بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمدلله ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلویرحمۃ اللہ تعالی علیہکے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے مفتی اعظم ۲۶ اگست ۲۰۰۳ء) کی زیر سرپرستی دارا لعلوم جامعہ نظامیہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھاوہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کر چکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں :
(۱) الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ و المدینۃ (۱۳۲۴ھ)
پیش لفظ
الحمدلله ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلویرحمۃ اللہ تعالی علیہکے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے مفتی اعظم ۲۶ اگست ۲۰۰۳ء) کی زیر سرپرستی دارا لعلوم جامعہ نظامیہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھاوہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کر چکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں :
(۱) الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲)انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳)کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴)صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵)ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶)الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
(۷)الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ و المدینۃ (۱۳۲۴ھ)
(۸)حسام الحرمین علی منحر الکفر و المین (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارہ کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج و ترجمہ کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا اغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ / مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ و بعنایۃ رسولہ الکریم تقریبا پندرہ۱۵ سال کے مختصر عرصہ میں وہ تیس۳۰ جلدوں
میں مکمل ہوکر منظر عام پر اچکا ہے جن کے مشمولات کی تفصیل سنین اشاعت کتب و ابواب مجموعی صفحات تعداد سوالات و جوابات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے :
جلد نمبر عنوانات جوابات اسئلۃ رسائل تعداد سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطھارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ۱۴۱۰___مارچ ۱۹۹۰ء ۱۱۵۲
۲ کتاب الطھارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی۱۴۱۲__نومبر ۱۹۹۱ ۷۱۰
۳ کتاب الطھارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم ۱۴۱۲__فروری۱۹۹۲ء ۷۵۶
۴ کتاب الطھارۃ ۱۲۵ ۵ رجب المرجب ۱۴۱۳__جنوری ۱۹۹۳ ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول۱۴۱۴__ستمبر ۱۹۹۳ ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول۱۴۱۵__اگست۱۹۹۴ ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب ۱۴۱۵__دسمبر۱۹۹۴ ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام۱۴۱۶__جون ۱۹۹۵ ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ ۱۴۱۶__اپریل۱۹۹۶ ۹۴۶
۱۰ کتاب الجنائز کتاب الصوم کتاب الحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول۱۴۱۷__اپریل ۱۹۹۶ ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام ۱۴۱۸__اگست ۱۹۹۶ ۷۳۶
۱۲ کتاب النکاح کتاب الطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب ۱۴۱۸__مئی۱۹۱۷ ۶۵۶
۱۳ کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود و التعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۱۸__نومبر۱۹۹۷ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری۱۴۱۹__ستمبر۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__اپریل۱۹۹۹ ۷۴۴
مگر اس ادارہ کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج و ترجمہ کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا اغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ / مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ و بعنایۃ رسولہ الکریم تقریبا پندرہ۱۵ سال کے مختصر عرصہ میں وہ تیس۳۰ جلدوں
میں مکمل ہوکر منظر عام پر اچکا ہے جن کے مشمولات کی تفصیل سنین اشاعت کتب و ابواب مجموعی صفحات تعداد سوالات و جوابات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے :
جلد نمبر عنوانات جوابات اسئلۃ رسائل تعداد سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطھارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ۱۴۱۰___مارچ ۱۹۹۰ء ۱۱۵۲
۲ کتاب الطھارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی۱۴۱۲__نومبر ۱۹۹۱ ۷۱۰
۳ کتاب الطھارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم ۱۴۱۲__فروری۱۹۹۲ء ۷۵۶
۴ کتاب الطھارۃ ۱۲۵ ۵ رجب المرجب ۱۴۱۳__جنوری ۱۹۹۳ ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول۱۴۱۴__ستمبر ۱۹۹۳ ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول۱۴۱۵__اگست۱۹۹۴ ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب ۱۴۱۵__دسمبر۱۹۹۴ ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام۱۴۱۶__جون ۱۹۹۵ ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ ۱۴۱۶__اپریل۱۹۹۶ ۹۴۶
۱۰ کتاب الجنائز کتاب الصوم کتاب الحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول۱۴۱۷__اپریل ۱۹۹۶ ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام ۱۴۱۸__اگست ۱۹۹۶ ۷۳۶
۱۲ کتاب النکاح کتاب الطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب ۱۴۱۸__مئی۱۹۱۷ ۶۵۶
۱۳ کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود و التعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۱۸__نومبر۱۹۹۷ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری۱۴۱۹__ستمبر۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__اپریل۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃ کتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۲۰__ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوع کتاب الحوالہ کتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۲۰__فروری ۲۰۰۰ ۷۱۶
۱۸ کتاب الشھادۃ کتاب القضاء والدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱__جولائی۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالہ کتاب الاقرار کتاب الصلح ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱__فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
کتاب المضاربۃ کتاب الامانات کتاب
العاریہ کتاب الھبہ کتاب الاجارہ
کتاب الاکراہ کتاب الحجہ
۲۰ کتاب الغصب کتاب الشفعہ ۲۳۴ ۳ صفر المظفر ۱۴۲۲__مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
کتاب القسمہ کتاب المزارع
کتاب الصید والذبائح کتاب الاضحیہ
۲۱ کتاب الحظرو الاباحۃ ۲۹۱ ۹ ربیع الاول ۱۴۲۳__مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظرو الاباحۃ ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری ۱۴۲۳__اگست۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظرو الاباحۃ ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ۱۴۲۳__فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظرو الاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ ۱۴۲۳__فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتابالمداینات کتاب الاشربہ ۱۸۳ ۳ رجب المرجب۱۴۲۴__ ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
کتاب الرہن کتاب القسم
کتاب الوصیا
۲۶ کتا ب الفرائض کتاب الشتی ۳۲۵ ۸ محرم الحرام ۱۴۲۵__مارچ ۲۰۰۴ ۶۱۶
حصہ اول
۲۷ کتاب الشتی حصہ دوم ۳۵ ۱۰ جمادی الاخری۱۴۲۵__اگست ۲۰۰۴ ۶۸۳
۲۸ کتاب الشتی حصہ سوم ۲۲ ۶ ذیقعدہ۱۴۲۵__جنوری ۲۰۰۳ ۶۸۴
۲۹ کتاب الشتی حصہ چہارم ۲۱۵ ۱۱ رجب المرجب ۱۴۲۶__اگست ۲۰۰۵ ۷۵۲
۳۰ کتاب الشتی حصہ پنجم ۴۴ رجب المرجب ۱۴۲۶__اگست ۲۰۰۵ ۷۷۲
فتاوی رضویہ (قدیم)کی پہلی اٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی تھی جو معروف و متداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے ۔ رضا فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو
۱۷ کتاب البیوع کتاب الحوالہ کتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۲۰__فروری ۲۰۰۰ ۷۱۶
۱۸ کتاب الشھادۃ کتاب القضاء والدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱__جولائی۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالہ کتاب الاقرار کتاب الصلح ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱__فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
کتاب المضاربۃ کتاب الامانات کتاب
العاریہ کتاب الھبہ کتاب الاجارہ
کتاب الاکراہ کتاب الحجہ
۲۰ کتاب الغصب کتاب الشفعہ ۲۳۴ ۳ صفر المظفر ۱۴۲۲__مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
کتاب القسمہ کتاب المزارع
کتاب الصید والذبائح کتاب الاضحیہ
۲۱ کتاب الحظرو الاباحۃ ۲۹۱ ۹ ربیع الاول ۱۴۲۳__مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظرو الاباحۃ ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری ۱۴۲۳__اگست۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظرو الاباحۃ ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ۱۴۲۳__فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظرو الاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ ۱۴۲۳__فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتابالمداینات کتاب الاشربہ ۱۸۳ ۳ رجب المرجب۱۴۲۴__ ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
کتاب الرہن کتاب القسم
کتاب الوصیا
۲۶ کتا ب الفرائض کتاب الشتی ۳۲۵ ۸ محرم الحرام ۱۴۲۵__مارچ ۲۰۰۴ ۶۱۶
حصہ اول
۲۷ کتاب الشتی حصہ دوم ۳۵ ۱۰ جمادی الاخری۱۴۲۵__اگست ۲۰۰۴ ۶۸۳
۲۸ کتاب الشتی حصہ سوم ۲۲ ۶ ذیقعدہ۱۴۲۵__جنوری ۲۰۰۳ ۶۸۴
۲۹ کتاب الشتی حصہ چہارم ۲۱۵ ۱۱ رجب المرجب ۱۴۲۶__اگست ۲۰۰۵ ۷۵۲
۳۰ کتاب الشتی حصہ پنجم ۴۴ رجب المرجب ۱۴۲۶__اگست ۲۰۰۵ ۷۷۲
فتاوی رضویہ (قدیم)کی پہلی اٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی تھی جو معروف و متداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے ۔ رضا فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو
ملحوظ رکھا گیا ہے مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ جلدوں (جلد نہم دہم یازدہم دوازدہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر تھی۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ تعالی علیہو دیگر اکابر علماء و مشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا تھا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ مولانا مفتی محمد عبد المنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحیقی انیق کو بھی ہم نےپیش نظر رکھا اور اس سے بھر پور راہنمائی حاصل کی ۔ عام طور پر فقہ و فتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظر و الاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتا ہ اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسوں۲۰ جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیہ پر ہوا تھا لہذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرو اباحۃ کی اشاعت کا اغاز کیا گیا۔ کتاب الحظر والاباحۃ(جوچار جلدوں ۲ ۲۲ ۲۳ ۲۴ پر مشتمل ہے)کی تکمیل کے بعد ابواب مدینات اشربہ رہن قسم وصایا اور فرائض پر مشتمل پچیسیوں۲۵ چھبیسویں۲۶ جلد منصہ شہود پر ائی باقی رہے مسائل کلامیہ و دیگر متفرق عنوانات پر مشتمل مباحث و فتاوائے اعلحضرت جو فتاوی رضویہ قدیم کی جلد نہم و دوازدہم میں غیر مبوب و غیرمترتب طور پر مندرج ہیں ان کی ترتیب و تبویب اگرچہ اسان کام نہ تھا مگر رب العالمین عزوجل کی توفیق رحمۃ اللعالمین صلی الله تعالی علیہ والہ و اصحابہ اجمعین کی نظر عنایت اعلحضرت اور مفتی اعظم پاکستانرحمۃ اللہ تعالی علیہکے روحانی تصرف و کرامت سے راقم حقیر نے یہ گھٹائی بھی عبور کرلی اور کتاب الحظر و الاباحۃ کی طرح ان بکھرےکو ہوئے موتیوں کو ابواب کی لڑی میں پرو کر مرتبط و منضبط کردیا ہے۔ ولله الحمد
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے۔
(ا) ان تمام مسائل کلامیہ و متفرقہ کو کتاب الشتی کا مرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب میں تقسیم کردیا ہے۔
(ب) تبویب میں سوال و استفتاء کا اعتبار کیا گیا ہے نہ کہ جوابات میں مذکور مباحث کا۔
(ج) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہر سوال کو مستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د) مذکورہ بالا دونوں جلدوں (نہم و دواز دہم قدیم) میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق ابواب کے تحت داخل کر دیا ہے۔
(ھ) رسائل کی ابتداء اور انتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(و) کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلحضرت کےبعض رسائل جو فتاوی رضویہ قدیم میں شامل
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے۔
(ا) ان تمام مسائل کلامیہ و متفرقہ کو کتاب الشتی کا مرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب میں تقسیم کردیا ہے۔
(ب) تبویب میں سوال و استفتاء کا اعتبار کیا گیا ہے نہ کہ جوابات میں مذکور مباحث کا۔
(ج) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہر سوال کو مستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د) مذکورہ بالا دونوں جلدوں (نہم و دواز دہم قدیم) میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق ابواب کے تحت داخل کر دیا ہے۔
(ھ) رسائل کی ابتداء اور انتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(و) کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلحضرت کےبعض رسائل جو فتاوی رضویہ قدیم میں شامل
نہ ہو سکے تھے ان کو بھی موزوں و مناسب جگہ پر شامل کر دیا گیا ہے۔
(ز) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذا مسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرنا پڑی۔
(ح) کتاب الشتی میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
محترم قارئین عظام!
یہ خبر اپ کے لئے یقینا خوش کن ہوگی کہ الحمد لله رضا فاؤنڈیشن کے تحت فتاوی رضویہ شریف کی تخریج و ترجمہ کے ساتھ جدید انداز میں اشاعت پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے بلا مبالغہ ہم یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ تیس جلدوں پر مشتمل یہ دنیا کا ضخیم ترین فتاوی ہے۔ یہ بلند فقہی شاہکار مجموعی طور پر ۲۱۹۷۰ صفحات ۶۸۴۷ سوالوں کے جوابات اور ۲۰۶ رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمنا زیر بحث ائے ہیں۔
اس عظیم کارنامے کی تکمیل پر رضا فاؤنڈیشن کے بانی اور اس بے مثال اشاعتی منصوبے کا اغاز فرمانے والے مرد کامل استاذنا الکریم مخدوم ملت شیخ الحدیث مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی نورالله مرقدہ کی روح پر فتوح انتہائی مسرور ہو رہی ہوگی الله تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور اس عظیم فتاوی کی بین الاقوامی اشات جدیدہ کو ان کے لئے قیامت تك صدقہ جاریہ بنائے۔
رضا فاؤنڈیشن سے وابسطہ تمام حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں خصوصا ادارے کے سرپرست جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مولانہ صاحبزادہ محمد عبدالمصطفے قادری ہزاروی ناظم اعلی جامعہ نظامیہ رضویہ فتاوی رضویہ کے
مترجمین مخیرجین مصححین کاتب اورناظم نشر و اشاعت جگر گوشہ مفتی اعظم مولانا قاری نصیر احمد ہزاروی لائق صد تحسین و تبریك ہیں۔ پروردگار عالم ان تمام حضرات کو اجر جزیل و ثواب عظیم عطا فرمائے امین بجاہ سید المرسلین۔
نوٹ :
رضا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فتاوی رضویہ کی جلد اول (مطبوعہ مارچ ۱۹۹۰ء)
(ز) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذا مسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرنا پڑی۔
(ح) کتاب الشتی میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
محترم قارئین عظام!
یہ خبر اپ کے لئے یقینا خوش کن ہوگی کہ الحمد لله رضا فاؤنڈیشن کے تحت فتاوی رضویہ شریف کی تخریج و ترجمہ کے ساتھ جدید انداز میں اشاعت پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے بلا مبالغہ ہم یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ تیس جلدوں پر مشتمل یہ دنیا کا ضخیم ترین فتاوی ہے۔ یہ بلند فقہی شاہکار مجموعی طور پر ۲۱۹۷۰ صفحات ۶۸۴۷ سوالوں کے جوابات اور ۲۰۶ رسائل پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مسائل ضمنا زیر بحث ائے ہیں۔
اس عظیم کارنامے کی تکمیل پر رضا فاؤنڈیشن کے بانی اور اس بے مثال اشاعتی منصوبے کا اغاز فرمانے والے مرد کامل استاذنا الکریم مخدوم ملت شیخ الحدیث مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی نورالله مرقدہ کی روح پر فتوح انتہائی مسرور ہو رہی ہوگی الله تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور اس عظیم فتاوی کی بین الاقوامی اشات جدیدہ کو ان کے لئے قیامت تك صدقہ جاریہ بنائے۔
رضا فاؤنڈیشن سے وابسطہ تمام حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں خصوصا ادارے کے سرپرست جانشین مفتی اعظم حضرت علامہ مولانہ صاحبزادہ محمد عبدالمصطفے قادری ہزاروی ناظم اعلی جامعہ نظامیہ رضویہ فتاوی رضویہ کے
مترجمین مخیرجین مصححین کاتب اورناظم نشر و اشاعت جگر گوشہ مفتی اعظم مولانا قاری نصیر احمد ہزاروی لائق صد تحسین و تبریك ہیں۔ پروردگار عالم ان تمام حضرات کو اجر جزیل و ثواب عظیم عطا فرمائے امین بجاہ سید المرسلین۔
نوٹ :
رضا فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فتاوی رضویہ کی جلد اول (مطبوعہ مارچ ۱۹۹۰ء)
کا ترجمہ حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی سید شجاعت علی قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہبانی دارالعلوم نعیمیہ کراچی نے فرمایا تھا جس میں کافی حد تك اجمال و اختصار کے باعث سقم محسوس کیا گیا لہذا حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد مصباحی بھیروی دامت برکاتہم العالیہ ناظم تعلمیات الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور سے نئے ترجمہ کی درخواست کی گئی اور ترجمہ تفصیلی ہونے کی وجہ سے ضخامت پہلے کی بنسبت بڑھ گئی لہذا اس جلد کو اب دو۲ حصوں میں پیش کیا جارہا ہے تاہم دونوں حصوں کی فہرست یکجا حصہ اول تیس۳۰ جلدوں کی فہارس پر مشتمل ایك الگ جلد تیا ہرکر چھب چکی ہے اور مسائل کے اشاریہ پر مشتمل بھی ایك جلد شائع کی جارہی ہے۔ اس طرح اس ذخیرہ کو مجموعی طور پر اب تینتیس۳۳ مجلدات میں پیش کیا جارہا ہے۔
ربیع الاول ۱۴۲۷ھ
اپریل ۲۰۰۶ء
حافظ عبد الستار سعیدی
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور و شیخوپورہ پاکستان
ربیع الاول ۱۴۲۷ھ
اپریل ۲۰۰۶ء
حافظ عبد الستار سعیدی
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور و شیخوپورہ پاکستان
بسم الله الرحمن الرحیم ط
کلمات اغاز
سرزمین پاك وہندپرتقریبا ایك ہزار سال تك مسلمانوں کی حکومت رہی اس عرصے میں غیرمسلموں کو مکمل شہری حقوق حاصل رہے ہرشخص کو اپنے دین پر عمل کرنے کی آزادی تھی بلکہ بعض مواقع توایسے بھی آئے کہ غیرمسلموں کو ترجیحی مراعات حاصل رہیں انگریز تاجربن کر آئے اور سازشوں کے بل بوتے پر حکمران بن بیٹھے ان کی حکومت کوسب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے تھا ایك تو اس لئے کہ مسلمان عرصہ درازتك یہاں حکومت کرچکے تھے دوسرااس لئے کہ ان کی ایمانی حرارت انہیں کسی بھی وقت آمادہ جہاد کرسکتی تھی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کی قوت کوپامال کرنے اور ان کی وحدت ملی کوپارہ پارہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
وہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبرتھے کہ مسلمانوں کی بقااور ترقی کاراز ایمان اور اتحاد میں مضمر ہے اسی لئے انہوں نے اپنی تمام ترتوانائیاں اسی بنیاد کو کمزور اور ختم کرنے پر صرف کردیں دینی مدارس کو بے اثربنانے کے لئے سکول اور کالج کھولے اور وہاں تعلیم پانے والے بچوں کے ذہنوں کو الحاد اور بے دینی کے زہر سے مسموم کیا اتحاد ملت کو ختم کرنے کے لئے نئے نئے پیداہونے والے فرقوں کی حوصلہ افزائی کی اسی دور بلاخیز میں اس قسم کے مباحث پھیلے کہ الله تعالی جھوٹ بول سکتا ہے یانہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بعد کوئی نیانبی آجائے توآپ کے خاتم النبیین ہونے میں فرق آئے گا یانہیںبلکہ مرزاغلام احمدقادیانی نے تونبی ہونے کا دعوی ہی کردیا الله تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماوردیگرمحبوبان خدا کی شان میں توہین وتنقیص کی زبان دراز کی گئی نتیجہ یہ ہوا کہ امت مسلمہ کئی فرقوں میں بٹ گئی اور متحدہ پاك وہند میں اتنے فرقے پیدا ہوئے کہ دوسرے کسی بھی اسلامی ملك میں اتنے فرقے نہیں ملیں گے۔
امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرقہ بندی کی بھرپور حوصلہ شکنی کی اور وحدت ملی پرزور دیا ان کی علمی اور تحقیقی مساعی کامحور ہی ملی اتحاد تھا۔
کلمات اغاز
سرزمین پاك وہندپرتقریبا ایك ہزار سال تك مسلمانوں کی حکومت رہی اس عرصے میں غیرمسلموں کو مکمل شہری حقوق حاصل رہے ہرشخص کو اپنے دین پر عمل کرنے کی آزادی تھی بلکہ بعض مواقع توایسے بھی آئے کہ غیرمسلموں کو ترجیحی مراعات حاصل رہیں انگریز تاجربن کر آئے اور سازشوں کے بل بوتے پر حکمران بن بیٹھے ان کی حکومت کوسب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے تھا ایك تو اس لئے کہ مسلمان عرصہ درازتك یہاں حکومت کرچکے تھے دوسرااس لئے کہ ان کی ایمانی حرارت انہیں کسی بھی وقت آمادہ جہاد کرسکتی تھی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کی قوت کوپامال کرنے اور ان کی وحدت ملی کوپارہ پارہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
وہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبرتھے کہ مسلمانوں کی بقااور ترقی کاراز ایمان اور اتحاد میں مضمر ہے اسی لئے انہوں نے اپنی تمام ترتوانائیاں اسی بنیاد کو کمزور اور ختم کرنے پر صرف کردیں دینی مدارس کو بے اثربنانے کے لئے سکول اور کالج کھولے اور وہاں تعلیم پانے والے بچوں کے ذہنوں کو الحاد اور بے دینی کے زہر سے مسموم کیا اتحاد ملت کو ختم کرنے کے لئے نئے نئے پیداہونے والے فرقوں کی حوصلہ افزائی کی اسی دور بلاخیز میں اس قسم کے مباحث پھیلے کہ الله تعالی جھوٹ بول سکتا ہے یانہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بعد کوئی نیانبی آجائے توآپ کے خاتم النبیین ہونے میں فرق آئے گا یانہیںبلکہ مرزاغلام احمدقادیانی نے تونبی ہونے کا دعوی ہی کردیا الله تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماوردیگرمحبوبان خدا کی شان میں توہین وتنقیص کی زبان دراز کی گئی نتیجہ یہ ہوا کہ امت مسلمہ کئی فرقوں میں بٹ گئی اور متحدہ پاك وہند میں اتنے فرقے پیدا ہوئے کہ دوسرے کسی بھی اسلامی ملك میں اتنے فرقے نہیں ملیں گے۔
امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرقہ بندی کی بھرپور حوصلہ شکنی کی اور وحدت ملی پرزور دیا ان کی علمی اور تحقیقی مساعی کامحور ہی ملی اتحاد تھا۔
امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ولادت –– تعلیم
یہ وہ ماحول تھا کہ ۱۰ / شوال ۱۴ / جون ۱۲۷۲ھ / ۱۸۵۶ء کو بریلی شریف یوپی انڈیا میں امام احمدرضاقادری بریلوی پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد غزالی زماں مولانا نقی علی خاں اور جدامجد مولانا رضا علی خاں قدس سرہما اپنے دور کے اکابر علماء اور اولیاء میں سے تھے آپ کے آباء واجداد قندھار افغانستان سے ہجرت کرکے پہلے لاہور پھر بریلی میں قیام پذیر ہوگئے۔
فاضل بریلوی قدس سرہ نے تمام مروجہ علوم وفنون اپنے والد ماجد سے پڑھ کر تقریبا چودہ ۱۴سال کی عمر میں سند فضیلت حاصل کی اور مسند تدریس وافتاء کو زینت بخشی والد ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آل رسول مارہروی علامہ احمد بن زینی دحلان مفتی مکہ مکرمہ علامہ عبدالرحمن مکی علامہ حسین بن صالح مکی اور حضرت مولانا شاہ ابوالحسین احمدنوری رحمہم اللہ تعالیسے بھی استفادہ کیا امام احمدرضابریلوی نے کچھ علوم تواپنے زمانے کے متبحرعلماء سے پڑھے باقی علوم خدادادقابلیت کی بناپر مطالعہ کے ذریعے حل کئے اور نہ صرف پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں محیرالعقول مہارت حاصل کی بلکہ ہرفن میں تصانیف بھی یادگارچھوڑیں۔
امام احمدرضا بریلوی ۱۴ / رمضان المبارك ۱۲۸۶ھ / ۱۸۷۰ء کو پونے چودہ سال کی عمر میں علوم دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہوئے اسی دن رضاعت کے ایك مسئلے کاجواب لکھ کر والدماجد کی خدمت میں پیش کیا جو بالکل صحیح تھا اسی دن سے فتوی نویسی کاکام آپ کے سپردکردیاگیا ۔ اس دن سے آخر عمر تك مسلسل فتوی نویسی کافریضہ انجام دیتے رہے اور فتاوی رضویہ کی ضخیم بارہ جلد وں کاگراں قدرسرمایہ امت مسلمہ کو دے گئے۔ ردالمحتار علامہ شامی پرپانچ جلدوں میں حاشیہ لکھا قرآن پاك کا مقبول انام ترجمہ لکھا جو کنزالایمان کے نام سے معروف ومشہورہے۔
امام احمدرضابریلوی نے الله تعالی کی عظمت وجلالت کے خلاف لب کشائی کرنے پر بھرپورتنقید کی سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح(الله تعالی جھوٹ ایسے قبیح عیب سے پاك ہے)کے علاوہ امکان کذب
ولادت –– تعلیم
یہ وہ ماحول تھا کہ ۱۰ / شوال ۱۴ / جون ۱۲۷۲ھ / ۱۸۵۶ء کو بریلی شریف یوپی انڈیا میں امام احمدرضاقادری بریلوی پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد غزالی زماں مولانا نقی علی خاں اور جدامجد مولانا رضا علی خاں قدس سرہما اپنے دور کے اکابر علماء اور اولیاء میں سے تھے آپ کے آباء واجداد قندھار افغانستان سے ہجرت کرکے پہلے لاہور پھر بریلی میں قیام پذیر ہوگئے۔
فاضل بریلوی قدس سرہ نے تمام مروجہ علوم وفنون اپنے والد ماجد سے پڑھ کر تقریبا چودہ ۱۴سال کی عمر میں سند فضیلت حاصل کی اور مسند تدریس وافتاء کو زینت بخشی والد ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آل رسول مارہروی علامہ احمد بن زینی دحلان مفتی مکہ مکرمہ علامہ عبدالرحمن مکی علامہ حسین بن صالح مکی اور حضرت مولانا شاہ ابوالحسین احمدنوری رحمہم اللہ تعالیسے بھی استفادہ کیا امام احمدرضابریلوی نے کچھ علوم تواپنے زمانے کے متبحرعلماء سے پڑھے باقی علوم خدادادقابلیت کی بناپر مطالعہ کے ذریعے حل کئے اور نہ صرف پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں محیرالعقول مہارت حاصل کی بلکہ ہرفن میں تصانیف بھی یادگارچھوڑیں۔
امام احمدرضا بریلوی ۱۴ / رمضان المبارك ۱۲۸۶ھ / ۱۸۷۰ء کو پونے چودہ سال کی عمر میں علوم دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہوئے اسی دن رضاعت کے ایك مسئلے کاجواب لکھ کر والدماجد کی خدمت میں پیش کیا جو بالکل صحیح تھا اسی دن سے فتوی نویسی کاکام آپ کے سپردکردیاگیا ۔ اس دن سے آخر عمر تك مسلسل فتوی نویسی کافریضہ انجام دیتے رہے اور فتاوی رضویہ کی ضخیم بارہ جلد وں کاگراں قدرسرمایہ امت مسلمہ کو دے گئے۔ ردالمحتار علامہ شامی پرپانچ جلدوں میں حاشیہ لکھا قرآن پاك کا مقبول انام ترجمہ لکھا جو کنزالایمان کے نام سے معروف ومشہورہے۔
امام احمدرضابریلوی نے الله تعالی کی عظمت وجلالت کے خلاف لب کشائی کرنے پر بھرپورتنقید کی سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح(الله تعالی جھوٹ ایسے قبیح عیب سے پاك ہے)کے علاوہ امکان کذب
حوالہ / References
محمدصابرنسیم بستوی ، مولانا : اعلٰی حضرت بریلوی(مکتبہ نبویہ ، لاہور)ص ۳۔ ۲۲
کے رد پرپانچ رسالے لکھے الله تعالی کو جسم ماننے والوں کے ردمیں رسالہ مبارکہ قوارع القہار علی المجسمۃ الفجارتحریر کیا دین اسلام کے مخالف قدیم فلاسفہ کے عقائد پر ردکرتے ہوئے مبسوط رسالہ الکلمۃ الملہمۃ رقم فرمایا۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صحابہ کرام اہل بیت عظام آئمہ مجتہدین اور اولیاء کاملین کی شان میں گستاخی کرنے والوں کاسخت محاسبہ کیا قادیان میں انگریز کے کاشتہ پودے کی بیخ کنی کی اور اس کے خلاف متعدد رسائل لکھے مثلا
۱__ جزاء اللہ عدوہ لابائہ ختم النبوۃ
۲__قھرالدیان علی مرتد بقادیان
۳__المبین معنی ختم النبیین
۴__السوء والعقاب علی المسیح الکذاب
۵__الجراز الدیانی علی المرتدالقادیانی
امام احمدرضا نے اس دور میں پائی جانے والی بدعتوں کے خلاف جہاد کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے تاروپود بکھیرکررکھ دئیے۔ مختصریہ کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر ہرمحاذ پرجہاد کیا اور تمام عمر اس کام میں صرف کردی۔
امام احمدرضابریلوی مروجہ علوم دینیہ مثلا تفسیر حدیث فقہ کلام تصوف تاریخ سیرت معانی بیان بدیع عروض ریاضی توقیت منطق فلسفہ وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طب علم جفر تکسیر جبرومقابلہ لوگارثم جیومیٹری مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ یہ وہ علوم ہیں جن سے عام طور پر علماء تعلق ہی نہیں رکھتے۔ انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں تصانیف کاذخیرہ یادگارچھوڑا اور ہرفن میں قیمتی تحقیقات کااضافہ کیا غرض یہ کہ ایك فقیہ کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب امام احمدرضابریلوی کو حاصل تھے۔
عبقری فقیہ
امام احمدرضابریلوی مروجہ علوم دینیہ مثلا تفسیر حدیث فقہ کلام تصوف تاریخ سیرت معانی بیان بدیع عروض ریاضی توقیت منطق فلسفہ وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طب علم جفر تکسیر جبرومقابلہ لوگارثم جیومیٹری مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ یہ وہ علوم ہیں جن سے عام طور پر علماء تعلق ہی نہیں رکھتے۔ انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں تصانیف کاذخیرہ یادگارچھوڑا اور ہرفن میں قیمتی تحقیقات کااضافہ کیا غرض یہ کہ ایك فقیہ کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب امام احمدرضابریلوی کو حاصل تھے۔
علوم قرآن
انہوں نے قرآن کریم کابہت گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا قرآن فہمی کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے ان پر انہیں گہرا عبور حاصل تھا شان نزول ناسخ ومنسوخ تفسیر بالحدیث تفسیر صحابہ اور استنباط احکام
۱__ جزاء اللہ عدوہ لابائہ ختم النبوۃ
۲__قھرالدیان علی مرتد بقادیان
۳__المبین معنی ختم النبیین
۴__السوء والعقاب علی المسیح الکذاب
۵__الجراز الدیانی علی المرتدالقادیانی
امام احمدرضا نے اس دور میں پائی جانے والی بدعتوں کے خلاف جہاد کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے تاروپود بکھیرکررکھ دئیے۔ مختصریہ کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کی خاطر ہرمحاذ پرجہاد کیا اور تمام عمر اس کام میں صرف کردی۔
امام احمدرضابریلوی مروجہ علوم دینیہ مثلا تفسیر حدیث فقہ کلام تصوف تاریخ سیرت معانی بیان بدیع عروض ریاضی توقیت منطق فلسفہ وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طب علم جفر تکسیر جبرومقابلہ لوگارثم جیومیٹری مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ یہ وہ علوم ہیں جن سے عام طور پر علماء تعلق ہی نہیں رکھتے۔ انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں تصانیف کاذخیرہ یادگارچھوڑا اور ہرفن میں قیمتی تحقیقات کااضافہ کیا غرض یہ کہ ایك فقیہ کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب امام احمدرضابریلوی کو حاصل تھے۔
عبقری فقیہ
امام احمدرضابریلوی مروجہ علوم دینیہ مثلا تفسیر حدیث فقہ کلام تصوف تاریخ سیرت معانی بیان بدیع عروض ریاضی توقیت منطق فلسفہ وغیرہ کے یکتائے زمانہ فاضل تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ طب علم جفر تکسیر جبرومقابلہ لوگارثم جیومیٹری مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتے تھے۔ یہ وہ علوم ہیں جن سے عام طور پر علماء تعلق ہی نہیں رکھتے۔ انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم وفنون میں تصانیف کاذخیرہ یادگارچھوڑا اور ہرفن میں قیمتی تحقیقات کااضافہ کیا غرض یہ کہ ایك فقیہ کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب امام احمدرضابریلوی کو حاصل تھے۔
علوم قرآن
انہوں نے قرآن کریم کابہت گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا قرآن فہمی کے لئے جن علوم کی ضرورت ہوتی ہے ان پر انہیں گہرا عبور حاصل تھا شان نزول ناسخ ومنسوخ تفسیر بالحدیث تفسیر صحابہ اور استنباط احکام
کے اصول سے پوری طرح باخبرتھے۔ یہی سبب ہے کہ اگر قرآن پاك کے مختلف تراجم کو سامنے رکھ کر مطالعہ کیاجائے
توہرانصاف پسند کوتسلیم کرناپڑے گا کہ امام احمدرضاکاترجمہ کنزالایمان سب سے بہترترجمہ ہے جس میں شان الوہیت کااحترام بھی ملحوظ ہے اور عظمت نبوت ورسالت کاتقدس بھی پیش نظر ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے مقلد ہونے کے باوجود عموما مسائل پرمجتہدانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ پہلے قرآن کریم سے پھر حدیث شریف سے پھرسلف صالحین اور اس کے بعد فقہائے متاخرین کے ارشادات سے استدلال اور استناد کرتے ہیں۔
قرآن کریم سے اچھوتا استدلال
حضرت علامہ مولانا محمدوصی احمد محدث سورتی نے ایك استفتاء بھجوایا جس میں سوال یہ تھا کہ کیامشرقی افق سے سیاہی نمودار ہوتے ہی مغرب کاوقت ہوجاتاہے یاسیاہی کے بلند ہونے پر مغرب کاوقت ہوگا امام احمد رضانے جواب دیا کہ سورج کی ٹکیہ کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہی سیاہی مشرقی افق سے کئی گزبلند ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ اس پرعیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں.....الحمدلله! عجائب قرآن منتہی نہیں... ایك ذراغور سے نظرکیجئے توآیہ کریمہ “ تولج الیل فی النهار و تولج النهار فی الیل “ مطالع رفیعہ سے اس مطلب کی شعاعیں چمك رہی ہیں۔ رات یعنی سایہ زمین کی سیاہی کوحکیم قدیر عزجلالہ دن میں داخل فرماتاہے ہنوز دن باقی ہے کہ سیاہی اٹھائی اور دن کو سواد مذکور میں لاتاہے ابھی ظلمت شبینہ موجود ہے کہ عروس خاور نے نقاب اٹھائی “ ۔
تحریك پاکستان کے قافلہ سالار محدث اعظم ہند مولانا سیدمحمدمحدث کچھوچھوی فرماتے ہیں :
“ علم قرآن کا اندازہ صرف اعلی حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جواکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی کوئی مثال سابق نہ عربی زبان میں ہے نہ فارسی میں اور نہ اردو میں اور جس کا ایك ایك لفظ اپنے مقام پرایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جاسکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگردرحقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں(روح)قرآن ہے ۔ “
توہرانصاف پسند کوتسلیم کرناپڑے گا کہ امام احمدرضاکاترجمہ کنزالایمان سب سے بہترترجمہ ہے جس میں شان الوہیت کااحترام بھی ملحوظ ہے اور عظمت نبوت ورسالت کاتقدس بھی پیش نظر ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے مقلد ہونے کے باوجود عموما مسائل پرمجتہدانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ پہلے قرآن کریم سے پھر حدیث شریف سے پھرسلف صالحین اور اس کے بعد فقہائے متاخرین کے ارشادات سے استدلال اور استناد کرتے ہیں۔
قرآن کریم سے اچھوتا استدلال
حضرت علامہ مولانا محمدوصی احمد محدث سورتی نے ایك استفتاء بھجوایا جس میں سوال یہ تھا کہ کیامشرقی افق سے سیاہی نمودار ہوتے ہی مغرب کاوقت ہوجاتاہے یاسیاہی کے بلند ہونے پر مغرب کاوقت ہوگا امام احمد رضانے جواب دیا کہ سورج کی ٹکیہ کے شرعی غروب سے بہت پہلے ہی سیاہی مشرقی افق سے کئی گزبلند ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ اس پرعیان وبیان وبرہان سب شاہد عدل ہیں.....الحمدلله! عجائب قرآن منتہی نہیں... ایك ذراغور سے نظرکیجئے توآیہ کریمہ “ تولج الیل فی النهار و تولج النهار فی الیل “ مطالع رفیعہ سے اس مطلب کی شعاعیں چمك رہی ہیں۔ رات یعنی سایہ زمین کی سیاہی کوحکیم قدیر عزجلالہ دن میں داخل فرماتاہے ہنوز دن باقی ہے کہ سیاہی اٹھائی اور دن کو سواد مذکور میں لاتاہے ابھی ظلمت شبینہ موجود ہے کہ عروس خاور نے نقاب اٹھائی “ ۔
تحریك پاکستان کے قافلہ سالار محدث اعظم ہند مولانا سیدمحمدمحدث کچھوچھوی فرماتے ہیں :
“ علم قرآن کا اندازہ صرف اعلی حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جواکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی کوئی مثال سابق نہ عربی زبان میں ہے نہ فارسی میں اور نہ اردو میں اور جس کا ایك ایك لفظ اپنے مقام پرایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جاسکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگردرحقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں(روح)قرآن ہے ۔ “
حوالہ / References
امام احمدرضابریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(طبع مرادآباد)ج۲ص۴۔ ۲۶۳)
عبدالنبی کوکب ، مولانا : مقالاتِ یومِ رضا ج۱ص۴۱
عبدالنبی کوکب ، مولانا : مقالاتِ یومِ رضا ج۱ص۴۱
علوم حدیث
امام احمدرضابریلوی علم حدیث اور اس کے متعلقات پروسیع اور گہری نظررکھتے تھے۔ طرق حدیث مشکلات حدیث ناسخ و منسوخ راجح ومرجوح طرق تطبیق وجوہ استدلال اور اسماء رجال یہ سب امور انہیں مستحضررہتے تھے۔ محدث کچھوچھوی فرماتے ہیں :
“ علم الحدیث کااندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی مأخذ ہیں ہروقت پیش نظر اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پربظاہر زدپڑتی ہے اس کی روایت ودرایت کی خامیاں ہروقت ازبر علم الحدیث میں سب سے نازك شعبہ علم اسماء الرجال کاہے اعلی حضرت کے سامنے کوئی سندپڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیاجاتا توہرراوی کی جرح وتعدیل کے جوالفاظ فرمادیتے تھے اٹھاکر دیکھاجاتا توتقریب وتہذہب اور تذہیب میں وہی لفظ مل جاتاتھا اس کو کہتے ہیں علم راسخ اور علم سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت ۔ “
امام احمدرضابریلوی جس موضوع پرقلم اٹھاتے ہیں دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے ہیں وہ کسی بھی مسئلے پرطائرانہ نظرڈالنے کی بجائے بحث وتحقیق کی انتہا کو پہنچتے ہیں۔ مسائل کی تنقیح اور تفصیل پرآتے ہیں تودریا کی روانی اور سمندر کی وسعت کانقشہ نظرآتاہے متقدمین فقہاء کے اقوال مختلفہ میں تطبیق دیتے ہیں تویوں محسوس ہوتاہے کہ اختلاف تھا ہی نہیں۔
طرق حدیث
بنگال سے ایك سوال آیا کہ ہمارے علاقے میں ہیضہ چیچک قحط سالی وغیرہ آجائے تولوگ بلاکے دفع کے لئے چاول گیہوں وغیرہ جمع کرکے پکاتے ہیں علماء کو بلاکر کھلاتے ہیں اور خود محلے والے بھی کھاتے ہیں کیایہ طعام ان کے لئے کھاناجائز ہے
امام احمدرضا بریلوی نے جواب دیا کہ یہ طریقہ اور اہل دعوت کے لئے اس طعام کاکھانا جائز ہے شریعت مطہرہ میں اس کی ہرگز ممانعت نہیں ہے۔ اس دعوے پرساٹھ حدیثیں بطور دلیل پیش کیں یہ حدیث بھی پیش کی :
الدرجات افشاء السلام و اطعام الطعام و الصلوۃ باللیل و الناس
الله تعالی کے ہاں درجہ بلند کرنے والے امور ہیں سلام کاپھیلانا اور ہرطرح کے لوگوں کو
امام احمدرضابریلوی علم حدیث اور اس کے متعلقات پروسیع اور گہری نظررکھتے تھے۔ طرق حدیث مشکلات حدیث ناسخ و منسوخ راجح ومرجوح طرق تطبیق وجوہ استدلال اور اسماء رجال یہ سب امور انہیں مستحضررہتے تھے۔ محدث کچھوچھوی فرماتے ہیں :
“ علم الحدیث کااندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی مأخذ ہیں ہروقت پیش نظر اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پربظاہر زدپڑتی ہے اس کی روایت ودرایت کی خامیاں ہروقت ازبر علم الحدیث میں سب سے نازك شعبہ علم اسماء الرجال کاہے اعلی حضرت کے سامنے کوئی سندپڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیاجاتا توہرراوی کی جرح وتعدیل کے جوالفاظ فرمادیتے تھے اٹھاکر دیکھاجاتا توتقریب وتہذہب اور تذہیب میں وہی لفظ مل جاتاتھا اس کو کہتے ہیں علم راسخ اور علم سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت ۔ “
امام احمدرضابریلوی جس موضوع پرقلم اٹھاتے ہیں دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے ہیں وہ کسی بھی مسئلے پرطائرانہ نظرڈالنے کی بجائے بحث وتحقیق کی انتہا کو پہنچتے ہیں۔ مسائل کی تنقیح اور تفصیل پرآتے ہیں تودریا کی روانی اور سمندر کی وسعت کانقشہ نظرآتاہے متقدمین فقہاء کے اقوال مختلفہ میں تطبیق دیتے ہیں تویوں محسوس ہوتاہے کہ اختلاف تھا ہی نہیں۔
طرق حدیث
بنگال سے ایك سوال آیا کہ ہمارے علاقے میں ہیضہ چیچک قحط سالی وغیرہ آجائے تولوگ بلاکے دفع کے لئے چاول گیہوں وغیرہ جمع کرکے پکاتے ہیں علماء کو بلاکر کھلاتے ہیں اور خود محلے والے بھی کھاتے ہیں کیایہ طعام ان کے لئے کھاناجائز ہے
امام احمدرضا بریلوی نے جواب دیا کہ یہ طریقہ اور اہل دعوت کے لئے اس طعام کاکھانا جائز ہے شریعت مطہرہ میں اس کی ہرگز ممانعت نہیں ہے۔ اس دعوے پرساٹھ حدیثیں بطور دلیل پیش کیں یہ حدیث بھی پیش کی :
الدرجات افشاء السلام و اطعام الطعام و الصلوۃ باللیل و الناس
الله تعالی کے ہاں درجہ بلند کرنے والے امور ہیں سلام کاپھیلانا اور ہرطرح کے لوگوں کو
حوالہ / References
عبدالنبی کوکب ، مولانا : ، مقالاتِ یومِ رضا ج۱ ، ص۴۱
نیام۔
کھاناکھلانا اور رات کانمازپڑھنا جب کہ لوگ سورہے ہوں۔
پھر جو اس کی تخریج کی طرف توجہ ہوئی توفرمایا کہ یہ حدیث مشہور ومستفیض کاایك حصہ ہے جس میں بیان کیاگیا ہے کہ نبی
اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکوالله تعالی کی زیارت ہوئی اور الله تعالی نے اپنادست قدرت اپنی شان کے مطابق آپ کے کندھوں کے درمیان رکھا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
فتجلی لی کل شیء وعرفت۔
ہرچیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔
اب اس حدیث کے حوالے ملاحظہ ہوں :
o رواہ امام الائمۃ ابوحنیفۃ والامام احمدوعبدالرزاق فی مصنفہ والترمذی والطبرانی عن ابن عباس۔
o واحمد والطبرانی وابن مردویہ عن معاذ بن جبل۔
o وابن خزیمۃ والدارمی والبغوی وابن السکن و ابونعیم وابن بسطۃ عن عبدالرحمن بن عایش والطبرانی عنہ عن صحابی۔
o والبزار عن ابن عمر وعن صحابی
o والطبرانی عن ابی امامۃ۔
oوابن قانع عن ابی عبیدۃ بن الجراح۔
o والدارقطنی و ابوبکرالنیسابوری فی الزیادات عن انس۔
o وابوالفرج تعلیقا عن ابی ھریرۃ۔
o وابن ابی شیبۃ مرسلا عن عبدالرحمن بن سابط۔ (رضی اللہ تعالی عنہم)
آخر میں فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کے طرق کی تفصیلات اور کلمات کااختلاف اپنی بابرکت کتاب سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری میں بیان کیا ہے ۔ قلم برداشتہ کسی حدیث کے اتنے مآخذ کابیان کردینا معمولی بات نہیں۔
امام احمد رضابریلوی نے یہ فتوی راد القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء کے نام سے ماہ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ میں مکمل کیا۔
کھاناکھلانا اور رات کانمازپڑھنا جب کہ لوگ سورہے ہوں۔
پھر جو اس کی تخریج کی طرف توجہ ہوئی توفرمایا کہ یہ حدیث مشہور ومستفیض کاایك حصہ ہے جس میں بیان کیاگیا ہے کہ نبی
اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکوالله تعالی کی زیارت ہوئی اور الله تعالی نے اپنادست قدرت اپنی شان کے مطابق آپ کے کندھوں کے درمیان رکھا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
فتجلی لی کل شیء وعرفت۔
ہرچیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔
اب اس حدیث کے حوالے ملاحظہ ہوں :
o رواہ امام الائمۃ ابوحنیفۃ والامام احمدوعبدالرزاق فی مصنفہ والترمذی والطبرانی عن ابن عباس۔
o واحمد والطبرانی وابن مردویہ عن معاذ بن جبل۔
o وابن خزیمۃ والدارمی والبغوی وابن السکن و ابونعیم وابن بسطۃ عن عبدالرحمن بن عایش والطبرانی عنہ عن صحابی۔
o والبزار عن ابن عمر وعن صحابی
o والطبرانی عن ابی امامۃ۔
oوابن قانع عن ابی عبیدۃ بن الجراح۔
o والدارقطنی و ابوبکرالنیسابوری فی الزیادات عن انس۔
o وابوالفرج تعلیقا عن ابی ھریرۃ۔
o وابن ابی شیبۃ مرسلا عن عبدالرحمن بن سابط۔ (رضی اللہ تعالی عنہم)
آخر میں فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کے طرق کی تفصیلات اور کلمات کااختلاف اپنی بابرکت کتاب سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری میں بیان کیا ہے ۔ قلم برداشتہ کسی حدیث کے اتنے مآخذ کابیان کردینا معمولی بات نہیں۔
امام احمد رضابریلوی نے یہ فتوی راد القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء کے نام سے ماہ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ میں مکمل کیا۔
حوالہ / References
احمدرضا بریلوی ، امام : رادّالقحط والوباء(مکتبہ رضویہ ، لاہور)ص۱۱
احمدرضابریلوی نے تخریج احادیث کے آداب پرایك رسالہ لکھا جس کانام ہے : الروض البھیج فی آداب التخریج۔ مولوی رحمن علی اس رسالہ مبارکہ کے بارے میں لکھتے ہیں : “ اگراس سے قبل اس فن میں کوئی کتاب نہیں ملتی تومصنف کو اس فن کاموجد کہہ سکتے ہیں۔ “
فن اسماء الرجال
ایك سوال پیش ہوا کہ سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے یانہیں چونکہ اس موضوع پر غیرمقلدین کے شیخ الکل میاں نذیرحسین دہلوی معیارالحق میں کلام کرچکے تھے اس لئے امام احمدرضا بریلوی نے اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی اور ۱۳۴ صفحات پرمشتمل رسالہ حاجز البحرین تصنیف فرمایا۔ رسالہ کیا ہے علم حدیث اور علم اسماء الرجال کابحر مواج ہے اس کامطالعہ کرتے وقت غیرمقلدین کے شیخ الکل علم حدیث میں طفل مکتب نظر آتے ہیں آج تك غیرمقلدین کوعلم حدیث کے مدعی ہونے کے باوجود اس کاجواب دینے کی جرأت نہیں ہوسکی۔
امام نسائی حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایك سفر میں حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہماکے ساتھ تھا وہ تیزی کے ساتھ سفرکررہے تھے شفق غروب ہونے والی تھی کہ اترکر نماز مغرب ادا کی پھر عشاء کی تکبیر اس وقت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی۔ اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ ابن عمررضی اللہ تعالی عنہمانے دونمازیں ایك وقت میں جمع نہیں کیں بلکہ صورۃ اور عملا جمع کیں۔ یہ بات میاں صاحب کے موقف کے خلاف تھی انہوں نے اس پر اعتراض کیا کہ امام نسائی کی روایت میں ایك راوی ولیدبن قاسم ہیں اور ان سے روایت میں خطا ہوتی تھی تقریب میں ہے : صدوق یخطیئ۔
اس اعتراض پر امام احمدرضابریلوی نے متعدد وجوہ سے گرفت فرمائی :
۱۔ یہ تحریف ہے امام نسائی نے ولید کافقط نام ذکرکیاتھا میاں صاحب نے ازراہ چالاکی اسی نام اور اسی طبقے کاایك راوی متعین کرلیا جو امام نسائی کے راویوں میں سے ہے اور جس پر کسی قدر تنقید بھی کی گئی ہے حالانکہ یہ راوی ولیدبن قاسم نہیں بلکہ ولیدبن مسلم ہیں جو صحیح مسلم کے رجال اور ائمہ ثقات اور حفاظ اعلام میں سے ہیں ہاں وہ تدلیس کرتے ہیں لیکن اس کاکیانقصان کہ اس جگہ وہ صاف حدثنی نافع فرمارہے ہیں۔
۲۔ اگرتسلیم بھی کرلیاجائے کہ وہ ابن قاسم ہی ہیں تاہم وہ مستحق رد نہیں امام احمد نے ان کی توثیق کی ہے ان سے روایت کی محدثین کو ان سے حدیث لکھنے کاحکم دیا۔ ابن عدی نے کہا جب وہ کسی ثقہ سے روایت
فن اسماء الرجال
ایك سوال پیش ہوا کہ سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے یانہیں چونکہ اس موضوع پر غیرمقلدین کے شیخ الکل میاں نذیرحسین دہلوی معیارالحق میں کلام کرچکے تھے اس لئے امام احمدرضا بریلوی نے اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی اور ۱۳۴ صفحات پرمشتمل رسالہ حاجز البحرین تصنیف فرمایا۔ رسالہ کیا ہے علم حدیث اور علم اسماء الرجال کابحر مواج ہے اس کامطالعہ کرتے وقت غیرمقلدین کے شیخ الکل علم حدیث میں طفل مکتب نظر آتے ہیں آج تك غیرمقلدین کوعلم حدیث کے مدعی ہونے کے باوجود اس کاجواب دینے کی جرأت نہیں ہوسکی۔
امام نسائی حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایك سفر میں حضرت ابن عمررضی اللہ تعالی عنہماکے ساتھ تھا وہ تیزی کے ساتھ سفرکررہے تھے شفق غروب ہونے والی تھی کہ اترکر نماز مغرب ادا کی پھر عشاء کی تکبیر اس وقت کہی جب شفق غروب ہوچکی تھی۔ اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ ابن عمررضی اللہ تعالی عنہمانے دونمازیں ایك وقت میں جمع نہیں کیں بلکہ صورۃ اور عملا جمع کیں۔ یہ بات میاں صاحب کے موقف کے خلاف تھی انہوں نے اس پر اعتراض کیا کہ امام نسائی کی روایت میں ایك راوی ولیدبن قاسم ہیں اور ان سے روایت میں خطا ہوتی تھی تقریب میں ہے : صدوق یخطیئ۔
اس اعتراض پر امام احمدرضابریلوی نے متعدد وجوہ سے گرفت فرمائی :
۱۔ یہ تحریف ہے امام نسائی نے ولید کافقط نام ذکرکیاتھا میاں صاحب نے ازراہ چالاکی اسی نام اور اسی طبقے کاایك راوی متعین کرلیا جو امام نسائی کے راویوں میں سے ہے اور جس پر کسی قدر تنقید بھی کی گئی ہے حالانکہ یہ راوی ولیدبن قاسم نہیں بلکہ ولیدبن مسلم ہیں جو صحیح مسلم کے رجال اور ائمہ ثقات اور حفاظ اعلام میں سے ہیں ہاں وہ تدلیس کرتے ہیں لیکن اس کاکیانقصان کہ اس جگہ وہ صاف حدثنی نافع فرمارہے ہیں۔
۲۔ اگرتسلیم بھی کرلیاجائے کہ وہ ابن قاسم ہی ہیں تاہم وہ مستحق رد نہیں امام احمد نے ان کی توثیق کی ہے ان سے روایت کی محدثین کو ان سے حدیث لکھنے کاحکم دیا۔ ابن عدی نے کہا جب وہ کسی ثقہ سے روایت
حوالہ / References
رحمن علی ، مولوی : تذکرہ علمائے ہند اردو(پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی ، کراچی)ص۱۰۰
کریں تو ان میں کوئی عیب نہیں ہے۔
۳۔ صحیح بخاری و مسلم میں کتنے راوی وہ ہیں جن کے بارے میں تقریب میں فرمایا صدوق یخطئ کیا آپ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ صحیحین کی روایات کو بھی رد کردوگے
پھرامام احمدرضا بریلوی نے حاشیہ میں قلم برداشتہ صحیحین کے ۳۱ ایسے راویوں کے نام گنوادئیے جن کے بارے میں اسماء رجال کی کتابوں میں اخطأ یا کثیر الخطاء کے الفاظ وارد ہیں۔
۴۔ حسان بن حسان بصری صحیح بخاری کے راوی ہیں ان کے بارے میں تقریب میں ہے صدوق یخطی ان کے بعد حسان بن حسان واسطی کے بارے میں لکھا ابن مندہ نے انہیں وہم کی بنا پر حسان بصری سمجھ لیا حالانکہ حسان واسطی ضعیف ہیں۔ دیکھئے
پہلے حسان بصری کو صدوق یخطئ کے باوجود واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ ضعیف نہیں ہیں۔
مطالب حدیث
مرزائیوں نے حدیث شریف لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد سے حضرت عیسی علیہ السلامکی وفات پراس طرح استدلال کیا کہ حدیث کامطلب یہ ہے کہ یہودونصاری نے اپنے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنایا اس سے ظاہر ہوا کہ نبی یہود حضرت موسی اور نبی نصاری حضرت عیسی علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامکی قبریں تھیں جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ امام احمدرضابریلوی حدیث مذکور سے استدلال کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
۱۔ انبیائھم میں اضافت استغراق کے لئے نہیں ہے حتی کہ اس کا یہ معنی ہو کہ حضرت موسی سے یحیی عليهم الصلوۃ والسلامتك ہر نبی کی قبر کو تمام یہود ونصاری نے مسجد بنا لیا ہو یہ یقینا غلط ہے اورجب استغراق مراد نہیں توبعض میں حضرت عیسی علیہ السلامکوداخل کرلینا باطل اور مردود ہے۔ یہود و نصاری کا بعض انبیاء کی قبور کریمہ کو مسجد بنالینا صدق حدیث کے لئے کافی ہے۔
علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں یہ سوال اٹھایا کہ نصاری کے انبیاء کہاں ہیں ان کے نبی توصرف حضرت عیسی علیہ السلامتھے ان کی قبر نہیں ہے۔ اس سوال کاایك جواب یہ دیا :
“ انبیاء کی قبروں کومسجد بنانا عام ہے کہ ابتداء ہو یاکسی کی پیروی میں یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے ان کی پیروی کی اور اس میں شك نہیں کہ نصاری بہت سے ان انبیاء کی قبور کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔ “ (ترجمہ)
۳۔ صحیح بخاری و مسلم میں کتنے راوی وہ ہیں جن کے بارے میں تقریب میں فرمایا صدوق یخطئ کیا آپ قسم کھائے بیٹھے ہیں کہ صحیحین کی روایات کو بھی رد کردوگے
پھرامام احمدرضا بریلوی نے حاشیہ میں قلم برداشتہ صحیحین کے ۳۱ ایسے راویوں کے نام گنوادئیے جن کے بارے میں اسماء رجال کی کتابوں میں اخطأ یا کثیر الخطاء کے الفاظ وارد ہیں۔
۴۔ حسان بن حسان بصری صحیح بخاری کے راوی ہیں ان کے بارے میں تقریب میں ہے صدوق یخطی ان کے بعد حسان بن حسان واسطی کے بارے میں لکھا ابن مندہ نے انہیں وہم کی بنا پر حسان بصری سمجھ لیا حالانکہ حسان واسطی ضعیف ہیں۔ دیکھئے
پہلے حسان بصری کو صدوق یخطئ کے باوجود واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ ضعیف نہیں ہیں۔
مطالب حدیث
مرزائیوں نے حدیث شریف لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد سے حضرت عیسی علیہ السلامکی وفات پراس طرح استدلال کیا کہ حدیث کامطلب یہ ہے کہ یہودونصاری نے اپنے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنایا اس سے ظاہر ہوا کہ نبی یہود حضرت موسی اور نبی نصاری حضرت عیسی علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلامکی قبریں تھیں جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ امام احمدرضابریلوی حدیث مذکور سے استدلال کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
۱۔ انبیائھم میں اضافت استغراق کے لئے نہیں ہے حتی کہ اس کا یہ معنی ہو کہ حضرت موسی سے یحیی عليهم الصلوۃ والسلامتك ہر نبی کی قبر کو تمام یہود ونصاری نے مسجد بنا لیا ہو یہ یقینا غلط ہے اورجب استغراق مراد نہیں توبعض میں حضرت عیسی علیہ السلامکوداخل کرلینا باطل اور مردود ہے۔ یہود و نصاری کا بعض انبیاء کی قبور کریمہ کو مسجد بنالینا صدق حدیث کے لئے کافی ہے۔
علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں یہ سوال اٹھایا کہ نصاری کے انبیاء کہاں ہیں ان کے نبی توصرف حضرت عیسی علیہ السلامتھے ان کی قبر نہیں ہے۔ اس سوال کاایك جواب یہ دیا :
“ انبیاء کی قبروں کومسجد بنانا عام ہے کہ ابتداء ہو یاکسی کی پیروی میں یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے ان کی پیروی کی اور اس میں شك نہیں کہ نصاری بہت سے ان انبیاء کی قبور کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔ “ (ترجمہ)
۲۔ حافظ ابن حجرعسقلانی نے دوسراجواب یہ دیا کہ اس حدیث میں اقتصار واقع ہوا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہود اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بناتے تھے اورنصاری اپنے صالحین کی قبروں کو۔ صحیح بخاری حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہمیں قبور انبیاء کے بارے میں صرف یہودیوں کاذکر ہے اوران کے ساتھ ان کے انبیاء کاذکر ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : قاتل اللہ الیھود اتخذوا قبور انبیائھم مساجد۔ الله تعالی یہودیوں کوہلاك فرمائے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کوسجدہ گاہیں بنالیا۔
صحیح بخاری حدیث حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہامیں صرف نصاری کاذکر تھا ان کے ساتھ صرف صالحین کا ذکر ہے انبیاء کرام کاذکر نہیں ہے۔ چنانچہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکاارشاد ہے کہ : اولئك قوم اذا مات فیھم العبد الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلك الصور۔ نصاری وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیك آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں وہ تصویریں بنالیتے۔ اور صحیح مسلم حضرت جندب رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں یہود ونصاری دونوں کاذکر تھا اس میں انبیاء اور صالحین دونوں کاذکر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا : الاومن کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد۔
خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیتے تھے ۔ اسی حدیث کامطلب اسی وقت واضح ہوتاہے جب اس کے متعدد طرق کوجمع کرلیاجائے۔
دین کے اصول وقواعد
ایك متبحرفقیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ دین کے اصول وقواعد کاوسیع علم رکھتاہو تاکہ کسی نئے مسئلے کاحکم پورے وثوق کے ساتھ بیان کرسکے امام احمدرضابریلوی سے سوال کیاگیا کہ روسر کی شکر ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والے اس بات کی احتیاط نہیں کرتے کہ وہ ہڈیاں پاك ہیں یاناپاک حلا ل جانور کی یاحرام کی۔ اس
صحیح بخاری حدیث حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہامیں صرف نصاری کاذکر تھا ان کے ساتھ صرف صالحین کا ذکر ہے انبیاء کرام کاذکر نہیں ہے۔ چنانچہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکاارشاد ہے کہ : اولئك قوم اذا مات فیھم العبد الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلك الصور۔ نصاری وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیك آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں وہ تصویریں بنالیتے۔ اور صحیح مسلم حضرت جندب رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں یہود ونصاری دونوں کاذکر تھا اس میں انبیاء اور صالحین دونوں کاذکر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا : الاومن کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد۔
خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیتے تھے ۔ اسی حدیث کامطلب اسی وقت واضح ہوتاہے جب اس کے متعدد طرق کوجمع کرلیاجائے۔
دین کے اصول وقواعد
ایك متبحرفقیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ دین کے اصول وقواعد کاوسیع علم رکھتاہو تاکہ کسی نئے مسئلے کاحکم پورے وثوق کے ساتھ بیان کرسکے امام احمدرضابریلوی سے سوال کیاگیا کہ روسر کی شکر ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والے اس بات کی احتیاط نہیں کرتے کہ وہ ہڈیاں پاك ہیں یاناپاک حلا ل جانور کی یاحرام کی۔ اس
حوالہ / References
احمدرضابریلوی ، امام : مجموعہ رسائل ردِّ مرزائیت(رضافاؤنڈیشن ، لاہور)ص۹۰۔ ۸۷
روسرانگریزی تاجروں کی ایك جماعت کانام ہے جس نے شاہجہاں پورمیں شکّرکاکارخانہ لگایاتھا اور وہ حیوانوں کی ہڈیاں جلاکر اس کے کوئلوں سے شکرصاف کرتی تھی۔ (تذکرہ علمائے ہند اردو ازرحمن علی ص۱۰۰)
روسرانگریزی تاجروں کی ایك جماعت کانام ہے جس نے شاہجہاں پورمیں شکّرکاکارخانہ لگایاتھا اور وہ حیوانوں کی ہڈیاں جلاکر اس کے کوئلوں سے شکرصاف کرتی تھی۔ (تذکرہ علمائے ہند اردو ازرحمن علی ص۱۰۰)
شکرکاکیاحکم ہے امام احمدرضابریلوی نے جواب سے پہلے دس مقامات بیان کئے جن میں شرعی اصول وضوابط پیش کئے ان ہی مقدمات میں ایك ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ بیان فرمایا :
“ فعل فرائض وترك محرمات کوارضائے خلق پرمقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقا پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترك غیراولی پرمدارات خلق ومراعات قلوب کواہم جانے اورفتنہ ونفرت وایذا و وحشت کاباعث ہونے سے بہت بچے۔
اسی طرح جوعادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں۔
ہاں وہاں !ہوشیاوگوش دار! کہ ہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشك واہل تقشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پروربنتے ہیں اور فی الواقع مغزحکمت ومقصود شریعت سے دورپڑتے ہیں خبردار ومحکم گیر یہ چندسطروں میں علم غزیر وبالله التوفیق والیہ المصیر “ ۔
عربی لغات
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے لفظ طف بہ پڑنے کے معنی میں استعمال کیا اور فرمایا : حتی طف من جوانبہا۔ اس پر امام احمدرضابریلوی نے فرمایا : “ مجھے یہ فعل اور اس کامصدر ۱صحاح ۲صراح ۳مختار ۴قاموس ۵تاج العروس ۶مفردات ۷نہایہ ۸درنثیر ۹مجمع البحار اور۱۰مصباح میں نہیں ملا ہاں قاموس میں صرف اتنا ہے کہ طف المکوك والاناء وطففہ و طفافہ وہ چیز جو اس برتن کے کناروں کو بھردے “ ۔
امام احمدرضابریلوی کو عربی زبان پراس قدر عبورتھا کہ ایك نامانوس لفظ دیکھتے ہی اسے غریب سمجھا اور اس کی غرابت پرلغات کی دس مستند کتابوں کاحوالہ پیش کیا ان مآخذمیں عربی لغات بھی ہیں اور لغات حدیث بھی۔
امام احمدرضابریلوی اپنی اکثروبیشترتصنیفات کے خطبوں میں الله تعالی کی حمد وثنا اور درود شریف کے ساتھ ساتھ وہ مسئلہ بھی بیان فرمادیتے ہیں جسے بعد ازاں تفصیلی دلائل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔ صرف یہی نہیں
“ فعل فرائض وترك محرمات کوارضائے خلق پرمقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقا پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترك غیراولی پرمدارات خلق ومراعات قلوب کواہم جانے اورفتنہ ونفرت وایذا و وحشت کاباعث ہونے سے بہت بچے۔
اسی طرح جوعادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں۔
ہاں وہاں !ہوشیاوگوش دار! کہ ہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشك واہل تقشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پروربنتے ہیں اور فی الواقع مغزحکمت ومقصود شریعت سے دورپڑتے ہیں خبردار ومحکم گیر یہ چندسطروں میں علم غزیر وبالله التوفیق والیہ المصیر “ ۔
عربی لغات
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے لفظ طف بہ پڑنے کے معنی میں استعمال کیا اور فرمایا : حتی طف من جوانبہا۔ اس پر امام احمدرضابریلوی نے فرمایا : “ مجھے یہ فعل اور اس کامصدر ۱صحاح ۲صراح ۳مختار ۴قاموس ۵تاج العروس ۶مفردات ۷نہایہ ۸درنثیر ۹مجمع البحار اور۱۰مصباح میں نہیں ملا ہاں قاموس میں صرف اتنا ہے کہ طف المکوك والاناء وطففہ و طفافہ وہ چیز جو اس برتن کے کناروں کو بھردے “ ۔
امام احمدرضابریلوی کو عربی زبان پراس قدر عبورتھا کہ ایك نامانوس لفظ دیکھتے ہی اسے غریب سمجھا اور اس کی غرابت پرلغات کی دس مستند کتابوں کاحوالہ پیش کیا ان مآخذمیں عربی لغات بھی ہیں اور لغات حدیث بھی۔
امام احمدرضابریلوی اپنی اکثروبیشترتصنیفات کے خطبوں میں الله تعالی کی حمد وثنا اور درود شریف کے ساتھ ساتھ وہ مسئلہ بھی بیان فرمادیتے ہیں جسے بعد ازاں تفصیلی دلائل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔ صرف یہی نہیں
حوالہ / References
امام احمدرضابریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(مکتبہ نعیمیہ ، مرادآباد)ج۲ ص۱۲۷
احمدرضابریلوی ، امام : جدالممتار(مطبوعہ عزیزیہ ، حیدرآباد دکن)ج۱ ص۱۲۹
احمدرضابریلوی ، امام : جدالممتار(مطبوعہ عزیزیہ ، حیدرآباد دکن)ج۱ ص۱۲۹
بلکہ اکثررسائل وتصنیفات کاایساحسین نام تجویز فرماتے ہیں جس سے نہ صرف واضح طور پر موضوع کی نشاندہی ہوتی ہے بلالکہ حروف ابجد کے حساب سے سال تصنیف بھی معلوم کیاجاسکتاہے۔
علامہ ابن کمال باشا نے فقہاکے سات طبقے بیان کئے جن میں سے تیسرا طبقہ مجتہدین فی المسائل کاہے یہ وہ فقہاء ہیں جو اصول وفروع میں اپنے امام کے پابندہیں اور امام کے غیرمنصوص احکام کااستنباط کرنے کی قدرت رکھتے ہیں امام احمدرضابریلوی کے فتاوی اور تحقیقات جلیلہ کامطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ وہ مجتہدین کے اسی طبقے میں شامل ہیں چنانچہ آپ نے نوٹ کے احکام پرمبسوط رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں لکھ کرعرب وعجم کے علماء کوخوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔ اسی طرح انگریزوں کی ایك کمپنی روسرجانوروں کی ہڈیاں جلاکر ان کی راکھ سے شکر صاف کرتی تھی یہ ایك نیامسئلہ تھا جسے آپ نے اصول دینیہ کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا اسی طرح جنس ارض کی تہتر قسمیں علماء متقدمین نے بیان کی تھیں جن میں آپ نے ایك سو سات ۱۰۷ چیزوں کااضافہ کیا اور جن چیزوں سے تیمم نہیں ہوسکتافقہاء متقدمین نے سینتالیس چیزیں گنوائی تھیں جبکہ آپ نے ان میں تہتر چیزوں کااضافہ کیا فتاوی رضویہ جلد اول کے بارے میں خود فرماتے ہیں :
“ بظاہر اس(پہلی جلد)میں ۱۱۴فتوے اور ۲۸رسالے ہیں مگربحمدالله تعالی ہزارہا مسائل پرمشتمل ہے جن میں صدہا وہ ہیں کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے۔ “
حکیم محمدسعیددہلوی چیئرمین ہمدردٹرسٹ پاکستان رقمطراز ہیں : “ میرے نزدیك ان کے فتاوی کی اہمیت اس لئے نہیں ہے کہ وہ کثیر درکثیر فقہی جزئیات کے مجموعے ہیں بلکہ ان کاخاص امتیاز یہ ہے کہ ان میں تحقیق کاوہ اسلوب ومعیار نظرآتاہے جس کی جھلکیاں ہمیں صرف قدیم فقہاء میں نظرآتی ہیں میرامطلب ہے کہ قرآنی نصوص اور سنن نبویہ کی تشریح وتعبیر اور ان سے احکام کے استنباط کے لئے قدیم فقہاءجملہ علوم ووسائل سے کام لیتے تھے اور یہ خصوصیت مولانا کے فتاوی میں موجود ہے۔ “
علم طب
امام احمدرضابریلوی وہ بالغ نظرمفتی ہیں جواحکام شرعیہ معلوم کرنے کے لئے تمام امکانی مآخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں ایك ماہر طبیب جب فتاوی رضویہ کامطالعہ کرتاہے توبیش بہاطبی معلومات دیکھ کر اسے حیرت
علامہ ابن کمال باشا نے فقہاکے سات طبقے بیان کئے جن میں سے تیسرا طبقہ مجتہدین فی المسائل کاہے یہ وہ فقہاء ہیں جو اصول وفروع میں اپنے امام کے پابندہیں اور امام کے غیرمنصوص احکام کااستنباط کرنے کی قدرت رکھتے ہیں امام احمدرضابریلوی کے فتاوی اور تحقیقات جلیلہ کامطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ وہ مجتہدین کے اسی طبقے میں شامل ہیں چنانچہ آپ نے نوٹ کے احکام پرمبسوط رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں لکھ کرعرب وعجم کے علماء کوخوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔ اسی طرح انگریزوں کی ایك کمپنی روسرجانوروں کی ہڈیاں جلاکر ان کی راکھ سے شکر صاف کرتی تھی یہ ایك نیامسئلہ تھا جسے آپ نے اصول دینیہ کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا اسی طرح جنس ارض کی تہتر قسمیں علماء متقدمین نے بیان کی تھیں جن میں آپ نے ایك سو سات ۱۰۷ چیزوں کااضافہ کیا اور جن چیزوں سے تیمم نہیں ہوسکتافقہاء متقدمین نے سینتالیس چیزیں گنوائی تھیں جبکہ آپ نے ان میں تہتر چیزوں کااضافہ کیا فتاوی رضویہ جلد اول کے بارے میں خود فرماتے ہیں :
“ بظاہر اس(پہلی جلد)میں ۱۱۴فتوے اور ۲۸رسالے ہیں مگربحمدالله تعالی ہزارہا مسائل پرمشتمل ہے جن میں صدہا وہ ہیں کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے۔ “
حکیم محمدسعیددہلوی چیئرمین ہمدردٹرسٹ پاکستان رقمطراز ہیں : “ میرے نزدیك ان کے فتاوی کی اہمیت اس لئے نہیں ہے کہ وہ کثیر درکثیر فقہی جزئیات کے مجموعے ہیں بلکہ ان کاخاص امتیاز یہ ہے کہ ان میں تحقیق کاوہ اسلوب ومعیار نظرآتاہے جس کی جھلکیاں ہمیں صرف قدیم فقہاء میں نظرآتی ہیں میرامطلب ہے کہ قرآنی نصوص اور سنن نبویہ کی تشریح وتعبیر اور ان سے احکام کے استنباط کے لئے قدیم فقہاءجملہ علوم ووسائل سے کام لیتے تھے اور یہ خصوصیت مولانا کے فتاوی میں موجود ہے۔ “
علم طب
امام احمدرضابریلوی وہ بالغ نظرمفتی ہیں جواحکام شرعیہ معلوم کرنے کے لئے تمام امکانی مآخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں ایك ماہر طبیب جب فتاوی رضویہ کامطالعہ کرتاہے توبیش بہاطبی معلومات دیکھ کر اسے حیرت
حوالہ / References
احمدرضابریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(طبع بمبئی)ج۱ ص۸۵۰
محمدسعید دہلوی ، حکیم : معارفِ رضا ، کراچی ، شمارہ نہم ۱۹۸۹ء ص۹۹)
محمدسعید دہلوی ، حکیم : معارفِ رضا ، کراچی ، شمارہ نہم ۱۹۸۹ء ص۹۹)
ہوتی ہے اور وہ یہ سوچنے پرمجبور ہوجاتاہے کہ وہ کسی مفتی کی تصنیف پڑھ رہاہے یاماہر طبیب کی چنانچہ جناب حکیم سعیددہلوی لکھتے ہیں : “ فاضل بریلوی کے فتاوی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ احکام کی گہرائیوں تك پہنچنے کے لئے سائنس اور طب کے تمام
وسائل سے کام لیتے ہیں اور اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ کس لفظ کی معنویت کی تحقیق کے لئے کن علمی مصادر کی طرف رجوع کرناچاہئے اس لئے ان کے فتاوی میں بہت سے علوم کے نکات ملتے ہیں مگر طب اور اس علم کے دیگر شعبے مثلا کیمیا اور علم الاحجار کو تقدم حاصل ہے اور جس وسعت کے ساتھ اس علم کے حوالے ان کے ہاں ملتے ہیں اس سے ان کی دقت نظر اور طبی بصیرت کااندازہ ہوتاہے وہ اپنی تحریروں میں صرف ایك مفتی نہیں بلکہ محقق طبیب بھی معلوم ہوتے ہیں ان کے تحقیقی اسلوب ومعیار سے دین وطب کے باہمی تعلق کی بھی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے۔ “
مرجع العلماء
یہ پہلوبھی لائق توجہ ہے کہ عام طورپر مفتیان کرام کی طرف عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور احکام شرعیہ دریافت کرتے ہیں فتاوی رضویہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ امام احمدرضابریلوی کی طرف رجوع کرنے والوں میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جو بجائے خود مفتی تھے مصنف تھے جج تھے یا وکیل تھے مولانا خادم حسین فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور نے ایك مقالہ لکھا ہے جس کاعنوان ہے :
“ امام احمدرضابریلوی بحیثیت مرجع العلماء “
اس مقالہ میں انہوں نے فتاوی رضویہ کی نوجلدوں(پہلی سے ساتویں اور دسویں گیارہویں جلد)کامطالعہ پیش کیا ہے ان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان جلدوں میں چار ہزار پچانوے(۴۰۹۵)استفتاہیں جن میں سے تین ہزار چونتیس(۳۰۳۴)عوام الناس کے استفتاء ہیں اور ایك ہزار اکسٹھ(۱۰۶۱)استفتاء علماء اور دانشوروں کے پیش کردہ ہیں۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ استفتاء کرنے والوں میں ایك چوتھائی تعداد علماء اور دانشوروں کی ہے یہی وجہ ہے کہ عموما امام احمدرضابریلوی جواب دیتے وقت ہاں یانہیں میں نہیں کرتے بلکہ دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے ہیں۔ مولانا خادم حسین کایہ مقالہ فتاوی رضویہ کی پیش نظر جلد ثانی میں شائع کیاجارہاہے۔
امام احمدرضابریلوی کی جلالت علمی کایہ عالم تھا کہ انہیں جوعالم بھی ملاعقیدت واحترام سے ملااور ہمیشہ کے لئے
وسائل سے کام لیتے ہیں اور اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ کس لفظ کی معنویت کی تحقیق کے لئے کن علمی مصادر کی طرف رجوع کرناچاہئے اس لئے ان کے فتاوی میں بہت سے علوم کے نکات ملتے ہیں مگر طب اور اس علم کے دیگر شعبے مثلا کیمیا اور علم الاحجار کو تقدم حاصل ہے اور جس وسعت کے ساتھ اس علم کے حوالے ان کے ہاں ملتے ہیں اس سے ان کی دقت نظر اور طبی بصیرت کااندازہ ہوتاہے وہ اپنی تحریروں میں صرف ایك مفتی نہیں بلکہ محقق طبیب بھی معلوم ہوتے ہیں ان کے تحقیقی اسلوب ومعیار سے دین وطب کے باہمی تعلق کی بھی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے۔ “
مرجع العلماء
یہ پہلوبھی لائق توجہ ہے کہ عام طورپر مفتیان کرام کی طرف عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور احکام شرعیہ دریافت کرتے ہیں فتاوی رضویہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ امام احمدرضابریلوی کی طرف رجوع کرنے والوں میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جو بجائے خود مفتی تھے مصنف تھے جج تھے یا وکیل تھے مولانا خادم حسین فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور نے ایك مقالہ لکھا ہے جس کاعنوان ہے :
“ امام احمدرضابریلوی بحیثیت مرجع العلماء “
اس مقالہ میں انہوں نے فتاوی رضویہ کی نوجلدوں(پہلی سے ساتویں اور دسویں گیارہویں جلد)کامطالعہ پیش کیا ہے ان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ان جلدوں میں چار ہزار پچانوے(۴۰۹۵)استفتاہیں جن میں سے تین ہزار چونتیس(۳۰۳۴)عوام الناس کے استفتاء ہیں اور ایك ہزار اکسٹھ(۱۰۶۱)استفتاء علماء اور دانشوروں کے پیش کردہ ہیں۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ استفتاء کرنے والوں میں ایك چوتھائی تعداد علماء اور دانشوروں کی ہے یہی وجہ ہے کہ عموما امام احمدرضابریلوی جواب دیتے وقت ہاں یانہیں میں نہیں کرتے بلکہ دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے ہیں۔ مولانا خادم حسین کایہ مقالہ فتاوی رضویہ کی پیش نظر جلد ثانی میں شائع کیاجارہاہے۔
امام احمدرضابریلوی کی جلالت علمی کایہ عالم تھا کہ انہیں جوعالم بھی ملاعقیدت واحترام سے ملااور ہمیشہ کے لئے
حوالہ / References
محمدسعیددہلوی ، حکیم : معارف رضا ، کراچی ، شمارہ نہم ۱۹۸۹ء ص۱۰۰
ان کامداح بن گیا حضرت علامہ مولاناوصی احمدمحدث سورتی عظیم محدث اور عمرمیں بڑے ہونے کے باوجود امام احمدرضابریلوی سے اس قدروالہانہ تعلق رکھتے تھے کہ دیکھنے والوں کوحیرت ہوتی تھی۔ حضرت علامہ مولانا سراج احمدخانپوری اپنے دور کے جلیل القدر فاضل تھے اور علم میراث میں توانہیں تخصص حاصل تھا الزبدۃ السراجیہ لکھتے وقت ذوی الارحام کی صنف رابع کے بارے میں مفتی بہ قول دریافت کرنے کے لئے دیوبند سہارنپور اور دیگر علمی مراکز کی طرف رجوع کیا کہیں سے تسلی بخش جواب نہ آیا پھرانہوں نے وہی سوال بریلوی بھجوادیا ایك ہفتے میں انہیں جواب موصول ہوگیا جسے دیکھ کر ان کادماغ روشن ہوگیا اور وہ تازیست امام احمدرضابریلوی کے فضل وکمال اور تبحرعلمی کے گن گاتے رہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ امام احمدرضابریلوی سے شدید اختلاف رکھنے والے بھی انکی فقاہت اور تبحرعلمی کے قائل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ امام احمدرضابریلوی نے ندوۃ العلماء کی صلح کلیت کاسخت تعاقب اور رد کیاتھا اس کے باوجود ندوہ کے ناظم اعلی علامہ ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں
“ ان کے زمانے میں فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر آگاہی میں شاید ہی کوئی ان کاہم پلہ ہو اس حقیقت پران کافتاوی اور ان کی کتاب کفل الفقیہ شاہد ہے جوانہوں نے ۱۳۲۳ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی۔ “
گزشتہ سال مولانا کوثرنیازی ہندوستان گئے تو ندوۃ العلماء لکھنؤبھی گئے واپسی پر انہوں نے اپنے تاثرات میں ندوہ کے بارے میں لکھا کہ اس کے ہال میں ہندوستان کے ممتازعلماء کاامتیازی مقام واضح کرنے کے لئے چارٹس آویزاں کئے گئے تھے چنانچہ علم فقہ میں ممتازشخصیت کی حیثیت سے حضرت مولانااحمدرضاخاں کانام لکھاہواتھا ۔ تذکرہ وتاریخ کی کتابوں کامطالعہ کئے بغیر یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ اس دور میں بڑے بڑے فقہاء ہوگزرے ہیں ان سب میں ممتازفقیہ کے طور پر امام احمدرضابریلوی کانام منتخب کرنا اور وہ بھی ان کے مخالفین کی طرف سے ان کے فضل وکمال کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ع
الفضل ماشھدت بہ الاعداء
(فضیلت وہ ہے جس کی گواہی مخالفین بھی دیں)
امام احمدرضابریلوی میں بہت سی مجتہدانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں اور ان کے بیان واستدلال میں واضح طور پراجتہاد کی جھلك دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود وہ تکبراور عجب کی زد میں نہیں آتے وہ یہ دعوی نہیں کرتے
“ ان کے زمانے میں فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر آگاہی میں شاید ہی کوئی ان کاہم پلہ ہو اس حقیقت پران کافتاوی اور ان کی کتاب کفل الفقیہ شاہد ہے جوانہوں نے ۱۳۲۳ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی۔ “
گزشتہ سال مولانا کوثرنیازی ہندوستان گئے تو ندوۃ العلماء لکھنؤبھی گئے واپسی پر انہوں نے اپنے تاثرات میں ندوہ کے بارے میں لکھا کہ اس کے ہال میں ہندوستان کے ممتازعلماء کاامتیازی مقام واضح کرنے کے لئے چارٹس آویزاں کئے گئے تھے چنانچہ علم فقہ میں ممتازشخصیت کی حیثیت سے حضرت مولانااحمدرضاخاں کانام لکھاہواتھا ۔ تذکرہ وتاریخ کی کتابوں کامطالعہ کئے بغیر یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ اس دور میں بڑے بڑے فقہاء ہوگزرے ہیں ان سب میں ممتازفقیہ کے طور پر امام احمدرضابریلوی کانام منتخب کرنا اور وہ بھی ان کے مخالفین کی طرف سے ان کے فضل وکمال کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ع
الفضل ماشھدت بہ الاعداء
(فضیلت وہ ہے جس کی گواہی مخالفین بھی دیں)
امام احمدرضابریلوی میں بہت سی مجتہدانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں اور ان کے بیان واستدلال میں واضح طور پراجتہاد کی جھلك دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود وہ تکبراور عجب کی زد میں نہیں آتے وہ یہ دعوی نہیں کرتے
حوالہ / References
ابوالحسن علی ندوی : نزہۃ الخواطر(نورمحمدکراچی) ج۸ ، ص۴۱
کوثرنیازی : مشاہدات وتاثرات ، روزنامہ جنگ ، لاہور ، ۱۱ دسمبر۱۹۸۹ء
کوثرنیازی : مشاہدات وتاثرات ، روزنامہ جنگ ، لاہور ، ۱۱ دسمبر۱۹۸۹ء
کہ میں مجتہد ہوں اور براہ راست کتاب وسنت سے استدلال کرتاہوں بکلکہ وہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے مقلد کی حیثیت سے فتوی دیتے ہیں اور مذہب حنفی کی تائید وحمایت میں ہی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ ذراملاحظہ فرمائیں وہ اپنے فتاوی کی حیثیت کاتعین کس انداز میں کرتے ہیں فرماتے ہیں :
“ فتوے کی دو قسمیں ہیں(۱)حقیقیہ(۲)عرفیہ فتوائے حقیقیہ تویہ ہے کہ تفصیلی دلیل کی معرفت کی بناپر فتوی دیاجائے ایسے حضرات کو اصحاب فتوی کہاجاتاہے چنانچہ کہاجاتاہے فقیہ ابوجعفر اور فقیہ ابواللیث اور ان جیسے دیگرفقہاء رحمہم اللہ تعالینے یہ فتاوی دیا فتوائے عرفیہ یہ ہے کہ ایك عالم امام کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اقوال بیان کرے اور اسے تفصیلی دلیل کاعلم نہ ہو جیسے کہ کہاجاتاہے ابن نجیم غزی طوری کے فتاوی اور فتاوی خیریہ اسی طرح زمانے اور مرتبے میں مؤخرفتاوی کو فتاوی رضویہ تك گنتے چلے جائیے الله تعالی اس فتاوی کو باعث خوشنودی اور پسندیدہ بنائے۔ آمین۔ (ترجمہ)
انہوں نے کثیرمقامات میں اکابرفقہاء متقدمین سے اختلاف کیاہے لیکن کیامجال ہے کہ ان کی شان میں بے ادبی کاکوئی کلمہ کہہ دیں یاایساکلمہ کہہ دیں جوان کے شایان شان نہ ہو وہ اپنی تنقید اور گرفت کومعروضہ یاتطفل(بچپنے)سے تعبیر کرتے ہیں آج بعض علماء کو الله تعالی نے وسعت علمی عطافرمائی ہے تووہ بزرگوں کے بارے میں ایسا لب ولہجہ اختیار کرتے ہیں جیسے کسی طفل مکتب سے ہم کلام ہوں یہ رویہ کسی طرح بھی قابل تحسین نہیں ہے۔
ذوق شعروسخن
تحقیقات علمیہ میں امام احمدرضابریلوی کا بلندترین مقام تواہل علم کے نزدیك مسلم ہی ہے شعروادب میں بھی وہ قادرالکلام اساتذہ کی صف میں شامل ہیں۔ جامعہ ازہرمصر کے ڈاکٹرمحی الدین الوائی نے اس امر پرحیرت کااظہار کیا ہے کہ علمی موشگافیاں کرنے والا محقق نازك خیال ادیب اور شاعر بھی ہوسکتاہے!
متنبی ادب عربی کامسلم اور نامور شاعر ہے وہ کہتاہے :
ازورھم وسواد اللیل یشفع لی وانثنی وبیاض الصبح یغری بی
(میں اس حال میں محبوبوں کی زیارت کرتاہوں کہ رات کی سیاہی میری سفارش کرتی ہے اور اس حال میں لوٹتاہوں کہ صبح کی سفیدی میرے خلاف برانگیختہ کرتی ہے۔ )
کہتے ہیں کہ یہ شعرمتنبی کے اشعار کاامیر ہے کیونکہ اس کے پہلے مصرعے میں پانچ چیزوں کاذکر ہے اور دوسرے مصرعے میں ان کے مقابل پانچ چیزوں کااسی ترتیب سے ذکر ہے۔
“ فتوے کی دو قسمیں ہیں(۱)حقیقیہ(۲)عرفیہ فتوائے حقیقیہ تویہ ہے کہ تفصیلی دلیل کی معرفت کی بناپر فتوی دیاجائے ایسے حضرات کو اصحاب فتوی کہاجاتاہے چنانچہ کہاجاتاہے فقیہ ابوجعفر اور فقیہ ابواللیث اور ان جیسے دیگرفقہاء رحمہم اللہ تعالینے یہ فتاوی دیا فتوائے عرفیہ یہ ہے کہ ایك عالم امام کی تقلید کرتے ہوئے اس کے اقوال بیان کرے اور اسے تفصیلی دلیل کاعلم نہ ہو جیسے کہ کہاجاتاہے ابن نجیم غزی طوری کے فتاوی اور فتاوی خیریہ اسی طرح زمانے اور مرتبے میں مؤخرفتاوی کو فتاوی رضویہ تك گنتے چلے جائیے الله تعالی اس فتاوی کو باعث خوشنودی اور پسندیدہ بنائے۔ آمین۔ (ترجمہ)
انہوں نے کثیرمقامات میں اکابرفقہاء متقدمین سے اختلاف کیاہے لیکن کیامجال ہے کہ ان کی شان میں بے ادبی کاکوئی کلمہ کہہ دیں یاایساکلمہ کہہ دیں جوان کے شایان شان نہ ہو وہ اپنی تنقید اور گرفت کومعروضہ یاتطفل(بچپنے)سے تعبیر کرتے ہیں آج بعض علماء کو الله تعالی نے وسعت علمی عطافرمائی ہے تووہ بزرگوں کے بارے میں ایسا لب ولہجہ اختیار کرتے ہیں جیسے کسی طفل مکتب سے ہم کلام ہوں یہ رویہ کسی طرح بھی قابل تحسین نہیں ہے۔
ذوق شعروسخن
تحقیقات علمیہ میں امام احمدرضابریلوی کا بلندترین مقام تواہل علم کے نزدیك مسلم ہی ہے شعروادب میں بھی وہ قادرالکلام اساتذہ کی صف میں شامل ہیں۔ جامعہ ازہرمصر کے ڈاکٹرمحی الدین الوائی نے اس امر پرحیرت کااظہار کیا ہے کہ علمی موشگافیاں کرنے والا محقق نازك خیال ادیب اور شاعر بھی ہوسکتاہے!
متنبی ادب عربی کامسلم اور نامور شاعر ہے وہ کہتاہے :
ازورھم وسواد اللیل یشفع لی وانثنی وبیاض الصبح یغری بی
(میں اس حال میں محبوبوں کی زیارت کرتاہوں کہ رات کی سیاہی میری سفارش کرتی ہے اور اس حال میں لوٹتاہوں کہ صبح کی سفیدی میرے خلاف برانگیختہ کرتی ہے۔ )
کہتے ہیں کہ یہ شعرمتنبی کے اشعار کاامیر ہے کیونکہ اس کے پہلے مصرعے میں پانچ چیزوں کاذکر ہے اور دوسرے مصرعے میں ان کے مقابل پانچ چیزوں کااسی ترتیب سے ذکر ہے۔
حوالہ / References
احمدرضابریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(رضااکیڈمی ، بمبیئ)ج۱ ص۳۸۵
پہلامصرع : ۱۔ زیارت۲۔ سیاہی ۳۔ رات ۴۔ سفارش کرنا ۵۔ لی(میرے حق میں)
دوسرامصرع : ۱۔ واپسی ۲۔ سفیدی ۳۔ صبح ۴۔ برانگیخۃ کرنا ۵۔ بی(میرے خلاف)
رضابریلوی کاشعر ملاحظہ ہو معنوی بلندی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ شاعرانہ نقطہ نظر سے کتنازوردار ہے!
پہلے مصرعے میں بجائے پانچ کے چھ چیزوں کاذکر ہے اور ان کے مقابل دوسرے مصرعے میں بھی چھ چیزیں ہی مذکور ہیں اور لطف یہ ہے کہ غزل نہیں بلکہ نعت ہے جہاں قدم قدم پراحتیاط لازم ہے
حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب
مصرع۱ : ۱۔ حسن ۲۔ انگشت ۳۔ کٹیں(غیراختیاری عمل تھا)۴۔ عورتیں ۵۔ مصر ۶۔ “ کٹیں “ سے ایك بار کاپتاچلتاہے۔
مصرع۲ : ۱۔ نام ۲۔ سر ۳۔ کٹاتے(اختیاری عمل ہے)۴۔ مرد ۵۔ عرب ۶۔ “ کٹاتے ہیں “ سے استمرار معلوم ہوتاہے۔
امام احمدرضابریلوی نے اصناف شعروسخن میں سے حمدباری تعالی نعت اور منقبت کومنتخب کیا قصیدہ معراجیہ قصیدہ نور اور مقبولیت عامہ حاصل کرنے والا سلام ع مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام ایسے ادب پارے پیش کئے۔ ان کی تمام تصانیف کی بنیاد اسلام اور داعی اسلام سیدالانام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے گہری وابستگی پرہے اسلامیان پاك وہند کے دلوں میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عقیدت ومحبت تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ بسانے میں انہوں نے اہم کردار اداکیا۔
دو قومی نظریہ :
۲۰۔ ۱۹۱۹ء میں تحریك خلافت اور تحریك ترك موالات شروع ہوئی پہلی تحریك کا مقصد سلطنت عثمانیہ ترکی کی حفاظت اور امداد تھا جبکہ دوسری تحریك کامقصد ہندوستان کی آزادی کے لئے بائیکاٹ کے ذریعے حکومت برطانیہ پر دباؤ ڈالنا بتایا گیا مسٹر گاندھی کمال عیاری سے دونوں تحریکوں کا قائد اور امام بن گیا حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ قریب تھا کہ مسلمان اپنا ملی تشخص کھو کر ہندو مت میں مدغم ہو جاتے اس ماحول میں امام احمد رضا بریلوی نے المحجۃ المؤتمنہ اور انفس الفکر ایسے رسائل لکھ کر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا اور
دوسرامصرع : ۱۔ واپسی ۲۔ سفیدی ۳۔ صبح ۴۔ برانگیخۃ کرنا ۵۔ بی(میرے خلاف)
رضابریلوی کاشعر ملاحظہ ہو معنوی بلندی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ شاعرانہ نقطہ نظر سے کتنازوردار ہے!
پہلے مصرعے میں بجائے پانچ کے چھ چیزوں کاذکر ہے اور ان کے مقابل دوسرے مصرعے میں بھی چھ چیزیں ہی مذکور ہیں اور لطف یہ ہے کہ غزل نہیں بلکہ نعت ہے جہاں قدم قدم پراحتیاط لازم ہے
حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب
مصرع۱ : ۱۔ حسن ۲۔ انگشت ۳۔ کٹیں(غیراختیاری عمل تھا)۴۔ عورتیں ۵۔ مصر ۶۔ “ کٹیں “ سے ایك بار کاپتاچلتاہے۔
مصرع۲ : ۱۔ نام ۲۔ سر ۳۔ کٹاتے(اختیاری عمل ہے)۴۔ مرد ۵۔ عرب ۶۔ “ کٹاتے ہیں “ سے استمرار معلوم ہوتاہے۔
امام احمدرضابریلوی نے اصناف شعروسخن میں سے حمدباری تعالی نعت اور منقبت کومنتخب کیا قصیدہ معراجیہ قصیدہ نور اور مقبولیت عامہ حاصل کرنے والا سلام ع مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام ایسے ادب پارے پیش کئے۔ ان کی تمام تصانیف کی بنیاد اسلام اور داعی اسلام سیدالانام صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے گہری وابستگی پرہے اسلامیان پاك وہند کے دلوں میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی عقیدت ومحبت تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ بسانے میں انہوں نے اہم کردار اداکیا۔
دو قومی نظریہ :
۲۰۔ ۱۹۱۹ء میں تحریك خلافت اور تحریك ترك موالات شروع ہوئی پہلی تحریك کا مقصد سلطنت عثمانیہ ترکی کی حفاظت اور امداد تھا جبکہ دوسری تحریك کامقصد ہندوستان کی آزادی کے لئے بائیکاٹ کے ذریعے حکومت برطانیہ پر دباؤ ڈالنا بتایا گیا مسٹر گاندھی کمال عیاری سے دونوں تحریکوں کا قائد اور امام بن گیا حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ قریب تھا کہ مسلمان اپنا ملی تشخص کھو کر ہندو مت میں مدغم ہو جاتے اس ماحول میں امام احمد رضا بریلوی نے المحجۃ المؤتمنہ اور انفس الفکر ایسے رسائل لکھ کر دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا اور
دلائل سے ثابت کیا کہ ہندو نہ تو مسلمانوں کا خیر خواہ ہے اور نہ ہی وہ مسلمانوں کا امام بن سکتا ہے ان کی دوربیں نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ مسلمان انگریزوں کے چنگل سے رہا ہوکر ہندؤوں کے محکوم اور غلام بن کر رہ جائیں گے اس لئے مسلمانوں کو وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو دونوں سے گلو خلاصی کرائے۔ یہی وہ دو قومی نظریہ تھا جس کی بناء پر پاکستان کاقیام عمل میں آیا امام احمد رضا بریلوی کے تلامذہ خلفاء اور تمام ہم مسلك علماء و مشائخ نے نظریہ پاکستان کی حمایت کی اور ۱۹۴۶ء میں آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس کے اجلاس میں متفقہ طور پر قیام پاکستان کے حق میں قراردادیں پاس کی گئیں اور اپیل کی گئی کہ اپنے اپنے علاقوں میں مسلم لیگ کے نمائندوں کو کامیاب کرایاجائے حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ حضرات حمایت نہ کرتے تو پاکستان کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا تھا۔
امام احمد رضا کی سیاسی فکر کی بنیاد قرآن وحدیث پر تھی ان کے نزدیك کسی بھی کافر سے محبت کی گنجائش نہیں ہے خواہ وہ ہندو ہو یا انگریز۔ چنانچہ فرماتے ہیں : “ قرآن عظیم نے بکثرت آیتوں میں تمام کفار سے موالات قطعا حرام فرمائی مجوس ہوں خواہ یہود ونصاری ہوں خواہ ہنود اور سب سے بدتر مرتدان ہنود ۔ “
پٹنہ عظیم آباد کی ۱۳۱۸ھ / ۱۹۰۰ء میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں ارشادفرمایا :
“ سب کلمہ گوحق پر ہیں خدا سب سے راضی ہے سب کو ایك نظر سے دیکھتا ہے گورنمنٹ انگریز کامعاملہ خدا کے معاملوں کا پورا نمونہ ہے اس کے معاملے کو دیکھ کر خدا کی رضا و ناراضی کاحال کھل سکتا ہے.....یہ کلمات اور ان کے امثال خرافات کو اہل ندوہ کی جو روداد ہے جو مقال ہے ایسی باتوں سے مالامال ہے سب صریح وشدید نقال وعظیم وبال موجب غضب ذی الجلال ہیں ۔ “
اسرار شریعت وطریقت کااجالا پھیلاکر ۲۵صفر۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء بروزجمعہ عین اس وقت عبقری اسلام امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی جب مؤذن اذان جمعہ میں کہہ رہا تھا حی علی الفلاح ـــــــــــــــ رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ واسکنہ فی اعلی علیین ونفعنا وجمیع المسلمین بعلومہ ومعارفہ
________________
امام احمد رضا کی سیاسی فکر کی بنیاد قرآن وحدیث پر تھی ان کے نزدیك کسی بھی کافر سے محبت کی گنجائش نہیں ہے خواہ وہ ہندو ہو یا انگریز۔ چنانچہ فرماتے ہیں : “ قرآن عظیم نے بکثرت آیتوں میں تمام کفار سے موالات قطعا حرام فرمائی مجوس ہوں خواہ یہود ونصاری ہوں خواہ ہنود اور سب سے بدتر مرتدان ہنود ۔ “
پٹنہ عظیم آباد کی ۱۳۱۸ھ / ۱۹۰۰ء میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں ارشادفرمایا :
“ سب کلمہ گوحق پر ہیں خدا سب سے راضی ہے سب کو ایك نظر سے دیکھتا ہے گورنمنٹ انگریز کامعاملہ خدا کے معاملوں کا پورا نمونہ ہے اس کے معاملے کو دیکھ کر خدا کی رضا و ناراضی کاحال کھل سکتا ہے.....یہ کلمات اور ان کے امثال خرافات کو اہل ندوہ کی جو روداد ہے جو مقال ہے ایسی باتوں سے مالامال ہے سب صریح وشدید نقال وعظیم وبال موجب غضب ذی الجلال ہیں ۔ “
اسرار شریعت وطریقت کااجالا پھیلاکر ۲۵صفر۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء بروزجمعہ عین اس وقت عبقری اسلام امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی جب مؤذن اذان جمعہ میں کہہ رہا تھا حی علی الفلاح ـــــــــــــــ رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ واسکنہ فی اعلی علیین ونفعنا وجمیع المسلمین بعلومہ ومعارفہ
________________
حوالہ / References
احمد رضا بریلوی ، امام : فتاوٰی رضویہ(طبع مبارك پور)ج۶ص۱۹۲
محمد ظفر الدین بہاری ، مولانا : حیات اعلٰی حضرت ج۱ ص۱۲۷
محمد ظفر الدین بہاری ، مولانا : حیات اعلٰی حضرت ج۱ ص۱۲۷
رضا فاؤنڈیشن _____عظیم اشاعتی منصوبہ
یوں تو الله تعالی کے فضل وکرم اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نظرعنایت سے جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور / شیخوپورہ پاکستان کاایك اہم مرکزی ادارہ ہے جہاں تعلیم وتربیت کابہترین انتظام ہے ملك بھر کے سنی مدارس کی تنظیم “ تنظیم المدارس (اہلسنت) “ کامرکزی دفتر بھی یہیں قائم ہے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر شیخوپورہ میں چالیس کنال پرمشتمل وسیع خطہ اراضی حاصل کیاگیا ہے جہاں جامعہ نظامیہ رضویہ کی بنیادرکھی جاچکی ہے۔
۱۹۷۴ء سے جامعہ میں مکتبہ قادریہ قائم ہے جس کی طرف سے اسلامی تاریخی اور اعتقادی موضوعات اور درس نظامی سے متعلق مطبوعات کاقابل قدر ذخیرہ قارئین کی خدمت میں پیش کیاجاچکا ہے جسے اندرون ملك اور بیرون ملك پسندیدگی اور وقعت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ یہ سب کام استاذالعلماء حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی مدظلہ کی نگرانی اور سرپرستی میں انجام دیئے جارہے ہیں جامعہ میں شعبہ تحقیق وتصنیف بھی قائم ہے
جس کے ناظم مولانا محمد منشاتابش قصوری ہیں۔ ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمیں پروفیسرڈاکٹرمحمدمسعود احمدمدظلہ کی سرپرستی حاصل ہے آج پوری دنیا کے علمی حلقوں میں امام احمدرضابریلوی کاجوتعارف ہے اس میں پروفیسرصاحب کاسب سے زیادہ حصہ ہے اور وہ اس موضوع پرسند کادرجہ رکھتے ہیں۔
جامعہ نظامیہ رضویہ میں طلباء کومقالہ نویسی کی ترغیب اور تربیت دی جاتی ہے خصوصا تنظیم المدارس کے امتحانات درجہ عالمیہ کامقالہ لکھنے کے لئے اساتذہ طلباء کی راہنمائی کرتے ہیں اور طلباء جامعہ کی وسیع لائبریری کے علاوہ دیگر لائبریریوں سے بھی استفادہ کرتے ہیں اس طرح ایك عمدہ تصنیف تیار ہوجاتی ہے۔ کوئی ادارہ یا خودتنظیم درجہ عالمیہ کے طلباء کے منتخب مقالات اصحاب علم وتحقیق کی نظرثانی کے بعدشائع کرنے کااہتما م کرے تو مختلف موضوعات پر اچھی کتابوں کابڑا ذخیرہ مارکیٹ میں آجائے گا۔ اس میں تنظیم اور مسلك کی نیك نامی بھی ہوگی اور لکھنے والے علماء کے لئے مزید لکھنے کی تحریك بھی ہوگی۔
یہ غالبا ۱۹۸۵ء کی بات ہے کہ بے سروسامانی کے باوجود جامعہ میں فتاوی رضویہ کی تخریج کاکام شروع ہوا مولانا اظہارالله ہزاروی مولانا مظفرخاں نیازی مولانا نذیراحمدسعیدی مولانا محمدعمرہزاروی اور مولانا محمدیسین اس شعبے میں کام کرتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تمام مدارس کو اس اہم ترین شعبے کی طرف توجہ دینی چاہیے جہاں متعدد مدرسین کام کررہے ہوں وہاں ایك مصنف اور محقق کے لئے بھی جگہ نکالی جاسکتی ہے اور اس کے مشاہرے کاانتظام بھی کیاجاسکتاہے یہ امرواقع ہے کہ ایك مصنف کے کام کی افادیت کئی مدرسین سے
یوں تو الله تعالی کے فضل وکرم اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی نظرعنایت سے جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور / شیخوپورہ پاکستان کاایك اہم مرکزی ادارہ ہے جہاں تعلیم وتربیت کابہترین انتظام ہے ملك بھر کے سنی مدارس کی تنظیم “ تنظیم المدارس (اہلسنت) “ کامرکزی دفتر بھی یہیں قائم ہے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر شیخوپورہ میں چالیس کنال پرمشتمل وسیع خطہ اراضی حاصل کیاگیا ہے جہاں جامعہ نظامیہ رضویہ کی بنیادرکھی جاچکی ہے۔
۱۹۷۴ء سے جامعہ میں مکتبہ قادریہ قائم ہے جس کی طرف سے اسلامی تاریخی اور اعتقادی موضوعات اور درس نظامی سے متعلق مطبوعات کاقابل قدر ذخیرہ قارئین کی خدمت میں پیش کیاجاچکا ہے جسے اندرون ملك اور بیرون ملك پسندیدگی اور وقعت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ یہ سب کام استاذالعلماء حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی مدظلہ کی نگرانی اور سرپرستی میں انجام دیئے جارہے ہیں جامعہ میں شعبہ تحقیق وتصنیف بھی قائم ہے
جس کے ناظم مولانا محمد منشاتابش قصوری ہیں۔ ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمیں پروفیسرڈاکٹرمحمدمسعود احمدمدظلہ کی سرپرستی حاصل ہے آج پوری دنیا کے علمی حلقوں میں امام احمدرضابریلوی کاجوتعارف ہے اس میں پروفیسرصاحب کاسب سے زیادہ حصہ ہے اور وہ اس موضوع پرسند کادرجہ رکھتے ہیں۔
جامعہ نظامیہ رضویہ میں طلباء کومقالہ نویسی کی ترغیب اور تربیت دی جاتی ہے خصوصا تنظیم المدارس کے امتحانات درجہ عالمیہ کامقالہ لکھنے کے لئے اساتذہ طلباء کی راہنمائی کرتے ہیں اور طلباء جامعہ کی وسیع لائبریری کے علاوہ دیگر لائبریریوں سے بھی استفادہ کرتے ہیں اس طرح ایك عمدہ تصنیف تیار ہوجاتی ہے۔ کوئی ادارہ یا خودتنظیم درجہ عالمیہ کے طلباء کے منتخب مقالات اصحاب علم وتحقیق کی نظرثانی کے بعدشائع کرنے کااہتما م کرے تو مختلف موضوعات پر اچھی کتابوں کابڑا ذخیرہ مارکیٹ میں آجائے گا۔ اس میں تنظیم اور مسلك کی نیك نامی بھی ہوگی اور لکھنے والے علماء کے لئے مزید لکھنے کی تحریك بھی ہوگی۔
یہ غالبا ۱۹۸۵ء کی بات ہے کہ بے سروسامانی کے باوجود جامعہ میں فتاوی رضویہ کی تخریج کاکام شروع ہوا مولانا اظہارالله ہزاروی مولانا مظفرخاں نیازی مولانا نذیراحمدسعیدی مولانا محمدعمرہزاروی اور مولانا محمدیسین اس شعبے میں کام کرتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تمام مدارس کو اس اہم ترین شعبے کی طرف توجہ دینی چاہیے جہاں متعدد مدرسین کام کررہے ہوں وہاں ایك مصنف اور محقق کے لئے بھی جگہ نکالی جاسکتی ہے اور اس کے مشاہرے کاانتظام بھی کیاجاسکتاہے یہ امرواقع ہے کہ ایك مصنف کے کام کی افادیت کئی مدرسین سے
زیادہ ہے مدرس توصرف ان طلبہ کوفائدہ پہنچائے گا جو کلاس میں حاضر ہوں جبکہ الله تعالی کو منظور ہوتوتصنیف کافائدہ ملك کے گوشے گوشے بلکہ دوسرے ممالك تك پہنچ سکتاہے اس سے وہ تشنگی بھی دورہوسکتی ہے جو کئی موضوعات کے بارے میں شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔
مارچ ۱۹۸۸ء میں جناب مولانا احمدنثاربیگ(مانچسٹر انگلینڈ)جامعہ میں تشریف لائے انہوں نے فتاوی رضویہ کی تخریج کاکام دیکھا توپرزور سفارش کی کہ امام احمدرضابریلوی کی تصنیفات خصوصا فتاوی رضویہ کی اشاعت کے لئے ایك ادارہ “ رضا فاؤنڈیشن “ قائم کیاجائے اور انگلینڈ کے احباب سے بھی رابطہ قائم کیاجائے۔ وہ بڑی سعید ساعت تھی کہ حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی مدظلہ کی سرپرستی میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے ایك ادارہ قائم ہوگیا اور انگلینڈ کے علماء سے رابطہ بھی قائم کیاگیا اور انہوں نے بھرپور دلچسپی لی اور مالی تعاون بھی کیا فجزاھم الله تعالی احسن الجزاء۔
حوالوں کی تخریج کے بعد عربی عبارات کے ترجمے کاکام مولانا علامہ مفتی سیدشجاعت علی قادری(رکن اسلامی نظریاتی کونسل(سابق جسٹس وفاقی شرعی عدالت)کے سپرد کیاگیا جسے انہوں نے بڑی عمدگی اور دلجمعی سے انجام دیا پہلے دورسالوں کی عربی عبارات کاترجمہ راقم نے کیا کتاب کے لئے راسخ العقیدہ اور وسیع مذہبی معلومات رکھنے والے خوش نویس جناب محمد شریف گل کاانتخاب کیاگیا۔ پیش نظر کتابت کے مطابق فہرست مولانا حافظ محمدعبدالستارسعیدی نے تیار کی۔ اس طرح جلد اول تیارہوکر قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
فتاوی رضویہ جلد اول
فتاوی رضویہ کہ پہلی دوسری اورپانچویں جلد بریلی شریف سے طبع ہوئی تھی۔ تیسری چوتھی اورپانچویں جلد حضرت مولانا علامہ عبدالرؤف رحمۃ اللہ تعالی علیہ(متوفی شوال۱۳۹۱ھ / ۱۹۷۱ء)نے سنی دارالاشاعت مبارك پورسے شائع کیں چھٹی اورساتویں جلدبحرالعلوم حضرت مولانا علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی مدظلہ العالی کی محنت اور کوشش سے منظرعام پرآئی ہیں اور آٹھویں جلد کتابت کے مراحل سے گزررہی ہے دسویں جلدمکتبہ رضا بیلپورنے شائع کی اور گیارہویں جلد ادارہ اشاعت تصنیفات رضابریلی نے شائع کی۔ سچی بات یہ ہے کہ ان حضرات نے جتنی محنت ان غیرمطبوعہ جلدوں کوشائع کرنے پرصرف کی ہے اتنی محنت سے وہ نئی کتابیں لکھ سکتے تھے لیکن آفرین ہے ان کی ہمت مردانہ پر کہ انہوں نے اپنی توانائیاں اور علمی صلاحیتیں دورحاضر کے اس عظیم فتاوی کی اشاعت پرصرف کردیں یقینا وہ تمام علمی دنیا کے شکرئیے کے مستحق ہیں الله تعالی انہیں اجرجزیل عطافرمائے۔
مارچ ۱۹۸۸ء میں جناب مولانا احمدنثاربیگ(مانچسٹر انگلینڈ)جامعہ میں تشریف لائے انہوں نے فتاوی رضویہ کی تخریج کاکام دیکھا توپرزور سفارش کی کہ امام احمدرضابریلوی کی تصنیفات خصوصا فتاوی رضویہ کی اشاعت کے لئے ایك ادارہ “ رضا فاؤنڈیشن “ قائم کیاجائے اور انگلینڈ کے احباب سے بھی رابطہ قائم کیاجائے۔ وہ بڑی سعید ساعت تھی کہ حضرت مولانا مفتی محمد عبدالقیوم قادری ہزاروی مدظلہ کی سرپرستی میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے ایك ادارہ قائم ہوگیا اور انگلینڈ کے علماء سے رابطہ بھی قائم کیاگیا اور انہوں نے بھرپور دلچسپی لی اور مالی تعاون بھی کیا فجزاھم الله تعالی احسن الجزاء۔
حوالوں کی تخریج کے بعد عربی عبارات کے ترجمے کاکام مولانا علامہ مفتی سیدشجاعت علی قادری(رکن اسلامی نظریاتی کونسل(سابق جسٹس وفاقی شرعی عدالت)کے سپرد کیاگیا جسے انہوں نے بڑی عمدگی اور دلجمعی سے انجام دیا پہلے دورسالوں کی عربی عبارات کاترجمہ راقم نے کیا کتاب کے لئے راسخ العقیدہ اور وسیع مذہبی معلومات رکھنے والے خوش نویس جناب محمد شریف گل کاانتخاب کیاگیا۔ پیش نظر کتابت کے مطابق فہرست مولانا حافظ محمدعبدالستارسعیدی نے تیار کی۔ اس طرح جلد اول تیارہوکر قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
فتاوی رضویہ جلد اول
فتاوی رضویہ کہ پہلی دوسری اورپانچویں جلد بریلی شریف سے طبع ہوئی تھی۔ تیسری چوتھی اورپانچویں جلد حضرت مولانا علامہ عبدالرؤف رحمۃ اللہ تعالی علیہ(متوفی شوال۱۳۹۱ھ / ۱۹۷۱ء)نے سنی دارالاشاعت مبارك پورسے شائع کیں چھٹی اورساتویں جلدبحرالعلوم حضرت مولانا علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی مدظلہ العالی کی محنت اور کوشش سے منظرعام پرآئی ہیں اور آٹھویں جلد کتابت کے مراحل سے گزررہی ہے دسویں جلدمکتبہ رضا بیلپورنے شائع کی اور گیارہویں جلد ادارہ اشاعت تصنیفات رضابریلی نے شائع کی۔ سچی بات یہ ہے کہ ان حضرات نے جتنی محنت ان غیرمطبوعہ جلدوں کوشائع کرنے پرصرف کی ہے اتنی محنت سے وہ نئی کتابیں لکھ سکتے تھے لیکن آفرین ہے ان کی ہمت مردانہ پر کہ انہوں نے اپنی توانائیاں اور علمی صلاحیتیں دورحاضر کے اس عظیم فتاوی کی اشاعت پرصرف کردیں یقینا وہ تمام علمی دنیا کے شکرئیے کے مستحق ہیں الله تعالی انہیں اجرجزیل عطافرمائے۔
شیخ غلام علی اینڈسنز لاہورنے جلداول دوبارہ شائع کی سنی دارالاشاعت علویہ رضویہ فیصل آباد کے مالك مولانا حافظ محمداسلم قادری نے نابیناہونے کے باوجود پانچ جلدیں شائع کیں(افسوس کہ حافظ صاحب ۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۲ء میں رحلت فرماگئے رحمۃ اللہ تعالی علیہ) مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی مکتبہ رضویہ کراچی ادارہ تصنیفات امام احمد رضاکراچی مکتبہ نعیمیہ اور مکتبہ فاروقیہ دیپاسرائے سنبھل(انڈیا)نے بھی بعض جلدیں دوبارہ شائع کیں اس تفصیل سے فتاوی رضویہ کی مقبولیت کاکسی قدراندازہ لگایاجاسکتاہے۔
رضافاؤنڈیشن لاہورکی طرف سے پہلی جلد ہدیہ قارئین ہے اس ایڈیشن کی خصوصیات درج ذیل ہیں :
۱۔ عربی اور فارسی عبارات ایك کالم میں اور ان کاترجمہ دوسرے کالم میں شامل کیاگیاہے۔
۲۔ حاشیہ میں حوالوں کی تخریج کی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ یہ عبارت کس جلد کے کس صفحہ پر ہے اور ایڈیشن کون سا ہے اورجہاں مصنف کی اپنی عبارت ہے وہاں(م)اور ترجمہ کی جگہ(ت)لکھاگیاہے۔
۳۔ نئی اور دلکش کتابت کروائی گئی ہے۔
۴۔ پیرابندی کااہتمام کیاگیا ہے۔
۵۔ سائزدرمیانہ تجویز کیاگیاہے اور یہ بھی کوشش ہوگی کہ جلد زیادہ ضخیم نہ ہوتاکہ قاری کو دقت نہ ہو۔
اس انداز میں ایڈٹ کرنے کانتیجہ ہوگا کہ جلدوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا چنانچہ پہلی جلد تین جلدوں میں پیش کی
جائے گی۔ کتاب الطھارۃ کاکچھ حصہ جو دوسری جلد میں شامل کردیاگیا تھا اسے بھی انہی جلدوں میں شامل کردیاجائے گا ان شاء الله تعالی۔
پیش نظر جلد اول سابقہ جلداول کے صفحہ ۲۳۴ “ باب المیاہ “ تك ہے۔ ترتیب میں ایك تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ اصول افتاء سے متعلق رسالہ مبارکہ “ اجلی الاعلام “ ابتداء میں لگا دیا گیا ہے اسی طرح رسالہ “ باب العقائد والکلام “ کو عقائد سے متعلق جلد میں پیش کیاجائے گا ان شاءالله تعالی ۔
پیش نظر جلدمیں ۲۲سوالات کے جوابات ہیں اس حصے میں ۸۱۰ مقامات پر امام احمدرضا نے اقول کہہ کر فوائد بیان کئے ہیں یافقہائے متقدمین کی خدمت میں معروضات وتطفلات پیش کیے ہیں۔ گیارہ مستقل رسالے ہیں جن کے اسماء درج ذیل ہیں :
۱۔ اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام۔ فتوی مطلقا امام اعظم کے قول پرہوتاہے۔
۲۔ الجود الحلو فی ارکان الوضوء ۔ وضو کے اعتقادی اور عملی فرائض و واجبات کابیان(جو اس رسالے کے علاوہ کہیں نہ ملے گا۔ )
رضافاؤنڈیشن لاہورکی طرف سے پہلی جلد ہدیہ قارئین ہے اس ایڈیشن کی خصوصیات درج ذیل ہیں :
۱۔ عربی اور فارسی عبارات ایك کالم میں اور ان کاترجمہ دوسرے کالم میں شامل کیاگیاہے۔
۲۔ حاشیہ میں حوالوں کی تخریج کی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ یہ عبارت کس جلد کے کس صفحہ پر ہے اور ایڈیشن کون سا ہے اورجہاں مصنف کی اپنی عبارت ہے وہاں(م)اور ترجمہ کی جگہ(ت)لکھاگیاہے۔
۳۔ نئی اور دلکش کتابت کروائی گئی ہے۔
۴۔ پیرابندی کااہتمام کیاگیا ہے۔
۵۔ سائزدرمیانہ تجویز کیاگیاہے اور یہ بھی کوشش ہوگی کہ جلد زیادہ ضخیم نہ ہوتاکہ قاری کو دقت نہ ہو۔
اس انداز میں ایڈٹ کرنے کانتیجہ ہوگا کہ جلدوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا چنانچہ پہلی جلد تین جلدوں میں پیش کی
جائے گی۔ کتاب الطھارۃ کاکچھ حصہ جو دوسری جلد میں شامل کردیاگیا تھا اسے بھی انہی جلدوں میں شامل کردیاجائے گا ان شاء الله تعالی۔
پیش نظر جلد اول سابقہ جلداول کے صفحہ ۲۳۴ “ باب المیاہ “ تك ہے۔ ترتیب میں ایك تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ اصول افتاء سے متعلق رسالہ مبارکہ “ اجلی الاعلام “ ابتداء میں لگا دیا گیا ہے اسی طرح رسالہ “ باب العقائد والکلام “ کو عقائد سے متعلق جلد میں پیش کیاجائے گا ان شاءالله تعالی ۔
پیش نظر جلدمیں ۲۲سوالات کے جوابات ہیں اس حصے میں ۸۱۰ مقامات پر امام احمدرضا نے اقول کہہ کر فوائد بیان کئے ہیں یافقہائے متقدمین کی خدمت میں معروضات وتطفلات پیش کیے ہیں۔ گیارہ مستقل رسالے ہیں جن کے اسماء درج ذیل ہیں :
۱۔ اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام۔ فتوی مطلقا امام اعظم کے قول پرہوتاہے۔
۲۔ الجود الحلو فی ارکان الوضوء ۔ وضو کے اعتقادی اور عملی فرائض و واجبات کابیان(جو اس رسالے کے علاوہ کہیں نہ ملے گا۔ )
۳۔ تنویرالقندیل فی اوصاف المندیل۔ طہارت کے بعد بدن کے پونچھنے کابیان
۴۔ لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام زکام ناقض وضونہیں
۵۔ الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم۔ جسم سے خون نکلنے کے مسائل اور دلائل کی بے مثال تنقیح
۶۔ نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم۔ سونے سے وضو ٹوٹنے کے مسائل
۷۔ خلاصۃ تبیان الوضوء ۔ وضو اور غسل کی احتیاطوں کابیان
۸۔ الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل۔ احتلام کے متعلق تمام مسائل کی منفرد تحقیق
۹۔ بارق النور فی مقادیر ماء الطھور۔ وضو اور غسل میں پانی کی مقدار پربحث
۱۰۔ برکات السماء فی حکم اسراف الماء۔ پانی کے غیرضروری خرچ کرنے کاحکم
۱۱۔ ارتفاع الحجب عن وجوہ قراء ۃ الجنب۔ جنبی کی قراء ت سے متعلق وہ تحقیقات جو دوسری جگہ نہیں ملیں گی۔
الله تعالی رضافاؤنڈیشن لاہورکوبہتر سے بہتر انداز میں مکمل فتاوی رضویہ پیش کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ اورادارے کایہ پروگرام بھی ہے کہ امام احمدرضابریلوی کے جو رسائل عربی میں ہیں یا ان میں کہیں کہیں اردو عبارات ہیں انہیں عربی زبان میں جدید انداز میں ٹائپ پرکمپوز کرواکر شائع کیاجائے تاکہ علمی دنیا میں ان سے استفادہ کیاجاسکے۔
الحمدلله تعالی! اس وقت تك چارکتابیں دیدہ زیب اندازمیں شائع کرکے ہدیہ قارئین کی جاچکی ہیں :
۱۔ کفل الفقیہ الفاھم(عربی) مصری ٹائپ میں
۲۔ کفل الفقیہ الفاھم(اردو) نئی کتابت اور تخریج کے ساتھ
۳۔ مجموعہ رسائل نوروسایہ نئی کتابت اور تخریج کے ساتھ
۴۔ مجموعہ رسائل رد مرزائیت نئی کتابت اور تخریج کے ساتھ
برادران اہل سنت اور قدرشناسان اعلی حضرت کاکام ہے کہ آگے بڑھیں رضافاؤنڈیشن کے خود ممبربنیں اور اپنے دوستوں کوممبربنائیں تاکہ یہ پروگرام تیزی کے ساتھ تکمیل کی طرف گامزن ہوسکے۔
۱۶ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ
۱۴مارچ۱۹۹۰ء محمدعبدالحکیم شرف قادری نقشبندی
۴۔ لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام زکام ناقض وضونہیں
۵۔ الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم۔ جسم سے خون نکلنے کے مسائل اور دلائل کی بے مثال تنقیح
۶۔ نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم۔ سونے سے وضو ٹوٹنے کے مسائل
۷۔ خلاصۃ تبیان الوضوء ۔ وضو اور غسل کی احتیاطوں کابیان
۸۔ الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل۔ احتلام کے متعلق تمام مسائل کی منفرد تحقیق
۹۔ بارق النور فی مقادیر ماء الطھور۔ وضو اور غسل میں پانی کی مقدار پربحث
۱۰۔ برکات السماء فی حکم اسراف الماء۔ پانی کے غیرضروری خرچ کرنے کاحکم
۱۱۔ ارتفاع الحجب عن وجوہ قراء ۃ الجنب۔ جنبی کی قراء ت سے متعلق وہ تحقیقات جو دوسری جگہ نہیں ملیں گی۔
الله تعالی رضافاؤنڈیشن لاہورکوبہتر سے بہتر انداز میں مکمل فتاوی رضویہ پیش کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ اورادارے کایہ پروگرام بھی ہے کہ امام احمدرضابریلوی کے جو رسائل عربی میں ہیں یا ان میں کہیں کہیں اردو عبارات ہیں انہیں عربی زبان میں جدید انداز میں ٹائپ پرکمپوز کرواکر شائع کیاجائے تاکہ علمی دنیا میں ان سے استفادہ کیاجاسکے۔
الحمدلله تعالی! اس وقت تك چارکتابیں دیدہ زیب اندازمیں شائع کرکے ہدیہ قارئین کی جاچکی ہیں :
۱۔ کفل الفقیہ الفاھم(عربی) مصری ٹائپ میں
۲۔ کفل الفقیہ الفاھم(اردو) نئی کتابت اور تخریج کے ساتھ
۳۔ مجموعہ رسائل نوروسایہ نئی کتابت اور تخریج کے ساتھ
۴۔ مجموعہ رسائل رد مرزائیت نئی کتابت اور تخریج کے ساتھ
برادران اہل سنت اور قدرشناسان اعلی حضرت کاکام ہے کہ آگے بڑھیں رضافاؤنڈیشن کے خود ممبربنیں اور اپنے دوستوں کوممبربنائیں تاکہ یہ پروگرام تیزی کے ساتھ تکمیل کی طرف گامزن ہوسکے۔
۱۶ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ
۱۴مارچ۱۹۹۰ء محمدعبدالحکیم شرف قادری نقشبندی
فقیہ اسلام امام احمدرضاخاں بریلوی
بحیثیت
مرجع العلماء
خادم حسین فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
بحیثیت
مرجع العلماء
خادم حسین فاضل جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
فتاوی رضویہ کا اجمالی خاکہ
o فتاوی رضویہ کے مطبوعہ حصص میں دریافت کئے گئے کل استفتاء کی تعداد ۴۴۹۴
o علماء ودانشور حضرات کے کل استفتاء کی تعداد ۱۰۶۱
جلداول
کل استفتاء کی تعداد ۱۸۱
علماء ودانشور حضرات کے استفتاء کی تعداد ۴۹
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۱۳۲
جلد دوم
کل استفتاء کی تعداد ۲۵۶
علماء ودانشور حضرات کے استفتاء کی تعداد ۷۳
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۱۸۳
جلدسوم
کل استفتاء کی تعداد ۸۳۲
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۲۰۰
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۶۳۲
o فتاوی رضویہ کے مطبوعہ حصص میں دریافت کئے گئے کل استفتاء کی تعداد ۴۴۹۴
o علماء ودانشور حضرات کے کل استفتاء کی تعداد ۱۰۶۱
جلداول
کل استفتاء کی تعداد ۱۸۱
علماء ودانشور حضرات کے استفتاء کی تعداد ۴۹
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۱۳۲
جلد دوم
کل استفتاء کی تعداد ۲۵۶
علماء ودانشور حضرات کے استفتاء کی تعداد ۷۳
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۱۸۳
جلدسوم
کل استفتاء کی تعداد ۸۳۲
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۲۰۰
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۶۳۲
جلدچہارم
کل استفتاء کی تعداد ۴۴۰
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۱۱۳
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۳۲۷
جلدپنجم
کل استفتاء کی تعداد ۹۲۰
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۱۶۲
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۷۴۸
جلدششم
کل استفتاء کی تعداد ۴۹۹
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۱۰۳
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۳۹۶
جلدہفتم
کل استفتاء کی تعداد ۳۷۶
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۸۰
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۲۹۶
جلددہم
کل استفتاء کی تعداد ۸۲۴
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۲۵۱
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۵۷۳
کل استفتاء کی تعداد ۴۴۰
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۱۱۳
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۳۲۷
جلدپنجم
کل استفتاء کی تعداد ۹۲۰
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۱۶۲
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۷۴۸
جلدششم
کل استفتاء کی تعداد ۴۹۹
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۱۰۳
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۳۹۶
جلدہفتم
کل استفتاء کی تعداد ۳۷۶
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۸۰
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۲۹۶
جلددہم
کل استفتاء کی تعداد ۸۲۴
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۲۵۱
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۵۷۳
جلدیازدہم
کل استفتاء کی تعداد ۱۶۶
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۳۰
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۱۳۶
___________
کل استفتاء کی تعداد ۱۶۶
علماء ودانشورحضرات کے استفتاء کی تعداد ۳۰
غیرعلماء کے استفتاء کی تعداد ۱۳۶
___________
امام احمد رضا بریلوی سے
استفتاء کرنے والے عالم اسلام کے معروف علماء اور دانشور
نمبر شمار اسماء حوالہ
ا
۱ ابوالحسن مولانا ضلع ارکان ج ۴ ص ۲۰۴
۲ اشرف علی مولانا بریلی ج۴ ص۴۱۲ ج۱۰ نصف ثانی ص۱۲۰
۳ ایوب علی سید مولانا = ج۴ص۴۱۴
۴ امیراللہ حافظ مدرس مولانا = ج۳ص۱۰۲ ۱۸۴ ۶۵۳ ۶۷۰ ج۴ص۴۷۸ ۴۸۵ ج ۵ص۱۶۹ ج۱۰نصف اول ص۱۳۸ ۲۳۰۔
۵ احسان علی مولانا = ج۳ص۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۵ ج ص۳۵۵ ۴۱۶ ۶۴۵ ج۵ص۲۹۹ ج۱۰نصف ثانی ص۲۸۱
۶ امام الدین مولانا = ج۵ص۶۷۴
۷ اظہرالدین بنگالی مولانا سہارن پور ج۴ص۴۹۳
۸ انوارالدین مولانا ضلع سلہٹ ج۴ص۱۰۸ ۱۶۳ ۲۰۴
۹ امیریار مولانا سہارن پور ج۴ص۱۱۰
۱۰ اسمعیل میاں حاجی مولانا جنوبی افریقہ ج۲ص۴ ۲۶ ۱۱۷ ج۵ص۱۰۳ ج۲ص۱۲۵ ۱۳۷
۱۱ انوارالحق مولانا ضلع لاہور ج۳ص۲۶ ج۵ص۷۵ ۷۹۵ ج۴ص۱۲۴
استفتاء کرنے والے عالم اسلام کے معروف علماء اور دانشور
نمبر شمار اسماء حوالہ
ا
۱ ابوالحسن مولانا ضلع ارکان ج ۴ ص ۲۰۴
۲ اشرف علی مولانا بریلی ج۴ ص۴۱۲ ج۱۰ نصف ثانی ص۱۲۰
۳ ایوب علی سید مولانا = ج۴ص۴۱۴
۴ امیراللہ حافظ مدرس مولانا = ج۳ص۱۰۲ ۱۸۴ ۶۵۳ ۶۷۰ ج۴ص۴۷۸ ۴۸۵ ج ۵ص۱۶۹ ج۱۰نصف اول ص۱۳۸ ۲۳۰۔
۵ احسان علی مولانا = ج۳ص۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۵ ج ص۳۵۵ ۴۱۶ ۶۴۵ ج۵ص۲۹۹ ج۱۰نصف ثانی ص۲۸۱
۶ امام الدین مولانا = ج۵ص۶۷۴
۷ اظہرالدین بنگالی مولانا سہارن پور ج۴ص۴۹۳
۸ انوارالدین مولانا ضلع سلہٹ ج۴ص۱۰۸ ۱۶۳ ۲۰۴
۹ امیریار مولانا سہارن پور ج۴ص۱۱۰
۱۰ اسمعیل میاں حاجی مولانا جنوبی افریقہ ج۲ص۴ ۲۶ ۱۱۷ ج۵ص۱۰۳ ج۲ص۱۲۵ ۱۳۷
۱۱ انوارالحق مولانا ضلع لاہور ج۳ص۲۶ ج۵ص۷۵ ۷۹۵ ج۴ص۱۲۴
۱۲ احمدالدین مولانا بیگم شاہی مسجد لاہور ج۷ص۹۲ ج۱۰نصف ثانی ص۳۱۲
۱۳ اکرم علی سید عرف مطلوب شاہ مولانا مدرس حیدرآباددکن ج۵ص۲۷۵
۱۴ ابوالحسن احمدنوری سید مولانا بدایوں ج۳ص۱۷۵ ج۵ص۵۳۰ج۱۱ص۹۳
۱۵ امدادعلی مدرس مولانا ضلع علی گڑھ ج۵ص۷۲۲ ۷۲۷
۱۶ انعام الحق مولانا بریلی ج۵ص۷۳۶
۱۷ احمدبخش مولانا ڈیرہ غازیخان ج۳ص۶۳۹ ج۵ص۷۸۶
۱۸ احمدحسین مولانا ضلع رہتک ج۳ص۷۲۳
۱۹ امیراللہ مدرس مولانا ضلع ایٹہ ج۴ص۴۷۸ ۴۸۵ ج۱۰نصف اول ص۱۷۹
۲۰ امام علی شاہ مولانا پاکپتن ساہیوال ج۳ص۴۱۹
۲۱ اولادعلی سید مولانا مرادآباد ج۴ص۸۳
۲۲ امجدعلی اعظمی صدرالشریعۃ مصنف بہارشریعت ج۳ص۴۸
۲۳ احمدمختار میرٹھی مولانا شہرمانڈے ج۲ص۴۸۳ ج۵ص۱۹۷
۲۴ اللہ یار مولانا نماڑ ج۱ص۵۷۹ ج۲ص۱۲۸ ۱۸۲ ج۳ص۶۷۵ ۶۸۴
۲۵ احسان حسین مولانا بریلی ج۵ص۴۲ ج۷ص۲۵۱ ۲۶۲
۲۶ امداد حسین مولانا رام پور ج۳ص۱۶۸
۲۷ احمدبخش مولانا شہرتکیہ ج۳ص۳۷۳
۲۸ احمدمختارصدیقی مولانا ملک برھما(برما) ج۶ص۲۵
۲۹ اخترحسین مولانا بریلی ج۶ص۱۷۴ ج۷ص۹۳ ج۵ص۷۸۲ ج۱۱ص۹۰
۳۰ آدم شاہ مولانا کولھاپور ج۶ص۷۷
۳۱ احمدصدیقی مولانا کراچی بندرگاہ ج۶ص۱۱۴
۳۲ امیرحسین مولانا ضلع پٹنہ ج۶ص۳۴۲
۱۳ اکرم علی سید عرف مطلوب شاہ مولانا مدرس حیدرآباددکن ج۵ص۲۷۵
۱۴ ابوالحسن احمدنوری سید مولانا بدایوں ج۳ص۱۷۵ ج۵ص۵۳۰ج۱۱ص۹۳
۱۵ امدادعلی مدرس مولانا ضلع علی گڑھ ج۵ص۷۲۲ ۷۲۷
۱۶ انعام الحق مولانا بریلی ج۵ص۷۳۶
۱۷ احمدبخش مولانا ڈیرہ غازیخان ج۳ص۶۳۹ ج۵ص۷۸۶
۱۸ احمدحسین مولانا ضلع رہتک ج۳ص۷۲۳
۱۹ امیراللہ مدرس مولانا ضلع ایٹہ ج۴ص۴۷۸ ۴۸۵ ج۱۰نصف اول ص۱۷۹
۲۰ امام علی شاہ مولانا پاکپتن ساہیوال ج۳ص۴۱۹
۲۱ اولادعلی سید مولانا مرادآباد ج۴ص۸۳
۲۲ امجدعلی اعظمی صدرالشریعۃ مصنف بہارشریعت ج۳ص۴۸
۲۳ احمدمختار میرٹھی مولانا شہرمانڈے ج۲ص۴۸۳ ج۵ص۱۹۷
۲۴ اللہ یار مولانا نماڑ ج۱ص۵۷۹ ج۲ص۱۲۸ ۱۸۲ ج۳ص۶۷۵ ۶۸۴
۲۵ احسان حسین مولانا بریلی ج۵ص۴۲ ج۷ص۲۵۱ ۲۶۲
۲۶ امداد حسین مولانا رام پور ج۳ص۱۶۸
۲۷ احمدبخش مولانا شہرتکیہ ج۳ص۳۷۳
۲۸ احمدمختارصدیقی مولانا ملک برھما(برما) ج۶ص۲۵
۲۹ اخترحسین مولانا بریلی ج۶ص۱۷۴ ج۷ص۹۳ ج۵ص۷۸۲ ج۱۱ص۹۰
۳۰ آدم شاہ مولانا کولھاپور ج۶ص۷۷
۳۱ احمدصدیقی مولانا کراچی بندرگاہ ج۶ص۱۱۴
۳۲ امیرحسین مولانا ضلع پٹنہ ج۶ص۳۴۲
۳۳ احمدحسن مولانا کانپور ج۱۰نصف اول ص۷۷
۳۴ امیرحسن مولانا ب لندشہر ج۴ص۴۷۱ ج۷ص۶۲۱ ج۱۰نصف ثانی ص۲۰۳
۳۵ احمدعلی مولانا کانپور ج۱۰نصف اول ص۱۵۴
۳۶ احسان علی مدرس مولانا علی گڑھ ج۱۱ص۳۷ ۲۷۵
۳۷ احمدحسین مولانا رام پور ج۱۱ص۲۹۱
۳۸ امجدعلی خان صاحبزادہ مولانا رام پور ج۷ص۳۸۴
۳۹ احمدعلی سید مولانا اودے پور ج۶ص۳۳۵
۴۰ اکرام الدین شیخ مولانا لکھنؤ ج۷ص۴۱
۴۱ ابراہیم شیخ مدرس مولانا ملک آباد گجرات ج۱ص۳۱۸ رضااکیڈمی بمبئی
۴۲ احمدخان وکیل مولانا اودے پور ج۱۱ص۳۱۲
۴۳ اسمعیل حسن میاں سید مولانا ضلع ایٹہ ج۱۰نصف اول ص۶ ۸۷
۴۴ احمدعلی سید مدنی مولانا بمبئی ج۶ص۴۲۸
۴۵ احمدمیاں سید زادہ مولانا رام پور جلد۱۱ص۳۶
۴۶ ابوسعید مولانا کانپور ج۱۱ص۲۹۵
۴۷ امیرعالم حسن عرف نوشہ میاں مولانا بریلی ج۱۰نصف ثانی ص۱۴۵
۴۸ ابراہیم مدرس مولانا الہ آباد ج۱۰نصف ثانی ص۲۶۲
۴۹ آفتاب الدین مولانا بریلی شریف ج۱۰ = ص۲۸۲
۵۰ احمدمختار مولانا میرٹھ ج۱۰ نصف ثانی ص۳۱۲
۵۱ الطاف الرحمن مولانا مرادآباد صلوۃ
۵۲ احمداللہ مولانا کانپور رادالقحط والوبا ء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء
۵۳ ارشدعلی مولانا رام پور ج۷ص۲۹۱
۵۴ ابراہیم گیلانی سید قادری بغدادی مولانا کراچی ج۱۰نصف ثانی ص۲۰۴
۵۵ ابراہیم مولانا بنارس ج۱۰نصف ثانی ص۲۶۰ ۳۰۸
۵۶ امیرالدین مولانا گنج گیا ج۵ص۲۴۷
۳۴ امیرحسن مولانا ب لندشہر ج۴ص۴۷۱ ج۷ص۶۲۱ ج۱۰نصف ثانی ص۲۰۳
۳۵ احمدعلی مولانا کانپور ج۱۰نصف اول ص۱۵۴
۳۶ احسان علی مدرس مولانا علی گڑھ ج۱۱ص۳۷ ۲۷۵
۳۷ احمدحسین مولانا رام پور ج۱۱ص۲۹۱
۳۸ امجدعلی خان صاحبزادہ مولانا رام پور ج۷ص۳۸۴
۳۹ احمدعلی سید مولانا اودے پور ج۶ص۳۳۵
۴۰ اکرام الدین شیخ مولانا لکھنؤ ج۷ص۴۱
۴۱ ابراہیم شیخ مدرس مولانا ملک آباد گجرات ج۱ص۳۱۸ رضااکیڈمی بمبئی
۴۲ احمدخان وکیل مولانا اودے پور ج۱۱ص۳۱۲
۴۳ اسمعیل حسن میاں سید مولانا ضلع ایٹہ ج۱۰نصف اول ص۶ ۸۷
۴۴ احمدعلی سید مدنی مولانا بمبئی ج۶ص۴۲۸
۴۵ احمدمیاں سید زادہ مولانا رام پور جلد۱۱ص۳۶
۴۶ ابوسعید مولانا کانپور ج۱۱ص۲۹۵
۴۷ امیرعالم حسن عرف نوشہ میاں مولانا بریلی ج۱۰نصف ثانی ص۱۴۵
۴۸ ابراہیم مدرس مولانا الہ آباد ج۱۰نصف ثانی ص۲۶۲
۴۹ آفتاب الدین مولانا بریلی شریف ج۱۰ = ص۲۸۲
۵۰ احمدمختار مولانا میرٹھ ج۱۰ نصف ثانی ص۳۱۲
۵۱ الطاف الرحمن مولانا مرادآباد صلوۃ
۵۲ احمداللہ مولانا کانپور رادالقحط والوبا ء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء
۵۳ ارشدعلی مولانا رام پور ج۷ص۲۹۱
۵۴ ابراہیم گیلانی سید قادری بغدادی مولانا کراچی ج۱۰نصف ثانی ص۲۰۴
۵۵ ابراہیم مولانا بنارس ج۱۰نصف ثانی ص۲۶۰ ۳۰۸
۵۶ امیرالدین مولانا گنج گیا ج۵ص۲۴۷
۵۶ امیرالدین مولانا گنج گیا ج۵ص۲۴۷
۵۷ امیرالدین مولانا جوناگڑھ ج۲ص۱۷۲
ب
۵۸ باسط احمد مولانا لکھنؤ ج۴ص۴۹۴
۵۹ بدرالدین مولانا بنارس ج۱۱ص۳۱
۶۰ بدیع الزمان مولانا بریلی شریف ج۳ص۵۹۴
۶۱ برکات احمد وکیل مولانا بریلی شریف ج۵ص۳۲۰
۶۲ بشیراحمد مدرس علی گڑھی مولانا بریلی شریف ج۳ص۱۵ ج۵ص۱۶۷
۶۳ بشیرالدین وکیل مولانا = ج۵ص۶۱۳
۶۴ بندہ علی مولانا = ج۱۰ثانی ص۳۲
ت
۶۵ تلن خان قاضی مدرس مولانا شہرکہنہ بریلی ج۶ص۳۴۰
۶۶ عرف میزان اللہ شاہ مولانا = ج۶ص۳۴۰
۶۷ تمیزالدین مولانا نصیرآباد ج۷ص۱۱۹
۶۸ تاج الدین مولانا گوجرخان ضلع راولپنڈی ج۶ص۱۴۰
ج
۶۹ جمال الدین مولانا ضلع چاٹگام ج۵ص۴۷۴
۷۰ جمیل الدین رضوی مولانا چیت پور کاٹھیاواڑ ج۵ص۵۵۲
۷۱ جمیل الدین احمد مولانا مراد آباد ج۴ص۵۲
ح
۷۲ حاکم علی پروفیسربی اے مولانا موتی بازار لاہور ج۱۰ثانی ۲۷۹
۷۳ حامدبخش مولانا بدایوں ج۷ص۲۴۸ ۹۶
۵۷ امیرالدین مولانا جوناگڑھ ج۲ص۱۷۲
ب
۵۸ باسط احمد مولانا لکھنؤ ج۴ص۴۹۴
۵۹ بدرالدین مولانا بنارس ج۱۱ص۳۱
۶۰ بدیع الزمان مولانا بریلی شریف ج۳ص۵۹۴
۶۱ برکات احمد وکیل مولانا بریلی شریف ج۵ص۳۲۰
۶۲ بشیراحمد مدرس علی گڑھی مولانا بریلی شریف ج۳ص۱۵ ج۵ص۱۶۷
۶۳ بشیرالدین وکیل مولانا = ج۵ص۶۱۳
۶۴ بندہ علی مولانا = ج۱۰ثانی ص۳۲
ت
۶۵ تلن خان قاضی مدرس مولانا شہرکہنہ بریلی ج۶ص۳۴۰
۶۶ عرف میزان اللہ شاہ مولانا = ج۶ص۳۴۰
۶۷ تمیزالدین مولانا نصیرآباد ج۷ص۱۱۹
۶۸ تاج الدین مولانا گوجرخان ضلع راولپنڈی ج۶ص۱۴۰
ج
۶۹ جمال الدین مولانا ضلع چاٹگام ج۵ص۴۷۴
۷۰ جمیل الدین رضوی مولانا چیت پور کاٹھیاواڑ ج۵ص۵۵۲
۷۱ جمیل الدین احمد مولانا مراد آباد ج۴ص۵۲
ح
۷۲ حاکم علی پروفیسربی اے مولانا موتی بازار لاہور ج۱۰ثانی ۲۷۹
۷۳ حامدبخش مولانا بدایوں ج۷ص۲۴۸ ۹۶
۷۴ حامدحسن سید مولانا مارہرہ مطہرہ شریف ج۴ص۶۶۴
۷۵ حامدعلی مولانا الہ آباد ج۱۰ص۲۱۰
۷۶ حامدعلی مولانا بریلی شریف ج۱۰ثانی ص۲۱۱
۷۷ حبیب اللہ سید دمشقی = ج۱۰ثانی ص۱
۷۸ حبیب اللہ بیگ مولانا ریاست رام پور ج۵ص۶۰۱ ج۳ص۶۲۹
۷۹ حسن رضاخان مولانا ریاست ٹونک ج۷ص۲۹۵
۸۰ حشمت علی مولانا شہرگڈھیا ج۳ص۷۳ ج۶ص۵۰۶
۸۱ حضوراحمد مولانا بریلی شریف ج۴ص۱۱۴
۸۲ حفیظ الرحمن مدرس مولانا ضلع رہتک ج۲ص۳۲
۸۳ حفیظ الرشید مولانا مرادآباد ج۷ص۲۷۷
۸۴ حمداللہ قادری مولانا ضلع پشاور ج۷ص۵۴۳ ج۱۰ثانی ص۳۰۷
۸۵ حمیدالرحمن مولانا ضلع نواکھالی ج۱۰ثانی ص۳۱۰
۸۶ حمیداللہ پیرالمعروف نعمان ملا مولانا گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی ج۳ص۶۶
۸۷ حسن حیدرمیاں مولانا مارہرہ مطہرہ ج۴ص۴۸۶
۸۸ حسن بخش رضوی مولانا خیرآباد ج۱ص۵۵۹
خ
۸۹ خدابخش مولانا ضلع کھیری ج۳ص۲۴۰
۹۰ خدایارخان مولانا شہرکہنہ ج۷ص۳۵
۹۱ خلیل الرحمن مولانا بنارس ج۱۰ثانی ص۷۷ ۱۳۳ ۲۶۹ ج۷ص۵۳
۹۲ خلیل اللہ مدرس مولانا ریاست کوچ بہارملک بنگالہ ج۱۰ اول ص۱۸۰
۹۳ خلیل اللہ خان مولانا پشاوری ج۱۰اول ص۱۴۰
۹۴ خورشید سید مولانا بہیڑی ج۱ص۵۷۹
۹۵ خلیل اللہ مولانا کوہ الموڑہ ج۴ص۶۴۸ ۶۴۹
۹۶ خلیل اللہ خان مولانا کھیری ج۵ص۲۵۱
۷۵ حامدعلی مولانا الہ آباد ج۱۰ص۲۱۰
۷۶ حامدعلی مولانا بریلی شریف ج۱۰ثانی ص۲۱۱
۷۷ حبیب اللہ سید دمشقی = ج۱۰ثانی ص۱
۷۸ حبیب اللہ بیگ مولانا ریاست رام پور ج۵ص۶۰۱ ج۳ص۶۲۹
۷۹ حسن رضاخان مولانا ریاست ٹونک ج۷ص۲۹۵
۸۰ حشمت علی مولانا شہرگڈھیا ج۳ص۷۳ ج۶ص۵۰۶
۸۱ حضوراحمد مولانا بریلی شریف ج۴ص۱۱۴
۸۲ حفیظ الرحمن مدرس مولانا ضلع رہتک ج۲ص۳۲
۸۳ حفیظ الرشید مولانا مرادآباد ج۷ص۲۷۷
۸۴ حمداللہ قادری مولانا ضلع پشاور ج۷ص۵۴۳ ج۱۰ثانی ص۳۰۷
۸۵ حمیدالرحمن مولانا ضلع نواکھالی ج۱۰ثانی ص۳۱۰
۸۶ حمیداللہ پیرالمعروف نعمان ملا مولانا گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی ج۳ص۶۶
۸۷ حسن حیدرمیاں مولانا مارہرہ مطہرہ ج۴ص۴۸۶
۸۸ حسن بخش رضوی مولانا خیرآباد ج۱ص۵۵۹
خ
۸۹ خدابخش مولانا ضلع کھیری ج۳ص۲۴۰
۹۰ خدایارخان مولانا شہرکہنہ ج۷ص۳۵
۹۱ خلیل الرحمن مولانا بنارس ج۱۰ثانی ص۷۷ ۱۳۳ ۲۶۹ ج۷ص۵۳
۹۲ خلیل اللہ مدرس مولانا ریاست کوچ بہارملک بنگالہ ج۱۰ اول ص۱۸۰
۹۳ خلیل اللہ خان مولانا پشاوری ج۱۰اول ص۱۴۰
۹۴ خورشید سید مولانا بہیڑی ج۱ص۵۷۹
۹۵ خلیل اللہ مولانا کوہ الموڑہ ج۴ص۶۴۸ ۶۴۹
۹۶ خلیل اللہ خان مولانا کھیری ج۵ص۲۵۱
ر
۹۷ رضی الدین مولانا ضلع گیا ج۳ص۷۰۱
۹۸ رحیم اللہ مولانا بریلی ج۳ص۸۷ ۲۲۹ ج۱۰ص۹۲
۹۹ رحمت اللہ مولانا شہرکہنہ ج۵ص۱۵۴
۱۰۰ رمضان علی بنگالی مولانا بریلی ج۳ص۷۴۶ ج۶ص۴۸۴ ج۱۰ثانی ص۲۵۴
۱۰۱ رحیم بخش مولانا میرٹھ ج۶ص۱۵۰
۱۰۲ راحت اللہ مولانا بلب لندشہر ج۳ص۱۳۳ ۶۰۲ ج۵ص۴۳۸ ج۶ص۷۸
۱۰۳ ریاست علی خان مولانا شاہجہان پور ج۵ص۴۶۷ ج۱۰ اول ص۲۲۱ ۲۳۲
۱۰۴ رحیم بخش بنگالی مولانا بریلی ج۳ص۵۹۸ ۸۰۸ ج۱۰ ثانی ص۲۵۴ ج۱۱ص۳۲۰
۱۰۵ رجب الدین مولانا = ج۴ص۹۹
۱۰۶ رحیم بخش مدرس مولانا آرہ شاہ آباد ج۳ص۷۹۹ ج۴ص۸۶
۱۰۷ ریاست حسین مولانا رام پور ج۳ص۶۸۸ ۸۰۲ ج۵ص۴۴۴ ۶۱۹
۱۰۸ رسول بخش مولانا گورکھپورگھوسی پور ج۱۰ ثانی ص۴۵
۱۰۹ رحیم بخش مولانا شیرکوٹ ج۵ص۴۸۹
س
۱۱۰ سلامت اللہ شاہ مولانا رام پور ج۳ص۴۳۹ ج۷ص۵۹۸
۱۱۱ سکندرعلی بنگالی مولانا خیرآباد ج۵ص۱۸۶
۱۱۲ سراج الحق شاہ مولانا دہلی ج۳ص۵۲۰
۱۱۳ سلیم اللہ مولانا لاہور ج۲ص۱۱۵
۱۱۴ سیداحمد مولانا کاٹھیاواڑ ج۲ص۱۳۷
۱۱۵ سلطان احمد نواب مولانا بریلی ج۱ص۳۱۶ ج۲ص۱۸ ۳۱ ج۳ص۴۵۳ ۶۵۴ ۸۶ ۹۸ ۳۲۲ ۷۲۳ ج۴ص۱۸ ۶۶۳ ج۵ص۱۰۰ ۳۱۷ ج۱۱ص۱۱۷
۹۷ رضی الدین مولانا ضلع گیا ج۳ص۷۰۱
۹۸ رحیم اللہ مولانا بریلی ج۳ص۸۷ ۲۲۹ ج۱۰ص۹۲
۹۹ رحمت اللہ مولانا شہرکہنہ ج۵ص۱۵۴
۱۰۰ رمضان علی بنگالی مولانا بریلی ج۳ص۷۴۶ ج۶ص۴۸۴ ج۱۰ثانی ص۲۵۴
۱۰۱ رحیم بخش مولانا میرٹھ ج۶ص۱۵۰
۱۰۲ راحت اللہ مولانا بلب لندشہر ج۳ص۱۳۳ ۶۰۲ ج۵ص۴۳۸ ج۶ص۷۸
۱۰۳ ریاست علی خان مولانا شاہجہان پور ج۵ص۴۶۷ ج۱۰ اول ص۲۲۱ ۲۳۲
۱۰۴ رحیم بخش بنگالی مولانا بریلی ج۳ص۵۹۸ ۸۰۸ ج۱۰ ثانی ص۲۵۴ ج۱۱ص۳۲۰
۱۰۵ رجب الدین مولانا = ج۴ص۹۹
۱۰۶ رحیم بخش مدرس مولانا آرہ شاہ آباد ج۳ص۷۹۹ ج۴ص۸۶
۱۰۷ ریاست حسین مولانا رام پور ج۳ص۶۸۸ ۸۰۲ ج۵ص۴۴۴ ۶۱۹
۱۰۸ رسول بخش مولانا گورکھپورگھوسی پور ج۱۰ ثانی ص۴۵
۱۰۹ رحیم بخش مولانا شیرکوٹ ج۵ص۴۸۹
س
۱۱۰ سلامت اللہ شاہ مولانا رام پور ج۳ص۴۳۹ ج۷ص۵۹۸
۱۱۱ سکندرعلی بنگالی مولانا خیرآباد ج۵ص۱۸۶
۱۱۲ سراج الحق شاہ مولانا دہلی ج۳ص۵۲۰
۱۱۳ سلیم اللہ مولانا لاہور ج۲ص۱۱۵
۱۱۴ سیداحمد مولانا کاٹھیاواڑ ج۲ص۱۳۷
۱۱۵ سلطان احمد نواب مولانا بریلی ج۱ص۳۱۶ ج۲ص۱۸ ۳۱ ج۳ص۴۵۳ ۶۵۴ ۸۶ ۹۸ ۳۲۲ ۷۲۳ ج۴ص۱۸ ۶۶۳ ج۵ص۱۰۰ ۳۱۷ ج۱۱ص۱۱۷
۱۱۶ سعیدالحسن مولانا کانپور ج۵ص۵۱۹
۱۱۷ سیف اللہ مولانا کاٹھیاواڑ ج۴ص۴۷۵
۱۱۸ سراج الحق جج مولانا بہاولپور ج۷ص۳۰۳
۱۱۹ سعیداحمد لکھنوی مولانا علی گڑھ ج۱۰ثانی ص۱۶۵
۱۲۰ سعیدالرحمن مولانا ضلع میمن سنگھ ج۱۰ثانی ص۳۰۶
۱۲۱ سیدحسین مولانا گونڈہ ج۴ص۴۶۴
۱۲۲ سلیمان مولانا اکبرآباد ج۶ص۵۰۵
۱۲۳ سرورشاہ ابوالنصر مولانا ضلع سکھرچونڈی شریف ج۵ص۲۷۷
۱۲۴ سیدحسین نائب قاضی مولانا بمبئی ج۵ص۶۱۷
۱۲۵ سیداحمد مولانا مرادآباد ج۲ص۳۵۳
۱۲۶ سلیمان مدرس مولانا کانپور ج۱۰ثانی ص۱۸۷
۱۲۷ سیددیدارعلی الوری مولانا اکبرآباد ج۶ص۱۲۶
ش
۱۲۸ شجاعت علی مولانا شہرکہنہ ج۳ص۴۷۷ ج۴ص۵۴۱
۱۲۹ شریف الرحمن مولانا ضلع مظفرپور ج۵ص۲۹۸
۱۳۰ شفاعت رسول مولانا رام پور ج۵ص۵۸
۱۳۱ شفاعت اللہ مولانا بریلی محلہ ملوک پور ج۶ص۱۲۹ج۴ ص۴۰۶
۱۳۲ شفیع احمد مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۵۴
۱۳۳ شمس الدین مولانا = ج۱۰ثانی ص۲۷۹
۱۳۴ شفیع الدین مولانا کانپوری ج۳ص۳۲۴
۱۳۵ شمس الدین مولانا ضلع پیلی بھیت ج۱۰ثانی ص۲۷۸
۱۱۷ سیف اللہ مولانا کاٹھیاواڑ ج۴ص۴۷۵
۱۱۸ سراج الحق جج مولانا بہاولپور ج۷ص۳۰۳
۱۱۹ سعیداحمد لکھنوی مولانا علی گڑھ ج۱۰ثانی ص۱۶۵
۱۲۰ سعیدالرحمن مولانا ضلع میمن سنگھ ج۱۰ثانی ص۳۰۶
۱۲۱ سیدحسین مولانا گونڈہ ج۴ص۴۶۴
۱۲۲ سلیمان مولانا اکبرآباد ج۶ص۵۰۵
۱۲۳ سرورشاہ ابوالنصر مولانا ضلع سکھرچونڈی شریف ج۵ص۲۷۷
۱۲۴ سیدحسین نائب قاضی مولانا بمبئی ج۵ص۶۱۷
۱۲۵ سیداحمد مولانا مرادآباد ج۲ص۳۵۳
۱۲۶ سلیمان مدرس مولانا کانپور ج۱۰ثانی ص۱۸۷
۱۲۷ سیددیدارعلی الوری مولانا اکبرآباد ج۶ص۱۲۶
ش
۱۲۸ شجاعت علی مولانا شہرکہنہ ج۳ص۴۷۷ ج۴ص۵۴۱
۱۲۹ شریف الرحمن مولانا ضلع مظفرپور ج۵ص۲۹۸
۱۳۰ شفاعت رسول مولانا رام پور ج۵ص۵۸
۱۳۱ شفاعت اللہ مولانا بریلی محلہ ملوک پور ج۶ص۱۲۹ج۴ ص۴۰۶
۱۳۲ شفیع احمد مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۵۴
۱۳۳ شمس الدین مولانا = ج۱۰ثانی ص۲۷۹
۱۳۴ شفیع الدین مولانا کانپوری ج۳ص۳۲۴
۱۳۵ شمس الدین مولانا ضلع پیلی بھیت ج۱۰ثانی ص۲۷۸
۱۳۶ شیرعلی مولانا ضلع دربھنگہ ج۵ص۱۱۴
۱۳۷ شمس الدین مولانا نصیرآبادضلع اجمیرشریف ج۷ص۵۲۳
۱۳۸ شیرمحمد مولانا میرٹھ ج۶ص۱۵۱
۱۳۹ شیرمحمد مولانا کوٹ نجیب اللہ ہری پور ہزارہ ج۱ص۵۶۴ ج۲ص۳۴۲ ج۳ص۴۶۰ ۶۲۶ ۱۵۸ ج۴ص۳۰ ۳۳ ۱۸۰ ۳۷۷ ۴۷۴ ج۵ص۳۸۴
۱۴۰ شمس الہدی مولانا بریلی ج۳ص۳۷۴
ص
۱۴۱ صابرعلی مولانا لکھنؤ ج۶ص۴۲۸
۱۴۲ صالح محمدخان مدرس مولانا ضلع بلندشہر ج۱۰ثانی ص۱۳۶
۱۴۳ صلاح الدین مولانا ضلع پشاور ج۶ص۴۱۴
ض
۱۴۴ ضیاء الدین = لکھنؤ ج۲ص۲۷
۱۴۵ ضیاء الدین مولانا پٹنہ ج۲ص۱۲۹ ج۳ص۷۴ ج۴ص۱۶۵
۱۴۶ ضیاء الدین مولانا پرتگال ج۲ص۳۷۲ ج۳ص۴۸۹ ۸۱۰
۱۴۷ ضیاء الدین مولانا ضلع شاہجہان پور ج۶ص۱۰۲
۱۴۸ ضیاء الاسلام مولانا آگرہ ج۵ص۷۶۲
ظ
۱۴۹ ظفرالدین مدرس مولانا شہرام مدرسہ عربیہ ج۴ص۵۶۴ ج۲ص۳۰۶
۱۵۰ ظفرالدین مدرس مولانا ضلع شاہ آباد ج۱۰ نصف آخر ص۳۷ ۴۱
۱۵۱ ظفرالدین مدرس مولانا پانکی ڈاکخانہ سند ج۱۰نصف آخر ص۱۳۰
۱۳۷ شمس الدین مولانا نصیرآبادضلع اجمیرشریف ج۷ص۵۲۳
۱۳۸ شیرمحمد مولانا میرٹھ ج۶ص۱۵۱
۱۳۹ شیرمحمد مولانا کوٹ نجیب اللہ ہری پور ہزارہ ج۱ص۵۶۴ ج۲ص۳۴۲ ج۳ص۴۶۰ ۶۲۶ ۱۵۸ ج۴ص۳۰ ۳۳ ۱۸۰ ۳۷۷ ۴۷۴ ج۵ص۳۸۴
۱۴۰ شمس الہدی مولانا بریلی ج۳ص۳۷۴
ص
۱۴۱ صابرعلی مولانا لکھنؤ ج۶ص۴۲۸
۱۴۲ صالح محمدخان مدرس مولانا ضلع بلندشہر ج۱۰ثانی ص۱۳۶
۱۴۳ صلاح الدین مولانا ضلع پشاور ج۶ص۴۱۴
ض
۱۴۴ ضیاء الدین = لکھنؤ ج۲ص۲۷
۱۴۵ ضیاء الدین مولانا پٹنہ ج۲ص۱۲۹ ج۳ص۷۴ ج۴ص۱۶۵
۱۴۶ ضیاء الدین مولانا پرتگال ج۲ص۳۷۲ ج۳ص۴۸۹ ۸۱۰
۱۴۷ ضیاء الدین مولانا ضلع شاہجہان پور ج۶ص۱۰۲
۱۴۸ ضیاء الاسلام مولانا آگرہ ج۵ص۷۶۲
ظ
۱۴۹ ظفرالدین مدرس مولانا شہرام مدرسہ عربیہ ج۴ص۵۶۴ ج۲ص۳۰۶
۱۵۰ ظفرالدین مدرس مولانا ضلع شاہ آباد ج۱۰ نصف آخر ص۳۷ ۴۱
۱۵۱ ظفرالدین مدرس مولانا پانکی ڈاکخانہ سند ج۱۰نصف آخر ص۱۳۰
۱۵۲ ظہوراحمد سید مولانا بیٹھوشریف ضلع گیا ج۵ص۴۷ ۴۸ ۴۹
۱۵۳ ظہورالحسن سید مولانا رام پور ج۷ص۲۹۱
۱۵۴ ظہورحسین مولانا بریلی ج۶ص۳۳۷
۱۵۵ ظہوراللہ مولانا ریاست ٹونک ج۷ص۳۵۴
۱۵۶ ظہیرالدین مولانا مظفرپوری ج۱۰ نصف اول ص۲۴۰
۱۵۷ ظہورالحسین حسنی مولانا بنگالہ ج۱۰ نصف آخرص۱۸۵
ع
۱۵۸ عبدالعزیز مدرس مولانا گوندہ ملک ج۳ص۵۷ ۳۸۳ ج۱۰ ج۳ ص۳۸۳
۱۵۹ عبدالحمید مولانا = ج۱ص۵۵۴
۱۶۰ عبداللطیف مولانا بمبئی ج۶ص۳۵۶
۱۶۱ عبدالقادرمفتی صدرالصدور مولانا رام پور ج۶ص۳۹۲ ج۷ص۵۵۹ ج۱۱ ص۳۱۹
۱۶۲ عبدالعلی مولانا ضلع نواکھالی ج۶ص۳۹۶
۱۶۳ عبیداللہ مولانا کان پور ج۶ص۳۹۷
۱۶۴ عبدالمطلب مولانا کاٹھیاواڑ ج۴ص۸۲ ج۶ص۴۳۱
۱۶۵ عبدالحمید مولانا مارہرہ مطہرہ ایٹہ ج۶ص۴۹۶
۱۶۶ عبدالعزیزخان قادری مولانا ملک برھما ج۶ص۴۹۶
۱۶۷ عبدالرحیم مدرس مولانا ریاست بہاولپور ج۶ص۱۵۸ ۱۷۱
۱۶۸ علی رضاخان مولانا بغدادشریف ج۶ص۱۸۳
۱۶۹ عبدالرحمن قادری (مصنف فوائدمکیہ)مولانا گولڑہ شریف راولپنڈی ج۷ص۴۸۹ ج۱۰نصف آخرص۳۲
۱۷۰ عبدالعزیز مولانا ضلع اورنگ آباد ج۷ص۲۸
۱۷۱ عبدالحمید مولانا بنارس ج۵ص۱۵۵ ج۱۰ثانی ص۱۴۷ ج۱۱ص۲ ج۲ص۴۴ ج۶ص۳۲
۱۵۳ ظہورالحسن سید مولانا رام پور ج۷ص۲۹۱
۱۵۴ ظہورحسین مولانا بریلی ج۶ص۳۳۷
۱۵۵ ظہوراللہ مولانا ریاست ٹونک ج۷ص۳۵۴
۱۵۶ ظہیرالدین مولانا مظفرپوری ج۱۰ نصف اول ص۲۴۰
۱۵۷ ظہورالحسین حسنی مولانا بنگالہ ج۱۰ نصف آخرص۱۸۵
ع
۱۵۸ عبدالعزیز مدرس مولانا گوندہ ملک ج۳ص۵۷ ۳۸۳ ج۱۰ ج۳ ص۳۸۳
۱۵۹ عبدالحمید مولانا = ج۱ص۵۵۴
۱۶۰ عبداللطیف مولانا بمبئی ج۶ص۳۵۶
۱۶۱ عبدالقادرمفتی صدرالصدور مولانا رام پور ج۶ص۳۹۲ ج۷ص۵۵۹ ج۱۱ ص۳۱۹
۱۶۲ عبدالعلی مولانا ضلع نواکھالی ج۶ص۳۹۶
۱۶۳ عبیداللہ مولانا کان پور ج۶ص۳۹۷
۱۶۴ عبدالمطلب مولانا کاٹھیاواڑ ج۴ص۸۲ ج۶ص۴۳۱
۱۶۵ عبدالحمید مولانا مارہرہ مطہرہ ایٹہ ج۶ص۴۹۶
۱۶۶ عبدالعزیزخان قادری مولانا ملک برھما ج۶ص۴۹۶
۱۶۷ عبدالرحیم مدرس مولانا ریاست بہاولپور ج۶ص۱۵۸ ۱۷۱
۱۶۸ علی رضاخان مولانا بغدادشریف ج۶ص۱۸۳
۱۶۹ عبدالرحمن قادری (مصنف فوائدمکیہ)مولانا گولڑہ شریف راولپنڈی ج۷ص۴۸۹ ج۱۰نصف آخرص۳۲
۱۷۰ عبدالعزیز مولانا ضلع اورنگ آباد ج۷ص۲۸
۱۷۱ عبدالحمید مولانا بنارس ج۵ص۱۵۵ ج۱۰ثانی ص۱۴۷ ج۱۱ص۲ ج۲ص۴۴ ج۶ص۳۲
۱۷۲ عبدالرزاق مولانا مدراس ج۳ص۲۳۰ ج۵ص۲۹ ج۵ص۵۷۱
۱۷۳ عبدالحکیم مولانا ضلع سلہٹ ج۵ص۴۰۲ ۵۶۳
۱۷۴ عبدالوحید قاضی مولانا عظیم آبادپٹنہ ج۳ص۶۱۸ ج۴ص۶۰۲ ج۵ص۲۴۰ ۱۲۵ ج۱۱ص۱۶۷
۱۷۵ عابدحسین مولانا لکھنؤ ج۵ص۳۷۷
۱۷۶ عزیزالحسن مولانا ضلع ٹاوہ ج۵ص۸۲ ج۶ص۳۳۳
۱۷۷ عبدالقادر مولانا سرہندشریف ج۵ص۱۹۳
۱۷۸ عبداللہ ٹونکی مولانا لاہور ج۵ص۳۳۲ ج۷ص۴۱۹
۱۷۹ عبدالغنی مولانا ضلع سلہٹ ج۳ص۶۲۵ ج۵ص۱۵۵ ۵۵۸ ۵۵۹ ۶۴۳
۱۸۰ عبدالغفور مولانا الہ آباد ج۵ص۲۹۱
۱۸۱ عبدالرسول مولانا بدایوں ج۵ص۲۹۷
۱۸۲ عبدالمقتدر مولانا بدایوں ج۲ص۳۶۴
۱۸۳ عبدالحمید مولانا بدایوں ج۳ص۸
۱۸۴ عبدالغنی مولانا ضلع بلاسپور ج۲ص۳۷۹
۱۸۵ عبدالرحمن وکیل مولانا میٹرتاعلاقہ جودھ پور ج۳ص۶۰۹
۱۸۶ عبدالرحمن مدرس مولانا مرادآباد ج۳ص۲۶۳ ج۱۰ثانی ص۲۶۵ ۳۱۳
۱۸۷ عبدالغنی مولانا مرادآباد ج۵ص۳۳۲
۱۸۸ عبدالحفیظ مدرس مولانا ٹونڈہ بریلی شریف ج۳ص۲۰۹ ج۱۰ص۲۷۴
۱۸۹ عبدالعلی مولانا فیض آباد ج۳ص۳۷۹ ۵۹۴ ۶۰۰ ج۱۰ثانی ص۱۶۸
۱۹۰ عبداللہ مدرس مولانا فیض آباد ج۳ص۲۰۹ ۲۷۴
۱۷۳ عبدالحکیم مولانا ضلع سلہٹ ج۵ص۴۰۲ ۵۶۳
۱۷۴ عبدالوحید قاضی مولانا عظیم آبادپٹنہ ج۳ص۶۱۸ ج۴ص۶۰۲ ج۵ص۲۴۰ ۱۲۵ ج۱۱ص۱۶۷
۱۷۵ عابدحسین مولانا لکھنؤ ج۵ص۳۷۷
۱۷۶ عزیزالحسن مولانا ضلع ٹاوہ ج۵ص۸۲ ج۶ص۳۳۳
۱۷۷ عبدالقادر مولانا سرہندشریف ج۵ص۱۹۳
۱۷۸ عبداللہ ٹونکی مولانا لاہور ج۵ص۳۳۲ ج۷ص۴۱۹
۱۷۹ عبدالغنی مولانا ضلع سلہٹ ج۳ص۶۲۵ ج۵ص۱۵۵ ۵۵۸ ۵۵۹ ۶۴۳
۱۸۰ عبدالغفور مولانا الہ آباد ج۵ص۲۹۱
۱۸۱ عبدالرسول مولانا بدایوں ج۵ص۲۹۷
۱۸۲ عبدالمقتدر مولانا بدایوں ج۲ص۳۶۴
۱۸۳ عبدالحمید مولانا بدایوں ج۳ص۸
۱۸۴ عبدالغنی مولانا ضلع بلاسپور ج۲ص۳۷۹
۱۸۵ عبدالرحمن وکیل مولانا میٹرتاعلاقہ جودھ پور ج۳ص۶۰۹
۱۸۶ عبدالرحمن مدرس مولانا مرادآباد ج۳ص۲۶۳ ج۱۰ثانی ص۲۶۵ ۳۱۳
۱۸۷ عبدالغنی مولانا مرادآباد ج۵ص۳۳۲
۱۸۸ عبدالحفیظ مدرس مولانا ٹونڈہ بریلی شریف ج۳ص۲۰۹ ج۱۰ص۲۷۴
۱۸۹ عبدالعلی مولانا فیض آباد ج۳ص۳۷۹ ۵۹۴ ۶۰۰ ج۱۰ثانی ص۱۶۸
۱۹۰ عبداللہ مدرس مولانا فیض آباد ج۳ص۲۰۹ ۲۷۴
۱۹۱ عبداللہ بہاری مدرس مولانا بریلی شریف ج۲ص۱۲ ج۳ص۶۶ ۷۲ ج۲ص۱۴۳ ج۳ ص۳۷۴ ج۳ص۳۷۴ ۳۷۶ ۶۲۲ ۶۴۷
ج۳ص۲۵۰ ۴۸۸ ج۵ص۱۹۵ ج۱۰ثانی ص۲۷۶
۱۹۲ عبدالعزیز مولانا بریلی شریف ج۶ص۳۷۹
۱۹۳ عبدالرشید مدرس مولانا بریلی شریف ج۳ص۳۹۴ ج۵ص۶۴۵ ج۲ص۲۰۵
۱۹۴ عبیداللہ مولانا بریلی شریف ج۱۰ثانی ص۲۵۳
۱۹۵ عبدالمنان مولانا دہلی ج۳ص۲۴۱
۱۹۶ عبدالمنان مولانا بنگالہ ج۱۰ثانی ص۷۰
۱۹۷ عبدالقادر مدرس مولانا بمبئی ج۱۰ثانی ص۲۹
۱۹۸ عزیزالحسن مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۲۶
۱۹۹ عبدالمجیدخان حنفی مولانا بلندشہر ج۱۰ثانی ۱۳۷
۲۰۰ عبدالقوی بنگالی مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۲۶
۲۰۱ عبدالرحیم بیگ مولانا کراچی ج۱۰ثانی ص۱۴۴
۲۰۲ عبدالرحمن مدرس مولانا گودھرہ ج۱۰ثانی ص۱۷۵
۲۰۳ عبدالعلیم صدیقی قادری مولانا بمبئی کلکتہ جنوبی افریقہ ج۷ص۱۲۵ ج۱۰ثانی ص۱۶۱ ۱۹۶
۲۰۴ عطاء حسین مولانا گوالیار ج۱۰ثانی ص۱۹۶
۲۰۵ عین الیقین مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۳۷۸
۲۰۶ عابدعلی مولانا ضلع سلطان پور ج۱۰ثانی ص۳۲۰
۲۰۷ عبداللہ قادری مولانا ضلع سکھر ج۱۰ثانی ص۳۱۵
۲۰۸ عبدالرشید مولانا دہلی ج۴ص۱۱۶ ج۱۰ص۲۶۶
۲۰۹ عبدالواحدمتھراوی مولانا شہرکہنہ ج۵ص۷۷۱
۲۱۰ عبدالرحیم مولانا بریلی شریف ج۷ص۳۹۰
۲۱۱ عبدالباری مولانا ضلع نواکھالی ج۱۰ اول ص۲۱۱
۲۱۲ عبدالحمید مولانا ضلع کمرلہ ج۱۰ اول ص۱۹۱
ج۳ص۲۵۰ ۴۸۸ ج۵ص۱۹۵ ج۱۰ثانی ص۲۷۶
۱۹۲ عبدالعزیز مولانا بریلی شریف ج۶ص۳۷۹
۱۹۳ عبدالرشید مدرس مولانا بریلی شریف ج۳ص۳۹۴ ج۵ص۶۴۵ ج۲ص۲۰۵
۱۹۴ عبیداللہ مولانا بریلی شریف ج۱۰ثانی ص۲۵۳
۱۹۵ عبدالمنان مولانا دہلی ج۳ص۲۴۱
۱۹۶ عبدالمنان مولانا بنگالہ ج۱۰ثانی ص۷۰
۱۹۷ عبدالقادر مدرس مولانا بمبئی ج۱۰ثانی ص۲۹
۱۹۸ عزیزالحسن مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۲۶
۱۹۹ عبدالمجیدخان حنفی مولانا بلندشہر ج۱۰ثانی ۱۳۷
۲۰۰ عبدالقوی بنگالی مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۲۶
۲۰۱ عبدالرحیم بیگ مولانا کراچی ج۱۰ثانی ص۱۴۴
۲۰۲ عبدالرحمن مدرس مولانا گودھرہ ج۱۰ثانی ص۱۷۵
۲۰۳ عبدالعلیم صدیقی قادری مولانا بمبئی کلکتہ جنوبی افریقہ ج۷ص۱۲۵ ج۱۰ثانی ص۱۶۱ ۱۹۶
۲۰۴ عطاء حسین مولانا گوالیار ج۱۰ثانی ص۱۹۶
۲۰۵ عین الیقین مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۳۷۸
۲۰۶ عابدعلی مولانا ضلع سلطان پور ج۱۰ثانی ص۳۲۰
۲۰۷ عبداللہ قادری مولانا ضلع سکھر ج۱۰ثانی ص۳۱۵
۲۰۸ عبدالرشید مولانا دہلی ج۴ص۱۱۶ ج۱۰ص۲۶۶
۲۰۹ عبدالواحدمتھراوی مولانا شہرکہنہ ج۵ص۷۷۱
۲۱۰ عبدالرحیم مولانا بریلی شریف ج۷ص۳۹۰
۲۱۱ عبدالباری مولانا ضلع نواکھالی ج۱۰ اول ص۲۱۱
۲۱۲ عبدالحمید مولانا ضلع کمرلہ ج۱۰ اول ص۱۹۱
۲۱۳ عبدالجبار سید مولانا حیدرآباد دکن ج۱۱ص۳۰۰
۲۱۴ عبداللطیف مولانا ضلع رنگ پور ج۱۰ اول ص۲۱۱
۲۱۵ عبدالرحیم خان مولانا ریاست دیوان ج۱۰ اول ص۱۴۳
۲۱۶ عبدالسلام مولانا جبل پور ج۳ص۴۲۸
۲۱۷ عظیم الدین مدرس مولانا خیرآباد ج۴ص۶۳ ج۱۱ص۲۷۲
۲۱۹ عبداللطیف مولانا سہسوان ج۱۰ ثانی ص۷۲
۲۲۰ علی بن زید سید مولانا ضلع سورت ج۶ص۳۳۸ ۳۷۰
۲۲۱ عبدالسمیع مولانا میرٹھ ج۱۱ص۱۱۷
۲۲۲ عظیم اللہ مولانا شیرگڑھ ج۱۰ ثانی ص۱۰۰
۲۲۳ عبدالاول سید مولانا کاٹھیاواڑ ج۱۰ثانی ص۲۸۷
۲۲۴ عبدالعزیز میاں مدرس مولانا ضلع سارن ج۱۰ ثانی ص۳۰۴
۲۲۵ عبدالشکور مولانا بلبا ج۵ص۲۷۲
۲۲۶ عبدالرب مولانا رانچی ج۵ص۶۵۱
۲۲۷ عبدالجلیل مولانا بریلی ج۵ص۱۷۵
۲۲۸ عنایت حسین وکیل مولانا ضلع ہردوائی ج۵ص۷۱۷
۲۲۹ عبدالنبی قادری مولانا ج۴ص۵۸۷
۲۳۰ عبدالرحیم مولانا ضلع علی گڑھ ج۴ص۱۱۷
۲۳۱ عبدالحمید مولانا ضلع سلہٹ ج۴ص۵۵
۲۳۲ عبدالحمید قاضی مولانا ککڑی
۲۳۳ عبداللہ مولانا علی گڑھ ج۵ص۷۱۷
۲۳۴ عبداللہ مولانا گورکھ پور ج۴ص۶۷۳
۲۳۵ عبداللہ مولانا بہار شریف ج۴ص۴۵۳
۲۳۶ علی حبیب علوی مولانا ضلع ٹاوہ ج۵ص۳۱۵
۲۳۷ عبدالکریم مولانا احمدآباد گجرات ج۵ص۱۲۶
۲۱۴ عبداللطیف مولانا ضلع رنگ پور ج۱۰ اول ص۲۱۱
۲۱۵ عبدالرحیم خان مولانا ریاست دیوان ج۱۰ اول ص۱۴۳
۲۱۶ عبدالسلام مولانا جبل پور ج۳ص۴۲۸
۲۱۷ عظیم الدین مدرس مولانا خیرآباد ج۴ص۶۳ ج۱۱ص۲۷۲
۲۱۹ عبداللطیف مولانا سہسوان ج۱۰ ثانی ص۷۲
۲۲۰ علی بن زید سید مولانا ضلع سورت ج۶ص۳۳۸ ۳۷۰
۲۲۱ عبدالسمیع مولانا میرٹھ ج۱۱ص۱۱۷
۲۲۲ عظیم اللہ مولانا شیرگڑھ ج۱۰ ثانی ص۱۰۰
۲۲۳ عبدالاول سید مولانا کاٹھیاواڑ ج۱۰ثانی ص۲۸۷
۲۲۴ عبدالعزیز میاں مدرس مولانا ضلع سارن ج۱۰ ثانی ص۳۰۴
۲۲۵ عبدالشکور مولانا بلبا ج۵ص۲۷۲
۲۲۶ عبدالرب مولانا رانچی ج۵ص۶۵۱
۲۲۷ عبدالجلیل مولانا بریلی ج۵ص۱۷۵
۲۲۸ عنایت حسین وکیل مولانا ضلع ہردوائی ج۵ص۷۱۷
۲۲۹ عبدالنبی قادری مولانا ج۴ص۵۸۷
۲۳۰ عبدالرحیم مولانا ضلع علی گڑھ ج۴ص۱۱۷
۲۳۱ عبدالحمید مولانا ضلع سلہٹ ج۴ص۵۵
۲۳۲ عبدالحمید قاضی مولانا ککڑی
۲۳۳ عبداللہ مولانا علی گڑھ ج۵ص۷۱۷
۲۳۴ عبداللہ مولانا گورکھ پور ج۴ص۶۷۳
۲۳۵ عبداللہ مولانا بہار شریف ج۴ص۴۵۳
۲۳۶ علی حبیب علوی مولانا ضلع ٹاوہ ج۵ص۳۱۵
۲۳۷ عبدالکریم مولانا احمدآباد گجرات ج۵ص۱۲۶
۲۳۸ عبدالرحیم مولانا احمدآباد گجرات ج۳ص۷۳۱ ج۴ص۱۶۶ ۱۸۱ ج۵ص۶۵۵ ۷۹۲ ج۶ص ۴۷۲ ج۱۰ثانی ص۴۶ ۲۸۲
۲۳۹ عبدالرحمن مولانا احمدآباد گجرات ج۶ص۱۹۵
۲۴۰ عزیزالرحمن مولانا کلکتہ ج۵ص۴۳۰
۲۴۱ عبدالعزیز مولانا کلکتہ ج۵ص۶۰۷
۲۴۲ عبدالمطلب مولانا کلکتہ ج۳ص۷۳۸
۲۴۳ عبیداللہ مولانا الہ آباد ج۵ص۱۱۹
۲۴۴ عبدالغفور مولانا آرہ ج۵ص۵۲۶
۲۴۵ عبدالمجید شنوپوری مولانا ریاست رام پور ج۵ص۵۷۳ ۵۹۰ ج۱۰ثانی ص۱۱۹ ۳۸۳
۲۴۶ عبدالرؤف مولانا ریاست رام پور ج۳ص۶۸۹
۲۴۷ علیم الدین مولانا ریاست رام پور ج۲ص۳۴۴ ج۵ص۱۸
۲۴۸ عبدالحق مولانا کلکتہ ج۴ص۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۶
۲۴۹ عباس علی میاں مولانا پھڑوچ ج۲ص۳۵۳ ج۴ص۱۸۰ج۶ص۱۴۶
۲۵۰ عبدالرحیم مکرانی مولانا کراچی ج۴ص۲۰۰
۲۵۱ علی احمد مولانا ضلع گیا ج۴ص۲۰۹
۲۵۲ عبدالرحمن حبشانی مولانا کانپور ج۱ص۳۳۴ج۱ص۳۳۶ج۴ص۳۱ ۴۰۵ ج ۵ص۴۸۰ ج۱۰ اول ص ۷۵ ۹۸
۲۵۳ عبدالرحیم مدارسی مولانا بنگلور ج۴ص۵۸
۲۵۴ عبدالصمد مولانا رام پور ج۴ص۵۰۱
۲۵۵ عبدالکریم سید مولانا ج۴ص۸۸ ج۵ص۶۸
۲۵۶ عبداللہ مدرس مولانا گوندہ ملک ج۴ص۴۴۱ ۴۵۳
۲۵۷ عبدالکریم مولانا نواکھائی ج۴ص۸۶
۲۵۸ عطاء الحق سید مولانا مونگیر ج۴ص۱۱۳
۲۵۹ عبدالواحد مولانا بریلی ج۴ص۳۸۰
۲۳۹ عبدالرحمن مولانا احمدآباد گجرات ج۶ص۱۹۵
۲۴۰ عزیزالرحمن مولانا کلکتہ ج۵ص۴۳۰
۲۴۱ عبدالعزیز مولانا کلکتہ ج۵ص۶۰۷
۲۴۲ عبدالمطلب مولانا کلکتہ ج۳ص۷۳۸
۲۴۳ عبیداللہ مولانا الہ آباد ج۵ص۱۱۹
۲۴۴ عبدالغفور مولانا آرہ ج۵ص۵۲۶
۲۴۵ عبدالمجید شنوپوری مولانا ریاست رام پور ج۵ص۵۷۳ ۵۹۰ ج۱۰ثانی ص۱۱۹ ۳۸۳
۲۴۶ عبدالرؤف مولانا ریاست رام پور ج۳ص۶۸۹
۲۴۷ علیم الدین مولانا ریاست رام پور ج۲ص۳۴۴ ج۵ص۱۸
۲۴۸ عبدالحق مولانا کلکتہ ج۴ص۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۶
۲۴۹ عباس علی میاں مولانا پھڑوچ ج۲ص۳۵۳ ج۴ص۱۸۰ج۶ص۱۴۶
۲۵۰ عبدالرحیم مکرانی مولانا کراچی ج۴ص۲۰۰
۲۵۱ علی احمد مولانا ضلع گیا ج۴ص۲۰۹
۲۵۲ عبدالرحمن حبشانی مولانا کانپور ج۱ص۳۳۴ج۱ص۳۳۶ج۴ص۳۱ ۴۰۵ ج ۵ص۴۸۰ ج۱۰ اول ص ۷۵ ۹۸
۲۵۳ عبدالرحیم مدارسی مولانا بنگلور ج۴ص۵۸
۲۵۴ عبدالصمد مولانا رام پور ج۴ص۵۰۱
۲۵۵ عبدالکریم سید مولانا ج۴ص۸۸ ج۵ص۶۸
۲۵۶ عبداللہ مدرس مولانا گوندہ ملک ج۴ص۴۴۱ ۴۵۳
۲۵۷ عبدالکریم مولانا نواکھائی ج۴ص۸۶
۲۵۸ عطاء الحق سید مولانا مونگیر ج۴ص۱۱۳
۲۵۹ عبدالواحد مولانا بریلی ج۴ص۳۸۰
۲۶۰ عبدالودود رضوی مولانا مرادآباد ج۲ص۳۷۲ ج۴ص۲۱۵ ج۱۰ثانی ص۱۷۶
۲۶۱ عمرالدین مولانا بمبئی ج۳ص۴۰۰ ج۴ص۱۸
۲۶۲ عبدالحی مولانا ضلع ٹاوہ ج۲ص۳۷۲ ج۱۰ ثانی ص ۱۵۳ ج۱ص۵۵۴
۲۶۳ عبدالحمید چودھری مولانا ضلع ایٹہ ج۲ص۳۶۷ ج۱۰ثانی ص۱۵۳ ج۱ ص ۵۵۴
۲۶۴ عبدالکریم مدرس مولانا علی گڑھ ج۲ص۲۰۳ ج۳ص۴۳۷ ۶۳۸ ج۵ص۱۶۳
۲۶۵ عبدالخالق مولانا حیدرآباد دکن ج۲ص۱۸۷
۲۶۶ عبدالغفار سید قادری مدرس مولانا بنگلور ج۲ص۱۱۹ ۳۲۲
۲۶۷ عبدالکریم مولانا چتوڑگڑھ ادی پور ج۱ص۳۱۹ ج۲ص۳۲۷
۲۶۸ عبدالجلیل مولانا بنگال ج۳ص۱۳۸
۲۶۹ عبدالشکور ارکانی مولانا امروہہ ج۱ص۵۵۳ ۵۷۴ ج۳ص۷۱۴
۲۷۰ علی احمد مولانا ج۱ص۹۴ ج۴ص۳۷۹ ج۱۰اول ص۱۶۴
۲۷۱ عباس علی عرف مولانا عبدالسلام نواکھالی ج۱ص۲۲۰ ج۵ص۵۹۹ ج۷ص۲۵۱
۲۷۲ عبداللہ مولانا ضلع پنج محل گجرات ج۱ص۵۵۶
۲۷۳ عبداللہ حکیم مولانا گورکھپور ج۴ص۶۷۳ ج۵ص۲۵۱
۲۷۴ عبدالاحد مولانا پیلی بھیت ج۵ص۵۹۹ ج۷ص۵۳
۲۷۵ عبدالسبحان مولانا پیلی بھیت ج۳ص۲۵۵
۲۷۶ عرفان علی رضوی مولانا پیلی بھیت ج۱ص۵۸۶ج۶ص۴۸۵ ج۴ص۵۱۸ ج۱۰ ثانی ص۹۸ ۳۱۱
۲۷۷ عبدالرب مولانا پیلی بھیت ج۱۱ص۱۹۰
۲۷۸ عبدالاول مولانا جون پور ج۵ص۶۱۷ ج۶ص۳۷
۲۷۹ عبدالغفور مولانا ملک بنگالہ ج۵ص۶۳۶
۲۶۱ عمرالدین مولانا بمبئی ج۳ص۴۰۰ ج۴ص۱۸
۲۶۲ عبدالحی مولانا ضلع ٹاوہ ج۲ص۳۷۲ ج۱۰ ثانی ص ۱۵۳ ج۱ص۵۵۴
۲۶۳ عبدالحمید چودھری مولانا ضلع ایٹہ ج۲ص۳۶۷ ج۱۰ثانی ص۱۵۳ ج۱ ص ۵۵۴
۲۶۴ عبدالکریم مدرس مولانا علی گڑھ ج۲ص۲۰۳ ج۳ص۴۳۷ ۶۳۸ ج۵ص۱۶۳
۲۶۵ عبدالخالق مولانا حیدرآباد دکن ج۲ص۱۸۷
۲۶۶ عبدالغفار سید قادری مدرس مولانا بنگلور ج۲ص۱۱۹ ۳۲۲
۲۶۷ عبدالکریم مولانا چتوڑگڑھ ادی پور ج۱ص۳۱۹ ج۲ص۳۲۷
۲۶۸ عبدالجلیل مولانا بنگال ج۳ص۱۳۸
۲۶۹ عبدالشکور ارکانی مولانا امروہہ ج۱ص۵۵۳ ۵۷۴ ج۳ص۷۱۴
۲۷۰ علی احمد مولانا ج۱ص۹۴ ج۴ص۳۷۹ ج۱۰اول ص۱۶۴
۲۷۱ عباس علی عرف مولانا عبدالسلام نواکھالی ج۱ص۲۲۰ ج۵ص۵۹۹ ج۷ص۲۵۱
۲۷۲ عبداللہ مولانا ضلع پنج محل گجرات ج۱ص۵۵۶
۲۷۳ عبداللہ حکیم مولانا گورکھپور ج۴ص۶۷۳ ج۵ص۲۵۱
۲۷۴ عبدالاحد مولانا پیلی بھیت ج۵ص۵۹۹ ج۷ص۵۳
۲۷۵ عبدالسبحان مولانا پیلی بھیت ج۳ص۲۵۵
۲۷۶ عرفان علی رضوی مولانا پیلی بھیت ج۱ص۵۸۶ج۶ص۴۸۵ ج۴ص۵۱۸ ج۱۰ ثانی ص۹۸ ۳۱۱
۲۷۷ عبدالرب مولانا پیلی بھیت ج۱۱ص۱۹۰
۲۷۸ عبدالاول مولانا جون پور ج۵ص۶۱۷ ج۶ص۳۷
۲۷۹ عبدالغفور مولانا ملک بنگالہ ج۵ص۶۳۶
۲۸۰ عبدالمجید مولانا ضلع کمرلہ ج۳ص۸۱۳
۲۸۱ عبدالمجید مولانا چاٹگام ج۵ص۱۲۸
۲۸۲ عبدالغفور مولانا چاٹگام ج۳ص۷۰۶
۲۸۳ عبدالحق مدرس مولانا ضلع سورت ج۳ص۵۷۵ ۷۶۲ ج۴ص۱۲۰ ج۵ص۲۶ ج۱۰اول ص۴۰
۲۸۴ عبدالغفور مولانا بنارس ج۳ص۱۸۶ ۷۹۷ ج۴ص۴۳۹ ۶۵۱ ج۷ص۳۳۰ ج۱۱ص۲
۲۸۵ عبدالوہاب مولانا بنارس ج۶ص۱۱۴
۲۸۶ عبدالغفور مولانا بنارس ج۳ص۷۶۱
۲۸۷ عبدالسمیع مدرس مولانا بنارس ج۷ص۲۱۲
۲۸۸ عبدالحمید مولانا بنارس ج۵ص۱۵۵ ج۱۰ ثانی ص۱۴۷
۲۸۹ عبدالحمیدحافظ مولانا سلہٹ ج۴ص۵۵
۲۹۰ عبدالرزاق مولانا ج۱۱ص۲
غ
۲۹۱ غلام قادر مرزا بیگ مولانا کلکتہ ج۱ص۲۲۰ ج۲ص۳۵ ۴۲ ۴۳ ۶۸ ۳۴۰ ۱۸۸ ج۳ص۱ ۸ ۹۴ ۱۵۸ ۱۶۳ ۳۱۴ ۳۲۰ ۳۲۲ ۳۸۱
۴۱۴ ۴۲۲ ۴۵۳ ۶۷۷ ۶۸۴ ج۴ص۵۱۶ ۵۳۶
ج۳ص۴۰۲ ۴۰۷ ج۷ص۳۱ ۳۴۳ ج۱۰ص۲۳ ۵۶
ج۱۰ اول ص۶۴ ۶۵
۲۹۲ غلام رسول سید وکیل مولانا صوبہ اورنگ آباد ج۷ص۳۳
۲۹۳ غلام گیلانی قاضی مولانا شمس آباد اٹک ج۵ص۱۰۴ ۱۷۹ ۷۴۰ ۷۶۰ ج۶ص۴۱۶ ۷۴۰
ج۷ص۵۲۳
۲۸۱ عبدالمجید مولانا چاٹگام ج۵ص۱۲۸
۲۸۲ عبدالغفور مولانا چاٹگام ج۳ص۷۰۶
۲۸۳ عبدالحق مدرس مولانا ضلع سورت ج۳ص۵۷۵ ۷۶۲ ج۴ص۱۲۰ ج۵ص۲۶ ج۱۰اول ص۴۰
۲۸۴ عبدالغفور مولانا بنارس ج۳ص۱۸۶ ۷۹۷ ج۴ص۴۳۹ ۶۵۱ ج۷ص۳۳۰ ج۱۱ص۲
۲۸۵ عبدالوہاب مولانا بنارس ج۶ص۱۱۴
۲۸۶ عبدالغفور مولانا بنارس ج۳ص۷۶۱
۲۸۷ عبدالسمیع مدرس مولانا بنارس ج۷ص۲۱۲
۲۸۸ عبدالحمید مولانا بنارس ج۵ص۱۵۵ ج۱۰ ثانی ص۱۴۷
۲۸۹ عبدالحمیدحافظ مولانا سلہٹ ج۴ص۵۵
۲۹۰ عبدالرزاق مولانا ج۱۱ص۲
غ
۲۹۱ غلام قادر مرزا بیگ مولانا کلکتہ ج۱ص۲۲۰ ج۲ص۳۵ ۴۲ ۴۳ ۶۸ ۳۴۰ ۱۸۸ ج۳ص۱ ۸ ۹۴ ۱۵۸ ۱۶۳ ۳۱۴ ۳۲۰ ۳۲۲ ۳۸۱
۴۱۴ ۴۲۲ ۴۵۳ ۶۷۷ ۶۸۴ ج۴ص۵۱۶ ۵۳۶
ج۳ص۴۰۲ ۴۰۷ ج۷ص۳۱ ۳۴۳ ج۱۰ص۲۳ ۵۶
ج۱۰ اول ص۶۴ ۶۵
۲۹۲ غلام رسول سید وکیل مولانا صوبہ اورنگ آباد ج۷ص۳۳
۲۹۳ غلام گیلانی قاضی مولانا شمس آباد اٹک ج۵ص۱۰۴ ۱۷۹ ۷۴۰ ۷۶۰ ج۶ص۴۱۶ ۷۴۰
ج۷ص۵۲۳
۲۹۴ غلام محی الدین مولانا ضلع سورت ج۴ص۴۹۲ ج۶ص۴۸۰ ج۱۰ ثانی ص۳۰۵
۲۹۵ غلام فرید مولانا محمدپورو ڈہرہ والا احمدپور ج۶ص۴۸۵
۲۹۶ غلام امام سید ج۳ص۷۳
۲۹۷ غلام ربانی مولانا اٹک ج۶ص۱۷۵ ج۴ص۱۲۱
۲۹۸ غلام صدیق مولانا بیرم نگر ج۷ص۲۴۸
۲۹۹ غلام محمد پیرزادہ مولانا احمدآباد گجرات ج۷ص۳۱۰ ج۱۰ ثانی ص۳۰۴
۳۰۰ غلام حیدر مولانا ریاست رام پور ج۵ص۴۶۱
۳۰۱ غلام نبی سید مولانا کاٹھیاواڑ ضلع راجکوٹ ج۲ص۱۲ ج۳ص۷۵۷
۳۰۲ غلام گیلانی قاضی مولانا لاہور ج۵ص۲۶۷
۳۰۳ غلام محی الدین مولانا اٹک ج۵ص۷۴
۳۰۴ غلام کبریا مولانا ضلع گڑگاواں ج۵ص۷۶۷
۳۰۵ غلام گیلانی قاضی مولانا کاٹھیاواڑ ج۳ص۶۹
۳۰۶ غلام مصطفی پنجابی مولانا بریلی ج۳ص۱۷۰
۳۰۷ غلام جان مولانا بریلی ج۳ص۶۰۳ ۶۶۷ ج۴ص۱۱۰
۳۰۸ غلام محی الدین مولانا احمدآباد گجرات ج۱۰ص۱۲۹
۳۰۹ غلام مصطفی مولانا بجنور ج۷ص۲۵۷
ف
۳۱۰ فضل احمد بدایونی مولانا سہسوان ج۶ص۳۷۱
۳۱۱ فخرالحسن سید مدرس مولانا خیرآباد ضلع سیتاپور ج۲ص۳۳۱ ج۴ص۷۷ ۱۲۳ ج۵ص۵۱ ۵۶۵ ج ۷ص۲۸۴و۲۸۵ ج۱۰ثانی ص۶۳
۳۱۲ فضل قدیر مولانا ضلع کرنالہ ج۷ص۱۰۰
۳۱۳ فضل حق مولانا پیلی بھیت ج۵ص۵۲۴
۳۱۴ فیض محمد مولانا ضلع اجمیرشریف ج۵ص۶۷۵
۲۹۵ غلام فرید مولانا محمدپورو ڈہرہ والا احمدپور ج۶ص۴۸۵
۲۹۶ غلام امام سید ج۳ص۷۳
۲۹۷ غلام ربانی مولانا اٹک ج۶ص۱۷۵ ج۴ص۱۲۱
۲۹۸ غلام صدیق مولانا بیرم نگر ج۷ص۲۴۸
۲۹۹ غلام محمد پیرزادہ مولانا احمدآباد گجرات ج۷ص۳۱۰ ج۱۰ ثانی ص۳۰۴
۳۰۰ غلام حیدر مولانا ریاست رام پور ج۵ص۴۶۱
۳۰۱ غلام نبی سید مولانا کاٹھیاواڑ ضلع راجکوٹ ج۲ص۱۲ ج۳ص۷۵۷
۳۰۲ غلام گیلانی قاضی مولانا لاہور ج۵ص۲۶۷
۳۰۳ غلام محی الدین مولانا اٹک ج۵ص۷۴
۳۰۴ غلام کبریا مولانا ضلع گڑگاواں ج۵ص۷۶۷
۳۰۵ غلام گیلانی قاضی مولانا کاٹھیاواڑ ج۳ص۶۹
۳۰۶ غلام مصطفی پنجابی مولانا بریلی ج۳ص۱۷۰
۳۰۷ غلام جان مولانا بریلی ج۳ص۶۰۳ ۶۶۷ ج۴ص۱۱۰
۳۰۸ غلام محی الدین مولانا احمدآباد گجرات ج۱۰ص۱۲۹
۳۰۹ غلام مصطفی مولانا بجنور ج۷ص۲۵۷
ف
۳۱۰ فضل احمد بدایونی مولانا سہسوان ج۶ص۳۷۱
۳۱۱ فخرالحسن سید مدرس مولانا خیرآباد ضلع سیتاپور ج۲ص۳۳۱ ج۴ص۷۷ ۱۲۳ ج۵ص۵۱ ۵۶۵ ج ۷ص۲۸۴و۲۸۵ ج۱۰ثانی ص۶۳
۳۱۲ فضل قدیر مولانا ضلع کرنالہ ج۷ص۱۰۰
۳۱۳ فضل حق مولانا پیلی بھیت ج۵ص۵۲۴
۳۱۴ فیض محمد مولانا ضلع اجمیرشریف ج۵ص۶۷۵
۳۱۵ فیض الحق مولانا ضلع حرولہ ج۱۰ ثانی ص۱۰۳
۳۱۶ فضل امیر مولانا کنوٹوٹرہ ج۱۰ثانی ص۱۱۱
۳۱۷ فاضل مولانا ج۵ص۷۱۱
ق
۳۱۸ قاسم علی مولانا شہرکمرلہ ج۱۰ثانی ص۹۷
۳۱۹ قمرالحسن مولانا رائے بریلی ج۱۰ثانی ص۱۵۲
ک
۳۲۰ کمال الدین جعفری سید وکیل مولانا الہ آباد ج۶ص۴۲۶
۳۲۱ کریم بخش مولانا پیلی بھیت ج۵ص۷۶۸
۳۲۲ کریم بخش مولانا بلندشہر ج۵ص۴۶۰
۳۲۳ کریم رضا سید مولانا ضلع گنج گیا ج۳ص۴۷۷ ۷۰۰ ج۴ص۳۴ ج۵ص۳۲۷
۴۶۰ ج۱۰اول ص۸۱ ۸۳ ۱۰۳ ۱۶۹
۳۲۴ کازم الدین مولانا شہرکمرلہ ج۱۰اول ص۲۴۰
ل
۳۲۴ (ا) لعل نور مولانا وزیرآباد(گوجرانوالہ) ج۶ص۴۴۴
۳۲۴ (ب)لطف اللہ مفتی خلف مفتی سعداللہ مولانا رامپور ج۷ص۴۴۰
م
۳۲۵ محمدصاحب محمدی برادرمفتی اسد اللہ خان مو لانا الہ آباد ج۷ص۷۶ ۷۹
۳۲۶ محمدعنایت صابری مولانا ضلع امرتسر ج۷ص۷۶ ۷۹
۳۲۷ محمد احمد سید محدث کچھوچھوی مولانا کچھوچھہ شریف ج۷ص۲۳۸
۳۲۸ محمدرضاخان مولانا بدایوں ج۷ص۲۳۹
۳۲۹ محمدعلیم الدین مولانا رام پور ج۷ص۲۶۰
۳۳۰ محمدزاہد سید مولانا بلالگرام شریف ہردوئی ج۷ص۳۲۵
۳۳۱ محمدعبداللہ مولانا الہ آباد ج۷ص۳۳۲
۳۱۶ فضل امیر مولانا کنوٹوٹرہ ج۱۰ثانی ص۱۱۱
۳۱۷ فاضل مولانا ج۵ص۷۱۱
ق
۳۱۸ قاسم علی مولانا شہرکمرلہ ج۱۰ثانی ص۹۷
۳۱۹ قمرالحسن مولانا رائے بریلی ج۱۰ثانی ص۱۵۲
ک
۳۲۰ کمال الدین جعفری سید وکیل مولانا الہ آباد ج۶ص۴۲۶
۳۲۱ کریم بخش مولانا پیلی بھیت ج۵ص۷۶۸
۳۲۲ کریم بخش مولانا بلندشہر ج۵ص۴۶۰
۳۲۳ کریم رضا سید مولانا ضلع گنج گیا ج۳ص۴۷۷ ۷۰۰ ج۴ص۳۴ ج۵ص۳۲۷
۴۶۰ ج۱۰اول ص۸۱ ۸۳ ۱۰۳ ۱۶۹
۳۲۴ کازم الدین مولانا شہرکمرلہ ج۱۰اول ص۲۴۰
ل
۳۲۴ (ا) لعل نور مولانا وزیرآباد(گوجرانوالہ) ج۶ص۴۴۴
۳۲۴ (ب)لطف اللہ مفتی خلف مفتی سعداللہ مولانا رامپور ج۷ص۴۴۰
م
۳۲۵ محمدصاحب محمدی برادرمفتی اسد اللہ خان مو لانا الہ آباد ج۷ص۷۶ ۷۹
۳۲۶ محمدعنایت صابری مولانا ضلع امرتسر ج۷ص۷۶ ۷۹
۳۲۷ محمد احمد سید محدث کچھوچھوی مولانا کچھوچھہ شریف ج۷ص۲۳۸
۳۲۸ محمدرضاخان مولانا بدایوں ج۷ص۲۳۹
۳۲۹ محمدعلیم الدین مولانا رام پور ج۷ص۲۶۰
۳۳۰ محمدزاہد سید مولانا بلالگرام شریف ہردوئی ج۷ص۳۲۵
۳۳۱ محمدعبداللہ مولانا الہ آباد ج۷ص۳۳۲
۳۳۲ محمدمنور سید مولانا رامپور ج۷ص۳۳۸
۳۳۳ محمدعنایت اللہ حافظ مولانا رامپور ج۷ص۳۵۷ ۵۴۵
۳۳۴ محمدنفیس مولانا لکھنؤ ج۱۰ اول ص۲۵۷
۳۳۵ محمدعمرالدین مولانا بمبئی ج۱۰ اول ص۱۱۰
۳۳۶ محمداسرارالحق مولانا بڑودہ گجرات ج۱۰اول ص۱۶۹
۳۳۷ محمدعبدالسمیع مولانا میرٹھ ج۱۱ص۱۱۷
۳۳۸ مختار علی وکیل مولانا اوجین حویلی میرٹھ ج۵ص۲۳۸
۳۳۹ مہدی حسن شاہ مولانا مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ ج۲ص۱۳۰ ج۱۰ اول ص۱۵۸
۳۴۰ محمدافضل کابلالی مولانا بریلی ج۲ص۱۷۷ ۳۷۴ج۳ص۱۲۹ ۲۷۲ج۵ص۶۷ ج ۶ص۱۳۱ ج۱۰ثانی ص۱۵۶ ۱۶۳ ۲۵۴
۳۴۱ محمدحبیب اللہ قادری رضوی مولانا میرٹھ ج۳ص۳۱۳ ج۰ ۱ ثانی ص۲۰۹
۳۴۲ محمودحسین مولانا بریلی ج۳ص۲۶۰ ج۱۰ اول ص۱۶۳ ج۱۰ ثانی ص ۱۴۷
۳۴۳ محمدحیات مدرس مولانا کوٹ ڈسکہ ج۳ص۶۰
۳۴۴ محمد ابراہیم احمدآبادی مولانا مدرسہ نعمانیہ دہلی ج۳ص۶۰
۳۴۵ محمد حبیب علی علوی مولانا ضلع ٹاوہ ج۳ص۵۴
۳۴۶ مظہرحسین مولانا بلاسپور ج۳ص۶۰
۳۴۷ مقبول حسن مدرس مولانا شاہجہانپور ج۳ص۲۵۵
۳۴۸ محمدیسین مولانا دربھنگہ ج۳ص۱۱۰
۳۴۹ محمد احسان مولانا ج۳ص۳۵۵
۳۵۰ محمد احسان الحق مولانا میرٹھ ج۳ص۴۰۹ ۴۷۹
۳۵۱ محمداسمعیل مولانا چاٹگام ج۳ص۴۳۶
۳۵۲ محمدرکن الدین نقشبندی مولانا ریاست راجپوتانہ ج۳ص۳۵۶ ۴۶۱
۳۵۳ محمدعلی سید مدرس مولانا سنبھل مرادآباد ج۳ص۳۶۲
۳۳۳ محمدعنایت اللہ حافظ مولانا رامپور ج۷ص۳۵۷ ۵۴۵
۳۳۴ محمدنفیس مولانا لکھنؤ ج۱۰ اول ص۲۵۷
۳۳۵ محمدعمرالدین مولانا بمبئی ج۱۰ اول ص۱۱۰
۳۳۶ محمداسرارالحق مولانا بڑودہ گجرات ج۱۰اول ص۱۶۹
۳۳۷ محمدعبدالسمیع مولانا میرٹھ ج۱۱ص۱۱۷
۳۳۸ مختار علی وکیل مولانا اوجین حویلی میرٹھ ج۵ص۲۳۸
۳۳۹ مہدی حسن شاہ مولانا مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ ج۲ص۱۳۰ ج۱۰ اول ص۱۵۸
۳۴۰ محمدافضل کابلالی مولانا بریلی ج۲ص۱۷۷ ۳۷۴ج۳ص۱۲۹ ۲۷۲ج۵ص۶۷ ج ۶ص۱۳۱ ج۱۰ثانی ص۱۵۶ ۱۶۳ ۲۵۴
۳۴۱ محمدحبیب اللہ قادری رضوی مولانا میرٹھ ج۳ص۳۱۳ ج۰ ۱ ثانی ص۲۰۹
۳۴۲ محمودحسین مولانا بریلی ج۳ص۲۶۰ ج۱۰ اول ص۱۶۳ ج۱۰ ثانی ص ۱۴۷
۳۴۳ محمدحیات مدرس مولانا کوٹ ڈسکہ ج۳ص۶۰
۳۴۴ محمد ابراہیم احمدآبادی مولانا مدرسہ نعمانیہ دہلی ج۳ص۶۰
۳۴۵ محمد حبیب علی علوی مولانا ضلع ٹاوہ ج۳ص۵۴
۳۴۶ مظہرحسین مولانا بلاسپور ج۳ص۶۰
۳۴۷ مقبول حسن مدرس مولانا شاہجہانپور ج۳ص۲۵۵
۳۴۸ محمدیسین مولانا دربھنگہ ج۳ص۱۱۰
۳۴۹ محمد احسان مولانا ج۳ص۳۵۵
۳۵۰ محمد احسان الحق مولانا میرٹھ ج۳ص۴۰۹ ۴۷۹
۳۵۱ محمداسمعیل مولانا چاٹگام ج۳ص۴۳۶
۳۵۲ محمدرکن الدین نقشبندی مولانا ریاست راجپوتانہ ج۳ص۳۵۶ ۴۶۱
۳۵۳ محمدعلی سید مدرس مولانا سنبھل مرادآباد ج۳ص۳۶۲
۳۵۴ محمدعبدالعلی مدراسی مولانا لکھنؤ ج۱۱ص۱۲۴ ج۵ص۳۲۲
۳۵۵ محمد عبدالحلیم مولانا کانپور ج۵ص۲۴۰
۳۵۶ محمد اسمعیل مولانا شہرپوربندر ج۵ص۳۴۴
۳۵۷ محمدعلی ارم مدرس مولانا ضلع شیخاوائی ج۵ص۳۴۴
۳۵۸ محمدیارعلی مدرس مولانا بستی ج۵ص۳۴۸ ج۳ص۳۷۷
۳۵۹ محمدامانت رسول مولانا رام پور ج۵ص۱۶۹
۳۶۰ مشتاق احمدمدرس مولانا اجمیرشریف ج۵ص۲۷۰
۳۶۱ محمدعظیم مولانا کلکتہ دھرم تلا ج۳ص۱۸۱ ج۵ص۲۳۸ ج۱۰ثانی ص۱۴۰
۳۶۲ محمدیعقوب علی خان مولانا اوجین گوالیار ج۲ص۱۷ ۱۴۶ ج۳ص۵۰ ۱۵۲ ۴۶۲ ۴۷۶ ۵۱۴ ۵۵۵ ۶۱۰ ۶۱۳ ۶۲۰ ۷۶۰ ۸۰۹ ج۵ص۲۱۲ ۲۸۷ ۳۱۳ ۳۸۷ ۴۰۱ ۷۳۳ ج۶ص۳۱۶ ج۷ص۹۱ ۳۲۹ ج۱۰اول ص۳۸ ۴۰ ۴۴ ۶۶ ۲۲۸ ج۱۱ص۱و۶
۳۶۳ محمدحبیب الرحمن سلہٹی مولانا مرادآباد ج۳ص۳۳۹
۳۶۴ محمدبیگ مرزا مولانا سنگڑہ ج۳ص۶۳
۳۶۵ محمدنورولایتی مولانا سہسرام ج۳ص۹۶
۳۶۶ محمدمہدی مولانا چاٹگام ج۳ص۴۸۸
۳۶۷ محمدسعداللہ مولانا بمبئی ج۳ص۵۰۸
۳۶۸ محمدرمضان مولانا اکبرآباد ج۶ص۳۸۵
۳۶۹ محمدصابر مدرس مولانا اعظم گڑھ ج۶ص۴۳۲
۳۷۰ محمودحسین مولانا شہرآگرہ ج۶ص۵۱۰
۳۷۱ محمدطاہر مولانا ملیسار ج۶ص۱۵۷
۳۵۵ محمد عبدالحلیم مولانا کانپور ج۵ص۲۴۰
۳۵۶ محمد اسمعیل مولانا شہرپوربندر ج۵ص۳۴۴
۳۵۷ محمدعلی ارم مدرس مولانا ضلع شیخاوائی ج۵ص۳۴۴
۳۵۸ محمدیارعلی مدرس مولانا بستی ج۵ص۳۴۸ ج۳ص۳۷۷
۳۵۹ محمدامانت رسول مولانا رام پور ج۵ص۱۶۹
۳۶۰ مشتاق احمدمدرس مولانا اجمیرشریف ج۵ص۲۷۰
۳۶۱ محمدعظیم مولانا کلکتہ دھرم تلا ج۳ص۱۸۱ ج۵ص۲۳۸ ج۱۰ثانی ص۱۴۰
۳۶۲ محمدیعقوب علی خان مولانا اوجین گوالیار ج۲ص۱۷ ۱۴۶ ج۳ص۵۰ ۱۵۲ ۴۶۲ ۴۷۶ ۵۱۴ ۵۵۵ ۶۱۰ ۶۱۳ ۶۲۰ ۷۶۰ ۸۰۹ ج۵ص۲۱۲ ۲۸۷ ۳۱۳ ۳۸۷ ۴۰۱ ۷۳۳ ج۶ص۳۱۶ ج۷ص۹۱ ۳۲۹ ج۱۰اول ص۳۸ ۴۰ ۴۴ ۶۶ ۲۲۸ ج۱۱ص۱و۶
۳۶۳ محمدحبیب الرحمن سلہٹی مولانا مرادآباد ج۳ص۳۳۹
۳۶۴ محمدبیگ مرزا مولانا سنگڑہ ج۳ص۶۳
۳۶۵ محمدنورولایتی مولانا سہسرام ج۳ص۹۶
۳۶۶ محمدمہدی مولانا چاٹگام ج۳ص۴۸۸
۳۶۷ محمدسعداللہ مولانا بمبئی ج۳ص۵۰۸
۳۶۸ محمدرمضان مولانا اکبرآباد ج۶ص۳۸۵
۳۶۹ محمدصابر مدرس مولانا اعظم گڑھ ج۶ص۴۳۲
۳۷۰ محمودحسین مولانا شہرآگرہ ج۶ص۵۱۰
۳۷۱ محمدطاہر مولانا ملیسار ج۶ص۱۵۷
۳۷۲ محمدبخش حنفی چشتی مولانا لاہور ج۶ص۱۰۱
۳۷۳ محمدمیاں سید مولانا مارہرہ مطہرہ ج۶ص۱۱۳ ۲۱۱ ج۲ص۱۱۵
۳۷۴ محمدقاسم مدرس مولانا ج۶ص۱۱۸
۳۷۵ محمدامان اللہ مدرس مولانا بنارس ج۶ص۲۱ ۴۳۸
۳۷۶ محمدادریس مولانا کانپور ج۷ص۴۴
۳۷۷ محمدامام الدین مولانا رامپور ج۷ص۷۰
۳۷۸ محمدصدیق مولانا پیلی بھیت ج۲ص۳۸۵
۳۷۹ محمدبرہان الحق مفتی مولانا جبل پور ج۲ص۳۰۵
۳۸۰ محمدافضل بخاری مولانا
۳۸۱ محمدالدین مجددی مولانا گجرات بھڑوچ ج۲ص۳۵۲
۳۸۲ محمدعبدالباری مولانا مرادآباد ج۲ص۳۱۴ ج۳ص۲۷۸ ۵۸۴ ۷۴۶ ج۱۰ثانی ص۲۵۲
۳۸۳ محمدرضاعلی مولانا بنارس ج۲ص۱۶۵
۳۸۴ محمدعبدالحمید پانی پتی چشتی فریدی مولانا بنارس ج۲ص۴۴ ج۴ص۶۵۲ ج۶ص۳۲
۳۸۵ مودودالحسن شہسوانی مولانا ج۲ص۲۸
۳۸۶ محمدرضاخان عرف نتھے میاں مولانا بریلی ج۲ص۱۸۰
۳۸۷ محمدیحیی مولانا رامپور ج۲ص۲۰۱ ج۳ص۱۰۵
۳۸۸ محمداسمعیل قاضی مولانا ضلع اودے پور ج۱ص۵۷۰ ۵۷۷
۳۸۹ محمدیقین الدین مولانا ناگپور ج۳ص۱۴۸
۳۹۰ محمدمحسن مولانا جونپور ج۱ص۵۸۱
۳۹۱ محمدیعقوب ارکانی مولانا رامپور ج۱ص۳۲
۳۹۲ محمداسمعیل مولانا شہرپوربندر ج۵ص۴۲۹
۳۹۳ محمدفضل قادری فاروقی مولانا
۳۹۴ ممنون حسن مولانا بنارس ج۱۰ ثانی ص۴۳
۳۹۵ محمدمعصوم شاہ پیرزادہ مولانا ملک گجرات ج۱۰ثانی ص۶۵
۳۷۳ محمدمیاں سید مولانا مارہرہ مطہرہ ج۶ص۱۱۳ ۲۱۱ ج۲ص۱۱۵
۳۷۴ محمدقاسم مدرس مولانا ج۶ص۱۱۸
۳۷۵ محمدامان اللہ مدرس مولانا بنارس ج۶ص۲۱ ۴۳۸
۳۷۶ محمدادریس مولانا کانپور ج۷ص۴۴
۳۷۷ محمدامام الدین مولانا رامپور ج۷ص۷۰
۳۷۸ محمدصدیق مولانا پیلی بھیت ج۲ص۳۸۵
۳۷۹ محمدبرہان الحق مفتی مولانا جبل پور ج۲ص۳۰۵
۳۸۰ محمدافضل بخاری مولانا
۳۸۱ محمدالدین مجددی مولانا گجرات بھڑوچ ج۲ص۳۵۲
۳۸۲ محمدعبدالباری مولانا مرادآباد ج۲ص۳۱۴ ج۳ص۲۷۸ ۵۸۴ ۷۴۶ ج۱۰ثانی ص۲۵۲
۳۸۳ محمدرضاعلی مولانا بنارس ج۲ص۱۶۵
۳۸۴ محمدعبدالحمید پانی پتی چشتی فریدی مولانا بنارس ج۲ص۴۴ ج۴ص۶۵۲ ج۶ص۳۲
۳۸۵ مودودالحسن شہسوانی مولانا ج۲ص۲۸
۳۸۶ محمدرضاخان عرف نتھے میاں مولانا بریلی ج۲ص۱۸۰
۳۸۷ محمدیحیی مولانا رامپور ج۲ص۲۰۱ ج۳ص۱۰۵
۳۸۸ محمداسمعیل قاضی مولانا ضلع اودے پور ج۱ص۵۷۰ ۵۷۷
۳۸۹ محمدیقین الدین مولانا ناگپور ج۳ص۱۴۸
۳۹۰ محمدمحسن مولانا جونپور ج۱ص۵۸۱
۳۹۱ محمدیعقوب ارکانی مولانا رامپور ج۱ص۳۲
۳۹۲ محمداسمعیل مولانا شہرپوربندر ج۵ص۴۲۹
۳۹۳ محمدفضل قادری فاروقی مولانا
۳۹۴ ممنون حسن مولانا بنارس ج۱۰ ثانی ص۴۳
۳۹۵ محمدمعصوم شاہ پیرزادہ مولانا ملک گجرات ج۱۰ثانی ص۶۵
۳۹۶ محمدعبدالمجیدخان یوسف زئی وکیل علی گڑھ ج۱۰ ثانی ص۷۳
۳۹۷ معظم علی مولانا حیدرآباد دکن ج۱۰ ثانی ص۷۳
۳۹۸ محمدعلی سید مولانا کانپور
۳۹۹ محمدعبدالحمید مولانا بنارس ج۱۰ ثانی ص۷۷
۴۰۰ محمدمیاں مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۰۲
۴۰۱ محمدطاہررضوی مولانا ج۱ص۳۱۵
۴۰۲ محمدظہورالحق مولانا ج۳ص۲۵۷
۴۰۳ میراحمدبنگالی مولانا ج۶ص۱۱۹ ج۱۱ ص۳۲۴
۴۰۵ محمدمیاں سید صاحبزادہ مولانا ضلع سیتاپور ج۱ص۵۷۲
۴۰۶ محمدالہ مولانا ضلع پیرہ ج۶ص۲۷
۴۰۷ محمدسلیم خان مدرس مولانا ضلع ہگلی ج۶ص۷۲
۴۰۸ محمدرمضان مولانا ریاست راجپوتانہ ج۶ص۴۴ ۴۵
۴۰۹ محمدحسین شاہ مدرس مولانا مدراس ج۶ص۱۸۴
۴۱۰ محمدعبدالرحمن مولانا جودھپور ج۶ص۲۰۸
۴۱۱ محمدعبدالغنی مولانا امرتسر ج۶ص۲۹۷
۴۱۲ محمدسلیمان مولانا کانپور ج۷ص۵۲۴
۴۱۳ محمدیار مولانا بہاولپور ج۷ص۵۲۹
۴۱۴ محمدعبداللہ مدرس مولانا علی گڑھ ج۷ص۵۳۷
۴۱۵ میاں جان شاہ مولانا رام پور ج۷ص۴۷۹
۴۱۶ میرغلام مدرس مولانا گوجرخان ضلع راولپنڈی ج۷ص۵۴۰
۴۱۷ محمودبیگ مرزا وکیل مولانا شہرگوندہ ج۷ص۴
۴۱۸ محمدبشیرالدین مولانا کانپور ج۷ص۳۶ ج۱۰ثانی ص۳۹
۴۱۹ محمدحشمت علی رضوی مدرس مولانا بریلی ج ۲ ص ۱۳۹ج ۳ ص ۴۰۹ج ۵ص۵۵۳ ۶۶۳۸ ج ص۷۰ ۱۴۰ ج۷ص۴۰ ۱۰۳
۳۹۷ معظم علی مولانا حیدرآباد دکن ج۱۰ ثانی ص۷۳
۳۹۸ محمدعلی سید مولانا کانپور
۳۹۹ محمدعبدالحمید مولانا بنارس ج۱۰ ثانی ص۷۷
۴۰۰ محمدمیاں مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۰۲
۴۰۱ محمدطاہررضوی مولانا ج۱ص۳۱۵
۴۰۲ محمدظہورالحق مولانا ج۳ص۲۵۷
۴۰۳ میراحمدبنگالی مولانا ج۶ص۱۱۹ ج۱۱ ص۳۲۴
۴۰۵ محمدمیاں سید صاحبزادہ مولانا ضلع سیتاپور ج۱ص۵۷۲
۴۰۶ محمدالہ مولانا ضلع پیرہ ج۶ص۲۷
۴۰۷ محمدسلیم خان مدرس مولانا ضلع ہگلی ج۶ص۷۲
۴۰۸ محمدرمضان مولانا ریاست راجپوتانہ ج۶ص۴۴ ۴۵
۴۰۹ محمدحسین شاہ مدرس مولانا مدراس ج۶ص۱۸۴
۴۱۰ محمدعبدالرحمن مولانا جودھپور ج۶ص۲۰۸
۴۱۱ محمدعبدالغنی مولانا امرتسر ج۶ص۲۹۷
۴۱۲ محمدسلیمان مولانا کانپور ج۷ص۵۲۴
۴۱۳ محمدیار مولانا بہاولپور ج۷ص۵۲۹
۴۱۴ محمدعبداللہ مدرس مولانا علی گڑھ ج۷ص۵۳۷
۴۱۵ میاں جان شاہ مولانا رام پور ج۷ص۴۷۹
۴۱۶ میرغلام مدرس مولانا گوجرخان ضلع راولپنڈی ج۷ص۵۴۰
۴۱۷ محمودبیگ مرزا وکیل مولانا شہرگوندہ ج۷ص۴
۴۱۸ محمدبشیرالدین مولانا کانپور ج۷ص۳۶ ج۱۰ثانی ص۳۹
۴۱۹ محمدحشمت علی رضوی مدرس مولانا بریلی ج ۲ ص ۱۳۹ج ۳ ص ۴۰۹ج ۵ص۵۵۳ ۶۶۳۸ ج ص۷۰ ۱۴۰ ج۷ص۴۰ ۱۰۳
۴۲۰ محمودالحسن مولانا گوالیار ج۴ص۸۷ ۱۶۵ ج۷ص۵۲۱ ج۱۰ثانی ص۱۰۸
۴۲۱ محمودحسن شاگرد مولوی رشیداحمدگنگوہی مولانا ج۴ص۴۷۴ ج۱۰اول ص۳۷ ۷۵ ج۱۱ص۱۵۵
۴۲۲ محمداسحاق مولانا ایٹہ ج۴ص۶۶۱
۴۲۳ محمدعبداللہ میرپوری مولانا میرپورآزاد کشمیر ج۴ص۴۹۶
۴۲۴ محمداسمعیل محمودآبادی مولانا بریلی ج۴ص۴۹۸ ج۵ص۷۸ ۴۵۳ ج۱۰ثانی ص۱۱۹
۴۲۵ محمدسجادابوالمحاسن مدرس مولانا شہرگیا ج۴ص۶۸۶
۴۲۶ محمداقبال مولانا سیالکوٹ ج۵ص۹۶
۴۲۷ مفیض الرحمن سید مدرس مولانا ضلع چٹاگانگ ج۲ص۶ ۱۱۹ ج۳ص۸۶ ج۵ص۴۳۴ ج۱۰ثانی ص۱۸۶
۴۲۸ محمدعمر مولانا رائے بریلی ج۵ص۵۲
۴۲۹ محمدعبدالمجید مدرس مولانا ریاست گوالیار ج۵ص۱۹۴
۴۳۰ محمدابراہیم قادری حنفی مولانا احمدنگردکن ج۵ص۱۹۴
۴۳۱ محمد علاء الدین مولانا ضلع ماں بھوم ج۵ص۱۹۹ ج۶ص۳۰
۴۳۲ محمدوصی احمدمحدث سورتی مولانا پیلی بھیت ج۱ص۳۱۵ج۲ص۱۹۵ج۳ص۷۶ ۱۷۷ ۲۰۴ ۳۵۲ ۵۱۱ ۷۱۸ ۸۰۵ ج۴ص۶۶۹ ج۵ ص۲۲۸ تا ۲۳۸ ج۶ص۲۳ ۳۶۹ ۵۳۱ ج۱۰ اول ص۳۸ ۶۵
۴۳۳ مظفر علی سید مدرس مولانا ضلع رائے پور ج۶ص۴۹۱
۴۳۴ محمداحسان مولانا پیلی بھیت ج۳ص۱۴۹
۴۳۵ محمدعبدالعزیز ابوالرشید مولانا مزنگ لاہور ج۲ص۳۱۴
۴۲۱ محمودحسن شاگرد مولوی رشیداحمدگنگوہی مولانا ج۴ص۴۷۴ ج۱۰اول ص۳۷ ۷۵ ج۱۱ص۱۵۵
۴۲۲ محمداسحاق مولانا ایٹہ ج۴ص۶۶۱
۴۲۳ محمدعبداللہ میرپوری مولانا میرپورآزاد کشمیر ج۴ص۴۹۶
۴۲۴ محمداسمعیل محمودآبادی مولانا بریلی ج۴ص۴۹۸ ج۵ص۷۸ ۴۵۳ ج۱۰ثانی ص۱۱۹
۴۲۵ محمدسجادابوالمحاسن مدرس مولانا شہرگیا ج۴ص۶۸۶
۴۲۶ محمداقبال مولانا سیالکوٹ ج۵ص۹۶
۴۲۷ مفیض الرحمن سید مدرس مولانا ضلع چٹاگانگ ج۲ص۶ ۱۱۹ ج۳ص۸۶ ج۵ص۴۳۴ ج۱۰ثانی ص۱۸۶
۴۲۸ محمدعمر مولانا رائے بریلی ج۵ص۵۲
۴۲۹ محمدعبدالمجید مدرس مولانا ریاست گوالیار ج۵ص۱۹۴
۴۳۰ محمدابراہیم قادری حنفی مولانا احمدنگردکن ج۵ص۱۹۴
۴۳۱ محمد علاء الدین مولانا ضلع ماں بھوم ج۵ص۱۹۹ ج۶ص۳۰
۴۳۲ محمدوصی احمدمحدث سورتی مولانا پیلی بھیت ج۱ص۳۱۵ج۲ص۱۹۵ج۳ص۷۶ ۱۷۷ ۲۰۴ ۳۵۲ ۵۱۱ ۷۱۸ ۸۰۵ ج۴ص۶۶۹ ج۵ ص۲۲۸ تا ۲۳۸ ج۶ص۲۳ ۳۶۹ ۵۳۱ ج۱۰ اول ص۳۸ ۶۵
۴۳۳ مظفر علی سید مدرس مولانا ضلع رائے پور ج۶ص۴۹۱
۴۳۴ محمداحسان مولانا پیلی بھیت ج۳ص۱۴۹
۴۳۵ محمدعبدالعزیز ابوالرشید مولانا مزنگ لاہور ج۲ص۳۱۴
۴۳۶ ملاحسن پشاوری مولانا پشاور ج۱۰ اول ص۷۱
۴۳۷ محمدشاہد سید مولانا امروہہ ج۱۰اول ص۶۰
۴۳۸ مظفر سید مدرس مولانا لکھنؤ ج۷ص۱۲۳
۴۳۹ محمداحمد مولانا لکھنؤ ج۴ص۱۴۲
۴۴۰ محمداکرم مولانا سلہٹ ج۴ص۵۳ ج۱۰ اول ص۱۸۹
۴۴۱ محمدابراہیم مولانا بنارس ج۴ص۸۴ ۲۲۱ ج۵ص۳۷۷ ج۶ص۳۳۹
۴۴۲ محمدعمر ولایتی مولانا مونگیرملک بہار ج۴ص۵۲۰
۴۴۳ محمدعارف ابوسعید مولانا ضلع پیڑا بنگال ج۳ص۶۰۰
۴۴۴ محمدعبدالجلیل مولانا حیدرآباد دکن ج۳ص۷۲۲
۴۴۵ محمدابراہیم شافعی مولانا افریقہ ج۳ص۷۲۲
۴۴۶ محمدفضل الرحمن مولانا فیروزپورپنجاب ج۳ص۲۸۳ ۷۲۷ ج۵ص۴
۴۴۷ محمددین جج مولانا چیف کورٹ بہاولپور ج۱۱ص۱۹۵
۴۴۸ محمدابراہیم مولانا رنگون سکی ج۱۱ص۳۲۴
۴۴۹ محمدجمال مولانا ضلع رہتک ج۱۱ص۳۲۴
۴۵۰ محمدشریف ابویوسف مولانا سیالکوٹ ج۶ص۳۱۹
۴۵۱ محمدسلیمان اشرف سید بہاری مولانا علی گڑھ ج۳ص۵۹۹ ج۵ص۶۴۸ ج۶ص۱۱۰
۴۵۲ محمدعبدالرشید مولانا حصار ج۲ص۳۷۵
۴۵۳ محمداحسان الحق مولانا جو اب رسالہ تحلیۃ السلم فی مسائل من وصف العلم ص۳
۴۵۴ محمدعبدالکریم مولانا کلکتہ جو اب رسالہ تحلیۃ السلم فی مسائل من وصف العلم ص۴۱
۴۵۵ محمدسلطان الدین مولانا بنگال ج۳ص۵۷
۴۵۶ محمدعمر مولانا رام پور جواب رسالہ فضل الموہبی ص۲۶
۴۵۷ میراحسان علی مولانا ہوڑہ ج۵ص۱۷۷
۴۵۸ نورخاں محرر مولانا فتح پور ج۵ص۱۸۱
۴۳۷ محمدشاہد سید مولانا امروہہ ج۱۰اول ص۶۰
۴۳۸ مظفر سید مدرس مولانا لکھنؤ ج۷ص۱۲۳
۴۳۹ محمداحمد مولانا لکھنؤ ج۴ص۱۴۲
۴۴۰ محمداکرم مولانا سلہٹ ج۴ص۵۳ ج۱۰ اول ص۱۸۹
۴۴۱ محمدابراہیم مولانا بنارس ج۴ص۸۴ ۲۲۱ ج۵ص۳۷۷ ج۶ص۳۳۹
۴۴۲ محمدعمر ولایتی مولانا مونگیرملک بہار ج۴ص۵۲۰
۴۴۳ محمدعارف ابوسعید مولانا ضلع پیڑا بنگال ج۳ص۶۰۰
۴۴۴ محمدعبدالجلیل مولانا حیدرآباد دکن ج۳ص۷۲۲
۴۴۵ محمدابراہیم شافعی مولانا افریقہ ج۳ص۷۲۲
۴۴۶ محمدفضل الرحمن مولانا فیروزپورپنجاب ج۳ص۲۸۳ ۷۲۷ ج۵ص۴
۴۴۷ محمددین جج مولانا چیف کورٹ بہاولپور ج۱۱ص۱۹۵
۴۴۸ محمدابراہیم مولانا رنگون سکی ج۱۱ص۳۲۴
۴۴۹ محمدجمال مولانا ضلع رہتک ج۱۱ص۳۲۴
۴۵۰ محمدشریف ابویوسف مولانا سیالکوٹ ج۶ص۳۱۹
۴۵۱ محمدسلیمان اشرف سید بہاری مولانا علی گڑھ ج۳ص۵۹۹ ج۵ص۶۴۸ ج۶ص۱۱۰
۴۵۲ محمدعبدالرشید مولانا حصار ج۲ص۳۷۵
۴۵۳ محمداحسان الحق مولانا جو اب رسالہ تحلیۃ السلم فی مسائل من وصف العلم ص۳
۴۵۴ محمدعبدالکریم مولانا کلکتہ جو اب رسالہ تحلیۃ السلم فی مسائل من وصف العلم ص۴۱
۴۵۵ محمدسلطان الدین مولانا بنگال ج۳ص۵۷
۴۵۶ محمدعمر مولانا رام پور جواب رسالہ فضل الموہبی ص۲۶
۴۵۷ میراحسان علی مولانا ہوڑہ ج۵ص۱۷۷
۴۵۸ نورخاں محرر مولانا فتح پور ج۵ص۱۸۱
۴۵۹ محمدابراہیم خان وکیل مولانا راجپوتانہ ج۵ص۴۵۸
۴۶۰ محمدآصف سید مولانا کان پور ج۵ص۴۷۹ ج۶ص۴ ۶۸ ۱۴۱ ۱۸۰ ج۳ص۵۱۰
۴۶۱ محمدفاضل مولانا پنجاب ج۵ص۷۱۱
۴۶۲ محمدحسین مولانا میرٹھ ج۲ص۲ ج۴ص۸۶ ۳۸۰ ۴۲۳
۴۶۳ محمدابراہیم سید مدنی مولانا کلکتہ ج۵ص۷۲۸ ج۴ص۵۹۹ ۶۱۳
۴۶۴ محمدسلیم مولانا رائے پور ج۵ص۷۳۹
۴۶۵ محمداسمعیل مدرس مولانا ضلع گیا ج۳ص۲۵۸ ۸۱۴
۴۶۶ محمد عبدالحافظ مدرس مولانا میمن سنگھ ج۳ص۸۰۸
۴۶۷ محمدجہانگیر مولانا اسٹیشن باندرہ ج۳ص۷۴۱
۴۶۸ محمدواحد مولانا برھما ج۳ص۷۴۶ ج۱۰ ثانی ص۱۴۴ ۱۴۶
۴۶۹ ممتازالدین مولانا ضلع سلہٹ ج۳ص۷۷۰
۴۷۰ محمدعبدالرؤف مولانا بریلی ج۳ص۵۹۰
۴۷۱ محمدحیات مولانا سلمپور ج۷ص۴۱
۴۷۲ محمدابوذر مولانا مرادآباد ج۱۰ثانی ص۱۰۱
۴۷۳ محمودحسن مولانا مرادآباد ج۱۰ثانی ص۱۱۷
۴۷۴ میاں محمد سید مولانا لکھنؤ ج۱۰ثانی ص۱۲۰
۴۷۵ محمدبہاء الدین مولانا غازی پور ج۱۰ثانی ص۱۴۱
۴۷۶ محمدقاسم قریشی مولانا ڈسکہ سیالکوٹ ج۱۰ثانی ص۱۵۸ ۲۰۶
۴۷۷ محمدحسین مولانا جوناگڑھ ج۱۰ثانی ص۱۷۰
۴۷۸ محمدسلیمان مدرس مولانا کانپور ج۱۰ثانی ص۱۸۷
۴۷۹ محمدعبدالقادر مدرس مولانا ضلع پاپنہ ج۱۰ثانی ص۱۷۹
۴۸۰ منیرالدین بنگالی مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۸۶
۴۸۱ محمداکبرعلی مولانا حیدرآباددکن ج۱۰ثانی ص۱۹۵
۴۸۲ محمدجعفر مولانا مبارک پور ج۱۰ثانی ص۲۰۲
۴۶۰ محمدآصف سید مولانا کان پور ج۵ص۴۷۹ ج۶ص۴ ۶۸ ۱۴۱ ۱۸۰ ج۳ص۵۱۰
۴۶۱ محمدفاضل مولانا پنجاب ج۵ص۷۱۱
۴۶۲ محمدحسین مولانا میرٹھ ج۲ص۲ ج۴ص۸۶ ۳۸۰ ۴۲۳
۴۶۳ محمدابراہیم سید مدنی مولانا کلکتہ ج۵ص۷۲۸ ج۴ص۵۹۹ ۶۱۳
۴۶۴ محمدسلیم مولانا رائے پور ج۵ص۷۳۹
۴۶۵ محمداسمعیل مدرس مولانا ضلع گیا ج۳ص۲۵۸ ۸۱۴
۴۶۶ محمد عبدالحافظ مدرس مولانا میمن سنگھ ج۳ص۸۰۸
۴۶۷ محمدجہانگیر مولانا اسٹیشن باندرہ ج۳ص۷۴۱
۴۶۸ محمدواحد مولانا برھما ج۳ص۷۴۶ ج۱۰ ثانی ص۱۴۴ ۱۴۶
۴۶۹ ممتازالدین مولانا ضلع سلہٹ ج۳ص۷۷۰
۴۷۰ محمدعبدالرؤف مولانا بریلی ج۳ص۵۹۰
۴۷۱ محمدحیات مولانا سلمپور ج۷ص۴۱
۴۷۲ محمدابوذر مولانا مرادآباد ج۱۰ثانی ص۱۰۱
۴۷۳ محمودحسن مولانا مرادآباد ج۱۰ثانی ص۱۱۷
۴۷۴ میاں محمد سید مولانا لکھنؤ ج۱۰ثانی ص۱۲۰
۴۷۵ محمدبہاء الدین مولانا غازی پور ج۱۰ثانی ص۱۴۱
۴۷۶ محمدقاسم قریشی مولانا ڈسکہ سیالکوٹ ج۱۰ثانی ص۱۵۸ ۲۰۶
۴۷۷ محمدحسین مولانا جوناگڑھ ج۱۰ثانی ص۱۷۰
۴۷۸ محمدسلیمان مدرس مولانا کانپور ج۱۰ثانی ص۱۸۷
۴۷۹ محمدعبدالقادر مدرس مولانا ضلع پاپنہ ج۱۰ثانی ص۱۷۹
۴۸۰ منیرالدین بنگالی مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۱۸۶
۴۸۱ محمداکبرعلی مولانا حیدرآباددکن ج۱۰ثانی ص۱۹۵
۴۸۲ محمدجعفر مولانا مبارک پور ج۱۰ثانی ص۲۰۲
۴۸۳ محمدعین اللہ مولانا بلرام پور گونڈہ ج۱۰ثانی ص۲۰۴
۴۸۴ محمدفیض اللہ مولانا ضلع سیتاپور ج۱۰ثانی ص۲۰۰
۴۸۵ محمد ارشاد مولانا مہرام ضلع ہوگلی ج۵ص۴۶۶
۴۸۶ محمدسراج الحق ج۵ص۳۷۸ ۴۱۹
۴۸۷ محمدحسین مولانا بمبئی ج۵ص۴۸۷
۴۸۸ محمدسلیم مولانا مارہرہ مطہرہ ج۵ص۲۰۰
۴۸۹ محبوب علی شاہ مولانا ج۵ص۷۷۷
۴۹۰ محمدآصف وکیل مولانا ج۵ص۷۱۲
۴۹۱ محمدصدیق مولانا پیلی بھیت ج۲ص۳۶۶
۴۹۲ محمدتقی قادری مولانا ضلع ہردوئی ج۴ص۱۹۸
۴۹۳ محمدنوراللہ اشرفی مولانا شہرکہنہ ج۴ص۶۶۲
۴۹۴ محمدعبدالقادر بدایونی مولانا مرزا پور ج۴ص۴۷۶
۴۹۶ محمدطاہر مدرس مولانا ضلع پورینہ ج۳ص۷۵۴
۴۹۷ محمدظہورالحسن مولانا ج۳ص۱۳۰
۴۹۸ محمداحمدمفتی مولانا ج۱۰ثانی ص۲۶۴
۴۹۹ مقیم الدین دامانی مولانا ضلع ہردوئی ج۱۰ثانی ص۲۸۲
۵۰۰ محمدثناءاللہ مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۲۸۴
۵۰۱ محمداحمد حکیم علوی مولانا مین پوری ج۱۰ثانی ص۲۹۲
۵۰۲ محمدحبیب اللہ مولانا دہلی ج۱۰ثانی ص۳۰۲
۵۰۳ محمداسحاق مولانا سہارن پور ج۱۰ثانی ص۳۰۵
۵۰۴ محمدعمر قادری مولانا بنارس ج۱۰ثانی ص۲۹۳
۵۰۵ میراللہ مولانا بریلی ج۵ص۱۶۹
ن
۵۰۶ نذرامام مدرس مولانا سہسوان ج۱ص۳۰۵
۴۸۴ محمدفیض اللہ مولانا ضلع سیتاپور ج۱۰ثانی ص۲۰۰
۴۸۵ محمد ارشاد مولانا مہرام ضلع ہوگلی ج۵ص۴۶۶
۴۸۶ محمدسراج الحق ج۵ص۳۷۸ ۴۱۹
۴۸۷ محمدحسین مولانا بمبئی ج۵ص۴۸۷
۴۸۸ محمدسلیم مولانا مارہرہ مطہرہ ج۵ص۲۰۰
۴۸۹ محبوب علی شاہ مولانا ج۵ص۷۷۷
۴۹۰ محمدآصف وکیل مولانا ج۵ص۷۱۲
۴۹۱ محمدصدیق مولانا پیلی بھیت ج۲ص۳۶۶
۴۹۲ محمدتقی قادری مولانا ضلع ہردوئی ج۴ص۱۹۸
۴۹۳ محمدنوراللہ اشرفی مولانا شہرکہنہ ج۴ص۶۶۲
۴۹۴ محمدعبدالقادر بدایونی مولانا مرزا پور ج۴ص۴۷۶
۴۹۶ محمدطاہر مدرس مولانا ضلع پورینہ ج۳ص۷۵۴
۴۹۷ محمدظہورالحسن مولانا ج۳ص۱۳۰
۴۹۸ محمداحمدمفتی مولانا ج۱۰ثانی ص۲۶۴
۴۹۹ مقیم الدین دامانی مولانا ضلع ہردوئی ج۱۰ثانی ص۲۸۲
۵۰۰ محمدثناءاللہ مولانا بریلی ج۱۰ثانی ص۲۸۴
۵۰۱ محمداحمد حکیم علوی مولانا مین پوری ج۱۰ثانی ص۲۹۲
۵۰۲ محمدحبیب اللہ مولانا دہلی ج۱۰ثانی ص۳۰۲
۵۰۳ محمداسحاق مولانا سہارن پور ج۱۰ثانی ص۳۰۵
۵۰۴ محمدعمر قادری مولانا بنارس ج۱۰ثانی ص۲۹۳
۵۰۵ میراللہ مولانا بریلی ج۵ص۱۶۹
ن
۵۰۶ نذرامام مدرس مولانا سہسوان ج۱ص۳۰۵
۵۰۷ نذیراحمد مولانا پیگا ج۷ص۱۷
۵۰۸ نبی بخش ابوطاہر مولانا بہارشریف ج۶ص۵۵
۵۰۹ نوراحمد ہزاروی مولانا کانپور ج۶ص۴۲۷
۵۱۰ نظام الدین مولانا چک ۲۲۴ ج۶ص۷۲
۵۱۱ نوراحمدفریدی مولانا بہاولپور ج۵ص۱۷۱ ج۶ص۱۳۲
۵۱۲ نذیراحمد سید مولانا الہ آباد ج۶ص۱۴۹ ۴۷۴
۵۱۳ نذرمحمدخان مولانا رہتک ج۵ص۳۷۶ ج۶ص۳۱۸
۵۱۴ نجم النبی حکیم مولانا رامپور ج۷ص۳۴۴
۵۱۵ نوشہ علی مولانا ج۱۰اول ص۱۶۴
۵۱۶ نورالدین احمد مولانا گوالیار ج۳ص۳۹۳ ۴۵۹ ۶۸۷ ج۱۰اول ص۸۶
۵۱۷ نثاراحمد مولانا کانپور ج۳ص۳۶۷
۵۱۸ نورمحمد مولانا بہاولپور ج۷ص۴۴۳
۵۱۹ نعیم الدین صدرالافاضل مولانا مرادآباد ج۳ص۷۲۸
۵۲۰ نورالہدی مولانا پٹنہ ج۳ص۷۰۳
۵۲۱ نوراللہ مولانا پیلی بھیت ج۱۰ثانی ص۸۷
۵۲۲ نذیراحمد مولانا بریلی ج۱۰ ثانی ۱۶۰ ۱۶۱
۵۲۳ نبی محمد مولانا گوالیار ج۱۰ثانی ص۲۷۲
۵۲۴ نجف خان مولانا ج۱۰ثانی ۸۸
۵۲۵ نیازمحمدخان بدایوں مولانا مانوگا چہ پیراک ج۴ص۴۷۵
۵۲۶ نعیم اللہ فخری چشتی نظامی قادری مولانا لکھنؤ ج۵ص۴۴۲
۵۲۷ نورخان مولانا ج۵ص۱۸۱
و
۵۲۸ وصی علی مولانا ٹاوہ کچری ج۴ص۴۱۲ ج۵ص۱۲۲ ج۱۰ اول ص۸۳ ۸۵
۵۰۸ نبی بخش ابوطاہر مولانا بہارشریف ج۶ص۵۵
۵۰۹ نوراحمد ہزاروی مولانا کانپور ج۶ص۴۲۷
۵۱۰ نظام الدین مولانا چک ۲۲۴ ج۶ص۷۲
۵۱۱ نوراحمدفریدی مولانا بہاولپور ج۵ص۱۷۱ ج۶ص۱۳۲
۵۱۲ نذیراحمد سید مولانا الہ آباد ج۶ص۱۴۹ ۴۷۴
۵۱۳ نذرمحمدخان مولانا رہتک ج۵ص۳۷۶ ج۶ص۳۱۸
۵۱۴ نجم النبی حکیم مولانا رامپور ج۷ص۳۴۴
۵۱۵ نوشہ علی مولانا ج۱۰اول ص۱۶۴
۵۱۶ نورالدین احمد مولانا گوالیار ج۳ص۳۹۳ ۴۵۹ ۶۸۷ ج۱۰اول ص۸۶
۵۱۷ نثاراحمد مولانا کانپور ج۳ص۳۶۷
۵۱۸ نورمحمد مولانا بہاولپور ج۷ص۴۴۳
۵۱۹ نعیم الدین صدرالافاضل مولانا مرادآباد ج۳ص۷۲۸
۵۲۰ نورالہدی مولانا پٹنہ ج۳ص۷۰۳
۵۲۱ نوراللہ مولانا پیلی بھیت ج۱۰ثانی ص۸۷
۵۲۲ نذیراحمد مولانا بریلی ج۱۰ ثانی ۱۶۰ ۱۶۱
۵۲۳ نبی محمد مولانا گوالیار ج۱۰ثانی ص۲۷۲
۵۲۴ نجف خان مولانا ج۱۰ثانی ۸۸
۵۲۵ نیازمحمدخان بدایوں مولانا مانوگا چہ پیراک ج۴ص۴۷۵
۵۲۶ نعیم اللہ فخری چشتی نظامی قادری مولانا لکھنؤ ج۵ص۴۴۲
۵۲۷ نورخان مولانا ج۵ص۱۸۱
و
۵۲۸ وصی علی مولانا ٹاوہ کچری ج۴ص۴۱۲ ج۵ص۱۲۲ ج۱۰ اول ص۸۳ ۸۵
۵۲۹ ولی اللہ سید مولانا ٹونک ج۵ص۶۹۵
۵۳۰ وزیراحمد مولانا اودے پور راجپوتانہ ج۳ص۷۴۱ ج۶ص۴۸۴ ج۷ ص۳۹ ج۱۰ثانی ص۱۹۳ ۲۶۱
۵۳۱ ولایت حسین مولانا بریلی ج۷ص۱۰۳
۵۳۲ ولی الحسن مدرس مولانا دار جلنگ ج۱۰ثانی ۳۰۳
۵۳۳ وکیل الدین مولانا بریلی ج۲ص۳۷۶ ج۳ص۶۴۶
۵۳۴ ولی اللہ مولانا کلکتہ ج۶ص۱۹۵
۵۳۵ ولی محمد مولانا ہلکر اندوربازار بمبئی ج۵ص۸۵
ہ
۵۳۶ ہدایت اللہ خان مولانا ہلکر اندوربازار بمبئی ج۷ص۳۰۰
۵۳۷ ہدایت رسول مولانا ہلکر اندوربازار بمبئی ج۷ص۴۸۵
۵۳۸ ہدایت رسول مولانا بمبئی ج۱۰اول ص۲۰۷
ی
۵۳۹ یقین الدین مولانا نرسنگھ پورکندیلی ج۵ص۱۰۸
۵۴۰ یعقوب علی مولانا ج۶ص۴۱۶
۵۴۱ یقین الدین مولانا اکولہ ج۱۰اول ص۴۱
۵۳۰ وزیراحمد مولانا اودے پور راجپوتانہ ج۳ص۷۴۱ ج۶ص۴۸۴ ج۷ ص۳۹ ج۱۰ثانی ص۱۹۳ ۲۶۱
۵۳۱ ولایت حسین مولانا بریلی ج۷ص۱۰۳
۵۳۲ ولی الحسن مدرس مولانا دار جلنگ ج۱۰ثانی ۳۰۳
۵۳۳ وکیل الدین مولانا بریلی ج۲ص۳۷۶ ج۳ص۶۴۶
۵۳۴ ولی اللہ مولانا کلکتہ ج۶ص۱۹۵
۵۳۵ ولی محمد مولانا ہلکر اندوربازار بمبئی ج۵ص۸۵
ہ
۵۳۶ ہدایت اللہ خان مولانا ہلکر اندوربازار بمبئی ج۷ص۳۰۰
۵۳۷ ہدایت رسول مولانا ہلکر اندوربازار بمبئی ج۷ص۴۸۵
۵۳۸ ہدایت رسول مولانا بمبئی ج۱۰اول ص۲۰۷
ی
۵۳۹ یقین الدین مولانا نرسنگھ پورکندیلی ج۵ص۱۰۸
۵۴۰ یعقوب علی مولانا ج۶ص۴۱۶
۵۴۱ یقین الدین مولانا اکولہ ج۱۰اول ص۴۱
بسم الله الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
خطبۃ الکتاب
الحمد لله ھو ۱الفقہ الاکبر٭و۲ الجامع الکبیر ۳لزیادات ۴فیضہ ۵المبسوط ۶الدرر و۷الغرر٭بہ ۸الھدایۃ ٭ومنہ ۹البدایۃ٭والیہ ۱۰النھایۃ٭بحمدہ ۱۱الوقایۃ٭و۱۲نقایۃ ۱۳الدرایۃ٭وعین ۱۴العنایۃ ٭ وحسن ۱۵الکفایۃ٭والصلاۃ والسلام علی ۱۶الامام الاعظم للرسل الکرام٭
ترجمہ : بسم الله الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
ہم اس کی حمد کرتے اور اس کے کرم والے رسول پر درود بھیجتے ہیں سب خوبیاں خدا کو ہیں یہی سب سے بڑی فقہ ودانشمندی ہے اور الله تعالی کے فیض کشادہ کی افزائیشیں کہ نہایت روشن موتی ہیں ان کے لیے بڑی جامع ہے الله ہی سے آغاز ہے اور اسی کی طرف انتہا اسی کی حمد سے حفظ ہے اور عقل کی پاکیزگی اورعنایت کی نگاہ اور کفایت کی خوبی اور درود وسلام ان پر جو تمام معزز رسولوں کے امام اعظم ہیں
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
خطبۃ الکتاب
الحمد لله ھو ۱الفقہ الاکبر٭و۲ الجامع الکبیر ۳لزیادات ۴فیضہ ۵المبسوط ۶الدرر و۷الغرر٭بہ ۸الھدایۃ ٭ومنہ ۹البدایۃ٭والیہ ۱۰النھایۃ٭بحمدہ ۱۱الوقایۃ٭و۱۲نقایۃ ۱۳الدرایۃ٭وعین ۱۴العنایۃ ٭ وحسن ۱۵الکفایۃ٭والصلاۃ والسلام علی ۱۶الامام الاعظم للرسل الکرام٭
ترجمہ : بسم الله الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
ہم اس کی حمد کرتے اور اس کے کرم والے رسول پر درود بھیجتے ہیں سب خوبیاں خدا کو ہیں یہی سب سے بڑی فقہ ودانشمندی ہے اور الله تعالی کے فیض کشادہ کی افزائیشیں کہ نہایت روشن موتی ہیں ان کے لیے بڑی جامع ہے الله ہی سے آغاز ہے اور اسی کی طرف انتہا اسی کی حمد سے حفظ ہے اور عقل کی پاکیزگی اورعنایت کی نگاہ اور کفایت کی خوبی اور درود وسلام ان پر جو تمام معزز رسولوں کے امام اعظم ہیں
۱۷مالکی و۱۸شافعی ۱۹احمد الکرام٭یقول الحسن بلاتوقف٭۲۰محمد ۲۱الحسن ۲۲ابویوسف٭فانہ ۲۳الاصل ۲۴المحیط٭لکل فضل ۲۵بسیط٭و۲۶وجیز و۲۷وسیط٭۲۸البحرالزخار٭و۲۹الدر المختار٭و۳۰خزائن الاسرار٭ و۳۱ تنویر الابصار٭و۳۲ردالمحتار٭علی۳۳منح الغفار٭و۳۴فتح القدیر٭و۳۵زاد الفقیر٭و۳۶ملتقی الابحر٭ و۳۷مجمع الانھر٭و۳۸کنز الدقائق٭و۳۹تبیین الحقائق٭و۴۰البحرالرائق٭منہ یستمد کل ۴۱نھرفائق٭ فیہ ۴۲المنیۃ٭وبہ ۴۳الغنیۃ٭و۴۴مراقی الفلاح٭و۴۵امداد الفتاح٭و۴۶ایضاح ۴۷الاصلاح٭و۴۸نور الایضاح٭ و۴۹کشف ۵۰المضمرات٭وحل ۵۱المشکلات٭و۵۲الدرر المنتقی٭و۵۳ینابیع ۵۴المبتغی٭و۵۵تنویر البصائر٭ و ۵۶زواھر الجواھر٭۵۷البدائع ۵۸النوادر٭المنزہ وجوبا عن ۵۹الاشباہ والنظائر٭۶۰مغنی السائلین٭و۶۱نصاب المساکین٭۶۲الحاوی القدسی٭لکل کمال قد سی وانسی٭۶۳الکافی ۶۴الوافی ۶۵الشافی٭۶۶المصفی المصطفی ۶۷المستصفی ۶۸المجتبی ۶۹المنتقی الصافی٭۷۰عدۃ ۷۱النوازل٭و۷۲انفع الوسائل٭۷۳لاسعاف السائل٭ ۷۴بعیون المسائل٭۷۵عمدۃ الاواخر و۷۶خلاصۃ الاوائل٭
میرے مالك اور میرے شافع احمد کمال کرم والے حسن بے توقف کہتا ہے کہ حسن والے محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے والد ہیں کیونکہ وہی اصل ہیں جو ہر فضیلت کبیرہ وصغیرہ ومتوسط کو محیط ہیں نہایت چھلکتے دریا ہیں اور چنے ہوئے موتی اور رازوں کے خزانے اور آنکھیں روشن کرنے والے اور حیران کو الله غفار کی عطاؤں کی طرف پلٹانے والے قادرمطلق کی کشائش ہیں اور محتاجوں کے توشے تمام کمالات کے سمندر انہیں میں جاکر ملتے ہیں اور سب خوبیوں کی نہریں انہیں میں جمع ہیں باریکیوں کے خزانے ہیں اور تمام حقائق کے روشن بیان اور خوشنما صاف شفاف سمندر کہ ہر فوقیت والی نہر انہیں سے مدد لیتی ہے انہیں میں آرزو ہے اور انہیں کے سبب باقی سب سے بے نیازی اور مراد پانے کے زینے اور تمام ابواب خیر کھولنے والے کی مدد اور آراستگی کی روشنی اور اس روشنی کے لئے نور اور غیبوں کاکھلنا اور مشکلوں کاحل ہونا اور چنا ہوا موتی اور مراد کے چشمے اور دلوں کی روشنیاں اور نہایت چمکتے جواہر عجب ونادر وہ مثل ونظیر سے ایسے پاك ہیں کہ ان کا مثل ممکن نہیں سائلوں کو غنی فرمانے والے ہیں اور مسکینوں کی تونگری ہرکمال ملکوتی وانسانی کے پاك جامع ہیں تمام مہمات میں کافی ہیں بھرپور بخشنے والے سب بیماریوں سے شفادینے والے مصفی برگزیدہ پاکیزہ چنے ہوئے ستھرے صاف سب سختیوں کی دقت کے لئے سازوسامان ہیں سائل کو نہایت عمدہ منہ مانگی مرادیں ملنے کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش وسیلے ہیں پچھلوں کے تکیہ گاہ
میرے مالك اور میرے شافع احمد کمال کرم والے حسن بے توقف کہتا ہے کہ حسن والے محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے والد ہیں کیونکہ وہی اصل ہیں جو ہر فضیلت کبیرہ وصغیرہ ومتوسط کو محیط ہیں نہایت چھلکتے دریا ہیں اور چنے ہوئے موتی اور رازوں کے خزانے اور آنکھیں روشن کرنے والے اور حیران کو الله غفار کی عطاؤں کی طرف پلٹانے والے قادرمطلق کی کشائش ہیں اور محتاجوں کے توشے تمام کمالات کے سمندر انہیں میں جاکر ملتے ہیں اور سب خوبیوں کی نہریں انہیں میں جمع ہیں باریکیوں کے خزانے ہیں اور تمام حقائق کے روشن بیان اور خوشنما صاف شفاف سمندر کہ ہر فوقیت والی نہر انہیں سے مدد لیتی ہے انہیں میں آرزو ہے اور انہیں کے سبب باقی سب سے بے نیازی اور مراد پانے کے زینے اور تمام ابواب خیر کھولنے والے کی مدد اور آراستگی کی روشنی اور اس روشنی کے لئے نور اور غیبوں کاکھلنا اور مشکلوں کاحل ہونا اور چنا ہوا موتی اور مراد کے چشمے اور دلوں کی روشنیاں اور نہایت چمکتے جواہر عجب ونادر وہ مثل ونظیر سے ایسے پاك ہیں کہ ان کا مثل ممکن نہیں سائلوں کو غنی فرمانے والے ہیں اور مسکینوں کی تونگری ہرکمال ملکوتی وانسانی کے پاك جامع ہیں تمام مہمات میں کافی ہیں بھرپور بخشنے والے سب بیماریوں سے شفادینے والے مصفی برگزیدہ پاکیزہ چنے ہوئے ستھرے صاف سب سختیوں کی دقت کے لئے سازوسامان ہیں سائل کو نہایت عمدہ منہ مانگی مرادیں ملنے کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش وسیلے ہیں پچھلوں کے تکیہ گاہ
وعلی الہ وصحبہ٭وحزبہ٭۷۷مصابیح الدجی٭۷۸ومفاتیح الھدی٭لاسیما ۷۹الشیخین ۸۰الصاحبین٭ الاخذین من الشریعۃ والحقیقۃ بکلا ۸۱الطرفین٭والختنین الکریمین٭کل منھا ۸۲نورالعین٭ و۸۳مجمع البحرین٭وعلی مجتھدی ملتہ٭وائمۃ امتہ٭خصوصا ۸۴الارکان الاربعۃ٭و۸۵الانوار اللامعۃ٭ وابنہ الاکرم٭الغوث الاعظم٭۸۶ذخیرۃ الاولیاء٭و۸۷تحفۃ الفقھاء٭و۸۸جامع الفصولین٭۸۹فصول الحقائق و۹۰الشرع المھذب بکل زین٭وعلینا معھم٭وبھم ولھم٭یاارحم الرحمین٭امین امین٭ والحمدلله رب العلمین٭
صفۃ الکتاب
امابعد! فہذہ بحمدالله٭ورفدالله ٭وعون الله ٭وصون الله ٭تبارك تعالی٭وبارك الله ٭ماشاء الله ٭ لاقوۃ الابالله ٭وحسبناالله ونعم الوکیل٭نعم المولی ونعم النصیر٭جنات عالیۃ٭ قطوفہا دانیۃ٭ فیہا سررمرفوعۃ٭واکواب موضوعۃ٭ونمارق مصفوفۃ٭وزرابی مبثوثۃ٭من مسائل الدین الحنیفی٭ والفقہ الحنفی٭تجدفیھا ان شاء الله عینا
اور اگلوں کے خلاصے اور ان کے آل واصحاب اور ازواج وگروہ پر درود وسلام جو ظلمتوں کے چراغ اور ہدایت کی کنجیاں ہیں خصوصا اسلام کے دونوں بزرگ مصطفی کے دونوں یار کہ شریعت وحقیقت دونوں کناروں کے حاوی ہیں اور دونوں کرم والے شادیوں کے سبب فرزندی اقدس سے مشرف کہ ان میں ہرایك آنکھ کی روشنی اور دونوں سمندروں کامجمع ہے اور ان کے دین کے مجتہد ولی امت کے اماموں پرخصوصا شریعت کے چاروں رکن چمکتے نور اور ان کے نہایت کریم بیٹے غوث اعظم پر کہ اولیاء کے لئے ذخیرہ ہیں اور فقہا کے لئے تحفہ اور حقیقت اور وہ شریعت کہ ہرزینت سے آراستہ ہے دونوں کی فصول کے جامع اور ہم سب پر ان کے ساتھ ان کے صدقہ میں ان کے طفیل اے سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان سن لے قبول کر۔
( صفۃ الکتاب) بعدازاں یہ الله کی حمد الله کی عطاالله کی مدد الله کی حفاظت سے (بڑی برکت والا ہے الله اور برکت دے اللہ جو چاہے اللہ قوت نہیں مگر منجانب اللہ ہمیں الله کافی ہے اور اچھا کام بنانے والا کیا اچھا مولا اور کیا اچھا مددگار) بلند باغ ہیں جن کے انگوروں کے گچھے بوجھ کے سبب جھك کرنزدیك آگئے ہیں ان میں بلند تخت ہیں اور رکھے ہوئے کوزے اور قالینوں کی قطاریں اور جابجارکھی ہوئی مسندیں دین ابراہیمی اور فقہ حنفی کے مسائل سے الله چاہے تو تو اس میں بہتا چشمہ
صفۃ الکتاب
امابعد! فہذہ بحمدالله٭ورفدالله ٭وعون الله ٭وصون الله ٭تبارك تعالی٭وبارك الله ٭ماشاء الله ٭ لاقوۃ الابالله ٭وحسبناالله ونعم الوکیل٭نعم المولی ونعم النصیر٭جنات عالیۃ٭ قطوفہا دانیۃ٭ فیہا سررمرفوعۃ٭واکواب موضوعۃ٭ونمارق مصفوفۃ٭وزرابی مبثوثۃ٭من مسائل الدین الحنیفی٭ والفقہ الحنفی٭تجدفیھا ان شاء الله عینا
اور اگلوں کے خلاصے اور ان کے آل واصحاب اور ازواج وگروہ پر درود وسلام جو ظلمتوں کے چراغ اور ہدایت کی کنجیاں ہیں خصوصا اسلام کے دونوں بزرگ مصطفی کے دونوں یار کہ شریعت وحقیقت دونوں کناروں کے حاوی ہیں اور دونوں کرم والے شادیوں کے سبب فرزندی اقدس سے مشرف کہ ان میں ہرایك آنکھ کی روشنی اور دونوں سمندروں کامجمع ہے اور ان کے دین کے مجتہد ولی امت کے اماموں پرخصوصا شریعت کے چاروں رکن چمکتے نور اور ان کے نہایت کریم بیٹے غوث اعظم پر کہ اولیاء کے لئے ذخیرہ ہیں اور فقہا کے لئے تحفہ اور حقیقت اور وہ شریعت کہ ہرزینت سے آراستہ ہے دونوں کی فصول کے جامع اور ہم سب پر ان کے ساتھ ان کے صدقہ میں ان کے طفیل اے سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان سن لے قبول کر۔
( صفۃ الکتاب) بعدازاں یہ الله کی حمد الله کی عطاالله کی مدد الله کی حفاظت سے (بڑی برکت والا ہے الله اور برکت دے اللہ جو چاہے اللہ قوت نہیں مگر منجانب اللہ ہمیں الله کافی ہے اور اچھا کام بنانے والا کیا اچھا مولا اور کیا اچھا مددگار) بلند باغ ہیں جن کے انگوروں کے گچھے بوجھ کے سبب جھك کرنزدیك آگئے ہیں ان میں بلند تخت ہیں اور رکھے ہوئے کوزے اور قالینوں کی قطاریں اور جابجارکھی ہوئی مسندیں دین ابراہیمی اور فقہ حنفی کے مسائل سے الله چاہے تو تو اس میں بہتا چشمہ
جاریۃ من عیون تحقیقات السلف الکرام٭مع رفرف خضروعبقری حسان من تمھیدات الخلف الاعلام٭وعرائس نفائس کانھن الیاقوت والمرجان٭لم یطمثھن قبلی انس ولاجان٭من احکام حوادث جدیدۃ٭وتحقیقات مدیدۃ٭وتنقیحات سدیدۃ٭وتدقیقات مجیدۃ٭وتوثیقات فریدۃ٭و احکام الاحکام٭والنقض والابرام٭مماالھمنی الملك العلام٭ببرکۃ خدمۃ علوم الاعلام٭مع الوف التبری٭من حولی وقدری٭وصنوف الالتجاء الی الحول العظیم٭والطول القدیم٭والف الف شھادۃ ان لاحول ولاقوۃ الا بالله العزیز الحکیم٭وماابرئ نفسی ان النفس لکثیرۃ الخطا٭الی الزلۃ والخطا٭فکیف مثلی٭فی ظلمی وجہلی٭وقلۃ الطاعۃ٭وذلۃ البضاعۃ٭و کثرۃ الذنوب٭وسورۃ العیوب٭ ولکن الله یفعل مایرید٭فضلہ اوسع ولدیہ المزید لیس علی الله بمستنکر٭ان یلحق العاجز بالقادر٭فما کان فیھا من الصواب٭وھوالرجاء من الوھاب٭فمن ربی وحدہ وانا احمدہ علیہ٭وماکان فیھا من الخطا فمنی ومن الشیطان وانا اعوذ بربی واعود الیہ٭الا وانا احمد رضا
پائے گا اگلے کریموں کی عمدہ تحقیقات سے اور ان کے ساتھ سبز غالیچے اور منقش رنگین خوب صورت فرش پچھلے مشاہیر کی آرائشوں سے اور ستھری دلہنیں گویا وہ یاقوت ومرجان ہیں جن کو مجھ سے پہلے کسی آدمی یاجن نے ہاتھ نہ لگایا نوپیدا چیزوں کے احکام اور مفصل تحقیقوں اور صحیح تنقیحوں اور شاندار تدقیقوں اور یکتا تائیدوں اور احکام کی مضبوطیوں اور اعتراضوں جوابوں سے جو بڑے علم والے بادشاہ نے مجھے الہام کیے علوم اکابر کی خدماگاری کی برکت سے یہ جو میں کہہ رہاہوں اس کے ساتھ ہزاروں بیزاریاں ہیں اپنی قوت وطاقت سے اور قسم قسم کی التجائیں ہیں عظمت والی قوت اور ازلی فضل ومنت کی طرف اور ہزارہزار گواہیاں کہ قوت وقدرت نہیں مگر الله غالب والے کی عطا سے اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا بیشك نفس لغزش وخطا کی طرف بکثرت گامزن ہوتا ہے تو اس کا کیاپوچھنا جو مجھ جیسا ہو میرے ظلم وجہل وکمی طاعت وخواری مایہ وکثرت گناہ اور غلبہ عیوب میں مگر ہے یہ کہ الله جو چاہے کرتاہے اس کافضل بڑی گنجائش والا اور اس کے پاس زیادہ ہے الله سے کچھ دور نہیں کہ عاجز کو قادر سے ملادے توجوکچھ ان میں ٹھیك ہے (اور بڑے بخشنے والے سے اسی کی امید ہے) وہ صرف میرے رب کی طرف سے ہے اور میں اس پر اس کی حمد کرتاہوں اور جو غلطی ہو وہ مجھ سے اور شیطان کی طرف سے ہے اور میں اپنے رب کی پناہ مانگتا اور اس کی طرف رجوع لاتا ہوں ہاں ہاں میں اپنے رب کی رضا کے لئے
پائے گا اگلے کریموں کی عمدہ تحقیقات سے اور ان کے ساتھ سبز غالیچے اور منقش رنگین خوب صورت فرش پچھلے مشاہیر کی آرائشوں سے اور ستھری دلہنیں گویا وہ یاقوت ومرجان ہیں جن کو مجھ سے پہلے کسی آدمی یاجن نے ہاتھ نہ لگایا نوپیدا چیزوں کے احکام اور مفصل تحقیقوں اور صحیح تنقیحوں اور شاندار تدقیقوں اور یکتا تائیدوں اور احکام کی مضبوطیوں اور اعتراضوں جوابوں سے جو بڑے علم والے بادشاہ نے مجھے الہام کیے علوم اکابر کی خدماگاری کی برکت سے یہ جو میں کہہ رہاہوں اس کے ساتھ ہزاروں بیزاریاں ہیں اپنی قوت وطاقت سے اور قسم قسم کی التجائیں ہیں عظمت والی قوت اور ازلی فضل ومنت کی طرف اور ہزارہزار گواہیاں کہ قوت وقدرت نہیں مگر الله غالب والے کی عطا سے اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا بیشك نفس لغزش وخطا کی طرف بکثرت گامزن ہوتا ہے تو اس کا کیاپوچھنا جو مجھ جیسا ہو میرے ظلم وجہل وکمی طاعت وخواری مایہ وکثرت گناہ اور غلبہ عیوب میں مگر ہے یہ کہ الله جو چاہے کرتاہے اس کافضل بڑی گنجائش والا اور اس کے پاس زیادہ ہے الله سے کچھ دور نہیں کہ عاجز کو قادر سے ملادے توجوکچھ ان میں ٹھیك ہے (اور بڑے بخشنے والے سے اسی کی امید ہے) وہ صرف میرے رب کی طرف سے ہے اور میں اس پر اس کی حمد کرتاہوں اور جو غلطی ہو وہ مجھ سے اور شیطان کی طرف سے ہے اور میں اپنے رب کی پناہ مانگتا اور اس کی طرف رجوع لاتا ہوں ہاں ہاں میں اپنے رب کی رضا کے لئے
لربی٭وھو حسبی٭ان لم یخطر ببالی قط انی من العلماء٭اوزمرۃ الفقہاء٭اوان لی بجنب الائمۃ مقالا٭اوفی الحکم و الحکم معہم مجالا٭وانما انا منتم الیہم٭متطفل علیھم٭فعنھم اخذومنھم استفیض٭ومنھم یفیض علی مایفیض٭فبرکۃ ھذا فتح المولی علی الابواب٭ویسرالاسباب وھدی للصواب٭ان شاء الله فی کل باب٭وانا اعرف حیث یحل للمقلدان یقول اقول٭ففی میدانی اجول٭والیہ احول٭وما عونی وصونی الابالله ثم بالرسول٭ثم بالسادۃ القادۃ الفحول٭علیہ وعلیھم صلوات لاتزول٭فھاك بحمدالله تعالی جنات لاولی الاباب٭مفتحۃ لھم الابواب٭حتی اذاجاؤھا وفتحت ابوابھا وقال لہم خزنتہا سلم علیکم طبتم فادخلوھا امنین٭ومن کرام کروم ریاضہا مجتنین٭ومن بلال زلال حیاضھا مرتوین٭وفی ظلال جلال غیاضہا ساکنین٭فقد رتبت علی الکتب والابواب٭فسھل التناول وحق التداول بین الاصحاب٭وستراھا محذوفۃ
اس کی حمد کرتاہوں (اور وہ مجھے کافی ہے) کہ کبھی میرے دل میں یہ خطرہ نہ گزرا کہ میں عالم ہوں یا فقہاء کے گروہ سے ہوں یا اماموں کے مقابل مجھے کوئی لفظ کہنا پہنچتا ہے یاحکم وحکمت شرع میں مجھے ان کے ساتھ کچھ مجال ہے میں تو ان کانام لیواہوں اور ان کاطفیلی انہیں سے لیتا اور فائدے پاتاہوں مجھ پر جو فیض آتاہے انہیں سے آتاہے۔ اس کی برکت سے مولانے مجھ پر دروازے کھول دئیے اور اسباب آسان کیے اور خداچاہے توہرمسئلہ میں حق کی طرف ہدایت فرمائے اور میں پہچانتا ہوں کہ مقلد کو کس جگہ اقول کہنا روا ہے تو میں اپنے ہی میدان میں جولان کرتا اور اسی کی طرف پھرتاہوں اور میری مدد اور میری حفاظت نہیں مگر الله سے پھر نبی سے پھر ہمارے اماموں سرداروں مردان میدان علم سے نبی پر اور ان پر وہ درودیں کہ کبھی زائل نہ ہوں توتوالله تعالی کے شکر کے ساتھ وہ بہشتیں لے جن کے دروازے عقل والوں کے لئے کشادہ ہیں یہاں تك کہ جب وہ ان تك آئے اور ان کے دروازے کھولے گئے اور ان سے ان بہشتوں کے خزانچیوں نے کہا تم پرسلامتی تم خوش رہو ان جنتوں میں آؤ امن پاتے اور ان کے باغوں کے معزز انگورچنتے اور ان کے حوضوں کے نتھرے پانیوں سے سیراب ہوتے اور ان کے گنجان درختوں کے سایہ عزت میں راحت لیتے اس وقت ان ارباب دانش کی خوشی بیان سے باہر ہے بات یہ ہے کہ یہ فتاوے فقہ کی کتابوں اور بابوں پر مرتب کردئیے گئے ہیں تو ان سے مسئلہ نکالنا آسان اور احباب میں ان کا دست بدست دورہ رکھنا سزا وار ہو ا اور عنقریب تو انھیں دیکھے گا کہ مکرر فتوے ان میں
اس کی حمد کرتاہوں (اور وہ مجھے کافی ہے) کہ کبھی میرے دل میں یہ خطرہ نہ گزرا کہ میں عالم ہوں یا فقہاء کے گروہ سے ہوں یا اماموں کے مقابل مجھے کوئی لفظ کہنا پہنچتا ہے یاحکم وحکمت شرع میں مجھے ان کے ساتھ کچھ مجال ہے میں تو ان کانام لیواہوں اور ان کاطفیلی انہیں سے لیتا اور فائدے پاتاہوں مجھ پر جو فیض آتاہے انہیں سے آتاہے۔ اس کی برکت سے مولانے مجھ پر دروازے کھول دئیے اور اسباب آسان کیے اور خداچاہے توہرمسئلہ میں حق کی طرف ہدایت فرمائے اور میں پہچانتا ہوں کہ مقلد کو کس جگہ اقول کہنا روا ہے تو میں اپنے ہی میدان میں جولان کرتا اور اسی کی طرف پھرتاہوں اور میری مدد اور میری حفاظت نہیں مگر الله سے پھر نبی سے پھر ہمارے اماموں سرداروں مردان میدان علم سے نبی پر اور ان پر وہ درودیں کہ کبھی زائل نہ ہوں توتوالله تعالی کے شکر کے ساتھ وہ بہشتیں لے جن کے دروازے عقل والوں کے لئے کشادہ ہیں یہاں تك کہ جب وہ ان تك آئے اور ان کے دروازے کھولے گئے اور ان سے ان بہشتوں کے خزانچیوں نے کہا تم پرسلامتی تم خوش رہو ان جنتوں میں آؤ امن پاتے اور ان کے باغوں کے معزز انگورچنتے اور ان کے حوضوں کے نتھرے پانیوں سے سیراب ہوتے اور ان کے گنجان درختوں کے سایہ عزت میں راحت لیتے اس وقت ان ارباب دانش کی خوشی بیان سے باہر ہے بات یہ ہے کہ یہ فتاوے فقہ کی کتابوں اور بابوں پر مرتب کردئیے گئے ہیں تو ان سے مسئلہ نکالنا آسان اور احباب میں ان کا دست بدست دورہ رکھنا سزا وار ہو ا اور عنقریب تو انھیں دیکھے گا کہ مکرر فتوے ان میں
الکترار٭محفوظۃ الذمار٭عن الاکثار والاکبار٭بنقل فتاوی بنی الاعصار٭بل ماھی من فتاوی الفقیر٭الاالنصف اوازید بیسیر٭اوقلت الثلث والثلث کثیر٭وذلك ان سیدی وابی٭وظل رحمۃ ربی٭ختام المحققین و امام المدققین٭ماحی الفتن٭وحامی السنن٭سیدنا ومولینا المولوی محمد نقی علی خان القادری البرکاتی٭امطرالله تعالی علی مرقدہ الکریم شابیب رضوانہ فی الحاضر والاتی٭اقامنی فی الافتاء للرابع عشر٭من شعبان الخیر والبشر٭۱۲۸۶ھ ست وثمانین والف ومائتین٭من ھجرۃ سیدالثقلین٭علیہ وعلی الہ الصلوات من رب المشرقین٭ولم تتم لی اذا ذاك اربعۃ عشرعا مامن العمر٭لان ولادتی عاشر شوال ۱۲۷۲ اثنتین وسبعین من سنی الھجرۃ الاطائب الغر٭فجعلت افتی٭ویھدینی قدس سرہ فیما اخطی٭فبعد سبع سنین اذن لی٭عطر الله تعالی مرقدہ النقی العلی٭ان افتی واعطی ولا اعرض علیہ٭ولکن لم اجترئ بذلك حتی قبضہ الرحمن الیہ٭سلخ ذی القعدہ عام سبع وتسعین ۱۲۹۷٭فلم الق بالی الی جمع ماافتیت فی تلك السنین٭نحو
نہیں ان کی حریم اس سے محفوظ رکھی گئی ہے کہ اور اہل زمانہ کے فتوے نقل کرکے گنتی اور کتاب کا حجم بڑھائیں بلکہ ان میں خود میرے ہی فتوے پورے درج نہ ہوپائے آدھے ہوں گے یاکچھ زیادہ یاتہائی کم ہوگئے اور تہائی بہت ہوتی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ میرے آقااور والد سایہ رحمت الہی خاتمہ محققین امام مدققین فتنوں کے مٹانے والے سنتوں کی حمایت فرمانے والے ہمارے سردار ومولی حضرت مولوی محمدنقی علیخان صاحب قادری برکاتی نے (کہ الله عزوجل ان کے مرقد کریم پر اب سے ہمیشہ تك اپنی رضا کے مینہ برسائے) مجھے چاردہم شعبان خیروبشارت کو فتوے لکھنے پرمامور فرمایا جب کہ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ہجرت سے ۱۲۸۶ھ سال تھے اور اس وقت میری عمر کے چودہ برس پورے نہ ہوتے تھے کہ میری پیدائش ہجرت کے پاکیزہ روشن برسوں سے دہم شوال ۱۲۷۲ھ میں ہے تو میں نے فتوے دینا شروع کیا اور جہاں میں غلطی کرتا حضرت قدس سرہ اصلاح فرماتے الله عزوجل ان کے مرقد پاکیزہ بلند کو معطرفرمائے سات برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوے لکھو اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیاکروں مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تك کہ رحمن عزوجل نے حضرت والا کوسلخ ذی القعدہ ۱۲۹۷ھ میں اپنے پاس بلالیا تو ان برسوں میں جوفتوے تقریبا ایك قرن کامل یعنی
نہیں ان کی حریم اس سے محفوظ رکھی گئی ہے کہ اور اہل زمانہ کے فتوے نقل کرکے گنتی اور کتاب کا حجم بڑھائیں بلکہ ان میں خود میرے ہی فتوے پورے درج نہ ہوپائے آدھے ہوں گے یاکچھ زیادہ یاتہائی کم ہوگئے اور تہائی بہت ہوتی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ میرے آقااور والد سایہ رحمت الہی خاتمہ محققین امام مدققین فتنوں کے مٹانے والے سنتوں کی حمایت فرمانے والے ہمارے سردار ومولی حضرت مولوی محمدنقی علیخان صاحب قادری برکاتی نے (کہ الله عزوجل ان کے مرقد کریم پر اب سے ہمیشہ تك اپنی رضا کے مینہ برسائے) مجھے چاردہم شعبان خیروبشارت کو فتوے لکھنے پرمامور فرمایا جب کہ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ہجرت سے ۱۲۸۶ھ سال تھے اور اس وقت میری عمر کے چودہ برس پورے نہ ہوتے تھے کہ میری پیدائش ہجرت کے پاکیزہ روشن برسوں سے دہم شوال ۱۲۷۲ھ میں ہے تو میں نے فتوے دینا شروع کیا اور جہاں میں غلطی کرتا حضرت قدس سرہ اصلاح فرماتے الله عزوجل ان کے مرقد پاکیزہ بلند کو معطرفرمائے سات برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوے لکھو اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیاکروں مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تك کہ رحمن عزوجل نے حضرت والا کوسلخ ذی القعدہ ۱۲۹۷ھ میں اپنے پاس بلالیا تو ان برسوں میں جوفتوے تقریبا ایك قرن کامل یعنی
اثنتی عشرۃ سنۃ٭قرنا کاملا فی الازمنۃ٭وبعد ذلك ان اتی السؤال من بلاد قریبۃ دانیۃ٭ومما لك بعیدۃقاصیۃ٭عشر مرات فصاعدا٭لم اثبت فی الکتاب الاجوابا واحدا٭الا لفائدۃ٭اوعائدۃ زائدۃ٭اوطروء نسیان٭وقلما یسلم منہ انسان٭ومع فوات الکثیرۃ وروم الاختصار٭قد بلغت الی الان سبع مجلدات کبار٭کل مجلد مابین سبعین٭کراسا کبیرا الی ثمانین٭والان ھی فی ازدیاد٭الی مایشاء الکریم الجواد فاستثقل الاحباب حجم المجلدات وجزؤھا علی اثنی عشر٭ومایرزق المولی من بعد ذلك فسیکون ذیلا بعونہ الاکبر٭وسمیتھا بالعطایا النبویۃ٭فی الفتاوی الرضویۃ٭جعلھا الله ٭وسیلۃ لرضاہ٭ونافعۃ فی الدارین لی ولعبادہ٭وجوداجائدا علی جمیع بلادہ٭واھب واھب المراد قبول القبول٭علیھا وصانھا من کل لدود جھول٭فقد عذت برب الفلق٭من شرماخلق٭ومن شرحاسد اذاحسد٭ومن ضرحاقداذ احقد٭اللھم من استعاذ بك فقد استعاذ بعظیم٭عزجارك وجل ثناؤوجہك الکریم٭صل وسلم
بارہ سال تك لکھے ان کے جمع کرنے کاخیال نہ آیا اور اس کے بعد پاس پاس کے شہروں اور دور دراز کے ملکوں سے اگرسوال دس یازیادہ بارآیا توکتاب میں ایك ہی بار کاجواب درج کیا مگر کسی فائدے یازیادہ نفع کے لئے یابھول کر کہ آدمی بھول سے کم خالی ہوتا ہے اور باآنکہ اتنے کثیر فتاوے جاتے رہے اور باقیوں میں اس قدر اختصار منظور رہا اب تك میرے فتاوے سات مجلد کبیر تك پہنچ گئے ہرجلدچودہ سوصفحہ کلاں سے سولہ سوکے اندر تك اور ہنوز جہاں تك وہ جودوکرم والا چاہے افزائش ہی ہے پس احباب نے مجلدات کاحجم بھاری دیکھ کر فتاوے کو بارہ جلدوں پر تقسیم کیا اور جو کچھ مولاتعالی اس کے بعد عطافرمائے گا وہ اس کی مدد اکبر سے عنقریب ذیل فتاوی ہوجائے گا اور میں نے اس کانام العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ رکھا الله اسے اپنی رضاکاوسیلہ بنائے اور دونوں جہان میں مجھے اور اپنے بندوں کو اس سے نفع پہنچائے اور اسے اپنے سب شہروں پرنفع رسانی کے لئے برسنے والے عظیم باران بنائے مرادیں دینے والا اس پرقبول کی نسیم چلائے اور ہرسخت جاہل جھگڑالوسے اسے بچائے اس لئے کہ میں پروردگار صبح کی پناہ میں آیا اس کی تمام مخلوقات کے شر سے حاسد کی برائی سے جب وہ حسد کرے اور کینہ پر ور کے ضرر سے جب وہ کینہ رکھے اے اللہ! جس نے تیری پناہ لی اس نے بڑی عظمت والے کی پناہ لی عزت والا وہ ہے جسے توپناہ بخشے تیرے وجہ کریم کی تعریف کمال بزرگ ہے اس
بارہ سال تك لکھے ان کے جمع کرنے کاخیال نہ آیا اور اس کے بعد پاس پاس کے شہروں اور دور دراز کے ملکوں سے اگرسوال دس یازیادہ بارآیا توکتاب میں ایك ہی بار کاجواب درج کیا مگر کسی فائدے یازیادہ نفع کے لئے یابھول کر کہ آدمی بھول سے کم خالی ہوتا ہے اور باآنکہ اتنے کثیر فتاوے جاتے رہے اور باقیوں میں اس قدر اختصار منظور رہا اب تك میرے فتاوے سات مجلد کبیر تك پہنچ گئے ہرجلدچودہ سوصفحہ کلاں سے سولہ سوکے اندر تك اور ہنوز جہاں تك وہ جودوکرم والا چاہے افزائش ہی ہے پس احباب نے مجلدات کاحجم بھاری دیکھ کر فتاوے کو بارہ جلدوں پر تقسیم کیا اور جو کچھ مولاتعالی اس کے بعد عطافرمائے گا وہ اس کی مدد اکبر سے عنقریب ذیل فتاوی ہوجائے گا اور میں نے اس کانام العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ رکھا الله اسے اپنی رضاکاوسیلہ بنائے اور دونوں جہان میں مجھے اور اپنے بندوں کو اس سے نفع پہنچائے اور اسے اپنے سب شہروں پرنفع رسانی کے لئے برسنے والے عظیم باران بنائے مرادیں دینے والا اس پرقبول کی نسیم چلائے اور ہرسخت جاہل جھگڑالوسے اسے بچائے اس لئے کہ میں پروردگار صبح کی پناہ میں آیا اس کی تمام مخلوقات کے شر سے حاسد کی برائی سے جب وہ حسد کرے اور کینہ پر ور کے ضرر سے جب وہ کینہ رکھے اے اللہ! جس نے تیری پناہ لی اس نے بڑی عظمت والے کی پناہ لی عزت والا وہ ہے جسے توپناہ بخشے تیرے وجہ کریم کی تعریف کمال بزرگ ہے اس
وبارك علی ھذا الحبیب الرؤوف الرحیم٭وعلی الہ وصحبہ واولیائہ وعلمائہ بالوف التکریم٭واشھد ان لاالہ الا الله وحدہ لاشریك لہ٭واشھد ان سیدنا ومولینا محمدا عبدہ ورسولہ بالھدی ودین الحق ارسلہ٭صلی الله علیہ وسلم علیہ٭وعلی کل من ھو مرضی لدیہ٭وعلی کل مسلم ملتجیئ الیہ٭فی کل ان دائما ابدا٭مالایحصیہ احد عددا امین۔
رافت ورحمت والے پیارے پر در ود وسلام وبرکت اتار اور ان کے آل واصحاب اور ان کے اولیاء وعلماء پر ہزاروں تعظیم کے ساتھ اور میں گواہی دیتاہوں کہ الله تعالی کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ایك اکیلا کوئی اس کا ساجھی نہیں اور میں گواہی دیتاہوں کہ ہمارے مالك ہمارے مولی محمد اس کے بندے اس کے رسول ہیں کہ اس نے انہیں رہنمائی اور سچے دین کے ساتھ بھیجا الله تعالی ان پر درود وسلام نازل فرمائے اور ان سب پر جو ان کو پسند ہیں اور ہراس مسلمان پر جو ان کی طرف التجالے جائے ہرآن ہمیشہ ہمیشہ اتنی کہ کوئی گن نہ سکے الہی قبول کر۔
_____________________
رافت ورحمت والے پیارے پر در ود وسلام وبرکت اتار اور ان کے آل واصحاب اور ان کے اولیاء وعلماء پر ہزاروں تعظیم کے ساتھ اور میں گواہی دیتاہوں کہ الله تعالی کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ایك اکیلا کوئی اس کا ساجھی نہیں اور میں گواہی دیتاہوں کہ ہمارے مالك ہمارے مولی محمد اس کے بندے اس کے رسول ہیں کہ اس نے انہیں رہنمائی اور سچے دین کے ساتھ بھیجا الله تعالی ان پر درود وسلام نازل فرمائے اور ان سب پر جو ان کو پسند ہیں اور ہراس مسلمان پر جو ان کی طرف التجالے جائے ہرآن ہمیشہ ہمیشہ اتنی کہ کوئی گن نہ سکے الہی قبول کر۔
_____________________
سند الفقیر فی الفقہ المنیر مسلسلا بالحنفیۃ الکرام
و المفتین و المصنفین و المشائخ الاعلام
بحمدالله تعالی طرق کثیرۃ من اجلھا انی ارویہ عن سراج البلاد الحرمیۃ مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیۃ مولینا الشیخ عبدالرحمن السراج ابن المفتی الاجل مولینا عبدالله السراج عن مفتی مکۃ سیدی جمال بن عبدالله بن عمر عن الشیخ الجلیل محمد عابدالا نصاری المدنی عن الشیخ یوسف بن محمد بن علاء الدین المزجاجی عن الشیخ عبدالقادر بن خلیل عن الشیخ اسمعیل بن عبدالله الشھیر بعلی زادہ البخاری عن العارف بالله تعالی الشیخ عبدالغنی بن اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی (وھو صاحب الحدیقۃ الندیۃ والمطالب الوفیۃ والتصانیف الجلیلۃ الزکیۃ) عن والدہ مؤلف شرح الدرر والغرر عن شیخین جلیلین احمد الشوبری وحسن الشرنبلالی
فقہ روشن میں میری سند کہ معززحنفیہ اور مشہور مفتیوں مصنفوں اماموں سے مسلسل ہے خدا کا شکر اس کے بہت سے طریق ہیں ان میں نہایت عظمت والے طرق سے یہ ہے کہ میں فقہ روایت کرتاہوں شمع حرم مفتی مکہ معظمہ مولانا عبدالرحمن سراج ابن مفتی اجل مولانا عبدالله سراج مکی سے وہ ستائیس واسطوں سے امام اعظم تک وہ چارواسطوں سے حضورپرنور سیدالمرسلین تك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
و المفتین و المصنفین و المشائخ الاعلام
بحمدالله تعالی طرق کثیرۃ من اجلھا انی ارویہ عن سراج البلاد الحرمیۃ مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیۃ مولینا الشیخ عبدالرحمن السراج ابن المفتی الاجل مولینا عبدالله السراج عن مفتی مکۃ سیدی جمال بن عبدالله بن عمر عن الشیخ الجلیل محمد عابدالا نصاری المدنی عن الشیخ یوسف بن محمد بن علاء الدین المزجاجی عن الشیخ عبدالقادر بن خلیل عن الشیخ اسمعیل بن عبدالله الشھیر بعلی زادہ البخاری عن العارف بالله تعالی الشیخ عبدالغنی بن اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی (وھو صاحب الحدیقۃ الندیۃ والمطالب الوفیۃ والتصانیف الجلیلۃ الزکیۃ) عن والدہ مؤلف شرح الدرر والغرر عن شیخین جلیلین احمد الشوبری وحسن الشرنبلالی
فقہ روشن میں میری سند کہ معززحنفیہ اور مشہور مفتیوں مصنفوں اماموں سے مسلسل ہے خدا کا شکر اس کے بہت سے طریق ہیں ان میں نہایت عظمت والے طرق سے یہ ہے کہ میں فقہ روایت کرتاہوں شمع حرم مفتی مکہ معظمہ مولانا عبدالرحمن سراج ابن مفتی اجل مولانا عبدالله سراج مکی سے وہ ستائیس واسطوں سے امام اعظم تک وہ چارواسطوں سے حضورپرنور سیدالمرسلین تك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
محشی الدرر والغرر (وھوصاحب نورالایضاح وشرحیہ مراقی الفلاح وامداد الفتاح والتصانیف الملاح) بروایۃ الاول عن الشیخ عمر بن نجیم صاحب النھر الفائق والشمس الحانوتی صاحب الفتاوی والشیخ علی المقدسی شارح نظم الکنز وروایۃ الثانی عن الشیخ عبدالله النحریری والشیخ محمد بن عبدالرحمن المسیری والشیخ محمد بن احمد الحموی والشیخ احمد المحبی سبعتھم عن الشیخ احمد بن یونس الشلبی صاحب الفتاوی عن سری الدین عبدالبربن الشحنۃ شارح الوھبانیۃ عن الکمال بن الھمام (وھو المحقق حیث اطلق صاحب فتح القدیر عن السراج قارئ الھدایۃعن علاء الدین السیرافی عــــہ۱ عن السید جلال الدین عــــہ۲ الخبازی شارح
عــــہ۱ : ھکذا ھو فی روایاتی بالفاء وھوالاشھر ویقال سیرامی بالمیم وھو الواقع فی فتح القدیر و الطحطاوی ورد المحتار وسیراف بالفاء کشیر از بلدۃ بفارس علی ساحل البحر ممایلی کرمان منہا ابو سعید النحوی المشہور وبالمیم مد ینۃ بالروم منہا النظام یحیی بن یوسف بن فہد النحوی تلمیذ التفتازانی منہ دام فیضہ۔
عـــہ۲ : ھکذا فی روایتی ھذہ وفی روایتی الاخری من طریق السراج الحانوتی عن ابراہیم الکرکی صاحب الفیض عن الشیخ محب الدین الاقصرائی عن قارئ الہدایۃ عن السیرافی بلفظ عن السید
میری روایات میں اسی طرح ہے فاء کے ساتھ اور یہی زیادہ مشہور ہے سرامی بھی کہاجاتا ہے جیسے کہ فتح القدیر طحطاوی اور ردالمحتار میں ہے۔ سیراف فاء کے ساتھ شیراز کے و زن پر فارس میں سمندر کے کنارے کرمان کے پاس ایك گاؤں ہے۔ مشہورنحوی ابوسعید یہیں کے رہنے والے تھے اور میم کے ساتھ (سیرام) روم کاایك شہر ہے علامہ تفتازانی کے شاگرد نظام یحیی بن یوسف بن فہد نحوی اسی جگہ کے رہنے والے تھے۔
میری اس روایت میں اسی طرح ہے اور میری دوسری روایت یہ ہے کہ سراج حانوتی نے روایت کی صاحب الفیض ابراہیم کرکی سے انہوں نے شیخ محب الدین اقصرائی سے انہوں نے قارئ الہدایہ سے انہوں نے سیرافی سے ان کے الفاظ یہ ہیں : میں روایت کرتاہوں سید (باقی برصفحہ ائندہ)
عــــہ۱ : ھکذا ھو فی روایاتی بالفاء وھوالاشھر ویقال سیرامی بالمیم وھو الواقع فی فتح القدیر و الطحطاوی ورد المحتار وسیراف بالفاء کشیر از بلدۃ بفارس علی ساحل البحر ممایلی کرمان منہا ابو سعید النحوی المشہور وبالمیم مد ینۃ بالروم منہا النظام یحیی بن یوسف بن فہد النحوی تلمیذ التفتازانی منہ دام فیضہ۔
عـــہ۲ : ھکذا فی روایتی ھذہ وفی روایتی الاخری من طریق السراج الحانوتی عن ابراہیم الکرکی صاحب الفیض عن الشیخ محب الدین الاقصرائی عن قارئ الہدایۃ عن السیرافی بلفظ عن السید
میری روایات میں اسی طرح ہے فاء کے ساتھ اور یہی زیادہ مشہور ہے سرامی بھی کہاجاتا ہے جیسے کہ فتح القدیر طحطاوی اور ردالمحتار میں ہے۔ سیراف فاء کے ساتھ شیراز کے و زن پر فارس میں سمندر کے کنارے کرمان کے پاس ایك گاؤں ہے۔ مشہورنحوی ابوسعید یہیں کے رہنے والے تھے اور میم کے ساتھ (سیرام) روم کاایك شہر ہے علامہ تفتازانی کے شاگرد نظام یحیی بن یوسف بن فہد نحوی اسی جگہ کے رہنے والے تھے۔
میری اس روایت میں اسی طرح ہے اور میری دوسری روایت یہ ہے کہ سراج حانوتی نے روایت کی صاحب الفیض ابراہیم کرکی سے انہوں نے شیخ محب الدین اقصرائی سے انہوں نے قارئ الہدایہ سے انہوں نے سیرافی سے ان کے الفاظ یہ ہیں : میں روایت کرتاہوں سید (باقی برصفحہ ائندہ)
الھدایۃ عن الشیخ عبدالعزیز البخاری صاحب الکشف والتحقیق عن الامام عبدالستار بن محمد ن الکردری عن الامام برھان الدین صاحب الہدایۃ عن الامام فخرالاسلام البزدوی عن عــــہ شمس الائمۃ الحلوانی عن القاضی ابی علی النسفی عن ابی بکر محمد بن (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جلال الدین بن شمس الدین الکرلانی عن عبد العزیز بن محمد بن احمد البخاری الخ والسید جلال الدین ھذا ھو صاحب الکفایۃ شرح الہدایۃ تلمیذ حسام الدین السغناقی صاحب النہایۃ اول شروح الہدایۃ والخبازی صاحب المغنی فی الاصول عمر بن محمد بن عمروھو ایضا شرح الہدایۃ وکلاھما من تلامذۃ صاحب الکشف والتحقیق والله تعالی اعلم ۲منہ دام فیضہ
عــــہ : ھکذا ھوفی روایتی ووقع فی اسانید السید الطحطاوی والسید الشامی عن فخرالاسلام وعن شمس الائمۃ السرخسی عن شمس الائمۃ الحلوانی الخ اقول : وھذا من المزید فی متصل الاسانید فان الامام فخر الاسلام قداخذ عن شمس الائمۃ الحلوانی بلاواسطۃ قال الذھبی فی سیراعلام النبلاء فی ترجمۃ
جلال الدین بن شمس الدین الکرلانی سے وہ عبدالعزیز بن محمد بن احمد بخاری سے الخ۔ یہ سید جلال الدین صاحب کفایہ شرح ہدایہ ہیں اور ہدایہ کے پہلے شارح حسام الدین سغناقی صاحب نہایہ کے شاگرد ہیں اور خبازی علم اصول کی کتاب المغنی کے مصنف عمربن محمد بن عمر ہیں انہوں نے بھی ہدایہ کی شرح لکھی ہے اور یہ دونوں صاحب الکشف والتحقیق (علامہ عبدالعزیز بخاری) کے شاگرد ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ ۱۲منہ دام فیضہ(ت)
میری روایت میں اسی طرح ہے سیدطحطاوی اور سید شامی کی سندوں میں ہے : فخرالاسلام روایت کرتے ہیں شمس الائمہ سرخسی سے اور وہ شمس الائمہ حلوانی سے الخ میں کہتاہوں کہ یہ سند متصل میں اضافہ ہے کیونکہ امام فخرالاسلام نے علم فقہ شمس الائمہ حلوانی سے بلاواسطہ حاصل کیا ہے۔ علامہ ذہبی سیراعلام النبلا میں امام حلوانی کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ان سے (باقی برصفحہ ائندہ)
جلال الدین بن شمس الدین الکرلانی عن عبد العزیز بن محمد بن احمد البخاری الخ والسید جلال الدین ھذا ھو صاحب الکفایۃ شرح الہدایۃ تلمیذ حسام الدین السغناقی صاحب النہایۃ اول شروح الہدایۃ والخبازی صاحب المغنی فی الاصول عمر بن محمد بن عمروھو ایضا شرح الہدایۃ وکلاھما من تلامذۃ صاحب الکشف والتحقیق والله تعالی اعلم ۲منہ دام فیضہ
عــــہ : ھکذا ھوفی روایتی ووقع فی اسانید السید الطحطاوی والسید الشامی عن فخرالاسلام وعن شمس الائمۃ السرخسی عن شمس الائمۃ الحلوانی الخ اقول : وھذا من المزید فی متصل الاسانید فان الامام فخر الاسلام قداخذ عن شمس الائمۃ الحلوانی بلاواسطۃ قال الذھبی فی سیراعلام النبلاء فی ترجمۃ
جلال الدین بن شمس الدین الکرلانی سے وہ عبدالعزیز بن محمد بن احمد بخاری سے الخ۔ یہ سید جلال الدین صاحب کفایہ شرح ہدایہ ہیں اور ہدایہ کے پہلے شارح حسام الدین سغناقی صاحب نہایہ کے شاگرد ہیں اور خبازی علم اصول کی کتاب المغنی کے مصنف عمربن محمد بن عمر ہیں انہوں نے بھی ہدایہ کی شرح لکھی ہے اور یہ دونوں صاحب الکشف والتحقیق (علامہ عبدالعزیز بخاری) کے شاگرد ہیں۔ والله تعالی اعلم۔ ۱۲منہ دام فیضہ(ت)
میری روایت میں اسی طرح ہے سیدطحطاوی اور سید شامی کی سندوں میں ہے : فخرالاسلام روایت کرتے ہیں شمس الائمہ سرخسی سے اور وہ شمس الائمہ حلوانی سے الخ میں کہتاہوں کہ یہ سند متصل میں اضافہ ہے کیونکہ امام فخرالاسلام نے علم فقہ شمس الائمہ حلوانی سے بلاواسطہ حاصل کیا ہے۔ علامہ ذہبی سیراعلام النبلا میں امام حلوانی کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ان سے (باقی برصفحہ ائندہ)
الفضل البخاری عن الامام ابی عــــہ عبدالله السبذ مونی عن عبدالله بن
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الامام الحلوانی اخذعنہ شمس الائمۃ السرخسی وفخرالاسلام البزدوی واخوہ صدرالاسلام الخ وارخ وفاتہ بخارا ۴۵۶ھ اربعمائۃ وست وخمسین ووفاۃ فخر الاسلام بکش فی رجب ۴۸۲ھ اربعمائۃ واثنتین وثمانین قال وولد فی حدود ۴۰۰ھ اربعمائۃ فیکون عمرہ عند وفاۃ الحلوانی نحوست وخمسین سنۃ۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔
عــــہ : ھکذا ھو فی روایتی ھذہ وکذا فی سند الطحطاوی والشامی وثبت شیخ الشامی والمشہور ان کنیتہ ابومحمد واسمہ عبدالله بن محمد وھو الواقع فی روایتی الاخری من طریق عزالد ین احمد بن المظفر وعبدالعزیز المذکور البخاری کلیھما عن حافظ الدین البخاری عن شمس الائمۃ الکردری عن بدر الائمۃ عمر الورسکی عن الامام رکن الدین عبدالرحمن الکہانی عن فخر القضاۃ الارسابندی عن عماد الاسلام عبدالرحیم الزوزنی عن القاضی الامام
شمس الائمہ سرخسی فخرالاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدرالاسلام نے علم حاصل کیا (سیراعلام النبلا) ذہبی نے بیان کیا کہ ان کا وصال ۴۵۶ھ میں بخارا میں ہوا اور فخرالاسلام کاوصال ماہ رجب ۴۸۲ھ میں کش میں ہوا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ فخرالاسلام کی پیدائش ۴۰۰ھ کے لگ بھگ ہوئی۔ اس طرح شمس الائمہ کے وصال کے وقت ان کی عمر چھپن ۵۶ (برس) ہوگی۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔ (ت)
میری اس روایت میں اسی طرح ہے اور اسی طرح علامہ طحطاوی اور شامی کی سند اور علامہ شامی کے شیخ کی تحریر میں ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان کی کنیت ابومحمداور نام عبدالله بن محمد ہے اور یہی میری دوسری روایت میں واقع ہے جو عزالدین احمد بن مظفر اور عبدالعزیز بخاری (جوپہلی روایت میں مذکور ہیں) سے مروی ہے وہ دونوں حافظ الدین بخاری سے وہ شمس الائمہ کردری سے وہ بدرالائمہ عمرورسکی سے وہ امام رکن الدین عبدالرحمن کہانی سے وہ فخر القضاۃ ارسابندی سے وہ عماد الاسلام عبدالرحیم زوزنی سے وہ قاضی امام ابوزیددبوسی سے وہ استاد (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الامام الحلوانی اخذعنہ شمس الائمۃ السرخسی وفخرالاسلام البزدوی واخوہ صدرالاسلام الخ وارخ وفاتہ بخارا ۴۵۶ھ اربعمائۃ وست وخمسین ووفاۃ فخر الاسلام بکش فی رجب ۴۸۲ھ اربعمائۃ واثنتین وثمانین قال وولد فی حدود ۴۰۰ھ اربعمائۃ فیکون عمرہ عند وفاۃ الحلوانی نحوست وخمسین سنۃ۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔
عــــہ : ھکذا ھو فی روایتی ھذہ وکذا فی سند الطحطاوی والشامی وثبت شیخ الشامی والمشہور ان کنیتہ ابومحمد واسمہ عبدالله بن محمد وھو الواقع فی روایتی الاخری من طریق عزالد ین احمد بن المظفر وعبدالعزیز المذکور البخاری کلیھما عن حافظ الدین البخاری عن شمس الائمۃ الکردری عن بدر الائمۃ عمر الورسکی عن الامام رکن الدین عبدالرحمن الکہانی عن فخر القضاۃ الارسابندی عن عماد الاسلام عبدالرحیم الزوزنی عن القاضی الامام
شمس الائمہ سرخسی فخرالاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدرالاسلام نے علم حاصل کیا (سیراعلام النبلا) ذہبی نے بیان کیا کہ ان کا وصال ۴۵۶ھ میں بخارا میں ہوا اور فخرالاسلام کاوصال ماہ رجب ۴۸۲ھ میں کش میں ہوا اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ فخرالاسلام کی پیدائش ۴۰۰ھ کے لگ بھگ ہوئی۔ اس طرح شمس الائمہ کے وصال کے وقت ان کی عمر چھپن ۵۶ (برس) ہوگی۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔ (ت)
میری اس روایت میں اسی طرح ہے اور اسی طرح علامہ طحطاوی اور شامی کی سند اور علامہ شامی کے شیخ کی تحریر میں ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان کی کنیت ابومحمداور نام عبدالله بن محمد ہے اور یہی میری دوسری روایت میں واقع ہے جو عزالدین احمد بن مظفر اور عبدالعزیز بخاری (جوپہلی روایت میں مذکور ہیں) سے مروی ہے وہ دونوں حافظ الدین بخاری سے وہ شمس الائمہ کردری سے وہ بدرالائمہ عمرورسکی سے وہ امام رکن الدین عبدالرحمن کہانی سے وہ فخر القضاۃ ارسابندی سے وہ عماد الاسلام عبدالرحیم زوزنی سے وہ قاضی امام ابوزیددبوسی سے وہ استاد (باقی برصفحہ ائندہ)
ابی حفص البخاری عن ابیہ احمد بن حفص (وھو الامام الشہیر بابی حفص الکبیر) عن الامام الحجۃ ابی عبدالله محمد بن الحسن الشیبانی عن الامام الاعظم ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃ والاسود عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم۔
______________
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابی زید الدبوسی عن الاستاذابی جعفر الاستروشنی عن ابی الحسن علی النسفی عن الامام الفضلی قال اخبرنا الامام ابومحمد عبدالله بن محمد بن یعقوب السبذ مونی الحارثی الخ فلعل لہ کنیتین ابومحمد وابو عبد الله و الله تعالی اعلم منہ دام فیضہ
ابوجعفر استروشنی سے وہ ابوالحسن علی نسفی سے وہ امام فضلی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں امام ابومحمد عبدالله بن محمد بن یعقوب سبذمونی حارثی نے بیان کیا الخ۔ ہوسکتاہے کہ ان کی دوکنیتیں ہوں : (۱) ابومحمد (۲)ابوعبداللہ۔ والله تعالی اعلم۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔ (ت)
______________
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابی زید الدبوسی عن الاستاذابی جعفر الاستروشنی عن ابی الحسن علی النسفی عن الامام الفضلی قال اخبرنا الامام ابومحمد عبدالله بن محمد بن یعقوب السبذ مونی الحارثی الخ فلعل لہ کنیتین ابومحمد وابو عبد الله و الله تعالی اعلم منہ دام فیضہ
ابوجعفر استروشنی سے وہ ابوالحسن علی نسفی سے وہ امام فضلی سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں امام ابومحمد عبدالله بن محمد بن یعقوب سبذمونی حارثی نے بیان کیا الخ۔ ہوسکتاہے کہ ان کی دوکنیتیں ہوں : (۱) ابومحمد (۲)ابوعبداللہ۔ والله تعالی اعلم۔ ۱۲منہ دام فیضہ۔ (ت)
رسالہ
اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام ۱۳۳۴ھ
(روشن تر اگاہی کہ فتوی قول امام پر ہے)
فـــ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله الحفی علی دینہ الحنفی الذی ایدنا بائمۃ یقیمون الاود ویدیمون المدد باذن الجواد الصمد وجعل من بینھم امامنا الاعظم کالقلب فی الجسد والصلوۃ والسلام علی الامام الاعظم للرسل الکرام الذی
ہر ستا ئش خدا کے لئے جو دین حنفی پر نہایت مہربان ہے جس نے ہمیں ایسے ائمہ سے قوت دی جو جو د وسخا والے بے نیاز رب کے اذن سے کجی درست کرنے والے او ر ہمیشہ مدد پہنچا نے والے ہیں او ران کے درمیان ہمارے امام اعظم کو یوں رکھاجیسے جسم میں قلب کو رکھا اور درودو سلام ہو معز ز رسولوں کے امام اعظم پر جن کا یہ
فـــ : رسالہ جلیلہ اس امر کی تحقیق عظیم میں کہ فتوی ہمیشہ قول امام پر ہے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگرچہ خلاف پرفتوی دیا گیا ہو اختلاف زمانہ ضرورت وتعامل وغیرہا جن وجوہ سے قول دیگر پر فتوی مانا جاتا ہے وہ درحقیقت قول امام ہی ہوتا ہے ۔
اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علی قول الامام ۱۳۳۴ھ
(روشن تر اگاہی کہ فتوی قول امام پر ہے)
فـــ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله الحفی علی دینہ الحنفی الذی ایدنا بائمۃ یقیمون الاود ویدیمون المدد باذن الجواد الصمد وجعل من بینھم امامنا الاعظم کالقلب فی الجسد والصلوۃ والسلام علی الامام الاعظم للرسل الکرام الذی
ہر ستا ئش خدا کے لئے جو دین حنفی پر نہایت مہربان ہے جس نے ہمیں ایسے ائمہ سے قوت دی جو جو د وسخا والے بے نیاز رب کے اذن سے کجی درست کرنے والے او ر ہمیشہ مدد پہنچا نے والے ہیں او ران کے درمیان ہمارے امام اعظم کو یوں رکھاجیسے جسم میں قلب کو رکھا اور درودو سلام ہو معز ز رسولوں کے امام اعظم پر جن کا یہ
فـــ : رسالہ جلیلہ اس امر کی تحقیق عظیم میں کہ فتوی ہمیشہ قول امام پر ہے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگرچہ خلاف پرفتوی دیا گیا ہو اختلاف زمانہ ضرورت وتعامل وغیرہا جن وجوہ سے قول دیگر پر فتوی مانا جاتا ہے وہ درحقیقت قول امام ہی ہوتا ہے ۔
جاء نا حقا من قولہ المأمون استفت عـــــہ قلبك وان افتاك المفتون وعلیہم وعلی الہ والھم وصحبہ وصحبھم وفئا مہ و
ارشاد گرامی بجا طور پر ہمیں ملا کہ اپنے قلب سے فتوی دریافت کر اگر چہ مفتیوں کافتوی تجھے مل چکا ہے ۔ اور (درود و سلام ہو) ان رسولو ں پر یوں ہی سرکارکے آل واصحاب وجماعت پر اورحضرات رسل کے
عــــہ : جعل الامام الاعظم کالقلب ثم ذکر ھذا الحدیث (استفت قلبك وان افتاك المفتون فاکرم بہ من براعۃ استھلال والحدیث رواہ الامام احمد والبخاری فی تاریخہ عن وابصۃ بن معبد الجھنی رضی الله تعالی عنہ بسند حسن بلفظ استفت نفسك وروی احمد بسند صحیح عن ابی ثعلبۃ الخشنی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم البر ما سکنت الیہ النفس واطمأن الیہ القلب والاثم مالم تسکن الیہ النفس ولم یطمئن الیہ القلب وان افتاك المفتون ا ھ منہ غفرلہ۔
پہلے امام اعظم کو قلب کی طرح قرار دیا پھر یہ حدیث ذکر کی “ اپنے قلب سے فتوی طلب کر اگر چہ مفتیوں کا فتوی تجھے مل چکا ہو “ اس میں کیا ہی عمدہ براعت استہلال ہے( یعنی یہ اشارہ ہوجاتا ہے کہ قلب امام اعظم کا فتوی راجح ہوگا اگرچہ دو سرے فتوے اس کے بر خلاف ہوں حدیث مذکور امام احمد نے مسند میں اور امام بخاری نے تا ریخ میں وابصہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالی عنہسے بسند حسن روایت کی ہے اس کے الفا ظ میں “ استفت نفسک “ ہے یعنی خود اپنی ذات سے فتوی طلب کر اور امام احمدنے بسند صحیح ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالی عنہکے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یوں روایت کی ہے نیکی وہ ہے جس میں نفس کو سکون اور قلب کو اطمینا ن ملے اور گناہ وہ ہے جس سے نفس کو سکون او ر قلب کو اطمینان نہ ہو اگر چہ فتوی دینے والے(اس کی درستی کا ) فتوی دے دیں ) (ت)
ارشاد گرامی بجا طور پر ہمیں ملا کہ اپنے قلب سے فتوی دریافت کر اگر چہ مفتیوں کافتوی تجھے مل چکا ہے ۔ اور (درود و سلام ہو) ان رسولو ں پر یوں ہی سرکارکے آل واصحاب وجماعت پر اورحضرات رسل کے
عــــہ : جعل الامام الاعظم کالقلب ثم ذکر ھذا الحدیث (استفت قلبك وان افتاك المفتون فاکرم بہ من براعۃ استھلال والحدیث رواہ الامام احمد والبخاری فی تاریخہ عن وابصۃ بن معبد الجھنی رضی الله تعالی عنہ بسند حسن بلفظ استفت نفسك وروی احمد بسند صحیح عن ابی ثعلبۃ الخشنی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم البر ما سکنت الیہ النفس واطمأن الیہ القلب والاثم مالم تسکن الیہ النفس ولم یطمئن الیہ القلب وان افتاك المفتون ا ھ منہ غفرلہ۔
پہلے امام اعظم کو قلب کی طرح قرار دیا پھر یہ حدیث ذکر کی “ اپنے قلب سے فتوی طلب کر اگر چہ مفتیوں کا فتوی تجھے مل چکا ہو “ اس میں کیا ہی عمدہ براعت استہلال ہے( یعنی یہ اشارہ ہوجاتا ہے کہ قلب امام اعظم کا فتوی راجح ہوگا اگرچہ دو سرے فتوے اس کے بر خلاف ہوں حدیث مذکور امام احمد نے مسند میں اور امام بخاری نے تا ریخ میں وابصہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالی عنہسے بسند حسن روایت کی ہے اس کے الفا ظ میں “ استفت نفسک “ ہے یعنی خود اپنی ذات سے فتوی طلب کر اور امام احمدنے بسند صحیح ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالی عنہکے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے یوں روایت کی ہے نیکی وہ ہے جس میں نفس کو سکون اور قلب کو اطمینا ن ملے اور گناہ وہ ہے جس سے نفس کو سکون او ر قلب کو اطمینان نہ ہو اگر چہ فتوی دینے والے(اس کی درستی کا ) فتوی دے دیں ) (ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن وابصۃ بن معبد α رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ€المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۲۸۸
(اتحاف السادۃ المتقین الباب الثانی دارالفکر بیروت ا / ۱۶۰ )
التاریخ البخاری ترجمہ ۴۳۲ محمد ابوعبدαالله€ الاسدی دارالباز مکۃ المکرمۃ ۱ / ۱۴۵ ، الجامع الصغیر حدیث۹۹۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۶)
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ثعلبۃ الخشنی المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۱۹۴)
(اتحاف السادۃ المتقین الباب الثانی دارالفکر بیروت ا / ۱۶۰ )
التاریخ البخاری ترجمہ ۴۳۲ محمد ابوعبدαالله€ الاسدی دارالباز مکۃ المکرمۃ ۱ / ۱۴۵ ، الجامع الصغیر حدیث۹۹۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۶)
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ثعلبۃ الخشنی المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۱۹۴)
فئامھم الی یوم یدعی کل اناس بامامھم امین اعلم رحمنی الله تعالی وایاک وتولی بفضلہ ھدای وھداک انہ قال العلامۃ المحقق البحر فی صدر قضاء البحر بعد ما ذکر تصحیح السراجیۃ ان المفتی یفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق وتصحیح حاوی القدسی اذاکان الامام فی جانب وھمافی جانب ان الاعتبار لقوۃ المدرك مانصہ فان قلت کیف جاز للمشائخ الافتاء بغیر قول الامام الاعظم مع انھم مقلدون قلت قد اشکل علی ذلك مدۃ طویلۃ ولم ارفیہ جوابا الاما فھمتہ الان من کلامھم وھو انھم نقلو ا عن اصحابنا عـــــہ انہ لایحل
آل واصحاب وجماعت پر اورحضرات رسل کے آل واصحاب اور جماعت پر بھی اس روز تك جبکہ ہر گر وہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا الہی ! قبول فرما آپ کو معلوم ہو خدا مجھ پر اور آپ پر رحم فرمائے اور اپنے فضل سے مجھے اور آپ کو راہ راست پر چلائے کہ علامہ محقق صاحب بحر رائق نے البحر الرائق کتاب القضاء کے شرو ع میں پہلے یہ دو تصحیحین ذکر کیں (۱) تصحیح سراجیہ مفتی کو مطلقا قول امام پر فتوی دینا ہے ۔ (۲) تصحیح حاوی قدسی اگر امام اعظم ایك جانب ہوں او رصاحبین دو سری جانب تو قوت دلیل کا اعتبار ہوگا اس کے بعد وہ یوں رقم طراز ہیں : اگر یہ سوال ہو کہ مشائخ کو یہ جواز کیسے ملا کہ وہ امام اعظم کے مقلد ہوتے ہوئے ان کا قول چھوڑ کر دو سرے کے قول پر فتوی دیں تو میں کہوں گا کہ یہ اشکال عرصہ دراز تك مجھے در پیش رہا اور اس کا کوئی جواب نظر نہ آیا مگر اس وقت ان حضرات کے کلام سے اس اشکال کا یہ حل سمجھ میں آیا کہ حضرات مشائخ نے ہمارے اصحاب سے یہ ارشاد نقل
عــــہ : قال الرملی ھذا مروی عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ وکلامہ ھنا موھم ان ذلك مروی عن المشائخ کما ھو
یہا ں خیر الدین رملی اعتراض فرماتے ہیں کہ یہ با ت اما م ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے اور کلام بحر سے یہ وہم پیداہوتا ہے کہ یہ بات حضرات مشائخ سے مروی ہے جیسا کہ اس کے سیاق (باقی بر صفحہ ائندہ)
آل واصحاب وجماعت پر اورحضرات رسل کے آل واصحاب اور جماعت پر بھی اس روز تك جبکہ ہر گر وہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا الہی ! قبول فرما آپ کو معلوم ہو خدا مجھ پر اور آپ پر رحم فرمائے اور اپنے فضل سے مجھے اور آپ کو راہ راست پر چلائے کہ علامہ محقق صاحب بحر رائق نے البحر الرائق کتاب القضاء کے شرو ع میں پہلے یہ دو تصحیحین ذکر کیں (۱) تصحیح سراجیہ مفتی کو مطلقا قول امام پر فتوی دینا ہے ۔ (۲) تصحیح حاوی قدسی اگر امام اعظم ایك جانب ہوں او رصاحبین دو سری جانب تو قوت دلیل کا اعتبار ہوگا اس کے بعد وہ یوں رقم طراز ہیں : اگر یہ سوال ہو کہ مشائخ کو یہ جواز کیسے ملا کہ وہ امام اعظم کے مقلد ہوتے ہوئے ان کا قول چھوڑ کر دو سرے کے قول پر فتوی دیں تو میں کہوں گا کہ یہ اشکال عرصہ دراز تك مجھے در پیش رہا اور اس کا کوئی جواب نظر نہ آیا مگر اس وقت ان حضرات کے کلام سے اس اشکال کا یہ حل سمجھ میں آیا کہ حضرات مشائخ نے ہمارے اصحاب سے یہ ارشاد نقل
عــــہ : قال الرملی ھذا مروی عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ وکلامہ ھنا موھم ان ذلك مروی عن المشائخ کما ھو
یہا ں خیر الدین رملی اعتراض فرماتے ہیں کہ یہ با ت اما م ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے اور کلام بحر سے یہ وہم پیداہوتا ہے کہ یہ بات حضرات مشائخ سے مروی ہے جیسا کہ اس کے سیاق (باقی بر صفحہ ائندہ)
حوالہ / References
بحر الرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
بحر الرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹)
بحر الرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹)
لاحد ان یفتی بقولنا حتی
فرمایا ہے کہ کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظاھر من سیاقہ اھ اقول : ای فـــ۱ حرف فی کلامہ یوھم روایتہ عن المشائخ وای سیاق یظھرہ انما جعل خلاف المشائخ لانھم منھیون عن الافتاء بقول الاصحاب مالم یعرفوا دلیلہ فھم منھیون لانا ھون اما الاصحاب فــــ۲ فنعم روی عنھم کما روی عن الامام رضی الله تعالی عنھم فی مناقب الامام للامام الکردری عن عاصم بن یوسف لم یرمجلس انبل من مجلس الامام وکان انبل اصحابہ اربعۃ زفرو ابو یوسف وعافیۃ واسد بن عمرو وقالوا لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من
سے ظاہر ہے
اقول : میں کہتا ہوں کلام بحر کے کس حرف سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے او رکس سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قول حضرات مشائخ سے مروی ہے بحرنے تو بس یہ بتا یا ہے کہ مخالفت مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معرفت دلیل کے بغیر قول اصحاب پر فتو ی دینے سے ممانعت تھی جس سے معلوم ہوا کہ مشائخ اس کا م سے ممنوع تھے نہ یہ کہ وہ خود مانع تھے اب رہی یہ بات کہ قول مذکور نہ صرف امام اعظم بلکہ ان کے اصحاب سے بھی منقول ہے تو ہاں واقعہ یہی ہے حضرات اصحاب سے بھی اسی طر ح منقول ہے جیسے حضرت امام سے منقول ہے رضی اللہ تعالی عنہم امام کردری کی تصنیف مناقب امام اعظم میں عاصم بن یوسف سے یہ روایت ہے کہ امام اعظم کی مجلس سے زیادہ معزز کوئی مجلس دیکھنے میں نہ آئی اور ان کے اصحاب میں زیادہ معزز و بزرگ چار حضرات تھے (۱) زفر (۲) ابو یوسف(۳) عافیہ(۴) اسد بن عمرو(باقی بر صفحہ ائندہ)
فــ ۱ : تطفل علی العلامہ الرملی والشامی
فــ ۲ : تطفل علیہما
فرمایا ہے کہ کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظاھر من سیاقہ اھ اقول : ای فـــ۱ حرف فی کلامہ یوھم روایتہ عن المشائخ وای سیاق یظھرہ انما جعل خلاف المشائخ لانھم منھیون عن الافتاء بقول الاصحاب مالم یعرفوا دلیلہ فھم منھیون لانا ھون اما الاصحاب فــــ۲ فنعم روی عنھم کما روی عن الامام رضی الله تعالی عنھم فی مناقب الامام للامام الکردری عن عاصم بن یوسف لم یرمجلس انبل من مجلس الامام وکان انبل اصحابہ اربعۃ زفرو ابو یوسف وعافیۃ واسد بن عمرو وقالوا لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من
سے ظاہر ہے
اقول : میں کہتا ہوں کلام بحر کے کس حرف سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے او رکس سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قول حضرات مشائخ سے مروی ہے بحرنے تو بس یہ بتا یا ہے کہ مخالفت مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معرفت دلیل کے بغیر قول اصحاب پر فتو ی دینے سے ممانعت تھی جس سے معلوم ہوا کہ مشائخ اس کا م سے ممنوع تھے نہ یہ کہ وہ خود مانع تھے اب رہی یہ بات کہ قول مذکور نہ صرف امام اعظم بلکہ ان کے اصحاب سے بھی منقول ہے تو ہاں واقعہ یہی ہے حضرات اصحاب سے بھی اسی طر ح منقول ہے جیسے حضرت امام سے منقول ہے رضی اللہ تعالی عنہم امام کردری کی تصنیف مناقب امام اعظم میں عاصم بن یوسف سے یہ روایت ہے کہ امام اعظم کی مجلس سے زیادہ معزز کوئی مجلس دیکھنے میں نہ آئی اور ان کے اصحاب میں زیادہ معزز و بزرگ چار حضرات تھے (۱) زفر (۲) ابو یوسف(۳) عافیہ(۴) اسد بن عمرو(باقی بر صفحہ ائندہ)
فــ ۱ : تطفل علی العلامہ الرملی والشامی
فــ ۲ : تطفل علیہما
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی بحرا لرائق فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
یعلم من این قلنا حتی نقل فی السراجیۃ ان ھذا سبب مخالفۃ عصام للامام وکان یفتی بخلاف قولہ کثیرا لانہ لم یعلم الدلیل وکان یظھرلہ دلیل غیرہ فیفتی بہ فاقول ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کمافی القنیہ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب
دینا روا نہیں جب تك اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ ہمارا ماخذا ور ہمارے قول کی دلیل کیا ہے یہاں تك کہ سراجیہ میں منقول ہے کہ اسی وجہ سے شیخ عصام سے امام اعظم کی مخالفت عمل میں آئی ایسا بہت ہو تا کہ وہ قول امام کے بر خلاف فتوی دیتے کیونکہ انہیں دلیل امام معلوم نہ ہوتی اور دو سرے کی دلیل ان کے سامنے ظاہر ہوتی تو اسی پر فتوی دیتے (صاحب بحر فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں یہ شرط حضرات مشائخ کے زمانے میں تھی لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
این قلنا ولا ان یروی عنا شیئا لم یسمعہ منا وفیھا عن ابن جبلۃ سمعت محمدا یقول لایحل لاحد ان یروی عن کتبنا الا ما سمع اویعلم مثل علمنا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
ان حضرات نے فرمایا : کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا اس وقت تك روا نہیں جب تك اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ہے نہ ہی اس کے لئے یہ روا ہے کہ ہم سے کوئی ایسی بات روایت کرے جو ہم سے سنی نہ ہو اسی کتاب میں ابن جبلہ کا یہ بیان مروی ہے کہ میں نے امام محمد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے لئے ہماری کتابوں سے روایت کرنا روا نہیں مگر وہ جو خود اس نے سنا ہو یا وہ جو ہماری طرح علم رکھتا ہو ۱۲منہ (ت)
دینا روا نہیں جب تك اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ ہمارا ماخذا ور ہمارے قول کی دلیل کیا ہے یہاں تك کہ سراجیہ میں منقول ہے کہ اسی وجہ سے شیخ عصام سے امام اعظم کی مخالفت عمل میں آئی ایسا بہت ہو تا کہ وہ قول امام کے بر خلاف فتوی دیتے کیونکہ انہیں دلیل امام معلوم نہ ہوتی اور دو سرے کی دلیل ان کے سامنے ظاہر ہوتی تو اسی پر فتوی دیتے (صاحب بحر فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں یہ شرط حضرات مشائخ کے زمانے میں تھی لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
این قلنا ولا ان یروی عنا شیئا لم یسمعہ منا وفیھا عن ابن جبلۃ سمعت محمدا یقول لایحل لاحد ان یروی عن کتبنا الا ما سمع اویعلم مثل علمنا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
ان حضرات نے فرمایا : کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا اس وقت تك روا نہیں جب تك اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ہے نہ ہی اس کے لئے یہ روا ہے کہ ہم سے کوئی ایسی بات روایت کرے جو ہم سے سنی نہ ہو اسی کتاب میں ابن جبلہ کا یہ بیان مروی ہے کہ میں نے امام محمد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے لئے ہماری کتابوں سے روایت کرنا روا نہیں مگر وہ جو خود اس نے سنا ہو یا وہ جو ہماری طرح علم رکھتا ہو ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
المناقب الکردری ذکر عافیتہ بن یزید الاودی الکوفی مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۲۱۴
المناقب الکردری اقوال الامام الشافعی فی تعظیم الامام محمد بن الحسن مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۱۵۲
المناقب الکردری اقوال الامام الشافعی فی تعظیم الامام محمد بن الحسن مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۱۵۲
وان لم نعلم من این قال وعلی ھذا فما صححہ فی الحاوی مبنی علی ذلك الشرط وقد صححوا ان الافتاء بقول الامام فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ لانھم انما افتوا بخلافہ لفقد شرطہ فی حقھم وھوالوقوف علی دلیلہ واما نحن قلنا الافتاء وان لم نقف علی دلیلہ وقد وقع للمحقق ابن الھمام فی مواضع الرد علی المشائخ فی الافتاء بقولھما بانہ لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ وھو قوی فی وقت العشاء لکونہ الاحوط وفی تکبیر التشریق فی اخر وقتہ الی اخرھا ذکرہ فے فتح القدیر ولکن ھو اھل للنظر فی الدلیل ومن لیس باھل للنظر فیہ فعلیہ الافتاء بقول الامام والمراد بالاھلیۃ ھنا ان
تو اب اگرچہ ہمیں قول امام کی دلیل معلوم نہ ہو قول امام پر فتوی دینا جائز بلکہ واجب ہے اس تفصیل کے پیش نظر تصیح حاوی کی بنیا د وہی شرط ہے جو حضرات مشائخ کے لئے اس زمانے میں تھی اور اب علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا کہ قول امام پر ہی فتوی ہوگا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم پر یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوی دیں اگر چہ مشائخ اس کے پر خلاف فتوی دے چکے ہوں اس لئے کہ اس کے خلاف افتا ئے مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ خود قول اما م پر فتوی دینے کے لئے اس کی دلیل سے باخبر ہونے کی جو شرط ان کے حق میں تھی وہ مفقود تھی ( وہ اس کی دلیل سے با خبر نہ ہوسکے اس لئے اس پر فتوی نہ دے سکے ) اور ہمارے لئے یہ شرط نہیں ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگرچہ ا سکی دلیل سے آگاہی نہ ہو او رمحقق ابن ہمام نے تو متعد د جگہ قول صاحبین پر فتوی دینے سے متعلق مشائخ پر رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ قول امام سے بجز اس کے اس کی دلیل ضعیف ہو انحراف نہ ہوگا اور وقت عشا سے متعلق قول امام کی دلیل قوی ہے اس لئے کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے ۔ اسی طر ح تکبیر تشریق کے آخری وقت کی تعیین میں بھی قوت دلیل اس طر ف ہے اس کے آگے فتح القدیر میں مزید بھی ہے لیکن امام ابن الہام کو دلیل میں نظر وفکر کی اہلیت حاصل تھی جو دلیل میں نظر کی اہلیت نہیں
تو اب اگرچہ ہمیں قول امام کی دلیل معلوم نہ ہو قول امام پر فتوی دینا جائز بلکہ واجب ہے اس تفصیل کے پیش نظر تصیح حاوی کی بنیا د وہی شرط ہے جو حضرات مشائخ کے لئے اس زمانے میں تھی اور اب علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا کہ قول امام پر ہی فتوی ہوگا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم پر یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوی دیں اگر چہ مشائخ اس کے پر خلاف فتوی دے چکے ہوں اس لئے کہ اس کے خلاف افتا ئے مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ خود قول اما م پر فتوی دینے کے لئے اس کی دلیل سے باخبر ہونے کی جو شرط ان کے حق میں تھی وہ مفقود تھی ( وہ اس کی دلیل سے با خبر نہ ہوسکے اس لئے اس پر فتوی نہ دے سکے ) اور ہمارے لئے یہ شرط نہیں ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگرچہ ا سکی دلیل سے آگاہی نہ ہو او رمحقق ابن ہمام نے تو متعد د جگہ قول صاحبین پر فتوی دینے سے متعلق مشائخ پر رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ قول امام سے بجز اس کے اس کی دلیل ضعیف ہو انحراف نہ ہوگا اور وقت عشا سے متعلق قول امام کی دلیل قوی ہے اس لئے کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے ۔ اسی طر ح تکبیر تشریق کے آخری وقت کی تعیین میں بھی قوت دلیل اس طر ف ہے اس کے آگے فتح القدیر میں مزید بھی ہے لیکن امام ابن الہام کو دلیل میں نظر وفکر کی اہلیت حاصل تھی جو دلیل میں نظر کی اہلیت نہیں
یکون عارفا ممیزا بین الاقاویل لہ قدرۃ علی ترجیح بعضھا علی بعض ا ھ
وتعقبہ العلامۃ ش فی شرح عقودہ بقولہ لایخفی علیك مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام ولھذا اعترضہ محشیہ الخیر الرملی بان قولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان لم نعلم من این قال مضاد لقول الامام لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا اذھو صریح فی عدم جواز الافتاء بغیر اھل الاجتھاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ فنقول مایصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد انہ قائل بکذا واعتبار ھذا الملحظ تجوز حکایۃ قول غیرالامام فکیف یجب علینا الافتاء بقول الامام وان
رکھتا اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوی دے ۔ یہاں
اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ اقوال کی معرفت اور ان کے مراتب میں امتیاز کی لیاقت کے ساتھ ایك کو دوسرے پر ترجیح دینے کی قدرت حاصل ہو۔ ۱ھ اس کلام بحر پر علامہ شامی نے شرح عقود میں یوں تنقید کی ہے اس کلام کی بے نظمی ناظرین پر مخفی نہیں ۔ اسی لئے اس کے محشی خیر الدین رملی نے اس پر اعتراض کیاہے کہ ایك طر ف ان کا کہنایہ ہے کہ “ ہمیں قول امام پرفتوی دینا واجب ہے اگرچہ اس قول کی دلیل او رماخذہمارے علم میں نہ ہو “ دوسری طر ف امام کا ارشاد یہ ہے کہ “ کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا حلا ل نہیں جب تك اسے یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ۔ “ یہ دونوں میں تضاد ہے اس لئے کہ قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتوی دینا جائز نہیں ۔ پھر اس سے اس شرط کے بغیر وجوب افتا ء پر استدلال کیسے ہوسکتا ہےتو ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا ء نہیں وہ تو امام مجتہد سے صرف اس بات کی نقل و حکایت ہے کہ وہ اس حکم کے قائل ہیں جب حقیقت یہ ہے تو غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے پھر ہم پر یہ واجب کیسے رہا کہ قول اما م ہی پر
وتعقبہ العلامۃ ش فی شرح عقودہ بقولہ لایخفی علیك مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام ولھذا اعترضہ محشیہ الخیر الرملی بان قولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان لم نعلم من این قال مضاد لقول الامام لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا اذھو صریح فی عدم جواز الافتاء بغیر اھل الاجتھاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ فنقول مایصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد انہ قائل بکذا واعتبار ھذا الملحظ تجوز حکایۃ قول غیرالامام فکیف یجب علینا الافتاء بقول الامام وان
رکھتا اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوی دے ۔ یہاں
اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ اقوال کی معرفت اور ان کے مراتب میں امتیاز کی لیاقت کے ساتھ ایك کو دوسرے پر ترجیح دینے کی قدرت حاصل ہو۔ ۱ھ اس کلام بحر پر علامہ شامی نے شرح عقود میں یوں تنقید کی ہے اس کلام کی بے نظمی ناظرین پر مخفی نہیں ۔ اسی لئے اس کے محشی خیر الدین رملی نے اس پر اعتراض کیاہے کہ ایك طر ف ان کا کہنایہ ہے کہ “ ہمیں قول امام پرفتوی دینا واجب ہے اگرچہ اس قول کی دلیل او رماخذہمارے علم میں نہ ہو “ دوسری طر ف امام کا ارشاد یہ ہے کہ “ کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا حلا ل نہیں جب تك اسے یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ۔ “ یہ دونوں میں تضاد ہے اس لئے کہ قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتوی دینا جائز نہیں ۔ پھر اس سے اس شرط کے بغیر وجوب افتا ء پر استدلال کیسے ہوسکتا ہےتو ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا ء نہیں وہ تو امام مجتہد سے صرف اس بات کی نقل و حکایت ہے کہ وہ اس حکم کے قائل ہیں جب حقیقت یہ ہے تو غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے پھر ہم پر یہ واجب کیسے رہا کہ قول اما م ہی پر
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ۶ / ۲۶۹ ، ۲۷۵
افتی المشائخ بخلافہ ونحن انما نحکی فتوی ھم لاغیر فلیتأمل انتھی (وتوضیحہ) ان المشائخ اطلعوا علی دلیل الامام وعرفوا من این قال و اطلعو اعلی دلیل اصحابہ فیرجحون دلیل اصحابہ علی دلیلہ فیفتون بہ ولا یطن بھم انھم عدلوا عن قولہ لجہلھم بدلیلہ فانا نرہم قدشحنو اکتبھم بنصب الادلۃ ثم یقولون الفتوی علی قول ابی یوسف مثلا وحیث لم نکن اھلا للنظر فی الدلیل ولم نصل الی رتبتھم فی حصول شرائط التفریح والتاصیل فعلینا حکایۃ ما یقولونہ لانھم ھم اتباع المذھب الذین نصبوا انفسھم لتقریرہ وتحریرہ باجتھادھم (وانظر) الی ما قدمناہ من قول العلامۃ قاسم ان المجتھدین لم یفقدوا حتی نظروا فی المختلف
فتوی دیں اگر چہ مشائخ نے اس کے بر خلاف فتوی دیا ہو حالانکہ کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں او رکچھ نہیں یہاں تامل کی ضرورت ہے انتھی (کلام رملی ختم ہوا ) علامہ شامی فرماتے ہیں : اس کی توضیح یہ ہے کہ مشائخ کو دلیل امام سے آگاہی حاصل ہوئی انھیں علم ہواکہ امام نے کہاں سے فرمایا ساتھ ہی اصحاب امام کی دلیل سے بھی وہ آگاہ ہوئے اس لیے وہ دلیل اصحاب کو دلیل امام پر ترجیح دیتے ہوئے فتوی دیتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے قول امام سے انحراف اس لیے اختیار فرمایا کہ انھیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔ اس لیے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرات مشائخ نے دلائل قائم کرکے اپنی کتابیں بھر دی ہیں اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوی مثلا امام ابویوسف کے قول پر ہے ۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ دلیل میں نظر کی اہلیت نہ تاسیس اصول وتخریج فروع کی شرائط کے حصول میں رتبہ مشائخ تك رسائی تو ہمارے ذمہ یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کر دیں اس لیے کہ یہی حضرات مذہب کے ایسے متبع ہیں جنھوں نے اپنے اجتہاد کی قوت سے مذہب کی تقریر وتحریر (اثبات وتوضیح ) کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ قاسم کی عبارت جو ہم پہلے پیش کر آئے وہ فرماتے ہیں : مجتہدین پیداہوتے رہے یہاں تك کہ انھوں نے
فتوی دیں اگر چہ مشائخ نے اس کے بر خلاف فتوی دیا ہو حالانکہ کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں او رکچھ نہیں یہاں تامل کی ضرورت ہے انتھی (کلام رملی ختم ہوا ) علامہ شامی فرماتے ہیں : اس کی توضیح یہ ہے کہ مشائخ کو دلیل امام سے آگاہی حاصل ہوئی انھیں علم ہواکہ امام نے کہاں سے فرمایا ساتھ ہی اصحاب امام کی دلیل سے بھی وہ آگاہ ہوئے اس لیے وہ دلیل اصحاب کو دلیل امام پر ترجیح دیتے ہوئے فتوی دیتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے قول امام سے انحراف اس لیے اختیار فرمایا کہ انھیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔ اس لیے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرات مشائخ نے دلائل قائم کرکے اپنی کتابیں بھر دی ہیں اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوی مثلا امام ابویوسف کے قول پر ہے ۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ دلیل میں نظر کی اہلیت نہ تاسیس اصول وتخریج فروع کی شرائط کے حصول میں رتبہ مشائخ تك رسائی تو ہمارے ذمہ یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کر دیں اس لیے کہ یہی حضرات مذہب کے ایسے متبع ہیں جنھوں نے اپنے اجتہاد کی قوت سے مذہب کی تقریر وتحریر (اثبات وتوضیح ) کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ قاسم کی عبارت جو ہم پہلے پیش کر آئے وہ فرماتے ہیں : مجتہدین پیداہوتے رہے یہاں تك کہ انھوں نے
ورجعوا وصححوا الی ان قال فعلینا اتباع الراجع والعمل بہ کمالو افتوا فی حیاتھم (وفی) فتاوی العلامۃ ابن الشلبی لیس للقاضی ولا للمفتی العدول عن قول الامام الا الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسئلۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ فان حکم فیھا فحکمہ غیر ماض لیس لہ غیرالا نتقاض انتھی اھ کلامہ فی الرسالۃ۔
وذکر نحوہ فی ردالمحتار من القضاء وزاد فی المعتمدۃ قد یمشون علی غیر مذھب الامام و اذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقہم
مقام اختلاف میں نظر فرما کر ترجیح وتصحیح کا کام سر انجام دیا تو ہمارے اوپر اسی کی پیروی اور اسی پر عمل لا زم ہے جو راجح قرار پایا جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا علامہ ابن شلبی کے فتاوی میں مرقوم ہے کہ : قاضی یا مفتی کو قول امام سےانحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو کہ فتوی امام کے سواکسی اور کے قول پر ہے ۔ تو قاضی کو امام کے سوا دوسرے کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں دوسرے کے قول کو ترجیح نہ دی گئی ہو اور خود امام ابوحنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر ترجیح ہو اگر ایسے مسئلہ میں قاضی نے خلاف امام فیصلہ کر دیا تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہو گا بے ثباتی کی وجہ سے آپ ہی ختم ہو جائے گا ۔ انتہی کلام ابن الشلبی اھ رسالہ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اسی طر ح کی بات علامہ شامی نے رد المحتار کتا ب القضاء میں ذکر کی ہے او رمنحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں مزید بر آں یہ بھی لکھا ہے کہ : آپ دیکھتے ہیں کہ متون مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے ہیں اور جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق
وذکر نحوہ فی ردالمحتار من القضاء وزاد فی المعتمدۃ قد یمشون علی غیر مذھب الامام و اذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقہم
مقام اختلاف میں نظر فرما کر ترجیح وتصحیح کا کام سر انجام دیا تو ہمارے اوپر اسی کی پیروی اور اسی پر عمل لا زم ہے جو راجح قرار پایا جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا علامہ ابن شلبی کے فتاوی میں مرقوم ہے کہ : قاضی یا مفتی کو قول امام سےانحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو کہ فتوی امام کے سواکسی اور کے قول پر ہے ۔ تو قاضی کو امام کے سوا دوسرے کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں دوسرے کے قول کو ترجیح نہ دی گئی ہو اور خود امام ابوحنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر ترجیح ہو اگر ایسے مسئلہ میں قاضی نے خلاف امام فیصلہ کر دیا تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہو گا بے ثباتی کی وجہ سے آپ ہی ختم ہو جائے گا ۔ انتہی کلام ابن الشلبی اھ رسالہ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔ اسی طر ح کی بات علامہ شامی نے رد المحتار کتا ب القضاء میں ذکر کی ہے او رمنحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں مزید بر آں یہ بھی لکھا ہے کہ : آپ دیکھتے ہیں کہ متون مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے ہیں اور جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
فنحن نتبعھم اذ ھم اعلم وکیف یقال یجب علینا الافتاء بقول الامام لفقد الشرط وقد اقر انہ قد فقد الشرط ایضا فی حق المشائخ فھل تراھم ارتکبوا منکرا والحاصل ان الانصاف الذی یقبلہ الطبع السلیم ان المفتی فی زماننا ینقل ما اختارہ المشائخ وھو الذی مشی علیہ العلامۃ ابن الشلبی فی فتاواہ حیث قال الاصل ان العمل علی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ولذا ترجع المشائخ دلیلہ فی الاغلب علی دلیل من خالفہ من اصحابہ ویجیبون عما استدل بہ مخالفہ وھذا امارۃ العمل بقولہ وان لم یصرحوا بالفتوی علیہ اذا الترجیع کصریح التصحیح لان المرجوع طائح بمقابلتہ بالراجح وحینئذ فلا یعدل المفتی ولا القاضی عن قولہ الا اذا صرح الی اخر
میں شرط ہے قول امام کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دینا واجب ہے ا س لئے کہ ہمارے حق میں(قول امام پر افتاکی) شرط مفقود ہے حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا حاصل یہ کہ طبع سلیم کے لئے انصاف کی قابل قبول بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے مفتی کا کام یہی ہے کہ مشائخ نے جو فتوی دیا ہے اسے نقل کردے ۔ اسی بات پر علامہ ابن شلبی اپنے فتا وی میں گام زن ہیں وہ فرماتے ہیں اصل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر عمل کیا جائے اسی لئے مشائخ اکثر ان ہی کی دلیل کو ان کے مخالف کی دلیل پر ترجیح دیتے ہیں اور مخالف کے استدلال کا جواب بھی پیش کرتے یہ اس بات کی علامت ہے کہ عمل قول امام پر ہوگا اگرچہ ایسی جگہ حضرات مشائخ نے یہ صراحت نہ فرمائی ہو کہ فتوی قول امام پرہے اس لئے کہ ترجیح خود صراحۃ تصحیح کا حکم رکھتی ہے کیونکہ مرجوع راجح کے مقابلے میں بے ثبات ہوتا ہے ۔ جب معاملہ یہ ہے تو قاضی یا مفتی کو قول امام سے انحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے
میں شرط ہے قول امام کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دینا واجب ہے ا س لئے کہ ہمارے حق میں(قول امام پر افتاکی) شرط مفقود ہے حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا حاصل یہ کہ طبع سلیم کے لئے انصاف کی قابل قبول بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے مفتی کا کام یہی ہے کہ مشائخ نے جو فتوی دیا ہے اسے نقل کردے ۔ اسی بات پر علامہ ابن شلبی اپنے فتا وی میں گام زن ہیں وہ فرماتے ہیں اصل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر عمل کیا جائے اسی لئے مشائخ اکثر ان ہی کی دلیل کو ان کے مخالف کی دلیل پر ترجیح دیتے ہیں اور مخالف کے استدلال کا جواب بھی پیش کرتے یہ اس بات کی علامت ہے کہ عمل قول امام پر ہوگا اگرچہ ایسی جگہ حضرات مشائخ نے یہ صراحت نہ فرمائی ہو کہ فتوی قول امام پرہے اس لئے کہ ترجیح خود صراحۃ تصحیح کا حکم رکھتی ہے کیونکہ مرجوع راجح کے مقابلے میں بے ثبات ہوتا ہے ۔ جب معاملہ یہ ہے تو قاضی یا مفتی کو قول امام سے انحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی بحرا لرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
ما مر قال وھو الذی مشی علیہ الشیخ علاء الدین الحصکفی ایضا فی صدر شرحہ علی التنویر حیث قال واما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ وصححوہ کما افتوا فی حیاتھم فان قلت قد یحکون اقوالا بلا ترجیح وقد یختلفون فی التصحیح قلت یعمل بمثل ما عملوا من اعتبار تغیرالعرف واحوال الناس وما ھوا لارفق وما ظہر علیہ التعامل وما قوی وجہہ ولا یخلو الوجد ممن یمیز ھذا حقیقۃ لا ظنا وعلی من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز لبراء ۃ ذمتہ اھ والله تعالی اعلم اھ ۔
اقول : وتلك شکاۃ کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو (آخر عبارت تك جو فتاوی ابن شلبی کے حوالے سے پہلے گزری ) آگے علامہ شامی لکھتے ہیں یہ ہی وہ ہے جس پر شرح تنویر کے شرو ع میں شیخ علاء الدین حصکفی بھی گام زن ہیں وہ رقم طراز ہیں لیکن ہم پر تو اسی کی پیروی لازم ہے جسے حضرات مشائخ نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے وہ اپنی حیات میں اگر فتوی دیتے تو ہم اسی کی پیروی کرتے ۔ اگریہ سوال ہو کہ حضرات مشائخ کہیں متعدد اقوال بلا ترجیح نقل کردیتے ہیں اور کبھی تصحیح کے معاملے میں ایك دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں ان مسائل میں ہم کیا کریں تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ جیسے ان حضرات نے عمل کیا ویسے ہی ہمارا عمل ہوگا یعنی لوگو ں کے حالات اور عرف کی تبدیلی کا اعتبار ہوگا یوں ہی اس کا اعتبار ہوگا جس میں زیادہ آسانی اور فائدہ ہو یا جس پر لوگو ں کا عمل در آمد نمایاں ہو یا جس کی دلیل قوی ہو اور بزم وجود کبھی ایسے افراد سے خالی نہ ہوگی جو محض گمان سے نہیں بلکہ واقعی طو ر پر اقوال کے درمیان اتنی تمیز رکھنے والے ہوں گے اور جس میں تمیز کی لیاقت نہ ہو اس پر عہد ہ بر آہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ صاحب تمیز کی جانب رجوع کر ے والله تعالی اعلم
اقول : یہ ایسی شکایت ہے جس کا
اقول : وتلك شکاۃ کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو (آخر عبارت تك جو فتاوی ابن شلبی کے حوالے سے پہلے گزری ) آگے علامہ شامی لکھتے ہیں یہ ہی وہ ہے جس پر شرح تنویر کے شرو ع میں شیخ علاء الدین حصکفی بھی گام زن ہیں وہ رقم طراز ہیں لیکن ہم پر تو اسی کی پیروی لازم ہے جسے حضرات مشائخ نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے وہ اپنی حیات میں اگر فتوی دیتے تو ہم اسی کی پیروی کرتے ۔ اگریہ سوال ہو کہ حضرات مشائخ کہیں متعدد اقوال بلا ترجیح نقل کردیتے ہیں اور کبھی تصحیح کے معاملے میں ایك دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں ان مسائل میں ہم کیا کریں تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ جیسے ان حضرات نے عمل کیا ویسے ہی ہمارا عمل ہوگا یعنی لوگو ں کے حالات اور عرف کی تبدیلی کا اعتبار ہوگا یوں ہی اس کا اعتبار ہوگا جس میں زیادہ آسانی اور فائدہ ہو یا جس پر لوگو ں کا عمل در آمد نمایاں ہو یا جس کی دلیل قوی ہو اور بزم وجود کبھی ایسے افراد سے خالی نہ ہوگی جو محض گمان سے نہیں بلکہ واقعی طو ر پر اقوال کے درمیان اتنی تمیز رکھنے والے ہوں گے اور جس میں تمیز کی لیاقت نہ ہو اس پر عہد ہ بر آہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ صاحب تمیز کی جانب رجوع کر ے والله تعالی اعلم
اقول : یہ ایسی شکایت ہے جس کا
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی بحرا لرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
طاھر عنك عارھا ولنقدم لبیان الصواب مقدمات تکشف الحجاب
الاولی فـــ ۱ لیس حکایۃ قول افتاء بہ فانا نحکی اقوالا خارجۃ عن المذھب ولا یتوھم احد انا نفتی بھا انما الافتاء ان تعتمد علی شیئ وتبین لسائلك ان ھذا حکم الشرع فی ما سألت وھذا لا یحل لاحد من دون ان یعرفہ عن دلیل شرعی و الاکان جزافا وافتراء علی الشرع ودخولا تحت قولہ عزوجل ام تقولون على الله ما لا تعلمون(۸۰) وقولہ تعالی قل ﰰ لله اذن لكم ام على الله تفترون(۵۹)
الثـانیۃ فـــــ ۲ الدلیل علی وجھین اما تفصیلی و معرفتہ خاصۃ باھل النظر عا ر
آپ سے دور ہے بیان حق کے لئے ہم پہلے چند مقامات پیش کرتے ہیں جن کے باعث حقیقت کے رخ سے پردہ اٹھ جائے گا ۔
مقدمہ اول : کسی قول کی نقل وحکایت اور کسی قول پر افتا دو نوں ایك نہیں ہم ایسے بہت سے اقوال بیان کرتے ہیں جو ہمارے مذہب سے باہر کے ہیں اور کسی کو یہ وہم نہیں ہوتا کہ ہم ان اقوال پر فتوی دے رہے ہیں افتا یہ ہے کہ کسی بات پر اعتماد کر کے سائل کو بتا یا جائے کہ تمہاری مسئولہ صورت میں حکم شریعت یہ ہے ۔ یہ کام کسی کے لئے بھی اس وقت تك حلال نہیں جب تك اسے کسی دلیل شرعی سے اس حکم کا علم نہ ہوجائے ورنہ جزاف (اٹکل سے بتانا ) اور شریعت پر افترا ہوگا اور ان ارشاد ات کا مصداق بھی بننا ہوگا (۱) کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں (۲) فرماؤ کیا الله نے تمہیں اذن دیا یا تم خدا پر افتر ا کرتے ہو۔ مقدمہ دو م : دلیل دو طر ح کی ہوتی ہے (۱) تفصیلی اس سے آگا ہی اہل نظر و
فـــ ۱ : معنی الافتا وانہ لیس حکایۃ محضۃ وانہ لایجوز الا عن دلیل
فـــ ۲ : الدلیل دلیلان تفصیلی خاص معرفتہ بالمجتہد واجمالی الابد منہ حتی للمقلد
الاولی فـــ ۱ لیس حکایۃ قول افتاء بہ فانا نحکی اقوالا خارجۃ عن المذھب ولا یتوھم احد انا نفتی بھا انما الافتاء ان تعتمد علی شیئ وتبین لسائلك ان ھذا حکم الشرع فی ما سألت وھذا لا یحل لاحد من دون ان یعرفہ عن دلیل شرعی و الاکان جزافا وافتراء علی الشرع ودخولا تحت قولہ عزوجل ام تقولون على الله ما لا تعلمون(۸۰) وقولہ تعالی قل ﰰ لله اذن لكم ام على الله تفترون(۵۹)
الثـانیۃ فـــــ ۲ الدلیل علی وجھین اما تفصیلی و معرفتہ خاصۃ باھل النظر عا ر
آپ سے دور ہے بیان حق کے لئے ہم پہلے چند مقامات پیش کرتے ہیں جن کے باعث حقیقت کے رخ سے پردہ اٹھ جائے گا ۔
مقدمہ اول : کسی قول کی نقل وحکایت اور کسی قول پر افتا دو نوں ایك نہیں ہم ایسے بہت سے اقوال بیان کرتے ہیں جو ہمارے مذہب سے باہر کے ہیں اور کسی کو یہ وہم نہیں ہوتا کہ ہم ان اقوال پر فتوی دے رہے ہیں افتا یہ ہے کہ کسی بات پر اعتماد کر کے سائل کو بتا یا جائے کہ تمہاری مسئولہ صورت میں حکم شریعت یہ ہے ۔ یہ کام کسی کے لئے بھی اس وقت تك حلال نہیں جب تك اسے کسی دلیل شرعی سے اس حکم کا علم نہ ہوجائے ورنہ جزاف (اٹکل سے بتانا ) اور شریعت پر افترا ہوگا اور ان ارشاد ات کا مصداق بھی بننا ہوگا (۱) کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں (۲) فرماؤ کیا الله نے تمہیں اذن دیا یا تم خدا پر افتر ا کرتے ہو۔ مقدمہ دو م : دلیل دو طر ح کی ہوتی ہے (۱) تفصیلی اس سے آگا ہی اہل نظر و
فـــ ۱ : معنی الافتا وانہ لیس حکایۃ محضۃ وانہ لایجوز الا عن دلیل
فـــ ۲ : الدلیل دلیلان تفصیلی خاص معرفتہ بالمجتہد واجمالی الابد منہ حتی للمقلد
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۸۰
القرآن ۱۰ / ۵۹
القرآن ۱۰ / ۵۹
و الاجتھاد فان غیرہ وان علم دلیل المجتھد فی مسألۃ لا یعلمہ الا تقلیدا کما یظہر مما بیناہ فی رسالتنا المبارکۃ ان شاء الله تعالی “ الفضل الموھبی فـــ فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی “ فان قطع تلك المنازل التی بینا فیھا لا یمکن الا لمجتھدو اشارالی بعض قلیل منہ فی عقود رسم المفتی اذنقل فیھا ان معرفۃ الدلیل انما تکون للمجتہد لتوقفھا علی معرفۃ سلامتہ من المعارض وھی متوقفۃ علی استقراء الادلۃ کلہا و لا یقدر علی ذلك الاالمجتہد اما مجرد معرفۃ ان المجتھد الفلانی اخذ الحکم الفلانی من الدلیل الفلانی فلا فائدۃ فیھا اھ اواجمالی کقولہ سجنہ
فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۴۳) وقولہ تعالی اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منكم- فانھم العلماء علی الاصح و
اجتہاد کا خاص حصہ ہے دو سرے کو اگر کسی مسئلے میں دلیل مجتہد کا علم ہوتا بھی ہے تو تقلیدا ہوتا ہے جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ہم نے اپنے رسالہ “ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فہو مذھبی “ میں بیان کیا (خدا نے چاہا تو یہ رسالہ بابر کت ثابت ہوگا ) اس لئے کہ اس رسالہ میں جو منزلیں ہم نے بتائی ہیں انہیں طے کرنا سوائے مجتہد کے اور کسی کے بس کی بات نہیں اس میں سے کچھ تھوڑی سی مقدار کی جانب “ عقود رسم المفتی “ میں بھی اشارہ ہے اس میں یہ نقل کیا ہے کہ دلیل کی معرفت مجتہد ہی کو ہوتی ہے اس لئے کہ یہ اس امر کی معرفت پر موقوف ہے کہ دلیل ہر معارض سےمحفو ظ ہے اور یہ معرفت تمام دلائل کے استقراء اور چھان بین پر موقوف ہے جس پر بجز مجتہد کسی کو قدرت نہیں ہوتی اور صرف اتنی واقفیت کہ فلاں مجتہد نے فلاں حکم فلاں دلیل سے اخذ کیا ہے تو اتنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ا ھ
(۲) اجمالی جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے ذکر والوں سے پو چھو اگر تمہیں علم نہیں اور ارشاد ہے الله کی اطاعت کرو اوررسول کی اطاعت کر و اور ان کی جو تم میں صاحب امر ہیں یہ اصحاب امر بر قول اصح حضرات علماء کرام
فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۴۳) وقولہ تعالی اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منكم- فانھم العلماء علی الاصح و
اجتہاد کا خاص حصہ ہے دو سرے کو اگر کسی مسئلے میں دلیل مجتہد کا علم ہوتا بھی ہے تو تقلیدا ہوتا ہے جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ہم نے اپنے رسالہ “ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فہو مذھبی “ میں بیان کیا (خدا نے چاہا تو یہ رسالہ بابر کت ثابت ہوگا ) اس لئے کہ اس رسالہ میں جو منزلیں ہم نے بتائی ہیں انہیں طے کرنا سوائے مجتہد کے اور کسی کے بس کی بات نہیں اس میں سے کچھ تھوڑی سی مقدار کی جانب “ عقود رسم المفتی “ میں بھی اشارہ ہے اس میں یہ نقل کیا ہے کہ دلیل کی معرفت مجتہد ہی کو ہوتی ہے اس لئے کہ یہ اس امر کی معرفت پر موقوف ہے کہ دلیل ہر معارض سےمحفو ظ ہے اور یہ معرفت تمام دلائل کے استقراء اور چھان بین پر موقوف ہے جس پر بجز مجتہد کسی کو قدرت نہیں ہوتی اور صرف اتنی واقفیت کہ فلاں مجتہد نے فلاں حکم فلاں دلیل سے اخذ کیا ہے تو اتنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ا ھ
(۲) اجمالی جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے ذکر والوں سے پو چھو اگر تمہیں علم نہیں اور ارشاد ہے الله کی اطاعت کرو اوررسول کی اطاعت کر و اور ان کی جو تم میں صاحب امر ہیں یہ اصحاب امر بر قول اصح حضرات علماء کرام
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور۱ / ۳۰
القرآن ۱۶ / ۴۳
القرآن ۴ / ۵۹
فـــ : رسالــــہ الفضل الموھبی فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاونڈیشن جلد ۲۷ ص ۶۱ پر ملاحظہ ہو۔
القرآن ۱۶ / ۴۳
القرآن ۴ / ۵۹
فـــ : رسالــــہ الفضل الموھبی فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاونڈیشن جلد ۲۷ ص ۶۱ پر ملاحظہ ہو۔
و قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الا سألوا اذلم یعلموا فانما شفاء العی السؤال
وعن فـــــ ھذا نقول ان اخذنا با قوال امامنا لیس تقلیدا شرعیا لکونہ عن دلیل شرعی انما ھو تقلید عرفی لعدم معرفتنا بالدلیل التفصیلی اما التقلید الحقیقی فلا مساغ لہ فی الشرع وھو المراد فی کل ماورد فی ذم التقلید والجھال الضلال یلبسون علی العوام فیحملونہ علی التقلید العرفی الذی ھو فرض شرعی علی کل من لم یبلغ رتبۃ الاجتھاد۔
قال المدقق البھاری فی مسلم الثبوت التقلید العمد بقول الغیر من غیر حجۃ کا خذ العامی والمجتہد من مثلہ فالرجوع الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم او الی الاجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول
ہیں اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے “ جب انہیں معلوم نہ تھا تو پوچھا کیوں نہیں عاجز کا علاج یہی ہے کہ سوال کرے ۔ “ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اپنے امام کے اقوال کو تسلیم وقبول کر نا تقلید شرعی نہیں بس تقلید عرفی ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی کی ہمیں معرفت نہیں اور تقلید حقیقی کی تو شریعت میں کوئی گنجائش ہی نہیں اور مذمت تقلید میں جو کچھ وارد ہے اس میں تقلید حقیقی ہی مراد ہے اہل جہالت وضلالت عوام پر تلبیس کر کے اسے تقلید عرفی پر محمول کر تے ہیں جب کہ یہ ہر اس شخص پر فر ض شرعی ہے جو رتبہ اجتہاد تك نہ پہنچا ہو ۔ مدقق بہاری مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں تقلید یہ ہے کہ دوسرے کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل ہو جیسے عامی اور مجتہد کا اپنے جیسے سے اخذ کرنا تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جانب یا اجماع کی جانب رجوع لانا تقلید نہیں اسی طر ح عامی کا مفتی کی جانب اور قاضی کا گو اہان عادل
فـــــ : الفرق بین التقلید الشرعی المذموم والعرفی الواجب وبیان ان اخذنا باقوال امامنالیس تقلید فی الشرع بل بحسب العرف وھو عمل بالدلیل حقیقۃ وبیان تلبیس الوھابیہ فی ذالک۔
وعن فـــــ ھذا نقول ان اخذنا با قوال امامنا لیس تقلیدا شرعیا لکونہ عن دلیل شرعی انما ھو تقلید عرفی لعدم معرفتنا بالدلیل التفصیلی اما التقلید الحقیقی فلا مساغ لہ فی الشرع وھو المراد فی کل ماورد فی ذم التقلید والجھال الضلال یلبسون علی العوام فیحملونہ علی التقلید العرفی الذی ھو فرض شرعی علی کل من لم یبلغ رتبۃ الاجتھاد۔
قال المدقق البھاری فی مسلم الثبوت التقلید العمد بقول الغیر من غیر حجۃ کا خذ العامی والمجتہد من مثلہ فالرجوع الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم او الی الاجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول
ہیں اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے “ جب انہیں معلوم نہ تھا تو پوچھا کیوں نہیں عاجز کا علاج یہی ہے کہ سوال کرے ۔ “ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اپنے امام کے اقوال کو تسلیم وقبول کر نا تقلید شرعی نہیں بس تقلید عرفی ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی کی ہمیں معرفت نہیں اور تقلید حقیقی کی تو شریعت میں کوئی گنجائش ہی نہیں اور مذمت تقلید میں جو کچھ وارد ہے اس میں تقلید حقیقی ہی مراد ہے اہل جہالت وضلالت عوام پر تلبیس کر کے اسے تقلید عرفی پر محمول کر تے ہیں جب کہ یہ ہر اس شخص پر فر ض شرعی ہے جو رتبہ اجتہاد تك نہ پہنچا ہو ۔ مدقق بہاری مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں تقلید یہ ہے کہ دوسرے کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل ہو جیسے عامی اور مجتہد کا اپنے جیسے سے اخذ کرنا تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جانب یا اجماع کی جانب رجوع لانا تقلید نہیں اسی طر ح عامی کا مفتی کی جانب اور قاضی کا گو اہان عادل
