃ وغیرھاولقد رأیت لبعض البلاد جمالا جمیلۃ المنظرلطاف الجسم صغار الحجم
کیونکہ ان میں تو مذکورہ بالا اوصاف میں سے کسی میں اختلاف نہیںاگر ایك رنگ کے دنبہ اور بھیڑ کو آگے سے دیکھئے تو فیصلہ مثل ہوگا کہ کون بھیڑ ہے اور کون دنبہہاں صرف یہ بات ہے کہ دنبہ کی دم چوڑی اور چھوٹی ہوتی ہے اور بھیڑ کی دم لمبی اور بالدار ہوتی ہے۔لیکن یہ کوئی بات نہیں اس سے بڑے بڑے اختلافات ایك نوع کے افراد میں اختلاف آب وہوا کی وجہ سے پائے جاتے ہیںاور ان کا لحاظ کرکے کوئی اختلاف نوع کا حکم نہیں لگاتا۔
امثلہ(۱):آدمیوں میں حبشیوں کا ہونٹ نہایت موٹا ہوتا ہے(۲)ترکیوں کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہے(۳)چینیوں کی ناك چیپٹی ہوتی ہے(۴)اور بعض وحشی ترکیوں کی دم کی ہڈی پر دم ہی کی طرح ایك بالشت تك لمباگوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے(۵)عام عورتوں کی شرمگاہ میں جو پارہ گوشت ابھرا ہوا ہوتا ہے مراکشی عورتوں میں خلقۃ نہیں ہوتا(۶)ایسا بھی تو ہوتاہے کہ آدمی کے کبھی چھ انگلی ہوجاتی ہےچنانچہ فقہاء کا جزیہ ہے اگر کسی آدمی کے دو دو ہاتھ ہوں یا دو دو پاؤں یا ایك ہاتھ میں دو ہتھیلیاں تو کیا وضو میں دونوں کا دھونا واجب ہے۔یہ مسئلہ بحرنہردرر اور ہندیہ میں مصرح ہے۔ (۷) میں نے بعض شہروں میں اونٹ دیکھے ہلکے پھلکےلمبے بال والےجن کے پشت پر دو کوہانیں تھیں جن کے بیچ میں ایك
#7433 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
طوال الوبرلکل منہا علی ظہرہ سنامان رفیعان بینہما مجلس الراکب یکونان لہ کعودی الرحل وقد قال العلامۃ القروینی فی عجائب الموجوداتثم الامام الدمیری فی حیوۃ الحیوان انہ یجلب من الہند نوع من الضأن علی صدرہ الیۃوعلی کتفہ الیتانوعلی فخذیہ الیتانوعلی ذنبہ الیۃ وربما تکبرالیۃ الضأن حتی تمعنہ من المشیزاد القزوینی فیتخذ لالیتہا عجلۃ توضع علیہا وتشد الی صدرھافیمشی الضان وتجر العجلۃ والا لیۃ علیہا اھفہذہ اختلافات فی الاعضاء باصل الوجود و العدمفضلا عن الصغروالکبروالطول والقصر فہل یجوز لعاقل ان یحکم لذلك باختلاف النوع وان احد من صنفی الا بل ذات کومین و ذات کوم مثلا لیس من نوع الابللاتجوز التضحیۃ بہولا تجب الزکوۃ فی سائمتہ۔
السابع۷:اطبق اھل التفسیر والحدیث والفقہ و اللغۃ من العرب والعجمان الغنم نوعانضان و معز آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی(۸)امام قزوینی نے عجائب المخلوقات اور دمیری نے حیوۃ الحیوان میں تحریرکیا ہندوستان کے بعض دنبے آتے ہیں جن کے سینے پر چکتی ہوتی ہے اور دونوں مونڈھوں پر دو چکتی اور رانوں پر دو چکتی اور دم پر ایك چکتی ہوتی ہے جو اتنی بڑی ہوتی ہے کہ لکڑی کی چھوٹی گاڑی پر وہ چکتی رکھ دی جاتی ہے اور گاڑی دنبہ کے سینہ سے باندھ دی جاتی ہے جسے وہ کھینچتاجاتاہے۔
مذکورہ بالا سارے اختلافات جو اعضاء کی کمی بیشی میں واقع ہونےچہ جائیکہ ان کے بڑے اور چھوٹے ہونے کا اختلافتو کیا کوئی عاقل اس کی وجہ سے جانوروں کی نوع میں اختلاف ہونے کی بات کرے گا اور کہے گا کہ یہ دوکوہان والے اونتاونٹ ہی نہیںنہ ان کی قربانی ہوسکتی ہے نہ یہ سائمہ جانوروں میں شمار ہوں گے نہ ان پر زکوۃ ہوگی۔




تنبیہ ہفتم توضیح مزید:عربی وعجمی اہل تفسیر و حدیثاہل فقہ ولغت اس بات پر متفق ہیں کہ بکری کی دو قسمیں ہیں:ضان اور معزجس کی
حوالہ / References حیاۃ الحیوان باب الضاد المعجمۃ(الضان) مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۶۳۴،€عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات الضان مصطفی البابی ∞مصر ص ۲۴۹€
#7434 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
میش وبزوان الضان ومیش خلاف المعز وبزو المعز وبز خلاف الضان ومیشقال العلامۃ الخفاجی فی عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیتہ علی تفسیر البیضاوی الضائن خلاف الماعزوجمعہ ضان اھ وقال فی مجمع بحار الانوار ضوائن ذات صوف عجاف ھو جمع ضائنۃ وھی الشاۃ من الغنم خلاف المعز اھ وقال فی المرقات الضان خلاف المعز من الغنم اھ وقال العلامۃ مسکین فی شرح الکنزالغنم اسم یطلق علی الذکر و الانثی من الضان والمعز والضان خلاف المعز اھوقال فی القاموس المعز ھو خلاف الضان من الغنم اھوفیہ الضائن خلاف الماعذ من الغنمجمع ضأن اضئن ضأنك اعزلہا من المعز اھ
وفی مختار الصحاح للعلامۃ الرازی الضائن ضد الماعز و الجمع الضأن والمعز اھ۔ تعبیر فارسی میں میش اور بز سے کی جاتی ہے اور دونوں میں ایسا اختلاف ہے کہ جو معز ہے ضان نہیں اور جو ضان ہے معز نہیںحوالے:
oضائن ماعز کے خلافاور اس کی جمع ضان ہے(علامہ خفا جی حاشیہ بیضاوی)
o ضوائن اون والی ضائنہ کی جمعیہ بکری کی ایك قسم خلاف ماعز ہے۔(مجمع بحارالانوار)
o ضائن معز کے خلاف غنم میں سے۔(مرقات)
o غنم اسم جنس ہے۔یہ ضان ومعز مذکر ومؤنث دونوں پر بولا جاتاہےاور ضان اور معز میں اختلاف ہے۔(شرح کنز علامہ مسکین)
o معز ضان کے خلاف ہے۔غنم کی ہی ایك قسم ہے (قاموس)
o ضائنبکریوں میں معز کے خلافاور جمع ضائنمحاورہ ہے:اپنے ضانوں کو ماعز سے الگ کرو۔(قاموس)
oضائن ماعز کا ضد ہے۔اور جمع ضان اور معز ہے(مختار الصحاح رازی)
حوالہ / References عنایۃ القاضی حاشیۃ علی البیضاوی ∞تحت آیۃ ۶/۸۰€ دارصادر بیروت ∞۵/ ۳۵۹€
مجمع بحارا لانوار باب الضاد مع الہمزۃ ضائن مکتبۃ دارالایمان المدینۃ المنورہ ∞۳/ ۳۸۳€
مرقات المفاتیح کتاب الصلٰوۃ باب فی الاضحیۃ الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۳/ ۵۶۱€
شرح الکنز لمنلا مسکین مع فتح المعین کتاب الاضحیہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۸€۱
القاموس المحیط باب الزاء فصل المیم(العز) مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۹۹€
القاموس المحیط باب النون فصل الضاد(الضائن) مصطفی البابی ∞مصر ۴/ ۲۴۴€
مختار الصحاح تحت لفظ ضائن مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ∞ص۳۷۶€
#7435 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وفیہ المعز من الغنم ضد الضان اھوتقدمت انفا عبارات ذخیرۃ العقبی والصراح و انت المحتج بقول الغیاث گوسفند بمعنی میش مقابل بز چنانکہ معز درعربی مقابل ضان ست الخوحشیت علیہ بقولك ازیں عبارت صاف معلوم می شود کہ آں حیوان کہ عرب آں راضان گویند فرس آں رامیش گویندوانچہ عرب آں معز گویند فرس بز گویندونقلت عن الشیخ المحقق قدس سرہ غنم دوصنف ست معزکہ آں رابز گویند وضان کہ آں رامیش خوانند وایدتہ بقول الشامی الشاۃ بنوعیہ اھفکان اجماعا علی ان ماکان من الغنم خارجا عن الضان ومیش فہو داخل فی المعز وبزوماکان منہا خارجا عن المعز وبز فہو داخل فی الضان ومیشوقدبینا ان حیوانا ھذا من الغنموان ستربك فیہ فلن یستر بین احد ممن لہ قسط من العقل انہ من بہیمۃ الانعامثم لعلك تزھو بنفسك ان تدعی کونہ ابلا اوبقرا فاما معز بکریوں میں ضان کا ضد ہے۔(مختار الصحاح رازی)
ذخیرہ عقبی اور صراح کی عبارتیں اوپر گزریں۔
o گوسفند معنی میں میش کے جو بز کا مقابل ہے جیسا کہ معز عربی میں ضان کا مقابل ہے۔(غیاث اللغات بحوالہ مجیب)
o جس حیوان کو عرب ضان کہتے ہیں فارسی میں میش کہتے ہیں(تقریر مجیب)
o غنم کی دو قسم ہے۔معزکہ اس کو بز کہتے ہیںاور ضان کہ اس کو میش کہتے ہیں(شیخ محققبحوالہ مجیب)
oبکری اپنی دونوں نوعوں کے ساتھ(شامی بحوالہ مجیب)۔
تو ایك طرح اجماع ہوگیا کہ غنم صرف دونوں میں منحصر ہےجوغنم معز نہیں وہ ضان ہے۔اور جو ضان نہیں وہ معز ہے۔تو لامحالہ بھیڑ کو بھی ضان یا معز کسی میں داخل ماننا پڑے گااور اگر کچھ شبہ ہو تو اتنا تو قطعی ہے کہ یہ بہیمۃ الانعام میں داخل ہے۔اور بہ اتفاق علماء انعام کی صرف چارقسمیں ہیں۔اس امر کی تصریح امام بغوی نے معالم میں اور
حوالہ / References مختار الصحاح تحت لفظ(المعز) ∞مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ص۶۲€۷
غیاث اللغات فصل کاف ∞فارسی مع واؤ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳۱€
اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیۃ الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۰۸€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۴€
#7436 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ان یکون من المعز او من الضاناذا الانعام منحصرۃ فی الاربع بتصریح العلماء کافۃ کما نص الامام البغوی فی المعالموالامام الرازی فی المفاتیح والعلامۃ الرومی فی ارشاد العقل والمولی القاری فی المسلك المتقسطو الفاضل طاہر فی مجمع البحار وغیرھم فی غیرھا لکن الاول باطل اذا المعز ذات شعروھذا باعترافك ذات صوف والمعز بز وبکری و ھذا لیس بہا عند احد من الصبیان فضلا عن علماء اللسان فتعین ان یکو ن من الضان فانظرالی حججك کیف کرت علیك بالحجاج فان الضان ومیش لوکان مختصۃ عند العرب والعجم بمالہ الیۃ وھذا لا الیۃ لہ بزعمك توجب ان یکون خارجا منہافوجب ان یکون داخلافی المعز وبزوقد قفیت علی نفسك انہ لیس منہافبطل انحصار الغنم فی نوعین وقد کنت بہجت بہ نقلا واستنادا و تعویلا واعتمادا ثم بطلانہ یقتضی ببطلان دعوك فان مدار التضحیۃ علی النعمیۃ دون خصوص الالیۃ و الضانیۃ۔
الثامن۸:کل ماشققورققوظن ان قد دقق من کون میش حقیقۃ فی کذا ومجازا فی کذا او مشترکا بینہا الخ انما ھو علی زعم رازی نے مفاتیح میں رومی نے ارشاد میں ملا علی قاری نے ملسك المتقسط میں اور فاضل طاہر نے مجمع البحار میں کی ہے۔ اور ان کے علاوہ نے دوسری کتابوں میں کی ہے۔ اور آپ اس کو گائے یا اونٹ میں شامل کرنے کی جرأت کرہی نہیں سکتے۔ لا محالہ یہ ضان میں ہی شامل ہوگامعز یا بکری تو ہوگا نہیں کہ اس کے اون ہوتاہے اور معز کے اون نہیں ہوتا کیونکہ آپ کا یہ خود کااعتراف ہے کہ یہ اون والی ہےتو دیکھئے آپ ہی کی دلیل نے آپ کا کیسا ردکیا اور صاف ظاہر ہوگیا کہ چکتی مابہ الامتیاز نہیںورنہ بھیڑ کو معز میں داخل کرناہوگااور آپ اس کو دونوں ہی سے خارج کرنے پر تلے ہوئے تھےاور اسی سے آپ کے دعوی کا رد بھی ہوگیا کہ یہ قربانی کا جانور نہیں۔





تنبیہ ہشتم حقیقت ومجاز والی تدقیق کا جواب:اس پر مجب کی اس قسم کی ساری تدقیقات کہ میش ذوات الیہ میں حقیقت ہوگا یا مجاز یا مشترکسب کا مبنی یہ تھا کہ چکتی کو میش کی حقیقت
#7437 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ان مالہ الیہ مغایر بالنوع لما لیست لہ الیۃ بالمعنی الذی توھم فظن ادخالہا جمیعا یؤدی الی التثلیث و لم یدرانہ ھوالواقع فیہ لما بینا ان ھذا الحیوان من الانعام قطعا واذ لیس من البدن فمن الغنم فلو کان نوعا مغایر الذوات الالیات لو جب التثلیث۔
التاسع۹:احسنت اذ ایقنت ان التفسیر بالاعم انما یجوز حیث یقصد التمییز عن بعض الاغیار ولکن دعواك ان ہہنا کذالك فمفسروا الضأن بمیش انما قصدوا المیز عن البعضکلمۃ انت قائلہا لا برہان لك علیہا بل الحجۃناطقۃ بخلافہا حیث کان المحل لبیان حکم لا یعد والضان کجواز الجزع کما فی عبارۃ الشیخ المحقق رحمہ اﷲ تعالی فی اشعۃ اللمعات وغیرھا۔
العاشر۱۰: انما الخطاب بلغۃ العربفمالم یثبت النقل فالاحتجاج باللغۃ تام قطعا ولا یدفع بالاحتمال بناء علی ان اھل الشرع قد یصطلحون علی معنی اخربذلك استدل الامام المحقق علی الاطلاق محمد بن الہمام میں بنیادی دخل ہے۔اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ بنیاد ہی غلط ہےتو یہ تدقیقات بھی بے حقیقت ہوگئیںاور انھیں پر مبنی یہ حکم بھی کہ غنم کی دو ہی قسم نہ رہیں گیبھیڑ کے بعد اس کی تین قسم بنیں گی۔
تنبیہ نہم ذات الصوف تعریف بالاعم نہیں:یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ کبھی کبھی تعریف وتفسیر لفظ اعم سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ مجیب نے دعوی کیا ہے۔لیکن یہ بات کہ لفظ ضان کی تفسیر میں میش کا ذکر بھی یونہی ہے۔بےحقیقت بات ہے۔ بلکہ شہادات اس کے خلاف ہے۔کیونکہ یہ تفسیر ایك ایسے حکم کے بیان کے سلسلہ میں ہے جو اضان کے ساتھ خاص ہے جیسے صاحب اشعۃ اللمعات کا یہ کہنا کہ ضان کا چھ ماہہ بچہ بھی جائز ہے۔
تنبیہ دہم دربارہ لغت فقہاء واوہاء:نیز یہ بات بھی صحیح نہیں کہ اعتبار فقہاء کی لغت کا ہےنہ کہ ادیبوں کی لغت کاجب خطاب زبان عرب میں ہے۔تو جب تك منقول ہونے کا ثبوت نہ ہو ضروری ہےکہ لغوی معنی ہی مراد ہوں اس کی تائید ابن ہمام رضی اﷲ تعالی عنہ کے اس
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیۃ الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۰۸€
#7438 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
علی تحریم البنت من الزناقال فی الفتح لانہا بنتہ لغۃ والخطاب انما ھو باللغۃ العربیۃ مالم یثبت نقل وتبعہ علیہ البحر فی البحروالشامی فی ردالمحتار وغیرھما من العلماء الکبائروھذا الذلم یظہر من الوفاقفکیف وقد ثبتت مواطاتہم علیہ کما مر و یاتی بتوفیق اﷲ تعالی۔
الحادی عشر۱۱: تظافرت کلمات علماء التفسیر و الحدیث والفقۃواللغۃ وغیرھا علی المیز بین الضان والمعز بالصوف والشعرقال الامام محی السنۃ البغوی فی معالم التنزیل الضأن النعاج وھی ذوات الصوف من الغنم_______والمعز ذوات الشعر من الغنم اھ مختصراوقال الامام الرازی فی تفسیر الکبیر الضان ذوات الصوف من الغنموالمعز ذوات الشعر من الغنم اھ ملخصا وفی المصباح المنیر وحیوۃ الحیوان وغیرھما الضان ذوات الصوف من الغنم اھو فرمان سے ہوتی ہے کہ"لغۃ زنا سے پیدا ہو نےوالی لڑکی کو بنت ہی کہا جاتاہے اس لئے قرآن کے فرمان وبناتکم میں یہ بھی داخل ہوگیاور زانی کا نکاح ایسی لڑکی سے حرام ہوگا"۔(امام ابن ہمامبحرشامی)
تنبیہ یازدہم تفسیر بالاعم کی حقیقت:یہ امر بھی قابل غور ہے کہ علماء تفیسر وحدیث اور فقہ ولغت کی بڑی تعداد نے ضان اور معز کی تفریق میں صوف اور بال کا لفظ استعمال فرمایا ہے تو تفسیر بالاعم وغیرہ کی تاویل ان کے کلام میں نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان قلیل التعداد علماء کے کلام میں جو ایك لفظ خاص "ذات الیۃ"(چکتی والی)سے تعبیر کرتے ہیںحوالے:
o بغوی معالم التنزیل"ضان ونعجہنر ومادہ اون والی بکری کو کہتے ہیں اور بال والی کو معز"۔
o امام رازی تفیسر کبیر:"اون والی بکری ضان ہے اور بال والی معز"۔
o مصباح المنیر وحیوۃ الحیوان"بکری کی اون
حوالہ / References فتح القدیر کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۱۸€
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۹۲€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳€ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۱۳/ ۲۱۶€
المصباح المنیر الضاد مع الاواو الضان مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۲€
#7439 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فی شرح النقایۃثم الطحطاویو ردالمحتار الضان ماکان من ذوات صوف والمعز من ذوات الشعر ۔وبہ فرق بینہما فی البحرالرائق وغنیۃ ذوی الاحکام وفتح اﷲ المعین جمیعا عن معراج الدرایۃوالیہ یشیر حدیث الامام احمدوابن ماجۃ والحاکم و قال صحیح الاسناد عن زیدبن ارقم رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یارسول اﷲ ماھذا الاضاحیقال سنۃ ابیکم ابراھیم علیہ الصلوۃ والسلامقالوا فما فیہا یارسول اﷲقال بکل شعرۃ حسنۃقالوا فالصوف یا رسول اﷲ قال بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ
قال فی المرقات لما کان الشعرکنایۃ عن المعز کنواعن الضان بالصوف الخوالیہ مال النصوص التسعۃ المذکورۃ فی التنبیہ السابععن العنایۃ و الجمعوالمرقاۃوشرح الکنزوذخیرۃ العقبی و القاموس والصراحومختار الصحاح والی قسم ضان کہلاتی ہے"۔
طحطاوی شرح نقایہ ردالمحتار:"ضان اون والی اور معز بال والی"۔
o بحرالرائقغنیہ ذوی الاحکام فتح اﷲ المعین عن معراج الدرایۃ(ایضا)
o حدیث امام احمد ابن حنبل:ابن ماجہ کا ارشارہ یہی ہے: "زیدبن ارقم کہتے ہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھا:یار سول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم! یہ قربانیاں کیاہیں فرمایا:تمھارے باپ ا براہیم علیہ السلام کی سنت۔ پوچھا:ہم کو کیا ملے گا فرمایا:اس کے ہر بال کے برابر نیکی۔ لوگوں نے عرض کیاـ:اون کے بارے میں کیا ارشاد ہے فرمایا اس کے بھی ہر بال کے برابرنیکی ملے گی"۔
o مرقات میں ہے:"حدیث شریف میں بال سے اشارہ بکری کی طر ف تھا۔تو لوگوں نے صوف کہہ کر ضان کے بارے میں پوچھ لیا"
ساتویں تنبیہ میں عنایہمجمعمرقاتشرح کنزذخیرہ عقبی قاموسصراحمختار الصحاح
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۳۰۶،€ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۹€
مسنداحمد بن حنبل حدیث زید بن ارقم رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۳۶۸،€سنن ابن ماجہ ابواب الاضاحی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۳۳€
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلٰوۃ باب فی الاضحیۃ المکتبۃ ∞حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۵۷۸€
#7440 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وغیاثك الذی استغثت بہ من تفسیر الضان بما یخالف المعز وبالعکس اذلو کان الفصل بینہا بشیئ اخص من الصوف لم یکن کل مالیس بضان معز اولا بالعکس بقاء مادۃ تفارق الصوف من ذلك الاخص خارجا منہا جمیعا عدم الضاینۃ لعدم الاخصی وعدم المعزیۃ لوجود الصوففہذہ احد واعشرون نصوصاسبعۃ اضعاف ما جئت بہ کلہا قاضیۃ بہذہ التفسیرولعل ماترکناہ اکثر مما سردنا وقد اعترف الرجل وان لم یعرف فسیقضی العیان ان ھذا الحیوان من ذوات الصوف فہو من خصوص الضان فضلا عن عموم الغنم اوالانعام و التعریف بالاعم وان جاز عند الاوائل فلیس بجید بالاجماع۔قال المولی المحقق السید الشریف قدس سرہ الشریف فی شرح المواقفاعلم ان اشتراط المساواۃ فی الصدق مماذھب الیہ المتاخرونواما المتقدمون فقالوا الرسم منہ تام یمیز عن کل مایغایر منہ ونا قص یمیز عن بعضوصرحوا بان المساواۃ شرط لجودۃ الرسم کیلا یتناول مالیس من المرسوم ولا یخلو عما ھو منہ اھ مختصراوقال العلامۃ حسن چلپی فی حاشیۃ التلویح لاخلاف فی اشتراط المساوات الجودۃ التعریف ۔اھ غیاث اللغات کی عبارتوں کا مفاد بھی یہی ہے۔کیونکہ ضان اور معز کے علاوہ کوئی اور نوع ہوتی جس کی وجہ امتیاز چکتی ہو تو ضان اور معز میں جنس غنم کا انحصار باطل ہوا جاتاہے۔
یہ ۲۱ نصوص ہیں اور جو مذکور نہ ہوئے اس سے بہت زیادہ ہیںسب اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ ضان اور معز میں فرق اون سے ہے چکتی سے نہیںاس طرح مجیب نے لاعلمی میں ہی سہییہ اعتراف کرلیا کہ بھیڑ ضائن میں شامل ہے آگے علی الاعلان اعتراف کرنا پڑے گاعام سے تفسیر ماننے میں ایك خرابی یہ بھی ہے کہ متقدمین نے اسے صرف مباح مانا ہے۔ایسی تعریف عمدہ نہیں ہے۔


میرسید شریف رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح مواقف میں فرمایا: "متاخرین نے تعریف میں مساوات کی شرط لگائی اور متقدمین نے کہا کہ جو تمام مشارکات سے تمیز دے دے وہ رسم تام ہے۔اور جو بعض سے ممتاز کرے رسم ناقص ہے۔اور تعریف تبھی عمدہ ہے کہ مساوی سے ہو کہ امتیاز کامل حاصل ہو"اور حسن چلپی نے بھی حاشیہ تلویح میں فرمایا:تعریف کی عمدگی کے لئے مساوات شرط ضروری ہے"
حوالہ / References شرح المواقف المرصدا السادس المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۲/ ۴،۵€
حاشیہ التلویح مع التوضیح والتویح المطبعۃ الخیریۃ ∞مصر ۱/ ۶۷€
#7441 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فحمل کلامہم علی مالیس بجید لیس بجید۔
الثانی عشر۱۲:لوفرضنا التساوی فی الجودۃ فلا یرتاب من لہ عقل ورزق سلیقۃ مافی فہم الکلامان الظاھر المتبادر من التعریف انما ھو التساوی ولا یجوز العدول عن الظاھر الا بدلیلالا تری ان العلامۃ المحقق سعد الدین التفتازانی رحمہ اﷲ تعالی صرح فی حاشیۃ الکشاف کما نقلہ حسن چلپی فی حواشی التلویحان قول الفائق الحمد ھو المدح صریح فی الترادف اھ مع انہ لو القائل فی التلویح ان کتب اللغۃ مشحونۃ بتفسیر الالفاظ بماھوا عم من مفہوما تہما الخفلم یمنعہ تصریحہ ھذا عن جعلہ تفسیر الفائق الحمدبالمدح صریحا فی الترادفوھل ھو الا لان الظاھر ھو ا لتساوی مالم یدل علی خلافہ دلیلوبہ یجاب عن بحث چلپی
و ھکذا قال المولی السید الشریف(رحمۃ اﷲ تعالی) فی شرح الکشسافقولہ الحمد والمدح تویہ علماء جس بات کو غیر عمدہ بتادیںان کے کلام کو اسی پر حمل کرنا کوئی عمدہ بات نہیں ہے۔
تنبیہ دوازدہم تشریح مزید:ایك بات یہ بھی قابل غور ہے کہ بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ عام اور مساوی دونوں کے ساتھ تعریف ہم پلہ ہی ہے۔پھر بھی سخن فہم خوب جانتے ہیں کہ لفظ تعریف سے ذہن کی سبقت تسادی کی طرف ہی ہوتی ہے اور بغیرکسی قرینہ کے متبادرکو چھوڑ کر اعم مراد لینا خلاف نقل و عقل ہے۔
امام تفتا زانی نے حاشیہ توضیح میں تصریح فرمائی کہ کتب لغت میں عام کے ساتھ تفسیر عام ہے۔"
اس کے باوجود"فائق"کے قول"الحمد ھو المدح"کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:
"اس کا مطلب یہ ہے کہ حمد اورت مدح دومرادف لفظ ہیں۔"(شرح حاشیہ کشاف بحوالہ چلپی)
اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہوا کہ احتمال اعم ہونے کے باوجود انھوں نے ظاہر متبادر و مساوی پر کلام"فائق"کو محمول کیا۔
ٹھیك اسی طرح میر سید شریف نے بھی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ تعریف اعم بھی جائز ہے۔شرح کشاف میں"المدح والحمد"
حوالہ / References حاشیۃ التلویح مع التوضیح والتلویح بحوالہ شرح الکشاف المطعۃ الخیریۃ ∞مصر ۱/ ۶۷€
حاشیۃ التلویح مع التوضیح والتلویح بحوالہ شرح الکشاف المطعۃ الخیریۃ ∞مصر ۱/ ۶۷و ۶۸€
#7442 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اخوان ای ھما مترادفان ویدل علی ذلك انہ قال فی الفائق والحمد ھو المدح والوصف بالجمیل الخ فقد استدل بتفسیر اللغۃ علی الترادف مع انہ مصوب لجواز التفسیر بالاعم کما سیأتی وبالجملۃ فجواز شیئ شیئ وجواز الحمل علیہ شیئ اخرفقد یجوز شیئ فی نفسہ ولا یحوز حمل الکلام علیہ لکونہ خلاف الظاھر فلا عدول عنہ الابدلیل زاھر۔
الثالث عشر۱۳: الحق عندی ان التفسییر بالاعم انما یجوز ان جازحیث وضح المفاد وقامت القرینۃ علی المرادوالا فلا قطعا لعرق التغلیطلما فیہ ح من التلبیس والتخلیطوطریقۃ اھل اللغۃ معروفۃ انہم اذا نکرواعرفوا واذا عرفوا نکروا فاذا قیل احد جبل وسعدانۃ نبتلویفہم منہ الا انہ جبل معین ونبت مخصوصولئن قال ان احدا الجبل وسعد انۃ النبت لکان مخطئا قطعاوان کان لم یرتکب الا تفسیرا بالاعم کیف وانہ افہم ان احدا یرادف الجبل والسعدانۃ النبت وھذا ان کان خفیا علی غبی فلیس یخفی علی ذکی و اذا کان ھذا فی اللغۃفما ظنك بالشرعیات اخوان فرمایااس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کا محتمل اور جائز ہونا اور بات ہے۔اور اس کا محمول اور مراد ہونا اور بات ہے۔ پس ثابت ہوا کہ متبادر سے پھرنے اور محتمل پر کلام حمل کرنے کے لئے واضح قرینہ ضروری ہے۔




تنبیہ سیزدہم توضیح مزید: اور جو سچ پوچھو تو ہمارے نزدیك اعم سے تفسیر اسی وقت جائز ہے جبکہ اس سے مراد خاص ہو۔مثلا اہل لغت کایہ دستور ہے کہ نکرہ بول کو معرفہ اور معرفہ بول کو نکرہ مراد لیتے ہیں۔اب انھوں نے کہا"احد جبل"و" سعد انۃ نبت"تو اس کا ترجمہ ہوا"احد ایك خاص پہاڑ ہے اور"سعد انہ ایك خاص گھاس ہے"تو یہاں تعریف احد میں ایك عام لفظ جبل بول کر بھی مراد خاص پہاڑ ہواور محاورہ نکرہ بول کر معرفۃ مرادلیا ہواس موقع پر کوئی جبل کے بجائے الجبل بولے تو خلاف محاورہ اور غلط ہوگاحالانکہ اس بیچارے نے معرفہ کی تعریف میں لفظ معرفہ ہی استعمال کیا ہےلیکن اس عبارت سے کوئی یہ نہ سمجھے گا
حوالہ / References حاشیہ علی الکشاف للجرجانی مع الکشاف سورۃ افاتحۃ الکتاب ∞انتشارات آفتاب تہران ایران ۱/ ۴۶€
#7443 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
حیث المحل لبیان الاحکام الالہیۃ الخاصۃ بالشیئ فان التفیسر بالاعم ثم من ابین الاباطیل من دون اقامۃ قرینۃ وایتاء دلیل الاتری ان من علیہ کفارۃ صوم اذ سأل ما تحریر رقبۃفزعم زاعم انہ رفع قید عن شیئ حیفقد اخطأ وجعل سائلہ عرضۃ للخطأ فانہ ان قنع بقولہ فسیظن انہ یجزئ عنہ اطلاق انساناوطلاق نسواناوتسبیب حیوان و لذا تری العلماء المحققین من الفقہاء والمحدثین لم یزالوا یواخذون بترك القیود وبانثلام فی عکساوانخرام فی طرد یاخذون علی الحدودولقد احسن واجاد المولی المحقق محمد بن عبداﷲ الغزی فی منح الغفار کما اثر عنہ فی ردالمحتار اذ یقول فی بیان شناعۃ الاطلاق فی محل التقیید ما نصہ
کہ احد اور الجبل میں ترادف ہے۔تو سر اس میں یہی ہے کہ تعبیر اول میں محاورہ عام سے مراد خاص ہے اور ثانی میں خاص سے مراد عام ہے۔اور محاورے کا یہ فرق ہر صاحب فہم پر واضح ہے۔تو جب لغت کا یہ حال ہے کہ بولیں عام اور مراد لیں خاصتو شریعت غرا جس میں خاص شیئ کے احکام مخصوصہ کا بیان ہوتاہے۔عام بول کر عام ہی کس طرح مراد لیں گے یہاں بغیر قرینہ کے تفسیر بالاعم غلط اور باطل ہوگی
دلیل تنویری:روزہ کاکفارہ قرآن مجید میں ایك گردن آزاد کرنا آیا ہے۔اگر اب کوئی شخص لفظ تحریر رقبۃ کے معنی عام (زندہ کی قیددورکرنا)مراد لے تو غلط ہوگا کیونکہ ترجمہ کی بنیاد پر بندھے آدمی کو کھولناعورت کو طلاق دینااور جانور کو چھوڑ دیناسبھی مراد ہوسکتے ہیںتو لازم آئے گا کہ یہ سب چیزیں روزہ کا کفارہ بنیں۔یہیں سے علمائے محققین فقہاء ومحدثین کے اس طرز عمل کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ عام طور سے تعریفات میں قیود احترازی اور جمعیت و منعیت کا لحاظ کیوں کرتے حالانکہ وہ عام طور سے تعریفات میں قیود احترازی اور جمعیت و منعیت کا لحاظ کیوں نہیں کرتےحالانکہ جو کچھ بیان کرتے ہیں اس کی مراد ایك جامع مانع محدود ہی ہوتاہے ___ علامہ غزی تمر تاشی سے"شامی"نے نقل کیا کہ:حضرت علامہ نے الفاظ عامہ کو محل تقیید میں بھی عام مراد لینے والوں کے خلاف فرمایا:
#7444 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فیظن من یقف علی مسائلہ الاطلاقفیجری الحکم علی اطلاقہ وھو مقیدفیرتکب الخطأ فی کثیر من الاحکام فی الافتاء والقضاء اھ مثلا فی مانحن فیہ ان کان تفسیر الضان بذات الصوفوبخلاف المعز و بمیش کل ذلك تفیسر بالاعمفمن وقف علی کلماتہم المتظافرۃ المتکاثرۃ المتوافرۃ فی ذلک
فربما یجترح فی تضحیۃ بذات صوف لیست من الضان فیأثم بترك الواجب والاصرار علیہ سنین متطاولۃ کما ھو حال عامۃ المسلمین بالدیار الھندیۃ عالمھم وجاھلھم عند ھذالرجل قدحکم علیھم بالضلال والاضلال فمااضلھم ان ضلوا الا الی ھذہ التفاسیر بالاعموان کان رجل علق ابانۃ عرسہ بالتضحیۃفضحی بھذا یحکم الواقف علی کلماتھم بوقوع البینونۃوھی لم تبنفیحرم الحلال او بعدمھا ففعل ذلك یحکم بعدم الوقوعوھی قد بانت فیحلل الحرام الی غیر ذلك الشنائع العظام ما ھجمت تلك الامن تلقاء ذلك التفسیر بالعام فکیف یسوغ ان یحمل کلامھم علی مثل ھذا "جو مقام تقیید میں لفظ کے اطلاق کا سہارا لے کر احکام عامہ جاری کرے گا وہ بیشمار احکام کے فیصلہ میں قضاء اور افتاء غلطی کرے گا۔"
مثلا ہم مسئلہ دائرہ میں ہی لے لیںضان کہ جنتی تفسیریں ہیںجیسے اون والیجو معز نہ ہواو رمیش یہ سب تعریفیں کے الفاظ بالاعم ہیںاب کوئی اون والی تعریف کے الفاظ پر غور کرکے بھیڑذبح کردےتو ا س نے بقول مجیب غلط نہیں کیا
الاببرھان واین البرھان ھاتوابرھانکم ان کنتم صدقین۔
مگر آپ پڑھ ائے ہیں کہ انھوںنے ایسے تمام لوگوں کو جاہل اور جاہل گر بنایایا مثلاکسی نے اپنی عورت کے طلاق کو قربانی کرنے پر معلق کیااوربھیڑ کی قربانی کردیتو ایك ایسا شخص جو کلمات علماء کے مفہوم و مرا دکو سمجھتاہے۔بھیڑ کی قربانی کو قربانی قرار دے کر طلاق بائن واقع مانے گاجبکہ مجیب صاحب عام کو عام رکھتے ہوئے بھی اس کو قربانی کے جانور سے نکال کر طلاق نہ واقع ہونےکا فتوی دیں گےاب ان دونوں باتوں میں حقیقت امر سے قطع نظر جس کو پہلے صاحب حرام کہہ رہے ہیںدوسرے صاحب حلال ہونے کا فتوی دے رہے ہیںتو یہ سارے قبائح اسی تفیسر بالاعم کاشاخسانہ ہیںتویہ معلوم ہوا کہ یہ قول ہی غلط ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی کیفیۃ القسمۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۳۵€
#7445 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الا ببرھان و این البرھان ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین۔
الرابع عشر۱۴:مسألۃ التحدید ان کانت تؤخذ من جہۃ التقلیدکما یدل علیہ الاستناد بالاھوری فاجلۃ ائمۃ الدین وجہابذۃ النقاد المحققین مثل الامام فخر الدین الرازی فی شرح الاشارات والامام صدرالشریعۃ فی التنقیحوالعلامۃ القاضی عضد الدین فی المواقف والقاضی النحریر ناصر الدین البیضاوی فی طوالع الانواروالعلامۃ سعد الدین التفتازانی فی التہذیب والفاضل قطب الدین الرازی فی شرح الشمسیۃ و المحقق شمس الدین محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع فی اصول الشرائع وغیرھم من الاکابر المصرحین بان المعرف لا بدلہ من التساویفلا یجوز التعریف بالاعمولا بالاخصاحق بالاتباع وان شئت نقلت لك نصوصہمولا یخفی علیك ان المسألۃ شہیرۃ دائرۃوفی کتب الکلام و الاصول والمیزان سائرۃ فالاستاذ الی اللاھوری کیفما کان من ابعاد النجعۃ لاسیما وکتابہ فی النحوولیست المسألۃ من مسائل ذا النحو۔ تنبیہ چہاردہم حدکے تقلیدی ہونے کی بحث:تعریف کا مسئلہ اجتہادی نہیں تقلیدی ہے۔مطلب یہ کہ عام سے اگر تعریف جائز ہے تو بزور قیاس اس کور دور نہیں کرسکتے جیساکہ مجیب نےاس مسئلہ میں فاضل لاہوری کی سندپکڑی ہے۔ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مسئلہ تقلیدی ہے لیکن یہ بھی تو دیکھنا ہوگا کہ تقلیدی کن لوگوں کی کی جائے' اور جن کی تقلید کرتاہے وہ کیاکہتے ہیں۔تو امام رازی شرح اشارات میں صدرا لشریعہ تنقیح میںقاضی عضدالدین مواقف میںقاضی بیضاوی طوالع الانوار میںتفتازانی تہذیب میںقطب رازی شرح شمسیہ میں امام فناری اصول بدائع میںوغیرہ اکابر علمائے اعلام تصریح فرماتے ہیں کہ تعریف کے لئے تساوی ضروری ہے۔نہ تو معرف عام تعریف میں چلے نہ خاصتو ان علماء کی بات مانی جائے گی کہ فاضل لاہوری کیجبکہ ان کی کتاب فخن نحو کی کتاب ہےاور یہ مسئلہ علم نحو کا نہیں۔
#7446 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
والخامس عشر۱۵:الاوائل ان جوزوا التعریف بالاعم وھو الاقرب حیث لابعدکما قدمت فقد جوزوا التعریف بالاخص ایضاوالدلیل الدلیل فان عندھم لیس من شریطۃ التفسیر الا التمییز عن بعض ما یغایر وھو حاصل فی الکل بل قد یمکن ان یحصل بالمباین فالقصر قصوربل لك ان تقول ان من قبل الاعم فہو الاخص اقبللانہ یمیز المعرف عن کل ماعداہ کما ھو ظاھر وقد نص علیہ الحسن چلپی فی حواشی المواقف وغیرہ فی غیرھا قال المحقق الشریف فی شرحہا اما المتقدمون فقد جوزوا الرسم بالاعم و الاخصواید بان المعرف لا بد ان یفید التمیز عن بعض الاغیارواما عن جمیعھا فلیس شرطا لہ فالمساواۃ شرط للمعرف التام دون غیرہحدا کان او رسما اھ وکذلك ایدہ ایضا فی حواشیہ علی شرح المطالع کما نقلہ چلپی فیہاوقال قدس سرہ فی حواشیہ علی شرح الشمسیۃ الصواب ان المعتبر فی المعرف تمییزہ عن بعض ماعداہاما عن الکل فلا فالاعم والاخص یصلحان للتعریف اھ تنبیہ پانزدہم متقدمین کا مسلک:مققدمین نے جس طرح اعم سے تعریف جائز رکھی(اور اس میں کوئی بعد بھی نہیں جیسا کہ ہم نے بھی بیان کیا)انھوں نے اخص سے بھی تعریف کو جائز رکھا اور مبائن سے بھی امتیاز ہوجائے تو اس سے بھی تعریف جائز ہوگیکیونکہ ان کے یہاں جمیع ماعدا سے امتیاز ضروری نہیںبعض مشترکات سے بھی تمیز حاصل ہوجائے تو تعریف جائز ہے۔پس لفظ عام کی ہی کوئی خصوصیت نہیں رہی اخص بلکہ مبائن سے بھی تعریف جائز ہوئی۔بلکہ اخص تو جمیع ماعدا سے ممتاز بھی کردیتاہے۔البتہ کچھ فرد کو اپنے سے بھی خارج کردیتاہے۔
شہادتیں:o متقدمین نے اعم اور اخص دونوں سے تعریف جائز رکھی۔
دلیل یہ دی کہ تما مشترکات سے تمیز دینا مقصود نہیںبعض اغیار سے تمیز مقصود ہوتی ہے۔البتہ معرف تام کے لئے مساوی ہونا ضروری ہے۔اوریہ بات حد و رسم کے لئے عام ہے۔
(حاشیہ شرح موافق میر سید شریف وشرح مطالع حسن چلپی)
o معرف میں بعض ماعدا سے امتیاز مطلوب ہوتاہے تمام ما عدا سے نہیںتوخاص اور عام دونوں تعریف کی صلاحیت رکھتے ہیں(شرح شمسیہ میر سید شریف)
حوالہ / References شرح المواقف المرصدالسادس المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۲/ ۵،۶€
لوامع الاسرار ھاشیۃ علی شرح مطالع الانوار
#7447 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وکذلك صححہ المولی العلامۃ بحرالعلوم قدس سرہ فی شرح السلمفقال المتقدمون قالو ان کان الغرض الامتیاز عن کل ماعداہفلا یجوز الاالمساوی والاخصان لم یکن الاعم ذاتیا لہ۔وان کان الغرض الامتیاز عن بعض الاغیار فیجوز بالاعم والاخص والمساویواما المباین فان کان یورث الامتیاز فلا حجر فی التعریف بہ لکنہ نادر جداووجہ حقیۃ ھذا المذھب ظاہرفان الحاجۃ الی جمیع الاقسام المذکورۃ ثابتۃفاسقاط البعض عن درجۃ الاعتبار غیر لائق اھ الکل مختصر واذا جاز الامرانفمن این لك ان اطباق المترجمین قاطبۃ علی التفسیر بمیشوتفسیر اکابر العلماء من الفقہاء والمفسرین والمحدثینواللغویین بذات الصوف اوبخلاف المعزوھوالخارج من جادۃ الجودۃ دون تفسیر البعض لصاحبۃ الالیۃوما یدریك لعل الثلثۃ الاول ھی التفسیر بالمساویوھذا تفیسیر بالاخص و لم تکن بیدیك علقۃ شبہۃ تدعوك الی ما ادعیت الا الاغترار بہذا الفظ فحسبوقد شرد عنك وبردلنا ما قدمنا ونذکر بعد وﷲ الحمد من قبل ومن بعد۔ متقدمین کہا کہ کل ماعدا سے امتیاز مطلوب ہو تو مساوی یا اخص کے سوا جبك عام اس کا ذاتی نہ ہوکسی سے بھی تعریف جائز نہیںاور اگر غرض بعض ماعدا سے امتیاز ہو تو اعم واخص اور مساوی سبھی سے جائز ہے۔اور مبائن سے امتیاز ہوسکےتو اس سے بھی تعریف جائز ہے لیکن ایك نادر الوجود بات ہے اور اس مذہب کی حقانیت ظاہر ہے کیونکہ وقت وقت سے ضرورت سارے ہی اقسام کی پڑی ہے۔تو بعض کو ترجیح دینا اور بعض کو ترك کرنا غلط ہے(شرح سلم بحر العلوم)
تو ثابت ہوا کہ عام کی کوئی تخصیص نہیں خاص و عام دونوں ہی سے تعریف ہوسکتی ہے پس آپ کو یہ حق کب پہنچتا ہے کہ علمائے محققین مفسرین و محدثین کی ان تینوں تعریفوں کی (میشاون دارخلاف ماعز)تو آپ ساقط الاعتبار گردانیں اور بعض حضرات نے"صاحب الیہ"تفسیر کردی تو وہ قابل اعتبار ہوگئیکیا ایسا ممکن نہیں کہ وہ تینوں تعریفیں مساوی کے ساتھ ہوںاور چکتی والی تعریف تعریف بالاخص ہو ہمارے اس نظرئے کے خلاف خوش اعتماد کے سوا اور کوئی دلیل نہیںتو مسئلہ بالکلیہ ہمارے موافق ہوگیا۔
حوالہ / References شرح السلم لبحرالعلوم فصل المعرف الشیئ الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۱۱۸€
#7448 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
السادس عشر۱۶: استشہادك بمن التبیعضیۃ ان تمشیئففی عبارۃ شرح النقایۃ دون سائر عبارات التی نقلنا بعضہاثم لاحجۃ لك فیہا ایضا فان ما فی قولہ ما کان من ذوات الصوف للاستغراق والغردیۃ تاتی بالبعضیۃ فمن فی محلہا قطعا من دون دلالۃ علی عموم الحدوالمعنی ان الضان اسم کل فد من ذوات الصوفکان تقول علی ما اشتھر باقتفاءاثار الفلاسفۃ المبطلۃ ان الانسان اسم کل من کان من اھل النطق افیفہم منہم ان الناطق یعم الانسان وغیرہ وانظر الی عبارۃ نفسك حیث نزلت عن ادعاء التفسیر بالاعم و اتیت علی تعبیر المساوات بین الضان و ذات الصوف علی قول مخالفکفقلت لو قبل ان غرضہم من تفسیر الضان بمیش ان الضان ما کان من ذوات الصوف سواء کان لہ الیۃ اولاکما ان میش کذلك الخ فاین ذھب عنك ھہنا من التبعیضیۃ۔ تنبیہ شانزدہم تعریف میں من تبیعیضیہ کی تحقیق:صرف شرح نقایہ کی عبارت میں لفظ من آیا ہےما کان من ذوات الصوف(جو اون دار میں سے ہو)اس کو بعض کے معنی میں لے کر یہ سہارا پکڑنا کہ یہاں مراد تمام صوف والے نہیں بلکہ بعض صوف والے ہیں(یعنی دنبہ)غلط ہےکیونکہ اس سے قبل ما کان ہے۔جو استغراق کے لے ہےتو یہاں من جو تبعیض کے لئے آتی ہے کلی کے افراد پر فردا فردا دلالت کے لئے ہے۔او رمعنی یہ ہے کہ ضان نام ہے اون والے جانور میں سے ہر ہر فرد کاتو من کی تبعیض بھی سلامت رہی اور ماکا استغراق بھی۔
یہ ایسے ہی ہے کہ فلاسفہ نے انسان کی اوندھی سیدھی جو تعریف کی ہے:الانسان حیوان ناطق۔اس کی تعبیر کوئی یوں کرے:الانسان اسم لکل ماکان من اھل النطق (انسان ہر اس کانام ہے جو نطق والوں میں سے ہو)تو کیا اس مثال میں کوئی یہ گمان کرسکتاہے کہ ناطق انسان سے اعم ہے۔
مجیب اگر خود اپنی عبارت پر غور کرے تو اپنے اس غلط استشہاد سے رجوع کرے کیونکہ جب اس پر یہ اعتراض ہوا کہ علماء نے فارسی میں ضان کو میش کہااور یہی چیز اردو میں بھیڑ کہی جاتی ہے لہذا بھیڑ ضائن میں داخل ہوئیتو اس نے کہا اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ"ماکان من ذوات الصوف
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۳۰۶€
#7449 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
میش سواء کان لہ الیۃ او لا"(جو اون والی ہے میش ہے۔اس کے چکتی ہو یانہ ہو)
دیکھئے یہاں بھی من تبعیضہ ہےلیکن مجیب نے اس چکتی دار اور غیر چکتی دار دونوں میں عام مانایہاں من تبعیضہ کا سہارا لے کر صوف دار کو ضان سے عام نہیں مانا۔
پس معلوم ہوا کہ ان تعفریفوں میں من کا سہارا لینا بھی غلط ہے۔
السابع عشر۱۷: استنادك بعموم حد المعز لایغنی عنك شیئا فان عموم قرین لایدل علی عموم صاحبہوقد نص العلماء علی ان الاستدلال بالقران فی الذکر من افسدالدلائلوایضا لیس اسلوب الکلام فیہ کمثلہ فی الضان لعدم ما الافرادیۃ ھنا وکان ھذہ ھی نکتۃالتغییر ان کان القھستانی لا یخص الشعر بالمعزعلی انا رأینا العلماء یخصون قال العلامۃ علی القاری فی المرقاۃ تحت حدیث زید ن المذکور رضی اﷲ تعالی عنہ ان الشعر مختص بالمعز کما ان الوبر مختص بالابلقال تعالی
" و من اصوافہا واوبارہا و اشعارہا اثثا ومتعا الی حین ﴿۸۰﴾"
و لکن قد یتوسع بالشعر فیعم اھوسیأتیك من کلام المفسرین مایمیل الیہ میلا ظاھرامع ان الکلام ھہنا فی الغنم فغیرہ خارج عن المقسمفلم یکن فی شیئ تنبیہ ہفدہم قرآن فی اللفظ کی بحث:(علماء نے ضان کی تعریف میں ماکان من ذوات الصوف کہا(جس کے اون ہو)او رمعز کی تعریف میں ماکان ذوات الشعر(جو بال والا ہو)کہا:ا سے ان لوگوں کی تائید ہوتی تھی جو بھیڑ کو ضان میں داخل مانتےہیں کہ علماء نے ضانیت کا مدار اون پر رکھا چکتی پر نہیں)۔
اس کا جواب مجیب نے یہ دیا تھا کہ یہ تو جب ہو جب ہم یہ تسلم کرلیں کہ"مالہ صوف"کالفظ ضان کے مساوی ہے۔حالانکہ یہ لفظ یہاں بھی ضان سے اعم ہے۔دلیل یہ ہے کہ اسی کے ساتھ مالہ شعر کہہ کے بکری کی تعریف کی گئی ہے۔تو اگر اس تعریف میں بھی مدار بال پررکھا جائے تو گائے اور بھینس بھی جو بالدار ہیںبکری بھی شامل ہوجاتے ہیںاس لئے حقیقت یہی ہے کہ اس مقام پر علماء نے ضان اور معز دوونوں ہی کی تعریفیں لفظ عام سے فرمائی ہیں۔
مجیب کی یہ بات صحیح نہیںکیونکہ اس جواب کا مدار اس قاعدے پر ہے کہ"جو دو۲ جملے لفظ میں
حوالہ / References مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلٰوۃ باب فی الاضحیہ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۵۷۸€
#7450 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
من التعریف بالاعم۔ ساتھ ساتھ ہوں ان دونوں کا حکم بھی ایك ہی ہوتاہے"جبھی تو مجیب یہ کہہ رہا ہے کہ معز کی تعریف"مالہ شعر"میں شعر عام ہے۔ تو"مالہ صوف"میں صوف عام ہونا چاہئےحالانکہ یہ استدلال ہی سرے سے فاسد اور غلط ہے۔
(الف)علماء اسلام کا فیصلہ ہے کہ"قران فی اللفظ قران فی الحکم"لفظ میں ساتھ ہونا محکم میں ساتھ ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔اس لئے یہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ"مالہ شعر"عام ہو تو"مالہ صوف"بھی عام ہو۔
(ب)شاید اسی لئے قہستانی نے ضان کی تعریف میں"ماکان من ذوات الصوف"لفظ ماکان کے ساتھاورمعز کی تعریف میں صرف"من ذوات الصوف"لفظ ماکان کے بغیر کہایعنی یہ اسلوب بدلنا اسی لئے ہو اکہ ایك جگہ عام اور ایك جگہ مساوی مرادہو۔
(ج)معز کی تعریف میں لفظ شعرمعز کے مساوی ہے۔یہ خیال غلط ہےکہ عام ہے۔ملا علی قاری وغیرہ علماء کے نزدیك بکری کے بال کو ہی شرع کہا جاتاہےاس لئے بھینس اور گائے کے شمول کا کوئی سوال نہیں۔
"بیشك بال بکری کے ساتھ خاص ہےجیسا وبر اونٹ کے ساتھ خاص ہے۔اﷲ تعالی نے قرآن عظیم میں"من اصوافہا واوبارھا واشعارھا "فرمایا کہ صوف ضان کے لئےوبر اونٹ کے لئےاور شعر بکری کے لئےالبتہ محاورہ میں مجازا دوسرے بال کے لئے بھی شعر کا اطلاق ہوجاتاہے"۔(ملاعلی قاری مرقات زید حدیث زید)
(د)گائےبیل اور بھینس سے اعتراض بیکار ہے کہ وہ یہاں مقسم میں شامل ہی نہیںکلام تو غنم میں ہے کہ غنم کی دو قسمیں ہیں مالہ صوف ومالہ شعرتو لفظ مساوی مان کر بھی حصہ کامل ہوگیا۔
الثامن عشر۱۸:کلا بل لا مساغ ھھنا لادعاء العموم فان العلماء صرحوا ان الصوف مختص بالضانقال العلامۃ کمال الدین الدمیری تنبیہ ہیزدہم لفظ ضان اور صوف کی تحقیق:ضان کی تعریف مالہصوف میں لفظ صوف ضان سے اعم ہوہی نہیں سکتا اور یہ کہنے کی گنجائش ہی نہیں کہ تعریف بالاعم ہے۔
حوالہ / References مرقات المفاتیح کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیۃ الفصل الثالث ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۵۷۸€
#7451 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فی حیوۃ الحیوان لیس الصوف الاللضان اھ وقال الامام الرازی فی مفاتیح الغیب تحت الایۃ المتلوۃ انفا قال المفسرون واھل اللغۃ الاصواف للضان والاوبار للابل۔والاشعار للمعز اھ
وقال القاضی فی انوار التنزیل الصوف للضائنۃ و الوبرللابل والشعرللمعز اھ قال العلامۃ المفتی ابو السعود فی ارشاد العقل الضمائر للانعام علی وجہ التنویع ای وجعل لکم من اصواف الضان والاوبار الابلواشعار المعز اثاثا الخ وقال محی النسۃ فی المعالم یعنی اصواف الضانواوبار الابلواشعار المعز اھفلو وجد الصوف لشیئ من الانعام سوی الضانوالکنایۃ الالہیۃ انما ھی للانعامما ساغ لہم الحکم علی کلام اﷲ عزوجل بخصوص العنایۃ مع عموم الکنایۃوقد اسمعناك کلام المرقاۃ مفرقا کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ صوف ضان کے بال ہی کو کہتے ہیں
o صوف صرف ضان کے بال کو کہتے ہیں(حیوۃ الحیوان دمیری)
o اہل تفسیر ولغت فرماتے ہیں کہ صوف ضان کا بالوبر اونٹ کا بال اور شعر معز کے بال کے لئے خاص ہے۔(مفاتیح الغیب للرازی)
o صوف ضائنہ کے لئےاور دبر اونٹ کے لئے اور شعر معز کے لئے(قاضی بیضاوی)
o ضمائر الانعام کے لئے ہیںاور اس کے ہر نوع پر تقسیم بھی ہے یعنی تمھارے لئے ضان کے صوف اونٹ کے وبر اورمعز کے بال بنائے(ارشاد العقل المفتی ابوالسعود)
o یعنی ضان کے صوفاونٹ کے وبر اور معز کے بال(تفسیر خازن)
کلام الہی میں ان تینوں ضمیروں کا مرجع جو تینوں بالوں کے ساتھ ہیں لفظ انعام ہے تو اگر فی نفسہ انعام میں سے کسی اور جانور کا بال بھی صوف کہلاتاتومفسرین کو ہر گز یہ جرأت نہ ہوتی
حوالہ / References حیوۃ الحیوان باب الغین المعجمۃ تحت الغنم مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۲۳€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)∞تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰€ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۲۰/ ۹۲€
انوار التنزیل(تفیسر البیضاوی) ∞تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰€ مصطفی البابی ∞مصر نصف اول ص۲۷۷€
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) ∞تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰€ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۳۳€
معالم التنزیل علی ہامش(تفسیر الخازن)∞تحت آیۃ ۱۶/ ۸۰€ مصطفی البابی ∞مصر ۴/ ۱۰۷€
#7452 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فی موضعینفاجمعۃ فانہ یدلك بفحواہ علی ان الصوف مختص بالضانوہو المستفاد من تفاسیر اللغۃوبالجملۃ من عرب لسان العرب لم یعرب عنہ ان الصوف لیس الا للضانفاما ان یعم افرادہ کما ھوا لواقع فمساو او لا فاخص وعلی کل فلا تکون ذات الصوف الامن الضانوقد اعترفت ان حیواننا ھذا من ذوات الصوف فوجب ان یکون من الضان وفیہ المطلوب باتم شان۔
التاسع عشر۱۹:کان من قولی فیما سلف مایدریك لعل الثلثۃ الاول ھی التفسیر بالمساوی ھذا بالاخص والان اقول قابضا للعنان بعد ما ارخیت مالی ترجیت وقد قضیتاما تفطنت بما فی السابع والحادی عشر القیتان لو قصرت الضانیۃ علی شیئ اخص من الصوف بطل حصر الغنم فی نوعین فوجب ان یکون التفسیر بالمساویوالتعریف بذات الالیۃ التعریف بالاخص علی ما توھمت من معناھا و النظر حقیقۃ لم تبع مرماھا۔
العشرون۲۰:ھل لك اجالۃ نظر فی کلمات الائمۃ الکرام فانہم یتکلمون کہ اﷲ تعالی نے کس عام فرمایایہ خاص کریں صاحب مرقات کے متفرق کلام جو ہم نے دو۲ جگہ لکھاملاؤں تو ان کا فرمان بھی یہی ہے کہ صوف صرف ضان کے لئے ہے پس ایسی صورت میں صوف کو اگر دونوں(بھیڑ اور دنبہ)کے لئے عام مانا جائے تو مساوی کے ساتھ تعریف ہوئی ورنہ اخص کے ساتھ اعم کے ساتھ تعریف کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
توثابت ہوا کہ ضان صوف والا ہے۔اور ہمارا یہ جانور بھی صوف والا ہے۔لہذا اب بات واضح طو رپر ثابت ہوگئی کہ بھیڑ بھی ضان ہی ہے
تنبیہ نوزدہم تعریف بالا عم اور تعریف بالاخص: میں نے پہلے کہا تھاہوسکتاہے کہ ضان کی پہلی تعریف لفظ مساوی سے ہو اور"الیۃ"چکتی والی تعریف اخص کے ساتھ ہواب میں قطعیت کے ساتھ اسی بات کو دہرا تاہوں کیونکہ میں بتاچکا ہوں کہ اعم مانتے ہیں"غنم"کا حصر اس کی دو نوعوں میں ختم ہوجائے گااور بھیڑ تیسری قسم ہوجائے گی۔




تنبیہ بستم ائمہ وعلماء کے فتاوے:یہ لطیفہ بھی قابل ملاحظہ ہے دنبہ جس کے چکتی ہوتی ہے اگر کسی کے خلقۃ
#7453 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فیما اذا خلقت شاۃ بلا الیۃ ہل تجوز التضحیۃ بہا فمذھب امامنا الاعظم والہمام الاقدم سراج الامۃ کاشف الغمۃ امام الائمۃ ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم ان نعموھو الاصح عند الائمۃ الشافعیۃ رحمہم اﷲ تعالی وقال محمد رحمہ اﷲ تعالی لا تجوز التضحیۃ بشاۃ کذا وانا اسمعك اولا کلمات العلماء قال الامام الاجل فقیہ النفس فخر الدین الاوز جندی فی الخانیۃالشاۃ اذا لم یکن لہا اذاولا ذنب خلقۃ تجوزقال محمد رحمہ اﷲ تعالی لا یکون ھذا ولو کان لایجوزوذکر فی الاصل عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ یجوز اھ ثم قال وان کان لہا الیۃ صغیرۃ مثل الذنب خلقۃ جاز اما علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی فظاھر لان عندہ لو لم یکن لہا اذن ولا الیۃ اصلا جازفصغیرۃ الاذنین اولیواما علی قول محمد رحمہ اﷲ تعالی صغیرۃ الاذنین جائزۃوان لم تکن لہا الیۃ والااذن خلقۃ لا تجوز اھ وفی الاجناس ثم الخلاصۃ ثم الہندیۃ وعن چکتی ہو ہی نہیںاس کی قربانی جائزہوگی یا نہیں امام اعظم ہمام اقدم رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:"ایسے دنبہ کی قربانی جائزہے"امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:"یہی صحیح ہے"امام محمد بن حسن فرماتے ہیں:"ایسے کی قربانی صحیح نہیں ہے"۔
بکری کا کان اور دم پیدائشی طور پر غائب ہو تو قربانی جائز ہے یا نہیں
امام محمد رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں۔:۔"ناجائزہے۔"
امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ سے روایت ہے ـ:"جائز ہے۔"(فقیہ النفس امام قاضی خان)
اگر دنبہ کی چکتی دم ہی کی طرح خلقۃ چھوٹی ہو"امام اعظم جب بے کان اور دم کی جائز قرار دیتے ہیں تو چھوٹے کان میں کیا رکھاا ہے۔یہ بھی جائز ہوگی"
"امام محمد کے یہاں صرف صغیر الاذن کی جائز ہےخلقی کان چکتی نہ ہو تو جائز نہیں"(قاضی خاں الامام فقیہ النفس)
"اجناس میں ہے کہ اگر دنبہ کی چکتی کان کی طرح چھوٹی ہو قربانی جائز ہے۔اور اگر مطلقا ہو ہی نہیں تو امام کے یہاں نا جائز ہے"(اجناسخلاصہعالمگیریاخیریین میں میں نے خود دیکھا عبارت
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاضحیۃ فصل فی العیوب ∞نولکشور لکھنو، ۴/ ۷۴€۸
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاضحیۃ فصل فی العیوب ∞نولکشور لکھنو، ۴/ ۷۴۹€
#7454 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الاخیریننقلت واللفظ للوسطیفی الاجناس ان کانت للشاۃ الیۃ صغیرۃ خلقت شبہ الاذن تجوزوان لم تکن لہا الیۃ خلقت کذلك قال محمد رحمہ اﷲ تعالی لا تجوز اھ وفی وجیز الامام الکردری التی لا الیۃ صغیرۃ تشبہ الذنب تجوزوان لم تکن لہا الیۃ خلقۃ فکذلك وقال محمد رحمہ اﷲ تعالی لا تجوز اھوفی خزانۃ المفتین لا تجو زالسکار وھی التی لااذن لہا خلقۃکما لاذنب لہا خلقۃ اولا الیۃ لہا خلقۃ اھ فی الاناوار للامام یوسف الاردبیلی الشافعی تجزئالتی خلقت بلاضرع اوالیۃ اوقرن اھ وفی حیوۃ الحیوان للکمال الدمیری الشافعی تجزئ الشاۃ التی خلقت بلا ضرع او بلا الیۃ علی الاصح اھ فظہر باتفاق القولین ان الا لیۃ لیست من ارکان حقیقۃ الضان بحیث ان لو عدمت لم تکن ضأنااما علی قول الامام الاعظم فظاھر فانہ یجیز التضحیۃ لہا وان لم تکن لہا الیۃ خلقۃ اصلاواما علی قول محمد خلاصہ کی ہے)
"وہ دنبہ کی اس کی چکنی چھوٹی دم کے مشابہ ہو یا ہو ہی نہیں اس کی قربانی جائز ہےامام محمد کے یہاں ناجائز ہے۔"(وجیز امام کردری)
"سکار جس کے خلقۃ کان نہ ہو اس کی قربانی جائز نہیںایسے ہی جس کی دم یا چکتی نہ ہو"(خزانۃ المفتین)
"جس کے خلقۃ تھن یا چکتی نہ ہو اس کی قبانی جائز ہے"(امام ابویوسف اردبیلی شافعی)
"جو پیدائشی طو ر پر بے تھن اور چکتی کا جانور ہو صحیح یہی ہے کہ اس کی قربانی جائز ہے"(حیوۃ الحیوان دمیری)
ان دونوں فتووں سے یہ ثابت ہو تاہے کہ چکتی ضان کی حقیقت کا جز نہیں کہ یہ نہ ہو تو جانور ضائن کے بجائے کچھ اور ہوجائےامام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے قول پرتو یہ امر بالکل واضح ہے امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ کے قول پر بھیکیونکہ بے چکتی شاۃ کی بات کررہا ہے اگر چکتی حقیقت کی جز ہو تو انکی عبارت"لاالیۃ لہ"کے معنی یہ ہوجائیں گے اگر بکری بکری ہی نہ ہو تو اس کی قربانی ناجائز ہے:اور ایسی ردی عبارت
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاضحیۃ الفصل الخامس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۲۱،€فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۷€
فتاوی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الاضحیہ الفصل الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۹۳€
خزانۃ المفتین کتاب الاضحیۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۲۰۷€
الانوار الاعمال الابرار
حیاۃ الحیوان باب الشین المعجمہ(الشاۃ) مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۵۹۲€
#7455 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
رحمۃ اﷲ تعالی فلا نہ یتکلم علی شاۃ لاالیۃ لہافلو کانت الالیۃ رکن حقیقتہا لکان معنی قولہ ان لو لم تکن الشاۃ شاہ لم تجز الا ضحیۃ بہاوھذا قول غسل رذل اشبہ شیئ بالہزل لایجوز صدورہ عن عاقل فضلا عن امام مجتہد کامل۔فانظر الان الی دندنتك این مدت عنك فی غایۃ ام قفار بل اجتثت من فوق الارض مالہا من قرار والحمد اﷲ علی توالی الائہ کقطر المطروامواج البحار۔
الحادی والعشرون۲۱:یاھذا اصنع واتبع ان اطعتنی ذھبت بك الی حیث یلمع الحق من دون حجاب و یزیل عنك کل تحیر واضطرابحقیقۃ الامر ان الاطراف فی الحیوان تجری مجری الاوصاف کما نصوا علیہ قاطبۃ ولذا لایقابلہا شیئ من الثمنحتی انہ اذا اشتری جاریۃ فاعورت فی ید البائع قبل التسلیم لاینتقص شیئ من الثمن وکذلك اذا اشتری جاریۃ فاعورت فی ید المشتری ثم اراد ان یبیعہا مرابحۃ کان لہ ذلك من دون حاجۃ الی البیان کما فی الہدایۃ وشروحہاکفتح القدیر و غایۃ البیان وغیرھما وان سالت سردت لك نصوصہا واوصاف الشیئ تو کوئی عام عربی بھی نہیں بو ل سکتاچہ جائیکہ امام للغۃ والفقہ امام محررالمذھب امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ۔







تنبیہ بست ویکم حیوان کے اعضاء کا حکم: میر ی مانو تو میں تم کو نورحق کے سامنے کھڑا کروں گاجہاں کوئی حجاب نہ ہوگااور ہر قسم کے خطرات دور ہوجائیں گے۔
واقعہ ہے کہ جانوروں کے اعضاء وجوارح اوصاف کے مرتبہ میں ہوتے ہیں جس کے مقابلہ میں دام کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔اس پر سارے فقہاء کا اتفاق ہے۔
"کسی نے ایك باندی خریدیابھی بائع کے ہی پاس تھی کہ بھینگی ہوگئیدام میں سے کچھ کم نہ ہوگایونہی کسی نے باندی خریدیوہ مشتری کے قبضہ میں اگر بھینگی ہوگئی اور مشتری کسی دوسرے کے ہاتھ اس کو منافع پر(مرابحۃ)بیچنا چاہتاہے تو اسے بتانے کی ضرورت نہیں
#7456 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
لا تدخل فی سنخ قوامہوقد افادوا کما علمت انہا کالاعراض المفارقۃ لا انتفاء للحقیقۃ بانتفائہا فانعدام الالیۃ رأسا لایخرج الضأن عن الضانیۃ کما لو خلق انسان بلاید لا یخرج عن الانسانیۃ وانما مدار التعریف ھھنا ان ہذا الوصف لایوجدا لا فی ھذہ الحقیقۃ ینتقل الیہا الذھن منہ بہذہ الوجہ لا انہا لا توجد الابہفمعنی قول القائل الضأن ماھو الیۃ النوع الذی تتحقق فیہ الا لیۃ الا انہ لایکون ضانا مالم تکن لہ الیۃاتقن ھذا فقد جلیت لك جلیۃ الحال بغیر مریۃ۔ کہ یہ میرے یہاں آکر عیبی ہوگئی ہے۔"
میں اس موضوع پر کثیر نصوص پیش کرسکتاہوں کہ اطراف حیوان کا حکم اوصاف کاہے۔اور اوصاف کسی شے کی حقیقت میں داخل نہیں ہوتے جیسا کہ علماء نے بیان فرمایا ہے۔اور آپ بھی جانتے ہوں گے یہ ان اعراض مفارقہ کی طرح ہیں جن کے انتفاء سے حقیقت منتفی نہیں ہوتیتو ضان بھی چکتی نہ ہونے کی صورت میں ضان سے نہیں نکل سکتاجیسے وہ آدمی آدمی ہی رہتا ہے جس کے پیدائشی ہاتھ نہ ہواس وصف کے ساتھ تعریف کرنے کا مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ یہ وصف اس حقیقت میں پایا جاتاہے تو اس وصف سے ذہن صرف اس حقیقت کی طرف منتقل ہوجاتاہے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ حقیقت اس وصف کے بغیر پائی نہیں جاتی
تو"ماتکون لہ الیۃ"کا مطلب یہ ہوا کہ ضان جانور کی وہ قسم ہے کہ ا س میں چکتی ہوتی ہے یہ مطلب نہیں کہ بے چکتی کا ضان ہوگا ہی نہیں۔
الثانی والعشرون۲۲:ھذا ما سایرناك فیہوانت تزعم ان الالیۃ ھی الضخمۃ الکبیرۃ العریضۃ السمینۃ المحتویۃ علی لحم کثیر وشحم غزیر المعروفۃ فی لسان الہند بچکتیوھو زعم باطل لادلیل علیہ و انما الا لیۃ طرف الشاۃ لا یشترط فیہا کبر ولا صغر و لا طول ولا قصرقال فی مجممع البحار نقلا عن نہایۃ ابن الاثیر تنبیہ بست ودوم چکتی کی بحث:اب تھوڑی دیر چکتی پر بحث ہوجائےآپ سوچتے ہوں گے کہ"الیۃ"(چکتی)جبھی ہوگی جب اس پر خوب گوشتچربیاور وہ خوب چوڑی ہوجس کو ہندی میں چکتی کہتے ہیںتو یہ ایك زعم باطل اور بلا دلیل ہے۔"الیہ"بکری کی دم کو کہتے ہیںاس میں چھوٹے اور بڑےلانبے اور ناٹے ہونے کی شرط نہیںحوالے ملاحظہ ہوں"الیات"الیۃ کی جمعبکری کی دم کو کہتے
#7457 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الیات جمع الیۃ وھی طرف الشاۃ اھ وفسرھا فی القاموس بمارکب العجز من شحم ولحم اھ وقد شرحنا عن ذا لعضو لہذا الحیوان الذی نتحاورفیہ فوجدناہ یحتوی علی لحم وشحم فتم معنی الالیۃ ۔وقد مناہ کلمات العلماء الکرام ان الالیۃ ان کانت صغیرۃ تشبہ الذنب جازت الاضحیۃ وھذہ الایا الشاۃ التی توجد فی بلادنا فجزئیتہا منصوص علیہا فی الکتب المذہبۃوظہر انہا یصدق علیہا ما لہا الیۃوان ابیت الا اللجاج فابرز لنا ماعندك فی الحجاج وابن ماحد الیۃ ورسمہاوعلی ای حدیجب ان یکون حجمہا بحیث لو صغرت عنہ لم تکن الیۃ وبین الالیۃ التی تشبہ الذنب خلقۃوکیف تکون ھذہ فی ہیأتہاوکمك تکون فی بسطتہا واثبت کل ذلك بکلام ائمۃ الشانلا بہوی النفس وھفوات اللسانفان لم تفعل و لن تفعل فاقتف الحق حیث ظہرفان من لم یرالشمس وھی بازغۃفعلیہ التسلیم لاھل النظر۔
الثالث والعشرون۲۳: تقرر مما تحرر ان الفقہاء فسروا الضان بثلثۃ تفاسیر ہیں۔(مجمع نقلا عن ابن اثیر)
"ریڑھ کی آخری ہڈ ی پر جو چربییا چربی اور گوشت درنوں چڑھ جاتی ہے اسی کو الیہ کہتے ہیں(قاموس)اور بھیڑ کا بھی یہی حال ہے کہ اس کی دم پر بھی گوشت چربی الود ہوتاہے تو اس کو الیہ کون نہ کہے گا علماء کے حوالہ سے ہم لکھ آئے ہیں کہ معمولی چکتی والے کی قربانی جائز ہے۔تو کیا یہی مسئلہ بھیڑ کا جزئیہ نہ تھا تو بیشك اس بھیڑ پر بھی لہا الیۃ کی تعریف صادق ہے۔اور اگر اس پر بھی تسلی نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ چکتی کی لمبان چوڑان کیا ہوگی کہ اس سے کم کو چکتی کے بجائے دم کہا جائےاور زرا اس چکتی کا بھی خیال رہے۔جس کو فقہاء نے دم کی طرح چھوٹا کہا ہے۔ظاہر ہےکہ یہ سب باتیں ائمہ اعلام کے کلام سے ثابت کرنی ہوگی زبانی جمع خرچ کی سند نہیں۔



تنبیہ بست وسوم تعریفوں میں عدم تضاد:گزشتہ تحریروں سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ علماء نے ضان
حوالہ / References مجمع بحارا لانوار باب الہمزۃ مع للام تحت(الی) مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱/ ۹۷€
القاموس المحیط با ب الواؤ والیاء فصل الہمزہ مصطفی البابی ∞مصر ۴/ ۳۰۲€
#7458 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ذات الصوف وذات الالیۃوخلاف المعز من الغنم وترجموہ بمیشوالقینا علیك ان عند بیان الاحکام لایجوز التعریف وکذا الترجمۃ الا بالمساوی لما فی غیرہ من المساویفثبت ان الا ربعۃ بل الخمسۃ خامسہا بہیڑکلہا متساویۃ فیما بینہا ومساویۃ لمحدودھا وان کل ذات صوفذات الیہ وبالعکس وانما مطمح النظر کما وصفنا الشان النوعی لا الفعلیۃ الفردیۃ کما ھو المرسوم فی کثیر من الرسومکالتحرك الارادی والمشیوالضحک و الکتابۃفی الحیوان والانسانکما لایخفی علی ذوی الشان فظہران الذی بضئین بلا دنا الیۃ جزماوان کان شابہ الذنب حجما وانہ المنصوص علیہ صورۃ و حکما وان لاخلاف بین التفاسیروان لیس ہنا باعم ولا اخص التفاسیر وان لیس ھنا باعم ولا اخص تفسیر وان الکل متحد مآلاوان لاتثلیث فی الانواع بمالا الیہومالا۔وانما کان کل ذلك شقشقۃ ھدرت عن واھمۃ بدرت ھکذ ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔
الرابع والعشرون۲۴: بہ تبین ان صغر الالیۃ ودقتہا بحیث تشبہ الذنب کما فی اضؤنا ھذہ لیس من النقص فی شیئ کی تین تفسیریں کی ہیں۔اون والا چکتی ومعز کے علاوہاور فارسی والوں نے اس کا ترجمہ میش کیا اور ہم یہ ثابت کرآئے کہ احکام مخصوصہ کے بیان کے وقت ترجمہ ہو یا تعریف مساوی کے علاوہ نہیں ہوسکتیتو پتہ چلا کہ مذکورہ بالا چاروں لفظ بلکہ ہندی کابھیڑ مل کر پانچوں لفظ آپس میں مساوی ہیںان کامحدود ومفہوم شے واحد ہے۔تو جو اون والی ہے وہی چکتی والی ہے۔اور جو چکتی والا ہے وہی اون والا ہے۔اور جو چکتی والا ہے کیونکہ ایسے مواقع پر تعریف کا مقصد وصف نوعی بیان کرنا ہوتاہےافراد کے وصف فعلی کا ذکر نہیں ہوتا کہ یہ تو عام طورپر رسم میں ملحوظ ہوتاہے۔جیسے انسان اور حیوان کی تعریف میں تحرك ارادی یا مشی یا ضحك اور کتابت وغیرہ اوصاف ____ تو ہماری تقریر سے ثابت ہوگیا کہ بھیڑ کی دم جو ہمارے بلاد میں ہوتی ہے وہ چکتی ہی ہے۔اور فقہ حنفیہ میں اس کی صورت اور حکم دونوں کا جزئیہ موجود ہے۔
اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ ان بظاہر مختلف تعریفوں میں کوئی تضاد نہیںاور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں تعریف نہ تو اعم کے ساتھ خاص ہے نہ اخص کے ساتھبلکہ سب مساوی ہیںاوریہ کہ غنم میں چکتی اور بے چکتی کی بنیاد پر ایك تیسیری قسم نہیں پیدا ہوتییہ سب دماغی خدشات اور وہمی خیالات ہیں۔
تنبیہ بست وچہارم ناقص کامل کی نفی:یہ بھی واضح ہوا کہ بھیڑ کی دم میں کوئی کمی نہیں کہ کہا جائے وہ ناقص ہے اور چکتی کامل ہے۔لہذا دنبہ کے ساتھ
#7459 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ولذاجازت التضحیۃ معہ کما نصوا علیہ فزعم ان ھذا ناقص فلا یلحق بالکامل قول ناقص خالف نصوص الائمۃ الاکامل۔
الخامس والعشرون۲۵:لئن تنزلنا عن کل ھذا و سلمنا ان الاالیۃ لہا فخ تاتی الخلافیۃ بین الامام الاعظموالامام الثالث رضی اﷲ تعالی عنہما و یجب بحکم الجواز بناء ان الفتوی علی قول الامام رضی اﷲ تعالی عنہ علی الاطلاقای مالم یتفق ائمۃ الفتیا علی الفتوی بقول صاحبہ اواحدھما کما نص علیہ فی الفتح والبحر والخیریۃ وردالمحتار وغیرھا من معتمدات الاسفارو قد سردنا نصوصہا فی کتاب النکاح من فتاونا ھذا اذا لم یرجع قول الامام فکیف اذا رجع قول الامام فکیف اذارجح وقد رجح ھہنا قولہ رضی اﷲ تعالی عنہ من نصوا علی انہ لایعدل عن تصحیحہ لانہ فقیہ النفس اتدری من ھو ھو الامام قاضی خاں کما قالہ العلامۃ قاسم فی تصحیح القدوری ونقلہ السید الحموی فی غمز العیون و سید الشامی فی حاشیۃ الدر۔ لاحق نہیں ہوسکتی۔


تنبیہ بست وپنجم امام اعظم کے فتوی کی بنیاد پر فیصلہ: اور اگر ہم سب چھوڑچھا کریہی مان لیں کہ بھیڑ بے چکتی کا ہے تب بھی یہ انعام میں داخل ہے۔تو قربانی کا جانور ہے اور اسی جانور کی قربانی جائز ہونے نہ ہونے میں امام اعظم اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالی کا اختلاف ہے۔اور یہ معلوم ہے کہ ائمہ جب تك کسی مسئلہ میں امام اعظم کے خلاف کسی اور امام کے قول پر متفق نہ ہوںفتوی امام کے قول پر ہے۔یہ مسئلہ فتحبحرنہر خیریہشامی وغیرہ معتمد اسفار میں منصوص ہےمیں نے ان سب کو اپنے فتاوی کی جلد کتاب النکاح میں تفصیل سے نقل کیا ہے۔
یہ حکم تو امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے اس قول کا ہے جس کی ائمہ ترجیح میں سے کسی نے ترجیح نہ دی ہواور اس قول کی تو امام فقیہ النفس قاضی خاں نے ترجیح فرمائی ہے کہ اپنے اصول کے موافق اسی کو مقدم کیایہ مسئلہ بھی امام شامی اور امام طحاوی نے منصوص فرمایا۔
حوالہ / References بحرالرائق کتاب القضاء فصل المفتی ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۲۶۹،€فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۳۳،€ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۰۲€
ردالمحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی یبروت ∞۴/ ۵۱۳€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۴/ ۵۵€
#7460 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فان کنت عارفا بہذہ المسالك مدرکا لتلك المدارك فقد عرفت تصحیحہ ھنالك وان لم تعرف فاسمع منی فانی لك زعیم بذلك الم ترہ قد قدم قول الامام وھو رحمۃ اﷲ تعالی کما صرح بہ فی صدر فتاواہ لانقدم الا الاظہر الاشہرقال السیدان الفاضلان الطحطاوی والشامی فی حواشی الدران مایقدمہ قاضیخاں یکون ھو المعتمد وانی قد احملت لك ھہنا القولظنا بك ان لك اشتغالا بالعلم فتکون قد وقفت علی ھذہ المطالب الدائرۃ السائرۃ الظاھرۃ الزاھرۃ فان خفی علیك شیئ منہا فراجعنی و لاتیأس من التفہیم فقد قلت لك انی لك باظہار کل ذلك زعیمفثبت بحمداﷲ تعالی ان لو فض عدم الالیۃلہذا الحیوان لکان جواز التضحیۃ بہ ھو المذہب وقول امامنا الاعظم الاوحد وھو الماخوذ الصحیح المعتمدوالحمد لہ الاحدا الصمد علینا ما اسبغ من نعم لاتعد۔
تذییل الکتب السبعۃ التی اسندت الیہا لیس فی ثلثۃ منہا اعنی ذخیرۃ العقبی والدر المختار واشعۃ اللمعات اثر من التفسیرا لضأن بمالہ الیۃ بل فی الاول والثالث ما یرد علیك کما سمعت باذنیك واما عبارۃ پس ایسی صورت میں بھیڑ کی قربانی کے جواز کا فتوی دئے بغیر چارہ نہیں۔












تذئیل:اپ کے ساتھ مستند کتابوں میں سے تین(ذخیرہ عقبیدرمختاراشعۃ اللمعات)میں تو ضائن کی تفسیر میں "بمالہ الیۃ"کاکہیں پتہ نہیںبلکہ ذخیرہ عقبی اور اشعۃ اللمعات میں توآپ کے مدعا کے خلاف ہے جیسا کہ مذکور ہوا لیکن صاحب تعلیق مجد
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۵€
#7461 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
تعلیق الممجد لبعض ابناء الزمان فقد کانت تستاھل ان ترد الی الحقوتحمل علی مااعطاہ کلام العلماء بجعل الوصف لزیادۃ الکشف دون الاحتراز بید انی احطت علما بان الرجل ینکر کون ضئین الہند من الضئین اعتراہ الوھم کما اعتراك انہا لا الیۃ لہاوما یدررینی لعلك انما قلدتہ فیہ لکنہ وقف دونك ولم یتجاوز قدر تجاوزك بانکار التضحیۃ بہا اصلاوانما زعم انہا لاتجوز التضحیۃ بجذع منہا حیث قال فی فتیاہ بکری اور بھیڑ اور ایسے ہی گائے اور اونٹ چھ مہینہ کا نہیں درست ہے۔فقط دنبہ مہینے کا درست ہے۔فالظاھر ان مرادہ ھواالتقیید زعما منہ بان الصوف اعم من الالیۃلکن لیس کلام المنح الذی عزاالیہ بہذا الاسلوبوانما عبارتہا کما نقل بنفسہ ثمہوالسیدان الفاضلان الطحطاوی و الشامی فی حواشی الدر ان الضأن ماتکون لہا الیۃ اھ فلیس فیہا ذکر الصوفثم التقیید بالالیۃ و بالیتک نے تو انھوں نے حق کی تلاش میں تساہل برتااور کلام علماء میں ذکر وصف کو زیادتی کشف کے بجائے قیداحترازی سمجھا اور بھیڑ کو ضان میں شامل نہ ماننے میں وہ بھی اسی طرح وہم میں گرفتار ہوئے جیسے آپ نے"الیہ"کے لفظ سے دھوکا کھایاغلب ہے کہ آپ نے اس معاملہ میں انھیں کی تقلید کی ہومگر ان سے آگے بڑھ گئےکیونکہ وہ تو صرف یہ کہہ رہ گئے کہ چونکہ یہ ضان نہیں اس لئے اس کے ششماہہ بچے کی قربانی جائز نہیںاورآپ نے سرے سے اس کو قربانی کے جانور سے ہی خارج کردیا۔
یہ بات فاضل لکھنو کے فتوی سے ظاہر ہے وہ کہتے ہیں بکری اور بھیڑایسے ہی گائے اور اونٹ کا چھ ماہہ درست نہیں ہے۔فقط دنبہ چھ ماہہ درست ہے۔
اس سے اندازہ یہ ہوتاہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ"منح الخالق"کی عبارت میں(جس کا حوالہ انھوں نے دیا ہے)ضان کے بیان میں صوف کا ذکر ہے جس کو"مالہ الیۃ"سے مقید کیا ہے تو ا س کا مطلب یہی ہے کہ الیہ کی قید احترازی ہے حالانکہ خود ان کی عبارت اور امام طحاوی اور شامی کی روایت میں صوف کا ذکر نہیں ہے صرف مالہ الیۃ
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی بعد الحی کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی فرنگی محل لکھنؤ ۲/ ۲۷€۹
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاضحیۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۱۶۴،€ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰۴€
#7462 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اذا قلدتہ اتمت تقلیدہ فلم تعدالی ما عددت من المحالولم تنسب المسلمین الی الضلال والاضلال وقد کان سألنی بعض تلامذہ ھذا العاصرا عنی صاحب التعلیق الممجد من بنارس فی اول ھذہ السنۃ عن فتیاہ المذکورۃ فاجیت باحرف تکفی و تشفی وبینت ان الجذع من ھذہ یجزی ویکفیو ما ذکرنا ھہنا بتوفیق اﷲ تعالیفہو حافل کافل بدفع کلاالوھمینبل الرد الاشد علی من یجز التضحیۃ بہا لابجذعہا فانہ اذ قد جاز التضحیۃ فقد کانت من الانعام ولا انعام الا الانواع الاربعۃ واذ لیست من ابل وبقر ومعز۔وجب ان تکون من الضان فوجب اجزاء الجزع منہا اذا کان بحیث لو خلط بالثنایالم یتمیز من بعد وﷲ الحمد تعالی من قبل ومن بعد وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ اجمعین کان الفراغ عن ھذہ العجالۃ المسماۃ ہادی الاضحیۃ بالشاۃ الہندیۃ ۱۳۱۴ھ۔ ہے۔تو آپ کو بھی ان کی تقلید کرنی تھی تو اتنی ہی بات میں کرتے نہ کہ آگے بڑھ کر ایك محال بات کا دعوی کردیااور سب مسلمانوں کو گمراہ اور گمراہ گر کا خطاب دیا۔
مجھ سے لکھنوی صاحب کے ایك شاگرد نے ان کا یہ فتوی ذکر کرکے صورت حال دریافت کی تھیمیں نے چند جملوں میں اس کا خلاصہ لکھ دیا تھااور مسئلہ حق واضح کردیا تھایہ کلام تو اﷲ تعالی کی توفیق سے حافل اور کافل ہے۔ان دونوں وہموں کو دفع کرنے والا۔بلکہ اس کا تو رد شدید ہے جو ان کی قربانی جائز کرتا ہے۔اور ان کے بچے کی نہیں۔

بلا شبہ بھیڑ کا چھ ماہہ بچہ جو دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوا س کی قربانی جائز ہے وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین اس رسالہ ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ سے ۱۳۱۴ھ میں فراغت حاصل ہوئی۔
#7463 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مسئلہ ۲۰۴:از بنارس محلہ کنڈی گڈٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
ماقولکم ایہا العلماء(اے علماء کرام! آپ کاکیا ارشاد ہے۔ت)اس مسئلہ میں کہ قربانی بھیڑ ششماہہ کی درست ہے یا نہیں اکثر حدیثوں میں جو لفظ جزعۃ من الضان آیا ہے ا س سے ششماہی بھیڑ مرا دہے یا دنبہ یا دونوں عبارت نہایہ شرح ہدایہ مندرجہ ذیل سے معلوم ہوتاہے کہ قربانی ششماہی بھیڑ کی جائزنہیںاسی پر مولانا استاذنا مولوی عبدالحی صاحب نے عمل فرمایا ہے۔چنانچہ یہ مسئلہ مولوی صاحب مرحوم کے مجموعہ فتاوی کی جلد اول ص ۱۹۱ میں موجود ہے۔عبارت شرح ہدایہ:
ویجزئ من ذلك کل الثنی فصا عدا الا الضان فان الجذع منہ یجزئ والتقیید بالضان لان الجذع من الابل والبقر والغنم لا یجزئ منہا الا الثنی ۔ بینوا بالکتاب تو جروا یوم الحساب۔ ان تمام جانوروں میں کامل سال یا اس سے زائد عمروالا جائز ہے ماسوائے بھیڑ کے کہ اس کا جذع یعنی کامل چھ ماہ والاجائز ہےاور ضان یعنی بھیڑ کی قید اس لئے کہ اونٹ گائے اور بکری میں صرف کامل سال والا ہی جائز ہے۔کتاب سے بیان کیجئے یوم حساب اجر حاصل کیجئے۔(ت)
الجواب:
شماہی بھیڑ کی قربانی بلا شبہ جائزہے جبکہ یکساں ہمجنسوں میں دور سے متمیز نہ ہوسکے۔
فی الدرالمختار صح الجذع ذوستہ اشہر من الضان ان کان بحیث لوخلط بالثنایا لایمکن التمیز من بعد ۔ درمختار میں ہے بھیڑ میں چھ ماہ کا جذع جو سال والے جانوروں میں خلط ہو تو امتیاز نہ ہوسکے تو وہ جائز ہے۔(ت)
یہی شرط دنبہ میں ہےاور دنبہ بھیڑ کی ایك ہی نوع ہیں اور دونوں کا ایك ہی حکماس قدر میں تو کسی کو کلام ہو ہی نہیں سکتا کہ جواز ششماہہ کاحکم احادیث صحیحہ وکتب فقہیہ میں بلفظ ضان واردہے۔اب مدار صرف ادراك معنی ضان پر رہااگر یہ لفظ اس بھیڑ کو بھی شامل تو قطعا یہ بھی اس حکم میں داخل والا لامگر بالیقین معلوم کہ ضان وہی چیز ہے جسے فارسی میں میشاردو میں بھیڑاور اسی کی ایك صنف کو دنبہ کہتے ہیں
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۲۷۹€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲ و ۲۳۳€
#7464 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
عرب دونوں معزز ضان کے سوا نہیں جانتےنہ یہاں تیسری نوع ہے
(۱)قال اﷲ تعالی" ثمنیۃ ازوج من الضان اثنین و من المعزاثنین " مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی مرحوم موضح القرآن میں اس آیہ کریمہ کا ترجمہ فرماتے ہیں:پیدا کئے آٹھ نر ومادہ بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو ۔دیکھو ں ضان کا ترجمہ بھیڑ کیااسی طرح مولانا رفیع الدین نے ترجمہ کیایونہی نفائس میں اس کا عکس یعنی بھیڑا کو میش نر وضان سے مترجم کیا۔تحفۃ المومنین میں کہا:بھیڑ بہندی غنم ست ۔پھر لکھا:غنم ضان ست ۔
(۲)سب جانتے ہیں کہ بھیڑ کا ترجمہ میش ہے۔اور اہل لغت نے یہی ترجمہ ضان کیامنتخب رشیدی میں ہے:ضان میشضائن میش نر ۔صراح میں ہے:ضائن میش نر خلاف ماعز۔والجمع ضأن خلاف معز ۔تحفہ ومخزن میں ہے: ضان بفارسی میش نامند ۔
(۳)علمائے لغت وتفسیر حدیث وفقہ ضأن کی تعریف اون والی غنم فرماتے ہیں او رمعز کی تفسیر بالوں والیمصباح المنیر واحیوۃ الحیوان وغیرہما میں ہے:
الضان ذوات الصوف من الغنم ۔ بکری کی اون والی جنس کا نام ضان ہے۔(ت)
تفسیر کبیر میں ہے:
لضان ذوات الصوف من الغنم والمعز بکری کی اون والی جنس ضان ہے اور بالوں والی
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶/ ۱۴€۳
موضح القرآن ∞۶/ ۱۴۳ مطبع مصطفائی انڈیا ص۱۴۲€
تحفۃ المومنین مع مخزن الادویۃ الباء مع الہاء ∞نولکشورکانپور ص۱۶€۹
تحفۃ المومنین مع مخزن الادویۃ الغین مع المیم ∞نولکشورکانپور ص۴۲€۵
منتخب اللغات مع غیاث اللغات باب الضاد مع النون ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۸€۲
الصراح فی لغۃ الصحاح باب النون فصل الضاد ∞نولکشور لکھنؤ ص۴۱€۸
تحفۃ المومنین مع مخزن الادویۃ الضاد مع الالف ∞نولکشور کانپور ص۳۹۷€
المصباح المنیر الضاد مع الواؤ(الضأن) مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۲€
#7465 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ذوات الشعر من الغنم ۔ جنس معز ہے۔(ت)
معالم التنزیل میں ہے:
الضان والنعاج ھی ذوات الصوف من الغنم والمعز والمعزی ذوات الشعر من الغنم ۔ بکری کی اون والی جنس ضان اور نعاج ہے اور بالوں والی معز اور معزی ہے(ت)
جامع الرموز پھر ردالمحتار میں ہے:
الضان ماکان من ذوات الصوف والمعز من ذوات الشعر ۔ ضان وہ ہوتی ہے جو اون والی ہو اورمعز بالوں والی۔(ت)
اب یہ دیکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ بھیڑ کے بدن پر اون ہوتی ہے یا بال۔
(۴)علامہ دمیری نے حیوۃ الحیوان الکبری میں صاف حصر فرمادیا کہ اون صرف ضان کے لئے ہوتی ہےلفظ غنم میں فرماتے ہیں:
صوف الضان من شعر المعز واعز قیمۃ ولیس الصوف الاللضان ۔ بھیڑ کی اون بکری کے بالوں سے افضل اور قیمت میں گراں ہے اور اون صرف ضان کی ہے۔(ت)
اب بھیڑ کو ضان سے خارج ماننے والے پر لازم ہوگا کہ بھیڑ کی اون سے انکاراور ان کی پشت پر بکری کے سے بال آشکارا کرے۔وانی لہ ذلک۔
(۵)زبان عرب وخود قرآن شاہد ہے کہ نوع غنم میں صرف دو صنفیں ہیں:ایك وہ جسے عربی میں معز نر کو تیسمادہ کو عنز فارسی میں بز کہتے ہیںدوسری جسے عربی میں ضان نر کو کبش مادہ کونعجہ فارسی میں گوسپند ومیش کہتے ہیںرب العزت جل وعلا نے آیہ مذکورہ میں آٹھ ہی جوڑے بتائےضانمعزابل۔بقر ہر ایك سے دومادہ ونراہل زبان نے معز کو خلاف ضانضان کو خلاف معز سے تفسیر کیامعلوم ہوا کہ ان کے لئے ثابت نہیںقاموس میں ہے:
المعز خلاف الضان من الغنم ۔ بکری کی جنس میں معز الگ ہے ضان سے۔(ت)