فـــــ : الفرق بین التقلید الشرعی المذموم والعرفی الواجب وبیان ان اخذنا باقوال امامنالیس تقلید فی الشرع بل بحسب العرف وھو عمل بالدلیل حقیقۃ وبیان تلبیس الوھابیہ فی ذالک۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب المجذور یتیم آفتاب عالم پریس لاہور ۴۹ / ۱
لا یجاب النص ذلك علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد قال الامام وعلیہ معظم الاصولیین اھ
وشرحہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت ھکذا ( التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ) متعلق بالعمل والمراد بالحجۃ حجۃ من الحجج الاربع والا فقول المجتھد دلیلہ وحجۃ (کاخذ العامی) من المجتہد (و) اخذ (المجتھد من مثلہ فالرجوع الی النبی علیہ) والہ واصحابہ (الصلوۃ والسلام والی الاجماع لیس منہ) فانہ رجوع الی الدلیل (وکذا) رجوع (العامی الی المفتی والقاضی الی العدول ) لیس ھذا الرجوع نفسہ تقلید وان کان العمل بما اخذ وابعدہ تقلیدا ( لا یجاب النص ذالك علیھما ) فھو عمل بحجۃ لا بقول الغیر فقط (لکن العرف) دل (علی ان العامی مقلد للمجتہد ) بالرجوع الیہ ( قال
کی جانب رجوع اس لئے کہ یہ ان دونوں پرنص نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے امام نے فرمایا اسی پر بیش تر اہل اصول ہیں۔ ۱ھ
مولانا بحر العلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی شرح یوں کی ہے (قوسین کے درمیان متن کے الفا ظ ہیں )تقلید دو سرے کے قول پر عمل بغیر کسی دلیل کے یہ عمل سے متعلق ہے اور دلیل سے مراد ادلہ اربعہ (کتاب سنت اجماع قیاس) میں سے کوئی دلیل ہے ورنہ مجتہد کا قول ہی اس کی دلیل اور حجت ہے (جیسے عامی کا اخذ کرنا )مجتہد سے (اور مجتہد کا اپنے مثل سے) اخذ کرنا (تو نبی علیہ ) وآلہ واصحابہ (الصلوۃ والسلام یا اجماع کی جانب رجوع تقلید نہیں) اس لئے کہ یہ تو دلیل کی جانب رجوع ہے (اور اسی طر ح عامی کا مفتی او رقاضی کا گواہان عادل کی جانب ) رجوع کرنا کہ خو د یہ رجوع تقلید نہیں اگر چہ بعد رجوع جو اخذ کیا اس پر عمل تقلید ہے (کیونکہ یہ دونوں پر خود نص نے واجب کیا ہے) تو یہ ایك دلیل پر عمل ہے (لیکن عرف اس پر دلالت کرتی ہے) کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے کیونکہ وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے (امام نے
وشرحہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت ھکذا ( التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ) متعلق بالعمل والمراد بالحجۃ حجۃ من الحجج الاربع والا فقول المجتھد دلیلہ وحجۃ (کاخذ العامی) من المجتہد (و) اخذ (المجتھد من مثلہ فالرجوع الی النبی علیہ) والہ واصحابہ (الصلوۃ والسلام والی الاجماع لیس منہ) فانہ رجوع الی الدلیل (وکذا) رجوع (العامی الی المفتی والقاضی الی العدول ) لیس ھذا الرجوع نفسہ تقلید وان کان العمل بما اخذ وابعدہ تقلیدا ( لا یجاب النص ذالك علیھما ) فھو عمل بحجۃ لا بقول الغیر فقط (لکن العرف) دل (علی ان العامی مقلد للمجتہد ) بالرجوع الیہ ( قال
کی جانب رجوع اس لئے کہ یہ ان دونوں پرنص نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے امام نے فرمایا اسی پر بیش تر اہل اصول ہیں۔ ۱ھ
مولانا بحر العلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی شرح یوں کی ہے (قوسین کے درمیان متن کے الفا ظ ہیں )تقلید دو سرے کے قول پر عمل بغیر کسی دلیل کے یہ عمل سے متعلق ہے اور دلیل سے مراد ادلہ اربعہ (کتاب سنت اجماع قیاس) میں سے کوئی دلیل ہے ورنہ مجتہد کا قول ہی اس کی دلیل اور حجت ہے (جیسے عامی کا اخذ کرنا )مجتہد سے (اور مجتہد کا اپنے مثل سے) اخذ کرنا (تو نبی علیہ ) وآلہ واصحابہ (الصلوۃ والسلام یا اجماع کی جانب رجوع تقلید نہیں) اس لئے کہ یہ تو دلیل کی جانب رجوع ہے (اور اسی طر ح عامی کا مفتی او رقاضی کا گواہان عادل کی جانب ) رجوع کرنا کہ خو د یہ رجوع تقلید نہیں اگر چہ بعد رجوع جو اخذ کیا اس پر عمل تقلید ہے (کیونکہ یہ دونوں پر خود نص نے واجب کیا ہے) تو یہ ایك دلیل پر عمل ہے (لیکن عرف اس پر دلالت کرتی ہے) کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے کیونکہ وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے (امام نے
حوالہ / References
مسلم الثبوت الاصل الرابع القیاس فصل فی التعریف التقلید الخ مطبع انصاری دہلی ۲۸۹
الامام ) امام الحرمین ( وعلیہ معظم الاصولیین ) وھوالمشتھر المعتمد علیہ اھ
اقول : فیہ نظر من وجوہ :
فاولا فـــ ۱ لافرق فی الحکم بین الاخذ والرجوع حیث لا رجوع الا للاخذ اذلم یوجبہ الشرع الا لہ ولو سأل العامی امامہ ولم یعمل بہ کان عابثا متلا عباوالشرع متعال عن الامر بالعبث فان لم یکن الرجوع تقلید الوجوبہ بالنص لم یکن الاخذ ایضا من التقلید قطعا لوجوبہ بعین النص
وثانیا فـــــ ۲ : الایۃ الاولی اوجبت الرجوع والثانیۃ الاخذ فطاح الفرق
وثالثا : فـــــــ ۳ : حیث اتحد مال الرجوع والاخذ فعلی تقریر الشارح یتناقض قولہ التقلید اخذ العامی
فرمایا) امام الحرمین نے (اوراسی پر اکثر اہل اصول ہیں) اور یہی مشہور ہے جس پر ا عتماد ہے۔
اقول : یہ شرح چند و جہوں سے محل نظرہے : اولا : اخذ اور رجوع کے حکم میں کوئی فر ق نہیں۔ اس لئے کہ رجوع اخذہی کے لئے ہوتا ہے کیونکہ شریعت نے اخذ ہی کے لئے رجوع واجب کیا ہے اگر عامی اپنے امام سے پوچھے اور اس پر عمل نہ کرے تو عبث اورکھیل کرنے والا قرار پائے گا اور شریعت اس سے بر تر ہے کہ عبث کا حکم فرمائے ۔ تو رجوع اگر اس وجہ سے تقلید نہیں کہ وہ نص سے واجب ہے تو اخذ بھی ہر گز تقلید نہیں کیونکہ یہ بھی بعینہ اسی نص سے واجب ہے ثانیا : پہلی آیت “فســٴـلوا "نے رجوع وجواب کیا اور دوسری “ اطیعوا “ نے اخذ و اجب کیا تواخذ ورجوع کے حکم میں فر ق بیکار ہوا
ثالثا : جب رجوع اور اخذ دونوں کا مال ایك ہے تو بر تقر یر شا رح متن کی ان دو نوں عبارتو ں میں تنا قض لازم آئے گا (۱) عامی کا
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ بحرا لعلوم
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
اقول : فیہ نظر من وجوہ :
فاولا فـــ ۱ لافرق فی الحکم بین الاخذ والرجوع حیث لا رجوع الا للاخذ اذلم یوجبہ الشرع الا لہ ولو سأل العامی امامہ ولم یعمل بہ کان عابثا متلا عباوالشرع متعال عن الامر بالعبث فان لم یکن الرجوع تقلید الوجوبہ بالنص لم یکن الاخذ ایضا من التقلید قطعا لوجوبہ بعین النص
وثانیا فـــــ ۲ : الایۃ الاولی اوجبت الرجوع والثانیۃ الاخذ فطاح الفرق
وثالثا : فـــــــ ۳ : حیث اتحد مال الرجوع والاخذ فعلی تقریر الشارح یتناقض قولہ التقلید اخذ العامی
فرمایا) امام الحرمین نے (اوراسی پر اکثر اہل اصول ہیں) اور یہی مشہور ہے جس پر ا عتماد ہے۔
اقول : یہ شرح چند و جہوں سے محل نظرہے : اولا : اخذ اور رجوع کے حکم میں کوئی فر ق نہیں۔ اس لئے کہ رجوع اخذہی کے لئے ہوتا ہے کیونکہ شریعت نے اخذ ہی کے لئے رجوع واجب کیا ہے اگر عامی اپنے امام سے پوچھے اور اس پر عمل نہ کرے تو عبث اورکھیل کرنے والا قرار پائے گا اور شریعت اس سے بر تر ہے کہ عبث کا حکم فرمائے ۔ تو رجوع اگر اس وجہ سے تقلید نہیں کہ وہ نص سے واجب ہے تو اخذ بھی ہر گز تقلید نہیں کیونکہ یہ بھی بعینہ اسی نص سے واجب ہے ثانیا : پہلی آیت “فســٴـلوا "نے رجوع وجواب کیا اور دوسری “ اطیعوا “ نے اخذ و اجب کیا تواخذ ورجوع کے حکم میں فر ق بیکار ہوا
ثالثا : جب رجوع اور اخذ دونوں کا مال ایك ہے تو بر تقر یر شا رح متن کی ان دو نوں عبارتو ں میں تنا قض لازم آئے گا (۱) عامی کا
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ بحرا لعلوم
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفی الاصل الرابع فصل فی تعریف التقلید الخ مطبعۃ منشورات الرضی قم ایران
من المجتہد وقولہ لیس منہ رجوع العامی الی المفتی فان المفتی ھو المجتہد کمافی المتن متصلا بما مر۔
ورابعا : ان ارید فــــ ۱ بحجۃ من الاربع التفصیلیۃ اعنی الخاصۃ بالجزئیۃ النازلۃ بطل قولہ فالرجوع الی النبی صلی الله علیہ وسلم اوالا جماع لیس منہ فانہ لایکون عن ادراك الدلیل التفصیلی وان ارید الاجمالیۃ کالعمومات الشرعیۃ بطل جعلہ اخذ العامی من المجتہد تقلیدا فانہ ایضا عن دلیل شرعی
خامسا : اذقد حکم فـــــــ۲ اولا ان اخذ العامی عن المجتھد تقلید فما معنی الاستدراك علیہ بقولہ لکن العرف الخ
وسادسا : لیس فـــــــ ۳ : نفس الرجوع مجتہد سے اخذ کر نا تقلید ہے (۲)عامی کا مفتی کی جانب رجوع کرنا تقلید نہیں اس لئے کہ مفتی وہی ہے جو مجتہد ہو جیسا کہ متن میں عبارت مذکورہ سے متصل ہی گز ر چکا ہے ۔
رابعا : حجت ودلیل کی تو ضیح میں شارح نے “ ادلہ اربعہ میں سے کوئی دلیل “ کہا اگر اس سے مراد دلیل تفصیلی ہے یعنی وہ خاص دلیل جو پیش آمدہ جزئیہ ومسئلہ سے متعلق ہے (اسے جانے بغیر دو سرے کا قول لے لینے کا نام تقلید ہے) تو یہ کہنا باطل ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا اجماع کی طرف رجوع تقلید نہیں اس لئے کہ یہ رجوع دلیل تفصیلی کا علم ادراك نہیں او اگر اس سے مراد دلیل اجمالی ہے جیسے عام ارشادات شرعیہ تو مجتہد سے عامی کے اخذ کو تقلید کہنا با طل ہے کیوں کہ یہ بھی ایك دلیل شرعی کے تحت ہے ۔
خامسا : جب ابتداء یہ فیصلہ کردیا کہ عامی کا مجتہد سے اخذ کرنا تقلید ہے تو بعد میں بطور استدراك یہ عبارت لانے کاکیا معنی “ لیکن عرف اس پر ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے ۔ “
سادسا : نفس رجوع تقلید ہر گز نہیں
فــــ ۱ : معروضۃ علی المولی بحرا لعلوم
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
ورابعا : ان ارید فــــ ۱ بحجۃ من الاربع التفصیلیۃ اعنی الخاصۃ بالجزئیۃ النازلۃ بطل قولہ فالرجوع الی النبی صلی الله علیہ وسلم اوالا جماع لیس منہ فانہ لایکون عن ادراك الدلیل التفصیلی وان ارید الاجمالیۃ کالعمومات الشرعیۃ بطل جعلہ اخذ العامی من المجتہد تقلیدا فانہ ایضا عن دلیل شرعی
خامسا : اذقد حکم فـــــــ۲ اولا ان اخذ العامی عن المجتھد تقلید فما معنی الاستدراك علیہ بقولہ لکن العرف الخ
وسادسا : لیس فـــــــ ۳ : نفس الرجوع مجتہد سے اخذ کر نا تقلید ہے (۲)عامی کا مفتی کی جانب رجوع کرنا تقلید نہیں اس لئے کہ مفتی وہی ہے جو مجتہد ہو جیسا کہ متن میں عبارت مذکورہ سے متصل ہی گز ر چکا ہے ۔
رابعا : حجت ودلیل کی تو ضیح میں شارح نے “ ادلہ اربعہ میں سے کوئی دلیل “ کہا اگر اس سے مراد دلیل تفصیلی ہے یعنی وہ خاص دلیل جو پیش آمدہ جزئیہ ومسئلہ سے متعلق ہے (اسے جانے بغیر دو سرے کا قول لے لینے کا نام تقلید ہے) تو یہ کہنا باطل ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا اجماع کی طرف رجوع تقلید نہیں اس لئے کہ یہ رجوع دلیل تفصیلی کا علم ادراك نہیں او اگر اس سے مراد دلیل اجمالی ہے جیسے عام ارشادات شرعیہ تو مجتہد سے عامی کے اخذ کو تقلید کہنا با طل ہے کیوں کہ یہ بھی ایك دلیل شرعی کے تحت ہے ۔
خامسا : جب ابتداء یہ فیصلہ کردیا کہ عامی کا مجتہد سے اخذ کرنا تقلید ہے تو بعد میں بطور استدراك یہ عبارت لانے کاکیا معنی “ لیکن عرف اس پر ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے ۔ “
سادسا : نفس رجوع تقلید ہر گز نہیں
فــــ ۱ : معروضۃ علی المولی بحرا لعلوم
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
ــتقلیدا قط والا لکان رجوعنا الی کتب الشافعیہ لنعلم ما مذھب الامام المطلبی فی المسألۃ تقلید الہ ولا یتوھمہ احد وسابعا : مثلہ فـــــــ ۱ اوا عجب منہ جعل اخذ القاضی بشھادۃ الشہود تقلیدا منہ لھم فانہ تقلید لا یعرفہ عرف ولا شرع ومن یتجاسر فـــــ ۲ ان یسمی قاضی الاسلام ولوایا یوسف عـــہ مقلد ذمیین اذا قضی بشھادتھما علی ذمی
ورنہ کسی مسئلے میں امام شافعی مطلبی علیہ الرحمہ کا مذہب معلوم کرنے کے لئے کتب شافعیہ کی جانب ہمارا رجوع کرنا امام شافعی کی تقلید ٹھہرے حالانکہ کسی کو یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا۔
سابعا : اسی کے مثل یا اس سے بھی زیادہ حیرت خیز بات یہ ہو ئی کہ اگر قاضی نے گواہوں کی شہادت لے لی تو اسے یہ ٹھہرایا کہ قاضی نے گواہوں کی تقلید کرلی ایسی تقلید سے نہ کوئی عرف آشنا ہے نہ شریعت میں کہیں اس کانام ونشان کسے جرات ہے کہ قاضی اسلام کو خواہ وہ امام ابو یوسف ہی ہوں ایسے دو ذمیوں کا مقلد کہہ دے
عــــہ بل وامراء المؤمنین الخلفاء الراشدین رضی الله تعالی عنھم وانت تعلم فــــ ۳ انہ لیس الاثقۃ بقول الشہود فیما اخبروا بہ عن واقعۃ حسیۃ شھدوھا ولو کان ھذا تقلیدا لم یسلم من تقلید احادالناس امام ولا صحابی ولا نبی وفی مسلم قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حدثنا تمیم الداری اھ منہ غفرلہ۔ (م)
بلکہ کوئی شخص جرات کرسکتا ہے کہ خلفائے راشدین کو ذ میوں کا مقلد کہے اور آپ جانتے ہیں کہ قاضی تو صرف گواہوں کے اس قول سے وثوق حاصل کرتا ہے اس معاملہ میں جس واقعہ حسیہ کا انہوں نے مشاہد ہ کیا ہو اگر اس چیز کا نام تقلید ہے تو کوئی امام صحابی اورنبی تقلید سے سالم نہ رہے گا اور مسلم شریف میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا قول ہے کہ ہمیں تمیم داری نے حدیث بیان کی ا ھ منہ غفر لہ(ت)۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
ورنہ کسی مسئلے میں امام شافعی مطلبی علیہ الرحمہ کا مذہب معلوم کرنے کے لئے کتب شافعیہ کی جانب ہمارا رجوع کرنا امام شافعی کی تقلید ٹھہرے حالانکہ کسی کو یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا۔
سابعا : اسی کے مثل یا اس سے بھی زیادہ حیرت خیز بات یہ ہو ئی کہ اگر قاضی نے گواہوں کی شہادت لے لی تو اسے یہ ٹھہرایا کہ قاضی نے گواہوں کی تقلید کرلی ایسی تقلید سے نہ کوئی عرف آشنا ہے نہ شریعت میں کہیں اس کانام ونشان کسے جرات ہے کہ قاضی اسلام کو خواہ وہ امام ابو یوسف ہی ہوں ایسے دو ذمیوں کا مقلد کہہ دے
عــــہ بل وامراء المؤمنین الخلفاء الراشدین رضی الله تعالی عنھم وانت تعلم فــــ ۳ انہ لیس الاثقۃ بقول الشہود فیما اخبروا بہ عن واقعۃ حسیۃ شھدوھا ولو کان ھذا تقلیدا لم یسلم من تقلید احادالناس امام ولا صحابی ولا نبی وفی مسلم قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حدثنا تمیم الداری اھ منہ غفرلہ۔ (م)
بلکہ کوئی شخص جرات کرسکتا ہے کہ خلفائے راشدین کو ذ میوں کا مقلد کہے اور آپ جانتے ہیں کہ قاضی تو صرف گواہوں کے اس قول سے وثوق حاصل کرتا ہے اس معاملہ میں جس واقعہ حسیہ کا انہوں نے مشاہد ہ کیا ہو اگر اس چیز کا نام تقلید ہے تو کوئی امام صحابی اورنبی تقلید سے سالم نہ رہے گا اور مسلم شریف میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا قول ہے کہ ہمیں تمیم داری نے حدیث بیان کی ا ھ منہ غفر لہ(ت)۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الفتن باب قصۃ الجساستہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۴۰۴ ، ۴۰۵
بل الحق فی حل المتن مارأیتنی کتبت علیہ ھکذا (التقلید)الحقیقی ھو (العمل بقول الغیر من غیر حجۃ) اصلا (کاخذ العامی) من مثلہ وھذا بالا جماع اذلیس قول العامی حجۃ اصلا لا نفسہ ولا لغیرہ (و) کذا اخذ (المجتھد من مثلہ) علی مذھب الجمہور من عدم جواز تقلید مجتھد مجتھدا اخر وذلك لانہ لما کان قادرا علی الاخذ عن الاصل فالحجۃ فی حقہ ھوا لاصل وعدولہ عنہ الی ظن مثلہ عدول الی مالیس حجۃ فی حقہ فیکون تقلیدا حقیقیا فالضمیر فی مثلہ الی کل من العامی والمجتھد عـــــہ لا الی المجتھد خاصۃ
جن کی شہادت پر اس نے کسی ذمی کے خلاف فیصلہ کر دیا ہو بلکہ متن مذکور کے حل میں حق وہ ہے جو ا س عبارت پر خود میں نے کبھی لکھا تھا وہ اس طر ح ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (تقلید) حقیقی (دوسرے کے قول پر )اصلا کسی بھی( دلیل کے بغیر عمل کرنا جیسے عامی کا اخذ کرنا) اپنے ہی جیسے عامی سے یہ بالاجماع ہے اس لئے کہ عامی کا قول سرے سے دلیل ہی نہیں نہ خود اس کے لئے نہ کسی اور کے لئے (اور)اسی طرح(مجتہد کا اپنے ہی جیسے شخص سے) اخذ کرنا۔ یہ حکم اس مذہب جمہور پرہے کہ ایك مجتہد کے لئے دوسرے مجتہد کی تقلید جائز نہیں یہ اس لئے کہ جب وہ اصل سے اخذ کرنے پر قادر ہے تو اس کے حق میں حجت وہی اصل ہے اسے چھوڑ کر اپنے ہی جیسے شخص کے گمان کی جانب رجوع کرنا ایسی چیز کی طرف رجوع ہے جو اس کے حق میں حجت نہیں تو یہ بھی تقلید حقیقی ہوگی اس سے معلوم ہو اکہ “ مثلہ “ میں ضمیر عامی او ر مجتہد ہر ایك کی جانب راجع ہے صرف مجتہد کی طرف نہیں
عــــہ کما لا یخفی فـــــ علی کل ذی ذوق فضلا عن النظر الی ما یلزم ۱۲ منہ۔ (م)
جیسا کہ ہر صاحب ذوق پرظاہر ہے قطع نظر اس خرابی سے جو صرف مجتہد کی جانب راجع ٹھہرانے میں لازم آتی ہے ۱۲ منہ(ت)
فــــ : معروضۃ علیہ۔
جن کی شہادت پر اس نے کسی ذمی کے خلاف فیصلہ کر دیا ہو بلکہ متن مذکور کے حل میں حق وہ ہے جو ا س عبارت پر خود میں نے کبھی لکھا تھا وہ اس طر ح ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (تقلید) حقیقی (دوسرے کے قول پر )اصلا کسی بھی( دلیل کے بغیر عمل کرنا جیسے عامی کا اخذ کرنا) اپنے ہی جیسے عامی سے یہ بالاجماع ہے اس لئے کہ عامی کا قول سرے سے دلیل ہی نہیں نہ خود اس کے لئے نہ کسی اور کے لئے (اور)اسی طرح(مجتہد کا اپنے ہی جیسے شخص سے) اخذ کرنا۔ یہ حکم اس مذہب جمہور پرہے کہ ایك مجتہد کے لئے دوسرے مجتہد کی تقلید جائز نہیں یہ اس لئے کہ جب وہ اصل سے اخذ کرنے پر قادر ہے تو اس کے حق میں حجت وہی اصل ہے اسے چھوڑ کر اپنے ہی جیسے شخص کے گمان کی جانب رجوع کرنا ایسی چیز کی طرف رجوع ہے جو اس کے حق میں حجت نہیں تو یہ بھی تقلید حقیقی ہوگی اس سے معلوم ہو اکہ “ مثلہ “ میں ضمیر عامی او ر مجتہد ہر ایك کی جانب راجع ہے صرف مجتہد کی طرف نہیں
عــــہ کما لا یخفی فـــــ علی کل ذی ذوق فضلا عن النظر الی ما یلزم ۱۲ منہ۔ (م)
جیسا کہ ہر صاحب ذوق پرظاہر ہے قطع نظر اس خرابی سے جو صرف مجتہد کی جانب راجع ٹھہرانے میں لازم آتی ہے ۱۲ منہ(ت)
فــــ : معروضۃ علیہ۔
واذا عرفت ان التقلید الحقیقی یعتمد انتفاء الحجۃ رأسا (فالر جوع الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اوالی الاجماع) وان لم نعرف دلیل ماقالہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اوقالہ اھل الاجماع تفصیلا (لیس منہ) ای من التقلید الحقیقی لوجود الحجۃ الشرعیۃ ولو اجمالا (وکذا) رجوع (العامی) من لیس مجتھدا (الی المفتی) وھوالمجتھد (و)رجوع القاضی الی الشہود (العدول) واخذھما بقولھم لیس من التقلید فی شیئ لانفس الرجوع ولاالعمل بعدہ (لا یجاب النص) ذلك الرجوع والعمل (علیھا) فیکون عملا بحجۃ ولو اجمالیۃ کما عرفت ھذا ھو حقیقۃ التقلید (لکن العرف) عــــہ مضی (علی ان العامی مقلد للمجتھد فجعل عملہ بقول من دون معرفۃ دلیلہ التفصیلی تقلیدا لہ وان کان انما
جب یہ معلوم ہوگیا کہ تقلید حقیقی کا مدار اس پر ہے کہ سرے سے کوئی دلیل نہ ہو(تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا اجماع کی طر ف رجوع ) اگر چہ ہمیں تفصیلی طور پر اس کی دلیل معلوم نہ ہو جو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا یا جو اہل اجماع نے کہا (اس سے نہیں) یعنی تقلید حقیقی نہیں ا سلئے کہ حجت شرعیہ موجود ہے اگرچہ اجمالا ہے (اسی طرح عامی) جو مجتہدنہیں (کامفتی )مفتی وہی ہے جو مجتہد ہو (کی طر ف ) رجوع ( اور قاضی کا عادل) گواہوں (کی طر ف ) رجوع اور ان کا قول لینا کسی طر ح تقلید نہیں نہ ہی نفس رجوع اور نہ ہی اس کے بعد عمل کوئی بھی تقلید نہیں (اس لئے کہ ان دو نوں پر ) یہ رجوع و عمل(نص نے واجب کیا ہے ) تو یہ ایك دلیل پر عمل ہوگا اگرچہ اجمالی دلیل پر جیسا کہ معلوم ہوا تقلید کی حقیقت تو یہی ہے (لیکن عرف اس پر ) جاری (ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے) قول مجتہد کی دلیل تفصیلی سے آشنائی کے بغیر اس پر عامی کے عمل کو اس کی تقلید قرار دیا گیا ہے اگر چہ مجتہد کی طر ف عامی
عــــہ تقدیرہ اولی من تقدیر دل کمالا یخفی اھ منہ غفرلہ۔ (م)
یہ لفظ مقدر ماننا لفظ دلالت مقدر ماننے سے اولی ہے جیسا کہ ظاہر ہے ۱۲منہ (ت)
فــــ : معروضۃ علیہ۔
جب یہ معلوم ہوگیا کہ تقلید حقیقی کا مدار اس پر ہے کہ سرے سے کوئی دلیل نہ ہو(تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا اجماع کی طر ف رجوع ) اگر چہ ہمیں تفصیلی طور پر اس کی دلیل معلوم نہ ہو جو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا یا جو اہل اجماع نے کہا (اس سے نہیں) یعنی تقلید حقیقی نہیں ا سلئے کہ حجت شرعیہ موجود ہے اگرچہ اجمالا ہے (اسی طرح عامی) جو مجتہدنہیں (کامفتی )مفتی وہی ہے جو مجتہد ہو (کی طر ف ) رجوع ( اور قاضی کا عادل) گواہوں (کی طر ف ) رجوع اور ان کا قول لینا کسی طر ح تقلید نہیں نہ ہی نفس رجوع اور نہ ہی اس کے بعد عمل کوئی بھی تقلید نہیں (اس لئے کہ ان دو نوں پر ) یہ رجوع و عمل(نص نے واجب کیا ہے ) تو یہ ایك دلیل پر عمل ہوگا اگرچہ اجمالی دلیل پر جیسا کہ معلوم ہوا تقلید کی حقیقت تو یہی ہے (لیکن عرف اس پر ) جاری (ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے) قول مجتہد کی دلیل تفصیلی سے آشنائی کے بغیر اس پر عامی کے عمل کو اس کی تقلید قرار دیا گیا ہے اگر چہ مجتہد کی طر ف عامی
عــــہ تقدیرہ اولی من تقدیر دل کمالا یخفی اھ منہ غفرلہ۔ (م)
یہ لفظ مقدر ماننا لفظ دلالت مقدر ماننے سے اولی ہے جیسا کہ ظاہر ہے ۱۲منہ (ت)
فــــ : معروضۃ علیہ۔
یرجع الیہ لانہ مامور شرعا بالرجوع الیہ و الاخذ بقولہ فکان عن حجۃ لابغیرھا وھذا اصطلاح خاص بھذہ الصورۃ فالعمل بقول النبی صلی تعالی علیہ وسلم وبقول اھل الاجماع لا یسمیہ العرف ایضا تقلیدا (قال الامام) ھذا عرف العامۃ (و) مشی (علیہ معظم الاصولیین) والاصطلاحات سائغۃ لا محل فیھا للتذییل بان ھذا ضعیف وذاك معتمد کمالا یخفی ھذا ھو التقریر الصحیح لھذا الکلام والله تعالی ولی الانعام۔
الثالثۃ اقول : حیث علمت ان الجمھور علی منع اھل النظر من تقلید غیرہ وعندھم اخذہ بقولہ من دون معرفۃ دلیلہ التفصیلی یرجع الی التقلید الحقیقی المحظور اجماعا بخلاف العامی فان عدم معرفتہ الدلیل التفصیلی یوجب علیہ تقلید (المجتہد والالزم
اسی لئے رجو ع کرتا ہے کہ اسے شرعا اس کی جانب رجوع کرنے اور اس کا قول لینے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ رجوع دلیل کے تحت ہے بلا دلیل نہیں یہ ایك اصلاح ہے جو اسی صورت سے خاص ہے او رقول رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور قول اہل اجماع پر عمل کو تو عرف میں بھی تقلید نہیں کہا جاتا (امام نے فرمایا) یہ عرف عام ہے (اور اسی پر اکثر اہل اصول) گام زن (میں) اصطلاح کوئی بھی قائم کرنے لگے گنجائش ہوتی ہے تو سبھی اصطلاحیں روا ہوتی ہیں ان سے متعلق یہ نوٹ لگانا بے محل ہے کہ فلاں اصطلاح ضعیف ہے او رفلاں معتمد ہے جیسا کہ مخفی نہیں یہ ہے کلام مذکور کی صحیح تقریر او رخدائے تعالی ہی فضل وانعام کا مالك ہے ۔
مقدمہ سوم : اقول : معلوم ہوچکاہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اہل نظر و ا جتہاد کے لئے یہ جائز نہیں کہ دوسرے کسی مجتہد کی تقلید کر ے او ر وہ اگر دو سرے کا قول اس کی دلیل تفصیلی سے آگاہی کے بغیر لے لیتا ہے تو جمہور کے نزدیك یہ تقلید حقیقی میں شامل ہے جو بالا جماع حرام ہے عامی کا حکم اس کے بر خلاف ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی اس پر واجب کرتی ہے کہ وہ مجتہد کی تقلید کرے ورنہ لازم آئیگا
فــــ : معروضۃ علیہ۔
الثالثۃ اقول : حیث علمت ان الجمھور علی منع اھل النظر من تقلید غیرہ وعندھم اخذہ بقولہ من دون معرفۃ دلیلہ التفصیلی یرجع الی التقلید الحقیقی المحظور اجماعا بخلاف العامی فان عدم معرفتہ الدلیل التفصیلی یوجب علیہ تقلید (المجتہد والالزم
اسی لئے رجو ع کرتا ہے کہ اسے شرعا اس کی جانب رجوع کرنے اور اس کا قول لینے کا حکم دیا گیا ہے تو یہ رجوع دلیل کے تحت ہے بلا دلیل نہیں یہ ایك اصلاح ہے جو اسی صورت سے خاص ہے او رقول رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور قول اہل اجماع پر عمل کو تو عرف میں بھی تقلید نہیں کہا جاتا (امام نے فرمایا) یہ عرف عام ہے (اور اسی پر اکثر اہل اصول) گام زن (میں) اصطلاح کوئی بھی قائم کرنے لگے گنجائش ہوتی ہے تو سبھی اصطلاحیں روا ہوتی ہیں ان سے متعلق یہ نوٹ لگانا بے محل ہے کہ فلاں اصطلاح ضعیف ہے او رفلاں معتمد ہے جیسا کہ مخفی نہیں یہ ہے کلام مذکور کی صحیح تقریر او رخدائے تعالی ہی فضل وانعام کا مالك ہے ۔
مقدمہ سوم : اقول : معلوم ہوچکاہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اہل نظر و ا جتہاد کے لئے یہ جائز نہیں کہ دوسرے کسی مجتہد کی تقلید کر ے او ر وہ اگر دو سرے کا قول اس کی دلیل تفصیلی سے آگاہی کے بغیر لے لیتا ہے تو جمہور کے نزدیك یہ تقلید حقیقی میں شامل ہے جو بالا جماع حرام ہے عامی کا حکم اس کے بر خلاف ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی اس پر واجب کرتی ہے کہ وہ مجتہد کی تقلید کرے ورنہ لازم آئیگا
فــــ : معروضۃ علیہ۔
التکلیف بما لیس فی الواسع او ترکہ سدی ظھران عدم معرفۃ الدلیل التفصیلی لہ اثران تحریم التقلید فی حق اھل النظر وایجابہ فی حق غیرھم ولا غر وان یکون شیئ واحد موجبا ومحرما معالشیئ اخر با ختلاف الوجہ فعدم المعرفۃ لعدم الاھلیۃ موجب للتقلید ومعھا محرم لہ
الرابعۃ فـــ الفتوی حقیقۃ وعرفیۃ فالحقیقۃ ھو الافتاء عن معرفۃ الدلیل التفصیلی واولئك الذین یقال لھم اصحاب الفتوی ویقال بھذا افتی الفقیہ ابو جعفر والفقیہ ابو اللیث و اضرابھما رحمھم الله تعالی والعرفیۃ اخبار العالم با قوال الامام جاھلا عنھا تقلیدالہ من دون تلك المعرفۃ کما یقال فتاوی ابن نجیم والغزی والطوری والفتاوی الخیریۃ وھلم
کہ اسے ایسے امر(دلیل تفصیلی سے آگاہی) کا مکلف کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں یا یہ کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے اس سے ظاہر ہوا کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی کے دو اثر ہیں(۱) صاحب نظر کے لئے و ہ تتقلید کو حرام ٹہراتی ہے (۲) اور غیر اہل نظر کے لئے وہ ہی نا آشنائی تقلید کو واجب قرار دیتی ہے اوریہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایك ہی چیز کسی دو سری چیز کو الگ الگ وجہوں کے تحت واجب بھی ٹھہرائے اور حرام بھی تو یہی ناآشنائی فقدان اہلیت کے باعث تقلید کو واجب قرار دیتی ہے ۔ اور اہلیت ہوتے ہوئے تقلید کو حرام قرار دیتی ہے۔ مقدمہ چہارم : ایك حقیقی فتوی ہوتا ہے ایك عرفی فتوائے حقیقی یہ ہے کہ دلیل تفصیلی کی آشنائی کے ساتھ فتوی دیاجائے۔ ایسے ہی حضرات کو اصحاب فتوی کہاجاتا ہے اور اسی معنی میں یہ بولا جاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر فقیہ ابو اللیث اور ان جیسے حضرات رحمہم الله تعالی نے فتوی دیا اور فتوائے عرفی یہ ہے کہ اقوال امام کا علم رکھنے والا اس تفصیلی آشنائی کے بغیر ان کی تقلید کے طور پر کسی نہ جاننے والے کو بتائے ۔ جیسے کہا جاتا ہے فتا وی ابن نجیم فتا وی غزی فتا وی طوری فتا وی خیریہ اسی طرح زمانہ و
فـــ : الفتوی قسمان حقیقۃ مختصۃ بالمجتھدو عرفیۃ ۔
الرابعۃ فـــ الفتوی حقیقۃ وعرفیۃ فالحقیقۃ ھو الافتاء عن معرفۃ الدلیل التفصیلی واولئك الذین یقال لھم اصحاب الفتوی ویقال بھذا افتی الفقیہ ابو جعفر والفقیہ ابو اللیث و اضرابھما رحمھم الله تعالی والعرفیۃ اخبار العالم با قوال الامام جاھلا عنھا تقلیدالہ من دون تلك المعرفۃ کما یقال فتاوی ابن نجیم والغزی والطوری والفتاوی الخیریۃ وھلم
کہ اسے ایسے امر(دلیل تفصیلی سے آگاہی) کا مکلف کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں یا یہ کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے اس سے ظاہر ہوا کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی کے دو اثر ہیں(۱) صاحب نظر کے لئے و ہ تتقلید کو حرام ٹہراتی ہے (۲) اور غیر اہل نظر کے لئے وہ ہی نا آشنائی تقلید کو واجب قرار دیتی ہے اوریہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایك ہی چیز کسی دو سری چیز کو الگ الگ وجہوں کے تحت واجب بھی ٹھہرائے اور حرام بھی تو یہی ناآشنائی فقدان اہلیت کے باعث تقلید کو واجب قرار دیتی ہے ۔ اور اہلیت ہوتے ہوئے تقلید کو حرام قرار دیتی ہے۔ مقدمہ چہارم : ایك حقیقی فتوی ہوتا ہے ایك عرفی فتوائے حقیقی یہ ہے کہ دلیل تفصیلی کی آشنائی کے ساتھ فتوی دیاجائے۔ ایسے ہی حضرات کو اصحاب فتوی کہاجاتا ہے اور اسی معنی میں یہ بولا جاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر فقیہ ابو اللیث اور ان جیسے حضرات رحمہم الله تعالی نے فتوی دیا اور فتوائے عرفی یہ ہے کہ اقوال امام کا علم رکھنے والا اس تفصیلی آشنائی کے بغیر ان کی تقلید کے طور پر کسی نہ جاننے والے کو بتائے ۔ جیسے کہا جاتا ہے فتا وی ابن نجیم فتا وی غزی فتا وی طوری فتا وی خیریہ اسی طرح زمانہ و
فـــ : الفتوی قسمان حقیقۃ مختصۃ بالمجتھدو عرفیۃ ۔
تنزلازمانا ورتبۃ الی الفتاوی الرضویۃ جعلھا الله تعالی مرضیۃ مرضیۃ امین
الخامسۃ فـــــ اقول : وبالله التوفیق القول قولان صوری وضروری فالصوری ھو المقول المنقول والضروری مالم یقلہ القائد نصابالخصوص لکنہ قائل بہ فی ضمن العموم الحاکم ضرورۃ بان لو تکلم فی ھذا الخصوص لتکلم کذا و ربما یخالف الحکم الضروری الحکم الصوری وح یقضی علیہ الضروری حتی ان الاخذ بالصوری یعد مخالفۃ للقائل والعدول عنہ الی الضروری موافقۃ او اتباعا لہ کأن کان زید صالحا فامر عمرو خدامہ باکرامہ نصاجھا راوکرر ذلك علیھم مرارا وقد کان قال لھم ایاکم ان تکرمو ا فاسقا ابدا فبعد
رتبہ میں ان سے فروتر فتا وی رضویہ تك چلے آیئے الله تعالی اسے اپنی رضا کا باعث اور اپنا پسندیدہ بنائے آمین!
مقدمہ پنجم : اقول : وبالله التو فیق قول کی دو قسمیں ہیں(۱) قول صوری (۲) قول ضروری-- قول صوری وہ جو کسی نے صراحۃ کہا اور اس سے نقل ہوا اور قول ضروری وہ ہے جسے قائل نے صراحۃ اور خاص طو ر پر نہ کہا ہو مگر وہ کسی ایسے عموم کے ضمن میں اس کا قائل ہو جس سے ضروری طو ر پر یہ حکم برآمد ہوتا ہے کہ اگر وہ اس خصوص میں کلام کرتا تو اس کا کلام ایسا ہی ہوتا کبھی حکم ضروری حکم صوری کے خلاف بھی ہوتا ہے ایسی صورت میں حکم صوری کے خلاف حکم ضروری راجح وحاکم ہوتا ہے یہاں تك کہ صوری کو لینا قائل کی مخالفت شمار ہوتا ہے اور حکم صوری چھوڑ کر حکم ضروری کی طر ف رجوع کو قائل کی موافقت یا اس کی پیروی کہا جاتا ہے مثلا زید نیك اور صالح تھا تو عمر و نے اپنے خادموں کو صراحۃ علانیۃ زید کی تعظیم کا حکم دیا اور بار بار ان کے سامنے اس حکم کی تکرار بھی کی اور اس سے ایك زمانہ پہلے ان خدام کو ہمیشہ کیلئے کسی فاسق کی تکریم سے ممانعت بھی کر چکا تھا ۔ پھر
فــــ : القول قولان صوری و ضروری وھو یقتضی علی الصوری ولہ ستۃوجوہ۔
الخامسۃ فـــــ اقول : وبالله التوفیق القول قولان صوری وضروری فالصوری ھو المقول المنقول والضروری مالم یقلہ القائد نصابالخصوص لکنہ قائل بہ فی ضمن العموم الحاکم ضرورۃ بان لو تکلم فی ھذا الخصوص لتکلم کذا و ربما یخالف الحکم الضروری الحکم الصوری وح یقضی علیہ الضروری حتی ان الاخذ بالصوری یعد مخالفۃ للقائل والعدول عنہ الی الضروری موافقۃ او اتباعا لہ کأن کان زید صالحا فامر عمرو خدامہ باکرامہ نصاجھا راوکرر ذلك علیھم مرارا وقد کان قال لھم ایاکم ان تکرمو ا فاسقا ابدا فبعد
رتبہ میں ان سے فروتر فتا وی رضویہ تك چلے آیئے الله تعالی اسے اپنی رضا کا باعث اور اپنا پسندیدہ بنائے آمین!
مقدمہ پنجم : اقول : وبالله التو فیق قول کی دو قسمیں ہیں(۱) قول صوری (۲) قول ضروری-- قول صوری وہ جو کسی نے صراحۃ کہا اور اس سے نقل ہوا اور قول ضروری وہ ہے جسے قائل نے صراحۃ اور خاص طو ر پر نہ کہا ہو مگر وہ کسی ایسے عموم کے ضمن میں اس کا قائل ہو جس سے ضروری طو ر پر یہ حکم برآمد ہوتا ہے کہ اگر وہ اس خصوص میں کلام کرتا تو اس کا کلام ایسا ہی ہوتا کبھی حکم ضروری حکم صوری کے خلاف بھی ہوتا ہے ایسی صورت میں حکم صوری کے خلاف حکم ضروری راجح وحاکم ہوتا ہے یہاں تك کہ صوری کو لینا قائل کی مخالفت شمار ہوتا ہے اور حکم صوری چھوڑ کر حکم ضروری کی طر ف رجوع کو قائل کی موافقت یا اس کی پیروی کہا جاتا ہے مثلا زید نیك اور صالح تھا تو عمر و نے اپنے خادموں کو صراحۃ علانیۃ زید کی تعظیم کا حکم دیا اور بار بار ان کے سامنے اس حکم کی تکرار بھی کی اور اس سے ایك زمانہ پہلے ان خدام کو ہمیشہ کیلئے کسی فاسق کی تکریم سے ممانعت بھی کر چکا تھا ۔ پھر
فــــ : القول قولان صوری و ضروری وھو یقتضی علی الصوری ولہ ستۃوجوہ۔
زمان فسق زید علانیۃ فان اکرمہ بعدہ خدامہ عملا بنصہ المکرر المقرر کانوا عاصین وان ترکوا اکرامہ کانوا مطیعین
ومثل ذلك یقع فــــ فی اقوال الائمۃ اما لحدوث ضرورۃ او حرج اوعرف او تعامل او مصلحۃ مھمۃ تجلب اومفسدۃ مـلمۃ تسلب وذلك لان استشناء الضرورات ورفع الحرج ومراعاۃ المصالح الدینیۃ الخالیۃ عن مفسدۃ تربو علیھا ودرء المفاسد والاخذ بالعرف والعمل با لتعامل کل ذلك قواعد کلیۃ معلومۃ من الشرع لیس احد من الائمۃ الا مائلا الیھا و قائلا بہا ومعولا علیھا فاذا کان فی مسألۃ نص الامام ثم حدث احد تلك المغیرات علمنا قطعا ان لوحدث علی عھدہ
کچھ دنوں بعد زید فا سق معلن ہوگیا اب اگر عمر و کے خدام اس کے مکرر ثابت شدہ صریح حکم پر عمل کرتے ہوئے زید کی تعظیم کریں توعمر و کے نافرمان شمار ہوں گے اور اگر اس کی تعظیم ترك کردیں تو اطاعت گزارٹھہریں گے۔
اسی طر ح اقوال ائمہ میں بھی ہوتا ہے (کہ ان کے حکم صوری کے خلاف کوئی حکم ضروری پالیا جاتا ہے) اس کے درج ذیل اسباب پیدا ہوتے ہیں (۱) ضرورت(۲) حرج(۳) عرف (۴) تعامل(۵)کوئی اہم مصلحت جس کی تحصیل مطلوب ہے (۶) کوئی بڑا مفسد ہ جس کا ازالہ مطلوب ہے یہ اس لئے کہ صورتوں کا استثنا حرج کا دفعیہ ایسی دینی مصلحتو ں کی رعایت جو کسی ایسی خرابی سے خالی ہوں جو ان سے بڑھی ہوئی ہے مفاسد کو دور کرنا عرف کا لحاظ کرنا اور تعامل پر کار بند ہونا یہ سب ایسے قواعد کلیہ ہیں جو شریعت سے معلوم ہیں ہر امام ان کی جانب مائل ان کا قائل اور ان پر اعتماد کرنے والا ہی ہے۔ اب اگر کسی مسئلے میں امام کا کوئی صریح حکم رہا ہو پھر حکم تبدیل کرنے والے مذکورہ امور میں سے کوئی ایك پیدا ہو تو ہمیں قطعا یہ یقین ہوگا کہ یہ
فـــ : چھ۶ باتیں ہیں جن کے سبب قول امام بدل جاتا ہے لہذا قول ظاہر کے خلاف عمل ہوتا ہے اور وہ چھ باتیں : ضرورت دفع حرج عرف تعامل دینی ضروری مصلحت کی تحصیل کسی فساد موجود یا مظنون بظن غالب کا ازالہ ان سب میں بھی حقیقۃقول امام ہی پر عمل ہوتا ہے ۔
ومثل ذلك یقع فــــ فی اقوال الائمۃ اما لحدوث ضرورۃ او حرج اوعرف او تعامل او مصلحۃ مھمۃ تجلب اومفسدۃ مـلمۃ تسلب وذلك لان استشناء الضرورات ورفع الحرج ومراعاۃ المصالح الدینیۃ الخالیۃ عن مفسدۃ تربو علیھا ودرء المفاسد والاخذ بالعرف والعمل با لتعامل کل ذلك قواعد کلیۃ معلومۃ من الشرع لیس احد من الائمۃ الا مائلا الیھا و قائلا بہا ومعولا علیھا فاذا کان فی مسألۃ نص الامام ثم حدث احد تلك المغیرات علمنا قطعا ان لوحدث علی عھدہ
کچھ دنوں بعد زید فا سق معلن ہوگیا اب اگر عمر و کے خدام اس کے مکرر ثابت شدہ صریح حکم پر عمل کرتے ہوئے زید کی تعظیم کریں توعمر و کے نافرمان شمار ہوں گے اور اگر اس کی تعظیم ترك کردیں تو اطاعت گزارٹھہریں گے۔
اسی طر ح اقوال ائمہ میں بھی ہوتا ہے (کہ ان کے حکم صوری کے خلاف کوئی حکم ضروری پالیا جاتا ہے) اس کے درج ذیل اسباب پیدا ہوتے ہیں (۱) ضرورت(۲) حرج(۳) عرف (۴) تعامل(۵)کوئی اہم مصلحت جس کی تحصیل مطلوب ہے (۶) کوئی بڑا مفسد ہ جس کا ازالہ مطلوب ہے یہ اس لئے کہ صورتوں کا استثنا حرج کا دفعیہ ایسی دینی مصلحتو ں کی رعایت جو کسی ایسی خرابی سے خالی ہوں جو ان سے بڑھی ہوئی ہے مفاسد کو دور کرنا عرف کا لحاظ کرنا اور تعامل پر کار بند ہونا یہ سب ایسے قواعد کلیہ ہیں جو شریعت سے معلوم ہیں ہر امام ان کی جانب مائل ان کا قائل اور ان پر اعتماد کرنے والا ہی ہے۔ اب اگر کسی مسئلے میں امام کا کوئی صریح حکم رہا ہو پھر حکم تبدیل کرنے والے مذکورہ امور میں سے کوئی ایك پیدا ہو تو ہمیں قطعا یہ یقین ہوگا کہ یہ
فـــ : چھ۶ باتیں ہیں جن کے سبب قول امام بدل جاتا ہے لہذا قول ظاہر کے خلاف عمل ہوتا ہے اور وہ چھ باتیں : ضرورت دفع حرج عرف تعامل دینی ضروری مصلحت کی تحصیل کسی فساد موجود یا مظنون بظن غالب کا ازالہ ان سب میں بھی حقیقۃقول امام ہی پر عمل ہوتا ہے ۔
لکان قولہ علی مقتضاہ لا علی خلافہ و ردہ فالعمل بقولہ الضروری الغیر المنقول عنہ ھو العمل بقولہ لا الجمود علی المأثور من لفظہ
وقد عد فی العقود مسائل کثیرۃ من ھذا الجنس ثم احال بیان کثیر اخر علی الاشباہ ثم قال (فھذہ )کلھا قد تغیرت احکامھا لتغیر الزمان اما للضرورۃ واما للعرف واما لقرائن الاحوال قال وکل ذلك غیر خارج عن المذھب لان صاحب المذھب لو کان فی ھذا الزمان لقال بھا ولحدث ھذا التغیر فی زمانہ لم ینص علی خلافھا قال و ھذا الذی جرأ المجتھدین فی المذھب واھل النظر الصحیح من المتأخرین علی مخالفۃ المنصوص علیہ من صاحب المذھب فی کتب ظاھر الروایۃ بناء علی ماکان فی زمنہ کما تصریحھم بہ الخ
امر اگر ان کے زمانے میں پیدا ہو تا تو ان کا قول اس کے تقاضے کے مطابق ہی ہوتا اسے رد نہ کرتا اور اس کے بر خلاف نہ ہوتاایسی صورت میں ان سے غیر منقول قول ضروری پر عمل کرنا ہی در اصل ان کے قول پر عمل ہے ان سے نقل شدہ الفاظ پر جم جانا ان کی پیروی نہیں عقود میں ایسے بہت سے مسائل شمار کرائے اور بکثرت دیگر مسائل کے لئے اشباہ کا حوالہ دیا پھر یہ لکھاکہ یہ سارے مسائل ایسے ہیں جن کے احکام تغیر زمان کی وجہ سے بدل گئے یا تو ضرورت کے تحت یا عرف کی وجہ سے یا قرائن احوال کے سبب فرمایا : اور یہ سب مذہب سے باہر نہیں اس لئے کہ صاحب مذہب اگر اس دور میں ہوتے تو ان ہی کے قائل ہوتے اور اگر یہ تبدیلی ان کے وقت میں رونما ہوتی تو ان احکام کے بر خلاف صراحت نہ فرماتے فرمایا اسی بات نے حضرات مجتہدین فی المذہب اور متا خرین میں سے اصحاب نظر صحیح کے اندر یہ جرات پیدا کی کہ وہ اس حکم کی مخالفت کر یں جس کی تصریح خود صاحب مذہب سے کتب ظاہر الروایہ میں موجود ہے یہ تصریح ان کے زمانے کے حالات کی بنیاد پر ہے جیسا کہ اس سے متعلق ان کی تصریح گزرچکی ہے الخ۔
وقد عد فی العقود مسائل کثیرۃ من ھذا الجنس ثم احال بیان کثیر اخر علی الاشباہ ثم قال (فھذہ )کلھا قد تغیرت احکامھا لتغیر الزمان اما للضرورۃ واما للعرف واما لقرائن الاحوال قال وکل ذلك غیر خارج عن المذھب لان صاحب المذھب لو کان فی ھذا الزمان لقال بھا ولحدث ھذا التغیر فی زمانہ لم ینص علی خلافھا قال و ھذا الذی جرأ المجتھدین فی المذھب واھل النظر الصحیح من المتأخرین علی مخالفۃ المنصوص علیہ من صاحب المذھب فی کتب ظاھر الروایۃ بناء علی ماکان فی زمنہ کما تصریحھم بہ الخ
امر اگر ان کے زمانے میں پیدا ہو تا تو ان کا قول اس کے تقاضے کے مطابق ہی ہوتا اسے رد نہ کرتا اور اس کے بر خلاف نہ ہوتاایسی صورت میں ان سے غیر منقول قول ضروری پر عمل کرنا ہی در اصل ان کے قول پر عمل ہے ان سے نقل شدہ الفاظ پر جم جانا ان کی پیروی نہیں عقود میں ایسے بہت سے مسائل شمار کرائے اور بکثرت دیگر مسائل کے لئے اشباہ کا حوالہ دیا پھر یہ لکھاکہ یہ سارے مسائل ایسے ہیں جن کے احکام تغیر زمان کی وجہ سے بدل گئے یا تو ضرورت کے تحت یا عرف کی وجہ سے یا قرائن احوال کے سبب فرمایا : اور یہ سب مذہب سے باہر نہیں اس لئے کہ صاحب مذہب اگر اس دور میں ہوتے تو ان ہی کے قائل ہوتے اور اگر یہ تبدیلی ان کے وقت میں رونما ہوتی تو ان احکام کے بر خلاف صراحت نہ فرماتے فرمایا اسی بات نے حضرات مجتہدین فی المذہب اور متا خرین میں سے اصحاب نظر صحیح کے اندر یہ جرات پیدا کی کہ وہ اس حکم کی مخالفت کر یں جس کی تصریح خود صاحب مذہب سے کتب ظاہر الروایہ میں موجود ہے یہ تصریح ان کے زمانے کے حالات کی بنیاد پر ہے جیسا کہ اس سے متعلق ان کی تصریح گزرچکی ہے الخ۔
حوالہ / References
شرع عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۵
اقول : بل ربما یقع نظیر ذلك فی نص الشارع صلی الله تعالی علیہ وسلم فقد فـــ قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم اذا استأذنت احدکم امرأتہ الی المسجد فلا یمنعنھا رواہ احمد والبخاری ومسلم والنسائی وفی لفظ لاتمنعوا اماء الله مساجد الله رواہ احمد ومسلم کلھم عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما وبالثانی رواہ احمد وابو داود وعن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بزیادۃ و لیخرجن تفلات
اقول : بلکہ اس کی نظیر خود نص شارع علیہ الصلوۃ والسلام میں بھی ملتی ہے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ ہر گز اسے نہ روکے (احمد بخار ی مسلم نسائی )اور ایك روایت کے الفاط یہ ہیں : الله کی بندیوں کو مسجدوں سے نہ روکو اس کے راوی اما م احمد ومسلم ہیں اور یہ سبھی حضرات ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں اور بلفظ دوم : ولیخرجن تفلات (اور وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں )کے اضافے کے ساتھ امام احمد وابوداؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله
فـــ : انہیں وجوہ صحیح اور مؤکد احادیث کا خلاف کیا جاتا ہے اور وہ خلاف نہیں ہوتا جیسے عورتوں کا جماعت اور جمعہ و عیدین میں حاضر ہونا کہ زمانہ رسالت میں حکم تھا اور اب مطلقا منع ہے ۔
اقول : بلکہ اس کی نظیر خود نص شارع علیہ الصلوۃ والسلام میں بھی ملتی ہے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ ہر گز اسے نہ روکے (احمد بخار ی مسلم نسائی )اور ایك روایت کے الفاط یہ ہیں : الله کی بندیوں کو مسجدوں سے نہ روکو اس کے راوی اما م احمد ومسلم ہیں اور یہ سبھی حضرات ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں اور بلفظ دوم : ولیخرجن تفلات (اور وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں )کے اضافے کے ساتھ امام احمد وابوداؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله
فـــ : انہیں وجوہ صحیح اور مؤکد احادیث کا خلاف کیا جاتا ہے اور وہ خلاف نہیں ہوتا جیسے عورتوں کا جماعت اور جمعہ و عیدین میں حاضر ہونا کہ زمانہ رسالت میں حکم تھا اور اب مطلقا منع ہے ۔
حوالہ / References
صحیح للبخاری کتاب الاذان باب الاستیذان المرأۃ لزوجہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۰ ، صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۳ ، مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۷ ، سنن النسائی کتاب المساجد النہی عن منع النساء الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۱۵
صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۳ ، مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب لاسلامی بیروت ۲ / ۱۶
سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب ماجاء خروج النساء الی المساجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۴ ، مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ مکتب الاسلامی ۲ / ۴۳۸ ، ۴۷۵ ، ۵۲۸
صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۳ ، مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب لاسلامی بیروت ۲ / ۱۶
سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب ماجاء خروج النساء الی المساجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۴ ، مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ مکتب الاسلامی ۲ / ۴۳۸ ، ۴۷۵ ، ۵۲۸
وقد امر صلی الله تعالی علیہ وسلم باخراج الحیض وذوات الخدوریوم العیدین فیشھدن جماعۃ المسلمین ودعوتھم وتعتزل الحیض المصلی قالت امرأۃ یا رسول الله احدنا لیس لھا جلباب قال صلی الله تعالی علیہ وسلم تلبسھا صاحبتھا من جلبا بھا رواہ البخاری ومسلم واخرون عن ام عطیۃ رضی الله عنھا
ومع فــــ ذلك نھی الائمۃ الشواب مطلقا والعجائز نھارا ثم عمموا النھی عملا بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الضروری المستفاد من قول ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا لو ان رسول الله
تعالی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ بھی حکم دیا کہ رو ز عیدین حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو باہر لائیں تا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت ودعا میں شریك ہوں اور حیض والی عورتیں عید گاہ سے الگ رہیں ایك خاتون نے عرض کیا یا رسول الله ! ہماری بعض عورتوں کے پاس چادر نہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ساتھ والی عورت اسے اپنی چادر کا ایك حصہ اڑھا دے اسے بخاری ومسلم اور دیگر محدثین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا اس کے با وجود ائمہ کرام نے جوان عورتوں کو مطلقا اور بوڑھی عورتوں کو صرف دن میں مسجد جانے سے منع فرمایا پھر سب کے لئے ممانعت عام کردی یہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس قول ضروری پر عمل کے تحت کیا جو ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکے درج ذیل بیان سے مستفاد ہے : اگر رسول الله
فــــ : مسئلہ رات ہو یا دن عورت جوان ہو یا بوڑھی جمعہ ہو یا عید یا جماعت پنج گانہ یا مجلس وعظ مطلقا عورت کا جانا منع ہے ۔
ومع فــــ ذلك نھی الائمۃ الشواب مطلقا والعجائز نھارا ثم عمموا النھی عملا بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الضروری المستفاد من قول ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا لو ان رسول الله
تعالی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ بھی حکم دیا کہ رو ز عیدین حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو باہر لائیں تا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت ودعا میں شریك ہوں اور حیض والی عورتیں عید گاہ سے الگ رہیں ایك خاتون نے عرض کیا یا رسول الله ! ہماری بعض عورتوں کے پاس چادر نہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ساتھ والی عورت اسے اپنی چادر کا ایك حصہ اڑھا دے اسے بخاری ومسلم اور دیگر محدثین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا اس کے با وجود ائمہ کرام نے جوان عورتوں کو مطلقا اور بوڑھی عورتوں کو صرف دن میں مسجد جانے سے منع فرمایا پھر سب کے لئے ممانعت عام کردی یہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس قول ضروری پر عمل کے تحت کیا جو ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکے درج ذیل بیان سے مستفاد ہے : اگر رسول الله
فــــ : مسئلہ رات ہو یا دن عورت جوان ہو یا بوڑھی جمعہ ہو یا عید یا جماعت پنج گانہ یا مجلس وعظ مطلقا عورت کا جانا منع ہے ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الحیض باب شہود الحائض العیدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶ ، صحیح مسلم کتاب العیدین فصل فی اخراج العواتق و ذوات الخدور الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۱
صلی الله تعالی علیہ وسلم رأی من النساء مارأینا لمنعھن من المسجد کما منعت بنو اسرائیل نساء ھارواہ احمد والبخاری ومسلم قال فی التنویر والدر (یکرہ حضور ھن الجماعۃ) ولو لجمعۃ وعید وعظ (مطلقا) ولو عجوز الیلا (علی المذھب) المفتی بہ لفساد الزمان واستثنی الکمال بحثا العجائز المتفانیۃ اھ
والمراد بالمذھب مذھب المتاخرین ولمارد علیہ البحر بان ھذہ الفتوی مخالفۃ لمذھب الامام وصاحبیہ جمیعا فانھما اباحا للعجائز الحضور مطلقا والامام فی غیر الظھر والعصر و الجمعۃ فالافتاء بمنع العاجز فی الکل مخالف
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمان عورتوں کا وہ حال مشاہدہ کر تے جو ہم نے مشاہدہ کیا تو انہیں مسجد سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو روك دیا (احمد بخاری مسلم)
تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (جماعت) اگر چہ جمعہ یا عید اور وعظ کی ہو (عورتوں کی حاضری مطلقا) اگر چہ بڑھیا ہو ا گرچہ رات ہو (مکروہ ہے ہمارے مذہب پر) اس مذہب پر جس پر فساد زمان کی وجہ سے فتوی ہے اور کمال ابن الہمام نے بطور بحث فنا کے قریب پہنچنے والی بوڑھی عورتوں کااستثنا کیا ہے اھ۔
مذہب سے مراد مذہب متا خرین ہے اس پر صاحب بحر نے یوں رد کیا ہے کہ یہ فتوی حضرات امام وصاحبین سبھی کے مذہب کے خلاف ہے اس لئے کہ صاحبین نے بوڑھی عورتوں کے لے مطلقا جواز رکھا ہے اور امام نے ظہر عصر اور جمعہ کے علاوہ میں جائز کہا ہے تو بوڑھی عورتوں کے لئے بھی نمازوں میں مما نعت کا
والمراد بالمذھب مذھب المتاخرین ولمارد علیہ البحر بان ھذہ الفتوی مخالفۃ لمذھب الامام وصاحبیہ جمیعا فانھما اباحا للعجائز الحضور مطلقا والامام فی غیر الظھر والعصر و الجمعۃ فالافتاء بمنع العاجز فی الکل مخالف
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمان عورتوں کا وہ حال مشاہدہ کر تے جو ہم نے مشاہدہ کیا تو انہیں مسجد سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو روك دیا (احمد بخاری مسلم)
تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (جماعت) اگر چہ جمعہ یا عید اور وعظ کی ہو (عورتوں کی حاضری مطلقا) اگر چہ بڑھیا ہو ا گرچہ رات ہو (مکروہ ہے ہمارے مذہب پر) اس مذہب پر جس پر فساد زمان کی وجہ سے فتوی ہے اور کمال ابن الہمام نے بطور بحث فنا کے قریب پہنچنے والی بوڑھی عورتوں کااستثنا کیا ہے اھ۔
مذہب سے مراد مذہب متا خرین ہے اس پر صاحب بحر نے یوں رد کیا ہے کہ یہ فتوی حضرات امام وصاحبین سبھی کے مذہب کے خلاف ہے اس لئے کہ صاحبین نے بوڑھی عورتوں کے لے مطلقا جواز رکھا ہے اور امام نے ظہر عصر اور جمعہ کے علاوہ میں جائز کہا ہے تو بوڑھی عورتوں کے لئے بھی نمازوں میں مما نعت کا
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۰ ، صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المساجد باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۳ ، مسند احمد بن حنبل عن عائشہ αرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا€المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۹۱ ، ۱۹۳ ، ۲۳۵
الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
للکل فالمعتمد مذھب الامام اھ بمعناہ اجاب عنہ فی النھر قائلا فیہ نظر بل ھو ماخوذ من قول الامام وذلك انہ انما منعھا لقیام الحامل وھو فرط الشھوۃ بناء علی ان الفسقۃ لا ینتشرون فی المغرب لانھم بالطعام مشغولون وفی الفجر والعشاء نائمون فاذا فرض انتشارھم فی ھذہ الاوقات لغلبۃ فسقھم کما فی زماننا بل تحریھم ایاھا کان المنع فیھا اظھر من الظھر اھ قال الشیخ اسمعیل وھو کلام حسن الی الغایۃ اھ ش
الــسـادسۃ فــــــ حامل اخر علی العدول عن قول الامام مختص باصحاب النظر وھو ضعف دلیلہ
اقول : ای فی نظرھم وذلك لانھم فتوی دینا سبھی کے خلاف ہے معتمد مذہب امام ہے اھ
نہر میں اس تردید پر جوابا یہ تحریر ہے یہ محل نظر ہے اس لئے کہ زیر بحث فتوی قول امام سے ہی ماخوذ ہے وہ اس لئے کہ امام نے جن اوقات میں منع فرمایا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ با عث منع موجود ہے وہ ہے زیادتی شہوت اس لئے کہ فساق کھانے میں مشغولیت کی وجہ سے مغرب کے وقت راہوں میں منتشر نہیں رہتے اور فجر وعشا کے وقت سوئے ہوتے (اور دیگر اوقات میں منتشر رہتے ہیں ) تو جب فر ض کیا جائے کہ وہ غلبہ فسق کی وجہ سے ان تینوں اوقات میں بھی منتشر رہتے ہیں جیسے ہمارے زمانے کا حال ہے بلکہ وہ خاص ان ہی اوقات میں نکلنے کی تا ك میں رہتے ہیں توان اوقات میں عورتوں کے لئے ممانعت ظہر کی ممانعت سے زیادہ ظاہر و واضح ہوگی اھ شیخ اسمعیل فرماتے ہیں یہ نہایت عمدہ کلام ہے اھ۔ (شامی)
مقدمہ ششم : قول امام چھوڑ نے کا ایك اور با عث ہے جو اصحاب نظر کے لئے خاص ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس کی دلیل کمزور ہو اقول : یعنی ان حضرات کی نظر میں کمزور ان کے لئے
فــــــ : العدول عن قولہ بدعوی ضعف دلیلہ خاص بالمجتہدین فی المذھب و ھم لایخرجون بہ عن المذھب ۔
الــسـادسۃ فــــــ حامل اخر علی العدول عن قول الامام مختص باصحاب النظر وھو ضعف دلیلہ
اقول : ای فی نظرھم وذلك لانھم فتوی دینا سبھی کے خلاف ہے معتمد مذہب امام ہے اھ
نہر میں اس تردید پر جوابا یہ تحریر ہے یہ محل نظر ہے اس لئے کہ زیر بحث فتوی قول امام سے ہی ماخوذ ہے وہ اس لئے کہ امام نے جن اوقات میں منع فرمایا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ با عث منع موجود ہے وہ ہے زیادتی شہوت اس لئے کہ فساق کھانے میں مشغولیت کی وجہ سے مغرب کے وقت راہوں میں منتشر نہیں رہتے اور فجر وعشا کے وقت سوئے ہوتے (اور دیگر اوقات میں منتشر رہتے ہیں ) تو جب فر ض کیا جائے کہ وہ غلبہ فسق کی وجہ سے ان تینوں اوقات میں بھی منتشر رہتے ہیں جیسے ہمارے زمانے کا حال ہے بلکہ وہ خاص ان ہی اوقات میں نکلنے کی تا ك میں رہتے ہیں توان اوقات میں عورتوں کے لئے ممانعت ظہر کی ممانعت سے زیادہ ظاہر و واضح ہوگی اھ شیخ اسمعیل فرماتے ہیں یہ نہایت عمدہ کلام ہے اھ۔ (شامی)
مقدمہ ششم : قول امام چھوڑ نے کا ایك اور با عث ہے جو اصحاب نظر کے لئے خاص ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس کی دلیل کمزور ہو اقول : یعنی ان حضرات کی نظر میں کمزور ان کے لئے
فــــــ : العدول عن قولہ بدعوی ضعف دلیلہ خاص بالمجتہدین فی المذھب و ھم لایخرجون بہ عن المذھب ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۸۰ ، البحر الرائق باب الامامۃ ۱ / ۳۵۹ ونہر الفائق باب الامۃ الخ ۱ / ۲۵۱ قدیمی کتب خانہ کراچی
مأمورون باتباع مایظھر لھم قال تعالی “فاعتبروا یاولی الابصار(۲) “ ولا تکلیف الا بالوسع فلا یسعھم الا العدول ولا یخرجون بذلك عن اتباع الامام بل متبوعون لمثل قولہ العام اذا صح الحدیث فھو مذھبی ففی شرح الھدایۃ لابن الشحنۃ ثم شرح الاشباہ لبیری ثم ردالمحتار “ اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذھب عمل بالحدیث ویکون ذلك مذھبہ ولا یخرج مقلدہ عن کونہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عنہ انہ قال اذا صح الحدیث فھو مذھبی ھ
اقول : یرید فـــ الصحۃ فقھا ویستحیل معرفتھا الا للمجتہد
یہاں قول امام چھوڑنے کا جواز اس لئے ہے کہ انہیں اسی کی اتباع کا حکم ہے جو ان پر ظاہر ہو باری تعالی کا ارشاد ہے : اے بصیرت والو! نظر و اعتبار سے کام لو۔ اور تکلیف بقدر وسعت ہی ہوتی ہے تو ان کے لئے چھوڑنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں ۔ اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے باہر نہ ہونگے بلکہ امام کے اس طرح کے قول عام کے متبع رہیں گے اذا صح الحدیث فھو مذھبی جب حدیث صحیح ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے ابن شخنہ کی شرح ہدایہ پھر بیری کی شرح اشباہ پھر رد المحتار میں ہے جب حدیث صحیح ہو اور مذہب کے خلاف ہو تو حدیث پر عمل ہوگا اور وہی امام کا بھی مذہب ہوگا اس پر عمل کی وجہ سے ان کا مقلد حنفیت سے باہر نہ ہوگا اس لئے کہ خود امام سے بروایت صحیح یہ ارشاد ثابت ہیں کہ جب حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے اھ
اقول : یہاں صحت سے صحت فقہی مراد ہے جس کی معرفت غیر مجتہد کے لئے محال ہے
فـــ : المراد فی اذا صح الحدیث فھو مذھبی ھی الحجۃ الفقھیۃ و لاتکفی الاثریۃ
اقول : یرید فـــ الصحۃ فقھا ویستحیل معرفتھا الا للمجتہد
یہاں قول امام چھوڑنے کا جواز اس لئے ہے کہ انہیں اسی کی اتباع کا حکم ہے جو ان پر ظاہر ہو باری تعالی کا ارشاد ہے : اے بصیرت والو! نظر و اعتبار سے کام لو۔ اور تکلیف بقدر وسعت ہی ہوتی ہے تو ان کے لئے چھوڑنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں ۔ اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے باہر نہ ہونگے بلکہ امام کے اس طرح کے قول عام کے متبع رہیں گے اذا صح الحدیث فھو مذھبی جب حدیث صحیح ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے ابن شخنہ کی شرح ہدایہ پھر بیری کی شرح اشباہ پھر رد المحتار میں ہے جب حدیث صحیح ہو اور مذہب کے خلاف ہو تو حدیث پر عمل ہوگا اور وہی امام کا بھی مذہب ہوگا اس پر عمل کی وجہ سے ان کا مقلد حنفیت سے باہر نہ ہوگا اس لئے کہ خود امام سے بروایت صحیح یہ ارشاد ثابت ہیں کہ جب حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے اھ
اقول : یہاں صحت سے صحت فقہی مراد ہے جس کی معرفت غیر مجتہد کے لئے محال ہے
فـــ : المراد فی اذا صح الحدیث فھو مذھبی ھی الحجۃ الفقھیۃ و لاتکفی الاثریۃ
حوالہ / References
القرآن ۵۹ / ۲
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
لاالصحۃ المصطلحۃ عندالمحد ثین کما بینتہ فی الفضل الموھبی بدلائل قاھرۃ یتعین استفاد تھا قال ش فاذ ا نظر اھل المذھب فی الدلیل و عملوا بہ صح نسبتہ الی المذھب لکونہ صادرا باذن صاحب المذھب اذ لا شك انہ لو علم ضعف دلیلہ رجع عنہ واتبع الدلیل الاقوی ولذارد المحقق ابن الھمام علی بعض المشائخ (حیث) افتوا بقول الامامین بانہ لایعدل عن قول الامام الالضعف دلیلہ اھ
فـاقول : ھذا فــــ غیر معقول ولا مقبول وکیف یظھر ضعف دلیلہ فی الواقع لضعفہ فی نظر بعض مقلدیہ وھؤلاء اجلۃ ائمۃ الاجتھاد المطلق مالك والشافعی واحمد ونظراؤھم رضی الله تعالی عنہم
اصطلاح محدثین والی صحت مراد نہیں جیساکہ میں نے الفضل الموھبی میں اسے ایسے قاہر دلائل سے بیان کیا ہے جن سے آگاہی ضروری ہے۔
علامہ شامی فرماتے ہیں جب اہل مذہب نے دلیل میں نظر کی او ر اس پر کار بند ہوئے تو مذہب کی جانب اسے منسوب کرنا بجا ہے اس لئے کہ یہ صاحب مذہب کے اذن ہی سے ہوا کیونکہ انہیں اگر اپنی دلیل کی کمزوری معلوم ہوتی تو یقینا وہ اس سے رجوع کر کے اس سے زیادہ قوی دلیل کی پیروی کرتے اسی لئے جب بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا تو محقق ابن الہمام نے ان کی تردید فرمائی کہ امام کے قول سے انحراف نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو۔
اقول : یہ ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے بعض مقلدین کی نظر میں دلیل کے کمزور ہونے سے دلیل امام کا فی الواقع کمزور ہونا کیسے ظاہر ہوسکتا ہے اجتہاد مطلق کے حامل یہ بزرگ ائمہ مالك شافعی احمد اور ان کے ہم پایہ حضرات رضی اللہ تعالی عنہم
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فـاقول : ھذا فــــ غیر معقول ولا مقبول وکیف یظھر ضعف دلیلہ فی الواقع لضعفہ فی نظر بعض مقلدیہ وھؤلاء اجلۃ ائمۃ الاجتھاد المطلق مالك والشافعی واحمد ونظراؤھم رضی الله تعالی عنہم
اصطلاح محدثین والی صحت مراد نہیں جیساکہ میں نے الفضل الموھبی میں اسے ایسے قاہر دلائل سے بیان کیا ہے جن سے آگاہی ضروری ہے۔
علامہ شامی فرماتے ہیں جب اہل مذہب نے دلیل میں نظر کی او ر اس پر کار بند ہوئے تو مذہب کی جانب اسے منسوب کرنا بجا ہے اس لئے کہ یہ صاحب مذہب کے اذن ہی سے ہوا کیونکہ انہیں اگر اپنی دلیل کی کمزوری معلوم ہوتی تو یقینا وہ اس سے رجوع کر کے اس سے زیادہ قوی دلیل کی پیروی کرتے اسی لئے جب بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا تو محقق ابن الہمام نے ان کی تردید فرمائی کہ امام کے قول سے انحراف نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو۔
اقول : یہ ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے بعض مقلدین کی نظر میں دلیل کے کمزور ہونے سے دلیل امام کا فی الواقع کمزور ہونا کیسے ظاہر ہوسکتا ہے اجتہاد مطلق کے حامل یہ بزرگ ائمہ مالك شافعی احمد اور ان کے ہم پایہ حضرات رضی اللہ تعالی عنہم
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش
حوالہ / References
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
یطبقون کثیرا علی خلاف الامام وھو اجماع منھم علی ضعف دلیلہ ثم لا یظھر بھذا ضعفہ ولا ان مذھب ھؤلاء مذھبہ فکیف بمن دونھم ممن لم یبلغ رتبتھم نعم ھم عاملون فی نظرھم بقولہ العام فمعذرون بل ماجورون ولا یتبدل فــــــ بذلك المذھب الاتری ان تحدیدا الرضاع بثلثین شھرا دلیلہ ضعیف بل ساقط عند اکثرالمرجحین ولا یجوز لاحدان یقول الاقتصار علی عامین مذھب الامام وتحریم حلیلۃ الاب والابن رضاعا نظر فیہ الامام البالغ رتبۃ الاجتھاد المحقق علی الاطلاق وزعم ان لا دلیل علیہ بل الدلیل قاض بحلھما ولم ارمن اجاب عنہ وقد تبعہ علیہ ش فھل یقال ان تحلیلھما مذھب الامام
بار ہا مخالفت امام پر متفق نظر آتے ہیں یہ ان حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس جگہ دلیل امام کمزور ہے پھر بھی اس سے واقعۃ اس کا کمزور ہونا ثابت نہیں ہوتا نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کا جو مذہب ہے وہی امام کا بھی مذہب ہے جب ان کا یہ معاملہ ہے تو ان کا کیا حکم ہوگا جو ان سے فر و تر ہیں جنہیں ان کے منصب تك رسائی حاصل نہیں ہاں وہ اپنی نظر میں امام کے قول عام پر عامل ہیں اس لئے معذور بلکہ ماجورا ور مستحق ثواب ہیں مگراس وجہ سے مذہب امام بدل نہ جائے گا دیکھئے مدت رضاعت تیس ماہ ٹھہرانے کی دلیل اکثر مرجحین کے نزدیك ضعیف بلکہ ساقط ہے پھر بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ دوسال پر اکتفا کرنا ہی مذہب امام ہے یوں ہی رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کے حرام ہونے کے حکم میں رتبہ اجتہاد تك رسائی پانے والے امام محقق علی الاطلاق کو کلام ہے ان کا خیال ہے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ دلیل یہ حکم کرتی ہے کہ دو نوں حلال ہیں میں نے اس کلام کا جواب کسی کتاب میں نہ دیکھا علامہ شامی نے بھی انہی کی پیروی کی ہے پھر بھی کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں کی حلت ہی مذہب امام
فــــــ : لایتبدل المذھب بتصحیحات المرجحین خلافہ۔
بار ہا مخالفت امام پر متفق نظر آتے ہیں یہ ان حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس جگہ دلیل امام کمزور ہے پھر بھی اس سے واقعۃ اس کا کمزور ہونا ثابت نہیں ہوتا نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کا جو مذہب ہے وہی امام کا بھی مذہب ہے جب ان کا یہ معاملہ ہے تو ان کا کیا حکم ہوگا جو ان سے فر و تر ہیں جنہیں ان کے منصب تك رسائی حاصل نہیں ہاں وہ اپنی نظر میں امام کے قول عام پر عامل ہیں اس لئے معذور بلکہ ماجورا ور مستحق ثواب ہیں مگراس وجہ سے مذہب امام بدل نہ جائے گا دیکھئے مدت رضاعت تیس ماہ ٹھہرانے کی دلیل اکثر مرجحین کے نزدیك ضعیف بلکہ ساقط ہے پھر بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ دوسال پر اکتفا کرنا ہی مذہب امام ہے یوں ہی رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کے حرام ہونے کے حکم میں رتبہ اجتہاد تك رسائی پانے والے امام محقق علی الاطلاق کو کلام ہے ان کا خیال ہے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ دلیل یہ حکم کرتی ہے کہ دو نوں حلال ہیں میں نے اس کلام کا جواب کسی کتاب میں نہ دیکھا علامہ شامی نے بھی انہی کی پیروی کی ہے پھر بھی کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں کی حلت ہی مذہب امام
فــــــ : لایتبدل المذھب بتصحیحات المرجحین خلافہ۔
کلابل بحث من ابن الھمام
ولیس فـــ ۱ فیما ذکر عن ابن الھمام المام الی ما ادعی من صحۃ جعلہ مذھب الامام انما فیہ جواز العدول لھم اذا استضعفوا دلیلہ واین ھذا من ذاک۔
نعم فی الوجوہ السابقۃ تصح النسبۃ الی المذھب لاحاطۃ العلم بانہ لو وقع فی زمنہ لقال بہ کما قال فی التنویر لمسألۃ نھی النساء مطلقا عن حضور المساجد علی المذھب وھذہ نکتۃ غفل فـــ ۲ منھا المحقق ش ففسر المذھب مذھب المتأخرین ھذا واما نحن فلم نؤمر لابا عتبار کاولی الابصار
ہے ہر گز نہیں ! بلکہ یہ صرف ابن الہمام کی ایك بحث ہے ۔
علامہ شامی نے جو دعوی کیا کہ صاحب نظر جس پر عمل کر لے اسے مذہب امام قرار دینا بجا ہوگا اس کا امام ابن الہمام سے نقل کردہ کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں اس میں تو بس اس قدر ہے کہ اہل نظر کو جب قول امام کی دلیل کمزورمعلوم ہو تو ان کے لئے اس سے انحراف جائز ہے کہاں یہ اور کہاں وہ
ہاں سابقہ چھ۶ صورتوں میں مذہب امام کی طر ف انتساب بجا ہے اس لئے کہ وہاں اس با ت کو پورے طور سے یقین ہے کہ وہ حالت اگر ان کے زمانے میں واقع ہوتی تو وہ بھی اسی کے قائل ہوتے جیسا کہ تنویر الابصارمیں مسجدوں کی حاضر ی سے عورتوں کی مطلقا ممانعت کے مسئلے میں “ علی المذہب “ (بر بنائے مذہب) فرمایا محقق شامی کو اس نکتے سے غفلت ہوئی اس لئے انہوں نے مذہب کی تفسیر میں “ مذہب متاخرین “ لکھ دیا یہ ذہن نشین رہے ۔ اوپر کی گفتگواہل نطر سے متعلق تھی رہے ہم لوگ تو ہمیں اہل نظر کی طر ح نظر و اعتبار کا
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ : معروضۃ علیہ
ولیس فـــ ۱ فیما ذکر عن ابن الھمام المام الی ما ادعی من صحۃ جعلہ مذھب الامام انما فیہ جواز العدول لھم اذا استضعفوا دلیلہ واین ھذا من ذاک۔
نعم فی الوجوہ السابقۃ تصح النسبۃ الی المذھب لاحاطۃ العلم بانہ لو وقع فی زمنہ لقال بہ کما قال فی التنویر لمسألۃ نھی النساء مطلقا عن حضور المساجد علی المذھب وھذہ نکتۃ غفل فـــ ۲ منھا المحقق ش ففسر المذھب مذھب المتأخرین ھذا واما نحن فلم نؤمر لابا عتبار کاولی الابصار
ہے ہر گز نہیں ! بلکہ یہ صرف ابن الہمام کی ایك بحث ہے ۔
علامہ شامی نے جو دعوی کیا کہ صاحب نظر جس پر عمل کر لے اسے مذہب امام قرار دینا بجا ہوگا اس کا امام ابن الہمام سے نقل کردہ کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں اس میں تو بس اس قدر ہے کہ اہل نظر کو جب قول امام کی دلیل کمزورمعلوم ہو تو ان کے لئے اس سے انحراف جائز ہے کہاں یہ اور کہاں وہ
ہاں سابقہ چھ۶ صورتوں میں مذہب امام کی طر ف انتساب بجا ہے اس لئے کہ وہاں اس با ت کو پورے طور سے یقین ہے کہ وہ حالت اگر ان کے زمانے میں واقع ہوتی تو وہ بھی اسی کے قائل ہوتے جیسا کہ تنویر الابصارمیں مسجدوں کی حاضر ی سے عورتوں کی مطلقا ممانعت کے مسئلے میں “ علی المذہب “ (بر بنائے مذہب) فرمایا محقق شامی کو اس نکتے سے غفلت ہوئی اس لئے انہوں نے مذہب کی تفسیر میں “ مذہب متاخرین “ لکھ دیا یہ ذہن نشین رہے ۔ اوپر کی گفتگواہل نطر سے متعلق تھی رہے ہم لوگ تو ہمیں اہل نظر کی طر ح نظر و اعتبار کا
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ : معروضۃ علیہ
بل بالسؤال والعمل بما یقولہ الامام غیر باحثین عن دلیل سوی الاحکام فان کان العدول للوجوہ السابقۃ اشترك فیہ الخواص و العوام اذ لا عدول حقیقۃ بل عمل بقول الامام وانکان لدعوی ضعف الدلیل اختص بمن یعرفہ و لذا قال فی البحر قد وقع للمحقق ابن الھمام فی مواضع الرد علی المشائخ فی الافتاء بقولہما بانہ لایعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ لکن ھو (ای المحقق) اھل للنظر فی الدلیل ومن لیس باھل للنظر فیہ فعلیہ الافتاء بقول الامام اھ
السابعۃ فـــ اذا اختلف التصحیح تقدم قول الامام الاقدم فی ردالمحتار قبل ما یدخل فی البیع تبعا اذا اختلف
حکم نہیں بلکہ ہم اس کے مامور ہیں کہ احکام کے سوا کسی دلیل کی جستجو اور چھان بین میں نہ جاکر صرف قول امام دریافت کریں اور اس پر کاربند ہوجائیں اب اگر قول امام سے عدول و انحراف سابقہ چھ وجہو ں کے تحت ہے تو اس میں خواص وعوام سب شریك ہیں کیونکہ حقیقۃ یہاں انحراف نہیں بلکہ قول امام پر عمل ہے اور اگر ضعف دلیل کے دعوے کی وجہ سے انحراف ہو تو یہ اہل معرفت سے خاص ہے اسی لئے بحر میں رقم طراز ہیں کہ محقق ابن الہما م کے قلم سے متعد د مقامات پر قول صاحبین پر فتوی دینے کی وجہ سے مشائخ کا رد ہو اہے وہ لکھتے ہیں کہ قول امام سے انحراف نہ ہوگا بجز اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو لیکن وہ محقق موصوف دلیل میں نظر کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کا اہل نہ ہو اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوے دے اھ۔
مقدمہ ہفتم : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو امام اعظم کا قول مقدم ہوگا “ رد المحتا ر “ “ مایدخل فی البیع تبعا “ (بیع میں تبعا داخل ہونے والی چیزوں کا بیان ) سے
فـــ : عند اختلاف تصحیح یقدم قول الامام
السابعۃ فـــ اذا اختلف التصحیح تقدم قول الامام الاقدم فی ردالمحتار قبل ما یدخل فی البیع تبعا اذا اختلف
حکم نہیں بلکہ ہم اس کے مامور ہیں کہ احکام کے سوا کسی دلیل کی جستجو اور چھان بین میں نہ جاکر صرف قول امام دریافت کریں اور اس پر کاربند ہوجائیں اب اگر قول امام سے عدول و انحراف سابقہ چھ وجہو ں کے تحت ہے تو اس میں خواص وعوام سب شریك ہیں کیونکہ حقیقۃ یہاں انحراف نہیں بلکہ قول امام پر عمل ہے اور اگر ضعف دلیل کے دعوے کی وجہ سے انحراف ہو تو یہ اہل معرفت سے خاص ہے اسی لئے بحر میں رقم طراز ہیں کہ محقق ابن الہما م کے قلم سے متعد د مقامات پر قول صاحبین پر فتوی دینے کی وجہ سے مشائخ کا رد ہو اہے وہ لکھتے ہیں کہ قول امام سے انحراف نہ ہوگا بجز اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو لیکن وہ محقق موصوف دلیل میں نظر کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کا اہل نہ ہو اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوے دے اھ۔
مقدمہ ہفتم : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو امام اعظم کا قول مقدم ہوگا “ رد المحتا ر “ “ مایدخل فی البیع تبعا “ (بیع میں تبعا داخل ہونے والی چیزوں کا بیان ) سے
فـــ : عند اختلاف تصحیح یقدم قول الامام
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۷۰
التصحیح اخذ بما ھو قول الامام لانہ صاحب المذھب اھ
وقال فی الدر فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما اھ فقال العلامۃ ش لا تخییر لوکان احدھما قول الامام والاخر قول غیرہ لانہ لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام بل فی شہادات الفتاوی الخیریۃ المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم ولا یعدل عنہ الی قولہما او قول احدھما او غیرھما الالضرورۃ کمسألۃ المزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم اھ
ومثلہ فی البحر پہلے یہ تحر یر ہے : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو اسی کو لیا جائے گا جو امام کا قول ہے اس لئے کہ صا حب مذہب وہی ہے اھ ۔
د ر مختار میں ہے کہ البحر الرائق کتاب الوقف وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں دو قول تصحیح یا فتہ ہوں تودونوں میں سے کسی پر بھی قضا وافتا جائز ہے اھ اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ یہ تخییر اس صورت میں نہیں جب دونوں قولوں میں ایك قول امام ہو اور دوسرا کسی اور کا قول ہو. اسلئے کہ جب دو نوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اب ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا اصل یہ ہے کہ قول امام مقدم ہوگا بلکہ فتا وی خیر یہ کتاب الشھادات میں ہے کہ ہمارے نزدیك طے شدہ امر یہ ہے کہ فتوی او ر عمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا اسے چھوڑ کر صاحبین یا ان میں سے کسی ایك یا کسی اور کا قول اختیار نہ کیا جائے گا بجز صورت ضرورت کے جیسے مسئلہ مزار عت میں ہے اگرچہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتو ی قول صاحبین پر ہے اس لئے کہ وہی صاحب مذہب اور امام مقدم ہیں اھ اسی کے مثل بحر میں
وقال فی الدر فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما اھ فقال العلامۃ ش لا تخییر لوکان احدھما قول الامام والاخر قول غیرہ لانہ لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام بل فی شہادات الفتاوی الخیریۃ المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم ولا یعدل عنہ الی قولہما او قول احدھما او غیرھما الالضرورۃ کمسألۃ المزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم اھ
ومثلہ فی البحر پہلے یہ تحر یر ہے : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو اسی کو لیا جائے گا جو امام کا قول ہے اس لئے کہ صا حب مذہب وہی ہے اھ ۔
د ر مختار میں ہے کہ البحر الرائق کتاب الوقف وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں دو قول تصحیح یا فتہ ہوں تودونوں میں سے کسی پر بھی قضا وافتا جائز ہے اھ اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ یہ تخییر اس صورت میں نہیں جب دونوں قولوں میں ایك قول امام ہو اور دوسرا کسی اور کا قول ہو. اسلئے کہ جب دو نوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اب ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا اصل یہ ہے کہ قول امام مقدم ہوگا بلکہ فتا وی خیر یہ کتاب الشھادات میں ہے کہ ہمارے نزدیك طے شدہ امر یہ ہے کہ فتوی او ر عمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا اسے چھوڑ کر صاحبین یا ان میں سے کسی ایك یا کسی اور کا قول اختیار نہ کیا جائے گا بجز صورت ضرورت کے جیسے مسئلہ مزار عت میں ہے اگرچہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتو ی قول صاحبین پر ہے اس لئے کہ وہی صاحب مذہب اور امام مقدم ہیں اھ اسی کے مثل بحر میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳
الدر المختار رسم المفتی مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
الدر المختار رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹
الدر المختار رسم المفتی مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
الدر المختار رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹
وفیہ یحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم یعلم من این قال اھ
اذا عرفت ھذا وضح لك کلام البحر وطاح کل ما ردبہ علیہ وان شئت التفصیل المزید فالق السمع وانت شھید
قول ش رحمہ الله تعالی لا یخفی علیك مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام
اقول : بل ھو متسق النظام اخذ بعضہ بحجز بعض کما ستری
قول العلامۃ الخیر قولہ مضاد لقول الامام
اقول : تعرف فــــ بالرابعۃ ان قول الامام فی الفتوی الحقیقۃ فیختص باھل النطر لامحمل لہ غیرہ والا کان تحریما للفتوی العرفیۃ مع
بھی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ قول امام پر افتا جائز بلکہ واجب ہے اگر چہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کی دلیل اور ماخذ کیا ہے اھ
ان مقدمات وتفصیلا ت سے آگاہی کے بعد آغا ز رسالہ میں نقل شدہ کلام بحر کا مطلب روشن وواضح ہوگیااور جو کچھ اس کی تردید میں لکھا گیا بیکار و بے ثبات ٹھہرا مزید تفصیل کا اشتیاق ہے تو بگوش ہوش سماعت ہو ۔ علامہ شامی رحمہ الله تعالی کے اس کلام کی بے نظمی ناظر ین پر مخفی نہیں ۔
اقول : نہیں بلکہ پورا کلام مربو ط و مبسوط ایك دوسرے کی گرہ تھامے ہوئے ہے جیسا کہ ابھی عیاں ہوگا قول علامہ خیر رملی اس کلام او رکلام امام میں تضا د ہے۔
اقول : مقدمہ چہارم سے معلوم ہوا کہ قول امام فتوے حقیقی کے متعلق ہے تو وہ قول صرف اہل نظر کے حق میں ہے اس کے سوا ان کے کلام کا اور کوئی معنی ومحمل نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ امام نے فتوے عرفی کو حرام کہا حالاں کہ وہ
فـــــ : تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وعلی ش۔
اذا عرفت ھذا وضح لك کلام البحر وطاح کل ما ردبہ علیہ وان شئت التفصیل المزید فالق السمع وانت شھید
قول ش رحمہ الله تعالی لا یخفی علیك مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام
اقول : بل ھو متسق النظام اخذ بعضہ بحجز بعض کما ستری
قول العلامۃ الخیر قولہ مضاد لقول الامام
اقول : تعرف فــــ بالرابعۃ ان قول الامام فی الفتوی الحقیقۃ فیختص باھل النطر لامحمل لہ غیرہ والا کان تحریما للفتوی العرفیۃ مع
بھی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ قول امام پر افتا جائز بلکہ واجب ہے اگر چہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کی دلیل اور ماخذ کیا ہے اھ
ان مقدمات وتفصیلا ت سے آگاہی کے بعد آغا ز رسالہ میں نقل شدہ کلام بحر کا مطلب روشن وواضح ہوگیااور جو کچھ اس کی تردید میں لکھا گیا بیکار و بے ثبات ٹھہرا مزید تفصیل کا اشتیاق ہے تو بگوش ہوش سماعت ہو ۔ علامہ شامی رحمہ الله تعالی کے اس کلام کی بے نظمی ناظر ین پر مخفی نہیں ۔
اقول : نہیں بلکہ پورا کلام مربو ط و مبسوط ایك دوسرے کی گرہ تھامے ہوئے ہے جیسا کہ ابھی عیاں ہوگا قول علامہ خیر رملی اس کلام او رکلام امام میں تضا د ہے۔
اقول : مقدمہ چہارم سے معلوم ہوا کہ قول امام فتوے حقیقی کے متعلق ہے تو وہ قول صرف اہل نظر کے حق میں ہے اس کے سوا ان کے کلام کا اور کوئی معنی ومحمل نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ امام نے فتوے عرفی کو حرام کہا حالاں کہ وہ
فـــــ : تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وعلی ش۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
حلہا بالا جماع وفی قضاء منحۃ الخالق عن الفتاوی الظھیریۃ روی عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ انہ قال لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا مالم یعلم من این قلنا وان لم یکن من اھل الاجتہاد لایحل لہ ان یفتی الابطریق الحکایۃ اھ
وقول البحر فی الفتوی العرفیۃ لامحمل لہ سواہ لقولہ اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ وقولہ وان لم نعلم وقولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وقولہ اما نحن فلنا الافتاء فاین التضاد ولم یردا موردا واحدا۔
قولہ ھو صریح فی عدم جوازالافتاء لغیر اھل الاجتہاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ
اقول : نعم صریح فــــــ فی بالاجماع جائز وحلال ہے منحۃ الخالق کتاب القضا ء میں فتاوی ظہیریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا روا نہیں جب تك یہ نہ جان لے کہ ہم نے کہا ں سے کہا اور اگر اہل اجتہا د نہ ہو اس کے لئے فتوی دینا جائز نہیں مگر نقل وحکایت کے طور پر فتوی دے سکتا ہے ۔
اور بحر کا کلام فتوائے عرفی سے متعلق ہے اس کے سوا اس کا کوئی اور معنی ومحمل نہیں دلیل میں ان کے یہ الفا ظ دیکھیں (۱)لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں (ب) اگر چہ ہمیں دلیل معلوم نہ ہو (ج)قول اما م پر فتو ی دینا ہم پر واجب ہے (د) اما نحن فلنا الافتاء مگر ہم فتوے دے سکتے ہیں الخ اب بتائے جب دونوں کلام کا مورد و محل ایك نہیں ہے تو تضا د کہا ں سے ہواخیر رملی قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتوی دینا ناجائز ہے پھر اس سے وجوب افتا ء پر استدلال کیسے
اقول : ہاں اس سے فتوے حقیقی کا
فــــ : تطفل علی الخیر وعلی ش
وقول البحر فی الفتوی العرفیۃ لامحمل لہ سواہ لقولہ اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ وقولہ وان لم نعلم وقولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وقولہ اما نحن فلنا الافتاء فاین التضاد ولم یردا موردا واحدا۔
قولہ ھو صریح فی عدم جوازالافتاء لغیر اھل الاجتہاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ
اقول : نعم صریح فــــــ فی بالاجماع جائز وحلال ہے منحۃ الخالق کتاب القضا ء میں فتاوی ظہیریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا روا نہیں جب تك یہ نہ جان لے کہ ہم نے کہا ں سے کہا اور اگر اہل اجتہا د نہ ہو اس کے لئے فتوی دینا جائز نہیں مگر نقل وحکایت کے طور پر فتوی دے سکتا ہے ۔
اور بحر کا کلام فتوائے عرفی سے متعلق ہے اس کے سوا اس کا کوئی اور معنی ومحمل نہیں دلیل میں ان کے یہ الفا ظ دیکھیں (۱)لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں (ب) اگر چہ ہمیں دلیل معلوم نہ ہو (ج)قول اما م پر فتو ی دینا ہم پر واجب ہے (د) اما نحن فلنا الافتاء مگر ہم فتوے دے سکتے ہیں الخ اب بتائے جب دونوں کلام کا مورد و محل ایك نہیں ہے تو تضا د کہا ں سے ہواخیر رملی قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتوی دینا ناجائز ہے پھر اس سے وجوب افتا ء پر استدلال کیسے
اقول : ہاں اس سے فتوے حقیقی کا
فــــ : تطفل علی الخیر وعلی ش
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرا لرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
عدم جواز الحقیقی ونشوء الحرمۃ والجواز معا عن شیئ واحد فرغنا عنہ فی الثالثہ۔
قولہ فنقول ما یصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ
اقول : فــــ ۱ فیہ کان الجواب عن التضاد لو ا لتفتم الیہ
قولہ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد
اقول : فــــ ۲ لاوانظر الاولی
قولہ تجوز حکایۃ قول غیر الامام
اقول : فـــ ۳ لاحجر فی الحکایۃولوقولا خارجا عن المذھب انماالکلام فی التقلید والمجتھد
عدم جواز صراحۃ واضح ہے (اور بحر میں فتوائے عرف کا وجوب مذکور ہے )اب رہا یہ کہ ایك ہی چیز سے دوسری چیز کی حرمت وحلت دونوں کیسے پیداہوسکتی ہیں اس کی تحقیق ہم مقدمہ سوم میں کر آئے ہیں ۔
خیر رملی : ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا نہیں ۔
اقول : اپ کی اسی عبارت میں اعتراض کا جواب بھی تھا اگر آپ نے التفا ت فرمایاہوتا
خیر رملی وہ تو امام مجتہد سے صرف نقل و حکایت ہے ۔
اقول : ایسا نہیں ملاحظہ ہو مقدمہ اول خیر رملی : غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے۔
اقول : نقل وحکایت سے کوئی رکاوٹ نہیں اگر چہ مذہب سے باہر کسی کا قول ہو یہاں گفتگو تقلید سے متعلق ہے اور مجتہد مطلق
فــــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ ۲ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ ۳ : تطفل علی الخیر وعلی ش
قولہ فنقول ما یصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ
اقول : فــــ ۱ فیہ کان الجواب عن التضاد لو ا لتفتم الیہ
قولہ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد
اقول : فــــ ۲ لاوانظر الاولی
قولہ تجوز حکایۃ قول غیر الامام
اقول : فـــ ۳ لاحجر فی الحکایۃولوقولا خارجا عن المذھب انماالکلام فی التقلید والمجتھد
عدم جواز صراحۃ واضح ہے (اور بحر میں فتوائے عرف کا وجوب مذکور ہے )اب رہا یہ کہ ایك ہی چیز سے دوسری چیز کی حرمت وحلت دونوں کیسے پیداہوسکتی ہیں اس کی تحقیق ہم مقدمہ سوم میں کر آئے ہیں ۔
خیر رملی : ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا نہیں ۔
اقول : اپ کی اسی عبارت میں اعتراض کا جواب بھی تھا اگر آپ نے التفا ت فرمایاہوتا
خیر رملی وہ تو امام مجتہد سے صرف نقل و حکایت ہے ۔
اقول : ایسا نہیں ملاحظہ ہو مقدمہ اول خیر رملی : غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے۔
اقول : نقل وحکایت سے کوئی رکاوٹ نہیں اگر چہ مذہب سے باہر کسی کا قول ہو یہاں گفتگو تقلید سے متعلق ہے اور مجتہد مطلق
فــــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ ۲ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ ۳ : تطفل علی الخیر وعلی ش
حوالہ / References
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
المطلق احق بہ ممن دونہ فلم لا تجیزون الافتاء باقوال الائمۃ الثلثۃ بل ومن سوی الاربعۃ رضی الله تعالی عنھم فان اجزتم ففیم التمذھب وتلك المشاجرات بل سقط المبحث رأساوانھدام النزاع بنفس النزاع کما سیأتی بیانہ ان شاء الله تعالی ۔
قولہ فکیف یجب علینا الافتاء بقو ل الا مام ۔
اقول : لانا فــــ ۱ قلدناہ لامن سواہ وقد اعترف فـــ ۲ بہ السید الناقل فی عدۃ مواضع منھا صدر ردالمحتار قبیل رسم المفتی اناالتزمنا تقلید
اپنے سے فر و تر حضرات سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی تقلید کی جائے پھر آپ ائمہ ثلاثہ (مالك وشافعی واحمد رحمہم الله تعالی) بلکہ ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالی عنہمکے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال پر فتوی دینے کو جائز کیوں نہیں کہتے اگر آپ اجازت دیتے ہیں تو مذہب امام کی پابندی کس بات میں اور یہ سارے اختلافات کیسے بلکہ صرف اس نزاع ہی سے سارا نزاع ختم اور وہ پوری بحث ہی سرے سے ساقط ہوگئی جیسا کہ اس کی وضاحت ان شاء الله تعالی آگے آئے گی۔ خیررملی تو قول امام پر فتوی دینا ہم پر واجب کیسے
اقول : اس لئے کہ تقلید ہم نے انہی کی کی ہے دوسرے کی نہیں اور سید ناقل (علامہ شامی)نے تو متعد د مقامات پر خود اس کا اعتراف کیا ہے ان میں دو مقام یہ ہیں (۱) رسم المفتی سے ذرا پہلے شرو ع رد المحتار میں لکھتے ہیں ہم
فـــــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فـــــ ۲ : علامہ شامی فرماتے ہیں ہم نے صرف تقلید امام اعظم اپنے اوپر لازم کی ہے نہ کسی اور کی ولہذا ہمارا مذہب حنفی کہا جاتا ہے نہ یوسفی وغیرہ امام ابویوسف کی نسبت وغیرہ سے۔
قولہ فکیف یجب علینا الافتاء بقو ل الا مام ۔
اقول : لانا فــــ ۱ قلدناہ لامن سواہ وقد اعترف فـــ ۲ بہ السید الناقل فی عدۃ مواضع منھا صدر ردالمحتار قبیل رسم المفتی اناالتزمنا تقلید
اپنے سے فر و تر حضرات سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی تقلید کی جائے پھر آپ ائمہ ثلاثہ (مالك وشافعی واحمد رحمہم الله تعالی) بلکہ ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالی عنہمکے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال پر فتوی دینے کو جائز کیوں نہیں کہتے اگر آپ اجازت دیتے ہیں تو مذہب امام کی پابندی کس بات میں اور یہ سارے اختلافات کیسے بلکہ صرف اس نزاع ہی سے سارا نزاع ختم اور وہ پوری بحث ہی سرے سے ساقط ہوگئی جیسا کہ اس کی وضاحت ان شاء الله تعالی آگے آئے گی۔ خیررملی تو قول امام پر فتوی دینا ہم پر واجب کیسے
اقول : اس لئے کہ تقلید ہم نے انہی کی کی ہے دوسرے کی نہیں اور سید ناقل (علامہ شامی)نے تو متعد د مقامات پر خود اس کا اعتراف کیا ہے ان میں دو مقام یہ ہیں (۱) رسم المفتی سے ذرا پہلے شرو ع رد المحتار میں لکھتے ہیں ہم
فـــــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فـــــ ۲ : علامہ شامی فرماتے ہیں ہم نے صرف تقلید امام اعظم اپنے اوپر لازم کی ہے نہ کسی اور کی ولہذا ہمارا مذہب حنفی کہا جاتا ہے نہ یوسفی وغیرہ امام ابویوسف کی نسبت وغیرہ سے۔
حوالہ / References
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
مذھبہ دون مذھب غیرہ ولذا نقول ان مذھبنا حنفی لایوسفی ونحوہ اھ ای الشیبا نی نسبۃ الی ابی یوسف او محمد رضی الله تعالی عنھم وقال فی شرح العقود الحنفی انما قلد ابا حنیفۃ ولذا نسب الیہ دون غیرہ اھ
قولہ وانما نحکی فتواھم لاغیر ۔
اقول : سبحن الله فـــ ۱بل انما نقلد امامنا لاغیر ثم فـــ ۲ لیس افتاؤنا عندکم الاحکایۃ قول غیرنا فمن ذالذی حرم علینا حکایۃ قول امامنا و اوجب حکایۃ قول غیرہ من اھل مذھبنا
نے انہی کے مذہب کی تقلید کا التزام کیا ہے دو سرے کے مذہب کا نہیں ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب حنفی ہے یوسفی وغیرہ نہیں یعنی شیبانی بھی نہیں یہ امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنہماکی طر ف نسبت ہے (۲) شرح عقود میں لکھتے ہیں حنفی نے بس امام ابو حنیفہ کی تقلیدکی ہے اسی لئے وہ انہی کی طر ف منسوب ہوتا ہے کسی اور کی طر ف نہیں خیر رملی حالاں کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں کچھ اورنہیں۔
اقول : سبحان الله ! بلکہ ہم صرف امام اعظم کے مقلد ہیں کچھ اور نہیں پھر آپ کے نزدیك ہمارے افتا ء کی حقیقت کیا ہے صرف دو سروں کے اقوال کی نقل و حکایت ! تو وہ کون ہے جس نے ہم پر اپنے امام کے قول کی حکایت حرام کردی اور اہل مذہب میں سے دیگر حضرات کے قول کی حکایت واجب کردی
فـــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فـــ ۲ : تطفل علی الخیر وعلی ش
قولہ وانما نحکی فتواھم لاغیر ۔
اقول : سبحن الله فـــ ۱بل انما نقلد امامنا لاغیر ثم فـــ ۲ لیس افتاؤنا عندکم الاحکایۃ قول غیرنا فمن ذالذی حرم علینا حکایۃ قول امامنا و اوجب حکایۃ قول غیرہ من اھل مذھبنا
نے انہی کے مذہب کی تقلید کا التزام کیا ہے دو سرے کے مذہب کا نہیں ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب حنفی ہے یوسفی وغیرہ نہیں یعنی شیبانی بھی نہیں یہ امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنہماکی طر ف نسبت ہے (۲) شرح عقود میں لکھتے ہیں حنفی نے بس امام ابو حنیفہ کی تقلیدکی ہے اسی لئے وہ انہی کی طر ف منسوب ہوتا ہے کسی اور کی طر ف نہیں خیر رملی حالاں کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں کچھ اورنہیں۔
اقول : سبحان الله ! بلکہ ہم صرف امام اعظم کے مقلد ہیں کچھ اور نہیں پھر آپ کے نزدیك ہمارے افتا ء کی حقیقت کیا ہے صرف دو سروں کے اقوال کی نقل و حکایت ! تو وہ کون ہے جس نے ہم پر اپنے امام کے قول کی حکایت حرام کردی اور اہل مذہب میں سے دیگر حضرات کے قول کی حکایت واجب کردی
فـــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فـــ ۲ : تطفل علی الخیر وعلی ش
حوالہ / References
رد المحتار مطلب صح عن الامام اذا صح الحدیث الی الخ دارا حیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۴
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۴
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۴
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۴
فانکانوا مرجحین بالکسر فلیسوا مرجحین علی الامام بالفتح قول ش المشائخ اطلعوا علی دلیل الامام وعرفوا من این قال۔
اقول : فــــ ۱ من این عرفتم ھذا وبای دلیل اطلعتم علیہ انما المنقول فــــ۲ عن الامام المسائل دون الدلائل واجتھد الاصحاب فاستخرجوا لھا دلائل کل حسب مبلغ علمہ ومنتھی فہمہ ولم یدرکو اشاوہ ولا معشارہ ولر بما لم یلحقوا غبارہ فان قلتم فقولوا اطلعوا علی دلیل قول الامام ولا تقولوا علی دلیل الامام و رحم الله سیدی ط اذقال فی قضاء حواشی الدر قد یظھر قوۃ قولہ (ای لاھل النظر
اگر وہ ترجیح دینے والے حضرات ہیں تو وہ امام پر تر جیح یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ علامہ شامی مشائخ کو “ دلیل امام “ سے آگاہی ہوئی او رانہیں یہ معرفت حاصل ہوئی کہ قول امام کا ماخذ کیا ہے !
اقول : یہ آپ کو کہا ں سے معلوم ہو ا او رکس دلیل سے آپ کو اس کی دریافت ہوئی امام سے توصرف مسائل منقول ہیں دلائل منقول نہیں اصحاب نے اجتہاد کر کے ان مسائل کی دلیلوں کا استخراج کیا یہ بھی ہر ایك نے اپنے مبلغ علم اور منتہائے فہم کے اعتبار سے کیا اور کوئی بھی امام کی منزل کو نہ پاسکا بلکہ ان کے دسویں حصے کو بھی نہ پہنچا او ر زیادہ تر تو یہ ہے کہ یہ حضرات ان کی گر دپا کو بھی نہ پاسکے ۔ اگر کہنا ہے تو یوں کہئے کہ ہاں مشائخ کو “ قول امام کی دلیل “ سے آگاہی ملی یہ نہ کہئے کہ “ امام کی دلیل “ سے آگاہ ہوئے سیدی طحطاوی پر خدا کی رحمت ہو وہ حواشی درمختار کتاب القضا ء میں رقم طراز ہیں قول امام کے خلاف کسی قول
فـــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــ ۲ : فائدہ : امام سے مسائل منقول ہیں دلائل مشائخ نے استنباط کیے ہیں ان کا ضعف اگرثابت بھی ہو تو قول امام کا ضعف
لازم آنا درکنار دلیل امام کا بھی ضعف ثابت نہیں ہوتا ممکن کہ امام نے اور دلیل سے فرمایا ہو ۔
اقول : فــــ ۱ من این عرفتم ھذا وبای دلیل اطلعتم علیہ انما المنقول فــــ۲ عن الامام المسائل دون الدلائل واجتھد الاصحاب فاستخرجوا لھا دلائل کل حسب مبلغ علمہ ومنتھی فہمہ ولم یدرکو اشاوہ ولا معشارہ ولر بما لم یلحقوا غبارہ فان قلتم فقولوا اطلعوا علی دلیل قول الامام ولا تقولوا علی دلیل الامام و رحم الله سیدی ط اذقال فی قضاء حواشی الدر قد یظھر قوۃ قولہ (ای لاھل النظر
اگر وہ ترجیح دینے والے حضرات ہیں تو وہ امام پر تر جیح یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ علامہ شامی مشائخ کو “ دلیل امام “ سے آگاہی ہوئی او رانہیں یہ معرفت حاصل ہوئی کہ قول امام کا ماخذ کیا ہے !
اقول : یہ آپ کو کہا ں سے معلوم ہو ا او رکس دلیل سے آپ کو اس کی دریافت ہوئی امام سے توصرف مسائل منقول ہیں دلائل منقول نہیں اصحاب نے اجتہاد کر کے ان مسائل کی دلیلوں کا استخراج کیا یہ بھی ہر ایك نے اپنے مبلغ علم اور منتہائے فہم کے اعتبار سے کیا اور کوئی بھی امام کی منزل کو نہ پاسکا بلکہ ان کے دسویں حصے کو بھی نہ پہنچا او ر زیادہ تر تو یہ ہے کہ یہ حضرات ان کی گر دپا کو بھی نہ پاسکے ۔ اگر کہنا ہے تو یوں کہئے کہ ہاں مشائخ کو “ قول امام کی دلیل “ سے آگاہی ملی یہ نہ کہئے کہ “ امام کی دلیل “ سے آگاہ ہوئے سیدی طحطاوی پر خدا کی رحمت ہو وہ حواشی درمختار کتاب القضا ء میں رقم طراز ہیں قول امام کے خلاف کسی قول
فـــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــ ۲ : فائدہ : امام سے مسائل منقول ہیں دلائل مشائخ نے استنباط کیے ہیں ان کا ضعف اگرثابت بھی ہو تو قول امام کا ضعف
لازم آنا درکنار دلیل امام کا بھی ضعف ثابت نہیں ہوتا ممکن کہ امام نے اور دلیل سے فرمایا ہو ۔
حوالہ / References
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
فی قول خلاف قول الامام) بحسب ادراکہ ویکون الواقع بخلافہ اوبحسب دلیل ویکون لصاحب المذھب دلیل اخر لم یطلع علیہ اھ
قولہ ولا یظن بھم انھم عدلوا عن قولہ لجھلھم بدلیلہ
اقول : اولا فـــ ۱ افبظن بہ انہ لم یدرك ما ادرکوا فاعتمدشیئا اسقطوہ لضعفہ فیا للانصاف ای الظنین ابعد۔
ثانیا : لیس فیہ فـــــ ۲ ازراء بھم ان لم یبلغوا مبلغ امامھم
میں اہل نظر کو کبھی قوت نظر آتی ہے یہ اس صاحب نظر کے علم وادراك کے لحاظ سے ہوتا ہے اور واقع میں اس کے بر خلاف ہوتا ہے یا کسی ایك دلیل کے لحاظ سے اسے ایسا معلوم ہوتاہے جبکہ صاحب مذہب کے پاس کوئی اوردلیل ہوتی ہے جس سے یہ آگا ہ نہیں ۔ اھ
علامہ شامی : حضرات مشائخ کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے قول امام سے انحراف اس لئے اختیار کیا کہ انہیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔
اقول اولا : تو کیا حضرت امام کے متعلق یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ انہیں وہ دلیل نہ مل سکی جو مشائخ کو مل گئی اس لئے انہوں نے ایك ایسی چیز پر اعتماد کرلیا جسے مشائخ نے ضعیف ہونے کی وجہ سے ساقط کر دیا خدارا انصاف ! دو نوں میں سے کون ساگمان زیادہ بعید ہے یہ مشائخ اگر اپنے امام کے مبلغ علم کو نہ پاسکے تو اس میں ان کی کوئی بے عزتی نہیں
فـــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــــ ۲ : معروضۃ علیہ
قولہ ولا یظن بھم انھم عدلوا عن قولہ لجھلھم بدلیلہ
اقول : اولا فـــ ۱ افبظن بہ انہ لم یدرك ما ادرکوا فاعتمدشیئا اسقطوہ لضعفہ فیا للانصاف ای الظنین ابعد۔
ثانیا : لیس فیہ فـــــ ۲ ازراء بھم ان لم یبلغوا مبلغ امامھم
میں اہل نظر کو کبھی قوت نظر آتی ہے یہ اس صاحب نظر کے علم وادراك کے لحاظ سے ہوتا ہے اور واقع میں اس کے بر خلاف ہوتا ہے یا کسی ایك دلیل کے لحاظ سے اسے ایسا معلوم ہوتاہے جبکہ صاحب مذہب کے پاس کوئی اوردلیل ہوتی ہے جس سے یہ آگا ہ نہیں ۔ اھ
علامہ شامی : حضرات مشائخ کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے قول امام سے انحراف اس لئے اختیار کیا کہ انہیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔
اقول اولا : تو کیا حضرت امام کے متعلق یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ انہیں وہ دلیل نہ مل سکی جو مشائخ کو مل گئی اس لئے انہوں نے ایك ایسی چیز پر اعتماد کرلیا جسے مشائخ نے ضعیف ہونے کی وجہ سے ساقط کر دیا خدارا انصاف ! دو نوں میں سے کون ساگمان زیادہ بعید ہے یہ مشائخ اگر اپنے امام کے مبلغ علم کو نہ پاسکے تو اس میں ان کی کوئی بے عزتی نہیں
فـــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــــ ۲ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء ، المکتبۃ العربیہ بیر وت ۳ / ۱۷۶
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
وقد ثبت فـــ ۲ ذلك عن اعظم المجتھدین فی المذھب الامام الثانی فضلا عن غیرہ فی ۱الخیرات الحسان للامام ابن حجرا لمکی الشافعی روی الخطیب عن ابی یوسف مارأیت احدا اعلم بتفسیرا لحدیث ومواضع النکت
التی فیہ من الفقہ من ابی حنیفۃ وقال۲ ایضا ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الارأیت مذھبہ الذی ذھب الیہ انجی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ھو ابصر
بالحدیث الصحیح منی ۳وقال کان اذا صمم علی قول درت علی مشائخ الکوفۃ ھل اجد فی تقویۃ قولہ حدیثا او اثرا فر بما وجدت الحدیثین والثلثۃ فاتیتہ بھا فمنھا ما یقول فیہ ھذا غیر صحیح او غیر معروف فاقول
اس پایہ بنلند تك نارسائی تو مجتہدین فی المذہب میں سب سے عظیم شخصیت امام ثانی قاضی ابو یوسف سے ثابت ہے کسی اور کا کیا ذکر وشمار امام ابن حجر مکی شافعی کی کتاب “ الخیرات الحسان “ میں ہے ۔
(۱) خطیب اما م ابو یوسف سے روای ہیں کہ مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو ابو حنیفہ سے زیادہ حدیث کی تفسیر اور اس میں پائے جانے والے فقہی نکات کی جگہوں کا علم رکھتا ہو ۔
(۲) یہ بھی فرمایا کسی بھی مسئلے میں جب میں نے ان کی مخالفت کی پھر اس میں غور کیا تو مجھے یہی نظر آیا کہ امام نے جو مذہب اختیار کیا وہی آخرت میں زیادہ نجات بخش ہے بعض اوقات میرا میلان حدیث کی طر ف ہوتا تو بعد میں یہی نظر آتا کہ امام کو حدیث کی بصیرت مجھ سے زیادہ ہے ۔
(۳)یہ بھی فرمایا جب امام کسی قول پر پختہ حکم کر دیتے تو میں مشائخ کوفہ کے پاس دورہ کرتا کہ دیکھوں ان کے قول کی تائید میں کوئی حدیث یا کوئی اثر ملتا ہے یا نہیں بعض مرتبہ دو تین حدیثیں مل جاتیں میں لے کر امام کے پاس آتا تو ان میں سے کسی حدیث کے بارے میں وہ فرماتے کہ یہ صحیح نہیں یا غیر معروف ہے میں عرض
فــــ : فائدہ جلیلہ : اجلہ اکابر ائمہ دین معاصران امام اعظم وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہمکی تصریحات کہ امام ابوحنیفہ کے علم و عقل کو اوروں کا علم وعقل نہیں پہنچتا جس نے ان کا خلاف کیا ان کے مدارك تك نارسائی سے کیا۔
التی فیہ من الفقہ من ابی حنیفۃ وقال۲ ایضا ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الارأیت مذھبہ الذی ذھب الیہ انجی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ھو ابصر
بالحدیث الصحیح منی ۳وقال کان اذا صمم علی قول درت علی مشائخ الکوفۃ ھل اجد فی تقویۃ قولہ حدیثا او اثرا فر بما وجدت الحدیثین والثلثۃ فاتیتہ بھا فمنھا ما یقول فیہ ھذا غیر صحیح او غیر معروف فاقول
اس پایہ بنلند تك نارسائی تو مجتہدین فی المذہب میں سب سے عظیم شخصیت امام ثانی قاضی ابو یوسف سے ثابت ہے کسی اور کا کیا ذکر وشمار امام ابن حجر مکی شافعی کی کتاب “ الخیرات الحسان “ میں ہے ۔
(۱) خطیب اما م ابو یوسف سے روای ہیں کہ مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو ابو حنیفہ سے زیادہ حدیث کی تفسیر اور اس میں پائے جانے والے فقہی نکات کی جگہوں کا علم رکھتا ہو ۔
(۲) یہ بھی فرمایا کسی بھی مسئلے میں جب میں نے ان کی مخالفت کی پھر اس میں غور کیا تو مجھے یہی نظر آیا کہ امام نے جو مذہب اختیار کیا وہی آخرت میں زیادہ نجات بخش ہے بعض اوقات میرا میلان حدیث کی طر ف ہوتا تو بعد میں یہی نظر آتا کہ امام کو حدیث کی بصیرت مجھ سے زیادہ ہے ۔
(۳)یہ بھی فرمایا جب امام کسی قول پر پختہ حکم کر دیتے تو میں مشائخ کوفہ کے پاس دورہ کرتا کہ دیکھوں ان کے قول کی تائید میں کوئی حدیث یا کوئی اثر ملتا ہے یا نہیں بعض مرتبہ دو تین حدیثیں مل جاتیں میں لے کر امام کے پاس آتا تو ان میں سے کسی حدیث کے بارے میں وہ فرماتے کہ یہ صحیح نہیں یا غیر معروف ہے میں عرض
فــــ : فائدہ جلیلہ : اجلہ اکابر ائمہ دین معاصران امام اعظم وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہمکی تصریحات کہ امام ابوحنیفہ کے علم و عقل کو اوروں کا علم وعقل نہیں پہنچتا جس نے ان کا خلاف کیا ان کے مدارك تك نارسائی سے کیا۔
لہ وما علمك بذلك مع انہ یوافق قولک فیقول انا عالم بعلم اھل الکوفۃ وکان۴عند الاعمش فــــ فسئل عن مسائل فقال لابی حنیفۃ ماتقول فیھا فاجابہ قال من این لك ھذا قال من احادیثك التی ردیتھا عنك وسردلہ عدۃ احادیث بطرقھا فقال الاعمش حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ما علمت انك تعمل بھذہ الاحادیث یا معشر الفقھاء انتم الاطباء ونحن الصیاد لۃ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین اھ
اقول : وانما قال ما علمت الخ لانہ لم یرفی تلك الاحادیث موضعا لتلك الاحکام التی استنبطھا منھا الامام فقال ما علمت
کرتا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا یہ تو آپ کے قول کے موافق بھی ہے وہ فرماتے میں اہل کوفہ کے علم سے اچھی طر ح با خبر ہوں۔ (۴) امام اعمش کے پاس حاضر تھے حضرت اعمش سے کچھ مسائل دریافت کئے گئے انہوں نے امام ابو حنیفہ سے فرمایا تم ان مسائل میں کیا کہتے ہو امام نے جواب دیا حضرت اعمش نے فرمایا یہ جواب کہاں سے اخذ کیا عرض کیا آپ کی انہی احادیث سے جو آپ سے میں نے روایت کیں اور متعدد حدیثیں مع سند وں کے پیش کردیں ا س پر حضرت اعمش نے فرمایا کافی ہے میں نے سو دنوں میں تم سے جو حدیثیں بیان کیں وہ تم ایك ساعت میں مجھے سنائے دے رہے ہو مجھے علم نہ تھا کہ ان احادیث پر تمہارا عمل بھی ہے اے فقہا! تم طبیب ہو او رہم عطار ہیں اور اے مرد کمال ! تم نے تو دونوں کنارے لئے ۔
اقول “ مجھے معلوم نہ تھا کہ ان احادیث پر تمہارا عمل بھی ہے “ امام اعمش نے یہ اس لئے فرمایا کہ احادیث میں انہیں امام کے استنباط کر دہ احکام کی کوئی جگہ نظر نہ آئی تو فرمایا کہ مجھے علم نہ تھا
فــــ : استاد المحدثین امام اعمش شاگرد حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہو استاذ امام اعظم نے امام سے کہا : اے گروہ فقہا تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار اور اے ابو حنیفہ تم نے دونوں کنارے لئے۔
اقول : وانما قال ما علمت الخ لانہ لم یرفی تلك الاحادیث موضعا لتلك الاحکام التی استنبطھا منھا الامام فقال ما علمت
کرتا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا یہ تو آپ کے قول کے موافق بھی ہے وہ فرماتے میں اہل کوفہ کے علم سے اچھی طر ح با خبر ہوں۔ (۴) امام اعمش کے پاس حاضر تھے حضرت اعمش سے کچھ مسائل دریافت کئے گئے انہوں نے امام ابو حنیفہ سے فرمایا تم ان مسائل میں کیا کہتے ہو امام نے جواب دیا حضرت اعمش نے فرمایا یہ جواب کہاں سے اخذ کیا عرض کیا آپ کی انہی احادیث سے جو آپ سے میں نے روایت کیں اور متعدد حدیثیں مع سند وں کے پیش کردیں ا س پر حضرت اعمش نے فرمایا کافی ہے میں نے سو دنوں میں تم سے جو حدیثیں بیان کیں وہ تم ایك ساعت میں مجھے سنائے دے رہے ہو مجھے علم نہ تھا کہ ان احادیث پر تمہارا عمل بھی ہے اے فقہا! تم طبیب ہو او رہم عطار ہیں اور اے مرد کمال ! تم نے تو دونوں کنارے لئے ۔
اقول “ مجھے معلوم نہ تھا کہ ان احادیث پر تمہارا عمل بھی ہے “ امام اعمش نے یہ اس لئے فرمایا کہ احادیث میں انہیں امام کے استنباط کر دہ احکام کی کوئی جگہ نظر نہ آئی تو فرمایا کہ مجھے علم نہ تھا
فــــ : استاد المحدثین امام اعمش شاگرد حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہو استاذ امام اعظم نے امام سے کہا : اے گروہ فقہا تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار اور اے ابو حنیفہ تم نے دونوں کنارے لئے۔
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل الثلاثون ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۴۳ اور ۱۴۴
انك تاخذ ھذہ من ھذہ ۵وقد قال الامام الاجل فــــ ۱سفین الثوری لامامنا رضی الله تعالی عنہما انہ لیکشف لك من العلم عن شیئ کلنا عنہ غافلون ۶وقال ایضا ان الذی یخالف ابا حنیفۃ یحتاج الی ان یکون اعلی منہ قدراواوفر علما وبعید مایوجد ذلك ۷وقال لہ ابن شبرمۃ عجزت النساء ان یلدن مثلك ماعلیك فی العلم کلفۃ ۸وقال ابو سلیمن کان ابو حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ عجبا من العجب وانما یرغب عن کلامہ من لم یقو علیہ ۹وعن علی بن فــــ ۲ عاصم
کہ یہ احکام تم ان احادیث سے اخذ کرتے ہو ۔ (۵)امام اجل حضرت سفیان ثوری نے ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا آپ پر تو وہ علم منکشف ہوتا ہے جس سے ہم سبھی غافل ہوتے ہیں ۔ (۶) یہ بھی فرمایا جو ابو حنیفہ کی مخالفت کرے اسے اس کی ضرورت ہوگی کہ مرتبہ میں ابو حنیفہ سے بلند اور علم میں ان سے زیادہ ہو اور ایساہونا بہت بعید ہے (۷)ابن شبرمہ نے امام سے کہا عورتیں آپ کا مثل پیدا کرنے سے عا جز ہیں آپ کو علم میں ذرا بھی تکلف نہیں (۸)ابو سلیمان نے فرمایا : ابو حنیفہ ایك حیرت انگیز شخصیت تھے ان کے کلام سے وہی اعراض کرتا ہے جسے اس کی قدرت نہیں ہوتی۔ ا ورعلی(۹) بن عاصم نے
فـــــ ۱ : امام اجل سفین ثوری نے ہمارے امام سے کہا آپ کو وہ علم کھلتا ہے جس سے ہم سب غافل ہوتے ہیں اور فرمایا ابوحنیفہ ك خلاف کرنے والا اس کا محتاج ہے کہ ان سے مرتبہ میں بڑا اور علم میں زیادہ ہو اور ایسا ہونا دور ہے ۔
فـــــ۲ : امام شافعی نے فرمایا تمام جہاں میں کسی کی عقل ابو حنیفہ کے مثل نہیں۔ امام علی بن عاصم نے کہا “ اگر ابو حنیفہ کی عقل تمام روئے زمین کے نصف آدمیوں کی عقلوں سے تولی جائے ابو حنیفہ کی عقل غالب آئے۔ امام بکر بن حبیش نے کہا : اگر ان کے تمام اھل زمانہ کی مجموع عقلوں کے ساتھ وزن کریں تو ایك ابو حنیفہ کی عقل ان تمام ائمہ و اکابرو مجتہدین و محدثین و عارفین سب کی عقل پر غالب آئے ۔
کہ یہ احکام تم ان احادیث سے اخذ کرتے ہو ۔ (۵)امام اجل حضرت سفیان ثوری نے ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا آپ پر تو وہ علم منکشف ہوتا ہے جس سے ہم سبھی غافل ہوتے ہیں ۔ (۶) یہ بھی فرمایا جو ابو حنیفہ کی مخالفت کرے اسے اس کی ضرورت ہوگی کہ مرتبہ میں ابو حنیفہ سے بلند اور علم میں ان سے زیادہ ہو اور ایساہونا بہت بعید ہے (۷)ابن شبرمہ نے امام سے کہا عورتیں آپ کا مثل پیدا کرنے سے عا جز ہیں آپ کو علم میں ذرا بھی تکلف نہیں (۸)ابو سلیمان نے فرمایا : ابو حنیفہ ایك حیرت انگیز شخصیت تھے ان کے کلام سے وہی اعراض کرتا ہے جسے اس کی قدرت نہیں ہوتی۔ ا ورعلی(۹) بن عاصم نے
فـــــ ۱ : امام اجل سفین ثوری نے ہمارے امام سے کہا آپ کو وہ علم کھلتا ہے جس سے ہم سب غافل ہوتے ہیں اور فرمایا ابوحنیفہ ك خلاف کرنے والا اس کا محتاج ہے کہ ان سے مرتبہ میں بڑا اور علم میں زیادہ ہو اور ایسا ہونا دور ہے ۔
فـــــ۲ : امام شافعی نے فرمایا تمام جہاں میں کسی کی عقل ابو حنیفہ کے مثل نہیں۔ امام علی بن عاصم نے کہا “ اگر ابو حنیفہ کی عقل تمام روئے زمین کے نصف آدمیوں کی عقلوں سے تولی جائے ابو حنیفہ کی عقل غالب آئے۔ امام بکر بن حبیش نے کہا : اگر ان کے تمام اھل زمانہ کی مجموع عقلوں کے ساتھ وزن کریں تو ایك ابو حنیفہ کی عقل ان تمام ائمہ و اکابرو مجتہدین و محدثین و عارفین سب کی عقل پر غالب آئے ۔
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل الثانی ایچ ایم سعید کمپنی ص ۱۱۴
الخیرات الحسان الفصل الثالث مطبع استنبول ترکیہ ص ۱۶۰
الخیرات الحسان الفصل الثانی ایچ ایم سعید کمپنی ص ۱۰۹
الخیرات الحسان الفصل الثالث ایچ ایم سعید کمپنی ص ۸۲
الخیرات الحسان الفصل الثالث مطبع استنبول ترکیہ ص ۱۶۰
الخیرات الحسان الفصل الثانی ایچ ایم سعید کمپنی ص ۱۰۹
الخیرات الحسان الفصل الثالث ایچ ایم سعید کمپنی ص ۸۲
قال لووزن عقل ابی حنیفۃ بعقل نصف اھل الارض لرجح بھم
۱۰وقال الشافعی رضی الله تعالی عنہ ماقامت النساء عن رجل اعقل من ابی حنیفۃ ۱۱وقال بکر بن حبیش لوجمع عقلہ وعقل اھل زمنہ لرجح عقلہ علی عقولھم الکل من الخیرات الحسان۔ ۱۲وعن محمد بن رافع عن یحیی بن ادم قال ماکان شریك و داؤد الا اصغر غلمان ابی حنیفۃ ولیتھم کانوا یفقھون مایقول ۱۳وعن سہل بن مزاحم وکان من ائمۃ مرو انما خالفہ من خالفہ لانہ لم یفھم قولہ ھذان عن مناقب الامام الکردری ۱۴وفی میزان الشریعۃ الکبری لسیدی العارف
فرمایا : اگر نصف اہل زمین کی عقلوں کے مقابلے میں امام ابو حنیفہ کی عقل تولی جائے تو یہ ان سب پر بھاری پڑجائے ۔
(۱۰)امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا ابو حنیفہ سے زیادہ صاحب عقل عورتوں کی گو د میں نہ آیا یعنی جہاں میں کسی کی عقل ان کے مثل نہیں بکر (۱۱)بن حبیش نے کہا : اگر ابو حنیفہ کی عقل او ران کے زمانے والوں کی عقل جمع کی جائے تو ان سب کی عقلوں کے مجموعہ پر ان کی عقل غالب آجائے یہ سبھی اقوال الخیرات الحسان سے نقل ہوئے۔
(۱۲) محمد بن رافع راوی ہیں کہ یحیی بن آدم فرماتے ہیں شریك اور دواؤد حضرت ا بو حنیفہ کی بارگاہ کے سب سے کمسن طفل مکتب ہی تو تھے کاش لوگ ان کے اقوال کو سمجھ پاتے
(۱۳)مروکے امام بزرگ سہل بن مزاحم فرماتے ہیں جس نے بھی ان کی مخالفت کی اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے اقوال کو سمجھ نہ سکا یہ دونوں قول مناقب امام کر دری سے منقول ہیں سیدی (۱۴)عارف بالله امام شعرانی کی میزان الشریعۃ الکبری
۱۰وقال الشافعی رضی الله تعالی عنہ ماقامت النساء عن رجل اعقل من ابی حنیفۃ ۱۱وقال بکر بن حبیش لوجمع عقلہ وعقل اھل زمنہ لرجح عقلہ علی عقولھم الکل من الخیرات الحسان۔ ۱۲وعن محمد بن رافع عن یحیی بن ادم قال ماکان شریك و داؤد الا اصغر غلمان ابی حنیفۃ ولیتھم کانوا یفقھون مایقول ۱۳وعن سہل بن مزاحم وکان من ائمۃ مرو انما خالفہ من خالفہ لانہ لم یفھم قولہ ھذان عن مناقب الامام الکردری ۱۴وفی میزان الشریعۃ الکبری لسیدی العارف
فرمایا : اگر نصف اہل زمین کی عقلوں کے مقابلے میں امام ابو حنیفہ کی عقل تولی جائے تو یہ ان سب پر بھاری پڑجائے ۔
(۱۰)امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا ابو حنیفہ سے زیادہ صاحب عقل عورتوں کی گو د میں نہ آیا یعنی جہاں میں کسی کی عقل ان کے مثل نہیں بکر (۱۱)بن حبیش نے کہا : اگر ابو حنیفہ کی عقل او ران کے زمانے والوں کی عقل جمع کی جائے تو ان سب کی عقلوں کے مجموعہ پر ان کی عقل غالب آجائے یہ سبھی اقوال الخیرات الحسان سے نقل ہوئے۔
(۱۲) محمد بن رافع راوی ہیں کہ یحیی بن آدم فرماتے ہیں شریك اور دواؤد حضرت ا بو حنیفہ کی بارگاہ کے سب سے کمسن طفل مکتب ہی تو تھے کاش لوگ ان کے اقوال کو سمجھ پاتے
(۱۳)مروکے امام بزرگ سہل بن مزاحم فرماتے ہیں جس نے بھی ان کی مخالفت کی اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے اقوال کو سمجھ نہ سکا یہ دونوں قول مناقب امام کر دری سے منقول ہیں سیدی (۱۴)عارف بالله امام شعرانی کی میزان الشریعۃ الکبری
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل العشرون ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ص۱۰۲
الخیرات الحسان ، الفصل العشرون ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ص۱۰۳
الخیرات الحسان ، الفصل العشرون ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ص۱۰۳
مناقب الامام اعظم للکردری مقولہ الامام جعفر الصادق الخ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱ / ۹۸
مناقب الامام اعظم للکردری مقولہ الامام جعفر الصادق الخ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱ / ۱۰۸
الخیرات الحسان ، الفصل العشرون ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ص۱۰۳
الخیرات الحسان ، الفصل العشرون ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ص۱۰۳
مناقب الامام اعظم للکردری مقولہ الامام جعفر الصادق الخ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱ / ۹۸
مناقب الامام اعظم للکردری مقولہ الامام جعفر الصادق الخ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱ / ۱۰۸
الامام الشعرانی سمعت سیدی فـــ ۱ علیا الخواص رضی الله تعالی عنہ یقول مدارك الامام ابی حنیفۃ دقیقۃ لایکاد یطلع علیھا الا اھل الکشف من اکابرالاولیاء اھ
قولہ شحنوا کتبھم بنصب الادلۃ
اقول : درایۃ فـــ ۲ لاروایۃ واین الدرایۃ من الدرایۃ۔
قولہ ثم یقولون الفتوی علی قول ابی یوسف مثلا
اقول : لانھم فــــ ۳ لم یظھر لھم ما ظھر للامام وھم اھل النظر فلم یسعھم الااتباع ماعن لھم وذلك قول الامام لایحل لاحد ان یفتی الخ
میں ہے میں نے سیدی علی خواص کو فرماتے سنا کہ امام ابو حنیفہ کے مدارك اتنے دقیق ہیں کہ اکابر اولیا میں سے اہل کشف کے سوا کسی کو ان کی اطلاع نہیں ہو پاتی اھ ۔
علامہ شامی : حضرات مشائخ نے دلائل قائم کر کے اپنی کتابیں بھردی ہیں ۔
اقول : ساری دلیلیں درایۃ قائم کی ہیں روایۃ نہیں اب ان کی درایت کو امام کی درایت سے کیا نسبت
علامہ شامی : اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوی مثلا امام ابو یوسف کے قول پر ہے
اقول : یہ اس لئے کہ ان پر وہ دلیل ظاہر نہ ہوئی جو امام پر ظاہر تھی اور یہ حضرات اہل نظر ہیں اس لئے انہیں اسی دلیل کی پیروی کرنی تھی جو ان پر ظاہر ہوئی کیونکہ خود امام کاارشاد ہے
فــــ ۱ : امام شعرانی شافعی اپنے پیرو مرشد حضرت سیدی علی خواص شافعی سے راوی کہ امام ابوحنیفہ کے مدارك اتنے دقیق ہیں کہ اکابر اولیاء کے کشف کے سوا کسی کے علم کی وہاں تك رسائی معلوم نہیں ہوتی۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
قولہ شحنوا کتبھم بنصب الادلۃ
اقول : درایۃ فـــ ۲ لاروایۃ واین الدرایۃ من الدرایۃ۔
قولہ ثم یقولون الفتوی علی قول ابی یوسف مثلا
اقول : لانھم فــــ ۳ لم یظھر لھم ما ظھر للامام وھم اھل النظر فلم یسعھم الااتباع ماعن لھم وذلك قول الامام لایحل لاحد ان یفتی الخ
میں ہے میں نے سیدی علی خواص کو فرماتے سنا کہ امام ابو حنیفہ کے مدارك اتنے دقیق ہیں کہ اکابر اولیا میں سے اہل کشف کے سوا کسی کو ان کی اطلاع نہیں ہو پاتی اھ ۔
علامہ شامی : حضرات مشائخ نے دلائل قائم کر کے اپنی کتابیں بھردی ہیں ۔
اقول : ساری دلیلیں درایۃ قائم کی ہیں روایۃ نہیں اب ان کی درایت کو امام کی درایت سے کیا نسبت
علامہ شامی : اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوی مثلا امام ابو یوسف کے قول پر ہے
اقول : یہ اس لئے کہ ان پر وہ دلیل ظاہر نہ ہوئی جو امام پر ظاہر تھی اور یہ حضرات اہل نظر ہیں اس لئے انہیں اسی دلیل کی پیروی کرنی تھی جو ان پر ظاہر ہوئی کیونکہ خود امام کاارشاد ہے
فــــ ۱ : امام شعرانی شافعی اپنے پیرو مرشد حضرت سیدی علی خواص شافعی سے راوی کہ امام ابوحنیفہ کے مدارك اتنے دقیق ہیں کہ اکابر اولیاء کے کشف کے سوا کسی کے علم کی وہاں تك رسائی معلوم نہیں ہوتی۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
میزان الشریعۃ الکبریٰ فصل فیما نقل عن الامام احمدمن ذمۃ الرای الخ دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۱ / ۷۶
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
ولو ظھر لھم ما ظھر لہ لا توا الیہ مذعنین
قولہ فعلینا حکایۃ ما یقولونہ
اقول : فــ ۱ ھذا علی من ترك تقلیدہ الی تقلیدھم اما من قلدہ فعلیہ حکایۃ ما قالہ والاخذ بہ ۔
قولہ لانھم ھم اتباع المذھب
اقول : فالمتبوع فـــ ۲ احق بالاتباع من الاتباع قولہ نصبوا انفسھم لتقریرہ
اقول علی الرأس فـــ۳ والعین وانما الکلام فی تغییرہ۔
کہ ہمارے ماخذ کی دریافت کے بغیر کسی کو ہمارے قول پر افتاء روا نہیں ۔ اگر ان مشائخ پر بھی وہ دلیل ظاہر ہوتی جو امام پر ظاہر ہوئی تو بلا شبہ یہ تا بعدار ہو کر حاضرہوتے ۔ علامہ شامی : تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کردیں۔
اقول : یہ اس کے ذمے ہوگا جس نے امام کی تقلید چھوڑکر مشائخ کی تقلیداختیار کرلی ہو مقلد امام کے ذمے تو وہی نقل کرنا اور اسی کو لینا ہے جو امام نے فرمایا۔ علامہ شامی : اس لئے کہ یہی حضرات مذہب کے متبع ہیں۔
اقول : ایسا ہے تو متبو ع تا بع سے زیادہ مستحق اتباع ہے ۔ علامہ شامی : ان حضرات نے مذہب کے اثبات و تقریر کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔
اقول : بہ سر و چشم ! یہا ں تو کلام تغییر مذہب سے متعلق ہے ۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
قولہ فعلینا حکایۃ ما یقولونہ
اقول : فــ ۱ ھذا علی من ترك تقلیدہ الی تقلیدھم اما من قلدہ فعلیہ حکایۃ ما قالہ والاخذ بہ ۔
قولہ لانھم ھم اتباع المذھب
اقول : فالمتبوع فـــ ۲ احق بالاتباع من الاتباع قولہ نصبوا انفسھم لتقریرہ
اقول علی الرأس فـــ۳ والعین وانما الکلام فی تغییرہ۔
کہ ہمارے ماخذ کی دریافت کے بغیر کسی کو ہمارے قول پر افتاء روا نہیں ۔ اگر ان مشائخ پر بھی وہ دلیل ظاہر ہوتی جو امام پر ظاہر ہوئی تو بلا شبہ یہ تا بعدار ہو کر حاضرہوتے ۔ علامہ شامی : تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کردیں۔
اقول : یہ اس کے ذمے ہوگا جس نے امام کی تقلید چھوڑکر مشائخ کی تقلیداختیار کرلی ہو مقلد امام کے ذمے تو وہی نقل کرنا اور اسی کو لینا ہے جو امام نے فرمایا۔ علامہ شامی : اس لئے کہ یہی حضرات مذہب کے متبع ہیں۔
اقول : ایسا ہے تو متبو ع تا بع سے زیادہ مستحق اتباع ہے ۔ علامہ شامی : ان حضرات نے مذہب کے اثبات و تقریر کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔
اقول : بہ سر و چشم ! یہا ں تو کلام تغییر مذہب سے متعلق ہے ۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
قولہ عن العلامۃ قاسم کما لو افتوا فی حیاتھم
اقول : اولا رحمك الله فـــ ۱ ارأیت انکان الامام حیا فی الدنیا وھؤلاء احیاء وافتی وافتوا ایاکنت تقلد
وثانیا فــ ۲ انما کلام العلامۃ فیما فیہ الرجوع الی فتوی المشائخ حیث لاروایۃ عن الامام اواختلف الروایۃ عنہ او وجد شیئ من الحوامل الست المذکورۃ فی الخامسۃ فانہ عین تقلید الامام۔
وانا آت فــ ۳ علیہ ببینۃ عادلۃ منکم ومن نفس العلامۃ قاسم فھو اعلم بمرادہ قلتم فی شرح فــ۴ عقودکم قال العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ ان المجتھدین لم یفقدوا حتی
علامہ شامی : بقول علامہ قاسم جیسے ان حضرات کی اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا ۔
اقول : اولا خدا آپ پررحم فرمائے بتائے اگر امام دنیا میں باحیات ہوتے اور یہ حضرات بھی با حیات ہوتے پھر امام بھی فتوی دیتے اور یہ بھی فتوی دیتے تو آپ کس کی تقلید کرتے
ثانیا : علامہ قاسم کا کلام صرف ان مسائل سے متعلق ہے جن میں فتوے مشائخ کی جانب ہی رجوع کرنا ہے اس لئے کہ ان مسائل میں امام سے کوئی روایت ہی نہیں یا امام سے روایت مختلف آئی ہے یا ان چھ اسباب میں سے کوئی سبب موجود ہے جن کا ذکر مقدمہ پنجم میں گزرا کہ یہ تو خود اما م ہی کی تقلید ہے ۔
میں اس پر آپ ہی کی اور خود علامہ قاسم کی شہادت عادلہ پیش کرتا ہوں انہیں اپنی مراد کا زیادہ علم ہے شرح عقود میں آپ رقم طر از ہیں کہ علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا ہے مجتہدین ہمیشہ ہوتے رہے یہاں تك کہ انہوں نے
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معنی کلام العلامۃ قاسم علینا اتباع ما رجحوہ
اقول : اولا رحمك الله فـــ ۱ ارأیت انکان الامام حیا فی الدنیا وھؤلاء احیاء وافتی وافتوا ایاکنت تقلد
وثانیا فــ ۲ انما کلام العلامۃ فیما فیہ الرجوع الی فتوی المشائخ حیث لاروایۃ عن الامام اواختلف الروایۃ عنہ او وجد شیئ من الحوامل الست المذکورۃ فی الخامسۃ فانہ عین تقلید الامام۔
وانا آت فــ ۳ علیہ ببینۃ عادلۃ منکم ومن نفس العلامۃ قاسم فھو اعلم بمرادہ قلتم فی شرح فــ۴ عقودکم قال العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ ان المجتھدین لم یفقدوا حتی
علامہ شامی : بقول علامہ قاسم جیسے ان حضرات کی اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا ۔
اقول : اولا خدا آپ پررحم فرمائے بتائے اگر امام دنیا میں باحیات ہوتے اور یہ حضرات بھی با حیات ہوتے پھر امام بھی فتوی دیتے اور یہ بھی فتوی دیتے تو آپ کس کی تقلید کرتے
ثانیا : علامہ قاسم کا کلام صرف ان مسائل سے متعلق ہے جن میں فتوے مشائخ کی جانب ہی رجوع کرنا ہے اس لئے کہ ان مسائل میں امام سے کوئی روایت ہی نہیں یا امام سے روایت مختلف آئی ہے یا ان چھ اسباب میں سے کوئی سبب موجود ہے جن کا ذکر مقدمہ پنجم میں گزرا کہ یہ تو خود اما م ہی کی تقلید ہے ۔
میں اس پر آپ ہی کی اور خود علامہ قاسم کی شہادت عادلہ پیش کرتا ہوں انہیں اپنی مراد کا زیادہ علم ہے شرح عقود میں آپ رقم طر از ہیں کہ علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا ہے مجتہدین ہمیشہ ہوتے رہے یہاں تك کہ انہوں نے
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معنی کلام العلامۃ قاسم علینا اتباع ما رجحوہ
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹
نظر وافی المختلف و رجحو او صححوا فشہدت مصنفاتھم بترجیح قول ابی حنیفۃ والاخذ بقولہ الافی مسائل یسیرۃ اختاروا الفتوی فیھا علی قولھما او قول احدھما وانکان الاخر مع الامام کما اختاروا قول احمدھما فیما لانص فیہ للامام للمعانی التی اشار الیھا القاضی بل اختاروا قول زفرفی مقابلۃ قول الکل لنحو ذلك وترجیحا تھم وتصحیحا تھم باقیۃ فعلینا اتباع الراجح والعمل بہ کما لوافتوافی حیاتھم اھ
وکلام الامام القاضی سیأتی عند سرد النقول بتوفیق الله تعالی صرح فیہ ان العمل بقولہ رضی الله تعالی عنہ وان خالفاہ الالتعامل بخلافہ او تغیرالحکم بتغیر الزمان
مقام اختلاف میں نظر کر کے تر جیح وتصحیح کاکام سرانجام دیا ان کی تصنیفات شاہد ہیں کہ تر جیح امام ابو حنیفہ ہی کے قول کو حاصل ہے اور ان ہی کا قول ہر جگہ لیا گیا ہے مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر یا صاحبین میں سے کسی ایك کے قول پر اگرچہ دوسرے صاحب امام کے ساتھ ہوں فتوی اختیار کیا ہے جیسے انہوں نے صاحبین میں سے کسی ایك کا قول اس مسئلے میں اختیار کیا ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہیں اس اختیار کے اسباب وہی ہیں جن کی جانب قاضی نے اشارہ کیا بلکہ کسی ایسی ہی وجہ کے تحت انہوں نے سب کے قول کے مقابلہ میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ان حضرات کی ترجحیں اور تصحیحیں آج بھی باقی ہیں تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ راجح کی پیر وی کریں او راسی پر کا ربند ہوں جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں ہمیں فتوے دینے کی صورت میں ہوتا اھ۔
امام قاضی کا کلام جلد ہی بیان نقول کے سلسلے میں بتو فیقہ تعالی آرہا ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ عمل قول امام رضی اللہ تعالی عنہپر ہوگا اگرچہ صاحبین ان کے خلاف ہو ں مگر اس صورت میں جب کہ تعامل اس کے بر خلاف ہو یا تغیر زمان کی وجہ سے حکم بدل گیا ہو
وکلام الامام القاضی سیأتی عند سرد النقول بتوفیق الله تعالی صرح فیہ ان العمل بقولہ رضی الله تعالی عنہ وان خالفاہ الالتعامل بخلافہ او تغیرالحکم بتغیر الزمان
مقام اختلاف میں نظر کر کے تر جیح وتصحیح کاکام سرانجام دیا ان کی تصنیفات شاہد ہیں کہ تر جیح امام ابو حنیفہ ہی کے قول کو حاصل ہے اور ان ہی کا قول ہر جگہ لیا گیا ہے مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر یا صاحبین میں سے کسی ایك کے قول پر اگرچہ دوسرے صاحب امام کے ساتھ ہوں فتوی اختیار کیا ہے جیسے انہوں نے صاحبین میں سے کسی ایك کا قول اس مسئلے میں اختیار کیا ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہیں اس اختیار کے اسباب وہی ہیں جن کی جانب قاضی نے اشارہ کیا بلکہ کسی ایسی ہی وجہ کے تحت انہوں نے سب کے قول کے مقابلہ میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ان حضرات کی ترجحیں اور تصحیحیں آج بھی باقی ہیں تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ راجح کی پیر وی کریں او راسی پر کا ربند ہوں جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں ہمیں فتوے دینے کی صورت میں ہوتا اھ۔
امام قاضی کا کلام جلد ہی بیان نقول کے سلسلے میں بتو فیقہ تعالی آرہا ہے اس میں یہ تصریح ہے کہ عمل قول امام رضی اللہ تعالی عنہپر ہوگا اگرچہ صاحبین ان کے خلاف ہو ں مگر اس صورت میں جب کہ تعامل اس کے بر خلاف ہو یا تغیر زمان کی وجہ سے حکم بدل گیا ہو
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی ، رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور۱ / ۲۷
فتبین ولله الحمد ان قول العلامۃ قاسم علینا اتباع مارجحوہ انما ھو فیما لانص فیہ للامام ویلحق بہ ما اختلف فیہ الروایۃ عنہ اوفی احدے الحوامل الست فاحفظہ حفظا جیدا ففیہ ارتفاع الحجب عن آخرھا ولله الحمد حمدا کثیرا طیبامبارکا فیہ ابدا وھذہ عبارۃ العلامۃ قاسم التی اوردھا السید ھھنا ملتقطا من اولہا واخر ھا لو تأملھا تما مالما کان لیخفی علیہ الامر وکثیرا ما تحدث امثال الامور لاجل الاقتصار وبالله العصمۃ ۔
وثالثا علی فــــ۱ فرض الغلط لواراد العلامۃ قاسم ما تریدون لکان محجوجا بقول شیخہ المحقق حیث اطلق الذی نقلتموہ وقبلتموہ من ردہ مرارا وعلی
تو بحمد ہ تعالی یہ روشن ہوگیا کہ علامہ قاسم کا ارشاد (ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے ان حضرات نے راجع قرار دے دیا ) صرف اس صورت سے متعلق ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہ ہو او ر اسی سے ملحق وہ صورت بھی ہے جس میں امام سے روایت مختلف آئی ہو یا ان چھ اسباب میں سے کوئی ایك موجود ہو اسے خوب اچھی طر ح ذہن نشین کر لینا چاہئے اس لئے کہ اس سے سارے پردے بالکل اٹھ جاتے ہیں اور خدا ہی کے لئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت دائمی حمد ۔ علامہ قاسم کی عبارت جو علامہ شامی نے اس مقام پر اول اقتصار کی وجہ سے پیدا ہوجاتا ہے وبالله العصمۃ اور محفو ظ رکھنا خدا ہی سے ہے ۔
ثالثا : بفرض غلط اگر علامہ قاسم کا مقصود وہی ہوتاجو آپ مراد لے رہے ہیں تو یہ ان کے استا د محقق علی الاطلاق کے اس ارشاد کے مقابلہ میں مرجوع ہوتا جسے آپ نے بھی نقل کیا او رقبول کیا کہ انہوں نے قول صاحبین پر افتا کے
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
وثالثا علی فــــ۱ فرض الغلط لواراد العلامۃ قاسم ما تریدون لکان محجوجا بقول شیخہ المحقق حیث اطلق الذی نقلتموہ وقبلتموہ من ردہ مرارا وعلی
تو بحمد ہ تعالی یہ روشن ہوگیا کہ علامہ قاسم کا ارشاد (ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے ان حضرات نے راجع قرار دے دیا ) صرف اس صورت سے متعلق ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہ ہو او ر اسی سے ملحق وہ صورت بھی ہے جس میں امام سے روایت مختلف آئی ہو یا ان چھ اسباب میں سے کوئی ایك موجود ہو اسے خوب اچھی طر ح ذہن نشین کر لینا چاہئے اس لئے کہ اس سے سارے پردے بالکل اٹھ جاتے ہیں اور خدا ہی کے لئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت دائمی حمد ۔ علامہ قاسم کی عبارت جو علامہ شامی نے اس مقام پر اول اقتصار کی وجہ سے پیدا ہوجاتا ہے وبالله العصمۃ اور محفو ظ رکھنا خدا ہی سے ہے ۔
ثالثا : بفرض غلط اگر علامہ قاسم کا مقصود وہی ہوتاجو آپ مراد لے رہے ہیں تو یہ ان کے استا د محقق علی الاطلاق کے اس ارشاد کے مقابلہ میں مرجوع ہوتا جسے آپ نے بھی نقل کیا او رقبول کیا کہ انہوں نے قول صاحبین پر افتا کے
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
المشائخ افتاء ھم بقولھا قائلا انہ لایعدل عن قولہ الالضعف دلیلہ۔
قولہ عن العلامۃ ابن الشلبی الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ
اقول : اولا فــــ ۱سائرھم موافقون لھذا المفتی اومخالفون لہ اوساکتون فلم یرجحوا شیئا حتی فی التعلیل والجدل ولا بوضعہ متنا اوالاقتصار اوالتقدیم او غیر ذلك من وجوہ الاختیار ۔
الثالث لم یقع والثانی ظاہر المنع وکیف یعدل عن قول الامام المرجح من عامۃ اصحاب الترجیح بفتوی رجل واحد قال فی الدر فی تنجس البئر قالا من وقت العلم فلا یلزمھم
باعث بارہا مشائخ کا رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ : قول امام سے عدول نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ۔ قولہ علامہ شامی : علامہ ابن شلبی سے نقل کرتے ہوئے مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت کر دی ہو کہ فتوی امام کے سوا کسی اور کے قول پر ہے
اقول اولا : (۱) دیگر مشائخ اس مفتی کے موافق ہیں(۲) یا اس کے مخالف ہیں (۳) یا ساکت ہیں کہ انہوں نے کسی قول کو ترجیح نہ دی یہاں تك کہ کسی قول کی نہ علت پیش کی نہ اس پر بحث کی نہ اسے اپنی تصنیف میں متن بنا یا نہ کسی ایك پر اقتصار کیا نہ وجوہ اختیار و تر جیح میں سے کوئی او رصورت اپنائی یہ تیسری صورت (سکوت ) واقع ہی نہیں اور دوسری صورت میں کلام ابن شلبی پر منع ظاہر ہے (یہ وہ صورت ہے کہ ایك شخص نے قول امام کے بجائے قول دیگر پر فتوی دیا باقی تمام حضرات قول امام ہی پر فتوے دیتے ہیں اور اس مفتی کے مخالف ہیں) تمام اصحاب تر جیح کی جانب سے تر جیح یافتہ قول امام سے محض ایك شخص کے
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
قولہ عن العلامۃ ابن الشلبی الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ
اقول : اولا فــــ ۱سائرھم موافقون لھذا المفتی اومخالفون لہ اوساکتون فلم یرجحوا شیئا حتی فی التعلیل والجدل ولا بوضعہ متنا اوالاقتصار اوالتقدیم او غیر ذلك من وجوہ الاختیار ۔
الثالث لم یقع والثانی ظاہر المنع وکیف یعدل عن قول الامام المرجح من عامۃ اصحاب الترجیح بفتوی رجل واحد قال فی الدر فی تنجس البئر قالا من وقت العلم فلا یلزمھم
باعث بارہا مشائخ کا رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ : قول امام سے عدول نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ۔ قولہ علامہ شامی : علامہ ابن شلبی سے نقل کرتے ہوئے مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت کر دی ہو کہ فتوی امام کے سوا کسی اور کے قول پر ہے
اقول اولا : (۱) دیگر مشائخ اس مفتی کے موافق ہیں(۲) یا اس کے مخالف ہیں (۳) یا ساکت ہیں کہ انہوں نے کسی قول کو ترجیح نہ دی یہاں تك کہ کسی قول کی نہ علت پیش کی نہ اس پر بحث کی نہ اسے اپنی تصنیف میں متن بنا یا نہ کسی ایك پر اقتصار کیا نہ وجوہ اختیار و تر جیح میں سے کوئی او رصورت اپنائی یہ تیسری صورت (سکوت ) واقع ہی نہیں اور دوسری صورت میں کلام ابن شلبی پر منع ظاہر ہے (یہ وہ صورت ہے کہ ایك شخص نے قول امام کے بجائے قول دیگر پر فتوی دیا باقی تمام حضرات قول امام ہی پر فتوے دیتے ہیں اور اس مفتی کے مخالف ہیں) تمام اصحاب تر جیح کی جانب سے تر جیح یافتہ قول امام سے محض ایك شخص کے
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷
شیئ قبلہ قیل وبہ یفتی اھ
قال ش قائلہ صاحب عــــہ الجوھرۃ وفی فتاوی العتابی قولھما ھو المختار اھ قال ط وانما عبر بقیل لرد العلامۃ قاسم لہ لمخالفتہ لعامۃ الکتب فقد رجح دلیلہ فی کثیر منھا وھو الاحوط نھر اھ
بل قال فی الدر لاحد بشبھۃ العقد عندالامام کوط ء محرم نکحھا وقالا ان علم الحرمۃ حد و علیہ الفتوی
فتوے کے باعث انحراف کیوں ہو گا در مختار کے اندر کنواں ناپاك ہونے کے مسئلے میں صاحبین فرماتے ہیں جب سے علم ہوا اس وقت سے ناپاك مانا جائے گا تو اس سے قبل لوگوں کو کچھ لازم نہ ہوگا کہا گیا : اسی پر فتوی ہے ۔ اھ
علامہ شامی فرماتے ہیں اس کے قائل صاحب جو ھرہ ہیں فتاوی عتابی میں ہے قول صاحبین ہی مختار ہے ۔ اھ
طحطاوی فرماتے ہیں : قیل (کہا گیا ) سے تعبیر اس لئے فرمائی کہ علامہ قاسم نے اس کی تردید کی ہے کیونکہ یہ عامہ کتب کے خلاف ہے کثیر کتا بو ں میں دلیل اما م کو ترجیح دی گئی ہے وہی احوط بھی ہے نہر اھ
بلکہ درمختار میں ہے : امام کے نزدیك شبہ عقد کی وجہ سے حد نہیں جیسے اس محرم سے وطی کی صورت میں جس سے نکاح کرلیا ہو صاحبین فرماتے ہیں اگر حرمت سے آگا ہ ہے
عــہ : اقول لم ارہ فیھا لعلہ فی سراجہ الوہاج والله تعالی اعلم ۱۲ منہ
اقول : میں نے جوہرہ میں اسے نہ دیکھا شاید یہ ان کی سراج وہاج میں ہو ۱۲ منہ
قال ش قائلہ صاحب عــــہ الجوھرۃ وفی فتاوی العتابی قولھما ھو المختار اھ قال ط وانما عبر بقیل لرد العلامۃ قاسم لہ لمخالفتہ لعامۃ الکتب فقد رجح دلیلہ فی کثیر منھا وھو الاحوط نھر اھ
بل قال فی الدر لاحد بشبھۃ العقد عندالامام کوط ء محرم نکحھا وقالا ان علم الحرمۃ حد و علیہ الفتوی
فتوے کے باعث انحراف کیوں ہو گا در مختار کے اندر کنواں ناپاك ہونے کے مسئلے میں صاحبین فرماتے ہیں جب سے علم ہوا اس وقت سے ناپاك مانا جائے گا تو اس سے قبل لوگوں کو کچھ لازم نہ ہوگا کہا گیا : اسی پر فتوی ہے ۔ اھ
علامہ شامی فرماتے ہیں اس کے قائل صاحب جو ھرہ ہیں فتاوی عتابی میں ہے قول صاحبین ہی مختار ہے ۔ اھ
طحطاوی فرماتے ہیں : قیل (کہا گیا ) سے تعبیر اس لئے فرمائی کہ علامہ قاسم نے اس کی تردید کی ہے کیونکہ یہ عامہ کتب کے خلاف ہے کثیر کتا بو ں میں دلیل اما م کو ترجیح دی گئی ہے وہی احوط بھی ہے نہر اھ
بلکہ درمختار میں ہے : امام کے نزدیك شبہ عقد کی وجہ سے حد نہیں جیسے اس محرم سے وطی کی صورت میں جس سے نکاح کرلیا ہو صاحبین فرماتے ہیں اگر حرمت سے آگا ہ ہے
عــہ : اقول لم ارہ فیھا لعلہ فی سراجہ الوہاج والله تعالی اعلم ۱۲ منہ
اقول : میں نے جوہرہ میں اسے نہ دیکھا شاید یہ ان کی سراج وہاج میں ہو ۱۲ منہ
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۴۶
الدرالمختار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۴۶
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار فصل فی البئر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۴۶
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار فصل فی البئر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۹
خلاصۃ لکن المرجح فی جمیع الشروح قول الامام فکان الفتوی علیہ اولی قالہ قاسم فی تصحیحہ لکن فی القھستانی عن المضمرات علی قولھما الفتوی اھ قال ش استدراك علی قولہ فی جمیع الشروح فان المضمرات من الشروح وفیہ ان مافی عامۃ الشروح مقدم اھ
فھھنا جعلت الفتاوی علی قولھما الفتوی و وافقھا بعض الشروح المعتمدۃ ولم یقبل لان عامۃ الشروح رجحت دلیلہ بقی الاول وھو مسلم ولا شك ولا یوجد الا فی احدی الصور الست وح یکون عدولا الی قولہ لاعنہ کما علمت
و ثانیا بوجہ فــــ اخر ارأیت ان قال
تو حد ہوگی اسی پرفتوی ہے خلاصہ لیکن تمام شروح میں تر جیح یافتہ قول امام ہی ہے تو اس پر فتوی اولی ہے یہ علامہ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا لیکن قہستانی میں مضمرات سے نقل ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے۔ اھ
علامہ شامی فرماتے ہیں انکے لفظ “ تمام شروح “ پر یہ استدارك ہے اس لئے کہ مضمرات بھی شرو ح میں سے ہے اس پر کلام یہ ہے کہ جو عامہ شرو ح میں ہے مقدم وہی ہوگا ۔
یہا ں کتب فتاوی نے فتوی قول صاحبین پر رکھا بعض معتمد شروح نے بھی ان کی موافقت کی مگر اسے قبول نہ کیا گیا اس لئے کہ عامہ شروح نے دلیل امام کو ترجیح دی ۔ رہ گئی پہلی صورت (کہ دیگر مشائخ بھی اس مفتی کے ہم نوا ہیں جس نے بتایا کہ فتوی امام کے علاوہ کسی اور کے قول پر ہے ) یہ بلا شبہ مسلم ہے اور اس کا وجود ان ہی چھ صورتوں میں سے کسی ایك میں ہوگا اس صورت میں خود قول امام کی جانب رجوع ہوتا ہے اس سے انحراف نہیں ہوتا جیسا کہ معلوم ہوا ۔
ثانیا : بطرز دیگر بتائے کہ اگر امام نے کوئی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فھھنا جعلت الفتاوی علی قولھما الفتوی و وافقھا بعض الشروح المعتمدۃ ولم یقبل لان عامۃ الشروح رجحت دلیلہ بقی الاول وھو مسلم ولا شك ولا یوجد الا فی احدی الصور الست وح یکون عدولا الی قولہ لاعنہ کما علمت
و ثانیا بوجہ فــــ اخر ارأیت ان قال
تو حد ہوگی اسی پرفتوی ہے خلاصہ لیکن تمام شروح میں تر جیح یافتہ قول امام ہی ہے تو اس پر فتوی اولی ہے یہ علامہ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا لیکن قہستانی میں مضمرات سے نقل ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے۔ اھ
علامہ شامی فرماتے ہیں انکے لفظ “ تمام شروح “ پر یہ استدارك ہے اس لئے کہ مضمرات بھی شرو ح میں سے ہے اس پر کلام یہ ہے کہ جو عامہ شرو ح میں ہے مقدم وہی ہوگا ۔
یہا ں کتب فتاوی نے فتوی قول صاحبین پر رکھا بعض معتمد شروح نے بھی ان کی موافقت کی مگر اسے قبول نہ کیا گیا اس لئے کہ عامہ شروح نے دلیل امام کو ترجیح دی ۔ رہ گئی پہلی صورت (کہ دیگر مشائخ بھی اس مفتی کے ہم نوا ہیں جس نے بتایا کہ فتوی امام کے علاوہ کسی اور کے قول پر ہے ) یہ بلا شبہ مسلم ہے اور اس کا وجود ان ہی چھ صورتوں میں سے کسی ایك میں ہوگا اس صورت میں خود قول امام کی جانب رجوع ہوتا ہے اس سے انحراف نہیں ہوتا جیسا کہ معلوم ہوا ۔
ثانیا : بطرز دیگر بتائے کہ اگر امام نے کوئی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحد الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱۹
ردالمحتار کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحد الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۴
ردالمحتار کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحد الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۴
الامام قولا وخالفہ احد صاحبیہ ولا روایۃ عن الاخر فافتی احد من المشائخ بقول الصاحب فان وافقہ الباقون فقد مر اوخالفوہ فظاھر وکذا ان خالف بعضھم ووافق بعضھم لمامر فی السابعۃ
اما ان لم یرد عن الباقیین شیئ وھی الصورۃ التی انکرنا وقوعھا فھل یجب ح اتباع تلك الفتوی ام لا علی الثانی این قولکم علینا اتباع ما صححوہ کمالو افتوا فی حیاتھم فان فتوی الحیاۃ واجبۃ العمل علی المستفتی وانکان المفتی واحدا لم یخالفہ غیرہ ولیس لہ التوقف عن قبولھا حتی یجتمعوا اویکثروا
وعلی الاول لم یجب العدول عن قول الامام الی قول صاحبہ الا لترجح رأی صاحبہ بانضمام رأی
با ت کہی او رصاحبین میں سے ایك نے ان کی مخالفت کی دو سرے سے کوئی روایت نہ آئی اب مشائخ میں سے کسی نے اس ایك صاحب کے قول پر فتوی دیا تو اگر باقی مشائخ نے بھی موافقت فرمائی تو اس کا بیان گزرا یا د یگر حضرات نے مخالفت فرمائی تو اس کا حال ظاہر ہے ۔ یوں ہی اگر بعض نے مخالفت کی اور بعض نے موافقت کی وجہ مقدمہ سابعہ میں بیان ہوئی
لیکن اگر با قی حضرات سے کچھ وارد ہی نہ ہو ا یہی وہ صورت ہے جس کے وقوع سے ہم نے انکار کیا تو اس وقت اس فتوے کا اتباع واجب ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی آپ کا وہ قول کہاں گیا کہ ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے مشائخ نے صحیح قرار دے دیا جیسے اس صورت میں ہوتا جب وہ ہمیں اپنی حیات میں فتوی دیتے اس لئے کہ زندگی کا فتوی مستفتی پر واجب العمل ہے اگرچہ مفتی ایك ہی ہو جس کا دوسرا کوئی مخالف نہ ہو اور مستفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس فتوے کو قبول کرنے سے تو قف کر ے یہاں تك کہ سب فتوی دینے والے مجتمع ہوجائیں یا کثیر ہوجائیں تب مانے۔
بر تقدیر اول (یعنی قول امام کو چھوڑ کر دیگر کو ترجیح دینے والے فتوے کی اتباع واجب ہے ) قول اما م چھوڑ کر ان کے شاگرد کے قول کو لینا کیوں واجب ہواصرف اس لئے کہ
اما ان لم یرد عن الباقیین شیئ وھی الصورۃ التی انکرنا وقوعھا فھل یجب ح اتباع تلك الفتوی ام لا علی الثانی این قولکم علینا اتباع ما صححوہ کمالو افتوا فی حیاتھم فان فتوی الحیاۃ واجبۃ العمل علی المستفتی وانکان المفتی واحدا لم یخالفہ غیرہ ولیس لہ التوقف عن قبولھا حتی یجتمعوا اویکثروا
وعلی الاول لم یجب العدول عن قول الامام الی قول صاحبہ الا لترجح رأی صاحبہ بانضمام رأی
با ت کہی او رصاحبین میں سے ایك نے ان کی مخالفت کی دو سرے سے کوئی روایت نہ آئی اب مشائخ میں سے کسی نے اس ایك صاحب کے قول پر فتوی دیا تو اگر باقی مشائخ نے بھی موافقت فرمائی تو اس کا بیان گزرا یا د یگر حضرات نے مخالفت فرمائی تو اس کا حال ظاہر ہے ۔ یوں ہی اگر بعض نے مخالفت کی اور بعض نے موافقت کی وجہ مقدمہ سابعہ میں بیان ہوئی
لیکن اگر با قی حضرات سے کچھ وارد ہی نہ ہو ا یہی وہ صورت ہے جس کے وقوع سے ہم نے انکار کیا تو اس وقت اس فتوے کا اتباع واجب ہے یا نہیں بر تقدیر ثانی آپ کا وہ قول کہاں گیا کہ ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے مشائخ نے صحیح قرار دے دیا جیسے اس صورت میں ہوتا جب وہ ہمیں اپنی حیات میں فتوی دیتے اس لئے کہ زندگی کا فتوی مستفتی پر واجب العمل ہے اگرچہ مفتی ایك ہی ہو جس کا دوسرا کوئی مخالف نہ ہو اور مستفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس فتوے کو قبول کرنے سے تو قف کر ے یہاں تك کہ سب فتوی دینے والے مجتمع ہوجائیں یا کثیر ہوجائیں تب مانے۔
بر تقدیر اول (یعنی قول امام کو چھوڑ کر دیگر کو ترجیح دینے والے فتوے کی اتباع واجب ہے ) قول اما م چھوڑ کر ان کے شاگرد کے قول کو لینا کیوں واجب ہواصرف اس لئے کہ
ھذا المفتی الیہ اذلیس ھذا الافتاء قضاء یرفع الخلاف بل ولا افتاء مفت لمن اتاہ من مستفت انما حاصلہ ان الرأی الفلانی ارجح عندی فاذن ترجح رأی احد الصاحبین بانضمام رأی الاخرا علی واعظم لان کلامنھما اعلم واقدم من جمیع من جاء بعدھما من المرجحین فکل ما خالف فیہ الامام صاحباہ وجب فیہ ترك قولہ الی قولھما وھو خلاف الاجماع
وثالثا علی فــــ التسلیم معکم ابن الشلبی وانظرو امن معنا اخر الکلام
قولہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسألۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ ۔
ان کے شاگرد کی رائے اس مفتی کی رائے سے مل کر راجح ہوگئی کیونکہ یہ فتوی کوئی اختلاف ختم کرنے والا فیصلہ قاضی نہیں بلکہ اس کی حیثیت اس افتا کی بھی نہیں جو آکر سوال کرنے والے کسی مستفتی کے لئے کسی مفتی سے صادر ہوا اس فتوے کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ فلاں رائے میرے نزدیك زیادہ راجح ہے جب ایسا ہے تو اگر صاحبین میں سے ایك صاحب کی رائے کے ساتھ دو سرے صاحب کی رائے بھی مل جائے تو اس کا راجح ہونا (کسی بعد کے مفتی کی رائے ملنے والی صورت کی بہ نسبت) زیادہ بالا تر اور عظیم تر ہوگا اس لئے کہ صاحبین میں سے ہر ایك اپنے بعد آنے والے تمام مرجحین سے زیادہ علم والے اور زیادہ مقدم ہیں تو یہ کہئے کہ جہاں بھی صاحبین نے امام کی مخالفت کی ہو وہاں امام کا قول چھوڑ کر صاحبین کا قول لینا واجب ہے یہ خلاف اجماع ہے (کوئی اس کا قائل نہیں )
ثالثا : بر تقدیر تسلیم آپ کے ساتھ صر ف ابن ا لشلبی ہیں او رآخر کلام میں دیکھئے ہمارے ساتھ کون لوگ ہیں۔
علامہ شامی : قاضی کو غیر امام کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں غیر امام کے قول کو تر جیح نہ دی گئی ہو او رخود امام ابو حنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر تر جیح ہو ۔
فــــ : معروضۃ علیہ
وثالثا علی فــــ التسلیم معکم ابن الشلبی وانظرو امن معنا اخر الکلام
قولہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسألۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ ۔
ان کے شاگرد کی رائے اس مفتی کی رائے سے مل کر راجح ہوگئی کیونکہ یہ فتوی کوئی اختلاف ختم کرنے والا فیصلہ قاضی نہیں بلکہ اس کی حیثیت اس افتا کی بھی نہیں جو آکر سوال کرنے والے کسی مستفتی کے لئے کسی مفتی سے صادر ہوا اس فتوے کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ فلاں رائے میرے نزدیك زیادہ راجح ہے جب ایسا ہے تو اگر صاحبین میں سے ایك صاحب کی رائے کے ساتھ دو سرے صاحب کی رائے بھی مل جائے تو اس کا راجح ہونا (کسی بعد کے مفتی کی رائے ملنے والی صورت کی بہ نسبت) زیادہ بالا تر اور عظیم تر ہوگا اس لئے کہ صاحبین میں سے ہر ایك اپنے بعد آنے والے تمام مرجحین سے زیادہ علم والے اور زیادہ مقدم ہیں تو یہ کہئے کہ جہاں بھی صاحبین نے امام کی مخالفت کی ہو وہاں امام کا قول چھوڑ کر صاحبین کا قول لینا واجب ہے یہ خلاف اجماع ہے (کوئی اس کا قائل نہیں )
ثالثا : بر تقدیر تسلیم آپ کے ساتھ صر ف ابن ا لشلبی ہیں او رآخر کلام میں دیکھئے ہمارے ساتھ کون لوگ ہیں۔
علامہ شامی : قاضی کو غیر امام کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں غیر امام کے قول کو تر جیح نہ دی گئی ہو او رخود امام ابو حنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر تر جیح ہو ۔
فــــ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۲۹ / ۱
اقــول : فــــ ۱ ھذا تعد فوق مامر فان مفادہ ان مالم یرجح فیہ دلیل الامام فللقاضی ومثلہ المفتی العدول عنہ الی قول غیرہ وان لم یذیل ایضا بترجیح فانہ بنی الحکم بعدم العدول علی وجود وعدم وجود ترجیح دلیلہ وعدم ترجیح قول غیرہ فمالم یجتمعا حل العدول ولم یقل باطلاقۃ الثقات العدول فانہ یشمل مااذارجعا اولم یرجع شیئ منھما والعمل فیھما بقول الامام لاشك مر ا لاول فی السابعۃ وقال
فــ ۲ سیدی ط فی زکاۃ الغنم مسألۃ صرف الہالك الی العفو من المعلوم انہ عند عدم التصحیح لا یعدل عن قول صاحب المذھب
اقول : پہلے جو گز ر چکا یہاں اس سے بھی آگے تجاوز کیا کیوں کہ اس کا مفاد یہ ہے کہ جہاں دلیل امام کو تر جیح نہ دی گئی وہاں قاضی اور اسی طرح مفتی کو قول امام سے دوسرے کی قول کی طر ف عدول جائز ہے اگرچہ اس دوسرے پر بھی ترجیح کا نشان نہ ہو یہ مفاد اس طر ح ہو ا کہ انہوں نے عدم عدول کے حکم کی بنیادایك وجود او رایك عدم پر رکھی ہے (۱) دلیل امام کی ترجیح کا وجود ہو (۲) او رقول غیر کی ترجیح کا عدم ہو تو جب تك دو نوں چیز یں جمع نہ ہوں عدول جائز ہوگا حالانکہ ثقات عدول (معتمد و مستند حضرات ) اس اطلاق کے قائل نہیں کیوں کہ ان دو صورتوں کو بھی شامل ہے (۱) قول امام اور قول غیر دونوں کو ترجیح ملی ہو (۲) دو نوں میں سے کسی کو ترجیح نہ دی گئی ہو بلاشبہ ان دونوں صورتوں میں قول امام پر ہی عمل ہوگا اول کا بیان مقدمہ ہفتم میں گزرا دو م سے متعلق ملاحظہ ہو سیدی طحطاوی باب زکاۃ الغنم میں مسئلہ صرف الہالك الی العفو کے تحت رقم طراز ہیں معلوم ہے کہ عدم تصحیح کی صورت میں صاحب مذہب کے قول سے عدول نہ ہوگا
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ و علی العلامۃ ابن الشبلی
فــــ ۲ : فائدہ : حیث لا تصحیح لایعدل عن قول الامام۔
فــ ۲ سیدی ط فی زکاۃ الغنم مسألۃ صرف الہالك الی العفو من المعلوم انہ عند عدم التصحیح لا یعدل عن قول صاحب المذھب
اقول : پہلے جو گز ر چکا یہاں اس سے بھی آگے تجاوز کیا کیوں کہ اس کا مفاد یہ ہے کہ جہاں دلیل امام کو تر جیح نہ دی گئی وہاں قاضی اور اسی طرح مفتی کو قول امام سے دوسرے کی قول کی طر ف عدول جائز ہے اگرچہ اس دوسرے پر بھی ترجیح کا نشان نہ ہو یہ مفاد اس طر ح ہو ا کہ انہوں نے عدم عدول کے حکم کی بنیادایك وجود او رایك عدم پر رکھی ہے (۱) دلیل امام کی ترجیح کا وجود ہو (۲) او رقول غیر کی ترجیح کا عدم ہو تو جب تك دو نوں چیز یں جمع نہ ہوں عدول جائز ہوگا حالانکہ ثقات عدول (معتمد و مستند حضرات ) اس اطلاق کے قائل نہیں کیوں کہ ان دو صورتوں کو بھی شامل ہے (۱) قول امام اور قول غیر دونوں کو ترجیح ملی ہو (۲) دو نوں میں سے کسی کو ترجیح نہ دی گئی ہو بلاشبہ ان دونوں صورتوں میں قول امام پر ہی عمل ہوگا اول کا بیان مقدمہ ہفتم میں گزرا دو م سے متعلق ملاحظہ ہو سیدی طحطاوی باب زکاۃ الغنم میں مسئلہ صرف الہالك الی العفو کے تحت رقم طراز ہیں معلوم ہے کہ عدم تصحیح کی صورت میں صاحب مذہب کے قول سے عدول نہ ہوگا
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ و علی العلامۃ ابن الشبلی
فــــ ۲ : فائدہ : حیث لا تصحیح لایعدل عن قول الامام۔
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب زکوٰۃ باب زکوۃ الغنم المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۴۰۲
قــولـہ فی المنحۃ اصحاب المتون قدیمشون علی غیر مذھب الامام
اقول : نعم فــــ ۱ فی احدی الوجوہ الستۃ وھو عین قول الامام اما فی غیرھا فـــ ۲ فان مشی بعضھم لم یقبل کما سیأتی فی مسألۃ الشفق ومثلھا تفسیرا لمصر کما یعلم من الغنیۃ شرح المنیۃ وقد فصلناہ فی فتاونا بما لا مزید علیہ اما ان یمشوا قاطبۃ علی خلاف قولہ من دون الحوامل الست فحاشا و من ادعی فلیبرز مثالا لہ ولو واحدا۔
قولہ واذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقھم فنحن نتبعھم اذھم اعلم ۔
علامہ شامی : منحۃ الخالق میں متون مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے ہیں۔
اقول : ہاں چھ۶ صورتوں میں سے کسی ایك میں ایسا کرتے ہیں یہ بعینہ قول امام ہوتا ہے ان کے علاوہ صورتوں میں اگر کوئی مصنف کسی دوسرے مذہب پر چلے تو قبول نہ کیا جائے گا جیسا کہ مسئلہ شفق میں اس کا بیان آرہا ہے اسی طر ح تفسیر “ مصر “ کا مسئلہ ہے جیسا کہ غنیہ شرح منیہ سے معلوم ہوتا ہے اور ہم نے اپنے فتا وی میں اسی کی اتنی تفصیل کی ہے جس پر اضافے کی گنجائش نہیں اب رہی یہ صورت کہ ان چھ اسباب کے بغیر تمام اصحاب متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں تو ایسا نہیں ہوسکتا اگر کوئی دعوی رکھتا ہے تو اس کی کوئی ایك ہی مثال پیش کردے علامہ شامی جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق میں شرط ہے قول اما م کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ و علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : فائدہ مشی متون علی خلاف قول الامام لا یقبل
اقول : نعم فــــ ۱ فی احدی الوجوہ الستۃ وھو عین قول الامام اما فی غیرھا فـــ ۲ فان مشی بعضھم لم یقبل کما سیأتی فی مسألۃ الشفق ومثلھا تفسیرا لمصر کما یعلم من الغنیۃ شرح المنیۃ وقد فصلناہ فی فتاونا بما لا مزید علیہ اما ان یمشوا قاطبۃ علی خلاف قولہ من دون الحوامل الست فحاشا و من ادعی فلیبرز مثالا لہ ولو واحدا۔
قولہ واذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقھم فنحن نتبعھم اذھم اعلم ۔
علامہ شامی : منحۃ الخالق میں متون مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے ہیں۔
اقول : ہاں چھ۶ صورتوں میں سے کسی ایك میں ایسا کرتے ہیں یہ بعینہ قول امام ہوتا ہے ان کے علاوہ صورتوں میں اگر کوئی مصنف کسی دوسرے مذہب پر چلے تو قبول نہ کیا جائے گا جیسا کہ مسئلہ شفق میں اس کا بیان آرہا ہے اسی طر ح تفسیر “ مصر “ کا مسئلہ ہے جیسا کہ غنیہ شرح منیہ سے معلوم ہوتا ہے اور ہم نے اپنے فتا وی میں اسی کی اتنی تفصیل کی ہے جس پر اضافے کی گنجائش نہیں اب رہی یہ صورت کہ ان چھ اسباب کے بغیر تمام اصحاب متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں تو ایسا نہیں ہوسکتا اگر کوئی دعوی رکھتا ہے تو اس کی کوئی ایك ہی مثال پیش کردے علامہ شامی جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق میں شرط ہے قول اما م کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ و علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : فائدہ مشی متون علی خلاف قول الامام لا یقبل
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
منحۃ الخالق علی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
منحۃ الخالق علی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
اقول : اولا ھو اعلم فــــ ۱ منھم ومن اعلم من اعلم من اعلم منھم فای الفریقین احق بالا تباع۔
وثانیا انظر الثانیۃ فــــ۲ الدلیل فی حقھم التفصیلی وقد فقدوہ فی حقنا الاجمالی وقد وجدناہ فکیف نتبعھم ونعدل من الدلیل الی فقدہ ۔
قولہ کیف یقال یجب علینا الافتاء بقول الامام لفقد الشرط وقد اقرانہ فقد الشرط ایضا فی حق المشائخ
اقول : شبھۃ فـــــ۳ کشفناھا فی الثالثۃ۔
قولہ فھل تراھم ارتکبوا منکرا ۔
اقول : فــــ ۴ مبنی علی الذھول عن فرق الموجب فی حقنا وحقھم اقول اولا : امام کو ان سے بھی زیادہ علم ہے او ران سے اعلم سے اعلم سے بھی زیادہ تو زیادہ قابل اعتماد کون ہے
ثانیا : مقدمہ دوم ملاحظہ ہو ان کے حق میں دلیل تفصیلی ہے جو انہیں نہ ملی اور ہمارے حق میں اجمالی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے تو کیسے ہم ان کی پیروی کریں اور دلیل چھوڑ کر فقدان دلیل کی طرف جائیں
علامہ شامی : یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دیناواجب ہے اس لئے کہ ہمارے حق میں (قول امام پر افتا ء کی) شرط مفقود ہے حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے ۔
اقول : یہ محض ایك شبہ ہے جسے ہم مقدمہ سوم میں منکشف کرآئےہیں۔ علامہ شامی : توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا
اقول : واجب کرنے والی چیز ہمارے حق میں اور ہے ان کے حق میں اور اعتراض مذکور اسی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معروضۃ علیہ
وثانیا انظر الثانیۃ فــــ۲ الدلیل فی حقھم التفصیلی وقد فقدوہ فی حقنا الاجمالی وقد وجدناہ فکیف نتبعھم ونعدل من الدلیل الی فقدہ ۔
قولہ کیف یقال یجب علینا الافتاء بقول الامام لفقد الشرط وقد اقرانہ فقد الشرط ایضا فی حق المشائخ
اقول : شبھۃ فـــــ۳ کشفناھا فی الثالثۃ۔
قولہ فھل تراھم ارتکبوا منکرا ۔
اقول : فــــ ۴ مبنی علی الذھول عن فرق الموجب فی حقنا وحقھم اقول اولا : امام کو ان سے بھی زیادہ علم ہے او ران سے اعلم سے اعلم سے بھی زیادہ تو زیادہ قابل اعتماد کون ہے
ثانیا : مقدمہ دوم ملاحظہ ہو ان کے حق میں دلیل تفصیلی ہے جو انہیں نہ ملی اور ہمارے حق میں اجمالی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے تو کیسے ہم ان کی پیروی کریں اور دلیل چھوڑ کر فقدان دلیل کی طرف جائیں
علامہ شامی : یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دیناواجب ہے اس لئے کہ ہمارے حق میں (قول امام پر افتا ء کی) شرط مفقود ہے حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے ۔
اقول : یہ محض ایك شبہ ہے جسے ہم مقدمہ سوم میں منکشف کرآئےہیں۔ علامہ شامی : توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا
اقول : واجب کرنے والی چیز ہمارے حق میں اور ہے ان کے حق میں اور اعتراض مذکور اسی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
منحۃ الخالق علٰی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
منحۃ الخالق علٰی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
منحۃ الخالق علٰی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
وان شئت الجمع مکان الفرق فالجامع ان کل من فارق الدلیل فقد اتی منکرا فدلیلنا قول امامنا وخلافنا لہ منکر ودلیلھم ماعن لھم فی المسألۃ فمصیرھم الیہ لاینکر ۔
قولہ وقد مشی علیہ الشیخ علاؤالدین ۔
اقول : انما فـــ۱ مشی فی صدرالکتاب وفی کتاب القضاء معا علی ان الفتوی علی قول الامام مطلقا کما سیأتی وقولہ اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ فما خوذ من التصحیح کما افد تموہ فی ردالمحتار وقد کان صدر کلام الدر ھذا وحاصل ماذکرہ الشیخ قاسم فی تصحیحہ الخ وقد علمت ماھو مراد التصحیح الصحیح والحمد لله علی حسن التنقیح ۔
فرق سے ذہول پر مبنی ہے اگر مقام فر ق کو جمع کرنا چاہیں تو جامع یہ ہے کہ جو بھی دلیل سے الگ ہوا وہ منکر وناروا کا مرتکب ہوا اب ہماری دلیل ہمارے اما م کا قول ہے او رہمارے لئے اس کی مخالفت ناروا ہے اور ان حضرات کی دلیل وہ ہے جو کسی مسئلہ میں ان پر منکشف ہو تو اس دلیل کی طرف ان کا رجوع نارو ا نہیں ۔
علامہ شامی : اسی پر شیخ علاء الدین گام زن ہیں
اقول : در مختار کے شروع میں اور کتاب القضاء میں دونوں جگہ وہ اسی پر گام زن ہیں کہ فتوی مطلقا قول امام پر ہے جیساکہ آگے ان کا کلام آرہا ہے رہی ان کی یہ عبارت “ اما نحن فعلینا اتباع مار جحوہ ہمیں تو اسی کی پیروی کرنی ہے جسے ان حضرات نے راجح قرار دیا “ تو یہ تصحیح علامہ قاسم سے ماخوذ ہے جیسا کہ رد المحتار میں آپ نے افادہ فرمایا خود درمحتار ابتدائے کلام اسی طر ح ہے اور اس کا حاصل جو شیخ قاسم نے انپی تصحیح میں بیان کیا الخ عبارت تصحیح کا صحیح مطلب کیا ہے یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے اس خوبی تنقیح پر ساری حمد خداہی کے لئے ہے ۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
قولہ وقد مشی علیہ الشیخ علاؤالدین ۔
اقول : انما فـــ۱ مشی فی صدرالکتاب وفی کتاب القضاء معا علی ان الفتوی علی قول الامام مطلقا کما سیأتی وقولہ اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ فما خوذ من التصحیح کما افد تموہ فی ردالمحتار وقد کان صدر کلام الدر ھذا وحاصل ماذکرہ الشیخ قاسم فی تصحیحہ الخ وقد علمت ماھو مراد التصحیح الصحیح والحمد لله علی حسن التنقیح ۔
فرق سے ذہول پر مبنی ہے اگر مقام فر ق کو جمع کرنا چاہیں تو جامع یہ ہے کہ جو بھی دلیل سے الگ ہوا وہ منکر وناروا کا مرتکب ہوا اب ہماری دلیل ہمارے اما م کا قول ہے او رہمارے لئے اس کی مخالفت ناروا ہے اور ان حضرات کی دلیل وہ ہے جو کسی مسئلہ میں ان پر منکشف ہو تو اس دلیل کی طرف ان کا رجوع نارو ا نہیں ۔
علامہ شامی : اسی پر شیخ علاء الدین گام زن ہیں
اقول : در مختار کے شروع میں اور کتاب القضاء میں دونوں جگہ وہ اسی پر گام زن ہیں کہ فتوی مطلقا قول امام پر ہے جیساکہ آگے ان کا کلام آرہا ہے رہی ان کی یہ عبارت “ اما نحن فعلینا اتباع مار جحوہ ہمیں تو اسی کی پیروی کرنی ہے جسے ان حضرات نے راجح قرار دیا “ تو یہ تصحیح علامہ قاسم سے ماخوذ ہے جیسا کہ رد المحتار میں آپ نے افادہ فرمایا خود درمحتار ابتدائے کلام اسی طر ح ہے اور اس کا حاصل جو شیخ قاسم نے انپی تصحیح میں بیان کیا الخ عبارت تصحیح کا صحیح مطلب کیا ہے یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے اس خوبی تنقیح پر ساری حمد خداہی کے لئے ہے ۔
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
ردالمحتار خطبۃ الکتاب احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۳
الدرالمختار خطبۃ الکتاب مطبع مجتبائی دھلی ۱ / ۱۵
ردالمحتار خطبۃ الکتاب احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۳
الدرالمختار خطبۃ الکتاب مطبع مجتبائی دھلی ۱ / ۱۵
اتینا علی ماوعدنا من سرد النقول علی اقصدنا۔
اقــول : وبالله التوفیق ما ھوالمقرر عند ناقد ظھر من مباحثنا وتفصیلہ ان المسألۃ اما ان یحدث فیھا شیئ من الحوامل الست اولا
علی الاول الحکم للحامل وھو قول الامام الضروری المعتمد علی الاطلاق سواء کان قولہ الصوری بل وقول اصحابہ وترجیحات المرجحین موافقالہ اولا علما منا ان لوحدث ھذا فی زمانھم لحکموا بہ فقول الامام الضروری شیئ لانظر معہ الی روایۃ ولا ترجیح بل ھوالقول الضروری للمرجحین ایضا فـــــ ۱ولا یتقید ذلك بزمان دون زمان قال فی شرح العقود فان قلت العرف یتغیر مرۃ بعد مرۃ فلو حدث عرف اخرلم یقع فی الزمان السابق فھل یسوغ للمفتی مخالفۃ المنصوص
اب ہم اپنے مقصودوموعود ذکر نقول ونصوص پر آتے ہیں۔
اقول : وبالله التوفیق ہمارے نزدیك جو مقرراور طے شدہ ہے وہ ہماری بحثوں سے ظاہر ہوگیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسئلہ میں ان چھ اسباب تغیر سے کوئی رونما ہے یا نہیں
اور برتقدیر اول حکم اس سبب کے تحت ہوگا اور یہ امام کاقول ضروری ہوگا جس پر مطلقا اعتماد ہے خواہ ان کا قول صوری بلکہ ان کے اصحاب کا قول اور مرجحین کی ترجیحات بھی اس کے موافق ہوں یا نہ ہوں کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہے اگر یہ سبب ان حضرات کے زمانے میں رونما ہوتا وہ بھی اسی پر حکم دیتے اما م کا قول ضروری ایسا امر ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ روایت پر نظر ہوگی نہ تر جیح پر بلکہ وہی مرجحین کا بھی قول ضروری ہے اس میں کسی زمانے کی پابندی بھی نہیں (فلاں زمانے میں سبب رونما ہو تو قول ضروری ہوگا اور فلاں زمانے میں نہ ہوگا ) علامہ شامی کی شر ح عقود میں ہے اگر یہ سوال ہو کہ عرف با ربار بدلتا رہتا ہے اگر کوئی ایسا عرف پیدا ہوجو زمانہ سابق میں نہ تھا تو کیا مفتی کے لئے یہ رواہے کہ منصوص کی مخالفت کرے
فــــ : حدث وحکم ضروری لاحدی الحوامل الست لایتقید بزمان ۔
اقــول : وبالله التوفیق ما ھوالمقرر عند ناقد ظھر من مباحثنا وتفصیلہ ان المسألۃ اما ان یحدث فیھا شیئ من الحوامل الست اولا
علی الاول الحکم للحامل وھو قول الامام الضروری المعتمد علی الاطلاق سواء کان قولہ الصوری بل وقول اصحابہ وترجیحات المرجحین موافقالہ اولا علما منا ان لوحدث ھذا فی زمانھم لحکموا بہ فقول الامام الضروری شیئ لانظر معہ الی روایۃ ولا ترجیح بل ھوالقول الضروری للمرجحین ایضا فـــــ ۱ولا یتقید ذلك بزمان دون زمان قال فی شرح العقود فان قلت العرف یتغیر مرۃ بعد مرۃ فلو حدث عرف اخرلم یقع فی الزمان السابق فھل یسوغ للمفتی مخالفۃ المنصوص
اب ہم اپنے مقصودوموعود ذکر نقول ونصوص پر آتے ہیں۔
اقول : وبالله التوفیق ہمارے نزدیك جو مقرراور طے شدہ ہے وہ ہماری بحثوں سے ظاہر ہوگیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسئلہ میں ان چھ اسباب تغیر سے کوئی رونما ہے یا نہیں
اور برتقدیر اول حکم اس سبب کے تحت ہوگا اور یہ امام کاقول ضروری ہوگا جس پر مطلقا اعتماد ہے خواہ ان کا قول صوری بلکہ ان کے اصحاب کا قول اور مرجحین کی ترجیحات بھی اس کے موافق ہوں یا نہ ہوں کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہے اگر یہ سبب ان حضرات کے زمانے میں رونما ہوتا وہ بھی اسی پر حکم دیتے اما م کا قول ضروری ایسا امر ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ روایت پر نظر ہوگی نہ تر جیح پر بلکہ وہی مرجحین کا بھی قول ضروری ہے اس میں کسی زمانے کی پابندی بھی نہیں (فلاں زمانے میں سبب رونما ہو تو قول ضروری ہوگا اور فلاں زمانے میں نہ ہوگا ) علامہ شامی کی شر ح عقود میں ہے اگر یہ سوال ہو کہ عرف با ربار بدلتا رہتا ہے اگر کوئی ایسا عرف پیدا ہوجو زمانہ سابق میں نہ تھا تو کیا مفتی کے لئے یہ رواہے کہ منصوص کی مخالفت کرے
فــــ : حدث وحکم ضروری لاحدی الحوامل الست لایتقید بزمان ۔
واتباع المعروف الحادث قلت نعم فان المتأخرین الذین خالفوا المنصوص فی المسائل المارۃ لم یخالفوہ الا لحدوث عرف بعد زمن الامام فللمفتی اتباع عرفہ الحادث فی الالفاظ العرفیۃ وکذا فی الاحکام التی بناھا المجتہد علی ما کان فی عرف زمانہ وتغیر عرفہ الی عرف اخر اقتداء بھم لکن بعد ان یکون المفتی ممن لہ رأی ونظر صحیح ومعرفۃ بقواعد الشرع حتی یمیز بین العرف الذی یجوز بناء الاحکام علیہ وبین غیرہ
قال وکتبت فی ردالمحتارفی باب القسامۃ فیما لوادعی الولی علی رجل من غیر اھل المحلۃ وشھد اثنان منھم علیہ لم تقبل عندہ وقالا تقبل الخ نقل السید الحموی عن العلامۃ المقدسی انہ قال توقفت عن الفتوی بقول الامام ومنعت من اشاعتہ لما یترتب علیہ من الضرر العام فان من عرفہ من المتمر دین یتجاسر علی قتل
اور عرف جدید کا اتبا ع کر ے میں جواب دو ں گا کہ ہا ں اس لئے کہ گزشتہ مسائل میں جن متا خرین نے منصوص کی مخالفت کی ہے ان کی مخالفت کی وجہ یہی ہے کہ زمانہ امام کے بعد کوئی اور عرف رونما ہوگیا تو ان کی اقتدا ء میں مفتی کا بھی یہ حق ہے کہ عرفی الفاظ میں اپنے عرف جدید کا اتباع کرے اسی طر ح ان احکام میں بھی جن کی بنیاد مجتہد نے اپنے زمانے کے عرف پر رکھی تھی او ر وہ عرف کسی اور عرف سے بدل گیا لیکن یہ حق اس وقت ملے گا جب مفتی صحیح رائے و نظر اور قواعد شرعیہ کی معرفت کا حامل ہو تا کہ یہ تمیز کرسکے کہ کس عرف پر احکام کی بنیاد ہوسکتی ہے اور کس پر نہیں ہوسکتی ۔
فرماتے ہیں : میں نے رد المحتار باب القسامۃ میں اس مسئلہ کے تحت کہ اگر غیر اہل محلہ کے کسی شخص پر قتل کا دعوی ہوا اور اہل محلہ میں سے دو مردوں نے اس پر گواہی دی تو حضرت امام کے نزدیك یہ گواہی قبول نہ کی جائے گی اور صاحبین فرماتے ہیں کہ قبول کی جائے گی الخ یہ لکھا ہے کہ سید حموی علامہ مقدسی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کابیان ہے کہ میں نے قول امام پر فتوی دینے سے تو قف کیا اور اس قول کی اشاعت سے منع کیا کیوں کہ اس سے عام نقصان وضرر پیدا ہوتا اس لئے کہ جو سر کش اسے جان لے گا وہ ان محلوں میں جو
قال وکتبت فی ردالمحتارفی باب القسامۃ فیما لوادعی الولی علی رجل من غیر اھل المحلۃ وشھد اثنان منھم علیہ لم تقبل عندہ وقالا تقبل الخ نقل السید الحموی عن العلامۃ المقدسی انہ قال توقفت عن الفتوی بقول الامام ومنعت من اشاعتہ لما یترتب علیہ من الضرر العام فان من عرفہ من المتمر دین یتجاسر علی قتل
اور عرف جدید کا اتبا ع کر ے میں جواب دو ں گا کہ ہا ں اس لئے کہ گزشتہ مسائل میں جن متا خرین نے منصوص کی مخالفت کی ہے ان کی مخالفت کی وجہ یہی ہے کہ زمانہ امام کے بعد کوئی اور عرف رونما ہوگیا تو ان کی اقتدا ء میں مفتی کا بھی یہ حق ہے کہ عرفی الفاظ میں اپنے عرف جدید کا اتباع کرے اسی طر ح ان احکام میں بھی جن کی بنیاد مجتہد نے اپنے زمانے کے عرف پر رکھی تھی او ر وہ عرف کسی اور عرف سے بدل گیا لیکن یہ حق اس وقت ملے گا جب مفتی صحیح رائے و نظر اور قواعد شرعیہ کی معرفت کا حامل ہو تا کہ یہ تمیز کرسکے کہ کس عرف پر احکام کی بنیاد ہوسکتی ہے اور کس پر نہیں ہوسکتی ۔
فرماتے ہیں : میں نے رد المحتار باب القسامۃ میں اس مسئلہ کے تحت کہ اگر غیر اہل محلہ کے کسی شخص پر قتل کا دعوی ہوا اور اہل محلہ میں سے دو مردوں نے اس پر گواہی دی تو حضرت امام کے نزدیك یہ گواہی قبول نہ کی جائے گی اور صاحبین فرماتے ہیں کہ قبول کی جائے گی الخ یہ لکھا ہے کہ سید حموی علامہ مقدسی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کابیان ہے کہ میں نے قول امام پر فتوی دینے سے تو قف کیا اور اس قول کی اشاعت سے منع کیا کیوں کہ اس سے عام نقصان وضرر پیدا ہوتا اس لئے کہ جو سر کش اسے جان لے گا وہ ان محلوں میں جو
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۵
النفس فی المحلات الخالیۃ من غیر اھلھا معتمدا علی عدم قبول شہادتھم علیہ حتی قلت ینبغی الفتوی علی قولھما لاسیما والاحکام تختلف باختلاف الایام انتھی
وقالوا اذا زرع صاحب الارض ارضہ ما ھو ادنی مع قدرتہ علی الاعلی وجب علیہ خراج الاعلی قالوا وھذا یعلم ولا یفتی بہ کیلا یتجرأ الظلمۃ علی اخذ اموال الناس قال فی العنایۃ و رد بانہ کیف یجوز الکتمان ولواخذوا کان فی موضعہ لکونہ واجبا واجیب بانا لوافتینا بذلك لادعی کل ظالم فی ارض لیس شأنھا ذلك انھا قبل ھذا کانت تزرع الزعفران مثلا فیاخذ خراج ذلك وھو ظلم وعدوان انتھی
وکذا فی فتح القدیر قالوا لایفتی بھذا لما فیہ من تسلط الظلمۃ علی اموال المسلمین اذ یدعی کل ظالم ان الارض تصلح لزراعۃ الزعفران ونحوہ
غیر اہل محلہ سے خالی ہوں جان مارنے میں جری اور بے باك ہوجائے گا اس اعتماد پر کہ اس کے خلاف خود اہل محلہ کی شہادت قبول نہ ہوگی یہاں تك کہ میں نے یہ کہا کہ فتوی قول صاحبین پر ہونا چاہئے خصوصا جب کہ احکام زمانے کے بد لنے سے بدل جاتے ہیں انتہی۔
ائمہ نے فرمایا : جب زمین والا اپنی زمین کے اندر اعلی چیز کی کاشت پر قدرت رکھنے کے با وجود ادنی چیز کی کا شت کرے تو اس کے اوپر اعلی کا خراج واجب ہوگا علماء نے فرمایا : یہ حکم جاننے کا ہے فتوی دینے کا نہیں تاکہ ظالم حکام لوگو ں کا مال لینے کی جرات نہ کریں عنایہ میں ہے اس قول پر یہ رد کیا گیا ہے کہ علم کا چھپا نا کیونکر جائز ہوگا جب کہ وہ اگر لے ہی لیں تو بجا ہوگا کیوں کہ یہی واجب ہے ا س کے جواب میں یہ کہا گیا کہ اگر ہم اس پر فتوی دے دیں تو ہر ظالم ایسی زمین جو اعلی کے قابل نہ ہو یہ دعوی کرتے ہوئے کہ پہلے تو اس میں زعفران وغیرہ کی کاشت ہوتی تھی زعفران کا خراج وصول کرلے گا اور یہ ظلم وعدوان ہوگا انتہی ۔
اسی طرح فتح القدیر میں ہے کہ اس پر فتوی نہیں دیا جاتا کیو نکہ اس کے تحت مسلمانوں کے مال پر ظالموں کی چیرہ دستی ہوگی اس لئے کہ ہر ظالم دعوی کرے گا کہ یہ زمین زعفران وغیرہ بوئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے او ر اس ظلم کا
وقالوا اذا زرع صاحب الارض ارضہ ما ھو ادنی مع قدرتہ علی الاعلی وجب علیہ خراج الاعلی قالوا وھذا یعلم ولا یفتی بہ کیلا یتجرأ الظلمۃ علی اخذ اموال الناس قال فی العنایۃ و رد بانہ کیف یجوز الکتمان ولواخذوا کان فی موضعہ لکونہ واجبا واجیب بانا لوافتینا بذلك لادعی کل ظالم فی ارض لیس شأنھا ذلك انھا قبل ھذا کانت تزرع الزعفران مثلا فیاخذ خراج ذلك وھو ظلم وعدوان انتھی
وکذا فی فتح القدیر قالوا لایفتی بھذا لما فیہ من تسلط الظلمۃ علی اموال المسلمین اذ یدعی کل ظالم ان الارض تصلح لزراعۃ الزعفران ونحوہ
غیر اہل محلہ سے خالی ہوں جان مارنے میں جری اور بے باك ہوجائے گا اس اعتماد پر کہ اس کے خلاف خود اہل محلہ کی شہادت قبول نہ ہوگی یہاں تك کہ میں نے یہ کہا کہ فتوی قول صاحبین پر ہونا چاہئے خصوصا جب کہ احکام زمانے کے بد لنے سے بدل جاتے ہیں انتہی۔
ائمہ نے فرمایا : جب زمین والا اپنی زمین کے اندر اعلی چیز کی کاشت پر قدرت رکھنے کے با وجود ادنی چیز کی کا شت کرے تو اس کے اوپر اعلی کا خراج واجب ہوگا علماء نے فرمایا : یہ حکم جاننے کا ہے فتوی دینے کا نہیں تاکہ ظالم حکام لوگو ں کا مال لینے کی جرات نہ کریں عنایہ میں ہے اس قول پر یہ رد کیا گیا ہے کہ علم کا چھپا نا کیونکر جائز ہوگا جب کہ وہ اگر لے ہی لیں تو بجا ہوگا کیوں کہ یہی واجب ہے ا س کے جواب میں یہ کہا گیا کہ اگر ہم اس پر فتوی دے دیں تو ہر ظالم ایسی زمین جو اعلی کے قابل نہ ہو یہ دعوی کرتے ہوئے کہ پہلے تو اس میں زعفران وغیرہ کی کاشت ہوتی تھی زعفران کا خراج وصول کرلے گا اور یہ ظلم وعدوان ہوگا انتہی ۔
اسی طرح فتح القدیر میں ہے کہ اس پر فتوی نہیں دیا جاتا کیو نکہ اس کے تحت مسلمانوں کے مال پر ظالموں کی چیرہ دستی ہوگی اس لئے کہ ہر ظالم دعوی کرے گا کہ یہ زمین زعفران وغیرہ بوئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے او ر اس ظلم کا
حوالہ / References
شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۷
شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۶ ، و ۴۷
شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۶ ، و ۴۷
وعلاجہ صعب انتھی فقد ظھرلك ان جمود المفتی او القاضی علی ظاھر المنقول مع ترك العرف والقرائن الواضحۃ والجھل باحوال الناس یلزم منہ تضییع حقوق کثیرۃ وظلم خلق کثیرین اھ
اقــول : ومن ذلك افتاء فــــــ السید بنقل انقاض مسجد خرب ما حولہ واستغنی عنہ الی مسجد اخر
قال فی ردالمحتار وقد وقعت حادثۃ سئلت عنھا فی امیر اراد ان ینقل بعض احجار مسجد خراب فی سفح قاسیون بدمشق لیبلط بھا صحن الجامع الاموی فافتیت بعدم الجواز متابعۃ للشر نبلالی ثم بلغنی ان بعض المتغلبین اخذ تلك الاحجار لنفسہ
علاج دشوارہے ۔ انتہی اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ اگر مفتی یا قاضی عرف او رقرائن واضحہ چھوڑ کر او رلوگو ں کے حالات سے بے خبر ہو کر نقل شدہ حکم کے ظاہر پر جمود اختیار کر لے تو اس سے بہت سے حقوق کی بر بادی اور بے شمار مخلوق پر ظلم وزیادتی لازم آئے گی اھ۔
اقول : اسی میں سے یہ بھی ہے کہ علامہ شامی نے فتوی دیا کہ ایسی مسجد جس کے ارد گر د آبادی نہ رہی اور اس کے سامان بے کار ہو گئے جن کی اب ضرورت نہ رہی تو وہ دوسری مسجدمیں دی جاسکتے ہیں ۔
رد المحتار میں فرماتے ہیں : ایك نیا مسئلہ درپیش آیا جس سے متعلق مجھ سے یہ استفتاہوا کہ دمشق کے اندر جبل قاسیون کے دامن میں ایك ویران مسجد ہے جس کے کچھ پتھرو ں کو امیر جامع اموی کے صحن میں فر ش بنانے کی خاطر لے جانا چاہتا ہے میں نے علامہ شرنبلالی کی متا بعت میں فتوی دیاکہ ناجائز ہے کچھہ دنوں بعدمجھے معلوم ہواکہ ایك چیرہ دست ظالم ان پتھروں کو اپنے لئے
فـــ : مسئلہ : جو مسجد ویران ہو اور اس کی آبادی کی کوئی صورت نہ ہو اور اس کے آلات کی حفاظت نہ ہو سکے تو اب فتوی اس پر ہے کہ اس کے کڑی تختے وغیرہ دوسری مسجد میں دیے جاسکتے ہیں ۔
اقــول : ومن ذلك افتاء فــــــ السید بنقل انقاض مسجد خرب ما حولہ واستغنی عنہ الی مسجد اخر
قال فی ردالمحتار وقد وقعت حادثۃ سئلت عنھا فی امیر اراد ان ینقل بعض احجار مسجد خراب فی سفح قاسیون بدمشق لیبلط بھا صحن الجامع الاموی فافتیت بعدم الجواز متابعۃ للشر نبلالی ثم بلغنی ان بعض المتغلبین اخذ تلك الاحجار لنفسہ
علاج دشوارہے ۔ انتہی اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ اگر مفتی یا قاضی عرف او رقرائن واضحہ چھوڑ کر او رلوگو ں کے حالات سے بے خبر ہو کر نقل شدہ حکم کے ظاہر پر جمود اختیار کر لے تو اس سے بہت سے حقوق کی بر بادی اور بے شمار مخلوق پر ظلم وزیادتی لازم آئے گی اھ۔
اقول : اسی میں سے یہ بھی ہے کہ علامہ شامی نے فتوی دیا کہ ایسی مسجد جس کے ارد گر د آبادی نہ رہی اور اس کے سامان بے کار ہو گئے جن کی اب ضرورت نہ رہی تو وہ دوسری مسجدمیں دی جاسکتے ہیں ۔
رد المحتار میں فرماتے ہیں : ایك نیا مسئلہ درپیش آیا جس سے متعلق مجھ سے یہ استفتاہوا کہ دمشق کے اندر جبل قاسیون کے دامن میں ایك ویران مسجد ہے جس کے کچھ پتھرو ں کو امیر جامع اموی کے صحن میں فر ش بنانے کی خاطر لے جانا چاہتا ہے میں نے علامہ شرنبلالی کی متا بعت میں فتوی دیاکہ ناجائز ہے کچھہ دنوں بعدمجھے معلوم ہواکہ ایك چیرہ دست ظالم ان پتھروں کو اپنے لئے
فـــ : مسئلہ : جو مسجد ویران ہو اور اس کی آبادی کی کوئی صورت نہ ہو اور اس کے آلات کی حفاظت نہ ہو سکے تو اب فتوی اس پر ہے کہ اس کے کڑی تختے وغیرہ دوسری مسجد میں دیے جاسکتے ہیں ۔
حوالہ / References
شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۷
فندمت علی ما افتیت بہ اھ
ومـن ذلك فـــ افتاء جد المقدسی بجواز اخذ الحق من خلاف جنسہ حذار تضییع الحقوق قال فی ردالمحتار قال القھستانی وفیہ ایماء الی ان لہ ان یأخذ من خلاف جنسہ عند المجانسۃ فی المالیۃ وھذا اوسع فیجوز الاخذ بہ وان لم یکن مذھبنا فان الانسان یعذر فی العمل بہ عندالضرورۃ کما فی الزا ھدی
اھ قلت وھذا ما قالوا انہ لامستندلہ لکن رأیت فی شرح نظم الکنز للمقدسی من کتاب الحجر قال ونقل
اٹھالے گیا یہ سن کر اپنے فتوے پر ندامت ہوئی اھ۔
اسی میں سے یہ بھی ہے کہ علامہ مقدسی کے نانا نے بربادی حقوق سے بچانے کے لئے یہ فتوی دیاکہ صاحب حق اپنا حق خلاف جنس سے لے سکتا ہے (مثلا کسی ظالم نے کسی کے سو روپے دبالئے اور ملنے کی امید نہیں تو مظلوم بجائے سو روپے کے اتنے ہی کی کوئی او رچیز جو ظالم کے مال سے ہاتھ آئے لے سکتا ہے )
رد المحتار میں ہے قہستانی نے کہا اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ خلاف جنس سے بھی لے سکتا ہے جب کہ مالیت یکسا ں ہو اس حکم میں زیادہ گنجائش ہے تو ہمارے مذہب میں اگرچہ یہ حکم نہیں مگر اسے لیا جاسکتا ہے اس لئے کہ انسا ن وقت ضرورت اس پر عمل کرلینے میں معذور ہے جیساکہ زاہد ی میں ہے اھ میں کہتا ہوں اس حکم سے متعلق لوگو ں نے کہا کہ اس کی کوئی سند نہیں لیکن میں نے علامہ مقدسی کی شرح نظم الکنز کتاب الحجر میں دیکھا وہ لکھتے ہیں کہ میرے
فـــ : مسئلہ : جس کے کسی پر مثلا سو روپے آتے ہوں اور اس نے دبالئے یا اور کسی وجہ سے ہوئے اور اسے اس سے روپیہ ملنے کی امید نہیں تو سو روپے کی مقدار تك اس کا جو مال ملے لے سکتا ہے آج کل اس پر فتوی دیا گیا ہے مگر سچے دل سے بازار کے بھاؤ سے سو روپے ہی کا مال ہو زیادہ ایك پیسہ کا ہو تو حرام در حرام ہے۔
ومـن ذلك فـــ افتاء جد المقدسی بجواز اخذ الحق من خلاف جنسہ حذار تضییع الحقوق قال فی ردالمحتار قال القھستانی وفیہ ایماء الی ان لہ ان یأخذ من خلاف جنسہ عند المجانسۃ فی المالیۃ وھذا اوسع فیجوز الاخذ بہ وان لم یکن مذھبنا فان الانسان یعذر فی العمل بہ عندالضرورۃ کما فی الزا ھدی
اھ قلت وھذا ما قالوا انہ لامستندلہ لکن رأیت فی شرح نظم الکنز للمقدسی من کتاب الحجر قال ونقل
اٹھالے گیا یہ سن کر اپنے فتوے پر ندامت ہوئی اھ۔
اسی میں سے یہ بھی ہے کہ علامہ مقدسی کے نانا نے بربادی حقوق سے بچانے کے لئے یہ فتوی دیاکہ صاحب حق اپنا حق خلاف جنس سے لے سکتا ہے (مثلا کسی ظالم نے کسی کے سو روپے دبالئے اور ملنے کی امید نہیں تو مظلوم بجائے سو روپے کے اتنے ہی کی کوئی او رچیز جو ظالم کے مال سے ہاتھ آئے لے سکتا ہے )
رد المحتار میں ہے قہستانی نے کہا اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ خلاف جنس سے بھی لے سکتا ہے جب کہ مالیت یکسا ں ہو اس حکم میں زیادہ گنجائش ہے تو ہمارے مذہب میں اگرچہ یہ حکم نہیں مگر اسے لیا جاسکتا ہے اس لئے کہ انسا ن وقت ضرورت اس پر عمل کرلینے میں معذور ہے جیساکہ زاہد ی میں ہے اھ میں کہتا ہوں اس حکم سے متعلق لوگو ں نے کہا کہ اس کی کوئی سند نہیں لیکن میں نے علامہ مقدسی کی شرح نظم الکنز کتاب الحجر میں دیکھا وہ لکھتے ہیں کہ میرے
فـــ : مسئلہ : جس کے کسی پر مثلا سو روپے آتے ہوں اور اس نے دبالئے یا اور کسی وجہ سے ہوئے اور اسے اس سے روپیہ ملنے کی امید نہیں تو سو روپے کی مقدار تك اس کا جو مال ملے لے سکتا ہے آج کل اس پر فتوی دیا گیا ہے مگر سچے دل سے بازار کے بھاؤ سے سو روپے ہی کا مال ہو زیادہ ایك پیسہ کا ہو تو حرام در حرام ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۷۲
جد والدی لامہ الجمال الاشقر فی شرحہ للقدوری ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان لا سیما فی دیارنا فی مداومتھم للعقوق اھ
ومن ذلك فـــ افتائی مرارا بعدم انفساخ نکاح امرأۃ مسلم بارتدادھا لما رأیت من تجاسرھن مبادرۃ الی قطع العصمۃ مع عدم امکان استرقاقھن فی بلادنا ولا ضربھن وجبرھن علی الاسلام کما بینتہ فی السیر من فتا وینا وکم لہ من نظیر
وعلی الثانی ان لم تکن فیھا روایۃ عن الامام فخارج عما نحن فیہ والد کے نانا جمال اشقر نے اپنی شرح قدوری میں نقل کیا ہے کہ خلاف جنس سے نہ لینے کاحکم ان حضرات کے دور میں تھا کیوں کہ اس وقت حقوق کے معاملے میں شریعت کی فرمانبرداری ہوتی تھی اور آج فتوی اس پر ہے کہ جب قدرت مل جائے تو کسی بھی مال سے لینا جائز ہے خصوصا ہمارے دیا ر میں۔ کیونکہ اب پیہم نافرمانی ہو رہی ہے اھ۔
اسی میں سے یہ بھی ہے کہ میں نے با رہا فتوی دیا کہ کسی مسلمان کی بیوی مرتد ہوجائے تونکاح سے نہ نکلے گی کیوں کہ میں نے یہ دیکھا کہ رشتہ نکاح منقطع کرنے کی جانب پیش قدمی میں ان کے اندر ارتداد کی جسارت پیدا ہوجاتی ہے اور ہمارے بلاد میں نہ انہیں با ند ی بنایا جاسکتا ہے نہ مار پیٹ کر اسلام لا نے پر مجبور کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب السیرمیں بیان کیا ہے اس کی دوسری بہت سی نظیریں ہیں ۔
برتقدیر ثانی : (اس مسئلہ میں اسباب ستہ میں سے کوئی سبب نہیں) اگر اس میں امام سے کوئی روایت ہی نہ آئی تو یہ صورت ہمارے
فـــ : مسئلہ : اب فتوی اس پر ہے کہ مسلمان عورت معاذالله مرتد ہوکر بھی نکاح سے نہیں نکل سکتی وہ بدستور اپنے شوہر مسلمان کے نکاح میں ہے مسلمان ہوکر یا بلااسلام دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی ۔
ومن ذلك فـــ افتائی مرارا بعدم انفساخ نکاح امرأۃ مسلم بارتدادھا لما رأیت من تجاسرھن مبادرۃ الی قطع العصمۃ مع عدم امکان استرقاقھن فی بلادنا ولا ضربھن وجبرھن علی الاسلام کما بینتہ فی السیر من فتا وینا وکم لہ من نظیر
وعلی الثانی ان لم تکن فیھا روایۃ عن الامام فخارج عما نحن فیہ والد کے نانا جمال اشقر نے اپنی شرح قدوری میں نقل کیا ہے کہ خلاف جنس سے نہ لینے کاحکم ان حضرات کے دور میں تھا کیوں کہ اس وقت حقوق کے معاملے میں شریعت کی فرمانبرداری ہوتی تھی اور آج فتوی اس پر ہے کہ جب قدرت مل جائے تو کسی بھی مال سے لینا جائز ہے خصوصا ہمارے دیا ر میں۔ کیونکہ اب پیہم نافرمانی ہو رہی ہے اھ۔
اسی میں سے یہ بھی ہے کہ میں نے با رہا فتوی دیا کہ کسی مسلمان کی بیوی مرتد ہوجائے تونکاح سے نہ نکلے گی کیوں کہ میں نے یہ دیکھا کہ رشتہ نکاح منقطع کرنے کی جانب پیش قدمی میں ان کے اندر ارتداد کی جسارت پیدا ہوجاتی ہے اور ہمارے بلاد میں نہ انہیں با ند ی بنایا جاسکتا ہے نہ مار پیٹ کر اسلام لا نے پر مجبور کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب السیرمیں بیان کیا ہے اس کی دوسری بہت سی نظیریں ہیں ۔
برتقدیر ثانی : (اس مسئلہ میں اسباب ستہ میں سے کوئی سبب نہیں) اگر اس میں امام سے کوئی روایت ہی نہ آئی تو یہ صورت ہمارے
فـــ : مسئلہ : اب فتوی اس پر ہے کہ مسلمان عورت معاذالله مرتد ہوکر بھی نکاح سے نہیں نکل سکتی وہ بدستور اپنے شوہر مسلمان کے نکاح میں ہے مسلمان ہوکر یا بلااسلام دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۰۰
ولا شك ان الرجوع اذ ذاك المجتہدین فی المذھب وانکانت فاما مختلفۃ عنہ اولا
علی الاول الرجوع الیھم وکیف ماکان لایکون خروجا عن قولہ رضی الله تعالی عنہ ولا اعنی بالاختلاف مجیئ النوادر علی خلاف الظاھر فان ماخرج فــــ عن ظاھر الروایۃ مرجوع عنہ کما نص علیہ البحر والخیر والشامی وغیرھم وما رجع عنہ لم یبق قولا لہ فتثبت ۔
وعلی الثانی اما وافقہ صاحباہ اواحدھما اوخالفاہ
علی الاول العمل بقولہ قطعا ولا یجوز لمجتھد فی المذھب
مبحث سے خارج ہے اور بلاشبہ اس صورت میں مجتہدین فی المذہب کی جانب رجوع ہوگا اگر روایت ہے تو اما م سے روایت مختلف آئی ہے یا بلا اختلاف آئی ہے پہلی صورت میں رجوع ان ہی حضرات کی جانب ہوگا اور جیسے بھی ہو قول امام رضی اللہ تعالی عنہسے خروج نہ ہوگا ۔ او راختلاف سے میری مراد یہ نہیں کہ روایات نوادر ظاہر الروایہ کے خلاف آئی ہو اس لئے کہ جو ظاہرالروایہ سے خارج ہے مرجوع عنہ ہے (اس سے خود امام نے رجوع کرلیا )جیسا کہ بحر خیر رملی شامی وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے او رامام نے جس سے رجوع کرلیا وہ ان کا قول نہ رہ گیا اس تحقیق پر ثابت قدم رہو۔
بصورت دوم(جب کہ روایت امام سے بلا اختلاف آئی ہے) (۱)ــــ یا تو صاحبین امام کے موافق ہوں گے (۲)یا صرف ایك صاحب موافق ہوں گے (۳) یا دو نوں حضرات مخالف ہونگے ۔ پہلی صورت میں قطعا قول امام پر عمل ہوگا اور کسی مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی
فــــ : ماخرج عن ظاھر الروایۃ فھو مرجوع عنہ
علی الاول الرجوع الیھم وکیف ماکان لایکون خروجا عن قولہ رضی الله تعالی عنہ ولا اعنی بالاختلاف مجیئ النوادر علی خلاف الظاھر فان ماخرج فــــ عن ظاھر الروایۃ مرجوع عنہ کما نص علیہ البحر والخیر والشامی وغیرھم وما رجع عنہ لم یبق قولا لہ فتثبت ۔
وعلی الثانی اما وافقہ صاحباہ اواحدھما اوخالفاہ
علی الاول العمل بقولہ قطعا ولا یجوز لمجتھد فی المذھب
مبحث سے خارج ہے اور بلاشبہ اس صورت میں مجتہدین فی المذہب کی جانب رجوع ہوگا اگر روایت ہے تو اما م سے روایت مختلف آئی ہے یا بلا اختلاف آئی ہے پہلی صورت میں رجوع ان ہی حضرات کی جانب ہوگا اور جیسے بھی ہو قول امام رضی اللہ تعالی عنہسے خروج نہ ہوگا ۔ او راختلاف سے میری مراد یہ نہیں کہ روایات نوادر ظاہر الروایہ کے خلاف آئی ہو اس لئے کہ جو ظاہرالروایہ سے خارج ہے مرجوع عنہ ہے (اس سے خود امام نے رجوع کرلیا )جیسا کہ بحر خیر رملی شامی وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے او رامام نے جس سے رجوع کرلیا وہ ان کا قول نہ رہ گیا اس تحقیق پر ثابت قدم رہو۔
بصورت دوم(جب کہ روایت امام سے بلا اختلاف آئی ہے) (۱)ــــ یا تو صاحبین امام کے موافق ہوں گے (۲)یا صرف ایك صاحب موافق ہوں گے (۳) یا دو نوں حضرات مخالف ہونگے ۔ پہلی صورت میں قطعا قول امام پر عمل ہوگا اور کسی مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی
فــــ : ماخرج عن ظاھر الروایۃ فھو مرجوع عنہ
حوالہ / References
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
ان یخالفھم الا فی صور الثنیا اعنی الحوامل الست فانہ لیس خلافھم بل فی خلافہ خلافھم وکذلك علی الثانی کما نصوا علیہ ایضا ۔
وعلی الثالث اما ان یتفقا علی شیئ واحد او خالفا وتخالفا۔ علی الثانی العمل بقولہ مطلقا وعلی الاول اما ان یتفق المرجحون علی ترجیح قولھما او قولہ اولا ولابان یختلفوا فیہ اولا یأتی ترجیح شیئ منھما ۔
الاول : لاکان ولا یکون قط ابدا الا فی احدی الحوامل الست وحینئذ نتبعھم لانہ قول امامنا بل ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم صوریا لھما وضروریا لہ وان جھد احد غایۃ جہدہ ان یستخرج فرعا من غیر الست
مخالفت رو ا نہیں مگراستثنا یعنی اسباب ستہ والی صورتوں میں کہ یہ ان حضرات کی مخالفت نہیں بلکہ اس کے خلاف جانے میں ان کی مخالفت ہے ۔ یہی حکم دوسری صورت کا بھی ہے جیسا کہ اس کی بھی مذکور ہ حضرات نے تصریح فرمائی ہے ۔
بصورت سوم (۱) یا تو صاحبین کسی ایك حکم پر متفق ہوں گے (۲) یاامام کے مخالف ہونے کے ساتھ باہم بھی مختلف ہوں گے بصورت دوم مطلقا قول امام پر عمل ہوگا اور بصورت اول (۱) یا تو مرجحین قول صاحبین کی تر جیح پر متفق ہونگے (۲) یاقول امام کی تر جیح پر متفق ہوں گے (۳) یا یہ دونوں صورتیں نہ ہوں گی اس طر ح کہ ترجیح کے معاملے میں وہ با ہم اختلاف رکھتے ہوں یاسر ے سے کسی کی تر جیح ہی نہ آئی ہو۔
پہلی صورت : (صاحبین امام کے مخالف با ہم متفق ہوں اور تمام مرجحین بھی ان ہی کی ترجیح پر متفق ہوں) نہ کبھی ہوئی نہ کبھی ہوسکتی ہے مگر ان ہی چھ اسباب میں سے کسی ایك سبب کی صورت میں اگر ایسا ہے تو ہم مرجحین کا اتباع کریں گے کیونکہ یہی ہمارے امام کا بلکہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا قول ہے صاحبین کا قول صوری بھی ہے اور امام کا قول ضروری اور اگر کوئی اپنی انتہائی کوشش اس بات کے لئے
وعلی الثالث اما ان یتفقا علی شیئ واحد او خالفا وتخالفا۔ علی الثانی العمل بقولہ مطلقا وعلی الاول اما ان یتفق المرجحون علی ترجیح قولھما او قولہ اولا ولابان یختلفوا فیہ اولا یأتی ترجیح شیئ منھما ۔
الاول : لاکان ولا یکون قط ابدا الا فی احدی الحوامل الست وحینئذ نتبعھم لانہ قول امامنا بل ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم صوریا لھما وضروریا لہ وان جھد احد غایۃ جہدہ ان یستخرج فرعا من غیر الست
مخالفت رو ا نہیں مگراستثنا یعنی اسباب ستہ والی صورتوں میں کہ یہ ان حضرات کی مخالفت نہیں بلکہ اس کے خلاف جانے میں ان کی مخالفت ہے ۔ یہی حکم دوسری صورت کا بھی ہے جیسا کہ اس کی بھی مذکور ہ حضرات نے تصریح فرمائی ہے ۔
بصورت سوم (۱) یا تو صاحبین کسی ایك حکم پر متفق ہوں گے (۲) یاامام کے مخالف ہونے کے ساتھ باہم بھی مختلف ہوں گے بصورت دوم مطلقا قول امام پر عمل ہوگا اور بصورت اول (۱) یا تو مرجحین قول صاحبین کی تر جیح پر متفق ہونگے (۲) یاقول امام کی تر جیح پر متفق ہوں گے (۳) یا یہ دونوں صورتیں نہ ہوں گی اس طر ح کہ ترجیح کے معاملے میں وہ با ہم اختلاف رکھتے ہوں یاسر ے سے کسی کی تر جیح ہی نہ آئی ہو۔
پہلی صورت : (صاحبین امام کے مخالف با ہم متفق ہوں اور تمام مرجحین بھی ان ہی کی ترجیح پر متفق ہوں) نہ کبھی ہوئی نہ کبھی ہوسکتی ہے مگر ان ہی چھ اسباب میں سے کسی ایك سبب کی صورت میں اگر ایسا ہے تو ہم مرجحین کا اتباع کریں گے کیونکہ یہی ہمارے امام کا بلکہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا قول ہے صاحبین کا قول صوری بھی ہے اور امام کا قول ضروری اور اگر کوئی اپنی انتہائی کوشش اس بات کے لئے
اجمع فیہ المرجحون عن اخرھم علی ترك قولہ واختیار قولھما فلن یجدنہ ابدا ولله الحمد۔
الثانی : ظاھران العمل بقولہ اجماعا لا ینبغی ان ینتطح فیہ عنزان فالمسائل الی ھنا لا خلاف فیھا وفیھا جمیعا العمل بقول الامام مھما وجد۔
بقی الثالث وھو ثامن ثمانیۃ من ھذہ الشقوق فھو الذی اتی فیہ الخلاف فقیل ھنا ایضا لا تخییر حتی المجتھد بل یتبع قول الامام وان ادی اجتہادہ الی ترجیح قولھما وقیل بل یتخیر مطلقا ولو غیر مجتہد والذی اتفقت کلماتھم علی تصحیح التفصیل بان المقلد یتبع قول الامام واھل النظر قوۃ الدلیل ۔
صرف کر ڈالے کہ اسباب ستہ والی صورتوں کے علاوہ کوئی ایك جزئیہ ایسا نکال لے جس میں سب کے سب مرجحین نے قول امام کے ترك اور قول صاحبین کی تر جیح پر اجماع کر رکھا ہو تو ہر گز ہرگز کبھی ایسا کوئی جزئیہ نہ پاسکے گا ولله الحمد۔
دوسری صورت : (صاحبین مخالف امام ہیں مرجحین قول امام کی تر جیح پر متفق ہیں) میں ظاہر ہے کہ قول امام پر عمل ہوگا بالاجماع اس میں کسی دو فرد کا بھی باہم نزاع نہیں ہوسکتا یہا ں تك جو مسائل بیان ہوئے ان میں کوئی اختلاف نہیں اور سب میں یہی ہے کہ عمل قول امام ہی پر ہے جہان بھی قول امام موجود ہو۔
تیسری صورت رہ گئی یہ ان شقوں کی آٹھ صورتو ں میں سے آٹھویں صورت ہے اسی میں اختلاف وارد ہے ایك قول ہے کہ یہاں بھی کوئی تخییر نہیں یہاں تك کہ مجتہد کے لئے بھی نہیں بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنا ہے اگرچہ اس کا اجتہاد قول صاحبین کو ترجیح دیتا ہو ایك قول ہے کہ مطلقا تخییر ہے اگر چہ غیر مجتہد ہو اور کلمات علماء جس کی تصحیح پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ مجتہد اور غیر مقلد کا حکم یہاں الگ الگ ہے ۔ مقلد قول امام کی پیروی کرے گا اور صاحب نظر قوت دلیل کی پیروی کرے گا ۔
الثانی : ظاھران العمل بقولہ اجماعا لا ینبغی ان ینتطح فیہ عنزان فالمسائل الی ھنا لا خلاف فیھا وفیھا جمیعا العمل بقول الامام مھما وجد۔
بقی الثالث وھو ثامن ثمانیۃ من ھذہ الشقوق فھو الذی اتی فیہ الخلاف فقیل ھنا ایضا لا تخییر حتی المجتھد بل یتبع قول الامام وان ادی اجتہادہ الی ترجیح قولھما وقیل بل یتخیر مطلقا ولو غیر مجتہد والذی اتفقت کلماتھم علی تصحیح التفصیل بان المقلد یتبع قول الامام واھل النظر قوۃ الدلیل ۔
صرف کر ڈالے کہ اسباب ستہ والی صورتوں کے علاوہ کوئی ایك جزئیہ ایسا نکال لے جس میں سب کے سب مرجحین نے قول امام کے ترك اور قول صاحبین کی تر جیح پر اجماع کر رکھا ہو تو ہر گز ہرگز کبھی ایسا کوئی جزئیہ نہ پاسکے گا ولله الحمد۔
دوسری صورت : (صاحبین مخالف امام ہیں مرجحین قول امام کی تر جیح پر متفق ہیں) میں ظاہر ہے کہ قول امام پر عمل ہوگا بالاجماع اس میں کسی دو فرد کا بھی باہم نزاع نہیں ہوسکتا یہا ں تك جو مسائل بیان ہوئے ان میں کوئی اختلاف نہیں اور سب میں یہی ہے کہ عمل قول امام ہی پر ہے جہان بھی قول امام موجود ہو۔
تیسری صورت رہ گئی یہ ان شقوں کی آٹھ صورتو ں میں سے آٹھویں صورت ہے اسی میں اختلاف وارد ہے ایك قول ہے کہ یہاں بھی کوئی تخییر نہیں یہاں تك کہ مجتہد کے لئے بھی نہیں بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنا ہے اگرچہ اس کا اجتہاد قول صاحبین کو ترجیح دیتا ہو ایك قول ہے کہ مطلقا تخییر ہے اگر چہ غیر مجتہد ہو اور کلمات علماء جس کی تصحیح پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ مجتہد اور غیر مقلد کا حکم یہاں الگ الگ ہے ۔ مقلد قول امام کی پیروی کرے گا اور صاحب نظر قوت دلیل کی پیروی کرے گا ۔
image
فقد التأمت الکلمات الصحیحۃ المعتمدۃ جمیعا علی ان المقلد لیس لہ الا تقلید الامام وان افتی بخلافہ مفت او مفتون فان افتاء ھم جمیعا بخلافہ فی غیر صور الثنیا ماکان وما یکون۔ والحمد لله رب العلمین وصلاتہ الدائمۃ علی عالم ماکان
تو تمام صحیح معتمد کلمات اس پر متحد ثابت ہوئے کہ مقلد کو بہر صورت امام ہی کی تقلید کرنا ہے اگرچہ کسی ایك مفتی یا چند مفتیوں نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو کیونکہ سب کے سب مفتیوں کا خلاف امام افتا بجز صور استثنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگا ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پرور دگار ہے اوراس کا دائمی درود
فقد التأمت الکلمات الصحیحۃ المعتمدۃ جمیعا علی ان المقلد لیس لہ الا تقلید الامام وان افتی بخلافہ مفت او مفتون فان افتاء ھم جمیعا بخلافہ فی غیر صور الثنیا ماکان وما یکون۔ والحمد لله رب العلمین وصلاتہ الدائمۃ علی عالم ماکان
تو تمام صحیح معتمد کلمات اس پر متحد ثابت ہوئے کہ مقلد کو بہر صورت امام ہی کی تقلید کرنا ہے اگرچہ کسی ایك مفتی یا چند مفتیوں نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو کیونکہ سب کے سب مفتیوں کا خلاف امام افتا بجز صور استثنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگا ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پرور دگار ہے اوراس کا دائمی درود
وما یکون وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ افضل ماسأل السائلون۔ ھذا ما تلخص لنا من کلما تھم وھوا المنھل الصافی الذی وردہ البحر فاستمع نصوص العلماء کشف الله تعالی بھم العماء وجلابھم عنا کل بلاء وعناء۔
خمسۃ واربعون نصا علی المدعی
فی ۱محیط الامام السرخسی ثم الفتاوی۲ الھندیۃ لابد من معرفۃ فصلین احدھما انہ اذا اتفق اصحابنا فی شیئ ابو حنیفۃ وابویوسف ومحمد رضی الله تعالی عنھم ینبغی للقاضی ان یخالفھم برأیہ والثانی ا ذا اختلفوا فیما بینھم ۳ قال عبدالله بن المبارك رحمۃ الله تعالی یؤخذ بقول ابی حنیفہ رضی الله تعالی عنہ لانہ فـــ کان من التابعین و زاحمھم فی الفتوی اھ
ہو عالم ماکان ومایکون پر اور ان کی آل اصحاب فرزند اور گروہ پر ان درو دوں میں سب سے افضل درود جن کا سائلوں نے سوال کیا یہ ہے وہ جو کلمات علما ءکی تلخیص سے ہمیں حاصل ہوا اور یہی وہ چشمہ صافی ہے جس پر “ بحر “ اتر ے ۔ اب علماء کے نصوص ملاحظہ ہو ں ان حضرات کے طفیل الله تعالی نابینائی زائل کرے اور ان کے صدقے میں ہم سے ہر تکلیف وبلا دور کرے ۔
مد عا پر ۴۵ نصوص
(۱۔ ۔ ۔ ۳) امام سر خسی کی محیط پھر فتاوی ہندیہ میں ہے ان دو ضابطوں کی معرفت ضروری ہے اول یہ ہے کہ جب ہمارے اصحاب ابو حنیفہ امام ابو یوسف اور امام محمد کسی بات پر متفق ہوں تو قاضی کو یہ نہیں چاہئے کہ اپنی رائے سے ان کی مخالفت کرے دوم یہ کہ جب ان حضرات میں باہم اختلاف ہو تو عبدالله بن مبارك رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا قول لیا جائے گا اس لئے کہ وہ تا بعین میں سے تھے اور تا بعین کے مقابلہ میں فتوی دیا کرتے تھے اھ۔
فـــ : فائدہ : امامنا رضی الله تعالی عنہ من التابعین وقد زاحم ائمتہم فی الفتوی
خمسۃ واربعون نصا علی المدعی
فی ۱محیط الامام السرخسی ثم الفتاوی۲ الھندیۃ لابد من معرفۃ فصلین احدھما انہ اذا اتفق اصحابنا فی شیئ ابو حنیفۃ وابویوسف ومحمد رضی الله تعالی عنھم ینبغی للقاضی ان یخالفھم برأیہ والثانی ا ذا اختلفوا فیما بینھم ۳ قال عبدالله بن المبارك رحمۃ الله تعالی یؤخذ بقول ابی حنیفہ رضی الله تعالی عنہ لانہ فـــ کان من التابعین و زاحمھم فی الفتوی اھ
ہو عالم ماکان ومایکون پر اور ان کی آل اصحاب فرزند اور گروہ پر ان درو دوں میں سب سے افضل درود جن کا سائلوں نے سوال کیا یہ ہے وہ جو کلمات علما ءکی تلخیص سے ہمیں حاصل ہوا اور یہی وہ چشمہ صافی ہے جس پر “ بحر “ اتر ے ۔ اب علماء کے نصوص ملاحظہ ہو ں ان حضرات کے طفیل الله تعالی نابینائی زائل کرے اور ان کے صدقے میں ہم سے ہر تکلیف وبلا دور کرے ۔
مد عا پر ۴۵ نصوص
(۱۔ ۔ ۔ ۳) امام سر خسی کی محیط پھر فتاوی ہندیہ میں ہے ان دو ضابطوں کی معرفت ضروری ہے اول یہ ہے کہ جب ہمارے اصحاب ابو حنیفہ امام ابو یوسف اور امام محمد کسی بات پر متفق ہوں تو قاضی کو یہ نہیں چاہئے کہ اپنی رائے سے ان کی مخالفت کرے دوم یہ کہ جب ان حضرات میں باہم اختلاف ہو تو عبدالله بن مبارك رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا قول لیا جائے گا اس لئے کہ وہ تا بعین میں سے تھے اور تا بعین کے مقابلہ میں فتوی دیا کرتے تھے اھ۔
فـــ : فائدہ : امامنا رضی الله تعالی عنہ من التابعین وقد زاحم ائمتہم فی الفتوی
حوالہ / References
الفتاوی ہندیہ ، بحوالہ محیط السرخسی کتاب اد ب القاضی الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۳۱۲
۴زاد العلامۃ قاسم فی تصحیحہ ۵ ثم الشامی فی ردالمحتار فقولہ اسد واقوی مالم یکن اختلاف عصر وزمان اھ
اقول : وقول السرخسی برأیہ یدل ان النھی للمجتھد ولا ینبغی ای لا یفعل بدلیل قولہ لابد فلا یقال للمستحب لابد من معرفتہ اذا مالا یحتاج الی فعلہ لا یحتاج الی معرفتہ انما العلم للعمل۔ ۶وفی فتاوی الامام الاجل فقیہ النفس قاضی خان المفتی فی زماننا من اصحابنا اذا استفتی فی مسألۃ وسئل عن واقعۃ انکانت المسألۃ مرویۃ عن اصحابنا فی الروایات الظاھرۃ بلا خلاف بینھم فانہ یمیل الیھم ویفتی بقولھم ولا یخالفھم برأیہ وانکان مجتہدا متقنا لان الظاھر ان یکون الحق مع اصحابنا ولا یعدوھم واجتھادہ لایبلغ اجتھادھم و (۴۔ ۔ ۔ ۵) یہاں علامہ قاسم نے تصحیح میں پھر علامہ شامی نے رد المحتار میں یہ اضافہ کیا : تو ان کا قول زیادہ صحیح اور زیادہ قوی ہوگا جب کہ عصر وزمانہ کا اختلاف نہ ہو ۔
اقول : امام سرخسی کا لفظ “ اپنی رائے سے “ یہ بتاتا ہے کہ ممانعت مجتہد کے لئے ہے اور “ نہیں چاہئے “ کا معنی یہ ہے کہ “ نہ کرے “ اس کی دلیل ان کا لفظ “ لابد ضروری “ ہےکیوں کہ مستحب سے متعلق یہ نہ کہا جائے گا کہ “ اس کی معرفت ضروری ہے “ اس لئے کہ جس کا ذکر کرنا ضروری نہیں اس کا جاننا بھی ضروری نہیں علم تو عمل ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ (۶) امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے فتاوی میں ہے ہمارے دور میں جب ہمارے مسلك کے مفتی سے کسی مسئلہ میں استفتا او رکسی واقعہ پر سوال ہو تو اگر وہ مسئلہ ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایہ میں بلا اختلاف باہمی مروی ہے تو ان ہی کی طرف مائل ہو ان ہی کے قول پر فتوی دے اور اپنی رائے سے ان کی مخالفت نہ کرے اگرچہ وہ پختہ کار مجتہد کیوں نہ ہو اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ حق ہمارے ائمہ کے ساتھ ہے اور ان سے متجاوز نہیں اور اس کا اجتہاد ان کے اجتہاد کو نہیں پاسکتا ۔ اور ان کے
اقول : وقول السرخسی برأیہ یدل ان النھی للمجتھد ولا ینبغی ای لا یفعل بدلیل قولہ لابد فلا یقال للمستحب لابد من معرفتہ اذا مالا یحتاج الی فعلہ لا یحتاج الی معرفتہ انما العلم للعمل۔ ۶وفی فتاوی الامام الاجل فقیہ النفس قاضی خان المفتی فی زماننا من اصحابنا اذا استفتی فی مسألۃ وسئل عن واقعۃ انکانت المسألۃ مرویۃ عن اصحابنا فی الروایات الظاھرۃ بلا خلاف بینھم فانہ یمیل الیھم ویفتی بقولھم ولا یخالفھم برأیہ وانکان مجتہدا متقنا لان الظاھر ان یکون الحق مع اصحابنا ولا یعدوھم واجتھادہ لایبلغ اجتھادھم و (۴۔ ۔ ۔ ۵) یہاں علامہ قاسم نے تصحیح میں پھر علامہ شامی نے رد المحتار میں یہ اضافہ کیا : تو ان کا قول زیادہ صحیح اور زیادہ قوی ہوگا جب کہ عصر وزمانہ کا اختلاف نہ ہو ۔
اقول : امام سرخسی کا لفظ “ اپنی رائے سے “ یہ بتاتا ہے کہ ممانعت مجتہد کے لئے ہے اور “ نہیں چاہئے “ کا معنی یہ ہے کہ “ نہ کرے “ اس کی دلیل ان کا لفظ “ لابد ضروری “ ہےکیوں کہ مستحب سے متعلق یہ نہ کہا جائے گا کہ “ اس کی معرفت ضروری ہے “ اس لئے کہ جس کا ذکر کرنا ضروری نہیں اس کا جاننا بھی ضروری نہیں علم تو عمل ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ (۶) امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے فتاوی میں ہے ہمارے دور میں جب ہمارے مسلك کے مفتی سے کسی مسئلہ میں استفتا او رکسی واقعہ پر سوال ہو تو اگر وہ مسئلہ ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایہ میں بلا اختلاف باہمی مروی ہے تو ان ہی کی طرف مائل ہو ان ہی کے قول پر فتوی دے اور اپنی رائے سے ان کی مخالفت نہ کرے اگرچہ وہ پختہ کار مجتہد کیوں نہ ہو اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ حق ہمارے ائمہ کے ساتھ ہے اور ان سے متجاوز نہیں اور اس کا اجتہاد ان کے اجتہاد کو نہیں پاسکتا ۔ اور ان کے
حوالہ / References
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸
لاینظر الی قول من خالفھم ولاتقبل حجتہ لانھم عرفوا الا دلۃ ومیزوا بین ماصح وثبت وبین ضدہ ۔ فان کانت المسألۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا فانکان مع ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی احد صاحبیہ یؤخذ بقولھما لوفور الشرائط واستجماع ادلۃ الصواب فیھما وان خالف ابا حنیفۃ رحمہ الله تعالی صاحباہ فی ذلك فانکان اختلافھم اختلاف عصروزمان کا لقضاء بظاھر العدالۃ یأخذ بقول صاحبیہ لتغیر احوال الناس وفی المزارعۃ والمعاملۃ ونحو ھما یختار قولھما لاجتماع المتاخرین علی ذلك وفیما سوی ذلك قال بعضھم یتخیر المجتھد ویعمل بما افضی الیہ رأیہ وقال عبدالله بن المبارك یأخذ بقول ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی اھ
اقول : ولوجہ ربنا الحمد اتی بکل ما قصدناہ فاستثنی
مخالف کے قول پر نظر نہ کرے نہ اس کی حجت قبول کرے اس لئے کہ وہ دلائل سے آشنا تھے اور انہوں نے ثابت وصحیح اور غیر ثابت و صحیح کے درمیان امتیاز بھی کردیا ۔
(۲)اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے تواگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایك ہیں تو ان ہی دو نوں حضرات (امام اور صاحبین میں سے ایك ) کا قول لیا جائے گا کیوں کہ ان میں شرطیں فراہم اور دلائل صواب مجتمع ہیں (۳)اور اگر اس مسئلہ میں صاحبین امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے بر خلاف ہیں تو یہ اختلاف اگر عصر و زمان کا اختلاف ہے جیسے گو اہ کی ظاہری عدالت پر فیصلہ کاحکم تو صاحبین کا قول لیا جائے گا کیونکہ لوگوں کے حالات بدل چکے ہیں او رمزار عت معاملت اور ایسے ہی دیگر مسائل میں صاحبین کا قول اختیار ہوگا کیونکہ متا خرین اس پر اتفاق کر چکے ہیں (۴) اور اس کے ماسوا میں بعض نے کہا کہ مجتہد کو اختیار ہوگا اور جس نتیجے تك اس کی رائے پہنچے وہ اس پر عمل کرے گا اور عبدالله بن مبارك نے فرمایا کہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول لے گا ۔ اھ
اقو ل : ہمارے رب ہی کی ذات کے لئے حمد ہے امام قاضی خاں نے ہمارے
اقول : ولوجہ ربنا الحمد اتی بکل ما قصدناہ فاستثنی
مخالف کے قول پر نظر نہ کرے نہ اس کی حجت قبول کرے اس لئے کہ وہ دلائل سے آشنا تھے اور انہوں نے ثابت وصحیح اور غیر ثابت و صحیح کے درمیان امتیاز بھی کردیا ۔
(۲)اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے تواگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایك ہیں تو ان ہی دو نوں حضرات (امام اور صاحبین میں سے ایك ) کا قول لیا جائے گا کیوں کہ ان میں شرطیں فراہم اور دلائل صواب مجتمع ہیں (۳)اور اگر اس مسئلہ میں صاحبین امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے بر خلاف ہیں تو یہ اختلاف اگر عصر و زمان کا اختلاف ہے جیسے گو اہ کی ظاہری عدالت پر فیصلہ کاحکم تو صاحبین کا قول لیا جائے گا کیونکہ لوگوں کے حالات بدل چکے ہیں او رمزار عت معاملت اور ایسے ہی دیگر مسائل میں صاحبین کا قول اختیار ہوگا کیونکہ متا خرین اس پر اتفاق کر چکے ہیں (۴) اور اس کے ماسوا میں بعض نے کہا کہ مجتہد کو اختیار ہوگا اور جس نتیجے تك اس کی رائے پہنچے وہ اس پر عمل کرے گا اور عبدالله بن مبارك نے فرمایا کہ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول لے گا ۔ اھ
اقو ل : ہمارے رب ہی کی ذات کے لئے حمد ہے امام قاضی خاں نے ہمارے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان فصل فی رسم المفتی نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲
التعامل وما تغیر فیہ الحکم لتغیر الاحوال قد جمع الوجوہ الستۃ التی ذکرناھا ونص ان اھل لنظر لیس لھم خلاف الامام اذا وافقہ احد صاحبیہ فکیف اذا وافقاہ
ثم ما ذکر من القولین فیما عداھا لاخلف بینھما فی المقلد فالاول بتقیید التخییر بالمجتھد افاد ان لاخیار لغیرہ والثانی حیث منع المجتھد عن التخییر فھو للمقلد امنع فاتفق القولان علی ان المقلد لایتخیر بل یتبع الامام وھو المرام ۷ وفی الفتاوی السرا جیۃ ۸والنھرالفائق ۹ثم الھندیۃ ۱۰و الحموی وکثیر من الکتب واللفظ للسراجیۃ الفتوی علی الاطلاق علی قول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف ثم محمد ثم زفـــــر عـــــہ والحسن و
مقصود سے متعلق سب کچھ بیان کردیا تعامل اور اس مسئلے کا جس میں حالات کے بدلنے سے حکم بدل گیا ہے استثنا کر کے ہمارے ذکر کردہ اسباب ستہ کو جمع کردیا یہ صراحت بھی فرمادی کہ صاحبین میں سے کوئی ایك جب امام کے موافق ہوں تو اصحاب نظر کے لئے امام کی مخالفت ر وا نہیں اگر دو نوں ہی ان کے موافق ہیں تو کیونکر روا ہوگی پھر ما سوا مسائل میں جو دو قول بیان کئے ہیں ان کے درمیان مقلد کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں قول اول میں تخییر کو مجتہد سے مقید کر کے یہ افادہ کر دیا کہ غیر مجتہد کو اختیار نہیں ۔ اور قول دوم میں جب مجتہد کو تخییر سے منع کیا تو مقلد کو تو اور زیادہ منع کریں گے اس طر ح دو نوں قول اس بات پر متفق ٹھہرے کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے امام ہی کا تباع کرنا ہے یہی مقصود ہے
(۷۔ ۔ ۔ ۱۰) ۷فتاوی سراجیہ ۸النہر الفائق پھر ۹ہندیہ و۱۰حموی اور بہت سی کتا بو ں میں ہے الفا ظ سراجیہ کے ہیں ۔
فتوی مطلقا قول امام ابو حنیفہ پر ہوگا پھر امام ابو یوسف پھر امام محمد پھر اما زفر اورامام حسن کے قول پر ۔
عــــہ : ھکذا نقل عنھا فی شرح العقود وغیرہ والحسن بالواو وھو مفاد الدر لکن فی نسختی السراجیۃ ثم الحسن والله تعالی اعلم منہ غفرلہ۔
سراجیہ سے شرح عقود وغیرہ میں “ والحسن “ واو کے ساتھ
نقل کیا ہے ۔ یہی درمختار کا بھی مفاد ہے ۔ لیکن میرے نسخے سراجیہ میں ثم الحسن ہے ۔ والله تعالی اعلم غفر لہ
ثم ما ذکر من القولین فیما عداھا لاخلف بینھما فی المقلد فالاول بتقیید التخییر بالمجتھد افاد ان لاخیار لغیرہ والثانی حیث منع المجتھد عن التخییر فھو للمقلد امنع فاتفق القولان علی ان المقلد لایتخیر بل یتبع الامام وھو المرام ۷ وفی الفتاوی السرا جیۃ ۸والنھرالفائق ۹ثم الھندیۃ ۱۰و الحموی وکثیر من الکتب واللفظ للسراجیۃ الفتوی علی الاطلاق علی قول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف ثم محمد ثم زفـــــر عـــــہ والحسن و
مقصود سے متعلق سب کچھ بیان کردیا تعامل اور اس مسئلے کا جس میں حالات کے بدلنے سے حکم بدل گیا ہے استثنا کر کے ہمارے ذکر کردہ اسباب ستہ کو جمع کردیا یہ صراحت بھی فرمادی کہ صاحبین میں سے کوئی ایك جب امام کے موافق ہوں تو اصحاب نظر کے لئے امام کی مخالفت ر وا نہیں اگر دو نوں ہی ان کے موافق ہیں تو کیونکر روا ہوگی پھر ما سوا مسائل میں جو دو قول بیان کئے ہیں ان کے درمیان مقلد کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں قول اول میں تخییر کو مجتہد سے مقید کر کے یہ افادہ کر دیا کہ غیر مجتہد کو اختیار نہیں ۔ اور قول دوم میں جب مجتہد کو تخییر سے منع کیا تو مقلد کو تو اور زیادہ منع کریں گے اس طر ح دو نوں قول اس بات پر متفق ٹھہرے کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے امام ہی کا تباع کرنا ہے یہی مقصود ہے
(۷۔ ۔ ۔ ۱۰) ۷فتاوی سراجیہ ۸النہر الفائق پھر ۹ہندیہ و۱۰حموی اور بہت سی کتا بو ں میں ہے الفا ظ سراجیہ کے ہیں ۔
فتوی مطلقا قول امام ابو حنیفہ پر ہوگا پھر امام ابو یوسف پھر امام محمد پھر اما زفر اورامام حسن کے قول پر ۔
عــــہ : ھکذا نقل عنھا فی شرح العقود وغیرہ والحسن بالواو وھو مفاد الدر لکن فی نسختی السراجیۃ ثم الحسن والله تعالی اعلم منہ غفرلہ۔
سراجیہ سے شرح عقود وغیرہ میں “ والحسن “ واو کے ساتھ
نقل کیا ہے ۔ یہی درمختار کا بھی مفاد ہے ۔ لیکن میرے نسخے سراجیہ میں ثم الحسن ہے ۔ والله تعالی اعلم غفر لہ
حوالہ / References
الفتاوی السراجیہ کتاب ادب المفتی والتنبیہ علی الجواب مطبع نو لکشور لکھنو ص ۱۵۷
لفظ النہر ثم الحسن۔
اقول : وھو حسن فان مکانۃ زفر ممالا ینکر لکن قال ش الواوھی المشہورۃ فی الکتب اھ ومعنی الترتیب ای اذ الم یجد قول الامام ثم رأیت ۱۱الشامی صرح بہ فی شرح عقودہ حیث قال اذالم یوجد للامام نص یقدم قول ابی یوسف ثم محمد الخ قال والظاھر ان ھذا فی حق غیر المجتھد اما المفتی المجتھد فیتخیر بما یتر جع عندہ دلیلہ ۔ اھ
اقول : ای اذالم یجد قول الامام لایتقید بالترتیب فیتبع قول الثانی وان ادی رأیہ الی قول الثالث کما کان لا یتخیر اتفاقا اذا کان مع الامام صاحباہ اواحدھما والذی استظھرہ ظاھر ثم قالا اعنی السراجیۃ
اور نہر میں ثم الحسن ہے (پھر امام حسن)۔
اقول : لفظ نہر “ ثم الحسن “ عمدہ ہے کیونکہ امام زفر کی ان سے برتری ناقابل انکار ہے لیکن علامہ شامی لکھتے ہیں کہ “ واو “ ہی کتا بو ں میں مشہور ہے اھ اور تر تیب مذکور اس صورت میں مقصود ہے جب امام کا قول نہ ملے
(۱۱) پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کی صراحت بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں : جب امام کی کوئی نص نہ ملے تو امام ابو یوسف کا قول مقدم ہوگا پھر امام محمد کا۔ الخ اور فرماتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ غیر مجتہد کے حق میں ہے رہا مفتی مجتہد تو یہ اسے اختیار کر ے گا جس کی دلیل اس کے نزدیك راجح ہو اھ
اقول : یعنی جب امام کا قول اسے نہ ملے تو وہ تر تیب کا پابند نہیں کہ امام ثانی ہی کے قول کی پیروی کرے اگر چہ اس کا اجتہاد امام ثالث کےقول پر جائے جیسے اس صورت میں بالاتفاق اسے اختیار نہیں جب امام کے ساتھ صاحبین یا ان میں سے ایك ہوں اور علامہ شامی نے جس کو ظاہر کہہ کر بیان کیا وہ ظاہر ہے پھر سرا جیہ
اقول : وھو حسن فان مکانۃ زفر ممالا ینکر لکن قال ش الواوھی المشہورۃ فی الکتب اھ ومعنی الترتیب ای اذ الم یجد قول الامام ثم رأیت ۱۱الشامی صرح بہ فی شرح عقودہ حیث قال اذالم یوجد للامام نص یقدم قول ابی یوسف ثم محمد الخ قال والظاھر ان ھذا فی حق غیر المجتھد اما المفتی المجتھد فیتخیر بما یتر جع عندہ دلیلہ ۔ اھ
اقول : ای اذالم یجد قول الامام لایتقید بالترتیب فیتبع قول الثانی وان ادی رأیہ الی قول الثالث کما کان لا یتخیر اتفاقا اذا کان مع الامام صاحباہ اواحدھما والذی استظھرہ ظاھر ثم قالا اعنی السراجیۃ
اور نہر میں ثم الحسن ہے (پھر امام حسن)۔
اقول : لفظ نہر “ ثم الحسن “ عمدہ ہے کیونکہ امام زفر کی ان سے برتری ناقابل انکار ہے لیکن علامہ شامی لکھتے ہیں کہ “ واو “ ہی کتا بو ں میں مشہور ہے اھ اور تر تیب مذکور اس صورت میں مقصود ہے جب امام کا قول نہ ملے
(۱۱) پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کی صراحت بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں : جب امام کی کوئی نص نہ ملے تو امام ابو یوسف کا قول مقدم ہوگا پھر امام محمد کا۔ الخ اور فرماتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ غیر مجتہد کے حق میں ہے رہا مفتی مجتہد تو یہ اسے اختیار کر ے گا جس کی دلیل اس کے نزدیك راجح ہو اھ
اقول : یعنی جب امام کا قول اسے نہ ملے تو وہ تر تیب کا پابند نہیں کہ امام ثانی ہی کے قول کی پیروی کرے اگر چہ اس کا اجتہاد امام ثالث کےقول پر جائے جیسے اس صورت میں بالاتفاق اسے اختیار نہیں جب امام کے ساتھ صاحبین یا ان میں سے ایك ہوں اور علامہ شامی نے جس کو ظاہر کہہ کر بیان کیا وہ ظاہر ہے پھر سرا جیہ
حوالہ / References
الدرالمختار بحوالہ النہر کتاب القضاء ، مطبع مجتبا ئی دہلی ۲ / ۷۲ ، النہر الفائق شرح کنزالدقائق کتاب القضاء قدیمی کتب خا نہ کرا چی۳ / ۵۹۹
رد المحتار ، کتاب القضاء ، مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق ۴ / ۳۰۲
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈ می لاہور ۱ / ۲۷
رد المحتار ، کتاب القضاء ، مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق ۴ / ۳۰۲
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈ می لاہور ۱ / ۲۷
والنھر وقیل اذاکان ابو حنیفۃ فی جانب و صاحباہ فی جانب فالمفتی بالخیار والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا اھ
۱۲وفی التنویر ۱۳والدر (یأخذ) القاضی کالمفتی (بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق) وھو الاصح منیۃ ۱۴وسراجیۃ وصحح فی الحاوی اعتبار قوۃ المدرك والاول اضبط ۱۵نھر (ولا یخیر الا اذاکان مجتھدا ) اھ ۱۶وفی صدر ط ما ذکرہ المصنف صححہ فی ادب۱۷اطفال اھ ۱۸وفی البحرکما مرقد صححوا ان الافتاء بقول الامام
وقال ش قولہ وھو الا صح مقابلہ مایأتی عن الحاوی وما فی جامع الفصولین من
اور نہر میں یہ بھی ہے : کہا گیا کہ جب امام ابو حنیفہ ایك طرف ہوں او رصاحبین دوسری طرف تو مفتی کو اختیار ہے اور قول اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہواھ
(۱۲۔ ۔ ۔ ۱۵) ۱۲تنویر الا بصار اور ۱۳درمختار میں ہے (عبارت تنویر قوسین میں ہے۱۲م) مفتی کی طر ح قاضی بھی ( مطلقا قول امام کو لگا ) یہی اصح ہے ۱۴ منیہ وسراجیہ اور حاوی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے ۔ او رقول اول زیادہ ضبط والا ہے ۱۵نہر (اور تخییر نہ ہوگی مگر جب کہ وہ صاحب اجتہاد ہو)اھ
(۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۷) ۱۶طحطاوی کے شرو ع میں ہے مصنف نے جو ذکر کیا ہے اسی کو ۱۷ ادب المقال میں صحیح کہا ہے اھ
۱۸بحر میں ہے جیسا کہ گزرا علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ فتوی قول امام پر ہوگا اھ
علامہ شامی لکھتے ہیں عبارت درمختار “ وھو الاصح “ کا مقابل وہ ہے جو حاوی کے حوالے سے آرہا ہے اور وہ جو جامع الفصولین میں ہے
۱۲وفی التنویر ۱۳والدر (یأخذ) القاضی کالمفتی (بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق) وھو الاصح منیۃ ۱۴وسراجیۃ وصحح فی الحاوی اعتبار قوۃ المدرك والاول اضبط ۱۵نھر (ولا یخیر الا اذاکان مجتھدا ) اھ ۱۶وفی صدر ط ما ذکرہ المصنف صححہ فی ادب۱۷اطفال اھ ۱۸وفی البحرکما مرقد صححوا ان الافتاء بقول الامام
وقال ش قولہ وھو الا صح مقابلہ مایأتی عن الحاوی وما فی جامع الفصولین من
اور نہر میں یہ بھی ہے : کہا گیا کہ جب امام ابو حنیفہ ایك طرف ہوں او رصاحبین دوسری طرف تو مفتی کو اختیار ہے اور قول اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہواھ
(۱۲۔ ۔ ۔ ۱۵) ۱۲تنویر الا بصار اور ۱۳درمختار میں ہے (عبارت تنویر قوسین میں ہے۱۲م) مفتی کی طر ح قاضی بھی ( مطلقا قول امام کو لگا ) یہی اصح ہے ۱۴ منیہ وسراجیہ اور حاوی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے ۔ او رقول اول زیادہ ضبط والا ہے ۱۵نہر (اور تخییر نہ ہوگی مگر جب کہ وہ صاحب اجتہاد ہو)اھ
(۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۷) ۱۶طحطاوی کے شرو ع میں ہے مصنف نے جو ذکر کیا ہے اسی کو ۱۷ ادب المقال میں صحیح کہا ہے اھ
۱۸بحر میں ہے جیسا کہ گزرا علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ فتوی قول امام پر ہوگا اھ
علامہ شامی لکھتے ہیں عبارت درمختار “ وھو الاصح “ کا مقابل وہ ہے جو حاوی کے حوالے سے آرہا ہے اور وہ جو جامع الفصولین میں ہے
حوالہ / References
الفتاوی السراجیۃ کتاب ادب المفتی والتنبیہ علی الجواب مطبع لکنشور لکھنو ص ۱۵۷ ، النھرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۳ / ۵۹۹
الدر المحتار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۶ / ۴۸
البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۲۶۹
الدر المحتار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۶ / ۴۸
البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۲۶۹
انہ لو معہ احد صاحبیہ اخذ بقولہ وان خالفاہ قیل کذلك وقیل یخیر الا فیما کان الاختلاف بحسب تغیرالزمان کالحکم بظاھر العدالۃ وفیما اجمع المتأخرون علیہ کالمزارعۃ والمعاملۃ فیختارقولھما اھ وفی صدر الدر الاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق وصحح فی الحاوی القدسی قوۃ المدرك اھ قال ط قولہ والاصح مقابلہ قولہ بعد وصحح فی الحاوی اھ
وقال ش بعد نقل عبارۃ السراجیۃ مقابل الاصح غیر مذکور فی کلام الشارح فافھم اھ
کہ اگر صاحبین میں سے کوئی ایك ا مام کے ساتھ ہوں تو قول امام لیا جائے گا اور اگر صاحبین مخالف امام ہوں تو بھی ایك قول یہی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ تخییر ہوگی مگر اس مسئلے کے اندر جس میں تبدیلی زمانہ کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہو جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ کرنے کا مسئلہ اور مزار عت ومعاملت جیسے وہ مسائل جن میں متا خرین کا اجماع ہوچکاہے کہ ان سب میں قول صاحبین اختیار کیا جائے گا ۔ درمختار کے شرو ع میں ہے جیسا کہ سراجیہ وغیرہا میں مذکور ہے اصح یہ ہے کہ مطلقا قول امام پر فتوی دیا جائے گا اور حاوی قدسی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے۔ طحطاوی لکھتے ہیں در مختار میں مذکور “ اصح “ کا مقابل وہ ہے جو بعد میں “ صحح فی الحاوی “ حاوی نے اعتبار دلیل کو صحیح کہا “ لکھ کر بیان کیا ہے۔ علامہ شامی سراجیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اصح کا مقابل کلام شارح میں مذکور نہیں فافھم (تو سمجھو ) اس لفظ
وقال ش بعد نقل عبارۃ السراجیۃ مقابل الاصح غیر مذکور فی کلام الشارح فافھم اھ
کہ اگر صاحبین میں سے کوئی ایك ا مام کے ساتھ ہوں تو قول امام لیا جائے گا اور اگر صاحبین مخالف امام ہوں تو بھی ایك قول یہی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ تخییر ہوگی مگر اس مسئلے کے اندر جس میں تبدیلی زمانہ کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہو جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ کرنے کا مسئلہ اور مزار عت ومعاملت جیسے وہ مسائل جن میں متا خرین کا اجماع ہوچکاہے کہ ان سب میں قول صاحبین اختیار کیا جائے گا ۔ درمختار کے شرو ع میں ہے جیسا کہ سراجیہ وغیرہا میں مذکور ہے اصح یہ ہے کہ مطلقا قول امام پر فتوی دیا جائے گا اور حاوی قدسی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے۔ طحطاوی لکھتے ہیں در مختار میں مذکور “ اصح “ کا مقابل وہ ہے جو بعد میں “ صحح فی الحاوی “ حاوی نے اعتبار دلیل کو صحیح کہا “ لکھ کر بیان کیا ہے۔ علامہ شامی سراجیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اصح کا مقابل کلام شارح میں مذکور نہیں فافھم (تو سمجھو ) اس لفظ
حوالہ / References
رد المحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۴ / ۳۰۲
الدرالمختار ، رسم المفتی ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۴۹
ردالمحتار ، رسم المفتی ، داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸
الدرالمختار ، رسم المفتی ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۴۹
ردالمحتار ، رسم المفتی ، داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸
یرید بہ التعریض علی ط۔
اقول : ھھنا امور لا بدمن التنبیہ لھا :
فاولا : اقـحم فـــ ۱الدر ذکرفی التصحیحین قبل قول المصنف ولا یخیر الخ فاوھم الاطلاق فی الحکم الاول حتی قال فـــ ۲قولہ صحح فی الحاوی مقابل الاطلاق الذی فی المصنف اھ مع ان صریح نص المصنف تقییدہ بما اذالم یکن مجتہدا۔
وثانیا : ما صححہ فی الحاوی عین ما صححہ فی السراجیۃ والمنیۃ وادب المقال وغیرھا وانما الفرق فی التعبیر فھم قالوا الاصح ان المقلد لا یتخیر بل یتبع قول الامام وھو قال الاصح ان المجتہد
سے طحطاوی پر تعریض مقصود ہے ۔
اقول : یہاں چند امور پر متنبہ ہونا ضروری ہے
اولا : صاحب تنویر کا قول “ مطلقا قول امام کو لے گا “ غیر مجتہد سے خاص ہے ۔ مگر شارح نے عبارت متن “ اور تخییر نہ ہوگی الخ “ سے پہلے دونوں تصحیحوں کا تذکرہ درمیان میں رکھ دیا جس سے یہ وہم پیدا ہوا کہ حکم اول (اخذ قول امام) میں اطلاق ہے یہاں تك کہ سید طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ شارح کا قول “ صحح فی الحاوی “ اسی اطلاق کا مقابلہ ہے جو کلام مصنف میں ہے حالاں کہ مصنف کی عبارت میں صراحۃ وہ اس سے مقید ہے کہ “ جب کہ وہ صاحب اجتہاد نہ ہو “
ثانیا : حاوی میں جس قول کو صحیح کہا ہے بعینہ وہی ہے جسے سراجیہ منیہ ادب المقال وغیرہامیں صحیح کہا ہے فر ق صرف تعبیرکا ہے ۔ ان حضرات نے یوں کہا کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنی ہے او رحاوی نے یوں کہا کہ اصح یہ ہے کہ مجتہد کو
فـــ ۱ : تطفل علی الدرالمختار
فــــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ط
اقول : ھھنا امور لا بدمن التنبیہ لھا :
فاولا : اقـحم فـــ ۱الدر ذکرفی التصحیحین قبل قول المصنف ولا یخیر الخ فاوھم الاطلاق فی الحکم الاول حتی قال فـــ ۲قولہ صحح فی الحاوی مقابل الاطلاق الذی فی المصنف اھ مع ان صریح نص المصنف تقییدہ بما اذالم یکن مجتہدا۔
وثانیا : ما صححہ فی الحاوی عین ما صححہ فی السراجیۃ والمنیۃ وادب المقال وغیرھا وانما الفرق فی التعبیر فھم قالوا الاصح ان المقلد لا یتخیر بل یتبع قول الامام وھو قال الاصح ان المجتہد
سے طحطاوی پر تعریض مقصود ہے ۔
اقول : یہاں چند امور پر متنبہ ہونا ضروری ہے
اولا : صاحب تنویر کا قول “ مطلقا قول امام کو لے گا “ غیر مجتہد سے خاص ہے ۔ مگر شارح نے عبارت متن “ اور تخییر نہ ہوگی الخ “ سے پہلے دونوں تصحیحوں کا تذکرہ درمیان میں رکھ دیا جس سے یہ وہم پیدا ہوا کہ حکم اول (اخذ قول امام) میں اطلاق ہے یہاں تك کہ سید طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ شارح کا قول “ صحح فی الحاوی “ اسی اطلاق کا مقابلہ ہے جو کلام مصنف میں ہے حالاں کہ مصنف کی عبارت میں صراحۃ وہ اس سے مقید ہے کہ “ جب کہ وہ صاحب اجتہاد نہ ہو “
ثانیا : حاوی میں جس قول کو صحیح کہا ہے بعینہ وہی ہے جسے سراجیہ منیہ ادب المقال وغیرہامیں صحیح کہا ہے فر ق صرف تعبیرکا ہے ۔ ان حضرات نے یوں کہا کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنی ہے او رحاوی نے یوں کہا کہ اصح یہ ہے کہ مجتہد کو
فـــ ۱ : تطفل علی الدرالمختار
فــــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ط
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ، کتاب القضاء ، المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۳ / ۱۷۶
یتخیر لان قوۃ الدلیل انما یعرفھا ھو فیستحیل فــ ۱ ان یکون مقابل الاصح ما صححہ فی الحاوی بل مقابلہ التخییر مطلقا اذا خالفاہ معاکما ھو مفاد الاطلاق القیل المذکور فی السراجیۃ والتقیید بقول الامام مطلقا وان خالفاہ معا والمفتی مجتہد کما ھو مفاد اطلاق ماصدر بہ فیھا فلاوجہ فـــ ۲
لترجیح الاول علیہ بانہ
تخییر ہوگی اس لئے کہ دلیل کی قوت سے آشنا وہی ہوگا جب حقیقت یہ ہے تو محال ہے کہ اصح کا مقابل وہ ہو جسے حاوی میں اصح کہا بلکہ اس کا مقابل یہ ہے کہ (۱) مطلقا تخییر ہوگی جب کہ صاحبین مخالف امام ہوں جیسا کہ سراجیہ میں مذکور قیل کہا گیا “ کا مفاد ہے (۲) اور یہ کہ مطلقا قول امام کی پابند ی ہے اگر چہ صاحبین ان کے مخالف اور مفتی صاحب اجتہاد ہو جیسا کہ یہ اس کلام کے اطلاق کا مفا د ہے جسے سراجیہ کے اندر شرو ع میں ذکرکیا ۔ [اس میں پہلے یہ کہا کہ “ فتوی مطلقا قول امام پر ہے “ ۔ پھر یہ لکھا “ کہا گیا کہ جب امام ایك جانب اور صاحبین دو سری جانب ہوں تو مفتی کو اختیار ہے “ ۔ اس کے متصل یہ کہا کہ : “ اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو “ آغاز کلام سے پتا چلا کہ مجتہد غیرمجتہد سب کے لئے قول امام کی پابندی ہے درمیانی قول سے معلوم ہوا کہ مخالفت صاحبین کی صورت میں سب کے لئے تخییر ہے آخر والی تصحیح سے معلوم ہو ا کہ غیر مجتہد کے لئے تو مطلقا قول امام کی پابندی ہے او رمجتہد کے لئے مخالفت صاحبین کی صورت میں اختیار ہے۔ ۱۲م] جب ایسا ہے تو اول کو “ زیادہ ضبط والا “ کہہ کر
فـــ ۱ : معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ش
فـــ ۲ : تطفل علی النھر وعلی الدر
لترجیح الاول علیہ بانہ
تخییر ہوگی اس لئے کہ دلیل کی قوت سے آشنا وہی ہوگا جب حقیقت یہ ہے تو محال ہے کہ اصح کا مقابل وہ ہو جسے حاوی میں اصح کہا بلکہ اس کا مقابل یہ ہے کہ (۱) مطلقا تخییر ہوگی جب کہ صاحبین مخالف امام ہوں جیسا کہ سراجیہ میں مذکور قیل کہا گیا “ کا مفاد ہے (۲) اور یہ کہ مطلقا قول امام کی پابند ی ہے اگر چہ صاحبین ان کے مخالف اور مفتی صاحب اجتہاد ہو جیسا کہ یہ اس کلام کے اطلاق کا مفا د ہے جسے سراجیہ کے اندر شرو ع میں ذکرکیا ۔ [اس میں پہلے یہ کہا کہ “ فتوی مطلقا قول امام پر ہے “ ۔ پھر یہ لکھا “ کہا گیا کہ جب امام ایك جانب اور صاحبین دو سری جانب ہوں تو مفتی کو اختیار ہے “ ۔ اس کے متصل یہ کہا کہ : “ اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو “ آغاز کلام سے پتا چلا کہ مجتہد غیرمجتہد سب کے لئے قول امام کی پابندی ہے درمیانی قول سے معلوم ہوا کہ مخالفت صاحبین کی صورت میں سب کے لئے تخییر ہے آخر والی تصحیح سے معلوم ہو ا کہ غیر مجتہد کے لئے تو مطلقا قول امام کی پابندی ہے او رمجتہد کے لئے مخالفت صاحبین کی صورت میں اختیار ہے۔ ۱۲م] جب ایسا ہے تو اول کو “ زیادہ ضبط والا “ کہہ کر
فـــ ۱ : معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ش
فـــ ۲ : تطفل علی النھر وعلی الدر
اضبط
وقد قال ح ط ش فی التوفیق بین ما فی السراجیۃ والحاوی ان من کان لہ قوۃ ادراك قوۃ المدرك یفتی بالقول القوی المدرك والا فالترتیب اھ قال ش یدل علیہ قول السراجیۃ والاول اصح اذالم تکن المفتی مجتھدا اھ
اقول : فرق التعبیر فـــــ ۱ لایکون خلافا حتی یوفق وبالجملۃ فتوھم المقابلۃ بینھما اعجب واعجب منہ فـــــ ۲ ان العلامۃ ش تنبہ لہ فی صدر الکتاب ثم وقع فیہ فی کتاب القضاء فسبحن من لا ینسی ۔
تصحیح حاوی پر اسے ترجیح دینے کا کوئی معنی نہیں[ تصحیح حاوی اور تصحیح اول تو بعینہ ایك ہیں ۔ ۱۲م]
(۱۹۔ ۔ ۔ ۲۱) حضرات ۱۹حلبی ۲۰ طحطاوی و ۲۱شامی نے کلام سراجیہ او رکلام حاوی میں تطبیق کے لئے یہ کہا : کہ جس کے پاس مدرك ودلیل کی قوت سے آگاہی کی قدرت ہو وہ اپنے دریافت کر دہ قوی قول پر فتوی دے گا ورنہ وہی ترتیب ہوگی ۔ شامی فرماتے ہیں اس پر سراجیہ کی یہ عبارت دلالت کررہی ہے او راول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو ۔
اقول : فرق تعبیرکوئی معنوی اختلاف ہے ہی نہیں کہ تطبیق دی جائے الحاصل ان دو نوں تصحیحوں میں مقابلہ کا تو ہم بہت عجیب ہے او ر اس سے زیادہ عجیب یہ کہ علامہ شامی شرو ع کتاب میں اس پر متنبہ ہوئے پھر کتا ب القضاء میں جاکر اس وہم میں پڑ گئے ۔ تو پاکی اس ذات کے لئے جسے فراموشی و نسیان نہیں۔
فـــــ ۱ : معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ح و علی ط وعلی ش
فـــــ ۲ : معروضۃ علی ش
وقد قال ح ط ش فی التوفیق بین ما فی السراجیۃ والحاوی ان من کان لہ قوۃ ادراك قوۃ المدرك یفتی بالقول القوی المدرك والا فالترتیب اھ قال ش یدل علیہ قول السراجیۃ والاول اصح اذالم تکن المفتی مجتھدا اھ
اقول : فرق التعبیر فـــــ ۱ لایکون خلافا حتی یوفق وبالجملۃ فتوھم المقابلۃ بینھما اعجب واعجب منہ فـــــ ۲ ان العلامۃ ش تنبہ لہ فی صدر الکتاب ثم وقع فیہ فی کتاب القضاء فسبحن من لا ینسی ۔
تصحیح حاوی پر اسے ترجیح دینے کا کوئی معنی نہیں[ تصحیح حاوی اور تصحیح اول تو بعینہ ایك ہیں ۔ ۱۲م]
(۱۹۔ ۔ ۔ ۲۱) حضرات ۱۹حلبی ۲۰ طحطاوی و ۲۱شامی نے کلام سراجیہ او رکلام حاوی میں تطبیق کے لئے یہ کہا : کہ جس کے پاس مدرك ودلیل کی قوت سے آگاہی کی قدرت ہو وہ اپنے دریافت کر دہ قوی قول پر فتوی دے گا ورنہ وہی ترتیب ہوگی ۔ شامی فرماتے ہیں اس پر سراجیہ کی یہ عبارت دلالت کررہی ہے او راول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو ۔
اقول : فرق تعبیرکوئی معنوی اختلاف ہے ہی نہیں کہ تطبیق دی جائے الحاصل ان دو نوں تصحیحوں میں مقابلہ کا تو ہم بہت عجیب ہے او ر اس سے زیادہ عجیب یہ کہ علامہ شامی شرو ع کتاب میں اس پر متنبہ ہوئے پھر کتا ب القضاء میں جاکر اس وہم میں پڑ گئے ۔ تو پاکی اس ذات کے لئے جسے فراموشی و نسیان نہیں۔
فـــــ ۱ : معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ح و علی ط وعلی ش
فـــــ ۲ : معروضۃ علی ش
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار ، رسم المفتی ، المکتبۃالعربیہ کوئٹہ ، ۱ / ۴۹ ، ردالمحتار رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۸
ردالمحتار رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۸
ردالمحتار رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۸
ثالثا : کذلك فـــــ ۱لا یقابلہ ما فی جامع الفصولین فانہ عین مافی الخانیۃ وانما نقلہ عنہا برمز خ وفیہ تقیید التخییر بالمجتہد فالکل و ردوا موردا واحدا وانما ینشؤا لتوھم لاقتصار وقع فی النقل عنہ ۲۲فان نصہ لو مع ح رضی الله تعالی عنہ احد صاحبیہ یأخذ بقولھما ولو خالف ح صاحباہ فلو کان اختلافھم بحسب الزمان یأخذ بقول صاحبیہ وفی المزارعۃ والمعاملۃ یختار قولھما لاجماع المتأخرین وفیما عدا ذلك قیل یخیر المجتہد وقیل یأخذ بقول ح رضی الله تعالی عنہ اھ فانکشفت الشبھۃ۔
و رابعا : اھم من الکل فـــــ ۲دفع ما اوھمہ عبارۃ الدر من ان تصحیح الحاوی اعتبار قوۃ
ثالثا : اسی طر ح اس کا مقابل وہ بھی نہیں جو جا مع الفصولین میں ہے اس لئے کہ اس کا کلام تو بعینہ وہی ہے جو خانیہ کا ہے اسی سے “ خ “ کا ر مزدے کر نقل بھی کیاہے اس اختیارکو اس سے مقید کیا ہے کہ مفتی مجتہد ہو تو سب نے ایك موقف اختیار کیا ہے او روہم اس اختیار سے پیدا ہوا ہے جو نقل میں واقع ہوا ہے ۔ جامع کی عبارت اس طر ح ہے
(۲۲)اگر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایك ہوں تو ان ہی دونوں ( امام اور وہ ایك صاحب) کے قول کو لے اور اگر صاحبین “ ح “ کے مخالف ہو تو اگر ان حضرات کا اختلاف بلحاظ زمان ہے تو صاحبین ہی کا قول لے۔ اور مزارعت ومعاملت میں صاحبین ہی کا قول اختیار کر ے کیوں کہ اسی پر اجماع متا خرین ہے ان صورتوں کے ماسوا میں ایك قول یہ ہے کہ مجتہد کو تخییرہے اور ایك قول یہ ہے کہ امام “ ح “ رضی اللہ تعالی عنہکا ہی قول لینا ہے ۔ اس سے شبہہ منکشف ہوگیا ۔
رابعا : سب سے اہم اس وہم کو دور کرنا ہے جو عبارت در مختار نے پیدا کیا کہ حاوی کے نزدیك قوت دلیل کے اعتبار کو اصح
فـــــ ۱ : معروضۃعلیہ
فـــــ ۲ : تطفل علی الدر
و رابعا : اھم من الکل فـــــ ۲دفع ما اوھمہ عبارۃ الدر من ان تصحیح الحاوی اعتبار قوۃ
ثالثا : اسی طر ح اس کا مقابل وہ بھی نہیں جو جا مع الفصولین میں ہے اس لئے کہ اس کا کلام تو بعینہ وہی ہے جو خانیہ کا ہے اسی سے “ خ “ کا ر مزدے کر نقل بھی کیاہے اس اختیارکو اس سے مقید کیا ہے کہ مفتی مجتہد ہو تو سب نے ایك موقف اختیار کیا ہے او روہم اس اختیار سے پیدا ہوا ہے جو نقل میں واقع ہوا ہے ۔ جامع کی عبارت اس طر ح ہے
(۲۲)اگر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایك ہوں تو ان ہی دونوں ( امام اور وہ ایك صاحب) کے قول کو لے اور اگر صاحبین “ ح “ کے مخالف ہو تو اگر ان حضرات کا اختلاف بلحاظ زمان ہے تو صاحبین ہی کا قول لے۔ اور مزارعت ومعاملت میں صاحبین ہی کا قول اختیار کر ے کیوں کہ اسی پر اجماع متا خرین ہے ان صورتوں کے ماسوا میں ایك قول یہ ہے کہ مجتہد کو تخییرہے اور ایك قول یہ ہے کہ امام “ ح “ رضی اللہ تعالی عنہکا ہی قول لینا ہے ۔ اس سے شبہہ منکشف ہوگیا ۔
رابعا : سب سے اہم اس وہم کو دور کرنا ہے جو عبارت در مختار نے پیدا کیا کہ حاوی کے نزدیك قوت دلیل کے اعتبار کو اصح
فـــــ ۱ : معروضۃعلیہ
فـــــ ۲ : تطفل علی الدر
حوالہ / References
جامع الفصولین ، الفصل الاول فی القضاء الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۵
المدرك مطلق لا قتصارہ من نصہ علی فصل واحد ولیس کذلك ۲۳ففی الحاوی القدسی متی کان قول ابی یوسف ومحمد موافق قولہ لا یتعدی عنہ الا فیما مست الیہ الضرورۃ وعلم انہ لوکان ابو حنیفۃ رأی مارأو ا لا فتی بہ وکذا اذا کان احدھما معہ فان خالفاہ فی الظاھر عـــــہ قال بعض المشائخ یأخذ بظاھر قولہ وقال بعضھم المفتی مخیر بینھما ان شاء افتی بظاھر قولہ وان شاء افتی بظاھر قولھما والاصح ان العبرۃبقوۃ الدلیل اھ
فھذا کما تری عین مافی الخانیۃ لا یخالفھا فی شیئ فقد الزم اتباع قول الامام اذا وافقہ
قرار دینا مطلقا ہے یہ وہم پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درمختار میں عبارت حاوی کے صر ف ایك ٹکڑے پر اقتصار ہے ۔ حقیقت یوں نہیں ۔ کیوں کہ حاوی قدسی کی پوری عبارت یہ ہے : جب امام کے موافق ہو تو اس سے تجاوز نہ کیا جائے گا مگر اس صورت میں جب کہ ضرورت در پیش ہو اور معلوم ہو کہ اگر امام ابو حنیفہ بھی اسے دیکھتے جو بعد والوں نے دیکھا تو اسی پر فتو ی دیتے یہی حکم اس وقت بھی ہے جب صاحبین میں سے کوئی ایك امام کے ساتھ ہو اگر دونوں ہی حضرات ظاہر میں مخالف امام ہوں تو بعض مشائخ نے فرمایا کہ ظاہر قول امام کو لے او ربعض مشائخ نے فرمایاکہ مفتی کو دو نوں کا اختیار ہے اگر چاہے تو ظاہر قول امام پر فتوی دے اور اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہے اھ (حاوی قدسی) دیکھئے بعینہ وہی بات ہے جو خانیہ میں ہے ذرا بھی اس کے خلاف نہیں کیوں کہ حاوی نے بھی امام کے ساتھ موافقت صاحبین کی صورت
عـــہ المراد بالظاھر فی المواضح الاربعۃ ظاھر الروایۃ منہ
چاروں جگہ لفظ “ ظاھر “ سے مراد ظاہرالروایہ ہے منہ(ت)
فھذا کما تری عین مافی الخانیۃ لا یخالفھا فی شیئ فقد الزم اتباع قول الامام اذا وافقہ
قرار دینا مطلقا ہے یہ وہم پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درمختار میں عبارت حاوی کے صر ف ایك ٹکڑے پر اقتصار ہے ۔ حقیقت یوں نہیں ۔ کیوں کہ حاوی قدسی کی پوری عبارت یہ ہے : جب امام کے موافق ہو تو اس سے تجاوز نہ کیا جائے گا مگر اس صورت میں جب کہ ضرورت در پیش ہو اور معلوم ہو کہ اگر امام ابو حنیفہ بھی اسے دیکھتے جو بعد والوں نے دیکھا تو اسی پر فتو ی دیتے یہی حکم اس وقت بھی ہے جب صاحبین میں سے کوئی ایك امام کے ساتھ ہو اگر دونوں ہی حضرات ظاہر میں مخالف امام ہوں تو بعض مشائخ نے فرمایا کہ ظاہر قول امام کو لے او ربعض مشائخ نے فرمایاکہ مفتی کو دو نوں کا اختیار ہے اگر چاہے تو ظاہر قول امام پر فتوی دے اور اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہے اھ (حاوی قدسی) دیکھئے بعینہ وہی بات ہے جو خانیہ میں ہے ذرا بھی اس کے خلاف نہیں کیوں کہ حاوی نے بھی امام کے ساتھ موافقت صاحبین کی صورت
عـــہ المراد بالظاھر فی المواضح الاربعۃ ظاھر الروایۃ منہ
چاروں جگہ لفظ “ ظاھر “ سے مراد ظاہرالروایہ ہے منہ(ت)
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۶
صاحباہ وکذا اذا وافقہ احدھما وانما جعل الاصح العبرۃ بقوۃ الدلیل اذا خالفاہ معالا مطلقا کما او ھمہ الدرو معلوم ان معرفۃ قوۃ الدلیل وضعفہ خاص باھل النظر فوافق تقدیم الخانیۃ تخییر المجتھد لانہ انما فـــــ ۱یقدم الاظھر الاشھر
وقد علمت ان لا خلف فاحفظ ھذا کیلا تزل فی فھم مرادہ حیث ینقلون عنہ القطعۃ الا خیرۃ فقط ان العبرۃ بقوۃ الدلیل فتظن عمومہ للصور وانما ھو فی ما اذا خالفاہ معا
وبامثال فـــــــ ۲ماوقع ھھنا فی نقل ش کلام جامع الفصولین ونقل الدرکلام الحاوی وما وقع فیھما من
میں اسی طرح صرف ایك صاحب کی موافقت کی صورت میں قول امام ہی کاا تباع لازم کیا ہے اور قوت دلیل کے اعتبار کو اصح صرف اس صورت میں قرار دیا ہے جب دو نوں ہی حضرات مخالف امام ہوں اسے مطلقا اصح نہ ٹھہرایا جیسا کہ عبارت درمختار نے وہم پیدا کیااور معلوم ہے کہ دلیل کی قوت اور ضیعف کی معرفت خاص اہل نظر کا حصہ ہے تو یہ تصحیح اسی کے مطابق ہے جسے خانیہ نے مقدم رکھا یعنی یہ کہ مجتہد کے لئے تخییر ہے اس لئے کہ قاضی خاں اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو ۔
معلوم ہوچکا کہ دونوں میں کوئی فر ق و اختلاف نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہئے تا کہ مراد حاوی سمجھنے میں لغزش نہ ہو کیوں کہ لوگ ان کا صرف آخر ی ٹکڑا “ اعتبار قوت دلیل کا ہے “ نقل کرتے ہیں جس سے خیال ہوتا ہے کہ ان کا یہ حکم تمام ہی صورتوں کے لئے ہے ۔
حالاں کہ یہ صرف اس صورت کے لئے ہے جب دو نوں حضرات مخالف اما م ہوں ۔
یہاں علامہ شامی سے کلام جامع الفصولین کی نقل میں اور صاحب در سے کلام حاوی کی نقل میں جو واقع ہوا ور دو نوں میں جو اختصار مخل در آیا
فــــ۱ : ما قدم الامام قاضی خان فھو الاظھر الاشھر ۔
فــــ ۲ لیجتنب النقل بالواسطۃ مھما امکن ۔
وقد علمت ان لا خلف فاحفظ ھذا کیلا تزل فی فھم مرادہ حیث ینقلون عنہ القطعۃ الا خیرۃ فقط ان العبرۃ بقوۃ الدلیل فتظن عمومہ للصور وانما ھو فی ما اذا خالفاہ معا
وبامثال فـــــــ ۲ماوقع ھھنا فی نقل ش کلام جامع الفصولین ونقل الدرکلام الحاوی وما وقع فیھما من
میں اسی طرح صرف ایك صاحب کی موافقت کی صورت میں قول امام ہی کاا تباع لازم کیا ہے اور قوت دلیل کے اعتبار کو اصح صرف اس صورت میں قرار دیا ہے جب دو نوں ہی حضرات مخالف امام ہوں اسے مطلقا اصح نہ ٹھہرایا جیسا کہ عبارت درمختار نے وہم پیدا کیااور معلوم ہے کہ دلیل کی قوت اور ضیعف کی معرفت خاص اہل نظر کا حصہ ہے تو یہ تصحیح اسی کے مطابق ہے جسے خانیہ نے مقدم رکھا یعنی یہ کہ مجتہد کے لئے تخییر ہے اس لئے کہ قاضی خاں اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو ۔
معلوم ہوچکا کہ دونوں میں کوئی فر ق و اختلاف نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہئے تا کہ مراد حاوی سمجھنے میں لغزش نہ ہو کیوں کہ لوگ ان کا صرف آخر ی ٹکڑا “ اعتبار قوت دلیل کا ہے “ نقل کرتے ہیں جس سے خیال ہوتا ہے کہ ان کا یہ حکم تمام ہی صورتوں کے لئے ہے ۔
حالاں کہ یہ صرف اس صورت کے لئے ہے جب دو نوں حضرات مخالف اما م ہوں ۔
یہاں علامہ شامی سے کلام جامع الفصولین کی نقل میں اور صاحب در سے کلام حاوی کی نقل میں جو واقع ہوا ور دو نوں میں جو اختصار مخل در آیا
فــــ۱ : ما قدم الامام قاضی خان فھو الاظھر الاشھر ۔
فــــ ۲ لیجتنب النقل بالواسطۃ مھما امکن ۔
الاقتصار المخل یتعین انہ ینبغی مراجعۃ المنقول عنہ اذا وجد فربما ظھر شیئ لا یظھر مما نقل وان کانت النقلۃ ثقات معتمدین فاحفظ وقد قال فی ۲۴شرح العقود بعد نقلہ مافی الحاوی الحاصل انہ اذا اتفق ابو حنیفۃ وصاحباہ علی جواب لم یجز العدول عنہ الا لضرورۃ وکذا اذا وافقہ احدھما واما اذا انفرد عنھما بجواب وخالفاہ فیہ فان فــــــ انفرد کل منھا بجواب ایضا بان لم یتفقا علی شیئ واحد فالظاھر ترجیح قولہ ایضا ۔
اقول وھذہ نفیسۃ افادھا وکم لہ من فوائد اجادھا والا مرکما قال لقول الخانیۃ یأخذ بقول صاحبیہ و
ایسی ہی باتوں کے پیش نظر یہ متعین ہوجاتا ہے کہ منقول عنہ کے موجود اور دستیاب ہونے کی صورت میں اس کی مراجعت کرلینا چاہئے ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات منکشف ہو جو نقل سے ظاہر نہیں ہوتی اگر نقل کر نے والے ثقہ ومعتمد ہیں اسے یاد رکھیں ۔
(۲۴)شرح عقود میں حاوی کا کلام نقل کرنے کے بعد تحریر ہے : حاصل یہ کہ جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین کسی حکم پر متفق ہو ں تو اس سے عدو ل جائز نہیں مگر ضرورت کے سبب یوں ہی جب صاحبین میں سے ایك ان کے موافق ہوں ۔ لیکن جب امام کسی حکم میں صاحبین سے علیحدہ ہوں اور دونوں حضرات اس میں امام کے بر خلاف ہوں تو اگر یہ بھی الگ الگ ایك ایك حکم رکھتے ہوں اس طر ح کہ کسی ایك بات پر متفق نہ ہو ں تو ظاہر یہی ہے کہ تر جیح قول امام کو ہوگی۔
اقول : یہ ایك نفیس نکتہ ہے جس کا افادہ فرمایا اور ان کے ایسے عمدہ افادات بہت ہیں اور حقیقت وہی ہے جو انہوں نے بیان کی اس لئے کہ خانیہ میں ہے صاحبین کا قول لیا جائے گا اور یہ بھی ہے صاحبین
فـــــ : الترجیح لقول الامام ای بلا خلاف اذا خالفا وتخالفا ۔
اقول وھذہ نفیسۃ افادھا وکم لہ من فوائد اجادھا والا مرکما قال لقول الخانیۃ یأخذ بقول صاحبیہ و
ایسی ہی باتوں کے پیش نظر یہ متعین ہوجاتا ہے کہ منقول عنہ کے موجود اور دستیاب ہونے کی صورت میں اس کی مراجعت کرلینا چاہئے ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات منکشف ہو جو نقل سے ظاہر نہیں ہوتی اگر نقل کر نے والے ثقہ ومعتمد ہیں اسے یاد رکھیں ۔
(۲۴)شرح عقود میں حاوی کا کلام نقل کرنے کے بعد تحریر ہے : حاصل یہ کہ جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین کسی حکم پر متفق ہو ں تو اس سے عدو ل جائز نہیں مگر ضرورت کے سبب یوں ہی جب صاحبین میں سے ایك ان کے موافق ہوں ۔ لیکن جب امام کسی حکم میں صاحبین سے علیحدہ ہوں اور دونوں حضرات اس میں امام کے بر خلاف ہوں تو اگر یہ بھی الگ الگ ایك ایك حکم رکھتے ہوں اس طر ح کہ کسی ایك بات پر متفق نہ ہو ں تو ظاہر یہی ہے کہ تر جیح قول امام کو ہوگی۔
اقول : یہ ایك نفیس نکتہ ہے جس کا افادہ فرمایا اور ان کے ایسے عمدہ افادات بہت ہیں اور حقیقت وہی ہے جو انہوں نے بیان کی اس لئے کہ خانیہ میں ہے صاحبین کا قول لیا جائے گا اور یہ بھی ہے صاحبین
فـــــ : الترجیح لقول الامام ای بلا خلاف اذا خالفا وتخالفا ۔
حوالہ / References
شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۶
قولھا یختار قولھما وقول السراجیۃ وغیرھا وصاحباہ فی جانب
قال واما اذا خالفاہ واتفقا علی جواب واحد حتی صار ھو فی جانب وھما فی جانب فقیل یترجع قولہ ایضا وھذا قول الامام عبدالله بن المبارك وقیل یتخیر المفتی وقول السراجیۃ والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا یفید اختیار القول الثانی ان کان المفتی مجتھدا ومعنی تخییرہ انہ ینظر فی الدلیل فیفتی بما یظھر لہ ولا یتعین علیہ قول الامام وھذا الذی صححہ فی الحاوی ایضا بقولہ والا صح ان العبرۃ لقوۃ الدلیل لان اعتبار قوۃ کا قول اختیار ہوگا اور سرا جیہ وغیرہا میں ہے کہ اور صاحبین ایك طر ف ہوں ۔
علامہ شامی آگے لکھتے ہیں لیکن جب صاحبین امام کے مخالف ہوں او ربا ہم ایك حکم پر متفق ہوں یہا ں تك کہ امام ایك طرف ہوگئے ہوں اور صاحبین ایك طر ف تو کہا گیا کہ اس صورت میں قول امام کو ہی ترجیح ہوگی یہ امام عبدالله بن مبارك کا قول ہے اور کہا گیا کہ مفتی کو اختیار ہوگا اور سراجیہ کا کلام “ اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو “ ۔ یہ مفتی کے مجتہد ہونے کی صورت میں قول ثانی کی ترجیح کا افادہ کر رہا ہے تخییر مفتی کا معنی یہ ہے کہ دلیل میں نظر کرنے کے بعد اس پر جو منکشف ہو اسی پر فتوی دے گا ور اس پر قول امام کی پابندی متعین نہ ہوگی اسی کی حاوی میں تصحیح کی ہے ان الفاظ سے “ اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہوگااس لئے کہ قوت دلیل کا اعتبار
قال واما اذا خالفاہ واتفقا علی جواب واحد حتی صار ھو فی جانب وھما فی جانب فقیل یترجع قولہ ایضا وھذا قول الامام عبدالله بن المبارك وقیل یتخیر المفتی وقول السراجیۃ والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا یفید اختیار القول الثانی ان کان المفتی مجتھدا ومعنی تخییرہ انہ ینظر فی الدلیل فیفتی بما یظھر لہ ولا یتعین علیہ قول الامام وھذا الذی صححہ فی الحاوی ایضا بقولہ والا صح ان العبرۃ لقوۃ الدلیل لان اعتبار قوۃ کا قول اختیار ہوگا اور سرا جیہ وغیرہا میں ہے کہ اور صاحبین ایك طر ف ہوں ۔
علامہ شامی آگے لکھتے ہیں لیکن جب صاحبین امام کے مخالف ہوں او ربا ہم ایك حکم پر متفق ہوں یہا ں تك کہ امام ایك طرف ہوگئے ہوں اور صاحبین ایك طر ف تو کہا گیا کہ اس صورت میں قول امام کو ہی ترجیح ہوگی یہ امام عبدالله بن مبارك کا قول ہے اور کہا گیا کہ مفتی کو اختیار ہوگا اور سراجیہ کا کلام “ اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو “ ۔ یہ مفتی کے مجتہد ہونے کی صورت میں قول ثانی کی ترجیح کا افادہ کر رہا ہے تخییر مفتی کا معنی یہ ہے کہ دلیل میں نظر کرنے کے بعد اس پر جو منکشف ہو اسی پر فتوی دے گا ور اس پر قول امام کی پابندی متعین نہ ہوگی اسی کی حاوی میں تصحیح کی ہے ان الفاظ سے “ اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہوگااس لئے کہ قوت دلیل کا اعتبار
حوالہ / References
خانیہ کی دونوں عبارت اس صورت سے مقید ہے جب صاحبین ہم راے ہونے کے ساتھ خلاف امام ہوں اور ان کا یہ اختلاف اصحاب ستہ کی صورتوں میں سے تغیر زماں و عرف کی حالت میں ہو اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب اصحاب ستہ کی بناء پر اختلاف نہ ہو اور صاحبین مخالف امام ہونے کے ساتھ ایک رائے پر نہ ہو ں تو ان کا قول نہیں لیا جائے گا بلکہ قول امام کا اتباع ہوگا ۔ اسی طرح سراجیہ وغیرہ میں تخییر مفتی کا حکم اسی صورت میں مذکور ہے جب صاحبین ایک ساتھ ہوں ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مخالفت امام کے ساتھ ان میں باہم اتفاق نہ ہو تو مفتی کے لئے تخییر نہیں بلکہ قول امام ہی کی پابندی ہے ۱۲ م محمد احمد مصباحی۔
الدلیل شأن المفتی المجتھد فصار فیما اذا خالفہ صاحباہ ثلاثۃ اقوال(۱) الاول اتباع قول الامام بلا تخییر(۲)الثانی التخییر مطلقا (۳) الثالث وھو الاصح التفصیل بین المجتھد وغیرہ وبہ جزم قاضی خان کما یأتی والظاھر ان ھذاتوفیق بین القولین بحمل القول باتباع قول الامام علی المفتی الذی ھو غیر مجتھد وحمل القول بالتخییر علی المفتی المجتھد اھ
ثم قال وقد علم من ھذا انہ لاخلاف فی الاخذ بقول الامام اذا وافقہ احدھما ولذا قال الامام قاضی خان وان کانت المسئلۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا الی آخر ماقدمنا عنھا۔
فقد اعترف رحمہ الله تعالی بالصواب فی جمیع تلك الابواب غیرانہ استدرك علی ھذا الفصل
کرنا مفتی مجتہد ہی کا کام ہے تو صاحبین کے مخالف امام ہونے کی صورت میں تین قول ہوگئے : اول یہ کہ بلا تخییر قول امام ہی کا اتباع ہوگا دوم یہ کہ مطلقا تخییر ہوگی سوم او روہی اصح ہے یہ کہ مجتہد اور غیر مجتہد کے درمیان تفریق ہے ( مجتہد کے لئے تخییر غیر کے لئے پابندی امام) اسی پر امام قاضی خاں نے بھی جزم کیا جیسا کہ آرہا ہے او رظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے دونوں قولوں میں تطبیق ہے اس طر ح کہ اتباع امام والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو غیر مجتہد ہو او رتخییر والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو مجتہد ہو اھ
آگے فرمایا اس سے معلوم ہوگیا کہ صاحبین میں سے کسی ایك کے موافق امام ہونے کی صورت میں قول امام کی پابندی کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں اسی لئے امام قاضی خاں نے فرمایا اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے یہاں سے آخر عبارت تك جو ہم پہلے (نص ۶کے تحت) نقل کر آئے ۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہان تمام ابو اب و ضوابط میں درستی وصواب کے معترف ہیں سوا اس کے کہ اس اخیر حصے پریوں استدراك
ثم قال وقد علم من ھذا انہ لاخلاف فی الاخذ بقول الامام اذا وافقہ احدھما ولذا قال الامام قاضی خان وان کانت المسئلۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا الی آخر ماقدمنا عنھا۔
فقد اعترف رحمہ الله تعالی بالصواب فی جمیع تلك الابواب غیرانہ استدرك علی ھذا الفصل
کرنا مفتی مجتہد ہی کا کام ہے تو صاحبین کے مخالف امام ہونے کی صورت میں تین قول ہوگئے : اول یہ کہ بلا تخییر قول امام ہی کا اتباع ہوگا دوم یہ کہ مطلقا تخییر ہوگی سوم او روہی اصح ہے یہ کہ مجتہد اور غیر مجتہد کے درمیان تفریق ہے ( مجتہد کے لئے تخییر غیر کے لئے پابندی امام) اسی پر امام قاضی خاں نے بھی جزم کیا جیسا کہ آرہا ہے او رظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے دونوں قولوں میں تطبیق ہے اس طر ح کہ اتباع امام والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو غیر مجتہد ہو او رتخییر والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو مجتہد ہو اھ
آگے فرمایا اس سے معلوم ہوگیا کہ صاحبین میں سے کسی ایك کے موافق امام ہونے کی صورت میں قول امام کی پابندی کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں اسی لئے امام قاضی خاں نے فرمایا اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے یہاں سے آخر عبارت تك جو ہم پہلے (نص ۶کے تحت) نقل کر آئے ۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہان تمام ابو اب و ضوابط میں درستی وصواب کے معترف ہیں سوا اس کے کہ اس اخیر حصے پریوں استدراك
حوالہ / References
شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷ ، ۲۶
شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷ ، ۲۶
شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷ ، ۲۶
الاخیر بقولہ لکن قدمنا ان ما نقل عن الامام من قولہ اذا صح الحدیث فھو مذھبی محمول علی مالم یخرج عن المذھب با لکلیۃ کما ظھر لنا من التقریر السابق ومقتضاہ جواز اتباع الدلیل وان خالف ما وافقہ علیہ احد صاحبیہ ولھذا قال فی البحر عن التتارخانیۃ اذاکان الامام فی جانب وھما فی جانب خیر المفتی وان کان احدھما مع الامام اخذ بقو لھما الا اذا اصطلح المشائخ علی القول الاخر فیتبعھم کما اختار الفقیہ ابو اللیث قول زفرفی مسائل انتھی ۔
و۲۵قال فی رسالتہ المسماۃ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء لایرجح قول صاحبیہ او احدھما علی قولہ الا لموجب وھو ا ما ضعف دلیل الامام واما للضرورۃ والتعامل کترجیح قولھما فی المزارعۃ والمعاملۃ
فرمایا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے کہ امام سے نقل شدہ ان کا ارشاد “ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے “ اس پر محمول ہے جو مذہب سے بالکلیہ خارج نہ ہو جیسا کہ تقریر سابق سے ہم پر منکشف ہوا ۔ اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دلیل کا اتباع اس صورت میں بھی جائز ہے جب دلیل امام کے ایسے قول کے مخالف ہو جس پر صاحبین میں سے کوئی ایك حضرت امام کے موافق ہوں ۔ اسی لئے بحر میں تاتار خانیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امام ایك طر ف ہوں اور صاحبین دو سری طرف تو مفتی کو تخییر ہے اوراگر صاحبین میں سے ایک امام کے ساتھ ہوں تو ان ہی دونوں حضرات (امام اور ایك صاحب) کا قول لیا جائے گا مگر جب کہ قول دیگر پر مشائخ کا اتفاق ہوجائے تو حضرات مشائخ کا اتباع ہوگا ۔ جیساکہ فقیہ ابو اللیث نے چند مسائل میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ۔
(۲۵)علامہ شامی اپنے رسالہ “ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء “ میں رقم طراز ہیں صاحبین یا ایك کے قول کو قول امام پر ترجیح نہ ہوگی مگر کسی موجب کی وجہ سے ۔ وہ یا تو دلیل امام کا ضعف ہے یا ضرورت اورتعامل جیسے مزار عت ومعاملت میں قول صاحبین
و۲۵قال فی رسالتہ المسماۃ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء لایرجح قول صاحبیہ او احدھما علی قولہ الا لموجب وھو ا ما ضعف دلیل الامام واما للضرورۃ والتعامل کترجیح قولھما فی المزارعۃ والمعاملۃ
فرمایا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے کہ امام سے نقل شدہ ان کا ارشاد “ جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے “ اس پر محمول ہے جو مذہب سے بالکلیہ خارج نہ ہو جیسا کہ تقریر سابق سے ہم پر منکشف ہوا ۔ اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دلیل کا اتباع اس صورت میں بھی جائز ہے جب دلیل امام کے ایسے قول کے مخالف ہو جس پر صاحبین میں سے کوئی ایك حضرت امام کے موافق ہوں ۔ اسی لئے بحر میں تاتار خانیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امام ایك طر ف ہوں اور صاحبین دو سری طرف تو مفتی کو تخییر ہے اوراگر صاحبین میں سے ایک امام کے ساتھ ہوں تو ان ہی دونوں حضرات (امام اور ایك صاحب) کا قول لیا جائے گا مگر جب کہ قول دیگر پر مشائخ کا اتفاق ہوجائے تو حضرات مشائخ کا اتباع ہوگا ۔ جیساکہ فقیہ ابو اللیث نے چند مسائل میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ۔
(۲۵)علامہ شامی اپنے رسالہ “ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء “ میں رقم طراز ہیں صاحبین یا ایك کے قول کو قول امام پر ترجیح نہ ہوگی مگر کسی موجب کی وجہ سے ۔ وہ یا تو دلیل امام کا ضعف ہے یا ضرورت اورتعامل جیسے مزار عت ومعاملت میں قول صاحبین
حوالہ / References
شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷
واما لان خلافھما لہ بسبب اختلاف العصر و الزمان وانہ لوشاھد ما وقع فی عصرھما لوافقھما کعدم القضاء بظاھر العدالۃ ویوافق ذلك ما قالہ ۲۶العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ فذکر ماقدمنا من کلامہ فی توضیع مرامہ وفیہ ان الا خذ بقولہ الافی مسائل یسیرۃ اختار والفتوی فیھا علی قولھما اوقول احدھما وانکان الاخر مع الامام اھ وھومحل استشھادہ۔
اقول : قد علمت فــــ ان کلام العلامۃ قاسم فیما یخالف فیہ قولھم الصوری جمیعا فضلا عما اذا خالف احدھم
کی ترجیح یا یہ ہے کہ صاحبین کی مخالفت عصر و زمان کے اختلاف کے باعث ہے اگر امام بھی اس کا مشاہد ہ کرتے جو صاحبین کے دور میں رو نما ہوا تو ان کی موافقت ہی کرتے ۔ جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ نہ کرنے کا مسئلہ ۔ اسی کے مطابق وہ بھی ہے جو علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں فرمایا اس کے بعد ان کا وہ کلام ذکر کیا ہے جو ہم مقصود کلام کی تو ضیح میں پہلے نقل کر آئے ہیں اس میں یہ عبارت بھی ہے ہر جگہ امام ہی کا قول لیا گیا ہے مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر یا صاحبین میں سے کسی ایك کے قول پر ۔ اگرچہ دو سرے صاحب امام کے ساتھ ہوں ۔ فتوی اختیار کیا ہے اھ ۔ یہی حصہ یہاں علامہ شامی کا محل استشہاد ہے (کلام بالا سے مطابقت کے ثبوت میں یہی عبارت وہ پیش کرنا چاہتے ہیں )
اقول : یہ معلوم ہوچکا کہ علامہ قاسم کا کلام مذکور اس صورت سے متعلق ہے جو ان سبھی حضرات کے قول صوری کے بر خلاف ہو کسی ایك کے برخلاف ہونا تو درکنا ر
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش
اقول : قد علمت فــــ ان کلام العلامۃ قاسم فیما یخالف فیہ قولھم الصوری جمیعا فضلا عما اذا خالف احدھم
کی ترجیح یا یہ ہے کہ صاحبین کی مخالفت عصر و زمان کے اختلاف کے باعث ہے اگر امام بھی اس کا مشاہد ہ کرتے جو صاحبین کے دور میں رو نما ہوا تو ان کی موافقت ہی کرتے ۔ جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ نہ کرنے کا مسئلہ ۔ اسی کے مطابق وہ بھی ہے جو علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں فرمایا اس کے بعد ان کا وہ کلام ذکر کیا ہے جو ہم مقصود کلام کی تو ضیح میں پہلے نقل کر آئے ہیں اس میں یہ عبارت بھی ہے ہر جگہ امام ہی کا قول لیا گیا ہے مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر یا صاحبین میں سے کسی ایك کے قول پر ۔ اگرچہ دو سرے صاحب امام کے ساتھ ہوں ۔ فتوی اختیار کیا ہے اھ ۔ یہی حصہ یہاں علامہ شامی کا محل استشہاد ہے (کلام بالا سے مطابقت کے ثبوت میں یہی عبارت وہ پیش کرنا چاہتے ہیں )
اقول : یہ معلوم ہوچکا کہ علامہ قاسم کا کلام مذکور اس صورت سے متعلق ہے جو ان سبھی حضرات کے قول صوری کے بر خلاف ہو کسی ایك کے برخلاف ہونا تو درکنا ر
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش
حوالہ / References
شرح العقود رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۷
وکذاکلامفــــ۱ التاترخانیۃ فانہ انما استثنی مااجمع فیہ المرجحون علی خلاف الامام ومن معہ من صاحبیہ ولا یوجد قط الا فی احد الوجوہ الستۃ وح فــــ۲ لا یتقید بوفاق احد من الائمۃ الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم الا تری فـــــ ۳ الی ذکر اختیار قول زفر۔
ا ما حدیثا اذا صح الحدیث فـــ ۴وضعف الدلیل فـــ ۵ فشا ملان ما یخالف الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم الا تری ان الامام الطحاوی خالفھم جمیعا
فی عدۃ مسائل منھا تحریم الضب والمحقق حیث اطلق فی تحریم حلیلۃ الاب والا بن رضاعا فکیف یخص الکلام بما اذا وافقہ احدھما دون الاخر۔
یہی حال کلام تا تا ر خانیہ کا بھی ہے ۔ کیوں کہ اس میں استثنا اس صورت کا ہے جس میں امام اور امام کے ساتھ صاحبین میں جو ہیں دو نوں کی مخالفت پر مر جحین کا اجماع ہو ۔ او راس صورت کا سوا ان چھ صورتوں کے کبھی وجو د ہی نہ ہوگا اس صورت کے لئے یہ قید بھی نہیں کہ تینوں ائمہ میں سے کسی ایك کے موافق ہی ہو دیکھ لیجئے ایسی صورت میں تینون ائمہ کو چھوڑ کر امام زفر کا قول اختیار کرنے کا ذکر گزر چکا ہے ۔
اب رہا اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کا معاملہ تو یہ دونوں بھی اس صورت کو شامل ہیں جو تینوں ہی ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے بر خلاف ہو دیکھئے امام طحاوی نے متعد د مسائل میں ان سبھی حضرات کی مخالفت کی ہے ان ہی میں سے حرمت ضب (ایك جانور ) کا مسئلہ ہے ۔ اور محقق علی الاطلاق نے رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کی حرمت میں سب کی مخالفت کی ہے ۔ تو کلام اسی صورت سے خاص کیوں رکھا جائے جس میں صاحبین میں سے کوئی ایك موافق امام ہوں
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ : معروضۃ علیہ
فـــ ۳ : معروضۃ علیہ
فـــ ۴ : معروضۃ علیہ
فـــ ۵ : معروضۃ علیہ
ا ما حدیثا اذا صح الحدیث فـــ ۴وضعف الدلیل فـــ ۵ فشا ملان ما یخالف الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم الا تری ان الامام الطحاوی خالفھم جمیعا
فی عدۃ مسائل منھا تحریم الضب والمحقق حیث اطلق فی تحریم حلیلۃ الاب والا بن رضاعا فکیف یخص الکلام بما اذا وافقہ احدھما دون الاخر۔
یہی حال کلام تا تا ر خانیہ کا بھی ہے ۔ کیوں کہ اس میں استثنا اس صورت کا ہے جس میں امام اور امام کے ساتھ صاحبین میں جو ہیں دو نوں کی مخالفت پر مر جحین کا اجماع ہو ۔ او راس صورت کا سوا ان چھ صورتوں کے کبھی وجو د ہی نہ ہوگا اس صورت کے لئے یہ قید بھی نہیں کہ تینوں ائمہ میں سے کسی ایك کے موافق ہی ہو دیکھ لیجئے ایسی صورت میں تینون ائمہ کو چھوڑ کر امام زفر کا قول اختیار کرنے کا ذکر گزر چکا ہے ۔
اب رہا اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کا معاملہ تو یہ دونوں بھی اس صورت کو شامل ہیں جو تینوں ہی ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے بر خلاف ہو دیکھئے امام طحاوی نے متعد د مسائل میں ان سبھی حضرات کی مخالفت کی ہے ان ہی میں سے حرمت ضب (ایك جانور ) کا مسئلہ ہے ۔ اور محقق علی الاطلاق نے رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کی حرمت میں سب کی مخالفت کی ہے ۔ تو کلام اسی صورت سے خاص کیوں رکھا جائے جس میں صاحبین میں سے کوئی ایك موافق امام ہوں
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ : معروضۃ علیہ
فـــ ۳ : معروضۃ علیہ
فـــ ۴ : معروضۃ علیہ
فـــ ۵ : معروضۃ علیہ
فان قلت اذا وافقاہ فلا خلاف عندنا ان المجتھد فی مذھبھم لایسعہ مخالفتھم فلاجل ھذا الا جماع یخص الحدیثان بما اذا خالفہ احدھما۔
قلت کذا لا خلاف فیہ عندنا اذا کان معہ احد صاحبیہ رضی الله تعالی عنہم کما اعترفتم بہ تصریحا۔
اگریہ کہئے : کہ جب صاحبین موافق امام ہو ں تو ہمارے یہاں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی مخالفت روانہیں اسی اجماع کی وجہ سے اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کے معاملے کو اس صورت سے خاص رکھا جائے گا جس میں صاحبین میں سے کوئی ایك مخالف امام ہوں۔
تو میں کہوں گا : اسی طرح ہمارے یہا ں اس بار ے میں اس صورت میں بھی کوئی اختلاف نہیں جب صاحبین میں سے کوئی ایك موافق امام ہوں جیسا کہ آپ نے صراحۃ اس کا اعتراف کیا۔
[ الحاصل تفصیل بالاسے یہی ثابت ہوا کہ اذا صح الحدیث اور ضعف دلیل والی صورتوں میں مجتہد کے لئے جواز ہے کہ وہ اپنی دستیاب حدیث اور اپنی نظر میں قوی دلیل کی رو سے تینوں ائمہ کے خلاف جاسکتا ہے۔ لیکن اس تحقیق پر یہ اعتراض ضرور پڑے گا کہ اس کے لئے تینوں حضرات کی مخالفت کا جواز کیسے ہوسکتا ہے جبکہ علماء نے بالاتفاق یہ قاعدہ رکھاہے کہ جب تینوں ائمہ متفق ہوں یا امام کے ساتھ صاحبین میں سے کوئی ایك متفق ہوں تو ان کے اتباع سے قدم باہر نکالنے کی گنجائش نہیں ۔ یہ اجماع مطلقا مجتھد اور غیر مجتھد دونوں کے حق میں ہے ۔ اختلاف ہے تو اس صورت میں جبکہ صاحبین باہم متفق اور امام کے مخالف ہوں اگر وہ تحقیق درست ہے تو اس اجماعی ممانعت کا معنی کیا ہے اور اس کھلے ہوئے تضاد کا حل کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اسی کا حل رقم کرتے ہوئے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آگے فرماتے ہیں ۱۲ مترجم]
فالاوجہ عندی ان معنی نھی المجتھد عنہ نھی المقلد ان یتبعہ فیہ نھیا وفاقیا بخلاف
تو بہتر جواب اورحل : میرے نزدیك یہ ہے کہ اس مخالفت سے مجتہد کی ممانعت کا مطلب مقلد کو اس بارے میں مجتہد مخالف کی متا بعت سے باز رکھنا ہے (یعنی الفاظ
قلت کذا لا خلاف فیہ عندنا اذا کان معہ احد صاحبیہ رضی الله تعالی عنہم کما اعترفتم بہ تصریحا۔
اگریہ کہئے : کہ جب صاحبین موافق امام ہو ں تو ہمارے یہاں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی مخالفت روانہیں اسی اجماع کی وجہ سے اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کے معاملے کو اس صورت سے خاص رکھا جائے گا جس میں صاحبین میں سے کوئی ایك مخالف امام ہوں۔
تو میں کہوں گا : اسی طرح ہمارے یہا ں اس بار ے میں اس صورت میں بھی کوئی اختلاف نہیں جب صاحبین میں سے کوئی ایك موافق امام ہوں جیسا کہ آپ نے صراحۃ اس کا اعتراف کیا۔
[ الحاصل تفصیل بالاسے یہی ثابت ہوا کہ اذا صح الحدیث اور ضعف دلیل والی صورتوں میں مجتہد کے لئے جواز ہے کہ وہ اپنی دستیاب حدیث اور اپنی نظر میں قوی دلیل کی رو سے تینوں ائمہ کے خلاف جاسکتا ہے۔ لیکن اس تحقیق پر یہ اعتراض ضرور پڑے گا کہ اس کے لئے تینوں حضرات کی مخالفت کا جواز کیسے ہوسکتا ہے جبکہ علماء نے بالاتفاق یہ قاعدہ رکھاہے کہ جب تینوں ائمہ متفق ہوں یا امام کے ساتھ صاحبین میں سے کوئی ایك متفق ہوں تو ان کے اتباع سے قدم باہر نکالنے کی گنجائش نہیں ۔ یہ اجماع مطلقا مجتھد اور غیر مجتھد دونوں کے حق میں ہے ۔ اختلاف ہے تو اس صورت میں جبکہ صاحبین باہم متفق اور امام کے مخالف ہوں اگر وہ تحقیق درست ہے تو اس اجماعی ممانعت کا معنی کیا ہے اور اس کھلے ہوئے تضاد کا حل کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اسی کا حل رقم کرتے ہوئے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آگے فرماتے ہیں ۱۲ مترجم]
فالاوجہ عندی ان معنی نھی المجتھد عنہ نھی المقلد ان یتبعہ فیہ نھیا وفاقیا بخلاف
تو بہتر جواب اورحل : میرے نزدیك یہ ہے کہ اس مخالفت سے مجتہد کی ممانعت کا مطلب مقلد کو اس بارے میں مجتہد مخالف کی متا بعت سے باز رکھنا ہے (یعنی الفاظ
مااذا خالفاہ فان فیہ قیلا ان التخییر عام کما سبق فلأن یتبع مرجحا رجح قولھما اولی وربما یلمح الیہ قول المحقق فـــ حیث اطلق فی مسألۃ الجھر بالتأ مین لو کان الی فی ھذا شیئ لوفقت بان روایۃ الخفض یرادبھا عدم القرع العنیف وروایۃ الجھر بمعنی قولھا فی زیر الصوت وذیلہ الخ فلم یمتنع عن ابداء ما عن لہ وعلم انہ لا یتبع علیہ فقال لوکان الی شیئ والله تعالی اعلم۔
تو یہ ہیں کہ مجتہد مخالفت نہ کرے مگر مقصود یہ ہے کہ مقلد ایسی مخالفت کی پیروی نہ کر ے ۔ رہا مجتہد تو جب اس کے خیال میں ائمہ ثلاثہ کے خلاف حدیث صحیح موجود ہے یا ان کے مذہب کے بر خلاف قوی دلیل عیاں ہے تو اسے ا پنے اجتہاد کو کام میں لانے اور ائمہ کے خلاف جانے سے رو کا نہیں جاسکتا ۔ اگر اسے روکا گیا ہے تو اس سے مقصود مقلد ہے کہ وہ تینوں یا ان دواماموں کی مخالفت کی صورت میں اس مجتہد کی پیروی نہ کرے ۱۲مترجم) بخلاف اس صورت کے جس میں صاحبین باہم متفق او رامام کے مخالف ہوں (کہ اس میں مقلد کے لئے مجتہد مخالف کی پیروی سے بالاجماع ممانعت نہیں) کیونکہ اس صورت میں ایك قول یہ بھی ہے کہ تخییر عام ہے ۔ یعنی مجتہد وغیر مجتہد ہر ایك کو مخالفت کا اختیار ہے جیسا کہ گزرا تو اگر مقلد کسی ایسے مرجح کی پیروی کر لے جن نے قول صاحبین کو تر جیح دی ہو تو بدرجہ اولی اس کااسے اختیار ہوگا۔
اس کا کچھ اشارہ امین بالجہر کے مسئلے میں محقق علی الاطلاق کے اس کلام میں بھی جھلکتا ہے وہ فرماتے ہیں : اگر اس بارے میں مجھے کچھ اشارہ ہوتا تو یوں تطبیق دیتا کہ آہستہ کہنے والی روایت سے مراد یہ ہے کہ
فـــــ فائدہ : امام محقق علی الاطلاق نے باوصف مرتبہ اجتہاد مسئلہ جہر آمین میں مخالفت مذہب کی جراء ت نہ کی اور فرمایا مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں یوں دونوں قولوں میں اتفاق کراتا کہ نہ زور سے ہو نہ بالکل آہستہ مسلمانو ! انصاف ان اکابر کی تو یہ کیفیت اور جاہلان بے تمیز کہ ان اکابر کا کلام بھی نہ سمجھ سکیں وہ امام کے مقابلہ کو تیار ۔
تو یہ ہیں کہ مجتہد مخالفت نہ کرے مگر مقصود یہ ہے کہ مقلد ایسی مخالفت کی پیروی نہ کر ے ۔ رہا مجتہد تو جب اس کے خیال میں ائمہ ثلاثہ کے خلاف حدیث صحیح موجود ہے یا ان کے مذہب کے بر خلاف قوی دلیل عیاں ہے تو اسے ا پنے اجتہاد کو کام میں لانے اور ائمہ کے خلاف جانے سے رو کا نہیں جاسکتا ۔ اگر اسے روکا گیا ہے تو اس سے مقصود مقلد ہے کہ وہ تینوں یا ان دواماموں کی مخالفت کی صورت میں اس مجتہد کی پیروی نہ کرے ۱۲مترجم) بخلاف اس صورت کے جس میں صاحبین باہم متفق او رامام کے مخالف ہوں (کہ اس میں مقلد کے لئے مجتہد مخالف کی پیروی سے بالاجماع ممانعت نہیں) کیونکہ اس صورت میں ایك قول یہ بھی ہے کہ تخییر عام ہے ۔ یعنی مجتہد وغیر مجتہد ہر ایك کو مخالفت کا اختیار ہے جیسا کہ گزرا تو اگر مقلد کسی ایسے مرجح کی پیروی کر لے جن نے قول صاحبین کو تر جیح دی ہو تو بدرجہ اولی اس کااسے اختیار ہوگا۔
اس کا کچھ اشارہ امین بالجہر کے مسئلے میں محقق علی الاطلاق کے اس کلام میں بھی جھلکتا ہے وہ فرماتے ہیں : اگر اس بارے میں مجھے کچھ اشارہ ہوتا تو یوں تطبیق دیتا کہ آہستہ کہنے والی روایت سے مراد یہ ہے کہ
فـــــ فائدہ : امام محقق علی الاطلاق نے باوصف مرتبہ اجتہاد مسئلہ جہر آمین میں مخالفت مذہب کی جراء ت نہ کی اور فرمایا مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں یوں دونوں قولوں میں اتفاق کراتا کہ نہ زور سے ہو نہ بالکل آہستہ مسلمانو ! انصاف ان اکابر کی تو یہ کیفیت اور جاہلان بے تمیز کہ ان اکابر کا کلام بھی نہ سمجھ سکیں وہ امام کے مقابلہ کو تیار ۔
حوالہ / References
فتح القدیر ، کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵۷
کرخت آواز نہ ہو اور جہر والی کی روایت کا معنی یہ ہے کہ آواز کے انداز اور اور آواز کے ذیل میں ادا کرے یہاں محقق علیہ الرحمہ اپنی رائے کے اظہار سے باز نہ رہے اور انہیں معلوم تھا کہ اس بارے میں ان کی متابعت نہ ہوگی اس لئے یہ بھی فرمایا کہ “ اگر مجھے کچھ اختیار ہوتا “ ۔ والله تعالی اعلم!