اسی میں ہے:
الضائن خلاف الماعز من الغنم"ج"ضائناضأن ضانك اعزلہا من المعز ۔ مینڈہا غنم میں بکرے کے خلاف ہے۔ضائن کی جمع اضأن ہے تیری بھیڑی اسے علیحدہ کرلے بکری سے(ت)
مختار رازی میں ہے:
حوالہ / References مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳€ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۳/ ۲۱۶€
معالم التزیل علی ہامش تفسیر الخازن ∞تحت آیۃ ۶/ ۱۴۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۹۲€
جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۳۰۶،€ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۱۹€
حیاہ الحیوان باب الغین المعجمہ(الغنم) مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۲€۲
القاموس المحیط فصل المیم باب الزای"المعز"مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۱۹۹€
القاموس المحیط فصل الضاد باب النون(الضائن) مصطفی البابی ∞مصر ۴ /۲۴۴€
#7466 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الضائن ضدالماعزوالجمع الضائن والمعز ۔ ضائن(مینڈھا)بکرے کی ضد ہے اس کی جمع ضان اور معز ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
المعز من لاغنم ضد الضان ۔ معز غنم سے ہے ضان کی ضد ہے۔ت)
مجمع بحار الانوار میں ہے:
فی ح شقیق مثل قراء ھذا الزمان کمثل غنم ضوائن ذات عــــــہ صوف عجافھو جمع ضائنۃ۔وھی الشاۃ من الغنمخلاف المعز ۔ ح میں بیان کیااس زمانہ کے قراء کی مثل میں شقیق جیسے ضوائن باریك کھال پر اون والی جس کی جمع ضوائن ہے۔یہ بکری ہے جو معز سے مختلف ہے۔(ت)
کوئی ادنی فہم والا بھی نہیں کہہ سکتا کہ بھیڑ معز میں داخل ہے کیا بھیڑ کوفارسی میں بز کہتے ہیںکیا مینڈھے کو عربی میں تیس مادہ کو عنز بولتے ہیںجنتا صاف ترجمہ بکرا بکری ہے لاجرم بھیڑ ضان ہی ہے اور ضان ہی میں داخل ہےاور حکم ضان اسی کا حکم ہے۔اسے قطعا شامل شیخ محقق قدس سرہ
عــــــہ: احترازا عما اذا جزصوفہا فاستبان عجفہا و المقصود ان باطنہم علی خلاف ظاھرھم ۱۲ منہ قدس سرہ۔ یہ اجتنا ب ہے اس بھیڑ جس کی اون کاٹ دی جائے تو چمڑی برہنہ ہوجائے اور مقصد یہ ہے کہ ان کا ظاہر اون باطن چمڑی ایك دوسرے سے مختلف ہیں ۱۲ منہ قدس سرہ(ت)
حوالہ / References مختار اصحاح تحت لفظ ضائن موسسۃ علوم القرآن بیروت ∞ص ۳۷۶€
مختار اصحاح تحت لفظ معز موسسۃ علوم القرآن بیروت∞ ص ۶۲۷€
مجمع بحارا لانوار باب الضاد مع الہمزہ تحت الفظ ضائن مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ∞۳ /۳۸۲€
#7467 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اشعۃ المعات میں فرماتے ہیں:
بدانکہ اضحیہ جائز نیست مگر از ابل وبقر وغنم وغنم دو صنف استمعز کہ آنرا بز گویندوضائن کہ آنرا میش خوانندودر جمع ایں اقسام ثنی شرط ستمگر از ضان کہ جذعہ ہم درست ستو درست نیست از معز ۔ جان لینا چاہئے کہ قربانی صرف اونٹگائے اور بکری کی جائز ہے۔بکری دوقسم ہے۔ایك معز کی جس کو بز بکری کہتےاور دوسری ضأن جس کو میشہ کہتے ہیںان تمام اقسام میں کامل سال شرط ہے۔مگر ضان کہ ا س کا جذعہ بھی جائز ہے اور بکری(معز)میں یہ جائز نہیں ہے۔(ت)
کیا اس ارشاد سے بھی زیادہ کوئی تصریح صریح درکارہے۔اور بفرض باطل اگر بھیڑ کو ضان میں داخل نہ مانئے اور اس کا اہل وبقر ومعز اونٹ گائے بکری سے نہ ہونا بدیہیتو حاصل یہ رہے گا کہ کہ وہ بہیمۃ الانعام کی چاروں قسم سے خارج ہےاور بالاجماع قربانی تو صرف انھیں چار قسم پر محدودتو بھیڑ اگر ضان نہیںتو واجب کہ سرے سے اس کی قربانی بھی باطل ہو اگرچہ کتنی ہی عمر کی ہونہ یہ کہ قربانی جائز ہونےکو تو وہ ضان میں داخل اور ششماہہ جائز نہ ہونے کو ضان سے خارجیہ جہل صریح وتعسف قبیح ہے غرض حکم واضح ہے۔اور مسئلہ روشناور اس کا خلاف نہ بیننہ مبینبلکہ باطل بینعبارت نہایہ منقولہ استفاء مذکورہ فتاوی کو اگر بعد ادراك معنی ضان لحاظ کیجئے تو صراحۃ ہمارا ہی مطلب اس سے ثابت اور تحقیق معنی ضان کی نظر سے دیکھئے تو راسا بے علاقہ وساکتہاں مجیب لکھنوی کو وجہ اشتباہ عبارت منح الغفار واقع ہوئی کہ الضان ماتکون لہ الیۃ (ضان وہ جس کی چکی ہوتی ہے۔ت)وہم گزرا کہ الیہ خاص چوڑی چکی چکتی کو کہتے ہیں جس میں بکثرت چربی ہولہذا ضان بالتخصیص صنف دنبہ کا نام خیال کیا حالانکہ غنم میں الیہ مطلقا دم گوسپند کا نام ہے۔کبر وصغر وطول وقصر وغیرہا کچھ اس میں شرط نہیں نہایہ ابن اثیر ومجمع بحارالانوار میں ہے:
الیات جمع الیۃ وھی طرف الشاۃ ۔ الیہ کی جمع الیات ہے اور وہ بھیڑ کی دم ہوتی ہے۔(ت)
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب الاضحیہ الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۶۰۸€
ردالمحتار بحوالہ منح الغفار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۴،€حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ المنح الغفار دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۶۴€
مجمع بحارالانوار باب الہمزہ مع اللام(الئی) مکتبہ دارالمدینۃ المنورۃ ∞۱/ ۹۷€
#7468 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
صراح میں ہے:الیہ بالفتح ذنب ۔برہان میں ہے:ذنب بضم بمعنی دم ۔لاجرم فتاوی امام اجل قاضی خان وردالمحتار وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ اگر الیہ خلقۃ صغیر ومشابہ دم ہو رواہے۔خانیہ میں ہے:
ان کان لہا الیہ صغیرۃ مثل الذنب خلقۃ جاز ۔ اگر اس کی چکی چھوٹی دم کی مانند پیدائشی ہو تو جائز ہے۔(ت)
یہ بعینہ ہمارے بلاد کی بھیڑوں کی صورت ہے ہم نے ان بھیڑوں کی دم کو تشریح کرکے دیکھا وہ ضرور گوشت اور چربی پر مشتمل ہوتی ہے بخلاف دم بز بس یہی فرق الیہ وذنب میں ہے۔طول وقصرعظم و صغرو کثرت وقلت لحم وشحم کو ہر گز اس میں نہ لغۃ دخل ہے۔نہ فقہاوھذا مما لا یخفی علی جاھل فضلا عن فاضل(یہ کسی جاہل پر مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل پر مخفی ہو۔ت) بات یہ ہے کہ جانوروں بلکہ آدمیوں کے بھی اعضاء صورت وہیئت بلکہ نفس وجود وعدم میں اختلاف ممالك سے مختلف ہوتے ہیں اس سے نہ وہ دو نوعیں ہوجائیں گےنہ ان کے احکام مختلف فقیر نے بعض بلاد کے اونٹ دیکھے چھوٹے چھوٹے نہایت خوشنما بدن پر بڑے بڑے بال مشابہ بہ یالپشت پر دو کوہان بلند و مرتفعبیچ میں نشست کی جگہ خالی کہ سوار کو آگے پیچھے دو تکیوں کا کام دیتےچینیوں کی ناکیں کس قدر پست وپہنتاتاریوں کی آنکھیں چھوٹیزنگیوں کے لب فروہشتہ وسطبر ہوتے ہیں ہنہ ناتیہ بین الاسکتین کہ خفاض کیا جاتاہے۔زنان مغربیہ میں خلقۃ نہیں ہوتابعض اتراك وحوش کے عصعص پر لحمہ زائد بقدر ایك بالشت مثل ذنب ہوتاہے۔امام کمال الدین دمیری وعلامہ زکریا بن محمد بن محمود انصاری قزوینی نے ایك قسم کی بھیڑذکر کی جس کے چھ الیہ ہوتے ہیںایك سینہ پردو شانوں پرایك پیچھے دو رانوں پریہی اختلاف ممالك دم گوسپند میں ہے ان دیار میں پتلی لمبی ہوتی ہے۔جس میں اسی کے لائق گوشت اور چربیعرب میں اکثر چوڑی چھوٹی قدرے زیادہ گوشت اور چربی مشتملاور بعض خوب پہن ودراز بکثرت لحیم شحیمیہ کاہل وغیرہ میں کثیر الوجود ہے۔اور بعض کی چکتی تو اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اسے چلنے سے معذور کردیتی ہے۔ایك گاڑی بناکر اسے جوتنے اور دم گاڑی پر رکھ دیتے ہیں جسے وہ کھینچتی چلتی ہے۔کیا ان اختلافات سے یہ انواع مختلف ہوجائیں گیاور ان کے احکام جداایسا کوئی عاقل
حوالہ / References الصراح فی لغۃ الصحاح باب الواو والیاء(فصل الف) ∞نولکشور لکھنؤ ص۴۳۹€
البرھان
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاضحیہ فصل فی العیوب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۹€
#7469 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
خیال نہیں کرسکتاعجائب المخلوقات وغرائب الموجودات میں ہے:
یجلب من الہند نوع من الضان علی صدرہ الیۃ وعلی کتفہ الیتان وعلی فخذیہ الیتانوعلی ذنبہ الیۃ و ربما تکبر الیۃ الضان حتی تمنعہ من المشی فیتخذ لا لیتہا عجلۃ توضع علیہاوتشد الی صدرہا فمتشی الضان وتجری العجلۃ الالیۃ علیہا ۔ ہندوستان سے ایك قسم کی بھیڑ لائی جاتی ہے اس کی چھاتی پر چکیاس کے کندھوں پر دو چکیاں اور اس کی دونوں رانوں پر دو چکیاں اور اس کی دم پر ایك چکی ہوتی ہے۔اور کبھی یہ چکی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اس کا بوجھ اس کے چلنے سے مانع ہوتاہے تو اس کی چکی کے نیچے ریڑھی بنائی جاتی ہے جس کو اس کی چھاتی سے باندھ دیتے ہیں تو وہ ریڑھی چکی کو اٹھائے پھرتی ہے۔(ت)
اسی طرح حیاۃ الحیوان میں ہے:الی قولہ تمنعہ من المشی (چکتی اس کے پلنے سے مانع ہے۔تک)۔
جسے اس قدر کافی نہ ہو ہمارا رسالہ عربیہ ھادی الاضحیہ بالشاۃ الہندیۃ ۱۳۱۴ھ ملاحظہ کرے کہ بتوفیق علام تحقیق مرام بمالا مزید علیہ ہے۔و ﷲ الحمد۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: از ضلع آرہ ڈاکخانہ وقصبہ دائی ساگر مسئولہ محمد یوسف
خصی سال سے کم عمر والے کی قربانی جائز ہے یانہیں
الجواب:
چھ مہینے تك کا ایسا فربہ مینڈھا کہ سال بھر والوں کے ساتھ ہو تو دور سے تمیز نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے اگر چہ خصی نہ ہواور بکرا سال بھیر سے کم کا جائز نہیں اگر چہ خصی ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۶: از ریاست جے پور سوائی تکیہ آدم شاہ گھاٹ دروازہ مرسلہ مولانا عبدالرحمن اعظمی مئوی صاحب مورخہ ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرا بکری اگر سال بھر سے کسی قدر کم کا ہو مثلا گیارہ مہینہ یا کم وبیش کاتو اس کی قربانی جائز ہے یانہیںاگر جائز نہیں تو اس جانور کو جس پر نیت قربانی کی ہوچکی ہے اور پورے سال بھرکا نہیں ہے۔تو کیا کرنا چاہئے۔اور اگر جائز ہے یك سال سے
حوالہ / References عجائب المخلوقات وغرائب الموجوداست تحت لفظ ضان مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴۹€
حیاۃالحیوان باب الضاد المعجمۃ تحت لفظ الضائن مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۶۳۴€
#7470 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کم مدت کاتو اس کتاب کا درج کردیا جائے تاکہ یہاں دیکھ کر اطمینان حاصل کیا جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
بکرا بکری ایك سال سے کم کا قربانی میں ہر گز جائز نہیںنہ اس پر قربانی کی نیت صحیح وہ اس کی ملك ہے جو چاہےکرےقربانی کے لئے دوسرا جانور لے ہاں اگر یہ نیت کی ہو کہ آئندہ سال اس کی قربانی کروں گا تو اسے قربانی ہی کے لئے رکھےاس کا بدلنا مکروہ ہے۔درمختارمیں ہے:
صح ابن خمس من الابل۔وحولین من البقر و الجاموس وحول من الشاۃ والمعز ۔ پانچ سال کا اونٹدو سال کی گائے اور بھینساور ایك سال کی بکری اور بھیڑکی قربانی صحیح ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی البدائع تقدیرھذہ الاسنان بما ذکر لمنع النقصان ولا الزیادۃ فلو ضحی بسن اقل لا یجوز و باکبر یجوز وھو افضل ۔ بدائع میں ہے کہ ان عمروں کا بیان جو مذکور ہا کمی کو روکنے کے لئے ہے زیادتی کو مانع نہیںتو عمرمیں اگر قلیل سی کمی ہو تو جائزہوگا اور بڑا ہو تو جائز ہے جبکہ بڑا افضل ہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لو اشتری بقرۃ یریدان یضحی بہا عن نفسہ ثم اشرك فیہا ستۃ معہ جاز استحسانا وفی القیاس لا یجوز لانہ اعدھا للقربۃ فیمنع عن بیعہا تمولاوجہ الاستحسان دفع الحرج والاحسن ان یفعل ذلك قبل الشراءلیکون ابعد عن صورۃ الرجوع فی القربۃ وعن ابی حنیفۃ انہ یکرہ الاشتراك بعد اگر اپنے لئے گائے خریدی تاکہ قربانی دے پھر بعد میں چھ اور شریك کرلئے تو استحسانا جائز ہے جبکہ قیاس کے لحاظ سے جائز نہیں کیونکہ اسے اس نے قربت کے طورت پر خریدا تو مال کے حصول کےلیے فروخت کرنا منع ہے اور استحسانا جوازکی وجہ یہ ہے کہ حرج نہ پیدا ہو اور بہتریہ ہے کہ خریدنے سے قبل حصہ دار بنائے تاکہ قربت کے معاملہ میں رجوع کی صورت پیدا نہ ہوجبکہ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی سے خریدلینے کے بعد
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۵€
#7471 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الشراء لما بینا (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔ شریك بنانا مکروہ ہے۔(ملخصا)(ت)
مسئلہ ۲۰۷: مرسلہ عبداﷲ خان از شہرانبالہ محلہ وکیل پور یکم صفر ۱۳۳۵ھ
جناب مولانا صاحب! بعد سلام علیکم کے واضح ہو کہ بقر عید کی قربانی میں بکرا خصی جائز ہے یا نہیںاور جو کہ قربانی کرے اس کو روزہ رکھنا جائز ہے کہ نہیں
الجواب:
خصی کی قربانی افضل ہے اوراس میں ثواب زیادہ ہے۔اور عید کے دن کا روزہ حرام ہے۔ہاں پہلی سے نویں تك کے روزے بہت افضل ہیں اس پر قربانی ہو یا نہ ہواور سب نفلی روزوں میں بہتر روزہ عرفہ کے دن کا ہے۔ہاں قربانی والے کو یہ مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے قربانی ہی کے گوشت میں سے پہلے کھائےمگریہ روزہ نہیںنہ اس میں روزہ کی نیت جائزکہ اس دن اور اس کے تین دن روزہ حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: مرسلہ قاضی سید واجد علی صاحب مقام جاود ضلع ندسور ریاست گوالیار ن یمچ دروازہ ۱۷ صفر ۱۳۳۵ھ
ایك بچہ بکری کا ہے اور وہ کتی کے دودھ سے پرورش پایااس کی قربانی کریں تو جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جب سال بھر کا ہوجائے اس کی قربانی جائز ہے۔والمسئلۃ فی الخانیہ وغیرہا(یہ مسئلہ خانیہ وغیرہا میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۰۹: از بنگالہ میمن سنگھ قصبہ کھولا مرسلہ میاں جاں سرکار ۲۶ جمادی الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںما قولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ آپ پر رحم کرے آپ کیا فرمان ہے)کہ ہندہ نے بکری پالی تھیاس نے ایك بچہ جنابعدہ وہ بکری بقضائے الہی مرگئی اس بچہ کی ہندہ مذکورہ نے اپنے پستان کے دودھ سے پرورش کیاپھر خصی کردیااب وہ بچہ بڑ اہوگیاہندہ اس کو قربانی کرنا چاہتی ہے۔اگر قربانی رے تو ہندہ مذکورہ اور اس کے خاوند کو
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴€۳
فتاوٰی قاضی خاں الصید والذبائح ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۵۲€
#7472 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اس کا گوشت کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب: بلا شبہ جائز ہے جس کے جواز میں اصلا گنجائش کلام نہیںفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
لو ان جدیا غذی بلبن الخنزیر لا باس باکلہلان لحمہ لایتغیر وما غذی بہ یصیر مستھلکا لایبقی لہ اثر ۔ اگر بھیڑ کے بچے نے خنزیر کے دودھ سے غذا پائی تو اسکے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس سے اس کا گوشت متغیر نہیں ہوتا اور جو غذا اس نے کھائی وہ ختم ہوگئی اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا(ت)
فتاوی کبری وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
الجدی اذا کان یربی بلبن الاتان والخنزیر ان اعتلف ایاما فلا باسلانہ بمنزلۃ الجلالۃوالجلالۃ اذا حبست ایا مافعلفت لا باس بہا فکذا ھذا ۔ بھیڑکے بچے نے اگر گدھی کے دوھ یا خنزیر کے دودھ سے پرورش پائی اور پھرچند روز چارہ دکھایا تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ گندگی کھانیوالے جانور کی طرح ہے کہ جب اس کو چند روز قیدرکھا تو ا نے چارہ کھایا تو اس میں کوئی حرج نہیں تو یہ بھی ایسے ہے۔(ت)
اور شوہر کے حق میں اگر ضاعت کا خیال ہو تو محض جہلاول تو عمر رضاعت کے بعد رضاعت نہیںاور شوہر اتنی ہی عمر کا بچہ ہو بھی تو شیر زن مستہلك ہوگیاگوشت کھانا دودھ پینا نہیںدرمختارمیں ہے:
لایحرم المخلوط بطعام وکذا لو جبنہلان اسم الرضاع لایقع علیہ بحراھ ملخصا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ طعام میں دودھ مخلوط ہوجانے سے حرمت پیدا نہیں ہوتی اور یونہی اگر دودھ سے پنیر بنالیا تو حرج نہیں کیونکہ دودھ پلانے کا اطلاق اس پرنہیں ہوتابحر اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الصید والذبائح ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۵۲€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الذبائح الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۰€
درمختار کتاب النکاح باب الرضاع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۳€
#7473 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مسئلہ ۲۱۰ تا ۲۱۲: مسئولہ سید منیر الدین پیشکار محلہ کلال ٹولہ گیا ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا کسی نامعلوم شخص کا بیل یا گائے زید کے جانوروں میں شامل ہوگیااور زید نے اس کو پکڑ کر اپنے قبض وتصرف میں رکھااور ایام قربانی میں چونکہ وہ دو برس سے کم کا تھا اس لئے اس کو اپنی لڑکی کی گائے سے بلا علم لڑکی کے بدل کر اس لڑکی کی گائے کو قربانی دیا اور غیر سے ذبح کرایا اور اس غیر کو گائے کے کل قصہ مذکور سے واقفیت نہیں۔
(۱)ایسی قربانی جائز ہے یانہیں (۲)ذبح کرنے والا گنہ گارہوگا یانہیں
(۳)تین سال کی گائے جس کے سینگ ہنوز نمودار نہ ہوئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)جانور کو تصرف میں رکھناحرام تھااسے بیٹی کی گائے سے بدلنا حرام تھااس گائے کی قربانی حرام تھی۔
(۲)ذابح پر اس کا ذبح کرنا حرام تھادونوں سخت گنہگارہوئےپھر اگر بیٹی نے اپنے گائے کی قیمت نادانی میں اپنے باپ سے لے لیتو اس کے باپ کی قربانی ادا ہوگئی ورنہ نہیںدرمختار میں ہے:
یصح لوضحی شاۃ الغصب ان ضمنہ قیمتہا حیۃ ای قیمتہا لو کانت حیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ اگرمغصوبہ بکری قربان کردی اور اس پر ضمان زندہ بکری والا دے دیا تو قربانی صحیح ہوگی واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)جب دوسال کا مل کی ہوگئی قربانی کے قابل ہوگئی اگر چہ سینگ نہ نکلیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: مسئولہ عبداﷲ عرف دین محمد صاحب ساکن شہر کہنہ بریلی محلہ روہیلی ٹولہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میں نے ایك اہل ہنود سے گائے مبلغ(پینتالیس مہ للعہ)روپیہ میں خرید کی تھیاس ہنود نے خرید کرتے وقت دریافت کیا تھا کہ تم کس واسطے اس گائے کولیتے ہومیں نے اس شخص سے کہا کہ پالنے کو لیتاہوں اور اصل میں واسطے قربانی کے لی تھیتو ایك مسلمان نے اس شخص سے کہا انھوں نے قربانی کے واسطے لی ہے۔اور میں ریلوے کے بڑے بابوں کی
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۴€
#7474 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ماتحتی میں کام کرتاہوںوہ بھی اہل ہنود ہیںاس نے بابوں سے آکر کہا کہ وہ میری گائے واپس کرادی جائےانھوں نے میرے مکان پر آدمی روانہ کیا کہ اس کو مبلغ پانچ روپیہ نفع لےکر واپس کردوں میں نے نہیں واپس کیمیں کام پر اپنے گیا تو بابو نے کہا کہ وہ گائے واپس کردومیں نے اس سے انکار کیاتو انھوں نے ایك پولیس کے داروغہ سے بہت بڑا زور ڈال کرکہااور یہ بھی کہا کہ اگر نہیں دوگے تو ہم تم کو نوکری سے برخاست کردینگےتو میں بسبب نوکری جانے کے پانچ روپیہ نفع لےکر گائے واپس کردیاور مبلغ چالیس للعہ روپیہ کی فورا اور گائے قربانی کے واسطے لایااب اس میں سے دس روپیہ بچے اس کا کیا کیا جائے اور لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ تم نے پانچ روپیہ لےکر گائے دیاور میں نے مجبورا دیاور مجھ کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ میری ملازمت جاتی تھیاور مجھ کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ میں مال گودام ریلوے میں کام کرتاہوں شاید کچھ الزام نہ لگادیںیہ وجہ تھی فقط۔بینوا توجروا
الجواب :
اگر وہ شخص صاحب نصاب ہے اور اگریہ بیان واقعی ہے تو اس پر کچھ الزام نہیں اور جو پانچ روپیہ نفع کے لئے ان کا تصدق کردینا چاہئے اوریہ گائے جو پانچ کم کرکے خریدی اس کمی کا کوئی معاوضہ اس پر نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۴ تا ۲۱۵: از کرتوئی ضلع بدایوں مسئولہ برادرم عزیزم مولوی محمد رضاخاں صاحب سلمہ ۶ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ
(۱)بحضور قبلہ وکعبہ دارین مدظلہم العالی بجاہ النبی الرؤف الرحیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔سلامت سنت اسلام کے بعد عرض ہے کہ قربانی کی غرض سے دوگائیں خریدنے کو چماروں کو روپیہ دے کر بھیجاوہ دو گائیں خرید لائے جو گراں قیمت ثابت ہوئیںاس پر اور دو گائیں منگوائیںوہ بھی بسبب گرانی قیمت کےاور یہ کہ ان مؤخر گائیوں ہی سے ایك پرگابھن کاخیال ہے۔جس نے فروخت کی وہ جولاہے کہتاہے کہ گابھن ہوگئی ہے مگر ابھی کہل تھن ہے۔جس کو اور لوگ بھی گابھن کہہ سکیںصرف دو جانیں کاخیال قربانی کا تھا آیا ان گائیوں کافروخت کرناجائز ہوگا یانہیں ان کے عوض میں اپنی گائیں دے سکتاہوں یا نہیں۔ایك گائے پارسال قربانی کے واسطے منگوائی تھی(ان چاروں کو وقت آنے کے قربانی کے واسطے نامزد نہیں کیاپارسال والی کو نامزد کردیا تھا)روانگی کے وقت لنگڑی ہوگئی بریلی جانے کے قابل نہ رہی اب اچھی ہے دو مہینہ بعد اندازا بپا چلے گیاس کی نسبت کیا حکم ہے آیا وہ میرا مال ہے یا قربانی کا
(۲)قرآن مجید بائیں ہاتھ میں باوضو لے کر تلاوت جائز ہے یانہیں
#7475 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الجواب:
(۱)جان برادر از جان بہتر مولوی محمد رضا کاں سلمہالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
جوگائے قربانی کےلئے تھی اور وہ لنگڑی ہوگئی اس اور اس کے عوض دوسری کردیاب وہ گائے تمھارا مال ہے جو چاہو کروجب روپیہ دے کر گائیں خریدنے کو بھیجا اس سے اگریہ نیت تھی کہ دیکھنے کےلئے خریدتے ہیں جس کی قربانی مناسب جانیں گے کریں گےورنہ اورلیں گے تو وہ گائیں قربانی کے لئے مخصوص نہ ہوئیں اور ان کے بدلے اپنے پاس سے یا اور خریدکر قربانی کرو اور اگر مخصوص قربانی کے لئے خریدیںاور آپ اس وجہ سے کہ یہ زائد قیمت کی ہیںانھیں نہ کرنا چاہواور ان کے بدلے اپنے پاس سے یا کوئی اور لےکر ان سے کم قیمت کی قربانی کرو تو قربانی ہوجائے گی اور وہ پہلی گائیں بیچو یا رکھو اختیارہے۔مگر ایسا کرنا جائزنہ ہوا کہ جب ان پر مخصوص قربانی کی نیت ہوئی تھیتو ان کو اگر بدلتے تو ان سے بہتر سے بدلتے نہ کہ کمتر سےجبکہ کمتر سے بدلا تو جتنی زیادتی رہیاتنے دام تصدق کرنے کاحکم ہے۔مثلا دس روپیہ کی گائے کی قربانی کو خریدی تھی پھر اس کے بدلے سات روپیہ کی قربانی کردی تو تین روپیہ تصدق کئے جائیںیہ تو سال گزشتہ کا علاج ہے اور ہر سال کہ ابھی قربانی نہیں ہوئی وہی پہلی گائیں اگر قربانی کے لئے خریدی تھیں خواہ نخواہی قربانی کی جائیں اور ان سے کم قیمت کی ہر گز نہی بدلی جائیں کہ قصدا خلاف کرکے جرمانہ دینا جسارت ہے بلکہ خلاف حکم کیا ہی نہ چاہئےقربانی میں بالخصوص ارشاد ہوا کہ دل کی خوشی سے کرو کہ وہ صراط پر تمھاری سواریاں ہیں پہلو کو گراں سمجھ کرجودوسری خریدیں اور ان میں سے ایك گابھن ہے یانہیں۔بہر حال ان کا تم کو اختیارہےکہ سرکاری مطالبہ پہلی گائیوں سے متعلق ہوچکا اسی شرط پر کہ آدمی ارادہ سے بھیجے ہوں کہ جو جانور یہ لائیں قربانی کریں گےنہ اس ارادہ سے کہ دیکھ مناسب سمجھیں گے کرینگے۔
(۲)قرآن مجید باوضو ہاتھ میں لےکر تلاوت کرسکتا ہے۔جبکہ اس کے لئے کوئی وجہ ہو مثلا داہنا ہاتھ خالی نہیں یا تھگ گیا والسلام۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶: مرسلہ امام علی صاحب از بمبئی ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو گائیں خریدی گئیںشرکت میں قیمت جدا جدا نہ کی گئی چودہ حصے کئے گئےقربانی کے بعد دونوں کا گوشت یکجائی ملاکر برابر حصوں میں تقسیم کردیا گیاایك گائے کم قیمت یعنی صہ للعہ کی اور دووسری صہ صہ کی۔ان چودہ حصوں میں ہر شخص کا برابر حصہ قیمت وگوشت میں کیا گیایہ صورت جواز کی ہوئی یا نہیں
#7476 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الجواب:
دونوں مشتریوں کی رضا سے اس میں کچھ حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۲۱: از موضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب مورخہ ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
(۱)ایك شخص نے قصاب سے گائے منگائی اس نیت سے خریدکر کہ وہ آجائیگی تو جو شریك حصہ ہوں گے شریك سمجھ لوں گا۔
(۲)ای جگہ دیھا کہ فقراء کے گوشت میں آنتاوجھڑی بالکل ڈال کر تقسیم کرتے ہیںدو حصوں میں نہیں۔
(۳)ایك جگہ دیکھا ہےکہ سر اورپیر سقے اور حجام کواور ایك پارچہ قصاب کو۔
(۴)بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ قربانی یا عقیقہ یا نیاز میں کھانا بھنگی کو دیتے ہیں۔
(۵)قربانی گائے میں نصف ایك شخص ہواور نصف میں دو شریك یا تیندرست یا نہیں اور نصف میں چار ہوجائیں یہ کیونکر ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)یہ بیجا کرتے ہیں۔مستحب یہ کہ تہائی حصہ گوشت کا فقیرں کو ملے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)سقےحجامقصاب کا قربانی میں کوئی حصہ نہیںدینے کا اختیار ہے۔مگر قصاب کی اگر یہ اجرت قرار پائی تو حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)بہت برا کرتے ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)نصف میں تین تك شریك ہوسکتے ہیںاور نصف گائے ایك کی ہوا ور دوسرے میں چار شریك ہوں تو ان پانچوں یعنی کسی کی قربانی ادا نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۲: از بلگرام شریف ضلع ہردوئی محلہ میدان پور مرسلہ حضرت سید ابراہیم میاں صاحب ۲۶ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو یا چار سات آدمیوں نے ایك گائے قربانی کے واسطے خرید کی منجملہ ان کے ایك شخص نے قیمت نہ وقت خرید کے ادا کی نہ بعداور وہ شریك رہاپس اس صورت میں کس کی یا اس کی قربانی میں حرج یا غیر جائز تو قربانی نہیں ہواجواب اس کا بحوالہ عبارت مرحمت فرمایا جائےکہ ضرورت ہے۔بینوا توجروا۔
#7477 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الجواب:بیع نفس ایجاب وقبول سے تمام ہو مبیع ملك مشتری میں داخل اور ثمن ذمہ پر لازم ہوتی ہے ادائے ثمن حصول ملك کے لئے شرط نہیں اگر نہ دے گا تو بائع کا مدیون رہے گا مبیع میں ملك تام ہے۔
فی التنویر اذ وجدا(ای الایجاب والقبول)لزم البیع ۔ تنویر میں ہے۔جب ایجاب وقبول پایا جائے بیع لازم ہوجاتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وصح بثمن حال ومؤجل الی معلوم ۔ نقد اور ادھار مقرر مدت ہو تو بیع جائز ہے۔(ت)
پس جب شرکائے مشترین مالك گاؤ تھے اور انھوں نے بہ نیت اضحیہ قربانی کیسب کی قربانی اداہوگئیثمن کا مطالبہ اس شریك پر رہا اگر و ہ نیت قربانی سے دست بردار ہوکر اصلا ذبح نہ چاہتا یا خالی گوشت وغیرہ امور غیر قربت کی نیت سے ذبح چاہتا اور ایسی حالت میں بقیہ شرکاء بہ نیت قربانی ذبح کرلیتے تو کسی کی قربانی ادانہ ہوتی کہ ان میں ایك شریك کی نیت تقرب نہیں۔
فی التنویر ان کان شریك الستۃ نصرانیا او مرید اللحم لم یجز عن واحد ۔واﷲتعالی اعلم۔ تنویر الابصار میں ہے اگر قربانی کرنیوالے کے ساتھ باقی چھ میں کوئی نصرانی یا گوشت کے ارادے سے شریك ہو تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۳: مرسلہ صاحب علی طالب علم از جاورہ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
ایك گائے کو چھ شخصوں نے قربانی کیایك کے دو حصے نفلی اور پانچ شخصوں کے واجبیتو کیا دو حصہ والا شخص بعد ذبح گائےقبل تقسیم گوشت کے ایك حصہ میں دوسرے شخص کو شریك کرسکتاہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
قربانی اراقہ دم کا نام ہے اور اب اراقہ دم ہوگئی تو دوسرے کی طرف اس کا انتقال ناممکن ہے
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /€۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /€۶
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳€
#7478 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ہاں اس کا ثواب یا گوشت جسے چاہے دےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ عزیز احمد فرید پوری ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی عید الاضحی کے پوست کی قیمت گوشت کی طرح تین حصوں میں پر تقسیم کی جائے یا تمام وکمال قیمت خیرات کردی جائےاور کھال کا اپنے صرف میں لانا صاحب قربانی کے لئے جائز ہے یانہیں اور کھال قربانی کی قیمت سید کو دینا جائزہے یانہیں درصورت عدم جواز کوئی شرعی حیلہ تحریر فرمائیے۔بینوا توجروا
الجواب:
کھال اپنے تصرف میں صرف کرنا لاسکتاہے جس میں کھال باقی رہے۔مثل مشکڈول یا کتاب کی جلد بناسکتاہےکھال اگر اپنے خرچ میں لانے کی نیت سے داموں کو بیچی تو وہ دام تمام خیرات کرےیعنی فقیر محتاج مصرف زکوۃ کو دےسیدکو نہیں دے سکتااور اگر سیدکو دینے کی نیت سے بیچی تو وہ دام سید کو دےتین حصوں کاحکم گوشت میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۵:از موضع ڈوالہ ویرم تحصیل ضلع امرتسر مرسلہ میاں شمس الدین صاحب حنفی قادری ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
مولوی غلام قادر صاحب بھیروی نے مسئلہ قربانی اور کتاب اسلام میں لکھا ہے کہ اگر غنی قبل از ایام عید قربانی خریدے وہ واجب بالنذر ہوجائے گا وہ سب گوشت فقراء کو صدقہ کرے آپ نہ کھائےایسے ہی فقیرجس پر قربانی واجب نہیںلیکن اس نے کتاب کا حوالہ نہ دیااس لئے بعض جہلاء احناف کو تردد ہے۔براہ مہربانی حوالہ کتب سے ارشاد ہواوریہ بھی تحریر فرمائیں کہ کس قرینہ میں قربانی قبل از عید بعد طلوع آفتاب عندالحنفیہ جائزہے۔یا باوجود قریہ جامع ہونے کے بھی بعد طلوع قربانی درست ہے کیونکہ کتب فقہ میں لفظ دیہ یعنی گاؤں واقع ہے اور بعض کتب میں لکھا ہے کہ جس گاؤں میں چند کس حر بالغ آزاد ہو جمعہ واجب ہے۔جب جمعہ واجب ہوا تو عید بھی وہاں درست ہوگیپھر بعد عید قربانی ہوگی یا بعد طلوع قبل از عید جواب بواپسی ڈاك مرحمت ہو۔والسلام۔
الجواب:
فقیر اگر بہ نیت خریدے اس پر خاص اس جانور کی قربانی واجب ہوجاتی ہے۔اگر جانور اس کی مالك میں تھا اورقربانی کی نیت کرلی یا خریدامگر خریدتے وقت نیت قربانی نہ تھیتو اس پر وجوب نہ ہوگاغنی پر ایك اضحیہ خود واجب ہے۔اور اگر اورنذر بصیغہ نذر کرے گا تو وہ بھی واجب ہوگا۔اس
#7479 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
عبارت میں بھی یہی ہے کہ واجب بالنذر ہوجائے گا یعنی نذر کئے سے واجب ہوگا نہ کہ غنی پر مجرد خریداری سے درمختارمیں ہے:
تصدق بہا ناذر وفقیر شراھا لو جوبہا علیہ بذلك (ملخصا) ۔ نذر والا اور فقیر جس نے قربانی کی نیت سے خریدا تھایہ صدقہ کرینگے کیونکہ نذر اورخریدنے کی بنا پر ان پر واجب ہوگیا تھا (ملخصا)۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فلو کانت فی مبلکہ فتوی ان یضحی بہااو اشتراھاولم ینوالاضحیۃ وقت الشراء ثم نوی بعد ذلك لایجبلان النیۃ لم تقارن الشراء فلا تعتبر بدائع ۔ اگر بکری اپنی ملك میں تھی تو نیت کرلی کہ اس کی قربانی کرے گا یا خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ کی ہو پھر بعد میں قربانی کی نیت کی تو اس سے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی کیونکہ خریدتے وقت ساتھ نیت نہ کی لہذا بعد کی نیت معتبرنہ ہوگیبدائع(ت)
درمختارمیں ہے:
لوماتت فعلی الغنی غیرھا الا الفقیرولو ضلت او سرقت فشری اخری فظہرت فعلی الغنی احدھما و علی الفقیر کلامہا شمنی ۔ اگر مرجائے تو غنی پر دوسری واجب ہے فقیر پر نہیںاور اگر گم ہوجائے یا چوری ہوجائے تو دوسری خریدی اور پہلی مل گئی تو غنی پر ایك ہی لازم ہوگی جبکہ فقیرپر دونوں کی قربانی واجب ہوگی شمنی(ت)
جو شہر نہ ہو اس میں نہ نماز جمعہ ہے نہ نماز عیدسو دوسو کی آبادی کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ اس میں متعدد محلے ہوںدائم بازار ہوںوہ پرگنہ ہو کہ اس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوںاس میں فصل مقدمات پر کوئی حاکم مقرر ہو وہ شہر ہے جہاں ایسا نہیں صبح سے قربانی جائز ہے ھو الصحیح الذی علی المحققون کما فی الغنیۃ(وہی صحیح ہے جس پرمحقق حضرات ہیں جیسا کہ غنیہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۲€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۴€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳€
#7480 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مسئلہ ۲۲۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سات شخصوں نے ایك راس گائے واسطے قربانی خرید کیوہ گائے فرار ہو گئیاس کو ہر چند تلاش کیا سب کانجی ہاؤس اور اس شخص کے مکان پر اور اس کے نواح میں بھی جہاں سے اس کو خرید اتھاآج وہ گائے بفضلہ تعالی ہاتھ آگئیاب اس گائے کے واسطے کیا حکم ہے اور کس طرح سے ہم کو ثواب قربانی کا حاصل ہوگا
الجواب:
ساتوں شخص اس گائے کو زندہ خیرات کردیں کسی فقیر کو دے ڈالیںبیان سائل سے معلوم ہوا کہ ان میں پانچ شخص صاحب نصاب تھے۔ان پانچوں پر واجب تھا کہ اگر وہ گائے گم ہوگئی تھی اور گائے یا بکریاں لے کر بارھویں تاریخ قربانی کرلیتےاب کہ بارھویں گزرادی اور قربانی نہ کییہ پانچوں گنہگار ہوئےان پر تو بہ استغفار واجب ہے۔اور گائے کی نسبت ساتوں پر واجب ہے کہ زندہ خیرات کردیںردالمحتارمیں ہے:
ذکر فی البدائع ان الصحیح ان الشاۃ المشتراۃ للاضحیۃ اذا لم یضح بہا۔حتی مضی الوقت یتصدق الموسر بعینہا حیۃ کالفقیر بلاخلاف بین اصحابنا فان محمدا قال وھذا قول ابی حنیفہ وابی یوسف و قولنا اھ واﷲ تعالی اعلم۔ بدائع میں ذکر کیا کہ صحیح یہ ہے کہ جو قربانی کے لئے خرید شدہ بکری کی قربانی نہ کرسکا اور وقت گزر گیا تو غنی شخص اس زندہ کو ہی صدقہ کرے جیسا کہ فقیر کے لئے یہ حکم بلاخلاف ہمارے اصحاب میں ہے کیونکہ امام محمد نے فرمایا:یہ امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف اور ہمارا قول ہے رحمہم اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۷: ۱۰ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پردیس میں ہے اس کی جانب سے اس کا کوئی عزیز قربانی کردے توفرض زید پر سے اتر جائے گا یا اجازت کی ضرورت ہے
الجواب:
قربانی وصدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلااجازت ناممکن ہے۔ہاں اجازت کے لئے صراحۃ ہونا ضروری نہیں دلالت کافی ہے۔مثلا زید اس کے عیال میں ہے اس کا کھانا پہننا سب اس کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۴€
#7481 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
پاس سے ہونا ہے۔یا یہ اس کا وکیل مطلق ہے۔اس کے کاروبار کیا کرتاہے۔ان صورتوں میں ادا ہوجائی گی۔درمختارمیں ہے:
لاعن زوجتہ وولدہ الکبیر العاقل ولوادی عنہما بلااذن اجزا استحسانا للاذن عادۃ ای لو فی عیالہ ولا فلا قسہتانی عن المحیطفلیحفظقلت ومسئلۃ القائم بامورہ بامرہ اظھر وازہر لو جود الا ذن ولو فی ضمن العام۔واﷲ تعالی اعلم۔ بیوی اور عاقل بالغ بیٹے کی طرف سے اس پر واجب نہیںاوراگر ان دونوں کی طر ف سے اجاز ت کے بغیر ادا کردے تو استحسانا جائز ہے عادتا اجازت کی بناء پر یعنی جب عاقل بالغ بیٹا اس کی عیال میں شامل ہو ورنہ اجازت کے بغیر نہیں یہ قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے۔تو اس کو محفوط کرلو۔میں کہتاہوں اگر وہ بیٹا والد کے کام میں مشغول ہو والد کے حکم سے توپھر یہ مسئلہ زیادہ ظاہر اور بہتر ہے کیونکہ اذن پایا گیا کہ اگرچہ عام کے ضمن میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آدمی پر اولاد صفار کی طرف سے قربانی مثل صدقہ فطر واجب ہے۔ اپنے مال سے کرے یا ہر شخص اپنی علیحدہ کرےاور جس قدر چاہے اس قدر کرے۔بینوا توجروا
الجواب:
اولاد صغار کی طر ف سے قربانی اپنے مال سے کرنا واجب نہیںہاں مستحب ہے۔اور قربانی جس پر واجب ہے اس پر ایك ہی واجب ہے زیادہ نفل ہے۔چاہے ہزار جانور قربانی کرے گا ثواب ہے۔نہ کرے گا کچھ مواخذہ نہیں۔
فی الدرالمختار تجب التضحیۃ عن نفسہ لاعن طفلہ علی الظاھر بخلاف الفطرۃشاۃ او سبع بدنہ اھ ملتقطا وفی الخانیۃ فی ظاہر الروایۃ یستحب درمختار میں ہے قربانی خود اپنے طرف سے واجب ہے۔نابالغ اولاد کی طرف سے اس پر واجب نہیں بخلاف فطرانہ کے۔ قربانی کے لئے بکری یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔اھ ملتقطا اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر روایۃ یہ کہ نابالغ کی طرف
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ باب صدقہ الفطر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۳€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۱€
#7482 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ولایجب بخلاف صدقۃ الفطر۔والفتوی علی ظاہر الروایۃ اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ سے مستحت ہے واجب نہیں بخلاف صدقہفطر کےاور فتوی ظاہر روایۃ پرہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲۹: از دیورنیاں ضلع بریلی مسئولہ رحیم بخش بروز شنبہ ۱۳۳۴ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ ! بعض ادائے آداب کے عرض ہے دیگر احوال یہ ہے ایك شخص نے ایك راس بکری عیدالاضحی کو قربانی کی اور اس کی کلیجی ٹول اور خاسہ میں باند ھ کر قبرکہنہ میں دفن کیا اور راس مذکور کا گوشت سب تقسیم کردیااپنے لئے قطعی نہیں رکھامحلہ والوں نے سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو اپنے فعل کا اختیار ہے۔تحریر فرمائے کہ یہ قربانی جائزیا کیا قصہ ہے۔معلوم ہوتاہے کہ اس نے کوئی ٹوٹکا کیا ہے۔تحریر فرمائے کہ کیا وجہ ہے
الجواب:
کلیجی دفن کرنا مال ضائع کرناہے اور اضاعت مال ناجائز۔اگر اس نے بہ نیت قربانی جانور مولا تعالی کے لئے ذبح کیا تو قربانی ہوگئی اور بعد کو اس کایہ فعل منافی قربانی نہیں اور اگر سے سے اس کا ذبح ہی کسی ٹوٹکے یا عمل کے لئے تھا نہ بہ نیت ادائے واجبتو قربانی نہ ہوئی۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: از موضع بہدور ضلع پٹنہ مرسلہ مولوی عبدالحکیم صاحب ڈاکخانہ سرمرہ بروز چہار شنبہ ۴ ذیقعدہ ۱۳۳۳ھ
ورثۃ الانبیاء کیاحکم دیتے ہیں اس مسئلہ میں کہ منجانب میت جو قربانی دی جائے اس گوشت کو کس طرح تقسیم کیا جائےاس کا رواج ہے کہ ایك حصہ خویش واقرباء اور ایك وقف علی المساکین اور تیسرا حصہ وقف کیا جاتاہے۔مع دلیل جواب ارشاد ہو۔ بینوا توجروا
الجواب:
اس کے بھی یہی حکم ہیں جو اپنی قربانی کے کہ کھانےکھلانےتصدقسب کا اختیار ہے اور مستحب تین حصے ہیںایك اپناایك اقاربایك مساکین کاہاں مگر میت کی طر ف سے بحکم میت کرے۔تو وہ سب تصدق کی جائے۔ ردالمحتارمیں ہے:
من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیۃ اگرمیت کی طرف سے قربانی کی تو صدقہ اور کھانے میں
حوالہ / References فتاوی قاضی خاں کتاب الاضحیۃ فصل فی صفۃ الاضحیۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۴€
#7483 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
نفسہ من التصدق والاکل والاجر للمیت و الملك للذابح قال الصدر والمختار انہ ان بامر المیت لا یاکل منہا والا یاکل"بزازیۃ" ۔ اپنی ذاتی قربانی والا معاملہ کیا جائے اور اجر وثواب میت کے لئے ہوگا اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگیفرمایا صدر نے اور مختاریہ ہے کہ اگر میت کی وصیت پر قربانی اس کے لئے کی تو خود نہ کھائے ورنہ کھائے۔بزازیہ۔(ت)
اور فقیر کا معمول ہے کہ قربانی ہر سال اپنے حضرت والد ماجد خاتم المحققین قدس سرہالعزیز کی طر ف سے کرتاہے اور اس کا گوشت پوست سب تصدق کردیتاہے اور ایك قربانی حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے کرتا ہے اور اس کا گوشت پوست سب نذر حضرات سادات کرام کرتاہے۔تقبل اﷲ تعالی منی ومن المسلمین(آمین)(اﷲ تعالی میری طرف اور سب مسلمانوں کی طرف سے قبول فرمائےآمین۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: از قصبہ حافظ گنج ضلع بریلی مرسلہ رحیم بخش منہار ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
گوشت قربانی کا جو بقر عید میں اہل اسلام میں ہوتاہے وہ اہل ہنود کو دیا جائے یانہیں اس مسئلہ کی ہم کو ضرورت ہے۔جواب سے مطلع فرمائے گا۔
الجواب:
قربانی اگر فقیر نےکی ہو اس کا گوشت کسی کافر کو دینا جائز نہیںاگر دے گا تو اتنے گوشت کا تاوان دینا لازم ہوگا اور اگر غنی نے کی تو ذبح کرنے سے اس کا واجب ادا ہوگیاگوشت کا اسے اختیارہے مگر مستحب یہ ہے کہ اگر اس کے تین حصے کرلےایك حصہ اپنے لئےایك عزیزوں خویشوں کے لئےایك تصدق کے لئےیہاں کے کفار کو دینا ان تینوں مدوں سے خارج ہے۔لہذا انھیں دینا خلاف مستحب ہے۔اور اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑ کر دینا حماقت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: ازچتور گڑھ محلہ چھیپیاں مسئولہ جمیع مسلماناں گنہ گار ۱۵ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کا عقیقہ کا گوشت کافر کو دینا جائز ہے یا ناجائز اسی طرح قربانی کے رودہ اور آنت کا کافر کودینا کیسا اور اگر کسی نے نہ جاننے کی حالت میں گوشت یا رودہ وغیرہ دلایا تو اس کی قربانی ادا ہوئی یانہیں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۰۷€
#7484 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الجواب:
آنت کھانے کی چیز نہیںپھینك دینے کی چیز ہے۔وہ اگر کافر لے جائے یا کافر کو دی جائے تو حرج نہیں۔
" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت" خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے۔(ت)
یہاں کے کافرو ں کو گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے۔
" و الطیبت للطیبین و الطیبون للطیبت" طیب چیزیں طیب لوگوں کے لئے اور طیب لوگ طیب چیزوں کے لئے۔(ت)
پھر بھی اگر کوئی اپنی جہالت سے دے گا قربانی میں کوئی حرج نہ کرے گا۔وھو تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ اکبر یار خاں باشندہ سوداگری محلہ بریلی سوداگر چشمہ بروز جمعہ ۱۱ ذوالقعدہ ۱۳۳۲ھ
ایك شخص نے ایك قربانی میں تین عــــــہ ادمیوں کے نام جو مرگئے ہیںکیاوہ فرماتے ہیں قربانی درست ہے یانہیں
الجواب:
قربانی اﷲ عزوجل کے لئے کیاور اس کا ثواب جتنے مسلمانوں کوپہنچانا چاہا اگر چہ عام امت مرحومہ کو تو قربانی درست ہوگیاور ثواب سب کو پہنچے گااور اگر ان تینوں نے اپنی طر ف سے قربانی کی وصیتیں کی تھیںتو ہر ایك کے مال سے جدا قربانی لازم ہے۔ ایك قربانی د وکی طرف سے نہیں ہوسکتی اگر کی جائے تو کسی کی طرف سے نہ ہوگی محض گوشت ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴: از سیتاپور ڈاکخانہ خیرآباد مدرسہ نیازیہ مرسلہ شکور اﷲ صاحب ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے نیت قربانی کی او ر عمرو نے عقیقہ کی نیتجانور واحد معین میں کرکے جانور حلال کیا اور دونوں نے آپس میں برابر گوشت تقسیم کرلیاعمرو کا عقیقہ اورزید کی قربانی صحیح ہوئی یانہیں
الجواب:
گائے یا اونٹ میں دو سے سات تك شریك ہوسکتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ کسی طرح باہم
عــــــہ: اصل میں بیاض تھی اندازہ سے درست کیا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۴ /۲۶€
القرآن الکریم ∞۲۴ /۲۶€
#7485 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
حصہ کریں جبکہ ایك حصہ سے کم نہ ہوجائزہے۔ہاں اگر ایك نے سوا چھ حصے لئے دوسرے نے پونتو وہ جانور نرا گوشت ہوگیا قربانی وعقیقہ کچھ نہ ہوانہ اس پون والے کا نہ سوا چھ والے کاکہ ایك حصہ سے کم میں تقرب نہیں ہوسکتااور جب اس کے ایك جز میں نہ ہوا تو کسی جز میں نہ ہوا اﷲ عزوجل ہر شریك سے غنی ہے۔یہ نہیں ہوسکتاہے کہ بعض اس کے لئے اور بعض غیر کے لئے جس کا یك ذرہ غیر کے لئے ہو وہ کل غیر کے لئے ہے۔یہاں جبکہ دو شخصوں میں گائے نصفا نصف ہے تو ہر ایك کے ساڑھے تین حصے ہوئے۔ایك حصہ ٹوٹا مگر اورسالم حصے موجود ہیںاور قربانی عقیقہ دونوں اﷲ ہی کے لئے ہیں لہذا دونوں صحیح ہوگئے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۵: ۹ ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرے دو طرح خصی کئے جاتے ہیں۔ایك یہ کہ رگیں کوٹ دی جائیںاس میں کوئی عضو کم نہیں ہوتادوسرے یہ کہ آلت تراش کو پھینك دی جاتی ہے۔اس صورت میں ایك عضو کم ہوگیاآیا ایسے خصی کو بھی قربانی جائزہے یانہیں بعض لوگ بوجہ مذکورہ ممانعت کرتے ہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے کہ اس کی کمی سے اس جانور میں عیب نہیں آتا بلکہ وصف بڑھ جاتاہے کہ خصی گائے کو گوشت بہ نسبت فحل کے زیادہ اچھا ہوتاہے۔ فی الہندیۃ عن الخلاصۃ یجوز المحبوب العاجز عن الجماع (ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ذکر کٹا جو جفتی کے قابل نہ رہا وہ قربانی میں جائز ہے الخ۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: ۹ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گائے کا کان چرا ہوا ہے جیسے گاؤں کے لوگ بچپن میں کان چیردیتے ہیں کہ طول یا عرض میں شق ہوجاتاہے مگر ووہ ٹکرا کان کا ہی لگا دیتاہے جدا نہیں ہوتا اور اس کے سینگ جو گھوم کر چہرے پرآئے۔اور ایك سینگ آنکھ تك آیا جس سے آنکھ کو نقصان پہنچنے کا احتمال تھا اس اس کی نوك تراش دی گئی۔ایسی گائے کی قربانی شرعاجائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
بلا شبہہ جائز ہے۔مگر مستحب یہ ہے کہ کانآنکھہاتھپاؤں بالکل سلامت ہوں۔
فی العالمگیریۃ تجزی الشرقاء وہی عالمگیری میں ہے قربانی شرقاء جائز ہے یہ وہ ہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۷€
#7486 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مشقوقہ الاذن طولاولامقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنہا شیئ ولا یبان بل یترك معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذلك بمؤخر الاذن من الشاۃوماروی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہی ان یضحی بالشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ والخرقاء فالنہی فی الشرقاء والمقابلۃ والمدابرۃ محمول علی الندب وفی الخرقاء علی الکثیر علی اختلاف الاقاویل فی حد الکثیر کذا فی البدائع ۔ جس کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں اور مقابلہ جائز ہے یہ وہ جائز ہے جس کے کام کا اگلا کچھ حصہ کٹا ہو لیکن جدا نہ ہو بلکہ لٹکا ہوا ہواو رمدابرہ جائز ہے یہ وہ ہے جس کے کا پچھلا حصہ اس طرح کٹاہویہ صفات بکری کی ہیںاور جو مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے شرقاءمقابلہمدابرہ اور خرقاء کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔تو شرقاء مقابلہ اور مدابرہ میں یہ نہی تنزیہہ پرمحمول ہے جبکہ کثیر کی حد میں اقوال کا اختلاف ہے بدائع میں یوں ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
یضحی بالجماء ھی التی لاقرن لہ خلقۃ و کذا العظماء التی ذھب بعض قرنہا بالکسر اوغیر فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قہستانیوفی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لا یجزئ والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین اھ واﷲ تعالی اعلم۔ جماء کی قربانی جائز ہے یہ وہ ہے جس کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہو اور یوں عظماء بھی جائز ہے یہ وہ ہے جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہوا ہو اور غیر میں اگر سینگ مخ سمیت ٹوٹا ہوتو ناجائز ہے۔قہستانی اور بدائع میں ہے کہ اگر سینگ کا ٹوٹنا مشاسش تك ہوجائے تو ناجائز ہے۔اور مشاش یہ ہڈی کا سرا ہے جیسے گھٹنے اور کہنیاں ہیں اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۳۷: ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۲۳ھ
ایك راس عقیقے کے لئے خریدی اس کا سینگ ٹوٹ گیااب دوبارہ پھر نکل آیا۔یہ راس قابل قربانی ہے یانہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۸€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۵€
#7487 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الجواب:سینگ ٹوٹنا اس وقت قربانی سے مانع ہوتاہے کہ جبکہ سر کے اندر جڑ تك ٹوٹے اگر اوپر کا حصہ ٹوٹ جائے تو مانع نہیں۔
فی ردالمحتار یضحی بالجماء وھی التی لا قرن لہا خلقۃ وکذا العظماء التی ذھب بعض قرنہا بالکسر اوغیرہ۔ فان بلغ الکسر الی المخ لم یجز قہستانیو فی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لایجزئی والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین اھ۔ ردالمحتار میں سے جماء کی قربانی جائز ہے یہ وہ ہے کہ جس کے سینگ پیدائشی نہ ہو اور یوں عظماء بھییہ وہ ہے کہ جس کے سینگ کا کچھ حصہ ٹوٹا ہوا اور منح تك ٹوٹ چکا ہو تا ناجائز ہے۔ قہستانیاور بدائع میں ہے اگر یہ ٹوٹ مشاش تك ہو تو ناجائز ہے اور مشاش ہڈی کے سرے کو کہتے ہیں جیسے گھٹنے اور کہنیاں اھ(ت)
او ر اگر ایسا ہی ٹوٹا تھا کہ مانع ہوتامگر اب زخم بھر گیاعیب جاتا رہا تو حرج نہیں لان المانع قد زال وھذا ظاھر(کیونکہ مانع جاتا رہااور یہ ظاہر ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸: مسئولہ مولوی خلیل الرحمن متعلم مدرسہ منظر الاسلام اہلسنت وجماعت بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کا جانور کس قدر صحیح ہونا چاہئے اور کس قدر سینگ جانور کا کٹا ہواہو تو قربانی ہوسکتی ہے۔اور جڑسے ٹوٹ کیا ہو تو کیا حکم ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
آنکھکانہاتھپاؤں سب اعضاء سلامت ہوناضروری ہے۔سینگ ٹوٹا ہونا مضائقہ نہیں رکھتا مگرجہاں سے اگا ہے اگر وہاں تك ٹوٹا تو ناجائز ہے۔ردالمحتار میں ہے:
قول(ویضحی بالجماء)ھی التی لاقرن لہا خلقۃ وکذا العظماء التی ذھب بعض قرنہا بالکسر اوغیرہ فان بلغ الکسر اس کا قول کہ"جماء کی قربانی جائز ہے۔یہ وہ ہے جس کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہوں اور یوں عضماء بھی جس کے سینگ کا ٹوٹنا وغیرہ کچھ حصہ میں ہواور یہ ٹوٹ مخ سمیت ہو تو ناجائزہے۔قہستانی اور بدائع میں ہے اگر ٹوٹنا مشاش
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۵€
#7488 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الی المخ لم یجز قہستانی وفی البدائع ان بلغ الکسر المشاش لایجزی والمشاش رؤس العظام مثل الرکبتین والمرفقین اھ واﷲ تعالی اعلم۔ تك ہو تو ناجائز ہے۔مشاش ہڈی کے سرے کو کہتے ہیں جیسے گھٹنے اور کہنیاں اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۹: از چونیاں ضلع لاہور ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
انجمن مذکور کے اشتہار مذکور میں ہے جس جانور کے پیدائشی کان دم نہ ہوں وہ جائز ہے ہمارے امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیکاور ناجائز ہے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیکمگر چونکہ وہ روایت اصول ہے اس واسطے امام صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے فتوی کے اوپر فتوی دیتے ہیں کہ جس جانور کے پیدائشی کان دم نہ ہو وہ جائز ہے۔
اب حضرت مولانا صاحب جواب خود تحریر فرمائیں کہ ایسا مذکورہ بالا جانور واقعی قربانی میں جائز ہے یاناجائز کیونکہ میں نے سنا ہےکہ اکثر فتاووں میں ایسے جانور کا ناجائز لکھاہے۔حضرت صاحب انجمن کے اشتہار شائع شدہ میں یہ دونوں مسئلے اسی طرح لکھے ہیںآیا یہ دونوں مسئلے درست لکھے ہیں یاکہ نہیں مفصل طور پر تحریر فرمائیں بحوالہ کتب معتبرہ۔
الجواب:
جس جانور کی اصل پیدائش میں کان اور دم نہ ہو امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس کی قربانی جائز ہے اور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك ناجائزاور معتمد قول امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہخانیہ میں ہے:
الشاۃ اذالم یکن لہا اذن ولا ذنب خلقۃ یجوز۔وقال محمد رحمہ اﷲ تعالی لا یکون ھذا ولو کان لایجوز و ذکر فی الاصل عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ یجوز ۔ بکری کو اگر پیدائشی طورپر کان اور دم نہ ہو تو جائز ہے۔اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا ایساجانور نہیں ہوتا اگرہو تو قربانی جائز نہیں ہے۔اور مبسوط(اصل)میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ یہ جائز ہے۔(ت)
اسی طرح اجناس وخلاصہ وبزازیہ میں ہے۔غالبا یہ ہے جس پر اشتہار میں اعتماد کیا اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۵€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاضحیۃ فصل فی العیوب ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۴۸€
#7489 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
واقع میں وہ قابل اعتماد نہ تھا۔
اولا: متون وشروح نے عدم جواز پر جزم کیا اور قول خلاف کا نام نہ لیا ۱مختصر امام کرخی پھر غایۃ البیان علامہ اتقانی میں ہے:
قال ہشام وسألت ابایوسف عن السکاء التی لاقرن لہا قال تجزئ فان لم یکن لہا اذنلا تجزئی وہو قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی ۔ ہشام نے کہا میں نے امام ابویوسف رحمہاﷲ تعالی سے سکاء کے متعلق سوال کیا اور یہ وہ ہے جس کے پیدائشی طورپر سینگ نہ ہوںتو انھوں نے فرمایا جائز ہے اور اگر کان نہ ہوں تو نا جائز ہے یہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کا قول ہے۔(ت)
۲ہدایہ میں ہے:
السکاء وھی التی لا اذن لہا خلقۃ لا تجوز لان مقطوع اکثر الاذن اذا کان لایجوز فعدیم الاذن اولی ۔ سکاء وہ ہے جس کے پیدائشی طورپر کان نہ ہوںجائز نہیں کیونکہ جب کان کا اکثر حصہ کٹا ہو تو ناجائز ہے۔تو بالکل کان نہ ہوں تو بطریق اولی ناجائز ہوگا۔(ت)
۳عنایۃ و۴غایۃ البیان ونتائج ۴الافکار وغیرہا میں اس پر تقریر کی ۶منسك متوسط میں ہے:
لایجوز الذی لا اذن لہ خلقہ اولہ اذن واحدۃ ۔ جس کے پیدائشی کان نہ ہوں یا صرف ایك کان ہو تو ناجائز ہے۔(ت)
۷مسلك متقسط میں اس پرتقریر کی۸تنویر الابصار میں و۹درمختار میں ہے:
والا السکاء التی لا اذن لہا خلقۃ ۔ اور سکاء جس کے پیدائشی کان نہ ہوں ناجائز ہے(ت)
۱۰طحطاوی و۱۱شامی میں اس پر تقریر کی۱۲بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
حوالہ / References غایۃ البیان
الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۶€
المسلك المتقسط فی المنسلك المتوسط باب الہدایہ دارالکتب العربی بیروت ∞ص۳۱۴€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۳۳€
#7490 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
لاتجوز مقطوعۃ احد الاذنین بکما لہاوالتی لہا اذن واحدۃ خلقۃ ۔ ایك کان کامل کٹا ہوا اور جس کا پیدائشی ایك ہی کان ہو ناجائز ہے۔(ت)
۱۳تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:
السکاء وہی التی لااذن لہا خلقۃ لا تجوز ۔ سکاء وہ ہے جس کا پیدائشی کان نہ ہو۔ناجائز ہے۔(ت)
۱۴مناسك امام کرمانی پھر ۱۵شلبی علی الزیلعی میں ہے:
لان فات عنہ عضو کامل ۔ کیونکہ ا س کا کامل معدوم ہے۔(ت)
۱۶شرح طحطاوی امام اسبیجابی پھر ۱۷خزانۃ المفتین میں ہے:
لایجوز السکاء وھی التی لااذن لہا خلقۃ الاوالیۃ لہا خلقۃ ۔ سکاء وہ جس کا پیدائش کان یا چکی نہ ہو وہ جائز نہیں ہے۔(ت)
۱۸اتقانی علی الہدایہ میں ہے:
قال محمد رحمۃ اﷲ تعالی فی الاصل بلغنا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال استشرفوا العین والاذنوروی فی السنن عن علی کرم اﷲ وجہہ عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان تستشرف العین والاذن وقد اعتبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقاء الاذن فمنع فواتہا من جواز الاضحیۃ ۔ امام محمد نے فرمایا اصل میںکہ ہمیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت پہنچی کہ آپ نے فرمایا کہ آنکھ اور کان کو بغوردیکھواور سنن میں حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمایا کہ ہم آنکھ اور کان کو بغودیکھیںتو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کان کی بقاء کا اعتبار فرمایا تو معدوم ہو ناجواز قربانی کے لئے مانع ہوگا۔(ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الاضحیۃ فصل واما شرائط اقامت الواجب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۷۵€
تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۶ /۶€
حاشیہ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/۶€
خزانہ المفتین کتاب الاضحیۃ ∞قلمی نسخہ ۲ /۲۰۷€
غایۃ البیان
#7491 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
۱۹فتح اﷲ المعین میں ہے:
لایضحی بالسکاء وھی التی لااذن لہا خلقۃ بخلاف صغیرۃ الاذن ۔ سکاء جس کے پیدائشی کان نہ ہو اس کی قربانی نہ کی جائے بخلاف چھوٹے کان کے۔(ت)
۲۰مجمع الانہر میں ہے:
ولاالسکاء وھی التی لا اذن لہا خلقۃ ۔ او ر سکاء جس کے پیدائشی کان نہ ہوں جائز نہیں۔(ت)
۲۱سراجیہ میں ہے:
لاتجزی التی لم یخلق لہا اذن ۔ جس کے کان پیدا نہ ہوں جائز نہیں(ت)
ثانیا: یہی قضیہ حدیث ہے:کما علمت من غایۃ البیان(جیسا کہ تم نے غایۃ البیان سے معلوم کرلیاہے۔ت)
ثالثا: اس کی وجہ اظہر وازہر ہے۔کما علمت من الہدایۃ ومناسك الکرمانی(جیسا کہ تم نے ہدایہ اور مناسك کرمانی سے معلوم کرلیا ہے۔ت)ایراث نقص میں عدم طاری واصلی میں تفرقہ کی کوئی وجہ ظاہر نہیں۔
رابعا:یہی اکثر کتب میں ہے والعمل بماعلیہ الاکثر(عمل اس پر ہوگا جس پر اکثریت ہو۔ت)
خامسا: یہی احوط ہے تو بوجوہ اسی کو ترجیحا ور اسی پر اعتماد وعمل وفتوی واجب۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۰: ۹ ذی الحجہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گائے کی دم تہائی کے قریب کٹی ہوئی ہے اور ایك کان چرا ہوا ہے مگر حصہ اس کا جدا نہ ہوا کان ہی میں لگاہے۔تو اس صورت میں اس کی قربانی جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References فتح المعین کتاب الاضحیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۸۰€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۵۲۰€
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاضاحی ∞نولکشور لکھنؤ ص۸۹€
#7492 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
الجواب:
جائز ہے۔
فی التنویر یضحی بالجماء لامقطوع اکثرالاذن او الذنب ۔فی الدرالمختار للاکثر حکم الکل بقاء و ذھابا۔فیکفی بقاء الاکثرعلیہ الفتوی ۔فی الہندیۃ تجزئی الشرقاء وہی مشقوقۃ الاذن طولاوالمقابلۃ ان یقطع من مقدم اذنہا شیئولا یبان بل یترك معلقا والمدابرۃ ان یفعل ذلك بمؤخر الاذن والنہی محمول علی الندب کذا فی البدائع اھ مختصرا۔واﷲ تعالی اعلم۔ تنویرا لابصارمیں ہے جماء جس کا پیدائشی سینگ نہ ہو کی قربانی کی جائے نہ کہ اس کی جس کا کان یا دم اکثر کٹی ہودرمختار میں ہے اکثر کاحکم کل والا ہو تاہے بقاء اور ضیاع میں تو اکثر حصہ کی بقاء کافی ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔ہندیہ میں ہے شرقاء جائز ہے یہ وہ ہے جس کا کان لمبائی میں کٹا ہو۔او مقابلہ جائز یہ وہ ہے جس کا کان آگے سے کٹاہواور جدا نہ ہوا ہو بلکہ لٹکتا ہو اور مدابرہ جائز ہےیہ وہ ہے جس کان پیچھے سے ایسے کٹا ہو اور ان سے نہی تنزیہہ پر محمول ہو۔بدائع میں یوں ہے اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۱: قصبہ کوسی کلاں ضلع متھرامحلہ مسجد مندی حافظ محمد رمضان پیش امام بروزیك شنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
قربانی کی کھال سید کو یا والدین کو دینا درست ہے یا نہیں۔کتاب مالابدمنہ کے اندر صدقہ نفل سید کو جائز لکھا ہے ۔اب یہ امر قابل تحقیق ہے کہ کھال قربانی صدقہ واجب ہے یا نفل ہے۔سید کو قربانی کی کھال دے یانہیں اکثر لوگ قربانی کی کھال دے دیا کرتے ہیںدرست ہے یانہیں
الجواب:
قربانی کی کھال سادات کرام کو دینا جائز ہے۔اپنے ماں باپ اولاد کو بھی دے سکتاہے شوہر زوجہ کو زوجہ شوہر کو دے سکتی ہے۔ وہ بہ نیت تصدق ہو تو صدقہ نافلہ ورنہ ہدیہسقا کو دینے میں
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳€۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۹۸€
مالابدمنہ(فارسی) کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع علوی لکھنؤ ص۵۹€
#7493 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
بھی حرج نہیں۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۲: مرسلہ حاجی الہ یار خان صاحب تاجر کتب ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
قربانی کی کھال کو بہ نیت تصدق فروخت کرنا یا اس کی قیمت سے بوریا وغیرہ خریدکر مسجد میں رکھا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائزہے کہ تصدق کے لئے بیچا یا مسجد کےصرف میں لانا دونوں قربت ہیںاوریہاں وہی مقصودلاعین التصدق ولا تصدق العین(نہ کہ عین التصدق اور عین چیز کا تصدق۔ت)عالمگیری میں ہے:
لایبیعہ بالدراہم لینفق الدراہم علی نفسہ و عیالہولوباعہا بالدراہم لیتصدق بہاجازلانہ قربۃ کالتصدق کذا فی التبیین اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اپنے یا اپنی عیال پر خرچ کرنے کے لئے قربانی کی کھال کو دراہم سے فروخت نہ کرے اور اگر دراہم کا صدقہ کرنا ہو توجائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح عبادت ہے تبیین الحقائق میں یوں ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
ایضاح الجواب اصل یہ کہ اضحیہ مثل دم قران وتمتع وذبح تطوع دم شکر ہے ان میں قربت مقصودہ صرف اراقہ دم لوجہ اﷲ سے حاصل ہوجاتی ہے۔ولہذا ان کے لحم وغیرہ کا تصدق واجب نہ ہوااور خو دکھانے کی بھی اجازت عطا فرمائی۔
قال تعالی " فکلوا منہا و اطعموا القانع والمعتر " وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا واطعموا و ادخروااخرجہ احمد والشیخان ان سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا قربانی سے خود کھاؤں اور قناعت والے اورمحتاج کو کھلاؤاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کھاؤکھلاؤ اور ذخیرہ کرواس کو احمد اور شیخین نے سلمہ بن الاکوع رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
اور کھال کی کوئی چیز مثل مشکیزہ وغربال وپوستین توتشہ دان وفرش وتکیہ دجلہ کتا ب وغیرہا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۰۱€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۳۶€
صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب مایوکل من لحوم الاضاحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۵€
#7494 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
بناکر اپنے تصرف میں لانا بھی روا۔
کما نص علیہ فی عامۃ کتب المذہب وعن ام المومنین عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت قالوا یارسول اﷲ ان الناس یتخذون الاسقیۃ من ضحایاھم ویحملون فیہا الودك فقال وماذاك قالوا نہیت ان توکل لحوم الاضاحی بعد ثلث قال نھیتکم من اجل الدافعۃ فکلو اوادخروا وتصدقوااخرجہ احمد والبخاری و مسلم ۔
جیسا کہ اس پر عامہ کتب مذہب میں تصریح کی ہے اور حضرت ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے فرما یا صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ! لوگ قربانی کے چمڑے سے مشکیزے بناتے ہیں اور مشکیزوں میں چربی بھرلیتے ہیں توحضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہوا انھوں نے عرض کی آپ نے تین دن کے بعد قربانی کی گوشت کھانے سے منع فرمادیاہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں نے تمھیں ضرورتمندوں کی آمدکی وجہ سے منع کیا تھا تو اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور صدقہ کرواس کی تخریج امام احمد بخاریاور مسلم نے کی ہے۔(ت)
اسی طرح مذہب صحیح میں جلد ولحم کی تبدیل بھی ایسی اشیاء سے جائز ٹھہری جو اپنی بقائے عین کے ساتھ استعمال میں آئےجیسے برتنکتابیںکپڑےہدایہ وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
اللفظ للہدایۃ یعمل منہ الۃ تسعمل فی البیت کا لنطع والجراب والغر بال و نحوہا لان الانتفاع بہ غیر محرم ولا باس بان یشتری بہ ماینتفع بہ فی البیت بعینہ مع بقائہ استحساناوذلك مثل ما ذکرنا لان للبدل حکم المبدل واللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح اھ ملخصا۔ ہدایہ کے الفاظ میں ہےکہ اس کی کھال سےکے استعمال والے آلات بنائے جائیں مثلا بچھوناتھیلاغربال(چھلنی)جیسی چیزیںکیونکہ کھالوں سے انتفاع حرام نہیں ہے۔اور ان سے گھر میں استعمال کے لئے چیز خریدنا جو بعینہ باقی رہے تو استحسانا اس میں کوئی حرج نہیں اس کی مثال ہماری ذکر کردہ چیزیں ہیںکیونکہ بدل کاحکم مبدل والا ہے۔اور گوشت حکم میں بمزلہ کھال کے ہے صحیح مذہب میں اھ ملخصا۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب ماکان من النہی عن اکل الحوم الاضاحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۵۸€
الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸€
#7495 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
یوہیں اغنیاء کو گوشت یا کھال یا اس کو کوئی چیز بناکر یا اسی قسم کی اشیاء ان کے عوض خرید کر ہدیہ دینا بھی جائز ہوا۔
لانہ لما جاز التصرف بنفسہفجواز الہدیۃ من باب اولی کما استدل فی الہدایۃ لجواز طعام الغنی بقولہ متی جاز اکلہ وھوغنی جاز ان یوکل غنیا ۔ کیونکہ جب خود اپنا تصرف جائز ہے تو ہدیہ کا جواز بطریق اولی ہوگا جیسا کہ ہدایہ میں غنی کو کھلانے کے جواز پر استدلال فرماتے ہوئے فرمایا جب خود غنی ہونے کے باوجود کھانا جائز ہے تو کسی غنی کو کھلانا بھی جائز ہے۔(ت)
ولہذا فقیر کو دینے میں تملیك شرط نہ ہوئیبلکہ اباحت بھی روا ٹھہری یعنی دے نہ ڈالے بلکہ دسترخوان پر بٹھا کر کھلادے
شرح نقایہ علامہ للبرجندی میں ہے:
ویوکل ای یطعم من شاء منہا علی طریق الاباحۃ سواء کان فقیرا اوغنیاویہب من یشاء علی سبیل التملیك فقیرا او غنیا ۔ قربانی کے گوشت میں سے جس کو چاہے دے اباحت کے طور پراور ہبہ کے طورپر تملیك کرے فقیر کو خواہ غنی کو۔(ت)
شرح لباب میں ہے:
کل دم وجب شکرافلصاحبہ ان یاکل منہ ماشاء ویوکل الاغنیاء ولوبالاباحۃ والفقراء تملیکا او اباحۃ ولا یجب التصدق بہلابکلہولا ببعضۃ اھ ملخصا۔ ہر قربانی جو بطور شکر واجب ہو تو مالك کو اختیار ہے جتنا چاہے کھائےاغنیاء کو کھلائے اباحت کے طور پر خواہ تملیك کے طور پر فقیرکو خواہ غنی کویا بعض گوشت کا صدقہ واجب نہیں ہے۔ اھ ملخصا۔(ت)
اور یہ معنی خو دآیت وحدیث سے مستفاد کہ اطعموا فرمایا نہ کہ اعطوا البتہ یہ ناجائز ہے کہ اپنے یا
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸€
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الاضحیۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۹€
المسلك المتقسط فی النسلك المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایا فصل فیما لایجوز من الہدایا دارالکتاب بیروت ∞ص۳۱۲€
صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب مایوکل من لحوم الاضاحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳۵€
#7496 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اپنے اہل وعیال اور اغنیاکے صرف میں لانے کو گوشت یا کھال یا کسی جز کو بعوض ایسی اشیاء کے فروخت کرے جو استعمال میں خرچ ہوجائیں اور باقی نہ رہیں جس طرح روپیہ پیسہ یا کھانے پینے کی چیزیں یا تیل پھلیل وغیرہ کہ ان کے عوض اپنی نیت سے بیچنا تمول ہے۔اور نیت اغنیا مثل اپنی نیت کے ہے۔اور یہ جانور جس سے اقامت قربت ہوئیاس قابل نہ رہا کہ اس کے کسی جز سے تمول کیا جائے۔ہدایہ میں ہے:
لایشتری بہ مالا ینتفع بہ الاباستہلاکہ کالخل ولا بازیر اعتبار ابالبیع بالدراہم والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول ۔ قربانی کی کھال سے ایسی چیز نہ خریدے جس کو ہلاك کرکے نفع اٹھائے جیسے سرکہ یا بیچ جس طرح کہ دراہم سے نفع بطریقہ ہلاك ہوتاہے تو یہ بھی منع ہے۔منع کی وجہ مال حاصل کرنے کی غرض سے تصرف کرنا ہے۔(ت)
علامہ عینی بنایہ میں فرماتے ہیں:
والمعنی فی عدم الشتراہ مالاینتفع بہ الابعد استھلاکہ انہ تصرف علی قصد القولوھو قد خرج عنہ جہتہ التمول ۔ ایسی چیزی خرید نے کی ممانعت میں وجہ یہ ہے کہ ہلاك کرکے نفع کی صورت میں مال حاصل کرنے کی غرض سے تصر ف کرنا ہےحلانکہ قربانی تو مال سے خارج کرنا مقصود بنائے۔ (ت)
بخلاف اس کےکہ اس قسم کی اشیاء سے صرف خیر میں صرف کرنے کو مبادلہ کرے کہ اس میں معنی ممنوع یعنی تمول متحقق نہیںتو اس نیت سے استبدلال بھی جائز۔ولہذا تبیین میں فرماتے ہیں:
لوباعہم بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۔ اگر دراہم سے اس لئے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ بھی صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت)
خلاصہ یہ کہ بعد قربانی اس کے اجزاء میں ہر قسم کا تصرف غنی کو حلال ہے۔مگر وہ جس میں معنی تمول پائے جائیںاسی لئے مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں تصریح کی کہ المعنی انہ لایتصرف علی قصد التمول اھ
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۴ /۴۴۸€
البنایۃ فی شرح الہدایہ کتاب الاضحیۃ المکتبۃ الامدادیہ مکہ المکرمہ ∞۴ /۱۹۰€
تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶ /۹€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۲۱€
#7497 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
(مقصد یہ ہے کہ مال کے حصول کی غرض سے تصر ف نہ کرے۔ت)
اس تحقیق وتنقیح سے واضح ہوا کہ علماء جو ایك شق تصدق کی لکھتے ہیں اس کے یہ معنی نہیں کہ تصدق عین ضروری ہے یعنی خاص اسی چیز کو بغیربد لےخیرات کرے بلکہ مطلقا ہر شیئ کےعوض بیچ کر خیرات کرنی جائز ہے خواہ روپے پیسے ہوں یا اشیائے خوردنی یا اعیان باقیہنہ عین تصدق ضرور ہے۔جس کے حقیقی معنی فقیر کو مالك کرنا۔
کما فی الزکاۃ من فتح القدیر حقیقۃ الصدقۃ تملیك الفقیر ۔ جیساکہ فتح القدیر کے زکوۃ کے باب میں ہے کہ صدقہ کی حقیقت فقیر کو مالك بنانا ہے۔(ت)
بلکہ مطلقا ہر مصرف خیر میں صرف کرنا جائز ہے اگر چہ اس میں کسی کی تملیك نہ ہوجیسے کفن موتی ونفقہ مسجد وغیر ذلک و لہذا اباحت روا ٹھہریاور علامہ زیلعی کی عبارت مذکور نے صاف واضح کردیا کہ قربت چاہئے خاص تصدق کی کوئی خصوصیت نہیںاور خود ظاہر ہے کہ جب بے صورت تمول اپنے اور اغنیا کے صر ف میں لانا رواہوا۔اور جانور کا قربت کے لئے ہونا اس کا مانع نہ ٹھہرا تو مصارف خیر جس میں اصلا بوئے تمول نہیں اور خود امور قربت ہیںبدرجہ اولی جائز ہوں گے۔
اب حکم مسئلہ بحمدالہ روشن ہولیابہ نیت تصدق داموں سے بچنا عبارت فتاوی ہندیہ سے گزرا اور مسجد کی چٹائی وغیرہ میں صرف کرنا بھی قربت ہے۔نہ اپنا تمول جو ممنوع ٹھہراپس دونوں صورت مسئولہ سائل کاحکم جواز ہے۔یہ بحمداﷲ تعالی وہ تحقیق ہے جس سے اس فصل کی تمام جزئیات کا حکم نکل سکتاہے۔
فاتقن ھذا لعلك لا تجدہ بہذا الایضاح والتحریر فی غیر ھذا التحریرولا علیك من خفائہ علی بعض عــــــہ ابناء الزمان المدعین العلم العزیزواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس کو مضبوط کرو ہوسکتاہے اس وضاحت اور صفائی سے تمھیں کسی اور تحریر میں نہ ملے اور موجودہ زمانے کے مدعین علم پر اس کے مخفی ہونے پر تمھیں تعجب نہ ہوواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)

عــــــہ:مولوی رشید احمد گنگوہی۔
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ باب من یجوز دفع الصدقہ الیہ الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۰۸€
#7498 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مسئلہ ۲۴۳:از بنارس محلہ کنڈی ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چرم قربانی واسطے تعمیر مسجد واشیاء متعلقہ مسجد مثل بوریابدھنافرششامیانہ وغیرہ یا برائے درستگی قبرستان کے دینا جائز ہے یانہیں درصورت عدم جواز کے اگر کوئی شخص مصرف مذکور میں صرف کرے۔یاسرا پایہ وغیرہ ہندو کافر کو دےتو اس کی قربانی درست ہوگی یانہیں
الجواب:
قربانی اراقہ دم لوجہ اﷲ سے ہوجاتی ہے کما نص علیہ العلماء قاطبۃ(جیساکہ علماء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ت)اس کے بعد کھانےدینےدلانے سے اس میں کچھ فرق نہیں آتااگر چہ کسی کودےاور چرم کے باب میں ابھی بیان ہوا کہ ہر قربت روا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴: از موضع کٹرہ ڈاکخانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی عبدالکریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۷ ۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت پوست قربانی مرمت مسجد اور بوریاں وغیرہ مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یا نہیں اور غسل خانہپاخانہ واردین مسجد کے لئے اس قیمت سے بنوانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اصل یہ ہے کہ اراقہ دم سے اقامت واجب کے بعد اجزائے اضحیہ سے صرف تمول ممنوع ہے خاص تصدق ضروری نہیں بلکہ جمیع انواع خیر کہ مثل تصدق قربت ہیںسب جائز ہے۔اوربلا بیع خود اپنے تصرف میں لانا دیگر احباب اغنیاء کو ہدیہ دینا بھی جائز۔
کما طفحت بنقول ذلك کتب المذہب المعتمدہ ولنا فی خصوص ذلك رسالہ حافلۃ سمیناھا"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"۔ جیسا کہ تم نے مذہب کی کتب معتمدہ سے فائدہ پایااور خاص اس مسئلہ میں ہمارا جامع رسالہ ہے ہم نے اس کا نام"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"رکھا ہے۔(ت)
حدیث میں ہے رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلوا اوادخروا وائتجروا ۔ کھاؤا ور اٹھا رکھواور وہ کام کرو جس سے ثواب
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7499 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الھذلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ حاصل ہو(اس کو ابوداؤد نے حضرت نبشہ ہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۔ اگر دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے توجائزہے۔کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت)
لباب میں ہے:لایجب التصدقہ بہ (سب گوشت صدقہ کرنا واجب نہیں ہے۔ت)شرح میں ہے:لابکلہ ولاببعضہ (نہ سب کا صدقہ کرنا نہ بعض کا واجب ہے۔ت)
بالجملہ مدار قربت وعدم قبول ہے۔اور شك نہیں کہ مسجد کی مرمتاس میں بوریا وغیرہ آلات کا رکھناغسل خانہ بنانا سب افعال قربت ہیںتو ان میں اس کا صرف ضرورجائزاسی طرح واردین مسجد کے لئے پاخانہ بنوانا اگر فنائے مسجد سے جدا اور زمین وقف میں خلاف مشروط تصرف سے برکراں ہو باعث اجر ہے۔کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵: ۱۱ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھالیں تعمیر دیوارمسجد کے لئے دے دینا جائز ہے یانہیں اور اگر کھالیں بیچ کر دام کرلئے ہوں تو یہ دام صرف مسجد میں دے دینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر کھالیں صرف مسجد کے لئے پہلے سے دے دی جائیں یا ان کا داموں کے عوض بیچنا اپنے صرف میں لانے کے لئے نہ ہو بلکہ امور قربت وثواب کی غرض سے ہوں تو ان داموں کا مسجد کے صرف کے لئے دے دینایہ دونوں صورتیں جائز ہیںاور اگر کھالیں اپنے صرف میں لانے کے لئے داموں کو بیچ ڈالیں تو یہ دام مسجد میں صرف نہیں ہوسکتے بلکہ مساکین کو دے دئے جائیںجس مسکین کو دے وہ اپنی طرف سے مسجد میں لگادے
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
المسلك المتقسط المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایا دارالکتاب العربی بیروت ∞ص ۳۱۲€
المسلك المتقسط المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایا دارالکتاب العربی بیروت ∞ص ۳۱۲€
#7500 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
تو مضائقہ نہیں۔
وذلك لان الطریق فی الجلود اما الادخار واما الائتجارفاذا اعطا ہا المسجداوباعہا لامور القرب واعطی الثمن فیہفقد اتی بما ینبغیاما اذا باعہا للتمولفقد خالف فما حصل خبیثوسبیلہ التصدق وانما التصدق تملیك للفقیر اما اذا ملك فقیر فاعطی المسجد فلا حرجفان الصدقۃ قد بلغت محلہا واﷲ تعالی اعلم۔ یہ اس لئے کہ قربانی کی کھالوں میں طریق ذخیرہ کرنا یا اجر وثواب حاصل کرنا ہے تو جب مسجد کو دیں یا ان کو فروخت کرکے تقرب والے امور کے لئے یا ان کی قیمت ان امور میں خرچ کرنے کے لیے تو اس نے مناسب محل پورا کردیا لیکن اگر مال حاصل کرنے کی غرض سے فروخت کیا تو خلاف ورزی کی لہذا جو مال بنایا خبیث ہوا اس کا راستہ یہی ہے۔کہ اس کو صدقہ کرے جبکہ صدقہ فقیر کو مالك بنانا ہے تو فقیر کو مالك بنایا تو اس نے مسجد کو دے دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ صدقہ اپنے محل پہنچ چکا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۶:مرسلہ جناب حکیم سراج الحق صاحب شہرالہ آباد دروازہ جناب حضرت شاہ محمد اجمل صاحب ۵ ذی الحجہ یك شنبہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کا چمڑا فروخت کرکے مسجد کی جانماز اور مسجد کی مرمت کرنااور مسجد میں لگاناعام اس کے مسجد کی دیوار ہو یا مسجد کا پائخانہغسل خانہ وغیرہ ہوجائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
قربانی کی کھال ہر اس کا م میں صرف کرسکتے ہیں جو قربت وکار خیر وباعث ثواب ہوحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قربانی کی نسبت فرماتے ہیں:
کلوا وادخروا وائتجروا ۔رواہ ابوداؤد عن نبیشہ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کھاؤ اور اٹھا رکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو(اسے ابوداؤد نے نبیشہ ہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7501 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۔ اگر صدقہ کرنے کی غرض سے دراہم کے بدلے فروخت ہو توجائزہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت)
مگر فنائے مسجد میں پائخانہ بنانا قربت نہیں بلکہ ممنوع ہے کہ مسجد کو بوئے بد سے بچانا واجب ہے۔او ر اس کی فنا کا اد ب بھی اسی کی مانند ہے یہاں تك کہ علماء نے فنائے مسجد میں بعد مسجدیت جدید دکان بنانے کی ممانعت فرمائی کہ باعث بیحرمتیفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
قیم المسجد لایجوز لہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجد اوفی فنائہ لان المسجد اذا جعل حانوتا و مسکنا تسقط حرمتہ وہذا لایجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد۔کذا فی محیط السرخسی ۔ مسجد کے منتظم کو جائز نہیں کہ مسجد کی حدود میں دکانیں بنائے کیونکہ مسجد یا فنائے مسجد کو دکانیں بنایا تو مسجد کی حرمت ساقط ہوگی اور یہ جائز نہیں ہے۔جبکہ فنائے مسجد بھی مسجد کے تابع ہے تو اس کا حکم بھی مسجد والا ہوگامحیط سرخسی میں یوں ہے۔ (ت)
ہاں اگر حدود وفنائے مسجد سے دور کوئی پائخانہ مسافروں اور بے گھر نمازیوں کے متعلق مسجد ہے تو اس کی تعمیر یا مرمت ضروری بھی نیت صالحہ سے ضرور قربت وموجب اجرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷:مولانا مولوی بشیر احمد صاحب علی گڑھی بالائے قلعہ مدرس اول مدرسہ منظر الاسلام یوم یك شنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کھال قربانی بیچ کر مسجد بنانا درست ہے یانہیں اور کوئی عمارت مثل مسافر خانہنشست کی چوپال جس میں مسافر یا اپنے ہم قوم مقیم ہوسکیں بینوا توجروا
الجواب:
مسجد یالوجہ اﷲ مسافر خانہ وغیرہ آرام مسلمانان کی عمارت بنانا جس میں اجر ہو اور حصول اجر ہی کی نیت ہوبالجملہ ہر اس کام میں جو شرعا قربت ہوقربانی کی کھال صرف کرنا ہر گز ممنوع نہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اضحیہ کی نسبت جیسا تصدقوا فرمایاصدقہ کرویونہی وائتجروا بھی
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶ /۹€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۲€
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۳ /۳۳€
#7502 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ارشاد فرمایا وہ کام کرو جس میں ثواب ہورواہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے ابوداؤد نے نبشہ ہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت) امام زیلعی شرح کنز میں فرماتے ہیں:
لو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۔ اگر ان کو دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کو صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت)
معلوم ہوا کہ عین تصدق لازم نہیںبلکہ قربت ہونا درکار ہے۔تصدق بھی اسی لئے مطلوب ہوا کہ قربت ہے۔تو جو قربت ہو سب کی وسعت ہے۔ہاں بہ نیت تمول اپنے صرف میں لانے کو اس کے دام کرناجائز نہیں۔حدیث:
من باع جلد اضحیۃ فلا اضحیۃ لہ۔رواہ الحاکم و البیہقی عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جس نے قربانی کی کھال فروخت کی تواس کی قربانی نہ ہوئیاس کو حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
کایہی محمل ہے۔اور حدیث صحیحین میں مولی علی کرم اﷲ وجہہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اپنے شتران قربانی حج کی نسبت حکم فرمانا کہ ان کا گوشت پوست صدقہ کردیں ۔جو از تصدق کی دلیل ہے نہ کہ تعین تصدق کیورنہ اکل واذخار بھی ممنوع ہوجائے حالانکہ بالاجماع جائزومنصوص ہے۔وہ واقعہ حال ہے۔اور وقائع حال کے لئے عموم نہیں اسی حدیث میں ان کی نکیلیں اور جھولیں تصدق کردینے کا بھی حکم ہے تو یہ جواد کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بخشش تھی نہ کہ عام تشریعہاں جس نے تمول کے لئے بیچی وہ ان داموں کو تصدق ہی کرے کہ اول ان کا حصول بروجہ خبیث ہے۔اورجو مال یوں حاصل ہو اس کی سبیل تصدق ہے۔عبارت ہدایہ کا یہی مطلب ہے۔خود ہدایہ میں فرمایا:
المعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول ۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے مال بنانے کی غرض سے تصرف کیا۔ (ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر دارالفکر بیروت ∞۲ /۳۹۰€
صحیح البخاری کتاب المناسك باب یتصدق بجلود الہدی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۲€
الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸€
#7503 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اس مسئلہ کی تحقیق تام مع ازاحت اوہام فقیر کے رسالہ "الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ" میں ہے۔واﷲ تعالی
اعلم۔
مسئلہ ۴۴۸:از جیت پور کاٹھیا وار مرسلہ مولوی نورمحمد عرف باوامیاں بن قاضی محمد ہاشم امام مسجد حاجی جیت پور ۳ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
بخدمت اقدس علی جناب فیضمآ ب اعلم اہلسنت وجماعت مجدد مأتہ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ اعلیحضرت مولانا مولوی مفتی حاجی شاہ محمد احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ برکاتکم ومدفیوضاتکم علینا آمین۔
از جانب احقر العباد نور محمد بن قاضی محمد ہاشم کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہکے گزارش یہ ہے کہ قربانی کے چمڑوں کویہاں کے مسلمان اپنے اپنے محلہ کی مسجد میں ﷲ خیرات دیتے ہیں۔اور متولیان مسجد ان کو بیچ کر قیمت جمع رکھتے ہیں اور حسب ضرورت امام کا پگاراس رقم میں سے دیتے ہیں۔
پس یہ قربانی کے چمڑوں کا مسجد میں خیرات دینا اور اس پیسوں کا اما م کودینا یا دوسرے ضروری خرچ مسجد ڈول رسی وغیرہ میں صرف کرنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
قربانی کے چمڑوں کو ﷲ مسجد دے دینا کہ انھیں یا ان کی قیمت کو متولی یا منتظمان مسجد مسجد کے کاموں مثلا ڈول۔رسیچراغ بتیفرشمرمتتنخواہ مؤذنتنخواہ اما م وغیرہا میں صرف کریںبلاشبہ جائز و باعث اجر وکارثواب ہے۔تبیین الحقائق میں ہےجازلانہ قربۃ کالتصدق (جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)اسی طرح ہدایہ وکافی وعالمگیری وغیرہ میں ہے۔ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:کلواوادخروا وائتجروا (کھاؤ اوراٹھا رکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔ت) امام اگرچہ غنی ہو اس کی تنخواہ دینے کو متولی یا منتظم ان چمڑوں کو بیچ سکتے ہیںیا پہلے سے انھوں نے مصارف مسجد کےلئے دام رکھے ہیںتو ان میں سے تنخواہ دے سکتے ہیں۔
فان الجلد قد وصل موضع التقرب وعطاء وظیفۃ امام المسجد ایضا قربۃ۔ کیونکہ کھال تقرب کے مقام کو پہنچ گئیامام مسجد کو وظیفہ دینا بھی قربت ہے اگر چہ غنی کو لینا قربت نہیں۔
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶/۹€
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7504 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وان لم یکن اخذہا قربۃ للغنی بل مباحا علی المفتی بہ فلم یکن فی معنی البیع بالدراہم لہدیۃ غنی۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بلکہ مفتی بہ قول پر مباح ہے۔تو غنی کو ہدیہ دینے کی غرض سے فروخت کے معنی میں نہ ہوئیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۹ و ۲۵۰: مسئولہ حافظ محمد ایاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان ۲۵ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ۱چرم قربانی امام یا مؤذن مسجد کو دینا یا اس کی قیمت فروخت کرکے دینا جائز ہے یانہیں۔اگر پیش امام تنخواہ پاتے ہیں تو کیا حکم ہے۔اور جن کی تنخواہ بھی مقرر نہیں صرف عید کوکچھ بطور ہدیہ چندہ کرکے دے دیاعیدالاضحی کو قربانی کے چرم وغیرہ دے دئے یا محلہ میں نکاح خوانی لیںاسی پر ان کی گزراوقات ہو۔تو ایسوں کے واسطے چرم قربانی یا اس کی قیمت دینا کیسا ہے اور کیاحکم ہے بینو ا توجروا۔۲کانجی ہاؤس کے نیلام کی راس عدالت سے کسی شخص کے قرضہ کی بابت کے نیلام کی راس قربانی کے واسطے علیحدہ علیحدہ کیا حکم رکھتی ہے
الجواب
(۱)امام ومؤذن غیر تنخواہ دار کو بطور اعانت چرم قربانی یا اس کی قیمت دینے میں حرج نہیںاورتنخواہ دار کو بھی جبکہ تنخواہ میں نہ دیںیعنی زید نے امام کو نوکر رکھا اور اس کی تنخواہ اس کے ذمہ ہے۔یہ قربانی کی کھال بیچ کر اسے ادا کرے تو اپنا روپیہ بچاتا اور اپنا مطالبہ اس سے ادا کرتا ہے۔اور یہ تمول ہے اور قربانی سے تمول جائز نہیں۔ہاں اگر اہل محلہ نے امام ومؤذن کو مسجد کا نوکر رکھا جس کی تنخواہ ذمہ مسجد ہے تو چرم قربانی یا اس کی قیمت مسجد میں دے کر اس سے تنخواہ ادا کرسکتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کانجی ہاؤس کے نیلام کی راس خریدنا جائز نہیںنہ اس کی قربانی ہوسکے کہ وہ فضولی کی بیع ہے۔یعنی غیر مالك کی بے اجازت مالکاور ایسی بیع اجازت مالك پر موقوف رہتی ہے۔اور بیع موقوف قبل اجازت مفید ملك نہیں ہوتی۔اور ملك غیر کی قربانی نہیں ہوسکتی۔اسی طرح کچہری میں نیلام جبکہ قیمت اس مطالبہ سے زائد نہ دی گئی ہوجس میں وہ نیلام ہواوہ نیلام بھی بے رضائے مالك ہے۔ہاں مثلا اگر سو روپے کا مطالبہ تھا اور ایك سو ایك کو نیلام ہواسو روپے ڈگری دار کو دئے گئے اور باقی روپیہ اصل مالك کواور وہ اس نے لے لیاتو یہ اس بیع کی اجازت ہوگئیاب خریدار اس شیئ کا مالك ہوجائے گا۔اور اس کی قربانی صحیح ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ تا ۲۵۴: از موضع سٹیلہ ڈاکخانہ موانہ کلاں ضلع میرٹھ مرسلہ مجید اﷲ خاں ۲۹ صفر۱۳۳۴ھ
حامدا ومصلیاکیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین مسائل ہذا میں:
#7505 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
(۱)کھال قربانی کی اگر ہم لوگ بلارعایت کسی استحقاق خدا کے واسطے خیال کرکے اگر اپنے امام مسجد کو دیں تو جائز ہوگا یانہیں
(۲)آج ہمارا امام غریب ہے کل کو خداکے فضل سے صاحب نصاب ہوگیا تو کھال قربانی اس صورت میں بھی دینا جائزہوگا یا نہیں
(۳)سیدصاحب کو کھال قربانی اور مد زکوۃ سے مسلوك ہونا جائز ہوگایانہیں
(۴)صاحب قربانی اپنی قربانی کی کھال کو اپنے صرف میں لاسکتاہے تو کس کس خرچ میں ڈولمصلیمشك وغیرہ کے علاوہ تاڑی سائی وغیرہ بھی بنواسکتا ہے یانہیں
فیض اﷲ خاںحبیب خاںجھدو خاںکالے خاں پسر جنگ بازخان
الجواب:
واجب اضحیہ اراقۃ دم سے ادا ہوجاتاہے۔اس کے بعد لحم وجلد اس کی ملك ہیںاس میں ہر تصرف مالکانہ کرسکتا ہے صرف تمول ممنوع ہے۔تو کھال بیعینہخواہ اس کا ڈولمشککتاب کی جلدوغیرہ بنواکر اپنے صرف میں لاسکتاہے۔سید کو بھی دے سکتا ہے ہر غنی کو دے سکتا ہے تو امام نے کیا قصور کیا ہے۔عام ازیں کہ صاحب نصاب ہو یا نہوہاں اس داموں سے بیچنا اس غرض سے کہ اپنے دام اپنے یا کسی غنی کے صرف میں لائے جائیںجائز نہیںوہ غنی ہو یا غیریونہی اگر امام اس کا نوکر ہے اور اس کی تنخواہ کے بدلے کھال دی تو ناجائز ہے کہ یہ تمول ہو ایعنی کھال دے کر مال بچانااور اگر کھال اس لئے بیچی کہ اس کے دام تصدق کرے تو امام غیر صاحب نصاب کو دے سکتا۔
وکل ذلك مفصل فی فتاونا وفی رسالتنا الصافیۃ الموفیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ۔ یہ تمام ہمارے فتاوی اورہمارے رسالہ۔"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"میں مفصل بیان ہوچکاہے۔(ت)
بنی ہاشم کو زکوۃ دینا جائزنہیںنہ انھیں لینا جائز۔نہ ان کے دئیے ادا ہویہی ظاہر الرویۃ ہے۔اور یہی صحیح ہے کما بیناہ فی رسالتنا "الزھر الباسم فی حرمۃ الزکوۃ علی بنی ھاشم"(جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے رسالہ"الزھر البالہم فی حرمۃ الزکوۃ علی بنی ھاشم"میں بیان کیاہے۔ت)امامت کے معاوضۃ میں بھی چرم قربانی دینا ایك صورت میں جائز ہے۔وہ یہ کہ متولیان مسجد یا اہل محلہ نے اسی طرح اسے مقر ر کیا کہ تم امامت کرو قربانی کی کھالوں سے تمھاری خدمت کی جائے گییہ صورت بھی صورت تمول نہیںچرم قربانی جس طرح مذکور ہوا اپنے مصرف میں مطلقا لاسکتاہے۔رنگوانے کی شرط محض رنگ آمیزی حماقت
#7506 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵:مرسلہ سید محمد حسن علی قاضیمہدیوا علاقہ اندور محلہ جمال پورہ بروز یك شنبہ تاریخ ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کیسے شخص کو دینادرست ہے اور جائز ہے اور گر قربانی کی کھال صاحب نصاب کو دے دیں تو قربانی اس کی جائز ہوئی یانہیں اگرقربانی کی کھال صاحب نصاب کو کہ"وہ پیش امام بھی مسجد کا ہے۔دے دیتو قربانی انس کی درست اور جائز ہوئی یانہیں اور اگر قربانی کی کھال مسجد کے پیش امام کا حق سمجھ کر اس کو دے دی جائےیا وہ پیش امام ان کھالوں کو اپنا حق سمجھ کر بزور لے تو ان کھالوں کا اس شخص کو دینا درست اور جائز ہے یا نہیں اور قربانی ان لوگوں کی درست ہے اور جائز یانہیں اگر قربانی کی کھالیں کسی مسجدکی تعمیر کےکام میں لائیں یا ان کو فروخت کرکے مسجد کے جانماز بنوالیںیا مسجد کے اور کام میں لائیںمثلا مسجد کا سقاد ابنوالیںیا مسجد میں اس کی قیمت کا پانی ڈلوائیں تاکہ سب نمازی وضو کریںیا مسجد میں آفتابے بنوائے جائیں تاکہ نمازی وضو کریںان سب صورتوں میں قربانی درست اور جائز ہوئی یانہیں بحوالہ حدیث وآیات کتب معتبرہ تحریر فرمائیں اجر ملے گا دن قیامت کے نزدیك اﷲ جل شانہ کے۔
الجواب:
قربانی راقۃ دم لوجہ اﷲ کانام ہے۔واجب اس قدر سے اداہوجاتاہے۔پھر اس کے گوشت پوست کے لئے تین صورتیں ارشاد ہوئیں ہیںبعینہ اپنے صرف میں لایاجائےیا وقت حاجت کے لئے ذخیرہ رکھا جائےیا اس سے ثواب کا کام کیا جائے۔
کلوا وادخروا وائتجروا ۔ کھاؤ اور اٹھا رکھواور ہر وہ کام کرو جس سے ثواب ہو۔(ت)
ثواب میں وہ مسجد کے سب کام داخل ہیں جو سوال میں مذکور ہوئے اجزائے اضحیہ سے صرف تمول ممنوع ہےکہ اس کے دام کرکے اپنے کام میں لائے جائیں۔
من باع جلد اضحیۃ فلا اضحیۃ لہ ۔ جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی اس کی قربانی نہ ہوئی۔(ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس ۲ /۳۳€
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر دارالفکربیروت ∞۲ /۳۹۰€
#7507 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کھال کی جس طرح جانماز یا کتابوں کی جلدیں یا مشکیزہ اپنے لئے بنواسکتاہے یونہی کسی غنی کو بھی ہدیہ دے سکتاہے اگر چہ وہ غنی امام ہوجبکہ اس کی تنخواہ میں نہ دی جائےاور اگر تنخواہ میں دے تو امام اگر اس کا نوکر ہےجس کی تنخواہ اسے اپنے مال سے دینی ہوتی ہے تو دینا ناجائز۔کہ یہ وہی تمول ہوا جو ممنوع ہے۔اور اگر وہ مسجد کانوکر ہے جس کی تنخواہ مسجد دیتی ہے تو جائز نہیں کہ یہ مسجد میں دے دےاو رمسجد کی طرف سے امام کی تنخواہ میں دی جائے۔قربانی کی کھالوں میں امام کا کوئی حق نہیں اور اسے جبرا لینا حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی" لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقہ سے نہ کھاؤواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۶: از کیلا کھیڑا ڈاکخانہ بازپور ضلع نینی تال مرسلہ عبدالمجید صاحب ۱۱ ذی قعدہ ۱۳۳۵ھ
اس علاقہ میں یہ رسم ہے کہ بقر عید کی قربانی کی کھال مسجد کے پیش امام کو دیتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
قربانی کی کھال امام مسجد کو دیناجائزہے اگر وہ فقیر ہواوربطور صدقہ دیںیا غنی ہو اور بطور ہدیہ دیںلیکن اگر اس کی اجرت اور تنخواہ میں دیں تو اس کی دو صورتیں ہیں اگر وہ اپنا نوکر ہے تو اس کی تنخواہ میں دینا جائزنہیں۔اور اگر وہ مسجد کا نوکر ہے اور کھال مہتمم مسجد کو مسجد کے لئے دے دی اس نے مسجد کی طرف امام کی تنخواہ میں دے دی تو اس میں کچھ حرج نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: محمد عبدالحافظ صاحبمیمن سنگھی مدرس مدرسہ یاکد سرپوست لکھیا ضلوع میمن سنکھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی جلد سے مسجد بنانا اور مسجد کے چونا لگا اور مرمت کرنا اور چٹائی وفرش خریدنا جائز ہے یانہیں بدلائل کتب صافیہ و عبارات صحیحہ سے بیان فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
جائز ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلو اوادخرو وائتجروا ۔رواہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی ﷲ کھاؤ اور اٹھارکھو اور ثواب کے کاموں میں خرچ کرو(ا سے ابو داؤد نے نبشہ ہذلی رضی اﷲ
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7508 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
تعالی عنہ۔ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
تبیین الحقائق وفتاوی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
لو باعہابالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۔ اگر دراہم کے بدلے فروخت کیا تاکہ دراہم کا صدقہ کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت)
ثابت ہو اکہ خاص تصدق ضرور نہیں بلکہ ہر وقت۔ہاں اس سے اپنا تمول ممنوع ہے کہ اپنے خرچ کے لئے روپوں یا کسی ایسی چیز سے بدلے جوخرچ ہوجاتی ہے۔بنایہ شرح ہدایہ للامام العینی میں ہے:
المعنی فی عدم الشتراہ مالاینتفع بہ الا بعد استہلاکہ انہ تصرف علی قصد التمول وھو قدخرج عن جہۃ التمول ۔ کھال کے بدلے ایسی چیز نہ خریدناجس کو ہلاك کرنے کے بعد انتفاع حاصل کی ممانعت کا مطلب ما حاصل کرنے کی غرض سے تصرف مراد ہے جبکہ اس صورت میں تمول کی جہت خارج ہوگیا۔(ت)
ظاہر ہے کہ مسجد میں صرف کرنا تمول سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا بلکہ تصرف عــــــہ باطل ہے۔کوئی ذی شعور ایسا نہیں کہہ سکتا نہ کوئی ذی علم۔ ان مدعیوں پر فرض ہے کہ اولا شرح مطہر سے اس کا ثبوت دیں کہ جس مسجد کی مرمت پرست قربانی سے ہوئی ہو اس میں نماز ناجائز ہے۔جب وہ ثبوت دینے کاا رادہ کریں گے ان پر کھل جائے گا کہ ان کی دونوں باتیں محض بے اصل تھیں وباطل تھیں ان پر توبہ فرض ہے کہ شرع مطہر پر افتراء بہت سخت چیز ہے۔اﷲ تعالی ہمارے بھائیوں کو توفیق خیر دے آمین۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۴: از رنگون مگول اسٹریٹ یونانی ڈسپنسری(یونانی شفا خانہ مرسلہ حکیم محمد ابراہیم راندیری ۲۷ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
اس بستی میں دستور ہےکہ قربانی کی کھالیں مسجد کے پیش امام کو دے دیتے ہیں اگر نہ دی جائے تو جھگڑا بھی ہوتاہے اور پیش امام صاحب بھی یوں فرماتے ہیں کہ قربانی کی کھالوں کامیں حقدار ہوںضرور مجھے دی جائیںاور اہل جماعت یوں کہتے ہیں کہ پیش امام صاحب کو قربانی کی کھالیں تبرعا دینا جائز ہیں نہ کہ جبرا۔
عــــــہ: فی الاصل ھکذا لعلہ من قلم الناسخ والصحیح بلکہ اس کو تمول کہنا تصرف باطل ہے۔۱۲ عبدالمنان الاعظمی۔
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
البنایۃ فی شرح الہدایہ کتاب الاضحیۃ المکتبۃ الامدایۃ مکہ المکرمہ ∞۴ /۱۹۰€
#7509 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
جب تبرعا دینا جائز ہے تو کچھ حصہ قیمت چرم باقی کا امام صاحب کو دینگےاور کچھ حصہ دیگر مساکین کو دیا جائے تو زیادہ افضل ہے۔پس اختلاف طرفین کی جانب سے ایك مولوی صاحب منصف قرار دیئےمنصف مولوی صاحب نے یوں حکم دیا کہ قربانی کی کھال سب کی سب مسجد کے پیش امام صاحب کو دے دو اور کسی دیگر مساکین کو نہ دواس واسطے کہ وہ لوگ تمھاری حیات وممات کے حقدار نہیںاور پیش امام صاحب پر جبرالینے سے بھی گناہ نہیں اور گناہ واقع ہو تو میں یہ اقرار کرتاہوں کہ حشر کے دن اس گناہ کی جزا سزا میں نے لیتم لوگ بے خوف قربانی کے سب چمڑے پیش امام صاحب کو دے دو۔
حاضرین محفل میں سے کسی صاحب نے ان مولوی صاحب سے یہ عرض کیا کہ میں نے ایك گائے کی قربانی کیاور دو مسکینوں نے ایك ساتھ چمڑا مانگاان کو دیا جائے گا یانہیں
مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ایك چمڑے کی قیمت یا چمڑہ دو مسکینوں کو دینا مکروہ ومنع ہے۔اس نے پھر کہا دوسرا مسکین بھی تو سائل ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ دوسرے سائل کا سوال اس کی دبر میں جانے دو۔
اب سوال یہ ہے کہ:
(۱)اس طرح جبرا قربانی کی کھال پیش امام کو لینا جائز ہے یانہیں
(۲)اگر جبرا لے لیا تو اس پیش امام کے حق میں حکم شرعی کیا ہے
(۳)اور اسی طرح جو شخص جبرا لینے والے کی مدد کرےاس مددگار کے حق میں کیاحکم ہے
(۴)اگر کوئی شخص اس خیال سےکہ امام صاحب کو تنخواہ ملتی ہے۔قربانی کی کھال نہ دے تو اس شخص پر امام صاحب کو حاضرین مجلس کے ساتھ غضب خدا پڑنے کی بدعا کرنا جائز ہے یانہیں
(۵)اس منصف مولوی صاحب کے حق میں جس نے حشر کے دن مواخذہ خدا وندی کی ضمانت لے لی ہے۔کیاحکم ہےنیز منصف مولوی صاحب ایك مسجد کے پیش امام ہیںان کے پیچھے نماز پڑھنا کیساہے
(۶)جو شخص حق کو باطل کردے اس کے حق میں حکم شرعی کیاہے
(۷)ایك کھال کئی مسکینوں کو صدقہ دینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اس شخص نے جھوٹ کہا کہ قربانی کی کھالیں اس کا حق ہے۔شریعت مطہرہ نے کھالوں میں اتنے اختیار دئے ہیںوہ صورت کرے کہ بعینہ ان کو باقی رکھ کر استعمال میں لائی جائیںمثلا مشك یا
#7510 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ڈول یا کتابوں کی جلدیں بنوالےیا کسی ایسی ہی چیز سے جو باقی رکھی جاتی ہے بدل لے۔مثلا ان کے بدلے برتن یا کتاب خرید لے۔یا بعینہ کھال اپنے عزیزوںقریبوں خواہ کسی غنی کو دے دےیا مسجد یامدرسہ دینی میں دے دی جائےیا اسے تقریب الی اﷲ کےلئے بیچ کر اس کے دام فقراء مساکین طلبہ وغیرہم مصارف خیرکو دئے جائیںخواہ ایك کو سو کویہ جو اس شخص نے کہا کہ ایك چمڑے کی قیمت یا ایك چمڑا دو کو دینا منع ہے۔محض جھوٹ کہااور شریعت مطہرہ پر افترا کیااور اس کا یہ کہنا کہ پیش امام کو جبرا لینے سے بھی گناہ نہیںشریعت پر اس کا دوسرا افتراء اورظلم کوجائز کرناہے۔اور اس پر وہ سخت جرأت کہ اس پر جو سزا ہو وہ اپنے ذمہ لیعذاب الہی کو ہلکا سمجھنا اور معاذ اﷲ کلمہ کفر ہے۔اس کی امامت جائز نہیںاور پیش امام اگرکھالیں لینے پر جبر کرے اس سے باز نہ رہے تو یہ بھی فاسق معلن ہے۔اور اس کا امام بنانا گناہ اور اس جبرالینے میں جو اس کی مدد کرے وہ سخت شدید گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔حدیث میں ہے:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلام ۔ جو دانستہ ظالم کی مدد کوچلا وہ اسلام سے نکل گیا۔(ت)
اور جو شخص امام کو کھال نہیں دیتے خواہ وہ تنخواہ پاتاہویانہ پاتا ہواس میں ان پر کوئی شرعی الزام نہیں کہ امام کو دینا شرع نے واجب نہ کیا تھانہ کھال امام کاحق تھی کہ اس کی حق تلفی ہوتیاس پر جوامام نے اس مسلمان کو وہ سخت بدعا دی کہ"وہ خدہی مستحق غضب ہواالعیاذ باﷲ تعالی کہ اس نے مسلمان کو ناحق ایذا دیاورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔والعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی۔(ت)
مسئلہ ۲۶۵ تا ۲۶۹: از سنھبل محلہ رحمن سرائے مرسلہ احمد خاں صاحب ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱قربانی کے جانور کی کھال دام صاحب قربانی اپنے مصرف میں لائے یانہیں اور ۲قربانی کا گوشت کس طرح تقسیم کرے اور ۳قربانی کے چمڑے کو بحق پیش امام دے یانہیں اور مسجد میں صرف کرے یا مدرسہ علم القرآن وحدیث میں اور سری قربانی کی حجام اپنا حق سمجھ کرلے تو دے یانہیں
حوالہ / References المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۱۹€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱ /۲۲۷€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۲€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۴ /۳۷۳€
#7511 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اور ۴مسجد میں صرف کرے یا مدرسہ علم القرآن وحدیث میں اور ۵سری قربانی کی حجام اپنا حق سمجھ کرلے تو دے یانہیں
الجواب:
۱ قربانی کی کھال کے دام صاحب قربانی اپنے صرف میں نہیں لاسکتا۔حدیث میں ہے:
من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۔ جو اپنی قربانی کی کھال بیچے اس کی قربانی نہ ہوئی۔
آمستحب یہ ہےکہ گوشت کے تین حصے کرے۔ایك حصہ اپناایك احباب کا ایك مساکین کا۳پیش امام کا اس میں کوئی حق نہیںدو تو اختیار ہے۔لیکن اگر وہ اس کا نوکر ہے تو تنخواہ میں نہیں دے سکتا۴مسجد اور مدرسہ دینیہ دونوں میں صرف کرنا جائز۔۵حجام کا اس میں کوئی حق نہیںدینے کا اختیار ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۰: از موضع میونڈی بزرگ ضلع بریلی مسئولہ سید امیر عالم حسین صاحب ۲۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قیمت جلود قربانی مسجد میں لگانا درست ہے یانہیں بعض کہتے ہیں کہ فرش وچھت میں لگانا درست نہیںیعنی جس جگہ سجدہ کیا جائے وہ جگہ قیمت جلود قربانی سے نہ بنائی جائے کہ وہ قیمت صدقہ ہے اس جگہ سجدہ کرنا حرام ہے۔ہاں اس قیمت سے حدود دیوار مسجد یا غسلخانہ وغیرہ بنایا جائے تو درست ہے۔اور بعض کہتے ہیں کہ کنواں وغیرہ بنوادیا جائےتو کچھ حرج نہیں خواہ مسجد میں ہو یا اور کہیںاور بعض کہتے ہیں کہ کنواں بھی نہ بنایا جائےکہ وہ قیمت صدقات سے ہے کہ اس کے پانی سے وضو جائز نہ ہوگااور نہ اس کا پانی پینے کے قابل ہوگاتو جناب قبلہ سے امیدوار ہیں کہ اس کا ثبوت غلامان کو کیوں نہ دیا جائے کہ قیمت جلود قربانی کس کام میں صرف کی جائے آیا مسجد یا کنویں وغیرہ میں لگانا درست ہے یانہیں
الجواب:
اگر قربانی کی کھال مسجد میں دے دی تو متولی کو اختیار ہے کہ اسے مسجد کے جس صرف میں چاہے صرف کرےا ور اگر مسجد میں دینے کی نیت سے خود اس کے دام کئے تو وہ دام بھی مسجد کے ہر کام میں صرف ہوسکتے ہیںہاں اگر اپنے خرچ لانے کی بہ نیت سے کھال بیچے تو یہ حرام دام خبیث ہیںمسجد میں نہ دےنہ مسجد کے کسی کام میں صرف ہوںبلکہ فقیر مسلمان پرصدقہ کئے جائیںوتحقق المسئلۃ فی رسالتنا"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود والاضحیۃ"(اس مسئلہ کی تحقیق ہماے رسالہ "الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود واالاضحیۃ"
حوالہ / References المستدرك کتاب التفسیر دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۹۰€
#7512 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۱: ا ز جز میرہ ضلع فرید پور ڈاك خانہ خاص مرسلہ مولوی مفیض الدین صاحب قاضی ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ونفع المسلمین بعلو مکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں کہ تعمیر مسجد ازچرم جائز ست یا نہ وتصدق بچرم اضحیہ از قبیل تطوعات ست یا از واجباتودر ادائے صدقہ واجبہ تملیك مشروط ستھکذا درادائے صدقہ نافلہ تملیک مشروط است یانہ آپ کا کیا ارشاد ہے اور اﷲ تعالی آپ کے علوم سے مسلمانوں کو نفع دےاس مسئلہ میں کہ قربانی کے چرم سے مسجد کی تعمیر جائز ہے یانہیں قربانی کے چرم کا صدقہ واجب ہے یانفل اور صدقہ واجبہ کی ادائیگی میں تملیك شرط ہے کیا نفلی صدقہ کی ادائیگی میں بھی تملیك شرط ہے یانہیں(ت)
الجواب:
صدقہ باطلاق عام درگرد تملیك نیست کما نطقت بہ الاحادیث الکثیرۃ وحققناہ فی فتاونا منہا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مااطعمت زوجتك فہو لك صدقۃ وماا طعمت ولدك فہو لك صدقۃ۔وما اطعمت خادمك فہو لك صدقۃ ۔بلکہ کفارہ صوم وظہار ویمین خود واجب ستوشك نیست کہ از قسم صدقہ استولہذاغنی را روا نیستمعہذا تملیك لامز نکردہ اند۔اباحت دارد کما نصوا علیہ قاطبۃ برچرم اضحیہ راسا ہیچ وظیفہ از شرع معین نیست روا ست کہ باستعمال خود داردیابغنی ہدیہ کند پس اوبمعنی مطلق صدقہ تملیك کا پابند نہیں ہے جیسا کہ کثیر احادیث اس پر ناطق ہیں اور اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے ایك حدیث یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ واسلام کا ارشاد ہے:جو تو نے اپنی بیوی کو کھلایا صدقہ ہے اور جو تو نے اپنی اولادکو کھلایا وہ تیرا صدقہ ہے اور جو تو نے اپنے خادم کو کھلایا ہے وہ تیراصدقہ ہے۔بلکہ کفارہ صومظہار اور قسمواجب ہے اور شك نہں کہ از قسم صدقہ ہے اسی لئے غنی کو کھانا جائز نہیں اس کے باوجود تملیك لازمی نہیں ہے بطور اباحت دیناجائز ہے جیساکہ تمام فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔چرم قربانی پر تو کوئی شرعی حکم معین نہیں ہے خود استعمال کرناجائزہے یا کسی غنی کو ہدیہ کردے تو شرعی مطالبہ کے
حوالہ / References کنزالعمال ∞حدیث ۱۶۳۲۱€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶ /۴۱۵€
#7513 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مطالبہ شرعیہ اصلا صدقہ نیست نہ واجبہنہ نافلہنہ عامہنہ خاصہپس شرط تملیك فقیر زیادت ست بر شرع است آری اگر بفقیر بخشید صدقہ خاصہ نافلہ شود وایں معنی موجب آں نبود کہ جزیں کار اں جا ہیچ روا نیست نہ بینی کہ زرے کہ بہ بنائے مسجد یا تکفین میت صرف کنیاگر بفقیرے دہینیز صدقہ خاصہ نافلہ بودوایں معنی منع نہ کندازصرف زر در کار خودیا درکارخیربلکہ آنجا خود مطالبہ شرعیہ بود کہ بنائے مسجد بمحل حاجتوتکفین میتہر دو واجب ستوبصرف اضحیہ یا چرم او بکار دگر اصلا مطالبہ نیست ناگویند کہ مطلوب شرع صدقہ اوہست ومصرف صدقہ جز محل تملیك نباشد بہ صدقہ اش زنہار از شرع مطالبہ نیستبلکہ ایں جاسہ کار فرمودہ اند کلو اوادخروا وائتجروا خوریدوبرائے حاجت برداریدوبکار ثواب صرف کنیدرواہ ابو داؤد عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ عن البنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایں سوم خود جمیع میراث ومثوبات راشامل ستتعمیر مسجد نیز از ان ستپس بالیقین رواست واﷲ تعالی اعلم۔ طور پر ہر گز صدقہ نہیں ہے۔نہ واجبنہ ہی نفلیاورنہ عام نہ خاص پس اس میں تملیك فقیر کی شرط کرنا شرع پر زیادتی ہے۔ہاں اگر فقیر کو دے گا تو خاص نفلی صدقہ ہوگااس کا یہ مطلب نہیں کہ فقیر کے بغیر کسی کے لئے رواہ نہیںدیکھئے جو زر آپ نے مسجد کی تعمیر پر کیا یا میت کے کفن پر خرچ کیا اگر فقیر کو دیتا تو وہ بھی خاص نفلی صدقہ ہوجاتا جبکہ وہ اس چیز کو مانع نہیں کہ آپ خود اپنے صرف میں یا کسی بھی کار خیر میں صرف کریں بلکہ مسجدکی تعمیر ضروری ہو یا کفن دینے کی حاجت ہوتو شرعی مطالبہ ہے اور یہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں حالانکہ چرم قربانی کو کسی کام پر خرچ کرنے کا شرعا کوئی مطالبہ نہیں ہے تاکہ یہ کہا جائے کہ اس کو صدقہ کرنا شرعا مطلوب ہے اور اس صدقہ کا مصرف تملیك کے بغیر نہیں ہوسکتا جبکہ شرع نے اس کو صرف کرنے کا کوئی بھی حکم نہیں دیاابوداؤد نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کھاؤ ذخیرہ کرو اور اجر کماؤیہ تین کام کرنے کا حکم فرمایا جبکہ تیسرا حکم تمام نیکیوں اور ثواب والے مقامات کو شامل ہے اور مسجد کی تعمیر بھی نیکی کا کام ہے۔لہذا اس کا مصرف تعمیر مسجد کے لئے بالیقین جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۲: از ملا محمد اسمعیل ابن محمد رمضان در مسجد رنگریزاں پالی تاریخ ۱۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہم لوگ سب محلہ قربانی کی کھالیں ہمارے محلہ کی مسجد میں دیتے ہیں تاکہ مسجد کی ڈولرسی وچراغ وبتی میں امداد پہنچےاوراگر سوائے ہماری مسجد کے اور جگہ ان
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۳€
#7514 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کھالوں کو صرف کردےتو اس کو ہم محلہ سے خار ج کردیتے ہیںعندالشرع ایسا کرنا کس حکم میں داخل ہے
الجواب:
مسجد میں چرم قربانی صرف کردینا جائز ہے مگر واجب نہیںدوسرا اگر اور کسی جائز صرف میں خرچ کرے اس پر کوئی مواخذہ نہیںاس بناء پر اسے محلہ سے خارج کردینا ظلم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳ و ۲۷۴: از انبیٹھ تحصیل نکوڑ ضلع سہارنپور مسئولہ سید مظفر صاحب ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
علمائے ذی شان مسئلہ محررہ ذیل میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:
(۱)زید پوست قربانی بعینہ مسجد میں دینے کو اور اس کی ضروریات میں خرچ کرنے کو خواہ تنخواہ مؤذن ہو یادیگر حوائج مسجد جائز کہتاہے۔اور نیز قربانی کرنے والے کو اپنے استعمال میں لاناخواہ ڈول بناکر یا دیگر کسی طریقے سے شے معتمد اپنے لئے تیار کرانے کو شرعاجو جائز کہا گیاتو اسی ڈول کو جو اس نے استعمال کےلئے تیار کرایا تھا مسجد میں اگر دے دے تو زید مذکور اس کو جائز رکھتا ہے اور عمرو ان دونوں امر کو ناجائز کہتاہے۔اور استدلال ہر دو کا کتب فقہ مثل ہدایہ وشامی کی عبارت سے جیساکہ عبارت ہدایہ مطبوعہ اصح المطابع صفحہ ۴۴۸ میں ہے:
ویتصدق بجلد ھا لانہ جزء منہا اویعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت کالنطع والجراب والغربال ونحوھا الخ۔ قربانی کی کھال کو صدقہ کیا جائے کیونکہ یہ قربانی کا جز ہے یا اس کوخود کام میں لاکرگھر میں خوان یا تھیلا یا چھلنی وغیرہ بنا لے الخ۔(ت)
زید کہتاہے جبکہ پوست قربانی کی اشیاء قربانی کرنے والا اپنی ذات کے لئے تیار کراکر استعمال کرسکتاہے تو وہ ان کو مسجد میں دے دے تو کیاحرج ہے۔عمرو کہتاہے کہ صدقہ طفر کے معنی تملیك بلا عوض ہے تو مسجد میں پوست قربانی دینا جائز نہ ہوگاکیونکہ مسجد تملیك کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیایسے ہی شارع علیہ السلام نے پوست قربانی کی اشیاء تیار شدہ کو اپنے نفس کے لئے اپنے گھر میں استعمال کرنے کے لئے حکم فرمایانہ کہ مسجد میں اسی شیئ کو اپنی طر ف سے دے دینے کو۔
(۲)دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی گائے وغیرہ کے سینگ کے اوپر کا حصہ نیچے تك ٹوٹا ہو تو ہدایہ میں تو مطلقا مکسورۃ القرن کوجائز لکھاہے۔اور شامی میں تفصیل اس طرح کہ اگر کسر مخ تك پہنچی تو ناجائز ہے ونیز مشاش یعنی رؤس عظام تك اگر کسر پہنچے تو نا جائزتو جس جانور کا اوپر والاحصہ نیچے تك
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸€
#7515 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اکھڑ گیا وہ جائز ہوگا یا ناجائز ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
(۱)زید کا قول صحیح ہے۔بیشك اسے امور بروخیر میں صرف کرسکتے ہیںاور اپنے لئے ایسی چیز جو باقی رکھ کر استعمال کی جائے جیسے ڈول۔مشککتاب کی جلد وغیرہ بناسکتے ہیں اور اسے بدرجہ اولی مسجد میں دے سکتے ہیںتصدق جس میں تملیك فقیر ضرور ہے۔صدقات واجبہ مثل زکوۃ میں ہے ہر صدقہ واجبہ میں بھی نہیںجیسے کفارہ صیام وظہار ویمین کہ ان کے طعام میں تملیك فقیر کی حاجت نہیں اباحت بھی کافی ہےکما فی فتح القدیر وغیرہ عامۃ الکتب(فتح القدیر وغیرہ عام کتب میں جیسا کہ موجود ہے۔ت)چرم قربانی کا تصدق اصلا واجب نہیںایك صدقہ نافلہ ہے۔اس میں اشتراط تملیك کہاں سے آیابلکہ ہر قربت جائز ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلوا وادخروا وائتجروا ۔ کھاو اور ذخیرہ رکھو اور ثواب کا کام کرو۔
کیا مسجد میں دینا ثواب کاکام نہیں امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)
کیا مسجد میں دینا قربت نہیں۔اور عجیب منطق یہ ہے کہ مسجد میں دینا تو جائز نہیں کہ تملیك فقیر نہ ہوگیاور غنی کا اپنے صرف میں رکھنا جائزاس میں تملیك فقیر ہوگئی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)قرن اوپرہی کے حصے کو کہتے ہیں۔جو ظاہر ہوتاہے وہ اگر کل ٹوٹ گیا حرج نہیں ولہذا ہدایہ میں مکسورۃ القرن کو جائز فرمایا ہاں اگر اند رسے اس کی جڑ نکل آئی کہ سر میں جگہ خالی ہوگئیتوناجائز ہے۔ردالمحتار کایہی مفاد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: از تلہڑ ضلع شاہجہانپور محلہ ہندوپٹی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۲۰ رمضان ۱۳۳۷ھ
مفتیان کرام ذوی الاحترام کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے۔زید کہتاہے کہ جلد قربانی و عقیقہ مسجد ومدرسہ کے صرف میں آسکتی ہے۔بکر کا قول ہے کسی فقیر کو دی جائے وہ خرچ کرسکتاہے
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ باب من یجوز دفع الصدق الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۰€۹
سنن ابی داؤد کتا ب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳€۳
تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
#7516 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کیونکہ یہ صدقہ ہے اور صدقات کی تفصیل کلام الہی نے فرمادی:" انما الصدقت للفقراء " الایۃ سورۃ توبہ(صدقات خاص کر فقراء کے لئے ہیں۔ت)اورحکم باری تعالی ہے:
" فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول " تو اگر تم کسی معاملہ میں تنازع کرو تو اس کو اﷲ اور رسول کی طرف پھیرو۔(ت)
لہذا کلام ربانی کی طرف رجوع کی گئی نیز بکرکا بیان ہے کہ برتقدیر صحت قول زید کا اس کا ماخذ کہاں ہے امید کہ مسئلہ کی توضیح مع نقل عبارات فرمائی جائے۔فقط
الجواب:
بیشك ہر مناز عت میں اﷲ ورسول ہی کی طرف رجوع لازم ہے۔مگر ہر ایك کو بلا واسطہ رجوع کی لیاقت کہاںیہیں دیکھئے آ یہ کریمہ میں صدقات سے زکوۃ مراد کہ اسی میں ارشاد ہوتاہے " و العملین علیہا " (صدقات پر کام کرنے والوں پر۔ت)اور بکر نے اسے قربانی وعقیقہ کو شامل کردیا یہ بھی نہ دیکھا کہ اس کے تو گوشت کی نسبت خود قرآن عظیم میں ارشاد ہے:فکلوا منہا اس میں سے خودبھی کھاؤ۔اب کہاں رہی صدقات کی وہ تفصیل جو اس آیہ کریمہ میں بالحصر ارشاد ہوئی تھی کہ " انما الصدقت للفقراء " (صدقات فقراء کے لئے ہیں الآیۃ۔ت)یہ بھی نہ سمجھا کہ عوام تك اس کو قربانی کہتے ہیں نہ کہ صدقہتو ہر کارتقرب اس میں روالہذا امام زیلعی نے شرح کنز الدقائق میں فرمایا:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ صدقہ کی طرح یہ قربت ہے۔ت) ہاں ہم نے خاص مسئلہ میں اﷲ عزوجل کی طرف رجوع کی تو اس کا ارشاد پایا
" فکلوا منہا و اطعموا البائس الفقیر ﴿۫۲۸﴾ " خوداس میں سے کھاؤ اور ضرورتمند فقیر کو کھلاؤ۔(ت)
اطعام کے لفظ نے بتایا کہ تصدق ہی واجب نہیں اباحت بھی کافی ہے۔جو محض ایك قربت ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف رجوع کیتو حضور کاارشاد پایا:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹ /۶۰€
القرآن الکریم ∞۴ /۵۹€
القرآن الکریم ∞۹ /۶۰€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۲۸۔۳۶€
القرآن الکریم ∞۹ /۶۰€
تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المکتبۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۲۸€
#7517 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
فکلوا وادخروا وائتجروا رواہ ابوداؤد وغیرہ عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کھاؤ اور اٹھا رکھو اور ثواب کا کام کرو۔اسے ابو داؤد وغیرہ نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
مسجد ومدرسہ دینیہ اہلسنت میں دینا بھی ثواب کا کام مثل اطعاماور اسی ائتجروا کے حکم میں داخل ہے۔ہاں اگر کوئی شخص اس کی جلد اپنے صرف میں لانے کی نیت سے روپوں پیسوں کو بیچے تو بیشك قیمت اس کے حق میں خبیث ہوگی۔
لانہ جزء من التمول کما نصوا علیہ وفی حدیث المستدرك من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۔ کیونکہ یہ مالداری کاجز ء ہے جیسا کہ انھوں نے نص فرمائی ہے اورمستدرك کی حدیث میں ہے جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی تو اس کی قربانی نہیں۔(ت)
وہ قیمت نہ مسجد میں دے نہ مدرسہ میں فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب (اﷲ طیب ہے وہ صرف طیب کو قبول فرماتا ہے۔ت)بلکہ فقراء پر تقسیم اور تصدق کرے کما ھو حکم مال الخبیث(جیسا کہ ناپاك مال کا حکم ہے۔ت) اور اگر نہ اپنے لئے بلکہ مسجد ومدرسہ یا کسی فقیرہی کو دینے کے لئے روپوں پیسوں کو بیچےخود یہ خواہ مسجد ومدرسہ ووکیل فقیربہر صورت جائز ہے۔اور وہ دام مدرسہ ومسجد میں صرف ہوسکتے ہیں کہ ممنوع تمول ہے نہ کہ تقرب
وقد مرعن التبیین انہ قربۃ کالتصدق و تمام التحقیق فی رسالتنا"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"واﷲ تعالی اعلم۔ تبیین سے گزرا کہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہےمکمل تحقیق ہمارے رسالہ"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ" میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶ تا ۲۷۹: انجمن اسلامیہ رانا واڑ کاٹھیاوار ۵ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
مجدد مائۃ حاضرہ امام اہلسنت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی ! بعد تسلیم
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر دارالفکربیروت ∞۲ /۳۹۰€
مسند امام احمد بن حنبل مسند ابوہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۳۲۸€
تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المکتبۃ الامیریہ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
#7518 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
بعد تکریم وقدمبوسی عرض یہ ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)قربانی کے چمڑے کے پیسے جو معلم کو مدرسہ کی دینی اور دنیاوی تعلیم پر مقرر کئے گئے ہیں آیا ان کو بطور ماہانہ تنخواہ دے سکتے ہیں یانہیں
(۲)قربانی کے چمڑے کے پیسے سے غریب اور تونگر کے بچوں کوتعلیم دینے کے لئے مدرسہ کے لئے عمارت بنانے کےکام میں خرچ کرسکتے ہیں یانہیں
(۳)قربانی کے چمڑے کی آمد سے عمارت بناکر اس کا سود یا کرایہ کہ آئے۔اس کو بچوں کی تعلیم میں صرف کرسکتے ہیں یا نہیں
(۴)قربانی کے چمڑے کی آمد سے غریب یا تونگر طلباء کو کتاب دے سکتے ہیں یا نہیں مانند قرآن شریف وغیرہ بینو توجروا
الجواب:
اقول: وباﷲ التوفیق اغنیاء جو ایام نحر میں قربانی کرتے ہیں کہ ابتداء شرع مطہر نے ان پر واجب فرمائی اس کو کھال میں یہ احکام ہیں:
(۱)وہ اسے باقی رکھ کر اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں۔مثلا انکے مشکڈول یاکتابوں کی جلدیں بنوالیں لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وادخروا (حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق کہ"اورذخیرہ کرو"ت)
(۲)اپنے استعمال کے لئے اس سے وہ چیزیں خرید سکتے ہیں جو باقی رکھ کر استعمال ہوتی ہیںجیسے برتنکتابیںوغیرہا فان قیام البدل کقیام المبدل منہ(بدل کا قیام مبدل کے قیام کی طرح ہے۔ت) اورمختار میں ہے:
یتصدق بجلدہاویعمل منہ نحو غربال وجراب و قربۃ وسفرۃ ودلو اویبدلہ بماینتفع بہ باقیا کما مر ۔ کھال کا صدقہ کرے یا خودغربال۔تھیلامشکیزہ خوان یا ڈول بنالے یا ایسی چیزی تبادلہ کرے جس کو باقی رکھ کرنفع حاصل کرتا رہے جیسا کہ گزرا۔(ت)
(۳)اسے اپنے لئے داموں کونہیں بیچ سکتےاگر بیچیں تصدق کریں لانہ سبیل ماحصل
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب جنس لحوم الضحایا ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴€
#7519 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
بوجہ خبیث(خبیث طریقہ سے حاصل شدہ کایہی حکم ہے۔ت) ردالمحتارمیں ہے:
تصدق بالدراھم فیما لو ابدلہ بہا ۔ اگر اسے دراہم سے بدلا تو دراہم کو صدقہ کرے۔(ت)
یہاں تك کہ اگر داموں کو بیچے پھر چاہے کہ ان داموں سے کوئی چیز ایسی خریدے جس کی خرید جائز تھیجیسے برتن وغیرہتو اب اس کا اختیار نہیں وہ دام تصدق ہی کرنے ہوں گےطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
قولہ بما ینتفع بعینہ ظاہرہ انہ لایجوز بیعہ بدراھم ثم یشتری بہا ماذکر ۔ قولہ وہ چیزجس کے عین سے نفع حاصل کرے اس کا ظاہر یہ ہے کہ کھال کو دراہم کے عوض فروخت کرکے پھر دراہم کے ساتھ کوئی چیز خریدناجن کو ذکر کیا۔جائز نہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ویفیدہ مانذکرہ عن البدائع ۔ اس کا فائدہ دے گا جو ہم بدائع کے حوالہ سے ذکر کرینگے۔(ت)
(۴)یوں ہی اپنے لئے کسی ایسی چیز سے بیچیں جو خرچ ہو کر کام میں آتی ہے۔جیسے کھانے پینے کی چیزیںیہ ناجائز ہے۔اور ان کی قیمت تصدق کرنی ہوگیدرمختارمیں بعد عبارت مذکورہ ہے:
لابمستھلك کخل ولحم ونحوہ کدراھم فان بیع اللحم اوالجلدبہ ای بمستھلك اوبدراھم تصدق بثمنہ ۔ ہلاك ہونے والی چیز کے عوض نہیں جیسے سرکہ گوشت وغیرہ مثلا دراہمتو اگرگوشت یا کھال کو ایسی ہلاك ہونے والی چیز یا دراہم کے عوض فروخت کیا تو اس کی قیمت صدقہ کرے۔(ت)
(۵)اسے باقی رکھ کریا باقی رہنے والی چیز سے بدل کر اسے کرائے پر نہیں دے سکتا مثلا کھال کی مشك بنائی یا اس سے کوئی برتن خریدااور اس مشك یابرتن کو کرایہ پر دیا یہ ناجائز ہے۔اس کرائے کو تصدق کرنا ہوگا۔درمختارمیں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاضحیۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۱۶۲€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۱€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴€
#7520 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
لا یوجرھا فان فعل تصدق بالاجرۃ ۔ نہ اجرت پر دے اگر اجرت لی تو صدقہ کردے(ت)
حاوی الفتاویفتاوی ظہیریہپھر درمنقی پھر ردالمحتارمیں ہے:
لو عمل الجلد جرابا واجرہ لم یجزوعلیہ التصدق بالاجرۃ ۔ اگر کھال تھیلا بنایا اور اجرت پر دیا تو اجرت کو صدقہ کرے۔اجرت لینا جائز نہیں۔(ت)
(۶)اپنے اوپر کسی آتے ہوئے کے بدلے میںمثلا نوکرکی تنخواہ یا کسی کام کی اجرت میں نہیں دے سکتے فانہ ایضا فی معنی البیع للتمول(کیونکہ یہ بھی تمول کے معنی میں ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
لایعطی اجر الجزار منہا لانہ کبیع ۔ قصاب کو اجرت میں نہ دے کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے۔(ت)
کفایہپھر ردالمحتارمیں ہے:
لان کلامنہا معاوضۃ لانہ انما یعطی الجزار بمقابلۃ جزرۃوالبیع مکروہ فکذا مافی معناہ ۔ کیونکہ یہ دونوں معاوضہ ہیں کیونکہ قصاب کو اس کی مزدوری کے عوض دے گا اوربیع مکروہ ہے تو اس کا ہم معنی بھی مکروہ ہے۔(ت)
(۷)یونہی اپنی زکوۃ کی نیت سے فقیر کو نہیں دے سکتے لانہ ایضا معنی البیع بالدراھم(کیونکہ یہ بھی دراہم کے بدلے میں بیع کے معنی میں ہے۔ت)اور اگر دیں گے تو فقیر اس کا مالك ہوجائیگا اور زکوۃ ادا نہ ہوگیقنیہ پھر شرح نقایہ قہستانی پھر ابن عابد ین علی الدر میں ہے:
اذا دفع اللحم الی فقیر بنیۃ الزکوۃ لایحسب عنہا فی ظاھر الروایۃ ۔ جب فقیر کو زکوۃ کی نیت سے گوشت دے تو ظاہر الروایۃ میں زکوۃ نہ ہوگی۔(ت)
(۸)فقراء کو دینے کی نیت سے داموں کو بھی بیچ سکتے ہیں کہ یہ اپنے لئے تمول نہیں تبیین الحقائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۹€
درمختار کتاب الاضحیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۴€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۹€
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۹€
#7521 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
لایبیعہ بالدراھم لینفق الدارھم علی نفسہ وعیالہ ولو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق ۔ دراہم کے عوض اپنے یا اپنے عیال پر خرچ کرنے کے لئے فروخت نہ کرے اگر دراہم کے عوض فروخت کیا دراہم کو صدقہ کرنے کے لئے تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔(ت)
(۹)غنی کو ہبہ کرسکتے ہیں کہ وہ اپنا تمول نہیں۔پھر اس غنی کو اختیا رہے چاہے داموں کو بیچ کر اپنے خرچ میں لائے چاہے کسی کی اجرت یا تنخواہ میں دے چاہے اپنی زکوۃ میں دے اور اس کی زکوۃ ادا ہوجائے گی کہ اب حکم اضحیہ منقطع ہوگیاوہ اس کی ملك ہے جو چاہے کرے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھو لہا صدقۃ ولنا ھدیۃ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لے ہدیہ ہے۔(ت)
قنیہ پھر جامع الرموز پھر ردالمحتارمیں بعبارت مذکورہ ہے۔
لکن اذا دفع لغنی ثم دفع الیہ بنیتھا یحسب اھ ای دفع الموھوب لہ بنیۃ الزکوۃ جاز واجزأ۔ لیکن اگر غنی کو دیا اورغنی نے اپنی زکوۃ میں دیا تو زکوۃ شمار ہوگی یعنی موہوب لہ اپنی زکوۃ کی نیت سے دے تو جائز ہے۔(ت)
(۱۰)مسجد میں دے سکتے ہیں:
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وائتجروا رواہ ابو داؤد عن نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی بنا پر کہ اجر کماؤاس کو ابوداؤد نے حضرت نبشہ ہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
پھر مہتممان مسجدکو اختیارہےکہ اسے بیچ کرجس کام میں چاہیں لائیں اگر چہ امام یا مؤذن یا فراش کی تنخواہ میں۔
لان صار ملك المسجد کمسألۃ الغنی المذکورفا نقطع حکم الاضحیۃ۔ کیونکہ مسجد کی ملك ہوگئی جس طرح غنی والا مذکور مسئلہ تو قربانی کا حکم ختم ہوگیا۔(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ ∞۶ /۹€ و فتاوی ہندیہ کتاب الاضحیۃ الباب السادس ∞۵ /۳۰۱€
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقات علی مولی ازواج النبی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۲€
ردالمحتار باب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۰۹€
سنن ابی داؤد کتاب الاضحیۃ باب حبس الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7522 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
واقعات امام حسام الدین پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
ویمکن تصحیحہ تملیکا بالہبۃ للمسجد اثبات الملك للمسجد علی ھذا الوجہ صحیح فیتم بالقبض ۔ ہبہ کے طور تملیك کی صحت مسجد کے لئے ممکن ہے اور اس طریقہ سے مسجد کی ملك ثابت کرنا صحیح ہے تو ہبہ قبضہ سے تام ہوجائیگا(ت)
فتاوی عتابیہ پھر عالمگیریہ میں ہے:
یصح بطریق التملیك اذا سلمہ للقیم ۔ جب منتظم کو سونپ دیا تو تملیك کاطریقہ صحیح ہوگیا۔(ت)
(۱۱)یونہی ہر قربت کے کام میں صرف کرسکتے ہیں جیسے مدرسہ دینیہ کی اعانت۔
لا طلاق عموم قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ائتجروا ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کہ"ثواب کماؤ"کے اطلاق کی بناء پر۔(ت)
امام زیلعی سے گزرا:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)
(۱۲)اس کارقربت مثل مسجد یا مدرسہ دینیہ یا تعلیم یتیماں میں صرف کرنے کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ خود اس نیت سے بیچ کر اس کارخیر میں صرف کرنے والوں کو دے دیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔وتقدم فرق الامام فخر الدین بین ما اذا باع بالدارھم لینفقہا علی نفسہ وعیالہ وامااذا باعہا لاجل الفقراء۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کہ"عمل صرف نیت سے اور ہر ایك کو اس کی نیت کے مطابق ملااور امام فخر الدین رازی رحمہ اﷲ تعالی کا بیانکردہ گزرا کہ اپنے اور اپنی عیال کے لئے دراہم کے عوض فروخت میں فقراء کے لئے فروخت میں فرق ہے۔(ت)
جب یہ احکام معلوم ہولئےبعونہ تعالی سوال کی چاروں صورتوں کا حکم واضح ہوگیا۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الواقعات الحسامیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶€۰
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی العتابیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۰€
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
تبیین الحقائق کتا ب الاضحیۃ المطعبۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
#7523 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
(۱)مدرسہ دنیوی میں نہ دیں کہ وہ قربت نہیںاور مدرسان مدرسہ دینی اگر اس کے نوکر ہیں جن کی تنخواہ اس پر واجب ہوتی ہے اس میں نہیں دے سکتا کہ یہ اس پر آتاہے ورنہ مہتمم مدرسہ کو دے دے وہ تنخواہ میں دےیا جس کار دینی مدرسہ دینیہ میں چاہے صرف کرے۔
(۲)مدرسہ دینیہ کی عمارت میں خرچ کرسکتاہے کہ قربت ہے۔
(۳)لا الہ الا اﷲ سود حرام قطعی ہے۔صحیح حدیث میں ہےکہ سودکھاناسترباراپنی ماں سے زناکرنےسےبدترہے ۔
ہاں جو عمارت کارخیر مثل تعلیم القرآن علم دین کے لئے وقف کریں کہ اس کے کرایہ سے وہ کار خیر جاری ہواس کی تعمیر میں صرف کرسکتاہے۔
(۴)اسے کتابوں سے بدل کر طلبہ کو دے سکتے ہیں اگر چہ وہ طلبہ غنی ہوں کہ کتاب باقی رہ کر کام آتی ہے۔اور ایسی چیز کے عوض اپنے لئے بیچنا جائزہے۔طلبہ کے لئے بدرجہ اولی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۰: مرسلہ حافظ محمود حسین صاحب مدرس تلمیذ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ہفتم ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت پوست قربانی کو تنخواہ میں دینا جائز ہے یانہیں بینوا توجرا
الجواب:
جو مدرسہ تعلیم علوم دینیہ کے لئے چندہ سے مقرر ہوا اس میں قربانی کی کھال خواہ بیچ کر اس کی قیمت بھیجنا کہ مصارف مدرسہ مثل تنخواہ مدرسین وخوراك طلباء وغیرہ میں صرف کی جائے۔مذہب صحیح پر جائز ہے کہ ایسے مدارس اعانت قربت ہے۔اور قربات میں صرف کرنے کے لئے گوشت پوست قربانی بیچنے کو مطلقا اجازت ہے۔
فی الہندیۃ لایبیعہ بالدارھم لینفق الدراھم علی نفسہ وعیالہ واللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح ولو باعہا بالدراھم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق کذا فی التبیین ہندیہ میں ہے کہ اپنے اور اپنے عیال پر دراہم خرچ کرنے کے لئے فروخت نہ کرے اور گوشت بمنزلہ کھال ہے صحیح قول میں اور دراہم فقیر کو صدقہ کرنے کی غرض سے فروخت کیا تو جائز ہے کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے یوں تبیین
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۵۵۲۰ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۳۹۳€
#7524 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
وھکذا فی الہدایۃ والکافی اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہدایہ اور کافی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۱: از بنارس محلہ کنڈی گڈ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفا خانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۲۵ محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مال زکوۃ چرم قربانی سے اعانت مدرسہ کی کی جائے یا نہیں۔مصارف مدرسہ میں تنخواہ مدرسین کے لئے اور وہ اپنی اجرت لیتاہے۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ اجرت میں مال زکوۃ یا چرم قربانی دینا جائز نہیں
الجواب:
زکوۃ میں تملیك بلاعوض بہ نیت زکوۃ درکار ہے۔بے اس کے اور وجوہ تقرب مثل مسجد ومدرسہ وتکفین موتی وغیرہا میں اس کا صرف کافی نہیںہاں مثلا جو طلبہ علم مصرف ہوںانھیں نقد یا کپڑے یا کتابیں بروجہ مذکور دے کر اعانت مدرسہ ممکن کما یظہر من الدر وغیرہ(جیسا کہ دروغیرہ سے ظاہر ہورہا ہے۔ت)چرم قربانی میں تصدق بمعنی مسطور اصلا ضرور نہیں۔
منسك متوسط میں ہے:لایجب التصدق بہ (اس کا صدقہ نہیں۔ت)مسلك متقسط میں ہے:لابکلہ ولاببعضہ (نہ کل نہ بعض۔)مطلق قرب رو اہے حدیث میں ہے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
واتئجروا روہ ابوداؤد عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ثواب میں خرچ کرواس کو ابوداؤد نے نبشہ ہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
امام زیلعی نے شرح کنز میں فرمایا:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت) ظاہر ہے کہ مدارس دینیہ بھی وجوہ قربت وائتجار سے ہیں اور وہ تنخواہ حق مدرس میں اجرت ہونا حق
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۰۱€
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایہ دارالکتب العربی بیروت ∞ص۳۱۲€
المسلك المتقوط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب الہدایہ دارالکتب العربی بیروت ∞ص۳۱۲€
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶/ ۹€
#7525 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
معطی الاعانۃ علم الدین میں قربت ہونے کی منافی نہیںجیسے سقائے سقایہ وموذن مسجد کی اجرت
وقد فصلناالقول فیہا فتاونا فی المسئلۃ رسالۃ کافلۃ کافیۃ سمیتھا"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ" واﷲ تعالی اعلم۔ اس کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ کافلہ کافیہ جس کا نام ہم نے"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ" رکھا میں بیان کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۲: از طالب پور ضلع مرشد آباد کوٹھی راجہ صاحب مرسلہ محمد جان صاحب محمد ۶/ رمضان مبارك
چہ مے فرمایند علمائے شریعت غرا اندریں مسئلہ کہ اگر چرم اضاحی بمتولیاں مدارس دینیہ تملیکا دادہ شود وایشاں بصواہدید خود یا باشارۃ استشارہ دہندگاں چرم او را در ضروریات مدرسہ صرف نمایند سمتے از جواز وارد یانہ بینوا توجروا روشن شریعت کے علماء کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں اگر چرم قربانی مدارس کے متولیوں کو تملیك کردی جائیں اور وہ اپنی صوابدیدہ پر یا دینے والوں کے مشورہ سے مدرسہ کی ضروریات میں صرف کریں تو جواز کی صورت ہے یانہیں بیان کرو اجر پاؤ۔(ت)
الجواب:
در جواز بعد اراقۃ دم واقامت قربت صورت مذکورہ جائے سخن نیستمتولیان اگر فقراء باشند ایں تملیك تصدق باشد ورنہ ہدیہوہیچك از ینہا در اجزائے اضحیہ ممنوع نیستفی النقایہ وشرحہا للبرجندی یہب من یشاء علی سبیل التملیك فقیرا اوغنیا آنچہ کہ ممنوع ومکروہ است بیع بروجہ تمول ست لحدیث من باع اضحیتہ فلا قربانی کے خون بہادینے اور قربت قائم کردینے کے بعد مذکورہ صورت کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے۔متولی حضرات اگر خود فقیرہوں تو ان پر صدقہ ہوگا ورنہ ہدیہ ہوگا ان میں سے کوئی بھی قربانی کے اجزاء میں ممنوع نہیں ہے۔ نقایہ اور اس کی شرح برجندی میں ہے جس کو چاہے دے کر مالك بنا کر فقیر کو خواہ غنی کو اور منع صرف تمول کے طور پر فروخت کرنا ہے اس حدیث کی بناء پر کہ جس نے قربانی کی کھال فروخت کی اس کی
حوالہ / References شرح النقایہ للبرجندی کتاب الاضحیۃ ∞منشی نولکشور لکھنؤ ۳ /۱۹۹€
#7526 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
اضحیۃ لہ رواہ الحاکم فی المستدرك و البیہقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وپیدا ست کہ ہدیہ از بیع چیزے بناشد۔بالجملہ ایں مبنی خود درلحم اضحیہ رواست۔وجلد بالاتر از ونیستبالاتفاقوفی الہدایۃ والکافی والتبیین وغیرھا اللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح ۔باز آں گاہ کہ جلد بتملیك مضحی درملك متولی آمدحکم اضحیہ منتہی شدمتولیاں راہر گونہ تصرف درو رواباشد لحصول المطلق وانتہاء الحاجزوذلك قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی اللحم المتصدق بہ علی بریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ھولہا صدقۃ ولنا ھدیۃ رواہ البخاری عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہاازیں جاست کہ اگر کسے لحم اضحیہ خودش بہ نیت زکوۃ بر فقیر تصدق کند زکوۃ ادانشودواگر بغنی ہدیہ داد او از زکوۃ خویش بدست فقیرے نہاد زکوتش ادا شودزیرا کہ حکم اضحیہ بآں ہدیہ بپایاں رسیدحالاایں چیزے قربانی نہیںاس کو حاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اور انھوں نے بنی کریم صلی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ ہدیہ فروخت کی قسم نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ قربانی کے گوشت میں بھی یہ معنی موجود ہے جبکہ کھال اس سے اہم نہیں ہے بالاتفاقاور ہدایہکافی اور تبیین وغیرہا میں ہےکہ گوشت کھال کے حکم میں ہے صحیح قول میںپھر جب کھال قربانی دینے والے کی طر ف سے متولی کی ملك کردی گئی تو قربانی کا حکم تام ہوگیامتولی حضرات کو اب ہر طرح اس میں تصرف کا اختیار ہے۔ممانعت ہونے اور اجازت پائے جانے کی وجہ سے اور یہ اس طرح کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد اس گوشت کے متعلق جو حضرت بریرہ رضی اﷲ تعالی عنہا کو صدقہ ملا کہ وہ اس پر صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے اس حدیث کو بخاری نے حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے رویت کیاہےاسی سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ اگر قربانی کا گوشت فقیر کو زکوۃ میں دے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور اگر غنی کو ہدیہ کے طورپر دےا اور اس نے وہ زکوۃ میں دے دیاتو زکوۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ غنی کو ہدیہ دینے سے قربانی کاحکم تام ہوگیا اور اب غنی کے لئے یہ مملوکہ
حوالہ / References المستدرك کتاب التفسیر دارالفکر بیروت ∞۲ /۳۹۰€
الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸€
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علی موالی ازواج النبی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۲€
#7527 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ست ازآن آں غنی دررنگ سائر مملوکات اوکہ بانکہ ہر چہ خواہد کندفی ردالمحتار اذا دفع الحم الی فقیر بنیۃ الزکوۃ لا یحسب عنہا فی ظاھر الروایۃ لکن اذ ادفع لغنی ثم دفعہ الیہ بینتھا یحسب پس اگر ایشاں درغیر صور قرب استہلاك کردندے۔ہیچ مانع نبودے کہ آنکہ تمول کرد مضحی نبودوآنکہ مضحی بود تمول نہ کردکما اذا تصدق بہ علی فقیر فباعہ بدراھم لنفقتہایں جاکہ صرف ہم بامور قر بت ستوقربت خود یکے از مصارف اضحیہ است لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وائتجروا رواہ ابو داؤد عن نبشۃ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ومن فقیر در فتاوی خودم بقدر کفایت ودر رسالہ "الضافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ" (۱۳۰۷ھ) بمالا مزید علیہ تحقیق نمودہ کہ آگر مضحی بخودی خود بے تحلل تملیك بدیگرے جلد اضاحی رابمہچو امور قربت صرف نماید محذورے نیایدلاجرم ایں صورت اولی بجواز ست کما لا یخفی علی اولی النہیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ قرار پائیردالمحتار میں ہے جب قربانی کا گوشت فقیر کوزکوۃ کی نیت سے دیا تو ظاہر الروایۃ میں زکوۃ میں شمار نہ ہوگالیکن جب غنی کو دیا اور غنی نے فقیر کو اپنی زکوۃ میں دیا تو غنی کی زکوۃ ادا ہوگی۔اگر قربانی کی کھال کو قربت کے علاوہ بھی صرف کریں تو کوئی مانع نہیں ہےکیونکہ قربانی والا تمول نہیں بنا تا اور تمول والے نے قربانی نہ بنائی مثلا جب فقیر پر صدقہ کیا اور فقیر نے دراہم کے عوض فروخت کردی تو یہاں کھال قربت میں صرف ہوئی جبکہ قربت خود احکام قربانی سے ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی بناء پر کہ"ثواب کماؤ"اس کوابوداؤد نے حضرت نبشہ الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ا ور اس فقیر نے اپنے فتاوی میں بقدر کفایت اور رسالہ"الصافیۃ الموحیہ لحکم جلود الاضحیۃ" میں انتہائی بیان کردیاہے کہ اگر قربانی والا خود بلا واسطہ تملیك دوسرے کو خود صرف کرلے تو کوئی حرج نہیں تویہ صورت بطریق اولی جائز ہوگیجیسا کہ صاحب فہم پر مخفی نہیں ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۳: از سہسرام ضلع مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳/ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
قیمت کھال قربانی جو پہلے سے بیوہ وبیکسیتیم وبے بس۔مساکین سکنائے جار واقربائے دیار پر تقسیم ہوتیومساجد کے فرش جانمازروشنیڈولرسیوجھاڑو وغیرہ کے مصارف میں صرف
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت∞ ۵ /۲۰۹€
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7528 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
ہوا کرتی تھی جس کو اہالیان مدرسہ ناجائز مشتہر کراکے اب مسلم کھال یا کل قیمت باغوائے اہلیان مدرسہ باغوائے بیان واعظین داخل مدرسہ جاتی ہے۔اور مسکینان محروم رہتے ہیںستم ہے یانہیں اور اہلیان ومہتمان مدرسہ کو اس رقم کا لینا درست ہے یانہیں
الجواب:
چرم قربانی کے بارے میں یہ ہے کہ اسے بغیر بیع اپنے کسی صرف میں لائے تو لاسکتاہے۔مثلا کتابوں کی جلدیں بنائے یا مشک ڈول بنوائےاور ایسے کاموں کے لئے کسی غنی کو ہدیہ بھی دے سکتاہے۔اور بہتر یہ ہے کہ اسے صارف خیر میں کرے۔مثلا یتامی وبیوگاں ومساکین کو دیں یا مساجد کے مصارف مستحبہ میں صرف کرنا یا سنی مدارس دینیہ میں امداد علم دین کے لئے دینا یہ سب صورتیں جائز ہیں لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا وادخروا وائتجروا (حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی بناء پر کہ کھاؤذخیرہ بناؤ اور ثواب کماؤ۔ت)ان میں سے جن میں زیادہ مناسب اورحاجت وقت کے ملائم جانے صرف کرےکسی صورت کو ظلم نہیں کہہ سکتےہاں یتیموں ا وربیواؤں اورمسکینوں کی دینا جو ناجائز بتائے وہ ظلم کرتاہے کہ یہ اس کا شریعت مطہرہ پر افتراء ہے۔یونہی اگر کچھ لوگ اپنے یہاں کی کھالیں حاجتمند یتیموںبیواؤںمسکینوں کو دینا چاہیں کہ ان کی صورت حاجت روائی یہی ہواسے کوئی واعظ یا مدرسہ والاروك کر مدرسہ کے لئے لے لے تو یہ اس کا ظلم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۴: ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك غریب شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہوئیوہ اس قابل نہیں ہے کہ عقیقہ کرے ساتھ قربانی کےمگر بسبب سنت ادا ہونے کے اس کو کسی شخص نے کچھ عطیہ کیا تھا اس کو فروخت کرکے اس نے قربانی کیاور اس کے پاس کسی طرح کا مقدور نہیں ہے۔اور اس قربانی کی کال کے دام اپنے خرچ میں لانا جائز ہے یانا جائز بینوا توجروا
الجواب:
عقیقہ کے احکام مثل اضحیہ ہیں۔ا س سے بھی مثل اضحیہ تقرب الی اﷲ عزوجل مقصود ہوتاہے اور جو چیز تقرب کے لئے رکھی گئی وہ تمول یعنی اپنا مال بنانے سے محفوظ رکھنا چاہئے۔کھال بھی جانور کا جز ہے۔تو داموں کو بیچ کر اپنے صرف میں لایاجیسا کہ اضحیہ میں ناجائز ہے۔یہاں بھی ضرور نامناسب ہونا چاہئے۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۳€
#7529 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کہ رجوع عن التقریب نہ ہوہاں اس سے کتاب کی جلدیا مشکڈول بناکر اسے اپنے صرف میں لاسکتا ہے یا اسے کسی محتاج کو دے دےپھر اس سے خفیف قیمت کو اس کی مرضی سےخریدکر دوسرے کے ہاتھ پوری قیمت کو بیچے ھذا ماظہرلی(یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵:از تلہرمحلہ ہندو پٹی ضلع شہاجہانپور مرسلہ مولانا مولوی ضیاء الدین صاحب مدظلہ ۲۵ /رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت جلد قربانی یا عقیقہ براہ است مسجد یا مدرسہ دینیہ میں صرف کی جاسکتی ہے۔یا تملیك مسکین کی ضرورت واقع ہوگیبینوا بالدلیل وتوجروا بالاجرا لجزیل(دلیل کے ساتھ بیان کرو اور کثیر اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاں جلد براہ راست صرف کی جاسکتی ہے۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وائتجروا . رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اجر وثواب حاصل کرو۔(ت)
اور اگر مسجد ومدرسہ میں دینے کے لئے داموں کو فروخت کی تو دام بھی براہ راست صرف کئے جاسکتے ہیں تبیین الحقائق میں ہے:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)ان صورتوں میں تملیك مسکین ضروری جاننا شرع مطہر میں زیادت کرنا ہے جس پر کوئی دلیل نہیںتو اپنی طرف سے ایجاد ایجاب ہوا" ما انزل اللہ بہا من سلطن " (اﷲ تعالی نے اس پر کوئی دلیل نہ فرمائی۔ت)ہاں اپنے خرچ میں لانے کے لئے داموں کو بیچے تو اس کی سبیل تصدق ہےکہ ملك خبیث ہے براہ راست مدرسہ ومسجد میں نہ دےفان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب (بیشك اﷲ تعالی طیب ہے اور صرف طیب کوم قبول فرماتاہے۔ت) اس سوال کا جواب پہلے فتوی میں نظر نہ آنا عجیب نظر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳€۳
تبیین الحقائق کتا ب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۹€
القرآن الکریم ∞۵۳ /۲۳€
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۳۲۸€
#7530 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مسئلہ ۲۸۶: از کانپور مرسلہ مولوی سلیمان صاحب
قربانی کے چمڑا کا روپیہ مسکینوں کو نہ دے بلکہ اس روپیہ سے فوائد عوام کے واسطے کتب خانہ میں قرآن شریف وکتب عربیہ و فارسیہ وانگریزی وبنگلہ وغیرہ خرید کرکے رکھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے جبکہ وہ دینی کتابیں ہوں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از بارہ بنکی مسئولہ ریاض حسین ناظم انجمن نور الاسلام ۱۶صفر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قربانی کی کھال کی قیمت ایك ایسی انجمن میں جس کے اغراض ومقاصد دستور العمل منسبلکہ سے واضح رائے عالی ہونگےصرف ہوسکتی ہے
الجواب:
مقاصد کے عام الفاظ ہمیشہ دل خوش کن ہوتے ہیںاعتبار واقع کاہے۔اگر یہ انجمن حقیقۃ اہلسنت کی ہے۔جن کے عقائد وہابیت ودیوبندیت وغیرہما ضلالت سے پاك ہیںاور بچوں کو اسی مذہب حق کے مطابق تعلیم ہوتی ہے۔تو بیشك چرم قربانی اس میں صرف کرنے کو دیا جاسکتاہے۔اور اس کے مصارف کے لئے بیچ کر قیمت بھی اس میں دی جاسکتی ہے۔تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸: از پٹنہ سٹی اشرف منزل مرسلہ سید محمد فرید الدین صاحب ۲۰ / ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے شہر پٹنہ میں ایك انجمن جس کا نام حفظ المساجد ہے قائم ہوئی ہے۔اس کا مقصد محض مرمت ومساجد وتعمیر منہدم مسجد وں کی ہے۔اس انجمن میں تمامی امراء وغرباء علی قدر مراتب دامے درمے امداد کرتے ہیںاب یہ انجمن چاہتی ہے کہ چرم قربانی عیدالاضحی بھی اس کی مدد میں شامل کیا جائے اگرچرم قربانی عید الاضحی یا قیمت چرم اس انجمن میں دیا جائے تو جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وائتجروا (حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اجر وثواب حاصل کرو۔(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۹€
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
#7531 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
زیلعی وعالمگیری میں ہے:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کی طرح قربت ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹: از قصبہ کٹرہ تحصیل تلہر ضلع شاہجہانپور محلہ مڑھی مرسلہ عبدالغفار خاں ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں نے اگلے سال گائے قربانی کی تھیاس کی کھال فروخت کرکے اور وہ روپیہ میں نے خداکی راہ میں اس طرح پر خیرات کیا کہ کھانا پکایا اور بھوکوں کو تقسیم کیااورمجھ کو محرم میں چھٹی ملیاور ادھر ادھر نہیں ملیتو مجھ سے دو چار لوگوں نے کہا یہ بیکار خرچ کیااس کا عذاب تا قیامت تجھ کو ہوگااس واسطے کہ تم نے محرم میں اماموں کو خیرات دیتم کو چاہئے کہ مسجد یا اسلامیہ مدرسہ میں فرش دئے ہوتے۔یا یہاں ایك فقیر صاحب ایك پیر کا عرس کرتے ہیں ان کو دیاہوتا۔تو تم کو تاقیامت ثواب ہوتاورنہ تم عذاب میں داخل ہوگئےیا حضرات کو بھیجوا دئے ہوتے تو ثواب ہوتا۔
جناب !یہاں اسلامیہ مدرسہ میں سرکاری انتظام ہے۔اور مسجد میں بھی بہت فر ش تھے اس وجہ سے بھوکوں کو کھلادیا میں نے اچھا سمجھ کراور آپ کا حال نہیں معلوم تھا کہ جناب کو کٹرہ والے روپیہ روانہ کردیا کرتے ہیںخیر مجھ سے خطا ہوئیاب جو حضرت ارشاد فرمائیں وہ فدیہ کرے یا تو اگلے سال کا حرجہ دے یا اس سال کا بھی ویسے ہی خرچ کردےمجھ کو محرم میں چھٹی ہوگیبینوا توجروا۔(فدویہ مدرسہ نسواں اسلامیہ کٹرہ)
الجواب:
اپ نے بہت اچھا کیا کہ مساکین کو کھانا کھلایایہ بہت بڑے ثواب کی بات ہے نہ کہ عذاب کی ان لوگوں کاکہنا محض غلط ہے۔ خیرات مولی تعالی کے نام پر ہوتی ہے۔اور اس کا ثواب اماموں کی ارواح پاك کو پہنچا سکتے ہیںاور وہ ان پر تصدق نہیں بلکہ ان کی نذر ہے۔یہ فقیر بفضلہ تعالی غنی ہے اموال خیرات نہیں لے سکتاہاں یہ دوسری بات ہے کہ احباب اچھے مصارف میں صرف کرنے کے لئے زکوۃ وصدقات کے اموال بھی بھیجتے ہیں کہ اپنی رائے سے مصارف خیر میں صرف کرو۔اور وہ بفضلہ تعالی صرف کردئے جاتے ہیںزکوۃ اس کی جگہ اور دیگر صدقات ان کی جگہیوں یہ فقیر بھی ان احباب کا شریك ثواب ہو جاتاہےکہ صدقہ اگر سو ہاتھوں پر نکلے گا سب کو ثواب ملے گاایك روٹی کا ٹکڑا کہ زید کے مال سے پکااور زیدکی بی بی نے خادمہ کے ہاتھ دروازہ کے سائل کو بھیجاتو زید جس کا مال ہے۔اور بی بی جس نے بھیجا اور خادمہ جس نے جاکر فقیرکو دیا تینوں یکساں شریك ثواب ہے۔اور مولی تعالی کا فضل
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۶ /۹،€فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاضحیۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۰۱€
#7532 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
بہت بڑا ہے۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سلطان روم کے ساتھ اور غیر قوم ملکی جو لڑ رہا ہے۔یہ اظہر من الشمس ہے اور اس س لڑائی کے خرچہ کے بابت اس دیا رکے بڑے بڑے آدمی مل کر مجلس کررہاہے۔کہ اس سال قربانی کاچمڑا ك قیمت جتنا ہوگا وہ سب وہاں بھیجنا ہوگااور وہاں بھیجنے سے ہم لوگوں کا ثواب بہت ہوگا اور جہاد کا رتبہ ملے گا اور ہم لوگ جاکر سلطان کی لشکر کے ساتھ ہمراہونے کا کچھ تو سرانجام نہیں رکھتا ہوں یہ ہم لوگوں کے واسطے بس ہےبعد اس کے کہئے کہ اس دیار فقراء وغرباء لوگ یہ کہہ رہاہے کہ اس برس سلطان کی جہت سے ہم لوگ سب کے سب شاید مارا جاوے گا یہ سب آہ وزاری انھوں کا سن کے کوئی بیچارہ تھوڑا ہی کچھ علم رکھتا تھاوہ اپنی زبان سے یہ کلام باہر کیا کہ یہ جو بڑے آدمی اور بعض دو عالمسلطان کی خیرا خواہی کے واسطے جو کمیٹی کیاہے شاید یہ خیر خواہی نہ ہو گابلکہ یہ بدخواہی ہوگا کیونکہ ہر سال جویہاں کا فقراء وغرباء ومساکین لوگ یہ سب چمڑا کا قیمت اپنے دوزن وفرزند لے کر خوشی سے اوقات بسر کرینگےاس سال وہ لوگ غم میں دو۲ اوقات بسر کرتے ہیںاور یہ سب روپیہ اچھانہیں ہے کیونکہ یہ فقیروں کا حق ہے۔اور مجھ کو خوف ہے کہ میرے سلطان المعظم کو کچھ نقصان آجائے اب بڑے دو آدمیوں کو اور بڑے دو عالموں کو جنھوں نے یہ رواج کیاہے۔یہ سزاوار ہے۔کہ گاؤں بگاؤں مجلس کرکے ہر ایك مسلمان سے دو عــــــہ طاقت کے مطابق کچھ چندہ وغیرہ مقرر کرکے سب کو ملا کر وہاں بھیجنے سے اولی ہوگااور وہ مسکین لوگ اپنا حصہ پاکر اگر خوشی سے دیوے تو بھی بہترہوگا۔جیسے کہ اور جگہ کے فقیر لوگ دے رہا ہے۔اور یہ بھی بہتر ہوگا کہ اس موسم میں ہم لوگوں کواپنے دو حصہ کے مطابق فقیروں کو اور غریبوں کو کچھ ﷲ دیویںاور بواسطہ اس کے میرے سلطان مدظلہ العظیم کے لئے خدا عزوجل سے مدد چاہوں یہ بات ان بیچارے کا کوئی بڑے آدمی سنتے ہے۔وہ بیچارے کو لعن طعن کررہا ہے۔احقر حضور سے یہ امید کرتاہے کہ کون حق پر ہے اوراگر وہ آدمی ناحق پر ہے تو اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
قربانی کا چمڑا کچھ خاص حق فقراء نہیںہر کار ثواب میں صرف ہوسکتاہے۔حدیث میں فرمایا:کلوا وادخروا وائتجروا (کھاؤذخیرہ کرو اور ثواب کماؤ۔ت)اور واقعی جہاں تك معلوم ہے۔
عــــــہ: سوال میں جگہ جگہ دو کا لفظ سائل کا تکیہ کلام ہے۔۱۲ عبدالمنان۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
#7533 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
مجاہدین کو اس وقت امداد کی بہت ضرورت ہے۔اور اس دین کی بڑی منفعت ہے ان شاء اﷲ تعالی اور اسی جگہ حکم ہے کہ وہی کام اختیار کریں جس کی حاجت شدیدہواور شك نہیں کہ وہاں کی حاجت شدید ہے۔فقراء کی خبر گیری جہاں تك شرعا ضروری ہے اہل مال پر لازم ہے وہ اگرنہ کریں ان کی بے سعادتی ہے مگر یہ کھالیں جن میں شرع نے فقراء کا کوئی حق معین نہ فرمایایہ اگر نہ دی جائیں دوسرے کاراہم میں صرف کی جائیں تو اس پر ان کی ناراضی کی کوئی وجہ نہیںنہ اس پر ان کا رزق موقوف ہے۔نہ عام طور پر یہ کھالیں ان کو دی جاتی تھیں بلکہ مدارس کو دی جاتی تھیں اور شریعت میں ضرر عام کالحاظ ضرر خاص سے زیادہ اہم ہےیہاں تك کہ ضرر عام کے دفع کے لئے ضرر خاص کا تحمل کیا جاتاہے کما فی الاشباہ والنظائر وغیرہ (جیسا کہا اشباہ والنظائر وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۱: مسئولہ عنایت بیگ منیجر کارخانہ گلاب کمپنیسکندرہ راؤضلع علی گڑھ بروز شنبہ ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ناصران شرع متین کہ ہمارے قصبہ سکندریہ راؤ میں مدرسہ اسلامیہ ہے۔اس میں قرآن شریف اردوانگریزی پڑھائی جاتی ہے۔ا س کی امداد کے لئے چرم قربانی دینا موجب ثواب ہے یانہیںبعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں انگریزی کی تعلیم ہے اس لئے اس کی امداد ٹھیك نہیں ہے۔
الجواب:
مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں کلوا وادخروا وائتجروا کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور ثواب کا کام کرو۔ انگریزی پڑھنا بیشك کوئی ثواب کی نہیںاگریہ احتیاط ہوسکے کہ اس کے دام صرف قرآن مجید وعلم دین کی تعلیم میں صرف کئے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۲: از شاہجہانپور تاجر خیل افضل المدارس مرسلہ مولوی محمد الدین صاحب ۷/ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
تاج العلماء افضل الفضلاء حضرت! یہ استفتاء نہایت ضروری ہے مخالفین کا مقابلہ ہے۔بہت جلد جواب سے مطلع فرمائے گا۔
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ االقرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲€۱
سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
#7534 · ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ ۱۳۱۴ھ (بھیڑ کی قربانی کے بارے میں راہنمائی کرنیوالا)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںبعض جگہ دستور ہے چند گائے جمع کرلی گئیںاور ان میں حصے مقرر کردئےاور مالك حصص سے کہہ دیا کہ یہ گائے تمھاری طرف سے کی جاتی ہے۔اس شرط پرکہ یہ چرم فلاں مدرسہ میں دینا ہوگا فلاں کام میں صرف کرنا ہوگا اس قسم کے شرائط عندالشرع جائز ہیں یا ناجائز بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ کوئی شخص ان میں کسی معین گائے کا ایك حصہ یا چند حصص خریدے اور ان لوگوں کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دے اور یہ شرط ٹھہرے کہ اس کی کھال مدرسہ دینیہ یا فلاں نیك کام میں صرف کرنا ہوگی تویہ جائز ہے۔اس میں حرج نہیں۔
وھوان کان بیعا بشرط فلیس شرطا فیہ نفع احد المتعاقدیناوالمعقود علیہ الصالح للاستحقاق۔ واﷲ تعالی اعلم۔ یہ اگر چہ بیع بالشرط ہے لیکن س شرط میں عاقدین اور معقود علیہ میں سے کسی کا نفع نہیں ہے معقود علیہ نفع کے استحقاق کا اہل نہیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
#7535 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ
(چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)