ومجیئ النھی علی ھذا فــــ الاسلوب غیر مستنکر ان یتوجہ الی احد والمقصود بہ غیرہ قال تعالی فلا یصدنك عنها من لا یؤمن بها وقال عزوجل و لا یستخفنك الذین لا یوقنون(۶۰) ای لا تقبل صدہ و لا تنفعل با ستخفافہم والله تعالی اعلم ۔
وفی ۲۷ کتاب التجنیس والمزید للامام الاجل صاحب الھدایۃ ثم ط من اوقات الصلوۃ الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال اھ
اور اس طر ز پر نہیں آنا کہ تو جہ کسی کی جانب ہو اور مقصود کوئی اور ہو کوئی اجنبی ونامعروف چیز نہیں باری تعالی کا ارشاد ہے “ تو ہر گز تجھے اس کے (قیامت کے) ماننے سے وہ نہ روکے جو اس پر ایمان نہیں لاتا “ او ر رب عزوجل کا فرمان ہے : “ اور تمہیں سبك نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے “ پہلی آیت میں نہی ان کے لئے ہے جو ایمان نہیں رکھتے مگر “ مقصود یہ ہے کہ ان کی رکاوٹ تم قبول نہ کرو “ اسی طرح دوسری آیت میں کہ وہ سبك نہ کریں اور مقصود یہ ہے کہ “ تم ان کے استخفاف کا اثر نہ لو “
(۲۷)امام بزرگ صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید پھر طحطاوی اوقات الصلاۃ میں ہے میرے نزدیك واجب یہ ہے کہ ہر حال میں امام ابو حنفیہ کے قول پر فتوی دیا جائے ۔ اھ
فـــ : قد ینھی زید والمقصود نھی عن غیرہ۔
ومجیئ النھی علی ھذا فــــ الاسلوب غیر مستنکر ان یتوجہ الی احد والمقصود بہ غیرہ قال تعالی فلا یصدنك عنها من لا یؤمن بها وقال عزوجل و لا یستخفنك الذین لا یوقنون(۶۰) ای لا تقبل صدہ و لا تنفعل با ستخفافہم والله تعالی اعلم ۔
وفی ۲۷ کتاب التجنیس والمزید للامام الاجل صاحب الھدایۃ ثم ط من اوقات الصلوۃ الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال اھ
اور اس طر ز پر نہیں آنا کہ تو جہ کسی کی جانب ہو اور مقصود کوئی اور ہو کوئی اجنبی ونامعروف چیز نہیں باری تعالی کا ارشاد ہے “ تو ہر گز تجھے اس کے (قیامت کے) ماننے سے وہ نہ روکے جو اس پر ایمان نہیں لاتا “ او ر رب عزوجل کا فرمان ہے : “ اور تمہیں سبك نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے “ پہلی آیت میں نہی ان کے لئے ہے جو ایمان نہیں رکھتے مگر “ مقصود یہ ہے کہ ان کی رکاوٹ تم قبول نہ کرو “ اسی طرح دوسری آیت میں کہ وہ سبك نہ کریں اور مقصود یہ ہے کہ “ تم ان کے استخفاف کا اثر نہ لو “
(۲۷)امام بزرگ صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید پھر طحطاوی اوقات الصلاۃ میں ہے میرے نزدیك واجب یہ ہے کہ ہر حال میں امام ابو حنفیہ کے قول پر فتوی دیا جائے ۔ اھ
فـــ : قد ینھی زید والمقصود نھی عن غیرہ۔
حوالہ / References
القرآن ۲۰ / ۱۶
القرآن ۳۰ / ۶۰
حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷۵
القرآن ۳۰ / ۶۰
حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷۵
وفی ط منھا قد تعقب ۲۸نوح افندی ماذکر فی الدررمن ان الفتوی علی قولھما (ای فی الشفق) بانہ لایجوز فـــ۱ الاعتماد علیہ لانہ لایرجع قولہما علی قولہ الالموجب من ضعف دلیل او ضرورۃ او تعامل اواختلاف زمان اھ
ومــر رد ۲۹المحقق حیث اطلق علی المشائخ فتوھم بقولھما فی مواضع من کتابہ وانہ قال لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ اھ
وقــد ۳۰نقلہ ش واقرہ کالبحر ۳۱
اقول ولم یستثن ما سواہ لما علمت ان ذلك عین العمل بقول الامام لاعدول عنہ فمن فـــ ۲ استثناھا
(۲۸)طحطاوی اوقات الصلاۃ میں یہ بھی ہے : در ر میں جو ذکر کیا ہے کہ شفق کے بارے میں فتوی قول صاحبین پر ہے کہ اس پر علامہ نوح آفندی نے یہ تعاقب کیا ہے کہ : اس پر اعتماد جائز نہیں اس لئے کہ قول امام پر قول صاحبین کو تر جیح نہیں دی جاسکتی مگر ضعف دلیل یا ضروت یا تعامل یا اختلاف زمان جیسے کسی موجب کے سبب ۔ اھ
(۲۹)یہ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے قول صاحبین پر افتا کے با عث مشائخ پر اپنی کتاب کے متعد د مقامات پر ردکیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا سو ااس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزورہو ۔ اھ
(۳۰۔ ۳۱)اسے علامہ شامی نے بھی بحر کی طرح نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے ۔
اقول : محقق علی الاطلاق نے ضعف دلیل کی صورت کے علاوہ او رکسی صورت کا استثنا نہ کیا اس کی وجہ معلوم ہوچکی ہے اور صورتوں میں
فـــ مسئلہ : دربارہ وقت عشا جو قول صاحبین پر بعض نے فتوی دیا علامہ نوح نے فرمایا اس پر اعتماد جائز نہیں ۔
فـــ : توفیق نفیس من المصنف بین عبارات الائمۃ فی تقدیم قول الامام المختلفۃظاھرا۔
ومــر رد ۲۹المحقق حیث اطلق علی المشائخ فتوھم بقولھما فی مواضع من کتابہ وانہ قال لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ اھ
وقــد ۳۰نقلہ ش واقرہ کالبحر ۳۱
اقول ولم یستثن ما سواہ لما علمت ان ذلك عین العمل بقول الامام لاعدول عنہ فمن فـــ ۲ استثناھا
(۲۸)طحطاوی اوقات الصلاۃ میں یہ بھی ہے : در ر میں جو ذکر کیا ہے کہ شفق کے بارے میں فتوی قول صاحبین پر ہے کہ اس پر علامہ نوح آفندی نے یہ تعاقب کیا ہے کہ : اس پر اعتماد جائز نہیں اس لئے کہ قول امام پر قول صاحبین کو تر جیح نہیں دی جاسکتی مگر ضعف دلیل یا ضروت یا تعامل یا اختلاف زمان جیسے کسی موجب کے سبب ۔ اھ
(۲۹)یہ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے قول صاحبین پر افتا کے با عث مشائخ پر اپنی کتاب کے متعد د مقامات پر ردکیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا سو ااس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزورہو ۔ اھ
(۳۰۔ ۳۱)اسے علامہ شامی نے بھی بحر کی طرح نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے ۔
اقول : محقق علی الاطلاق نے ضعف دلیل کی صورت کے علاوہ او رکسی صورت کا استثنا نہ کیا اس کی وجہ معلوم ہوچکی ہے اور صورتوں میں
فـــ مسئلہ : دربارہ وقت عشا جو قول صاحبین پر بعض نے فتوی دیا علامہ نوح نے فرمایا اس پر اعتماد جائز نہیں ۔
فـــ : توفیق نفیس من المصنف بین عبارات الائمۃ فی تقدیم قول الامام المختلفۃظاھرا۔
حوالہ / References
حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷۵
شرح عقو د رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور۱ / ۲۴
شرح عقو د رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور۱ / ۲۴
کالخانیۃ والتصحیح وجامع الفصولین والبحر والخیر ورفع الغشاء ونوح وغیرھم نظر الی الصورۃ ومن ترك نظر الی المعنی فان استثنی ضعف الدلیل کالمحقق فنظرہ الی المجتھد وان لم یستثن شیئا کالامام صاحب الھدایۃ والامام الاقدم عبدالله بن المبارك فقولہ ماش علی ارسالہ فی حق المقلد ۔
فظھر ولله الحمد ان الکل انما یرمون عن قوس واحدۃ ویرومون جمیعا ان المقلد لیس لہ الااتباع الامام فی قولہ الصوری ان لم یخالفہ قولہ الضروری والاففی الضروری
وفی ۳۲شرح العقود رأیت فی ۳۳بعض کتب المتأخرین نقلا عن ۳۴ ایضاح الاستدلال علے ابطال الا ستبدال لقاضی القضاۃ شمس الدین الحریری احد شراح الھدایۃ ان ۳۵صدر الدین سلیمن قال ان ھذہ الفتاوی ھی اختیارات المشائخ فلا تعارض کتب المذھب
در اصل بعینہ قول امام پر عمل ہے جس سے عدو ل نہیں ہوسکتا تو جن حضرات نے استثنا کیا ہے جیسے خانیہ تصحیح جامع الفصولین بحر خیر رفع الغشاء علامہ نوح وغیرہم ۔ انہوں نے ظاہر صورت پر نظر کی ہے۔ اور جنہوں نے استثنا ء نہیں کیا انہوں نے معنی کا لحاظ کیا ہے ۔ پھر اگر ضعف دلیل کا استثنا کردیا ۔ جیسے محقق علی الاطلاق نے اس میں مجتہد کا اعتبار کیا ہے ۔ اور اگر کچھ بھی استثنا نہ کیا جیسے امام صاحب ہدایہ اور امام اقدم عبدالله بن مبارك تو یہ مقلد کے حق میں حکم اطلاق پر جاری ہے ۔
بحمد ہ تعالی اس تفصیل وتطبیق سے روشن ہوا کہ سبھی حضرات ایك ہی کمان سے نشانہ لگا رہے ہیں اور سب کا یہ مقصود ہے کہ مقلد کے لئے صرف اتباع امام کاحکم ہے یہ اتباع اما م کے قول صوری کا ہوگا اگر قول ضروری اس کے خلاف نہ ہو ورنہ قول ضروری کا اتباع ہوگا ۔
(۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۳۶) ۳۲شرح عقود میں ہے میں نے ۳۳بعض کتب متاخرین میں قاضی القضاۃ شمس الدین حریری شارح ہدایہ کی کتاب “ ۳۴ایضاح الاستدلال علی ابطال الاستبدال “ سے منقول یہ دیکھا کہ ۳۵صد رالدین سلیمان نے فرمایا ان فتا وی کی حیثیت یہی ہے کہ یہ مشائخ کی تر جیحات اور ان کے اختیار کر دہ اقوال واحکام ہیں تو یہ کتب مذہب کے مقابل نہیں ہوسکتے “
فظھر ولله الحمد ان الکل انما یرمون عن قوس واحدۃ ویرومون جمیعا ان المقلد لیس لہ الااتباع الامام فی قولہ الصوری ان لم یخالفہ قولہ الضروری والاففی الضروری
وفی ۳۲شرح العقود رأیت فی ۳۳بعض کتب المتأخرین نقلا عن ۳۴ ایضاح الاستدلال علے ابطال الا ستبدال لقاضی القضاۃ شمس الدین الحریری احد شراح الھدایۃ ان ۳۵صدر الدین سلیمن قال ان ھذہ الفتاوی ھی اختیارات المشائخ فلا تعارض کتب المذھب
در اصل بعینہ قول امام پر عمل ہے جس سے عدو ل نہیں ہوسکتا تو جن حضرات نے استثنا کیا ہے جیسے خانیہ تصحیح جامع الفصولین بحر خیر رفع الغشاء علامہ نوح وغیرہم ۔ انہوں نے ظاہر صورت پر نظر کی ہے۔ اور جنہوں نے استثنا ء نہیں کیا انہوں نے معنی کا لحاظ کیا ہے ۔ پھر اگر ضعف دلیل کا استثنا کردیا ۔ جیسے محقق علی الاطلاق نے اس میں مجتہد کا اعتبار کیا ہے ۔ اور اگر کچھ بھی استثنا نہ کیا جیسے امام صاحب ہدایہ اور امام اقدم عبدالله بن مبارك تو یہ مقلد کے حق میں حکم اطلاق پر جاری ہے ۔
بحمد ہ تعالی اس تفصیل وتطبیق سے روشن ہوا کہ سبھی حضرات ایك ہی کمان سے نشانہ لگا رہے ہیں اور سب کا یہ مقصود ہے کہ مقلد کے لئے صرف اتباع امام کاحکم ہے یہ اتباع اما م کے قول صوری کا ہوگا اگر قول ضروری اس کے خلاف نہ ہو ورنہ قول ضروری کا اتباع ہوگا ۔
(۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۳۶) ۳۲شرح عقود میں ہے میں نے ۳۳بعض کتب متاخرین میں قاضی القضاۃ شمس الدین حریری شارح ہدایہ کی کتاب “ ۳۴ایضاح الاستدلال علی ابطال الاستبدال “ سے منقول یہ دیکھا کہ ۳۵صد رالدین سلیمان نے فرمایا ان فتا وی کی حیثیت یہی ہے کہ یہ مشائخ کی تر جیحات اور ان کے اختیار کر دہ اقوال واحکام ہیں تو یہ کتب مذہب کے مقابل نہیں ہوسکتے “
قال وکذا ۳۶ کان یقول غیرہ من مشائخنا وبہ اقول اھ وتقدم قول الخیر ۳۷ ثم ش ۳۸المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم الا لضرورۃ وان صرح المشائخ ان الفتوی علی قولھما اھ
وایضا قول ۳۹ البحر ثم ش ۴۰یجب الافتاء بقول الامام وان لم یعلم من این قال اھ
وفـی ۴۱ردالمحتار قد قال فی ۴۲البحر لایعدل عن قول الامام الی قولھما او قول احدھما الالضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ
کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما اھ وھکذا اقرہ ۴۳فی منحۃ الخالق ۔
فرماتے ہیں کہ یہی بات ہمارے دو سرے شیوخ بھی فرماتے اور میں بھی اسی کا قائل ہوں ۔
(۳۷۔ ۔ ۔ ۳۸)۳۷خیریہ پھر ۳۸شامی کاکلام گزرچکا کہ ہمارے نزدیك مقر ر اور طے شدہ یہی ہے کہ صورت ضرورت کے سوا فتوی او رعمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا ۔ اگرچہ مشائخ تصریح فرمائیں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے ۔ اھ
(۳۹۔ ۔ ۔ ۴۰)۳۹بحر پھر۴۰ شامی کا یہ کلام بھی گز رچکا کہ قول امام پر ہی افتا واجب ہے اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا ماخذاور دلیل کیا ہے۔ اھ
(۴۱۔ ۔ ۔ ۴۲) ۴۱رد المحتار میں ۴۲بحر سے نقل ہے قول امام سے قول صاحبین کی جانب ضعف دلیل یا قول امام کے خلاف صورت مزارعت جیسے تعامل کی ضرورت کے سوا عدول نہ ہوگا اگرچہ مشائخ کی صراحت یہ ہو کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے اھ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں بھی اس کلام بحر کو اسی طر ح بر قرار رکھا ہے ۔
وایضا قول ۳۹ البحر ثم ش ۴۰یجب الافتاء بقول الامام وان لم یعلم من این قال اھ
وفـی ۴۱ردالمحتار قد قال فی ۴۲البحر لایعدل عن قول الامام الی قولھما او قول احدھما الالضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ
کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما اھ وھکذا اقرہ ۴۳فی منحۃ الخالق ۔
فرماتے ہیں کہ یہی بات ہمارے دو سرے شیوخ بھی فرماتے اور میں بھی اسی کا قائل ہوں ۔
(۳۷۔ ۔ ۔ ۳۸)۳۷خیریہ پھر ۳۸شامی کاکلام گزرچکا کہ ہمارے نزدیك مقر ر اور طے شدہ یہی ہے کہ صورت ضرورت کے سوا فتوی او رعمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا ۔ اگرچہ مشائخ تصریح فرمائیں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے ۔ اھ
(۳۹۔ ۔ ۔ ۴۰)۳۹بحر پھر۴۰ شامی کا یہ کلام بھی گز رچکا کہ قول امام پر ہی افتا واجب ہے اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا ماخذاور دلیل کیا ہے۔ اھ
(۴۱۔ ۔ ۔ ۴۲) ۴۱رد المحتار میں ۴۲بحر سے نقل ہے قول امام سے قول صاحبین کی جانب ضعف دلیل یا قول امام کے خلاف صورت مزارعت جیسے تعامل کی ضرورت کے سوا عدول نہ ہوگا اگرچہ مشائخ کی صراحت یہ ہو کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے اھ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں بھی اس کلام بحر کو اسی طر ح بر قرار رکھا ہے ۔
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۳۶
ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹ ، الفتاوی الخیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳
البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹ ، ردالمحتار اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹
ردالمحتار کتاب الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۴۰
ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹ ، الفتاوی الخیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳
البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹ ، ردالمحتار اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹
ردالمحتار کتاب الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۴۰
۴۴وفیہ من النکاح قبیل الولی فی مسألۃ دعوی النکاح منہ او منھا ببینۃ الزور وقضاء القاضی بھا عند قول الدر تحل لہ خلافا لھما وفی الشرنبلا لیۃ عن المواھب وبقولھما یفتی ما نصہ قال الکمال قول الامام اوجہ قلت وحیث کان الاوجہ فلا یعدل عنہ لما تقرر انہ لایعدل عن قول الامام الا لضرورۃ او ضعف دلیلہ کما اوضحناہ فی منظومۃ رسم المفتی و شرحھا اھ
۴۵وفیہ من ھبۃ المشاع حیث علمت انہ ظاھر الروایۃ ونص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظھر انہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ اھ
ھـذہ نصوص العلماء رحمھم الله
(۴۴)درمختار کتاب النکاح میں باب الولی سے ذرا پہلے یہ مسئلہ ہے کہ مرد یا عورت نے دعوی کیا کہ اس سے میرا نکاح ہو چکا ہے اس دعوے پر جھوٹے گواہ بھی پیش کردئے اور قاضی نے ثبوت نکاح کا فیصلہ بھی کردیا توعورت اس مرد کے لئے حلال ہوجائے گی اور صاحبین کے قول پر حلال نہ ہوگی شرنبلالیہ میں مواھب کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے ۔ اس کے تحت رد المحتار میں یہ کلام ہے کمال نے فرمایا قول امام اوجہ ہے (بہتر وبادلیل ہے ) میں کہتا ہوں جب قول امام اوجہ ہے تو اس سے عدول نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ امر طے شدہ ہے کہ ضرورت یا قول امام کی دلیل ضعیف ہونے کے سوا اور کسی حال میں قول امام سے عدول نہ ہوگا جیسا کہ منظومہ رسم المفتی او را س کی شرح میں ہم واضح کرچکے ہیں ۔
(۴۵)اسی (رد المحتار ) میں ہبہ مشاع کے بیان میں ہے جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی ظاہر الروایہ ہے اسی پر امام محمد کا نص ہے او راسی کو ان حضرات نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے توظاہر ہوگیا کہ عمل اسی پر ہوگا اگر چہ یہ صراحت کی گئی ہو کہ مفتی بہ اس کے خلاف ہے ۔ اھ
یہ ہیں علماء کے نصوص اور ان کی تصریحات
۴۵وفیہ من ھبۃ المشاع حیث علمت انہ ظاھر الروایۃ ونص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظھر انہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ اھ
ھـذہ نصوص العلماء رحمھم الله
(۴۴)درمختار کتاب النکاح میں باب الولی سے ذرا پہلے یہ مسئلہ ہے کہ مرد یا عورت نے دعوی کیا کہ اس سے میرا نکاح ہو چکا ہے اس دعوے پر جھوٹے گواہ بھی پیش کردئے اور قاضی نے ثبوت نکاح کا فیصلہ بھی کردیا توعورت اس مرد کے لئے حلال ہوجائے گی اور صاحبین کے قول پر حلال نہ ہوگی شرنبلالیہ میں مواھب کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے ۔ اس کے تحت رد المحتار میں یہ کلام ہے کمال نے فرمایا قول امام اوجہ ہے (بہتر وبادلیل ہے ) میں کہتا ہوں جب قول امام اوجہ ہے تو اس سے عدول نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ امر طے شدہ ہے کہ ضرورت یا قول امام کی دلیل ضعیف ہونے کے سوا اور کسی حال میں قول امام سے عدول نہ ہوگا جیسا کہ منظومہ رسم المفتی او را س کی شرح میں ہم واضح کرچکے ہیں ۔
(۴۵)اسی (رد المحتار ) میں ہبہ مشاع کے بیان میں ہے جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی ظاہر الروایہ ہے اسی پر امام محمد کا نص ہے او راسی کو ان حضرات نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے توظاہر ہوگیا کہ عمل اسی پر ہوگا اگر چہ یہ صراحت کی گئی ہو کہ مفتی بہ اس کے خلاف ہے ۔ اھ
یہ ہیں علماء کے نصوص اور ان کی تصریحات
حوالہ / References
الدر المختار ، کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰
ردالمحتار ، کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۴
ردالمحتار ، کتاب الہبہ مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۱
ردالمحتار ، کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۹۴
ردالمحتار ، کتاب الہبہ مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۱
تعالی و رحمنابھم وھی کما تری کلھا موافقۃ لما فی البحر ولم یتعقبہ فیما علمت الا عالمان متأخران کل منھما عاب واب وانکر و اقرو فارق و رافق وخالف و وافق وھما العلامۃ خیر الرملی والسید الشامی رحمھما الله تعالی ولا عبرۃ بقول مضطرب۔
وقد علمت ان لا نزاع فی سبع صور انما ورد خلاف ضعیف فی الثامن وھی ما اذا خالفہ صاحباہ متوافقین علی قول واحد ولم یتفق المرجحون علی ترجیح شیئ منھما فعند ذاك جاء قیل ضعیف مجہول القائل بل مشکوك الثبوت “ ان المقلد یتبع ماشاء منھما “ والصحیح المشہور المعتمد المنصور انہ لایتبع الاقول الامام والقولان کما تری مطلقان مرسلا ن لانظر فی شیئ منھما لترجیح
الله تعالی ان پر رحمت نازل فرمائے اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت فرمائے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام نصوص کلام بحر کے موافق ہیں او رمیرے علم میں کسی نے بھی اس پر کوئی تعاقب نہ کیا سوا دو متا خر عالموں کے دونوں حضرات میں سے ہر ایك نے عیب بھی لگایا اور رجوع بھی کیا انکار بھی کیا اوراقرار بھی مفارقت بھی کی اور مرافقت بھی مخالفت بھی اور موافقت بھی یہ ہیں علامہ خیر الدین رملی اور سید امین الدین شامی رحمہم اللہ تعالی اور کسی مضطرب کلام کا یوں ہی کوئی اعتبار نہیں۔
یہ بھی معلوم ہوچکا کہ اس مسئلہ کی سات صورتوں میں کوئی نزاع نہیں ایك ضعیف اختلاف صرف آٹھویں صورت میں آیا ہے ۔ وہ صورت یہ ہے کہ صاحبین باہم ایك قول پر متفق ہوتے ہوئے امام کے خلاف ہوں او رمرجحین دونوں قولوں میں سے کسی کی ترجیح پر متفق نہ ہوں بس اسی صورت میں ایك ضعیف قول آیا ہے جس کے قائل کا پتا نہیں بلکہ اس کے وجود میں بھی شبہ ہے وہ قول یہ ہے کہ مقلد دونوں میں سے جس کی چاہے پیرو ی کرے صحیح مشہور معتمد منصور قول یہ ہے کہ مقلد قول امام کے سوا کسی کی پیروی نہ کرے یہ دونوں قول جیسا کہ آپ کے سامنے ہے مطلق اور ہر طر ح کی قید سے آزاد ہیں ۔ کسی میں ترجیح یا عدم ترجیح کا
وقد علمت ان لا نزاع فی سبع صور انما ورد خلاف ضعیف فی الثامن وھی ما اذا خالفہ صاحباہ متوافقین علی قول واحد ولم یتفق المرجحون علی ترجیح شیئ منھما فعند ذاك جاء قیل ضعیف مجہول القائل بل مشکوك الثبوت “ ان المقلد یتبع ماشاء منھما “ والصحیح المشہور المعتمد المنصور انہ لایتبع الاقول الامام والقولان کما تری مطلقان مرسلا ن لانظر فی شیئ منھما لترجیح
الله تعالی ان پر رحمت نازل فرمائے اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت فرمائے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام نصوص کلام بحر کے موافق ہیں او رمیرے علم میں کسی نے بھی اس پر کوئی تعاقب نہ کیا سوا دو متا خر عالموں کے دونوں حضرات میں سے ہر ایك نے عیب بھی لگایا اور رجوع بھی کیا انکار بھی کیا اوراقرار بھی مفارقت بھی کی اور مرافقت بھی مخالفت بھی اور موافقت بھی یہ ہیں علامہ خیر الدین رملی اور سید امین الدین شامی رحمہم اللہ تعالی اور کسی مضطرب کلام کا یوں ہی کوئی اعتبار نہیں۔
یہ بھی معلوم ہوچکا کہ اس مسئلہ کی سات صورتوں میں کوئی نزاع نہیں ایك ضعیف اختلاف صرف آٹھویں صورت میں آیا ہے ۔ وہ صورت یہ ہے کہ صاحبین باہم ایك قول پر متفق ہوتے ہوئے امام کے خلاف ہوں او رمرجحین دونوں قولوں میں سے کسی کی ترجیح پر متفق نہ ہوں بس اسی صورت میں ایك ضعیف قول آیا ہے جس کے قائل کا پتا نہیں بلکہ اس کے وجود میں بھی شبہ ہے وہ قول یہ ہے کہ مقلد دونوں میں سے جس کی چاہے پیرو ی کرے صحیح مشہور معتمد منصور قول یہ ہے کہ مقلد قول امام کے سوا کسی کی پیروی نہ کرے یہ دونوں قول جیسا کہ آپ کے سامنے ہے مطلق اور ہر طر ح کی قید سے آزاد ہیں ۔ کسی میں ترجیح یا عدم ترجیح کا
او عدمہ۔
لکـن المحقق الشامی اختار لنفسہ مسلکا جدیدا لا اعلم لہ فیہ سندا سدیدا و ھو ان المقلد لالہ التخییر ولا علیہ التقیید بتقلید الامام بل علیہ ان یتبع المرجحین۔ قال فی صدر ردالمحتار قول السراجیۃ الاول اصح اذا لم یکن المفتی مجتھدا فھو صریح فی ان المجتھد یعنی من کان اھلا للنظر فی الدلیل یتبع من الاقوال ماکان اقوی دلیلا والا اتبع الترتیب السابق وعن ھذا ترھم قدیرجحون قول بعض اصحابہ علی قولہ کما رجحوا قول زفر وحدہ فی سبع عشرۃ مسألۃ فنتبع مارجحوہ لانھم اھل النظر فی الدلیل اھ
وقال فی قضائہ لا یجوز لہ مخالفۃ الترتیب المذکور
کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے (ضعیف میں مطلقا اختیار دیا گیا ہے اور صحیح میں مطلقا پابند امام رکھاگیا ہے )
لیکن محقق شامی نے اپنے لئے ایك نیا مسلك اختیار کیاہے جس کی کوئی صحیح سند میرے علم میں نہیں وہ مسلك یہ ہے کہ مقلد کو نہ اختیار ہے نہ تقلید امام کی پابندی بلکہ اس پر یہ ہے کہ مرجحین کی پیروی کرے رد المحتار کے شر وع میں لکھتے ہیں سراجیہ کی عبارت “ اول اصح ہے جب کہ وہ صاحب اجتہادنہ ہو “ اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد یعنی وہ جو دلیل میں نظر کا اہل ہو اس قول کی پیروی کرے گا جس کی دلیل زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ۔ اسی لئے دیکھتے ہو کہ مرجحین بعض اوقات امام صاحب کے کسی شاگر د کے قول کو ان کے قول پر ترجیح دیتے ہیں جیسے سترہ مسائل میں تنہا امام زفر کے قول کو ترجیح دی ہے تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی کیوں کہ وہ دلیل میں نظر کے اہل تھے ۔ اھ
اور رد المحتار کتاب القضاء میں لکھا : اس کے لئے تر تیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں
لکـن المحقق الشامی اختار لنفسہ مسلکا جدیدا لا اعلم لہ فیہ سندا سدیدا و ھو ان المقلد لالہ التخییر ولا علیہ التقیید بتقلید الامام بل علیہ ان یتبع المرجحین۔ قال فی صدر ردالمحتار قول السراجیۃ الاول اصح اذا لم یکن المفتی مجتھدا فھو صریح فی ان المجتھد یعنی من کان اھلا للنظر فی الدلیل یتبع من الاقوال ماکان اقوی دلیلا والا اتبع الترتیب السابق وعن ھذا ترھم قدیرجحون قول بعض اصحابہ علی قولہ کما رجحوا قول زفر وحدہ فی سبع عشرۃ مسألۃ فنتبع مارجحوہ لانھم اھل النظر فی الدلیل اھ
وقال فی قضائہ لا یجوز لہ مخالفۃ الترتیب المذکور
کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے (ضعیف میں مطلقا اختیار دیا گیا ہے اور صحیح میں مطلقا پابند امام رکھاگیا ہے )
لیکن محقق شامی نے اپنے لئے ایك نیا مسلك اختیار کیاہے جس کی کوئی صحیح سند میرے علم میں نہیں وہ مسلك یہ ہے کہ مقلد کو نہ اختیار ہے نہ تقلید امام کی پابندی بلکہ اس پر یہ ہے کہ مرجحین کی پیروی کرے رد المحتار کے شر وع میں لکھتے ہیں سراجیہ کی عبارت “ اول اصح ہے جب کہ وہ صاحب اجتہادنہ ہو “ اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد یعنی وہ جو دلیل میں نظر کا اہل ہو اس قول کی پیروی کرے گا جس کی دلیل زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ۔ اسی لئے دیکھتے ہو کہ مرجحین بعض اوقات امام صاحب کے کسی شاگر د کے قول کو ان کے قول پر ترجیح دیتے ہیں جیسے سترہ مسائل میں تنہا امام زفر کے قول کو ترجیح دی ہے تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی کیوں کہ وہ دلیل میں نظر کے اہل تھے ۔ اھ
اور رد المحتار کتاب القضاء میں لکھا : اس کے لئے تر تیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۸
الا اذا کان لہ ملکۃ یقتدر بھا علی الاطلاع علی قوۃ المدرك وبھذا رجع القول الاول الی ما فی الحاوی من ان العبرۃ فی المفتی المجتھد لقوۃ المدرك نعم فیہ زیادۃ تفصیل سکت عنہ الحاوی فقد اتفق القولان علی ان الاصح ھو ان المجتھد فی المذھب من المشائخ الذین ھم اصحاب الترجیح لایلزمہ الاخذ بقول الامام علی الاطلاق بل علیہ النظر فی الدلیل وترجیح مارجح عندہ دلیلہ ونحن نتبع ما رجحوہ واعتمدوہ کمالو افتوا فی حیاتھم کما حققہ الشارح فی اول الکتاب نقلا عن العلامۃ قاسم ویأتی قریبا عن الملتقط انہ ان لم یکن مجتھدا فعلیہ تقلیدھم واتباع رأیھم فاذا قضی بخلافہ لا ینفذ حکمہ وفی فتاوی ابن الشلبی لایعدل عن قول الامام الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ وبھذا سقط ما بحثہ فی البحر من ان علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ
مگر جب کہ اسے ایسا ملکہ ہو جس سے قوت دلیل پروہ آگا ہ ہونے کی قدرت رکھتا ہے اسی سے پہلے قول کامال وہی ٹھہرا جو حاوی میں ہے کہ صاحب اجتہاد مفتی کے حق میں قوت دلیل کا اعتبار ہے۔ ہاں اس میں کچھ مزید تفصیل ہے جس سے حاوی نے سکوت اختیار کیا ۔ تو دونوں قول اس پر متفق ہوگئے کہ اصحاب تر جیح مشائخ میں سے مجتہد فی المذہب پر مطلقا قول امام لینا ضروری نہیں بلکہ اس کے ذمہ یہ ہے کہ دلیل میں نظرکرے اور جس قول کی دلیل اس کے نزدیك راجح ہو اس سے ترجیح دے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی اور جس پر اعتماد کیا جیسے وہ اگر اپنی حیات میں کہیں فتوے دیتے تو یہی ہوتا جیسا کہ شروع کتاب میں علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے او رآگے ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے کہ اگر قاضی صاحب اجتہاد نہ ہو تو اسے مرجحین کی تقلید اور ان کی رائے کا اتباع کرنا ہے اس کے خلاف فیصلہ کردے تو نافذ نہ ہوگا اورفتا وی ابن الشلبی میں ہے کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ تصریح کردی ہو کہ فتوی کسی اور کے قول پر ہے اسی سے بحر کی یہ بحث ساقط ہوجاتی ہے کہ ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف
مگر جب کہ اسے ایسا ملکہ ہو جس سے قوت دلیل پروہ آگا ہ ہونے کی قدرت رکھتا ہے اسی سے پہلے قول کامال وہی ٹھہرا جو حاوی میں ہے کہ صاحب اجتہاد مفتی کے حق میں قوت دلیل کا اعتبار ہے۔ ہاں اس میں کچھ مزید تفصیل ہے جس سے حاوی نے سکوت اختیار کیا ۔ تو دونوں قول اس پر متفق ہوگئے کہ اصحاب تر جیح مشائخ میں سے مجتہد فی المذہب پر مطلقا قول امام لینا ضروری نہیں بلکہ اس کے ذمہ یہ ہے کہ دلیل میں نظرکرے اور جس قول کی دلیل اس کے نزدیك راجح ہو اس سے ترجیح دے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی اور جس پر اعتماد کیا جیسے وہ اگر اپنی حیات میں کہیں فتوے دیتے تو یہی ہوتا جیسا کہ شروع کتاب میں علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے او رآگے ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے کہ اگر قاضی صاحب اجتہاد نہ ہو تو اسے مرجحین کی تقلید اور ان کی رائے کا اتباع کرنا ہے اس کے خلاف فیصلہ کردے تو نافذ نہ ہوگا اورفتا وی ابن الشلبی میں ہے کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ تصریح کردی ہو کہ فتوی کسی اور کے قول پر ہے اسی سے بحر کی یہ بحث ساقط ہوجاتی ہے کہ ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف
بخلافہ اھ
اقول اولا فــــــ ۱ ھذا کما تری قول مستحدث ۔
وثانیا فـــــــ ۲ زاد احداثا باتباع الترجیح المخالف لاجماع ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وقد سمعت صرائح النصوص علی خلافہ نعم نتبع القول الضروری حیث کان وجد مع ترجیح او لابل ولو وجد الترجیح بخلافہ کما علمت فلیس الاتباع فیہ للترجیح بل لقول الامام۔
وثالثا فیہ فـــــــ ۳ ذھول عن محل النزاع کما علمت تحریرہ بل فوق ذلك لان فــــــ ۴ ماخالف فیہ صاحباہ ینقسم الان الی ستۃ فتو ی دیاہو۔ اھ
اقول اولا : یہ جیسا آپ دیکھ رہے ہیں ایك نیا قول ہے ۔
ثانیا : مزید نئی بات یہ بڑھائی کہ اس ترجیح کا بھی اتباع کرنا ہے جو ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے اجماع کے بر خلاف ہو حالاں کہ صریح نصوص اس کے خلاف ہیں جیسا کہ ملاحظہ کر چکے ہاں قول ضروری کا ہم اتباع کریں گے جہاں امام کا قول ضروری ہو خواہ اس کے ساتھ تر جیح ہویا نہ ہو بلکہ ترجیح اس کے بر خلاف ہو جب بھی جیسا کہ معلوم ہوا تو اس میں ترجیح کی پیر وی نہیں بلکہ قول امام کی ہے ۔
ثالثا : محل نزاع جس کی پوری وضاحت آپ کے سامنے گزری یہاں اس سے بھی ذہول ہے بلکہ اور بھی زیادہ ہے اس لئے کہ (محل نزاع صرف وہ صورت ہے ) جس میں صاحبین باہم ایك قول پر متفق ہونے کے ساتھ امام کے
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معروضۃ علیہ
اقول اولا فــــــ ۱ ھذا کما تری قول مستحدث ۔
وثانیا فـــــــ ۲ زاد احداثا باتباع الترجیح المخالف لاجماع ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وقد سمعت صرائح النصوص علی خلافہ نعم نتبع القول الضروری حیث کان وجد مع ترجیح او لابل ولو وجد الترجیح بخلافہ کما علمت فلیس الاتباع فیہ للترجیح بل لقول الامام۔
وثالثا فیہ فـــــــ ۳ ذھول عن محل النزاع کما علمت تحریرہ بل فوق ذلك لان فــــــ ۴ ماخالف فیہ صاحباہ ینقسم الان الی ستۃ فتو ی دیاہو۔ اھ
اقول اولا : یہ جیسا آپ دیکھ رہے ہیں ایك نیا قول ہے ۔
ثانیا : مزید نئی بات یہ بڑھائی کہ اس ترجیح کا بھی اتباع کرنا ہے جو ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے اجماع کے بر خلاف ہو حالاں کہ صریح نصوص اس کے خلاف ہیں جیسا کہ ملاحظہ کر چکے ہاں قول ضروری کا ہم اتباع کریں گے جہاں امام کا قول ضروری ہو خواہ اس کے ساتھ تر جیح ہویا نہ ہو بلکہ ترجیح اس کے بر خلاف ہو جب بھی جیسا کہ معلوم ہوا تو اس میں ترجیح کی پیر وی نہیں بلکہ قول امام کی ہے ۔
ثالثا : محل نزاع جس کی پوری وضاحت آپ کے سامنے گزری یہاں اس سے بھی ذہول ہے بلکہ اور بھی زیادہ ہے اس لئے کہ (محل نزاع صرف وہ صورت ہے ) جس میں صاحبین باہم ایك قول پر متفق ہونے کے ساتھ امام کے
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : معروضۃ علیہ
فــــ ۳ : معروضۃ علیہ
فــــ ۴ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق داراحیاء التراث بیروت ۴ / ۳۰۲ ، ۳۰۳
مخالف ہوں اب اس کی چھ قسمیں ہوں گی (۱) مرجحین قول امام کی ترجیح پر متفق ہوں(۲) یا قول صاحبین کی ترجیح پر( گزرچکا کہ یہ صورت نہ کبھی ہوئی نہ ہوگی )(۳) مرجحین کی کثرت یالفظ ترجیح کی قوت کے با عث دو نوں ترجیحوں سے ارجح قول امام کے حق میں ہو (۴) یا قول صاحبین کے حق میں ہو(۵) دو نوں قول تر جیح میں برابر ہو ں (۶) یا عدم ترجیح میں برابر ہوں ان میں سے علامہ شامی کے اختلاف کے قابل صرف چوتھی قسم ہے وہ یہ کہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح قول صاحبین کے حق میں ہو مگر اب یہ دس۱۰ قسموں میں سے دسویں قسم بن جاتی ہے او ر اس حد تك تعدی ہوجاتی ہے جو مقسم سے بھی اعم ہے وہ یہ کہ بہر حال ترجیح کی پیروی ہوگی خواہ مخالف امام دونوں حضرات ہوں یا ایك ہی ہوں یا کوئی بھی مخالف نہ ہو۔
رابعا : بالفر ض اس نوپیدا قول کا کتا بوں میں کوئی نام ونشان ہو جب بھی تقلید امام کی پابندی والا قول اس پر ترجیح یا فتہ اور واجب الاتباع ہوگا ۔ اس کی چند وجہیں ہیں ۔
اقسام اما یتفق المرجحون علی ترجیح قولہ او قولھما او یکون ارجح الترجحین لکثرۃ المرجحین او قوۃ لفظ الترجیح لہ اولھما او یتساویان فیہ او فی عدمہ ولا یستا ھل لخلاف السید الاالرابع ان یکون ارجح الترجحین لھما فاذن ھو عاشر عشرۃ عـــہ وقد تعدی الی ماھوا عم من المقسم ایضا وھو اتباع الترجیح سواء خالفہ صاحباہ او احدھما اولا احد۔
و رابعا : ان کان لہذا القول المحدث اثر فی الزبر کان قول التقلید بتقلید الامام مرجحا علیہ و واجب الاتباع بوجوہ۔
عــــہ : وہ اس طرح کہ امام کے مخالف صاحبین ہیں یا ایك یا کوئی نہیں (۱۔ ۔ ۔ ۲) اور ترجیح یا عدم ترجیح میں سب برابر ہیں (۳) اتفاق قول امام کی ترجیح پر ہے (۴) قول صاحبین پر (۵) ایك صاحب کے قول پر (۶) اس پر جو کسی کا قول نہیں (۴۔ ۔ ۔ ۶) کبھی واقع ہوئیں نہ ہونگی (۷) ارجح ترجیحات قول امام کے حق میں ہے ۔ (۸) قول صاحبین کے حق میں (۹) ایك صاحب کے حق میں (۱۰) اس کے حق میں جو کسی کا قول نہیں ۔ محمد احمد مصباحی
رابعا : بالفر ض اس نوپیدا قول کا کتا بوں میں کوئی نام ونشان ہو جب بھی تقلید امام کی پابندی والا قول اس پر ترجیح یا فتہ اور واجب الاتباع ہوگا ۔ اس کی چند وجہیں ہیں ۔
اقسام اما یتفق المرجحون علی ترجیح قولہ او قولھما او یکون ارجح الترجحین لکثرۃ المرجحین او قوۃ لفظ الترجیح لہ اولھما او یتساویان فیہ او فی عدمہ ولا یستا ھل لخلاف السید الاالرابع ان یکون ارجح الترجحین لھما فاذن ھو عاشر عشرۃ عـــہ وقد تعدی الی ماھوا عم من المقسم ایضا وھو اتباع الترجیح سواء خالفہ صاحباہ او احدھما اولا احد۔
و رابعا : ان کان لہذا القول المحدث اثر فی الزبر کان قول التقلید بتقلید الامام مرجحا علیہ و واجب الاتباع بوجوہ۔
عــــہ : وہ اس طرح کہ امام کے مخالف صاحبین ہیں یا ایك یا کوئی نہیں (۱۔ ۔ ۔ ۲) اور ترجیح یا عدم ترجیح میں سب برابر ہیں (۳) اتفاق قول امام کی ترجیح پر ہے (۴) قول صاحبین پر (۵) ایك صاحب کے قول پر (۶) اس پر جو کسی کا قول نہیں (۴۔ ۔ ۔ ۶) کبھی واقع ہوئیں نہ ہونگی (۷) ارجح ترجیحات قول امام کے حق میں ہے ۔ (۸) قول صاحبین کے حق میں (۹) ایك صاحب کے حق میں (۱۰) اس کے حق میں جو کسی کا قول نہیں ۔ محمد احمد مصباحی
الاول فـــــــ ۱انـہ قول صاحب الامام الاعظم بحر العلم امام الفقھاء والمحدثین والاولیاء سیدنا عبدالله بن المبارك رضی الله تعالی عنہ ونفعنا ببرکاتہ العظیمۃ فی الدین والدنیا والاخرہ فقد فــــــ۲ قال فی الحاوی القدسی ونقلتموہ انتم فی شرح العقود متی لم یوجد فی المسألۃ عن ابی حنیفۃ روایۃ یؤخذ بظاھر قول ابی یوسف ثم بظاھر قول محمد ثم بظاھر قول زفر والحسن وغیرھم الاکبر فالاکبر الی اخر من کان من کبار الاصحاب اھ
الثانی فــــــ ۳علیہ الجمھور والعمل بما علیہ فــــــ ۴ الاکثر کما صرحتم بہ
وجہ اول : یہ امام اعظم کے شاگرد بحر علم فقہا محدثین اور اولیا کے امام سیدنا عبدالله بن مبارك رضی اللہ تعالی عنہکا قول ہے خدا ہمیں دین دنیا او رآخرت میں ان کی عظیم بر کتو ں سے فائدہ پہنچا ئے حاوی قدسی میں ہے : اور آپ نے شرح عقود میں اسے نقل بھی فرمایا ہے کہ جب مسئلہ میں امام ابو حنیفہ سے کوئی روایت نہ ملے تو ظاہر قول امام ابو یوسف پھر ظاہر قول امام محمد پھر ظاہر قول امام زفر و حسن وغیرہم لیا جائے گا ( ظاہر سے مراد وہ جو ظاہر الروایہ میں ہو جیسا کہ حاشیہ مصنف میں گزرا ۱۲ م) بزرگ تر پھر بزرگ تر یوں ہی کبار اصحاب کے آخری فرد تك ۔ )
وجہ دوم : اسی پر جمہور ہیں او رعمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں جیسا کہ آپ نے
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ مسئلہ : جب کسی مسئلہ میں امام کا قول نہ ملے امام ابو یوسف کے قول پر عمل ہو ان کے بعدامام محمد پھر امام زفر پھر امام حسن بن زیاد وغیرہم مثل امام عبدالله بن مبارك و امام اسد بن عمرو و امام زاہد و لیث بن سعد و امام عارف داؤد طائی وغیرہم اکابر اصحاب امام رضی اللہ تعالی عنہکے اقوال پرعمل ہو ۔
فـــ ۳ : معروضۃ علیہ
فـــ ۴ : العمل بما فیہ الاکثر
الثانی فــــــ ۳علیہ الجمھور والعمل بما علیہ فــــــ ۴ الاکثر کما صرحتم بہ
وجہ اول : یہ امام اعظم کے شاگرد بحر علم فقہا محدثین اور اولیا کے امام سیدنا عبدالله بن مبارك رضی اللہ تعالی عنہکا قول ہے خدا ہمیں دین دنیا او رآخرت میں ان کی عظیم بر کتو ں سے فائدہ پہنچا ئے حاوی قدسی میں ہے : اور آپ نے شرح عقود میں اسے نقل بھی فرمایا ہے کہ جب مسئلہ میں امام ابو حنیفہ سے کوئی روایت نہ ملے تو ظاہر قول امام ابو یوسف پھر ظاہر قول امام محمد پھر ظاہر قول امام زفر و حسن وغیرہم لیا جائے گا ( ظاہر سے مراد وہ جو ظاہر الروایہ میں ہو جیسا کہ حاشیہ مصنف میں گزرا ۱۲ م) بزرگ تر پھر بزرگ تر یوں ہی کبار اصحاب کے آخری فرد تك ۔ )
وجہ دوم : اسی پر جمہور ہیں او رعمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں جیسا کہ آپ نے
فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ مسئلہ : جب کسی مسئلہ میں امام کا قول نہ ملے امام ابو یوسف کے قول پر عمل ہو ان کے بعدامام محمد پھر امام زفر پھر امام حسن بن زیاد وغیرہم مثل امام عبدالله بن مبارك و امام اسد بن عمرو و امام زاہد و لیث بن سعد و امام عارف داؤد طائی وغیرہم اکابر اصحاب امام رضی اللہ تعالی عنہکے اقوال پرعمل ہو ۔
فـــ ۳ : معروضۃ علیہ
فـــ ۴ : العمل بما فیہ الاکثر
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۶
رد المحتار باب المیاہ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۱
رد المحتار باب المیاہ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۱
فی ردالمحتار والعقود الدریۃ واکثرنا النصوص علیہ فی فتاونا وفی فصل القضاء فی رسم الافتاء ۔
الـثالث : فـــــ ھوالذی تواردت علیہ التصحیحات واتفقت علیہ الترجیحات فان وجب اتباعھا وجب القول بوجوب تقلید الامام وان خالفہ مطلقا وان لم یجب سقط البحث رأسا فانما کان النزاع فی وجوب اتباع الترجیحات فظھر ان نفس النزاع یھدم النزاع و ای شیئ اعجب منہ۔
وخـامسا : السید المحقق من الذین زعموا ان العامی لامذھب لہ وان لہ ان یقلد من شاء فیما شاء وقد قال فی قضاء المنحۃ فی نفس ھذا المبحث نعم ما ذکرہ المؤلف یظھر بناء علی القول بان من التزم مذھب الامام لایحل لہ تقلید
خود رد المحتار اور العقود الدریہ میں اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس پر اپنے فتاوی اور فصل القضا ء فی رسم الافتا ء میں بکثرت نصوص جمع کردئے ہیں۔
وجہ سوم : یہی وہ قول ہے جس پر تصحیحات کا توارد اور ترجیحات کا اتفاق ہے تو اگر ترجیحات کااتباع واجب ہے تو اس کا قائل ہو نا بھی واجب کہ امام کی تقلید ضروری ہے اگر چہ صاحبین مطلقا ان کے مخالف ہوں ۔ او ر اگراتباع تر جیحات واجب نہیں توسرے سے بحث ہی ساقط ہوگئی کیونکہ یہ سارا اختلاف تر جیحات کا اتباع واجب ہونے ہی کے بارے میں تھا اس سے ظاہر ہوا کہ خود نزاع ہی نزاع کو ختم کر دیتا ہے ۔ اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی
خامسا : سید محقق ان لوگو ں میں سے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ عامی کا کوئی مذہب نہیں او روہ جس بات میں چاہے جس کی چاہے تقلید کرسکتا ہے ۔ منحۃ الخالق کی کتاب القضاء میں خود اسی بحث کے تحت لکھتے ہیں ہاں مولف نے جو ذکر کیا ہے اس قول کی بنیاد پر ظاہر ہے کہ جس نے مذہب امام کا التزام کرلیا اس کے لئے دو سرے کی تقلید جن باتوں پر وہ عمل کر چکا ہے
فــــ : معروضۃ علیہ
الـثالث : فـــــ ھوالذی تواردت علیہ التصحیحات واتفقت علیہ الترجیحات فان وجب اتباعھا وجب القول بوجوب تقلید الامام وان خالفہ مطلقا وان لم یجب سقط البحث رأسا فانما کان النزاع فی وجوب اتباع الترجیحات فظھر ان نفس النزاع یھدم النزاع و ای شیئ اعجب منہ۔
وخـامسا : السید المحقق من الذین زعموا ان العامی لامذھب لہ وان لہ ان یقلد من شاء فیما شاء وقد قال فی قضاء المنحۃ فی نفس ھذا المبحث نعم ما ذکرہ المؤلف یظھر بناء علی القول بان من التزم مذھب الامام لایحل لہ تقلید
خود رد المحتار اور العقود الدریہ میں اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس پر اپنے فتاوی اور فصل القضا ء فی رسم الافتا ء میں بکثرت نصوص جمع کردئے ہیں۔
وجہ سوم : یہی وہ قول ہے جس پر تصحیحات کا توارد اور ترجیحات کا اتفاق ہے تو اگر ترجیحات کااتباع واجب ہے تو اس کا قائل ہو نا بھی واجب کہ امام کی تقلید ضروری ہے اگر چہ صاحبین مطلقا ان کے مخالف ہوں ۔ او ر اگراتباع تر جیحات واجب نہیں توسرے سے بحث ہی ساقط ہوگئی کیونکہ یہ سارا اختلاف تر جیحات کا اتباع واجب ہونے ہی کے بارے میں تھا اس سے ظاہر ہوا کہ خود نزاع ہی نزاع کو ختم کر دیتا ہے ۔ اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی
خامسا : سید محقق ان لوگو ں میں سے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ عامی کا کوئی مذہب نہیں او روہ جس بات میں چاہے جس کی چاہے تقلید کرسکتا ہے ۔ منحۃ الخالق کی کتاب القضاء میں خود اسی بحث کے تحت لکھتے ہیں ہاں مولف نے جو ذکر کیا ہے اس قول کی بنیاد پر ظاہر ہے کہ جس نے مذہب امام کا التزام کرلیا اس کے لئے دو سرے کی تقلید جن باتوں پر وہ عمل کر چکا ہے
فــــ : معروضۃ علیہ
غیرہ فی غیرما عمل بہ وقد علمت ما قدمناہ عن التحریر انہ خلاف المختار اھ۔
اقول فـــــ ۱وھذا وان کان قیلا باطلا مغسولا قد صرح ببطلانہ کبار الائمۃ الناصحین وصنف فی ابطالہ زبر فی الاولین والاخرین وقد حدثت منہ فتنۃ عظیمۃ فی الدین من جھۃ الوھابیۃ الغیر المقلدین والله لایصلح عمل المفسدین ۔
ولعمری ھؤلاء المبیحون فــــ ۲ من
ان کے علاوہ میں بھی جائز نہیں اور تمہیں معلوم ہے کہ تحریر کے حوالے سے ہم لکھ آئے ہیں کہ یہ قول مختار کے بر خلاف ہے۔
اقول : یہ اگر چہ ایك باطل وپامال قول تھا بزرگ ناصح وخیر خواہ ائمہ نے اس کے بطلان کی تصریح بھی فرمادی ہے اور اس کے ابطال کے لئے اولین و آخرین میں متعد د کتا بیں تصنیف ہوئی ہیں ا س کی وجہ سے وہابیہ غیر مقلدین کی جانب سے دین میں عظیم فتنہ بھی پیدا ہوا ہے اور خدا مفسدو ں کا کام نہیں بناتا ۔
یہ جائز کہنے والے علماء خدائے تعالی ان
فــــ ۱ مسئلہ : تقلید شخصی واجب ہے اور یہ بات کہ جس مسئلہ میں جس مذہب پرچاہو عمل کرو باطل ہے اکابر ائمہ نے اس کے باطل ہونے کی تصریح فرمائی اس کے سبب غیر مقلد وہابیوں کا دین میں ایك بڑا فتنہ پیدا ہوا۔
فــــ ۲ ترجمہ فائدہ جلیلہ : بعض علما بحث کی جگہ لکھ تو گئے ہیں کہ آدمی جس قول پر چاہے عمل کرے مگر یہ بحث ہی تك کہنے کی بات ہے دل ان کے بھی اسے پسند نہیں کرتے بلکہ برا جانتے ہیں جابجا جس کسی مسئلہ میں بے قیدی عوام کا اندیشہ سمجھتے ہیں صاف فرمادیتے ہیں کہ اسے عوام پرظاہر نہ کیا جائے کہ وہ مذہب کے گرانے پر جرأت نہ کریں پھر یہی علماء اپنے کو حنفی شافعی مالکی اورحنبلی کہلاتے رہےکبھی مذہب سے بے قیدی نہ برتی عمریں اپنے اپنے مذہب کی تائید میں صر ف کیں اور اس میں بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے اور تمام علماء امت نے اس پر اجماع کیا بلکہ اپنے اپنے مذہب کی تائید میں مناظر ہ تو زمانہ صحابہ کرام سے چلا آتا ہے اگر مذہب کوئی چیز نہ ہوتا اور آدمی کو عمل کے لئے سب برابرہوتے تو یہ سب کچھ مناظر ے اور ہزار ہا کتا بیں اور ائمہ واکابر کی عمر وں کی کارروائیاں سب لغو و فضول میں وقت وعمر و مال بر باد کرنا ہوتا اس سے بد تر کون سی شناعت ہے ۔
اقول فـــــ ۱وھذا وان کان قیلا باطلا مغسولا قد صرح ببطلانہ کبار الائمۃ الناصحین وصنف فی ابطالہ زبر فی الاولین والاخرین وقد حدثت منہ فتنۃ عظیمۃ فی الدین من جھۃ الوھابیۃ الغیر المقلدین والله لایصلح عمل المفسدین ۔
ولعمری ھؤلاء المبیحون فــــ ۲ من
ان کے علاوہ میں بھی جائز نہیں اور تمہیں معلوم ہے کہ تحریر کے حوالے سے ہم لکھ آئے ہیں کہ یہ قول مختار کے بر خلاف ہے۔
اقول : یہ اگر چہ ایك باطل وپامال قول تھا بزرگ ناصح وخیر خواہ ائمہ نے اس کے بطلان کی تصریح بھی فرمادی ہے اور اس کے ابطال کے لئے اولین و آخرین میں متعد د کتا بیں تصنیف ہوئی ہیں ا س کی وجہ سے وہابیہ غیر مقلدین کی جانب سے دین میں عظیم فتنہ بھی پیدا ہوا ہے اور خدا مفسدو ں کا کام نہیں بناتا ۔
یہ جائز کہنے والے علماء خدائے تعالی ان
فــــ ۱ مسئلہ : تقلید شخصی واجب ہے اور یہ بات کہ جس مسئلہ میں جس مذہب پرچاہو عمل کرو باطل ہے اکابر ائمہ نے اس کے باطل ہونے کی تصریح فرمائی اس کے سبب غیر مقلد وہابیوں کا دین میں ایك بڑا فتنہ پیدا ہوا۔
فــــ ۲ ترجمہ فائدہ جلیلہ : بعض علما بحث کی جگہ لکھ تو گئے ہیں کہ آدمی جس قول پر چاہے عمل کرے مگر یہ بحث ہی تك کہنے کی بات ہے دل ان کے بھی اسے پسند نہیں کرتے بلکہ برا جانتے ہیں جابجا جس کسی مسئلہ میں بے قیدی عوام کا اندیشہ سمجھتے ہیں صاف فرمادیتے ہیں کہ اسے عوام پرظاہر نہ کیا جائے کہ وہ مذہب کے گرانے پر جرأت نہ کریں پھر یہی علماء اپنے کو حنفی شافعی مالکی اورحنبلی کہلاتے رہےکبھی مذہب سے بے قیدی نہ برتی عمریں اپنے اپنے مذہب کی تائید میں صر ف کیں اور اس میں بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے اور تمام علماء امت نے اس پر اجماع کیا بلکہ اپنے اپنے مذہب کی تائید میں مناظر ہ تو زمانہ صحابہ کرام سے چلا آتا ہے اگر مذہب کوئی چیز نہ ہوتا اور آدمی کو عمل کے لئے سب برابرہوتے تو یہ سب کچھ مناظر ے اور ہزار ہا کتا بیں اور ائمہ واکابر کی عمر وں کی کارروائیاں سب لغو و فضول میں وقت وعمر و مال بر باد کرنا ہوتا اس سے بد تر کون سی شناعت ہے ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علیٰ بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹
العلماء غفرالله تعالی لنا بھم ان سبرتھم واختبر تھم لوجدت قلوبھم عـــــہ ابیۃ عما یقولون وصنیعھم شاھدا انھم لا یحبونہ ولا یریدون ولا یجتنبونہ بل یحتنبون و یقولون فی مسائل ھذہ تعلم وتکتم کیلا یتجاسر الجھال علی ھدم المذھب ثم طول اعمارھم یتمذھبون لامامھم ولایخرجون عن المذھب فی افعالھم واقوالھم ویصرفون العمر فی الانتصار لہ والذب عنہ وھذا فتح القدیر لصاحب التحریر ماصنف الاجد لا وکذلك فی مذھبنا و
کے سبب ہماری مغفرت فرمائے بخدا اگر ان کو جانچا اور آزما یا جائے تو ان کے قلوب ان کے قول سے منکر اور ان کے اعمال اس پر شاہد ملیں گے کہ وہ اسے نہ پسند کرتے ہیں نہ اس کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اسے اچھا نہیں جانتے بلکہ اس سے کنارہ کش رہتے ہیں بس بحث کے طور پر اسے لکھ گئے اور بحث ہی تك بات رہ گئی اعتقاد وعمل کوئی اس کا ہم نوا نہ ہوا بہت سے مسائل میں خود کہتے ہیں کہ یہ بس جاننے کے قابل ہیں بتانے کے لائق نہیں کہیں جاہلوں میں مذہب کے گرانے کی جرات نہ پید اہو پھر یہ زندگی بھر اپنے ایك امام کے مذہب پر رہ گئے اور افعال و اقوال میں سبھی مذہب سے باہر نہ ہوئے ۔ اسی کی تائید اور اسی کے دفاع میں عمر یں صر ف کردیں ۔ یہ صاحب تحریر کی فتح القدیر ہی کو دیکھ لیجئے صرف مناظرہ کے طور پر لکھی گئی ہے اسی طرح ہمارے
عــــہ : اقول : والوجہ فیہ ان للشیئ حکما فی نفسہ مع قطع النظر عن الخارج وحکما بالنظر الی ما یعرضہ عن خارج فالاول ھو البحث والثانی علیہ العمل عن المفاسد وان لم یکن انبعاثھا عن نفس ذات الشیئ کمالا یخفی اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : اس کا سبب یہ ہے کہ کسی شے کاایك حکم تو اس کی نفس ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے جس میں خارج سے قطع نظرہوتی ہے اور ایك حکم ان با توں کے سبب ہوتا ہے جو خارج سے پیش آتی ہیں تو ان علماء نے جوبحث میں فرمایا وہ پہلا حکم ہے اور جس پر عمل رکھا وہ دوسرا کہ مفسدوں سے بچنا واجب ہے اگرچہ وہ شے کی نفس ذات سے پیدا نہ ہوں ۔ جیسا کہ مخفی نہیں اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔
کے سبب ہماری مغفرت فرمائے بخدا اگر ان کو جانچا اور آزما یا جائے تو ان کے قلوب ان کے قول سے منکر اور ان کے اعمال اس پر شاہد ملیں گے کہ وہ اسے نہ پسند کرتے ہیں نہ اس کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اسے اچھا نہیں جانتے بلکہ اس سے کنارہ کش رہتے ہیں بس بحث کے طور پر اسے لکھ گئے اور بحث ہی تك بات رہ گئی اعتقاد وعمل کوئی اس کا ہم نوا نہ ہوا بہت سے مسائل میں خود کہتے ہیں کہ یہ بس جاننے کے قابل ہیں بتانے کے لائق نہیں کہیں جاہلوں میں مذہب کے گرانے کی جرات نہ پید اہو پھر یہ زندگی بھر اپنے ایك امام کے مذہب پر رہ گئے اور افعال و اقوال میں سبھی مذہب سے باہر نہ ہوئے ۔ اسی کی تائید اور اسی کے دفاع میں عمر یں صر ف کردیں ۔ یہ صاحب تحریر کی فتح القدیر ہی کو دیکھ لیجئے صرف مناظرہ کے طور پر لکھی گئی ہے اسی طرح ہمارے
عــــہ : اقول : والوجہ فیہ ان للشیئ حکما فی نفسہ مع قطع النظر عن الخارج وحکما بالنظر الی ما یعرضہ عن خارج فالاول ھو البحث والثانی علیہ العمل عن المفاسد وان لم یکن انبعاثھا عن نفس ذات الشیئ کمالا یخفی اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : اس کا سبب یہ ہے کہ کسی شے کاایك حکم تو اس کی نفس ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے جس میں خارج سے قطع نظرہوتی ہے اور ایك حکم ان با توں کے سبب ہوتا ہے جو خارج سے پیش آتی ہیں تو ان علماء نے جوبحث میں فرمایا وہ پہلا حکم ہے اور جس پر عمل رکھا وہ دوسرا کہ مفسدوں سے بچنا واجب ہے اگرچہ وہ شے کی نفس ذات سے پیدا نہ ہوں ۔ جیسا کہ مخفی نہیں اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔
المذاھب الثلثۃ الباقیۃ دفاتر ضخام فی ھذا المرام فلولا التمذھب لامام بعینہ لازما وکان یسوغ ان یتبع من شاء ماشاء لکان ھذا کلہ اضاعۃ عمر فی فضول واشتعالا بمالا یعنی وقد اجمع علیہ علماء المذاھب الاربعۃ واھلھا ھم الائمۃ بل المناظرۃ فی الفروع وذب کل ذاھب عما ذھب الیہ جاریۃ من لدن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم بدون نکیر فاذن یکون الاجماع العملی علی الاھتمام بمالایعنی واستحسان الاشتغال بالفضول وای شناعۃ اشنع منہ۔
لکن سل فـــــ ۱ السید اذالم یجب التقید بالمذھب وجاز الخروج عنہ بالکلیۃ فمن ذا الذی اوجب اتباع مرجحین فی مذھب معین رجحوا احد قولین فیہ
ھذا اذا اتفقوا فکیف فـــــ ۲وقد اختلفو اوفی احد الجانبین الامام الاعظم المجتھد
مسلك میں اور باقی تینوں مذاہب میں اس مقصد کے تحت بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے ۔ اگر ایك امام معین کے مذہب کی پابندی لازم نہ ہوتی اور یہ روا ہوتا کہ جو چاہے جس کی چاہے پیروی کرے یہ سب ایك لایعنی کارروائی اور فضول چیز میں عمر عزیز کی بربادی ہوتی حالانکہ یہ اس کام پر مذاہب اربع کے علماء اورمذاہب کے ماننے والے ان ہی ائمہ کا اتفاق ہے بلکہ فروع میں مناظرہ اور اپنے اپنے مذہب کی حمایت تو زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے ہی بلانکیر جاری ہے مذہب کی پابندی کوئی چیز نہ ہو تو لازم آئے گا کہ ایك لایعنی کام کے اھتمام اور فضول قسم کی مشغولیت کو اچھا سمجھنے پر اس وقت سے اب تك کے ائمہ و علماء کا عملی اجماع قائم رہا اس سے بدتر کون سی شناعت ہوگی
لیکن علامہ شامی سے سوال ہوسکتا ہے کہ جب مذہب کی پابندی ضروری نہیں اور اس سے بالکلیہ باہر آنا روا ہے تو کسی معین مذہب کے حضرات مرجحین جنہوں نے اس مذہب کے دو قولوں میں سے ایك کوترجیح دی ان کی پیروی کیسے ضروری ہوگئی
یہ کلام تو ان حضرات کے متفق ہونے کی صورت میں ہے۔ پھر اس صورت کا کیا حال ہوگا جب یہ باہم مختلف ہوں اورایك طرف
فـــ ۱ : معروضۃعلی العلامۃ ش
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
لکن سل فـــــ ۱ السید اذالم یجب التقید بالمذھب وجاز الخروج عنہ بالکلیۃ فمن ذا الذی اوجب اتباع مرجحین فی مذھب معین رجحوا احد قولین فیہ
ھذا اذا اتفقوا فکیف فـــــ ۲وقد اختلفو اوفی احد الجانبین الامام الاعظم المجتھد
مسلك میں اور باقی تینوں مذاہب میں اس مقصد کے تحت بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے ۔ اگر ایك امام معین کے مذہب کی پابندی لازم نہ ہوتی اور یہ روا ہوتا کہ جو چاہے جس کی چاہے پیروی کرے یہ سب ایك لایعنی کارروائی اور فضول چیز میں عمر عزیز کی بربادی ہوتی حالانکہ یہ اس کام پر مذاہب اربع کے علماء اورمذاہب کے ماننے والے ان ہی ائمہ کا اتفاق ہے بلکہ فروع میں مناظرہ اور اپنے اپنے مذہب کی حمایت تو زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے ہی بلانکیر جاری ہے مذہب کی پابندی کوئی چیز نہ ہو تو لازم آئے گا کہ ایك لایعنی کام کے اھتمام اور فضول قسم کی مشغولیت کو اچھا سمجھنے پر اس وقت سے اب تك کے ائمہ و علماء کا عملی اجماع قائم رہا اس سے بدتر کون سی شناعت ہوگی
لیکن علامہ شامی سے سوال ہوسکتا ہے کہ جب مذہب کی پابندی ضروری نہیں اور اس سے بالکلیہ باہر آنا روا ہے تو کسی معین مذہب کے حضرات مرجحین جنہوں نے اس مذہب کے دو قولوں میں سے ایك کوترجیح دی ان کی پیروی کیسے ضروری ہوگئی
یہ کلام تو ان حضرات کے متفق ہونے کی صورت میں ہے۔ پھر اس صورت کا کیا حال ہوگا جب یہ باہم مختلف ہوں اورایك طرف
فـــ ۱ : معروضۃعلی العلامۃ ش
فــــ۲ : معروضۃ علیہ
المطلق الذی لم یلحقوا غبارہ ولم یبلغ مجموعھم عشر فضلہ ولا معشارہ ھل ھذا الا جمعا بین الضب والنون اذ حاصلہ ان الامام واصحابہ واصحاب الترجیح : فی مذھبہ اذا اجمعوا کلھم اجمعون علی قول لم یجب علی المقلدین الاخذ بہ بل یأخذون بہ او بما تھوی انفسھم من قیلات خارجۃ عن المذھب لکن اذا قال الامام قولا وخالفہ صاحباہ ورجح مرجحون کلا من القولین وکالترجیح فی جانب الصاحبین اکثر ذاھبا او اکد لفظا فح یجب تقلید ھؤلاء ویمتنع تقلید الامام ومن معہ بل فـــــ ان اجمع الامام وصاحباہ علی شیئ ورجع ناس من ھؤلاء المتأخرین قیلا مخالفا لا جماعھم وجب ترك
مجتہد مطلق امام اعظم بھی ہوں یہ جن کی گرد پا کو بھی نہ پاسکے اور ان سب حضرات کا مجموعی کمال بھی ان کے فضل وکمال کے دسویں حصے کو نہ پہنچ سکا۔ یہ ضب اور نون کو جمع کرنے کے سوا کیا ہے اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ حضرت امام ان کے اصحاب او ران کے مذہب کے اصحاب تر جیح سب کے سب متفقہ طور پر جب کسی قول پر اجماع کرلیں تو مقلدین کے ذمہ اسے لیناضروی نہیں بلکہ انہیں اختیار ہے اسے لے لیں یا اپنی خواہشات نفس کے مطابق مذہب سے خارج اقوال کو لے لیں لیکن جب امام کوئی قول ارشاد فرمائیں اور ان کے صاحبین ان کے خلاف کہیں پھر دو نوں قولوں میں سے ہر ایك کو کچھ مرجحین ترجیح دیں او رصاحبین کی جانب ترجیح دینے والوں کی تعداد زیادہ ہو یا اس طر ف ترجیح کے الفاظ زیادہ موکد ہوں توایسی صورت میں ان مرجحین کی تقلید واجب ہوجائے اور امام اور ان کے موافق حضرات کی تقلیدناجائز ہوجائے بلکہ اگر امام اور صاحبین کا کسی بات پراجماع ہو اور ان متا خرین میں سے کچھ افراد ان کے اجماع کے مخالف کسی قول کو ترجیح دے دیں تو ان ائمہ کی
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
مجتہد مطلق امام اعظم بھی ہوں یہ جن کی گرد پا کو بھی نہ پاسکے اور ان سب حضرات کا مجموعی کمال بھی ان کے فضل وکمال کے دسویں حصے کو نہ پہنچ سکا۔ یہ ضب اور نون کو جمع کرنے کے سوا کیا ہے اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ حضرت امام ان کے اصحاب او ران کے مذہب کے اصحاب تر جیح سب کے سب متفقہ طور پر جب کسی قول پر اجماع کرلیں تو مقلدین کے ذمہ اسے لیناضروی نہیں بلکہ انہیں اختیار ہے اسے لے لیں یا اپنی خواہشات نفس کے مطابق مذہب سے خارج اقوال کو لے لیں لیکن جب امام کوئی قول ارشاد فرمائیں اور ان کے صاحبین ان کے خلاف کہیں پھر دو نوں قولوں میں سے ہر ایك کو کچھ مرجحین ترجیح دیں او رصاحبین کی جانب ترجیح دینے والوں کی تعداد زیادہ ہو یا اس طر ف ترجیح کے الفاظ زیادہ موکد ہوں توایسی صورت میں ان مرجحین کی تقلید واجب ہوجائے اور امام اور ان کے موافق حضرات کی تقلیدناجائز ہوجائے بلکہ اگر امام اور صاحبین کا کسی بات پراجماع ہو اور ان متا خرین میں سے کچھ افراد ان کے اجماع کے مخالف کسی قول کو ترجیح دے دیں تو ان ائمہ کی
فــــ۳ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
ضب : گوہ ، جو جنگلی جانور ہے اور نون : مچھلی ، جو دریائی جانور ہے ۔ دونوں میں کیا جوڑ ، ایک عربی مثل سے ماخوذ ہے ۱۲
تقلید الائمۃ الی تقلید ھؤلاء واتباعھم ھذا ھوالباطل المبین لادلیل علیہ اصل من الشرع المتین والحمد لله رب العالمین
و بہ ظھر ان قول البحر وان کان مبنیا علی ذلك الحق المنصور المعتمد المختار المأخوذ بہ قولا عند الائمۃ الکبار وفعلا عندھم وعند ھؤلاء المناز عین الاخیار لکنفـــــ۱مازعم السید لایبتغی علیہ ولا علی مازعم انہ المختار بل یخالفھما جمیعا بالاعلان والجھار والحجۃ لله العزیز الغفار والصلوۃ والسلام علی سید الابرار والہ الاطھار وصحبہ الکبار وعلینا معھم فی دارالقرار آمین
قولہ قول السراجیۃ صریح ان المجتھد یتبع ماکان اقوی الاتبع الترتیب فنتبع مارجحوہ ۔
اقـول رحمك الله قولك فـــــ ۲
تقلید چھوڑ کر ان افراد کی تقلید اور پیروی واجب ہوجائے یہی وہ کھلا ہوا باطل خیال ہے جس پر شرع متین سے ہر گز کوئی دلیل نہیں والحمد لله رب العالمین۔
اسی سے ظاہر ہوا کہ بحر کا کلام تواس قول حق پر مبنی تھا جو منصور معتمد مختار ہے جسے قولا تمام ائمہ کبار نے لیا اور عملا ان کے ساتھ ان بزرگ مخالفین نے بھی لیا لیکن علامہ شامی کے خیال کی بنیاد نہ اس مختار پر قائم ہے نہ اس پر جس کو بزعم خویش مختار سمجھابلکہ وہ علانیہ و عیاں طور پردونوں ہی کے خلاف ہے اور حجت خدائے عزیز وغفار ہی کی ہے او ردرود و سلام ہو سید ابرار ان کی آل اطہار اصحاب کرام پر اوران کے ساتھ ہم پر بھی دار القرار میں الہی قبول فرما!ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی۔
علامہ شامی سراجیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد اس کی پیروی کرے گا جو زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا
اقول : الله آپ پررحم فرمائے تو ہم اسی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامہ ش
و بہ ظھر ان قول البحر وان کان مبنیا علی ذلك الحق المنصور المعتمد المختار المأخوذ بہ قولا عند الائمۃ الکبار وفعلا عندھم وعند ھؤلاء المناز عین الاخیار لکنفـــــ۱مازعم السید لایبتغی علیہ ولا علی مازعم انہ المختار بل یخالفھما جمیعا بالاعلان والجھار والحجۃ لله العزیز الغفار والصلوۃ والسلام علی سید الابرار والہ الاطھار وصحبہ الکبار وعلینا معھم فی دارالقرار آمین
قولہ قول السراجیۃ صریح ان المجتھد یتبع ماکان اقوی الاتبع الترتیب فنتبع مارجحوہ ۔
اقـول رحمك الله قولك فـــــ ۲
تقلید چھوڑ کر ان افراد کی تقلید اور پیروی واجب ہوجائے یہی وہ کھلا ہوا باطل خیال ہے جس پر شرع متین سے ہر گز کوئی دلیل نہیں والحمد لله رب العالمین۔
اسی سے ظاہر ہوا کہ بحر کا کلام تواس قول حق پر مبنی تھا جو منصور معتمد مختار ہے جسے قولا تمام ائمہ کبار نے لیا اور عملا ان کے ساتھ ان بزرگ مخالفین نے بھی لیا لیکن علامہ شامی کے خیال کی بنیاد نہ اس مختار پر قائم ہے نہ اس پر جس کو بزعم خویش مختار سمجھابلکہ وہ علانیہ و عیاں طور پردونوں ہی کے خلاف ہے اور حجت خدائے عزیز وغفار ہی کی ہے او ردرود و سلام ہو سید ابرار ان کی آل اطہار اصحاب کرام پر اوران کے ساتھ ہم پر بھی دار القرار میں الہی قبول فرما!ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی۔
علامہ شامی سراجیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد اس کی پیروی کرے گا جو زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا
اقول : الله آپ پررحم فرمائے تو ہم اسی
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامہ ش
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۸
فنتبع مارجحوہ ان کان داخلا فی ما ذکرت من مفاد السراجیۃ فتوجیہ القول بضدہ وردہ فان السراجیۃ توجب علی غیر المجتھد اتباع الترتیب لا الترجیح وان کان زیادۃ من عندکم فمخالف للمنصوص وتفریع للشیئ علی ما ھو تفریع لہ فانك ان کنت اھل النظر فعلیك بالنظر المصیب اولا فعلیك بالترتیب فمن این ھذا الثالث الغریب۔
قـولہ لایجوز لہ مخالفۃ الترتیب الا اذاکان لہ ملکۃ فعلیہ ترجیح مارجح عندہ و نحن نتبع مارجحوہ۔
اقول : رحمك الله فـــــ ھذا کذلك فحاصل کلامھم جمیعا ما ذکرت الی قولك ونحن اما
پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی یہ عبارت اگر آپ نے کلام سراجیہ کے مفاد ومفہوم کے تحت داخل کر کے ذکر کی ہے تو یہ اس کلام کی توجیہ نہیں بلکہ اس کی مخالفت اور تردید ہے کیونکہ سراجیہ تو غیر مجتہد پر ترتیب کی پیروی واجب کرتی ہے نہ کہ ترجیح کی پیروی ۔ اور اگر یہ عبارت آپ نے اپنی طر ف سے بڑھائی ہے تو یہ منصوص کے برخلاف ہے اور ایك چیز کی تفریح ایسی چیزپر ہے جو در اصل اس کی تردید ہے۔ ۔ ۔ کیوں کہ آپ اگر صاحب نظر ہیں توآپ کے ذمہ نظر صحیح ہے یا آپ اہل نظر نہیں تو آپ کے ذمہ اتباع ترتیب ہے پھر یہ تیسرا بیگا نہ و اجنبی کہاں سے آگیا
علامہ شامی : اس کے لئے ترتیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں مگر جب اس کے پاس ملکہ ہو تو اس کے ذمہ یہ ہے اس کے نزدیك جو راجح ہو اسے تر جیح دے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ۔
اقول : الله آپ پر رحم فرمائے ۔ یہ بھی اسی کی طر ح ہے ۔ کیونکہ ان تمام حضرات کے کلام کا حاصل وہی ہے جو آپ نے “ اور ہمیں “ تك
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامہ ش
قـولہ لایجوز لہ مخالفۃ الترتیب الا اذاکان لہ ملکۃ فعلیہ ترجیح مارجح عندہ و نحن نتبع مارجحوہ۔
اقول : رحمك الله فـــــ ھذا کذلك فحاصل کلامھم جمیعا ما ذکرت الی قولك ونحن اما
پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی یہ عبارت اگر آپ نے کلام سراجیہ کے مفاد ومفہوم کے تحت داخل کر کے ذکر کی ہے تو یہ اس کلام کی توجیہ نہیں بلکہ اس کی مخالفت اور تردید ہے کیونکہ سراجیہ تو غیر مجتہد پر ترتیب کی پیروی واجب کرتی ہے نہ کہ ترجیح کی پیروی ۔ اور اگر یہ عبارت آپ نے اپنی طر ف سے بڑھائی ہے تو یہ منصوص کے برخلاف ہے اور ایك چیز کی تفریح ایسی چیزپر ہے جو در اصل اس کی تردید ہے۔ ۔ ۔ کیوں کہ آپ اگر صاحب نظر ہیں توآپ کے ذمہ نظر صحیح ہے یا آپ اہل نظر نہیں تو آپ کے ذمہ اتباع ترتیب ہے پھر یہ تیسرا بیگا نہ و اجنبی کہاں سے آگیا
علامہ شامی : اس کے لئے ترتیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں مگر جب اس کے پاس ملکہ ہو تو اس کے ذمہ یہ ہے اس کے نزدیك جو راجح ہو اسے تر جیح دے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ۔
اقول : الله آپ پر رحم فرمائے ۔ یہ بھی اسی کی طر ح ہے ۔ کیونکہ ان تمام حضرات کے کلام کا حاصل وہی ہے جو آپ نے “ اور ہمیں “ تك
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامہ ش
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۰۲
ھذا فرد علیہ وخروج عنہ فان من لاملکۃ لہ لا یجوز لہ عندھم مخالفۃ الترتیب وانتم او جبتموہ علیہ ادارۃ لہ مع الترجیح۔
قولہ کما حققت الشارح عن العلامۃ قاسم
اقــول علمت فـــــ ۱ ان لا موافقۃ فیہ لما لدیہ ولا فیہ میل الیہ قولہ ویأتی عن الملتقط
اقول : اولا فـــــ ۲حاصل ما فیہ ان القاضی المجتہد یقضی برأی نفسہ والمقلد برأی المجتہدین ولیس لہ ان یخالفھم واین فیہ ان الذین یفتنونہ ان کانوا من مجتھدی مذھب امامہ فاختلفوا فی الافتاء بقولہ وجب علیہ ان یأخذ
ذکر کیا ۔ ۔ ۔ اور یہ اضافہ تو اس کی تردید اور اس کی مخالفت ہے ۔ کیوں کہ جس کے پاس ملکہ نہیں اس کے لئے ان حضرات کے نزدیك ترتیب کی مخالفت روا نہیں اور آپ نے تو اس پر یہ مخالفت واجب کردی ہے کیونکہ اسے آپ نے ترجیح کے ساتھ چکر لگانے کا پا بند کردیا ہے ۔
علامہ شامی جیسا کہ علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے۔
اقول : معلوم ہوچکا کہ اس میں نہ تو اس خیال کی کوئی ہم نوائی ہے نہ اس کا کوئی میلان ۔ علامہ شامی اور ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے ۔
اقول اولا : اس کاحاصل صرف یہ ہے کہ قاضی مجتہد خود اپنی رائے پر فیصلہ کر ے گا او ر قاضی مقلد مجتہدین کی رائے پر فیصلہ کرے گا اسے ان کی مخالفت کا حق نہیں۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ جو لوگ اس قاضی مقلد کو فتوی دیں گے اگر وہ اس کے امام کے مذہب کے مجتہدین سے ہوں پھر قول امام پر افتا ء میں باہم مختلف ہوں تو اس پر واجب یہ ہے کہ
فــ۱ : معروضۃ علی العلامہ ش
فــ۲ : معروضۃ علیہ
قولہ کما حققت الشارح عن العلامۃ قاسم
اقــول علمت فـــــ ۱ ان لا موافقۃ فیہ لما لدیہ ولا فیہ میل الیہ قولہ ویأتی عن الملتقط
اقول : اولا فـــــ ۲حاصل ما فیہ ان القاضی المجتہد یقضی برأی نفسہ والمقلد برأی المجتہدین ولیس لہ ان یخالفھم واین فیہ ان الذین یفتنونہ ان کانوا من مجتھدی مذھب امامہ فاختلفوا فی الافتاء بقولہ وجب علیہ ان یأخذ
ذکر کیا ۔ ۔ ۔ اور یہ اضافہ تو اس کی تردید اور اس کی مخالفت ہے ۔ کیوں کہ جس کے پاس ملکہ نہیں اس کے لئے ان حضرات کے نزدیك ترتیب کی مخالفت روا نہیں اور آپ نے تو اس پر یہ مخالفت واجب کردی ہے کیونکہ اسے آپ نے ترجیح کے ساتھ چکر لگانے کا پا بند کردیا ہے ۔
علامہ شامی جیسا کہ علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے۔
اقول : معلوم ہوچکا کہ اس میں نہ تو اس خیال کی کوئی ہم نوائی ہے نہ اس کا کوئی میلان ۔ علامہ شامی اور ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے ۔
اقول اولا : اس کاحاصل صرف یہ ہے کہ قاضی مجتہد خود اپنی رائے پر فیصلہ کر ے گا او ر قاضی مقلد مجتہدین کی رائے پر فیصلہ کرے گا اسے ان کی مخالفت کا حق نہیں۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ جو لوگ اس قاضی مقلد کو فتوی دیں گے اگر وہ اس کے امام کے مذہب کے مجتہدین سے ہوں پھر قول امام پر افتا ء میں باہم مختلف ہوں تو اس پر واجب یہ ہے کہ
فــ۱ : معروضۃ علی العلامہ ش
فــ۲ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۰۲
ردالمحتار ، کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۰۲
ردالمحتار ، کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۰۲
بقول الذین خالفوا امامہ وامامھم ان کانوا اکثر اولفظھم اکدو انما النزاع فی ھذا۔
وثانیا المنع فـــــ ۱ من ان نخالفھم بارائنا اذ لارأی لنا ونحن لانخالفہم بارائنا بل برأی امامھم وامامنا۔
وقد قال فی الملتقط فـــــ ۲فی تلك العبارۃ فی القاضی المجتھدقضی بما راہ صوابا لا بغیرہ الا ان یکون غیرہ اقوی فی الفقہ و وجوہ الاجتہاد فیجوز ترك رأیہ برأی اھ
فاذا جاز للمجتھد ان یترك رأیہ برأی من ھو اقوی منہ مع انہ مأمور باتباع رأیہ ولیس لہ تقلید غیرہ فان ترکنا اراء ھؤلاء المفتین ارأ ی امامنا و
ان لوگوں کا قول لے جو اس کے امام او راپنے امام کے خلاف ہوگئے ہوں بشرطیکہ تعداد میں وہ زیادہ ہوں یا ان کے الفا ظ زیادہ موکد ہوں حالاں کہ نزاع تو اسی بارے میں ہے ۔
ثانیا : اگر ہم اپنی رائے لے کر ان کی مخالفت کریں تو اس سے ممانعت ہے کیونکہ ہماری کوئی رائے ہی نہیں لیکن ان کی مخالفت ہم اپنی رائے کے مقابل نہیں کرتے بلکہ ان کے امام اور اپنے امام کی رائے کو لے کر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
او ر ملتقط کے اندر تو اسی عبارت میں قاضی مجتہد سے متعلق یہ لکھاہے کہ خود جسے درست سمجھے اس پر فیصلہ کرے دوسرے کی رائے پر نہیں لیکن دوسرا اگر فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اس سے زیادہ قوی ہو تو اس کی رائے اختیار کر کے اپنی رائے ترك کردینا جائز ہے ۔ اھ
جب مجتہد کے لئے اپنے سے اقوی کی رائے کو اختیار کر کے اپنی رائے ترك کرنا جائز ہے حالاں کہ اسے حکم یہ ہے کہ اپنی رائے کا اتباع کرے اور دوسرے کی تقلید اس کے لئے روا نہیں تو ہمارے اور ان مفتیوں کے امام اعظم
فـــ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ۲ : معروضۃ علیہ
وثانیا المنع فـــــ ۱ من ان نخالفھم بارائنا اذ لارأی لنا ونحن لانخالفہم بارائنا بل برأی امامھم وامامنا۔
وقد قال فی الملتقط فـــــ ۲فی تلك العبارۃ فی القاضی المجتھدقضی بما راہ صوابا لا بغیرہ الا ان یکون غیرہ اقوی فی الفقہ و وجوہ الاجتہاد فیجوز ترك رأیہ برأی اھ
فاذا جاز للمجتھد ان یترك رأیہ برأی من ھو اقوی منہ مع انہ مأمور باتباع رأیہ ولیس لہ تقلید غیرہ فان ترکنا اراء ھؤلاء المفتین ارأ ی امامنا و
ان لوگوں کا قول لے جو اس کے امام او راپنے امام کے خلاف ہوگئے ہوں بشرطیکہ تعداد میں وہ زیادہ ہوں یا ان کے الفا ظ زیادہ موکد ہوں حالاں کہ نزاع تو اسی بارے میں ہے ۔
ثانیا : اگر ہم اپنی رائے لے کر ان کی مخالفت کریں تو اس سے ممانعت ہے کیونکہ ہماری کوئی رائے ہی نہیں لیکن ان کی مخالفت ہم اپنی رائے کے مقابل نہیں کرتے بلکہ ان کے امام اور اپنے امام کی رائے کو لے کر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔
او ر ملتقط کے اندر تو اسی عبارت میں قاضی مجتہد سے متعلق یہ لکھاہے کہ خود جسے درست سمجھے اس پر فیصلہ کرے دوسرے کی رائے پر نہیں لیکن دوسرا اگر فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اس سے زیادہ قوی ہو تو اس کی رائے اختیار کر کے اپنی رائے ترك کردینا جائز ہے ۔ اھ
جب مجتہد کے لئے اپنے سے اقوی کی رائے کو اختیار کر کے اپنی رائے ترك کرنا جائز ہے حالاں کہ اسے حکم یہ ہے کہ اپنی رائے کا اتباع کرے اور دوسرے کی تقلید اس کے لئے روا نہیں تو ہمارے اور ان مفتیوں کے امام اعظم
فـــ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ۲ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
الدرالمختار ، بحوالہ الملتقط ، کتاب القضاء ، مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲
امامھم الاعظم الذی ھو اقوی من مجموعھم فی الفقہ ووجوہ الاجتہاد بل فضلہ علیھم کفضلھم علینا اوھو اعظم الاولی بالجواز واجدر ۔ قـولـہ سقط ما بحثہ فی البحر ۔
واقــول : سبحن الله فـــــ۱ھو الحکم الماثور ومعتمد الجمھور والمصحح المنصور فکیف
یصح تسمیتہ بحث البحر ھذا۔
واقـول : یظھر لی فی توجیہ فـــــ۲ کلامہ رحمہ الله تعالی ان مرادہ اذا اتفق المرجحون علی ترجیح قول غیرہ رضی الله تعالی عنہ ذکرہ ردا لما فھم من اطلاق قول البحر وان افتی المشائخ بخلافہ فانہ بظاھرہ یشمل مااذا اجمع المشائخ علی ترجیح
جو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں ان حضرات کی مجموعی قوت سے بھی زیادہ قوت رکھتے ہیں بلکہ ان پر امام کو اسی طرح فوقیت ہے جیسے ہم پر ان حضرات کو فوقیت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تو اگر ہم ان کی رائے اختیار کر کے ان مفتیوں کی رائے ترك کریں تو یہ بدرجہ اولی جائز اور انسب ہوگا ۔
علامہ شامی : بحر کی بحث ساقط ہوگئی۔
اقول : سبحان الله یہی تو حکم منقول ہے جمہور کا معتمد ا ور تصحیح وتائید یافتہ بھی پھر اسے بحر کی بحث کہنا کیوں کر درست ہے
اقول : مجھے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام کی توجیہ میں یہ سمجھ آتا ہے کہ ان کی مراد وہ صورت ہے جس میں حضر ت امام رضی اللہ تعالی عنہکے سوا کسی اور کے قول کی ترجیح پر مرجحین کا اتفاق ہو اسے اس اطلاق کی تردید میں ذکر کیا جو بحر کی اس عبارت سے سمجھ میں آتا ہے کہ “ اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو “ کیوں کہ بظاہر یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں غیر امام کے
فـــ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ۲ : السعی الجمیل فی توجیہ کلام العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالی ۔
واقــول : سبحن الله فـــــ۱ھو الحکم الماثور ومعتمد الجمھور والمصحح المنصور فکیف
یصح تسمیتہ بحث البحر ھذا۔
واقـول : یظھر لی فی توجیہ فـــــ۲ کلامہ رحمہ الله تعالی ان مرادہ اذا اتفق المرجحون علی ترجیح قول غیرہ رضی الله تعالی عنہ ذکرہ ردا لما فھم من اطلاق قول البحر وان افتی المشائخ بخلافہ فانہ بظاھرہ یشمل مااذا اجمع المشائخ علی ترجیح
جو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں ان حضرات کی مجموعی قوت سے بھی زیادہ قوت رکھتے ہیں بلکہ ان پر امام کو اسی طرح فوقیت ہے جیسے ہم پر ان حضرات کو فوقیت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تو اگر ہم ان کی رائے اختیار کر کے ان مفتیوں کی رائے ترك کریں تو یہ بدرجہ اولی جائز اور انسب ہوگا ۔
علامہ شامی : بحر کی بحث ساقط ہوگئی۔
اقول : سبحان الله یہی تو حکم منقول ہے جمہور کا معتمد ا ور تصحیح وتائید یافتہ بھی پھر اسے بحر کی بحث کہنا کیوں کر درست ہے
اقول : مجھے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام کی توجیہ میں یہ سمجھ آتا ہے کہ ان کی مراد وہ صورت ہے جس میں حضر ت امام رضی اللہ تعالی عنہکے سوا کسی اور کے قول کی ترجیح پر مرجحین کا اتفاق ہو اسے اس اطلاق کی تردید میں ذکر کیا جو بحر کی اس عبارت سے سمجھ میں آتا ہے کہ “ اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو “ کیوں کہ بظاہر یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں غیر امام کے
فـــ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ۲ : السعی الجمیل فی توجیہ کلام العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالی ۔
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۰۳
قول غیرہ ۔
والدلیل علی ھذہ العنایۃ فی کلام ش انہ انما تمسك باتباع المرجحین وانھم اعلم وانھم سبروا الدلائل فحکموا بترجیحہ ولم یلم فی شیئ من الکلام الی صورۃ اختلاف الترجیح فضلا عن ارجحیۃ احد الترجیحین ولو کان مرادہ ذلك لم یقتصر علی اتباع المرجحین فانہ حاصل ح فی کلام الجانبین بل ذکر اتباع ارجح الترجیحین ۔
ویـؤیدہ ایضا ما قدمنا فی السابعۃ من قولہ رحمہ الله تعالی لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام اھ
وھذا وان کان ظاھرہ فی ما استوی الترجیحان لکن ماذکرہ مترقیا علیہ عن الخیریۃ و البحر یعین ان الحکم اعم۔
قول کی ترجیح پر اجماع مشائخ ہو ۔
یہ مراد ہونے پر کلام شامی میں دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اتباع مرجحین سے استدلال کیا ہے اور اس بات سے کہ وہ زیاد ہ علم والے ہیں او رانہوں نے دلائل کی جانچ کر کے اس کی ترجیح کا فیصلہ کیا ہے اور کلام کے کسی حصے میں اختلاف ترجیح کی صورت کو ہاتھ نہ لگایا دو ترجیحوں میں سے ایك کے ارجح ہونے کا تذکرہ تودر کنار اختلاف ترجیح کی صورت اگر انہیں مقصود ہوتی تو صرف اتباع مرجحین کے حکم پر اکتفا نہ کرتے کیونکہ اس صورت میں اتباع مرجحین تو دو نوں ہی جانب موجو د ہے بلکہ اس تقدیر پر وہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح کے اتباع کا ذکر کرتے ۔
اس کی تائید ان کے اس کلام سے بھی ہوتی ہے جسے ہم مقدمہ ہفتم میں نقل کر آئے ہیں کہ جب دونوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اس لئے ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا وہ یہ ہے کہ امام کا قول مقدم رہے گا اھ۔
یہ اگرچہ بظاہر دنوں ترجیحیں برابر ہونے کی صورت میں ہے لیکن آگے اس پر ترقی کرتے ہوئے خیر یہ اور بحر کے حوالے سے جوذکر کیا ہے و ہ تعین کردیتا ہے کہ حکم اعم ہے ۔
والدلیل علی ھذہ العنایۃ فی کلام ش انہ انما تمسك باتباع المرجحین وانھم اعلم وانھم سبروا الدلائل فحکموا بترجیحہ ولم یلم فی شیئ من الکلام الی صورۃ اختلاف الترجیح فضلا عن ارجحیۃ احد الترجیحین ولو کان مرادہ ذلك لم یقتصر علی اتباع المرجحین فانہ حاصل ح فی کلام الجانبین بل ذکر اتباع ارجح الترجیحین ۔
ویـؤیدہ ایضا ما قدمنا فی السابعۃ من قولہ رحمہ الله تعالی لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام اھ
وھذا وان کان ظاھرہ فی ما استوی الترجیحان لکن ماذکرہ مترقیا علیہ عن الخیریۃ و البحر یعین ان الحکم اعم۔
قول کی ترجیح پر اجماع مشائخ ہو ۔
یہ مراد ہونے پر کلام شامی میں دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اتباع مرجحین سے استدلال کیا ہے اور اس بات سے کہ وہ زیاد ہ علم والے ہیں او رانہوں نے دلائل کی جانچ کر کے اس کی ترجیح کا فیصلہ کیا ہے اور کلام کے کسی حصے میں اختلاف ترجیح کی صورت کو ہاتھ نہ لگایا دو ترجیحوں میں سے ایك کے ارجح ہونے کا تذکرہ تودر کنار اختلاف ترجیح کی صورت اگر انہیں مقصود ہوتی تو صرف اتباع مرجحین کے حکم پر اکتفا نہ کرتے کیونکہ اس صورت میں اتباع مرجحین تو دو نوں ہی جانب موجو د ہے بلکہ اس تقدیر پر وہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح کے اتباع کا ذکر کرتے ۔
اس کی تائید ان کے اس کلام سے بھی ہوتی ہے جسے ہم مقدمہ ہفتم میں نقل کر آئے ہیں کہ جب دونوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اس لئے ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا وہ یہ ہے کہ امام کا قول مقدم رہے گا اھ۔
یہ اگرچہ بظاہر دنوں ترجیحیں برابر ہونے کی صورت میں ہے لیکن آگے اس پر ترقی کرتے ہوئے خیر یہ اور بحر کے حوالے سے جوذکر کیا ہے و ہ تعین کردیتا ہے کہ حکم اعم ہے ۔
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹
ویؤیدہ ایضا ماجعل اخرا الکلام محصل جمیع کلام الدر فی المراد اذ قال قولہ فلیحفظ ای جمیع ما ذکرناہ وحاصلہ ان الحکم ان اتفق علیہ اصحابنا یفتی بہ قطعا والا ۱فاما ان یصحح المشائخ احد القولین فیہ او ۲ کلا منھما ۳اولا ولا ففی الثالث یعتبر الترتیب بان یفتی بقول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف الخ او قوۃ الدلیل ومرا لتوفیق وفی الاول ان کان التصحیح بافعل التفضیل خیر المفتی والا فلا بل یفتی بالمصحح فقط وھذا ما نقلہ عن الرسالۃ وفی الثانی اما ان یکون احدھما عــــہ
اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جسے آخر کلام میں مقصود سے متعلق پوری عبارت درمختار کا حاصل قرار دیا کہ وہاں یہ لکھا ہے عبارت در “ فلیحفظ تو اسے یاد رکھا جائے “ کا معنی یہ ہے کہ وہ سب یاد رکھا جائے جو ہم نے ذکر کیا اور اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کسی حکم پر ہمارے اصحاب کا اتفاق ہو تو قطعا اسی پر فتوی دیا جائے گا ورنہ تین صورتیں ہوں گی :
(۱) مشائخ نے دونوں قولوں میں سے صرف ایك کو صحیح قرار دیا ہو (۲) ہرایك کی تصحیح ہوئی ہو (۳) مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں ۔ تیسری صورت میں ترتیب کا اعتبارہوگا اس طر ح کہ امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیاجائے گا پھر امام ابو یوسف کے قول پر الخ یاقوت دلیل کا اعتبارہوگا اور ان دونوں میں تطبیق کا بیان گزر چکا ۔ اور پہلی صورت میں اگر تصحیح افعل التفضیل کے صیغے (مثلا لفظ اصح) سے ہو تو مفتی کو تخییر ہوگی ورنہ (مثلا صرف لفظ صحیح ہو تو) نہیں
عــــــہ : اقول : فــــ یشمل ما اذا کان کلاھما بہ ولا یتأتی فیہ الخلاف المذکور فکان ینبغی ان یقول احدھما وحدہ لیشمل قولہ اولا مااذا کان بافعل ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول : یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں دونوں تر جحیں بلفظ افعل ہوں حالانکہ اس میں خلاف مذکور حاصل نہ ہوگا تو انہیں کوئی ایك کے بجائے “ احدھما وحدہ “ (صرف ایک) کہنا چاہئے تھا تا کہ ان کا قول “ او یا نہ “ اس صورت کو بھی شامل ہوجائے جس میں ہر ایك لفظ افعل ہو ۱۲منہ
فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش
اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جسے آخر کلام میں مقصود سے متعلق پوری عبارت درمختار کا حاصل قرار دیا کہ وہاں یہ لکھا ہے عبارت در “ فلیحفظ تو اسے یاد رکھا جائے “ کا معنی یہ ہے کہ وہ سب یاد رکھا جائے جو ہم نے ذکر کیا اور اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کسی حکم پر ہمارے اصحاب کا اتفاق ہو تو قطعا اسی پر فتوی دیا جائے گا ورنہ تین صورتیں ہوں گی :
(۱) مشائخ نے دونوں قولوں میں سے صرف ایك کو صحیح قرار دیا ہو (۲) ہرایك کی تصحیح ہوئی ہو (۳) مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں ۔ تیسری صورت میں ترتیب کا اعتبارہوگا اس طر ح کہ امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیاجائے گا پھر امام ابو یوسف کے قول پر الخ یاقوت دلیل کا اعتبارہوگا اور ان دونوں میں تطبیق کا بیان گزر چکا ۔ اور پہلی صورت میں اگر تصحیح افعل التفضیل کے صیغے (مثلا لفظ اصح) سے ہو تو مفتی کو تخییر ہوگی ورنہ (مثلا صرف لفظ صحیح ہو تو) نہیں
عــــــہ : اقول : فــــ یشمل ما اذا کان کلاھما بہ ولا یتأتی فیہ الخلاف المذکور فکان ینبغی ان یقول احدھما وحدہ لیشمل قولہ اولا مااذا کان بافعل ۱۲منہ غفرلہ (م)
اقول : یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں دونوں تر جحیں بلفظ افعل ہوں حالانکہ اس میں خلاف مذکور حاصل نہ ہوگا تو انہیں کوئی ایك کے بجائے “ احدھما وحدہ “ (صرف ایک) کہنا چاہئے تھا تا کہ ان کا قول “ او یا نہ “ اس صورت کو بھی شامل ہوجائے جس میں ہر ایك لفظ افعل ہو ۱۲منہ
فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش
بافعل التفضیل اولا ففی الاول قیل یفتی بالاصح وھوالمنقول عن الخیریۃ وقیل بالصحیح وھو المنقول عن شرح المنیۃ وفی الثانی یخیر المفتی وھو المنقول عن وقف البحر والرسالۃ افادہ ح اھ
فما ذکرہ فی الثالث عین مرادنا وکذا ما ذکرہ فی الاول اما استثناء ما اذاکان التصحیح بافعل فــاقـول : یخالف فــــ نفسہ ولا یخالفنا فان الترجیح اذا لم یوجد الا فی جانب واحد کما جعلہ محمل الرسالۃ ومع ذلك خیر المفتی لم یکن علیہ اتباع مارجحوہ
والتاویل بان افعل افادان الروایۃ المخالفۃ صحیحۃ ایضا کما قالاہ ھما وط ۔
بلکہ مفتی کو اسی پر فتوی دینا ہے جسے صحیح کہا گیا یہ وہ بات ہے جو انہوں نے رسالہ سے نقل کی اور دو سری صورت میں کوئی ایك ترجیح بلفظ افعل التفضیل ہوگی یا نہ ہوگی برتقدیر اول کہا گیا کہ اصح پر فتوی دیا جائے گا یہ خیر یہ سے منقول ہے اور کہا گیا کہ صحیح پر فتوی ہوگا یہ شرح منیہ سے منقول ہے برتقدیر دوم مفتی کو تخییر ہوگی یہ بحر کتاب الوقف او ر رسالہ سے منقول ہے ۔ یہ حلبی نے افادہ فرمایا ۔ اھ
تو تیسری صورت میں جوذکر کیا بعینہ وہی ہماری مراد ہے اسی طرح وہ بھی جو پہلی صورت میں ذکر کیا رہا اس صورت کا استثنا جس میں تصحیح بصیغہ اسم تفضیل ہو فاقول : (تو میں کہتا ہوں) وہ خود ان کے خلاف ہے ہمارے خلاف نہیں کیوں کہ جب ترجیح صرف ایك طرف ہو جیسا کہ اسے رسالے کا محمل اور معنی مراد ٹھہرایا ا س کے با وجود مفتی کو تخییر ہو تو اس کے ذمہ اس کی پیر وی لازم نہ رہی جسے مشائخ نے ترجیح دی اور یہ تاویل کہ “ افعل “ کامفاد یہ ہوگا کہ روایت خلاف بھی صحیح ہے جیسا کہ حلبی وشامی اور طحطاوی نے کہا ۔
فــــ : معروضۃ علیہ
فما ذکرہ فی الثالث عین مرادنا وکذا ما ذکرہ فی الاول اما استثناء ما اذاکان التصحیح بافعل فــاقـول : یخالف فــــ نفسہ ولا یخالفنا فان الترجیح اذا لم یوجد الا فی جانب واحد کما جعلہ محمل الرسالۃ ومع ذلك خیر المفتی لم یکن علیہ اتباع مارجحوہ
والتاویل بان افعل افادان الروایۃ المخالفۃ صحیحۃ ایضا کما قالاہ ھما وط ۔
بلکہ مفتی کو اسی پر فتوی دینا ہے جسے صحیح کہا گیا یہ وہ بات ہے جو انہوں نے رسالہ سے نقل کی اور دو سری صورت میں کوئی ایك ترجیح بلفظ افعل التفضیل ہوگی یا نہ ہوگی برتقدیر اول کہا گیا کہ اصح پر فتوی دیا جائے گا یہ خیر یہ سے منقول ہے اور کہا گیا کہ صحیح پر فتوی ہوگا یہ شرح منیہ سے منقول ہے برتقدیر دوم مفتی کو تخییر ہوگی یہ بحر کتاب الوقف او ر رسالہ سے منقول ہے ۔ یہ حلبی نے افادہ فرمایا ۔ اھ
تو تیسری صورت میں جوذکر کیا بعینہ وہی ہماری مراد ہے اسی طرح وہ بھی جو پہلی صورت میں ذکر کیا رہا اس صورت کا استثنا جس میں تصحیح بصیغہ اسم تفضیل ہو فاقول : (تو میں کہتا ہوں) وہ خود ان کے خلاف ہے ہمارے خلاف نہیں کیوں کہ جب ترجیح صرف ایك طرف ہو جیسا کہ اسے رسالے کا محمل اور معنی مراد ٹھہرایا ا س کے با وجود مفتی کو تخییر ہو تو اس کے ذمہ اس کی پیر وی لازم نہ رہی جسے مشائخ نے ترجیح دی اور یہ تاویل کہ “ افعل “ کامفاد یہ ہوگا کہ روایت خلاف بھی صحیح ہے جیسا کہ حلبی وشامی اور طحطاوی نے کہا ۔
فــــ : معروضۃ علیہ
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۰ ، ۵۱
فـاقـول اولا : ھذا فــــ ۱مسلم اذا قوبل الاصح بالصحیح اما اذا ذکروا قولین وقالوا فی احدھما وحدہ انہ الاصح ولم یلموا ببیان قوۃ مافی الاخر اصلا فلایفھم منہ الا ان الاول ھو الراجح المنصور ولا ینقدح فی ذھن احد انھم یریدون بہ تصحیح کلا القولین و ان للاول مزیۃ ما علی الاخر فافعل ھھنا من باب اھل الجنۃ خیر مستقرا واحسن مقیلا ولو سبرت کلماتھم فــــ ۲ لوجد تھم یقولون ھذا احوط وھذا ارفق مع ان الاخر لارفق فیہ ولا احتیاط وھذا بدیھی عند من خدم کلامھم ۔
ولذا فــــ ۳قال فی الخیریۃ من
فاقول : ( تو میں کہتا ہوں)اولایہ بات اس صورت میں تسلیم ہے جب اصح کے مقابلے میں صحیح لایا گیا ہو۔ لیکن جب دو قول ذکر کریں اور صرف ایك کے بارے میں کہیں کہ وہ اصح ہے اور دوسرے میں جو قوت ہے اس کے بیان سے کچھ بھی تعرض نہ کرے تو ایسی حالت میں یہ ہی سمجھا جائے گا کہ اول ہی راجح اور تائید یافتہ ہے ۔ اور کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ گزرے گا کہ وہ اول کو اصح کہہ کر دو نوں قولوں کو صحیح کہنا اور یہ بتانا چاہتے کہ اول کو دوسرے پر کچھ فضیلت ہے تو یہ افعل “ اھل الجنۃخیر مستقرا واحسن مقیلا “ جنت والے بہتر قرار گاہ اور سب سے اچھی آرام گاہ والے ہیں کے باب سے ہوگا اگر کلمات مشائخ کی تفتیش کیجئے تو یہ ملے گا کہ وہ حضرات فرماتے ہیں یہ احوط ( زیادہ احتیاط والا) ہے یہ ارفق ( زیادہ نرمی وفائدے والا ہے) با وجودیکہ دوسرے میں کوئی احتیاط اور کوئی آسانی نہیں یہ ان حضرات کے کلام کے خدمت گزاروں کے نزدیك بدیہی ہے اھ
اسی لئے خیر یہ کتاب الطلاق میں فرمایا
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ وعلی العلامتین ح و ط
فـــــ ۲ : ربما لایکون افعل فی قول الفقہاء ھذا اصح احوط ارفق اوفق وامثالہ من باب التفضیل ۔
فــــ ۳ : اذا ثبت الاصح لایعدل عنہ ای اذا لم یوجد الاقوی منہ۔
ولذا فــــ ۳قال فی الخیریۃ من
فاقول : ( تو میں کہتا ہوں)اولایہ بات اس صورت میں تسلیم ہے جب اصح کے مقابلے میں صحیح لایا گیا ہو۔ لیکن جب دو قول ذکر کریں اور صرف ایك کے بارے میں کہیں کہ وہ اصح ہے اور دوسرے میں جو قوت ہے اس کے بیان سے کچھ بھی تعرض نہ کرے تو ایسی حالت میں یہ ہی سمجھا جائے گا کہ اول ہی راجح اور تائید یافتہ ہے ۔ اور کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ گزرے گا کہ وہ اول کو اصح کہہ کر دو نوں قولوں کو صحیح کہنا اور یہ بتانا چاہتے کہ اول کو دوسرے پر کچھ فضیلت ہے تو یہ افعل “ اھل الجنۃخیر مستقرا واحسن مقیلا “ جنت والے بہتر قرار گاہ اور سب سے اچھی آرام گاہ والے ہیں کے باب سے ہوگا اگر کلمات مشائخ کی تفتیش کیجئے تو یہ ملے گا کہ وہ حضرات فرماتے ہیں یہ احوط ( زیادہ احتیاط والا) ہے یہ ارفق ( زیادہ نرمی وفائدے والا ہے) با وجودیکہ دوسرے میں کوئی احتیاط اور کوئی آسانی نہیں یہ ان حضرات کے کلام کے خدمت گزاروں کے نزدیك بدیہی ہے اھ
اسی لئے خیر یہ کتاب الطلاق میں فرمایا
فــــ ۱ : معروضۃ علیہ وعلی العلامتین ح و ط
فـــــ ۲ : ربما لایکون افعل فی قول الفقہاء ھذا اصح احوط ارفق اوفق وامثالہ من باب التفضیل ۔
فــــ ۳ : اذا ثبت الاصح لایعدل عنہ ای اذا لم یوجد الاقوی منہ۔
الطلاق انت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ اھ
بل قال فی صلحھا فی مسألۃ قالوا فیھا لقائل ان یقول تجوز وھو الاصح ولقائل ان یقول لاما نصہ حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ اھ
وھذا مفاد فــــ ۱متنہ العقود وان مال فی شرحہ الی ما ھنا فانہ قال :
وحیثما وجدت قولین وقد
صحح واحد فذاك المعتمد
بنحو ذاالفتوی علیہ الا شبہ
والاظھر المختار ذا والاوجہ
فقد حکم بقصرالاعتماد علی ما قیل فیہ افعل ولم یصحح خلافہ ۔ ولما قال فــــ۲ فی الدر فیمن
تمہیں خبر ہے کہ اس کے اصح ہونے کی تصریح ہوجانے کے بعد اس سے کسی اور کی جانب عدول نہ ہوگا اھ
بلکہ خیر یہ کتاب الصلح میں جہاں یہ مسئلہ ہے کہ : لوگوں نے کہا اس میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جائز ہے اور وہی اصح ہے اورکہنے والا کہہ سکتا ہے جائز نہیں وہاں وہ لکھتے ہیں جب اصح ثابت ہوگا تو اس سے عدول نہ ہوگا
یہی ان کے متن عقود کا بھی مفاد ہے اگر چہ اس کی شرح میں وہ اس بات کی طرف مائل ہوگئے جو یہاں زیر بحث ہے کیوں کہ اس میں یہ لکھا ہے جہاں تم کو دو۲ قول ملیں جن میں ایك کی تصحیح اس طر ح کے الفاظ سے ہو اسی پر فتوی ہے یہ اشبہ ہے اظہر ہے مختار ہے اوجہ ہے تووہی معتمد ہے اھ۔
تو معتمد ہونے کا حکم اسی پر محدود رکھا جس کی تصحیح میں لفظ افعل آیا ہے اور اس کے مخالف قول کی تصحیح نہیں ہوئی ہے۔
در مختار کے اندر اس شخص سے متعلق جو بائیں جانب
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : مسئلہ : نماز میں بائیں طرف کا سلام پھیرنا بھول گیا جب تك قبلہ سے نہ پھرا ہو کہہ لے۔
بل قال فی صلحھا فی مسألۃ قالوا فیھا لقائل ان یقول تجوز وھو الاصح ولقائل ان یقول لاما نصہ حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ اھ
وھذا مفاد فــــ ۱متنہ العقود وان مال فی شرحہ الی ما ھنا فانہ قال :
وحیثما وجدت قولین وقد
صحح واحد فذاك المعتمد
بنحو ذاالفتوی علیہ الا شبہ
والاظھر المختار ذا والاوجہ
فقد حکم بقصرالاعتماد علی ما قیل فیہ افعل ولم یصحح خلافہ ۔ ولما قال فــــ۲ فی الدر فیمن
تمہیں خبر ہے کہ اس کے اصح ہونے کی تصریح ہوجانے کے بعد اس سے کسی اور کی جانب عدول نہ ہوگا اھ
بلکہ خیر یہ کتاب الصلح میں جہاں یہ مسئلہ ہے کہ : لوگوں نے کہا اس میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جائز ہے اور وہی اصح ہے اورکہنے والا کہہ سکتا ہے جائز نہیں وہاں وہ لکھتے ہیں جب اصح ثابت ہوگا تو اس سے عدول نہ ہوگا
یہی ان کے متن عقود کا بھی مفاد ہے اگر چہ اس کی شرح میں وہ اس بات کی طرف مائل ہوگئے جو یہاں زیر بحث ہے کیوں کہ اس میں یہ لکھا ہے جہاں تم کو دو۲ قول ملیں جن میں ایك کی تصحیح اس طر ح کے الفاظ سے ہو اسی پر فتوی ہے یہ اشبہ ہے اظہر ہے مختار ہے اوجہ ہے تووہی معتمد ہے اھ۔
تو معتمد ہونے کا حکم اسی پر محدود رکھا جس کی تصحیح میں لفظ افعل آیا ہے اور اس کے مخالف قول کی تصحیح نہیں ہوئی ہے۔
در مختار کے اندر اس شخص سے متعلق جو بائیں جانب
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۲ : مسئلہ : نماز میں بائیں طرف کا سلام پھیرنا بھول گیا جب تك قبلہ سے نہ پھرا ہو کہہ لے۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹
فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۰۴
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۳۷
فتاوٰی خیریۃ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۰۴
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۳۷
نسی التسلیم عن یسارہ اتی بہ مالم یستدبر القبلہ فی الاصح ۔
وکان فی القنیۃ انہ الصحیح قال ش فــــ۱ عبرالشارح بالا صح بدل الصحیح والخطب فیہ سھل اھ
وکیف یکون سھلا فــــ ۲وھما عندکم علی طرفی نقیض فان الصحیح کان یفید ان خلافہ فاسد وافاد الاصح عندکم انہ صحیح فقد جعل الفاسد صحیحا۔
وثانیا : قدقلتم فــــ۳علینا اتباع مارجحوہ ولیس بیان قوۃ للشیئ فی نفسہ ترجیحا لہ اذ لابد للترجیح من مرجح
سلام پھیرنا بھول گیا یہ لکھا ہے جب تك قبلہ سے پیٹھ نہ پھیری ہو اس کی بجا آوری کرلے اصح مذہب میں
اسی مسئلے کے تحت قنیہ میں لکھا تھا کہ یہی صحیح ہے تو اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ شارح نے صحیح کی جگہ اصح سے تعبیر کی اورمعاملہ اس میں سہل ہے اھ۔
سہل کیسے ہوگا جب دو نوں آپ کے نزدیك ایك دوسرے کی بالکل نقیض اورضد ہیں ۔ کیوں کہ صحیح کا مفاد یہ تھا کہ اس کا تقابل فاسد ہے ۔ اور اصح کا مفاد آپ کے نزدیك یہ ہو ا کہ اس کا مقابل صحیح ہے تو آپ کے طور پر تو شارح نے فاسد کو صحیح بنادیا
ثانیا : آپ نے فرمایا جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی ہم پر اسی کی پیروی لازم ہے اور شے کی ذات میں پائی جانے والی کسی قوت کا بیان ترجیح نہیں کیونکہ ترجیح کے لئے مرجح اور
فــــ۱ : الصحیح والاصح متقاربان والخطب فیہ سھل ۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۳ : معروضۃ علی العلامۃ ش
وکان فی القنیۃ انہ الصحیح قال ش فــــ۱ عبرالشارح بالا صح بدل الصحیح والخطب فیہ سھل اھ
وکیف یکون سھلا فــــ ۲وھما عندکم علی طرفی نقیض فان الصحیح کان یفید ان خلافہ فاسد وافاد الاصح عندکم انہ صحیح فقد جعل الفاسد صحیحا۔
وثانیا : قدقلتم فــــ۳علینا اتباع مارجحوہ ولیس بیان قوۃ للشیئ فی نفسہ ترجیحا لہ اذ لابد للترجیح من مرجح
سلام پھیرنا بھول گیا یہ لکھا ہے جب تك قبلہ سے پیٹھ نہ پھیری ہو اس کی بجا آوری کرلے اصح مذہب میں
اسی مسئلے کے تحت قنیہ میں لکھا تھا کہ یہی صحیح ہے تو اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ شارح نے صحیح کی جگہ اصح سے تعبیر کی اورمعاملہ اس میں سہل ہے اھ۔
سہل کیسے ہوگا جب دو نوں آپ کے نزدیك ایك دوسرے کی بالکل نقیض اورضد ہیں ۔ کیوں کہ صحیح کا مفاد یہ تھا کہ اس کا تقابل فاسد ہے ۔ اور اصح کا مفاد آپ کے نزدیك یہ ہو ا کہ اس کا مقابل صحیح ہے تو آپ کے طور پر تو شارح نے فاسد کو صحیح بنادیا
ثانیا : آپ نے فرمایا جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی ہم پر اسی کی پیروی لازم ہے اور شے کی ذات میں پائی جانے والی کسی قوت کا بیان ترجیح نہیں کیونکہ ترجیح کے لئے مرجح اور
فــــ۱ : الصحیح والاصح متقاربان والخطب فیہ سھل ۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش
فــــ ۳ : معروضۃ علی العلامۃ ش
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع فی الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۸
القنیۃ المنیہ تتمیم الغنیہ کتاب الصلوۃ باب فی القعدۃ والذکرفیہا کلکۃ انڈیا ص۳۱
رد المحتار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۲
القنیۃ المنیہ تتمیم الغنیہ کتاب الصلوۃ باب فی القعدۃ والذکرفیہا کلکۃ انڈیا ص۳۱
رد المحتار کتاب الصّلٰوۃ فصل اذا اراد الشروع داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۵۲
ومرجح علیہ فالمعنی قطعا ما فضلوہ علی غیرہ فلا شك انھم اذا قالو الاحد قولین انہ الاصح وسکتوا عن الاخر فقد فضلوہ و رجحوہ علی الاخر فوجب اتباعہ عندکم وسقط التخییر۔
فـالــوجہ عندی حمل کلام الرسالۃ علی مااذا ذیلت احدھما بافعل والاخری بغیرہ فیکون ثالث مافی المسألۃ عن الخیریۃ والغنیۃ من اختیار الاصح اوالصحیح وھو التخییر وھذا اولی من حملہ علی ما یقبل۔
لاسیما والرسالۃ مجھول لاتدری ھی ولامؤلفہا والنقل فــــــ عن المجھول لایعتمد وان کان عــــہ الناقل مرجح علیہ
( جس کو راجح کہا گیا اور جس پر راجح کہا گیا) دونوں ضروری ہیں تو قطعا یہ معنی ہوگا کہ جسے ان حضرات نے دوسرے سے افضل قراردیا اس کی پیروی ضروری ہے اب یہ قطعی بات ہے کہ جب انہوں نے دو قولوں میں سے ایك کو اصح کہا اور دوسرے سے متعلق سکوت اختیار کیا تو اسے انہوں نے دوسرے سے افضل اور راجح قرار دیا تو آپ کے نزدیك اس کا اتباع واجب ہو ااور تخییر ساقط ہوگئی۔
تو میرے نزدیك مناسب طریقہ یہ ہے کہ رسالہ کا کلام اس صورت پر محمول کیا جائے جس میں ایك کے ذیل میں “ افعل “ سے ترجیح ہو اور دوسرے میں غیر افعل سے تو اس مسئلہ میں خیر یہ سے اصح کو اور غنیہ سے صحیح کو اختیار کرنے کا جو حکم منقول ہے اس کی یہ تیسری شق ہوجائے گی وہ یہ کہ تخییر ہے (کسی ایك کی پابندی نہیں صحیح یا اصح کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے) یہ معنی لینا اس معنی پر محمول کرنے سے بہتر ہے جو ناقابل قبول ہے ۔
خصوصا جبکہ رسالہ مجہول ہے نہ اس کا پتا نہ اس کے مؤلف کا پتا او رمجہول سے نقل قابل اعتماد نہیں اگرچہ ناقل معتمد ہوجیسا کہ یہ ضابطہ
فــــــ : لایعتمد علی النقل عن مجھول وان کان الناقل ثقۃ۔
عـــہ : اقول وثم تفصیل یعرفہ الماھر باسالیب الکلام والمطلع علی مراتب الرجال فافھم اھ منہ
اقول : یہاں کچھ تفصیل ہے جس کی معرفت اسالیب کلام کے ماہر اور مراتب رجال سے باخبر شخص سے ہوگی تو اسے سمجھ لیں ۔ ۱۲ منہ (ت)
فـالــوجہ عندی حمل کلام الرسالۃ علی مااذا ذیلت احدھما بافعل والاخری بغیرہ فیکون ثالث مافی المسألۃ عن الخیریۃ والغنیۃ من اختیار الاصح اوالصحیح وھو التخییر وھذا اولی من حملہ علی ما یقبل۔
لاسیما والرسالۃ مجھول لاتدری ھی ولامؤلفہا والنقل فــــــ عن المجھول لایعتمد وان کان عــــہ الناقل مرجح علیہ
( جس کو راجح کہا گیا اور جس پر راجح کہا گیا) دونوں ضروری ہیں تو قطعا یہ معنی ہوگا کہ جسے ان حضرات نے دوسرے سے افضل قراردیا اس کی پیروی ضروری ہے اب یہ قطعی بات ہے کہ جب انہوں نے دو قولوں میں سے ایك کو اصح کہا اور دوسرے سے متعلق سکوت اختیار کیا تو اسے انہوں نے دوسرے سے افضل اور راجح قرار دیا تو آپ کے نزدیك اس کا اتباع واجب ہو ااور تخییر ساقط ہوگئی۔
تو میرے نزدیك مناسب طریقہ یہ ہے کہ رسالہ کا کلام اس صورت پر محمول کیا جائے جس میں ایك کے ذیل میں “ افعل “ سے ترجیح ہو اور دوسرے میں غیر افعل سے تو اس مسئلہ میں خیر یہ سے اصح کو اور غنیہ سے صحیح کو اختیار کرنے کا جو حکم منقول ہے اس کی یہ تیسری شق ہوجائے گی وہ یہ کہ تخییر ہے (کسی ایك کی پابندی نہیں صحیح یا اصح کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے) یہ معنی لینا اس معنی پر محمول کرنے سے بہتر ہے جو ناقابل قبول ہے ۔
خصوصا جبکہ رسالہ مجہول ہے نہ اس کا پتا نہ اس کے مؤلف کا پتا او رمجہول سے نقل قابل اعتماد نہیں اگرچہ ناقل معتمد ہوجیسا کہ یہ ضابطہ
فــــــ : لایعتمد علی النقل عن مجھول وان کان الناقل ثقۃ۔
عـــہ : اقول وثم تفصیل یعرفہ الماھر باسالیب الکلام والمطلع علی مراتب الرجال فافھم اھ منہ
اقول : یہاں کچھ تفصیل ہے جس کی معرفت اسالیب کلام کے ماہر اور مراتب رجال سے باخبر شخص سے ہوگی تو اسے سمجھ لیں ۔ ۱۲ منہ (ت)
من المعتمدین کما افصح بہ ش فی مواضع من کتبہ وبیناہ فی فصل القضاء ۔
وبالجملۃ فالثنیا تخالف ماقررہ اما انھا لاتخالفنا فلان فــــ مفادھا اذ ذاك التخییر وھو حاصل ما فی شقی الثانی لانہ لما وقع فی شقہ الاول الخلاف من دون ترجیح ال الی التخییر والتخییر مقید بقیود قد ذکرھا من قبل وذکرھا ھنا بقولہ ولاتنس ماقدمناہ من قیود التخییر اھ
من اعظمھا ان لایکون احدھما قول الامام فاذا کان فلا تخییر کما اسلفنا انفا نقلہ وقد قال فی شرح عقودہ اذ کان احدھما قول الامام الاعظم والاخر قول بعض اصحابہ عند عدم الترجیح لاحدھما
خود علامہ شامی نے اپنی تصانیف کے متعدد مقامات میں صاف طور پر بیان کیا ہے اور ہم نے بھی فصل القضاء میں اسے واضح کیا ہے ۔
الحاصل وہ استثنا ء ان ہی کے طے کردہ اور مقررہ امر کے خلاف ہے رہا یہ کہ وہ ہمارے خلاف نہیں تو اس لئے کہ اس وقت اس کا مفاد تخییر ہے او ریہی اس کا حاصل ہے جو صورت دوم کی دونوں شقوں کے تحت مذکور ہے کیونکہ جب اس کی پہلی شق میں اختلاف ہوگیا ( کہ اصح کو اختیار کرے یا صحیح کو اختیار کرے ) اور ترجیح کسی کو نہیں تو مال یہ ہوا کہ تخییر ہے اور تخییر کچھ قیدوں سے مقید ہے جنہیں پہلے ذکر کیا ہے اور یہا ں بھی ان کی یاد دہانی کی ہے یہ کہہ کر کہ اور تخییر کی ان قیدوں کو فراموش نہ کرنا جو ہم پہلے بیان کرچکے اھ
ان میں سے عظیم ترین قید یہ ہے کہ دونوں میں کوئی ایك قول امام نہ ہو اگر ایسا ہو ا تو تخییر نہ ہوگی جیسا اسے ہم ابھی نقل کرآئے او رعلامہ شامی نے اپنی شرح عقود میں لکھا ہے کہ جب دونوں میں سے ایك امام اعظم کا قول ہو اور دوسرا ان کے بعض اصحاب کا قول ہو تو کسی کی ترجیح نہ ہونے
فــــ : تحقیق ان ماذکر من حاصل کلام الدر فانہ لایخالفنا۔
وبالجملۃ فالثنیا تخالف ماقررہ اما انھا لاتخالفنا فلان فــــ مفادھا اذ ذاك التخییر وھو حاصل ما فی شقی الثانی لانہ لما وقع فی شقہ الاول الخلاف من دون ترجیح ال الی التخییر والتخییر مقید بقیود قد ذکرھا من قبل وذکرھا ھنا بقولہ ولاتنس ماقدمناہ من قیود التخییر اھ
من اعظمھا ان لایکون احدھما قول الامام فاذا کان فلا تخییر کما اسلفنا انفا نقلہ وقد قال فی شرح عقودہ اذ کان احدھما قول الامام الاعظم والاخر قول بعض اصحابہ عند عدم الترجیح لاحدھما
خود علامہ شامی نے اپنی تصانیف کے متعدد مقامات میں صاف طور پر بیان کیا ہے اور ہم نے بھی فصل القضاء میں اسے واضح کیا ہے ۔
الحاصل وہ استثنا ء ان ہی کے طے کردہ اور مقررہ امر کے خلاف ہے رہا یہ کہ وہ ہمارے خلاف نہیں تو اس لئے کہ اس وقت اس کا مفاد تخییر ہے او ریہی اس کا حاصل ہے جو صورت دوم کی دونوں شقوں کے تحت مذکور ہے کیونکہ جب اس کی پہلی شق میں اختلاف ہوگیا ( کہ اصح کو اختیار کرے یا صحیح کو اختیار کرے ) اور ترجیح کسی کو نہیں تو مال یہ ہوا کہ تخییر ہے اور تخییر کچھ قیدوں سے مقید ہے جنہیں پہلے ذکر کیا ہے اور یہا ں بھی ان کی یاد دہانی کی ہے یہ کہہ کر کہ اور تخییر کی ان قیدوں کو فراموش نہ کرنا جو ہم پہلے بیان کرچکے اھ
ان میں سے عظیم ترین قید یہ ہے کہ دونوں میں کوئی ایك قول امام نہ ہو اگر ایسا ہو ا تو تخییر نہ ہوگی جیسا اسے ہم ابھی نقل کرآئے او رعلامہ شامی نے اپنی شرح عقود میں لکھا ہے کہ جب دونوں میں سے ایك امام اعظم کا قول ہو اور دوسرا ان کے بعض اصحاب کا قول ہو تو کسی کی ترجیح نہ ہونے
فــــ : تحقیق ان ماذکر من حاصل کلام الدر فانہ لایخالفنا۔
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۰
یقدم قول الامام فلذا بعدہ اھ ای بعد ترجیح القولین جمیعا فرجع حاصل القول الی ان قول الامام ھو المتبع الا ان یتفق المرجحون علی تصحیح خلافہ۔
فان قلت فــــ الیس قد ذکر عشر مرجحات اخر ونفی التخییر مع کل منھا : ۱ أکدیۃ التصحیح ۲ کونہ فی المتون والاخر فی الشروح او۳فی الشروح والاخر فی الفتاوی او ۴عللوہ دون الاخر او۵ کونہ استحسانا او ۶ظاھر الروایۃ او ۷انفع للوقف او ۸قول الاکثر او ۹اوفق باھل الزمان او ۱۰اوجہ زاد ھذین فی شرح عقودہ۔
قلت بلی ولا ننکرھاأفقال ان الترجح بھا اکد من الترجح بانہ قول الامام انما ذکر رحمہ الله تعالی ان التصحیح اذا اختلف وکان لاحدھما
کے وقت قول امام کو مقدم رکھا جاتا ہے تو ایسے ہی اس کے بعد بھی ہوگا اھ یعنی دونوں قولوں کی ترجیح کے بعد بھی ہوگا تو حاصل کلام یہی نکلا کہ اتباع قول امام ہی کا ہوگا مگر یہ کہ مرجحین اس کے خلاف کی ترجیح پر متفق ہوں۔
اگر سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ اس میں دس مرجع او ربھی ذکر کئے ہیں او رہر ایك کے ساتھ تخییر کی نفی کی ہے (۱) تصحیح کا زیادہ موکد ہونا(۲) یا اس کا متون میں اور دوسرے کا شرو ح میں ہونا(۳) اس کا شروح میں اور دوسرے کا فتاوی میں ہونا(۴) ان حضرات نے اس کی تعلیل فرمائی دوسرے کی کوئی علت ودلیل نہ بتائی(۵) اس کا استحسان ہونا (۶) یا ظاہر الروایہ(۷)یا وقف کے لئے زیادہ نفع بخش(۸) یاقول اکثر(۹) یا اہل زمانہ سے زیادہ ہم آہنگ اورموافق (۱۰) یا اوجہ ہونا ان دونوں کا شرح عقود میں اضافہ ہے ۔
میں کہوں گا کیو ں نہیں ہمیں ان سے انکار نہیں بتائے کیا یہ بھی کہا ہے کہ ان سب وجہوں سے ترجیح پانا قول اما م ہونے کے سبب ترجیح پانے سے زیادہ موکد ہے انہوں نے تو صرف یہ ذکر کیا ہے کہ جب تصحیح میں
فـــــ : ذکر عشر مر جحات لاحد القولین علی الاخر
فان قلت فــــ الیس قد ذکر عشر مرجحات اخر ونفی التخییر مع کل منھا : ۱ أکدیۃ التصحیح ۲ کونہ فی المتون والاخر فی الشروح او۳فی الشروح والاخر فی الفتاوی او ۴عللوہ دون الاخر او۵ کونہ استحسانا او ۶ظاھر الروایۃ او ۷انفع للوقف او ۸قول الاکثر او ۹اوفق باھل الزمان او ۱۰اوجہ زاد ھذین فی شرح عقودہ۔
قلت بلی ولا ننکرھاأفقال ان الترجح بھا اکد من الترجح بانہ قول الامام انما ذکر رحمہ الله تعالی ان التصحیح اذا اختلف وکان لاحدھما
کے وقت قول امام کو مقدم رکھا جاتا ہے تو ایسے ہی اس کے بعد بھی ہوگا اھ یعنی دونوں قولوں کی ترجیح کے بعد بھی ہوگا تو حاصل کلام یہی نکلا کہ اتباع قول امام ہی کا ہوگا مگر یہ کہ مرجحین اس کے خلاف کی ترجیح پر متفق ہوں۔
اگر سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ اس میں دس مرجع او ربھی ذکر کئے ہیں او رہر ایك کے ساتھ تخییر کی نفی کی ہے (۱) تصحیح کا زیادہ موکد ہونا(۲) یا اس کا متون میں اور دوسرے کا شرو ح میں ہونا(۳) اس کا شروح میں اور دوسرے کا فتاوی میں ہونا(۴) ان حضرات نے اس کی تعلیل فرمائی دوسرے کی کوئی علت ودلیل نہ بتائی(۵) اس کا استحسان ہونا (۶) یا ظاہر الروایہ(۷)یا وقف کے لئے زیادہ نفع بخش(۸) یاقول اکثر(۹) یا اہل زمانہ سے زیادہ ہم آہنگ اورموافق (۱۰) یا اوجہ ہونا ان دونوں کا شرح عقود میں اضافہ ہے ۔
میں کہوں گا کیو ں نہیں ہمیں ان سے انکار نہیں بتائے کیا یہ بھی کہا ہے کہ ان سب وجہوں سے ترجیح پانا قول اما م ہونے کے سبب ترجیح پانے سے زیادہ موکد ہے انہوں نے تو صرف یہ ذکر کیا ہے کہ جب تصحیح میں
فـــــ : ذکر عشر مر جحات لاحد القولین علی الاخر
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص ۴۰
مرجح من ھذہ ترجح ولا تخییر ولم یذکر ماذا کان لکل منھما مرجح منھا۔
اقــول فــــ۱وقد بقی من المرجحات کونہ احوط اوارفق اوعلیہ العمل وھذا یقتضی الکلام علی تفاضل ھذہ المرجحات فیما بینھا وکانہ لم یلم بہ لصعوبۃ استقصائہ فلیس فی کلامہ مضادۃ لما ذکرنا۔
وانــا اقــول : فـــ ۲الترجح بکونہ مذھب الامام ارجح من الکل التصریحات القاھرۃ الظاھرۃ الباھرۃ المتواترۃ ان الفتوی بقول الامام مطلقا وقد صرح الامام الاجل صاحب الھدایۃ بوجوبہ علی کل حال۔
وان بغیت التفصیل وجدت الترجیح بہ ارجح من جل ماذکر ممایو جد معارضالہ
فاقول : القول لایکون اختلاف ہو اور ایك تصحیح کے ساتھ ان دس میں سے کوئی ایك مرجح ہو تو وہ ترجیح پاجائے گی اور تخییر نہ ہوگی اس صورت کا تو ذکر ہی نہ فرمایا جس میں ہر ایك تصحیح کے ساتھ ان میں سے کوئی ایك مرجح ہو۔
اقول : اور ابھی یہ مرجحات باقی رہ گئے اس کااحوط یا ارفق یا معمول بہ ہونا ( علیہ العمل) اور یہ اس کا متقضی ہے کہ ان تر جیحات کے باہمی تفاوت اورفرق مراتب پر کلام کیا جائے اس کی چھان بین دشوار ہونے کے با عث شاید اسے ہاتھ نہ لگایا تو ہم نے جو ذکر کیا اس کی کوئی مخالفت ان کے کلام میں نہیں۔
وانا اقول : ( اور میں کہتا ہوں) مذہب امام ہونے کے با عث ترجیح پانا سب سے ارجح ہے اس لئے کہ قاہر ظاہر باہر متواتر تصریحات موجود ہیں کہ فتوی مطلقا قول اما م پر ہوگا اور امام جلیل صاحب ہدایہ نے ہر حال میں قول امام پر افتا ء واجب ہونے کی تصریح فرمائی ہے
اور اگر تفصیل طلب کرو تو اس کے باعث ترجیح اس کے مقابل پائے جانے والے مذکورہ تقریبا سبھی مرجحات سے زیادہ راجح ملے گی ۔
فاقول : تواس کی تفصیل میں میں کہتا ہوں )
فــــــ ۱ : ذکر ثلث مرجحات اخر ۔
فــــــ ۲ : الترجیح بکونہ قول الامام ارجح من کل مایوجد معارضا لہ ۔
اقــول فــــ۱وقد بقی من المرجحات کونہ احوط اوارفق اوعلیہ العمل وھذا یقتضی الکلام علی تفاضل ھذہ المرجحات فیما بینھا وکانہ لم یلم بہ لصعوبۃ استقصائہ فلیس فی کلامہ مضادۃ لما ذکرنا۔
وانــا اقــول : فـــ ۲الترجح بکونہ مذھب الامام ارجح من الکل التصریحات القاھرۃ الظاھرۃ الباھرۃ المتواترۃ ان الفتوی بقول الامام مطلقا وقد صرح الامام الاجل صاحب الھدایۃ بوجوبہ علی کل حال۔
وان بغیت التفصیل وجدت الترجیح بہ ارجح من جل ماذکر ممایو جد معارضالہ
فاقول : القول لایکون اختلاف ہو اور ایك تصحیح کے ساتھ ان دس میں سے کوئی ایك مرجح ہو تو وہ ترجیح پاجائے گی اور تخییر نہ ہوگی اس صورت کا تو ذکر ہی نہ فرمایا جس میں ہر ایك تصحیح کے ساتھ ان میں سے کوئی ایك مرجح ہو۔
اقول : اور ابھی یہ مرجحات باقی رہ گئے اس کااحوط یا ارفق یا معمول بہ ہونا ( علیہ العمل) اور یہ اس کا متقضی ہے کہ ان تر جیحات کے باہمی تفاوت اورفرق مراتب پر کلام کیا جائے اس کی چھان بین دشوار ہونے کے با عث شاید اسے ہاتھ نہ لگایا تو ہم نے جو ذکر کیا اس کی کوئی مخالفت ان کے کلام میں نہیں۔
وانا اقول : ( اور میں کہتا ہوں) مذہب امام ہونے کے با عث ترجیح پانا سب سے ارجح ہے اس لئے کہ قاہر ظاہر باہر متواتر تصریحات موجود ہیں کہ فتوی مطلقا قول اما م پر ہوگا اور امام جلیل صاحب ہدایہ نے ہر حال میں قول امام پر افتا ء واجب ہونے کی تصریح فرمائی ہے
اور اگر تفصیل طلب کرو تو اس کے باعث ترجیح اس کے مقابل پائے جانے والے مذکورہ تقریبا سبھی مرجحات سے زیادہ راجح ملے گی ۔
فاقول : تواس کی تفصیل میں میں کہتا ہوں )
فــــــ ۱ : ذکر ثلث مرجحات اخر ۔
فــــــ ۲ : الترجیح بکونہ قول الامام ارجح من کل مایوجد معارضا لہ ۔
الاظاھر الروایۃ ومحال ان تمشی المتون قاطبۃ علی خلاف قولہ وانما وضعت لنقل مذھبہ وکذا لن تجد ابدا ان المتون سکتت عن قولہ والشروح اجمعت علی خلافہ ولم یلھج بہ الا الفتاوی و الا نفعیۃ للوقف من المصالح الجلیلۃ المھمۃ وھی احدی الحوامل الست وکذا الاوفقیۃ لاھل الزمان وکونہ علیہ العمل وکذا الارفق اذا کان فی محل دفع الحرج والاحوط اذاکان فی خلافہ مفسدۃ والا ستحسان اذا کان لنحو ضرورۃ او تعامل اما اذاکان فـــــ لدلیل فمختص باھل النظر وکذا کونہ اوجہ واوضح دلیلا کما اعترف بہ فی شرح عقودہ۔
وقد اعلمناك ان المقلد لا یترك قول امامہ لقول غیرہ ان غیرہ اقوی دلیلا
(۱) وہ قول جب ہوگا ظاہر الروایہ ہی ہوگا (۲) اور یہ محال ہے کہ تمام متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں جب کہ ان کی وضع امام ہی کا مذہب نقل کرنے کے لئے ہوئی ہے (۳۔ ۴) اسی طر ح ہر گز کبھی ایسا نہ ملے گا کہ متون قول امام سے ساکت ہوں او ر شروح نے اس کی مخالفت پر اجماع کرلیا ہو صرف فتا وی نے اسے ذکر کیا ہو۔ (۵) اور وقف کے لئے انفع ہونا عظیم اہم مصالح میں شامل ہے او ریہ اسباب ستہ میں سے ایك ہے (۶) اسی طر ح اہل زمان کے زیادہ موافق ہونا (۷) اور اسی پر عمل ہونا (۸) یوں ہی ارفق اور زیادہ آسان ہونا جب کہ دفع حرج کا مقام ہو (۹) اور احوط بھی جب کہ ا س کے خلاف کوئی مفسدہ اور خرابی ہو (۱۰) اور استحسان بھی جب کہ ضرورت یا تعامل جیسی چیز کے با عث ہو لیکن استحسان اگر دلیل کے با عث ہو تو وہ اہل نظر سے خاص ہے (۱۱۔ ۔ ۔ ۱۲) یوں ہی اس کا اوجہ اور دلیل کے لحاظ سے زیادہ واضح ہونا اہل نظر کا حصہ ہےجیسا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کا اعتراف کیا ہے
اور یہ ہم بتا چکے ہیں کہ مقلد اپنے امام کا قول کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے ترك نہ کرے گا اگر دوسرا قول میری نظر میں دلیل کے
فــــ : الاستحسان لغیرنحو ضرورۃ وتعامل لایقدم علی قول الامام ۔
وقد اعلمناك ان المقلد لا یترك قول امامہ لقول غیرہ ان غیرہ اقوی دلیلا
(۱) وہ قول جب ہوگا ظاہر الروایہ ہی ہوگا (۲) اور یہ محال ہے کہ تمام متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں جب کہ ان کی وضع امام ہی کا مذہب نقل کرنے کے لئے ہوئی ہے (۳۔ ۴) اسی طر ح ہر گز کبھی ایسا نہ ملے گا کہ متون قول امام سے ساکت ہوں او ر شروح نے اس کی مخالفت پر اجماع کرلیا ہو صرف فتا وی نے اسے ذکر کیا ہو۔ (۵) اور وقف کے لئے انفع ہونا عظیم اہم مصالح میں شامل ہے او ریہ اسباب ستہ میں سے ایك ہے (۶) اسی طر ح اہل زمان کے زیادہ موافق ہونا (۷) اور اسی پر عمل ہونا (۸) یوں ہی ارفق اور زیادہ آسان ہونا جب کہ دفع حرج کا مقام ہو (۹) اور احوط بھی جب کہ ا س کے خلاف کوئی مفسدہ اور خرابی ہو (۱۰) اور استحسان بھی جب کہ ضرورت یا تعامل جیسی چیز کے با عث ہو لیکن استحسان اگر دلیل کے با عث ہو تو وہ اہل نظر سے خاص ہے (۱۱۔ ۔ ۔ ۱۲) یوں ہی اس کا اوجہ اور دلیل کے لحاظ سے زیادہ واضح ہونا اہل نظر کا حصہ ہےجیسا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کا اعتراف کیا ہے
اور یہ ہم بتا چکے ہیں کہ مقلد اپنے امام کا قول کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے ترك نہ کرے گا اگر دوسرا قول میری نظر میں دلیل کے
فــــ : الاستحسان لغیرنحو ضرورۃ وتعامل لایقدم علی قول الامام ۔
فی نظری فاین النظر من النظر وانما یتبعہ فی ذلك تارکاتقلید امامہ من یسلم ان احدا من مقلدبہ ومجتھدی مذھبہ ابصر بالدلیل الصحیح منہ ۔
ولربما یکون قیاس یعارضہ استحسان یعارضہ استحسان اخر ادق منہ فکیف یترك القیاس القوی بالا ستحسان الضعیف وھذا ھو المرجو فی کل قیاس قال بہ الامام وقیل لغیرہ لالمثل ضرورۃ وتعامل انہ استحسان ولنحو ھذا ربما قدموا القیاس علی الا ستحسان وقد نقل فی مسألۃ فی الشرکۃ الفاسدۃ ش عن ط عن الحموی عن المفتاح ان قول محمد ھوالمختار للفتوی وعن غایۃ عـــــہ البیان ان اقول ابی یوسف استحسان اھ فقال ش وعلیہ فھو من المسائل التی ترجح
لحاظ سے زیادہ قوت رکھتا ہے تو میری نظر کو امام کی نظر سے کیا نسبت اپنے امام کی تقلید چھوڑ کر اس دوسرے کے قول کا اتباع وہی کرے گا جو یہ مانتا ہے کہ امام کے مقلدین اور ان کے مذہب کے مجتہدین میں سے کوئی فرد دلیل صحیح کی ان سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ۔
شاید ایسا ہوگا کہ کسی قیاس کے معارض کوئی ایسا استحسان ہو جس کے معارض اس سے زیادہ دقیق دوسرا استحسان موجود ہو تو قیاس قوی کو استحسان ضعیف کے باعث کیسے ترك کردیا جائے گا امید ہے کہ یہی صورت ہر اس قیاس میں پائی جاتی ہوگی جس کے قائل امام ہیں اور جس کے مقابل دوسرے کو ضرورت وتعامل جیسے امور کے ماسوا میں استحسان کہا گیا ہو ایسے ہی نکتے کے باعث بعض اوقات قیاس کو استحسان پر مقدم کرتے ہیں علامہ شامی نے طحطاوی سے انہوں نے حموی سے انہوں نے مفتاح سے شرکت فاسدہ کے ایك مسئلے میں نقل کیا ہے کہ امام محمد ہی کا قول فتوی کے لئے مختار (ترجیح یافتہ) ہے او رغایۃ البیان سے نقل کیا کہ امام ابو یوسف کا قول استحسان ہے اس پر علامہ شامی نے فرمایا اس کے پیش نظر
عــــہ : قالہ الامام الکرخی فی مختصرہ وعنہ نقل فی غایۃ البیان ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اسے امام کرخی نے اپنی مختصر میں بیان کیا اسی میں غایۃ البیان سے منقول ہے ۱۲ منہ ۔ (ت)
ولربما یکون قیاس یعارضہ استحسان یعارضہ استحسان اخر ادق منہ فکیف یترك القیاس القوی بالا ستحسان الضعیف وھذا ھو المرجو فی کل قیاس قال بہ الامام وقیل لغیرہ لالمثل ضرورۃ وتعامل انہ استحسان ولنحو ھذا ربما قدموا القیاس علی الا ستحسان وقد نقل فی مسألۃ فی الشرکۃ الفاسدۃ ش عن ط عن الحموی عن المفتاح ان قول محمد ھوالمختار للفتوی وعن غایۃ عـــــہ البیان ان اقول ابی یوسف استحسان اھ فقال ش وعلیہ فھو من المسائل التی ترجح
لحاظ سے زیادہ قوت رکھتا ہے تو میری نظر کو امام کی نظر سے کیا نسبت اپنے امام کی تقلید چھوڑ کر اس دوسرے کے قول کا اتباع وہی کرے گا جو یہ مانتا ہے کہ امام کے مقلدین اور ان کے مذہب کے مجتہدین میں سے کوئی فرد دلیل صحیح کی ان سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ۔
شاید ایسا ہوگا کہ کسی قیاس کے معارض کوئی ایسا استحسان ہو جس کے معارض اس سے زیادہ دقیق دوسرا استحسان موجود ہو تو قیاس قوی کو استحسان ضعیف کے باعث کیسے ترك کردیا جائے گا امید ہے کہ یہی صورت ہر اس قیاس میں پائی جاتی ہوگی جس کے قائل امام ہیں اور جس کے مقابل دوسرے کو ضرورت وتعامل جیسے امور کے ماسوا میں استحسان کہا گیا ہو ایسے ہی نکتے کے باعث بعض اوقات قیاس کو استحسان پر مقدم کرتے ہیں علامہ شامی نے طحطاوی سے انہوں نے حموی سے انہوں نے مفتاح سے شرکت فاسدہ کے ایك مسئلے میں نقل کیا ہے کہ امام محمد ہی کا قول فتوی کے لئے مختار (ترجیح یافتہ) ہے او رغایۃ البیان سے نقل کیا کہ امام ابو یوسف کا قول استحسان ہے اس پر علامہ شامی نے فرمایا اس کے پیش نظر
عــــہ : قالہ الامام الکرخی فی مختصرہ وعنہ نقل فی غایۃ البیان ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اسے امام کرخی نے اپنی مختصر میں بیان کیا اسی میں غایۃ البیان سے منقول ہے ۱۲ منہ ۔ (ت)
فیھا القیاس علی الاستحسان اھ
فـافادانفـــــ۱ ما علیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان وکذا ضرورۃ علی ما علل فا لتعلیل من امارات الترجیح والفتوی اعظم ترجیح صریح وکذا لاشك فی تقدیمھا علی الاوجہ والارفق والا حوط کما نصوا علیہ فلم یبق من المرجحات المذکورۃ الا اکدیۃ التصحیح واکثریۃ القائلین ولذا اقتصرنا علی ذکرھما فیما مضی۔
و ای فـــــ ۲ اکثریۃ اکثر ممافی مسألتی وقت العصر والعشاء حتی ادعوا علی خلاف قولہ التعامل بل عمل عامۃ الصحابۃ فی العشاء ولم یمنع وہ ان مسائل میں شامل ہے جن میں قیاس کو استحسان پر ترجیح ہوتی ہے اھ
اس بیان سے انہوں نے یہ افادہ کیا کہ (ما علیہ الفتوی) جس قول پر فتوی ہوتا ہے وہ استحسان پر مقدم ہوتا ہے( ۱۳) یوں ہی بدیہی وضروری طوپر یہ اس قول سے بھی مقد م ہوگا جس کی تعلیل ہوئی ہو اس لئے کہ تعلیل ترجیح کی صرف ایك علامت ہے او رفتوی سب سے عظیم ترجیح صریح ہے (۱۴۔ ۱۶) یوں ہی اوجہ ارفق اور احوط پر بھی اس کے مقدم ہونے میں کوئی شك نہیں ۔ ا ب تصحیح کے زیادہ موکد ہونے اور قائلین کی تعداد زیادہ ہونے کے سوا مذکورہ مرحجات سے کوئی مر جح باقی نہ رہا اسی لئے سابق میں ہم نے صرف ان ہی دونوں کے ذکر پر اکتفاکی ۔
اب بتائیے قائلین کی اکثریت کہیں اس سے زیادہ ہوگی جو وقت عصراور وقت عشاء کے مسئلوں میں امام کے مقابل موجود ہے یہاں تك کہ لوگوں نے قول امام کے بر خلاف تعامل بلکہ عشا میں عامہ صحابہ کا عمل ہونے کابھی دعوی کیا
فــــ ۱ : ماعلیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان ۔
فــــ ۲ : عند قول الامام لاینظر الی کثرۃ الترجیح فی الجانب الاخر ۔
فـافادانفـــــ۱ ما علیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان وکذا ضرورۃ علی ما علل فا لتعلیل من امارات الترجیح والفتوی اعظم ترجیح صریح وکذا لاشك فی تقدیمھا علی الاوجہ والارفق والا حوط کما نصوا علیہ فلم یبق من المرجحات المذکورۃ الا اکدیۃ التصحیح واکثریۃ القائلین ولذا اقتصرنا علی ذکرھما فیما مضی۔
و ای فـــــ ۲ اکثریۃ اکثر ممافی مسألتی وقت العصر والعشاء حتی ادعوا علی خلاف قولہ التعامل بل عمل عامۃ الصحابۃ فی العشاء ولم یمنع وہ ان مسائل میں شامل ہے جن میں قیاس کو استحسان پر ترجیح ہوتی ہے اھ
اس بیان سے انہوں نے یہ افادہ کیا کہ (ما علیہ الفتوی) جس قول پر فتوی ہوتا ہے وہ استحسان پر مقدم ہوتا ہے( ۱۳) یوں ہی بدیہی وضروری طوپر یہ اس قول سے بھی مقد م ہوگا جس کی تعلیل ہوئی ہو اس لئے کہ تعلیل ترجیح کی صرف ایك علامت ہے او رفتوی سب سے عظیم ترجیح صریح ہے (۱۴۔ ۱۶) یوں ہی اوجہ ارفق اور احوط پر بھی اس کے مقدم ہونے میں کوئی شك نہیں ۔ ا ب تصحیح کے زیادہ موکد ہونے اور قائلین کی تعداد زیادہ ہونے کے سوا مذکورہ مرحجات سے کوئی مر جح باقی نہ رہا اسی لئے سابق میں ہم نے صرف ان ہی دونوں کے ذکر پر اکتفاکی ۔
اب بتائیے قائلین کی اکثریت کہیں اس سے زیادہ ہوگی جو وقت عصراور وقت عشاء کے مسئلوں میں امام کے مقابل موجود ہے یہاں تك کہ لوگوں نے قول امام کے بر خلاف تعامل بلکہ عشا میں عامہ صحابہ کا عمل ہونے کابھی دعوی کیا
فــــ ۱ : ماعلیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان ۔
فــــ ۲ : عند قول الامام لاینظر الی کثرۃ الترجیح فی الجانب الاخر ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی شرکۃ الفاسدۃ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۵۰
ذلك لاسیما فی العصر عن التعویل علی قول الامام ونقلتم عن البحر واقررتم انہ لایعدل عن قول الامام الالضرورۃ وان صرح المشائخ ان الفتوی علی قولھما کما ھنا
ونا ھیك فـــــ بہ جوابا عن اکدیۃ لفظ التصحیح وایضا قدمنا نصوص ش فی ذلك فی سردالنقول عن کتاب النکاح وکتاب الھبۃ وایضا اکثر فی ردالمحتار من معارضۃ الفتوی بالمتون وتقدیم ما فیھا علی ما علیہ الفتوی وما ھو الا لان المتون وضعت لنقل مذھب صاحب المذھب رضی الله تعالی عنہ۔
فــمـنـھا الاسناد فی البئر الی یوم اوثلثۃ فی حق الوضوء والغسل والا قتصار فی حق غیرھما
پھر بھی یہ اکثر یت خصوصا عصر میں قول امام پر اعتماد سے مانع نہ ہوسکی اورآپ ہی نے بحر سے یہ نقل کیا اور برقرار رکھا کہ قول امام سے بجز ضرورت کے عدول نہ ہوگا اگر چہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتوی قول صاحبین پر ہے جیسے یہا ں ہے اھ۔
اور لفظ تصحیح کے زیادہ موکد ہونے سے متعلق جواب کے لئے بھی یہی کافی ہے اور اس بارے میں علامہ شامی کی صریح عبارتیں ذکر نقول کے تحت کتا ب النکاح او رکتا ب الہبہ سے ہم پہلے بھی نقل کرچکے ہیں اور انہوں نے رد المحتار میں بہت سے مقامات پر فتوی کے مقابلہ میں متون کوپیش کیا ہے اور متون میں جو مذکورہ ہے اسے ما علیہ الفتوی (اور قول جس پر فتوی ہے) پر مقد م قرار دیا ہے اوریہ اسی لئے کہ متون صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب نقل کرنے کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔
ان میں سے چند مقامات کی نشان دہی (۱) کنویں میں کوئی جانور مراد دیکھا گیا اور گرنے کا وقت معلوم نہیں تو اگر پھولا پھٹانہیں ہے تو ایك دن اورپھولاپھٹا ہے تو تین دن
فــــ : اذا رجع قول الامام وقول خلافہ کان العمل بقول الامام وان قالوا لغیرہ علیہ الفتوی ۔
ونا ھیك فـــــ بہ جوابا عن اکدیۃ لفظ التصحیح وایضا قدمنا نصوص ش فی ذلك فی سردالنقول عن کتاب النکاح وکتاب الھبۃ وایضا اکثر فی ردالمحتار من معارضۃ الفتوی بالمتون وتقدیم ما فیھا علی ما علیہ الفتوی وما ھو الا لان المتون وضعت لنقل مذھب صاحب المذھب رضی الله تعالی عنہ۔
فــمـنـھا الاسناد فی البئر الی یوم اوثلثۃ فی حق الوضوء والغسل والا قتصار فی حق غیرھما
پھر بھی یہ اکثر یت خصوصا عصر میں قول امام پر اعتماد سے مانع نہ ہوسکی اورآپ ہی نے بحر سے یہ نقل کیا اور برقرار رکھا کہ قول امام سے بجز ضرورت کے عدول نہ ہوگا اگر چہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتوی قول صاحبین پر ہے جیسے یہا ں ہے اھ۔
اور لفظ تصحیح کے زیادہ موکد ہونے سے متعلق جواب کے لئے بھی یہی کافی ہے اور اس بارے میں علامہ شامی کی صریح عبارتیں ذکر نقول کے تحت کتا ب النکاح او رکتا ب الہبہ سے ہم پہلے بھی نقل کرچکے ہیں اور انہوں نے رد المحتار میں بہت سے مقامات پر فتوی کے مقابلہ میں متون کوپیش کیا ہے اور متون میں جو مذکورہ ہے اسے ما علیہ الفتوی (اور قول جس پر فتوی ہے) پر مقد م قرار دیا ہے اوریہ اسی لئے کہ متون صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب نقل کرنے کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔
ان میں سے چند مقامات کی نشان دہی (۱) کنویں میں کوئی جانور مراد دیکھا گیا اور گرنے کا وقت معلوم نہیں تو اگر پھولا پھٹانہیں ہے تو ایك دن اورپھولاپھٹا ہے تو تین دن
فــــ : اذا رجع قول الامام وقول خلافہ کان العمل بقول الامام وان قالوا لغیرہ علیہ الفتوی ۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۶
افتی بہ الصباغی وصححہ فی المحیط والتبیین واقرہ فی البحر والمنح واعتمدہ فی التنویر والدر فقلتم مخالف لاطلاق المتون قاطبۃ (الی قولکم) فلا یعول علیہ وان اقرہ فی البحر والمنح
ومــنھــا وقف صدقۃ علی رجل بعینہ عاد بعد موتہ لورثۃ الواقف قال فی الاجناس ثم فتح القدیر بہ یفتی فقلتم انہ خلاف المعتمد لمخالفتہ لمانص علیہ محققوا المشائخ ولما فی المتون من انہ بعدموت الموقوف علیہ یعود للفقراء
ومــنھـا مااختار الامامان الجلیلان والکرخی من الغاء طلاق السکران
سے پانی نجس ماناجائے گا وضو اور غسل کے حق میں او ردوسری چیزوں سے متعلق جب سے دیکھا گیا اس وقت سے یعنی اب سے نجس مانا جائے گا پہلے سے نہیں ۔
اسی پر صباغی نے فتوی دیا محیط اورتبیین میں اسی کو صحیح کہا البحرالرائق اور منح الغفار میں اسی پر اعتماد کیا تو آپ نے فرمایا یہ تمام متون کے اطلاق کے بر خلاف ہے (یہاں تك کہ فرمایا) تو اس پر اعتماد نہ ہوگا اگرچہ بحر اور منح میں اسے بر قرار رکھا ۔
(۲)کوئی صدقہ ایك شخص معین پر وقف کیا تو یہ وقف اس شخص کی موت کے بعد واقف کے ورثہ کی طر ف لوٹ آئے گا اجناس میں پھر فتح القدیر میں کہا بہ یفتی( اسی پر فتوی دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا یہ خلاف معتمد ہے کیونکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر محققین مشائخ نے نص فرمایا او راس کے بھی جو متون میں مذکور ہے وہ یہ کہ موقوف علیہ کی موت کے بعد وہ فقراء پر لوٹ آئے گا ۔
(۳)امام جلیلین طحطاوی وکرخی نے اختیار فرمایا کہ نشہ والے کی طلاق بے کار ہے او رتفرید
ومــنھــا وقف صدقۃ علی رجل بعینہ عاد بعد موتہ لورثۃ الواقف قال فی الاجناس ثم فتح القدیر بہ یفتی فقلتم انہ خلاف المعتمد لمخالفتہ لمانص علیہ محققوا المشائخ ولما فی المتون من انہ بعدموت الموقوف علیہ یعود للفقراء
ومــنھـا مااختار الامامان الجلیلان والکرخی من الغاء طلاق السکران
سے پانی نجس ماناجائے گا وضو اور غسل کے حق میں او ردوسری چیزوں سے متعلق جب سے دیکھا گیا اس وقت سے یعنی اب سے نجس مانا جائے گا پہلے سے نہیں ۔
اسی پر صباغی نے فتوی دیا محیط اورتبیین میں اسی کو صحیح کہا البحرالرائق اور منح الغفار میں اسی پر اعتماد کیا تو آپ نے فرمایا یہ تمام متون کے اطلاق کے بر خلاف ہے (یہاں تك کہ فرمایا) تو اس پر اعتماد نہ ہوگا اگرچہ بحر اور منح میں اسے بر قرار رکھا ۔
(۲)کوئی صدقہ ایك شخص معین پر وقف کیا تو یہ وقف اس شخص کی موت کے بعد واقف کے ورثہ کی طر ف لوٹ آئے گا اجناس میں پھر فتح القدیر میں کہا بہ یفتی( اسی پر فتوی دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا یہ خلاف معتمد ہے کیونکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر محققین مشائخ نے نص فرمایا او راس کے بھی جو متون میں مذکور ہے وہ یہ کہ موقوف علیہ کی موت کے بعد وہ فقراء پر لوٹ آئے گا ۔
(۳)امام جلیلین طحطاوی وکرخی نے اختیار فرمایا کہ نشہ والے کی طلاق بے کار ہے او رتفرید
حوالہ / References
ردالمحتار باب المیاہ فصل فے البئر دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۴۶
الدالمختار بحوالہ الفتح کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷۹
ردالمحتار بحوالہ الفتح کتاب الوقف دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۶۶
الدالمختار بحوالہ الفتح کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷۹
ردالمحتار بحوالہ الفتح کتاب الوقف دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۶۶
وفی التفرید ثم التتار خانیہ ثم الدر الفتوی علیہ فقلتم مثل ح قد علمت مخالفتہ لسائر المتون
ومــنـھـا قال محمد اذالم یکن عصبۃ فولایۃ النکاح للحاکم دون الام قال فی المضمرات علیہ الفتوی فقلتم کالبحر والنھر غریب للمخالفۃ المتون الموضوعۃ لبیان الفتوی
ومـنھـا قال محمد لا تعتبر الکفاءۃ دیانۃ وفی الفتح عن المحیط علیہ الفتوی وصححہ فی المبسوط فقلتم کالبحر تصحیح الھدایۃ معارض لہ فالافتاء بما فی المتون اولی
ومـنـھـا قال لھا اختاری اختاری اختاری فقالت اخترت الاولی اوالوسطی اوالاخیرۃ طلقت ثلثا عندہ وواحدۃ بائنۃ عندھما واختارہ الطحاوی قال فی الدر واقرہ الشیخ علی المقدسی وفی
پھرتاتار خانیہ پھر درمختار میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے آپ نے حلبی کی طرح فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ سارے متون کے خلاف ہے ۔
(۴) امام محمد نے فرمایا جب کوئی عصبہ نہ ہو تو نکاح کی ولایت حاکم کو حاصل ہوگی ماں کو نہیں مضمرات میں لکھا اسی پر فتوی ہے آپ نے بحرونہرکی طر ح فرمایا یہ غریب ہے کیوں کہ بیان فتوی کے لئے وضع شدہ متون کے بر خلاف ہے
(۵) امام محمد نے فرمایا دین داری میں کفاء ت کا اعتبار نہیں فتح القدیر میں محیط کے حوالے سے لکھا اسی پر فتوی ہے او رمبسوط میں اسی کو صحیح کہا آپ نے بحر کی طر ف فرمایا ہدایہ کی تصحیح اس کے معارض ہے تو اسی پر افتا اولی ہے جو متون میں مذکور ہے ۔
(۶) شوہر نے بیوی سے کہا اختیارکر اختیار کر اختیار کر تو بیوی نے کہا میں نے پہلی یا درمیانی یا آخری اختیار کی امام صاحب کے نزدیك اس پر تین طلاقیں پڑگئیں اور صاحبین کے نزدیك ایك طلاق بائن واقع ہوئی اور اسی کو امام طحاوی نے اختیار کیا درمختار میں ہے اور اسے شیخ علی مقدسی نے بر قرار رکھا اور
ومــنـھـا قال محمد اذالم یکن عصبۃ فولایۃ النکاح للحاکم دون الام قال فی المضمرات علیہ الفتوی فقلتم کالبحر والنھر غریب للمخالفۃ المتون الموضوعۃ لبیان الفتوی
ومـنھـا قال محمد لا تعتبر الکفاءۃ دیانۃ وفی الفتح عن المحیط علیہ الفتوی وصححہ فی المبسوط فقلتم کالبحر تصحیح الھدایۃ معارض لہ فالافتاء بما فی المتون اولی
ومـنـھـا قال لھا اختاری اختاری اختاری فقالت اخترت الاولی اوالوسطی اوالاخیرۃ طلقت ثلثا عندہ وواحدۃ بائنۃ عندھما واختارہ الطحاوی قال فی الدر واقرہ الشیخ علی المقدسی وفی
پھرتاتار خانیہ پھر درمختار میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے آپ نے حلبی کی طرح فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ سارے متون کے خلاف ہے ۔
(۴) امام محمد نے فرمایا جب کوئی عصبہ نہ ہو تو نکاح کی ولایت حاکم کو حاصل ہوگی ماں کو نہیں مضمرات میں لکھا اسی پر فتوی ہے آپ نے بحرونہرکی طر ح فرمایا یہ غریب ہے کیوں کہ بیان فتوی کے لئے وضع شدہ متون کے بر خلاف ہے
(۵) امام محمد نے فرمایا دین داری میں کفاء ت کا اعتبار نہیں فتح القدیر میں محیط کے حوالے سے لکھا اسی پر فتوی ہے او رمبسوط میں اسی کو صحیح کہا آپ نے بحر کی طر ف فرمایا ہدایہ کی تصحیح اس کے معارض ہے تو اسی پر افتا اولی ہے جو متون میں مذکور ہے ۔
(۶) شوہر نے بیوی سے کہا اختیارکر اختیار کر اختیار کر تو بیوی نے کہا میں نے پہلی یا درمیانی یا آخری اختیار کی امام صاحب کے نزدیك اس پر تین طلاقیں پڑگئیں اور صاحبین کے نزدیك ایك طلاق بائن واقع ہوئی اور اسی کو امام طحاوی نے اختیار کیا درمختار میں ہے اور اسے شیخ علی مقدسی نے بر قرار رکھا اور
حوالہ / References
الدرالمختار بحوالہ تاتارخانیہ کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت۲ / ۴۲۴ ، ۴۲۵
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۲
ردالمحتار کتاب النکاح باب الکفاءۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت۲ / ۴۲۴ ، ۴۲۵
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۱۲
ردالمحتار کتاب النکاح باب الکفاءۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۳۲۰
الحاوی القدسی وبہ نأخذ فقد افاد ان قولھما ھو المفتی بہ کذا یخط الشرف الغزی فقلتم قول الامام مشی علیہ المتون واخر دلیلہ فــــ ۱فی الھدایۃ فکان ھو المعتمد ۔
ومــنھـا طلب القسمۃ من لا ینتفع بھا لقلۃ حصتہ قال شیخ الاسلام خواھر زادہ یجاب قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی فقال فی الدر لکن فـــــ۲ المتون علی الاول فعلیہ المعول واقرر تموہ انتم وط مع قولکم مرارا منھا فی ھبۃ ردالمحتار کن علی ذکرمما قالوا لا یعدل فــــ۳عن تصحیح قاضی خان فانہ فقیہ النفس اھ
فـقـد ظھر ولله الحمد ان
حاوی قدسی میں ہے وبہ ناخذ ہم اسی کو لیتے ہیں تو یہ افادہ کیا کہ قول صاحبین ہی مفتی بہ ہے شرف غزی کی قلمی تحریرمیں اسی طرح ہے آپ نے فرمایا قول امام پر متون گام زن ہیں اور ہدایہ میں اسی کی دلیل موخر رکھی ہے تو وہی معتمد ہوا ۔
(۷) تقسیم کا ایسے شخص نے مطالبہ کیا جو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیوں کہ اس کا حصہ بہت کم ہوگا شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا تقسیم کردی جائے خانیہ میں کہا اسی پرفتوی ہے اس پر در مختار میں فرمایا لیکن متون اول پر ہیں تواسی پر اعتماد ہے اور اسے آپ نے اور طحطاوی نے بر قراررکھا با وجود یکہ آپ نے بارہافرمایا ان میں سے ایك موقع رد المحتار کتاب الہبہ کا بھی ہے کہ اسے یاد رکھنا جو علماء نے فرمایا ہے کہ امام قاضی خاں کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے گا کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں ۔ اھ
اس تفصیل سے بحمدہ تعالی روشن
فــــ ۱ : تاخیر الھدایۃ دلیل قول دلیل اعتماد ہ
فـــ ۲ : قول الامام مذکور فی المتون مقدم علی ما صححہ قاضی خان باکدالفاظ الفتوی۔
فــــ۳ : لا یعدل عن تصحیحہ قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۔
ومــنھـا طلب القسمۃ من لا ینتفع بھا لقلۃ حصتہ قال شیخ الاسلام خواھر زادہ یجاب قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی فقال فی الدر لکن فـــــ۲ المتون علی الاول فعلیہ المعول واقرر تموہ انتم وط مع قولکم مرارا منھا فی ھبۃ ردالمحتار کن علی ذکرمما قالوا لا یعدل فــــ۳عن تصحیح قاضی خان فانہ فقیہ النفس اھ
فـقـد ظھر ولله الحمد ان
حاوی قدسی میں ہے وبہ ناخذ ہم اسی کو لیتے ہیں تو یہ افادہ کیا کہ قول صاحبین ہی مفتی بہ ہے شرف غزی کی قلمی تحریرمیں اسی طرح ہے آپ نے فرمایا قول امام پر متون گام زن ہیں اور ہدایہ میں اسی کی دلیل موخر رکھی ہے تو وہی معتمد ہوا ۔
(۷) تقسیم کا ایسے شخص نے مطالبہ کیا جو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیوں کہ اس کا حصہ بہت کم ہوگا شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا تقسیم کردی جائے خانیہ میں کہا اسی پرفتوی ہے اس پر در مختار میں فرمایا لیکن متون اول پر ہیں تواسی پر اعتماد ہے اور اسے آپ نے اور طحطاوی نے بر قراررکھا با وجود یکہ آپ نے بارہافرمایا ان میں سے ایك موقع رد المحتار کتاب الہبہ کا بھی ہے کہ اسے یاد رکھنا جو علماء نے فرمایا ہے کہ امام قاضی خاں کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے گا کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں ۔ اھ
اس تفصیل سے بحمدہ تعالی روشن
فــــ ۱ : تاخیر الھدایۃ دلیل قول دلیل اعتماد ہ
فـــ ۲ : قول الامام مذکور فی المتون مقدم علی ما صححہ قاضی خان باکدالفاظ الفتوی۔
فــــ۳ : لا یعدل عن تصحیحہ قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطلاق باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
ردالمحتار کتاب الطلاق باب تفویض الطلاق باب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۸۰
الدر المختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۱۹
رد المحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۳
ردالمحتار کتاب الطلاق باب تفویض الطلاق باب داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۸۰
الدر المختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۱۹
رد المحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۳
الترجیح بکون القول قول الامام لایوازیہ شیئ واذا اختلف الترجیح وکان احدھما قول الامام فعلیہ التعویل وکذا اذالم یکن ترجیح فکیف اذا اتفقوا علی ترجیحہ فلم یبق الامااتفقوا فیہ علی ترجیح غیرہ ۔
فــاذا حمل کلامہ علی ماوصفنا فلاشك فی صحتہ اذن بالنظر الی حاصل الحکم فانا نوافقہ علی انانا خذ ح بما اتفقوا علی ترجیحہ انما یبقی الخلاف بیننا فی الطریق فھو اختارہ بناء علی اتباع المرجحین ونحن نقول لایکون ھذا الا فی محل احدی الحوامل فیکون ھذا ھو قول الامام الضروری وان خالف قولہ الصوری بل عندنا ایضا مساغ ھھنا لتقلید المشائخ فی بعض الصور علی مایأتی بیانھا۔
ثــم لاشك انہ لایتقید ح بکونہ قول احد الصاحبین بل ندور مع الحوامل حیث دارت وان
ہوگیا کہ کسی قول کے قول امام ہونے کے باعث ترجیح پانے کے مقابل کوئی چیز نہیں اور جب اختلاف ترجیح کی صورت میں دوقولوں میں سے ایك قول امام ہو تو اسی پر اعتماد ہے اسی طر ح اس وقت بھی جب کوئی ترجیح ہی موجود نہ ہو پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب سب اسی کی ترجیح پر متفق ہوں تو اب کوئی صورت باقی نہ رہی سوا اس کے جس میں دو سرے کی ترجیح پر سب متفق ہوں ۔
تو اگر علامہ شامی کا کلام اس پر محمول کرلیا جائے جو ہم نے بیان کیا تو اس صورت میں وہ بلا شبہ حاصل حکم کے لحاظ سے صحیح ہوگا کیونکہ ہم بھی اس پر ان کی موافقت کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں ہم اسی کو لیں گے جس کی ترجیح پر مشائخ کا اتفاق ہے البتہ ہمارے اور ان کے درمیان طریقے حکم کا فر ق رہ جاتا ہے انہوں نے اس حکم کو اتباع مرجحین کی بنیاد پر اختیار کیا ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا اسباب ستہ میں سے کسی ایك کے پائے جانے ہی کے موقع پر ہوگا تو یہی امام کاقول ضروری ہوگا اگرچہ وہ ان کے قول صوری کے بر خلاف ہو بلکہ ہمارے نزدیك یہاں بعض صورتوں میں تقلید مشائخ کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ان کا بیان آرہا ہے ۔
پھر بلا شبہ ایسے وقت میں اس کی بھی پابندی نہیں کہ وہ دو سرا قول صاحبین ہی میں سے کسی کا ہو بلکہ مدار حوادث پر ہوگا وہ جہاں
فــاذا حمل کلامہ علی ماوصفنا فلاشك فی صحتہ اذن بالنظر الی حاصل الحکم فانا نوافقہ علی انانا خذ ح بما اتفقوا علی ترجیحہ انما یبقی الخلاف بیننا فی الطریق فھو اختارہ بناء علی اتباع المرجحین ونحن نقول لایکون ھذا الا فی محل احدی الحوامل فیکون ھذا ھو قول الامام الضروری وان خالف قولہ الصوری بل عندنا ایضا مساغ ھھنا لتقلید المشائخ فی بعض الصور علی مایأتی بیانھا۔
ثــم لاشك انہ لایتقید ح بکونہ قول احد الصاحبین بل ندور مع الحوامل حیث دارت وان
ہوگیا کہ کسی قول کے قول امام ہونے کے باعث ترجیح پانے کے مقابل کوئی چیز نہیں اور جب اختلاف ترجیح کی صورت میں دوقولوں میں سے ایك قول امام ہو تو اسی پر اعتماد ہے اسی طر ح اس وقت بھی جب کوئی ترجیح ہی موجود نہ ہو پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب سب اسی کی ترجیح پر متفق ہوں تو اب کوئی صورت باقی نہ رہی سوا اس کے جس میں دو سرے کی ترجیح پر سب متفق ہوں ۔
تو اگر علامہ شامی کا کلام اس پر محمول کرلیا جائے جو ہم نے بیان کیا تو اس صورت میں وہ بلا شبہ حاصل حکم کے لحاظ سے صحیح ہوگا کیونکہ ہم بھی اس پر ان کی موافقت کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں ہم اسی کو لیں گے جس کی ترجیح پر مشائخ کا اتفاق ہے البتہ ہمارے اور ان کے درمیان طریقے حکم کا فر ق رہ جاتا ہے انہوں نے اس حکم کو اتباع مرجحین کی بنیاد پر اختیار کیا ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا اسباب ستہ میں سے کسی ایك کے پائے جانے ہی کے موقع پر ہوگا تو یہی امام کاقول ضروری ہوگا اگرچہ وہ ان کے قول صوری کے بر خلاف ہو بلکہ ہمارے نزدیك یہاں بعض صورتوں میں تقلید مشائخ کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ان کا بیان آرہا ہے ۔
پھر بلا شبہ ایسے وقت میں اس کی بھی پابندی نہیں کہ وہ دو سرا قول صاحبین ہی میں سے کسی کا ہو بلکہ مدار حوادث پر ہوگا وہ جہاں
کان قول زفر مثلا علی خلاف الائمۃ الثلثۃ کما ذکر وما ذکر من سبرھم الدلیل وسائر کلامہ نشأمن الطریق الذی سلکہ وح یبقی الخلاف بینہ وبین البحر لفظیا فان البحر ایضا لا یابی عند ئذ العدول عن قول الامام الصوری الی قولہ الضروری کیف وقد فعل مثلہ نفسہ والوفاق اولی من الشقاق۔
ولـعـل مـراد ابن الشلبی ان یصرح احد من المشائخ الفتوی علی قول غیر الامام مع عدم مخالفۃ الباقین لہ صراحۃ ولا دلالۃ کا قتصارھم علی قول الامام او تقدیمہ او تأخیر دلیلہ اوالجواب عن دلائل غیرہ الی غیر ذلك مما یعلم انھم یرجحون قول الامام کما اشار ابن الشلبی الی التصحیح دلالۃ وح لابد ان یظھر منھم مخایل وفاقھم لذلك المفتی فیدخل فی صورۃ الثنیا
دائر ہوں اگر چہ تینوں ائمہ کے بر خلاف مثلا امام زفر ہی کا قول ہوجیسا کہ پہلے ذکر ہوا ۔ اور وہ جو علامہ شامی نے ذکر کیا کہ مشائخ نے دلیل کی جانچ کر رکھی ہے اور باقی کلام یہ سب اس طر یق سے پیدا شدہ ہے جسے انہوں نے اپنایا ۔ اور اب ان کے اور بحر کے درمیان صرف لفظی اختلاف رہ جائے گا ۔ کیونکہ بحر بھی ایسی صورت میں امام کے قول صوری سے ان کے قول ضروری کی جانب عدول کے منکر نہیں ۔ منکر کیسے ہوں گے ایسا تو انہو ں نے خود کیا ہے ۔ اور اتفاق اختلاف سے بہتر ہے ۔
اور شاید ابن الشلبی کی مرادیہ ہے کہ مشائخ میں سے ایك نے غیر امام کے قول پر فتوی ہونے کی تصریح کی ہو اور دیگر حضرات نے صراحۃ اس کی مخالفت نہ کی ہواور نہ ہی دلالۃ مثلا یوں کہ قول امام پر اقتصار کریں یا اسے پہلے بیان کریں یا اس کی دلیل آخر میں لائیں یا دوسرے حضرات کی دلیلوں کا جواب دیں اسی طر ح کی اور باتیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قول امام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ابن الشلبی نے دلالۃ تصحیح کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ او رایسی صورت میں دیگر حضرات سے اس مفتی کے ساتھ موافقت کے آثار و علامات نمودار ہونا ضروری ہے کلام ابن شلبی کی یہ مراد لی جائے تو یہ بھی استثنا ء والی صورت میں داخل ہوجائے گا ۔
ولـعـل مـراد ابن الشلبی ان یصرح احد من المشائخ الفتوی علی قول غیر الامام مع عدم مخالفۃ الباقین لہ صراحۃ ولا دلالۃ کا قتصارھم علی قول الامام او تقدیمہ او تأخیر دلیلہ اوالجواب عن دلائل غیرہ الی غیر ذلك مما یعلم انھم یرجحون قول الامام کما اشار ابن الشلبی الی التصحیح دلالۃ وح لابد ان یظھر منھم مخایل وفاقھم لذلك المفتی فیدخل فی صورۃ الثنیا
دائر ہوں اگر چہ تینوں ائمہ کے بر خلاف مثلا امام زفر ہی کا قول ہوجیسا کہ پہلے ذکر ہوا ۔ اور وہ جو علامہ شامی نے ذکر کیا کہ مشائخ نے دلیل کی جانچ کر رکھی ہے اور باقی کلام یہ سب اس طر یق سے پیدا شدہ ہے جسے انہوں نے اپنایا ۔ اور اب ان کے اور بحر کے درمیان صرف لفظی اختلاف رہ جائے گا ۔ کیونکہ بحر بھی ایسی صورت میں امام کے قول صوری سے ان کے قول ضروری کی جانب عدول کے منکر نہیں ۔ منکر کیسے ہوں گے ایسا تو انہو ں نے خود کیا ہے ۔ اور اتفاق اختلاف سے بہتر ہے ۔
اور شاید ابن الشلبی کی مرادیہ ہے کہ مشائخ میں سے ایك نے غیر امام کے قول پر فتوی ہونے کی تصریح کی ہو اور دیگر حضرات نے صراحۃ اس کی مخالفت نہ کی ہواور نہ ہی دلالۃ مثلا یوں کہ قول امام پر اقتصار کریں یا اسے پہلے بیان کریں یا اس کی دلیل آخر میں لائیں یا دوسرے حضرات کی دلیلوں کا جواب دیں اسی طر ح کی اور باتیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قول امام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ابن الشلبی نے دلالۃ تصحیح کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ او رایسی صورت میں دیگر حضرات سے اس مفتی کے ساتھ موافقت کے آثار و علامات نمودار ہونا ضروری ہے کلام ابن شلبی کی یہ مراد لی جائے تو یہ بھی استثنا ء والی صورت میں داخل ہوجائے گا ۔
ھذا فی جانب الشامی واما جانب البحر فرأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار فی کتاب القضاء مانصہ
اقــول : محل کلام البحر حیث وجدالترجیح من ائمتہ فی جانب الامام ایضا کمافی مسألتی العصر والعشاء وان وجد اکد الفاظہ وھو الفتوی من المشائخ فی جانب الصاحبین ولیس یرید ان المشائخ وان اجمعوا علی ترجیح قولھما لایعبؤ بہ ویجب علینا الافتاء بقول الامام فان ھذا لایقول بہ احد ممن لہ مساس بالفقہ فکیف بھذا العلامۃ البحر ولن تری ابدا اجماع الائمۃ علی ترجیح قول غیرہ الا لتبدل مصلحۃ باختلاف الزمان وح لایجوز لنا مخالفۃ المشائخ (لانھا اذن مخالفۃ الامام عینا کما علمت) واما اذا اختلف الترجیح فرجحان قول الامام لانہ قول الامام ارجح من رجحان قول غیرہ لارجحیۃ لفظ الافتاء بہ (اواکثریۃ المائلین الی ترجیحہ) فھذا ما یریدہ
یہ گفتگو رہی شامی کے دفاع میں اب رہا بحر کا معاملہ تو رد المحتار پر جو میں نے تعلیقات لکھی ہیں ان ہی میں کتاب القضاکے تحت میں نے دیکھا کہ یہ عبارت رقم کر چکا ہوں ۔
اقول : کلام بحر کامحل وہ صورت ہے جس میں ائمہ ترجیح سے جانب امام بھی ترجیح پائی جاتی ہو جیسے عصر وعشاء کے مسئلوں میں ہے اگر چہ موکد ترین لفظ ترجیح مشائخ کا فتوی صاحبین کی جانب ہو بحر کی مراد یہ نہیں کہ مشائخ قول صاحبین کی ترجیح پر اجماع کر لیں تو بھی اس کا اعتبار نہیں اور ہم پر قول امام ہی پر فتوی دینا واجب ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص جسے فقہ سے کچھ مس ہے ایسی بات نہیں کہہ سکتا تو یہ علامہ بحر اس کے قائل کیسے ہوں گے اور ہر گز کبھی غیر امام کے قول کی ترجیح پر ائمہ ترجیح کا اجماع نظر نہ آئے گا مگر ایسی صورت میں جہاں اختلاف زمانہ کی وجہ سے مصلحت تبدیل ہوگئی ہو۔ اور ایسی صورت میں ہمارے لئے مشائخ کے خلاف جانا روا نہیں (کیوں کہ یہ بعینہ امام کے مخالف ہوگی جیسا کہ معلوم ہوا ) لیکن جب تر جیح مختلف ہو تو قول امام کا اس وجہ سے رجحان کہ وہ قول امام ہے زیادہ راجح ہوگا اور اس کے مقابلہ میں دوسرے کے قول کا لفظ افتاء کی ارجحیت (یا اس کی ترجیح کی طر ف مائل ہونے والوں کی اکثریت ) کے باعث رحجان اس سے
اقــول : محل کلام البحر حیث وجدالترجیح من ائمتہ فی جانب الامام ایضا کمافی مسألتی العصر والعشاء وان وجد اکد الفاظہ وھو الفتوی من المشائخ فی جانب الصاحبین ولیس یرید ان المشائخ وان اجمعوا علی ترجیح قولھما لایعبؤ بہ ویجب علینا الافتاء بقول الامام فان ھذا لایقول بہ احد ممن لہ مساس بالفقہ فکیف بھذا العلامۃ البحر ولن تری ابدا اجماع الائمۃ علی ترجیح قول غیرہ الا لتبدل مصلحۃ باختلاف الزمان وح لایجوز لنا مخالفۃ المشائخ (لانھا اذن مخالفۃ الامام عینا کما علمت) واما اذا اختلف الترجیح فرجحان قول الامام لانہ قول الامام ارجح من رجحان قول غیرہ لارجحیۃ لفظ الافتاء بہ (اواکثریۃ المائلین الی ترجیحہ) فھذا ما یریدہ
یہ گفتگو رہی شامی کے دفاع میں اب رہا بحر کا معاملہ تو رد المحتار پر جو میں نے تعلیقات لکھی ہیں ان ہی میں کتاب القضاکے تحت میں نے دیکھا کہ یہ عبارت رقم کر چکا ہوں ۔
اقول : کلام بحر کامحل وہ صورت ہے جس میں ائمہ ترجیح سے جانب امام بھی ترجیح پائی جاتی ہو جیسے عصر وعشاء کے مسئلوں میں ہے اگر چہ موکد ترین لفظ ترجیح مشائخ کا فتوی صاحبین کی جانب ہو بحر کی مراد یہ نہیں کہ مشائخ قول صاحبین کی ترجیح پر اجماع کر لیں تو بھی اس کا اعتبار نہیں اور ہم پر قول امام ہی پر فتوی دینا واجب ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص جسے فقہ سے کچھ مس ہے ایسی بات نہیں کہہ سکتا تو یہ علامہ بحر اس کے قائل کیسے ہوں گے اور ہر گز کبھی غیر امام کے قول کی ترجیح پر ائمہ ترجیح کا اجماع نظر نہ آئے گا مگر ایسی صورت میں جہاں اختلاف زمانہ کی وجہ سے مصلحت تبدیل ہوگئی ہو۔ اور ایسی صورت میں ہمارے لئے مشائخ کے خلاف جانا روا نہیں (کیوں کہ یہ بعینہ امام کے مخالف ہوگی جیسا کہ معلوم ہوا ) لیکن جب تر جیح مختلف ہو تو قول امام کا اس وجہ سے رجحان کہ وہ قول امام ہے زیادہ راجح ہوگا اور اس کے مقابلہ میں دوسرے کے قول کا لفظ افتاء کی ارجحیت (یا اس کی ترجیح کی طر ف مائل ہونے والوں کی اکثریت ) کے باعث رحجان اس سے
العلامۃ صاحب البحر وبہ یسقط ایراد العلامتین الرملی والشامی اھ ماکتبت مع زیادات منی الان مابین الاھلۃ۔
فبــھــذا تلتئم الکلمات وتأتلف الاشتات والحمد لله رب البریات وافضل الصلوات واکمل التسلیمات علی الامام الاعظم لجمیع الکائنات والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اولی الخیرات والسعود والبرکات عدد کل مامضی وما ھو ات آمین والحمد لله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی اعلم ۔
ورأیت الناس یتحفون کتبھم الی ملوك الدنیا وانا العبد الحقیر خدمت بھذہ السطور ملکا فی الدین امام ائمۃ المجتہدین رضی الله تعالی عنہ وعنھم اجمعین فان وقعت موقع القبول فذاك نھایۃ المسئول ومنتھی المأمول وما ذلك علی الله بعزیز ان ذلك علی الله یسیر ان الله علی کل شیئ قدیر
فر وتر ہوگا ۔ یہی علامہ صاحب بحر کی مراد ہے اور اسی سے علامہ رملی وعلامہ شامی کا اعتراض ساقط ہوجاتا ہے ۔ اھ حواشی رد المحتار سے متعلق میری عبارت ختم ہوئی اور ہلالین کے درمیان کی عبارتیں اس وقت میں نے بڑھائی ہیں ۔
تو اس تو ضیح وتاویل سے تمام کلمات ایك دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور مختلف باتیں باہم متفق ہوجاتی ہیں ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو مخلوقات کا رب ہے ۔ او ربہتر درود کامل ترین تسلیمات ساری کائنات کے امام اعظم اور خیرات سعادات برکات والے ان کے آل اصحاب فرزند ا ور جماعت پر ہر گزشتہ وآئندہ کی تعداد میں ۔ الہی ! قبول فرما ۔ اور تمام تعریف خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پر وردگار ہے اور پاکی وبر تری والے خدا کو ہی خوب علم ہے ۔
میں نے دیکھا کہ لوگ شاہان دنیا کے دربار میں اپنی کتابوں کا تحفہ پیش کرتے ہیں اور بندہ حقیر نے تو ان سطور سے دین کے ایك بادشاہ ائمہ مجتہدین کے امام کی خدمت گزاری کی ہے ۔ الله تعالی ان سے اور ان سب مجتہدین سے راضی ہو تو یہ اگر مقام قبول پاجائیں تو یہی انتہائے مطلوب او رمنتہائے امید ہے اورالله پر یہ کچھ دشوار نہیں بلاشبہ یہ خدا پر آسان ہے ۔ یقینا الله ہر شے پر قادر ہے ۔
فبــھــذا تلتئم الکلمات وتأتلف الاشتات والحمد لله رب البریات وافضل الصلوات واکمل التسلیمات علی الامام الاعظم لجمیع الکائنات والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اولی الخیرات والسعود والبرکات عدد کل مامضی وما ھو ات آمین والحمد لله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی اعلم ۔
ورأیت الناس یتحفون کتبھم الی ملوك الدنیا وانا العبد الحقیر خدمت بھذہ السطور ملکا فی الدین امام ائمۃ المجتہدین رضی الله تعالی عنہ وعنھم اجمعین فان وقعت موقع القبول فذاك نھایۃ المسئول ومنتھی المأمول وما ذلك علی الله بعزیز ان ذلك علی الله یسیر ان الله علی کل شیئ قدیر
فر وتر ہوگا ۔ یہی علامہ صاحب بحر کی مراد ہے اور اسی سے علامہ رملی وعلامہ شامی کا اعتراض ساقط ہوجاتا ہے ۔ اھ حواشی رد المحتار سے متعلق میری عبارت ختم ہوئی اور ہلالین کے درمیان کی عبارتیں اس وقت میں نے بڑھائی ہیں ۔
تو اس تو ضیح وتاویل سے تمام کلمات ایك دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور مختلف باتیں باہم متفق ہوجاتی ہیں ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو مخلوقات کا رب ہے ۔ او ربہتر درود کامل ترین تسلیمات ساری کائنات کے امام اعظم اور خیرات سعادات برکات والے ان کے آل اصحاب فرزند ا ور جماعت پر ہر گزشتہ وآئندہ کی تعداد میں ۔ الہی ! قبول فرما ۔ اور تمام تعریف خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پر وردگار ہے اور پاکی وبر تری والے خدا کو ہی خوب علم ہے ۔
میں نے دیکھا کہ لوگ شاہان دنیا کے دربار میں اپنی کتابوں کا تحفہ پیش کرتے ہیں اور بندہ حقیر نے تو ان سطور سے دین کے ایك بادشاہ ائمہ مجتہدین کے امام کی خدمت گزاری کی ہے ۔ الله تعالی ان سے اور ان سب مجتہدین سے راضی ہو تو یہ اگر مقام قبول پاجائیں تو یہی انتہائے مطلوب او رمنتہائے امید ہے اورالله پر یہ کچھ دشوار نہیں بلاشبہ یہ خدا پر آسان ہے ۔ یقینا الله ہر شے پر قادر ہے ۔
ولله الحمد والیہ المصیر وصلی الله تعالی علی المولی الاکرم والہ وصحبہ و بارك وسلم امین۔
تنبـیہ فـــــ اقول : کون المحل محل احدی الحوامل انکان بینا لایلتبس فالعمل علیہ وما عداہ لانظر الیہ وھذا طریق لمی وانکان الامر مشتبہا رجعنا الی ائمۃ الترجیح فان رأیناھم مجمعین علی خلاف قول الامام علمنا ان المحل محلھا وھذا طریق انی وان وجدناھم مختلفین فی الترجیح اولم یرجحوا شیئا عملنا بقول الامام وترکنا ماسنواہ من قول وترجیح لان اختلافھم اما لان المحل لیس محلھا فاذن لاعدول عن قول الامام اولانھم اختلفوا فی المحلیۃ فلا یثبت القول الضروری بالشك فلا یترك قولہ الصوری الثابت بیقین الا اذا تبینت لنا المحلیۃ بالنظر فیما ذکروا من الادلۃ او
اور الله ہی کے لئے حمد ہے اور اسی کی جانب رجوع ہے۔ اور الله تعالی درود وسلام نازل فرمائے آقائے اکرم اور ان کی آل اصحاب پر اور برکت و سلامتی بخشے ۔ الہی! قبول فرما۔
تنبیہ : اقول : چھ۶ اسباب میں سے کسی ایك کا محل ہونا اگر واضح غیرمشتبہ ہو تو اسی پر عمل ہوگا اور ماسوا پر نظر نہ ہوگی یہ لمی طریقہ ہے اور اگرمعاملہ مشتبہ ہو تو ہم ائمہ ترجیح کی جانب رجوع کریں گے ۔ اگر قول امام کے بر خلاف انہیں اجماع کئے دیکھیں تو یقین کرلیں گے کہ یہ بھی اسباب ستہ میں سے کسی ایك کاموقع ہے یہ انی طریقہ ہے ۔ ۔ ۔ اور اگر انہیں ترجیح کے بارے میں مختلف پائیں یا یہ دیکھیں کہ انہوں نے کسی کو ترجیح نہ دی تو ہم قول امام پر عمل کریں گے اور اس کے ماسوا قول وترجیح کو ترك کر دیں گے کیوں کہ ان کااختلاف یا تو اس لئے ہوگا کہ وہ اسباب ستہ کا موقع نہیں ۔ جب تو قول امام سے عدول ہی نہیں یا اس لئے ہوگا کہ اسباب ستہ کا محل ہونے میں وہ باہم مختلف ہوگئے ۔ تو قول ضروری شك سے ثابت نہ ہوپائے گا ۔ اس لئے امام کا قول صوری جو یقین سے ثابت ہے ترك نہ کیا جائے گا لیکن جب ہم پر اسباب ستہ کا محل ہونا ان
فـــ : تنبہان جلیلان یتبین بھما ما یعمل بہ المقلد فی امثال المقام۔
تنبـیہ فـــــ اقول : کون المحل محل احدی الحوامل انکان بینا لایلتبس فالعمل علیہ وما عداہ لانظر الیہ وھذا طریق لمی وانکان الامر مشتبہا رجعنا الی ائمۃ الترجیح فان رأیناھم مجمعین علی خلاف قول الامام علمنا ان المحل محلھا وھذا طریق انی وان وجدناھم مختلفین فی الترجیح اولم یرجحوا شیئا عملنا بقول الامام وترکنا ماسنواہ من قول وترجیح لان اختلافھم اما لان المحل لیس محلھا فاذن لاعدول عن قول الامام اولانھم اختلفوا فی المحلیۃ فلا یثبت القول الضروری بالشك فلا یترك قولہ الصوری الثابت بیقین الا اذا تبینت لنا المحلیۃ بالنظر فیما ذکروا من الادلۃ او
اور الله ہی کے لئے حمد ہے اور اسی کی جانب رجوع ہے۔ اور الله تعالی درود وسلام نازل فرمائے آقائے اکرم اور ان کی آل اصحاب پر اور برکت و سلامتی بخشے ۔ الہی! قبول فرما۔
تنبیہ : اقول : چھ۶ اسباب میں سے کسی ایك کا محل ہونا اگر واضح غیرمشتبہ ہو تو اسی پر عمل ہوگا اور ماسوا پر نظر نہ ہوگی یہ لمی طریقہ ہے اور اگرمعاملہ مشتبہ ہو تو ہم ائمہ ترجیح کی جانب رجوع کریں گے ۔ اگر قول امام کے بر خلاف انہیں اجماع کئے دیکھیں تو یقین کرلیں گے کہ یہ بھی اسباب ستہ میں سے کسی ایك کاموقع ہے یہ انی طریقہ ہے ۔ ۔ ۔ اور اگر انہیں ترجیح کے بارے میں مختلف پائیں یا یہ دیکھیں کہ انہوں نے کسی کو ترجیح نہ دی تو ہم قول امام پر عمل کریں گے اور اس کے ماسوا قول وترجیح کو ترك کر دیں گے کیوں کہ ان کااختلاف یا تو اس لئے ہوگا کہ وہ اسباب ستہ کا موقع نہیں ۔ جب تو قول امام سے عدول ہی نہیں یا اس لئے ہوگا کہ اسباب ستہ کا محل ہونے میں وہ باہم مختلف ہوگئے ۔ تو قول ضروری شك سے ثابت نہ ہوپائے گا ۔ اس لئے امام کا قول صوری جو یقین سے ثابت ہے ترك نہ کیا جائے گا لیکن جب ہم پر اسباب ستہ کا محل ہونا ان
فـــ : تنبہان جلیلان یتبین بھما ما یعمل بہ المقلد فی امثال المقام۔
بنی العادلون عن قولہ الامر علیھا وکانوا ھم الاکثرین و فنتبعھم ولا نتھمھم اما اذا لم یبنوا الامر علیھا وانما حاموا حول الدلیل فقول الامام علیہ التعویل ھذا ما ظھرلی وار جوا ن یکون صوابا ان شاء الله تعالی والله اعلم۔
تـنبـیہ : اقول : ھذا کلہ اذا خالفوا الامام اما اذا فصلو ا اجمالا او ضحوا اشکالا او قیدو ارسالا کداب الشراح مع المتون وھم فی ذلك علی قولہ ماشون فھم اعلم منا بمراد الامام فان اتفقوا والا فالترجیح بقواعدہ المعلومۃ۔
وانما قیدنا بانھم فی ذلك علی قولہ ماشون لانہ تقع ھنا صورتان مثلا قال الامام فی مسألۃ باطلاق وصاحباہ بالتقیید فان اثبتوا الخلاف
حضرات کی بیان کر دہ دلیلوں میں نظرکرنے سے واضح ہوجائے یا قول امام سے عدول کرنے والے حضرات نے اسی محلیت پر بنائے کار رکھی ہو اور وہی تعداد میں زیادہ بھی ہوں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور انہیں متہم نہ کریں گے۔ ۔ ۔ لیکن جب انہوں نے بنائے کا ر محلیت پر نہ رکھی ہو بس دلیل کے گرد ان کی گردش ہو تو قول امام پر ہی اعتماد ہے۔ ۔ ۔ یہ وہ طریق عمل ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء الله تعالی درست ہوگا والله تعالی اعلم
تنبیہ : اقول : یہ سب اس وقت ہے جب وہ واقعی امام کے خلاف گئے ہوں لیکن جب وہ کسی اجمال کی تفصیل یا کسی اشکال کی تو ضیح یا کسی اطلاق کی تقیید کریں جیسے متون میں شارحین کا عمل ہوتا ہے ۔ اور وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں تو وہ امام کی مراد ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اب اگر وہ باہم متفق ہوں تو قطعا اسی پر عمل ہوگا ورنہ تر جیح کے قواعد معلومہ کے تحت ترجیح دی جائے گی ۔ ہم نے یہ قید لگائی کہ “ وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں “ اس کی و جہ یہ ہے کہ یہاں ۲دو صورتیں ہوتی ہیں مثلاامام کسی مسئلے میں اطلاق کے قائل ہیں اور صاحبین تقیید کے قائل ہیں اب مرجحین اگر اختلاف کا
تـنبـیہ : اقول : ھذا کلہ اذا خالفوا الامام اما اذا فصلو ا اجمالا او ضحوا اشکالا او قیدو ارسالا کداب الشراح مع المتون وھم فی ذلك علی قولہ ماشون فھم اعلم منا بمراد الامام فان اتفقوا والا فالترجیح بقواعدہ المعلومۃ۔
وانما قیدنا بانھم فی ذلك علی قولہ ماشون لانہ تقع ھنا صورتان مثلا قال الامام فی مسألۃ باطلاق وصاحباہ بالتقیید فان اثبتوا الخلاف
حضرات کی بیان کر دہ دلیلوں میں نظرکرنے سے واضح ہوجائے یا قول امام سے عدول کرنے والے حضرات نے اسی محلیت پر بنائے کار رکھی ہو اور وہی تعداد میں زیادہ بھی ہوں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور انہیں متہم نہ کریں گے۔ ۔ ۔ لیکن جب انہوں نے بنائے کا ر محلیت پر نہ رکھی ہو بس دلیل کے گرد ان کی گردش ہو تو قول امام پر ہی اعتماد ہے۔ ۔ ۔ یہ وہ طریق عمل ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء الله تعالی درست ہوگا والله تعالی اعلم
تنبیہ : اقول : یہ سب اس وقت ہے جب وہ واقعی امام کے خلاف گئے ہوں لیکن جب وہ کسی اجمال کی تفصیل یا کسی اشکال کی تو ضیح یا کسی اطلاق کی تقیید کریں جیسے متون میں شارحین کا عمل ہوتا ہے ۔ اور وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں تو وہ امام کی مراد ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اب اگر وہ باہم متفق ہوں تو قطعا اسی پر عمل ہوگا ورنہ تر جیح کے قواعد معلومہ کے تحت ترجیح دی جائے گی ۔ ہم نے یہ قید لگائی کہ “ وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں “ اس کی و جہ یہ ہے کہ یہاں ۲دو صورتیں ہوتی ہیں مثلاامام کسی مسئلے میں اطلاق کے قائل ہیں اور صاحبین تقیید کے قائل ہیں اب مرجحین اگر اختلاف کا
واختاروا قولھما فھذہ مخالفۃ وان نفوا الخلاف وذکروا ان مراد الامام ایضا التقیید فھذا شرح والله تعالی اعلم ولیکن ھذا اخر الکلام وافضل الصلاۃ والسلام علی اکرم الکرام والہ و صحبہ وابنہ وحزبہ الی یوم القیام والحمد لله ذی الجلال والاکرام۔
اثبات کریں اور صاحبین کا قول اختیارکریں تو یہ مخالفت ہے اور اگر اختلاف کا انکار کریں اور یہ بتائیں کہ امام کی مراد بھی تقیید ہی ہے تو یہ شرح ہے والله تعالی اعلم ۔ یہی خاتمہ کلام ہونا چاہئے اور بہتر درودو سلام کریموں میں سب سے کریم تر سرکار پر اور ان کی آل اصحاب فرزند اور جماعت پر تاروز قیام۔ اور ہر ستائش بزرگی واکرام والے خدا کے لئے ہے ۔ (ت)
_________________
اثبات کریں اور صاحبین کا قول اختیارکریں تو یہ مخالفت ہے اور اگر اختلاف کا انکار کریں اور یہ بتائیں کہ امام کی مراد بھی تقیید ہی ہے تو یہ شرح ہے والله تعالی اعلم ۔ یہی خاتمہ کلام ہونا چاہئے اور بہتر درودو سلام کریموں میں سب سے کریم تر سرکار پر اور ان کی آل اصحاب فرزند اور جماعت پر تاروز قیام۔ اور ہر ستائش بزرگی واکرام والے خدا کے لئے ہے ۔ (ت)
_________________
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کتاب الطھارۃ
باب الوضوء
رسالہ
الجود الحلوفی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ
(باران شیریں ارکان وضو کے بیان میں )
مسئلہ۱ : مسئولہ مولوی محمد ظفرالدین صاحب بہاری قادری ۱۰ شوال المکرم ۱۳۲۴ ھ
بحر العلوم النقلیۃ حبر الفنون العقلیۃ مجدد المائۃ الحاضرۃ متع الله المسلمین بطول بقائکم۔ وضو میں کتنے فرائض اعتقادی اور کتنے فرض عملی اور کے واجب اعتقادی اور کے واجب عملی ہیں اور ہر ایك کی تعریف کیا ہے مدلل ارشاد ہو۔ جزاکم الله تعالی من افضل ماجازی علماء امۃ حبیبہ
کتاب الطھارۃ
باب الوضوء
رسالہ
الجود الحلوفی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ
(باران شیریں ارکان وضو کے بیان میں )
مسئلہ۱ : مسئولہ مولوی محمد ظفرالدین صاحب بہاری قادری ۱۰ شوال المکرم ۱۳۲۴ ھ
بحر العلوم النقلیۃ حبر الفنون العقلیۃ مجدد المائۃ الحاضرۃ متع الله المسلمین بطول بقائکم۔ وضو میں کتنے فرائض اعتقادی اور کتنے فرض عملی اور کے واجب اعتقادی اور کے واجب عملی ہیں اور ہر ایك کی تعریف کیا ہے مدلل ارشاد ہو۔ جزاکم الله تعالی من افضل ماجازی علماء امۃ حبیبہ
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ (الله تعالی آپ کو وہ افضل ترین جزا عطا فرمائے جو اس نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت کے علماء کو عطا فرمائی ۔ ت )
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اللھم لك الحمد فرضا لازماصل علی افضل ارکان الایمان وسلم دائما ایھا السائل الفاضل رزقك الله علما نافعا ھذا سوال لا یھتدی الیہ الا من وفقہ الله و الله یختص برحمته من یشآء-و الله ذو الفضل العظیم(۱۰۵) ۔
اے اللہ! تیرے لیے فرض لازم کے طور پر حمد ہے ایمان کے سب سے افضل رکن پر ہمیشہ درود وسلام نازل فرما سائل فاضل ! خدا تمہیں علم نافع بخشے . یہ ایسا سوال ہے کہ جس کی ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جسے خدا اپنی توفیق سے نوازے اور الله اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے خاص فرماتا ہے اور الله بڑے فضل والا ہے . (ت)
مجتہد فـــ ۱ جس شے کی طلب جزمی حتمی اذعان عـــــہ۱کرے اگر وہ اذعان عـــــہ۲بدرجہ یقین معتبر فی اصول الدین ہو
عـــــہ۱ : ۱اقول : والاذعان فـــــ۲ یعم الظن الغالب واکبر الرأی الملتحق فی الفقہیات بالیقین والیقین بالمعنی الاعم والمعنی الاخص المعتبرین فی العقائد۔ م
عـــــہ۲ : اذا اذعنا بشیئ فان لم یحتمل خلافہ اصلا کوحدانیۃ الله تعالی وحقانیۃ محمد صلی الله تعالی
اقول : (میں کہتا ہوں) اذعان درج ذیل چیزوں کو شامل ہے (۱)ظن غالب اور راجح رائے جو فقہی مسائل کے اندر یقین میں شامل ہے (۲) یقین بمعنی اعم (۳) یقین بمعنی اخص۔ یہ دونوں باب عقائد میں معتبر ہوتے ہیں (ت)
جب ہمیں کسی بات کا اذعان حاصل ہو تو اگر۱(۱) اس کے خلاف کا بالکل احتمال نہ ہو جیسے الله تعالی کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی
(باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ۱ : فرض اعتقادی وفرض عملی وواجب اعتقادی وواجب عملی کی تعریفیں جلیل تحقیقیں ۔
فـــــ۲ : معنی الاذعان ۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اللھم لك الحمد فرضا لازماصل علی افضل ارکان الایمان وسلم دائما ایھا السائل الفاضل رزقك الله علما نافعا ھذا سوال لا یھتدی الیہ الا من وفقہ الله و الله یختص برحمته من یشآء-و الله ذو الفضل العظیم(۱۰۵) ۔
اے اللہ! تیرے لیے فرض لازم کے طور پر حمد ہے ایمان کے سب سے افضل رکن پر ہمیشہ درود وسلام نازل فرما سائل فاضل ! خدا تمہیں علم نافع بخشے . یہ ایسا سوال ہے کہ جس کی ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جسے خدا اپنی توفیق سے نوازے اور الله اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے خاص فرماتا ہے اور الله بڑے فضل والا ہے . (ت)
مجتہد فـــ ۱ جس شے کی طلب جزمی حتمی اذعان عـــــہ۱کرے اگر وہ اذعان عـــــہ۲بدرجہ یقین معتبر فی اصول الدین ہو
عـــــہ۱ : ۱اقول : والاذعان فـــــ۲ یعم الظن الغالب واکبر الرأی الملتحق فی الفقہیات بالیقین والیقین بالمعنی الاعم والمعنی الاخص المعتبرین فی العقائد۔ م
عـــــہ۲ : اذا اذعنا بشیئ فان لم یحتمل خلافہ اصلا کوحدانیۃ الله تعالی وحقانیۃ محمد صلی الله تعالی
اقول : (میں کہتا ہوں) اذعان درج ذیل چیزوں کو شامل ہے (۱)ظن غالب اور راجح رائے جو فقہی مسائل کے اندر یقین میں شامل ہے (۲) یقین بمعنی اعم (۳) یقین بمعنی اخص۔ یہ دونوں باب عقائد میں معتبر ہوتے ہیں (ت)
جب ہمیں کسی بات کا اذعان حاصل ہو تو اگر۱(۱) اس کے خلاف کا بالکل احتمال نہ ہو جیسے الله تعالی کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی
(باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ۱ : فرض اعتقادی وفرض عملی وواجب اعتقادی وواجب عملی کی تعریفیں جلیل تحقیقیں ۔
فـــــ۲ : معنی الاذعان ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۰۵
( اور اس تقدیر پر مسئلہ نہ ہوگا مگر مجمع علیہ ائمہ دین عـــــہ۱ تو وہ فرض اعتقادی عـــــہ۲ ہے جس کا (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
علیہ وسلم فیقین بالمعنی الاخص وان احتمل احتمالا ناشئا لا عن دلیل کامکان ان یکون الذی نراہ زیدا جنیا تشکل بشکلہ فبا لمعنی الاعم ومثل ھذا الاحتمال لانظر الیہ اصلا ولا ینزل العلم عن درجۃ الیقین اما الناشیئ عن دلیل فیجعلہ ظنا والکل داخل فی الاذعان منہ۔
عـــــہ۱ : لان مافیہ خلاف ولو مرجوحا لا یصل الی درجۃ ھذا الیقین۔
عـــــہ۲ : ۲اقول : والاعتقاد فـــــ وان ساوی الاذعان فی اصل وضعہ فالمراد بہ ھھنا ھو العلم بالمعنی الاخص المختص بالیقین الاعم والاخص ومنہ قولھم حدیث الاحادلا یفید الاعتماد فی باب الاعتقاد۔
حقانیت. تو یہ یقین بمعنی اخص ہے ۔ اور اگر (۲)احتمال ہو مگر ایسا احتمال جو بغیر کسی دلیل کے پیدا ہوا ہو تو یہ یقین بمعنی اعم ہے ۔ جیسے وہ جسے ہم زید یقین کر رہے ہیں اس کے بارے میں یہ احتمال ہو سکتا ہے یہ کوئی جن ہو جس نے زید کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ایسا احتمال ذرا بھی قابل لحاظ نہیں ہوتا ۔ نہ ہی یہ علم کو درجہ یقین سے نیچے لا سکتا مگر جو احتمال کسی دلیل سے پیدا ہوا ہو وہ یقین کو ظن بنا دیتا ہے ۔ اور یہ تینوں ہی اذعان کے تحت داخل ہیں (ت)
اس لئے کہ جس میں ائمہ دین کا اختلاف ہے اگرچہ خلاف مرجوح ہی ہو ۔ وہ اس یقین کے درجہ تك نہیں پہنچ سکتا.(ت)
اقول : ( میں کہتا ہوں) لفظ اعتقاد اصل وضع کے اعتبار سے اگرچہ اذعان کا مساوی ہے مگر یہاں اس سے مراد علم بمعنی اخص ہے جو یقین بمعنی اعم و یقین بمعنی اخص ہے ۔ اس اصطلاح کے تحت علماء کا یہ ارشاد آتا ہے کہ باب “ اعتقاد “ میں خبر آحاد مفید اعتماد نہیں. (ت)
فـــــ : معنی الاعتقاد ۔
علیہ وسلم فیقین بالمعنی الاخص وان احتمل احتمالا ناشئا لا عن دلیل کامکان ان یکون الذی نراہ زیدا جنیا تشکل بشکلہ فبا لمعنی الاعم ومثل ھذا الاحتمال لانظر الیہ اصلا ولا ینزل العلم عن درجۃ الیقین اما الناشیئ عن دلیل فیجعلہ ظنا والکل داخل فی الاذعان منہ۔
عـــــہ۱ : لان مافیہ خلاف ولو مرجوحا لا یصل الی درجۃ ھذا الیقین۔
عـــــہ۲ : ۲اقول : والاعتقاد فـــــ وان ساوی الاذعان فی اصل وضعہ فالمراد بہ ھھنا ھو العلم بالمعنی الاخص المختص بالیقین الاعم والاخص ومنہ قولھم حدیث الاحادلا یفید الاعتماد فی باب الاعتقاد۔
حقانیت. تو یہ یقین بمعنی اخص ہے ۔ اور اگر (۲)احتمال ہو مگر ایسا احتمال جو بغیر کسی دلیل کے پیدا ہوا ہو تو یہ یقین بمعنی اعم ہے ۔ جیسے وہ جسے ہم زید یقین کر رہے ہیں اس کے بارے میں یہ احتمال ہو سکتا ہے یہ کوئی جن ہو جس نے زید کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ایسا احتمال ذرا بھی قابل لحاظ نہیں ہوتا ۔ نہ ہی یہ علم کو درجہ یقین سے نیچے لا سکتا مگر جو احتمال کسی دلیل سے پیدا ہوا ہو وہ یقین کو ظن بنا دیتا ہے ۔ اور یہ تینوں ہی اذعان کے تحت داخل ہیں (ت)
اس لئے کہ جس میں ائمہ دین کا اختلاف ہے اگرچہ خلاف مرجوح ہی ہو ۔ وہ اس یقین کے درجہ تك نہیں پہنچ سکتا.(ت)
اقول : ( میں کہتا ہوں) لفظ اعتقاد اصل وضع کے اعتبار سے اگرچہ اذعان کا مساوی ہے مگر یہاں اس سے مراد علم بمعنی اخص ہے جو یقین بمعنی اعم و یقین بمعنی اخص ہے ۔ اس اصطلاح کے تحت علماء کا یہ ارشاد آتا ہے کہ باب “ اعتقاد “ میں خبر آحاد مفید اعتماد نہیں. (ت)
فـــــ : معنی الاعتقاد ۔
منکر عند الفقہاء مطلقا کافر عـــــہ۱ اور متکلمین کے نزدیك ( منکر اس وقت کافر ہے ) جنکہ مسئلہ ضروریات دین سے ہو اور یہی عند المحقیقن احوط و اسد (زیادہ احتیاط والا اور زیادہ درست ۔ ت)۔ اور ہمارے اساتذہ کرام کا معول و معتمد ( وثوق اور اعتماد والا ۔ ت) ہے عـــــہ۲ ورنہ ( یعنی اگر اس مسئلہ پر تمام ائمہ کا اتفاق نہیں
عـــــہ۱ : ۳ اقولای عند عامۃ مصنفیہم من اصحاب الفتاوی وغیرھم من المتاخرین اما ائمتنا الاقدمون فعلی ما علیہ المتکلمون کما حققہ خاتم المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ۔
عـــــہ۲ : وفسرت فـــــ الضروریات بما یشترك فی علمہ الخواص والعوام ۴اقول : المراد العوام الذین لھم شغل بالدین واختلاف بعلمائہ والا فکثیر من جہلۃ الاعراب لاسیما فی الھند والشرق لایعرفون کثیرا من الضروریات لابمعنی انھم لہا منکرون بل ھم عنھا غافلون فشتان ماعدم المعرفۃ ومعرفۃ العدم وانکان جہلا مرکبا فلا تجھل والتحقیق عندی ان الضرورۃ ھھنا بمعنی البداھۃ وقد تقرر ان البداھۃ
اقول : ( میں کہتا ہوں)یعنی فقہائے متاخرین میں سے اکثر مصنفین اصحاب فتاوی و غیرہم کے نزدیك (وہ مطلقا کافر ہے )اور ہمارے ائمہ متقدمین کا مسلك وہی ہے جس پر متکلمین ہیں جیسا کہ خاتم المحققین ہمارے والد ماجد قدس سرہ نے اپنے بعض فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
ضروریات دین کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ وہ دینی مسائل جن کو عوام و خواص سب جانتے ہوں اقول عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دینی مسائل سے ذوق و شغل رکھتے ہوں اور علماء کی صحبت سے فیضیاب ہوں...ورنہ بہت سے اعرابی جاہل ... خصوصا ہندوستان اور مشرق میں ...ایسے ہیں جو بہت سے ضروریات دین سے آشنا نہیں .. اس معنی میں نہیں کہ ضروریات دین کے منکر ہیں بلکہ وہ ان سے غافل ہیں ۔ بڑا فرق ہے عدم علم او ر علم عدم میں ۔ خواہ یہ جہل مرکب ہی ہو . تو اس فرق سے بے خبری نہ رہے اور میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ ضرورت یہاں بداہت کے (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : معنی ضروریات الدین ۔
عـــــہ۱ : ۳ اقولای عند عامۃ مصنفیہم من اصحاب الفتاوی وغیرھم من المتاخرین اما ائمتنا الاقدمون فعلی ما علیہ المتکلمون کما حققہ خاتم المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ۔
عـــــہ۲ : وفسرت فـــــ الضروریات بما یشترك فی علمہ الخواص والعوام ۴اقول : المراد العوام الذین لھم شغل بالدین واختلاف بعلمائہ والا فکثیر من جہلۃ الاعراب لاسیما فی الھند والشرق لایعرفون کثیرا من الضروریات لابمعنی انھم لہا منکرون بل ھم عنھا غافلون فشتان ماعدم المعرفۃ ومعرفۃ العدم وانکان جہلا مرکبا فلا تجھل والتحقیق عندی ان الضرورۃ ھھنا بمعنی البداھۃ وقد تقرر ان البداھۃ
اقول : ( میں کہتا ہوں)یعنی فقہائے متاخرین میں سے اکثر مصنفین اصحاب فتاوی و غیرہم کے نزدیك (وہ مطلقا کافر ہے )اور ہمارے ائمہ متقدمین کا مسلك وہی ہے جس پر متکلمین ہیں جیسا کہ خاتم المحققین ہمارے والد ماجد قدس سرہ نے اپنے بعض فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
ضروریات دین کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ وہ دینی مسائل جن کو عوام و خواص سب جانتے ہوں اقول عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دینی مسائل سے ذوق و شغل رکھتے ہوں اور علماء کی صحبت سے فیضیاب ہوں...ورنہ بہت سے اعرابی جاہل ... خصوصا ہندوستان اور مشرق میں ...ایسے ہیں جو بہت سے ضروریات دین سے آشنا نہیں .. اس معنی میں نہیں کہ ضروریات دین کے منکر ہیں بلکہ وہ ان سے غافل ہیں ۔ بڑا فرق ہے عدم علم او ر علم عدم میں ۔ خواہ یہ جہل مرکب ہی ہو . تو اس فرق سے بے خبری نہ رہے اور میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ ضرورت یہاں بداہت کے (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : معنی ضروریات الدین ۔
ہے تو واجب اعتقادی ہے پھر اگر مجتہد کو بنظر دلائل شرعیہ جو اس پر ظاہر ہوئے اس طلب (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والنظریۃ تختلف باختلاف الناس فرب مسألۃ نظریۃ مبنیۃ علی نظریۃ اخری اذا تبین المبنی عند قوم حتی صاراصلا مقررا وعلما ظاھرا فالاخری التی لم تکن تحتاج فی ظھورھا الا الی ظھور الاولی تلتحق عندھم بالضروریات وانکانت نظریۃ فی نفسھا الاتری ان کل قوس لم تبلغ ربعا تاما من اربعۃ ارباع الدور وجود کل من القاطع والظل الاول لھا بدیھی عندالمھندس لایحتاج اصلا الی اعمال نظر وتحریك فکر بعد ملاحظۃ المصادرۃ المشھورۃ المسلمۃ المقررۃ وانکان ھو والمصادرۃ کلاھما نظرمابین فی انفسھا ھکذا حال ضروریات الدین۔
معنی میں ہے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ مختلف لوگوں کے اعتبار سے بداہت و نظریت بھی مختلف ہوتی ہے ۔ بہت سے نظری مسائل کی بنیاد کسی اور نظری مسئلہ پر ہوتی ہے ۔ اگر وہ بنیاد کسی طبقہ کے نزدیك روشن و واضح ہو کر ایك مقررہ قاعدہ اور واضح علم کی حیثیت اختیار کر لے تو دوسرا مسئلہ جس کے واضح ہونے کے لئے بس اسی پہلے مسئلہ کے واضح ہونے کی ضرورت تھی اس طبقہ کے نزدیك ضروریات کی صف میں آ جاتا ہے اگرچہ وہ بذات خود نظری تھا . دیکھیے ہندسہ داں (جیومیٹری والے) کے نزدیك یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ ہر وہ قوس جو دور کے چار ربع میں سے ایك کامل ربع کے برابر نہ پہنچے اس کے لئے قاطع اور ظل اول ہونا ضروری ہے .۔ اس میں کسی نظر کے استعمال اور فکر کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں جب کہ مشہور مسلم مقرر مصادرہ ملحوظ ہو اگرچہ یہ کلیہ اور وہ مصادرہ بذات خود دونوں ہی نظری ہیں ۔ یہی حال ضروریات دین کا ہے (کہ بعض لوگوں کے لئے بدیہی بعض کے لئے نظری اور بعض کے لئے نامعلوم۔ ۱۲ مترجم ) (ت)
والنظریۃ تختلف باختلاف الناس فرب مسألۃ نظریۃ مبنیۃ علی نظریۃ اخری اذا تبین المبنی عند قوم حتی صاراصلا مقررا وعلما ظاھرا فالاخری التی لم تکن تحتاج فی ظھورھا الا الی ظھور الاولی تلتحق عندھم بالضروریات وانکانت نظریۃ فی نفسھا الاتری ان کل قوس لم تبلغ ربعا تاما من اربعۃ ارباع الدور وجود کل من القاطع والظل الاول لھا بدیھی عندالمھندس لایحتاج اصلا الی اعمال نظر وتحریك فکر بعد ملاحظۃ المصادرۃ المشھورۃ المسلمۃ المقررۃ وانکان ھو والمصادرۃ کلاھما نظرمابین فی انفسھا ھکذا حال ضروریات الدین۔
معنی میں ہے اور یہ بات طے شدہ ہے کہ مختلف لوگوں کے اعتبار سے بداہت و نظریت بھی مختلف ہوتی ہے ۔ بہت سے نظری مسائل کی بنیاد کسی اور نظری مسئلہ پر ہوتی ہے ۔ اگر وہ بنیاد کسی طبقہ کے نزدیك روشن و واضح ہو کر ایك مقررہ قاعدہ اور واضح علم کی حیثیت اختیار کر لے تو دوسرا مسئلہ جس کے واضح ہونے کے لئے بس اسی پہلے مسئلہ کے واضح ہونے کی ضرورت تھی اس طبقہ کے نزدیك ضروریات کی صف میں آ جاتا ہے اگرچہ وہ بذات خود نظری تھا . دیکھیے ہندسہ داں (جیومیٹری والے) کے نزدیك یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ ہر وہ قوس جو دور کے چار ربع میں سے ایك کامل ربع کے برابر نہ پہنچے اس کے لئے قاطع اور ظل اول ہونا ضروری ہے .۔ اس میں کسی نظر کے استعمال اور فکر کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں جب کہ مشہور مسلم مقرر مصادرہ ملحوظ ہو اگرچہ یہ کلیہ اور وہ مصادرہ بذات خود دونوں ہی نظری ہیں ۔ یہی حال ضروریات دین کا ہے (کہ بعض لوگوں کے لئے بدیہی بعض کے لئے نظری اور بعض کے لئے نامعلوم۔ ۱۲ مترجم ) (ت)
جزمی میں اصلا شبہ نہیں عـــــہ بایں وجہ اس کی نظر میں اس شے کا وجود شرط صحت و براء ت ذمہ
عـــــہ : وانکان عارفا بخلاف ما فان سطوع فـــــ انوار الحجج الالھیۃ ربما یبلغ عندہ مبلغا یقول اذا جاء نھر الله بطل نھر معقل وعن ھذا ربما اول القطعیات الاتیۃ علی خلاف ما عن لہ کما وقع لسیدنا ابی ذر رضی الله تعالی عنہ فی مسئلۃ الکنز وقولہ فی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالی عنہ ما قال مع القطعیات الواردۃ فی حق بدریین عموما والعشرۃ خصوصا رضی الله تعالی عنھم احسن الرضا وعن ھذا تری ائمتنا وغیرھم قائلین فی کثیر من الاجتھادیات المختلف فیھا بین الائمۃ ان ھذا مما لایسوغ الاجتھاد فیہ حتی ینقض القضاء بہ کحل
اگرچہ وہ جانتا ہو کہ اس میں کوئی خلاف بھی ہے اس لئے کہ خدا کی حجتوں کے انوار کی تابندگی بعض اوقات اس کی نظر میں اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے “ جب خدا کی نہر آ گئی تو معقل کی نہر بیکار ہو گئی “ یہی سبب ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ ان قطعیات کی بھی تاویل کرتا ہے جو اس پر ظاہر شدہ مسئلہ کے خلاف آئے ہیں جیسے سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہسے مسئلہ کنز میں ہوا ( جمہور صحابہ کرام کے نزدیك کنز وہ ما ل ہے جس میں فرض زکوۃ کی ادائیگی نہ ہوتی ہو اور حضرت ابو ذر کا قول یہ ہے کہ حاجت سے زیادہ جو بھی مال ہے وہ کنز ہے اسے رکھنے پر عذاب ہو گا اس قول کے خلاف جو قطعیات وارد ہیں وہ ان کی تاویل کرتے ہیں۔ ۱۲ مترجم) اور ( مالدار صحابی) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہکے بارے میں انہوں نے بہت کچھ کہہ ڈالا باوجودیکہ اصحاب بدر کے بارے میں عموما اور عشرہ مبشرہ کے بارے میں خصوصا بہت سی قطعی احادیث وارد ہیں انہیں خدا برتر کی بہترین رضا و خوشنودی حاصل ہو ۔ اور اسی وجہ سے آپ ہمارے ائمہ اور دوسرے حضرات کو دیکھیں گے (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : جلیلہ : ربما یحصل للمجتھد القطع بما یری مع علم الخلاف ۔
عـــــہ : وانکان عارفا بخلاف ما فان سطوع فـــــ انوار الحجج الالھیۃ ربما یبلغ عندہ مبلغا یقول اذا جاء نھر الله بطل نھر معقل وعن ھذا ربما اول القطعیات الاتیۃ علی خلاف ما عن لہ کما وقع لسیدنا ابی ذر رضی الله تعالی عنہ فی مسئلۃ الکنز وقولہ فی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالی عنہ ما قال مع القطعیات الواردۃ فی حق بدریین عموما والعشرۃ خصوصا رضی الله تعالی عنھم احسن الرضا وعن ھذا تری ائمتنا وغیرھم قائلین فی کثیر من الاجتھادیات المختلف فیھا بین الائمۃ ان ھذا مما لایسوغ الاجتھاد فیہ حتی ینقض القضاء بہ کحل
اگرچہ وہ جانتا ہو کہ اس میں کوئی خلاف بھی ہے اس لئے کہ خدا کی حجتوں کے انوار کی تابندگی بعض اوقات اس کی نظر میں اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے “ جب خدا کی نہر آ گئی تو معقل کی نہر بیکار ہو گئی “ یہی سبب ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہ ان قطعیات کی بھی تاویل کرتا ہے جو اس پر ظاہر شدہ مسئلہ کے خلاف آئے ہیں جیسے سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہسے مسئلہ کنز میں ہوا ( جمہور صحابہ کرام کے نزدیك کنز وہ ما ل ہے جس میں فرض زکوۃ کی ادائیگی نہ ہوتی ہو اور حضرت ابو ذر کا قول یہ ہے کہ حاجت سے زیادہ جو بھی مال ہے وہ کنز ہے اسے رکھنے پر عذاب ہو گا اس قول کے خلاف جو قطعیات وارد ہیں وہ ان کی تاویل کرتے ہیں۔ ۱۲ مترجم) اور ( مالدار صحابی) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہکے بارے میں انہوں نے بہت کچھ کہہ ڈالا باوجودیکہ اصحاب بدر کے بارے میں عموما اور عشرہ مبشرہ کے بارے میں خصوصا بہت سی قطعی احادیث وارد ہیں انہیں خدا برتر کی بہترین رضا و خوشنودی حاصل ہو ۔ اور اسی وجہ سے آپ ہمارے ائمہ اور دوسرے حضرات کو دیکھیں گے (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : جلیلہ : ربما یحصل للمجتھد القطع بما یری مع علم الخلاف ۔
بمعنی عدم بقائے اشتغال قطعی ہے عـــــہ یعنی اگر وہ کسی عمل میں فرض ہو تو بے اس کے وہ عمل باطل محض ہو۔ اور (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
متروك التسمیۃ عمدا وغیر ذلك فھومع علم الخلاف جازم بالحکم ومع جزمہ بہ منکر للا کفار بالخلاف والانکار وھذا الذی اشرت الیہ علم عزیز علیك ان تحتفظ بہ فانہ یحل باذن الله تعالی عقد حار فی حلھا حائرون وبار بجھلہا بائرون و الله یهدی من یشآء الى صراط مستقیم(۲۱۳) ۔
عـــــہ : اقول : وزدت ھذا لان قولھم فـــــ مایفوت بفوتہ الجواز المراد فیہ بالجواز الصحۃ
کہ وہ ائمہ کے درمیان بہت سے اختلافی اجتہادی مسائل میں کہتے ہیں کہ یہ ان احکام میں سے ہیں جن میں اجتہاد کی گنجائش نہیں یہاں تك کہ ان کے متعلق قضا باطل ہے جیسے اس مذبوح جانور کی حلت جسے ذبح کرتے وقت بسم الله پڑھنا قصدا ترك کر دیا گیا ہو ۔ اور ایسے ہی دیگر مسائل تو مجتہد اختلاف کے باوجود حکم پر جزم رکھتا ہے اور جزم کے باوجود اس کے مخالف اور منکر کی تکفیر سے انکار کرتا ہے . یہ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا بہت نادر اور وقیع علم ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔ اس سے باذن الہی ایسے بہت عقدے حل ہو جاتے ہیں جن میں کچھ لوگ حیرت زدہ ہیں اور جن سے نا آشنائی کے باعث کچھ لو گ ہلاکت میں پڑے ۔ اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ (ت)
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ علماء کے قول “ فرض وہ ہے جس کے نہ ہونے سے جواز نہ ہو “ میں جواز سے مراد صحت ہے
(باقی برصفحہ ائندہ)
فــــ : تطفل۱ علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔
متروك التسمیۃ عمدا وغیر ذلك فھومع علم الخلاف جازم بالحکم ومع جزمہ بہ منکر للا کفار بالخلاف والانکار وھذا الذی اشرت الیہ علم عزیز علیك ان تحتفظ بہ فانہ یحل باذن الله تعالی عقد حار فی حلھا حائرون وبار بجھلہا بائرون و الله یهدی من یشآء الى صراط مستقیم(۲۱۳) ۔
عـــــہ : اقول : وزدت ھذا لان قولھم فـــــ مایفوت بفوتہ الجواز المراد فیہ بالجواز الصحۃ
کہ وہ ائمہ کے درمیان بہت سے اختلافی اجتہادی مسائل میں کہتے ہیں کہ یہ ان احکام میں سے ہیں جن میں اجتہاد کی گنجائش نہیں یہاں تك کہ ان کے متعلق قضا باطل ہے جیسے اس مذبوح جانور کی حلت جسے ذبح کرتے وقت بسم الله پڑھنا قصدا ترك کر دیا گیا ہو ۔ اور ایسے ہی دیگر مسائل تو مجتہد اختلاف کے باوجود حکم پر جزم رکھتا ہے اور جزم کے باوجود اس کے مخالف اور منکر کی تکفیر سے انکار کرتا ہے . یہ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا بہت نادر اور وقیع علم ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔ اس سے باذن الہی ایسے بہت عقدے حل ہو جاتے ہیں جن میں کچھ لوگ حیرت زدہ ہیں اور جن سے نا آشنائی کے باعث کچھ لو گ ہلاکت میں پڑے ۔ اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ (ت)
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ اضافہ میں نے اس لئے کیا کہ علماء کے قول “ فرض وہ ہے جس کے نہ ہونے سے جواز نہ ہو “ میں جواز سے مراد صحت ہے
(باقی برصفحہ ائندہ)
فــــ : تطفل۱ علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
مستقل مطلوب ہے تو بے اس کی براء ت ذمہ نہ ہونے پر اسے جزم ہو تو فرض عملی ہے ۔ اور اگر خود اس کی رائے میں بھی طلب جزمی جزمی نہیں تو واجب عملی کہ بغیر اس کے حکم صحت حاصل اور براء ت ذمہ محتمل ۔ وقد علم بذلك حد کل واحد منہا ( اس بیان سے ان میں سے ہر ایك کی تعریف معلوم ہوگئی ۔ ت )بحرالرائق میں ہے :
فی التحریر الفرض ما قطع بلزومہ اھ وعرفہ فی الکافی بما یفوت الجواز بفوتہ وھو یشمل کل فرض بخلاف الاول اذ یخرج عنہ المقدار فی مسح الرأس فانہ فرض مع انہ ثبت بظنی لکنہ تعریف بالحکم موجب للدور۔ والظاھر من کلامھم فی الاصول والفروع ان المفروض علی نوعین :
تحریر میں ہےفرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو.ا ھ اور کافی میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کا جواز نہ ہو . اور یہ تعریف ہر فرض کو شامل ہے بخلاف تعریف اول کے اس لئے کہ اس تعریف سے مسح سر کی مقدار خارج ہو جاتی ہے کیونکہ وہ فرض تو ہے مگر اس کا ثبوت دلیل قطعی سے نہیں بلکہ ظنی سے ہے . لیکن دوسری تعریف حکم کے ذریعہ تعریف ہے جو دور کا باعث ہے اور اصول و فروع میں کلام علماء سے ظاہر یہ ہے کہ فرض کی دو قسمیں ہیں. (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لاالحل لفوتہ بفوت کل واجب ولو عملیا والشیئ قد یکون فرضا براسہ وفوات الصحۃ انما کان یشمل الاول فزدت الاخر وفسرتہ بما مر لاخراج الواجب العملی فافھم۔
حلت نہیں کیونکہ حلت تو کسی بھی واجب کے فقدان سے مفقود ہو جاتی ہے خواہ واجب عملی ہی ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عمل خود مستقلا فرض ہو جاتا ہے اور یہ کہنا کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کی صحت نہ ہو صرف اس فرض کو شامل ہے جو دوسرے عمل میں فرض ہو اس لئے میں نے “ برأت ذمہ “ کا اضافہ کیا (تا کہ فرض مستقل بھی تعریف میں داخل ہو جائے ) اور اس کی تفسیر “ عدم بقائے اشتغال “ سے کی تاکہ واجب عملی اس تعریف سے نکل جائے . تو اسے سمجھئے . (مزید توضیح آگے خود عبارت مصنف میں موجود ہے.۱۲ مترجم۔ (ت)
فی التحریر الفرض ما قطع بلزومہ اھ وعرفہ فی الکافی بما یفوت الجواز بفوتہ وھو یشمل کل فرض بخلاف الاول اذ یخرج عنہ المقدار فی مسح الرأس فانہ فرض مع انہ ثبت بظنی لکنہ تعریف بالحکم موجب للدور۔ والظاھر من کلامھم فی الاصول والفروع ان المفروض علی نوعین :
تحریر میں ہےفرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو.ا ھ اور کافی میں اس کی یہ تعریف کی ہے کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کا جواز نہ ہو . اور یہ تعریف ہر فرض کو شامل ہے بخلاف تعریف اول کے اس لئے کہ اس تعریف سے مسح سر کی مقدار خارج ہو جاتی ہے کیونکہ وہ فرض تو ہے مگر اس کا ثبوت دلیل قطعی سے نہیں بلکہ ظنی سے ہے . لیکن دوسری تعریف حکم کے ذریعہ تعریف ہے جو دور کا باعث ہے اور اصول و فروع میں کلام علماء سے ظاہر یہ ہے کہ فرض کی دو قسمیں ہیں. (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لاالحل لفوتہ بفوت کل واجب ولو عملیا والشیئ قد یکون فرضا براسہ وفوات الصحۃ انما کان یشمل الاول فزدت الاخر وفسرتہ بما مر لاخراج الواجب العملی فافھم۔
حلت نہیں کیونکہ حلت تو کسی بھی واجب کے فقدان سے مفقود ہو جاتی ہے خواہ واجب عملی ہی ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ عمل خود مستقلا فرض ہو جاتا ہے اور یہ کہنا کہ جس کے نہ ہونے سے عمل کی صحت نہ ہو صرف اس فرض کو شامل ہے جو دوسرے عمل میں فرض ہو اس لئے میں نے “ برأت ذمہ “ کا اضافہ کیا (تا کہ فرض مستقل بھی تعریف میں داخل ہو جائے ) اور اس کی تفسیر “ عدم بقائے اشتغال “ سے کی تاکہ واجب عملی اس تعریف سے نکل جائے . تو اسے سمجھئے . (مزید توضیح آگے خود عبارت مصنف میں موجود ہے.۱۲ مترجم۔ (ت)
(۱) قطعی و(۲) ظنی ھوفی قوۃ القطعی فی العمل بحیث یفوت الجواز بفوتہ فالمقدر فی مسح الرأس من الثانی وعند الاطلاق ینصرف الی الاول لکمالہ والفارق بین الظنی القوی المثبت للفرض والظنی المثبت للواجب خصوص المقام ولیس اکفار جاحدالفرض لازمالہ وانما ھو حکم الفرض القطعی المعلوم من الدین بالضرورۃ۔ وذکر فی النھایۃ انہ یجوزان یکون الفرض فی مقدار المسح بمعنی الواجب لالتقائھما فی معنی اللزوم وتعقب بانہ مخالف لما اتفق علیہ الاصحاب اذ لاواجب فی الوضوء وقد یدفع بان الذی وقع الاتفاق علیہ ھوالواجب الذی لایفوت الجواز بفوتہ بل یحصل بترکہ النقصان والکلام ھنا فی الواجب الذی یفوت الجواز بفوتہ فلا مخالفۃ اھ مختصرا۔
(۱) قطعی (۲)ظنی ایسا ظنی جو عمل میں قطعی کی حیثیت رکھتا ہے اس طرح کہ اس کے نہ ہونے سے بھی جواز عمل نہیں ہوتا . تو مسح سر کی مقررہ مقدار قسم دوم کے تحت ہے . اور فرض مطلق بولا جائے تو قسم اول کی طرف راجع ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وہی ہے . اور دلیل ظنی قوی جس سے فرض کا ثبوت ہوتا ہے اور دلیل ظنی جس سے واجب کا ثبوت ہوتا ہے دونوں میں فرق خصوصیت مقام سے ہوتا ہے . اور منکر کی تکفیر ہر فرض کا حکم لازم نہیں بلکہ یہ صرف فرض قطعی کا حکم ہے جس کا دین میں ہونا بالضرورۃ معلوم ہے.نہایہ میں مذکور ہے کہ ہو سکتا ہے مقدار مسح میں فرض بمعنی واجب ہو اس مناسبت سے کہ لزوم کا معنی دونوں ہی کو شامل ہے . اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ بات حنفیہ کے اس متفقہ قول کے بر خلاف ہے کہ “ وضو میں کوئی واجب نہیں “ اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ جس کے نہ ہونے پر اتفاق ہے وہ واجب وہ ہے جس کے فقدان سے صحت وجواز مفقود نہ ہو بلکہ جس کے ترك سے عمل میں نقص و کمی آ جائے اور یہاں اس واجب سے متعلق گفتگو ہے جس کے فقدان سے جواز مفقود ہو جائے . لہذاکلام نہایہ اتفاق حنفیہ کے خلاف نہیں اھ مختصرا.
(۱) قطعی (۲)ظنی ایسا ظنی جو عمل میں قطعی کی حیثیت رکھتا ہے اس طرح کہ اس کے نہ ہونے سے بھی جواز عمل نہیں ہوتا . تو مسح سر کی مقررہ مقدار قسم دوم کے تحت ہے . اور فرض مطلق بولا جائے تو قسم اول کی طرف راجع ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وہی ہے . اور دلیل ظنی قوی جس سے فرض کا ثبوت ہوتا ہے اور دلیل ظنی جس سے واجب کا ثبوت ہوتا ہے دونوں میں فرق خصوصیت مقام سے ہوتا ہے . اور منکر کی تکفیر ہر فرض کا حکم لازم نہیں بلکہ یہ صرف فرض قطعی کا حکم ہے جس کا دین میں ہونا بالضرورۃ معلوم ہے.نہایہ میں مذکور ہے کہ ہو سکتا ہے مقدار مسح میں فرض بمعنی واجب ہو اس مناسبت سے کہ لزوم کا معنی دونوں ہی کو شامل ہے . اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ بات حنفیہ کے اس متفقہ قول کے بر خلاف ہے کہ “ وضو میں کوئی واجب نہیں “ اس کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ جس کے نہ ہونے پر اتفاق ہے وہ واجب وہ ہے جس کے فقدان سے صحت وجواز مفقود نہ ہو بلکہ جس کے ترك سے عمل میں نقص و کمی آ جائے اور یہاں اس واجب سے متعلق گفتگو ہے جس کے فقدان سے جواز مفقود ہو جائے . لہذاکلام نہایہ اتفاق حنفیہ کے خلاف نہیں اھ مختصرا.
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۱ / ۱۰
علامہ سید طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں عبارت مذکور لفظ خصوص المقام تك نقل کرکے فرمایا :
وفی النھر ما یفیدان دلیل الفرض العملی اقوی اھ
۷اقول ھذا فـــــ مستفاد من البحر ایضا لقولہ و الفارق بین الظنی القوی المثبت للواجب فوصف الاول بالقوی دون الاخر ولم یرد ان الدلیلین لایکون الاعلی حد سواء فی القوۃ ثم یظھرافادۃ الافتراض بخصوص المقام وای خصوص یفیدہ بعد مالم یظھر فی الدلیل قوۃ فوق مایفید الوجوب وانما اراد ان بخصوص المقام وحفوف القرائن وامور تظھر للمجتھد یتقوی الظنی قوۃ تکاد تبلغہ درجۃ القطعی فھذا الدلیل الا قوی یثبت الفرض العملی ھذا تقریر کلامہ۔ اور نہر سے مستفاد ہوتا ہے کہ فرض عملی کی دلیل (واجب کی بہ نسبت)زیادہ قوی ہوتی ہے اھ
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ بھی بحر ہی سے ہی سے مستفاد ہے اس لئے کہ اس میں لکھا ہے : “ فرض کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی قوی اور واجب کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی میں فرق خصوصیت مقام سے ہوتا ہے “ تو اول کو قوی سے موصوف کیا اور دوم کو نہ کیا . اور ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ قوت میں دونوں دلیلیں بالکل برابر ہوں گی پھر مقام کی خصوصیت سے فرضیت مستفاد ہو گی . جب دلیل میں افادہ وجوب کرنے والی دلیل سے زیادہ کوئی قوت ہی نہ ہو تو پھر کون سی خصوصیت رہ جاتی ہے جس سے فرضیت مستفاد ہو ان کی مراد یہی ہے کہ مقام کی خصوصیت قرائن کے ہجوم اور مجتہد پر منکشف ہونے والے امور سے دلیل ظنی کو ایسی قوت مل جاتی ہے کہ وہ تقریبا قطعی کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے . اسی قوی تر دلیل سے فرض عملی کا ثبوت ہوتا ہے . یہ کلام بحر کی تقریر ہوئی.
فـــــ : ۲معروضۃ علی السید الطحطاوی ۔
وفی النھر ما یفیدان دلیل الفرض العملی اقوی اھ
۷اقول ھذا فـــــ مستفاد من البحر ایضا لقولہ و الفارق بین الظنی القوی المثبت للواجب فوصف الاول بالقوی دون الاخر ولم یرد ان الدلیلین لایکون الاعلی حد سواء فی القوۃ ثم یظھرافادۃ الافتراض بخصوص المقام وای خصوص یفیدہ بعد مالم یظھر فی الدلیل قوۃ فوق مایفید الوجوب وانما اراد ان بخصوص المقام وحفوف القرائن وامور تظھر للمجتھد یتقوی الظنی قوۃ تکاد تبلغہ درجۃ القطعی فھذا الدلیل الا قوی یثبت الفرض العملی ھذا تقریر کلامہ۔ اور نہر سے مستفاد ہوتا ہے کہ فرض عملی کی دلیل (واجب کی بہ نسبت)زیادہ قوی ہوتی ہے اھ
اقول : ( میں کہتا ہوں) یہ بھی بحر ہی سے ہی سے مستفاد ہے اس لئے کہ اس میں لکھا ہے : “ فرض کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی قوی اور واجب کو ثابت کرنے والی دلیل ظنی میں فرق خصوصیت مقام سے ہوتا ہے “ تو اول کو قوی سے موصوف کیا اور دوم کو نہ کیا . اور ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ قوت میں دونوں دلیلیں بالکل برابر ہوں گی پھر مقام کی خصوصیت سے فرضیت مستفاد ہو گی . جب دلیل میں افادہ وجوب کرنے والی دلیل سے زیادہ کوئی قوت ہی نہ ہو تو پھر کون سی خصوصیت رہ جاتی ہے جس سے فرضیت مستفاد ہو ان کی مراد یہی ہے کہ مقام کی خصوصیت قرائن کے ہجوم اور مجتہد پر منکشف ہونے والے امور سے دلیل ظنی کو ایسی قوت مل جاتی ہے کہ وہ تقریبا قطعی کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے . اسی قوی تر دلیل سے فرض عملی کا ثبوت ہوتا ہے . یہ کلام بحر کی تقریر ہوئی.
فـــــ : ۲معروضۃ علی السید الطحطاوی ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبہ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۶۱
وانا فـــــ۱ ۸اقول : وبالله التوفیق بل القطعفـــــ۲ علی ثلثۃ اوجہ : قطع عام یشترك فیہ الخواص والعوام وھو الحاصل فی ضروریات الدین۔ وخاص یختص بمن مارس العلم وھو الحاصل فی سائر الفرائض الاعتقادیۃ المجمع علیہا۔
الثالث قطع اخص یختلف فی حصولہ العلماء۔ کما اختلف فی حصول الثانی العوام والعلماء فربما یؤدی ذھن عالم الی قرائن ھجمت وحفت فرفعت عندہ الظنی الی منصۃ الیقین ولا تظھر ذلك لغیرہ او تظھر فتظھرلہ معارضات تردھا الی المرتبۃ الاولی من الظن واعتبرہ بمسئلۃ سمعھا صحابی من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم شفاھا وبلغ غیرہ باخبارہ فھو قطعی عندہ ظنی عندھم۔
اور میں کہتا ہوں۔ وبالله التوفیق ۔ بلکہ قطعیت کی تین صورتیں ہیں (۱)عام قطعیت جس میں عوام و خواص سب شریك ہوں یہ ضروریات دین میں ہوتی ہے ۔ (۲)خاص قطعیت جو علم سے شغف رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہے یہ وہ ہے جو دیگر اجماعی فرائض اعتقادیہ میں ہوتی ہے ۔ (۳)اخص قطعیت جس کا حصول علماء میں کسی کو ہوتا ہے کسی کو نہیں ہوتا
اس لحاظ سے ان کے درمیان باہم فرق ہوتا ہے جیسے قسم دوم کے حاصل ہونے میں عوام اور علماء کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایك عالم کا ذہن کچھ ایسے قرائن پا لیتا ہے جو دلیل کے گرد احاطہ و ہجوم کئے ہیں جن کے باعث اس کے نزدیك وہ دلیل ظنی درجہ یقین تك پہنچ جاتی ہے اور وہ قرائن دوسرے عالم پر عیاں نہیں ہوتے یا عیاں ہوتے ہیں تو ان کے کچھ معارض قرائن بھی اس کے سامنے جلوہ نماہوتے ہیں جو دلیل کو پھر اسی درجہ ظن پر لوٹا دیتے ہیں۔ اسے یوں سمجھئے کہ ایك مسئلہ ہے جسے کسی صحابی نے خود زبان رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنا اور دوسروں کو اس صحابی کے بتانے سے معلوم ہوا تو اس
فـــــ۱ : ۳تطفل علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔
فـــــ۲ : تحقیق المصنف ان القطع علی ثلثۃ اقسام۔
الثالث قطع اخص یختلف فی حصولہ العلماء۔ کما اختلف فی حصول الثانی العوام والعلماء فربما یؤدی ذھن عالم الی قرائن ھجمت وحفت فرفعت عندہ الظنی الی منصۃ الیقین ولا تظھر ذلك لغیرہ او تظھر فتظھرلہ معارضات تردھا الی المرتبۃ الاولی من الظن واعتبرہ بمسئلۃ سمعھا صحابی من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم شفاھا وبلغ غیرہ باخبارہ فھو قطعی عندہ ظنی عندھم۔
اور میں کہتا ہوں۔ وبالله التوفیق ۔ بلکہ قطعیت کی تین صورتیں ہیں (۱)عام قطعیت جس میں عوام و خواص سب شریك ہوں یہ ضروریات دین میں ہوتی ہے ۔ (۲)خاص قطعیت جو علم سے شغف رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہے یہ وہ ہے جو دیگر اجماعی فرائض اعتقادیہ میں ہوتی ہے ۔ (۳)اخص قطعیت جس کا حصول علماء میں کسی کو ہوتا ہے کسی کو نہیں ہوتا
اس لحاظ سے ان کے درمیان باہم فرق ہوتا ہے جیسے قسم دوم کے حاصل ہونے میں عوام اور علماء کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایك عالم کا ذہن کچھ ایسے قرائن پا لیتا ہے جو دلیل کے گرد احاطہ و ہجوم کئے ہیں جن کے باعث اس کے نزدیك وہ دلیل ظنی درجہ یقین تك پہنچ جاتی ہے اور وہ قرائن دوسرے عالم پر عیاں نہیں ہوتے یا عیاں ہوتے ہیں تو ان کے کچھ معارض قرائن بھی اس کے سامنے جلوہ نماہوتے ہیں جو دلیل کو پھر اسی درجہ ظن پر لوٹا دیتے ہیں۔ اسے یوں سمجھئے کہ ایك مسئلہ ہے جسے کسی صحابی نے خود زبان رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنا اور دوسروں کو اس صحابی کے بتانے سے معلوم ہوا تو اس
فـــــ۱ : ۳تطفل علی الکافی وغیرہ کثیر من المعتبرات ۔
فـــــ۲ : تحقیق المصنف ان القطع علی ثلثۃ اقسام۔
فالمجتھد لایثبت الافتراض الابما حصل لہ القطع بہ فانکان العلماء کلھم قاطعین بہ کان فرضا اعتقادیا وانکان قطعا خاصا بھذا المجتھد کان فرضا عملیا ھذا ماظھرلی وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالی والیہ اشرت فیما قررت فاعرف۔
صحابی کے نزدیك وہ قطعی ہے اور دوسروں کے نزدیك ظنی ہے ۔ تو مجتہد فرضیت کا اثبات اسی دلیل سے کرتا ہے جس کے متعلق اسے قطعیت حاصل ہو چکی ہے ۔ اگر یہی قطعیت تمام علماء کے نزدیك حاصل ہے تو وہ فرض اعتقادی ہے اور اگر یہ قطعیت خاص اسی مجتہد کو حاصل ہے تو اس کے نزدیك وہ فرض عملی ہے ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء الله تعالی درست ہو گا اسی کی طرف میں نے اپنی تقریر بالا میں اشارہ کیا ہے۔ تو اس سے با خبر رہیے۔ (ت)
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں کلام مذکور بحر کے مؤیدات عبارات نہایہ و شرح قہستانی سے نقل کرکے فرمایا :
ولا یخفی مخالفتہ لما اطبق علیہ الاصولیون من ان الفرض ماثبت بدلیل قطعی لاشبہۃ فیہ
مخفی نہیں کہ یہ اس کے بر خلاف ہے جس پر اہل اصول کا اتفاق ہے کہ “ فرض وہ ہے جو ایسی دلیل قطعی سے ثابت ہو جس میں کوئی شبہہ نہ ہو۔ (ت)
پھر اصول بزدوی کی عبارت ذکر کی اور مغنی و منتخب و تنقیح و تلویح وتحریر و منار وغیرہا کا حوالہ دیا ہے۔
۹اقـول : وھذا فـــــ بعید من مثلہ رحمہ الله تعالی فھذا اصطلاح فقھی ولایقضی علیہ اصطلاح
اقول : ایسا اعتراض علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ جیسی شخصیت سے بعید ہے ۔ کیونکہ یہ ایك فقہی اصطلاح ہے جس کے خلاف خاص اصولی
فـــــ : ۴معروضۃ علی منحۃ الخالق ۔
صحابی کے نزدیك وہ قطعی ہے اور دوسروں کے نزدیك ظنی ہے ۔ تو مجتہد فرضیت کا اثبات اسی دلیل سے کرتا ہے جس کے متعلق اسے قطعیت حاصل ہو چکی ہے ۔ اگر یہی قطعیت تمام علماء کے نزدیك حاصل ہے تو وہ فرض اعتقادی ہے اور اگر یہ قطعیت خاص اسی مجتہد کو حاصل ہے تو اس کے نزدیك وہ فرض عملی ہے ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء الله تعالی درست ہو گا اسی کی طرف میں نے اپنی تقریر بالا میں اشارہ کیا ہے۔ تو اس سے با خبر رہیے۔ (ت)
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں کلام مذکور بحر کے مؤیدات عبارات نہایہ و شرح قہستانی سے نقل کرکے فرمایا :
ولا یخفی مخالفتہ لما اطبق علیہ الاصولیون من ان الفرض ماثبت بدلیل قطعی لاشبہۃ فیہ
مخفی نہیں کہ یہ اس کے بر خلاف ہے جس پر اہل اصول کا اتفاق ہے کہ “ فرض وہ ہے جو ایسی دلیل قطعی سے ثابت ہو جس میں کوئی شبہہ نہ ہو۔ (ت)
پھر اصول بزدوی کی عبارت ذکر کی اور مغنی و منتخب و تنقیح و تلویح وتحریر و منار وغیرہا کا حوالہ دیا ہے۔
۹اقـول : وھذا فـــــ بعید من مثلہ رحمہ الله تعالی فھذا اصطلاح فقھی ولایقضی علیہ اصطلاح
اقول : ایسا اعتراض علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ جیسی شخصیت سے بعید ہے ۔ کیونکہ یہ ایك فقہی اصطلاح ہے جس کے خلاف خاص اصولی
فـــــ : ۴معروضۃ علی منحۃ الخالق ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۱ / ۱۰
خاص اصولی مع انہ ھوالناقل ھھناوفـی ردالمحتار عن التلویح ان استعمال الفرض فیما ثبت بظنی والواجب فیما ثبت بقطعی شائع مستفیض کقولھم الوتر واجب فرض وتعدیل الارکان فرض ونحو ذلك یسمی فرض عملیا فلفظ الواجب یقع علی ما ھو فرض علما وعملا کصلاۃ الفجر وعلی ظنی ھو فی قوۃ الفرض فی العمل کالوترحتی یمنع تذکرہ صحۃ الفجر کتذکر العشاء وعلی ظنی ھو دون الفرض فی العمل وفوق السنۃ کتعیین الفاتحۃ حتی لا تفسد الصلاۃ بترکہا لکن تجب سجدۃ السہواھ
ثم لعلہ لامساغ للشبھۃ اصلا فیما قررت فان الفرض لم یثبت عن المجتہد الا بدلیل قطعی عندہ وان لم یکن کذلك عند غیرہ فافھم۔
اصطلاح سے فیصلہ نہیں ہو سکتا باوجودیکہ خودعلامہ شامی ہی یہاں (منحۃالخالق میں) اور ردالمحتار میں تلویح سے ناقل ہیں کہ دلیل ظنی سے ثابت شدہ میں فرض اور قطعی سے ثابت شدہ میں واجب کا استعمال رائج اور مشہور ہے جیسے کہتے ہیں : وتر واجب فرض ہے تعدیل ارکان فرض ہے اور اس کے مثل کو فرض عملی کہا جاتا ہے ۔ تو لفظ واجب کا اطلاق ایك تو اس چیز پر ہوتا ہے ۔ جو اعتقاد اور عملا دونوں طرح فرض ہے جیسے نماز فجر اور اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض کی حیثیت رکھتا ہے جیسے نماز وتر یہاں تك کہ یاد آ جائے کہ وتر نہ پڑھے تھے تو اسے ادا کئے بغیر فجر پڑھنا درست نہیں جیسے عشاء نہ پڑھنا یاد آ جائے تو فجر نہیں ہو سکتی ۔ اور (واجب کا اطلاق) اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض سے فر و تر اور سنت سے بالاتر ہے جیسے قرأت نماز میں سورہ فاتحہ کی تعیین کہ اسکے ترك سے نماز فاسد نہیں ہوتی مگر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ ا ھ
علاوہ ازیں امید ہے کہ میری تقریر میں اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ (تقریر مذکور کے مطابق) مجتہد کے نزدیك فرض کا ثبوت ایسی ہی دلیل سے ہے جو اس کے نزدیك قطعی ہے اگرچہ دوسرے کے نزدیك وہ دلیل ایسی نہ ہو تو اسے سمجھئے۔ (ت)
ثم لعلہ لامساغ للشبھۃ اصلا فیما قررت فان الفرض لم یثبت عن المجتہد الا بدلیل قطعی عندہ وان لم یکن کذلك عند غیرہ فافھم۔
اصطلاح سے فیصلہ نہیں ہو سکتا باوجودیکہ خودعلامہ شامی ہی یہاں (منحۃالخالق میں) اور ردالمحتار میں تلویح سے ناقل ہیں کہ دلیل ظنی سے ثابت شدہ میں فرض اور قطعی سے ثابت شدہ میں واجب کا استعمال رائج اور مشہور ہے جیسے کہتے ہیں : وتر واجب فرض ہے تعدیل ارکان فرض ہے اور اس کے مثل کو فرض عملی کہا جاتا ہے ۔ تو لفظ واجب کا اطلاق ایك تو اس چیز پر ہوتا ہے ۔ جو اعتقاد اور عملا دونوں طرح فرض ہے جیسے نماز فجر اور اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض کی حیثیت رکھتا ہے جیسے نماز وتر یہاں تك کہ یاد آ جائے کہ وتر نہ پڑھے تھے تو اسے ادا کئے بغیر فجر پڑھنا درست نہیں جیسے عشاء نہ پڑھنا یاد آ جائے تو فجر نہیں ہو سکتی ۔ اور (واجب کا اطلاق) اس ظنی پر بھی ہوتا ہے جو عمل میں فرض سے فر و تر اور سنت سے بالاتر ہے جیسے قرأت نماز میں سورہ فاتحہ کی تعیین کہ اسکے ترك سے نماز فاسد نہیں ہوتی مگر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ ا ھ
علاوہ ازیں امید ہے کہ میری تقریر میں اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ (تقریر مذکور کے مطابق) مجتہد کے نزدیك فرض کا ثبوت ایسی ہی دلیل سے ہے جو اس کے نزدیك قطعی ہے اگرچہ دوسرے کے نزدیك وہ دلیل ایسی نہ ہو تو اسے سمجھئے۔ (ت)
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی ۱ / ۱۰ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الفرض القطعی والظنی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴
درمختار میں ہے :
الفرض ما قطع بلزومہ حتی یکفر جاحدہ کاصل مسح الرأس وقد یطلق علی العملی وھو ماتفوت الصحۃ بفواتہ کالمقدار الاجتھادی فی الفروض فلا یکفر جاحدہ ۔
فرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو یہاں تك کہ اس کا منکر کافر ہو جائے گا جیسے اصل مسح سر اور فرض کبھی عملی کو بھی کہا جاتا ہے اور یہ وہ ہے جس کے نہ ہونے سے صحت نہ ہو جیسے فرائض میں اجتہاد سے مقرر شدہ مقدار میں تو اس کا منکر کافر نہ ہوگا ۔ (ت)
ردالمختار میں ہے :
اقول : بیان ذلك ان الادلۃ السمعیۃ اربعۃ :
۱الاول قطعی الثبوت والدلالۃ کنصوص القران المفسرۃ والمحکمۃ والسنۃ المتواترۃ التی مفھومھا قطعی۔
۲الثانی قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ کالایات المؤولۃ۔
۳الثالث عکسہ کاخبار الاحادالتی مفھومھا قطعی۔
۴الرابع ظنیھما کاخبار الاحادالتی مفھومھا ظنی۔
میں کہتا ہوں اس کا بیان یہ ہے کہ سمعی دلیلیں چار قسم کی ہیں ۔
(۱) وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں قطعی ہو (ایك توخود وہ یقینی طور پر ثابت ہو دوسرے یہ کہ معنی مطلوب پر
اس کی دلالت اور اس سے مقصود کا اثبات بھی قطعی و یقینی ہو ) جیسے قرآن کریم کے مفسر محکم نصوص اور وہ حدیث متواتر جس کا معنی قطعی ہے۔
(۲) وہ دلیل جو ثبوت میں قطعی اور دلالت میں ظنی ہو ۔ جیسے وہ آیات جن کے معنی میں تاویل کی گئی ہے
(۳) اس کے بر عکس ( وہ دلیل جو ثبوت میں ظنی اور دلالت میں قطعی ہو) جیسے وہ احادیث آحاد جن کا معنی قطعی ہے۔
(۴) وہ دلیل جو ثبوت و اثبات دونوں میں ظنی ہو جیسے وہ اخبار آحاد جن کا معنی ظنی ہے۔
الفرض ما قطع بلزومہ حتی یکفر جاحدہ کاصل مسح الرأس وقد یطلق علی العملی وھو ماتفوت الصحۃ بفواتہ کالمقدار الاجتھادی فی الفروض فلا یکفر جاحدہ ۔
فرض وہ ہے جس کا لازم ہونا قطعی ہو یہاں تك کہ اس کا منکر کافر ہو جائے گا جیسے اصل مسح سر اور فرض کبھی عملی کو بھی کہا جاتا ہے اور یہ وہ ہے جس کے نہ ہونے سے صحت نہ ہو جیسے فرائض میں اجتہاد سے مقرر شدہ مقدار میں تو اس کا منکر کافر نہ ہوگا ۔ (ت)
ردالمختار میں ہے :
اقول : بیان ذلك ان الادلۃ السمعیۃ اربعۃ :
۱الاول قطعی الثبوت والدلالۃ کنصوص القران المفسرۃ والمحکمۃ والسنۃ المتواترۃ التی مفھومھا قطعی۔
۲الثانی قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ کالایات المؤولۃ۔
۳الثالث عکسہ کاخبار الاحادالتی مفھومھا قطعی۔
۴الرابع ظنیھما کاخبار الاحادالتی مفھومھا ظنی۔
میں کہتا ہوں اس کا بیان یہ ہے کہ سمعی دلیلیں چار قسم کی ہیں ۔
(۱) وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں قطعی ہو (ایك توخود وہ یقینی طور پر ثابت ہو دوسرے یہ کہ معنی مطلوب پر
اس کی دلالت اور اس سے مقصود کا اثبات بھی قطعی و یقینی ہو ) جیسے قرآن کریم کے مفسر محکم نصوص اور وہ حدیث متواتر جس کا معنی قطعی ہے۔
(۲) وہ دلیل جو ثبوت میں قطعی اور دلالت میں ظنی ہو ۔ جیسے وہ آیات جن کے معنی میں تاویل کی گئی ہے
(۳) اس کے بر عکس ( وہ دلیل جو ثبوت میں ظنی اور دلالت میں قطعی ہو) جیسے وہ احادیث آحاد جن کا معنی قطعی ہے۔
(۴) وہ دلیل جو ثبوت و اثبات دونوں میں ظنی ہو جیسے وہ اخبار آحاد جن کا معنی ظنی ہے۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتائی دہلی ۱ / ۱۸
فبالاول یثبت الفرض والحرام وبالثانی والثالث الواجب وکراھۃ التحریم وبالرابع السنت والمستحب۔ ثم ان المجتہد قد یقوی عندہ الدلیل الظنی حتی یصیر قریبا عندہ من القطعی فما ثبت بہ یسمیہ فرضا عملیا لانہ یعامل معاملۃ الفرض فی وجوب العمل ویسمی واجبا نظر ا الی ظنیۃ دلیلہ فھو اقوی نوعی الواجب واضعف نوعی الفرض بل قد یصل خبرالواحد عندہ الی حد القطعی ولذا قالوا انہ اذا کان متلقی بالقبول جاز اثبات الرکن بہ حتی تثبت رکنیۃ الوقوف بعرفات بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الحج عرفۃ ۔
قسم اول سے فرض و حرام دوم و سوم سے واجب وکراہت تحریم اور چہارم سے سنت و مستحب کا ثبوت ہوتا ہے ۔ پھر مجتہد کی نظر میں دلیل ظنی کبھی اتنی قوی ہو جاتی ہے کہ اس کے نزدیك وہ قطعی کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایسی دلیل سے جو حکم ثابت ہوتا ہے اسے وہ “ فرض عملی “ کہتا ہے۔ کیونکہ وجوب عمل کے بارے میں اس کے ساتھ فرض کا معاملہ ہوتا ہے ۔ اور اسے اس کی دلیل کی ظنیت کا لحاظ کرتے ہوئے واجب بھی کہا جاتا ہے ۔ تو یہ واجب کی دونوں قسموں(اعتقادی وعملی) میں سے اقوی اور فرض کی دونوں قسموں ( اعتقادی و عملی ) میں سے اضعف ہے۔ بلکہ مجتہد کے نزدیك کبھی خبر واحد بھی قطعی کی حد تك پہنچ جاتی ہے ۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ خبر واحد جب قبول مجتہدین سے سرفراز ہو تو اس سے رکنیت کا بھی اثبات ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عرفات میں وقوف کی رکنیت حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد “ الحج عرفۃ “ ( حج وقوف عرفہ ہے) سے ثابت ہوئی ۔ (ت)
اس کے بعد عبارۃ مذکورہ تلویح نقل فرمائی ۔
۱۰اقول : ھذا الکلام کلہ مذکور فی الطحطاوی عن النھر بمحصلہ سوی ما افاد بقولہ بل قد یصل الخ
اقول : اس پورے کلام کا مضمون اور حاصل حاشیہ طحطاوی میں النہر الفائق کے حوالے سے مذکور ہے سوا اس مضمون کے جو آخر میں ان الفاظ
قسم اول سے فرض و حرام دوم و سوم سے واجب وکراہت تحریم اور چہارم سے سنت و مستحب کا ثبوت ہوتا ہے ۔ پھر مجتہد کی نظر میں دلیل ظنی کبھی اتنی قوی ہو جاتی ہے کہ اس کے نزدیك وہ قطعی کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایسی دلیل سے جو حکم ثابت ہوتا ہے اسے وہ “ فرض عملی “ کہتا ہے۔ کیونکہ وجوب عمل کے بارے میں اس کے ساتھ فرض کا معاملہ ہوتا ہے ۔ اور اسے اس کی دلیل کی ظنیت کا لحاظ کرتے ہوئے واجب بھی کہا جاتا ہے ۔ تو یہ واجب کی دونوں قسموں(اعتقادی وعملی) میں سے اقوی اور فرض کی دونوں قسموں ( اعتقادی و عملی ) میں سے اضعف ہے۔ بلکہ مجتہد کے نزدیك کبھی خبر واحد بھی قطعی کی حد تك پہنچ جاتی ہے ۔ اسی لئے علماء نے فرمایا ہے کہ خبر واحد جب قبول مجتہدین سے سرفراز ہو تو اس سے رکنیت کا بھی اثبات ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عرفات میں وقوف کی رکنیت حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد “ الحج عرفۃ “ ( حج وقوف عرفہ ہے) سے ثابت ہوئی ۔ (ت)
اس کے بعد عبارۃ مذکورہ تلویح نقل فرمائی ۔
۱۰اقول : ھذا الکلام کلہ مذکور فی الطحطاوی عن النھر بمحصلہ سوی ما افاد بقولہ بل قد یصل الخ
اقول : اس پورے کلام کا مضمون اور حاصل حاشیہ طحطاوی میں النہر الفائق کے حوالے سے مذکور ہے سوا اس مضمون کے جو آخر میں ان الفاظ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الفرض القطعی والظنی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴
وھو کلام کاف من ابداء الفرق فی الفرض والواجب العملیین وصدرہ وانکان علی سنن ما قالہ البحر حیث قال قریبا من القطعی فاخرہ وذکر حدیث عرفۃ ناظر الی التحقیق الذی نحوت الیہ وبالله التوفیق۔
لکن فی مطاویہ ابحاث طوال یخرج الا ستر سال فیہ عن قصدالمقال بیدانہ فـــــ۱ لاینبغی اخلاء المقام عن افادۃ ان ماذکر تبعا للطحطاوی والنھر وکثیرین من الفارق بین الوجوب وبین السنیۃ والاستحباب من ان ثبوت الاول بما فیہ ظنیۃ فی احد طرفی الثبوت والاثبات والاخرین بما فیہ ظنیۃ فی کلیھما غیر مسلم ولا صواب کیف فـــــ۲ وحفوف الظن بکلا الطرفین لاینزل الطلب عن المظنونیۃ
سے بیان کیا ہے کہ “ بلکہ مجتہد کے نزدیك کبھی خبر واحد بھی قطعی کی حد تك پہنچ جاتی ہے “ الخ ۔ یہ کلام فرض عملی اور واجب عملی کے فرق کی وضاحت کے لئے کافی ہے ۔ اور اس کا ابتدائی حصہ اگرچہ کلام بحر ہی کے طرز پر ہے کہ یہ کہا کہ “ مجتہد کے نزدیك کبھی دلیل ظنی قطعی کے قریب “ پہنچ جاتی ہے مگر آخری حصہ اور حدیث عرفہ کا تذکرہ اسی تحقیق کی طرف ناظر ہے جو میں نے اختیار کی ۔ اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے۔
لیکن اس کلام کی تہ میں کچھ ایسی لمبی بحثیں ہیں جن میں عنان قلم کو آزادی ملے تو ہم اصل مقصود سے دور نکل جائیں مگر اس جگہ کم از کم اتنا بتا دینا نا مناسب نہ ہو گا کہ علامہ شامی نے طحطاوی اورصاحب نہر کی تبعیت میں وجوب کے درمیان اور سنیت واستحباب کے درمیان جو فرق ذکر کیا ہے کہ وجوب کا ثبوت ایسی دلیل سے ہوتا ہے جس کے ثبوت یا اثبات کسی ایك میں ظنیت ہو اور سنیت و استحباب کا ثبوت ایسی دلیل سے ہوتا ہے جس کے ثبوت اور اثبات دونوں میں ظنیت ہو یہ فرق نہ تو قابل تسلیم ہے نہ بجائے خود صحیح و درست ہے اور یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے جب کہ ثبوت و اثبات دونوں
فـــــ : ۵تطفل علی النہر الفائق والطحطاوی و رد المحتار وکثیرین۔
فـــــ : تحقیق ان الدلیل الظنی والاثبات معا ھل یثبت الوجوب ام الاستنان ۔
لکن فی مطاویہ ابحاث طوال یخرج الا ستر سال فیہ عن قصدالمقال بیدانہ فـــــ۱ لاینبغی اخلاء المقام عن افادۃ ان ماذکر تبعا للطحطاوی والنھر وکثیرین من الفارق بین الوجوب وبین السنیۃ والاستحباب من ان ثبوت الاول بما فیہ ظنیۃ فی احد طرفی الثبوت والاثبات والاخرین بما فیہ ظنیۃ فی کلیھما غیر مسلم ولا صواب کیف فـــــ۲ وحفوف الظن بکلا الطرفین لاینزل الطلب عن المظنونیۃ
سے بیان کیا ہے کہ “ بلکہ مجتہد کے نزدیك کبھی خبر واحد بھی قطعی کی حد تك پہنچ جاتی ہے “ الخ ۔ یہ کلام فرض عملی اور واجب عملی کے فرق کی وضاحت کے لئے کافی ہے ۔ اور اس کا ابتدائی حصہ اگرچہ کلام بحر ہی کے طرز پر ہے کہ یہ کہا کہ “ مجتہد کے نزدیك کبھی دلیل ظنی قطعی کے قریب “ پہنچ جاتی ہے مگر آخری حصہ اور حدیث عرفہ کا تذکرہ اسی تحقیق کی طرف ناظر ہے جو میں نے اختیار کی ۔ اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے۔
لیکن اس کلام کی تہ میں کچھ ایسی لمبی بحثیں ہیں جن میں عنان قلم کو آزادی ملے تو ہم اصل مقصود سے دور نکل جائیں مگر اس جگہ کم از کم اتنا بتا دینا نا مناسب نہ ہو گا کہ علامہ شامی نے طحطاوی اورصاحب نہر کی تبعیت میں وجوب کے درمیان اور سنیت واستحباب کے درمیان جو فرق ذکر کیا ہے کہ وجوب کا ثبوت ایسی دلیل سے ہوتا ہے جس کے ثبوت یا اثبات کسی ایك میں ظنیت ہو اور سنیت و استحباب کا ثبوت ایسی دلیل سے ہوتا ہے جس کے ثبوت اور اثبات دونوں میں ظنیت ہو یہ فرق نہ تو قابل تسلیم ہے نہ بجائے خود صحیح و درست ہے اور یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے جب کہ ثبوت و اثبات دونوں
فـــــ : ۵تطفل علی النہر الفائق والطحطاوی و رد المحتار وکثیرین۔
فـــــ : تحقیق ان الدلیل الظنی والاثبات معا ھل یثبت الوجوب ام الاستنان ۔
والرجحان وھو ملاك امر الوجوب لاغیر وانما الفرق بین الفریقین بنفس الطلب فقد یکون حتمیا ویفیدا الوجوب عندالظنیۃ ثبوتا او اثباتا اومعاوقد یکون ندبیا ترغیبیا فیفید السنیۃ اوالاستحباب ولو کان قطعیا یقینیا ثبوتا واثباتا فان القطع انما حصل علی الترغیب والارشاد دون الطلب الجازم من غیران یبقی فیہ للمکلف خیار وھذا ظاھر جدا ھذا ما ظھر للعبد الضعیف۔
ثــم رأیت المحقق حیث اطلق افاد فی الفتح ماجنحت الیہ واومی الی ماعولت علیہ حیث قال بعدما بحث وجوب التسمیۃ فی الوضوء فان قیل یرد علیہ ما قالوہ من ان الادلۃ السمعیۃ علی اربعۃ اقسام الرابع ماھو ظنی الثبوت والدلالۃ وحکمہ افادۃ السنیۃ والاستحباب
کو اگر ظن نے احاطہ کر رکھا ہے تو اس کی وجہ سے طلب ( بجا آوری کا مطالبہ)تو مظنونیت اور رجحان کے درجہ سے فروتر نہیں ہو جاتی ۔ اور وجوب کا مدار اسی پر ہے کسی اور پر نہیں ۔ دونوں فریقوں ( ایك واجب اور دوسرا سنیت و استحباب)میں فرق صرف “ طلب “ سے ہوتا ہے ۔ طلب کبھی حتمی ہوتی ہے اور وجوب کا افادہ کرتی ہے اگر ثبوت یا اثبات دونوں ظنی ہوں اورکبھی ندبی اور ترغیبی ہوتی ہے تو سنیت یا استحباب کا افادہ کرتی ہے اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں میں قطعی و یقینی ہوں۔ اس لئے کہ قطعیت ترغیب و ارشاد ہی سے متعلق حاصل ہوئی ہے ۔ طلب جزمی سے متعلق نہیں کہ اس میں مکلف کے لئے کوئی اختیار باقی نہ رہ جائے۔ اور یہ بہت واضح ہے ۔ یہ بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا۔
پھر میں نے دیکھا کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق (علامہ ابن ہمام) نے اس بات کا افادہ فرمایا ہے جس کی طرف میرا رجحان ہوا اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر میں نے اعتماد کیا۔ انھوں نے وضو میں وجوب تسمیہ کی بحث کرنے کے بعد لکھا ہے : اگر کہا جائے کہ اس پر اس سے اعتراض ہوتا ہے جو علماء نے فرمایا ہے کہ دلائل سمعیہ کی چار قسمیں ہیں چوتھی قسم وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہو اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے سنیت اور استحباب کا
ثــم رأیت المحقق حیث اطلق افاد فی الفتح ماجنحت الیہ واومی الی ماعولت علیہ حیث قال بعدما بحث وجوب التسمیۃ فی الوضوء فان قیل یرد علیہ ما قالوہ من ان الادلۃ السمعیۃ علی اربعۃ اقسام الرابع ماھو ظنی الثبوت والدلالۃ وحکمہ افادۃ السنیۃ والاستحباب
کو اگر ظن نے احاطہ کر رکھا ہے تو اس کی وجہ سے طلب ( بجا آوری کا مطالبہ)تو مظنونیت اور رجحان کے درجہ سے فروتر نہیں ہو جاتی ۔ اور وجوب کا مدار اسی پر ہے کسی اور پر نہیں ۔ دونوں فریقوں ( ایك واجب اور دوسرا سنیت و استحباب)میں فرق صرف “ طلب “ سے ہوتا ہے ۔ طلب کبھی حتمی ہوتی ہے اور وجوب کا افادہ کرتی ہے اگر ثبوت یا اثبات دونوں ظنی ہوں اورکبھی ندبی اور ترغیبی ہوتی ہے تو سنیت یا استحباب کا افادہ کرتی ہے اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں میں قطعی و یقینی ہوں۔ اس لئے کہ قطعیت ترغیب و ارشاد ہی سے متعلق حاصل ہوئی ہے ۔ طلب جزمی سے متعلق نہیں کہ اس میں مکلف کے لئے کوئی اختیار باقی نہ رہ جائے۔ اور یہ بہت واضح ہے ۔ یہ بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا۔
پھر میں نے دیکھا کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق (علامہ ابن ہمام) نے اس بات کا افادہ فرمایا ہے جس کی طرف میرا رجحان ہوا اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر میں نے اعتماد کیا۔ انھوں نے وضو میں وجوب تسمیہ کی بحث کرنے کے بعد لکھا ہے : اگر کہا جائے کہ اس پر اس سے اعتراض ہوتا ہے جو علماء نے فرمایا ہے کہ دلائل سمعیہ کی چار قسمیں ہیں چوتھی قسم وہ دلیل جو ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہو اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے سنیت اور استحباب کا
وجعلوا منہ خبرالتسمیۃ (یعنی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لاوضوء لمن لم یذکراسم الله علیہ فانہ مع احادیثہ یحتمل نفی الفضیلۃ قال) وصرح بعضھم بان وجوب الفاتحۃ لیس من قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لاصلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب بل بالمواظبۃ من غیر ترك لذلك فـالجواب ان ارادوا بظنی الدلالۃ مشترکھا سلمنا الاصل المذکور۔
(ای فان الوجوب لایثبت بالشك )۱۱اقول : بل لو کان الشك فی احد طرفی الثبوت و الاثبات لکفی لتنزیلہ عن
افادہ ہوتا ہے اور علماء نے حدیث تسمیہ کو بھی اسی قسم سے قرار دیا ہے ( یعنی حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اس کا وضو نہیں جس نے وضو میں بسم الله نہ پڑھی۔ اس لئے کہ اس حدیث کا ثبوت ظنی ہے کیونکہ خبر واحد ہے اور وجوب پر اس کی دلالت بھی ظنی ہے اس لئے کہ اس مضمون میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس کا وضو کامل و افضل نہیں جس نے تسمیہ نہ پڑھی) اور بعض حضرات نے صراحت کی ہے کہ نماز میں قرأت فاتحہ کا وجوب سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد “ لا صلوۃ الابفاتحۃ الکتاب “ ( نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب سے ) سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس پر سرکار نے مداومت فرمائی اور نماز میں اس کی قرأت کبھی ترك نہ کی ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قاعدہ ہمیں تسلیم ہے اگر ظنی الدلالۃ سے مراد مشترك الدلالۃ ہو ۔ (یعنی یہ کہ دلیل میں دو یا زیادہ معانی نکلتے ہیں اور کسی معنی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایك میں شك ہے۔ ۱۲ مترجم)
(یعنی اس لئے کہ وجوب شك سے ثابت نہیں ہوتا۔ )اقول : بلکہ شك اگر ثبوت اور اثبات دونوں میں سے ایك ہی میں ہو تو بھی وہ دلیل کو اثبات وجوب کے درجہ سے نیچے لانے کے لئے
(ای فان الوجوب لایثبت بالشك )۱۱اقول : بل لو کان الشك فی احد طرفی الثبوت و الاثبات لکفی لتنزیلہ عن
افادہ ہوتا ہے اور علماء نے حدیث تسمیہ کو بھی اسی قسم سے قرار دیا ہے ( یعنی حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اس کا وضو نہیں جس نے وضو میں بسم الله نہ پڑھی۔ اس لئے کہ اس حدیث کا ثبوت ظنی ہے کیونکہ خبر واحد ہے اور وجوب پر اس کی دلالت بھی ظنی ہے اس لئے کہ اس مضمون میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس کا وضو کامل و افضل نہیں جس نے تسمیہ نہ پڑھی) اور بعض حضرات نے صراحت کی ہے کہ نماز میں قرأت فاتحہ کا وجوب سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد “ لا صلوۃ الابفاتحۃ الکتاب “ ( نماز نہیں مگر فاتحۃ الکتاب سے ) سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس پر سرکار نے مداومت فرمائی اور نماز میں اس کی قرأت کبھی ترك نہ کی ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ قاعدہ ہمیں تسلیم ہے اگر ظنی الدلالۃ سے مراد مشترك الدلالۃ ہو ۔ (یعنی یہ کہ دلیل میں دو یا زیادہ معانی نکلتے ہیں اور کسی معنی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایك میں شك ہے۔ ۱۲ مترجم)
(یعنی اس لئے کہ وجوب شك سے ثابت نہیں ہوتا۔ )اقول : بلکہ شك اگر ثبوت اور اثبات دونوں میں سے ایك ہی میں ہو تو بھی وہ دلیل کو اثبات وجوب کے درجہ سے نیچے لانے کے لئے
حوالہ / References
الجامع الترمذی باب ماجاء فی التسمیۃ عند الوضوء حدیث ۲۵ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۱
مرتبۃ اثبات الایجاب۔ ثم ۱۲اقول : غیر ان ھذا فـــــ۱ الاحتمال لامساغ لہ فی کلامھم بعد ملاحظۃ المقابلات اعنی ان ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ والعکس یثبتان الوجوب فلیس المراد بالظن الاالمصطلح۔ (قال) ومنعنا کون الخبرین من ذلك بل نفی الکمال فیھما احتمال یقابلہ الظھور (ای فلیس مشکوکا بل موھوما قال) فان النفی فـــــ۲ متسلط علی الوضوء والصلاۃ فیھما فان قلنا النفی لایتلسط علی نفس الجنس بل ینصرف الی حکمہ وجب اعتبارہ فی الحکم الذی ھوالصحۃ فانہ المجاز الاقرب الی الحقیقۃ وان قلنا یتسلط ھنا علی الجنس لانھا حقائق شرعیۃ فینتفی شرعا بعدم الاعتبار
کافی ہے۔ ثم اقول : مگر فقہاء کے کلام میں ظنی الدلالۃ بمعنی مشترك الدلالۃ ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہو سکتا جب کہ یہ ملاحظہ کر لیا جائے کہ وہ ظنی بمقابلہ قطعی بول رہے ہیں ۔ دیکھئے وہ یوں کہتے ہیں : دلیل ثبوت میں ظنی دلالت میں قطعی ہو یا اس کے بر عکس ثبوت میں قطعی دلالت میں ظنی ہو تو اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ظن سے مراد وہی ظن اصطلاحی ہے ۔ آگے فرماتے ہیں مگر ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ تسمیہ اور فاتحہ سے متعلق دونوں حدیثیں ظنی بمعنی مشترك ہیں ( اور ان میں نفی صحت اور نفی کمال دونوں معنی پر یکساں دلالت ہونے اور کسی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایك میں شك ہے ۔ ۱۲ م ) بلکہ ( نفی صحت کامعنی ظاہر و متبادر ہے ۔ ۱۲ م) نفی کمال کا احتمال ایسا ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے ( مقصد یہ ہے کہ اب یہ احتمال مشکوك نہیں بلکہ اس سے بھی فر وتر محض موہوم ہو گا) اس لئے کہ حدیث “ لا وضوء “ اور حدیث “ لاصلوۃ “ میں نفی وضو اور نماز پر وارد ہے ۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ نفی خود جنس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے حکم کی ہوتی ہے تو نفی اس کے حکم یعنی صحت میں ماننا ہو گا کیونکہ نفی صحت ہی
فـــــ۱ : ۶تطفل علی فتح القدیر ۔
فـــــ۲ : نحوہ لاصلوۃ ظاھرہ نفی الصحۃ لا الکمال ۔
کافی ہے۔ ثم اقول : مگر فقہاء کے کلام میں ظنی الدلالۃ بمعنی مشترك الدلالۃ ہونے کا کوئی احتمال نہیں ہو سکتا جب کہ یہ ملاحظہ کر لیا جائے کہ وہ ظنی بمقابلہ قطعی بول رہے ہیں ۔ دیکھئے وہ یوں کہتے ہیں : دلیل ثبوت میں ظنی دلالت میں قطعی ہو یا اس کے بر عکس ثبوت میں قطعی دلالت میں ظنی ہو تو اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ظن سے مراد وہی ظن اصطلاحی ہے ۔ آگے فرماتے ہیں مگر ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ تسمیہ اور فاتحہ سے متعلق دونوں حدیثیں ظنی بمعنی مشترك ہیں ( اور ان میں نفی صحت اور نفی کمال دونوں معنی پر یکساں دلالت ہونے اور کسی کی تعیین نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایك میں شك ہے ۔ ۱۲ م ) بلکہ ( نفی صحت کامعنی ظاہر و متبادر ہے ۔ ۱۲ م) نفی کمال کا احتمال ایسا ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے ( مقصد یہ ہے کہ اب یہ احتمال مشکوك نہیں بلکہ اس سے بھی فر وتر محض موہوم ہو گا) اس لئے کہ حدیث “ لا وضوء “ اور حدیث “ لاصلوۃ “ میں نفی وضو اور نماز پر وارد ہے ۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ نفی خود جنس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے حکم کی ہوتی ہے تو نفی اس کے حکم یعنی صحت میں ماننا ہو گا کیونکہ نفی صحت ہی
فـــــ۱ : ۶تطفل علی فتح القدیر ۔
فـــــ۲ : نحوہ لاصلوۃ ظاھرہ نفی الصحۃ لا الکمال ۔
شرعا وان وجدت حسا فاظھر فی المراد فنفی الکمال علی کلا الوجھین احتمال خلاف الظاھر لایصار الیہ الابدلیل۔
وان ارادو بہ مافیہ احتمال ولو مرجوحا منعنا صحۃ الاصل المذکور (ای اثباتہ ح السنیۃ والندب لاالوجوب بل یثبت الوجوب لحصول الترجیح وان تطرق الظن الی الطرفین جمیعا قال) واسندناہ بان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ وعلی ھذا
وہ مجاز ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے ( اب حاصل یہ ہو گا کہ بغیر تسمیہ وضو نہیں یعنی صحت وضو نہیں اور بغیر فاتحہ نماز نہیں یعنی صحت نماز نہیں ۱۲ م ) اور اگر ہم یہ کہیں کہ نفی یہاں خود جنس کی ہو رہی ہے اس لئے کہ وضو اور نماز یہ سب حقائق شرعیہ ہیں اور جب شرعا ان کا اعتبار نہ ہو گا تو یہ شرعی طور پر بے ثبوت اور معدوم ہونگی اگرچہ حسی طور پر موجود ہوں ( اب معنی یہ ہو گا کہ بے تسمیہ کے وضو کا اور بے فاتحہ کے نماز کا شریعت میں وجود و ثبوت ہی نہیں ۱۲ م) تو اس تقدیر پر مراد اور زیادہ ظاہر واضح ہے۔ اور دونوں تقدیروں پر نفی کمال کا احتمال خلاف ظاہر ہے جس کی طرف بغیر کسی دلیل کے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
اور اگر ظنی الدلالۃ سے یہ مراد ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی احتمال ہو خواہ وہ مرجوح ہی ہو تو ہمیں قاعدہ مذکور تسلیم نہیں ( یعنی یہ کہ ایسی دلیل سے صرف سنیت اور استحباب کا ثبوت ہو گا وجوب کا ثبوت نہ ہو گا بلکہ اس سے وجوب ہی کا ثبوت ہو گا کیونکہ ترجیح حاصل ہے اگرچہ ثبوت اور دلالت دونوں میں ظن کا دخل ہو گیا ہے ۔ آگے فرماتے ہیں : ) اور اس کی سند میں ہم یہ کہیں گے کہ شریعت کے اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے ۔ وہ احتمال راجح سے متعلق ہوتا ہے توا س کے متعلق ( احتمال راجح ) کو ماننا واجب ہے اسی کو
وان ارادو بہ مافیہ احتمال ولو مرجوحا منعنا صحۃ الاصل المذکور (ای اثباتہ ح السنیۃ والندب لاالوجوب بل یثبت الوجوب لحصول الترجیح وان تطرق الظن الی الطرفین جمیعا قال) واسندناہ بان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ وعلی ھذا
وہ مجاز ہے جو حقیقت سے قریب تر ہے ( اب حاصل یہ ہو گا کہ بغیر تسمیہ وضو نہیں یعنی صحت وضو نہیں اور بغیر فاتحہ نماز نہیں یعنی صحت نماز نہیں ۱۲ م ) اور اگر ہم یہ کہیں کہ نفی یہاں خود جنس کی ہو رہی ہے اس لئے کہ وضو اور نماز یہ سب حقائق شرعیہ ہیں اور جب شرعا ان کا اعتبار نہ ہو گا تو یہ شرعی طور پر بے ثبوت اور معدوم ہونگی اگرچہ حسی طور پر موجود ہوں ( اب معنی یہ ہو گا کہ بے تسمیہ کے وضو کا اور بے فاتحہ کے نماز کا شریعت میں وجود و ثبوت ہی نہیں ۱۲ م) تو اس تقدیر پر مراد اور زیادہ ظاہر واضح ہے۔ اور دونوں تقدیروں پر نفی کمال کا احتمال خلاف ظاہر ہے جس کی طرف بغیر کسی دلیل کے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔
اور اگر ظنی الدلالۃ سے یہ مراد ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی احتمال ہو خواہ وہ مرجوح ہی ہو تو ہمیں قاعدہ مذکور تسلیم نہیں ( یعنی یہ کہ ایسی دلیل سے صرف سنیت اور استحباب کا ثبوت ہو گا وجوب کا ثبوت نہ ہو گا بلکہ اس سے وجوب ہی کا ثبوت ہو گا کیونکہ ترجیح حاصل ہے اگرچہ ثبوت اور دلالت دونوں میں ظن کا دخل ہو گیا ہے ۔ آگے فرماتے ہیں : ) اور اس کی سند میں ہم یہ کہیں گے کہ شریعت کے اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے ۔ وہ احتمال راجح سے متعلق ہوتا ہے توا س کے متعلق ( احتمال راجح ) کو ماننا واجب ہے اسی کو
مشی المصنف رحمہ الله تعالی فی خبر الفاتحۃ حیث قال بعد ذکـرہ من طرف الشافعی رحمہ الله تعالی ولنا قولہ تعالی فاقرء واما تیسر من القران والزیادۃ علیہ بخبر الواحد لاتجوز لکنہ یوجب العمل فقلنا بوجوبھا وھذا ھو الصواب اھ مزیدا منا مابین الاھلۃ۔
۱۳اقول : وتحرر فـــــ مما تقرران الادلۃ السمعیۃ تسعۃ اقسام لان لہا طرفین الثبوت والاثبات وکل علی ثلثۃ وجوہ القطع والظن والشک۔
مصنف ( صاحب ہدایہ ) رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ نے حدیث فاتحہ میں اختیار کیا ہے اس طرح کہ اس حدیث کے امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ کے طرق سے ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اور ہماری دلیل باری تعالی کا یہ ارشاد ہے کہ “ قرآن سے جو میسر آئے پڑھو “ اس پر خبر واحد سے اضافہ نہیں ہو سکتا لیکن خبر واحد سے عمل کا وجوب ثابت ہوتا ہے اس لئے ہم نماز میں قرأت فاتحہ کے وجوب کے قائل ہوئے اور یہی صحیح ہے ۔ ا ھ ۔ فتح القدیر کی عبارت قوسین کے درمیان ہمارے (امام احمد رضا بریلوی ) اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔ ( اور جہاں مترجم کا اضافہ ہے وہاں یہ علامت بنا دی گئی ہے : ۱۲ م)
اقول : گزشتہ تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دلائل سمعیہ کی نو قسمیں ہیں ۔ اس لئے کہ ان میں دو جانب ہیں : ۱ثبوت ۲اثبات ۔ اور ہر ایك میں تین صورتیں ہیں : ۱ یقین ۲ظن ۳شك ۔ ( اس طرح کل نو صورتیں ہوئیں ۔ ثبوت قطعی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ثبوت ظنی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ثبوت شکی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ۱۲م)
فـــــ : التحقیق الاجمالی للمصنف ان الادلۃ فی اثبات الفرض وما دونہ تسعۃ اقسام ۔
۱۳اقول : وتحرر فـــــ مما تقرران الادلۃ السمعیۃ تسعۃ اقسام لان لہا طرفین الثبوت والاثبات وکل علی ثلثۃ وجوہ القطع والظن والشک۔
مصنف ( صاحب ہدایہ ) رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ نے حدیث فاتحہ میں اختیار کیا ہے اس طرح کہ اس حدیث کے امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ کے طرق سے ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اور ہماری دلیل باری تعالی کا یہ ارشاد ہے کہ “ قرآن سے جو میسر آئے پڑھو “ اس پر خبر واحد سے اضافہ نہیں ہو سکتا لیکن خبر واحد سے عمل کا وجوب ثابت ہوتا ہے اس لئے ہم نماز میں قرأت فاتحہ کے وجوب کے قائل ہوئے اور یہی صحیح ہے ۔ ا ھ ۔ فتح القدیر کی عبارت قوسین کے درمیان ہمارے (امام احمد رضا بریلوی ) اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔ ( اور جہاں مترجم کا اضافہ ہے وہاں یہ علامت بنا دی گئی ہے : ۱۲ م)
اقول : گزشتہ تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دلائل سمعیہ کی نو قسمیں ہیں ۔ اس لئے کہ ان میں دو جانب ہیں : ۱ثبوت ۲اثبات ۔ اور ہر ایك میں تین صورتیں ہیں : ۱ یقین ۲ظن ۳شك ۔ ( اس طرح کل نو صورتیں ہوئیں ۔ ثبوت قطعی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ثبوت ظنی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ثبوت شکی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ۱۲م)
فـــــ : التحقیق الاجمالی للمصنف ان الادلۃ فی اثبات الفرض وما دونہ تسعۃ اقسام ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۱
خمسۃ منھا وھی ما فی احد طرفیھا شك لایثبت فوق سنیۃ اوندب وان اشتملت علی طلب جازم والاربعۃ البواقی کذلك ان اشتملت علی طلب غیر جازم و الا فانکان کلا الطرفین قطعیا ثبت الافتراض والا فالوجوب۔
ثــم الـظـاھـر فـــــ ان السنیۃ لاتثبت بالشك بل ھو المتعین والالزم التقول علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بمجرد شك واحتمال ولذا افاد المحقق فی الفتح وتلمیذہ فی الحلیۃ ان الاستنان لایثبت بالحدیث الضعیف حیث حقق فی الفتح ان غسل الجمعۃ مستحب لاسنۃ ثم قال یقاس علیہ باقی الاغتسال (ای غسل العیدین والعرفۃ والاحرام) وانما یتعدی الی الفرع حکم الاصل وھو الاستحباب اما ماروی ابن ماجۃ کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل یوم
ان میں پانچ صورتیں ہیں جن سے سنیت یا ندب سے زیادہ ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایك میں شك ہو اگرچہ وہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں۔ اور باقی چار صورتوں کا بھی یہی حال ہے اگر وہ طلب غیر جزمی پر مشتمل ہوں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو ( بلکہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں) تو اگر ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہیں تو اس سے فرضیت ثابت ہو گی ورنہ وجوب ثابت ہو گا۔
پھر ظاہر ۔ بلکہ متعین ۔ یہ ہے کہ سنیت شك سے ثابت نہیں ہوتی ورنہ محض شك و احتمال کی وجہ سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف زبردستی کسی قول کا انتساب لازم آئے گا۔ اسی لئے حضرت محقق نے فتح القدیر میں اور ان کے تلمیذ سے حلیہ میں افادہ کیا ہے کہ سنیت حدیث ضعیف سے ثابت نہیں ہوتی ۔ اس طرح کہ فتح القدیر میں یہ تحقیق فرمائی ہے کہ غسل جمعہ مستحب ہے سنت نہیں ۔ پھر آگے لکھا ہے : اسی پر باقی غسل (یعنی عیدین عرفہ اور احرام کے غسل کا قیاس ہو گا) اور فرع کی جانب اصل ہی کا حکم آئے گا اور وہ استحباب ہے ۔ رہی وہ حدیث جو ابن ماجہ نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عید کے دن غسل فرماتے تھے اور
فـــــ : بالحدیث الضعیف یثبت الاستحباب دون الاستنان ۔
ثــم الـظـاھـر فـــــ ان السنیۃ لاتثبت بالشك بل ھو المتعین والالزم التقول علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بمجرد شك واحتمال ولذا افاد المحقق فی الفتح وتلمیذہ فی الحلیۃ ان الاستنان لایثبت بالحدیث الضعیف حیث حقق فی الفتح ان غسل الجمعۃ مستحب لاسنۃ ثم قال یقاس علیہ باقی الاغتسال (ای غسل العیدین والعرفۃ والاحرام) وانما یتعدی الی الفرع حکم الاصل وھو الاستحباب اما ماروی ابن ماجۃ کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل یوم
ان میں پانچ صورتیں ہیں جن سے سنیت یا ندب سے زیادہ ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایك میں شك ہو اگرچہ وہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں۔ اور باقی چار صورتوں کا بھی یہی حال ہے اگر وہ طلب غیر جزمی پر مشتمل ہوں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو ( بلکہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں) تو اگر ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہیں تو اس سے فرضیت ثابت ہو گی ورنہ وجوب ثابت ہو گا۔
پھر ظاہر ۔ بلکہ متعین ۔ یہ ہے کہ سنیت شك سے ثابت نہیں ہوتی ورنہ محض شك و احتمال کی وجہ سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف زبردستی کسی قول کا انتساب لازم آئے گا۔ اسی لئے حضرت محقق نے فتح القدیر میں اور ان کے تلمیذ سے حلیہ میں افادہ کیا ہے کہ سنیت حدیث ضعیف سے ثابت نہیں ہوتی ۔ اس طرح کہ فتح القدیر میں یہ تحقیق فرمائی ہے کہ غسل جمعہ مستحب ہے سنت نہیں ۔ پھر آگے لکھا ہے : اسی پر باقی غسل (یعنی عیدین عرفہ اور احرام کے غسل کا قیاس ہو گا) اور فرع کی جانب اصل ہی کا حکم آئے گا اور وہ استحباب ہے ۔ رہی وہ حدیث جو ابن ماجہ نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عید کے دن غسل فرماتے تھے اور
فـــــ : بالحدیث الضعیف یثبت الاستحباب دون الاستنان ۔
العیدین و عن الفاکہ بن سعد الصحابی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یغتسل یوم عرفۃ ویوم النحر ویوم الفطر فضعیفان قالہ النووی وغیرہ اھ۔
فافادان ضعفھما یقعدھما عن افادۃ الاستنان وکذالك قال فی الحلیۃ بعد ماذکر استنان غسل الجمعۃ مانصہ واستنان غسل العیدین ان قلنا بان تعدد الطرق الواردۃ فیہ تبلغ درجۃ الحسن والا فالندب اھ
وقد الممنا بطرف من تحقیق ھذا فی رسالتنا فـــــ الھاد الکاف فی حکم الضعاف وایضا حققنا فیھا بمالا مزید علیہ ان الاستحباب یثبت بالحدیث الضعیف۔
ثــم ۱۴اقــول : الشك فی الاثبات فاکہ بن سعد صحابی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روز عرفہ روز عید قربان اور روز عید الفطر غسل فرماتے تھے۔ تو یہ حدیثیں ضعیف ہیں جیسا کہ امام نووی وغیرہ نے فرمایا ا ھ۔
حضرت محقق کے اس کلام سے مستفاد ہوا کہ دونوں حدیثیں چونکہ ضعیف ہیں اس لئے افادہ سنیت سے قاصر ہیں ۔ اسی طرح حلیہ میں غسل جمعہ کا مسنون ہونا ذکر فرمانے کے بعد لکھتے ہیں “ اور غسل عیدین کا سنت ہونا ثابت ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ اس بارے میں حدیث کے جو متعدد طرق وارد ہیں وہ اسے درجہ حسن تك پہنچا دیتے ہیں ورنہ وہ مندوب ہو گا ۱ھ۔
ہم نے اس کی کچھ تحقیق اپنے رسالہ “ الھاد الکاف فی حکم الضعاف “ میں رقم کی ہے ۔ اور اس میں حدیث ضعیف سے استحباب ثابت ہونے کی ایسی تحقیق کی ہے جس پر اضافے کی گنجائش نہیں۔
ثم اقول : اثبات میں شك بھی ویسے
فـــــ : رسالہ ہذا فتاوی رضویہ جلد پنجم مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں موجود ہے اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ “ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین “ میں افادہ شانزدہم سے افادہ بست وسوم ( آٹھ افادات ) کو “ الھاد الکاف فی حکم الضعاف “ سے موسوم کیا ہے ۔
فافادان ضعفھما یقعدھما عن افادۃ الاستنان وکذالك قال فی الحلیۃ بعد ماذکر استنان غسل الجمعۃ مانصہ واستنان غسل العیدین ان قلنا بان تعدد الطرق الواردۃ فیہ تبلغ درجۃ الحسن والا فالندب اھ
وقد الممنا بطرف من تحقیق ھذا فی رسالتنا فـــــ الھاد الکاف فی حکم الضعاف وایضا حققنا فیھا بمالا مزید علیہ ان الاستحباب یثبت بالحدیث الضعیف۔
ثــم ۱۴اقــول : الشك فی الاثبات فاکہ بن سعد صحابی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روز عرفہ روز عید قربان اور روز عید الفطر غسل فرماتے تھے۔ تو یہ حدیثیں ضعیف ہیں جیسا کہ امام نووی وغیرہ نے فرمایا ا ھ۔
حضرت محقق کے اس کلام سے مستفاد ہوا کہ دونوں حدیثیں چونکہ ضعیف ہیں اس لئے افادہ سنیت سے قاصر ہیں ۔ اسی طرح حلیہ میں غسل جمعہ کا مسنون ہونا ذکر فرمانے کے بعد لکھتے ہیں “ اور غسل عیدین کا سنت ہونا ثابت ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ اس بارے میں حدیث کے جو متعدد طرق وارد ہیں وہ اسے درجہ حسن تك پہنچا دیتے ہیں ورنہ وہ مندوب ہو گا ۱ھ۔
ہم نے اس کی کچھ تحقیق اپنے رسالہ “ الھاد الکاف فی حکم الضعاف “ میں رقم کی ہے ۔ اور اس میں حدیث ضعیف سے استحباب ثابت ہونے کی ایسی تحقیق کی ہے جس پر اضافے کی گنجائش نہیں۔
ثم اقول : اثبات میں شك بھی ویسے
فـــــ : رسالہ ہذا فتاوی رضویہ جلد پنجم مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں موجود ہے اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ “ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین “ میں افادہ شانزدہم سے افادہ بست وسوم ( آٹھ افادات ) کو “ الھاد الکاف فی حکم الضعاف “ سے موسوم کیا ہے ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۷۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مثل الشك فی الثبوت فاذن الاوضح فـــــ الاجمع الاشمل الاکمل ان نقول النصوص الطلبیۃ علی ثلثۃ اقسام :
(۱) مافیہ طلب ترغیب مجردا(۲) اومع تاکید(۳) اوطلب جازم۔
وکل منھا علی تسعۃ اقسام کما قدمت فھی سبعۃ وعشرون قسما لا یثبت الافتراض منھا الاواحد وھو یقینی الثبوت والاثبات مع الطلب الجازم وثلثۃ تفید الوجوب وھو ظنی الثبوت اوالاثبات اوکلیھما مع الطلب الجازم فی الکل واربعۃ تفیدالاستنان وھی نظائر ماتفید الفرضیۃ والوجوب فی الثبوت والاثبات بیدان الطلب فیھا مؤکد غیر جازم والبواقی وھی تسعۃ عشر تفید الندب وھی التی فی احد طرفیھا شك ولوالطلب جازما اوکان الطلب فیھا طلب
ہی ہے جیسے ثبوت میں شك ۔ تو اب زیادہ واضح جامع کامل اور ہمہ گیر تقسیم یوں ہو گی کہ ہم کہیں : وہ نصوص جو کسی عمل کی طلب پر مشتمل ہیں ان کی تین قسمیں ہیں :
(۱) وہ جن میں بلا تاکید صرف ترغیبا مطالبہ ہو۔ (۲) وہ جن میں ترغیب کے ساتھ تاکید بھی ہو ۔ (۳) وہ جن میں طلب جزمی ہو۔ اور ان میں سے ہر ایك کی نو قسمیں ہیں ایسے ہی جیسے پہلے بیان ہوئیں ۔ تو یہ کل ستائیس ۲۷ قسمیں ہوئیں ( ہر قسم کی تفصیل یوں کر لیں مثلا (۱) طلب صرف ترغیبی ہے اور ثبوت قطعی ہو اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت ظنی ہے اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت شکی ہے اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ۱۲ م ) ان میں صرف ایك قسم وہ ہے جس سے فرضیت ثابت ہوتی ہے ۔ یہ وہ ہے جس میں طلب جزمی ہو اور ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہوں۔ اور تین قسمیں وہ ہیں جن سے وجوب کا افادہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب جزمی ہو اور ثبوت یا اثبات یا دونوں ظنی ہوں۔ اور چار وہ ہیں جو سنیت کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور ثبوت و اثبات کی صورتیں ویسے ہی جیسے فرضیت اور وجوب کا افادہ کرنے والی قسموں میں بیان ہوئیں یعنی دونوں ۱قطعی
فـــــ : التحقیق التفصیلی للمصنف ان الادلۃ فی اثبات الفرض وما دونہ علی سبعۃ وعشرین قسما۔
(۱) مافیہ طلب ترغیب مجردا(۲) اومع تاکید(۳) اوطلب جازم۔
وکل منھا علی تسعۃ اقسام کما قدمت فھی سبعۃ وعشرون قسما لا یثبت الافتراض منھا الاواحد وھو یقینی الثبوت والاثبات مع الطلب الجازم وثلثۃ تفید الوجوب وھو ظنی الثبوت اوالاثبات اوکلیھما مع الطلب الجازم فی الکل واربعۃ تفیدالاستنان وھی نظائر ماتفید الفرضیۃ والوجوب فی الثبوت والاثبات بیدان الطلب فیھا مؤکد غیر جازم والبواقی وھی تسعۃ عشر تفید الندب وھی التی فی احد طرفیھا شك ولوالطلب جازما اوکان الطلب فیھا طلب
ہی ہے جیسے ثبوت میں شك ۔ تو اب زیادہ واضح جامع کامل اور ہمہ گیر تقسیم یوں ہو گی کہ ہم کہیں : وہ نصوص جو کسی عمل کی طلب پر مشتمل ہیں ان کی تین قسمیں ہیں :
(۱) وہ جن میں بلا تاکید صرف ترغیبا مطالبہ ہو۔ (۲) وہ جن میں ترغیب کے ساتھ تاکید بھی ہو ۔ (۳) وہ جن میں طلب جزمی ہو۔ اور ان میں سے ہر ایك کی نو قسمیں ہیں ایسے ہی جیسے پہلے بیان ہوئیں ۔ تو یہ کل ستائیس ۲۷ قسمیں ہوئیں ( ہر قسم کی تفصیل یوں کر لیں مثلا (۱) طلب صرف ترغیبی ہے اور ثبوت قطعی ہو اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت ظنی ہے اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت شکی ہے اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ ۱۲ م ) ان میں صرف ایك قسم وہ ہے جس سے فرضیت ثابت ہوتی ہے ۔ یہ وہ ہے جس میں طلب جزمی ہو اور ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہوں۔ اور تین قسمیں وہ ہیں جن سے وجوب کا افادہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب جزمی ہو اور ثبوت یا اثبات یا دونوں ظنی ہوں۔ اور چار وہ ہیں جو سنیت کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور ثبوت و اثبات کی صورتیں ویسے ہی جیسے فرضیت اور وجوب کا افادہ کرنے والی قسموں میں بیان ہوئیں یعنی دونوں ۱قطعی
فـــــ : التحقیق التفصیلی للمصنف ان الادلۃ فی اثبات الفرض وما دونہ علی سبعۃ وعشرین قسما۔
ترغیب مجرد ولو قطعی الطرفین وقس علی ھذا فی جانب الکف الحرام والمکروہ تحریما وتنزیھا وخلاف الاولی ولا تذھلن عن مقام الاحتیاط والله الھادی الی سواء الصراط ھذا ھوالتحقیق الساطع اللامع النور فاحفظہ فلعلك لاتجدہ فی غیر ھذہ السطور۔
یا دونوں ۲ظنی یا ۳ایك ۴ظنی ۔ اور باقی انیس۱۹ قسمیں مندوب و مستحب ہونے کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایك میں شك ہو اگرچہ طلب جزمی ہو ( یہ دس۱۰ صورتیں ہوئیں طلب جزمی ہے اور ثبوت شکی ہے اثبات ۱قطعی یا ۲ظنی یا ۳شکی ۔ یا ثبوت ظنی ہے اثبات شکی ۔ یا ثبوت قطعی ہے اثبات شکی ۔ طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور وہی پانچ صورتیں ۱۲ م ) یا ان میں طلب صرف ترغیبی ہو اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں قطعی ہوں ( یہ نو۹ صورتیں ہوئیں وہی جو چند سطور پہلے توضیح میں لکھی گئیں کل ۱۹ ہو گئیں ۔ ۱۲ م) اسی پر جانب کف میں حرام مکروہ تحریمی اور خلاف اولی اور قیاس کرلیں اور مقام احتیاط سے غفلت ہرگز نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خدا ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ تابندہ ودرخشندہ تحقیق ہے جو ان سطور کے سوا شائد کہیں نہ ملے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اسے حفظ رکھئے (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا فـــــ کہ فرض اعتقادی سب سے اعظم و اعلی اور دونوں قسم واجب اعتقادی کا مباین ہے اور فرض عملی واجب اعتقادی سے خاص مطلقا کہ ہر فرض عملی واجب اعتقادی ہے ولاعکس اور واجب عملی ہر دوقسم فرض کا مباین اور واجب اعتقادی سے خاص مطلقا ہےکہ ہر فرض عملی واجب اعتقادی ہے ولا عکس ۔
ثم ۱۵اقول : ( پھر میں کہتا ہوں ۔ ت) یہ اس تقدیر پر ہے کہ قسمین عملی بشرط لاہوں کماھو المتعارف عند علمائنا ( جیسا کہ یہی ہمارے علماء کے ہاں متعارف ہے ۔ ت) ولابشرط لیں تو فرض عملی فرض اعتقادی سے عام مطلقا اور واجب اعتقادی سے عام من وجہ ہوگا کہ فرض اعتقادی فرض عملی ہے نہ واجب اعتقادی اور واجب عملی بالمعنی الاول واجب اعتقادی ہے نہ فرض عملی اور فرض عملی بالمعنی الاول میں دونوں مجتمع ہیں ۔ اور واجب عملی بالمعنی الثانی واجب اعتقادی کا مساوی کہ اعتقاد وجوب موجب وجوب عمل اور ایجاب عمل بے اعتقاد وجوب نامحتمل کلام آتی میں معنی اولی
فـــــ : فرض واجب اعتقادی وعملی چاروں کی نسبتیں ۔
یا دونوں ۲ظنی یا ۳ایك ۴ظنی ۔ اور باقی انیس۱۹ قسمیں مندوب و مستحب ہونے کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایك میں شك ہو اگرچہ طلب جزمی ہو ( یہ دس۱۰ صورتیں ہوئیں طلب جزمی ہے اور ثبوت شکی ہے اثبات ۱قطعی یا ۲ظنی یا ۳شکی ۔ یا ثبوت ظنی ہے اثبات شکی ۔ یا ثبوت قطعی ہے اثبات شکی ۔ طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور وہی پانچ صورتیں ۱۲ م ) یا ان میں طلب صرف ترغیبی ہو اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں قطعی ہوں ( یہ نو۹ صورتیں ہوئیں وہی جو چند سطور پہلے توضیح میں لکھی گئیں کل ۱۹ ہو گئیں ۔ ۱۲ م) اسی پر جانب کف میں حرام مکروہ تحریمی اور خلاف اولی اور قیاس کرلیں اور مقام احتیاط سے غفلت ہرگز نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور خدا ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ تابندہ ودرخشندہ تحقیق ہے جو ان سطور کے سوا شائد کہیں نہ ملے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اسے حفظ رکھئے (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا فـــــ کہ فرض اعتقادی سب سے اعظم و اعلی اور دونوں قسم واجب اعتقادی کا مباین ہے اور فرض عملی واجب اعتقادی سے خاص مطلقا کہ ہر فرض عملی واجب اعتقادی ہے ولاعکس اور واجب عملی ہر دوقسم فرض کا مباین اور واجب اعتقادی سے خاص مطلقا ہےکہ ہر فرض عملی واجب اعتقادی ہے ولا عکس ۔
ثم ۱۵اقول : ( پھر میں کہتا ہوں ۔ ت) یہ اس تقدیر پر ہے کہ قسمین عملی بشرط لاہوں کماھو المتعارف عند علمائنا ( جیسا کہ یہی ہمارے علماء کے ہاں متعارف ہے ۔ ت) ولابشرط لیں تو فرض عملی فرض اعتقادی سے عام مطلقا اور واجب اعتقادی سے عام من وجہ ہوگا کہ فرض اعتقادی فرض عملی ہے نہ واجب اعتقادی اور واجب عملی بالمعنی الاول واجب اعتقادی ہے نہ فرض عملی اور فرض عملی بالمعنی الاول میں دونوں مجتمع ہیں ۔ اور واجب عملی بالمعنی الثانی واجب اعتقادی کا مساوی کہ اعتقاد وجوب موجب وجوب عمل اور ایجاب عمل بے اعتقاد وجوب نامحتمل کلام آتی میں معنی اولی
فـــــ : فرض واجب اعتقادی وعملی چاروں کی نسبتیں ۔
ہی مراد ہونگے کہ وہی شائع بین العلماء ہیں ۔ وبالله التوفیق۔
وضو میں فــــ۱ فرض اعتقادی یعنی ارکان اعتقادیہ
فــان فــــ۲ الفرض یطلق علی الرکن وعلی الشرط کما فی الدر وعلی ما لیس برکن ولاشرط کترتیب ما شرع غیر مکرر فی رکعۃ کترتیب القعدۃ علی السجود والسجود علی الرکوع والرکوع علی القراء ۃ والقراء ۃ علی القیام فانھا فروض لیست بارکان ولا شروط کمافی الشامی عن الغنیۃ۔
۱۶اقــول : وکانہ فــــ۳ نظر الی انھا برزخ بین الدخول والخروج والاففیہ کلام لمن تأمل فلیتأمل۔
(اس لئے کہ فرض کا اطلاق رکن پر بھی ہوتا ہے اور شرط پر بھی جیسا کہ در مختار میں ہے ۔ اور اس پر بھی جونہ رکن ہے نہ شرط ہے جیسے ان امور میں ترتیب جو ایك رکعت میں بلا تکرار مشروع ہوئے ہیں جیسے قعدہ کی ترتیب سجدہ پر سجدہ کی رکوع پر رکوع کی قرأت پر قرأت کی قیام پر ۔ کہ یہ سب ترتیبیں فرض ہیں نہ رکن ہیں نہ شرط۔ جیسا کہ شامی میں غنیہ سے نقل ہے۔ اقول شاید انھوں نے یہ دیکھا کہ یہ ترتیبیں تو رکن کی طرح داخل نماز ہیں نہ شرط کی طرح خارج نماز ہیں بلکہ دونوں کے درمیان برزخ ہیں ۔ ورنہ اس میں صاحب تأمل کے لئے کلام کی گنجائش ہے ۔ تو اس میں تأمل کرنا چاہیے۔ (ت)
فــــــ ۱ : وضو میں چار فرض اعتقادی ہیں ۔
فــــــ۲ : الفرض یطلق علی الرکن والشرط وما سوا ھما ۔
فــــــ۳ : تطفل علی الغنیۃ و ردالمحتار
وضو میں فــــ۱ فرض اعتقادی یعنی ارکان اعتقادیہ
فــان فــــ۲ الفرض یطلق علی الرکن وعلی الشرط کما فی الدر وعلی ما لیس برکن ولاشرط کترتیب ما شرع غیر مکرر فی رکعۃ کترتیب القعدۃ علی السجود والسجود علی الرکوع والرکوع علی القراء ۃ والقراء ۃ علی القیام فانھا فروض لیست بارکان ولا شروط کمافی الشامی عن الغنیۃ۔
۱۶اقــول : وکانہ فــــ۳ نظر الی انھا برزخ بین الدخول والخروج والاففیہ کلام لمن تأمل فلیتأمل۔
(اس لئے کہ فرض کا اطلاق رکن پر بھی ہوتا ہے اور شرط پر بھی جیسا کہ در مختار میں ہے ۔ اور اس پر بھی جونہ رکن ہے نہ شرط ہے جیسے ان امور میں ترتیب جو ایك رکعت میں بلا تکرار مشروع ہوئے ہیں جیسے قعدہ کی ترتیب سجدہ پر سجدہ کی رکوع پر رکوع کی قرأت پر قرأت کی قیام پر ۔ کہ یہ سب ترتیبیں فرض ہیں نہ رکن ہیں نہ شرط۔ جیسا کہ شامی میں غنیہ سے نقل ہے۔ اقول شاید انھوں نے یہ دیکھا کہ یہ ترتیبیں تو رکن کی طرح داخل نماز ہیں نہ شرط کی طرح خارج نماز ہیں بلکہ دونوں کے درمیان برزخ ہیں ۔ ورنہ اس میں صاحب تأمل کے لئے کلام کی گنجائش ہے ۔ تو اس میں تأمل کرنا چاہیے۔ (ت)
فــــــ ۱ : وضو میں چار فرض اعتقادی ہیں ۔
فــــــ۲ : الفرض یطلق علی الرکن والشرط وما سوا ھما ۔
فــــــ۳ : تطفل علی الغنیۃ و ردالمحتار
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ قد یطلق الفرض ما لیس برکن ولا شرط داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ قد یطلق الفرض ما لیس برکن ولا شرط داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ قد یطلق الفرض ما لیس برکن ولا شرط داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۴
چارہیں اول منہ دھونا یعنی علاوہ مستثنیات کے طول میں شروع سطح پیشانی سے نیچے کے دانت جمنے کی جگہ تك اور عرض میں ایك کان سے دوسرے کان تك ۔ اس میں دس استثناء ہیں۔
(۱) آنکھوں کے ڈھیلے (۲) پپوٹوں کی اندرونی سطح کہ ان دونوں مواضح کا دھوناباجماع معتد بہ اصلا فرض کیا مستحب بھی نہیں ۔
وبالغ الامامان عبدالله بن عمروعبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنھم فکف بصرھما۔
دو اماموں حضرت عبد الله بن عمرو اور حضرت عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنھم نے ان کے دھونے میں مبالغہ سے کام لیا تو ان کی بینائی جاتی رہی ۔ (ت)
(۳) آنکھیں خوب فــــ۱ زور سے بند کرنے میں جو حصہ بند ہوجاتا ہے کہ نرم بند کرے تو ظاہر رہتا اتنا حصہ دھلنا مختلف ہی ہے ظاہر الروایہ یہ ہے کہ اس کا دھلنا بھی واجب نہیں یہاں تك خوب آنکھیں بند کرکے وضو کیا وضو ہوجائے گا اور بعض نے کہا نہ ہو ۔ ردالمحتار میں ہے :
لوغمض عینیہ شدیدا لایجوز بحر لکن نقل العلامۃ المقدسی فی شرحہ علی نظم الکنز ان ظاھر الروایۃ الجواز واقرہ فی الشر نبلالیۃ تأمل اھ کلام الشامی۔
۱۷اقول : فـــ۲ رحم الله العلامۃ السید انما عبارۃ البحر ھکذا ذکر فی المجتبی لاتغسل العین بالماء ولا باس بغسل الوجہ مغمضا عینیہ وقال الفقیہ احمد بن ابراھیم ان غمض عینیہ شدیدا لایجوز اھ فمفادہ
اگر آنکھیں زور سے بند کر کے دھوئیں تو وضو نہ ہو گا ۔ بحر ۔ لیکن علامہ مقدسی سے نظم کنز پر اپنی شرح میں نقل کیا ہے کہ ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ وضو ہو جائیگا اور شرنبلالیہ میں اسے برقرار رکھا ہے ۔ تأمل کرو۔ ۱ ھ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔
اقول : علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو بحر کی عبارت اس طرح ہے : مجتبی میں ذکر کیا ہے کہ آنکھ پانی سے نہ دھوئی جائے اور آنکھیں بند کر کے چہرہ دھونے میں حرج نہیں ۔ اور فقیہ احمد بن ابراھیم نے فرمایا کہ ــ اگر آنکھیں زور سے بند کر لیں تو وضو نہ ہو گا ۱ ھ ۔ توعبارت
فـــــ۱ : : مسئلہ : وضو میں آنکھیں زور سے نہ بند کرے مگر وضو ہوجائے گا ۔
فـــــ۲ : ۸معروضۃ علی رد المحتار
(۱) آنکھوں کے ڈھیلے (۲) پپوٹوں کی اندرونی سطح کہ ان دونوں مواضح کا دھوناباجماع معتد بہ اصلا فرض کیا مستحب بھی نہیں ۔
وبالغ الامامان عبدالله بن عمروعبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنھم فکف بصرھما۔
دو اماموں حضرت عبد الله بن عمرو اور حضرت عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنھم نے ان کے دھونے میں مبالغہ سے کام لیا تو ان کی بینائی جاتی رہی ۔ (ت)
(۳) آنکھیں خوب فــــ۱ زور سے بند کرنے میں جو حصہ بند ہوجاتا ہے کہ نرم بند کرے تو ظاہر رہتا اتنا حصہ دھلنا مختلف ہی ہے ظاہر الروایہ یہ ہے کہ اس کا دھلنا بھی واجب نہیں یہاں تك خوب آنکھیں بند کرکے وضو کیا وضو ہوجائے گا اور بعض نے کہا نہ ہو ۔ ردالمحتار میں ہے :
لوغمض عینیہ شدیدا لایجوز بحر لکن نقل العلامۃ المقدسی فی شرحہ علی نظم الکنز ان ظاھر الروایۃ الجواز واقرہ فی الشر نبلالیۃ تأمل اھ کلام الشامی۔
۱۷اقول : فـــ۲ رحم الله العلامۃ السید انما عبارۃ البحر ھکذا ذکر فی المجتبی لاتغسل العین بالماء ولا باس بغسل الوجہ مغمضا عینیہ وقال الفقیہ احمد بن ابراھیم ان غمض عینیہ شدیدا لایجوز اھ فمفادہ
اگر آنکھیں زور سے بند کر کے دھوئیں تو وضو نہ ہو گا ۔ بحر ۔ لیکن علامہ مقدسی سے نظم کنز پر اپنی شرح میں نقل کیا ہے کہ ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ وضو ہو جائیگا اور شرنبلالیہ میں اسے برقرار رکھا ہے ۔ تأمل کرو۔ ۱ ھ شامی کی عبارت ختم ہوئی۔
اقول : علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو بحر کی عبارت اس طرح ہے : مجتبی میں ذکر کیا ہے کہ آنکھ پانی سے نہ دھوئی جائے اور آنکھیں بند کر کے چہرہ دھونے میں حرج نہیں ۔ اور فقیہ احمد بن ابراھیم نے فرمایا کہ ــ اگر آنکھیں زور سے بند کر لیں تو وضو نہ ہو گا ۱ ھ ۔ توعبارت
فـــــ۱ : : مسئلہ : وضو میں آنکھیں زور سے نہ بند کرے مگر وضو ہوجائے گا ۔
فـــــ۲ : ۸معروضۃ علی رد المحتار
حوالہ / References
کتاب الطہار ۃ مطلب فی معنی الاشتقاق و نسمیہ الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
البحرالرائق کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
البحرالرائق کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
ایضا لیس الا ان المذھب الجواز وعدمہ قول احمد بن ابرھیم فلیتنبہ۔
بحر کا مفاد بھی یہی ہے کہ اس صورت میں وضو ہو جانا ہی مذہب ہے اور نہ ہونا احمد بن ابراہیم کا قول ہے ۔ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے (ت)
(۴) دونوں لب کہ بعض نے کہا وہ تابع دہن ہیں اور وضو میں دہن کا دھونا صرف سنت ہے بحرالرائق میں ہے :
اما الشفۃ فقیل تبع للفم
مگر ہونٹ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ منہ کے تابع ہے۔ (ت)
(۵ ۶ ۷)ابروؤں اور مونچھوں اور اور بچی کے نیچے کی کھال کہ بعض نے کہا کہ اگرچہ بال چھدرے ہوں کھال نظر آتی ہو اس کا دھونا ضرور نہیں ۔ درمختار میں ہے :
فی البرھان یجب غسل بشرۃ لم یسترھا الشعر کحاجب وشارب وعنفقۃ فی المختار۔
برہان میں ہے کہ قول مختار پر اس جلد کا دھونا ضروری ہے جو بالوں مثلا ابرو مونچھ بچی سے چھپی ہوئی نہ ہو ۔ (ت)
(۸) گھنی داڑھی کے نیچے کی کھال کہ اس کا دھونا اصلا ضرور نہیں : (۹) داڑھی مطلقا کہ اس کے باب میں نو قول ہیں :
فقیل یفترض مسحہ اوغسلہ کل منھما کلا اوثلثا او ربعا اولما یلاقی البشرۃ فقط اولا شیئ کما فی ردالمحتار۔
کہا گیا کہ پوری داڑھی یا تہائی یا چوتھائی یا صرف جلد سے متصل حصہ کا مسح یا دھونا فرض ہے اور نواں قول یہ کہ کسی حصہ کا مسح دھونا کچھ بھی فرض نہیں جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
(۱۰)کنپٹیاں کہ جب داڑھی کے بال ہوں تو امام ابو یوسف سے ایك روایت آئی کہ ان کا دھونا ضرور نہیں ۔ درمختار میں ہے :
یجب غسل مابین العذار والاذن
رخسار اور کان کے درمیان والے حصے کو دھونا
بحر کا مفاد بھی یہی ہے کہ اس صورت میں وضو ہو جانا ہی مذہب ہے اور نہ ہونا احمد بن ابراہیم کا قول ہے ۔ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے (ت)
(۴) دونوں لب کہ بعض نے کہا وہ تابع دہن ہیں اور وضو میں دہن کا دھونا صرف سنت ہے بحرالرائق میں ہے :
اما الشفۃ فقیل تبع للفم
مگر ہونٹ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ منہ کے تابع ہے۔ (ت)
(۵ ۶ ۷)ابروؤں اور مونچھوں اور اور بچی کے نیچے کی کھال کہ بعض نے کہا کہ اگرچہ بال چھدرے ہوں کھال نظر آتی ہو اس کا دھونا ضرور نہیں ۔ درمختار میں ہے :
فی البرھان یجب غسل بشرۃ لم یسترھا الشعر کحاجب وشارب وعنفقۃ فی المختار۔
برہان میں ہے کہ قول مختار پر اس جلد کا دھونا ضروری ہے جو بالوں مثلا ابرو مونچھ بچی سے چھپی ہوئی نہ ہو ۔ (ت)
(۸) گھنی داڑھی کے نیچے کی کھال کہ اس کا دھونا اصلا ضرور نہیں : (۹) داڑھی مطلقا کہ اس کے باب میں نو قول ہیں :
فقیل یفترض مسحہ اوغسلہ کل منھما کلا اوثلثا او ربعا اولما یلاقی البشرۃ فقط اولا شیئ کما فی ردالمحتار۔
کہا گیا کہ پوری داڑھی یا تہائی یا چوتھائی یا صرف جلد سے متصل حصہ کا مسح یا دھونا فرض ہے اور نواں قول یہ کہ کسی حصہ کا مسح دھونا کچھ بھی فرض نہیں جیسا کہ ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
(۱۰)کنپٹیاں کہ جب داڑھی کے بال ہوں تو امام ابو یوسف سے ایك روایت آئی کہ ان کا دھونا ضرور نہیں ۔ درمختار میں ہے :
یجب غسل مابین العذار والاذن
رخسار اور کان کے درمیان والے حصے کو دھونا
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸
بہ یفتی۔
ضروری ہے اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے :
قال فی البدائع وعن ابی یوسف عدمہ وظاھرہ ان مذھبہ بخلافہ بحر والخلاف فی الملتحی اما المرأ ۃ والامرد والکوسج فیفترض الغسل اتفاقا۔
بدائع میں کہا کہ امام ابو یوسف سے ایك روایت یہ ہے کہ اس حصہ کا دھونا ضروری نہیں ۔ اس عبارت بدائع کا ظاہر یہ ہے کہ امام ابو یوسف کا مذہب اس کے بر خلاف ہے ( بحر)اور یہ اختلاف داڑھی والے سے متعلق ہے ۔ عورت کم عمر بے ریش اور وہ سن رسیدہ جسے داڑھی آتی ہی نہیں ان سب پر اس حصہ کو دھونا بالاتفاق فرض ہے۔ (ت)
تنبیہ : اس روایت پر خلاف امام ابو یوسف اگرچہ اس صورت سے خاص ہے کہ وہاں داڑھی کے بال ہوں مگر یہ مراد نہیں کہ خاص اس حصہ بدن پر بال ہوں۔ حتی یدخل فی بشرۃ ماتحت اللحیۃ کماظن۔ (حتی کہ یہ اس جلد کے شمارمیں آجائے جو داڑھی کے نیچے ہوتی ہے جیسا کہ بعض کو گمان ہوا ت )بلکہ داڑھی کا بالائی حصہ جو کانوں کے محاذی ہوتا ہے جسے عربی میں عذار کہتے ہیں اس حصے اور کان کے بیچ میں جلد کی ایك صاف سطح ہوتی ہے جس پر بال نہیں نکلتے۔ یہاں اس سطح خالی میں خلاف ہے کہ عذار والے کیلئے اس روایت پر اس کا دھونا ضروری نہیں اور ظاہر الروایۃ ومذہب معتمد میں مطلقا فرض ہے۔ امام اجل ابو البرکات عبدالله نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں :
البیاض الذی بین العذاروشحمۃ الاذن من الوجہ حتی یجب غسلہ عندھما خلافالا بی یوسف لان البشرۃ التی ینبت
جو سپیدی رخسار اور کان کی لو کے مابین ہوتی ہے وہ چہرے میں شامل ہے اسی لئے طرفین کے نزدیك اسے دھونا ضروری ہے اس میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ان کی دلیل
ضروری ہے اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
رد المحتار میں ہے :
قال فی البدائع وعن ابی یوسف عدمہ وظاھرہ ان مذھبہ بخلافہ بحر والخلاف فی الملتحی اما المرأ ۃ والامرد والکوسج فیفترض الغسل اتفاقا۔
بدائع میں کہا کہ امام ابو یوسف سے ایك روایت یہ ہے کہ اس حصہ کا دھونا ضروری نہیں ۔ اس عبارت بدائع کا ظاہر یہ ہے کہ امام ابو یوسف کا مذہب اس کے بر خلاف ہے ( بحر)اور یہ اختلاف داڑھی والے سے متعلق ہے ۔ عورت کم عمر بے ریش اور وہ سن رسیدہ جسے داڑھی آتی ہی نہیں ان سب پر اس حصہ کو دھونا بالاتفاق فرض ہے۔ (ت)
تنبیہ : اس روایت پر خلاف امام ابو یوسف اگرچہ اس صورت سے خاص ہے کہ وہاں داڑھی کے بال ہوں مگر یہ مراد نہیں کہ خاص اس حصہ بدن پر بال ہوں۔ حتی یدخل فی بشرۃ ماتحت اللحیۃ کماظن۔ (حتی کہ یہ اس جلد کے شمارمیں آجائے جو داڑھی کے نیچے ہوتی ہے جیسا کہ بعض کو گمان ہوا ت )بلکہ داڑھی کا بالائی حصہ جو کانوں کے محاذی ہوتا ہے جسے عربی میں عذار کہتے ہیں اس حصے اور کان کے بیچ میں جلد کی ایك صاف سطح ہوتی ہے جس پر بال نہیں نکلتے۔ یہاں اس سطح خالی میں خلاف ہے کہ عذار والے کیلئے اس روایت پر اس کا دھونا ضروری نہیں اور ظاہر الروایۃ ومذہب معتمد میں مطلقا فرض ہے۔ امام اجل ابو البرکات عبدالله نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں :
البیاض الذی بین العذاروشحمۃ الاذن من الوجہ حتی یجب غسلہ عندھما خلافالا بی یوسف لان البشرۃ التی ینبت
جو سپیدی رخسار اور کان کی لو کے مابین ہوتی ہے وہ چہرے میں شامل ہے اسی لئے طرفین کے نزدیك اسے دھونا ضروری ہے اس میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ان کی دلیل
حوالہ / References
الدر المحتار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی معنی الاشتقاق الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی معنی الاشتقاق الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
علیھا الشعر لایجب ایصال الماء الیھا فما ھوا بعد اولی وقالا انما لم یجب ثم لانہ استتر بالشعر ولا شعرھنا فبقی علی ماکان اھ۔
یہ ہے کہ وہ جلد جس پر بال اگے ہوئے ہیں اس تك پانی پہنچا نا ضروری نہیں تو جو حصہ اس سے دور ہے اس تك پہنچا بدرجہ اولی ضروری نہ ہوگا۔ اورطرفین کہتے ہیں کہ وہاں اس لئے ضروری نہ ہو اکہ وہ جلد بالوں سے چھپی ہوئی ہے اور یہاں بال نہیں ہیں تو اس کا حکم وہی رہا جو پہلے تھا کہ دھونا ضروری ہے اھ ۔ (ت)
اور امام دارالہجرہ سیدنا امام مالك رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہوا کہ ان کا دھونا مطلقا ضرور نہیں میزان الشریعہ الکبری للعارف الربانی سیدی عبدالوھاب الشعر انی میں ہے :
قول الائمۃ الثلثۃ ان البیاض الذی بین الشعرا لاذن واللحیۃ من الوجہ مع قول مالك وابی یوسف انہ لیس من الوجہ فلایجب غسلہ مع الوجہ فی الوضوء ۔
تینوں ائمہ کا قول یہ ہے کہ جو سپیدی کان او ر داڑھی کے درمیان ہے وہ چہرے میں شامل ہے اور امام مالك و امام ابویوسف کا قول یہ ہے کہ وہ چہرے میں نہیں ہے تو وضو میں اسے دھونا واجب نہیں۔ (ت)
اسی طرح رحمۃ الامہ میں اختلاف الامہ میں ہے :
۱۸اقول : اما ابو فـــــ یوسف فقد علمت ان قولہ کقول الجمھور والروایۃنادرۃ عنہ ایضا مفصلۃ لامرسلۃ واھل البیت ادری بما فی البیت واما مالك فالذی رأیتہ من کتب مذھبہ فی شرح
اقول : امام ابو یوسف سے متعلق تو واضح ہوچکا کہ ان کا قول ۔ قول جمہور کے مطابق ہے ۔ اور ان سے جو روایت نادرہ آئی ہے اس میں بھی تفصیل ہے اطلاق نہیں اور اہل خانہ کو اشیائے خانہ کا زیادہ علم ہوتا ہے ۔ اب رہا امام مالك کا قول تو ان کے مذہب کی کتابوں میں سے ابن ترکی کی شرح
فـــــ : ۹تطفل علی الامام الشعرانی
یہ ہے کہ وہ جلد جس پر بال اگے ہوئے ہیں اس تك پانی پہنچا نا ضروری نہیں تو جو حصہ اس سے دور ہے اس تك پہنچا بدرجہ اولی ضروری نہ ہوگا۔ اورطرفین کہتے ہیں کہ وہاں اس لئے ضروری نہ ہو اکہ وہ جلد بالوں سے چھپی ہوئی ہے اور یہاں بال نہیں ہیں تو اس کا حکم وہی رہا جو پہلے تھا کہ دھونا ضروری ہے اھ ۔ (ت)
اور امام دارالہجرہ سیدنا امام مالك رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہوا کہ ان کا دھونا مطلقا ضرور نہیں میزان الشریعہ الکبری للعارف الربانی سیدی عبدالوھاب الشعر انی میں ہے :
قول الائمۃ الثلثۃ ان البیاض الذی بین الشعرا لاذن واللحیۃ من الوجہ مع قول مالك وابی یوسف انہ لیس من الوجہ فلایجب غسلہ مع الوجہ فی الوضوء ۔
تینوں ائمہ کا قول یہ ہے کہ جو سپیدی کان او ر داڑھی کے درمیان ہے وہ چہرے میں شامل ہے اور امام مالك و امام ابویوسف کا قول یہ ہے کہ وہ چہرے میں نہیں ہے تو وضو میں اسے دھونا واجب نہیں۔ (ت)
اسی طرح رحمۃ الامہ میں اختلاف الامہ میں ہے :
۱۸اقول : اما ابو فـــــ یوسف فقد علمت ان قولہ کقول الجمھور والروایۃنادرۃ عنہ ایضا مفصلۃ لامرسلۃ واھل البیت ادری بما فی البیت واما مالك فالذی رأیتہ من کتب مذھبہ فی شرح
اقول : امام ابو یوسف سے متعلق تو واضح ہوچکا کہ ان کا قول ۔ قول جمہور کے مطابق ہے ۔ اور ان سے جو روایت نادرہ آئی ہے اس میں بھی تفصیل ہے اطلاق نہیں اور اہل خانہ کو اشیائے خانہ کا زیادہ علم ہوتا ہے ۔ اب رہا امام مالك کا قول تو ان کے مذہب کی کتابوں میں سے ابن ترکی کی شرح
فـــــ : ۹تطفل علی الامام الشعرانی
حوالہ / References
الکافی شرح الوافی
میزان الشریعہ الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت مصر ۱ / ۱۵۰
میزان الشریعہ الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت مصر ۱ / ۱۵۰
المقدمۃ العشما ویۃ لابن ترکی ان الوجہ حدہ طولا من منابت شعرالراس المعتاد الی اخرالذقن وحدہ عرضا من الاذن الی الاذن اھ وفی حاشیۃ للسفطی مابین العذارین والاذن وھو البیاض الذی تحت الوتد (ای وتد الاذن) اوالمسامت لہ یجب غسلہ لانہ من الوجہ اھ فالله تعالی اعلم۔
مقدمہ عشماویہ میں جو حکم میں نے دیکھا وہ یہ ہے کہ طول میں چہرے کی حد عا دۃ سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے آخری حصہ تك ہے اور عرض میں اس کی حد ایك کان سے دوسرے کان تك ہے اھ ۔ اس شرح کے حاشیہ سفطی میں ہے کہ جو حصہ دونوں رخساروں او رکان کے درمیان ہے یعنی وہ سپیدی جو جان کی ابھری ہوئی لو کے نیچے یا اس کی سمت مقابل میں ہوتی ہے اسے دھونا واجب ہے اس لئے کہ وہ چہرے میں شامل ہے اھ ۔ تو خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
تنبیہ : یہاں ایك ا ستثنائے عام اور بھی ہے کہ فر ض دوم کے استثنا ئے ثانی میں مذکور ہوگا
دوم : دونوں ہاتھ ناخنوں سے کہنیوں تك دھونا اس میں تین استثناء ہیں
(۱) خود کہنیاں دھونا امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ضرور نہیں۔
(۲) جس فــــچیز کی آدمی کو عموما یا خصوصا ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کے ملاحظہ واحتیاط میں حرج ہے اس کا ناخنوں کے اندر یا اوپر یا اور کہیں لگا رہ جانا اگر چہ جرم دار ہو اگر چہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچ سکے جیسے پکانے گوندھنے والوں کے لئے آٹا رنگریز کے لئے رنگ کا جرم عورات کے لئے مہندی کا جرم کاتب کے لئے روشنائی مزدور کے لئے گارا مٹی عام لوگو ں کے لئے کوئے یا پلك میں سرمہ کا جرم بد ن کا میل مٹی غبار مکھی مچھر کی بیٹ وغیرہا کہ ان کا رہ جانا فر ض اعتقادی کی ادا کو مانع نہیں ۔ در مختار میں ہے :
لایمنع الطہارۃ خر ء ذباب وبرغوث
طہارت سے مانع نہیں مکھی اور پسو کی بیٹ جس کے
فـــ : مسئلہ : کن چیزوں کا بدن پر لگارہ جانا وضو و غسل کا مانع نہیں
مقدمہ عشماویہ میں جو حکم میں نے دیکھا وہ یہ ہے کہ طول میں چہرے کی حد عا دۃ سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے آخری حصہ تك ہے اور عرض میں اس کی حد ایك کان سے دوسرے کان تك ہے اھ ۔ اس شرح کے حاشیہ سفطی میں ہے کہ جو حصہ دونوں رخساروں او رکان کے درمیان ہے یعنی وہ سپیدی جو جان کی ابھری ہوئی لو کے نیچے یا اس کی سمت مقابل میں ہوتی ہے اسے دھونا واجب ہے اس لئے کہ وہ چہرے میں شامل ہے اھ ۔ تو خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
تنبیہ : یہاں ایك ا ستثنائے عام اور بھی ہے کہ فر ض دوم کے استثنا ئے ثانی میں مذکور ہوگا
دوم : دونوں ہاتھ ناخنوں سے کہنیوں تك دھونا اس میں تین استثناء ہیں
(۱) خود کہنیاں دھونا امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ضرور نہیں۔
(۲) جس فــــچیز کی آدمی کو عموما یا خصوصا ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کے ملاحظہ واحتیاط میں حرج ہے اس کا ناخنوں کے اندر یا اوپر یا اور کہیں لگا رہ جانا اگر چہ جرم دار ہو اگر چہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچ سکے جیسے پکانے گوندھنے والوں کے لئے آٹا رنگریز کے لئے رنگ کا جرم عورات کے لئے مہندی کا جرم کاتب کے لئے روشنائی مزدور کے لئے گارا مٹی عام لوگو ں کے لئے کوئے یا پلك میں سرمہ کا جرم بد ن کا میل مٹی غبار مکھی مچھر کی بیٹ وغیرہا کہ ان کا رہ جانا فر ض اعتقادی کی ادا کو مانع نہیں ۔ در مختار میں ہے :
لایمنع الطہارۃ خر ء ذباب وبرغوث
طہارت سے مانع نہیں مکھی اور پسو کی بیٹ جس کے
فـــ : مسئلہ : کن چیزوں کا بدن پر لگارہ جانا وضو و غسل کا مانع نہیں
حوالہ / References
شرح المقدمۃ العشماویۃ لابن ترکی
حاشیہ شرح المقدمۃ العشماویہ للسفطی
حاشیہ شرح المقدمۃ العشماویہ للسفطی
لم یصل الماء تحتہ وحناء فــــ۱ ولو جرمہ بہ یفتی ودرن ودھن ودسومۃ وتراب وطین ولو فی ظفر مطلقا ای قرویا اومدنیا فی الاصح بخلاف نحوعجین ولایمنع ماعلی ظفر صباغ۔
نیچے پانی نہ پہنچا اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو اسی پر فتوی ہے اورمیل تیل چکنائی مٹی گارا اگر چہ ناخن میں ہو ۔ قول اصح پر مطلقا یعنی دیہاتی ہو یا شہری بخلاف گندھے ہوئے آٹے کے اور رنگر یز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
لکن فی النھر لوفی اظفارہ عجین فالفتوی انہ مغتفر اھ ۔
ورأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار علی قولہ وحناء ولوجرمہ بہ یفتی ۱۹اقول : وبہ یظھر بحکم بعض اجزاء فـــــ کحل تخرج فی النوم وتلتصق ببعض الجفون اوتستقر فی بعض الماقی و ربما تمر
لیکن النہر الفائق میں ہے کہ اگر ناخنوں کے اندر خمیر رہ گیا ہو تو فتوی اس پر ہے کہ وہ معاف ہے اھ۔
میں نے دیکھا کہ رد المحتار پر جو حواشی میں نے لکھے ہیں ان میں درمختار کی عبارت اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو اسی پر فتوی ہے پر میں نے یہ لکھا ہے اقول اس سے سرمہ کے ان ریزوں کا حکم ظاہر ہوجاتا ہے جو سوتے وقت نکل کر پلك میں چپك جاتے ہیں یا آنکھ کے کوئے میں بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی وضووغسل میں ان
فـــــ۱ : مسئلہ : عورت کے ہاتھ پاؤں پر مہندی کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو و غسل ہوجائے گا ہاں جب اطلاع ہو چھڑا کر وہاں پانی بہائے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : سرمہ آنکھ کے کوئے یا پلك میں رہ گیااور اطلاع نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں اور بعد نماز کوئے میں محسوس ہوا تو اصلاباك نہیں۔
نیچے پانی نہ پہنچا اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو اسی پر فتوی ہے اورمیل تیل چکنائی مٹی گارا اگر چہ ناخن میں ہو ۔ قول اصح پر مطلقا یعنی دیہاتی ہو یا شہری بخلاف گندھے ہوئے آٹے کے اور رنگر یز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں۔
ردالمحتار میں ہے :
لکن فی النھر لوفی اظفارہ عجین فالفتوی انہ مغتفر اھ ۔
ورأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار علی قولہ وحناء ولوجرمہ بہ یفتی ۱۹اقول : وبہ یظھر بحکم بعض اجزاء فـــــ کحل تخرج فی النوم وتلتصق ببعض الجفون اوتستقر فی بعض الماقی و ربما تمر
لیکن النہر الفائق میں ہے کہ اگر ناخنوں کے اندر خمیر رہ گیا ہو تو فتوی اس پر ہے کہ وہ معاف ہے اھ۔
میں نے دیکھا کہ رد المحتار پر جو حواشی میں نے لکھے ہیں ان میں درمختار کی عبارت اور مہندی اگر چہ جرم دار ہو اسی پر فتوی ہے پر میں نے یہ لکھا ہے اقول اس سے سرمہ کے ان ریزوں کا حکم ظاہر ہوجاتا ہے جو سوتے وقت نکل کر پلك میں چپك جاتے ہیں یا آنکھ کے کوئے میں بیٹھ جاتے ہیں اور کبھی وضووغسل میں ان
فـــــ۱ : مسئلہ : عورت کے ہاتھ پاؤں پر مہندی کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو و غسل ہوجائے گا ہاں جب اطلاع ہو چھڑا کر وہاں پانی بہائے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : سرمہ آنکھ کے کوئے یا پلك میں رہ گیااور اطلاع نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں اور بعد نماز کوئے میں محسوس ہوا تو اصلاباك نہیں۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
الید علیھما فی الوضوء والغسل ولا یعلم بھا اصلا فلا یکفی فیہ التعاھد المعتاد ایضا الا بتیقظ خاص وتفحص مخصوص فذلك کجرم الحناء لابالقیاس بل بدلالۃ النص فان الحاجۃ الی الکحل اشدو اکثر۔ ولیعلم ان ظھورہ فی مؤق بعدما یمرعلی الطہارۃ شیئ من زمان کما یراہ بعد ما صلی مایلتفت الیہ اصلا فانہ ربما ینتقل بعد التطھر من داخل العین الی الماقی والحادث یضاف الی قرب الاوقات اما الملتزق بالجفن فلعل فیہ الوجہ الاول لاغیرھذا کلہ ماظھر لی ولیحرر ۔ والله تعالی اعلم۔
و رأیتنی کتبت فیہ علی قولہ لایمنع ما علی ظفر صباغ ۲۰اقول : ویعلم فـــــ منہ حکم المداد
پر ہاتھ بھی گزرتا ہے اور ان کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ اس کے لئے الگ سے خاص دھیان دئیے اور مخصوص جستجو کئے بغیر معمولی توجہ سے کام نہیں بن سکتا ۔ تو وہ مہندی کے جرم کا حکم رکھتے ہیں قیاس سے نہیں بلکہ دلالۃ النص سے اس لئے کہ سرمہ کی حاجت زیادہ شدت وکثرت سے ہوتی ہے او ریہ بھی واضح رہے کہ طہارت پر کچھ دیر گزرجانے کے بعد اگر سرمہ آنکھ کے کوئے میں نمودار ہوا جیسے اسے نماز پڑھنے کے بعد محسوس ہو تو وہ ذرا بھی قابل التفات نہیں اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ طہارت حاصل کرنے کے بعد آنکھ کے اندر سے کوئے میں آگیا ہو ایسا ہوتا رہتا ہے اور نو پیدا چیز قریب تر وقت کی جانب منسوب ہوتی ہے لیکن جو پلك سے چپکا ہوا ہو تو امید یہ ہے کہ اس میں مناسب وہی پہلی صورت ہے دو سری نہیں ( یعنی وہ وضو کے پہلے سے لگا ہوا ہے او رگرفت میں نہ آیا ) یہ سب وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اس کی تنقیح کرلی جائے والله تعالی اعلم
اور میں نے دیکھا کہ اس میں درمختار کی عبارت “ رنگریز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں “ کے تحت میں نے یہ لکھا ہے اقول : اس سے اس
فـــــ : مسئلۃ : کاتب کے ناخن پر روشنائی کا جرم رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں ۔
و رأیتنی کتبت فیہ علی قولہ لایمنع ما علی ظفر صباغ ۲۰اقول : ویعلم فـــــ منہ حکم المداد
پر ہاتھ بھی گزرتا ہے اور ان کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ اس کے لئے الگ سے خاص دھیان دئیے اور مخصوص جستجو کئے بغیر معمولی توجہ سے کام نہیں بن سکتا ۔ تو وہ مہندی کے جرم کا حکم رکھتے ہیں قیاس سے نہیں بلکہ دلالۃ النص سے اس لئے کہ سرمہ کی حاجت زیادہ شدت وکثرت سے ہوتی ہے او ریہ بھی واضح رہے کہ طہارت پر کچھ دیر گزرجانے کے بعد اگر سرمہ آنکھ کے کوئے میں نمودار ہوا جیسے اسے نماز پڑھنے کے بعد محسوس ہو تو وہ ذرا بھی قابل التفات نہیں اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ طہارت حاصل کرنے کے بعد آنکھ کے اندر سے کوئے میں آگیا ہو ایسا ہوتا رہتا ہے اور نو پیدا چیز قریب تر وقت کی جانب منسوب ہوتی ہے لیکن جو پلك سے چپکا ہوا ہو تو امید یہ ہے کہ اس میں مناسب وہی پہلی صورت ہے دو سری نہیں ( یعنی وہ وضو کے پہلے سے لگا ہوا ہے او رگرفت میں نہ آیا ) یہ سب وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اس کی تنقیح کرلی جائے والله تعالی اعلم
اور میں نے دیکھا کہ اس میں درمختار کی عبارت “ رنگریز کے ناخن پر جو رنگ ہوتا ہے وہ مانع نہیں “ کے تحت میں نے یہ لکھا ہے اقول : اس سے اس
فـــــ : مسئلۃ : کاتب کے ناخن پر روشنائی کا جرم رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو ظاہرا حرج نہیں ۔
حوالہ / References
جدالممتار علی رد المحتار کتاب الطہارت فصل فی الوضوء مکتب المجمع الاسلامی مبارکفورانڈیا ۱ / ۱۱۰
علی ظفرا لکاتب فانہ یضع القلم علی ظفر ابھامہ الیسری ویغمزہ لینفتح فیصیب الظفر جرم من المداد و ربما ینسی فیتو ضأ ویمر الماءفوق المداد ولا یزیلہ فمفاد ماھنا الجواز و رأیت التنصیص بہ فی حاشیۃ العشماویۃ من کتب السادۃ المالکیۃ حیث قال تجب ازالۃ مایمنع من وصول الماء کعجین وشمع وکذلك الحبر المتجسد لغیر کاتبہ ونحوہ کبائعہ وصانعہ واما الکاتب ونحوہ ان راہ بعد ان صلی فلا یضراذا مریدہ علی المداد لعسر الاحتراز منہ لاان راہ قبل الصلاۃ وامکنہ ازالتہ اھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وھو کلہ واضح موافق لقواعدنا الا قولہ اذا مریدہ علی المداد فانما شرطہ لان الدلک
روشنائی کا حکم معلوم ہوجاتا ہے جوکاتب کے ناخن پرلگی ہوتی ہے اس لئے کہ وہ اپنے بائیں انگوٹھے کے ناخن پر قلم رکھ کر دباتا ہے تا کہ اس کا شگاف کشادہ ہوجائے اس طر ح سے روشنائی کا جرم ناخن پر لگ جاتا ہے اوربسا اوقات اسے بھول جاتا ہے اور وضوکرتا ہے تو رو شنائی کے اوپر سے پانی گزاردیتا ہے اسے چھڑاتا نہیں ہے تو یہاں جو حکم ہے اس کا مفادیہ ہے کہ وضو ہوجائے ۔ اور اس کی تصریح میں نے حضرات مالکیہ کی کتابوں میں سے حاشیہ عشماویہ میں دیکھی اس میں لکھا ہے اس چیز کو دور کرنا ضروری ہے جو پانی کے پہنچنے سے مانع ہو جیسے خمیر موم اور ایسے ہی جرم دارروشنائی اس کے لئے جو کاتب اور اس کے مثل جیسے روشنائی بیچنے یا بنانے والا نہ ہو رہاوہ جو کاتب ہے یااس کے مثل ہے تو اس نے اگر نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا تو حرج نہیں بشرطیکہ روشنائی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو اس لئے کہ اس سے بچنا مشکل ہے اور اس صورت میں یہ حکم نہیں جب کہ اس نے نماز سے پہلے دیکھ لیا ہو اور اسے چھڑاسکتا ہواھ ۔ یہ سب واضح اور ہمارے قواعد کے مطابق ہے سوا اس بات کے کہ بشرطیکہ روشنائی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو یہ شرط اس لئے لگائی کہ مالکیہ
روشنائی کا حکم معلوم ہوجاتا ہے جوکاتب کے ناخن پرلگی ہوتی ہے اس لئے کہ وہ اپنے بائیں انگوٹھے کے ناخن پر قلم رکھ کر دباتا ہے تا کہ اس کا شگاف کشادہ ہوجائے اس طر ح سے روشنائی کا جرم ناخن پر لگ جاتا ہے اوربسا اوقات اسے بھول جاتا ہے اور وضوکرتا ہے تو رو شنائی کے اوپر سے پانی گزاردیتا ہے اسے چھڑاتا نہیں ہے تو یہاں جو حکم ہے اس کا مفادیہ ہے کہ وضو ہوجائے ۔ اور اس کی تصریح میں نے حضرات مالکیہ کی کتابوں میں سے حاشیہ عشماویہ میں دیکھی اس میں لکھا ہے اس چیز کو دور کرنا ضروری ہے جو پانی کے پہنچنے سے مانع ہو جیسے خمیر موم اور ایسے ہی جرم دارروشنائی اس کے لئے جو کاتب اور اس کے مثل جیسے روشنائی بیچنے یا بنانے والا نہ ہو رہاوہ جو کاتب ہے یااس کے مثل ہے تو اس نے اگر نماز پڑھ لینے کے بعد دیکھا تو حرج نہیں بشرطیکہ روشنائی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو اس لئے کہ اس سے بچنا مشکل ہے اور اس صورت میں یہ حکم نہیں جب کہ اس نے نماز سے پہلے دیکھ لیا ہو اور اسے چھڑاسکتا ہواھ ۔ یہ سب واضح اور ہمارے قواعد کے مطابق ہے سوا اس بات کے کہ بشرطیکہ روشنائی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو یہ شرط اس لئے لگائی کہ مالکیہ
فرض عندھم واما علی مذھبنا فیقال اذامرالماء علی المداد والذی ذکرہ ھوعین ماکنت بحثتہ فی فتاوی ان الذی لاحرج فی ازالتہ بل فی مقاصدہ اذا اطلع علیہ یجب ازالتہ ولایجوز ترکہ کالحناء والکحل والونیم ونحوھا ولله الحمد ۔
کے نزدیك دلك (ہاتھ پھیرنا) فرض ہے او رہمارے مذہب کی رو سے یوں کہا جائے گا کہ بشرطیکہ پانی روشنائی پر گزر گیا ہو او رجوانہوں نے ذکر کیا بعینہ یہی میں نے اپنے فتا وی میں بحث کی ہے کہ جس کے چھڑانے میں حرج نہیں بلکہ اس کا دھیان رکھنے میں دشواری ہے جب اس پر مطلع ہو تو اسے چھڑانا ضروری ہے اور چھوڑنا جائز نہیں جیسے مہندی سرمہ مکھی کی بیٹ اور ان کے مثل۔ ولله الحمد۔
(۳)مالکیہ کے نزدیك مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی بقدر جائز کہ ان کے مذہب میں دو درم شرعی ہے اور عورت کے لئے سونے چاندی کے مطلقا گہنے چھلے انگوٹھیاں علی بند حسین بند آرسی پہنچیاں کنگن چھن بتانے چوہے دتیا ں ۔ یونہی چوڑیاں اگرچہ کانچ یا لاکھ وغیرہ کی ہوں اور ریشم کے لچھے غرض جتنے گہنے سنگارشرعاجائز ہیں کسی قدرتنگ اور پھنسے ہوئے ہوں کہ پانی بہنے کو روکیں ان کے مذہب میں سب معاف ہیں ہاں لوہے تا نبے رانگ وغیرہا کے مکروہ گہنے یا مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی کہ شرعا جائز نہیں ان میں وہ بھی اجازت نہیں مانتے ۔
۲۱اقــول : وکانھم قاسوہ علی ضفیرۃ المرأۃ حیث لم تؤمر فـــــ بنقضھا فی الغسل عندنا الااذالم یصل الماء الی الاصول وفی الغسل والوضوء جمیعا عندھم الا اذا اشتدت اوکانت مفتولۃ بثلثلۃ خیوط
اقول : شاید اسے ان حضرات نے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی پر قیاس کیا ہے کہ ہمارے نزدیك غسل میں اسے چوٹی کھولنے کاحکم نہیں مگر اس صورت میں جب کہ پانی اس کی جڑوں تك نہ پہنچتاہو اور ان حضرات کے نزدیك غسل اور وضو دونوں میں اسے کھولنے کا حکم نہیں مگر جب کہ سخت بندھی ہو یا دو یا دو سے زیادہ
فـــــ : مسئلہ : عورت کو غسل میں گندھی چوٹی کھولنی ضرور نہیں بالوں کی جڑیں بھیگ جانا کافی ہے ہاں چوٹی اتنی سخت گندھی ہو کہ جڑوں تك پانی نہ پہنچے گا تو کھولنا ضرور ہے ۔
کے نزدیك دلك (ہاتھ پھیرنا) فرض ہے او رہمارے مذہب کی رو سے یوں کہا جائے گا کہ بشرطیکہ پانی روشنائی پر گزر گیا ہو او رجوانہوں نے ذکر کیا بعینہ یہی میں نے اپنے فتا وی میں بحث کی ہے کہ جس کے چھڑانے میں حرج نہیں بلکہ اس کا دھیان رکھنے میں دشواری ہے جب اس پر مطلع ہو تو اسے چھڑانا ضروری ہے اور چھوڑنا جائز نہیں جیسے مہندی سرمہ مکھی کی بیٹ اور ان کے مثل۔ ولله الحمد۔
(۳)مالکیہ کے نزدیك مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی بقدر جائز کہ ان کے مذہب میں دو درم شرعی ہے اور عورت کے لئے سونے چاندی کے مطلقا گہنے چھلے انگوٹھیاں علی بند حسین بند آرسی پہنچیاں کنگن چھن بتانے چوہے دتیا ں ۔ یونہی چوڑیاں اگرچہ کانچ یا لاکھ وغیرہ کی ہوں اور ریشم کے لچھے غرض جتنے گہنے سنگارشرعاجائز ہیں کسی قدرتنگ اور پھنسے ہوئے ہوں کہ پانی بہنے کو روکیں ان کے مذہب میں سب معاف ہیں ہاں لوہے تا نبے رانگ وغیرہا کے مکروہ گہنے یا مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی کہ شرعا جائز نہیں ان میں وہ بھی اجازت نہیں مانتے ۔
۲۱اقــول : وکانھم قاسوہ علی ضفیرۃ المرأۃ حیث لم تؤمر فـــــ بنقضھا فی الغسل عندنا الااذالم یصل الماء الی الاصول وفی الغسل والوضوء جمیعا عندھم الا اذا اشتدت اوکانت مفتولۃ بثلثلۃ خیوط
اقول : شاید اسے ان حضرات نے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی پر قیاس کیا ہے کہ ہمارے نزدیك غسل میں اسے چوٹی کھولنے کاحکم نہیں مگر اس صورت میں جب کہ پانی اس کی جڑوں تك نہ پہنچتاہو اور ان حضرات کے نزدیك غسل اور وضو دونوں میں اسے کھولنے کا حکم نہیں مگر جب کہ سخت بندھی ہو یا دو یا دو سے زیادہ
فـــــ : مسئلہ : عورت کو غسل میں گندھی چوٹی کھولنی ضرور نہیں بالوں کی جڑیں بھیگ جانا کافی ہے ہاں چوٹی اتنی سخت گندھی ہو کہ جڑوں تك پانی نہ پہنچے گا تو کھولنا ضرور ہے ۔
حوالہ / References
جدالممتار علی رد المحتار کتاب الطہارت فصل فی الوضوء مکتب المجمع الاسلامی مبارکپورانڈیا ۱ / ۱۱۱
فاکثر عندھم۔
دھاگوں سے بٹی ہو یہ ان کے یہاں ہے ۔ (ت)
حاشیہ سفطی میں ہے :
لایجب نزع خاتم الفضۃ الماذون فیہ ولا تحریکہ سواء کان واسعا اوضیقا واما المحرم کخاتم الذھب للرجل والمکروہ کخاتم الحدید والنحاس والرصاص فیجب نزعہ اذا کان ضیقا ویکفی تحریکہ ان کان واسعا علی المعتمد وکذا ماتجعلہ الرماۃ فی ایدیھم من عظم ونحوہ ومحل الکراھۃ فی خاتم الحدید مالم یکن لدواء ویدخل فی المأذون فیہ خاتم الذھب بالنسبۃ للمرأۃ والاساور والحدائد التی تلبسھا المرأۃ بمنزلۃ الخاتم علی المعتمد فلا یجب تحریکھا لانھا ماذون لھا فی ذلك کلہ کما فی حاشیۃ الخرشی واعتمدہ شیخنا فی تقریر الخرشی خلافالما فی شرح الاصیلی وزنۃ الخاتم الذی یجوز لبسہ للرجال من الفضۃ درھمان بالدرھم الشرعی اھ ۔
۲۲اقول : وعندنا مادون مثقال لقولہ صلی الله تعالی جس انگوٹھی کے پہننے کی اجازت ہے اسے اتارنایاحرکت دینا واجب نہیں خواہ کشادہ ہو یا تنگ اور جو حرام ہے جیسے مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور جو مکروہ ہے جیسے لوہے تا نبے رانگ کی انگوٹھی اسے اتارنا واجب ہے جب کہ تنگ ہو اور کشادہ ہو تو قول معتمد پر اسے حرکت دینا کافی ہے اسی طر ح تیرا انداز اپنے ہاتھوں میں جوہڈی وغیرہ لگا رکھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے اور لوہے کی انگوٹھی میں کراہت اس وقت ہے جب علاج کے لئے نہ ہو او راجازت یافتہ ہی میں عورت کے لئے سونے کی انگوٹھی داخل ہے اور وہ کنگن اور چھلے بھی جنہیں عورت انگوٹھی کی جگہ پہنتی ہے یہی قول معتمد ہے تو ان سب کو حرکت دینا واجب نہیں کیونکہ عورت کے لیے ان سب کی اجازت ہے جیسا کہ حاشیہ خرشی میں ہے اور اسی پر ہمارے شیخ نے تقریر خرشی میں اعتماد کیا ہے اس کے بر خلاف جو شر ح اصیلی میں ہے اور مرد کے لئے چاندی کی جس انگوٹھی کا پہننا جائز ہے اس کا وزن دودرم شرعی ہے اھ۔
اقول : اور ہمارے نزدیك وہ جو ایك مثقال (ساڑھے چار ماشہ) سے کم ہو اس لئے
دھاگوں سے بٹی ہو یہ ان کے یہاں ہے ۔ (ت)
حاشیہ سفطی میں ہے :
لایجب نزع خاتم الفضۃ الماذون فیہ ولا تحریکہ سواء کان واسعا اوضیقا واما المحرم کخاتم الذھب للرجل والمکروہ کخاتم الحدید والنحاس والرصاص فیجب نزعہ اذا کان ضیقا ویکفی تحریکہ ان کان واسعا علی المعتمد وکذا ماتجعلہ الرماۃ فی ایدیھم من عظم ونحوہ ومحل الکراھۃ فی خاتم الحدید مالم یکن لدواء ویدخل فی المأذون فیہ خاتم الذھب بالنسبۃ للمرأۃ والاساور والحدائد التی تلبسھا المرأۃ بمنزلۃ الخاتم علی المعتمد فلا یجب تحریکھا لانھا ماذون لھا فی ذلك کلہ کما فی حاشیۃ الخرشی واعتمدہ شیخنا فی تقریر الخرشی خلافالما فی شرح الاصیلی وزنۃ الخاتم الذی یجوز لبسہ للرجال من الفضۃ درھمان بالدرھم الشرعی اھ ۔
۲۲اقول : وعندنا مادون مثقال لقولہ صلی الله تعالی جس انگوٹھی کے پہننے کی اجازت ہے اسے اتارنایاحرکت دینا واجب نہیں خواہ کشادہ ہو یا تنگ اور جو حرام ہے جیسے مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی اور جو مکروہ ہے جیسے لوہے تا نبے رانگ کی انگوٹھی اسے اتارنا واجب ہے جب کہ تنگ ہو اور کشادہ ہو تو قول معتمد پر اسے حرکت دینا کافی ہے اسی طر ح تیرا انداز اپنے ہاتھوں میں جوہڈی وغیرہ لگا رکھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے اور لوہے کی انگوٹھی میں کراہت اس وقت ہے جب علاج کے لئے نہ ہو او راجازت یافتہ ہی میں عورت کے لئے سونے کی انگوٹھی داخل ہے اور وہ کنگن اور چھلے بھی جنہیں عورت انگوٹھی کی جگہ پہنتی ہے یہی قول معتمد ہے تو ان سب کو حرکت دینا واجب نہیں کیونکہ عورت کے لیے ان سب کی اجازت ہے جیسا کہ حاشیہ خرشی میں ہے اور اسی پر ہمارے شیخ نے تقریر خرشی میں اعتماد کیا ہے اس کے بر خلاف جو شر ح اصیلی میں ہے اور مرد کے لئے چاندی کی جس انگوٹھی کا پہننا جائز ہے اس کا وزن دودرم شرعی ہے اھ۔
اقول : اور ہمارے نزدیك وہ جو ایك مثقال (ساڑھے چار ماشہ) سے کم ہو اس لئے
حوالہ / References
حاشیہ سفطی علی مقدمہ عشماویہ
علیہ وسلم ولا تتمہ مثقالا ۔ کما بیناہ فی محلہ من فتاونا۔
کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے “ اور اسے پورا ایك مثقال نہ کرو “ جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں اس کے مقام پر بیان کیا ہے ۔ (ت)
سوم : سرکا مسح یعنی اس کے کسی جز کھال یا بال یا نائب شرعی پر نم پہنچ جانا فرض اعتقادی اسی قدر ہے کتاب الانوار لاعمال الابرار امام یوسف ارد بیلی شافعی میں ہے :
الفرض الرابع مسح الرأس بما شاء اما علی البشرۃ ولو قدر ابرۃ اوعلی شعر ولو واحد ان لم یخرج الممسوح من حدہ ۔
چوتھا : فر ض سرکا مسح جس قدر چاہے یا تو جلد پر ہواگر چہ سوئی برابر یا بال پر ہوا گر چہ ایك ہی بال پر بشرطیکہ بال کے جس حصے پر مسح ہو وہ سر کی حد سے باہر نہ ہو ۔ (ت)
قرۃ العین علامہ زین تلمیذ امام ابن حجر مکی شافعی میں ہے :
ولـو شعر ۃ واحدۃ اھ
۲۳اقـول : وعبرت انا بوصول البلل لانہ فــــ الفرض عندنا دون الایصال حتی لواصابہ مطر اجزأہ کما فی الدر المختار وزدت النائب الشرعی لقول الامام احمد بن حنبل رضی الله تعالی عنہ
اگر چہ ایك بال کے کسی حصے پر ہواھ ۔
اقول : میں نے “ نم پہنچ جانا “ کہا اس لئے کہ ہمارے نزدیك یہی فرض ہے پہنچا نا فرض نہیں اگر بارش سے بھیگ گیا تو بھی کافی ہے جیساکہ درمختار میں ہے اور میں نے “ نائب شرعی “ کا اضافہ کیا اس لئے کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہکا قول ہے کہ “ عمامہ پر بھی مسح ہوسکتا ہے
فــــــ : مسئلہ : وضو وغسل میں پانی پہنچنا فر ض ہے اگر چہ اپنے فعل سے نہ ہو مثلاپھوہار بر سی اور چوتھائی سرکو نم پہنچ گئی مسح سرکا فرض اتر گیا۔
کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے “ اور اسے پورا ایك مثقال نہ کرو “ جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں اس کے مقام پر بیان کیا ہے ۔ (ت)
سوم : سرکا مسح یعنی اس کے کسی جز کھال یا بال یا نائب شرعی پر نم پہنچ جانا فرض اعتقادی اسی قدر ہے کتاب الانوار لاعمال الابرار امام یوسف ارد بیلی شافعی میں ہے :
الفرض الرابع مسح الرأس بما شاء اما علی البشرۃ ولو قدر ابرۃ اوعلی شعر ولو واحد ان لم یخرج الممسوح من حدہ ۔
چوتھا : فر ض سرکا مسح جس قدر چاہے یا تو جلد پر ہواگر چہ سوئی برابر یا بال پر ہوا گر چہ ایك ہی بال پر بشرطیکہ بال کے جس حصے پر مسح ہو وہ سر کی حد سے باہر نہ ہو ۔ (ت)
قرۃ العین علامہ زین تلمیذ امام ابن حجر مکی شافعی میں ہے :
ولـو شعر ۃ واحدۃ اھ
۲۳اقـول : وعبرت انا بوصول البلل لانہ فــــ الفرض عندنا دون الایصال حتی لواصابہ مطر اجزأہ کما فی الدر المختار وزدت النائب الشرعی لقول الامام احمد بن حنبل رضی الله تعالی عنہ
اگر چہ ایك بال کے کسی حصے پر ہواھ ۔
اقول : میں نے “ نم پہنچ جانا “ کہا اس لئے کہ ہمارے نزدیك یہی فرض ہے پہنچا نا فرض نہیں اگر بارش سے بھیگ گیا تو بھی کافی ہے جیساکہ درمختار میں ہے اور میں نے “ نائب شرعی “ کا اضافہ کیا اس لئے کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہکا قول ہے کہ “ عمامہ پر بھی مسح ہوسکتا ہے
فــــــ : مسئلہ : وضو وغسل میں پانی پہنچنا فر ض ہے اگر چہ اپنے فعل سے نہ ہو مثلاپھوہار بر سی اور چوتھائی سرکو نم پہنچ گئی مسح سرکا فرض اتر گیا۔
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب اللباس حدیث ۱۷۹۲ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۰۵ ، سنن ابی داؤد باب ماجاء فی خاتم الحدید آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۲۴
الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل فروض الوضوء مطبع جمالیہ مصر۱ / ۲۳
فتح المعین شرح قرۃ العین فروض الوضوء عامر الاسلام پریس کیبرص ص ۱۴
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل فروض الوضوء مطبع جمالیہ مصر۱ / ۲۳
فتح المعین شرح قرۃ العین فروض الوضوء عامر الاسلام پریس کیبرص ص ۱۴
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
علی ما فی میزان الشعرانی حیث قال قول الائمۃالثلثۃ ان المسح علی العمامۃ لایجزیئ مع قول احمد بانہ یجزیئ لکن بشرط ان یکون تحت الحنك منھا شیئ روایۃ واحدۃ وعنہ فی مسح المرأۃ علی قناعھا المستدیر تحت حلقھا روایۃ وھل یشترط ان یکون لبس العمامۃ علی طھرروایتان اھ ۔
قلت : وکلامہ شیخہ الذی صحبہ الامام الشعرانی عشر سنین وقال لم ارہ یغضب فی سفر ولا حضرا عنی محقق عصرہ العلامۃ زین بن ابراھیم بن نجیم المصری رحمھما الله تعالی فی البحر الرائق اتم وانفع حیث قال اما علی العمامۃ فاجمعوا علی عدم جوازہ الا احمد فانہ اجازہ بشرط ان تکون ساترۃ لجمیع الرأس الاماجرت العادۃ بکشفہ وان یکون تحت الحنك منھا شیئ سواء کانت لھا ذؤابۃ اولم تکن وان لا تکون عمامۃ محرمۃ فلا یجوز المسح علی
جیسا کہ میزان امام شعرانی میں یہ لکھا ہے کہ “ تینوں ائمہ کا قول ہے کہ عمامہ پر مسح کافی نہیں جبکہ امام احمد کا قول ہے کہ کافی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس عمامہ کا کچھ حصہ ٹھوڑی کے نیچے بھی ہو ۔ اس بارے میں ان سے یہی ایك روایت ہے اور عورت کا دوپٹہ جو اس کے گلے کے نیچے گھیرے ہوئے ہو اس پر عورت کے مسح سے متعلق ان سے ایك روایت ہے ۔ عمامہ کا طہارت پر پہنے ہونا شرط ہے یا نہیں اس بارے میں دو روا یتیں ہیں۔ “
قلت : امام شعرانی کے شیخ جن کی صحبت میں وہ دس سال تك رہے اور بتایاکہ میں نے انہیں سفر یا حضرمیں کبھی غصہ ہوتے نہ دیکھا یعنی محقق عصر علامہ زین بن ابراہیم بن نجیم مصری رحمہم اللہ تعالی بحر الرائق میں ان کا کلام اس سلسلہ میں زیادہ کامل ونافع ہے وہ فرماتے ہیں اور عمامہ پر مسح کے عدم جواز پر سوا امام احمد کے تمام ائمہ کا اجماع ہے امام احمد نے اسے جائز کہا ہے بشرطیکہ اس سے پورا سر چھپاہوا ہو مگر اس قدر جو عادۃ کھلا رہتا ہے اور ٹھوڑی کے نیچے بھی اس کا کچھ حصہ ہو خواہ اس میں شملہ ہو یا نہ ہو او روہ عمامہ حرام نہ ہو تو غصب کئے ہوئے عمامہ پر مسح جائز نہیں اور عورت اگر مرد کا
قلت : وکلامہ شیخہ الذی صحبہ الامام الشعرانی عشر سنین وقال لم ارہ یغضب فی سفر ولا حضرا عنی محقق عصرہ العلامۃ زین بن ابراھیم بن نجیم المصری رحمھما الله تعالی فی البحر الرائق اتم وانفع حیث قال اما علی العمامۃ فاجمعوا علی عدم جوازہ الا احمد فانہ اجازہ بشرط ان تکون ساترۃ لجمیع الرأس الاماجرت العادۃ بکشفہ وان یکون تحت الحنك منھا شیئ سواء کانت لھا ذؤابۃ اولم تکن وان لا تکون عمامۃ محرمۃ فلا یجوز المسح علی
جیسا کہ میزان امام شعرانی میں یہ لکھا ہے کہ “ تینوں ائمہ کا قول ہے کہ عمامہ پر مسح کافی نہیں جبکہ امام احمد کا قول ہے کہ کافی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس عمامہ کا کچھ حصہ ٹھوڑی کے نیچے بھی ہو ۔ اس بارے میں ان سے یہی ایك روایت ہے اور عورت کا دوپٹہ جو اس کے گلے کے نیچے گھیرے ہوئے ہو اس پر عورت کے مسح سے متعلق ان سے ایك روایت ہے ۔ عمامہ کا طہارت پر پہنے ہونا شرط ہے یا نہیں اس بارے میں دو روا یتیں ہیں۔ “
قلت : امام شعرانی کے شیخ جن کی صحبت میں وہ دس سال تك رہے اور بتایاکہ میں نے انہیں سفر یا حضرمیں کبھی غصہ ہوتے نہ دیکھا یعنی محقق عصر علامہ زین بن ابراہیم بن نجیم مصری رحمہم اللہ تعالی بحر الرائق میں ان کا کلام اس سلسلہ میں زیادہ کامل ونافع ہے وہ فرماتے ہیں اور عمامہ پر مسح کے عدم جواز پر سوا امام احمد کے تمام ائمہ کا اجماع ہے امام احمد نے اسے جائز کہا ہے بشرطیکہ اس سے پورا سر چھپاہوا ہو مگر اس قدر جو عادۃ کھلا رہتا ہے اور ٹھوڑی کے نیچے بھی اس کا کچھ حصہ ہو خواہ اس میں شملہ ہو یا نہ ہو او روہ عمامہ حرام نہ ہو تو غصب کئے ہوئے عمامہ پر مسح جائز نہیں اور عورت اگر مرد کا
حوالہ / References
المیزان الشریعۃ الکبری کتاب الطہارۃ باب الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵
العمامۃ المغصوبۃ ولا یجوز للمرأہ اذا لبست عمامۃ للرجل ان تمسح علیھا والاظھر عند احمد وجوب استیعابھا والتوقیت فیھا کالخف ویبطل بالنزع والانکشاف الا ان یکون یسیرا مثل ان یحك رأسہ اویرفعھا لاجل الوضوء فی اشتراط لبسھا علی طھارۃ روایتان اھ
عمامہ پہنے تو اس کے لئے اس پر مسح جائز نہیں اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اس کا استیعاب ( پورے عمامہ پر مسح) واجب ہے او راس میں مدت مسح کی تجدید موزے کی طر ح ہے اور عمامہ اتارنے یا سر کھل جانے سے مسح باطل ہوجاتا ہے مگر یہ کہ تھوڑا سا کھل جائے مثلا سر کھجلائے یا وضو کے لئے کچھ اٹھائے او راسے طہارت پر پہننے کی شرط ہو نے سے متعلق دو روایتیں ہیں اھ(ت)
چہارم : پاؤں کہ بشرائط شرعیہ موزہ شرعی کے اندر نہ ہو ں انہیں ناخنوں سے پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ تك جو وسط قدم میں چار طر ف جدا گانہ تحریر سے ممتاز ہے جہاں عربی نعال کا دوال باندھا جاتا ہے اور نیچے کروٹو ں او رایڑیوں سب پر پانی پہنچنا فر ض اعتقادی اسی قدر ہے او رموزے بشرائط ہوں تو مدت معلوم تك مسح کا فی اوریہاں بھی ہاتھوں کی طر ح تین استثناء :
(۱)گٹوں سے تحریر مذکور تك کہ اس قدر کا دھونا بروایت ہشام عن محمد ضرور نہیں اور نفس کعبین مثل مرفقین امام زفر کے نزدیك خارج ہیں کافی میں ہے :
وغسل یدیہ مع مرفقیہ ورجلیہ مع کعبیہ خلافالزفر فی الغایتین۔
اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور دو نوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا دونوں حدود (کہنیوں او رٹخنوں) میں امام زفر کا اختلاف ہے ۔ (ت)
بحر میں ہے :
الکعبان العظمان الناشزان من جانبی القدم صححہ فی الہدایۃ وغیرھا وروی ھشام عن محمد
کعبین وہ دو ہڈیاں ہیں جو قدم کی دو نوں جانب ابھری ہوئی ہیں اسی کو ہدایہ وغیرہا میں صحیح کہا اور ہشام نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ
عمامہ پہنے تو اس کے لئے اس پر مسح جائز نہیں اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ امام احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اس کا استیعاب ( پورے عمامہ پر مسح) واجب ہے او راس میں مدت مسح کی تجدید موزے کی طر ح ہے اور عمامہ اتارنے یا سر کھل جانے سے مسح باطل ہوجاتا ہے مگر یہ کہ تھوڑا سا کھل جائے مثلا سر کھجلائے یا وضو کے لئے کچھ اٹھائے او راسے طہارت پر پہننے کی شرط ہو نے سے متعلق دو روایتیں ہیں اھ(ت)
چہارم : پاؤں کہ بشرائط شرعیہ موزہ شرعی کے اندر نہ ہو ں انہیں ناخنوں سے پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ تك جو وسط قدم میں چار طر ف جدا گانہ تحریر سے ممتاز ہے جہاں عربی نعال کا دوال باندھا جاتا ہے اور نیچے کروٹو ں او رایڑیوں سب پر پانی پہنچنا فر ض اعتقادی اسی قدر ہے او رموزے بشرائط ہوں تو مدت معلوم تك مسح کا فی اوریہاں بھی ہاتھوں کی طر ح تین استثناء :
(۱)گٹوں سے تحریر مذکور تك کہ اس قدر کا دھونا بروایت ہشام عن محمد ضرور نہیں اور نفس کعبین مثل مرفقین امام زفر کے نزدیك خارج ہیں کافی میں ہے :
وغسل یدیہ مع مرفقیہ ورجلیہ مع کعبیہ خلافالزفر فی الغایتین۔
اور دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور دو نوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا دونوں حدود (کہنیوں او رٹخنوں) میں امام زفر کا اختلاف ہے ۔ (ت)
بحر میں ہے :
الکعبان العظمان الناشزان من جانبی القدم صححہ فی الہدایۃ وغیرھا وروی ھشام عن محمد
کعبین وہ دو ہڈیاں ہیں جو قدم کی دو نوں جانب ابھری ہوئی ہیں اسی کو ہدایہ وغیرہا میں صحیح کہا اور ہشام نے امام محمد سے روایت کی ہے کہ
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہار ۃ باب مسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۴
الکافی شرح الوافی
الکافی شرح الوافی
انہ فی ظھر القدم معقد الشراك قالو اھو سھو من ھشام الخ۔
کعب پشت قدم میں عربی جوتو ں کے تسمے باندھنے کی جگہ ہے مشائخ نے فرمایا یہ ہشام کا سہو ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قدمنا عن شرح المنیۃ ان غسل المرفقین والکعبین لیس بفرض قطعی بل ھو فرض عملی ۔
ہم شرح منیہ کے حوالے سے سابقا لکھ آئے ہیں کہ کہنیوں اور ٹخنوں کا دھونا فرض قطعی نہیں بلکہ فرض عملی ہے ۔ (ت)
(۲) عورتوں کے لئے چھلے وغیرہ جائز گہنوں کے نیچے کہ مالکیہ عفو کرتے ہیں۔
(۳) میل مکھی مچھر کی بیٹ کہ سارے ہی بدن میں معاف ہیں او رمہندی مٹی گارا جس طر ح ہاتھوں میں گزرا۔
۲۵اقــول : وعبرت بوصول الماء لما عبر ولرعایۃ مافی المیزان اتفاق الائمۃ علی ان غسل القدمین فی الطہارۃ مع القدرۃ فرض اذا لم یکن لابسا للخف مع ماحکی احمد والاوز اعی والثوری وابن جریر من جواز مسح جمیع القدمین وان الانسان عندھم مخیربین الغسل والمسح وقد کان ابن عباس یقول فرض الرجلین المسح لاالغسل اھ
اقول : میں نے “ پانی پہنچنا “ کہا اس کی وجہ گزر چکی ( کہ ہمارے نزدیك پہنچانا فر ض نہیں اور پانی بہہ جانا کے بجائے صرف پہنچنا )اس کی رعایت کے پیش نظر جو میزان میں ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قدرت کی حالت میں وضو کے اندر دونوں پیروں کا دھونا فرض ہے جبکہ موزہ نہ پہنے ہو اس کے ساتھ امام احمد اوزاعی ثوری اور ابن جریر سے حکایت کی گئی ہے کہ پورے دونوں قدموں پر مسح کرنا جائز ہے اور ان کے نزدیك انسا ن کو اختیار ہے کہ دھوئے یا مسح کرلے۔ او رحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے تھے کہ پیروں پر مسح فرض ہے دھونا نہیں اھ۔
کعب پشت قدم میں عربی جوتو ں کے تسمے باندھنے کی جگہ ہے مشائخ نے فرمایا یہ ہشام کا سہو ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قدمنا عن شرح المنیۃ ان غسل المرفقین والکعبین لیس بفرض قطعی بل ھو فرض عملی ۔
ہم شرح منیہ کے حوالے سے سابقا لکھ آئے ہیں کہ کہنیوں اور ٹخنوں کا دھونا فرض قطعی نہیں بلکہ فرض عملی ہے ۔ (ت)
(۲) عورتوں کے لئے چھلے وغیرہ جائز گہنوں کے نیچے کہ مالکیہ عفو کرتے ہیں۔
(۳) میل مکھی مچھر کی بیٹ کہ سارے ہی بدن میں معاف ہیں او رمہندی مٹی گارا جس طر ح ہاتھوں میں گزرا۔
۲۵اقــول : وعبرت بوصول الماء لما عبر ولرعایۃ مافی المیزان اتفاق الائمۃ علی ان غسل القدمین فی الطہارۃ مع القدرۃ فرض اذا لم یکن لابسا للخف مع ماحکی احمد والاوز اعی والثوری وابن جریر من جواز مسح جمیع القدمین وان الانسان عندھم مخیربین الغسل والمسح وقد کان ابن عباس یقول فرض الرجلین المسح لاالغسل اھ
اقول : میں نے “ پانی پہنچنا “ کہا اس کی وجہ گزر چکی ( کہ ہمارے نزدیك پہنچانا فر ض نہیں اور پانی بہہ جانا کے بجائے صرف پہنچنا )اس کی رعایت کے پیش نظر جو میزان میں ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قدرت کی حالت میں وضو کے اندر دونوں پیروں کا دھونا فرض ہے جبکہ موزہ نہ پہنے ہو اس کے ساتھ امام احمد اوزاعی ثوری اور ابن جریر سے حکایت کی گئی ہے کہ پورے دونوں قدموں پر مسح کرنا جائز ہے اور ان کے نزدیك انسا ن کو اختیار ہے کہ دھوئے یا مسح کرلے۔ او رحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے تھے کہ پیروں پر مسح فرض ہے دھونا نہیں اھ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۱۳
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ فی معنی الاجتہاد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۷
المیزان الشریعۃ کتاب الطہارۃ باب الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۲
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ فی معنی الاجتہاد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۷
المیزان الشریعۃ کتاب الطہارۃ باب الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۲
والله اعلم بصحۃ ھذہ الحکایات فقد فـــــ قال فی البحر الرائق ان الاجماع انعقد علی غسلھما ولا اعتبار بخلاف الروافض اھ وکذا قال الامام النووی اجمع علیہ الصحابۃ والفقہاء اھ ۔
۲۶قلت : واخرج سعید بن منصور فی سننہ عن عبدالرحمن بن ابی لیلی قال اجتمع اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی غسل القدمین نعم روی ابن ماجۃ وغیرہ من طریق عبدالله بن محمد بن عقیل مختلف فیہ کثیرا وقال الحافظ فی التقریب صدوق فی حدیثہ لین ویقال تغیر باخرہ عن الربیع رضی الله تعالی عنھا قالت اتانی ابن عباس فسألنی عن ھذا الحدیث تعنی
خدا جانے یہ حکایات کہاں تك صحیح ہیں ۔ البحر الرائق میں تو یہ کہا ہے کہ دونوں پیروں کے دھونے پر اجماع ہوچکا ہے اور روافض کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں اھ اور اسی طر ح امام نووی نے فرمایا ہے کہ اس پر صحابہ اور فقہاء کا اجماع ہے اھ ۔
قلت : (میں نے کہا) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا دونوں پیر دھونے پر اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا اجماع ہے ہاں ابن ماجہ وغیرہ نے بطریق عبدالله بن محمد بن عقیل روایت کیا کہ ان کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا کہ صدوق (راست گو) ہیں ان کی حدیث میں کچھ لین(نرمی) ہے اور کہا جاتا ہے کہ آخر عمر میں ان کے اندر تغیر آگیا تھا حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں میرے یہاں ابن عباس آئے تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں
فـــــ : تحقیق ان غسل الرجلین مجمع علیہ و انہ لم یقل بالمسح الا شرذمۃ قلیلۃ قد رجعو ا عنہ۔
۲۶قلت : واخرج سعید بن منصور فی سننہ عن عبدالرحمن بن ابی لیلی قال اجتمع اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم علی غسل القدمین نعم روی ابن ماجۃ وغیرہ من طریق عبدالله بن محمد بن عقیل مختلف فیہ کثیرا وقال الحافظ فی التقریب صدوق فی حدیثہ لین ویقال تغیر باخرہ عن الربیع رضی الله تعالی عنھا قالت اتانی ابن عباس فسألنی عن ھذا الحدیث تعنی
خدا جانے یہ حکایات کہاں تك صحیح ہیں ۔ البحر الرائق میں تو یہ کہا ہے کہ دونوں پیروں کے دھونے پر اجماع ہوچکا ہے اور روافض کے اختلاف کا کوئی اعتبار نہیں اھ اور اسی طر ح امام نووی نے فرمایا ہے کہ اس پر صحابہ اور فقہاء کا اجماع ہے اھ ۔
قلت : (میں نے کہا) سعید بن منصور نے اپنی سنن میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا دونوں پیر دھونے پر اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا اجماع ہے ہاں ابن ماجہ وغیرہ نے بطریق عبدالله بن محمد بن عقیل روایت کیا کہ ان کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا کہ صدوق (راست گو) ہیں ان کی حدیث میں کچھ لین(نرمی) ہے اور کہا جاتا ہے کہ آخر عمر میں ان کے اندر تغیر آگیا تھا حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کی ہے کہ وہ فرماتی ہیں میرے یہاں ابن عباس آئے تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں
فـــــ : تحقیق ان غسل الرجلین مجمع علیہ و انہ لم یقل بالمسح الا شرذمۃ قلیلۃ قد رجعو ا عنہ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی۱ / ۱۴
الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰
تقریب التہذیب ، حرف العین ذکر من اسمہ عبد اللہ بن محمد عقیل دارا لکتب العلیمہ بیروت ۱ / ۵۳۰
الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰
تقریب التہذیب ، حرف العین ذکر من اسمہ عبد اللہ بن محمد عقیل دارا لکتب العلیمہ بیروت ۱ / ۵۳۰
حدیثھا الذی ذکرت ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم توضأ وغسل رجلیہ فقال ابن عباس رضی الله تعالی عنھما ان الناس ابوا الا الغسل ولا اجد فی کتاب الله الاالمسح ۔
۲۷اقـول : وکفی حجۃ لنا قول نفسہ ان الناس ابوا الاالغسل فابی الحق الا ان یکون مع الجماعۃ وقد ثبت عنہ رضی الله تعالی عنہ ما یعارضہ اخرج سعید بن منصور وابن ابی شیبۃ و عبدالرزاق وعبد بن حمید والطبرانی فی الکبیر و ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و النحاس عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما انہ قرأھا وارجلکم بالنصب یقول رجعت الی الغسل وقـد اخرج ابن جریر عن عطاء قال لم ار احدا یمسح علی القدمین فھذا
پوچھا اس سے اپنی وہ حدیث مراد لے رہی ہیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو کیا اوردونوں قد م مبارك دھوئے تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا لوگ تو دھونے کے سوا کچھ مانتے نہیں میں کتا ب الله میں مسح کے سوا کچھ پاتا نہیں ۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہماری دلیل کے لئے خود انہی کا یہ کہنا کافی ہے کہ “ ان الناس ابواالاالغسل “ لوگو ں کو دھونے کے سوا کچھ منظور نہیں “ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے اس کے معارض بھی ثابت ہے سعید بن منصور ابن ابی شیبہ عبدالرزاق عبد بن حمید معجم کبیر میں طبرانی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور نحاس ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں کہ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے دھونے کی جانب رجوع کرلیا آیت کریمہ میں “ وارجلکم “ نصب کے ساتھ پڑھا اور ابن جریر نے عطا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے کسی کو پیروں پر مسح
۲۷اقـول : وکفی حجۃ لنا قول نفسہ ان الناس ابوا الاالغسل فابی الحق الا ان یکون مع الجماعۃ وقد ثبت عنہ رضی الله تعالی عنہ ما یعارضہ اخرج سعید بن منصور وابن ابی شیبۃ و عبدالرزاق وعبد بن حمید والطبرانی فی الکبیر و ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و النحاس عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما انہ قرأھا وارجلکم بالنصب یقول رجعت الی الغسل وقـد اخرج ابن جریر عن عطاء قال لم ار احدا یمسح علی القدمین فھذا
پوچھا اس سے اپنی وہ حدیث مراد لے رہی ہیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو کیا اوردونوں قد م مبارك دھوئے تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا لوگ تو دھونے کے سوا کچھ مانتے نہیں میں کتا ب الله میں مسح کے سوا کچھ پاتا نہیں ۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہماری دلیل کے لئے خود انہی کا یہ کہنا کافی ہے کہ “ ان الناس ابواالاالغسل “ لوگو ں کو دھونے کے سوا کچھ منظور نہیں “ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے اس کے معارض بھی ثابت ہے سعید بن منصور ابن ابی شیبہ عبدالرزاق عبد بن حمید معجم کبیر میں طبرانی ابن جریر ابن المنذر ابن ابی حاتم اور نحاس ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں کہ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ میں نے دھونے کی جانب رجوع کرلیا آیت کریمہ میں “ وارجلکم “ نصب کے ساتھ پڑھا اور ابن جریر نے عطا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے کسی کو پیروں پر مسح
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارۃ وسننہا باب ماجاء فی غسل القدمین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶
الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹ ، جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۴
جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۵
الدر منثور بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۲۹ ، جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۴
جامع البیان (التفسیر الطبری ) بحوالہ سعید بن منصور تحت الآیہ ۵ / ۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۵
من اخص تلامذۃ ابن عباس یقول ماتسمع فلا جرم رجع ابن عباس عن ھذا کمارجع عن قولہ فی المتعۃ وتلا الایۃ الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم وقال کل فرج سواھما حرام وکذلك ثبت الرجوع عن کل من نقل عنہ المسح وھم شرذمۃ قلیلۃ فلا شك فی استقرارا لاجماع علی الغسل کما قال التابعی الجلیل الکبیر الشان عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی الله تعالی عنھما والله الھادی
کرتے نہ دیکھا یہ حضرت ابن عباس کے مخصوص ترین تلامذہ سے ہو کر یہ بات فرمارہے ہیں تو قطعی بات ہے کہ حضرت ابن عباس قول مسح سے رجوع کر چکے ہیں جیسے متعہ کے بارے میں اپنے قول سے انہوں نے رجوع کرلیا اور آیت کریمہ “الا على ازواجهم او ما ملكت ایمانهم (مگراپنی بیویوں یا اپنی باندیوں پر) تلاوت کی اور فرمایا : ان دو نوں کے سوا ہر فرج حرام ہے اسی طر ح جن سے بھی مسح منقول ہے ان میں ہر ایك سے رجوع ثابت ہے اور وہ محض چند افراد ہیں تو اس میں کوئی شك نہیں کہ دھونے پر اجماع ہوچکا ہے جیسا کہ جلیل الشان تا بعی بزرگ عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا اور خداہی ہدایت دینے والا ہے ۔
فر ض عملی : فــــ۱ ہر مذہب میں جدا ہوتے ہیں ہمارے مذہب صحیح معتمد مفتی بہ پر وضو میں فر ض عملی بمعنی مذکور اعنی ارکان عملیہ کہ یہاں وہی واجب اعتقادی ہیں بارہ۱۲ ہیں جن میں اکثر کا استخراج متامل پر ہمارے بیان سابق سے دشوار نہیں کہ مفتی بہ کی غیر ماخوذ سے تمیز صریح اور اپنے کم علم بھائیوں کی تفہیم کے لئے صاف تصریح بہتر ہے ۔
(۱) دونوں لب حق یہ ہے کہ ان کا دھونا فرض ہے یہاں تك کہ اگر لب فــــــ۲ خوب زور سے بند کرلئے کہ ان کی کچھ تحریر جو عادی طور پر بند کرنے میں کھلی رہتی اب چھپ گئی اور اس پر پانی نہ بہا نہ کلی کی
فــــ ۱ : مسئلہ : وضو میں بارہ۱۲ فرض عملی ہیں۔
فــــ ۲ : مسئلہ : اگر لب خوب زور سے بند کر کے وضو کیا اور کلی نہ کی وضو نہ ہوگا ۔
کرتے نہ دیکھا یہ حضرت ابن عباس کے مخصوص ترین تلامذہ سے ہو کر یہ بات فرمارہے ہیں تو قطعی بات ہے کہ حضرت ابن عباس قول مسح سے رجوع کر چکے ہیں جیسے متعہ کے بارے میں اپنے قول سے انہوں نے رجوع کرلیا اور آیت کریمہ “الا على ازواجهم او ما ملكت ایمانهم (مگراپنی بیویوں یا اپنی باندیوں پر) تلاوت کی اور فرمایا : ان دو نوں کے سوا ہر فرج حرام ہے اسی طر ح جن سے بھی مسح منقول ہے ان میں ہر ایك سے رجوع ثابت ہے اور وہ محض چند افراد ہیں تو اس میں کوئی شك نہیں کہ دھونے پر اجماع ہوچکا ہے جیسا کہ جلیل الشان تا بعی بزرگ عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا اور خداہی ہدایت دینے والا ہے ۔
فر ض عملی : فــــ۱ ہر مذہب میں جدا ہوتے ہیں ہمارے مذہب صحیح معتمد مفتی بہ پر وضو میں فر ض عملی بمعنی مذکور اعنی ارکان عملیہ کہ یہاں وہی واجب اعتقادی ہیں بارہ۱۲ ہیں جن میں اکثر کا استخراج متامل پر ہمارے بیان سابق سے دشوار نہیں کہ مفتی بہ کی غیر ماخوذ سے تمیز صریح اور اپنے کم علم بھائیوں کی تفہیم کے لئے صاف تصریح بہتر ہے ۔
(۱) دونوں لب حق یہ ہے کہ ان کا دھونا فرض ہے یہاں تك کہ اگر لب فــــــ۲ خوب زور سے بند کرلئے کہ ان کی کچھ تحریر جو عادی طور پر بند کرنے میں کھلی رہتی اب چھپ گئی اور اس پر پانی نہ بہا نہ کلی کی
فــــ ۱ : مسئلہ : وضو میں بارہ۱۲ فرض عملی ہیں۔
فــــ ۲ : مسئلہ : اگر لب خوب زور سے بند کر کے وضو کیا اور کلی نہ کی وضو نہ ہوگا ۔
حوالہ / References
الدر منثور بحوالہ ابن عباس تحت الآیہ ۴ / ۲۴ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۴۵۳
وضونہ ہوگا ہاں عادی طور پر خاموش بیٹھنے کی حالت میں لبو ں کا جتنا حصہ باہم مل کر چھپ جاتا ہے وہ دہن کا تا بع ہے کہ وضو میں اس کا دھونا فر ض نہیں درمختار میں ہے۔
یجب غسل مایظھر من الشفۃ عند انضما مھا ۔
لب بند ہونے کے وقت اس کا جو حصہ کھلا رہتا ہے اسے دھونا واجب ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای یفترض کما صححہ فی الخلاصۃ والمراد مایظھر عند انضمامھا الطبیعی لاعند انضمامھا بشدۃ وتکلف اھ ح
یعنی فرض ہے ۔ جیسا کہ خلاصہ میں اسے صحیح کہا اور مراد وہ حصہ ہے جو لب کے طبعی طور پر بند ہونے کے وقت کھلارہتا ہے صرف وہ نہیں جو شدت اور تکلیف سے بند ہونے کے وقت کھلا رہتا ہے ۔ ا ھ حلبی
( ۲ ۳ ۴)بھوؤں فـــــ۱ مونچھوں بچی کے نیچے کی کھال جب کہ بال چھدرے ہوں کھال نظر آتی ہو وضو میں دھونا فرض ہے ہاں گھنے ہوں کہ کھال بالکل نہ دکھائی دے تو وضو میں ضرور نہیں غسل میں جب بھی ضرور ہے ۔
(۵) داڑھی فـــــ۲ چھدری ہو تو اس کے نیچے کی کھال دھلنا فرض اور گھنی ہو تو جس قدر بال دائرہ رخ میں داخل ہیں ان سب کا دھونا فرض ہے یہی صحیح و معتمد ہے ہاں جو بال نیچے چھوٹے ہوتے ہیں ان کا مسح سنت ہے اور دھونا مستحب اور نیچے ہونے کے یہ معنی کہ داڑھی کو ہاتھ سے ذقن ( ٹھوڑی) کی طرف دبائیں تو جتنے بال منہ کے دائرہ سے نکل گئے ان کا دھونا ضروری نہیں باقی کا ضرور ہے ہاں خاص جڑیں ان کی بھی دھونی ضرور کہ ان کا دھونا بعینہ کھال کا دھونا ہو گا اور گھنی داڑھی میں اس کا دھونا ساقط ہو چکا ہے ۔ در مختار میں ہے :
فـــــ۱ : مسئلہ : بھویں مونچھیں بچی کے بال چھدرے ہوں تو ان کا اور ان کے نیچے کی کھال سب کا دھونا وضو میں فرض ہے
فـــــ۲ : مسئلہ : کتنی داڑھی کا دھونا وضو میں فر ض ہے کتنی کا مستحب۔
یجب غسل مایظھر من الشفۃ عند انضما مھا ۔
لب بند ہونے کے وقت اس کا جو حصہ کھلا رہتا ہے اسے دھونا واجب ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای یفترض کما صححہ فی الخلاصۃ والمراد مایظھر عند انضمامھا الطبیعی لاعند انضمامھا بشدۃ وتکلف اھ ح
یعنی فرض ہے ۔ جیسا کہ خلاصہ میں اسے صحیح کہا اور مراد وہ حصہ ہے جو لب کے طبعی طور پر بند ہونے کے وقت کھلارہتا ہے صرف وہ نہیں جو شدت اور تکلیف سے بند ہونے کے وقت کھلا رہتا ہے ۔ ا ھ حلبی
( ۲ ۳ ۴)بھوؤں فـــــ۱ مونچھوں بچی کے نیچے کی کھال جب کہ بال چھدرے ہوں کھال نظر آتی ہو وضو میں دھونا فرض ہے ہاں گھنے ہوں کہ کھال بالکل نہ دکھائی دے تو وضو میں ضرور نہیں غسل میں جب بھی ضرور ہے ۔
(۵) داڑھی فـــــ۲ چھدری ہو تو اس کے نیچے کی کھال دھلنا فرض اور گھنی ہو تو جس قدر بال دائرہ رخ میں داخل ہیں ان سب کا دھونا فرض ہے یہی صحیح و معتمد ہے ہاں جو بال نیچے چھوٹے ہوتے ہیں ان کا مسح سنت ہے اور دھونا مستحب اور نیچے ہونے کے یہ معنی کہ داڑھی کو ہاتھ سے ذقن ( ٹھوڑی) کی طرف دبائیں تو جتنے بال منہ کے دائرہ سے نکل گئے ان کا دھونا ضروری نہیں باقی کا ضرور ہے ہاں خاص جڑیں ان کی بھی دھونی ضرور کہ ان کا دھونا بعینہ کھال کا دھونا ہو گا اور گھنی داڑھی میں اس کا دھونا ساقط ہو چکا ہے ۔ در مختار میں ہے :
فـــــ۱ : مسئلہ : بھویں مونچھیں بچی کے بال چھدرے ہوں تو ان کا اور ان کے نیچے کی کھال سب کا دھونا وضو میں فرض ہے
فـــــ۲ : مسئلہ : کتنی داڑھی کا دھونا وضو میں فر ض ہے کتنی کا مستحب۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
غسل جمیع اللحیۃ فرض عملیا علی المذھب الصحیح المفتی بہ المرجوع الیہ بدائع ثم لاخلاف ان المسترسل لایجب غسلہ ولا مسحہ بل یسن وان الحنفیۃ التی تری بشرتھا یجب غسل ماتحتھا نھر ۔
پوری داڑھی کا دھونا فرض عملی ہے ۔ مذہب صحیح مفتی بہ پر جس کی طرف رجوع ہو چکا ہے بدائع ۔ پھر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ داڑھی کے جو بال لٹکے ہوئے ہیں انھیں دھونا ضروری نہیں انکا مسح بھی ضروری نہیں بلکہ مسنون ہے اور اس میں بھی اختلاف نہیں کہ خفیف داڑھی جس کی جلد دکھائی دیتی ہے اس کے نیچے کی جلد دھونا ضروری ہے ۔ نہر (ت)
اسی میں ہے :
لاغسل باطن العینین والانف والفم واصول شعرالحاجبین واللحیۃ والشارب ۔
آنکھ ناك اور دہن کے اندونی حصے اور بھوؤں داڑھی اور مونچھ کے بالوں کی جڑیں دھونا فرض نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ واصول شعرالحاجین یحمل علی مااذا کانا کثیفین اما اذا بدت البشرۃ فیجب کما یاتی لہ قریبا عن البرھان وکذا یقال فی اللحیہ والشارب ونقلہ ح عن عصام الدین شارح الھدایۃ ط
شرح کی عبارت “ بھووں کے بالوں کی جڑیں الخ “ اس صورت پر محمول ہے جب بھووں کے بال گھنے ہوں اور اگر جلد دکھائی دیتی ہو تو جلد دھونا ضروری ہے جیسا کہ آگے شرح ہی میں برہان کے حوالہ سے آ رہا ہے ۔ اسی طرح داڑھی اور مونچھ کے بارے میں بھی کہا جائے گا اور اسے حلبی نے عصام الدین شارح ہدایہ سے نقل کیا ہے ۔ طحطاوی ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قـولہ لاخلاف ای بین اھل المذھب
عبارت نہر “ کوئی اختلاف نہیں “ یعنی اہل مذہب
پوری داڑھی کا دھونا فرض عملی ہے ۔ مذہب صحیح مفتی بہ پر جس کی طرف رجوع ہو چکا ہے بدائع ۔ پھر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ داڑھی کے جو بال لٹکے ہوئے ہیں انھیں دھونا ضروری نہیں انکا مسح بھی ضروری نہیں بلکہ مسنون ہے اور اس میں بھی اختلاف نہیں کہ خفیف داڑھی جس کی جلد دکھائی دیتی ہے اس کے نیچے کی جلد دھونا ضروری ہے ۔ نہر (ت)
اسی میں ہے :
لاغسل باطن العینین والانف والفم واصول شعرالحاجبین واللحیۃ والشارب ۔
آنکھ ناك اور دہن کے اندونی حصے اور بھوؤں داڑھی اور مونچھ کے بالوں کی جڑیں دھونا فرض نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ واصول شعرالحاجین یحمل علی مااذا کانا کثیفین اما اذا بدت البشرۃ فیجب کما یاتی لہ قریبا عن البرھان وکذا یقال فی اللحیہ والشارب ونقلہ ح عن عصام الدین شارح الھدایۃ ط
شرح کی عبارت “ بھووں کے بالوں کی جڑیں الخ “ اس صورت پر محمول ہے جب بھووں کے بال گھنے ہوں اور اگر جلد دکھائی دیتی ہو تو جلد دھونا ضروری ہے جیسا کہ آگے شرح ہی میں برہان کے حوالہ سے آ رہا ہے ۔ اسی طرح داڑھی اور مونچھ کے بارے میں بھی کہا جائے گا اور اسے حلبی نے عصام الدین شارح ہدایہ سے نقل کیا ہے ۔ طحطاوی ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قـولہ لاخلاف ای بین اھل المذھب
عبارت نہر “ کوئی اختلاف نہیں “ یعنی اہل مذہب
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
الدر المختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
الدر المختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
علی جمیع الروایات ط اھ
۲۸اقـــول : فلا ینافی ما قدمنا لثبوت الخلاف من غیرنا۔
کے درمیان تمام روایات پر کوئی اختلاف نہیں طحطاوی ا ھ ۔ (ت)
اقول : تو اس کے منافی نہیں جو پہلے ہم نے ذکر کیا کیونکہ غیر حنفیہ کا اس میں اختلاف موجود ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قولہ المسترسل ای الخارج عن دائرۃ الوجہ وفسرہ ابن حجر فی شرح المنہاج بما لومد من جہۃ نزولہ لخرج عن دائرۃ الوجہ ۔
عبارت نہر “ داڑھی کے لٹکے ہوئے بال “ یعنی وہ جو چہرے کے دائرے سے خارج ہیں اور ابن حجر نے شرح منہاج میں اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ وہ حصہ جسے نیچے کو پھیلایا جائے تو دائرہ رخ سے باہر ہو جائے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قــولــہ بل یسن ای المسح لکونہ الاقرب لمرجع الضمیر وعبارۃ المنیۃ صریحۃ فی ذلك ح
عبارت نہر “ بلکہ مسنون ہے “ یعنی مسح اس لئے کہ ضمیر کا قریب تر مرجع وہی ہے اور منیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے ۔ حلبی ۔ (ت)
(۶) کنپٹیاں فـــــ کان اور رخسار کے بیچ میں جو حصہ ہے اس کا دھونا واجب ہے جتنا حصہ داڑھی اور کان کے بیچ میں ہے وہ مطلقا اور جتنا بالوں کے نیچے ہے اگر بال چھدرے ہوں تو وہ بھی ہاں گھنے ہوں تو اس کا فرض بالوں کی طرف منتقل ہو جائے گا و قد تقدم ما یکفی لافادتہ ( اس کے افادہ کے لئے بقدر کفایت عبارتیں گزر چکی ہیں ۔ (ت)
فــــــ : مسئلہ : وضو میں کنپٹیوں پر بھی پانی بہانا فرض ہے ۔
۲۸اقـــول : فلا ینافی ما قدمنا لثبوت الخلاف من غیرنا۔
کے درمیان تمام روایات پر کوئی اختلاف نہیں طحطاوی ا ھ ۔ (ت)
اقول : تو اس کے منافی نہیں جو پہلے ہم نے ذکر کیا کیونکہ غیر حنفیہ کا اس میں اختلاف موجود ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قولہ المسترسل ای الخارج عن دائرۃ الوجہ وفسرہ ابن حجر فی شرح المنہاج بما لومد من جہۃ نزولہ لخرج عن دائرۃ الوجہ ۔
عبارت نہر “ داڑھی کے لٹکے ہوئے بال “ یعنی وہ جو چہرے کے دائرے سے خارج ہیں اور ابن حجر نے شرح منہاج میں اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ وہ حصہ جسے نیچے کو پھیلایا جائے تو دائرہ رخ سے باہر ہو جائے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قــولــہ بل یسن ای المسح لکونہ الاقرب لمرجع الضمیر وعبارۃ المنیۃ صریحۃ فی ذلك ح
عبارت نہر “ بلکہ مسنون ہے “ یعنی مسح اس لئے کہ ضمیر کا قریب تر مرجع وہی ہے اور منیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے ۔ حلبی ۔ (ت)
(۶) کنپٹیاں فـــــ کان اور رخسار کے بیچ میں جو حصہ ہے اس کا دھونا واجب ہے جتنا حصہ داڑھی اور کان کے بیچ میں ہے وہ مطلقا اور جتنا بالوں کے نیچے ہے اگر بال چھدرے ہوں تو وہ بھی ہاں گھنے ہوں تو اس کا فرض بالوں کی طرف منتقل ہو جائے گا و قد تقدم ما یکفی لافادتہ ( اس کے افادہ کے لئے بقدر کفایت عبارتیں گزر چکی ہیں ۔ (ت)
فــــــ : مسئلہ : وضو میں کنپٹیوں پر بھی پانی بہانا فرض ہے ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۸
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۹
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶
رد المحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۹
(۷) دونوں کہنیاں تمام و کمال ۔ (۸) انگوٹھی فـــــ۱ چھلے وغیرہا جائز ناجائز ہر قسم کے گہنے مرد عورت سب کے لئے جب کہ تنگ ہوں کہ بے اتارے ان کے نیچے پانی نہ بہے گا اتار کر دھونا فرض ہے ورنہ ہلا ہلا کر پانی ڈالنا کہ ان کے نیچے بہہ جائے مطلقا ضرور ہے ۔ در مختار میں ہے :
لو خاتمہ ضیقا نزعہ اوحرکہ وجوبا ۔
اگر انگوٹھی تنگ ہو تو ضروری ہے کہ اسے اتار دے یا حرکت دے ۔ (ت)
(۹) مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جو بال ہیں ( نہ وہ کہ سر فـــــ۲ سے نیچے لٹکے ہیں) ان پر پہنچنا فرض ہے عمامے دوپٹے وغیرہ پر مسح ہرگز کافی نہیں مگر جب کہ کپڑا فـــــ۳ اتنا باریك اور نم اتنی کثیر ہو کہ کپڑے سے پھوٹ کر سر یا بالوں کی مقدار شرعی پر پہنچ جائے ۔ بحر میں ہے :
فـی معراج الدرایۃ لومسحت علی خمارھا و نفذت البلۃ الی رأسھا حتی ابتل قدر الربع منہ یجوز قال مشائخنا اذا کان الخمار جدیدا یجوز لان ثقوب الجدید لم تسد بالاستعمال فتنفذ البلۃ اما اذا لم یکن جدید الا یجوز لانسداد ثقوبہ اھ۔
معراج الدرایہ میں ہے کہ عورت نے اگر دوپٹے پر مسح کیا اور تری نفوذ کر کے سر تك پہنچی یہاں تك کہ سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیا تو جائز ہے ۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں جب دو پٹہ نیا ہو تو جائز ہے اس لئے کہ نئے کپڑے کے سوارخ استعمال کی وجہ سے بند نہ ہوئے ہوں گے تو تری نفوذ کر جائیگی لیکن اگر نیانہ ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کے سوارخ بند ہوچکے ہوں گے ۔ (ت)
فــــــ ۱ : مسئلہ : وضو میں انگوٹھی چھلوں چوڑیوں وغیرہ گہنوں کا حکم۔
فــــــ ۲ : مسئلہ : سر کے نیچے جو بال لٹکتے ہیں ان کا مسح کا فی نہیں۔
فـــــ ۳ : مسئلہ : ٹوپی یا دو پٹہ اگر ایسا ہو کہ اس پر سے نم سر کے چوتھائی حصہ پر یقینا پہنچ جائے تو کافی ہے ورنہ نہیں۔
لو خاتمہ ضیقا نزعہ اوحرکہ وجوبا ۔
اگر انگوٹھی تنگ ہو تو ضروری ہے کہ اسے اتار دے یا حرکت دے ۔ (ت)
(۹) مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جو بال ہیں ( نہ وہ کہ سر فـــــ۲ سے نیچے لٹکے ہیں) ان پر پہنچنا فرض ہے عمامے دوپٹے وغیرہ پر مسح ہرگز کافی نہیں مگر جب کہ کپڑا فـــــ۳ اتنا باریك اور نم اتنی کثیر ہو کہ کپڑے سے پھوٹ کر سر یا بالوں کی مقدار شرعی پر پہنچ جائے ۔ بحر میں ہے :
فـی معراج الدرایۃ لومسحت علی خمارھا و نفذت البلۃ الی رأسھا حتی ابتل قدر الربع منہ یجوز قال مشائخنا اذا کان الخمار جدیدا یجوز لان ثقوب الجدید لم تسد بالاستعمال فتنفذ البلۃ اما اذا لم یکن جدید الا یجوز لانسداد ثقوبہ اھ۔
معراج الدرایہ میں ہے کہ عورت نے اگر دوپٹے پر مسح کیا اور تری نفوذ کر کے سر تك پہنچی یہاں تك کہ سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیا تو جائز ہے ۔ ہمارے مشائخ فرماتے ہیں جب دو پٹہ نیا ہو تو جائز ہے اس لئے کہ نئے کپڑے کے سوارخ استعمال کی وجہ سے بند نہ ہوئے ہوں گے تو تری نفوذ کر جائیگی لیکن اگر نیانہ ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کے سوارخ بند ہوچکے ہوں گے ۔ (ت)
فــــــ ۱ : مسئلہ : وضو میں انگوٹھی چھلوں چوڑیوں وغیرہ گہنوں کا حکم۔
فــــــ ۲ : مسئلہ : سر کے نیچے جو بال لٹکتے ہیں ان کا مسح کا فی نہیں۔
فـــــ ۳ : مسئلہ : ٹوپی یا دو پٹہ اگر ایسا ہو کہ اس پر سے نم سر کے چوتھائی حصہ پر یقینا پہنچ جائے تو کافی ہے ورنہ نہیں۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۳ و۱۸۴
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۸۳ و۱۸۴
۲۹اقــول : جرت فـــــ عادتہم رحمہم الله باحالۃ الامور علی مظانھا الا غلبیۃ کقولھم فی شرب الجنب ماء یجزیئ عن المضمضۃ ان جاھلا لعبہ لاعالما لمصہ وفی عض الکلب علی ثوب ینجس فی الرضا لسیلان لعابہ دون الغضب لجفافہ ووقوع الفارۃ حیۃ فی البئر ینجس لوھاربۃ من ھرۃ لبولہ والا لاونظائرہ لاتحصی والذی یعرف المناط یعرف المقصود فالمناط نفوذ البلۃ الی قدر الفرض فان علم اجزأ ولو الثوب خلقا والا لاولو جدیدا کما لایخفی۔
اقول : حضرات مشائخ رحمہم الله تعالی کی عادت یہ ہے کہ معاملات کو غالب گمان کی جگہوں کے حوالے کرتے ہیں جیسے جنب کے پانی پینے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ جاہل ہے تو اس کا پینا کلی کی جگہ کام دے گا کیونکہ وہ منہ بھر کر بڑے بڑے گھونٹ پئے گا اور عالم ہے تو کافی نہ ہوگا کیونکہ وہ چوس چوس کر پئے گا اورکپڑے پر کتے کے دانت کاٹنے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ رضا کی حالت میں ہو توکپڑا نا پاك ہوجائے گا کیونکہ اس کا لعاب بہتا ہوگا اور غصے میں ہو تو ناپاك نہ ہوگا کیونکہ اس کاتھوك خشك ہوچکا ہوگا اور کنویں میں چوہے کے زندہ گر نے سے متعلق کہتے ہیں اگربلی سے بھاگتے ہوئے گر ا تو کنواں ناپاك ہوجائے گا کیونکہ اس کا پیشاب نکلتا ہوگا ورنہ ناپاك نہ ہوگا اور اس کی بے شمار نظیریں ہیں جو مدار کا ر سے آشنا ہے وہ مقصد پہچان لیتا ہے تو یہاں مدار اس پر ہے کہ تری مقدار فرض تك نفو ذ کر جائے اگر نفوذ معلوم ہے تو یہ کافی ہے اگرچہ کپڑا پرانا ہے ورنہ کافی نہیں اگر چہ کپڑا نیا ہو جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
(۱۰) نم کم ازکم چوتھائی سرکو استیعاب کرلے
ھوا لصحیح المفتی بہ الماخوذ وان قیل وقیل وقداشتھرت
(یہی صحیح مفتی بہ ماخوذ ہے ۔ اگر چہ ضعیف اقوال متعدد ہیں اور یہ مسئلہ متون وشروح میں معروف
فـــ : مسئلہ : عادۃ الفقہاء بناء الامر علی المظنۃ الغالیۃ ویعرف المراد من عرف المناط ۔
اقول : حضرات مشائخ رحمہم الله تعالی کی عادت یہ ہے کہ معاملات کو غالب گمان کی جگہوں کے حوالے کرتے ہیں جیسے جنب کے پانی پینے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ جاہل ہے تو اس کا پینا کلی کی جگہ کام دے گا کیونکہ وہ منہ بھر کر بڑے بڑے گھونٹ پئے گا اور عالم ہے تو کافی نہ ہوگا کیونکہ وہ چوس چوس کر پئے گا اورکپڑے پر کتے کے دانت کاٹنے سے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ رضا کی حالت میں ہو توکپڑا نا پاك ہوجائے گا کیونکہ اس کا لعاب بہتا ہوگا اور غصے میں ہو تو ناپاك نہ ہوگا کیونکہ اس کاتھوك خشك ہوچکا ہوگا اور کنویں میں چوہے کے زندہ گر نے سے متعلق کہتے ہیں اگربلی سے بھاگتے ہوئے گر ا تو کنواں ناپاك ہوجائے گا کیونکہ اس کا پیشاب نکلتا ہوگا ورنہ ناپاك نہ ہوگا اور اس کی بے شمار نظیریں ہیں جو مدار کا ر سے آشنا ہے وہ مقصد پہچان لیتا ہے تو یہاں مدار اس پر ہے کہ تری مقدار فرض تك نفو ذ کر جائے اگر نفوذ معلوم ہے تو یہ کافی ہے اگرچہ کپڑا پرانا ہے ورنہ کافی نہیں اگر چہ کپڑا نیا ہو جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
(۱۰) نم کم ازکم چوتھائی سرکو استیعاب کرلے
ھوا لصحیح المفتی بہ الماخوذ وان قیل وقیل وقداشتھرت
(یہی صحیح مفتی بہ ماخوذ ہے ۔ اگر چہ ضعیف اقوال متعدد ہیں اور یہ مسئلہ متون وشروح میں معروف
فـــ : مسئلہ : عادۃ الفقہاء بناء الامر علی المظنۃ الغالیۃ ویعرف المراد من عرف المناط ۔
المسألۃ متونا وشروحا
ومشہورہے (ت)
(۱۱) کعبین گٹوں یعنی ٹخنوں کا نام ہے ان کے بالائی کناروں سے ناخنوں کے منتہی تك ہر حصے پرزے ذرے ذرے کا دھلنا فرض ہے اس میں سے سر سوزن برابر اگر کوئی جگہ پانی بہنے سے رہ گئی وضو نہ ہوگا ہاں پاؤں میں تیسرا استثناء جو گزرا اپنے محل پر مسلم ہے جس کی تحقیق فقیر کے فتاوی بیان غسل میں ملے گی چھلے اور سب گہنے کہ گٹوں پر یا ان سے نیچے ہوں ان کا حکم وہی ہے جو فرض ہشتم میں گزرا ۔
(۱۲) منہ فـــــ ہاتھ پاؤں تینوں عضوؤں کے تمام مذکور ذروں پر پانی کا بہنا فرض ہے فقط بہے گا ہاتھ پھر جانا یا تیل کی طرح پانی چپڑ لینا تو بالاجماع کافی نہیں اللھم الامامر فی الرجلین (مگر وہ جو پیروں سے متعلق گزار۔ ت)اور صحیح مذہب میں ایك بوند ہرجگہ سے ٹپك جانا بھی کافی نہیں کم سے کم دو بوندیں ہر ذرہ ابدان مذکورہ پر سے بہیں۔ درمختار میں ہے :
غسل الوجہ ای اسالۃ الماء مع التقاطر ولو قطرۃ وفی الفیض اقلہ قطرتان فی الاصح اھ
قــال ح ثم ط ثم ش کلھم فی حواشی الدر یدل علیہ صیغۃ التفاعل اھ اماما عن ابی یوسف ان الغسل مجرد بل المحل بالماء سال اولم یسل ولاجلہ جعل فی البحر الاسالۃ مختلفا فیھا بینہ وبین الطرفین و
چہرے کا دھونا یعنی “ تقاطر “ کے ساتھ پانی بہانا اگر چہ ایك ہی قطرہ ٹپکے اور فیض میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ کم از کم دو دو قطرے ٹپکیں اھ
درمختار کے حواشی میں حلبی پھر طحطاوی پھر شامی لکھتے ہیں اس پر تفاعل کا صیغہ (تقاطر) دلالت کر رہا ہے اھ لیکن وہ جو امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ دھونا اعضاء وضو کو پانی سے صرف تر کر لینے کا نام ہے پانی بہے یا نہ بہے او راسی وجہ سے بحر میں بہانے کو امام ابو یوسف اور طر فین کے درمیان مختلف فیہ ٹھہرایا ہے اور ان کا
فـــــ : مسئلہ ضروریہ : منہ ہاتھ پاؤں کے ذرے ذرے پر پانی بہنا فرض ہے فقط بھیگا ہاتھ پہنچنا کافی نہیں کم از کم ہر پرزے پر سے دو قطرے ٹپکے ۔
ومشہورہے (ت)
(۱۱) کعبین گٹوں یعنی ٹخنوں کا نام ہے ان کے بالائی کناروں سے ناخنوں کے منتہی تك ہر حصے پرزے ذرے ذرے کا دھلنا فرض ہے اس میں سے سر سوزن برابر اگر کوئی جگہ پانی بہنے سے رہ گئی وضو نہ ہوگا ہاں پاؤں میں تیسرا استثناء جو گزرا اپنے محل پر مسلم ہے جس کی تحقیق فقیر کے فتاوی بیان غسل میں ملے گی چھلے اور سب گہنے کہ گٹوں پر یا ان سے نیچے ہوں ان کا حکم وہی ہے جو فرض ہشتم میں گزرا ۔
(۱۲) منہ فـــــ ہاتھ پاؤں تینوں عضوؤں کے تمام مذکور ذروں پر پانی کا بہنا فرض ہے فقط بہے گا ہاتھ پھر جانا یا تیل کی طرح پانی چپڑ لینا تو بالاجماع کافی نہیں اللھم الامامر فی الرجلین (مگر وہ جو پیروں سے متعلق گزار۔ ت)اور صحیح مذہب میں ایك بوند ہرجگہ سے ٹپك جانا بھی کافی نہیں کم سے کم دو بوندیں ہر ذرہ ابدان مذکورہ پر سے بہیں۔ درمختار میں ہے :
غسل الوجہ ای اسالۃ الماء مع التقاطر ولو قطرۃ وفی الفیض اقلہ قطرتان فی الاصح اھ
قــال ح ثم ط ثم ش کلھم فی حواشی الدر یدل علیہ صیغۃ التفاعل اھ اماما عن ابی یوسف ان الغسل مجرد بل المحل بالماء سال اولم یسل ولاجلہ جعل فی البحر الاسالۃ مختلفا فیھا بینہ وبین الطرفین و
چہرے کا دھونا یعنی “ تقاطر “ کے ساتھ پانی بہانا اگر چہ ایك ہی قطرہ ٹپکے اور فیض میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ کم از کم دو دو قطرے ٹپکیں اھ
درمختار کے حواشی میں حلبی پھر طحطاوی پھر شامی لکھتے ہیں اس پر تفاعل کا صیغہ (تقاطر) دلالت کر رہا ہے اھ لیکن وہ جو امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ دھونا اعضاء وضو کو پانی سے صرف تر کر لینے کا نام ہے پانی بہے یا نہ بہے او راسی وجہ سے بحر میں بہانے کو امام ابو یوسف اور طر فین کے درمیان مختلف فیہ ٹھہرایا ہے اور ان کا
فـــــ : مسئلہ ضروریہ : منہ ہاتھ پاؤں کے ذرے ذرے پر پانی بہنا فرض ہے فقط بھیگا ہاتھ پہنچنا کافی نہیں کم از کم ہر پرزے پر سے دو قطرے ٹپکے ۔
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
زعم ان اشتراطھا ھو ظاھر الروایۃ
فالحق الذی لامحید عنہ ولا یحل المصیر الا الیہ ان تأویلہ مافی حلیۃ عن الذخیرۃ انہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارك کیف ولولا ذلك لکان ھذا والعیاذ بالله تعالی انکار اللنص وتبدیلا للشرع فان الله تعالی امر بالغسل وھذا لیس بغسل لالغۃ ولا عرفا وقد قال فی البحر نفسہ الغسل بفتح الغین ازالۃ الوسخ عن الشیئ ونحوہ باجراء الماء علیہ لغۃ اھ وھل الاجراء الا الاسالۃ وقد فرق المولی سبحنہ وتعالی بین الاعضاء فجعل وظیفۃ بعضھا الغسل وبعضھا المسح فانہ اذالم یسل الماء لم یکن الا اصابۃ بلل وھو المسح۔
۳۰اقــول : فما کان فـــــ ینبغی لمثل
خیال ہے کہ بہانے کا شرط ہونا یہ ظاہر الروایہ ہے۔
تو حق جس سے انحراف نہیں اور جس کی طر ف رجوع کے سوا کچھ روا نہیں وہ یہ ہے کہ اس روایت کی تا ویل وہ ہے جو حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عضو سے قطرہ دو قطرہ بہ جائے اور تسلسل کے ساتھ نہ گرے ۔ یہ حق کیوں نہ ہو اگر اس کا یہ مطلب نہ لیں تو معاذالله یہ نص کا انکار اور شر ع کی تبدیلی ہوگی اس لیے کہ الله تعالی نے دھونے کا حکم دیا ہے اور یہ لغۃ عرفا کسی طر ح بھی دھونا نہیں ۔ اور خود بحر میں لکھا ہے کہ غسل بفتح غین (دھونا)لغت میں کسی پر پانی بہاکر اس سے میل وغیرہ دو ر کرنے کا نام ہے اھ۔ اجرا اسالہ بہنا ایك ہی چیز ہے مولی سبحنہ وتعالی نے اعضاء کے درمیان فر ق رکھا ہے کہ کسی میں دھونے کا عمل مقرر فرمایا ہے او رکسی میں مسح رکھا ہے اگریہ مان لیں کہ بہنا ضروری نہیں تو تمام اعضاء میں مسح ہی کا عمل رہ جائے گا اس لئے کہ پانی جب بہے گا نہیں تو صرف یہ ہوگا کہ تری پہنچ گئی اور یہی مسح ہے
اقول : تو محقق بحر جیسی شخصیت کو
فـــــ : ۱۰تطفل علی البحر
فالحق الذی لامحید عنہ ولا یحل المصیر الا الیہ ان تأویلہ مافی حلیۃ عن الذخیرۃ انہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارك کیف ولولا ذلك لکان ھذا والعیاذ بالله تعالی انکار اللنص وتبدیلا للشرع فان الله تعالی امر بالغسل وھذا لیس بغسل لالغۃ ولا عرفا وقد قال فی البحر نفسہ الغسل بفتح الغین ازالۃ الوسخ عن الشیئ ونحوہ باجراء الماء علیہ لغۃ اھ وھل الاجراء الا الاسالۃ وقد فرق المولی سبحنہ وتعالی بین الاعضاء فجعل وظیفۃ بعضھا الغسل وبعضھا المسح فانہ اذالم یسل الماء لم یکن الا اصابۃ بلل وھو المسح۔
۳۰اقــول : فما کان فـــــ ینبغی لمثل
خیال ہے کہ بہانے کا شرط ہونا یہ ظاہر الروایہ ہے۔
تو حق جس سے انحراف نہیں اور جس کی طر ف رجوع کے سوا کچھ روا نہیں وہ یہ ہے کہ اس روایت کی تا ویل وہ ہے جو حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عضو سے قطرہ دو قطرہ بہ جائے اور تسلسل کے ساتھ نہ گرے ۔ یہ حق کیوں نہ ہو اگر اس کا یہ مطلب نہ لیں تو معاذالله یہ نص کا انکار اور شر ع کی تبدیلی ہوگی اس لیے کہ الله تعالی نے دھونے کا حکم دیا ہے اور یہ لغۃ عرفا کسی طر ح بھی دھونا نہیں ۔ اور خود بحر میں لکھا ہے کہ غسل بفتح غین (دھونا)لغت میں کسی پر پانی بہاکر اس سے میل وغیرہ دو ر کرنے کا نام ہے اھ۔ اجرا اسالہ بہنا ایك ہی چیز ہے مولی سبحنہ وتعالی نے اعضاء کے درمیان فر ق رکھا ہے کہ کسی میں دھونے کا عمل مقرر فرمایا ہے او رکسی میں مسح رکھا ہے اگریہ مان لیں کہ بہنا ضروری نہیں تو تمام اعضاء میں مسح ہی کا عمل رہ جائے گا اس لئے کہ پانی جب بہے گا نہیں تو صرف یہ ہوگا کہ تری پہنچ گئی اور یہی مسح ہے
اقول : تو محقق بحر جیسی شخصیت کو
فـــــ : ۱۰تطفل علی البحر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
ھذا المحقق البحران یجعلہ مختلفا فیہ کی یجترئ علیہ الجاھلون کما نشاھد الان من کثیر منھم انہ لایزید فی جبہتہ وعارضیہ وغیرھا علی اصابۃ ید مبتلۃ من دون سیلان ولا تقاطر اصلا واذا اخبران قد بقی لمعۃ مثلا فی مرفقہ او ا خمصہ اوعقبہ امر علیہ یدہ الباقی فیھابلل الماء من دون ان یأخذ ماء جدیدا فضلا عن الاسالۃ فالی الله المشتکی ولاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
یہ نہ چاہئے تھا کہ اسے مختلف فیہ ٹھہرائیں کہ جاہلوں کو اس کی جسارت ہو جیسا کہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں کتنے ایسے ہیں کہ پیشانی اور رخسار وغیرہ میں اس سے زیادہ نہیں کرتے کہ بھیگا ہوا ہاتھ لگادیتے ہیں نہ پانی بہتا ہے نہ کوئی قطرہ ٹپکتا ہے اگر کسی کو بتا یا جائے کہ دیکھو کہنی یا تلوے یا ایڑی میں تھوڑی سی جگہ خشك رہ گئی تو بس ہاتھ اس جگہ پھیر دے گا اور اس میں پانی کی باقیماندہ تری کو کافی سمجھے گا از سر نو دو سرا پانی بھی نہ لے گا پانی بہانا تو دور کی بات ہے تو خدا ہی کی بارگاہ میں شکایت ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر عظمت والے خدائے بر ترہی سے ۔ (ت)
تنبیہ جلیل : متعدد کتب فـــــمعتمد ہ مثلا خلاصہ وجوہر ہ نیرہ وحلیہ وغنیہ ودر مختار وغیرہا میں وہ استثنا کہ ہاتھوں میں دوسرا اور پاؤں میں تیسرا تھا اس میں یہ قید لگائی کہ وہ چیز ایسی نرم ہو جس میں پانی سرایت کر سکے جیسے مٹی گار انہ سخت اور نفوذ کو مانع جیسے آٹا موم چربی جما ہو اگھی مچھلی کا سنا چبائی ہوئی روٹی درمختار سے گزرا۔
بخـلاف نحوعجین
گندھے ہوئے آٹے جیسی چیز کے بر خلاف(ت)
ردالمحتار میں قول شارح لایمنع دھن (مانع نہیں تیل ت) کے تحت میں ہے :
ای کزیت وشیرج بخلاف نحوشحم وسمن جامد
(یعنی جیسے زیتو ن کا اورتلوں کا تیل چربی اور جمے ہوئے گھی کے بر خلاف۔ ت)
فــــــ : مسئلہ : تحقیق جلیل کہ مواضع ضرورت میں جس طرح بے اطلاع مٹی گارے کا لگا رہ جانا مانع وضو و غسل نہیں یونہی سب چیزوں مثلا آٹے وغیرہ کا بھی ۔
یہ نہ چاہئے تھا کہ اسے مختلف فیہ ٹھہرائیں کہ جاہلوں کو اس کی جسارت ہو جیسا کہ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں کتنے ایسے ہیں کہ پیشانی اور رخسار وغیرہ میں اس سے زیادہ نہیں کرتے کہ بھیگا ہوا ہاتھ لگادیتے ہیں نہ پانی بہتا ہے نہ کوئی قطرہ ٹپکتا ہے اگر کسی کو بتا یا جائے کہ دیکھو کہنی یا تلوے یا ایڑی میں تھوڑی سی جگہ خشك رہ گئی تو بس ہاتھ اس جگہ پھیر دے گا اور اس میں پانی کی باقیماندہ تری کو کافی سمجھے گا از سر نو دو سرا پانی بھی نہ لے گا پانی بہانا تو دور کی بات ہے تو خدا ہی کی بارگاہ میں شکایت ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر عظمت والے خدائے بر ترہی سے ۔ (ت)
تنبیہ جلیل : متعدد کتب فـــــمعتمد ہ مثلا خلاصہ وجوہر ہ نیرہ وحلیہ وغنیہ ودر مختار وغیرہا میں وہ استثنا کہ ہاتھوں میں دوسرا اور پاؤں میں تیسرا تھا اس میں یہ قید لگائی کہ وہ چیز ایسی نرم ہو جس میں پانی سرایت کر سکے جیسے مٹی گار انہ سخت اور نفوذ کو مانع جیسے آٹا موم چربی جما ہو اگھی مچھلی کا سنا چبائی ہوئی روٹی درمختار سے گزرا۔
بخـلاف نحوعجین
گندھے ہوئے آٹے جیسی چیز کے بر خلاف(ت)
ردالمحتار میں قول شارح لایمنع دھن (مانع نہیں تیل ت) کے تحت میں ہے :
ای کزیت وشیرج بخلاف نحوشحم وسمن جامد
(یعنی جیسے زیتو ن کا اورتلوں کا تیل چربی اور جمے ہوئے گھی کے بر خلاف۔ ت)
فــــــ : مسئلہ : تحقیق جلیل کہ مواضع ضرورت میں جس طرح بے اطلاع مٹی گارے کا لگا رہ جانا مانع وضو و غسل نہیں یونہی سب چیزوں مثلا آٹے وغیرہ کا بھی ۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہار ۃ دار احیاء التراث بیروت ۱ / ۱۰۴
اسی میں بخلاف نحو عجین کے نیچے ہے
ای کعلك وشمع وقشر سمك وخبز ممضوغ متلبد جوھرۃ
(یعنی جیسے گوند موم مچھلی کا سنا چبائی ہوئی چپکنے والی روٹی ۔ جوہرہ۔ ت)
در مختار میں ہے :
لایمنع طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح
کھانے کا ٹکڑا جو دانتوں کے درمیان یا جوف کے اندر رہ جائے وہ مانع نہیں اسی پر فتوی ہے اور کہا گیا کہ اگر سخت ہو تو مانع ہے اور وہی اصح ہے ۔ ت)
رد المحتار میں ہے :
صرح بہ فی الخلاصۃ وقال لان الماء شیئ لطیف یصل تحتہ غالبا اھ ومفادہ عدم الجواز اذا علم انہ لم یصل انماء تحتہ قال فی الحلیۃ وھو اثبت
قولہ وھو الاصح صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج ۔
اسی کی تصریح خلاصہ میں فرمائی ہے اور کہا ہے اس لئے کہ پانی لطیف ہوتا ہے غالب گمان یہی ہے کہ اس کے نیچے پہنچ جائے گا اھ
اور اس کا مفادیہ ہے کہ جائز نہ ہوگا اگر یہ معلوم ہو کہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچا حلیہ میں کہا یہ ا ثبت ہے قول در مختار وہی اصح ہے منیہ میں اس کی تصریح کی ہے اور کہا ہے اس لئے کہ پانی نفوذ نہ کرسکے گا اور ضرورت وحرج بھی نہیں۔ (ت)
تو اس کا لحاظ مناسب ہے اگر چہ تحقی فــــــ یہ ہے کہ مدار کا ر ضرورت وحرج عام یا خاص پر ہے
فــــــ : ۱۱تطفل علی الغنیۃ و الدروغیرھما
ای کعلك وشمع وقشر سمك وخبز ممضوغ متلبد جوھرۃ
(یعنی جیسے گوند موم مچھلی کا سنا چبائی ہوئی چپکنے والی روٹی ۔ جوہرہ۔ ت)
در مختار میں ہے :
لایمنع طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح
کھانے کا ٹکڑا جو دانتوں کے درمیان یا جوف کے اندر رہ جائے وہ مانع نہیں اسی پر فتوی ہے اور کہا گیا کہ اگر سخت ہو تو مانع ہے اور وہی اصح ہے ۔ ت)
رد المحتار میں ہے :
صرح بہ فی الخلاصۃ وقال لان الماء شیئ لطیف یصل تحتہ غالبا اھ ومفادہ عدم الجواز اذا علم انہ لم یصل انماء تحتہ قال فی الحلیۃ وھو اثبت
قولہ وھو الاصح صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج ۔
اسی کی تصریح خلاصہ میں فرمائی ہے اور کہا ہے اس لئے کہ پانی لطیف ہوتا ہے غالب گمان یہی ہے کہ اس کے نیچے پہنچ جائے گا اھ
اور اس کا مفادیہ ہے کہ جائز نہ ہوگا اگر یہ معلوم ہو کہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچا حلیہ میں کہا یہ ا ثبت ہے قول در مختار وہی اصح ہے منیہ میں اس کی تصریح کی ہے اور کہا ہے اس لئے کہ پانی نفوذ نہ کرسکے گا اور ضرورت وحرج بھی نہیں۔ (ت)
تو اس کا لحاظ مناسب ہے اگر چہ تحقی فــــــ یہ ہے کہ مدار کا ر ضرورت وحرج عام یا خاص پر ہے
فــــــ : ۱۱تطفل علی الغنیۃ و الدروغیرھما
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
الدرالمختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
الدرالمختار کتاب الطہار ۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
اگر حرج نہیں طہارت نہ ہوگی اگر چہ پانی سرایت کرے کہ مجرد تری پہنچنا کافی نہیں بہنا شر ط ہے اور وہ قطعا گارے وغیرہ جرم دار چیزوں میں بھی نہ ہوگا جب تك ان کا جرم زائل نہ ہو تو نرمی وسختی کا فر ق بیکار ہے اور حرج وضرورت ہو اور طہارت کرلی اور ایسی چیز لگی رہ گئی اور نماز پڑھ لی تومعافی ہے اگر چہ سخت ومانع نفوذ ہو آخر مکھی مچھر کی بیٹ پر خود درمختار میں لم یصل الماء تحتہ (اس کے نیچے پانی نہ پہنچا ۔ ت)فرما کر حکم دیا کہ لایمنع الطہارۃ (طہارت سے مانع نہیں ہے ۔ ت) اور مہندی کے جرم کو بھی مانع نہ مانا اور فرمایا بہ یفتی (اسی پر فتوی ہے ۔ ت)حالانکہ اس کا جرم خصوصا بعد خشکی یقینا نفوذ آب کو مانع ہے ۔ ولہذا رد المحتار میں فرمایا۔
قولہ بہ یفتی صرح بہ فی المنیۃ عن الذخیرہ فی مسألۃ الحناء والطین والدرن معللا بالضرورۃ قال فی شرحہا لان الماء ینفذ لتخلله وعدم لزوجتہ وصلابتہ والمعتبر فی جمیع ذلك نفوذ الماء و وصولہ الی البدن اھ لکن یرد علیہ ان الواجب الغسل وھو اسالۃ الماء مع التقاطر کما مرفی ارکان الوضوء والظاھر ان ھذہ الاشیاء تمنع الاسالۃ فالاظھر التعلیل بالضرورۃ ۔
اس کی تصریح منیہ میں ذخیرہ کے حوالہ سے مہندی مٹی گار ے اور میل کے مسئلہ میں ضرورت سے بیان علت کے ساتھ ہے ۔ اسی کی شرح میں کہا اس لئے کہ پانی نفوذ کر جائے گا کیونکہ اس میں تخلل ہوتا ہے اور لزوجت وصلابت نہیں ہوتی ۔ اور ان سب میں پانی کے نفو ذ کرجانے اور بدن تك پہنچ جانے ہی کا اعتبار ہے اھ لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ واجب دھونا ہے اور وہ تقاطر کے ساتھ پانی بہانے کا نام ہے جیسا کہ ارکان وضو میں گزرا اور ظاہر یہ ہے کہ یہ چیزیں پانی بہنے سے مانع ہیں تو زیادہ ظاہر ضرورت سے بیان علت ہے ۔ (ت)
قول مذکور خلاصہ لان الماء شیئ لطیف الخ ( اس لئے کہ پانی لطیف چیز ہے الخ۔ ت)نقل کر کے فرمایا :
یرد علیہ ماقد مناہ انفا
اس پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
قولہ بہ یفتی صرح بہ فی المنیۃ عن الذخیرہ فی مسألۃ الحناء والطین والدرن معللا بالضرورۃ قال فی شرحہا لان الماء ینفذ لتخلله وعدم لزوجتہ وصلابتہ والمعتبر فی جمیع ذلك نفوذ الماء و وصولہ الی البدن اھ لکن یرد علیہ ان الواجب الغسل وھو اسالۃ الماء مع التقاطر کما مرفی ارکان الوضوء والظاھر ان ھذہ الاشیاء تمنع الاسالۃ فالاظھر التعلیل بالضرورۃ ۔
اس کی تصریح منیہ میں ذخیرہ کے حوالہ سے مہندی مٹی گار ے اور میل کے مسئلہ میں ضرورت سے بیان علت کے ساتھ ہے ۔ اسی کی شرح میں کہا اس لئے کہ پانی نفوذ کر جائے گا کیونکہ اس میں تخلل ہوتا ہے اور لزوجت وصلابت نہیں ہوتی ۔ اور ان سب میں پانی کے نفو ذ کرجانے اور بدن تك پہنچ جانے ہی کا اعتبار ہے اھ لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ واجب دھونا ہے اور وہ تقاطر کے ساتھ پانی بہانے کا نام ہے جیسا کہ ارکان وضو میں گزرا اور ظاہر یہ ہے کہ یہ چیزیں پانی بہنے سے مانع ہیں تو زیادہ ظاہر ضرورت سے بیان علت ہے ۔ (ت)
قول مذکور خلاصہ لان الماء شیئ لطیف الخ ( اس لئے کہ پانی لطیف چیز ہے الخ۔ ت)نقل کر کے فرمایا :
یرد علیہ ماقد مناہ انفا
اس پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار فرائض الغسل دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار فرائض الغسل دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار فرائض الغسل دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار فرائض الغسل دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
لاجرم بعض مشائخ نے کہ ناخنوں کے میل میں فر ق کیا کہ دیہاتی کے لئے اجازت ہے کہ اس کا میل خاك مٹی سے ہوگا اس میں پانی سرایت کرجائے گا اور شہری کو نہیں کہ اس کا میل چکنائی سے ہوگا انہیں اکابر نے اس تفرقہ کو رد کردیا اور فرمایا اصح یہ کہ دنوں یکساں ہیں ۔ درمختار سے گزرا
قرویا اومدنیا فی الاصح
خواہ دیہاتی ہو یا شہری یہی اصح قول ہے۔ (ت)
جب یہی قضیہ نظراور یہی مفتی بہ تو اسی پر عمل اور یہی معول۔
۳۱اقول : وکان مراد العلامۃ الشامی بقولہ بخلاف نحوشحم وسمن جامد حیث لاحرج ولا ضرورۃ فان مسألۃ الدھن والشبرج عامۃ لاتقتصر علی الضرورۃ فافادان الشحم لیس کمثلہ لکن فــــــ العجب انہ ذکرمامر عن الجوھرۃ ثم استدرك علیہ بالفتوی المذکورۃ فی النھر ثم عقبھا بقولہ نعم وذکر الخلاف فی شرح المنیۃ فی العجین واستظھر المنع لان فیہ لزوجۃ وصلابۃ تمنع نفوذ الماء اھ وکانہ سکت علیہ اکتفاء بما قدمہ والله تعالی اعلم۔
اقول : “ بخلاف چربی اور جمے ہوئے گھی کے مثل “ کہنے سے غالبا علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ جہاں حرج اور ضرورت نہ ہو ۔ اس لئے کہ رو غن اور تلوں کے تیل کا مسئلہ عام ہے صرف ضرورت پر محدود نہیں تو یہ افادہ کیا کہ چربی اس طر ح کی نہیں ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ انہوں نے پہلے جوہرہ سے گزشتہ عبارت نقل کی پھر النہر الفائق میں مذکورہ فتوی سے اس پر استدراك کیا (کہ لیکن نہر میں ہے کہ ناخنوں میں خمیرہو تو فتوی یہ ہے کہ وہ معاف ہے ) پھرا س کے بعد یہ لکھا کہ ہاں شرح منیہ میں خمیرسے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے اور مانع ہونے کو ظاہر کیا ہے کیونکہ اس میں لزوجت اور صلابت ہوتی ہے جو پانی کے نفو ذ سے مانع ہوتی ہے اھ شاید انہوں نے ما سبق پر اکتفا کرتے ہوئے یہاں سکوت کیا ۔ والله تعالی اعلم( ت)۔
فــــــ : ۱۲معروضۃعلی رد المحتار
قرویا اومدنیا فی الاصح
خواہ دیہاتی ہو یا شہری یہی اصح قول ہے۔ (ت)
جب یہی قضیہ نظراور یہی مفتی بہ تو اسی پر عمل اور یہی معول۔
۳۱اقول : وکان مراد العلامۃ الشامی بقولہ بخلاف نحوشحم وسمن جامد حیث لاحرج ولا ضرورۃ فان مسألۃ الدھن والشبرج عامۃ لاتقتصر علی الضرورۃ فافادان الشحم لیس کمثلہ لکن فــــــ العجب انہ ذکرمامر عن الجوھرۃ ثم استدرك علیہ بالفتوی المذکورۃ فی النھر ثم عقبھا بقولہ نعم وذکر الخلاف فی شرح المنیۃ فی العجین واستظھر المنع لان فیہ لزوجۃ وصلابۃ تمنع نفوذ الماء اھ وکانہ سکت علیہ اکتفاء بما قدمہ والله تعالی اعلم۔
اقول : “ بخلاف چربی اور جمے ہوئے گھی کے مثل “ کہنے سے غالبا علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ جہاں حرج اور ضرورت نہ ہو ۔ اس لئے کہ رو غن اور تلوں کے تیل کا مسئلہ عام ہے صرف ضرورت پر محدود نہیں تو یہ افادہ کیا کہ چربی اس طر ح کی نہیں ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ انہوں نے پہلے جوہرہ سے گزشتہ عبارت نقل کی پھر النہر الفائق میں مذکورہ فتوی سے اس پر استدراك کیا (کہ لیکن نہر میں ہے کہ ناخنوں میں خمیرہو تو فتوی یہ ہے کہ وہ معاف ہے ) پھرا س کے بعد یہ لکھا کہ ہاں شرح منیہ میں خمیرسے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے اور مانع ہونے کو ظاہر کیا ہے کیونکہ اس میں لزوجت اور صلابت ہوتی ہے جو پانی کے نفو ذ سے مانع ہوتی ہے اھ شاید انہوں نے ما سبق پر اکتفا کرتے ہوئے یہاں سکوت کیا ۔ والله تعالی اعلم( ت)۔
فــــــ : ۱۲معروضۃعلی رد المحتار
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
رہا واجب عملی فــــــ۱ وہ وضو میں کوئی نہیں بحرالرائق سے گزرا
ا تفق الاصحاب انہ لاواجب فی الوضوء
( ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ۔ ت)
درمختار میں ہے
افاد انہ لاواجب للوضوء ولا للغسل
(وضو وغسل میں ارکان کے بعد واجب چھوڑکر سنتوں کا ذکر لاکر یہ افادہ فرمایا کہ وضو وغسل میں کوئی واجب نہیں۔ ت)
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے اور خود بعد نقل اتفاق اصحاب کیا حاجت اطناب واسہاب مگر محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اپنی بحث سے وضو کیلئے بسم الله فــــــ۲ وذکر الہی سے ابتدا کرنا برخلاف مذہب واجب ٹھہرایا اور اس مسئلہ متفق علیہا کے جواب میں فرمایا :
ماقیل انہ لامدخل للوجوب فی الوضوء لانہ شرط تابع فلوقلنا بالوجوب فیہ لساوی التبع الاصل غیر لازم اذا شتراکہما بثبوت الواجب فیھما لایقتضیہ لثبوت عدم المساواۃ بوجہ اخرنحو انہ لایلزم بالنذر بخلاف الصلاۃ مع انہ لامانع
کہا گیا کہ وضو میں ثبوت واجب کا کوئی دخل نہیں اس لئے کہ وضو نماز کی ایك شرط تابع ہے اگراس میں بھی ہم وجوب کے قائل ہوں تو تا بع واصل میں برابری ہوجائے گی مگر ہم کہتے ہیں کہ برابر ہونا لازم نہ آئے گا اس لئے کہ اگر نماز و وضو دونوں میں واجب کا ثبوت ہو تو اس کا مقتضایہ نہیں کہ دونوں میں مساوات ہو کیوں کہ عدم مساوات دوسرے طریقہ سے ثابت ہوسکتی
فــــــ۱ : مسئلہ : وضو وغسل میں ایسا واجب کوئی نہیں جس کے نہ کرنے سے گناہگا ر ہو مگرطہارت ادا ہو جائے۔
فــــــ۲ : مسئلہ : ہمارے مذہب میں بسم الله سے وضو کی ابتدا صرف سنت ہے واجب نہیں اگرچہ امام ابن الہمام کا خیال وجوب کی طرف گیا۔
ا تفق الاصحاب انہ لاواجب فی الوضوء
( ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ وضو میں کوئی واجب نہیں ۔ ت)
درمختار میں ہے
افاد انہ لاواجب للوضوء ولا للغسل
(وضو وغسل میں ارکان کے بعد واجب چھوڑکر سنتوں کا ذکر لاکر یہ افادہ فرمایا کہ وضو وغسل میں کوئی واجب نہیں۔ ت)
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے اور خود بعد نقل اتفاق اصحاب کیا حاجت اطناب واسہاب مگر محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اپنی بحث سے وضو کیلئے بسم الله فــــــ۲ وذکر الہی سے ابتدا کرنا برخلاف مذہب واجب ٹھہرایا اور اس مسئلہ متفق علیہا کے جواب میں فرمایا :
ماقیل انہ لامدخل للوجوب فی الوضوء لانہ شرط تابع فلوقلنا بالوجوب فیہ لساوی التبع الاصل غیر لازم اذا شتراکہما بثبوت الواجب فیھما لایقتضیہ لثبوت عدم المساواۃ بوجہ اخرنحو انہ لایلزم بالنذر بخلاف الصلاۃ مع انہ لامانع
کہا گیا کہ وضو میں ثبوت واجب کا کوئی دخل نہیں اس لئے کہ وضو نماز کی ایك شرط تابع ہے اگراس میں بھی ہم وجوب کے قائل ہوں تو تا بع واصل میں برابری ہوجائے گی مگر ہم کہتے ہیں کہ برابر ہونا لازم نہ آئے گا اس لئے کہ اگر نماز و وضو دونوں میں واجب کا ثبوت ہو تو اس کا مقتضایہ نہیں کہ دونوں میں مساوات ہو کیوں کہ عدم مساوات دوسرے طریقہ سے ثابت ہوسکتی
فــــــ۱ : مسئلہ : وضو وغسل میں ایسا واجب کوئی نہیں جس کے نہ کرنے سے گناہگا ر ہو مگرطہارت ادا ہو جائے۔
فــــــ۲ : مسئلہ : ہمارے مذہب میں بسم الله سے وضو کی ابتدا صرف سنت ہے واجب نہیں اگرچہ امام ابن الہمام کا خیال وجوب کی طرف گیا۔
حوالہ / References
بحرالرائق قبیل سنن الوضو ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰
الدرالمختار کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰
من الحکم بان واجبہ احط رتبۃ من واجب الصلاۃ کفرضہ بالنسبۃ الی فرضھا اھ کلامہ الشریف۔
۳۲اقول : لم یأت فـــــ المستدل بشیئ حتی سمع ماسمع واذا لم یمنع تبعیۃ الوضوء ثبوت الفرائض فیہ فلم یمنع ثبوت الواجبات و الرواتب توابع للفرائض انماشرعت مکملات لا محصلات لہا فلیست فی مرتبۃ الوضوء ایضا ثم لا یقعدھا ذلك عن ان یکون لھا کل من الفروض والواجبات والسنن والمستحبات کما للاصول۔ ولم نعن ان الوضوء لایستاھل فی نفسہ ان یکون لہ واجب حتی نحتاج الی ماذکر المستدل وانما عنینا ان لیس فی مذھبنا واجب فی الوضوء لایجوز ترکہ و
ہے مثلا یہ کہ نذر ماننے سے وضو لازم نہیں اور نماز لازم ہے اور برابری دفع کرنے کے لئے یہ حکم بھی کیا جاسکتاہے کہ واجب وضو واجب نماز سے کم رتبہ ہوگا جیسے فر ض وضو فر ض نماز سے کم رتبہ ہے اھ ان کا کلام ختم ہوا ۔ (ت)
اقول : مستدل نے کوئی مضبو ط بات نہ کی جس کے نتیجے میں اسے یہ سب سننا پڑا ۔ مزید ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جب وضو کا تا بع نماز ہونا وضو میں فرائض کے ثبوت سے مانع نہ ہوا تو واجبات ثابت ہونے سے مانع کیوں ہوگا سنن رواتب فرائض کے تابع ہیں وہ فرائض کو حاصل کرانے والی اور ان کے وجود وثبوت کا ذریعہ بھی نہیں صرف ان کی تکمیل کرنے والی ہو کر مشروع ہوئی ہیں تو یہ وضو کے درجہ میں بھی نہیں مگر ان کی یہ تبعیت اس سے مانع نہ ہوئی کہ ان میں بھی فرائض و واجبات او رسنن ومستحبات ہوں جیسے ان کی اصل یعنی فرائض میں ہیں “ وضو میں کوئی واجب نہیں “ سے یہ مراد نہیں کہ وضو اس قابل نہیں کہ اس کے اندر کوئی واجب ہوا ور ہمیں وہ بات کہنے کی ضرورت ہو جو مستدل نے ذکر کی اسی سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں وضو کا کوئی
فـــــ : ۱۳تطفل علی الفتح وعلی ۱۴ من نقل عنہ فی الفتح۔
۳۲اقول : لم یأت فـــــ المستدل بشیئ حتی سمع ماسمع واذا لم یمنع تبعیۃ الوضوء ثبوت الفرائض فیہ فلم یمنع ثبوت الواجبات و الرواتب توابع للفرائض انماشرعت مکملات لا محصلات لہا فلیست فی مرتبۃ الوضوء ایضا ثم لا یقعدھا ذلك عن ان یکون لھا کل من الفروض والواجبات والسنن والمستحبات کما للاصول۔ ولم نعن ان الوضوء لایستاھل فی نفسہ ان یکون لہ واجب حتی نحتاج الی ماذکر المستدل وانما عنینا ان لیس فی مذھبنا واجب فی الوضوء لایجوز ترکہ و
ہے مثلا یہ کہ نذر ماننے سے وضو لازم نہیں اور نماز لازم ہے اور برابری دفع کرنے کے لئے یہ حکم بھی کیا جاسکتاہے کہ واجب وضو واجب نماز سے کم رتبہ ہوگا جیسے فر ض وضو فر ض نماز سے کم رتبہ ہے اھ ان کا کلام ختم ہوا ۔ (ت)
اقول : مستدل نے کوئی مضبو ط بات نہ کی جس کے نتیجے میں اسے یہ سب سننا پڑا ۔ مزید ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جب وضو کا تا بع نماز ہونا وضو میں فرائض کے ثبوت سے مانع نہ ہوا تو واجبات ثابت ہونے سے مانع کیوں ہوگا سنن رواتب فرائض کے تابع ہیں وہ فرائض کو حاصل کرانے والی اور ان کے وجود وثبوت کا ذریعہ بھی نہیں صرف ان کی تکمیل کرنے والی ہو کر مشروع ہوئی ہیں تو یہ وضو کے درجہ میں بھی نہیں مگر ان کی یہ تبعیت اس سے مانع نہ ہوئی کہ ان میں بھی فرائض و واجبات او رسنن ومستحبات ہوں جیسے ان کی اصل یعنی فرائض میں ہیں “ وضو میں کوئی واجب نہیں “ سے یہ مراد نہیں کہ وضو اس قابل نہیں کہ اس کے اندر کوئی واجب ہوا ور ہمیں وہ بات کہنے کی ضرورت ہو جو مستدل نے ذکر کی اسی سے ہماری مراد صرف یہ ہے کہ ہمارے مذہب میں وضو کا کوئی
فـــــ : ۱۳تطفل علی الفتح وعلی ۱۴ من نقل عنہ فی الفتح۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارات نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱
یصح بدونہ وھذا ظاھر لایفتاق الی اظھار وثابت لایصلح للانکار۔
واجب نہیں جس کا ترك جائز نہ ہو اور جس کے بغیر نفس وضو کی صحت حاصل ہوجائے او ریہ بالکل واضح ہو جس کے اظہار کی ضرورت نہیں اور ثابت ہے جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔ ت)
اور مسئلہ تسمیہ اولا تنہا محقق کی اپنی بحث ہے کہ نہ ائمہ مذہب سے منقول نہ محققین مابعد میں مقبول خود ان کے تلمیذ علامہ قاسم بن قطلو بغا نے فـــــ فرمایا : ہمارے شیخ کی جو بحثیں خلاف مذہب ہیں ان کا اعتبار نہ ہوگا۔
۳۳اقول : یعنی جب کہ خلاف اختلاف زمانہ سے ناشی نہ ہو
کماافتو بجواز الا جارۃ علی التعلیم والاذان والامامۃ وباخذ صاحب الحق من خلاف جنسہ اذظفر الی نظائر کثیرۃ۔
جیسے علماء نے تعلیم اذان اور امامت پر اجارہ کے جواز کا فتوی دیااور یہ فتوی دیا کہ صاحب حق اپنے حق سے مختلف جنس پاجائے تو اسے لے سکتا ہے (یعنی لینے والامثلا ظالم ہے اور صاحب حق کو ا پنی چیز ملنے کی امید نہیں تو اس کی قیمت کے مساوی ظالم کے مال سے جو ہاتھ لگے لے کر رکھ سکتاہے۔ ) اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔ (ت)
ردالمحتار جنایات الحج میں ہے :
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر
ان کے شاگرد علامہ قاسم نے کہا کہ حضرت محقق کی خلاف مذہب بحثوں کا اعتبار نہیں(ت)
اور خاص اس مسئلہ میں ان کے تلمیذ ارشد امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج نے بحث محقق پر
فـــــ : ضروریہ خلاف مذہب بحثیں اگرچہ امام ابن الہمام کی ہوں مقبول نہیں جبکہ خلاف اختلاف زمانہ سے ناشی نہ ہو۔
واجب نہیں جس کا ترك جائز نہ ہو اور جس کے بغیر نفس وضو کی صحت حاصل ہوجائے او ریہ بالکل واضح ہو جس کے اظہار کی ضرورت نہیں اور ثابت ہے جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔ ت)
اور مسئلہ تسمیہ اولا تنہا محقق کی اپنی بحث ہے کہ نہ ائمہ مذہب سے منقول نہ محققین مابعد میں مقبول خود ان کے تلمیذ علامہ قاسم بن قطلو بغا نے فـــــ فرمایا : ہمارے شیخ کی جو بحثیں خلاف مذہب ہیں ان کا اعتبار نہ ہوگا۔
۳۳اقول : یعنی جب کہ خلاف اختلاف زمانہ سے ناشی نہ ہو
کماافتو بجواز الا جارۃ علی التعلیم والاذان والامامۃ وباخذ صاحب الحق من خلاف جنسہ اذظفر الی نظائر کثیرۃ۔
جیسے علماء نے تعلیم اذان اور امامت پر اجارہ کے جواز کا فتوی دیااور یہ فتوی دیا کہ صاحب حق اپنے حق سے مختلف جنس پاجائے تو اسے لے سکتا ہے (یعنی لینے والامثلا ظالم ہے اور صاحب حق کو ا پنی چیز ملنے کی امید نہیں تو اس کی قیمت کے مساوی ظالم کے مال سے جو ہاتھ لگے لے کر رکھ سکتاہے۔ ) اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔ (ت)
ردالمحتار جنایات الحج میں ہے :
قد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ للمذھب لاتعتبر
ان کے شاگرد علامہ قاسم نے کہا کہ حضرت محقق کی خلاف مذہب بحثوں کا اعتبار نہیں(ت)
اور خاص اس مسئلہ میں ان کے تلمیذ ارشد امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج نے بحث محقق پر
فـــــ : ضروریہ خلاف مذہب بحثیں اگرچہ امام ابن الہمام کی ہوں مقبول نہیں جبکہ خلاف اختلاف زمانہ سے ناشی نہ ہو۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحج باب الجنایات دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۰۶
تعویل درکنار سنیت بھی نہ مانی صرف استحباب کو مرجح قرار دیا جسے خلاصہ میں مفاد ظاہر الراویۃ اور ھدایہ میں اصح فرمایا حلیہ میں فرماتے ہیں :
وانی لمتعجب ممن استدل بہ وحدہ علی الاستنان (یرید حدیث انس قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ھل مع احد منکم ماء فوضع یدہ فی الاناء وقال توضوا بسم الله قال فرأیت الماء یخرج من بین اصابعہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی توضوا من عند اخرھم وکانوا نحوا من سبعین اخرجہ النسائی وابن خزیمۃ والبیھقی وقال انہ اصح مافی التسمیۃ وقال النووی اسنادہ جید۔
۳۴اقول : وضعف دلالتہ علی استنان التسمیۃ لکل وضوء ظاھر فالظاھر انہ ھھنا لاستجلاب البرکۃ فی الماء القلیل والله تعالی
“ مجھے تو اس پرتعجب ہے جس نے صرف اس حدیث سے وضو میں تسمیہ کے مسنون ہونے پر استدلال کیا “ ( اس سے مراد حضرت انس رضی الله علی عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ پانی ہے پھر دست مبارك برتن میں رکھا اور فرمایا الله کے نام سے وضو کرو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلنے لگا یہاں تك کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا اور یہ ستر کے قریب تھے ۔ اسے نسائی ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا اور بیہقی نے کہا یہ تسمیہ میں سب سے صحیح حدیث ہے ۔ اور نووی نے کہا اس کی سند جید ہے )
اقول : ہر وضو کے لئے تسمیہ کے مسنون ہونے پر اس حدیث کی دلالت کا کمزور ہونا واضح ہے اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ یہاں پر بسم الله تھوڑے پانی میں برکت حاصل کرانے کیلئے ہے
وانی لمتعجب ممن استدل بہ وحدہ علی الاستنان (یرید حدیث انس قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ھل مع احد منکم ماء فوضع یدہ فی الاناء وقال توضوا بسم الله قال فرأیت الماء یخرج من بین اصابعہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی توضوا من عند اخرھم وکانوا نحوا من سبعین اخرجہ النسائی وابن خزیمۃ والبیھقی وقال انہ اصح مافی التسمیۃ وقال النووی اسنادہ جید۔
۳۴اقول : وضعف دلالتہ علی استنان التسمیۃ لکل وضوء ظاھر فالظاھر انہ ھھنا لاستجلاب البرکۃ فی الماء القلیل والله تعالی
“ مجھے تو اس پرتعجب ہے جس نے صرف اس حدیث سے وضو میں تسمیہ کے مسنون ہونے پر استدلال کیا “ ( اس سے مراد حضرت انس رضی الله علی عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ پانی ہے پھر دست مبارك برتن میں رکھا اور فرمایا الله کے نام سے وضو کرو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انگلیوں کے درمیان سے پانی نکلنے لگا یہاں تك کہ سب لوگوں نے وضو کرلیا اور یہ ستر کے قریب تھے ۔ اسے نسائی ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا اور بیہقی نے کہا یہ تسمیہ میں سب سے صحیح حدیث ہے ۔ اور نووی نے کہا اس کی سند جید ہے )
اقول : ہر وضو کے لئے تسمیہ کے مسنون ہونے پر اس حدیث کی دلالت کا کمزور ہونا واضح ہے اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ یہاں پر بسم الله تھوڑے پانی میں برکت حاصل کرانے کیلئے ہے
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
سنن نسائی باب تسمیۃعند الوضوء نور محمدکار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۵ ، صحیح ابن خزیمہ باب ذکر تسمیۃ αاللہ€ عزوجل عند وضوء حدیث ۱۴۴ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۴۷ ، السنن الکبریٰ کتاب الطہارۃ باب تسمیۃ علی الوضوء دار صادر بیروت ۱ / ۴۳
السنن الکبریٰ کتاب الطہارۃ باب تسمیۃ علی الوضوء دار صادر بیروت ۱ / ۴۳
سنن نسائی باب تسمیۃعند الوضوء نور محمدکار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۵ ، صحیح ابن خزیمہ باب ذکر تسمیۃ αاللہ€ عزوجل عند وضوء حدیث ۱۴۴ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۴۷ ، السنن الکبریٰ کتاب الطہارۃ باب تسمیۃ علی الوضوء دار صادر بیروت ۱ / ۴۳
السنن الکبریٰ کتاب الطہارۃ باب تسمیۃ علی الوضوء دار صادر بیروت ۱ / ۴۳
اعلم۔ قال فی الحلیہ وکذلك غایۃ مایفیدہ الاستدلال الماضی بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا وضوءلمن لم یذکر اسم الله علیہ الاستحباب فانہ کما یثبت نفی الفضیلۃ والکمال بترك السنۃ یثبت بترك المستحب فی الجملۃ فیترجح بھذا البحث القول بالاستحباب والله سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب اھ
اور خدائے بر ترہی کو خوب علم ہے ۔ آگے حلیہ میں فرمایا ) “ اسی طر ح حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد “ اس کا وضو نہیں جس نے وضو پر خدا کا نام نہ ذکر کیا “ سے سابقا جو استدلال ہے اس سے زیادہ سے زیادہ استحباب مستفاد ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وافضل وضو ہونے کی نفی جیسے ترك سنت سے ثابت ہوتی ہے فی الجملہ ترك مستحب سے بھی ثابت ہوتی ہے تو اس بحث سے اس کے استحباب ہی کا قول ترجیح پاتا ہے اور خدائے بزرگ و بر تر ہی صواب ودرستی کو خوب جانتا ہے اھ ۔ (ت)
ثانیا کہا گیا کہ خود امام محقق علی الاطلاق نے اسی کتاب کے باب شروط الصلاۃ میں اپنی اس بحث سے رجوع کی اور فرمادیا کہ حق وہی ہے جو ہمارے علماء کا مذہب ہے کہ وضو میں بسم الله صرف مستحب ہے۔ ردا لمحتار میں ہے۔
تعجب صاحب البحرمن المحقق ابن الہمام حیث رجح ھنا وجوبھا ثم ذکر فی باب شروط الصلاۃ ان الحق ما علیہ علماؤنا من انھا مستحبۃ کیف وقد قال الامام احمد لااعلم فیھا حدیثا ثابتا اھ
صاحب بحر نے محقق ابن ہمام پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ یہاں تو انہوں نے وجوب تسمیہ کو ترجیح دی پھر شرائط نماز کے باب میں یہ ذکر کیا کہ حق اس کا استحباب ہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں اور کیوں نہ ہو جب کہ امام احمد نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث میرے علم میں نہیں اھ ۔ (ت)
۳۵ اقول : اللھم غفرا( میں کہتا ہوں اے الله ! مغفرت فرما۔ ت)یہ سخت
اور خدائے بر ترہی کو خوب علم ہے ۔ آگے حلیہ میں فرمایا ) “ اسی طر ح حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد “ اس کا وضو نہیں جس نے وضو پر خدا کا نام نہ ذکر کیا “ سے سابقا جو استدلال ہے اس سے زیادہ سے زیادہ استحباب مستفاد ہوتا ہے اس لئے کہ کامل وافضل وضو ہونے کی نفی جیسے ترك سنت سے ثابت ہوتی ہے فی الجملہ ترك مستحب سے بھی ثابت ہوتی ہے تو اس بحث سے اس کے استحباب ہی کا قول ترجیح پاتا ہے اور خدائے بزرگ و بر تر ہی صواب ودرستی کو خوب جانتا ہے اھ ۔ (ت)
ثانیا کہا گیا کہ خود امام محقق علی الاطلاق نے اسی کتاب کے باب شروط الصلاۃ میں اپنی اس بحث سے رجوع کی اور فرمادیا کہ حق وہی ہے جو ہمارے علماء کا مذہب ہے کہ وضو میں بسم الله صرف مستحب ہے۔ ردا لمحتار میں ہے۔
تعجب صاحب البحرمن المحقق ابن الہمام حیث رجح ھنا وجوبھا ثم ذکر فی باب شروط الصلاۃ ان الحق ما علیہ علماؤنا من انھا مستحبۃ کیف وقد قال الامام احمد لااعلم فیھا حدیثا ثابتا اھ
صاحب بحر نے محقق ابن ہمام پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ یہاں تو انہوں نے وجوب تسمیہ کو ترجیح دی پھر شرائط نماز کے باب میں یہ ذکر کیا کہ حق اس کا استحباب ہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں اور کیوں نہ ہو جب کہ امام احمد نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی ثابت حدیث میرے علم میں نہیں اھ ۔ (ت)
۳۵ اقول : اللھم غفرا( میں کہتا ہوں اے الله ! مغفرت فرما۔ ت)یہ سخت
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الطہارت دار احیا التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵
ردالمحتار کتاب الطہارت دار احیا التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵
تعجب کا محل ہے فقیر نے رد المحتار پر جو حواشی لکھے ہیں ان میں اس قول پر لکھا
۳۶اقول : سبحن فـــــ من تنزہ عن النسیان و الخطأ انما عبارۃ المحقق فی شروط الصلاۃ (فی الکلام علی الاستدلال بقولہ تعالی خذوا زینتکم عند کل مسجد علی لزوم سترالعورۃ فی الصلاۃ) بھذا القدر الحق ان الایۃ ظنیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فمقتضاھا الوجوب فی الصلاۃ ومنھم من اخذ منھا قطعیۃ الثبوت ومن حدیث “ لاصلاۃ لحائض الابخمار “ قطعیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فیثبت الفرض بالمجوع وفیہ مالایخفی بعد تسلیم قطعیۃ الدلالۃ فی الحدیث والا فھو قداعترف فی نظیرہ من نحو “ لاوضوء لمن لم یسم ولاصلاۃ لجار المسجد “ انہ ظنی الدلالۃ ولاشك فی ذلك لان احتمال نفی الکمال قائم
والاوجہ الاستدلال بالاجماع علی الافتراض فی
اقول : پاکی ہے اسے جو خطا ونسیان سے منزہ ہے باری تعالی کا ارشاد ہے تم ہر نماز کے وقت اپنی آرائش اختیار کرو “ اس سے نماز کے اندرستر عورت کی فر ضیت کے استدلال پر کلام کرتے ہوئے شرا ئط نماز کی بحث میں محقق علی الاطلاق کی عبارت صرف اس قدر ہے حق یہ ہے کہ ستر عورت کے بارے میں اس آیت کی دلالت ظنی ہے اس لئے اس کا مقتضابس وجوب ہوگا نماز میں ۔ اور بعض حضرات نے ستر عورت کے بارے میں اس آیت سے قطعیت ثبوت لی اور حدیث “ لا صلوۃ الحائض الا بخمار “ ( بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں )سے قطعیت اثبات ودلالت لی اور دونوں کے مجموعے سے ستر کی فرضیت ثابت کی حالانکہ حدیث میں ستر پر دلالت کی قطعیت اگر مان لی جائے تب بھی اس استدلال پر جو کلام ہے وہ محتاج بیان نہیں ورنہ اس مستدل نے تو خود حدیث مذکور کی نظیر “ لا وضوء لمن لم یسم “ (جس نے بسم الله نہ پڑھی اس کا وضو نہیں)اور “ لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد “ ( مسجدکے پڑوسی کے لئے نماز نہیں مگر مسجد ہی میں) وغیرہ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وجوب پر ان
فـــــ : ۱۵معروضۃعلی ردالمحتار
۳۶اقول : سبحن فـــــ من تنزہ عن النسیان و الخطأ انما عبارۃ المحقق فی شروط الصلاۃ (فی الکلام علی الاستدلال بقولہ تعالی خذوا زینتکم عند کل مسجد علی لزوم سترالعورۃ فی الصلاۃ) بھذا القدر الحق ان الایۃ ظنیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فمقتضاھا الوجوب فی الصلاۃ ومنھم من اخذ منھا قطعیۃ الثبوت ومن حدیث “ لاصلاۃ لحائض الابخمار “ قطعیۃ الدلالۃ فی سترالعورۃ فیثبت الفرض بالمجوع وفیہ مالایخفی بعد تسلیم قطعیۃ الدلالۃ فی الحدیث والا فھو قداعترف فی نظیرہ من نحو “ لاوضوء لمن لم یسم ولاصلاۃ لجار المسجد “ انہ ظنی الدلالۃ ولاشك فی ذلك لان احتمال نفی الکمال قائم
والاوجہ الاستدلال بالاجماع علی الافتراض فی
اقول : پاکی ہے اسے جو خطا ونسیان سے منزہ ہے باری تعالی کا ارشاد ہے تم ہر نماز کے وقت اپنی آرائش اختیار کرو “ اس سے نماز کے اندرستر عورت کی فر ضیت کے استدلال پر کلام کرتے ہوئے شرا ئط نماز کی بحث میں محقق علی الاطلاق کی عبارت صرف اس قدر ہے حق یہ ہے کہ ستر عورت کے بارے میں اس آیت کی دلالت ظنی ہے اس لئے اس کا مقتضابس وجوب ہوگا نماز میں ۔ اور بعض حضرات نے ستر عورت کے بارے میں اس آیت سے قطعیت ثبوت لی اور حدیث “ لا صلوۃ الحائض الا بخمار “ ( بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں )سے قطعیت اثبات ودلالت لی اور دونوں کے مجموعے سے ستر کی فرضیت ثابت کی حالانکہ حدیث میں ستر پر دلالت کی قطعیت اگر مان لی جائے تب بھی اس استدلال پر جو کلام ہے وہ محتاج بیان نہیں ورنہ اس مستدل نے تو خود حدیث مذکور کی نظیر “ لا وضوء لمن لم یسم “ (جس نے بسم الله نہ پڑھی اس کا وضو نہیں)اور “ لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد “ ( مسجدکے پڑوسی کے لئے نماز نہیں مگر مسجد ہی میں) وغیرہ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وجوب پر ان
فـــــ : ۱۵معروضۃعلی ردالمحتار
حوالہ / References
جد الممتار علٰی ردالمحتار کتاب الطہارۃ المجمع السلامی مبارك پور انڈیا ۱ / ۹۶
الصلاۃ کما نقلہ غیر واحد من ائمۃ النقل الی ان حدث بعض المالکیۃ فخالف فیہ کالقاضی اسمعیل وھو لایجوز بعد تقرر الاجماع اھ بلفظہ الشریف۔
ولیس فیہ من قولہ فالحق ماعلیہ وعلماؤنا الخ عین ولا اثر وانما ھومن کلام البحر حیث قال والعجب من الکمال ابن الھمام انہ فی ھذا الموضع نفی ظنیۃ الدلالۃ عن حدیث التسمیۃ بمعنی مشترکھا واثبتھا لہ فی باب شروط الصلاۃ بابلغ وجوہ الاثبات بان قال ولا شك فی
سب کی دلالت ظنی ہے ۔ اور واقعۃ وجوب پر ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شك نہیں ۔ اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو (اور لاصلوۃ لاوضوء کہہ کر حقیقت نماز اور حقیقت وضو کی نفی مقصودنہ ہو) اوجہ او رزیادہ مناسب یہ ہے کہ نماز میں فرضیت ستر پر اجماع کو دلیل میں پیش کیا جائے جیسا کہ متعدد ائمہ نقل نے اس پر اجماع نقل کیا ہے یہاں تك کہ مالکیہ میں بعض افراد جیسے قاضی اسمعیل پیدا ہوئے اور اس اجماع کی مخالفت کی جب کہ اجماع ثابت و مقرر ہوجانے کے بعد اس مخالفت کا کوئی جواز نہیں “ اھ بلفظہ الشریف
اس میں بحر کے حوالے سے شامی کی بیان کردہ عبارت “ فالحق ماعلیہ علما ء و نا الخ “ ( تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں کہ وضو میں تسمیہ مستحب ہے ) کا کوئی نام ونشان نہیں دراصل وہ بحر کی عبارت ہے ان کے الفاظ اس طرح ہیں “ کمال ابن ہمام پر تعجب ہے کہ یہاں تو انہوں نے حدیث تسمیہ کے ظنی الدلالۃ بمعنی مشترك الدلالۃ ہونے کی نفی کی اور شرائط نماز کے باب میں بڑے شدومد کے ساتھ اس کا اثبات کیااور کہا : ولا شك فی ذالك لان
ولیس فیہ من قولہ فالحق ماعلیہ وعلماؤنا الخ عین ولا اثر وانما ھومن کلام البحر حیث قال والعجب من الکمال ابن الھمام انہ فی ھذا الموضع نفی ظنیۃ الدلالۃ عن حدیث التسمیۃ بمعنی مشترکھا واثبتھا لہ فی باب شروط الصلاۃ بابلغ وجوہ الاثبات بان قال ولا شك فی
سب کی دلالت ظنی ہے ۔ اور واقعۃ وجوب پر ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شك نہیں ۔ اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو (اور لاصلوۃ لاوضوء کہہ کر حقیقت نماز اور حقیقت وضو کی نفی مقصودنہ ہو) اوجہ او رزیادہ مناسب یہ ہے کہ نماز میں فرضیت ستر پر اجماع کو دلیل میں پیش کیا جائے جیسا کہ متعدد ائمہ نقل نے اس پر اجماع نقل کیا ہے یہاں تك کہ مالکیہ میں بعض افراد جیسے قاضی اسمعیل پیدا ہوئے اور اس اجماع کی مخالفت کی جب کہ اجماع ثابت و مقرر ہوجانے کے بعد اس مخالفت کا کوئی جواز نہیں “ اھ بلفظہ الشریف
اس میں بحر کے حوالے سے شامی کی بیان کردہ عبارت “ فالحق ماعلیہ علما ء و نا الخ “ ( تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں کہ وضو میں تسمیہ مستحب ہے ) کا کوئی نام ونشان نہیں دراصل وہ بحر کی عبارت ہے ان کے الفاظ اس طرح ہیں “ کمال ابن ہمام پر تعجب ہے کہ یہاں تو انہوں نے حدیث تسمیہ کے ظنی الدلالۃ بمعنی مشترك الدلالۃ ہونے کی نفی کی اور شرائط نماز کے باب میں بڑے شدومد کے ساتھ اس کا اثبات کیااور کہا : ولا شك فی ذالك لان
حوالہ / References
فتح القدیر باب شروط الصلوۃالتی تتقدمہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲۴
ذلك لان احتمال نفی الکمال قائم فالحق ماعلیہ علماؤناالی اخر( مانقل الشامی۔ فالعلامۃ الشامی رحمہ الله تعالی لم یراجع ھھنا الی الفتح وظن ان الکلام کلہ منقول عنہ “ وانما ھو عنہ الی قولہ قائم وما بعدہ فمن البحر “ ۔ )
ثم ۳۶اقول : العجب ف کل العجب من المحقق صاحب البحر کیف نسب ھھنا الی المحقق مالم یقلہ ولم یردہ فانہ رحمہ الله تعالی انما نفی ھھنا عن خبر التسمیۃ الظنیۃ بمعنی الاشتراك اعنی تساوی الاحتمالین کما یتساوی معنیا المشترك مالم تقم علی احدھما قرینۃ ولم یقل مکان قولہ مشترکھا مشکوکہا اذلا شك فی الدلالۃ انما الشك فی تعیین
احتمال نفی الکمال قائم “ یعنی واقعۃ “ ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شك نہیں اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں اس عبارت کے آخر تك جو علامہ شامی نے نقل کی اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہاں فتح القدیر کی مراجعت نہ کی اور یہ خیال کرلیا کہ بحر کی ساری عبارت فتح ہی سے منقول ہے حالانکہ اس میں فتح سے صرف لفظ “ قائم “ تك نقل ہے اس کے بعد کا کلام خود بحر کا ہے
ثم اقول : سخت تعجب محقق صاحب بحر پر ہے کہ انہوں نے یہاں محقق علی الاطلاق کی جانب ایك ایسی بات کیسے منسوب کردی جو نہ انہوں نے کہی نہ ہی وہ ان کا مقصود ہے اس لئے کہ حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ نے یہاں جس بات کا انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث تسمیہ میں ظنیت اثبات بمعنی اشتراك ہو ۔ اشتراك کا مطلب یہ کہ دونوں احتمال برابر ہوں جیسے مشترك کے دونوں معنی برابر ہوتے ہیں جب تك کہ کسی ایك پر کوئی قرینہ نہ قائم ہو اور انہوں نے لفظ مشترك الدلالۃ کے بجائے مشکوك الدلالۃ نہ کہا اس کی وجہ
فـــــ : تطفل علی البحر الرائق
ثم ۳۶اقول : العجب ف کل العجب من المحقق صاحب البحر کیف نسب ھھنا الی المحقق مالم یقلہ ولم یردہ فانہ رحمہ الله تعالی انما نفی ھھنا عن خبر التسمیۃ الظنیۃ بمعنی الاشتراك اعنی تساوی الاحتمالین کما یتساوی معنیا المشترك مالم تقم علی احدھما قرینۃ ولم یقل مکان قولہ مشترکھا مشکوکہا اذلا شك فی الدلالۃ انما الشك فی تعیین
احتمال نفی الکمال قائم “ یعنی واقعۃ “ ان سب کی دلالت کے ظنی ہونے میں کوئی شك نہیں اس لئے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان سب میں وضو ونماز کے کامل ہونے کی نفی ہو تو حق وہی ہے جس پر ہمارے علماء ہیں اس عبارت کے آخر تك جو علامہ شامی نے نقل کی اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہاں فتح القدیر کی مراجعت نہ کی اور یہ خیال کرلیا کہ بحر کی ساری عبارت فتح ہی سے منقول ہے حالانکہ اس میں فتح سے صرف لفظ “ قائم “ تك نقل ہے اس کے بعد کا کلام خود بحر کا ہے
ثم اقول : سخت تعجب محقق صاحب بحر پر ہے کہ انہوں نے یہاں محقق علی الاطلاق کی جانب ایك ایسی بات کیسے منسوب کردی جو نہ انہوں نے کہی نہ ہی وہ ان کا مقصود ہے اس لئے کہ حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ نے یہاں جس بات کا انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ حدیث تسمیہ میں ظنیت اثبات بمعنی اشتراك ہو ۔ اشتراك کا مطلب یہ کہ دونوں احتمال برابر ہوں جیسے مشترك کے دونوں معنی برابر ہوتے ہیں جب تك کہ کسی ایك پر کوئی قرینہ نہ قائم ہو اور انہوں نے لفظ مشترك الدلالۃ کے بجائے مشکوك الدلالۃ نہ کہا اس کی وجہ
فـــــ : تطفل علی البحر الرائق
المدلول ولم یعترف بھذا فی شروط الصلاۃ انما اعترف بقیام الاحتمال ولم ینکرہ ھھنا بل قدصرح بہ( حیث قال نفی الکمال فیھما احتمال یقابلہ الظہور اھ ولاجل کونہ مرجوحا لم یستنزل الحدیث عن افادۃ الوجوب کما قدمنا نقل کلامہ وھو بمرأی منك فلاتعارض بین کلامیہ اصلا وبالله التوفیق۔
ثم اشد فـــــ العجب العجب علی العجب ان المحقق صاحب البحر فھم من کلام المحقق حیث اطلق رحمہما الله تعالی انہ یدعی قطعیۃ دلالۃ الحدیث علی
یہ ہے کہ ( دلالت تو دونوں معنوں پر موجود ہے ۱۲م) دلالت میں کوئی شك نہیں صرف مدلول کی تعیین میں شك ہے اورشرائط نماز میں اعتراف اس بات کا نہیں وہاں انہوں نے بس احتمال موجود ہونے کا اعتراف کیا ہے اس کا انکار یہا ں بھی نہیں بلکہ اس کی تو صراحت فرمائی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں “ ان دونوں حدیثوں میں نفی کمال ایك ایسا احتمال ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے اھ “ یعنی احتمال ہے مگر چونکہ مرجوع ہے اس لئے وہ حدیث کو افادہ وجوب کے درجے سے نیچے نہ لاسکے گا جسیا کہ ہم ان کی پوری عبارت پہلے نقل کر آئے ہیں اور وہ آپ کے سامنے ہے اس سے ثابت ہوا کہ ان کی دونوں مقام کی عبارتوں میں بالکل کوئی تعارض نہیں وبالله التو فیق۔
پھر سخت حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ محقق صاحب بحر نے محقق علی الاطلاق رحمہم اللہ تعالیکے کلام سے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ وضو کے لئے وجوب تسمیہ پر حدیث
فـــــ : ۱۷تطفل آخرعلی البحر الرائق
ثم اشد فـــــ العجب العجب علی العجب ان المحقق صاحب البحر فھم من کلام المحقق حیث اطلق رحمہما الله تعالی انہ یدعی قطعیۃ دلالۃ الحدیث علی
یہ ہے کہ ( دلالت تو دونوں معنوں پر موجود ہے ۱۲م) دلالت میں کوئی شك نہیں صرف مدلول کی تعیین میں شك ہے اورشرائط نماز میں اعتراف اس بات کا نہیں وہاں انہوں نے بس احتمال موجود ہونے کا اعتراف کیا ہے اس کا انکار یہا ں بھی نہیں بلکہ اس کی تو صراحت فرمائی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں “ ان دونوں حدیثوں میں نفی کمال ایك ایسا احتمال ہے کہ ظاہر اس کی مخالفت کر رہا ہے اھ “ یعنی احتمال ہے مگر چونکہ مرجوع ہے اس لئے وہ حدیث کو افادہ وجوب کے درجے سے نیچے نہ لاسکے گا جسیا کہ ہم ان کی پوری عبارت پہلے نقل کر آئے ہیں اور وہ آپ کے سامنے ہے اس سے ثابت ہوا کہ ان کی دونوں مقام کی عبارتوں میں بالکل کوئی تعارض نہیں وبالله التو فیق۔
پھر سخت حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ محقق صاحب بحر نے محقق علی الاطلاق رحمہم اللہ تعالیکے کلام سے یہ سمجھ لیا کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ وضو کے لئے وجوب تسمیہ پر حدیث
فـــــ : ۱۷تطفل آخرعلی البحر الرائق
حوالہ / References
فتح القدیر کتا ب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱
جد الممتار علی ردالمحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور(الہند) ۱ / ۹۶
جد الممتار علی ردالمحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور(الہند) ۱ / ۹۶
ایجاب التسمیۃ للوضوء حیث قال وقد اجاب (ای فی الفتح) عن قولھم لاواجب فی الوضوء بما حاصلہ ان ھذا الحدیث لما کان ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ ولم یصرف صارف افاد الوجوب اھ
۳۷ اقول : ھذا نقیض ماصرح بہ المحقق فانہ انما قرر ان الحدیث ظنی الثبوت والدلالۃ جمیعا وحقق ان الثابت بمثلہ الوجوب دون الاستنان ا ذاکان احتمال الخلاف مرجوحا وقال ان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ اھ
کما تقدم وقد نقلہ المحقق صاحب البحر بقولہ ان ارید بظنیھا مافیہ احتمال ولو مرجوحا فلا نسلم انہ لایثبت بہ الوجوب لان الظن
کی دلالت قطعی ہے بحر کے الفا ظ یہ ہیں فقہا نے فرمایا کہ وضو میں کوئی واجب نہیں اس کا فتح القدیر میں جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث جب ثبوت میں ظنی دلالت میں قطعی ہے اور اسے اس معنی سے پھیرنے والی کوئی چیز نہیں تو وہ وجوب کا افادہ کرے گی اھ ( اور وضو میں یہ واجب ( تسمیہ) اس حدیث کے پیش نظر ثابت ہوجائے گا ۱۲م)
اقول : یہ اس کے بالکل بر عکس ہے جس کی حضرت محقق نے صراحت فرمائی کیونکہ انہوں نے تو یہی تقریر فرمائی ہے کہ حدیث ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہے اور یہ تحقیق کی ہے کہ ایسی حدیث سے سنیت نہیں وجوب ثابت ہوتا ہے بشرطیکہ احتمال مخالف مرجوح ہو۔ اور انہوں نے فرمایا ہے کہ شریعت کی اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے اور ظن (احتمال راجح )کو ماننا واجب ہے اھ
جیسا کہ پہلے ان کی یہ عبارت گزری اور اسے صاحب بحر نے بھی اپنے ان الفاظ میں نقل کیا ہے اگر ظنی الدلالۃ کا یہ مطلب لیا گیا ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی دوسرا احتمال ہو اگر چہ مرجوح سہی تو ہم یہ نہیں مانتے کہ ایسی دلیل سے وجوب ثابت
۳۷ اقول : ھذا نقیض ماصرح بہ المحقق فانہ انما قرر ان الحدیث ظنی الثبوت والدلالۃ جمیعا وحقق ان الثابت بمثلہ الوجوب دون الاستنان ا ذاکان احتمال الخلاف مرجوحا وقال ان الظن واجب الاتباع فی الادلۃ الشرعیۃ الاجتھادیۃ وھو متعلق بالاحتمال الراجح فیجب اعتبار متعلقہ اھ
کما تقدم وقد نقلہ المحقق صاحب البحر بقولہ ان ارید بظنیھا مافیہ احتمال ولو مرجوحا فلا نسلم انہ لایثبت بہ الوجوب لان الظن
کی دلالت قطعی ہے بحر کے الفا ظ یہ ہیں فقہا نے فرمایا کہ وضو میں کوئی واجب نہیں اس کا فتح القدیر میں جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث جب ثبوت میں ظنی دلالت میں قطعی ہے اور اسے اس معنی سے پھیرنے والی کوئی چیز نہیں تو وہ وجوب کا افادہ کرے گی اھ ( اور وضو میں یہ واجب ( تسمیہ) اس حدیث کے پیش نظر ثابت ہوجائے گا ۱۲م)
اقول : یہ اس کے بالکل بر عکس ہے جس کی حضرت محقق نے صراحت فرمائی کیونکہ انہوں نے تو یہی تقریر فرمائی ہے کہ حدیث ثبوت اور دلالت دونوں میں ظنی ہے اور یہ تحقیق کی ہے کہ ایسی حدیث سے سنیت نہیں وجوب ثابت ہوتا ہے بشرطیکہ احتمال مخالف مرجوح ہو۔ اور انہوں نے فرمایا ہے کہ شریعت کی اجتہادی دلیلوں میں ظن کا اتباع واجب ہے اور ظن (احتمال راجح )کو ماننا واجب ہے اھ
جیسا کہ پہلے ان کی یہ عبارت گزری اور اسے صاحب بحر نے بھی اپنے ان الفاظ میں نقل کیا ہے اگر ظنی الدلالۃ کا یہ مطلب لیا گیا ہے کہ وہ دلیل جس میں کوئی بھی دوسرا احتمال ہو اگر چہ مرجوح سہی تو ہم یہ نہیں مانتے کہ ایسی دلیل سے وجوب ثابت
حوالہ / References
البحرا لرائق کتا ب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھ ۱ / ۲۱
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھ ۱ / ۲۱
واجب الاتباع وانکان فیہ احتمال اھ فسبحن من لایزل ولا ینسی۔
ثم حاول المحقق فـــــ صاحب البحر الرد علی المحقق حیث اطلق باختیار الشق الاول فقال مرادھم من ظنی الدلالۃ مشترکھا ولا شك انہ مشترك شرعی اطلق تارۃ وارید بہ نفی الحقیقۃ نحولا صلوۃ لحائض الابخمار ولا نکاح الابشھود واطلق تارۃ مراد بہ نفی الکمال نحولا صلاۃ للعبد الابق ولا صلاۃ لجار المسجد الافی المسجد اھ
۳۸اقول : المحقق لاینکر انہ یاتی لہذا وھذا کیف وقد نص بقیام احتمال نفی الکمال فی الموضعین من
نہ ہوگا اس لئے کہ ظن کا اتباع واجب ہے اگر چہ اس میں کوئی اور احتمال موجود ہے اھ تو پاکی ہے اس ذات کے لئے جسے لغزش اور فراموشی نہیں۔
پھر محقق صاحب بحر نے پہلی شق اختیار کر کے محقق علی الاطلاق کی تردید کر نے کی کوشش کی ہے کہتے ہیں “ ظنی الدلالۃ سے علماء کی مراد مشترك الدلالۃ ہے اور اس میں شك نہیں کہ یہ مشترك شرعی ہے کبھی اس کا اطلاق ہوا اور اس سے نفی حقیقت مقصود ہوئی جیسے “ بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں “ اور گواہوں کے بغیر نکاح نہیں “ اور کبھی اس کا ا طلاق ہوا اور نفی کمال مقصود رہی جیسے “ آقا کے پاس سے بھاگئے ہوئے غلام کی نماز نہیں “ اور مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں مگر مسجد میں اھ
اقول : حضرت محقق کو اس سے انکار نہیں کہ وہ اس کے لئے بھی آتا ہے اور اس کے لئے بھی (یعنی لائے نفی جنس کی نفی حقیقت اور نفی کمال دونوں معنی میں مستعمل ہونے سے
فـــــ : ۱۸تطفل ثالث علی ا لبحرالرائق وانتصارللامام ابن الہمام
ثم حاول المحقق فـــــ صاحب البحر الرد علی المحقق حیث اطلق باختیار الشق الاول فقال مرادھم من ظنی الدلالۃ مشترکھا ولا شك انہ مشترك شرعی اطلق تارۃ وارید بہ نفی الحقیقۃ نحولا صلوۃ لحائض الابخمار ولا نکاح الابشھود واطلق تارۃ مراد بہ نفی الکمال نحولا صلاۃ للعبد الابق ولا صلاۃ لجار المسجد الافی المسجد اھ
۳۸اقول : المحقق لاینکر انہ یاتی لہذا وھذا کیف وقد نص بقیام احتمال نفی الکمال فی الموضعین من
نہ ہوگا اس لئے کہ ظن کا اتباع واجب ہے اگر چہ اس میں کوئی اور احتمال موجود ہے اھ تو پاکی ہے اس ذات کے لئے جسے لغزش اور فراموشی نہیں۔
پھر محقق صاحب بحر نے پہلی شق اختیار کر کے محقق علی الاطلاق کی تردید کر نے کی کوشش کی ہے کہتے ہیں “ ظنی الدلالۃ سے علماء کی مراد مشترك الدلالۃ ہے اور اس میں شك نہیں کہ یہ مشترك شرعی ہے کبھی اس کا اطلاق ہوا اور اس سے نفی حقیقت مقصود ہوئی جیسے “ بالغہ کے لئے اوڑھنی کے بغیر نماز نہیں “ اور گواہوں کے بغیر نکاح نہیں “ اور کبھی اس کا ا طلاق ہوا اور نفی کمال مقصود رہی جیسے “ آقا کے پاس سے بھاگئے ہوئے غلام کی نماز نہیں “ اور مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں مگر مسجد میں اھ
اقول : حضرت محقق کو اس سے انکار نہیں کہ وہ اس کے لئے بھی آتا ہے اور اس کے لئے بھی (یعنی لائے نفی جنس کی نفی حقیقت اور نفی کمال دونوں معنی میں مستعمل ہونے سے
فـــــ : ۱۸تطفل ثالث علی ا لبحرالرائق وانتصارللامام ابن الہمام
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
بحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
بحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
کلامہ انما یقول ان الاصل نفی الاصل ونفی الکمال خلاف الظاھر ولا ینفیہ ارادتہ حیث دعا الیہ الدلیل ومجرد استعمال لفظ فی معنیین لایجعلہ مشترکا فیھما متساوی الدلالۃ علیھما والا لارتفع المجاز من البین۔
والعجب فـــــ۱ من المحقق صاحب البحر نسی ھھنا ان مذھب فـــــ۲ الحنفیۃ والجمہور ان لا اجمال فی نحولا صلاۃ الا بطھور انما ادعی الاشتراك القاضی ابو بکر البا قلانی من الشافعیۃ وقد تکفل بردہ علماؤنا فی کتبھم الزکیۃ۔
ثم قال المحقق صاحب البحر
انہیں انکار نہیں۱۲م) انکار کیسے ہوگا جبکہ اپنے کلام کے دونوں مقام پر انہوں نے نفی کمال کا احتمال موجود ہونے کی تصریح کی ہے ۔ اور وہ تو صرف یہ فرمارہے ہیں کہ اصل یہی ہے کہ اصل اور حقیقت کی نفی ہو۔ اور کمال کی نفی خلاف ظاہر ہے اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی کہ نفی کمال اس سے کسی ایسے مقام میں مراد لی گئی ہے جہاں دلیل اسی کی مقتضی ہے اور دومعنوں میں کسی لفظ کا محض مستعمل ہوجانا اسے ان دونوں میں مشترك اور دونوں پر برابر برابر دلالت کرنے والا نہیں بنا دیتا ورنہ مجاز کا وجود ہی ختم ہوجائے ۔
اورمحقق صاحب بحر پر تعجب ہے کہ وہ یہاں یہ بھول گئے کہ حنفیہ اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ “ لاصلوۃ الابطہور “ ( بغیر طہارت کے نماز نہیں) کے مثل میں کوئی اجمال نہیں ( یہاں صرف نفی حقیقت کا معنی ہے ایسا نہیں کہ دوسرے معنی کابھی احتمال مساوی موجود ہو اورتعیین کے لئے بیان متکلم کی حاجت ہو ۱۲م) اشتراك کے مدعی تو صرف قاضی ابوبکر باقلانی شافعی ہیں جن کی تردید کی ذمہ داری ہمارے علماء اپنی پاکیزہ کتا بوں میں پورے طور سے ادا کر چکے ہیں ۔
پھر محقق صاحب بحر لکھتے ہیں تو پہلی
فـــــ۱ : ۱۹تطفل رابع علی البحر۔
فـــــ۲ : لااجمال فی نحو لا صلوۃ الا بطہور ۔
والعجب فـــــ۱ من المحقق صاحب البحر نسی ھھنا ان مذھب فـــــ۲ الحنفیۃ والجمہور ان لا اجمال فی نحولا صلاۃ الا بطھور انما ادعی الاشتراك القاضی ابو بکر البا قلانی من الشافعیۃ وقد تکفل بردہ علماؤنا فی کتبھم الزکیۃ۔
ثم قال المحقق صاحب البحر
انہیں انکار نہیں۱۲م) انکار کیسے ہوگا جبکہ اپنے کلام کے دونوں مقام پر انہوں نے نفی کمال کا احتمال موجود ہونے کی تصریح کی ہے ۔ اور وہ تو صرف یہ فرمارہے ہیں کہ اصل یہی ہے کہ اصل اور حقیقت کی نفی ہو۔ اور کمال کی نفی خلاف ظاہر ہے اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی کہ نفی کمال اس سے کسی ایسے مقام میں مراد لی گئی ہے جہاں دلیل اسی کی مقتضی ہے اور دومعنوں میں کسی لفظ کا محض مستعمل ہوجانا اسے ان دونوں میں مشترك اور دونوں پر برابر برابر دلالت کرنے والا نہیں بنا دیتا ورنہ مجاز کا وجود ہی ختم ہوجائے ۔
اورمحقق صاحب بحر پر تعجب ہے کہ وہ یہاں یہ بھول گئے کہ حنفیہ اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ “ لاصلوۃ الابطہور “ ( بغیر طہارت کے نماز نہیں) کے مثل میں کوئی اجمال نہیں ( یہاں صرف نفی حقیقت کا معنی ہے ایسا نہیں کہ دوسرے معنی کابھی احتمال مساوی موجود ہو اورتعیین کے لئے بیان متکلم کی حاجت ہو ۱۲م) اشتراك کے مدعی تو صرف قاضی ابوبکر باقلانی شافعی ہیں جن کی تردید کی ذمہ داری ہمارے علماء اپنی پاکیزہ کتا بوں میں پورے طور سے ادا کر چکے ہیں ۔
پھر محقق صاحب بحر لکھتے ہیں تو پہلی
فـــــ۱ : ۱۹تطفل رابع علی البحر۔
فـــــ۲ : لااجمال فی نحو لا صلوۃ الا بطہور ۔
فتعین نفی الحقیقۃ فی الاولی بالاجماع وفی الثانی لانہ مشہور تلقتہ الامۃ بالقبول فتجوز الزیادۃ بمثلہ علی النصوص المطلقۃ کانت الشہادۃ شرطا اھ
۳۹اقول اولا مبنیفـــــ۱ علی الاشتراك ونفی الحقیقۃ متعین بظہورہ وان اکتسب القطع بالاجماع۔
وثانیا۴۰ فـــــ۲ ماذکر فی الثانی ان حققت یکن حجۃ علیہ فان تلقی الامۃ بالقبول بمعنی نفی الصحۃ غیر مسلم لخلاف امام دار الہجرۃ
حدیث میں نفی حقیقت اجماع سے متعین ہوئی اور دوسری میں اس لئے کہ یہ حدیث مشہور ہے جو امت کے قبول عام سے سرفراز ہے ایسی حدیث سے نصوص مطلقہ پر کسی قید کا اضافہ ہوسکتا ہے اس لئے نکاح میں شہادت شرط ہوئی ۔ “
ا قول اولا : یہ ساری گفتگو (لائے نفی جنس کی مذکورہ دو معنوں میں ) مشترك ماننے کی بنیاد پر ہے (حالاں کہ اس کا اصلی معنی صرف ایك ہے نفی حقیقت اور دوسرا معنی مجازی ہے جس کے قرینے کی حاجت ہوتی ہے ۱۲م) اور پہلی حدیث میں نفی حقیققت متعین ہے اس لئے کہ وہی ظاہر ہے اگر چہ اس معنی کو اجماع کے باعث قطعیت بھی حاصل ہوگئی ہے ۔ (ورنہ معنی حقیقی متعین ہونے کے لئے ظہور اور تبادر ذہنی کافی ہوتا ہے ۱۲م)
ثانیا : حدیث ثانی کے بارے میں جو بیان کیا اگر اس کی تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ تو ان کے خلاف حجت ہے اس لئے کہ اس سے اگر یہ مراد ہے کہ اس حدیث میں گواہوں کے بغیر نکاح کے عدم جواز کا معنی امت
فـــــ۱ : ۲۰تطفل خامس علی البحر
فـــــ ۲ : ۲۱ تطفل سادس۔
۳۹اقول اولا مبنیفـــــ۱ علی الاشتراك ونفی الحقیقۃ متعین بظہورہ وان اکتسب القطع بالاجماع۔
وثانیا۴۰ فـــــ۲ ماذکر فی الثانی ان حققت یکن حجۃ علیہ فان تلقی الامۃ بالقبول بمعنی نفی الصحۃ غیر مسلم لخلاف امام دار الہجرۃ
حدیث میں نفی حقیقت اجماع سے متعین ہوئی اور دوسری میں اس لئے کہ یہ حدیث مشہور ہے جو امت کے قبول عام سے سرفراز ہے ایسی حدیث سے نصوص مطلقہ پر کسی قید کا اضافہ ہوسکتا ہے اس لئے نکاح میں شہادت شرط ہوئی ۔ “
ا قول اولا : یہ ساری گفتگو (لائے نفی جنس کی مذکورہ دو معنوں میں ) مشترك ماننے کی بنیاد پر ہے (حالاں کہ اس کا اصلی معنی صرف ایك ہے نفی حقیقت اور دوسرا معنی مجازی ہے جس کے قرینے کی حاجت ہوتی ہے ۱۲م) اور پہلی حدیث میں نفی حقیققت متعین ہے اس لئے کہ وہی ظاہر ہے اگر چہ اس معنی کو اجماع کے باعث قطعیت بھی حاصل ہوگئی ہے ۔ (ورنہ معنی حقیقی متعین ہونے کے لئے ظہور اور تبادر ذہنی کافی ہوتا ہے ۱۲م)
ثانیا : حدیث ثانی کے بارے میں جو بیان کیا اگر اس کی تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ تو ان کے خلاف حجت ہے اس لئے کہ اس سے اگر یہ مراد ہے کہ اس حدیث میں گواہوں کے بغیر نکاح کے عدم جواز کا معنی امت
فـــــ۱ : ۲۰تطفل خامس علی البحر
فـــــ ۲ : ۲۱ تطفل سادس۔
حوالہ / References
البحرالرائق ، کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹
ومن معہ فلم یبق الاتلقی الحدیث بالقبول فیفید قطعیۃ الثبوت فقط فلوکان مشترك الدلالۃ تقاعد عن صلوح الزیادۃ بہ علی الکتاب من قبل الدلالۃ وان تکامل من جہۃ الثبوت۔
و۴۱ثالثا فـــــ ۳ اشتراط الشہادۃ للصحۃ لایقضی بنفی الحقیقۃ بدونھا فان الحق کما حققت فیما علقت علی ردالمحتار الفرق بین باطل النکاح وفاسدہ وقد قال فی الدر المختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود اھ
بہ
کے قبول عام سے سر فراز ہے تو یہ تسلیم نہیں اس لئے کہ امام مالك اور ان کے موافق حضرات اس کے خلاف ہیں (وہ بغیر شہادت کے بھی نکاح جائز مانتے ہیں ۱۲م) اور اگر یہ مراد ہے کہ یہ حدیث قبول عام سے سر فراز ہے یعنی امت نے اسے حدیث رسول مانا ہے اور اس کے ثبوت سے کسی کو انکار نہیں تو اس کا مفاد بس اتنا ہوا کہ حدیث قطعی الثبوت ہے ۔ اب اگر (بقول بحر کے ) اثبات اور دلالت کے معاملے میں یہ ظنی اور مشترك ہے تو ثبوت کی جہت سے کامل اور بلند پایہ ہو کر بھی دلالت کی جہت سے قاصر اور فروتر ہوگی جس کے با عث وہ اس قابل نہ رہ جائے گی کہ اس سے قرآن پر زیادتی ہوسکے
ثالثا : صحت نکاح کے لئے شرط شہادت کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کے بغیر حقیقت نکاح کا وجود ہی نہ ہوسکے اس لئے کہ حق یہ ہے کہ نکاح باطل اور نکاح فاسد میں فر ق ہے جیسا کہ میں نے اس کی تحقیق رد المحتار پر اپنے رقم کردہ حواشی میں کی ہے اور درمختار میں ہے نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہے نکاح فاسد وہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو جیسے گواہوں کا ہونا اھ او رالنہر الفائق میں بھی اسی کی
فـــــ : ۲۲تطفل سابع۔
و۴۱ثالثا فـــــ ۳ اشتراط الشہادۃ للصحۃ لایقضی بنفی الحقیقۃ بدونھا فان الحق کما حققت فیما علقت علی ردالمحتار الفرق بین باطل النکاح وفاسدہ وقد قال فی الدر المختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود اھ
بہ
کے قبول عام سے سر فراز ہے تو یہ تسلیم نہیں اس لئے کہ امام مالك اور ان کے موافق حضرات اس کے خلاف ہیں (وہ بغیر شہادت کے بھی نکاح جائز مانتے ہیں ۱۲م) اور اگر یہ مراد ہے کہ یہ حدیث قبول عام سے سر فراز ہے یعنی امت نے اسے حدیث رسول مانا ہے اور اس کے ثبوت سے کسی کو انکار نہیں تو اس کا مفاد بس اتنا ہوا کہ حدیث قطعی الثبوت ہے ۔ اب اگر (بقول بحر کے ) اثبات اور دلالت کے معاملے میں یہ ظنی اور مشترك ہے تو ثبوت کی جہت سے کامل اور بلند پایہ ہو کر بھی دلالت کی جہت سے قاصر اور فروتر ہوگی جس کے با عث وہ اس قابل نہ رہ جائے گی کہ اس سے قرآن پر زیادتی ہوسکے
ثالثا : صحت نکاح کے لئے شرط شہادت کا تقاضا یہ نہیں کہ اس کے بغیر حقیقت نکاح کا وجود ہی نہ ہوسکے اس لئے کہ حق یہ ہے کہ نکاح باطل اور نکاح فاسد میں فر ق ہے جیسا کہ میں نے اس کی تحقیق رد المحتار پر اپنے رقم کردہ حواشی میں کی ہے اور درمختار میں ہے نکاح فاسد میں مہر مثل واجب ہے نکاح فاسد وہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو جیسے گواہوں کا ہونا اھ او رالنہر الفائق میں بھی اسی کی
فـــــ : ۲۲تطفل سابع۔
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب النکاح ، باب المہرمکتبہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۰۱
صرح فی النھر بل قد نقل البحر مقرا ان کل نکاح اختلف العلماء فی جوازہ کالنکاح بلا شہود فالد خول فیہ یوجب العدۃ اما نکاح منکوحۃ الغیر فلم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا اھ
ثم قال فعند عدم المرجح لاحد المعنیین کان الحدیث ظنیا وبہ تثبت السنۃ ومنہ حدیث التسمیۃ اھ
۴۲اقول : اولا فـــــ ۱ اکفی بالظھور مرجحا۔
وثانیا : مبنی فـــــ۲ علی ماسبق الیہ ذھنہ رحمہ الله تعالی من ان المحقق یدعی الوجوب بناء علی ادعاء قطعیہ الدلالۃ وقد علمت انہ ضدما صرح
تصریح ہے بلکہ خود صاحب بحر نے درج ذیل عبارت نقل کر کے بر قرار رکھی ہے ہر وہ نکاح جس کے جائز ہونے میں علماء کا اختلاف ہوا س میں مباشرت سے عدت واجب ہوجاتی ہے جیسے بغیر گواہوں کے نکاح لیکن دوسرے کی منکوحہ سے نکاح تو کوئی بھی اس کے جواز کا قائل نہیں اس لئے تو وہ سر ے سے منعقد ہی نہ ہوا ۔ اھ۔
پھر فرماتے ہیں تو جب دومعنوں میں سے کسی کو تر جیح دینے والا کوئی امر نہ ہو توحدیث ظنی ہوگی اور اسی سے سنت ہونا ثابت ہوتا ہے حد و ضو میں تسمیہ والی حدیث بھی ایسی ہے اھ اقول اولا ترجیح کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ معنی ظاہر ہو ۔
ثانیا : اس گفتگو کی بنیاد بھی اسی خیال پر ہے جس کی طر ف صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہکا ذہن پہلے جاچکا کہ حضرت محقق وجوب تسمیہ کے مدعی اس بنیاد پر ہیں کہ وہ وجوب پر دلالت حدیث کے قطعی ہونے کا دعوی رکھتے ہیں حالاں کہ واضح ہوچکا کہ یہ خیال خود حضرت
فـــــ ۱ : تطفل ثامن ۔
فـــــ ۲ : تطفل تاسع۔
ثم قال فعند عدم المرجح لاحد المعنیین کان الحدیث ظنیا وبہ تثبت السنۃ ومنہ حدیث التسمیۃ اھ
۴۲اقول : اولا فـــــ ۱ اکفی بالظھور مرجحا۔
وثانیا : مبنی فـــــ۲ علی ماسبق الیہ ذھنہ رحمہ الله تعالی من ان المحقق یدعی الوجوب بناء علی ادعاء قطعیہ الدلالۃ وقد علمت انہ ضدما صرح
تصریح ہے بلکہ خود صاحب بحر نے درج ذیل عبارت نقل کر کے بر قرار رکھی ہے ہر وہ نکاح جس کے جائز ہونے میں علماء کا اختلاف ہوا س میں مباشرت سے عدت واجب ہوجاتی ہے جیسے بغیر گواہوں کے نکاح لیکن دوسرے کی منکوحہ سے نکاح تو کوئی بھی اس کے جواز کا قائل نہیں اس لئے تو وہ سر ے سے منعقد ہی نہ ہوا ۔ اھ۔
پھر فرماتے ہیں تو جب دومعنوں میں سے کسی کو تر جیح دینے والا کوئی امر نہ ہو توحدیث ظنی ہوگی اور اسی سے سنت ہونا ثابت ہوتا ہے حد و ضو میں تسمیہ والی حدیث بھی ایسی ہے اھ اقول اولا ترجیح کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ معنی ظاہر ہو ۔
ثانیا : اس گفتگو کی بنیاد بھی اسی خیال پر ہے جس کی طر ف صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہکا ذہن پہلے جاچکا کہ حضرت محقق وجوب تسمیہ کے مدعی اس بنیاد پر ہیں کہ وہ وجوب پر دلالت حدیث کے قطعی ہونے کا دعوی رکھتے ہیں حالاں کہ واضح ہوچکا کہ یہ خیال خود حضرت
فـــــ ۱ : تطفل ثامن ۔
فـــــ ۲ : تطفل تاسع۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطلاق باب العدۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۱۴۴
البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۱۹
البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۱۹
المحقق۔
وثالثا : فـــــ قولہ بہ تثبت السنۃ ذھول عما حقق المحقق من ان الظنیۃ ولو فی جانبی الثبوت والاثبات لایقعد الطلب الجازم عن افادۃ الایجاب کما قدمنا تحقیقہ ھذا مامست الحاجۃ الیہ للاحقاق والانتصار للمحقق علی الاطلاق ولنرجع الی ماکنا فیہ۔
محقق کی تصریحات کے بر عکس ہے ۔
ثالثا : صاحب بحر نے کہا اس سے (یعنی ظنی الدلالۃ حدیث سے ) سنت ہونا ثابت ہوتا ہے اس میں اس تحقیق سے ذہول ہے جو حضرت محقق نے رقم فرمائی کہ ظنیت طلب جزمی کو افادہ وجوب کے مرتبے سے نیچے نہیں لاتی اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں ہی جانب ظنیت ہو جیسا کہ ہم اس کی تحقیق پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہ وہ کلام تھا جو احقاق حق اور حضرت محقق علی الاطلاق کی حمایت اور دفاع کی حاجت کے با عث قلم بند ہوا ۔ اب پھر ہم اپنی سابقہ گفتگو پر لوٹ آئیں ۔ (ت)
ثالثا : اگر اس بحث محقق پر لحاظ بھی ہو تو بسم لله واجب للوضوء ہوگی نہ کہ فی الوضوء اور ہمارا کلام افعال داخلہ فی الوضوء میں ہے کما علمت (جیسا کہ واضح ہوا۔ ت)
ھذا والکلام وان افضی الی قلیل تطویل فقد اتی بحمد لله بجزیل تحصیل و الحمد لله علی ما علم وصلی الله تعالی علی سیدنا والہ وصحبہ وسلم والله سبحانہ وتعالی اعلم واذ خرجت العجالۃ فی صورۃ الرسالۃ سمیتھاالجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ والحمد
یہ بحث تمام ہوئی اور کلام اگرچہ ذرا طویل ہوگیا مگر بحمدہ تعالی بہت مفید ہوا______اور تمام تعریف خدا ہی کے لئے ہے اس پر جو اس نے علم دیا اور ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر خدائے بر تر کا درودو سلام ہو_____اور خدائے پاك وبر تر کو ہی خوب علم ہے ______اور جب یہ عجالہ (عجلت میں لکھا جانے والا مضمون) ایك رسالہ کی صورت اختیار کر گیا تو میں نے اس کا نام یہ رکھا ۔ الجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ
فـــــ : ۲۵تطفل عاشر
وثالثا : فـــــ قولہ بہ تثبت السنۃ ذھول عما حقق المحقق من ان الظنیۃ ولو فی جانبی الثبوت والاثبات لایقعد الطلب الجازم عن افادۃ الایجاب کما قدمنا تحقیقہ ھذا مامست الحاجۃ الیہ للاحقاق والانتصار للمحقق علی الاطلاق ولنرجع الی ماکنا فیہ۔
محقق کی تصریحات کے بر عکس ہے ۔
ثالثا : صاحب بحر نے کہا اس سے (یعنی ظنی الدلالۃ حدیث سے ) سنت ہونا ثابت ہوتا ہے اس میں اس تحقیق سے ذہول ہے جو حضرت محقق نے رقم فرمائی کہ ظنیت طلب جزمی کو افادہ وجوب کے مرتبے سے نیچے نہیں لاتی اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں ہی جانب ظنیت ہو جیسا کہ ہم اس کی تحقیق پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہ وہ کلام تھا جو احقاق حق اور حضرت محقق علی الاطلاق کی حمایت اور دفاع کی حاجت کے با عث قلم بند ہوا ۔ اب پھر ہم اپنی سابقہ گفتگو پر لوٹ آئیں ۔ (ت)
ثالثا : اگر اس بحث محقق پر لحاظ بھی ہو تو بسم لله واجب للوضوء ہوگی نہ کہ فی الوضوء اور ہمارا کلام افعال داخلہ فی الوضوء میں ہے کما علمت (جیسا کہ واضح ہوا۔ ت)
ھذا والکلام وان افضی الی قلیل تطویل فقد اتی بحمد لله بجزیل تحصیل و الحمد لله علی ما علم وصلی الله تعالی علی سیدنا والہ وصحبہ وسلم والله سبحانہ وتعالی اعلم واذ خرجت العجالۃ فی صورۃ الرسالۃ سمیتھاالجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ والحمد
یہ بحث تمام ہوئی اور کلام اگرچہ ذرا طویل ہوگیا مگر بحمدہ تعالی بہت مفید ہوا______اور تمام تعریف خدا ہی کے لئے ہے اس پر جو اس نے علم دیا اور ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر خدائے بر تر کا درودو سلام ہو_____اور خدائے پاك وبر تر کو ہی خوب علم ہے ______اور جب یہ عجالہ (عجلت میں لکھا جانے والا مضمون) ایك رسالہ کی صورت اختیار کر گیا تو میں نے اس کا نام یہ رکھا ۔ الجود الحلو فی ارکان الوضوء ۱۳۲۴ھ
فـــــ : ۲۵تطفل عاشر
لله رب العلمین۔
( ارکان وضو کے بیان میں باران شیریں) اور تمام ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
(رسالہ الجود الحلوفی ارکان الوضوء ختم ہوا )
مسئلہ۲فـــــ : از بلگرام ضلع ہردو ئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب از صاحبزادگان مار ہر ہ شریف ۸جمادی الاولی۱۳۱۱ ھ
ماقولکم دام فضلکم (آپ کی فضلیت قائم ودائم رہے آپ کیا فرماتے ہیں ۔ ت) کہ مسواك کتنی طول میں ہونا چاہئے “ سنا ہے کہ غایۃ السواك فی مسائل المسواك “ مولفہ مولوی وحافظ شوکت علی سندیلی میں بیان ہے کہ اگر بالشت بھر سے زائد مسواك ہے تو وہ مرکب شیطان (شیطان کی سواری ۔ ت )ہے امید کہ اس کی سند لکھی جائے بینوا تو جروا (بیان فرمائیے آپ کو اجر وثواب دیا جائے گا ۔ ت)
الجواب :
یہ قول امام عارف بالله حکیم الامہ سیدی محمد بن علی ترمذی قد س سر ہ سے منقول ہے درمختار میں ہے ۔
لایزاد علی الشبر والا فالشیطان یرکب علیہ
(مسواك ایك بالشت سے زیادہ نہ ہو ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ ت)
حاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح میں ہے :
یکون طول شبر عـــــہ مستعملہ
مسواك جو استعمال کرنے والاہے اس کی بالشت بھر
فـــــ : مسئلہ : مسواك کا طول بالشت بھر سے زیادہ نہ چاہئے۔
عــــہ : ھل المراد شبر المستعمل اوالوسط تر دد فیہ ط فی
استعمال کرنے والے کی بالشت مراد ہے یا متوسط بالشت اس بارے میں سید طحطاوی نے
( ارکان وضو کے بیان میں باران شیریں) اور تمام ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
(رسالہ الجود الحلوفی ارکان الوضوء ختم ہوا )
مسئلہ۲فـــــ : از بلگرام ضلع ہردو ئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب از صاحبزادگان مار ہر ہ شریف ۸جمادی الاولی۱۳۱۱ ھ
ماقولکم دام فضلکم (آپ کی فضلیت قائم ودائم رہے آپ کیا فرماتے ہیں ۔ ت) کہ مسواك کتنی طول میں ہونا چاہئے “ سنا ہے کہ غایۃ السواك فی مسائل المسواك “ مولفہ مولوی وحافظ شوکت علی سندیلی میں بیان ہے کہ اگر بالشت بھر سے زائد مسواك ہے تو وہ مرکب شیطان (شیطان کی سواری ۔ ت )ہے امید کہ اس کی سند لکھی جائے بینوا تو جروا (بیان فرمائیے آپ کو اجر وثواب دیا جائے گا ۔ ت)
الجواب :
یہ قول امام عارف بالله حکیم الامہ سیدی محمد بن علی ترمذی قد س سر ہ سے منقول ہے درمختار میں ہے ۔
لایزاد علی الشبر والا فالشیطان یرکب علیہ
(مسواك ایك بالشت سے زیادہ نہ ہو ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ ت)
حاشیہ طحطاویہ علی مراقی الفلاح میں ہے :
یکون طول شبر عـــــہ مستعملہ
مسواك جو استعمال کرنے والاہے اس کی بالشت بھر
فـــــ : مسئلہ : مسواك کا طول بالشت بھر سے زیادہ نہ چاہئے۔
عــــہ : ھل المراد شبر المستعمل اوالوسط تر دد فیہ ط فی
استعمال کرنے والے کی بالشت مراد ہے یا متوسط بالشت اس بارے میں سید طحطاوی نے
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
لان الزائد یرکب علیہ الشیطان
ہونی چاہئے اس لئے کہ جو زیادہ ہو اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے :
قال الحکیم الترمذی لایزاد علی الشبر والا فالشیطان رکب علیہ
(حکیم ترمذی نے فرمایا : مسواك ایك بالشت سے زیادہ نہ کی جائے ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے)
۴۴اقول : شك نہیں فـــــ کہ ظاہر حقیقت ہے جب تك کوئی صارف نہ ہو ولا مانع منھا فالشیطان موجود ورکوبہ ممکن والله اعلم بحقیقۃ الحال۔
(اوراس سے کوئی مانع نہیں اس لئے کہ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حاشیۃ الدرر وقال یحرر اھ وقال ش الظاھر الثانی لانہ محمل الاطلاق غالبا اھ
۴۳اقول : نقل العلامۃ نفسہ فی حاشیہ المراقی ھذا الذی نراہ لکنہ نسبہ الی بعضہم فان کان ذالك البعض ممن یعتمد علی قولہ فہذا نص فی الباب والافالظاھر مع ش والله تعالی اعلم ۱۲منہ دام فیضہ ۔
حاشیہ درمختار میں تر د د ظاہر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی تنقیح کی ضرورت ہے اھ اور علامہ شامی نے کہا ہے کہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت عموما وہی مراد ہوتا ہے اھ ۔
اقول : خود علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں یہ عبارت نقل کی ہے جو پیش نظر ہے لیکن اسے “ بعض “ کی طرف منسوب کیا ہے اور “ بعض “ اگر کوئی ایسی شخصیت ہے جس کے قول پر اعتماد کیا جاتا ہے جب تو یہ اس باب میں نص ہے ورنہ ظاہر علامہ شامی کے ساتھ ہے اور خدائے بزرگ و بر تر ہی کو خوب علم ہے ۱۲منہ فیضہ ( ت)
فـــــ : ۲۶معروضۃ علی العلامۃ ط۔ )
ہونی چاہئے اس لئے کہ جو زیادہ ہو اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے :
قال الحکیم الترمذی لایزاد علی الشبر والا فالشیطان رکب علیہ
(حکیم ترمذی نے فرمایا : مسواك ایك بالشت سے زیادہ نہ کی جائے ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے)
۴۴اقول : شك نہیں فـــــ کہ ظاہر حقیقت ہے جب تك کوئی صارف نہ ہو ولا مانع منھا فالشیطان موجود ورکوبہ ممکن والله اعلم بحقیقۃ الحال۔
(اوراس سے کوئی مانع نہیں اس لئے کہ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حاشیۃ الدرر وقال یحرر اھ وقال ش الظاھر الثانی لانہ محمل الاطلاق غالبا اھ
۴۳اقول : نقل العلامۃ نفسہ فی حاشیہ المراقی ھذا الذی نراہ لکنہ نسبہ الی بعضہم فان کان ذالك البعض ممن یعتمد علی قولہ فہذا نص فی الباب والافالظاھر مع ش والله تعالی اعلم ۱۲منہ دام فیضہ ۔
حاشیہ درمختار میں تر د د ظاہر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی تنقیح کی ضرورت ہے اھ اور علامہ شامی نے کہا ہے کہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت عموما وہی مراد ہوتا ہے اھ ۔
اقول : خود علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں یہ عبارت نقل کی ہے جو پیش نظر ہے لیکن اسے “ بعض “ کی طرف منسوب کیا ہے اور “ بعض “ اگر کوئی ایسی شخصیت ہے جس کے قول پر اعتماد کیا جاتا ہے جب تو یہ اس باب میں نص ہے ورنہ ظاہر علامہ شامی کے ساتھ ہے اور خدائے بزرگ و بر تر ہی کو خوب علم ہے ۱۲منہ فیضہ ( ت)
فـــــ : ۲۶معروضۃ علی العلامۃ ط۔ )
حوالہ / References
حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی سنن الوضوء ، دار الکتب العلمیہ بیروت۱ / ۴۰
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقابوس ایران ۱ / ۲۹
حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقابوس ایران ۱ / ۲۹
حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
شیطان موجود ہے اور اس کا بیٹھنا ممکن ہے اور حقیقت حال خدا ہی خوب جانتا ہے ۔ ت )اگر چہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں فرمایا :
لعل المراد من ذلك انہ ینسیہ استعمالہ او یوسوس لہ اھ
۴۵اقول : ظاھرہ فـــــ انہ فھم رجوع ضمیر علیہ الی المستاك وانما ھو الی السواك کما یفصح عنہ مانقل ھو نفسہ فی حاشیۃ المراقی والله تعالی اعلم۔
شاید اس سے مرادیہ ہے کہ وہ اسے استعمال کرنا بھلادیتا ہے یا اسے وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے اھ ۔
اقول : اس عبارت سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ “ علیہ “ (اس پر )کی ضمیر کا مرجع انہوں نے مسواك کرنے والے کو سمجھاہے حالانکہ وہ ضمیر مسواك کی طر ف لوٹ رہی ہے جیسا کہ حاشیہ مراقی کی وہ عبارت اسے صاف بتارہی ہے جو انہوں نے خود نقل کی ہے ۔ اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ ت)
فــــ : ۲۷معروضۃ اخری علیہ
_______________________
لعل المراد من ذلك انہ ینسیہ استعمالہ او یوسوس لہ اھ
۴۵اقول : ظاھرہ فـــــ انہ فھم رجوع ضمیر علیہ الی المستاك وانما ھو الی السواك کما یفصح عنہ مانقل ھو نفسہ فی حاشیۃ المراقی والله تعالی اعلم۔
شاید اس سے مرادیہ ہے کہ وہ اسے استعمال کرنا بھلادیتا ہے یا اسے وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے اھ ۔
اقول : اس عبارت سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ “ علیہ “ (اس پر )کی ضمیر کا مرجع انہوں نے مسواك کرنے والے کو سمجھاہے حالانکہ وہ ضمیر مسواك کی طر ف لوٹ رہی ہے جیسا کہ حاشیہ مراقی کی وہ عبارت اسے صاف بتارہی ہے جو انہوں نے خود نقل کی ہے ۔ اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ ت)
فــــ : ۲۷معروضۃ اخری علیہ
_______________________
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ مکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۷۰
رسالہ
تنویر القندیل فی اوصاف المندیل ۱۳۲۴ھ
(رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کا روشن کرنا۔ ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۳ فــــ : ۶ شعبان معظم ۱۳۲۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد وضو منہ کپڑے سے پونچھنا نہیں چاہیے اس میں ثواب وضو کا جاتا رہتا ہے بینوا توجروا ۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله الذی ثقل میزاننا بالوضوء وجعلنا غرا محجلین من اثار الوضوء والصلوۃ
تمام تعریفیں الله کے لئے جس نے ہماری میزان عمل آب وضو سے گراں بار فرمائی اور ہمیں آثار وضو سے تابندہ رو روشن دست وپا والا بنایا اور
فــــ : مسئلہ وضو کے بعد کپڑے سے اعضاء پونچھنے کا حکم
تنویر القندیل فی اوصاف المندیل ۱۳۲۴ھ
(رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کا روشن کرنا۔ ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۳ فــــ : ۶ شعبان معظم ۱۳۲۱ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ بعد وضو منہ کپڑے سے پونچھنا نہیں چاہیے اس میں ثواب وضو کا جاتا رہتا ہے بینوا توجروا ۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله الذی ثقل میزاننا بالوضوء وجعلنا غرا محجلین من اثار الوضوء والصلوۃ
تمام تعریفیں الله کے لئے جس نے ہماری میزان عمل آب وضو سے گراں بار فرمائی اور ہمیں آثار وضو سے تابندہ رو روشن دست وپا والا بنایا اور
فــــ : مسئلہ وضو کے بعد کپڑے سے اعضاء پونچھنے کا حکم
والسلام علی من کان مندیل سعدہ احسن و انفس من کل حریر ماسحین بقبولہ عن وجوھنا و قلوبنا کل درن وسخ للتنویر۔
جن کا رومال سعادت ہر ریشم سے زیادہ حسین و نفیس تھا ان پر ایسے درود و سلام جو ان کے قبول کے باعث ہمارے چہروں اور دلوں کو تابندگی بخشنے کے لئے ہر میل کچیل سے صاف کر دیں ۔ (ت)
الله تعالی ثواب عطا فرمائے وضو کا ثواب جاتا رہنا محض غلط ہے ۔ ہاں بہتر ہے کہ بے ضرورت نہ پونچھے امراء و متکبرین کی طرح اس کی عادت نہ ڈالے اور پونچھے تو بے ضرورت بالکل خشك نہ کر لے قدرے نم باقی رہنے دے کہ حدیث فــــ۱ میں آیا ہے :
ان الوضوء یوزن رواہ الترمذی عن ابن شھاب الزھری من اواسط التابعین و علقہ عن سعید بن المسیب من اکابرھم و افضلھم ۔
۴۶اقول : والمعلق فـــــ۲ عندنا فی الاستناد کا لموصول وقد وصلہ ابو بکر بن ابی شیبۃ انہ قال اکرہ المندیل بعد الوضوء وقال ھو یوزن
وما لا یقال فـــــ۳ بالرأی فعلی
یہ پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ( اسے ترمذی نے درمیانی طبقہ کے تابعی حضرت ابن شھاب زہری سے روایت کیا اور بزرگ طبقہ اور افضل درجہ کے تابعی حضرت سعید بن مسیب سے تعلیقا بیان کیا ۔ ت)
اقول : (حدیث معلق بھی ہمارے نزدیك استناد میں موصول ہی کا حکم رکھتی ہے اور اسے تو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان الفاظ میں موصولا بھی روایت کیا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : میں وضو کے بعد رومال کا استعمال پسند نہیں کرتا اور فرمایا : وضو کا پانی وزن کیا جائے گا ۔ اور
فـــــ۱ـ : وضو کا پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ۔
فـــــ۲ : المعلق عندنا کا لموصول ۔
فـــــ۳ : مالا یقال بالرأ ی یحمل علی الرفع اذالم یکن صاحبہ اخذا عن الاسرائیلیات ۔
جن کا رومال سعادت ہر ریشم سے زیادہ حسین و نفیس تھا ان پر ایسے درود و سلام جو ان کے قبول کے باعث ہمارے چہروں اور دلوں کو تابندگی بخشنے کے لئے ہر میل کچیل سے صاف کر دیں ۔ (ت)
الله تعالی ثواب عطا فرمائے وضو کا ثواب جاتا رہنا محض غلط ہے ۔ ہاں بہتر ہے کہ بے ضرورت نہ پونچھے امراء و متکبرین کی طرح اس کی عادت نہ ڈالے اور پونچھے تو بے ضرورت بالکل خشك نہ کر لے قدرے نم باقی رہنے دے کہ حدیث فــــ۱ میں آیا ہے :
ان الوضوء یوزن رواہ الترمذی عن ابن شھاب الزھری من اواسط التابعین و علقہ عن سعید بن المسیب من اکابرھم و افضلھم ۔
۴۶اقول : والمعلق فـــــ۲ عندنا فی الاستناد کا لموصول وقد وصلہ ابو بکر بن ابی شیبۃ انہ قال اکرہ المندیل بعد الوضوء وقال ھو یوزن
وما لا یقال فـــــ۳ بالرأی فعلی
یہ پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ( اسے ترمذی نے درمیانی طبقہ کے تابعی حضرت ابن شھاب زہری سے روایت کیا اور بزرگ طبقہ اور افضل درجہ کے تابعی حضرت سعید بن مسیب سے تعلیقا بیان کیا ۔ ت)
اقول : (حدیث معلق بھی ہمارے نزدیك استناد میں موصول ہی کا حکم رکھتی ہے اور اسے تو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان الفاظ میں موصولا بھی روایت کیا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : میں وضو کے بعد رومال کا استعمال پسند نہیں کرتا اور فرمایا : وضو کا پانی وزن کیا جائے گا ۔ اور
فـــــ۱ـ : وضو کا پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ۔
فـــــ۲ : المعلق عندنا کا لموصول ۔
فـــــ۳ : مالا یقال بالرأ ی یحمل علی الرفع اذالم یکن صاحبہ اخذا عن الاسرائیلیات ۔
حوالہ / References
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضو حدیث ۵۴دا رلفکر بیروت۱ / ۱۲۰
المصنف لابن ابی شیبہ ، ابواب الطہارۃ باب من کرہ المندیل حدیث۱۵۹۹ دار الکتب العلمیہ بیروت۱ / ۱۳۹
المصنف لابن ابی شیبہ ، ابواب الطہارۃ باب من کرہ المندیل حدیث۱۵۹۹ دار الکتب العلمیہ بیروت۱ / ۱۳۹
الرفع محمول مالم یکن صاحبہ اخذ اعن الا سرائیلیات بل قدروی تمام فی فوائدہ وابن عساکر فی تاریخہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله علیہ و سلم من توضأ فمسح بثوب نظیف فلا باس بہ و من لم یفعل فھو افضل لان الوضوء یوزن یوم القیامۃ مع سائر الاعمال ۔
۴۷اقول : وبہ انتفی الاستدلال بو زنہ علی کراھۃ مسحہ کما قال الترمذی فی جامعہ و من کرھہ انما کرھہ من قبل انہ قیل ان الوضو یوزن الخ
فھذا الحدیث مع تصریحہ بالوزن نص علی نفی الکراھۃ فان ذلك انما ھواستحباب ومعلوم فـــــ ان ترك المستحب لایوجب
جو بات رائے سے نہ کہی جا سکتی ہو وہ اس پر محمول ہوتی ہے کہ سرکار سے مروی اور مرفوع ہے جب کہ راوی اسرائیلیات سے لے کر بیان کرنے والا نہ ہو بلکہ تمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ ت) یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جو وضو کر کے پاکیزہ کپڑے سے بدن پونچھ لے تو کچھ حرج نہیں اور جو ایسا نہ کرے تو یہ بہتر ہے اس لئے کہ قیامت کے دن آب وضو بھی سب اعمال کے ساتھ تولا جائے گا۔
اقول : آب وضو کے وزن کئے جانے سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اسے پونچھنا مکروہ ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں لکھا کہ اس کا م کو جس نے مکروہ کہا ہے اسی وجہ سے مکروہ کہا ہے کہ فرمایا گیا ہے : یہ پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ۔ مذکورہ بالا حدیث ابو ھریرہ سے یہ استدلال رد ہو جاتا ہے کیوں کہ اس میں وزن کئے جانے کی صراحت کے ساتھ کراہت کی نفی اور اس کے صرف مستحب
فـــــ۱ : ترك المستحب لایوجب کراھۃ تنزیہ۔
۴۷اقول : وبہ انتفی الاستدلال بو زنہ علی کراھۃ مسحہ کما قال الترمذی فی جامعہ و من کرھہ انما کرھہ من قبل انہ قیل ان الوضو یوزن الخ
فھذا الحدیث مع تصریحہ بالوزن نص علی نفی الکراھۃ فان ذلك انما ھواستحباب ومعلوم فـــــ ان ترك المستحب لایوجب
جو بات رائے سے نہ کہی جا سکتی ہو وہ اس پر محمول ہوتی ہے کہ سرکار سے مروی اور مرفوع ہے جب کہ راوی اسرائیلیات سے لے کر بیان کرنے والا نہ ہو بلکہ تمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ ت) یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جو وضو کر کے پاکیزہ کپڑے سے بدن پونچھ لے تو کچھ حرج نہیں اور جو ایسا نہ کرے تو یہ بہتر ہے اس لئے کہ قیامت کے دن آب وضو بھی سب اعمال کے ساتھ تولا جائے گا۔
اقول : آب وضو کے وزن کئے جانے سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اسے پونچھنا مکروہ ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں لکھا کہ اس کا م کو جس نے مکروہ کہا ہے اسی وجہ سے مکروہ کہا ہے کہ فرمایا گیا ہے : یہ پانی روز قیامت نیکیوں کے پلے میں رکھا جائے گا ۔ مذکورہ بالا حدیث ابو ھریرہ سے یہ استدلال رد ہو جاتا ہے کیوں کہ اس میں وزن کئے جانے کی صراحت کے ساتھ کراہت کی نفی اور اس کے صرف مستحب