مسئلہ ۲۹۳:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ما قولکم دام فضلکم فیمن باع جلد اضحیتہ لیصرف ثمنہ فی وجوہ القرب کاعانۃ المدارس الاسلامیۃ وشراء حصر المساجد وزیت قنادیلہ وغیر ذلك من القربات التی لا تملیك فیہا۔ فہل ہو جائز والصرف الی تلك الوجوہ سائغ ام لا۔ بل یکون صدقۃ واجبۃ لایصرف الا فی مصارفہا افیدونا رحمکم اﷲ تعالی۔
الجواب:الحمد ﷲ وبہ نستعینوالصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ما تقرب خلاصۃ"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"
مسئلہ:علمائے دین ا س مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ قربانی کی کھال کو راہ ثواب میں خرچ کرنے کے لئے بیچنا جیسے مدارس اسلامیہ کی اعانت مسجد کے لئے چٹائیروشنی وغیرہ کارثواب جس میں کسی خاص فقیر کو مالك نہیں بناتےجائز یا ناجائز اور ایسا پیسہ ان مصارف میں صرف ہوسکتاہے یا وہ صدقہ واجبہ ہے اور اس کافقیر کو مالك بنانا ضروری ہے۔بینوا توجروا
جواب:الله تعالی کے لئے تعریف ہے اور ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں درود وسلام سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی آل واصحاب پر
#7536 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
الی اﷲ تعالی بالقرابیننعم اذا باعہ بالدراہم لالمال یتمول او ربح یتحصلبل لیصرفہ الی وجوہ القربومرضات الربجازلہ ذالك وان لم یوجد تملیك ھنالکفان المطلوب فی الاضاحی مطلق التقرب دون خصوص التملیك من الفقیر ولذا جازت الاباحۃ ولو لغنی۔
والمعنی المانع فی البیع انما ہو التصرف علی قصد التمول کما نص علیہ الائمۃ الاعلامقال فی الہدایۃ لایشتری بہ مالا ینتفع بہ الاباستھلاکہ کالخل والابازیر اعتبارا بالبیع بالدراہم والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول اھ۔
وفی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر لا یبیعہ بالدراہم لینفق الدراہم علی نفسہ وعیالہ والمعنی انہ لا یتصرف علی قصد التمول اھ ومثلہ فی البنایۃ شرح الہدایۃ للعلامۃ البدر وغیرہ من اسفار العلماء الغر
جب تك لوگ خدا کے لئے قربانی کرتے رہیںقربانی کی کھال کو تمول کی غرض سے نہ بیچاہو بلکہ کار ثواب میں صرف کرنے کی غرض سے بیچا ہوتو یہ بھی جائزہے اور ان مصارف میں اس کا صرف کرنا بھی جائز ہےاگر چہ وہاں فقیر کو مالك نہ بنایا گیا ہوکیونکہ قربانی کا مقصد مطلق کا ر ثواب ہی ہے۔ فقیر کو مالك بنانا نہیںاسی لئے قربانی کا گوشت وغیرہ مالدارکو دینا بھی جائز ہے۔
اصل میں قربانی کی کھال کی بیع اس وقت منع ہے جب اس کو اپنی ذات کے تمول کے لئے بیچا ہواسی کی علماء اعلام کے کلام میں تصریح ہے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
مسئلہ کے جزئیات:"قربانی کی کھال سے ایسی چیز نہ خریدے جس کو فنا کئے بغیر اس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکے جیسے سرکہ یاغلہ سے بدلنا(کہ ان کو ختم کرکے ہی ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے)دراہم کے ساتھ بیع کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی یہی ہے کہ ا س نے کارثواب کی چیز کو اپنی ذات کے نفع اور مالداری کے لئے برتا"۔
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:"روپیہ کے بدلے بیچنا اس وقت منع ہے کہی وہ روپیہ اپنے اور بال بچوں پرصرف کرکے کہ یہی"تصرف علی
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۲۱€
#7537 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
وظاھر ان البیع للقرب لیس من التمول فی شیئ فلا وجہ لمنعہ بل ہو قربۃ لکونہ فعل لا جل قربۃ فیکون اقامۃ للمطلوب الشرعی لادخولا فی الوجہ المنھی الا تری الی ماقال الامام العلامۃ فخر الدین الزیلعی فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق لو باعہا بالدراہم لیتصدق بہا جاز لانہ قربۃ کالتصدق اھ فانما علل الجواز بکونہ قربۃومانحن فیہ ایضا کذلکفیکون مثلہ فی حکم الجواز بکونہ قربۃومانحن فیہ ایضا کذلکفیکون مثلہ فی حکم الجوازویالیت شعری من این یحکم بوجوب التصدق مع انہ لم یکن معینا فی القربان راسا ولا حدث اخر ما یوجبہ عینا بخلاف ما اذا باع بالدراہم لینفقہا علی نفسہ وعیالہ حیث یجب التصدق لحدوث التمول المنہی عنہ۔
اقول:والسرفی ذلك مایستفاد من کلمات العلماء الکرام ان اصل القربۃ فی الاضحیۃ انما تقوم باراقۃ الدم لوجہ اﷲ وجہ المتول"ہے"یہی بات بنایہ وغیرہ کتب کبارمیں ہے۔تو ثابت ہو اکہ کھال کی وہی بیع منع ہے جو اپنی ذات کے نفع کے لئے دراہم یا برتنے سے ختم ہوجانے والی چیز کے بدلے میں ہو اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ کار ثواب کے لئے بیچنے کا ا س سے کچھ علاقہ نہیںتوایسی بیع ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہے بلکہ یہ تو اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے جس کے لئے قربانی ہوئیتو اس کو بدرجہ اولی جائز ہونا چاہئے۔
علامہ فخر الدین زیلعی اپنی شرح کنز میں فرماتے ہیں:"اگر کھال کو صدقہ کرنے کی نیت سے بیچا تو جائز ہے۔کیونکہ یہ کار ثواب ہے۔جیسے گوشت ہی صدقہ کردیتا۔"امام زیلعی نے اپنے کلام میں بیع الدراہم کے جواز کی وجہ مطلقا کارثواب بتایابیع مسئولہ بھی کار ثواب کے لئے ہی ہےپھر اس کے نا جائز ہونے کی کیا وجہ ہے۔یہ بلاشبہ جائز ہے۔ایسے پیسوں کا صدقہ واجب قرار دینا بالکل بے اصل بات ہے۔جب خود قربانی کے گوشت اور کھال کا صدقہ کرنا واجب نہیںتو اس کے دام کا صدقہ کس طرح واجب ہوگاجبکہ صدقہ کو واجب کرنے والی کوئی نئی چیز پیدا بھی نہ ہوئی۔ہاں وہ بیع بالدراہم جو اپنی ذات کے
حوالہ / References تبیین الحقائق کتا ب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بالاق ∞مصر ۶/ ۹€
#7538 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
تعالی فمالم یرق لایجوز الانتفاع بشیئ منہ حتی الصوف واللبن وغیر ذلك لانہ نوی اقامۃ القربۃ بجمیع اجزائہا فاذا اقیمت وحصل المقصود ساغ الانتفاع علی جمیع الوجوہ۔بیدانہ لما کان شیئا تقرب بہ الی المولی سبحنہ وتعالیوالتقرب والتمول ضدان متباینان لایلتئمان فقد خرج بذلك عن جہۃ التمول بحیث لاعود الیہ ابدا فاذاقصد بشیئ منہ التمول فقد خالف واورث ذلك خبثا فی البدل وایما مال حصل بوجہ خبیث فسبیلہ التصدق اما القربات فلا تنا فی التقرب بل تحققہ ولا تورث خبثا بل تزھقہ فمن این تحرم وتجب تصدقہقال الامام العینی فی البنایۃ المعنی فی اشتراء مالاینتفع بہ الابعد استہلاك انہ تصرف علی قصد التمول وہو قد خرج عن جہۃ التمول فاذا تمولتہ بالبیع وجب التصدق لان ہذا انتفاع کے لئے ہووہ ضرور بیع منہی عنہ ہے۔کہ اس بیع کا مقصد مال حاصل کرناہے۔اور یہ شرعا منع ہے۔اس کا بھید یہ ہے کہ قربانی میں اصل کارثواب الله کے لئے خون کا بہانا ہے۔اسی لئے جب تك جانور سے یہ اصل غرض حاصل نہیں ہوتی اس سے ہر قسم کا انتفاع مطلقا منع ہے۔حد یہ ہے کہ اون اور دودھ سے بھی انتفاع جائز نہیںنہ قربانی کرنے والے کو نہ غیر کواور جب اصل غرض حاصل ہوگئی تو اس کے تمام اجزاء سے ہر قسم کا انتفاع جائز ہوگیالیکن قربانی شدہ جانور کو کلا یا بعضا کسب زر کے لئے بیچنا اس کی قرابت اور کارثواب سے پھیر کردینے کی طرف موڑ دینا ہے۔اور کارثواب اور حصول زر میں منافات ہے۔اسی لئے اس طرح بیع ناجائز اور منع ہوگی اور جو روپیہ اس طرح حاصل ہوگا وہ مال خبیث ہوگا اور مال خبیث کا شرعی حکم صدقہ کرنا ہی ہے۔اور صدقہ کی غرض سے بیچنے اور قربانی میں کوئی منافات نہیں کہ یہ بھی کار ثواب اور وہ بھی کار ثوابتو یہ ایك طرح سے اسی کی تکمیل ہے تو اس سے حاصل شدہ رقم خبیث نہ ہوگیلہذا یہ بیع بھی حرام نہ ہوگیاسی بات کو علامہ عینی رحمۃ الله تعالی علیہ نے بنایہ میں ارشاد فرمایا:"جس چیز سے انتفاع اس کے فنا کے بغیر نہ حاصل ہو ایسی چیز سے بیع حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس قربانی سے بیع حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس قربانی کے جانور میں تمول کی غرض سے تصرف ہوا حالانکہ وہ جانور
#7539 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
الثمن حصل بفعل مکروہ فیکون خبیثافیجب التصدق اھ وبہ تبین وان کان عــــــہ بینا بنفسہ ان لیس کل تبدل بمستھلك تمولا والالما جاز البیع بالدراہم بنیۃ التصدق ایضا لصدق التمول علیہ حینئذ فیکون تصرفا ممنوعا خبیثا وہو خلاف المنصوص علیہ ویکون التصدق اذذاك لازالۃ الخبث والخروج عن المآثم لا لاکتساب الثواب و التقرب الی رب الارباب ولایجوز لہ فیہ رجاء القبول فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ولو رجاء لباء باثم علی اثم فان ارتجاء القبول فی مال خبیث اثم بحیالہ کما صرحوا بہ وہذا کلہ باطل بالبداہۃ
تمول کی جہت سے نکل کر ہمیشہ کے لئے تقرب کی جہت میں داخل ہوگیا ہے۔تو جب سے بیع کے کسب زر کیا اس کا صدقہ واجب ہوااس لئے کہ یہ قیمت فعل مکروہ سے حاصل ہوئی توہ خبیث ہوئیاور اس کا صدقہ واجب ہوگیا"
سوال وجواب:یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ یہ بات تو سب کے نزدیك مسلم ہے کہ کھال کی بیع بطور تمول ناجائز ہے۔اور حاصل ہونے والی قیمت خبیث ہے۔ہمارایہ کہنا ہے کہ کسی ایسی چیز کے بدلے بیچنا جو برتنے سے ختم ہوجائے یہ بھی بیع بطور تمول ہے تو کار ثواب کے لئے بھی اس طرح بیچنا بطور تمول ہوا۔جس کو ناجائز ہونا چاہئے۔اور قیمت کا صدقہ واجب ہونا چاہئے۔
جواب یہ ہے کہ اس خیال کی تردید امام عینی کاکلام کررہا ہے کیونکہ انھوں نے تصدق کے لئے مستہلك سے بھی بیع کو جائز قرار دیا ہے۔حالانکہ اس پر بقول آپ کے بیع برائے تمول صادق آنا

عــــــہ:فان نفس لفظ التمول یدل بعبارتہ علی المال وبہیئاتہ علی تحصیلہ لنفسہ کما لایخفی ۱۲ منہ قدس سرہ کیونکہ تمول اپنے لفظ کے اعتبار سے مال پر اور صورت کے اعتبار سے اپنی ذات کے لئے تحصیل پر دلالت کرتاہے ۱۲ منہ قدس سرہ
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاضحیہ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ∞۴/ ۱۹۰€
مسند امام احمد بن حنبل از مسند حدیث ابی ہریرہ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۳۲۸€
#7540 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
چاہئے۔اور اس کو حرام ہونا چاہئےاور اس کا تصدق بلانیت ثواب ضروری ہونا چاہئے جو مال خبیث کا حکم ہے اس سے ثواب کی امید رکھناگناہ بالائے گناہ ہونا چاہئے اور یہ سب باطل ہے۔کیونکہ یہاں تصدق اور طلب ثواب کی نیت سے یہ بیع ہوئی فثبت ان لیس کل تبدل بمستھلك تمولا و ان البیع للتصدق خارج عنہ فکذا السائر القرب اذلا فارق یقضی بکون ہذا تمول وذاك غیرہ ومن ادعاہ فلیات ببرھان علی دعواہ ولم یقدر علیہ ان شاء اﷲ۔
پھر بھی امام عینی نے اس کو جائز قرار دیاتوثابت ہوگیا کہ مستملك سے بیع مطلقا تمول کے لئے نہیں ہوتی۔
فان قال قائل انما جاز البیع للتصدق لان للوسائل حکم المقاصد فالبیع للتصدق مثل التصدق و التصدق جائز فکذا البیع لہ تقدیر آخر اشمل و اظہر لبیان الفرق تظہربہ المسائل جمیعا ان شاء اﷲ تعالی۔
قلت کذلك البیع للتقرب مثل القرب والتقرب جائز فکذا البیع لہ بل یلزم علیہ جواز البیع للاکل ایضا لجواز الاکل بنص القران العظیم فالحق فی التعلیل ماقدمنا عن الامام الزیلعی من انہ قربۃ وحینئذ لابد من کلیۃ الکبری القائلۃ بان کل قربۃ تجوزہہنا ینتج ان البیع للتصدق یجوز ہہنا وبہ یتضح جواز سائر القرب وضوح الشمس فی رابعۃ النہار ھذا وللعبد الضعیف لطف بہ القوی اللطیف ایك اور سوال وجواب:اگر کوئی یہ کہے کہ صدقہ کی غرض سے بیع جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیع صدقہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہے اور جو حکم مقصد کا ہوتا ہے وہ وسیلہ کا بھی ہوتاہے صدقہ جائز ہے تو اس کا وسیلہ بیع بھی جائز ہوگا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تاویل بعینہ دیگر کا رثواب میں بھی جاری ہے کہ یہ سارے کار ثواب جائزہیںتو اس کے لئے بیع بھی جائز ہونا چاہئے بلکہ اس توجیہ سے تو اشیائے مستہبلکہ کے عوض بیچنا بھی جائز ہونا چاہئے۔مثلا غلہ کے عوض کھال بیچیں اور غلہ کو اپنے استعمال میں لائیں کہ قربانی کو کھانا جائز اور بیع اس کے حصول کا ذریعہاور جو حکم مقصد کا وہی ذریعہ کاتویہ بیع بھی جائز۔حالانکہ اس بیع کے ناجائز ہونے کا جزئیہ کلام ائمہ میں موجود ہے۔
تو ثابت ہوا کہ اصل علت جوا زیہ نہیں کہ وسیلہ مقاصد کے حکم میں ہے بلکہ اصل علت وہی ہے
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶/ ۹€
#7541 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
تقریر اخر اشمل و اظھر لبیان الفرق تطھر بہ المسائل جمیعا ان شاء الله تعالی۔فاقول:وباﷲ التوفیق الجہات ثلث الاکل والادخار والائتجار وہو طلب الاجر بای وجہ کان فقد اخرج ابوداؤد فی سننہ بسند صحیح رواتہ کلہم من رجال الصحیحین ما خلا مسددافثقۃ حافظ من شیوخ البخاری عن نبیشہ الخیر الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انا کنا نہینا کم عن لحومہا ان تاکلوہا فوق ثلث لکی تسعکم جاء اﷲ بالسعۃ فکلوا وادخروا وائتجروا الا وان ہذا الایام ایام اکل و شرب وذکر اﷲ عزوجل اھ والائتجار باطلاقہ یشتمل التصدق وسائر وجوہ التقرب کما لایخفی فان فسرہ مفسر بالتصدق فلیکن التصدق فی کلامہ بالمعنی الاعم علی ماسیأتیك تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالی۔ کہ حصول زر اور تمول کی غرض سے بیع ناجائز ہے۔اور مقاصد خیر کی غرض سے جائزجیسا کہ امام زیلعی نے اس کے جواز کی علت میں فرمایا:"لانہ قربۃ"(اس لئے کہ یہ کار ثواب ہے)اور منطق کی زبان میں یہ قول قیاس کا صغری ہوا اور نتیجہ دینے کے لئے کبری کاکلیہ ہونا ضروری ہے۔جو اس طرح ہوگاہر قربت جائز ہے تو بات نصف النہار کی طرح واضح ہوگئی کہ ہر قربت اور کار ثواب کے لئے بیع جائز ہے۔ وﷲ الحمد
ایك دوسری تقریر:شرعا قربانی کے مصرف کے تین جہتیں ہیں:اکل(کھانا)ادخار(جمع کرنا)ایتجار(کار ثواب)میں صرف کرنا چاہے کون سابھی کار ثواب ہوجیسا کہ ابوداؤد نے ایك ایسی سند سے جس کے تمام راوی بخاری اور مسلم کے رواۃ میں ہیںایك صاحب حضرت مسدد ایسے نہیں تو وہ ثقہ ہیںحافظ ہیںاورامام بخاری کے اساتذہ میں ہیںالغرض یہ حدیث صحیح حضرت نبیشہ ہذلی رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے: "حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہم تم کو قربانی کا گوشت تین دن سے زائد روکنے سے منع کرتے تھےاس کا مقصد مسکینوں پر آسانی تھیاب الله تعالی نے کشادگی فرما دیتو اب کھاؤجمع کرو اور کارثواب میں صرف کرو۔سنو یہ دن ہی کھانے پینے اور ذکر الہی کے دن ہیں"تو اس حدیث سے مطلقا ہر کار ثواب کے لئے بیچنا جائز ہوا۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
#7542 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فان قلت الوارد فی حدیث احمد والبخاری ومسلم وغیرہم عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا وادخروا وتصدقوا فلیحمل الائتجار علی التصدق لا تحاد الحکم والحادثۃ۔
قلت کلا فان الامر ہہنا لیس للوجوب باجماع عامۃ العلماء الامۃمنہم ساداتنا الائمۃ الاربعۃ رضی اﷲ تعالی عنہموقد نصوا فی غیر ماکتاب ان لو اکلہ کلہ ولم یتصدق بشیئ منہ لا شیئ علیہ ومعلوم ان الترخیص والترغیب فی مقید لاینا فی الترغیب و الترخیص فی مطلقفلا معنی للحمل ولا داعی الیہ۔
و سر المقام ان الحمل عندنا ضروری لایصار الیہ الا لضرورۃ وہو ان یتمانعا بحیث لایمکن العمل بہما اما حیث لا تمانع فتحن نجری المطلق علی اطلاقہ حملا للفظ علی ظاہرہ وعملا بالدلیل بتمامہ قال المولی المحقق علی الاطلاق
سوال وجواب:اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ کار ثواب سے مراد وہی فقراء پر صدق کرنا ہے۔توہمیں اصرار ہے کہ حدیث شریف کا لفظ ایتجار تمام امور خیر کو عام ہے۔اس کو تملیك فقراء والے صدقہ میں منحصر کرناتحکم ہے۔ہوسکتا ہے کہ کوئی صاحب حدیث عام کو صدقہ خاص پرمحمول کرنے کی یہ دلیل دیںبخاری ومسلم وغیرہ کتب احادیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے ایك حدیث مروی ہے جس میں ایتجار کے بجائے تصدقوا کا لفظ ہے۔تو ان دونوں حدیثوں میں تطبیق دینے کے لئے کیوں نہ ہم لفظ ایتجار(کار ثواب)کو صدقہ پر محمول کریں کیونکہ اصول کا مسئلہ یہ ہے کہ جب حکم اور واقعہ ایك ہو تو عام کو خاص پر محمول کیا جاتاہے اور یہاں پر ایسا ہی ہے کہ واقعہ دونوں حدیثوں میں قربانی کے جانور کا ہے اور حکم بھی دونوں جگہ ایك ہی ہےبس فرق یہ ہے کہ ابو داؤد شریف کی حدیث میں صدقہ عام کاحکم ہے۔اور صحیحین کی حدیث میں صدقہ خاص کا لہذا یہاں ایتجار سے مراد صدقہ ہی ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ جب حکم اور واقعہ ایك ہی ہو تو عام کو خاص پر محمول کیا جائے گا لیکن یہ حکم عمومی نہیں کہ ہر واجب و مستحب کو عام ہوبلکہ صرف حکم وجوبی کے ساتھ
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب ماکان من النہی عن اکل لحوم الاضاحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۵۸€
#7543 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
محمد بن الہمام قدس سرہ فی فتح القدیر اجیب عنابانا انما نحمل فی الحادثۃ الواحدۃ للضرورۃ الخ وقال فی تشیید ہذا الجواب تحقیقۃ ان الحمل لما یجب الا للضرورۃ وہی المعارضۃ بین المطلق والمقید الخ۔فالمناط عند التنقیح ہو التمانع دون اتحاد الحکم والحادثۃ۔ خاص ہے کہ احکام واجبہ میں اتحاد حکم وواقعہ کے وقت عام کو خاص پر محمول کیا جائے گا اور قربانی کے مصرف کے سلسلہ میں جو حکم ہے استحبابی ہے اس بات پر چاروں اماموں کا اجما ع ہے لہذا مطلق کو مطلق اور مقید کو مقید رکھا جائے گا ایك کو دوسرے پرمحمول کرنےکی ضرورت نہیں تو جس حدیث میں تصدق کا لفظ ہے اس سے وہی مراد لیں گے اور جس میں مطلقا کار ثواب کالفظ ہے اس سے جمیع وجوہ خیر مراد لیں گے۔حضو رصلی الله تعالی علیہ وسلم نے باری باری دونوں ہی امور کی طرف رغبت دلائی۔
اس کارمزیہ ہے کہ علمائے احناف کے نزدیك مطلق کو مقید پر حمل کرنے کاحکم بدرجہ مجبوری ہے یعنی جب مطلق اور مقید دونوں کو اپنے اپنے محل پر حمل کرنا ممکن نہ ہواور جہاں ایسا ممکن ہو حمل کرنے کی بالکل ضرورت نہیںامام ابن ہمام فرماتے ہیں: "حادثہ واحدہ میں مطلق کو مقید پر حمل کرنے کاحکم بضرورت ہے جب مطلق اور مقید کے حکم میں تعارض ہو تو مطلق کو مقید پر حمل کیا جائے کہ مجبوری ہے"تو ثابت ہوا کہ اصل مطلق کو مقیدپر حمل کرنے کا سبب مطلقا اتحاد حکم وحادثہ نہیں بلکہ دونوں حکموں کا تعارض اور منافاۃ ہے۔
یجزم بذلك من عاشرعرائس نفائس عباراتہم فقد حکموا ان لاحمل ان وردافی السبب اذ لاتجاذب فی الاسباب والا ان کان منفیین لامکان الجمع بالامتناع مطلقا وانہ یجب الحمل ان اتیافی حکمین مختلفین یوجب احدہما تقیید الاخر مزید وضاحت کے لئے ہم کلام علماء سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں:
(الف)تلویح وغیرہ میں ہے:"مطلق اور مقید اگر اسباب کے بیان میں واردہوں تو مطلق کو مقید پر حمل نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ ایك شیئ کے چند اسباب ہوسکتے ہیںتو تعارض نہیںتوحمل کی ضروت نہیں۔"
حوالہ / References فتح القدیر
فتح القدیر
#7544 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
بتوسط لازموذلك کان ینفی المقید لازم اطلاق المطلق فینتفی بانتفائہ فیتقید لامحالۃ کما فی اعتق عنی رقبۃ ولا تملکنی رقبۃ کافرۃ فان النہی عن تملیك کافرۃ ینفی جواز اعتاقہا عنہاذ لا عتاق عنہ بدون تملیکھا عنہ۔
وقد اجابوا القائلین بالحمل فی الاسباب واختلاف الحوادث بعدم التعارض کما فی التلویح وغیرہ و عللوا وجوب الحمل عند الاتحاد بامتناع الجمع ممثلین لہ بقولہ تعالی " فصیام ثلثۃ ایام" مع قرائۃ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ بزیادۃ متتابعات قالوا فان المطلق یوجب اجزاء غیر المتتابع والمقید یوجب عدم اجزائہ کما فی التوضیح وغیرہ فقد افاد وان الحمل خاص بالایجاب دون الجواز و الاستحبابولذا (ب)تلویح میں اسباب متعدد اور اختلاف حوادث کی صورت میں بھی مطلق مقید پر حمل کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے فرمایا:"اگر ایك ہی حادثہ میں ایك حکم میں مطلق کی نفی ہو اوردوسرے میں مقید کی نفیتو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جائے گاکہ ان دونوں میں کوئی تعارض نہیںاصل مراد دونوں کی نفی ہے۔
ہاں دو ایسے مختلف احکام میں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گاجہاں ایك حکم دوسرے کی تقیید کو مستلزم ہوجیسے کسی نے کسی سے کہا ہماری طر ف سے ایك غلام آزاد کرو۔اور مجھے کسی مشرك غلام کا مالك نہ بناناایسی صورت میں آمر کی طرف سے صرف مسلمان خرید کرہی آزاد کیا جائے گا اگر چہ حکم مطلقا آزاد کرنے کا ہے۔لیکن مشرك غلام کی ملکیت کی نفی نے تملیك کو صرف مسلم غلام تك خاص رکھا اور اسے مالك بنائے بغیر اس کی طرف سے آزاد نہیں ہوسکتا تو جس کا مالك بناسکتاہے یعنی مسلمان کااسی کو آزاد بھی کرے گاآزادی کا حکم لاکھ عام ہو۔ "
(ج)توضیح وغیرہ میں تعارض کے وقت مطلق کے مقید پر محمول ہونے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا گیا:"الله تعالی نے کفارہ میں مطلقا تین روزے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/ ۸۹€
التوضیح ولتلویح فصل فی ذکر المطلق والمقید مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۶۳ و ۶۴€
#7545 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
قال المولی بحرالعلوم ملك العلماء عبدالعلی اللکنوی قدس سرہ فی فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت فیہ اشارۃ الی ان الحمل انما ہو اذا کان الحکم الایجاب دون الندب اوالا باحۃ اذا لاتمانع فی اباحۃ المطلق و المقید بخلاف الایجاب فان ایجاب المقید یقتضی ثبوت المؤاخذہ بترك القید وایجاب المطلق اجزاہ مطلقا اھ
قول الامام السغناقی فی النہایۃ علی مانقلہ فی البحر مقرا علیہ بل متمسکابہ من ان الاصح انہ لایجوز حمل المطلق علی المقید عندنا لا فی حادثۃ ولا حادثتین حتی جوز ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ التیمم بجمیع اجزاء الارض بحدیث جعلت لی الارض مسجدا و طہورا ولم یحمل ہذا المطلق علی المقید وہو حدیث التراب طہورا اھ فلعلہ اراد نفی زعم من زعم ان مذہب اصحابنا رضی اﷲ تعالی عنہم وجوب الحمل عند اتحاد رکھنے کا حکم دیامتفرق طور پر ہو یا مسلسل اس سے کچھ تعرض نہیں کیا" فصیام ثلثۃ ایام"(تین یوم کا روزہ)لیکن حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ کی قرائت ثلثۃ ایام متتابعات (مسلسل تین دن)آیایہاں ایك حادثہ میں دو متعارض حکم واجب کئے گئےکیونکہ آیت کا تقاضا یہ ہے کہ متفرق طور پر بھی روزہ رکھ لے تو کفارہ کے لئے کافی ہوگا اور متتابعات کا تقاضا یہ ہے کہ مسلسل رکھنا واجب۔اس لئے یہاں مطلق کو مقید پر حمل کیا جائے گا"
تو ان علماء نے تعارض والی صورت کووجوب کے ساتھ خاص فرمایا:
(د)یہی بات ملا عبدالعلی بحرالعلوم رضی الله تعالی عنہ نے فواتح الرحموت میں فرمائی:"مصنف کی عبارت سے یہ پتہ چلتاہے کہ مطلق کو مقید پر حمل کرنا احکام واجبہ کے ساتھ خاص ہے۔احکام مستحبہ اور مباح ہونے میں کوئی تعارض نہیںاس لئے کہ مطلق اور مقید دونوں کے مباح ہونے میں کوئی تعارض نہیںالبتہ احکام واجبہ میں تعارض ہے کہ مقید کا تقاضا یہ ہوگا کہ جس نے قید پر عمل چھوڑدیامجرم ہوااور مطلق کا تقاضا یہ ہوگا کہ کوئی جرم نہیں کیااس تعارض کو دفع کرنے کی ضرورت ہے۔مطلق کو
حوالہ / References فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی فصل المطلق مادل علی فرد منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۱/ ۳۶۲€
بحر الرائق کتاب البیع فصل یدخل البناء و المفاتیح فی بیع الدار ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/۲۹۹€
#7546 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
الحادثۃ مطلقافافاد ان لیس ہذا من المناط فی شیئ بل لایجوز فی حادثۃ ایضا ای مالم یتمانعا فیضطر الیہ لدفع التعارضالاتری ان امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ لم یحمل الارض علی التراب مع اتحاد الحادثۃ وعلی ہذا التقریر لا یتجہ ما اورد علیہ العلامۃ المحقق محمد بن عابدین الشامی قدس سرہ السامی فی ردالمحتار کما اوضحتہ فیما علقتہ علیہ وللعبد الضعیف ھہنا بحث شریف لو لا غرابۃ المقام لاتیت بہ۔ مقید مان لیا جاتاہے۔
(ہ)امام سغنا قی نے نہایہ میں فرمایا اور صاحب بحرالرائق نے ان کے قول کو سند کے طور پر ذکر کیا"صحیح یہی ہے کہ حادثہ چاہے ایك ہو چاہے چندمطلق کو مقید پر حمل نہیں کیا جائے گادیکھو حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ایك حدیث میں فرمایا:"ساری روئے زمین میرے لئے طہور بنائی گئی"یہ مطلق ہے۔دوسری حدیث میں فرمایا:"التراب طھور" (مٹی پاك ہے)یہ خاص اور مقید ہے۔ہمارے امام اعظم رحمہ الله نے عام کو خاص پر حمل نہیں کیااور اس کے سارے اجزا سے ہی تیمم جائز قرار دیااگر چہ حادثہ ایك ہی ہے۔
اس عبارت سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ امام سغناقی ان لوگوں کو جواب دے رہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حنفیوں کے نزدیك اتحاد حادثہ وحکم ہوتو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا حالانکہ دار ومدار حادثہ واحدہ یا متعددہ پر نہیںتعارض پر ہے۔اور اسی مجبوری سے عام کو خاص پر یا مطلق کو مقید پر حمل کیا جاتاہے۔اور اسی سے ہمارے امام اعظم نے ایك حادثہ میں عام کو خاص پر حمل نہیں کیا کہ ان دوحکموں میں کوئی تعارض نہیں۔
(یہاں امام شامی کا ایك اعتراض ہے جس کا جواب ہم نے ان کی کتابوں پر لکھے ہوئے اپنے حاشیہ میں دیاہے)
علی ان لقائل ان یقول ان الائتجار ہہنا لو حمل علی التصدق لکونہ معہ کالمطلق مع المقید فکذلك یجب حمل الاطعام الواردۃ وعند احمد والشیخین وغیرھم فی حدیث سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲ تعالی عنہ کلوا واطعموا وادخروا ۔و ایك اور دلیل:یہی حدیث حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اﷲ تعالی عنہ سے امام احمد وشیخین نے اس طرح روایت کیا:
(۱)کلوا(کھاؤ)اطعموا(کھلاؤ)ادخروا(جمع کرو)
اور امام احمدمسلمترمذی نے حضرت بریدہ رضی الله تعالی عنہ سے یوں روایت کی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاضاحی باب مایوکل من لحوم الاضاحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۳۵€
#7547 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
عند احمد ومسلم والترمذی من حدیث بریدہ رضی اﷲ تعالی عنہ کلوا مابداء لکم واطعموا وادخروا وعند مسلم وغیرہ من روایۃ ابی سعیدن الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ کلو ا واطعموا واحبسوا وادخروا فان الاطعام ایضا مع التصدق کالائتجار مع انہ باجماع العلماء علی اطلاقہ جار للاتفاق علی اباحۃ الاباحۃ وعدم قصر الامر علی التملیك فافہم و المتأمل الموفق اذا نظر حدیث امنا رضی اﷲ تعالی عنہا مع ھذا الاحادیث عــــــہ الاربعۃ القی فی روعہ ان المرادثمہ بالتصدق فی المعنی الاعم الشامل لجمیع انواع القرب المالیۃ (۲)کلوا ما بدالکم(جتنا چاہے کھاؤ)واطعموا (کھلاؤ) ادخروا(جمع کرو)
اور امام مسلم وغیرہ کے یہاں ان الفاظ میں مروی ہے: (۳) کلوا(کھاؤ)اطعموا(کھلاؤ)احبسوا(روك رکھو) ادخروا (جمع کرو)
حضرت نبیشہ ہذلی رضی الله تعالی عنہ کی حدیث اس کے ساتھ ملالی جائے تو ان چاروں حدیثوں میں"کلوا"اور"ادخروا"کا لفظ مشترك ہےصرف حضرت نبیشہ ہذلی رضی الله تعالی عنہ کی حدیث میں تیسرا لفظ"ایتجروا"کے بجائے اطعموا ہے۔ باور حضرت صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کی حدیث میں اس مقام پر تصدقوا ہے۔گویا ان حدیثوں میں تیسری چیز کو تین لفظوں سے تعبیر کیا:ایتجروااطمعواتصدقوااب اگر سب چھوڑ کر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ حضرت نبیشہ ہذلی رضی الله تعالی عنہ کی

عــــــہ۱: ای احادیث نبیشہ وسلمۃ وبریدۃ وابی سعید رضی اﷲ تعالی عنہم ۱۲ منہ قدس سرہ۔
عــــــہ ۲: ظنی انہ لابدھہنا من لفظ علیہ(ای یجب حمل الاطعام الواردۃ فی الاحادیث علی التصدق) یعنی حضرت نبیشہسلمہبریدہ اور ابی سعید رضی الله تعالی عنہم کی احادیث۱۲ منہ قدس سرہ۔(ت)
میرا گمان ہے کہ یہاں"علیہ"کا لفظ ضروری ہے یعنی حدیث میں وارد اطعام کو صدقہ پر محمول کیا جائے۔(ت)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الاضاحی باب فی الرخصۃ فی اکلہا بعد ثلاث ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۸۲€
صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب بیان ماکان من النہی عن اکل لحوم الاضاحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۵۹€
#7548 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
کما سیرد علیك تحقیقہ ان شاء اﷲ تعالی کیما تلئتم وترد موردا واحداو الاحادیث یفسر بعضہا بعضا وباﷲ التوفیق۔ حدیث کالفظ"ایتجروا"عام نہیںبلکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کی حدیث کی طرح ا س سے مراد خاص صدقہ تملیکی ہے(یعنی جس میں فقیر کو مالك بنانا ضروری ہوتاہے)
تو سوال یہ اٹھتاہے کہ بقیہ تینوں حدیثوں میں لفظ ـ"ایتجروا"کے بجائے لفظ"اطعموا"ہے۔تو اس کو بھی حضرت عائشہ رضی الله تعالی عنہا کی حدیث"تصدقوا"سے وہی نسبت ہوئی جو ایتجروا کو ہے۔تو لازم ہوگاکہ اطعام کو بھی تصدقوا پر محمول کیا جائے اور اطعام میں بھی اباحت کافی نہ ہو تملیك ضروری ہوجس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص کسی کو قربانی کا گوشت اپنے دسترخوان پر بٹھاکر کھلادے تو یہ ناجائز ہوگا جب تك کہ فقیر کو اس کا مالك نہ کرےجبکہ تمام علماء کا اجماع ہے۔کہ آدمی قربانی کا گوشت جس طرح دوسروں کو دے سکتاہے اسی طرح بطور اباحت دعوت بھی کرسکتاہے۔اور اگر حدیث کے لفظ اطعام کو تصدق پر محمول نہیں کرتے تو ایتجار کو کیسے محمول کرتے ہیں۔
الغرض ان سب حدیثوں پر جتنا غور کیا جائے گا یہ حقیقت کھلتی جائے گی کہ تصدقواسے مراد صدقات خاص نہیںبلکہ عام طور پر ہر کار ثواب مرا دہے چاہے اس میں تملیك ہو یانہ ہو۔
وناھیك قول الامام الجلیل صاحب الہدایۃ فیہا یستحب ان لاینقص الصدقۃ عن الثلث لان الجہات ثلثۃ الاکل والادخار کما روینا والاطعام لقولہ تعالی " و اطعموا القانع والمعتر "فانقسم علیہا اثلاثا اھ و معلوم ان الاطعام لایقتصر علی التملیك لالغۃ ولا شرعا وقد اجمعوا ہہنا علی تائیدمزید:اور انصاف پسندوں کے لئے تو صاحب ہدایہ رحمۃ الله تعالی علیہ کی عبارت ہی کافی ہے۔جس میں وہ لفظ اطعام کی تفسیر مفہوم صدقہ سے کرتے ہیںعبارت ان کی یہ ہے: "مستحب یہ ہے کہ صدقہ والا حصہ ایك ثلث سے کم نہ ہو کیونکہ جیساکہ ہم نے ذکر کیادو چیزیں تو احادیث سے ثابت ہیں:کھانااور جمع کرنااور تیسری چیز اطعامیہ قرآن سے ثابت ہے۔ارشاد الہی ہے: " اطعموا القانع والمعتر " (کھلاؤ صابر اور مانگنے
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۲۲۸€
#7549 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
جواز الاباحۃ بل نصوا ان کل ماشرع بلفظ الاطعام جاز فیہ الاباحۃ لما سیأتی فاین تعیین التملیك تدعونثم رأیت العلامۃ الاتقانی فی غایۃ البیان قال فی شرح ہذا الکلام وذلك لان الایۃ والخبر تضمنا جواز الاکل والتصدق والادخال فکانت الجہات ثلثا فانقسمت علیہا اثلاثا اھ ومعلوم ان لیس فی الایۃ الا لفظ الاطعام المجمع علی شمولہ للاباحۃوقد عبر عنہ بالتصدق فعلم ان التصدق المذکور ھہنا ہو المحمول علی الائیتجار دون العکس و اﷲ الموفق۔ والے فقیر کو)تو جب جہتیں تین ہیں تو گوشت بھی تین حصہ کردیا جائے"
اس عبارت کے شروع میں جس کو صدقہ والا حصہ کہا ہے یہ وہی ہے جس کو بعدوالی عبارت میں لفظ اطعام سے بیان کرتے ہیں۔اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ اطعام کے لئے تملیك ضروری نہیںنہ شرعا نہ لغۃبلکہ سب نے بالاتفاق اطعام میں اباحت کو جائز نہ رکھابلکہ یہ تصریح کی کہ جہاں لفظ اطعام آئے وہاں اباحت مراد ہوگیامام اتقانی اسی عبارت کی شرح میں فرماتے ہیں:
"قرآن وحدیث نے جب کھاناصدقہ اور جمع کرنا جائز قرار دیا تو جہتیں تین ہوئیںلہذا گوشت کا بھی تین حصہ کرنا چاہئے"
ہمارا کہنا ہے کہ آیت میں صدقہ کا لفظ بھی نہیں اطعام کا لفظ ہے جس کے لفظ میں اباحت داخل ہے اور اسی کو یہ علماء لفظ تصدق سے تعبیر کرتے ہیں تو معلوم ہوا کہ اس موقعہ پر لفظ تصدق ہی عام معنی میں مستعمل ہے۔اور اس سے ہر قسم کا کارخیر مرا دہے۔
ثم ان الحاکم روی فی تفسیر سورۃ الحج من مستدرك بطریق زیدن الحباب عن عبداﷲ بن عیاش المصری عن الاعرج عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ ۔ ایك شبہ اور اس کا جواب:امام حاکم نے اپنی مستدرك میں سورہ حج کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ کے واسطہ سے ایك روایت نقل کی ہےامام بیہقی نے بھی سنن کبری میں اسے نقل کیاحاکم نے اس حدیث کو صحیح الاسناد بتایالیکن امام ذہبی نے تلخیص میں اس پر جرح کیجو کچھ بھی ہو یہ
حوالہ / References غایۃ البیان
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر سورۃ الحج دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۹۰€
#7550 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ورواہ البیہقی ایضا فی سننہ الکبریقال الحاکم صحیح الاسناد ولم یخرجاہ ۔
قلت وھذا وان ردہ الذھبی فی التلخیص فقد تلقاہ العلماء بالقبول و بہذا یتقوی الحدیث وان ضعف سندابیدانہم کما تری لایجرون علی اطلاقہ فقد اتفقوا علی جواز البیع للتصدقونص ائمتنا فی الصحیح عندھم علی جواز البیع بما یبقی فکان الشان فی تنقیح معنی الحدیثوانا اقول وباﷲ التوفیق من تامل نظم الحدیث وامعن النظر فی القواعد الفقہیۃ والجأہ ذلك الی الجزم بان المراد بیع خاص لامطلق التبدل کیفما کانکیف وان التصدق من مقاصد لاضحیۃ المأذون فیہا شرعا وان للبدل حکم المبدل وقد ثبت شرعا جواز دفع القیمۃ فی زکوۃ وفطرۃ ونذرو کفارۃ کما نص علیہ فی الہدایۃ والکافی والکنز والتنویر وغیرہا عامۃ کتب المذہبفاذا جاز ہذا۔والصدقات واجبۃ۔فلان یجوز وھی نافلۃ اولی فافہم اما عدم جواز ذلك فی الہدایۃ والضحایا بان لا یریق الدم حدیث علمائے اسلام میں مقبول ومتداول ہے۔اوریہ چیز ضعیف حدیث کو قوی بنادیتی ہے۔الفاظ حدیث یہ ہیں:من باع جلد اضحیتہ فلااضحیۃلہ(جس نے قربانی کی کھال بیچی اس کی قربانی نہیں)
اس حدیث سے اگر کسی کو شبہہ ہو کہ امور خیر کے لئے بھی اس حدیث کی رو سے ناجائز ہوئیتو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے اطلاق پر نہیں جس کے خارجیداخلی اور شرعی سبھی قسم کے شواہد ہیں۔
خارجی دلیل تویہ ہے کہ سارے علماء اس امر پر متفق ہیں کہ صدقہ کے لئے کھال کی بیع جائز ہے اور خاص علمائے احناف تو باقی رہنے والی چیز کے بدلہ میں بھی اس کی بیع جائز قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ سب علماء حدیث کے خلاف اتفاق نہیں کرسکتےاس لئے لامحالہ سب کے نزدیك یہ حدیث مطلق نہیں ہوئی بلکہ مؤول ہے۔
شرعی شہادت یہ ہے کہ شریعت نے قربانی کے گوشت وغیرہ کے جو مقاصد قرار دئیے ہیں ان میں صدقہ بنیادی مقصد ہے۔ اور ازروئے شرع بدل پر وہی حکم لاگو ہوتاہے جو مبدل کا تھا چنانچہ زکوۃ فطرہ میں جس طرح اصل(غلہ چاندی سونا وغیرہ)ادا کرنا جائز ہے۔اسی طرح اس کی
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب التفسیر سورۃ الحج دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۹۰€
#7551 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ویعطی القیمفان القربۃ فیہا بالاراقۃ دون التصدق وھی غیر معقولۃفلا تستبدل ولا تتقوم کما افادہ فی الہدایۃ والبحر وغیرھماثم انا نجد الجزاء ای فلا اضحیۃ لہ اعظم شاہد علی عدم الاطلاقفان من باع للتصدق فقد اتی بما کان مندوبا الیہ فی الاضاحی فکیف یجازی بانتفاع قربۃ مع انہ لم یزد علی القربۃ الا قربۃ مطلوب فی خصوص المحل و قضیۃ الجزاءترتبہ علی فعل ینافی التضحیۃ و ینفی الاضحیۃ علی مافیہ من التاویل لکونہ فی معنی الرجوع عن القربۃفلا یمکن ان یکون من باب القربۃبل ولا من باب الاکل والادخار فان الشرع قد رخص فیہا ایضا مثل الائتجار ولو کان فیہما ماینا فی الاضاحی ویصح ان یترتب علیہ نفی الاضحیۃ۔لما اذن فیہما فعند
قیمت بھیتو قربانی میں بھی یہی ہونا چاہئے کہ جس طرح گوشت اور کھال کا صدقہ جائز ہے اس کی قیمت کا صدقہ بھی جائز ہو۔
ایك ذیلی شبہہ اور اس کا جواب:اصل قربانی میں تو ایسا نہیں ہوتا کیونکہ کوئی شخص قربانی کے بجائے اس کی قیمت صدقہ کرنا چاہے تو شرعا جائز نہیںقربانی ہی کرنی ہوگیاس کا جواب یہ ہے کہ قربانی میں اصل مقصد خون بہانا ہوتاہے جو قیمت صدقہ کرنے سے حاصل ہوتا۔ا ور چونکہ قربانی کا حکم خلاف قیاس ہے۔اس لئے اس میں اپنی عقل سے بدلہ مقرر کرنا صحیح نہیںجیسا کہ بحر وہدایہ وغیرہ میں ا س کی تصریح ہے اور گوشت اور کھال کا مقصد صدقہ ہے۔اس لئے قیمت سے بھی ادا ہوجاتاہے۔
داخلی شہادت یہ ہے کہ یہ حدیث مبارك بطور شرط وجزاء وار دہوئیشرط یہ جملہ ہے:"جس نے قربانی کی کھال بیچی"اور جزا یہ ہے:"اس کی قربانی نہیں ہوئی"
پس اس جز ا کا تقاضا یہ ہے کہ شرط ایسی چیز ہو جس پر قربانی کی نفی مرتب ہوسکےاور قربانی قربانی نہ رہ جائےنہ کہ وہ چیز جس سے قربانی کا مقصد بدرجہ اتم حاصل ہویعنی شرط ایسی بیع ہوگی جو ثواب کے لئے نہ ہواور وہ بیع جو حصول ثواب
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الاضحیہ تفسیر سورۃ الحج دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۹۰€
#7552 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ذلك رأینا ان المراد ھو البیع بحیث یخرج عن جمیع مارخص لہ الشرع فیہوما ہو الاالبیع بمستھلك لا لان یصرف الی قربۃ فان الاکل وہو الانتفاع بہ عاجلا قد ذھب بنفس التبدل والادخار عــــــہ لکونہ لانفع بہ ببقائہوالائتجار لعدم التقرب فخرج عن الوجوہ الثلثۃ الشرعیۃفکان ہو الملحوظ بالنہی المورث للخبث الموجب للتصدق اما اذا باع ماینتفع بہ باقیا فالا کل وان فقد و الائتجار و ان لم یکن فالا دخار باقلان البدل ینوب المبدل وھو مبقی فیکون مدخراوکذا اذا باع بمستھلك لقربۃ فالاکل و الادخار وان ذہب فالائتجار حاصلوھو افضل الوجوہ فلا معنی للمنع وبہ ظہران مانحن فیہ اولی بالجواز من البیع بباق وہو مصرح بجوازہ فی عامۃ کتب المذھب کی غرض سے ہویا وہ بیع جو باقی رہنے والی چیزسے ہویا اس کو کھالیا جائےتو یہ افعال لااضحیہ لہ(اس کی قربانی نہیں) کی شرط نہیں بن سکتے کیونکہ ان کی تو خود حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اجازت دی ہے تو لامحالہ شرط میں وہی بیع مراد ہوگی جس کی کھال یا گوشت کو تمول کے لئے بیچا گیا ہو کیونکہ ایسی بیع سے قربانی کے مقاصد ثلثہ فوت ہوگئےبیع کی صورت میں کھانا منتفی ہوگیایہ ظاہر ہے۔ادخار(جمع کرنا)اس لئے منتفی ہوگیا کہ ایسی چیز کے عوض بیچا جو باقی رہنے والی نہیں ہے کہ کہا جائے کہ بدل اصل کا قائم مقام ہے اور طلب ثواب اس لئے منتفی ہوگیا کہ یہ بیع تمول اورکسب زر کی غرض سے ہوئی تو ایسی بیع کی صورت میں قربانی کے تینوں مقاصد منتفی ہو گئےا ور یہ کہنا بالکل چسپاں ہوگیا کہ لااضحیۃ لہ(اس کی قربانی نہیں)اور اس بیع سے جو قیمت حاصل ہوئی خبیث ہوئی تو اس کا صدقہ واجب ہوگیا۔
برخلاف اس کے اگر باقی رہنے والی چیز سے بدلاتو اکل وثواب تو ضرور منتفی ہوامگر ادخار باقی رہا کہ بدل کا باقی رہنا اصل کا باقی رہنا ہے۔اور ہلاك ہونیوالی چیز سے برائے ثواب

عــــــہ: الادخار الا نتجار کلاھما بالنصب عطفا عن الاکل ۱۲ منہ قدس سرہ۔ ادخار اور ائتجار دونوں نصب کے ساتھ ہیں لفظ اکل پر عطف کی بنا پر ۱۲ منہ قدس سرہ(ت)
#7553 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فانکار جواز ھذا ان لیس تحکما فماذا وانت اذا تأملت ماالقیت علیك واخذت الفطانۃ بیدیك وجعلت الانصاف بین عینیك لعلمت ان ہذا ہو الغنی المفہوم من الحدیث فی اول النظر کما بعد الطلب الحثیث فان المتبادر من سیاق اللفظ ان یکون بیعہ عــــــہ لاتنفاع لانہ عقد موضوع بیچا تواکل وادخار تو ضرور منتفی ہوا۔لیکن طیب ثواب بھی باقی ہے۔اور یہ ان وجوہ ثلثہ میں سب سے افضل ہے۔تویہ جائز ہوگااور اس کا انکار زیادتی اور زبردستی ہے
ایك آسان بات:یہ لمبی اور دقیق بحث ترك بھی کردی جائے تو یہ ایك آسان اور سامنے کی بات ہے کہ لفظ بیع انتفاع کے لئے بیچنے پر دلالت کرتاہے۔کیونکہ عقد بیع کی وضع ہی اسی غرض کے لئے ہوتی ہے۔اوریہی لفظ بیع بالدراہم کی طرف بھی اشارہ