فـــــ۱ : ترك المستحب لایوجب کراھۃ تنزیہ۔
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ تمام وابن عساکرعن ابی ھریرۃ حدیث ۲۶۱۳۹ ، موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۳۰۷
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل الخ بعد الوضوء حدیث ۵۴دا رلفکر بیروت۱ / ۱۲۰
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل الخ بعد الوضوء حدیث ۵۴دا رلفکر بیروت۱ / ۱۲۰
کراھۃ التنزیہ کما حققہ فی البحر والشامی و غیرھما۔
ہونے پر نص موجود ہے -----اور یہ معلوم ہے کہ ترك مستحب کراہت تنزیہ کا موجب نہیں۔ جیسا کہ محقق بحر اور علامہ شامی وغیرہما نے اس کی تحقیق فرمائی ہے ۔ (ت)
اس کے سوا اس کی ممانعت یا کراہت کے بارے میں اصلا کوئی حدیث نہیں بلکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے متعدد حدیثوں میں اس کا فعل مروی ہوا۔ جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی الله تعالی سے ہے :
قالت کان لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعد الوضوء
۴۸قلت : ونحوہ للدار قطنی فی الا فراد عن ابی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك رومال رکھتے کہ وضو کے بعد اس سے اعضائے منور صاف فرماتے۔
قلت : اسی طرح امام دار قطنی نے یہ حدیث افراد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے(ت)
نیز جامع ترمذی میں معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
قال رأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا توضأ مسح وجہہ بطرف ثوبہ
میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ جب وضو فرماتے اپنے آنچل سے روئے مبارك صاف کرتے۔
سنن ابن ماجہ میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ فقلب جبۃ صوف کانت علیہ فمسح بھا وجہہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وضو فرما کر اونی کرتا کہ زیب بدن اقدس تھا الٹ کر اس سے چہرہ انور پونچھا۔
ہونے پر نص موجود ہے -----اور یہ معلوم ہے کہ ترك مستحب کراہت تنزیہ کا موجب نہیں۔ جیسا کہ محقق بحر اور علامہ شامی وغیرہما نے اس کی تحقیق فرمائی ہے ۔ (ت)
اس کے سوا اس کی ممانعت یا کراہت کے بارے میں اصلا کوئی حدیث نہیں بلکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے متعدد حدیثوں میں اس کا فعل مروی ہوا۔ جامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی الله تعالی سے ہے :
قالت کان لرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعد الوضوء
۴۸قلت : ونحوہ للدار قطنی فی الا فراد عن ابی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك رومال رکھتے کہ وضو کے بعد اس سے اعضائے منور صاف فرماتے۔
قلت : اسی طرح امام دار قطنی نے یہ حدیث افراد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے(ت)
نیز جامع ترمذی میں معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
قال رأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا توضأ مسح وجہہ بطرف ثوبہ
میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ جب وضو فرماتے اپنے آنچل سے روئے مبارك صاف کرتے۔
سنن ابن ماجہ میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ فقلب جبۃ صوف کانت علیہ فمسح بھا وجہہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وضو فرما کر اونی کرتا کہ زیب بدن اقدس تھا الٹ کر اس سے چہرہ انور پونچھا۔
حوالہ / References
سنن الترمذی ، ابواب الطہارۃ ، باب ما جاء فی المندیل ، بعد الوضوء حدیث۵۳دا رلفکر بیروت۱ / ۱۱۹
کنزالعمال قط فی الافرادعن ابی بکر حدیث ۲۶۹۹۷ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۴۷۰
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضوء حدیث۵۳دا رالفکر بیروت ۱ / ۱۲۰
سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۷
کنزالعمال قط فی الافرادعن ابی بکر حدیث ۲۶۹۹۷ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۴۷۰
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضوء حدیث۵۳دا رالفکر بیروت ۱ / ۱۲۰
سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی المندیل بعد الوضو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۷
۴۸اقول : یہ چاروں حدیثیں اگرچہ ضعیف ہیں مگر تعددطرق سے اس کا انجبار ہوتا ہے معہذا حلیہ میں فرمایا کہ جب حدیث فـــــ۱ ضعیف بالاجماع فضائل میں مقبول ہے تو اباحت میں بدرجہ اولی علاوہ بریں یہاں ایك حدیث حسن قولی بھی موجود امام ابو المحاسن محمد بن علی رحمۃ اللہ تعالی علیہکتاب الالمام فی آداب دخول الحمام میں روایت فرماتے ہیں : اخبرنا محمد بن اسمعیل انا ابو اسحق الارموی اخبرتنا کریمۃ القرشیۃ انا ابو علی بن المحبوبی انا ابو القاسم المصیصی اناابو عبدالرحمن بن عثمن انا ابرھیم بن محمد بن احمد بن ابی ثابت ثنااحمد بن بکیر یعلی ثنا سفین عن لیث عن زریق عن انس رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لاباس بالمندیل بعد الوضوء ۔ یعنی انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ وضو کے بعد رومال میں کچھ حرج نہیں “ ۔ امام مذکور اس حدیث کو روایت کر کے فرماتے ہیں ھذا الاسناد لا باس بہ ( اس اسناد میں کوئی حرج نہیں ت ) حلیہ میں فرمایا :
وقول الترمذی فـــــ۲ لایصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ھذا الباب شیئ انتھی لاینفی وجود الحسن ونحوہ والمطلوب لایتوقف ثبوتہ علی الصحیح بل یثبت بہ کما یثبت بالحسن ایضا۔
امام ترمذی کا قول ہے : اس باب میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کوئی حدیث صحیح نہ آئی۔ ا ھ اس قول سے حدیث حسن وغیرہ موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی اور مطلوب کا ثبوت حدیث صحیح پر موقوف نہیں بلکہ اسی کی طرح حدیث حسن سے بھی اس کا ثبوت ہوتا ہے ۔ (ت)
فـــــ۱ : حدیث ضعیف استحباب واباحت میں بالاجماع مقبول ہے ۔ )
فـــــ۲ : قول المحدثین لایصح لاینفی الحسن ۔
وقول الترمذی فـــــ۲ لایصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ھذا الباب شیئ انتھی لاینفی وجود الحسن ونحوہ والمطلوب لایتوقف ثبوتہ علی الصحیح بل یثبت بہ کما یثبت بالحسن ایضا۔
امام ترمذی کا قول ہے : اس باب میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے کوئی حدیث صحیح نہ آئی۔ ا ھ اس قول سے حدیث حسن وغیرہ موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی اور مطلوب کا ثبوت حدیث صحیح پر موقوف نہیں بلکہ اسی کی طرح حدیث حسن سے بھی اس کا ثبوت ہوتا ہے ۔ (ت)
فـــــ۱ : حدیث ضعیف استحباب واباحت میں بالاجماع مقبول ہے ۔ )
فـــــ۲ : قول المحدثین لایصح لاینفی الحسن ۔
حوالہ / References
الالمام باداب دخول الحمام
الالمام باداب دخول الحمام
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الالمام باداب دخول الحمام
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
لا جرم محرر المذہب امام ربانی سیدنا امام محمد شیبانی قدس سرہ النورانی کتاب الآثار شریف میں فرماتے ہیں :
اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن ابرھیم فی الرجل یتوضأ فیمسح وجہہ بالثوب قال لاباس بہ ثم قال ارأیت لواغتسل فی لیلۃ باردۃ ایقوم حتی یجف قال محمد وبہ ناخذ ولا نری بذلك باسا وھو قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ۔
یعنی امام اجل ابراہیم نخعی سے اس باب میں استفتاء ہوا کہ آدمی وضو کر کے کپڑے سے منہ پونچھے : فرمایا کچھ حرج نہیں ۔ پھر فرمایا : بھلا دیکھ تو اگر ٹھنڈی رات میں نہائے تو کیا یوں ہی کھڑا رہے یہاں تك کہ بدن خشك ہو جائے۔ امام محمد نے فرمایا : ہم اسی کو اختیار فرماتے ہیں ہمارے نزدیك اس میں کچھ حرج نہیں اور یہی قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکا ہے ۔
اور یہیں فـــــ۱سے ظاہر ہوا کہ وضو و غسل دونوں کا اس باب میں ایك ہی حکم ہے بلکہ بسا اوقات غسل میں کپڑے سے بدن خصوصا سر پونچھنے کی حاجت بہ نسبت وضو کے زائد ہوتی ہے اور اگر تجربہ فـــــ۲صحیحہ یا خبر طبیب حاذق مسلم مستور سے معلوم ہو کہ نہ پونچھنا ضرر شدید کا باعث ہو گا تو صاف کر لینا واجب ہو جائیگا اگرچہ وضو میں اگرچہ بنہایت مبالغہ کہ نم کا نام نہ رہے ۔ حلیہ میں ہے :
ھذا کلہ اذالم تکن حاجۃ الی التنشیف فان کان فالظاھر انہ لاینبغی ان یختلف فی جوازہ من غیر کراھۃ بل فی استحبابہ او وجوبہ بحسب تلك الحاجۃ۔
یہ سارا کلام اس صورت میں ہے جب پانی خشك کرنے کی ضرورت نہ ہو اور اگر اس کی ضرورت ہے تو ظاہر یہ ہے کہ اس ضرورت کے حسب حال اس عمل کے بلاکراہت جواز بلکہ استحباب یا وجوب میں کوئی اختلاف نہ ہونا چاہئے۔ (ت)
فـــــ۱ : مسئلہ : غسل کے بعد اعضاء پونچھنے کا حکم ۔
فـــــ۲ : اگر اعضاء نہ پونچھنے سے ضرر ثابت ہو توپونچھنا واجب تك ہو سکتا ہے ۔
اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن ابرھیم فی الرجل یتوضأ فیمسح وجہہ بالثوب قال لاباس بہ ثم قال ارأیت لواغتسل فی لیلۃ باردۃ ایقوم حتی یجف قال محمد وبہ ناخذ ولا نری بذلك باسا وھو قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ۔
یعنی امام اجل ابراہیم نخعی سے اس باب میں استفتاء ہوا کہ آدمی وضو کر کے کپڑے سے منہ پونچھے : فرمایا کچھ حرج نہیں ۔ پھر فرمایا : بھلا دیکھ تو اگر ٹھنڈی رات میں نہائے تو کیا یوں ہی کھڑا رہے یہاں تك کہ بدن خشك ہو جائے۔ امام محمد نے فرمایا : ہم اسی کو اختیار فرماتے ہیں ہمارے نزدیك اس میں کچھ حرج نہیں اور یہی قول امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکا ہے ۔
اور یہیں فـــــ۱سے ظاہر ہوا کہ وضو و غسل دونوں کا اس باب میں ایك ہی حکم ہے بلکہ بسا اوقات غسل میں کپڑے سے بدن خصوصا سر پونچھنے کی حاجت بہ نسبت وضو کے زائد ہوتی ہے اور اگر تجربہ فـــــ۲صحیحہ یا خبر طبیب حاذق مسلم مستور سے معلوم ہو کہ نہ پونچھنا ضرر شدید کا باعث ہو گا تو صاف کر لینا واجب ہو جائیگا اگرچہ وضو میں اگرچہ بنہایت مبالغہ کہ نم کا نام نہ رہے ۔ حلیہ میں ہے :
ھذا کلہ اذالم تکن حاجۃ الی التنشیف فان کان فالظاھر انہ لاینبغی ان یختلف فی جوازہ من غیر کراھۃ بل فی استحبابہ او وجوبہ بحسب تلك الحاجۃ۔
یہ سارا کلام اس صورت میں ہے جب پانی خشك کرنے کی ضرورت نہ ہو اور اگر اس کی ضرورت ہے تو ظاہر یہ ہے کہ اس ضرورت کے حسب حال اس عمل کے بلاکراہت جواز بلکہ استحباب یا وجوب میں کوئی اختلاف نہ ہونا چاہئے۔ (ت)
فـــــ۱ : مسئلہ : غسل کے بعد اعضاء پونچھنے کا حکم ۔
فـــــ۲ : اگر اعضاء نہ پونچھنے سے ضرر ثابت ہو توپونچھنا واجب تك ہو سکتا ہے ۔
حوالہ / References
کتاب الآثار للامام محمدبا ب مسح بعد الوضو بالمندیل ادارۃ القرآن کراچی ص۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اور صحیحین کی حدیث جو ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
انھا اتت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بخرقہ بعد الغسل فلم یردھا وجعل ینفض الماء بیدہ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنہائے یہ کپڑا جسم اقدس کو صاف کرنے کے لئے حاضر لائیں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نہ لیا اور ہاتھ سے پانی پونچھ پونچھ کر جھاڑا۔
اس سے کراہت ثابت نہیں ہوتی لانھا واقعۃ عین فـــــ۱ لا عموم لھا( یہ ایك معین واقعہ ہے اس میں عموم نہیں ہے ۔ ت) ممکن ہے کہ وہ کپڑا میلا تھا پسند نہ فرمایا ذکرہ الامام النووی فی شرح المھذب( امام نووی نے یہ وجہ شرح مہذب میں بیان فرمائی ۔ ت)
۴۹اقول : وفیہ بعد فـــــ۲ان تکون ام المومنین اختارت لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مثل ھذا مع علمھا بکمال نزاھتہ ونظافتہ ولطافتہ صلی الله علیہ وسلم الا ان یقال ظنت الحاجۃ لبردونحوہ ولم یجد الاما اتت بہ۔
اقول : اس توجیہ پر اعتراض ہے کہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہاکو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انتہائی پاکیزگی صفائی اور لطافت معلوم تھی اس لئے یہ بعید ہے کہ انھوں نے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے ایسا کپڑا پسند کیا ہو مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ٹھنڈك وغیرہ کی وجہ سے یہ سمجھا کہ رومال کی ضرورت ہے اور جو حاضر لائیں اس کے علاوہ دوسرا انھیں دستیاب نہ ہوا ۔ (ت)
ممکن ہے کہ نماز کی جلدی تھی اس لئے نہ لیا ذکرہ ایضك ( اسے بھی امام نووی ہی نے ذکر کیا ۔ ت)
۵۰اقول : ولا یرد علیہ انہ
اقول : اس پر یہ اعتراض نہیں
فـــــ۱ : حکایۃ وقائع الحال لا تدل علی العموم
فـــــ۲ : تطفل علی الامام النووی۔
انھا اتت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بخرقہ بعد الغسل فلم یردھا وجعل ینفض الماء بیدہ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنہائے یہ کپڑا جسم اقدس کو صاف کرنے کے لئے حاضر لائیں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نہ لیا اور ہاتھ سے پانی پونچھ پونچھ کر جھاڑا۔
اس سے کراہت ثابت نہیں ہوتی لانھا واقعۃ عین فـــــ۱ لا عموم لھا( یہ ایك معین واقعہ ہے اس میں عموم نہیں ہے ۔ ت) ممکن ہے کہ وہ کپڑا میلا تھا پسند نہ فرمایا ذکرہ الامام النووی فی شرح المھذب( امام نووی نے یہ وجہ شرح مہذب میں بیان فرمائی ۔ ت)
۴۹اقول : وفیہ بعد فـــــ۲ان تکون ام المومنین اختارت لہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مثل ھذا مع علمھا بکمال نزاھتہ ونظافتہ ولطافتہ صلی الله علیہ وسلم الا ان یقال ظنت الحاجۃ لبردونحوہ ولم یجد الاما اتت بہ۔
اقول : اس توجیہ پر اعتراض ہے کہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہاکو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انتہائی پاکیزگی صفائی اور لطافت معلوم تھی اس لئے یہ بعید ہے کہ انھوں نے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے ایسا کپڑا پسند کیا ہو مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ٹھنڈك وغیرہ کی وجہ سے یہ سمجھا کہ رومال کی ضرورت ہے اور جو حاضر لائیں اس کے علاوہ دوسرا انھیں دستیاب نہ ہوا ۔ (ت)
ممکن ہے کہ نماز کی جلدی تھی اس لئے نہ لیا ذکرہ ایضك ( اسے بھی امام نووی ہی نے ذکر کیا ۔ ت)
۵۰اقول : ولا یرد علیہ انہ
اقول : اس پر یہ اعتراض نہیں
فـــــ۱ : حکایۃ وقائع الحال لا تدل علی العموم
فـــــ۲ : تطفل علی الامام النووی۔
حوالہ / References
صحیح البخاری ، کتاب الغسل باب من افرغ بیمینہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۰۔ ۴۱ ، صحیح مسلم ، کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۷
لا یظہر الفرق بین النشف بالثوب و النفض بالید فی الاستعجال لان لفظ البخاری فناولتہ ثوبا فلم یاخذہ فانطلق وھوینفض یدیہ اھ فلعلہ لاجل الاستعجال لم یقم لینتشف بالثوب و لم یرد استصحابہ بخلاف النفض بالید فکان یحصل ماشیا کما فعل صلی الله تعالی علیہ و سلم۔
ہو سکتا کہ جلدی کے معاملہ میں کپڑے سے سکھانے اور ہاتھ سے جھاڑنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں۔ ( عدم اعتراض )اس لئے کہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں : ام المومنین نے حضور کو کپڑا پیش کیا تو نہ لیا اور ہاتھوں سے پانی جھاڑتے ہوئے چلے گئے ا ھ ۔ تو ہو سکتا ہے کہ جلدی کی وجہ سے کپڑے سے سکھانے کے لئے ٹھہرے نہ ہوں اور کپڑا ساتھ لے جانا بھی نہ چاہا ہواور ہاتھ سے پانی جھاڑنے کا کام تو چلتے ہوئے بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہی کیا۔ (ت)
ممکن ہے کہ اپنے رب عزوجل کے حضور تواضع کے لئے ایسا کیا ذکرہ ایضا (اسے بھی امام نووی نے ذکر کیا ۔ ت)
۵۱اقول : یعنی رومالوں سے بدن صاف کرنا ارباب تنعم کی عادت ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ ڈالنا مساکین کا طریقہ تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے توا ضعا طریقہ مساکین پر اکتفا فرمایا ممکن ہے کہ وقت گرم تھا اس وقت بقائے تری ہی مطلوب تھی ذکرہ القاری فی المرقاۃ (اسے علامہ علی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا ۔ ت) بلکہ ام المومنین کا کپڑا پیش کرناظاہرا اسی طرف ناظر کہ ایسا ہوتا تھا مگر اس وقت کسی وجہ خاص سے قبول نہ فرمایا :
قالہ ابن التین نقلہ فی ارشاد الساری و لفظہ ما اتی بالمندیل الا انہ کان یتنشف بہ وردہ لنحو وسخ کان فیہ ا ھ
اسے ابن التین نے کہا ان سے ارشاد الساری میں نقل ہوا الفاظ یہ ہیں : رومال اسی لئے حاضر کیا گیا کہ حضور رومال سے پانی خشك کیا کرتے تھے اور سرکار کا نہ قبول فرمانا اس وجہ سے تھا کہ اس میں کچھ میل وغیرہ تھا ۔ (ت)
ہو سکتا کہ جلدی کے معاملہ میں کپڑے سے سکھانے اور ہاتھ سے جھاڑنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں۔ ( عدم اعتراض )اس لئے کہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں : ام المومنین نے حضور کو کپڑا پیش کیا تو نہ لیا اور ہاتھوں سے پانی جھاڑتے ہوئے چلے گئے ا ھ ۔ تو ہو سکتا ہے کہ جلدی کی وجہ سے کپڑے سے سکھانے کے لئے ٹھہرے نہ ہوں اور کپڑا ساتھ لے جانا بھی نہ چاہا ہواور ہاتھ سے پانی جھاڑنے کا کام تو چلتے ہوئے بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہی کیا۔ (ت)
ممکن ہے کہ اپنے رب عزوجل کے حضور تواضع کے لئے ایسا کیا ذکرہ ایضا (اسے بھی امام نووی نے ذکر کیا ۔ ت)
۵۱اقول : یعنی رومالوں سے بدن صاف کرنا ارباب تنعم کی عادت ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ ڈالنا مساکین کا طریقہ تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے توا ضعا طریقہ مساکین پر اکتفا فرمایا ممکن ہے کہ وقت گرم تھا اس وقت بقائے تری ہی مطلوب تھی ذکرہ القاری فی المرقاۃ (اسے علامہ علی قاری نے مرقاۃ میں ذکر کیا ۔ ت) بلکہ ام المومنین کا کپڑا پیش کرناظاہرا اسی طرف ناظر کہ ایسا ہوتا تھا مگر اس وقت کسی وجہ خاص سے قبول نہ فرمایا :
قالہ ابن التین نقلہ فی ارشاد الساری و لفظہ ما اتی بالمندیل الا انہ کان یتنشف بہ وردہ لنحو وسخ کان فیہ ا ھ
اسے ابن التین نے کہا ان سے ارشاد الساری میں نقل ہوا الفاظ یہ ہیں : رومال اسی لئے حاضر کیا گیا کہ حضور رومال سے پانی خشك کیا کرتے تھے اور سرکار کا نہ قبول فرمانا اس وجہ سے تھا کہ اس میں کچھ میل وغیرہ تھا ۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الغسل باب نفض الیدین من غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
ارشاد الساری کتاب الغسل باب المضمضہ الخ تحت الحدیث ۲۵۹ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۴۹۷
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
ارشاد الساری کتاب الغسل باب المضمضہ الخ تحت الحدیث ۲۵۹ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۴۹۷
۵۲اقول : ویتوقف فـــــ علی اثبات ان ھذا لم یکن اول غسلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم عندھا وانی لہ ذلك ۔
اقول : اس توجیہ کی تمامیت یہ ثابت کرنے پر موقوف ہے کہ ان کے یہاں یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا پہلا غسل نہ تھا اور یہ کہاں سے ثابت ہو پائے گا ۔ (ت)
بالجملہ اس قدر میں شك نہیں کہ ترك احیانا دلیل کراہت نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تتمہ دلیل سنیت ہوتا ہے اور احسن تاویلات حدیث وہ ہے جو امام اجل ابراہیم نخعی استاذ الاستاذ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے افادہ فرمائی کہ سلف کرام کپڑے سے پونچھنے میں حرج نہ جانتے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے کہ وہ باب ترفہ و تنعم سے ہے ۔ سنن ابی داؤد میں حدیث میمونہ رضی اللہ تعالی عنہاکے آخر میں ہے ۔
فذکرت ذلك لابرھیم فقال کانوا لایرون با لمندیل بأسا ولکن کانوا یکرھون العادۃ ولفظ الطبری قال الاعمش فذکرت ذلك لابرھیم فقال انما کانوا یکرھون المندیل بعد الوضو مخافۃ العادۃ۔
حضرت ابراہیم سے میں نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات رومال سے پونچھنے میں حرج نہ جانتے تھے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے تھے
طبری کے الفاظ یہ ہیں : امام اعمش نے کہا : پھر میں نے حضرت ابراہیم سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات وضو کے بعد رومال استعمال کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں عادت نہ پڑ جائے ۔ (ت)
پھر نفس حدیث میں دلیل جواز موجود کہ ہاتھ سے پانی صاف فرمایا اور صاف کرنے میں جیسا کپڑا ویسا ہاتھ
ذکرہ الامام النووی فی شرح المہذب واو ردہ فی شرح مسلم عن بعض العلماء
اسے امام نووی نے شرح مہذب میں ذکر کیا اور شرح مسلم میں بعض علماء سے نقل کیا اور برقرار رکھا
فـــــ : ۲۹تطفل علی الامام القسطلانی و ابن التین ۔
اقول : اس توجیہ کی تمامیت یہ ثابت کرنے پر موقوف ہے کہ ان کے یہاں یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا پہلا غسل نہ تھا اور یہ کہاں سے ثابت ہو پائے گا ۔ (ت)
بالجملہ اس قدر میں شك نہیں کہ ترك احیانا دلیل کراہت نہیں ہو سکتا بلکہ وہ تتمہ دلیل سنیت ہوتا ہے اور احسن تاویلات حدیث وہ ہے جو امام اجل ابراہیم نخعی استاذ الاستاذ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے افادہ فرمائی کہ سلف کرام کپڑے سے پونچھنے میں حرج نہ جانتے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے کہ وہ باب ترفہ و تنعم سے ہے ۔ سنن ابی داؤد میں حدیث میمونہ رضی اللہ تعالی عنہاکے آخر میں ہے ۔
فذکرت ذلك لابرھیم فقال کانوا لایرون با لمندیل بأسا ولکن کانوا یکرھون العادۃ ولفظ الطبری قال الاعمش فذکرت ذلك لابرھیم فقال انما کانوا یکرھون المندیل بعد الوضو مخافۃ العادۃ۔
حضرت ابراہیم سے میں نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات رومال سے پونچھنے میں حرج نہ جانتے تھے مگر اس کی عادت ڈالنا پسند نہ فرماتے تھے
طبری کے الفاظ یہ ہیں : امام اعمش نے کہا : پھر میں نے حضرت ابراہیم سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا : وہ حضرات وضو کے بعد رومال استعمال کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں عادت نہ پڑ جائے ۔ (ت)
پھر نفس حدیث میں دلیل جواز موجود کہ ہاتھ سے پانی صاف فرمایا اور صاف کرنے میں جیسا کپڑا ویسا ہاتھ
ذکرہ الامام النووی فی شرح المہذب واو ردہ فی شرح مسلم عن بعض العلماء
اسے امام نووی نے شرح مہذب میں ذکر کیا اور شرح مسلم میں بعض علماء سے نقل کیا اور برقرار رکھا
فـــــ : ۲۹تطفل علی الامام القسطلانی و ابن التین ۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد ، کتاب الطہارۃ ، باب فی غسل من الجنابۃ ، آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۳
المواہب اللدنیہ المقصدالتاسع النوع الاول الفصل السادس المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۵۴
المواہب اللدنیہ المقصدالتاسع النوع الاول الفصل السادس المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۵۴
مقرا علیہ لکن نقل العلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ عن بعض علمائنا ان معنی قولھا رضی الله تعالی عنھا فانطلق فھو ینفض یدیہ یحرکہما کما ھو عادۃ عــــہ من لہ رجولیۃ قال وقیل ینفضھما لازالۃ الماء المستعمل وھو منہی عنہ فـــــ فی الوضوء والغسل لما فیہ من اماطۃ اثر العبادۃ مع ان الماء مادام علی العضو لایسمی مستعملا فالاول اولی اھ۔
ثم نقل عن القاضی الامام عیاض ان من فوائد الحدیث جواز النفض والاولی ترکہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اذا توضأتم فلا تنفضوا ایدیکم ومنھم من حمل النفض علی تحریك الیدین فی المشی
لیکن ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہمارے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاکے ارشاد مذکور “ سرکا ر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے چلے گئے “ کا معنی یہ ہے کہ مردانگی والوں کے طور پر ہاتھوں کوہلاتے ہوئے گئے ۔ آگے لکھا : اورکہا گیا کہ معنی یہ ہے کہ آب مستعمل بدن سے دور کرنے کے لئے ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے گئے اور اس کام سے وضو و غسل دونوں میں ممانعت آئی ہے کیونکہ اس میں عبادت کا اثر اپنے بدن سے دور کرنا ہے باوجودیکہ پانی جب تك بدن سے لگا ہوا ہے مستعمل نہیں کہلاتا تو پہلا معنی اولی ہے ۔ پھر امام قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث سے جو فوائد ملتے ہیں اس میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنا اولی ہے اور بہتر اس کا ترك ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کا ارشاد ہے : جب تم وضو کرو تم اپنے ہاتھ نہ جھاڑو اور کسی نے جھاڑنے کا مطلب یہ بتایا ہے : چلنے میں ہاتھوں کو حرکت
عــــہ : ۵۳اقول : الاولی ان یقول کتعبیر غیرہ کما ھوعادۃ الاقویاءمنہ
عـــــہ : اقول : بہتر یوں کہنا ہے کہ “ طاقتوروں کے طور پر “ جیسے بعض دوسرے حضرات کی تعبیر منہ(ت)
فـــــ : مسئلہ وضویا غسل میں پانی سے ہاتھ نہ جھٹکنا بہتر ہے مگرمنع نہیں اوراس بارے میں جو حدیث آئی کہ “ وہ شیطان کا پنکھا ہے “ ضعیف ہے۔
ثم نقل عن القاضی الامام عیاض ان من فوائد الحدیث جواز النفض والاولی ترکہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام اذا توضأتم فلا تنفضوا ایدیکم ومنھم من حمل النفض علی تحریك الیدین فی المشی
لیکن ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہمارے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاکے ارشاد مذکور “ سرکا ر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے چلے گئے “ کا معنی یہ ہے کہ مردانگی والوں کے طور پر ہاتھوں کوہلاتے ہوئے گئے ۔ آگے لکھا : اورکہا گیا کہ معنی یہ ہے کہ آب مستعمل بدن سے دور کرنے کے لئے ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے گئے اور اس کام سے وضو و غسل دونوں میں ممانعت آئی ہے کیونکہ اس میں عبادت کا اثر اپنے بدن سے دور کرنا ہے باوجودیکہ پانی جب تك بدن سے لگا ہوا ہے مستعمل نہیں کہلاتا تو پہلا معنی اولی ہے ۔ پھر امام قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث سے جو فوائد ملتے ہیں اس میں سے یہ بھی ہے کہ ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنا اولی ہے اور بہتر اس کا ترك ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کا ارشاد ہے : جب تم وضو کرو تم اپنے ہاتھ نہ جھاڑو اور کسی نے جھاڑنے کا مطلب یہ بتایا ہے : چلنے میں ہاتھوں کو حرکت
عــــہ : ۵۳اقول : الاولی ان یقول کتعبیر غیرہ کما ھوعادۃ الاقویاءمنہ
عـــــہ : اقول : بہتر یوں کہنا ہے کہ “ طاقتوروں کے طور پر “ جیسے بعض دوسرے حضرات کی تعبیر منہ(ت)
فـــــ : مسئلہ وضویا غسل میں پانی سے ہاتھ نہ جھٹکنا بہتر ہے مگرمنع نہیں اوراس بارے میں جو حدیث آئی کہ “ وہ شیطان کا پنکھا ہے “ ضعیف ہے۔
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
وھو تأویل بعید اھ۔ ثم قال اعنی القاری قلت وانکان التاویل بعیدا فالحمل علیہ جمعا بین الحدیثین اولی من الحمل علی ترك الاولی اھ
۵۴اقول : اولا فـــــ قد اعترفتم ببعد التاویل وھو کذلك ولم یثبت فی النھی عن النفض حدیث صحیح قال الامام النووی فی المنھاج تحت الحدیث المذکورفیہ دلیل علی ان نفض الید بعد الوضوء والغسل لاباس بہ وقد اختلف اصحابنا فیہ علی اوجہ اشھرھا ان المستحب ترکہ ولایقال انہ مکروہ الثانی انہ مکروہ الثالث انہ مباح یستوی فعلہ وترکہ وھذا ھو الاظھر المختار فقد جاء ھذا الحدیث الصحیح فی الاباحۃ ولم یثبت فی النھی شیئ اصلا اھ
و الحدیث دینا اور یہ تاویل بعید ہے۔ ا ھ اس پر علامہ قاری لکھتے ہیں میں کہتا ہوں اگرچہ یہ تاویل بعید ہو مگر دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کے لئے اس معنی پر محمول کرنا ترك اولی پر محمول کرنے سے بہتر ہے ۔ ا ھ
اقول : اولا آپ کو اعتراف ہے کہ یہ تاویل بعید ہے اور یہ واقعۃ وہ ایسی ہی ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے سے ممانعت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ۔ امام نووی منہاج (شرح مسلم) میں حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : اس میں دلیل موجود ہے کہ وضو اور غسل کے بعد ہاتھ سے پانی جھاڑنے میں کوئی حرج نہیں اور اس بارے میں ہمارے علماء کے مختلف اقوال ہیں سب سے مشہور یہ ہے کہ مستحب اس کا ترك ہے اور اسے مکروہ نہ کہا جائے گا دوسرا یہ مکروہ ہے تیسرا یہ کہ مباح ہے کرنا نہ کرنا یکساں اور برابر ہے ۔ یہی اظہر اور مختار ہے کیونکہ اباحت کے بارے میں یہ صحیح حدیث موجود ہے اور نہی کے بارے میں سرے سے کچھ ثابت ہی نہیں ۔ ا ھ اور جو حدیث ذکر ہوئی
فـــــ : ۳۰تطفل علی العلامۃ القاری۔
۵۴اقول : اولا فـــــ قد اعترفتم ببعد التاویل وھو کذلك ولم یثبت فی النھی عن النفض حدیث صحیح قال الامام النووی فی المنھاج تحت الحدیث المذکورفیہ دلیل علی ان نفض الید بعد الوضوء والغسل لاباس بہ وقد اختلف اصحابنا فیہ علی اوجہ اشھرھا ان المستحب ترکہ ولایقال انہ مکروہ الثانی انہ مکروہ الثالث انہ مباح یستوی فعلہ وترکہ وھذا ھو الاظھر المختار فقد جاء ھذا الحدیث الصحیح فی الاباحۃ ولم یثبت فی النھی شیئ اصلا اھ
و الحدیث دینا اور یہ تاویل بعید ہے۔ ا ھ اس پر علامہ قاری لکھتے ہیں میں کہتا ہوں اگرچہ یہ تاویل بعید ہو مگر دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق دینے کے لئے اس معنی پر محمول کرنا ترك اولی پر محمول کرنے سے بہتر ہے ۔ ا ھ
اقول : اولا آپ کو اعتراف ہے کہ یہ تاویل بعید ہے اور یہ واقعۃ وہ ایسی ہی ہے اور ہاتھ سے پانی پونچھ کر جھاڑنے سے ممانعت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ۔ امام نووی منہاج (شرح مسلم) میں حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : اس میں دلیل موجود ہے کہ وضو اور غسل کے بعد ہاتھ سے پانی جھاڑنے میں کوئی حرج نہیں اور اس بارے میں ہمارے علماء کے مختلف اقوال ہیں سب سے مشہور یہ ہے کہ مستحب اس کا ترك ہے اور اسے مکروہ نہ کہا جائے گا دوسرا یہ مکروہ ہے تیسرا یہ کہ مباح ہے کرنا نہ کرنا یکساں اور برابر ہے ۔ یہی اظہر اور مختار ہے کیونکہ اباحت کے بارے میں یہ صحیح حدیث موجود ہے اور نہی کے بارے میں سرے سے کچھ ثابت ہی نہیں ۔ ا ھ اور جو حدیث ذکر ہوئی
فـــــ : ۳۰تطفل علی العلامۃ القاری۔
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
شرح صحیح مسلم کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ تحت الحدیث ۷۱۰ دار الفکر بیروت ۲ / ۶۸۔ ۱۳۶۷
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۶ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰
شرح صحیح مسلم کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ تحت الحدیث ۷۱۰ دار الفکر بیروت ۲ / ۶۸۔ ۱۳۶۷
المذکور رواہ ابو یعلی فی مسندہ وابن عدی فی الکامل من طریق البختری بن عبید عن ابیہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اشربوا اعینکم من الماء عند الوضوء ولا تنفضوا ایدیکم فانھا مراوح الشیطان ونحوہ عندالدیلمی فی مسند الفردوس و اخرجہ ایضا ابن حبان فی الضعفاء وابن ابی حاتم فی العلل والبختری فـــــ ضعیف متروك کما فی التقریب وقال المناوی فی شرحہ الکبیر للجامع الصغیر المسمی بفیض القدیر ان البختری ضعفہ ابو حاتم وترکہ غیرہ وقال ابن عدی روی عن ابیہ قدر عشرین حدیثا عامتھا مناکیر ھذا منھا اھ ومن ثم قال العراقی سندہ ضعیف وقال النووی کابن الصلاح لم نجدلہ اصلا اھ
اسے ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابن عدی نے کامل میں بطریق بختری بن عبید عن ابیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا کہ سرکار نے فرمایا : اپنی آنکھوں کو بھی وضو کے وقت کچھ پانی پلاؤ اور اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑو کیوں کہ ا س طرح وہ شیطان کے پنکھے ہیں ۔ اسی کے ہم معنی مسند الفردوس میں دیلمی نے روایت کی اور ابن حبان نے بھی کتاب الضعفاء میں اور ابن ابی حاتم نے کتاب العلل میں ا س کی تخریج کی اور بختری ضعیف متروك ہے جیسا کہ تقریب التہذیب میں ہے ۔ علامہ مناوی نے جامع صغیر کی شرح کبیر فیض القدیر میں لکھا ہے کہ : بختری کو ابو حاتم نے ضعیف کہا اور دوسرے حضرات نے اسے ترك کر دیا ۔ ابن عدی فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے والد سے بیس حدیثیں روایت کی ہیں جن میں زیادہ تر منکر ہیں یہ بھی انہی میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ عراقی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے اور ابن الصلاح کی طرح امام نووی نے فرمایا : ہمیں اس کی کوئی اصل نہ ملی۔ ا ھ
فـــــ : تضعیف البختری بن عبید
اسے ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابن عدی نے کامل میں بطریق بختری بن عبید عن ابیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے انھوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا کہ سرکار نے فرمایا : اپنی آنکھوں کو بھی وضو کے وقت کچھ پانی پلاؤ اور اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑو کیوں کہ ا س طرح وہ شیطان کے پنکھے ہیں ۔ اسی کے ہم معنی مسند الفردوس میں دیلمی نے روایت کی اور ابن حبان نے بھی کتاب الضعفاء میں اور ابن ابی حاتم نے کتاب العلل میں ا س کی تخریج کی اور بختری ضعیف متروك ہے جیسا کہ تقریب التہذیب میں ہے ۔ علامہ مناوی نے جامع صغیر کی شرح کبیر فیض القدیر میں لکھا ہے کہ : بختری کو ابو حاتم نے ضعیف کہا اور دوسرے حضرات نے اسے ترك کر دیا ۔ ابن عدی فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے والد سے بیس حدیثیں روایت کی ہیں جن میں زیادہ تر منکر ہیں یہ بھی انہی میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ عراقی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے اور ابن الصلاح کی طرح امام نووی نے فرمایا : ہمیں اس کی کوئی اصل نہ ملی۔ ا ھ
فـــــ : تضعیف البختری بن عبید
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ع وعدعن ابی ھریرۃحدیث ۲۶۲۵۶ موسسۃالرسالہ بیروت۹ / ۳۲۶ ، الجامع الصغیر بحولہ ع وعدعن ابی ھریرۃ حدیث ۱۰۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۷۰
تقریب التہذیب ترجمہ البختری بن عبید ۶۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۲
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث ۱۰۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۶۶۸
تقریب التہذیب ترجمہ البختری بن عبید ۶۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۲
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث ۱۰۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۶۶۸
۵۵قلت : وبعض اصحابنا وان عدوا عدم النفض من اداب الوضوء کما فی الدر وغیرہ فلا غروفان امثال الحدیث فی امثال المقام تقوم بافادۃ الادبیۃ اما ان ینتہض معارضا لحدیث صحیح فکلا۔
و۵۶ثانیا ترك الاولی فـــــ۱ لافادۃ فـــــ۲ الجواز واقع عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بحیث تجاوز حدالاحصاء وذلك ھوالاولی منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لکونہ من مشارع تبلیغ الشرائع والبیان بالفعل اقوی کما شہد بہ حدیث ام سلمۃ رضی الله تعالی عنھا فی واقعۃ الحدیبیۃ۔
و۵۷ثالثا : لفظ الحدیث فـــــ۳ عند مسلم والنسائی فی طریق اخری عن مخرج الحدیث الاعمش اعنی بطریق عبدالله بن ادریس عن الاعمش عن سالم ھو ابن ابی الجعد عن کریب عن ابن عباس عن میمونۃ رضی الله
قلت : ہمارے بعض علماء نے پانی نہ جھاڑنے کو اگرچہ آداب وضو سے شمار کیا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیوں کہ ایسی حدیث ایسی جگہ اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ کسی چیز کے ایك ادب اور مستحب ہونے کا افادہ کر دے ۔ رہا یہ کہ کسی حدیث صحیح کے معارض ہو جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔
ثانیا : کسی چیز کا جواز بتانے کے لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ترك اولی بے شمار مقامات میں واقع ہے اور یہ عمل ( ترك اولی افادہ جواز کے لئے ) حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہونا اولی ہے اس لئے کہ سرکار قوانین واحکام کی تبلیغ کا مصدر و منبع ہیں۔ اور فعل کے ذریعہ بیان زیادہ قوی ہوتا ہے جیساکہ اس پر واقعہ حدیبیہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث شاہد ہے ۔
ثالثا : ( کچھ اور طرق سے جو الفاظ حدیث وارد ہیں وہ بالکل فیصلہ کن ہیں ) امام مسلم و امام نسائی کے یہاں مخرج حدیث حضرت اعمش سے ایك طریق اور ہے وہ یوں ہے : عبدالله بن ادریس __ عن الاعمش __ عن سالم __ یہ ابن ابی الجعد ہیں __ عن کریب __ ابن عباس __ عن
فـــــ ۱ : ۳۱تطفل اخر علی القاری
فـــــ۲ : ترك الاولی احیانا لبیان الجواز ھو الاولی من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
فـــــ۳ : ۳۲تطفل ثالث علی علی القاری
و۵۶ثانیا ترك الاولی فـــــ۱ لافادۃ فـــــ۲ الجواز واقع عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بحیث تجاوز حدالاحصاء وذلك ھوالاولی منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لکونہ من مشارع تبلیغ الشرائع والبیان بالفعل اقوی کما شہد بہ حدیث ام سلمۃ رضی الله تعالی عنھا فی واقعۃ الحدیبیۃ۔
و۵۷ثالثا : لفظ الحدیث فـــــ۳ عند مسلم والنسائی فی طریق اخری عن مخرج الحدیث الاعمش اعنی بطریق عبدالله بن ادریس عن الاعمش عن سالم ھو ابن ابی الجعد عن کریب عن ابن عباس عن میمونۃ رضی الله
قلت : ہمارے بعض علماء نے پانی نہ جھاڑنے کو اگرچہ آداب وضو سے شمار کیا ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیوں کہ ایسی حدیث ایسی جگہ اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ کسی چیز کے ایك ادب اور مستحب ہونے کا افادہ کر دے ۔ رہا یہ کہ کسی حدیث صحیح کے معارض ہو جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔
ثانیا : کسی چیز کا جواز بتانے کے لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ترك اولی بے شمار مقامات میں واقع ہے اور یہ عمل ( ترك اولی افادہ جواز کے لئے ) حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہونا اولی ہے اس لئے کہ سرکار قوانین واحکام کی تبلیغ کا مصدر و منبع ہیں۔ اور فعل کے ذریعہ بیان زیادہ قوی ہوتا ہے جیساکہ اس پر واقعہ حدیبیہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث شاہد ہے ۔
ثالثا : ( کچھ اور طرق سے جو الفاظ حدیث وارد ہیں وہ بالکل فیصلہ کن ہیں ) امام مسلم و امام نسائی کے یہاں مخرج حدیث حضرت اعمش سے ایك طریق اور ہے وہ یوں ہے : عبدالله بن ادریس __ عن الاعمش __ عن سالم __ یہ ابن ابی الجعد ہیں __ عن کریب __ ابن عباس __ عن
فـــــ ۱ : ۳۱تطفل اخر علی القاری
فـــــ۲ : ترك الاولی احیانا لبیان الجواز ھو الاولی من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
فـــــ۳ : ۳۲تطفل ثالث علی علی القاری
تعالی عنھم ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اتی بمندیل فلم یمسہ وجعل یقول بالماء ھکذا یعنی ینفضہ اھ ولفظ ابی داؤد عن الاعمش فناولتہ المندیل فلم یأخذہ وجعل ینفض الماء عن جسدہ
فھذہ نصوص مفسرۃ لاتدع لتاویل ذلك البعض مساغا ولا مجالا فضلا عن ان یکون ھو الاولی وانا اتعجب فـــــ ۱ من القاضی الامام کیف یقتصر علی تبعیدہ وکذا الشیخ المحقق فـــــ۲ حیث نقل ھذا التاویل فی لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح عن بعض الشروح واقرہ وقال فی اشعۃ اللمعات فـــــ۳
میمونہ رضی اللہ تعالی عنہم۔ اس طریق عبد الله بن ادریس میں الفاظ حدیث یہ ہیں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس رومال حاضر کیا گیا تو اسے ہاتھ نہ لگایا اور پانی کو یوں کرنے لگے یعنی جھاڑنے لگے ۔ ا ھ اور بطریق عبدالله بن داؤد عن الاعمش سنن ابی داؤد میں یہ الفاظ ہیں : ام المومنین نے سرکار کو رومال پیش کیا تو نہ لیا اور بدن مبارك سے پانی جھاڑنے لگے۔
یہ ایسے مفسر نصوص ہیں کہ اس تاویل ( جھاڑنا یعنی چلنے میں ہاتھ ہلانا ) کی کوئی گنجائش اور جگہ ہی نہیں رہ جاتی اس تاویل کا اولی ہونا تو بہت دور کی بات ہے اور مجھے تو یہ تعجب ہے کہ امام قاضی عیاض نے اسے صرف بعید کہنے پر اکتفاء کیوں کی اور اسی طرح شیخ محقق پر بھی تعجب ہے کہ انہوں نے لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح میں یہ تاویل بعض شروح کے حوالے سے نقل کی اور برقرار رکھی اور اشعۃ اللمعات
فـــــ ۱ : تطفل علی الامام القاضی عیاض ۔
فـــــ ۲ : تطفل علی الشیخ المحقق عبدالحق الدہلوی۔
فـــــ ۳ : تطفل اخر علیہ۔
فھذہ نصوص مفسرۃ لاتدع لتاویل ذلك البعض مساغا ولا مجالا فضلا عن ان یکون ھو الاولی وانا اتعجب فـــــ ۱ من القاضی الامام کیف یقتصر علی تبعیدہ وکذا الشیخ المحقق فـــــ۲ حیث نقل ھذا التاویل فی لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح عن بعض الشروح واقرہ وقال فی اشعۃ اللمعات فـــــ۳
میمونہ رضی اللہ تعالی عنہم۔ اس طریق عبد الله بن ادریس میں الفاظ حدیث یہ ہیں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے پاس رومال حاضر کیا گیا تو اسے ہاتھ نہ لگایا اور پانی کو یوں کرنے لگے یعنی جھاڑنے لگے ۔ ا ھ اور بطریق عبدالله بن داؤد عن الاعمش سنن ابی داؤد میں یہ الفاظ ہیں : ام المومنین نے سرکار کو رومال پیش کیا تو نہ لیا اور بدن مبارك سے پانی جھاڑنے لگے۔
یہ ایسے مفسر نصوص ہیں کہ اس تاویل ( جھاڑنا یعنی چلنے میں ہاتھ ہلانا ) کی کوئی گنجائش اور جگہ ہی نہیں رہ جاتی اس تاویل کا اولی ہونا تو بہت دور کی بات ہے اور مجھے تو یہ تعجب ہے کہ امام قاضی عیاض نے اسے صرف بعید کہنے پر اکتفاء کیوں کی اور اسی طرح شیخ محقق پر بھی تعجب ہے کہ انہوں نے لمعات التنقیح شرح مشکوۃ المصابیح میں یہ تاویل بعض شروح کے حوالے سے نقل کی اور برقرار رکھی اور اشعۃ اللمعات
فـــــ ۱ : تطفل علی الامام القاضی عیاض ۔
فـــــ ۲ : تطفل علی الشیخ المحقق عبدالحق الدہلوی۔
فـــــ ۳ : تطفل اخر علیہ۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الحیض باب صفۃ غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۷
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتا ب عالم پریس لاہور۱ / ۳۳۔ ۳۲
لمعات التنقیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث۴۳۶ مکتبۃ المعارف النعمانیہ لاہور۲ / ۱۰۹
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتا ب عالم پریس لاہور۱ / ۳۳۔ ۳۲
لمعات التنقیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث۴۳۶ مکتبۃ المعارف النعمانیہ لاہور۲ / ۱۰۹
ایں معنی بعداست از مقام اھ لم لا یقولون باطل مالہ من مساغ ھذا۔
ثم ان من الناس من یقول بکراھۃ المندیل بعد الوضوء دون الغسل قال فی الحلیۃ روی عن ابن عباس اھ
۵۸قلت : رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما انہ کرہ ان یمسح بالمندیل من الوضوء ولم یکرھہ اذا اغتسل من الجنابۃ اھ وحاول الامام ابن امیر الحاج فی الحلیۃ توجیہہ بان کراھتہ فی الوضوء لما ذکرنا عن الزھری قال ولم ینقل فی الغسل انہ یو زن اھ
۵۹اقول : تقاعد فـــــ کونہ یوزن میں فرمایا : یہ معنی اس مقام سے بعید ہے ۔ ا ھ یہ کیوں نہیں فرماتے کہ باطل ہے اس کی گنجائش ہی نہیں یہ بحث تمام ہوئی ۔ اب یہ ہے کہ بعض حضرات اس کے قائل ہیں کہ وضو کے بعد رومال استعمال کرنا مکروہ ہے غسل کے بعد نہیں ۔ حلیہ میں ہے کہ یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے ۔ ا ھ قلت اسی عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ہے کہ انہوں نے وضو کے بعد رومال سے پانی پونچھنے کو ناپسند کیا اور غسل جنابت کی صورت میں مکروہ نہ رکھا ۔ امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں اس کی یہ توجیہہ فرمانے کی کوشش کی ہے کہ وضو میں ان کی کراہت کی وجہ وہ حدیث ہے جو ہم نے امام زہری سے نقل کی ( کہ یہ پانی روز قیامت وزن ہوگا ) اور غسل کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ اس کا پانی بھی وزن کیا جائے گا ۔ ا ھ
اقول : ہم بتا چکے کہ اس پانی کے وزن
فـــــ : ۳۶تطفل علی الحلیۃ
ثم ان من الناس من یقول بکراھۃ المندیل بعد الوضوء دون الغسل قال فی الحلیۃ روی عن ابن عباس اھ
۵۸قلت : رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما انہ کرہ ان یمسح بالمندیل من الوضوء ولم یکرھہ اذا اغتسل من الجنابۃ اھ وحاول الامام ابن امیر الحاج فی الحلیۃ توجیہہ بان کراھتہ فی الوضوء لما ذکرنا عن الزھری قال ولم ینقل فی الغسل انہ یو زن اھ
۵۹اقول : تقاعد فـــــ کونہ یوزن میں فرمایا : یہ معنی اس مقام سے بعید ہے ۔ ا ھ یہ کیوں نہیں فرماتے کہ باطل ہے اس کی گنجائش ہی نہیں یہ بحث تمام ہوئی ۔ اب یہ ہے کہ بعض حضرات اس کے قائل ہیں کہ وضو کے بعد رومال استعمال کرنا مکروہ ہے غسل کے بعد نہیں ۔ حلیہ میں ہے کہ یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے ۔ ا ھ قلت اسی عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ہے کہ انہوں نے وضو کے بعد رومال سے پانی پونچھنے کو ناپسند کیا اور غسل جنابت کی صورت میں مکروہ نہ رکھا ۔ امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں اس کی یہ توجیہہ فرمانے کی کوشش کی ہے کہ وضو میں ان کی کراہت کی وجہ وہ حدیث ہے جو ہم نے امام زہری سے نقل کی ( کہ یہ پانی روز قیامت وزن ہوگا ) اور غسل کے بارے میں یہ منقول نہیں کہ اس کا پانی بھی وزن کیا جائے گا ۔ ا ھ
اقول : ہم بتا چکے کہ اس پانی کے وزن
فـــــ : ۳۶تطفل علی الحلیۃ
حوالہ / References
اشعۃ للمعات کتاب الطہارۃ باب الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۳۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
المصنف لعبدالرزاق کتاب الطہارۃ بالمندیل حدیث ۷۰۹ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ / ۱۸۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
المصنف لعبدالرزاق کتاب الطہارۃ بالمندیل حدیث ۷۰۹ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ / ۱۸۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ایراث کراھۃ المسح قد قدمناہ وان سلم فـــــ۱ فالنقل فی الوضوء نقل فی الغسل بالقیاس الجلی فـــــ۲ بل بدلالۃ النص فان الغسل حسنۃ کالوضوء فان کان یوزن ماء الوضوء فکذا ماؤہ بل ھو اولی لانھا طہارۃ کبری وماؤہ اکثر واوفی وانما الامر عندی والله تعالی اعلم ان حبر الامۃ رضی الله تعالی عنہ رأی فی منعہ فی الغسل حرجا کما اسلفنا۔
کئے جانے کی فضیلت اسے پونچھنے میں کراہت لانے سے قاصر ہے----- اور اگر اسے مان ہی لیں تو ( وہی حکم غسل میں بھی ہونا چاہئے اگرچہ خاص لفظ غسل کے ساتھ حدیث واردنہیں ہے کیونکہ ۱۲ م ) وضو میں منقول ہونا قیاس جلی بلکہ دلالۃ النص کی رو سے غسل میں بھی منقول ہونا ہے اس لئے کہ وضو کی طرح غسل بھی ایك نیکی ہے تو اگر وضو کا پانی تولا جائے گا تو غسل کا پانی بھی ایساہی ہوگا بلکہ وہ بدرجہ اولی ہو گا اس لئے کہ وہ طہارت کبری ہے اور اس کا پانی زیادہ وافر بھی ہوتا ہے ------ میرے نزدیك اس کی وجہ----- والله تعالی اعلم ------ یہی ہے کہ حبرامت رضی اللہ تعالی عنہنے غسل کے اندر اس سے ممانعت میں حرج دیکھا جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ۔
بالجملہ تحقیق مسئلہ و ہی ہے کہ کراہت اصلا نہیں ہاں حاجت نہ ہو تو عادت نہ ڈالے اور پونچھے بھی تو حتی الوسع نم باقی رکھنا افضل ہے ۔ فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
لاباس للمتوضئ والمغتسل ان یتمسح بالمندیل روی عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ کان یفعل ذلك ومنھم من کرہ ذلك ومنھم من کرہ للمتوضی دون
وضو و غسل کرنے والے کے لئے رومال سے بدن پونچھنے میں حرج نہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے کہ وہ ایسا کرتے تھے ۔ بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور بعض نے وضو کرنے والے کے لئے مکروہ کہا ہے غسل والے
فـــــ۱ : ۳۷تطفل آخر علیہا
فـــــ۱ : غسل کاپانی بھی نیکیوں کے پلے میں رکھاجانا ظاہر ہے
کئے جانے کی فضیلت اسے پونچھنے میں کراہت لانے سے قاصر ہے----- اور اگر اسے مان ہی لیں تو ( وہی حکم غسل میں بھی ہونا چاہئے اگرچہ خاص لفظ غسل کے ساتھ حدیث واردنہیں ہے کیونکہ ۱۲ م ) وضو میں منقول ہونا قیاس جلی بلکہ دلالۃ النص کی رو سے غسل میں بھی منقول ہونا ہے اس لئے کہ وضو کی طرح غسل بھی ایك نیکی ہے تو اگر وضو کا پانی تولا جائے گا تو غسل کا پانی بھی ایساہی ہوگا بلکہ وہ بدرجہ اولی ہو گا اس لئے کہ وہ طہارت کبری ہے اور اس کا پانی زیادہ وافر بھی ہوتا ہے ------ میرے نزدیك اس کی وجہ----- والله تعالی اعلم ------ یہی ہے کہ حبرامت رضی اللہ تعالی عنہنے غسل کے اندر اس سے ممانعت میں حرج دیکھا جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ۔
بالجملہ تحقیق مسئلہ و ہی ہے کہ کراہت اصلا نہیں ہاں حاجت نہ ہو تو عادت نہ ڈالے اور پونچھے بھی تو حتی الوسع نم باقی رکھنا افضل ہے ۔ فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
لاباس للمتوضئ والمغتسل ان یتمسح بالمندیل روی عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ کان یفعل ذلك ومنھم من کرہ ذلك ومنھم من کرہ للمتوضی دون
وضو و غسل کرنے والے کے لئے رومال سے بدن پونچھنے میں حرج نہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے کہ وہ ایسا کرتے تھے ۔ بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور بعض نے وضو کرنے والے کے لئے مکروہ کہا ہے غسل والے
فـــــ۱ : ۳۷تطفل آخر علیہا
فـــــ۱ : غسل کاپانی بھی نیکیوں کے پلے میں رکھاجانا ظاہر ہے
المغتسل والصحیح ماقلناہ الاانہ ینبغی ان لایبالغ ولایستقصی فیبقی اثر الوضوء علی اعضائہ۔
کے لئے نہیں اور صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا مگر چاہئے کہ اس میں مبالغہ نہ کرے اور پانی بالکل خشك نہ کر دے اعضاء پر کچھ اثر باقی رہنے دے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
وکذا وقع ذکر التنشیف بلفظ لاباس فی خزانۃ الاکمل و غیرہ و عزاہ فی الخلاصۃ الی الاصل بھذا للفظ ایضا اھ
اسی طرح خزانۃ الاکمل وغیرہ میں پانی سکھانے کا ذکر “ لا باس “ (حرج نہیں ) کے لفظ کے ساتھ آیا ہے اور ان ہی الفاظ کے ساتھ خلاصہ میں اسے اصل ( مبسوط) کے حوالہ سے بیان کیا ہے ۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا فـــــ کہ وہ جو درمختار میں واقع ہوا کہ وضو کے بعد رومال سے اعضاء پونچھنا مستحب ہے ۔
حیث قال من الاداب التمسح بمندیل وعدم نفض یدہ اھ
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ : آداب وضو میں یہ بھی ہے کہ رومال سے پانی پونچھ لے اور ہاتھ سے نہ جھاڑے ا ھ ۔ (ت)
اور منیہ میں واقع ہوا کہ غسل کے بعد مستحب ہے حیث قال ویستحب ان یمسح بمندیل بعد الغسل اھ
(اس کے الفاظ یہ ہیں : مستحب ہے کہ غسل کے بعد کسی رومال سے بدن پونچھ لے۔ اھ ت ) دونوں سہو قلم ہیں
لااعلم لہما سلفا فی ذلك فی المذھب فان الخلاف کما علمت فی الکراھۃ فضلا عن الاستحباب۔
مجھے اس بارے میں علمائے مذہب میں سے کوئی بھی ان دونوں حضرات کا پیش رو معلوم نہیں اس لئے کہ اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا نہیں مستحب کہاں سے ہو گا (ت)
فـــــ : تنبیہ علی مافی المنیۃ والدرالمختار۔
کے لئے نہیں اور صحیح وہی ہے جو ہم نے کہا مگر چاہئے کہ اس میں مبالغہ نہ کرے اور پانی بالکل خشك نہ کر دے اعضاء پر کچھ اثر باقی رہنے دے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
وکذا وقع ذکر التنشیف بلفظ لاباس فی خزانۃ الاکمل و غیرہ و عزاہ فی الخلاصۃ الی الاصل بھذا للفظ ایضا اھ
اسی طرح خزانۃ الاکمل وغیرہ میں پانی سکھانے کا ذکر “ لا باس “ (حرج نہیں ) کے لفظ کے ساتھ آیا ہے اور ان ہی الفاظ کے ساتھ خلاصہ میں اسے اصل ( مبسوط) کے حوالہ سے بیان کیا ہے ۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا فـــــ کہ وہ جو درمختار میں واقع ہوا کہ وضو کے بعد رومال سے اعضاء پونچھنا مستحب ہے ۔
حیث قال من الاداب التمسح بمندیل وعدم نفض یدہ اھ
اس کے الفاظ یہ ہیں کہ : آداب وضو میں یہ بھی ہے کہ رومال سے پانی پونچھ لے اور ہاتھ سے نہ جھاڑے ا ھ ۔ (ت)
اور منیہ میں واقع ہوا کہ غسل کے بعد مستحب ہے حیث قال ویستحب ان یمسح بمندیل بعد الغسل اھ
(اس کے الفاظ یہ ہیں : مستحب ہے کہ غسل کے بعد کسی رومال سے بدن پونچھ لے۔ اھ ت ) دونوں سہو قلم ہیں
لااعلم لہما سلفا فی ذلك فی المذھب فان الخلاف کما علمت فی الکراھۃ فضلا عن الاستحباب۔
مجھے اس بارے میں علمائے مذہب میں سے کوئی بھی ان دونوں حضرات کا پیش رو معلوم نہیں اس لئے کہ اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ ہے یا نہیں مستحب کہاں سے ہو گا (ت)
فـــــ : تنبیہ علی مافی المنیۃ والدرالمختار۔
حوالہ / References
ردالمحتاربحوالہ خانیہ کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۹
ردالمحتاربحوالہ الحلیۃ کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۹
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۴
منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ فرائض الغسل وسننہا مکتبہ قادیہ لاہور ص۴۰
ردالمحتاربحوالہ الحلیۃ کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۹
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۴
منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ فرائض الغسل وسننہا مکتبہ قادیہ لاہور ص۴۰
ولہذا ردالمحتار میں قول در پر فرمایا :
ذکرہ صاحب المنیۃ فی الغسل وقال فی الحلیۃ ولم ارمن ذکرہ غیرہ وانما وقع الخلاف فی الکراھۃ الخ فاشارالی ان نقلہ الی الوضوء تفرد علی تفرد۔
اسے صاحب منیہ نے غسل کے بیان میں ذکر کیا اور حلیہ میں اس پر لکھا کہ صاحب منیہ کے سوا کسی اور کے یہاں میں نے اس کا ذکر نہ دیکھا بلکہ یہاں تو کراہت میں اختلاف ہے الخ ۔ اس سے علامہ شامی نے اشارہ کیا کہ اس استحباب کو غسل سے نکال کر وضو میں لانا صاحب درمختار کا تفرد پر تفرد ہے (ت)
ہاں علامہ طحطاوی نے قول در کو بعد استنجاء آب استنجاء فـــــ رومال سے پونچھنے پر حمل کیا اور وہ محمل حسن ہے متعدد کتب میں اس کا استحباب مصرح ہے
قال ط قولہ والتمسح ای مسح موضع الاستنجاء بخرقۃ کذافی فتح القدیر اھ سید طحطاوی نے کہا : قولہ والتمسح یعنی مقام استنجاء کو کسی کپڑے سے پونچھ لینا ایسا ہی فتح القدیر میں ہے ا ھ (ت)
منیہ کے آداب الوضو میں ہے :
وان یمسح موضع الاستنجاء بالخرقۃ بعد الغسل قبل ان یقوم وان لم یکن معہ خرقۃ یجففہ بیدہ ۔
مقام استنجاء کو دھونے کے بعد کھڑے ہونے سے پہلے کپڑے سے پونچھ لے --- اور پا س میں کپڑا نہ ہو تو ہاتھ سے خشك کر لے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
یعنی الیسری مرۃ بعد اخری حتی لایبقی البلل علی ذلك المحل ومنھم
یعنی بائیں ہاتھ سے بار بار پونچھ لے کہ اس جگہ تری نہ رہ جائے اور بعض نے استنقاء (صفائی)
فـــــ : مسئلہ پانی سے استنجے کے بعد کپڑے سے خوب صاف کرلینا مستحب ہے کپڑا نہ ہو تو باربار بائیں ہاتھ سے یہاں تك کہ خشك ہو جائے ۔
ذکرہ صاحب المنیۃ فی الغسل وقال فی الحلیۃ ولم ارمن ذکرہ غیرہ وانما وقع الخلاف فی الکراھۃ الخ فاشارالی ان نقلہ الی الوضوء تفرد علی تفرد۔
اسے صاحب منیہ نے غسل کے بیان میں ذکر کیا اور حلیہ میں اس پر لکھا کہ صاحب منیہ کے سوا کسی اور کے یہاں میں نے اس کا ذکر نہ دیکھا بلکہ یہاں تو کراہت میں اختلاف ہے الخ ۔ اس سے علامہ شامی نے اشارہ کیا کہ اس استحباب کو غسل سے نکال کر وضو میں لانا صاحب درمختار کا تفرد پر تفرد ہے (ت)
ہاں علامہ طحطاوی نے قول در کو بعد استنجاء آب استنجاء فـــــ رومال سے پونچھنے پر حمل کیا اور وہ محمل حسن ہے متعدد کتب میں اس کا استحباب مصرح ہے
قال ط قولہ والتمسح ای مسح موضع الاستنجاء بخرقۃ کذافی فتح القدیر اھ سید طحطاوی نے کہا : قولہ والتمسح یعنی مقام استنجاء کو کسی کپڑے سے پونچھ لینا ایسا ہی فتح القدیر میں ہے ا ھ (ت)
منیہ کے آداب الوضو میں ہے :
وان یمسح موضع الاستنجاء بالخرقۃ بعد الغسل قبل ان یقوم وان لم یکن معہ خرقۃ یجففہ بیدہ ۔
مقام استنجاء کو دھونے کے بعد کھڑے ہونے سے پہلے کپڑے سے پونچھ لے --- اور پا س میں کپڑا نہ ہو تو ہاتھ سے خشك کر لے ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
یعنی الیسری مرۃ بعد اخری حتی لایبقی البلل علی ذلك المحل ومنھم
یعنی بائیں ہاتھ سے بار بار پونچھ لے کہ اس جگہ تری نہ رہ جائے اور بعض نے استنقاء (صفائی)
فـــــ : مسئلہ پانی سے استنجے کے بعد کپڑے سے خوب صاف کرلینا مستحب ہے کپڑا نہ ہو تو باربار بائیں ہاتھ سے یہاں تك کہ خشك ہو جائے ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃمطلب فی التمسح بمندیل داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۹
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۶
منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء مکتبہ قادیہ لاہور ص۲۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۶
منیۃالمصلی کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء مکتبہ قادیہ لاہور ص۲۷
من فسر الاستنقاء بھذا ۔
کی یہی تفسیر کی ہے ۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
لیزول اثر الماء المستعمل بالکلیۃ الخ ثم قال ط وفی الہندیۃ ولایمسح فـــــ۱ سائر اعضائہ بالخرقۃ التی یمسح بھا موضع الاستنجاء فلاینا فی انہ یمسح بغیرھا اھ ونحوہ فی ردالمحتار۔
اقول : نعم وکرامۃ فـــــ۲ ولکن لایقتضی ایضا استحباب مسح غیرہ بغیرھا کمالا یخفی فلا یفید کلام الشارح رحمہ الله تعالی۔
تاکہ ماء مستعمل کا اثر بالکل ختم ہو جائے الخ ----- آگے سید طحطاوی نے فرمایا : اور ہندیہ میں ہے کہ جس کپڑے سے مقام استنجاء کو پونچھے اس سے دیگر اعضائے بدن کو نہ پونچھے تو یہ دوسرے کپڑے سے پونچھ لینے کے منافی نہیں ا ھ ---- اور اسی کے ہم معنی ردالمحتار میں بھی ہے
اقول : ہاں منافی نہیں اور دیگر اعضاء کی عزت کا لحاظ بھی ہے لیکن اس کا تقاضا یہ بھی نہیں کہ باقی بدن کو دوسرے کپڑے سے پونچھ لینا مستحب ہے ۔ جیساکہ واضح ہے۔ تو یہ کلام شارح رحمۃ اللہ تعالی علیہکے لئے مفید بھی نہیں ۔ (ت)
تنبیہ : علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن فـــــ۳ آنچل سے بدن نہ پونچھنا چاہئے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں اور ردالمحتار میں فرمایا : دامن سے ہاتھ منہ پونچھنا بھول پیدا کرتا ہے۔ لمعات باب الغسل میں ہے :
الاولی ان لا ینشف بذیلہ وطرف
اولی یہ ہے کہ اپنے دامن یا لباس کے کنارے
فـــــ۱ : مسئلہ : جس کپڑے سے استنجے کا پانی خشك کریں اس سے باقی اعضاء نہ پونچھے
فـــــ۲ : ۳۸ معروضۃعلی العلامتین ط وش
فـــــ۳ : مسئلہ : اپنے دامن یا آنچل سے بدن پونچھناشرعا منع نہیں مگر دامن سے ہاتھ منہ پونچھنے سے اہل تجربہ منع فرماتے ہیں کہ اس سے بھول پیدا ہوتی ہے۔
کی یہی تفسیر کی ہے ۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
لیزول اثر الماء المستعمل بالکلیۃ الخ ثم قال ط وفی الہندیۃ ولایمسح فـــــ۱ سائر اعضائہ بالخرقۃ التی یمسح بھا موضع الاستنجاء فلاینا فی انہ یمسح بغیرھا اھ ونحوہ فی ردالمحتار۔
اقول : نعم وکرامۃ فـــــ۲ ولکن لایقتضی ایضا استحباب مسح غیرہ بغیرھا کمالا یخفی فلا یفید کلام الشارح رحمہ الله تعالی۔
تاکہ ماء مستعمل کا اثر بالکل ختم ہو جائے الخ ----- آگے سید طحطاوی نے فرمایا : اور ہندیہ میں ہے کہ جس کپڑے سے مقام استنجاء کو پونچھے اس سے دیگر اعضائے بدن کو نہ پونچھے تو یہ دوسرے کپڑے سے پونچھ لینے کے منافی نہیں ا ھ ---- اور اسی کے ہم معنی ردالمحتار میں بھی ہے
اقول : ہاں منافی نہیں اور دیگر اعضاء کی عزت کا لحاظ بھی ہے لیکن اس کا تقاضا یہ بھی نہیں کہ باقی بدن کو دوسرے کپڑے سے پونچھ لینا مستحب ہے ۔ جیساکہ واضح ہے۔ تو یہ کلام شارح رحمۃ اللہ تعالی علیہکے لئے مفید بھی نہیں ۔ (ت)
تنبیہ : علماء میں مشہور ہے کہ اپنے دامن فـــــ۳ آنچل سے بدن نہ پونچھنا چاہئے اور اسے بعض سلف سے نقل کرتے ہیں اور ردالمحتار میں فرمایا : دامن سے ہاتھ منہ پونچھنا بھول پیدا کرتا ہے۔ لمعات باب الغسل میں ہے :
الاولی ان لا ینشف بذیلہ وطرف
اولی یہ ہے کہ اپنے دامن یا لباس کے کنارے
فـــــ۱ : مسئلہ : جس کپڑے سے استنجے کا پانی خشك کریں اس سے باقی اعضاء نہ پونچھے
فـــــ۲ : ۳۸ معروضۃعلی العلامتین ط وش
فـــــ۳ : مسئلہ : اپنے دامن یا آنچل سے بدن پونچھناشرعا منع نہیں مگر دامن سے ہاتھ منہ پونچھنے سے اہل تجربہ منع فرماتے ہیں کہ اس سے بھول پیدا ہوتی ہے۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ آداب الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۶
غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ آداب الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۶
ثوبہ ونحوھما وحکی ذلك عن بعض السلف ۔
یا اور کسی حصہ سے خشك نہ کرے اور یہ بعض سلف سے بطور حکایت منقول ہے ۔ (ت)
ارشاد الساری باب المضمضۃ و الاستنشاق فی الجنابۃ میں ہے :
قال فی الذخائر واذاتنشف فالاولی ان لایکون بذیلہ وطرف ثوبہ ونحوھما ۔
ذخائر میں ہے اور جب خشك کرے تو اولی یہ ہے کہ دامن لباس کے کنارے اور ان کے مثل سے نہ پونچھے ۔ (ت)
ردالمحتار میں قبیل تیمم ہے :
زادبعضھم مما یورث النسیان اشیاء منھا مسح وجھہ او یدیہ بذیلہ ولسیدی عبدالغنی فیھا رسالۃ ۔
بعض نسیان پیدا کرنے والی چیزوں میں مزید چند باتیں ذکر کی ہیں ان ہی میں اپنے چہرے یا ہاتھوں کو دامن سے پونچھنا بھی ہے اور سیدی عبدالغنی رحمہ الله کا ان اشیاء کے بارے میں ایك رسالہ بھی ہے ۔ (ت)
۶۱اقول : یہ اہل تجربہ کی ارشادی باتیں ہیں کوئی شرعی ممانعت نہیں جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ کی حدیثیں گزریں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے گوشہ جامہ مبارك سے چہرہ اقدس کا پانی صاف فرمایا
وذکر فی اشعہ اللمعات فی حدیث معاذبن جبل رضی الله تعالی عنہ انہ یحتمل ان یراد بالثوب الخرقۃ والمندیل ۔
۶۲اقول : مع کونہ فـــــ خلاف اشعۃ اللمعات میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث کے تحت ذکر ہے کہ ہو سکتا ہے جامہ سے کپڑے کا کوئی ٹکڑا اور رومال مراد ہو ۔
اقول : ایك تو یہ خلاف ظاہر ہے دوسرے
فـــــ : ۳۹تطفل علی الشیخ المحقق
یا اور کسی حصہ سے خشك نہ کرے اور یہ بعض سلف سے بطور حکایت منقول ہے ۔ (ت)
ارشاد الساری باب المضمضۃ و الاستنشاق فی الجنابۃ میں ہے :
قال فی الذخائر واذاتنشف فالاولی ان لایکون بذیلہ وطرف ثوبہ ونحوھما ۔
ذخائر میں ہے اور جب خشك کرے تو اولی یہ ہے کہ دامن لباس کے کنارے اور ان کے مثل سے نہ پونچھے ۔ (ت)
ردالمحتار میں قبیل تیمم ہے :
زادبعضھم مما یورث النسیان اشیاء منھا مسح وجھہ او یدیہ بذیلہ ولسیدی عبدالغنی فیھا رسالۃ ۔
بعض نسیان پیدا کرنے والی چیزوں میں مزید چند باتیں ذکر کی ہیں ان ہی میں اپنے چہرے یا ہاتھوں کو دامن سے پونچھنا بھی ہے اور سیدی عبدالغنی رحمہ الله کا ان اشیاء کے بارے میں ایك رسالہ بھی ہے ۔ (ت)
۶۱اقول : یہ اہل تجربہ کی ارشادی باتیں ہیں کوئی شرعی ممانعت نہیں جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ کی حدیثیں گزریں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے گوشہ جامہ مبارك سے چہرہ اقدس کا پانی صاف فرمایا
وذکر فی اشعہ اللمعات فی حدیث معاذبن جبل رضی الله تعالی عنہ انہ یحتمل ان یراد بالثوب الخرقۃ والمندیل ۔
۶۲اقول : مع کونہ فـــــ خلاف اشعۃ اللمعات میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث کے تحت ذکر ہے کہ ہو سکتا ہے جامہ سے کپڑے کا کوئی ٹکڑا اور رومال مراد ہو ۔
اقول : ایك تو یہ خلاف ظاہر ہے دوسرے
فـــــ : ۳۹تطفل علی الشیخ المحقق
حوالہ / References
لمعات التنقیح کتاب الطہارۃ باب الغسل مکتبۃ المعارف العلمیۃلاہور ۲ / ۱۰۹
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الطہارۃ باب المضمضۃ الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱ / ۱۹۸
رد المحتار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۰
اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ با ب سنن الوضوء الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲۷
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الطہارۃ باب المضمضۃ الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱ / ۱۹۸
رد المحتار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۰
اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ با ب سنن الوضوء الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲۷
الظاھر لایحتملہ حدیث سلمان رضی الله تعالی عنہ۔
حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں اس کا احتمال نہیں ۔ (ت)
ہاں ان کا ضعف اور علماء میں اس کی شہرت اسے مقتضی کہ اس سے احتراز اولی ہے
بل فی البنایۃ شرح الہدایۃ للامام العینی عن شرح الجامع الصغیر للامام الاجل فخر الاسلام ان الخرقۃ التی یمسح بھا الوضوء محدثۃ بدعۃ یجب ان تکرہ لانھا لم تکن فی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولااحد من الصحابۃ والتابعین قبل ذلك وانما کانوا یتمسحون باطراف اردیتھم
فھذا النص فی المقصود---- ثم ماذکر قدس سرہ من الکراھۃ فمحلہ اذا کان بثیاب فاخرۃ کما تعودہ المتجبرون قال الامام العینی بعد نقلہ “ وقال الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر کان الفقیہ ابو جعفر یقول انما یکرہ ذلك اذاکان شیئا نفیسا لان فی ذلك فخر ا وتکبرا واما اذالم تکن الخرقۃ نفیسۃ فلا باس بہ لانہ لایکون فیہ کبر وقول المصنف (ای صاحب الہدایۃ) ھو الصحیح ای ھذا اھ
بلکہ امام عینی کی شرح ہدایہ بنایہ میں امام اجل فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر سے نقل ہے کہ وضو کا پانی پونچھنے کے لئے یہ جو کپڑے کا ٹکڑا وضع ہوا ہے نو ایجاد بدعت ہے جس کا مکروہ ہونا ضروری ہے اس لئے کہ اس سے پہلے یہ نہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ میں تھا نہ صحابہ و تابعین میں سے کسی کے دور میں تھا وہ حضرات بس اپنی چادروں کے کناروں سے پونچھ لیا کرتے تھے ا ھ ۔
یہ اس مقصود میں نص ہے ----پھر حضرت موصوف قدس سرہ نے جو کراہت ذکر فرمائی ہے اس کا موقع اس صورت میں ہے جب عمدہ قسم کے کپڑوں سے پونچھا جائے جیسے متکبرین نے عادت بنا رکھی ہے ۔ امام عینی نے ارشاد مذکور نقل فرمانے کے بعد لکھا ہے کہ فقیہ ابو اللیث سے شرح جامع صغیر میں فرمایا ہے کہ فقیہ ابو جعفر فرماتے تھے : یہ مکروہ اسی صورت میں ہے جب وہ نفیس قسم کا ہو کیوں کہ اسی میں فخر و تکبر ہوتا ہے۔ اگر وہ کپڑا عمدہ قسم کا نہ ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس میں کوئی تکبر نہیں ہوتا ۔ اور مصنف ( صاحب ہدایہ ) کی عبارت “ ھو الصحیح “ کا معنی یہ ہے کہ
حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں اس کا احتمال نہیں ۔ (ت)
ہاں ان کا ضعف اور علماء میں اس کی شہرت اسے مقتضی کہ اس سے احتراز اولی ہے
بل فی البنایۃ شرح الہدایۃ للامام العینی عن شرح الجامع الصغیر للامام الاجل فخر الاسلام ان الخرقۃ التی یمسح بھا الوضوء محدثۃ بدعۃ یجب ان تکرہ لانھا لم تکن فی عہد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولااحد من الصحابۃ والتابعین قبل ذلك وانما کانوا یتمسحون باطراف اردیتھم
فھذا النص فی المقصود---- ثم ماذکر قدس سرہ من الکراھۃ فمحلہ اذا کان بثیاب فاخرۃ کما تعودہ المتجبرون قال الامام العینی بعد نقلہ “ وقال الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر کان الفقیہ ابو جعفر یقول انما یکرہ ذلك اذاکان شیئا نفیسا لان فی ذلك فخر ا وتکبرا واما اذالم تکن الخرقۃ نفیسۃ فلا باس بہ لانہ لایکون فیہ کبر وقول المصنف (ای صاحب الہدایۃ) ھو الصحیح ای ھذا اھ
بلکہ امام عینی کی شرح ہدایہ بنایہ میں امام اجل فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر سے نقل ہے کہ وضو کا پانی پونچھنے کے لئے یہ جو کپڑے کا ٹکڑا وضع ہوا ہے نو ایجاد بدعت ہے جس کا مکروہ ہونا ضروری ہے اس لئے کہ اس سے پہلے یہ نہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانہ میں تھا نہ صحابہ و تابعین میں سے کسی کے دور میں تھا وہ حضرات بس اپنی چادروں کے کناروں سے پونچھ لیا کرتے تھے ا ھ ۔
یہ اس مقصود میں نص ہے ----پھر حضرت موصوف قدس سرہ نے جو کراہت ذکر فرمائی ہے اس کا موقع اس صورت میں ہے جب عمدہ قسم کے کپڑوں سے پونچھا جائے جیسے متکبرین نے عادت بنا رکھی ہے ۔ امام عینی نے ارشاد مذکور نقل فرمانے کے بعد لکھا ہے کہ فقیہ ابو اللیث سے شرح جامع صغیر میں فرمایا ہے کہ فقیہ ابو جعفر فرماتے تھے : یہ مکروہ اسی صورت میں ہے جب وہ نفیس قسم کا ہو کیوں کہ اسی میں فخر و تکبر ہوتا ہے۔ اگر وہ کپڑا عمدہ قسم کا نہ ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس میں کوئی تکبر نہیں ہوتا ۔ اور مصنف ( صاحب ہدایہ ) کی عبارت “ ھو الصحیح “ کا معنی یہ ہے کہ
حوالہ / References
البنایۃ فی شرح الہدایہ کتاب الکراھیۃ باب اللبس المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۴ / ۲۲۱
القول (المذکور عن الفقیھین ابی اللیث وابی جعفر) ھو الصحیح وکذا قال فی جامع قاضی خان والمحبوبی وذلك لان المسلمین قداستعملوا فی عامۃ البلد ان منا دیل فی الوضوء کیف وقدروی الترمذی فی جامعہ الخ ذکرھھنا حدیث ام المؤمنین المقدم رضی الله تعالی عنھا۔
قلت : اما ما وقع فی القنیۃ من عدم جواز المسح بثیابہ والعمامۃ ففی مسح الید بعد الاکل فانہ رمز اولاعس للامام علاء الدین السغدی وذکرانہ یجوز مسح الید علی الکاغذ ثم ذکر رامزاط للمحیط یکرہ استعمالفـــــ۱ الکاغذ فی ولیمۃ لیمسح بھا الاصابع ولا یجوز مسح فـــــ ۲
یہی قول ( جو فقیہ ابو اللیث اور فقیہ ابو جعفر کے حوالے سے مذکور ہے ) صحیح ہے------ اور ایسا ہی جامع قاضی خان اور محبوبی میں ہے --- اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اہل اسلام عامہ بلاد میں وضو کا پانی پونچھنے کے لئے رومال کا استعمال کر رہے ہیں کیوں نہ ہو جب کہ ترمذی نے اپنی جامع میں روایت کی ہے الخ۔ یہاں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث ذکر کی ہے جو پہلے گزر چکی ( کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك رومال رکھتے تھے کہ وضو کے بعد اس سے اعضائے منور صاف فرماتے )۔
قلت رہا وہ جو قنیہ میں آیا ہے کہ اپنے کپڑے اور عمامے سے پونچھنا ناجائز ہے تو یہ کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے سے متعلق ہے اس لئے کہ اس میں پہلے امام علاؤ الدین سغدی کے لئے عس کا رمز دے کر ذکر کیا ہے کہ کاغذ سے ہاتھ پونچھنا جائز ہے ۔ پھر محیط کے لئے ط کا رمز دے کر ذکر کیا ہے کہ ولیمہ کے اندر انگلیاں پونچھنے کے لئے کاغذ کا استعمال مکروہ ہے اور
فـــــ ۱ : مسئلہ کھانے کے بعد کاغذ سے ہاتھ پونچھنا نہ چاہیے ۔
فـــــ۲ : کھانے کے بعد اپنے عمامے وغیرہ لباس سے ہاتھ پونچھنا منع ہے مصنف کے نزدیك یہ ممانعت اس وقت ہے کہ ابھی ہاتھ نہ دھوئے ہوں یا دھونے کے بعد بھی چکنائی یا بو باقی ہو جس سے کپڑاخراب ہو ۔
قلت : اما ما وقع فی القنیۃ من عدم جواز المسح بثیابہ والعمامۃ ففی مسح الید بعد الاکل فانہ رمز اولاعس للامام علاء الدین السغدی وذکرانہ یجوز مسح الید علی الکاغذ ثم ذکر رامزاط للمحیط یکرہ استعمالفـــــ۱ الکاغذ فی ولیمۃ لیمسح بھا الاصابع ولا یجوز مسح فـــــ ۲
یہی قول ( جو فقیہ ابو اللیث اور فقیہ ابو جعفر کے حوالے سے مذکور ہے ) صحیح ہے------ اور ایسا ہی جامع قاضی خان اور محبوبی میں ہے --- اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اہل اسلام عامہ بلاد میں وضو کا پانی پونچھنے کے لئے رومال کا استعمال کر رہے ہیں کیوں نہ ہو جب کہ ترمذی نے اپنی جامع میں روایت کی ہے الخ۔ یہاں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث ذکر کی ہے جو پہلے گزر چکی ( کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك رومال رکھتے تھے کہ وضو کے بعد اس سے اعضائے منور صاف فرماتے )۔
قلت رہا وہ جو قنیہ میں آیا ہے کہ اپنے کپڑے اور عمامے سے پونچھنا ناجائز ہے تو یہ کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے سے متعلق ہے اس لئے کہ اس میں پہلے امام علاؤ الدین سغدی کے لئے عس کا رمز دے کر ذکر کیا ہے کہ کاغذ سے ہاتھ پونچھنا جائز ہے ۔ پھر محیط کے لئے ط کا رمز دے کر ذکر کیا ہے کہ ولیمہ کے اندر انگلیاں پونچھنے کے لئے کاغذ کا استعمال مکروہ ہے اور
فـــــ ۱ : مسئلہ کھانے کے بعد کاغذ سے ہاتھ پونچھنا نہ چاہیے ۔
فـــــ۲ : کھانے کے بعد اپنے عمامے وغیرہ لباس سے ہاتھ پونچھنا منع ہے مصنف کے نزدیك یہ ممانعت اس وقت ہے کہ ابھی ہاتھ نہ دھوئے ہوں یا دھونے کے بعد بھی چکنائی یا بو باقی ہو جس سے کپڑاخراب ہو ۔
حوالہ / References
البنایۃ فی شرح الہدایہ کتاب الکراھیۃ باب اللبس المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۴ / ۲۲۱
الید علی ثیابہ ولا بدستار ثم نقل عن استاذہ البدیع انہ قال فعلی ھذا لایجوز علی المندیل الذی یوضع عندالخوان لمسح الایدی بہ ثم ردہ بقولہ قلت لکن تعلیل عس فی بیانہ یقتضی جوازہ بالمندیل فانہ قال لان الثوب ما ینسج لہذا والمندیل ینسج لہذا اھ فہذا کلہ فی المسح بعدالاکل۔
۶۳اقول : و انما لم یجز بثیاب اللبس والعمامۃ لانہ یفسدھا وافساد المال لایجوز ویتحصل من ھذا ان محلہ مااذا مسح قبل الغسل وکذا بعدہ ان کان فیہ دسم اورائحۃ تکرہ من الثوب وان احبت فی الطعام والا فلاما نع فیما یظھر فلیراجع ولیحرر والله سبحنہ وتعالی اعلم ولنسم ھذا التحریر المنیر تنویر القندیل فی اوصاف المندیل “ (۱۳۲۴ھ) والحمد لله رب العلمین ۔
رسالہ “ تنویر القندیل فی اوصاف المندیل “ ختم ہوا ]
اپنے کپڑے یا دستار سے ہاتھ پونچھنا ناجائز ہے ۔ پھر اپنے استاد بدیع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : تو اس بنیاد پر اس رومال سے بھی جائز نہ ہو گا جو دستر خوان کے پاس ہاتھ پونچھنے ہی کے لئے رکھا جاتاہے --- پھر اسے یوں رد کر دیا ہے کہ میں کہتا ہوں : لیکن علاؤ الدین سغدی نے اس کے بیان میں جو علت پیش کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ رومال سے پونچھنا جائز ہو کیونکہ انہوں نے کہا ہے اس لئے کہ کپڑا اس کام کے لئے تیار نہ کیا گیا اور رومال اسی کے لئے بنا جاتا ہے اھ ۔ تو یہ سارا کلام کھانے کے بعد پونچھنے سے متعلق ہے ۔
اقول : پہننے کے کپڑوں اور عمامہ سے ناجائز اسی لئے ہے کہ پونچھنے سے وہ خراب ہو جائیں گے اور مال خراب کرنا جائز نہیں-----اور اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ عدم جواز اس صورت میں ہے جب کھانے میں چکنائی یا ایسی بو ہو جو کپڑے میں ناپسند ہوتی ہے اگرچہ کھانے میں پسندیدہ ہو ورنہ بظاہر اس سے کوئی مانع نہیں تو اس بارے میں مراجعت اور تنقیح کر لی جائے اور خدائے پاك و برتر ہی خوب جانتاہے اور چاہئے کہ ہم اس روشن تحریر کا نام یہ رکھیں : “ تنویر القندیل فی اوصاف المندیل(۱۳۲۴ھ) (رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کی تنویر ۔ ت) اور تمام ستائش خدا کیلئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
۶۳اقول : و انما لم یجز بثیاب اللبس والعمامۃ لانہ یفسدھا وافساد المال لایجوز ویتحصل من ھذا ان محلہ مااذا مسح قبل الغسل وکذا بعدہ ان کان فیہ دسم اورائحۃ تکرہ من الثوب وان احبت فی الطعام والا فلاما نع فیما یظھر فلیراجع ولیحرر والله سبحنہ وتعالی اعلم ولنسم ھذا التحریر المنیر تنویر القندیل فی اوصاف المندیل “ (۱۳۲۴ھ) والحمد لله رب العلمین ۔
رسالہ “ تنویر القندیل فی اوصاف المندیل “ ختم ہوا ]
اپنے کپڑے یا دستار سے ہاتھ پونچھنا ناجائز ہے ۔ پھر اپنے استاد بدیع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : تو اس بنیاد پر اس رومال سے بھی جائز نہ ہو گا جو دستر خوان کے پاس ہاتھ پونچھنے ہی کے لئے رکھا جاتاہے --- پھر اسے یوں رد کر دیا ہے کہ میں کہتا ہوں : لیکن علاؤ الدین سغدی نے اس کے بیان میں جو علت پیش کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ رومال سے پونچھنا جائز ہو کیونکہ انہوں نے کہا ہے اس لئے کہ کپڑا اس کام کے لئے تیار نہ کیا گیا اور رومال اسی کے لئے بنا جاتا ہے اھ ۔ تو یہ سارا کلام کھانے کے بعد پونچھنے سے متعلق ہے ۔
اقول : پہننے کے کپڑوں اور عمامہ سے ناجائز اسی لئے ہے کہ پونچھنے سے وہ خراب ہو جائیں گے اور مال خراب کرنا جائز نہیں-----اور اس سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ عدم جواز اس صورت میں ہے جب کھانے میں چکنائی یا ایسی بو ہو جو کپڑے میں ناپسند ہوتی ہے اگرچہ کھانے میں پسندیدہ ہو ورنہ بظاہر اس سے کوئی مانع نہیں تو اس بارے میں مراجعت اور تنقیح کر لی جائے اور خدائے پاك و برتر ہی خوب جانتاہے اور چاہئے کہ ہم اس روشن تحریر کا نام یہ رکھیں : “ تنویر القندیل فی اوصاف المندیل(۱۳۲۴ھ) (رومال کے اوصاف بیان کرنے میں قندیل کی تنویر ۔ ت) اور تمام ستائش خدا کیلئے جو سارے جہانوں کا رب ہے ۔
حوالہ / References
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الکراھیۃ والاحسان مطبوعہ کلکتہ ہند ص ۱۵۸ ، ۱۵۹
مسئلہ ۴ : مرسلہ شیخ شوکت علی صاحب ۱۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ شرع محمدی فصل بست وہشتم دربیان مکروہات وضو میں ہے
تیسرے تانبے کے برتن سے اگر
ہے وضو ناقص کرے گا جو بشر
یہ نہ معلوم ہوا کہ تانبے کے برتن سے کیوں وضو ناقص ہے آج کل بہت شخص تانبے کے برتن لوٹے سے وضو کرتے ہیں کیا ان سب کا وضو ناقص ہوتا ہے بینوا توجروا( بیان کرواجر دیے جاؤگے ۔ ت)
الجواب :
تانبے کے برتن سے وضو کرنا اس میں کھانا پینا سب بلاکراہت جائز ہے وضو میں کچھ نقصان نہیں آتا۔ ہاں قلعی کے بعد چاہیے بے قلعی برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے کہ جسمانی ضرر کا باعث ہے اور مٹی کا برتن تانبے سے افضل ہے۔ علماء نے وضو کے آداب ومستحبات سے شمار فرمایا کہ مٹی کے برتن سے ہو اور اس میں کھانا پینا بھی تواضع سے قریب تر ہے۔ ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
(منھا) ای من اداب الوضو( کون انیتہ من خزف)
(ان ہی میں سے) یعنی آداب وضو میں سے (یہ ہے کہ وضو کا برتن پکی مٹی کا ہو ) ۔ (ت)
اسی میں اختیار شرح مختار سے ہے ۔
(اتخاذھا) ای اوانی الاکل والشرب (من الخزف افضل اذلا سرف فیہ ولا مخیلۃ وفی الحدیث من اتخذ اوانی بیتہ خزفا زارتہ الملئکۃ ویجوز اتخاذھا من نحاس او رصاص
کھانے پینے کے برتن مٹی کے ہونا افضل ہے کہ اس میں نہ اسراف ہے نہ اترانا اور حدیث میں ہے : جو اپنے گھر کے برتن مٹی کے رکھے فرشتے اس کی زیارت کریں۔ اور تانبے اور رانگ کے بھی جائز ہیں۔
اسی میں ہے :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ شرع محمدی فصل بست وہشتم دربیان مکروہات وضو میں ہے
تیسرے تانبے کے برتن سے اگر
ہے وضو ناقص کرے گا جو بشر
یہ نہ معلوم ہوا کہ تانبے کے برتن سے کیوں وضو ناقص ہے آج کل بہت شخص تانبے کے برتن لوٹے سے وضو کرتے ہیں کیا ان سب کا وضو ناقص ہوتا ہے بینوا توجروا( بیان کرواجر دیے جاؤگے ۔ ت)
الجواب :
تانبے کے برتن سے وضو کرنا اس میں کھانا پینا سب بلاکراہت جائز ہے وضو میں کچھ نقصان نہیں آتا۔ ہاں قلعی کے بعد چاہیے بے قلعی برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے کہ جسمانی ضرر کا باعث ہے اور مٹی کا برتن تانبے سے افضل ہے۔ علماء نے وضو کے آداب ومستحبات سے شمار فرمایا کہ مٹی کے برتن سے ہو اور اس میں کھانا پینا بھی تواضع سے قریب تر ہے۔ ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے :
(منھا) ای من اداب الوضو( کون انیتہ من خزف)
(ان ہی میں سے) یعنی آداب وضو میں سے (یہ ہے کہ وضو کا برتن پکی مٹی کا ہو ) ۔ (ت)
اسی میں اختیار شرح مختار سے ہے ۔
(اتخاذھا) ای اوانی الاکل والشرب (من الخزف افضل اذلا سرف فیہ ولا مخیلۃ وفی الحدیث من اتخذ اوانی بیتہ خزفا زارتہ الملئکۃ ویجوز اتخاذھا من نحاس او رصاص
کھانے پینے کے برتن مٹی کے ہونا افضل ہے کہ اس میں نہ اسراف ہے نہ اترانا اور حدیث میں ہے : جو اپنے گھر کے برتن مٹی کے رکھے فرشتے اس کی زیارت کریں۔ اور تانبے اور رانگ کے بھی جائز ہیں۔
اسی میں ہے :
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۴
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۱۸
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۱۸
یکرہ الاکل فی النحاس بالغیر المطلی بالرصاص لانہ یدخل الصداء فی الطعام فیورث ضررا عظیما واما بعدہ فلا اھ ملخصا والله تعالی اعلم
بغیرقلعی کیے ہوئے تانبے کے برتن میں کھانا مکروہ ہے کیونکہ اس کا زنگ کھانے میں مل کر ضرر عظیم پیدا کرتا ہے اور قلعی ہو جانے کے بعد ایسا نہیں ا ھ ملخصا۔ (ت) والله تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۵ : فـــــ ۲۴ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر درمیان وضو کرنے کے ریح خارج ہوجائے یعنی دو عضو یا تین عضو دھولیے ہیں اور ایك یا دوباقی ہیں تو اس شخص کو ازسر نو وضو کرنا چاہیے یاجو عضو باقی رہا ہے صرف اسی کو دھولینا کافی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ازسرنو وضو کرے اتنے اعضاء کا غسل باطل ہوگیا مسئلہ بدیہیہ ہے کہ ناقض کامل ناقض ناقص بدرجہ اولی ہے معہذا جزئیہ کی بھی تصریح ہے۔ درمختار میں ہے :
شرط صحتہا ای الطہارۃ (صدور الطہر من اھلہ فی محلہ مع فقد مانعہ) ۔
صحت طہارت کی شرط یہ ہے کہ طہارت کے اہل سے اس کی جگہ پر واقع ہو اور کوئی مانع طہارت نہ ہو (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ مع فقد مانعہ بان لایحصل ناقض فی خلال الطہارۃ لغیر معذور بہ ۔
عبارت شرح “ کوئی مانع طہارت نہ ہو “ اس طرح کہ درمیان طہارت کوئی ناقض نہ پیدا ہو یہ اس کے لئے ہے جو اسی ناقض کے عذر میں مبتلا نہ ہو۔ (ت)
نیز درمختار میں ہے :
فـــــ: مسئلہ : وضو کرتے میں ناقض وضو واقع ہو تو سرے سے وضو کرے ۔
بغیرقلعی کیے ہوئے تانبے کے برتن میں کھانا مکروہ ہے کیونکہ اس کا زنگ کھانے میں مل کر ضرر عظیم پیدا کرتا ہے اور قلعی ہو جانے کے بعد ایسا نہیں ا ھ ملخصا۔ (ت) والله تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۵ : فـــــ ۲۴ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر درمیان وضو کرنے کے ریح خارج ہوجائے یعنی دو عضو یا تین عضو دھولیے ہیں اور ایك یا دوباقی ہیں تو اس شخص کو ازسر نو وضو کرنا چاہیے یاجو عضو باقی رہا ہے صرف اسی کو دھولینا کافی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ازسرنو وضو کرے اتنے اعضاء کا غسل باطل ہوگیا مسئلہ بدیہیہ ہے کہ ناقض کامل ناقض ناقص بدرجہ اولی ہے معہذا جزئیہ کی بھی تصریح ہے۔ درمختار میں ہے :
شرط صحتہا ای الطہارۃ (صدور الطہر من اھلہ فی محلہ مع فقد مانعہ) ۔
صحت طہارت کی شرط یہ ہے کہ طہارت کے اہل سے اس کی جگہ پر واقع ہو اور کوئی مانع طہارت نہ ہو (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ مع فقد مانعہ بان لایحصل ناقض فی خلال الطہارۃ لغیر معذور بہ ۔
عبارت شرح “ کوئی مانع طہارت نہ ہو “ اس طرح کہ درمیان طہارت کوئی ناقض نہ پیدا ہو یہ اس کے لئے ہے جو اسی ناقض کے عذر میں مبتلا نہ ہو۔ (ت)
نیز درمختار میں ہے :
فـــــ: مسئلہ : وضو کرتے میں ناقض وضو واقع ہو تو سرے سے وضو کرے ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۵ / ۲۱۸
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۷ ردالمحتار
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۰
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۷ ردالمحتار
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۰
وشرط لتصحیح الوضوء زوال مایبعد ایصال المیاہ من ادران کشمع و رمص ثم لم یتخلل الوضوء مناف یا عظیم ذوی الشان ۔
ضو درست کرنے کے لئے شرط ہے ایسی آلودگی کا دور ہونا جس کی وجہ سے پانی عضو تك نہ پہنچ سکے جیسے موم اور آنکھ کا کیچڑ ۔ پھر یہ کہ وضو کے درمیان کوئی منافی نہ پایا جائے اے اہل شان میں باعظمت ! (ت)
حاشیہ علامہ سید احمد مصری طحطاوی پھر ردالمحتار میں ہے :
قولہ مناف کخروج ریح ودم اھ زادالشامی ای لغیر المعذور بذلك ۔ اھ
قولہ “ کوئی منافی “ جیسے ریح یا خون نکلنا ا ھ علامہ شامی نے اضافہ کیا یعنی اس کے لئے جو اس میں معذور نہ ہو ا ھ۔
جواہر الفتاوی فـــــ۱ امام اجل صدر شہید رکن الدین ابو بکر محمد بن ابی المفاخر بن عبدالرشید کرمانی کتاب الطہارۃ باب ثالث فتاوائے امام شیخ الاسلام عطا ء بن حمزہ سغدی میں ہے :
رجل ضرب الید علی الارض للتیمم و رفعھا وقبل ان یمسح بہاوجہہ وذراعیہ احدث بریح اوصوت قال بعضھم یجوز التیمم بمنزلۃ فـــــ۲ من ملأ کفیہ ماء الوضوء فاحدث ثم استعملہ فی بعض الوضوء فانہ
کسی نے تیمم کے لئے زمین پر ہاتھ مار کر اٹھایا اور چہرے یا کلائیوں پر ہاتھ پھیرنے سے پہلے بلاآواز یا آواز کے ساتھ ریح نکلنے سے اس کو حدث ہوا تو بعض نے کہا اس ضرب سے تیمم جائز ہے جیسے کسی نے وضو کا پانی ہتھیلیوں میں لیا کہ اسے حدث ہو گیا پھر اس پانی کو وضو میں استعمال کر لیا تو
فـــــ۱ : مسئلہ : تیمم کے لئے ضرب کی اور ابھی منہ یاہاتھ پر نہ ملنے پایا تھا کہ حدث واقع ہوا تو ازسر نو ضرب کرے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : پانی چلو میں لیا اور ابھی استعمال نہ کیا تھا کہ حدث واقع ہوا بعض کے نزدیك اس پانی کووضو میں استعمال کر سکتا ہے اورمصنف کی تحقیق کہ یہ خلاف صحیح ہے وہ چلو وضو میں کام نہیں دے سکتا ۔
ضو درست کرنے کے لئے شرط ہے ایسی آلودگی کا دور ہونا جس کی وجہ سے پانی عضو تك نہ پہنچ سکے جیسے موم اور آنکھ کا کیچڑ ۔ پھر یہ کہ وضو کے درمیان کوئی منافی نہ پایا جائے اے اہل شان میں باعظمت ! (ت)
حاشیہ علامہ سید احمد مصری طحطاوی پھر ردالمحتار میں ہے :
قولہ مناف کخروج ریح ودم اھ زادالشامی ای لغیر المعذور بذلك ۔ اھ
قولہ “ کوئی منافی “ جیسے ریح یا خون نکلنا ا ھ علامہ شامی نے اضافہ کیا یعنی اس کے لئے جو اس میں معذور نہ ہو ا ھ۔
جواہر الفتاوی فـــــ۱ امام اجل صدر شہید رکن الدین ابو بکر محمد بن ابی المفاخر بن عبدالرشید کرمانی کتاب الطہارۃ باب ثالث فتاوائے امام شیخ الاسلام عطا ء بن حمزہ سغدی میں ہے :
رجل ضرب الید علی الارض للتیمم و رفعھا وقبل ان یمسح بہاوجہہ وذراعیہ احدث بریح اوصوت قال بعضھم یجوز التیمم بمنزلۃ فـــــ۲ من ملأ کفیہ ماء الوضوء فاحدث ثم استعملہ فی بعض الوضوء فانہ
کسی نے تیمم کے لئے زمین پر ہاتھ مار کر اٹھایا اور چہرے یا کلائیوں پر ہاتھ پھیرنے سے پہلے بلاآواز یا آواز کے ساتھ ریح نکلنے سے اس کو حدث ہوا تو بعض نے کہا اس ضرب سے تیمم جائز ہے جیسے کسی نے وضو کا پانی ہتھیلیوں میں لیا کہ اسے حدث ہو گیا پھر اس پانی کو وضو میں استعمال کر لیا تو
فـــــ۱ : مسئلہ : تیمم کے لئے ضرب کی اور ابھی منہ یاہاتھ پر نہ ملنے پایا تھا کہ حدث واقع ہوا تو ازسر نو ضرب کرے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : پانی چلو میں لیا اور ابھی استعمال نہ کیا تھا کہ حدث واقع ہوا بعض کے نزدیك اس پانی کووضو میں استعمال کر سکتا ہے اورمصنف کی تحقیق کہ یہ خلاف صحیح ہے وہ چلو وضو میں کام نہیں دے سکتا ۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۷
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۵۷
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۰
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۵۷
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۰
یجوز وقال السید الامام ناصر الدین لایجوز وھو اختیار الامام الشجاع بسمرقند لان الضربۃ من التیمم قال صلی الله تعالی علیہ وسلم التیمم ضربتان فقداتی ببعض التیمم ثم احدث فینقض کما اذا حصل الکل وھذہ بمنزلۃ الوضوء اذاحصل فی خلالہ نقض ماوجدکما ینتقض بعد تمامہ اذا حصل قال الامام ظھیر الدین المرغینانی مااختارہ السید الامام حسن بہ ناخذاھ ۔
۶۴اقول : وبالله التوفیق فـــــ ماذکر ذلك البعض فی الاستشھادلہ من مسألۃ من ملاء کفیہ وضوء الخ انما یتمشی علی احدی روایتین غیر ماخوذ تین الاولی قول الامام الثانی ان شرط الاستعمال الصب والنیۃ وقد فقدافی الصورۃ المذکورۃ
یہ جائز ہے اور سیدنا امام ناصر الدین نے فرمایا کہ ناجائز ہے اسی کو سمرقند کے امام شجاع الدین نے اختیار کیا اس لئے کہ ضرب بھی تیمم کا ایك حصہ ہے ۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ تیمم دو ضرب ہے “ تو صورت یہ ہوئی کہ کچھ تیمم اس نے کر لیا پھر اسے حدث ہوا تو یہ ناقض ہو گا جیسے اگر کل تیمم ہو چکا ہوتا تو جاتا رہتا اور یہ ایسے ہی ہے جیسے وضو کے درمیان کوئی ناقض پایا گیا تو جتنا وضو ہو چکا ہے وہ جاتا رہے گا جیسے وضو مکمل ہونے کے بعد وہ ناقض پائے جانے کی صورت میں پورا وضو جاتا رہتا ۔ امام ظہیر الدین مرغینانی نے فرمایا : جو سید امام ناصر نے اختیار کیا وہ عمدہ ہے اور ہم بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں ا ھ ۔
اقول : وبالله التوفیق۔ ان بعض نے اپنے قول کی شہادت میں وضو کے لئے ہتھیلیوں میں جو پانی لینے کا مسئلہ ذکر کیا ہے وہ دو غیر ماخوذ روایتوں میں سے ایك کی بنیاد پر چلنے والا ہے ---- پہلی روایت : امام ابو یوسف کا یہ قول کہ مستعمل ہونے کے لئے بہانا اور نیت شرط ہے اور مذکورہ صورت میں دونوں
فـــــ : ۴۰تطفل علی جواہرالفتاوی
۶۴اقول : وبالله التوفیق فـــــ ماذکر ذلك البعض فی الاستشھادلہ من مسألۃ من ملاء کفیہ وضوء الخ انما یتمشی علی احدی روایتین غیر ماخوذ تین الاولی قول الامام الثانی ان شرط الاستعمال الصب والنیۃ وقد فقدافی الصورۃ المذکورۃ
یہ جائز ہے اور سیدنا امام ناصر الدین نے فرمایا کہ ناجائز ہے اسی کو سمرقند کے امام شجاع الدین نے اختیار کیا اس لئے کہ ضرب بھی تیمم کا ایك حصہ ہے ۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ تیمم دو ضرب ہے “ تو صورت یہ ہوئی کہ کچھ تیمم اس نے کر لیا پھر اسے حدث ہوا تو یہ ناقض ہو گا جیسے اگر کل تیمم ہو چکا ہوتا تو جاتا رہتا اور یہ ایسے ہی ہے جیسے وضو کے درمیان کوئی ناقض پایا گیا تو جتنا وضو ہو چکا ہے وہ جاتا رہے گا جیسے وضو مکمل ہونے کے بعد وہ ناقض پائے جانے کی صورت میں پورا وضو جاتا رہتا ۔ امام ظہیر الدین مرغینانی نے فرمایا : جو سید امام ناصر نے اختیار کیا وہ عمدہ ہے اور ہم بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں ا ھ ۔
اقول : وبالله التوفیق۔ ان بعض نے اپنے قول کی شہادت میں وضو کے لئے ہتھیلیوں میں جو پانی لینے کا مسئلہ ذکر کیا ہے وہ دو غیر ماخوذ روایتوں میں سے ایك کی بنیاد پر چلنے والا ہے ---- پہلی روایت : امام ابو یوسف کا یہ قول کہ مستعمل ہونے کے لئے بہانا اور نیت شرط ہے اور مذکورہ صورت میں دونوں
فـــــ : ۴۰تطفل علی جواہرالفتاوی
حوالہ / References
جواہر الفتاوی کتاب الطہارۃ الباب الثالث (قلمی نسخہ) فوٹو کاپی ص ۵
والاخری ماعلیہ مشائخ بلخ من اشتراط الاستقرار بعد الانفصال فی موضع مامن بدن اور ثوب او ارض او غیرھا ومعلوم انہ اذا استعمل مافی کفہ فی عضو فالانفصال من الکف وان حصل لکن لم یستقر بعد فلا یکون مستعملا ۔
اما علی القول فـــــ الصحیح المعتمد ان مجرد مس الماء بدنا علیہ حدث وانفصالہ عنہ کاف لحکم الاستعمال وان لم یکن ھناك صب من المحدث ولانیۃ ولم یستقر بعدما انفصل فلاشك ان الماء بانفصالہ من کفہ یصیر مستعملا فلایصح استعمالہ فی وضوء ھذا ماظھرلی وھو واضح جدا وبہ تم الرد علی ذلك القول والله تعالی اعلم۔
مفقود ہیں دوسری روایت جو مشائخ بلخ نے اختیار فرمائی کہ پانی مستعمل ہونے کے لئے اس کے جدا ہونے کے بعد بدن یا کپڑے یا زمین یا ان کے علاوہ کسی جگہ ٹھرنا شرط ہے ۔ اور معلوم ہے کہ ہتھیلی کا پانی جب کسی عضو میں استعمال کیا تو ہتھیلی سے جدائی اگرچہ ہو گئی لیکن ابھی وہ ٹھہرا نہیں تو مستعمل نہ ہو گا
لیکن صحیح معتمد قول یہ ہے کہ حدث والے بدن سے پانی کا محض مس ہو جانا اور اس سے جدا ہو جانا مستعمل ہونے کے لئے کافی ہے اگرچہ محدث کے عمل سے وہاں نہ بہانا ہو نہ نیت نہ بعد انفصال کسی جگہ استقرار ---- اس قول معتمد کی بنیاد پر اس میں کوئی شك نہیں کہ پانی ہتھیلی سے جدا ہو کر مستعمل ہو جائے گا پھر کسی عضو میں استعمال درست نہ ہو گا یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور بہت واضح ہے اور اسی سے اس قول پر رد مکمل ہو جاتا ہے اور خدائے برتر ہی خوب جانتا ہے ۔ (ت)
(اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
فـــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ جس بدن پر حدث ہو پانی کا اسے چھوکر اس سے جدا ہونا ہی اس کے مستعمل کر دینے کوبس ہے خود صاحب حدث کا پانی ڈالنا یا اس کی نیت یا اس بدن سے جدا ہوکر دوسرے بدن یا کپڑے یا زمین پر ٹھہر جاناکچھ شرط نہیں
اما علی القول فـــــ الصحیح المعتمد ان مجرد مس الماء بدنا علیہ حدث وانفصالہ عنہ کاف لحکم الاستعمال وان لم یکن ھناك صب من المحدث ولانیۃ ولم یستقر بعدما انفصل فلاشك ان الماء بانفصالہ من کفہ یصیر مستعملا فلایصح استعمالہ فی وضوء ھذا ماظھرلی وھو واضح جدا وبہ تم الرد علی ذلك القول والله تعالی اعلم۔
مفقود ہیں دوسری روایت جو مشائخ بلخ نے اختیار فرمائی کہ پانی مستعمل ہونے کے لئے اس کے جدا ہونے کے بعد بدن یا کپڑے یا زمین یا ان کے علاوہ کسی جگہ ٹھرنا شرط ہے ۔ اور معلوم ہے کہ ہتھیلی کا پانی جب کسی عضو میں استعمال کیا تو ہتھیلی سے جدائی اگرچہ ہو گئی لیکن ابھی وہ ٹھہرا نہیں تو مستعمل نہ ہو گا
لیکن صحیح معتمد قول یہ ہے کہ حدث والے بدن سے پانی کا محض مس ہو جانا اور اس سے جدا ہو جانا مستعمل ہونے کے لئے کافی ہے اگرچہ محدث کے عمل سے وہاں نہ بہانا ہو نہ نیت نہ بعد انفصال کسی جگہ استقرار ---- اس قول معتمد کی بنیاد پر اس میں کوئی شك نہیں کہ پانی ہتھیلی سے جدا ہو کر مستعمل ہو جائے گا پھر کسی عضو میں استعمال درست نہ ہو گا یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور بہت واضح ہے اور اسی سے اس قول پر رد مکمل ہو جاتا ہے اور خدائے برتر ہی خوب جانتا ہے ۔ (ت)
(اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
فـــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ جس بدن پر حدث ہو پانی کا اسے چھوکر اس سے جدا ہونا ہی اس کے مستعمل کر دینے کوبس ہے خود صاحب حدث کا پانی ڈالنا یا اس کی نیت یا اس بدن سے جدا ہوکر دوسرے بدن یا کپڑے یا زمین پر ٹھہر جاناکچھ شرط نہیں
مسئلہ ۶ : فـــــ مرسلہ مولوی محمد یعقوب صاحب ارکانی ازریاست رامپور محلہ پنجابیاں مکان حافظ غلام شاہ صاحب۴شوال ۱۳۲۴ھ
بعون من قال فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۴۳)
فیامخدومنا الذی فاق فی الاشتھار علی الشمس فی رابعۃ النہار احتوت فضائلہ الاقطار احاطت مواھبہ الامصارما قولکم فی ان المتوضیئ رأی اثرا من الدم فی البزاق بعد المضمضۃ فاخرج مافی الفم من البزاق وغیرہ بالمص لیظھر مساواتہ ومغلوبیتہ فی البزاق فرأی بعدما اخرج ان الدم مساو للبزاق ففی ھذہ ھل ینجس فمہ ام لا وماء المضمضۃ التی وقعت بعد ذلك الاخراج نجس ام لا ففی صورۃ النجس ان الید التی مضمض بھا اخذ بتلك الید الاناء الذی فیہ الماء وقعت قطرتہا ای قطرۃ تلك الید فی ذلك الاناء غالبالان تلك الید کانت مبلولۃ بماء المضمضۃ لانہ لاشك ان القدر القلیل من ماء المضمضۃ یصل فی الید عند المضمضۃ وایضا یبقی شیئ من
اس کی مدد سے جس نے فرمایا : “ علم والوں سے پوچھو اگر تم نہ جانتے ہو “ ۔ تو اے ہمارے وہ مخدوم جو شہرت میں آفتاب چاشت پر فائق ہیں جن کے فضائل تمام اطراف زمین کو حاوی ہیں جن کی عطائیں شہروں کو محیط ہیں آپ کا کیا ارشاد ہے اس شخص کے بارے میں وضو کرتا تھاکلی کے بعد لعاب دہن میں خون کا اثر دیکھا تو باقی لعاب وغیرہ خوب چوس کر نکالا کہ ظاہر ہو کہ خون تھوك کے برابر ہے یا مغلوب ہے نکالنے کے بعد معلوم ہوا کہ خون برابرہے تو اس کا منہ ناپاك ہوا یا نہیں اور اس کے بعد جو کلی کی اس کا پانی ناپاك ہے یا نہیں اگر ناپاك ہے تو جس ہاتھ سے کلی کی غالبا اس کا قطرہ برتن میں ٹپکا کہ ہاتھ کلی کے پانی سے تر تھا اور شك نہیں کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے جو ناپاك شدہ ہونٹوں سے مل کرناپاك ہوگیا تو برتن کا پانی ناپاك ہوا اسی سے اس نے تمام وضو کیا پھر دل میں کچھ شك آیا تو دوسری مسجد میں وضو کیا مگر یہاں بھی برتن
فـــــ : مسئلہ : منہ سے خون نکلا کلی کی اس کا پانی پاتھ سے ٹپك کر برتن میں گرا اس سے وضو کیا پھر تین وضو اور کیے اور ہر بار ہاتھ کی بوند وضو سے پہلے برتن میں ٹپکی اس میں کیا حکم ہے ۔
بعون من قال فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۴۳)
فیامخدومنا الذی فاق فی الاشتھار علی الشمس فی رابعۃ النہار احتوت فضائلہ الاقطار احاطت مواھبہ الامصارما قولکم فی ان المتوضیئ رأی اثرا من الدم فی البزاق بعد المضمضۃ فاخرج مافی الفم من البزاق وغیرہ بالمص لیظھر مساواتہ ومغلوبیتہ فی البزاق فرأی بعدما اخرج ان الدم مساو للبزاق ففی ھذہ ھل ینجس فمہ ام لا وماء المضمضۃ التی وقعت بعد ذلك الاخراج نجس ام لا ففی صورۃ النجس ان الید التی مضمض بھا اخذ بتلك الید الاناء الذی فیہ الماء وقعت قطرتہا ای قطرۃ تلك الید فی ذلك الاناء غالبالان تلك الید کانت مبلولۃ بماء المضمضۃ لانہ لاشك ان القدر القلیل من ماء المضمضۃ یصل فی الید عند المضمضۃ وایضا یبقی شیئ من
اس کی مدد سے جس نے فرمایا : “ علم والوں سے پوچھو اگر تم نہ جانتے ہو “ ۔ تو اے ہمارے وہ مخدوم جو شہرت میں آفتاب چاشت پر فائق ہیں جن کے فضائل تمام اطراف زمین کو حاوی ہیں جن کی عطائیں شہروں کو محیط ہیں آپ کا کیا ارشاد ہے اس شخص کے بارے میں وضو کرتا تھاکلی کے بعد لعاب دہن میں خون کا اثر دیکھا تو باقی لعاب وغیرہ خوب چوس کر نکالا کہ ظاہر ہو کہ خون تھوك کے برابر ہے یا مغلوب ہے نکالنے کے بعد معلوم ہوا کہ خون برابرہے تو اس کا منہ ناپاك ہوا یا نہیں اور اس کے بعد جو کلی کی اس کا پانی ناپاك ہے یا نہیں اگر ناپاك ہے تو جس ہاتھ سے کلی کی غالبا اس کا قطرہ برتن میں ٹپکا کہ ہاتھ کلی کے پانی سے تر تھا اور شك نہیں کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے جو ناپاك شدہ ہونٹوں سے مل کرناپاك ہوگیا تو برتن کا پانی ناپاك ہوا اسی سے اس نے تمام وضو کیا پھر دل میں کچھ شك آیا تو دوسری مسجد میں وضو کیا مگر یہاں بھی برتن
فـــــ : مسئلہ : منہ سے خون نکلا کلی کی اس کا پانی پاتھ سے ٹپك کر برتن میں گرا اس سے وضو کیا پھر تین وضو اور کیے اور ہر بار ہاتھ کی بوند وضو سے پہلے برتن میں ٹپکی اس میں کیا حکم ہے ۔
ماء المضمضۃ فی الید فلا یدخل کل الماء فی الفم وذلك الباقی یلاقی الشفتین ففی ھذہ ان صارت الشفتان نجستین بورود الدم المساوی للبزاق عند دفع ذلك الدم عن الفم یکون مایلاقیھما ایضا نجسا فتکون الید نجسۃ وما وقع علیہ ماء الید یکون نجسا فیصیر الماء الموضوع فی الاناء الذی اخذہ بتلك الید نجسالان قطرۃ تلك الید وقعت فی الاناء غالبا فذلك المتوضی غسل یدیہ ووجہہ ورجلیہ بذلك الماء الذی وقعت فیہ قطرۃ تلك الید التی مضمض بھا بعد اخراج الدم المساوی للبزاق ثم وقع فی الشك فتوضا ثانیا فی المسجد الاخر لکن وقعت قطرۃ فی ماء الا ناء الذی یتوضأ بہ ثم توضأ فی الوقت الاخر فوقعت قطرات فی ماء الاناء ثم توضأ فی ماء الاناء عند غسل الیدین وکل قطرات وقعت فی ماء الوضوء انما وقعت فی اول کل مرۃ عند غسل الیدین فی ھذہ الاوقات الثلثۃ فبعد ذلك طھرت اعضاء وضوئہ ام لالیکتب فی ھذہ الباقیۃ من الصفحۃ مختصرك بینوا توجروا۔
میں قطرہ ٹپك گیا پھر دوبارہ سہ بارہ ایسا ہی ہوا اور ہر بار وضو سے پہلے ہاتھ دھوتے ہی قطرہ وضو کے برتن میں گرا تو اب اس کے اعضائے وضو پاك ہوگئے یا نہیں بیان کیجئے اجر لیجئے۔ (ت)
الجواب :
نعم تنجس فمہ وماء المضمضۃ بعد
ہاں اس کا منہ ناپاك ہوگیا اور اس کے بعد
میں قطرہ ٹپك گیا پھر دوبارہ سہ بارہ ایسا ہی ہوا اور ہر بار وضو سے پہلے ہاتھ دھوتے ہی قطرہ وضو کے برتن میں گرا تو اب اس کے اعضائے وضو پاك ہوگئے یا نہیں بیان کیجئے اجر لیجئے۔ (ت)
الجواب :
نعم تنجس فمہ وماء المضمضۃ بعد
ہاں اس کا منہ ناپاك ہوگیا اور اس کے بعد
ذلك الی ثلث نجس وکذلك الیہ التی تمضمض بھا فان قطرت قطرۃ من الید فی الاناء اعنی داخلہ فی الماء قبل تمام الثلث فقد تنجس ماء الاناء والتمضمض بہ بعد ذلك لایزید الفم والیدالا تنجسا ثم اذا توضأ بذلك الماء فقد عمت النجاسۃ اعضاء الوضوء وکل مااصابہ ذلك الماء من بدن اوثوب وکلما توضأ بما ء وقعت فیہ قبل الوضوء قطرۃ من یدہ المتنجسۃ فانہ تنجس والغسل بالنجس لایفید طہرا ولا خفۃ وان غسل الف مرۃ فاعضاؤہ وثیابہ کلہا الی الان علی نجاستھا فانکانت القطرۃ التی قطرت اول مرۃ فی الماء من بقیۃ المضمضۃ الاولی یجب غسل کل مااصابہ ماء شیئ من الوضوءات ثلث مرات وانکانت من المضمضۃ الثانیۃ فمرتین اوالثالثۃ فمرۃ واحدۃ لان النجاسۃ تقبل التشکیك فقبل الغسل نجاسۃ لاتطھر الا بتثلیث الغسل وبعد الغسل بمائع طاھر قالع مرۃ نجاسۃ تطھر بغسلتین تعد الغسل مرتین نجاسۃ تطہر بغسلۃ واحدۃ والماء المصیب
تین کلیوں تك کلی کا پانی ناپاك ہے یوں ہی وہ ہاتھ جس سے کلی کی تھی تو اگر ہاتھ کی بوند برتن میں یعنی اس کے اندر پانی میں تین کلیاں پوری ہونے سے پہلے ٹپکی تو برتن کا پانی ناپاك ہوگیا۔ اور اب اس سے کلی کرنا ہاتھ اور منہ کی نجاست ہی بڑھائے گا پھر جب اس پانی سے وضو کیا تو اب تمام اعضائے وضو اور جس جس بدن یا کپڑے کو پانی پہنچا سب ناپاك ہوگئے اور جتنی بار ایسے پانی سے وضو کیا جس میں پیش از وضو ناپاك ہاتھ کی بوند گری وہ پانی ناپاك ہوگیا اور ناپاك پانی سے دھونا تو پاك کرے نہ ناپاکی کم ہو اگرچہ ہزار بار دھوئے تو اس کے اعضاء اور کپڑے سب اب تك نجس ہیں پس اگر وہ قطرہ کہ پہلی بار پانی میں ٹپکا پہلی کلی کے بقیہ سے تھا جب تو کسی بارے میں وضو کا پانی جس چیز کو لگا اسے تین بار دھونا واجب ہے اور اگر دوسری کلی کا تھا تو دوبار اور تیسری کا تو ایك بار اس لیے کہ نجاست فـــــ کم وبیش ہونے کی قابلیت رکھتی ہے دھونے سے پہلے تو وہ نجاست ہے کہ بغیر تین بار دھوئے پاك نہ ہوگی اور جب کسی پاك بہتی چیز سے جو لگی ہوئی چیز کو چھڑانے والی ہے ایك بار دھولیں تو اب وہ نجاست ہے کہ دوبار دھونے سے پاك ہوگی اور جب دوبار
فـــــ : مسئلہ : نجاست کہ تین پانیوں سے دھوئی جاتی ہے پہلا پانی جس چیزکو لگے وہ تین با ر دھونے سے پاك ہوگی اور دوسراپانی لگے تو دوبار اور تیسرا تو ایك ہی بار دھونے سے پاك ہی ہو جائے گی ۔
تین کلیوں تك کلی کا پانی ناپاك ہے یوں ہی وہ ہاتھ جس سے کلی کی تھی تو اگر ہاتھ کی بوند برتن میں یعنی اس کے اندر پانی میں تین کلیاں پوری ہونے سے پہلے ٹپکی تو برتن کا پانی ناپاك ہوگیا۔ اور اب اس سے کلی کرنا ہاتھ اور منہ کی نجاست ہی بڑھائے گا پھر جب اس پانی سے وضو کیا تو اب تمام اعضائے وضو اور جس جس بدن یا کپڑے کو پانی پہنچا سب ناپاك ہوگئے اور جتنی بار ایسے پانی سے وضو کیا جس میں پیش از وضو ناپاك ہاتھ کی بوند گری وہ پانی ناپاك ہوگیا اور ناپاك پانی سے دھونا تو پاك کرے نہ ناپاکی کم ہو اگرچہ ہزار بار دھوئے تو اس کے اعضاء اور کپڑے سب اب تك نجس ہیں پس اگر وہ قطرہ کہ پہلی بار پانی میں ٹپکا پہلی کلی کے بقیہ سے تھا جب تو کسی بارے میں وضو کا پانی جس چیز کو لگا اسے تین بار دھونا واجب ہے اور اگر دوسری کلی کا تھا تو دوبار اور تیسری کا تو ایك بار اس لیے کہ نجاست فـــــ کم وبیش ہونے کی قابلیت رکھتی ہے دھونے سے پہلے تو وہ نجاست ہے کہ بغیر تین بار دھوئے پاك نہ ہوگی اور جب کسی پاك بہتی چیز سے جو لگی ہوئی چیز کو چھڑانے والی ہے ایك بار دھولیں تو اب وہ نجاست ہے کہ دوبار دھونے سے پاك ہوگی اور جب دوبار
فـــــ : مسئلہ : نجاست کہ تین پانیوں سے دھوئی جاتی ہے پہلا پانی جس چیزکو لگے وہ تین با ر دھونے سے پاك ہوگی اور دوسراپانی لگے تو دوبار اور تیسرا تو ایك ہی بار دھونے سے پاك ہی ہو جائے گی ۔
شیئا نجسا انمایکتسب من النجاسۃ قدر مافی المصاب فماء الغسلۃ الا ولی نجس بالنجاسۃ الکاملۃ لایطھر مایصیبہ الابثلث غسلات وماء الغسلۃ الثانیۃ نجس بنجاسۃ تطھرھا غسلتان فما یصیبہ یطھر بمرتین وفی ماء الثالثۃ نجاسۃ تطھر بغسلۃ فما اصابہ یطھر بمرۃ ھذا کلہ اذا تحقق وقوع القطرۃ فی الماء ومجرد بقاء شیئ من ماء المضمضۃ فی الید لایقضی بہ جزما لجواز ان لایقع مافیھا الاعلی الاناء من فوق فلا ینجس الاسطحہ الفوقانی اوفی الاناء فوق موضع الماء فلا تنجس الماء مالم یصبہ ر اکد او حنیئذ یطھرہ التوضی الثالث ان مرالماء کل
دھولیا تو اب وہ نجاست ہے کہ ایك ہی بار دھونے سے پاك ہوجائیگی اور جو پانی کسی چیز سے ملے اس میں اسی قدر نجاست آئیگی جو اس چیز میں تھی تو پہلی بار کا دھوون پوری نجاست سے نجس ہے کہ جسے یہ پانی لگے گا وہ بغیر تین دفعہ دھوئے پاك نہ ہوگی اور دوسرا دھوون اس نجاست سے نجس ہے جسے دوبارہ دھونا پاك کردے گا تو جس چیز کو یہ دھوون لگے وہ دو دفعہ دھونے سے پاك ہوجائیگی اور تیسرے دھوون میں وہ ناپاکی ہے جو ایك ہی بار دھونے سے پاك ہوجائیگی تو یہ جس چیز پر پہنچے وہ ایك ہی بار دھونے سے طہارت حاصل کرلے گی یہ سب اس وقت ہے کہ اس پانی میں بوند کا ٹپکنا تحقیق ہو فقط اتنی بات کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے پانی میں قطرہ گرنے کو مستلزم نہیں ممکن ہے کہ ہاتھ کی بوند برتن کے اوپر فـــــ گری ہو تو صرف اس کی سطح بالا ناپاك ہوگی یا برتن کے اندر جہاں تك پانی ہے اس جگہ سے اوپر گری ہوتو پانی ناپاك نہ ہوگا جب تك ٹھہرے ہونے کی حالت میں اس بوند کی جگہ سے نہ ملے ولہذااگرصرف پہلی بار
فـــــ : مسئلہ : ناپاك بوندیں برتن کے اوپر گریں اوراندر پانی ہے یا اندر ہی بوند گری مگر جہاں پانی تھا اس جگہ سے اوپر گری تو پانی ناپاك نہ ہو گا جب تك ٹھہرے ہوئے ہونے کی حالت میں اندرکی بوند پر نہ گزرے ۔
دھولیا تو اب وہ نجاست ہے کہ ایك ہی بار دھونے سے پاك ہوجائیگی اور جو پانی کسی چیز سے ملے اس میں اسی قدر نجاست آئیگی جو اس چیز میں تھی تو پہلی بار کا دھوون پوری نجاست سے نجس ہے کہ جسے یہ پانی لگے گا وہ بغیر تین دفعہ دھوئے پاك نہ ہوگی اور دوسرا دھوون اس نجاست سے نجس ہے جسے دوبارہ دھونا پاك کردے گا تو جس چیز کو یہ دھوون لگے وہ دو دفعہ دھونے سے پاك ہوجائیگی اور تیسرے دھوون میں وہ ناپاکی ہے جو ایك ہی بار دھونے سے پاك ہوجائیگی تو یہ جس چیز پر پہنچے وہ ایك ہی بار دھونے سے طہارت حاصل کرلے گی یہ سب اس وقت ہے کہ اس پانی میں بوند کا ٹپکنا تحقیق ہو فقط اتنی بات کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے پانی میں قطرہ گرنے کو مستلزم نہیں ممکن ہے کہ ہاتھ کی بوند برتن کے اوپر فـــــ گری ہو تو صرف اس کی سطح بالا ناپاك ہوگی یا برتن کے اندر جہاں تك پانی ہے اس جگہ سے اوپر گری ہوتو پانی ناپاك نہ ہوگا جب تك ٹھہرے ہونے کی حالت میں اس بوند کی جگہ سے نہ ملے ولہذااگرصرف پہلی بار
فـــــ : مسئلہ : ناپاك بوندیں برتن کے اوپر گریں اوراندر پانی ہے یا اندر ہی بوند گری مگر جہاں پانی تھا اس جگہ سے اوپر گری تو پانی ناپاك نہ ہو گا جب تك ٹھہرے ہوئے ہونے کی حالت میں اندرکی بوند پر نہ گزرے ۔
مرۃ علی کل ما اصابہ الماء للمتنجس اذا تحقق وقوع القطرۃ فی الماء اول مرۃ لافی ھذہ المرات الثلث وان لم یتحقق حتی فی المرۃ الاولی فھوطا ھر من اول مرۃ کما لایخفی وقس علیہ والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ناپاك بوند کاپانی میں گرنا تحقیق ہوا اور اسکے بعد جو تین وضو اور کیے ان میں خاص پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو تو پچھلا وضو اسے ناپاك کر دے گا اگر تینوں با رآب وضو اس تما م موضع پر گزرا ہو جو اس ناپاك پانی سے نجس ہوا تھا اوراگر پہلی ہی باراس بوند کا پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو جب تو دوسرے سے پاك ہے کما لا یخفی اوراسی پر اور صورتیں قیاس کر لو۔ والله تعالی اعلم
______________________
ناپاك بوند کاپانی میں گرنا تحقیق ہوا اور اسکے بعد جو تین وضو اور کیے ان میں خاص پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو تو پچھلا وضو اسے ناپاك کر دے گا اگر تینوں با رآب وضو اس تما م موضع پر گزرا ہو جو اس ناپاك پانی سے نجس ہوا تھا اوراگر پہلی ہی باراس بوند کا پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو جب تو دوسرے سے پاك ہے کما لا یخفی اوراسی پر اور صورتیں قیاس کر لو۔ والله تعالی اعلم
______________________
رسالہ
لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام ۱۳۲۴ھ
(روشن احکام کہ زکام سے وضو نہیں)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۷ فــــ : غرہ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکام جاری ہونے سے وضو جاتا ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا(بیان کیجیے اجر لیجیے ۔ ت)
الجواب :
تمام تعریف خدا کے لئے جس کی حمد نور ہے اور جس کا ذکر طہور ہے اور درود و سلام ہو ہر طیب و طاہر کے سردار اور ان کی اطیب و اطہر آل و اصحاب پر۔ (ت)
الحمد لله الذی حمدہ نور وذکرہ طہور والصلاۃ والسلام علی سید کل طیب طاہر والہ وصحبہ الاطائب الاطاھر
زکام کتنا ہی جاری ہو اس سے وضو نہیں جاتا کہ محض بلغمی رطوبات طاہرہ ہیں جس میں آمیزش
فــــ : مسئلہ : زکام کتناہی بہے وضو نہیں جاتا۔
لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام ۱۳۲۴ھ
(روشن احکام کہ زکام سے وضو نہیں)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۷ فــــ : غرہ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکام جاری ہونے سے وضو جاتا ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا(بیان کیجیے اجر لیجیے ۔ ت)
الجواب :
تمام تعریف خدا کے لئے جس کی حمد نور ہے اور جس کا ذکر طہور ہے اور درود و سلام ہو ہر طیب و طاہر کے سردار اور ان کی اطیب و اطہر آل و اصحاب پر۔ (ت)
الحمد لله الذی حمدہ نور وذکرہ طہور والصلاۃ والسلام علی سید کل طیب طاہر والہ وصحبہ الاطائب الاطاھر
زکام کتنا ہی جاری ہو اس سے وضو نہیں جاتا کہ محض بلغمی رطوبات طاہرہ ہیں جس میں آمیزش
فــــ : مسئلہ : زکام کتناہی بہے وضو نہیں جاتا۔
خون یا ریم کا اصلا احتمال نہیں ۔
۶۵اقول : ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بلغم کی قے فــــ کسی قدر کثیر ہو ناقض وضو نہیں۔ درمختار میں ہے :
لاینقصہ قیئ من بلغم علی المعتمد اصلا ۔
قول معتمد کی بنیاد پر بلغم کی قے اصلا ناقض وضو نہیں۔ (ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے :
شامل للنازل من الرأس والصاعد من الجوف وقولہ علی المعتمد راجع الی الثانی لان الاول بالاتفاق علی الصحیح ۔
یہ حکم سر سے اترنے والے اور معدہ سے چڑھنے والے دونوں قسم کے بلغم کو شامل ہے اور ان کا قول “ علی المعتمد “ (قول معتمد کی بنیاد )دوم (معدہ والے ) کی طرف راجع ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اول میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم بالاتفاق ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اصلا ای سواء کان صاعدامن الجوف اوناز لامن الراس ح خلافا لا بی یوسف فی الصاعد من الجوف الیہ اشار بقولہ علی المعتمد ولو اخرہ لکان اولی اھ ای لان تقدیمہ یوھم ان فی عدم النقض بالبلغم خلافا مطلقا ولیس کذلك فی الصحیح۔
“ اصلا “ یعنی معدہ سے چڑھنے والا ہو یا سر سے اترنے والا __ ح__اور معدہ سے چڑھنے والے میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ۔ اس کی طرف لفظ “ علی المعتمد “ سے اشارہ کیا ہے اگر اسے “ اصلا “ کے بعد رکھتے تو بہتر تھا ا ھ۔ یعنی اس لئے کہ اسے پہلے رکھ دینے سے یہ وہم ہوتا ہے کہ بلغم سے وضو ٹوٹنے میں مطلقا اختلاف ہے حالاں کہ بر قول صحیح ایسا نہیں ہے ۔ (ت)
فــــ : مسئلہ : بلغم کی قے کتنی ہی کثیر ہو وضو نہ جائے گا ۔
۶۵اقول : ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بلغم کی قے فــــ کسی قدر کثیر ہو ناقض وضو نہیں۔ درمختار میں ہے :
لاینقصہ قیئ من بلغم علی المعتمد اصلا ۔
قول معتمد کی بنیاد پر بلغم کی قے اصلا ناقض وضو نہیں۔ (ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے :
شامل للنازل من الرأس والصاعد من الجوف وقولہ علی المعتمد راجع الی الثانی لان الاول بالاتفاق علی الصحیح ۔
یہ حکم سر سے اترنے والے اور معدہ سے چڑھنے والے دونوں قسم کے بلغم کو شامل ہے اور ان کا قول “ علی المعتمد “ (قول معتمد کی بنیاد )دوم (معدہ والے ) کی طرف راجع ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اول میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم بالاتفاق ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اصلا ای سواء کان صاعدامن الجوف اوناز لامن الراس ح خلافا لا بی یوسف فی الصاعد من الجوف الیہ اشار بقولہ علی المعتمد ولو اخرہ لکان اولی اھ ای لان تقدیمہ یوھم ان فی عدم النقض بالبلغم خلافا مطلقا ولیس کذلك فی الصحیح۔
“ اصلا “ یعنی معدہ سے چڑھنے والا ہو یا سر سے اترنے والا __ ح__اور معدہ سے چڑھنے والے میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ۔ اس کی طرف لفظ “ علی المعتمد “ سے اشارہ کیا ہے اگر اسے “ اصلا “ کے بعد رکھتے تو بہتر تھا ا ھ۔ یعنی اس لئے کہ اسے پہلے رکھ دینے سے یہ وہم ہوتا ہے کہ بلغم سے وضو ٹوٹنے میں مطلقا اختلاف ہے حالاں کہ بر قول صحیح ایسا نہیں ہے ۔ (ت)
فــــ : مسئلہ : بلغم کی قے کتنی ہی کثیر ہو وضو نہ جائے گا ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۷۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی نواقض الوضوءداراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۴
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۷۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی نواقض الوضوءداراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۴
نور الایضاح ومراتی الفلاح میں ہے :
عشرۃ اشیاء لاتنقض الوضوء منھا قیئ بلغم ولوکان کثیرالعدم تخلل النجاسۃ فیہ وھو طاھر۔
دس چیزیں ناقض وضو نہیں ہیں ان میں سے ایك بلغم کی قے ہے اگرچہ زیادہ ہو اس لئے کہ نجاست اس کے اندر نہیں جاتی اور وہ خود پاك ہے ۔ (ت)
یہ تصریحات جلیہ ہیں کہ بلغم جو دماغ سے اترے بالاجماع ناقض وضو نہیں اور ظاہر ہے کہ زکام کی رطوبتیں دماغ ہی سے نازل ہیں تو ان سے نقض وضو کسی کا قول نہیں ہو سکتا حکم مسئلہ تو اسی قدر سے واضح ہے مگر یہاں علامہ سید طحطاوی فـــ۱ رحمۃ اللہ تعالی علیہکو ایك شبہہ عارض ہوا جس کا منشا یہ کہ ہمارے علماء نے فرمایا : جو سائل چیز فــــ۲ بدن سے بوجہ علت خارج ہو ناقض وضو ہے مثلا آنکھیں دکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ کان ناف وغیرہ میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو پانی بہے وضو کا ناقض ہوگا ۔ درمختار باب الحیض میں ہے :
صاحب عذر من بہ سلس بول او استحاضۃ اوبعینہ رمد اوعمش اوغرب وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من اذن او ثدی وسرۃ ۔
عذر والا وہ ہے جسے بار بار پیشاب کا قطرہ آتا ہو یا استحاضہ ہو یا آنکھ میں رمد یا عمش یا غرب ہو ( آشوب یا چندھا پن یا کوئی پھنسی ہو ) اور اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی بیماری کی وجہ سے نکلے اگرچہ کان یا پستان یا ناف سے ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ رمدای ولیسیل منہ
قولہ “ آشوب ہو “ یعنی اس سے پانی بھی
فــــ۱ : ۴۱معروضۃ علی العلامۃ ط۔
فــــ۲ : مسئلہ : آنکھیں دکھنے یا ڈھلکے میں جو آنسو ہے یا آنکھ کا ن چھاتی ناف وغیرہ سے دانے ناسور خواہ کسی مرض کے سبب پانی بہے وضو جاتا رہے گا۔
عشرۃ اشیاء لاتنقض الوضوء منھا قیئ بلغم ولوکان کثیرالعدم تخلل النجاسۃ فیہ وھو طاھر۔
دس چیزیں ناقض وضو نہیں ہیں ان میں سے ایك بلغم کی قے ہے اگرچہ زیادہ ہو اس لئے کہ نجاست اس کے اندر نہیں جاتی اور وہ خود پاك ہے ۔ (ت)
یہ تصریحات جلیہ ہیں کہ بلغم جو دماغ سے اترے بالاجماع ناقض وضو نہیں اور ظاہر ہے کہ زکام کی رطوبتیں دماغ ہی سے نازل ہیں تو ان سے نقض وضو کسی کا قول نہیں ہو سکتا حکم مسئلہ تو اسی قدر سے واضح ہے مگر یہاں علامہ سید طحطاوی فـــ۱ رحمۃ اللہ تعالی علیہکو ایك شبہہ عارض ہوا جس کا منشا یہ کہ ہمارے علماء نے فرمایا : جو سائل چیز فــــ۲ بدن سے بوجہ علت خارج ہو ناقض وضو ہے مثلا آنکھیں دکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ کان ناف وغیرہ میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو پانی بہے وضو کا ناقض ہوگا ۔ درمختار باب الحیض میں ہے :
صاحب عذر من بہ سلس بول او استحاضۃ اوبعینہ رمد اوعمش اوغرب وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من اذن او ثدی وسرۃ ۔
عذر والا وہ ہے جسے بار بار پیشاب کا قطرہ آتا ہو یا استحاضہ ہو یا آنکھ میں رمد یا عمش یا غرب ہو ( آشوب یا چندھا پن یا کوئی پھنسی ہو ) اور اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی بیماری کی وجہ سے نکلے اگرچہ کان یا پستان یا ناف سے ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ رمدای ولیسیل منہ
قولہ “ آشوب ہو “ یعنی اس سے پانی بھی
فــــ۱ : ۴۱معروضۃ علی العلامۃ ط۔
فــــ۲ : مسئلہ : آنکھیں دکھنے یا ڈھلکے میں جو آنسو ہے یا آنکھ کا ن چھاتی ناف وغیرہ سے دانے ناسور خواہ کسی مرض کے سبب پانی بہے وضو جاتا رہے گا۔
حوالہ / References
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، کتاب الطہارۃ فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضوء ، دارالکتب العلمیہ بیروت ، ص۹۳۔ ۹۴
الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
الدمع قولہ عمش ضعف الرؤیۃ مع سیلان الدمع فی اکثر الاوقات قولہ غرب قال المطرزی ھو عرق فی مجری الدمع یسقی فلا ینقطع مثل الباسور عن الاصمعی بعینہ غرب اذا کانت تسیل ولا تنقطع دموعھا والغرب بالتحریك ورم فی الماقی اھ
بہتا ہو ----- قولہ عمش یعنی اکثر اوقات پانی بہنے کے ساتھ بصارت کی کمزوری ہو----- قولہ غرب -----مطرزی نے کہا : یہ آنسو بہنے کی ایك رگ ہوتی ہے جو بہنے لگتی ہے تو بند نہیں ہوتی جیسے بواسیر---- اصمعی سے منقول ہے : “ بعینہ غرب “ اس وقت بولتے ہیں جب آنکھ بہتی رہتی ہو اور اس کے ساتھ آنسو تھمتے نہ ہوں۔ اور غرب----- را پر حرکت کے ساتھ ---- آنکھ کے کویوں میں ایك ورم ہوتا ہے ۔ (ت)
اس پر علامہ طحطاوی نے فرمایا :
ظاھرہ یعم الانف اذا زکم ۔
یعنی ظاہرا یہ مسئلہ ناك کو بھی شامل ہے جب زکام ہو ۔
علامہ شامی نے اس پر اعتراض کیا کہ ہمارے علما ء تصریح فــــ۱فرما چکے ہیں کہ سوتے آدمی کے منہ سے جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہو پاك ہے قول سید طحطاوی نقل کرکے فرماتے ہیں :
لکن صرحوا بان ماء فم النائم طاھر ولو منتنا فتأمل۔
لیکن ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ سونے والے کے منہ کی رال اگرچہ بدبو دار ہے پاك ہے۔ تو تأمل کرو ۔ (ت)
۶۶اقول : علامہ طحطاوی کی طرف سے اس پر دو۲ شبہے وارد ہوسکتے ہیں :
اول : کلام فــــ۲ اس پانی میں ہے کہ مرض سے بہے اور سوتے میں رال نکلنا مرض نہیں نہ اس کی
فــــ۱ : مسئلہ : سوتے میں جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہوپاك ہے۔
فــــ۲ : ۴۲معروضۃ علی العلامۃ ش
بہتا ہو ----- قولہ عمش یعنی اکثر اوقات پانی بہنے کے ساتھ بصارت کی کمزوری ہو----- قولہ غرب -----مطرزی نے کہا : یہ آنسو بہنے کی ایك رگ ہوتی ہے جو بہنے لگتی ہے تو بند نہیں ہوتی جیسے بواسیر---- اصمعی سے منقول ہے : “ بعینہ غرب “ اس وقت بولتے ہیں جب آنکھ بہتی رہتی ہو اور اس کے ساتھ آنسو تھمتے نہ ہوں۔ اور غرب----- را پر حرکت کے ساتھ ---- آنکھ کے کویوں میں ایك ورم ہوتا ہے ۔ (ت)
اس پر علامہ طحطاوی نے فرمایا :
ظاھرہ یعم الانف اذا زکم ۔
یعنی ظاہرا یہ مسئلہ ناك کو بھی شامل ہے جب زکام ہو ۔
علامہ شامی نے اس پر اعتراض کیا کہ ہمارے علما ء تصریح فــــ۱فرما چکے ہیں کہ سوتے آدمی کے منہ سے جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہو پاك ہے قول سید طحطاوی نقل کرکے فرماتے ہیں :
لکن صرحوا بان ماء فم النائم طاھر ولو منتنا فتأمل۔
لیکن ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ سونے والے کے منہ کی رال اگرچہ بدبو دار ہے پاك ہے۔ تو تأمل کرو ۔ (ت)
۶۶اقول : علامہ طحطاوی کی طرف سے اس پر دو۲ شبہے وارد ہوسکتے ہیں :
اول : کلام فــــ۲ اس پانی میں ہے کہ مرض سے بہے اور سوتے میں رال نکلنا مرض نہیں نہ اس کی
فــــ۱ : مسئلہ : سوتے میں جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہوپاك ہے۔
فــــ۲ : ۴۲معروضۃ علی العلامۃ ش
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ با ب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۲۰۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۱۵۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۲۰۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۱۵۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۲۰۲
بو دلیل علت ہے جیسے آخر روز میں بوئے دہان صائم کا تغیر۔
دوم : عوارض فــــ۱ مکلف میں ادھر سے کلیہ ہے کہ جو حدث فــــ۲ نہیں نجس نہیں اور اس کا عکس کلی نہیں کہ جو نجس نہ ہو حدث بھی نہ ہو نیند جنون بیہوشی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور ناقض وضو ہیں اور سب سے بہتر مثال ریح فــــ۳ ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب پر طاہر ہے اور بالاجماع حدث ہے تو آپ دہان نائم کی طہارت سے استدلال جائے مجال مقال ہوگا۔ درمختار میں ہے :
کل مالیس بحدث لیس بنجس وھو الصحیح۔
ہر وہ جو حدث نہیں نجس بھی نہیں یہی صحیح ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں درایہ سے ہے :
انھا لا تنعکس فلا یقال مالا یکون نجسا لایکون حدثا لان النوم والجنون والاغماء وغیرھا حدث ولیست بنجسۃ ۔
اس کلیہ کا عکس نہ ہو گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا ۔ اس لئے کہ نیند جنون بیہوشی وغیرہ حدث ہیں اور نجس نہیں ۔ (ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے :
فیلزم من انتفاء کونہ حدثاانتفا ء کونہ نجسا ولا ینعکس فلا یقال مالایکون نجسا لا یکون حدثا فان النوم والاغماء والریح لیست بنجسۃ وھی احداث اھ۔
حدث نہ ہونے کو نجس نہ ہونا لازم ہے اور اسکے برعکس نہیں ۔ تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا اس لئے کہ نیند بیہوشی اور ریح نجس نہیں اوریہ سب حدث ہیں ۔ ا ھ
فــــ۱ : ۴۳معروضۃ اخری علیہ
فــــ۲ : مسئلہ : بدن مکلف سے جو چیز نکلے اوروضو نہ جائے وہ نا پاك نہیں مگر یہ ضرور نہیں کہ جو ناپاك نہ ہو اس سے وضو نہ جائے۔
فــــ۳ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ ریح جوانسان سے خارج ہوتی ہے پاك ہے۔
دوم : عوارض فــــ۱ مکلف میں ادھر سے کلیہ ہے کہ جو حدث فــــ۲ نہیں نجس نہیں اور اس کا عکس کلی نہیں کہ جو نجس نہ ہو حدث بھی نہ ہو نیند جنون بیہوشی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور ناقض وضو ہیں اور سب سے بہتر مثال ریح فــــ۳ ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب پر طاہر ہے اور بالاجماع حدث ہے تو آپ دہان نائم کی طہارت سے استدلال جائے مجال مقال ہوگا۔ درمختار میں ہے :
کل مالیس بحدث لیس بنجس وھو الصحیح۔
ہر وہ جو حدث نہیں نجس بھی نہیں یہی صحیح ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں درایہ سے ہے :
انھا لا تنعکس فلا یقال مالا یکون نجسا لایکون حدثا لان النوم والجنون والاغماء وغیرھا حدث ولیست بنجسۃ ۔
اس کلیہ کا عکس نہ ہو گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا ۔ اس لئے کہ نیند جنون بیہوشی وغیرہ حدث ہیں اور نجس نہیں ۔ (ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے :
فیلزم من انتفاء کونہ حدثاانتفا ء کونہ نجسا ولا ینعکس فلا یقال مالایکون نجسا لا یکون حدثا فان النوم والاغماء والریح لیست بنجسۃ وھی احداث اھ۔
حدث نہ ہونے کو نجس نہ ہونا لازم ہے اور اسکے برعکس نہیں ۔ تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا اس لئے کہ نیند بیہوشی اور ریح نجس نہیں اوریہ سب حدث ہیں ۔ ا ھ
فــــ۱ : ۴۳معروضۃ اخری علیہ
فــــ۲ : مسئلہ : بدن مکلف سے جو چیز نکلے اوروضو نہ جائے وہ نا پاك نہیں مگر یہ ضرور نہیں کہ جو ناپاك نہ ہو اس سے وضو نہ جائے۔
فــــ۳ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ ریح جوانسان سے خارج ہوتی ہے پاك ہے۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۱
اقول : وھھنا وھم عرض فی فھم القضیۃ وفھم العکس العلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھت علیہ فیما علقت علیہ ولعل لنا فی اخر الکلام عودا الیہ۔
اقول : اور یہاں قضیہ اور اس کے عکس کو سمجھنے میں علامہ شامی کو رد المحتار میں ایك وہم در پیش ہوا ہے جس پر میں نے حاشیہ رد المحتار میں تنبیہ کی ہے۔ اور امید ہے کہ آخر کلام میں ہم اس طرف لوٹیں گے ۔ (ت)
اور اگر ثابت کر لیں کہ جو ظاہر رطوبت بدن سے نکلے اگرچہ سائل ہو ناقض نہیں تو اب اس تجشم کی حاجت نہ رہے گی کہ آب دہان نائم سے استدلال کیجئے خود آب بینی فــــ کی طہارت مصرح و منصوص ہے ۔ در مختار مسائل قے میں ہے : المخاط کالبزاق (ناك کی رینٹھ تھوك کی طرح ہے۔ ت) خود علامہ طحطاوی پھر شامی فرماتے ہیں :
وما نقل عن الثانی من نجاسۃ المخاط فضعیف
اور امام ابو یوسف سے جو منقول ہے کہ رینٹھ نجس ہے وہ ضعیف ہے (ت)
تو مسئلہ قے بلغم سے استدلال جس طرح فقیر نے کیا اسلم واحکم ہے جس میں خود علامہ طحطاوی کو اقرار ہے کہ رطوبات بلغمیہ جب دماغ سے اتری ہوں بالاجماع ناقض وضو نہیں۔
ثم ۶۷اقول : اب یہ نظر کرنی رہی کہ آیا کلیہ مذکورہ ثابت ہے کہ اگر ثابت ہوتو یہاں تك استظہار علامہ طحطاوی کے خلاف دو دلیلیں ہوجائیں گی۔ مسئلہ قے ومسئلہ آب بینی کہ فقیر نے عرض کئے اور علامہ شامی کے طور پر تین تیسری مسئلہ آب دہان نائم کہ وہ مثل بزاق یعنی لعاب دہن ہے اور لعاب دہن وبلغم جنس واحد ہیں اور انھیں کی جنس سے آب بینی ہے وہی رطوبات ہیں کہ قدرے غلیظ وبستہ ہوں تو بلغم کہلائیں رقیق ہو کہ منہ سے آئیں تو آب دہن غلیظ یا رقیق ہو کر ناك سے آئیں تو آب بینی۔
حلیہ میں ہے :
فــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ آب بینی پاك ہے ۔
اقول : اور یہاں قضیہ اور اس کے عکس کو سمجھنے میں علامہ شامی کو رد المحتار میں ایك وہم در پیش ہوا ہے جس پر میں نے حاشیہ رد المحتار میں تنبیہ کی ہے۔ اور امید ہے کہ آخر کلام میں ہم اس طرف لوٹیں گے ۔ (ت)
اور اگر ثابت کر لیں کہ جو ظاہر رطوبت بدن سے نکلے اگرچہ سائل ہو ناقض نہیں تو اب اس تجشم کی حاجت نہ رہے گی کہ آب دہان نائم سے استدلال کیجئے خود آب بینی فــــ کی طہارت مصرح و منصوص ہے ۔ در مختار مسائل قے میں ہے : المخاط کالبزاق (ناك کی رینٹھ تھوك کی طرح ہے۔ ت) خود علامہ طحطاوی پھر شامی فرماتے ہیں :
وما نقل عن الثانی من نجاسۃ المخاط فضعیف
اور امام ابو یوسف سے جو منقول ہے کہ رینٹھ نجس ہے وہ ضعیف ہے (ت)
تو مسئلہ قے بلغم سے استدلال جس طرح فقیر نے کیا اسلم واحکم ہے جس میں خود علامہ طحطاوی کو اقرار ہے کہ رطوبات بلغمیہ جب دماغ سے اتری ہوں بالاجماع ناقض وضو نہیں۔
ثم ۶۷اقول : اب یہ نظر کرنی رہی کہ آیا کلیہ مذکورہ ثابت ہے کہ اگر ثابت ہوتو یہاں تك استظہار علامہ طحطاوی کے خلاف دو دلیلیں ہوجائیں گی۔ مسئلہ قے ومسئلہ آب بینی کہ فقیر نے عرض کئے اور علامہ شامی کے طور پر تین تیسری مسئلہ آب دہان نائم کہ وہ مثل بزاق یعنی لعاب دہن ہے اور لعاب دہن وبلغم جنس واحد ہیں اور انھیں کی جنس سے آب بینی ہے وہی رطوبات ہیں کہ قدرے غلیظ وبستہ ہوں تو بلغم کہلائیں رقیق ہو کہ منہ سے آئیں تو آب دہن غلیظ یا رقیق ہو کر ناك سے آئیں تو آب بینی۔
حلیہ میں ہے :
فــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ آب بینی پاك ہے ۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۴ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۴ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۰
فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں ان قاء بزاقا لاینقض الوضوء بالاجماع والبزاق مالا یکون متجمدا منعقدا و البلغم مایکون متجمدا منعقدا ۔
امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے : اگر تھوك کی قے کی تو یہ بالاجماع ناقض وضو نہیں ---- تھوك وہ ہے جو جماہوا اور بستہ نہ ہو اور بلغم وہ ہے جو جامد اور بندھا ہوا ہو ۔ (ت)
ہاں یہ کلیہ فــــ۱ مذکورہ ضرور ثابت فــــ۲ ہے و لہذا ایسی اشیاء میں علماء برابر ان کی طہارت سے حدث نہ ہونے پر استدلال فرماتے ہیں ۔ حلیہ میں ہے :
ان کان ای القیئ بلغما لاینقض لانہ طاھر ذکرہ فی البدائع وغیرہ اھ ملتقطا
اگر بلغم کی قے ہو تو ناقض وضو نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے اسے بدائع وغیرہ میں ذکر کیا ا ھ ملتقطا۔ (ت)
اسی میں ہے :
ثم فی البدائع وذکر الشیخ ابو منصور ان جوابھما فی الصاعد من حواشی الحلق واطراف الرئۃ وانہ لیس بحدث بالاجماع لانہ طاھر فینظران لم یصعد من المعدۃ لایکون نجسا ولا یکون حدثا ۔
پھر بدائع میں ہے اور شیخ ابو منصور نے ذکر کیا ہے کہ طرفین کا جواب حلق کے اطراف اور پھیپھڑے کے کناروں سے چڑھنے والے بلغم کے بارے میں ہے اور یہ کہ وہ بالاجماع حدث نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے تو دیکھا جائیگا کہ اگر وہ معدہ سے نہیں اٹھا ہے تو نجس نہ ہوگا تو حدث بھی نہ ہو گا ۔ (ت)
اور اس کے نظائر کلام علماء میں کثیر ہیں کلیہ کی صریح تصریح لیجئے خزانۃ المفتین میں ہے :
فــــ۱ : مسئلہ : یہ کلیہ ہے کہ جو رطوبت بدن سے بہے اگر نجس نہیں توناقض وضو بھی نہیں۔
فــــ۲ : ۴۴معروضۃ اخری علی العلامۃ
امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے : اگر تھوك کی قے کی تو یہ بالاجماع ناقض وضو نہیں ---- تھوك وہ ہے جو جماہوا اور بستہ نہ ہو اور بلغم وہ ہے جو جامد اور بندھا ہوا ہو ۔ (ت)
ہاں یہ کلیہ فــــ۱ مذکورہ ضرور ثابت فــــ۲ ہے و لہذا ایسی اشیاء میں علماء برابر ان کی طہارت سے حدث نہ ہونے پر استدلال فرماتے ہیں ۔ حلیہ میں ہے :
ان کان ای القیئ بلغما لاینقض لانہ طاھر ذکرہ فی البدائع وغیرہ اھ ملتقطا
اگر بلغم کی قے ہو تو ناقض وضو نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے اسے بدائع وغیرہ میں ذکر کیا ا ھ ملتقطا۔ (ت)
اسی میں ہے :
ثم فی البدائع وذکر الشیخ ابو منصور ان جوابھما فی الصاعد من حواشی الحلق واطراف الرئۃ وانہ لیس بحدث بالاجماع لانہ طاھر فینظران لم یصعد من المعدۃ لایکون نجسا ولا یکون حدثا ۔
پھر بدائع میں ہے اور شیخ ابو منصور نے ذکر کیا ہے کہ طرفین کا جواب حلق کے اطراف اور پھیپھڑے کے کناروں سے چڑھنے والے بلغم کے بارے میں ہے اور یہ کہ وہ بالاجماع حدث نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے تو دیکھا جائیگا کہ اگر وہ معدہ سے نہیں اٹھا ہے تو نجس نہ ہوگا تو حدث بھی نہ ہو گا ۔ (ت)
اور اس کے نظائر کلام علماء میں کثیر ہیں کلیہ کی صریح تصریح لیجئے خزانۃ المفتین میں ہے :
فــــ۱ : مسئلہ : یہ کلیہ ہے کہ جو رطوبت بدن سے بہے اگر نجس نہیں توناقض وضو بھی نہیں۔
فــــ۲ : ۴۴معروضۃ اخری علی العلامۃ
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الخارج من البدن علی ضربین طاھر ونجس فبخروج الطاھر لاینتقض الطہارۃ کالدمع والعرق والبزاق والمخاط ولبن بنی ادم الخ
بدن سے نکلنے والی چیز دو قسم کی ہے : پاك اور ناپاك پاك کے نکلنے سے طہارت نہیں جاتی ۔ جیسے آنسو پسینہ تھوك رینٹھ انسان کا دودھ الخ (ت)
الحمد لله فــــ۱ اس تقریر فقیر سے ایك تحقیق منیر ہاتھ آئی کہ قابل حفظ ہے۔
۶۸فاقول : حدث ونجس کو اگر مطلق رکھیں تو ان میں نسبت عموم وخصوص من وجہ ہے نوم حدث ہے اور نجس نہیں خمر نجس ہے اور حدث نہیں دم فصد حدث ونجس دونوں ہے اور خارج ازبدن مکلف کی قید لگائیں لامن بدن الانسان فینتقض طرد او عکسا بخارج الجن والصبی (خارج از بدن انسان نہ کہیں کہ جن اور بچہ سے خارج ہونے والی ہر چیز کی وجہ سے کلیہ نہ جامع رہ جائے نہ مانع یعنی یہ لازم آئے کہ خارج از جن کا یہ حکم نہیں اور خارج از طفل کا بھی یہ حکم ہے حالاں کہ حکم میں جن شامل ہے اور بچہ شامل نہیں۔ ت)اور اس کے ساتھ نجس سے نجس بالخروج لیں یعنی وہ چیز کہ بوجہ خروج اسے حکم نجاست دیا جائے اگرچہ اس سے پہلے اسے نجس نہ کہا جاتا (جیسے خون فــــ۲وغیرہ فضلات کا یہی حال ہے پیشاب اگر پیش از خروج ناپاك ہو تو اس کی حاجت میں نماز باطل ہو۔ اور خون تو ہر وقت رگوں میں ساری ہے پھر نماز کیونکر ہوسکے) تو ان دو۲ قیدوں کے ساتھ حدث عام مطلقا ہے یعنی بدن مکلف سے باہر آنے والا نجس بالخروج حدث ہے اور ہر حدث نجس بالخروج نہیں جیسے ریح فان عینھا طاھرۃ علی الصحیح (اس لئے کہ خود ریح بر قول صحیح پاك ہے ۔ ت) قضیہ مذکورہ میں علمائے کرام نے یہی صورت مرادلی ہے ولہذا عکس کلی نہ مانا اور اگر قیود مذکورہ کے ساتھ رطوبات کی تخصیص کرلیں تو نسبت تساوی ہے ہر رطوبت کہ بدن مکلف سے باہر آئے اگر نجس بالخروج ہے ضرور حدث ہے اور اگر حدث ہے ضرور نجس ہے تو یہاں ہر ایك کے انتفاء سے دوسرے کے انتفاء پر استدلال صحیح ہے لہذا آب بینی کہ نجس نہیں ہرگز ناقض وضو نہیں ہوسکتا وبالله
فــــ۱ : حدث ونجس کی نسبتوں میں مصنف کی تحقیق منیر ۔
فــــ۲ : خو ن پیشاب وغیرہ فضلات جب تك ہاہر نہ نکلیں ناپاك نہیں ۔
بدن سے نکلنے والی چیز دو قسم کی ہے : پاك اور ناپاك پاك کے نکلنے سے طہارت نہیں جاتی ۔ جیسے آنسو پسینہ تھوك رینٹھ انسان کا دودھ الخ (ت)
الحمد لله فــــ۱ اس تقریر فقیر سے ایك تحقیق منیر ہاتھ آئی کہ قابل حفظ ہے۔
۶۸فاقول : حدث ونجس کو اگر مطلق رکھیں تو ان میں نسبت عموم وخصوص من وجہ ہے نوم حدث ہے اور نجس نہیں خمر نجس ہے اور حدث نہیں دم فصد حدث ونجس دونوں ہے اور خارج ازبدن مکلف کی قید لگائیں لامن بدن الانسان فینتقض طرد او عکسا بخارج الجن والصبی (خارج از بدن انسان نہ کہیں کہ جن اور بچہ سے خارج ہونے والی ہر چیز کی وجہ سے کلیہ نہ جامع رہ جائے نہ مانع یعنی یہ لازم آئے کہ خارج از جن کا یہ حکم نہیں اور خارج از طفل کا بھی یہ حکم ہے حالاں کہ حکم میں جن شامل ہے اور بچہ شامل نہیں۔ ت)اور اس کے ساتھ نجس سے نجس بالخروج لیں یعنی وہ چیز کہ بوجہ خروج اسے حکم نجاست دیا جائے اگرچہ اس سے پہلے اسے نجس نہ کہا جاتا (جیسے خون فــــ۲وغیرہ فضلات کا یہی حال ہے پیشاب اگر پیش از خروج ناپاك ہو تو اس کی حاجت میں نماز باطل ہو۔ اور خون تو ہر وقت رگوں میں ساری ہے پھر نماز کیونکر ہوسکے) تو ان دو۲ قیدوں کے ساتھ حدث عام مطلقا ہے یعنی بدن مکلف سے باہر آنے والا نجس بالخروج حدث ہے اور ہر حدث نجس بالخروج نہیں جیسے ریح فان عینھا طاھرۃ علی الصحیح (اس لئے کہ خود ریح بر قول صحیح پاك ہے ۔ ت) قضیہ مذکورہ میں علمائے کرام نے یہی صورت مرادلی ہے ولہذا عکس کلی نہ مانا اور اگر قیود مذکورہ کے ساتھ رطوبات کی تخصیص کرلیں تو نسبت تساوی ہے ہر رطوبت کہ بدن مکلف سے باہر آئے اگر نجس بالخروج ہے ضرور حدث ہے اور اگر حدث ہے ضرور نجس ہے تو یہاں ہر ایك کے انتفاء سے دوسرے کے انتفاء پر استدلال صحیح ہے لہذا آب بینی کہ نجس نہیں ہرگز ناقض وضو نہیں ہوسکتا وبالله
فــــ۱ : حدث ونجس کی نسبتوں میں مصنف کی تحقیق منیر ۔
فــــ۲ : خو ن پیشاب وغیرہ فضلات جب تك ہاہر نہ نکلیں ناپاك نہیں ۔
حوالہ / References
خزا نۃ المفتین ، کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء ، قلمی۱ / ۴
التوفیق اور نجس میں نجس بالخروج کی قید ہم نے اس لئے زائد کی کہ اگر یہ نہ ہو اور صرف خروج از بدن مکلف کی قید رکھیں تو اب بھی نسبت عموم من وجہ ہوگی کہ ریح حدث ہے اور نجس نہیں اور معاذ الله فــــ۱ اگر کسی نے شراب پی اور وہ قے ہوئی مگر تھوڑی کہ منہ بھر کر نہ تھی تو نجس ہے اور حدث نہیں یعنی وضو نہ جائے گا کہ قلیل ہے لیکن یہ اس کی نجاست اپنی ذات میں تھی خروج کے سبب عارض نہ ہوئی۔ درمختار میں ہے :
ماء فم المیت فــــ۲ نجس کقیئ عین خمر او بول وان لم ینقض لقلتہ لنجاسۃ بالاصالۃ لابالمجاورۃ ۔
دہن میت کا پانی نجس ہے جیسے عین شراب یا پیشاب کی قے نجس ہے اگرچہ قلیل ہونے کی وجہ سے ناقض نہیں کہ اس کی نجاست اصالۃ ہے کسی نجاست سے اتصال کی وجہ سے نہیں ہے ۔ (ت)
اور اگر رطوبات کی بھی قید بڑھا لیں تو اب نجس عام مطلقا ہو جائے گا کہ مسئلہ ریح داخل نہ رہے گا اور مسئلہ خمر باقی ہو گا اب کہ نجس بالخروج کی قید لگائی مسئلہ خمر بھی خارج ہو گیا اور تساوی رہی۔
فان قلت ترد حینئذ مسألۃ الخمر علی الکلیۃ الثانیۃ القائلۃ ان کل حدث نجس بالخروج فانہ ان قاء الخمر ملاء الفم کان حدثا قطعا ولم یکن نجسا بالخروج فانھا نجسۃ العین۔
۶۶قلت : لا فــــ۳ غرو ان یکتسب النجس بنجاسۃ اخری من خارج اگر یہ کہو کہ اس صورت میں مسئلہ شراب سے کلیہ دوم ----- ہر حدث نجس بالخروج ہے ----- پر اعتراض وارد ہو گا اس لئے کہ اگر منہ بھر کر شراب کی قے کی تو وہ مطلقا محدث ہے اور نجس بالخروج نہیں کیوں کہ شراب تو نجس العین ہے ۔
قلت : (میں کہوں گا)اس میں کوئی عجب نہیں کہ ایك نجس چیز اپنے باہر سے کوئی
فــــ۱ : مسئلہ : شراب کی قے بھی اگر منہ بھر نہ ہو ناقض وضو نہیں۔
فــــ۲ : مسئلہ : میت کے منہ سے جو پانی نکلتا ہے ناپاك ہے ۔
فــــ۳ : نجس چیز دوبارہ نجس ہوسکتی ہے ولہذا اگر شراب پیشاب میں پڑ جائے پھر سرکہ ہو جائے پاك نہ ہو گی ۔
ماء فم المیت فــــ۲ نجس کقیئ عین خمر او بول وان لم ینقض لقلتہ لنجاسۃ بالاصالۃ لابالمجاورۃ ۔
دہن میت کا پانی نجس ہے جیسے عین شراب یا پیشاب کی قے نجس ہے اگرچہ قلیل ہونے کی وجہ سے ناقض نہیں کہ اس کی نجاست اصالۃ ہے کسی نجاست سے اتصال کی وجہ سے نہیں ہے ۔ (ت)
اور اگر رطوبات کی بھی قید بڑھا لیں تو اب نجس عام مطلقا ہو جائے گا کہ مسئلہ ریح داخل نہ رہے گا اور مسئلہ خمر باقی ہو گا اب کہ نجس بالخروج کی قید لگائی مسئلہ خمر بھی خارج ہو گیا اور تساوی رہی۔
فان قلت ترد حینئذ مسألۃ الخمر علی الکلیۃ الثانیۃ القائلۃ ان کل حدث نجس بالخروج فانہ ان قاء الخمر ملاء الفم کان حدثا قطعا ولم یکن نجسا بالخروج فانھا نجسۃ العین۔
۶۶قلت : لا فــــ۳ غرو ان یکتسب النجس بنجاسۃ اخری من خارج اگر یہ کہو کہ اس صورت میں مسئلہ شراب سے کلیہ دوم ----- ہر حدث نجس بالخروج ہے ----- پر اعتراض وارد ہو گا اس لئے کہ اگر منہ بھر کر شراب کی قے کی تو وہ مطلقا محدث ہے اور نجس بالخروج نہیں کیوں کہ شراب تو نجس العین ہے ۔
قلت : (میں کہوں گا)اس میں کوئی عجب نہیں کہ ایك نجس چیز اپنے باہر سے کوئی
فــــ۱ : مسئلہ : شراب کی قے بھی اگر منہ بھر نہ ہو ناقض وضو نہیں۔
فــــ۲ : مسئلہ : میت کے منہ سے جو پانی نکلتا ہے ناپاك ہے ۔
فــــ۳ : نجس چیز دوبارہ نجس ہوسکتی ہے ولہذا اگر شراب پیشاب میں پڑ جائے پھر سرکہ ہو جائے پاك نہ ہو گی ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۶
کخمر وقعت فی بول حتی لو تخللت لم تطھر وان ابیت فلیکن النجس اعم مطلقا وانتفاء العام یوجب انتفاء الخاص فبطھارۃ المخاط یثبت انہ لیس بحدث وفیہ المقصود والله تعالی اعلم۔
اور نجاست حاصل کر لے جیسے شراب جو پیشاب میں پڑ گئی ہو کہ اگر وہ سرکہ ہو جائے تو بھی پاك نہ ہو گی -----اور اگر اسے نہ مانو تو نجس عام مطلق ہی رہے۔ اور عام کے انتفا سے خاص کا انتفا بھی ضروری ہے تو رینٹھ کے پاك ہونے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ حدث نہیں ۔ اور اسی میں مقصود ہے --- والله تعالی اعلم (ت)
۷۰ثم اقول : فــــ۱ حقیقت امر فــــ۲ یہ ہے کہ درد و مرض سے جو کچھ بہے اسے ناقض ماننا اس بناء پر ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجاسات کا ظن ہے خود محرر مذہب رضی اللہ تعالی عنہکے کلام مبارك میں اس کی تصریح ہے اور وہی ان فروع کا ماخذ صریح ہے تو زکام اس کے تحت میں آ ہی نہیں سکتا۔ منیہ میں ہے :
عن محمد اذا کان فی عینہ رمد ویسیل الدموع منھا امرہ بالوضوء لانی اخاف ان یکون ما یسیل عنہ صدید ۔
امام محمد سے منقول ہے کہ فرماتے ہیں : جب آنکھ میں آشوب ہو اور اس سے آنسو بہتاہو تو میں وضو کا حکم دوں گا اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے بہنے والا آنسو صدید (زخم کا پانی ) ہو ۔ (ت)
حلیہ میں ہے : کذا ذکرہ بنحوہ عنہ ھشام
(اسی کے ہم معنی امام محمد سے روایت کرتے ہوئے ہشام نے نوادر میں ذکر کیا ہے ۔ ت)
فــــ۱ : ۴۵معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ط۔
فــــ۲ مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ دردو مرض سے جوکچھ بہے اس وقت ناقض ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجا سات کا احتمال ہو۔
اور نجاست حاصل کر لے جیسے شراب جو پیشاب میں پڑ گئی ہو کہ اگر وہ سرکہ ہو جائے تو بھی پاك نہ ہو گی -----اور اگر اسے نہ مانو تو نجس عام مطلق ہی رہے۔ اور عام کے انتفا سے خاص کا انتفا بھی ضروری ہے تو رینٹھ کے پاك ہونے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ حدث نہیں ۔ اور اسی میں مقصود ہے --- والله تعالی اعلم (ت)
۷۰ثم اقول : فــــ۱ حقیقت امر فــــ۲ یہ ہے کہ درد و مرض سے جو کچھ بہے اسے ناقض ماننا اس بناء پر ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجاسات کا ظن ہے خود محرر مذہب رضی اللہ تعالی عنہکے کلام مبارك میں اس کی تصریح ہے اور وہی ان فروع کا ماخذ صریح ہے تو زکام اس کے تحت میں آ ہی نہیں سکتا۔ منیہ میں ہے :
عن محمد اذا کان فی عینہ رمد ویسیل الدموع منھا امرہ بالوضوء لانی اخاف ان یکون ما یسیل عنہ صدید ۔
امام محمد سے منقول ہے کہ فرماتے ہیں : جب آنکھ میں آشوب ہو اور اس سے آنسو بہتاہو تو میں وضو کا حکم دوں گا اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے بہنے والا آنسو صدید (زخم کا پانی ) ہو ۔ (ت)
حلیہ میں ہے : کذا ذکرہ بنحوہ عنہ ھشام
(اسی کے ہم معنی امام محمد سے روایت کرتے ہوئے ہشام نے نوادر میں ذکر کیا ہے ۔ ت)
فــــ۱ : ۴۵معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ط۔
فــــ۲ مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ دردو مرض سے جوکچھ بہے اس وقت ناقض ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجا سات کا احتمال ہو۔
حوالہ / References
منیۃ المصلی بیان نواقض وضو مکتبہ قادریہ لاہور ص۹۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیہ میں ہے :
لافرق فی ذلك بین العین وغیرھا بل کل ما یخرج من علۃ من ای موضع کان کالاذن والثدی و السرۃ ونحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید ۔
اس بارے میں آنکھ اور آنکھ کے علاوہ میں کوئی فرق نہیں بلکہ جو بھی کسی بیماری کی وجہ سے خارج ہو کان پستان ناف وغیرہ جس جگہ سے بھی ہو وہ اصح قول پر ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے۔ (ت)
اسی میں مثل فتح القدیر فــــ۱ تجنیس امام برہان الدین صاحب ہدایہ سے ہے :
لوخرج من سرتہ ماء اصفر وسال نقض لانہ دم قد نضج فاصفر وصار رقیقا ۔
اگر ناف سے زرد پانی نکل کر بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ خون ہے جو پك کر زرد اور رقیق ہو گیا ۔ (ت)
کافی میں ہے :
عن ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی اذاخرج فــــ۲ (ای من النفطۃ) ماء صاف لاینقض فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع فلا یکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطھارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے کہ اگر آبلہ سے صاف پانی نکلے تو وہ ناقض نہیں۔ اور قاضی خاں کی شرح جامع الصغیر میں ہے کہ حسن بن زیاد نے کہا : یہ پانی پسینہ اور آنسو کی طرح ہے تو وہ نجس نہ ہو گا اور اس کے نکلنے سے طہارت نہ جائے گی۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا پکا نہیں تو وہ پانی کے رنگ کا ہو جاتا ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : ناف سے زرد پانی بہہ کر نکلے وضو جاتا رہے۔
فــــ۲ : مسئلہ : دانے کا پانی اگر چہ صاف نتھرا ہو صحیح یہ ہے کہ وہ بھی ناپاك و ناقض وضو ہے ۔
لافرق فی ذلك بین العین وغیرھا بل کل ما یخرج من علۃ من ای موضع کان کالاذن والثدی و السرۃ ونحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید ۔
اس بارے میں آنکھ اور آنکھ کے علاوہ میں کوئی فرق نہیں بلکہ جو بھی کسی بیماری کی وجہ سے خارج ہو کان پستان ناف وغیرہ جس جگہ سے بھی ہو وہ اصح قول پر ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے۔ (ت)
اسی میں مثل فتح القدیر فــــ۱ تجنیس امام برہان الدین صاحب ہدایہ سے ہے :
لوخرج من سرتہ ماء اصفر وسال نقض لانہ دم قد نضج فاصفر وصار رقیقا ۔
اگر ناف سے زرد پانی نکل کر بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ خون ہے جو پك کر زرد اور رقیق ہو گیا ۔ (ت)
کافی میں ہے :
عن ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی اذاخرج فــــ۲ (ای من النفطۃ) ماء صاف لاینقض فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع فلا یکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطھارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے کہ اگر آبلہ سے صاف پانی نکلے تو وہ ناقض نہیں۔ اور قاضی خاں کی شرح جامع الصغیر میں ہے کہ حسن بن زیاد نے کہا : یہ پانی پسینہ اور آنسو کی طرح ہے تو وہ نجس نہ ہو گا اور اس کے نکلنے سے طہارت نہ جائے گی۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا پکا نہیں تو وہ پانی کے رنگ کا ہو جاتا ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : ناف سے زرد پانی بہہ کر نکلے وضو جاتا رہے۔
فــــ۲ : مسئلہ : دانے کا پانی اگر چہ صاف نتھرا ہو صحیح یہ ہے کہ وہ بھی ناپاك و ناقض وضو ہے ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۳
واذا کان دما کان نجسا ناقضا للوضوء ۔
اور جب وہ خون ہے تو نجس اور ناقض وضو ہو گا ۔ (ت)
بحر میں ہے :
لوکان فی عینیہ رمد یسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال ان یکون صدیدا
اگرآنکھوں میں آشوب ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہے تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ ہوسکتا ہے وہ زخم کا پانی ہو ۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لو کان بعینیہ رمد او عمش یسیل منھما الدموع قالوا یؤمر بالوضوء لوقت کل صلوۃ لاحتمال ان یکون صدیدا او قیحا۔
اگر آنکھوں میں آشوب یا عمش (چندھا پن) ہو کہ آنسو بہتے رہتے ہوں تو علماء نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے وقت اسے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ زخم کا پانی یا پیپ ہو ۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
تذکر الاحتلام و رأی بللا ان کان ودیا لایجب الغسل بلا خلاف وان کان منیا او مذیا یجب الغسل بالاجماع ولسنا نوجب الغسل بالمذی لکن المنی یرق باطالۃ المدۃ فکان مرادہ مایکون صورتہ المذی لاحقیقۃ المذی وعلی ھذا فــــ الاعمی ومن بعینیہ رمد سال الدمع ینبغی ان یتوضأ
احتلام یاد ہے اور تری دیکھی اگر ودی ہو تو بلا اختلاف غسل واجب نہیں اور اگر منی یا مذی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کہتے لیکن منی دیر ہو جانے سے رقیق ہو جاتی ہے تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہو حقیقت مذی مراد نہیں اور اسی بنیاد پر نابینا اور آشوب چشم والے کی آنکھ سے جب آنسو بہتا ہو تو اسے ہر نماز کے وقت
فــــ : مسئلہ : اندھے کی آنکھ سے جو پانی بہے وہ ناپاك اور ناقض وضو ہے ۔
اور جب وہ خون ہے تو نجس اور ناقض وضو ہو گا ۔ (ت)
بحر میں ہے :
لوکان فی عینیہ رمد یسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال ان یکون صدیدا
اگرآنکھوں میں آشوب ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہے تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ ہوسکتا ہے وہ زخم کا پانی ہو ۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
لو کان بعینیہ رمد او عمش یسیل منھما الدموع قالوا یؤمر بالوضوء لوقت کل صلوۃ لاحتمال ان یکون صدیدا او قیحا۔
اگر آنکھوں میں آشوب یا عمش (چندھا پن) ہو کہ آنسو بہتے رہتے ہوں تو علماء نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے وقت اسے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ زخم کا پانی یا پیپ ہو ۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
تذکر الاحتلام و رأی بللا ان کان ودیا لایجب الغسل بلا خلاف وان کان منیا او مذیا یجب الغسل بالاجماع ولسنا نوجب الغسل بالمذی لکن المنی یرق باطالۃ المدۃ فکان مرادہ مایکون صورتہ المذی لاحقیقۃ المذی وعلی ھذا فــــ الاعمی ومن بعینیہ رمد سال الدمع ینبغی ان یتوضأ
احتلام یاد ہے اور تری دیکھی اگر ودی ہو تو بلا اختلاف غسل واجب نہیں اور اگر منی یا مذی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کہتے لیکن منی دیر ہو جانے سے رقیق ہو جاتی ہے تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہو حقیقت مذی مراد نہیں اور اسی بنیاد پر نابینا اور آشوب چشم والے کی آنکھ سے جب آنسو بہتا ہو تو اسے ہر نماز کے وقت
فــــ : مسئلہ : اندھے کی آنکھ سے جو پانی بہے وہ ناپاك اور ناقض وضو ہے ۔
حوالہ / References
الکافی شرح الوافی
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی۱ / ۳۲
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۹
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی۱ / ۳۲
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۴۹
لوقت کل صلاۃ لاحتمال خروج القیح والصدید ۔
کے لئے وضو کرنا چاہئے اس لئے کہ پیپ اور زخم کا پانی نکلنے کا احتمال ہے ۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ولو منیا او مذیا لزم لان الغالب انہ منی رق بمضی الزمان وعن ھذا قالوا ان الاعمی اومن بہ رمد اذا سال الدمع یتوضؤ لوقت کل صلاۃ لاحتمال کونہ قیحا اوصدیدا ۔
خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع غسل نہیں اور اگر منی یا مذی دیکھی تو لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہو گئی اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ نابینا اور آشوب والے کا جب آنسو برابر بہے تو وہ ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرے اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ آنسو در اصل پیپ یا زخم کا پانی (صدید) ہو ۔ (ت)
بالجملہ مجرد رطوبت کہ مرض سے سائل ہو مطلقا فی نفسہا ہرگز ناقض نہیں بلکہ احتمال خون و ریم کے سبب ولہذاامام ابن الہمام کی رائے اس طرف گئی کہ مسائل مذکورہ میں امام محمد کا حکم وضو استحبابی ہے اسلئے کہ خون وغیرہ ہونا محتمل ہے اور احتمال سے وضو نہیں جاتا مگر یہ کہ خبر اطباء یا علامات سے ظن غالب ہوکہ یہ خون یا ریم ہے تو ضرور وجوب ہوگا۔ فتح میں قبیل فصل فی النفاس فرمایا :
فی عینہ رمد یسیل دمعھا یؤمر بالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا و اقول : ھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب فان الشك والاحتمال فی کونہ ناقضا
ایسا آشوب چشم ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہو تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ صدید(زخم کا پانی) ہونے کا احتمال ہے میں کہتا ہوں اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو اس لئے کہ اس کے ناقض ہونے
کے لئے وضو کرنا چاہئے اس لئے کہ پیپ اور زخم کا پانی نکلنے کا احتمال ہے ۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ولو منیا او مذیا لزم لان الغالب انہ منی رق بمضی الزمان وعن ھذا قالوا ان الاعمی اومن بہ رمد اذا سال الدمع یتوضؤ لوقت کل صلاۃ لاحتمال کونہ قیحا اوصدیدا ۔
خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع غسل نہیں اور اگر منی یا مذی دیکھی تو لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہو گئی اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ نابینا اور آشوب والے کا جب آنسو برابر بہے تو وہ ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرے اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ آنسو در اصل پیپ یا زخم کا پانی (صدید) ہو ۔ (ت)
بالجملہ مجرد رطوبت کہ مرض سے سائل ہو مطلقا فی نفسہا ہرگز ناقض نہیں بلکہ احتمال خون و ریم کے سبب ولہذاامام ابن الہمام کی رائے اس طرف گئی کہ مسائل مذکورہ میں امام محمد کا حکم وضو استحبابی ہے اسلئے کہ خون وغیرہ ہونا محتمل ہے اور احتمال سے وضو نہیں جاتا مگر یہ کہ خبر اطباء یا علامات سے ظن غالب ہوکہ یہ خون یا ریم ہے تو ضرور وجوب ہوگا۔ فتح میں قبیل فصل فی النفاس فرمایا :
فی عینہ رمد یسیل دمعھا یؤمر بالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا و اقول : ھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب فان الشك والاحتمال فی کونہ ناقضا
ایسا آشوب چشم ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہو تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ صدید(زخم کا پانی) ہونے کا احتمال ہے میں کہتا ہوں اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو اس لئے کہ اس کے ناقض ہونے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳
الفتاوی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰ ، ۱۱
الفتاوی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰ ، ۱۱
لا یوجب الحکم بالنقض اذا لیقین لایزول بالشك والله اعلم نعم اذا علم من طریق غلبۃ الظن باخبار الاطباء اوعلامات تغلب ظن المبتلی یجب ۔
میں شك و احتمال حکم نقض کا موجب نہیں اس لئے کہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا والله تعالی اعلم ہاں وجوب اس وقت ہو گا جب غلبہ ظن کے طور پر علم ہو جائے اطبا ء کے بتانے یا ایسی علامات کے ذریعہ جن سے مبتلا کو غلبہ ظن حاصل ہو ۔ (ت)
اسی طرف ان کے تلمیذ ارشد امام ابن امیر الحاج نے میل کیا اور اس کی تائید میں فرمایا :
یشھد لھذا مافی شرح الزاھدی عقب ھذہ المسئلۃ وعن ھشام فی جامعہ انکان قیحا فکالمستحاضۃ والافکا لصحیح ۔
اس پر شاہد وہ ہے جو شرح زاہدی میں ا س مسئلہ کے بعد ہے اور ہشام سے ان کی جامع میں روایت ہے کہ اگر پیپ ہو تو مستحاضہ کی طرح ورنہ تندرست کی طرح ہے ۔ (ت)
یونہی محقق بحر نے بحر الرائق میں کلام فتح باب وضو میں بلا عزو ذکر کیا اور مقرر رکھا اور باب الحیض میں ھو حسن فرمایا اور تحقیق فــــ یہی ہے کہ حکم استحبابی نہیں بلکہ احتیا ط ایجابی ہے مشائخ مذہب سے تصریح وجوب منقول ہے ۔ خود فتح القدیر فصل نواقض الوضوء میں فرمایا :
ثم الجرح والنفطۃ وماء الثدی والسرۃ والاذن اذا کان لعلۃ سواء علی الاصح و علی ھذا قالوا من رمدت عینہ وسال الماء منھا وجب علیہ الوضوء فان استمر فلوقت کل صلاۃ وفی التجنیس الغرب
پھر زخم و آبلہ اور پستان ناف اور کا ن کا پانی جب کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو بر قول اصح سب برابر ہیں اسی بنیاد پر علماء نے فرمایا : جسے آشوب چشم ہو اور آنکھ
فــــ : مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ درد یا علت سے جو رطوبت بہے اس میں صرف احتمال خون و ریم ہونا ہی وجوب وضو کو کافی ہے اگرچہ فتح وحلیہ میں استحباب مانا۔
میں شك و احتمال حکم نقض کا موجب نہیں اس لئے کہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا والله تعالی اعلم ہاں وجوب اس وقت ہو گا جب غلبہ ظن کے طور پر علم ہو جائے اطبا ء کے بتانے یا ایسی علامات کے ذریعہ جن سے مبتلا کو غلبہ ظن حاصل ہو ۔ (ت)
اسی طرف ان کے تلمیذ ارشد امام ابن امیر الحاج نے میل کیا اور اس کی تائید میں فرمایا :
یشھد لھذا مافی شرح الزاھدی عقب ھذہ المسئلۃ وعن ھشام فی جامعہ انکان قیحا فکالمستحاضۃ والافکا لصحیح ۔
اس پر شاہد وہ ہے جو شرح زاہدی میں ا س مسئلہ کے بعد ہے اور ہشام سے ان کی جامع میں روایت ہے کہ اگر پیپ ہو تو مستحاضہ کی طرح ورنہ تندرست کی طرح ہے ۔ (ت)
یونہی محقق بحر نے بحر الرائق میں کلام فتح باب وضو میں بلا عزو ذکر کیا اور مقرر رکھا اور باب الحیض میں ھو حسن فرمایا اور تحقیق فــــ یہی ہے کہ حکم استحبابی نہیں بلکہ احتیا ط ایجابی ہے مشائخ مذہب سے تصریح وجوب منقول ہے ۔ خود فتح القدیر فصل نواقض الوضوء میں فرمایا :
ثم الجرح والنفطۃ وماء الثدی والسرۃ والاذن اذا کان لعلۃ سواء علی الاصح و علی ھذا قالوا من رمدت عینہ وسال الماء منھا وجب علیہ الوضوء فان استمر فلوقت کل صلاۃ وفی التجنیس الغرب
پھر زخم و آبلہ اور پستان ناف اور کا ن کا پانی جب کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو بر قول اصح سب برابر ہیں اسی بنیاد پر علماء نے فرمایا : جسے آشوب چشم ہو اور آنکھ
فــــ : مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ درد یا علت سے جو رطوبت بہے اس میں صرف احتمال خون و ریم ہونا ہی وجوب وضو کو کافی ہے اگرچہ فتح وحلیہ میں استحباب مانا۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الاستحاضۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۱۶۴
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱۶
فی العین اذا سال منہ ماء نقض لانہ کالجرح ولیس بدمع الخ۔
سے پانی بہے تو اس پر وضو واجب ہے اگر برابر بہے تو ہر نماز کے وقت کے لئے واجب ہے اور تجنیس میں ہے : آنکھ کی پھنسی سے جب پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ زخم کی طرح ہے آنسو نہیں ہے ۔ الخ(ت)
اور تقریر محقق علی الاطلاق فــــ۱ کا جواب ان عبارات جلیلہ سے واضح جو ابھی خلاصہ و بزازیہ سے منقول ہوئیں کہ جس طرح احتلام یاد ہو نے کی حالت میں صریح مذی کے دیکھنے سے بھی غسل بالاجماع واجب ہے حالانکہ مذی سے بالاجماع غسل واجب نہیں مگر احتیاطا حکم وجوب ہوا ۔ خود محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں نقل فرمایا :
النوم مظنۃ الاحتلام فیحال بہ علیہ ثم یحتمل انہ کان منیا فرق بواسطۃ الھواء ۔
نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اس تری کو اس کے حوالہ کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا کی وجہ سے رقیق ہو گئی۔ (ت)
اسی طرح یہاں وجود مرض مظنہ خروج خون و ریم ہے تو امر عبادات میں احتیاطا حکم وجوب ہوا ۔ منحۃ الخالق میں ہے :
قولہ وھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب الخ ردہ فی النھر بان الامر للو جوب حقیقۃ وھذا الاحتمال راجح وبان فی فتح القدیر صرح بالوجوب وکذا فی المجتبی قال یجب علیہ الوضوء والناس عنہ غافلون اھ مافی المنحۃ۔
۷۱اقول : والاولی فــــ۲ ان یقول قول محقق “ اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو “ اسے نہر میں یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ امر حقیقۃ وجوب کے لئے ہے اور یہ احتمال راجح ہے اور یہ کہ خود فتح القدیر میں وجوب کی تصریح ہے اسی طرح مجتبی میں ہے کہ اس پر وضو واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں ۔ ا ھ منحہ کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)
اقول : اولی یہ کہنا ہے کہ وجوب پر
فــــ۱ : ۴۶تطفل علی الفتح ۔
فــــ۲ : ۴۷تطفل علی النہر۔
سے پانی بہے تو اس پر وضو واجب ہے اگر برابر بہے تو ہر نماز کے وقت کے لئے واجب ہے اور تجنیس میں ہے : آنکھ کی پھنسی سے جب پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ زخم کی طرح ہے آنسو نہیں ہے ۔ الخ(ت)
اور تقریر محقق علی الاطلاق فــــ۱ کا جواب ان عبارات جلیلہ سے واضح جو ابھی خلاصہ و بزازیہ سے منقول ہوئیں کہ جس طرح احتلام یاد ہو نے کی حالت میں صریح مذی کے دیکھنے سے بھی غسل بالاجماع واجب ہے حالانکہ مذی سے بالاجماع غسل واجب نہیں مگر احتیاطا حکم وجوب ہوا ۔ خود محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں نقل فرمایا :
النوم مظنۃ الاحتلام فیحال بہ علیہ ثم یحتمل انہ کان منیا فرق بواسطۃ الھواء ۔
نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اس تری کو اس کے حوالہ کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا کی وجہ سے رقیق ہو گئی۔ (ت)
اسی طرح یہاں وجود مرض مظنہ خروج خون و ریم ہے تو امر عبادات میں احتیاطا حکم وجوب ہوا ۔ منحۃ الخالق میں ہے :
قولہ وھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب الخ ردہ فی النھر بان الامر للو جوب حقیقۃ وھذا الاحتمال راجح وبان فی فتح القدیر صرح بالوجوب وکذا فی المجتبی قال یجب علیہ الوضوء والناس عنہ غافلون اھ مافی المنحۃ۔
۷۱اقول : والاولی فــــ۲ ان یقول قول محقق “ اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو “ اسے نہر میں یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ امر حقیقۃ وجوب کے لئے ہے اور یہ احتمال راجح ہے اور یہ کہ خود فتح القدیر میں وجوب کی تصریح ہے اسی طرح مجتبی میں ہے کہ اس پر وضو واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں ۔ ا ھ منحہ کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)
اقول : اولی یہ کہنا ہے کہ وجوب پر
فــــ۱ : ۴۶تطفل علی الفتح ۔
فــــ۲ : ۴۷تطفل علی النہر۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۳۴
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۵۴
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۳۔ ۳۲
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۵۴
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۳۔ ۳۲
ان الوجوب منصوص علیہ کما نقلہ فی فتح القدیر وذلك لما علمت ان المحقق انما نقلہ فی النواقض بلفظۃ قالوا وبحث بنفسہ فی الحیض ان لاوجوب مالم یغلب علی الظن بامارۃ او اخبار طبیب۔
نص موجود ہے جیسا کہ اسے فتح القدیر میں نقل کیا ہے اس لئے کہ ناظر کو معلوم ہے کہ حضرت محقق نے تصریح وجوب بلفظ قالوا ( مشائخ نے فرمایا ) نقل کی ہے اور باب حیض میں خود بحث کی ہے کہ جب تك کسی علامت یا طبیب کے بتانے سے غلبہ ظن نہ حاصل ہو وجوب نہیں ۔ (ت)
اخیر میں صاحب بحر نے بھی کلام فتح پر استدراك فرما کر مان لیا کہ یہ حکم وجوب کے لئے ہے ۔ باب الحیض میں فرمایا :
وھو حسن لکن صرح فی السراج الوھاج بانہ صاحب عذر فکان الامر للایجاب ۔
یہ بحث اچھی ہے لیکن سراج وہاج میں تصریح ہے کہ وہ صاحب عذر ہے تو امر برائے ایجاب ہے ۔ (ت)
غرض فریقین تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ مدار اس رطوبت کے خون و ریم ہونے پر ہے قول تحقیق میں احتیاطا احتمال دم پر ایجاب کیا اور خیال محقق و تلمیذ محقق میں جب تك دم کا غلبہ ظن نہ ہو استحباب رہا ۔
ولہذا اشك رمد میں محقق ابن امیر الحاج نے بحثا یہ قید بڑھائی کہ اس کا رنگ متغیر ہو جس سے احتمال خون ظاہر ہو ۔
حلیہ میں فرمایا :
وعلی ھذا فما فیہ (ای فی المجتبی) ان من رمدت عینہ فسال منھا ماء بسبب رمد ینتقض وضوئہ انتھی ینبغی ان یحمل علی مااذا کان الماء الخارج من العین متغیر بسبب ذلك اھ مختصرا۔
اس بنیاد پر کلام مجتبی “ جس کی آنکھ میں آشوب ہو اور اس کی وجہ سے آنکھ سے پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا “ انتہی۔ اس صورت پر محمول ہونا چاہئے جب آنکھ سے نکلنے والا پانی اس کی وجہ سے بدلا ہوا ہو ۔ ا ھ مختصرا(ت)
۷۲اقول : اور تحقیق فــــ وہی ہے کہ وجود مرض مظنہ دم ہے اس کے ساتھ شہادت صورت کی
فــــ: ۴۸تطفل علی الحلیۃ
نص موجود ہے جیسا کہ اسے فتح القدیر میں نقل کیا ہے اس لئے کہ ناظر کو معلوم ہے کہ حضرت محقق نے تصریح وجوب بلفظ قالوا ( مشائخ نے فرمایا ) نقل کی ہے اور باب حیض میں خود بحث کی ہے کہ جب تك کسی علامت یا طبیب کے بتانے سے غلبہ ظن نہ حاصل ہو وجوب نہیں ۔ (ت)
اخیر میں صاحب بحر نے بھی کلام فتح پر استدراك فرما کر مان لیا کہ یہ حکم وجوب کے لئے ہے ۔ باب الحیض میں فرمایا :
وھو حسن لکن صرح فی السراج الوھاج بانہ صاحب عذر فکان الامر للایجاب ۔
یہ بحث اچھی ہے لیکن سراج وہاج میں تصریح ہے کہ وہ صاحب عذر ہے تو امر برائے ایجاب ہے ۔ (ت)
غرض فریقین تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ مدار اس رطوبت کے خون و ریم ہونے پر ہے قول تحقیق میں احتیاطا احتمال دم پر ایجاب کیا اور خیال محقق و تلمیذ محقق میں جب تك دم کا غلبہ ظن نہ ہو استحباب رہا ۔
ولہذا اشك رمد میں محقق ابن امیر الحاج نے بحثا یہ قید بڑھائی کہ اس کا رنگ متغیر ہو جس سے احتمال خون ظاہر ہو ۔
حلیہ میں فرمایا :
وعلی ھذا فما فیہ (ای فی المجتبی) ان من رمدت عینہ فسال منھا ماء بسبب رمد ینتقض وضوئہ انتھی ینبغی ان یحمل علی مااذا کان الماء الخارج من العین متغیر بسبب ذلك اھ مختصرا۔
اس بنیاد پر کلام مجتبی “ جس کی آنکھ میں آشوب ہو اور اس کی وجہ سے آنکھ سے پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا “ انتہی۔ اس صورت پر محمول ہونا چاہئے جب آنکھ سے نکلنے والا پانی اس کی وجہ سے بدلا ہوا ہو ۔ ا ھ مختصرا(ت)
۷۲اقول : اور تحقیق فــــ وہی ہے کہ وجود مرض مظنہ دم ہے اس کے ساتھ شہادت صورت کی
فــــ: ۴۸تطفل علی الحلیۃ
حوالہ / References
البحرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۲۱۶
حلیۃا لمحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃا لمحلی شرح منیۃ المصلی
حاجت نہیں جس طرح مسئلہ مذی میں معلوم ہوا ۔
ولہذا امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں ناف سے جو پانی نکلے اس کے زرد رنگ ہونے کی شرط لگائی کہ احتمال دمویت ظاہر ہو کما قدمنا نقلہ ( جیسا کہ ہم اس کی عبارت پہلے نقل کر چکے۔ ت)
۷۳اقول : اور یہ منافی تحقیق نہیں کہ امام ممدوح کا یہاں کلام صورت وجود مرض میں نہیں اور بلا مرض بلاشبہ حکم دمویت کے لئے شہادت صورت کی حاجت۔
ولہذا امام حسن بن زیاد فــــ نے فرمایا اور وہ ایك روایت نادرہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے بھی ہے اور جوہرہ و ینا بیع وغیرہما بعض کتب میں اس پر جزم کیا اور امام حلوانی نے خارش اور آبلے والوں کیلئے اسی میں وسعت بتائی کہ دانوں سے جو صاف نتھرا پانی نکلے نہ ناپاك ہے نہ ناقض وضو کہ رنگت کی صفائی احتمال خون و ریم کو ضعیف کرتی ہے۔
کما تقدم نقلہ وذکر الطحطاوی نفسہ فی حاشیتہ علی مراقی الفلاح مانصہ عن الحسن ان ماء النفطۃ لاینقض قال الحلوانی وفیہ وسعۃ لمن بہ جرب اوجدری اومجل وفی الجوھرۃ عن الینا بیع الماء الصافی اذا خرج من النفطۃ لاینقض (الی قولہ) قال العارف بالله سیدی عبدالغنی النابلسی وینبغی ان یحکم بروایۃ عدم النقض بالصافی الذی یخرج من النفطۃ فی کی الحمصۃ وان ما یخرج منھا
جیسا کہ اس کی نقل گزر چکی اور خود سید طحطاوی نے اپنے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ لکھا ہے : حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقض وضو نہیں امام حلوانی نے فرمایا : خارش چیچك اور آبلے والوں کے لئے اس میں وسعت ہے اور جوہرہ میں ینابیع سے نقل ہے کہ جب آبلے سے صاف پانی نکلے تو ناقض نہیں ( الی قولہ) عارف بالله سیدی عبدالغنی نابلسی نے فرمایا : کی الحمصہ میں آبلے سے نکلنے والے صاف پانی کی وجہ سے عدم نقض کی روایت پر حکم ہونا چاہئے اور یہ کہ اس سے جو نکلتا ہے وہ
فــــ : مسئلہ : دانے سے جو صاف ستھرا پانی نکلے متعدد روایات میں پاك ہے اور اس سے وضو نہیں جاتا۔ کھجلی والوں کو اس میں بہت وسعت ہے بحال ضرورت اس پر عمل کرسکتے ہیں اگر چہ قول صحیح اس کے خلاف ہے۔
ولہذا امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں ناف سے جو پانی نکلے اس کے زرد رنگ ہونے کی شرط لگائی کہ احتمال دمویت ظاہر ہو کما قدمنا نقلہ ( جیسا کہ ہم اس کی عبارت پہلے نقل کر چکے۔ ت)
۷۳اقول : اور یہ منافی تحقیق نہیں کہ امام ممدوح کا یہاں کلام صورت وجود مرض میں نہیں اور بلا مرض بلاشبہ حکم دمویت کے لئے شہادت صورت کی حاجت۔
ولہذا امام حسن بن زیاد فــــ نے فرمایا اور وہ ایك روایت نادرہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے بھی ہے اور جوہرہ و ینا بیع وغیرہما بعض کتب میں اس پر جزم کیا اور امام حلوانی نے خارش اور آبلے والوں کیلئے اسی میں وسعت بتائی کہ دانوں سے جو صاف نتھرا پانی نکلے نہ ناپاك ہے نہ ناقض وضو کہ رنگت کی صفائی احتمال خون و ریم کو ضعیف کرتی ہے۔
کما تقدم نقلہ وذکر الطحطاوی نفسہ فی حاشیتہ علی مراقی الفلاح مانصہ عن الحسن ان ماء النفطۃ لاینقض قال الحلوانی وفیہ وسعۃ لمن بہ جرب اوجدری اومجل وفی الجوھرۃ عن الینا بیع الماء الصافی اذا خرج من النفطۃ لاینقض (الی قولہ) قال العارف بالله سیدی عبدالغنی النابلسی وینبغی ان یحکم بروایۃ عدم النقض بالصافی الذی یخرج من النفطۃ فی کی الحمصۃ وان ما یخرج منھا
جیسا کہ اس کی نقل گزر چکی اور خود سید طحطاوی نے اپنے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ لکھا ہے : حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقض وضو نہیں امام حلوانی نے فرمایا : خارش چیچك اور آبلے والوں کے لئے اس میں وسعت ہے اور جوہرہ میں ینابیع سے نقل ہے کہ جب آبلے سے صاف پانی نکلے تو ناقض نہیں ( الی قولہ) عارف بالله سیدی عبدالغنی نابلسی نے فرمایا : کی الحمصہ میں آبلے سے نکلنے والے صاف پانی کی وجہ سے عدم نقض کی روایت پر حکم ہونا چاہئے اور یہ کہ اس سے جو نکلتا ہے وہ
فــــ : مسئلہ : دانے سے جو صاف ستھرا پانی نکلے متعدد روایات میں پاك ہے اور اس سے وضو نہیں جاتا۔ کھجلی والوں کو اس میں بہت وسعت ہے بحال ضرورت اس پر عمل کرسکتے ہیں اگر چہ قول صحیح اس کے خلاف ہے۔
لاینقض اذاکان ماء صافیا ۔
ناقض نہیں جب کہ صاف پانی ہو۔ (ت)
جوہرہ نیرہ کی عبارت یہ ہے :
العرق المدمی فــــ۱ اذا خرج من البدن لاینقض لانہ خیط لامائع واما الذی فــــ۲ یسیل منہ ان کان صافیا لاینقض قال فی الینابیع الماء الصافی الخ
عرق مدمی (ناروکا ڈورا) بدن سے نکلے تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ وہ کوئی سیال چیز نہیں بلکہ ایك دھاگا ہے اور بدن سے جو بہتا ہو اگر صاف ہے تو ناقض نہیں ۔ ینابیع میں کہا : صاف پانی الخ۔ (ت)
یہاں بھی اگرچہ صحیح وہی ہے کہ صاف پانی بھی ناقض مگر نہ اس لئے کہ مطلقا جو رطوبت مرض سے نکلے ناقض ہے بلکہ اسی وجہ سے کہ دانوں آبلوں کے پانی میں ظن راجح یہی ہے کہ خون و ریم رقیق ہوکر پانی ہوگئے کما اسلفنا عن الامام فقیہ النفس قاضی خاں (جیسا کہ امام فقیہ النفس قاضی خان سے نقل گزری ۔ ت)
بالجملہ ان کے کلمات قاطبۃ ناطق ہیں کہ حکم نقض احتمال وظن خون وریم کے ساتھ دائر ہے نہ کہ زکام سے ناك بہی اور وضو گیا بحران فــــ۳ میں پسینہ آیا اور وضو گیا پستان کی قوت ماسکہ ضعیف ہونے سے دودھ بہا اور وضو گیا ہرگز نہ اسکا کوئی قائل نہ قواعد مذہب اس پر مائل۔
۷۴اقول : ان تمام فــــ۴دلائل قاہرہ و حل بازغ کے بعد اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ استظہار آپ ہی واجب الردتھا زکام ایك عام چیز ہے غالبا جیسے دنیا بنی کوئی فرد بشر جس نے چند سال عمر پائی ہو اسے کبھی نہ کبھی اگرچہ جاڑوں ہی کی فصل میں زکام ضرور ہوا ہوگا یقین عادی کی رو سے کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام و
فــــ۱ : : بدن سے ناروکا ڈورا نکلنے سے وضو نہ جائے گا۔
فــــ۲ : مسئلہ : نارو سے رطوبت بہے تو وضو جاتارہے اگرچہ صاف سفید پانی ہو۔
فــــ۳ : مسئلہ : بحران کے پسینہ سے وضو نہیں جاتا۔
فــــ۴ : ۴۹معروضۃرابعۃ علی العلامۃ ط۔
ناقض نہیں جب کہ صاف پانی ہو۔ (ت)
جوہرہ نیرہ کی عبارت یہ ہے :
العرق المدمی فــــ۱ اذا خرج من البدن لاینقض لانہ خیط لامائع واما الذی فــــ۲ یسیل منہ ان کان صافیا لاینقض قال فی الینابیع الماء الصافی الخ
عرق مدمی (ناروکا ڈورا) بدن سے نکلے تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ وہ کوئی سیال چیز نہیں بلکہ ایك دھاگا ہے اور بدن سے جو بہتا ہو اگر صاف ہے تو ناقض نہیں ۔ ینابیع میں کہا : صاف پانی الخ۔ (ت)
یہاں بھی اگرچہ صحیح وہی ہے کہ صاف پانی بھی ناقض مگر نہ اس لئے کہ مطلقا جو رطوبت مرض سے نکلے ناقض ہے بلکہ اسی وجہ سے کہ دانوں آبلوں کے پانی میں ظن راجح یہی ہے کہ خون و ریم رقیق ہوکر پانی ہوگئے کما اسلفنا عن الامام فقیہ النفس قاضی خاں (جیسا کہ امام فقیہ النفس قاضی خان سے نقل گزری ۔ ت)
بالجملہ ان کے کلمات قاطبۃ ناطق ہیں کہ حکم نقض احتمال وظن خون وریم کے ساتھ دائر ہے نہ کہ زکام سے ناك بہی اور وضو گیا بحران فــــ۳ میں پسینہ آیا اور وضو گیا پستان کی قوت ماسکہ ضعیف ہونے سے دودھ بہا اور وضو گیا ہرگز نہ اسکا کوئی قائل نہ قواعد مذہب اس پر مائل۔
۷۴اقول : ان تمام فــــ۴دلائل قاہرہ و حل بازغ کے بعد اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ استظہار آپ ہی واجب الردتھا زکام ایك عام چیز ہے غالبا جیسے دنیا بنی کوئی فرد بشر جس نے چند سال عمر پائی ہو اسے کبھی نہ کبھی اگرچہ جاڑوں ہی کی فصل میں زکام ضرور ہوا ہوگا یقین عادی کی رو سے کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام و
فــــ۱ : : بدن سے ناروکا ڈورا نکلنے سے وضو نہ جائے گا۔
فــــ۲ : مسئلہ : نارو سے رطوبت بہے تو وضو جاتارہے اگرچہ صاف سفید پانی ہو۔
فــــ۳ : مسئلہ : بحران کے پسینہ سے وضو نہیں جاتا۔
فــــ۴ : ۴۹معروضۃرابعۃ علی العلامۃ ط۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح فصل فی نواقض الوضوء دار الکتب العلمیۃ بیروت ص۸۷ ، ۸۸
الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۸
الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۸
تابعین اعلام وائمہ عظام رضی اللہ تعالی عنہمکو خود بھی عارض ہوا ہو ایسی عموم بلوی کی چیز میں اگر نقض وضو کا حکم ہوتا تو ایك جہان اس سے مطلع ہوتا مشہور ومستفیض حدیثوں میں اس کی تصریح آئی ہوتی کتب ظاہر الروایۃ سے لے کر متون وشروح وفتاوی سب اس کے حکم سے مملو ہوتے نہ کہ بارہ سو برس کے بعد ایك مصری فاضل سید علامہ طحطاوی بعض عبارات سے اسے بطور احتمال نکالیں اور خود بھی اس کے اصل موضع بیان یعنی نواقض وضو کے ذکر تك اس کی طرف ان کا ذہن نہ جائے حالانکہ آب رمد وغیرہ کا مسئلہ درمختار میں وہاں بھی مذکور تھا باب الحیض میں جاکر خیال تازہ پیدا ہو ایسا خیال زنہار قابل قبول نہیں ہوسکتا تمام اصول حدیث واصول فقہ اس پر شاہد ہیں ہاں جسے رعاف فــــ یعنی ناك سے خون جانے کا مرض ہے اور اسی حالت میں اسے زکام ہوا اور خون نکلنے کے غیر اوقات میں جو ریزش زکام کی آتی ہے سرخی لیے متغیر اللون آتی ہے جس سے آمیزش خون مظنون ہے تو اس صورت میں نقض وضو کا حکم ظاہر ہے۔
وانما شرطنا ھھنا تغیر اللون المذکور لان العلۃ وان کانت موجودۃ فالمخاط لایحدث منھا اعنی من الرعاف فاذا کان صافیا کان من محض الزکام واذا تغیر استند تغیرہ الی الرعاف بناء علی الظاھر وان امکن استنادہ الی اسباب اخر ھذا ماعندی وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالی ورأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الغنیۃ عند قولہ ناقض علی الاصح لانہ صدید
یہاں ہم نے رنگ مذکور کے بدل جانے کی شرط رکھی اس لیے کہ بیماری اگرچہ موجود ہے مگر اس سے یعنی نکسیر سے رینٹھ نہیں آتی تو اگر وہ صاف ہے تو خالص زکام سے ہے اور رنگ بدلا ہوا ہے تو ظاہر پر بنا کرتے ہوئے اس کے تغیر کی نسبت نکسیر کی جانب ہو گی اگرچہ دوسرے اسباب کی جانب بھی استناد ممکن ہے یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے اور امید رکھتا ہوں کہ درست ہوگا اگر الله نے چاہا۔ اور میں نے دیکھا کہ اپنے نسخہ غنیہ کے حاشیہ پر اس کی عبارت “ ناقض علی الاصح لانہ صدید “ (برقول اصح وہ ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے ) کے
فــــ : مسئلہ : جسے ناك سے خون جاتاہو اسی حالت میں اسے زکام ہو اور ریزش سرخی لئے نکلے اگرچہ اس وقت خون بہنا معلوم نہ ہو اس کی یہ ریزش بھی ناقض وضو ہے۔
وانما شرطنا ھھنا تغیر اللون المذکور لان العلۃ وان کانت موجودۃ فالمخاط لایحدث منھا اعنی من الرعاف فاذا کان صافیا کان من محض الزکام واذا تغیر استند تغیرہ الی الرعاف بناء علی الظاھر وان امکن استنادہ الی اسباب اخر ھذا ماعندی وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالی ورأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الغنیۃ عند قولہ ناقض علی الاصح لانہ صدید
یہاں ہم نے رنگ مذکور کے بدل جانے کی شرط رکھی اس لیے کہ بیماری اگرچہ موجود ہے مگر اس سے یعنی نکسیر سے رینٹھ نہیں آتی تو اگر وہ صاف ہے تو خالص زکام سے ہے اور رنگ بدلا ہوا ہے تو ظاہر پر بنا کرتے ہوئے اس کے تغیر کی نسبت نکسیر کی جانب ہو گی اگرچہ دوسرے اسباب کی جانب بھی استناد ممکن ہے یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے اور امید رکھتا ہوں کہ درست ہوگا اگر الله نے چاہا۔ اور میں نے دیکھا کہ اپنے نسخہ غنیہ کے حاشیہ پر اس کی عبارت “ ناقض علی الاصح لانہ صدید “ (برقول اصح وہ ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے ) کے
فــــ : مسئلہ : جسے ناك سے خون جاتاہو اسی حالت میں اسے زکام ہو اور ریزش سرخی لئے نکلے اگرچہ اس وقت خون بہنا معلوم نہ ہو اس کی یہ ریزش بھی ناقض وضو ہے۔
مانصہ۔
قلت : تعلیلہ النقض بانہ صدید یبعد استظہار الطحطاوی النقض بالزکام لکونہ ماء سال من علۃ وتعقبہ الشامی بما صرحوا بان ماء فم النائم طاھر وان کان منتنا
اقول : لکن فیہ ان النوم یرخی والمکث ینتن فلم یلزم کونہ من علۃ وانما الناقض مامنھا فافھم۔
لکنی اقول : الزکام امر عام ولعلہ لم یکن انسان الاابتلی بہ فی عمرہ مرارا ومتیقن انہ وقع فی کل قرن وکل طبقۃ بل کل عام وفی عھد الرسالۃ و زمن الصحابۃ وایام الائمۃ بل لعلھم زکموا بانفسھم ایضا فلوکان ناقضا لوجب ان یشتھر حکمہ ویملأ الاسماع ویعم البقاع ویتدفق منہ بحار الاسفار قدیما وحدیثا لاان
تحت میں نے یہ لکھا ہے :
قلت : صدید (زخم کا پانی) ہونے سے نقض کی تعلیل علامہ طحطاوی کے اس استظہار کو بعید قرار دیتی ہے جو زکام کے ناقض وضو ہونے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے اس لئے کہ وہ ایك بیماری سے بہنے والا پانی ہے اور علامہ شامی نے اس پر علماء کی اس تصریح سے تعاقب کیا ہے کہ سونے والے کے منہ کا پانی پاك ہے اگرچہ بدبو دار ہو ۔
اقول : لیکن اس پر یہ کلام ہے کہ نیند کی وجہ سے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں (اس لئے منہ کا پانی باہر آ جاتا ہے) اور دیر گزرنے سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے تو یہ لازم نہ آیا کہ وہ پانی کسی بیماری کی وجہ سے نکلا ہے اور ناقض وہی ہے جو کسی بیماری سے ہو---- تو اسے سمجھو ۔
لکنی اقول (لیکن میں کہتا ہوں) زکام ایك عام سی چیز ہے شاید کوئی انسان ایسا نہ گزرا ہو جسے اپنی عمر میں چند بار زکام نہ ہوا ہو اور یقین ہے کہ ہر قرن ہر طبقہ بلکہ ہر سال واقع ہوا ہے اور عہد رسالت زمانہ صحابہ اور دور ائمہ میں بھی ہوا ہے بلکہ خود ان حضرات کو بھی زکام ہوا ہو گا اگر یہ ناقض وضو ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کا حکم مشہور ہو لوگوں کے کان اس سے خوب خوب آشنا ہوں کہ سارے علاقوں میں پھیل جائے اور فقہ و حدیث کی قدیم و جدید کتابیں اس کے ذکر
قلت : تعلیلہ النقض بانہ صدید یبعد استظہار الطحطاوی النقض بالزکام لکونہ ماء سال من علۃ وتعقبہ الشامی بما صرحوا بان ماء فم النائم طاھر وان کان منتنا
اقول : لکن فیہ ان النوم یرخی والمکث ینتن فلم یلزم کونہ من علۃ وانما الناقض مامنھا فافھم۔
لکنی اقول : الزکام امر عام ولعلہ لم یکن انسان الاابتلی بہ فی عمرہ مرارا ومتیقن انہ وقع فی کل قرن وکل طبقۃ بل کل عام وفی عھد الرسالۃ و زمن الصحابۃ وایام الائمۃ بل لعلھم زکموا بانفسھم ایضا فلوکان ناقضا لوجب ان یشتھر حکمہ ویملأ الاسماع ویعم البقاع ویتدفق منہ بحار الاسفار قدیما وحدیثا لاان
تحت میں نے یہ لکھا ہے :
قلت : صدید (زخم کا پانی) ہونے سے نقض کی تعلیل علامہ طحطاوی کے اس استظہار کو بعید قرار دیتی ہے جو زکام کے ناقض وضو ہونے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے اس لئے کہ وہ ایك بیماری سے بہنے والا پانی ہے اور علامہ شامی نے اس پر علماء کی اس تصریح سے تعاقب کیا ہے کہ سونے والے کے منہ کا پانی پاك ہے اگرچہ بدبو دار ہو ۔
اقول : لیکن اس پر یہ کلام ہے کہ نیند کی وجہ سے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں (اس لئے منہ کا پانی باہر آ جاتا ہے) اور دیر گزرنے سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے تو یہ لازم نہ آیا کہ وہ پانی کسی بیماری کی وجہ سے نکلا ہے اور ناقض وہی ہے جو کسی بیماری سے ہو---- تو اسے سمجھو ۔
لکنی اقول (لیکن میں کہتا ہوں) زکام ایك عام سی چیز ہے شاید کوئی انسان ایسا نہ گزرا ہو جسے اپنی عمر میں چند بار زکام نہ ہوا ہو اور یقین ہے کہ ہر قرن ہر طبقہ بلکہ ہر سال واقع ہوا ہے اور عہد رسالت زمانہ صحابہ اور دور ائمہ میں بھی ہوا ہے بلکہ خود ان حضرات کو بھی زکام ہوا ہو گا اگر یہ ناقض وضو ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کا حکم مشہور ہو لوگوں کے کان اس سے خوب خوب آشنا ہوں کہ سارے علاقوں میں پھیل جائے اور فقہ و حدیث کی قدیم و جدید کتابیں اس کے ذکر
لایذکر فی شیئ من الکتب ویبقی موقوفا الی ان یستخرجہ العلامۃ الطحطاوی علی وجہ الاستظہار فی القرن الثالث عشر و قد علمت فــــ۱ ان ماکان ھذا شانہ لایقبل فیہ حدیث روی احادا لان الاحادیۃ مع توفر الدواعی امارۃ الغلط۔
۷۵والذی یظنہفــــ۲ العبد الضعیف ان ماکان خروجہ معتادا ولا ینقض لاینقض ایضا اذا فحش وان عد حینئذ علۃ فیما یعد الاتری ان العرق لاینقض فاذا فحش جداکما فی بحران المحموم اوبعض الامراض لم ینقض ایضا وکذلك الدمع واللبن والریق فکذا المخاط ومن ادل دلیل علیہ ما اجمعوا علیہ ان من قاء بلغما فان
سے لبریز ہوں----نہ یہ کہ کسی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو اور تمام سابقہ صدیاں یوں ہی گزر جائیں یہاں تك کہ تیرھویں صدی میں علامہ طحطاوی بطور استظہار اس کا استخراج کریں جب کہ معلوم ہے کہ جو ایسا عام معاملہ ہو اس میں بطریق آحاد روایت کی جانے والی حدیث بھی قبول نہیں کی جاتی اس لئے کہ کثرت اسباب و دواعی کے باوجود آحاد سے مروی ہونا غلطی کی علامت ہے ۔
اور بندہ ضعیف کا خیال یہ ہے کہ جو چیز عادۃ نکلتی ہے اور ناقض نہیں ہوتی وہ بہت زیادہ نکلے تو بھی ناقض نہ ہو گی اگرچہ ایسی صورت میں اسے کسی بیماری کے دائرے میں شمار کیا جائے ۔ دیکھئے پسینہ ناقض وضو نہیں اگر یہ بہت زیادہ آئے جیسے بخار کے بحران یا بعض امراض میں ہوتا ہے تو بھی ناقض نہیں۔ اسی طرح آنسو دودھ تھوك اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے جس پر اجماع ہے کہ بلغم اگر سر سے آنے والا ہے تو اس
فــــ ۱ : لایقبل حدیث الا حاد فی موضع عموم البلوی فکیف برأی عالم متأخر۔
فــــ۲ : مسئلہ : مصنف کی تحقیق کہ جو چیز عادۃ بدن سے بہا کرتی ہو اور اس سے وضو نہ جاتاہو جیسے آنسو پسینہ
ودھ بلغم ناك کی ریزش وہ اگرچہ کتنی ہی کثرت سے نکلے ناقض وضو نہیں اگرچہ اس کی کثرت بجائے خود ایك مرض گنی جاتی ہو۔
۷۵والذی یظنہفــــ۲ العبد الضعیف ان ماکان خروجہ معتادا ولا ینقض لاینقض ایضا اذا فحش وان عد حینئذ علۃ فیما یعد الاتری ان العرق لاینقض فاذا فحش جداکما فی بحران المحموم اوبعض الامراض لم ینقض ایضا وکذلك الدمع واللبن والریق فکذا المخاط ومن ادل دلیل علیہ ما اجمعوا علیہ ان من قاء بلغما فان
سے لبریز ہوں----نہ یہ کہ کسی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو اور تمام سابقہ صدیاں یوں ہی گزر جائیں یہاں تك کہ تیرھویں صدی میں علامہ طحطاوی بطور استظہار اس کا استخراج کریں جب کہ معلوم ہے کہ جو ایسا عام معاملہ ہو اس میں بطریق آحاد روایت کی جانے والی حدیث بھی قبول نہیں کی جاتی اس لئے کہ کثرت اسباب و دواعی کے باوجود آحاد سے مروی ہونا غلطی کی علامت ہے ۔
اور بندہ ضعیف کا خیال یہ ہے کہ جو چیز عادۃ نکلتی ہے اور ناقض نہیں ہوتی وہ بہت زیادہ نکلے تو بھی ناقض نہ ہو گی اگرچہ ایسی صورت میں اسے کسی بیماری کے دائرے میں شمار کیا جائے ۔ دیکھئے پسینہ ناقض وضو نہیں اگر یہ بہت زیادہ آئے جیسے بخار کے بحران یا بعض امراض میں ہوتا ہے تو بھی ناقض نہیں۔ اسی طرح آنسو دودھ تھوك اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے جس پر اجماع ہے کہ بلغم اگر سر سے آنے والا ہے تو اس
فــــ ۱ : لایقبل حدیث الا حاد فی موضع عموم البلوی فکیف برأی عالم متأخر۔
فــــ۲ : مسئلہ : مصنف کی تحقیق کہ جو چیز عادۃ بدن سے بہا کرتی ہو اور اس سے وضو نہ جاتاہو جیسے آنسو پسینہ
ودھ بلغم ناك کی ریزش وہ اگرچہ کتنی ہی کثرت سے نکلے ناقض وضو نہیں اگرچہ اس کی کثرت بجائے خود ایك مرض گنی جاتی ہو۔
نازلا لاینقض وان ملأ الفم ومعلوم انہ لا اختلاف فی البلغم وماء الزکام فی الحقیقۃ وما یملؤ الفم کثیر فوجب عدم النقض بالزکام ھذا ماظھرلی والله تعالی اعلم اھ ماکتبت علیہ ونقلتہ کما اشتمل علی بعض فوائد والله سبحانہ ولی التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق والحمد لله علی ماعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا والہ وسلم سبحنہ وتعالی اعلم ۔
کی قے منہ بھر کر ہو جب بھی ناقض وضو نہیں ۔ اور معلوم ہے کہ در حقیقت بلغم اور آب زکام میں کوئی اختلاف نہیں اور اتنی مقدار جس سے منہ بھر جائے کثیر ہے تو ضروری ہے کہ زکام سے بھی وضو نہ جائے ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا والله تعالی اعلم ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا ----- اسے اس وجہ سے میں نے نقل کر دیا کہ بعض فوائد پر مشتمل ہے------ اور خدائے پاك ہی مالك توفیق ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندی تك رسائی ہے اور خدا ہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا -----اور ہمارے آقا اور ان کی آل پر خدائے برتر کا درود و سلام ہو۔ والله سبحنہ و تعالی اعلم۔
_________________________
کی قے منہ بھر کر ہو جب بھی ناقض وضو نہیں ۔ اور معلوم ہے کہ در حقیقت بلغم اور آب زکام میں کوئی اختلاف نہیں اور اتنی مقدار جس سے منہ بھر جائے کثیر ہے تو ضروری ہے کہ زکام سے بھی وضو نہ جائے ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا والله تعالی اعلم ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا ----- اسے اس وجہ سے میں نے نقل کر دیا کہ بعض فوائد پر مشتمل ہے------ اور خدائے پاك ہی مالك توفیق ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندی تك رسائی ہے اور خدا ہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا -----اور ہمارے آقا اور ان کی آل پر خدائے برتر کا درود و سلام ہو۔ والله سبحنہ و تعالی اعلم۔
_________________________
حوالہ / References
حواشی امام احمد رضا علٰی غنیۃ المستملی قلمی ص ۱۴۰ ، ۱۴۱
رسالہ
الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم۱۳۲۴ھ
(نشان زدہ نقش اس بیان میں کہ خون کس حال میں ناقض وضو ہے )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۸ فــــ : دوم ذی القعدۃ الحرام ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر خون چھنکا اور باہر نہ آیا تو وضو جائیگا یا نہیں اور اگر کپڑا اس خون پر بار بار مختلف جگہ سے لگ کر آلودہ ہوا کہ قدر درم سے زائد ہوگیا تو ناپاك ہوگا یا نہیں اور اگر خارش وغیرہ کے دانوں پر جو چپك پیدا ہوتی ہے اس سے کپڑا اسی طرح بھرا تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔ ( بیان فرمائیے اجر پائیے ت)
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله وحدہ شھد بھا لحمی
تمام تعریف خدائے یکتا کے لئے ہے میرے گوشت و
فــــ : مسئلہ : خون چھنکنے ابھرنے بہنے کے فرق واحکام)
الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم۱۳۲۴ھ
(نشان زدہ نقش اس بیان میں کہ خون کس حال میں ناقض وضو ہے )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۸ فــــ : دوم ذی القعدۃ الحرام ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر خون چھنکا اور باہر نہ آیا تو وضو جائیگا یا نہیں اور اگر کپڑا اس خون پر بار بار مختلف جگہ سے لگ کر آلودہ ہوا کہ قدر درم سے زائد ہوگیا تو ناپاك ہوگا یا نہیں اور اگر خارش وغیرہ کے دانوں پر جو چپك پیدا ہوتی ہے اس سے کپڑا اسی طرح بھرا تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔ ( بیان فرمائیے اجر پائیے ت)
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله وحدہ شھد بھا لحمی
تمام تعریف خدائے یکتا کے لئے ہے میرے گوشت و
فــــ : مسئلہ : خون چھنکنے ابھرنے بہنے کے فرق واحکام)
ودمی والصلاۃ والسلام علی الطیب الطاھر النبی الامی والہ وصحبہ وسائر حزبہ ومن فی سبیلہ ادمی اودمی۔
خون نے اس کی شہادت دی اور درود و سلام ہو طیب و طاہر نبی امی پر اور ان کی آل ان کے اصحاب ساری جماعت اور ہر اس شخص پر جس نے ان کی راہ میں خون بہایا یا خود اس کا خون بہا ۔ (ت)
یہاں تین۳ صورتیں ہیں :
اول : چھنکنا یعنی خون و ریم وغیرہ نے اپنی جگہ سے اصلا تجاوز نہ کیا بلکہ اس پر جو کھال کا پردہ تھا وہ ہٹ گیا جس کے سبب وہ شے اپنی جگہ نظر آنے لگی پھر اگر وہ کسی چیز فــــ۱سے مس ہوکر اس میں لگ آئی مثلا خون چھنکا اسے انگلی سے چھوا انگلی پر اس کا داغ آگیا یا خلال کیا یا مسواك کی یا انگلی سے دانت مانجے یادانت سے کوئی چیز کاٹی ان اشیاء پر خون کی رنگت محسوس ہوئی یا ناك انگلی سے صاف کی اس پر سرخی لگ آئی اور ان سب صورتوں میں اس ملنے والی شے پر اثر آجانے سے زیادہ خود اس خون کو حرکت نہ ہوئی تو یہ بھی جگہ سے تجاوز نہ کرنا نہ ٹھہرے گا کہ اس میں آپ تجاوز کی صلاحیت نہ تھی اور اسی حکم فــــ۲میں داخل ہے یہ کہ دانہ آبلہ بدن کی سطح سے ابھار رکھتا ہو۔ خون وریم اس کے باطن سے تجاوز کر کے اس کے منہ پر رہ جائے منہ سے اصلا تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تك دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں یہ صورت بالاجماع ناقض وضو نہیں نہ اس خون وریم کیلئے حکم ناپاکی ہے کہ مذہب صحیح ومعتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ولہذا اگر خارش فــــ۳ کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چیك پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اس چپك سے
فــــ۱ : مسائل : خون چھنکا انگلی سے چھوا اس پر داغ آگیا یاخلال یامسواك یادانت مانجھتے وقت انگلی میں لگ آیا یا کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر خون کااثر پایا یاناك انگلی سے صاف کی اس پر سرخی آگئی مگر وہ خون آپ جگہ سے ہٹنے کے قابل نہ تھا وضو نہ جائے گا اور وہ خون بھی پاك ہے۔
فــــ۲ : مسئلہ : خون یا ریم آبلے کے اندر سے بہہ کر آبلے کے منہ تك آکر رہ جائے تو وضو نہ جائے گا۔
فــــ۳ : خارش وغیرہ کے دانوں پر خالی چپك ہے کپڑا اس سے بار بار لگ کر بہت جگہ میں بھر گیا ناپاك نہ ہوا نہ وضو گیا۔
خون نے اس کی شہادت دی اور درود و سلام ہو طیب و طاہر نبی امی پر اور ان کی آل ان کے اصحاب ساری جماعت اور ہر اس شخص پر جس نے ان کی راہ میں خون بہایا یا خود اس کا خون بہا ۔ (ت)
یہاں تین۳ صورتیں ہیں :
اول : چھنکنا یعنی خون و ریم وغیرہ نے اپنی جگہ سے اصلا تجاوز نہ کیا بلکہ اس پر جو کھال کا پردہ تھا وہ ہٹ گیا جس کے سبب وہ شے اپنی جگہ نظر آنے لگی پھر اگر وہ کسی چیز فــــ۱سے مس ہوکر اس میں لگ آئی مثلا خون چھنکا اسے انگلی سے چھوا انگلی پر اس کا داغ آگیا یا خلال کیا یا مسواك کی یا انگلی سے دانت مانجے یادانت سے کوئی چیز کاٹی ان اشیاء پر خون کی رنگت محسوس ہوئی یا ناك انگلی سے صاف کی اس پر سرخی لگ آئی اور ان سب صورتوں میں اس ملنے والی شے پر اثر آجانے سے زیادہ خود اس خون کو حرکت نہ ہوئی تو یہ بھی جگہ سے تجاوز نہ کرنا نہ ٹھہرے گا کہ اس میں آپ تجاوز کی صلاحیت نہ تھی اور اسی حکم فــــ۲میں داخل ہے یہ کہ دانہ آبلہ بدن کی سطح سے ابھار رکھتا ہو۔ خون وریم اس کے باطن سے تجاوز کر کے اس کے منہ پر رہ جائے منہ سے اصلا تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تك دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں یہ صورت بالاجماع ناقض وضو نہیں نہ اس خون وریم کیلئے حکم ناپاکی ہے کہ مذہب صحیح ومعتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ولہذا اگر خارش فــــ۳ کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چیك پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اس چپك سے
فــــ۱ : مسائل : خون چھنکا انگلی سے چھوا اس پر داغ آگیا یاخلال یامسواك یادانت مانجھتے وقت انگلی میں لگ آیا یا کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر خون کااثر پایا یاناك انگلی سے صاف کی اس پر سرخی آگئی مگر وہ خون آپ جگہ سے ہٹنے کے قابل نہ تھا وضو نہ جائے گا اور وہ خون بھی پاك ہے۔
فــــ۲ : مسئلہ : خون یا ریم آبلے کے اندر سے بہہ کر آبلے کے منہ تك آکر رہ جائے تو وضو نہ جائے گا۔
فــــ۳ : خارش وغیرہ کے دانوں پر خالی چپك ہے کپڑا اس سے بار بار لگ کر بہت جگہ میں بھر گیا ناپاك نہ ہوا نہ وضو گیا۔
سارا کپڑا بھر گیا ناپاك نہ ہوگا یہی حالت فــــ۱خو ن کی ہے جبکہ اس میں قوت سیلان نہ ہو یعنی ظن غالب سے معلوم ہوا کہ اگر کپڑا نہ لگتا اور اس کا راستہ کھلا رہتا جب بھی وہ باہر نہ آتا اپنی جگہ ہی پر رہتا ہاں اگرحالت یہ ہو فــــ۲ کہ خون بہنا چاہتا ہے اور کپڑا لگ لگ کر اسے اپنے میں لے لیتا ہے تجاوز نہیں کرنے دیتا یہاں تك کہ جتنا خون قاصد سیلان تھا وہ اس کپڑے ہی میں لگ لگ کرپچھ گیا اور بہنے نہ پایا تو ضرور وضو جاتا رہے گا اور قدر درم سے زائد ہوا تو کپڑا بھی ناپاك ہوجائیگا کہ یہ صورت واقع میں بہنے کی تھی کپڑے کے لگنے نے اسے ظاہر نہ ہونے دیا۔
دوم : ابھرنا فــــ۳ کہ خون و ریم اپنی جگہ سے بڑھ کر جسم کی سطح یا دانے کے منہ سے اوپر ایك ببولے کی صورت ہو کر رہ گیا کہ اس کا جرم سطح جسم وآبلہ سے اوپر ہے مگر نہ وہاں سے ڈھلکا نہ ڈھلکنے کی قوت رکھتا تھا جیسے سوئی چبھونے میں ہوتا ہے کہ خون کی خفیف بوند نکلی اور نقطے یا دانے کی شکل پر ہو کر رہ گئی آگے نہ ڈھلکی اور اسی قسم کی اور صورتیں ان میں بھی ہمارے علماء کے مذہب اصح میں وضو نہیں جاتا یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی اور اسی حکم فــــ۴میں داخل ہے یہ کہ خون یا ریم ابھرا اور فی الحال اس میں قوت سیلان نہیں اسے کپڑے سے پونچھ ڈالا دوسرے جلسے میں پھر ابھرا اور صاف کردیا یوں ہی مختلف جلسوں میں اتنا نکلا کہ اگر ایك بار آتا ضرور بہہ جاتا تو اب بھی نہ وضو جائے نہ کپڑا ناپاك ہو کہ ہر بار اتنا نکلا ہے جس میں بہنے کی قوت نہ تھی۔ ہاں جلسہ واحدہ میں ایسا ہوا تو وضو جاتا رہے گا کہ مجلس واحد کا نکلا ہوا گویا ایك بار کا نکلا ہوا ہے۔ یوں ہی اگر خون فــــ۵ابھرا اور اس پر مٹی وغیرہ ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی اسی طرح کیا تو وضو نہ رہیگا جب کہ ایك
فــــ ۱ : مسئلہ : یہی حکم چھنکے ہوئے خون کا ہے کہ نہ اس سے کپڑا نجس ہو نہ وضو ساقط ۔
فــــ۲ : مسئلہ : خون یا ریم بہنے کے قابل ہو مگر کپڑے میں لگ لگ کر بہنے نہ پائے وضو جاتارہے گا اور درم بھر سے زائد ہو توکپڑا بھی نجس ہو جائے گا۔
فــــ۳ : مسئلہ : سوئی چبھ کر خواہ کسی طرح خون کی بوند ابھری اور ببولا سا ہوکررہ گئی ڈھلکی نہیں تو فتوی اس پر ہے کہ وہ پاك ہے وضو نہ جائے گا۔
فــــ۴ : خون یا ریم ابھرا اور ڈھلکنے کے قابل نہ تھا اسے کپڑے سے پونچھ لیا دیر دیر کے بعد باربار ایسا ہی ہوا وضو نہ جائے گا اور کپڑا پاك رہا ہاں اگر ایك ہی جلسے میں بار بار ابھرا اور پونچھ لیا اور چھوڑ دیتے تو سب مل کر ڈھلك جاتا تو وضو نہ رہا اور وہ ناپاك ہے۔
فــــ۵ : خون ابھرا اس پر مٹی ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی وضو نہ رہا جبکہ ایك جلسے میں اتنا ابھرا کہ مل کر بہہ جاتا۔
دوم : ابھرنا فــــ۳ کہ خون و ریم اپنی جگہ سے بڑھ کر جسم کی سطح یا دانے کے منہ سے اوپر ایك ببولے کی صورت ہو کر رہ گیا کہ اس کا جرم سطح جسم وآبلہ سے اوپر ہے مگر نہ وہاں سے ڈھلکا نہ ڈھلکنے کی قوت رکھتا تھا جیسے سوئی چبھونے میں ہوتا ہے کہ خون کی خفیف بوند نکلی اور نقطے یا دانے کی شکل پر ہو کر رہ گئی آگے نہ ڈھلکی اور اسی قسم کی اور صورتیں ان میں بھی ہمارے علماء کے مذہب اصح میں وضو نہیں جاتا یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی اور اسی حکم فــــ۴میں داخل ہے یہ کہ خون یا ریم ابھرا اور فی الحال اس میں قوت سیلان نہیں اسے کپڑے سے پونچھ ڈالا دوسرے جلسے میں پھر ابھرا اور صاف کردیا یوں ہی مختلف جلسوں میں اتنا نکلا کہ اگر ایك بار آتا ضرور بہہ جاتا تو اب بھی نہ وضو جائے نہ کپڑا ناپاك ہو کہ ہر بار اتنا نکلا ہے جس میں بہنے کی قوت نہ تھی۔ ہاں جلسہ واحدہ میں ایسا ہوا تو وضو جاتا رہے گا کہ مجلس واحد کا نکلا ہوا گویا ایك بار کا نکلا ہوا ہے۔ یوں ہی اگر خون فــــ۵ابھرا اور اس پر مٹی وغیرہ ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی اسی طرح کیا تو وضو نہ رہیگا جب کہ ایك
فــــ ۱ : مسئلہ : یہی حکم چھنکے ہوئے خون کا ہے کہ نہ اس سے کپڑا نجس ہو نہ وضو ساقط ۔
فــــ۲ : مسئلہ : خون یا ریم بہنے کے قابل ہو مگر کپڑے میں لگ لگ کر بہنے نہ پائے وضو جاتارہے گا اور درم بھر سے زائد ہو توکپڑا بھی نجس ہو جائے گا۔
فــــ۳ : مسئلہ : سوئی چبھ کر خواہ کسی طرح خون کی بوند ابھری اور ببولا سا ہوکررہ گئی ڈھلکی نہیں تو فتوی اس پر ہے کہ وہ پاك ہے وضو نہ جائے گا۔
فــــ۴ : خون یا ریم ابھرا اور ڈھلکنے کے قابل نہ تھا اسے کپڑے سے پونچھ لیا دیر دیر کے بعد باربار ایسا ہی ہوا وضو نہ جائے گا اور کپڑا پاك رہا ہاں اگر ایك ہی جلسے میں بار بار ابھرا اور پونچھ لیا اور چھوڑ دیتے تو سب مل کر ڈھلك جاتا تو وضو نہ رہا اور وہ ناپاك ہے۔
فــــ۵ : خون ابھرا اس پر مٹی ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی وضو نہ رہا جبکہ ایك جلسے میں اتنا ابھرا کہ مل کر بہہ جاتا۔
جلسے میں بقدر سیلان جمع ہوجاتا کہ یہ بہنے ہی کی صورت ہے اگرچہ عارض کے سبب صرف ابھرنا ظاہر ہوا اور ایك جلسے فــــ۱ میں اتنا ہوتا یا نہ ہوتا اس کا مدار ٹھیك اندازے اور غلبہ ظن پر ہے۔
سوم : بہنا کہ ابھر کر ڈھلك بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلك جاتا جس کی صورتیں اوپر گزریں یہ شکل ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقض وضو ہے اور کپڑا قدر درم سے زائد بھرے تو ناپاک۔ ہاں وہ بہنا کہ صرف باطن بدن میں ہو ناقض نہیں کہ باطن انسان میں تو خون ہر وقت دورہ کرتاہے آنکھوں کے ڈھیلے بھی شرعا باطن بدن میں داخل ہیں۔ ولہذا وضو وغسل کسی میں یہاں تك کہ حقیقی نجاست فــــ۲ سے بھی ان کے دھونے کا حکم نہ ہوا تو اگر آنکھ کے فــــ۳ بالائی حصے میں کوئی دانہ پھوٹا اور خون وریم اس کے زیریں حصے تك بہہ کر آیا مگر آنکھ سے باہر نہ ہوا وضو نہ جائیگا اور حسب قاعدہ معلومہ جب وہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں۔ پس اگر کپڑے سے اسے پونچھ لیا اور وہ کپڑا پانی میں گرا پانی ناپاك نہ ہوگا اور ناك کے فــــ۴ سخت بانسے میں اختلاف ہے کہ اگر خون دماغ سے اتر کر اس میں بہا اور نرم بانسے تك نہ پہنچا تو ناقض وضو ہوگا یا نہیں۔ مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا کہ ناك کا سخت حصہ بھی اندر سے یقینا باطن بدن میں داخل ہے ولہذا وضو وغسل کسی میں اس کا دھونا واجب نہیں اور انسب یہ ہے کہ وضو کرلے کہ اس موضع کا دھونا اگرچہ واجب نہیں وضو وغسل دونوں میں سنت تو ہے۔ فتح القدیر میں ہے :
الخروج فی غیر السبیلین ھو تجاوز النجاسۃ الی موضع التطھیر فلو خرج من جرح فی العین دم
غیر سبیلین میں خروج یہ ہے کہ نجاست تطہیر کی جگہ تك تجاوز کر جائے تو اگر آنکھ کے اندر کوئی زخم ہے جس سے خون نکل کر آنکھ ہی میں
فــــ۱ : مسئلہ : ایك جلسے میں متفرق طور پر جتنا خون ابھرا یہ جمع ہو کر بہہ جاتا یا نہیں اس کا مدار اندازے پر ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : ناپاك سر مہ لگایا اور کوئی نجاست آنکھ کے ڈھیلے کو پہنچی اس کا دھونا معاف ہے ۔
فــــ۳ : مسئلہ : خون یاپیپ آنکھ میں بہا مگر آنکھ سے باہر نہ گیا تو وضو نہ جائے گا اسے کپڑے سے پونچھ کر پانی میں ڈال دیں توناپاك نہ ہوگا ۔
فــــ۴ : مسئلہ : ناك کے سخت بانسے میں خون بہا اور نرم حصے میں نہ آیا تو مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا ۔
سوم : بہنا کہ ابھر کر ڈھلك بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلك جاتا جس کی صورتیں اوپر گزریں یہ شکل ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقض وضو ہے اور کپڑا قدر درم سے زائد بھرے تو ناپاک۔ ہاں وہ بہنا کہ صرف باطن بدن میں ہو ناقض نہیں کہ باطن انسان میں تو خون ہر وقت دورہ کرتاہے آنکھوں کے ڈھیلے بھی شرعا باطن بدن میں داخل ہیں۔ ولہذا وضو وغسل کسی میں یہاں تك کہ حقیقی نجاست فــــ۲ سے بھی ان کے دھونے کا حکم نہ ہوا تو اگر آنکھ کے فــــ۳ بالائی حصے میں کوئی دانہ پھوٹا اور خون وریم اس کے زیریں حصے تك بہہ کر آیا مگر آنکھ سے باہر نہ ہوا وضو نہ جائیگا اور حسب قاعدہ معلومہ جب وہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں۔ پس اگر کپڑے سے اسے پونچھ لیا اور وہ کپڑا پانی میں گرا پانی ناپاك نہ ہوگا اور ناك کے فــــ۴ سخت بانسے میں اختلاف ہے کہ اگر خون دماغ سے اتر کر اس میں بہا اور نرم بانسے تك نہ پہنچا تو ناقض وضو ہوگا یا نہیں۔ مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا کہ ناك کا سخت حصہ بھی اندر سے یقینا باطن بدن میں داخل ہے ولہذا وضو وغسل کسی میں اس کا دھونا واجب نہیں اور انسب یہ ہے کہ وضو کرلے کہ اس موضع کا دھونا اگرچہ واجب نہیں وضو وغسل دونوں میں سنت تو ہے۔ فتح القدیر میں ہے :
الخروج فی غیر السبیلین ھو تجاوز النجاسۃ الی موضع التطھیر فلو خرج من جرح فی العین دم
غیر سبیلین میں خروج یہ ہے کہ نجاست تطہیر کی جگہ تك تجاوز کر جائے تو اگر آنکھ کے اندر کوئی زخم ہے جس سے خون نکل کر آنکھ ہی میں
فــــ۱ : مسئلہ : ایك جلسے میں متفرق طور پر جتنا خون ابھرا یہ جمع ہو کر بہہ جاتا یا نہیں اس کا مدار اندازے پر ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : ناپاك سر مہ لگایا اور کوئی نجاست آنکھ کے ڈھیلے کو پہنچی اس کا دھونا معاف ہے ۔
فــــ۳ : مسئلہ : خون یاپیپ آنکھ میں بہا مگر آنکھ سے باہر نہ گیا تو وضو نہ جائے گا اسے کپڑے سے پونچھ کر پانی میں ڈال دیں توناپاك نہ ہوگا ۔
فــــ۴ : مسئلہ : ناك کے سخت بانسے میں خون بہا اور نرم حصے میں نہ آیا تو مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا ۔
فسال الی الجانب الاخر منھا لاینقض لانہ لایلحقہ حکم ھو وجوب التطھیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینقض۔
ولو فــــ ربط الجرح فنفذت البلۃ الی طاق لاالی الخارج نقض ویجب ان یکون معناہ اذا کان بحیث لولا الربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلك لانہ لیس بحدث ولو اخذہ من راس الجرح قبل ان یسیل مرۃ فمرۃ ان کان بحال لوترکہ سال نقض والا لاوفی المحیط حدالسیلان ان یعلم وینحدر عن ابی یوسف وعن محمداذا انتفخ علی راس الجرح وسار اکبر من راسہ نقض والصحیح لاینقض وفی الدرایۃ جعل قول محمد اصح ومختار السرخسی الاول وھو اولی وفی مبسوط شیخ الاسلام تورم
دوسری جانب کو بہہ گیا تو وہ ناقض وضو نہیں اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا استحباب کا کوئی حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس کے جو سر سے اتر کر ناك کے نرم بانسے تك آ گیا ہو اس لئے کہ غسل جنابت میں اور نجاست لگنے سے اس حصہ کو دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ خون ناقض وضو ہو گا۔
اور اگر زخم پر پٹی باندھ دی تو تری پٹی کی تہہ تك نفوذ کر آئی باہر نہ نکلی تو بھی وضو جاتا رہا ضروری ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ایسی صورت رہی ہو کہ اگر بندش نہ ہوتی تو خون بہہ جاتا اس لئے کہ کرتا اگر زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب تك بہنے کے قابل نہ رہا ہو کیونکہ وہ حدث نہیں اور اگر بہنے سے پہلے اسے سر زخم سے بار بار لے لیا اگر ایسی حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں اور محیط میں ہے کہ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر نیچے ڈھلکے اور امام محمد سے روایت ہے کہ جب سر زخم پر پھول جائے اور سر زخم سے بڑا ہوجائے تووضو جاتا رہے گا اور صحیح یہ ہے کہ نہ جائے گا درایہ میں امام محمد کا قول اصح قرار دیا اور سرخسی کا مختار اول ہے اور وہی اولی ہے مبسوط شیخ الاسلام میں ہے : سر زخم
فــــ : مسئلہ : زخم پر پٹی بندھی ہے ا س میں خون وغیرہ لگ گیا اگر اس قابل تھا کہ بندش نہ ہوتی تو بہ جاتا تو وضو گیا ورنہ نہیں نہ پٹی ناپاك ۔
ولو فــــ ربط الجرح فنفذت البلۃ الی طاق لاالی الخارج نقض ویجب ان یکون معناہ اذا کان بحیث لولا الربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلك لانہ لیس بحدث ولو اخذہ من راس الجرح قبل ان یسیل مرۃ فمرۃ ان کان بحال لوترکہ سال نقض والا لاوفی المحیط حدالسیلان ان یعلم وینحدر عن ابی یوسف وعن محمداذا انتفخ علی راس الجرح وسار اکبر من راسہ نقض والصحیح لاینقض وفی الدرایۃ جعل قول محمد اصح ومختار السرخسی الاول وھو اولی وفی مبسوط شیخ الاسلام تورم
دوسری جانب کو بہہ گیا تو وہ ناقض وضو نہیں اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا استحباب کا کوئی حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس کے جو سر سے اتر کر ناك کے نرم بانسے تك آ گیا ہو اس لئے کہ غسل جنابت میں اور نجاست لگنے سے اس حصہ کو دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ خون ناقض وضو ہو گا۔
اور اگر زخم پر پٹی باندھ دی تو تری پٹی کی تہہ تك نفوذ کر آئی باہر نہ نکلی تو بھی وضو جاتا رہا ضروری ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ایسی صورت رہی ہو کہ اگر بندش نہ ہوتی تو خون بہہ جاتا اس لئے کہ کرتا اگر زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب تك بہنے کے قابل نہ رہا ہو کیونکہ وہ حدث نہیں اور اگر بہنے سے پہلے اسے سر زخم سے بار بار لے لیا اگر ایسی حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں اور محیط میں ہے کہ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر نیچے ڈھلکے اور امام محمد سے روایت ہے کہ جب سر زخم پر پھول جائے اور سر زخم سے بڑا ہوجائے تووضو جاتا رہے گا اور صحیح یہ ہے کہ نہ جائے گا درایہ میں امام محمد کا قول اصح قرار دیا اور سرخسی کا مختار اول ہے اور وہی اولی ہے مبسوط شیخ الاسلام میں ہے : سر زخم
فــــ : مسئلہ : زخم پر پٹی بندھی ہے ا س میں خون وغیرہ لگ گیا اگر اس قابل تھا کہ بندش نہ ہوتی تو بہ جاتا تو وضو گیا ورنہ نہیں نہ پٹی ناپاك ۔
راس الجرح فظھربہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوزا لورم لانہ لایحب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر ۔
ورم کر آیا اور اس میں پیپ وغیرہ نمودار ہوا تو وضو نہ ٹوٹے گا جب تك ورم سے تجاوز نہ کر جائے اس لئے کہ جائے ورم کو دھونا واجب نہیں ہوتا تو ایسی جگہ تجاوز نہ ہو اجسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لایجب غسل مافیہ حرج کعین وان اکتحل بکحل نجس ۔
جس میں حرج ہے اسے دھونا واجب نہیں ہے جیسے آنکھ اگرچہ اس میں نجس سرمہ لگا لیا ہو ۔ (ت)
اسی میں ہے :
المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظھور وفی غیرھما عین السیلان ولوبا لقوۃ لما قالوا لومسح الدم کلما خرج ولو ترکہ لسال نقض والا لاکما لو سال فی باطن عین او جرح او ذکر ولم یخرج فــــ ۔
سبیلین سے نکلنے سے مراد محض ظاہر ہونا ہے اور غیر سبیلین میں خود بہنا اگرچہ بالقوۃ ہو اس لئے کہ علماء نے فرمایا ہے جب بھی خون نکلا پونچھ دیا اگر ایسا ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں جیسے اس صورت میں جب کہ آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندر بہے اور باہر نہ آئے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اذا وضع علیہ قطنۃ اوشیئا اخر حتی ینشف ثم وضعہ ثانیا وثالثا فانہ
زخم پر روئی یا اور کوئی چیز رکھ دی تاکہ خون جذب کرے پھر دوسری تیسری بار بھی رکھی تو جتنا
فــــ : مسئلہ : قطرہ اترآ یا خون وغیرہ ذکر کے اندر بہا جب تك اس کے سوراخ سے باہر نہ آئے وضونہ جائے گا اورپیشاب کا صرف سوراخ کے منہ پر چمکنا کافی ہے۔
ورم کر آیا اور اس میں پیپ وغیرہ نمودار ہوا تو وضو نہ ٹوٹے گا جب تك ورم سے تجاوز نہ کر جائے اس لئے کہ جائے ورم کو دھونا واجب نہیں ہوتا تو ایسی جگہ تجاوز نہ ہو اجسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لایجب غسل مافیہ حرج کعین وان اکتحل بکحل نجس ۔
جس میں حرج ہے اسے دھونا واجب نہیں ہے جیسے آنکھ اگرچہ اس میں نجس سرمہ لگا لیا ہو ۔ (ت)
اسی میں ہے :
المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظھور وفی غیرھما عین السیلان ولوبا لقوۃ لما قالوا لومسح الدم کلما خرج ولو ترکہ لسال نقض والا لاکما لو سال فی باطن عین او جرح او ذکر ولم یخرج فــــ ۔
سبیلین سے نکلنے سے مراد محض ظاہر ہونا ہے اور غیر سبیلین میں خود بہنا اگرچہ بالقوۃ ہو اس لئے کہ علماء نے فرمایا ہے جب بھی خون نکلا پونچھ دیا اگر ایسا ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں جیسے اس صورت میں جب کہ آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندر بہے اور باہر نہ آئے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
اذا وضع علیہ قطنۃ اوشیئا اخر حتی ینشف ثم وضعہ ثانیا وثالثا فانہ
زخم پر روئی یا اور کوئی چیز رکھ دی تاکہ خون جذب کرے پھر دوسری تیسری بار بھی رکھی تو جتنا
فــــ : مسئلہ : قطرہ اترآ یا خون وغیرہ ذکر کے اندر بہا جب تك اس کے سوراخ سے باہر نہ آئے وضونہ جائے گا اورپیشاب کا صرف سوراخ کے منہ پر چمکنا کافی ہے۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۳۴
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵
یجمع جمیع مانشف فان کان بحیث لو ترکہ سال نقض وانما یعرف ھذا بالاجتھاد وغالب الظن وکذا لو القی علیہ رمادا اوترابا ثم ظھر ثانیا فتربہ ثم وثم فانہ یجمع قالوا وانما یجمع اذا کان فی مجلس واحد مرۃ بعد اخری فلو فی مجالس فلا تاترخانیۃ ومثلہ فی البحر اقول وعلیہ فما یخرج من الجرح الذی ینز دائما ولیس فیہ قوۃ السیلان ولکنہ اذا ترك یتقوی باجتماعہ ویسیل عن محلہ فاذ انشفہ او ربطہ بخرقۃ وصار کلما خرج منہ شیئ تشربتہ الخرقۃ ینظران کان ماتشربتہ الخرقۃ فی ذلك المجلس شیئا فشیئا بحیث لوترك واجتمع لسال بنفسہ نقض والا لاولا یجمع ما فی مجلس الی مجلس اخر ۔
جذب ہوا ہے سب جمع کیا جائے گا اگر یہ صورت ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقض وضو ہے ۔ اس کی معرفت اجتہاد اور غالب ظن سے ہوتی ہے یوں ہی اگر اس پر راکھ یا مٹی ڈال دی پھر دوسری بار ظاہر ہوا تو اس پر بھی مٹی ڈال دی ایسا ہی متعدد بار ہوا تو وہ سب جمع کیا جائے گا ---- علماء نے فرمایا : جمع اسی وقت کیا جائے گا جب ایك مجلس میں بار بار ایسا ہوا ہو۔ اگر چند مجلسوں میں ہوا تو جمع نہ کیا جائے گا تاتارخانیہ اوراسی کے مثل بحر میں بھی ہے میں کہتا ہوں : اس کے پیش نظر جو برابر رسنے والے زخم سے نکلتا رہتا ہے اور اس میں بہنے کی قوت نہیں لیکن ایسا ہے کہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یکجا ہو کر بہنے کی قوت پا جائے اور اپنی جگہ سے بہہ جائے تو جب اسے جذب کر لے یا کسی پٹی سے باندھ دے اور ایسا ہو کہ جب بھی اس سے کچھ نکلے تو اسے پٹی چوس لے دیکھا جائے گا اس مجلس میں جس قدر پٹی نے بار بار چوس لیا ہے اگر ایساہے کہ چھوڑ دیا جاتا اور یکجا ہوتا تو خودبہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں اور ایك مجلس سے دوسری مجلس میں جو نکلا ہو وہ جمع نہ کیا جائے۔ (ت)
اسی میں ہے :
صرح فی غایۃ البیان بان الروایۃ مسطورۃ فی کتب اصحابنا
غایۃ البیان میں تصریح ہے کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے کہ جب
جذب ہوا ہے سب جمع کیا جائے گا اگر یہ صورت ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقض وضو ہے ۔ اس کی معرفت اجتہاد اور غالب ظن سے ہوتی ہے یوں ہی اگر اس پر راکھ یا مٹی ڈال دی پھر دوسری بار ظاہر ہوا تو اس پر بھی مٹی ڈال دی ایسا ہی متعدد بار ہوا تو وہ سب جمع کیا جائے گا ---- علماء نے فرمایا : جمع اسی وقت کیا جائے گا جب ایك مجلس میں بار بار ایسا ہوا ہو۔ اگر چند مجلسوں میں ہوا تو جمع نہ کیا جائے گا تاتارخانیہ اوراسی کے مثل بحر میں بھی ہے میں کہتا ہوں : اس کے پیش نظر جو برابر رسنے والے زخم سے نکلتا رہتا ہے اور اس میں بہنے کی قوت نہیں لیکن ایسا ہے کہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یکجا ہو کر بہنے کی قوت پا جائے اور اپنی جگہ سے بہہ جائے تو جب اسے جذب کر لے یا کسی پٹی سے باندھ دے اور ایسا ہو کہ جب بھی اس سے کچھ نکلے تو اسے پٹی چوس لے دیکھا جائے گا اس مجلس میں جس قدر پٹی نے بار بار چوس لیا ہے اگر ایساہے کہ چھوڑ دیا جاتا اور یکجا ہوتا تو خودبہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں اور ایك مجلس سے دوسری مجلس میں جو نکلا ہو وہ جمع نہ کیا جائے۔ (ت)
اسی میں ہے :
صرح فی غایۃ البیان بان الروایۃ مسطورۃ فی کتب اصحابنا
غایۃ البیان میں تصریح ہے کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے کہ جب
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۱
انہ اذا وصل الی قصبۃ الانف ینتقض وان لم یصل الی مالان خلافالزفر وان قول الھدایۃ ینتقض اذا وصل الی مالان بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا ای لتکون المسألۃ علی قول زفر ایضا لان عندہ لاینتقض مالم یصل الی مالان فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد ۔
خون ناك کے بانسے تك پہنچ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ نرم حصہ تك نہ پہنچے بخلاف امام زفر کے اور ہدایہ کی عبارت “ وضو ٹوٹ جائے گا جب نرم حصہ تك پہنچ جائے “ یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسئلہ امام زفر کے قول پر بھی ہو جائے اس لئے کہ ان کے نزدیك یہ ہے کہ جب تك نرم حصہ تك نہ پہنچے ناقض نہیں تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسہ سے مراد اس کا سخت حصہ ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
ولیس ذلك الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ ۔
اور وہ اسی لئے ہے کہ غسل وغیرہ میں اس کی تطہیر مندوب ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قالوا لاینقض ماظھر من موضعہ ولم یرتق کالنفطۃ اذا قشرت ولا ماارتقی عن موضعہ ولم یسل کالدم المرتقی من مغرز الابرۃ والحاصل فی الخلال من الاسنان وفی الخبر من العض وفی الاصبع من ادخالہ فی الانف ۔
علماء نے فرمایا : وہ خون ناقض نہیں جو اپنی جگہ سے ظاہر ہوا اور اوپر نہ چڑھا جیسے آبلہ جب اس کا پوست ہٹا دیا جائے اور وہ بھی ناقض نہیں جو اوپر چڑھ گیا اور بہا نہیں جیسے سوئی چبھونے کی جگہ سے چڑھنے والا خون اور وہ بھی نہیں جو خلال میں دانتوں سے اور روٹی میں دانت لگانے سے اور انگلی میں اسے ناك کے اندر ڈالنے سے لگ جاتا ہے ۔ (ت)
خون ناك کے بانسے تك پہنچ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ نرم حصہ تك نہ پہنچے بخلاف امام زفر کے اور ہدایہ کی عبارت “ وضو ٹوٹ جائے گا جب نرم حصہ تك پہنچ جائے “ یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسئلہ امام زفر کے قول پر بھی ہو جائے اس لئے کہ ان کے نزدیك یہ ہے کہ جب تك نرم حصہ تك نہ پہنچے ناقض نہیں تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسہ سے مراد اس کا سخت حصہ ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
ولیس ذلك الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ ۔
اور وہ اسی لئے ہے کہ غسل وغیرہ میں اس کی تطہیر مندوب ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قالوا لاینقض ماظھر من موضعہ ولم یرتق کالنفطۃ اذا قشرت ولا ماارتقی عن موضعہ ولم یسل کالدم المرتقی من مغرز الابرۃ والحاصل فی الخلال من الاسنان وفی الخبر من العض وفی الاصبع من ادخالہ فی الانف ۔
علماء نے فرمایا : وہ خون ناقض نہیں جو اپنی جگہ سے ظاہر ہوا اور اوپر نہ چڑھا جیسے آبلہ جب اس کا پوست ہٹا دیا جائے اور وہ بھی ناقض نہیں جو اوپر چڑھ گیا اور بہا نہیں جیسے سوئی چبھونے کی جگہ سے چڑھنے والا خون اور وہ بھی نہیں جو خلال میں دانتوں سے اور روٹی میں دانت لگانے سے اور انگلی میں اسے ناك کے اندر ڈالنے سے لگ جاتا ہے ۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۱۔ ۹۲
البحرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
البحرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
البحرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
البحرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
اسی طرح جامع الرموز میں محیط سے ہے ۔ عالمگیری میں ہے :
المتوضیئ اذا عض شیئا فوجد فیہ اثر الدم اواستاك بسواك فوجد فیہ اثر الدم لا ینتقض مالم یعرف السیلان کذا فی الظھیرۃ اھ
باوضو نے کسی چیز کو دانت سے کاٹا تو اس چیز میں خون کا نشان لگ گیا یا کسی مسواك سے دانت صاف کیا تو اس میں خون کا اثر دیکھا تو یہ ناقض نہیں جب تك کہ بہنے کا علم نہ ہو ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔ ا ھ (ت)
تنبیہات عدیدۃ جلیلۃ مفیدۃ
متعدد تنبیہات جلیلہ و مفیدہ
الاول : یقول ف العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف لقد احسن المحقق البحر صاحب البحر فیما نقلنا عنہ انفا فی مسئلۃ الخلال والخبزاذ جزم بھذا المصرح بہ المنصوص علیہ من غیر واحد من المشائخ العظام ولم یرکن الی مایوھمہ ظاھر مافی التبیین حیث قال ذکر الامام علاء الدین ان من اکل خبز ا و رأی اثر الدم فیہ من اصول اسنانہ ینبغی ان یضع اصبعہ اوطرف کمہ
تنبیہ اول : بندہ ضعیف مولائے لطیف ا س پر لطف فرمائے کہتا ہے : صاحب بحر سے خلال اور روٹی کا مسئلہ جو ابھی ہم نے نقل کیا اس میں انہوں نے بہت خوب کیا کہ اس تصریح شدہ حکم پر جزم کیا جس پر متعدد مشائخ عظام سے نص موجود ہے اور اس وہم کی طرف مائل نہ ہوئے جو تبیین الحقائق کی ظاہر عبارت سے پیدا ہوتا ہے تبیین میں لکھا ہے : امام علاء الدین نے ذکر کیا کہ جو روٹی کھا رہا تھا اور اس میں خون کا اثر دیکھا جو اس کے دانتوں کی جڑ سے اس میں لگ آیا تو اسے چاہئے کہ اپنی انگلی یا آستین کا کنارہ
فــــ : مسئلہ : فقط اتنی بات کہ مثلاناك یا دانت سے انگلی پر خون لگ آیا دوبارہ دیکھا پھر اثر پایا وضو جانے کو کافی نہیں جب تك اس میں خود بہنے کی قوت مظنون نہ ہو۔
المتوضیئ اذا عض شیئا فوجد فیہ اثر الدم اواستاك بسواك فوجد فیہ اثر الدم لا ینتقض مالم یعرف السیلان کذا فی الظھیرۃ اھ
باوضو نے کسی چیز کو دانت سے کاٹا تو اس چیز میں خون کا نشان لگ گیا یا کسی مسواك سے دانت صاف کیا تو اس میں خون کا اثر دیکھا تو یہ ناقض نہیں جب تك کہ بہنے کا علم نہ ہو ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔ ا ھ (ت)
تنبیہات عدیدۃ جلیلۃ مفیدۃ
متعدد تنبیہات جلیلہ و مفیدہ
الاول : یقول ف العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف لقد احسن المحقق البحر صاحب البحر فیما نقلنا عنہ انفا فی مسئلۃ الخلال والخبزاذ جزم بھذا المصرح بہ المنصوص علیہ من غیر واحد من المشائخ العظام ولم یرکن الی مایوھمہ ظاھر مافی التبیین حیث قال ذکر الامام علاء الدین ان من اکل خبز ا و رأی اثر الدم فیہ من اصول اسنانہ ینبغی ان یضع اصبعہ اوطرف کمہ
تنبیہ اول : بندہ ضعیف مولائے لطیف ا س پر لطف فرمائے کہتا ہے : صاحب بحر سے خلال اور روٹی کا مسئلہ جو ابھی ہم نے نقل کیا اس میں انہوں نے بہت خوب کیا کہ اس تصریح شدہ حکم پر جزم کیا جس پر متعدد مشائخ عظام سے نص موجود ہے اور اس وہم کی طرف مائل نہ ہوئے جو تبیین الحقائق کی ظاہر عبارت سے پیدا ہوتا ہے تبیین میں لکھا ہے : امام علاء الدین نے ذکر کیا کہ جو روٹی کھا رہا تھا اور اس میں خون کا اثر دیکھا جو اس کے دانتوں کی جڑ سے اس میں لگ آیا تو اسے چاہئے کہ اپنی انگلی یا آستین کا کنارہ
فــــ : مسئلہ : فقط اتنی بات کہ مثلاناك یا دانت سے انگلی پر خون لگ آیا دوبارہ دیکھا پھر اثر پایا وضو جانے کو کافی نہیں جب تك اس میں خود بہنے کی قوت مظنون نہ ہو۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۱۱
علی ذلك الموضع فان وجد فیہ اثر الدم انتقض وضؤوہ والافلا اھ
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ۔
۷۶اقول : فــــلوکان ظھور اثر الدم علی شیئ بالاتصال ناقضا مطلقا فلم لم ینقض حین رأی الدم علی الخبز اولا بل الواجب ان تکون فی نفسہ قوۃ التجاوز من محلہ لاان یمسہ شیئ فلیتصق بہ وھذا اظھر من ان یظھر ولعلہ ھو المقصود ای یجرب ھل ھو سائل ام کان بادیا وانتقل الی الخبز بالمساس۔
ولعل ظانا یظن ان البادی لقلتہ وعدم مددہ ینتشف بالمساس الاول فاذا وضع الاصبع او الکم وظھر فیہ
اس جگہ رکھ کر دیکھے اگر اس میں بھی خون کا اثر ہے تو اب اس کا وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ا ھ (ت)
میں نے دیکھا کہ تبیین کے اس مقام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے :
اقول : اگر کسی چیز کے مس ہونے کی وجہ سے اس پر خون کا اثر دکھائی دینا مطلقا ناقض وضو ہے تو پہلی بار روٹی پر خون کا اثر دیکھنے ہی کے وقت وضو کیوں نہ ٹوٹا---- در اصل یہ بات نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ خون میں بذات خود اپنی جگہ سے تجاوز کرنے کی قوت ہو نہ یہ کہ کوئی چیز مس ہونے سے خون اس پر چپك جائے ۔ یہ اتنا زیادہ ظاہر کہ اظہار سے بے نیاز ہے---- شاید قول مذکور کا مقصود بھی یہی ہے یعنی یہ کہ جانچ کرے کہ وہ لگنے والا خون بہنے والا ہے یا صرف بادی (دکھائی دینے والا) تھا اور مس ہونے کی وجہ سے روٹی پر لگ آیا۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ محض دکھائی دینے والا خون کم ہونے اور اندر سے اضافہ نہ ملنے کے باعث پہلی بار مس ونے سے ہی خشك ہو جائے گا پھر جب انگلی یا آستین رکھی اور
فــــ ۵۰تطفل علی الامام الزیلعی۔
ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ۔
۷۶اقول : فــــلوکان ظھور اثر الدم علی شیئ بالاتصال ناقضا مطلقا فلم لم ینقض حین رأی الدم علی الخبز اولا بل الواجب ان تکون فی نفسہ قوۃ التجاوز من محلہ لاان یمسہ شیئ فلیتصق بہ وھذا اظھر من ان یظھر ولعلہ ھو المقصود ای یجرب ھل ھو سائل ام کان بادیا وانتقل الی الخبز بالمساس۔
ولعل ظانا یظن ان البادی لقلتہ وعدم مددہ ینتشف بالمساس الاول فاذا وضع الاصبع او الکم وظھر فیہ
اس جگہ رکھ کر دیکھے اگر اس میں بھی خون کا اثر ہے تو اب اس کا وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ا ھ (ت)
میں نے دیکھا کہ تبیین کے اس مقام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے :
اقول : اگر کسی چیز کے مس ہونے کی وجہ سے اس پر خون کا اثر دکھائی دینا مطلقا ناقض وضو ہے تو پہلی بار روٹی پر خون کا اثر دیکھنے ہی کے وقت وضو کیوں نہ ٹوٹا---- در اصل یہ بات نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ خون میں بذات خود اپنی جگہ سے تجاوز کرنے کی قوت ہو نہ یہ کہ کوئی چیز مس ہونے سے خون اس پر چپك جائے ۔ یہ اتنا زیادہ ظاہر کہ اظہار سے بے نیاز ہے---- شاید قول مذکور کا مقصود بھی یہی ہے یعنی یہ کہ جانچ کرے کہ وہ لگنے والا خون بہنے والا ہے یا صرف بادی (دکھائی دینے والا) تھا اور مس ہونے کی وجہ سے روٹی پر لگ آیا۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ محض دکھائی دینے والا خون کم ہونے اور اندر سے اضافہ نہ ملنے کے باعث پہلی بار مس ونے سے ہی خشك ہو جائے گا پھر جب انگلی یا آستین رکھی اور
فــــ ۵۰تطفل علی الامام الزیلعی۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۴۸۔ ۴۹
ظھر ان لہ مددا فلا یکون بادیا بل خارجا۔
۷۷اقول : ولیس بشیئ وکفی بالمشاھدۃ ردا علیہ وقد تقدم عن الفتح ان القمیص لو تردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن بحیث لو ترك سال لانہ لیس بحدث اھ ماکتبت۔
ثم رأیت ولله الحمد ان جنح فی الحلیۃ الی تأویلہ بما ذکرت وھذا لفظہ الشریف م ولو عض شیئا فرأی علیہ اثر الدم فلاوضو علیہ
ش : وکذا لوخلل اسنانہ فرأی الدم راس الخلال لاوضوء علیہ لانہ لیس بدم سائل ذکرہ قاضی خان وغیرہ
م : وقال بعض المشائخ ینبغی ان
اس میں بھی ظاہر ہوا تو پتہ چل گیا کہ اس میں اندر سے اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لئے وہ بادی نہیں بلکہ خارج ہے ۔
اقول : یہ خیال کچھ بھی نہیں مشاہدہ اس کی تردید کے لئے کافی ہے اور فتح القدیر کے حوالے سے یہ صراحت بھی گزر چکی ہے کہ : اگر کرتا زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب کہ خون اس قابل نہ رہا ہو کہ اگر چھوڑ دیا جاتا تو بہہ نکلتا کیونکہ وہ ( صرف لگ جانیوالا خون حدث نہیں ا ھ میرا حاشیہ ختم۔
پھر میں نے دیکھا کہ صاحب حلیہ بھی اسی تاویل کی جانب مائل ہیں جو میں نے ذکر کی ولله الحمد ان کے الفاظ کریمہ یہ ہیں (م کے بعد متن منیہ کی عبارت ہے اور ش کے بعد شرح حلیہ کی عبارت ۱۲م) م : اگر کوئی چیز دانت سے کاٹی پھر اس پر خون کا اثر دیکھا تو اس پر وضو نہیں ۔
ش : اسی طرح اگر دانتوں میں خلال کیا پھر سر خلال پر خون نظر آیا تو اس پر وضو نہیں کیونکہ یہ بہنے والا خون نہیں یہ امام قاضی خان وغیرہ نے ذکر کیا ۔ م : اور مشائخ میں سے ایك بزرگ نے فرمایا کہ اس
۷۷اقول : ولیس بشیئ وکفی بالمشاھدۃ ردا علیہ وقد تقدم عن الفتح ان القمیص لو تردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن بحیث لو ترك سال لانہ لیس بحدث اھ ماکتبت۔
ثم رأیت ولله الحمد ان جنح فی الحلیۃ الی تأویلہ بما ذکرت وھذا لفظہ الشریف م ولو عض شیئا فرأی علیہ اثر الدم فلاوضو علیہ
ش : وکذا لوخلل اسنانہ فرأی الدم راس الخلال لاوضوء علیہ لانہ لیس بدم سائل ذکرہ قاضی خان وغیرہ
م : وقال بعض المشائخ ینبغی ان
اس میں بھی ظاہر ہوا تو پتہ چل گیا کہ اس میں اندر سے اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لئے وہ بادی نہیں بلکہ خارج ہے ۔
اقول : یہ خیال کچھ بھی نہیں مشاہدہ اس کی تردید کے لئے کافی ہے اور فتح القدیر کے حوالے سے یہ صراحت بھی گزر چکی ہے کہ : اگر کرتا زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب کہ خون اس قابل نہ رہا ہو کہ اگر چھوڑ دیا جاتا تو بہہ نکلتا کیونکہ وہ ( صرف لگ جانیوالا خون حدث نہیں ا ھ میرا حاشیہ ختم۔
پھر میں نے دیکھا کہ صاحب حلیہ بھی اسی تاویل کی جانب مائل ہیں جو میں نے ذکر کی ولله الحمد ان کے الفاظ کریمہ یہ ہیں (م کے بعد متن منیہ کی عبارت ہے اور ش کے بعد شرح حلیہ کی عبارت ۱۲م) م : اگر کوئی چیز دانت سے کاٹی پھر اس پر خون کا اثر دیکھا تو اس پر وضو نہیں ۔
ش : اسی طرح اگر دانتوں میں خلال کیا پھر سر خلال پر خون نظر آیا تو اس پر وضو نہیں کیونکہ یہ بہنے والا خون نہیں یہ امام قاضی خان وغیرہ نے ذکر کیا ۔ م : اور مشائخ میں سے ایك بزرگ نے فرمایا کہ اس
حوالہ / References
حواشی لامام احمد رضا علی تبیین الحقائق)
منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
یضع کمہ اواصبعہ فی ذلك الموضع ان وجد الدم فیہ نقض والا فلا ش : ھذا ھو الشیخ الامام علاء الدین کما فی الذخیرۃ وغیرھا والا حسن لا ینقض مالم یعرف السیلان کما فی الفتاوی الظہیریۃ والظاھر انہ مرادا لکل ومن ثم قال فی خزانۃ الفتاوی عض علی شیئ واصابہ دم من بین اسنانہ او اصاب الخلال ان کان بحیث لوترك لایسیل لاینقض اھ
فالحمد لله علی کشف الغمۃ ثم راجعت الغنیۃ فرأیت ان الترجی الاخر الذی ترجیت بقولی ولعل ظانا یظن قدوقع فانہ رحمہ الله تعالی قال بعد قول بعض المشائخ “ وھذا ھو الاحوط لانہ اذرأی الاثر یجب علیہ ان یتعرف ھل ذلك عن شیئ سائل بنفسہ ام لا فاذا ظھر ثانیا علی کمہ او اصبعہ غلب علی
جگہ آستین یا انگلی رکھ کر دیکھنا چاہئے اگر اس میں خون پائے تو اس جسے وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔
ش : یہ بزرگ شیخ امام علاء الدین ہیں جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ میں بتایا ہے اور احسن جیسا کہ فتاوی ظہیریہ میں کہا یہی ہے کہ جب تك سائل ہونے کا علم نہ ہو ناقض نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مقصود سب کا یہی ہے اسی لئے خزانۃ المفتین میں کہا : کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر دانتوں کے درمیان سے خون لگ گیا یا خلال پر خون لگ گیا اگر وہ اس قابل تھا کہ چھوڑ دیا جاتا تو نہ بہتا تب وہ ناقض نہیں ا ھ ۔
تو اس مشکل دور ہونے پر خدا کا شکر ہے پھر میں نے غنیہ کی مراجعت کی تو دیکھا کہ وہ بعد والی توقع جس کا اظہار میں نے “ شاید کسی کو خیال ہو “ سے کیا تھا واقع ہو چکی ہے کیونکہ صاحب غنیہ نے اس میں بعض مشائخ کا قول ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے اور یہی احوط ہے یعنی اس میں زیادہ احتیاط ہے کیونکہ جب اس نے خون کا اثر دیکھ لیا تو اس پر یہ دریافت واجب ہے کہ وہ از خود بہنے والے خون کا اثر ہے یا ایسا نہیں پھر جب اس کی آستین یا
فالحمد لله علی کشف الغمۃ ثم راجعت الغنیۃ فرأیت ان الترجی الاخر الذی ترجیت بقولی ولعل ظانا یظن قدوقع فانہ رحمہ الله تعالی قال بعد قول بعض المشائخ “ وھذا ھو الاحوط لانہ اذرأی الاثر یجب علیہ ان یتعرف ھل ذلك عن شیئ سائل بنفسہ ام لا فاذا ظھر ثانیا علی کمہ او اصبعہ غلب علی
جگہ آستین یا انگلی رکھ کر دیکھنا چاہئے اگر اس میں خون پائے تو اس جسے وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔
ش : یہ بزرگ شیخ امام علاء الدین ہیں جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ میں بتایا ہے اور احسن جیسا کہ فتاوی ظہیریہ میں کہا یہی ہے کہ جب تك سائل ہونے کا علم نہ ہو ناقض نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مقصود سب کا یہی ہے اسی لئے خزانۃ المفتین میں کہا : کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر دانتوں کے درمیان سے خون لگ گیا یا خلال پر خون لگ گیا اگر وہ اس قابل تھا کہ چھوڑ دیا جاتا تو نہ بہتا تب وہ ناقض نہیں ا ھ ۔
تو اس مشکل دور ہونے پر خدا کا شکر ہے پھر میں نے غنیہ کی مراجعت کی تو دیکھا کہ وہ بعد والی توقع جس کا اظہار میں نے “ شاید کسی کو خیال ہو “ سے کیا تھا واقع ہو چکی ہے کیونکہ صاحب غنیہ نے اس میں بعض مشائخ کا قول ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے اور یہی احوط ہے یعنی اس میں زیادہ احتیاط ہے کیونکہ جب اس نے خون کا اثر دیکھ لیا تو اس پر یہ دریافت واجب ہے کہ وہ از خود بہنے والے خون کا اثر ہے یا ایسا نہیں پھر جب اس کی آستین یا
حوالہ / References
منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
الظن کونہ سائلا والا فلاوفی الحاوی سئل ابراھیم عن الدم اذا خرج من بین الاسنان فقال انکان موضعہ معلوما وسال نقض وھو نجس وان لم یعلم وخرج مع البزاق فانہ ینظر الی الغالب اھ
وقد اصاب رحمہ الله تعالی اولا ان الواجب تعرف سیلانہ بنفسہ واخرا حیث عقبہ بقول ابرھیم المدیر للحکم علی السیلان وانما الزلۃ فــــــ فی زعمہ ان بظہورہ علی الاصبع ثانیا یغلب علی الظن سیلانہ وقد قدمت مایکفی ویشفی ۔
وقول الامام الاجل ظھیر الدین المرغینانی لقول الاکثرین انہ الاحسن مع ظھور وجہہ ومع انہ علیہ الاکثر
انگلی پر دوسری بار بھی وہ اثر نظر آیا تو غلبہ ظن حاصل ہو گیا کہ وہ بہنے والا ہے ورنہ نہیں ۔ اور حاوی میں لکھا ہے کہ شیخ ابراہیم سے اس خون کے متعلق سوال ہوا جو دانتوں کے درمیان سے نکلے انہوں نے جواب دیا کہ اگر معلوم ہے کہ کس جگہ سے نکلا ہے اور بہنے والا ہے تو ناقض وضو اور نجس ہے اور اگر اس کی جگہ معلوم نہیں تھوك کے ساتھ نکل آیا ہے تو دیکھا جائے گا کہ تھوك اور خون میں زیادہ کون ہے (جو زائد ہو اسی کا حکم ہو گا )ا ھ ۔
صاحب غنیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ نے شروع میں صحیح لکھا کہ اس کے سائل ہونے کی دریافت واجب ہے اور آخر میں بھی ٹھیك کیا کہ شیخ ابراہیم کا کلام لائے جس میں سائل ہونے پر حکم کا مدار رکھا ہے لغزش صرف ان کے اس خیال میں ہے کہ دوسری بار انگلی پر اثر ظاہر ہونے سے سائل ہونے کا غلبہ ظن حاصل ہو جائے گا ۔ اس خیال کے رد میں کافی و شافی گفتگو ابھی ہو چکی ہے۔ اب رہا یہ کہ غنیہ نے اسے احوط کہا تو امام جلیل ظہیر الدین مرغینانی نے قول جمہور کو ۱احسن ۱کہا اس۲ کی وجہ بھی ظاہر ہے وہی۳ اکثر مشائخ
فـــــ : ۵۱تطفل علی الغنیۃ۔
وقد اصاب رحمہ الله تعالی اولا ان الواجب تعرف سیلانہ بنفسہ واخرا حیث عقبہ بقول ابرھیم المدیر للحکم علی السیلان وانما الزلۃ فــــــ فی زعمہ ان بظہورہ علی الاصبع ثانیا یغلب علی الظن سیلانہ وقد قدمت مایکفی ویشفی ۔
وقول الامام الاجل ظھیر الدین المرغینانی لقول الاکثرین انہ الاحسن مع ظھور وجہہ ومع انہ علیہ الاکثر
انگلی پر دوسری بار بھی وہ اثر نظر آیا تو غلبہ ظن حاصل ہو گیا کہ وہ بہنے والا ہے ورنہ نہیں ۔ اور حاوی میں لکھا ہے کہ شیخ ابراہیم سے اس خون کے متعلق سوال ہوا جو دانتوں کے درمیان سے نکلے انہوں نے جواب دیا کہ اگر معلوم ہے کہ کس جگہ سے نکلا ہے اور بہنے والا ہے تو ناقض وضو اور نجس ہے اور اگر اس کی جگہ معلوم نہیں تھوك کے ساتھ نکل آیا ہے تو دیکھا جائے گا کہ تھوك اور خون میں زیادہ کون ہے (جو زائد ہو اسی کا حکم ہو گا )ا ھ ۔
صاحب غنیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ نے شروع میں صحیح لکھا کہ اس کے سائل ہونے کی دریافت واجب ہے اور آخر میں بھی ٹھیك کیا کہ شیخ ابراہیم کا کلام لائے جس میں سائل ہونے پر حکم کا مدار رکھا ہے لغزش صرف ان کے اس خیال میں ہے کہ دوسری بار انگلی پر اثر ظاہر ہونے سے سائل ہونے کا غلبہ ظن حاصل ہو جائے گا ۔ اس خیال کے رد میں کافی و شافی گفتگو ابھی ہو چکی ہے۔ اب رہا یہ کہ غنیہ نے اسے احوط کہا تو امام جلیل ظہیر الدین مرغینانی نے قول جمہور کو ۱احسن ۱کہا اس۲ کی وجہ بھی ظاہر ہے وہی۳ اکثر مشائخ
فـــــ : ۵۱تطفل علی الغنیۃ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضو سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۲۔ ۱۳۳
وانہ جزم بہ الاکابر کقاضی خان وصاحب المحیط وغیرھما لایقاومہ قول الغنیۃ لخلافہ احوط مع عدم ظھور وجہہ بل ظہور وجہ عدمہ وانما الاحتیاط فـــ العمل باقوی الدلیلین کما فی الفتح والبحر وغیرھما لاجرم لم یعرج علیہ المحقق الشارح نفسہ فی شرحہ الصغیر الملخص من ھذا الکبیر انما اقتصر علی نقل قول ابرھیم ولله الحمد علی تواتر الانہ علی عبدہ الاثیم۔
الثانی : عامۃ الرواۃ فی ماذکرنا من الخلاف فی حد السیلان انہ العلو والانحداد معا ام مجرد العلو علی نسبۃ الاول الی الامام الثانی والثانی الی الامام الشیبانی وقال فی الحلیۃ ظاھر البدائع انہ ای الاول قول علمائنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم
کا مذہب بھی ہے اسی۴ پر امام قاضی خاں اور صاحب محیط وغیرہما جیسے اکابر نے جزم کیا تو اس کے خلاف قول کو صاحب غنیہ کا “ احوط “ کہنا کیا حیثیت رکھتا ہے۱ جب ۲کہ اس کی وجہ بھی ظاہر نہیں بلکہ اس ۳کے عدم کی وجہ ظاہر ہے رہا احتیاط تو احتیاط ۴اسی میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جوزیادہ قوی ہو اسی پر عمل کیا جائے جیسا کہ فتح القدیر البحر الرائق وغیرہما میں ہے--- آخر کار خود شارح محقق نے اس شرح کبیر کی تلخیص کر کے جو شرح صغیر لکھی ہے اس میں اس قول پر نہ ٹھہرے بس شیخ ابراہیم کا کلام نقل کرنے پر اکتفا کی--- خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے بندہ گنہگار کو متواتر احسانات سے نوازا ۔
تنبیہ دوم : سیلان کی تعریف میں ہم نے اختلاف ذکر کیا پہلا قول یہ کہ سیلان اوپر چڑھنے پھر نیچے ڈھلکنے کے مجموعے کا نام ہے دوسرا یہ کہ صرف اوپر چڑھنا ہی سیلان ہے عامہ رواۃ نے قول اول امام ثانی (قاضی ابو یوسف ) کی طرف منسوب کیا اور قول دوم امام شیبانی کی طرف منسوب کیا ---- حلیہ میں یہ لکھا کہ : بدائع کے ظاہر کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اول ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہکا قول ہے ا ھ ۔
فـــ : الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔
الثانی : عامۃ الرواۃ فی ماذکرنا من الخلاف فی حد السیلان انہ العلو والانحداد معا ام مجرد العلو علی نسبۃ الاول الی الامام الثانی والثانی الی الامام الشیبانی وقال فی الحلیۃ ظاھر البدائع انہ ای الاول قول علمائنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم
کا مذہب بھی ہے اسی۴ پر امام قاضی خاں اور صاحب محیط وغیرہما جیسے اکابر نے جزم کیا تو اس کے خلاف قول کو صاحب غنیہ کا “ احوط “ کہنا کیا حیثیت رکھتا ہے۱ جب ۲کہ اس کی وجہ بھی ظاہر نہیں بلکہ اس ۳کے عدم کی وجہ ظاہر ہے رہا احتیاط تو احتیاط ۴اسی میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جوزیادہ قوی ہو اسی پر عمل کیا جائے جیسا کہ فتح القدیر البحر الرائق وغیرہما میں ہے--- آخر کار خود شارح محقق نے اس شرح کبیر کی تلخیص کر کے جو شرح صغیر لکھی ہے اس میں اس قول پر نہ ٹھہرے بس شیخ ابراہیم کا کلام نقل کرنے پر اکتفا کی--- خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے بندہ گنہگار کو متواتر احسانات سے نوازا ۔
تنبیہ دوم : سیلان کی تعریف میں ہم نے اختلاف ذکر کیا پہلا قول یہ کہ سیلان اوپر چڑھنے پھر نیچے ڈھلکنے کے مجموعے کا نام ہے دوسرا یہ کہ صرف اوپر چڑھنا ہی سیلان ہے عامہ رواۃ نے قول اول امام ثانی (قاضی ابو یوسف ) کی طرف منسوب کیا اور قول دوم امام شیبانی کی طرف منسوب کیا ---- حلیہ میں یہ لکھا کہ : بدائع کے ظاہر کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اول ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہکا قول ہے ا ھ ۔
فـــ : الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
وفی الفوائد المخصصۃ لسیدی العلامۃ ابن عابدین “ اشتراط السیلان فی نقض الطہارۃ فیہ خلاف وان الصحیح اشتراطہ وان اخذ اکثر من راس الجرح خلافا لمحمد وجعلھا فی الظھیریۃ روایۃ شاذۃ عن محمد وفی التتارخانیۃ عن المحیط شرط السیلان مذھب علمائنا الثلثۃ وانہ استحسان وقال زفر رحمہ الله تعالی اذا علا فظھر علی رأس الجرح ینتقض وضوؤہ وھو القیاس انتھی۔