عــــــہ: ثم بعد زمان لما من المولی سبحنہ وتعالی علی بشراء غایۃ البیان للعلامۃ الاتقانی رایت نقل عن الامام شیخ الاسلام بکل مایشیرالی ھذا الذی نحوت الیہ حیث قال قال شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمہ اﷲ تعالی فی مبسوطہ اما اللحم فالجواب فیہ کالجواب فی الجلد ان باعہ بالدراھم تصدق بثمنہ وان باعہ بشیئ اخر ینتفع بہ جاز کما فی الجلد وانما ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالی البیع فی حق الجلد دون اللحم لانہ بنی الامر علی ماھو الغالب وفی الغالب کما ینتفع بعین الجلد یباع بشیئ اخر وینتفع بہ وفی اللحم فی الغالب ینتفع بہ پھر کچھ زمانہ بعد جب الله تعالی نے مجھ پر احسان فرمایا علامہ اتقانی کی غایۃ البیان خریدلینے کااسے میں نے دیکھا کہ انھوں نے امام شیخ الاسلام سے وہ سب کچھ نقل فرمایا جس کی طرف میں نے اشارہ کیاہے جہاں انھوں نے فرمایا کہ شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمہ الله تعالی نے اپنی مبسوط میں فرمایا کہ گوشت کی بابت حکم وہی ہے جو کھال میں ہے کہ اگر دراہم سے فروخت کیا تو صدقہ کرے اور اگر کسی اور نفع آور چیز سے فروخت کیا تو جائز ہے جیسا کہ کھال کاحکم ہے امام محمد رحمہ الله تعالی نے صر ف کھال کے متعلق بیع کاحکم اس لئے ذکر کیا کہ انھوں نے غالب رواج پر بنا کر تے ہوئے فرمایا کیونکہ غالب طو ر پر جلد کو نفع یا نفع مند کے بدلے فروخت
(باقی برصفحہ ایندہ)
#7554 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
لذلك وہو الغالب فیہ وان یکون بالدارہم لانہ البیع المطلقوالبیع من کل وجہ اما المقایضۃ فتستوی فیہ جہتا البیع والشراء اما سائر المستھلکات ففی حکم الدراہمولذا جعلہافی الہدایۃ ھی الاصل۔ وقال فی سائر ہن اعتبار بالبیع بالدارہم ہذا کلہ ما خطر بالبال مستعجلا فانعم الفکر منصفا متاملا فان وجدت شیئا یعرف وینکر فلم آل جہدا فی اتباع الغرر من ائمۃ النظر واﷲ الہادی الی عوال الفکر۔ کرتاہے کیونکہ بیع کی یہی صورت اصلی ہے۔اور اشیاء سے تبادلہ میں تو بدلین پر قیمت اور بیع دونوں ہونے کااحتمال رہتا ہےاس لئے صرف لفظ باع بھی اس مقصد پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہے کہ حدیث میں لفظ"من باع"سے خاص وہی بیع مراد ہے جو دراہم کے بدلے اپنے ذات کے تمول و انتفاع کے لئے ہو۔
شبہہ اوراس کا جواب:اگر کوئی یہ کہے کہ دیگر مستہلکات سے بھی تو بقول آپ کے بیچنا منع ہے۔تو آپ کے اس قول کا کیا وزن رہا کہ لفظ بیع پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتاہے کہ بیع ممنوع بالدراہم ہے۔اس کاجواب یہ ہے کہ دیگر مستہلکات کے ساتھ بیع کی ممانعت دراہم کے ہی تابع ہوکر ہے۔اصالۃ نہیںاسی لئے تو ہدایہ میں دراہم کو ہی اصل قرار دیا ہے۔ اور بقیہ کو اسی پر قیاس کرتے ہوئے فرمایا:اعتبار بالبیع بالدراھم(دراہم کی بیع پر قیاس کرتے ہوے)۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولا یباع اھ فاشار ان المراد بالبیع ھو الذی یقصد بہ الانتفاع ۱۲ منہ قدس سرہ۔ کیا جاتاہے اور گوشت میں غالب یہی ہے کہ اس سے نفع حاصل کیا جاتاہے اور اسے فروخت نہیں کیا جاتا اھ تو اس سے اشارہ ہوا کہ بیع سے مراد صرف وہ جس سے انتفاع مقصو دہو ۱۲ منہ قدس سرہ(ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
غایۃ البیان
#7555 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
(تنبیہ نفیس)اقول: وبہذا التحقیق استبان والحمد ﷲ معنی قول الہدایۃ"لوباع الجلد واللحم بالدراھم اوبما لاینتفع بہ الابعد استہلاکہ تصدق بثمنہ اھ"فانما معناہ اذا باع بہا لاجل الانتفاع لا البیع بہا مطلقا فانہ رحمہ اﷲ تعالی ونفعنا ببرکاتہ فی الاولی والاخری قال اولا یعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت ثم قال"ولا باس بان یشتری بہ ماینتفع بہ فی البیت بعینہ مع بقائہ "ثم قال"ولایشتری بہ مالا ینتفع بہ الا بعد استھلاکہ وقال فی تعلیلہ" اعتبارا بالبیع بالدراہم "قال"والمعنی فیہ انہ تصرف علی قصد التمول "ثم قال"ولو باع الجلد اواللحم "الخ فکلامہ کلہبدؤہ وثناؤہ وفتحہ وانتہاؤہ فی البیع لاجل الانتفاعلا مطلق البیعفکیف ولو ارید المطلق لما ساغ قولہ"ولایشتری بہ مالا ینتفع بہ" الخ فان شراء ذلك لاجل التصدق جائز قطعا و لما صح قولہ"اعتبارا بالبیع بالدراھم"لمثل مابینا عبارت ہدایہ کی تشریح:ہماری اس تحقیق سے ہدایہ کے مندرجہ ذیل قول کے معنی بالکل واضح ہوگئے اور مانعین کا استدلال باطل ہوگیا"اگر جلد یا گوشت کو دراہم یا ایسی چیزوں کے ساتھ بیچاجنھیں ختم کئے بغیر ان سے انتفاع نہ ہوسکے تو اس کی قیمت صدقہ کرے"
(۱)اس عبارت میں بیچنے سے مراد اپنی ذات کے لئے بیچنا ہے۔ مطلقانہیں کیونکہ پہلے انھوں نے یہ فرمایا کہ کھال سے گھریلو کام کے لئے کوئی سامان بنایا جاسکتاہے پھر کہا ایسی چیز جسے باقی رکھ کر اس سے فائدہ اٹھایا جائے __________ اس سے بدل بھی سکتے ہیں تو ان دو مسئلوں میں انتفاع ذاتی ہی کا بیان ہے اس کے بعد فرماتے ہیں کہ ایسی چیز سے نہ بدلیں جو استعمال میں خرچ ہو جائےتو یہ ممانعت بھی ذاتی استعمال والی ہی بیع کے لیے ہوئیاب اسی بیع کی ممانعت کی علت بیان فرماتے ہیں کہ یہ بیع بالدراہم کی طرح ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس سے وہی بیع بالدراہم مرا د ہوگیجو ممنوع ہے صدقہ کے لئے تو دراہم کے عوض بیچنا جائز ہی ہے۔اور آگے اسی کے لئے فرماتے ہیں کہ اس میں معنی تمول ہے تو یہ کلام ابتداء سے انتہاء تك پکار پکار کر اعلان کررہا ہے کہ اس بیع سے مراد ذاتی انتفاع
حوالہ / References الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
#7556 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
وبطل تعلیہ بانہ"تصرف علی قصد التمول"فلیس کل بیع بالدراھم مما یصدق علیہ ذلك کما اسلفنا تحقیقہ۔وقولہ"ولو باع الجلد الخ"انما ہو متفرع علی تلك المسئلۃ فلا یراد بہ الاماما ارید بہاکانہ لما بین عدم جوازہ نشاء السوال فقیل اذا لم یجزہذا۔ فان فعلہ فاعل فما ذا علیہ۔فاجاب بانہ یتصدق بثمنہ ثم نشاء السوال بان قولکم ہذا یفید صحۃ البیع فکیف بحدیث"من باع جلد اضحیتہ فلا اضحیۃ لہ "فاجاب"بانہ الحدیث۔انما یفید کراہۃ البیع اما البیع جائز لقیام الملك والقدرۃ علی التسلیم اھ"وھذا دلیل اخر علی ان لیس کلام فی مطلق البیع بالدراہمفان البیع بہا لاجل التصدق لایکرہ اصلاوقد بین ہذافابین من ھنا مولانا العلامۃ العلائی صاحب الدر حیث قال بعد قولہ المولی الغزی رحمہما اﷲ تعالی"تصدق بثمنہ اھ مفادہ صحۃ البیع والی بیع ہے مطلقا بیع نہیںورنہ حضرت کی ان عبارتوں کے کوئی معنی نہ ہوں گے"مالاینتفع بہ"(جس سے نفع نہ اٹھایاجاسکے)اعتبارا بالبیع بالدراھم(بیع بالدراہم پر قیاس کرتے ہوئے)وانہ تصرف علی قصد التمول(یہ تمول کی نیت سے تصرف ہوا)اور اسی کے بعد صاحب ہدایہ کی یہ متنازع عبارت"اگر جلد اور گوشت الخ"تو اس کا مطلب مطلقا بیع کیسے ہوسکتاہےیہ تو اسی حکم پر متفرع ہےگویا کسی نے پوچھا کہ ذاتی اغراض کے لئے جو بیع بالدراہم ہوئی وہ تو ناجائز ہوئیاب جو پیسہ اس سے حاصل ہوا کیا کیا جائےتو فرمایا وہ مال خبیث ہے۔اس کا صدقہ واجب ہے۔ا س پر گویا پھر کسی نے پوچھا آپ کے حکم"یہ مال خبیث ہے"سے یہ پتہ چلتاہے کہ بیع ہوئی مگر فاسداور حدیث مبارک"لااضحیۃ لہ"سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ یہ بیع باطل ہے۔تو اس کا جواب اس طرح دیا کہ"الحدیث انما یفید الکراھۃ"یعنی حدیث سے بھی بطلان ثابت نہیںمراد کراہت ہی ہے کیونکہ بیع کے تو تمام ارکان پائے گئے کہ جانور بیچنے والے کی ملك ہے۔اور مشتری کو اس پر قبضہ بھی دلاسکتاہے۔اس لئے بیع تو ہوگئیمگر قصد تمول اور عدم بقائے بدل
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب التفسیر(تفسیر سورۃ الحج) درالفکربیروت ∞۲/ ۳۹۰€
الہدایۃ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
#7557 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
مع الکراھۃ۔وعن الثانیباطل لانہ کالوقف مجتبی اھ فقد نص ان قول التنویر کالہدایۃ تصدق بثمنہ"یفید کراھۃ البیع فمحال ان یکون الکلام فی مطلق البیع بالدراھمبل فی الصورۃ المکروہۃ فقط وھی المارۃ فی قولہ"لایشتری بہ مالا ینتفع بہ"الی قولہ"تصرف علی قصدالتمول ومن اوضح الدلائل علی ذلك ایضا تعلیل الکافی شرح الوافی لمسئلۃ الہدایۃ بقولہ"لان معنی التمول سقط عن الاضحیۃ فاذا تمولہا بالبیع انتقلت القربۃ الی بدلہ فوجب التصدق اھ فافادان الکلام انما ھو فی صورۃ التمول لاغیرولذا جاء تصویر المسئلۃ فی التبیین ومجمع الانہر وغیرہما من الاسفار الغر بلفظہ"لایبیعہ کی وجہ سے فاسد ہوئی
(۲)صاحب ہدایہ کایہ بعد والا کلام بھی اس بات کی دلیل ہے کہ بیع سے ان کی مراد مطلقا بیع بالدراہم نہیں کیونکہ تصدق کے لئے بیچنے کو تو سبھی جائز کہتے ہیں۔
(۳)یہیں سے"صاحب درمختار"کے کلام کا مطلب بھی واضح ہوگیا جو انھوں نے امام غزی کے قول"تصدق بثمنہ"کی شرح میں فرمایا ہے اس کامفاد یہ ہے کہ ایسی بیع جائز ہے مگر فاسد ہے البتہ قاضی ابویوسف رحمۃ الله تعالی علیہ نے اس جانور کووقف کی طرح قرار دے کر اس کی بیع کو باطل قرار دیااس عبارت میں اس بات کی صراحت ہے کہ تنویر کا لفظ تصدق بثمنہ بالکل ہدایہ کی عبارت تصدق بثمنہ کی طرح ہے۔جو مطلب اس کا ہے وہی تنویر کی عبارت کا بھی ہے۔تو ایسی صورت میں محال ہے کہ اس عبارت میں مطلق بیع مراد ہو بلکہ وہی مراد ہے جو ہدایہ کی عبارت"لایشتری بہ مالا ینتفع"سے تصرف علی قصد التمول تك میں مرا دہے۔
(۴)اس مقصد پر اس سے بھی واضح دلالت کافی شرح وافی کی ہے۔وہ فرماتے ہیں:
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیہ∞ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳€۴
الہدایہ کتاب الاضحیہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
الکافی شرح الوافی
#7558 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
بالدراہم علی نفسہ وعیالہ فقد اوضحوا المرام وازاحوا الاوہام وہذ الدلیل رابع علی ماذکرت۔ والخامس الموتر واﷲ یحب الوتران نقل کلام التبیین فی الہندیۃ ثم قال"وھکذا فی الہدایۃ و الکافی" اھ فقد افصح بملا فیہ ان معنی کلام التبیین والہدایۃ واحد۔
"قربانی کے جانور سے تمول کے معنی کی نفی ہوتی ہے۔لیکن جب اس کو تمول یعنی کسب زر کی نیت سے بیچا تو اب پھر وہ اضحیہ سے نکل گیاتو اب اس کا صدقہ واجب ہوگا"
تو انھوں نے تو نص ہی کردیا کہ ممانعت کا حکم صورت تمول میں ہے۔کسی اور صورت میں نہیںاس لئے اس مسئلہ کو تبیینمجمع الانہر وغیرہ کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا: "کھال کو اپنے اور بال بچوں کے لئے دراہم کے عوض نہ بیچے" تو انھوں نے توتسمہ ہی لگانہ چھوڑایہ چوتھی دلیل تھی۔
(۵)اور پانچویں صاحب ہندیہ کا یہ کلام کہ انھوں نے صاحب تبیین کے کلام کو نقل کرکے فرمایا:"یہ مسئلہ اسی طرح ہدایہ اور کافی وغیرہ میں ہے"تو انھوں نے تو منہ بھر کر گواہی دے دی کہ صاحب تبیین اور ہدایہ کی عبارت کا مطلب ایك ہی ہے۔
ثم بعد زمان لما من سبحنہ وتعالی علی عبدہ الضعیف بشراء غایۃ البیان شرح الہدایۃ للعلامۃ الاتقانی رحمہ اﷲ تعالیرأیتہ شرح کلامہ بمالم یبق للوھم مجالاحیث قال یرید بہ ان القربۃ فاتت عن الجلد بما باعہ ولکن الاضحیۃ ساقط عنہا معنی التمولفلما باعہ بالدراہم وجب علیہ التصدق بہالئلا یلزم التمول بشیئ من الاضحیۃ اوبدلہا فافاد کالکافی وغیرہ ان المنھی عنہ اس کے بعد غایۃ البیان علامہ اتقانی رحمۃ الله تعالی علیہ دیکھنے کی توفیق ہوئی تو انھوں نے تو اوہام کے سارے بادلوں کا صفایا کردیا فرماتے ہیں:"ہدایہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ کھال کی بیع کے بعد اس سے قربت اور ثواب ہونے کے معنی ختم ہوگئے حالانکہ قربانی سے کسب زر اور حصول زر کی غرض ساقط ہے۔تو جب دراہم سے اس کو بیچ دیا تو اس کا صدقہ واجب ہے تاکہ قربانی یا اس کے معاوضہ سے کسی قسم کا تمول نہ لازم آئے"
تو انھوں نے بھی کافی کی طرح یہ بات صاف
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۸€
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۰۱€
غایۃ البیان
#7559 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ہو البیع للتمولوزادان المراد بیع یفوت القربۃ فخرج البیع لاقامۃ قربۃفانہ لایفوتہا بل یحصلہا وھو تقرب لاتمولفاتضح الصواب وزال الارتیابوالحمدﷲ فی کل باب ہکذا ینبغی التحقیق اذا ساعد التوفیقومن المولی تعالی ہدایہ الطریق فقد بان بنعمۃ اﷲ جل وعلا ان البیع بالدراہم لیس مما یمنع مطلقا بل اذا کان علی جہۃ التمولوہوا لذی یورث الخبث وعلیہ یتفرع وجوب التصدقاما اذا باع بہا لیصرف فی القرباتفذلك سائغ وسائر وجوہ القربمطلقۃ حینئذ لاحجر فی شیئ منہا۔
بذلك افتیت غیر مرۃ وکتبت فیہ فتوی مفصلۃ اذ سئلت عنہ لتسع بقین من ذی الحجۃ عام الف وثلثمائۃ وخمس من ھجرۃ من لولاہ ماصلیت الخمسولا لاح قمر ولا بزغت شمسولا اقبل غد و لا ادبر امسعلیہ وعلی آلہ الغر الکرام افضل صلاۃ و اکمل سلام واخری مجملۃ اذ ورد علی السؤال لسبع خلون من ذی القعدۃ الحرام فی العام الذی یلی ذلك العام کردی کہ ہدایہ کی عبارت سے مراد وہ بیع ہے جو تمول کے لئے ہواور اتنا اضافہ فرمایا کہ یہ وہ بیع ہے جس سے کار ثواب اور قربت ہونے کی نفی ہوتی ہے تو وہ بیع اس حکم ممانعت سے خارج ہوگئی جو ادائے قربت اور حصول ثواب کے لئے ہووالحمدلله رب العالمین۔
تویہ امر واضح ہوگیا کہ ممنوع مطلقا بالدراہم نہیںبلکہ جب تمول کے طور پر ہو یہی بدل میں خبث پیداکرتی ہےاور اسی سے تصدق واجب ہوتاہے۔اور کار ثواب کے لئے بیچنے میں کوئی حرج نہیں اگر چہ وہ کار ثواب کسی قسم کا ہو۔


میں نے بارہا یہی فتوی دیا اور اس موضوع پر ایك مفصل فتوی ۲۱/ ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ کو لکھااور دوسرا مجمل فتوی آئندہ سال ذی القعدہ میں دیا یہ دونوں فتاوی میرے فتاوی کی چوتھی جلد میں ہیںتو میرے ان فتووں کی مخالفت ہندیوں کی ایك جماعت نے شروع کی جن میں اکثر وہابیہ ہیںان کاخیال ہے کہ کھال کی بیع دراہم کے ساتھ مطلقا ناجائز ہے۔خواہ نیت کارثواب کی ہی کیوں نہ ہوان کا صدقہ کرنا واجب ہے۔وہ بھی اسی طرح کہ فقیر کو اس کا مالك بنادےکسی بھی
#7560 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
وہما مثبتتان فی المجلد الرابع من مجموعۃ فتاوی المبارکۃ ان شاء اﷲ تعالی الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ جعلہا اﷲ نافعۃ للمسلمین و مقبولۃ لدی العالمین وحجۃ لعبدہ یوم الدین امین الہ الحق امین۔
فعند ذلك نازعنی شرذمۃ من الہندیین اکثرہم من الوھابیۃ المبطلین زاعمین ان البیع بالدراہم مطلقا ولو للقربات یوجب التصدق حتی لایجوز لہ الصرف الی مانوی من القرب بل لایخرج عن العہدۃ الا بالاداء الی الفقیر علی وجہ التملیك واحتج الاصاغر منہم علی ذلك بعبارتی الہدایۃ والدر المذکورتین وقد بینا ما ہو المراد بہما واثبتنا عرش التحقیق علی انہ لامساس لشیئ منہما بمز عوم القومفاغنانا ذلك عن الاسترسال مرۃ اخری فی رد کلامہم۔فانہ لشدۃ وھن نفسہ غنی عن ایھان غیرہفلئن سألتہم ہل الکلام ہہنا اعنی فی قول الہدایۃ والدر فی بیع یکرہ لافی غیر۔لیقولن نعم ولئن سألتہم ھل البیع بالدراھم یکرہ مطلقا لیقولن لاقل فانی تذہبونولئن قالوا فی الاول لا۔ لقضت علیہم حجتہم نفسہا بالخطاء والجہالۃ ولئن دوسرے مصرف میں خواہ مصرف خیر ہی کیوں نہ ہو صرف کرنا جائز نہیں اصاغر نے توہدایہ اور درمختار کی انھیں دونوں عبارتوں سے سند پکڑی ہےجس کا مفصل بیان اوپر گزرا تو ہم کو دوبارہ ان کی تردید کرنی ضروری نہ تھیان کی بات حد درجہ کمزور ہے۔کیونکہ ان سے خود پوچھ دیکھو کہ ہدایہ اور در مختار کی عبارت بیع مکروہ کے بیان میں ہے۔یا کسی دوسرے کے بیان کے لئےتوکہیں گے بیع مکروہ کے لئے پھر ان سے پوچھ کیا کھال کی بیع مطلقا مکروہ ہے تو کہیں گے نہیں تو اب فیصلہ کے لئے کیا باقی رہ گیااور اگر اول میں پلٹ کر جواب دیں کہ صرف بیع مکروہ کی نہیںتو ان کا نفس انھیں خود جھٹلائے گااور ثانی میں اگرکہیں ہاںتو ان کی بات خود انھیں کو جھٹلارہی ہے کیونکہ وہ بھی صدقہ کے لئے بیع جائز قرار دیتے ہیںاور اگر وہ اس بیع کے جواز کا انکار کرینگے تو ہم ان کو نصوص علماء کے لشکروں سے آسودہ کردیں گے۔
#7561 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
قالوا فی الاخر نعم فکلامہم انفسہم مناد علیہم بالبہت والبطالۃفانہم ایضا معترفون بجواز البیع للتصدق من دون کراہۃ وان لم یعترفوا لاتیناہم بجنود من نصوص العلماءلاقبل لہم بہا۔فناہیك بہذاالقدر مشبعا لہم ومزیلا لوہم عرض بالہم۔
ولکنی اقول: لاغرو من نفر قاصرین لایکادون یمیزون بین الغیث والسمین والرخیص والثمین والمدین والضمین والشمال والیمینانما العجب من کبیر ہم الگنگوہی المدعی طول الباع وعظم الذراع علی مافیہ من انواع عــــــہ الابتداع حیث زاد غباوۃ علی الاتباع واخذ یتشبث بما قدمنا عبارتی العینی والکافی"انہ تصرف علی قصد التمول"الی قولہ"فیکون خبیثا





اگر یہ جھوٹے لوگ غلطی میں پڑگئے جو موٹے اور دبلے۔ سستے اور مہنگے اور دائیں بائیں کی تمیز نہیں رکھتے تو تعجب کی بات نہ تھی تعجب تو اس بات پر ہے کہ ان سب کے امام گنگوہی صاحب جو طول باع و و سعت اطلاع کے مدعی ہیں انھوں نے کیسے یہ فتوی دیا اور اپنی سابقہ گمراہیوں میں اضافہ کرلیااور سند میں عینی اور کافی کی عبارت پیش کیہدایہ اور در کی عبارت ہی ان کے خلاف حجت تھیںلیکن عینی اور کافی کی عبارتیں تو ان کا صریحی رد ہیں

عــــــہ: ھذا کان اذذاك ثم ترقی بہ الحال فی الغوایۃ و الضلال فوقع فی الکفر البراح واختارالارتداد الصراح واستحب العمی علی الہدی نعوذ باﷲ من الہلاك والردی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العزیز الحکیم ۱۲ قدس سرہ العزیز۔ یہ حکم تو اس کے حال سابق پر تھا پھر گمراہی اور ضلالت میں اس کا حال مزید ترقی کرگیا پس وہ کفرظاہر میں جا پڑا اورارتداد صریح کو اختیار کیا اور ہدایت پر گمراہی کو اختیار کیاہم ہلاکت وبربادی سے الله تعالی کی پناہ مانگتے ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العزیز الحکیم ۱۲ قدس سرہ(ت)
#7562 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فیجب التصدق وانہ اذ تمولہا بالبیع الی قولہ فوجب التصدق فان کلامی الہدایۃ والدروان کان حجتین علیہم لالہم لکن لا کہاتین الناصتین بان الکلام فی صورۃ التمول لامطلق التبدللاسیما کلام الامام البدر المبین کالبدران وجوب التصدق لا جل الخبث والخبث لکراہۃ البیعوکراہۃ البیع لقصد التمول فیالیت شعری فیظن الرجل ان کل تبدل بمستہلك تمولفیحکم بکراہۃ البیع بہ مطلقا ام لا یدری الغرق بین التمول والتقرب حتی یحتج علی الضد بالضد ام یجیز قیاس المباین علی المباین والخبیث علی الطیبوالمنہی عنہ علی الماذون فیہ۔بل المندوب الیہ فہل ہذا الاشیئ نکرا۔وامرا مرا۔وایا ما کان فالی اﷲ الضراعۃ لمنح البراعۃ ومنع الشناعۃ۔
قال الرجل ہداہ اﷲ تعالی الی مسلك اہل السنۃ و الجماعۃ اذا باع المضحی جلد الاضحیۃ بالدراہم سواء کان البیع للتمول اوبنیۃ التصدق تعین تصدقہ ثمنہ کالنذر وھذا ھو معنی الصدقۃ الواجبۃ۔ خصوصا ہدایہ کی عبارت میں تو تصدق کی علت خبث کوقرار دیا ہے۔اور خبث کی وجہ بیع کی کراہت تسلیم کیا ہے۔اور بیع کی کراہت کی وجہ تمول کو گردانا ہے تو کیا یہ آدمی دراہم کے ساتھ بیع کو مطلقا بیع متمول گردانتاہے۔یا تمول اور تقرب کا فرق نہیں جانتاضدکو ضد پر قیاس کرنے کو اور خبیث کو طیب پر محمول کرنے کو اور بیع منہی عنہ کو بیع جائز پر اعتبار کرنے کو روا قرار دیتا ہےیہ کتنی شنیع بات ہے ہم خدا کی اس سے پناہ مانگ رہے ہیں۔
رد:الله تعالی اس شخص کو مذہب اہلسنت وجماعت کی ہدایت دےاس نے کہا:"قربانی کرنیوالے نے جب جلد دراہم کے عوض بیچ دی تو تمول(کسب زر)کی نیت ہو یا صدقہ کی اس کے دام کا صدقہ کرنا واجب ہوگیا جیسے نذر کا صدقہ واجب ہوتا ہے۔عینی نے شرح ہدایہ میں کہا یہ قصہ تمول پر تصرف ہے اور قربانی کسب زر کا ذریعہ ہونے سے نکل چکی ہے۔تو جب بیچ کر کسب زر کیا تو صدقہ واجب ہوگیا کیونکہ یہ ثمن فعل مکروہ سے حاصل کیا تو خبیث ہوگا اور صدقہ واجب"۔اور کافی میں ہے جب اس سے تمول کیا تو قربت کھال سے منتقل ہوکر اس کے بدل میں چلی گئی تو اس کاتصدق واجب ہوا۔
اس کلام سے کم از کم یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ شخص
حوالہ / References البنایہ فی شرح الہدایہ کتاب الاضحیہ المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمۃ ∞۲/ ۱۹۰€
الکافی شرح الوافی
#7563 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
قال العینی فی شرح الہدیۃ انہ تصرف علی قصد التمول وقد خرج عن جہۃ التمول فاذا تمول بالبیع وجب التصدق لان ہذا الثمن حصل بفعل مکروہ فیکون خبیثا فیجب التصدق اھ وفی الکافی فاذا تمولہا بالبیع انتقلت القربۃ الی بدلہ فوجب التصدق اھ معرباملخصا۔
اقول:دلنا کلامك ھذا علی تعیین الشق الاخیر من الشقوق الثلثۃ المارۃ فی قولییا لیث شعری فعر فنا بتردیدك ان لیس کل بیع بمستھلك تمولا عندک وانك مائزبین التمول وغیرہوان بدلت التقرب بالتصدق جہلامنکاو تجاہلا مع علمك ان الکلام فی سائر القربدون التصدق فاذن لااجد لاحتجاجك بکلام الکافی مثلالا کمن ادعی ان من صلی اثم سواء کانت صلاتہ ﷲ تعالی اولغیرہ واحتج علیہ بقولہ عزوجل" قل یایہا الکفرون ﴿۱﴾ لا اعبد ما تعبدون ﴿۲﴾" فان کان الدلیل یتم بان یکون اخص من المدعا مع عدم المساس بالجزء المقصود منہ المتنازع فیہ اصلا فلااری احد امن مول او ر تقرب کے فرق سے آگاہ ہے بھی تو بیع تمول اور بیع تقرب کو دو علیحدہ قسمیں قرار دے کر حرف تردید سے بیان کیا کہ تمول ہو یا صدقہ کی نیت دام کا صدقہ واجب ہوگیاہاں لاعلمی یا تجاہل عارفانہ میں لفظ تقرب کو تصدق سے بدل دیا کیونکہ کلام تو مطلقا کار ثواب کے لئے بیع کرنے سے متعلق ہے۔الغرض اس کلام سے اب سمجھ میں آیا کہ بات وہی آخری ہے کہ اس شخص کے نزدیك ضد مخالف سے استدلال جائز ہے۔اس استدلال کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے عبادت خدا کی ہو یا غیر کی سب ناجائز ہے۔دلیل اس کی قرآن عظیم میں ہے۔لااعبد ماتعبدون تو ماتعبدون دیکھا ہی نہیں لا اعبد سے استدلال کردیااسی طرح صاحب کافی کی عبارت تو بیع تمول کو ممانعت میں ہے اور آپ نے مطلقا بیع حرام کر دی
یہ تو عبارت کافی سے استدلال کاحال ہے۔اور عینی سے استدلال کی حالت تو اور ردی ہے۔اس لئے کہ وہ نص کرتے ہیں کہ اس کا تصدق اس لئے واجب ہے کہ مال خبیث اور یہ صورت بیع تمول کے سوا اور کسی صورت میں ہوہی نہیں سکتیتو آپ کا اس عبارت سے استدلال اندھیری رات
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۰۹/ ۱و ۲€
#7564 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
المبطلین یعجز عن اقامۃ الف دلیل علی دعواہ ہذا احتجاجك بالکافیاما التمسك بکلام البدر فبرأك اﷲ من ان تنقص درجۃ عمن یدعی وجود اللیل البہیم مسبل الاستار یحتج علیہ بو جود الشمس فی وسط السماء بازعۃ تبھر الابصار۔
قال"فقد اتضح بہاتین الرواتین وجوب التصدق واذا وجب الصدقۃ فکونہا صدقۃ واجبۃ واذا وجب الصدقۃ فکونہا صدقۃ واجبۃ واضح بنفسہ فلا یکون مصرفہا الامصرف الصدقۃ الواجبۃ کما ہو ظاہرفلا یجوز صرف الی بناء المساجد والمدارس اھ بالتعریب۔
اقول:ان ارید الوجوب عند التمول فنعموالا کلام فیہاو عند التقرب فلا ولا کرامۃ وای اثرلہ فی دلیلك فما ثبت بہما لانزاع فیہوما فیہ النزاع لم یثبت بہماوان کان بحسبك ان یقع فی کلام الاصحاب لفظ وجوب التصدق فی ای مسئلۃ من ای بابفنعم لدعواك فی کل کتاب دلائل عدد الرمل والتراب۔
قال والصدقۃ مطلقا لابد فیہا من التملیك سواء کان اباحۃ اوتملیکا تاما ۔ کے ثبوت میں سورج پیش کرنے کے مرادف ہے اس شخص نے کہاکافی اور عینی کی عبارتوں سے ثابت ہوگیا کہ اس کھال کے دام کا تصدق واجب ہے۔تو وہ صدقہ واجبہ ہوااور اس کا مصرف وہی ہے جو صدقہ واجبہ کا مصرف ہے تو اسے مسجد یا مدارس کی تعمیر میں صرف نہیں کرسکتے۔









گنگوہی صاحب کی اس عبارت کا اگر یہ مطلب ہے کہ ان عبارتوں سے یہ ثابت ہے کہ بیع تمول کے لئے ہے تو قیمت کا صدقہ واجب ہےتو یہ بات صحیح ہے۔بیشك اگر بقصد تمول بیع کی تو اس کا تصدق واجب ہے۔اور اگریہ مطلب ہے کہ کسی کار ثواب کی غرض سے بیع کیا تب بھی تصدق واجب ہے۔تو یہ بات ان دونوں عبارتوں سے ہر گز ثابت نہیں اور اگر آپ کے استدلال کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ عبارت میں صدقہ واجبہ کا لفظ مل جائےچاہے جس باب اور جس بیان میں ہو تو
#7565 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
اقول:یالیتك اذلم تہتد الی الصواب قنعت۔بما من قبل صنعتونفسك عن الاسترسال منعت ولکنك اجبت ان تزید فی الطنبور نغمۃوفی الشطر نج بغلۃ فابتدعت القول بان الاباحۃ من التملیك وانہا تجزی فی الصدقۃ مطلقافجعلت القسیم قسماوالضد ندا مع ان کلمات العلماءفی مسائل الاباحۃ غیر قلیۃ ولاخفیۃ بل دوارۃ فی کثیر من ابواب الفقہمنہا الطہاراتومنہا الزکوۃومنہا الطلاقومنہا اللقطۃ ومنہا الہبۃومنہا الکراہیۃ وغیر ذلك وھذا شرح الوقایہ للامام الجلیل صدر الشریعۃ اول کتاب نتدراسہ فی الفقہ۔افاد فیہ رحمہ اﷲ تعالی فی اول کتاب الطہارات من باب التیممان القدرۃ ثبت بطریق الاباحۃوبطریق التملیك فان قال صاحب الماء لجماعۃ من المتیممین لیتوضأ بہذا لماء ایکم شاءوالماء یکفی لکل واحد منفرد اینتقض تیمم کل واحد لثبوت القدرۃ لکل واحد علی الانفراد اما اذا قال ھذا الماء لکم وقبضوا لا ینتقض تیممہم لانہ یبقی یہ دونوں عبارتیں ہی کیا ہیںہر کتاب میں آپ کے مدعا پر سیکڑوں دلیلیں موجود ہیں
اس شخص نے کہا:"صدقہ میں مطلقا تملیك واجب ہے عام ازیں کہ بطور اباحت ہو یا بطور تملیک۔"
آدمی کو صحیح بات نہ معلوم ہو تو جتنا ہو چکا اسی پر صبر کرنا چاہئے اور دراز لسانی سے پرہیز کرنا چاہئےلیکن آپ نے تو ایك نئے سر کا اضافہ کرنا چاہااور شطرنج کے کھیل میں گدھے کو بھی داخل کردیا کیونکہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ اباحت بھی تملیك کا ایك حصہ ہےاور صدقہ واجبہ تملیکیہ میں بھی اباحت سے کام چل جائے گاافسوس کہ اس کلام میں قسیم کو قسم اور ضد کو شریك بنادیا گیا حالانکہ ان دونوں کی تفریق کے بیان میں کتابوں کے ابواب بھرے پڑے ہیںابواب طلاق ولقطہ وہبہ کراہیہ وغیرہ میں کثرت سے یہ مسائل ہیں۔
ہم لوگ فقہ میں جو اول کتاب امام صدرالشریعۃ کی شرح وقایہ پڑھاتے ہیں اس میں کتاب الطہارۃ کی ابتداء میں ہی لکھتے ہیں:"پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل ہوجاتی ہے اور تملیك سے بھی توپانی والے نے ایك پوری جماعت سے اگر یہ کہا تم میں سے جو چاہے اس پانی سے وضو کرےاور پانی کسی ایك کے وضو بھرتھا۔پوری جماعت کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ علی سبیل الانفراد سب کی قدرت ثابت ہو گئیاور اگر یوں کہا کہ اس پانی پر تم سب قبضہ کرلو تو تیمم نہ ٹوٹے گاکیونکہ اتنا پانی جب
#7566 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
علی ملك الواہب ولم تثبت الاباحۃ لانہ لما بطل الہبۃ بطل مافی ضمنہا اھ ملخصا ونحوہ فی الفتح والبحر وغیرہافانظر کیف باینوابینہاواسمع کیف اثبتوا الاباحۃ لکل منفرد بقول المالك لیتوضأ بہ ایکم شاءمع بداہۃ انہ لاتثبت بقولہ ہذا شیئ من الملك لکل منہمولا لاحدہم افما کنت درست ہذا اوما دریت ولا وعیت ضابطالہمان ماشرع بلفظ اطعام وطعام جاز فیہ الاباحۃوما شرع بلفظ ایتاء واداء شرط فیہ التملیک ۔کما فی ظہار الدر ومجمع الانہر وغیرہما فافتح العینہل ہما قسیمان او احدھما قسم من الاخر۔
اوما علمت ان مولی الغزی لما قال ان الزکوۃ تملیك الخ قال المحقق العلائی خرج الاباحۃ او ما عرفت ان الامام صدر الشریعۃ لما قال فی النقایۃ تصرف تملیك سب کو ہبہ کیا اور تقسیم نہیں کیا تو ہبہ مشاع ہونے کی وجہ سے وہ ہبہ باطل ہوا اور کسی کے لئے اباحت ثابت نہ ہوئی ایسا ہی فتح اور بحر وغیرہ میں ہے۔تملیك اور اباحت کا فرق اس عبارت سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پہلی صورت میں اباحت ثابت فرماتے ہیں اور دوسری صورت جو ہبہ اور تملیك کی طرح ہے۔اس میں اباحت کی نفی فرماتے ہیںاگر دونوں ایك ہی ہوتے تو ایك کا ثبوت اور دوسرے کی نفی کیسے ہوتیدر اور مجمع الانہر میں ایك مشہور ومعروف ضابطہ مصرح ہے:"مالك نے کسی کھانے کی چیز کی اجازت لفظ "اطعام" سے دی کہ"اسے فلاں کو کھلادو"تو اس میں اباحت کافی ہے۔اور جس کو"ایتاء"سے اجازت دے کہ"اسے فلاں کو دے دو"تو اس میں تملیك ضروری ہے۔"تو آنکھ کھول کر دیکھ لیجئے کہ تملیك واباحت آپس میں قسیم ہیںیا ایك دوسرے کی قسم!
امام غزی نے فرمایا:"الزکوۃ تملیک:زکوۃ میں فقیر کو مالك بنانا ضروری ہے۔"
علامہ علائی فرماتے ہیں:"اس سے اباحت نکل گئی
حوالہ / References شرح الوقایہ کتاب الطہارۃ المکتبۃ الرشیدیہ ∞دہلی ۱ /۰۶۔۱۰۵€
درمختار باب کفارۃ الظہار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۵۱،€مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۵۳€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۹€
مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایۃ فصل مصرف الزکوۃ ∞نور محمد کارخانہ کتب کراچی ص۳۷€
#7567 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
یعنی الزکوۃ قال العلامۃ الشمس محمد فی شرحہا فیہ اشارۃ الی انہ لایجوز صرف الاباحۃ الخ اوما عقلت ماافاد العلامۃ البحر فی لقطۃ البحراذقال انما فسرنا الانتفاع بالتملك لانہ لیس المراد الانتفاع بدونہ کالاباحۃ ۔اوما وقفت علی قول السید الشامی فی لقطۃ ردالمحتار ان التصرف علی وجہ التملك احتراز عن التصرف بطریق الاباحۃ علی ملك صاحبہا اھ اوما سمعت العلماء یصرحون فی غیر ما موضع ان المباح لہ انما یتصرف علی ملك المبیح لا حظ لہ من الملك اصلاحتی لم یثبتوا لہ ملکا بعد زوال ملك المالکایضا قال المولی زین بن نجیم فی شرح الکنز فان قیل المباح یستھبلکہ المباح لہ علی ملك المبیع او علی ملك نفسہقلت اذا صار ماکولا زال ملك المبیع عنہولم یدخل فی ملك احد اھ واثرہ عنہ العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدرہذا وکم اسرد لك یاہذا من نقول الاسفار وہی فی الوفور والاستکثار "امام صدر الشریعۃ نے فرمایا:"(الزکوۃ)تصرف تملیکا" زکوۃ تملیك کے طور پر خرچ کی جائے گیعلامہ شمس محمد نے اس کی شرح میں کہا:اس میں اشارہ ہے کہ زکوۃ کو کسی کے لئے مباح کیا تو زکوۃ ادا نہ ہوگی

اسی طرح علماء کی تصریح ہے:"جو چیز مباح کی وہ مباح کرنے والے کی ملك پر باقی رہتی ہے جس کے لئے مباح کی گئیاس کو اس کی ملك سے کوئی تعلق نہیں رہتا"_____"وہ تو یہاں تك فرماتے ہیں:"مالك کی ملك زائل ہوجائے تب بھی ضروری نہیں کہ مباح لہ کی ملك ثابت ہو۔"

مطلب یہ ہے کہ جب مباح لہ نے اس چیز کو کھالیا تو وہ چیز مباح کرنے والے کی ملك سے نکل گئیاور کسی کی ملك میں داخل نہیں ہوئیحتی کہ کھانے والے کی ملك بھی نہ ہوئی یہی مطلب ہے ملك نفسہ کاان کا یہ قول ملا علی قاری نے اپنی کتاب حاشیہ درمیں پیش کیاالغرض اگر میں نقل کرنے پر
حوالہ / References جامع الرموز کتا ب الزکوٰۃ مصرف الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۳۳۸€
بحرالرائق کتاب اللقطۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۱۵€۸
ردالمحتار کتاب اللقطۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۱۔۳۲۰€
بحرالرائق باب الظہار فصل فی الکفارۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ /۱۰۹€
#7568 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ماتنتہی دون نقلہ الاعماروانا بحمداﷲ عالم بمناط غلطکومثارلغطك وسأنبہك علیہ عن قریبان شاء المولی القرب المجیبواما مااوہمت من اجزاء الاباحۃ فی الصدقات مطلقا فواضح البطلان عند کل من یعلم ان الزکاۃ وصدقۃ الفطر لاتغنی فیہما الاباحۃ علی المذہب الصحیح المفتی بہوقد قدمنا نصوص النقایۃ و التنویر والدر وضابط الدرو شرح ملتقی الابحروسیأتی زیادۃ علی ذلك ان اراد المالک۔
وبالجملۃ کلام الرجل ککلام مدہوش من قرنہ الی قدمہ مخدوش ونحن اذا قد اوضحنا المرام وازحنا الاوہام بتوفیق ربنا الملك العلامفلا علینا ان نقصر الکلام ونطوی بساط والرد الابرام والحمدﷲ ولی الانعام۔
تذلیل جلیل:قال العبد الذلیل بعد ہذا وقفت علی تحریر اخر لبعض جلۃ العصر من افاضل اہل السنۃ جنح فیہ نحو ماجنح اولئك القوموحکم ان لا بدہہنا من التملیك متمسکا بما تعریبہ حکم جلود الاضاحی ان یتصدق بہا اوینتفع بہا بنفسہ او یستبدلہا بما ینتفع بہ مع بقاء کالغربال و السجادۃ وغیرہما ففی صورۃ مولانا زین ابن نجیم شرح کنز میں فرماتے ہیں:"مباح کو مباح لہ مباح کرنے والے کی ملك پر ہی ختم کرتاہے یا وہ چیز خود اپنے ہی ملك پرہوتی ہے کوئی اس کا مالك نہیں"
آؤں تو ایسی نصوص کا انبار لگ جائےتو تملیك اور اباحت کے فرق کا اعلان کررہی ہیں۔
اسی طرح اس کلام کا یہ ٹکڑا کہ"صدقات میں مطلقا اباحت کافی ہے"یہ بھی غلط ہے۔اتنی بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ زکوۃ اور صدقہ فطر میں اباحت کافی نہیں ہم نے اس بات کی جزئیات تنویر اور در سے پہلے نقل کئےاور در کا ضابطہ بھی نقل کیاآئندہ مزید تفصیل کریں گے تو اس قائل کا کلام ازتا پامخدوش ہی مخدوش ہے اور ہمیں مزید رد کی ضرورت نہیں۔





ایك سنی عالم کا فتوی:البتہ علمائے اہلسنت میں سے بھی ایك بزرگ نے اس قسم کی بات کہی جو گنگوہی صاحب سے مذکور ہوئیان کا کلام یہ ہے:"قربانی کی کھال کاحکم یہ ہے کہ اس کا صدقہ کیا جائے یا اس کو خود استعمال کیا جائےیا اس کو باقی رہنے والی چیز سے بدلا جائےجیسے چھلنیمصلی وغیرہتو تصدق کی صورت میں تملیك ضروری ہے"
انھوں نے اپنے کلام سے نہ تو یہ ثابت کیا کہ
#7569 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
التصدق لا بدمن التملك اھ حاصلہ معربا۔
اقول:ھذا کلام کما تری لایکاد یرجع الی طائلفان لزوم التملیك فی التصدق لایستلزم لزومہ فی التقرب ولم یلم کلامکم بایجاب التصدق ہہنا عینا ونفی سائر وجوہ التقرب شیئا فالصغری المطویۃ ہی التی کانت محتاجہ الی البیان وقد طویتموہا و طویتم الکشح عن بیانہا فاختل البرہانوکان ملحظ ہذا الفاضل ومحط نظرہ ان حکم الجلود اذا کان دائرا بین الاشیاء الثلثۃوبالبیع بالدراہم ولو لاجل التقرب انتفی الاخیرانفتعین الاولوہو لابد فیہ من التملیك ھذا غایۃ مایقال فی تقریر کلامہعلی حسب مرامہ ھنأہ ربہ بلطفہ واکرامہ فالان۔
اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق اعلم ان للصدقۃ اطلاقات:۱ الاول: اخصہا تملیك المال من الفقیر مجانافخرج الاعارۃ والاباحۃ و ھدیۃ الغنیوالاقراض وھذا ھو المراد فی الزکوۃ و صدقۃ الفطروبہذا المعنی یقال ان الصدقۃ لابد فیہا من التملیك وحینئذ لاتدخل فیہا الکفارات لجواز الاباحۃ کھال کا صدقہ واجبہ ہے۔نہ یہ ثابت کیا کہ اس کو کسی او ر کار ثواب میں نہیں لگایا جاسکتاحالانکہ یہی دلیل کا صغری ہے۔ بے اس کے ثبوت کے دلیل ہی بیکار ہے۔ان بزرگ کی غلطی کی بناء یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ قر بانی کی کھال صدقہ کرنے بعینہ اس سے انتفاع حاصل کرنے یا باقی رہنے والی چیز سے استبدال میں منحصر ہے۔اورجب بعینہ انتفاع اور استبدال بالباقی کی صورت نہ پائی گئیتو تصدق معین ہوگیا اور اس میں تملیك ضروری ہے(الله تعالی انھیں اپنے لطف سے نوازے)یہ ان کے کلام کی انتہائی توجیہ ہے۔
لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ شرح میں صدقہ کا اطلاق متعدد چیزوں پر ہوتاہے۔
(۱)تملیك المال من الفقیر"اس صورت میں عاریۃ۔ اباحۃہدیہ غنیقرض وغیرہ سب صدقہ سے نکل گئےاور صدقہ فطر اور زکوۃ میں لفظ صدقہ سے یہی مراد ہوتی ہے اور اسی صدقہ کے لئے کہا جاتاہے کہ ا س میں تملیك ضروری ہے۔تو صدقہ کفارہ اگر چہ صدقہ واجب ہے لیکن اس معنی
#7570 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فیہا قطعا(عہ)۔ولذا قال فی ظہار التنویرصحت الاباحۃ فی طعام الکفارات والفدیۃ دون الصدقات و العشر اھ قال السیدان الفاضلان احمد الطحطاوی ومحمد الشامی(قولہ دون الصدقات)ای الزکوۃ و صدقۃ الفطر اھ فانظر کیف اخرج الکفارات من الصدقات۔
۲الثانی: تمکین الفقیر من المال مجانا وھنا یقطع النظر عن التملیك ویکتفی میں وہ صدقہ نہیں کیونکہ اس میں اباحت بھی جائز ہے۔
تنویر میں ہے:"کفارہ اور فدیہ کے صدقہ میں اباحت جائز ہے۔صدقات اور عشر میں نہیں۔"
لفظ صدقہ کی تفسیر میں شامی اور طحطاوی نے کہا:"صدقات سے مراد زکوۃ اور صدقہ فطر ہے"یہاں کفارہ صدقہ واجبہ ہونے کے باجود صدقات سے خارج ہے۔
(۲)"فقیر کو مال پر قابو دے دینا"یہاں تملیك سے قطع نظر ہوتی ہے۔اوریہ انتفاعتصرف اور

عہ:ای فی نوع الطعام منہا اما الکسوۃ فی کفارۃ الیمین فلا تکفی فیہا الاباحۃ کما فی البحر وغیرہ فلیحفظ ہذا المرادوانا اقول:خروج الکسوۃ ضروری فان الاباحۃ انما تکون ماینتفع بہ باستھلاکہ کالماکولات و المشروبات والکسوۃ لیس ھذا کمالایخفی والحاصل ان عندی فرقا بین الاباحۃ والاعارۃ مطلقاواﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز یعنی ان اقسام میں سے طعام میں اباحت ہے۔لیکن کفارہ یمین میں لباس میں اباحت کافی نہیں ہے لیکن جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے تواس مراد کو محفوظ رکھو اقول:(اور میں کہتاہوں)لباس کا خروج یہاں ضروری ہے کیونکہ اباحت صرف ایسی چیز میں ہوسکتی ہے جس کو ہلا ك کرکے انتفاع حاصل کیا جائے جیسے ماکولات و مشروبات جبکہ لباس ایسی چیز نہیں ہے جیساکہ مخفی نہیں ہے۔حاصل یہ کہ میرے نزدیك اباحت اور عاریۃ دینے میں فرق ہے۔والله تعالی اعلم ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز(ت)
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطلاق باب الکفارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵۱€
ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الطلاق باب الکفارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۸۴،€حاشیہ الطحطاوی کتاب الطلاق باب الکفارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۰۲€
#7571 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
باطلاق الانتفاع۔والتصرف والاستھلاك الصادق بہ وبالاباحۃ وبھذا المعنی تشمل الکفارات فتعد من الصدقات الواجبۃ کما قال القہستانی والشامی وغیر ہما فی مصرف الزکوۃ"انہ ہو مصرف ایضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذلك من الصدقات الواجبۃ اھ وبہ علم ان ہذین المعنین لا یتعدا ھما الواجب من الصدقات والخلط بینہما کانہ ھوالذی حد ذلك الرجل الوھابی ان جعل الاباحۃ من التملیکوذلك انہ رأی فی الفتح مایقصر الصدقۃ علی التملیك ورأی فی ردالمحتار مانقلنا انفا وھو یفیدان الکفارۃ ایضا من الصدقات وقد نقل العبارتین فی فتواہ فأظن انہ نظم منہا شکلا و استنتج منہ ان الکفارۃ لابد فیہا من التملیك وکان داریا ان الاباحۃ تسوغ فیہافلم یتمالك نفسہ ان حکم بکون الاباحۃ قسما من التملیك لانہ اضطربت لدیہ الاقوال۔وضاق علیہ میدان المجال ولم یدرالتفصی عن الاشکال الابایداء ہذا المحال ولم یعرف المسکین فرق المحالوان تغیر الاوسط یہدم الاشکال استہلاك سبھی صورتوں کو شامل ہوتاہے جو تملیك اور اباحت دونوں صورتوں میں ہوسکتاہے صدقہ اس معنی میں کفارہ پر بولاجاتاہے۔جو صدقہ واجبہ سے ہے اس کو لینے کا اہل وہی ہے جو زکوۃ کا اہل ہے۔
چنانچہ قہستانی وشامی وغیرہ نے کہا:"جو فقیر مصرف الزکوۃ ہے وہی صدقہ فطرکفارات اورنذر وغیرہ کا مصرف ہے۔"
صدقہ کے یہ دونوں معنی صدقات واجبہ میں ہی متحقق ہونگےشاید اسی بات نے اس وہابی آدمی کو یہ جرأت دلائی کہ اس نے اباحت کو بھی تملیك میں شمار کیا کہ انھوں نے فتح القدیر میں دیکھا"صدقہ کے لئے تملیك ضروری ہے"اور رد المحتار کی بھی نقل شدہ عبارت میں دیکھا کہ کفارہ بھی صدقات میں سے ہے۔یہ دونوں عبارتیں اس نے اپنے فتوی میں نقل کی ہیں اور اس سے قیاس ترتیب دے کے یہ نتیجہ نکالا کہ کفارہ کے لئے بھی تملیك ضروری ہے اور یہ جان ہی رہے تھے کہ کفارہ میں اباحت ہے۔تو اس فیصلہ میں اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے کہ اباحت بھی تملیك کا ہی ایك حصہ ہے کیونکہ اقوال انھیں مضطر ب نظرآئے اور ان میں تطبیق دے نہ پائے تو یہ محال بات بول دی اور قیاس ترتیب دیتے ہوئے انھیں یہ پتہ نہ چلا کہ حد اوسط مکرر نہ ہونے سے نتیجہ غلط ہوتا ہےفتح القدیر کی عبارت"الصدقۃ
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ اقہستانی کتاب الزکوٰۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۸€
#7572 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فان التی یجب فیہا التملیك ہی الصدقۃ بالمعنی الاخص الوارد فیہا لفظ الایتاء او الاداء او مایؤدی مؤادھماوالکفارات لیست من الصدقات بہذا المعنی فلا شکل ولا اشکالوالحمدﷲ المہین المتعال علی انہ ان قطع النظر عن ہذا التحقیق النفیس الانیس الدقیقفکان السبیل ان یقال باستثناء الکفارات من حکم وجوب التملیك کما فعل الفاضل القہستانی حیث قال تحت قول النقایۃ تصرف تملیکا یستثنی منہ اباحۃ الکفارۃ اھ لا ان یرتکب مثلك ہذا المحالوباﷲ العصمۃ عن الزلل و الضلال ہذا ما وعدناك فلنعد الی شرح اطلاقات الصدقۃ۔
۳الثالث وربما یقطع النظر عن الفقر ایضافتشمل التملیك والاباحۃ للفقیر والغنیقال فی التوسط شرح سنن ابی داؤد الصدقۃ ماتصدقت بہ علی الفقراء ای غالب انواعہا کذلك فانہا علی الغنی جائزۃ عندنا یثاب بہ بلاخلاف اھ وقال فی یجب فیہ التملیک"میں صدقہ سے مراد صدقہ خاص بمعنی اول ہے۔اور"الکفارات تجوز فیہ الاباحۃ"کا صدقہ ہونا بمعنی ثانی ہے۔حالانکہ قہستانی ان کی راہ کشادہ کرچکے تھےوہ فرماتے ہیں"انہ تصرف تملیکا یستثنی منہ الکفارات" صدقات واجبہ میں تملیك ضروری ہے لیکن کفارہ اس سے مستثنی ہے۔






(۳)صدقہ کا ایك اطلاق یہ ہے کہ تملیك واباحت اور فقیر وغنیدونوں کو عام ہوتو سط شرح ابوداؤد میں ہے:
"صدقہ یہ ہے کہ فقیروں کو دیا جائے(مطلب یہ کہ صدقہ میں عموما یہ ہوتاہے)ورنہ صدقہ ہمارے نزدیك مالدار کو بھی دینا جائزہے"۔
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ فصل مصرف الزکوٰۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۳۸۔۳۳۷€
التوسط شرح سنن ابوداؤد
#7573 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ردالمحتار عن البحر الرائق الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجازا عن الہبۃ عند بعضہم وصرح فی الذخیرۃ بان فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر اھ و روی احمد و الطبرانی فی الکبیر عن المقدام بن معد یکرب رضی اﷲ تعالی عنہقال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انك مااطعمت زوجتك فہو لك صدقۃ وما اطعمت ولدك فہو لك صدقہوما اطعمت خادمك فہولك صدقۃ۔ ولہ فیہ عن ابی امامۃ الباہلی رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماانفق الرجل فی بیتہ واہلہ وولدہ فہو لہ صدقۃ ۔
الرابع ربما تطلق حیث لاتملیك و لااباحۃ اصلا وانما ھو تصرف مالی قصد بہ نفع المسلمین کحفر الابار وکروی الانہار وبناء الربط والجسور والمساجد و المدارس وغیر ذلك وعن ہذا تقول انہا صدقات جاریۃ ومن ذلك قولہم فی الاوقاف صدقۃ مؤبدۃ و علیہ جاء قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ردالمحتارمیں بحرالرائق سے منقول ہے:"صدقہ مالداروں پر بھی ہوتا ہے کہ مجازا ہبہ کو صدقہ کہتے ہیںاور ذخیرہ میں تشریح ہے کہ مالدار کا صدقہ فقیروں کے صدقہ سے کم ثواب والاہوتاہے۔
احمد وطبرانی نے کبیر میں مقدام بن معد یکرب رضی الله تعالی عنہ سے روایت کی:"رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بیوی کو کھلایا تو صدقہجو اولاد کو کھلایا تو صدقہجو خادم کو کھلایاوہ بھی صدقہ"۔
طبرانی میں ابوامامہ باہلی رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے: "آدمی اپنے گھر میں جو کچھ اہل وعیال اور خادموں پر خرچ کرتا ہے وہ سب صدقہ ہے۔"
(۴)اس اطلاق میں نہ تملیك ہے نہ اباحتیہ ایك قسم کا تصرف مالی ہے جس سے مسلمانوں کو نفع پہنچانا مقصو د ہونا ہے۔جیسے کنواں بنانانہریں تیار کرنامسافر خانے اورپل بنانا مساجد اور مدرسوں کی تعمیر کرنااورانھیں امور خیر میں صرف کرنے کوصدقہ جاریہ کہتے ہیں:اور اوقات کو اسی معنی میں صدقہ موبدہ کہا جاتاہے۔حدیث شریف میں ہے: "حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے پاس
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۵۷€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۳۴€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۰ /۲۶۸€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۴۷۶€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۸ /۱۱۲€
#7574 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
اذ اتاہ سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فقال یارسول اﷲ امی ماتت فای الصدقۃ افضلقال سقی الماءفحفر بئرا و قال ھذہ لام سعد کما اخرجہ احمد وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان و الحاکم عن سعد وابو یعلی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ فقد سمی سقی الماء بحفر البئر صدقۃ ومعلوم ان لاتملیك فیہ ولااباحۃ فان من شرطہا ان یکون الماءفی ملك المبیح کما لایخفی علی احد وقد قال صدر الشریعۃ انہم لمالم یمبلکہ لاتصح اباحتہم۔اھ وقد نص علمائنا ان ماء البئر غیر مملوك لصاحبہاففی الہدایۃ البئر ونحوہا ماوضع للاحراز ولا یملك المباح بدونہ ۔وفی فتاوی العلامۃ خیر الدین الرملی حضرت سعد ابن عبادہ رضی الله تعالی عنہ آئے اور عرض کی یا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم)میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے تو کون سا صدقہ اسے مفید ہوگا حضور نے فرمایا:لوگوں کوپانی سے سیراب کرناانھوں نے ایك کنواں کھدوادیا اور اعلان کردیا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے"(احمد وابوداؤد ونسائی ابن ماجہحاکمابن حبان عن ابی یعلی عن ابن عباس)
تو اس حدیث میں پانی کی سیرابی کو صدقہ قراردیا جس میں نہ تملیك ہے نہ اباحتکیونکہ اباحت کے لئے شرط یہ ہے کہ شیئ مباح مباح کرنے والے کی ملك ہوصدرالشریعہ فرماتے ہیں:"جب مال موقوفہ پر مالکوں کی ملك نہ رہی تو ان کی طرف سے اباحت بھی درست نہیں"
اس طرح علماء نے تصریح فرمائی:کنویں کا پانی کنویں والے کی ملك نہیں"
ہدایہ میں ہے:"کنواں اور اس کے مثل جو چیز یں ہیں قبضہ کرکے نہیں رکھی گئیںاور قبضہ کے بغیر مباح پر ملك ثابت نہیں ہوتی"۔
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب فضل سقی الماء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۶،€سنن النسائی کتاب الوصایا فضل الصدقۃ عن المیت ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۳،€مسند احمد بن حنبل حدیث سعد بن عبادہ رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۲۸۵ و ۶/ ۷،€موارد الظمان الی زوائد ابن حبان کتاب الزکوٰۃ باب سقی الماء المطبعۃ السلفیہ مکہ المکرمۃ ∞ص۲۱۸€
الہدایۃ کتا ب احیا ء الموات فصل فی المیاہ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۸۳€
#7575 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فی الولوالجیۃ وکثیر من الکتب لو نزح ماء بئر رجل بغیر اذنہ حتی یبست لاشیئ علیہ عــــــہ لان صاحب البئر غیر مالك للماء اھ فاذن لایکون الا تقربا الی اﷲ تعالی بتصرف فی مالہ لنفع المسلمین وعلی ھذا سائر القرب المالیۃ سواء فی دخولہا فی معنی الصدقۃ۔
وقد قال الامام فقیہ النفس قاضی خاں فی الخانیۃ قریۃ فیہا بئر مطویۃ بالاجر خربت القریۃ و انقرض اھلہا وبقرب ہذہ القریۃ قریۃ اخری فیہا حوض یحتاج الی الاجر فارادوا ان ینقلوا الاجر من القریۃ التی خربت ویجعلوھا فی ھذا الحوضقالوا ان عرف بانی تلك البئر لا یجوز صرف الاجر الا باذنہ لانہ عادالی مبلکہ وان لم یعرف البانی قالوا الطریق فی ذلك ان فتاوی خیریہولوالجیہ وغیرہ بہت سی کتابوں میں ہے:"اگر کسی نے کسی کنویں کا پانی نکال کر کنواں خشك کردیا تو نکالنے والے پر کوئی تاوان نہیں اس لئے کہ کنویں والا پانی کا مالك نہیں"۔
تو یہ صدقہ اسی معنی پر ہے کہ الله کے تقرب کے لئے اپنا مال مسلمانوں کے نفع کے خاطر صرف کررہا ہے اور اس معنی میں سارے مالی کا رخیر صدقہ قرار دئے جانے میں برابر ہیں۔
اطلاق نمبر ۴ کی دوسری مثال:امام فقیہ النفس قاضیخان فرماتے ہیں:"ایك دیہات میں پختہ کنواں تھادیہات اجڑ گیا اور کنواں معطل ہوگیااس کے قریب دوسرے دیہات والوں نے اس کی اینٹیں اپنے حوض میں لگانی چاہیںاگر کنویں کا بنانے والا موجود ہے تو اس سے اجازت لینی ضروری ہے کیونکہ تعطل کے بعد اینٹیں بانی کی ملك ہوگئیںاور بانی کا پتہ نہ چلے تو وہ اینٹیں فقیر کو دے دی جائیںاور وہ اپنی طرف سے اس کو حوض میں لگادےکیونکہ وہ اینٹیں اب لقطہ

عــــــہ: قلت ای لا ضمان لان الاتلاف صادف مباحا غیر مملوك لاحد اما التعزیر فینبغی ان یکون فیما یظہر اذا فعلہ لمحض الاضرار ولا ضرر ولاضرار فی الاسلام ۱۲ منہ۔ میں کہتا ہوں یعنی ضمان نہیں ہے کیونکہ یہ ایسی مباح چیز کا اتلاف ہے جس کا کوئی مالك نہیں ہے لیکن تعزیر مناسب ہوگی جبکہ وہ بطور ضرر رسانی ایسا کرے کیونکہ اسلام میں ضرروضرار کی ممانعت ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب احیاء الموات فصل فی مسائل الشرب دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۸۶€
#7576 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
یتصدق بہا علی فقیر ثم ذلك الفقیر ینفقھا فی ذلك الحوض لانہ بمنزلۃ اللقطۃ والاولی ان ینفق القاضی فی ہذا الحوض ولا حاجۃ فیہ الی التصدق علی الفقیر اھ وفی الہندیۃ عن الواقعات الحسامیۃ فیما اذا لم یعلم الغارسالحکم فی ذلك الی القاضی ان رأی بیعہا وصرف ثمنہا الی عمارۃ المقبرۃ فلہ ذلك اھ وقال فی الخانیۃ قبلہ نبت الاشجار بعد اتخاذ الارض مقبرۃ فان علم غارسہا کانت للغارس وان لم یعلم فالرأی للقاضی ان رأی ان یبیع الاشجار و تصرف ثمنہا الی عمارۃ المقبرۃ فلہ ذلکوتکون فی الحکم کانہا وقف اھ
قلت ای فی انہ مال مصروف الی وجوہ البر اما الوقف فلا لما فی الخانیۃ ایضارجل جعل ارضہ مقبرۃ وفیہا اشجار عظیمۃقال الفقیہ ابوجعفر رحمہ اﷲ تعالی وقف الاشجار لایصح فتکون الاشجار للواقف ولورثتہ (گری پڑی چیز)کے حکم میں ہے۔اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ قاضی اپنے حکم سے اسے حوض میں لگادے اس طرح فقیر کو دینے والے حیلہ سے نجات مل جائے گی"
عالمگیری اور واقعات حسامیہ میں ہے:"اگر قبرستان میں درخت لگانے والے کا پتہ نہ چلے تو قاضی اپنی صوابدیدپراس کو بیچ کر اس کی قیمت قبرستان کی درستگی میں صرف کرسکتاہے "خانیہ میں ہے:"زمین کو مقبرہ بنانے کے بعد اس میں درخت اگ آئےلگانے والا معلوم ہو تو وہ اسی کا ہے۔اور لگانے والا معلوم نہ ہو تو رائے قاضی کی ہے اسے بیچ کر قبرستان کی مرمت میں لگاسکتاہے۔اس کا حکم وقف ہی کا ہے"
مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقف ایك ایسا مال ہے جو مصارف خیر کے لئے ہی ہے اسی طرح اس درخت کا مصرف بھی مصارف خیر ہیںوہ درخت خود وقف نہیں ہوجاتا۔اسی خانیہ میں ہے:"ایك آدمی نے زمین مقبرہ کے لئے وقف کی جس میں درخت ہیںفقیہ ابوجعفر کا فرمان ہے کہ چونکہ درختوں کا وقف صحیح نہیں اس لئے وہ درخت واقف کے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی الوقف المنقول الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۲۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۷۴€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الاشجار ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۲۴€
#7577 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ان ماتوکذا البناء فی الدار التی جعلہا مقبرۃ اھ۔ ومعلوم ان حکم اللقطۃ ھو التصدق الا ان یکون الملتقط فقیرافیصرف الی نفسہ وھو ایضا من باب التصدق من المالکبل قال فی الدرالمختار عن العمدۃ وجد لقطۃ وعرفہا ولم یر ربہا فانتفع بہا لفقرہ ثم ایسر یجب علیہان یتصدق بمثلہ اھ وان کان المختار خلافہ کما فی البحر والنہرعن الولو الجیۃ والہندیۃ وجامع الرموز عن الظہیریۃ قلت لان الصدقۃ اصابت محلہا فلا تتغیر بتغیر حالہ کفقیر اخذ الزکوۃ ثم ایسر لیس علیہ ردھا وبالجملۃ الحکم ھہنا التصدق وقد نصوا علی جوازصرفہ الی عمارۃ المقبرۃ واصلاح الحوضومن ذلك مافی الرحمانیۃ عن الاجناس اذا خرب مسجد ولا یعرف بانیہ وبنی اھل المسجد مسجد ا آخر ثم اجمعوا علی بیعہواستعانوا بثمنہ فی ثمن المسجد الاخر فلا باس بہوہذا قول محمد خلافا لابی یوسف فانہ مسجد ابدا عندہ اھ وفی السراجیۃ مسجد عتیق لایعرف بانیہ خربت فاتخذ بجنبہ ہوں گےاو روہ مرگیا تو اس کے ورثہ کی ملك ہوں گےاور یہی حکم اس کمرہ کا ہے جو ایسے دار میں ہو جس کو مقبرہ کردیا گیا ہو۔"
رحمانیہ کا جزئیہ ہے:"مسجد ویران ہوگئی جس کے بانی کا پتہ نہیں اور لوگوں نے دوسری مسجد بنالیپھر ان کی رائے ہوئی کہ ویران مسجد بیچ کر اس کی قیمت اس مسجد میں لگائیںتو امام محمد کے نزدیك اس میں حرج نہیںاور قاضی ابویوسف کے نزدیك وہ ایسانہیں کرسکتے کہ وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی"
سراجیہ میں ہے:"پرانی مسجد جس کے بانی کا پتہ نہیں وہ ویران ہوگئی لوگوں نے اسی کے قریب دوسری مسجد بنالیتو قاضی ابویوسف کے نزدیك ویران مسجد کا سامان بیچ کر آباد مسجدمیں نہیں لگا سکتےاور امام محمد کو اس میں اختلاف ہے۔اورفتوی قاضی ابویوسف رحمہ الله تعالی کے قول پر ہے"
اس کی وجہ وہی ہے کہ مسجد ڈھے کر ناقابل استعمال ہوگئی اور لوگ مستغنی ہوگئےتو امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ کے نزدیك اس کا مالك بانی ہوجاتاہے۔اور جب بانی کا پتہ نہ چلے تو وہ لقطہ ہوگئیاور امام محمد رحمۃ الله علیہ اس کو دوسری مسجد کی تعمیر
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی المقابر والرباطات ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۲۵€
درمختار کتاب اللقطۃ∞ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۶۶€
رحمانیہ
#7578 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
مسجد اخرلیس لاہل المسجد ان یبیعوہ و یستعینوا بثمنہ فی مسجد اخر عند ابی یوسف خلافا لمحمد وعلیہ الفتوی ۔وذلك ان المسجد اذا خرب والعیاذ باﷲ واستغنی عنہ یعود عند محمد الی ملك البانیکما فی التنویر وغیرہ فاذا لم یعرف بانیہ صار لقطۃوقد قال الامام محمد ح صرفہ الی مسجد اخر فعلم ان التصدق الماموربہ فی اللقطۃ ہو بہذا المعنی الرابع الداخل فیہ الصرف الی المقابر والحیاض والمساجد وہذا الا طلاقات کلہا فقہیۃ کما تری۔