۷۸اقول : قدعرف مذھب زفرفی الھدایۃ وغیرھا النقض بمجرد الظھور فقولہ علا ای من الباطن وقولہ ظھر بمعنی التبیین دون الصعود کیف و زفرلا یشترط الانتفاخ والصعود بعد الوصول الی رأس الجرح فلیعلم ذلک۔
ورأیت فی خلاصۃ الامام طاھر بن عبدالرشید والبخاری مانصہ سیدی علامہ ابن عابدین کے “ فوائد مخصصہ میں ہے : ناقض طہارت ہونے میں خون کا بہہ جانا شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ بہہ جانا شرط ہے اگرچہ خون چڑھ کر سر زخم سے زیادہ جگہ لے لے بخلاف مذہب امام محمد کے--- اور اسے ظہیریہ میں امام محمد سے منقول ایك شاذ روایت قرار دیا-- اور تاتارخانیہ میں محیط سے نقل ہے کہ : بہہ جانے کی شرط ہمارے تینوں علماء کے مذہب پر ہے---- یہ استحسان ہے--- اور امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ خون جب اوپر آیا پھر سرزخم پر ظاہر ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گا---- یہ قیاس ہے انتہی۔
اقول : ہدایہ وغیرہا سے معلوم ہو چکا ہے کہ امام زفر کا مذہب یہ ہے کہ محض ظاہر ہونے ہی سے وضو ٹوٹ جائے گا---- تو کلام بالا میں “ اوپر آیا “ کا معنی یہ ہو گا کہ اندر سے اوپر آیا اور “ ظاہر ہوا “ کا معنی چڑھنا نہیں بلکہ “ نمایاں ہونا “ ہو گا ----- وہ ہو گا بھی کیسے جب کہ امام زفر سر زخم تك پہنچ جانے کے بعد چڑھنے اور (دائرہ بنا کر ) پھول جانے کی شرط نہیں رکھتے -----یہ بات معلوم رہنی چاہئے ۔
اور میں نے امام طاہر بن عبدالرشید بخاری کی کتاب خلاصہ میں یہ عبارت دیکھی : جامع صغیر کے
۷۸اقول : قدعرف مذھب زفرفی الھدایۃ وغیرھا النقض بمجرد الظھور فقولہ علا ای من الباطن وقولہ ظھر بمعنی التبیین دون الصعود کیف و زفرلا یشترط الانتفاخ والصعود بعد الوصول الی رأس الجرح فلیعلم ذلک۔
ورأیت فی خلاصۃ الامام طاھر بن عبدالرشید والبخاری مانصہ سیدی علامہ ابن عابدین کے “ فوائد مخصصہ میں ہے : ناقض طہارت ہونے میں خون کا بہہ جانا شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ بہہ جانا شرط ہے اگرچہ خون چڑھ کر سر زخم سے زیادہ جگہ لے لے بخلاف مذہب امام محمد کے--- اور اسے ظہیریہ میں امام محمد سے منقول ایك شاذ روایت قرار دیا-- اور تاتارخانیہ میں محیط سے نقل ہے کہ : بہہ جانے کی شرط ہمارے تینوں علماء کے مذہب پر ہے---- یہ استحسان ہے--- اور امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ خون جب اوپر آیا پھر سرزخم پر ظاہر ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گا---- یہ قیاس ہے انتہی۔
اقول : ہدایہ وغیرہا سے معلوم ہو چکا ہے کہ امام زفر کا مذہب یہ ہے کہ محض ظاہر ہونے ہی سے وضو ٹوٹ جائے گا---- تو کلام بالا میں “ اوپر آیا “ کا معنی یہ ہو گا کہ اندر سے اوپر آیا اور “ ظاہر ہوا “ کا معنی چڑھنا نہیں بلکہ “ نمایاں ہونا “ ہو گا ----- وہ ہو گا بھی کیسے جب کہ امام زفر سر زخم تك پہنچ جانے کے بعد چڑھنے اور (دائرہ بنا کر ) پھول جانے کی شرط نہیں رکھتے -----یہ بات معلوم رہنی چاہئے ۔
اور میں نے امام طاہر بن عبدالرشید بخاری کی کتاب خلاصہ میں یہ عبارت دیکھی : جامع صغیر کے
حوالہ / References
الفوائد المخصّصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثانیۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۵۷
فی بعض نسخ الجامع الصغیر الدم اذالم ینحدر عن رأس الجرح لکن علا فصارا اکبر عن رأس الجرح لا ینتقض وضوؤہ
ثم رأیت فی وجیز الکردری جزم بعزوہ للجامع الصغیر کما سیاتی فاذن اطلاقہ القول یفید ظاھرا انہ مذھب علمائنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم ثم ھوالذی صححہ عامۃ ائمۃ الفتوی کقاضی خاں وغیرہ ممن قصصنا اولم نقص علیك ۔
ووقع فـــــ ھھنا زلۃ قلم من المحقق البحر تبعہ علیہا العلامہ ط حیث قال فی البحر الرائق فی الدرایۃ جعل قول محمد اصح واختار السرخی وفی فتح القدیر انہ الاولی اھ
وھو کما تری سہوظاھر وانما اختار السرخسی قول ابی یوسف
بعض نسخوں میں ہے کہ : خون جب سر زخم سے ڈھلکے نہیں لیکن چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو وہ ناقض وضو نہیں۔
پھر میں نے وجیز کردری میں دیکھا کہ عبارت بالا سے متعلق بالجزم جامع صغیر کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ اس کی عادت آ رہی ہے تو یہاں جامع صغیر میں کلام مطلق رکھنے ( کسی ایك کا امام کا قول نہ بتانے ) سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ ہمارے تینوں علماء رضی اللہ تعالی عنہمکا مذہب ہے----- پھر عامہ ائمہ فتوی نے اسی کو صحیح کہا ہے جیسے امام قاضی خان اور ان کے علاوہ ائمہ جن کے نام ہم نے لئے اور جن کے نام نہ لئے۔
یہاں محقق صاحب بحر سے ایك لغزش قلم واقع ہوئی ہے جس پر طحطاوی نے بھی ان کا اتباع کر لیا ہے وہ یہ کہ البحر الرائق میں لکھتے ہیں : “ درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا اسی کو امام سرخسی نے بھی اختیار کیا ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ وہی اولی ہے ا ھ “ ۔
یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کھلا ہوا سہو ہے امام سرخسی نے تو امام ابو یوسف کا قول اختیار
فـــ : تنبیہ علی سہو وقع فی البحر وتبعہ ط۔
ثم رأیت فی وجیز الکردری جزم بعزوہ للجامع الصغیر کما سیاتی فاذن اطلاقہ القول یفید ظاھرا انہ مذھب علمائنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم ثم ھوالذی صححہ عامۃ ائمۃ الفتوی کقاضی خاں وغیرہ ممن قصصنا اولم نقص علیك ۔
ووقع فـــــ ھھنا زلۃ قلم من المحقق البحر تبعہ علیہا العلامہ ط حیث قال فی البحر الرائق فی الدرایۃ جعل قول محمد اصح واختار السرخی وفی فتح القدیر انہ الاولی اھ
وھو کما تری سہوظاھر وانما اختار السرخسی قول ابی یوسف
بعض نسخوں میں ہے کہ : خون جب سر زخم سے ڈھلکے نہیں لیکن چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو وہ ناقض وضو نہیں۔
پھر میں نے وجیز کردری میں دیکھا کہ عبارت بالا سے متعلق بالجزم جامع صغیر کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ اس کی عادت آ رہی ہے تو یہاں جامع صغیر میں کلام مطلق رکھنے ( کسی ایك کا امام کا قول نہ بتانے ) سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ ہمارے تینوں علماء رضی اللہ تعالی عنہمکا مذہب ہے----- پھر عامہ ائمہ فتوی نے اسی کو صحیح کہا ہے جیسے امام قاضی خان اور ان کے علاوہ ائمہ جن کے نام ہم نے لئے اور جن کے نام نہ لئے۔
یہاں محقق صاحب بحر سے ایك لغزش قلم واقع ہوئی ہے جس پر طحطاوی نے بھی ان کا اتباع کر لیا ہے وہ یہ کہ البحر الرائق میں لکھتے ہیں : “ درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا اسی کو امام سرخسی نے بھی اختیار کیا ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ وہی اولی ہے ا ھ “ ۔
یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کھلا ہوا سہو ہے امام سرخسی نے تو امام ابو یوسف کا قول اختیار
فـــ : تنبیہ علی سہو وقع فی البحر وتبعہ ط۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث ، المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ، ۱ / ۱۷
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۳۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی ۱ / ۳۲
وایاہ جعل فی الفتح اولی کما نقلنا لك نصہ رحمھم الله تعالی جمیعا ورحمنا بھم امین نبہ علیہ العلامۃ ش قائلا فاجتنبہ اھ
۷۹قلت : ونسبۃ تصحیح قول محمد للدرایۃ منصوص علیہا فی الفتح وتبعہ فـــ۱علیہ من بعدہ حتی العلامۃ ش اذا نقل کلامہ ھذا فی ردالمحتار واقرہ علیہ لکنہ زعم فی منحۃ الخالق فــــــ۲ حاشیۃ البحر الرائق انہ ذکر فی الدرایۃ قول ابی یوسف ثم ذکر قول محمد ثانیا ثم قال والصحیح الاول فلیر اجع اھ۔
وھذا یقتضی انہ انقلب الامر علی الفتح ایضاکما انقلب علی البحر واذا صح ھذا بقیت التصحیحات
کیا ہے اور اسی کو فتح القدیر میں بھی اولی قرار دیا ہے جیسا کہ فتح کی عبارت ہم نقل کر آئے ہیں الله تعالی ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کے صدقے میں ہم پر بھی رحم فرمائے ۔ الہی ! قبول فرما ۔ اس سہو پر علامہ شامی نے متنبہ کیا اور فرمایا : فاجتنبہ (تو اس سے بچنا) ا ھ ۔
قلت اب بحر کی ایك بات رہ گئی کہ درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا ہے ۔ اس کی صراحت پہلے فتح القدیر میں ہوئی اور بعد کے علماء نے اسی کااتباع کیا یہاں تك کہ علامہ شامی نے بھی یہی بات رد المحتار میں نقل کی اور برقرار رکھی --- لیکن انہوں نے البحرالرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں یہ بتایا کہ : درایہ میں پہلے امام ابویوسف کاقول ذکر کیا پھر امام محمد کاقول بیان کیا پھرکہا کہ : صحیح اول ہے ۔ “ تواس کی مراجعت کرنا چاہئے اھ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب فتح القدیر نے بھی بر عکس بتا دیا جیسا کہ بحر نے الٹا بیان کیا ----- اگر علامہ شامی کا بیان صحیح ہے تو تمام تصحیحات قول
فـــ۱ : ۵۲معروضۃ علی ش۔
فـــ۲ : تنبیہ علی سہو وقع فی الفتح علی ما زعم العلامۃ ش۔
۷۹قلت : ونسبۃ تصحیح قول محمد للدرایۃ منصوص علیہا فی الفتح وتبعہ فـــ۱علیہ من بعدہ حتی العلامۃ ش اذا نقل کلامہ ھذا فی ردالمحتار واقرہ علیہ لکنہ زعم فی منحۃ الخالق فــــــ۲ حاشیۃ البحر الرائق انہ ذکر فی الدرایۃ قول ابی یوسف ثم ذکر قول محمد ثانیا ثم قال والصحیح الاول فلیر اجع اھ۔
وھذا یقتضی انہ انقلب الامر علی الفتح ایضاکما انقلب علی البحر واذا صح ھذا بقیت التصحیحات
کیا ہے اور اسی کو فتح القدیر میں بھی اولی قرار دیا ہے جیسا کہ فتح کی عبارت ہم نقل کر آئے ہیں الله تعالی ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کے صدقے میں ہم پر بھی رحم فرمائے ۔ الہی ! قبول فرما ۔ اس سہو پر علامہ شامی نے متنبہ کیا اور فرمایا : فاجتنبہ (تو اس سے بچنا) ا ھ ۔
قلت اب بحر کی ایك بات رہ گئی کہ درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا ہے ۔ اس کی صراحت پہلے فتح القدیر میں ہوئی اور بعد کے علماء نے اسی کااتباع کیا یہاں تك کہ علامہ شامی نے بھی یہی بات رد المحتار میں نقل کی اور برقرار رکھی --- لیکن انہوں نے البحرالرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں یہ بتایا کہ : درایہ میں پہلے امام ابویوسف کاقول ذکر کیا پھر امام محمد کاقول بیان کیا پھرکہا کہ : صحیح اول ہے ۔ “ تواس کی مراجعت کرنا چاہئے اھ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب فتح القدیر نے بھی بر عکس بتا دیا جیسا کہ بحر نے الٹا بیان کیا ----- اگر علامہ شامی کا بیان صحیح ہے تو تمام تصحیحات قول
فـــ۱ : ۵۲معروضۃ علی ش۔
فـــ۲ : تنبیہ علی سہو وقع فی الفتح علی ما زعم العلامۃ ش۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ ، مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۱
منحۃ الخالق علی البحرا لر ائق کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۱
منحۃ الخالق علی البحرا لر ائق کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۱
کلہا راجعۃ الی قول ابی وسف وھو اسکن للقلب وامکن فلیراجع۔
والعبد الضعیف لم یرھھنا تصریح احد بتصحیح قول محمد بل ولا ترجیحا مالہ واختیارہ۔
اللھم الامافی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ عن الفقیہ ابن جعفر عن محمد بن عبدالله رحمہ الله تعالی انہ کان یمیل فی ھذا الی انہ ینتقض وضوؤہ و راہ سائلا (قال اعنی صاحب الذخیرۃ) وفی فتاوی النسفی ھکذا اھ
والا مارأیت فی جواھر الفتاوی من الباب الرابع المعقود لفتاوی الامام الاجل نجم الدین النسفی مانصہ رجل توضأ فعض الذباب بعض اعضائہ فظھر منہ دم لاینتقض الوضوء لقلتہ ولو غرزفی عضوہ شوکا اوابرۃ فظھر الدم ولم یسل ظاھرا ینتقض وضوؤہ لان الظاھر انہ سال عن راس الجرح اھ وھذا ماکان اشار
امام ابو یوسف کی طرف راجع ہو گئیں اور اس میں دل کے لئے زیادہ سکون و قرار زیادہ ہے----- تو اس کی طرف مراجعت ہونا چاہئے ۔
اور بندہ ضعیف نے یہاں قول امام محمد کی تصحیح سے متعلق کسی کی تصریح نہ دیکھی بلکہ اس سے متعلق کسی طرح کی کوئی ترجیح اور کسی کا اسے اختیار کرنا نہ پایا ۔
ہاں مگر (۱)جو فوائد مخصصہ میں ذخیرہ سے اس میں بروایت فقیہ ابو جعفر محمد بن عبدالله رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ سے منقول ہے کہ اس بارے میں وہ اس جانب مائل تھے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اسے انہوں نے بہنے والا سمجھا صاحب ذخیرہ نے فرمایا : اور فتاوی نسفی میں بھی اسی طرح ہے ا ھ ۔
(۲)اور وہ جو جواہر الفتاوی کے باب چہارم میں دیکھا---- یہ باب امام نجم الدین نسفی کے فتاوی کے لئے باندھا گیا ہے اس کی عبارت یہ ہے : ایك شخص باوضو ہے اس کے کسی عضو پر مکھی نے کاٹ لیا جس سے کچھ خون ظاہر ہو گیا تو اس کا وضو نہ ٹوٹے گا کیونکہ یہ خون کم ہی ہو گا ------اور اگر اس نے اپنے عضو میں کانٹا یا سوئی چبھولی جس سے خون ظاہر ہوا اور کھل کر بہا نہیں تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ سر زخم سے بہہ گیا ا ھ۔ یہی وہ ہے جس کی طرف ذخیرہ میں
والعبد الضعیف لم یرھھنا تصریح احد بتصحیح قول محمد بل ولا ترجیحا مالہ واختیارہ۔
اللھم الامافی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ عن الفقیہ ابن جعفر عن محمد بن عبدالله رحمہ الله تعالی انہ کان یمیل فی ھذا الی انہ ینتقض وضوؤہ و راہ سائلا (قال اعنی صاحب الذخیرۃ) وفی فتاوی النسفی ھکذا اھ
والا مارأیت فی جواھر الفتاوی من الباب الرابع المعقود لفتاوی الامام الاجل نجم الدین النسفی مانصہ رجل توضأ فعض الذباب بعض اعضائہ فظھر منہ دم لاینتقض الوضوء لقلتہ ولو غرزفی عضوہ شوکا اوابرۃ فظھر الدم ولم یسل ظاھرا ینتقض وضوؤہ لان الظاھر انہ سال عن راس الجرح اھ وھذا ماکان اشار
امام ابو یوسف کی طرف راجع ہو گئیں اور اس میں دل کے لئے زیادہ سکون و قرار زیادہ ہے----- تو اس کی طرف مراجعت ہونا چاہئے ۔
اور بندہ ضعیف نے یہاں قول امام محمد کی تصحیح سے متعلق کسی کی تصریح نہ دیکھی بلکہ اس سے متعلق کسی طرح کی کوئی ترجیح اور کسی کا اسے اختیار کرنا نہ پایا ۔
ہاں مگر (۱)جو فوائد مخصصہ میں ذخیرہ سے اس میں بروایت فقیہ ابو جعفر محمد بن عبدالله رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ سے منقول ہے کہ اس بارے میں وہ اس جانب مائل تھے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اسے انہوں نے بہنے والا سمجھا صاحب ذخیرہ نے فرمایا : اور فتاوی نسفی میں بھی اسی طرح ہے ا ھ ۔
(۲)اور وہ جو جواہر الفتاوی کے باب چہارم میں دیکھا---- یہ باب امام نجم الدین نسفی کے فتاوی کے لئے باندھا گیا ہے اس کی عبارت یہ ہے : ایك شخص باوضو ہے اس کے کسی عضو پر مکھی نے کاٹ لیا جس سے کچھ خون ظاہر ہو گیا تو اس کا وضو نہ ٹوٹے گا کیونکہ یہ خون کم ہی ہو گا ------اور اگر اس نے اپنے عضو میں کانٹا یا سوئی چبھولی جس سے خون ظاہر ہوا اور کھل کر بہا نہیں تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ سر زخم سے بہہ گیا ا ھ۔ یہی وہ ہے جس کی طرف ذخیرہ میں
حوالہ / References
الفوائد المخصصہ رسالۃ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثامنۃ ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۶۰
جواہر الفتاوٰی
جواہر الفتاوٰی
الیہ فی الذخیرۃ ان ھکذا فی الفتاوی النسفی۔
والامشیا علیہ فی مجموع النوازل نقلہ عنہ فی الخلاصۃ ثم عقب بما فی نسخۃ الجامع الصغیر ثم قال فعلی ھذا ینبغی ان لاینتقض اھ
والا ماوقع فی الکفایۃ من قولہ بعض مشائخنا رحمھم الله تعالی اخذوا بقول محمد رحمہ الله تعالی احتیاطا وبعضھم اخذوا بقول ابی یوسف رحمہ الله تعالی وھو اختیار المصنف ای (صاحب الہدایۃ ) رحمہ الله تعالی رفقا بالناس خصوصا فی حق اصحاب القروح اھ
۸۰اقول : وھذا فـــ اغرب من الکل لانہ ربما یوھم ان الاختیارین متکا فئان۔
و الاماوقع فی وجیز الامام الکردری حیث قال نوازل (ای قال فی مجموع النوازل) شاکہ شوکۃ او ابرۃ فاخرجہا وظھردم ولم یسل نقض و
اشارہ کیا کہ فتاوی نسفی میں بھی اسی طرح ہے
(۳) اور اس قول پر مجموع النوازل میں مشی ہے جسے خلاصہ میں اس سے نقل کیا ہے پھر نسخہ جامع صغیر کی مذکورہ بالاعبارت لکھی ہے پھر فرمایا ہے : تو اس بنیاد پر اسے ناقض نہیں ہونا چاہئے۔
(۴) اورجو کفایہ میں درج ہے کہ : ہمارے بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالینے احتیاطا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول لیا ہے اور بعض نے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ کا قول لیا ہے اور اسی کو لوگوں کی آسانی کے لئے خصوصا پھوڑے پھنسی والوں کے حق میں نرمی کی خاطر مصنف یعنی صاحب ہدایہ نے بھی اختیار فرمایا ہے ا ھ ۔
اقول : یہ سب سے زیادہ غریب ہے کیونکہ اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ دونوں ترجیحیں بالکل ایك دوسرے کے برابر ہیں ۔ (۵)اور وہ جو وجیز امام کردری میں واقع ہے وہ لکھتے ہیں : مجموع النوازل میں ہے : کوئی کانٹا یا سوئی چبھو کر نکالا خون ظاہر ہوا اور بہا نہیں تو یہ ناقض ہے--- اور جامع صغیر میں ہے : سر زخم
فـــ : ۵۳تطفل علی الکفایۃ۔
والامشیا علیہ فی مجموع النوازل نقلہ عنہ فی الخلاصۃ ثم عقب بما فی نسخۃ الجامع الصغیر ثم قال فعلی ھذا ینبغی ان لاینتقض اھ
والا ماوقع فی الکفایۃ من قولہ بعض مشائخنا رحمھم الله تعالی اخذوا بقول محمد رحمہ الله تعالی احتیاطا وبعضھم اخذوا بقول ابی یوسف رحمہ الله تعالی وھو اختیار المصنف ای (صاحب الہدایۃ ) رحمہ الله تعالی رفقا بالناس خصوصا فی حق اصحاب القروح اھ
۸۰اقول : وھذا فـــ اغرب من الکل لانہ ربما یوھم ان الاختیارین متکا فئان۔
و الاماوقع فی وجیز الامام الکردری حیث قال نوازل (ای قال فی مجموع النوازل) شاکہ شوکۃ او ابرۃ فاخرجہا وظھردم ولم یسل نقض و
اشارہ کیا کہ فتاوی نسفی میں بھی اسی طرح ہے
(۳) اور اس قول پر مجموع النوازل میں مشی ہے جسے خلاصہ میں اس سے نقل کیا ہے پھر نسخہ جامع صغیر کی مذکورہ بالاعبارت لکھی ہے پھر فرمایا ہے : تو اس بنیاد پر اسے ناقض نہیں ہونا چاہئے۔
(۴) اورجو کفایہ میں درج ہے کہ : ہمارے بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالینے احتیاطا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول لیا ہے اور بعض نے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ کا قول لیا ہے اور اسی کو لوگوں کی آسانی کے لئے خصوصا پھوڑے پھنسی والوں کے حق میں نرمی کی خاطر مصنف یعنی صاحب ہدایہ نے بھی اختیار فرمایا ہے ا ھ ۔
اقول : یہ سب سے زیادہ غریب ہے کیونکہ اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ دونوں ترجیحیں بالکل ایك دوسرے کے برابر ہیں ۔ (۵)اور وہ جو وجیز امام کردری میں واقع ہے وہ لکھتے ہیں : مجموع النوازل میں ہے : کوئی کانٹا یا سوئی چبھو کر نکالا خون ظاہر ہوا اور بہا نہیں تو یہ ناقض ہے--- اور جامع صغیر میں ہے : سر زخم
فـــ : ۵۳تطفل علی الکفایۃ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی ، کتاب الطہارۃ الفصل الثالث فی نواقض الوضوء مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷
الکفایہ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۰ ، ۴۱
الکفایہ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۰ ، ۴۱
فی الجامع الصغیر لم ینحدر الدم عن راسہ لکنہ علاوصار اکثر من رأس الجرح لاینقض وھذا خلاف مافی النوازل والاول عن الامام الثانی والثانی عن محمد رحمہما الله تعالی والنقض اقیس لان مزایلتہ عن مخرجہ سیلان اھ
قلت : و انت تعلم ان قد انقلب علیہ الامر فی نسبۃ المذھبین الی حضرۃ الامامین۔
۸۲اقول : وعجبا فــــ منہ ان عزاما عزاللجامع الصغیر جاز ماثم قال والثانی ای عدم النقض عن محمد فان مافی الجامع الصغیر مطلقا ان لم یکن ظاھرہ انہ قول ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم فلا اقل من ان یکون قول محمد فکیف ینسبہ الیہ بعن۔ ثم لانظر الی قولہ اقیس مع مامر من تصحیحات عامۃ الائمۃ قول عدم النقض
سے خون ڈھلکا نہیں لیکن اوپر چڑھا اور سرزخم سے زیادہ ہو گیا تو ناقض نہیں --- یہ اس کے برخلاف ہے جو مجموع النوازل میں ہے اور اول امام ثانی سے مروی ہے اور دوم امام محمد سے روایت ہے--- رحمہماالله تعالی اور ناقض ہونا زیادہ قرین قیاس ہے اس لئے کہ خون کا اپنے مخرج سے جدا ہونا سیلان ہے ا ھ ۔
قلت ناظر پر عیاں ہے کہ وجیز میں دونوں مذہب دونوں اماموں کی جانب منسوب کرنے میں معاملہ الٹ گیا ہے ۔
اقول : اور صاحب وجیز پر یہ بھی تعجب ہے کہ جامع صغیر کا حوالہ تو جزم کے ساتھ پیش کیا پھر بھی یہ لکھ دیا کہ “ والثانی عن محمد “ یعنی ناقض نہ ہونا امام محمد سے ایك روایت ہے حالانکہ جامع صغیر میں جو حکم مطلقا بیان ہوا ہے ظاہر یہ ہے کہ وہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا قول اور مذہب ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی کم از کم وہ امام محمد کا قول ضرور ہے پھر امام محمد کی طرف اس کی نسبت بلفظ “ عن “ کیسے کر رہے ہیں ( جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا قول اور مذہب نہیں بلکہ ان سے ایك روایت ہے ۱۲م )
فــ : ۵۴تطفل علی البزازیۃ
قلت : و انت تعلم ان قد انقلب علیہ الامر فی نسبۃ المذھبین الی حضرۃ الامامین۔
۸۲اقول : وعجبا فــــ منہ ان عزاما عزاللجامع الصغیر جاز ماثم قال والثانی ای عدم النقض عن محمد فان مافی الجامع الصغیر مطلقا ان لم یکن ظاھرہ انہ قول ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم فلا اقل من ان یکون قول محمد فکیف ینسبہ الیہ بعن۔ ثم لانظر الی قولہ اقیس مع مامر من تصحیحات عامۃ الائمۃ قول عدم النقض
سے خون ڈھلکا نہیں لیکن اوپر چڑھا اور سرزخم سے زیادہ ہو گیا تو ناقض نہیں --- یہ اس کے برخلاف ہے جو مجموع النوازل میں ہے اور اول امام ثانی سے مروی ہے اور دوم امام محمد سے روایت ہے--- رحمہماالله تعالی اور ناقض ہونا زیادہ قرین قیاس ہے اس لئے کہ خون کا اپنے مخرج سے جدا ہونا سیلان ہے ا ھ ۔
قلت ناظر پر عیاں ہے کہ وجیز میں دونوں مذہب دونوں اماموں کی جانب منسوب کرنے میں معاملہ الٹ گیا ہے ۔
اقول : اور صاحب وجیز پر یہ بھی تعجب ہے کہ جامع صغیر کا حوالہ تو جزم کے ساتھ پیش کیا پھر بھی یہ لکھ دیا کہ “ والثانی عن محمد “ یعنی ناقض نہ ہونا امام محمد سے ایك روایت ہے حالانکہ جامع صغیر میں جو حکم مطلقا بیان ہوا ہے ظاہر یہ ہے کہ وہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا قول اور مذہب ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی کم از کم وہ امام محمد کا قول ضرور ہے پھر امام محمد کی طرف اس کی نسبت بلفظ “ عن “ کیسے کر رہے ہیں ( جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا قول اور مذہب نہیں بلکہ ان سے ایك روایت ہے ۱۲م )
فــ : ۵۴تطفل علی البزازیۃ
حوالہ / References
الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الھندیہ کتاب الطہارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۲
بلفظ ھو الصحیح والاصح والمختار وغیرھا ویقطع النزاع مارأیت فی جواھر الاخلاطی وفی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ والتتار خانیۃ ثلثتھم عن فتاوی خوارزم وفی الھندیۃ عن المحیط واللفظ للاولی اذالم ینحدر عن رأس الجرح ولکن علافصار اکبر من رأس الجرح لا ینتقض وضوؤہ والفتوی علی عدم النقض فی جنس ھذہ المسائل اھ والله الموفق۔
الثالث : ابو یوسف یجمع القیئ اذا اتحد المجلس ولا یعتبر السبب وعکس فـــ محمد وقولہ
پھر وجیز نے ناقض ہونے کو جو “ اقیس “ (زیادہ قرین قیاس ) کہا قابل التفات نہیں کیونکہ اس کے مقابلہ میں ناقض نہ ہونے کے قول کے متعلق صحیح ---- اصح ---- مختار وغیرہ الفاظ سے عامہ ائمہ کی تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ گزرا -----اور قاطع نزاع وہ ہے جو میں نے جواہر الاخلاطی۱ میں اور فوائد مخصصہ میں ذخیرہ ۲و تاتارخانیہ۳ کے حوالے سے دیکھا ان تینوں میں فتاوی خوارزم سے نقل ہے اور ہندیہ میں بھی دیکھا کہ محیط سے منقول ہے الفاظ اول کے ہیں : جب خون سرزخم سے نہ ڈھلکے لیکن اوپر چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو ناقض وضو نہیں اور “ اس جنس کے مسائل میں فتوی عدم نقض پر ہی ہے ا ھ “ والله الموفق۔
تنبیہ سوم : (قے اگر منہ بھر ہو تو ناقض وضو ہے لیکن تھوڑی تھوڑی قے چند بار کر کے اتنی مقدار میں آئی کہ اگر سب یکجا ہو تو منہ بھر ہو جائے
فــ : مسئلہ : قے اگر منہ بھر کر ہو ناقض وضوہے پھر اگر چند بار تھوڑی تھوڑی آئے کہ سب ملانے سے منہ بھر کرہوجائے تواگر ایك ہی متلی سے آئی ہے وضو جاتارہے گااگرچہ مختلف جلسوں میں آئی ہو اوراگر متلی تھم گئی تھی پھر دوسری متلی سے اور آئی تو ملائی نہ جائے گی اگرچہ ایك ہی مجلس میں آئی ہو۔
الثالث : ابو یوسف یجمع القیئ اذا اتحد المجلس ولا یعتبر السبب وعکس فـــ محمد وقولہ
پھر وجیز نے ناقض ہونے کو جو “ اقیس “ (زیادہ قرین قیاس ) کہا قابل التفات نہیں کیونکہ اس کے مقابلہ میں ناقض نہ ہونے کے قول کے متعلق صحیح ---- اصح ---- مختار وغیرہ الفاظ سے عامہ ائمہ کی تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ گزرا -----اور قاطع نزاع وہ ہے جو میں نے جواہر الاخلاطی۱ میں اور فوائد مخصصہ میں ذخیرہ ۲و تاتارخانیہ۳ کے حوالے سے دیکھا ان تینوں میں فتاوی خوارزم سے نقل ہے اور ہندیہ میں بھی دیکھا کہ محیط سے منقول ہے الفاظ اول کے ہیں : جب خون سرزخم سے نہ ڈھلکے لیکن اوپر چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو ناقض وضو نہیں اور “ اس جنس کے مسائل میں فتوی عدم نقض پر ہی ہے ا ھ “ والله الموفق۔
تنبیہ سوم : (قے اگر منہ بھر ہو تو ناقض وضو ہے لیکن تھوڑی تھوڑی قے چند بار کر کے اتنی مقدار میں آئی کہ اگر سب یکجا ہو تو منہ بھر ہو جائے
فــ : مسئلہ : قے اگر منہ بھر کر ہو ناقض وضوہے پھر اگر چند بار تھوڑی تھوڑی آئے کہ سب ملانے سے منہ بھر کرہوجائے تواگر ایك ہی متلی سے آئی ہے وضو جاتارہے گااگرچہ مختلف جلسوں میں آئی ہو اوراگر متلی تھم گئی تھی پھر دوسری متلی سے اور آئی تو ملائی نہ جائے گی اگرچہ ایك ہی مجلس میں آئی ہو۔
حوالہ / References
جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی) ص۷ ، الفوائدالمخصصۃ رسالۃ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثامنۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۶۰ ، الفتاوی الھندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
الاصح وتطابقت النقول ھھنا علی اعتبار المجلس قال فی الحلیۃ “ فعلی ھذا یحتاج محمد رحمہ الله تعالی الی الفرق والله تعالی اعلم بذلك اھ
واشار فی ردالمحتار الی مایحذ و حذو جوابہ فقال کانھم قاسوھا علی القیئ ولما لم یکن ھنا اختلاف سبب تعین اعتبار المجلس فتنبہ اھ
۸۳اقول : ھذا عجیب فــــ فان من اسے یکجا مان کر نقض وضو کا حکم ہو گا یا نہیں ) امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ ایك نشست کے اندر چند بار میں جتنی قے آئی ہے سب یکجا مانی جائے گی خواہ ایك سبب یعنی ایك متلی سے آئی ہو یا چند سے اور امام محمد کے نزدیك اس کے بر عکس ہے ( ایك متلی سے چند بار میں جتنی آئی ہے یکجا نہ مانیں گے اگرچہ کئی مجلس اور کئی نشست میں ہو ) ----اصح امام محمد کا قول ہے لیکن یہاں (یعنی چند بار آئے ہوئے خون سے متعلق ) ساری روایات اس پر متفق ہیں کہ ایك مجلس کا اعتبار ہو گا (سبب ایك ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر و اعتبار نہیں )----- حلیہ میں فرمایا : اس بنیاد پر امام محمد کو دونوں مقام میں وجہ فرق بیان کرنے کی ضرورت ہو گی والله تعالی اعلم بذلك ا ھ
اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں ایك ایسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس اعتراض کے جواب کے طور پر جاری ہے وہ کہتے ہیں : “ گویا ان حضرات نے اسے قے پر قیاس کیا اور چونکہ یہاں اختلاف سبب کا وجود ہی نہیں اس لئے مجلس ہی کا اعتبار متعین ہے---- تو اس پر متنبہ ہونا چاہئے ا ھ ۔
اقول یہ عجیب ہے ۔ اس لئے کہ قے
فـــــ : ۵۵معروضۃ علی ش۔
واشار فی ردالمحتار الی مایحذ و حذو جوابہ فقال کانھم قاسوھا علی القیئ ولما لم یکن ھنا اختلاف سبب تعین اعتبار المجلس فتنبہ اھ
۸۳اقول : ھذا عجیب فــــ فان من اسے یکجا مان کر نقض وضو کا حکم ہو گا یا نہیں ) امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ ایك نشست کے اندر چند بار میں جتنی قے آئی ہے سب یکجا مانی جائے گی خواہ ایك سبب یعنی ایك متلی سے آئی ہو یا چند سے اور امام محمد کے نزدیك اس کے بر عکس ہے ( ایك متلی سے چند بار میں جتنی آئی ہے یکجا نہ مانیں گے اگرچہ کئی مجلس اور کئی نشست میں ہو ) ----اصح امام محمد کا قول ہے لیکن یہاں (یعنی چند بار آئے ہوئے خون سے متعلق ) ساری روایات اس پر متفق ہیں کہ ایك مجلس کا اعتبار ہو گا (سبب ایك ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر و اعتبار نہیں )----- حلیہ میں فرمایا : اس بنیاد پر امام محمد کو دونوں مقام میں وجہ فرق بیان کرنے کی ضرورت ہو گی والله تعالی اعلم بذلك ا ھ
اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں ایك ایسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس اعتراض کے جواب کے طور پر جاری ہے وہ کہتے ہیں : “ گویا ان حضرات نے اسے قے پر قیاس کیا اور چونکہ یہاں اختلاف سبب کا وجود ہی نہیں اس لئے مجلس ہی کا اعتبار متعین ہے---- تو اس پر متنبہ ہونا چاہئے ا ھ ۔
اقول یہ عجیب ہے ۔ اس لئے کہ قے
فـــــ : ۵۵معروضۃ علی ش۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
یعتبر السبب وھو الامام الربانی اذا وجد ماھو علۃ حکم الجمع عندہ لم لایحکم بہ ویعدل عنہ الی ماقد سقط اعتبارہ عندہ لاجل ان العلۃ دائمۃ ھھنا وان دوام العلۃ انما یقتضی دوام الحکم لاالغائھا واسنادہ الی غیرھا۔
فان قیل قدیدوم السبب ھھنا شھورا ودھورا فکیف یجمع الاخر الی الاول۔
۸۴قلت : ھذا اعتراف بان اتحاد السبب لایقوم باقتضائہ حکم الجمع فلم یکن فیہ دفع الایراد بل تسلیمہ ۔
لکنی ۸۵اقول : یتخالج فـــ صدری مایدفع ھذا والا یراد
میں سبب کا اعتبار کرنے والے---- امام ربانی محمد بن شیبانی کو جب وہاں ایك ایسی چیز (یعنی مجلس و نشست ) مل رہی ہے جو ان کے نزدیك (ایك جگہ کے مسئلہ میں ) یکجائی کا حکم کرنے کی علت ہے تو اسی پر حکم کیوں نہیں رکھتے اور اسے چھوڑ کر ایك ایسی چیز ( سبب اور متلی ) کو کیوں لیتے ہیں جس کا اعتبار ان کے نزدیك ساقط ہو چکا ہے (یعنی مسئلہ خون میں ۱۲ م )-- (انہیں تو قے میں بھی مجلس کا اعتبار کرنا چاہئے ) اس لئے کہ علت یہاں دائمی ہے اور علت کا دائمی ہونا اسی کا مقتضی ہے کہ حکم بھی دائمی ہو نہ اس کا کہ اسے لغو اور بے اثر ٹھہرا کر حکم کو کسی اور علت سے وابستہ کر دیا جائے ۔
فان قیل ( اگر یہ جواب دیا جائے کہ ) یہاں ( مسئلہ خون میں ) سبب ( زخم پھوڑا وغیرہ ) کبھی مہینوں اور زمانوں تك لگاتار ر ہ جاتا ہے تو آخر کو اول کے ساتھ کیسے یکجا کیا جائیگا
قلت : ( میں کہوں گا )یہ تو اس بات کا اعتراف ہے کہ سبب کا ایك ہونا اس قابل نہیں کہ حکم جمع کا مقتضی ہو تو یہ میرے اعتراض کا جواب نہ ہوا بلکہ اس میں تو اسے تسلیم کر لیا گیا ۔ اقول : ( میں کہتا ہوں ) میرے دل میں ایك بات گردش کر رہی ہے جو اس جواب اور
فـــ : ۵۶تطفل علی الحلیۃ ومعروضۃ علی ش۔
فان قیل قدیدوم السبب ھھنا شھورا ودھورا فکیف یجمع الاخر الی الاول۔
۸۴قلت : ھذا اعتراف بان اتحاد السبب لایقوم باقتضائہ حکم الجمع فلم یکن فیہ دفع الایراد بل تسلیمہ ۔
لکنی ۸۵اقول : یتخالج فـــ صدری مایدفع ھذا والا یراد
میں سبب کا اعتبار کرنے والے---- امام ربانی محمد بن شیبانی کو جب وہاں ایك ایسی چیز (یعنی مجلس و نشست ) مل رہی ہے جو ان کے نزدیك (ایك جگہ کے مسئلہ میں ) یکجائی کا حکم کرنے کی علت ہے تو اسی پر حکم کیوں نہیں رکھتے اور اسے چھوڑ کر ایك ایسی چیز ( سبب اور متلی ) کو کیوں لیتے ہیں جس کا اعتبار ان کے نزدیك ساقط ہو چکا ہے (یعنی مسئلہ خون میں ۱۲ م )-- (انہیں تو قے میں بھی مجلس کا اعتبار کرنا چاہئے ) اس لئے کہ علت یہاں دائمی ہے اور علت کا دائمی ہونا اسی کا مقتضی ہے کہ حکم بھی دائمی ہو نہ اس کا کہ اسے لغو اور بے اثر ٹھہرا کر حکم کو کسی اور علت سے وابستہ کر دیا جائے ۔
فان قیل ( اگر یہ جواب دیا جائے کہ ) یہاں ( مسئلہ خون میں ) سبب ( زخم پھوڑا وغیرہ ) کبھی مہینوں اور زمانوں تك لگاتار ر ہ جاتا ہے تو آخر کو اول کے ساتھ کیسے یکجا کیا جائیگا
قلت : ( میں کہوں گا )یہ تو اس بات کا اعتراف ہے کہ سبب کا ایك ہونا اس قابل نہیں کہ حکم جمع کا مقتضی ہو تو یہ میرے اعتراض کا جواب نہ ہوا بلکہ اس میں تو اسے تسلیم کر لیا گیا ۔ اقول : ( میں کہتا ہوں ) میرے دل میں ایك بات گردش کر رہی ہے جو اس جواب اور
فـــ : ۵۶تطفل علی الحلیۃ ومعروضۃ علی ش۔
جمیعا ان شاء الله تعالی وھو انا لا فـــ نسلم ھھنا اتحاد السبب بل الروح اذا احست بالم تتوجہ لدفاعہ فتتبعھا الریح والدم فلاجتما عھا یحدث الورم وتزداد الحرارۃ فیثقل اجتماع الدم ھھنا غیران الطبیعۃ تضن بالدم الصالح ان تدفعہ ولذلك اذا فصد المریض یتقدم الدم الفاسد خروجا وعن ھذا کانت الحجامۃ احب من الفصد لان الفصد یشق العرق فیثج الدم ثجافمع شدۃ تحفظ الطبیعۃ علی الدم الصالح تعجز عن امساکہ کلیا لانہ بانفتاح مجراہ یسیل بطبعہ سیلانا قویا فمع حجز الطبیعۃ یخرج شیئ من الصالح قہرا علیھا بخلاف الحجامۃ فان الخروج فیھا ضعیف فتتقوی الطبیعۃ علی احراز الصالح
اس اعتراض دونوں ہی کو رفع کر دینے والی ہے ان شاء الله تعالی۔ وہ یہ کہ ہم یہاں (مسئلہ خون میں ) اتحاد سبب نہیں مانتے ۔ ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ روح جب کسی تکلیف کا احساس کرتی ہے تو اس کے دفعیہ پر متوجہ ہوتی ہے۔ اس میں ہوا اور خون بھی ان کے تابع ہو جاتے ہیں تو ان سب کے مجتمع ہونے کی وجہ سے ورم پیدا ہو جاتا ہے اور حرارت بڑھتی ہے تو اس جگہ خون کا اجتماع ثقیل ہو جاتا ہے مگر یہ ہے کہ طبیعت صالح خون کو بچانا چاہتی ہے اور اسے دفع کرنا نہیں چاہتی----یہی وجہ ہے کہ جب مریض کو فصد لگائی جاتی ہے ( اس کی رگ کھول دی جاتی ہے ) تو پہلے فاسد خون باہر آتا ہے اسی لئے سنگی لگانا فصد لگانے سے بہتر ہوتاہے کیوں کہ فصد رگ کو پھاڑ دیتی ہے جس سے خون تیزی سے ابل پڑتا ہے اور زور سے بہنے لگتا ہے اس وقت طبیعت صالح خون کے شدید تحفظ کے باوجود اسے کلی طور پر روکنے سے بے بس ہو جاتی ہے کیوں کہ بہنے کی راہ کھل جانے کی وجہ سے خون طبعا پوری قوت سے بہنے لگتا ہے اور طبیعت کے روکنے کے باوجود کچھ صالح خون اسے مغلوب کر کے باہر آ جاتاہے اور سنگی لگانے میں ایسا نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ خروج اس میں کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے طبیعت صالح خون کو مناسب طور پر
فـــ : تحقیق المصنف فی اعتبار محمد المجلس لجمع الدم والسبب لجمع القیئ۔
اس اعتراض دونوں ہی کو رفع کر دینے والی ہے ان شاء الله تعالی۔ وہ یہ کہ ہم یہاں (مسئلہ خون میں ) اتحاد سبب نہیں مانتے ۔ ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ روح جب کسی تکلیف کا احساس کرتی ہے تو اس کے دفعیہ پر متوجہ ہوتی ہے۔ اس میں ہوا اور خون بھی ان کے تابع ہو جاتے ہیں تو ان سب کے مجتمع ہونے کی وجہ سے ورم پیدا ہو جاتا ہے اور حرارت بڑھتی ہے تو اس جگہ خون کا اجتماع ثقیل ہو جاتا ہے مگر یہ ہے کہ طبیعت صالح خون کو بچانا چاہتی ہے اور اسے دفع کرنا نہیں چاہتی----یہی وجہ ہے کہ جب مریض کو فصد لگائی جاتی ہے ( اس کی رگ کھول دی جاتی ہے ) تو پہلے فاسد خون باہر آتا ہے اسی لئے سنگی لگانا فصد لگانے سے بہتر ہوتاہے کیوں کہ فصد رگ کو پھاڑ دیتی ہے جس سے خون تیزی سے ابل پڑتا ہے اور زور سے بہنے لگتا ہے اس وقت طبیعت صالح خون کے شدید تحفظ کے باوجود اسے کلی طور پر روکنے سے بے بس ہو جاتی ہے کیوں کہ بہنے کی راہ کھل جانے کی وجہ سے خون طبعا پوری قوت سے بہنے لگتا ہے اور طبیعت کے روکنے کے باوجود کچھ صالح خون اسے مغلوب کر کے باہر آ جاتاہے اور سنگی لگانے میں ایسا نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ خروج اس میں کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے طبیعت صالح خون کو مناسب طور پر
فـــ : تحقیق المصنف فی اعتبار محمد المجلس لجمع الدم والسبب لجمع القیئ۔
کما ینبغی واذا کان الامر کذلك لاتنبعث للطبیعۃ داعیۃ دفع الدم المنتقل الی ھنا مع الروح الا اذا عملت فیہ الحرارۃ الملتھبۃ من اجتماع الثلاث الحارات فینسفد بنضج یحصل لہ بعد بلوغہ کمال صلاحہ وح تترك الطبیعۃ الظن بہ ویزداد التأذی فتحب دفعہ فتنفجر القرحۃ فیجعل الدم یخرج علی شاکلتہ فی الحجامۃ دون الفصد لان الانفتاح ھھنا ایضا فی الجلدلافی العرق فیکون خروجہ بضعف لا بدفق شدید غیران القدر المتھیئ منہ للخروج وھو الذی تحول مزاجہ من الصلاح وعدل قوامہ للخروج اذا خرج خرج اعنی تتعاقب اجزاؤہ ولا ینبغی لبعضہ القعود خلف بعض حتی یحصل بین خروج ابعاضہ طفرات وتخللات انقطاع لان المقتضی موجود والمانع مفقود فلا یزال یخرج حتی ینتھی
بچا لینے کی قوت پا جاتی ہے۔ ۔ جب معاملہ ایسا ہے تو طبیعت کے لئے یہاں روح کے ساتھ منتقل ہونے والے خون کو دفع کرنے کا کوئی داعیہ نہ پیدا ہو گا مگر جب اس خون میں تینوں حار چیزوں کے مجتمع ہونے سے بھڑك اٹھنے والی حرارت اثر انداز ہو گی تو وہ کچھ پك جانے کی وجہ سے خراب ہو جائے گا یہ پکنا خون کے کمال عمدگی و صلاح کی حد کو پہنچ جانے کے بعد ہو گا ۔ اب طبیعت اس کا تحفظ چھوڑ دے گی اور تکلیف بڑھے گی تو اسے دفع کرنا چاہے گی پھوڑا اس وقت پھٹ جائے گا جس کی وجہ سے خون باہر آنے لگا اسی انداز میں جو سنگی لگانے کے وقت ہوتا ہے ۔ اس تیز روانی کے طور پر نہیں جو فصد لگانے میں ہوتی ہے۔ اس لئے کہ یہاں بھی جلد ہی کھلی ہے رگ نہیں کھلی ہے تو خروج آہستگی اور ضعف کے لئے ہو گا ---- شدت سے نہ ہو گا ---- ہاں یہ ہے کہ جس خون کا مزاج فاسد ہو چکا ہے اور اس کا قوام باہر آنے پر مائل اور اسی کے لائق ہو گیا ہے یہ اتنا خون جب نکلے گا تو نکلتا جائے گا یعنی اس کے سارے اجزاء پے در پے باہر نکلتے جائیں گے۔ اور طبعا یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایك حصہ نکلنے کے بعد دوسرا حصہ اتنی دیر تھم رہے کہ ان اجزاء کے باہر آنے کی مدت میں متعدد بار انقطاع پیدا ہو اور درمیان میں خاصا توقف ہو جائے اس لئے کہ (فاسد خون کے سارے اجزاء میں خروج کا ) مقتضی موجود ہے اور مانع مفقود ہے
بچا لینے کی قوت پا جاتی ہے۔ ۔ جب معاملہ ایسا ہے تو طبیعت کے لئے یہاں روح کے ساتھ منتقل ہونے والے خون کو دفع کرنے کا کوئی داعیہ نہ پیدا ہو گا مگر جب اس خون میں تینوں حار چیزوں کے مجتمع ہونے سے بھڑك اٹھنے والی حرارت اثر انداز ہو گی تو وہ کچھ پك جانے کی وجہ سے خراب ہو جائے گا یہ پکنا خون کے کمال عمدگی و صلاح کی حد کو پہنچ جانے کے بعد ہو گا ۔ اب طبیعت اس کا تحفظ چھوڑ دے گی اور تکلیف بڑھے گی تو اسے دفع کرنا چاہے گی پھوڑا اس وقت پھٹ جائے گا جس کی وجہ سے خون باہر آنے لگا اسی انداز میں جو سنگی لگانے کے وقت ہوتا ہے ۔ اس تیز روانی کے طور پر نہیں جو فصد لگانے میں ہوتی ہے۔ اس لئے کہ یہاں بھی جلد ہی کھلی ہے رگ نہیں کھلی ہے تو خروج آہستگی اور ضعف کے لئے ہو گا ---- شدت سے نہ ہو گا ---- ہاں یہ ہے کہ جس خون کا مزاج فاسد ہو چکا ہے اور اس کا قوام باہر آنے پر مائل اور اسی کے لائق ہو گیا ہے یہ اتنا خون جب نکلے گا تو نکلتا جائے گا یعنی اس کے سارے اجزاء پے در پے باہر نکلتے جائیں گے۔ اور طبعا یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایك حصہ نکلنے کے بعد دوسرا حصہ اتنی دیر تھم رہے کہ ان اجزاء کے باہر آنے کی مدت میں متعدد بار انقطاع پیدا ہو اور درمیان میں خاصا توقف ہو جائے اس لئے کہ (فاسد خون کے سارے اجزاء میں خروج کا ) مقتضی موجود ہے اور مانع مفقود ہے
ثم اذا کان الاذی باقیا بعدلا تزال الروح تتوجہ الیہ فیعقب الخارج دم اخر صالح ویمکث حتی یعرض لہ ماعرض لسالفہ فیخرج کما خرج وھکذا۔
فظھران کل خروج بعد انقطاع من دون منع انما ینشؤ من سبب جدید فیجب ان لایجمع الا ماتلا حق شیئا فشیئا کما ذکرنا وھو المعنی ان شاء الله تعالی باتحاد المجلس لان المجلس معتبر حتی اذا بدأ الدم فانتقل الانسان من فورہ لایجمع ماخرج ھنامع ماخرج انفا وان بقی جالساکما ھو طول النھار و خرج دم اول الصبح وانقطع ثم خرج شیئ عندالغروب یجمع ھذا مع الاول فان ھذا بعید من الفقہ کل البعد۔
وبالجملۃ علامۃ اتحاد
تو یہ خون نکلتا ہی رہے گا یہاں تك کہ ختم ہو جائے ۔ پھر اگر تکلیف اب بھی باقی رہ گئی تو روح اس طرف متوجہ ہوتی رہے گی جس کے باعث دوسرا صالح خون اس نکلے ہوئے خون کے بعد مجتمع ہو کر ٹھہرے گا اس پر بھی وہ ساری حالتیں طاری ہوں گی جو اس کے پیش رو پر طاری ہوئی تھیں تو یہ بھی ایك وقت باہر نکلے گا جیسے وہ نکلا تھااور یوں ہی معاملہ رہے گا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ انقطاع کے بعد بغیر رکاوٹ کے پایا جانے والا ہر خروج کسی سبب جدید ہی سے پیدا ہوتا ہے تو لازم ہے کہ صرف وہ خون جمع کیا جائے جو مسلسل تھوڑا تھوڑا باہر آیا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ---اور اتحاد مجلس سے یہی مقصود و مراد ہے--- ان شاء الله تعالی --- یہ نہیں کہ بذات خود مجلس کا اعتبار ہے یہاں تك کہ جب خون نکلنا شروع ہو اور آدمی فورا جگہ بدل دے تو دوسری جگہ جو نکلے وہ پہلی جگہ نکلنے والے خون کے ساتھ جمع نہ کیا جائے ( اور یہ کہا جائے کہ مجلس ایك نہ رہی ) ----اوراگر جہاں ہے وہیں دن بھر بیٹھا رہے اور کچھ خون صبح کے اول وقت نکل کر بند ہو جائے ۔ پھر کچھ غروب کے وقت نکلے تو اس کو پہلے کے ساتھ جمع کیا جائے (اور کہا جائے کہ مجلس تو ایك ہی رہی لہذا دونوں یکجا ہوں گے)یہ تو فقاہت سے بالکل بعید ہے ۔ مختصر یہ کہ یہاں اتحاد سبب کی علامت
فظھران کل خروج بعد انقطاع من دون منع انما ینشؤ من سبب جدید فیجب ان لایجمع الا ماتلا حق شیئا فشیئا کما ذکرنا وھو المعنی ان شاء الله تعالی باتحاد المجلس لان المجلس معتبر حتی اذا بدأ الدم فانتقل الانسان من فورہ لایجمع ماخرج ھنامع ماخرج انفا وان بقی جالساکما ھو طول النھار و خرج دم اول الصبح وانقطع ثم خرج شیئ عندالغروب یجمع ھذا مع الاول فان ھذا بعید من الفقہ کل البعد۔
وبالجملۃ علامۃ اتحاد
تو یہ خون نکلتا ہی رہے گا یہاں تك کہ ختم ہو جائے ۔ پھر اگر تکلیف اب بھی باقی رہ گئی تو روح اس طرف متوجہ ہوتی رہے گی جس کے باعث دوسرا صالح خون اس نکلے ہوئے خون کے بعد مجتمع ہو کر ٹھہرے گا اس پر بھی وہ ساری حالتیں طاری ہوں گی جو اس کے پیش رو پر طاری ہوئی تھیں تو یہ بھی ایك وقت باہر نکلے گا جیسے وہ نکلا تھااور یوں ہی معاملہ رہے گا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ انقطاع کے بعد بغیر رکاوٹ کے پایا جانے والا ہر خروج کسی سبب جدید ہی سے پیدا ہوتا ہے تو لازم ہے کہ صرف وہ خون جمع کیا جائے جو مسلسل تھوڑا تھوڑا باہر آیا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ---اور اتحاد مجلس سے یہی مقصود و مراد ہے--- ان شاء الله تعالی --- یہ نہیں کہ بذات خود مجلس کا اعتبار ہے یہاں تك کہ جب خون نکلنا شروع ہو اور آدمی فورا جگہ بدل دے تو دوسری جگہ جو نکلے وہ پہلی جگہ نکلنے والے خون کے ساتھ جمع نہ کیا جائے ( اور یہ کہا جائے کہ مجلس ایك نہ رہی ) ----اوراگر جہاں ہے وہیں دن بھر بیٹھا رہے اور کچھ خون صبح کے اول وقت نکل کر بند ہو جائے ۔ پھر کچھ غروب کے وقت نکلے تو اس کو پہلے کے ساتھ جمع کیا جائے (اور کہا جائے کہ مجلس تو ایك ہی رہی لہذا دونوں یکجا ہوں گے)یہ تو فقاہت سے بالکل بعید ہے ۔ مختصر یہ کہ یہاں اتحاد سبب کی علامت
السبب ھھنا ھو التلا حق واختلافہ ھو تخلل الانقطاع طبعا لاقسرا بخلاف القیئ فان الطبیعۃ تحتاج فیہ الی دفع الثقیل الذی میلہ الطبع الی الاسفل علی خلاف طبعہ الی جہۃ الاعلی فربما لاتقدر علیہ الاتدریجا کما ھو مرئی مشاھد فمادام الطبیعۃ فی الھیجان فھو سبب واحد وان تخلل الانقطاع فاذا سکنت ثم ھاجت فھو سبب جدید ھذا ماظھر لفھمی القاصر فتأمل وتبصر فلعل بعضہ یعرف وینکر۔
الرابعفـــ انما المنقول عن ائمۃ المذھب رضی الله تعالی عنھم فی النجس الخارج من غیر السبیلین شرط السیلان لیس الا وفیہ خلاف زفر وخلاف بینھم ان السیلان مجرد العلو اومع الانحدار
یکے بعد دیگرے مسلسل نکلنا ہے----- اور اختلاف سبب کی علامت نہ طبعا -----نہ جبرا ---- انقطاع کے درمیان میں حائل ہوتا اور بیچ بیچ میں خون کا خود اپنی طبیعت سے بند ہو جانا ہے----- اور قے میں ایسا نہیں----- کیوں کہ اس میں وہ ثقیل جس کا طبعی میلان نیچے آنے کی طرف ہوتا ہے برخلاف طبع طبیعت اسے اوپر کی جانب دفع کرنے کی حاجت مند ہوتی ہے طبیعت زیادہ تر اس پر تدریجا ہی قدرت پاتی ہے جیسا کہ یہ دیکھا اور مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ تو جب تك طبیعت ہیجان میں ہو یہ ایك سبب ہے اور اگر بیچ میں انقطاع ہو گیا تو طبیعت میں جب سکون ہو جائے تو یہ سبب جدید ہے----- یہ وہ ہے جو میرے فہم قاصر پر منکشف ہوا تو اس میں تامل اور نگاہ غور کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ معروف ہو اور کچھ نا معروف ۔
تنبیہ چہارم : ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہمسے سبیلین ( پیشاب پاخانہ کے راستوں ) کے علاوہ سے نکلنے والی نجس چیز کے بارے میں صرف سیلان ( بہنے ) کی شرط منقول ہے اور اس میں صرف امام زفر کا اختلاف ہے اور ان کے درمیان ایك اختلاف یہ ہے کہ سیلان صرف چڑھنے کا نام ہے یا چڑھنے اور ڈھلکنے
فــــ : مسئلہ تحقیق : شریف ان النقض بالخروج الی مایجب تطہیرہ لامایندب خلافا للفتح والحلیۃ والبحر و الشرنبلالی والطحطاوی والشامی۔
الرابعفـــ انما المنقول عن ائمۃ المذھب رضی الله تعالی عنھم فی النجس الخارج من غیر السبیلین شرط السیلان لیس الا وفیہ خلاف زفر وخلاف بینھم ان السیلان مجرد العلو اومع الانحدار
یکے بعد دیگرے مسلسل نکلنا ہے----- اور اختلاف سبب کی علامت نہ طبعا -----نہ جبرا ---- انقطاع کے درمیان میں حائل ہوتا اور بیچ بیچ میں خون کا خود اپنی طبیعت سے بند ہو جانا ہے----- اور قے میں ایسا نہیں----- کیوں کہ اس میں وہ ثقیل جس کا طبعی میلان نیچے آنے کی طرف ہوتا ہے برخلاف طبع طبیعت اسے اوپر کی جانب دفع کرنے کی حاجت مند ہوتی ہے طبیعت زیادہ تر اس پر تدریجا ہی قدرت پاتی ہے جیسا کہ یہ دیکھا اور مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ تو جب تك طبیعت ہیجان میں ہو یہ ایك سبب ہے اور اگر بیچ میں انقطاع ہو گیا تو طبیعت میں جب سکون ہو جائے تو یہ سبب جدید ہے----- یہ وہ ہے جو میرے فہم قاصر پر منکشف ہوا تو اس میں تامل اور نگاہ غور کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ معروف ہو اور کچھ نا معروف ۔
تنبیہ چہارم : ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہمسے سبیلین ( پیشاب پاخانہ کے راستوں ) کے علاوہ سے نکلنے والی نجس چیز کے بارے میں صرف سیلان ( بہنے ) کی شرط منقول ہے اور اس میں صرف امام زفر کا اختلاف ہے اور ان کے درمیان ایك اختلاف یہ ہے کہ سیلان صرف چڑھنے کا نام ہے یا چڑھنے اور ڈھلکنے
فــــ : مسئلہ تحقیق : شریف ان النقض بالخروج الی مایجب تطہیرہ لامایندب خلافا للفتح والحلیۃ والبحر و الشرنبلالی والطحطاوی والشامی۔
کما سمعت کل ذلك علی ھذا کانت کلما تھم حتی جاء الامام ابو الحسین احمد بن محمد القدوری رحمہ الله تعالی فزاد فی الکتاب قید التجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر ثم تظافرت عامۃ الکتب علی اتباعہ متونا وشروحا وفتاوی ۔
قال فی المنیۃ تفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذا علاعن رأس الجرح ولم ینحدر لایکون سائلا وقال بعضھم اذا خرج وتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فھو سیلان یعنی اذا خرج الدم من راسہ الی انفہ اواذنہ ان سال الی موضع یجب تطھیرہ عند الاغتسال ینتقض والافلا اھ
قال المولی الحلبی فی شرحہ الحلیۃ ھذا البعض ھو الشیخ ابو الحسین القدوری ومن حذا حذوہ اھ
ثم الذی کانت تتوار دعلیہ کلماتھم من بعد ان ا لمراد بحکم
دونوں کے مجموعے کا ---- جیسا کہ یہ سب آپ سن چکے ---- فقہاء کے کلمات اسی حد تك تھے یہاں تك کہ امام ابو الحسین احمد بن محمد قدوری رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ آئے تو انہوں نے اپنی کتاب میں ایك قید یہ بڑھائی کہ خون ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے ( وضو یا غسل میں ) پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے پھر متون شروح اور فتاوی کی تقریبا ساری ہی کتابیں ان کے اتباع میں ہم نوا ہو گئیں ۔
منیہ میں ہے : سیلان کی تفسیر یہ ہے کہ خون سر زخم سے ڈھلك آئے اور سر زخم سے اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو سائل ( بہنے والا ) نہ ہو گا اور بعض نے کہا جب نکل کر ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے تو یہ سیلان ہے ----یعنی جب خون (مثلا) اس کے سر سے ناك یا کان کی طرف نکلے اگر وہ ایسی جگہ بہہ جائے جس کو غسل کے وقت پاك کرنا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں ا ھ ۔
شیخ حلبی نے اس کی شرح حلیہ میں فرمایا : یہ بعض شیخ ابو الحسین قدوری اور ان کے متبع حضرات ہیں ا ھ ۔
پھر اس کے بعد سبھی حضرات کے کلمات کا اس پر توارد تھا کہ حکم تطہیر سے مراد وجوب ہے
قال فی المنیۃ تفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذا علاعن رأس الجرح ولم ینحدر لایکون سائلا وقال بعضھم اذا خرج وتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فھو سیلان یعنی اذا خرج الدم من راسہ الی انفہ اواذنہ ان سال الی موضع یجب تطھیرہ عند الاغتسال ینتقض والافلا اھ
قال المولی الحلبی فی شرحہ الحلیۃ ھذا البعض ھو الشیخ ابو الحسین القدوری ومن حذا حذوہ اھ
ثم الذی کانت تتوار دعلیہ کلماتھم من بعد ان ا لمراد بحکم
دونوں کے مجموعے کا ---- جیسا کہ یہ سب آپ سن چکے ---- فقہاء کے کلمات اسی حد تك تھے یہاں تك کہ امام ابو الحسین احمد بن محمد قدوری رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ آئے تو انہوں نے اپنی کتاب میں ایك قید یہ بڑھائی کہ خون ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے ( وضو یا غسل میں ) پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے پھر متون شروح اور فتاوی کی تقریبا ساری ہی کتابیں ان کے اتباع میں ہم نوا ہو گئیں ۔
منیہ میں ہے : سیلان کی تفسیر یہ ہے کہ خون سر زخم سے ڈھلك آئے اور سر زخم سے اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو سائل ( بہنے والا ) نہ ہو گا اور بعض نے کہا جب نکل کر ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے تو یہ سیلان ہے ----یعنی جب خون (مثلا) اس کے سر سے ناك یا کان کی طرف نکلے اگر وہ ایسی جگہ بہہ جائے جس کو غسل کے وقت پاك کرنا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں ا ھ ۔
شیخ حلبی نے اس کی شرح حلیہ میں فرمایا : یہ بعض شیخ ابو الحسین قدوری اور ان کے متبع حضرات ہیں ا ھ ۔
پھر اس کے بعد سبھی حضرات کے کلمات کا اس پر توارد تھا کہ حکم تطہیر سے مراد وجوب ہے
حوالہ / References
منیۃ المصلی ، کتاب الطہارۃ ، بیان نواقض الوضوء ، مکتبہ قادریہ لاہور ، ص۹۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
التطھیر ھو الوجوب ولو فی الغسل کما افصح عنہ فی ۱المنیۃ
و۲قال العلامۃ ابرھیم الحلبی فی شرحھا الغنیۃ (الی موضع یلحقہ حکم التطہیر) ای یجب تطہیرہ فی الجملۃ فی الوضوء اوالغسل او ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ اھ
و۳قال الحدادی فی الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری قولہ یلحقہ حکم التطہیر یعنی یجب تطہیرہ فی الحدث اوالجنابۃ حتی لوسال الدم الی مالان من الانف نقض الوضوء اھ
و۴قال الامام صدر الشریعۃ فی شرح الوقایۃ (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب تطھیرہ فی الجملۃ اما فی الوضوء او فی الغسل اھ
و۵قال سلطان الوزراء العلامۃ ابن کمال باشا فی ایضاح الاصلاح (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب ان یطھر فی الوضوء او فی الغسل بالغسل اگرچہ غسل ہی میں ہو (۱) جیسا کہ منیہ میں اسے صاف طور پر کہا
(۲) علامہ ابراہیم حلبی نے اس کی شرح منیہ میں لکھا : ( ایسی جگہ جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے ) یعنی فی الجملہ وضو یا غسل میں اسے پاك کرنا یا نجاست حقیقیہ ( اس پر لگ جائے تو اس ) کا دور کرنا واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
(۳) اور حدادی نے مختصر قدوری کی شرح جوہرہ نیرہ میں لکھا : عبارت متن : “ یلحقہ حکم التطہیر “ ( اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے “ یعنی اسے حدث یا جنابت میں پاك کرنا واجب ہوتا ہے یہاں تك کہ خون اگر ناك کے نرم حصے تك بہہ آیا تو وضوٹوٹ جائیگا ا ھ ۔
(۴) امام صدر الشریعہ نے شرح وقایہ میں فرمایا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاك کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے پاك کرنا فی الجملہ وضو یا غسل میں واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
(۵) سلطان الوزراء علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح الاصلاح میں لکھا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاك کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے وضو یا غسل میں دھونے یا مسح کرنے کے ذریعہ پاك کرنا
و۲قال العلامۃ ابرھیم الحلبی فی شرحھا الغنیۃ (الی موضع یلحقہ حکم التطہیر) ای یجب تطہیرہ فی الجملۃ فی الوضوء اوالغسل او ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ اھ
و۳قال الحدادی فی الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری قولہ یلحقہ حکم التطہیر یعنی یجب تطہیرہ فی الحدث اوالجنابۃ حتی لوسال الدم الی مالان من الانف نقض الوضوء اھ
و۴قال الامام صدر الشریعۃ فی شرح الوقایۃ (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب تطھیرہ فی الجملۃ اما فی الوضوء او فی الغسل اھ
و۵قال سلطان الوزراء العلامۃ ابن کمال باشا فی ایضاح الاصلاح (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب ان یطھر فی الوضوء او فی الغسل بالغسل اگرچہ غسل ہی میں ہو (۱) جیسا کہ منیہ میں اسے صاف طور پر کہا
(۲) علامہ ابراہیم حلبی نے اس کی شرح منیہ میں لکھا : ( ایسی جگہ جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے ) یعنی فی الجملہ وضو یا غسل میں اسے پاك کرنا یا نجاست حقیقیہ ( اس پر لگ جائے تو اس ) کا دور کرنا واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
(۳) اور حدادی نے مختصر قدوری کی شرح جوہرہ نیرہ میں لکھا : عبارت متن : “ یلحقہ حکم التطہیر “ ( اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے “ یعنی اسے حدث یا جنابت میں پاك کرنا واجب ہوتا ہے یہاں تك کہ خون اگر ناك کے نرم حصے تك بہہ آیا تو وضوٹوٹ جائیگا ا ھ ۔
(۴) امام صدر الشریعہ نے شرح وقایہ میں فرمایا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاك کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے پاك کرنا فی الجملہ وضو یا غسل میں واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
(۵) سلطان الوزراء علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح الاصلاح میں لکھا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاك کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے وضو یا غسل میں دھونے یا مسح کرنے کے ذریعہ پاك کرنا
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۱
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۹
شرح الوقای ، کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضوء ، مکتبہ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۷۰
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۹
شرح الوقای ، کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضوء ، مکتبہ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۷۰
او بالمسح اھ
و۶قال العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الھدایۃ “ قولہ یلحقہ التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ حتی لو سال الدم من الرأس الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض اھ
و۷قال الامام فخرالدین الزیلعی فی تبیین الحقائق “ غیر السبیلین اذا خرج منھا شیئ و وصل الی موضع یجب تطہیرہ فی الجنابۃ ونحوہ ینقض الوضوء اھ
و۸قال الامام السید جلال الدین الکرلانی فی الکفایۃ اذا کان فی عینہ قرحۃ ووصل الدم منھاا لی جانب اخر من عینہ فلاینقض وضوئہ لانہ لم یصل الی موضع یجب غسلہ اھ
و۹قال السید برھان الدین ابرھیم بن ابی بکر بن محمد بن الحسین الاخلاطی الحسینی فی جواھرۃ “ خروج الدم الی
واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
(۶) علامہ اکمل الدین بابرتی نے عنایۃ شرح ہدایہ میں فرمایا : عبارت متن : “ اسے تطہیر لاحق ہوتی ہے “ مراد یہ ہے کہ اسے پاك کرنا فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں۔ ۔ یہاں تك کہ اگر خون سر سے ناك کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ جنابت میں استنشاق ( ناك میں پانی چڑھانا ) فرض ہے ا ھ ۔
(۷) امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا : “ جب غیر سبیلین سے کوئی نجس چیز نکلے اور ایسی جگہ پہنچ جائے جس کی تطہیر جنابت وغیرہ میں واجب ہوتی ہے تو وضو ٹوٹ جائیگا ا ھ ۔
(۸) امام جلال الدین کرلانی کفایہ میں رقم طراز ہیں : “ اگر آنکھ میں پھنسی ہو اور خون اس سے نکل کر آنکھ ہی کی جانب دوسری طرف پہنچ جائے تو وضو نہ ٹوٹے گا کیوں کہ وہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے دھونا واجب ہو ا ھ۔
(۹) سید برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر محمد بن حسین اخلاطی حسینی جواہر میں لکھتے ہیں : “ کان کے وسط میں جس جگہ تك غسل کے اندر پانی
و۶قال العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الھدایۃ “ قولہ یلحقہ التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ حتی لو سال الدم من الرأس الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض اھ
و۷قال الامام فخرالدین الزیلعی فی تبیین الحقائق “ غیر السبیلین اذا خرج منھا شیئ و وصل الی موضع یجب تطہیرہ فی الجنابۃ ونحوہ ینقض الوضوء اھ
و۸قال الامام السید جلال الدین الکرلانی فی الکفایۃ اذا کان فی عینہ قرحۃ ووصل الدم منھاا لی جانب اخر من عینہ فلاینقض وضوئہ لانہ لم یصل الی موضع یجب غسلہ اھ
و۹قال السید برھان الدین ابرھیم بن ابی بکر بن محمد بن الحسین الاخلاطی الحسینی فی جواھرۃ “ خروج الدم الی
واجب ہوتا ہے ا ھ ۔
(۶) علامہ اکمل الدین بابرتی نے عنایۃ شرح ہدایہ میں فرمایا : عبارت متن : “ اسے تطہیر لاحق ہوتی ہے “ مراد یہ ہے کہ اسے پاك کرنا فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں۔ ۔ یہاں تك کہ اگر خون سر سے ناك کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ جنابت میں استنشاق ( ناك میں پانی چڑھانا ) فرض ہے ا ھ ۔
(۷) امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا : “ جب غیر سبیلین سے کوئی نجس چیز نکلے اور ایسی جگہ پہنچ جائے جس کی تطہیر جنابت وغیرہ میں واجب ہوتی ہے تو وضو ٹوٹ جائیگا ا ھ ۔
(۸) امام جلال الدین کرلانی کفایہ میں رقم طراز ہیں : “ اگر آنکھ میں پھنسی ہو اور خون اس سے نکل کر آنکھ ہی کی جانب دوسری طرف پہنچ جائے تو وضو نہ ٹوٹے گا کیوں کہ وہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے دھونا واجب ہو ا ھ۔
(۹) سید برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر محمد بن حسین اخلاطی حسینی جواہر میں لکھتے ہیں : “ کان کے وسط میں جس جگہ تك غسل کے اندر پانی
حوالہ / References
فتح المعین بحوالہ ابن کمال باشا کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۰
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳ ،۳۴
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۴۷
الکفایہ شرح الہدایہ کتاب الطہارۃ المکتبۃ النوریۃالرضویۃ سکھر ۱ / ۳۴
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳ ،۳۴
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۴۷
الکفایہ شرح الہدایہ کتاب الطہارۃ المکتبۃ النوریۃالرضویۃ سکھر ۱ / ۳۴
وسط الاذن بحیث یجب ایصال الماء الیہ فی الاغتسال ناقض الوضوء اھ
۱۰وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ قولہ الی مایطھر ای الی موضع یجب تطہیرہ فی الغسل اھ
و۱۱قال الامام شیخ الاسلام بکر خواھر زادہ فی مبسوطہ علی مانقلہ عنہ فی الفتح والبحر و غیرھما تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوز
۱۲الورم لانہ لایجب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر اھ
وقال المولی حسام الدین السغناقی فی النہایۃ اول شروح الہدایۃ علی مااثرعنہ فی الحلیۃ فی شرح قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ اھ
۱۳وھذا ھو المستفاد من معراج الدرایۃ شرح الھدایۃ ومن ۱۴الملتقط ومن ۱۵الدرر
پہنچانا واجب ہوتا ہے وہاں تك خون نکل آنا ناقض وضو ہے ا ھ ۔
(۱۰) علامہ عبد العلی برجندی شرح نقایہ میں فرماتے ہیں : “ قولہ الی ما یطہر----- یعنی ایسی جگہ جس کی تطہیر غسل میں واجب ہے “ ۔ ا ھ
(۱۱) امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ اپنی مبسوط میں رقم فرماتے ہیں جیسا کہ اس سے فتح بحر وغیرہما میں نقل کیا ہے “ سر زخم ورم کر گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوا تو جب تك ورم سے وہ تجاوز نہ کرے ناقض نہیں تو ایسی جگہ تجاوز نہ پایا گیا جسے تطہیر کا حکم لاحق ہو “ ا ھ
(۱۲) حسام الدین سغناقی ہدایہ کی سب سے پہلی شرح نہایہ میں جیسا کہ اس سے حلیہ میں نقل کیا ہے عبارت متن “ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر “ کی شرح میں لکھتے ہیں : “ مراد یہ ہے کہ اس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں “ اھ
(۱۳) جیسا کہ معراج الدرایہ شرح ہدایہ (۱۴) ملتقط (۱۵) درر اور ان کے علاوہ کتابوں سے مستفاد ہے
۱۰وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ قولہ الی مایطھر ای الی موضع یجب تطہیرہ فی الغسل اھ
و۱۱قال الامام شیخ الاسلام بکر خواھر زادہ فی مبسوطہ علی مانقلہ عنہ فی الفتح والبحر و غیرھما تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوز
۱۲الورم لانہ لایجب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر اھ
وقال المولی حسام الدین السغناقی فی النہایۃ اول شروح الہدایۃ علی مااثرعنہ فی الحلیۃ فی شرح قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ اھ
۱۳وھذا ھو المستفاد من معراج الدرایۃ شرح الھدایۃ ومن ۱۴الملتقط ومن ۱۵الدرر
پہنچانا واجب ہوتا ہے وہاں تك خون نکل آنا ناقض وضو ہے ا ھ ۔
(۱۰) علامہ عبد العلی برجندی شرح نقایہ میں فرماتے ہیں : “ قولہ الی ما یطہر----- یعنی ایسی جگہ جس کی تطہیر غسل میں واجب ہے “ ۔ ا ھ
(۱۱) امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ اپنی مبسوط میں رقم فرماتے ہیں جیسا کہ اس سے فتح بحر وغیرہما میں نقل کیا ہے “ سر زخم ورم کر گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوا تو جب تك ورم سے وہ تجاوز نہ کرے ناقض نہیں تو ایسی جگہ تجاوز نہ پایا گیا جسے تطہیر کا حکم لاحق ہو “ ا ھ
(۱۲) حسام الدین سغناقی ہدایہ کی سب سے پہلی شرح نہایہ میں جیسا کہ اس سے حلیہ میں نقل کیا ہے عبارت متن “ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر “ کی شرح میں لکھتے ہیں : “ مراد یہ ہے کہ اس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں “ اھ
(۱۳) جیسا کہ معراج الدرایہ شرح ہدایہ (۱۴) ملتقط (۱۵) درر اور ان کے علاوہ کتابوں سے مستفاد ہے
حوالہ / References
جو ا ہر الا خلاطی ، تاب الطہارۃ فصل فی نو اقض الوضوء قلمی ص۶
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ مطبع عالی نولکشور ۱ / ۲۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ المکتبۃ النوریۃ الرضویہ بسکھر ۱ / ۳۴
النہایہ
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ مطبع عالی نولکشور ۱ / ۲۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ المکتبۃ النوریۃ الرضویہ بسکھر ۱ / ۳۴
النہایہ
ومن غیرھا وسترد علیك نقولھا ان شاء الله تعالی۔
۱۶وبہ جزم العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر الفائق
و۱۷قال العلامۃ السید ابو السعود الازھری فی فتح الله المعین ۱۸نقلا عن ابیہ السید علی الحسینی ان المراد بحکم التطھیر وجوبہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح اھ
فھذا ما ارتکز فی اذھان العامۃ جیلا فجیلا غیران المحقق علی الاطلاق الامام الہام کمال الدین محمد بن الھمام زادالندب ایضا حیث یقول لو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاخر منھا لاینتقض لانہ لایلحقہ حکم وجوب التطہیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینتقض اھ۔ وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ قائلا بعد نقلہ مایاتی عن
سب کی عبارتیں ان شاء الله تعالی آگے نقل ہوں گی ۔
(۱۶) اسی پر علامہ عمر بن نجیم نے النہر الفائق میں جزم کیا ۔
(۱۷) اور علامہ سید ابو السعود ازہری نے فتح الله المعین میں ۱۸اپنے والد سید علی حسینی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : “ حکم تطہیر سے مراد اس کا وضو وغسل میں واجب ہونا ہے اگرچہ مسح ہی کے ذریعے“۔
یہی بات عامہ علماء کے ذہن میں نسل در نسل ثبت رہی مگر محقق علی الاطلاق ا مام ہمام کمال الدین محمد بن الہمام نے مندوب ہونے کا بھی اضافہ کیا وہ لکھتے ہیں : “ اگر آنکھ کے اندر کسی زخم سے خون نکل کر آنکھ ہی کی دوسری جانب بہا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا ندب کا حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس صورت کے جب خون سر سے ناك کے نرم حصے میں اتر آئے کیوں کہ اسے جنابت میں اور کوئی نجاست لگنے سے دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقض وضو ہو گا ا ھ “ اور ان کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ان کا اتباع کیا اور اتقانی کے حوالے سے آنے والی
۱۶وبہ جزم العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر الفائق
و۱۷قال العلامۃ السید ابو السعود الازھری فی فتح الله المعین ۱۸نقلا عن ابیہ السید علی الحسینی ان المراد بحکم التطھیر وجوبہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح اھ
فھذا ما ارتکز فی اذھان العامۃ جیلا فجیلا غیران المحقق علی الاطلاق الامام الہام کمال الدین محمد بن الھمام زادالندب ایضا حیث یقول لو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاخر منھا لاینتقض لانہ لایلحقہ حکم وجوب التطہیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینتقض اھ۔ وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ قائلا بعد نقلہ مایاتی عن
سب کی عبارتیں ان شاء الله تعالی آگے نقل ہوں گی ۔
(۱۶) اسی پر علامہ عمر بن نجیم نے النہر الفائق میں جزم کیا ۔
(۱۷) اور علامہ سید ابو السعود ازہری نے فتح الله المعین میں ۱۸اپنے والد سید علی حسینی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : “ حکم تطہیر سے مراد اس کا وضو وغسل میں واجب ہونا ہے اگرچہ مسح ہی کے ذریعے“۔
یہی بات عامہ علماء کے ذہن میں نسل در نسل ثبت رہی مگر محقق علی الاطلاق ا مام ہمام کمال الدین محمد بن الہمام نے مندوب ہونے کا بھی اضافہ کیا وہ لکھتے ہیں : “ اگر آنکھ کے اندر کسی زخم سے خون نکل کر آنکھ ہی کی دوسری جانب بہا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا ندب کا حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس صورت کے جب خون سر سے ناك کے نرم حصے میں اتر آئے کیوں کہ اسے جنابت میں اور کوئی نجاست لگنے سے دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقض وضو ہو گا ا ھ “ اور ان کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ان کا اتباع کیا اور اتقانی کے حوالے سے آنے والی
حوالہ / References
فتح αالله€ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴
فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴
الاتقانی فعلی ھذا المرادان یتجاوز الی موضع یجب طہارتہ او تندب کما اشرنا الیہ انفا اھ
۸۶قلت : والاشارہ فی قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیرای شرع فی حقہ الحکم الذی ھو التطہیر اھ فان المشروع یعم المندوب۔
۸۷اقول : و ربما یترشح ھذا التعمیم من النہایۃ ایضا فانہ مع تصریحہ بان المراد الوجوب کما تقدم فرع علیہ بقولہ حتی “ لوسال الدم الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض وفی الوضوء سنۃ وکذلك فی المبسوط اھ “ فان الاستنان لو لم یکف لکان ذکرہ عبثا الاان یقال المراد انہ وان لم یکن فی الوضوء الا سنۃ لکنہ فی الغسل فرض فتحقق التجاوز الی مایجب تطھیرہ فی الجملۃ
عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا : “ تو اس بنا پر مراد یہ ہو گی کہ ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی طہارت واجب یا مندوب ہوتی ہے جیسا کہ اس کی جانب ہم نے اشارہ کیا “ ا ھ
قلت اشارہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر کے تحت ان کی اس عبارت میں ہے یعنی اس کے حق میں مشروع ہے وہ حکم جو تطہیر ہے ا ھ “ اس لئے کہ مشروع مندوب کو بھی شامل ہے ۔
اقول : یہ تعمیم نہایہ سے بھی کچھ مترشح ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے وجوب مراد ہونے کی تصریح مذکور کے باوجود اس پر تفریع میں یہ لکھا ہے : “ یہاں تك کہ خون اگر ناك کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ استنشاق جنابت میں فرض اور وضو میں سنت ہے ---- ایسا ہی مبسوط میں ہے “ ا ھ ۔ اس لئے کہ سنت ہونا اگر کافی نہ ہوتا تواس کا تذکرہ عبث ہوتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وضو میں اگرچہ صرف سنت ہے لیکن غسل میں فرض ہے تو ایسی جگہ تجاوز متحقق ہو گیا جس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہے تو اس جملے ( وضو میں سنت ہے )
۸۶قلت : والاشارہ فی قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیرای شرع فی حقہ الحکم الذی ھو التطہیر اھ فان المشروع یعم المندوب۔
۸۷اقول : و ربما یترشح ھذا التعمیم من النہایۃ ایضا فانہ مع تصریحہ بان المراد الوجوب کما تقدم فرع علیہ بقولہ حتی “ لوسال الدم الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض وفی الوضوء سنۃ وکذلك فی المبسوط اھ “ فان الاستنان لو لم یکف لکان ذکرہ عبثا الاان یقال المراد انہ وان لم یکن فی الوضوء الا سنۃ لکنہ فی الغسل فرض فتحقق التجاوز الی مایجب تطھیرہ فی الجملۃ
عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا : “ تو اس بنا پر مراد یہ ہو گی کہ ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی طہارت واجب یا مندوب ہوتی ہے جیسا کہ اس کی جانب ہم نے اشارہ کیا “ ا ھ
قلت اشارہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر کے تحت ان کی اس عبارت میں ہے یعنی اس کے حق میں مشروع ہے وہ حکم جو تطہیر ہے ا ھ “ اس لئے کہ مشروع مندوب کو بھی شامل ہے ۔
اقول : یہ تعمیم نہایہ سے بھی کچھ مترشح ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے وجوب مراد ہونے کی تصریح مذکور کے باوجود اس پر تفریع میں یہ لکھا ہے : “ یہاں تك کہ خون اگر ناك کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ استنشاق جنابت میں فرض اور وضو میں سنت ہے ---- ایسا ہی مبسوط میں ہے “ ا ھ ۔ اس لئے کہ سنت ہونا اگر کافی نہ ہوتا تواس کا تذکرہ عبث ہوتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وضو میں اگرچہ صرف سنت ہے لیکن غسل میں فرض ہے تو ایسی جگہ تجاوز متحقق ہو گیا جس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہے تو اس جملے ( وضو میں سنت ہے )
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
النہایہ
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
النہایہ
فتکون زیادۃ ھذہ الجملۃ تحقیقا لقولہ فی ماسبق فی الجملۃ وھذا ھوالذی یتعین حمل کلامہ علیہ کیلا یخالف اخرہ اولہ۔
۸۸اقول : وکذلکفـــــ لظاہر کلام المحقق حیث اطلق تجاذب فی الاول والاخر فانہ عمم الندب ثم ذکر النزول الی مالان وعلله بوجوب غسلہ فی الغسل ومعلوم ان المفہوم معتبر فی کلمات العلماء ولو کان الحکم عندہ کذلك فی النزول الی مااشتد کان الظاھر ان یذکرہ ویعلله بندب غسلہ فی الغسل والوضوء کی یکون مثالا لما زاد من الندب ولایوھم خلاف المرام ھلکنہ رحمہ الله تعالی لم یر بدا من اتباع العامۃ فانھم انما صورو المسألۃ ھکذا کما ستعرفہ ان شاء الله تعالی ۔
کا اضافہ دراصل اس لفظ “ فی الجملۃ “ کی تحقیق قرار پائے گا جو پہلے ان کی عبارت میں آ گیا ہے ------ اسی معنی پر ان کے کلام کو محمول کرنا متعین ہے تا کہ اس کا آخری حصہ ابتدائی حصے کے مخالف نہ ہو ۔
اقول : اسی طرح محقق علی الاطلاق کے بھی ظاہر کلام کے اندر اول تا آخر کے درمیان کش مکش پائی جاتی ہے کیوں کہ پہلے انہوں نے حکم کو ندب کے لئے بھی عام کر دیا پھر ناك کے نرم حصے تك خون اتر آنے کا ذکر کیا اور غسل میں اس کا دھونا واجب ہونے سے علت بیان کی اور معلوم ہے کہ کلمات علماء میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اگر ان کے نزدیك ناك کے سخت حصے تك اتر آنے کا حکم ایسا ہی ہوتا تو ظاہر یہ تھا کہ اسے ذکر کرتے اور غسل اور وضو میں اسے دھونے کے مندوب ہونے سے اس کی تعلیل فرماتے تاکہ جو لفظ “ ندب “ انہوں نے بڑھایا اس کی ایك مثال ہو جاتی اور خلاف مقصود کا وہم نہ پیدا ہوتا لیکن حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے عامہ علماء کے اتباع سے کوئی مفر نہ دیکھا کیونکہ انہوں نے مسئلہ کی صورت اسی طرح رکھی ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی معلوم ہو گا ۔
فـــــ : ۵۷تطفل علی الفتح ۔
۸۸اقول : وکذلکفـــــ لظاہر کلام المحقق حیث اطلق تجاذب فی الاول والاخر فانہ عمم الندب ثم ذکر النزول الی مالان وعلله بوجوب غسلہ فی الغسل ومعلوم ان المفہوم معتبر فی کلمات العلماء ولو کان الحکم عندہ کذلك فی النزول الی مااشتد کان الظاھر ان یذکرہ ویعلله بندب غسلہ فی الغسل والوضوء کی یکون مثالا لما زاد من الندب ولایوھم خلاف المرام ھلکنہ رحمہ الله تعالی لم یر بدا من اتباع العامۃ فانھم انما صورو المسألۃ ھکذا کما ستعرفہ ان شاء الله تعالی ۔
کا اضافہ دراصل اس لفظ “ فی الجملۃ “ کی تحقیق قرار پائے گا جو پہلے ان کی عبارت میں آ گیا ہے ------ اسی معنی پر ان کے کلام کو محمول کرنا متعین ہے تا کہ اس کا آخری حصہ ابتدائی حصے کے مخالف نہ ہو ۔
اقول : اسی طرح محقق علی الاطلاق کے بھی ظاہر کلام کے اندر اول تا آخر کے درمیان کش مکش پائی جاتی ہے کیوں کہ پہلے انہوں نے حکم کو ندب کے لئے بھی عام کر دیا پھر ناك کے نرم حصے تك خون اتر آنے کا ذکر کیا اور غسل میں اس کا دھونا واجب ہونے سے علت بیان کی اور معلوم ہے کہ کلمات علماء میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اگر ان کے نزدیك ناك کے سخت حصے تك اتر آنے کا حکم ایسا ہی ہوتا تو ظاہر یہ تھا کہ اسے ذکر کرتے اور غسل اور وضو میں اسے دھونے کے مندوب ہونے سے اس کی تعلیل فرماتے تاکہ جو لفظ “ ندب “ انہوں نے بڑھایا اس کی ایك مثال ہو جاتی اور خلاف مقصود کا وہم نہ پیدا ہوتا لیکن حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے عامہ علماء کے اتباع سے کوئی مفر نہ دیکھا کیونکہ انہوں نے مسئلہ کی صورت اسی طرح رکھی ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی معلوم ہو گا ۔
فـــــ : ۵۷تطفل علی الفتح ۔
ثم لم ارمن تبعہ بعدہ غیر تلمیذہ حتی اتی المحقق البحر فشید ارکانہ فی بحرہ قائلا انما فسرنا الحکم بالاعم من الواجب والمندوب لان مااشتد من الانف لاتجب طہارتہ اصلا بل تندب لما ان المبالغۃ فی الاستنشاق لغیر الصائم مسنونۃ وقد صرح فی معراج الدرایۃ وغیرہ بانہ اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف نقض وفی البدائع اذا نزل الدم الی صماخ الاذن یکون حدثا وفی الصحاح صماخ الاذن خرقہا ولیس ذلك الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ فقول بعضھم المراد ان یصل الی موضع تجب طہارتہ محمول علی ان المراد بالوجوب الثبوت وقول الحدادی اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف لاینقض محمول علی انہ لم یصل الی ما یسن ایصال الماء الیہ فی الاستنشاق
پھر ان کے بعد ان کی تبعیت کرنے والا ان کے تلمیذ صاحب حلیہ کے سوا کسی کو میں نے نہ دیکھا یہاں تك کہ محقق صاحب بحر آئے تو انہوں نے البحر الرائق میں اس کے ستون مضبوط کئے اور فرمایا : “ ہم نے حکم کی تفسیر اس سے کی جو واجب اور مندوب دونوں کو عام ہے اس لئے کہ ناك سے سخت حصے کی طہارت بالکل (یعنی وضو اور غسل کسی میں بھی ) واجب نہیں بلکہ مندوب ہے اس لئے کہ غیر روزہ دار کے لئے اشتنشاق میں مبالغہ (یعنی نرم حصے سے بڑھا کر سخت تك پانی چڑھا دینا ) مندوب ہے---- اور معراج الدرایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض وضو ہے اور بدائع میں ہے : خون جب صماخ گوش ( کان کے سوراخ ) تك اتر آئے تو حدث ثابت ہو جائے گا صحاح میں صماخ اذن کا معنی کان کا شگاف لکھا ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ اس کی تطہیر غسل وغیرہ میں مندوب ہے تو بعض حضرات کا یہ فرمانا کہ “ مراد ایسی جگہ پہنچنا ہے جس کی طہارت واجب ہے “ ----- اس پر محمول ہو گا کہ واجب ہونے کا مطلب ثابت ہونا ہے اور حدادی کی عبارت : “ اذا نزل الدم الی قصبۃالانف لا ینقض (خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض نہیں ) “ اس پر محمول ہو گی کہ اس جگہ تك نہ پہنچے جہاں استنشاق میں پانی پہنچانا
پھر ان کے بعد ان کی تبعیت کرنے والا ان کے تلمیذ صاحب حلیہ کے سوا کسی کو میں نے نہ دیکھا یہاں تك کہ محقق صاحب بحر آئے تو انہوں نے البحر الرائق میں اس کے ستون مضبوط کئے اور فرمایا : “ ہم نے حکم کی تفسیر اس سے کی جو واجب اور مندوب دونوں کو عام ہے اس لئے کہ ناك سے سخت حصے کی طہارت بالکل (یعنی وضو اور غسل کسی میں بھی ) واجب نہیں بلکہ مندوب ہے اس لئے کہ غیر روزہ دار کے لئے اشتنشاق میں مبالغہ (یعنی نرم حصے سے بڑھا کر سخت تك پانی چڑھا دینا ) مندوب ہے---- اور معراج الدرایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض وضو ہے اور بدائع میں ہے : خون جب صماخ گوش ( کان کے سوراخ ) تك اتر آئے تو حدث ثابت ہو جائے گا صحاح میں صماخ اذن کا معنی کان کا شگاف لکھا ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ اس کی تطہیر غسل وغیرہ میں مندوب ہے تو بعض حضرات کا یہ فرمانا کہ “ مراد ایسی جگہ پہنچنا ہے جس کی طہارت واجب ہے “ ----- اس پر محمول ہو گا کہ واجب ہونے کا مطلب ثابت ہونا ہے اور حدادی کی عبارت : “ اذا نزل الدم الی قصبۃالانف لا ینقض (خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض نہیں ) “ اس پر محمول ہو گی کہ اس جگہ تك نہ پہنچے جہاں استنشاق میں پانی پہنچانا
توفیقا بین العبارات وقول من قال اذا نزل الدم الی مالان من الانف نقض لایقتضی عدم النقض اذا وصل الی مااشتد منہ الا بالمفہوم والصریح بخلافہ وقد اوضحہ فی غایۃ البیان والعنایۃ والمراد بالوصول المذکور سیلانہ اھ
۸۹اقول : فــــ تاویلہ کلام الحدادی فی السراج الوھاج کانہ یرید بہ ان “ الی “ فی کلامہ لاخراج الغایۃ ای نزل الدم من الراس وانتھی الی مبدء مااشتد من الانف من دون ان ینزل منہ شیئ فیہ وھذا کان محتملا لولا ان الحدادی صرح فی مختصر سراجہ ان المراد بالحکم الوجوب و فرع علیہ تقیید الانتقاض بالنزول الی مالان کما تقدم وسیأتی عنھا ماھو انص واجلی
مسنون ہے تاکہ عبارتوں میں تطبیق ہو جائے اور بعض حضرات کے کلام میں آیا ہے کہ “ جب خون ناك کے نرم حصے تك اتر آئے تو ناقض وضو ہے “ اس کا تقاضا یہ نہیں کہ جب سخت حصے تك پہنچے تو ناقض وضو نہیں مگر یہ کہ اس کا مفہوم لیا جائے حالاں کہ صریح اس کے برخلاف ہے اور غایۃ البیان و عنایہ میں سے واضح طور پر لکھا ہے اور وصول (پہنچنا ) جو مذکور ہوا اس سے مراد سیلان (بہنا ) ہے ا ھ ۔
اقول : حدادی کی عبارت سراج وہاج کی جو تاویل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب بحر یہ مراد لے رہے ہیں کہ عبارت سراج میں لفظ “ الی “ غایت کو خارج کرنے کے لئے ہے یعنی خون سر سے اترے اور ناك کے سخت حصے کے شروع تك پہنچے خود اس حصے میں ذرا بھی نہ اترے یہ احتمال تو تھا اگر حدادی نے اپنی مختصر سراج میں یہ تصریح نہ کر دی ہوتی کہ حکم سے وجوب مراد ہے اور اس پر تفریع کرتے ہوئے وضو ٹوٹنے کو خون کے نرم حصے تك اتر آنے سے مقید نہ کیا ہوتا جیسا کہ گزرا اور آگے ان کی اس سے بھی زیادہ صریح اور روشن و
فـــــ : ۵۸تطفل علی البحر۔
۸۹اقول : فــــ تاویلہ کلام الحدادی فی السراج الوھاج کانہ یرید بہ ان “ الی “ فی کلامہ لاخراج الغایۃ ای نزل الدم من الراس وانتھی الی مبدء مااشتد من الانف من دون ان ینزل منہ شیئ فیہ وھذا کان محتملا لولا ان الحدادی صرح فی مختصر سراجہ ان المراد بالحکم الوجوب و فرع علیہ تقیید الانتقاض بالنزول الی مالان کما تقدم وسیأتی عنھا ماھو انص واجلی
مسنون ہے تاکہ عبارتوں میں تطبیق ہو جائے اور بعض حضرات کے کلام میں آیا ہے کہ “ جب خون ناك کے نرم حصے تك اتر آئے تو ناقض وضو ہے “ اس کا تقاضا یہ نہیں کہ جب سخت حصے تك پہنچے تو ناقض وضو نہیں مگر یہ کہ اس کا مفہوم لیا جائے حالاں کہ صریح اس کے برخلاف ہے اور غایۃ البیان و عنایہ میں سے واضح طور پر لکھا ہے اور وصول (پہنچنا ) جو مذکور ہوا اس سے مراد سیلان (بہنا ) ہے ا ھ ۔
اقول : حدادی کی عبارت سراج وہاج کی جو تاویل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب بحر یہ مراد لے رہے ہیں کہ عبارت سراج میں لفظ “ الی “ غایت کو خارج کرنے کے لئے ہے یعنی خون سر سے اترے اور ناك کے سخت حصے کے شروع تك پہنچے خود اس حصے میں ذرا بھی نہ اترے یہ احتمال تو تھا اگر حدادی نے اپنی مختصر سراج میں یہ تصریح نہ کر دی ہوتی کہ حکم سے وجوب مراد ہے اور اس پر تفریع کرتے ہوئے وضو ٹوٹنے کو خون کے نرم حصے تك اتر آنے سے مقید نہ کیا ہوتا جیسا کہ گزرا اور آگے ان کی اس سے بھی زیادہ صریح اور روشن و
فـــــ : ۵۸تطفل علی البحر۔
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۱۔ ۳۲
وردہ اخوہ وتلمیذہ العلامۃ عمر فی النھر الفائق بقولہ “ وھذا وھم وانی یستدل بما فی المعراج وقد علل المسألۃ بما یمنع ھذا الاستخراج فقال مالفظہ لونزل الدم الی قصبۃ الانف انتقض بخلاف البول اذا نزل الی قصبۃ الذکر ولم یظھر فانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطھیر وفی الانف وصل فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض کذا فی المبسوط اھ وقد افصح ھذا التعلیل عن کون المراد بالقصبۃ مالان منھا لانہ الذی یجب غسلہ فی الجنابۃ ولذا قال الشارح (ای شارح الکنز یرید الامام الزیلعی) لو نزل الدم من الانف انتقض وضوؤہ اذا وصل الی مالان منہ لانہ یجب تطھیرہ وحمل الوجوب فی کلامہ عن الثبوت مما لاداعی الیہ وعلی ھذا فیجب ان یراد بالصماخ الخرق الذی یجب ایصال الماء الیہ فی الجنابۃ وبھذا ظھر ان کلامھم مناف لتلك الزیادۃ اھ کلام النھر۔
واضح عبارت آ رہی ہے صاحب بحر کی تردید میں ان کے برادر اور تلمیذ علامہ عمر نے النہر الفائق میں یہ لکھا ہے : یہ وہم ہے اور معراج کی عبارت سے استدلال کیسا جبکہ اس میں مسئلہ کی تعلیل ان الفاظ سے بیان ہوئی ہے جو یہ مطلب لینے سے مانع ہیں ان کے الفاظ یہ ہیں : خون اگر ناك کے بانسے تك اتر آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا برخلاف اس صورت کے جب پیشاب ذکر کی نالی تك اتر آئے اور ظاہر نہ ہو اس لئے کہ یہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے تطہیر کا حکم ہے اور ناك میں ایسی جگہ پہنچ گیا اس لئے کہ جنابت میں استنشاق فرض ہے ایسا ہی مبسوط میں ہے ا ھ۔ اس تعلیل نے تو صاف بتا دیا کہ بانسے سے مراد اس کا نرم حصہ ہے اس لئے کہ یہی وہ ہے جسے جنابت میں دھونا فرض ہے اسی لئے شارح فرماتے ہیں (یعنی کنز الدقائق کے شارح مراد ہیں امام زیلعی ) : اگر خون ناك سے اترا تو وضو ٹوٹ جائے گا جب اس کے نرم حصے تك پہنچ گیا ہو اس لئے کہ اس کی تطہیر واجب ہے اور ان کے کلام میں لفظ وجوب کو معنی ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں اس بنا پر ضروری ہے کہ صماخ سے وہ شگاف مراد ہو جہاں جنابت میں پانی پہنچانا واجب ہے اسی سے واضح ہو گیا کہ ان حضرات کی عبارتیں اس اضافے (ندب ) کے منافی ہیں ا ھ نہر کی عبارت ختم ۔
واضح عبارت آ رہی ہے صاحب بحر کی تردید میں ان کے برادر اور تلمیذ علامہ عمر نے النہر الفائق میں یہ لکھا ہے : یہ وہم ہے اور معراج کی عبارت سے استدلال کیسا جبکہ اس میں مسئلہ کی تعلیل ان الفاظ سے بیان ہوئی ہے جو یہ مطلب لینے سے مانع ہیں ان کے الفاظ یہ ہیں : خون اگر ناك کے بانسے تك اتر آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا برخلاف اس صورت کے جب پیشاب ذکر کی نالی تك اتر آئے اور ظاہر نہ ہو اس لئے کہ یہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے تطہیر کا حکم ہے اور ناك میں ایسی جگہ پہنچ گیا اس لئے کہ جنابت میں استنشاق فرض ہے ایسا ہی مبسوط میں ہے ا ھ۔ اس تعلیل نے تو صاف بتا دیا کہ بانسے سے مراد اس کا نرم حصہ ہے اس لئے کہ یہی وہ ہے جسے جنابت میں دھونا فرض ہے اسی لئے شارح فرماتے ہیں (یعنی کنز الدقائق کے شارح مراد ہیں امام زیلعی ) : اگر خون ناك سے اترا تو وضو ٹوٹ جائے گا جب اس کے نرم حصے تك پہنچ گیا ہو اس لئے کہ اس کی تطہیر واجب ہے اور ان کے کلام میں لفظ وجوب کو معنی ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں اس بنا پر ضروری ہے کہ صماخ سے وہ شگاف مراد ہو جہاں جنابت میں پانی پہنچانا واجب ہے اسی سے واضح ہو گیا کہ ان حضرات کی عبارتیں اس اضافے (ندب ) کے منافی ہیں ا ھ نہر کی عبارت ختم ۔
حوالہ / References
النہر الفائق کتاب الطہارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲
۹۰اقول : کفی بابداء فـــ۱ التوفیق بین کلماتھم داعیا الیہ ان ۹۱امکن وکلام المعراج فـــ۲ان لم یثبت الزیادۃ فلا ینفیھا و۹۲کلام الشارح فـــ ۳ انما ینا فی بلحاظ مفھوم المخالفۃ وقد اجاب عنہ البحر بان المفہوم لایعارض الصریح فیجب عندہ ان یراد المفہوم غیر مراد کی لاتتعارض کلمات الاسیاد۔
نعم فی الاستناد بالمعراج منع ظاھر فان ظاھر قولہ نزل الی قصبۃ الانف وان کان مفید التعمیم مااشتد وما لان فان بالنزول الی مااشتد یتحقق النزول الی القصبۃ قطعا وان لم یصل الی المارن لکن یکدرہ تعلیلہ اخرا بافتراض الاستنشاق کما ذکرہ فی النھر۔
۹۳اقول : لا سیما فـــ۴ وقد ترك
اقول : داعی ہونے کے لئے ان حضرات کی عبارتوں میں بشرط امکان تطبیق پیدا کرنے کا مقصد کافی ہے۔ اور معراج کی عبارت اگر اس اضافے کو ثابت نہیں کرتی تو اس کی تردید بھی نہیں کرتی اور شارح (امام زیلعی ) کے کلام میں مفہوم مخالفت کا لحاظ کیا جائے جب ہی وہ اس کے منافی ہو گا ۔ صاحب بحر اس کا جواب دے چکے ہیں کہ مفہوم صریح کے معارض و مقابل نہیں ہوتا تو ان کے نزدیك ضروری ہے کہ مفہوم مراد نہ ہو تا کہ ان حضرات کے کلام میں تعارض نہ ہو سکے ۔
ہاں معراج سے استناد پر کھلا ہوا منع وارد ہوتا ہے اس لئے کہ ان کا ظاہر کلام “ ناك کے بانسے تك اترے “ اگرچہ سخت و نرم دونوں حصوں کی تعمیم کا افادہ کر رہا ہے کیونکہ سخت حصے میں اترنے سے بھی بانسے میں اترنا قطعا متحقق ہو جاتا ہے اگرچہ نرم حصے تك نہ پہنچے لیکن یہ تعمیم مکدر اور نامعقول ہو جاتی ہے جب آخر میں وہ اس کی علت استنشاق کی فرضیت سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ نہر میں ذکر کیا ۔
اقول ایك خاص بات یہ بھی ہے کہ
فــــ۱ : ۵۹تطفل علی النھر
فــــ۲ : ۶۰تطفل اخر علیہ
فــــ۳ : ۶۱تطفل ثالث علیہ
فــــ۴ : ۶۲تطفل اخر علی البحر بتائید کلام ا النھر۔
نعم فی الاستناد بالمعراج منع ظاھر فان ظاھر قولہ نزل الی قصبۃ الانف وان کان مفید التعمیم مااشتد وما لان فان بالنزول الی مااشتد یتحقق النزول الی القصبۃ قطعا وان لم یصل الی المارن لکن یکدرہ تعلیلہ اخرا بافتراض الاستنشاق کما ذکرہ فی النھر۔
۹۳اقول : لا سیما فـــ۴ وقد ترك
اقول : داعی ہونے کے لئے ان حضرات کی عبارتوں میں بشرط امکان تطبیق پیدا کرنے کا مقصد کافی ہے۔ اور معراج کی عبارت اگر اس اضافے کو ثابت نہیں کرتی تو اس کی تردید بھی نہیں کرتی اور شارح (امام زیلعی ) کے کلام میں مفہوم مخالفت کا لحاظ کیا جائے جب ہی وہ اس کے منافی ہو گا ۔ صاحب بحر اس کا جواب دے چکے ہیں کہ مفہوم صریح کے معارض و مقابل نہیں ہوتا تو ان کے نزدیك ضروری ہے کہ مفہوم مراد نہ ہو تا کہ ان حضرات کے کلام میں تعارض نہ ہو سکے ۔
ہاں معراج سے استناد پر کھلا ہوا منع وارد ہوتا ہے اس لئے کہ ان کا ظاہر کلام “ ناك کے بانسے تك اترے “ اگرچہ سخت و نرم دونوں حصوں کی تعمیم کا افادہ کر رہا ہے کیونکہ سخت حصے میں اترنے سے بھی بانسے میں اترنا قطعا متحقق ہو جاتا ہے اگرچہ نرم حصے تك نہ پہنچے لیکن یہ تعمیم مکدر اور نامعقول ہو جاتی ہے جب آخر میں وہ اس کی علت استنشاق کی فرضیت سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ نہر میں ذکر کیا ۔
اقول ایك خاص بات یہ بھی ہے کہ
فــــ۱ : ۵۹تطفل علی النھر
فــــ۲ : ۶۰تطفل اخر علیہ
فــــ۳ : ۶۱تطفل ثالث علیہ
فــــ۴ : ۶۲تطفل اخر علی البحر بتائید کلام ا النھر۔
علی مانقل فی النھر من کلام المبسوط لفظۃ وفی الوضوء سنۃ کما تقدم نقلہ عن الحلیۃ عن النھایۃ عن المبسوط فلوکان مرادہ العموم لما ترك مایفیدہ واقتصر علی مالا یعطیہ۔
وانتصر العلامۃ الشامی للبحر الرائق فی منحۃ الخالق فقال یتعین ان یحمل قول المعراج فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض علی معنی ان اصل الاستنشاق فرض وان یبقی اول کلامہ علی ظاھرہ من غیر تاویل الخ
۹۴اقول : کیف فــــــ یخالف بین محملیھما مع ان اخرہ علی اولہ دلیل قال “ لما سیأتی قریبا عن غایۃ البیان عن النقض بالوصول الی قصبۃ الانف قول اصحابنا وان اشتراط الوصول الی مالان منہ قول زفر الخ
مبسوط میں یہ الفاظ بھی تھے کہ “ اور وضو میں سنت ہے “ جیسا کہ حلیہ کی عبارت میں بواسطہ نہایہ مبسوط سے نقل گزری لیکن جیسا کہ نہر نے نقل کیا معراج میں مبسوط کے وہ الفاظ ترك کر دئیے ہیں تو اگر صاحب معراج کا مقصود عموم ہوتا تو اس کا افادہ کرنے والے الفاظ وہ ترك کر کے صرف اس قدر پر اکتفا نہ کرتے جو عموم کا معنی نہیں دیتی ۔
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں البحر الرائق کی حمایت کی ہے اور لکھا ہے کہ : عبارت معراج : استنشاق جنابت میں فرض ہے “ کو اصل استنشاق فرض ہو نے کے معنی پر محمول کرنا اور اس کی ابتدائی عبارت کو بغیر کسی تاویل کے ظاہر پر باقی رکھنا متعین ہے الخ۔
اقول : دونوں کے مطلب میں مخالفت کیسے ہو گی جبکہ آخر کلام کو اول کی دلیل بنایا ہے آگے اپنی تائید میں علامہ شامی یہ لکھتے ہیں : اس لئے کہ آگے غایۃ البیان کے حوالے سے آ رہا ہے کہ ناك کے بانسے تك خون پہنچ آنے سے وضو ٹوٹ جانا ہمارے اصحاب کا قول ہے اور نرم حصے تك پہنچنے کی شرط امام زفر کا قول ہے الخ ۔
فـــــ : ۶۳معروضۃ علی العلامۃ الشامی
وانتصر العلامۃ الشامی للبحر الرائق فی منحۃ الخالق فقال یتعین ان یحمل قول المعراج فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض علی معنی ان اصل الاستنشاق فرض وان یبقی اول کلامہ علی ظاھرہ من غیر تاویل الخ
۹۴اقول : کیف فــــــ یخالف بین محملیھما مع ان اخرہ علی اولہ دلیل قال “ لما سیأتی قریبا عن غایۃ البیان عن النقض بالوصول الی قصبۃ الانف قول اصحابنا وان اشتراط الوصول الی مالان منہ قول زفر الخ
مبسوط میں یہ الفاظ بھی تھے کہ “ اور وضو میں سنت ہے “ جیسا کہ حلیہ کی عبارت میں بواسطہ نہایہ مبسوط سے نقل گزری لیکن جیسا کہ نہر نے نقل کیا معراج میں مبسوط کے وہ الفاظ ترك کر دئیے ہیں تو اگر صاحب معراج کا مقصود عموم ہوتا تو اس کا افادہ کرنے والے الفاظ وہ ترك کر کے صرف اس قدر پر اکتفا نہ کرتے جو عموم کا معنی نہیں دیتی ۔
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں البحر الرائق کی حمایت کی ہے اور لکھا ہے کہ : عبارت معراج : استنشاق جنابت میں فرض ہے “ کو اصل استنشاق فرض ہو نے کے معنی پر محمول کرنا اور اس کی ابتدائی عبارت کو بغیر کسی تاویل کے ظاہر پر باقی رکھنا متعین ہے الخ۔
اقول : دونوں کے مطلب میں مخالفت کیسے ہو گی جبکہ آخر کلام کو اول کی دلیل بنایا ہے آگے اپنی تائید میں علامہ شامی یہ لکھتے ہیں : اس لئے کہ آگے غایۃ البیان کے حوالے سے آ رہا ہے کہ ناك کے بانسے تك خون پہنچ آنے سے وضو ٹوٹ جانا ہمارے اصحاب کا قول ہے اور نرم حصے تك پہنچنے کی شرط امام زفر کا قول ہے الخ ۔
فـــــ : ۶۳معروضۃ علی العلامۃ الشامی
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۱ ، ۳۲
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۲
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۲
۹۵اقول : ھذا فـــ۱ کان لہ محل لو ان المعراج کان ھو المتفرد بھذا فکان یجب ردکلامہ الی وفاق الجمہورمھما امکن لکن عامۃ الکتب مصرحۃ ھھنا بتقیید النقض بما لان کما ستسمعہ ان شاء الله تعالی فجعلھم جمیعا غافلین عما حکی الاتقانی فی غایۃ البیان فی غایۃ البعد غایۃ الامر ان یحمل علی اختلاف الروایات فانی یجب رد مافی المعراج الی مافی الغایۃ۔
۹۶ثم : علی فــــ۲ ھذا ایضا انما کان السبیل ان یحمل کلامہ اولا واخرا علی بیان مااذا نزل الی مالان والسکوت عما نزل الی مااشتد کما اختارہ البحرلا ان یجعل اخر کلامہ مخالفا لاولہ مع کونھما مطلبا ودلیلا قال۔ “ وان قول من قال اذا وصل الی مالان منہ لبیان الاتفاق وکان صاحب النھر لم یطلع علی ذلك
اقول : اس کا موقع تھا اگر تنہا صاحب معراج اس خصوص کے قائل ہوتے ایسی صورت میں جہاں تك ہو سکے ان کے کلام کو جمہور کی موافقت کی جانب پھیرنا واجب ہوتا لیکن عامہ کتب نے وضو ٹوٹنے کونرم حصے تك پہنچنے سے صراحۃ مقید کیا ہے جیسا کہ ان شاء الله آگے ان کی عبارتیں پیش ہوں گی ----تو اتقانی نے غایۃ البیان میں جو حکایت کی ہے اس سے سب ہی کو غافل ٹھہرانا انتہائی بعید ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلاف روایات مانا جائے پھر عبارت معراج کو عبارت غایہ کی جانب پھیرنا کیسے ضروری ہو گا ۔
پھر اس بنیاد پر بھی راہ یہی تھی کہ کلام معراج اول و آخر دونوں جگہ نرم حصہ تك خون اترنے سے متعلق حکم کے بیان اور سخت حصے تك اترنے سے متعلق سکوت پر محمول کیا جائے جیسا کہ بحر نے اختیار کیا نہ یہ کہ آخر کلام کو اول کے خلاف بنایا جائے باوجودیکہ ایك مدعا ہے دوسرا دلیل ۔ علامہ شامی آگے فرماتے ہیں : اور جس نے یہ لکھا ہے کہ “ جب خون نرم حصے تك پہنچ جائے “ اس کا مقصد ایسی صورت رکھنا ہے جس پر امام زفر کا بھی اتفاق ہو--------شاید صاحب نہر
فــــ۱ : ۶۴معروضۃ اخری علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲ : ۶۵معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
۹۶ثم : علی فــــ۲ ھذا ایضا انما کان السبیل ان یحمل کلامہ اولا واخرا علی بیان مااذا نزل الی مالان والسکوت عما نزل الی مااشتد کما اختارہ البحرلا ان یجعل اخر کلامہ مخالفا لاولہ مع کونھما مطلبا ودلیلا قال۔ “ وان قول من قال اذا وصل الی مالان منہ لبیان الاتفاق وکان صاحب النھر لم یطلع علی ذلك
اقول : اس کا موقع تھا اگر تنہا صاحب معراج اس خصوص کے قائل ہوتے ایسی صورت میں جہاں تك ہو سکے ان کے کلام کو جمہور کی موافقت کی جانب پھیرنا واجب ہوتا لیکن عامہ کتب نے وضو ٹوٹنے کونرم حصے تك پہنچنے سے صراحۃ مقید کیا ہے جیسا کہ ان شاء الله آگے ان کی عبارتیں پیش ہوں گی ----تو اتقانی نے غایۃ البیان میں جو حکایت کی ہے اس سے سب ہی کو غافل ٹھہرانا انتہائی بعید ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلاف روایات مانا جائے پھر عبارت معراج کو عبارت غایہ کی جانب پھیرنا کیسے ضروری ہو گا ۔
پھر اس بنیاد پر بھی راہ یہی تھی کہ کلام معراج اول و آخر دونوں جگہ نرم حصہ تك خون اترنے سے متعلق حکم کے بیان اور سخت حصے تك اترنے سے متعلق سکوت پر محمول کیا جائے جیسا کہ بحر نے اختیار کیا نہ یہ کہ آخر کلام کو اول کے خلاف بنایا جائے باوجودیکہ ایك مدعا ہے دوسرا دلیل ۔ علامہ شامی آگے فرماتے ہیں : اور جس نے یہ لکھا ہے کہ “ جب خون نرم حصے تك پہنچ جائے “ اس کا مقصد ایسی صورت رکھنا ہے جس پر امام زفر کا بھی اتفاق ہو--------شاید صاحب نہر
فــــ۱ : ۶۴معروضۃ اخری علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲ : ۶۵معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
حتی قال ماقال اھ
۹۷اقول : ھذا انما یتمشی فی عبارۃ الھدایۃ وفیھا کلام الاتقانی دون سائر العبارات المتظافرۃ الافی بعضھا بتعسف شدید ھذا۔
ولنأت علی ماذکر الاتقانی فاعلم ان الامام برھان الدین قال فی الھدایۃ فی صدر الفصل المعانی النا قضۃ للوضوء کل مایخرج من السبیلین والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۔ ثم ذکر مسائل القیئ الی ان ذکرقیئ الدم ثم قال ولو نزل من الرأس الی مالان من الانف نقض بالاتفاق لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فیتحقق الخروج اھ
قال العلامۃ الاتقانی قولہ الی
اس (تصریح غایۃ البیان ) سے آگاہ نہ ہوئے اور وہ سب کہہ گئے ا ھ ۔
اقول : یہ توجیہ صرف ہدایہ کی عبارت میں چل سکتی ہے اسی کے بارے میں اتقانی کی گفتگو بھی ہے دوسری بہت ساری عبارتوں میں یہ توجیہ نہیں ہو سکتی ہاں بعض میں شدید تکلف کے بعد ممکن ہے ۔ یہ بحث تمام ہوئی ۔
اب ہم اس پر آتے ہیں جو اتقانی نے ذکر کیا ۔ پہلے یہ جان لیجئے کہ امام برہان الدین نے فصل نواقض وضو کے شروع میں فرمایا : ہر وہ چیز جو سبیلین سے خارج ہو----- اور خون اور پیپ جب یہ دونوں بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے “ ----پھر قے کے مسائل بیان کئے یہاں تك کہ خون کی قے کا ذکر کیا پھر فرمایا : “ اور اگر سر سے ناك کے اس حصے تك اتر آئے جو نرم ہے تو بالاتفاق ناقض وضو ہے کیونکہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔ “ ا ھ ۔
علامہ اتقانی لکھتے ہیں : ا ن کی عبارت
فــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
۹۷اقول : ھذا انما یتمشی فی عبارۃ الھدایۃ وفیھا کلام الاتقانی دون سائر العبارات المتظافرۃ الافی بعضھا بتعسف شدید ھذا۔
ولنأت علی ماذکر الاتقانی فاعلم ان الامام برھان الدین قال فی الھدایۃ فی صدر الفصل المعانی النا قضۃ للوضوء کل مایخرج من السبیلین والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۔ ثم ذکر مسائل القیئ الی ان ذکرقیئ الدم ثم قال ولو نزل من الرأس الی مالان من الانف نقض بالاتفاق لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فیتحقق الخروج اھ
قال العلامۃ الاتقانی قولہ الی
اس (تصریح غایۃ البیان ) سے آگاہ نہ ہوئے اور وہ سب کہہ گئے ا ھ ۔
اقول : یہ توجیہ صرف ہدایہ کی عبارت میں چل سکتی ہے اسی کے بارے میں اتقانی کی گفتگو بھی ہے دوسری بہت ساری عبارتوں میں یہ توجیہ نہیں ہو سکتی ہاں بعض میں شدید تکلف کے بعد ممکن ہے ۔ یہ بحث تمام ہوئی ۔
اب ہم اس پر آتے ہیں جو اتقانی نے ذکر کیا ۔ پہلے یہ جان لیجئے کہ امام برہان الدین نے فصل نواقض وضو کے شروع میں فرمایا : ہر وہ چیز جو سبیلین سے خارج ہو----- اور خون اور پیپ جب یہ دونوں بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے “ ----پھر قے کے مسائل بیان کئے یہاں تك کہ خون کی قے کا ذکر کیا پھر فرمایا : “ اور اگر سر سے ناك کے اس حصے تك اتر آئے جو نرم ہے تو بالاتفاق ناقض وضو ہے کیونکہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔ “ ا ھ ۔
علامہ اتقانی لکھتے ہیں : ا ن کی عبارت
فــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
حوالہ / References
منحۃالخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
الہدایہ کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۸
الہدایہ کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰
الہدایہ کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۸
الہدایہ کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰
مالان من الانف ای الی المارن وما بمعنی الذی فان قلت لم قید بھذا القید مع ان الروایۃ مسطورۃ فی الکتب عن اصحابنا ان الدم اذا نزل الی قصبۃ الانف ینقض الوضوء ولاحاجۃ الی ان ینزل الی مالان من الانف فای فائدۃ فی ھذا القید اذن سوی التکرار بلا فائدۃ لان ھذا الحکم قد علم فی اول الفصل من قولہ والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر قلت بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا لان عند زفر لاینتقض الوضوء مالم ینزل الدم الی مالان من الانف لعدم الظہور قبل ذلك اھ (قال فی المنحۃ بعد نقلہ) وھو شاھد قوی علی ماقالہ (ای صاحب البحر)فلا تغتر بتزییف صاحب النھر والله تعالی ولی التوفیق اھ
وذکر مثل کلامہ الذی نقلنا ھھنا مع قلیل زیادۃ فی رسالۃ الفوائد المخصصۃ واورد خلاصتہ
“ الی ما لان من الانف -------ناك کے اس حصے تك اتر آئے جو نرم ہے “ اس سے مراد “ مارن “ (نرمہ) ہے. اور “ ما “ بمعنی الذی ہے . اگر اعتراض ہو کہ قید کیوں لگائی جب کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں روایت یوں لکھی ہوئی ہے کہ خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض وضو ہے. اور اس کی ضرورت نہیں کہ ناك کے نرم حصے تك اترے ایسی صورت میں اس قید کا کیا فائدہ . سوا اس کے کہ بے سود تکرار ہو کیونکہ یہ حکم تو وہیں معلوم ہو گیا جو شروع فصل میں فرمایا : اور خون اور پیپ جب یہ بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے “ ----تو میں کہوں گا یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے اس لئے کہ امام زفر کے نزدیك جب تك نرم حصے تك نہ اترے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ اس سے پہلے ظہور ثابت نہیں ہوتا “ ا ھ اسے علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کرنے کے بعد فرمایا : یہ صاحب بحر کے کلام پر قوی شاہد ہے تو صاحب نہر کی تردید سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے اور خدائے تعالی ہی توفیق کا مالك ہے ا ھ۔
اسی طرح کی بات علامہ شامی نے تھوڑے اضافے کے ساتھ اپنے رسالہ “ الفوائد المخصصہ “ میں بھی ذکر کی ہے------- اس کا خلاصہ ردالمحتار
وذکر مثل کلامہ الذی نقلنا ھھنا مع قلیل زیادۃ فی رسالۃ الفوائد المخصصۃ واورد خلاصتہ
“ الی ما لان من الانف -------ناك کے اس حصے تك اتر آئے جو نرم ہے “ اس سے مراد “ مارن “ (نرمہ) ہے. اور “ ما “ بمعنی الذی ہے . اگر اعتراض ہو کہ قید کیوں لگائی جب کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں روایت یوں لکھی ہوئی ہے کہ خون جب ناك کے بانسے تك اتر آئے تو ناقض وضو ہے. اور اس کی ضرورت نہیں کہ ناك کے نرم حصے تك اترے ایسی صورت میں اس قید کا کیا فائدہ . سوا اس کے کہ بے سود تکرار ہو کیونکہ یہ حکم تو وہیں معلوم ہو گیا جو شروع فصل میں فرمایا : اور خون اور پیپ جب یہ بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے “ ----تو میں کہوں گا یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے اس لئے کہ امام زفر کے نزدیك جب تك نرم حصے تك نہ اترے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ اس سے پہلے ظہور ثابت نہیں ہوتا “ ا ھ اسے علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کرنے کے بعد فرمایا : یہ صاحب بحر کے کلام پر قوی شاہد ہے تو صاحب نہر کی تردید سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے اور خدائے تعالی ہی توفیق کا مالك ہے ا ھ۔
اسی طرح کی بات علامہ شامی نے تھوڑے اضافے کے ساتھ اپنے رسالہ “ الفوائد المخصصہ “ میں بھی ذکر کی ہے------- اس کا خلاصہ ردالمحتار
حوالہ / References
منحۃالخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۲
فی ردالمحتار وختمہ بقولہ “ فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد فاغتنم ھذا التحریر المفرد الخ۔
۹۸اقول : فــــ۱ نعم ھو صریح فی ان المراد فی تلك الروایۃ مااشتد اما عبارۃ المعراج التی فیھا کلام البحر والنھر فلا مساغ فیھا للحمل علی مااشتد للزوم الاختلاف بین الدلیل والمدعی کما علمت فالحق ان استناد البحر بھا لیس فی محلہ۔
ثم۹۹اقول : فــــ۲ان کان مراد الہدایۃ بالحکم الوجوب کما ھو المتبادر من کلامہ فانہ انما جعلہ واصلا الی مایلحقہ حکم التطھیر بعد نزولہ الی مالان فمعلوم ان المارن داخل من وجہ وخارج من وجہ یلحقہ حکم التطھیر فی الغسل ولا یلحقہ فی الوضوء فالتنصیص علی مثل ھذا لایعد عبثا ولا تکرارا فیسقط سؤال الغایۃ من رأسہ۔
میں بھی لکھا ہے اور اسے اس عبارت پر ختم کیا ہے : “ تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسے سے مراد اس کا سخت حصہ ہے ۔ اس منفرد تحریر کو غنیمت جانو “ ۔ الخ
اقول : ہاں یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اس روایت میں سخت حصہ ہی مراد ہے لیکن عبارت معراج جس میں بحر و نہر کی گفتگو ہے اسے “ سخت حصے “ پر محمول کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے کہ دلیل اور دعوی کے درمیان اختلاف لازم آتا ہے جیساکہ معلوم ہو ا تو حق یہی ہے کہ اس سے بحر کا استناد بے جا ہے ۔
ثم اقول : اگر حکم سے ہدایہ کی مراد وجوب ہو جیسا کہ اس کی عبارت سے یہی متبادر ہے---- کیونکہ اس میں خون کو نرم حصے تك پہنچنے کے بعد ہی اس جگہ تك پہنچنے والا قرار دیا ہے جسے حکم تطہیر لاحق ہوتا ہے تو یہ معلوم ہے کہ نرمہ ایك طرح سے داخل ہے اور ایك طرح سے خارج ہے غسل میں اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے اور وضو میں لاحق نہیں ہوتا اس لئے ایسی چیز سے متعلق تصریح کر دینے کو بے فائدہ اور تکرار شمار نہ کیا جائے گا تو غایۃ البیان کا اعتراض ہی سرے سے ساقط ہے ۔
فــــ۱ : ۶۷معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
فـــ۲ : ۶۸تطفل علی العلامۃ الاتقانی
۹۸اقول : فــــ۱ نعم ھو صریح فی ان المراد فی تلك الروایۃ مااشتد اما عبارۃ المعراج التی فیھا کلام البحر والنھر فلا مساغ فیھا للحمل علی مااشتد للزوم الاختلاف بین الدلیل والمدعی کما علمت فالحق ان استناد البحر بھا لیس فی محلہ۔
ثم۹۹اقول : فــــ۲ان کان مراد الہدایۃ بالحکم الوجوب کما ھو المتبادر من کلامہ فانہ انما جعلہ واصلا الی مایلحقہ حکم التطھیر بعد نزولہ الی مالان فمعلوم ان المارن داخل من وجہ وخارج من وجہ یلحقہ حکم التطھیر فی الغسل ولا یلحقہ فی الوضوء فالتنصیص علی مثل ھذا لایعد عبثا ولا تکرارا فیسقط سؤال الغایۃ من رأسہ۔
میں بھی لکھا ہے اور اسے اس عبارت پر ختم کیا ہے : “ تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسے سے مراد اس کا سخت حصہ ہے ۔ اس منفرد تحریر کو غنیمت جانو “ ۔ الخ
اقول : ہاں یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اس روایت میں سخت حصہ ہی مراد ہے لیکن عبارت معراج جس میں بحر و نہر کی گفتگو ہے اسے “ سخت حصے “ پر محمول کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے کہ دلیل اور دعوی کے درمیان اختلاف لازم آتا ہے جیساکہ معلوم ہو ا تو حق یہی ہے کہ اس سے بحر کا استناد بے جا ہے ۔
ثم اقول : اگر حکم سے ہدایہ کی مراد وجوب ہو جیسا کہ اس کی عبارت سے یہی متبادر ہے---- کیونکہ اس میں خون کو نرم حصے تك پہنچنے کے بعد ہی اس جگہ تك پہنچنے والا قرار دیا ہے جسے حکم تطہیر لاحق ہوتا ہے تو یہ معلوم ہے کہ نرمہ ایك طرح سے داخل ہے اور ایك طرح سے خارج ہے غسل میں اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے اور وضو میں لاحق نہیں ہوتا اس لئے ایسی چیز سے متعلق تصریح کر دینے کو بے فائدہ اور تکرار شمار نہ کیا جائے گا تو غایۃ البیان کا اعتراض ہی سرے سے ساقط ہے ۔
فــــ۱ : ۶۷معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
فـــ۲ : ۶۸تطفل علی العلامۃ الاتقانی
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۱
وعلی فــــ۱ ھذا فالعجب من العلامۃ صاحب العنایۃ رحمہ الله تعالی حیث صرح ان المراد بالحکم الوجوب ثم تبع الغایۃ فی ایراد ھذا السؤال والجواب وزادان “ قولہ (ای قول الھدایۃ) لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر یعنی بالاتفاق لعدم الظہور قبل ذلك عند زفر اھ واعترضہ العلامۃ سعدی افندی فی حاشیتہ علیھا قائلا “ فیہ بحث اھ ولم یبین وجہہ۔
۱۰۰اقول : وجہ فــــ۲ التقریر علی ھذا التقدیران ائمتنا الثلثلۃ رضی الله تعالی عنھم یعتبرون السیلان الی مایلحقہ حکم التطھیر ولو ندبا و زفر وان اجتزأ بمجردا لظھورلکن یجب عندہ الوصول الی ماھو ظاھر البدن اذلا ظھور قبل ذلك فما دام الدم فی ما اشتدت
اس تفصیل کے پیش نظر علامہ صاحب عنایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہپر تعجب ہے کہ انہوں نے حکم سے وجوب مراد ہونے کی تصریح کی پھر بھی یہ اعتراض و جواب ذکر کرنے میں غایۃ البیان کی پیروی کر لی اور مزید یہ لکھا کہ : عبارت ہدایہ “ لوصولہ الخ ----کیوں کہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے اس سے مراد کہ ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کاحکم بالاتفاق ہے۔ کیونکہ نرم حصے تك پہنچنے سے پہلے امام زفر کے نزدیك ظہور ثابت نہیں ہوتا اھ۔ اس پر علامہ سعدی آفندی نے اپنے حاشیہ عنایہ میں یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ “ اس میں بحث ہے “ اور وجہ بحث بیان نہ کی ۔
اقول : اس تقدیر پر صورت تقریر یہ ہو گی کہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہماس جگہ بہنے کا اعتبار کرتے ہیں جسے تطہیر کا حکم ہو اگرچہ بطور ندب ہو۔ اور امام زفر نے اگرچہ خون بہنے کے بجائے صرف ظاہر ہونے پر اکتفا کیا ہے لیکن ان کے نزدیك ایسی جگہ پہنچنا واجب ہے جو ظاہر بدن ہو کیونکہ ظہور اس سے پہلے ہو گا ہی نہیں تو خون جب تك
فــــ ۱ : ۶۹تطفل علی العنایۃ ۔
فــــ ۲ : ۷۰تطفل علی العلامۃ سعدی آفندی
۱۰۰اقول : وجہ فــــ۲ التقریر علی ھذا التقدیران ائمتنا الثلثلۃ رضی الله تعالی عنھم یعتبرون السیلان الی مایلحقہ حکم التطھیر ولو ندبا و زفر وان اجتزأ بمجردا لظھورلکن یجب عندہ الوصول الی ماھو ظاھر البدن اذلا ظھور قبل ذلك فما دام الدم فی ما اشتدت
اس تفصیل کے پیش نظر علامہ صاحب عنایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہپر تعجب ہے کہ انہوں نے حکم سے وجوب مراد ہونے کی تصریح کی پھر بھی یہ اعتراض و جواب ذکر کرنے میں غایۃ البیان کی پیروی کر لی اور مزید یہ لکھا کہ : عبارت ہدایہ “ لوصولہ الخ ----کیوں کہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے اس سے مراد کہ ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کاحکم بالاتفاق ہے۔ کیونکہ نرم حصے تك پہنچنے سے پہلے امام زفر کے نزدیك ظہور ثابت نہیں ہوتا اھ۔ اس پر علامہ سعدی آفندی نے اپنے حاشیہ عنایہ میں یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ “ اس میں بحث ہے “ اور وجہ بحث بیان نہ کی ۔
اقول : اس تقدیر پر صورت تقریر یہ ہو گی کہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہماس جگہ بہنے کا اعتبار کرتے ہیں جسے تطہیر کا حکم ہو اگرچہ بطور ندب ہو۔ اور امام زفر نے اگرچہ خون بہنے کے بجائے صرف ظاہر ہونے پر اکتفا کیا ہے لیکن ان کے نزدیك ایسی جگہ پہنچنا واجب ہے جو ظاہر بدن ہو کیونکہ ظہور اس سے پہلے ہو گا ہی نہیں تو خون جب تك
فــــ ۱ : ۶۹تطفل علی العنایۃ ۔
فــــ ۲ : ۷۰تطفل علی العلامۃ سعدی آفندی
حوالہ / References
العنایہ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۲
حاشیۃسعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۲
حاشیۃسعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۲
من الانف سائلا فیہ غیر واصل الی مالان یتحقق الناقض عند الائمۃ لندب غسلہ فی الغسل والوضوء لاعندالامام زفر لان مااشتد لیس من ظاھر البدن عند احد فلا یتحقق الظہور اما اذا تجاوز حتی وصل الی الحرف الاول مما لان فقد تحقق الناقض علی القولین اما علی قول الائمۃ فظاھر واما علی قول زفر فلظھورہ علی ظاھر البدن فیتحقق الخروج۔
فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق فان مراد زفر بالوصول مجرد الظھور وبما یلحقہ حکم التطھیر ظاھر البدن ومراد الائمۃ بالوصول السیلان وبما یلحقہ التطھیر ماشرع تطھیرہ ولو ندبا فاذا وصل الی ھنا حصل الوصول بالمعنیین الی مایطھر علی القولین وھذا تقریر صاف واف لابحث فیہ ولا غبار علیہ۔
بقی الفحص عن الروایۃ
۱۰۱اقول : لانمتری ان صاحب الغایۃ ثقۃ الی الغایۃ وقد اعتمد کلامہ فی العنایۃ وجزم بہ فی الحلیۃ حتی حکم باعتمادہ علی صاحب المنیۃ و
ناك کے سخت حصے میں بہہ رہا ہے نرم حصے تك پہنچا نہیں ہے اس وقت ائمہ ثلاثہ کے نزدیك ناقض متحقق ہے اس لئے کہ غسل و وضو میں اس حصے کو دھونا مندوب ہے جبکہ امام زفر کے نزدیك ناقض متحقق نہیں کیونکہ سخت حصہ کسی کے نزدیك ظاہر بدن میں شمار نہیں تو ظہور ثابت نہیں لیکن جب ذرا آگے بڑھ کر نرم حصے کے پہلے کنارے تك پہنچ جائے تو دونوں ہی قول پر ناقض متحقق ہو گیا ۔ قول ائمہ پر تو ظاہر ہے اور قول امام زفر پر اس لئے کہ خون ظاہر بدن پر ظاہر ہو گیا تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔
اب کلام عنایہ میں جو آیا کہ فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق اس کا مطلب واضح ہے اس لئے کہ پہنچنے سے امام زفر کی مراد محض ظاہر ہونا ہے اور “ جسے حکم تطہیر لاحق ہے “ سے ان کی مراد ظاہر بدن ہے۔ اور پہنچنے سے ائمہ کی مراد بہنا ہے اور “ جسے حکم تطہیر لاحق “ سے ان کی مراد وہ جس کی تطہیر مشروع ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو خون جب نرم حصے تك پہنچ گیا تو دونوں قول کے مطابق جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس تك پہنچنے کا دونوں معنی حاصل ہو گیا یہ---- صافی وافی تقریر ہے جس میں نہ کوئی بحث ہے اور نہ اس پر کوئی غبار ہے ۔
اب رہی روایت کی تفتیش اقول : ہم اس میں شك نہیں رکھتے کہ صاحب غایہ نہایت درجہ ثقہ ہیں ان کے کلام پر صاحب عنایہ نے اعتماد کیا اور اس پر صاحب حلیہ نے جزم کیا یہاں تك کہ ان پر اعتماد کر کے صاحب منیہ اور
فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق فان مراد زفر بالوصول مجرد الظھور وبما یلحقہ حکم التطھیر ظاھر البدن ومراد الائمۃ بالوصول السیلان وبما یلحقہ التطھیر ماشرع تطھیرہ ولو ندبا فاذا وصل الی ھنا حصل الوصول بالمعنیین الی مایطھر علی القولین وھذا تقریر صاف واف لابحث فیہ ولا غبار علیہ۔
بقی الفحص عن الروایۃ
۱۰۱اقول : لانمتری ان صاحب الغایۃ ثقۃ الی الغایۃ وقد اعتمد کلامہ فی العنایۃ وجزم بہ فی الحلیۃ حتی حکم باعتمادہ علی صاحب المنیۃ و
ناك کے سخت حصے میں بہہ رہا ہے نرم حصے تك پہنچا نہیں ہے اس وقت ائمہ ثلاثہ کے نزدیك ناقض متحقق ہے اس لئے کہ غسل و وضو میں اس حصے کو دھونا مندوب ہے جبکہ امام زفر کے نزدیك ناقض متحقق نہیں کیونکہ سخت حصہ کسی کے نزدیك ظاہر بدن میں شمار نہیں تو ظہور ثابت نہیں لیکن جب ذرا آگے بڑھ کر نرم حصے کے پہلے کنارے تك پہنچ جائے تو دونوں ہی قول پر ناقض متحقق ہو گیا ۔ قول ائمہ پر تو ظاہر ہے اور قول امام زفر پر اس لئے کہ خون ظاہر بدن پر ظاہر ہو گیا تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔
اب کلام عنایہ میں جو آیا کہ فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق اس کا مطلب واضح ہے اس لئے کہ پہنچنے سے امام زفر کی مراد محض ظاہر ہونا ہے اور “ جسے حکم تطہیر لاحق ہے “ سے ان کی مراد ظاہر بدن ہے۔ اور پہنچنے سے ائمہ کی مراد بہنا ہے اور “ جسے حکم تطہیر لاحق “ سے ان کی مراد وہ جس کی تطہیر مشروع ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو خون جب نرم حصے تك پہنچ گیا تو دونوں قول کے مطابق جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس تك پہنچنے کا دونوں معنی حاصل ہو گیا یہ---- صافی وافی تقریر ہے جس میں نہ کوئی بحث ہے اور نہ اس پر کوئی غبار ہے ۔
اب رہی روایت کی تفتیش اقول : ہم اس میں شك نہیں رکھتے کہ صاحب غایہ نہایت درجہ ثقہ ہیں ان کے کلام پر صاحب عنایہ نے اعتماد کیا اور اس پر صاحب حلیہ نے جزم کیا یہاں تك کہ ان پر اعتماد کر کے صاحب منیہ اور
علی من ھو اجل واکبر اعنی الامام برھان الدین محمود صاحب الذخیرۃ انھما مشیا ھھنا علی قول زفر۔ لکن الذی رأیتہ فیما بیدی من الکتب ھو المشی علی التقیید والحکم علیھم جمیعا انھم اغفلوا المذھب ومشوا علی قول زفرفی غایۃ الاشکال۔
وقد اسمعناك نصوص ۱المنیۃ و۲الجوھرۃ و۳التبیین و۴معراج الدرایۃ بل و۵الفتح و۶العنایۃ و۷النھایہ وفی الجوھرۃ ایضا لو سال الدم الی ما لان من الانف والانف مسدودۃ نقض اھ وفیھا ایضا احترز بقولہ حکم التطھیر عن داخل العین وباطن الجرح وقصبۃ الانف اھ وفی ۸خزانۃ المفتین للامام السمعانی رامزا علی مافی نسختی خ للخلاصۃ اذا دخل اصبعہ فی انفہ فدمیت اصبعہ ان نزل الدم من قصبۃ الانف نقض وانکان من داخل الانف لا اھ
ان سے بھی برتر بزرگ امام برہان الدین محمود صاحب ذخیرہ کے خلاف فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں حضرات یہاں امام زفر کے قول پر چلے گئے ہیں ۔ لیکن مجھے جو کتابیں دستیاب ہیں ان میں میں نے تقیید ہی پر مشی پائی اور سب کے خلاف یہ فیصلہ کرنا کہ یہ حضرات مذہب کو براہ غفلت چھوڑ کر امام زفر کے قول پر چلے گئے انتہائی مشکل امر ہے ۔
ہم (۱) منیہ (۲) جوہرہ (۳) تبیین (۴) معراج الدرایہ (۵) بلکہ فتح القدیر (۶) عنایہ (۷) اور نہایہ کی عبارتیں پیش کر چکے ہیں اور جوہرہ میں دو یہ عبارتیں اور ہیں۔ : (ا) اگر ناك بند ہے اور خون ناك کے نرم حصے تك بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا ۔ (ب) حکم تطہیر کہہ کر آنکھ کے اندونی حصے زخم کے اندونی حصے اور ناك کے بانسے سے احتراز کیا ہے ا ھ ۔
(۸) امام سمعانی کی خزانۃ المفتین میں جیسا کہ میرے نسخے میں ہے خلاصہ کے حوالہ کے لئے خ کا رمز دے کر نقل کیا ہے “ ناك میں انگلی ڈالی انگلی خون آلود ہو گئی اگر خون ناك کے بانسے سے اترا ہے توناقض اور اگر داخلی حصے سے اترا ہے تو نہیں “ ا ھ
وقد اسمعناك نصوص ۱المنیۃ و۲الجوھرۃ و۳التبیین و۴معراج الدرایۃ بل و۵الفتح و۶العنایۃ و۷النھایہ وفی الجوھرۃ ایضا لو سال الدم الی ما لان من الانف والانف مسدودۃ نقض اھ وفیھا ایضا احترز بقولہ حکم التطھیر عن داخل العین وباطن الجرح وقصبۃ الانف اھ وفی ۸خزانۃ المفتین للامام السمعانی رامزا علی مافی نسختی خ للخلاصۃ اذا دخل اصبعہ فی انفہ فدمیت اصبعہ ان نزل الدم من قصبۃ الانف نقض وانکان من داخل الانف لا اھ
ان سے بھی برتر بزرگ امام برہان الدین محمود صاحب ذخیرہ کے خلاف فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں حضرات یہاں امام زفر کے قول پر چلے گئے ہیں ۔ لیکن مجھے جو کتابیں دستیاب ہیں ان میں میں نے تقیید ہی پر مشی پائی اور سب کے خلاف یہ فیصلہ کرنا کہ یہ حضرات مذہب کو براہ غفلت چھوڑ کر امام زفر کے قول پر چلے گئے انتہائی مشکل امر ہے ۔
ہم (۱) منیہ (۲) جوہرہ (۳) تبیین (۴) معراج الدرایہ (۵) بلکہ فتح القدیر (۶) عنایہ (۷) اور نہایہ کی عبارتیں پیش کر چکے ہیں اور جوہرہ میں دو یہ عبارتیں اور ہیں۔ : (ا) اگر ناك بند ہے اور خون ناك کے نرم حصے تك بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا ۔ (ب) حکم تطہیر کہہ کر آنکھ کے اندونی حصے زخم کے اندونی حصے اور ناك کے بانسے سے احتراز کیا ہے ا ھ ۔
(۸) امام سمعانی کی خزانۃ المفتین میں جیسا کہ میرے نسخے میں ہے خلاصہ کے حوالہ کے لئے خ کا رمز دے کر نقل کیا ہے “ ناك میں انگلی ڈالی انگلی خون آلود ہو گئی اگر خون ناك کے بانسے سے اترا ہے توناقض اور اگر داخلی حصے سے اترا ہے تو نہیں “ ا ھ
حوالہ / References
الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۹
الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۹
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ / ۴
الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۹
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ / ۴
و۹فیھا رامزا ن للنوازل الرعاف اذا نزل الی مالان من الانف نقض اھ
وفی ۱۰جامع الرموز اذ انزل الدم الی الانف فسد مالان منہ حتی لاینزل فانہ لاینقض اھ
وقال ۱۱الامام الاجل محمود فی الذخیرۃ علی ما نقل عنھا فی الحلیۃ وعن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ انہ ادخل اصبعہ فی انفہ فلما اخرجہ رأی علی انملتہ دما فمسح ثم قام فصلی وتاویلہ عندنا اذا بالغ حتی جاوز مالان من انفہ الی ماصلب وکان الدم فیما صلب من انفہ وکان قلیلا بحیث لوترکہ لاینزل الی موضع اللین فمثلہ لیس بناقض اھ
و۱۲کذلك صرح بہ الامام الشہید ناصر الدین محمدبن یوسف الحسینی فی الملتقط قال فی ۱۳الہندیۃ لونزل الدم من الرأس الی موضع یلحقہ حکم التطھیر من الانف والاذنین نقض الوضوء کذا فی المحیط
(۹) اور اسی میں نوازل کے لئے ن کا رمز لگا کر نقل کیا ہے “ جب نرم حصے تك اتر آئے تو ناقض ہے “ ا ھ
(۱۰) اور جامع الرموز میں ہے : “ خون ناك کی طرف اترا تو نرم حصے کو کسی چیز سے بند کر دیا تاکہ اس میں نہ اتر آئے تو ایسی صورت میں وضو نہ ٹوٹے گا ا ھ “
(۱۱) امام محمود ذخیرہ میں فرماتے ہیں جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا ہے : “ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ انہوں نے ناك میں انگلی ڈال کر نکالی تو پورے پر خون نظر آیا اسے پونچھ دیا پھر اٹھ کر نماز ادا کی ہمارے نزدیك اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انگلی ناك کے اندر داخل کرنے میں مبالغہ کیا یہاں تك کہ نرم حصے میں خون تھا اور اتنا قلیل تھا کہ چھوڑ دینے پر نرم حصے تك نہ اترتا تو ایسی صورت میں وہ خون ناقض نہیں “ ا ھ
(۱۲) اسی طرح امام شہید ناصر الدین محمد بن یوسف حسینی نے ملتقط میں اس کی صراحت فرمائی ۔
(۱۳) ہندیہ میں ہے “ اگر خون سر سے ناك یا کانوں کی ایسی جگہ تك اتر آیا جسے پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وضو ٹوٹ گیا ۔ ایسا ہی محیط میں ہے
وفی ۱۰جامع الرموز اذ انزل الدم الی الانف فسد مالان منہ حتی لاینزل فانہ لاینقض اھ
وقال ۱۱الامام الاجل محمود فی الذخیرۃ علی ما نقل عنھا فی الحلیۃ وعن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ انہ ادخل اصبعہ فی انفہ فلما اخرجہ رأی علی انملتہ دما فمسح ثم قام فصلی وتاویلہ عندنا اذا بالغ حتی جاوز مالان من انفہ الی ماصلب وکان الدم فیما صلب من انفہ وکان قلیلا بحیث لوترکہ لاینزل الی موضع اللین فمثلہ لیس بناقض اھ
و۱۲کذلك صرح بہ الامام الشہید ناصر الدین محمدبن یوسف الحسینی فی الملتقط قال فی ۱۳الہندیۃ لونزل الدم من الرأس الی موضع یلحقہ حکم التطھیر من الانف والاذنین نقض الوضوء کذا فی المحیط
(۹) اور اسی میں نوازل کے لئے ن کا رمز لگا کر نقل کیا ہے “ جب نرم حصے تك اتر آئے تو ناقض ہے “ ا ھ
(۱۰) اور جامع الرموز میں ہے : “ خون ناك کی طرف اترا تو نرم حصے کو کسی چیز سے بند کر دیا تاکہ اس میں نہ اتر آئے تو ایسی صورت میں وضو نہ ٹوٹے گا ا ھ “
(۱۱) امام محمود ذخیرہ میں فرماتے ہیں جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا ہے : “ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ انہوں نے ناك میں انگلی ڈال کر نکالی تو پورے پر خون نظر آیا اسے پونچھ دیا پھر اٹھ کر نماز ادا کی ہمارے نزدیك اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انگلی ناك کے اندر داخل کرنے میں مبالغہ کیا یہاں تك کہ نرم حصے میں خون تھا اور اتنا قلیل تھا کہ چھوڑ دینے پر نرم حصے تك نہ اترتا تو ایسی صورت میں وہ خون ناقض نہیں “ ا ھ
(۱۲) اسی طرح امام شہید ناصر الدین محمد بن یوسف حسینی نے ملتقط میں اس کی صراحت فرمائی ۔
(۱۳) ہندیہ میں ہے “ اگر خون سر سے ناك یا کانوں کی ایسی جگہ تك اتر آیا جسے پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وضو ٹوٹ گیا ۔ ایسا ہی محیط میں ہے
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ / ۴
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ / ۳۴
الذخیرۃ
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ / ۳۴
الذخیرۃ
والموضع الذی یلحقہ حکم التطہیر من الانف مالان منہ کذافی الملتقط اھ
و۱۴قال الامام الاجل فقیہ النفس فی الخانیۃ لو نزل الدم من الرأس الی مالان من الانف ولم یظھر علی الارنبۃ نقض الوضوء اھ
۱۵وقال البرجندی مستشکلا عبارۃ النقایۃ سال الی مایطھر مانصہ یخدشہ انہ اذا خرج الدم من اقصی الانف وسال حتی بلغ مالان منہ ولم یسل علیہ ینبغی علی ھذا ان یکون ناقضا لانہ خرج الی مایطھر وسال ولیس کذلك الا ان یقال المراد من النجس النجس بالفعل ومثل ھذا الدم لیس بنجس بالفعل اویقال المراد انہ سال بعد الخروج الی مایطھر علی ماھو المتبادر من العبارۃ اھ
و۱۶قال العلامۃ مولی خسرو فی الدرر قولہ الی مایطھر احتراز عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف بخلاف مااذا سال الی المارن لان الاستنشاق
اور ناك کی وہ جگہ جسے پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے اس کا نرم حصہ ہے۔ ایسا ہی ملتقط میں ہے ا ھ ۔
(۱۴) امام جلیل فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے ہیں : خون اگر سر سے ناك کے نرم حصے تك اتر آیا اور بانسے کے اوپر نہ ہوا تو وضو ٹوٹ گیا اھ
(۱۵) برجندی نے عبارت نقایہ “ سال الی ما یطہر ایسی جگہ بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے “ پر اشکا ل پیش کرتے ہوئے کہا : یہ اس بات سے مخدوش ہو رہی ہے کہ جب خون ناك کے آخری سرے سے نکلا اور بہہ کر نرم حصے تك پہنچا اور اس پر نہ بہا تو اس بنیاد پر چاہئے کہ وہ ناقض ہو اس لئے کہ وہ ایسی جگہ کی طرف نکلا اور بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے حالاں کہ وہ ناقض نہیں ہے مگر یہ کہا جائے کہ نجس سے مرادنجس بالفعل ہے اورایسا خون بالفعل نجس نہیں یا یہ کہا جائے کہ وہ نکلنے کے بعد ایسی جگہ کی طرف بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے جیسا کہ عبارت سے متبادر ہے ا ھ ۔
(۱۶) علامہ مولی خسرو نے درر الحکام میں فرمایا : عبارت متن “ الی ما یطہر “ میں اس صورت سے احتراز ہے جب کہ خون ناك کے نرمے سے اوپر تك بہہ آئے بخلاف اس صورت کے کہ جب نرمے
و۱۴قال الامام الاجل فقیہ النفس فی الخانیۃ لو نزل الدم من الرأس الی مالان من الانف ولم یظھر علی الارنبۃ نقض الوضوء اھ
۱۵وقال البرجندی مستشکلا عبارۃ النقایۃ سال الی مایطھر مانصہ یخدشہ انہ اذا خرج الدم من اقصی الانف وسال حتی بلغ مالان منہ ولم یسل علیہ ینبغی علی ھذا ان یکون ناقضا لانہ خرج الی مایطھر وسال ولیس کذلك الا ان یقال المراد من النجس النجس بالفعل ومثل ھذا الدم لیس بنجس بالفعل اویقال المراد انہ سال بعد الخروج الی مایطھر علی ماھو المتبادر من العبارۃ اھ
و۱۶قال العلامۃ مولی خسرو فی الدرر قولہ الی مایطھر احتراز عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف بخلاف مااذا سال الی المارن لان الاستنشاق
اور ناك کی وہ جگہ جسے پاك کرنے کا حکم ہوتا ہے اس کا نرم حصہ ہے۔ ایسا ہی ملتقط میں ہے ا ھ ۔
(۱۴) امام جلیل فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے ہیں : خون اگر سر سے ناك کے نرم حصے تك اتر آیا اور بانسے کے اوپر نہ ہوا تو وضو ٹوٹ گیا اھ
(۱۵) برجندی نے عبارت نقایہ “ سال الی ما یطہر ایسی جگہ بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے “ پر اشکا ل پیش کرتے ہوئے کہا : یہ اس بات سے مخدوش ہو رہی ہے کہ جب خون ناك کے آخری سرے سے نکلا اور بہہ کر نرم حصے تك پہنچا اور اس پر نہ بہا تو اس بنیاد پر چاہئے کہ وہ ناقض ہو اس لئے کہ وہ ایسی جگہ کی طرف نکلا اور بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے حالاں کہ وہ ناقض نہیں ہے مگر یہ کہا جائے کہ نجس سے مرادنجس بالفعل ہے اورایسا خون بالفعل نجس نہیں یا یہ کہا جائے کہ وہ نکلنے کے بعد ایسی جگہ کی طرف بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے جیسا کہ عبارت سے متبادر ہے ا ھ ۔
(۱۶) علامہ مولی خسرو نے درر الحکام میں فرمایا : عبارت متن “ الی ما یطہر “ میں اس صورت سے احتراز ہے جب کہ خون ناك کے نرمے سے اوپر تك بہہ آئے بخلاف اس صورت کے کہ جب نرمے
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱
فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیما ینقض الوضوء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیما ینقض الوضوء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
فی الجنابۃ فرض اھ
۱۰۲اقول : والعجب فــــ من العلامۃ الجلیل ابی الاخلاص حسن بن عمارا لشرنبلا لی حیث حاول فی غنیتہ تحویل ھذا التصریح الی مااختارہ تبعا للفتح والبحر من ان الحکم یعم الندب حیث قال فی مراقیہ “ السیلان فی غیر السبیلین بتجاوز النجاسۃ الی محل یطلب تطہیرہ ولو ندبا فلا ینقض دم سال داخل العین بخلاف ماصلب من الانف اھ
فقال رحمہ الله تعالی قولہ عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف یعنی اقصاہ لاماقریب من الارنبۃ فان غسلہ مسنون فینتقض الوضوء بسیلان الدم فیہ اھ
تك بہہ آئے اس لئے کہ استنشاق جنابت میں فرض ہے “ ا ھ
اقول : علامہ جلیل ابو الاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے اپنے حاشیہ غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی تصریح کو فتح اور بحر کی تبعیت میں اپنے اختیار کردہ اس مسلك کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے کہ حکم ندب کو بھی شامل ہے کیونکہ انہوں نے مراقی الفلاح میں لکھا ہے : “ سبیلین کے علاوہ میں سیلان کا معنی یوں ثابت ہو گا کہ نجاست ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی تطہیر مطلوب ہوتی ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو آنکھ کے اندر بہنے والا خون ناقض نہیں بخلاف اس کے جو ناك کے سخت حصے میں بہے ا ھ
تو وہ عبارت درر کے تحت غنیہ میں یوں لکھتے ہیں : “ ان کا قول “ اس صورت سے احتراز ہے جب خون ناك کے نرمہ سے اوپر تك بہہ آئے “ اس سے مراد آخری سرا ہے وہ نہیں جو نرم حصے سے قریب ہے کیونکہ اس کا دھونا مسنون ہے تو اس کے اندر خون بہنے سے وضو ٹوٹ جائیگا “ اھ
فــــ : ۷۱تطفل علی العلا مۃ شرنبلالی
۱۰۲اقول : والعجب فــــ من العلامۃ الجلیل ابی الاخلاص حسن بن عمارا لشرنبلا لی حیث حاول فی غنیتہ تحویل ھذا التصریح الی مااختارہ تبعا للفتح والبحر من ان الحکم یعم الندب حیث قال فی مراقیہ “ السیلان فی غیر السبیلین بتجاوز النجاسۃ الی محل یطلب تطہیرہ ولو ندبا فلا ینقض دم سال داخل العین بخلاف ماصلب من الانف اھ
فقال رحمہ الله تعالی قولہ عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف یعنی اقصاہ لاماقریب من الارنبۃ فان غسلہ مسنون فینتقض الوضوء بسیلان الدم فیہ اھ
تك بہہ آئے اس لئے کہ استنشاق جنابت میں فرض ہے “ ا ھ
اقول : علامہ جلیل ابو الاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے اپنے حاشیہ غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی تصریح کو فتح اور بحر کی تبعیت میں اپنے اختیار کردہ اس مسلك کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے کہ حکم ندب کو بھی شامل ہے کیونکہ انہوں نے مراقی الفلاح میں لکھا ہے : “ سبیلین کے علاوہ میں سیلان کا معنی یوں ثابت ہو گا کہ نجاست ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی تطہیر مطلوب ہوتی ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو آنکھ کے اندر بہنے والا خون ناقض نہیں بخلاف اس کے جو ناك کے سخت حصے میں بہے ا ھ
تو وہ عبارت درر کے تحت غنیہ میں یوں لکھتے ہیں : “ ان کا قول “ اس صورت سے احتراز ہے جب خون ناك کے نرمہ سے اوپر تك بہہ آئے “ اس سے مراد آخری سرا ہے وہ نہیں جو نرم حصے سے قریب ہے کیونکہ اس کا دھونا مسنون ہے تو اس کے اندر خون بہنے سے وضو ٹوٹ جائیگا “ اھ
فــــ : ۷۱تطفل علی العلا مۃ شرنبلالی
حوالہ / References
الدررالحکام شرح غررالاحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص۸۷
غنیۃ ذوی الاحکام علی ہامش دررالحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص۸۷
غنیۃ ذوی الاحکام علی ہامش دررالحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
وانت تعلم ان ھذا تبدیل لاتاویل وبالجملۃ عامۃ الکتب علی ماتری نعم فی الخلاصۃ ان رعف فنزل الدم الی قصبۃ انفہ نقض وضوءہ اھ وفی البزازیۃ نزول الرعاف الی قصبۃ الانف ناقض اھ وظاھرہ کما قدمنا یعم ماصلب لکن البزازیۃ کانھا خلاصۃ الخلاصۃ کما یظھر علی من طالعھما واذا کان فی الخلاصۃ مانقل عنہ فی خزانۃ المفتین علی مافی نسختی ظھر مرادھا لکن لم اجدہ فی نسختی الخلاصۃ وقد وجدت نسخھا مختلفات بنقص و زیادۃ قلیلا وتقدیم وتاخیر کثیر افالله تعالی اعلم۔
ولعلك تقول ماالذی تحصل تلك النقول والام ال الامر فی اختلاف البحر والنھر وھل ثمہ مایکشف الغمہ۔
۱۰۳اقول : کان باب التوفیق مفتوحا کما اشرنا الی بعضہ لولا ان مع البحر روایۃ الاتقانی ناظر پر عیاں ہے کہ یہ تبدیل ہے تاویل نہیں ----- الحاصل عامہ کتب تقیید پر ہیں جیسا کہ سامنے ہے ہاں خلاصہ میں یہ لکھا ہے : “ اگر نکسیر پھوٹی اور خون ناك کے بانسے تك اتر آیا تو وضو ٹوٹ گیا “ اھ
اور بزازیہ میں ہے : ناك کے بانسے تك نکسیر اتر آنا ناقض وضو ہے ا ھ “ ان عبارتوں کا ظاہر جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا سخت حصے کو بھی شامل ہے لیکن بزازیہ خلاصہ کا گویا خلاصہ ہے جیسا کہ دونوں کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے اور جب خلاصہ میں وہ عبارت ہے جو خزانۃ المفتین میں اس سے نقل ہوئی جیسا کہ خزانہ کے میرے نسخہ میں ہے تو خلاصہ کی مراد ظاہر ہے لیکن یہ عبارت خلاصہ کے میرے نسخے میں نہ ملی اور میں نے اس کے نسخے بہت مختلف پائے ہیں جن میں کہیں کہیں کمی بیشی کا فرق ہوتا ہے اور تقدیم و تاخیر کا فرق تو بہت ملتا ہے والله تعالی اعلم۔
شاید آپ کہیں ان نقول کا حاصل اور بحر و نہر کے اختلاف میں انجام کار کیا ہوا کیا یہاں ایسی کوئی صورت بھی ہے جس سے یہ مشکل حل ہو
اقول : تطبیق کا دروازہ تو کھلا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ جیسا کہ ہم نے کچھ تطبیق کا اشارہ بھی کیا ۔ ۔ اگر بحر کی ہم نوائی میں اتقانی کی روایت
ولعلك تقول ماالذی تحصل تلك النقول والام ال الامر فی اختلاف البحر والنھر وھل ثمہ مایکشف الغمہ۔
۱۰۳اقول : کان باب التوفیق مفتوحا کما اشرنا الی بعضہ لولا ان مع البحر روایۃ الاتقانی ناظر پر عیاں ہے کہ یہ تبدیل ہے تاویل نہیں ----- الحاصل عامہ کتب تقیید پر ہیں جیسا کہ سامنے ہے ہاں خلاصہ میں یہ لکھا ہے : “ اگر نکسیر پھوٹی اور خون ناك کے بانسے تك اتر آیا تو وضو ٹوٹ گیا “ اھ
اور بزازیہ میں ہے : ناك کے بانسے تك نکسیر اتر آنا ناقض وضو ہے ا ھ “ ان عبارتوں کا ظاہر جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا سخت حصے کو بھی شامل ہے لیکن بزازیہ خلاصہ کا گویا خلاصہ ہے جیسا کہ دونوں کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے اور جب خلاصہ میں وہ عبارت ہے جو خزانۃ المفتین میں اس سے نقل ہوئی جیسا کہ خزانہ کے میرے نسخہ میں ہے تو خلاصہ کی مراد ظاہر ہے لیکن یہ عبارت خلاصہ کے میرے نسخے میں نہ ملی اور میں نے اس کے نسخے بہت مختلف پائے ہیں جن میں کہیں کہیں کمی بیشی کا فرق ہوتا ہے اور تقدیم و تاخیر کا فرق تو بہت ملتا ہے والله تعالی اعلم۔
شاید آپ کہیں ان نقول کا حاصل اور بحر و نہر کے اختلاف میں انجام کار کیا ہوا کیا یہاں ایسی کوئی صورت بھی ہے جس سے یہ مشکل حل ہو
اقول : تطبیق کا دروازہ تو کھلا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ جیسا کہ ہم نے کچھ تطبیق کا اشارہ بھی کیا ۔ ۔ اگر بحر کی ہم نوائی میں اتقانی کی روایت
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۵
الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور۴ / ۱۲
الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور۴ / ۱۲
مع تبعیۃ العنایۃ وجزم الحلیۃ وھو مفسر لایقبل التاویل ویقرب منہ نص الفتح بتعمیم الندب ومع النھر مااسلفنا من کثرۃ النصوص فی کلتا المسألتین القصر علی الوجوب والتقیید بالمارن وفیھا سبعۃ نصوص مفسرات ابیات عن التاویل کلام الذ خیرۃ والملتقط والخزانۃ عن الخلاصۃ وثالث عبارات الجوھرۃ و البرجندی وجامع الرموز والدررفلا امکان للتطبیق والحمل علی اختلاف الروایۃ ایسر من نسبۃ احد الفریقین الی الخطاء والغلط والغفلۃ و الشطط فالذی تحرر عندی ان ھھنا عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم روایتین روایۃ النقض بالسیلان فی ماصلب وان لم یصل الی مالان وھی التی عرفناھاباعتماد اتقان الاتقانی وعلیھا یجب تعمیم الحکم الندب وھوالذی اختارہ فی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وتبعھم الطحطاوی و ردالمحتار والاخری عدم النقض الا بالسیلان فیما لان وھی الروایۃ الشہیرۃ الشائعۃ فی الکتب الکثیرۃ وعلیھا یقتصر
نہ ہوتی جب کہ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی ہے اور حلیہ نے اس پر جزم کیا ہے یہ ایسی مفسر ہے جس میں تاویل نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ اس سے قریب ندب کو شامل کرنے میں فتح کی تصریح ہے اور نہر کی موافقت میں وجوب پر اکتفا اور نرمہ کی تقیید دونوں ہی مسئلوں میں نصوص کی وہ کثرت ہے جو ہم ہیش کر چکے ان میں سات نصوص مفسر ناقابل تاویل ہیں عبارات ۱ذخیرہ ۲ملتقط ۳خزانۃ المفتین عن الخلاصہ ۴جوہرہ کی تیسری عبارت ۵برجندی ۶جامع الرموز ۷درر کی عبارتیں تو تطبیق کا کوئی امکان نہیں اب ایك فریق کی جانب غلطی و خطا اور زیادتی و غفلت کی نسبت کرنے سے آسان یہ ہے کہ اختلاف روایت مان لیا جائے تو میرے نزدیك واضح بات یہ ہے کہ یہاں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے دو روایتیں ہیں ایك روایت یہ کہ سخت حصے کے اندر پہنچنے سے وضو ٹوٹ جائیگا اگرچہ نرم حصے تك نہ پہنچے -----یہ وہ روایت ہے جو اتقانی کے اتقان اور پختہ کاری پر اعتماد سے ہمیں معلوم ہوئی اس کی بنیاد
نہ ہوتی جب کہ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی ہے اور حلیہ نے اس پر جزم کیا ہے یہ ایسی مفسر ہے جس میں تاویل نہیں ہو سکتی۔ ۔ ۔ اس سے قریب ندب کو شامل کرنے میں فتح کی تصریح ہے اور نہر کی موافقت میں وجوب پر اکتفا اور نرمہ کی تقیید دونوں ہی مسئلوں میں نصوص کی وہ کثرت ہے جو ہم ہیش کر چکے ان میں سات نصوص مفسر ناقابل تاویل ہیں عبارات ۱ذخیرہ ۲ملتقط ۳خزانۃ المفتین عن الخلاصہ ۴جوہرہ کی تیسری عبارت ۵برجندی ۶جامع الرموز ۷درر کی عبارتیں تو تطبیق کا کوئی امکان نہیں اب ایك فریق کی جانب غلطی و خطا اور زیادتی و غفلت کی نسبت کرنے سے آسان یہ ہے کہ اختلاف روایت مان لیا جائے تو میرے نزدیك واضح بات یہ ہے کہ یہاں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے دو روایتیں ہیں ایك روایت یہ کہ سخت حصے کے اندر پہنچنے سے وضو ٹوٹ جائیگا اگرچہ نرم حصے تك نہ پہنچے -----یہ وہ روایت ہے جو اتقانی کے اتقان اور پختہ کاری پر اعتماد سے ہمیں معلوم ہوئی اس کی بنیاد
الحکم علی الوجوب ولایبقی داع اصلا الی تعمیم الندب وھو الذی مشی علیہ الاکثرون فاذن الثانی اکثرو اشھر واظھر وایسر غیر ان مراعاۃ الاول احوط کما قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدر بعد نقل کلامی البحر والنھر “ اقول مافی البحر احوط فتامل اھ وصورۃ السیلان فیما اشتد مع عدم النزول الی المارن نادرۃ لاعلینا ان نعمل فیھا بالاحوط فلذا جنحت الیہ جنوحا ماتبعا لھؤ لاء المحققین الجلۃ الکرام ۔
۱۰۴اقول : والثانی و ان ظھر وجہہ فان الخروج الی ظاھر البدن شرط بالاتفاق قال صدرالشریعۃ المعتبر الخروج الی ما ھو ظاھر شرعا اھ وما صلب من الانف داخل فی الداخل خارج عن الخارج بالاتفاق ولذا لم یجب تطہیرہ فی الغسل ایضا فالاول ایضالہ وجہ وذلك انا لما رأینا الشرع ندب الی غسلہ فی الغسل والوضوء
پر حکم میں ندب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے اسی کو فتح القدیر حلیہ البحرالرائق اور مراقی الفلاح میں اختیار کیا اور ان ہی کا طحطاوی اور ردالمحتار نے اتباع کیا دوسری روایت یہ کہ جب تك نرم حصے میں نہ بہے وضو نہ ٹوٹے گا یہی روایت کثیر کتابوں میں عام اور مشہور ہے اس کی بنیاد پر حکم وجوب تك محدود رہے گا اور ندب کو شامل کرنے کا بالکل کوئی داعی نہ رہ جائے گا ۔ اسی پر اکثر حضرات چلے ہیں ایسی صورت میں ثانی اکثر اشہر اظہر اور ایسر ہے مگر یہ کہ اول کی رعایت احوط ہے جیسا کہ سید طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں بحر و نہر کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا : میں کہتا ہوں جو بحر میں ہے وہ احوط ہے تو تامل کرو اھ اور نرمے تك خون آئے بغیر صرف سخت حصے میں بہے یہ صورت بہت کم پیش آنیوالی ہے اس میں احوط پر عمل کر لینا کچھ ضروری نہیں اسی لئے ان بزرگ محققین کی پیروی میں اس کی جانب میرا کچھ میلان ہوا ۔
اقول : ثانی کی وجہ تو ظاہر ہے ----کیونکہ ظاہر بدن کی طرف نکلنا بالاتفاق شرط ہے --- صدر الشریعہ فرماتے ہیں : معتبر اس حصہ بدن کی طرف نکلنا ہے جو شرع میں ظاہر قرار دیا گیا ہے اھ ----- اور ناك کا سخت حصہ بالاتفاق داخل بدن میں داخل اور خارج بدن سے خارج ہے اسی لئے غسل میں بھی اسے پاك کرنا واجب نہیں ------مگر اول کی بھی ایك وجہ ہے وہ یہ کہ جب ہم نے دیکھا کہ شریعت نے غسل اور وضو میں اس کا دھونا مندوب رکھا ہے
۱۰۴اقول : والثانی و ان ظھر وجہہ فان الخروج الی ظاھر البدن شرط بالاتفاق قال صدرالشریعۃ المعتبر الخروج الی ما ھو ظاھر شرعا اھ وما صلب من الانف داخل فی الداخل خارج عن الخارج بالاتفاق ولذا لم یجب تطہیرہ فی الغسل ایضا فالاول ایضالہ وجہ وذلك انا لما رأینا الشرع ندب الی غسلہ فی الغسل والوضوء
پر حکم میں ندب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے اسی کو فتح القدیر حلیہ البحرالرائق اور مراقی الفلاح میں اختیار کیا اور ان ہی کا طحطاوی اور ردالمحتار نے اتباع کیا دوسری روایت یہ کہ جب تك نرم حصے میں نہ بہے وضو نہ ٹوٹے گا یہی روایت کثیر کتابوں میں عام اور مشہور ہے اس کی بنیاد پر حکم وجوب تك محدود رہے گا اور ندب کو شامل کرنے کا بالکل کوئی داعی نہ رہ جائے گا ۔ اسی پر اکثر حضرات چلے ہیں ایسی صورت میں ثانی اکثر اشہر اظہر اور ایسر ہے مگر یہ کہ اول کی رعایت احوط ہے جیسا کہ سید طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں بحر و نہر کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا : میں کہتا ہوں جو بحر میں ہے وہ احوط ہے تو تامل کرو اھ اور نرمے تك خون آئے بغیر صرف سخت حصے میں بہے یہ صورت بہت کم پیش آنیوالی ہے اس میں احوط پر عمل کر لینا کچھ ضروری نہیں اسی لئے ان بزرگ محققین کی پیروی میں اس کی جانب میرا کچھ میلان ہوا ۔
اقول : ثانی کی وجہ تو ظاہر ہے ----کیونکہ ظاہر بدن کی طرف نکلنا بالاتفاق شرط ہے --- صدر الشریعہ فرماتے ہیں : معتبر اس حصہ بدن کی طرف نکلنا ہے جو شرع میں ظاہر قرار دیا گیا ہے اھ ----- اور ناك کا سخت حصہ بالاتفاق داخل بدن میں داخل اور خارج بدن سے خارج ہے اسی لئے غسل میں بھی اسے پاك کرنا واجب نہیں ------مگر اول کی بھی ایك وجہ ہے وہ یہ کہ جب ہم نے دیکھا کہ شریعت نے غسل اور وضو میں اس کا دھونا مندوب رکھا ہے
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ۱ / ۷۷
شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ کون المسائل الی ما یطہرنا قضا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۱
شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ کون المسائل الی ما یطہرنا قضا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۱
علمنا ان لہ وجہا الی الظاھر والالم یندب غسلہ کسائر الداخلات فاذا وجد السیلان فیہ اوجبنا الوضوء للاحتیاط نظر الی ذلك الوجہ ھذا ماظھر لی۔ والله تعالی اعلم
وبالجملۃ انا العبد الضعیف اجدنی امیل الی القول الثانی من حیث الدرایۃ وشھرۃ الروایۃ معالکن لاجل الاحتیاط وتلك الروایۃ الھائلۃ القائلۃ ان الوجوب ثمہ باتفاق ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم احببت میلاما الی الاول وعلی توفیق الله المعول۔
ثم ۱۰۵اقول : ظھرلی الان بتوفیق المنان علی تعمیم الحکم للندب نقضان احدھما فــــ۱ تظافر نصوص المذھب ان نزول فــــ۲ شیئ الی الفرج الداخل لاینقض طھرا قط مالم یجاوزہ الی الفرج الخارج مع
اور اس کی دعوت و ترغیب دی ہے تو اس سے ہمیں علم ہوا کہ اس کا ایك رخ ظاہر کی جانب بھی ہے ورنہ اس کا دھونا مندوب نہ ہوتا جیسے دیگر داخلی حصوں کا حال ہے۔ تو جب اس سخت حصے میں سیلان پایا جائے تو اسی پر نظر کرتے ہوئے احتیاطا ہم نے وضو واجب کہا یہ مجھ پر ظاہر ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔
الحاصل میں بندہ ضعیف اپنے کو درایت اور شہرت روایت دونوں کی وجہ سے قول ثانی کی طرف مائل پاتا ہوں لیکن احتیاط کی وجہ سے اور اس عظیم روایت کی وجہ سے جس میں یہ ہے کہ یہاں وجوب پر ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا اتفاق ہے میں نے اول کی طرف مائل ہونا پسند کیا اور خدا ہی کی توفیق پر بھروسہ ہے ۔
ثم اقول : ندب کے حکم کو عام کرنے پر خدا کی توفیق سے مجھ پر ابھی دو نقض منکشف ہوئے :
نقض اول : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اتر آئے توناقض طہارت نہیں جب تك اس سے بڑھ کر فرج خارج تك نہ آ جائے حالانکہ فرج داخل کو بطور ندب تطہیر کا حکم ہوتا ہے ۔
فــــ۱ : ۷۲تطفل علی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وط وش۔
فــــ۲ : مسئلہ : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اتر آئے جب تك اس کے منہ سے متجاوزکر کے فرج خارج میں نہ آئے گی غسل یا وضو کچھ واجب نہ ہوگا ۔
وبالجملۃ انا العبد الضعیف اجدنی امیل الی القول الثانی من حیث الدرایۃ وشھرۃ الروایۃ معالکن لاجل الاحتیاط وتلك الروایۃ الھائلۃ القائلۃ ان الوجوب ثمہ باتفاق ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم احببت میلاما الی الاول وعلی توفیق الله المعول۔
ثم ۱۰۵اقول : ظھرلی الان بتوفیق المنان علی تعمیم الحکم للندب نقضان احدھما فــــ۱ تظافر نصوص المذھب ان نزول فــــ۲ شیئ الی الفرج الداخل لاینقض طھرا قط مالم یجاوزہ الی الفرج الخارج مع
اور اس کی دعوت و ترغیب دی ہے تو اس سے ہمیں علم ہوا کہ اس کا ایك رخ ظاہر کی جانب بھی ہے ورنہ اس کا دھونا مندوب نہ ہوتا جیسے دیگر داخلی حصوں کا حال ہے۔ تو جب اس سخت حصے میں سیلان پایا جائے تو اسی پر نظر کرتے ہوئے احتیاطا ہم نے وضو واجب کہا یہ مجھ پر ظاہر ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔
الحاصل میں بندہ ضعیف اپنے کو درایت اور شہرت روایت دونوں کی وجہ سے قول ثانی کی طرف مائل پاتا ہوں لیکن احتیاط کی وجہ سے اور اس عظیم روایت کی وجہ سے جس میں یہ ہے کہ یہاں وجوب پر ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکا اتفاق ہے میں نے اول کی طرف مائل ہونا پسند کیا اور خدا ہی کی توفیق پر بھروسہ ہے ۔
ثم اقول : ندب کے حکم کو عام کرنے پر خدا کی توفیق سے مجھ پر ابھی دو نقض منکشف ہوئے :
نقض اول : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اتر آئے توناقض طہارت نہیں جب تك اس سے بڑھ کر فرج خارج تك نہ آ جائے حالانکہ فرج داخل کو بطور ندب تطہیر کا حکم ہوتا ہے ۔
فــــ۱ : ۷۲تطفل علی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وط وش۔
فــــ۲ : مسئلہ : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اتر آئے جب تك اس کے منہ سے متجاوزکر کے فرج خارج میں نہ آئے گی غسل یا وضو کچھ واجب نہ ہوگا ۔
ان الفرج فــــ الداخل قد لحقہ حکم التطھیر ندبا
وذلك حدیث ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنھا فی الصحیحین وغیرھما ان امرأۃ من الانصار سألت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عن غسلھا من المحیض فامرھا صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف تغتسل ثم قال خذی فرصۃ من مسك فتطھری بھا (وھو بفتح المیم ای من ادیم ورجحوہ علی روایۃ الکسر وفی روایات فرصۃ ممسکۃ ای خرقۃ خلقۃ قد امسکت کثیرا قال الامام التور پشتی ھذا القول امتن واحسن واشبہ بصورۃ الحال ولو کان المعنی علی انھا مطیبۃ لقال فتطیبی ولانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم امرھا بذلك لازالۃ الدم
اس بارے میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں آئی ہے کہ انصارکی ایك عورت نے اپنے غسل حیض کے متعلق نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سوال کیا تو اسے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حکم دیا کہ وہ کس طرح غسل کرے پھر فرمایا : خذی فرصۃ من مسك فتطہری بہا ( مسك میم کے زبر کے ساتھ یعنی صا ف کیا ہوا چمڑا حضرات علماء نے زیر والی روایت میں فرصۃ ممسکۃ ہے یعنی کوئی پرانا ٹکڑا جو زیادہ دنوں تك روکا گیا ہو امام تورپشتی نے فرمایا : یہ قول زیادہ مضبوط بہتر اور صورت حال سے زیادہ مناسب ہے اگر یہ معنی ہو کہ وہ ٹکڑا خوشبو آلود ہو تو فرماتے فتطیبی اس کے ذریعہ خوشبو مل لو دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں یہ حکم پاك کرنے کے وقت خون دور کرنے کے لئے دیا اگر یہ حکم بو دور کرنے کے لئے ہوتا تو خون صاف
فــــ : مسئلہ : زن حائضہ کو مستحب ہے کہ بعد فراغ حیض جب غسل کرے ایك پرانے کپڑے سے فرج داخل کے اندر سے خون کا اثر صاف کرلے۔
وذلك حدیث ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنھا فی الصحیحین وغیرھما ان امرأۃ من الانصار سألت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عن غسلھا من المحیض فامرھا صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف تغتسل ثم قال خذی فرصۃ من مسك فتطھری بھا (وھو بفتح المیم ای من ادیم ورجحوہ علی روایۃ الکسر وفی روایات فرصۃ ممسکۃ ای خرقۃ خلقۃ قد امسکت کثیرا قال الامام التور پشتی ھذا القول امتن واحسن واشبہ بصورۃ الحال ولو کان المعنی علی انھا مطیبۃ لقال فتطیبی ولانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم امرھا بذلك لازالۃ الدم
اس بارے میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں آئی ہے کہ انصارکی ایك عورت نے اپنے غسل حیض کے متعلق نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سوال کیا تو اسے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حکم دیا کہ وہ کس طرح غسل کرے پھر فرمایا : خذی فرصۃ من مسك فتطہری بہا ( مسك میم کے زبر کے ساتھ یعنی صا ف کیا ہوا چمڑا حضرات علماء نے زیر والی روایت میں فرصۃ ممسکۃ ہے یعنی کوئی پرانا ٹکڑا جو زیادہ دنوں تك روکا گیا ہو امام تورپشتی نے فرمایا : یہ قول زیادہ مضبوط بہتر اور صورت حال سے زیادہ مناسب ہے اگر یہ معنی ہو کہ وہ ٹکڑا خوشبو آلود ہو تو فرماتے فتطیبی اس کے ذریعہ خوشبو مل لو دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں یہ حکم پاك کرنے کے وقت خون دور کرنے کے لئے دیا اگر یہ حکم بو دور کرنے کے لئے ہوتا تو خون صاف
فــــ : مسئلہ : زن حائضہ کو مستحب ہے کہ بعد فراغ حیض جب غسل کرے ایك پرانے کپڑے سے فرج داخل کے اندر سے خون کا اثر صاف کرلے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الحیض باب دلك المرأۃ نفسہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵ ، صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال المغتسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰ ، مشکوۃ المصابیح باب الغسل الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸
عند التطھیر ولو کان لازالۃ الرائحۃ لامربھا بعد ازالۃ الدم وتمامہ فی المرقاۃ لمولانا علی القاری) ۔
فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم تطھری بھا قالت کیف اتطھر بھا فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم سبحان الله تطہری بہا قالت ام المؤمنین فاجتذبتھا الی فقلت تتبغی بھا اثرالدم اھ ای اجعلیھا فی الفرج وحیث اصابہ الدم للتنظیف
فقد امر صلی الله تعالی علیہ وسلم المرأۃ تغتسل من محیضہا ان تطہر داخل فرجھا وتزیل عنہ الدم بفرصۃ ومعلوم ان حکم التطھیر یعم التطھیر من النجاسۃ الحقیقیۃ کالحکمیۃ وقد مر التنصیص بہ فی قول الفتح فیما لان من الانف
کر لینے کے بعد اسے کرنے کا حکم دیتے پوری بات مولانا علی قاری کی مرقاۃ میں ہے )۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : چمڑے کا کوئی ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو عرض کیا : کیسے پاکی حاصل کروں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : سبحان الله اس سے پاکی حاصل کرو ۔ ام المومنین فرماتی ہیں : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور کہا اس کے ذریعہ خون کے نشان تلاش کرو ا ھ یعنی اندون فرج اور دوسری جگہ جہاں خون لگ گیا ہو اس سے صاف کرو
تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حیض سے غسل کرنے والی عورت کو یہ حکم دیا کہ داخل فرج کو پاك کرو اور کسی ٹکڑے کے ذریعہ اس سے خون دور کرے اس سے معلوم ہوا کہ تطہیر کا حکم نجاست حکمیہ کی طرح نجاست حقیقیہ سے تطہیر کو بھی شامل ہے اس سے متعلق فتح کی صراحت بھی گزر چکی اس میں ناك کے نرمہ سے
فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم تطھری بھا قالت کیف اتطھر بھا فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم سبحان الله تطہری بہا قالت ام المؤمنین فاجتذبتھا الی فقلت تتبغی بھا اثرالدم اھ ای اجعلیھا فی الفرج وحیث اصابہ الدم للتنظیف
فقد امر صلی الله تعالی علیہ وسلم المرأۃ تغتسل من محیضہا ان تطہر داخل فرجھا وتزیل عنہ الدم بفرصۃ ومعلوم ان حکم التطھیر یعم التطھیر من النجاسۃ الحقیقیۃ کالحکمیۃ وقد مر التنصیص بہ فی قول الفتح فیما لان من الانف
کر لینے کے بعد اسے کرنے کا حکم دیتے پوری بات مولانا علی قاری کی مرقاۃ میں ہے )۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : چمڑے کا کوئی ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو عرض کیا : کیسے پاکی حاصل کروں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : سبحان الله اس سے پاکی حاصل کرو ۔ ام المومنین فرماتی ہیں : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور کہا اس کے ذریعہ خون کے نشان تلاش کرو ا ھ یعنی اندون فرج اور دوسری جگہ جہاں خون لگ گیا ہو اس سے صاف کرو
تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے حیض سے غسل کرنے والی عورت کو یہ حکم دیا کہ داخل فرج کو پاك کرو اور کسی ٹکڑے کے ذریعہ اس سے خون دور کرے اس سے معلوم ہوا کہ تطہیر کا حکم نجاست حکمیہ کی طرح نجاست حقیقیہ سے تطہیر کو بھی شامل ہے اس سے متعلق فتح کی صراحت بھی گزر چکی اس میں ناك کے نرمہ سے
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ التورپشتی تحت الحدیث۴۳۷ المکتبۃ الحنفیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۰ ، کتاب المیسرشرح مصابیح السنۃ تحت حدیث ۲۸۱ مکتبہ نزارمصطفی ٰالباز مکۃ المکرمہ۱ / ۱۵۲
صحیح البخاری کتاب الحیض باب دلك المرأۃ نفسہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۔ صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال للغسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۰ ، مشکوۃ المصابیح باب الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸
مرقاۃ المفاتیح باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۲
صحیح البخاری کتاب الحیض باب دلك المرأۃ نفسہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۔ صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال للغسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۰ ، مشکوۃ المصابیح باب الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸
مرقاۃ المفاتیح باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۲
انہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینقض اھ وفی الغنیۃ او فی ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ اھ۔
فی البحر مرادھم ان یتجاوز الی موضع تجب طھارتہ اوتندب من بدن وثوب ومکان اھ
ولا شك ان مسح الدم من باطن الفرج لفرصۃ لیس الا لازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ولذا عبر صلی الله علیہ وسلم عنہ بالتطھیر فحکم التطہیرلایختص بالماء علا انا علمنا ان نظر الشارع ھھنا الی ازالۃ اثر الدم من الباطن فلاشك ان الماء ابلغ فیہ لاسیما بعد المسح بالخرقۃ کما عرف فی الاستنجاء بالماء بعد المسح بالحجر ولذا فــــ اتت الروایۃ عن محرر المذھب محمد رحمہ الله تعالی فی اغتسال المرأۃ انھا ان لم تدخل اصبعھا
متعلق ہے کہ اسے جنابت میں اور نجاست سے دھونا واجب ہے تو اس میں خون اتر آنا ناقض وضو ہے اھ ۔ غنیہ میں ہے : یانجاست حقیقیہ کے ازالہ میں ( حکم تطہیر ہو) اھ ۔
البحر الرائق میں ہے ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی پاکی واجب یا مندوب ہے وہ جگہ بدن کی ہو یا کپڑے کی یا خارجی جگہ ا ھ۔
اور اس میں شك نہیں کہ باطن فرج سے کسی ٹکڑے سے خون پونچھنا نجاست حقیقۃ دور کرنے ہی کے لئے ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تطہیر سے تعبیرفرمائی تو حکم تطہیر پانی ہی سے خاص نہیں علاوہ اس کے کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نظر شارع یہاں اندر سے خون کا اثر دورکرنے پر ہے تو پانی یقینا اس میں زیادہ کارگر ہو گا خصوصا پارچہ سے پونچھنے کے بعد جیسا کہ پتھر سے پونچھنے کے بعد پانی سے استنجاء کے بارے میں معلوم ہے ۔ اسی لئے محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے عورت کے غسل کے بارے میں روایت آئی کہ اگر وہ فرج میں انگلی نہ لے جائے تو تنظیف نہ ہو گی ۔
فـــــ : غسل میں عورت کو مستحب ہے کہ فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھو لے ہاں واجب نہیں بغیر اس کے بھی غسل اتر جائے گا ۔
فی البحر مرادھم ان یتجاوز الی موضع تجب طھارتہ اوتندب من بدن وثوب ومکان اھ
ولا شك ان مسح الدم من باطن الفرج لفرصۃ لیس الا لازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ولذا عبر صلی الله علیہ وسلم عنہ بالتطھیر فحکم التطہیرلایختص بالماء علا انا علمنا ان نظر الشارع ھھنا الی ازالۃ اثر الدم من الباطن فلاشك ان الماء ابلغ فیہ لاسیما بعد المسح بالخرقۃ کما عرف فی الاستنجاء بالماء بعد المسح بالحجر ولذا فــــ اتت الروایۃ عن محرر المذھب محمد رحمہ الله تعالی فی اغتسال المرأۃ انھا ان لم تدخل اصبعھا
متعلق ہے کہ اسے جنابت میں اور نجاست سے دھونا واجب ہے تو اس میں خون اتر آنا ناقض وضو ہے اھ ۔ غنیہ میں ہے : یانجاست حقیقیہ کے ازالہ میں ( حکم تطہیر ہو) اھ ۔
البحر الرائق میں ہے ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی پاکی واجب یا مندوب ہے وہ جگہ بدن کی ہو یا کپڑے کی یا خارجی جگہ ا ھ۔
اور اس میں شك نہیں کہ باطن فرج سے کسی ٹکڑے سے خون پونچھنا نجاست حقیقۃ دور کرنے ہی کے لئے ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تطہیر سے تعبیرفرمائی تو حکم تطہیر پانی ہی سے خاص نہیں علاوہ اس کے کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نظر شارع یہاں اندر سے خون کا اثر دورکرنے پر ہے تو پانی یقینا اس میں زیادہ کارگر ہو گا خصوصا پارچہ سے پونچھنے کے بعد جیسا کہ پتھر سے پونچھنے کے بعد پانی سے استنجاء کے بارے میں معلوم ہے ۔ اسی لئے محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے عورت کے غسل کے بارے میں روایت آئی کہ اگر وہ فرج میں انگلی نہ لے جائے تو تنظیف نہ ہو گی ۔
فـــــ : غسل میں عورت کو مستحب ہے کہ فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھو لے ہاں واجب نہیں بغیر اس کے بھی غسل اتر جائے گا ۔
حوالہ / References
فتح القدیرکتاب الطہارۃ المکتبۃالنوریۃ الرضویۃبسکھر۱ / ۳۴
غنیہ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی النواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۱
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱
غنیہ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی النواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۱
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱
فی فرجھا فلیس بتنظیف کما فی ردالمحتار عن التاترخانیۃ وفھم منہ الامر بالوجوب فجعل المختار خلافہ قال الشامی وھو بعید اھ
۱۰۵قلت : فانہ ان اراد الوجوب قال لیس بطہارۃ ولم یقلہ وانما قال لیس بتنظیف وما فی الدر وغیرہ لا تدخل اصبعھا فی قلبھا بہ یفتی فمرادہ نفی الوجوب کمافی ردالمحتار عن السید الحلبی عن العلامۃ الشرنبلالی لاجرم ان قال فی الفتح تغسل فرجھا الخارج لانہ کالفم ولا یجب ادخالھا الاصبع فی قبلھا وبہ یفتی اھ ونفی الوجوب لاینفی الندب۔
و الاخر وھو الا قوی فــــ والاظھر۔ جیسا کہ ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے نقل ہے اور صاحب تاتارخانیہ نے اس سے وجوب سمجھا اور مختار اس کے خلاف کو بتایا ۔ علامہ شامی نے کہا : وجوب کا معنی بعید ہے ا ھ ۔
قلت : اس لئے کہ اگر وجوب مراد ہوتا تو یہ کہتے کہ طہارت نہ ہو گی ۔ یہ انہوں نے نہ کہا بلکہ صرف یہ کہا کہ تنظیف نہ ہوگی اور درمختار وغیرہ میں جو لکھا ہے کہ : اپنی شرمگاہ میں انگلی نہ لے جائے گی اسی پر فتوی ہے اس کا مقصود وجوب کی نفی ہے یعنی اس پر یہ واجب نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار میں سید حلبی سے نقل ہے وہ علامہ شرنبلالی سے ناقل ہیں اسی لئے فتح میں ہے : عورت اپنی فرج خارج کو دھوئے اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے اور اس کا شرمگاہ میں انگلی داخل کرنا واجب نہیں اور اسی پر فتوی ہے ا ھ اور وجوب کی نفی سے مندوبیت کی نفی نہیں ہوتی ۔ نقض دیگر۔ ۔ ۔ زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔
فــــ : ۷۳تطفل اخر علی العلماء الستۃ ۔
۱۰۵قلت : فانہ ان اراد الوجوب قال لیس بطہارۃ ولم یقلہ وانما قال لیس بتنظیف وما فی الدر وغیرہ لا تدخل اصبعھا فی قلبھا بہ یفتی فمرادہ نفی الوجوب کمافی ردالمحتار عن السید الحلبی عن العلامۃ الشرنبلالی لاجرم ان قال فی الفتح تغسل فرجھا الخارج لانہ کالفم ولا یجب ادخالھا الاصبع فی قبلھا وبہ یفتی اھ ونفی الوجوب لاینفی الندب۔
و الاخر وھو الا قوی فــــ والاظھر۔ جیسا کہ ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے نقل ہے اور صاحب تاتارخانیہ نے اس سے وجوب سمجھا اور مختار اس کے خلاف کو بتایا ۔ علامہ شامی نے کہا : وجوب کا معنی بعید ہے ا ھ ۔
قلت : اس لئے کہ اگر وجوب مراد ہوتا تو یہ کہتے کہ طہارت نہ ہو گی ۔ یہ انہوں نے نہ کہا بلکہ صرف یہ کہا کہ تنظیف نہ ہوگی اور درمختار وغیرہ میں جو لکھا ہے کہ : اپنی شرمگاہ میں انگلی نہ لے جائے گی اسی پر فتوی ہے اس کا مقصود وجوب کی نفی ہے یعنی اس پر یہ واجب نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار میں سید حلبی سے نقل ہے وہ علامہ شرنبلالی سے ناقل ہیں اسی لئے فتح میں ہے : عورت اپنی فرج خارج کو دھوئے اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے اور اس کا شرمگاہ میں انگلی داخل کرنا واجب نہیں اور اسی پر فتوی ہے ا ھ اور وجوب کی نفی سے مندوبیت کی نفی نہیں ہوتی ۔ نقض دیگر۔ ۔ ۔ زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔
فــــ : ۷۳تطفل اخر علی العلماء الستۃ ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دھلی ۱ / ۲۸
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۰
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دھلی ۱ / ۲۸
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۰
۱۰۶اقول : اجمعنا فــــ۱ ان خروج شیئ الی الشرج لاینقض طھرا مالم یبرز وقد لحقہ حکم التطھیر ندبا فان فــــ۲ السنۃ للمستنجی ان یجلس افرج مایکون ویرخی کی یظھر فیطھر مایبقی کامنا لولا الانفراج والارخاء ۔
قال فی الحلیۃ اذا کان الاستنجاء بالماء من الغائط فلیجلس کأفرج مایکون مرخیا نفسہ کل الارخاء لیظھر مایدا خلہ من النجاسۃ فیزیلہ وان کان فــــ۳ صائما ترك تکلف الارخاء
وقد بین المقدمتین معافی الدر المختار باوجز لفظ حیث قال فی اخر فصل الاستنجاء
اقول : اس پر ہمارا اجماع ہے کہ مخرج کی اندونی سطح تك نجاست کا آ جانا ناقض طہارت نہیں جب تك کنارے پر ظاہر نہ ہو حالاں کہ ندبا اسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پاخانے سے استنجا کرنے والے کے لئے سنت یہ ہے کہ جہاں تك ہو سکے پاؤں کشادہ کر کے اور ڈھیلا ہو کر بیٹھے اور ڈھیلا پن نہ ہونے کی صورت میں جو کچھ چھپا رہتا سب ظاہر ہو کر پاك ہو جائے ۔
حلیہ میں ہے : “ جب پاخانہ سے استنجاء پانی کے ذریعہ کرنا ہو تو جہاں تك ہو سکے کشادہ ہو کر اپنے کو پورے طور سے ڈھیلا کر کے بیٹھے تا کہ اندر رہ جانے والی نجاست ظاہر ہو جائے اور اسے زائل کر دے اگر روزہ دار ہو تو ڈھیلا ہونے کا تکلف ترك کر دے ا ھ “ ان دونوں باتوں کو درمختار میں مختصر ترین لفظوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے کہ فصل استنجاء کے آخر میں کہا : “ باوضو
فـــــــ۱ : مسئلہ : نجاست اگر مخرج کی اندرونی سطح تك آ جائے وضو نہ جائے گا جب تك کنارے پر ظاہر نہ ہو ۔
فــــــ۲ : مسئلہ : بڑے استنجے میں سنت یہ ہے کہ خوب پاؤں پھیلا کر بیٹھے اور سانس سے نیچے کو زور دے کہ جتنا حصہ مخرج کا ظاہر ہو سکے ظاہر ہو کر سب نجاست دھل جائے ۔
فــــ۳ : مسئلہ : یہ مسنون طریقہ کہ بڑے استنجے میں مذکور ہوا روزہ دار کے لئے نہیں وہ ایسا نہ کرے ۔
قال فی الحلیۃ اذا کان الاستنجاء بالماء من الغائط فلیجلس کأفرج مایکون مرخیا نفسہ کل الارخاء لیظھر مایدا خلہ من النجاسۃ فیزیلہ وان کان فــــ۳ صائما ترك تکلف الارخاء
وقد بین المقدمتین معافی الدر المختار باوجز لفظ حیث قال فی اخر فصل الاستنجاء
اقول : اس پر ہمارا اجماع ہے کہ مخرج کی اندونی سطح تك نجاست کا آ جانا ناقض طہارت نہیں جب تك کنارے پر ظاہر نہ ہو حالاں کہ ندبا اسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پاخانے سے استنجا کرنے والے کے لئے سنت یہ ہے کہ جہاں تك ہو سکے پاؤں کشادہ کر کے اور ڈھیلا ہو کر بیٹھے اور ڈھیلا پن نہ ہونے کی صورت میں جو کچھ چھپا رہتا سب ظاہر ہو کر پاك ہو جائے ۔
حلیہ میں ہے : “ جب پاخانہ سے استنجاء پانی کے ذریعہ کرنا ہو تو جہاں تك ہو سکے کشادہ ہو کر اپنے کو پورے طور سے ڈھیلا کر کے بیٹھے تا کہ اندر رہ جانے والی نجاست ظاہر ہو جائے اور اسے زائل کر دے اگر روزہ دار ہو تو ڈھیلا ہونے کا تکلف ترك کر دے ا ھ “ ان دونوں باتوں کو درمختار میں مختصر ترین لفظوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے کہ فصل استنجاء کے آخر میں کہا : “ باوضو
فـــــــ۱ : مسئلہ : نجاست اگر مخرج کی اندرونی سطح تك آ جائے وضو نہ جائے گا جب تك کنارے پر ظاہر نہ ہو ۔
فــــــ۲ : مسئلہ : بڑے استنجے میں سنت یہ ہے کہ خوب پاؤں پھیلا کر بیٹھے اور سانس سے نیچے کو زور دے کہ جتنا حصہ مخرج کا ظاہر ہو سکے ظاہر ہو کر سب نجاست دھل جائے ۔
فــــ۳ : مسئلہ : یہ مسنون طریقہ کہ بڑے استنجے میں مذکور ہوا روزہ دار کے لئے نہیں وہ ایسا نہ کرے ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
استنجی فــــ المتوضیئ ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض والا لا اھ فافاد بالجملۃ الاولی ان غسل داخل الدبر سنۃ و بالاخیرۃ ان النزول الیہ غیرناقض مالم یبرز و لا اعلم فی ھاتین خلافا لاحد من علمائنا فاستقر بحمد الله تعالی عرش التحقیق علی ماکان علیہ الاکثرون کما ھو القاعدۃ المقررۃ ان الصواب مع الاکثر وقد تبین لك مما تقرر فوائد :
(۱) مرادھم بحکم التطھیر ھو الوجوب وکلامھم مناف لزیادۃ الندب کما افاد فی النھر لالما قال بل لما افاض علی المھیمن المتعال۔
(۲)لایشترط فی النقض بما من غیر السبیلین الاالخروج بالسیلان علی ظاھر البدن ولو بالقوۃ فلا یستثنی من
نے استنجاء کیا اگر بطور سنت ہو اس طرح کہ ڈھیلا رہے تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ا ھ ۔
پہلے جملے سے افادہ کیا کہ مقام کے اندرونی کنارے کو دھو لینا سنت ہے اور بعد والے جملے سے یہ بتا دیا کہ وہاں نجاست اتر آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تك کہ کنارے پر ظاہر نہ ہو میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں ہمارے علماء میں سے کسی کا کوئی اختلاف ہے تو بحمدہ تعالی عرش تحقیق اسی پر مستقر ہوا جس پر اکثر ہیں جیساکہ مقرر قاعدہ ہے کہ درستی و صواب اکثر کے ساتھ ہے تقریر ماسبق سے چند فوائد روشن ہوئے :
(۱) حکم تطہیر سے ان حضرات کی مراد وجوب ہے اور ان کا کلام اضافہ ندب کے منافی ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا اسکی وجہ وہ نہیں جو نہرمیں بیان ہوئی بلکہ وہ جس کا میرے اوپر رب نگہبان و برتر نے فیضان کیا ۔
(۲) غیر سبیلین سے نکلنے والی نجاست سے وضو ٹوٹنے میں صرف خروج کی شرط ہے اس طرح کہ ظاہر بدن پر اس کا سیلان ہو اگرچہ بالقوہ ہو تو بدن کے ظاہر حسی
فـــ : مسئلہ : بڑا استنجاء ڈھیلوں سے کر کے وضو کر لیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجاء اس مسنون طریقہ پر پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر وضو کرے گا جاتا رہے گا اور ویسے ہی کرے گا تو ہمارے نزدیك نہ جائے گا۔
(۱) مرادھم بحکم التطھیر ھو الوجوب وکلامھم مناف لزیادۃ الندب کما افاد فی النھر لالما قال بل لما افاض علی المھیمن المتعال۔
(۲)لایشترط فی النقض بما من غیر السبیلین الاالخروج بالسیلان علی ظاھر البدن ولو بالقوۃ فلا یستثنی من
نے استنجاء کیا اگر بطور سنت ہو اس طرح کہ ڈھیلا رہے تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ا ھ ۔
پہلے جملے سے افادہ کیا کہ مقام کے اندرونی کنارے کو دھو لینا سنت ہے اور بعد والے جملے سے یہ بتا دیا کہ وہاں نجاست اتر آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تك کہ کنارے پر ظاہر نہ ہو میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں ہمارے علماء میں سے کسی کا کوئی اختلاف ہے تو بحمدہ تعالی عرش تحقیق اسی پر مستقر ہوا جس پر اکثر ہیں جیساکہ مقرر قاعدہ ہے کہ درستی و صواب اکثر کے ساتھ ہے تقریر ماسبق سے چند فوائد روشن ہوئے :
(۱) حکم تطہیر سے ان حضرات کی مراد وجوب ہے اور ان کا کلام اضافہ ندب کے منافی ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا اسکی وجہ وہ نہیں جو نہرمیں بیان ہوئی بلکہ وہ جس کا میرے اوپر رب نگہبان و برتر نے فیضان کیا ۔
(۲) غیر سبیلین سے نکلنے والی نجاست سے وضو ٹوٹنے میں صرف خروج کی شرط ہے اس طرح کہ ظاہر بدن پر اس کا سیلان ہو اگرچہ بالقوہ ہو تو بدن کے ظاہر حسی
فـــ : مسئلہ : بڑا استنجاء ڈھیلوں سے کر کے وضو کر لیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجاء اس مسنون طریقہ پر پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر وضو کرے گا جاتا رہے گا اور ویسے ہی کرے گا تو ہمارے نزدیك نہ جائے گا۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
الظاھر حساالا داخل عــــہ العین لانہ
سے صرف اندرون چشم کا استثناء ہو گا کیونکہ
عــــہ : والیہ یشیر کلام الفاضل یوسف چلپی تلمیذ العلامۃ مولی خسرو فی ذخیرۃ العقبی حیث قال الخروج الی مایطھر ھو الانتقال من الباطن الی مایجب تطہیرہ وان یصل الیہ ولم یتلوث ھو بہ والمقصود من اعتبار قید الی مایطھر الاحتراز عن الخروج الی مایعد من ظاھر البدن حسا ولا یعد منہ شرعا لحکمۃ شرعیۃ کداخل العین لانہ لایجب تطہیرہ فالذی یخرج من بدن الانسان الی باطن العلقۃ والقراد خارج الی مایجب تطہیرہ لا بمعنی انہ لم یبق فی باطنہ الحقیقی الذی ھو تحت الجلدۃ وباطنہ الشرعی الذی ھو داخل العین اھ فالکان فی قولہ اولا کداخل العین کاف الاستقصاء بدلیل اخر کلامہ وفیہ من الفوائد ان المراد الحکم الوجوب منہ۔
اسی کی طرف علامہ مولی خسرو کے تلمیذ فاضل یوسف چلپی کی عبارت ذخیرۃ العقبی سے بھی اشارہ ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں : خروج الی ما یطہر “ یہ ہے کہ اندر سے ایسی جگہ کی طرف منتقل ہو جس کی تطہیر واجب ہے اگرچہ اس جگہ تك نہ پہنچے اور وہ اس سے آلودہ نہ ہو “ الی ما یطہر “ کی قید کے ذریعہ اس جگہ کی طرف خروج سے احتراز مقصود ہے جو حسا ظاہر بدن سے شمار ہو اور کسی شرعی حکمت کی وجہ سے ظاہر بدن سے نہ شمار ہو جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ کیوں کہ اس کی تطہیر واجب نہیں تو بدن انسان سے نکل کر جونك اور کلی کے پیٹ تك منتقل ہونے والا خون ایسی چیز کی طرف نکلنے والا ہے جس کی تطہیر واجب ہے نہ اس معنی کے لحاظ سے کہ وہ اپنے حقیقی باطن میں نہ رہا جو زیر جلد ہے اور نہ شرعی باطن میں رہا جو داخل چشم ہے ا ھ تو کاف ان کے پہلے لفظ کداخل العین میں کاف استقصا ہے جس پر دلیل ان کا آخر کلام ہے۔ اس کلام سے ایك فائدہ یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ حکم سے مراد وجوب ہے ۱۲ منہ (ت)
سے صرف اندرون چشم کا استثناء ہو گا کیونکہ
عــــہ : والیہ یشیر کلام الفاضل یوسف چلپی تلمیذ العلامۃ مولی خسرو فی ذخیرۃ العقبی حیث قال الخروج الی مایطھر ھو الانتقال من الباطن الی مایجب تطہیرہ وان یصل الیہ ولم یتلوث ھو بہ والمقصود من اعتبار قید الی مایطھر الاحتراز عن الخروج الی مایعد من ظاھر البدن حسا ولا یعد منہ شرعا لحکمۃ شرعیۃ کداخل العین لانہ لایجب تطہیرہ فالذی یخرج من بدن الانسان الی باطن العلقۃ والقراد خارج الی مایجب تطہیرہ لا بمعنی انہ لم یبق فی باطنہ الحقیقی الذی ھو تحت الجلدۃ وباطنہ الشرعی الذی ھو داخل العین اھ فالکان فی قولہ اولا کداخل العین کاف الاستقصاء بدلیل اخر کلامہ وفیہ من الفوائد ان المراد الحکم الوجوب منہ۔
اسی کی طرف علامہ مولی خسرو کے تلمیذ فاضل یوسف چلپی کی عبارت ذخیرۃ العقبی سے بھی اشارہ ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں : خروج الی ما یطہر “ یہ ہے کہ اندر سے ایسی جگہ کی طرف منتقل ہو جس کی تطہیر واجب ہے اگرچہ اس جگہ تك نہ پہنچے اور وہ اس سے آلودہ نہ ہو “ الی ما یطہر “ کی قید کے ذریعہ اس جگہ کی طرف خروج سے احتراز مقصود ہے جو حسا ظاہر بدن سے شمار ہو اور کسی شرعی حکمت کی وجہ سے ظاہر بدن سے نہ شمار ہو جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ کیوں کہ اس کی تطہیر واجب نہیں تو بدن انسان سے نکل کر جونك اور کلی کے پیٹ تك منتقل ہونے والا خون ایسی چیز کی طرف نکلنے والا ہے جس کی تطہیر واجب ہے نہ اس معنی کے لحاظ سے کہ وہ اپنے حقیقی باطن میں نہ رہا جو زیر جلد ہے اور نہ شرعی باطن میں رہا جو داخل چشم ہے ا ھ تو کاف ان کے پہلے لفظ کداخل العین میں کاف استقصا ہے جس پر دلیل ان کا آخر کلام ہے۔ اس کلام سے ایك فائدہ یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ حکم سے مراد وجوب ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ نولکشور کانپور انڈیا ۱ / ۲۲
لیس من الظاھر شرعا اصلا ودخل المارن وخرجت القصبۃ وسیا تیك بعض مایتعلق بھذہ الفائدۃ فی التنبیہ الخامس ان شاء الله تعالی وبقید القوۃ دخل مااذا افتصد فطار الدم ولم یتلوث رأس الجرح وما اذا ترب اواخذ بخرق اومص فـــ۱ علق اوقراد کبیر من دمہ مالو خرج لسال ولم یبق فـــ۲حاجۃ الی زیادۃ المکان فیما یطھرکما فعل فی الغنیۃ والبحر لادخال صورۃ الفصد فورد علیہ مالو سال الی نھر او وقع علی عذرۃ اوجلد خنزیر الی غیر ذلك وسقطت فــــ۳ المنازعات التی کانت مستمرۃ من زمن الامام صدرالشریعۃ الی عہد السید الشامی فی قولھم سال الی مایطہر و
یہ ظاہر شرعی تو بالکل ہی نہیں اور ناك کا نرم حصہ ظاہر بدن میں داخل رہا اور سخت حصہ خارج ٹھہرا اس فائدہ سے متعلق کچھ باتیں ان شاء الله تنبیہ پنجم میں آئیں گی اور بالقوہ کی قید لگانے سے وہ صورت داخل ہو گئی کہ جب فصد لگائی تو خون اڑا اور سرزخم آلودہ نہ ہوا اور وہ صورت کہ خون پر مٹی ڈال دی یا کسی کپڑے میں جذب کر لیا یا کسی جونك یا بڑی کلی نے اس کا اتنا خون چوس لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہتا اور ما یطہر کے تحت بیرونی جگہ کا اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی جیسا کہ غنیہ اور بحر میں صورت فصد کو داخل کرنے کے لئے اضافہ کیا تھا تو اس پر ان صورتوں سے اعتراض ہوا جن میں خون جا کر کسی دریا میں بہا یا پاخانے پر یا خنزیر کی جلد پر گرایا اور ایسی کسی چیز پر پڑا اور وہ سارے نزاعات ساقط ہو گئے جو امام صدر الشریعہ کے زمانے سے علامہ شامی کے زمانے تك لفظ “ سال الی ما یطہر “ کے تحت چلے آ رہے تھے ۔ اور
فـــــ۱ : مسئلہ : جونك یا بڑی کلی بدن کو لپٹی اگر اتنا خون چوس لیا کہ خود نکلتا تو بہہ جاتا تو وضو جاتا رہے گا اور تھوڑا چوسا یا چھوٹی کلی تھی تو وضو نہ جائے گا یوں ہی کھٹمل یا مچھر کے کاٹے سے وضو نہیں جاتا۔
فـــــ۲ : ۷۴تطفل علی الغنیۃ والبحر ۔
فـــــ۳ : فصل منازعۃ طالت منذ مئین سنۃ۔
یہ ظاہر شرعی تو بالکل ہی نہیں اور ناك کا نرم حصہ ظاہر بدن میں داخل رہا اور سخت حصہ خارج ٹھہرا اس فائدہ سے متعلق کچھ باتیں ان شاء الله تنبیہ پنجم میں آئیں گی اور بالقوہ کی قید لگانے سے وہ صورت داخل ہو گئی کہ جب فصد لگائی تو خون اڑا اور سرزخم آلودہ نہ ہوا اور وہ صورت کہ خون پر مٹی ڈال دی یا کسی کپڑے میں جذب کر لیا یا کسی جونك یا بڑی کلی نے اس کا اتنا خون چوس لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہتا اور ما یطہر کے تحت بیرونی جگہ کا اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی جیسا کہ غنیہ اور بحر میں صورت فصد کو داخل کرنے کے لئے اضافہ کیا تھا تو اس پر ان صورتوں سے اعتراض ہوا جن میں خون جا کر کسی دریا میں بہا یا پاخانے پر یا خنزیر کی جلد پر گرایا اور ایسی کسی چیز پر پڑا اور وہ سارے نزاعات ساقط ہو گئے جو امام صدر الشریعہ کے زمانے سے علامہ شامی کے زمانے تك لفظ “ سال الی ما یطہر “ کے تحت چلے آ رہے تھے ۔ اور
فـــــ۱ : مسئلہ : جونك یا بڑی کلی بدن کو لپٹی اگر اتنا خون چوس لیا کہ خود نکلتا تو بہہ جاتا تو وضو جاتا رہے گا اور تھوڑا چوسا یا چھوٹی کلی تھی تو وضو نہ جائے گا یوں ہی کھٹمل یا مچھر کے کاٹے سے وضو نہیں جاتا۔
فـــــ۲ : ۷۴تطفل علی الغنیۃ والبحر ۔
فـــــ۳ : فصل منازعۃ طالت منذ مئین سنۃ۔
صارت فـــ۱العبارۃ الحسنۃ الصافیۃ الوافیۃ بحمد الله تعالی ما
۱۰۷اقول : ناقضہ من غیر السبیلین کل نجس خرج منہ وفیہ قوۃ سیلانہ علی ماھو ظاھر البدن شرعا۔
(۳) ۱۰۸لیس فـــ۲ فی النزول الی ما صلب النقض روایۃ واحدۃ کما اوھم الاتقانی وتبعہ من تبعہ ولا عدم فـــ۳ النقض روایۃ واحدۃ کما زعم النھر بل ھما روایتان والثانی اشھر واظھر۔
(۴) ۱۰۹لم فـــ۴ تمش المنیۃ ولا الذخیرۃ علی قول زفرکما زعم المحقق فی الحلیۃ بل مشیا علی الروایۃ الشہیرۃ۔
(۵) لاداعی لحمل الوجوب علی الثبوت کما ارتکب البحر بل ھو المراد علی اشھر الروایات۔
(۶) لامعنی لحمل القصبۃ فی کلام المعراج علی ماصلب کما فھم فی عمدہ بے غبار مکمل عبارت بحمدہ تعالی یہ ہوئی جو
میں کہتا ہوں “ ناقض طہارت غیر سبیلین سے ہو وہ نجس ہے جو اس سے نکلے اور اسکے اندر اس پر بہنے کی قوت ہو جو شرعا ظاہر بدن ہے ۔
(۳) ناك کے سخت حصے کی طرف خون اتر آنے میں صرف یہی ایك روایت نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا جیسا کہ علامہ اتقانی نے اپنے کلام سے یہ وہم پیداا کیا اور ان کی اتباع کرنے والوں نے ان کا اتباع کیا اور نہ یہی ایك روایت ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا جیسا کہ صاحب نہر کا خیال ہے۔ بلکہ یہ دونوں روایتیں ہیں اور ثانی زیادہ مشہور اور ظاہر ہے ۔
(۴) منیہ اور ذخیرہ امام زفر کے قول پر گامزن نہیں جیسا کہ محقق حلبی کا حلیہ میں خیال ہے بلکہ دونوں روایت مشہورہ پر چلے ہیں ۔
(۵) وجوب کو ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں جیسا کہ بحر نے اس تاویل کا ارتکاب کیا بلکہ اشہر روایات کے مطابق وجوب ہی مراد ہے ۔
(۶) کلام معراج میں “ بانسے “ کو سخت حصے پر محمول کرنے کا کوئی معنی نہیں جیسا کہ بحر میں
فـــ۱ : افادۃ المصنف عبارۃ حسنۃ فی بیان الناقض من غیر السبیلین ۔
فـــ۲ : ۷۵تطفل علی الاتقانی و من تبعہ۔
فـــ۳ : ۷۶تطفل علی النھر الفائق ۔
فـــ۴ : ۷۷تطفل علی الحلیۃ۔
۱۰۷اقول : ناقضہ من غیر السبیلین کل نجس خرج منہ وفیہ قوۃ سیلانہ علی ماھو ظاھر البدن شرعا۔
(۳) ۱۰۸لیس فـــ۲ فی النزول الی ما صلب النقض روایۃ واحدۃ کما اوھم الاتقانی وتبعہ من تبعہ ولا عدم فـــ۳ النقض روایۃ واحدۃ کما زعم النھر بل ھما روایتان والثانی اشھر واظھر۔
(۴) ۱۰۹لم فـــ۴ تمش المنیۃ ولا الذخیرۃ علی قول زفرکما زعم المحقق فی الحلیۃ بل مشیا علی الروایۃ الشہیرۃ۔
(۵) لاداعی لحمل الوجوب علی الثبوت کما ارتکب البحر بل ھو المراد علی اشھر الروایات۔
(۶) لامعنی لحمل القصبۃ فی کلام المعراج علی ماصلب کما فھم فی عمدہ بے غبار مکمل عبارت بحمدہ تعالی یہ ہوئی جو
میں کہتا ہوں “ ناقض طہارت غیر سبیلین سے ہو وہ نجس ہے جو اس سے نکلے اور اسکے اندر اس پر بہنے کی قوت ہو جو شرعا ظاہر بدن ہے ۔
(۳) ناك کے سخت حصے کی طرف خون اتر آنے میں صرف یہی ایك روایت نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا جیسا کہ علامہ اتقانی نے اپنے کلام سے یہ وہم پیداا کیا اور ان کی اتباع کرنے والوں نے ان کا اتباع کیا اور نہ یہی ایك روایت ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا جیسا کہ صاحب نہر کا خیال ہے۔ بلکہ یہ دونوں روایتیں ہیں اور ثانی زیادہ مشہور اور ظاہر ہے ۔
(۴) منیہ اور ذخیرہ امام زفر کے قول پر گامزن نہیں جیسا کہ محقق حلبی کا حلیہ میں خیال ہے بلکہ دونوں روایت مشہورہ پر چلے ہیں ۔
(۵) وجوب کو ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں جیسا کہ بحر نے اس تاویل کا ارتکاب کیا بلکہ اشہر روایات کے مطابق وجوب ہی مراد ہے ۔
(۶) کلام معراج میں “ بانسے “ کو سخت حصے پر محمول کرنے کا کوئی معنی نہیں جیسا کہ بحر میں
فـــ۱ : افادۃ المصنف عبارۃ حسنۃ فی بیان الناقض من غیر السبیلین ۔
فـــ۲ : ۷۵تطفل علی الاتقانی و من تبعہ۔
فـــ۳ : ۷۶تطفل علی النھر الفائق ۔
فـــ۴ : ۷۷تطفل علی الحلیۃ۔
البحر وجزم بہ فی منحۃ الخالق و ردالمحتار بل مرادہ مالان کما افاد فی النھر۔
(۷)وقع الخلط بین القولین والمشی علی روایتین مختلفتین فی العنایۃ وشیئ منہ فی الفتح اما النھایۃ فاجبنا عنھا جوابا نفیسا۔
(۸)لاوجہ لحمل کلام الحدادی علی ماقال فی البحر بل ھو ماش علی الروایۃ الشہیرۃ کما افصح عنہ فی الجوھرۃ النیرۃ۔
(۹)۱۱۰نفی فـــ۱ النقض فیما صلب لیس بمحض المفھوم کما فھم البحر علیہ صرائح نصوص لامردلھا۔
(۱۰) لایجب حمل کلام الہدایۃ علی ما ذکر الاتقانی والعنایۃ بل لہ محمل صحیح علی الروایۃ الشہیرۃ ایضا من دون لزوم العبث والتکرار ذلك من فضل الله علینا والحمد لله العزیزالغفار۔
الخامس فـــ۲ سبق الی خاطر بعض
سمجھا اور منحۃ الخالق و رد المحتار میں اس پر جزم کیا بلکہ اس سے مراد نرم حصہ ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا ۔
(۷) عنایہ میں دونوں قولوں کے درمیان تخلیط اور دونوں روایتوں پر مشی واقع ہوئی اور اس میں سے کچھ فتح القدیر میں بھی ہے۔ لیکن نہایہ سے متعلق ہم ایك نفیس جواب دے چکے ہیں ۔
(۸) حدادی کے کلام کو اس پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو بحر میں کہا بلکہ وہ روایت مشہورہ پر جاری ہے جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں اسے صاف طور پر کہا ۔
(۹) سخت حصے میں خون اترنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے کی نفی محض مفہوم سے ثابت نہیں جیسا کہ بحر نے سمجھا بلکہ اس پر صریح ناقابل تردید نصوص موجود ہیں ۔
(۱۰) ہدایہ کی عبارت کو اتقانی اور عنایہ کے ذکر کردہ معنی پر محمول کرنا لازم نہیں بلکہ روایت مشہورہ پر بھی اس کا ایك صحیح مطلب ہے جس میں نہ عبث لازم آتا ہے نہ تکرار ہوتی ہے ۔ یہ ہم پر خدا کا فضل ہے اور خدائے عزیز و غفار کا شکر ہے ۔
تنبیہ پنجم : بعض متاخر شارحین و
فـــ۱ : تطفل علی البحر۔
فـــ۲ : تحقیق شریف فی المراد بما یلحقہ حکم التطہیر۔
(۷)وقع الخلط بین القولین والمشی علی روایتین مختلفتین فی العنایۃ وشیئ منہ فی الفتح اما النھایۃ فاجبنا عنھا جوابا نفیسا۔
(۸)لاوجہ لحمل کلام الحدادی علی ماقال فی البحر بل ھو ماش علی الروایۃ الشہیرۃ کما افصح عنہ فی الجوھرۃ النیرۃ۔
(۹)۱۱۰نفی فـــ۱ النقض فیما صلب لیس بمحض المفھوم کما فھم البحر علیہ صرائح نصوص لامردلھا۔
(۱۰) لایجب حمل کلام الہدایۃ علی ما ذکر الاتقانی والعنایۃ بل لہ محمل صحیح علی الروایۃ الشہیرۃ ایضا من دون لزوم العبث والتکرار ذلك من فضل الله علینا والحمد لله العزیزالغفار۔
الخامس فـــ۲ سبق الی خاطر بعض
سمجھا اور منحۃ الخالق و رد المحتار میں اس پر جزم کیا بلکہ اس سے مراد نرم حصہ ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا ۔
(۷) عنایہ میں دونوں قولوں کے درمیان تخلیط اور دونوں روایتوں پر مشی واقع ہوئی اور اس میں سے کچھ فتح القدیر میں بھی ہے۔ لیکن نہایہ سے متعلق ہم ایك نفیس جواب دے چکے ہیں ۔
(۸) حدادی کے کلام کو اس پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو بحر میں کہا بلکہ وہ روایت مشہورہ پر جاری ہے جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں اسے صاف طور پر کہا ۔
(۹) سخت حصے میں خون اترنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے کی نفی محض مفہوم سے ثابت نہیں جیسا کہ بحر نے سمجھا بلکہ اس پر صریح ناقابل تردید نصوص موجود ہیں ۔
(۱۰) ہدایہ کی عبارت کو اتقانی اور عنایہ کے ذکر کردہ معنی پر محمول کرنا لازم نہیں بلکہ روایت مشہورہ پر بھی اس کا ایك صحیح مطلب ہے جس میں نہ عبث لازم آتا ہے نہ تکرار ہوتی ہے ۔ یہ ہم پر خدا کا فضل ہے اور خدائے عزیز و غفار کا شکر ہے ۔
تنبیہ پنجم : بعض متاخر شارحین و
فـــ۱ : تطفل علی البحر۔
فـــ۲ : تحقیق شریف فی المراد بما یلحقہ حکم التطہیر۔
المتأخرین من الشراح والمحشین ان المراد بما یلحقہ حکم التطہیر مایؤمر المکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل۔
۱۱۱قلت : ای علی فرض وقوع حدث او اصابۃ خبث اذ لولاہ نقض فصد المتوضئ لعدم خروجہ الی ماکان مامورا بتطھیرہ بالفعل فان جعل مامورا بہ بھذا الفصل کان دورا کما لا یخفی ویتفرع علیہ انہ ان تورم موضع من بدنہ قدر کف مثلا وکان یضرہ اصابۃ الماء فانفجر من اعلاہ وسال علی الورم لاینقض مالم یجاوز موضع الورم لانہ لایؤمر بایقاع تطہیرہ بالفعل لمکان الضرر۔
فی فتح الله المعین عن حاشیۃ العلامۃ نوح افندی “ قال بعض الفضلاء فی شرح الوقایۃ یعنی ابن ملك یفھم من قولہ سال الی مایطھر انہ اذاکان لہ جراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوز الی موضع یجب غسلہ
محشین کو یہ خیال ہوا کہ “ جسے حکم تطہیر لاحق ہے “ سے مراد یہ ہے کہ مکلف بالفعل جسے پاك کرنے کا مامور ہے ۔
قلت : ان کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اس وقت کوئی حدث واقع ہو یا کوئی نجاست لگ جائے تو اسے بروقت اس کو پاك کرنے کا حکم ہو اس لئے کہ اگر یہ نہ مانیں تو باوضو شخص کا فصد لگوانا ناقض وضو نہ ہو کیوں کہ ایسی جگہ کی طرف خون کا نکلنا نہ ہوا جسے پاك کرنے کا بالفعل اسے حکم رہا ہو اگر اسی فصد کے سبب اسے مامور مانیں تو دور لازم آئے گا جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ اسی خیال پر یہ بات متفرع ہوتی ہے کہ اگر اس کے بدن کی کسی جگہ مثلا ہتھیلی برابر ورم ہو اور اس پر پانی لگنا ضرر رساں ہو وہ ورم اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم پر بہا تو وہ ناقض وضو نہ ہو جب تك کہ جائے ورم سے تجاوز نہ کر جائے کیونکہ ضرر کی وجہ سے بروقت اسے اس جگہ کو پاك کرنے کا حکم نہیں ہے
فتح الله المعین میں حاشیہ علامہ نوح آفندی کے حوالے سے نقل ہے : “ بعض فضلا یعنی ابن ملك نے عبارۃ شرح وقایہ سے متعلق کہا لفظ “ سال الی ما یطہر “ اس جگہ کی طرف بہے جسے پاك کیا جاتا ہے “ سے سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کسی کو پھیلی ہوئی جراحت ہے جس کا دھونا مضر ہے خون نکلا اور جراحت کے اوپر بہا کسی ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہے تو وضو نہ ٹوٹے گا
۱۱۱قلت : ای علی فرض وقوع حدث او اصابۃ خبث اذ لولاہ نقض فصد المتوضئ لعدم خروجہ الی ماکان مامورا بتطھیرہ بالفعل فان جعل مامورا بہ بھذا الفصل کان دورا کما لا یخفی ویتفرع علیہ انہ ان تورم موضع من بدنہ قدر کف مثلا وکان یضرہ اصابۃ الماء فانفجر من اعلاہ وسال علی الورم لاینقض مالم یجاوز موضع الورم لانہ لایؤمر بایقاع تطہیرہ بالفعل لمکان الضرر۔
فی فتح الله المعین عن حاشیۃ العلامۃ نوح افندی “ قال بعض الفضلاء فی شرح الوقایۃ یعنی ابن ملك یفھم من قولہ سال الی مایطھر انہ اذاکان لہ جراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوز الی موضع یجب غسلہ
محشین کو یہ خیال ہوا کہ “ جسے حکم تطہیر لاحق ہے “ سے مراد یہ ہے کہ مکلف بالفعل جسے پاك کرنے کا مامور ہے ۔
قلت : ان کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اس وقت کوئی حدث واقع ہو یا کوئی نجاست لگ جائے تو اسے بروقت اس کو پاك کرنے کا حکم ہو اس لئے کہ اگر یہ نہ مانیں تو باوضو شخص کا فصد لگوانا ناقض وضو نہ ہو کیوں کہ ایسی جگہ کی طرف خون کا نکلنا نہ ہوا جسے پاك کرنے کا بالفعل اسے حکم رہا ہو اگر اسی فصد کے سبب اسے مامور مانیں تو دور لازم آئے گا جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ اسی خیال پر یہ بات متفرع ہوتی ہے کہ اگر اس کے بدن کی کسی جگہ مثلا ہتھیلی برابر ورم ہو اور اس پر پانی لگنا ضرر رساں ہو وہ ورم اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم پر بہا تو وہ ناقض وضو نہ ہو جب تك کہ جائے ورم سے تجاوز نہ کر جائے کیونکہ ضرر کی وجہ سے بروقت اسے اس جگہ کو پاك کرنے کا حکم نہیں ہے
فتح الله المعین میں حاشیہ علامہ نوح آفندی کے حوالے سے نقل ہے : “ بعض فضلا یعنی ابن ملك نے عبارۃ شرح وقایہ سے متعلق کہا لفظ “ سال الی ما یطہر “ اس جگہ کی طرف بہے جسے پاك کیا جاتا ہے “ سے سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کسی کو پھیلی ہوئی جراحت ہے جس کا دھونا مضر ہے خون نکلا اور جراحت کے اوپر بہا کسی ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہے تو وضو نہ ٹوٹے گا
لاینقض الوضوء کذا فی المشکلات اھ
والیہ یشیر کلامہ ابیہ السید علی حیث قال السید الازھری “ المراد بحکم التطہیر وجو بہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح لینتظم مااذا کانت الجراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوزھا الی موضع یجب غسلہ فانہ ینقض لانہ سال الی موضع یلحقہ حکم التطہیر بالمسح علیہ للعذر کذا بخط شیخنا وانظرحکم مالوضرہ المسح ایضا الخ ثم نقل عن العلامۃ نوح افندی رد ما مرعن المشکلات بما سیاتی ان شاء الله تعالی ثم قال “ وکلام القہستانی یشیر الی ما فی المشکلات ونصہ نزل الدم من الانف فسد مالان منہ ولم ینزل منہ شیئ اوتورم رأس الجرح فظھر بہ قیح اونحوہ ولم یتجاوز الورم لم ینقض الخ
۱۱۲اقول : اولا فـــ ان کان فی ھذا ایسا ہی مشکلات میں ہے ا ھ ۔ اسی کی طرف ان کے والد سید علی کے کلام سے بھی اشارہ ہو رہا ہے سید ازہری فرماتے ہیں : حکم تطہیر سے مراد وجوب تطہیر وضو و غسل ہیں اگرچہ مسح ہی کے ذریعہ ہو تاکہ اسے بھی شامل ہو جب جراحت پھیلی ہوئی ہو اس کے دھونے میں ضرر ہو اگر خون نکل کر جراحت پر بہا اور ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہو تو یہ ناقض ہے کیونکہ یہ ایسی جگہ بہا جسے عذر کے باعث مسح کے ذریعہ پاك کرنے کا حکم لاحق ہے ایسا ہی ہمارے شیخ کی تحریر میں مرقوم ہے اس صورت کا حکم قابل غور ہے جس میں مسح بھی ضرر دیتا ہو الخ۔ پھر علامہ نوح آفندی سے مشکلات کے سابقہ مضمون کی تردید نقل کی یہ آگے ان شاء الله تعالی آئے گی پھر کہا : قہستانی کا کلام بھی مضمون مشکلات کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ : ناك سے خون اترا تو اس کے نرم حصے کو بند کر دیا اور اس سے کچھ نیچے نہ آیا یا سر زخم میں ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی اور ورم سے آگے نہ بڑھی تو ناقض نہیں الخ۔
اقول اولا : اگر اس کلام میں اس
فــــ : ۷۹تطفل علی السید ابی السعود ۔
والیہ یشیر کلامہ ابیہ السید علی حیث قال السید الازھری “ المراد بحکم التطہیر وجو بہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح لینتظم مااذا کانت الجراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوزھا الی موضع یجب غسلہ فانہ ینقض لانہ سال الی موضع یلحقہ حکم التطہیر بالمسح علیہ للعذر کذا بخط شیخنا وانظرحکم مالوضرہ المسح ایضا الخ ثم نقل عن العلامۃ نوح افندی رد ما مرعن المشکلات بما سیاتی ان شاء الله تعالی ثم قال “ وکلام القہستانی یشیر الی ما فی المشکلات ونصہ نزل الدم من الانف فسد مالان منہ ولم ینزل منہ شیئ اوتورم رأس الجرح فظھر بہ قیح اونحوہ ولم یتجاوز الورم لم ینقض الخ
۱۱۲اقول : اولا فـــ ان کان فی ھذا ایسا ہی مشکلات میں ہے ا ھ ۔ اسی کی طرف ان کے والد سید علی کے کلام سے بھی اشارہ ہو رہا ہے سید ازہری فرماتے ہیں : حکم تطہیر سے مراد وجوب تطہیر وضو و غسل ہیں اگرچہ مسح ہی کے ذریعہ ہو تاکہ اسے بھی شامل ہو جب جراحت پھیلی ہوئی ہو اس کے دھونے میں ضرر ہو اگر خون نکل کر جراحت پر بہا اور ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہو تو یہ ناقض ہے کیونکہ یہ ایسی جگہ بہا جسے عذر کے باعث مسح کے ذریعہ پاك کرنے کا حکم لاحق ہے ایسا ہی ہمارے شیخ کی تحریر میں مرقوم ہے اس صورت کا حکم قابل غور ہے جس میں مسح بھی ضرر دیتا ہو الخ۔ پھر علامہ نوح آفندی سے مشکلات کے سابقہ مضمون کی تردید نقل کی یہ آگے ان شاء الله تعالی آئے گی پھر کہا : قہستانی کا کلام بھی مضمون مشکلات کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ : ناك سے خون اترا تو اس کے نرم حصے کو بند کر دیا اور اس سے کچھ نیچے نہ آیا یا سر زخم میں ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی اور ورم سے آگے نہ بڑھی تو ناقض نہیں الخ۔
اقول اولا : اگر اس کلام میں اس
فــــ : ۷۹تطفل علی السید ابی السعود ۔
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۴۱
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۴۱
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱ ، ۴۲
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۴۱
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱ ، ۴۲
الکلام اشارۃ الی ذلك فاسنادہ للقہستانی من ابعاد النجعۃ فان الفرع مذکور فی البحر والفتح والمبسوط وغیرھا من جلۃ المعتمد ات وقد قدمنا کلام الفتح ان فی مبسوط شیخ الاسلام تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ ولا ینقض مالم یجاوز الورم الخ
و۱۱۳ثانیا : لااشارۃ فـــ۱ فانھم انما فرضوا تو رم رأس الجرح فالتجاوز عنہ یکون بالانحدار وھو شرط النقض علی الصحیح المفتی بہ ولیس فی کلامھم ذکر ورم بسیط وسیع ینفجر رأسہ فیسیل علی سطحہ ولا یجاوزہ الی الموضع الصحیح نعم انا اسعف فـــ۲ بذکرما وقفت علیہ من کلام من یذھب اویمیل الیہ ثم اذکر مایفتح
طرف اشارہ ہے تو قہستانی کی طرف اس کی اسناد خوراك کی تلاش میں بہت دور نکل جانے کی طرح ہے اس لئے کہ یہ جزیہ بحر فتح مبسوط وغیرہا معتمدات جلیلہ میں مذکور ہے ۔ اور فتح کی یہ عبارت ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہ شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے : سر زخم پر ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی تو جب تك ورم سے تجاوز نہ کرے ناقض نہیں الخ۔
ثانیا : اس میں کوئی اشارہ نہیں اس لئے ان حضرات نے سر زخم کا ورم کرنا فرض کیا ہے اس سے (خون کا ) تجاوز ڈھلکنے سے ہو گا ۔ اور یہ صحیح مفتی بہ قول پر وضو ٹوٹنے کی شرط ہے ان کے کلام میں ایسے ورم کا ذکر ہی نہیں جو پھیلا ہوا کشادہ ہو جس کاسرا پھٹ جائے پھر خون یا پیپ اس کی سطح پر بہے اور اس سے تجاوز کر کے صحت والی جگہ نہ آئے ہاں میں ان حضرات کا ذکر کروں گا جن کے بارے میں مجھے علم ہوا کہ یہ ان کا مذہب ہے یا اس طرف ان کا میلان ہے اس کے بعد
فـــ ۱ : تطفل اخر علیہ۔
فـــ۲ : مسئلہ : ورم زیادہ جگہ میں پھیلا ہے اور اسے مسح بھی نقصان کرتا ہے اور وہ اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم ورم پر بہاصحیح بدن کی طرف نہ بڑھا تو بعض کتب میں فرمایا وضو نہ گیا اور مصنف کی تحقیق کہ جاتا رہے گا اور اگر اس ورم کو غسل یا مسح کرسکتے ہوں تو بالاتفاق ناقض وضو ہوگا۔
و۱۱۳ثانیا : لااشارۃ فـــ۱ فانھم انما فرضوا تو رم رأس الجرح فالتجاوز عنہ یکون بالانحدار وھو شرط النقض علی الصحیح المفتی بہ ولیس فی کلامھم ذکر ورم بسیط وسیع ینفجر رأسہ فیسیل علی سطحہ ولا یجاوزہ الی الموضع الصحیح نعم انا اسعف فـــ۲ بذکرما وقفت علیہ من کلام من یذھب اویمیل الیہ ثم اذکر مایفتح
طرف اشارہ ہے تو قہستانی کی طرف اس کی اسناد خوراك کی تلاش میں بہت دور نکل جانے کی طرح ہے اس لئے کہ یہ جزیہ بحر فتح مبسوط وغیرہا معتمدات جلیلہ میں مذکور ہے ۔ اور فتح کی یہ عبارت ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہ شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے : سر زخم پر ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی تو جب تك ورم سے تجاوز نہ کرے ناقض نہیں الخ۔
ثانیا : اس میں کوئی اشارہ نہیں اس لئے ان حضرات نے سر زخم کا ورم کرنا فرض کیا ہے اس سے (خون کا ) تجاوز ڈھلکنے سے ہو گا ۔ اور یہ صحیح مفتی بہ قول پر وضو ٹوٹنے کی شرط ہے ان کے کلام میں ایسے ورم کا ذکر ہی نہیں جو پھیلا ہوا کشادہ ہو جس کاسرا پھٹ جائے پھر خون یا پیپ اس کی سطح پر بہے اور اس سے تجاوز کر کے صحت والی جگہ نہ آئے ہاں میں ان حضرات کا ذکر کروں گا جن کے بارے میں مجھے علم ہوا کہ یہ ان کا مذہب ہے یا اس طرف ان کا میلان ہے اس کے بعد
فـــ ۱ : تطفل اخر علیہ۔
فـــ۲ : مسئلہ : ورم زیادہ جگہ میں پھیلا ہے اور اسے مسح بھی نقصان کرتا ہے اور وہ اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم ورم پر بہاصحیح بدن کی طرف نہ بڑھا تو بعض کتب میں فرمایا وضو نہ گیا اور مصنف کی تحقیق کہ جاتا رہے گا اور اگر اس ورم کو غسل یا مسح کرسکتے ہوں تو بالاتفاق ناقض وضو ہوگا۔
حوالہ / References
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۳۴
المولی سبحنہ من لدیہ قال الامام الحلبی فی الحلیۃ “ اذا انحدر الخارج عن رأس الجرح لکنہ لم یجاوز المحل المتو رم وانما انحدر الی بعض ذلك المحل ومسحہ ایضا اما اذاکان لایضرہ احدھما فینبغی انہ ینقض لانہ یلحقہ حکم التطہیر اذ المسح تطہیر لہ شرعا کالغسل فلیتنبہ لذلك اھ
وفی الفوائد المخصصۃ للعلامۃ الشامی عن المقاصد الممحصۃ فی بیان کی الحمصۃ لسیدی عبدالغنی انہ قال “ بعد نقلہ حد السیلان ومافیہ من الخلاف فالمفہوم من ھذہ العبارات ان الدم والقیح والصدید اذا علا علی الجرح ولم یسل عنہ الی موضع صحیح من البدن لاینقض الوضوء سواء کان الجرح کبیرا او صغیرا (ثم قال بعد کلام) ویؤید ھذا ما فی خزانۃ الروایات فی الجراحۃ البسیطۃ اذا خرج الدم من جانب وتجاوز الی جانب اخر لکن لم یصل الی موضع صحیح فانہ
وہ ذکر کروں گا جو اپنی طرف سے مولی تعالی منکشف فرمائے گا امام حلبی حلیہ میں لکھتے ہیں : سر زخم سے نکلنے والا ( خون یا پیپ ) ڈھلك آئے لیکن ورم کی ہوئی جگہ سے تجاوز نہ کرے بس اسی جگہ کے کسی حصے تك ڈھلك کر آیا ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا جبکہ اس شخص کو اس جگہ کا دھونا اور مسح کرنا ضرر دیتا ہو اور اگر دھونے یا مسح کرنے میں ضرر نہ ہو تو اسے ناقض ہونا چاہئے اس لئے کہ اسے حکم تطہیر لاحق ہے کیونکہ مسح بھی دھونے کی طرح شرعا اس کی تطہیر ہے تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اھ۔
علامہ شامی کی فوائد مخصصہ میں سیدی عبدالغنی کی مقاصد ممحصہ کے حوالے سے آبلوں کے بیان میں ہے کہ انہوں نے سیلان کی تعریف اور اختلاف نقل کرنے کے بعد فرمایا : ان عبارتوں سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ خون پیپ پانی جب سر زخم پر چڑھے اور اس سے ہٹ کر بدن کی کسی صحتمند جگہ نہ بہے تو وضو نہ ٹوٹے گا خواہ زخم بڑا ہو یا چھوٹا۔ ( پھر کچھ عبارت کے بعد لکھا ) اس کی تائید پھیلی ہوئی جراحت سے متعلق خزانۃ الروایات کی اس عبارت سے ہوتی ہے : جب خون ایك جانب سے نکلے اور دوسری جانب تجاوز کرے لیکن کسی تندرست جگہ نہ پہنچے تو وہ ناقض وضو نہیں اس لئے کہ
وفی الفوائد المخصصۃ للعلامۃ الشامی عن المقاصد الممحصۃ فی بیان کی الحمصۃ لسیدی عبدالغنی انہ قال “ بعد نقلہ حد السیلان ومافیہ من الخلاف فالمفہوم من ھذہ العبارات ان الدم والقیح والصدید اذا علا علی الجرح ولم یسل عنہ الی موضع صحیح من البدن لاینقض الوضوء سواء کان الجرح کبیرا او صغیرا (ثم قال بعد کلام) ویؤید ھذا ما فی خزانۃ الروایات فی الجراحۃ البسیطۃ اذا خرج الدم من جانب وتجاوز الی جانب اخر لکن لم یصل الی موضع صحیح فانہ
وہ ذکر کروں گا جو اپنی طرف سے مولی تعالی منکشف فرمائے گا امام حلبی حلیہ میں لکھتے ہیں : سر زخم سے نکلنے والا ( خون یا پیپ ) ڈھلك آئے لیکن ورم کی ہوئی جگہ سے تجاوز نہ کرے بس اسی جگہ کے کسی حصے تك ڈھلك کر آیا ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا جبکہ اس شخص کو اس جگہ کا دھونا اور مسح کرنا ضرر دیتا ہو اور اگر دھونے یا مسح کرنے میں ضرر نہ ہو تو اسے ناقض ہونا چاہئے اس لئے کہ اسے حکم تطہیر لاحق ہے کیونکہ مسح بھی دھونے کی طرح شرعا اس کی تطہیر ہے تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اھ۔
علامہ شامی کی فوائد مخصصہ میں سیدی عبدالغنی کی مقاصد ممحصہ کے حوالے سے آبلوں کے بیان میں ہے کہ انہوں نے سیلان کی تعریف اور اختلاف نقل کرنے کے بعد فرمایا : ان عبارتوں سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ خون پیپ پانی جب سر زخم پر چڑھے اور اس سے ہٹ کر بدن کی کسی صحتمند جگہ نہ بہے تو وضو نہ ٹوٹے گا خواہ زخم بڑا ہو یا چھوٹا۔ ( پھر کچھ عبارت کے بعد لکھا ) اس کی تائید پھیلی ہوئی جراحت سے متعلق خزانۃ الروایات کی اس عبارت سے ہوتی ہے : جب خون ایك جانب سے نکلے اور دوسری جانب تجاوز کرے لیکن کسی تندرست جگہ نہ پہنچے تو وہ ناقض وضو نہیں اس لئے کہ
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الفوائدالمخصصہ ، رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۶۳
الفوائدالمخصصہ ، رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۶۳
لاینقض الوضوء لانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطہیر اھ
وفی الارکان الاربعۃ للمولی ملك العلماء بحرالعلوم عبدالعلی اللکنوی اذا خرج القیح من رأس الجرح ولم یتجاوز ورم الجرح لاینتقض الطھارۃ ولا یکون نجسا اھ
وفی رد المحتار عن السراج عن الینا بیع الدم السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز قال بعضھم ھو طاھر حتی لوصلی رجل بجنبہ واصابہ منہ اکثر من قدر الدرھم جازت صلاتہ وبھذا اخذ الکرخی وھو الاظھر وقال بعضھم ھو نجس وھو قول محمد اھ قال الشامی ومقتضاہ انہ غیر ناقض لانہ بقی طاھرا بعد الاصابۃ وان المعتبر خروجہ الی محل یلحقہ حکم التطہیر من بدن صاحبہ فلیتامل اھ
وانا اقول : وبالله التوفیق ایسی جگہ نہ پہنچا جسے حکم تطہیر لاحق ہو اھ ۔
ملك العلماء بحر العلوم مولنا عبد العلی لکھنوی کی ارکان اربعہ میں ہے : “ جب سر زخم سے پیپ نکلے اور زخم کے ورم سے تجاوز نہ کرے تو طہارت نہ توڑیگا اور نہ نجس ہو گا ۔ “ اھ
ردالمحتار میں سراج وہاج سے اس میں ینابیع سے نقل ہے : جراحت پر بہنے والا خون جب اس سے تجاوز نہ کرے تو بعض نے کہا وہ پاك ہے یہاں تك کہ اگر اس کے پہلو میں کوئی نماز پڑھ رہا ہے اسے درہم بھر سے زیادہ وہ خون لگ گیا تو اس کی نماز ہو گئی اسی کو امام کرخی نے اختیار کیا اور یہی امام محمد کا قول ہے اھ علامہ شامی کہتے ہیں : اس کا مقتضا یہ ہے کہ وہ ناقض بھی نہ ہو اس لئے کہ وہ لگنے کے بعد بھی طاہر رہا اور یہ کہ اعتبار اس کا ہے کہ صاحب زخم کے بدن سے ایسی جگہ کی طرف نکلے جسے حکم تطہیر لاحق ہے تو اس پر تامل کیا جائے اھ۔
وانا اقول : ( اور میں کہتا ہوں )
وفی الارکان الاربعۃ للمولی ملك العلماء بحرالعلوم عبدالعلی اللکنوی اذا خرج القیح من رأس الجرح ولم یتجاوز ورم الجرح لاینتقض الطھارۃ ولا یکون نجسا اھ
وفی رد المحتار عن السراج عن الینا بیع الدم السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز قال بعضھم ھو طاھر حتی لوصلی رجل بجنبہ واصابہ منہ اکثر من قدر الدرھم جازت صلاتہ وبھذا اخذ الکرخی وھو الاظھر وقال بعضھم ھو نجس وھو قول محمد اھ قال الشامی ومقتضاہ انہ غیر ناقض لانہ بقی طاھرا بعد الاصابۃ وان المعتبر خروجہ الی محل یلحقہ حکم التطہیر من بدن صاحبہ فلیتامل اھ
وانا اقول : وبالله التوفیق ایسی جگہ نہ پہنچا جسے حکم تطہیر لاحق ہو اھ ۔
ملك العلماء بحر العلوم مولنا عبد العلی لکھنوی کی ارکان اربعہ میں ہے : “ جب سر زخم سے پیپ نکلے اور زخم کے ورم سے تجاوز نہ کرے تو طہارت نہ توڑیگا اور نہ نجس ہو گا ۔ “ اھ
ردالمحتار میں سراج وہاج سے اس میں ینابیع سے نقل ہے : جراحت پر بہنے والا خون جب اس سے تجاوز نہ کرے تو بعض نے کہا وہ پاك ہے یہاں تك کہ اگر اس کے پہلو میں کوئی نماز پڑھ رہا ہے اسے درہم بھر سے زیادہ وہ خون لگ گیا تو اس کی نماز ہو گئی اسی کو امام کرخی نے اختیار کیا اور یہی امام محمد کا قول ہے اھ علامہ شامی کہتے ہیں : اس کا مقتضا یہ ہے کہ وہ ناقض بھی نہ ہو اس لئے کہ وہ لگنے کے بعد بھی طاہر رہا اور یہ کہ اعتبار اس کا ہے کہ صاحب زخم کے بدن سے ایسی جگہ کی طرف نکلے جسے حکم تطہیر لاحق ہے تو اس پر تامل کیا جائے اھ۔
وانا اقول : ( اور میں کہتا ہوں )
حوالہ / References
الفوائد المخصصۃ ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۶۴
رسائل الارکان کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶
رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
رسائل الارکان کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶
رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۲
وبہ استھدی سواء الطریق ھھنا مسئلتان :
مسئلۃ الورم الغیر المنفجر الامن اعلاہ کما وصفنا ۔
ومسئلۃ الجرح اعنی تفرق الاتصال کما یحصل بالسلاح والانفجار وقد خلطھما فـــ السید ابو السعود کما رأیت وسیظھر الفرق بعون رب البیت ۔
اما الاولی : ففی غایۃ الاشکال ولا تحضرنی الان مصرحۃ کذلك الامن الحلیۃ والارکان الاربعۃ وکذا ماتبتنی علیہ من ارادۃ مایکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل وھذا ربما یشم من غیرھما ایضا کابن ملك وخزانۃ الروایات و ردالمحتار۔
۱۱۵فاقول اولا : لایذھبن عنك ان المعنی فـــ المؤثرفـــ عندنا فی الحدث ھو خروج النجس من باطن البدن الی ظاھرہ لایحتاج معہ الی شیئ اخر اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی سے راہ راست کی ہدایت طلب کرتا ہوں یہاں دو مسئلے ہیں :
(۱) مسئلہ ورم : ایسا ورم جو اپنے اوپری حصے سے ہی پھوٹا ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔
(۲) مسئلہ زخم : یعنی اتصال ختم ہو کر جدائی پڑ جانا جیسے ہتھیار سے اور پھٹنے سے ہوتا ہے ۔ دونوں مسئلوں میں سید ابو السعود نے خلط کر دیا جیسا کہ آپ نے دیکھا دونوں میں فرق بعونہ تعالی جلد ہی ظاہر ہو گا ۔
پہلا مسئلہ ورم : انتہائی مشکل ہے اور اس تصریح کے ساتھ بروقت مجھے صرف حلیہ اور ارکان اربعہ سے مستحضر ہے یوں ہی وہ جس پر اس مسئلے کی بنیاد رکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بر وقت اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مکلف ہو اور اس کی کچھ بو ان دونوں کے علاوہ ابن ملك خزانۃ الروایات اور ردالمحتار سے بھی آتی ہے ۔
فاقول اولا : یہ بات ذہن سے نہ نکلے کہ ہمارے نزدیك حدث میں مؤثر معنی شے نجس کا باطن بدن سے ظاہر بدن کی طرف نکلنا ہے۔ مگر یہ ہے کہ غیر سبیلین میں نکلنا بغیر منتقلی کے
فــــ۱ : تطفل ثالث علی السید الازھری ۔
فــــ۲ : تطفل علی الحلیۃ و بحر العلوم فی مسئلۃ الورم ۔
فــــ۳ : تحقیق المعنی المؤثر فی الحدث و وجہ اشتراط السیلان فی الخارج من غیر السبیلین ۔
مسئلۃ الورم الغیر المنفجر الامن اعلاہ کما وصفنا ۔
ومسئلۃ الجرح اعنی تفرق الاتصال کما یحصل بالسلاح والانفجار وقد خلطھما فـــ السید ابو السعود کما رأیت وسیظھر الفرق بعون رب البیت ۔
اما الاولی : ففی غایۃ الاشکال ولا تحضرنی الان مصرحۃ کذلك الامن الحلیۃ والارکان الاربعۃ وکذا ماتبتنی علیہ من ارادۃ مایکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل وھذا ربما یشم من غیرھما ایضا کابن ملك وخزانۃ الروایات و ردالمحتار۔
۱۱۵فاقول اولا : لایذھبن عنك ان المعنی فـــ المؤثرفـــ عندنا فی الحدث ھو خروج النجس من باطن البدن الی ظاھرہ لایحتاج معہ الی شیئ اخر اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی سے راہ راست کی ہدایت طلب کرتا ہوں یہاں دو مسئلے ہیں :
(۱) مسئلہ ورم : ایسا ورم جو اپنے اوپری حصے سے ہی پھوٹا ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔
(۲) مسئلہ زخم : یعنی اتصال ختم ہو کر جدائی پڑ جانا جیسے ہتھیار سے اور پھٹنے سے ہوتا ہے ۔ دونوں مسئلوں میں سید ابو السعود نے خلط کر دیا جیسا کہ آپ نے دیکھا دونوں میں فرق بعونہ تعالی جلد ہی ظاہر ہو گا ۔
پہلا مسئلہ ورم : انتہائی مشکل ہے اور اس تصریح کے ساتھ بروقت مجھے صرف حلیہ اور ارکان اربعہ سے مستحضر ہے یوں ہی وہ جس پر اس مسئلے کی بنیاد رکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بر وقت اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مکلف ہو اور اس کی کچھ بو ان دونوں کے علاوہ ابن ملك خزانۃ الروایات اور ردالمحتار سے بھی آتی ہے ۔
فاقول اولا : یہ بات ذہن سے نہ نکلے کہ ہمارے نزدیك حدث میں مؤثر معنی شے نجس کا باطن بدن سے ظاہر بدن کی طرف نکلنا ہے۔ مگر یہ ہے کہ غیر سبیلین میں نکلنا بغیر منتقلی کے
فــــ۱ : تطفل ثالث علی السید الازھری ۔
فــــ۲ : تطفل علی الحلیۃ و بحر العلوم فی مسئلۃ الورم ۔
فــــ۳ : تحقیق المعنی المؤثر فی الحدث و وجہ اشتراط السیلان فی الخارج من غیر السبیلین ۔
غیران الخروج لایتحقق فی غیر السبیلین الا بالانتقال لان تحت کل جلدۃ دما و ھو مادام فی مکانہ لایعطی لہ حکم النجاسۃ۔
۱قال الامام برھان الملۃ والدین فی الھدایۃ خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ غیر ان الخروج انما یتحقق بالسیلان الی موضع یلحقہ حکم التطہیر لان بزوال القشرۃ تظھرالنجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ بخلاف السبیلین لان ذلك الموضع لیس بموضع النجاسۃ فیستدل بالظھور علی الانتقال والخروج اھ
و۲مثلہ فی المستخلص نقلا عنہا و۳قال الامام فقیہ النفس فی شرح الجامع الصغیر الحدث للخارج النجس والخروج انما یتحقق بالسیلان الخ
و۴قال الامام المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر “ خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ شرعا وھذا القدر فی الاصل معقول ای عقل فی الاصل وھو الخارج من السبیلین ان زوال الطھارۃ عندہ انما ھو بسبب انہ نجس
متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے خون ہے اور وہ جب تك اپنی جگہ رہے اسے نجاست کا حکم نہ دیا جائے گا ۔
(۱) امام برہان الملۃ والدین ہدایہ میں فرماتے ہیں : خروج نجاست زوال طہارت میں مؤثر ہے مگر یہ کہ خروج ایسی جگہ جسے حکم تطہیر لاحق ہے بہنے ہی سے متحقق ہوتا ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ ظاہر ہو جاتی ہے تو وہ بادی ( ظاہر ہونے والی ) ہو گی خارج نہ ہو گی سبیلین کا حال اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ جگہ نجاست کی جگہ نہیں تو ظاہر ہونے سے ہی منتقل اور خارج ہونے پر استدلال ہو گا اھ۔
(۲) اسی کی مثل اس سے نقل کرتے ہوئے مستخلص میں ہے ۔ (۳) امام فقیہ النفس شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : حدث خارج نجس کا نام ہے اور خروج سیلان ہی سے متحقق ہوتا ہے۔ الخ۔
(۴) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : خروج نجاست شرعا زوال طہارت میں مؤثر ہے اتنی مقدار اصل میں معقول ہے یعنی اصل جو خارج سبیلین ہے اس سے متعلق یہ بات عقل سے سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پائے جانے کے وقت زوال طہارت اسی سبب سے ہے
۱قال الامام برھان الملۃ والدین فی الھدایۃ خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ غیر ان الخروج انما یتحقق بالسیلان الی موضع یلحقہ حکم التطہیر لان بزوال القشرۃ تظھرالنجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ بخلاف السبیلین لان ذلك الموضع لیس بموضع النجاسۃ فیستدل بالظھور علی الانتقال والخروج اھ
و۲مثلہ فی المستخلص نقلا عنہا و۳قال الامام فقیہ النفس فی شرح الجامع الصغیر الحدث للخارج النجس والخروج انما یتحقق بالسیلان الخ
و۴قال الامام المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر “ خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ شرعا وھذا القدر فی الاصل معقول ای عقل فی الاصل وھو الخارج من السبیلین ان زوال الطھارۃ عندہ انما ھو بسبب انہ نجس
متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے خون ہے اور وہ جب تك اپنی جگہ رہے اسے نجاست کا حکم نہ دیا جائے گا ۔
(۱) امام برہان الملۃ والدین ہدایہ میں فرماتے ہیں : خروج نجاست زوال طہارت میں مؤثر ہے مگر یہ کہ خروج ایسی جگہ جسے حکم تطہیر لاحق ہے بہنے ہی سے متحقق ہوتا ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ ظاہر ہو جاتی ہے تو وہ بادی ( ظاہر ہونے والی ) ہو گی خارج نہ ہو گی سبیلین کا حال اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ جگہ نجاست کی جگہ نہیں تو ظاہر ہونے سے ہی منتقل اور خارج ہونے پر استدلال ہو گا اھ۔
(۲) اسی کی مثل اس سے نقل کرتے ہوئے مستخلص میں ہے ۔ (۳) امام فقیہ النفس شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : حدث خارج نجس کا نام ہے اور خروج سیلان ہی سے متحقق ہوتا ہے۔ الخ۔
(۴) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : خروج نجاست شرعا زوال طہارت میں مؤثر ہے اتنی مقدار اصل میں معقول ہے یعنی اصل جو خارج سبیلین ہے اس سے متعلق یہ بات عقل سے سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پائے جانے کے وقت زوال طہارت اسی سبب سے ہے
حوالہ / References
الہدایۃ ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۳۹
شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان
شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان
خارج من البدن اذلم یظھر لکونہ من خصوص السبیلین تاثیر وقد وجد فی الخارج من غیرھما فیتعدی الحکم الیہ فالاصل الخارج من السبیلین وحکمہ زوال طھارۃ یوجبھا الوضوء وعلتہ خروج النجاسۃ من البدن والفرع الخارج النجس من غیرھما وفیہ المناط فیتعدی الیہ زوال الطھارۃ اھ
و۵مثلہ فی البحر الرائق وفیہ ایضا النقض بالخروج وحقیقتہ من الباطن الی الظاھر و ذلك بالظھور فی السبیلین یتحقق وفی غیرھما بالسیلان الی موضع یلحقہ التطھیرلان بزوال القشرۃ تظھر النجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ اھ
وفی الفتح و۶الحلیۃ و۷الغنیۃ والبحر و الطحطاوی والشامی جمیع الادلۃ المو ردۃ من السنۃ والقیاس تفید تعلیق النقض بالخارج النجس اھ
کہ وہ بدن سے نکلنے والی ایك نجاست ہے کیونکہ خاص سبیلین سے خارج ہونے کا کوئی اثر کہیں ظاہر نہ ہوا اور یہ سبب غیر سبیل سے نکلنے والی چیز میں بھی موجود ہے تو حکم وہاں بھی پہنچے گا تو اصل خارج سبیلین ہے حکم اس طہارت کا ختم ہو جانا جو وضو سے ثابت ہوتی ہے علت نجاست کا بدن سے نکلنا فرع غیرسبیلین سے نکلنے والی نجس چیز اور اس پر مدار ہے تو زوال طہارت یہاں بھی متعدی ہو جائے گا اھ۔
(۵) اسی کے مثل البحر الرائق میں بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے : “ نقض خروج سے ہوتا ہے اور اس کی حقیقت باطن سے ظاہر کی طرف نکلنا ہے یہ بات سبیلین کے اندر ظہور سے متحقق ہوتی ہے ۔ اور غیر سبیلین میں ایسی جگہ بہنے سے جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ نظر آتی ہے تو وہ ظاہر کہلائے گی خارج نہ ہو گی اھ۔
(۶ تا ۹) فتح القدیر ۶حلیہ ۷غنیہ ۸ بحر ۹ طحطاوی اور۹ شامی میں ہے : سنت اور قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلیں یہی افادہ کرتی ہیں کہ وضو ٹوٹنا خارج نجس سے وابستہ رہے گا اھ۔
و۵مثلہ فی البحر الرائق وفیہ ایضا النقض بالخروج وحقیقتہ من الباطن الی الظاھر و ذلك بالظھور فی السبیلین یتحقق وفی غیرھما بالسیلان الی موضع یلحقہ التطھیرلان بزوال القشرۃ تظھر النجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ اھ
وفی الفتح و۶الحلیۃ و۷الغنیۃ والبحر و الطحطاوی والشامی جمیع الادلۃ المو ردۃ من السنۃ والقیاس تفید تعلیق النقض بالخارج النجس اھ
کہ وہ بدن سے نکلنے والی ایك نجاست ہے کیونکہ خاص سبیلین سے خارج ہونے کا کوئی اثر کہیں ظاہر نہ ہوا اور یہ سبب غیر سبیل سے نکلنے والی چیز میں بھی موجود ہے تو حکم وہاں بھی پہنچے گا تو اصل خارج سبیلین ہے حکم اس طہارت کا ختم ہو جانا جو وضو سے ثابت ہوتی ہے علت نجاست کا بدن سے نکلنا فرع غیرسبیلین سے نکلنے والی نجس چیز اور اس پر مدار ہے تو زوال طہارت یہاں بھی متعدی ہو جائے گا اھ۔
(۵) اسی کے مثل البحر الرائق میں بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے : “ نقض خروج سے ہوتا ہے اور اس کی حقیقت باطن سے ظاہر کی طرف نکلنا ہے یہ بات سبیلین کے اندر ظہور سے متحقق ہوتی ہے ۔ اور غیر سبیلین میں ایسی جگہ بہنے سے جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ نظر آتی ہے تو وہ ظاہر کہلائے گی خارج نہ ہو گی اھ۔
(۶ تا ۹) فتح القدیر ۶حلیہ ۷غنیہ ۸ بحر ۹ طحطاوی اور۹ شامی میں ہے : سنت اور قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلیں یہی افادہ کرتی ہیں کہ وضو ٹوٹنا خارج نجس سے وابستہ رہے گا اھ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۳۹
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸ و ۳۹
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۳۹
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸ و ۳۹
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۳
وفی الغنیۃ اذا زالت بشرۃ کانت الرطوبۃ بادیۃ لامنتقلۃ ولا تکون منتقلۃ الا بالتجاوز والسیلان اھ
وفی۱۰تبیین الامام الزیلعی “ الخروج انما یتحقق بوصولہ الی ما ذکرنا لان ماتحت الجلدۃ مملوء دما فبا لظھور لایکون خارجا بل بادیا وھو فی موضعہ اھ
وفی ۱۱المحیط ثم ۱۲الدرر “ حد الخروج الانتقال من الباطن الی الظاھر و ذلك یعرف بالسیلان من موضعہ اھ “
وفی ۱۳شرح الوقایۃ للامام صدر الشریعۃ المعتبر الخروج الی ماھو ظاھر البدن شرعا اھ
وقال ۱۴الامام النسفی فی متن الکنز ینقضہ خروج نجس منہ اھ
واستحسنہ فی ۱۵جامع الرموز فقال حق العبارۃ ناقضہ خروج غنیہ میں ہے : جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت نمایاں ہو گی وہ منتقل ہونے والی نہ ہو گی منتقل تو تجاوز اور سیلان ہی سے ہو گی اھ۔
(۱۰) امام زیلعی کی تبیین الحقائق میں ہے : خروج اس جگہ پہنچنے ہی سے متحقق ہو گا جو ہم نے بیان کی اس لئے کہ زیر جلد حصہ خون سے بھرا ہوا ہے تو صرف ظہور سے وہ خارج ہو گا بلکہ اپنی جگہ رہتے ہوئے دکھا ئی دینے والا ہوگا اھ
(۱۱ ۱۲ ) محیط پھر درر میں ہے : خروج کی تعریف باطن سے ظاہر کی طرف منتقل ہونا اور اس کی شناخت اپنی جگہ سے بہہ جانے سے ہو گی اھ۔
(۱۳) امام صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : اعتبار اس جگہ نکلنے کا ہے جو شرعا ظاہر بدن ہے اھ۔
(۱۴) امام نسفی متن کنزالدقائق میں فرماتے ہیں : ینقضہ خروج نجس منہ اھ اس سے کسی نجس کا نکلنا وضو توڑ دے گا ۔
(۱۵) جامع الرموز میں اسے پسند کیا اور کہا حق عبارت یہ ہے : ناقضہ خروج
وفی۱۰تبیین الامام الزیلعی “ الخروج انما یتحقق بوصولہ الی ما ذکرنا لان ماتحت الجلدۃ مملوء دما فبا لظھور لایکون خارجا بل بادیا وھو فی موضعہ اھ
وفی ۱۱المحیط ثم ۱۲الدرر “ حد الخروج الانتقال من الباطن الی الظاھر و ذلك یعرف بالسیلان من موضعہ اھ “
وفی ۱۳شرح الوقایۃ للامام صدر الشریعۃ المعتبر الخروج الی ماھو ظاھر البدن شرعا اھ
وقال ۱۴الامام النسفی فی متن الکنز ینقضہ خروج نجس منہ اھ
واستحسنہ فی ۱۵جامع الرموز فقال حق العبارۃ ناقضہ خروج غنیہ میں ہے : جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت نمایاں ہو گی وہ منتقل ہونے والی نہ ہو گی منتقل تو تجاوز اور سیلان ہی سے ہو گی اھ۔
(۱۰) امام زیلعی کی تبیین الحقائق میں ہے : خروج اس جگہ پہنچنے ہی سے متحقق ہو گا جو ہم نے بیان کی اس لئے کہ زیر جلد حصہ خون سے بھرا ہوا ہے تو صرف ظہور سے وہ خارج ہو گا بلکہ اپنی جگہ رہتے ہوئے دکھا ئی دینے والا ہوگا اھ
(۱۱ ۱۲ ) محیط پھر درر میں ہے : خروج کی تعریف باطن سے ظاہر کی طرف منتقل ہونا اور اس کی شناخت اپنی جگہ سے بہہ جانے سے ہو گی اھ۔
(۱۳) امام صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : اعتبار اس جگہ نکلنے کا ہے جو شرعا ظاہر بدن ہے اھ۔
(۱۴) امام نسفی متن کنزالدقائق میں فرماتے ہیں : ینقضہ خروج نجس منہ اھ اس سے کسی نجس کا نکلنا وضو توڑ دے گا ۔
(۱۵) جامع الرموز میں اسے پسند کیا اور کہا حق عبارت یہ ہے : ناقضہ خروج
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۱
تبیین الحقائق کتاب الطہارت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۴۸
درر الحکام بحوالہ المحیط کتاب الطہارت میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
شرح الوقایۃ کون السائل الٰی ما یطہر ناقصا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۱
کنز الدقائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۷
تبیین الحقائق کتاب الطہارت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۴۸
درر الحکام بحوالہ المحیط کتاب الطہارت میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
شرح الوقایۃ کون السائل الٰی ما یطہر ناقصا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۱
کنز الدقائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۷
النجس اھ
وقال۱۶السید جلا ل الدین فی الکفایہ “ لایتحقق الخروج الا بالسیلان لان تحت کل جلدۃ رطوبۃ فاذا زالت کانت بادیۃ لاخارجۃ کالبیت اذا انھدم کان الساکن ظاھرا لا منتقلا عن موضعہ اھ
وقال ۱۷العلامۃ الا کمل فی العنایۃ خروج النجس من بدن الانسان الحی ینقض الطہارۃ کیفما کان عندنا وھو مذھب العشرۃ المبشرۃ رضی الله تعالی عنھم اھ
وفیھا ایضا شرط التجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر احتراز عما یبدو ولم یخرج ولم یتجاوز فانہ لایسمی خارجا فکان تفسیرا للخروج وردا لما ظن زفر ان البادی خارج اھ
وقد۱۸صرح المولی بحرالعلوم نفسہ فی ذلك الکتاب انہ ثبت ان علۃ انتقاض الطھارۃ خروج النجاسۃ النجس
ناقض وضو نجس کا نکلنا ہے اھ۔
(۱۶)سید جلال الدین کرلانی کفایہ میں فرماتے ہیں : “ خروج بغیر بہنے کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے رطوبت ہے جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت ظاہر ہو گی خارج نہ ہو گی جیسے گھر گر جائے تو اندر رہنے والا ظاہر ہو گا اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو گا “ اھ۔
(۱۷) علامہ اکمل الدین بابرتی عنایہ میں فرماتے ہیں : “ زندہ انسان کے بدن سے نجس چیز کا نکلنا ہمارے نزدیك جس طرح بھی ہو ناقض طہارت ہے اور یہی عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی عنہمکا مذہب ہے اھ۔
اس میں یہ بھی ہے : جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس جگہ تجاوز کی شرط اس صورت سے احتراز ہے جب نجس صرف نمودار ہو نہ نکلے نہ آگے بڑھے کیونکہ اسے خارج نہیں کہا جا تا۔ تو یہ شرط خروج کی تفسیر اور امام زفر کے اس گمان کی تردید ہے کہ ظاہر ہونے والا نکلنے والا ہے اھ۔
(۱۸) خود مولانا بحر العلوم نے اسی کتاب میں صراحت کی ہے کہ ثابت ہو گیا کہ طہارت ٹوٹنے کی علت خروج نجاست ہے تو جو نجاست بھی خارج ہو گی
وقال۱۶السید جلا ل الدین فی الکفایہ “ لایتحقق الخروج الا بالسیلان لان تحت کل جلدۃ رطوبۃ فاذا زالت کانت بادیۃ لاخارجۃ کالبیت اذا انھدم کان الساکن ظاھرا لا منتقلا عن موضعہ اھ
وقال ۱۷العلامۃ الا کمل فی العنایۃ خروج النجس من بدن الانسان الحی ینقض الطہارۃ کیفما کان عندنا وھو مذھب العشرۃ المبشرۃ رضی الله تعالی عنھم اھ
وفیھا ایضا شرط التجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر احتراز عما یبدو ولم یخرج ولم یتجاوز فانہ لایسمی خارجا فکان تفسیرا للخروج وردا لما ظن زفر ان البادی خارج اھ
وقد۱۸صرح المولی بحرالعلوم نفسہ فی ذلك الکتاب انہ ثبت ان علۃ انتقاض الطھارۃ خروج النجاسۃ النجس
ناقض وضو نجس کا نکلنا ہے اھ۔
(۱۶)سید جلال الدین کرلانی کفایہ میں فرماتے ہیں : “ خروج بغیر بہنے کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے رطوبت ہے جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت ظاہر ہو گی خارج نہ ہو گی جیسے گھر گر جائے تو اندر رہنے والا ظاہر ہو گا اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو گا “ اھ۔
(۱۷) علامہ اکمل الدین بابرتی عنایہ میں فرماتے ہیں : “ زندہ انسان کے بدن سے نجس چیز کا نکلنا ہمارے نزدیك جس طرح بھی ہو ناقض طہارت ہے اور یہی عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی عنہمکا مذہب ہے اھ۔
اس میں یہ بھی ہے : جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس جگہ تجاوز کی شرط اس صورت سے احتراز ہے جب نجس صرف نمودار ہو نہ نکلے نہ آگے بڑھے کیونکہ اسے خارج نہیں کہا جا تا۔ تو یہ شرط خروج کی تفسیر اور امام زفر کے اس گمان کی تردید ہے کہ ظاہر ہونے والا نکلنے والا ہے اھ۔
(۱۸) خود مولانا بحر العلوم نے اسی کتاب میں صراحت کی ہے کہ ثابت ہو گیا کہ طہارت ٹوٹنے کی علت خروج نجاست ہے تو جو نجاست بھی خارج ہو گی
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبدِ قاموس ایران ۱ / ۳۴
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸
العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳
العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸
العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳
العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳
فکلما خرج من النجاسۃ ینقض الطہارۃ اھ
ومن نظر الی تظافر ھذہ النصوص ایقن ان خروج النجس الی ظاھر البدن اذا تحقق لایتوقف بعدہ ثبوت الحدث وان تحققہ فی غیر السبیلین یحصل بانتقال ماعن موضعہ لا یشترط فیہ ان یکون ذراعا اوشبرا مثلا ولذلك لما ظھر لمحمد فیما روی عنہ ان بالعلو علی راس الجرح یحصل انتقال الدم من مکانہ حکم بالنقض من دون توقیف علی انحدار ایضا فضلا عن اشتراط امتداد مسافۃ واصحابنا جعلوا رأس الجرح من مکانہ فما دام علیہ ولم یجاوزہ لم ینتقل من مکانہ وان انتقل من تحت۔
قال فی الدرر عن المحیط بعد ما قدمنا وحد السیلان ان یعلو فینحدر عن رأس الجرح ھکذا فسر ابو یوسف لانہ مالم ینحدر عن رأس الجرح لم ینتقل عن مکانہ فان مایوازی الدم من اعلی الجرح
ناقض طہارت ہو گی اھ۔
جو ان نصوص کی کثرت اور باہمی موافقت دیکھے گا اس بات کا یقین کرے گا کہ ظاہر بدن کی طرف نجس چیز کا خروج جب متحقق ہو جائے تو اس کے بعد حدث کا ثبوت کسی اور بات پر موقوف نہیں رہتا اور یہ بھی یقین کرے گا کہ غیر سبیلین میں خروج کا تحقق اپنی جگہ سے کچھ ہٹ جانے سے ہو جاتا ہے اس میں یہ شرط نہیں کہ ایك ہاتھ یا ایك بالشت ہو مثلا اسی لئے جیسا کہ روایت ہے جب امام محمد پر ظاہر ہوا کہ سر زخم پر چڑھنے سے خون کا اپنی جگہ سے منتقل ہونا حاصل ہو جاتا ہے تو انہوں نے وضو ٹوٹنے کا حکم کر دیا نیچے ڈھلکنے پر بھی موقوف نہ رکھا کسی مسافت میں پھیلنے کی شرط لگانا تو دور کی بات ہے اور ہمارے اصحاب نے سر زخم کو اس کی جگہ قرار دیا ہے جب تك خون اس پر رہے اور تجاوز نہ کرے تو وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اگرچہ نیچے سے اوپر گیا ہے ۔
درر میں محیط کے حوالہ سے سابقا نقل کردہ عبارت کے بعد ہے : اور سیلان کی حد یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلك آئے امام ابو یوسف نے اسی طرح تفسیر فرمائی ۔ اس لئے کہ جب تك سر زخم سے نہ اترے وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اس لئے کہ خون کے مقابل زخم کا بالائی حصہ خون ہی
ومن نظر الی تظافر ھذہ النصوص ایقن ان خروج النجس الی ظاھر البدن اذا تحقق لایتوقف بعدہ ثبوت الحدث وان تحققہ فی غیر السبیلین یحصل بانتقال ماعن موضعہ لا یشترط فیہ ان یکون ذراعا اوشبرا مثلا ولذلك لما ظھر لمحمد فیما روی عنہ ان بالعلو علی راس الجرح یحصل انتقال الدم من مکانہ حکم بالنقض من دون توقیف علی انحدار ایضا فضلا عن اشتراط امتداد مسافۃ واصحابنا جعلوا رأس الجرح من مکانہ فما دام علیہ ولم یجاوزہ لم ینتقل من مکانہ وان انتقل من تحت۔
قال فی الدرر عن المحیط بعد ما قدمنا وحد السیلان ان یعلو فینحدر عن رأس الجرح ھکذا فسر ابو یوسف لانہ مالم ینحدر عن رأس الجرح لم ینتقل عن مکانہ فان مایوازی الدم من اعلی الجرح
ناقض طہارت ہو گی اھ۔
جو ان نصوص کی کثرت اور باہمی موافقت دیکھے گا اس بات کا یقین کرے گا کہ ظاہر بدن کی طرف نجس چیز کا خروج جب متحقق ہو جائے تو اس کے بعد حدث کا ثبوت کسی اور بات پر موقوف نہیں رہتا اور یہ بھی یقین کرے گا کہ غیر سبیلین میں خروج کا تحقق اپنی جگہ سے کچھ ہٹ جانے سے ہو جاتا ہے اس میں یہ شرط نہیں کہ ایك ہاتھ یا ایك بالشت ہو مثلا اسی لئے جیسا کہ روایت ہے جب امام محمد پر ظاہر ہوا کہ سر زخم پر چڑھنے سے خون کا اپنی جگہ سے منتقل ہونا حاصل ہو جاتا ہے تو انہوں نے وضو ٹوٹنے کا حکم کر دیا نیچے ڈھلکنے پر بھی موقوف نہ رکھا کسی مسافت میں پھیلنے کی شرط لگانا تو دور کی بات ہے اور ہمارے اصحاب نے سر زخم کو اس کی جگہ قرار دیا ہے جب تك خون اس پر رہے اور تجاوز نہ کرے تو وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اگرچہ نیچے سے اوپر گیا ہے ۔
درر میں محیط کے حوالہ سے سابقا نقل کردہ عبارت کے بعد ہے : اور سیلان کی حد یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلك آئے امام ابو یوسف نے اسی طرح تفسیر فرمائی ۔ اس لئے کہ جب تك سر زخم سے نہ اترے وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اس لئے کہ خون کے مقابل زخم کا بالائی حصہ خون ہی
حوالہ / References
رسائل الارکان کتاب الطہارۃ بیان نواقض الوضوء مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶
مکانہ اھ
فالورم المنبسط المنفجر من اعلاہ اذا انحدر القیح من راسہ تحقق الخروج والانتقال والسیلان قطعا لامحل فیہ لارتیاب فما ھی الا عبارۃ عن معنی واحد ولن یسبقن الی وھم احد ان الورم ان استوعب ید انسان من کتفہ الی رسغہ فانفجر من اعلی الکتف وجعل الدم یثج ثجا حتی ملأ الکتف ثم العضد ثم المرفق ثم الساعد لم یکن کل ھذا خروجا حتی یتجاوز الی الکف۔
و۱۱۶عدم لحوق فــــ حکم التطہیر عند العذر ظاھر المنع بل قد لحق وتاخر طلب ایقاعہ بالفعل حتی یزول ولذا اذا زال ظھر فکان من باب الوجوب لانعقاد السبب وتأخر وجوب الاداء بخلاف داخل العین فانہ من باطن البدن شرعا فی باب التطھیر من کل وجہ لم یلحقہ
کی جگہ ہے اھ۔ تو پھیلا ہوا ورم جو اوپر سے پھوٹ جائے جب پیپ اس کے سر سے نیچے اتر آئے تو خروج انتقال اور سیلان قطعا متحقق ہو گیا جس میں کسی شك و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ یہ سب ایك ہی معنی سے عبارت ہیں اور ہرگز کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ ورم اگر کسی انسان کے ہاتھ میں شانے سے گٹے تك کے حصے کو گھیر لے پھر شانے کے اوپر سے پھوٹے اور خون تیزی سے بہنے لگے یہاں تك کہ شانہ بھر جائے پھر بازو پھر کہنی پھر کلائی بھی بھر جائے ان سب کے باوجود خروج ثابت نہ ہو گا یہاں تك کہ خون تجاوز کر کے ہتھیلی پر آ جائے ۔
عذر کے وقت حکم تطہیر لاحق نہیں اس پر منع ظاہر ہے۔ یہ ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حکم لاحق ہے مگر عذر ختم ہونے تك بالفعل اسے عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہے ۔ اسی لئے جب عذر ختم ہوجائے تو حکم ظاہر ہوتا ہے تو یہ اس باب سے ہوا کہ سبب متحقق ہونے کی وجہ سے وجوب ثابت ہے اور وجوب ادا مؤخر ہے اور داخل چشم کا معاملہ ایسا نہیں اس لئے کہ باب تطہیر میں وہ ہر طرح شرعا باطن بدن سے شمار ہے
فـــ : ۸۳تطفل اخر علی الحلیۃ و ابن مالك فی اخرین۔
فالورم المنبسط المنفجر من اعلاہ اذا انحدر القیح من راسہ تحقق الخروج والانتقال والسیلان قطعا لامحل فیہ لارتیاب فما ھی الا عبارۃ عن معنی واحد ولن یسبقن الی وھم احد ان الورم ان استوعب ید انسان من کتفہ الی رسغہ فانفجر من اعلی الکتف وجعل الدم یثج ثجا حتی ملأ الکتف ثم العضد ثم المرفق ثم الساعد لم یکن کل ھذا خروجا حتی یتجاوز الی الکف۔
و۱۱۶عدم لحوق فــــ حکم التطہیر عند العذر ظاھر المنع بل قد لحق وتاخر طلب ایقاعہ بالفعل حتی یزول ولذا اذا زال ظھر فکان من باب الوجوب لانعقاد السبب وتأخر وجوب الاداء بخلاف داخل العین فانہ من باطن البدن شرعا فی باب التطھیر من کل وجہ لم یلحقہ
کی جگہ ہے اھ۔ تو پھیلا ہوا ورم جو اوپر سے پھوٹ جائے جب پیپ اس کے سر سے نیچے اتر آئے تو خروج انتقال اور سیلان قطعا متحقق ہو گیا جس میں کسی شك و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ یہ سب ایك ہی معنی سے عبارت ہیں اور ہرگز کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ ورم اگر کسی انسان کے ہاتھ میں شانے سے گٹے تك کے حصے کو گھیر لے پھر شانے کے اوپر سے پھوٹے اور خون تیزی سے بہنے لگے یہاں تك کہ شانہ بھر جائے پھر بازو پھر کہنی پھر کلائی بھی بھر جائے ان سب کے باوجود خروج ثابت نہ ہو گا یہاں تك کہ خون تجاوز کر کے ہتھیلی پر آ جائے ۔
عذر کے وقت حکم تطہیر لاحق نہیں اس پر منع ظاہر ہے۔ یہ ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حکم لاحق ہے مگر عذر ختم ہونے تك بالفعل اسے عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہے ۔ اسی لئے جب عذر ختم ہوجائے تو حکم ظاہر ہوتا ہے تو یہ اس باب سے ہوا کہ سبب متحقق ہونے کی وجہ سے وجوب ثابت ہے اور وجوب ادا مؤخر ہے اور داخل چشم کا معاملہ ایسا نہیں اس لئے کہ باب تطہیر میں وہ ہر طرح شرعا باطن بدن سے شمار ہے
فـــ : ۸۳تطفل اخر علی الحلیۃ و ابن مالك فی اخرین۔
حوالہ / References
درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ، بیان نواقض الوضوء ، میر محمد کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۳
قط حکم التطھیر ولن یلحقہ ابدا ما بقی فکیف یقاس علیہ ماکان ظاھر البدن قطعاحسا وشرعا ثم اعتری معتر اخر عنہ حکم اداء التطھیر موقتالوقت البرء ام کیف یجعل العارض کاللازم والحادث عن قریب الزائل عما قلیل کاللازب المستمر۔
و۱۱۷ثانیا : انما فــــ المنقول عن ائمتنا رضی الله تعالی عنھم شیئان اما النقض بمجرد العلو علی رأس الجرح وان لم ینحدر کما روی عن محمد والیہ مال الامام محمد بن عبدالله وعلیہ مشی فی مجموع النوازل والفتاوی النسفیۃ وجعلہ فی الوجیز اقیس وفی الدرایۃ اصح ۔
واما بالانحدار عن رأس الجرح وھو المعتمد وعلیہ الفتوی ولم ینقل عن احد منھم قط ان الا نحدار عن الرأس ایضالا یکفی للنقض مالم یجاوز سطح ورم
اسے کسی وقت نہ حکم تطہیر لاحق ہوا اور نہ ہرگزکبھی لاحق ہو گا جب تك کہ وہ باقی ہے پھر اس پر اس کا قیاس کیسے ہو سکتا ہے جو حسا اور شرعا قطعی طورپر ظاہر بدن ہے پھر اس پر کوئی عارض در پیش ہوا جس نے اچھے ہونے تك کے لئے عارضی طور پر تطہیر کو عمل میں لانے کا حکم مؤخر کر دیا یا عارض کو لازم کی طرح کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اور جلد ہی رونما ہونے والے کچھ دیر بعد زائل ہونے والے کو ہمیشہ لگے رہنے والے کی طرح کیسے کہا جا سکتا ہے !
ثانیا : ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمسے منقول دو ہی چیزیں ہیں :
(۱) یا تو محض سر زخم پر چڑھ جانے سے وضو ٹوٹ جانا اگرچہ نیچے نہ اترے جیسا کہ یہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے اسی کی طرف امام محمد بن عبدالله مائل ہوئے اسی پر مجموع النوازل اور فتاوی نسفیہ میں چلے ہیں اسی کو وجیز میں زیادہ قرین قیاس اور درایہ میں اصح کہا ہے ۔
(۲)یا سر زخم سے نیچے اتر آنے پر وضو ٹوٹنے کا حکم ہے یہی معتمد ہے اور اسی پر فتوی ہے اور ان حضرات میں کسی سے یہ کبھی بھی منقول نہیں کہ وضو ٹوٹنے کے لئے سر زخم سے نیچے اتر آنا بھی کافی نہیں جب تك کہ ورم زخم کی پوری سطح سے
فــــ : ۸۴تطفل ثالث علیھم۔
و۱۱۷ثانیا : انما فــــ المنقول عن ائمتنا رضی الله تعالی عنھم شیئان اما النقض بمجرد العلو علی رأس الجرح وان لم ینحدر کما روی عن محمد والیہ مال الامام محمد بن عبدالله وعلیہ مشی فی مجموع النوازل والفتاوی النسفیۃ وجعلہ فی الوجیز اقیس وفی الدرایۃ اصح ۔
واما بالانحدار عن رأس الجرح وھو المعتمد وعلیہ الفتوی ولم ینقل عن احد منھم قط ان الا نحدار عن الرأس ایضالا یکفی للنقض مالم یجاوز سطح ورم
اسے کسی وقت نہ حکم تطہیر لاحق ہوا اور نہ ہرگزکبھی لاحق ہو گا جب تك کہ وہ باقی ہے پھر اس پر اس کا قیاس کیسے ہو سکتا ہے جو حسا اور شرعا قطعی طورپر ظاہر بدن ہے پھر اس پر کوئی عارض در پیش ہوا جس نے اچھے ہونے تك کے لئے عارضی طور پر تطہیر کو عمل میں لانے کا حکم مؤخر کر دیا یا عارض کو لازم کی طرح کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اور جلد ہی رونما ہونے والے کچھ دیر بعد زائل ہونے والے کو ہمیشہ لگے رہنے والے کی طرح کیسے کہا جا سکتا ہے !