الخامس قد یتوسع فیقطع النظر عن قید المال ایضاویطلق علی کل نفع للغیر بایصال الخیر اودفع الضیر کیفما کان ومن ذلك حدیث تکرار میں صرف کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
تو جب ہمچوں قسم کی اشیاء کاحکم لقطہ کاہوا تو یہ بات صاف ہوگئی کہ اس کا حکم صدقہ کرناہے۔ہاں پانے والا فقیر ہو تو اپنے او پر خرچ کرے کہ یہ بھی صدقہ ہے۔بلکہ درمختار میں عمدہ سے نقل کیا کہ فقیر نے لقطہ پایا اور اس کو اپنے اوپر خرچ کیاپھر مالدار ہوگیا تو اس کا صدقہ کرےاگر چہ فتوی اس کے خلاف ہے۔(بحر ونہر عن الولوالجیہ وجامع الرموز من الظہیریۃ)
میں کہتاہوں قرین قیاس بھی یہی ہے کہ صدقہ اپنے محل کو پہنچ گیاتو حالت کے بدلنے سے اس کا حکم نہیں بدلے گاجیسے فقیر مال زکوۃ کھاتا رہا اب مالدا ر ہوگیا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ جتنی زکوۃ کھائی سب واپس کر اور فقیر وں پر صدقہ کر۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایسے مال کاحکم صدقہ کا ہے اور اسی کو عمارت مقبرہ اور اصلاح حوض میں صرف کا حکم دیتے ہیں
میں صرف کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
تو معلوم ہوا کہ صدقہ کا یہ اطلاق اسی چوتھے معنی میں ہے اور اس کا مقابرحوض اور مسجد میں صر ف کرنا صدقہ ہی ہے حالانکہ نہ یہاں تملیك نہ اباحتنہ مالدار نہ فقیراور یہ بھی واضح ہو کہ یہ سارے اطلاقات فقہیہ ہیں۔
(۵)کبھی صدقہ سے مال ہونے کی قید بھی ختم کردیجاتی ہے اور مطلقا غیر کو نفع پہنچانےاور اس سے ضرر دفع کرنے کو صدقہ کہا جاتاہے۔اس کی مثال وہ حدیث ہے کہ منفرد کے ساتھ مل کر جماعت
حوالہ / References فتاوٰی سراجیہ کتاب الوقف باب اجارۃ الوقف وبیعہ ∞نولکشور لکھنؤ ص۹۳€
#7579 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
الجماعۃ المروی فی جامع الترمذی وغیرہ الارجل یتصدق علی ھذا فیصلی معہ وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل سلامی من الناس علیہ صدقۃ کل یوم تطلع فیہ الشمس تعدل بین الاثنین صدقۃ بینہما وتعین الرجل علی دابتہ فتحمل علیہا او ترفع لہ علیہا متاعہ صدقۃ والکلمۃ الطیبۃ صدقۃ ودل الطریق صدقۃ وتمیط الاذی عن الطریق صدقۃ ۔اخرجہ احمد والشیخان عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ
وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مامن رجل مسلم یصاب بشیئ فی جسدہ فیتصدق بہ الارفعہ اﷲ بہ درجۃ وحط عنہ خطیئتہ ۔اخرجہ احمد والترمذی وابن ماجۃ عن ابی الدرداء واحمدوالضیاء نحوہ عن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہما باسناد صحیح۔ کرنے کا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان الفاظ میں حکم دیا:
"الارجل یتصدق علی ہذا فیصلی معہ کوئی اس پر صدقہ کرے اس کے ساتھ ملك کر نماز پڑھے"
یوں ہی سرکار فرماتے ہیں:"آدمی کے ہر جوڑ پر ہر دن صدقہ ہے۔تو دو آدمیوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہےآدمی کو جانور پر سوار ہونے میں مدد دینا صدقہ ہے۔آدمی کا بوجھ لاد دینا صدقہ ہے۔اچھی بات صدقہ ہے۔راستہ بتانا صدقہ ہے۔راستہ سے کوڑا کرکٹ دورکردینا صدقہ ہے۔(احمد ومسلم و بخاری عن ابی ہریرۃ رضی الله عنہ)
یونہی یہ حدیث شریف:"آدمی کے جسم میں تکلیف ہو تو جو اس پر صدقہ کرے اور مدد کرے تو الله تعالی اس کا درجہ بلند کرے گا اور گناہ معاف کرے گا(احمدترمذیابن ماجہ عن ابی الدرداءاحمد وضیاء نحوہ عن عبادۃ باسناد صحیح)
حوالہ / References سنن ابو داؤد کتاب الصدقات باب فی المجمع فی المسجد مرتین ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۸۵،€جامع الترمذی ابواب الصلوٰہ باب ماجاء فی الجماعۃ فی مسجد الخ ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۳۰€
صحیح البخاری کتاب الجہاد با ب من اخذ بالرکاب ومخوہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۱۹،€صحیح مسلم کتا ب الزکوٰۃ باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۵،€مسند احمد بن حنبل مسندا بوہریرہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۳۱۶€
جامع الترمذی ابواب الدیات باب ماجاء فی العفو ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۶۷،€سنن ابن ماجہ ابواب الدیات باب العفو فی القصاص ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۷،€مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۴۴۸€
#7580 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
السادس قدیستقصی فی التوسع فیقطع النظر عن الغیر ایضا ویطلق علی کل فعل حسن محمود فی الشرع فانہ ان لم یکن تصدقا علی غیرہفتصدق علی نفسہومن ذلك قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی حدیث ابی ہریرۃالمار کل خطوۃ تخطوہا الی الصلوۃ صدقہ ۔وجاء فی حدیث کل تکبیرۃ صدقۃ ۔وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل معروف صدقۃ اخرجہ احمد والبخاری واخرون عن جابر واحمد و مسلم وابوداؤد عن حذیفۃ والطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود والبیہقی فی الشعب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہمزاد عبد بن حمید والحاکم و صححہ فی حدیث جابر ہذا وما انفق المسلم من نفقۃ علی نفسہ واہلہ کتب لہ بہا صدقۃ ۔وتتمہ حدیث المقدام المقدم (۶)اور کبھی لفظ صدقہ بھی توسع کی انتہا ہوجاتی ہے کہ ہر فعل محمود ومشروع کو صدقہ کہتے ہیں کہ دوسرے پر صدقہ نہ ہو تو اپنے پر توہے۔
"مسجد کی طرف بڑھنے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ہر تکبیر صدقہ ہے۔ہر نیکی صدقہ ہے۔(احمد وبخاری و آخرون عن جابراحمد ومسلمابوداؤدعن حذیفہ طبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود بیہقی عن ابن عباس)عبدابن حمید وحاکم نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا اور حاکم نے اس کی تصحیح کی: "مسلمان نے اپنے اور اہل وعیال کے لئے جو خرچ کیا اس پر صدقہ کا ثواب ملے گا"
نمبر ۳ میں ذکر کی ہوئی حدیث مقدام ابن معدیکرب رضی الله تعالی عنہ کا تتمہ یہ ہے:"اورجو خود کھایا صدقہ ہے"
ان اطلاقات کو خوب ذہن نشین کرلیںشائد کہ اس تحریر کے علاوہ اس تفصیل سے نہ ملےاب صرف یہ فیصلہ رہ جاتا ہے۔ کہ قربانی کے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجہاد ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰۴ و ۴۱۹،€صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲€۵
صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ المسافرین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۰€ و کتاب الزکوٰۃ ∞۱/ ۳۲۴€
صحیح البخاری کتا ب الادب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۹۰،€صحیح مسلم کتا ب الادب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۴،€
سنن ابوداؤد کتا ب الادب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۲۰،مسند احمد بن حنبل ۵ /۳۹۷€ والمعجم الکبیر ∞حدیث ۱۰۰۴۷ و۱۰۴۱۲ ۱۰/۱۱۰ و ۲۳۲€
المستدرك للحاکم کتاب البیوع دارالفکربیروت ∞۲ /۵۰€
#7581 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ذکرہ وما اطعمت نفسك فہو لك صدقۃ اتقن ہذا فلعلك لاتجدبیان تلك الاطلاقات الا فی ہذہ الوریقات واﷲ سبحانہ واھب العطیات۔
ثم ان المراد بالتصدق فی قولہم فی الاضاحی یتصدق بالثلث وقولہم یندب ان لا ینقص الصدقۃ عن الثلثلیس ھو المعنی الاخص الاولکیفو قد اجمعوا علی اباحۃ الاباحۃ فی القربانفلایمکن تعیین الاخص المنحصر فی التملیك ویتضح ذلك فی قولہ مجمع الانہر وغیرہ الجہات ثلث الاکل والادخار و التصدق ھ فاین الاطعام العام الغیر المخصوص بالتملیك المنصوص علیہ فی قولہ عز مجدہ " و اطعموا القانع والمعتر " ۔وقد استدل فی الہدایۃ بالایۃ علی قول البدایۃ یستحب ان لاینقص الصدقۃ عن الثلث قائلا ان الجہات ثلث الاکل و الادخار لما روینا و الاطعام لقولہ تعالی و اطعموا القانع والمعتر و انقسم علیہا اثلاثۃ اھ سلسلہ میں جس صدقہ کاذکر آیا ہے وہ ان اطلاقات میں سے کسی اطلاق کے تحت آیا ہے۔تو یہ طے ہے کہ نمبر اول مراد نہیں ہے۔کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ قربانی کے گوشت کو بطور اباحت کھلاسکتے ہیں تو اس معنی پر محمول کرنا صحیح نہ ہوگا جس میں تملیك ضروری ہے اور یہ بات مجمع الانہر وغیرہ کے قول کے ملانے سے صاف ظاہر ہوجاتی ہے۔چنانچہ صاحب مجمع فرماتے ہیں:"قربانی کے مصرف کی تین حیثیت ہے: کھانا جمع کرناصدقہ کرنا"
حالانکہ قرآن شریف میں کھلانے کا صریح ذکر ہے تو ظاہر ہے کہ یہ کھلانا جس میں اباحت کا فی ہوجاتی ہے صاحب مجمع نے لفظ صدقہ کہہ کر اس کو بھی مراد لیاہے۔
اسی طرح صاحب ہدایہ نے صاحب بدایہ کے اس قول کی دلیل دی:"صدقہ ثلث سے کم نہ ہونا چاہئے"۔
صاحب بدایہ کہتے ہیں:"اس لئے کہ جہتیں تین ہیں: کھانا جمع کرنایہ تو حدیث سے ثابت ہے۔اور کھلانایہ قرآن سے ثابت ہے کہ محتاج کو کھلاؤتو تینوں کے لئے ایك ایك ثلث رکھا گیا"
حوالہ / References المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۳۴€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۰ /۲۶۸€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۲۱€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۳۶€
الہدایۃ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۴۸€
#7582 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فلو کان المراد بالصدقۃ ہو المعنی الاخص لما انطبق الدلیل علی المدعی کما لا یخفیواذ قد علمت ان الصدقۃ لہا اطلاقات وان لزوم التملیك انما ہو فی المعنی الاول وانہ غیر مراد ہہناوجب ان لایکون مرادا ایضا قولہم یتصدق بجلدہا فان التصدق ھہنا ھو عین التصدق فی قولہم یتصدق بالثلث یرشد ك الیہ تعلیل الہدایۃ بقولہ لانہ کجزء منھا فثبت ان لیس تصدق الجلد ممایقتصر علی التملیك حتی لو صنع منہ دلواووقفہ علی بئر مسجد لیستسقی المتوضؤون جاز عــــــہ قطعا فسقط الاحتجاج رأسا۔
بقی انہ اذ لیس المراد الاول فای البواقی یراد وانما البینۃ علی من یدعینعم ان سألتنا التبرعفنقول حدیث نبیشہ الخیر الہذلی رضی اﷲ تعالی عنہ یہدینا الی مطلق الائتجار الحاصل بسائر وجوہ القرب فلیکن المراد ھو المعنی الرابعوہو الغالب فی الصدقات النافلۃ۔ اب اگر صاحب ہدایہ کے قول"صدقہ ثلث سے کم نہ ہو "میں لفظ صدقہ سے مراد وہ نہیں جس میں تملیك ضروری ہوا ور جب گوشت میں یہ ثابت ہوچکا تو حسب قول ہدایہ "کھال بھی قربانی ہی کا جزہے"کھال کا بھی یہی حکم ہوگا کہ اس میں بھی تملیك ضروری نہ ہوگی مسجد میں پانی نکالنے کے لئے اس کا ڈول بن سکتاہے۔القصہ ان لوگوں کا ہدایہ اور کافی وغیرہ سے استدلال ساقط ہے۔




اب ایك رہ گیاقربانی میں اگر صدقہ بمعنی اول مراد نہیںتو بقیہ معانی میں سے کون سے معنی مراد ہیںاس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے ہمیں تو تملیك والے صدقہ کی نفی سے کام تھاجب یہ مراد نہیں تو صدقہ اور جس معنی میں مراد لیا جائے ہمارا مقصد حاصل ہے۔مگر تبرعا ہم وہ بھی بتادیتے ہیں۔

عــــــہ: ای علی المفتی بہ من جواز وقف المنقول حیث تعورف وقد تعارف المسلمون وقف الدلو والرشاعلی ابارا لمساجد اھ ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز یعنی مفتی بہ قول پر کہ منقول چیز کا وقف جائز ہے جب متعارف ہو اور بیشك مسلمانوں میں ڈول اور رسی وغیرہ مساجد کے کنوؤں کے لئے مروج ہے اھ ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز(ت)
#7583 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
علی ان قد بینا ان معنی المنع لیس ترك التصدق المامور بہفانہ غیر المامور بہ ہہنا رأسا بل المعنی قصد التمول المنہی عنہ فی کل ماتقرب بہ الی المولی سبحنہ وتعالی وھو لایتحقق فی شیئ من القرب فلایضرنا عندالتحقیق ارادۃ شیئ من المعانی اصلا کما لایخفی علی من رزق العقل السلیم والفہم المستقیمواﷲ سبحنہ بکل شیئ علیمہذا وجہ فی الجواب عن احتجاج ہذا الفاضل المستطاب
اقول:ثانیا مبناہ عن حصر السائغ فی الاوجہ الثلثہ و لا دلیل یدل علی الحصروعدم الذکر لیس ذکر العدم وہذا الامام القدوری مقتصرا فی مختصرہ علی شیئین التصدق وعمل آلۃ حیث قال ویتصدق بجلودہا اویعمل منہ آلۃ تستعمل فی البیت اھ فترك التبدل بما یبقی ایضافیظن کلامہ ھذا معارضہ لکلام من ثلثوہذا المحقق الحلبی قال فی ملتقاہ وھو من متون المذہب المعتمدۃ کما نص علیہ العلامۃ الشامییاکل من حدیث حضرت نبیشہ ہذلی رضی الله تعالی عنہ میں ایتجار(کار ثواب)کا لفظ آیاہے جو تمام کارخیر کو عام ہے تو چوتھے معنی میں جو عام طور سے صدقات نفلیہ مراد ہوتے ہیں وہی مرادلینا صحیح ہوگا۔
علاوہ ازیں ہمار اکہنا ہے کہ قربانی میں قصد تصدق کی ممانعت ہے۔نہیں قصد تمول کی ممانعت ہے تو جس قسم کے صدقہ کی نیت کرے قصد تمول نہیں پایاجائے گا اور صدقہ جائز ہوگا اس لئے صدقہ کی جو قسم بھی مراد لے لو ہمیں کوئی ضرر نہ ہوگا۔
مزید توضیح:جیسا کہ ہم اوپر ذکر کرآئے ہیں کہ اس عالم اہلسنت کی غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سمجھا کہ مصارف قربانی کی صرف تین جہتیں ہیں حالانکہ اس پر کوئی دلیل نہیںاگر کسی مصنف نے صرف تین ہی ذکر کیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ زائد نہیںکہ عدم ذکرذکر عدم وجود کو مستلزم نہیںامام قدوری نے تو اپنی مختصر میں دو۲ ہی جہت کا ذکر کیا:"کھال کا صدقہ کردیا جائے یا گھریلو استعمال کے لئے کوئی چیز بنالی جائے"تو انھوں نے باقی رہنے والی چیز سے استبدلال والی شق چھوڑ دیتو کیا ان کے کلام کو تین شق ذکر کرنے والوں کے کلام کے معارض سمجھا جائےحضرت ابراہیم حلبی نے فرمایا:"قربانی کا گوشت کھائے اور مالدار اور فقیر جس کو چاہے کھلائےاور صدقہ تہائی حصہ سے کم نہ کرے"۔
حوالہ / References مختصرا لقدوری کتاب الاضحیہ ∞مطبع مجیدی کانپور ص۲۵۹€
#7584 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
لحم اضحیتہ ویطعم من شاء من غنی و فقیروندب ان لاینقص الصدقہ عن الثلث اھ فلم یذکر التبدل بالباقی فی مسئلۃ اللحم مع جوازہ قطعا علی المذھب الصحیحوان اختیرماصححہ فی الظہیریۃ وغیرھا من جواز تبدل الماکول بالما کول کاللحم بالحبوب واللبون وغیرہ بغیرہ کالجلد بالکتاب و الجواب لاعکسہ فی الصورتین فقد ترك ہذا الوجہ فی اللحموعلی کل فلم یحطبکل ماہو سائغونظائر ذلك ان تتبعت اعیاك عدہا کثرا واذلا حصر فلا ساغ لان یقال اذا انتفی الاخیران تعین الاول وقد لو حنا ببعض من ہذا فی مطاری کلامنا فی الوجہ السابق۔
واقول: ثالثا ان ابتیم الاالحصر فنبئونی فلا یجوز اھداء غنیو لیس من الثلثۃاولایجوز الاعارۃ من فقیر اوملی ولیس منہا اولا یجوز البیع بالدراھم للتصدق ولیس البیع للتصدق عین التصدق فاذبقیت ھذہ فلیکن البیع بہا لاجل التقرب ایضا من البواقی
وبالجملۃ فلا دلیل یظہر علی عدم جواز البیع لاجل القرب ولا علی وجوب التملیك تو انھوں نے بھی تبدیل بالباقی والی شق چھوڑدی حالانکہ مذہب صحیح پر یہ جائز ہے۔اور ظہیریہ میں تو گوشت کو ماکولات جیسے غلہ اور مغزیات کے ساتھ بدلنے کی بھی اجازت دی اور جلد کو کتاب اور چمڑے کی تھیلی کے ساتھ اس کا الٹا نہیںتو ایك یہ صورت بھی متروك ہوگئیتو قربانی میں جن جن امور کی اجازت ہے سب کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔اور جب حصرواحاطہ نہیں تو یہ کہنا صحیح نہیں کہ جب دو۲ قسمیں متحقق نہ ہوئیں تو تیسری متعین ہے۔
اسی طرح مالدارکو ہدیہ کرنا جائز اور فقیر کو عاریۃ دینا ناجائز ہے یہ دونوں صورتیں بھی تو ان تینوں میں شامل نہیں کیا صدقہ کی نیت سے دراہم کے بدلے بیع جائز نہیںحالانکہ بیع کرنا صدقہ کرنانہیں ہے تو جب اس کار ثواب کے لئے بیع جائز تو دوسرے کار ثواب کےلئے کیوں جائز نہ ہوگی۔





المختصر کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے کار ثواب کے لئے بیچنا منع ہو اور اس کا تصدق بطور تملیك
حوالہ / References ملتقی الابحر کتا ب الاضحیہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۲۲۴€
#7585 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
اذا فعل ذلك بل الدلیل ناطق بخلافہ فان المانع انما ھو قصد التمول وھذا بمعزلہ عنہوالمسوغ کما تبین بکلام التبیین قصد القربۃ وھذافلنقتصر علی ھذا القدرحامدین لربنا فی الورد والصدرہذا ما ظہر لفہمی القاصر وفکری الفاتر ومعاذاﷲ ان ابری نفسی من الخطأ والزلل واصر علی رائی بعد وضوح الخلل وسبحن اﷲ الیش انا والیش رأیی و انما النقص بضاعتی والخطأصنا عتیوالجھل صفتی و العجزسمتی فان اصابت فبتوفیق ربیولہ الحمد فی کل ان وحینوان اخطأت فبشوم ذنبی و اسأل التوبۃ ارحم الراحمینوالحمدﷲ العزیز الوہابوالصلاۃ والسلام علی النبی الاواب والہ و صحبہ خیر آل واصحاب واذا انتھت الرسالۃ بحمدی ذی الجلالۃ وددت ان اسمیہا بعلم لطیف یکون علما علی عامۃ التالیفکما ہو دأبی فی جمیع التصانیف وقد جاءت بحمداﷲ تعالی مختصرۃ ومع الاختصار مطہرۃ مظہرۃفناسب ان اسمیہا"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"وکان ذلك ضحوۃ الخمیس للیلۃ بقیت من ذی القعدۃ الحرام سنۃ الف وثلثمائۃ وسبع من ہونا ثابت ہو اور جس چیز کو ممانعت پر دلیل قائم ہے وہ بیع بقصدتمول ہے۔اور ان دونوں میں بون بعید ہے۔اور قربانی کے اجزاء سے قصد تقرب جائز ہے۔اور یہ بیع اسی لئے ہے۔ اس لئے اس کے جائز ہونے میں شبہ نہیں۔
اب ہم اس پر بس کرتے ہیںاور ابتداء وانتہا میں اپنے رب کی حمد کرتے ہیںمیں اپنے نفس کو خطا ولغزش سے بری نہیں گردانتا اور خلل ظاہر ہونے کے بعد میں اپنی رائے پر اصرار بھی نہیں کرتاسبحان الله ! میں کیا اور میری رائے کیا نقصان ہی میری پونجھی ہے اور خطا شان بندگیلاعلمی میری صفت اور عاجزی میرانشان اگر یہ ٹھیك ہو تو میرے رب کی توفیق سے ہے۔اور اسی کے لئے ہر دم تعریفاور غلط ہو تو میرے گناہوں کی برائیمیں الله کی جناب میں توبہ کرتاہوں اور اس کی حمد بجالاتاہوںاور اس کی حمد پر یہ رسالہ ختم ہوا۔

اس کا ایك لطیف نام(جس سے میرے طریقہ کے مطابق کتاب کا بھی سن تالیف بھی ظاہر ہو)کی تلاش ہوئی تو اس کا نام "الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلو دالاضحیۃ"رکھااور یہ پنجشنبہ کے روز چاشت کے وقت ۲۹ ذوالحجہ ۱۳۰۷ ھ میں ہوا۔ اور نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اور ان کے
#7586 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ہجرۃ المولی سید الانام افضل الصلاۃ واکمل سلام واجمل تحیۃ من الملك المنعام علیہ وعلی آلہ وصحبہ الکرام علی مراللیالی والایاموالحمد ﷲ ذی الجلال والاکرام کتبہ العبد المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ آل واصحاب پر ہزارووں سلامجب تك رات دن گزرتے ہیں۔والحمدلله رب العالمین۔
مسئلہ ۲۹۴: از ریاست رامپور مدرسہ مطلع العلوم مرسلہ محمد امام الدین صاحب ۱۵ صفر ۱۳۳۶ھ
دیہات میں قبل از صلوۃ العید قربانی کرنا یا مرغ وغیر ہ ذبح کرنا درست ہے یانہیں۔اور جزا ربغیر پوست کش کو قربانی کے چمڑے کی قیمت مل سکتی ہے یانہیںاور میاں جی اور شاگرد جی بغیر طالب علم اس چمڑے کی قیمت کے مصرف ہوسکتے ہیں یا نہیں اور اس قیمت کو مدرسہ ومسجد وغیرہ کے اسباب میں صر ف کرنا درست ہے یانہیں اور قربانی کرنے والا اپنے ہاتھ سے مال یعنی چمڑے کی قیمت تقسیم کرسکتاہے یانہیں
الجواب:
مرغ کی قربانی مکروہ وتشبہ بالمجوس ہے۔نہ اس سے واجب اضحیہ ادا ہوسکتا ہے اور جائز قربانی شرعی وہ صبح ہی کرسکتے ہیں کہ ان پر نماز عید نہیںاجرت جزار میں اس کی قیمت دینا جائز نہیں کہ تمول ہے اور قربانی سے تمول ناجائزاس چمڑے کا یہی حکم ہے۔جو اصل کا کہ ادخار وایتجار دونوں جائز ہیں خواہ اس کی مشك بنوالے یا کتابوں کی جلدیں یا اسے مسجد یا مدرسہ دینیہ اہلسنت میں دے دےیا بہ نیت مصارف خیر بیچ کر اس کی قیمت مصرف خیر میں صرف کرے خواہ اپنے ہاتھوں سے یا اور کے ہاتھوں سے۔ہاں اگر اپنے لئے اسی داموں سے بیچا تو وہ دام خبیث ہیں اور ان کی سبیل تصدقوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۵: از سلون ضلع رائے بریلی مرسلہ محمد طہ صاحب ۴ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا ارشادہے علمائے کرام کا اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ قربانی کی رسی وجھول صدقہ کرنا چاہئے۔اور حسب ذیل حوالہ پیش کرتاہے۔(۱)شرح وقایہ جلد اول۔کتاب الحج۔باب الاحصاربیان احکام الھدی
(۲)عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ(۳)درمختار جلد اول باب الہدی
(۴)ہدایہ جلد اولکتاب الحجباب الہدی(۵)قدوریباب الہدی(۶)تنقیح الضروری حاشیۃ قدوری
بکر کہتاہے کہ قربانی کی رسی وجھول صدقہ کرنے کی کتب فقہ میں کوئی دلیل نہیںاور زید کے پیش کردہ حوالہ پر حسب ذیل اعتراض کرتاہے:
#7587 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
اول: شرح وقایہ وہدایہ وغیرہ میں مسئلہ مبحوث عنہ کو باب الہدی میں بیان کیا ہے۔حالانکہ یہ مسئلہ باب الاضحیہ سے تعلق رکھتاہے اس کے لئے دلیل کی ضرور ت ہے۔
دوم: علی طریق التنزیل یہ ثابت بھی ہوجائے تو لفظ خطام جس سے زید نے اپنا مدعا ثابت کیا ہے تو کیا اس کے معنی کسی لغوی نے گراؤں یعنی رسی کے بیان کئے ہیںابن اثیر ابو عبیدہ کسی نے تصریح کی ہے۔خطام کے معنی گراؤں کے ہیں۔
سوم: کتاب عمدہ الرعایۃ نے خطام کے تصدق کرنے کے لئے ایك حدیث نقل کی ہے اور کہا کہ اس حدیث کی بخاری اور مسلم نے تخریج کی ہے۔تو کیا اس روایت سے خطام کے تصدق کا حکم ثابت ہوتاہےفقط تام ہوا کلام بکر کابس دریافت طلب یہ ہے کہ زید کا قول صحیح ہے یا نہیں اور بکر کے اعتراضات کے جوابات کیا ہیں
الجواب:
انقیاد شتر کے لئے دو طریقے معمول ہیںایك یہ کہ وسط بینی کے گوشت یا ایك طرف کے نتھنے میں سوراخ کرکے تانبے چاندیسونے کا حلقہ یا لکڑی یا بالوں کا بناہوا چھلا ڈالیںاور مضبوط ڈور کا سرا اس میں اور دوسرے سرے میں رسی یا خود اس میں رسی باندھیںاس حلقے کو برہ بضم موحدہ وفتح رائے مخففہ اور لکڑی کو خشاش بالکسراور فارسی میں مہار بالفتحاور بالوں کے چھلے کو عربی میں میں حرامہاور سب کو زمام بالکسرنیز اس ڈور کو زمام اور اس رسی کو کہ اس میں باندھی جاتی ہے مقود بالکسرنیزاسے بھی عربی وفارسی میں زمام ومہار اور مجموع کو ہندی میں نکیل کہتے ہیںیہ اس کے انقیاد کا اکمل طریقہ ہے اور اکثر نا قہائے سواری میں یہی مستعمل ہے۔کہ بے اس کے انقیاد تام نہیں ہوتاگرا دینے کا احتمال رہتاہے۔دوسرا یہ کہ رسی کا حلقہ اس کے گلے میں قریب گوش ہار کی طرح ڈال کر منہ پر ناك کے قریب اس کا پھندا دیتے ہیںعربی میں اسے خطام بالکسراور ہندی میں مہیر کہتے ہیںنیز زمام بمعنی سوم بلکہ دوم بلکہ کبھی اول کوبھی خطام بولتے ہیںتو خطام کے چار اطلاق ہوئےمگر وہ رسی کہ گائے بھینس بکری کے گلے میں باندھی جاتی ہے۔اسے خطام کوئی نہیں کہتانہ مادہ خطام اس کی مساعدت کرتاہے کہ وہ خطم بمعنی بینی سے ماخوذ ہے۔نہایہ ابن اثیر ومجمع البحار میں ہے:
خطام البعیر ان یوخذ حبل من لیف اوشعر اوقطان فیجعل فی احدطرفیہ حلقۃثم یشد فیہ الطرف الاخر حتی یصیر کالحلقۃ ثم یقلد البعیر ثم یثنی علی مخطمہ واما مایجعل اونٹ کی خطام یہ ہے کہ کجھور کی چھال یا بالوں یا کائی سے رسی بناکر اس کے ایك طرف حلقہ بنایا جائے پھر اس میں دوسراکنارہ باندھا جائے تاکہ وہ حلقہ کی مثل ہوجائےپھر اسے اونٹ کی گلے میں بارکی طرح ڈالا جائے پھر اس کو اونٹ کی ناك پر لپیٹ دیا جائےاور وہ باریك رسی جو
#7588 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
فی الانف دقیقا فہو الزمام ۔ ناك میں ڈالی جاتی ہے وہ زمام ہے۔(ت)
فقہ باب۲۳ فصل ۳۶ میں ہے:
الخطام الحبل یجعل فی طرفہ حلقۃ ویقلد البعیر ثم یثنی علی مخطمہ ۔ خطام وہ رسی ہے جس کے ایك طرح حلقہ بناکر اونٹ کے گلے میں ہار کی طرح ڈالا جاتاہے۔پھر اس کو اونٹ کی ناك پر لپیٹا جاتاہے۔ (ت)
مصباح منیر میں ہے:
خطام البعیر معروف وسمی بذلك لانہ یقع علی خطمہ ۔ اونٹ کی مہار معروف چیز ہے اس کا خطام اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی ناك پر لگائی جاتی ہے۔(ت)
تاج العروس میں ہے:
قال ابن شمیل ھو کل حبل یعلق فی حلق البعیر ثم یعقد علی انفہ کان من جلد اوصوف اولیف اوقنب ۔ ابن شمیل نے کہا خطام ہراس رسی کوکہتے ہیں جسے اونٹ کے گلے میں لٹکایا جاتا ہے پھر اس کی ناك پر گرہ لگادی جاتی ہے چاہے وہ رسی چمڑے کی ہو یا اون کی ہو یا کھجور کی چھال کی ہو یا سن کی ہو۔(ت)
جامع الرموز میں ہے:
(خطام)ھو حبل یجعل فی عنق البعیر ویثنی علی انفہ ۔ (اس کی خطام)وہ رسی ہے جس کو اونٹ کی گردن میں ڈال کر اس کی ناك پر لپیٹ دیا جاتاہے۔(ت)
قاموس میں ہے:
الخطم من الدابۃ مقدم انفہا وفمہا۔ چارپائے کا خطم اس کی ناك اور منہ کے اگلے حصے کو
حوالہ / References مجمع بحار الانوار باب الخاء مع الطاء تحت لفظ خطم مکتبہ دار الایمان المدینۃ المنورۃ ∞۲/ ۷۱،€النہایۃ لابن اثیر باب الخاء تحت لفظ خطم المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ∞ریاض ۲ /۵۰€

المصباح المنیر الخاء مع الطاء تحت لفظ خطم مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۸۷€
تاج العروس فصل الخاء من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۸/ ۲۸۲€
جامع الرموز کتاب الحج فصل الاحصار ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۴۳۸€
#7589 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
والخطام کل ما وضع فی انف البعیر لیقاد بہ ۔ کہتے ہیںا ور خطام اس شے کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناك میں ڈالی جاتی ہے۔تاکہ اس کے ذریعے اونٹ کو کھینچا جاسکے۔ (ت)
تاج میں ہے:کذا فی المحکم (محکم میں یوں ہی ہے۔ت) بحرالرائق میں ہے:
الخطام ھو الزمام وہو ما یجعل فی انف البعیر ۔ خطام زمام ہی ہے اور یہ اسی شیئ کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناك میں ڈالی جاتی ہے۔(ت)
درثمین میں ہے:
الخطام الحبل الذی یقاد بہ البعیر ۔ خطام وہ رسی ہے جس کے ذریعے سے اونٹ کو چلایا جاتاہے۔ (ت)
مجمع البحارمیں کرمانی سے ہے:
بخطام عــــــہ اوبزمامہ وھما بمعنی والشك فی تعیینہ وھو بکسر خاء خیط یشد فیہ الحلقۃ المسماۃ (حدیث میں وار دہونے والے الفاظ)اس کی خطام یا اس کی زمام دونوں ہم معنی ہیںشك اس کی تعیین میں ہے۔اور خطام خاء کے کسرہ کے

عــــــہ:ای فی حدیث البخاری فی کتاب العلم عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قعد علی بعیرہ وامسك انسان بخطامہ اوبزمامہ ۔ الحدیث ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز یعنی امام بخاری نے کتاب العلم میں ابوبکرہ سے حدیث بیان کی ہے انھوں نے ذکر فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایك آدمی نے اونٹ کی نکیل کو تھام رکھا تھاالحدیث ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز(ت)
حوالہ / References القاموس المحیط فصل الخاء من باب الجیم مصطفی البابی ∞مصر ۴ /۱۰۹€
تاج العروس فصل الخاء من باب الجیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۸ /۲۸۲€
بحرالرائق کتا ب الحج باب الہدی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۷۲€
الدرالثمین
صحیح البخاری کتاب العلم باب من قعد حیث ینتہی بہ المجلس ∞قدیمی کتب خانہ کرا چی ۱/ ۱۶€
#7590 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
بالبرۃویشد فی طرفہ المقود ۔ ساتھ اس دھاگے کو کہتے ہیں جس میں بر ہ نامی حلقے کو باندھا جاتاہے او راس کے کنارے میں رسی باندھی جاتی ہے۔(ت)
نہایہ نیز مجمع میں ہے:
البرۃ حلقۃ تجعل فی لحم الانفوربما کانت من شعر ۔ برہ وہ حلقہ ہے جو ناك کے گوشت میں ڈالا جاتاہے اور بسا اوقات وہ بالوں کاہوتاہے۔(ت)
اس میں شرح جامع الاصول لمصنفہ سے ہے:
حلقۃ یشد بہا الزمام ۔ وہ ایك حلقہ ہے جس کے ساتھ زمام کو باندھا جاتاہے۔(ت)
نیز امام نوری سے ہے:
الزمام مایجعل فی البعیر دقیقا وقیل مایشد بہ رؤسہا من حبل وسیر ۔ زمام اس باریك رسی کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناك میں ڈالی جاتی ہے۔اور کہا گیا ہے کہ وہ ایك ایسی رسی یا تسمہ ہے جس کے ساتھ اونٹوں کے سروں کو باندھا جاتاہے۔(ت)
مصباح منیر میں ہے:
قال بعضھم الزمام فی الاصل الخیط الذی یشد فی البرۃ اوفی الخشاش ثم یشد الیہ المقود ثم سمی بہ المقود نفسہ ۔ ان میں سے بعض نے کہا زمام اصل میں اس ڈوری کو کہتے ہیں جسے برہ(حلقہ)یالکڑی میں باندھا جاتاہے پھر اس میں مقود (رسی)کو باندھا جاتاہے پھر خود اس زمام کا نام مقود رکھا جاتا ہے۔ (ت)
تاج العروس میں ہے:
الزمام ھو الحبل الذی یجعل فی البرۃ والخشبۃ قال الجوھری اوفی الخشاش زمام اس رسی کو کہتے ہیں جس کو حلقہ یا لکڑی میں ڈالا جاتاہے۔جوہری نے کہا یا اس کو خشاش(لکڑی)
حوالہ / References مجمع البحار باب الخاء مع الطاء مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۲ /۷۲€
مجمع البحارالانوار باب الباء مع الراء مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱/ ۱۸۷€
مجمع البحار باب الباء مع الراء مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱ /۱۸۷€
مجمع البحار باب الزاء مع المیم مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۲/ ۴۴۰€
المصباح المنیر الزاء مع المیم تحت الزمام مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۲۷۴€
#7591 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ثم یشد فی طرفہ المقود وقدیسمی المقود زماما ۔ میں ڈالا جاتاہے پھر اس کے کنارے میں رسی باندھی جاتی ہے اور کبھی اس رسی کا نام زمام رکھا جاتاہے۔(ت)
صراح میں ہے:
خشاش بالکسر چوب کہ دربینی شتر کنند وہر چہ از مس باشد آں رابرہ گویندوآنچہ از موئے آں راخزامہ ۔ خشاش خاء کے کسرے کے ساتھ اس لکڑی کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناك میں ڈالی جاتی ہے پیتل کی جو شے اونٹ کی ناك میں ڈالتے ہیں اس کو برہ کہتے ہیں اگر وہ بالوں کی ہو تو اسے خزامہ کہتے ہیں۔(ت)
اسی میں ہے:خطام بالکسر مہار (خطام کسرہ کے ساتھ مہار۔ت)اسی میں ہے:
زمام بالکسر مہار درشۃ کہ در چوب بینی شتر بندند و بروئے مہاربند ند ۔ زمام کسرہ کے ساتھ مہار اور وہ دھاگہ جو اونٹ کی ناك میں ڈالی ہوئی لکڑی کے ساتھ باندھتے ہیں اور اس پر مہار باندھتے ہیں۔(ت)
برہان میں ہے:
مہار بالفتح چوبیکہ دربینی شترکنند وریسما براں بندند ۔ مہار فتحہ کے ساتھ اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کو اونٹ کی ناك میں ڈال کر اس پر ڈوری باندھتے ہیں۔(ت)
قاموس میں ہے:الخزامۃ ککتابۃ البرۃ (خرامۃ بروزن کتابتہ حلقہ کو کہتے ہیں۔ت)تاج میں ہے:
وھی حلقۃ من شعر تجعل فی وترۃ انفہ یشد بہا الزمام کما فی اور وہ(خزامہ)بالوں کے اس حلقہ کو کہتے ہیں جس کو اونٹ کی ناك کے بانسہ میں ڈال کر اس کے ساتھ
حوالہ / References تاج العروس فصل الزاء من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۸ /۳۲۸€
الصراح من الصحاح باب الشین فصل الخاء ∞مطبع مجیدی کانپور ص۲۵€۷
الصراح من الصحاح باب المیم فصل الزاء ∞مطبع مجیدی کانپور ص۴۶€۸
الصراح من الصحاح باب المیم فصل الزاء ∞مطبع مجیدی کانپور ۴۷۵€
برہان
القاموس المحیط باب المیم فصل الخاء مصطفی البابی ∞مصر ۴/ ۱۰۶€
#7592 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
الصحاحوقال اللیث ان کانت من صفر فہی برۃ وان کانت من شعر فہی خزامۃ ۔ رسی باندھی جاتی ہے جیسا کہ صحاح میں ہے۔لیث نے کہا اگر وہ حلقہ پیتل کا ہوتو اس کو برہ اور اگر وہ بالوں کا ہے تو اس کو خزامہ کہاجاتاہے۔(ت)
سنن ابی داؤد میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما سے ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھدی عام الحدیبیہ فی ھدایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم جملا کان لابی جہل فی راسابرۃ من فضۃ۔وفی روایۃ من ذہب یغیظ بذلك المشرکین ۔ بیشك نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حدیبیہ والے سال قربانی کے لئے جو اونٹ روانہ فرمائے ان میں ایك اونٹ ابو جہل کا تھا جس کے سر(ناک)میں چاندی کا ایك چھلا تھا ایك روایت ہے کہ سونے کا چھلا تھاحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مشرکوں کو جلانے کے لے ایسا کیا تھا۔(ت)
مرقاۃ میں ہے:
(فی راسہ)ای انفہ فان البرۃ حلقۃ من صفر ونحوہ تجعل فی لحم انف البعیر وقال الاصمعی فی احد جانبی المنخرین لکن لما کان الانف من الراس قال فی راسہ علی الاتساع ۔ (اس کے سر میں)یعنی اس کی ناك میں کیونکہ برہ پیتل یا اس جیسی کسی شے کے ایسے حلقہ کو کہتے ہیں جو اونٹ کی ناك کے گوشت میں ڈالا جاتاہے اور اصمعی نے کہا کہ وہ اونٹ کے نتھنوں کے ایك طرف ڈالا جاتاہے لیکن ناك چونکہ سرہی کا حصہ ہے اس لئے راوی حدیث نے بطور مجاز کہا کہ اس کے سرمیں حلقہ تھا۔(ت)
مجمع البحارمیں طیبی سے ہے:جعلہ فی الرأس اتساعا (اس حلقہ کو سرمیں قرار دینا بطور مجاز ہے۔ت)سلمہ بن سحیم کی حدیث میں ہے:
حوالہ / References تاج العروس فصل الخاء من باب المیم داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۸/ ۷۴۔۲۷۳€
سنن ابی داؤد کتاب المناسك باب فی الہدی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۴۴€
مرقاۃ المفاتیح کتاب المناسك الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبہ ∞کوئٹہ ۵/ ۵۲۸€
مجمع البحار الانوار باب الباء مع الرائ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ∞۱/ ۱۷۸€
#7593 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ان صاحبا لنارکب ناقۃ لیست بمبراۃ فسقط فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غرر بنفسہ ۔ ہمارا ایك ساتھی بغیر نکیل کے اونٹنی پر سوار ہوا اور گرگیاتو رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے خود کوہلاکت میں ڈالا۔(ت)
نہایہ میں ہے:
لیست بمبراۃ ای لیس فی انفہا برۃ یقال ابریت الناقۃ فہی مبراۃ ۔ "وہ اونٹنی مبراۃ نہیں تھی"کا معنی یہ ہے کہ اس کی ناك میں برہ(حلقہ)نہیں تھا کہا جاتاہے کہ میں نے اونٹنی کو حلقہ ڈالا تو وہ مبراۃ(حلقہ والی)ہوگئی(ت)
عمدۃ الرعایۃ میں ہے کہ خطام کی تفسیر زمام گردن بعیر کی اگر چہ کلمات اہل فن سے جداہے۔مگر معنی سوم زمام پر بجا ہے۔اور اس سے ہر رسن گردن سمجھنا خطا ہے۔اس میں زمام گردن نہیں بلکہ رسن اور زمام بے تعلق بینی صادق نہیںحدیث کہ اس میں صحیح بخاری ومسلم کی طرف نسبت کی۔جس میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا:
تصدق بجلالہا وبخطمہاولا تعطی اجرۃ الجزار منہا ۔ قربانی کے جانور کی جھلوں اور باگوں کو صدقہ کردیا جائے اور اس میں سے کچھ بھی قصاب کو بطور اجرت نہ دیا جائے۔ (ت)
غلط صریح ہے۔نہ صحیح بخاری میں اس کا کہیں نشان نہ صحیح مسلم میںنہ بحیثیت الفاظ نہ بحیثیت مضمونصحیح بخاری میں بدنہ بدی کی جھول تصدق کرنے کی حدیث پانچ جگہ روایت کی۔۱باب الجلال للبدن۔۲باب التصدق بجلود البدن۳باب بتصدق بجلال البدن۴باب الوکالۃ۔۵باب الایوتی الجزار من الھدی شیئا اور صحیح مسلم میں ایك ہی جگہ پانچ سندوں سے ذکر کی دسویں جگہ نہ ان الفاظ کا پتہ ہے۔نہ اس پورے مضمون کاموضع اول وخامس میں بخاری کے لفظ امیر المومنین مولا علی کرم الله وجہ الکریم سے ہیں:
امرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اتصدق بجلال البدن رسول اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مجھے قربانی کے ان جانوروں کی جھلوں اور چمڑوں کو
حوالہ / References النہایۃ لابن اثیر باب الباء مع الراء المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ∞ریاض ۱ /۱۲۲€
النہایۃ لابن اثیر باب الباء مع الراء المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ∞ریاض ۱ /۱۲۲€
عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایۃ کتاب الحج باب الہدی المکتبہ الرشیدیہ ∞دہلی ۱ /۳۶۴€
#7594 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
التی نحرت وبجلودھا ۔ صدقہ کرنے کاحکم دیاجن کو ذبح کیا گیا تھا۔(ت)
دوم میں:
امرنی فقسمت لحومہا ثم امرنی فقسمت جلالہا و جلودھا ۔ رسول کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے قربانی کے جانوروں کا گوشت تقسیم کردیا پھر آپ نے مجھے حکم دیا تو میں ان کے جھلوں کو تقسیم کردیا۔(ت)
سوم میں:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امرہ ان یقوم علی بدنہ وان یقسم بدنہ کلہا لحومہا وجلودھا وجلالہا ۔ بیشك نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے جانوروں کے پاس کھڑے ہوجائیں اور ان کا گوشت جھل اور چمڑے سب تقسیم کردیں۔(ت)
چہارم میں:
اہدی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مائۃ بدنۃ فامرنی بلحومہا فقسمتہا ثم امرنی بجلالہا فقسمتہا ثم بجلودہا فقسمتہا۔ نبی اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قربانی کے لئے سو اونٹ بھیجے اور مجھے حکم دیا کہ میں ان کا گوشت تقسیم کروں تومیں نے کر دیاپھر مجھے ان کی جھلوں کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تو میں نے کر دیاپھر مجھے ان کے چمڑوں کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تو میں نے کر دیا(ت)
صحیح مسلم میں تین سندوں سے:
امرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اقوم علی بدنہ وان اتصدق لحمہا و جلودھا واجلتہا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں قربانی کے پاس کھڑا ہوجاؤں اور ان کے گوشتچمڑوں اور جھلوں کو تقسیم کردوں(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المناسك باب الجلال للبدن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳€۰
صحیح البخاری باب لایعطٰی الجزار من الہدی شیئا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۳€۲
صحیح البخاری باب التصدق بجلود الہدی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳€۲
صحیح البخاری یتصدق بجلال البدن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی۱/ ۲۳۲€
صحیح مسلم کتاب الحج باب الصدقۃ بلحوم الہدایا وجلودہا وجلالہا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی۱/ ۴۲۳€
#7595 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
اور دو سندوں سے مثل لفظ سوم بخاری وزادفی المساکین (یہ لفظ زیادہ کئے کہ مسکینوں میں تقسیم کرو۔ت)ان میں کہیں ذکر خطام نہیںیہ مضمون صحیحین پر بیشی ہے۔اور نسبت الفاظ میں غلطی یہ کہ صیغہ امر جس طرح عمدۃ الرعایۃ میں مذکور صحیحین بلکہ متداولہ حدیث میں کہیں نہیںجیسا کہ لامع ارشاد الساری وشرح مؤطا سے ظاہرعلامہ قسطلانی نے فرمایا:
قال صاحب الکواکب وفیہ انہ لا یجوز بیع الجلال و لا جلود الہدایا والضحایا کما ہو ظاہر الحدیث اذ الامر حقیقۃ فی الوجوب اھوتعقبہ فی اللامع فقال فیہ نظر فذلك صیغۃ افعل لا لفظ امر ۔ صاحب کواکب نے کہا اس میں یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کی جھلوں اور کھالوں کی بیع جائز نہیں جیساکہ حدیث کا ظاہرہے کیونکہ امر حقیقتا وجوب کے لئے ہے۔اھ اور لامع میں اس کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں نظر ہے اس لیے کہ جو امر وجوب میں حقیقت ہے وہ صیغہ افعل ہے نہ کہ لفظ امر۔ (ت)
شرح علامہ زرقانی میں ہے:
فیہ استحباب التجلیل والتصدق بذلك الجل ولفظ امر لا یقتضی الوجوب لان ذلك فی صیغۃ افعل لالفظ امر اھ و رأیتنی کتبت علی ہامش الارشاد مانصہ اقول:لیس قول امر الاحکایۃ امرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الا ان یقال یمکن ان یکون حکایۃ من مثل علیك التصدق۔ اس میں قربانی کے جانوروں پر جھل ڈالنے اور اس جھل کو صدقہ کرنے کا استحباب ثابت ہوتاہے۔اور لفظ امروجوب کاتقاضا نہیں کرتا کیونکہ وجوب کا متقاضی تو صیغہ افعل ہے نہ کہ لفظ امر اھ مجھے یادپڑتاہے کہ میں نے ارشاد کے حاشیہ پر لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول:(میں کہتاہوں)اس کا امر کہنا محض حکایت ہے امر رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیمگر یوں کہا جاسکتاہے کہ ممکن ہے یہ حکایت ہو علیك بالتصدق (تجھ پر لازم ہے۔ت)جیسے الفاظ سے۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الحج باب الصدقۃ بلحوم الہدایۃ وجلودھا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۴€
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب الجلال للبدن دارالکتب العربی بیروت ∞۳/ ۲۲۲€
شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك کتاب الحج المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی القاہرہ ∞۲/ ۳۲۷€
#7596 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ذکر خطام کے لئے فقیر نے جتنی کتب حدیث اپنے پاس ہیں سب کی مراجعت چاہیبارہ کتابیں دیکھی تھیںپھر خیال آیا کہ درایہ امام حافظ الحدیث ابن حجر عسقلانی دیکھی جائےاس میں ضرور اس سے تعرض فرمایا ہوگا اسے دیکھا تو انھوں نے صاف فرمایا:
لم ار فی شیئ من طرفۃ ذکر الخطام ۔ میں نے اس حدیث کے کسی طریق میں ذکر خطام نہ دیکھا۔
بالجملہ صحیحین کی طرف سے اس کی نسبت لفظا ومعنی ہر طرح غلط ہے۔ہاں ہدایہ باب الہدی میں حدیث انھیں الفاظ سے مذکور اور کتاب الاضحیہ میں بلفظ:
تصدق بجلالہا وخطا مہا ولا تعط اجر الجزار منہا شیئا ۔ قربانی کے جانوروں کی جھلوں اور باگوں کو صدقہ کر اور اس میں سے کچھ بھی قصاب کو بطور اجرت مت دے۔(ت)
اسی طرح کافی امام نسفی باب الہدی میں یہی لفظ دوم ہیں:الالفظۃ الاجر (سوائے لفظ"اجر"کے۔ت)نیز بدائع امام ملك العلماء کتاب الاضحیہ میں۔الا لفظۃ شیئا (سوائے لفظ"شیئا"کے۔ت)
اقول: تو حدیث ضرور کہیں مروی ہوئیاور حافظ(ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ)کا اسے نہ دیکھنا نہ ہونے پر دلیل نہیںامام محقق علی الاطلاق نے فتح میں دو حدیثیں مذکور مشاع ذکر کرکے فرمایا:
قصور نظر نا اخفاھما عنا ۔ ہماری نظر کے قاصر ہونے نے ان دونوں کو ہم سے مخفی رکھا۔(ت)
یونہی حافظ الشان نے باوصف اس وسعت اطلاع کے نفی نہ فرمائییہ ائمہ کے ساتھ علماء کرام کا ادب ہے بخلاف جہال زمانہ یعنی غیر مقلدین کہ کرمك سنگ سے بڑھ کر وقوف نہیںاورائمہ پر سلب مطلق کے دعوے ولا حو ل ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
حوالہ / References الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ کتاب الحج باب الہدی المکتبۃ الاثریۃ ∞سانگلہ ہل ۲/ ۵۴€
الہدایۃ کتاب الاضحیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۴۸€
کافی شرح الوافی
بدائع الصنائع کتاب التضحیۃ فصل وامابیان مایستحب الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۸۱€
فتح القدیر
#7597 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
تو حدیث مذکور میں صدقہ خطام کا عندالله حکم ہے مگر وہ حدیثا وفقہا صرف جلال وخطام شتران ہدی کے بارے میں ہے۔قربانی کی گائے بکریوں کی جھولوں اور ان کے گلے کی رسیوں کا ذکر درکنارجہاں تك نظر کی جاتی ہے شتران اضحیہ کے جلال وخطام کا بھی کہیں ذکر نہیںاب رہا قیاسوہ مجتہد سے خاصاس کا کسے اختیاراور دلالۃ النص اقول: اس کی بھی گنجائش نہیں نہ اضحیہ من کل الوجوہ معنی ہدی میں ہے۔نہ یہ جھولیں ان جلال سے نہ گلے کی رسیاں اس خطام کے مثل۔
اول: تو ظاہر کہ ہدی کے لئے محل خاص ہے یعنی حرم محترم اس کے غیر میں ہدی کو ذبح ونحر نہیں کرسکتے۔
قال اﷲ تعالی " ثم محلہا الی البیت العتیق ﴿۳۳﴾ " وقال تعالی " ہدیا بلغ الکعبۃ" ۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایا پھر ان(ہدی کے جانوروں)کا پہنچنا ہے اس آزاد گھر تک۔اور الله تعالی نے فرمایا کہ ہدی ہو کعبہ تك پہنچی۔(ت)
اور قربانی ہر جگہ ہوسکتی ہے۔تو ہدی میں بہ نسبت اضحیہ خصوصیت خاصہ ہے اگر چہ اصل مقصود یعنی تقرب باراقۃ دم میں مساوی ہیںلہذا کیا مستبعد کہ اصل اجزائے متقرب بہ یعنی لحم وجلد میں حکم یکساں ہو اور زوائد ومضافات کی طرف جو سرایت صاحب خصوص میں ہوئیاضاحی میں نہ ہوولہذا بدائع وہدایہ وکافی وغیرہا میں حدیث ہدی سے دربارہ لحم وجلد اضحیہ استناد کیا اور جلال وخطام اضحیہ کا کسی نے ذکر نہ کیاحالانکہ حدیث ہدی میں چاروں حکم موجود تھےاضحیہ میں ان پر دو اقتصار اور ان دو کا ترك اور اس ترك واقتصار پر اتفاق کتب آخر کس لئے۔
دوم: یہ کہ وہ جھولیں معمولی سردی وغیرہ کی جھولیں نہ تھیں جو اپنے موسم پر ہر پالے ہوئے جانور کے لئے بنائی جاتی ہے اگر چہ وہ گاڑی میں جوتنے کے بیل ہوں وہ ۱خاص شتران ہدی کے لئے بنتیں اور ۲روانگی حرم کے وقت ان پر ڈالی جاتی ہیںاور ۳ان کے لئے ان کا بنانا سنت ہے۔۴تقلید واشعار کی طرح شعائر الله ہدی کی علامت ہوتی ہے۔ہدنہ ہدی کے گلے میں نعلین وغیرہ یا بٹے ہوئے قلادے ڈالتے اور بالتخصیص اونٹوں پر قلادے کے ساتھ جھولیں بھی ڈالتے۔اور ان کے کوہان میں خفیف نیزہ مار کر خون نکالتے یہ ان کے ہدی ہونے کی علامتیں تھیں۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۲/ ۳۳€
القرآن الکریم ∞۵/ ۹۵€
#7598 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
۵علمائے کرام نے فرمایا:ان جھولوں کا اپنی حیثیت تمول کے مناسب ہونا مستحب ہے۔ہدی بھیجنے والاجیسی استطاعت رکھتاہو ویسی ہی بیش قیمت جھولیں بنائے کہ مساکین کا زیادہ نفع اور شعائر کی زیادہ تعظیم ہو سیدنا عبدالله بن عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہما ان پر بیش بہا کپڑوں کی جھولیں ڈالتے اور ۶مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر اتار کرتہہ کرکے رکھ چھوڑتے۷عرفہ کے دن پھر پہناتے اور بعد نحر انھیں کعبہ معظمہ کا غلاف کرتے جب سے بیت مکرم کا غلاف مستقل تیار ہونے لگا انھیں مساکین پر تصدق کرتے۔
۸علماء فرماتے ہیں کہ راتوں کو یہ جھولیں اتار کر رکھ لی جائیں کہ کانٹوں سے ان میں کھونتا نہ لگے ان میں سے کون ساحرف قربانی کی معمولی جھولوں پرصادق ہے کہ یہ ان کے معنی میں ہوں۔
امام اجل ابو زکریا نووی قدس سرہ شرح صحیح مسلم میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:
فی ہذا الحدیث فوائد کثیرۃ منہا استحباب سوق الہدی وانہ یتصدق بلحومہا وجلودہا وجلالہا و انہا تجلل واستحبوا ان یکون جلا حسناقال القاضی التجلیل سنۃ وھو عند العلماء مختص بالابل وھو مما اشتھر من عمل السلف قالوا ان یکون بعد الاشعار لئلا یتلطخ بالدم قالوا و یستحب ان تکون قیمتہا نفاستہا بحسب حال المہدیوکان بعض السلف یجلل بالوشی وبعضہم بالحبرۃ وبعضہم بالقباطی والملاحف والازرقال مالك اما الجلل فتنزع فی اللیل لئلا یخرقہا الشوك قال واستحب ان اس حدیث میں بہت سے فائدے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں قربانی کے جانوروں کے گوشتچمڑوں اور جھلوں کو صدقہ کیا جائےاوریہ کہ ان جانوروں کو جھل پہنائی جائے اور مشائخ نے اس بات کو مستحب قرار دیا کہ وہ جھل عمدہ ہو۔ قاضی نے کہا کہ جھل پہنانا سنت ہے۔اور علماء کے نزدیك وہ اونٹوں کے ساتھ مختص ہے اور یہ اسلاف کا مشہور عمل ہے۔ مشائخ نے کہا کہ ا شعار یعنی کوہان میں نیزہ مارکر خون نکالنے کے بعد جھل پہنائی جائے تاکہ وہ خون میں لتھڑ نہ جائےنیز انھوں نے کہا کہ جھل کا قیمت وعمدگی میں قربانی روانہ کرنے والے کی حیثیت کے مطابق ہونا مستحب ہے۔بعض اسلاف منقش کپڑوں بعض یمنی چادروںبعض مصر کے بنے ہوئے قیمتی کپڑوں۔لحافوں اور عمدہ چادروں کی جھلیں پہنایا کرتے تھےامام مالك نے فرمایا۔جھلوں کو رات
#7599 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
کانت الجلال مرتفعۃ ان لایجللہا حتی یغدوالی عرفات ان کانت بثمن یسیر فمن حین یحرم یجلل (ملخصا) کے وقت اتار لیا جائے تاکہ کانٹے انھیں پھاڑ نہ دیںاورفرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ اگر جھلیں گراں قیمت ہوں تو عرفہ کے دن عرفات کی طرف روانگی سے قبل نہ پہنائے اور اگر وہ کم قیمت والی ہو تو احرام باندھتے وقت ہی پہنادے(ملخصا)(ت)
امام علامہ عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
الجلال جمع جل وھو الذی یطرح علی ظہر الحیوان من الابل والفرس والحمار والبغل وہذا من حیث العرفو لکن العلماء قالوا ان التجلیل مختص بالابل من کساء ونحوھا قال ابن بطال کان مالك و ابو حنیفۃ والشامی یرون تجلیل البدن ۔ جلال جل کی جمع ہے۔او روہ اس شیئ کو کہتے ہیں جو اونٹ گھوڑےگدھے اور خچر وغیرہ جانوروں کی پشت پر ڈالی جاتی ہے۔یہ عرف کے اعتبار سے ہے۔لیکن علماء نے فرمایا کہ کپڑے وغیرہ جھل پہنانا صرف اونٹ کے ساتھ مختص ہے۔ ابن بطال نے کہا کہ امام ابوحنیفہ امام مالك اور امام شافعی رحمہم الله تعالی ہدی کے جانوروں پر جھل ڈالنے کو جائز سمجھتے تھے۔(ت)
امام جلیل ابوالبرکات نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
فان کانت بدنۃ قلدہا بمزادۃ اونعل والتقلید احب من التجلیل لان التقلید ذکر فی القران قال اﷲ تعالی ولا القلائد ولا ذکرللتجلیل فیہوان کان کلاھما ثابتا بالسنۃ لان ھدایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانت مقلدۃ مجللۃ ولانہ قد تجلل البدنۃ لا علی وجہ التقرب بخلاف التقلید ۔ اگر ہدی کا جانور(اونٹ یا گائے)ہو تو اس کو چمڑے یا نعل کا ہار پہنادے اور ہار پہنانا جھل پہنانے سے زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ ہارپہنانے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔الله تعالی کا فرمان ہے ولا القلائد(اور نہ وہ جنھیں ہار ڈالے گئے)اور جھل پہنانے کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے اگر چہ دونوں سنت رسول صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہیں کیونکہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کو ہار اور جھل پہنائے گئے تھے اور اس لئے بھی کہ جھل کبھی بلانیت تقرب
حوالہ / References شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحج باب الصدقۃ بلحوم الہدایا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۴۔۴۲۳€
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب المناسك باب الجلال للبدن ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۱۰/ ۴۴۔۴۵€
الکافی شرح الوافی
#7600 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
پہنائے جاتے ہیں بخلاف ہارپہنانے کے(کہ یہ بنیت تقرب ہی ہوتا ہے)۔(ت)
مؤطا شریف میں ہے:
مالك عن نافع ان عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کان یجلل بدنۃ القباطی و الانماط والجللثم یبعث بہا الی الکعبۃ فیکسوھا ایاہامالك انہ سأل عبداﷲ بن دینار ماکان عبداﷲ بن عمر یصنع بجلال بدنہ حین کسیت الکعبۃ عن الکسوۃ۔قال کان یتصدق بہا ۔ حضرت امام مالك نے حضرت نافع سے روایت کیا کہ سیدنا عبدالله بن عمررضی الله تعالی عنہما ہدی کے جانور کو مصری چادروںاونی کپڑوں اور حلوں کی جھلیں پہناتے پھر ان جھلوں کو کعبہ شریف بھیج کر غلاف کعبہ بناتےامام مالك سے مروی ہے حضرت عبدالله بن دینار سے پوچھا گیا کہ جب کعبہ شریف کو مستقل کپڑے کا غلاف پہنایا جانے لگا تو حضرت عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما اپنے قربانی کے جانوروں کی جھلوں کو کیا کرتے تھے تو انھوں نے کہا وہ ان کو صدقہ کردیتے تھے۔(ت)
ابن المنذر نے بطریق اسامہ بن زید نافع سے روایت کی:
ان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کان یجلل بدنہ الانماط والبرود والحبر حتی یخرج من المدینۃ ینزعہا فیطویہاحتی یکون یوم عرفۃ فیلبسہا ایاہا حتی ینحرہا ثم یتصدق بہاقال نافع وربما دفعہا الی بنی شیبۃ ۔ بیشك حضرت ابن عمر رضی الله تعالی عنہما اپنے بدی کے جانوروں کو اونی کپڑوںدھاری دار اور منقش یمنی چادروں کی جھلیں پہناتے تھے یہاں تك کہ وہ جانور جب مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ ان جھلوں کو اتارلیتے اور لپیٹ کر رکھ دیتے جب عرفہ کا دن آتا پھر وہ جھلیں جانوروں کو پہنادیتے جب انھیں ذبح فرماتے پھر جھلیں اتارلیتے بعد ازاں ان کو صدقہ کردیتےحضرت نافع نے کہا کہ بعض اوقات بنی شیبہ کی طرف بھیج دیتے۔(ت)
اقول: اور اس پر ایك دلیل واضح یہ ہے کہ حضوراقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حجۃ الوداع شریف
حوالہ / References مؤطا الامام مالك کتاب الحج باب العمل فی الہدی حین یساق ∞میر محمد کارخانہ کراچی ص۴۰€۰
شرح الزرقانی علی المؤطا بحوالہ ابن منذر کتاب الحج دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۲۷،€فتح الباری بحوالہ ابن المنذر کتاب المناسك باب الجلال للبدن دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۴۳۹€
#7601 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
میں سو۱۰۰ اونٹ ہدی بھیجےان پر جھولیں تھیں کہ بحکم اقدس بعد نحر تصدق کی گئیں کما تقدم عن صحیح البخاری(جیسا کہ صحیح بخاری سے گزرا _____ ت)حجۃ الوداع شریف کھلی بہار کے موسم میں تھافقیر نے حساب کیا ۹ / ذی الحجہ ۱۰ ہجریہ روز جمعہ کو چھٹی مارچ عــــــہ ۶۳۲ء تھی۔ولہذا علماء اسے ماہ تحویل حمل میں بتاتے ہیںصحیح بخاری میں خطبہ حجۃ الوداع ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے دہم ذی الحجہ کو ارشاد فرمایا:
الزمان قد استدار کہیئتہیوم خلق اﷲ السموت والارضوفیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای شہر ھذا قلنا اﷲ ورسول اعلم۔قال الیس ذوالحجۃ قال فای یوم ھذا قلنا اﷲ ورسول اعلمقال الیس یوم النحر ۔ زمانہ اس دن کی ہیت پر گردش کررہا ہے جس دن الله تعالی نے زمین وآسمان پیدا فرمایا تھا۔اسی میں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہی ہے کہ یہ کون سا مہینہ ہے۔ ہم (صحابہ)نے عرض کیا الله اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے۔ اپ نے فرمایا:یہ کون سا دن ہےہم نے عرض کیا کہ الله اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیںآپ نے فرمایا:کیا یہ یوم النحر نہیں ہے۔(ت)
امام ابن حجر نے فتح الباری کتاب بدء الخلق میں۔پھر امام قسطلانی نے ارشاد الساری میں نقل کیا کہ یہ ارشاد اقدس تحویل حمل کے مہینے میں تھا:
حیث قال زعم یوسف بن عبدالملك فی کتابہ تفضیل الازمنۃ ان ہذہ المقالۃ صدرت من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی شہر مارسوھو ادار جہاں فرمایا کہ یوسف بن عبدالملك نے اپنی کتاب تفصیل الازمنہ میں کہا ہے بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی یہ گفتگو مارچ کے مہینے میں صادر ہوئی جس کانام رومی میں ادار اور

عــــــہ: یعنی اس وقت کی تعبیر میں ورنہ آغاز سن عیسوی کے حساب سے دسویں مارچ تھیجیسا کہ ہم نے اپنے ایك رسالہ متعلقہ"تحقیق سال عیسوی"میں ثابت کیا ۱۲ منہ قدس سرہ۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المغازی باب حجۃ الوداع ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۳۲€
#7602 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
بالرومیۃ وہو برمہات بالقبطیۃ وفیہ یستوی اللیل والنہار عند حلول الشمس برج الحمل ۔ قطبی برمہارت ہے۔اور اس مہینہ میں سورج کے برج حمل میں حلول کرنے کے وقت رات اور دن برابر ہوتے ہیں۔ (ت)
اقول: مرادیہ ہے کہ اس مہینے میں تحویل حمل ہوتی ہے نہ یہ کہ اس دن تحویل حمل تھیہم نے زیج عــــــہ الغ بیگی سلطان اور زیج عــــــہ۱ اجد بہادر خانی اور دو زیجوں سے نصف النہار حقیقی مکہ معظمہ دہم ذی الحجہ ۱۰ ہجریہ مطابق یازدہم عــــــہ۲ ذی الحجہ وسطیہ روز شنبہ کی تقویم شمس نکالی دونوں سے حوت کے اکیسویں درجے میں آئی اول سے حوت کے بیس درجے سینتیس دقیقے انتالیس ثانیےدوم سے بیس درجے چھتیس دقیقے پچاس ثانیے بلا شبہہ اس تقویم کا موسم ان ملکوں خصوصا مکہ معظمہ اور اس کے قریب العرض شہروں میں نہایت معتدل موسم ہوتاہے۔نہ رات کو برف نہ دن کو لونہ برسات کی مکھیاںتو جن حاجات کے لئے جھولیں ڈالتے ہیں
حوالہ / References فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین دارالمعرفۃ بیروت ∞۶/ ۲۱۱،€ارشا د الساری کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین دارالکتاب العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۵€
#7603 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
ان کا اصلا نام ونشان نہ تھالاجرم یہ جھولیں وہ نہ تھیں بلکہ خاص تعظیم شعائر الله کےلئے تھیںتو معمولی جھولیں کسی طرح ان کے معنی میں نہیں۔
سوم: یوں کہ خطام ہدی وہ شیئ ہے کہ اسے سبیل الله میں لے جاتی اور حرم محترم میں پہنچاتی ہے۔تو قربانی کی رسیاں اس کے برابر نہیں ہوسکتیںاور گائے بھینس کی جھولوں رسیوں میں اور بھی فرق ہے۔شتر نحر کیا جاتاہے اس کا ایك پاؤں باندھ کر تین پاؤں سے کھڑا رکھ کر سینہ پرنیزہ مارتے ہیں جل وخطام دونوں وقت نحرا س سے جدا کرنے کی حاجت نہیںگائے بھینس لٹا کر ذبح کی جاتی ہے۔اس وقت ان کی رسی کھول لیتے ہیںاور اگر جھول تھیوہ بھی اتار لیتے ہیںتو وقت تقرب الی الله رسی اور جھول ان کے بدن سے جدا ہوتی ہے۔اور شتر کے بدن سے متصل تو یہ زیر تقرب آتی ہےاور وہ نہیں گر باوصف انفضال بھی حکم تصدق سرایت کرے تو اس کھونٹے کے بھی تصدق کا حکم ہو جس سے وہ جانور بندھا تھااور اس ناند اور طشت کا بھی جس میں اسے کھانا پانی دیا گیا تھابلکہ اس مکان کا بھی جس میں وہ بندھا تھااور اس کا کوئی قائل نہیںعمدۃ القاری وفتح الباری شروح وصحیح بخاری وغیرہما میں تصدق جلال ہدی کی یہ وجہ نقل کی فرمائی کہ اس پر اہلال لوجہ الله واقع ہوا۔
حیث قالوا قال المہلب لیس التصدق بجلال البدن فرضا وانما صنع ذلك ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما لانہ ارادان لایرجع فی شیئ اہل بہ ﷲ ولا فی شیئ اضیف الیہ ۔ جہاں انھوں نے فرمایا مہلب نے کہا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی جھلوں کو صدقہ کرنا فرض نہیںسیدنا حضرت عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما سے تو محض اس لئے ایساکہا کہ آپ الله تعالی کے لئے ذبح کئے ہوئے اور اس کی طرف منسوب کئے ہوئے جانوروں کی کسی شیئ کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہتے تھے(ت)
اس اہلال سے اگر تلبیہ مرادہو جب تو ظاہر ہے کہ قربانی پر لبیك کہاں اور اگر تکبیر وقت نحر مرادہو یہ بھی ان اشیاء کو شامل نہ ہوگا جو وقت نحر وذبح اس کے بدن پر نہ تھیں۔
اقول:اور اول اولی ہے کہ حکم جل وخطام کی نسبت آیاقماط جس سے اونٹ کا ایك پاؤں باندھتے ہیں اور حجۃ الوداع شریف میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے سو کے سو اونٹ یو ں ہی نحر فرمائے۶۳ بدست انور۳۷ بدست امیرالمومنین حیدر ان رسیوں کے تصدق کاحکم کہیں نہ آیا
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتا ب المناسك باب الجلال للبدن ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۱۰/ ۴۵،€فتح الباری شرح صحیح البخاری کتا ب المناسك دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۴۳۹€
#7604 · الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ (چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)
حالانکہ ضرور وقت نحر بدنوں کے بدن پر تھیںبلکہ وہی طریقہ مسنونہ نحر کی ضامن ہوئیں میں زیاد بن جبیر سے ہے:
رأیت ان عمر اتی علی رجل قد اناخ بدنتہ ینحر قال ابعثہا قیاما مقیدۃ سنۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم ۔ میں نے ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کو دیکھا آپ ایك ایسے مرد کے پاس آئے جو اپنے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھاانھوں نے فرمایا اس کو کھڑا کرکے باندھو یہ حضرت محمدرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی سنت ہے۔(ت)
عمدۃ القاری میں ہے:
مقیدۃ معناہ معقولۃ برجل وھی قائمۃ علی الثلاث ۔ مقیدہ کامعنی ہے کہ رسی سے اس کا ایك پاؤں باندھا ہو اہو اور وہ تین پاؤں پر کھڑا ہو۔(ت)
بالجملہ اگر کوئی اپنا گھر تصدق کردے اور اس پر قادر ہوممانعت نہیںکلام اس میں ہے کہ قربانی کی جھولیںرسیاں تصدق کرنے کا حکم ہے۔اس کا کہیں ثبوت نہیںنہ حدیث میں نہ فقہ میںومن ادعی فعلیہ البیان(جو دعوی کرے دلیل بیان کرنا اس پر لازم ہے۔ت)ولہذا آج تك مسلمانوں میں کہیں اس کا رواج مسموع نہیںالبتہ اگر کوئی شخص تعظیم ضحایا کے لئے ان پر جھولیں ڈالے اور انھیں حسب حثیت مزین وبیش بہا کرے۔اور اس سے شعائر اسلام کی زینت اور فقرائے مسلمین کی منفعت چاہے تو ضرور اسے ان جھولوں کے تصدق کا حکم دیا جائے گا۔اور اس سے بازر ہنا اسے شنیع ہوگا کہ الله عزوجل سے وعدہ کرکے رجوع نہ ہوکما بینا فی فتاونا وباﷲ التوفیق(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا اور توفیق الله تعالی کے ساتھ۔(ت) والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المناسك باب نحر الابل المقیدۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۱،€صحیح مسلم کتاب الحج باب استحباب نحر الابل قیاما معقولا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۴€
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الحج باب نحر الابل المقیدۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۱۰/ ۵۰€
#7605 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
باب العقیقہ
(عقیقہ کا بیان)