ثانیا : ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمسے منقول دو ہی چیزیں ہیں :
(۱) یا تو محض سر زخم پر چڑھ جانے سے وضو ٹوٹ جانا اگرچہ نیچے نہ اترے جیسا کہ یہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے اسی کی طرف امام محمد بن عبدالله مائل ہوئے اسی پر مجموع النوازل اور فتاوی نسفیہ میں چلے ہیں اسی کو وجیز میں زیادہ قرین قیاس اور درایہ میں اصح کہا ہے ۔
(۲)یا سر زخم سے نیچے اتر آنے پر وضو ٹوٹنے کا حکم ہے یہی معتمد ہے اور اسی پر فتوی ہے اور ان حضرات میں کسی سے یہ کبھی بھی منقول نہیں کہ وضو ٹوٹنے کے لئے سر زخم سے نیچے اتر آنا بھی کافی نہیں جب تك کہ ورم زخم کی پوری سطح سے
فــــ : ۸۴تطفل ثالث علیھم۔
الجرح کلہ قدر ذراع کان او اکثر۔ بل قد نطقت کتب المذھب قاطبۃ بان مجرد الا نحدار عن الرأس کاف فی النقض۔ وھذا محرر المذھب محمد رضی الله تعالی عنہ قائلا فی ۱جامعہ الصغیر “ محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی جعنھم فی نفطۃ قشرت فسال منھا ماء اودم اوغیرہ عن رأس الجرح نقض الوضوء وان لم یسل لم ینقض اھ “ ۔
۲قال الامام الاجل قاضی خان فی شرحہ و السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح وعن محمد رحمہ الله تعالی اذا انتفخ علی رأس الجرح وصار اکثر من رأس الجرح انتقض والصحیح ماقلنا اھ
و فی ۳محیط الامام السرخسی ثم ۴النھر ثم ۵الہندیۃ حدالسیلان ان یعلو فینحدرعن رأس الجرح اھ
وفی ۶جواھر الفتاوی للامام الکرمانی فی الباب الثانی المعقود لفتاوی الامام جمال الدین البزدوی اما التی تخرج من غیر السبیلین ان جوقفت ولم تتعدد عن رأس
تجاوز نہ کر جائے وہ ایك ہاتھ ہو یا زیادہ۔
بلکہ تمام تر کتب مذہب ناطق ہیں کہ سر زخم سے محض ڈھلك آنا وضو ٹوٹنے کے لئے کافی ہے ۔
(۱) یہ ہیں محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہجو جامع صغیر میں فرماتے ہیں : محمد راوی یعقوب سے وہ ابو حنیفہ سے رضی اللہ تعالی عنہماس آبلہ کے بارے میں جس کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی یا خون یا اور کچھ سر زخم سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نہ بہا تو نہ ٹوٹے گا اھ۔
(۲) امام اجل قاضی خان اس کی شرح میں فرماتے ہیں : بہنا یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے اور امام رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ سے روایت ہے کہ جب سر زخم پھول جائے اور سر زخم سے زیادہ ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائیگا ۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا اھ۔
(۳ تا ۵) امام سرخسی کی محیط پھر نہر پھر ہندیہ میں ہے : بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلك آئے اھ۔
(۶ ۷) امام کرمانی کی جواہر الفتاوی کے باب دوم میں ہے جو امام جمال الدین بزدوی کے فتاوی کے لئے خاص کیا گیا ہے : “ وہ جو غیر سبیلین سے نکلے اگر ٹھہر جائے اور سر زخم سے تجاوز نہ کرے
۲قال الامام الاجل قاضی خان فی شرحہ و السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح وعن محمد رحمہ الله تعالی اذا انتفخ علی رأس الجرح وصار اکثر من رأس الجرح انتقض والصحیح ماقلنا اھ
و فی ۳محیط الامام السرخسی ثم ۴النھر ثم ۵الہندیۃ حدالسیلان ان یعلو فینحدرعن رأس الجرح اھ
وفی ۶جواھر الفتاوی للامام الکرمانی فی الباب الثانی المعقود لفتاوی الامام جمال الدین البزدوی اما التی تخرج من غیر السبیلین ان جوقفت ولم تتعدد عن رأس
تجاوز نہ کر جائے وہ ایك ہاتھ ہو یا زیادہ۔
بلکہ تمام تر کتب مذہب ناطق ہیں کہ سر زخم سے محض ڈھلك آنا وضو ٹوٹنے کے لئے کافی ہے ۔
(۱) یہ ہیں محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہجو جامع صغیر میں فرماتے ہیں : محمد راوی یعقوب سے وہ ابو حنیفہ سے رضی اللہ تعالی عنہماس آبلہ کے بارے میں جس کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی یا خون یا اور کچھ سر زخم سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نہ بہا تو نہ ٹوٹے گا اھ۔
(۲) امام اجل قاضی خان اس کی شرح میں فرماتے ہیں : بہنا یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے اور امام رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ سے روایت ہے کہ جب سر زخم پھول جائے اور سر زخم سے زیادہ ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائیگا ۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا اھ۔
(۳ تا ۵) امام سرخسی کی محیط پھر نہر پھر ہندیہ میں ہے : بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلك آئے اھ۔
(۶ ۷) امام کرمانی کی جواہر الفتاوی کے باب دوم میں ہے جو امام جمال الدین بزدوی کے فتاوی کے لئے خاص کیا گیا ہے : “ وہ جو غیر سبیلین سے نکلے اگر ٹھہر جائے اور سر زخم سے تجاوز نہ کرے
حوالہ / References
الجامع الصغیر للامام محمد ، کتاب الطہارۃ باب ما ینقض الوضوء ...الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص ۷
شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان
الفتاوی الہندیۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان
الفتاوی الہندیۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
الجرح فطاھرۃ اھ۔
ثم اطال فی بیان حکمۃ فــــــ الفرق بین الخارج والبادی ملخصہ ان البادی الکائن تحت الجلدۃ ھو الذی انتقل عن طبیعۃ الدم الی طبیعۃ اللحم وانتھی نضجہ غیرانہ لم ینجمد بخلاف السائل۔
وفی شرح ۸الطحاوی للامام الاسبیجابی ثم ۹ایضاح الاصلاح لابن کمال باشا قال اصحابنا اذا خرج وسال عن رأس الجرح نقض الوضوء وقال زفر ینقضہ سال اولم یسل وقال الشافعی لاینقضہ سال اولم یسل اھ
وفی ۱۰الخلاصۃ ان خرج من قرح بہ دم او صدید اوقیح فسال عن رأس الجرح نقض عندنا اھ
وفی ۱۱المنیۃ ان سال عن رأس الجرح ینتقض وان لم یسل لا ینتقض وتفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح اھ
تو پاك ہے “ اھ۔
پھر خارج اور ظاہر کے درمیان فرق کی حکمت تفصیل سے بیان کی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر جلد پایا جانے والا ظاہر وہی ہے جو خون کی طبیعت سے گوشت کی طبیعت کی طرف منتقل ہو گیا اور جس کے پکنے کا عمل پورا ہو گیا ہے مگر وہ ابھی منجمد نہیں ہوا اور سائل ایسا نہیں ہوتا ۔
( ۸ ۹) امام اسبیجابی کی شرح طحاوی پھر ابن کمال پاشا کی ایضاح الاصلاح میں ہے : ہمارے اصحاب نے فرمایا : جب خون نکلے اور سر زخم سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور امام زفر فرماتے ہیں وضو ٹوٹ جائے گا بہے نہ بہے اور امام شافعی فرماتے ہیں نہیں ٹوٹے گا بہے یا نہ بہے اھ۔
(۱۰) خلاصہ میں ہے : اگر پھوڑے سے خون پیپ یا پانی نکل کر سر زخم سے بہہ جائے تو ہمارے نزدیك ناقض ہے اھ۔
(۱۱) منیہ میں ہے : اگرسر زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے اور نہ بہے تو ناقض نہیں اور بہنے کی تفسیر یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے اھ۔
فـــ : حکمۃ الفرق بین السائل و البادی۔
ثم اطال فی بیان حکمۃ فــــــ الفرق بین الخارج والبادی ملخصہ ان البادی الکائن تحت الجلدۃ ھو الذی انتقل عن طبیعۃ الدم الی طبیعۃ اللحم وانتھی نضجہ غیرانہ لم ینجمد بخلاف السائل۔
وفی شرح ۸الطحاوی للامام الاسبیجابی ثم ۹ایضاح الاصلاح لابن کمال باشا قال اصحابنا اذا خرج وسال عن رأس الجرح نقض الوضوء وقال زفر ینقضہ سال اولم یسل وقال الشافعی لاینقضہ سال اولم یسل اھ
وفی ۱۰الخلاصۃ ان خرج من قرح بہ دم او صدید اوقیح فسال عن رأس الجرح نقض عندنا اھ
وفی ۱۱المنیۃ ان سال عن رأس الجرح ینتقض وان لم یسل لا ینتقض وتفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح اھ
تو پاك ہے “ اھ۔
پھر خارج اور ظاہر کے درمیان فرق کی حکمت تفصیل سے بیان کی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر جلد پایا جانے والا ظاہر وہی ہے جو خون کی طبیعت سے گوشت کی طبیعت کی طرف منتقل ہو گیا اور جس کے پکنے کا عمل پورا ہو گیا ہے مگر وہ ابھی منجمد نہیں ہوا اور سائل ایسا نہیں ہوتا ۔
( ۸ ۹) امام اسبیجابی کی شرح طحاوی پھر ابن کمال پاشا کی ایضاح الاصلاح میں ہے : ہمارے اصحاب نے فرمایا : جب خون نکلے اور سر زخم سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور امام زفر فرماتے ہیں وضو ٹوٹ جائے گا بہے نہ بہے اور امام شافعی فرماتے ہیں نہیں ٹوٹے گا بہے یا نہ بہے اھ۔
(۱۰) خلاصہ میں ہے : اگر پھوڑے سے خون پیپ یا پانی نکل کر سر زخم سے بہہ جائے تو ہمارے نزدیك ناقض ہے اھ۔
(۱۱) منیہ میں ہے : اگرسر زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے اور نہ بہے تو ناقض نہیں اور بہنے کی تفسیر یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے اھ۔
فـــ : حکمۃ الفرق بین السائل و البادی۔
حوالہ / References
جواہر الفتاوی کتاب الطہارۃ ، الباب الثانی ، (قلمی فوٹو کاپی ) ، ص ۶
ایضاح الاصلاح
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۵
منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ ، بیان نواقض الوضوء مکتبہ قادریہ لاہور ص ۹۰
ایضاح الاصلاح
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۵
منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ ، بیان نواقض الوضوء مکتبہ قادریہ لاہور ص ۹۰
وفی ۱۲صدر الشریعۃ “ اذا سال عن رأس الجرح علم انہ دم انتقل من العروق فی ھذہ الساعۃ وھو الدم النجس اما اذا لم یسل علم انہ دم العضو اھ “ یشیر الی الحکمۃ التی ذکرھا الامام جمال الدین۔
وفی ۱۳جواھر الاخلاطی ان سال عن رأس الجرح نقض والا لا والسیلان الانحدار عن رأس الجرح اھ
وقال ۱۴صاحب السراج نفسہ فی الجوھرۃ النیرۃ حد التجاوز ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذاعلا ولم ینحدر لاینقض اھ
وھذاھو الموافق لما تقدم ان المعنی الخروج وظھورہ بالانتقال فاذن لااری ھذا القیل الا مستحدثا بعد ائمتنا علی خلاف مایعطیہ کلامھم جمیعا وعلی خلاف اطلاقات المتون وعامۃ الکتب المعتمدۃ وعلی خلاف ما ھو قضیۃ جمیع الادلۃ الموردۃ من السنۃ و
(۱۲) صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : جب سر زخم سے بہہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسا خون ہے جو اسی وقت رگوں سے منتقل ہوا اور وہ ناپاك خون ہے لیکن جب نہ بہے تو معلوم ہو گا کہ وہ عضو کا خون ہے اھ اسی حکمت کی طرف اشارہ ہے جو امام جلال الدین (جمال الدین)نے بیان کی ۔
(۱۳) جواہر الاخلاطی میں ہے : اگر سر زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے ورنہ نہیں۔ اور بہنا سر زخم سے نیچے اتر آنا ہے اھ۔
(۱۴) خود صاحب سراج وہاج جوہرہ نیرہ میں لکھتے ہیں : “ تجاوز کی حد یہ ہے کہ سر زخم سے نیچے اتر آئے لیکن اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو ناقض نہیں اھ۔
اور یہی اس کے مطابق ہے جو گزرا کہ مقصود خروج ہے اور اس کا ظہور انتقال سے ہوتا ہے تو ان سب کی روشنی میں میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ قول (پھیلے ہوئے پورے ورم کی حد پار کرنا ضروری ہے ) ہمارے ائمہ کے بعد پیدا ہوا ہے جو ان سب حضرات کے مضمون کلام کے برخلاف ہے متون اور عامہ کتب معتمدہ کے اطلاعات کے خلاف ہے اور سنت و قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلوں
وفی ۱۳جواھر الاخلاطی ان سال عن رأس الجرح نقض والا لا والسیلان الانحدار عن رأس الجرح اھ
وقال ۱۴صاحب السراج نفسہ فی الجوھرۃ النیرۃ حد التجاوز ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذاعلا ولم ینحدر لاینقض اھ
وھذاھو الموافق لما تقدم ان المعنی الخروج وظھورہ بالانتقال فاذن لااری ھذا القیل الا مستحدثا بعد ائمتنا علی خلاف مایعطیہ کلامھم جمیعا وعلی خلاف اطلاقات المتون وعامۃ الکتب المعتمدۃ وعلی خلاف ما ھو قضیۃ جمیع الادلۃ الموردۃ من السنۃ و
(۱۲) صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : جب سر زخم سے بہہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسا خون ہے جو اسی وقت رگوں سے منتقل ہوا اور وہ ناپاك خون ہے لیکن جب نہ بہے تو معلوم ہو گا کہ وہ عضو کا خون ہے اھ اسی حکمت کی طرف اشارہ ہے جو امام جلال الدین (جمال الدین)نے بیان کی ۔
(۱۳) جواہر الاخلاطی میں ہے : اگر سر زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے ورنہ نہیں۔ اور بہنا سر زخم سے نیچے اتر آنا ہے اھ۔
(۱۴) خود صاحب سراج وہاج جوہرہ نیرہ میں لکھتے ہیں : “ تجاوز کی حد یہ ہے کہ سر زخم سے نیچے اتر آئے لیکن اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو ناقض نہیں اھ۔
اور یہی اس کے مطابق ہے جو گزرا کہ مقصود خروج ہے اور اس کا ظہور انتقال سے ہوتا ہے تو ان سب کی روشنی میں میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ قول (پھیلے ہوئے پورے ورم کی حد پار کرنا ضروری ہے ) ہمارے ائمہ کے بعد پیدا ہوا ہے جو ان سب حضرات کے مضمون کلام کے برخلاف ہے متون اور عامہ کتب معتمدہ کے اطلاعات کے خلاف ہے اور سنت و قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلوں
حوالہ / References
شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ ، نجاسۃ الدم المسفوح... الخ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۵
جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضوء (قلمی ) ص ۷
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۸
جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضوء (قلمی ) ص ۷
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۸
القیاس کماعلمت۔
و۱۱۸ثالثا : مع قطع فــــ۱ النظر عن کل ذلك ھذا یشبہ فرض محال فقد قدمنا عن الفتح والبحر والغنیۃ ان التطہیر یعم الطہارۃ من الخبث ومعلوم انہ یکون بکل مائع طاھر قالع ولا یشترط فیہ شدۃ الاسالۃ بل تکفی الازالۃ ولو بثلث خرق مبلولۃ وفی الدر “ تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا اھ ولا اعلم ورما یضرہ المسح بخرقۃ بلت بعرق یناسبہ بل ربما ینفع فلعلہ فرض لا یقع۔
و ۱۱۹رابعا : ان لزم صلوحہ لطلب ایقاع التطھیر بالفعل فاذا فــــ۲ کان بالانسان والعیاذ بالله مایضرہ اصابۃ الماء فی شیئ من بدنہ فھذا ان افتصد لایکون حدثا وان اصابتہ شجۃ فی رأسہ
کے تقاضے کے خلاف ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوا ۔
ثالثا : ان سب سے قطع نظر یہ گویا فرض محال ہے اس لئے کہ ہم فتح القدیر البحر الرائق اور قنیہ(غنیہ) کے حوالے سے بیان کر آئے ہیں کہ تطہیر نجاست حقیقیہ سے طہارت کو بھی شامل ہے اور معلوم ہے کہ یہ تطہیر ہر بہنے پاك اور زائل کرنیوالی چیز ہو جاتی ہے اور اس میں تیزی سے بہانا شرط نہیں بلکہ زائل کرنا کافی ہے اگرچہ تین بھگوئے ہوئے پارچوں ہی سے ہو جائے ۔ درمختار میں ہے : “ انگلی اور سر پستان جو نجس ہے اسے کسی وجہ سے تین بار چاٹ لینے پر طہارت ہو جاتی ہے اھ “ میں نہیں جانتا کہ ایسا کوئی ورم ہو گا جسے اس کے مناسب عرق سے بھگوئے ہوئے پارچے سے پونچھنا ضرر دیتا ہو بلکہ ایسا تو نفع بخش ہی ہو گا تو شاید یہ ایسا مفروضہ ہے جو وقوع میں آنے والا نہیں ۔
رابعا : اگر یہ ضروری ہے کہ اس قابل ہو کہ بالفعل تطہیر کو عمل میں لانے کا مطالبہ ہو تو جب انسان کو پناہ بخدا ایسی کوئی بیماری ہو جس کی وجہ سے اس کے جسم کے کسی حصے میں پانی لگنا مضر ہو یہ شخص اگر فصد لگوائے تو حدث نہ ہو اور اگر اس کے سر میں چوٹ
فــــ۱ : ۸۵تطفل رابع علی الحلیۃ والارکان ۔
فـــــ۲ : تطفل خامس علی الحلیۃ و ابن ملك و من معھما۔
و۱۱۸ثالثا : مع قطع فــــ۱ النظر عن کل ذلك ھذا یشبہ فرض محال فقد قدمنا عن الفتح والبحر والغنیۃ ان التطہیر یعم الطہارۃ من الخبث ومعلوم انہ یکون بکل مائع طاھر قالع ولا یشترط فیہ شدۃ الاسالۃ بل تکفی الازالۃ ولو بثلث خرق مبلولۃ وفی الدر “ تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا اھ ولا اعلم ورما یضرہ المسح بخرقۃ بلت بعرق یناسبہ بل ربما ینفع فلعلہ فرض لا یقع۔
و ۱۱۹رابعا : ان لزم صلوحہ لطلب ایقاع التطھیر بالفعل فاذا فــــ۲ کان بالانسان والعیاذ بالله مایضرہ اصابۃ الماء فی شیئ من بدنہ فھذا ان افتصد لایکون حدثا وان اصابتہ شجۃ فی رأسہ
کے تقاضے کے خلاف ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوا ۔
ثالثا : ان سب سے قطع نظر یہ گویا فرض محال ہے اس لئے کہ ہم فتح القدیر البحر الرائق اور قنیہ(غنیہ) کے حوالے سے بیان کر آئے ہیں کہ تطہیر نجاست حقیقیہ سے طہارت کو بھی شامل ہے اور معلوم ہے کہ یہ تطہیر ہر بہنے پاك اور زائل کرنیوالی چیز ہو جاتی ہے اور اس میں تیزی سے بہانا شرط نہیں بلکہ زائل کرنا کافی ہے اگرچہ تین بھگوئے ہوئے پارچوں ہی سے ہو جائے ۔ درمختار میں ہے : “ انگلی اور سر پستان جو نجس ہے اسے کسی وجہ سے تین بار چاٹ لینے پر طہارت ہو جاتی ہے اھ “ میں نہیں جانتا کہ ایسا کوئی ورم ہو گا جسے اس کے مناسب عرق سے بھگوئے ہوئے پارچے سے پونچھنا ضرر دیتا ہو بلکہ ایسا تو نفع بخش ہی ہو گا تو شاید یہ ایسا مفروضہ ہے جو وقوع میں آنے والا نہیں ۔
رابعا : اگر یہ ضروری ہے کہ اس قابل ہو کہ بالفعل تطہیر کو عمل میں لانے کا مطالبہ ہو تو جب انسان کو پناہ بخدا ایسی کوئی بیماری ہو جس کی وجہ سے اس کے جسم کے کسی حصے میں پانی لگنا مضر ہو یہ شخص اگر فصد لگوائے تو حدث نہ ہو اور اگر اس کے سر میں چوٹ
فــــ۱ : ۸۵تطفل رابع علی الحلیۃ والارکان ۔
فـــــ۲ : تطفل خامس علی الحلیۃ و ابن ملك و من معھما۔
حوالہ / References
الدر المختار باب الانجاس مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
فسال الدم من قرنہ الی قدمہ فھو علی وضوئہ ولم یتنجس بھذہ الدماء الفوارۃ بدنہ ولا ثیابہ بل لواخذ غیرہ تلك الدماء ولطخ بھا ثوبہ کان صیغا طیبا طاھرا لان مالیس یحدث لیس بنجس ولو کان المرض باحد شقیہ فان خرج من الشق السلیم دم قدر رأس ذباب بطل وضوؤہ وان افتصد من الشق الماؤف وخرج الدم ارطالا لم یضر وھو طاھر مع انہ ھو الدم المسفوح وھذا کلہ غیر معقول ولا منقول ولا متجہ ولا مقبول فلامریۃ عندی ان المراد کل ماھو ظاھر البدن شرعا وان تأخر طلب ایقاع تطھیرہ بالفعل الی زوال عذر ۔
و رحم الله العلامۃ ابن کمال باشا حیث قال فی الایضاح سال الی مایطھر ای الی موضع یجب ان یطھر بالغسل او مسح عند عدم عذر شرعی لابد من ھذا التعمیم حتی ینتظم الموضع الذی سقط عنہ حکم التطہیر بعذر اھ۔ وتبعہ السید العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ
لگ جائے جس سے خون اس کے سر سے پاؤں تك بہے جب بھی وہ باوضو رہے ۔ اور اس جوش مارتے ہوئے خون سے نہ اس کا بدن نجس ہو نہ کپڑا بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی اسے لے کر اپنے کپڑے میں لگا لے تو اچھا خاصا پاك و پاکیزہ رنگ ہو اس لئے کہ جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں اگر اس کی دوجانبوں میں سے ایك میں بیماری ہو ایسی صورت میں تندرست جانب میں مکھی کے سر برابر خون نکل آئے تو اس کا وضو باطل ہو جائے اور ماؤف جانب اگر فصد لگوائے اور کئی رطل خون نکل آئے تو کچھ نہ بگڑے وہ پاك ہی رہے جب کہ یہ بہتا ہوا خون ہے یہ سب نہ معقول ہے نہ منقول نہ باوجہ نہ مقبول تو میرے نزدیك اس میں کوئی شك نہیں کہ مراد یہ ہے کہ ہر وہ جو شرعا ظاہر بدن ہو اگرچہ بالفعل زوال عذر تك اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہو
خدا کی رحمت ہو علامہ ابن کمال پاشا پر وہ ایضاح میں فرماتے ہیں : “ سال الی ما یطہر “ یعنی ایسی جگہ بہے جسے دھونا یا مسح کرنا عذرشرعی نہ ہونے کے وقت واجب ہو یہ تعمیم ضروری ہے تاکہ حکم اس جگہ کو بھی شامل رہے جس سے کسی عذر کی وجہ سے حکم تطہیر ساقط ہو گیا ہے اھ۔ ان کی پیروی علامہ سید طحطاوی نے بھی حاشیہ مراقی الفلاح
و رحم الله العلامۃ ابن کمال باشا حیث قال فی الایضاح سال الی مایطھر ای الی موضع یجب ان یطھر بالغسل او مسح عند عدم عذر شرعی لابد من ھذا التعمیم حتی ینتظم الموضع الذی سقط عنہ حکم التطہیر بعذر اھ۔ وتبعہ السید العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ
لگ جائے جس سے خون اس کے سر سے پاؤں تك بہے جب بھی وہ باوضو رہے ۔ اور اس جوش مارتے ہوئے خون سے نہ اس کا بدن نجس ہو نہ کپڑا بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی اسے لے کر اپنے کپڑے میں لگا لے تو اچھا خاصا پاك و پاکیزہ رنگ ہو اس لئے کہ جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں اگر اس کی دوجانبوں میں سے ایك میں بیماری ہو ایسی صورت میں تندرست جانب میں مکھی کے سر برابر خون نکل آئے تو اس کا وضو باطل ہو جائے اور ماؤف جانب اگر فصد لگوائے اور کئی رطل خون نکل آئے تو کچھ نہ بگڑے وہ پاك ہی رہے جب کہ یہ بہتا ہوا خون ہے یہ سب نہ معقول ہے نہ منقول نہ باوجہ نہ مقبول تو میرے نزدیك اس میں کوئی شك نہیں کہ مراد یہ ہے کہ ہر وہ جو شرعا ظاہر بدن ہو اگرچہ بالفعل زوال عذر تك اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہو
خدا کی رحمت ہو علامہ ابن کمال پاشا پر وہ ایضاح میں فرماتے ہیں : “ سال الی ما یطہر “ یعنی ایسی جگہ بہے جسے دھونا یا مسح کرنا عذرشرعی نہ ہونے کے وقت واجب ہو یہ تعمیم ضروری ہے تاکہ حکم اس جگہ کو بھی شامل رہے جس سے کسی عذر کی وجہ سے حکم تطہیر ساقط ہو گیا ہے اھ۔ ان کی پیروی علامہ سید طحطاوی نے بھی حاشیہ مراقی الفلاح
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱
مراقی الفلاح والعلامۃ الفھامۃ نوح افندی لما نقل مانقل عن المشکلات عقبہ بقولہ لکن قال بعض المحققین یرید ابن کمال فنقل کلامہ ثم قال وھذا مخالف لما فی المشکلات ولعل الحق ھذا اھ
اقول : اولا بل لك فـــ۱ان تقول فرق بین السقوط والتأخر کما علمت بل ان سقط لعذر فحقیقۃ عــــہ السقوط تعقب الثبوت فذلك یقرر اللحوق ویؤکدہ کما لایخفی۔
وثانیا : لعبارۃ فـــ۲ المشکلات وجہۃ تنجیھا عن المشکلات فانھا فی الجرح وسیاتی بالشرح فلا تتعین للمخالفۃ۔
ھذا مایتعلق بمسئلۃ الورم وما بنیت علیہ واما مسألۃ الجرح فاقول یظھر للعبد الضعیف
میں کی اور علامہ فہامہ نوح آفندی نے جب منقولہ عبارت مشکلات نقل کی تو اس کے بعد یہ بھی فرمایا : لیکن بعض محققین مراد ابن کمال پاشا نے فرمایا پھر ان کی عبارت نقل کی پھر فرمایا یہ اس کے برخلاف ہے جو مشکلات میں ہے اور امید ہے کہ حق یہی ہے اھ۔
اقول : اولا بلکہ آپ کو یہ فرمانا چاہئے کہ ساقط ہونے اور مؤخر میں فرق ہے جیسا کہ معلوم ہوا بلکہ اگر عذر کی وجہ سے ساقط ہوا تو سقوط کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد ثبوت ہو تو یہ حکم طہارت لاحق ہونے کو اور ثابت و مؤکد کرتا ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔
ثانیا : عبارت مشکلات کی ایك صورت ہے جو اسے مشکلات سے نجات دینے والی ہے کیونکہ وہ زخم سے متعلق ہے اور زخم کی تفصیل آگے آرہی ہے تو اس میں مخالفت متعین نہیں ۔
یہ مسئلہ ورم سے متعلق ہے اور وہ جس پر میں نے بنیاد رکھی تھی ۔ اب رہا مسئلہ زخم فاقول بندہ ضعیف کو یہ سمجھ میں آتا ہے
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ ابن کمال باشا۔
فــــ۲ : تطفل علی العلامۃ نوح افندی ۔
عــــہ : ای حقیقتہ الرفع وان اطلق علی الدفع ۱۲منہ ۔
عــــہ : یعنی اس کی حقیقت حکم کااٹھا لینا ہے اگرچہ دفع کرنے پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۱۲ منہ (ت)
اقول : اولا بل لك فـــ۱ان تقول فرق بین السقوط والتأخر کما علمت بل ان سقط لعذر فحقیقۃ عــــہ السقوط تعقب الثبوت فذلك یقرر اللحوق ویؤکدہ کما لایخفی۔
وثانیا : لعبارۃ فـــ۲ المشکلات وجہۃ تنجیھا عن المشکلات فانھا فی الجرح وسیاتی بالشرح فلا تتعین للمخالفۃ۔
ھذا مایتعلق بمسئلۃ الورم وما بنیت علیہ واما مسألۃ الجرح فاقول یظھر للعبد الضعیف
میں کی اور علامہ فہامہ نوح آفندی نے جب منقولہ عبارت مشکلات نقل کی تو اس کے بعد یہ بھی فرمایا : لیکن بعض محققین مراد ابن کمال پاشا نے فرمایا پھر ان کی عبارت نقل کی پھر فرمایا یہ اس کے برخلاف ہے جو مشکلات میں ہے اور امید ہے کہ حق یہی ہے اھ۔
اقول : اولا بلکہ آپ کو یہ فرمانا چاہئے کہ ساقط ہونے اور مؤخر میں فرق ہے جیسا کہ معلوم ہوا بلکہ اگر عذر کی وجہ سے ساقط ہوا تو سقوط کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد ثبوت ہو تو یہ حکم طہارت لاحق ہونے کو اور ثابت و مؤکد کرتا ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔
ثانیا : عبارت مشکلات کی ایك صورت ہے جو اسے مشکلات سے نجات دینے والی ہے کیونکہ وہ زخم سے متعلق ہے اور زخم کی تفصیل آگے آرہی ہے تو اس میں مخالفت متعین نہیں ۔
یہ مسئلہ ورم سے متعلق ہے اور وہ جس پر میں نے بنیاد رکھی تھی ۔ اب رہا مسئلہ زخم فاقول بندہ ضعیف کو یہ سمجھ میں آتا ہے
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ ابن کمال باشا۔
فــــ۲ : تطفل علی العلامۃ نوح افندی ۔
عــــہ : ای حقیقتہ الرفع وان اطلق علی الدفع ۱۲منہ ۔
عــــہ : یعنی اس کی حقیقت حکم کااٹھا لینا ہے اگرچہ دفع کرنے پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱
والله تعالی اعلم ان فــــ۱ الجرح المنبسط لہ ثلث صور :
الاولی : ان یکون انبساطہ فی الباطن فقد تفجر رأسہ وعلی سائرہ جلدۃ ولو متورمۃ ۔
والثانیۃ : بسیط منبسط علی ظاھر البدن لکنہ دقیق لاعرض لہ فلا یظھر للنظر الا کخط اوخیط۔
والثالثۃ : بسیط عریض ظاھر غورہ مرئی قعرہ ۔
فباطن فـــ۲ الاول باطن قطعا حسا وشرعا فان اختلف الدماء فی باطنہ لم یضر وکان کنزول البول الی قصبۃ الذکر وھذا ماقدمنا علی الدر المختار من قولہ والا لاکمالو سال فی باطن عین او جرح اوذکر ولم یخرج اھ
ولا یبعد ان یحمل علیہ مامر عن الشامی عن السراج عن الینابیع
اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے کہ پھیلے ہوئے زخم کی تین صورتیں ہیں :
پہلی صورت یہ کہ اس کا پھیلاؤ صرف اندر ہے اس کا سر اپھٹا ہوا ہے اور باقی زخم پر جلد ہے اگرچہ ورم زدہ ہے ۔
دوسری صورت یہ کہ زخم ظاہر بدن پر بسیط اور پھیلا ہوا ہے لیکن پتلا سا ہے جس میں چوڑائی نہیں نگاہ کو کسی خط یا دھاگے سا معلوم ہوتا ہے ۔
تیسری صورت یہ کہ بسیط و عریض ہے جس کا عمق ظاہر ہے گہرائی نظر آ رہی ہے ۔
تو پہلے زخم کا باطنی حصہ قطعا باطن ہے حسا بھی شرعا بھی تو اگر اس کے باطن میں خون آتے جاتے ہوں تو کوئی ضرر نہ ہو گا اور یہ ایسے ہی ہو گا جیسے ذکر کی نالی میں پیشاب اتر آنا اسی کو ہم نے پہلے درمختار کے حوالے سے بیان کیا کہ : “ ورنہ نہیں جیسے وہ جو آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندرونی حصے میں بہے اور باہر نہ آئے “ اھ۔
اور بعید نہیں کہ اسی پر اسے بھی محمول کر لیا جائے جو شامی کے حوالے سے سراج پھر ینابیع سے
فــــــ ۱ : تحقیق المصنف فی اقسام الجرح المنبسط و احکامھا۔
فــــــ۲ : مسئلہ : زخم اگر جسم کے اندر دور تك پھیلا ہو صرف منہ ظاہر ہے تو اس کے گہراؤ میں خون وغیرہ بہتے رہیں کچھ حرج نہیں جب منہ پر آکر ڈھلکے گا وضو جاتا رہے گا اگرچہ زخم کی سطح سے آگے نہ بڑھے ۔
الاولی : ان یکون انبساطہ فی الباطن فقد تفجر رأسہ وعلی سائرہ جلدۃ ولو متورمۃ ۔
والثانیۃ : بسیط منبسط علی ظاھر البدن لکنہ دقیق لاعرض لہ فلا یظھر للنظر الا کخط اوخیط۔
والثالثۃ : بسیط عریض ظاھر غورہ مرئی قعرہ ۔
فباطن فـــ۲ الاول باطن قطعا حسا وشرعا فان اختلف الدماء فی باطنہ لم یضر وکان کنزول البول الی قصبۃ الذکر وھذا ماقدمنا علی الدر المختار من قولہ والا لاکمالو سال فی باطن عین او جرح اوذکر ولم یخرج اھ
ولا یبعد ان یحمل علیہ مامر عن الشامی عن السراج عن الینابیع
اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے کہ پھیلے ہوئے زخم کی تین صورتیں ہیں :
پہلی صورت یہ کہ اس کا پھیلاؤ صرف اندر ہے اس کا سر اپھٹا ہوا ہے اور باقی زخم پر جلد ہے اگرچہ ورم زدہ ہے ۔
دوسری صورت یہ کہ زخم ظاہر بدن پر بسیط اور پھیلا ہوا ہے لیکن پتلا سا ہے جس میں چوڑائی نہیں نگاہ کو کسی خط یا دھاگے سا معلوم ہوتا ہے ۔
تیسری صورت یہ کہ بسیط و عریض ہے جس کا عمق ظاہر ہے گہرائی نظر آ رہی ہے ۔
تو پہلے زخم کا باطنی حصہ قطعا باطن ہے حسا بھی شرعا بھی تو اگر اس کے باطن میں خون آتے جاتے ہوں تو کوئی ضرر نہ ہو گا اور یہ ایسے ہی ہو گا جیسے ذکر کی نالی میں پیشاب اتر آنا اسی کو ہم نے پہلے درمختار کے حوالے سے بیان کیا کہ : “ ورنہ نہیں جیسے وہ جو آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندرونی حصے میں بہے اور باہر نہ آئے “ اھ۔
اور بعید نہیں کہ اسی پر اسے بھی محمول کر لیا جائے جو شامی کے حوالے سے سراج پھر ینابیع سے
فــــــ ۱ : تحقیق المصنف فی اقسام الجرح المنبسط و احکامھا۔
فــــــ۲ : مسئلہ : زخم اگر جسم کے اندر دور تك پھیلا ہو صرف منہ ظاہر ہے تو اس کے گہراؤ میں خون وغیرہ بہتے رہیں کچھ حرج نہیں جب منہ پر آکر ڈھلکے گا وضو جاتا رہے گا اگرچہ زخم کی سطح سے آگے نہ بڑھے ۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵
فقولہ السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز ای الذی فارمن قعرھا وسال فی غورھا وعلا علی راسھا ولم یتجاوز الراس لیوافق السراج خلاصۃ نفسہ الناصۃ ان حد التجاوز ان ینحدر عن راس الجرح کما تقدم ولا شك ان محمد اروی عنہ فی ھذہ النقض وان الماخوذ عدمہ فصح کل ماذکر السراج وان علمت علی رأسہ ثم انحدرت فلا شك فی انتقاض الوضوء وان لم یتجاوز سطح الورم لوجود الانحدار من الرأس الذی ھونا قض باجماع ائمتنا رضی الله تعالی عنھم ۔
واظن فــــ الثانی ایضا کذالك فان الاتصال ان تفرق ولم تبق جلدۃ تسترہ لکن لدقتہ لایظھر غورہ للنظر الابان یفرق الجانبان بعمل الید بالقبض
نقل ہوا تو ان کی عبارت “ السائل علی الجراحۃ اذا لم یتجاوز “ کا معنی یہ کہ جو جراحت کی تہہ سے ابلا اس کی گہرائی میں بہا اس کے سرے پر چڑھا اور سر سے آگے نہ بڑھا تاکہ سراج اور خود اسی کے خلاصے میں موافقت ہو جائے جس میں یہ صراحت موجود ہے کہ تجاوز کی حد یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے جیسا کہ عبارت گزری اور شك نہیں کہ امام محمد سے اس صورت میں ایك روایت وضو ٹوٹنے کی بھی ہے اور مختار نہ ٹوٹنا ہے تو وہ سب درست ہو گیا جو سراج نے ذکر کیا اور اگر خون سر زخم کے اوپر جائے پھر ڈھلك آئے تو وضو ٹوٹنے میں مجھے کوئی شك نہیں اگرچہ سطح ورم سے تجاوز نہ کرے کیونکہ سر سے ڈھلکنا پا لیا گیا جو ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك بالاجماع ناقض ہے ۔
میں سمجھتا ہوں دوسری صورت کا حکم بھی اسی طرح ہے اس لئے کہ ملاپ اگرچہ ختم ہو گیا اور اسے چھپانے والی کوئی جلد نہ رہی لیکن باریك ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی نظر پر ظاہر نہیں ہوتی مگر جب کہ دونوں کناروں کو مثلا ہاتھ سے
فـــ : مسئلہ : زخم اگر ظاہر جسم ہی پر دور تك پھیلا ہے مگر ایك خط یا ڈورے کی طرح دراز و باریك ہے کہ اس کی اندونی سطح باہر سے نظر نہیں آتی تو ظاہر یہ ہے کہ اس کا حکم بھی اسی محض اندرونی زخم کی طرح ہو گا کہ خون اندر دورہ کرے تو مضائقہ نہیں اور اس کے کناروں تك آجائے تو مضائقہ نہیں جب تك ڈھلکے نہیں اور اگر اس کے بالائی کنارے تك ابل کر بدن کی جلد پر ڈھلکا تو وضو نہ رہے گا اگرچہ زخم کی حد سے آگے نہ بڑھے ۔
واظن فــــ الثانی ایضا کذالك فان الاتصال ان تفرق ولم تبق جلدۃ تسترہ لکن لدقتہ لایظھر غورہ للنظر الابان یفرق الجانبان بعمل الید بالقبض
نقل ہوا تو ان کی عبارت “ السائل علی الجراحۃ اذا لم یتجاوز “ کا معنی یہ کہ جو جراحت کی تہہ سے ابلا اس کی گہرائی میں بہا اس کے سرے پر چڑھا اور سر سے آگے نہ بڑھا تاکہ سراج اور خود اسی کے خلاصے میں موافقت ہو جائے جس میں یہ صراحت موجود ہے کہ تجاوز کی حد یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلك آئے جیسا کہ عبارت گزری اور شك نہیں کہ امام محمد سے اس صورت میں ایك روایت وضو ٹوٹنے کی بھی ہے اور مختار نہ ٹوٹنا ہے تو وہ سب درست ہو گیا جو سراج نے ذکر کیا اور اگر خون سر زخم کے اوپر جائے پھر ڈھلك آئے تو وضو ٹوٹنے میں مجھے کوئی شك نہیں اگرچہ سطح ورم سے تجاوز نہ کرے کیونکہ سر سے ڈھلکنا پا لیا گیا جو ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك بالاجماع ناقض ہے ۔
میں سمجھتا ہوں دوسری صورت کا حکم بھی اسی طرح ہے اس لئے کہ ملاپ اگرچہ ختم ہو گیا اور اسے چھپانے والی کوئی جلد نہ رہی لیکن باریك ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی نظر پر ظاہر نہیں ہوتی مگر جب کہ دونوں کناروں کو مثلا ہاتھ سے
فـــ : مسئلہ : زخم اگر ظاہر جسم ہی پر دور تك پھیلا ہے مگر ایك خط یا ڈورے کی طرح دراز و باریك ہے کہ اس کی اندونی سطح باہر سے نظر نہیں آتی تو ظاہر یہ ہے کہ اس کا حکم بھی اسی محض اندرونی زخم کی طرح ہو گا کہ خون اندر دورہ کرے تو مضائقہ نہیں اور اس کے کناروں تك آجائے تو مضائقہ نہیں جب تك ڈھلکے نہیں اور اگر اس کے بالائی کنارے تك ابل کر بدن کی جلد پر ڈھلکا تو وضو نہ رہے گا اگرچہ زخم کی حد سے آگے نہ بڑھے ۔
والجبذ مثلا ومثل ھذا لایجعل الباطن ظاھرا کما تقدم فی الفرج والشرح فکان کباطنھما بل باطن صماخ الاذن فی البطون مع عدم غطاء من فوق فما سال فیہ ولم یظھر فانما یسیل فی الباطن وما ظھر فان علاولم ینحدر لم ینقض علی المفتی بہ ولو علا علی سطح الجرح کلہ لعدم تحقق الانحدار وھذا المحمل اقرب من الاول لعبارۃ السراج والینابیع اما اذا نبع الدم علی رأسہ فقط ثم انحدر منہ سائلا علی سطحہ فلاشك انہ لعدم العرض فی الجراحۃ یاخذ شیا من الجسم الصحیح ایضا من جنبیھا فیتحقق التجاوز الی البدن الصحیح ایضا ولا یبقی محل للامتراء فی انتقاض الطھر۔
واما الثالث : فـــ فمجال نظر فان الغور الذی ظھر کان من باطن
سمیٹ کر اور کھینچ کر الگ الگ کیا جائے اور ایسی صورت باطن کو ظاہر نہ کر دے گی جیسا کہ فرج اور کنارہ مقام براز سے متعلق گزرا تو اس کا باطن ان ہی دونوں کے باطن کی طرح ہے بلکہ اوپر سے کوئی پردہ نہ ہوتے ہوئے چھپا ہوا ہونے میں سوراخ گوش کے باطن کی طرح ہے تو اس میں جو خون بہے اور ظاہر نہ ہو وہ باطن ہی میں بہنے والا ہے اور جو ظاہر ہو اگرچہ اوپر چڑھا اور نیچے نہ اترا تو قول مفتی بہ پر ناقض نہیں اگرچہ پوری سطح زخم کے اوپر چڑھ جائے کیونکہ نیچے ڈھلکنا متحقق نہ ہوا سراج اور ینابیع کی عبارت کے لئے یہ محمل پہلے سے زیادہ قریب ہے لیکن جب خون صرف سرزخم پر ابل کر آئے پھر اس سے اسکی سطح پر بہتا ہوا ڈھلکے تو جراحت میں عرض نہ ہونے کی وجہ سے بلاشبہہ وہ اس کے دونوں کناروں سے صحت مند جسم کا کچھ حصہ بھی لے لے گا تو بدن صحیح تك بھی تجاوز متحقق ہو جائے گا اور طہارت ٹوٹنے میں کوئی جائے شك باقی نہ رہے گی ۔
لیکن تیسری صورت تو وہ جو لان گاہ نظر ہے اس لئے کہ گہرائی جو ظاہر ہو گئی ہے یہ قطعا پہلے
فــــ : مسئلہ : کھلا ہوا چوڑا گھاؤ جس کی اندرونی سطح باہر سے دکھائی دے ظاہر یہ ہے کہ جب تك اچھا نہ ہو باطن بدن کے حکم میں ہے اگر اس کے اندر خون وغیرہ ابلے کہ اس کے کناروں تك آ جائے اسکے صرف بالائی حصے پر ابل کر اس کے اندر اندر بہے باہر نہ نکلے تو وضو نہ جائے گا نہ وہ خون ناپاك ہو کہ ہنوز اپنے مقام ہی میں دورہ کر رہا ہے ۔
واما الثالث : فـــ فمجال نظر فان الغور الذی ظھر کان من باطن
سمیٹ کر اور کھینچ کر الگ الگ کیا جائے اور ایسی صورت باطن کو ظاہر نہ کر دے گی جیسا کہ فرج اور کنارہ مقام براز سے متعلق گزرا تو اس کا باطن ان ہی دونوں کے باطن کی طرح ہے بلکہ اوپر سے کوئی پردہ نہ ہوتے ہوئے چھپا ہوا ہونے میں سوراخ گوش کے باطن کی طرح ہے تو اس میں جو خون بہے اور ظاہر نہ ہو وہ باطن ہی میں بہنے والا ہے اور جو ظاہر ہو اگرچہ اوپر چڑھا اور نیچے نہ اترا تو قول مفتی بہ پر ناقض نہیں اگرچہ پوری سطح زخم کے اوپر چڑھ جائے کیونکہ نیچے ڈھلکنا متحقق نہ ہوا سراج اور ینابیع کی عبارت کے لئے یہ محمل پہلے سے زیادہ قریب ہے لیکن جب خون صرف سرزخم پر ابل کر آئے پھر اس سے اسکی سطح پر بہتا ہوا ڈھلکے تو جراحت میں عرض نہ ہونے کی وجہ سے بلاشبہہ وہ اس کے دونوں کناروں سے صحت مند جسم کا کچھ حصہ بھی لے لے گا تو بدن صحیح تك بھی تجاوز متحقق ہو جائے گا اور طہارت ٹوٹنے میں کوئی جائے شك باقی نہ رہے گی ۔
لیکن تیسری صورت تو وہ جو لان گاہ نظر ہے اس لئے کہ گہرائی جو ظاہر ہو گئی ہے یہ قطعا پہلے
فــــ : مسئلہ : کھلا ہوا چوڑا گھاؤ جس کی اندرونی سطح باہر سے دکھائی دے ظاہر یہ ہے کہ جب تك اچھا نہ ہو باطن بدن کے حکم میں ہے اگر اس کے اندر خون وغیرہ ابلے کہ اس کے کناروں تك آ جائے اسکے صرف بالائی حصے پر ابل کر اس کے اندر اندر بہے باہر نہ نکلے تو وضو نہ جائے گا نہ وہ خون ناپاك ہو کہ ہنوز اپنے مقام ہی میں دورہ کر رہا ہے ۔
البدن قطعا واذا ظھر ظھر ولم یتناولہ حکم التطھیر بعد فعسی ان یکون باقیا علی حکمہ الاصلی حتی یبرء فینزل علیہ حکم التطہیر ویلتحق بالظاھر شرعا ایضاکما التحق حسا وحینئذ یکون سیلان الدم فیہ سیلانا فی الباطن ویؤیدہ ماتقدم عن الدرر عن المحیط ان مایوازی الدم من اعلی الجرح مکانہ فقضیتہ ان لونبع الدم فیہ حتی یوازی حرفہ من کل جانب لم یضرلانہ علولا انحدار فیلزمہ ان لو نبع فی اعلاہ ثم انحدر فیہ ولم یجاوزہ لم ینقض لانہ منتقل فی مکانہ لاعن مکانہ
وکان ھذا ھو ملحظ مافی المشکلات وخزانۃ الروایات ولا ینافیہ مافی النھر والسراج وط علی المراقی ان فائدۃ ذکرالحکم دفع ورود داخل العین وباطن الجرح اذ حقیقۃ التطہیر
باطن بدن میں شامل تھی اور جب ظاہر ہوئی تو اس حالت میں ظاہر ہوئی کہ ابھی اسے حکم تطہیر شامل نہیں تو شاید یہ اپنے اصلی حکم پر ( باطن بدن ہونے پر) باقی رہے یہاں تك کہ زخم اچھا ہو جائے تو اس پر حکم تطہیر وارد ہو اور یہ ظاہر شرعی میں شامل ہو جائے جیسے بروقت ظاہر حسی میں شامل ہے ایسی صورت میں اس کے اندر خون بہنا باطن میں بہنا ہے اس کی تائید اس کلام سے ہوتی ہے جو بحوالہ درر محیط سے نقل ہوا کہ زخم کے بالائی حصے سے جو خون کے مقابل ہے وہ خون ہی کی جگہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس میں خون ابل کر ہر طرف سے اس کے کنارے کے مقابل ہو گیا تو مضر نہ ہو اس لئے کہ یہ چڑھنا ہے ڈھلکنا نہیں اس پر لازم آتا ہے کہ اگر بالائی حصے میں ابلے پھر اس کے اندر ہی ڈھلك آئے اور اس سے باہر تجاوز نہ کرے تو ناقض نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنی جگہ کے اندر منتقل ہونے والا ہے اپنی جگہ سے منتقل ہونے والا نہیں ۔ گویا یہی مشکلات اور خزانۃالروایات کی عبارت کا مطمع نگاہ ہے اور نہر سراج اور طحطاوی علی مراقی الفلاح کی عبارت اس کے منافی نہیں : اس حکم کو بیان کرنے کا فائدہ داخل چشم اور باطن زخم سے وارد ہونے والے اعتراض کا دفعیہ ہے اس لئے
وکان ھذا ھو ملحظ مافی المشکلات وخزانۃ الروایات ولا ینافیہ مافی النھر والسراج وط علی المراقی ان فائدۃ ذکرالحکم دفع ورود داخل العین وباطن الجرح اذ حقیقۃ التطہیر
باطن بدن میں شامل تھی اور جب ظاہر ہوئی تو اس حالت میں ظاہر ہوئی کہ ابھی اسے حکم تطہیر شامل نہیں تو شاید یہ اپنے اصلی حکم پر ( باطن بدن ہونے پر) باقی رہے یہاں تك کہ زخم اچھا ہو جائے تو اس پر حکم تطہیر وارد ہو اور یہ ظاہر شرعی میں شامل ہو جائے جیسے بروقت ظاہر حسی میں شامل ہے ایسی صورت میں اس کے اندر خون بہنا باطن میں بہنا ہے اس کی تائید اس کلام سے ہوتی ہے جو بحوالہ درر محیط سے نقل ہوا کہ زخم کے بالائی حصے سے جو خون کے مقابل ہے وہ خون ہی کی جگہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس میں خون ابل کر ہر طرف سے اس کے کنارے کے مقابل ہو گیا تو مضر نہ ہو اس لئے کہ یہ چڑھنا ہے ڈھلکنا نہیں اس پر لازم آتا ہے کہ اگر بالائی حصے میں ابلے پھر اس کے اندر ہی ڈھلك آئے اور اس سے باہر تجاوز نہ کرے تو ناقض نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنی جگہ کے اندر منتقل ہونے والا ہے اپنی جگہ سے منتقل ہونے والا نہیں ۔ گویا یہی مشکلات اور خزانۃالروایات کی عبارت کا مطمع نگاہ ہے اور نہر سراج اور طحطاوی علی مراقی الفلاح کی عبارت اس کے منافی نہیں : اس حکم کو بیان کرنے کا فائدہ داخل چشم اور باطن زخم سے وارد ہونے والے اعتراض کا دفعیہ ہے اس لئے
حوالہ / References
درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ، نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
فیہما ممکنۃ وانما الساقط حکمہ اھ۔
فلیس ظاھرا فی جعلہ ظاھرا الا ظاھرا وھو ظاھر بخلاف ماکان ظاھرا ثم عرض عارض فانہ لایخرجہ عن الخروج الی الدخول کما علمت فلیس فیھا ان کل مالایطلب تطہیرہ بالفعل لعذر فالسیلان علیہ لایضرکما اوھم بعض وافہم بعض ۔
وبالجملۃ ماکان ظاھرا لایصیر بالعذر باطنا کما افاد ابن الکمال وما کان باطنا لعلہ لایصیر ظاھرا مالم ینزل علیہ حکم التطہیر کما یفھم من المشکلات وخزانۃ الروایات او النھر والینابیع وطحطاوی المراقی وردالمحتار ایضا۔
فھذا مایترا ای لی ویحتاج الی زیادۃ تحریر فمن ظفر بہ من کلمات العلماء فلیسعفنا بالاطلاع علیہ لعل الله یحدث بعد ذلك امرا ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
کہ حقیقت تطہیر ان دونوں میں ممکن ہے صرف حکم تطہیر ساقط ہے اھ ۔ یہ عبارت بجز ظاہر حسی کے اسے ظاہر بدن قرار دینے میں ظاہر نہیں اور ظاہر حسی ہونا توظاہر ہے بخلاف اس کے جو پہلے ظاہر بدن تھا پھر اس پر کوئی عارض در آیا کہ یہ اسے خروج سے نکال کر دخول میں نہ ملا دے گا جیسا کہ معلوم ہوا تو مشکلات میں یہ نہیں کہ ہر وہ جس کی تطہیر بالفعل کسی عذر کی وجہ سے مطلوب نہیں تو اس پر خون بہنا مضر نہیں جیسا کہ بعض نے اس کا وہم پیدا کیا اور بعض کی عبارت سے مفہوم ہوا ۔
مختصر یہ کہ جو پہلے ظاہر تھا وہ عذر کی وجہ سے باطن نہ ہو جائے گا جیسا کہ ابن کمال نے افادہ فرمایا اور جو باطن تھا امید یہی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے گا جب تك کہ اس پر حکم تطہیر وارد نہ ہو۔ جیسا کہ مشکلات اور خزانۃالروایات سے مفہوم ہوتا ہے یا نہر ینابیع طحطاوی علی مراقی الفلاح اور ردالمحتار سے بھی ۔
یہ وہ ہے جو مجھے سمجھ میں آیا ہے اور اس میں مزید تنقیح کی ضرورت ہے جسے کلمات علماء سے دستیاب ہو وہ ہمیں مطلع کر کے حاجت روائی کرے شاید ا س کے بعد خدا کوئی اور امر ظاہر فرمائے اور طاقت و قوت نہیں مگر برتری و عظمت والے خدا ہی سے ۔
فلیس ظاھرا فی جعلہ ظاھرا الا ظاھرا وھو ظاھر بخلاف ماکان ظاھرا ثم عرض عارض فانہ لایخرجہ عن الخروج الی الدخول کما علمت فلیس فیھا ان کل مالایطلب تطہیرہ بالفعل لعذر فالسیلان علیہ لایضرکما اوھم بعض وافہم بعض ۔
وبالجملۃ ماکان ظاھرا لایصیر بالعذر باطنا کما افاد ابن الکمال وما کان باطنا لعلہ لایصیر ظاھرا مالم ینزل علیہ حکم التطہیر کما یفھم من المشکلات وخزانۃ الروایات او النھر والینابیع وطحطاوی المراقی وردالمحتار ایضا۔
فھذا مایترا ای لی ویحتاج الی زیادۃ تحریر فمن ظفر بہ من کلمات العلماء فلیسعفنا بالاطلاع علیہ لعل الله یحدث بعد ذلك امرا ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم۔
کہ حقیقت تطہیر ان دونوں میں ممکن ہے صرف حکم تطہیر ساقط ہے اھ ۔ یہ عبارت بجز ظاہر حسی کے اسے ظاہر بدن قرار دینے میں ظاہر نہیں اور ظاہر حسی ہونا توظاہر ہے بخلاف اس کے جو پہلے ظاہر بدن تھا پھر اس پر کوئی عارض در آیا کہ یہ اسے خروج سے نکال کر دخول میں نہ ملا دے گا جیسا کہ معلوم ہوا تو مشکلات میں یہ نہیں کہ ہر وہ جس کی تطہیر بالفعل کسی عذر کی وجہ سے مطلوب نہیں تو اس پر خون بہنا مضر نہیں جیسا کہ بعض نے اس کا وہم پیدا کیا اور بعض کی عبارت سے مفہوم ہوا ۔
مختصر یہ کہ جو پہلے ظاہر تھا وہ عذر کی وجہ سے باطن نہ ہو جائے گا جیسا کہ ابن کمال نے افادہ فرمایا اور جو باطن تھا امید یہی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے گا جب تك کہ اس پر حکم تطہیر وارد نہ ہو۔ جیسا کہ مشکلات اور خزانۃالروایات سے مفہوم ہوتا ہے یا نہر ینابیع طحطاوی علی مراقی الفلاح اور ردالمحتار سے بھی ۔
یہ وہ ہے جو مجھے سمجھ میں آیا ہے اور اس میں مزید تنقیح کی ضرورت ہے جسے کلمات علماء سے دستیاب ہو وہ ہمیں مطلع کر کے حاجت روائی کرے شاید ا س کے بعد خدا کوئی اور امر ظاہر فرمائے اور طاقت و قوت نہیں مگر برتری و عظمت والے خدا ہی سے ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ص ۸۶
السادس : تقدم ان الدم فی مجلس یجمع وھی الروایۃ الدوارۃ فی الکتب اجمع لکن قال فـــــ الامام الاجل برھان الملۃ والدین صاحب الہدایۃ رحمہ الله تعالی فی کتابہ مختارات النوازل فی فصل النجاسۃ الدم اذا خرج من القروح قلیلا قلیلا غیر سائل فذاك لیس بمانع وان کثر وقیل لوکان بحال لوترکہ لسال یمنع اھ
ثم اعاد المسألۃ فی نواقض الوضوء فقال ولو خرج منہ شیئ قلیل ومسحہ بخرقۃ حتی لو ترك یسیل لاینقض وقیل الخ۔
فھذا صریح فی ترجیح عدم الجمع مطلقا لکنہ متوغل فی الغرابۃ
تنبیہ ششم : گزر چکا کہ ایك مجلس میں تھوڑا تھوڑا چند بار آنے والا خون جمع کیا جائے گا یہی وہ روایت ہے جو تمام کتابوں میں متداول ہے لیکن امام اجل برہان الملۃ و الدین صاحب ہدایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے مختارات النوازل فصل النجاسۃ میں لکھا ہے : “ پھوڑے سے خون جب تھوڑا تھوڑا نکلے بہنے والا نہ ہو تو وہ مانع نہیں اگرچہ زیادہ ہو جائے اورکہا گیا کہ اگر اس کی یہ حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیا جاتا تو بہتا تو وہ مانع ہے “ اھ
پھر ناقض وضو میں یہ مسئلہ دوبارہ لائے تو کہا : “ اگر اس سے کچھ تھوڑا نکلے اور اسے کسی کپڑے سے پونچھ دے یہاں تك کہ اگر چھوڑ دیتا تو بہتا تو ایسا خون ناقض نہیں اور کہا گیا الخ۔ “
تو یہ نہ جمع کئے جانے کے حکم کی مطلقا ترجیح میں تصریح ہے لیکن یہ قول انتہائی غرابت
فـــــ : مسئلہ : صاحب ہدایہ نے ایك کتاب میں فرمایا کہ خون جو تھوڑا تھوڑا نکلے کہ کسی دفعہ کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہ ہو اگرچہ جمع کرنے سے کتنا ہی ہو جائے اصلا ناقض وضو نہیں اگرچہ ایك ہی مجلس میں نکلے یہ قول خلاف مشہور و مخالف جمہور ہے بے ضرورت اس پر عمل جائز نہیں ہاں جو ایسے زخم یا آبلوں میں مبتلا ہو جس سے اکثر خون یا ریم قلیل نکلتا رہتا ہے کہ ایك بار کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہیں ہوتا مگر جلسہ واحدہ کا جمع کئے سے ہو جاتا ہے اور بار بار وضو اور کپڑوں کی تطہیر موجب ضیق کثیر ہے کہ معذوری کی حد تك نہ پہنچا اس کے لئے اس پر عمل میں بہت آسانی ہے ۔
ثم اعاد المسألۃ فی نواقض الوضوء فقال ولو خرج منہ شیئ قلیل ومسحہ بخرقۃ حتی لو ترك یسیل لاینقض وقیل الخ۔
فھذا صریح فی ترجیح عدم الجمع مطلقا لکنہ متوغل فی الغرابۃ
تنبیہ ششم : گزر چکا کہ ایك مجلس میں تھوڑا تھوڑا چند بار آنے والا خون جمع کیا جائے گا یہی وہ روایت ہے جو تمام کتابوں میں متداول ہے لیکن امام اجل برہان الملۃ و الدین صاحب ہدایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے مختارات النوازل فصل النجاسۃ میں لکھا ہے : “ پھوڑے سے خون جب تھوڑا تھوڑا نکلے بہنے والا نہ ہو تو وہ مانع نہیں اگرچہ زیادہ ہو جائے اورکہا گیا کہ اگر اس کی یہ حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیا جاتا تو بہتا تو وہ مانع ہے “ اھ
پھر ناقض وضو میں یہ مسئلہ دوبارہ لائے تو کہا : “ اگر اس سے کچھ تھوڑا نکلے اور اسے کسی کپڑے سے پونچھ دے یہاں تك کہ اگر چھوڑ دیتا تو بہتا تو ایسا خون ناقض نہیں اور کہا گیا الخ۔ “
تو یہ نہ جمع کئے جانے کے حکم کی مطلقا ترجیح میں تصریح ہے لیکن یہ قول انتہائی غرابت
فـــــ : مسئلہ : صاحب ہدایہ نے ایك کتاب میں فرمایا کہ خون جو تھوڑا تھوڑا نکلے کہ کسی دفعہ کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہ ہو اگرچہ جمع کرنے سے کتنا ہی ہو جائے اصلا ناقض وضو نہیں اگرچہ ایك ہی مجلس میں نکلے یہ قول خلاف مشہور و مخالف جمہور ہے بے ضرورت اس پر عمل جائز نہیں ہاں جو ایسے زخم یا آبلوں میں مبتلا ہو جس سے اکثر خون یا ریم قلیل نکلتا رہتا ہے کہ ایك بار کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہیں ہوتا مگر جلسہ واحدہ کا جمع کئے سے ہو جاتا ہے اور بار بار وضو اور کپڑوں کی تطہیر موجب ضیق کثیر ہے کہ معذوری کی حد تك نہ پہنچا اس کے لئے اس پر عمل میں بہت آسانی ہے ۔
حوالہ / References
الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۶۳
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹
حتی قال العلامۃ الشامی لم ارمن سبقہ الیہ ولامن تابعہ علیہ بعد المراجعۃ الکثیرۃ فھو قول شاذ قال ولکن صاحب فــــ الھدایۃ امام جلیل من اعظم مشائخ المذھب من طبقۃ اصحاب التخریج والتصحیح فیجوز للمعذ ورتقلیدہ فی ھذا القول عند الضرورۃ فان فیہ توسعۃ عظیمۃ لاھل الاعذار قال وقد کنت ابتلیت مدۃ بکی الحمصۃ ولم اجد ماتصح بہ صلاتی علی مذھبنا بلامشقۃ الا علی ھذا القول فاضطررت الی تقلیدہ ثم لماعافانی الله تعالی منہ اعدت صلاۃ تلك المدۃ ولله تعالی الحمد اھ ھذا کلامہ فی شرح منظومتہ فی رسم المفتی
وقال فی الفوائد المخصصۃ صاحب الہدایۃ من اجل اصحاب
رکھتا ہے یہاں تك کہ علامہ شامی نے فرمایا کہ بہت مراجعت اور جستجو کے باوجود مجھے کوئی ایسا نظر نہ آیا جس نے ان سے پہلے یہ قول کیا ہو اور نہ ان کے بعد کوئی ملا جس نے اس قول میں ان کی متابعت کی ہو تو وہ ایك شاذ قول ہے (آگے فرمایا ) لیکن صاحب ہدایہ عظیم تر مشائخ مذہب میں سے امام جلیل اصحاب تخریج و تصحیح کے طبقہ سے ہیں تو وقت ضرورت معذور کے لئے اس قول میں ان کی تقلید روا ہے اس لئے کہ عذر والوں کے لئے اس میں بڑی وسعت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں : میں ایك مدت تك آبلوں کی بیماری میں مبتلا تھا اور ایسی صورت نہ پاتا تھا جس میں ہمارے مذہب کے مطابق میری نماز بلامشقت درست ہو سکے سوا اس قول کے تو مجبورا میں نے اس کی تقلید کی پھر جب الله تعالی نے مجھے اس سے عافیت بخشی تو اس مدت کی نمازوں کا میں نے اعادہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ولله تعالی الحمد اھ یہ علامہ شامی کا وہ کلام ہے جو رسم المفتی میں اپنے منظومہ کی شرح میں انہوں نے لکھا ہے
اور فوائد مخصصہ میں لکھتے ہیں : صاحب ہدایہ بزرگ تر
فــــ : صاحب الہدایۃ امام جلیل من ائمۃ التخریج وا لترجیح یجوز تقلیدہ ۔
وقال فی الفوائد المخصصۃ صاحب الہدایۃ من اجل اصحاب
رکھتا ہے یہاں تك کہ علامہ شامی نے فرمایا کہ بہت مراجعت اور جستجو کے باوجود مجھے کوئی ایسا نظر نہ آیا جس نے ان سے پہلے یہ قول کیا ہو اور نہ ان کے بعد کوئی ملا جس نے اس قول میں ان کی متابعت کی ہو تو وہ ایك شاذ قول ہے (آگے فرمایا ) لیکن صاحب ہدایہ عظیم تر مشائخ مذہب میں سے امام جلیل اصحاب تخریج و تصحیح کے طبقہ سے ہیں تو وقت ضرورت معذور کے لئے اس قول میں ان کی تقلید روا ہے اس لئے کہ عذر والوں کے لئے اس میں بڑی وسعت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں : میں ایك مدت تك آبلوں کی بیماری میں مبتلا تھا اور ایسی صورت نہ پاتا تھا جس میں ہمارے مذہب کے مطابق میری نماز بلامشقت درست ہو سکے سوا اس قول کے تو مجبورا میں نے اس کی تقلید کی پھر جب الله تعالی نے مجھے اس سے عافیت بخشی تو اس مدت کی نمازوں کا میں نے اعادہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ولله تعالی الحمد اھ یہ علامہ شامی کا وہ کلام ہے جو رسم المفتی میں اپنے منظومہ کی شرح میں انہوں نے لکھا ہے
اور فوائد مخصصہ میں لکھتے ہیں : صاحب ہدایہ بزرگ تر
فــــ : صاحب الہدایۃ امام جلیل من ائمۃ التخریج وا لترجیح یجوز تقلیدہ ۔
حوالہ / References
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹ ، ۵۰
شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹ ، ۵۰
الترجیح فیجوز للمبتلی تقلیدہ لان فیما ذکرناہ مشقۃ عظیمۃ فجزاہ الله تعالی خیر الجزاء حیث اختار التوسیع والتسہیل الذی بنیت علیہ ھذہ الشریعۃ الغراء السہلۃ السمحۃ اھ
اقول : جوزالامام الکبیر العلم الشہیر الخصاف تزویج الوکیل مؤکلتہ بغیبتھا من دون تسمیتھا قال فـــــ۱ الامام شمس الائمۃ السرخسی الخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ فقال فی البحر فـــــ۲ المختار فی المذھب خلاف ما قالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا اھ
وفی الدرعن تصحیح القدوری الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع اھ
وفی عدۃ رد فـــــ۳ المحتار التقلید اصحاب ترجیح سے ہیں تو مبتلا کے لئے ان کی تقلید جائز ہے اس لئے کہ جو ہم نے ذکر کیا اس میں بڑی مشقت ہے تو خدائے تعالی انہیں جزائے خیر بخشے کہ وہ توسیع و تسہیل اختیار کی جس پر اس روشن سہل آسان شریعت کی بنیاد رکھی گئی ۔ اھ
اقول : امام کبیر علم شہیر خصاف نے جائز قرار دیا ہے کہ وکیل اپنی مؤکلہ کا نکاح اس کی غیر موجودگی میں اس کا نام لئے بغیر کر دے امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : خصاف علم میں بزرگ تھے ان کی اقتداء ہو سکتی ہے اس پر بحر میں فرمایا : مذہب مختار اس کے برخلاف ہے جو خصاف نے فرمایا اگرچہ خصاف بزرگ ہیں اھ۔
اور درمختار میں تصحیح قدوری کے حوالے سے ہے قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے اھ۔
ردالمحتار کے باب العدۃ میں ہے : تقلید
فــــــ۱ : الخصاف کبیر فی العلم یجوز اقتداؤہ ۔
فــــــ۲ : العلم بما ھو المختار فی المذھب و ان کان قائل خلافہ اما ما کبیرا۔
فـــــــ۳ : تقلید الغیر عند الضرورۃ و ان جاز بشروطہ فلعمل نفسہ اما الافتاء فلایکون الا فی الراجح فی المذھب۔
اقول : جوزالامام الکبیر العلم الشہیر الخصاف تزویج الوکیل مؤکلتہ بغیبتھا من دون تسمیتھا قال فـــــ۱ الامام شمس الائمۃ السرخسی الخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ فقال فی البحر فـــــ۲ المختار فی المذھب خلاف ما قالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا اھ
وفی الدرعن تصحیح القدوری الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع اھ
وفی عدۃ رد فـــــ۳ المحتار التقلید اصحاب ترجیح سے ہیں تو مبتلا کے لئے ان کی تقلید جائز ہے اس لئے کہ جو ہم نے ذکر کیا اس میں بڑی مشقت ہے تو خدائے تعالی انہیں جزائے خیر بخشے کہ وہ توسیع و تسہیل اختیار کی جس پر اس روشن سہل آسان شریعت کی بنیاد رکھی گئی ۔ اھ
اقول : امام کبیر علم شہیر خصاف نے جائز قرار دیا ہے کہ وکیل اپنی مؤکلہ کا نکاح اس کی غیر موجودگی میں اس کا نام لئے بغیر کر دے امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : خصاف علم میں بزرگ تھے ان کی اقتداء ہو سکتی ہے اس پر بحر میں فرمایا : مذہب مختار اس کے برخلاف ہے جو خصاف نے فرمایا اگرچہ خصاف بزرگ ہیں اھ۔
اور درمختار میں تصحیح قدوری کے حوالے سے ہے قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے اھ۔
ردالمحتار کے باب العدۃ میں ہے : تقلید
فــــــ۱ : الخصاف کبیر فی العلم یجوز اقتداؤہ ۔
فــــــ۲ : العلم بما ھو المختار فی المذھب و ان کان قائل خلافہ اما ما کبیرا۔
فـــــــ۳ : تقلید الغیر عند الضرورۃ و ان جاز بشروطہ فلعمل نفسہ اما الافتاء فلایکون الا فی الراجح فی المذھب۔
حوالہ / References
الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۶۳
البحر الرائق کتاب النکاح فصل لابن العم ان یزوج الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۳۷
الدر المختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
البحر الرائق کتاب النکاح فصل لابن العم ان یزوج الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۱۳۷
الدر المختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
وان جاز بشرطہ فھو للعامل لنفسہ لاللمفتی لغیرہ فلا یفتی بغیر الراجح فی مذھبہ اھ۔
نعم للمبتلی فیہ مافیہ من ترفیہ وھو ایسر فـــــ۱ لہ من تقلید الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ فان النجاۃ من التلفیق شأو سحیق وبالله التوفیق۔
السابع : قولھم فـــــ۲ مالیس بحدث لیس بنجس قضیۃ نفیسۃ مفیدۃ افادھا الامام قاضی الشرق والغرب سیدنا ابو یوسف رضی الله تعالی عنہ وھی مذکورۃ کذلك فی متون المذھب وغیرھا وزاد الشراح نفی عکسھا فقالوا انھا لاتنعکس فلا یقال مالایکون نجسا لایکون حدثا کما فی الدرایۃ وغیرھا۔
قال العلامۃ الشامی یرید بہ العکس المستوی لانہ جعل الجزء الاول ثانیا والثانی اولا مع بقاء الصدق والکیف بحالھما
اگرچہ جائز ہے مگر اس کے لئے جو خود عمل کرنے والا ہے اس کے لئے نہیں جو دوسرے کو فتوی دینے والا ہے وہ اس پر فتوی نہ دے گا جو اس کے مذہب میں غیر راجح ہو اھ۔
ہاں اس میں مبتلا کے لئے راحت و آسانی ہے اور یہ اس کے لئے امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکی تقلید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ تلفیق سے نجات حاصل کرنا دور کی راہ ہے وبالله التوفیق۔
تنبیہ ہفتم : قول علماء : “ ما لیس بحدث لیس بنجس جو حدث نہیں وہ نجس نہیں “ ایك نفیس نفع بخش قاعدہ ہے جس کا افادہ قاضی شرق و غرب سیدنا ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا اور متون مذہب وغیرہ میں یہ اسی طرح مذکور ہے شارحین نے اس کے عکس کی نفی کا اضافہ کیا اور فرمایا کہ اس کا عکس نہ ہو گا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث نہ ہو گا جیسا کہ درایہ وغیرہ میں ہے ۔
علامہ شامی نے کہا کہ اس سے عکس مستوی مراد ہے کیونکہ وہ جز اول کو ثانی اور ثانی کو اول کر دینے کا نام ہے اس طرح کہ صدق اور کیف اپنی حالت پر
فـــــ۱ : عند الضرورۃ تقلید قیل فی المذھب احسن من تقلید مذھب الغیر ۔
فـــــ۲ : تحقیق قولہم ما لیس بحدث لیس بنجس قضیۃ و عکسا ۔
نعم للمبتلی فیہ مافیہ من ترفیہ وھو ایسر فـــــ۱ لہ من تقلید الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ فان النجاۃ من التلفیق شأو سحیق وبالله التوفیق۔
السابع : قولھم فـــــ۲ مالیس بحدث لیس بنجس قضیۃ نفیسۃ مفیدۃ افادھا الامام قاضی الشرق والغرب سیدنا ابو یوسف رضی الله تعالی عنہ وھی مذکورۃ کذلك فی متون المذھب وغیرھا وزاد الشراح نفی عکسھا فقالوا انھا لاتنعکس فلا یقال مالایکون نجسا لایکون حدثا کما فی الدرایۃ وغیرھا۔
قال العلامۃ الشامی یرید بہ العکس المستوی لانہ جعل الجزء الاول ثانیا والثانی اولا مع بقاء الصدق والکیف بحالھما
اگرچہ جائز ہے مگر اس کے لئے جو خود عمل کرنے والا ہے اس کے لئے نہیں جو دوسرے کو فتوی دینے والا ہے وہ اس پر فتوی نہ دے گا جو اس کے مذہب میں غیر راجح ہو اھ۔
ہاں اس میں مبتلا کے لئے راحت و آسانی ہے اور یہ اس کے لئے امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکی تقلید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ تلفیق سے نجات حاصل کرنا دور کی راہ ہے وبالله التوفیق۔
تنبیہ ہفتم : قول علماء : “ ما لیس بحدث لیس بنجس جو حدث نہیں وہ نجس نہیں “ ایك نفیس نفع بخش قاعدہ ہے جس کا افادہ قاضی شرق و غرب سیدنا ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا اور متون مذہب وغیرہ میں یہ اسی طرح مذکور ہے شارحین نے اس کے عکس کی نفی کا اضافہ کیا اور فرمایا کہ اس کا عکس نہ ہو گا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث نہ ہو گا جیسا کہ درایہ وغیرہ میں ہے ۔
علامہ شامی نے کہا کہ اس سے عکس مستوی مراد ہے کیونکہ وہ جز اول کو ثانی اور ثانی کو اول کر دینے کا نام ہے اس طرح کہ صدق اور کیف اپنی حالت پر
فـــــ۱ : عند الضرورۃ تقلید قیل فی المذھب احسن من تقلید مذھب الغیر ۔
فـــــ۲ : تحقیق قولہم ما لیس بحدث لیس بنجس قضیۃ و عکسا ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۰۲
وعزاہ للشیخ اسمعیل والد سیدی عبدالغنی النابلسی رحمہم الله تعالی۔
اقول : ھذہ فـــــ زلۃ واضحۃ فانھم لوارادوا بہ العکس المنطقی لکان نفیہ نفی الاصل لان العکس من اللوازم ولم فــــ یلتفت رحمہ الله تعالی الی قول نفسہ مع بقاء الصدق فاذا کان الصدق باقیا فکیف یصح بل الحق انھم انما یریدون فی امثال المقام نفی العکس العرفی وھو عکس الموجبۃ الکلیۃ کنفسھا تقول کل حلال طاھر ولا عکس ای لیس کل طاھر حلالا وھذا معہود متعارف فی الکتب العقلیۃ ایضا تراھم یقولون ارتفاع العام یستلزم ارتفاع الخاص ولاعکس ونفی اللازم یستلزم نفی الملزوم ولاعکس الی غیر ذلك وھذا اظہر من ان یظھر ثم اختلف نظر الفاضلین اقی
رہیں اور اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی کے والد شیخ اسمعیل رحمہم اللہ تعالیکی طرف منسوب کیا ۔
اقول : یہ کھلی ہوئی لغزش ہے اس لئے کہ اگر عکس منطقی مراد ہوتا تو اس کی نفی سے اصل ہی کی نفی ہو جاتی اس لئے کہ عکس لازم قضیہ ہوتا ہے (اگر کوئی قضیہ ہے تو اس کا عکس بھی ضرور ہو گا ) انہوں نے خود اپنے قول “ مع بقاء الصدق ا س طرح کہ صدق باقی رہے “ کی طرف التفات نہ کیا جب صدق باقی رہے گا تو اس کی نفی کیسے صحیح ہو گی بلکہ حق یہ ہے کہ اس طرح کے مقامات میں عکس عرفی کی نفی مراد لیتے ہیں وہ یہ کہ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ کلیہ ہو آپ کہتے ہیں کل حلال طاہر و لا عکس ای لیس کل طاہر حلالا ہر حلال پاك ہے اور اس کا عکس نہیں یعنی ہر پاك حلال نہیں یہ کتب عقلیہ میں بھی معہود و متعارف ہے آپ دیکھیں گے کہ وہ کہتے ہیں کہ ارتفاع عام ارتفاع خاص کو مستلزم ہے (عام یہ ہو گا تو خاص بھی نہ ہو گا ) اور اس کا عکس نہیں نفی لازم نفی ملزوم کو مستلزم ہے اور اس کا عکس نہیں اس کی بہت ساری مثالیں ہیں اور یہ اتنا
فــــــ۱ : تطفل علی الشیخ اسمعیل النابلسی و العلامۃ ش ۔
فــــــ۲ : تطفل اخر علیہما ۔
فـــــ۳ : الفرق بین العکس المنطقی و العرفی و ان العرفی معروف حتی فی الکتب العقلیۃ والمنطقیۃ ۔
اقول : ھذہ فـــــ زلۃ واضحۃ فانھم لوارادوا بہ العکس المنطقی لکان نفیہ نفی الاصل لان العکس من اللوازم ولم فــــ یلتفت رحمہ الله تعالی الی قول نفسہ مع بقاء الصدق فاذا کان الصدق باقیا فکیف یصح بل الحق انھم انما یریدون فی امثال المقام نفی العکس العرفی وھو عکس الموجبۃ الکلیۃ کنفسھا تقول کل حلال طاھر ولا عکس ای لیس کل طاھر حلالا وھذا معہود متعارف فی الکتب العقلیۃ ایضا تراھم یقولون ارتفاع العام یستلزم ارتفاع الخاص ولاعکس ونفی اللازم یستلزم نفی الملزوم ولاعکس الی غیر ذلك وھذا اظہر من ان یظھر ثم اختلف نظر الفاضلین اقی
رہیں اور اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی کے والد شیخ اسمعیل رحمہم اللہ تعالیکی طرف منسوب کیا ۔
اقول : یہ کھلی ہوئی لغزش ہے اس لئے کہ اگر عکس منطقی مراد ہوتا تو اس کی نفی سے اصل ہی کی نفی ہو جاتی اس لئے کہ عکس لازم قضیہ ہوتا ہے (اگر کوئی قضیہ ہے تو اس کا عکس بھی ضرور ہو گا ) انہوں نے خود اپنے قول “ مع بقاء الصدق ا س طرح کہ صدق باقی رہے “ کی طرف التفات نہ کیا جب صدق باقی رہے گا تو اس کی نفی کیسے صحیح ہو گی بلکہ حق یہ ہے کہ اس طرح کے مقامات میں عکس عرفی کی نفی مراد لیتے ہیں وہ یہ کہ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ کلیہ ہو آپ کہتے ہیں کل حلال طاہر و لا عکس ای لیس کل طاہر حلالا ہر حلال پاك ہے اور اس کا عکس نہیں یعنی ہر پاك حلال نہیں یہ کتب عقلیہ میں بھی معہود و متعارف ہے آپ دیکھیں گے کہ وہ کہتے ہیں کہ ارتفاع عام ارتفاع خاص کو مستلزم ہے (عام یہ ہو گا تو خاص بھی نہ ہو گا ) اور اس کا عکس نہیں نفی لازم نفی ملزوم کو مستلزم ہے اور اس کا عکس نہیں اس کی بہت ساری مثالیں ہیں اور یہ اتنا
فــــــ۱ : تطفل علی الشیخ اسمعیل النابلسی و العلامۃ ش ۔
فــــــ۲ : تطفل اخر علیہما ۔
فـــــ۳ : الفرق بین العکس المنطقی و العرفی و ان العرفی معروف حتی فی الکتب العقلیۃ والمنطقیۃ ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۵
البر جندی والشیخ اسمعیل فی کیف ھذہ القضیۃ فجعلھا البرجندی موجبۃ وشارح الدر ر سالبۃ۔
فی شرح النقایۃ مالیس بحدث لیس بنجس ای کل مالیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین وغیرھما لیس بنجس ھذہ الکلیۃ السالبۃ الطرفین تنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ولا یستلزم ذلك ان یکون کل حدث نجسا وھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ لکان لہ وجہ وسلمت عن توھم الدور اھ مختصرا۔
اقول : ویرد علیہ اولا ان الاشیاء المذکورۃ اعنی الخارجۃ من بدن المکلف انما اریدت بما وھی من الموضوع دون المحمول فمن ان یاتی ھذا التقیید فی موضوع العکس وبدونہ یبقی کاذبا فیکذب الاصل۔
وثانیا : لیس موضوع الاصل لیس
ظاہر ہے کہ محتاج اظہار نہیں پھر فاضل برجندی اور شیخ اسمعیل کے درمیان اس قضیہ کی کیفیت ( ایجاب و سلب ) میں اختلاف نظر ہوا برجندی نے اسے موجبہ قرار دیا اور شارح درر نے سالبہ ٹھہرایا ۔
شرح نقایہ میں ہے : ما لیس بحدث لیس بنجس ای کل ما لیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین و غیرہما لیس بنجس یعنی سبیلین اور غیر سبیلین سے نکلنے والی چیزوں میں سے ہر وہ جو حدث نہیں وہ نجس نہیں اس سالبہ الطرفین کلیہ کا عکس نقیض یہ ہو گا ۔ کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ۔ مذکورہ اشیاء سے ہر نجس حدث ہے اور یہ اس کو مستلزم نہیں کہ ہر حدث نجس ہو اور یہ کلیہ اگر قے کے مباحث کے متعلق کر دیا جاتا تو اس کی ایك صورت ہوتی اور دور کے وہم سے سلامت رہتا اھ مختصرا۔
اقول : اس پر چند اعتراضات وارد ہوں گے اولا اشیائے مذکورہ یعنی خارجہ من البدن المکلف “ ما “ سے مراد لی گئیں اور ما موضوع کا جز ہے محمول کا نہیں تو یہ قید عکس کے موضوع میں کہاں سے آ جائے گا اور اگر یہ قید نہ ہو تو عکس کاذب ہو جائے گا تو اصل بھی کاذب ہو جائے گی۔
ثانیا : اصل کا موضوع “ لیس بحدث “
فی شرح النقایۃ مالیس بحدث لیس بنجس ای کل مالیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین وغیرھما لیس بنجس ھذہ الکلیۃ السالبۃ الطرفین تنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ولا یستلزم ذلك ان یکون کل حدث نجسا وھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ لکان لہ وجہ وسلمت عن توھم الدور اھ مختصرا۔
اقول : ویرد علیہ اولا ان الاشیاء المذکورۃ اعنی الخارجۃ من بدن المکلف انما اریدت بما وھی من الموضوع دون المحمول فمن ان یاتی ھذا التقیید فی موضوع العکس وبدونہ یبقی کاذبا فیکذب الاصل۔
وثانیا : لیس موضوع الاصل لیس
ظاہر ہے کہ محتاج اظہار نہیں پھر فاضل برجندی اور شیخ اسمعیل کے درمیان اس قضیہ کی کیفیت ( ایجاب و سلب ) میں اختلاف نظر ہوا برجندی نے اسے موجبہ قرار دیا اور شارح درر نے سالبہ ٹھہرایا ۔
شرح نقایہ میں ہے : ما لیس بحدث لیس بنجس ای کل ما لیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین و غیرہما لیس بنجس یعنی سبیلین اور غیر سبیلین سے نکلنے والی چیزوں میں سے ہر وہ جو حدث نہیں وہ نجس نہیں اس سالبہ الطرفین کلیہ کا عکس نقیض یہ ہو گا ۔ کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ۔ مذکورہ اشیاء سے ہر نجس حدث ہے اور یہ اس کو مستلزم نہیں کہ ہر حدث نجس ہو اور یہ کلیہ اگر قے کے مباحث کے متعلق کر دیا جاتا تو اس کی ایك صورت ہوتی اور دور کے وہم سے سلامت رہتا اھ مختصرا۔
اقول : اس پر چند اعتراضات وارد ہوں گے اولا اشیائے مذکورہ یعنی خارجہ من البدن المکلف “ ما “ سے مراد لی گئیں اور ما موضوع کا جز ہے محمول کا نہیں تو یہ قید عکس کے موضوع میں کہاں سے آ جائے گا اور اگر یہ قید نہ ہو تو عکس کاذب ہو جائے گا تو اصل بھی کاذب ہو جائے گی۔
ثانیا : اصل کا موضوع “ لیس بحدث “
حوالہ / References
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۳
بحدث بل ماوالمراد بھا شیئ مخصوص وھو الخارج من بدن المکلف فانما یؤخذ نقیضہ بایراد السلب علی مالا بحذفہ من متعلق الموضوع وانتظر ماسنلقی من التحقیق والله تعالی ولی التوفیق۔
وثالثا : تحرر فـــــ۱ مما تقرران السلب لیس جزء الموضوع فکیف تکون سالبۃ الطرفین
وقال فی ردالمحتار ماذکرہ المصنف قضیۃ سالبۃ کلیۃ لامہملۃ لان ماللعموم وکل مادل فــــ علیہ فھو سورا لکلیۃ کما فی المطول وغیرہ فتنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس حدث لانہ جعل نقیض الثانی اولا ونقیض الاول ثانیا مع بقاء الکیف والصدق بحالہ وتمامہ فی شرح الشیخ اسمعیل اھ۔
اقول : رحمہ الله العلا متین نہیں بلکہ “ ما “ ہے اور اس سے مراد ایك مخصوص چیز ہے یہ وہ ہے جو مکلف کے بدن سے نکلنے والی ہو تو اس کی نقیض “ ما “ ہی پر سلب کر لی جائے گی نہ یوں کہ “ ما “ کو متعلق موضوع سے حذف کر دیا جائے اور اس کا انتظار کیجئے جو تحقیق ہم پیش کر رہے ہیں اور خدائے برتر مالك توفیق ہے ۔
ثالثا : تقریر سابق سے واضح ہوا کہ سلب جزء موضوع نہیں تو یہ سالبۃ الطرفین کیسے ہو گا
علامہ شامی نے ردالمحتار میں کہا : مصنف نے جو ذکر کیا قضیہ سالبہ کلیہ ہے مہملہ نہیں اس لئے کہ “ ما “ عموم کے لئے ہے اور جو بھی عموم پر دلالت کرے وہ کلیہ کا سور ہو جائے گا جیسا کہ مطول وغیرہ میں ہے تو اس کا عکس نقیض یہ ہو گا کل نجس حدث ہر نجس حدث ہے اس لئے کہ عکس نقیض کی تعریف یہ ہے : نقیض ثانی کو اول اور نقیض اول کو ثانی کرنا اس طرح کہ صدق اور کیف اپنے حال پر باقی ہو اس کی تکمیل شیخ اسمعیل کی شرح میں ہے اھ۔
اقول : دونوں حضرات شارح درر اور
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ البرجندی ۔
فـــــ۲ : کل ما دل علی العموم کما و من فہو سور الکلیۃ ۔
وثالثا : تحرر فـــــ۱ مما تقرران السلب لیس جزء الموضوع فکیف تکون سالبۃ الطرفین
وقال فی ردالمحتار ماذکرہ المصنف قضیۃ سالبۃ کلیۃ لامہملۃ لان ماللعموم وکل مادل فــــ علیہ فھو سورا لکلیۃ کما فی المطول وغیرہ فتنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس حدث لانہ جعل نقیض الثانی اولا ونقیض الاول ثانیا مع بقاء الکیف والصدق بحالہ وتمامہ فی شرح الشیخ اسمعیل اھ۔
اقول : رحمہ الله العلا متین نہیں بلکہ “ ما “ ہے اور اس سے مراد ایك مخصوص چیز ہے یہ وہ ہے جو مکلف کے بدن سے نکلنے والی ہو تو اس کی نقیض “ ما “ ہی پر سلب کر لی جائے گی نہ یوں کہ “ ما “ کو متعلق موضوع سے حذف کر دیا جائے اور اس کا انتظار کیجئے جو تحقیق ہم پیش کر رہے ہیں اور خدائے برتر مالك توفیق ہے ۔
ثالثا : تقریر سابق سے واضح ہوا کہ سلب جزء موضوع نہیں تو یہ سالبۃ الطرفین کیسے ہو گا
علامہ شامی نے ردالمحتار میں کہا : مصنف نے جو ذکر کیا قضیہ سالبہ کلیہ ہے مہملہ نہیں اس لئے کہ “ ما “ عموم کے لئے ہے اور جو بھی عموم پر دلالت کرے وہ کلیہ کا سور ہو جائے گا جیسا کہ مطول وغیرہ میں ہے تو اس کا عکس نقیض یہ ہو گا کل نجس حدث ہر نجس حدث ہے اس لئے کہ عکس نقیض کی تعریف یہ ہے : نقیض ثانی کو اول اور نقیض اول کو ثانی کرنا اس طرح کہ صدق اور کیف اپنے حال پر باقی ہو اس کی تکمیل شیخ اسمعیل کی شرح میں ہے اھ۔
اقول : دونوں حضرات شارح درر اور
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ البرجندی ۔
فـــــ۲ : کل ما دل علی العموم کما و من فہو سور الکلیۃ ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ نواقضِ وضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۵
شارحی الدرر والدر لوکانت القضیۃ سالبۃ۔
فاولا : فـــــ۱ لن تظھر کلیتھا بکون مامن صیغ العموم بل وان کان ھناك لفظۃ کل مکان مافان مااوکلایکون فی الموضوع ویرد السلب علی ثبوت المحمول لہ فیفید سلب العموم لاعموم السلب ولذا نصوا ان لیس کل سور السالبۃ الجزئیۃ۔
وثانیا : فـــــ علی فرض کلیتہا کیف تنعکس کلیۃ والسوالب انما تنعکس بعکس النقیض جزئیۃ علی دیدن الموجبات فی العکس المستقیم۔
وثالثا : فـــــ۲اعجب منہ ایراد الموجبۃ فی عکسھا مع انھما رحمہما الله تعالی قد ذکرا بانفسھما شرط بقاء الکیف ویخطر ببالی والله تعالی اعلم سقوط لفظۃ المحمول بعد قولہ سالبۃ من قلم احدھما اوقلم الناسخین وکان اصلہ قضیۃ سالبۃ المحمول کلیۃ فاذن تکون موجبۃ وتندفع الایرادت الثلثۃ جمیعا۔
شارح در پر خدا کی رحمت ہو اس کلام پر چند اعتراض ہیں :
اول : اگر قضیہ سالبہ ہو تو اس کی کلیت “ ما “ کے صیغہ عموم ہونے سے ہرگز ظاہر نہ ہو گی بلکہ اگر یہاں “ ما “ کی جگہ لفظ کل ہو اس لئے کہ ما یا کل موضوع میں ہو گا اور سلب موضوع کیلئے محمول کے ثابت ہونے پر وارد ہو گا تو سلب عموم (نفی کلیت ) کا فائدہ دے گا عموم سلب ( کلیت نفی ) کا نہیں اسی لئے لوگوں نے تصریح کی ہے کہ “ لیس کل “ سالبہ جزئیہ کا سور ہے ۔
دوم : فرض کر لیا جائے کہ وہ کلیہ ہے تو اس کا عکس کلیہ کیسے آئے گا جب کہ سالبات کا عکس نقیض جزئیہ ہوتا ہے جیسے موجبات کا عکس مستوی جزئیہ ہوتا ہے ۔
سوم : اس سے عجیب تر یہ کہ سالبہ مان کر اس کا عکس موجبہ لیا باوجودیکہ دونوں حضرات نے کیف باقی رہنے کی شرط خود ہی ذکر کی ہے میرے دل میں خیال آتا ہے والله تعالی اعلم کہ لفظ سالبہ کے بعد لفظ محمول دونوں حضرات میں سے کسی کے قلم سے یا نقل کرنے والوں کے قلم سے ساقط ہو گیا ہے اصل الفاظ یہ تھے : “ قضیۃ سالبۃ المحمول کلیہ ہے اس صورت میں یہ موجبہ ہو گا اور تینوں اعتراضات دفع ہو جائیں گے ۔
فـــــ۱ : تطفل ثالث علی الشیخ النابلسی و ش ۔
فـــــ۲ : تطفل رابع علیہما ۔
فـــــ۳ : تطفل خامس علیہما۔
فاولا : فـــــ۱ لن تظھر کلیتھا بکون مامن صیغ العموم بل وان کان ھناك لفظۃ کل مکان مافان مااوکلایکون فی الموضوع ویرد السلب علی ثبوت المحمول لہ فیفید سلب العموم لاعموم السلب ولذا نصوا ان لیس کل سور السالبۃ الجزئیۃ۔
وثانیا : فـــــ علی فرض کلیتہا کیف تنعکس کلیۃ والسوالب انما تنعکس بعکس النقیض جزئیۃ علی دیدن الموجبات فی العکس المستقیم۔
وثالثا : فـــــ۲اعجب منہ ایراد الموجبۃ فی عکسھا مع انھما رحمہما الله تعالی قد ذکرا بانفسھما شرط بقاء الکیف ویخطر ببالی والله تعالی اعلم سقوط لفظۃ المحمول بعد قولہ سالبۃ من قلم احدھما اوقلم الناسخین وکان اصلہ قضیۃ سالبۃ المحمول کلیۃ فاذن تکون موجبۃ وتندفع الایرادت الثلثۃ جمیعا۔
شارح در پر خدا کی رحمت ہو اس کلام پر چند اعتراض ہیں :
اول : اگر قضیہ سالبہ ہو تو اس کی کلیت “ ما “ کے صیغہ عموم ہونے سے ہرگز ظاہر نہ ہو گی بلکہ اگر یہاں “ ما “ کی جگہ لفظ کل ہو اس لئے کہ ما یا کل موضوع میں ہو گا اور سلب موضوع کیلئے محمول کے ثابت ہونے پر وارد ہو گا تو سلب عموم (نفی کلیت ) کا فائدہ دے گا عموم سلب ( کلیت نفی ) کا نہیں اسی لئے لوگوں نے تصریح کی ہے کہ “ لیس کل “ سالبہ جزئیہ کا سور ہے ۔
دوم : فرض کر لیا جائے کہ وہ کلیہ ہے تو اس کا عکس کلیہ کیسے آئے گا جب کہ سالبات کا عکس نقیض جزئیہ ہوتا ہے جیسے موجبات کا عکس مستوی جزئیہ ہوتا ہے ۔
سوم : اس سے عجیب تر یہ کہ سالبہ مان کر اس کا عکس موجبہ لیا باوجودیکہ دونوں حضرات نے کیف باقی رہنے کی شرط خود ہی ذکر کی ہے میرے دل میں خیال آتا ہے والله تعالی اعلم کہ لفظ سالبہ کے بعد لفظ محمول دونوں حضرات میں سے کسی کے قلم سے یا نقل کرنے والوں کے قلم سے ساقط ہو گیا ہے اصل الفاظ یہ تھے : “ قضیۃ سالبۃ المحمول کلیہ ہے اس صورت میں یہ موجبہ ہو گا اور تینوں اعتراضات دفع ہو جائیں گے ۔
فـــــ۱ : تطفل ثالث علی الشیخ النابلسی و ش ۔
فـــــ۲ : تطفل رابع علیہما ۔
فـــــ۳ : تطفل خامس علیہما۔
اقول : لکن اذن یرد اولا ماورد علی البرجندی ثانیا وثانیا ینازع فی صدق العکس فرب نجس لیس بحدث کالاعیان النجسۃ الغیر الخارجۃ من بدن مکلف ۔
ھذا مایحکم بہ جلی النظر وعلیہ فالوجہ۔
ما اقول : تحتمل القضیۃ الایجاب والسلب الکلیین جمیعا اما الاول فیجعل ماللعموم والسلب الاخیر جزء المحمول والاول جزء متعلق الموضوع لانفسہ لما علمت فتکون موجبۃ کلیۃ معدولۃ المحمول فقط لاسالبۃ الطرفین والمراد بما کما علمت الخارج من بدن المکلف فیکون حاصلھا کل خارج من بدن مکلف غیر حدث فھو لانجس وقولنا غیر حدث حال من خارج ای ماخرج منہ ولم ینقض طھرا و الان تنعکس بعکس النقیض موجبۃ کلیۃ قائلۃ ان کل نجس فھو لاخارج غیر حدث ای لیس بالخارج الذی لاینتقض بہ الطہارۃ ای لایجتمع فیہ الوصفان فان خرج نقض ولا بد وان لم ینتقض لم یکن
اقول : لیکن اب اولا وہ اعتراض وار د ہو گا جو برجندی پر ثانیا وارد ہوا ثانیا عکس کے صادق ہونے میں نزاع ہو گا کہ بہت سے نجس حدث نہیں ہیں جیسے وہ نجس اعیان جو مکلف کے بدن سے نکلنے والے نہیں ۔
یہ وہ ہے جس کا فیصلہ بہ نظر جلی ہوتا ہے اس بنا پر وجہ درست وہ ہے جو میں کہتا ہوں قضیہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ دونوں بن سکتا ہے اول اس طرح کہ “ ما “ عموم کے لئے رکھیں سلب اخیر کو جز و محمول بنائیں اور سلب اول کو بسبب معلوم خود موضوع کا نہیں بلکہ متعلق موضوع کا جز بنائیں تو موجب کلیہ معدولۃ المحمول ہو گا سالبۃ الطرفین نہ ہو گا اور جیسا کہ معلوم ہوا “ ما “ سے مراد وہ ہے جو بدن مکلف سے خارج ہو تو حاصل قضیہ یہ ہو گا : کل خارج من بدن مکلف غیر حدث فھو لا نجس ( ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج ہو اس حال میں کہ حدث نہ ہو تو وہ لانجس ہے ) لفظ غیر حدث لفظ خارج سے حال ہے یعنی جو بدن سے نکلے اس حال میں کہ ناقض طہارت نہ ہو اب اس کا عکس نقیض یہ موجبہ کلیہ ہو گا کل نجس فہو لا خارج غیر حدث یعنی ہر نجس لاخارج غیر حدث ہے یعنی جو نجس ہے وہ ایسا خارج نہیں جس سے طہارت نہ ٹوٹے یعنی اس میں دونوں وصف جمع نہ ہونگے اگر خارج ہو گا تو ناقض ہونا ضروری ہے اور اگر
ھذا مایحکم بہ جلی النظر وعلیہ فالوجہ۔
ما اقول : تحتمل القضیۃ الایجاب والسلب الکلیین جمیعا اما الاول فیجعل ماللعموم والسلب الاخیر جزء المحمول والاول جزء متعلق الموضوع لانفسہ لما علمت فتکون موجبۃ کلیۃ معدولۃ المحمول فقط لاسالبۃ الطرفین والمراد بما کما علمت الخارج من بدن المکلف فیکون حاصلھا کل خارج من بدن مکلف غیر حدث فھو لانجس وقولنا غیر حدث حال من خارج ای ماخرج منہ ولم ینقض طھرا و الان تنعکس بعکس النقیض موجبۃ کلیۃ قائلۃ ان کل نجس فھو لاخارج غیر حدث ای لیس بالخارج الذی لاینتقض بہ الطہارۃ ای لایجتمع فیہ الوصفان فان خرج نقض ولا بد وان لم ینتقض لم یکن
اقول : لیکن اب اولا وہ اعتراض وار د ہو گا جو برجندی پر ثانیا وارد ہوا ثانیا عکس کے صادق ہونے میں نزاع ہو گا کہ بہت سے نجس حدث نہیں ہیں جیسے وہ نجس اعیان جو مکلف کے بدن سے نکلنے والے نہیں ۔
یہ وہ ہے جس کا فیصلہ بہ نظر جلی ہوتا ہے اس بنا پر وجہ درست وہ ہے جو میں کہتا ہوں قضیہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ دونوں بن سکتا ہے اول اس طرح کہ “ ما “ عموم کے لئے رکھیں سلب اخیر کو جز و محمول بنائیں اور سلب اول کو بسبب معلوم خود موضوع کا نہیں بلکہ متعلق موضوع کا جز بنائیں تو موجب کلیہ معدولۃ المحمول ہو گا سالبۃ الطرفین نہ ہو گا اور جیسا کہ معلوم ہوا “ ما “ سے مراد وہ ہے جو بدن مکلف سے خارج ہو تو حاصل قضیہ یہ ہو گا : کل خارج من بدن مکلف غیر حدث فھو لا نجس ( ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج ہو اس حال میں کہ حدث نہ ہو تو وہ لانجس ہے ) لفظ غیر حدث لفظ خارج سے حال ہے یعنی جو بدن سے نکلے اس حال میں کہ ناقض طہارت نہ ہو اب اس کا عکس نقیض یہ موجبہ کلیہ ہو گا کل نجس فہو لا خارج غیر حدث یعنی ہر نجس لاخارج غیر حدث ہے یعنی جو نجس ہے وہ ایسا خارج نہیں جس سے طہارت نہ ٹوٹے یعنی اس میں دونوں وصف جمع نہ ہونگے اگر خارج ہو گا تو ناقض ہونا ضروری ہے اور اگر
خارجا من بدن المکلف وبالعکس المستوی موجبۃ جزئیۃ بعض اللانجس خارج منہ غیر حدث وھو ایضا صادق قطعا کالدمع والعرق والدم القلیل ۔
واما الثانی : فبتحصیل الطرفین وما لیست للعموم بل نکرۃ بمعنی شیئ دخلت فی حیزالنفی فعمت واذن یکون الحاصل لاشیئ من الخارج منہ غیر حدث نجسا وینعکس بعکس النقیض سالبۃ جزئیۃ لیس بعض اللانجس لاخارجا منہ غیر حدث وبورود السلب علی لاخارج یعود الی الاثبات فیؤل المعنی الی قولنا بعض مالیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث وبالمستقیم سالبۃ کلیۃ لاشیئ من النجس خارجا منہ غیر حدث و وجوہ صدقہ ماقدمنا ۔
وبالجملۃ حاصل العکسین
ناقض نہ ہو گا توبدن مکلف سے خارج نہ ہو گا اور اس کا عکس مستوی یہ موجبہ جزئیہ ہو گا بعض اللانجس خارج منہ غیر حدث ( بعض لا نجس بدن سے اس حال میں خارج ہیں کہ حدث نہیں ) یہ بھی قطعا صادق ہے جیسے آنسو پسینہ قلیل خون ۔
دوم : اس طرح کہ طرفین محصلہ ہوں اور “ ما “ عموم کے لئے نہیں بلکہ نکرہ بمعنی شیئ ہو حیز نفی میں داخل ہوا تو عام ہو گیا اس صورت میں حاصل یہ ہو گا : لا شیئ من الخارج منہ غیر حدث نجسا ( بدن سے نکلنے والی اس حال میں کہ حدث نہ ہو کوئی بھی چیز نجس نہیں ) اس کا عکس نقیض یہ سا لبہ جزئیہ ہو گا لیس بعض اللا نجس لا خارجا منہ غیر حدث ( بعض لا نجس غیر حدث ہونے کی حالت میں لاخارج نہیں ) لا خارج پر سلب وارد ہونے سے اثبات کی طرف لوٹ جائے گا تو معنی کا مآل یہ ہو گا : بعض ما لیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث( بعض وہ جو نجس نہیں بدن مکلف سے غیر حدث ہونے کی حالت میں خارج ہے ) اور عکس مستقیم یہ سالبہ کلیہ ہوگا : لاشی من نجس خارج منہ غیر حدث (کوئی نجس غیر حدث ہوتے ہوئے بدن سے خارج نہیں ) اور اس کے صدق کی صورتیں وہی ہیں جو ہم نے پہلے بیان کیں ۔
بالجملہ دونوں وجہوں پر آنے والے دونوں
واما الثانی : فبتحصیل الطرفین وما لیست للعموم بل نکرۃ بمعنی شیئ دخلت فی حیزالنفی فعمت واذن یکون الحاصل لاشیئ من الخارج منہ غیر حدث نجسا وینعکس بعکس النقیض سالبۃ جزئیۃ لیس بعض اللانجس لاخارجا منہ غیر حدث وبورود السلب علی لاخارج یعود الی الاثبات فیؤل المعنی الی قولنا بعض مالیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث وبالمستقیم سالبۃ کلیۃ لاشیئ من النجس خارجا منہ غیر حدث و وجوہ صدقہ ماقدمنا ۔
وبالجملۃ حاصل العکسین
ناقض نہ ہو گا توبدن مکلف سے خارج نہ ہو گا اور اس کا عکس مستوی یہ موجبہ جزئیہ ہو گا بعض اللانجس خارج منہ غیر حدث ( بعض لا نجس بدن سے اس حال میں خارج ہیں کہ حدث نہیں ) یہ بھی قطعا صادق ہے جیسے آنسو پسینہ قلیل خون ۔
دوم : اس طرح کہ طرفین محصلہ ہوں اور “ ما “ عموم کے لئے نہیں بلکہ نکرہ بمعنی شیئ ہو حیز نفی میں داخل ہوا تو عام ہو گیا اس صورت میں حاصل یہ ہو گا : لا شیئ من الخارج منہ غیر حدث نجسا ( بدن سے نکلنے والی اس حال میں کہ حدث نہ ہو کوئی بھی چیز نجس نہیں ) اس کا عکس نقیض یہ سا لبہ جزئیہ ہو گا لیس بعض اللا نجس لا خارجا منہ غیر حدث ( بعض لا نجس غیر حدث ہونے کی حالت میں لاخارج نہیں ) لا خارج پر سلب وارد ہونے سے اثبات کی طرف لوٹ جائے گا تو معنی کا مآل یہ ہو گا : بعض ما لیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث( بعض وہ جو نجس نہیں بدن مکلف سے غیر حدث ہونے کی حالت میں خارج ہے ) اور عکس مستقیم یہ سالبہ کلیہ ہوگا : لاشی من نجس خارج منہ غیر حدث (کوئی نجس غیر حدث ہوتے ہوئے بدن سے خارج نہیں ) اور اس کے صدق کی صورتیں وہی ہیں جو ہم نے پہلے بیان کیں ۔
بالجملہ دونوں وجہوں پر آنے والے دونوں
علی الوجہین متعاکس فحاصل عکس النقیض علی جعلہا موجبۃ ھو حاصل المستوی علی جعلہا سالبۃ وبالعکس ھذا ما تحتملہ العبارۃ اما علماؤنا فانما ارادوا الوجہ الاول اعنی الایجاب ولم یریدوا عکس النقیض بل المستوی لکن لامنطقیا بل عرفیا کما عرفت ۔
واما النظر الدقیق فاقول : ان کانت القضیۃ موجبۃ کما ارادوا فقد حکموا کلیا علی مالیس بحدث بلا نجس فیجب ان یکون اللانجس مساویا للخارج غیر حدث اواعم منہ مطلقا ونقیض المتساویین متساویان والاعم والاخص مطلقا مثلہما بالتعکیس فیجب ان یکون النجس مساویا للاخارج غیر حدث او اخص منہ مطلقا واللاخارج غیر حدث یصدق بوجہین ان لایکون خارجا اصلا اویکون خارجا حدثا والنجس ان ابقی علی ارسالہ یکون اعم منہ
عکسوں کا حاصل ایك دوسرے کا عکس ہو گا موجبہ بنانے پر جو عکس نقیض کا حاصل ہے وہ سالبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے اور اس کے برعکس (سالبہ بنانے پر عکس نقیض کا حاصل موجبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے ) یہ وہ ہے جس کا عبارت میں احتمال ہے لیکن ہمارے علماء نے وجہ اول یعنی ایجاب مراد لیا ہے اور عکس نقیض نہیں بلکہ مستوی وہ بھی منطقی نہیں بلکہ عرفی مراد لیا ہے جیسا کہ معلوم ہوا ۔
اب رہی نظر دقیق فاقول : ( تو میں کہتا ہوں ) اگر قضیہ کلیہ ہو جیسا کہ علماء نے مراد لیا تو انہوں نے کلی طور پر اس پر جو حدث نہیں ہے لانجس ہونے کا حکم کیا ( اور کہا کہ ہر وہ جو خارج غیر حدث ہے وہ لانجس ہے )تو ضروری ہے کہ لانجس خارج غیر حدث کا مساوی ہو یا ا س سے اعم مطلق ہو اور متساویین کی نقیضیں متساویین ہوتی ہیں مگر بر عکس ( یعنی اخص اعم مطلق ) تو ضروری ہے کہ لانجس کی نقیض نجس خارج غیر حدث کی نقیض لاخارج غیر حدث کے مساوی ہو یا اس سے اخص ہو اور لا خارج غیر حدث کا صدق دو طرح کا ہو گا ایك یہ کہ سرے سے خارج ہی نہ ہو دوسرے یہ کہ خارج ہو مگر حدث ہو اور نجس اگر اپنے اطلاق پر (بلا قید ) باقی رکھا جائے
واما النظر الدقیق فاقول : ان کانت القضیۃ موجبۃ کما ارادوا فقد حکموا کلیا علی مالیس بحدث بلا نجس فیجب ان یکون اللانجس مساویا للخارج غیر حدث اواعم منہ مطلقا ونقیض المتساویین متساویان والاعم والاخص مطلقا مثلہما بالتعکیس فیجب ان یکون النجس مساویا للاخارج غیر حدث او اخص منہ مطلقا واللاخارج غیر حدث یصدق بوجہین ان لایکون خارجا اصلا اویکون خارجا حدثا والنجس ان ابقی علی ارسالہ یکون اعم منہ
عکسوں کا حاصل ایك دوسرے کا عکس ہو گا موجبہ بنانے پر جو عکس نقیض کا حاصل ہے وہ سالبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے اور اس کے برعکس (سالبہ بنانے پر عکس نقیض کا حاصل موجبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے ) یہ وہ ہے جس کا عبارت میں احتمال ہے لیکن ہمارے علماء نے وجہ اول یعنی ایجاب مراد لیا ہے اور عکس نقیض نہیں بلکہ مستوی وہ بھی منطقی نہیں بلکہ عرفی مراد لیا ہے جیسا کہ معلوم ہوا ۔
اب رہی نظر دقیق فاقول : ( تو میں کہتا ہوں ) اگر قضیہ کلیہ ہو جیسا کہ علماء نے مراد لیا تو انہوں نے کلی طور پر اس پر جو حدث نہیں ہے لانجس ہونے کا حکم کیا ( اور کہا کہ ہر وہ جو خارج غیر حدث ہے وہ لانجس ہے )تو ضروری ہے کہ لانجس خارج غیر حدث کا مساوی ہو یا ا س سے اعم مطلق ہو اور متساویین کی نقیضیں متساویین ہوتی ہیں مگر بر عکس ( یعنی اخص اعم مطلق ) تو ضروری ہے کہ لانجس کی نقیض نجس خارج غیر حدث کی نقیض لاخارج غیر حدث کے مساوی ہو یا اس سے اخص ہو اور لا خارج غیر حدث کا صدق دو طرح کا ہو گا ایك یہ کہ سرے سے خارج ہی نہ ہو دوسرے یہ کہ خارج ہو مگر حدث ہو اور نجس اگر اپنے اطلاق پر (بلا قید ) باقی رکھا جائے
لما بینا فی رسالتنا لمع الاحکام ان قیئ قلیل الخمر والبول لیس بحدث فیصدق علیہ النجس ولا یصدق اللاخارج غیر حدث بل ھو خارج غیر حدث فوجب ان یراد بالنجس النجس بالخروج کما حققنا ثمہ وحینئذ یکون اخص من اللاخارج غیر حدث فان کل نجس بالخروج یصدق علیہ انہ لیس بخارج غیر حدث بل حدث ولا یصدق علی کل لاخارج غیر حدث انہ نجس بالخروج لجواز ان لا یکون خارجا اصلا فاذن تؤل القضیۃ الی قولنا کل خارج من بدن المکلف غیر حدث فھو لانجس بالخروج وعکس نقیضھا کل نجس بالخروج فھو لاخارج منہ غیر حدث واذا کان ذلك کذا لك انتفی الوجہ الاول من مصداقی اللاخارج غیر حدث لان النجس بالخروج خارج لاشك فلم یبق الا ان یکون خارجا حدثا والخروج قد اعتبر فی الموضوع فلا حاجۃ الی عادتہ فی المحمول
اس سے اعم ہو گا جس کی وجہ ہم نے اپنے رسالہ لمع الاحکام میں بیان کی ہے کہ شراب اور پیشاب کی قے قلیل حدث نہیں تو اس پر نجس صادق ہو گا اور لاخارج غیر حدث صادق نہ ہوگا بلکہ وہ خارج غیر حدث ہے تو ضروری ہے کہ نجس سے نجس بالخروج مراد ہو جیسا کہ وہیں ہم نے تحقیق کی ہے اس صورت میں وہ لا خارج غیر حدث سے اخص ہو گا اس لئے کہ ہر نجس بالخروج پر یہ صادق آئے گا کہ وہ خارج غیر حدث نہیں بلکہ حدث ہے اور ہر لاخارج غیر حدث پر یہ صادق نہ ہو گا کہ وہ نجس بالخروج ہے اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ سرے سے خارج ہی نہ ہو تو اب قضیہ کا مآل یہ ہو گا کہ “ ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج غیر حدث ہے تو وہ لانجس بالخروج ہے “ اور اس کا عکس نقیض یہ ہو گا : ہر وہ جو نجس بالخروج ہے وہ لاخارج غیر حدث ہے اور یہ جب ایسا ہو گا تو لاخارج غیر حدث کے دو مصداقوں میں سے پہلی صورت منتفی ہو گئی اس لئے کہ نجس بالخروج بلاشبہہ خارج ہے تو صرف یہ صورت رہی کہ خارج حدث ہو اور خروج کا اعتبار موضوع میں ہو چکا ہے تو اسے محمول میں دوبارہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں تو خلاصہ عکس یہ ہو گا کہ ہر نجس بالخروج حدث ہے
اس سے اعم ہو گا جس کی وجہ ہم نے اپنے رسالہ لمع الاحکام میں بیان کی ہے کہ شراب اور پیشاب کی قے قلیل حدث نہیں تو اس پر نجس صادق ہو گا اور لاخارج غیر حدث صادق نہ ہوگا بلکہ وہ خارج غیر حدث ہے تو ضروری ہے کہ نجس سے نجس بالخروج مراد ہو جیسا کہ وہیں ہم نے تحقیق کی ہے اس صورت میں وہ لا خارج غیر حدث سے اخص ہو گا اس لئے کہ ہر نجس بالخروج پر یہ صادق آئے گا کہ وہ خارج غیر حدث نہیں بلکہ حدث ہے اور ہر لاخارج غیر حدث پر یہ صادق نہ ہو گا کہ وہ نجس بالخروج ہے اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ سرے سے خارج ہی نہ ہو تو اب قضیہ کا مآل یہ ہو گا کہ “ ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج غیر حدث ہے تو وہ لانجس بالخروج ہے “ اور اس کا عکس نقیض یہ ہو گا : ہر وہ جو نجس بالخروج ہے وہ لاخارج غیر حدث ہے اور یہ جب ایسا ہو گا تو لاخارج غیر حدث کے دو مصداقوں میں سے پہلی صورت منتفی ہو گئی اس لئے کہ نجس بالخروج بلاشبہہ خارج ہے تو صرف یہ صورت رہی کہ خارج حدث ہو اور خروج کا اعتبار موضوع میں ہو چکا ہے تو اسے محمول میں دوبارہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں تو خلاصہ عکس یہ ہو گا کہ ہر نجس بالخروج حدث ہے
فیخرج فذلکۃ العکس ان کل نجس بالخروج حدث فتبین ان فیہ من این جاء التقیید بالاشیاء الخارجۃ من بدن المکلف فی موضوعہ وکیف خرج السلب الوارد علی ماوعلی الحدث من محمولہ حتی لم یبق فیہ الا لفظۃ حدث فارتفع الا یراد ان معا عن البر جندی والشیخ اسمعیل جمیعا انما بقی الاخذ علی اخذھا سالبۃ الطرفین وکانہ رحمہ الله تعالی نظر الی وجود السلب ولو فی المتعلق ولیس فیہ کبیر مشاحۃ ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق ۔
وکذلك ان کانت سالبۃ لابد ایضا من الحمل المذکور اذلا شك ان المراد الکلیۃ لان المقصود اعطاء ضابطۃ فقد سلبت النجاسہ کلیۃ عن الخارج غیر حدث فیکون النجس مباینالہ ولا یباینہ الابارادۃ النجس بالخروج اذ لولاھا لکانت اعم لمسألۃ قیئ الخمرا لمذکورۃ لکن مرادھم ھوا لایجاب کماعلمت ۔
اما قول البرجندی ھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ
اس سے واضح ہوا کہ اس میں موضوع کے اندر “ بدن مکلف سے نکلنے والی چیزوں “ کی قید کہاں سے آئی اور “ ما “ پر اور “ حدث “ پر وارد ہونے والا سلب اس کے محمول سے کیسے نکل گیا یہاں تك کہ صرف لفظ حدث رہ گیا تو برجندی اور شیخ اسمعیل سے دونوں اعتراض ایك ساتھ اٹھ گئے صرف یہ مؤاخذہ رہ گیا کہ اسے سابقۃ الطرفین کیوں مانا گویا برجندی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ دیکھا کہ سلب موجود ہے اگرچہ متعلق ہی میں ہے اور اس میں کوئی بڑا حرج نہیں اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی مالك توفیق ہے ۔
یوں ہی اگر سالبہ ہو تو اس میں بھی حمل مذکور ضروری ہے کیونکہ اس میں شك نہیں کہ مراد کلیہ ہے اس لئے کہ مقصود ایك ضابطہ عطا کرنا ہے تو خارج غیر حدث سے نجاست کلی طور پر مسلوب ہوئی تو نجس اس کا مباین ہو گا اور مباین اسی صورت میں ہو گا جب نجس بالخروج مراد ہو اس لئے کہ اگر یہ مراد نہ ہو تو اعم ہوجائے گا جس کا سبب مذکورہ مسئلہ خمر ہے لیکن ان کی مراد ایجاب ہی ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا
اب رہا برجندی کا یہ قول کہ اگر یہ کلیہ قے کے مباحث سے متعلق ہو تو اس کی ایك وجہ
وکذلك ان کانت سالبۃ لابد ایضا من الحمل المذکور اذلا شك ان المراد الکلیۃ لان المقصود اعطاء ضابطۃ فقد سلبت النجاسہ کلیۃ عن الخارج غیر حدث فیکون النجس مباینالہ ولا یباینہ الابارادۃ النجس بالخروج اذ لولاھا لکانت اعم لمسألۃ قیئ الخمرا لمذکورۃ لکن مرادھم ھوا لایجاب کماعلمت ۔
اما قول البرجندی ھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ
اس سے واضح ہوا کہ اس میں موضوع کے اندر “ بدن مکلف سے نکلنے والی چیزوں “ کی قید کہاں سے آئی اور “ ما “ پر اور “ حدث “ پر وارد ہونے والا سلب اس کے محمول سے کیسے نکل گیا یہاں تك کہ صرف لفظ حدث رہ گیا تو برجندی اور شیخ اسمعیل سے دونوں اعتراض ایك ساتھ اٹھ گئے صرف یہ مؤاخذہ رہ گیا کہ اسے سابقۃ الطرفین کیوں مانا گویا برجندی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ دیکھا کہ سلب موجود ہے اگرچہ متعلق ہی میں ہے اور اس میں کوئی بڑا حرج نہیں اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی مالك توفیق ہے ۔
یوں ہی اگر سالبہ ہو تو اس میں بھی حمل مذکور ضروری ہے کیونکہ اس میں شك نہیں کہ مراد کلیہ ہے اس لئے کہ مقصود ایك ضابطہ عطا کرنا ہے تو خارج غیر حدث سے نجاست کلی طور پر مسلوب ہوئی تو نجس اس کا مباین ہو گا اور مباین اسی صورت میں ہو گا جب نجس بالخروج مراد ہو اس لئے کہ اگر یہ مراد نہ ہو تو اعم ہوجائے گا جس کا سبب مذکورہ مسئلہ خمر ہے لیکن ان کی مراد ایجاب ہی ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا
اب رہا برجندی کا یہ قول کہ اگر یہ کلیہ قے کے مباحث سے متعلق ہو تو اس کی ایك وجہ
لکان لہ وجہ ۔
اقول : کیف وانھم جمیعا انما یذکرونھا تلومسائل القیئ وقولہ سلمت عن توھم الدور
اقول : وجہہ ان اعطاء القضیۃ انما ھو لیکتسب علم عدم النجاسۃ من علم عدم الحدثیۃ و علم عدم الحدثیۃیتوقف علی علم عدم النجاسۃ اذ لو کان نجسا لکان حدثا فیدور وانما قال توھم لان العلم بعدم الحدثیۃ یحصل بتصریح الفقہ فالمراد کلما سمعتموہ من علمائنا انہ لاینقض الطہارۃ فاعلموا انہ لیس بخروجہ نجسا فان لم یکن نجسا دخل من خارج فھو طاھر وھذا ظاھر وصلی الله تعالی علی اطھر طیب واطیب طاھر وعلی الہ وصحبہ الاطائب الاطاھر والحمدلله رب العلمین فی الاول والاخر والباطن والظاھر ولنسم ھذا التحریر المنیر المنفرد بھذا التحریر والتحبیر “ الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم (۱۳۲۴) “
ہو گی ۔
اقول : اس سے متعلق کیسے نہیں جبکہ سبھی حضرات اسے مسائل قے کے بعد متصلا ہی ذکر کرتے ہیں قول برجندی : دور کے توہم سے سلامت رہتا ۔
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضابطہ اسی لئے ہے کہ حدث نہ ہونے کے علم سے نجس نہ ہونے کا علم حاصل ہو جائے اور حدث نہ ہونے کا علم نجس نہ ہونے کے علم پر موقوف ہے اس لئے کہ اگر نجس ہو گا تو حدث ہوگا تو دور ہو گا توہم دور اس لئے کہا کہ حدث نہ ہونے کا علم فقہ کی تصریح سے ہوتا ہے تو مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے علماء سے سنو کہ وہ ناقض طہارت نہیں تو جان لو کہ وہ اپنے خروج سے نجس نہیں تو اگر وہ ایسا نجس نہیں جو خارج سے داخل ہوا ہو تو وہ طاہر ہے اور یہ ظاہر ہے اور الله تعالی رحمت نازل فرمائے سب سے پاك طیب اور سب سے پاکیزہ طاہر پر اور ان کے اطیب و اطہر آل پر اور تمام تر حمد الله تعالی کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے حمد شروع میں بھی آخر میں بھی اور باطن میں بھی اور ظاہر میں بھی ۔ اور ہم اس تحریر منیر کو جو اس تنقیح و تزیین میں منفرد ہے الطراز المعلم فیما ھو حدث من الاحوال الدم (۱۳۲۴ھ)
اقول : کیف وانھم جمیعا انما یذکرونھا تلومسائل القیئ وقولہ سلمت عن توھم الدور
اقول : وجہہ ان اعطاء القضیۃ انما ھو لیکتسب علم عدم النجاسۃ من علم عدم الحدثیۃ و علم عدم الحدثیۃیتوقف علی علم عدم النجاسۃ اذ لو کان نجسا لکان حدثا فیدور وانما قال توھم لان العلم بعدم الحدثیۃ یحصل بتصریح الفقہ فالمراد کلما سمعتموہ من علمائنا انہ لاینقض الطہارۃ فاعلموا انہ لیس بخروجہ نجسا فان لم یکن نجسا دخل من خارج فھو طاھر وھذا ظاھر وصلی الله تعالی علی اطھر طیب واطیب طاھر وعلی الہ وصحبہ الاطائب الاطاھر والحمدلله رب العلمین فی الاول والاخر والباطن والظاھر ولنسم ھذا التحریر المنیر المنفرد بھذا التحریر والتحبیر “ الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم (۱۳۲۴) “
ہو گی ۔
اقول : اس سے متعلق کیسے نہیں جبکہ سبھی حضرات اسے مسائل قے کے بعد متصلا ہی ذکر کرتے ہیں قول برجندی : دور کے توہم سے سلامت رہتا ۔
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضابطہ اسی لئے ہے کہ حدث نہ ہونے کے علم سے نجس نہ ہونے کا علم حاصل ہو جائے اور حدث نہ ہونے کا علم نجس نہ ہونے کے علم پر موقوف ہے اس لئے کہ اگر نجس ہو گا تو حدث ہوگا تو دور ہو گا توہم دور اس لئے کہا کہ حدث نہ ہونے کا علم فقہ کی تصریح سے ہوتا ہے تو مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے علماء سے سنو کہ وہ ناقض طہارت نہیں تو جان لو کہ وہ اپنے خروج سے نجس نہیں تو اگر وہ ایسا نجس نہیں جو خارج سے داخل ہوا ہو تو وہ طاہر ہے اور یہ ظاہر ہے اور الله تعالی رحمت نازل فرمائے سب سے پاك طیب اور سب سے پاکیزہ طاہر پر اور ان کے اطیب و اطہر آل پر اور تمام تر حمد الله تعالی کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے حمد شروع میں بھی آخر میں بھی اور باطن میں بھی اور ظاہر میں بھی ۔ اور ہم اس تحریر منیر کو جو اس تنقیح و تزیین میں منفرد ہے الطراز المعلم فیما ھو حدث من الاحوال الدم (۱۳۲۴ھ)
حوالہ / References
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲۳
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲۳
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲۳
وصلی الله تعالی علی سیدنا والہ وصحبہ وسلم والحمدلله علی ما علم والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
(نشان زدہ نقش خون کے ان احوال کے بیان میں جو حدث ہیں ) سے موسوم کریں اور خدائے برتر کا درود ہو ہمارے آقا ان کی آل اور ان کے اصحاب پر اور سلامتی ہو اور خدا کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا اور خدائے پاك برتر ہی کو خوب علم ہے (ت)
( رسالہ الطراز المعلم فیما ہو حدث من احوال الدم ختم ہوا)
مسئلہ۹ : دہم محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ اپنے گھٹنے کھل جانے یا اپنا پرایا ستر بلا قصد یا بالقصد دیکھنے یا دوڑنے یا بلندی پر سے کودنے یا گرنے سے وضو جاتا ہے یا نہیں بینوا توجروا( بیان فرمائیےاجر پائیے ۔ ت)
الجواب :
ان میں کسی بات سے وضو نہیں جاتا ۔ ستر فـــــ۱ کھلنے یا دیکھنے سے وضو جانا کہ عوام کی زبان زد ہے محض بے اصل ہے علماء فـــــ۲ نے ستر عورت کو آداب وضو سے گنا اگر کشف سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا۔ منیہ وغنیہ میں ہے :
اداب الوضوء ان یستر عورتہ حین فرغ من الاستنجاء اھ ملتقطا۔
آداب وضو میں ہے کہ استنجاء سے فراغت کے بعد ستر چھپا لے اھ ملتقطا (ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر صرف فـــــ۳ ایك جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے گھٹنوں تك رکوع سجود وغیرہما
فـــــ۱ : مسئلہ گھٹنے یا ستر کھلنے یا اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو نہیں جاتا ۔
فـــــ۲ : مسئلہ وضو کا ادب یہ ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تك سب ستر چھپا کر ہو بلکہ استنجے کے بعد فورا ہی ستر ہو لینا چاہئے کہ بلا ضرورت برہنگی منع ہے ۔
فـــــ۳ : صرف ایك جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے رکوع و سجود وغیر ہ کسی حالت میں زانو کا حصہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کچھ حرج نہیں ۔
(نشان زدہ نقش خون کے ان احوال کے بیان میں جو حدث ہیں ) سے موسوم کریں اور خدائے برتر کا درود ہو ہمارے آقا ان کی آل اور ان کے اصحاب پر اور سلامتی ہو اور خدا کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا اور خدائے پاك برتر ہی کو خوب علم ہے (ت)
( رسالہ الطراز المعلم فیما ہو حدث من احوال الدم ختم ہوا)
مسئلہ۹ : دہم محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ اپنے گھٹنے کھل جانے یا اپنا پرایا ستر بلا قصد یا بالقصد دیکھنے یا دوڑنے یا بلندی پر سے کودنے یا گرنے سے وضو جاتا ہے یا نہیں بینوا توجروا( بیان فرمائیےاجر پائیے ۔ ت)
الجواب :
ان میں کسی بات سے وضو نہیں جاتا ۔ ستر فـــــ۱ کھلنے یا دیکھنے سے وضو جانا کہ عوام کی زبان زد ہے محض بے اصل ہے علماء فـــــ۲ نے ستر عورت کو آداب وضو سے گنا اگر کشف سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا۔ منیہ وغنیہ میں ہے :
اداب الوضوء ان یستر عورتہ حین فرغ من الاستنجاء اھ ملتقطا۔
آداب وضو میں ہے کہ استنجاء سے فراغت کے بعد ستر چھپا لے اھ ملتقطا (ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر صرف فـــــ۳ ایك جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے گھٹنوں تك رکوع سجود وغیرہما
فـــــ۱ : مسئلہ گھٹنے یا ستر کھلنے یا اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو نہیں جاتا ۔
فـــــ۲ : مسئلہ وضو کا ادب یہ ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تك سب ستر چھپا کر ہو بلکہ استنجے کے بعد فورا ہی ستر ہو لینا چاہئے کہ بلا ضرورت برہنگی منع ہے ۔
فـــــ۳ : صرف ایك جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے رکوع و سجود وغیر ہ کسی حالت میں زانو کا حصہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کچھ حرج نہیں ۔
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی آدا ب الوضو سہیل اکیڈمی لاہور ، ص ۳۱
ہر حال میں ستر حاصل ہے اور اس کا گریبان فـــ۱ اتنا کشادہ ہے کہ گریبان سے اپنے ستر تك نظر جاسکتی ہے اور اس نے دیکھا تو کراہت ہے مگرنماز ہوگئی اگر وضو جاتا رہتا نماز کیونکر ہوتی۔ درمختار میں ہے :
الشرط سترھا عن غیرہ لانفسہ بہ یفتی فلورأھا من زیقہ لم تفسد وان کرہ ۔
اسے دوسرے سے چھپانا شرط ہے خود سے نہیں اسی پر فتوی ہے تو اگر گلے کے چاك سے اپنا ستر دیکھا تو نماز نہ جائے گی اگرچہ مکروہ ہے ۔ (ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر عورت فـــــ۲ کو طلاق رجعی دی تھی ہنوز عدت نہ گزری تھی یہ نماز میں تھا کہ عورت کی فرج پر نظر پڑگئی اور شہوت پیدا ہوئی رجعت ہوگئی اور نماز میں فساد نہ آیا اور اگر قصدا بھی ایسا کرے تو مکروہ ضرور ہے مگر نماز فاسد نہیں۔ خلاصہ و ردالمحتار میں ہے :
لو نظر الی فرج المطلقۃ رجعیا بشہوۃ یصیر مراجعا ولا تفسد صلاتہ فی روایۃ ھو المختار اھ
ثم الفساد علی الاخری انما ھولان النظرالی الفرج بشہوۃ من داعی الجماع فصارکما لوقبلت فـــــ۳ المصلی امرأتہ وھو فی الصلاۃ
جس عورت کو طلاق رجعی دی تھی اگر شہوت کے ساتھ اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھا تو رجعت کرنے والا ہو جائے گا اور اس کی نماز فاسد نہ ہو گی ایك روایت میں جو مختار ہے اھ ۔
پھر دوسری روایت پر فساد نماز اسی لئے ہے کہ شرم گاہ کی طرف شہوت سے دیکھنا جماع کے دواعی میں سے ہے تو ایسا ہی ہوا جیسے نماز پڑھنے والے کو جب وہ نماز میں تھا اس کی عورت نے بوسہ دیا
فـــــ۱ : مسئلہ : ایسے جبے کا اگر گریبان اتنا وسیع ہے کہ اس کے اندر سے اپنے ستر تك نظر جا پڑی کچھ حرج نہیں ہاں قصدا دیکھنا مکروہ ہے نماز یا وضو فاسد جب بھی نہ ہوں گے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : عورت کو رجعی طلاق دی تھی یہ نماز پڑھ رہا تھا اتفاقا عورت کی فرج داخل پر نظر بشہوت جا پڑی رجعت ہو گئی اور نماز و وضو میں کچھ خلل نہیں ہاں قصدا ایسا کرے گا تو کراہت ہے ۔
فـــــ۳ : مسئلہ : مرد نماز میں تھا عورت نے اس کا بوسہ لیا اس سے مرد کو خواہش پیدا ہوئی نماز جاتی رہی اگرچہ یہ اس کا اپنا فعل نہ تھا اور عورت نماز پڑھتی ہو مرد بوسہ لے عورت کو خواہش پیدا ہو عورت کی نماز نہ جائے گی ۔
الشرط سترھا عن غیرہ لانفسہ بہ یفتی فلورأھا من زیقہ لم تفسد وان کرہ ۔
اسے دوسرے سے چھپانا شرط ہے خود سے نہیں اسی پر فتوی ہے تو اگر گلے کے چاك سے اپنا ستر دیکھا تو نماز نہ جائے گی اگرچہ مکروہ ہے ۔ (ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر عورت فـــــ۲ کو طلاق رجعی دی تھی ہنوز عدت نہ گزری تھی یہ نماز میں تھا کہ عورت کی فرج پر نظر پڑگئی اور شہوت پیدا ہوئی رجعت ہوگئی اور نماز میں فساد نہ آیا اور اگر قصدا بھی ایسا کرے تو مکروہ ضرور ہے مگر نماز فاسد نہیں۔ خلاصہ و ردالمحتار میں ہے :
لو نظر الی فرج المطلقۃ رجعیا بشہوۃ یصیر مراجعا ولا تفسد صلاتہ فی روایۃ ھو المختار اھ
ثم الفساد علی الاخری انما ھولان النظرالی الفرج بشہوۃ من داعی الجماع فصارکما لوقبلت فـــــ۳ المصلی امرأتہ وھو فی الصلاۃ
جس عورت کو طلاق رجعی دی تھی اگر شہوت کے ساتھ اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھا تو رجعت کرنے والا ہو جائے گا اور اس کی نماز فاسد نہ ہو گی ایك روایت میں جو مختار ہے اھ ۔
پھر دوسری روایت پر فساد نماز اسی لئے ہے کہ شرم گاہ کی طرف شہوت سے دیکھنا جماع کے دواعی میں سے ہے تو ایسا ہی ہوا جیسے نماز پڑھنے والے کو جب وہ نماز میں تھا اس کی عورت نے بوسہ دیا
فـــــ۱ : مسئلہ : ایسے جبے کا اگر گریبان اتنا وسیع ہے کہ اس کے اندر سے اپنے ستر تك نظر جا پڑی کچھ حرج نہیں ہاں قصدا دیکھنا مکروہ ہے نماز یا وضو فاسد جب بھی نہ ہوں گے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : عورت کو رجعی طلاق دی تھی یہ نماز پڑھ رہا تھا اتفاقا عورت کی فرج داخل پر نظر بشہوت جا پڑی رجعت ہو گئی اور نماز و وضو میں کچھ خلل نہیں ہاں قصدا ایسا کرے گا تو کراہت ہے ۔
فـــــ۳ : مسئلہ : مرد نماز میں تھا عورت نے اس کا بوسہ لیا اس سے مرد کو خواہش پیدا ہوئی نماز جاتی رہی اگرچہ یہ اس کا اپنا فعل نہ تھا اور عورت نماز پڑھتی ہو مرد بوسہ لے عورت کو خواہش پیدا ہو عورت کی نماز نہ جائے گی ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۶۶
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۲۲
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۲۲
فاشتھی فسدت لصیر ورتہ باشتہائہ فی معنی الجماع والجواب مذکور فیھماان ھذا فی الدواعی التی ھی فعل غیر النظر والفکر لتعذر التحرز عنہما۔
جس سے اس کو شہوت پیدا ہوئی تو اس کی نماز فاسد ہو گئی کیونکہ یہ شہوت کی وجہ سے معنی جماع میں ہو گیا اور ان دونوں میں جواب مذکور ہے کہ یہ ان دواعی میں ہے جو نظر و فکر کے علاوہ کوئی اور عمل ہیں کیونکہ دیکھنے سوچنے سے بچنا متعذر ہے ۔ (ت)
اور منکوحہ کی بھی تخصیص نہیں زن فـــ۱ بیگانہ کا بھی یہی حکم ہے یہاں بجائے رجعت حرمت مصاہرت ثابت ہو گی مراقی الفلاح میں ہے :
لاتبطل صلاتہ بنظرہ الی فرج المطلقۃ اوالا جنبیۃ یعنی فرجہا الداخل ۔
قال ط فی حاشیتہا وتثبت بہ حرمۃ المصاھرۃ فی الاجنبیۃ۔
مطلقہ یا اجنبیہ کی شرمگاہ یعنی فرج داخل کی طرف دیکھنے سے نماز باطل نہ ہو گی۔
طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں لکھا : اور اجنبیہ میں اس کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی (ت)
دوڑنے فـــــ۲ کودنے گرنے میں بھی کوئی وجہ نقض وضو نہیں جب فـــــ۳ تك گرنے سے بیہوشی نہ ہو یا خون نہ نکلے بحال بقائے فـــــ۴ ہوش فقط یہ خیال کہ طبیعت دوسری طرف متوجہ اور اپنے حال سے غافل ہوتی ہے کافی نہیں
فـــــ۱ : مسئلہ نماز میں اگر بیگانہ عورت کی شرم گاہ پر نظر جا پڑے جب بھی نماز و وضو میں خلل نہیں مگر عورت کی مائیں بیٹیاں اس پر حرام ہو جائیں گی جب کہ فرج داخل پر نظر بشہوت پڑی ہو اور اگر قصدا ایسا کرے تو سخت گناہ ہے مگر نماز و وضو جب بھی باطل نہ ہوں گے ۔
فـــــ۲ : دوڑنے یا کودنے سے وضو نہیں جاتا ۔
فـــــ۳ : مسئلہ کتنی ہی بلندی پر سے گر پڑے وضو نہ جائے گا مگر یہ کہ خون وغیرہ کچھ خارج ہو یا بیہوش ہو جائے ۔
فـــــ۴ : مسئلہ جب تك ہوش باقی ہیں طبیعت کسی قدر کسی کام میں مشغول ہو وضو نہ جائے گا جیسے کتاب کا مطالعہ یاد الہی کا مراقبہ ۔
جس سے اس کو شہوت پیدا ہوئی تو اس کی نماز فاسد ہو گئی کیونکہ یہ شہوت کی وجہ سے معنی جماع میں ہو گیا اور ان دونوں میں جواب مذکور ہے کہ یہ ان دواعی میں ہے جو نظر و فکر کے علاوہ کوئی اور عمل ہیں کیونکہ دیکھنے سوچنے سے بچنا متعذر ہے ۔ (ت)
اور منکوحہ کی بھی تخصیص نہیں زن فـــ۱ بیگانہ کا بھی یہی حکم ہے یہاں بجائے رجعت حرمت مصاہرت ثابت ہو گی مراقی الفلاح میں ہے :
لاتبطل صلاتہ بنظرہ الی فرج المطلقۃ اوالا جنبیۃ یعنی فرجہا الداخل ۔
قال ط فی حاشیتہا وتثبت بہ حرمۃ المصاھرۃ فی الاجنبیۃ۔
مطلقہ یا اجنبیہ کی شرمگاہ یعنی فرج داخل کی طرف دیکھنے سے نماز باطل نہ ہو گی۔
طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں لکھا : اور اجنبیہ میں اس کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی (ت)
دوڑنے فـــــ۲ کودنے گرنے میں بھی کوئی وجہ نقض وضو نہیں جب فـــــ۳ تك گرنے سے بیہوشی نہ ہو یا خون نہ نکلے بحال بقائے فـــــ۴ ہوش فقط یہ خیال کہ طبیعت دوسری طرف متوجہ اور اپنے حال سے غافل ہوتی ہے کافی نہیں
فـــــ۱ : مسئلہ نماز میں اگر بیگانہ عورت کی شرم گاہ پر نظر جا پڑے جب بھی نماز و وضو میں خلل نہیں مگر عورت کی مائیں بیٹیاں اس پر حرام ہو جائیں گی جب کہ فرج داخل پر نظر بشہوت پڑی ہو اور اگر قصدا ایسا کرے تو سخت گناہ ہے مگر نماز و وضو جب بھی باطل نہ ہوں گے ۔
فـــــ۲ : دوڑنے یا کودنے سے وضو نہیں جاتا ۔
فـــــ۳ : مسئلہ کتنی ہی بلندی پر سے گر پڑے وضو نہ جائے گا مگر یہ کہ خون وغیرہ کچھ خارج ہو یا بیہوش ہو جائے ۔
فـــــ۴ : مسئلہ جب تك ہوش باقی ہیں طبیعت کسی قدر کسی کام میں مشغول ہو وضو نہ جائے گا جیسے کتاب کا مطالعہ یاد الہی کا مراقبہ ۔
حوالہ / References
مراقی الفلاح کتاب الصلوۃ فصل فیما لا یفسد الصلوٰۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۴۲
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلوۃفصل فیما لا یفسد الصلٰوۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۴۳
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلوۃفصل فیما لا یفسد الصلٰوۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۴۳
ورنہ مطالعہ کتب بلکہ مراقبہ یاد الہی بھی ناقض وضو ہو ۔
نعم وقع فی حاشیۃ السید العلامۃ ط علی مراقی الفلاح مانصہ فی الہندیۃ عن المحیط عد من النواقض سقوطہ من اعلی اھ قال بعض الفضلاء ولعلہ لعدم خلوہ عن خروج خارج غالبا وھو لایشعر اھ ۔
اقول : فـــــ۱ رحمہ الله السید والفاضل انما نص الہندیۃ ھکذا المذی ینقض الوضوء وکذا الودی والمنی اذا خرج من غیر شہوۃ بان حمل فـــــ شیئا فسبقہ المنی اوسقط من مکان مرتفع یوجب الوضوء کذا فی المحیط اھ بلفظھا ۔
فقولہ المنی مبتدأ خبرہ یوجب والضمیر فیہ للمنی وقولہ سقط معطوف علی حمل وھو تصویر اخر لخروج
ہاں علامہ سید طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ عبارت ہے : ہندیہ میں محیط سے نقل ہے کہ بلندی سے گرنے کو نواقض میں شمار کیا گیا ہے اھ بعض فضلاء نے کہا : شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عموما یہ اس سے خالی نہیں ہوتا کہ اس کی بے خیالی میں اس سے کچھ نقل کیا جائے اھ۔
اقول : سید اور فاضل ( بعض فضلا ) پر خدا کی رحمت ہو . ہندیہ کی عبارت اس طرح ہے : مذی ناقض وضو ہے اسی طرح ودی بھی اور منی جب کہ بلا شہوت نکلی ہو اس طرح کہ کوئی وزنی چیز اٹھائی جس کی وجہ سے منی نکل آئی یا کسی اونچی جگہ سے گر پڑا تو وہ وضو واجب کرتی ہے ایسا ہی محیط میں ہے اھ عبارت انہی الفاظ کے ساتھ ختم ہوئی
تو لفظ “ المنی “ مبتدا ہے جس کی خبر یوجب ( واجب کرتی ہے)ہے اور اس میں ضمیر لفظ منی کی طرف راجع ہے اور لفظ “ سقط “ ( گرپڑا ) حمل (اٹھانا ) پر معطوف ہے اور اس
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ط و من نقل عنہ ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : بوجھ اٹھانے یا گر پڑنے یا کسی وجہ سے منی بے شہوت اپنے محل سے جدا ہو کر نکل گئی وضو واجب ہو گا غسل نہیں ۔
نعم وقع فی حاشیۃ السید العلامۃ ط علی مراقی الفلاح مانصہ فی الہندیۃ عن المحیط عد من النواقض سقوطہ من اعلی اھ قال بعض الفضلاء ولعلہ لعدم خلوہ عن خروج خارج غالبا وھو لایشعر اھ ۔
اقول : فـــــ۱ رحمہ الله السید والفاضل انما نص الہندیۃ ھکذا المذی ینقض الوضوء وکذا الودی والمنی اذا خرج من غیر شہوۃ بان حمل فـــــ شیئا فسبقہ المنی اوسقط من مکان مرتفع یوجب الوضوء کذا فی المحیط اھ بلفظھا ۔
فقولہ المنی مبتدأ خبرہ یوجب والضمیر فیہ للمنی وقولہ سقط معطوف علی حمل وھو تصویر اخر لخروج
ہاں علامہ سید طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ عبارت ہے : ہندیہ میں محیط سے نقل ہے کہ بلندی سے گرنے کو نواقض میں شمار کیا گیا ہے اھ بعض فضلاء نے کہا : شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عموما یہ اس سے خالی نہیں ہوتا کہ اس کی بے خیالی میں اس سے کچھ نقل کیا جائے اھ۔
اقول : سید اور فاضل ( بعض فضلا ) پر خدا کی رحمت ہو . ہندیہ کی عبارت اس طرح ہے : مذی ناقض وضو ہے اسی طرح ودی بھی اور منی جب کہ بلا شہوت نکلی ہو اس طرح کہ کوئی وزنی چیز اٹھائی جس کی وجہ سے منی نکل آئی یا کسی اونچی جگہ سے گر پڑا تو وہ وضو واجب کرتی ہے ایسا ہی محیط میں ہے اھ عبارت انہی الفاظ کے ساتھ ختم ہوئی
تو لفظ “ المنی “ مبتدا ہے جس کی خبر یوجب ( واجب کرتی ہے)ہے اور اس میں ضمیر لفظ منی کی طرف راجع ہے اور لفظ “ سقط “ ( گرپڑا ) حمل (اٹھانا ) پر معطوف ہے اور اس
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ط و من نقل عنہ ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : بوجھ اٹھانے یا گر پڑنے یا کسی وجہ سے منی بے شہوت اپنے محل سے جدا ہو کر نکل گئی وضو واجب ہو گا غسل نہیں ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلاۃ فصل نواقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۸۶
الفتاوی الھندیہ کتاب الصلوۃ الفصل الخامس فی نواقض الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
الفتاوی الھندیہ کتاب الصلوۃ الفصل الخامس فی نواقض الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
المنی بلاشہوۃ لامعدود فی الموجبات بنفسہ وعبارۃ الامام قاضی خان تزیل الوھم قال فی الخانیۃ “ خروج المنی لاعن شہوۃ بان سقط من مکان مرتفع اومااشبہ ذلك لایوجب الغسل وینقض الوضوء الخ فسبحن من لایزل ولا ینسی والله تعالی اعلم۔
سے بلا شہوت خروج منی کی ایك اور صورت پیش کی ہے یہ (اونچی جگہ سے گرنا ) خود موجبات وضو کے شمار میں نہیں ہے اور امام قاضی خاں کی عبارت سے یہ وہم دور ہو جاتا ہے خانیہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں : منی کا بلاشہوت نکلنا اس طرح کہ کسی اونچی جگہ سے گر پڑا یا ایسی کوئی صورت ہو موجب غسل نہیں اور ناقض وضو ہے ۔ الخ تو پاکی ہے اس ذات کے لئے جسے لغزش اور نسیان نہیں والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۰ : ۱۰ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك پھڑیا تھی اس نے اوپر کی جانب سے منہ کیا اور پھوٹی بہی بالکل اچھی ہوگئی مگر اس کا بالائی پوست اور اس کے نیچے خالی جگہ ہنوز باقی ہے۔ زید نہایا غسل کا پانی کہ اوپر سے بہتا آیا اس خلا میں بھر گیا بعد نہانے کے زید نے ہاتھ سے دبادیا کہ وہ پانی بہہ کر نکل گیا اس صورت میں وضو ساقط ہوا یا نہیں اور جس بدن پر وہ پانی گزرا پاك رہا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جب فـــ کہ وہ پانی پھڑیا کا نہیں بلکہ خالص غسل کا ہے پھڑ یا بالکل صاف ہوگئی تھی کہ اس میں خون پیپ کچھ نہ رہا تھا تو نہ وضو گیا نہ بدن ناپاك ہوا۔
جواہر الفتاوی امام کرمانی باب رابع فتاوائے امام نجم الدین عمر نسفی میں ہے :
جرح لیس فیہ شیئ من قیح اودم او
ایسا زخم جس میں پیپ خون صدید کچھ نہیں
فــــ : مسئلہ : پھڑیا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر منہ اور اندر خلاہے نہانے میں اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکال دیا وضو نہ جائے گا نہ وہ پانی ناپاك ہوا ۔
سے بلا شہوت خروج منی کی ایك اور صورت پیش کی ہے یہ (اونچی جگہ سے گرنا ) خود موجبات وضو کے شمار میں نہیں ہے اور امام قاضی خاں کی عبارت سے یہ وہم دور ہو جاتا ہے خانیہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں : منی کا بلاشہوت نکلنا اس طرح کہ کسی اونچی جگہ سے گر پڑا یا ایسی کوئی صورت ہو موجب غسل نہیں اور ناقض وضو ہے ۔ الخ تو پاکی ہے اس ذات کے لئے جسے لغزش اور نسیان نہیں والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۰ : ۱۰ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك پھڑیا تھی اس نے اوپر کی جانب سے منہ کیا اور پھوٹی بہی بالکل اچھی ہوگئی مگر اس کا بالائی پوست اور اس کے نیچے خالی جگہ ہنوز باقی ہے۔ زید نہایا غسل کا پانی کہ اوپر سے بہتا آیا اس خلا میں بھر گیا بعد نہانے کے زید نے ہاتھ سے دبادیا کہ وہ پانی بہہ کر نکل گیا اس صورت میں وضو ساقط ہوا یا نہیں اور جس بدن پر وہ پانی گزرا پاك رہا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جب فـــ کہ وہ پانی پھڑیا کا نہیں بلکہ خالص غسل کا ہے پھڑ یا بالکل صاف ہوگئی تھی کہ اس میں خون پیپ کچھ نہ رہا تھا تو نہ وضو گیا نہ بدن ناپاك ہوا۔
جواہر الفتاوی امام کرمانی باب رابع فتاوائے امام نجم الدین عمر نسفی میں ہے :
جرح لیس فیہ شیئ من قیح اودم او
ایسا زخم جس میں پیپ خون صدید کچھ نہیں
فــــ : مسئلہ : پھڑیا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر منہ اور اندر خلاہے نہانے میں اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکال دیا وضو نہ جائے گا نہ وہ پانی ناپاك ہوا ۔
حوالہ / References
فتاوی قاضی خان کتاب الصلوۃ فصل فیما ینقض الوضوء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۸
صدید دخل صاحبہ الحمام فدخل ماء الحمام الجرح فلما خرج من الحمام عصر الجرح فخرج ماء الحمام لاینتقض الوضوء لان الخارج ماء الحمام لاما حصل من الجرح ۔
زخم والا حمام گیا حمام کا پانی زخم میں چلا گیا جب وہ حمام سے باہر آیا تو زخم نچوڑا جس سے حمام کا پانی نکل گیا تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ جو نکلا وہ حمام کا پانی ہے وہ نہیں جو زخم سے پیدا ہوا ۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں ہے :
ولفظھا فخرج منہ الماء وسال لاینقض ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں : تو اس سے پانی نکلا اور بہا تو اس سے وضو نہ جائے گا ۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
دخل الماء جرحہ ولادم ولا صدید فیہ ثم خرج منہ لاینقض ۔
زخم میں پانی چلا گیا اور اس میں خون صدید کچھ نہ تھا وہ پانی اس سے نکلا تو وضو نہ جائیگا ۔ (ت)
خزانۃ المفتین میں ہے :
الماء اذا دخل الجرح ثم خرج لایضر اھ ۔
اقول : رمزلہ خ یعنی الخلاصۃ وقد بالغ فــــ فی الاختصار حتی بلغ الاقتصاد فانہ صور المسألۃ بقولہ جرح لیس فیہ شیئ من
پانی زخم میں بھر گیا پھر نکلا تو ضرر نہیں اھ(ت)
اقول : اس کے لئے خ یعنی خلاصہ کا رمز دیا اور اتنا زیادہ اختصار کر دیا کہ حد قصور تك پہنچ گیا اس لئے کہ خلاصہ میں صورت مسئلہ اس طرح بیان کی ہے : ایسا زخم ہے جس میں خون
فــــ : تطفل علی خزانۃ المفتین ۔
زخم والا حمام گیا حمام کا پانی زخم میں چلا گیا جب وہ حمام سے باہر آیا تو زخم نچوڑا جس سے حمام کا پانی نکل گیا تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ جو نکلا وہ حمام کا پانی ہے وہ نہیں جو زخم سے پیدا ہوا ۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں ہے :
ولفظھا فخرج منہ الماء وسال لاینقض ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں : تو اس سے پانی نکلا اور بہا تو اس سے وضو نہ جائے گا ۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
دخل الماء جرحہ ولادم ولا صدید فیہ ثم خرج منہ لاینقض ۔
زخم میں پانی چلا گیا اور اس میں خون صدید کچھ نہ تھا وہ پانی اس سے نکلا تو وضو نہ جائیگا ۔ (ت)
خزانۃ المفتین میں ہے :
الماء اذا دخل الجرح ثم خرج لایضر اھ ۔
اقول : رمزلہ خ یعنی الخلاصۃ وقد بالغ فــــ فی الاختصار حتی بلغ الاقتصاد فانہ صور المسألۃ بقولہ جرح لیس فیہ شیئ من
پانی زخم میں بھر گیا پھر نکلا تو ضرر نہیں اھ(ت)
اقول : اس کے لئے خ یعنی خلاصہ کا رمز دیا اور اتنا زیادہ اختصار کر دیا کہ حد قصور تك پہنچ گیا اس لئے کہ خلاصہ میں صورت مسئلہ اس طرح بیان کی ہے : ایسا زخم ہے جس میں خون
فــــ : تطفل علی خزانۃ المفتین ۔
حوالہ / References
جواہر الفتاوی
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ جکتاب الطہارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۲
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ / ۵
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ جکتاب الطہارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۲
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ / ۵
الدم والقیح الخ کما صور مأخذہ فتاوی الامام النسفی والاخذ منہ وجیز الکردری ۔
ولابد منہ لانہ لوفــــ۱ کان فیہ ذلك یتنجس الماء بالمجاورۃ فینقض بالمجاوزۃ لان خروج نجس سال ناقض مطلقا وان کان شیئا طاھرا انما اکتسب النجاسۃ فی الباطن بالجوار الا تری انہ اذا شرب فـــ۲الماء ووصل معدتہ ثم خرج بالقیئ من ساعتہ وکان ملأفیہ نقض قال فی الدر وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولو من فـــ۳ صبی ساعۃ ارتضاعہ ھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ذکرہ الحلبی اھ
فان قلت ھنا روایۃ پیپ کچھ نہیں الخ جیسا کہ اس کے ماخذ فتاوی امام نسفی میں بیان کیا ہے اور خلاصہ سے اخذ کرنے والے امام کردری نے وجیز میں بیان کیا ہے ۔
اور اسے بیان کرنا بہت ضروری ہے اس لئے کہ اگر زخم میں خون پیپ وغیرہ کچھ رہا ہو تو بعد میں اندر جانے والا پانی اتصال کی وجہ سے نجس ہو جائے گا پھر زخم سے تجاوز کرنے پر وضو توڑ دے گا اس لئے کہ ایسے نجس کا نکلنا جو بہہ جائے مطلقا ناقض وضو ہے اگرچہ وہ پہلے کوئی پاك چیز رہی ہو اندر جا کر صرف اتصال کی وجہ سے نجس ہو گئی ہو دیکھئے جب پانی پیا اور معدہ میں پہنچ گیا پھر فورا قے کے ساتھ نکل آیا اور قے منہ بھر کر تھی تو وہ ناقض وضو ہے درمختار میں ہے : اگرچہ اندر ٹھہرا نہ ہو اور وہ نجاست غلیظہ ہے اگرچہ بچے سے دودھ پیتے ہوئے ایسا ہوا ہو یہی صحیح ہے کہ نجاست سے اختلاط ہو گیا اسے حلبی نے ذکر کیا ۔ اھ
اگر سوال ہو کہ یہاں ایك روایت
فــــ۱ : مسئلہ : پھڑیا میں اگر ابھی خون وغیرہ رطوبت باقی ہے نہانے کا پانی اس میں بھرا اور بہہ کر نکلا وضو جاتا رہے گا کہ وہ پانی نجس ہو گیا ۔
فــــ۲ : مسئلہ : پانی پیا اور معدے میں اتر گیا اور معا قے ہو کر ویسا ہی صاف نتھرا پانی نکل گیا وضو جاتا رہا جب کہ منہ بھر کر ہو اور وہ پانی بھی نا پاك ہے ۔
فـــ۳ : مسئلہ : بچے نے دودھ پیا اور معدے تك پہنچا ہی تھا کہ فورا ڈال دیا وہ دودھ نجس ہے جبکہ منہ بھر ہو روپے بھر جگہ سے زیادہ جس چیز پر لگ جائے گا ناپاك کر دے گا ۔
ولابد منہ لانہ لوفــــ۱ کان فیہ ذلك یتنجس الماء بالمجاورۃ فینقض بالمجاوزۃ لان خروج نجس سال ناقض مطلقا وان کان شیئا طاھرا انما اکتسب النجاسۃ فی الباطن بالجوار الا تری انہ اذا شرب فـــ۲الماء ووصل معدتہ ثم خرج بالقیئ من ساعتہ وکان ملأفیہ نقض قال فی الدر وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولو من فـــ۳ صبی ساعۃ ارتضاعہ ھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ذکرہ الحلبی اھ
فان قلت ھنا روایۃ پیپ کچھ نہیں الخ جیسا کہ اس کے ماخذ فتاوی امام نسفی میں بیان کیا ہے اور خلاصہ سے اخذ کرنے والے امام کردری نے وجیز میں بیان کیا ہے ۔
اور اسے بیان کرنا بہت ضروری ہے اس لئے کہ اگر زخم میں خون پیپ وغیرہ کچھ رہا ہو تو بعد میں اندر جانے والا پانی اتصال کی وجہ سے نجس ہو جائے گا پھر زخم سے تجاوز کرنے پر وضو توڑ دے گا اس لئے کہ ایسے نجس کا نکلنا جو بہہ جائے مطلقا ناقض وضو ہے اگرچہ وہ پہلے کوئی پاك چیز رہی ہو اندر جا کر صرف اتصال کی وجہ سے نجس ہو گئی ہو دیکھئے جب پانی پیا اور معدہ میں پہنچ گیا پھر فورا قے کے ساتھ نکل آیا اور قے منہ بھر کر تھی تو وہ ناقض وضو ہے درمختار میں ہے : اگرچہ اندر ٹھہرا نہ ہو اور وہ نجاست غلیظہ ہے اگرچہ بچے سے دودھ پیتے ہوئے ایسا ہوا ہو یہی صحیح ہے کہ نجاست سے اختلاط ہو گیا اسے حلبی نے ذکر کیا ۔ اھ
اگر سوال ہو کہ یہاں ایك روایت
فــــ۱ : مسئلہ : پھڑیا میں اگر ابھی خون وغیرہ رطوبت باقی ہے نہانے کا پانی اس میں بھرا اور بہہ کر نکلا وضو جاتا رہے گا کہ وہ پانی نجس ہو گیا ۔
فــــ۲ : مسئلہ : پانی پیا اور معدے میں اتر گیا اور معا قے ہو کر ویسا ہی صاف نتھرا پانی نکل گیا وضو جاتا رہا جب کہ منہ بھر کر ہو اور وہ پانی بھی نا پاك ہے ۔
فـــ۳ : مسئلہ : بچے نے دودھ پیا اور معدے تك پہنچا ہی تھا کہ فورا ڈال دیا وہ دودھ نجس ہے جبکہ منہ بھر ہو روپے بھر جگہ سے زیادہ جس چیز پر لگ جائے گا ناپاك کر دے گا ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۷
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵ و ۲۶
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵ و ۲۶
اخری ان قیئ الماء لاینتقض مالم یستحل وقد صحح ایضا قال فی البحر تحت قول المتن وقیئ ملافاہ ولوطعاما اوماء اطلق فی الطعام والماء قال الحسن اذا تناول طعاما اوماء ثم قاء من ساعتہ لاینقض لانہ طاھر حیث لم یستحل وانما اتصل بہ قلیل القیئ فلا یکون حدثا فلا یکون نجسا وکذا الصبی اذا ارتضع وقاء من ساعتہ وصححہ فی المعراج وغیرہ ومحل الاختلاف اذا وصل الی معدتہ ولم یستقر امالو قاء قبل فــــ الوصول الیہا وھو فی المریئ فانہ لاینقض اتفاقا کماذکرہ الزاھدی اھ
وقال المحقق فی الفتح تحت قول الھدایۃ ان قاء بلغما فغیرناقض وقال ابو یوسف ناقض لانہ نجس بالمجاورۃ ولھما انہ لزج لاتتخلله النجاسۃ وما یتصل بہ
اور ہے وہ یہ کہ پانی کی قے ناقض وضو نہیں جب تك کہ پانی متغیر نہ ہو ا ہو اس روایت کی تصحیح بھی ہوئی ہے کنز میں ہے : اور وہ قے جو منہ بھر ہو اگرچہ کھانے یا پانی کی ہو اس پر بحر میں کہا : کھانے اور پانی میں حکم مطلق بیان کیا حسن بن زیاد نے کہا جب کھانا کھائے یا پانی پئے پھر فورا قے کر دے اور وہ ناقض نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے کیوں کہ ابھی وہ متغیر نہ ہوا صرف یہ ہے کہ اس سے تھوڑی سی قے کا اتصال ہوا تو یہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں اسی طرح بچہ جب دودھ پئے اور فورا قے کر دے اسے معراج وغیرہ میں صحیح کہا- اور محل اختلاف وہ صورت ہے جب معدہ تك پہنچ گیا ہو اور ٹھہرا نہ ہو اور اگر معدہ تك پہنچنے سے پہلے قے کر دی جب کہ وہ کھانا پانی گزرنے کی نالی ہی میں تھا تو بالاتفاق ناقض وضو نہیں جیسا کہ زاہدی نے ذکر کیا ہے اھ۔
ہدایہ کی عبارت ہے : “ اگر بلغم کی قے کی تو وہ ناقض نہیں اور امام ابو یوسف نے فرمایا ناقض ہے اس لئے کہ اتصال کی وجہ سے وہ نجس ہے اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ وہ لیس دار ہے جس میں نجاست
فــــ : مسئلہ : پانی پیا کہ اور ابھی سینے ہی تك پہنچا تھا کہ اچھو سے نکل گیا وہ ناپاك نہیں نہ اس سے وضو جائے یونہی دودھ۔
وقال المحقق فی الفتح تحت قول الھدایۃ ان قاء بلغما فغیرناقض وقال ابو یوسف ناقض لانہ نجس بالمجاورۃ ولھما انہ لزج لاتتخلله النجاسۃ وما یتصل بہ
اور ہے وہ یہ کہ پانی کی قے ناقض وضو نہیں جب تك کہ پانی متغیر نہ ہو ا ہو اس روایت کی تصحیح بھی ہوئی ہے کنز میں ہے : اور وہ قے جو منہ بھر ہو اگرچہ کھانے یا پانی کی ہو اس پر بحر میں کہا : کھانے اور پانی میں حکم مطلق بیان کیا حسن بن زیاد نے کہا جب کھانا کھائے یا پانی پئے پھر فورا قے کر دے اور وہ ناقض نہیں اس لئے کہ وہ پاك ہے کیوں کہ ابھی وہ متغیر نہ ہوا صرف یہ ہے کہ اس سے تھوڑی سی قے کا اتصال ہوا تو یہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں اسی طرح بچہ جب دودھ پئے اور فورا قے کر دے اسے معراج وغیرہ میں صحیح کہا- اور محل اختلاف وہ صورت ہے جب معدہ تك پہنچ گیا ہو اور ٹھہرا نہ ہو اور اگر معدہ تك پہنچنے سے پہلے قے کر دی جب کہ وہ کھانا پانی گزرنے کی نالی ہی میں تھا تو بالاتفاق ناقض وضو نہیں جیسا کہ زاہدی نے ذکر کیا ہے اھ۔
ہدایہ کی عبارت ہے : “ اگر بلغم کی قے کی تو وہ ناقض نہیں اور امام ابو یوسف نے فرمایا ناقض ہے اس لئے کہ اتصال کی وجہ سے وہ نجس ہے اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ وہ لیس دار ہے جس میں نجاست
فــــ : مسئلہ : پانی پیا کہ اور ابھی سینے ہی تك پہنچا تھا کہ اچھو سے نکل گیا وہ ناپاك نہیں نہ اس سے وضو جائے یونہی دودھ۔
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴
قلیل والقلیل فی القیئ غیر ناقض مانصہ “ وعلی ھذا یظھر ماء فی المجتبی عن الحسن لوتناول طعاما اوماء ثم قاء من ساعتہ لاینتقض لانہ طاھر الی اخر مامر عن البحر الی مسئلۃ ارتضاع الصبی قال المحقق قیل ھو المختار وما فی القنیۃ لو قاء فــــ۱ دودا کثیرا اوحیۃ ملأت فاہ لاینقض اھ “ وقال المحقق ایضا فی باب الانجاس مرارۃ فــــ۲ کل شیئ کبولہ واجترارہ فــــ۳ کسرقنیہ قال فی التجنیس لانہ و اراہ جوفہ الاتری ان مایواری جوف الانسان بان کان ماء ثم قاء فحکمہ حکم بولہ انتھی۔
سرایت نہیں کر پاتی اور جو کچھ اس سے لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے اور قے میں قلیل غیر ناقض ہے “ اس کے تحت فتح القدیر میں حضرت محقق یہ لکھتے ہیں : اور اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں حسن سے منقول ہے کہ اگر کھانا کھایا یا پانی پیا پھر فورا قے کر دی تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ وہ پاك ہے ( اس عبارت کے آخر تك جو بحرکے حوالے سے بچے کے دودھ پینے کے مسئلے تك گزری ) حضرت محقق نے فرمایا : وہی مختار ہے۔ اور وہ بھی ظاہر ہے جو قنیہ میں ہے کہ اگر بہت کیڑوں یا سانپوں سے منہ بھری قے کی تو ناقض نہیں اھ اور حضرت محقق ہی نے باب الانجاس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر جاندار کا پتہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے اور اس کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے تجنیس میں کہا اس لئے کہ اسے اس کے جوف نے چھپا رکھا ہے دیکھو جسے انسان کے جوف نے
فـــــ۱ : مسئلہ : اگر معاذ الله کیڑے قے ہو گئے یا سانپ وضو نہ جائے گا اگرچہ منہ بھرکر ہو ۔
فــــ۲ : مسئلہ : ہر جاندار کا پتہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے مثلا آدمی کے پت نجاست غلیظہ ہیں گھوڑے گائے کے نجاست خفیفہ ۔
فــــ۳ : مسئلہ : ہر جانور کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے مثلا اونٹ گائے بھینس بکری کی نجاست خفیفہ اور جلالہ کی غلیظہ ۔
سرایت نہیں کر پاتی اور جو کچھ اس سے لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے اور قے میں قلیل غیر ناقض ہے “ اس کے تحت فتح القدیر میں حضرت محقق یہ لکھتے ہیں : اور اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں حسن سے منقول ہے کہ اگر کھانا کھایا یا پانی پیا پھر فورا قے کر دی تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ وہ پاك ہے ( اس عبارت کے آخر تك جو بحرکے حوالے سے بچے کے دودھ پینے کے مسئلے تك گزری ) حضرت محقق نے فرمایا : وہی مختار ہے۔ اور وہ بھی ظاہر ہے جو قنیہ میں ہے کہ اگر بہت کیڑوں یا سانپوں سے منہ بھری قے کی تو ناقض نہیں اھ اور حضرت محقق ہی نے باب الانجاس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر جاندار کا پتہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے اور اس کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے تجنیس میں کہا اس لئے کہ اسے اس کے جوف نے چھپا رکھا ہے دیکھو جسے انسان کے جوف نے
فـــــ۱ : مسئلہ : اگر معاذ الله کیڑے قے ہو گئے یا سانپ وضو نہ جائے گا اگرچہ منہ بھرکر ہو ۔
فــــ۲ : مسئلہ : ہر جاندار کا پتہ اس کے پیشاب کے حکم میں ہے مثلا آدمی کے پت نجاست غلیظہ ہیں گھوڑے گائے کے نجاست خفیفہ ۔
فــــ۳ : مسئلہ : ہر جانور کی جگالی اس کے گوبر مینگنی کے حکم میں ہے مثلا اونٹ گائے بھینس بکری کی نجاست خفیفہ اور جلالہ کی غلیظہ ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ / ۴۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ / ۴۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ سکھر ۱ / ۴۱
وھو یقتضی انہ کذلك وان قاء من ساعتہ (ای لانہ ایضا واراہ جوفہ قال) وقد منا فی النواقض عن الحسن ماھوالاحسن وقد صححہ (ای صاحب التجنیس) بعد قریب ورقۃ فقال فی الصبی ارتضع ثم قاء فاصاب ثیاب الام ان زاد علی الدرھم منع قال و روی الحسن عن ابی حنیفۃ انہ لایمنع مالم یفحش لانہ لم یتغیر من کل وجہ فکان نجاستہ دون نجاسۃ البول بخلاف المرارۃ لانھا متغیرۃ من کل وجہ کذا فی غریب الروایۃ عن ابی حنیفۃ وھو الصحیح وفیہ ماذکرنا اھ فقد صححہ فی المعراج وغیرہ وقیل ھو المختار واستظہرہ المحقق وجعلہ الاحسن فلعل الی ھذا مال فی خزانۃ المفتین فحذف ذلك القید۔
قلت اولا : لو اختار ھذا ماکان لیعزوالی الخلاصۃ
اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر فورا قے کی ہو تو بھی یہی حکم ہے (یعنی اس لئے کہ اسے بھی اس کے جوف نے چھپا لیا تھا ۔ آگے ہے : ) اور ہم نواقض میں حسن سے وہ نقل کر چکے ہیں جو احسن ہے اور تقریبا ایك ورق کے بعد اسے ( صاحب تجنیس نے) صحیح بھی کہا ہے وہ فرماتے ہیں : بچہ نے دودھ پیا پھر قے کر دی جو ماں کے کپڑے پر لگ گئی اگر وہ ایك درہم سے زیادہ ہے تو ممانعت ہے اور حسن نے امام ابو حنیفہ سے روایت کی ہے کہ مانع نہیں جب کہ بہت زیادہ نہ ہو اس لئے کہ وہ پوری طرح متغیر نہ ہوا تو اس کی نجاست پیشاب کی نجاست سے کم ہو گی بخلاف پتے کے اس لئے کہ وہ ہر طرح بدل چکا ہے ایسا ہی غریب الروایہ میں امام ابو حنیفہ سے مروی اور وہی صحیح ہے اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا اھ تو اسے معراج وغیر ہ میں صحیح کہا اور کہا گیا کہ وہی مختار ہے اور حضرت محقق نے اسی کو ظاہر کہا اور احسن قرار دیا تو شاید خزانۃ المفتین کا میلان اسی طرف ہو اس لئے وہ قید حذف کر دی ۔
میں جواب دوں گا اولا : اگر اسے اختیار کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا کہ خلاصہ کے
قلت اولا : لو اختار ھذا ماکان لیعزوالی الخلاصۃ
اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر فورا قے کی ہو تو بھی یہی حکم ہے (یعنی اس لئے کہ اسے بھی اس کے جوف نے چھپا لیا تھا ۔ آگے ہے : ) اور ہم نواقض میں حسن سے وہ نقل کر چکے ہیں جو احسن ہے اور تقریبا ایك ورق کے بعد اسے ( صاحب تجنیس نے) صحیح بھی کہا ہے وہ فرماتے ہیں : بچہ نے دودھ پیا پھر قے کر دی جو ماں کے کپڑے پر لگ گئی اگر وہ ایك درہم سے زیادہ ہے تو ممانعت ہے اور حسن نے امام ابو حنیفہ سے روایت کی ہے کہ مانع نہیں جب کہ بہت زیادہ نہ ہو اس لئے کہ وہ پوری طرح متغیر نہ ہوا تو اس کی نجاست پیشاب کی نجاست سے کم ہو گی بخلاف پتے کے اس لئے کہ وہ ہر طرح بدل چکا ہے ایسا ہی غریب الروایہ میں امام ابو حنیفہ سے مروی اور وہی صحیح ہے اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا اھ تو اسے معراج وغیر ہ میں صحیح کہا اور کہا گیا کہ وہی مختار ہے اور حضرت محقق نے اسی کو ظاہر کہا اور احسن قرار دیا تو شاید خزانۃ المفتین کا میلان اسی طرف ہو اس لئے وہ قید حذف کر دی ۔
میں جواب دوں گا اولا : اگر اسے اختیار کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا کہ خلاصہ کے
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ باب الانجاس وتطہیرہا المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ بسکھر ۱ / ۱۷۹ ، ۱۸۰
مالم تردہ۔
وثانیا : قد تبع الخلاصۃ بعد ھذا بسطرین فاطلق مسألۃ قیئ الطعام والماء اطلاقا کما ارسلت المتون والعامۃ۔
وثالثا : رأیتنی کتبت علی ھامش الفتح من النواقض مانصہ قولہ وعلی ھذا یظھر مافی المجتبی الخ ۔
اقول : وبالله التوفیق فی ھذا فــــ الظھور خفاء شدید فان الماء والطعام وان لم یستحیلا لکنہما یقبلان النجاسۃ بالمجاورۃ فاذا اعادا من معدن النجس کانا متنجسین وان لم یکونا نجسین فیجب النقض بھما کالریح طاھرۃ عینہا وناقض خروجھا لانبعاثھا من محل النجاسۃ نعم مسألۃ الدود والحیۃ واضحۃ الوجہ فانہما لایتداخلہما النجاسۃ وما علیہما قلیل فلا ینقضان الا اذا کثر خروجہما من غثیان واحد حتی بلغ ما علیہما الکثیران وقع ھذا چھپا لیا ہو مثلا پانی تھا پھر اس کی قے کی تو اس کا حکم اس کے پیشاب کا ہے انتہی ۔
کے حوالے سے وہ بات بیان کریں جو اس نے مراد نہ لی۔
ثانیا : اس کے دو سطر بعد خلاصہ کی تبعیت کرتے ہوئے کھانے اور پانی کی قے کو مطلق بیان کیا ہے جیسے متون اور عامہ مصنفین نے بغیر قید کے ذکر کیا ہے ۔
ثالثا : میں نے دیکھا کہ فتح القدیر باب النواقض کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا ہے : قولہ اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں ہے الخ۔
اقول : و بالله التوفیق اس ظہور میں شدید خفا ہے اس لئے کھانا اور پانی اگرچہ متغیر نہ ہوا مگر دونوں اتصال کی وجہ سے نجاست قبول کر لیں گے پھر جب نجاست کے معدن سے لوٹیں گے تو متنجس( ناپاك ہو جانے والے ) ہوں گے اگرچہ بذات خود نجس نہ ہوں تو ان سے وضو ٹوٹنا ضروری ہے جیسے ریح خود پاك ہے اور اس کا خروج ناقض وضو ہے اس لئے کہ وہ محل نجاست سے اٹھتی ہے ہاں کیڑے اور سانپ کے مسئلہ کہ وجہ واضح ہے اس لئے کہ ان دونوں کے اندر نجاست داخل نہیں ہوئی اور جو ان کے اوپر لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے تو یہ ناقض نہ ہوں گے مگر جب ایك ہی متلی سے زیادہ مقدار میں نکلیں یہاں تك کہ جو نجاست ان کے اوپر لگی ہو وہ کثیر کی حد کو
فــــ : تطفل علی الفتح ۔
وثانیا : قد تبع الخلاصۃ بعد ھذا بسطرین فاطلق مسألۃ قیئ الطعام والماء اطلاقا کما ارسلت المتون والعامۃ۔
وثالثا : رأیتنی کتبت علی ھامش الفتح من النواقض مانصہ قولہ وعلی ھذا یظھر مافی المجتبی الخ ۔
اقول : وبالله التوفیق فی ھذا فــــ الظھور خفاء شدید فان الماء والطعام وان لم یستحیلا لکنہما یقبلان النجاسۃ بالمجاورۃ فاذا اعادا من معدن النجس کانا متنجسین وان لم یکونا نجسین فیجب النقض بھما کالریح طاھرۃ عینہا وناقض خروجھا لانبعاثھا من محل النجاسۃ نعم مسألۃ الدود والحیۃ واضحۃ الوجہ فانہما لایتداخلہما النجاسۃ وما علیہما قلیل فلا ینقضان الا اذا کثر خروجہما من غثیان واحد حتی بلغ ما علیہما الکثیران وقع ھذا چھپا لیا ہو مثلا پانی تھا پھر اس کی قے کی تو اس کا حکم اس کے پیشاب کا ہے انتہی ۔
کے حوالے سے وہ بات بیان کریں جو اس نے مراد نہ لی۔
ثانیا : اس کے دو سطر بعد خلاصہ کی تبعیت کرتے ہوئے کھانے اور پانی کی قے کو مطلق بیان کیا ہے جیسے متون اور عامہ مصنفین نے بغیر قید کے ذکر کیا ہے ۔
ثالثا : میں نے دیکھا کہ فتح القدیر باب النواقض کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا ہے : قولہ اس بنیاد پر وہ ظاہر ہے جو مجتبی میں ہے الخ۔
اقول : و بالله التوفیق اس ظہور میں شدید خفا ہے اس لئے کھانا اور پانی اگرچہ متغیر نہ ہوا مگر دونوں اتصال کی وجہ سے نجاست قبول کر لیں گے پھر جب نجاست کے معدن سے لوٹیں گے تو متنجس( ناپاك ہو جانے والے ) ہوں گے اگرچہ بذات خود نجس نہ ہوں تو ان سے وضو ٹوٹنا ضروری ہے جیسے ریح خود پاك ہے اور اس کا خروج ناقض وضو ہے اس لئے کہ وہ محل نجاست سے اٹھتی ہے ہاں کیڑے اور سانپ کے مسئلہ کہ وجہ واضح ہے اس لئے کہ ان دونوں کے اندر نجاست داخل نہیں ہوئی اور جو ان کے اوپر لگا ہوا ہے وہ قلیل ہے تو یہ ناقض نہ ہوں گے مگر جب ایك ہی متلی سے زیادہ مقدار میں نکلیں یہاں تك کہ جو نجاست ان کے اوپر لگی ہو وہ کثیر کی حد کو
فــــ : تطفل علی الفتح ۔
والعیاذ بالله تعالی ھذا ما اختلج بقلب العبد الضعیف اول وقوفی علی ھذا الکلام ثم بعد یومین رأیت العلامۃ المحقق ابرہیم الحلبی ذکر فی شرح المنیۃ الکبیر روایۃ المجتبی عن الحسن و انہ قیل ھو المختار ثم عقبہ بقولہ و الصحیح ظاھر الروایۃ انہ نجس لمخالطۃ النجاسۃ و تداخلہا فیہ بخلاف البلغم و بخلاف دود او حیۃ لانہ طاھر فی نفسہ و لم تتداخلہ النجاسۃ و ما یستتبعہ قلیل لا یبلغ ملأ الفم اھ فھذا عین ما بحثہ و لله الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ اھ ما کتبت علیہ و کتبت علی ہامش باب الانجاس قولہ ما ھو الاحسن اقول : ما ھو فــــ الاحسن لانہ خلاف ظاھر الروایۃ المصححۃ و الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی ظاھر الروایۃ قولہ و قد صححہ
پہنچ جائے اگر ایسا وقوع میں آئے والعیاذ بالله تعالی یہ وہ ہے جو اس کلام پر واقف ہوتے ہی بندہ ضعیف کے قلب میں خیال ہوا پھر دو دن بعد میں نے دیکھا کہ علامہ محقق ابراہیم حلبی نے منیہ کی شرح کبیر میں حسن سےمجتبی کی روایت ذکر کی اور یہ کہ کہا گیا وہی مختار ہے پھر اس کے بعد یہ لکھا : اور صحیح ظاہر الروایہ ہے کہ وہ نجس ہے اس لئے کہ اس کا نجاست سے اختلاط ہوا اور نجاست اس کے اندر داخل ہوئی بخلاف بلغم کے اور بخلاف کیڑے یا سانپ کے اس لئے کہ وہ خود پاك ہے اور اس کے اندر نجاست نہ گئی اور جو اس کے تابع ہے وہ قلیل ہے کہ منہ بھرنے کی حد کو نہ پہنچے گی اھ۔
تو یہ بعینہ وہی ہے جو میں نے بحث کی اور خدا ہی کے لئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد اھ وہ حاشیہ ختم جو میں نے فتح القدیر پر لکھا تھا اور باب الانجاس کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا : قولہ وہ جو احسن ہے اقول : وہ احسن نہیں اس لئے کہ وہ تصحیح یافتہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے اور فتوی میں جب اختلاف ہو تو ظاہر الروایہ کی طرف رجوع واجب ہے قولہ اور اسے تقریبا
فـــ : تطفل ثان علیہ
پہنچ جائے اگر ایسا وقوع میں آئے والعیاذ بالله تعالی یہ وہ ہے جو اس کلام پر واقف ہوتے ہی بندہ ضعیف کے قلب میں خیال ہوا پھر دو دن بعد میں نے دیکھا کہ علامہ محقق ابراہیم حلبی نے منیہ کی شرح کبیر میں حسن سےمجتبی کی روایت ذکر کی اور یہ کہ کہا گیا وہی مختار ہے پھر اس کے بعد یہ لکھا : اور صحیح ظاہر الروایہ ہے کہ وہ نجس ہے اس لئے کہ اس کا نجاست سے اختلاط ہوا اور نجاست اس کے اندر داخل ہوئی بخلاف بلغم کے اور بخلاف کیڑے یا سانپ کے اس لئے کہ وہ خود پاك ہے اور اس کے اندر نجاست نہ گئی اور جو اس کے تابع ہے وہ قلیل ہے کہ منہ بھرنے کی حد کو نہ پہنچے گی اھ۔
تو یہ بعینہ وہی ہے جو میں نے بحث کی اور خدا ہی کے لئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد اھ وہ حاشیہ ختم جو میں نے فتح القدیر پر لکھا تھا اور باب الانجاس کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا : قولہ وہ جو احسن ہے اقول : وہ احسن نہیں اس لئے کہ وہ تصحیح یافتہ ظاہر الروایہ کے خلاف ہے اور فتوی میں جب اختلاف ہو تو ظاہر الروایہ کی طرف رجوع واجب ہے قولہ اور اسے تقریبا
فـــ : تطفل ثان علیہ
حوالہ / References
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضا خاں علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء (قلمی) ص ۳۳
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضاخاں علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس (قلمی) ص ۳۵
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضاخاں علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس (قلمی) ص ۳۵
بعد قریب ورقۃ ۔
اقول : فرق فــــ۱ بین ما مر عن الحسن و ھو الطہارۃ بدلیل عدم انتقاض الوضوء و بین ہذا الاتی عن الحسن عن الامام وھو کونہ نجاسۃ خفیفۃ و ایاما کان فعلی ظاھر الروایۃ التعویل کیف وھو الذی یقتضی بہ الدلیل و ھو الموافق لاطلاق المتون و عامۃ الشروح وا لفتاوی فی القیئ
قولہ لانہ لم یتغیر من کل وجہ اقول نعم فــــ۲ لکن او لم یجاور النجاسۃ الغلیظۃ او لیس مما تتداخلہ النجاسۃ واذا کان الامر علی ھذا وجب کونہ نجاسۃ غلیظۃ فان الغلیظۃ انما تورث بجوارھا الغلظۃ دون الخفۃ کما لا یخفی فالصحیح ان القیئ ناقض مطلقا بشروطہ المعروفۃ وان جرۃ کل شئی کسر قینہ من دون فصل ۔
قولہ و فیہ ما ذکرنا ای ان
ایك ورق بعد صحیح کہا ہے ۔
اقول : حسن سے جو روایت گزری کہ وہ پاك ہے اس لئے کہ وضو نہ ٹوٹا اور حسن کے واسطہ سے حضرت امام سے جو روایت ہے کہ وہ نجاست خفیفہ ہے دونوں میں فرق ہے اور جو بھی ہو اعتماد ظاہر الراویہ ہی پرہو گا اور کیوں نہ ہو جب کہ دلیل بھی اسی کی مقتضی ہے اور قے کے بارے میں وہ متون اور عامہ شروح و فتاوی کے مطابق بھی ہے ۔
قولہ اس لئے کہ وہ پوری طرح متغیر نہ ہوا اقول یہ تو ٹھیك ہے لیکن کیا نجاست غلیظہ سے اس کا اتصال بھی نہ ہوا یا یہ اس میں سے ہے جس کے اندر نجاست داخل نہیں ہو پاتی اور جب بنائے کار اس پرہے تو اس کا نجاست غلیظہ ہوناضروری ہے اس لئے کہ نجاست غلیظہ اپنے اتصال سے غلظت و شدت ہی پیداکرتی ہے خفت نہیں۔ جیسا کہ واضح ہے تو صحیح یہ ہے کہ قے اپنی معروف شرطوں کے ساتھ مطلقا ناقض ہے اور یہ کہ ہر جاندار کی جگال اسکے گوبر مینگنی کی طرح ہونے کا حکم بلا تفریق ہے ۔
قولہ اور اس میں وہ کلام ہے جو
فـــ۱ : تطفل ثالث علیہ ۔
فـــ۲ : تطفل خویدم ذلیل علی خدام الامام الجلیل صاحب الہدایۃ۔
اقول : فرق فــــ۱ بین ما مر عن الحسن و ھو الطہارۃ بدلیل عدم انتقاض الوضوء و بین ہذا الاتی عن الحسن عن الامام وھو کونہ نجاسۃ خفیفۃ و ایاما کان فعلی ظاھر الروایۃ التعویل کیف وھو الذی یقتضی بہ الدلیل و ھو الموافق لاطلاق المتون و عامۃ الشروح وا لفتاوی فی القیئ
قولہ لانہ لم یتغیر من کل وجہ اقول نعم فــــ۲ لکن او لم یجاور النجاسۃ الغلیظۃ او لیس مما تتداخلہ النجاسۃ واذا کان الامر علی ھذا وجب کونہ نجاسۃ غلیظۃ فان الغلیظۃ انما تورث بجوارھا الغلظۃ دون الخفۃ کما لا یخفی فالصحیح ان القیئ ناقض مطلقا بشروطہ المعروفۃ وان جرۃ کل شئی کسر قینہ من دون فصل ۔
قولہ و فیہ ما ذکرنا ای ان
ایك ورق بعد صحیح کہا ہے ۔
اقول : حسن سے جو روایت گزری کہ وہ پاك ہے اس لئے کہ وضو نہ ٹوٹا اور حسن کے واسطہ سے حضرت امام سے جو روایت ہے کہ وہ نجاست خفیفہ ہے دونوں میں فرق ہے اور جو بھی ہو اعتماد ظاہر الراویہ ہی پرہو گا اور کیوں نہ ہو جب کہ دلیل بھی اسی کی مقتضی ہے اور قے کے بارے میں وہ متون اور عامہ شروح و فتاوی کے مطابق بھی ہے ۔
قولہ اس لئے کہ وہ پوری طرح متغیر نہ ہوا اقول یہ تو ٹھیك ہے لیکن کیا نجاست غلیظہ سے اس کا اتصال بھی نہ ہوا یا یہ اس میں سے ہے جس کے اندر نجاست داخل نہیں ہو پاتی اور جب بنائے کار اس پرہے تو اس کا نجاست غلیظہ ہوناضروری ہے اس لئے کہ نجاست غلیظہ اپنے اتصال سے غلظت و شدت ہی پیداکرتی ہے خفت نہیں۔ جیسا کہ واضح ہے تو صحیح یہ ہے کہ قے اپنی معروف شرطوں کے ساتھ مطلقا ناقض ہے اور یہ کہ ہر جاندار کی جگال اسکے گوبر مینگنی کی طرح ہونے کا حکم بلا تفریق ہے ۔
قولہ اور اس میں وہ کلام ہے جو
فـــ۱ : تطفل ثالث علیہ ۔
فـــ۲ : تطفل خویدم ذلیل علی خدام الامام الجلیل صاحب الہدایۃ۔
حوالہ / References
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس (قلمی) ص ۳۵
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ باب الانجاس (قلمی) ص ۳۵
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ باب الانجاس (قلمی) ص ۳۵
ما فی المجتبی وغیرہ یقتضی طہارتہ ۔
اقول : و فیہ ما ذکرنا اھ ما کتبت ثمہ۔
وقد نقل فی رد المحتار قبیل الصلوۃ عبارۃ الفتح ھذا الی قول التجنیس و ھو الصحیح و اقرہ علیہ فکتبت علیہ اقول : قدم فـــ الشارح العلامۃ فی النواقض تصحیح کونہ نجسا مغلظا و قدم المحشی ثمہ انہ حیث صحح القولان فلا یعدل عن ظاھر الروایۃ ولذا جزم بہ الشارح اھ فکان علیہ ان لا یقر علی خلافہ ھھنا و لکن الانسان للنسیان و حسبنا الله و نعم الوکیل۔
ولنرجع الی اول المسئلۃ الحکم الذی قررناہ بنصوص فتاوی النسفی و جواھر الفتاوی و الخلاصۃ و البزازیۃ و الخزانۃ یترا ای خلافہ من الغنیۃ اذ قال ( نفطۃ قشرت فسال منہا ماء ) خالص اجتذب من الخارج
ہم نے ذکر کیا یعنی یہ کہ جو مجتبی وغیرہ میں ہے وہ اس کی طہارت کا مقتضی ہے
اقول : اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا اھ وہ حاشیہ ختم جو میں نے وہاں لکھا ۔
اور ردالمحتار میں کتاب الصلوۃ سے ذرا پہلے فتح القدیر کی یہ عبارت تجنیس کے قول “ و ھو الصحیح “ تك نقل کرکے برقرار رکھی تو اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول : اس سے پہلے نواقض وضو میں شارح علامہ اس کے نجاست غلیظہ ہونے کی تصحیح ذکر کرچکے ہیں اور وہاں حضرت محشی نے بھی یہ لکھا ہے کہ : جب دونوں قول تصحیح یافتہ ہیں تو ظاہر الروایہ سے عدول نہ کیا جائے گااھ اسی لئے شارح نے اس پر جزم فرمایا اھ تو ان پر لازم تھا کہ یہاں اس کے خلاف برقرار نہ رکھیں لیکن انسان نسیان کی وجہ سے ہے وحسبنا الله و نعم الوکیل۔
اب ہم اول مسئلہ کی طرف رجوع کریں فتاوی نسفی جواہر الفتاوی خلاصہ بزازیہ اور خزانہ کی تصریحات سے ہم نے جس حکم کی تقریر کی غنیہ سے اس کے خلاف کا خیال ہوتا ہے اس کی عبارت یہ ہے : (کسی آبلے کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی بہا ) خالص پانی جو خارج سے
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
اقول : و فیہ ما ذکرنا اھ ما کتبت ثمہ۔
وقد نقل فی رد المحتار قبیل الصلوۃ عبارۃ الفتح ھذا الی قول التجنیس و ھو الصحیح و اقرہ علیہ فکتبت علیہ اقول : قدم فـــ الشارح العلامۃ فی النواقض تصحیح کونہ نجسا مغلظا و قدم المحشی ثمہ انہ حیث صحح القولان فلا یعدل عن ظاھر الروایۃ ولذا جزم بہ الشارح اھ فکان علیہ ان لا یقر علی خلافہ ھھنا و لکن الانسان للنسیان و حسبنا الله و نعم الوکیل۔
ولنرجع الی اول المسئلۃ الحکم الذی قررناہ بنصوص فتاوی النسفی و جواھر الفتاوی و الخلاصۃ و البزازیۃ و الخزانۃ یترا ای خلافہ من الغنیۃ اذ قال ( نفطۃ قشرت فسال منہا ماء ) خالص اجتذب من الخارج
ہم نے ذکر کیا یعنی یہ کہ جو مجتبی وغیرہ میں ہے وہ اس کی طہارت کا مقتضی ہے
اقول : اور اس میں وہ کلام ہے جو ہم نے ذکر کیا اھ وہ حاشیہ ختم جو میں نے وہاں لکھا ۔
اور ردالمحتار میں کتاب الصلوۃ سے ذرا پہلے فتح القدیر کی یہ عبارت تجنیس کے قول “ و ھو الصحیح “ تك نقل کرکے برقرار رکھی تو اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول : اس سے پہلے نواقض وضو میں شارح علامہ اس کے نجاست غلیظہ ہونے کی تصحیح ذکر کرچکے ہیں اور وہاں حضرت محشی نے بھی یہ لکھا ہے کہ : جب دونوں قول تصحیح یافتہ ہیں تو ظاہر الروایہ سے عدول نہ کیا جائے گااھ اسی لئے شارح نے اس پر جزم فرمایا اھ تو ان پر لازم تھا کہ یہاں اس کے خلاف برقرار نہ رکھیں لیکن انسان نسیان کی وجہ سے ہے وحسبنا الله و نعم الوکیل۔
اب ہم اول مسئلہ کی طرف رجوع کریں فتاوی نسفی جواہر الفتاوی خلاصہ بزازیہ اور خزانہ کی تصریحات سے ہم نے جس حکم کی تقریر کی غنیہ سے اس کے خلاف کا خیال ہوتا ہے اس کی عبارت یہ ہے : (کسی آبلے کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی بہا ) خالص پانی جو خارج سے
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
حواشی اعلٰحضرت امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ باب الانجاس قلمی ص ۳۵
جد الممتار علی ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل فی استنجاء مکتب المجمع الاسلامی مبارکپور ۱ / ۱۸۶
جد الممتار علی ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل فی استنجاء مکتب المجمع الاسلامی مبارکپور ۱ / ۱۸۶
والتامت علیہ ( او دم او صدید ان سال عن رأس الجرح نقض و ان لم یسل لا ۔ )
اقول : اصل فــــ المسألۃ فی الجامع الصغیر کما تقدم والظاھر المتبادر منہ ماء النفطۃ وھو الدم الذی نضج فرق فاشبہ الماء ھکذا فھمہ العامۃ قال الامام فقیہ النفس فی شرحہ تحت ھذہ المسألۃ قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع لایکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطہارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء واذا کان دما کان نجسانا قضا للوضوء اھ
وقال فی الحلیۃ تحت عبارۃ المنیۃ المذکورۃ قال فخر الاسلام وغیرہ قد تکون النفطۃ اصلہادما ثم ینضج فیصیر قیحا ثم یزداد طبخا فیصیر صدیدا ثم قد یصیر ماء وقد یکون فی الابتداء ماء اھ
جذب ہوا اور آبلہ اسے لے کر بند ہو گیا( یا خون یا صدید بہا اگر سر زخم سے بہہ گیا تو وضو جاتا رہا نہ بہا تو نہیں )
اقول : اس مسئلہ کی اصل جامع صغیر میں ہے جیسا کہ گزرا اور اس سے ظاہر متبادر آبلہ کا پانی ہے اور یہ وہ خون ہے جو پك کر رقیق ہو گیا تو پانی جیسا بن گیا۔ عامہ مصنفین نے اسے اچھی طرح سمجھا امام فقیہ النفس اپنی شرح میں اس مسئلہ کے تحت لکھتے ہیں : حسن بن زیاد نے فرمایا : پانی پسینہ اور آنسو کی طرح نجس نہیں اور اس کا نکلنا طہارت جانے کا موجب نہیں اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا۔ اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا نہ پکا تو اس کا رنگ پانی جیسا ہو جاتا ہے اور جب وہ خون ہے تو نجس ناقض وضو ہو گا ۔ اھ
حلیہ میں منیہ کی عبارت کے تحت لکھا : فخر الاسلام وغیرہ نے فرمایا : آبلہ کبھی اصل میں خون ہوتا ہے پھر پك کر پیپ ہو جاتا ہے پھر مزید پك کر صدید بن جاتا ہے پھر کبھی پانی ہوجاتا ہے اور کبھی شروع ہی میں پانی ہوتا ہے اھ ۔
فـــــ : تطفل علی الغنیۃ۔
اقول : اصل فــــ المسألۃ فی الجامع الصغیر کما تقدم والظاھر المتبادر منہ ماء النفطۃ وھو الدم الذی نضج فرق فاشبہ الماء ھکذا فھمہ العامۃ قال الامام فقیہ النفس فی شرحہ تحت ھذہ المسألۃ قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع لایکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطہارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء واذا کان دما کان نجسانا قضا للوضوء اھ
وقال فی الحلیۃ تحت عبارۃ المنیۃ المذکورۃ قال فخر الاسلام وغیرہ قد تکون النفطۃ اصلہادما ثم ینضج فیصیر قیحا ثم یزداد طبخا فیصیر صدیدا ثم قد یصیر ماء وقد یکون فی الابتداء ماء اھ
جذب ہوا اور آبلہ اسے لے کر بند ہو گیا( یا خون یا صدید بہا اگر سر زخم سے بہہ گیا تو وضو جاتا رہا نہ بہا تو نہیں )
اقول : اس مسئلہ کی اصل جامع صغیر میں ہے جیسا کہ گزرا اور اس سے ظاہر متبادر آبلہ کا پانی ہے اور یہ وہ خون ہے جو پك کر رقیق ہو گیا تو پانی جیسا بن گیا۔ عامہ مصنفین نے اسے اچھی طرح سمجھا امام فقیہ النفس اپنی شرح میں اس مسئلہ کے تحت لکھتے ہیں : حسن بن زیاد نے فرمایا : پانی پسینہ اور آنسو کی طرح نجس نہیں اور اس کا نکلنا طہارت جانے کا موجب نہیں اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا۔ اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا نہ پکا تو اس کا رنگ پانی جیسا ہو جاتا ہے اور جب وہ خون ہے تو نجس ناقض وضو ہو گا ۔ اھ
حلیہ میں منیہ کی عبارت کے تحت لکھا : فخر الاسلام وغیرہ نے فرمایا : آبلہ کبھی اصل میں خون ہوتا ہے پھر پك کر پیپ ہو جاتا ہے پھر مزید پك کر صدید بن جاتا ہے پھر کبھی پانی ہوجاتا ہے اور کبھی شروع ہی میں پانی ہوتا ہے اھ ۔
فـــــ : تطفل علی الغنیۃ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی نواقض الوضوءسہیل اکیڈیمی لاہور ص ۱۳۱
شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
وفی البحرالرائق وعن الحسن ان ماء النفطۃ لاینقض قال الحلوانی وفیہ توسعۃ لمن بہ جرب اوجدری کذافی المعراج اھ وفی منحۃ الخالق قال فی الجمہرۃ تنفطت ید الرجل اذا رق جلدھا من العمل وصار فیھا کالماء والکف نفیطۃ ومنفوطۃ کذا فی غایۃ البیان وقال ایضا بعدہ ھذا ای النقض اذا کانت النفطۃ اصلہا دما وقد تکون من الابتداء ماء اھ ثم اقول : بعد تسلیمہ یجب حملہ علی مااذا کان فی النفطۃ من دم اوقیح ماینجس لاماء والا فالحجۃ ماقدمنا من النصوص والله تعالی اعلم۔
البحر الرائق میں ہے : حسن سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقض وضو نہیں امام حلوانی نے فرمایا : اس میں خارش یا چیچك والوں کے لئے وسعت ہے ایسا ہی معراج میں ہے اھ منحۃ الخالق میں ہے : جمہرہ میں کہا : بولا جاتا ہے تنفطت ید الرجل جب آدمی کے ہاتھ کی جلدکام کی وجہ سے پتلی ہو جائے اور اس میں پانی جیسی چیز پیدا ہو جائے اور بولتے ہیں : الکف نفیطۃ و منفوطۃ ( ہتھیلی آبلہ دار ہو گئی ) ایسا ہی غایۃ البیان میں ہے ۔ آگے لکھا : وضو ٹوٹنا ا س وقت ہے جب آبلہ کی اصل خون ہو اور کبھی شروع ہی سے پانی ہوتا ہے اھ ثم اقول : اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب آبلہ میں اتنا خون یا پیپ ہو جو پانی کو ناپاك کر دے ورنہ حجت وہ نصوص ہیں جو پہلے ہم رقم کر چکے والله تعالی اعلم ۔ (ت)
______________________
البحر الرائق میں ہے : حسن سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقض وضو نہیں امام حلوانی نے فرمایا : اس میں خارش یا چیچك والوں کے لئے وسعت ہے ایسا ہی معراج میں ہے اھ منحۃ الخالق میں ہے : جمہرہ میں کہا : بولا جاتا ہے تنفطت ید الرجل جب آدمی کے ہاتھ کی جلدکام کی وجہ سے پتلی ہو جائے اور اس میں پانی جیسی چیز پیدا ہو جائے اور بولتے ہیں : الکف نفیطۃ و منفوطۃ ( ہتھیلی آبلہ دار ہو گئی ) ایسا ہی غایۃ البیان میں ہے ۔ آگے لکھا : وضو ٹوٹنا ا س وقت ہے جب آبلہ کی اصل خون ہو اور کبھی شروع ہی سے پانی ہوتا ہے اھ ثم اقول : اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب آبلہ میں اتنا خون یا پیپ ہو جو پانی کو ناپاك کر دے ورنہ حجت وہ نصوص ہیں جو پہلے ہم رقم کر چکے والله تعالی اعلم ۔ (ت)
______________________
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
رسالہ
نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم۱۳۲۵ھ
(قوم کو تنبیہ کہ کس نیند سے وضوء فرض ہوتا ہے )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ۱۱ : ۱۴ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کس طرح کے سونے سے وضو جاتا ہے اس میں قول مننقح کیا ہے بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی لاتأخذہ سنۃ ولا نوم وافضل الصلاۃ والسلام بعدد انات کل یوم علی من لا ینام قلبہ فما کان وضوؤہ لینتقض
تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جس پر نیند طاری نہیں ہوتی اور افضل درود و سلام ہر روز آنات کی تعداد کے مطابق اس ذات پر جس کا دل نہیں سوتا اور جس کا وضو نیند سے
نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم۱۳۲۵ھ
(قوم کو تنبیہ کہ کس نیند سے وضوء فرض ہوتا ہے )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ۱۱ : ۱۴ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کس طرح کے سونے سے وضو جاتا ہے اس میں قول مننقح کیا ہے بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی لاتأخذہ سنۃ ولا نوم وافضل الصلاۃ والسلام بعدد انات کل یوم علی من لا ینام قلبہ فما کان وضوؤہ لینتقض
تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں جس پر نیند طاری نہیں ہوتی اور افضل درود و سلام ہر روز آنات کی تعداد کے مطابق اس ذات پر جس کا دل نہیں سوتا اور جس کا وضو نیند سے
بالنوم وعلی الہ وصحبہ الذین نبھوا فنبھوا من نوم الغفلۃ غفلۃ القوم۔
نہیں ٹوٹتا اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو بیدار ہوئے اور قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا ۔ (ت)
امام المدققین سیدی علاء الدین دمشقی حصکفی وعلامہ جلیل ابو الاخلاص حسن شرنبلالی ومحقق بالغ النظر سیدی ابرہیم حلبی ودیگر اکابر اعلام رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہم نے درمختار ونور الایضاح وغنیہ وصغیری وغیرہا میں بعد احاطہ اقوال جو اس باب میں قول منقح فہیم مستفید من القی السمع وھو شھید کیلئے افادہ فرمایا اس کا حاصل وعطر محاصل یہ ہے کہ نیند فــــ۱ دو شرطوں سے ناقض وضو ہوتی ہے :
اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائیگا اور ایك بھی کم ہے تو نہیں مثلا :
(۱)فـــ۲ دونوں سرین زمین پر ہیں اور دونوں پاؤں ایك طرف پھیلے ہوئے کرسی کی نشست اور ریل کی تپائی بھی اس میں داخل ہے۔
اقول : مگر فـــ ۳ یورپین ساخت کی کرسی جس کے وسط میں ایك بڑا سوراخ اسی مہمل غرض سے رکھا جاتا ہے اس سے مستثنی ہے اس کی نشست مانع حدث نہیں ہوسکتی۔
(۲) دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ ساقوں پر محیط ہیں جسے عربی میں احتبا کہتے ہیں خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر ہوں اگرچہ سر گھٹنوں پر رکھا ہو۔
(۳) دو زانو سیدھا بیٹھا ہو۔
(۴) چار زانو پالتی مارے ۔
یہ صورتیں خواہ زمین پر ہوں یا تخت یا چارپائی پر یا کشتی یا شقدف یا شبری یا گاڑی کے کھٹولے میں۔
فـــ۱ : نیند دو شرطوں سے ناقض وضو ہوتی ہے ان میں سے ایك بھی کم ہو تو وضو نہ جائے گا
فـــ۲ : مسئلہ : سونے کی دس صورتیں جن سے وضونہیں جاتا۔
فـــ۳ : مسئلہ : کرسی مونڈھے پرپاؤں لٹکائے بیٹھا تھا سوگیا وضونہ گیا۔ مگر یورپین ساخت کی کرسی جس کی وسط نشست گاہ میں ایك
بڑا سوراخ رکھتے ہیں اس پر سونے سے جاتارہے گا
نہیں ٹوٹتا اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو بیدار ہوئے اور قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا ۔ (ت)
امام المدققین سیدی علاء الدین دمشقی حصکفی وعلامہ جلیل ابو الاخلاص حسن شرنبلالی ومحقق بالغ النظر سیدی ابرہیم حلبی ودیگر اکابر اعلام رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہم نے درمختار ونور الایضاح وغنیہ وصغیری وغیرہا میں بعد احاطہ اقوال جو اس باب میں قول منقح فہیم مستفید من القی السمع وھو شھید کیلئے افادہ فرمایا اس کا حاصل وعطر محاصل یہ ہے کہ نیند فــــ۱ دو شرطوں سے ناقض وضو ہوتی ہے :
اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ دوسرے یہ کہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائیگا اور ایك بھی کم ہے تو نہیں مثلا :
(۱)فـــ۲ دونوں سرین زمین پر ہیں اور دونوں پاؤں ایك طرف پھیلے ہوئے کرسی کی نشست اور ریل کی تپائی بھی اس میں داخل ہے۔
اقول : مگر فـــ ۳ یورپین ساخت کی کرسی جس کے وسط میں ایك بڑا سوراخ اسی مہمل غرض سے رکھا جاتا ہے اس سے مستثنی ہے اس کی نشست مانع حدث نہیں ہوسکتی۔
(۲) دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ ساقوں پر محیط ہیں جسے عربی میں احتبا کہتے ہیں خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر ہوں اگرچہ سر گھٹنوں پر رکھا ہو۔
(۳) دو زانو سیدھا بیٹھا ہو۔
(۴) چار زانو پالتی مارے ۔
یہ صورتیں خواہ زمین پر ہوں یا تخت یا چارپائی پر یا کشتی یا شقدف یا شبری یا گاڑی کے کھٹولے میں۔
فـــ۱ : نیند دو شرطوں سے ناقض وضو ہوتی ہے ان میں سے ایك بھی کم ہو تو وضو نہ جائے گا
فـــ۲ : مسئلہ : سونے کی دس صورتیں جن سے وضونہیں جاتا۔
فـــ۳ : مسئلہ : کرسی مونڈھے پرپاؤں لٹکائے بیٹھا تھا سوگیا وضونہ گیا۔ مگر یورپین ساخت کی کرسی جس کی وسط نشست گاہ میں ایك
بڑا سوراخ رکھتے ہیں اس پر سونے سے جاتارہے گا
(۵) گھوڑے فـــــ۱ یا خچر وغیرہ پر زین رکھ کر سوار ہے۔
(۶ ۷) ننگی پیٹھ پر فـــــ۲سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا یا راستہ ہموار ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب صورتوں میں دونوں سرین جمے رہیں گے لہذا وضو نہ جائیگا اگرچہ کتنا ہی غافل ہوجائے اگرچہ سر بھی قدرے جھك گیا ہو نہ اتنا کہ سرین نہ جمے رہیں اگرچہ فـــــ ۳ دیوار وغیرہ کسی چیز پر ایسا تکیہ لگائے ہو کہ وہ شے ہٹالی جائے تو یہ گرپڑے یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہکا اصل مذہب وظاہر الروایۃ ومفتی بہ وصحیح ومعتمد ہے اگرچہ ہدایہ وشرح وقایہ میں حالت تکیہ کو ناقض وضو لکھا۔
(۸) کھڑے کھڑے سوگیا فـــــــ۴۔
(۹) رکوع کی صورت پر۔
(۱۰) سجدہ مسنونہ مرداں کی شکل پر کہ پیٹ رانوں اور رانیں ساقوں اور کلائیاں زمین سے جدا ہوں اگرچہ یہ قیام وہیأت رکوع وسجود غیر نماز میں ہو اگرچہ سجدہ کی اصلانیت بھی نہ ہو ظاہر ہے کہ یہ تینوں صورتیں غافل ہوکر سونے کی مانع ہیں تو ان میں بھی وضو نہ جائے گا۔
(۱۱) اکڑوں بیٹھے سویا فــــ۵ ۔
(۱۲ ۱۳ ۱۴) چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر۔
(۱۵) ایك کہنی پر تکیہ لگا کر۔
(۱۶) بیٹھ کر سویا مگر ایك کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایك یا دونوں سرین اٹھے ہوئے ہیں۔
فــــ۱ : مسئلہ : گھوڑے پر زین ہے اس کی سواری میں سوگیا وضونہ جائے گا اگر چہ ڈھال میں اترتا ہو ۔
فــــ۲ : مسئلہ : ننگی پیٹھ پر سوار ہے او رسوگیا تواگر راستہ ہموار یاچڑھائی ہے وضونہ جائے گا اتارہے تو جاتا رہے گا
فــــ۳ : مسئلہ : اگر دیوار وغیرہ سے تکیہ لگائے ہے اور اتنا غافل سوگیا کہ وہ شے ہٹالی جائے تو گر پڑیگا فتوی اس پر ہے کہ یوں بھی وضو نہ جائے گا جب کہ دونوں سرین خوب جمے ہوں۔
فــــ۴ : مسئلہ : قیام قعود رکوع سجود نماز کی کیسی ہی حالت پر سوجائے اگر چہ غیر نمازمیں اس ہیات پر ہو وضونہ جائے گا مگر قعود میں وہی شرط ہے کہ دونوں سر ین جمے ہوں اور سجود کی شکل وہ ہو جو مردوں کے لئے سنت ہے کہ بازو پہلوؤں سے جداہوں اور پیٹ رانوں سے الگ ۔
فــــ۵ : مسئلہ : سونے کی دس صورتیں ہیں جن سے وضو جاتارہتا ہے۔
(۶ ۷) ننگی پیٹھ پر فـــــ۲سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا یا راستہ ہموار ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب صورتوں میں دونوں سرین جمے رہیں گے لہذا وضو نہ جائیگا اگرچہ کتنا ہی غافل ہوجائے اگرچہ سر بھی قدرے جھك گیا ہو نہ اتنا کہ سرین نہ جمے رہیں اگرچہ فـــــ ۳ دیوار وغیرہ کسی چیز پر ایسا تکیہ لگائے ہو کہ وہ شے ہٹالی جائے تو یہ گرپڑے یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہکا اصل مذہب وظاہر الروایۃ ومفتی بہ وصحیح ومعتمد ہے اگرچہ ہدایہ وشرح وقایہ میں حالت تکیہ کو ناقض وضو لکھا۔
(۸) کھڑے کھڑے سوگیا فـــــــ۴۔
(۹) رکوع کی صورت پر۔
(۱۰) سجدہ مسنونہ مرداں کی شکل پر کہ پیٹ رانوں اور رانیں ساقوں اور کلائیاں زمین سے جدا ہوں اگرچہ یہ قیام وہیأت رکوع وسجود غیر نماز میں ہو اگرچہ سجدہ کی اصلانیت بھی نہ ہو ظاہر ہے کہ یہ تینوں صورتیں غافل ہوکر سونے کی مانع ہیں تو ان میں بھی وضو نہ جائے گا۔
(۱۱) اکڑوں بیٹھے سویا فــــ۵ ۔
(۱۲ ۱۳ ۱۴) چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر۔
(۱۵) ایك کہنی پر تکیہ لگا کر۔
(۱۶) بیٹھ کر سویا مگر ایك کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایك یا دونوں سرین اٹھے ہوئے ہیں۔
فــــ۱ : مسئلہ : گھوڑے پر زین ہے اس کی سواری میں سوگیا وضونہ جائے گا اگر چہ ڈھال میں اترتا ہو ۔
فــــ۲ : مسئلہ : ننگی پیٹھ پر سوار ہے او رسوگیا تواگر راستہ ہموار یاچڑھائی ہے وضونہ جائے گا اتارہے تو جاتا رہے گا
فــــ۳ : مسئلہ : اگر دیوار وغیرہ سے تکیہ لگائے ہے اور اتنا غافل سوگیا کہ وہ شے ہٹالی جائے تو گر پڑیگا فتوی اس پر ہے کہ یوں بھی وضو نہ جائے گا جب کہ دونوں سرین خوب جمے ہوں۔
فــــ۴ : مسئلہ : قیام قعود رکوع سجود نماز کی کیسی ہی حالت پر سوجائے اگر چہ غیر نمازمیں اس ہیات پر ہو وضونہ جائے گا مگر قعود میں وہی شرط ہے کہ دونوں سر ین جمے ہوں اور سجود کی شکل وہ ہو جو مردوں کے لئے سنت ہے کہ بازو پہلوؤں سے جداہوں اور پیٹ رانوں سے الگ ۔
فــــ۵ : مسئلہ : سونے کی دس صورتیں ہیں جن سے وضو جاتارہتا ہے۔
(۱۷) ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال میں اتر رہا ہے۔
اقول : فقیر فــــ۱ گمان کرتا ہے کہ کاٹھی بھی ننگی پیٹھ کے مثل ہے اور وہ یورپین وضع کی کاٹھیاں جن کے وسط میں اسی لئے خلا رکھتے ہیں مانع حدث نہیں ہوسکتیں اگرچہ راہ ہموار ہو والله تعالی اعلم۔
(۱۸) دوزانو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا ہے کہ دونوں سرین جمے نہ رہے ہوں۔
(۱۹) اسی طرح اگر چار زانو ہے اور سر رانوں یا ساقوں پر ہے۔
(۲۰) سجدہ غیر فــــ۲ مسنونہ کی طور پر جس طرح عورتیں گٹھری بن کر سجدہ کرتی ہیں اگرچہ خود نماز یا اور کسی سجدہ مشروعہ یعنی سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر میں ہو ان دس صورتوں میں دونوں شرطیں جمع ہونے کے سبب وضو جاتا رہے گا اور جب اصل مناط بتا دیا گیا تو زیادہ تفصیل صور کی حاجت نہیں ان دونوں شرطوں کو غور کرلیں جہاں مجتمع ہیں وضو نہ عــــہ رہے گا ورنہ ہے البتہ فتاوی امام قاضی خان میں فرمایا کہ تنور فــــ۳کے کنارے اس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سونے سے بھی وضو جاتا رہتا ہے کہ اس کی گرمی سے مفاصل ڈھیلے ہوجاتے ہیں ۔
فــــ۱ : مسئلہ : ظاہراکاٹھی کاحکم بھی ننگی پیٹھ کی طرح ہے اوریورپین ساخت کی کاٹھی جس کے بیچ میں سوراخ ہوتاہے اس پر سونے سے مطلقاوضوجاتارہے گا۔
فــــ۲ : مسئلہ : خاص نماز کے سجدے میں بھی اگر اس پر سویا کہ کلائیاں زمین پر بچھی ہیں پیٹ رانوں سے لگائے پنڈلیاں زمین سے ملی ہیں جیسے عورتوں کا سجدہ ہوتا ہے تو وضو جاتارہے گا اسے یوں بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ عورت سجدے میں سوئے وضوساقط اور مرد سوئے توباقی۔
فــــ۳ : مسئلہ : گر م تنور کے کنارے اس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سوگیا تو مناسب ہے کہ وضو کرلے۔
عــــہ : یہ بیس صورتیں کلمات علماء میں منصوص ہیں جو باقی صورت اور کوئی پائی جائے اس کیلئے ضابطہ بتایا گیا ہے اگر اس کا حکم کتابوں سے نہ ملے تو اس ضابطہ سے نکال لیں یا اختلاف پائیں تو جو قول اس ضابطہ کے مطابق ہو اس پر عمل کریں کما سیاتی التصریح بہ عن الغنیۃ ان شاء الله تعالی (جیسا کہ اس کی تصریح بحوالہ غنیہ آگے آرہی ہے)۱۲ منہ (م)
اقول : فقیر فــــ۱ گمان کرتا ہے کہ کاٹھی بھی ننگی پیٹھ کے مثل ہے اور وہ یورپین وضع کی کاٹھیاں جن کے وسط میں اسی لئے خلا رکھتے ہیں مانع حدث نہیں ہوسکتیں اگرچہ راہ ہموار ہو والله تعالی اعلم۔
(۱۸) دوزانو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا ہے کہ دونوں سرین جمے نہ رہے ہوں۔
(۱۹) اسی طرح اگر چار زانو ہے اور سر رانوں یا ساقوں پر ہے۔
(۲۰) سجدہ غیر فــــ۲ مسنونہ کی طور پر جس طرح عورتیں گٹھری بن کر سجدہ کرتی ہیں اگرچہ خود نماز یا اور کسی سجدہ مشروعہ یعنی سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر میں ہو ان دس صورتوں میں دونوں شرطیں جمع ہونے کے سبب وضو جاتا رہے گا اور جب اصل مناط بتا دیا گیا تو زیادہ تفصیل صور کی حاجت نہیں ان دونوں شرطوں کو غور کرلیں جہاں مجتمع ہیں وضو نہ عــــہ رہے گا ورنہ ہے البتہ فتاوی امام قاضی خان میں فرمایا کہ تنور فــــ۳کے کنارے اس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سونے سے بھی وضو جاتا رہتا ہے کہ اس کی گرمی سے مفاصل ڈھیلے ہوجاتے ہیں ۔
فــــ۱ : مسئلہ : ظاہراکاٹھی کاحکم بھی ننگی پیٹھ کی طرح ہے اوریورپین ساخت کی کاٹھی جس کے بیچ میں سوراخ ہوتاہے اس پر سونے سے مطلقاوضوجاتارہے گا۔
فــــ۲ : مسئلہ : خاص نماز کے سجدے میں بھی اگر اس پر سویا کہ کلائیاں زمین پر بچھی ہیں پیٹ رانوں سے لگائے پنڈلیاں زمین سے ملی ہیں جیسے عورتوں کا سجدہ ہوتا ہے تو وضو جاتارہے گا اسے یوں بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ عورت سجدے میں سوئے وضوساقط اور مرد سوئے توباقی۔
فــــ۳ : مسئلہ : گر م تنور کے کنارے اس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سوگیا تو مناسب ہے کہ وضو کرلے۔
عــــہ : یہ بیس صورتیں کلمات علماء میں منصوص ہیں جو باقی صورت اور کوئی پائی جائے اس کیلئے ضابطہ بتایا گیا ہے اگر اس کا حکم کتابوں سے نہ ملے تو اس ضابطہ سے نکال لیں یا اختلاف پائیں تو جو قول اس ضابطہ کے مطابق ہو اس پر عمل کریں کما سیاتی التصریح بہ عن الغنیۃ ان شاء الله تعالی (جیسا کہ اس کی تصریح بحوالہ غنیہ آگے آرہی ہے)۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الطہارۃ ، فصل فی النوم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
اقول : مگر یہ اس ضابطہ منقحہ کے خلاف ہے کہ سرین دونوں جمے ہیں لیکن یہ صورت بہت نادرہ ہے تو احتیاطا عمل کرلینے میں حرج نہیں والله تعالی اعلم۔ اور صورت بستم میں اگرچہ خاص دربارہ سجدہ نماز یا سجدہ مشروعہ مطلقا نزاع طویل وہجوم اقاویل ہے مگر تحقیق احق فــــ۱ یہی ہے کہ جملہ صور مذکورہ بستگانہ میں نماز وغیر نماز سب کا حکم یکساں ہے نماز میں بھی سونے سے وضو نہ جانے کیلئے دونوں سرین کا جما ہونا یا ہیأت کا مانع استغراق نوم ہونا ضرور ہے ولہذا یہی اکابر تصریح فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں لیٹ کر سویا وضو نہ رہے گا عام ازینکہ چت ہو یا پٹ یا کروٹ پر یا ایك کہنی پر تکیہ دیے عام ازیں کہ قصدا لیٹا ہو یا سوتے میں لیٹ گیا اور فورا فورا جاگ نہ اٹھا فــــ۲حتی کہ اگر کوئی شخص بیماری کے سبب بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو اسے بھی اگر لیٹے لیٹے پڑھنے میں نیند آگئی وضو جاتا رہے گا۔ غرض پہلی دس فــــ۳ صورتیں جن میں وضو نہیں جاتا اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی نہ جائے گا نہ نماز فاسد ہو اگرچہ قصدا سوئے ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اس کا اعادہ ضرور ہے اگرچہ بلا قصد سوجائے اور جو جاگتے میں شروع کیا اور اس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا اور پچھلی دس صورتیں جن میں وضو جاتا رہتا ہے اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی جاتا رہے گا پھر اگر ان صورتوں پر قصدا سویا تو نماز بھی گئی وضو کرکے سرے سے نیت باندھے اور بلاقصد سویا تو وضو نہ گیا نماز باقی ہے بعد وضو پھر اسی جگہ سے پڑھ سکتا ہے جہاں نیند آگئی تھی پھر سب صورتوں میں سونے کی تخصیص اس لئے ہے کہ اونگھ ناقض فــــ۴ وضو نہیں جبکہ ایسا ہوشیار رہے کہ پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو یونہی اگر بیٹھے فــــ۵بیٹھے جھوم رہا ہے
فــــ۱ : مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ نیند کی تمام صورتوں میں نماز وغیرنماز سب کا حکم یکساں ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : بیمار لیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وضو نہ رہا۔
فـــــ۳ : مسئلہ : نماز میں سونے کا کلیہ یہ ہے کہ اگر ان دس صورتوں پر سویا جن میں وضو نہیں جاتا تو نہ وضو جائے نہ نماز فاسد ہو ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اس کا اعادہ ضرور ہے اور جوجاگتے میں شروع کیا اور اس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا اگر وہ بقدر ادا ئے رکن تھا کافی ہے ان احکام میں قصد اسونا اور بلا قصد سوجانا سب برابر ہے اور اگران دس صورت پر سویا جن میں وضو جاتا رہتا ہے تو وضو تو گیا ہی پھر اگر قصدا سویا تو نماز بھی فاسد ہوگئی ورنہ وضو کر کے جہاں سویا وہاں سے باقی نماز ادا کر سکتا ہے ۔
فــــ۴ : مسئلہ : اونگھنے سے وضو نہیں جاتا جب کہ ہوشیاری کا حصہ غالب ہو۔
فــــ۵ : مسئلہ : بیٹھے بیٹھے نیند کے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا اگر چہ کبھی ایك سرین اٹھ جاتا ہو۔
فــــ۱ : مسئلہ : تحقیق یہ ہے کہ نیند کی تمام صورتوں میں نماز وغیرنماز سب کا حکم یکساں ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : بیمار لیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وضو نہ رہا۔
فـــــ۳ : مسئلہ : نماز میں سونے کا کلیہ یہ ہے کہ اگر ان دس صورتوں پر سویا جن میں وضو نہیں جاتا تو نہ وضو جائے نہ نماز فاسد ہو ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اس کا اعادہ ضرور ہے اور جوجاگتے میں شروع کیا اور اس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا اگر وہ بقدر ادا ئے رکن تھا کافی ہے ان احکام میں قصد اسونا اور بلا قصد سوجانا سب برابر ہے اور اگران دس صورت پر سویا جن میں وضو جاتا رہتا ہے تو وضو تو گیا ہی پھر اگر قصدا سویا تو نماز بھی فاسد ہوگئی ورنہ وضو کر کے جہاں سویا وہاں سے باقی نماز ادا کر سکتا ہے ۔
فــــ۴ : مسئلہ : اونگھنے سے وضو نہیں جاتا جب کہ ہوشیاری کا حصہ غالب ہو۔
فــــ۵ : مسئلہ : بیٹھے بیٹھے نیند کے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا اگر چہ کبھی ایك سرین اٹھ جاتا ہو۔
وضو نہ جائے گا اگرچہ جھومنے میں کبھی کبھی ایك سرین اٹھ بھی جاتا ہو بلکہ اگرچہ جھوم فـــ۱کر گر پڑے جبکہ فورا ہی آنکھ کھل جائے ہاں اگر گرنے کے ایك ہی لمحہ بعد آنکھ کھلی تو وضو نہ رہے گا۔
اقول : یہ قید ان سب صورتوں میں ہے جن میں وضو جانابیان ہوا کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے اور اگر سویا فـــ۲ اس شکل پر جس میں وضو نہ جاتا اور جسم بھاری ہو کر یہ شکل پیدا ہوئی جس سے جاتا رہتا مگر پیدا ہوتے ہی فورا بلاوقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا جیسے سجدہ مسنونہ میں سویا اور کلائیاں زمین سے لگتے ہی آنکھ کھل گئی اور یہ بھی فــــ۳یاد رہے کہ آدمی جب کسی کام مثلا نماز وغیرہ کے انتظار میں جاگتا ہو اور دل اس طرف متوجہ ہے اور سونے کا قصد نہیں نیند جو آتی ہے اسے دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ غافل ہوگیا جو باتیں اس وقت ہوئیں ان کی خبر نہیں بلکہ دو دو تین تین آوازوں میں آنکھ کھلی اور وہ اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نہ سویا تھا اس لئے کہ اس کے ذہن میں وہی مدافعت خواب کا خیال جما ہوا ہے یہاں تك کہ لوگ اس سے کہتے ہیں تو سو گیا تھا وہ کہتا ہے ہرگز نہیں ایسے خیال کا اعتبار نہیں جب معتمد شخص کہے تو غافل تھا پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور یہ نہ بتاسکے تو وضو لازم ہے۔
فی الحلیۃ النوم ان کان فی الصلاۃ فلیس بحدث الا ان یکون مضطجعا وقال قاضی خان اومتکئا ثم فی بعض شروح القدوری الاتکاء فــــ۴عام والاستناد خاص وھو اتکاء الظھر لاغیر قلت
حلیہ میں ہے نیند بحالت نماز حدث نہیں ہے ہاں اگر کروٹ لیٹ کر ہو تو حدث ہے ۔ اور قاضی خاں نے اس میں ٹیك لگا کر سونے کو بھی شامل کیا ہے پھر قدوری کی بعض شرو ح میں ہے کہ اتکاء عام ہے اور استناد خاص ہے کیونکہ استناد میں صرف پیٹھ لگانا ہی ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ قاضی خان
فـــــ۱ : مسئلہ : جھوم کر گر پڑا اگر معا آنکھ کھل گئی وضونہ گیا۔
فـــــ۲ : مسئلہ : ان دسوں صورتوں میں جن سے وضو جاتا ہے یہی قید ہے کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے ورنہ اگر سویا اس صورت پر کہ وضو نہ جاتا اور نیند میں اس شکل پر آگیا جس میں جاتا ہے مگر معاشکل پیدا ہوتے ہی بلا وقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا۔
فـــــ۳ مسئلہ : ضروریہ آدمی بیٹھے بیٹھے کبھی غافل ہوجاتاہے اور سمجھتا یہ ہے کہ نہ سویا تھا اس کا ضروری بیان ۔
فـــــ۴ : فرق الاتکاء والاستناد
اقول : یہ قید ان سب صورتوں میں ہے جن میں وضو جانابیان ہوا کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے اور اگر سویا فـــ۲ اس شکل پر جس میں وضو نہ جاتا اور جسم بھاری ہو کر یہ شکل پیدا ہوئی جس سے جاتا رہتا مگر پیدا ہوتے ہی فورا بلاوقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا جیسے سجدہ مسنونہ میں سویا اور کلائیاں زمین سے لگتے ہی آنکھ کھل گئی اور یہ بھی فــــ۳یاد رہے کہ آدمی جب کسی کام مثلا نماز وغیرہ کے انتظار میں جاگتا ہو اور دل اس طرف متوجہ ہے اور سونے کا قصد نہیں نیند جو آتی ہے اسے دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ غافل ہوگیا جو باتیں اس وقت ہوئیں ان کی خبر نہیں بلکہ دو دو تین تین آوازوں میں آنکھ کھلی اور وہ اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نہ سویا تھا اس لئے کہ اس کے ذہن میں وہی مدافعت خواب کا خیال جما ہوا ہے یہاں تك کہ لوگ اس سے کہتے ہیں تو سو گیا تھا وہ کہتا ہے ہرگز نہیں ایسے خیال کا اعتبار نہیں جب معتمد شخص کہے تو غافل تھا پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور یہ نہ بتاسکے تو وضو لازم ہے۔
فی الحلیۃ النوم ان کان فی الصلاۃ فلیس بحدث الا ان یکون مضطجعا وقال قاضی خان اومتکئا ثم فی بعض شروح القدوری الاتکاء فــــ۴عام والاستناد خاص وھو اتکاء الظھر لاغیر قلت
حلیہ میں ہے نیند بحالت نماز حدث نہیں ہے ہاں اگر کروٹ لیٹ کر ہو تو حدث ہے ۔ اور قاضی خاں نے اس میں ٹیك لگا کر سونے کو بھی شامل کیا ہے پھر قدوری کی بعض شرو ح میں ہے کہ اتکاء عام ہے اور استناد خاص ہے کیونکہ استناد میں صرف پیٹھ لگانا ہی ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ قاضی خان
فـــــ۱ : مسئلہ : جھوم کر گر پڑا اگر معا آنکھ کھل گئی وضونہ گیا۔
فـــــ۲ : مسئلہ : ان دسوں صورتوں میں جن سے وضو جاتا ہے یہی قید ہے کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے ورنہ اگر سویا اس صورت پر کہ وضو نہ جاتا اور نیند میں اس شکل پر آگیا جس میں جاتا ہے مگر معاشکل پیدا ہوتے ہی بلا وقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا۔
فـــــ۳ مسئلہ : ضروریہ آدمی بیٹھے بیٹھے کبھی غافل ہوجاتاہے اور سمجھتا یہ ہے کہ نہ سویا تھا اس کا ضروری بیان ۔
فـــــ۴ : فرق الاتکاء والاستناد
لکن الظاھر ان مراد القاضی النوم علی احد و رکیہ فی الصلاۃ فان مقعدہ یکون متجافیا عن الارض فکان فی معنی النوم مضطجعا فی کونہ سببا لوجود الحدث بواسطۃ استرخاء المفاصل وزوال المسکۃ
ولا یخالف ھذا مافی الخلاصۃ من عدم النقض بالنوم متورکا لانہ مفسر فیھا بان فـــ۱ یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض وھذا یخالف تفسیر صاحب البدائع وصاحب الاسرار فانہ قال فی تعلیل النقض انہا جلسۃ تکشف عن مخرج الحدث الا انہ وضع المسئلۃ خارج الصلوۃ والتعلیل یفید انہ وضع اتفاقی قال شیخنا فھذا اشتراك فی لفظ التورك اھ۔
اقول : وکذا افاد فی البحر تبعا للفتح وللذ ھول فـــ۲عن ھذا وقع فی المستخلص شرح الکنز ان نقل تحت
کی مراددونوں سرینوں میں سے ایك سرین کے بل نماز میں سونا ہے کیونکہ ایسی صورت میں اس کی مقعد زمین سے الگ ہوگی اور کروٹ لیٹ کر سونے کی طر ح ہوجائے گا یعنی جوڑوں کے ڈھیلا ہونے اور بندش کے ختم ہوجانے کے اعتبار سے یہ حدث کا سبب بن جائے گا ۔
یہ عبارت خلاصہ کی اس عبارت کے مخالف نہیں جس میں تورك کی حالت میں سونے کو ناقص وضو قرار نہیں دیا ہے کیونکہ خلاصہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ نمازی اپنے دونوں پیر ایك طر ف کو پھیلا ئے اور اپنے سر ین زمین پر رکھے اور یہ بدائع اور صاحب اسرار کی تفسیر کے مخالف ہے کیونکہ انہوں نے وضو ٹو ٹ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسی نشست ہے جو حدث کے مخرج کو کھول دیتی ہے مگر انہوں نے یہ مسئلہ بیرون نماز فرض کیا ہے لیکن جو علت بتائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ مسئلہ دونوں صورتوں کو عام ہے ہمارے شیخ نے فرمایا کہ یہ “ تورک “ کے لفظ میں مشترك ہے اھ۔
اقول : فتح کی پیروی میں بحر نے بھی یہی لکھا ہے اور چونکہ یہ بحث ذہن سے اتر گئی اس لئے کنز کی شرح مستخلص میں “ نوم متورک “ کے تحت نقل کیا کہ
فــــ۱ : للمتورك معنیان
فــــ۲ : تطفل علی المستخلص
ولا یخالف ھذا مافی الخلاصۃ من عدم النقض بالنوم متورکا لانہ مفسر فیھا بان فـــ۱ یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض وھذا یخالف تفسیر صاحب البدائع وصاحب الاسرار فانہ قال فی تعلیل النقض انہا جلسۃ تکشف عن مخرج الحدث الا انہ وضع المسئلۃ خارج الصلوۃ والتعلیل یفید انہ وضع اتفاقی قال شیخنا فھذا اشتراك فی لفظ التورك اھ۔
اقول : وکذا افاد فی البحر تبعا للفتح وللذ ھول فـــ۲عن ھذا وقع فی المستخلص شرح الکنز ان نقل تحت
کی مراددونوں سرینوں میں سے ایك سرین کے بل نماز میں سونا ہے کیونکہ ایسی صورت میں اس کی مقعد زمین سے الگ ہوگی اور کروٹ لیٹ کر سونے کی طر ح ہوجائے گا یعنی جوڑوں کے ڈھیلا ہونے اور بندش کے ختم ہوجانے کے اعتبار سے یہ حدث کا سبب بن جائے گا ۔
یہ عبارت خلاصہ کی اس عبارت کے مخالف نہیں جس میں تورك کی حالت میں سونے کو ناقص وضو قرار نہیں دیا ہے کیونکہ خلاصہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ نمازی اپنے دونوں پیر ایك طر ف کو پھیلا ئے اور اپنے سر ین زمین پر رکھے اور یہ بدائع اور صاحب اسرار کی تفسیر کے مخالف ہے کیونکہ انہوں نے وضو ٹو ٹ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسی نشست ہے جو حدث کے مخرج کو کھول دیتی ہے مگر انہوں نے یہ مسئلہ بیرون نماز فرض کیا ہے لیکن جو علت بتائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ مسئلہ دونوں صورتوں کو عام ہے ہمارے شیخ نے فرمایا کہ یہ “ تورک “ کے لفظ میں مشترك ہے اھ۔
اقول : فتح کی پیروی میں بحر نے بھی یہی لکھا ہے اور چونکہ یہ بحث ذہن سے اتر گئی اس لئے کنز کی شرح مستخلص میں “ نوم متورک “ کے تحت نقل کیا کہ
فــــ۱ : للمتورك معنیان
فــــ۲ : تطفل علی المستخلص
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
قول الکنز ونوم مضطجع ومتورك تفسیر التورك ان یخرج رجلیہ من الجانب الایمن ویلصق الیتیہ علی الارض کذا فی المستصفی اھ۔ ولم یلق بالا ان ھذا تفسیر تورك الشافعیۃ فی الصلاۃ ولیس من نواقض الوضوء قطعا ثم قال فی الحلیۃ ویلحق بالنوم مضطجعا النوم مستلقیا علی قفاہ اومنبطحا علی وجہہ فان فی کل استرخاء المفاصل وزوال المسکۃ علی الکمال کالاضطجاع ثم لاخلاف عندنا فی عدم النقض للوضوء اذا کان فی الصلاۃ فی غیر ھذہ الحالات التی ذکرناھا اذا لم یکن متعمدا فان متعمدا ففی الخانیۃ ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ فی قولھم اھ قال شیخنا کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظران یفصل فی ذلك السجود ان کان متجافیا لایفسدو الا یفسد اھ مافی الحلیۃ۔
اقول : عبارۃ فــــ۱ الخانیۃ لونام تو رك کے معنی یہ ہیں کہ اپنے دونوں پیروں کو دائیں جانب سے نکالے اور اپنے دونوں سرین زمین پر لگائے جیسا کہ المستصفی میں ہے اھ۔ یہ خیال نہ کیا کہ یہ اس تورك کی تفسیر ہے جو شا فعیہ کے نزدیك نماز میں ہوتا ہے اور نواقص وضو سے قطعا نہیں ہے پھر حلیہ میں کہا کہ مضطجعا سونے کے حکم میں گدی کے بل سونا یا چہرے کے بل سونا بھی ہے کیونکہ ان تمام صورتوں میں جوڑڈھیلے ہوجاتے ہیں اور چستی ختم ہوجاتی ہے جیسے چت لیٹ کر سونے میں ہوتا ہے ۔ ہمارے نزدیك اگر مذکورہ حالات کے علاوہ نماز میں ہوتونا قض وضو نہیں او راس میں اتفاق ہے صرف ایك شرط ہے کہ قصد اور ارادہ نہ ہو ۔ خانیہ میں ہے کہ اگر کوئی ارادتا سجدہ میں سوگیا تو ان کے قول کے مطابق اس کی طہارت ختم ہوجائے گی اھ ہمارے شیخ فرماتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ حالت رکوع میں چستی برقرار رہتی ہے جبکہ سجود میں نہیں ۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو سجدہ میں یہ تفصیل کرنی چاہئے کہ اگر وہ زمین سے الگ ہے تو ناقض نہیں ورنہ ناقض ہے حلیہ کا بیان ختم ہوا ۔
اقول : خانیہ کی عبارت اگر بحالت سجدہ
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ
اقول : عبارۃ فــــ۱ الخانیۃ لونام تو رك کے معنی یہ ہیں کہ اپنے دونوں پیروں کو دائیں جانب سے نکالے اور اپنے دونوں سرین زمین پر لگائے جیسا کہ المستصفی میں ہے اھ۔ یہ خیال نہ کیا کہ یہ اس تورك کی تفسیر ہے جو شا فعیہ کے نزدیك نماز میں ہوتا ہے اور نواقص وضو سے قطعا نہیں ہے پھر حلیہ میں کہا کہ مضطجعا سونے کے حکم میں گدی کے بل سونا یا چہرے کے بل سونا بھی ہے کیونکہ ان تمام صورتوں میں جوڑڈھیلے ہوجاتے ہیں اور چستی ختم ہوجاتی ہے جیسے چت لیٹ کر سونے میں ہوتا ہے ۔ ہمارے نزدیك اگر مذکورہ حالات کے علاوہ نماز میں ہوتونا قض وضو نہیں او راس میں اتفاق ہے صرف ایك شرط ہے کہ قصد اور ارادہ نہ ہو ۔ خانیہ میں ہے کہ اگر کوئی ارادتا سجدہ میں سوگیا تو ان کے قول کے مطابق اس کی طہارت ختم ہوجائے گی اھ ہمارے شیخ فرماتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ حالت رکوع میں چستی برقرار رہتی ہے جبکہ سجود میں نہیں ۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو سجدہ میں یہ تفصیل کرنی چاہئے کہ اگر وہ زمین سے الگ ہے تو ناقض نہیں ورنہ ناقض ہے حلیہ کا بیان ختم ہوا ۔
اقول : خانیہ کی عبارت اگر بحالت سجدہ
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ
حوالہ / References
مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق کتاب فی بیان احکام الطہارۃ مطبع کا نشی رام پرنٹنگ پریس لاہور ۱ / ۴۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ساجدا فی الصلاۃ لایکون حدثا فی ظاھر الروایۃ فان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ وتفسد صلاتہ ولو تعمد النوم فی قیامہ او رکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم اھ فقولہ فی قولہم راجع الی مسألۃ القیام والرکوع دون السجود کما اقتضاہ اختصار الحلیۃ علی مافی نسختی کیف وعدم النقض ولو تعمد فی الصلاۃ ھو المعتمد وھو المذھب قال فی الہندیۃ ثم فی ظاھر الروایۃ لافرق بین غلبتہ وتعمدہ وعن ابی یوسف النقض فی الثانی والصحیح ما ذکر فی ظاھر الروایۃ ھکذا فی المحیط اھ فکیف یجوز ان یکون قولھم وسیاتی عن نص الحلیۃ نفسہا۔
ثم اقول : لم یتعرض الامام قاضی خان ھھنا عن حکم الصلاۃ اذا تعمد النوم فی القیام اوالرکوع وعبارتہ فی مفسدات الصلاۃ ومن ثم نقل فی الفتح ھکذا اذا نام المصلی مضطجعا متعمدا فسدت صلاتہ ولو لم یتعمد فمال حتی اضطجع تنتقض طہارتہ ولا تفسد صلاتہ
نماز میں سوگیا تو ظاہر روایت میں حدث نہ ہوگا کیونکہ قصدا سجدہ میں سوجانا طہارت کو بھی ختم کردیتا ہے اور نماز کو بھی جبکہ قصدا رکوع یا قیام میں سونا ہمارے ائمہ کے قول میں طہارت کو نہیں توڑ تا ہے اھ۔
اب اس عبارت میں “ فی قولھم “ قیام ورکوع کے مسئلہ کی طر ف راجع ہے نہ کہ سجود کی طر ف جیسا کہ حلیہ کے اختصار میں میرے نسخہ کے مطابق ہے اور یہی درست ہے کہ قصدا بھی نماز کے اندر اگر ایسا کرے تو نہ ٹو ٹے گا یہی معتمد ہے اور مذہب ہے ہندیہ میں کہا کہ “ نیند کے غلبہ یا قصدا سونے کے درمیان ظاہر الروایۃ کے مطابق کوئی فر ق نہیں ہے او رابو یوسف سے وضو ٹوٹنے کی روایت ہے لیکن صحیح وہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے ھکذا فی المحیط اھ ۔ اب یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ یہ ائمہ کا قول ہو اور آگےاس کا بیان خود حلیہ کی عبارت سے آرہا ہے ۔
ثم اقول : اس مقام پر قاضی خان نے قیام ورکوع کی حالت میں قصدا سونے کی صورت میں نماز کا حکم نہ بتایا مفسدات نماز میں ان کی عبارت یہ ہے وہیں سے فتح القدیر میں نقل کیا ہے “ جبکہ نمازی کروٹ قصدا سوگیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی اور اگر قصدا نہیں ہے اور اتنا جھکا کہ لیٹنے کی حد کو پہنچ گیا تو طہارت ٹوٹ جائے گی
ثم اقول : لم یتعرض الامام قاضی خان ھھنا عن حکم الصلاۃ اذا تعمد النوم فی القیام اوالرکوع وعبارتہ فی مفسدات الصلاۃ ومن ثم نقل فی الفتح ھکذا اذا نام المصلی مضطجعا متعمدا فسدت صلاتہ ولو لم یتعمد فمال حتی اضطجع تنتقض طہارتہ ولا تفسد صلاتہ
نماز میں سوگیا تو ظاہر روایت میں حدث نہ ہوگا کیونکہ قصدا سجدہ میں سوجانا طہارت کو بھی ختم کردیتا ہے اور نماز کو بھی جبکہ قصدا رکوع یا قیام میں سونا ہمارے ائمہ کے قول میں طہارت کو نہیں توڑ تا ہے اھ۔
اب اس عبارت میں “ فی قولھم “ قیام ورکوع کے مسئلہ کی طر ف راجع ہے نہ کہ سجود کی طر ف جیسا کہ حلیہ کے اختصار میں میرے نسخہ کے مطابق ہے اور یہی درست ہے کہ قصدا بھی نماز کے اندر اگر ایسا کرے تو نہ ٹو ٹے گا یہی معتمد ہے اور مذہب ہے ہندیہ میں کہا کہ “ نیند کے غلبہ یا قصدا سونے کے درمیان ظاہر الروایۃ کے مطابق کوئی فر ق نہیں ہے او رابو یوسف سے وضو ٹوٹنے کی روایت ہے لیکن صحیح وہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے ھکذا فی المحیط اھ ۔ اب یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ یہ ائمہ کا قول ہو اور آگےاس کا بیان خود حلیہ کی عبارت سے آرہا ہے ۔
ثم اقول : اس مقام پر قاضی خان نے قیام ورکوع کی حالت میں قصدا سونے کی صورت میں نماز کا حکم نہ بتایا مفسدات نماز میں ان کی عبارت یہ ہے وہیں سے فتح القدیر میں نقل کیا ہے “ جبکہ نمازی کروٹ قصدا سوگیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی اور اگر قصدا نہیں ہے اور اتنا جھکا کہ لیٹنے کی حد کو پہنچ گیا تو طہارت ٹوٹ جائے گی
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الطہارت ، فصل فی النوم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
فتاوی ہندیہ کتاب الطہارت ، الباب الاول ، الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۲
فتاوی ہندیہ کتاب الطہارت ، الباب الاول ، الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۲
ولو نام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد ذلك لاتفسد صلاتہ وان تعمد فسدت فی السجود ولا تفسد فی الرکوع اھ فانما محط کلامہ طرا ان النوم ان کان ناقض الطہارۃ کما فی الاضطجاع کان تعمدہ مفسدا للصلاۃ لان تعمد الحدث یمنع البناء والا لاکنوم قائم و راکع ولذا لما حکم علی نوم الساجد العامد بافساد الصلاۃ افاد فی الفتح ماافاد فلیحفظ فان لہ شانا ان شاء الله تعالی۔
ثم قال فی الحلیۃ وذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورك فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ انتھی والعلۃ المعقولۃ فی کون النوم ناقضا استرخاء المفاصل و زوال المسکۃ وھذا لم یوجد فی ھذہ المذکورۃ والاسقط ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلوۃ مضطجعا اومتکئا بمعنی ان یکون معتمدا
مگر نماز نہیں ٹوٹے گی اوراگر رکوع وسجود میں سوگیا تو اگر قصد ا نہیں ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا ہے تو سجود میں فاسد ہے رکوع میں نہیں اھ سو ان کے تمام کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ نیندا اگر ناقض طہارت ہو جیسے کہ کروٹ لیٹنے کی صورت میں ہے تو قصدا ایسی نیند مفسد صلوۃ ہے ۔ اس لئے کہ کسی حدث کا قصدا ارتکاب نماز کی بناء کے منافی ہے اگر نیند ناقض طہارت نہ ہو جیسے رکوع یا قیام میں تو مفسد صلوۃ نہیں ۔ اس لئے جب سجدہ میں قصدا سوجانے کی بابت فساد نماز کا حکم کیا تو فتح میں وہ افادہ کیا جو اس میں موجود ہے تو اس کو محفوظ کرنا چاہئے کہ اس کے لئے ایك انوکھی شان ہے اگر الله تعالی چاہے ۔
پھر حلیہ میں فرمایا کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا کہ نماز میں کروٹ لیٹنے کی صورت کے علاوہ سوجانا یا سرین پر بیٹھنے کی صورت کے علاوہ سوجانا حدث نہیں ہے خواہ اس پر نیند کا غلبہ ہوگیاہو یا قصدا ایسا کیا ہو ظاہر روایت میں یہی ہے اھ اور عقلی علت نیند کے ناقض ہونے میں جوڑوں کا ڈھیلا پڑجانا اور چستی وبندش کا ختم ہوجانا ہے اور یہ چیز مذکورہ صورت میں نہیں پائی گئی ورنہ وہ شخص گرجاتا یہ سب صورتیں حالت نماز کی تھیں اور اگر نماز کے باہر کروٹ لیٹایا ٹیك لگائی بایں معنی کہ کسی کہنی پر ٹیك لگائے ہو جیسا کہ
ثم قال فی الحلیۃ وذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورك فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ انتھی والعلۃ المعقولۃ فی کون النوم ناقضا استرخاء المفاصل و زوال المسکۃ وھذا لم یوجد فی ھذہ المذکورۃ والاسقط ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلوۃ مضطجعا اومتکئا بمعنی ان یکون معتمدا
مگر نماز نہیں ٹوٹے گی اوراگر رکوع وسجود میں سوگیا تو اگر قصد ا نہیں ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا ہے تو سجود میں فاسد ہے رکوع میں نہیں اھ سو ان کے تمام کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ نیندا اگر ناقض طہارت ہو جیسے کہ کروٹ لیٹنے کی صورت میں ہے تو قصدا ایسی نیند مفسد صلوۃ ہے ۔ اس لئے کہ کسی حدث کا قصدا ارتکاب نماز کی بناء کے منافی ہے اگر نیند ناقض طہارت نہ ہو جیسے رکوع یا قیام میں تو مفسد صلوۃ نہیں ۔ اس لئے جب سجدہ میں قصدا سوجانے کی بابت فساد نماز کا حکم کیا تو فتح میں وہ افادہ کیا جو اس میں موجود ہے تو اس کو محفوظ کرنا چاہئے کہ اس کے لئے ایك انوکھی شان ہے اگر الله تعالی چاہے ۔
پھر حلیہ میں فرمایا کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا کہ نماز میں کروٹ لیٹنے کی صورت کے علاوہ سوجانا یا سرین پر بیٹھنے کی صورت کے علاوہ سوجانا حدث نہیں ہے خواہ اس پر نیند کا غلبہ ہوگیاہو یا قصدا ایسا کیا ہو ظاہر روایت میں یہی ہے اھ اور عقلی علت نیند کے ناقض ہونے میں جوڑوں کا ڈھیلا پڑجانا اور چستی وبندش کا ختم ہوجانا ہے اور یہ چیز مذکورہ صورت میں نہیں پائی گئی ورنہ وہ شخص گرجاتا یہ سب صورتیں حالت نماز کی تھیں اور اگر نماز کے باہر کروٹ لیٹایا ٹیك لگائی بایں معنی کہ کسی کہنی پر ٹیك لگائے ہو جیسا کہ
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الصلوۃ ، فصل فیما یفسد الصلوۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶۴
علی احد مرفقیہ کما ھو معنی التورك فی التحفۃ والبدائع ومحیط رضی الدین نقض بلا خلاف اھ ملتقطا۔
وفی ردالمحتار نام المریض وھو یصلی مضطجعا الصحیح النقض کما فی الفتح وغیرہ و زاد فی السراج وبہ ناخذ اھ
وفی الخانیۃ ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا الا ان یکون مضطجعا اومتکئا والاضطجاء علی نوعین ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضأ ویبنی وان تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل ومن عجز فصلی مضطجعا فنام ینقض اھ
وفی متن نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح فی فصل مالاینقض الوضوء (و) منہا (نوم مصل ولو راکعا اوساجدا) اذا کان (علی جہۃ السنۃ)
تورك کے یہی معنی تحفہ بدائع اور محیط رضی الدین میں ہیں تو بالاتفاق وضوٹوٹ جائے گا اھ ملتقطا
اور رد المحتا ر میں ہے کہ مریض چت لیٹ کر نماز پڑھ رہا تھا کہ سوگیا تو صحیح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ گیا جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے اور سراج میں اتنا اضافہ ہے کہ “ ہم اسی کو اختیار کر تے ہیں اھ۔
اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں نیند صرف اضطجاع یا اتکاء کی صورت میں ناقض وضو ہے اور اضطجاع کی دو صورتیں ہیں ایك تو یہ کہ اس پرنیند کا غلبہ ہوگیا تو سوگیا پھر سونے کی حالت ہی میں لیٹ گیا تو اس کا حکم اس حدث کا ساہے جو بے اختیار ہوگیا ۔ ایسی صورت میں وضوکر کے نماز کی بناء کرے گا ۔ اور اگر قصدا نماز میں لیٹ کر سویا تو وضو کرے گا اور از سر نو نماز ادا کرے گا ۔ اور اگر کسی معذوری کے باعث نماز لیٹ کر پڑھ رہا تھا کہ سوگیا وضو ٹو ٹ جائے گا اھ
اورنور الایضاح کے متن اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں فصل مالا ینقض الوضوء میں ہے : “ اور نواقض وضو میں نہیں ہے نمازی کا رکوع یا سجود میں سوجانا بشرطیکہ مسنون طریقہ کے مطابق
وفی ردالمحتار نام المریض وھو یصلی مضطجعا الصحیح النقض کما فی الفتح وغیرہ و زاد فی السراج وبہ ناخذ اھ
وفی الخانیۃ ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا الا ان یکون مضطجعا اومتکئا والاضطجاء علی نوعین ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضأ ویبنی وان تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل ومن عجز فصلی مضطجعا فنام ینقض اھ
وفی متن نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح فی فصل مالاینقض الوضوء (و) منہا (نوم مصل ولو راکعا اوساجدا) اذا کان (علی جہۃ السنۃ)
تورك کے یہی معنی تحفہ بدائع اور محیط رضی الدین میں ہیں تو بالاتفاق وضوٹوٹ جائے گا اھ ملتقطا
اور رد المحتا ر میں ہے کہ مریض چت لیٹ کر نماز پڑھ رہا تھا کہ سوگیا تو صحیح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ گیا جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے اور سراج میں اتنا اضافہ ہے کہ “ ہم اسی کو اختیار کر تے ہیں اھ۔
اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں نیند صرف اضطجاع یا اتکاء کی صورت میں ناقض وضو ہے اور اضطجاع کی دو صورتیں ہیں ایك تو یہ کہ اس پرنیند کا غلبہ ہوگیا تو سوگیا پھر سونے کی حالت ہی میں لیٹ گیا تو اس کا حکم اس حدث کا ساہے جو بے اختیار ہوگیا ۔ ایسی صورت میں وضوکر کے نماز کی بناء کرے گا ۔ اور اگر قصدا نماز میں لیٹ کر سویا تو وضو کرے گا اور از سر نو نماز ادا کرے گا ۔ اور اگر کسی معذوری کے باعث نماز لیٹ کر پڑھ رہا تھا کہ سوگیا وضو ٹو ٹ جائے گا اھ
اورنور الایضاح کے متن اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں فصل مالا ینقض الوضوء میں ہے : “ اور نواقض وضو میں نہیں ہے نمازی کا رکوع یا سجود میں سوجانا بشرطیکہ مسنون طریقہ کے مطابق
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
فتاوی قاضی خاں کتاب الطہارت ، فصل فی النوم نولکشورلکھنو ۱ / ۲۰
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
فتاوی قاضی خاں کتاب الطہارت ، فصل فی النوم نولکشورلکھنو ۱ / ۲۰
فی ظاھر المذھب اھ
وفی منحۃ الخالق عن النھرالفائق عن عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء بنوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح اھ
وقال المحقق الکبیر فی شرح المنیۃ الصغیر والمعتمد انہ ان نام علی الھیئۃ المسنونۃ فی السجود رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا مرفقیہ عن جنبیہ لایکون حدثاوالا فھو حدث لوجود نہایۃ استرخاء المفاصل سواء کان فی الصلاۃ اوخارجہا وتمام تحقیقہ فی الشرح اھ
وفی التنویر والدر قام اوقرأ اورکع او سجد او قعد الاخیر نائما لا یعتد بہ بل یعیدہ ولو القراء ۃ اوالقعدۃ علی الاصح وان لم یعد تفسد ولو رکع اوسجد فنام فیہ اجزأہ لحصول الرفع منہ والوضع اھ
ولفظ المراقی وان طرأ فیہ
ہوظاہر مذہب میں اھ “ اور منحۃ الخالق میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے عقد الفرائد سے نقل کیا کہ نماز کے سجدہ میں سوجانا وضو کو نہیں تو ڑ تا جبکہ مسنون طریقہ پرہو اس قید کا ذکر محیط میں ہے اوریہی صحیح ہے اھ۔
محقق کبیر نے شرح منیۃ الصغیر میں فرمایا اگر سجدہ میں ہیئت مسنونہ پر سویا کہ پیٹ رانوں سے اور بازو پہلو سے دور ہوں تو حدث نہیں ہوگا ورنہ بو جہ کشادگی مفاصل حدث ہے بحالت ایں نماز میں ہویا نہ ہو اس کی مکمل تحقیق شرح میں ہے اھ
اور تنویر اور درمیں ہے اگر کسی نے قیام قراء ت رکوع سجود یا قعدہ بحالت نیند کیا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا اس پر اس رکن کا اعادہ لازم ہے خواہ قراء ت یا قعدہ ہی کیوں نہ ہو اصح یہی ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اور اگر رکوع کیا یا سجدہ کیا پھر اسی حالت میں سوگیا تو یہی کافی ہے کیونکہ اس حالت میں جانا اور اس سے واپس آنا پایا گیا اھ۔
اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر کسی رکن میں
وفی منحۃ الخالق عن النھرالفائق عن عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء بنوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح اھ
وقال المحقق الکبیر فی شرح المنیۃ الصغیر والمعتمد انہ ان نام علی الھیئۃ المسنونۃ فی السجود رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا مرفقیہ عن جنبیہ لایکون حدثاوالا فھو حدث لوجود نہایۃ استرخاء المفاصل سواء کان فی الصلاۃ اوخارجہا وتمام تحقیقہ فی الشرح اھ
وفی التنویر والدر قام اوقرأ اورکع او سجد او قعد الاخیر نائما لا یعتد بہ بل یعیدہ ولو القراء ۃ اوالقعدۃ علی الاصح وان لم یعد تفسد ولو رکع اوسجد فنام فیہ اجزأہ لحصول الرفع منہ والوضع اھ
ولفظ المراقی وان طرأ فیہ
ہوظاہر مذہب میں اھ “ اور منحۃ الخالق میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے عقد الفرائد سے نقل کیا کہ نماز کے سجدہ میں سوجانا وضو کو نہیں تو ڑ تا جبکہ مسنون طریقہ پرہو اس قید کا ذکر محیط میں ہے اوریہی صحیح ہے اھ۔
محقق کبیر نے شرح منیۃ الصغیر میں فرمایا اگر سجدہ میں ہیئت مسنونہ پر سویا کہ پیٹ رانوں سے اور بازو پہلو سے دور ہوں تو حدث نہیں ہوگا ورنہ بو جہ کشادگی مفاصل حدث ہے بحالت ایں نماز میں ہویا نہ ہو اس کی مکمل تحقیق شرح میں ہے اھ
اور تنویر اور درمیں ہے اگر کسی نے قیام قراء ت رکوع سجود یا قعدہ بحالت نیند کیا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا اس پر اس رکن کا اعادہ لازم ہے خواہ قراء ت یا قعدہ ہی کیوں نہ ہو اصح یہی ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اور اگر رکوع کیا یا سجدہ کیا پھر اسی حالت میں سوگیا تو یہی کافی ہے کیونکہ اس حالت میں جانا اور اس سے واپس آنا پایا گیا اھ۔
اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر کسی رکن میں
حوالہ / References
مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، فصل عشرۃ اشیاء... الخ دار الکتب العلمیۃ بیروت ص۹۴
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
صغیر ی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوءمطبع مجتبائی دہلی ص ۷۸
الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
صغیر ی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوءمطبع مجتبائی دہلی ص ۷۸
الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
النوم صح بما قبلہ منہ اھ
قلت وھو اوضح و اوجہ
وفی الدر المختار ایضا ینقضہ حکما نوم یزیل مسکتہ بحیث تزول مقعدتہ من الارض وھو النوم علی احد جنبیہ او ورکیہ اوقفاہ او وجہہ والا یزل مسکتہ لاینقض وان تعمدہ فی الصلاۃ اوغیرھا علی المختار(نص علیہ فی الفتح وھو قید فی قولہ فی الصلاۃ قال فی شرح الوھبانیۃ ظاھر الروایۃ ان النوم فی الصلاۃ قائما اوقاعدا اوساجدا لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمدہ ش) کالنوم قاعدا اومستندا الی مالوازیل لسقط علی المذھب(ای ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ وبہ اخذ عامۃ المشائخ وھو الاصح کما فی البدائع ش وعلیہ الفتوی جواھر الاخلاطی) وساجد علی الھیاۃ المسنونۃ (بان یکون رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحر قال ط وظاھرہ ان المراد الھیئۃ المسنونۃ فی حق الرجل لاالمرأۃ ش۔
اقول : لیس فـــ ھذا محل الاستظھار وقد صرح بہ السادۃ الکبار کقاضی خان
نیند آگئی تو اس سے پہلے والا رکن صحیح رہا اھ۔
قلت یہی اوضح اور اوجہ ہے ۔
اور درمختار میں ہے کہ نیز وضو کو حکما وہ نیند توڑدیتی ہے جو چستی کو زائل کردے اس طرح کہ اس کی مقعد زمین سے اٹھ جائے مثلا ایك پہلو پر سوگیا یا سرین پر سوگیا یا گدی یا چہرے کے بل سوگیا اور چستی زائل نہ کرتی ہو تو ناقض وضو نہیں خواہ وہ قصدا ہی سوگیا ہو نماز میں ہو نہ ہو مختار یہی ہے ( فتح میں اس کی تصریح ہے شرح وہبانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایۃ میں ہے کہ نماز میں سونا کھڑے ہو کر بیٹھ کر یا سجدہ میں ۔ حدث نہ ہوگا خواہ نیند کا غلبہ ہوگیا یا قصدا نیند آئی ہو ش) جیسے کسی ایسی چیز سے ٹیك لگا کرسوگیا کہ اگر اس کو ہٹایاجائے تو گر پڑے یا بیٹھ کر سوگیا(ابو حنیفہ سے ظاہر مذہب یہی ہے اور تمام مشائخ نے اسی کو لیاہے اور یہی اصح ہے جیسا کہ بدائع میں ہے ش)اور اس پر فتوی ہے جواہر الاخلاطی کا اور جو شخص مسنون حالت پر سوگیا یعنی اس کا پیٹ رانوں سے جداہوں بازو پہلوؤں سے جداہوں بحر ۔ طحطاوی نے کہا کہ بظاہر اس سے مراد وہ مسنون ہیئت ہے جو مردو ں کے لئے ہے نہ کہ عورت کے لئے ش
اقول : یہ استظہار کا مقام نہیں ہے اس کی تصریح بڑے بڑے علماء مثلا قاضی خان
فــــ : معروضۃ علی العلامتین ط و ش۔
قلت وھو اوضح و اوجہ
وفی الدر المختار ایضا ینقضہ حکما نوم یزیل مسکتہ بحیث تزول مقعدتہ من الارض وھو النوم علی احد جنبیہ او ورکیہ اوقفاہ او وجہہ والا یزل مسکتہ لاینقض وان تعمدہ فی الصلاۃ اوغیرھا علی المختار(نص علیہ فی الفتح وھو قید فی قولہ فی الصلاۃ قال فی شرح الوھبانیۃ ظاھر الروایۃ ان النوم فی الصلاۃ قائما اوقاعدا اوساجدا لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمدہ ش) کالنوم قاعدا اومستندا الی مالوازیل لسقط علی المذھب(ای ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ وبہ اخذ عامۃ المشائخ وھو الاصح کما فی البدائع ش وعلیہ الفتوی جواھر الاخلاطی) وساجد علی الھیاۃ المسنونۃ (بان یکون رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحر قال ط وظاھرہ ان المراد الھیئۃ المسنونۃ فی حق الرجل لاالمرأۃ ش۔
اقول : لیس فـــ ھذا محل الاستظھار وقد صرح بہ السادۃ الکبار کقاضی خان
نیند آگئی تو اس سے پہلے والا رکن صحیح رہا اھ۔
قلت یہی اوضح اور اوجہ ہے ۔
اور درمختار میں ہے کہ نیز وضو کو حکما وہ نیند توڑدیتی ہے جو چستی کو زائل کردے اس طرح کہ اس کی مقعد زمین سے اٹھ جائے مثلا ایك پہلو پر سوگیا یا سرین پر سوگیا یا گدی یا چہرے کے بل سوگیا اور چستی زائل نہ کرتی ہو تو ناقض وضو نہیں خواہ وہ قصدا ہی سوگیا ہو نماز میں ہو نہ ہو مختار یہی ہے ( فتح میں اس کی تصریح ہے شرح وہبانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایۃ میں ہے کہ نماز میں سونا کھڑے ہو کر بیٹھ کر یا سجدہ میں ۔ حدث نہ ہوگا خواہ نیند کا غلبہ ہوگیا یا قصدا نیند آئی ہو ش) جیسے کسی ایسی چیز سے ٹیك لگا کرسوگیا کہ اگر اس کو ہٹایاجائے تو گر پڑے یا بیٹھ کر سوگیا(ابو حنیفہ سے ظاہر مذہب یہی ہے اور تمام مشائخ نے اسی کو لیاہے اور یہی اصح ہے جیسا کہ بدائع میں ہے ش)اور اس پر فتوی ہے جواہر الاخلاطی کا اور جو شخص مسنون حالت پر سوگیا یعنی اس کا پیٹ رانوں سے جداہوں بازو پہلوؤں سے جداہوں بحر ۔ طحطاوی نے کہا کہ بظاہر اس سے مراد وہ مسنون ہیئت ہے جو مردو ں کے لئے ہے نہ کہ عورت کے لئے ش
اقول : یہ استظہار کا مقام نہیں ہے اس کی تصریح بڑے بڑے علماء مثلا قاضی خان
فــــ : معروضۃ علی العلامتین ط و ش۔
حوالہ / References
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، باب شروط الصلوۃ وار کانہا ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ص۲۳۵
وغیرہ علا انھم فــــ لولم یصرحوا لکان ھو المتعین للارادۃ لان المقصود ھیاۃ تمنع الاستغراق فی النوم کما لایخفی) ولوفی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی اومتورکا(بان یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض فتح ش)اومحتبیا (بان جلس علی الیتیہ ونصب رکبتیہ وشدساقیہ الی نفسہ بیدیہ اوبشیئ یحیط من ظہرہ علیہما شرح المنیۃ ش ۔
اقول : ولا مدخل ھھنا لوضع الیدین فانما مطمح النظر تمکین الورکین ولذا عممت) وراسہ علی رکبتیہ (غیر قیدش وبالاولی اذا لم یکن رأسہ کذلك ط)اوشبہ المنکب (ای علی وجہہ وھو کما فی شروح الہدایۃ ان ینام واضعا الیتیہ علی عقبیہ وبطنہ علی فخذیہ ونقل عدم النقض بہ فی الفتح عن الذخیرۃ ایضا ش۔
قلت ونقل فی الہندیۃ عن محیط وغیرہ نے کی ہے علاوہ ازیں اگر وہ اس کی تصریح نہ بھی کرتے تو یہی متعین ہوتاکیونکہ اس سے مراد ایسی ہیئت ہے جو نیند میں مستغرق ہوجانے سے مانع ہو اور یہ ظاہر ہے) یہ صورت خواہ نماز کے علاوہ ہی کیوں نہ ہوئی ہو معتمد مذہب یہی ہے اس کو حلبی نے ذکر کیا یا بطور تورك (یعنی وہ اپنے دونوں قدم ایك طرف نکال لے اور اپنے سرین زمین سے چپکا دے فتح وش) “ او محتبیا “ یا اپنے سرین پر بیٹھ جائے اور اپنی دونوں پنڈلیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے یا کسی چیز سے پیٹھ سے باندھ دے شرح منیہ ش۔
اقول : اس میں ہاتھ کی وضع کا کوئی دخل نہیں ہے اصل مقصود تو دونوں سرینوں کا جمانا ہے اس لئے میں نے اس کو عام رکھا ہے اور اس کا سر اس کے دونوں گھٹنوں پر ہو (یہ قیدنہیں ش اور جب اس کا سر اس طر ح نہ ہو تو بطریق اولی ایسا ہوگا ط) یااوندھے کے مشابہ (یعنی چہرے کی بل سونے والے کی طر ح اوراس کی ہیئت جیسا کہ ہدایہ کی شروح میں ہے یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں سرین اپنی دونوں ایڑیوں پر رکھے اور اپنا پیٹ اپنی دونوں رانوں پر رکھے اور اس میں نہ ٹوٹنا فتح میں ذخیرہ سے بھی منقول ہوا ش۔
قلت ہندیہ میں محیط سرخسی سے منقول ہے
فــــ : معروضۃ اخری علیھما
اقول : ولا مدخل ھھنا لوضع الیدین فانما مطمح النظر تمکین الورکین ولذا عممت) وراسہ علی رکبتیہ (غیر قیدش وبالاولی اذا لم یکن رأسہ کذلك ط)اوشبہ المنکب (ای علی وجہہ وھو کما فی شروح الہدایۃ ان ینام واضعا الیتیہ علی عقبیہ وبطنہ علی فخذیہ ونقل عدم النقض بہ فی الفتح عن الذخیرۃ ایضا ش۔
قلت ونقل فی الہندیۃ عن محیط وغیرہ نے کی ہے علاوہ ازیں اگر وہ اس کی تصریح نہ بھی کرتے تو یہی متعین ہوتاکیونکہ اس سے مراد ایسی ہیئت ہے جو نیند میں مستغرق ہوجانے سے مانع ہو اور یہ ظاہر ہے) یہ صورت خواہ نماز کے علاوہ ہی کیوں نہ ہوئی ہو معتمد مذہب یہی ہے اس کو حلبی نے ذکر کیا یا بطور تورك (یعنی وہ اپنے دونوں قدم ایك طرف نکال لے اور اپنے سرین زمین سے چپکا دے فتح وش) “ او محتبیا “ یا اپنے سرین پر بیٹھ جائے اور اپنی دونوں پنڈلیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے یا کسی چیز سے پیٹھ سے باندھ دے شرح منیہ ش۔
اقول : اس میں ہاتھ کی وضع کا کوئی دخل نہیں ہے اصل مقصود تو دونوں سرینوں کا جمانا ہے اس لئے میں نے اس کو عام رکھا ہے اور اس کا سر اس کے دونوں گھٹنوں پر ہو (یہ قیدنہیں ش اور جب اس کا سر اس طر ح نہ ہو تو بطریق اولی ایسا ہوگا ط) یااوندھے کے مشابہ (یعنی چہرے کی بل سونے والے کی طر ح اوراس کی ہیئت جیسا کہ ہدایہ کی شروح میں ہے یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں سرین اپنی دونوں ایڑیوں پر رکھے اور اپنا پیٹ اپنی دونوں رانوں پر رکھے اور اس میں نہ ٹوٹنا فتح میں ذخیرہ سے بھی منقول ہوا ش۔
قلت ہندیہ میں محیط سرخسی سے منقول ہے
فــــ : معروضۃ اخری علیھما
السرخسی انہ الاصح قال ش ثم نقل فی الفتح عن غیرھا لونام متربعا و رأسہ علی فخذیہ نقض قال وھذا یخالف مافی الذخیرۃ واختار فی شرح المنیۃ النقض فی مسألۃ الذخیرۃ لارتفاع المقعدۃ وزوال التمکن واذ ا نقض فی التربع مع انہ اشد تمکنا فالوجہ الصحیح النقض ھنا ثم ایدہ بما فی الکفایۃ عن المبسوطین من انہ لونام قاعدا او وضع الیتیہ علی عقبیہ وصارشبہ المنکب علی وجہہ قال ابو یوسف علیہ الوضوء اھ
اقول : ومن عرف المناط عرف القول الفصل فمن حناراسہ بحیث لم یرفع عجزہ عن الارض لم ینقض وھو مراد الشارح ومن حنا حتی رفع نقض وھو مراد الغنیۃ ولذا عولت علی ھذا التفصیل) اوفی محمل او سرج اواکاف (حال الصعود وغیرہ منیۃ ش ) ولوالدابۃ عریانا فان حال الھبوط نقض (لتجافی المقعدۃ عن ظھر الدابۃ حلیہ ش) والا(بان کان حال الصعود والاستواء منیۃ ش) لاولو
کہ اصح یہی ہے ش نے کہا پھر فتح میں ذخیرہ کے علاوہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص پالتی مار کر بیٹھا اور اسی حال میں سوگیا اور اس کا سرا س کی دونوں رانوں پر ہے تو وضو ٹو ٹ گیا یہ ذخیرہ کے مخالف ہے اور شرح منیہ میں ذخیرہ کی بیان کر دہ صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کو پسند کیا ہے کیونکہ مقعد اٹھ گئی اور استقرار ختم ہوگیا اور جب پالتی مار کر بیٹھنے کی صورت میں وضو ٹو ٹ گیا حالانکہ اس میں استقرار زیادہ ہے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہاں بھی ٹوٹنا چاہئے پھر کفایہ کی عبارت جو دونوں مبسوطوں سے منقول ہے سے تائیدکی اس میں یہ ہے کہ اگر بیٹھ کر سوگیا یا اپنی سر ین کو اپنی ایڑیوں پر رکھا اور اوندھا ہوگیا تو ابو یوسف فرماتے ہیں اس پر وضو لازم ہے اھ۔
اقول : جو شخص مناط کو جانتا ہے ہے وہ فیصلہ کن قول کو سمجھ سکتا ہے جس شخص نے اپنا سر جھکا یا مگر اپنی سرین زمین سے نہ اٹھائی تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور یہی مراد شارح کی ہے اور اگر سرین اٹھ گئے تو ٹو ٹ جائے گا ۔ اور غنیہ کی مراد یہی ہے اس لئے میں نے اس تفصیل پر اعتماد کیا ہے یا کسی محمل یا زین یانمدہ میں (چڑھنے کی صورت ہویا کوئی اور صورت منیہ ش) اور اگر سواری کے جانور پر زین وغیرہ نہ ہو تو اتر تے وقت وضو ٹو ٹ جائے گا ( کیونکہ سواری کی پشت سے مقعد ہٹ گئی ہوگی حلیہ ش ) ورنہ ( مثلا یہ کہ چڑھنے یا بیٹھنے کی حالت میں ہو منیہ ش)تو وضو
اقول : ومن عرف المناط عرف القول الفصل فمن حناراسہ بحیث لم یرفع عجزہ عن الارض لم ینقض وھو مراد الشارح ومن حنا حتی رفع نقض وھو مراد الغنیۃ ولذا عولت علی ھذا التفصیل) اوفی محمل او سرج اواکاف (حال الصعود وغیرہ منیۃ ش ) ولوالدابۃ عریانا فان حال الھبوط نقض (لتجافی المقعدۃ عن ظھر الدابۃ حلیہ ش) والا(بان کان حال الصعود والاستواء منیۃ ش) لاولو
کہ اصح یہی ہے ش نے کہا پھر فتح میں ذخیرہ کے علاوہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص پالتی مار کر بیٹھا اور اسی حال میں سوگیا اور اس کا سرا س کی دونوں رانوں پر ہے تو وضو ٹو ٹ گیا یہ ذخیرہ کے مخالف ہے اور شرح منیہ میں ذخیرہ کی بیان کر دہ صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کو پسند کیا ہے کیونکہ مقعد اٹھ گئی اور استقرار ختم ہوگیا اور جب پالتی مار کر بیٹھنے کی صورت میں وضو ٹو ٹ گیا حالانکہ اس میں استقرار زیادہ ہے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہاں بھی ٹوٹنا چاہئے پھر کفایہ کی عبارت جو دونوں مبسوطوں سے منقول ہے سے تائیدکی اس میں یہ ہے کہ اگر بیٹھ کر سوگیا یا اپنی سر ین کو اپنی ایڑیوں پر رکھا اور اوندھا ہوگیا تو ابو یوسف فرماتے ہیں اس پر وضو لازم ہے اھ۔
اقول : جو شخص مناط کو جانتا ہے ہے وہ فیصلہ کن قول کو سمجھ سکتا ہے جس شخص نے اپنا سر جھکا یا مگر اپنی سرین زمین سے نہ اٹھائی تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور یہی مراد شارح کی ہے اور اگر سرین اٹھ گئے تو ٹو ٹ جائے گا ۔ اور غنیہ کی مراد یہی ہے اس لئے میں نے اس تفصیل پر اعتماد کیا ہے یا کسی محمل یا زین یانمدہ میں (چڑھنے کی صورت ہویا کوئی اور صورت منیہ ش) اور اگر سواری کے جانور پر زین وغیرہ نہ ہو تو اتر تے وقت وضو ٹو ٹ جائے گا ( کیونکہ سواری کی پشت سے مقعد ہٹ گئی ہوگی حلیہ ش ) ورنہ ( مثلا یہ کہ چڑھنے یا بیٹھنے کی حالت میں ہو منیہ ش)تو وضو
نام قاعدا یتمایل فسقط ان انتبہ حین سقط (ای قبل ان یصیب جنبہ الارض ط حلیہ ش او عند اصابۃ جنبہ الارض بلا فصل ط غنیہ ش) فلا نقض بہ یفتی (اما لواستقر ثم انتبہ نقض لانہ وجد النوم مضطجعا حلیہ ش) کناعس یفہم اکثر ما قیل عندہ(قال الرحمتی ولا ینبغی ان یغتر الانسان بنفسہ لانہ (بما یستغرقہ النوم ویظن خلافہ ش ) مزیدا مابین الاھلۃ منی ومن ط وش )۔
نہ ٹوٹے گا اگر بیٹھے بیٹھے سوگیا اور ہچکولے کھاکر گر ا اور گر تے ہی بیدار ہوگیا( یعنی پہلو کے زمین پر لگنے سے قبل ط حلیہ ش یا پہلو کے زمین پر لگتے ہی بلا تاخیر گراط غنیہ ش) تو وضو نہ ٹوٹے گا یہی مفتی بہ قول ہے لیکن اگر ٹھہرگیا پھر بیدار ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گاکیونکہ کروٹ لینے کی حالت نیند میں پائی گئی حلیہ ش ) جیسے اونگھنے والا اکثر باتیں سمجھتا ہے(رحمتی نے کہا کہ انسان کو دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کبھی اس پر نیند کا غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کے خلاف گمان کرتا ہے ش )ہلالوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ عبارت درمختار پر میرا اور شامی وطحطاوی کا اضافہ ہے۔
افادات عدیدۃ مضیدۃ(مفیدۃ) سدیدۃ
چند درست نفع بخش افادات :
الاولی : فــــ اعلم ان النوم علی وضع سجود فیہ خلف کثیر ونزاع ممدود وانا ارید ان شاء الکریم المجید ان اذکرہ علی وجہ حاصر یجلوبہ الحق کبدر زاھر وما توفیقی
افادہ اولی : سجدے کی ہیات پر سونے کے مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف ونزاع پایا جاتا ہے بمشیت رب کریم میں اسے ایسی احاطہ کن صورت میں بیان کرناچاہتا ہوں جس سے حق بدر تابندہ کی طر ف روشن ہوجائے ۔ اور مجھے توفیق نہیں
فــــ : تحقیق شریف للمصنف ان الصلوۃ وغیرھا فی نقض الطھارۃ بالنوم سواء۔
نہ ٹوٹے گا اگر بیٹھے بیٹھے سوگیا اور ہچکولے کھاکر گر ا اور گر تے ہی بیدار ہوگیا( یعنی پہلو کے زمین پر لگنے سے قبل ط حلیہ ش یا پہلو کے زمین پر لگتے ہی بلا تاخیر گراط غنیہ ش) تو وضو نہ ٹوٹے گا یہی مفتی بہ قول ہے لیکن اگر ٹھہرگیا پھر بیدار ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گاکیونکہ کروٹ لینے کی حالت نیند میں پائی گئی حلیہ ش ) جیسے اونگھنے والا اکثر باتیں سمجھتا ہے(رحمتی نے کہا کہ انسان کو دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کبھی اس پر نیند کا غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کے خلاف گمان کرتا ہے ش )ہلالوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ عبارت درمختار پر میرا اور شامی وطحطاوی کا اضافہ ہے۔
افادات عدیدۃ مضیدۃ(مفیدۃ) سدیدۃ
چند درست نفع بخش افادات :
الاولی : فــــ اعلم ان النوم علی وضع سجود فیہ خلف کثیر ونزاع ممدود وانا ارید ان شاء الکریم المجید ان اذکرہ علی وجہ حاصر یجلوبہ الحق کبدر زاھر وما توفیقی
افادہ اولی : سجدے کی ہیات پر سونے کے مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف ونزاع پایا جاتا ہے بمشیت رب کریم میں اسے ایسی احاطہ کن صورت میں بیان کرناچاہتا ہوں جس سے حق بدر تابندہ کی طر ف روشن ہوجائے ۔ اور مجھے توفیق نہیں
فــــ : تحقیق شریف للمصنف ان الصلوۃ وغیرھا فی نقض الطھارۃ بالنوم سواء۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضو مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶ ، ۲۷ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضو دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۵تا۹۷ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار بحث نواقض الوضو المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۲
الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب۔
فاقول : واستعین بالقریب المجیب ذلك الوضع الذی نام فیہ اماان یکون علی الھیاۃ المسنونۃ للرجال اوعلی غیرھاوکل امافی الصلاۃ ومنھا سجود السھو وسہامن نقل الخلاف فیہ کمانبہ علیہ فی الفتح او فی سجدۃ مشروعۃ خارجہا وھی سجدۃ التلاوۃ والشکرا وفی غیر ذلك ویدخل فیہ ماکان علی ھیاۃ ساجد ولم ینوھا اصلا فالصورست۔
وقد اجمعوا علی عدم النقض فی الاولی وھی السجود فی الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃاماما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا فی الصلاۃ وغیرھا قیل یکون حدثا ای مطلقا سواء کان علی الھیاۃ المسنونۃ اولا لانہ ذکر ھذا التفصیل من بعد فی قول مقابل لہ قال وذکر فی الخانیۃ انہ
مگرخداہی کی طر ف سے اسی پرمیرا توکل ہے اور اسی کی طر ف رجوع لاتاہوں۔
فاقول : و رب قریب مجیب کی مدد لیتے ہوئے عرض پر داز ہوں سونے والا جس وضع سجدہ پرسویاہے وہ یاتومردوں کے لئے سجدہ کی مسنون ھیأت کے مطابق ہوگی یامسنون ھیأت نہ ہوگی دونوں صورتیں یا تو نماز میں ہوں گی اسی میں سجدہ سہو بھی شامل ہے اور جس نے اس سے متعلق اختلاف نقل کیااس سے سہو ہو اجیسا کہ فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے یا بیرون نماز کسی جائز ومشروع سجدہ میں ہوں گی یہ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکرہے یا ان سب کے علاوہ میں ہوں گی اسی میں وہ بھی داخل ہے جو سجدہ کی ہیات پر ہو اور سجدہ کی کوئی نیت نہ ہو تویہ کل چھ صورتیں ہوئیں۔
پہلی صورت یہ کہ نماز میں مسنون طریقہ پر سجدہ ہو اس صورت پر سوجانے سے وضو نہ ٹوٹنے پر سب کا اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہے کہ : بحالت سجدہ نماز میں اور بیرون نماز سوجانا کہا گیاکہ حدث ہے یعنی مطلقا خواہ مسنون طریقے پر ہو یا نہ ہو یہ اس لئے کہ علامہ شامی نے یہ تفصیل آگے اس کے مقابل ایك قول میں خود بیان کی ہے آگے لکھتے ہیں اور خانیہ میں ذکر کیا کہ یہی
فاقول : واستعین بالقریب المجیب ذلك الوضع الذی نام فیہ اماان یکون علی الھیاۃ المسنونۃ للرجال اوعلی غیرھاوکل امافی الصلاۃ ومنھا سجود السھو وسہامن نقل الخلاف فیہ کمانبہ علیہ فی الفتح او فی سجدۃ مشروعۃ خارجہا وھی سجدۃ التلاوۃ والشکرا وفی غیر ذلك ویدخل فیہ ماکان علی ھیاۃ ساجد ولم ینوھا اصلا فالصورست۔
وقد اجمعوا علی عدم النقض فی الاولی وھی السجود فی الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃاماما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا فی الصلاۃ وغیرھا قیل یکون حدثا ای مطلقا سواء کان علی الھیاۃ المسنونۃ اولا لانہ ذکر ھذا التفصیل من بعد فی قول مقابل لہ قال وذکر فی الخانیۃ انہ
مگرخداہی کی طر ف سے اسی پرمیرا توکل ہے اور اسی کی طر ف رجوع لاتاہوں۔
فاقول : و رب قریب مجیب کی مدد لیتے ہوئے عرض پر داز ہوں سونے والا جس وضع سجدہ پرسویاہے وہ یاتومردوں کے لئے سجدہ کی مسنون ھیأت کے مطابق ہوگی یامسنون ھیأت نہ ہوگی دونوں صورتیں یا تو نماز میں ہوں گی اسی میں سجدہ سہو بھی شامل ہے اور جس نے اس سے متعلق اختلاف نقل کیااس سے سہو ہو اجیسا کہ فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے یا بیرون نماز کسی جائز ومشروع سجدہ میں ہوں گی یہ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکرہے یا ان سب کے علاوہ میں ہوں گی اسی میں وہ بھی داخل ہے جو سجدہ کی ہیات پر ہو اور سجدہ کی کوئی نیت نہ ہو تویہ کل چھ صورتیں ہوئیں۔
پہلی صورت یہ کہ نماز میں مسنون طریقہ پر سجدہ ہو اس صورت پر سوجانے سے وضو نہ ٹوٹنے پر سب کا اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہے کہ : بحالت سجدہ نماز میں اور بیرون نماز سوجانا کہا گیاکہ حدث ہے یعنی مطلقا خواہ مسنون طریقے پر ہو یا نہ ہو یہ اس لئے کہ علامہ شامی نے یہ تفصیل آگے اس کے مقابل ایك قول میں خود بیان کی ہے آگے لکھتے ہیں اور خانیہ میں ذکر کیا کہ یہی
ظاھر الروایۃ۔
فاقول : ھذا فــــ۱ الاطلاق ان صدر عن احد فھو محجوج بنص الحدیث وتصریحات ائمۃ القدیم والحدیث وقد تقدم عن الحلیۃ ان لاخلاف عندنا فی ذلك اماالخانیۃ فـــ۲ فلم تذکرہ بھذا الارسال وانما نصہا ھکذا ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا نام قائما او راکعا اوساجدا اما خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الرکوع والسجود قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالی یکون حدثا فی ظاھر الروایۃ وقیل ان کان ساجدا علی وجہ السنۃ بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحیث یری من خلفہ عفرۃ ابطیہ لایکون حدثا وان کان ساجدا علی وجہ غیر السنۃ بان الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ کان حدثا اھ
ظاہر الروایۃ ہے اھ۔
اقول : یہ اطلاق (کہ نماز اور بیرون نماز مسنون یا غیر مسنون جس ہیات سجدہ پر بھی سوجائے وضو ٹو ٹ جائے گا ) اگر کسی سے صادر ہے اور کوئی اس کا قائل ہے تو اس کے خلاف نص حدیث اور عہد قدیم وجدید کے ائمہ کی تصریحات حجت ہیں حلیہ کے حوالے سے گزرچکا کہ اس بارے میں ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں رہا خانیہ کا حوالہ جو علامہ شامی نے پیش کیا تو خانیہ نے اس اطلاق کے ساتھ اسے بیان ہی نہ کیا ۔ ملا حظہ ہو اس کی عبارت یہ ہے ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کے اندر سونا حدث نہیں ہوتا قیام میں سوئے یا رکوع یا سجدے میں سوئے لیکن بیرون نماز اگر رکوع و سجود کی ہیات پر سوئے تو شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ ظاہر روایت میں یہ حدث ہے اور کہا گیا کہ اگر سنت کے طور پر سجدہ کی حالت ہو اس طرح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے بازو کروٹوں سے جدا کئے ہوئے ہو کہ پیچھے والا بغلوں کی سیاہی دیکھ لے تو حدث نہ ہوگا اور اگر خلاف سنت سجدہ ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے ملادیا ہو اور کلائیاں بچھادی ہو ں تو حدث ہوگا اھ۔
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲ : معروضہ اخری علیہ
فاقول : ھذا فــــ۱ الاطلاق ان صدر عن احد فھو محجوج بنص الحدیث وتصریحات ائمۃ القدیم والحدیث وقد تقدم عن الحلیۃ ان لاخلاف عندنا فی ذلك اماالخانیۃ فـــ۲ فلم تذکرہ بھذا الارسال وانما نصہا ھکذا ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا نام قائما او راکعا اوساجدا اما خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الرکوع والسجود قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ الله تعالی یکون حدثا فی ظاھر الروایۃ وقیل ان کان ساجدا علی وجہ السنۃ بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحیث یری من خلفہ عفرۃ ابطیہ لایکون حدثا وان کان ساجدا علی وجہ غیر السنۃ بان الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ کان حدثا اھ
ظاہر الروایۃ ہے اھ۔
اقول : یہ اطلاق (کہ نماز اور بیرون نماز مسنون یا غیر مسنون جس ہیات سجدہ پر بھی سوجائے وضو ٹو ٹ جائے گا ) اگر کسی سے صادر ہے اور کوئی اس کا قائل ہے تو اس کے خلاف نص حدیث اور عہد قدیم وجدید کے ائمہ کی تصریحات حجت ہیں حلیہ کے حوالے سے گزرچکا کہ اس بارے میں ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں رہا خانیہ کا حوالہ جو علامہ شامی نے پیش کیا تو خانیہ نے اس اطلاق کے ساتھ اسے بیان ہی نہ کیا ۔ ملا حظہ ہو اس کی عبارت یہ ہے ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کے اندر سونا حدث نہیں ہوتا قیام میں سوئے یا رکوع یا سجدے میں سوئے لیکن بیرون نماز اگر رکوع و سجود کی ہیات پر سوئے تو شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ ظاہر روایت میں یہ حدث ہے اور کہا گیا کہ اگر سنت کے طور پر سجدہ کی حالت ہو اس طرح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے بازو کروٹوں سے جدا کئے ہوئے ہو کہ پیچھے والا بغلوں کی سیاہی دیکھ لے تو حدث نہ ہوگا اور اگر خلاف سنت سجدہ ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے ملادیا ہو اور کلائیاں بچھادی ہو ں تو حدث ہوگا اھ۔
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲ : معروضہ اخری علیہ
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، بحث نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
فتاوی قاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی النوم ، نولکشور لکھنو ۱ / ۲۰
فتاوی قاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی النوم ، نولکشور لکھنو ۱ / ۲۰
فاین ھذا من ذاك فلیتنبہ نعم جاء ت خلافیۃ عن ابی یوسف فی تعمد النومی علی خلاف ظاھر الروایۃ الصحیحۃ المختارۃ ولا تختص فی تحقیقنا بالسجود بل تعم الصلاۃ کلہا کما سیاتی ان شاءالله تعالی۔
واجمعوا علی النقض فی السادسۃ وھی کونہ علی ھیاۃ سجود غیر مسنونۃ من غیرنیۃ اوفی سجدۃ غیر مشروعۃ اما ما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا قیل لایکون حدثا فی الصلاۃ وغیرھا وصححہ فی التحفۃ وذکر فی الخلاصۃ انہ ظاھر المذھب وفی الذخیرۃ ھو المشھور اھ۔
فاقول : ان فـــ اراد بالساجد الساجد الشرعی فعزو الحکم الی الخلاصۃ یصح لکنہ اذن لایتناول الا سجود الصلاۃ والسہو والتلاوۃ والشکر و
بتائیے اس تفصیل کو اس اطلاق سے کیا نسبت تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے ہاں قصدا سونے کے بارے میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ سے صحیح ترجیح یافتہ ظاہر الروایہ کے بر خلاف ایك اختلافی روایت آئی ہے اور وہ ہماری تحقیق میں حالت سجدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ پوری نماز کو شامل ہے جیسا کہ ان شاء الله تعالی ذکر ہوگا
چھٹی صورت یہ کہ سجدہ غیر مسنون طریقہ پر ہوا اورسجدہ کی نیت بھی نہ ہو یا کسی ایسے سجدہ کی نیت ہو جو مشروع نہیں اس صورت میں سونے سے وضو ٹوٹ جانے پر اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہوا کہ “ سجدہ کرتے ہوئے سوجانا کہا گیا کہ یہ نماز میں اور بیرون نمازبھی حدث نہیں اسی کو تحفہ میں صحیح کہا ۔ اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے ۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ یہی مشہور ہے اھ “
فاقول : اگر سجدہ کرنے والے سے شرعی سجدہ کرنے والا مراد لیا تو خلاصہ کا حوالہ صحیح ہے لیکن اس تقدیر پریہ صرف سجدہ نماز سجدہ سہو سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کو شامل
فـــ : معروضۃ ثالثۃعلیہ۔
واجمعوا علی النقض فی السادسۃ وھی کونہ علی ھیاۃ سجود غیر مسنونۃ من غیرنیۃ اوفی سجدۃ غیر مشروعۃ اما ما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا قیل لایکون حدثا فی الصلاۃ وغیرھا وصححہ فی التحفۃ وذکر فی الخلاصۃ انہ ظاھر المذھب وفی الذخیرۃ ھو المشھور اھ۔
فاقول : ان فـــ اراد بالساجد الساجد الشرعی فعزو الحکم الی الخلاصۃ یصح لکنہ اذن لایتناول الا سجود الصلاۃ والسہو والتلاوۃ والشکر و
بتائیے اس تفصیل کو اس اطلاق سے کیا نسبت تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے ہاں قصدا سونے کے بارے میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہعلیہ سے صحیح ترجیح یافتہ ظاہر الروایہ کے بر خلاف ایك اختلافی روایت آئی ہے اور وہ ہماری تحقیق میں حالت سجدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ پوری نماز کو شامل ہے جیسا کہ ان شاء الله تعالی ذکر ہوگا
چھٹی صورت یہ کہ سجدہ غیر مسنون طریقہ پر ہوا اورسجدہ کی نیت بھی نہ ہو یا کسی ایسے سجدہ کی نیت ہو جو مشروع نہیں اس صورت میں سونے سے وضو ٹوٹ جانے پر اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہوا کہ “ سجدہ کرتے ہوئے سوجانا کہا گیا کہ یہ نماز میں اور بیرون نمازبھی حدث نہیں اسی کو تحفہ میں صحیح کہا ۔ اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے ۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ یہی مشہور ہے اھ “
فاقول : اگر سجدہ کرنے والے سے شرعی سجدہ کرنے والا مراد لیا تو خلاصہ کا حوالہ صحیح ہے لیکن اس تقدیر پریہ صرف سجدہ نماز سجدہ سہو سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کو شامل
فـــ : معروضۃ ثالثۃعلیہ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۶
یبقی کلامہ ساکتا عن حکم مااذا کان علی ھیاۃ سجود من دون سجود او فی سجود غیر مشروع کما یفعلہ بعض الناس عقیب الصلاۃ ولا شك ان کلام الخلاصۃ والخانیۃ والتحفۃ والبدائع والحلیۃ التی لخص منہا ھذا الفصل یشمل ھذہ الصور کلہا فلاوجہ لاخراجہا عن الکلام مع ان الحاجۃ ماسۃ الی ادراك حکمہا ایضاوان اراد من کان علی ھیاۃ سجود ولو لم ینوہ اولم یشرع فیجب ان یکون المراد الھیاۃ المسنونۃ للرجال لانھا المانعۃ عن الاستغراق فی النوم فکان کالنوم قائما او علی ھیاۃ رکوع اما ان یؤخذ العموم فی الساجد کما احاط بہ کلمات المنقول عنہم جمیعا وقد اشار الیہ فی الخلاصۃ حیث عبر فی الصلاۃ بلفظۃ ساجدا وفی خارجہا بلفظۃ علی ھیاۃ السجود وفی الھیاۃ ایضا کما ھو قضیۃ ردالمحتار حیث ذکر تفصیل الھیاۃ فی قول ثالث مقابل لہذا حتی یلزم ان لاینقض نوم من نام فی غیر سجود مشروع علی ھیاۃ سجود المرأۃ
ہوگا اور ان کاکلام اس صورت کا حکم بتانے سے ساقط رہ جائے گا جب بے نیت سجدہ محض ہیات سجدہ ہو یا کوئی غیر مشرو ع سجدہ ہو جیسا کہ بعض لوگ بعد نماز سجدہ کرتے ہیں حالاں کہ خلاصہ خانیہ تحفہ بدائع اور حلیہ جن سے اس فصل کی تلخیص کی گئی ہے سب کاکام ان ساری صورتوں کو شامل ہے تو مذکورہ صورتوں کو کلام سے خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب کہ ان صورتوں کا بھی حکم دریافت کرنے کی ضرورت موجود ہے اور اگر ساجد سے وہ مراد ہے جو ہیأت سجدہ پر ہو ا گرچہ سجدہ کی نیت نہ رکھتا ہو یا وہ سجدہ مشروع نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس سے مراد وہ ہیات ہو جو مردو ں کے لئے مسنون ہے کیونکہ وہی حالت نیند کے استغراق سے روکنے والی ہے تو یہ ایسے ہی ہوا جیسے کھڑے کھڑے یا رکوع کی ہیات پر سوجانا لیکن یہ کہ ساجد میں عموم مراد لیا جائے جیساکہ ان حضرات کی عبارتیں اس کا احاطہ کرتی ہیں جن سے یہ احکام نقل کئے گئے ہیں اور خلاصہ میں بھی اس کی طر ف اشارہ ہے اس طر ح کہ اندرون نماز کی تعبیر لفظ ساجد سے کی ہے اور بیرون نماز کی تعبیر ہیات سجدہ سے کی ہے او رہیات میں بھی عموم مراد لیا جائے جیساکہ یہ کلام ردالمحتار کا مقتضا ہے اس لئے کہ انہوں نے ہیات کی تفصیل اس کے مقابل ایك تیسرے قول میں ذکر کی ہے اس پر یہ الزام آئے گا کہ جوکسی غیر مشرو ع سجدہ میں سجدہ عورت کی ہیات پر سوجائے تو اس کی نیند ناقض وضو
ہوگا اور ان کاکلام اس صورت کا حکم بتانے سے ساقط رہ جائے گا جب بے نیت سجدہ محض ہیات سجدہ ہو یا کوئی غیر مشرو ع سجدہ ہو جیسا کہ بعض لوگ بعد نماز سجدہ کرتے ہیں حالاں کہ خلاصہ خانیہ تحفہ بدائع اور حلیہ جن سے اس فصل کی تلخیص کی گئی ہے سب کاکام ان ساری صورتوں کو شامل ہے تو مذکورہ صورتوں کو کلام سے خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب کہ ان صورتوں کا بھی حکم دریافت کرنے کی ضرورت موجود ہے اور اگر ساجد سے وہ مراد ہے جو ہیأت سجدہ پر ہو ا گرچہ سجدہ کی نیت نہ رکھتا ہو یا وہ سجدہ مشروع نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس سے مراد وہ ہیات ہو جو مردو ں کے لئے مسنون ہے کیونکہ وہی حالت نیند کے استغراق سے روکنے والی ہے تو یہ ایسے ہی ہوا جیسے کھڑے کھڑے یا رکوع کی ہیات پر سوجانا لیکن یہ کہ ساجد میں عموم مراد لیا جائے جیساکہ ان حضرات کی عبارتیں اس کا احاطہ کرتی ہیں جن سے یہ احکام نقل کئے گئے ہیں اور خلاصہ میں بھی اس کی طر ف اشارہ ہے اس طر ح کہ اندرون نماز کی تعبیر لفظ ساجد سے کی ہے اور بیرون نماز کی تعبیر ہیات سجدہ سے کی ہے او رہیات میں بھی عموم مراد لیا جائے جیساکہ یہ کلام ردالمحتار کا مقتضا ہے اس لئے کہ انہوں نے ہیات کی تفصیل اس کے مقابل ایك تیسرے قول میں ذکر کی ہے اس پر یہ الزام آئے گا کہ جوکسی غیر مشرو ع سجدہ میں سجدہ عورت کی ہیات پر سوجائے تو اس کی نیند ناقض وضو
فلا یجوز ان یقول بہ احد فانہ حینئذ لیس الا کنوم المنبطح سواء بسواء بل ھو ھولا یفارقہ الا بقبض فی الایدی والارجل کما لایخفی۔
وراجعت الخلاصۃ فوجدت نصھا ھکذا فی الاصل قال لاینقض الوضوء النوم قاعدا او راکعا اوساجدا اوقائما ھذا فی الصلاۃ فان نام خارج الصلاۃ قائما اوعلی ھیاۃ الرکوع والسجود فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ اھ
ثم قال اذا نام فی سجود التلاوۃ لایکون حدثا عندھم جمیعا کما فی الصلوتیۃ وفی سجدۃ الشکر کذلك عند محمد و ھکذا روی عن ابی یوسف وسواء سجد علی ھیاۃ وجہ السنۃ او غیر السنۃ نحوان یفترش ذراعیہ ویلصق
نہ ہو تو اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ سونا بالکل منہ کے بل لیٹ کر سونے کی طرح ہوا بلکہ دونوں بالکل ایك ہوئے صرف ہاتھ پاؤں سمیٹنے کا فر ق رہا جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔
(یہاں مذکورہ کلام شامی کے تین معنی ذکر کئے اول مراد ہے توکلام ناقص او ربعض صورتو ں کے احاطہ سے قاصر ہوگا دوم مراد ہو تو وہ خاص مسنون حالت پر سجدہ ہے سوم مراد ہو کہ کسی قسم کا بھی سجدہ کرنے والا ہے اور کسی بھی ہیات پر سجدہ کر رہا ہو اور سوجائے تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا ۱۲م)
اور میں نے خلاصہ اٹھا کر دیکھا تو اس کی عبارت اس طر ح پائی “ اصل مبسوط میں ہے فرمایا : بیٹھ کر یا رکوع میں یا سجدہ میں یاقیام میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ یہ اندرون نماز کا حکم ہے اور اگر بیرون نماز کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات میں سوگیا تو ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان کوئی فر ق نہیں ۔
اور آگے فرمایا : سجدہ تلاوت میں سوجانا ان سبھی حضرات کے نزدیك حدث نہیں جیسے کہ سجدہ نماز میں اور سجدہ شکر میں بھی امام محمد کے نزدیك یہی حکم ہے اور ایسا ہی امام ابو سف سے مروی ہے خواہ مسنون طریقہ پر سجدہ یا ہو غیر مسنون طریقہ پر جیسے یوں کہ کلائیاں بچھا دے اور پیٹ کو رانوں سے
وراجعت الخلاصۃ فوجدت نصھا ھکذا فی الاصل قال لاینقض الوضوء النوم قاعدا او راکعا اوساجدا اوقائما ھذا فی الصلاۃ فان نام خارج الصلاۃ قائما اوعلی ھیاۃ الرکوع والسجود فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ اھ
ثم قال اذا نام فی سجود التلاوۃ لایکون حدثا عندھم جمیعا کما فی الصلوتیۃ وفی سجدۃ الشکر کذلك عند محمد و ھکذا روی عن ابی یوسف وسواء سجد علی ھیاۃ وجہ السنۃ او غیر السنۃ نحوان یفترش ذراعیہ ویلصق
نہ ہو تو اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ سونا بالکل منہ کے بل لیٹ کر سونے کی طرح ہوا بلکہ دونوں بالکل ایك ہوئے صرف ہاتھ پاؤں سمیٹنے کا فر ق رہا جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔
(یہاں مذکورہ کلام شامی کے تین معنی ذکر کئے اول مراد ہے توکلام ناقص او ربعض صورتو ں کے احاطہ سے قاصر ہوگا دوم مراد ہو تو وہ خاص مسنون حالت پر سجدہ ہے سوم مراد ہو کہ کسی قسم کا بھی سجدہ کرنے والا ہے اور کسی بھی ہیات پر سجدہ کر رہا ہو اور سوجائے تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا ۱۲م)
اور میں نے خلاصہ اٹھا کر دیکھا تو اس کی عبارت اس طر ح پائی “ اصل مبسوط میں ہے فرمایا : بیٹھ کر یا رکوع میں یا سجدہ میں یاقیام میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔ یہ اندرون نماز کا حکم ہے اور اگر بیرون نماز کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات میں سوگیا تو ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان کوئی فر ق نہیں ۔
اور آگے فرمایا : سجدہ تلاوت میں سوجانا ان سبھی حضرات کے نزدیك حدث نہیں جیسے کہ سجدہ نماز میں اور سجدہ شکر میں بھی امام محمد کے نزدیك یہی حکم ہے اور ایسا ہی امام ابو سف سے مروی ہے خواہ مسنون طریقہ پر سجدہ یا ہو غیر مسنون طریقہ پر جیسے یوں کہ کلائیاں بچھا دے اور پیٹ کو رانوں سے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۸
بطنہ علی فخذیہ وعند ابی حنیفۃ یکون حدثا وفی سجد تی السھو لایکون حدثا اھ
فافاد ان عموم الھیا ۃ انما ھو فی السجود المشروع کسجود التلاوۃ والسھو عندا لکل والشکر عندھما۔ لما لم تشرع سجدۃ الشکر عندہ قال بالنقض فیھا اذالم تکن علی ھیاۃ السنۃ۔
وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا من الکلام علی النوم فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان قال) وان نام قائما او علی ھیاۃ الرکوع والسجود غیر مستند الی شیئ ففی البدائع العامۃ علی انہ لایکون حدثا لان استمساك فیھا باق وفی التحفۃ الاصح انہ لیس بحدث کما فی الصلاۃ وعلیہ مشی فی الخلاصۃ وذکرانہ ظاھر المذھب وعکس ھذا بالنسبۃ الی ھیاۃ الرکوع بالسجود فی الخانیۃ فذکرانہ حدث فی ظاھر الروایۃ والاول
ملادے اور سجدے میں سوجائے اور امام ابو حنفیہ کے نزدیك حدث ہوگا اور سجدہ سہو میں حدث نہ ہوگا اھ۔
اس کلام سے افادہ فرمایا کہ صرف سجدہ مشرو ع میں ایسا ہے کہ کسی بھی ہیات پر ہو اس میں بندے سے و ضو نہ جائے گا سجدہ مشرو ع جیسے سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو سب کے نزدیك اور سجدہ شکر صاحبین کے نزدیك ۔ اور سجدہ شکرچوں کہ امام اعظم کے نزدیك مشرو ع نہیں اس لئے وہ اس میں نیند کے ناقض ہونے کے قائل ہیں جب کہ مسنون ہیئت پر نہ ہو۔
حلیہ کے حوالے سے اندرون نماز سونے سے متعلق جو کلام ہم نے پہلے نقل کیا اس کے بعد اس میں ہے “ اور اگر بیرون نماز ہو (اس کے بعد وہ صورتیں ذکر کیں۔ پھر کہا) اگر کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات پر کسی چیز سے ٹیك لگائے بغیر سوگیا تو بدائع میں ہے کہ عامہ علماء اس پر ہیں کہ وضو نہ جائے گا اس لئے کہ ان صورتوں میں بندش باقی رہتی ہے ۔ اور تحفہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ایسی نیند حدث نہیں جیسے اندرون نماز اسی پر خلاصہ میں مشی ہے اور ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے اور ہیات رکوع وسجود سے متعلق خانیہ میں اس کے بر عکس یہ بتایا کہ وہ ظاہر الروایہ میں حدث ہے اور اول ہی
فافاد ان عموم الھیا ۃ انما ھو فی السجود المشروع کسجود التلاوۃ والسھو عندا لکل والشکر عندھما۔ لما لم تشرع سجدۃ الشکر عندہ قال بالنقض فیھا اذالم تکن علی ھیاۃ السنۃ۔
وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا من الکلام علی النوم فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان قال) وان نام قائما او علی ھیاۃ الرکوع والسجود غیر مستند الی شیئ ففی البدائع العامۃ علی انہ لایکون حدثا لان استمساك فیھا باق وفی التحفۃ الاصح انہ لیس بحدث کما فی الصلاۃ وعلیہ مشی فی الخلاصۃ وذکرانہ ظاھر المذھب وعکس ھذا بالنسبۃ الی ھیاۃ الرکوع بالسجود فی الخانیۃ فذکرانہ حدث فی ظاھر الروایۃ والاول
ملادے اور سجدے میں سوجائے اور امام ابو حنفیہ کے نزدیك حدث ہوگا اور سجدہ سہو میں حدث نہ ہوگا اھ۔
اس کلام سے افادہ فرمایا کہ صرف سجدہ مشرو ع میں ایسا ہے کہ کسی بھی ہیات پر ہو اس میں بندے سے و ضو نہ جائے گا سجدہ مشرو ع جیسے سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو سب کے نزدیك اور سجدہ شکر صاحبین کے نزدیك ۔ اور سجدہ شکرچوں کہ امام اعظم کے نزدیك مشرو ع نہیں اس لئے وہ اس میں نیند کے ناقض ہونے کے قائل ہیں جب کہ مسنون ہیئت پر نہ ہو۔
حلیہ کے حوالے سے اندرون نماز سونے سے متعلق جو کلام ہم نے پہلے نقل کیا اس کے بعد اس میں ہے “ اور اگر بیرون نماز ہو (اس کے بعد وہ صورتیں ذکر کیں۔ پھر کہا) اگر کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات پر کسی چیز سے ٹیك لگائے بغیر سوگیا تو بدائع میں ہے کہ عامہ علماء اس پر ہیں کہ وضو نہ جائے گا اس لئے کہ ان صورتوں میں بندش باقی رہتی ہے ۔ اور تحفہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ایسی نیند حدث نہیں جیسے اندرون نماز اسی پر خلاصہ میں مشی ہے اور ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے اور ہیات رکوع وسجود سے متعلق خانیہ میں اس کے بر عکس یہ بتایا کہ وہ ظاہر الروایہ میں حدث ہے اور اول ہی
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی ، کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث ، مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ، ۱ / ۱۹
ھو المشھور کما فی الذخیرۃ اھ ملخصا
فافادان فــــ۱ کلامھم ھذا فی غیر الصلوۃ وافادفـــ۲ ببقاء الاستمساك ان المراد ھیاۃ السجود المسنونۃ فھذا الذی یشم من عبارۃ ردالمحتار لیس مراد الخلاصۃ ولاالتحفۃ ولا الخانیۃ ولا الذخیرۃ ولا الحلیۃ فلیتنبہ۔
بقیت اربع :
و۱ھی الھیاۃ المسنونۃ خارج الصلوۃ فی السجدۃ المشروعۃ او۲غیرھا۳ وغیرالمسنونۃ فی السجدۃ المشروعۃ فی الصلوۃ او۴ غیرھا۔
فھذہ تجاذبت فیھا الاراء ووجدت ھھنا مما اعتمدہ المصنفون فی تصانیفھم المتداولۃ فی المذھب اربعۃ اقوال۔
الاول ان کان علی ھیأۃ المسنونۃ لاینقض ولو خارج الصلوۃ وعلی غیرھاینقض ولو
مشہور ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ ملخصا۔
اس سے مستفادہوا کہ ان حضرات کا یہ کلام بیرون نماز سونے کی صورت میں ہے ۔ اور بندش باقی رہنے سے یہ افادہ کیا کہ سجدہ کی مسنون ہیأۃ مراد ہے۔ تو یہ عموم جو ر د المحتار کی عبارت سے متر شح ہے نہ خلاصہ کی مراد ہے نہ تحفہ کی نہ خانیہ نہ ذخیرہ نہ حلیہ کی تو اس پر متنبہ رہنا چاہیئے ۔
اب چار صورتیں باقی رہیں :
(۱) سجدہ کی مسنون ہیات بیرون نماز کسی مشر وع سجدہ میں ہو (۲) یہ ہیات کسی غیر مشرو ع سجدہ میں ہو(۳) غیر مسنون ہیات سجدہ مشرو عہ میں اندرون نماز ہو (۴) یا (یہ ہییات سجدہ مشروعہ) میں بیرون نماز ہو۔
ان ہی چارصورتوں میں آراء کی کش مکش ہے اور یہاں مجھے چار اقوال ملے جن پر مصنفین نے اپنی متداول تصانیف مذہب میں اعتماد کیا ہے ۔
قول اول : سونا اگر سجدہ کی مسنون ہیاۃ پر ہو تو ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ۔ اور غیر مسنون ہیات پر ہو تو ناقض وضو ہے اگر چہ
فــ۱ : معروضۃ رابعۃ علی العلا مۃ ش۔
فــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فافادان فــــ۱ کلامھم ھذا فی غیر الصلوۃ وافادفـــ۲ ببقاء الاستمساك ان المراد ھیاۃ السجود المسنونۃ فھذا الذی یشم من عبارۃ ردالمحتار لیس مراد الخلاصۃ ولاالتحفۃ ولا الخانیۃ ولا الذخیرۃ ولا الحلیۃ فلیتنبہ۔
بقیت اربع :
و۱ھی الھیاۃ المسنونۃ خارج الصلوۃ فی السجدۃ المشروعۃ او۲غیرھا۳ وغیرالمسنونۃ فی السجدۃ المشروعۃ فی الصلوۃ او۴ غیرھا۔
فھذہ تجاذبت فیھا الاراء ووجدت ھھنا مما اعتمدہ المصنفون فی تصانیفھم المتداولۃ فی المذھب اربعۃ اقوال۔
الاول ان کان علی ھیأۃ المسنونۃ لاینقض ولو خارج الصلوۃ وعلی غیرھاینقض ولو
مشہور ہے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ ملخصا۔
اس سے مستفادہوا کہ ان حضرات کا یہ کلام بیرون نماز سونے کی صورت میں ہے ۔ اور بندش باقی رہنے سے یہ افادہ کیا کہ سجدہ کی مسنون ہیأۃ مراد ہے۔ تو یہ عموم جو ر د المحتار کی عبارت سے متر شح ہے نہ خلاصہ کی مراد ہے نہ تحفہ کی نہ خانیہ نہ ذخیرہ نہ حلیہ کی تو اس پر متنبہ رہنا چاہیئے ۔
اب چار صورتیں باقی رہیں :
(۱) سجدہ کی مسنون ہیات بیرون نماز کسی مشر وع سجدہ میں ہو (۲) یہ ہیات کسی غیر مشرو ع سجدہ میں ہو(۳) غیر مسنون ہیات سجدہ مشرو عہ میں اندرون نماز ہو (۴) یا (یہ ہییات سجدہ مشروعہ) میں بیرون نماز ہو۔
ان ہی چارصورتوں میں آراء کی کش مکش ہے اور یہاں مجھے چار اقوال ملے جن پر مصنفین نے اپنی متداول تصانیف مذہب میں اعتماد کیا ہے ۔
قول اول : سونا اگر سجدہ کی مسنون ہیاۃ پر ہو تو ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ۔ اور غیر مسنون ہیات پر ہو تو ناقض وضو ہے اگر چہ
فــ۱ : معروضۃ رابعۃ علی العلا مۃ ش۔
فــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
حوالہ / References
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
فیھا۔
وھو الذی عولنا علیہ وقدمنا نقلہ عن ۱مراقی الفلاح و۲المحیط و۳عقد الفرائد و۴شرح المنیۃ الصغیر وفی ۵مجمع الانھر لانوم ساجد فی الصلاہ اوخارجہا علی الصحیح عندنا وفی المحیط انما لا ینقض نوم الساجد اذا کان رافعا بطنہ من فخذیہ جافیا عضدیہ عن جنبیہ وان ملتصقا بفخذیہ معتمدا علی ذراعیہ فعلیہ الوضوء اھ
وقال ۶العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الہدایۃ قولہ بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود و الرکوع والسجود فی الصلاۃ یعنی اذا کان علی ھیاۃ سجود الصلاۃ من تجافی البطن عن الفخذین وعدم افتراش الذر اعین اما اذا کان بخلافہ فینقض اھ وفی ۷الرحمانیۃ عن العتابیۃ وعن اصحابنا ان النوم فی السجود انما لایفسد اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ اھ ۔ وفی المعراجیہ
اندون نماز ہو۔
یہی وہ قول ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا ور اسی کو ۱مراقی الفلاح ۲ محیط ۳ عقد الفرائد اور ۴منیہ کی شرح صغیر سے ہم نے پہلے نقل کیا اور ۵مجمع الانہر میں ہے : ناقض وضو نہیں سجدہ کرنے والے کی نیند نماز میں ہو یابیرون نما ز اس قول پر جو ہمارے نزدیك صحیح ہے۔ اور محیط میں ہے سجدہ کرنیوالے کی نیند ناقض اس صورت میں نہیں جب پیٹ ران سے اٹھائے ہوئے بازو کر وٹو ں سے جدا کئے ہو ۔ اور اگر رانوں سے چپکا ہوا کلائیوں کے سہارے پر رکا ہوا ہوتو اس پر وضو ہے اھ ۔
۶علامہ اکمل الدین با بر تی عنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں عبارت ہدایہ بخلاف قیام قعود رکوع اور نماز میں سجدہ کی حالت پر سونے کے ( کہ یہ ناقض نہیں) مراد یہ ہے کہ جب سجدہ نماز کی ہیات پر سویا ہو کہ پیٹ رانوں سے الگ ہو اور کلائیاں بچھی نہ ہو ں لیکن جب اس کے بر خلاف ہو تو ناقض ہے اھ۔ (۸۔ ۔ ۔ ۷)رحمانیہ میں عتابیہ سے نقل ہے : اور ہمارے اصحاب سے منقول ہے کہ سجدہ میں سونا صرف اس صورت میں مفسد نہیں جب مسنون ہیات پر ہو اھ۔ (۹)معراجیہ
وھو الذی عولنا علیہ وقدمنا نقلہ عن ۱مراقی الفلاح و۲المحیط و۳عقد الفرائد و۴شرح المنیۃ الصغیر وفی ۵مجمع الانھر لانوم ساجد فی الصلاہ اوخارجہا علی الصحیح عندنا وفی المحیط انما لا ینقض نوم الساجد اذا کان رافعا بطنہ من فخذیہ جافیا عضدیہ عن جنبیہ وان ملتصقا بفخذیہ معتمدا علی ذراعیہ فعلیہ الوضوء اھ
وقال ۶العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الہدایۃ قولہ بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود و الرکوع والسجود فی الصلاۃ یعنی اذا کان علی ھیاۃ سجود الصلاۃ من تجافی البطن عن الفخذین وعدم افتراش الذر اعین اما اذا کان بخلافہ فینقض اھ وفی ۷الرحمانیۃ عن العتابیۃ وعن اصحابنا ان النوم فی السجود انما لایفسد اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ اھ ۔ وفی المعراجیہ
اندون نماز ہو۔
یہی وہ قول ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا ور اسی کو ۱مراقی الفلاح ۲ محیط ۳ عقد الفرائد اور ۴منیہ کی شرح صغیر سے ہم نے پہلے نقل کیا اور ۵مجمع الانہر میں ہے : ناقض وضو نہیں سجدہ کرنے والے کی نیند نماز میں ہو یابیرون نما ز اس قول پر جو ہمارے نزدیك صحیح ہے۔ اور محیط میں ہے سجدہ کرنیوالے کی نیند ناقض اس صورت میں نہیں جب پیٹ ران سے اٹھائے ہوئے بازو کر وٹو ں سے جدا کئے ہو ۔ اور اگر رانوں سے چپکا ہوا کلائیوں کے سہارے پر رکا ہوا ہوتو اس پر وضو ہے اھ ۔
۶علامہ اکمل الدین با بر تی عنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں عبارت ہدایہ بخلاف قیام قعود رکوع اور نماز میں سجدہ کی حالت پر سونے کے ( کہ یہ ناقض نہیں) مراد یہ ہے کہ جب سجدہ نماز کی ہیات پر سویا ہو کہ پیٹ رانوں سے الگ ہو اور کلائیاں بچھی نہ ہو ں لیکن جب اس کے بر خلاف ہو تو ناقض ہے اھ۔ (۸۔ ۔ ۔ ۷)رحمانیہ میں عتابیہ سے نقل ہے : اور ہمارے اصحاب سے منقول ہے کہ سجدہ میں سونا صرف اس صورت میں مفسد نہیں جب مسنون ہیات پر ہو اھ۔ (۹)معراجیہ
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ، کتاب الطہارۃ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۲۱
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
الرحمانیہ
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
الرحمانیہ
کما نقل عنہا فی ذخیرۃ العقبی مانصہ عن الامام الثانی رحمہ الله تعالی انہ لوتعمد النوم فی السجود ینقض والافلالان القیاس ان یکون ناقضا الا انا استحسناہ فی غیر العمد لان من یکثر الصلاۃ باللیل لایمکنہ الاحتراز عن النوم فیہ فاذا تعمد بقی علی اصل القیاس ۔
وجہ ظاھر الروایۃ ماروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قال اذا نام العبد فی سجودہ یباھی الله تعالی بہ ملئکتہ فیقول انظروا الی عبدی روحہ عندی وجسدہ فی طاعتی وانما یکون جسدہ فیھا اذا بقی وضوء ہ وجعل ھذا الحدیث فی الاسرار عــــہ من المشاھیر ولان الاستمساك باق فانہ لوزال لزال علی احد
کی عبارت جیسا کہ اس سے ذخیرۃ العقبی میں نقل کیا ہے یہ ہے : امام ثانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت ہے کہ اگر سجدہ میں قصدا سوئے تو ناقض ہے ورنہ نہیں اس لئے کہ قیاس یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے مگر بلاقصد نیند آنے کی صورت میں ہم نے استحسان سے کام لیا کیونکہ رات میں بکثرت نماز پڑھنے والے کے لئے نیند آنے سے بچنا ممکن نہیں پھر جب قصد سوائے تو حکم اصل قیاس پر باقی رہے گا
ظاہر الروایہ کی دلیل وہ ہے جو حدیث میں وارد ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جب بندہ سجدے میں سوجاتا ہے تو الله تعالی اس پر ا پنے فرشتوں سے مفاخر ت کرتے ہوئے فرماتا ہے میرے بندے کو دیکھو اس کی رو ح میرے پاس ہے اور اس کا جسم میری طاعت میں ہے اس کا جسم طاعت میں اسی وقت ہوگا جب اس کا وضو بر قرار ہو ۔ اس حدیث کو اسرار میں مشاہیر سے قرار دیا اوریہ وجہ بھی ہے کہ بندش باقی ہے اس لئے کہ یہ اگر
(عــــہ)اخرج معناہ البیہقی عن انس والدار قطنی عن ابی ھریرۃ وابن شاھین عنہ وعن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنھم کلہم عن النبی صلی الله علیہ وسلم۔ ۱۲(م)
اس کے ہم معنی بیہقی نے انس سے دارقطنی نے ابو ہریرہ سے ابن شاہین نے حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہماوریہ سب حضرات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روای ہیں۔ ۱۲(ت)
وجہ ظاھر الروایۃ ماروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قال اذا نام العبد فی سجودہ یباھی الله تعالی بہ ملئکتہ فیقول انظروا الی عبدی روحہ عندی وجسدہ فی طاعتی وانما یکون جسدہ فیھا اذا بقی وضوء ہ وجعل ھذا الحدیث فی الاسرار عــــہ من المشاھیر ولان الاستمساك باق فانہ لوزال لزال علی احد
کی عبارت جیسا کہ اس سے ذخیرۃ العقبی میں نقل کیا ہے یہ ہے : امام ثانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت ہے کہ اگر سجدہ میں قصدا سوئے تو ناقض ہے ورنہ نہیں اس لئے کہ قیاس یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے مگر بلاقصد نیند آنے کی صورت میں ہم نے استحسان سے کام لیا کیونکہ رات میں بکثرت نماز پڑھنے والے کے لئے نیند آنے سے بچنا ممکن نہیں پھر جب قصد سوائے تو حکم اصل قیاس پر باقی رہے گا
ظاہر الروایہ کی دلیل وہ ہے جو حدیث میں وارد ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جب بندہ سجدے میں سوجاتا ہے تو الله تعالی اس پر ا پنے فرشتوں سے مفاخر ت کرتے ہوئے فرماتا ہے میرے بندے کو دیکھو اس کی رو ح میرے پاس ہے اور اس کا جسم میری طاعت میں ہے اس کا جسم طاعت میں اسی وقت ہوگا جب اس کا وضو بر قرار ہو ۔ اس حدیث کو اسرار میں مشاہیر سے قرار دیا اوریہ وجہ بھی ہے کہ بندش باقی ہے اس لئے کہ یہ اگر
(عــــہ)اخرج معناہ البیہقی عن انس والدار قطنی عن ابی ھریرۃ وابن شاھین عنہ وعن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنھم کلہم عن النبی صلی الله علیہ وسلم۔ ۱۲(م)
اس کے ہم معنی بیہقی نے انس سے دارقطنی نے ابو ہریرہ سے ابن شاہین نے حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہماوریہ سب حضرات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روای ہیں۔ ۱۲(ت)
شقیہ اھ
وقال اعنی العلامۃ یوسف چلپی قبلہ کان یختلج فی خلدی من عنفوان الشباب الی بلوغ درجۃ مطالعۃ معتبرات ھذا الفن ا ن النوم ساجدا ھو النوم مکبا علی الوجہ فما وجہ عدہ غیر ناقض مع وجود کمال الاسترخاء فیہ ثم دفعتہ بحملہ علی وضع سجدۃ الصلوۃ من تجافی البطن عن الفخذ وعدم افتراش الذر اعین کما ھو الظاھر من قولہ ساجدا۔ ثم وجدت فی بعض الشروح ھذا التوھم مع الدفع بعینہ فقلت الحمد لله الذی وفقنی باراء الفضلاء اھ
وستأتی ان شاء الله تعالی عبارۃ شرح الملتقی للمصنف والمنح۱۳والطحطاوی۱۴والھدایۃ۱۵ و الکافی ۱۶والفتح۱۷ والحلیۃ۱۸ والدرر۱۹ بل ونصوص المتون کمختصر القدوری۲۰ والبدایۃ۲۱ والوقایۃ۲۲ والنقایۃ۲۳ والکنز۲۴ والاصلاح والغرر۲۶ والملتقی ۲۷ و ختم ہوجاتی تو وہ ایك طر ف گر جاتا اھ۔
(۱۱۔ ۔ ۔ ۱۰)علامہ یوسف چلپی فرماتے ہیں : اس سے قبل میرے دل میں آغاز شباب سے اس فن کی معتبر کتا بوں کے مطالعہ کے درجہ کو پہنچنے تك یہ خلجان رہتا کہ سجدہ کی حالت میں سونا تو یہی ہے کہ منہ کے بل اوندا سوئے پھر اسے غیر نا قض شمار کرنے کی کیا وجہ ہے جب کہ اس میں اعضا پورے طور سے ڈھیلے پڑجاتے ہیں ۔ پھر اس خلجان کو میں نے یوں دفع کیا کہ مطلب یہ ہے کہ سجدہ نماز کی حالت پر سوئے اس طر ح کہ پیٹ ران سے الگ ہوکلائیاں بچھی ہوئی نہ ہوں جیسا کہ لفظ “ ساجدا “ سے ظاہر ہے ۔
پھر ایك ۱۱شرح میں بعینہ یہی اعتراض وجواب میں نے دیکھا تو خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے فضلاء کے افکار وآراء کی تو فیق سے نوازا اھ۔
آگے ان شاء الله تعالی (۱۲)مصنف کی شرح ملتقی (۱۳)منح الغفار (۱۴)طحطاوی(۱۵)ہدایہ(۱۶)کافی(۱۷)فتح القدیر(۱۸)حلیہ(۱۹)دررالحکام کی عبارتیں آئیں گی۔ بلکہ (۲۰)مختصر قدوری(۲۱)بدایہ(۲۲)وقایہ(۲۳)نقایہ (۲۴) کنزالدقائق(۲۵)اصلاح(۲۶)غرر الاحکام(۲۷)ملتقی الابحر اور(۲۸)تنویر الابصار اور
وقال اعنی العلامۃ یوسف چلپی قبلہ کان یختلج فی خلدی من عنفوان الشباب الی بلوغ درجۃ مطالعۃ معتبرات ھذا الفن ا ن النوم ساجدا ھو النوم مکبا علی الوجہ فما وجہ عدہ غیر ناقض مع وجود کمال الاسترخاء فیہ ثم دفعتہ بحملہ علی وضع سجدۃ الصلوۃ من تجافی البطن عن الفخذ وعدم افتراش الذر اعین کما ھو الظاھر من قولہ ساجدا۔ ثم وجدت فی بعض الشروح ھذا التوھم مع الدفع بعینہ فقلت الحمد لله الذی وفقنی باراء الفضلاء اھ
وستأتی ان شاء الله تعالی عبارۃ شرح الملتقی للمصنف والمنح۱۳والطحطاوی۱۴والھدایۃ۱۵ و الکافی ۱۶والفتح۱۷ والحلیۃ۱۸ والدرر۱۹ بل ونصوص المتون کمختصر القدوری۲۰ والبدایۃ۲۱ والوقایۃ۲۲ والنقایۃ۲۳ والکنز۲۴ والاصلاح والغرر۲۶ والملتقی ۲۷ و ختم ہوجاتی تو وہ ایك طر ف گر جاتا اھ۔
(۱۱۔ ۔ ۔ ۱۰)علامہ یوسف چلپی فرماتے ہیں : اس سے قبل میرے دل میں آغاز شباب سے اس فن کی معتبر کتا بوں کے مطالعہ کے درجہ کو پہنچنے تك یہ خلجان رہتا کہ سجدہ کی حالت میں سونا تو یہی ہے کہ منہ کے بل اوندا سوئے پھر اسے غیر نا قض شمار کرنے کی کیا وجہ ہے جب کہ اس میں اعضا پورے طور سے ڈھیلے پڑجاتے ہیں ۔ پھر اس خلجان کو میں نے یوں دفع کیا کہ مطلب یہ ہے کہ سجدہ نماز کی حالت پر سوئے اس طر ح کہ پیٹ ران سے الگ ہوکلائیاں بچھی ہوئی نہ ہوں جیسا کہ لفظ “ ساجدا “ سے ظاہر ہے ۔
پھر ایك ۱۱شرح میں بعینہ یہی اعتراض وجواب میں نے دیکھا تو خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے فضلاء کے افکار وآراء کی تو فیق سے نوازا اھ۔
آگے ان شاء الله تعالی (۱۲)مصنف کی شرح ملتقی (۱۳)منح الغفار (۱۴)طحطاوی(۱۵)ہدایہ(۱۶)کافی(۱۷)فتح القدیر(۱۸)حلیہ(۱۹)دررالحکام کی عبارتیں آئیں گی۔ بلکہ (۲۰)مختصر قدوری(۲۱)بدایہ(۲۲)وقایہ(۲۳)نقایہ (۲۴) کنزالدقائق(۲۵)اصلاح(۲۶)غرر الاحکام(۲۷)ملتقی الابحر اور(۲۸)تنویر الابصار اور
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضوء نولکشور کانپور (ہند) ۱ / ۲۵
ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضوء نولکشور کانپور (ہند) ۱ / ۲۵
ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضوء نولکشور کانپور (ہند) ۱ / ۲۵
۲۸التنویر۲۹ونور الایضاح وبہ جزم فی ۳۰الدر المختار علی ماقرر فی ردالمحتار حیث قال علی قولہ المارو ساجدا علی الہیاۃ المسنونۃ ولو فی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی مانصہ قولہ ولو فی غیر الصلاۃ مبالغۃ علی قولہ علی الھیاۃ المسنونۃ لا علی قولہ وساجدا یعنی ان کونہ علی الھیاۃ المسنونۃ قید فی عدم النقض ولو فی الصلاۃ وبھذا التقریر یوافق کلامہ ماعزاہ الی الحلبی فی شرح المنیۃ کما سیظھر اھ
وما ظھر بعدھو قولہ عن الحلبی انہ اعتمد فی شرحہ الصغیر ماعزا الیہ الشارح من اشتراط الہیاۃ المسنونۃ فی سجود الصلاۃ وغیرھا اھ ۔
ورأیتنی کتبت علیہ۔
(۲۹)نورالایضاح جیسے متون کے نصوص بھی آئیں گے (۳۰)اور اسی پر در مختار میں بھی جز م کیا ہے اس تقریر کے مطابق جو رد المحتار میں پیش کی ہے ۔ اس طرح کہ درمختار کی سابقہ عبارت : وہ نیند ناقض نہیں جو مسنون ہیات پر سجدہ کی حالت میں ہو اگر چہ غیر نماز میں یہی معتمد ہے اسے حلبی نے بیان کیا “ پر رد المحتار میں یہ لکھا ہے ان کا قول “ اگرچہ غیر نماز میں “ ان کے قول “ مسنون ہیات “ پر مبالغہ کے لئے ہے اس سے ان کے قول ساجد ا(بحالت سجدہ) پر مبالغہ مقصود نہیں ۔ یعنی اس کا مسنون ہیات پر ہونا وضو نہ ٹو ٹنے کے لئے قید ہے “ اگر چہ نماز میں ہو “ اور کلام شارح کی یہی تقریر کی جائے جبھی ان کا کلام اس کے موافق ہوگا جس پر انہوں نے حلبی کی شرح منیہ کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ آگے ظاہر ہوگا اھ
آگے علامہ شامی نے یہ بتا یا ہے کہ حلبی نے اپنی شرح صغیر میں اسی پر اعتماد کیا ہے کہ سجدہ نماز وغیر نماز دونوں ہی میں ہیات مسنونہ کی شرط ہے جیسا کہ شارح نے اسے ان کے حوالے سے بتا یا اھ۔
میں نے دیکھا کہ رد ا لمحتار کے اس کلام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے ۔
وما ظھر بعدھو قولہ عن الحلبی انہ اعتمد فی شرحہ الصغیر ماعزا الیہ الشارح من اشتراط الہیاۃ المسنونۃ فی سجود الصلاۃ وغیرھا اھ ۔
ورأیتنی کتبت علیہ۔
(۲۹)نورالایضاح جیسے متون کے نصوص بھی آئیں گے (۳۰)اور اسی پر در مختار میں بھی جز م کیا ہے اس تقریر کے مطابق جو رد المحتار میں پیش کی ہے ۔ اس طرح کہ درمختار کی سابقہ عبارت : وہ نیند ناقض نہیں جو مسنون ہیات پر سجدہ کی حالت میں ہو اگر چہ غیر نماز میں یہی معتمد ہے اسے حلبی نے بیان کیا “ پر رد المحتار میں یہ لکھا ہے ان کا قول “ اگرچہ غیر نماز میں “ ان کے قول “ مسنون ہیات “ پر مبالغہ کے لئے ہے اس سے ان کے قول ساجد ا(بحالت سجدہ) پر مبالغہ مقصود نہیں ۔ یعنی اس کا مسنون ہیات پر ہونا وضو نہ ٹو ٹنے کے لئے قید ہے “ اگر چہ نماز میں ہو “ اور کلام شارح کی یہی تقریر کی جائے جبھی ان کا کلام اس کے موافق ہوگا جس پر انہوں نے حلبی کی شرح منیہ کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ آگے ظاہر ہوگا اھ
آگے علامہ شامی نے یہ بتا یا ہے کہ حلبی نے اپنی شرح صغیر میں اسی پر اعتماد کیا ہے کہ سجدہ نماز وغیر نماز دونوں ہی میں ہیات مسنونہ کی شرط ہے جیسا کہ شارح نے اسے ان کے حوالے سے بتا یا اھ۔
میں نے دیکھا کہ رد ا لمحتار کے اس کلام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے ۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب نواقض الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۶
اقول : مصنفین اپنی عبارت ان الفاظ میں لائے کہ “ اس پر وضو نہیں جو قیام یا قعود یا رکوع یا سجود کی حالت میں سوجائے “ جیسا کہ ہدایہ وغیرہامیں ہے ان ارکان کے ایك ساتھ ہونے کی وجہ سے ذہن نماز کی طر ف جاتا ہے اور ساتھ ہونے ہی کی بنیاد پر ہمارے اصحاب نے یہ استدلال کیا ہے کہ سورہ حج کے آخر کے دونوں آیتوں میں نماز کا رکوع وسجود مراد ہے تو ان آیتوں میں سجدہ تلاوت نہیں جب ارکان مذکورہ کے ایك ساتھ بیان ہونے سے ذہن نماز کی طرف چلا جاتا ہے تو غیر نماز کے سجدے کو حدیث کے شامل ہونے میں ایك طر ح کا خفا آجاتا ہے یہاں تك کہ بدائع او رتبیین وغیرہما میں صرف سجدہ نماز کے ذکر پر اکتفاء کی ہے اور کہا ہے کہ نص صرف نماز کے بارے میں وارد ہے جیسا کہ آگے آئے گا جب یہ صورت حال ہے تو سجدہ میں نیند آنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم نماز کے بارے میں زیادہ ظاہر ہے اور وضو نہ ٹوٹنے کے لئے ہیأت مسنونہ کی شرط لگانا غیر نماز سے متعلق زیادہ ظاہر ہے کیونکہ نماز سے متعلق تو نص کا ظاہر ی اطلاق خود ہی موجود ہے اور مبالغہ خفی کو ذکر کر کے کیا جاتا ہے اس لئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے مدخول کی نقیض حکم سے متعلق مدخول سے زیادہ اولی ہواکر تی
اقول : فـــ۱ اوردوا النص بلفظ لاوضوء علی من نام قائما اوقاعدا او راکعا او ساجدا کما فی الہدایۃ وغیرھا ولاقتران ھذہ الارکان تسبق الاذھان الی الصلاۃ وبہ استدل اصحابنا علی ان المراد فی اخر ایتی الحج رکوع الصلاۃ وسجودھا فلیس فیھا سجود التلاوۃ فیسری الی شمول الحدیث سجود غیر الصلاۃ نوع خفاء حتی قصر ذلك فی البدائع والتبیین وغیرھما علی الصلبیۃ قائلین ان النص انما ورد فی الصلاۃ کما سیاتی فاذن عدم الانتقاض بالنوم فی السجود اظھر فی الصلاۃ واشتراط الھیاۃ المسنونۃ لعدم النقض اظھر فی غیرھا لظاھر اطلاق النص فی الصلاۃ والمبالغۃ انما تکون بذکر الخفی فان فـــ۲ نقیض مدخول الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
فان
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ۲ : نقیض مدخول لو وان الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
اقول : فـــ۱ اوردوا النص بلفظ لاوضوء علی من نام قائما اوقاعدا او راکعا او ساجدا کما فی الہدایۃ وغیرھا ولاقتران ھذہ الارکان تسبق الاذھان الی الصلاۃ وبہ استدل اصحابنا علی ان المراد فی اخر ایتی الحج رکوع الصلاۃ وسجودھا فلیس فیھا سجود التلاوۃ فیسری الی شمول الحدیث سجود غیر الصلاۃ نوع خفاء حتی قصر ذلك فی البدائع والتبیین وغیرھما علی الصلبیۃ قائلین ان النص انما ورد فی الصلاۃ کما سیاتی فاذن عدم الانتقاض بالنوم فی السجود اظھر فی الصلاۃ واشتراط الھیاۃ المسنونۃ لعدم النقض اظھر فی غیرھا لظاھر اطلاق النص فی الصلاۃ والمبالغۃ انما تکون بذکر الخفی فان فـــ۲ نقیض مدخول الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
فان
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ۲ : نقیض مدخول لو وان الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔
قیل ولو فی الصلاۃ یکن مبالغۃ علی قولہ الھیاۃ المسنونۃ کما ذکرہ المحشی رحمہ الله تعالی لان اشتراط الھیاۃ ھوالخفی فی الصلاۃ لاعدم النقص فی السجودا مااذا قال الشارح رحمہ الله تعالی ولو فی غیر الصلاۃ فالمبالغۃ علی قولہ ساجدا لاعلی قولہ الھیاۃ المسنونۃ لان اشتراط الھیاۃ فی غیر الصلاۃ امر ظاھر وانما الخفی عدم النقض لاجرم ان العلامۃ المحشی ما جعلہ مبالغۃ علی الھیاۃ لم یمکنہ تعبیرہ الا بلو فی الصلاۃ ولو لا نقلہ فی المقولۃ ولو غیر الصلاۃ کما ھو فی نسخ الدر بایدینا لظننت ان لفظۃ غیر من کلام الدر ساقطۃ من نسخۃ المحشی۔
اما التشبث بذکر اعتماد الحلبی وانما اعتمد تعمیم اشتراط الھیاۃ سجود الصلاۃ
ہے ۔ ( مثلا کہا جائے تم اپنے بھائی کے ساتھ انصاف کرو اگر چہ تمہارے ساتھ ناانصافی کرے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے انصاف کرنے کی صورت میں انصاف کا حکم بدرجہ اولی ہوگا ۱۲م) تو اگر کہا جائے “ اگر چہ نماز میں “ تو یہ ان کے قول “ ہیات مسنونہ “ پر مبالغہ ہوگا جیسا کہ محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا اس لئے کہ نماز کے اندر ہیات کی شرط خفی ہے سجدے میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم خفی نہیں لیکن جب شارح نے فرمایا “ اگر چہ غیر نماز میں “ تو یہ ان کے قول “ ساجدا “ پر مبالغہ ہو ا ہیات مسنونہ پر مبالغہ نہ ہوا اس لئے کہ غیر نماز میں ہیات کی شرط ہونا کھلی ہوئی بات ہے خفی صرف یہ حکم ہے کہ اس میں بھی وضو نہ ٹوٹے گا یہی وجہ ہے کہ جب علامہ محشی نے اسے ہیات پر مبالغہ قرار دے دیا تو نا چار انہیں یہ تعبیر کرنا پڑی کہ “ اگر چہ نماز میں ہو “ درمختار کے جو نسخے ہمارے پا س ہیں ان میں “ ولو فی غیر الصلوۃ “ ہے اور حاشیہ لکھتے وقت علامہ شامی نے بھی اسی طرح نقل کیا “ قولہ ولو فی غیر الصلوۃ “ اگر ان کے حاشیے میں یہ نقل نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کے پاس جو نسخہ درمختار تھا اس میں لفظ “ غیر “ ساقط تھا ۔
اب رہا علامہ شامی کااپنی تقریر کی تائید میں اعتماد حلبی کا تذکرہ او ریہ کہ انہوں نے اسی پر اعتماد کیا ہے کہ وضو نہ ٹوٹنے کے لئے
اما التشبث بذکر اعتماد الحلبی وانما اعتمد تعمیم اشتراط الھیاۃ سجود الصلاۃ