مسئلہ ۲۹۶: از بریلی مسئولہ نواب سلطان احمد خاں صاحب ۲/ رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
اگر شخصے عقیقہ دو یا زیادہ طفلان خود ادا کند پس بوقت ذبح شاۃ نیت ہر ہمہ کافی بودیا برائے ہر ایك جانور علیحدہ باید۔ اگر کوئی شخص د ویا اس سے زائد بچوں کا عقیقہ کرے تو کیا ایك بکری ذبح کرتے وقت تمام کی طرف سے نیت کرلینا کافی ہے یا ہر ایك کی طرف سے علیحدہ جانور ہونا چاہئے۔(ت)
الجواب:
گاؤ و شتراز ہفت بچہ بسندہ کند وبز گوسفند جزیك راکفایت نیستکما فی الاضحیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ گائے اور اونٹ سات بچوں کی طرف سے کافی ہے۔جبکہ بھیڑ اور بکری ایك سے زیادہ بچوں کے لئے کفایت نہیں کرتیں جیسا کہ اضحیہ میں ہے والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۷: از چتوڑ گڑھ اودے پور میواڑ مرسلہ نور محمد ولد عبدالحکیم چھینہ ۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے عقیقہ کیا اور اس کے چمڑے کی قیمت کرکے قبل وصول قیمت کے اتنے ہی روپے کا اپنے پاس سے سامان منگواکر کھانا پکوا کر کچھ کھانا اباحۃ
#7606 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
اپنے مکان پر فقراء اور مساکین پر اور کچھ تملیکا ان پر صرف کردیانیز قیمت چمڑہ کے علاوہ اس گوشت میں زائد سامان شامل کرکے گھروالوں نے بھی کھایااور بلا امتیاز غنی وفقیر اپنے خویش واقارب کو بھی کھلایاحالانکہ عقیقہ کے چمڑے کے داموں کا فروخت کرنایا اشیائے مستہبلکہ کے ساتھ مبادلہ کرنااپنے تصرف میں لانے کے لئے ناجائز ہے تو اس شخص نے قیمت کی اشیائے مستہبلکہ خریدیںوہ مساکین پر تصدق کیںاس کے بعد جب اس نے چمڑے کا دام لے کر اس کا تصرف کرنا ناجائز سنا تو ابھی تك کہ چمڑہ کے دام نہیں لئے تھے اسی روز بیع چمڑہ فسخ کرکے قیمت سے انکار اور اس کے مبادلہ میں اشیائے غیر مستہبلکہ از قسم پارچہ یا ظروف لینا مقرر کیا
اندریں صورت اس شخص کا چمڑا کی قیمت کرکے بلا اخذ ثمن اپنے داموں سے منگواکر پکواکر مساکین پرتصدق کرنا اور اس میں زائد سامان پکوا کر خویش واقارب کا کھلانااور اس کے بعد اس کے ناجائز ہونے کے خیال سے بیع فسخ کرکے اب اس کا مبادلہ کرنا جائز ہوا کہ نہیں بینوا بسند الکتاب توجروا عند الله یوم الحساب۔
الجواب:
چرم قربانی سے تمول ممنوع ہے فقراء پر صرف ممنوع نہیں۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا وادخروا وائتجروا ۔ نبی اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ کھاؤذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:لانہ قربۃ کالتصدق (کیونکہ یہ صدقہ کرنے کی مثل قربت ہے۔ت)
وہ اگر فقراء کے لئے بیچنا اور اسی قیمت میں اور دام ڈال کر کھانا فقراء اور گھروالوں کے لئے پکاتا تو برا کرتا کہ تصدق وتمول کا خلط بلا تمیز تھالیکن وہ قیمت ہنوزنہ لی تھیاپنے ذہن سے اس کے بدلے اور روپیہ لے کر اس کا معاوضہ سمجھایہ اس کی جہالت تھی لیکن اس سے اس کھانے میں کوئی خبث نہ آیا اور نہ گھر والوں کے کھانے میں کچھ حرج ہواوہ دونوں اس کے خاص اپنے مال تھےاسے اختیار تھا کہ جہاں چاہے صرف کرےمگر وہ نیت کہ قیمت چرم قربانی میں فقراء کے لئے یہ کھانا اس کا عوض نہیں ہوسکتا اگر روپے کے عوض بیچتا وہ روپے امور تقرب میں ہی صرف کرنے ہوتےاب کہ وہ بیع فسخ کردیاور اشیائے باقیہ سے
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب الضحایا باب حبس الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
تبیین الحقائق کتاب الاضحیہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۶/ ۹€
#7607 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
بدلا اس تبدیل سے ثیاب وظروف جو حاصل کئےمباح الاستعمال ہیںمگر تصدق کی نیت سے عدول ہوااور یہ مکروہ ہے۔لہذا مناسب یہ ہے کہ اسے قربات وفقراء ہی پر صرف کردے۔
غایۃ البیان علامہ اتقانی شرح ہدایہ میں شرح مختصر الکرخی للامام القدوری رحمہم الله تعالی سے ہے۔
جواز الاشراك بعد الشراء للاضحیۃ محمول علی ان ملکہ لا یزول بالشراء الا انہ یکرہ لانہ قد وعد وعدا فلا ینبغی ان یرجع فیہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قربانی کے لئے جانور خریدنے کے بعد اس میں دوسرے کو شریك کرنے کا جائز ہونا اس بات پر محمول ہے کہ خریداری کے سبب سے اس کی ملکیت زائل نہیں ہوئیمگر ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس نے ایك وعدہ کیا ہے جس سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۸ و ۲۹۹: ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید نے عقیقے کے لئے دو راسیں خریدیںبائع کہتاہے میرے قیاس میں یہ راس ساڑھے دس مہینے کی ہے دوسری میں شبہہ ہےبظاہر فربہ ہیںان کی قربانی درست ہے یانہیں
(۲)قصاب سے عقیقے کے لئے ایك بکری خریدیوہ کہتاہے سال بھر کی ہے۔مگر دیکھنے سے اس کی حالت اس قابل نہیںسال بھر کا بچہ جو دانت توڑتاہے وہ اس نے ابھی نہ توڑےتو اس صورت میں اس کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)سال بھر سے کم کی بکری عقیقے یا قربانی میں نہیں ہوسکتیاگر مشکوك حالت ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہے۔کہ سال بھر کی نہ ہونا معلوم ہو لان عدم العلم بتحقق الشرط کعلم العدم(کیونکہ شرط کے متحقق ہونے کا عدم علم اس کے عدم تحقق کے علم کی طرح ہے۔ت)خصوصا بائع کا بیان کہ وہ اس سے زیادہ آگاہ ہے۔اور سال بھر سے کم کی ظاہر کرنے میں اس کا کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا عکس متوقع ہے کہ جب مشتری اپنے مطلب کی نہ جانے گا نہ لے گا۔والله
حوالہ / References غایۃ البیان
#7608 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
تعالی اعلم۔
(۲)جبکہ سال بھر کامل ہونے میں شك ہے تو اس کا عقیقہ نہ کریںاور قصاب کا قول یہاں کافی نہیں کہ بکنے میں اس کا نفع ہے۔اور حالت ظاہر اس کی بات کو دفع کررہی ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۰ تا ۳۱۰: کیا حکم ہے شرع مطہر ہ کا دربارہ عقیقہ کے:
(۱)جانور ذبح کئے جائیں ان کی عمر کیا ہونا چاہئےا ور اگر کسی عضو میں نقصان رکھتے ہوں وہ کام میں آسکتے ہیں یانہیں
(۲)گوشت کی تقسیم کس طرح کی جائےآیا کھانا پکاکر کھلوانا افضل ہے یا گوشت کا تقسیم کردینا
(۳)گوشت میں کوئی حصہ والدین کا بھی ہے یانہیں
(۴)دایہ کسی عضو کی مستحق ہے اور حجام وسقہ وخاکروب دھوبی وغیرہ
(۵)پوست کے دام قیمت جانور میں مجراکرنا اور خانگی خرچ میں ملانا جائز ہے یانہیں کیا طریقہ افضل ہے
(۶)اور جانور ذبح کس کو کرنا چاہئے اور دعائے عقیقہ کس طرح اور کس کو پڑھنا چاہئے
(۷)ہڈیاں توڑنا چاہئے یانہیںاور دفن کرنا چاہئے یانہیں
(۸)مدت اور روز عقیقہ کیا ہونا چاہئے
(۹)لڑکے اور لڑکی کے عقیقے میں تعداد جانوروں کی دو دو ایك ہونی چاہئے یا ایك ایک
(۱۰)اجرت قصاب کی داموں میں مجرا ہوسکتی ہے یانہیں
(۱۱)اگر دو جانور ہوں تو ان کی سری وپائے ایك حجام کوایك سقہ کو دی جاسکتی ہے یادونوں حجام کو بینوا توجروا
الجواب:
(۱)ان امور میں احکام عقیقہ مثل قربانی ہیںاعضا سلامت ہوںبکرابکری ایك سال سے کم کی جائز نہیںبھیڑمینڈھا چھ مہینہ کا بھی ہوسکتا ہے جبکہ اتنا تازہ وفربہ ہو کہ سال بھر والوں میں ملادیں تو دور سے متمیز نہ ہو۔
(۲)گوشت بھی مثل قربانی تین حصے کرنا مستحب ہے۔ایك اپناایك اقاربایك مساکین کااور چاہے تو سب کھالے خواہ سب بانٹ دےجیسے قربانیاور پکاکر کھلانا کچا تقسیم کرنے سے افضل ہے۔
#7609 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
(۳)حصہ ضروری کسی کا بھی نہیںاستحبابی حصہ میں تہائی اپنا رکھا گیا ہے۔والدین کھا سکتے ہیںاس کی ممانعت جو مشہورہے صحیح نہیں۔
(۴)دائی یعنی جنائی کو ایك ران دی جائے جبکہ وہ مسلمان ہو جاہلوں میں جو ہندو جنائیاں یا مس ڈاکٹریں بلائی جاتی ہیں یہ حرام ہے۔حجامسقاخاکروبدھوبی کا کوئی خاص حق نہیں۔
(۵)پوست داموں کو بیچ کر اپنے صرف میں لانا منع ہے۔اور قیمت میں مجرا کرنے کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ جانور پہلے خرید کر ذبح کرلیا اب پوست قصاب نے مول لے لیااس کے آتے ہوئے داموں میں یہ دام وضع کرلئےیوں اپنے صرف کے لئے بیچنا گنا ہ ہوامگر جانور کی خریداری میں خلل نہ آیا دوسرے یہ کہ خریدتے وقت شرط کرلی کہ کھال اتنے کو تجھے لینی ہوگییہ سرے سے جانور کی خریداری ہی کو حرام وفاسد کردے گا ان پر فرض ہوگا کہ اس عقد کو فسخ کردیںپھر از سر نو عقد صحیح سے اسے خرید کر عقیقہ میں ذبح کرےہاں بعینہ پوست کی جلد یا ڈول یا جانماز وغیرہ بناکر اپنے صرف میں لاسکتاہے۔یوں ہی برتن کپڑے وغیرہ اشیاء کے عوض بیچ سکتا ہے۔جو قائم رکھ کر استعمال میں آتی ہیںنہ دام یا اناج وغیرہ جن کا استعمال ان کو فناکرنے سے ہوتا ہے۔اور کارخیر میں دے دینااپنے صرف میں لانے سے افضل ہے۔
(۶)باپ اگر حاضر اور ذبح پر قادرہو تو اسی کا ذبح کرنا بہتر ہے کہ یہ شکر نعمت ہے۔جس پر نعمت ہوئی وہی اپنے ہاتھ سے شکر ادا کرے وہ نہ ہو یا ذبح نہ کرسکے تو دوسرے کو قائم کرے یا کیا جائےاور جو ذبح کرے وہی دعا پڑھے عقیقہ پسر میں کہ باپ ذبح کرے دعا یوں پڑھے:
اللھم ہذہ عقیقۃ ابنی فلان دمھا بدمہ ولحمھا بلحمہ وعظمھا بعظمہ وجلدھا بجلدہ وشعرھا بشعرہ اللھم اجعلہا فداء لابنی من النار ط بسم اﷲ اﷲ اکبر۔ اے الله ! یہ میرے فلاں بیٹے کا عقیقہ ہے اس کا خون اس کے خوناس کا گوشت اس کے گوشت اس کی ہڈی اس کی ہڈیاس کا چمڑہ اس کے چمڑے اور اس کے بال اس کے بال کے بدلے میں ہیںاے اللہ! اس کو میرے بیٹے کے لئے جہنم کی آگ سے فدیہ بنادے۔الله تعالی کے نام سےالله بہت بڑا ہے۔ (ت)
فلاں کی جگہ پسر کا جو نام رکھتا ہو لے دختر ہو تو دونوں جگہ ابنی کی جگہ بنتیاور پانچوں جگہ"ہ"کی جگہ"ھا"کہے اور دوسرا شخص ذبح کرے تو دونوں جگہ ابنی فلاں یا بنتی فلاں کی جگہ
#7610 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
فلان ابن فلاں یا فلانہ بنت فلانہ کہے۔بچے کو اس کے باپ کی طرف نسبت کرے۔
(۷)ہڈیاں توڑنے میں حرج نہیںاور نہ توڑنا بہتر ہےاور دفن کرنا افضل ہے۔
(۸)عقیقہ ساتویں دن افضل ہے۔نہ ہوسکے تو چودھویںورنہ اکیسویںورنہ زندگی بھر میں جب کبھی ہووقت دن کا ہو۔رات کوذبح کرنا مکروہ ہے۔
(۹)کم سے کم ایك تو ہے ہیاور پسر کے لئے دو افضل ہیںاستطاعت نہ ہو تو ایك بھی کافی ہے۔
(۱۰)گوشت بنانے کی اجرت داموں میں مجرا کرسکتاہے۔
(۱۱)سرے پائے خود کھائے خواہ اقرباء مساکین جسے چاہے۔خواہ سب حجام یا سب سقا کو دے دے شرع مطہر نے ان کا کوئی خاص حق اس میں مقرر نہ فرمایا۔فقط۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۱ تا۳۱۴: از پچروکھی ضلع گیا ڈاکخانہ اکبر پور مسئولہ سید محمد ولی عالم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)چلہ کے اندر عقیقہ کرنا جائز ہے یاتاخیر
(۲)ایك خصی سے عقیقہ ہوگا یانہیں
(۳)گوشت عقیقہ کا آباؤ اجداد کو کھانا چاہئے یانہیں
(۴)ہڈی مذبوح کی توڑنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)عقیقہ ولادت کے ساتویں روز سنت ہے۔اور یہی افضل ہے۔ورنہ چودھویں دنورنہ اکیسویں دن۔
(۲)خصی عقیقہ اور قربانی میں افضل ہے۔
(۳)عقیقہ کا گوشت آباء واجداد بھی کھاسکتے ہیں مثل قربانی اس میں بھی تین حصے کرنا مستحب ہے۔
(۴)اس کی ہڈی توڑنے کی ممانعت میں علماء تفاولا نہ توڑنا بہتر جانتے ہیںپسر کے عقیقہ میں دو جانور افضل ہیں اور ایك بھی کافی ہے اگر چہ خصی نہ ہوعقود الدریہ میں ہے:
قال فی السراج الوہاج اذا ارادان یعق عن الولد یذبح عن الغلام شاتین وعن الجاریۃ شاۃ ولو ذبح عن الغلام شاۃ جاز لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عق عن الحسن السراج الوہاج میں فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایك بکری ذبح کرےاگر لڑکے کی طرف سے ایك بکری ذبح کی تب بھی جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے حضرت امام حسن
#7611 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
والحسین رضی اﷲ تعالی عنہما کبشا کبشاولوقدم الذبح قبل یوم السابع او اخرعنہ جاز الا ان یوم السابع افضل والمستحب ان یفصل لحمہا ولا یکسر عظمہا تفاولا بسلامۃ اعضاء الولدویاکل و یطعم ویتصدق ۔ اور حضرت امام حسین رضی الله تعالی عنہما کی طرف سے ایك ایك مینڈھے کا عقیقہ کیااگر عقیقہ ساتویں دن سے پہلے کرے یا ساتویں دن کے بعد کرے تب بھی جائز ہے مگر ساتویں دن کرنا افضل ہے بچے کے اعضاء کی سلامتی کے لئے نیك فالی کے طور پر مستحب یہ ہے کہ گوشت ہڈیوں سے الگ کرلیا جائے اور ہڈیوں کو توڑا نہ جائےخود کھائےدوسروں کو کھلائے اور صدقہ کرے۔(ت)
اسی میں ہے:وحکمہا کاحکام الاضحیہ (عقیقہ کا حکم قربانی کے احکام کی طرح ہے)ردالمحتارمیں ہے:
فی البدائع افضل الشاء ان یکون کبشا املح اقرن موجوء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بدائع میں ہے افضل قربانی یہ ہے کہ مینڈھا چتکبراسینگوں والا اور خصی ہووالله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۵: مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگریاساداتضلع بریلی
عید الاضحی کے روز عقیقہ کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۶: از مرسنیا تھانہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ مختار حسین صاحب ۶/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے اپنے لڑکے کا عقیقہ کیاسرکے بال منڈواکر چاندی وزن کرکے حجام کو دے دی مسکین کو دینی چاہئے تھیاور بکری کا سرحجام کواور ایك ران بھنگن کوکہ وہی دائی تھیاس طرح عقیقہ ہوا یا نہیں جوانی یا بڑھاپے میں عقیقہ کرسکتاہے یا
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب الذبائح ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۲ و ۲۳€۳
العقود الدریۃ کتاب الذبائح ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۳€
ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۱€
#7612 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
نہیں بینوا توجروا
الجواب:
بھنگن یا کسی کافرہ کو جنائی بنانا سخت حرام ہے۔نہ کافرہ کو ران دی جائےاور بالوں کی چاندی مسکین کا حق ہے۔نائی مسکین ہو تو مضائقہ نہیںاصل حکم یہ ہے پھرجس نے اس کے خلاف کیابھنگن کو رانغنی نائی کو چاندی دی تو برا کیامگر عقیقہ ہوگیا سری کے بارے میں کوئی خاص حکم نہیں ہے جسے چاہے دےجس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ جوانی بڑھاپے میں بھی اپنا عقیقہ کر سکتا ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ تا ۳۱۹:از موضع خود مئو ڈاك خانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب ۶/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)حکم ہے کہ عقیقہ میں سرنائی کو اور ران دائی جنائی کو دی جائےفی زماننا جنائی اکثر چمارن یا ڈومن ہوتی ہے۔اور ان کا مذہب ظاہر ہے تو کیا ان مذکور بموجب حکم جنائی کو جو چمارن ہے یا ڈومن ہے دی جائے۔
(۲)گوشت عقیقہ کا صاحب عقیقہ یا اس کے والد کے کھانے کی نسبت اکثر بزرگ تحریر فرماتے ہیں کہ درست ہےاور بعض بزرگ تجویز فرماتے ہیں کہ مکروہ ہے۔اورنہ کھانا انسب ہے۔تو اب قطعی حکم معلوم ہونا چاہئےکیا کیا جائےجو طریقہ وسنت نبوی صلی الله تعالی علیہ وسلم کے خلاف نہ ہو
(۳)اکثر دیکھا گیا کہ لوگ بکرا منگا کر اور اس کو لڑکے یا لڑکی کے نام ذبح کرکے کچھ گوشت چیلکوا کو کھلاتے ہیںاور کچھ فقراء کو تقسیم کرتے ہیںیہ فعل کس حد تك صحیح ہے
الجواب:
(۱)سرنائی کو دینے کا نہ کہیں حکم نہ ممانعتایك رواجی بات ہے۔جنائی کو ران دینے کاحکمالبتہ حدیث ہےمگر کافرہ سے یہ کام لینا حرام ہے۔کافرہ سے مسلمان عورت کو ایسے پر دے کا حکم ہے جیسے مرد سے کہ سوا منہ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں اور تلووں کے کچھ نہ دکھائےنہ کہ خاص جنائی کا کام۔مجتبی شرح قدوری وتنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
الذمیۃکالرجل الاجنبی فی الاصح فلا تنظر الی بدن المسلمۃ ۔ اصح قول کے مطابق ذمیہ عورت اجنبی مرد کی طرح ہے لہذا وہ مسلمان عورت کے بدن کو نہ دیکھے۔(ت)
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار بحوالہ مجتبٰی کتاب الحظرولاباحۃ فصل فی النظر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۲€
#7613 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
غایۃ البیان میں ہے:
لیس للمؤمنۃ ان تتجرد بین یدی مشرکۃ اوکتابیۃ ۔ مومنہ عورت کو مشرکہ یا کتابیہ عورت کے سامنے ننگا ہونا جائز نہیں۔(ت)
سراج الوہاجنصاب الاحتساب وشرح الدر للعلامۃ اسمعیل وشرح ہدیہ ابن العماد للعارف عبدالغنی وردالمحتار میں ہے:
لایحل للمسلمۃ ان تنکشف بین یدی یھودیۃ او نصرانیۃاومشرکۃ الا ان تکون امۃ لہا ۔ مسلمان عورت کو یہودینصرانی یا مشرك عورت کے سامنے ننگا ہونا حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس کی لونڈی ہو۔(ت)
پھر اگر کسی نے اپنی حماقت سے اس گناہ کا ارتکاب کیااو کان صحیح الاضطرار الیہ(یا اس کی طرف شدید مجبوری ہو۔(ت) تو اس کو ران وغیرہ کچھ نہ دیں کہ کافروں کا صدقات وغیرہ میں کچھ حق نہیںنہ اس کو دینے کی اجازتغایہ سروجی وبحرالرائق ودرمختاروغیرہا میں ہے:
اما الحربی ولومستأمنا فجمیع الصدقات لایجوز لہ اتفاقا ۔ لیکن کافر حربی اگر چہ مستامن ہو اس کو تمام صدقات دینا بالاتفاق ناجائز ہے۔(ت)
درایہ میں ہے:
صلتہ لا تکون برا شرعا۔ولذا لم یجز التطوع الیہ ۔ اس کے ساتھ صلہ رحمی شرعی طور پر نیکی نہیںیہی وجہ ہے کہ اس پر احسان کرنا جائز نہیں۔(ت)
(۲)عقود الدریہ وغیرہا کتب میں تصریح ہے کہ احکامہا احکام الاضحیہ (عقیقے کے احکام وہی ہیں جو قربانی کے۔وہی تین حصے اس میں مستحب ہیں۔ایك اپناایك عزیزوں دوستوں کاایك مسکینوں کاخود بھی کھائےماں باپ بھی کھائیںممانعت بے اصل ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۳۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۳۸€
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۱€
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۸€
العقود الدریۃ کتاب الذبائح ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۳€
#7614 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
(۳)مساکین کو دیںچیلکوؤں کو کھلانا کوئی معنی نہیں رکھتایہ فاسق ہیںاو ر کوؤں کی دعوت رسم ہنود۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۰: ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ عقیقے کے جانور کی استخوان توڑنا اور گوشت کے ساتھ پکانے کو عدم جواز کہتے ہیںاور جواز کی دلیل چاہتے ہیںاور استخوان اور پوست زمین میں دفن کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہڈیاں توڑنے میں کوئی حرج نہیںناجائز کہنے والا دلیل بیان کرےکہاں سے ناجائز کہتاہے۔یہ شافعیہ کے یہاں ہے۔وہ بھی مستحب طور پر نہ کہ واجب کہ توڑنا ناجائزہوخود بلا دلیل ناجائز کہہ دینا اور جواز پر الٹے دلیل مانگنا حماقت ہے۔اور استخوان خالی دفن کریںپوست دفن کرنا گناہ ہے۔کہ مال کو ضائع کرنا ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۱: از شہر پونا جامع مسجد مسئولہ محمد ابراہیم صاحب بروز شنبہ ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع مبین کہ بچے کا عقیقہ کیا جائے لڑکے کے ماں باپ نانانانیداداماموں وغیرہ گوشت عقیقہ کا کھائیں یانہیں
الجواب:
سب کھاسکتے ہیںیہ مسئلہ لوگوں میں غلط مشہور ہے کلواوتصدقوا وائتجروا (کھاؤصدقہ کرو اور اجر کماؤ۔عقود الدریہ میں ہے:احکامہا احکام الاضحیہ (عقیقہ کے احکام وہی ہیں جو قربانی کے احکام ہیں۔ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۲۲: از کیمپ میرٹھ لال کرتی بازاربنگلہ سول سارجن مرسلہ شیخ احمد بخش ملازم کرنل ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عقیقہ میں جانور کی ہڈی توڑنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الاضاحی باب بیان ماکان من النھی عن لحوم الاضاحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۵۸،€سنن ابی داؤد کتا ب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
العقود الدریۃ کتاب الذبائح ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۲۳۳€
#7615 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
الجواب:
توڑنے میں حرج نہیںاور نہ توڑنا بہترہے۔
قال الشیخ المحقق فی شرح المشکوۃ انہ مذھب الامام مالکوالکسر مذہب الامام شافعیقلت و قد صرح علمائنا ان مذہب عالم المدینۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اقرب الی مذہبنا ویصار الیہ حیث لانص من اصحابنا کما فی ردالمحتار وغمزالعیونقلت لاسیما فی مثل مانحن فیہفان الکسر لاینبغی عند مالکولو لم یکسر لم یعاقبہ الشافعی رضی اﷲ تعالی عن الائمۃ اجمعین۔واﷲ تعالی اعلم۔ شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے شرح مشکوۃ میں فرمایا کہ(ہڈی کا)نہ توڑنا امام مالك کا مذہب ہے۔اور توڑنا امام شافعی کا مذہب ہے۔میں کہتاہوں ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ عالم مدینہ کا مذہب ہمارے مذہب کے زیادہ قریب ہے۔جہاں ہمارے اصحاب سے کوئی نص موجود نہ ہو وہاں انہی کے مذہب کی طرف رجوع کیا جائےجیسا کہ ردالمحتاراور غمز العیون میں ہے۔میں کہتاہوں خاص طور پر زیر بحث مسئلہ جیسے مسائل میں کیونکہ امام مالك کے نزدیك توڑنا مناسب نہیںاوراگر نہ توڑے تو امام شافعی اس پر عتاب نہیں فرماتے۔ الله تعالی ہمارے تمام اماموں پر راضی ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عقیقہ کا گوشت والدین کو کھانا حرام ہے یا ناجائز بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے اگر سب آپ ہی کھالیں جب بھی حرج نہیں لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کلوا وادخروا (نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ کھاؤ اور ذخیرہ کرو۔ت) ہاں بہتر یہ ہے کہ"لا اقل بقدر ثلث"(کم از کم تہائی کو۔ ت)خیرات کردےاور ایك ران دائی کا حق ہے۔ایك ثلث عزیزوں قربیوں میں تقسیم کریںایك ثلث اپنے کھانے کے لئے
بذلك ورد الحدیث واما جواز الاکل فان النسك انما یقوم باراقۃ الدم اس پر حدیث وار دہے۔لیکن کھانے کاجواز تو اس لئے ہے کہ عقیقہ تو جانور کا خون بہانے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۳€
#7616 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
والتصدق باللحم خارج عنہ کالا ضحیۃ والدم دم شکر لاجبروقد صرح العلماء کالشیخ فی اللمعات وغیرہ فی غیرہا ان العقیقۃ کالاضحیۃ فی جمیع الشرائط والاحکامومعلوم ان الاضاحی تقسم لحومہا اثلاثا ثلث طعمہ و ثلث ہدیۃ وثلث صدقۃ و ھذا ایضا علی وجہ الاستحباب دون الوجوب حتی لو اکل الکل جاز فکذا العقیقۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کے ساتھ ادا ہوجاتا ہے۔اور گوشت کو صدقہ کرنا اس سے خارج ہے جیساکہ قربانی میں ہوتاہے۔اور عقیقہ کے لئے جانور ذبح کرنا بطور شکر ہے اس پر جبر نہیں علماء کرام نے صراحت فرمائی جیساکہ شیخ محقق نے لمعات میں اور دیگر ائمہ نے دیگر کتب میں فرمایا کہ بیشك عقیقہ تمام شرائط واحکام میں قربانی کی مثل ہے۔اور یہ بات معلوم ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتاہے ایك حصہ خود کھانے کے لئے دوسرا حصہ ہدیہ وتحفہ کے لئے اور تیسرا حصہ صدقہ کے لئےاورا یسا کرنا بھی مستحب ہے نہ کہ واجب یہاں تك کہ اگرتمام گوشت خود کھالے تب بھی جائز ہے۔لہذا ایسا ہی معاملہ عقیقہ میں ہوگا والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲۴ و ۳۲۵: شیخ احمد حسین صاحب از مقام سید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)مردہ کے نام پر عقیقہ دیا جاسکتاہے یانہیں اور بعض عالم یہ کہتے ہیں کہ مردہ کے نام پر قربانی کرنا درست ہے لہذا عقیقہ بھی درست ہے۔اگر بچہ ہو کہ سات دن سے پہلےمرے تو کیا حکم ہے
(۲)ایك گائے سے تین یا چار یا سات لڑکی کا عقیقہ دے سکتاہے یانہیں
الجواب:
(۱)مردہ کی طرف سے قربانی بلا شبہ جائز ہے اور عقیقہ شکر نعمت ہے بعد زوال نعمت اس کا محل نہیںولہذا اموات بلکہ ان کی طرف سے جواب تك پیدا نہ ہوئے قربانی ثابت ہے۔اور عقیقہ بعد موت کہیں ثابت نہیںجو بچہ سات دن سے پہلے مرگیا عقیقہ نہ کرنے سے جو الزام آتا کہ وہ شفیع ہوگایہاں نہ ہوگا کہ شرع نے جو اس کا وقت مقرر فرمایا اس سے پہلے اس کا انتقال ہو گیااور سات دن بعد مرا اور استطاعت تھی تو اس کی شفاعت کا استحقاق نہیںوالله تعالی اعلم۔
(۲)دے سکتاہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۶:ازشہربریلی مدرسہ اہلسنت مسئولہ مولوی اسیر الدین بنگالی یکے از طلباء مدرسہ مذکورہ ۲۴ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
بچہ نابالغ اگر قبل عقیقہ کے مرجائے تو بعد مرنے کے اگر عقیقہ کیا جائے تو ثواب عقیقہ کاملے گا یا
#7617 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
نہیں اور یہ عقیقہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
بچہ کی موت کے بعدعقیقہ نہیں ہوسکتا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۷:مسئولہ محمد یعقوب علی خاں از مقام کٹہری ضلع گوڑ گاؤں ڈاکخانہ ڈھینہ اسٹیشن حاٹون بتاریخ ۱۴ ذی قعدہ ۱۳۳۳ھ
جو بچہ پیدا ہوا اور کسی سبب سے اس کی زندگی میں عقیقہ نہ ہوا تو بعد مرنے بچہ کے اس کے نام سے عقیقہ کرنا درست ہے یا نہیں
الجواب:
عقیقہ بعد موت پسر نہیں کہ وہ شکر ولادت ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۸ و ۳۲۹: از بریلی محلہ سوداگران مسئولہ سردار احمد صاحب ۱۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)مردے کے نام سے عقیقہ دے سکتاہے یانہیں اور بعض عالم کہتے ہیں کہ مردے کے نام پر قربانی کرنا درست ہے لہذا عقیقہ بھی درست ہے اگر بچہ پیدا ہو کے سات دن پہلے مرے تو کیا حکم ہے اور سات دن کے بعد مرے تو کیا حکم ہے۔اور نر یعنی بکرا لڑکے کے لئے خاص ہے یا نہیں
(۲)ایك گائے سے تین یا چار سات لڑکے کا عقیقہ دے سکتاہے یانہیں اور ایك گائے کے گوشت سے دو حصہ لے کر ایك لڑکے کا عقیقہ دیا جائے تو درست ہے یانہیں
الجواب
(۱)مردے کا عقیقہ نہیں کہ وہ شکر ولادت ہے بخلاف قربانی کہ ایصال ثواب ہے۔سات دن سے پہلے مرگیا تو ابھی عقیقہ کا وقت ہی نہ آیا تھا اور بعد کو مرا تو عقیقہ کیااس بچے کی شفاعت کا مستحق نہ ہوگااگر بلاوجہ باوصف استطاعت نہ کیاافضل یہ ہے کہ پسر کے لئے دو نر ہوں اور دختر کے لئے ایك مادہ کہ اس میں مقابلہ اعضا اکمل ہے۔اور اگر نرومادہ میں عکس ہو جب بھی کوئی حرج نہیں۔والله تعالی اعلم۔
(۲)ایك گائے میں ایك سے سات کا عقیقہ ہوسکتا ہے۔اگر عقیقہ کے سوا دوسرا حصہ ایك یا دو یا کتنا ہی خفیف غیر قربت مثلا اپنے کھانے کی نیت کو رکھا تو عقیقہ ادا نہ ہوگاہاں اگر وہ حصے
#7618 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
بھی قربت کے ہوںمثلا ایك حصہ عقیقہایك حصہ قربانی عید الاضحی تو جائز ہے۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۳۰: ہادی حسین صاحب از شہر بریلی محلہ ذخیرہ ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
علمائے کرام اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید وہندہ کے آپس میں ناجائز تعلق تھاہندہ کو اس ناجائز تعلق کی وجہ سے حمل رہاافشائے راز کے باعث زید وہندہ کا باہم نکاح کردیااب ہندہ نے وضع حمل کیازید اس کا عقیقہ کرنا چاہتاہے۔آیایہ عقیقہ درست ہوگا اورگوشت یا طعام عزیز واقرباء کو کھانا مباح ہوگایانہیں اور نکاح زید صورت مسطورہ میں صحیح ہے یانہیں علاوہ ازیں زید کوئی کام بھی آئندہ اس مولود کا مثل ختنہ ومکتب وغیرہ کے کرےاس میں شرکت دینا اور شرینی اور طعام دعوت ان امور کی لینا اور کھانا اعزا کو جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
سائل کے بیان سے معلوم ہوا کہ عورت کنواری تھی اور بچہ نکاح کے کوئی دو مہینے بعد پیدا ہواایسی صورت میں زید اگر جانتا ہے کہ واقع میں یہ حمل نکاح سے پہلے کا ہے تو اسے اس کا عقیقہ کرنے کے کوئی معنی نہیں کہ عقیقہ شکر نعمت ولادت ہے اور بچہ کی ولادت زانی کے لئے نہیں ہوتی صرف ماں کے لئے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للعاھر الحجر ۔ نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا زانی کے لئے پتھر ہے۔(ت)
اس کا عقیقہ اگر کرے تو اس کی ماں کرےاس میں شرکت میں حرج نہ ہوگااور ختنہ اور شادی اگر زید بھی کرے تو حرج نہیں اور شرکت بھی جائز ہوئی جبکہ کوئی محذور شرعی نہ ہووالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۱ تا ۳۳۳:مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب حنفی قادری رضوی از آرہ شاہ آباد مدرس فیض الغرباء بروز پنجشنبہ بتاریخ ۷/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
(۱)قیاس عقیقہ قربانی پر صحیح ہے یانہیں اگر صحیح ہے تو ان دونوں کا جامع علت مشترکہ کیا ہے
(۲)قربانی کی طرح عقیقہ میں شرکت جائز ہے یانہیں
(۳)سات لڑکیوں یا تین لڑکے اور ایك لڑکی کے نام سے ایك گائے عقیقہ کرسکتے ہیں یانہیں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المحاربین باب للعاھر الحجر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۰۷،€صحیح البخاری کتاب الاحکام باب من قضی لہ بحق اخیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۶۵،€صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الولد للفراش الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۰ و ۴۷۱€
#7619 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
الجواب:
عقیقہ میں بھی شرکت اسی طرح جائز ہے جیسے قربانی میں جبکہ سب کی نیت خالص لوجہ الله ہو۔اگر ایك کی نیت بھی قربت کی نہ ہوگی اور باقی سب تقرب چاہیں گے کسی کی قربت ادانہ ہوگی کہ وہ سب گوشت ہوگیا۔
لان اﷲ تعالی لا یقبل الشرکۃ واغنی الاغنیاء عن الشرکۃ لہ ولغیرہ فکلہ لغیرہ۔ ا س لئے کہ الله تعالی شرکت کو قبول نہیں فرماتا اور وہ تمام اغنیاء شرکت سے بڑاغنی ہے اورجو اس کے لئے اوراس کے غیر کے لئے(مشترک)ہو تو وہ سب اس کے غیر کے لئے ہے۔(ت)
عقیقہ اور قربانی دونوں اراقت دم لوجہ الله ہیں اور اسی کلیہ میں داخل کہ:
ماکان لہ ولغیرہ فہو لغیرہ وماکان خالصا لہ فہولہ۔ وان تعددت الوجوہ ولذا جاز التصدق علی فقیرین بالاشتراك ولامشاعان المقصود وجہ اﷲ تعالی وھو واحد بخلاف الھبۃ۔ جوکچھ اس کے لئے اور اس کے غیر کے لئے(مشترک)ہے تو وہ اس کے غیر کے لئے ہے اور جو خالص اس کی رضا کے لئے ہے تو وہ اس کے لئے ہے۔اگر چہ وجوہ تقرب متعد د ہوںاسی واسطے دو فقیروں پر بلا تقسیم مشترکہ طورپر صدقہ کرنا جائز ہے کیونکہ مقصود الله تعالی کی خوشنودی ہے اور وہ ایك ہی ہے بخلاف ہبہ کے(ت)
لہذا حاجت قیاس نہیں فان المندرج تحت العمومات غیر مسکوت عنہ لیقاس(کیونکہ جو شے عمومات کے تحت درج ہو وہ مسکوت عنہ نہیں ہوتی تاکہ قیاس کیا جائے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴: از قصبہ امریا ڈاك خانہ امر یا پاس محمد اکبر یارخاں بروز چہار شنبہ بتاریخ ۱۳/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
بسم الله الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو بچہ لڑکا یا لڑکی پیدا ہو کر ہفتہ سے کم یا ہفتہ بھر کی عمر یا ہفتہ سے زائد میں انتقال ہوااب ان کے والدین کو ان مردہ بچوں کا عقیقہ چاہئے یانہیں اور ہفتہ سے کم عمر میں مرے ان کا عقیقہ کیا جائے یا نہیں اور قربانی بھی ان بچوں کی جانب سے ہوتی یانہیں اور والدین جو انتقال کرچکے ہوں ان کی جانب سے کرنا جائز ہے یانہیں اس کی بابت جو جوابات ہوں واضح طور پر تحریر فرمائے جائیں سخت ضرورت ہے۔جواب جہاں تك ممکن ہو بہت جلد اور ہفتہ کی عمر سے زائد جہاں تك حد ہو اپنی صغر سنی میںاس کے واسطے کیاحکم ہے۔اور وہ بچے جن کے ذکر ہوا عقیقہ نہ کرنے میں مواخذہ
#7620 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
کریں گے یانہیں اگر عقیقہ کردیا جائے تو شفاعت برووز حشر کرادیں گے یانہیں فقط
الجواب:
جو مرجائے کسی عمر کا ہو اس کا عقیقہ نہیں ہوسکتابچہ اگر ساتویں دن سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے عقیقہ نہ کرنے سے کوئی اثر اس کی شفاعت وغیرہ پرنہیں کہ وہ وقت عقیقہ آنے سے پہلے ہی گزر گیا عقیقہ کا وقت شریعت میں ساتواں دن ہے سات دن سے پہلے مرجانا درکنارحدیث میں ہے کہ کچا حمل جو گر جاتاہے وہ روز قیامت اپنا نال کھنیچتا ہوا آئے گا اور اپنے ماں باپ کے لئے (جبکہ وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ گئے ہوں)مولی عزوجل سے ایسا جھگڑا کرے گا جیسے قرضخواہ اپنے قرضدا ر سےیہاں تك کہ حکم ہوگا کہ او کچے بچےاپنے رب سے جھگڑنے والے! اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور جنت میں لے جا ۔ہاں جس بچے نے عقیقہ کا وقت پایا یعنی سات دن کا ہوگیا اور بلاعذر باوصف استطاعت اس کا عقیقہ نہ کیا اس کے لئے یہ آیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی شفاعت نہ کرنے پائے گا۔حدیث میں ہے:الغلام مرتہن بعقیقتہ لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے۔تیسیر میں ہے:
یعنی اذالم یعق عنہ فمات طفلا لا یشفع فی ابویہ ۔ یعنی اگر بچے کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو اور وہ بچپن میں مرگیا تو وہ اپنے والدین کی شفاعت نہیں کرے گا۔(ت)
اشعۃ اللمعات میں ہے:
امام احمد رحمۃ الله تعالی علیہ مے گوید معنی آنست کہ فرزند محبوس وممنوع ست از شفاعتدرحق والدین تاعقیقہ او را ند ہندواعتماد برقول آں امام اجل ست وظاہرآن ست کہ وی شنیدہ است از سلف کہ معنی ایں ست ۔ امام احمد علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ بچے کا جب تك عقیقہ نہ کیا جائے اس کو والدین کے حق میں شفاعت کرنے سے روك دیا جاتا ہے اور اعتماد اس عظیم الشان امام کے قول پر ہے اور ظاہر یہ ہے کہ امام موصوف نے اسلاف سے سنا ہوگا کہ اس کا معنی یہ ہے۔(ت)
جو بچہ قبل بلوغ مرگیا اور اس کاعقیقہ کردیا تھایا عقیقہ کی استطاعت نہ تھی یا ساتویں دن سے پہلے مرگیا ان
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۶€
الجامع الصغیر حدیث ۵۸۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲/ ۳۵۹€
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۱۶۵€
اشعۃ اللمعات کتا ب الصید باب العقیقہ الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۴۸۲€
#7621 · باب العقیقہ (عقیقہ کا بیان)
سب صورتوں میں وہ ماں باپ کی شفاعت کرے گا جبکہ یہ دنیا سے باایمان گئے ہوں اس بارے میں متواتر حدیثیں ہیںقربانی جو اپنے نابالغ بچہ کی طرف سے بعض کے نزدیك واجب ہے وہ اس کی زندگی ہی میں ہے بعد مرگ کسی کے نزدیك لازم نہیں ہاں ان کی طر ف سے کرے تو ان کو ثواب پہنچے گایونہی ماں باپ کی طرف سے بعد موت قربانی کرنا اجر عظیم ہے اس کے لئے بھی اور اس کے والدین کے لئے بھی۔وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔
_____________
___________________________
نوٹ
بیسویں جلد باب العقیقہ پر ختم ہوئی
اکیسویں جلد کا اغاز کتاب الحظر والاباحۃ سے ہوگا۔
___________________________
#7622 · مآخذ و مراجع
ماخذ و مراجع
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس
۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی
۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی
۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری
۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی
۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی
۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم
۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی
۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا
۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی
۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی
۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی
۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی
#7623 · مآخذ و مراجع
۔ امالی فی الحدیث عبدالملك بن محمد بن محمد بشران
۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی
۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی
۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی
۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ
الام محمدبن ادریس الشافعی
۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری
۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی
۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری
۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی
۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی
۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی
۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی
۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی
۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی
۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی
۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی
۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری)
۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم
۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی
۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی
۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا
#7624 · مآخذ و مراجع
۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی
۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی
۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم
۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی
۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی
۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی
۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی
۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی
۔ بلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی
۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ
۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ء
ت
۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی
۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر
۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری
۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی
۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام
۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی
۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری
۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی
۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی
۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی
#7625 · مآخذ و مراجع
۔ تنبیہ الانام فی آداب الصیام
۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۔
۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی
۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ)
۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر
۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی
۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی
۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی
۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی
۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی
۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی
۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی
۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی
۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری
۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳
۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار
۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری
۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ
۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی
۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی
۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی
۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی
#7626 · مآخذ و مراجع
۔ التعقبات علی الموضوعات جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۰۸
۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری
۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون
۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی
۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی
۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین
۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی
۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی
۔ تجنیس الملتقط
۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ
ث
۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری
۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی
۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی
۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری
۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری
۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی
#7627 · مآخذ و مراجع
۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی
۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی
۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی
۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی
۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر
۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی
۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی
۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی
۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن(تفسیرطبری)محمدبن جریرالطبری
۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز
۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی
۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی
۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی
۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری
۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری
۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی
۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اﷲ علیہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی
۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی
ح
۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی
۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی
۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی
۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو
#7628 · مآخذ و مراجع
۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی
۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی
۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی
۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی
۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی
۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی
۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج
۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی
۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی
۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری
۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو
۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی
۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری
۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی
۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
خ
۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری
#7629 · مآخذ و مراجع
۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی کے بعد
۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی
۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری
۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی
۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی
۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی
د
۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو
۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی
۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
ذ
۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی)
۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد
۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی
ر
۔ الرحمانیۃ
۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی
۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملك بن حبیب السلمی(القرطبی)
#7630 · مآخذ و مراجع
۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم
۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی
۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ء
۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری
۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی
۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری
۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم
۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری
۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی
۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی
۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین
۔ رسالہ میلاد مبارك (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی
۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی
۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ء
۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی
ز
۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام
۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا
۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی
#7631 · مآخذ و مراجع
۔ زہرالربی علی المجتبی جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ
۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی
۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی
۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی
س
۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی
۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ
۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی
۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث
۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی
۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی
۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی
۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی
۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملك بن ہشام
۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس
۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی
۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی
۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار
۔ سراج القاری
۔ السعدیہ
۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی
#7632 · مآخذ و مراجع
۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی
۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی
۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی
۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری
۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور
۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی
۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی
۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ
۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی
۔ شرح الغریبین
۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی
۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ
۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی
۔ شرح مؤطاامام مالك علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی
۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی
۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی
۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود
۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ
#7633 · مآخذ و مراجع
۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ
۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر
۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی
۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی
۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی
۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی
۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی
۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی
۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی
۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی
۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی
۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی
۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی
۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی
۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی
۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین
۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری
۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری
۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز
۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری
۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
#7634 · مآخذ و مراجع
۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملك بن محمدنیشاپوری
۔ شرح جامع الاصول للمضیف مبارك بن محمدالمعروف بابن الاثیرالجزری
۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی
۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان
ص
۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری
۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان
۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ
۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا
۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی
۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی
۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی
ط
۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی
۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی
۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی
۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری
۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المعروف ببرکلی
۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی
ع
۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی
۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی
۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی
#7635 · مآخذ و مراجع
۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی
۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی
۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری
۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی
۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی
۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی
۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی
۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین
۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی
غ
۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی
۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو
۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم
۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی
۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی
۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی
۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی
ف
۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی
۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام
۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی
۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز
#7636 · مآخذ و مراجع
۔ فتاوی حجہ
۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی
۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی
۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان
۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد
۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی
۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز
۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی
۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی
۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی
۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی
۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی
۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی
۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی
۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ
۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی
۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی
۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی
۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی
۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی
۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم
#7637 · مآخذ و مراجع
۔ فتح المعین شرح اربعین شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی
۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی
۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی
۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی
۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱
۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۔ فتح الملك المجید
۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی
ق
۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی
۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری
۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی
۔ القرآن الکریم
۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی
۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی
۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری
۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی
#7638 · مآخذ و مراجع
ک
۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد
۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی
۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی
۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری
۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۔ کتاب السواك ابونعیم احمدبن عبداللہ
۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی
۔ کتاب الطہور لابی عبید
۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی
۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی
۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی
۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین
۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا
۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی
۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود
۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم
۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی
۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی
۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان
#7639 · مآخذ و مراجع
۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی
۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارك
۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری
۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی
۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی
۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی
۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا
۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا
۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی
۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی
۔ کتاب الرواۃ عن مالك ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی
۔ کتاب الحجہ علی تارك الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی
۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی
۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی
ابن ابی زہرالقہروانی
۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ
۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری
۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی
ل
۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی
۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی
#7640 · مآخذ و مراجع
۔ لسان العرب جمال الدین محمدبن مکرم ابن منظورالمصری
۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
م
۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملك
۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی
۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی
۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی
۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی
۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی
۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ
۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین
۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی
۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی
۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی
۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد
۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی
۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری
۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی
۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری
۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی
۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۔ المستدرك للحاکم ابوعبداللہ الحاکم
۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی
#7641 · مآخذ و مراجع
۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری
۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی
۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی
۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ
۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل
۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار
۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی
۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی
۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی
۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی
۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی
۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی
۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی
۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی
۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی
۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری
۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی
۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی
۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی
۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی
۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی
۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی
۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
#7642 · مآخذ و مراجع
۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی
۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی
۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز
۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود
۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد
۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی
۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی
۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی
۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی
۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی
۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی
۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی
۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی
۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری
۔ موطاامام مالك امام مالك بن انس المدنی
۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی
۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی
۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی
۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی
۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی
۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ
۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی
۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت
۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی
#7643 · مآخذ و مراجع
۔ المسندفی الحدیث حسن بن سفیان النسوی
۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی
۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری
۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی
۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی
۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی
۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح
۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری
۔ مدارك التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی
۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد
۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری
۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی
۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی
۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری
۔ المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری
۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی
۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین
۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالك شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں
۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں
۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں
۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی
۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی
#7644 · مآخذ و مراجع
۔ مظاہرحق مولوی نذیرالحق میرٹھی
۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی
۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۔ مفتاح الصلوۃ
۔ مجتبی شرح قدوری
۔ مشیخہ ابن شاذان
۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی
۔ مفاتیح الغیب(تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی
ن
۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود
۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی
۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی
۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی
۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارك بن محمدالجزری ابن اثیر
۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری
۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی
۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ
۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی
۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی
و
۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی
۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی
۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ
#7645 · مآخذ و مراجع
۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی
ھ
۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی
ی
۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی
۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی
#7646 · مآخذ و مراجع
ضمیمہ
ماخذ و مراجع
نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی //
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین /
۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی
۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی
۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی
۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی
۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی
۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی
۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی
۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی
۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی
#7647 · مآخذ و مراجع
۔ ارشادالساری الی مناسك الملاعلی القاری حسین بن محمدسعیدعبدالغنی المکی الحنفی
۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری
۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی
۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی
۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملك ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین
۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی
۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی
ت
۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی
۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی
۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی
۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی
۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی
۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری
۔ تفہیم المسائل
۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی
ث
۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی
۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان
ج
۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی








۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی
۔ جامع المضمرات والمشکلات(شرح قدوری) یوسف بن عمرالصوفی
۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں
ح
۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی
۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی
#7648 · مآخذ و مراجع
۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی
۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں
۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں
خ
۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی
د
۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی
۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی
۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی
۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری
۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار
۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان
ذ
۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی












ر
۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین
س
۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی
۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی
۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی
ش
۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری
۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی
۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی
۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی
۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی بلہوری غالبا
#7649 · مآخذ و مراجع
۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین
۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۲۵
ص
۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اﷲ علیہ تعالی علیہ وسلم
۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی
۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی



















۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی
ط
۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری
غ
۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری
۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی
۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی
۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی بلہوری غالبا
ف
۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل
۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی
۔ فاتح شرح قدوری
۔ فوائدحاکم وخلاص
۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی
۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم
۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین
۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی
۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی
#7650 · مآخذ و مراجع
۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی
ق
۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین


















ک
۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی
۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی
۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر
۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی
۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل
۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا
۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی
۔ کتاب ذکرالموت
۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی
۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی
۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی
۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی
ل
۔ لباب المناسك شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی
م
۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری
مجموعہ خانی (فارسی)
۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں
۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی
#7651 · مآخذ و مراجع
۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں
۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابومحمدعبیدبن حمید الکشی
۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ
۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی
۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی
۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی
۔ مسندالشامیین
۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی
۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی
۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی
۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور
۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی
۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی
۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی
۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب
۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی
۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی
۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی
۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف
۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی
۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۲
۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی
ن
۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی

۔ نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار محمدبن علی الشوکانی
۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی بلہوری
۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی
۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی
۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری
۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی
#7652 · مآخذ و مراجع
۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی
۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی
۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ
۔ نافع شرح قدوری
۔ نام حق شرف الدین بخاری
۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ
و
۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان
۔ واقعات المفتیین
۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی
ھ
۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی
#19695 · کتاب المزارعۃ (مزارعت کا بیان)
زمیندار کواختیارہے کہ جب پٹہ کی میعاد ختم ہویا اگر کاشتکار سے کوئی میعاد معین نہ ٹھہری تو جس ختم سال پر چاہےکاشتکارسے کہہ دے کہ اب سے کاشت کرے چھوڑ دے مجھے زمین تجھ کو دینا منظور نہیںاس کہنے سے وہ زمین سے شرعا بے تعلق ہوجائے گااور اسے حرام ہوگا کہ قبضہ نہ چھوڑےاگرنہ چھوڑے گا غاصب ہوگااور اس کے بعد سے عندالشرع اس پر وہی چارروپے بیگھ واجب ہوگا جو وہاں اس حیثیت کی زمینوں کی عام شرح ہے اگر نہ دے گا اوروہی دو روپے بیگھ ادا کرتارہے گا تو بحکم شرع وہ فی بیگھ دو روپے سال کا مدیون ہوتارہے گامثلا ایسی زمین پچاس بیگھے اس کی کاشت میں ہے تو زمیندار کے سو روپے سال ہمیشہ اس پر چڑھتے رہیں گے جب تك زمین نہ چھوڑےنیز زمیندار کو اختیار ہے کہ ختم میعاد یا صورت ثانیہ میں جس ختم سال پر چاہے اس سے زمین نکالنے کو نہ کہےبلکہ یوں کہےکہ آج سے یہ زمین چارروپے یا دس روپے بیگھ ہے(جو وہاں اس زمین کی عام شرح ہورہی ہے خواہ اس قدرکہے یا اس سے کم یا جس قدر چاہے زیادہمثلا سوروپے بیگھ ہزاروپے بیگھ)اگر کاشت کا راپنے زعم پر کہ یہ بغیر چارہ جوئی قانونی کیا کرسکتاہے خاموش رہا اور کاشت کیتو جتنا اس نے کہہ دیا تھا اس پر دین ہورہے گااوراگر وہ سکوت نہ کرے بلکہ رد کردےمثلا کہے میں تووہی دو روپے دوں گا زیادہ نہ دوں گاتو یہ پھر اپنے کلام کا اعادہ کردے یہاں تك کہ وہ خاموش ہورہے اور دیکھے کہ نہیں چپتا تو کہہ دے مجھے تجھ کو دینا منظور نہیںاس کے بعد کاشت کرے گاو ہی عام شرح مثلا چار روپے اس پر لازم آئیں گےان طریقوں سے یہ تو ہوگا نہیں کہ زمیندار قانونا د وروپے بیگھ سے زائد لے سکےجب تك باضابطہ اضافہ نہ کرائے جو ہزار دقتیں رکھتاہے۔نہ یہی ممکن کہ زمیندار اس بناء پر کہ شرعا اس کے اجارہ سے نکل گئی اسے خودبے دخل کردے اور نہ صرف قانونا بلکہ عندالشرع بھی زمیندار کو جائز نہ ہوگا کہ شرع مطہر ایسی بات کے لئے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے یا ذلت کے لئے پیش کرنے کی سخت ممانعت فرماتی ہے تو ایسی صورت کاہر جرم قانونی اس عارض کی وجہ سے خود جرم شرعی اور گناہ ہےان طریقوں سے یہ نفع ہوگا کہ جب کا شتکار عندالشرع اس کا مدیون ہولیا اور وہ دین قانونا وصول ہو نہیں سکتاتو کاشتکار سے جو رقم قانونا وصول کرسکےاور شرعا وہ رقم ناواجب ہو اسے قانونی ذریعہ کے نام سے وصول کرے اور اپنے اسے آتے ہوئے میں مجرا کرلے جبکہ یہ رقم اس قدر دین سے زائد نہیں مثلا کاشت کار پر لگان یا اضافہ یا بیدخلی یا کسی قسم کی کوئی نالش کرے جس کی حاجت زمینداروں کو اکثر پڑتی ہےاو وہ نالش ڈگری ہو تو شرعا مدعی کو اگرچہ حق پر ہو مدعا علیہ سے خرچہ لینا جائز نہیںیہ خرچہ لے اور اسے اپنے دین مین محسوب سمجھے یا زمینداریوں میں اکثر معمول ہے کہ کاشتکار وں سے لکڑیآپلا بھس وغیرہ اگھائی لیتے ہیںیا ہل بیل گاڑی سبیل وغیرہ میںاو ریہ شرعا جائز نہیں ان کو وصول کرے اور اس میں مجرا لے لکڑی وغیرہ قیمت کے اعتبار سے او ر بیل
Read More

Books by Other Sunni Scholars

This section presents the valuable writings of eminent ‘Ulamā of Ahl-e-Sunnah wa’l-Jamā‘ah, including Mawlānā Naqī ‘Alī Khān, Mawlānā Ḥasan Riḍā Khān, Muftī-e-A‘ẓam Hind, and many other distinguished Sunni scholars. Their works span diverse fields such as Islamic creed, jurisprudence, Hadith, spirituality, refutation of deviant ideologies (Deobandi, Wahabi, Shia, Qadyani etc.), and the preservation of orthodox Sunni beliefs. These books reflect the continuation of the classical Sunni scholarly tradition—rooted in Qur’ān and Sunnah—providing authentic guidance, intellectual clarity, and a firm defense of the beliefs and practices of Ahl-e-Sunnah across generations.


یہ حصہ اہلِ سنت و جماعت کے جلیل القدر علما کی قیمتی تصانیف پر مشتمل ہے، جن میں مولانا نقی علی خان، مولانا حسن رضا خان، مفتیِ اعظمِ ہند اور دیگر ممتاز سنی علماء کرام کی معرکہ آرا کتب شامل ہیں۔ علماءِ اہل سنت کی یہ تصانیف مختلف اسلامی علوم کا احاطہ کرتی ہیں، جیسے عقائدِ اسلامیہ، فقہ، حدیث، تصوف اور اخلاقیات۔ ان کتب میں خاص طور پر باطل اور گمراہ فرقوں (دیوبندی، وہابی، شیعہ، قادیانی وغیرہ) کے نظریات کا تحقیقی و مسکت رد پیش کیا گیا ہے۔ یہ علمی ذخیرہ دراصل اس قدیم سنی علمی روایت کا تسلسل ہے جو قرآن و سنت پر مبنی ہے، اور جو ہر دور میں مسلمانوں کو علمی پختگی، فکری صفائی اور عقائدِ حقہ کے تحفظ کے لیے مستند رہنمائی فراہم کرتا رہا ہے۔


The intellectual brilliance of Alahazrat Imam Ahmad Raza and eminent Sunni scholars has become a focal point for modern academia. Scholarly research and Ph.D. / MPhil theses are being completed at prestigious universities across the globe, exploring his contributions to mathematics, law, philosophy, and theology. This section hosts a curated collection of research papers and academic dissertations that bridge the gap between traditional Islamic sciences and contemporary academic standards.


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اور دیگر اکابرینِ اہل سنت کی علمی و فکری جہات آج عالمی جامعات میں تحقیق کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ دنیا بھر کی معروف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ حضرت کے سائنسی، فقہی اور فلسفیانہ نظریات پر پی ایچ ڈی اور ایم فل کے تحقیقی مقالات (Thesis) لکھے جا رہے ہیں۔ اس گوشے میں ہم نے ان علمی و تحقیقی شہ پاروں کو جمع کیا ہے جو قدیم اسلامی علوم اور جدید تعلیمی معیار کے درمیان ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتے ہیں، تاکہ محققین اور طلبہ ان سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔


This specialized collection features insightful biographies and critical analyses written by renowned scholars to explore the multifaceted life of Alahazrat Imam Ahmad Raza. These works provide deep perspectives on his spiritual journeys, historical impact, and his defense of Sunni Islam. From detailed historical records to thematic studies on his unique methodology, these books serve as an essential guide for anyone seeking to understand the person behind the monumental scholarly works.


یہ حصہ ان مستند سوانح عمریوں اور تحقیقی مطالعہ جات پر مشتمل ہے جو جید علمائے کرام اور محققین نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی حیات اور خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے تحریر فرمائے ہیں۔ ان کتب میں اعلیٰ حضرت کے عشقِ رسول ﷺ، علمی بصیرت، اور ملتِ اسلامیہ کے لیے آپ کی تاریخی جدوجہد کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ علمی ذخیرہ ان قارئین کے لیے ایک بہترین راہنما ہے جو اعلیٰ حضرت کی شخصیت، آپ کے تقویٰ اور آپ کے علمی مقام و مرتبہ کو تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں۔


Explore a diverse range of scholarly articles and modern perspectives on the monumental contributions of Alahazrat Imam Ahmad Raza. These writings simplify complex theological and legal discussions for the contemporary reader while maintaining academic rigor. In Sha Allah, we will be presenting hundreds of well-researched articles here, covering every aspect of Alahazrat’s vast legacy to provide a continuous stream of knowledge for our global audience.


اس حصے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی ہمہ گیر علمی خدمات پر لکھے گئے جدید اور تحقیقی مضامین پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ مضامین پیچیدہ علمی و فقہی مسائل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عام فہم انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ، ہم یہاں سینکڑوں تحقیقی مضامین اور مقالات کا ایک وسیع ذخیرہ پیش کریں گے، تاکہ قارئین کو اعلیٰ حضرت کی علمی بصیرت اور دینِ متین کے تحفظ کے لیے آپ کی جدوجہد کے ہر گوشے سے متعلق تازہ اور مستند معلومات ملتی رہیں۔


Books on Quran & Uloom ul Quran

Sciences of the Quran & Principles of Interpretation

This specialized section is dedicated to Uloom ul Quran (Sciences of the Quran) and the authentic interpretation of the Divine Word. It features monumental works that explore the history of revelation, principles of Tafseer, and the miraculous nature of the Quranic text. These books are curated to provide deep scholarly insights and enhance spiritual understanding for students of knowledge and researchers alike.


یہ حصہ علوم القرآن اور قرآن کریم کی مستند تفسیری روایات پر مبنی کتب کے لیے مختص ہے۔ یہاں آپ کو وحی کی تاریخ، اصولِ تفسیر، اعجازِ قرآن اور متنِ قرآن سے متعلق وہ نادر کتب ملیں گی جو علمی بصیرت اور روحانی بالیدگی کا ذریعہ ہیں۔ یہ علمی ذخیرہ بالخصوص ان محققین اور طلبہ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جو قرآنِ مجید کے معانی و مفاہیم کی گہرائیوں کو مستند ذرائع سے سمجھنا چاہتے ہیں۔

Books on Hadith & Ilm-e-Hadith

Preserving the Prophetic Legacy through Rigorous Science

This section is dedicated to the primary collections of Hadith and the foundational Ilm-e-Hadith (Science of Hadith). It features monumental commentaries (Shuruhaat), works on the biographies of narrators (Asma-ur-Rijal), and the principles of authentication (Usul-e-Hadith). These books provide the necessary tools to understand the sayings and actions of the Prophet ﷺ with the scholarly precision practiced by the classical masters of the Ahl-e-Sunnah.


یہ حصہ کتبِ حدیث اور علمِ حدیث کی عظیم الشان روایت کے لیے وقف ہے۔ اس میں احادیثِ مبارکہ کے مستند مجموعے، ان کی شروحات، اور اصولِ حدیث (حدیث کی پرکھ کے قواعد) پر مبنی نادر کتب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اسماء الرجال اور جرح و تعدیل جیسے اہم فنون پر وہ علمی کام پیش کیا گیا ہے جو سنتِ رسول ﷺ کی حفاظت اور اس کی صحیح تفہیم کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، تاکہ قارئین مستند سنی روایات کی روشنی میں علمِ حدیث سے فیضیاب ہو سکیں۔




Connect with Alahazrat Network

 

Find Knowledge by Subjects / Topics


 

Scroll to Top