ہے ۔ ( مثلا کہا جائے تم اپنے بھائی کے ساتھ انصاف کرو اگر چہ تمہارے ساتھ ناانصافی کرے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے انصاف کرنے کی صورت میں انصاف کا حکم بدرجہ اولی ہوگا ۱۲م) تو اگر کہا جائے “ اگر چہ نماز میں “ تو یہ ان کے قول “ ہیات مسنونہ “ پر مبالغہ ہوگا جیسا کہ محشی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا اس لئے کہ نماز کے اندر ہیات کی شرط خفی ہے سجدے میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم خفی نہیں لیکن جب شارح نے فرمایا “ اگر چہ غیر نماز میں “ تو یہ ان کے قول “ ساجدا “ پر مبالغہ ہو ا ہیات مسنونہ پر مبالغہ نہ ہوا اس لئے کہ غیر نماز میں ہیات کی شرط ہونا کھلی ہوئی بات ہے خفی صرف یہ حکم ہے کہ اس میں بھی وضو نہ ٹوٹے گا یہی وجہ ہے کہ جب علامہ محشی نے اسے ہیات پر مبالغہ قرار دے دیا تو نا چار انہیں یہ تعبیر کرنا پڑی کہ “ اگر چہ نماز میں ہو “ درمختار کے جو نسخے ہمارے پا س ہیں ان میں “ ولو فی غیر الصلوۃ “ ہے اور حاشیہ لکھتے وقت علامہ شامی نے بھی اسی طرح نقل کیا “ قولہ ولو فی غیر الصلوۃ “ اگر ان کے حاشیے میں یہ نقل نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کے پاس جو نسخہ درمختار تھا اس میں لفظ “ غیر “ ساقط تھا ۔
اب رہا علامہ شامی کااپنی تقریر کی تائید میں اعتماد حلبی کا تذکرہ او ریہ کہ انہوں نے اسی پر اعتماد کیا ہے کہ وضو نہ ٹوٹنے کے لئے
ایضا۔
فـاقـول لعلہ فـــ لایتعین ھذا الاعتماد مرادا فانہ ذکر فی الغنیۃ قول ابن شجاع ان النوم ساجدا فی غیر الصلوۃ ناقض مطلقا ثم نقل عن الخلاصۃ والکفایۃ ان فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ وعن الہدایۃ انہ الصحیح ثم عن القمی التفصیل بالنقض ان کان علی غیر ھیاۃ السنۃ وعدمہ ان کان علیہا ثم حقق ان المناط وجود نہایۃ الاسترخاء وان القاعدۃ الکلیۃ المعتمدۃ کما سیجیئ ان شاء الله تعالی۔
فافادان السجود علی ھیاۃ السنۃ غیر ناقض ولو خارج الصلاۃ وانہ المعتمد فصح العزومن ھذا الوجہ ایضا وحینئذ یکون کلام الشارح رحمہ الله تعالی ساکتا عن حکم الساجد فی الصلاۃ علی غیر ھیاۃ السنۃ۔
ہیات مسنونہ کی شرط میں سجدہ نماز بھی شامل ہے
فاقول : شارح کی مراد بھی یہی اعتماد ہے یہ متعین نہیں اس لے کہ شیخ حلبی نے غنیہ میں پہلے ابن شجاع کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ “ غیر نماز میں بحالت سجدہ سونا مطلقا ناقض ہے “ پھر خلاصہ اور کفایہ سےنقل کیا ہے کہ ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کا کوئی فر ق نہیں ۔ اور ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ یہی صحیح ہے پھر علامہ قمی سے یہ تفصیل نقل کی ہے کہ “ اگر خلاف سنت طریقہ پر ہو تو وضو ٹو ٹ جائے گا اور بطریق سنت ہو تو نہ ٹوٹے گا “ پھر یہ تحقیق فرمائی ہے کہ مداراس پر ہے کہ انتہائی حد تك اعضاء ڈھیلے پڑجانے کی صورت پائی جائے اور معتمد قاعدہ کلیہ بیان کیاہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی آئے گا ۔
تو انہوں نے یہ افادہ کیا کہ مسنون طریقہ پر سجدہ ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو اور یہ کہ یہی معتمد ہے تو اس طر ح بھی ان کی جانب شارح کا انتساب اور ان کا حوالہ صحیح ہوگیا اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ اندرون نماز کا سجدہ اگر غیر مسنون طریقہ پر ہوا اور اس میں سوجائے تو کیا حکم ہے وضو ٹوٹے گا یا نہیں اس کے ذکر سے شارح کا کلام ( ہماری تقریر کے مطابق) ساکت ٹھہر ے گا ۔
فـــ : معروضۃ اخری علیہ۔
فـاقـول لعلہ فـــ لایتعین ھذا الاعتماد مرادا فانہ ذکر فی الغنیۃ قول ابن شجاع ان النوم ساجدا فی غیر الصلوۃ ناقض مطلقا ثم نقل عن الخلاصۃ والکفایۃ ان فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ وعن الہدایۃ انہ الصحیح ثم عن القمی التفصیل بالنقض ان کان علی غیر ھیاۃ السنۃ وعدمہ ان کان علیہا ثم حقق ان المناط وجود نہایۃ الاسترخاء وان القاعدۃ الکلیۃ المعتمدۃ کما سیجیئ ان شاء الله تعالی۔
فافادان السجود علی ھیاۃ السنۃ غیر ناقض ولو خارج الصلاۃ وانہ المعتمد فصح العزومن ھذا الوجہ ایضا وحینئذ یکون کلام الشارح رحمہ الله تعالی ساکتا عن حکم الساجد فی الصلاۃ علی غیر ھیاۃ السنۃ۔
ہیات مسنونہ کی شرط میں سجدہ نماز بھی شامل ہے
فاقول : شارح کی مراد بھی یہی اعتماد ہے یہ متعین نہیں اس لے کہ شیخ حلبی نے غنیہ میں پہلے ابن شجاع کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ “ غیر نماز میں بحالت سجدہ سونا مطلقا ناقض ہے “ پھر خلاصہ اور کفایہ سےنقل کیا ہے کہ ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کا کوئی فر ق نہیں ۔ اور ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ یہی صحیح ہے پھر علامہ قمی سے یہ تفصیل نقل کی ہے کہ “ اگر خلاف سنت طریقہ پر ہو تو وضو ٹو ٹ جائے گا اور بطریق سنت ہو تو نہ ٹوٹے گا “ پھر یہ تحقیق فرمائی ہے کہ مداراس پر ہے کہ انتہائی حد تك اعضاء ڈھیلے پڑجانے کی صورت پائی جائے اور معتمد قاعدہ کلیہ بیان کیاہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی آئے گا ۔
تو انہوں نے یہ افادہ کیا کہ مسنون طریقہ پر سجدہ ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو اور یہ کہ یہی معتمد ہے تو اس طر ح بھی ان کی جانب شارح کا انتساب اور ان کا حوالہ صحیح ہوگیا اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ اندرون نماز کا سجدہ اگر غیر مسنون طریقہ پر ہوا اور اس میں سوجائے تو کیا حکم ہے وضو ٹوٹے گا یا نہیں اس کے ذکر سے شارح کا کلام ( ہماری تقریر کے مطابق) ساکت ٹھہر ے گا ۔
فـــ : معروضۃ اخری علیہ۔
فان قلت مدخول الوصلیۃ ونقیضہ یشترکان فی الحکم وان کان النقیض اولی بہ فیکون ھذا قیدا فی الصلاۃ ایضا۔
قلت کلا وانما یفید ان الحکم بھذا القید یعم الصورتین ومفہومہ نفی العموم بغیر ھذا ما عموم النفی بدونہ فلا وذلك ان الواو فی الوصلیۃ کانھا عاطفۃ حذف المعطوف علیہ لظہورہ فقولہ تعالی و یؤثرون على انفسهم و لو كان بهم خصاصة ﳴ کانہ قیل یوثرون ولو کان بھم خصاصۃ کما بینتہ فی المعتمد المستند شرح المعتقد المنتقد ۔
فالمعنی لاینقض النوم ساجدا علی الھیاۃ المسنونۃ لافی الصلاۃ ولا فی غیرھا ولا کذلك
اگر یہ کہئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کا مدخول اور اس کی نقیض دونوں ہی حکم میں شریك ہوتے ہیں اگرچہ نقیض حکم کے معاملہ میں اولی ہوتی ہے تو یہ قید نماز میں بھی ہوگی ( اور شارح کے کلام کا مطلب یہ ہوگا کہ نماز میں بھی عدم نقض کے لئے طریقہ مسنونہ کی شرط ہے )
تو میں کہوں گا : ایسا نہیں اس کا مفادصرف یہ ہے کہ اس قید کے ساتھ ( عدم نقض کا)حکم ( نماز وغیر نماز) دونوں صورتوں کو عام ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس قید کے بغیر “ عدم نقض “ کا حکم دونوں کو عام نہیں یہ مفہوم نہیں ہوسکتا کہ اس قید کے بغیر “ نقض “ کا حکم دونوں کو عام ہے وجہ یہ ہے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے ساتھ “ واؤ “ گویا عاطفہ ہوتا ہے جس کا معطوف علیہ ظاہر ہونے کے باعث حذف کردیا جاتا ہے تو ارشاد باری تعالی یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ کا معنی یہ ہے کہ گویا فرمایا گیا یوثرون لولم تکن بھم خصاصۃ ولوکان بھم خصاصۃ اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگر انہیں سخت محتاجی نہ ہو “ او راگر انہیں سخت محتاجی ہو تو بھی جیساکہ میں نے اسے المعتقد المنتقد کی شرح المعتمد المستند میں بیان کیا ہے ۔
اب عبارت شارح کا معنی یہ ہوگا کہ مسنون ہیات پر سجدے کی حالت میں سوجانا ناقض وضو نہیں نہ نماز میں اور نہ غیر نماز میں
قلت کلا وانما یفید ان الحکم بھذا القید یعم الصورتین ومفہومہ نفی العموم بغیر ھذا ما عموم النفی بدونہ فلا وذلك ان الواو فی الوصلیۃ کانھا عاطفۃ حذف المعطوف علیہ لظہورہ فقولہ تعالی و یؤثرون على انفسهم و لو كان بهم خصاصة ﳴ کانہ قیل یوثرون ولو کان بھم خصاصۃ کما بینتہ فی المعتمد المستند شرح المعتقد المنتقد ۔
فالمعنی لاینقض النوم ساجدا علی الھیاۃ المسنونۃ لافی الصلاۃ ولا فی غیرھا ولا کذلك
اگر یہ کہئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کا مدخول اور اس کی نقیض دونوں ہی حکم میں شریك ہوتے ہیں اگرچہ نقیض حکم کے معاملہ میں اولی ہوتی ہے تو یہ قید نماز میں بھی ہوگی ( اور شارح کے کلام کا مطلب یہ ہوگا کہ نماز میں بھی عدم نقض کے لئے طریقہ مسنونہ کی شرط ہے )
تو میں کہوں گا : ایسا نہیں اس کا مفادصرف یہ ہے کہ اس قید کے ساتھ ( عدم نقض کا)حکم ( نماز وغیر نماز) دونوں صورتوں کو عام ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس قید کے بغیر “ عدم نقض “ کا حکم دونوں کو عام نہیں یہ مفہوم نہیں ہوسکتا کہ اس قید کے بغیر “ نقض “ کا حکم دونوں کو عام ہے وجہ یہ ہے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے ساتھ “ واؤ “ گویا عاطفہ ہوتا ہے جس کا معطوف علیہ ظاہر ہونے کے باعث حذف کردیا جاتا ہے تو ارشاد باری تعالی یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ کا معنی یہ ہے کہ گویا فرمایا گیا یوثرون لولم تکن بھم خصاصۃ ولوکان بھم خصاصۃ اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگر انہیں سخت محتاجی نہ ہو “ او راگر انہیں سخت محتاجی ہو تو بھی جیساکہ میں نے اسے المعتقد المنتقد کی شرح المعتمد المستند میں بیان کیا ہے ۔
اب عبارت شارح کا معنی یہ ہوگا کہ مسنون ہیات پر سجدے کی حالت میں سوجانا ناقض وضو نہیں نہ نماز میں اور نہ غیر نماز میں
النوم علی غیر الھیاۃ ای فانہ ینقض فی احدھما دون الاخر اوفیہما معا کل محتمل۔
وبعد اللتیا والتی لوقال الشارح ساجدا ولوفی غیر الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا لکان اظھر وازھر ولاتی بالمبالغتین معاوالله تعالی اعلم بمراد عبادہ وسیستبین لك تحقیق ھذا القول المنیران شاء المولی القدیر سبحنہ و تعالی عن ندید ونظیر۔
الثانی : ان کان فی الصلاۃ لاینقض اصلا وخارجہا ینقض ولو فی سجود مشروع بوجہ مسنون قدمنا نقلہ عن الخانیۃ عن الامام شمس الائمۃ الحلوانی وانہ ھو ظاھر الروایۃ عندہ ۔
وقال فی المنیۃ ان نام فی الصلاۃ
اور مسنون طریقے کے خلاف سونے کا یہ حکم نہیں “ یعنی وہ ناقض ہے صرف ایك میں دوسرے میں نہیں یا دونوں ہی میں ناقض ہے ہر ایك کا احتمال ہے ۔
اس بحث وتمحیص کے بعد عرض ہے کہ اگر شارح یوں فرماتے “ ساجدا ولو فی غیر الصلوۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا ناقض نہیں حالت سجدہ میں سونا اگر چہ غیر نماز میں ہو بشرطیکہ مسنون ہیات پر ہو اگر چہ اندرون نماز ہو “ تو زیادہ واضح اور رو شن ہوتا اور دونوں ہی مبالغے حاصل ہوجاتے ( یعنی حالت سجدہ میں سونے سے غیر نماز میں بھی وضو نہیں ٹوٹتا مگر شرط یہ ہے کہ مسنون طریقے پر ہو اور یہ شرط نماز میں بھی ہے تو اگر غیر مسنون طریقے پر سجدہ نماز کی حالت میں بھی سوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ۱۲م) اور خدائے بر تر ہی کو اپنے بندوں کی مراد کا خوب علم ہے آپ کے سامنے اس روشن کلام کی تحقیق آگے واضح ہوگی اگر رب قدیر کی مشیت ہوئی اسے پاکی ہے اور وہ ہر مقابل ونظیر سے بر تر ہے ۔
قول دوم : سجدہ نماز میں سونا بالکل ناقض نہیں اور بیرون نماز ناقض ہے اگر چہ مسنون طریقے پر مشرو ع سجدے میں ہو اسے ہم خانیہ کے حوالے سے امام شمس الائمہ حلوانی سے نقل کر آئے ہیں او ریہ بھی نقل کیا ہے کہ یہی ان کے نزدیك ظاہر الروایہ ہے ۔
اورمنیہ میں ہے اگر نماز کے اندر قیام یا
وبعد اللتیا والتی لوقال الشارح ساجدا ولوفی غیر الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا لکان اظھر وازھر ولاتی بالمبالغتین معاوالله تعالی اعلم بمراد عبادہ وسیستبین لك تحقیق ھذا القول المنیران شاء المولی القدیر سبحنہ و تعالی عن ندید ونظیر۔
الثانی : ان کان فی الصلاۃ لاینقض اصلا وخارجہا ینقض ولو فی سجود مشروع بوجہ مسنون قدمنا نقلہ عن الخانیۃ عن الامام شمس الائمۃ الحلوانی وانہ ھو ظاھر الروایۃ عندہ ۔
وقال فی المنیۃ ان نام فی الصلاۃ
اور مسنون طریقے کے خلاف سونے کا یہ حکم نہیں “ یعنی وہ ناقض ہے صرف ایك میں دوسرے میں نہیں یا دونوں ہی میں ناقض ہے ہر ایك کا احتمال ہے ۔
اس بحث وتمحیص کے بعد عرض ہے کہ اگر شارح یوں فرماتے “ ساجدا ولو فی غیر الصلوۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا ناقض نہیں حالت سجدہ میں سونا اگر چہ غیر نماز میں ہو بشرطیکہ مسنون ہیات پر ہو اگر چہ اندرون نماز ہو “ تو زیادہ واضح اور رو شن ہوتا اور دونوں ہی مبالغے حاصل ہوجاتے ( یعنی حالت سجدہ میں سونے سے غیر نماز میں بھی وضو نہیں ٹوٹتا مگر شرط یہ ہے کہ مسنون طریقے پر ہو اور یہ شرط نماز میں بھی ہے تو اگر غیر مسنون طریقے پر سجدہ نماز کی حالت میں بھی سوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ۱۲م) اور خدائے بر تر ہی کو اپنے بندوں کی مراد کا خوب علم ہے آپ کے سامنے اس روشن کلام کی تحقیق آگے واضح ہوگی اگر رب قدیر کی مشیت ہوئی اسے پاکی ہے اور وہ ہر مقابل ونظیر سے بر تر ہے ۔
قول دوم : سجدہ نماز میں سونا بالکل ناقض نہیں اور بیرون نماز ناقض ہے اگر چہ مسنون طریقے پر مشرو ع سجدے میں ہو اسے ہم خانیہ کے حوالے سے امام شمس الائمہ حلوانی سے نقل کر آئے ہیں او ریہ بھی نقل کیا ہے کہ یہی ان کے نزدیك ظاہر الروایہ ہے ۔
اورمنیہ میں ہے اگر نماز کے اندر قیام یا
قائما او راکعا اوقاعدا اوساجدا فلا وضوء علیہ وان کان خارج الصلاۃ قام علی ھیاۃ الساجد ففیہ اختلاف المشائخ وظاھر المذھب انہ یکون حدثا اھ
وقال شارحہا العلامۃ ابراھیم قال ابن الشجاع لایکون حدثافی ھذہ الاحوال فی الصلاۃ اما خارج الصلاۃ فیکون حدثا والیہ مال المصنف حتی قال ظاھر المذھب ان یکون حدثا اھ
وفی الفتاوی السراجیۃ اذا نام فی سجدۃ التلاوۃ انتقض وضوؤہ بخلاف سجدۃ الصلاۃ اھ
الثالث : لانقض فی الصلاۃ مطلقا اما خارجہا فبشرط ھیأۃ السنۃ والا نقض۔
قــال الامام الزیلعی فی التبیین النائم قائما او راکعا اوساجدا ان کان فی الصلاۃ لاینتقض وضوءہ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
رکوع یا قعود یا سجود کی حالت میں سوجائے تو اس پر وضو نہیں اور اگر سجدہ کرنے والے کے طریقے پر نماز کے باہر سوجائے تو اس کے بارے میں اختلاف مشائخ ہے اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹو ٹ جائے گا اھ۔
منیہ کے شارح علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں : ابن شجاع نے فرمایا ان حالتوں میں اندرون نماز سونے سے وضو نہ جائے گا اور بیرون نماز ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اسی کی طر ف مصنف بھی مائل ہوئے کہ انہوں نے فرمایا ظاہرمذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور فتاوی سراجیہ میں ہے : سجدہ تلاوت میں سوجائے تو وضو ٹو ٹ جائے گا بخلاف سجدہ نماز کے اھ ۔
قول سوم : نماز میں مطلقا وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز وضونہ ٹوٹنے کے لئے شرط ہے کہ سجدہ ہیئت سنت پر ہو ورنہ ناقض ہے۔
امام زیلعی تبیین الحقائق میں لکھتے ہیں : قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونے والا اگر نماز میں ہے تو اس کا وضو نہ ٹو ٹے گا اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے :
وقال شارحہا العلامۃ ابراھیم قال ابن الشجاع لایکون حدثافی ھذہ الاحوال فی الصلاۃ اما خارج الصلاۃ فیکون حدثا والیہ مال المصنف حتی قال ظاھر المذھب ان یکون حدثا اھ
وفی الفتاوی السراجیۃ اذا نام فی سجدۃ التلاوۃ انتقض وضوؤہ بخلاف سجدۃ الصلاۃ اھ
الثالث : لانقض فی الصلاۃ مطلقا اما خارجہا فبشرط ھیأۃ السنۃ والا نقض۔
قــال الامام الزیلعی فی التبیین النائم قائما او راکعا اوساجدا ان کان فی الصلاۃ لاینتقض وضوءہ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
رکوع یا قعود یا سجود کی حالت میں سوجائے تو اس پر وضو نہیں اور اگر سجدہ کرنے والے کے طریقے پر نماز کے باہر سوجائے تو اس کے بارے میں اختلاف مشائخ ہے اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹو ٹ جائے گا اھ۔
منیہ کے شارح علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں : ابن شجاع نے فرمایا ان حالتوں میں اندرون نماز سونے سے وضو نہ جائے گا اور بیرون نماز ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اسی کی طر ف مصنف بھی مائل ہوئے کہ انہوں نے فرمایا ظاہرمذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور فتاوی سراجیہ میں ہے : سجدہ تلاوت میں سوجائے تو وضو ٹو ٹ جائے گا بخلاف سجدہ نماز کے اھ ۔
قول سوم : نماز میں مطلقا وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز وضونہ ٹوٹنے کے لئے شرط ہے کہ سجدہ ہیئت سنت پر ہو ورنہ ناقض ہے۔
امام زیلعی تبیین الحقائق میں لکھتے ہیں : قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونے والا اگر نماز میں ہے تو اس کا وضو نہ ٹو ٹے گا اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے :
حوالہ / References
منیۃ المصلی ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، ص ۹۴و۹۵
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ، فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈیمی لاہور ، ص۱۳۸
الفتاوی السراجیۃ ، کتاب الطہارۃ ، باب یاینقض الوضوء نولکشور ، لکھنو ص ۳
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ، فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈیمی لاہور ، ص۱۳۸
الفتاوی السراجیۃ ، کتاب الطہارۃ ، باب یاینقض الوضوء نولکشور ، لکھنو ص ۳
لاوضوء علی من نام قائما او راکعا او ساجدا وان کان خارج الصلاۃ فکذلك فی الصحیح ان کان علی ھیاۃ السجود بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ والا انتقض اھ
وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنہ ان ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان ذکر النوم علی ھیاۃ السجود فقال) ذکر غیر واحد من المشائخ فی ھذہ المسألۃ عن علی بن موسی القمی انہ قال لانص فی ذلك ولکن یظھر ان سجد علی الوجہ المسنون لایکون حدثا وان سجد علی غیر وجہ السنۃ یکون حدثا قال فی البدائع وھو اقرب الی الصواب لان فی الوجہ الاول الاستمساك باق والاستطلاق منعدم وفی الوجہ الثانی بخلافہ الا اناترکنا ھذا القیاس فی حالۃ الصلاۃ بالنص قلت وقد ذکر رضی الدین فی المحیط ھذا التفصیل نقلا عن النوادر اھ “
اس پر وضو نہیں جو قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں سوجائے “ اور اگر بیرون نماز ہے تو بر قول صحیح یہی حکم ہے بشرطیکہ سجدہ کی ہیات پر ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے بازو کرو ٹوں سے جداکئے ہوئے ورنہ وضو ٹوٹ جائے گا اھ
حلیہ کی عبارت جو پہلے ہم نے نقل کی اس کے بعد یہ ہے یہ سب نماز کے اندر ہے اگر بیرون نماز ہو ( اس کے بعد صورتیں بیان کیں یہاں تك کہ ہیات سجدہ پر سونے کا ذکر کیا تو فرمایا) متعدد مشائخ نے اس مسئلہ میں علی بن موسی قمی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا اس بارے میں کوئی نص نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اگر مسنون طریقے پر سجدہ کرے تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور اگرغیر طریق سنت پر سجدہ کرے تووضو ٹوٹ جائے گا بدائع میں فرمایا یہ صواب سے قریب تر ہے اور اس لئے کہ پہلی صورت میں بندش باقی ہے اور آزادی ( ڈھیلا پن ) معدوم ہے اور دوسری صورت میں اس کے بر خلاف ہے لیکن ہم نے یہ قیاس حالت نماز میں نص کی وجہ سے ترك کردیا میں کہتاہوں رضی الدین نے محیط میں یہ تفصیل نوادر سے نقل کرتے ہوئے ذکر کی ہے اھ
وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنہ ان ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان ذکر النوم علی ھیاۃ السجود فقال) ذکر غیر واحد من المشائخ فی ھذہ المسألۃ عن علی بن موسی القمی انہ قال لانص فی ذلك ولکن یظھر ان سجد علی الوجہ المسنون لایکون حدثا وان سجد علی غیر وجہ السنۃ یکون حدثا قال فی البدائع وھو اقرب الی الصواب لان فی الوجہ الاول الاستمساك باق والاستطلاق منعدم وفی الوجہ الثانی بخلافہ الا اناترکنا ھذا القیاس فی حالۃ الصلاۃ بالنص قلت وقد ذکر رضی الدین فی المحیط ھذا التفصیل نقلا عن النوادر اھ “
اس پر وضو نہیں جو قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں سوجائے “ اور اگر بیرون نماز ہے تو بر قول صحیح یہی حکم ہے بشرطیکہ سجدہ کی ہیات پر ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے بازو کرو ٹوں سے جداکئے ہوئے ورنہ وضو ٹوٹ جائے گا اھ
حلیہ کی عبارت جو پہلے ہم نے نقل کی اس کے بعد یہ ہے یہ سب نماز کے اندر ہے اگر بیرون نماز ہو ( اس کے بعد صورتیں بیان کیں یہاں تك کہ ہیات سجدہ پر سونے کا ذکر کیا تو فرمایا) متعدد مشائخ نے اس مسئلہ میں علی بن موسی قمی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا اس بارے میں کوئی نص نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اگر مسنون طریقے پر سجدہ کرے تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور اگرغیر طریق سنت پر سجدہ کرے تووضو ٹوٹ جائے گا بدائع میں فرمایا یہ صواب سے قریب تر ہے اور اس لئے کہ پہلی صورت میں بندش باقی ہے اور آزادی ( ڈھیلا پن ) معدوم ہے اور دوسری صورت میں اس کے بر خلاف ہے لیکن ہم نے یہ قیاس حالت نماز میں نص کی وجہ سے ترك کردیا میں کہتاہوں رضی الدین نے محیط میں یہ تفصیل نوادر سے نقل کرتے ہوئے ذکر کی ہے اھ
حوالہ / References
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الطہارۃ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ۱ / ۵۲و۵۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
وفی الغنیۃ فی مسائل النوم خارج الصلاۃ بعد ماذکر عن علی بن موسی مامر من التفصیل ھذا ھو مراد من صحح ھذا القول (ای عدم النقض بالنوم علی ھیاۃ ساجد خارج الصلاۃ) اما لوکان علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فلا شك فی النقض لوجود نھایۃ استرخاء المفاصل المذکورفی الحدیث (ثم قال بعد نقل کلام نفیس عن الکافی حاصلہ ان المراد بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ کمال الاسترخاء فان اصلہ حاصل بنفس النوم ولو قائما) فجمیع کلام الشیخ حافظ الدین یفید ان المراد بالسجود الذی لاینتقض الوضوء بالنوم فیہ السجود الذی ھو مثل الرکوع والقیام فی عدم نہایۃ الاسترخاء وبقاء بعض التماسك وعدم السقوط واذا لم یکن السجود علی الھیاۃ المسنونۃ فقد حصل نھایۃ الاسترخاء ولم یبق بعض التماسك و وجد
اور غنیہ کے اند بیرون نماز نیند کے مسائل کے تحت علی بن موسی کے حوالے سے ذکر شدہ تفصیل کے بعدلکھتے ہیں “ جس نے اس قول کو صحیح کہا اس کی یہی مراد ہے (یعنی سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا )لیکن اگر طریقہ مسنونہ کے بر خلاف ہو تو ا س میں کوئی شك نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا اس لئے کہ جوڑوں کا انتہائی ڈھیلا پڑنا جو حدیث میں مذکور ہے وہ پالیا جائے گا ( اس کے بعد کافی کے حوالے سے ایك نفیس کلام رقم کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد “ انہ اذا اضطجع استر خت مفاصلہ وہ جب کروٹ سے لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے “ میں استر خاسے مراد کمال استر خا ہے یعنی ڈھیلے پڑنے کا مطلب کامل طور سے ڈھیلے پڑجانا اس لئے کہ اصل استر خا تو محض سونے ہی سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ کھڑے کھڑے ہی سوئے ) آگے لکھتے ہیں : تو شیخ حافظ الدین نسفی (صاحب کافی) کے پورے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ وہ سجدہ جس میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو انتہائی ڈھیلاپن نہ ہونے کچھ بندش باقی رہنے اور ساقط نہ ہونے میں رکوع اور قیام کی طر ح ہو او رسجدہ جب مسنون طریقے پر نہ ہوگا تو انتہائی ڈھیلاپن موجود ہوگا تھوڑی بندش بھی باقی نہ رہ جائیگی او رگر بھی جائے گا تو حاصل یہ نکلا کہ نیند سے
اور غنیہ کے اند بیرون نماز نیند کے مسائل کے تحت علی بن موسی کے حوالے سے ذکر شدہ تفصیل کے بعدلکھتے ہیں “ جس نے اس قول کو صحیح کہا اس کی یہی مراد ہے (یعنی سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا )لیکن اگر طریقہ مسنونہ کے بر خلاف ہو تو ا س میں کوئی شك نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا اس لئے کہ جوڑوں کا انتہائی ڈھیلا پڑنا جو حدیث میں مذکور ہے وہ پالیا جائے گا ( اس کے بعد کافی کے حوالے سے ایك نفیس کلام رقم کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد “ انہ اذا اضطجع استر خت مفاصلہ وہ جب کروٹ سے لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے “ میں استر خاسے مراد کمال استر خا ہے یعنی ڈھیلے پڑنے کا مطلب کامل طور سے ڈھیلے پڑجانا اس لئے کہ اصل استر خا تو محض سونے ہی سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ کھڑے کھڑے ہی سوئے ) آگے لکھتے ہیں : تو شیخ حافظ الدین نسفی (صاحب کافی) کے پورے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ وہ سجدہ جس میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو انتہائی ڈھیلاپن نہ ہونے کچھ بندش باقی رہنے اور ساقط نہ ہونے میں رکوع اور قیام کی طر ح ہو او رسجدہ جب مسنون طریقے پر نہ ہوگا تو انتہائی ڈھیلاپن موجود ہوگا تھوڑی بندش بھی باقی نہ رہ جائیگی او رگر بھی جائے گا تو حاصل یہ نکلا کہ نیند سے
السقوط فالحاصل ان القاعدۃ الکلیۃ المعتمد علیہا فی النقض بالنوم وجود کمال الاسترخاء مع عدم تمکن المقعدۃ فبھذا ینبغی ان یؤخذ عندالاختلاف واشتباہ الحال الاانھم اخرجوا عن ھذہ القاعدۃ نوم الساجد علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فی الصلاۃ اھ مزید امنا مابین الاھلۃ۔
الرابع : کالثالث غیر الحاق کل سجود مشروع بسجود الصلاۃ فلا تشترط الھیاۃ الا فیما لیس سجودا مشروعا وقد قدمنا نص الخلاصۃ مع ایضاحہ وفی البحر الرائق قید المصنف بنوم المضطجع والمتورك لانہ لاینقض نوم القائم والقاعد والراکع والساجد مطلقا فی الصلاۃ وان کان خارجہا فکذلك الا فی السجود فانہ یشترط ان یکون علی الہیاۃ المسنونۃ لہ وھذا ھو القیاس فی الصلاۃ الا انا ترکناہ فیھا بالنص کذا
وضو ٹوٹنے کے معاملے میں قاعدہ کلیہ معتمد ہ یہ ہے کہ اعضاء پورے طور سے ڈھیلے پڑجائیں اور مقعد کو استقرار بھی حاصل نہ ہو اختلاف اور اشتباہ حال کی صورت میں اسی قاعدے کو لینا چاہئے مگر حضرات علماء نے نماز کے اندر مسنون طریقہ کے خلاف سجدہ کرنے والے کی نیند کو اس قاعدے سے مستثنی کردیا ہے اھ عبارت غنیہ ہلالین کے درمیان ہمارے اضافہ کے ساتھ ختم ہوئی
قول چہارم : یہ بھی قول سوم ہی کی طر ح ہے ( کہ سجدہ نماز میں کسی طر ح بھی ہونیند آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز عدم نقض کے لئے ہیات سنت پر ہونا شرط ہے ) فرق یہ ہے کہ اس میں ہر سجدہ مشرو ع کو سجدہ نماز ہی کے ساتھ ملادیا ہے تو ہیات کی شرط صرف اس میں ہے جو سجدہ مشرو ع نہ ہو اس بارے میں خلاصہ کی عبارت مع تو ضیح کے ہم پیش کر آئے ہیں اور البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے “ مصنف نے قید لگائی کہ کرو ٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھنے والے کی نیند ہو ( تو وضو ٹوٹے گا) اس لئے کہ قیام قعود رکوع او رسجود والے کی نیند نماز میں مطلقا ناقض نہیں اور بیرون نماز ہو تو بھی یہی حکم ہے مگر سجدہ سے متعلق یہ شرط ہے کہ مسنون ہیات پر ہو قیاس یہ تھا کہ نماز میں بھی یہ شرط ہو مگر ہم نے نماز کے بارے
الرابع : کالثالث غیر الحاق کل سجود مشروع بسجود الصلاۃ فلا تشترط الھیاۃ الا فیما لیس سجودا مشروعا وقد قدمنا نص الخلاصۃ مع ایضاحہ وفی البحر الرائق قید المصنف بنوم المضطجع والمتورك لانہ لاینقض نوم القائم والقاعد والراکع والساجد مطلقا فی الصلاۃ وان کان خارجہا فکذلك الا فی السجود فانہ یشترط ان یکون علی الہیاۃ المسنونۃ لہ وھذا ھو القیاس فی الصلاۃ الا انا ترکناہ فیھا بالنص کذا
وضو ٹوٹنے کے معاملے میں قاعدہ کلیہ معتمد ہ یہ ہے کہ اعضاء پورے طور سے ڈھیلے پڑجائیں اور مقعد کو استقرار بھی حاصل نہ ہو اختلاف اور اشتباہ حال کی صورت میں اسی قاعدے کو لینا چاہئے مگر حضرات علماء نے نماز کے اندر مسنون طریقہ کے خلاف سجدہ کرنے والے کی نیند کو اس قاعدے سے مستثنی کردیا ہے اھ عبارت غنیہ ہلالین کے درمیان ہمارے اضافہ کے ساتھ ختم ہوئی
قول چہارم : یہ بھی قول سوم ہی کی طر ح ہے ( کہ سجدہ نماز میں کسی طر ح بھی ہونیند آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز عدم نقض کے لئے ہیات سنت پر ہونا شرط ہے ) فرق یہ ہے کہ اس میں ہر سجدہ مشرو ع کو سجدہ نماز ہی کے ساتھ ملادیا ہے تو ہیات کی شرط صرف اس میں ہے جو سجدہ مشرو ع نہ ہو اس بارے میں خلاصہ کی عبارت مع تو ضیح کے ہم پیش کر آئے ہیں اور البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے “ مصنف نے قید لگائی کہ کرو ٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھنے والے کی نیند ہو ( تو وضو ٹوٹے گا) اس لئے کہ قیام قعود رکوع او رسجود والے کی نیند نماز میں مطلقا ناقض نہیں اور بیرون نماز ہو تو بھی یہی حکم ہے مگر سجدہ سے متعلق یہ شرط ہے کہ مسنون ہیات پر ہو قیاس یہ تھا کہ نماز میں بھی یہ شرط ہو مگر ہم نے نماز کے بارے
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈ یمی لاہور ص۱۳۸و۱۳۹
فی البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا کالصلبیۃ وکذا سجدۃ الشکر عند محمد خلافا لابی حنیفۃ وکذا فی فتح القدیر اھ
اقول اولا : لم فـــ۱ یعتمدہ فی الفتح بل عقبہ بقولہ کذا قیل۔
وثانیا : فـــ۲ المشار الیہ بھذا فی قولہ وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا فی عبارۃ الفتح غیرہ فی عبارۃ البحر فان البحر جعلہا کالصلبیۃ فی عدم اشتراط الھیاۃ والفتح لم یعرج علی ھذا اصلا بل اسقط من ھذا القیل الذی ھو لصاحب الخلاصۃ قولہ سواء سجد علی وجہ السنۃ او غیر السنۃ فالمشار الیہ فی قولہ ھو عدم النقض فی السجود علی ھیاۃ السنۃ ولذا قال
میں نص کی وجہ سے قیاس ترك کردیا ۔ ایسا ہی بدائع میں ہے اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ۔ اور سجدہ تلاوت اس بارے میں سجدہ نماز کی طر ح ہے اور اسی طرح امام محمد کے نزدیك سجدہ شکر بھی ہے بخلاف امام ابو حنیفہ کے اور اسی طر ح فتح القدیر میں بھی ہے اھ “
اقول اولا : فتح القدیر میں اس پر اعتماد نہ کیا بلکہ اسے ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا کذا قیل (ایسا ہی کہا گیا)
ثانیا : عبارت “ سجدۃ التلاوۃ فی ھذا “ ( اس )کامشار الیہ فتح القدیر کی عبارت میں اور ہے بحر کی عبارت میں اور اس لئے کہ صاحب بحر نے سجدہ تلاوت کو ہیات کی شرط نہ ہونے کے بارے میں سجدہ نماز کی طر ح قرار دیا ہے اور صاحب فتح نے اس کا کوئی ذکر ہی نہ چھیڑابلکہ یہ قول جو صاحب خلاصہ کا ہے اس سے یہ عبارت “ سواء سجدعلی وجہ السنۃ اوغیر السنۃ “ (خواہ بطور سنت سجدہ کرے یا خلاف سنت )ساقط کردی تو ان کو عبارت میں مشار الیہ “ ہیات سنت پر سجدہ کی صورت میں وضوکا ٹوٹنا ہے “ اسی لئے
فــــ۱ : تطفل علی البحر
فــــ۲ : تطفل اخر علیہ
اقول اولا : لم فـــ۱ یعتمدہ فی الفتح بل عقبہ بقولہ کذا قیل۔
وثانیا : فـــ۲ المشار الیہ بھذا فی قولہ وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا فی عبارۃ الفتح غیرہ فی عبارۃ البحر فان البحر جعلہا کالصلبیۃ فی عدم اشتراط الھیاۃ والفتح لم یعرج علی ھذا اصلا بل اسقط من ھذا القیل الذی ھو لصاحب الخلاصۃ قولہ سواء سجد علی وجہ السنۃ او غیر السنۃ فالمشار الیہ فی قولہ ھو عدم النقض فی السجود علی ھیاۃ السنۃ ولذا قال
میں نص کی وجہ سے قیاس ترك کردیا ۔ ایسا ہی بدائع میں ہے اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ۔ اور سجدہ تلاوت اس بارے میں سجدہ نماز کی طر ح ہے اور اسی طرح امام محمد کے نزدیك سجدہ شکر بھی ہے بخلاف امام ابو حنیفہ کے اور اسی طر ح فتح القدیر میں بھی ہے اھ “
اقول اولا : فتح القدیر میں اس پر اعتماد نہ کیا بلکہ اسے ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا کذا قیل (ایسا ہی کہا گیا)
ثانیا : عبارت “ سجدۃ التلاوۃ فی ھذا “ ( اس )کامشار الیہ فتح القدیر کی عبارت میں اور ہے بحر کی عبارت میں اور اس لئے کہ صاحب بحر نے سجدہ تلاوت کو ہیات کی شرط نہ ہونے کے بارے میں سجدہ نماز کی طر ح قرار دیا ہے اور صاحب فتح نے اس کا کوئی ذکر ہی نہ چھیڑابلکہ یہ قول جو صاحب خلاصہ کا ہے اس سے یہ عبارت “ سواء سجدعلی وجہ السنۃ اوغیر السنۃ “ (خواہ بطور سنت سجدہ کرے یا خلاف سنت )ساقط کردی تو ان کو عبارت میں مشار الیہ “ ہیات سنت پر سجدہ کی صورت میں وضوکا ٹوٹنا ہے “ اسی لئے
فــــ۱ : تطفل علی البحر
فــــ۲ : تطفل اخر علیہ
حوالہ / References
البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۸
بعد قولہ کذا قیل ردا علیہ مانصہ وقیاس ما قدمناہ من عدم الفرق بین کونہ فی الصلاۃ او خارجہا یقتضی عدم الخلاف فی عدم الانتقاض بالنوم فیھا (ای فی سجدۃ الشکر وان کان بین الامام وصاحبیہ خلاف فی مشروعیتھا) نعم ینتقض علی مقابل الصحیح ھذا قول ابن شجاع بنقض مطلقا نقض خارج الصلوۃ اھ مزیدا منا مابین الاھلۃ ۔
وانما الذی قدم ھو قولہ تحت قول الہدایۃ بخلاف النوم فی الرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح ھذا اذا نام علی ھیاۃ السجود المسنون خارج الصلاۃ بان جافی اما اذا الصق بطنہ بفخذیہ فینقض ذکرہ علی بن موسی القمی اھ
فمحصل کلام الفتح عدم النقض فی السجود المشروع خارج الصلاۃ
انہوں نے کذاقیل لکھنے کے بعد اس کی تردید میں یہ بھی لکھاپہلے جوہم نے ذکر کیا کہ اندرون نماز اور بیرون نماز ہونے کا کوئی فر ق نہیں اس پر قیاس کا تقاضایہ ہے کہ اس میں(یعنی سجدہ شکر میں) نیند آنے سے وضونہ ٹوٹنے میں اختلاف نہ ہو(اگر چہ اس کے مشروع ہونے سے متعلق امام اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے) ہاں اس میں سونا ناقض وضو ہے اس قول پر جو صحیح کے مقابل ہے (وہ ابن شجاع کاقول ہے کہ خارج نماز مطلقا وضو ٹوٹ جائے گا)اھ عبارت فتح ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
صاحب فتح نے جو پہلے ذکر کیا ہے وہ یہ کہ ہدایہ کی عبارت “ بخلاف رکوع وسجود میں سونے کے نماز میں بھی اور غیر نماز میں بھی یہی صحیح ہے “ اس کے تحت انہوں نے لکھاہے “ یہ اس وقت ہے جب بیرون نماز سجدہ مسنو ن کی ہیات پر سویا ہو اس طر ح کہ پیٹ اور رانوں وغیرہ کو الگ الگ رکھا ہو اگر پیٹ کر رانوں سے ملا دیا ہو تو سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اسے علی بن موسی قمی نے ذکر کیا ہے “ اھ
تو کلام فتح القدیر کا خلاصہ یہ ہو اکہ بیرون نماز سجدہ مشروع میں سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا
وانما الذی قدم ھو قولہ تحت قول الہدایۃ بخلاف النوم فی الرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح ھذا اذا نام علی ھیاۃ السجود المسنون خارج الصلاۃ بان جافی اما اذا الصق بطنہ بفخذیہ فینقض ذکرہ علی بن موسی القمی اھ
فمحصل کلام الفتح عدم النقض فی السجود المشروع خارج الصلاۃ
انہوں نے کذاقیل لکھنے کے بعد اس کی تردید میں یہ بھی لکھاپہلے جوہم نے ذکر کیا کہ اندرون نماز اور بیرون نماز ہونے کا کوئی فر ق نہیں اس پر قیاس کا تقاضایہ ہے کہ اس میں(یعنی سجدہ شکر میں) نیند آنے سے وضونہ ٹوٹنے میں اختلاف نہ ہو(اگر چہ اس کے مشروع ہونے سے متعلق امام اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے) ہاں اس میں سونا ناقض وضو ہے اس قول پر جو صحیح کے مقابل ہے (وہ ابن شجاع کاقول ہے کہ خارج نماز مطلقا وضو ٹوٹ جائے گا)اھ عبارت فتح ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
صاحب فتح نے جو پہلے ذکر کیا ہے وہ یہ کہ ہدایہ کی عبارت “ بخلاف رکوع وسجود میں سونے کے نماز میں بھی اور غیر نماز میں بھی یہی صحیح ہے “ اس کے تحت انہوں نے لکھاہے “ یہ اس وقت ہے جب بیرون نماز سجدہ مسنو ن کی ہیات پر سویا ہو اس طر ح کہ پیٹ اور رانوں وغیرہ کو الگ الگ رکھا ہو اگر پیٹ کر رانوں سے ملا دیا ہو تو سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اسے علی بن موسی قمی نے ذکر کیا ہے “ اھ
تو کلام فتح القدیر کا خلاصہ یہ ہو اکہ بیرون نماز سجدہ مشروع میں سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا
حوالہ / References
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۵
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
بشرط الھیاۃ ویؤمی بطرف خفی بفحوی الخطاب الی الاطلاق فی سجود الصلاۃ فمرجعہ ان کان فالی القول الثالث لا ھذا الرابع الذی اختارہ فی البحر تبعا للخلاصۃ۔
بل اقول : ان کان الفتح انما زاد لفظۃ خارج الصلاۃ لان کلام الامام علی بن موسی القمی انما کان فیہ ان لاروایۃ فیہ عن اصحابنا بخلاف سجود الصلاۃ فان الروایۃ فیہ مستفیضۃلاتنکر فاحب الفتح ان یاتی بکلامہ علی نحوہ فیبطل الفحوی ویلتئم مفادہ بمفاد متنہ الہدایۃ وھو القول الاول کما ستعلم ان شاء الله تعالی بل ھو المراد قطعا لایجوز حمل کلامہ علی غیرہ لتصریحہ بالتفرقۃ فی سجود الصلاۃ بین المتجا فی وغیرہ کما سیاتی ان شاء الله تعالی ھذا ۔
وفی الغنیۃ بعدما مرعنہ فی القول الثالث نقل کلام الخلاصۃ
بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیئت پر ہو او رمضمون کلام سے خفی طو ر پر یہ ا شارہ بھی دے رہے ہیں کہ سجدہ نماز میں سونے سے مطلقا وضونہ ٹوٹے گا تو کلام فتح کامرجع الگ رہے تو قول سوم ہے یہ قول چہارم نہیں جسے صاحب بحر نے خلاصہ کی تبعیت میں اختیار کیا ہے ۔
بل اقول : ( بلکہ میں کہتا ہوں ) اگر فتح القدیر میں لفظ “ خارج الصلوۃ “ کا اضافہ اس لئے ہے کہ امام علی بن موسی قمی کا کلام اسی سے متعلق تھا کہ اس میں ہمارے اصحاب سے کوئی روایت نہیں بخلاف سجدہ نماز کے کہ اس میں روایت مشہور ناقابل انکار ہے تو صاحب فتح نے یہ چاہا کہ ان کا کلام ان ہی کے طو ر پر لائیں جب تو مضمون کلام کا مفاد باطل اور کلام فتح کا مفاد اپنے متن ہدایہ کے مفاد کے مطابق ہوجائے گا اور وہ قول اول ہے جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان شاء الله تعالی بلکہ قطعا یہی مراد ہے اس کلام کو کسی اور قول پر محمول کرنا رواہی نہیں اس لئے کہ انہو ں نے سجدہ نماز میں کروٹ جدا رکھنے اور نہ رکھنے کے درمیان فرق کیا ہے جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء الله تعالی یہ بات تمام ہوئی ۔
اور قول سوم میں غنیہ کی جو عبارت گزری اس کے بعد اس میں خلاصہ کی عبارت نقل کی ہے
فــــ : تطفل ثالث علیہ۔
بل اقول : ان کان الفتح انما زاد لفظۃ خارج الصلاۃ لان کلام الامام علی بن موسی القمی انما کان فیہ ان لاروایۃ فیہ عن اصحابنا بخلاف سجود الصلاۃ فان الروایۃ فیہ مستفیضۃلاتنکر فاحب الفتح ان یاتی بکلامہ علی نحوہ فیبطل الفحوی ویلتئم مفادہ بمفاد متنہ الہدایۃ وھو القول الاول کما ستعلم ان شاء الله تعالی بل ھو المراد قطعا لایجوز حمل کلامہ علی غیرہ لتصریحہ بالتفرقۃ فی سجود الصلاۃ بین المتجا فی وغیرہ کما سیاتی ان شاء الله تعالی ھذا ۔
وفی الغنیۃ بعدما مرعنہ فی القول الثالث نقل کلام الخلاصۃ
بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیئت پر ہو او رمضمون کلام سے خفی طو ر پر یہ ا شارہ بھی دے رہے ہیں کہ سجدہ نماز میں سونے سے مطلقا وضونہ ٹوٹے گا تو کلام فتح کامرجع الگ رہے تو قول سوم ہے یہ قول چہارم نہیں جسے صاحب بحر نے خلاصہ کی تبعیت میں اختیار کیا ہے ۔
بل اقول : ( بلکہ میں کہتا ہوں ) اگر فتح القدیر میں لفظ “ خارج الصلوۃ “ کا اضافہ اس لئے ہے کہ امام علی بن موسی قمی کا کلام اسی سے متعلق تھا کہ اس میں ہمارے اصحاب سے کوئی روایت نہیں بخلاف سجدہ نماز کے کہ اس میں روایت مشہور ناقابل انکار ہے تو صاحب فتح نے یہ چاہا کہ ان کا کلام ان ہی کے طو ر پر لائیں جب تو مضمون کلام کا مفاد باطل اور کلام فتح کا مفاد اپنے متن ہدایہ کے مفاد کے مطابق ہوجائے گا اور وہ قول اول ہے جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان شاء الله تعالی بلکہ قطعا یہی مراد ہے اس کلام کو کسی اور قول پر محمول کرنا رواہی نہیں اس لئے کہ انہو ں نے سجدہ نماز میں کروٹ جدا رکھنے اور نہ رکھنے کے درمیان فرق کیا ہے جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء الله تعالی یہ بات تمام ہوئی ۔
اور قول سوم میں غنیہ کی جو عبارت گزری اس کے بعد اس میں خلاصہ کی عبارت نقل کی ہے
فــــ : تطفل ثالث علیہ۔
ثم قال فتخصیص اختلافھم بسجدۃ الشکر فحسب وھی غیر مسنونۃ عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ مع التصریح بکونہ علی وجہ السنۃ اولا دلیل علی عدم النقض اجماعا فی غیرھا سواء کان علی وجہ السنۃ اولا وکان وجہہ اطلاق لفظ ساجدا فی الحدیث فیترك بہ القیاس فیما ھو سجود شرعا فیتناول سجود الصلاۃ والسہو والتلاوۃ وکذا الشکر عندھما و یبقی ماعداہ علی القیاس فینقض ان لم یکن علی وجہ السنۃ لتمام الاسترخاء مع عدم التمکن المقعدۃ ولاینقض ان کان علی ھیاۃ السنۃ لعدم نھایۃ الاسترخاء لا لانہ سجود داخل تحت اطلاق الحدیث والله الموفق اھ
اقـول : وھذا منہ رحمہ الله تعالی ابداء وجہ لذلك القول لااعتماد لہ الا تری انہ لما لخص شرحہ ھذا جزم بالنقض فی غیرھیاۃ السنۃ ولو فی الصلاۃ پھر لکھا ہے تو صرف سجدہ شکر سے متعلق ان کے اختلاف کو خاص بتانا سجدہ شکر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك مسنون نہیں ساتھ ہی اس بات کی صراحت ہونا کہ وہ سجدہ بطریق سنت ہو یا نہ ہوا س پر دلیل ہے کہ سجدہ شکر کے علاوہ میں اجماعا وضو نہ ٹوٹے گا خواہ بطریق سنت ہو یا نہ ہو غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں لفظ “ ساجدا “ مطلق آیا ہے تو اس کی وجہ سے قیاس اس میں ترك کردیا جائے گا جو سجود شرعی ہے تو یہ سجدہ نماز سجدہ سہو اور سجدہ تلاوت کو شامل ہوگا اسی طر ح صاحبین کے نزدیك سجدہ شکر کو بھی اور ان کے ماسوا سجدہ قیاس پر باقی رہے گا تو اس میں وضو ٹوٹ جائے گا اگر بطریق سنت نہ ہو اس لئے کہ ڈھیلاپن کا مل ہوگا اور مقعد کا زمین پر استقرار بھی نہیں اور بطریق سنت ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ انتہائی ڈھیلا پن نہ ہوگا یہ وجہ نہیں کہ وہ بھی ایسا سجدہ ہے جو اطلاق حدیث کے تحت داخل ہے والله الموفق اھ۔
اقول : یہ صاحب غنیہ شیخ حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس قول کی ایك وجہ ظاہر کردی ہے یہ نہیں کہ ان کا اسی پر اعتماد ہے یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی اس شرح کی تلخیص کی تو اس میں اس بات پر جز م کیا کہ اگر سجدہ خلاف سنت طور پر
اقـول : وھذا منہ رحمہ الله تعالی ابداء وجہ لذلك القول لااعتماد لہ الا تری انہ لما لخص شرحہ ھذا جزم بالنقض فی غیرھیاۃ السنۃ ولو فی الصلاۃ پھر لکھا ہے تو صرف سجدہ شکر سے متعلق ان کے اختلاف کو خاص بتانا سجدہ شکر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك مسنون نہیں ساتھ ہی اس بات کی صراحت ہونا کہ وہ سجدہ بطریق سنت ہو یا نہ ہوا س پر دلیل ہے کہ سجدہ شکر کے علاوہ میں اجماعا وضو نہ ٹوٹے گا خواہ بطریق سنت ہو یا نہ ہو غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں لفظ “ ساجدا “ مطلق آیا ہے تو اس کی وجہ سے قیاس اس میں ترك کردیا جائے گا جو سجود شرعی ہے تو یہ سجدہ نماز سجدہ سہو اور سجدہ تلاوت کو شامل ہوگا اسی طر ح صاحبین کے نزدیك سجدہ شکر کو بھی اور ان کے ماسوا سجدہ قیاس پر باقی رہے گا تو اس میں وضو ٹوٹ جائے گا اگر بطریق سنت نہ ہو اس لئے کہ ڈھیلاپن کا مل ہوگا اور مقعد کا زمین پر استقرار بھی نہیں اور بطریق سنت ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ انتہائی ڈھیلا پن نہ ہوگا یہ وجہ نہیں کہ وہ بھی ایسا سجدہ ہے جو اطلاق حدیث کے تحت داخل ہے والله الموفق اھ۔
اقول : یہ صاحب غنیہ شیخ حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس قول کی ایك وجہ ظاہر کردی ہے یہ نہیں کہ ان کا اسی پر اعتماد ہے یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی اس شرح کی تلخیص کی تو اس میں اس بات پر جز م کیا کہ اگر سجدہ خلاف سنت طور پر
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ، فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈیمی لاہور ، ص ۱۳۹
وجعلہ المعتمد واحال تمام تحقیقہ علی الشرح کما تقدم فلو ارادھنا الاعتماد لکانت الحوالۃ غیر رائجۃ بل حوالۃ علی المخالف ثم لما صنف متن الملتقی لم یلتفت ایضا الی ھذا التفصیل وتبع سائر المتون فی الاطلاق ثم لما شرح متنہ صرح ان الاطلاق ھو المعتمد کما سیاتی ان شاء الله تعالی۔
الــثانیۃ : فی استخراج القول الراجح من ھذہ الاقاویل۔
اقول : القول الاول علیہ المعول وھو الصحیح و لہ الترجیح وذلك لاربعۃ وجوہ :
الاول علیہ الاکثر کما یظھر لك ممامر و یاتی و القاعدۃ فــــ العمل بما علیہ الاکثر کما نقلت علیہ نصوصا کثیرۃ فی فتاوی۔
الــثـانی : علیہ تظافرت المتون ولیس لہا الی غیرہ رکون ولا طباقہا شأن من اعظم الشیون فانھا ہے تو اس میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگر چہ نماز ہی میں ہو اسی کو معتمد بھی قرار دیا اور اس کی کامل تحقیق کے لئے اپنی شرح (حلیہ) کا حوالہ دیا جیسا کہ اس کی عبارت گزری تو اگر یہاں قول مذکور کی وجہ بیان کرنے سے اس پر اعتماد مراد ہو تو اس کا حوالہ نہ چل سکے گابلکہ مخالف حوالہ ہوگا پھر جب متن ملتقی تصنیف کیا اس وقت بھی اس تفصیل پر التفات نہ کیا اور ا طلاق میں دیگر متون کا اتباع کیا پھر جب اس متن کی شرح فرمائی تو تصریح بھی کردی کہ اطلاق ہی معتمد ہے جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء الله تعالی ۔
افادہ ثانیہ۲ : ان اقوال میں سے قول راجح کے استخراج کے بارے میں ۔
اقول : قول اول ہی پر اعتماد ہے وہی صحیح ہے اسی کو ترجیح ہے اور اس کی چار وجہیں ہیں۔
وجہ اول : اسی پر اکثر ہیں جیسا کہ گزشتہ وآئندہ صفحات سے ظاہر ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ عمل اسی پر ہو جس پر اکثر ہوں جیسا کہ اس پر میں اپنے فتاوی میں کثیر نصوص نقل کر چکا ہوں
وجہ دوم اسی پر متون ہم نوا ومتفق ہیں کسی اور قول کی طر ف ان کا جھکاؤ بھی نہیں اور اتفاق متون کی شان بہت عظیم ہے اس لئے
فــــ : القاعدۃ العمل بما علیہ الاکثر
الــثانیۃ : فی استخراج القول الراجح من ھذہ الاقاویل۔
اقول : القول الاول علیہ المعول وھو الصحیح و لہ الترجیح وذلك لاربعۃ وجوہ :
الاول علیہ الاکثر کما یظھر لك ممامر و یاتی و القاعدۃ فــــ العمل بما علیہ الاکثر کما نقلت علیہ نصوصا کثیرۃ فی فتاوی۔
الــثـانی : علیہ تظافرت المتون ولیس لہا الی غیرہ رکون ولا طباقہا شأن من اعظم الشیون فانھا ہے تو اس میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگر چہ نماز ہی میں ہو اسی کو معتمد بھی قرار دیا اور اس کی کامل تحقیق کے لئے اپنی شرح (حلیہ) کا حوالہ دیا جیسا کہ اس کی عبارت گزری تو اگر یہاں قول مذکور کی وجہ بیان کرنے سے اس پر اعتماد مراد ہو تو اس کا حوالہ نہ چل سکے گابلکہ مخالف حوالہ ہوگا پھر جب متن ملتقی تصنیف کیا اس وقت بھی اس تفصیل پر التفات نہ کیا اور ا طلاق میں دیگر متون کا اتباع کیا پھر جب اس متن کی شرح فرمائی تو تصریح بھی کردی کہ اطلاق ہی معتمد ہے جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء الله تعالی ۔
افادہ ثانیہ۲ : ان اقوال میں سے قول راجح کے استخراج کے بارے میں ۔
اقول : قول اول ہی پر اعتماد ہے وہی صحیح ہے اسی کو ترجیح ہے اور اس کی چار وجہیں ہیں۔
وجہ اول : اسی پر اکثر ہیں جیسا کہ گزشتہ وآئندہ صفحات سے ظاہر ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ عمل اسی پر ہو جس پر اکثر ہوں جیسا کہ اس پر میں اپنے فتاوی میں کثیر نصوص نقل کر چکا ہوں
وجہ دوم اسی پر متون ہم نوا ومتفق ہیں کسی اور قول کی طر ف ان کا جھکاؤ بھی نہیں اور اتفاق متون کی شان بہت عظیم ہے اس لئے
فــــ : القاعدۃ العمل بما علیہ الاکثر
حوالہ / References
در مختار باب صلوٰۃ المریض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱۰
الموضوعۃ لنقل المذھب المصون وذلك انہا من عند اخرھا لم تجنح الی تفرقۃ فی ھذا بین الصلاۃ وغیرھا انما ترسل الحکم ارسالا ۔
قــال فی الکتاب والنوم مضطجعا اومتکئا اومستندا اھ ومثلہ فی البدایۃ وقال فی الوقایۃ ونوم مضطجع ومتکئ اومستند الی مالوازیل لسقط لاغیر اھ وفی النقایۃ ونوم متکئ الی ما لو ازیل لسقط اھ وفی کنزالد قائق ونوم مضطجع ومتورك اھ وفی الاصلاح ونوم متکئ وفی ملتقی الابحر ونوم مضطجع اومتکیئ باحد ورکیہ اومستند الی مالوازیل لسقط لانوم قائم اوقاعد او راکع اوساجد اھ
کہ متون مذہب محفوظ کی نقل ہی کے لئے وضع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ شروع سے آخر تك تمام ہی متون اس بارے میں نماز اور غیر نماز کی تفریق کی طرف مائل نہیں حکم صرف بیان کرتے ہیں۔ کتاب میں ہے کروٹ لیٹ کر یاتکیہ لگا کر یا ٹیك لگا کر سونا اھ اسی کے مثل بدایہ میں بھی ہے اور وقایہ میں ہے : اس کی نیند جو کروٹ لینے والا یا تکیہ لگانے والا یا ایسی چیز کی طرف ٹیك لگانے والا ہے جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے کوئی اور نیند نہیں اھ نقایہ میں ہے اس چیز کی طرف تکیہ لگا نے والے کی نیند جو ہٹا دی جائے تو یہ گرجائے اھ کنز الدقائق میں ہے کروٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھ کر سونے والے کی نیند اھ اصلاح میں ہے تکیہ لگانے والے کی نیند اھ ملتقی الا بحر میں ہے اس کی نیند جو کروٹ لینے والے یا ایك سرین پر سہارا لینے والا یاایسی چیز کی طرف ٹیك لگانے والا ہو جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے قیام یا قعود یا رکوع یا سجود والے کی نیند نہیں اھ ۔
قــال فی الکتاب والنوم مضطجعا اومتکئا اومستندا اھ ومثلہ فی البدایۃ وقال فی الوقایۃ ونوم مضطجع ومتکئ اومستند الی مالوازیل لسقط لاغیر اھ وفی النقایۃ ونوم متکئ الی ما لو ازیل لسقط اھ وفی کنزالد قائق ونوم مضطجع ومتورك اھ وفی الاصلاح ونوم متکئ وفی ملتقی الابحر ونوم مضطجع اومتکیئ باحد ورکیہ اومستند الی مالوازیل لسقط لانوم قائم اوقاعد او راکع اوساجد اھ
کہ متون مذہب محفوظ کی نقل ہی کے لئے وضع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ شروع سے آخر تك تمام ہی متون اس بارے میں نماز اور غیر نماز کی تفریق کی طرف مائل نہیں حکم صرف بیان کرتے ہیں۔ کتاب میں ہے کروٹ لیٹ کر یاتکیہ لگا کر یا ٹیك لگا کر سونا اھ اسی کے مثل بدایہ میں بھی ہے اور وقایہ میں ہے : اس کی نیند جو کروٹ لینے والا یا تکیہ لگانے والا یا ایسی چیز کی طرف ٹیك لگانے والا ہے جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے کوئی اور نیند نہیں اھ نقایہ میں ہے اس چیز کی طرف تکیہ لگا نے والے کی نیند جو ہٹا دی جائے تو یہ گرجائے اھ کنز الدقائق میں ہے کروٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھ کر سونے والے کی نیند اھ اصلاح میں ہے تکیہ لگانے والے کی نیند اھ ملتقی الا بحر میں ہے اس کی نیند جو کروٹ لینے والے یا ایك سرین پر سہارا لینے والا یاایسی چیز کی طرف ٹیك لگانے والا ہو جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے قیام یا قعود یا رکوع یا سجود والے کی نیند نہیں اھ ۔
حوالہ / References
الہدایۃ ، کتاب الطہارات فصل نواقض الوضوء المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰
الوقایۃ (شرح وقایۃ) ، کتاب الطہارۃ النوم والاغماء الخ ، مکتبۃ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۷۶
النقایۃ(مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ) ، کتاب الطہارۃ ، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۴
کنز الدقائق کتاب الطہارۃ ، ایچ ، ایم سعید کمپنی کراچی ص۸
الاصلاح والایضاح
ملتقی الابحر کتاب الطہارۃ ، المعانی الناقضۃ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۹
الوقایۃ (شرح وقایۃ) ، کتاب الطہارۃ النوم والاغماء الخ ، مکتبۃ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۷۶
النقایۃ(مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ) ، کتاب الطہارۃ ، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۴
کنز الدقائق کتاب الطہارۃ ، ایچ ، ایم سعید کمپنی کراچی ص۸
الاصلاح والایضاح
ملتقی الابحر کتاب الطہارۃ ، المعانی الناقضۃ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۹
وفی الغرر ونوم یزیل مسکتہ والا فلا وان تعمد فی الصلاۃ اھ
وفی التنویر و نوم یزیل مسکتہ والا لا اھ
وفی نور الایضاح ونوم لم تتمکن فیہ المقعدۃ من الارض لانوم متمکن ولو مستندا لی شیئ لو ازیل سقط ومصل ولو راکعا اوساجدا علی جہۃ السنۃ اھ ملتقطا۔
اقول : ومن فــــ عاشر تلك العرائس النفائس اعنی المتون وعرف طرزھا فی رمزھا بالحواجب والعیون ایقن انہا انما ترمی عن قوس واحدۃ وھی ادارۃ الحکم علی ماھو المناط المحقق الثابت بالنقل والعقل اعنی زوال المسکۃ و عدم تمکن الورکین ۔
وقد انقسمت فی بیان ذلك علی قسمین قسم مشوا علی عادتہم الشریفۃ من سذاجۃ البیان
غرر میں ہے ایسی نیند جو بندش ختم کردے اگر ایسی نہ ہو تو نہیں اگر چہ نماز میں اس کا قصد بھی کرے اھ ۔ تنویر میں ہے وہ نیند جو اس کی بندش ختم کردے ورنہ نہیں اھ نورا لایضاح میں ہے ایسی نیند جس میں مقعد کا زمین پر قرار نہ ہ قرار والے کی نیند نہیں اگر چہ کسی ایسی چیز کی طر ف ٹیك لگائے ہو جو ہٹادی جائے تو گر جائے اور نماز پڑھنے والے کی نیند نہیں اگر چہ وہ رکوع میں یا سنت طریقے پر سجدے میں ہو اھ ملتقطا۔
اقول : جسے ان نفیس عروسوں یعنی متون کی رفاقت و معاشرت میسر ہو اور چشم وابر و سے ان کے اشارہ کے انداز سے آشناہو وہ یقین کرے گا کہ یہ سب ایك ہی کمان سے نشانہ لگارہے ہیں وہ یہ کہ حکم کو اسی پر دائر رکھنا چاہتے ہیں جو تحقیقی طور پر نقل وعقل سے ثابت شدہ مدار ہے یعنی بندش کا ختم ہوجانا اور دونوں سرین کو جماؤنہ ملنا۔
مصنفین اس کے بیان میں دو۲ قسموں پر منقسم ہیں ایك قسم ان حضرات کی ہے جو اپنی اسی عمدہ روش پر ہیں کہ بیان میں سادگی ہو
فــــ : عادۃ الاوائل السذ اجۃ فی البیان وعدم الدنق فی العبارات ۔
وفی التنویر و نوم یزیل مسکتہ والا لا اھ
وفی نور الایضاح ونوم لم تتمکن فیہ المقعدۃ من الارض لانوم متمکن ولو مستندا لی شیئ لو ازیل سقط ومصل ولو راکعا اوساجدا علی جہۃ السنۃ اھ ملتقطا۔
اقول : ومن فــــ عاشر تلك العرائس النفائس اعنی المتون وعرف طرزھا فی رمزھا بالحواجب والعیون ایقن انہا انما ترمی عن قوس واحدۃ وھی ادارۃ الحکم علی ماھو المناط المحقق الثابت بالنقل والعقل اعنی زوال المسکۃ و عدم تمکن الورکین ۔
وقد انقسمت فی بیان ذلك علی قسمین قسم مشوا علی عادتہم الشریفۃ من سذاجۃ البیان
غرر میں ہے ایسی نیند جو بندش ختم کردے اگر ایسی نہ ہو تو نہیں اگر چہ نماز میں اس کا قصد بھی کرے اھ ۔ تنویر میں ہے وہ نیند جو اس کی بندش ختم کردے ورنہ نہیں اھ نورا لایضاح میں ہے ایسی نیند جس میں مقعد کا زمین پر قرار نہ ہ قرار والے کی نیند نہیں اگر چہ کسی ایسی چیز کی طر ف ٹیك لگائے ہو جو ہٹادی جائے تو گر جائے اور نماز پڑھنے والے کی نیند نہیں اگر چہ وہ رکوع میں یا سنت طریقے پر سجدے میں ہو اھ ملتقطا۔
اقول : جسے ان نفیس عروسوں یعنی متون کی رفاقت و معاشرت میسر ہو اور چشم وابر و سے ان کے اشارہ کے انداز سے آشناہو وہ یقین کرے گا کہ یہ سب ایك ہی کمان سے نشانہ لگارہے ہیں وہ یہ کہ حکم کو اسی پر دائر رکھنا چاہتے ہیں جو تحقیقی طور پر نقل وعقل سے ثابت شدہ مدار ہے یعنی بندش کا ختم ہوجانا اور دونوں سرین کو جماؤنہ ملنا۔
مصنفین اس کے بیان میں دو۲ قسموں پر منقسم ہیں ایك قسم ان حضرات کی ہے جو اپنی اسی عمدہ روش پر ہیں کہ بیان میں سادگی ہو
فــــ : عادۃ الاوائل السذ اجۃ فی البیان وعدم الدنق فی العبارات ۔
حوالہ / References
درر الحکام شرح غرر الاحکام ، کتاب الطہارۃ ، میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵
الدر المختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۶
نور الایضاح فصل عشرۃ اشیاء الخ کتاب الطہارۃ مطبع علیمی لاہور ص ۹
الدر المختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۶
نور الایضاح فصل عشرۃ اشیاء الخ کتاب الطہارۃ مطبع علیمی لاہور ص ۹
وعدم الدنق فی العبارات والدلالۃ بشیئ علی نظیرہ عن من عرف المناط وھم الاولون وھذا ماقال فی النھر کما نقلہ السید ابو السعود ان المراد من الاضطجاع مایوجب زوال المسکۃ بزوال المقعدۃ عن الارض اھ
وما قال فی البحر بعد نقلہ فروعا فیھا النقض مع عدم حقیقۃ الاضطجاع والتورك المقتصر علیہما فی الکنز وفی ھذہ المواضع التی یکون فیھا حدثا فھو بمعنی التورك فلم تخرج عن کلام المصنف اھ
اقول : وکان فــــ الامام القدوری احب التصریح بالمضطجع لورودہ خصوصا فی الحدیث المروی عن عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما بالفاظ عدیدۃ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کما سیاتی ان شاء الله تعالی
عبارتوں میں تدقیق کا تکلف نہ ہو اور ایك چیز کو ذکر کر کے آشنائے مناط کے لئے اس کی نظیر پر رہنمائی کردی جائے یہ حضرات متقدمین ہیں اسی کو نہر میں بتایا ہے جیسا کہ سید ابو السعود نے اس سے نقل کیا ہے کہ کروٹ لیٹنے سے مراد وہ نیند جس میں زمین سے مقعد الگ ہونے کی وجہ سے بندش ختم ہوجائے اھ۔ اور یہی بحر میں بھی ہے اس میں پہلے چند جزئیات نقل کئے پھر فرمایا : ان سب میں وضو ٹوٹنے کا حکم ہے باوجودیکہ حقیقت اضطجاع وتورك نہیں جب کہ کنز میں ان ہی دونوں پراکتفا ہے ان مقامات میں جہاں نیند حدث ہوتی ہے وہ تو رك ( ایك سرین پر ٹیك لگا کر سونے ) کے معنی میں ہے تو یہ صورتیں کلام مصنف سے باہر نہیں اھ ۔
اقول : اور امام قدوری نے کروٹ لیٹنے والے کی تصریح شاید اس لئے پسند فرمائی کہ یہ خاص طور سے اس حدیث میں وارد ہے جو حضرت عبدالله ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے بالفاظ متعددہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی اس کا ذکر ہوگا
فــــ : منازع اختلاف عبارات العلماء مع قول المقصود واحدا۔
وما قال فی البحر بعد نقلہ فروعا فیھا النقض مع عدم حقیقۃ الاضطجاع والتورك المقتصر علیہما فی الکنز وفی ھذہ المواضع التی یکون فیھا حدثا فھو بمعنی التورك فلم تخرج عن کلام المصنف اھ
اقول : وکان فــــ الامام القدوری احب التصریح بالمضطجع لورودہ خصوصا فی الحدیث المروی عن عبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما بالفاظ عدیدۃ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کما سیاتی ان شاء الله تعالی
عبارتوں میں تدقیق کا تکلف نہ ہو اور ایك چیز کو ذکر کر کے آشنائے مناط کے لئے اس کی نظیر پر رہنمائی کردی جائے یہ حضرات متقدمین ہیں اسی کو نہر میں بتایا ہے جیسا کہ سید ابو السعود نے اس سے نقل کیا ہے کہ کروٹ لیٹنے سے مراد وہ نیند جس میں زمین سے مقعد الگ ہونے کی وجہ سے بندش ختم ہوجائے اھ۔ اور یہی بحر میں بھی ہے اس میں پہلے چند جزئیات نقل کئے پھر فرمایا : ان سب میں وضو ٹوٹنے کا حکم ہے باوجودیکہ حقیقت اضطجاع وتورك نہیں جب کہ کنز میں ان ہی دونوں پراکتفا ہے ان مقامات میں جہاں نیند حدث ہوتی ہے وہ تو رك ( ایك سرین پر ٹیك لگا کر سونے ) کے معنی میں ہے تو یہ صورتیں کلام مصنف سے باہر نہیں اھ ۔
اقول : اور امام قدوری نے کروٹ لیٹنے والے کی تصریح شاید اس لئے پسند فرمائی کہ یہ خاص طور سے اس حدیث میں وارد ہے جو حضرت عبدالله ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے بالفاظ متعددہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله تعالی اس کا ذکر ہوگا
فــــ : منازع اختلاف عبارات العلماء مع قول المقصود واحدا۔
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الطہارہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷ ، النہر الفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶
البحرا لرائق کتاب الطہارہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
البحرا لرائق کتاب الطہارہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
وبالمستند لمکان الخلف فیہ کما علمت وتبعہ فی الھدایۃ والملتقی والافالمتکیئ یعمھما ویعم المستلقی والمنبطح والمتورك ونظراء ھم جمیعا ولذا اقتصر علیہ فی النقایۃ وزاد الی مالو ازیل لاختیارہ ذلك القول ۔
والـعـلامۃ ابن کمال لما مشی علی ظاھر الروایۃ المعتمدۃ ان الاستناد الی مالوازیل لسقط ایضا لاینقض الا بمزایلۃ المقعد اقتصر علی لفظ المتکی فحسب والکنز اقام مقامہ المتورك و محصلہما واحدا وبدأ بالمضطجع تبرکا با لمنصوص وترك المستند الخ تعویلا علی المذھب فھذہ منازعھم رحمہم الله تعالی فی اختلاف عباراتھم وانما مقصودھم جمیعا ھو النوم المزیل للمسکۃ فکما ان الحدیث حصر الحکم فی المضطجع ولیس معناہ القصر علی من نام علی جنبہ فالنائم
اور ٹیك لگانے والے کی صراحت اس لئے پسند فرمائی کہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ بیان ہوا اور ہدایہ وملتقی میں ان ہی کی پیروی کی ورنہ لفظ متکی ( تکیہ لگانے والا) ان دونوں کو شامل ہے اور چت لیٹنے والے چہرے کے بل لیٹنے والے سرین پر ٹیك لگانے والے ان کے امثال سب کو شامل ہے اسی لئے نقایہ میں اسی پراکتفا کی اور یہ بڑھا دیا کہ ایسی چیز کی طر ف ہو جو ہٹا دی جائے تو گر جائے کیونکہ ان کا مختار یہی قول ہے ۔
اور علامہ ابن کمال پاشا چونکہ ظاہر روایت معتمدہ پر گام زن ہیں کہ ایسی چیز جو ہٹادی جائے تو گر جائے اس سے ٹیك لگانا بھی ناقض اسی وقت ہے جب مقعد ہٹ جائے اس لئے انہوں نے صرف لفظ متکی پر اکتفا کی اور کنزمیں اس کی جگہ لفظ متورك رکھ دیا حاصل دو نوں کا ایك ہی ہے اور کنز نے منصوص سے تبرك کے لئے مضطجع سے ابتداء کی اور مستند الخ الخ ترك کر دیا کیونکہ ان کا اعتماد ظاہر مذہب پر ہے تو اختلاف عبارات میں ان حضرات رحمہم الله تعالی کی بنیاد یں یہی ہیں مقصود سبھی حضرات کا وہ نیند ہے جو بندش ختم کردینے والی ہے جیسے حدیث ہی کو دیکھئے کہ اس میں حکم کروٹ لینے والے کے بارے میں منحصر ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ حکم اسی پر محدود رہے گا جو کروٹ پر لیٹا ہو کیونکہ
والـعـلامۃ ابن کمال لما مشی علی ظاھر الروایۃ المعتمدۃ ان الاستناد الی مالوازیل لسقط ایضا لاینقض الا بمزایلۃ المقعد اقتصر علی لفظ المتکی فحسب والکنز اقام مقامہ المتورك و محصلہما واحدا وبدأ بالمضطجع تبرکا با لمنصوص وترك المستند الخ تعویلا علی المذھب فھذہ منازعھم رحمہم الله تعالی فی اختلاف عباراتھم وانما مقصودھم جمیعا ھو النوم المزیل للمسکۃ فکما ان الحدیث حصر الحکم فی المضطجع ولیس معناہ القصر علی من نام علی جنبہ فالنائم
اور ٹیك لگانے والے کی صراحت اس لئے پسند فرمائی کہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ بیان ہوا اور ہدایہ وملتقی میں ان ہی کی پیروی کی ورنہ لفظ متکی ( تکیہ لگانے والا) ان دونوں کو شامل ہے اور چت لیٹنے والے چہرے کے بل لیٹنے والے سرین پر ٹیك لگانے والے ان کے امثال سب کو شامل ہے اسی لئے نقایہ میں اسی پراکتفا کی اور یہ بڑھا دیا کہ ایسی چیز کی طر ف ہو جو ہٹا دی جائے تو گر جائے کیونکہ ان کا مختار یہی قول ہے ۔
اور علامہ ابن کمال پاشا چونکہ ظاہر روایت معتمدہ پر گام زن ہیں کہ ایسی چیز جو ہٹادی جائے تو گر جائے اس سے ٹیك لگانا بھی ناقض اسی وقت ہے جب مقعد ہٹ جائے اس لئے انہوں نے صرف لفظ متکی پر اکتفا کی اور کنزمیں اس کی جگہ لفظ متورك رکھ دیا حاصل دو نوں کا ایك ہی ہے اور کنز نے منصوص سے تبرك کے لئے مضطجع سے ابتداء کی اور مستند الخ الخ ترك کر دیا کیونکہ ان کا اعتماد ظاہر مذہب پر ہے تو اختلاف عبارات میں ان حضرات رحمہم الله تعالی کی بنیاد یں یہی ہیں مقصود سبھی حضرات کا وہ نیند ہے جو بندش ختم کردینے والی ہے جیسے حدیث ہی کو دیکھئے کہ اس میں حکم کروٹ لینے والے کے بارے میں منحصر ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ حکم اسی پر محدود رہے گا جو کروٹ پر لیٹا ہو کیونکہ
علی وجہہ وقفاہ مثلہ قطعا وانما المقصود التنبیہ علی صورۃ زوال المسکۃ کما دل علیہ قول صلی الله تعالی علیہ وسلم فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ فکذلك ھولاء الکرام اقتفاء بالحدیث کما ارشد الیہ البحر والنھر۔
وقـسم آخـر احب الضبط فاتی بالجامع المانع
وھم الاخرون وقدوتھم العلامۃ مولی خسرو فلتضلعہ من العلوم العقلیۃ ایضا تعود بالتدنق وتبعہ المولی الغزی والشرنبلالی ۔
واعلی الله مقامات مولنا صاحب الھدایۃ فی دار السلام فباوجز لفظۃ کشف الظلام وجلا الاوھام اذ قال بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود والرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح لان بعض الاستمساك باق اذ لو زال اسقط فلم یتم الاسترخاء اھ
چہرے کے بل اور گدی پر یعنی چت لیٹنے والے بھی قطعا اسی کے مثل ہیں مقصود صرف اس صورت کی رہ نمائی ہے جس میں بندش کھل جاتی ہے جیسا کہ اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکایہ ارشاد گرامی دلالت کررہاہے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے تو حدیث پاك کی اقتداء میں ان بزرگ حضرات کی بھی روش ہے جیسا کہ بحر ونہر نے اس طر ف رہ نمائی کی ۔
دوسری قسم ان حضرات کی جنہوں نے ضبط اور ساری صورتوں کا احاطہ پسند کیا تو جامع مانع الفاظ لے آئے یہ حضرات متاخرین ہیں اور ان کے پیشوا علامہ ملا خسرو ہیں وہ چونکہ علوم عقلیہ میں بھی تبحر رکھتے ہیں اس لئے تدقیق کے عادی ہیں اور علامہ غزی وعلامہ شرنبلالی ان کے پس رو ہیں۔
اور خدا صاحب ہدایہ کے درجات بلند فرمائے کہ مختصر ترین الفاظ میں انہوں نے تاریکی کا پردہ چاك کردیا اور اوہام دور کردئے ان کی عبارت یہ ہے : کہ “ بخلاف اس نیند کے جو قیام قعود رکوع او رسجود کی حالت میں ہو نماز میں بھی اور بیرون نماز بھی یہی صحیح ہے اس لئے کہ ان حالتو ں میں کچھ بندش باقی ہوتی ہے کیونکہ اگر ختم ہوجاتی تو گر پڑتا تو استر خاکامل نہ ہوا “ اھ
وقـسم آخـر احب الضبط فاتی بالجامع المانع
وھم الاخرون وقدوتھم العلامۃ مولی خسرو فلتضلعہ من العلوم العقلیۃ ایضا تعود بالتدنق وتبعہ المولی الغزی والشرنبلالی ۔
واعلی الله مقامات مولنا صاحب الھدایۃ فی دار السلام فباوجز لفظۃ کشف الظلام وجلا الاوھام اذ قال بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود والرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح لان بعض الاستمساك باق اذ لو زال اسقط فلم یتم الاسترخاء اھ
چہرے کے بل اور گدی پر یعنی چت لیٹنے والے بھی قطعا اسی کے مثل ہیں مقصود صرف اس صورت کی رہ نمائی ہے جس میں بندش کھل جاتی ہے جیسا کہ اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکایہ ارشاد گرامی دلالت کررہاہے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے تو حدیث پاك کی اقتداء میں ان بزرگ حضرات کی بھی روش ہے جیسا کہ بحر ونہر نے اس طر ف رہ نمائی کی ۔
دوسری قسم ان حضرات کی جنہوں نے ضبط اور ساری صورتوں کا احاطہ پسند کیا تو جامع مانع الفاظ لے آئے یہ حضرات متاخرین ہیں اور ان کے پیشوا علامہ ملا خسرو ہیں وہ چونکہ علوم عقلیہ میں بھی تبحر رکھتے ہیں اس لئے تدقیق کے عادی ہیں اور علامہ غزی وعلامہ شرنبلالی ان کے پس رو ہیں۔
اور خدا صاحب ہدایہ کے درجات بلند فرمائے کہ مختصر ترین الفاظ میں انہوں نے تاریکی کا پردہ چاك کردیا اور اوہام دور کردئے ان کی عبارت یہ ہے : کہ “ بخلاف اس نیند کے جو قیام قعود رکوع او رسجود کی حالت میں ہو نماز میں بھی اور بیرون نماز بھی یہی صحیح ہے اس لئے کہ ان حالتو ں میں کچھ بندش باقی ہوتی ہے کیونکہ اگر ختم ہوجاتی تو گر پڑتا تو استر خاکامل نہ ہوا “ اھ
حوالہ / References
سنن الترمذی ، ابواب الطہارت ، باب ماجاء فی الوضوء من النوم ، حدیث ۷۷ ، دار الفکر بیروت ۱ / ۱۳۵
الہدایۃ کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃالعربیہ کراچی ۱ / ۱۰
الہدایۃ کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء المکتبۃالعربیہ کراچی ۱ / ۱۰
فـقـد افاد ببقاء الاستمساك وبعدم السقوط ان المراد ھو السجود کالمسنون ازلولاہ بل الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ فھو السقوط عینا وای بقاء بعدہ لاستمساك کما تقدم عن الغنیۃ وصرح بان الصلاۃ وغیرھا سواء فی الحکم فان کان الاستمساك باقیالم ینقض ولو خارج الصلاۃ والانقض ولو فیھا وھذا ھو القول الاول ۔
وکذلك افصح عنہ فی الدرر حیث قال (والا) بان کان حال القیام اوالقعود اوالرکوع اوالسجود اذا رفع بطنہ عن فخذیہ وابعد عضدیہ عن جنبیہ (فلا وان تعمد فی الصلاۃ) اھ وعلیہ حط کلام الامام حافظ الدین النسفی کما تقدم وحولہ تدور الحلیۃ فیما اسلفنا من نصوصھا فانہ من اولہ لاخرہ انما بنی الامر علی وجود نہایۃ الاسترخاء وعدمھا وختم مسائل النوم فی الصلاۃ
بند ش باقی رہنے اور ساقط نہ ہونے سے افادہ فرمایا کہ مقصود وہ سجدہ ہے جو مسنون طریقے پرہو اسلئے کہ اگر ایسا نہ ہو بلکہ پیٹ رانوں سے ملادے اور کلائیاں بچھا دے تو یہ بعینہ ساقط ہوجانا ہے او راس کے بعد پھر کو ن سی بندش باقی رہ جائے گی جیسا کہ غنیہ کے حوالہ سے گزرا اور صاحب ہدایہ نے یہ تصریح فرمادی کہ نماز اور غیر نماز اس حکم میں برابر ہیں اگر بندش باقی ہے تو ناقض نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ورنہ ناقض ہے اگر چہ اندرون نماز ہو اور یہ وہی پہلا قول ہے ۔
اسی طرح درر شرح غرر میں بھی اس کو صاف بتایا اس کے الفاط یہ ہیں (اور اگر ایسا نہیں) اس طر ح کہ قیام یا قعود یا رکوع کی حالت ہے یاسجدہ کی حالت ہے جب کہ پیٹ رانوں سے اوپر اور بازو کروٹوں سے دور رکھے ( تو ناقض نہیں) اگرچہ نماز میں قصدا سوجائے ) اھ امام حافظ الدین نسفی کے کلام کامو ر دبھی یہی ہے جیسا کہ گزرا اسی کے گرد حلیہ کی بھی وہ عبارتیں گردش کرر ہی ہیں جو ہم سابقہ صفحات میں نقل کر آئے ہیں کیوں کہ صاحب حلیہ نے شروع سے آخرتك بنائے کار کمال استر خاموجود ومعلوم ہونے پر رکھی ہے اور اندرون نماز نیند کے مسائل
وکذلك افصح عنہ فی الدرر حیث قال (والا) بان کان حال القیام اوالقعود اوالرکوع اوالسجود اذا رفع بطنہ عن فخذیہ وابعد عضدیہ عن جنبیہ (فلا وان تعمد فی الصلاۃ) اھ وعلیہ حط کلام الامام حافظ الدین النسفی کما تقدم وحولہ تدور الحلیۃ فیما اسلفنا من نصوصھا فانہ من اولہ لاخرہ انما بنی الامر علی وجود نہایۃ الاسترخاء وعدمھا وختم مسائل النوم فی الصلاۃ
بند ش باقی رہنے اور ساقط نہ ہونے سے افادہ فرمایا کہ مقصود وہ سجدہ ہے جو مسنون طریقے پرہو اسلئے کہ اگر ایسا نہ ہو بلکہ پیٹ رانوں سے ملادے اور کلائیاں بچھا دے تو یہ بعینہ ساقط ہوجانا ہے او راس کے بعد پھر کو ن سی بندش باقی رہ جائے گی جیسا کہ غنیہ کے حوالہ سے گزرا اور صاحب ہدایہ نے یہ تصریح فرمادی کہ نماز اور غیر نماز اس حکم میں برابر ہیں اگر بندش باقی ہے تو ناقض نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ورنہ ناقض ہے اگر چہ اندرون نماز ہو اور یہ وہی پہلا قول ہے ۔
اسی طرح درر شرح غرر میں بھی اس کو صاف بتایا اس کے الفاط یہ ہیں (اور اگر ایسا نہیں) اس طر ح کہ قیام یا قعود یا رکوع کی حالت ہے یاسجدہ کی حالت ہے جب کہ پیٹ رانوں سے اوپر اور بازو کروٹوں سے دور رکھے ( تو ناقض نہیں) اگرچہ نماز میں قصدا سوجائے ) اھ امام حافظ الدین نسفی کے کلام کامو ر دبھی یہی ہے جیسا کہ گزرا اسی کے گرد حلیہ کی بھی وہ عبارتیں گردش کرر ہی ہیں جو ہم سابقہ صفحات میں نقل کر آئے ہیں کیوں کہ صاحب حلیہ نے شروع سے آخرتك بنائے کار کمال استر خاموجود ومعلوم ہونے پر رکھی ہے اور اندرون نماز نیند کے مسائل
حوالہ / References
درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵
بقولہ والعلۃ المعقولۃ زوال المسکۃ کمامر۔
الـثالث لہ صریح التصحیح کما اسلفنا عن المنحۃ عن النھر عن عقد الفرائد عن المحیط انہ الصحیح وعن الصغیری انہ المعتمد وقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر نقلا عن منح الغفار شرح تنویر الابصار للمصنف انہ قال فی الملتقی وشرحہ للمؤلف لاینقضہ نوم قائم اوقاعد اوراکع اوساجد علی ھیاۃ السجود المعتبرۃ شرعا فی الصلاۃ اوخارجہا علی المعتمد اھ
والاقــوال الباقیۃ لم ارشیئا منھا ذیل بتصحیح صریح وانما علینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم
اما قول البحر المار فی القول الرابع بعد ذکرہ کلام البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح ۔
کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے : اور عقلی علت بندش کا کھل جانا ہے جیسا کہ یہ عبارت گزرچکی ہے ۔
وجہ سوم صریح تصحیح اسی قول کی ہے جیسا کہ منحۃ الخالق سے اس میں نہر سے اس میں عقد الفرائد سے اس میں محیط سے نقل گزری کہ “ یہی صحیح ہے “ اور صغیر ی کا حوالہ گزرا کہ “ وہی معتمد ہے “ اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں منح الغفار شرح تنویر الابصار (اورمصنف تنویر ) کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ملتقی اور اس کے مولف کی شرح میں ہے کہ ناقض وضو نہیں اس کی نیند جو حالت قیام میں ہو یا سجدہ کی حالت میں سجدہ کی شرعا معتبر ہیات پر ہو نماز میں یا بیرون نماز بر قول معتمد اھ
باقی اقوال میں سے کسی کے ذیل میں صریح تصحیح میں نے نہ دیکھی ۔ اور ہمارے ذمہ اسی کا تباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے اگر وہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے تو ہم ان کا اتباع کرتے ۔
رہی عبارت بحر جو قول چہارم میں گزری کہ صاحب بحر نے بدائع کا کلام ذکر نے کے بعد فرمایا اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے
الـثالث لہ صریح التصحیح کما اسلفنا عن المنحۃ عن النھر عن عقد الفرائد عن المحیط انہ الصحیح وعن الصغیری انہ المعتمد وقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر نقلا عن منح الغفار شرح تنویر الابصار للمصنف انہ قال فی الملتقی وشرحہ للمؤلف لاینقضہ نوم قائم اوقاعد اوراکع اوساجد علی ھیاۃ السجود المعتبرۃ شرعا فی الصلاۃ اوخارجہا علی المعتمد اھ
والاقــوال الباقیۃ لم ارشیئا منھا ذیل بتصحیح صریح وانما علینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم
اما قول البحر المار فی القول الرابع بعد ذکرہ کلام البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح ۔
کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے : اور عقلی علت بندش کا کھل جانا ہے جیسا کہ یہ عبارت گزرچکی ہے ۔
وجہ سوم صریح تصحیح اسی قول کی ہے جیسا کہ منحۃ الخالق سے اس میں نہر سے اس میں عقد الفرائد سے اس میں محیط سے نقل گزری کہ “ یہی صحیح ہے “ اور صغیر ی کا حوالہ گزرا کہ “ وہی معتمد ہے “ اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں منح الغفار شرح تنویر الابصار (اورمصنف تنویر ) کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ملتقی اور اس کے مولف کی شرح میں ہے کہ ناقض وضو نہیں اس کی نیند جو حالت قیام میں ہو یا سجدہ کی حالت میں سجدہ کی شرعا معتبر ہیات پر ہو نماز میں یا بیرون نماز بر قول معتمد اھ
باقی اقوال میں سے کسی کے ذیل میں صریح تصحیح میں نے نہ دیکھی ۔ اور ہمارے ذمہ اسی کا تباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے اگر وہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے تو ہم ان کا اتباع کرتے ۔
رہی عبارت بحر جو قول چہارم میں گزری کہ صاحب بحر نے بدائع کا کلام ذکر نے کے بعد فرمایا اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۸۱ ، ۸۲
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
فــاقــول : قد اسمعناك نصہ تحت القول الثالث وتصحیحہ لایمس بعدم اشتراط الھیاۃ فی الصلاۃ انما ذکرہ فی عدم الانتقاض خارج الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ نفیا لقول ابن شجاع فھو تصحیح لاحد جزئی القول الاول کقول البدائع وھو اقرب الی الصواب فانہ ایضا راجع الی ذلك التفصیل الذی ذکرہ القمی فی السجود خارج الصلاۃ کما فی الحلیۃ ۔
وذلك ان القول الاول یشتمل علی دعویین احدھما النقض عند عدم الھیاۃ ولو فی الصلاۃ وسائر الاقوال تخالفہ فی مابعد لو والاخری عدم النقض مع الھیاۃ المسنونۃ ولو خارج الصلاۃ والقول الثالث یوافقہ فیھا اصلا ووصلا والتصحیح فیہ انما ورد علی ھذا الجزء الموافق
فاقول : ہم امام زیلعی کی پوری عبارت قول سوم کے تحت پیش کرآئے ہیں ان کی تصحیح کو اندرون نماز مسنون ہیات کی شرط نہ ہونے سے کوئی مس نہیں۔ انہوں نے توقول ابن شجاع کی تردید کے لئے بیرون نماز مسنون ہیات پر ہونے کی صورت میں عدم نقض سے متعلق یہ تصحیح ذکر کی ہے (قول اول کے دو جز ہیں ایك یہ کہ اگر مسنون ہیات پر ہے تو ناقض نہیں اگرچہ بیرون نماز ہو ۔ دوسرا یہ کہ مسنون ہیات کے بر خلاف ہے تو ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو ۱۲) تو یہ قول اول کے جزاول کی تصحیح ہے جیسے بدائع کی عبارت وھو اقرب الی الصواب (درستی سے قریب تر ہے ) کیونکہ وہ بھی اسی تفصیل کی طر ف راجع ہے جو امام قمی نے بیرون نماز سجدہ سے متعلق ذکر کی جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔
تفصیل یہ ہے کہ قول اول دو دعووں پر مشتمل ہے ایك یہ کہ مسنون ہیات نہ ہونے کی صورت میں نیند ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو باقی تینوں قول “ اگر چہ “ کے مابعد میں قول اول کے مخالف ہیں(تینوں میں یہ قدر مشترك ہے کہ نماز میں مطلقا نقض وضو نہیں اگر چہ مسنون ہیات نہ ہو ۱۲) دوسرا دعوی یہ ہے کہ مسنون ہیات ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اگر چہ بیرون نماز ہو قول سوم اس دعوے میں اصل اور وصل ( بشرط ہیات وضو نہ ٹوٹنا اور اگر چہ
وذلك ان القول الاول یشتمل علی دعویین احدھما النقض عند عدم الھیاۃ ولو فی الصلاۃ وسائر الاقوال تخالفہ فی مابعد لو والاخری عدم النقض مع الھیاۃ المسنونۃ ولو خارج الصلاۃ والقول الثالث یوافقہ فیھا اصلا ووصلا والتصحیح فیہ انما ورد علی ھذا الجزء الموافق
فاقول : ہم امام زیلعی کی پوری عبارت قول سوم کے تحت پیش کرآئے ہیں ان کی تصحیح کو اندرون نماز مسنون ہیات کی شرط نہ ہونے سے کوئی مس نہیں۔ انہوں نے توقول ابن شجاع کی تردید کے لئے بیرون نماز مسنون ہیات پر ہونے کی صورت میں عدم نقض سے متعلق یہ تصحیح ذکر کی ہے (قول اول کے دو جز ہیں ایك یہ کہ اگر مسنون ہیات پر ہے تو ناقض نہیں اگرچہ بیرون نماز ہو ۔ دوسرا یہ کہ مسنون ہیات کے بر خلاف ہے تو ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو ۱۲) تو یہ قول اول کے جزاول کی تصحیح ہے جیسے بدائع کی عبارت وھو اقرب الی الصواب (درستی سے قریب تر ہے ) کیونکہ وہ بھی اسی تفصیل کی طر ف راجع ہے جو امام قمی نے بیرون نماز سجدہ سے متعلق ذکر کی جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔
تفصیل یہ ہے کہ قول اول دو دعووں پر مشتمل ہے ایك یہ کہ مسنون ہیات نہ ہونے کی صورت میں نیند ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو باقی تینوں قول “ اگر چہ “ کے مابعد میں قول اول کے مخالف ہیں(تینوں میں یہ قدر مشترك ہے کہ نماز میں مطلقا نقض وضو نہیں اگر چہ مسنون ہیات نہ ہو ۱۲) دوسرا دعوی یہ ہے کہ مسنون ہیات ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اگر چہ بیرون نماز ہو قول سوم اس دعوے میں اصل اور وصل ( بشرط ہیات وضو نہ ٹوٹنا اور اگر چہ
دون المخالف ولذلك لما سبق الی ذھن العلامۃ عمر بن نجیم ان شیخہ واخاہ رحمھما الله تعالی یدعی تصحیح الزیلعی للجزء المخالف نسبہ للسھو وعقبہ بتصحیح المحیط۔
قــال ط قال فی النھر مافی البحر من تصحیح الزیلعی لھذا فھو سہوبل فی عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء نوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الہیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح اھ۔ ثــم رأیت العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق حاول جواب النھر فنحانحو مانحوت ثم زلت قدم القلم حیث قال قول الشارح وصرح الزیلعی بانہ الاصح الضمیر المنصوب فیہ یعود الی قولہ وان کان خارجہا فکذلك الا فی
بیرون نماز) دونوں امر میں قول اول کے موافق ہے اورقول سوم کے اندر تصحیح اسی جز و موافق پر وارد ہے جز ومخالف پرنہیں یہی وجہ ہے کہ جب علامہ عمر بن نجیم صاحب نہر رحمۃ اللہ تعالی علیہکا ذہن اس طر ف چلاگیا کہ ان کے شیخ اور بر ادر صاحب نہر رحمۃ اللہ تعالی علیہجز و مخالف میں تصحیح زیلعی کے مدعی ہیں تو اسے صاحب بحر کا سہو قرار دیا اور اس کے بعد محیط کی تصحیح پیش کی ۔
طحطاوی صاحب نہرسے ناقل ہیں وہ فر ماتے ہیں “ بحر میں اس پر جو تصحیح زیلعی مذکور ہے وہ سہو ہے بلکہ عقد الفرائد میں ہے کہ اندرون نمازسجدہ کرنے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیات پر ہو ۔ یہ قید محیط میں بیان کی ہے اور یہی صحیح ہے اھ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں صاحب نہر کا جواب دینا چاہا تو اسی راہ پر چلے جس پر میں چلا پھر قلم لغزش کھاگیا ان کی پوری عبارت ( ہلالین میں نقد وتبصرہ کے ساتھ۱۲) ملاحظہ ہو فرماتے ہیں : شارح کے الفاظ اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ وہی اصح ہے اس میں ضمیر ان کے قول “ وان کان خارجھا فکذلك الا فی السجود الخ “ ( اگر بیرون نماز ہو تو بھی ایسا ہی ہے مگر سجدہ میں اس کے لئے مسنون
قــال ط قال فی النھر مافی البحر من تصحیح الزیلعی لھذا فھو سہوبل فی عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء نوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الہیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح اھ۔ ثــم رأیت العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق حاول جواب النھر فنحانحو مانحوت ثم زلت قدم القلم حیث قال قول الشارح وصرح الزیلعی بانہ الاصح الضمیر المنصوب فیہ یعود الی قولہ وان کان خارجہا فکذلك الا فی
بیرون نماز) دونوں امر میں قول اول کے موافق ہے اورقول سوم کے اندر تصحیح اسی جز و موافق پر وارد ہے جز ومخالف پرنہیں یہی وجہ ہے کہ جب علامہ عمر بن نجیم صاحب نہر رحمۃ اللہ تعالی علیہکا ذہن اس طر ف چلاگیا کہ ان کے شیخ اور بر ادر صاحب نہر رحمۃ اللہ تعالی علیہجز و مخالف میں تصحیح زیلعی کے مدعی ہیں تو اسے صاحب بحر کا سہو قرار دیا اور اس کے بعد محیط کی تصحیح پیش کی ۔
طحطاوی صاحب نہرسے ناقل ہیں وہ فر ماتے ہیں “ بحر میں اس پر جو تصحیح زیلعی مذکور ہے وہ سہو ہے بلکہ عقد الفرائد میں ہے کہ اندرون نمازسجدہ کرنے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیات پر ہو ۔ یہ قید محیط میں بیان کی ہے اور یہی صحیح ہے اھ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں صاحب نہر کا جواب دینا چاہا تو اسی راہ پر چلے جس پر میں چلا پھر قلم لغزش کھاگیا ان کی پوری عبارت ( ہلالین میں نقد وتبصرہ کے ساتھ۱۲) ملاحظہ ہو فرماتے ہیں : شارح کے الفاظ اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ وہی اصح ہے اس میں ضمیر ان کے قول “ وان کان خارجھا فکذلك الا فی السجود الخ “ ( اگر بیرون نماز ہو تو بھی ایسا ہی ہے مگر سجدہ میں اس کے لئے مسنون
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی ، علی الدر المختار ، کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ، ۱ / ۸۱
السجود الخ
(فـہـذا نحوما ذکرتہ ان التصحیح منسحب علی عدم النقض خارج الصلاۃ ایضا اذا کان علی ھیاۃ سنۃ ثم قال) خلاف مایوھمہ ظاھر العبارۃ من انہ راجع الی قولہ وھذا ھو القیاس اذھو اقرب ۔
اقــول : لا ھو فـــ۱متبادر من العبارۃ ولا ھو فـــ۲ مفہوم النہر ولا ھو فـــ۳ اقرب بل الاقرب قولہ الا اناترکناہ فیہا بالنص وھذا مافھم فی النھر ولذا عارضہ بتصحیح المحیط قال فی المنحۃ) و الاحسن ارجاعہ الی قولہ کذافی البدائع لان مافی البدائع من التفصیل ھو ماذکرہ الزیلعی ۔
(اقــول : الذی حط فـــ۴ علیہ کلام البدائع ہیات پر ہونا شرط ہے)کی طرف راجع ہے۔
( یہ وہی بات ہے جو میں نے بتائی کہ تصحیح اس پر منحصر ہے کہ بیرون نماز بھی ناقض نہیں جب کہ بطریق سنت ہو آگے لکھتے ہیں) بخلاف اس کے جس کاظاہر عبارت سے وہم ہوتا ہے کہ وہ تصحیح ان کے قول وھذا ھوالقیاس نماز میں بھی قیاس یہی ہے کہ ہیات کی شرط ہو مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترك کردیا ایسا ہی بدائع میں ہے کی طرف راجع ہے اس لئے کہ یہ مرجع قریب تر ہے ۔
اقول : نہ یہ عبارت سے متبادر ہے نہ ہی یہ نہر کا مفہوم ہے اور نہ ہی یہ اقر ب ہے بلکہ اقرب تو ان کا یہ قول ہے کہ مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترك کردیا یہی وہ ہے جسے صاحب نہر نے سمجھ لیا او راس کے معارضہ میں محیط کی تصحیح پیش کی آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں “ اور بہتر یہ ہے کہ ضمیران کے قول “ کذا فی البدائع ایسا ہی بدائع میں ہے “ کی طرف راجع ہو اس لئے کہ بدائع میں جو تفصیل ہے وہی امام زیلعی نے ذکر کی ہے ۔
اقول : کلام بدائع کا موردبیرون نماز
فـــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش فی المنحۃ فـــ۲ : معروضۃ اخری علیہ فـــ۳ : معرو ضۃ ثالثۃ علیہ
فـــ۴ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
(فـہـذا نحوما ذکرتہ ان التصحیح منسحب علی عدم النقض خارج الصلاۃ ایضا اذا کان علی ھیاۃ سنۃ ثم قال) خلاف مایوھمہ ظاھر العبارۃ من انہ راجع الی قولہ وھذا ھو القیاس اذھو اقرب ۔
اقــول : لا ھو فـــ۱متبادر من العبارۃ ولا ھو فـــ۲ مفہوم النہر ولا ھو فـــ۳ اقرب بل الاقرب قولہ الا اناترکناہ فیہا بالنص وھذا مافھم فی النھر ولذا عارضہ بتصحیح المحیط قال فی المنحۃ) و الاحسن ارجاعہ الی قولہ کذافی البدائع لان مافی البدائع من التفصیل ھو ماذکرہ الزیلعی ۔
(اقــول : الذی حط فـــ۴ علیہ کلام البدائع ہیات پر ہونا شرط ہے)کی طرف راجع ہے۔
( یہ وہی بات ہے جو میں نے بتائی کہ تصحیح اس پر منحصر ہے کہ بیرون نماز بھی ناقض نہیں جب کہ بطریق سنت ہو آگے لکھتے ہیں) بخلاف اس کے جس کاظاہر عبارت سے وہم ہوتا ہے کہ وہ تصحیح ان کے قول وھذا ھوالقیاس نماز میں بھی قیاس یہی ہے کہ ہیات کی شرط ہو مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترك کردیا ایسا ہی بدائع میں ہے کی طرف راجع ہے اس لئے کہ یہ مرجع قریب تر ہے ۔
اقول : نہ یہ عبارت سے متبادر ہے نہ ہی یہ نہر کا مفہوم ہے اور نہ ہی یہ اقر ب ہے بلکہ اقرب تو ان کا یہ قول ہے کہ مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترك کردیا یہی وہ ہے جسے صاحب نہر نے سمجھ لیا او راس کے معارضہ میں محیط کی تصحیح پیش کی آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں “ اور بہتر یہ ہے کہ ضمیران کے قول “ کذا فی البدائع ایسا ہی بدائع میں ہے “ کی طرف راجع ہو اس لئے کہ بدائع میں جو تفصیل ہے وہی امام زیلعی نے ذکر کی ہے ۔
اقول : کلام بدائع کا موردبیرون نماز
فـــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش فی المنحۃ فـــ۲ : معروضۃ اخری علیہ فـــ۳ : معرو ضۃ ثالثۃ علیہ
فـــ۴ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۸
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۸
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۸
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۸
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۳۸
التفصیل خارج الصلاۃ والاطلاق فی الصلوۃ فاذ ارجع الضمیر الی قولہ کذا فی البدائع یوھم ایہاما جلیا ان کل ھذا التفصیل والاطلاق صححہ الزیلعی وحینئذ یردا یراد النھر بحیث لامردلہ فان التصحیح انما ذکرہ الزیلعی فی التفصیل دون الاطلاق فھو تسلیم للایراد لا دفعہ وقد وقع فـــ ھذا الایہام بابین وجہ فی کلامکم حیث ذکرتم کلام البدائع ثم قلتم وصحح الزیلعی مافی البدائع فلولا ان ذکرتم ثم نص الزیلعی لاستحکم الایہام ورسخ فی ذھن من لم یراجع التبیین قال فی المنحۃ) ومما یؤید ان الضمیر لیس راجعا الی ماھو القیاس قولہ الاتی مقتضی الاصح المتقدم الخ وبہ سقط نسبۃ السہو الی المؤلف التی ذکرھا فی النھر اھ
تفصیل اوراندرون نماز اطلاق پر ہے۔ تو جب ضمیر کذا فی البدائع کی طرف راجع ہوگی تو اس سے عیاں طور پر یہ وہم پیداہوگا کہ امام زیلعی نے اس تفصیل اورا طلاق سب کی تصحیح فرمائی ہے ایسی صورت میں صاحب نہر کا اعتراف اور زیادہ قوی ہوجائے گا جس کا کوئی جواب نہ ہوگا اس لئے کہ امام زیلعی نے تصحیح صرف تفصیل سے متعلق ذکر کی ہے اطلاق سے متعلق نہیں تو یہ مان کر آپ نے صاحب نہر کا جواب نہ دیا بلکہ ان کا اعتراض تسلیم کرلیا اور یہ ایہام آپ کی عبارت میں بہت واضح طور سے واقع ہے اس لئے کہ آپ نے پہلے بدائع کا کلام ذکر کیا پھر فرمایا کہ “ وصحح الزیلعی مافی البدائع “ اور امام زیلعی نے اس کی تصحیح فرمائی ہے جو بدائع میں ہے اگر وہاں آپ نے امام زیلعی کی اصل عبارت نہ ذکر کر دی ہوتی تو یہ ایہام مستحکم اور اس کے ذہن میں راسخ ہوجاتا جس نے خود تبین الحقائق ( للامام الزیلعی) کی مراجعت نہ کی ہو آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں ) ماھو القیاس کی طر ف راجع نہ ہونے کی تائید ان کی اگلی عبارت مقتضی الاصح المتقدم الخ سے بھی ہوتی ہے اور اسی سے مولف کی جانب اس سہوکا انتساب ساقط ہوجاتا ہے جو نہر میں ذکر کیا ہے اھ
فـــ : معروضۃ خامسۃ علیہ
تفصیل اوراندرون نماز اطلاق پر ہے۔ تو جب ضمیر کذا فی البدائع کی طرف راجع ہوگی تو اس سے عیاں طور پر یہ وہم پیداہوگا کہ امام زیلعی نے اس تفصیل اورا طلاق سب کی تصحیح فرمائی ہے ایسی صورت میں صاحب نہر کا اعتراف اور زیادہ قوی ہوجائے گا جس کا کوئی جواب نہ ہوگا اس لئے کہ امام زیلعی نے تصحیح صرف تفصیل سے متعلق ذکر کی ہے اطلاق سے متعلق نہیں تو یہ مان کر آپ نے صاحب نہر کا جواب نہ دیا بلکہ ان کا اعتراض تسلیم کرلیا اور یہ ایہام آپ کی عبارت میں بہت واضح طور سے واقع ہے اس لئے کہ آپ نے پہلے بدائع کا کلام ذکر کیا پھر فرمایا کہ “ وصحح الزیلعی مافی البدائع “ اور امام زیلعی نے اس کی تصحیح فرمائی ہے جو بدائع میں ہے اگر وہاں آپ نے امام زیلعی کی اصل عبارت نہ ذکر کر دی ہوتی تو یہ ایہام مستحکم اور اس کے ذہن میں راسخ ہوجاتا جس نے خود تبین الحقائق ( للامام الزیلعی) کی مراجعت نہ کی ہو آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں ) ماھو القیاس کی طر ف راجع نہ ہونے کی تائید ان کی اگلی عبارت مقتضی الاصح المتقدم الخ سے بھی ہوتی ہے اور اسی سے مولف کی جانب اس سہوکا انتساب ساقط ہوجاتا ہے جو نہر میں ذکر کیا ہے اھ
فـــ : معروضۃ خامسۃ علیہ
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۸
اقول : کل کلامہ رحمہ الله تعالی مبتن علی انہ فھم فھم النھر رجوع الضمیر الی ماھو القیاس وقد علمت انہ غیر الواقع الا تری الی قولہ بل فی عقدالفرائد ولو کان کما فھمتم لقال نعم فی عقدالفرائد لکن فــــ ارشدتم الی وجہ اخر شید مبانی ایراد النھر فان البحر ذکر بعدہ مسألۃ تعمد النوم فی الصلاۃ وان ابا یوسف یقول فیہ بالنقض والمختار لاوان قاضی خان فصل فجعلہ ناقضافی السجود دون الرکوع وان المحقق فی الفتح حملہ علی سجود لم یتجاف فیہ ثم قال البحر وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لاینتقض بالنوم فی السجود مطلقا اھ ای سواء کان متجافیا اولا فقد
اقول : علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے سارے کلام کی بنیاد اس پر ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ صاحب نہر نے ضمیر کا مرجع ماھوا لقیاس کو سمجھا ہے اور واضح ہوچکا کہ واقعہ ایسا نہیں صاحب نہر کے الفاظ دیکھئے وہ لکھتے ہیں بل فی عقد الفرائد (بلکہ عقد الفرائد میں ہے) کہ اندرون نماز سجدہ کر نے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیت پر ہو ) اگر ان کے فہم میں وہ ہوتا جو ان سے متعلق آپ نے سمجھا تو وہ یوں کہتے نعم فی عقد الفرائد (ہاں عقد الفرائد میں ایسا ہے) لیکن آپ نے تو ایك دوسرے ہی رخ کی رہنمائی فرمائی جس نے صاحب نہر کے اعتراض کی بنیادیں اور زیادہ مضبوط کردیں اس لئے کہ صاحب بحر نے اس کے بعد نماز کے اندر قصدا سونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ امام ابویوسف ایسی نیند کے ناقض وضو ہونے کے قائل ہیں اور مختار یہ ہے کہ ناقض نہیں اور یہ کہ امام قاضی خان نے تفصیل کی ہے انہوں نے اس نیند کو سجدے میں ناقض قرار دیا ہے اور رکوع میں نہیں اور یہ کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسے ایسے سجدے پر محمول کیا ہے جس میں کروٹیں جدا نہ ہو ں اس کے بعد صاحب بحر نے فرمایا ہے
فــــ : معروضۃ سادسۃ علیہ
اقول : علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے سارے کلام کی بنیاد اس پر ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ صاحب نہر نے ضمیر کا مرجع ماھوا لقیاس کو سمجھا ہے اور واضح ہوچکا کہ واقعہ ایسا نہیں صاحب نہر کے الفاظ دیکھئے وہ لکھتے ہیں بل فی عقد الفرائد (بلکہ عقد الفرائد میں ہے) کہ اندرون نماز سجدہ کر نے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیت پر ہو ) اگر ان کے فہم میں وہ ہوتا جو ان سے متعلق آپ نے سمجھا تو وہ یوں کہتے نعم فی عقد الفرائد (ہاں عقد الفرائد میں ایسا ہے) لیکن آپ نے تو ایك دوسرے ہی رخ کی رہنمائی فرمائی جس نے صاحب نہر کے اعتراض کی بنیادیں اور زیادہ مضبوط کردیں اس لئے کہ صاحب بحر نے اس کے بعد نماز کے اندر قصدا سونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ امام ابویوسف ایسی نیند کے ناقض وضو ہونے کے قائل ہیں اور مختار یہ ہے کہ ناقض نہیں اور یہ کہ امام قاضی خان نے تفصیل کی ہے انہوں نے اس نیند کو سجدے میں ناقض قرار دیا ہے اور رکوع میں نہیں اور یہ کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسے ایسے سجدے پر محمول کیا ہے جس میں کروٹیں جدا نہ ہو ں اس کے بعد صاحب بحر نے فرمایا ہے
فــــ : معروضۃ سادسۃ علیہ
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
افصح انہ جعل الاطلاق فی الصلاۃ ھو الاصح فظھرانہ رحمہ الله تعالی اراد بالضمیر قولہ ترکناہ فیہا بالنص کما کان ھو اقرب المتبادر وایاہ فھم فی النھر وحینئذ ھو سھو لاریب فیہ ۔
وبالجملۃ تصحیح الزیلعی کالبدائع لامساس لہ بمخالفۃ مانرتضیہ ا ماما ذکر فی الخانیۃ ان النقض مطلقا فی السجود خارج الصلاۃ ظاھر الروایۃ وقدمہ وھو فـــ یقدم الاظھر الاشھر وعبر عن قول التفصیل بالھیاۃ بقیل فافاد ضعفہ فاعلم انہ قال ذلك ولم یوافق علیہ بل جعل فی الخلاصۃ ظاھر المذھب
“ وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقا اھ “
کہا جاتا ہے کہ اصح متقدم کا تقاضایہ ہے کہ مطلقا سجدہ میں نیند سے وضو نہ ٹوٹے یعنی کروٹیں جدا ہوں یا نہ ہوں اس نے تو اسے صاف واضح کردیا کہ نماز میں اطلاق ہی اصح ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ضمیر سے اپنا قول “ ترکناہ فیھا بالنص نماز میں اس قیاس کو ہم نے نص کی وجہ سے ترك کردیا “ مراد لیاہے جیسا کہ قریب تر اور متبادر یہی تھا اور اسی کو صاحب نہر نے سمجھا بھی ایسی صورت میں تو بلا شبہ یہ سہو ہے ۔
بالجملہ بدائع کی طر ح تصحیح زیلعی کو بھی ہمارے پسند کردہ قول کی مخالفت سے کوئی مس نہیں لیکن وہ جو خانیہ میں مذکور ہے کہ بیرون نماز کے سجدے میں مطلقا ناقض ہونا ظاہر الروایہ ہے اور امام قاضی خاں نے اسی کو مقدم کیا ہے اوروہ اظہر اشہر ہی کو مقدم کرتے ہیں اور تفصیل والے قول کو انہوں نے قیل سے تعبیر کر کے اس کے ضعف کاافادہ کیا ہے تو واضح ہو کہ انہوں نے یہ کہا ہے مگر اس پر ان کی موافقت نہ ہو ئی بلکہ خلاصہ میں نماز اور بیرون نماز کے
فـــ : الامام قاضی خان انما یقدم الاظھر الاشھر ای اذا لم یصرح بتصحیح غیرہ۔
وبالجملۃ تصحیح الزیلعی کالبدائع لامساس لہ بمخالفۃ مانرتضیہ ا ماما ذکر فی الخانیۃ ان النقض مطلقا فی السجود خارج الصلاۃ ظاھر الروایۃ وقدمہ وھو فـــ یقدم الاظھر الاشھر وعبر عن قول التفصیل بالھیاۃ بقیل فافاد ضعفہ فاعلم انہ قال ذلك ولم یوافق علیہ بل جعل فی الخلاصۃ ظاھر المذھب
“ وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقا اھ “
کہا جاتا ہے کہ اصح متقدم کا تقاضایہ ہے کہ مطلقا سجدہ میں نیند سے وضو نہ ٹوٹے یعنی کروٹیں جدا ہوں یا نہ ہوں اس نے تو اسے صاف واضح کردیا کہ نماز میں اطلاق ہی اصح ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ضمیر سے اپنا قول “ ترکناہ فیھا بالنص نماز میں اس قیاس کو ہم نے نص کی وجہ سے ترك کردیا “ مراد لیاہے جیسا کہ قریب تر اور متبادر یہی تھا اور اسی کو صاحب نہر نے سمجھا بھی ایسی صورت میں تو بلا شبہ یہ سہو ہے ۔
بالجملہ بدائع کی طر ح تصحیح زیلعی کو بھی ہمارے پسند کردہ قول کی مخالفت سے کوئی مس نہیں لیکن وہ جو خانیہ میں مذکور ہے کہ بیرون نماز کے سجدے میں مطلقا ناقض ہونا ظاہر الروایہ ہے اور امام قاضی خاں نے اسی کو مقدم کیا ہے اوروہ اظہر اشہر ہی کو مقدم کرتے ہیں اور تفصیل والے قول کو انہوں نے قیل سے تعبیر کر کے اس کے ضعف کاافادہ کیا ہے تو واضح ہو کہ انہوں نے یہ کہا ہے مگر اس پر ان کی موافقت نہ ہو ئی بلکہ خلاصہ میں نماز اور بیرون نماز کے
فـــ : الامام قاضی خان انما یقدم الاظھر الاشھر ای اذا لم یصرح بتصحیح غیرہ۔
حوالہ / References
فتاویٰ قاضی خان کتاب الطھارۃ فصل النوم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
عدم الفرق فی الصلاۃ وخارجہا وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ انہ المشہور وفیھا عن البدائع ان علیہ العامۃ وفیھا عن التحفہ انہ الاصح
و قال فی الھدایۃ ھوالصحیح وقال فی العنایۃ الذی صححہ وھو ظاھر الروایۃ وانما نسب العنایۃ وکتب اخر الفرق الی ابن شجاع بل فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ابی الحسین القدوری انہ قال فیما عن ابن شجاع انہ اذا نام خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الساجد ینقض وضوؤہ ھذا قولہ ولم یقل بہ احد من اصحابنا اھ
وفی ھذا مایکفینا للخروج عن عھدتہ ولله الحمد۔
درمیان عدم فرق کو ہی ظاہر مذہب قرار دیا حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے کہ یہی مشہور ہے اوراسی میں بدائع کے حوالے سے ہے کہ اسی پر عامہ علماء ہیں اسی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ وہی اصح ہے ہدایہ میں فرمایا ہے کہ وہی صحیح ہے عنایہ میں فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے جسے صحیح کہا وہی ظاہر الروایہ ہے عنایہ اور دوسری کتابوں میں نماز بیرون نماز کی تفریق ابن شجاع کی جانب منسوب ہے بلکہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام ابو الحسین قدوری سے منقول ہے کہ انہوں نے ابن شجاع سے مروی اس مسئلہ سے متعلق کہ جب سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائیگا یہ فرمایا کہ یہ ابن شجاع کا اپنا قول ہے ہمارے اصحاب میں سے کوئی اس کا قائل نہیں اھ اس تصریح میں اس قول سے ہماری سبکدوشی کے لئے سب کچھ موجود ہے ولله الحمد۔
و قال فی الھدایۃ ھوالصحیح وقال فی العنایۃ الذی صححہ وھو ظاھر الروایۃ وانما نسب العنایۃ وکتب اخر الفرق الی ابن شجاع بل فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ابی الحسین القدوری انہ قال فیما عن ابن شجاع انہ اذا نام خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الساجد ینقض وضوؤہ ھذا قولہ ولم یقل بہ احد من اصحابنا اھ
وفی ھذا مایکفینا للخروج عن عھدتہ ولله الحمد۔
درمیان عدم فرق کو ہی ظاہر مذہب قرار دیا حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے کہ یہی مشہور ہے اوراسی میں بدائع کے حوالے سے ہے کہ اسی پر عامہ علماء ہیں اسی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ وہی اصح ہے ہدایہ میں فرمایا ہے کہ وہی صحیح ہے عنایہ میں فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے جسے صحیح کہا وہی ظاہر الروایہ ہے عنایہ اور دوسری کتابوں میں نماز بیرون نماز کی تفریق ابن شجاع کی جانب منسوب ہے بلکہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام ابو الحسین قدوری سے منقول ہے کہ انہوں نے ابن شجاع سے مروی اس مسئلہ سے متعلق کہ جب سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائیگا یہ فرمایا کہ یہ ابن شجاع کا اپنا قول ہے ہمارے اصحاب میں سے کوئی اس کا قائل نہیں اھ اس تصریح میں اس قول سے ہماری سبکدوشی کے لئے سب کچھ موجود ہے ولله الحمد۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی ، کتاب الطہارات ، الفصل الثالث فی نواقض الوضوء ، امام النوم مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۸
رد المحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الطہارۃ ، بحث نواقض الوضوء ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہدایۃ ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰
العنایۃ شر ح الہدایۃ علے ہامش فتح القدیر ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
رد المحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الطہارۃ ، بحث نواقض الوضوء ، دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۹۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہدایۃ ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ، المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۰
العنایۃ شر ح الہدایۃ علے ہامش فتح القدیر ، فصل فی نواقض الوضوء ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۴۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فاستبان ان القول الاول ھو المحتظی بصریح التصحیح۔
الرابع ھو الاقوی من حیث الدلیل اعلم انہ اذقد تحقق ان القول الاول علیہ الاکثر وعلیہ المتون ولہ التصحیح ولو کان بعض ھذہ لمساغ لمثلی ان یتکلم عن الدلیل فکیف وقد اجتمعت۔
فالان اقول : وبحول ربی احول اخرج الائمۃ احمد وابو داؤد والترمذی وابو بکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ والطبرانی فی المعجم الکبیر والدار قطنی والبیہقی فی سننھما من طریق ابی خالد یزید بن عبدالرحمن الدالانی عن قتادۃ عن ابی العالیۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما انہ رأی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نام وھو ساجد حتی غط او نفخ ثم قام یصلی فقلت یارسول الله انك قدنمت قال ان الوضوء لایجب الا علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ھذا لفظ الترمذی
تو یہ واضح وروشن ہوگیا کہ قول اول ہی صریح تصحیح سے بہرہ ور ہے ۔ وجہ چہارم : دلیل کے لحاظ سے بھی قول اول ہی زیادہ قوی ہے واضح ہو کہ جب یہ تحقیق ہوگئی کہ قول اول ہی پر اکثر ہیں اسی پر متون ہیں اسی کی تصحیح ہے اور اگر ان باتوں میں سے ایك بھی ہوتی تو مجھ جیسے شخص کے لئے دلیل سے متعلق کلام کا جوا ز ہوجاتا پھر جب یہ سب جمع ہیں تو مجھے یہ حق کیوں نہ ہوگا ۔
تو اب میں کہتا ہوں اور اپنے ر ب ہی کی قدرت سے حرکت میں آتاہوں امام احمد ابوداؤد ترمذی ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف میں طبرانی معجم کبیر میں دار قطنی اور بیہقی اپنی اپنی سنن میں بطریق ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دالانی قتادہ سے وہ ابو العالیہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں کہ انہوں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو سجدے میں نیند آئی یہاں تك کہ سونے میں دہن مبارك یا بینی مبارك کی آواز آئی پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تومیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو تو نیند آگئی تھی فرمایا وضو واجب نہیں ہوتا مگر اسی پر جو کروٹ لیٹ کر سوجائے اس لئے کہ جب وہ کروٹ لیٹے گاتو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے یہ ترمذی کے الفاظ ہیں ۔
الرابع ھو الاقوی من حیث الدلیل اعلم انہ اذقد تحقق ان القول الاول علیہ الاکثر وعلیہ المتون ولہ التصحیح ولو کان بعض ھذہ لمساغ لمثلی ان یتکلم عن الدلیل فکیف وقد اجتمعت۔
فالان اقول : وبحول ربی احول اخرج الائمۃ احمد وابو داؤد والترمذی وابو بکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ والطبرانی فی المعجم الکبیر والدار قطنی والبیہقی فی سننھما من طریق ابی خالد یزید بن عبدالرحمن الدالانی عن قتادۃ عن ابی العالیۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما انہ رأی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نام وھو ساجد حتی غط او نفخ ثم قام یصلی فقلت یارسول الله انك قدنمت قال ان الوضوء لایجب الا علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ھذا لفظ الترمذی
تو یہ واضح وروشن ہوگیا کہ قول اول ہی صریح تصحیح سے بہرہ ور ہے ۔ وجہ چہارم : دلیل کے لحاظ سے بھی قول اول ہی زیادہ قوی ہے واضح ہو کہ جب یہ تحقیق ہوگئی کہ قول اول ہی پر اکثر ہیں اسی پر متون ہیں اسی کی تصحیح ہے اور اگر ان باتوں میں سے ایك بھی ہوتی تو مجھ جیسے شخص کے لئے دلیل سے متعلق کلام کا جوا ز ہوجاتا پھر جب یہ سب جمع ہیں تو مجھے یہ حق کیوں نہ ہوگا ۔
تو اب میں کہتا ہوں اور اپنے ر ب ہی کی قدرت سے حرکت میں آتاہوں امام احمد ابوداؤد ترمذی ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف میں طبرانی معجم کبیر میں دار قطنی اور بیہقی اپنی اپنی سنن میں بطریق ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دالانی قتادہ سے وہ ابو العالیہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں کہ انہوں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو سجدے میں نیند آئی یہاں تك کہ سونے میں دہن مبارك یا بینی مبارك کی آواز آئی پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تومیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو تو نیند آگئی تھی فرمایا وضو واجب نہیں ہوتا مگر اسی پر جو کروٹ لیٹ کر سوجائے اس لئے کہ جب وہ کروٹ لیٹے گاتو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے یہ ترمذی کے الفاظ ہیں ۔
حوالہ / References
سنن الترمذی ، ابواب الطہارۃ ، باب جاء فی الوضوء من النوم ، الحدیث ۷۷ ، دار الفکر بیروت ، ۱ / ۱۳۵
وفی لفظ لاحمدان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لیس علی من نام ساجدا وضوء حتی یضطجع فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ولابی داؤد انما الوضوء علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ
وللدار قطنی لاوضو علی من نام قاعدا انما الوضو علی من نام مضطجعا فان نام مضطجعا استرخت مفاصلہ اھ وللبہیقی لایجب الوضوء علی من نام جالسا اوقائما اوساجدا حتی یضع جنبہ فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ وذکر المحقق فی الفتح حدیثا اخر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ فیہ مھدی بن ھلال واخر عن ابن عباس
امام احمد کی ایك روایت کے الفاط یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جو سجدے کی حالت میں سوجائے اس پر وضو نہیں یہاں تك کہ کروٹ لیٹے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں وضو اسی پر ہے جو کروٹ لیٹ کر سوجائے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے
دار قطنی کے الفاظ یہ ہیں ۔ اس پر وضو نہیں جو بیٹھا ہوا سوجائے وضو اس پر ہے جو کہ کروٹ لیٹ کر سوئے اس لئے کہ جو کروٹ لیٹ کر سوئے گا اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے
بیہقی کے الفاظ یہ ہیں اس پر وضو واجب نہیں جو بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے یا سجدہ میں سوجائے یہاں تك کہ اپنی کروٹ زمین پر رکھ دے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں ایك دوسری حدیث بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ذکر کی ہے اس میں ایك راوی مہدی بن ہلال ہے او رایك حدیث بروایت حضرت
وللدار قطنی لاوضو علی من نام قاعدا انما الوضو علی من نام مضطجعا فان نام مضطجعا استرخت مفاصلہ اھ وللبہیقی لایجب الوضوء علی من نام جالسا اوقائما اوساجدا حتی یضع جنبہ فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ وذکر المحقق فی الفتح حدیثا اخر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ فیہ مھدی بن ھلال واخر عن ابن عباس
امام احمد کی ایك روایت کے الفاط یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جو سجدے کی حالت میں سوجائے اس پر وضو نہیں یہاں تك کہ کروٹ لیٹے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں وضو اسی پر ہے جو کروٹ لیٹ کر سوجائے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے
دار قطنی کے الفاظ یہ ہیں ۔ اس پر وضو نہیں جو بیٹھا ہوا سوجائے وضو اس پر ہے جو کہ کروٹ لیٹ کر سوئے اس لئے کہ جو کروٹ لیٹ کر سوئے گا اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے
بیہقی کے الفاظ یہ ہیں اس پر وضو واجب نہیں جو بیٹھے بیٹھے یا کھڑے کھڑے یا سجدہ میں سوجائے یہاں تك کہ اپنی کروٹ زمین پر رکھ دے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں ایك دوسری حدیث بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ذکر کی ہے اس میں ایك راوی مہدی بن ہلال ہے او رایك حدیث بروایت حضرت
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن عبد اللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۵۶
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء من النوم آفتا ب علم پریس لاہور ۱ / ۲۷
سنن الدرا قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۵ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۷۶
السنن الکبری کتاب الطہارۃ باب ورد فی نوم المساجد دارصادر بیروت ۱ / ۱۲۱
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء من النوم آفتا ب علم پریس لاہور ۱ / ۲۷
سنن الدرا قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۵ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۷۶
السنن الکبری کتاب الطہارۃ باب ورد فی نوم المساجد دارصادر بیروت ۱ / ۱۲۱
عن حذیفۃ بن الیمان رضی الله تعالی عنہم فیہ بحر بن کنیز عــــہ۱ السقاء عــــہ ۲ ثم قال وانت اذا تأملت فیما اوردناہ لم ینزل عندك الحدیث عن درجۃ الحسن اھ
قال فی الغنیۃ لما تقرران ضعف الراوی اذاکان بسبب الغفلۃ دون الفسق یزول بالمتابعۃ ویعلم بھا ان ذلك الحدیث مما اجاد فیہ ولم یھم فیکون حسنا اھ۔
اقول : اما فـــ۱ ابن ھلال فلا فـــ۲ یصلح متابعا فقد کذبہ یحیی بن سعید ابن عباس حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہمسے ذکر کی ہے اس میں ایك روای بحرین کنیز سقاء ہے پھر فرمایا ہے : ہم نے حدیث جن طرق سے نقل کی ہے ان میں غور کرو گے تو حدیث تمہارے نزدیك درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی اھ
غنیہ میں فرمایا اس لئے کہ یہ طے شدہ ہے کہ راوی کا ضعف جب فسق کی وجہ سے نہ ہو غفلت کی وجہ سے ہو تو وہ متابعت سے دور ہوجاتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ روای نے اس میں عمدگی برتی ہے اور وہم کا شکار نہ ہواتو وہ حدیث حسن ہوجاتی ہے اھ
اقول ابن ہلال تو متا بعت کے قابل نہیں یحیی بن سعید نے اسے کا ذب کہا ۔
فـــ ۱ : تطفل علی الفتح والغنیۃ ۔
فـــ ۲ : طرح مھدی بن ھلال۔
عــــہ۱ : بنون وزای ووقع فی نسخ الفتح و الغنیہ و نصب الرایۃ وغیرھا ا لمطبوعات کلھا کثیر بثاء وراء وھوتصحیف ۔
عــــہ۲ : کان یسقی الحجاج فسمی السقاء ۱۲ منہ۔
عــــہ۱ : نون اور زاسے اور فتح غنیہ نصب الرایہ وغیرہا کے سبھی مطبوعہ نسخوں میں ثا اور راسے کثیر چھپاہوا ہے یہ تصحیف ہے۔ ۱۲منہ(ت)
عــــہ۲ : یہ حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس لئے سقاء نام پڑگیا ۱۲منہ(ت)
قال فی الغنیۃ لما تقرران ضعف الراوی اذاکان بسبب الغفلۃ دون الفسق یزول بالمتابعۃ ویعلم بھا ان ذلك الحدیث مما اجاد فیہ ولم یھم فیکون حسنا اھ۔
اقول : اما فـــ۱ ابن ھلال فلا فـــ۲ یصلح متابعا فقد کذبہ یحیی بن سعید ابن عباس حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہمسے ذکر کی ہے اس میں ایك روای بحرین کنیز سقاء ہے پھر فرمایا ہے : ہم نے حدیث جن طرق سے نقل کی ہے ان میں غور کرو گے تو حدیث تمہارے نزدیك درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی اھ
غنیہ میں فرمایا اس لئے کہ یہ طے شدہ ہے کہ راوی کا ضعف جب فسق کی وجہ سے نہ ہو غفلت کی وجہ سے ہو تو وہ متابعت سے دور ہوجاتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ روای نے اس میں عمدگی برتی ہے اور وہم کا شکار نہ ہواتو وہ حدیث حسن ہوجاتی ہے اھ
اقول ابن ہلال تو متا بعت کے قابل نہیں یحیی بن سعید نے اسے کا ذب کہا ۔
فـــ ۱ : تطفل علی الفتح والغنیۃ ۔
فـــ ۲ : طرح مھدی بن ھلال۔
عــــہ۱ : بنون وزای ووقع فی نسخ الفتح و الغنیہ و نصب الرایۃ وغیرھا ا لمطبوعات کلھا کثیر بثاء وراء وھوتصحیف ۔
عــــہ۲ : کان یسقی الحجاج فسمی السقاء ۱۲ منہ۔
عــــہ۱ : نون اور زاسے اور فتح غنیہ نصب الرایہ وغیرہا کے سبھی مطبوعہ نسخوں میں ثا اور راسے کثیر چھپاہوا ہے یہ تصحیف ہے۔ ۱۲منہ(ت)
عــــہ۲ : یہ حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس لئے سقاء نام پڑگیا ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
فتح القدیرکتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۵
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ، فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۱۳۸
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ، فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۱۳۸
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
وقال ابن معین یضع الحدیث وقال ابن المدینی کان یتھم بالکذب وقال الدار قطنی وغیرہ متروک
واما فــــ۱ ابن کنیز فقال النسائی والدار قطنی متروك وھو قضیۃ قول ابن معین لایکتب حدیثہ لکن الحافظ فی التقریب اقتصر علی انہ ضعیف تبعا للبخاری وابی حاتم فکان یجب اسقاط الاول وما کان کبیر حاجۃ الی الاخر فان الحدیث بنفسہ لاینزل عن درجۃ الحسن علی اصولنا ان شاء الله تعالی وکلام الاثرین ماش علی اصولہم من ردالمراسیل وعنعنۃ المدلسین مطلقا۔
اما فــــ۲ الکلام فی الدالانی و
ابن معین نے کہا وہ حدیث وضع کرتا تھا ابن مدینی نے کہا مہتم بالکذب تھا دار قطنی اور ان کے علاوہ نے بھی کہا متروك ہے ۔
رہاابن کنیز تو اس کے بارے میں نسائی اوردار قطنی نے کہا متروك ہے یہی ابن معین کے قول “ لایکتب حدیثہ “ ( اس کی حدیث نہ لکھی جائے) کا بھی تقاضا ہے لیکن حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں بہ تبعیت امام بخاری وابو حاتم اسے ضعیف بتانے پر اکتفاکی تو پہلی روایت ( روایت ابن ہلال )کو ساقط کر دینا واجب تھا اور دوسری (روایت ابن کنیز )کی بھی کوئی بڑی ضرورت نہ تھی اس لئے کہ اصل حدیث ہمارے اصول کی رو سے خود ہی درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی ان شاء الله تعالی اور محدثین کا کلام ان کے اپنے اصول پر جاری ہے کہ مرسل حدیثیں اور اہل تدلیس کا عنعنہ مطلقا نامقبول ہے ۔
رہا دالانی سے متعلق کلام اور
فــــ۱ : جرح بحربن کنیز السقاء
فــــ۲ : تمشیۃ یزید بن عبدالرحمن الدالانی ۔
واما فــــ۱ ابن کنیز فقال النسائی والدار قطنی متروك وھو قضیۃ قول ابن معین لایکتب حدیثہ لکن الحافظ فی التقریب اقتصر علی انہ ضعیف تبعا للبخاری وابی حاتم فکان یجب اسقاط الاول وما کان کبیر حاجۃ الی الاخر فان الحدیث بنفسہ لاینزل عن درجۃ الحسن علی اصولنا ان شاء الله تعالی وکلام الاثرین ماش علی اصولہم من ردالمراسیل وعنعنۃ المدلسین مطلقا۔
اما فــــ۲ الکلام فی الدالانی و
ابن معین نے کہا وہ حدیث وضع کرتا تھا ابن مدینی نے کہا مہتم بالکذب تھا دار قطنی اور ان کے علاوہ نے بھی کہا متروك ہے ۔
رہاابن کنیز تو اس کے بارے میں نسائی اوردار قطنی نے کہا متروك ہے یہی ابن معین کے قول “ لایکتب حدیثہ “ ( اس کی حدیث نہ لکھی جائے) کا بھی تقاضا ہے لیکن حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں بہ تبعیت امام بخاری وابو حاتم اسے ضعیف بتانے پر اکتفاکی تو پہلی روایت ( روایت ابن ہلال )کو ساقط کر دینا واجب تھا اور دوسری (روایت ابن کنیز )کی بھی کوئی بڑی ضرورت نہ تھی اس لئے کہ اصل حدیث ہمارے اصول کی رو سے خود ہی درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی ان شاء الله تعالی اور محدثین کا کلام ان کے اپنے اصول پر جاری ہے کہ مرسل حدیثیں اور اہل تدلیس کا عنعنہ مطلقا نامقبول ہے ۔
رہا دالانی سے متعلق کلام اور
فــــ۱ : جرح بحربن کنیز السقاء
فــــ۲ : تمشیۃ یزید بن عبدالرحمن الدالانی ۔
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
میزان الاعتدال ترجمہ بحربن کنیز ۱۱۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۸
میزان الاعتدال ترجمہ بحربن کنیز ۱۱۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۸
تقریب التہذیب ترجمہ بحربن کنیز ۶۳۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۲۱
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
میزان الاعتدال ترجمہ مہدی بن ہلال ۸۸۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۱۹۶
میزان الاعتدال ترجمہ بحربن کنیز ۱۱۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۸
میزان الاعتدال ترجمہ بحربن کنیز ۱۱۲۷ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۸
تقریب التہذیب ترجمہ بحربن کنیز ۶۳۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۲۱
ما افحش فیہ ابن حبان من القول کعادتہ فقال کثیر الخطاء فاحش الوھم لایجوز الاحتجاج بہ اذا وافق الثقات فکیف اذا تفرد عنھم با لمعضلات فمردود بان البخاری قال فیہ ابو خالد صدوق لکنہ یھم بالشیئ وقال احمد وابن معین والنسائی لاباس بہ وقال ابو حاتم صدوق وقال الذھبی فی المغنی مشہور حسن الحدیث
وما فــــ ذکر ابو داؤد عن شعبۃ ھھنا عــــہ
ان سے متعلق ابن حبان نے حسب عادت جو سخت کلامی کی اور کہا وہ کثیر الخطاء فاحش الوہم ہے جب ثقات کے موافق ہو تو اس سے استناد روا نہیں پھر معضلات میں جب ثقات سے متفرد ہو تو اس سے کیوں کر استدلال ہوگا تو یہ سب اس وجہ سے نامقبول ہے کہ امام بخاری نے ان کے بارے میں فرمایا ابو خالد صدوق ہیں لیکن انہیں کچھ وہم ہوتا ہے ۔ امام احمد ابن معین اور نسائی نے کہا لاباس بہ ( ان میں کوئی حرج نہیں)ابوحاتم نے کہا صدوق (بہت راست باز ) ہیں ۔ ذہبی نے مغنی میں کہا مشہور حسن الحدیث ہیں۔ وہ کلام جو ابو داؤد نے یہاں امام شعبہ سے
فــــ : قالوا لم یسمع قتادۃ من ابی العالیہ الاربعہ اوثلثۃ)
عـــــہ : ای فی باب الوضو من النوم لاکما یتوھم من کلام الامام الزیلعی المخرج انہ ذکر ھھنا مایدل علی ان قتادۃ لم یسمع ھذا الحدیث من ابی العالیۃ ونقل کلام من شعبۃ فی موضع اخر۔ (۱۲م)
یعنی نیند سے وضو کے باب میں ویسا نہیں جیسا کہ امام زیلعی مخرج حدیث (صاحب نصب الرایہ کے کلام سے وہم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہاں وہ ذکر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ قتادہ نے یہ حدیث ابوالعالیہ سے نہ سنی اور امام شعبہ کا کلام ایك دوسرے مقام پر نقل کیا )
وما فــــ ذکر ابو داؤد عن شعبۃ ھھنا عــــہ
ان سے متعلق ابن حبان نے حسب عادت جو سخت کلامی کی اور کہا وہ کثیر الخطاء فاحش الوہم ہے جب ثقات کے موافق ہو تو اس سے استناد روا نہیں پھر معضلات میں جب ثقات سے متفرد ہو تو اس سے کیوں کر استدلال ہوگا تو یہ سب اس وجہ سے نامقبول ہے کہ امام بخاری نے ان کے بارے میں فرمایا ابو خالد صدوق ہیں لیکن انہیں کچھ وہم ہوتا ہے ۔ امام احمد ابن معین اور نسائی نے کہا لاباس بہ ( ان میں کوئی حرج نہیں)ابوحاتم نے کہا صدوق (بہت راست باز ) ہیں ۔ ذہبی نے مغنی میں کہا مشہور حسن الحدیث ہیں۔ وہ کلام جو ابو داؤد نے یہاں امام شعبہ سے
فــــ : قالوا لم یسمع قتادۃ من ابی العالیہ الاربعہ اوثلثۃ)
عـــــہ : ای فی باب الوضو من النوم لاکما یتوھم من کلام الامام الزیلعی المخرج انہ ذکر ھھنا مایدل علی ان قتادۃ لم یسمع ھذا الحدیث من ابی العالیۃ ونقل کلام من شعبۃ فی موضع اخر۔ (۱۲م)
یعنی نیند سے وضو کے باب میں ویسا نہیں جیسا کہ امام زیلعی مخرج حدیث (صاحب نصب الرایہ کے کلام سے وہم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہاں وہ ذکر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ قتادہ نے یہ حدیث ابوالعالیہ سے نہ سنی اور امام شعبہ کا کلام ایك دوسرے مقام پر نقل کیا )
حوالہ / References
نصب الرایۃ بحوالہ ابن حبان ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ، ۱ / ۹۲
نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ / ۹۲
نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ / ۹۲
میزان الاعتدال ترجمہ یزید بن عبدالرحمن ۹۷۲۳ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۴۳۳
المغنی فی الضعفاء ترجمہ یزید بن عبدالرحمن ۹۷۲۳ دار الکتب العلمیۃبیروت ۲ / ۵۴۰
نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ / ۹۲
نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ / ۹۲
میزان الاعتدال ترجمہ یزید بن عبدالرحمن ۹۷۲۳ دار المعرفۃ بیروت ۴ / ۴۳۳
المغنی فی الضعفاء ترجمہ یزید بن عبدالرحمن ۹۷۲۳ دار الکتب العلمیۃبیروت ۲ / ۵۴۰
انہ لم یسمع قتادۃ من ابی العالیۃ الااربعۃ عــــہ۱ احادیث وحکی عـــــہ۲ عن ابی داؤد نفسہ لم یسمع منہ الاثلثۃ احادیث۔
فـاقـول : وتلك شکاۃ ظاھر عنك عارھا فلو سلم لشعبۃ وابی داؤد شہادتہما علی النفی مع اضطراب اقوالہما
نقل کیا کہ قتادہ نے ابو العالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور خود ابو داؤد ہی سے یہ بھی حکایت کی گئی ہے کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین حدیثیں سنی ہیں۔
فاقول : یہ ایسی شکایت ہے جس کا عار آپ ہی سے ظاہر ہے پہلی بات یہ ہے کہ قتادہ کے خلاف شعبہ اور ابوداؤد کی نفی سماع سے متعلق شہادت قابل تسلیم کیسے ہوگی جب کہ ان کے
عـــہ۱ : حدیث یونس بن متی وحدیث ابن عمر فی الصلاۃ وحدیث القضاۃ ثلثۃ وحدیث ابن عباس حدثنی رجال مرضیون منھم عمر وارضاھم عندی عمر اھ ابو داؤد ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : الحاکی الامام الزیلعی المخرج انہ ذکرہ ابو داؤد فی کتاب السنۃ فی حدیث لاینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی
قلت و راجعت ثلث نسخ من الکتاب فلم ارہ ذکر فی کتاب السنۃ شیئا من ھذا والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
عـــہ۱ : (۱) حدیث یونس بن متی(۲) حدیث ابن عمر دربارہ نماز(۳) حدیث القضاۃ ثلاثۃ(۴) حدیث ابن عباس مجھ سے پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی جن میں عمر بھی ہیں اور ان میں میرے نزدیك سب سے زیادہ پسند یدہ عمر ہی ہیں اھ ابو داؤد(۱۲م۔ ت)
عـــہ۲ : حکایت کرنے والے امام زیلعی مخرج حدیث ہیں کہ ابوداؤد نے یہ بات کتاب السنۃ میں ذکر کی ہے اس حدیث کے تحت کہ کسی بندے کو یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں
قلت میں نے ابوداؤد کے تین نسخے دیکھے کسی میں نہ پایا کہ انہوں نے کتاب السنۃ میں اس سے کچھ ذکر کیا ہو۔ والله تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)
فـاقـول : وتلك شکاۃ ظاھر عنك عارھا فلو سلم لشعبۃ وابی داؤد شہادتہما علی النفی مع اضطراب اقوالہما
نقل کیا کہ قتادہ نے ابو العالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور خود ابو داؤد ہی سے یہ بھی حکایت کی گئی ہے کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین حدیثیں سنی ہیں۔
فاقول : یہ ایسی شکایت ہے جس کا عار آپ ہی سے ظاہر ہے پہلی بات یہ ہے کہ قتادہ کے خلاف شعبہ اور ابوداؤد کی نفی سماع سے متعلق شہادت قابل تسلیم کیسے ہوگی جب کہ ان کے
عـــہ۱ : حدیث یونس بن متی وحدیث ابن عمر فی الصلاۃ وحدیث القضاۃ ثلثۃ وحدیث ابن عباس حدثنی رجال مرضیون منھم عمر وارضاھم عندی عمر اھ ابو داؤد ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : الحاکی الامام الزیلعی المخرج انہ ذکرہ ابو داؤد فی کتاب السنۃ فی حدیث لاینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی
قلت و راجعت ثلث نسخ من الکتاب فلم ارہ ذکر فی کتاب السنۃ شیئا من ھذا والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
عـــہ۱ : (۱) حدیث یونس بن متی(۲) حدیث ابن عمر دربارہ نماز(۳) حدیث القضاۃ ثلاثۃ(۴) حدیث ابن عباس مجھ سے پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی جن میں عمر بھی ہیں اور ان میں میرے نزدیك سب سے زیادہ پسند یدہ عمر ہی ہیں اھ ابو داؤد(۱۲م۔ ت)
عـــہ۲ : حکایت کرنے والے امام زیلعی مخرج حدیث ہیں کہ ابوداؤد نے یہ بات کتاب السنۃ میں ذکر کی ہے اس حدیث کے تحت کہ کسی بندے کو یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں
قلت میں نے ابوداؤد کے تین نسخے دیکھے کسی میں نہ پایا کہ انہوں نے کتاب السنۃ میں اس سے کچھ ذکر کیا ہو۔ والله تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء من النوم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۷
فیہ فـــ مع انھا لم تقبل من الذین عــــہ ھم
بارے میں ان کے اقوال بھی مضطرب ہیں اورایسی شہادت
فــــ : لم تقبل شہادۃ نفی سماع ابن اسحق من فاطمۃ بن المنذر من ائمۃ اجلۃ ۔
عـــہ : ھم ھشام بن عروۃ وامام دارالھجرۃ مالك بن انس و الامام وھب بن جریر والامام یحیی بن سعید القطان اخرج ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابو داؤد سلیمان بن داؤد قال قال یحیی القطان اشہد ان محمد بن اسحق کذاب قلت وما یدریك قال قال لی وھب فقلت لوھب مایدریك قال لی مالك بن انس فقلت لمالك وما یدریك قال قال لی ھشام بن عروہ قلت لھشام بن عروۃ وما یدریك قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وما راھا رجل حتی لقیت الله تعالی حاول التفصی عند الذھبی فی المیزان فقال وما یدری ھشام بن عروۃ فلعلہ
عـــہ : وہ حضرات یہ ہیں (۱) ہشام بن عروہ(۲) امام دارا لہجرۃ مالك بن انس (۳) وہب بن جریر (۴) امام یحیی بن سعید قطان ابن عدی نے ابو بشر دولابی اور محمد بن جعفر بن یزید سے روایت کی ہے وہ ابوقلابہ رقاشی سے روای ہیں انہوں نے کہا مجھ سے ابو داؤد سلیمان بن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی قطان نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم کہا مجھ کو وہب نے بتایا اب میں نے وہب سے کہا آپ کو کیسے معلوم انہوں نے کہا مجھے مالك بن انس نے بتایا میں نے مالك سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا میں نے ہشام بن عروہ سے دریافت کیا آپ کو کیسے معلوم انہوں نے کہا : اس نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے حدیث روایت کی جب کہ وہ میرے یہاں نوسال کی عمر میں لائی گئی او رکسی مرد نے اسے دیکھا نہیں یہاں تك کہ وہ خدا کو پیاری ہوئی اس جرح سے چھٹکارے کی کوشش کرتے ہوئے میزان الاعتدال میں ذہبی نے کہا ہشام بن عروہ کو کیا پتہ ہوسکتا ہے ابن اسحق (باقی برصفحہ ائندہ)
بارے میں ان کے اقوال بھی مضطرب ہیں اورایسی شہادت
فــــ : لم تقبل شہادۃ نفی سماع ابن اسحق من فاطمۃ بن المنذر من ائمۃ اجلۃ ۔
عـــہ : ھم ھشام بن عروۃ وامام دارالھجرۃ مالك بن انس و الامام وھب بن جریر والامام یحیی بن سعید القطان اخرج ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابو داؤد سلیمان بن داؤد قال قال یحیی القطان اشہد ان محمد بن اسحق کذاب قلت وما یدریك قال قال لی وھب فقلت لوھب مایدریك قال لی مالك بن انس فقلت لمالك وما یدریك قال قال لی ھشام بن عروہ قلت لھشام بن عروۃ وما یدریك قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وما راھا رجل حتی لقیت الله تعالی حاول التفصی عند الذھبی فی المیزان فقال وما یدری ھشام بن عروۃ فلعلہ
عـــہ : وہ حضرات یہ ہیں (۱) ہشام بن عروہ(۲) امام دارا لہجرۃ مالك بن انس (۳) وہب بن جریر (۴) امام یحیی بن سعید قطان ابن عدی نے ابو بشر دولابی اور محمد بن جعفر بن یزید سے روایت کی ہے وہ ابوقلابہ رقاشی سے روای ہیں انہوں نے کہا مجھ سے ابو داؤد سلیمان بن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی قطان نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم کہا مجھ کو وہب نے بتایا اب میں نے وہب سے کہا آپ کو کیسے معلوم انہوں نے کہا مجھے مالك بن انس نے بتایا میں نے مالك سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا میں نے ہشام بن عروہ سے دریافت کیا آپ کو کیسے معلوم انہوں نے کہا : اس نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے حدیث روایت کی جب کہ وہ میرے یہاں نوسال کی عمر میں لائی گئی او رکسی مرد نے اسے دیکھا نہیں یہاں تك کہ وہ خدا کو پیاری ہوئی اس جرح سے چھٹکارے کی کوشش کرتے ہوئے میزان الاعتدال میں ذہبی نے کہا ہشام بن عروہ کو کیا پتہ ہوسکتا ہے ابن اسحق (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ محمد بن اسحٰق ۷۱۹۷ دار المعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۱
اکبر واکثرمع کونھا مھم اکد عـــہ واظہر وذلك فی روایۃابن اسحق عن امرأۃ ھشام بن عروۃ فلیس غایتہ الا الارسال فکان ماذا فان المرسل مقبول عندنا وعند الجمھور مع انا فی غنی عن النظر فیہ فقداحتج بہ اصحابنا
ان لوگو ں سے قبول نہ کی گئی جو ان سے بزرگ اور تعداد میں ان سے زیادہ ہیں جب کہ ان کی شہادت بھی ان سے زیادہ موکد اورزیادہ ظاہر ہے دوسری بات یہ کہ اگر تسلیم بھی کر لی جائے تو اس کامدعا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حدیث مرسل ہے تو اس سے کیا ہوا حدیث مرسل ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیك مقبول ہے باوجودیکہ ہمیں اس حدیث (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سمع منہا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیہا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا الخ وقد ضعفنا اعتذارہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین مع ان المحقق عندنا ایضا ھو توثیق ابن اسحاق وبذل الامام البخاری جہدہ فی الذب عنہ اذ اتی بحدیث القراء ۃ خلف الامام وان لم یرض بالاخراج لہ فی صحیحہ المسند ۱۲منہ۔ (م)
عـــــہ : اکد للفظ اشھد واظہر لان الانسان بحال امرأتہ المخدرۃ اعلم۱۲منہ۔
نے ان کی بیوی سے مسجد میں سنا ہو یا ان سے اپنے بچپن میں سنا ہو یا ان کے پاس گئے ہوں تو انہوں نے پردہ کی اوٹ سے حدیث سنائی ہو تو اس میں کیا بات ہے الخ ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین میں ذہبی کا یہ اعتذار ضعیف قرار دیا ہے باوجودیکہ ہمارے نزدیك بھی تحقیق یہی ہے کہ ابن اسحاق ثقہ ہیں اور امام بخاری نے ان کے دفاع میں پوری کوشش صرف کی ہے جہا ں جزء القراء ۃ میں قرأت خلف الامام کی حدیث ان سے روایت کی ہے اگر چہ اپنی صحیح مسند میں ان کی روایت لانا پسند نہ کیا ہو ۱۲منہ (ت)
عـــــہ : زیادہ موکد اس لئے کہ اس میں لفظ اشھد (میں شہادت دیتا ہو ں) ہے اور زیادہ ظاہر اس لئے کہ آدمی اپنی پردہ نشین بیوی کے حال سے زیادہ با خبر ہوگا ۱۲منہ(ت)
ان لوگو ں سے قبول نہ کی گئی جو ان سے بزرگ اور تعداد میں ان سے زیادہ ہیں جب کہ ان کی شہادت بھی ان سے زیادہ موکد اورزیادہ ظاہر ہے دوسری بات یہ کہ اگر تسلیم بھی کر لی جائے تو اس کامدعا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حدیث مرسل ہے تو اس سے کیا ہوا حدیث مرسل ہمارے نزدیك اور جمہور کے نزدیك مقبول ہے باوجودیکہ ہمیں اس حدیث (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سمع منہا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیہا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا الخ وقد ضعفنا اعتذارہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین مع ان المحقق عندنا ایضا ھو توثیق ابن اسحاق وبذل الامام البخاری جہدہ فی الذب عنہ اذ اتی بحدیث القراء ۃ خلف الامام وان لم یرض بالاخراج لہ فی صحیحہ المسند ۱۲منہ۔ (م)
عـــــہ : اکد للفظ اشھد واظہر لان الانسان بحال امرأتہ المخدرۃ اعلم۱۲منہ۔
نے ان کی بیوی سے مسجد میں سنا ہو یا ان سے اپنے بچپن میں سنا ہو یا ان کے پاس گئے ہوں تو انہوں نے پردہ کی اوٹ سے حدیث سنائی ہو تو اس میں کیا بات ہے الخ ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین میں ذہبی کا یہ اعتذار ضعیف قرار دیا ہے باوجودیکہ ہمارے نزدیك بھی تحقیق یہی ہے کہ ابن اسحاق ثقہ ہیں اور امام بخاری نے ان کے دفاع میں پوری کوشش صرف کی ہے جہا ں جزء القراء ۃ میں قرأت خلف الامام کی حدیث ان سے روایت کی ہے اگر چہ اپنی صحیح مسند میں ان کی روایت لانا پسند نہ کیا ہو ۱۲منہ (ت)
عـــــہ : زیادہ موکد اس لئے کہ اس میں لفظ اشھد (میں شہادت دیتا ہو ں) ہے اور زیادہ ظاہر اس لئے کہ آدمی اپنی پردہ نشین بیوی کے حال سے زیادہ با خبر ہوگا ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ محمد بن اسحٰق ۷۱۹۷ دار المعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۰
وقبلوہ من غیر نکیر۔
وانت علی علم ان الحکم لایختص بالمضطجع فقد اجمعنا علی النقض فی الاستلقاء والانبطاح لانا رأینا الحدیث ارشد الی المعنی فی ذلك وھو استرخاء المفاصل ولا یراد بہ مطلقہ لحصولہ فی کل نوم فیناقض اخرہ اولہ بل کمالہ کما تقدم عن الکافی فتحصل لنا من الحدیث ان المدار علی نھایۃ الاسترخاء فحیث وجد وجد النقض وحیث عدم عدم کما اشار الیہ المحققون فاستقرت الضابطۃ وانحلت العقدۃ عن کلتا الدعویین فی القول الاول فان خصوصیۃ الصلاۃ لادخل لہا فی منع الاسترخاء ولا لخارجہا فی احد اثہ بل الحدیث مطلق عن التقیید بالصلاۃ کما اعترف بہ فی البدائع قائلا فی النوم خارج الصلاۃ علی ھیاۃ السجود ان العامۃ علی انہ لایکون حدثا لماروی من الحدیث من غیر فصل بین الصلاۃ وغیرھا کما
میں نظر کی ضرورت نہیں اس لئے کہ ہمارے ائمہ نے اس سے استدلال کیا ہے اور بلا نکیر اسے قبول کیا ہے ۔
اور آپ کومعلوم ہے کہ کروٹ لیٹنے والے ہی سے حکم خاص نہیں چت لیٹنے اور منہ کے بل لیٹنے کی صورت میں بھی وضو ٹوٹنے پر ہمارا اجماع ہے اس لئے کہ ہم نے دیکھا کہ حدیث نے اس بارے میں بنیادی علت کی رہ نمائی فرمادی ہے وہ ہے استر خائے مفاصل ( جوڑوں کا ڈھیلے پڑجانا) اور اس سے مطلق استر خاء مراد نہیں یہ تو ہر نیند میں ہوتا ہے تو آخرحدیث ابتدائے حدیث کے بر خلاف ہوجائیگا بلکہ کامل استر خا مراد ہے جیسا کہ کافی کے حوالے سے بیان ہوا تو حدیث سے ہمیں یہ نتیجہ ملاکہ مدار کامل استر خا پر ہے جہا ں یہ موجود ہوگا وہاں وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور جہاں یہ نہ ہوگا وہاں وضو بھی نہ ٹوٹے گا جیسا کہ محققین نے اس کی طر ف اشارہ فرمایا ہے تو ضابطہ مستقر ہوگیا اور قول اول کے دونوں دعووں سے متعلق عقدہ کھل گیا اس لئے کہ خصوصیت نماز کو نہ استرخا کے روکنے میں کوئی دخل ہے نہ خارج نماز کو استر خا پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے بلکہ حدیث نماز کی تقییید سے مطلق ہے جیسا کہ بدائع میں اس کا اعتراف کیا ہے اور بیرون نماز ہیات سجدہ پر سونے کے بارے میں کہا ہے کہ عامہ علماء اسی پر ہیں کہ وہ حدث نہیں اس لئے کہ حدیث نماز اور غیر نماز کی تفریق کے بغیر وارد ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے
وانت علی علم ان الحکم لایختص بالمضطجع فقد اجمعنا علی النقض فی الاستلقاء والانبطاح لانا رأینا الحدیث ارشد الی المعنی فی ذلك وھو استرخاء المفاصل ولا یراد بہ مطلقہ لحصولہ فی کل نوم فیناقض اخرہ اولہ بل کمالہ کما تقدم عن الکافی فتحصل لنا من الحدیث ان المدار علی نھایۃ الاسترخاء فحیث وجد وجد النقض وحیث عدم عدم کما اشار الیہ المحققون فاستقرت الضابطۃ وانحلت العقدۃ عن کلتا الدعویین فی القول الاول فان خصوصیۃ الصلاۃ لادخل لہا فی منع الاسترخاء ولا لخارجہا فی احد اثہ بل الحدیث مطلق عن التقیید بالصلاۃ کما اعترف بہ فی البدائع قائلا فی النوم خارج الصلاۃ علی ھیاۃ السجود ان العامۃ علی انہ لایکون حدثا لماروی من الحدیث من غیر فصل بین الصلاۃ وغیرھا کما
میں نظر کی ضرورت نہیں اس لئے کہ ہمارے ائمہ نے اس سے استدلال کیا ہے اور بلا نکیر اسے قبول کیا ہے ۔
اور آپ کومعلوم ہے کہ کروٹ لیٹنے والے ہی سے حکم خاص نہیں چت لیٹنے اور منہ کے بل لیٹنے کی صورت میں بھی وضو ٹوٹنے پر ہمارا اجماع ہے اس لئے کہ ہم نے دیکھا کہ حدیث نے اس بارے میں بنیادی علت کی رہ نمائی فرمادی ہے وہ ہے استر خائے مفاصل ( جوڑوں کا ڈھیلے پڑجانا) اور اس سے مطلق استر خاء مراد نہیں یہ تو ہر نیند میں ہوتا ہے تو آخرحدیث ابتدائے حدیث کے بر خلاف ہوجائیگا بلکہ کامل استر خا مراد ہے جیسا کہ کافی کے حوالے سے بیان ہوا تو حدیث سے ہمیں یہ نتیجہ ملاکہ مدار کامل استر خا پر ہے جہا ں یہ موجود ہوگا وہاں وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور جہاں یہ نہ ہوگا وہاں وضو بھی نہ ٹوٹے گا جیسا کہ محققین نے اس کی طر ف اشارہ فرمایا ہے تو ضابطہ مستقر ہوگیا اور قول اول کے دونوں دعووں سے متعلق عقدہ کھل گیا اس لئے کہ خصوصیت نماز کو نہ استرخا کے روکنے میں کوئی دخل ہے نہ خارج نماز کو استر خا پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے بلکہ حدیث نماز کی تقییید سے مطلق ہے جیسا کہ بدائع میں اس کا اعتراف کیا ہے اور بیرون نماز ہیات سجدہ پر سونے کے بارے میں کہا ہے کہ عامہ علماء اسی پر ہیں کہ وہ حدث نہیں اس لئے کہ حدیث نماز اور غیر نماز کی تفریق کے بغیر وارد ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے
فی الحلیۃ فمن سجد خارجہا سجدۃ مشروعۃ واخر غیر مشروعۃ واخر لم ینو ا لسجود اصلا فلا یفترقون الافی النیۃ ولا اثرلہا فی ارخاء اومنعہ بداھۃ وانما ذلك الی ھیاۃ النوم کیفما وجدت فیجب ادارۃ الحکم علیہا ولا شك ان النوم علی ھیاۃ سجود السنۃ یمنع الاسترخاء التام اذالو کان لسقط کما افادہ فی الھدایۃ فوجب ان لاینقض حتی فی خارج الصلوۃ وان النوم علی غیرھا مفترش الذر اعین ملصق البطن بالفخذین لیس الا السقوط ھو ھوفوجب ان ینقض حتی فی الصلاۃ۔
اقول : وبہ ظھر الجواب عن استحسان البدائع والبحر والغنیۃ فان ذلك انما کان یسوغ لو ان النص لم یکن فیہ الانفی النقض عن الساجد فعلی التنزل وتسلیم ان لیس الظاھر فی کلام الشارع علیہ الصلوۃ والسلام ارادۃ الھیاۃ المسنونۃ المعھودۃ کان یمکن ان یدعی ان الشارع ناط ذلك بکل ماینطق
تو بیرون نماز مشروع سجدہ کرنے والا دوسرا غیر مشرو ع سجدہ کرنے والا تیسرا بغیر کسی نیت کے سجدہ کی حالت میں ہونے والا تینوں کے درمیان سوا نیت کے کسی بات کا فر ق نہیں اور بدیہی بات ہے کہ اعضاء کو ڈھیلا کرنے یا استر خاء کو روکنے میں نیت کا کوئی اثر نہیں اس کا مدار تو سونے کی ہیات پر ہے کہ وہ کس حال میں پائی جارہی ہے تو حکم کو اسی پر دائر رکھنا لازم ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ سجدہ سنت کی ہیات پر سونا کامل استرخا سے مانع ہے اس لئے کہ اگر کامل استر خاہوتو گرجا ئے جیسا کہ ہدایہ میں فرمایا تو ضروری ہے کہ یہ سوناناقض وضو نہ ہو یہاں تك کہ بیرون نماز بھی اور خلاف سنت طریقے پر کلائیاں بچھائے ہوئے پیٹ رانوں سے ملائے ہوئے سونا کیاہے پس گرپڑنا اس کے سوا کچھ اور نہیں تو واجب ہے کہ وہ ناقض وضو ہو یہاں تك کہ اندرون نماز بھی ۔
اقول : اسی سے بدائع بحر اور غنیہ کے استحسان کا جواب بھی ظاہر ہوگیا اس کی گنجائش محض اس صورت میں نکل سکتی تھی کہ نص میں سجدہ کرنے والے سے متعلق وضو ٹوٹنے کی نفی کے سوا کچھ اور نہ ہوتا اس صورت میں بطور تنزل یہ مان کر کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں معہود ہیات مسنونہ کا مراد ہونا ظاہر نہیں یہ دعوی کیا جاسکتا تھا کہ شارع نے عدم نقض کا حکم ہر اس حالت سے وابستہ
اقول : وبہ ظھر الجواب عن استحسان البدائع والبحر والغنیۃ فان ذلك انما کان یسوغ لو ان النص لم یکن فیہ الانفی النقض عن الساجد فعلی التنزل وتسلیم ان لیس الظاھر فی کلام الشارع علیہ الصلوۃ والسلام ارادۃ الھیاۃ المسنونۃ المعھودۃ کان یمکن ان یدعی ان الشارع ناط ذلك بکل ماینطق
تو بیرون نماز مشروع سجدہ کرنے والا دوسرا غیر مشرو ع سجدہ کرنے والا تیسرا بغیر کسی نیت کے سجدہ کی حالت میں ہونے والا تینوں کے درمیان سوا نیت کے کسی بات کا فر ق نہیں اور بدیہی بات ہے کہ اعضاء کو ڈھیلا کرنے یا استر خاء کو روکنے میں نیت کا کوئی اثر نہیں اس کا مدار تو سونے کی ہیات پر ہے کہ وہ کس حال میں پائی جارہی ہے تو حکم کو اسی پر دائر رکھنا لازم ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ سجدہ سنت کی ہیات پر سونا کامل استرخا سے مانع ہے اس لئے کہ اگر کامل استر خاہوتو گرجا ئے جیسا کہ ہدایہ میں فرمایا تو ضروری ہے کہ یہ سوناناقض وضو نہ ہو یہاں تك کہ بیرون نماز بھی اور خلاف سنت طریقے پر کلائیاں بچھائے ہوئے پیٹ رانوں سے ملائے ہوئے سونا کیاہے پس گرپڑنا اس کے سوا کچھ اور نہیں تو واجب ہے کہ وہ ناقض وضو ہو یہاں تك کہ اندرون نماز بھی ۔
اقول : اسی سے بدائع بحر اور غنیہ کے استحسان کا جواب بھی ظاہر ہوگیا اس کی گنجائش محض اس صورت میں نکل سکتی تھی کہ نص میں سجدہ کرنے والے سے متعلق وضو ٹوٹنے کی نفی کے سوا کچھ اور نہ ہوتا اس صورت میں بطور تنزل یہ مان کر کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں معہود ہیات مسنونہ کا مراد ہونا ظاہر نہیں یہ دعوی کیا جاسکتا تھا کہ شارع نے عدم نقض کا حکم ہر اس حالت سے وابستہ
علیہ اسم السجود کیفما کان ولیس کذلك بل النص نفسہ ارشدنا الی العلۃ بقولہ استرخت مفاصلہ فعلمنا ان الحکم معلول معقول وقد وجدت العلۃ فی سجود غیر السنۃ فلامعنی لعدم النقض علی خلاف القیاس والنص جمیعا نعم یترك ای لایجری ھھنا القیاس بالمعنی المصطلح علیہ لان فــــ العلۃ منصوصۃ فاجراؤھا لایکون قیاساولا یخص المجتہد کما بینہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی کتاب الجلیل المفاد اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد۔
فاستقر بحمدالله تعالی عرش التحقیق علی القول الاول وانہ ھو الصحیح وعلیہ المعول والحمدلله فی الاخر والاول۔
الثالثۃ فـــ۲ : تعمد النوم فی الصلاۃ لایفسدھا مطلقا بل اذا کان حدثا کما نبھنا علیہ وقد قدمنا
کر رکھا ہے جس پر نام سجدہ کا اطلاق ہوجائے چاہے جو بھی کیفیت ہو اور یہ صورت ہے نہیں بلکہ خود نص نے “ استر خت مفاصلہ “ کے لفظ سے علت کی جانب رہ نمائی وہدایت کردی ہے جس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکم ایك علت پر مبنی ہے اور وہ علت ہماری عقل میں آنے والی بھی ہے اور خلاف سنت سجدے میں علت ( اعضا کا کامل استرخا) موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قیاس اور نص دونوں ہی کے بر خلاف وضو ٹوٹنے سے بچ جائے ہاں قیاس بمعنی اصطلاحی یہاں متروك ہے یعنی جاری نہیں ہوتا اس لئے کہ علت منصوص ہے تو اسے جاری کرنا قیاس نہیں اور نہ ہی یہ کا م مجتہد سے خاص ہے جیسا کہ اسے خاتم المحققین سیدنا الوالد قد س سرہ الماجد نے اسے اپنی عظیم افادہ بخش کتاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں بیان کیا ہے ۔
توبحمدہ تعالی عرش تحقیق قول اول ہی پر مستقر ہوا اور اس پر کہ وہی صحیح اور وہی معتمد ہے۔ اور اول وآخر تمام تر حمد الله ہی کے لئے ہے ۔
افادہ ثالثہ۳ : نماز میں قصدا سونا مطلقا مفسد نما زنہیں بلکہ صرف اس صورت میں جب وہ ناقض وضو ہو جیسا کہ ہم نے اس پر تنبیہ کی اور
فــــ۱ : اجراء العلۃ المنصوصۃ لایختص بالمجتہد۔
فـــــ۲ : تحقیق مسئلۃ تعمد النوم فی الصلوۃ۔
فاستقر بحمدالله تعالی عرش التحقیق علی القول الاول وانہ ھو الصحیح وعلیہ المعول والحمدلله فی الاخر والاول۔
الثالثۃ فـــ۲ : تعمد النوم فی الصلاۃ لایفسدھا مطلقا بل اذا کان حدثا کما نبھنا علیہ وقد قدمنا
کر رکھا ہے جس پر نام سجدہ کا اطلاق ہوجائے چاہے جو بھی کیفیت ہو اور یہ صورت ہے نہیں بلکہ خود نص نے “ استر خت مفاصلہ “ کے لفظ سے علت کی جانب رہ نمائی وہدایت کردی ہے جس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکم ایك علت پر مبنی ہے اور وہ علت ہماری عقل میں آنے والی بھی ہے اور خلاف سنت سجدے میں علت ( اعضا کا کامل استرخا) موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قیاس اور نص دونوں ہی کے بر خلاف وضو ٹوٹنے سے بچ جائے ہاں قیاس بمعنی اصطلاحی یہاں متروك ہے یعنی جاری نہیں ہوتا اس لئے کہ علت منصوص ہے تو اسے جاری کرنا قیاس نہیں اور نہ ہی یہ کا م مجتہد سے خاص ہے جیسا کہ اسے خاتم المحققین سیدنا الوالد قد س سرہ الماجد نے اسے اپنی عظیم افادہ بخش کتاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں بیان کیا ہے ۔
توبحمدہ تعالی عرش تحقیق قول اول ہی پر مستقر ہوا اور اس پر کہ وہی صحیح اور وہی معتمد ہے۔ اور اول وآخر تمام تر حمد الله ہی کے لئے ہے ۔
افادہ ثالثہ۳ : نماز میں قصدا سونا مطلقا مفسد نما زنہیں بلکہ صرف اس صورت میں جب وہ ناقض وضو ہو جیسا کہ ہم نے اس پر تنبیہ کی اور
فــــ۱ : اجراء العلۃ المنصوصۃ لایختص بالمجتہد۔
فـــــ۲ : تحقیق مسئلۃ تعمد النوم فی الصلوۃ۔
عن الخانیۃ انہ ان تعمد النوم فی رکوعہ لاتفسد وفی الخلاصۃ لو نام فی رکوعہ اوسجودہ جازت صلاتہ لکن لایعتدبھما واعادھما اذالم یتعمد ذلك فان تعمد تفسد صلاتہ فی السجود دون الرکوع اھ واسلفنا عن الفتح ان مبناہ علی زوال المسکۃ فی السجود فلو سجد متجافیا ونام عامدا لم تفسد صلاتہ واثرہ فی الحلیۃ فاقرہ ونقلہ فی البحر و زاد علیہ انھا لاتفسد ولو غیر متجاف وذلك لما اختار ان النوم فی السجود المشروع لاینقض الوضوء مطلقا ولو علی غیر ھیاۃ السنۃ فسجود غیر المتجافی ایضا لما لم یکن النوم فیہ حدثا عندہ لم یجعل تعمدہ فیہ مفسدا۔
ولنقص عبارۃ البحر لیکون تذکیرا لما عبر وتمہید الماغبر
خانیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ اگر رکوع میں قصد ا سوئے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور خلاصہ میں ہے : اگر رکوع یا سجدے میں سوجائے تو اس کی نماز ہوجائے گی لیکن اس رکوع وسجود کا شمار نہ ہوگا اور ان کا اعادہ کرنا ہوگا یہ اس وقت ہے جب قصدا نہ سویا ہو اگر قصدا سویا تو سجدے میں ایساسونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ اور سابقہ ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے نقل کیا کہ اس کی بنیاد سجدے میں بندش کھل جانے پر ہے تو اگر کر وٹیں جدا رکھ کر سجدہ کیا اور قصدا سوگیا تو نماز فاسد نہ ہوگی اسے حلیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے اور بحر میں اسے نقل کر کے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ “ اگر کروٹیں جدا نہ ہوں تو بھی نماز فاسد نہ ہو گی “ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے یہ اختیار کیا ہے کہ سجدہ مشروع میں سونا مطلقا ناقض وضو نہیں اگرچہ طریقہ سنت کے بر خلاف ہو تو سجدہ میں کروٹیں جدا نہ رکھنے والے کا سونا بھی چوں کہ ان کے نزدیك ناقض وضو نہیں اس لئے انہوں نے اس کے بالقصد سونے کو مفسد نماز قرار نہ دیا ۔
ہم عبارت بحر کا پورا قصہ بتا تے ہیں تاکہ سابق کی یاددہائی بھی ہوجائے اور باقی مباحث
ولنقص عبارۃ البحر لیکون تذکیرا لما عبر وتمہید الماغبر
خانیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ اگر رکوع میں قصد ا سوئے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور خلاصہ میں ہے : اگر رکوع یا سجدے میں سوجائے تو اس کی نماز ہوجائے گی لیکن اس رکوع وسجود کا شمار نہ ہوگا اور ان کا اعادہ کرنا ہوگا یہ اس وقت ہے جب قصدا نہ سویا ہو اگر قصدا سویا تو سجدے میں ایساسونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ اور سابقہ ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے نقل کیا کہ اس کی بنیاد سجدے میں بندش کھل جانے پر ہے تو اگر کر وٹیں جدا رکھ کر سجدہ کیا اور قصدا سوگیا تو نماز فاسد نہ ہوگی اسے حلیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے اور بحر میں اسے نقل کر کے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ “ اگر کروٹیں جدا نہ ہوں تو بھی نماز فاسد نہ ہو گی “ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے یہ اختیار کیا ہے کہ سجدہ مشروع میں سونا مطلقا ناقض وضو نہیں اگرچہ طریقہ سنت کے بر خلاف ہو تو سجدہ میں کروٹیں جدا نہ رکھنے والے کا سونا بھی چوں کہ ان کے نزدیك ناقض وضو نہیں اس لئے انہوں نے اس کے بالقصد سونے کو مفسد نماز قرار نہ دیا ۔
ہم عبارت بحر کا پورا قصہ بتا تے ہیں تاکہ سابق کی یاددہائی بھی ہوجائے اور باقی مباحث
حوالہ / References
فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فی النوم نولکشور لکھنو ۱ / ۲۰
خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوۃ الفصل الثالث عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳۲
خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلوۃ الفصل الثالث عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳۲
قال رحمۃ الله تعالی واطلق فی الھدایۃ الصلاۃ (قلت یرید النوم فیھا فتجوز بحذف المضاف وبہ یسقط فـــ اعتراض المنحۃ علی البحر فیما تابع ھو فیہ الفتح قال البحر) فشمل ماکان عن تعمد وما عن غلبۃ وعن ابی یوسف اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض والمختار الاول وفی فصل مایفسد الصلوۃ من فتاوی قاضی خان لونام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد لاتفسد وان تعمد فسدت فی السجود دون الرکوع اھ کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظر ان یفصل فی السجود ان کان متجافیا لاتفسد والا تفسد کذا فی الفتح القدیر وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ( ان النوم فی السجود المشروع لاینقض مطلقا ولو غیر متجاف) ان لا ینتقض بالنوم فی السجود
کی تمہید بھی صاحب بحر فرماتے ہیں (ہلالین میں صاحب فتاوی رضویہ کا اضافہ ہے ۱۲م) “ ہدایہ میں نماز کو مطلق رکھا ہے “ (قلت ان کی مراد یہ ہے کہ نماز میں نیند کو مطلق رکھا ہے تو مضاف حذف کر کے مجاز حذف کا طریقہ اپنایا ہے اس تو ضیح سے منحۃ الخالق کاوہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو البحر الرائق پر فتح القدیر کی متابعت کے معاملہ میں کیا ہے بحر میں آگے فرمایا) تو یہ اس نیند کو بھی شامل ہے جو قصدا ہو اور اسے بھی جو نیند کے غلبہ کی وجہ سے ہو اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ نماز میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور مختار اول ہے اور فتاوی قاضی خان میں مفسدات نماز کی فصل میں ہے اگر رکوع یا سجدے میں سوگیا تو بلا قصد سونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا سویا تو سجدہ میں سونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ شاید یہ تفریق اس بناء پر ہے کہ رکوع میں بندش باقی ہوگی اور سجدے میں نہ ہوگی اور نظر کا تقاضایہ ہے کہ سجدے میں تفصیل کی جائے کہ اگر کر وٹیں جدا ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی ورنہ فاسد ہوجائے گی ایسا ہی فتح القدیر میں ہے او رکہا جاتا ہے کہ جو قول اصح پہلے گزرا (کہ مشروع سجدہ میں سونا مطلقا ناقض نہیں اگر چہ کروٹیں جدا ہوں ) اس کا تقاضایہ ہے کہ سجدہ میں سونے سے وضو
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
کی تمہید بھی صاحب بحر فرماتے ہیں (ہلالین میں صاحب فتاوی رضویہ کا اضافہ ہے ۱۲م) “ ہدایہ میں نماز کو مطلق رکھا ہے “ (قلت ان کی مراد یہ ہے کہ نماز میں نیند کو مطلق رکھا ہے تو مضاف حذف کر کے مجاز حذف کا طریقہ اپنایا ہے اس تو ضیح سے منحۃ الخالق کاوہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو البحر الرائق پر فتح القدیر کی متابعت کے معاملہ میں کیا ہے بحر میں آگے فرمایا) تو یہ اس نیند کو بھی شامل ہے جو قصدا ہو اور اسے بھی جو نیند کے غلبہ کی وجہ سے ہو اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ نماز میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور مختار اول ہے اور فتاوی قاضی خان میں مفسدات نماز کی فصل میں ہے اگر رکوع یا سجدے میں سوگیا تو بلا قصد سونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا سویا تو سجدہ میں سونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ شاید یہ تفریق اس بناء پر ہے کہ رکوع میں بندش باقی ہوگی اور سجدے میں نہ ہوگی اور نظر کا تقاضایہ ہے کہ سجدے میں تفصیل کی جائے کہ اگر کر وٹیں جدا ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی ورنہ فاسد ہوجائے گی ایسا ہی فتح القدیر میں ہے او رکہا جاتا ہے کہ جو قول اصح پہلے گزرا (کہ مشروع سجدہ میں سونا مطلقا ناقض نہیں اگر چہ کروٹیں جدا ہوں ) اس کا تقاضایہ ہے کہ سجدہ میں سونے سے وضو
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
مطلقا وینبغی حمل مافی الخانیۃ علی روایۃ ابی یوسف اھ ما فی البحر مزید ا مابین الاھلۃ ۔
قال فی منحۃ الخالق الذی تقدم من روایۃ ابی یوسف انہ اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض وکذا فی الفتح وھی کما تری غیر مقیدۃ بالسجود تأمل ثم رأیت فی غایۃ البیان مانصہ وروی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالی فی الاملاء انہ اذا تعمد النوم فی السجود ینقض وان غلبت عیناہ لاینقض اھ وبہ یترجح الحمل المذکور ویکون المراد حینئذ مما تقدم من قول فی الصلاۃ ای فی سجودھا فقط فافھم اھ
اقول : اولا فــــ الحکم فی المقید
مطلقا نہ جائے ۔ اور کلام خانیہ کو امام ابو یوسف کی روایت پر محمول کرنا چاہئے اھ بحر کی عبارت ہلالین کے درمیان اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
البحر الرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں علامہ شامی فرماتے ہیں امام ابو یوسف کی روایت جو پہلے مذکور ہوئی یہ ہے کہ نماز میں قصدا سوناناقض وضو ہے اسی طر ح فتح میں منقول ہے یہ روایت جیسا کہ سامنے ہے حالت سجدہ سے مقید نہیں غور کرو پھر میں نے غایۃ البیان میں یہ عبارت دیکھی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے “ املا “ میں مروی ہے کہ سجدہ میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے (بلا قصد) سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اھ اس روایت کی بنیاد پر کلام خانیہ کو اس پرمحمول کرنے کی بات کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے اور اس صورت میں امام ابو یوسف سے سابقا جو روایت بلفظ فی الصلوۃ ( نماز میں قصدا سونا ناقض ہے ) منقول ہوئی اس میں “ نماز میں “ سے مراد “ صرف سجدہ نماز میں “ ہوگا تو اسے سمجھئے اھ
اقول : اولا مقید کے بارے میں حکم
فـــ : معروضۃ اخری علیہ
قال فی منحۃ الخالق الذی تقدم من روایۃ ابی یوسف انہ اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض وکذا فی الفتح وھی کما تری غیر مقیدۃ بالسجود تأمل ثم رأیت فی غایۃ البیان مانصہ وروی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالی فی الاملاء انہ اذا تعمد النوم فی السجود ینقض وان غلبت عیناہ لاینقض اھ وبہ یترجح الحمل المذکور ویکون المراد حینئذ مما تقدم من قول فی الصلاۃ ای فی سجودھا فقط فافھم اھ
اقول : اولا فــــ الحکم فی المقید
مطلقا نہ جائے ۔ اور کلام خانیہ کو امام ابو یوسف کی روایت پر محمول کرنا چاہئے اھ بحر کی عبارت ہلالین کے درمیان اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
البحر الرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں علامہ شامی فرماتے ہیں امام ابو یوسف کی روایت جو پہلے مذکور ہوئی یہ ہے کہ نماز میں قصدا سوناناقض وضو ہے اسی طر ح فتح میں منقول ہے یہ روایت جیسا کہ سامنے ہے حالت سجدہ سے مقید نہیں غور کرو پھر میں نے غایۃ البیان میں یہ عبارت دیکھی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے “ املا “ میں مروی ہے کہ سجدہ میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے (بلا قصد) سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اھ اس روایت کی بنیاد پر کلام خانیہ کو اس پرمحمول کرنے کی بات کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے اور اس صورت میں امام ابو یوسف سے سابقا جو روایت بلفظ فی الصلوۃ ( نماز میں قصدا سونا ناقض ہے ) منقول ہوئی اس میں “ نماز میں “ سے مراد “ صرف سجدہ نماز میں “ ہوگا تو اسے سمجھئے اھ
اقول : اولا مقید کے بارے میں حکم
فـــ : معروضۃ اخری علیہ
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸ و ۳۹
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸ و ۳۹
لاینافی الحکم فی المطلق کما افادہ فی الفتح لاجرم ان ذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورك فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ و روی عن ابی یوسف رحمہ الله تعالی انہ قال سالت ابا حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ عن النوم فی الصلاۃ فقال لاینقض الوضوء ولا ادری سالتہ عن العمد او عن الغلبۃ وعندی انہ ان نام متعمدا انتقض وضوؤہ قال فی البدائع وجہ روایۃ ابی یوسف ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع والسجود ان یکون حدثا لکونہ سببا لوجود الحدث الا اناترکنا القیاس لضرورۃ التہجد نظر ا للمجتہدین وذلك عند الغلبۃ دون
مطلق کے بارے میں حکم کے منافی نہیں جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا (توہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دونوں روایت ہو خاص سجدہ میں قصدا سونا ناقض ہے او ریہ بھی کہ اندرون نماز کسی بھی رکن میں سونا ناقض ہے ۱۲م) یہی وجہ ہے کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا ہے کہ اندرون نماز کروٹ لیٹنے اور سرین پر ٹیك دے کر لیٹنے کے علاوہ حالت میں سونا حدث نہیں خواہ نیند کے غلبہ سے سوگیا ہو یا قصدا سویا ہو ظاہر الروایہ میں یہی ہے اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے اندرون نماز نیند کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا ناقض وضو نہیں میں نہیں جانتا کہ ان سے میں نے قصدا سونے کے بارے میں پوچھا تھا یانیند کے غلبہ سے سونے کے بارے میں پوچھا تھا اور میرے نزدیك یہ حکم ہے کہ اگر قصدا سویا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا بدائع میں کہا کہ روایت امام ابو یوسف کی وجہ یہ ہے کہ قیام رکوع اور سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے اس لئے کہ یہ وجود حدث کا سبب ہے لیکن ہم نے تہجد گزاروں کا لحاظ کرتے ہوئے ضرورت تہجد کے باعث قیاس ترك کردیا اور یہ ضرورت غلبہ نوم ہی کی صورت میں ہے قصدا
مطلق کے بارے میں حکم کے منافی نہیں جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا (توہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دونوں روایت ہو خاص سجدہ میں قصدا سونا ناقض ہے او ریہ بھی کہ اندرون نماز کسی بھی رکن میں سونا ناقض ہے ۱۲م) یہی وجہ ہے کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا ہے کہ اندرون نماز کروٹ لیٹنے اور سرین پر ٹیك دے کر لیٹنے کے علاوہ حالت میں سونا حدث نہیں خواہ نیند کے غلبہ سے سوگیا ہو یا قصدا سویا ہو ظاہر الروایہ میں یہی ہے اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے اندرون نماز نیند کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا ناقض وضو نہیں میں نہیں جانتا کہ ان سے میں نے قصدا سونے کے بارے میں پوچھا تھا یانیند کے غلبہ سے سونے کے بارے میں پوچھا تھا اور میرے نزدیك یہ حکم ہے کہ اگر قصدا سویا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا بدائع میں کہا کہ روایت امام ابو یوسف کی وجہ یہ ہے کہ قیام رکوع اور سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے اس لئے کہ یہ وجود حدث کا سبب ہے لیکن ہم نے تہجد گزاروں کا لحاظ کرتے ہوئے ضرورت تہجد کے باعث قیاس ترك کردیا اور یہ ضرورت غلبہ نوم ہی کی صورت میں ہے قصدا
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل واما بیان ما ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۵۲
التعمد اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ھذا یفید اطلاقہ انہ ینتقض عند ابی یوسف بالنوم راکعا اذا تعمدہ اھ ای وکذا قائما۔
اقول : انما فــــ۱ الاطلاق فی تحفۃ الفقہاء اما فی البدائع فتنصیص صریح لقولہ ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع الخ فافادان ابا یوسف عمل فی جمیعہا بالقیاس عند العمد والعالم ربما یسأل عن صورۃ خاصۃ فیجیب فتأتی الروایۃ عنہ مقیدۃ بصورۃ السؤال مع ان الحکم مطلق عندہ عرف ھذا من مارس الفقہ وعن فــــ۲ ھذا قلنا ان المطلق یحمل علی اطلاقہ وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الی التقیید ضرورۃ۔
سونے میں نہیں اھ حلیہ میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا : اس کے اطلاق سے یہی مستفاد ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیك قصدا رکوع کی حالت میں سونے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اھ۔ مقصد یہ ہے کہ یوں ہی قیام میں بھی۔
اقول : اطلاق صرف تحفۃ الفقہاء میں ہے ۔ بدائع میں تو صاف تصریح ہے قیام رکوع سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے جس سے یہ افادہ فرمایا کہ امام ابو یوسف قصد کی صورت میں تمام ہی حالتوں میں قیاس پر عامل ہیں ۔ اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عالم سے کوئی خاص صورت پوچھی جاتی ہے وہ اس کے بارے میں جواب دے دیتا ہے تو اس کے حوالے سے روایت صورت سوال کے ساتھ مقید ہوکر نقل ہوتی ہے حالاں کہ اس کے نزدیك حکم مطلق ہوتا ہے ۔ فقہ کی مما رست اور مشغولیت والا اس سے اچھی طرح آشنا ہے ۔ اسی لئے ہم اس کے قائل ہیں کہ مطلق اپنے اطلاق پرمحمول ہوگا اگرچہ حکم اور معاملہ ایك ہی ہو جب تك تقیید کی جانب کوئی ضرورت داعی نہ ہو۔
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔
فــــ۲ : المطلق یحمل علی اطلاقہ و ان اتحد الحکم و الحادثۃ الا بضرورۃ
اقول : انما فــــ۱ الاطلاق فی تحفۃ الفقہاء اما فی البدائع فتنصیص صریح لقولہ ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع الخ فافادان ابا یوسف عمل فی جمیعہا بالقیاس عند العمد والعالم ربما یسأل عن صورۃ خاصۃ فیجیب فتأتی الروایۃ عنہ مقیدۃ بصورۃ السؤال مع ان الحکم مطلق عندہ عرف ھذا من مارس الفقہ وعن فــــ۲ ھذا قلنا ان المطلق یحمل علی اطلاقہ وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الی التقیید ضرورۃ۔
سونے میں نہیں اھ حلیہ میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا : اس کے اطلاق سے یہی مستفاد ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیك قصدا رکوع کی حالت میں سونے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اھ۔ مقصد یہ ہے کہ یوں ہی قیام میں بھی۔
اقول : اطلاق صرف تحفۃ الفقہاء میں ہے ۔ بدائع میں تو صاف تصریح ہے قیام رکوع سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے جس سے یہ افادہ فرمایا کہ امام ابو یوسف قصد کی صورت میں تمام ہی حالتوں میں قیاس پر عامل ہیں ۔ اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عالم سے کوئی خاص صورت پوچھی جاتی ہے وہ اس کے بارے میں جواب دے دیتا ہے تو اس کے حوالے سے روایت صورت سوال کے ساتھ مقید ہوکر نقل ہوتی ہے حالاں کہ اس کے نزدیك حکم مطلق ہوتا ہے ۔ فقہ کی مما رست اور مشغولیت والا اس سے اچھی طرح آشنا ہے ۔ اسی لئے ہم اس کے قائل ہیں کہ مطلق اپنے اطلاق پرمحمول ہوگا اگرچہ حکم اور معاملہ ایك ہی ہو جب تك تقیید کی جانب کوئی ضرورت داعی نہ ہو۔
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔
فــــ۲ : المطلق یحمل علی اطلاقہ و ان اتحد الحکم و الحادثۃ الا بضرورۃ
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل واما بیان ما ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۵۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ثم القیاس الذی ذکر فی البدائع لروایۃ ابی یوسف وقد ذکرہ فی الہدایۃ والتبیین ایضا فی مسئلۃ الاغماء فالجواب عنہ انا نمنع کون القیاس فیھا ذلك بل القیاس ایضا عدم النقض لعدم کمال الاسترخاء کما افادہ فی الفتح۔
وثانیا اطلاق فـــ روایۃ ابی یوسف لاینافی حمل کلام قاضی خان فی السجود علیہا لان ائمۃ الترجیح کما یختارون احد القولین کذلك ربما یفصلون فیختارون قولا فی صورۃ و اخر فی اخری فیکون المعنی ان مافی الخانیۃ مشی فی صورۃ السجود علی روایۃ ابی یوسف وای عتب فیہ ۔
ثم اعترض ھذا الحمل العلامۃ اب رہاوہ قیاس جو بدائع میں امام ابویوسف کی روایت سے متعلق پیش کیا ہے اور اسے ہدایہ وتبیین میں بھی بیہوشی کے مسئلہ میں ذکر کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس بارے میں قیاس نقض وضو ہے بلکہ قیاس بھی یہی ہے کہ وضونہ ٹوٹے اس لئے کہ پورے اعضاء ڈھیلے نہ ہوں گے ۔ جیسا کہ فتح القدیر میں اس کا افادہ کیا ہے ۔
ثانیا اگرچہ امام ابو یوسف کی روایت مطلق ہے ۔ اس میں خاص حالت سجدہ کی قید نہیں ۔ اور قاضی کا کلام خاص حالت سجدہ سے متعلق ہے لیکن اس کلام کو اس روایت پر محمول کیا گیا ہے تو یہ اس کے اطلاق کے منافی نہیں ۔ اس لئے کہ ائمہ ترجیح جیسے دوقولوں میں سے ایك کو اختیار کرتے ہیں ویسے ہی بعض اوقات صورتوں کی تفصیل کرکے ایك صورت میں ایك قول کواور دوسرے قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ تو ( البحرالرائق میں کلام خانیہ کو روایت مذکورہ پر محمول کرنے کا ) معنی یہ ہوا کہ خانیہ میں جو حکم مذکور ہے وہ صورت سجدہ میں امام ابویو سف کی روایت پر جاری ہے اس پر کسی عتاب کا کیا موقع ہے !
پھر اس حمل پر علامہ شیخ اسمعیل نے
فــــ : معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ش۔
وثانیا اطلاق فـــ روایۃ ابی یوسف لاینافی حمل کلام قاضی خان فی السجود علیہا لان ائمۃ الترجیح کما یختارون احد القولین کذلك ربما یفصلون فیختارون قولا فی صورۃ و اخر فی اخری فیکون المعنی ان مافی الخانیۃ مشی فی صورۃ السجود علی روایۃ ابی یوسف وای عتب فیہ ۔
ثم اعترض ھذا الحمل العلامۃ اب رہاوہ قیاس جو بدائع میں امام ابویوسف کی روایت سے متعلق پیش کیا ہے اور اسے ہدایہ وتبیین میں بھی بیہوشی کے مسئلہ میں ذکر کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس بارے میں قیاس نقض وضو ہے بلکہ قیاس بھی یہی ہے کہ وضونہ ٹوٹے اس لئے کہ پورے اعضاء ڈھیلے نہ ہوں گے ۔ جیسا کہ فتح القدیر میں اس کا افادہ کیا ہے ۔
ثانیا اگرچہ امام ابو یوسف کی روایت مطلق ہے ۔ اس میں خاص حالت سجدہ کی قید نہیں ۔ اور قاضی کا کلام خاص حالت سجدہ سے متعلق ہے لیکن اس کلام کو اس روایت پر محمول کیا گیا ہے تو یہ اس کے اطلاق کے منافی نہیں ۔ اس لئے کہ ائمہ ترجیح جیسے دوقولوں میں سے ایك کو اختیار کرتے ہیں ویسے ہی بعض اوقات صورتوں کی تفصیل کرکے ایك صورت میں ایك قول کواور دوسرے قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ تو ( البحرالرائق میں کلام خانیہ کو روایت مذکورہ پر محمول کرنے کا ) معنی یہ ہوا کہ خانیہ میں جو حکم مذکور ہے وہ صورت سجدہ میں امام ابویو سف کی روایت پر جاری ہے اس پر کسی عتاب کا کیا موقع ہے !
پھر اس حمل پر علامہ شیخ اسمعیل نے
فــــ : معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ش۔
الشیخ اسمعیل فی شرح الدرر بانہ لایلزم من فساد الصلاۃ انتقاض الوضوء لما فی السراج لوقرأ و رکع وسجد وھو نائم تفسد صلاتہ لانہ زاد رکعۃ کاملۃ لایعتد بھا ولا ینتقض وضوؤہ اھ ولم یحکم فی الخانیۃ علی الوضوء بالنقض والظاھران فی البحر غفولا عن ذلك فتدبرہ اھ
شرح درر میں اعتراض کیا ہے کہ نماز فاسد ہونے سے وضو ٹوٹنا لازم نہیں آتا کیوں کہ سراج وہاج میں ہے کہ اگر سونے کی حالت میں قرأ ت کی اور رکوع و سجدہ کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اس لئے کہ کامل ایك رکعت ایسی زیادہ کردی جو قابل شمار نہیں ۔ اور وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ( علامہ شامی نے منحہ میں اسے نقل کرکے لکھا ۱۲م ) اور خانیہ میں وضو سے متعلق ناقض ہونے کا حکم نہیں کیا ہے۔ ظاہریہ ہے کہ البحرالرائق میں اس نکتے سے غفلت ہوگئی ہے تو اس میں تدبر کرو ۔ اھ
(حاصل اعتراض یہ کہ روایت امام ابویوسف میں قصدا سونے سے “ وضو ٹوٹنے “ کا ذکر ہے اور کلام خانیہ میں سجدہ کے اندر قصدا سونے سے “ فساد نماز “ مذکور ہے ہوسکتا ہے کہ نمازفاسد ہو اور وضو نہ ٹوٹے تو کلام خانیہ کا روایت مذکورہ پر حمل کیسے درست ہوگا ۱۲م )
اقـول : فـــ اولا رحم الله العلامۃ الفاضل والسید الناقل الشیئ یبتنی علی ملزومہ لالازمہ لجواز عموم اللازم فلا یقضی بوجود الملزوم ولا شك ان نقض الوضوء یستلزم فساد الصلاۃ عند التعمد لکونہ حینئذ تعمد حدث وھو مفسد قطعا۔
اقول : اولا علامہ فاضل اور سیدنا قل پر خدا کی رحمت ہو ---- شیئ اپنے ملزوم پر مبنی ہوتی ہے لازم پر نہیں اس لئے کہ ممکن ہے لازم اعم ہو تو اس کے وجود سے ملزوم کا حکم نہیں ہو سکتا اور اس میں شك نہیں کہ قصدا وضو توڑنے کو فساد نماز لازم ہے اس لئے کہ یہ عمدا حدث کو عمل میں لانا ہے جو قطعا مفسد نماز ہے ( نقض وضو با لعمد ملزوم
فـــ : تطفل علی الشیخ اسمعیل شار ح الدرر والعلامۃ ش۔
شرح درر میں اعتراض کیا ہے کہ نماز فاسد ہونے سے وضو ٹوٹنا لازم نہیں آتا کیوں کہ سراج وہاج میں ہے کہ اگر سونے کی حالت میں قرأ ت کی اور رکوع و سجدہ کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اس لئے کہ کامل ایك رکعت ایسی زیادہ کردی جو قابل شمار نہیں ۔ اور وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ( علامہ شامی نے منحہ میں اسے نقل کرکے لکھا ۱۲م ) اور خانیہ میں وضو سے متعلق ناقض ہونے کا حکم نہیں کیا ہے۔ ظاہریہ ہے کہ البحرالرائق میں اس نکتے سے غفلت ہوگئی ہے تو اس میں تدبر کرو ۔ اھ
(حاصل اعتراض یہ کہ روایت امام ابویوسف میں قصدا سونے سے “ وضو ٹوٹنے “ کا ذکر ہے اور کلام خانیہ میں سجدہ کے اندر قصدا سونے سے “ فساد نماز “ مذکور ہے ہوسکتا ہے کہ نمازفاسد ہو اور وضو نہ ٹوٹے تو کلام خانیہ کا روایت مذکورہ پر حمل کیسے درست ہوگا ۱۲م )
اقـول : فـــ اولا رحم الله العلامۃ الفاضل والسید الناقل الشیئ یبتنی علی ملزومہ لالازمہ لجواز عموم اللازم فلا یقضی بوجود الملزوم ولا شك ان نقض الوضوء یستلزم فساد الصلاۃ عند التعمد لکونہ حینئذ تعمد حدث وھو مفسد قطعا۔
اقول : اولا علامہ فاضل اور سیدنا قل پر خدا کی رحمت ہو ---- شیئ اپنے ملزوم پر مبنی ہوتی ہے لازم پر نہیں اس لئے کہ ممکن ہے لازم اعم ہو تو اس کے وجود سے ملزوم کا حکم نہیں ہو سکتا اور اس میں شك نہیں کہ قصدا وضو توڑنے کو فساد نماز لازم ہے اس لئے کہ یہ عمدا حدث کو عمل میں لانا ہے جو قطعا مفسد نماز ہے ( نقض وضو با لعمد ملزوم
فـــ : تطفل علی الشیخ اسمعیل شار ح الدرر والعلامۃ ش۔
حوالہ / References
بحوالہ منحۃ الخالق علی حاشیۃ البحرالرائق بحوالہ شرح الشیخ اسمٰعیل کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کراچی ۱ / ۳۹
ثانیا : فـــ۱ الکلام فی فساد الصلاۃ لاجل تعمد النوم وما ذکر من الصورۃ فالفساد فیھا لیس لہ بل لزیادۃ رکعۃ تامۃ وحمل کلام الخانیۃ علی روایۃ الامام الثانی لایستلزم ان لاتفسد صلوۃ بشیئ قط مالم ینتقض الوضوء فالبحر عقول لاغفول ھذا ۔
واجاب فی المنحۃ عن ھذا الاعتراض بان مافی الخانیۃ من الفساد مبنی علی نقض الوضوء لتفریقہ بین الرکوع والسجود تامل اھ
اقول : فـــ ۲ رحم الله الفاضلین السؤال والجواب کلاھما من وراء حجاب فان الخانیۃ قدنصت علی انتقاض الوضوء بہ فی نواقضہ حیث قال کما تقدم ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طھارتہ وتفسد صلاتہ ولو تعمد
ہے فساد نماز لازم لہذا جب بھی اول ہوگا ثانی ہوگا اورثانی کا اول پر حمل اس لحاظ سے بجا ہے اور برعکس صورت نہ یہاں ہے نہ ہوسکتی ہے ۱۲ م )
ثانیا کلام اس میں ہے کہ قصدا سونے سے نماز فاسد ہوجائے گی اور جو صورت ذکر کی ہے اس میں فسادنماز کا سبب یہ نہیں بلکہ کامل ایك رکعت کی زیادتی ہے----اور کلام خانیہ کوامام ثانی کی روایت پرمحمول کرنا اسے مستلزم نہیں کہ کوئی نماز کسی شئی سے اس وقت تك فاسد ہی نہ ہو جب تك وضو نہ ٹوٹ جائے ۔ محقق بحر اسے خوب سمجھتے ہیں اس نکتے سے غافل نہیں ---یہ ذہن نشین رہے۔
اور منحۃ الخالق میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ خانیہ میں جو فسا د مذکور ہے وہ نقض وضو پر مبنی ہے اس لئے کہ انہوں نے رکوع وسجود کے درمیان فرق رکھا ہے ۔ اس میں غور کرو اھ۔
اقول : دونوں فاضلوں پر خدا رحم فرمائے۔ سوال اور جواب دونوں پردوں کے پیچھے سے ہو رہے ہیں ---اس لئے کہ قاضی خا ن نواقض وضو کے بیان میں اس سے وضو ٹوٹنے کی تصریح فر ما چکے ہیں ۔ ان کی عبارت جیسا کہ
فـــ ۱ : تطفل اخر علیہما ۔
فـــ۲ : تطفل ثالث علیھما ۔
واجاب فی المنحۃ عن ھذا الاعتراض بان مافی الخانیۃ من الفساد مبنی علی نقض الوضوء لتفریقہ بین الرکوع والسجود تامل اھ
اقول : فـــ ۲ رحم الله الفاضلین السؤال والجواب کلاھما من وراء حجاب فان الخانیۃ قدنصت علی انتقاض الوضوء بہ فی نواقضہ حیث قال کما تقدم ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طھارتہ وتفسد صلاتہ ولو تعمد
ہے فساد نماز لازم لہذا جب بھی اول ہوگا ثانی ہوگا اورثانی کا اول پر حمل اس لحاظ سے بجا ہے اور برعکس صورت نہ یہاں ہے نہ ہوسکتی ہے ۱۲ م )
ثانیا کلام اس میں ہے کہ قصدا سونے سے نماز فاسد ہوجائے گی اور جو صورت ذکر کی ہے اس میں فسادنماز کا سبب یہ نہیں بلکہ کامل ایك رکعت کی زیادتی ہے----اور کلام خانیہ کوامام ثانی کی روایت پرمحمول کرنا اسے مستلزم نہیں کہ کوئی نماز کسی شئی سے اس وقت تك فاسد ہی نہ ہو جب تك وضو نہ ٹوٹ جائے ۔ محقق بحر اسے خوب سمجھتے ہیں اس نکتے سے غافل نہیں ---یہ ذہن نشین رہے۔
اور منحۃ الخالق میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ خانیہ میں جو فسا د مذکور ہے وہ نقض وضو پر مبنی ہے اس لئے کہ انہوں نے رکوع وسجود کے درمیان فرق رکھا ہے ۔ اس میں غور کرو اھ۔
اقول : دونوں فاضلوں پر خدا رحم فرمائے۔ سوال اور جواب دونوں پردوں کے پیچھے سے ہو رہے ہیں ---اس لئے کہ قاضی خا ن نواقض وضو کے بیان میں اس سے وضو ٹوٹنے کی تصریح فر ما چکے ہیں ۔ ان کی عبارت جیسا کہ
فـــ ۱ : تطفل اخر علیہما ۔
فـــ۲ : تطفل ثالث علیھما ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی بحرالرائق بحوالہ شرح الشیخ اسمٰعیل کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۹
النوم فی قیامہ اورکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم اھ
والوجہ ان الفساد فی التعمد وانتقاض الوضوء متلازمان فایھما اثبت اثبت الاخر وایھما نفی نفی الاخر ولذا اقتصر فی الخانیۃ ھھنا اعنی فی مفسدات الصلوۃ علی فساد الصلاۃ وعدمہ ولم یتعرض للوضوء وثمہ ای فی نواقض الوضوء ذکرھما معافی السجود واقتصر علی ذکر عدم النقض فی الرکوع ولم یتعرض لعدم الفساد فاتی فی کل باب بما یحتاج الیہ وکیفما کان فقد صرح باجلی تصریح ان تعمد النوم لیس ممایفسد الصلوۃ مطلقا وکذلك الخلاصۃ وعلیہ مشی الفتح والحلیۃ وعنہ تکلم البحر۔
اقول : وھو قضیۃ اطلاق المتون قاطبۃ فانھم یذکرون گزری اس طرح ہے : “ اگر سجدے میں قصدا سویا تو اس کی طہارت ٹوٹ جائے گی اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی اور اگر قیام یا رکوع میں قصدا سویا تو حضرات ائمہ کے قول پر اس کی طہارت نہ جائے گی ۔ “ اھ
وجہ یہ ہے کہ تعمد کی صورت میں فسادنماز اور وضو ٹوٹنا دونوں ایك دوسرے کو لازم ہیں تو ایك کے اثبات اور ایك کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو جائے گی اسی لئے خانیہ نے یہاں بمعنی مفسدات نماز کے بیان میں صرف نماز کے فساد وعدم فساد کے ذکر پر اکتفا کی اور بیان وضو سے تعرض نہ کیا ---اور وہاں یعنی نواقض وضو میں سجود کے تحت دونوں کو ذکر کیا اور رکوع کے تحت عدم نقض کے ذکر پر اکتفا کی عدم فساد سے تعرض نہ کیا--تو ہر باب میں جس قدر حاجت تھی اس قدر بیان کردیا --اور جو بھی ہو اس بات کی تو روشن تصریح فرمادی کہ قصدا سونا مطلقا مفسدنماز نہیں --اسی طرح صاحب خلاصہ نے بھی ذکر کیا ۔ اور اسی پر صاحب فتح القدیر اور صاحب حلیہ بھی چلے --اور اسی سے متعلق بحر نے بھی گفتگو کی ---
اقول : یہی سارے متون کا بھی مقتضا ہے ---اس لئے ارباب متون
والوجہ ان الفساد فی التعمد وانتقاض الوضوء متلازمان فایھما اثبت اثبت الاخر وایھما نفی نفی الاخر ولذا اقتصر فی الخانیۃ ھھنا اعنی فی مفسدات الصلوۃ علی فساد الصلاۃ وعدمہ ولم یتعرض للوضوء وثمہ ای فی نواقض الوضوء ذکرھما معافی السجود واقتصر علی ذکر عدم النقض فی الرکوع ولم یتعرض لعدم الفساد فاتی فی کل باب بما یحتاج الیہ وکیفما کان فقد صرح باجلی تصریح ان تعمد النوم لیس ممایفسد الصلوۃ مطلقا وکذلك الخلاصۃ وعلیہ مشی الفتح والحلیۃ وعنہ تکلم البحر۔
اقول : وھو قضیۃ اطلاق المتون قاطبۃ فانھم یذکرون گزری اس طرح ہے : “ اگر سجدے میں قصدا سویا تو اس کی طہارت ٹوٹ جائے گی اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی اور اگر قیام یا رکوع میں قصدا سویا تو حضرات ائمہ کے قول پر اس کی طہارت نہ جائے گی ۔ “ اھ
وجہ یہ ہے کہ تعمد کی صورت میں فسادنماز اور وضو ٹوٹنا دونوں ایك دوسرے کو لازم ہیں تو ایك کے اثبات اور ایك کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو جائے گی اسی لئے خانیہ نے یہاں بمعنی مفسدات نماز کے بیان میں صرف نماز کے فساد وعدم فساد کے ذکر پر اکتفا کی اور بیان وضو سے تعرض نہ کیا ---اور وہاں یعنی نواقض وضو میں سجود کے تحت دونوں کو ذکر کیا اور رکوع کے تحت عدم نقض کے ذکر پر اکتفا کی عدم فساد سے تعرض نہ کیا--تو ہر باب میں جس قدر حاجت تھی اس قدر بیان کردیا --اور جو بھی ہو اس بات کی تو روشن تصریح فرمادی کہ قصدا سونا مطلقا مفسدنماز نہیں --اسی طرح صاحب خلاصہ نے بھی ذکر کیا ۔ اور اسی پر صاحب فتح القدیر اور صاحب حلیہ بھی چلے --اور اسی سے متعلق بحر نے بھی گفتگو کی ---
اقول : یہی سارے متون کا بھی مقتضا ہے ---اس لئے ارباب متون
حوالہ / References
فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فی النوم نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
من صور الحدث الذی یمنع البناء مااذا جن اونام فاحتلم او اغمی علیہ فیفیدون ان النوم بمفردہ لیس بحدث ولا مانع للبناء مطلقا والالم یحتج الی ضم الاحتلام قال فی العنایۃ ثم البحر انما قال او نام فاحتلم لان النوم بانفرادہ لیس بمفسد عـــــہ الخ ثم ھم یرسلونہ ارسالا
مانع بنا حدث کی صورتوں میں سے یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب مجنون ہو جائے یا سو جائے تو احتلام ہوجائے یا بیہوش ہوجا ئے (تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز از سر نو پڑھنی ہو گی جہاں چھوٹی اس کے آگے نہیں پڑھ سکتا )اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ نیند تنہا حدث اور مطلقا مانع بنا نہیں ورنہ نیند کے ساتھ احتلام کو ملانے کی کوئی ضرورت نہ تھی ---عنایہ پھر بحر میں ہے : “ نام فاحتلم سوئے تو احتلام ہو جائے “ کہا اس لئے کہ تنہا نیند مفسدنماز نہیں اھ ۔ پھر یہ حضرات نیند کو مطلق ذکر
عـــــہ : اعترضہ العلامۃ خیر الدین رملی کما نقل عنہ فی المنحۃ بانہ ذکر فی التتارخانیۃ اقوالا واختلاف تصحیح فی المسألۃ وکذلك ذکر فی الجوھرۃ فی نوم المضطجع والمریض فی الصلاۃ اختلافا والصحیح انہ ینقض وبہ ناخذ وفی التتارخانیۃ عن المحیط فی النوم مضطجعا الحال لا یخلو ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی حالۃ نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ
اس پرعلامہ خیر الدین رملی کا یہ اعتراض ہے جیسا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان سے نقل کیا ہے کہ : تاتار خانیہ میں اس مسئلہ کے تحت چند اقوال اور اختلاف تصحیح کا ذکرہے--- اسی طرح جوہرہ میں نماز کے اندر کروٹ لینے والے اور بیمار کی نیند سے متعلق اختلاف کا ذکر ہے اور یہ کہ صحیح ناقض ہونا ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں--- اور تاتارخانیہ میں محیط کے حوالے سے کروٹ لیٹ کر سونے سے متعلق ہے کہ اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے اسے نیند آگئی پھر سو نے ہی کی حالت میں وہ کروٹ لیٹ گیا تو ایسا ہی ہے (باقی برصفحہ ائندہ)
مانع بنا حدث کی صورتوں میں سے یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب مجنون ہو جائے یا سو جائے تو احتلام ہوجائے یا بیہوش ہوجا ئے (تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز از سر نو پڑھنی ہو گی جہاں چھوٹی اس کے آگے نہیں پڑھ سکتا )اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ نیند تنہا حدث اور مطلقا مانع بنا نہیں ورنہ نیند کے ساتھ احتلام کو ملانے کی کوئی ضرورت نہ تھی ---عنایہ پھر بحر میں ہے : “ نام فاحتلم سوئے تو احتلام ہو جائے “ کہا اس لئے کہ تنہا نیند مفسدنماز نہیں اھ ۔ پھر یہ حضرات نیند کو مطلق ذکر
عـــــہ : اعترضہ العلامۃ خیر الدین رملی کما نقل عنہ فی المنحۃ بانہ ذکر فی التتارخانیۃ اقوالا واختلاف تصحیح فی المسألۃ وکذلك ذکر فی الجوھرۃ فی نوم المضطجع والمریض فی الصلاۃ اختلافا والصحیح انہ ینقض وبہ ناخذ وفی التتارخانیۃ عن المحیط فی النوم مضطجعا الحال لا یخلو ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی حالۃ نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ
اس پرعلامہ خیر الدین رملی کا یہ اعتراض ہے جیسا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان سے نقل کیا ہے کہ : تاتار خانیہ میں اس مسئلہ کے تحت چند اقوال اور اختلاف تصحیح کا ذکرہے--- اسی طرح جوہرہ میں نماز کے اندر کروٹ لینے والے اور بیمار کی نیند سے متعلق اختلاف کا ذکر ہے اور یہ کہ صحیح ناقض ہونا ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں--- اور تاتارخانیہ میں محیط کے حوالے سے کروٹ لیٹ کر سونے سے متعلق ہے کہ اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے اسے نیند آگئی پھر سو نے ہی کی حالت میں وہ کروٹ لیٹ گیا تو ایسا ہی ہے (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
البحرالرائق بحوالہ العنایۃ کتاب الصّلٰوۃ باب الحدث فی الصّلٰوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۲
فیشمل العمد والغلبۃ وکذلک
کرتے ہیں تو قصدا سونا اور نیند کے غلبہ سے سوجانا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الحدث یتوضا ویبنی ولو تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل الصلوۃ ھکذا حکی عن مشائخنا اھ فراجع المنقول ولا تغتربما اطلقہ ھنا اھ
اقول : اولا فـــ۱ اذا اختلف التصحیح فای اغترار فی الاقتصار علی احد القولین ۔ وثانیا فـــ۲ مسئلۃ الجوھرۃ فی انتقاض الوضوء والکلام ھنا فی فساد الصلوۃ والانتقاض لایستلزم الفساد اذا لم یکن ھناك تعمد ۔ وثالثا فرع فــــ۳ المحیط لیس فیہ الفساد للنوم بانفرادہ بل لانضمام التعمد علی ھیات الحدث فما ھذہ الایرادت من مثل المحقق السامی والاعتماد علیہا من العلامۃا لشامی و بالله التو فیق ۱۲منہ حفظہ ربہ جل وعلا۔
جیسے بلا اختیار حدث ہو گیا وہ وضو کرے گا اور بناء کرے گا (نماز جہاں سے چھوٹی تھی وہیں سے پوری کرے گا) اور اگر نماز میں قصدا کروٹ لیتا تو اسے وضو کر کے از سر نو پڑھنا ہے ۔ ہمارے مشائخ سے ایسا ہی حکایت کیا گیا اھ تو منقول کی طرف رجوع کرو اور اس سے فریب خوردہ نہ ہو جو یہاں مطلق رکھا ہے اھ۔
اقول : اولا جب اختلاف تصحیح ہے تو ایك قول پر اکتفاء میں فر یب خورد گی کیا
ثانیا مسئلہ جو ہر ہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ہے اور یہاں پر فسادنماز کے بارے میں کلام ہے اور ٹوٹنا اس کو مستلزم نہیں کہ نماز بھی فاسد ہو جب کہ قصدا وضو توڑنے کی صورت نہ ہو۔
ثالثا محیط کے جزئیہ میں تنہا نیند سے فساد نماز نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ نیند کے ساتھ ہیات حدث کا قصدا ارتکاب بھی ہوگیا ہے پھر ایسے بلند محقق سے یہ اعتراض کیسے اور ان پر علامہ شامی کا اعتماد کیسا وبالله التوفیق ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وش فــــ۲ : تطفل اخر علیھما فــــ۳ : تطفل ثالث علیھما
کرتے ہیں تو قصدا سونا اور نیند کے غلبہ سے سوجانا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الحدث یتوضا ویبنی ولو تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل الصلوۃ ھکذا حکی عن مشائخنا اھ فراجع المنقول ولا تغتربما اطلقہ ھنا اھ
اقول : اولا فـــ۱ اذا اختلف التصحیح فای اغترار فی الاقتصار علی احد القولین ۔ وثانیا فـــ۲ مسئلۃ الجوھرۃ فی انتقاض الوضوء والکلام ھنا فی فساد الصلوۃ والانتقاض لایستلزم الفساد اذا لم یکن ھناك تعمد ۔ وثالثا فرع فــــ۳ المحیط لیس فیہ الفساد للنوم بانفرادہ بل لانضمام التعمد علی ھیات الحدث فما ھذہ الایرادت من مثل المحقق السامی والاعتماد علیہا من العلامۃا لشامی و بالله التو فیق ۱۲منہ حفظہ ربہ جل وعلا۔
جیسے بلا اختیار حدث ہو گیا وہ وضو کرے گا اور بناء کرے گا (نماز جہاں سے چھوٹی تھی وہیں سے پوری کرے گا) اور اگر نماز میں قصدا کروٹ لیتا تو اسے وضو کر کے از سر نو پڑھنا ہے ۔ ہمارے مشائخ سے ایسا ہی حکایت کیا گیا اھ تو منقول کی طرف رجوع کرو اور اس سے فریب خوردہ نہ ہو جو یہاں مطلق رکھا ہے اھ۔
اقول : اولا جب اختلاف تصحیح ہے تو ایك قول پر اکتفاء میں فر یب خورد گی کیا
ثانیا مسئلہ جو ہر ہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ہے اور یہاں پر فسادنماز کے بارے میں کلام ہے اور ٹوٹنا اس کو مستلزم نہیں کہ نماز بھی فاسد ہو جب کہ قصدا وضو توڑنے کی صورت نہ ہو۔
ثالثا محیط کے جزئیہ میں تنہا نیند سے فساد نماز نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ نیند کے ساتھ ہیات حدث کا قصدا ارتکاب بھی ہوگیا ہے پھر ایسے بلند محقق سے یہ اعتراض کیسے اور ان پر علامہ شامی کا اعتماد کیسا وبالله التوفیق ۱۲ منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وش فــــ۲ : تطفل اخر علیھما فــــ۳ : تطفل ثالث علیھما
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی بحر الرائق کتاب الصلوۃ باب الحدث فی الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۲
سکوتھم قاطبۃ عن عد تعمد النوم فی المفسدات دلیل علی ذلك لاسیما المتاخرین الذین جنحوانحو الا ستیعاب مھماحضرکالدر المختار ومراقی الفلاح نعم یفسد اذا تعمدہ علی ھیاۃ یکون بھا حدثا وھم قد ذکروا فی المفسدات تعمد الحدث فقد ترجح ماجزم بہ ھؤلاء الجلۃ علی ما فی جامع الفقہ ان النوم فی الرکوع والسجود لاینقض الوضوء ولو تعمدہ ولکن تفسدصلاتہ کما نقلہ فی البحر عن شرح منظومۃ ابن وھبان واعتمدہ ش ۔
جئنا علی مااستدرك بہ ش علی العلامۃ العلائی قال فی الدر یتعین الاستیناف لجنون اوحدث عمدا و احتلام بنوم الخ قال الشامی افادان النوم بنفسہ غیر مفسد لکن ھذا اذا کان غیر عمد لمافی حاشیۃ
دونوں ہی اس میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح تعمد نوم کو مفسدات نماز میں شمار کرانے سے ان تمام اہل متون کا سکوت بھی اس پر دلیل ہے خصوصا متا خرین کا سکوت جن کا میلان اس طر ح ہوتاہے کہ جتنی صورتیں بھی مستحضر ہوں سب کا استیعاب اور احاطہ کرلیں جیسے درمختار اور مراقی الفلاح ہاں نیند مفسد اس وقت ہے جب ایسی ہیات پر قصدا سوئے جس پر سونا حدث ہے اور مفسدات نماز میں تعمد حدث مذکور ہے تو ترجیح اسی کو ملی جس پر ان بزرگوں کا جز م ہے جیسا کہ جامع الفقہ میں ہے رکوع وسجود میں سونا ناقض وضو نہیں اگر چہ قصدا سوئے لیکن اس کی نماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ اسے بحر میں منظومہ ابن وہبان کی شرح سے نقل کیا ہے اور علامہ شامی نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔
اب ہم اس پر آئے جو علامہ شامی نے علامہ علائی پر استدارك کیا ہے درمختار میں فرمایا از سر نوپڑھنا متعین ہے جنون کے با عث یا قصدا حدث کی وجہ سے نیند میں احتلام کے سبب الخ ۔ اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں افادہ ہو اکہ نیند کچھ مفسد نہیں لیکن یہ اس وقت ہے جب نیند بلا قصد ہو اس لئے کہ حاشیہ
جئنا علی مااستدرك بہ ش علی العلامۃ العلائی قال فی الدر یتعین الاستیناف لجنون اوحدث عمدا و احتلام بنوم الخ قال الشامی افادان النوم بنفسہ غیر مفسد لکن ھذا اذا کان غیر عمد لمافی حاشیۃ
دونوں ہی اس میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح تعمد نوم کو مفسدات نماز میں شمار کرانے سے ان تمام اہل متون کا سکوت بھی اس پر دلیل ہے خصوصا متا خرین کا سکوت جن کا میلان اس طر ح ہوتاہے کہ جتنی صورتیں بھی مستحضر ہوں سب کا استیعاب اور احاطہ کرلیں جیسے درمختار اور مراقی الفلاح ہاں نیند مفسد اس وقت ہے جب ایسی ہیات پر قصدا سوئے جس پر سونا حدث ہے اور مفسدات نماز میں تعمد حدث مذکور ہے تو ترجیح اسی کو ملی جس پر ان بزرگوں کا جز م ہے جیسا کہ جامع الفقہ میں ہے رکوع وسجود میں سونا ناقض وضو نہیں اگر چہ قصدا سوئے لیکن اس کی نماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ اسے بحر میں منظومہ ابن وہبان کی شرح سے نقل کیا ہے اور علامہ شامی نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔
اب ہم اس پر آئے جو علامہ شامی نے علامہ علائی پر استدارك کیا ہے درمختار میں فرمایا از سر نوپڑھنا متعین ہے جنون کے با عث یا قصدا حدث کی وجہ سے نیند میں احتلام کے سبب الخ ۔ اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں افادہ ہو اکہ نیند کچھ مفسد نہیں لیکن یہ اس وقت ہے جب نیند بلا قصد ہو اس لئے کہ حاشیہ
حوالہ / References
البحرالرائق بحوالہ جامع الفقہ کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۷
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۷
نوح افندی النوم اما عمدا ولا فالاول ینقض الوضوء ویمنع البناء والثانی قسمان مالا ینقض ولایمنع البناء کالنوم قائما او راکعا او ساجدا وما ینقض الوضوء ولا یمنع البناء کالمریض اذا صلی مضطجعا فنام ینتقض وضوؤہ علی الصحیح ولہ البناء فغیر العمد لایمنع البناء اتفاقا سواء نقض الوضوء اولا بخلاف العمد اھ ملخصا اھ
اقـول : ھذافــــ ناطق بملأفیہ انہ ماش علی الروایۃ عن ابی یوسف الا تری انہ جعل نوم العمد مطلقا ناقض الوضوء وھذا خلاف ظاھر الروایۃ المعتمد المختارۃ کما قدم المحشی والشارح وقدمنا نقلہ مع تصحیح المحیط فما کان للعلامۃ ان یعتمد ھذا ھھنا سبحن من لاینسی۔ علامہ نوح آفندی میں ہے سونا یا تو قصدا ہوگا یا بلا قصد اول ناقض وضو اور مانع بناء ہے ثانی کی دو قسمیں ہیں ایك وہ جو نہ ناقض وضو ہے نہ مانع بناء جیسے قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونا دوسری وہ جو ناقض وضو ہے مانع بناء نہیں ہے جیسے مریض کر وٹ لیٹ کر نماز پرھتے ہوئے سوجائے تو صحیح قول پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اور وہ بناء کرسکے گا ( نماز جہاں سے رہ گئی تھی وہیں سے پوری کرلے گا ) تو بلا قصدسونا بناء سے بالاتفاق مانع نہیں خواہ وضوٹوٹ جائے یا نہ ٹوٹے بخلاف قصدا سونے کے اھ ملخصا ۔
اقول : یہ عبارت بآ واز بلند ناطق ہے کہ ان کی مشی امام ابو یوسف کی روایت پر ہے دیکھئے انھوں نے قصدا سونے کو مطلقاناقض وضو قرار دیا ہے او ریہ معتمد مختار ظاہر الروایہ کے خلاف ہے جیسا کہ محشی وشارح نے پہلے بیان کیا اور ہم اسے محیط کی تصحیح کے ساتھ نقل کر چکے تو علامہ شامی کو یہاں آکر اس پر اعتماد نہ کرنا تھا لیکن پاکی ہے اسی کے لئے جسے نسیان نہیں۔
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
اقـول : ھذافــــ ناطق بملأفیہ انہ ماش علی الروایۃ عن ابی یوسف الا تری انہ جعل نوم العمد مطلقا ناقض الوضوء وھذا خلاف ظاھر الروایۃ المعتمد المختارۃ کما قدم المحشی والشارح وقدمنا نقلہ مع تصحیح المحیط فما کان للعلامۃ ان یعتمد ھذا ھھنا سبحن من لاینسی۔ علامہ نوح آفندی میں ہے سونا یا تو قصدا ہوگا یا بلا قصد اول ناقض وضو اور مانع بناء ہے ثانی کی دو قسمیں ہیں ایك وہ جو نہ ناقض وضو ہے نہ مانع بناء جیسے قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونا دوسری وہ جو ناقض وضو ہے مانع بناء نہیں ہے جیسے مریض کر وٹ لیٹ کر نماز پرھتے ہوئے سوجائے تو صحیح قول پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اور وہ بناء کرسکے گا ( نماز جہاں سے رہ گئی تھی وہیں سے پوری کرلے گا ) تو بلا قصدسونا بناء سے بالاتفاق مانع نہیں خواہ وضوٹوٹ جائے یا نہ ٹوٹے بخلاف قصدا سونے کے اھ ملخصا ۔
اقول : یہ عبارت بآ واز بلند ناطق ہے کہ ان کی مشی امام ابو یوسف کی روایت پر ہے دیکھئے انھوں نے قصدا سونے کو مطلقاناقض وضو قرار دیا ہے او ریہ معتمد مختار ظاہر الروایہ کے خلاف ہے جیسا کہ محشی وشارح نے پہلے بیان کیا اور ہم اسے محیط کی تصحیح کے ساتھ نقل کر چکے تو علامہ شامی کو یہاں آکر اس پر اعتماد نہ کرنا تھا لیکن پاکی ہے اسی کے لئے جسے نسیان نہیں۔
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب الاستخلاف ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۰۶
الرابعۃ : مسألۃ فــــ التنورف مذکورۃ فی الخانیۃ وھی الاصل وعنہا نقل فی خزانۃ المفتین والہندیۃ وایاھا تبع فی الخلاصۃ والخلاصۃ فی البزازیۃ وعن الخلاصۃ اثر فی البحر قال الامام قاضی خان رحمہ الله تعالی ان نام علی راس التنور وھو جالس قد ادلی رجلیہ کان حدثا لان ذلك سبب لاسترخاء المفاصل اھ
وقد قدمنا انھا لاتلتئم علی الضابطۃ المؤیدۃ بالحدیث والقیاس الصحیح۔
قلت : ولم ارلھا ما اشدھا بہ الاشیاء ابداہ المحقق فی الفتح توجیہا لمسألۃ مخالفۃ لظاھر الروایۃ واختیار الجمھور وھی مسألۃ المستند الی مالوازیل سقط حیث قال ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ عدم النقض بھذا الاستناد ما دامت المقعدۃ مستمسکۃ للا من من الخروج و الانتقاض افادہ رابعہ۴ : مسئلہ تنور خانیہ میں مذکورہے خانیہ ہی اصل ہے اسی سے خزانۃ المفتین اور ہندیہ میں نقل ہے اسی کی پیروی خلاصہ میں ہے اور خلاصہ کی پیروی بزازیہ میں ہے اور خلاصہ ہی سے البحر الرائق میں نقل کیا ہے
امام قاضی خاں رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر تنور کے کنارے میں بیٹھا اس میں پاؤ ں لٹکائے سوگیا تو وضو جاتارہے گا اس لئے کہ یہ جوڑوں کے ڈھیلے پڑجانے کا سبب ہوتا ہے اھ۔
اورہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث اور قیاس صحیح سے تائید یافتہ ضابطے کے بر خلاف ہے ۔
قلت اس کی موافقت میں مجھے کوئی ایسی بات نہ ملی جس سے اس کو تقویت دے سکوں مگر ایك بات جو حضرت محقق نے فتح القدیر میں ظاہر الروایہ اور اختیار جمہور کے مخالف ایك مسئلہ کی تو جیہ میں پیش کی ہے وہ مسئلہ اس کی نیند سے متعلق ہے جو ایسی چیز کی طر ح ٹیك لگائے ہوئے ہے کہ اگر وہ ہٹادی جائے تو گر جائے وہ لکھتے ہیں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ظاہر مذہب یہی ہے کہ اس ٹیك لگانے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تك مقعد
فــــ : تحقیق مسئلۃ النوم علی رأس التنور۔
وقد قدمنا انھا لاتلتئم علی الضابطۃ المؤیدۃ بالحدیث والقیاس الصحیح۔
قلت : ولم ارلھا ما اشدھا بہ الاشیاء ابداہ المحقق فی الفتح توجیہا لمسألۃ مخالفۃ لظاھر الروایۃ واختیار الجمھور وھی مسألۃ المستند الی مالوازیل سقط حیث قال ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ عدم النقض بھذا الاستناد ما دامت المقعدۃ مستمسکۃ للا من من الخروج و الانتقاض افادہ رابعہ۴ : مسئلہ تنور خانیہ میں مذکورہے خانیہ ہی اصل ہے اسی سے خزانۃ المفتین اور ہندیہ میں نقل ہے اسی کی پیروی خلاصہ میں ہے اور خلاصہ کی پیروی بزازیہ میں ہے اور خلاصہ ہی سے البحر الرائق میں نقل کیا ہے
امام قاضی خاں رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر تنور کے کنارے میں بیٹھا اس میں پاؤ ں لٹکائے سوگیا تو وضو جاتارہے گا اس لئے کہ یہ جوڑوں کے ڈھیلے پڑجانے کا سبب ہوتا ہے اھ۔
اورہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث اور قیاس صحیح سے تائید یافتہ ضابطے کے بر خلاف ہے ۔
قلت اس کی موافقت میں مجھے کوئی ایسی بات نہ ملی جس سے اس کو تقویت دے سکوں مگر ایك بات جو حضرت محقق نے فتح القدیر میں ظاہر الروایہ اور اختیار جمہور کے مخالف ایك مسئلہ کی تو جیہ میں پیش کی ہے وہ مسئلہ اس کی نیند سے متعلق ہے جو ایسی چیز کی طر ح ٹیك لگائے ہوئے ہے کہ اگر وہ ہٹادی جائے تو گر جائے وہ لکھتے ہیں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ظاہر مذہب یہی ہے کہ اس ٹیك لگانے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تك مقعد
فــــ : تحقیق مسئلۃ النوم علی رأس التنور۔
حوالہ / References
فتاوی قاضیخان کتاب الطہارۃ فصل فی النوم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
مختار الطحاوی واختارہ المصنف والقدوری لان مناط النقض الحدث لاعین النوم فلما خفی بالنوم ادیر الحکم علی ماینتھض مظنۃ لہ ولذا لم ینقض نوم القائم والراکع والساجد ونقض فی المضطجع لان المظنۃ منہ مایتحقق معہ الاسترخاء علی الکمال وھو فی المضطجع لافیھا وقد وجد فی ھذا النوع من الاستناد اذ لا یمسکہ الا السند وتمکن المقعدۃ مع غایۃ الاسترخاء لایمنع الخروج اذقد یکون الدافع قویا خصوصا فی زماننا لکثرۃ الاکل فلا یمنعہ الامسکۃ الیقظۃ اھ واقرہ الحلبی فی الغنیۃ۔
اقول : وقولہ لایمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ای عند وجود جمی ہوئی رہے اس لئے کہ خروج ریح سے بے خوفی ہوگی اور اس سے وضو ٹوٹ جانے کا حکم امام طحاوی کا مختار ہے اسی کو مصنف اور امام قدوری نے اختیار کیا اس لئے کہ وضو ٹوٹنے کا مدار حدث پر ہے خود نیند پر نہیں چونکہ نیند کی وجہ سے حدث مخفی رہ جائے گا اس لئے حکم کا مدار اس پر رکھا گیا جو وجود حدث کے گمان غالب کا موقع بن سکے اسی لئے قیام رکوع او رسجود والے کی نیند ناقض ہے ۔ اس لئے کہ گمان حدث کا محل وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور یہ کروٹ لیٹنے والے کی نیند میں ہوتا ہے ان سب میں نہیں ہوتا اور استرخاء اس طر ح ٹیك لگانے کی صورت میں بھی موجود ہے اس لئے کہ صرف ٹیك نے اس کو روك رکھا ہے اور کمال استرخاء ہوتے ہوئے مقعد کا مستقر ہونا خروج ریح سے مانع نہیں اس لئے کہ ہمارے زمانے میں کیوں کہ کھانا زیادہ کھایا کرتے ہیں تو اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بندش ہی ہوگی اھ-- اس کلام کو حلبی نے بھی غنیہ میں بر قرار رکھا ۔
اقول : ان کے قول اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بند ش ہی ہوگی کا معنی یہ ہے
اقول : وقولہ لایمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ای عند وجود جمی ہوئی رہے اس لئے کہ خروج ریح سے بے خوفی ہوگی اور اس سے وضو ٹوٹ جانے کا حکم امام طحاوی کا مختار ہے اسی کو مصنف اور امام قدوری نے اختیار کیا اس لئے کہ وضو ٹوٹنے کا مدار حدث پر ہے خود نیند پر نہیں چونکہ نیند کی وجہ سے حدث مخفی رہ جائے گا اس لئے حکم کا مدار اس پر رکھا گیا جو وجود حدث کے گمان غالب کا موقع بن سکے اسی لئے قیام رکوع او رسجود والے کی نیند ناقض ہے ۔ اس لئے کہ گمان حدث کا محل وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور یہ کروٹ لیٹنے والے کی نیند میں ہوتا ہے ان سب میں نہیں ہوتا اور استرخاء اس طر ح ٹیك لگانے کی صورت میں بھی موجود ہے اس لئے کہ صرف ٹیك نے اس کو روك رکھا ہے اور کمال استرخاء ہوتے ہوئے مقعد کا مستقر ہونا خروج ریح سے مانع نہیں اس لئے کہ ہمارے زمانے میں کیوں کہ کھانا زیادہ کھایا کرتے ہیں تو اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بندش ہی ہوگی اھ-- اس کلام کو حلبی نے بھی غنیہ میں بر قرار رکھا ۔
اقول : ان کے قول اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بند ش ہی ہوگی کا معنی یہ ہے
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۳
نھایۃ الاسترخاء بخلاف القائم والراکع و الساجد علی ھیاۃ السنۃ فلا یرد ان ھذا التقریر یوجب النقض بالنوم مطلقا وھو خلاف ما اجمعنا علیہ۔
لکنی اقـول : کمال فــــ۱ الاسترخاء مظنۃ الخروج وتمکن المقعدۃ مظنۃ منعہ فیتعارضان ولا یثبت النقض بالشك ولا نسلم ان قوۃ الدافع بحیث لایقاومہ التمکن بلغ من الکثرۃ مایعدبہ غالبا ولامظنۃ الابالغلبۃ وکیفما کان فمخالفتہ للمذھب ولجمھور اھل الاختیار علم کاف علی تقاعدہ عن الحجیۃ۔
بل اقول : وبالله التوفیق مسئلۃ التنور لاتلتئم علی ھذا ایضا لان تحقیق فـــ۲ ھذا القول علی ماالھمنی ذوالطول ان الحالات ثلث وذلك ان نفس وجود الاسترخاء لازم النوم مطلقا ثم یبقی معہ بعض الاستمساك
کمال استرخاء کی صورت میں مانع صرف یہی ہوگی بخلاف اس کے جو قیام یا رکوع یا سنت طریقہ پر سجدہ کی حالت میں ہو تو یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس تقریر پر تو مطلقا ہر نیند ناقض وضو ہوگی اوریہ ہمارے اجماع کے بر خلاف ہے ۔
لیکن میں کہتاہوں کمال استرخا گمان خروج کی جگہ ہے او رمقعد کا استقرار منع خروج کے گمان کی جگہ ہے اس لئے دو نوں میں تعارض ہوگا اور شك سے نقض کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ دافع کی اتنی قوت کا استقرار اس کی مقاومت نہ کرسکے کثر ت کی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اس کو غالب واکثر شمار کر لیاجائے اور جائے گمان کا ثبوت غالب واکثر ہونے ہی سے ہوتا ہے اور جو بھی ہو مذہب اور جمہور اہل ترجیح کے مخالف ہونا ہی اس کی بات کی کافی علامت ہے کہ وہ حجت بننے کے قابل نہیں ۔
بلکہ میں کہتا ہوں اور تو فیق خداہی کی طر ف سے ہے-- تنور کا مسئلہ اس سے بھی موافقت نہیں رکھتا -- اس کے لئے اس قول کی تحقیق-- جیسا کہ رب کریم نے میرے دل میں القا کی -- -یہ ہے کہ تین حالتیں ہوتی ہیں وہ یوں کہ نفس استرخاء تو نیند کے لئے مطلقا لازم ہے پھر استرخاء کے ساتھ کچھ بندش باقی رہتی ہے
فـــ۱ : تطفل علی الفتح۔
فـــ۲ : تحقیق مناط النقض بالنوم علی مختارالھدایۃ۔
لکنی اقـول : کمال فــــ۱ الاسترخاء مظنۃ الخروج وتمکن المقعدۃ مظنۃ منعہ فیتعارضان ولا یثبت النقض بالشك ولا نسلم ان قوۃ الدافع بحیث لایقاومہ التمکن بلغ من الکثرۃ مایعدبہ غالبا ولامظنۃ الابالغلبۃ وکیفما کان فمخالفتہ للمذھب ولجمھور اھل الاختیار علم کاف علی تقاعدہ عن الحجیۃ۔
بل اقول : وبالله التوفیق مسئلۃ التنور لاتلتئم علی ھذا ایضا لان تحقیق فـــ۲ ھذا القول علی ماالھمنی ذوالطول ان الحالات ثلث وذلك ان نفس وجود الاسترخاء لازم النوم مطلقا ثم یبقی معہ بعض الاستمساك
کمال استرخاء کی صورت میں مانع صرف یہی ہوگی بخلاف اس کے جو قیام یا رکوع یا سنت طریقہ پر سجدہ کی حالت میں ہو تو یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس تقریر پر تو مطلقا ہر نیند ناقض وضو ہوگی اوریہ ہمارے اجماع کے بر خلاف ہے ۔
لیکن میں کہتاہوں کمال استرخا گمان خروج کی جگہ ہے او رمقعد کا استقرار منع خروج کے گمان کی جگہ ہے اس لئے دو نوں میں تعارض ہوگا اور شك سے نقض کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ دافع کی اتنی قوت کا استقرار اس کی مقاومت نہ کرسکے کثر ت کی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اس کو غالب واکثر شمار کر لیاجائے اور جائے گمان کا ثبوت غالب واکثر ہونے ہی سے ہوتا ہے اور جو بھی ہو مذہب اور جمہور اہل ترجیح کے مخالف ہونا ہی اس کی بات کی کافی علامت ہے کہ وہ حجت بننے کے قابل نہیں ۔
بلکہ میں کہتا ہوں اور تو فیق خداہی کی طر ف سے ہے-- تنور کا مسئلہ اس سے بھی موافقت نہیں رکھتا -- اس کے لئے اس قول کی تحقیق-- جیسا کہ رب کریم نے میرے دل میں القا کی -- -یہ ہے کہ تین حالتیں ہوتی ہیں وہ یوں کہ نفس استرخاء تو نیند کے لئے مطلقا لازم ہے پھر استرخاء کے ساتھ کچھ بندش باقی رہتی ہے
فـــ۱ : تطفل علی الفتح۔
فـــ۲ : تحقیق مناط النقض بالنوم علی مختارالھدایۃ۔
مالم یستغرق فاما غالبا کالنوم قائما او راکعا اوعلی ھیاۃ السنۃ ساجدا فان بقاء ہ علی تلك الھیات دلیل واضح علی غلبۃ الاستمساك اومغلوبا کالنوم قاعدا او راکبا وینتفی اصلا فی صورۃ الاضطجاع والاسترخاء و نحوھما فالاول لاینقض مطلقا والثالث ینقض من دون فصل ومنہ المتکیئ الی مالو ازیل سقط لان عدم سقوطہ لیس لبقاء شیئ من المسکۃ فیہ بل للسند کمیت یسند الی شیئ والثانی یفصل فیہ فان کان متمکن المقعدۃ لم ینقض لان التمکن یعارض غلبۃ الاسترخاء والانقض والنوم علی راس التنور جالسا متمکنا مدلیا من القسم الثانی قطعا دون الثالث اذلو انتفی التماسك لسقط بل کون الجلوس علی راس وطیس حام ربما یوجب تیقظ القلب اکثر مما لو کان حیث لامخافۃ فی السقوط فیکون التمکن مانعا للنقض وھو الموافق للضابطۃ ۔
ولکن ھیبۃ تلك الکتب الکبار کانت تقعد فی عن الاجتراء علی انکارھذا الفرع حتی رأیت الامام ابن امیر الحاج الحلبی رحمہ الله تعالی اوردہ فی
جب تك کہ استغراق نہ ہو اب یہ بندش یا تو غالب ہوتی ہے جیسے قیام یا رکوع یاسنت طریقہ پر سجدہ کی حالتوں میں سونا کیونکہ سونے والے کا ان حالتوں پر بر قرار رہنا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ بندش غالب ہے ---یا یہ بندش مغلوب ہوتی ہے جیسے بیٹھے ہوئے یا سوار ہونے کی حالت میں سونا اور کروٹ لیٹنے چت لیٹنے اور ان دونوں جیسی صورتوں میں بندش بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے پہلی صورت مطلقا ناقض نہیں اور تیسری صورت بغیرکسی تفصیل کے ناقض ہے اور اسی قسم میں وہ شخص داخل کیاجائے تو وہ گرپڑے کیونکہ اس کا نہ گرنابندش کے باقی رہ جانے کے باعث نہیں بلکہ محض ٹیك کی وجہ سے ہے جیسے مردے کو سہارے سے کھڑا کردیا جائے اور دوسری صورت میں تفصیل ہے اگر مقعد کو پوری طر ح جماؤ حاصل ہے تو ناقض نہیں اس لئے کہ استقرار غلبہ استرخاء کے معارض ہے اور ایسا نہ ہو تو ناقض ہے اورتنور کے کنارے بیٹھ کر اس میں پیر لٹکائے استقرار مقعد کے ساتھ سونا قطعا قسم دوم سے ہے قسم سوم سے نہیں اس لئے کہ بندش اگر ختم ہوجاتی تو گر جاتا بلکہ گرم تنور کے سرے پر بیٹھنا ایسی جگہ سے زیادہ بیدار قلبی کا موجب ہے جہاں گرنے کا اندیشہ نہ ہو تو بہ استقرار نقض وضو سے مانع ہوگا یہی ضابطہ کے مطابق ہے ۔
لیکن ان بڑی بڑی کتابوں کی ہیت اس جزئیہ کے انکار کی جسارت سے مجھے روکتی تھی یہاں تك کہ میں نے امام ابن امیر الحاج حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو دیکھا کہ حلیہ میں یہ جزئیہ خانیہ سے نقل کیا
ولکن ھیبۃ تلك الکتب الکبار کانت تقعد فی عن الاجتراء علی انکارھذا الفرع حتی رأیت الامام ابن امیر الحاج الحلبی رحمہ الله تعالی اوردہ فی
جب تك کہ استغراق نہ ہو اب یہ بندش یا تو غالب ہوتی ہے جیسے قیام یا رکوع یاسنت طریقہ پر سجدہ کی حالتوں میں سونا کیونکہ سونے والے کا ان حالتوں پر بر قرار رہنا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ بندش غالب ہے ---یا یہ بندش مغلوب ہوتی ہے جیسے بیٹھے ہوئے یا سوار ہونے کی حالت میں سونا اور کروٹ لیٹنے چت لیٹنے اور ان دونوں جیسی صورتوں میں بندش بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے پہلی صورت مطلقا ناقض نہیں اور تیسری صورت بغیرکسی تفصیل کے ناقض ہے اور اسی قسم میں وہ شخص داخل کیاجائے تو وہ گرپڑے کیونکہ اس کا نہ گرنابندش کے باقی رہ جانے کے باعث نہیں بلکہ محض ٹیك کی وجہ سے ہے جیسے مردے کو سہارے سے کھڑا کردیا جائے اور دوسری صورت میں تفصیل ہے اگر مقعد کو پوری طر ح جماؤ حاصل ہے تو ناقض نہیں اس لئے کہ استقرار غلبہ استرخاء کے معارض ہے اور ایسا نہ ہو تو ناقض ہے اورتنور کے کنارے بیٹھ کر اس میں پیر لٹکائے استقرار مقعد کے ساتھ سونا قطعا قسم دوم سے ہے قسم سوم سے نہیں اس لئے کہ بندش اگر ختم ہوجاتی تو گر جاتا بلکہ گرم تنور کے سرے پر بیٹھنا ایسی جگہ سے زیادہ بیدار قلبی کا موجب ہے جہاں گرنے کا اندیشہ نہ ہو تو بہ استقرار نقض وضو سے مانع ہوگا یہی ضابطہ کے مطابق ہے ۔
لیکن ان بڑی بڑی کتابوں کی ہیت اس جزئیہ کے انکار کی جسارت سے مجھے روکتی تھی یہاں تك کہ میں نے امام ابن امیر الحاج حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو دیکھا کہ حلیہ میں یہ جزئیہ خانیہ سے نقل کیا
الحلیۃ عن الخانیۃ ثم قال وھو غیر ظاھر بل الاشبہ عدم النقض لان مظنۃ الحدث من النوم مایتحقق معہ الاسترخاء علی وجہ الکمال والظاھر عدم وجود ذلك والا لسقط لفرض عدم المانع من استناد اوغیرہ اھ ومع ذلك احببت ان یجدد الوضوء ان وقع ذلك لانھا صورۃ نادرۃ فلا علینا ان نعمل فیھا بالاحتیاط بمعنی الخروج عن العہدۃ بیقین وان کان حقیقۃ الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔
ثم الذی سبق منہ الی ذھن الحلیۃ ان سبب الاسترخاء نفس الادلاء حیث قال فالقیاس علی ھذا یفید انہ لورکب علی اکاف علی الدابۃ فادلی رجلیہ من الجانبین کما یفعلہ بعضھم انہ ینقض وھو غیر ظاھر الخ
قلت ھکذا فی نسختی وھی سقیمۃ جدا والظاھر فادلی رجلیہ من احد الجانبین لان ھذا
پھر لکھا یہ غیر ظاہرہے بلکہ اشبہ ناقض نہ ہونا ہے اس لئے کہ مظنہ حدث (گمان حدث کا محل) وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخاء کامل طور پر متحقق ہو او ر ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخامتحقق نہ ہوگا ورنہ گرجائے گا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ ٹیك لگانا یا اس طر ح کا اور کوئی مانع نہیں ہے اھ اس کے باوجود میں نے پسندیہ کیا کہ اگر یہ صورت واقع ہوجائے تو تجدید وضو کرلے کیونکہ یہ ایك نادر صورت ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم احتیاط پر عمل کرلیں احتیاط کامعنی یہ کہ یقینی طور پر عہد بر آہوجائیں اگر چہ حقیقت احتیاط یہی ہے کہ قوی تر دلیل پر عمل ہو۔
پھر اس جزئیہ سے صاحب حلیہ کا ذہن اس طر ف گیا کہ استرخا کا سبب خود پاؤں لٹکانا ہے اس طر ح کہ وہ فرماتے ہیں اس پر قیاس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی جانور کے پالان پر سوار ہو کر دونوں جانب سے دونوں پاؤں لٹکالئے جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں تو وضو ٹوٹ جائے اور یہ غیر ظاہرہے الخ۔
قلت میرے نسخہ حلیہ میں اسی طر ح ہے اور یہ نسخہ بہت سقیم ہے ظاہر یہ ہے کہ عبارت اس طر ح ہوگی فادلی رجلیہ من احد
ثم الذی سبق منہ الی ذھن الحلیۃ ان سبب الاسترخاء نفس الادلاء حیث قال فالقیاس علی ھذا یفید انہ لورکب علی اکاف علی الدابۃ فادلی رجلیہ من الجانبین کما یفعلہ بعضھم انہ ینقض وھو غیر ظاھر الخ
قلت ھکذا فی نسختی وھی سقیمۃ جدا والظاھر فادلی رجلیہ من احد الجانبین لان ھذا
پھر لکھا یہ غیر ظاہرہے بلکہ اشبہ ناقض نہ ہونا ہے اس لئے کہ مظنہ حدث (گمان حدث کا محل) وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخاء کامل طور پر متحقق ہو او ر ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخامتحقق نہ ہوگا ورنہ گرجائے گا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ ٹیك لگانا یا اس طر ح کا اور کوئی مانع نہیں ہے اھ اس کے باوجود میں نے پسندیہ کیا کہ اگر یہ صورت واقع ہوجائے تو تجدید وضو کرلے کیونکہ یہ ایك نادر صورت ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم احتیاط پر عمل کرلیں احتیاط کامعنی یہ کہ یقینی طور پر عہد بر آہوجائیں اگر چہ حقیقت احتیاط یہی ہے کہ قوی تر دلیل پر عمل ہو۔
پھر اس جزئیہ سے صاحب حلیہ کا ذہن اس طر ف گیا کہ استرخا کا سبب خود پاؤں لٹکانا ہے اس طر ح کہ وہ فرماتے ہیں اس پر قیاس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی جانور کے پالان پر سوار ہو کر دونوں جانب سے دونوں پاؤں لٹکالئے جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں تو وضو ٹوٹ جائے اور یہ غیر ظاہرہے الخ۔
قلت میرے نسخہ حلیہ میں اسی طر ح ہے اور یہ نسخہ بہت سقیم ہے ظاہر یہ ہے کہ عبارت اس طر ح ہوگی فادلی رجلیہ من احد
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ھو الذی یفعلہ البعض دون العامۃ وھو المشابہ للا دلاء فی التنویر فسقط لفظ احد من قلم الناسخ۔
اقول : لکن یرد علیہ ان فـــ۱ الادلاء ان کان سببہ فالادلاء من الجانبین اولی لزیادۃ انفراج یحصل بہ فی المقعدۃ مع ان المصرح بہ فی الخانیۃ نفسھا والکتب قاطبۃ انہ ان نام علی ظھر الدابۃ فی سرج اواکاف لاینتقض وضوؤہ لعدم استرخاء المفاصل ۔ اھ
وثانیا قد قال فـــ۲ فی الخلاصۃ وغیرھا ان نام متربعا لاینقض الوضوء وکذا لونام متورکا وھو ان یبسط قدمیہ عن جانب ویلصق الیتیہ بالارض اھ
فلا یدخل الادلاء المذکور
الجانبین ایك جانب سے اپنے دونوں پاؤں لٹکائے اس لئے کہ اکثر کے بر خلاف بعض لوگ اسی طر ح کرتے ہیں اور یہی تنور میں پاؤں لٹکائے کے مشابہ بھی ہے تو کاتب کے قلم سے لفظ “ احد “ چھوٹ گیا ہے ۔
اقول : لیکن اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں اول اگر استرخاکا سبب پاؤں لٹکانا ہے تو دو نوں جانب سے پاؤں لٹکانا بدرجہ اولی اس کا سبب ہوگا اس لئے کہ اس سے مقعد کو زیادہ کشادگی مل جاتی ہے باوجودیکہ خود خانیہ میں اور تمام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ اگر جانور کی پشت پر زین یا پالان میں سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ استرخائے مفاصل نہ ہوگا (جوڑ ڈھیلے نہ پڑیں گے )اھ
دوم خلاصہ وغیرہا میں ہے اگر چار زانو بیٹھ کر سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اسی طر ح اگر بطور تو رك بیٹھ کر سوگیا تورك کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں ایك طرف کو پھیلا دے اور سر ینوں کو زمین سے ملادے اھ۔
تو کیا تنور میں پاؤں لٹکانے کی مذکورہ صورت
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فـــ۲ : تطفل اخر علیھا۔
اقول : لکن یرد علیہ ان فـــ۱ الادلاء ان کان سببہ فالادلاء من الجانبین اولی لزیادۃ انفراج یحصل بہ فی المقعدۃ مع ان المصرح بہ فی الخانیۃ نفسھا والکتب قاطبۃ انہ ان نام علی ظھر الدابۃ فی سرج اواکاف لاینتقض وضوؤہ لعدم استرخاء المفاصل ۔ اھ
وثانیا قد قال فـــ۲ فی الخلاصۃ وغیرھا ان نام متربعا لاینقض الوضوء وکذا لونام متورکا وھو ان یبسط قدمیہ عن جانب ویلصق الیتیہ بالارض اھ
فلا یدخل الادلاء المذکور
الجانبین ایك جانب سے اپنے دونوں پاؤں لٹکائے اس لئے کہ اکثر کے بر خلاف بعض لوگ اسی طر ح کرتے ہیں اور یہی تنور میں پاؤں لٹکائے کے مشابہ بھی ہے تو کاتب کے قلم سے لفظ “ احد “ چھوٹ گیا ہے ۔
اقول : لیکن اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں اول اگر استرخاکا سبب پاؤں لٹکانا ہے تو دو نوں جانب سے پاؤں لٹکانا بدرجہ اولی اس کا سبب ہوگا اس لئے کہ اس سے مقعد کو زیادہ کشادگی مل جاتی ہے باوجودیکہ خود خانیہ میں اور تمام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ اگر جانور کی پشت پر زین یا پالان میں سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ استرخائے مفاصل نہ ہوگا (جوڑ ڈھیلے نہ پڑیں گے )اھ
دوم خلاصہ وغیرہا میں ہے اگر چار زانو بیٹھ کر سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اسی طر ح اگر بطور تو رك بیٹھ کر سوگیا تورك کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں ایك طرف کو پھیلا دے اور سر ینوں کو زمین سے ملادے اھ۔
تو کیا تنور میں پاؤں لٹکانے کی مذکورہ صورت
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فـــ۲ : تطفل اخر علیھا۔
حوالہ / References
فتاوی قاضی خان ، تاب الطہارۃ ، صل فی النوم نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲۰
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کویٹہ ۱ / ۱۹
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کویٹہ ۱ / ۱۹
فی ھذا التفسیر بل ھو امکن للمقعدۃ من بسط القدمین علی محل مستوکما لایخفی۔
بل الوجہ عندی ان المراد تنورحام فیہ شیئ من الجمرات اوبقیۃ من حرارۃ الایقاد کما اومأت الیہ فان الحر یوجب الارخاء ولذا عبروا بالتنور دون الکرسی مع کون الجلوس علی التنور بھذا الوجہ فی غایۃ الندور علی الکرسی معھود مشہور والله تعالی اعلم۔
الخامسۃ النوم فـــ۱ لیس بنفسہ حدثا بل لما عسی ان یخرج وعلیہ العامۃ بل حکی فی التوشیح الاتفاق علیہ وھو الحق لحدیث ان العین وکاء السہ ولذا لم ینتقض فـــ۲ وضوؤہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالنوم
اس صورت میں داخل نہ ہوگی بلکہ اس میں مقعد کو زیادہ قرار ہوگا بہ نسبت اس کے کہ دونوں پاؤں کسی ہموار جگہ پھیلا ئے جائیں جیسا کہ واضح ہے ۔
بلکہ میرے نزدیك وجہ یہ ہے کہ مراد ایسا گرم تنور ہے جس میں کچھ انگارے ہیں یا بھڑ کانے سے جو گرمی پیدا ہوئی تھی کچھ باقی رہ گئی ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا اس لئے کہ گرمی اعضامیں ڈھیلا پن لانے کا سبب ہوتی ہے اسی لئے تنور سے تعبیر کی گئی ہے کرسی سے تعبیر نہ ہوئی باوجود یکہ تنور پر اس اندازسے بیٹھنا انتہائی نادر ہے اور کرسی پر بیٹھنا معروف ومشہور ہے والله تعالی اعلم
افادہ خامسہ۵ : نیند بذات خود حدث نہیں بلکہ خروج ریح کا گمان غالب ہونے کی وجہ سے حدث ہے اسی پر عامہ علماء ہیں بلکہ تو شیح میں اس پر اجماع واتفاق کی حکایت کی ہے او ریہی حق ہے اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ مقعد کا بندھن ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضو نیند سے نہیں
فـــ۱ : مسئلہ : نیند خود ناقض وضو نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ سوتے میں خروج ریح کا ظن غالب ہے ۔
فـــ۲ : مسئلہ : انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضوسونے سے نہ جاتا ۔
بل الوجہ عندی ان المراد تنورحام فیہ شیئ من الجمرات اوبقیۃ من حرارۃ الایقاد کما اومأت الیہ فان الحر یوجب الارخاء ولذا عبروا بالتنور دون الکرسی مع کون الجلوس علی التنور بھذا الوجہ فی غایۃ الندور علی الکرسی معھود مشہور والله تعالی اعلم۔
الخامسۃ النوم فـــ۱ لیس بنفسہ حدثا بل لما عسی ان یخرج وعلیہ العامۃ بل حکی فی التوشیح الاتفاق علیہ وھو الحق لحدیث ان العین وکاء السہ ولذا لم ینتقض فـــ۲ وضوؤہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بالنوم
اس صورت میں داخل نہ ہوگی بلکہ اس میں مقعد کو زیادہ قرار ہوگا بہ نسبت اس کے کہ دونوں پاؤں کسی ہموار جگہ پھیلا ئے جائیں جیسا کہ واضح ہے ۔
بلکہ میرے نزدیك وجہ یہ ہے کہ مراد ایسا گرم تنور ہے جس میں کچھ انگارے ہیں یا بھڑ کانے سے جو گرمی پیدا ہوئی تھی کچھ باقی رہ گئی ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا اس لئے کہ گرمی اعضامیں ڈھیلا پن لانے کا سبب ہوتی ہے اسی لئے تنور سے تعبیر کی گئی ہے کرسی سے تعبیر نہ ہوئی باوجود یکہ تنور پر اس اندازسے بیٹھنا انتہائی نادر ہے اور کرسی پر بیٹھنا معروف ومشہور ہے والله تعالی اعلم
افادہ خامسہ۵ : نیند بذات خود حدث نہیں بلکہ خروج ریح کا گمان غالب ہونے کی وجہ سے حدث ہے اسی پر عامہ علماء ہیں بلکہ تو شیح میں اس پر اجماع واتفاق کی حکایت کی ہے او ریہی حق ہے اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ مقعد کا بندھن ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضو نیند سے نہیں
فـــ۱ : مسئلہ : نیند خود ناقض وضو نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ سوتے میں خروج ریح کا ظن غالب ہے ۔
فـــ۲ : مسئلہ : انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضوسونے سے نہ جاتا ۔
حوالہ / References
تاریخ بغداد ترجمہ بکر بن یزید ۳۵۲۷ دار الکتاب العربی بیروت ۷ / ۹۲ ، سنن الدار قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۶ دار المعرفہ بیروت ۱ / ۳۷۷
کما ثبت فی الصحیحین عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما
وذلك لقولہ فـــ صلی الله علیہ تعالی علیہ وسلم ان عینی تنامان ولاینام قلبی رواہ الشیخان عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا وعدوہ من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کما فی الفتح عن القنیۃ
قلت ای بالنسبۃ الی الامۃ والا فالا نبیاء جمیعا کذلك علیھم الصلاۃ والسلام لحدیث الصحیحین عن انس رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الانبیاء تنام اعینھم ولا
ٹوٹتا جیسا کہ صحیحین (بخاری ومسلم) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے ثابت ہے ۔ اور اس کا سبب حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد ہے بیشك میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا اسے شخین (بخاری ومسلم) نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ااور اسے علماء نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خصائص سے شمار کیا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں قنیہ سے منقول ہے ۔
قلت یعنی امت کے لحاظ سے سرکار کی یہ خصوصیت ہے ورنہ تمام انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا یہی وصف ہے اس لئے کہ صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں
فـــ : انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکی آنکھیں سوتی ہیں دل کبھی نہیں سوتا ۔
وذلك لقولہ فـــ صلی الله علیہ تعالی علیہ وسلم ان عینی تنامان ولاینام قلبی رواہ الشیخان عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا وعدوہ من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کما فی الفتح عن القنیۃ
قلت ای بالنسبۃ الی الامۃ والا فالا نبیاء جمیعا کذلك علیھم الصلاۃ والسلام لحدیث الصحیحین عن انس رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الانبیاء تنام اعینھم ولا
ٹوٹتا جیسا کہ صحیحین (بخاری ومسلم) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے ثابت ہے ۔ اور اس کا سبب حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد ہے بیشك میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا اسے شخین (بخاری ومسلم) نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ااور اسے علماء نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے خصائص سے شمار کیا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں قنیہ سے منقول ہے ۔
قلت یعنی امت کے لحاظ سے سرکار کی یہ خصوصیت ہے ورنہ تمام انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا یہی وصف ہے اس لئے کہ صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں
فـــ : انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکی آنکھیں سوتی ہیں دل کبھی نہیں سوتا ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتا ب الوضوء ۱ / ۲۷ ، ۳۰ و کتاب الاذان ۱ / ۱۱۹ وابواب الوتر ۱ / ۱۳۵ قدیمی کتب خانہ کراچی ، مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۸۳ ، صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین باب صلوۃ النبی صلی αاللہ€ تعالی علیہ ودعائہ باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶۰، صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی αاللہ€ تعالی علیہ ودعائہ باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۴
صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی αاللہ€ تعالی علیہ ودعائہ باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۴،صحیح البخاری کتاب التہجد باب قیام النبی αصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم€ باللیل فیرمضان وغیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۴
فتح القدیر کتاب الطھارۃ فصل فی نواقض الوضو مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۴
صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی αاللہ€ تعالی علیہ ودعائہ باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۴،صحیح البخاری کتاب التہجد باب قیام النبی αصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم€ باللیل فیرمضان وغیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۴
فتح القدیر کتاب الطھارۃ فصل فی نواقض الوضو مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۴
تنام قلوبھم فاندفع فــــ۱ مافی کشف الرمز ان مقتضی کونہ من الخصائص ان غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لیس کذلك اھ
وھل یجوز ان فــــ۲ یکون ذلك لاحد من اکابر الامۃ وراثۃ منہ صلی الله علیہ وسلم قال المولی ملك العلماء بحرالعلوم عبدالعلی محمد رحمہ الله تعالی فی الارکان الاربعۃ ان قال احد ان کان فی اتباع رسول الله صلی الله علیہ وسلم من بلغ رتبۃ لایغفل فی نومہ بقلبہ انما تغفل
سوتے تو (خصوصیت بہ نسبت امت مراد لینے سے ) وہ شبہ دور ہوگیا جو کشف الرمز میں پیش کیا ہے کہ اس امر کے خصائص سرکار سے ہونے کا متقضایہ ہے کہ سرکار اقد س صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علاوہ دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ السلام کا یہ حال نہیں اھ
کیایہ ہوسکتا ہے کہ سرکار اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وارثت کے طور پر ان کی امت کے اکابر میں سے کسی کو یہ وصف مل جائے
ملك العلمابحر العلوم مولانا عبدالعلی محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہارکان اربعہ میں لکھتے ہیں : اگر کوئی یہ کہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے متبعین میں سے کوئی اس رتبہ کو پہنچ گیا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی اتباع کی برکت سے نیند میں اس کا دل
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ المقدسی۔
فـــ۲ : ملك العلماء بحر العلوم مولنا عبدالعلی نے فرمایا کہ اگر کہا جائے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وراثت سے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہکو بھی یہ مرتبہ تھا کہ حضور کا وضو سونے سے نہ جاتا آنکھیں سوتیں دل بیدار رہتا اور اکابر اولیاء جو اس مرتبہ تك پہنچے ہوں اگر چہ حضور غوث اعظم کے مراتب تك نہیں پہنچ سکتے تو یہ کہنا حق سے بعید نہ ہوگا اور مصنف کا حدیث سے اس کی تائید کرنا ۔
وھل یجوز ان فــــ۲ یکون ذلك لاحد من اکابر الامۃ وراثۃ منہ صلی الله علیہ وسلم قال المولی ملك العلماء بحرالعلوم عبدالعلی محمد رحمہ الله تعالی فی الارکان الاربعۃ ان قال احد ان کان فی اتباع رسول الله صلی الله علیہ وسلم من بلغ رتبۃ لایغفل فی نومہ بقلبہ انما تغفل
سوتے تو (خصوصیت بہ نسبت امت مراد لینے سے ) وہ شبہ دور ہوگیا جو کشف الرمز میں پیش کیا ہے کہ اس امر کے خصائص سرکار سے ہونے کا متقضایہ ہے کہ سرکار اقد س صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علاوہ دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ السلام کا یہ حال نہیں اھ
کیایہ ہوسکتا ہے کہ سرکار اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وارثت کے طور پر ان کی امت کے اکابر میں سے کسی کو یہ وصف مل جائے
ملك العلمابحر العلوم مولانا عبدالعلی محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہارکان اربعہ میں لکھتے ہیں : اگر کوئی یہ کہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے متبعین میں سے کوئی اس رتبہ کو پہنچ گیا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی اتباع کی برکت سے نیند میں اس کا دل
فــــ۱ : تطفل علی العلامۃ المقدسی۔
فـــ۲ : ملك العلماء بحر العلوم مولنا عبدالعلی نے فرمایا کہ اگر کہا جائے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وراثت سے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہکو بھی یہ مرتبہ تھا کہ حضور کا وضو سونے سے نہ جاتا آنکھیں سوتیں دل بیدار رہتا اور اکابر اولیاء جو اس مرتبہ تك پہنچے ہوں اگر چہ حضور غوث اعظم کے مراتب تك نہیں پہنچ سکتے تو یہ کہنا حق سے بعید نہ ہوگا اور مصنف کا حدیث سے اس کی تائید کرنا ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب باب کان النبی αصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم€ تنام عینہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۰۴ ، کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن انس حدیث ۳۲۲۴۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۷۷
فتح المعین بحوالہ کشف الرمز کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
فتح المعین بحوالہ کشف الرمز کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
عیناہ بیمن اتباعہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کالشیخ الامام محی الدین عبدالقادر الجیلانی قدس سرہ وغیرہ ممن وصل الی ھذہ الرتبۃ وان لم یصل مرتبتہ رضی الله تعالی عنہ لم یکن قولہ بعیدا عن الصواب فافھم اھ
اقـول : لیس من الشرع حجر فی ذلك انہ لا یجوز الا لنبی والامرفیہ وجد انی یعلمہ من یرزقہ فلاوجہ للانکار وقداخرج الترمذی وقال حسن عن ابی بکرۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم یمکث ابو الدجال وامہ ثلثین عاما لایولد لھما ولد ثم یولد لہما غلام اعوراضر شیئ واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ الحدیث۔
وفیہ ولادۃ ابن صیادو قول والدیہ الیھودیین ولدلنا غلام اعوراضر شیئ و
غافل نہ ہوتا صرف اس کی آنکھیں غافل ہوتیں جیسے امام محی الدین شیخ عبدالقادر جیلا نی قدس سر ہ اور ان کے علاوہ وہ اکابر جن کا یہ وصف رہا ہو اگر چہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے مرتبے تك ان کی رسائی نہ ہو تو یہ قول حق سے بعید نہ ہوگا فافہم اھ۔
اقول : شریعت سے اس بارے میں کوئی روك نہیں کہ یہ نبی کے سوا اور کے لئے نہیں ہوسکتا ۔ یہ معاملہ وجدان کا ہے جسے یہ نصیب ہو وہی اس سے آشنا ہوگا تو انکار کی کوئی وجہ نہیں- ترمذی نے حسن بتاتے ہوئے -حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : دجال کا باپ اور اس کی ماں تیس سال تك اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی بچہ پیدانہ ہوگا پھر ان کے ایك لڑکا پیدا ہوگا جو ایك آنکھ کا ہوگا ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کادل نہ سوئے گا ۔ الحدیث ۔
اور اس حدیث میں ابن صیاد کے پیدا ہونے اور اس کے یہودی ماں باپ کے یہ کہنے کا بھی ذکر ہے کہ ہمارے ہاں ایك لڑکا پیدا ہوا ہے
اقـول : لیس من الشرع حجر فی ذلك انہ لا یجوز الا لنبی والامرفیہ وجد انی یعلمہ من یرزقہ فلاوجہ للانکار وقداخرج الترمذی وقال حسن عن ابی بکرۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم یمکث ابو الدجال وامہ ثلثین عاما لایولد لھما ولد ثم یولد لہما غلام اعوراضر شیئ واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ الحدیث۔
وفیہ ولادۃ ابن صیادو قول والدیہ الیھودیین ولدلنا غلام اعوراضر شیئ و
غافل نہ ہوتا صرف اس کی آنکھیں غافل ہوتیں جیسے امام محی الدین شیخ عبدالقادر جیلا نی قدس سر ہ اور ان کے علاوہ وہ اکابر جن کا یہ وصف رہا ہو اگر چہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے مرتبے تك ان کی رسائی نہ ہو تو یہ قول حق سے بعید نہ ہوگا فافہم اھ۔
اقول : شریعت سے اس بارے میں کوئی روك نہیں کہ یہ نبی کے سوا اور کے لئے نہیں ہوسکتا ۔ یہ معاملہ وجدان کا ہے جسے یہ نصیب ہو وہی اس سے آشنا ہوگا تو انکار کی کوئی وجہ نہیں- ترمذی نے حسن بتاتے ہوئے -حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : دجال کا باپ اور اس کی ماں تیس سال تك اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی بچہ پیدانہ ہوگا پھر ان کے ایك لڑکا پیدا ہوگا جو ایك آنکھ کا ہوگا ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کادل نہ سوئے گا ۔ الحدیث ۔
اور اس حدیث میں ابن صیاد کے پیدا ہونے اور اس کے یہودی ماں باپ کے یہ کہنے کا بھی ذکر ہے کہ ہمارے ہاں ایك لڑکا پیدا ہوا ہے
حوالہ / References
رسائل الارکان ، الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ ، فصل فی الوضو ، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ص۱۸
رسائل الارکان الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ فصل فی الوضو مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸
رسائل الارکان الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ فصل فی الوضو مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸
اقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ وفیہ قولہ عن نفسہ نعم تنام عینای ولا ینام قلبی
قال القاری قال القاضی رحمھما الله تعالی ای لاتنقطع افکارہ الفاسدۃ عنہ عند النوم لکثرۃ وساوسہ وتخیلاتہ وتواتر مایلقی الشیطان الیہ کما لم یکن ینام قلب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من افکارہ الصالحۃ بسبب ماتواتر علیہ من الوحی والالہام اھ
اقول : لقدثقلت فـــ ھذہ الکاف علی واحسن منہ قول مرقاۃ الصعود ان ھذا کان من المکربہ لیستیقظ القلب فی الفجور والمفسدۃ لیکون ابلغ فی عقوبتہ بخلاف استیقاظ قلب المصطفی صلی الله تعالی
جو ایك آنکھ کا ہے ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا اس کی آنکھیں سوتی ہیں او راس کا دل نہیں سوتا - اور اس میں خود ابن صیاد کا اپنے متعلق یہ قول مذکورہے کہ ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ۔
مولانا علی قاری لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض رحہما الله تعالی نے فرمایا یعنی سونے کے وقت بھی اس کے فاسد خیالات کا سلسلہ اس سے منقطع نہ ہوگا کیونکہ اس کے لئے وسوسوں اور خیالات کی کثرت ہوگی متواتر و مسلسل شیطان اسے یہ سب القاکرتا رہے گا جیسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا قلب ان کے صالح وپاکیزہ افکار سے خوابیدہ نہ ہوتا کیونکہ مسلسل ان پر وحی والہام ہوتا رہتا اھ۔
اقول : یہ “ جیسے “ مجھ پر گراں گزررہاہے اس سے بہتر مرقاۃ الصعود میں اما م جلال الدین سیوطی کی عبارت ہے وہ لکھتے ہیں : “ یہ اس کے ساتھ خفیہ تدبیر تھی کہ فساد وفجور میں اس کا دل بیدار رہے تا کہ اس کاعقاب بھی سخت تر ہو بخلاف قلب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بیدار ی کے کہ
فـــــ : تطفل علی الامام القاضی عیاض والعلامۃ علی القاری ۔
قال القاری قال القاضی رحمھما الله تعالی ای لاتنقطع افکارہ الفاسدۃ عنہ عند النوم لکثرۃ وساوسہ وتخیلاتہ وتواتر مایلقی الشیطان الیہ کما لم یکن ینام قلب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من افکارہ الصالحۃ بسبب ماتواتر علیہ من الوحی والالہام اھ
اقول : لقدثقلت فـــ ھذہ الکاف علی واحسن منہ قول مرقاۃ الصعود ان ھذا کان من المکربہ لیستیقظ القلب فی الفجور والمفسدۃ لیکون ابلغ فی عقوبتہ بخلاف استیقاظ قلب المصطفی صلی الله تعالی
جو ایك آنکھ کا ہے ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا اس کی آنکھیں سوتی ہیں او راس کا دل نہیں سوتا - اور اس میں خود ابن صیاد کا اپنے متعلق یہ قول مذکورہے کہ ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ۔
مولانا علی قاری لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض رحہما الله تعالی نے فرمایا یعنی سونے کے وقت بھی اس کے فاسد خیالات کا سلسلہ اس سے منقطع نہ ہوگا کیونکہ اس کے لئے وسوسوں اور خیالات کی کثرت ہوگی متواتر و مسلسل شیطان اسے یہ سب القاکرتا رہے گا جیسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا قلب ان کے صالح وپاکیزہ افکار سے خوابیدہ نہ ہوتا کیونکہ مسلسل ان پر وحی والہام ہوتا رہتا اھ۔
اقول : یہ “ جیسے “ مجھ پر گراں گزررہاہے اس سے بہتر مرقاۃ الصعود میں اما م جلال الدین سیوطی کی عبارت ہے وہ لکھتے ہیں : “ یہ اس کے ساتھ خفیہ تدبیر تھی کہ فساد وفجور میں اس کا دل بیدار رہے تا کہ اس کاعقاب بھی سخت تر ہو بخلاف قلب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی بیدار ی کے کہ
فـــــ : تطفل علی الامام القاضی عیاض والعلامۃ علی القاری ۔
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب الفتن باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد حدیث ۲۲۵۵ دار الفکر بیروت ۴ / ۱۰۹
سنن الترمذی کتاب الفتن باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد حدیث ۲۲۵۵ دار الفکر بیروت ۴ / ۱۰۹
مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب قصہ ابن صیاد تحت الحدیث ۵۵۰۳ المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ۹ / ۴۳۴
سنن الترمذی کتاب الفتن باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد حدیث ۲۲۵۵ دار الفکر بیروت ۴ / ۱۰۹
مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب قصہ ابن صیاد تحت الحدیث ۵۵۰۳ المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ۹ / ۴۳۴
علیہ وسلم فانہ فی المعارف الالھیۃ ومصالح لاتحصی فھو رافع لدرجاتہ ومعظم لشانہ اھ
وبالجملۃ اذا جاز ھذا للدجال ولابن صیاد استد راجالھما فلان یجوز لکبراء الامۃ بوراثۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم اولی واحری۔
ثم رأیت العارف بالله سیدی عبدالوھاب
الشعرانی قدس سرہ الربانی نقل فی المبحث الثانی والعشرین من کتاب الیواقیت والجواھر عن سیدی الشیخ محمد المغربی رحمہ الله تعالی انہ کان رضی الله تعالی عنہ یقول ان من ادعی رؤیۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کما رأتہ الصحابۃ فھو کاذب وان ادعی انہ یراہ بقلبہ حال کون القلب یقظانا فھذا لایمنع منہ وذلك لان من بالغ فی کمال الاستعداد بتنطیف القلب من الرذائل المذمومۃ حتی من خلاف الاولی صار محبوباللحق تعالی واذا احب الحق تعالی عبدا کان فی نومہ من کثرۃ
وہ معارف الہیہ اور مصالح بے حد و شمارمیں ہوتی وہ ان کے درجات کی بلندی اور شان گرامی کی عظمت کا سبب تھی اھ۔
الحاصل جب یہ بطور استدراج دجال اور ابن صیاد کے لئے ہوسکتا ہے تو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وراثت میں ان کی امت کے بزرگوں کے لئے بدرجہ اولی ہوسکتاہے ۔
پھر میں نے دیکھا کہ عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے اپنی کتاب “ الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر “ کے بائیسویں مبحث میں سیدی شیخ محمد مغربی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل کیا ہے کہ یہ حضرت شیخ رضی اللہ تعالی عنہفرماتے تھے کہ جو یہ دعوی کرے کہ اس نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اس طر ح دیکھا ہے جیسے صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ جھوٹا ہے- اور اگریہ دعوی کرے کہ وہ قلب کے بیدار ہونے کی حالت میں اپنے قلب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھتا ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس لئے کہ جو شخص بری عادات یہاں تك کہ خلاف اولی سے بھی دل کو صاف ستھراکر کے کمال استعداد پیدا کرلے وہ حق تعالی کا محبوب بن جاتا ہے اور جب حق تعالی کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو وہ اپنی نورانیت قلب کی فراوانی
وبالجملۃ اذا جاز ھذا للدجال ولابن صیاد استد راجالھما فلان یجوز لکبراء الامۃ بوراثۃ المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم اولی واحری۔
ثم رأیت العارف بالله سیدی عبدالوھاب
الشعرانی قدس سرہ الربانی نقل فی المبحث الثانی والعشرین من کتاب الیواقیت والجواھر عن سیدی الشیخ محمد المغربی رحمہ الله تعالی انہ کان رضی الله تعالی عنہ یقول ان من ادعی رؤیۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کما رأتہ الصحابۃ فھو کاذب وان ادعی انہ یراہ بقلبہ حال کون القلب یقظانا فھذا لایمنع منہ وذلك لان من بالغ فی کمال الاستعداد بتنطیف القلب من الرذائل المذمومۃ حتی من خلاف الاولی صار محبوباللحق تعالی واذا احب الحق تعالی عبدا کان فی نومہ من کثرۃ
وہ معارف الہیہ اور مصالح بے حد و شمارمیں ہوتی وہ ان کے درجات کی بلندی اور شان گرامی کی عظمت کا سبب تھی اھ۔
الحاصل جب یہ بطور استدراج دجال اور ابن صیاد کے لئے ہوسکتا ہے تو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وراثت میں ان کی امت کے بزرگوں کے لئے بدرجہ اولی ہوسکتاہے ۔
پھر میں نے دیکھا کہ عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے اپنی کتاب “ الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر “ کے بائیسویں مبحث میں سیدی شیخ محمد مغربی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل کیا ہے کہ یہ حضرت شیخ رضی اللہ تعالی عنہفرماتے تھے کہ جو یہ دعوی کرے کہ اس نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اس طر ح دیکھا ہے جیسے صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ جھوٹا ہے- اور اگریہ دعوی کرے کہ وہ قلب کے بیدار ہونے کی حالت میں اپنے قلب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھتا ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس لئے کہ جو شخص بری عادات یہاں تك کہ خلاف اولی سے بھی دل کو صاف ستھراکر کے کمال استعداد پیدا کرلے وہ حق تعالی کا محبوب بن جاتا ہے اور جب حق تعالی کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو وہ اپنی نورانیت قلب کی فراوانی
حوالہ / References
مرقاۃ الصعود الی سنن ابی داؤد للسیوطی
نورانیۃ قلبہ کانہ یقظان الخ
ثم رأیت ولله الحمد ماھو اصرح قال سیدنا الشیخ الاکبر رضی الله تعالی عنہ فی الباب الثامن والتسعین من الفتوحات المکیۃ من شرط الولی الکامل ان لاینام لہ قلب بحکم الارث لرسول الله صلی الله علیہ وسلم وذلك لان الکامل مطالب بحفظ ذاتہ الباطنۃ عن الغفلۃ کما یحفظ ذاتہ الظاھر اھ ونقلہ المولی الشعرانی فی الکبریت الاحمر مقرا علیہ والله تعالی اعلم
ثم وقع فـــــ الخلف بینھم فی سائر النواقض سوی النوم ھل تکون ناقضۃ من الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ام لا۔
اقول : ای ماامکن منھا
کی وجہ سے خواب کی حالت میں بھی گویا بیدار ہوتا ہے الخ۔ اھ۔
پھرمیں نے اس سے بھی زیادہ صریح دیکھا ۔ ولله الحمد- سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہفتوحات مکیہ کے باب ۹۸میں لکھتے ہیں : ولی کامل کی شرط یہ ہے کہ بحکم وراثت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کا قلب نہ سوئے اس لئے کہ کامل سے اس امر کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی ذات با طن کو غفلت سے محفوظ رکھے جیسے اپنی ذات ظاہر کو بیداری کے ذریعہ محفوظ رکھتاہے اھ- اسے امام شعرانی نے کبر یت احمر میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے والله تعالی اعلم
پھر ان حضرات کے درمیان یہ اختلاف ہوا کہ نیند کے سوا دیگر نواقض سے انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو جاتا یا نہیں
اقول : مراد وہ نواقض ہیں جو حضرات
فــــ : مسئلہ : نیند کے سوا باقی اور نواقض سے بھی انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو جاتا یا نہیں اس میں اختلاف ہے علامہ قہستانی وغیرہ نے فرمایا انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو کسی طرح نہ جاتا اور مصنف کی تحقیق کہ نواقض حکمیہ مثل خواب و غشی سے نہ جاتا اور نواقض حقیقیہ مثل بول وغیرہ سے ان کی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ۔
ثم رأیت ولله الحمد ماھو اصرح قال سیدنا الشیخ الاکبر رضی الله تعالی عنہ فی الباب الثامن والتسعین من الفتوحات المکیۃ من شرط الولی الکامل ان لاینام لہ قلب بحکم الارث لرسول الله صلی الله علیہ وسلم وذلك لان الکامل مطالب بحفظ ذاتہ الباطنۃ عن الغفلۃ کما یحفظ ذاتہ الظاھر اھ ونقلہ المولی الشعرانی فی الکبریت الاحمر مقرا علیہ والله تعالی اعلم
ثم وقع فـــــ الخلف بینھم فی سائر النواقض سوی النوم ھل تکون ناقضۃ من الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ام لا۔
اقول : ای ماامکن منھا
کی وجہ سے خواب کی حالت میں بھی گویا بیدار ہوتا ہے الخ۔ اھ۔
پھرمیں نے اس سے بھی زیادہ صریح دیکھا ۔ ولله الحمد- سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہفتوحات مکیہ کے باب ۹۸میں لکھتے ہیں : ولی کامل کی شرط یہ ہے کہ بحکم وراثت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس کا قلب نہ سوئے اس لئے کہ کامل سے اس امر کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی ذات با طن کو غفلت سے محفوظ رکھے جیسے اپنی ذات ظاہر کو بیداری کے ذریعہ محفوظ رکھتاہے اھ- اسے امام شعرانی نے کبر یت احمر میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے والله تعالی اعلم
پھر ان حضرات کے درمیان یہ اختلاف ہوا کہ نیند کے سوا دیگر نواقض سے انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو جاتا یا نہیں
اقول : مراد وہ نواقض ہیں جو حضرات
فــــ : مسئلہ : نیند کے سوا باقی اور نواقض سے بھی انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو جاتا یا نہیں اس میں اختلاف ہے علامہ قہستانی وغیرہ نے فرمایا انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو کسی طرح نہ جاتا اور مصنف کی تحقیق کہ نواقض حکمیہ مثل خواب و غشی سے نہ جاتا اور نواقض حقیقیہ مثل بول وغیرہ سے ان کی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ۔
حوالہ / References
الیواقیت والجواھر المبحث الثانی والعشرون دارا حیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۳۹
الفتوحات المکیۃ الباب الثامن والتسعون فی معرفۃ مقام السھر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۸۲
الکبریت الاحمر مع ا لیواقیت والجواہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۲۸ ، ۲۲۹
الفتوحات المکیۃ الباب الثامن والتسعون فی معرفۃ مقام السھر دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۱۸۲
الکبریت الاحمر مع ا لیواقیت والجواہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۲۸ ، ۲۲۹
علیھم لاکجنون فـــــ۱ اوقھقھۃ فـــــ۲ فی الصلاۃ وماضاھا ھما مما فـــــ۳ ھو محال علیھم صلوات الله تعالی وسلامہ علیھم ففی الدر المختار العتہ فـــــ۴ لاینقض کنوم الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وھل ینقض اغماؤھم وغشیھم ظاھر کلام المبسوط نعم اھ واعترضہ السید علی الازھری بعبارۃ القہستانی لانقض من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام فلاحاجۃ الی تخصیص النوم بعدم النقض وحینئذ یکون وضوؤھم تشریعا للامم اھ۔
انبیاء علیہم السلام کے لئے ممکن ہیں وہ نہیں جوان کے لئے محال ہیں صلوات الله تعالی وسلامہ علیہم جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ اور اس کے مثل- درمختار میں ہے عتہ ( جنون سے کم درجہ کا ایك دماغی خلل) کسی کے لئے ناقض وضو نہیں جیسے انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کی نیند ناقض وضو نہیں - ان حضرات کے لئے اغماء اور بیہوشی ناقض ہے یا نہیں مبسوط کا کلام اثبات میں ہے اھ - اس پر سید علی ازہری نے قہستانی کی یہ عبارت پیش کی : “ انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو کسی طر ح نہ جاتا “ - اور درمختار پر اعتراض کیا کہ جب حکم عام ہے تو نیند کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں- اور اس صورت میں ان حضرات کا وضو فرمانا امتوں کے لئے شریعت جاری کرنے اور قانون بنانے کے لئے تھا “ اھ۔
فــــ۱ : مسئلہ : جنون سے وضو جاتا رہتا ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : نماز جنازہ کے سوا اور نماز میں بالغ آدمی جاگتے میں ایسا ہنسے کہ اور وں تك ہنسی کی آواز پہنچے تو وضو بھی جاتا رہے گا ۔
فـــ۳ : مسئلہ : بعض نواقض وضو ء انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکے لئے یوں ناقض نہیں کہ ان کا وقوع ہی ان سے محال ہے جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ ۔
فــــ۴ : مسئلہ : بوہر اہو جانا یعنی دماغ میں معاذ الله خلل پیدا ہو رہے فاسد ہوجائے آدمی کبھی عاقلوں کی سی باتیں کرے کبھی پاگلوں کی سی مگر مجنون کی طر ح لوگوں کو مارتا گالیاں دیتا نہ ہوتو اس حالت کے پیدا ہونے سے وضو نہیں جاتا ۔
انبیاء علیہم السلام کے لئے ممکن ہیں وہ نہیں جوان کے لئے محال ہیں صلوات الله تعالی وسلامہ علیہم جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ اور اس کے مثل- درمختار میں ہے عتہ ( جنون سے کم درجہ کا ایك دماغی خلل) کسی کے لئے ناقض وضو نہیں جیسے انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کی نیند ناقض وضو نہیں - ان حضرات کے لئے اغماء اور بیہوشی ناقض ہے یا نہیں مبسوط کا کلام اثبات میں ہے اھ - اس پر سید علی ازہری نے قہستانی کی یہ عبارت پیش کی : “ انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو کسی طر ح نہ جاتا “ - اور درمختار پر اعتراض کیا کہ جب حکم عام ہے تو نیند کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں- اور اس صورت میں ان حضرات کا وضو فرمانا امتوں کے لئے شریعت جاری کرنے اور قانون بنانے کے لئے تھا “ اھ۔
فــــ۱ : مسئلہ : جنون سے وضو جاتا رہتا ہے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : نماز جنازہ کے سوا اور نماز میں بالغ آدمی جاگتے میں ایسا ہنسے کہ اور وں تك ہنسی کی آواز پہنچے تو وضو بھی جاتا رہے گا ۔
فـــ۳ : مسئلہ : بعض نواقض وضو ء انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکے لئے یوں ناقض نہیں کہ ان کا وقوع ہی ان سے محال ہے جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ ۔
فــــ۴ : مسئلہ : بوہر اہو جانا یعنی دماغ میں معاذ الله خلل پیدا ہو رہے فاسد ہوجائے آدمی کبھی عاقلوں کی سی باتیں کرے کبھی پاگلوں کی سی مگر مجنون کی طر ح لوگوں کو مارتا گالیاں دیتا نہ ہوتو اس حالت کے پیدا ہونے سے وضو نہیں جاتا ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارت المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۸۲ ، فتح المعین کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارت المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۸۲ ، فتح المعین کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
وتبعہ ولدہ السید ابو السعود لکن استثنی الاغماء والغشی بدلیل ماعن المبسوط قال واصرح منہ ماوجدتہ بخط شیخنا (ای ابیہ) حیث قال ونوم الانبیاء لاینقض واغماؤھم وغشیھم ناقض اھ قال والحاصل ان ماذکرہ القھستانی من تعمیم عدم النقض بالنسبۃ لما عدا الاغماء والغشی والایلزم ان یکون کلامہ منافیا لما سبق عن المبسوط اھ
ورأیتنی کتبت علیہ اقول اولا فــــ۱ لاغروفی المنافاۃ بعد اختلاف الروایات وثانیا لایظھر ولن یظھر فــــ۲ وجہ اصلایفید النقض بالغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء مثل النوم لان النقض بھما انما ھو حکما لما عسی ان یخرج فالظاھر عدم نقض وضوئھم صلی الله تعالی علیھم وسلم بھما مثلہ و
اس کلام پر ان کے فرزند سید ابو السعود نے بھی ان کا تباع کیا مگر عبارت مبسوط کے پیش نظر اغماء اور غشی کا استثنا ء کیا اور فرمایا اس سے زیادہ صریح وہ ہے جو میں نے اپنے شیخ یعنی اپے والد کی تحریر میں پایا انہوں نے لکھا ہے کہ انبیاء کی نیند ناقض نہیں اور ان کا اغما اور غشی ناقض ہے اھ- انہوں نے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ قہستانی نے وضو نہ جانے کا حکم جو عام بتایا ہے وہ اغما و غشی کے ماسوا کے لئے ہے ورنہ لازم آئے گا کہ ان کا کلام مبسوط کی سابقہ عبارت کے مخالف ہو ا ھ۔
میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا ہے اقول اولا روایات میں اختلاف ہونے کی صورت میں اگر منافات ہوگئی تو کوئی حیرت کی بات نہیں ثانیا کوئی ایسی وجہ ظاہر نہیں اور نہ ہرگز کبھی ظاہر ہوگی جویہ افادہ کر ے کہ فضلات سے تو وضو نہ جائے اور غشی واغما سے چلا جائے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ غشی اور اغما نیند کی طر ح ہیں اس لئے کہ ان دونوں سے وضو ٹوٹنے کا حکم خروج ریح کے گمان غالب کے باعث ہے تو ظاہر یہ ہے۔ کہ نیند کی طر ح ان دونوں سے بھی حضرات انبیاء صلی الله تعالی علیہم وسلم کا وضو
فــــ۱ : تطفل علی سید ابو السعود ۔
فـــــ۲ : تطفل اخر علیہ۔
ورأیتنی کتبت علیہ اقول اولا فــــ۱ لاغروفی المنافاۃ بعد اختلاف الروایات وثانیا لایظھر ولن یظھر فــــ۲ وجہ اصلایفید النقض بالغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء مثل النوم لان النقض بھما انما ھو حکما لما عسی ان یخرج فالظاھر عدم نقض وضوئھم صلی الله تعالی علیھم وسلم بھما مثلہ و
اس کلام پر ان کے فرزند سید ابو السعود نے بھی ان کا تباع کیا مگر عبارت مبسوط کے پیش نظر اغماء اور غشی کا استثنا ء کیا اور فرمایا اس سے زیادہ صریح وہ ہے جو میں نے اپنے شیخ یعنی اپے والد کی تحریر میں پایا انہوں نے لکھا ہے کہ انبیاء کی نیند ناقض نہیں اور ان کا اغما اور غشی ناقض ہے اھ- انہوں نے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ قہستانی نے وضو نہ جانے کا حکم جو عام بتایا ہے وہ اغما و غشی کے ماسوا کے لئے ہے ورنہ لازم آئے گا کہ ان کا کلام مبسوط کی سابقہ عبارت کے مخالف ہو ا ھ۔
میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا ہے اقول اولا روایات میں اختلاف ہونے کی صورت میں اگر منافات ہوگئی تو کوئی حیرت کی بات نہیں ثانیا کوئی ایسی وجہ ظاہر نہیں اور نہ ہرگز کبھی ظاہر ہوگی جویہ افادہ کر ے کہ فضلات سے تو وضو نہ جائے اور غشی واغما سے چلا جائے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ غشی اور اغما نیند کی طر ح ہیں اس لئے کہ ان دونوں سے وضو ٹوٹنے کا حکم خروج ریح کے گمان غالب کے باعث ہے تو ظاہر یہ ہے۔ کہ نیند کی طر ح ان دونوں سے بھی حضرات انبیاء صلی الله تعالی علیہم وسلم کا وضو
فــــ۱ : تطفل علی سید ابو السعود ۔
فـــــ۲ : تطفل اخر علیہ۔
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
ان قیل بالنقض بمثل البول لالانہ منھم نجس حقیقۃ بل لانہ نجس فی حقہم خاصۃ لعظم شانھم وعلو مکانھم علیھم الصلاۃ والسلام ابدا من رحمانھم اھ۔
ثم رأیت العلامۃ ط نقل فی حاشیۃ المراقی بعد جزمہ ان لانقض من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام (ماینحو منحی بعض ماذکرت حیث قال) بحث فیہ بعض الحذاق بانہ اذا کان الناقض الحقیقی المتحقق غیر ناقض فالحکمی المتوھم اولی علی ان مافی المبسوط لیس بصریح ولوسلم فیحمل علی انہ روایۃ اھ واعتمد فی حاشیۃ الدر مامشی علیہ ابو السعود قال “ وظاھرہ ان الاغماء والغشی نفسھما ناقضان لاما لایخلوان عنہ والا لکانا غیرناقضین فی حقھم ایضا اھ “
اقول : ھذا فــــــ ان تم یصلح نہ جائے اگر چہ پیشاب جیسی چیز سے وضوجانے کا حکم کیا جائے اس وجہ سے نہیں کہ ان سے یہ حقیقۃ نجس ہے بلکہ ان کی عظمت شان او ر بلندی مرتبت کی وجہ سے خاص ان کے حق میں حکما نجس ہے ان پر ان کے رب رحمن کی طر ف سے دائمی درود و سلام ہو۔ اھ حاشیہ ختم
پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں پہلے تو اس پر جز م کیا کہ کسی چیز سے انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو نہ جاتا پھر کچھ ویسا ہی کلام ذکر کیا جو میں نے لکھا وہ فرماتے ہیں اس میں بعض ماہرین نے بحث کی ہے کہ جب ناقض حقیقی متحقق ناقض نہیں تو حکمی متوہم بدرجہ اولی نہ ہوگا علاوہ ازیں مبسوط کی عبارت صریح نہیں اگر چہ مان بھی لی جائے تو اس پر محمول ہوگی کہ وہ ایك روایت ہے اھ اور انہوں نے درمختار کے حاشیہ میں اس پر اعتماد کیا ہے جس پر ابو السعود گئے لکھتے ہیں “ اور ظاہر یہ ہے کہ اغما وغشی بذات خود حدث ہیں اس ظن ریح کے با عث نہیں جس سے یہ دونوں خالی نہیں ہوتے ورنہ ان حضرات کے حق میں یہ دونوں بھی ناقض نہ ہوتے ۔ اھ “
اقول یہ کلام اگر تام ہو تو بعض ماہرین
فــــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط ۔
ثم رأیت العلامۃ ط نقل فی حاشیۃ المراقی بعد جزمہ ان لانقض من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام (ماینحو منحی بعض ماذکرت حیث قال) بحث فیہ بعض الحذاق بانہ اذا کان الناقض الحقیقی المتحقق غیر ناقض فالحکمی المتوھم اولی علی ان مافی المبسوط لیس بصریح ولوسلم فیحمل علی انہ روایۃ اھ واعتمد فی حاشیۃ الدر مامشی علیہ ابو السعود قال “ وظاھرہ ان الاغماء والغشی نفسھما ناقضان لاما لایخلوان عنہ والا لکانا غیرناقضین فی حقھم ایضا اھ “
اقول : ھذا فــــــ ان تم یصلح نہ جائے اگر چہ پیشاب جیسی چیز سے وضوجانے کا حکم کیا جائے اس وجہ سے نہیں کہ ان سے یہ حقیقۃ نجس ہے بلکہ ان کی عظمت شان او ر بلندی مرتبت کی وجہ سے خاص ان کے حق میں حکما نجس ہے ان پر ان کے رب رحمن کی طر ف سے دائمی درود و سلام ہو۔ اھ حاشیہ ختم
پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں پہلے تو اس پر جز م کیا کہ کسی چیز سے انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو نہ جاتا پھر کچھ ویسا ہی کلام ذکر کیا جو میں نے لکھا وہ فرماتے ہیں اس میں بعض ماہرین نے بحث کی ہے کہ جب ناقض حقیقی متحقق ناقض نہیں تو حکمی متوہم بدرجہ اولی نہ ہوگا علاوہ ازیں مبسوط کی عبارت صریح نہیں اگر چہ مان بھی لی جائے تو اس پر محمول ہوگی کہ وہ ایك روایت ہے اھ اور انہوں نے درمختار کے حاشیہ میں اس پر اعتماد کیا ہے جس پر ابو السعود گئے لکھتے ہیں “ اور ظاہر یہ ہے کہ اغما وغشی بذات خود حدث ہیں اس ظن ریح کے با عث نہیں جس سے یہ دونوں خالی نہیں ہوتے ورنہ ان حضرات کے حق میں یہ دونوں بھی ناقض نہ ہوتے ۔ اھ “
اقول یہ کلام اگر تام ہو تو بعض ماہرین
فــــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط ۔
حوالہ / References
حواشی فتح المعین للامام احمد رضا قلمی فوٹو ص۱
حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص۹۰ ، ۹۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کو ئٹہ ۱ / ۸۲
حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل ینقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص۹۰ ، ۹۱
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کو ئٹہ ۱ / ۸۲
جوابا عن بحث بعض الحذاق لکن فــــ۱ الذی علیہ کلمات العلماء عدھما کالنوم من النواقض الحکمیۃ وھو مفاد الھدایۃ حیث علل الاغماء بالاسترخاء ونقل العلامہ ش عن ابن عبد الرزاق عن المواھب اللدنیۃ نبہ السبکی علی ان اغماء ھم فــــ۲ علیھم الصلاۃ والسلام یخالف اغماء غیرھم وانما ھو عن غلبۃ الاوجاع للحواس الظاھرۃ دون القلب وقد ورد تنام اعینھم لاقلوبھم فاذا حفظت قلوبھم من النوم الذی ھو اخف من الاغماء فمنہ بالاولی اھ وبہ یتجہ البحث۔
قلت والعجب فــــ۳ ان السید ط ذکرہ ھذا الاستظھار عاد فاورد البحث ثم قال ھذا ینا فی ما ذکرہ الملا علی القاری فی شرح الشفاء من الاجماع
کی اس بحث کا جواب ہوسکتا ہے - لیکن کلمات علماء جس پر ہیں وہ یہی ہے کہ ان دونوں کا شمار نواقض حکمیہ میں ہے یہی ہدایہ کا بھی مفاد ہے اس لئے کہ اغما کے ناقض ہونے کی علت -استر خا بتا ئی علامہ شامی نے ابن عبدالرزاق کے حوالے سے مواہب لدنیہ سے نقل کیا ہے کہ علامہ سبکی نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کو غش آنا دوسروں کے بر خلاف ہے ان کا اغما قلب پر نہیں بلکہ صرف حواس ظاہر ہ پر درد وتکلیف کے غلبہ سے ہوتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتے تو جب ان کے قلب اغما سے ہلکی چیز نیند سے محفوظ رکھے گئے تو اغما سے بدرجہ اولی محفوظ ہوں گے اھ اس سے اس بحث کی وجہ اور دلیل ظاہر ہوجاتی ہے ۔
قلت عجب یہ کہ سید طحطاوی اس استظہار کے بعد پلٹ کر پھر وہی بحث لائے پھر کہا : “ یہ اس کے منافی ہے جو ملا علی قاری نے شرح شفا میں بیان کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ حضور
فـــــ۱ : مسئلہ : غشی وبیہوشی سے وضو جاتا ہے مگر یہ خود ناقض وضو نہیں بلکہ اسی ظن خروج ریح وغیرہ کے سبب سے ۔
فــــ۲ : غشی انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکے جسم ظاہری پر بھی طاری ہوسکتی دل مبارك اس حالت میں بھی بیدار وخبر دار رہتا ۔
فــــ۳ : معروضۃ اخری علی العلامۃ ط
قلت والعجب فــــ۳ ان السید ط ذکرہ ھذا الاستظھار عاد فاورد البحث ثم قال ھذا ینا فی ما ذکرہ الملا علی القاری فی شرح الشفاء من الاجماع
کی اس بحث کا جواب ہوسکتا ہے - لیکن کلمات علماء جس پر ہیں وہ یہی ہے کہ ان دونوں کا شمار نواقض حکمیہ میں ہے یہی ہدایہ کا بھی مفاد ہے اس لئے کہ اغما کے ناقض ہونے کی علت -استر خا بتا ئی علامہ شامی نے ابن عبدالرزاق کے حوالے سے مواہب لدنیہ سے نقل کیا ہے کہ علامہ سبکی نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کو غش آنا دوسروں کے بر خلاف ہے ان کا اغما قلب پر نہیں بلکہ صرف حواس ظاہر ہ پر درد وتکلیف کے غلبہ سے ہوتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتے تو جب ان کے قلب اغما سے ہلکی چیز نیند سے محفوظ رکھے گئے تو اغما سے بدرجہ اولی محفوظ ہوں گے اھ اس سے اس بحث کی وجہ اور دلیل ظاہر ہوجاتی ہے ۔
قلت عجب یہ کہ سید طحطاوی اس استظہار کے بعد پلٹ کر پھر وہی بحث لائے پھر کہا : “ یہ اس کے منافی ہے جو ملا علی قاری نے شرح شفا میں بیان کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ حضور
فـــــ۱ : مسئلہ : غشی وبیہوشی سے وضو جاتا ہے مگر یہ خود ناقض وضو نہیں بلکہ اسی ظن خروج ریح وغیرہ کے سبب سے ۔
فــــ۲ : غشی انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکے جسم ظاہری پر بھی طاری ہوسکتی دل مبارك اس حالت میں بھی بیدار وخبر دار رہتا ۔
فــــ۳ : معروضۃ اخری علی العلامۃ ط
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب نوم الانبیاء غیر ناقض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۷
علی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی نواقض الوضوء کالامۃ الا ماصح من استثناء النوم لانہ کان صلی الله تعالی علیہ وسلم تنام عیناہ ولا ینام قلبہ وقد حکی فی الشفاء قولین بالطھارۃ والنجاسۃ فی الحدثین منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اھ۔
اقول : والقول الفصل عندی ان لانقض منھم صلی الله تعالی علیھم وسلم بالنوم والغشی ونحوھما مما یحکم فیہ بالحدث لمکان الغفلۃ واما النواقض الحقیقیۃ منافتنقض منھم ایضا صلوات الله تعالی علیھم وسلامہ علیھم لالانھا نجسۃ کلا بل ھی فــــــ طاھرۃ بل طیبۃ حلال الاکل والشرب لنا من نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم کما دل علیہ غیر ماحدیث بل لانھا نجاسۃ فی حقہم صلی الله
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنواقض وضو کے حکم میں امت کی طر ح ہیں مگر نیند کااستثنا ء بطریق صحیح ثابت ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہ سوتا -اور شفا میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے دونوں حدث سے متعلق دونوں قول طہارت اور نجاست کے حکایت کئے ہیں اھ۔
اقول : میرے نزدیك قول فیصل یہ ہے کہ نیند غشی اور ان دونوں جیسی چیز یں جن میں جائے غفلت کے باعث حدث کا حکم ہوتا ہے ایسی چیزوں سے انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو نہ جاتا لیکن ہمارے حق میں جونواقض حقیقیہ ہیں وہ ان حضرات صلوات الله تعالی و سلامہ علیہم کے حق میں بھی ناقض ہیں اس وجہ سے نہیں کہ نجس ہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ طاہر بلکہ طیب ہیں ہمارے لئے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان کا کھانا پینا حلال ہے جیسا کہ متعد د حدیثوں سے ثابت ہے بلکہ اس لئے ناقض ہیں کہ ان چیزوں کے لئے ان حضرات کے
فــــ : مسئلہ : حضو ر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے فضلات شریفہ مثل پیشاب وغیرہ سب طیب وطا ہر تھے جن کا کھانا پینا ہمیں حلال وبا عث شفا وسعادت مگر حضور کی عظمت شان کے سبب حضو رکے حق میں حکم نجاست رکھتے ۔
اقول : والقول الفصل عندی ان لانقض منھم صلی الله تعالی علیھم وسلم بالنوم والغشی ونحوھما مما یحکم فیہ بالحدث لمکان الغفلۃ واما النواقض الحقیقیۃ منافتنقض منھم ایضا صلوات الله تعالی علیھم وسلامہ علیھم لالانھا نجسۃ کلا بل ھی فــــــ طاھرۃ بل طیبۃ حلال الاکل والشرب لنا من نبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم کما دل علیہ غیر ماحدیث بل لانھا نجاسۃ فی حقہم صلی الله
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنواقض وضو کے حکم میں امت کی طر ح ہیں مگر نیند کااستثنا ء بطریق صحیح ثابت ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہ سوتا -اور شفا میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے دونوں حدث سے متعلق دونوں قول طہارت اور نجاست کے حکایت کئے ہیں اھ۔
اقول : میرے نزدیك قول فیصل یہ ہے کہ نیند غشی اور ان دونوں جیسی چیز یں جن میں جائے غفلت کے باعث حدث کا حکم ہوتا ہے ایسی چیزوں سے انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا وضو نہ جاتا لیکن ہمارے حق میں جونواقض حقیقیہ ہیں وہ ان حضرات صلوات الله تعالی و سلامہ علیہم کے حق میں بھی ناقض ہیں اس وجہ سے نہیں کہ نجس ہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ طاہر بلکہ طیب ہیں ہمارے لئے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان کا کھانا پینا حلال ہے جیسا کہ متعد د حدیثوں سے ثابت ہے بلکہ اس لئے ناقض ہیں کہ ان چیزوں کے لئے ان حضرات کے
فــــ : مسئلہ : حضو ر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے فضلات شریفہ مثل پیشاب وغیرہ سب طیب وطا ہر تھے جن کا کھانا پینا ہمیں حلال وبا عث شفا وسعادت مگر حضور کی عظمت شان کے سبب حضو رکے حق میں حکم نجاست رکھتے ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۸۲
تعالی علیہم وسلم لرفعۃ مکانھم ونھایۃ نزاھۃ شانھم کما اشرت الیہ فھذا مانختارہ ونرجوا ن یکون صوابا ان شاء الله تعالی ۔
والعجب ان العلامۃ القھستانی مع تصریحہ بما مرجعل ھذا البحث مستغنی عنہ فقال ولا نقضاء زمن الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لایحتاج فی ھذا الکتاب الی ان یقال ان نومھم غیر ناقض اھ
اقول : فــــ۱ بلی لیوشکن ان ینزل عیسی بن مریم علیھما الصلوۃ والسلام علا ان العلم بخصائھم ومناقبھم علیھم الصلاۃ والسلام مطلوب مرغوب وکانہ یشیر الی الجواب عن ھذا بقولہ فی ھذا الکتاب ای ان محلہ کتب الفضائل دون الفقہ۔
وفیہ فــــ۲ ان الطالب ربما یطلع علی حدیث الصحاح انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی نفخ فاتاہ بلال فاذنہ بالصلاۃ فقام وصلی ولم یتؤضا فینبغی
حق میں حکم نجاست ہے جس کا سبب ان کی رفعت مکان او رانتہائی نزاہت شان ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا یہی وجہ ہے جسے ہم اختیار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان شاء الله تعالی حق یہی ہوگا۔
اور تعجب ہے کہ علامہ قہستانی نے سابقہ تصریح کے باوجود یہ کہا کہ اس بحث کی ضرورت نہیں ان کے الفاظ یہ ہیں : “ چوں کہ انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا زمانہ گزرگیا اس لئے اس کتاب میں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کی نیند ناقض نہیں “ اھ۔
اقول : کیوں نہیں عنقریب عیسی بن مریم عليهم الصلوۃ والسلامنزول فرمانے والے ہیں علاوہ ازیں انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکے خصائص ومناقب سے آشنائی مطلوب و مرغوب ہے شاید اس کے جواب کی طر ف “ اس کتاب میں “ کہہ کر وہ اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کے بیان کا موقع کتب فضائل میں ہے کتب فقہ میں نہیں۔
مگر اس پر یہ کلام ہے کہ طالب علم صحاح کی اس حدیث سے آشنا ہوگا کہ : حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو نیند آئی یہاں تك کہ سونے کی آواز آئی پھر حضرت بلال نے حاضر ہو کر نماز کی اطلاع دی تو سرکار نے اٹھ کر نماز ادا کی اور وضو نہ فرمایا
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ القھستانی ۔
فــــ ۲ : معروضۃ اخری علیہ۔
والعجب ان العلامۃ القھستانی مع تصریحہ بما مرجعل ھذا البحث مستغنی عنہ فقال ولا نقضاء زمن الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لایحتاج فی ھذا الکتاب الی ان یقال ان نومھم غیر ناقض اھ
اقول : فــــ۱ بلی لیوشکن ان ینزل عیسی بن مریم علیھما الصلوۃ والسلام علا ان العلم بخصائھم ومناقبھم علیھم الصلاۃ والسلام مطلوب مرغوب وکانہ یشیر الی الجواب عن ھذا بقولہ فی ھذا الکتاب ای ان محلہ کتب الفضائل دون الفقہ۔
وفیہ فــــ۲ ان الطالب ربما یطلع علی حدیث الصحاح انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حتی نفخ فاتاہ بلال فاذنہ بالصلاۃ فقام وصلی ولم یتؤضا فینبغی
حق میں حکم نجاست ہے جس کا سبب ان کی رفعت مکان او رانتہائی نزاہت شان ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا یہی وجہ ہے جسے ہم اختیار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان شاء الله تعالی حق یہی ہوگا۔
اور تعجب ہے کہ علامہ قہستانی نے سابقہ تصریح کے باوجود یہ کہا کہ اس بحث کی ضرورت نہیں ان کے الفاظ یہ ہیں : “ چوں کہ انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکا زمانہ گزرگیا اس لئے اس کتاب میں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کی نیند ناقض نہیں “ اھ۔
اقول : کیوں نہیں عنقریب عیسی بن مریم عليهم الصلوۃ والسلامنزول فرمانے والے ہیں علاوہ ازیں انبیاء عليهم الصلوۃ والسلامکے خصائص ومناقب سے آشنائی مطلوب و مرغوب ہے شاید اس کے جواب کی طر ف “ اس کتاب میں “ کہہ کر وہ اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کے بیان کا موقع کتب فضائل میں ہے کتب فقہ میں نہیں۔
مگر اس پر یہ کلام ہے کہ طالب علم صحاح کی اس حدیث سے آشنا ہوگا کہ : حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو نیند آئی یہاں تك کہ سونے کی آواز آئی پھر حضرت بلال نے حاضر ہو کر نماز کی اطلاع دی تو سرکار نے اٹھ کر نماز ادا کی اور وضو نہ فرمایا
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ القھستانی ۔
فــــ ۲ : معروضۃ اخری علیہ۔
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۳۷
صحیح البخاری کتاب الوضوء باب التخفیف فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶ ، صحیح البخاری کتاب الاذان باب وضوء الصبیان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۱۹
صحیح البخاری کتاب الوضوء باب التخفیف فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶ ، صحیح البخاری کتاب الاذان باب وضوء الصبیان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۱۹
اعلامہ ان ھذا من خصائصہ صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
ثـم من فـــــ المتفرع علی ان النوم نفسہ لیس ناقض ما فی حاشیۃ العلامۃ احمد ابن الشلبی علی التبیین سئلت عن شخص بہ انفلات ریح ھل ینتقض وضوؤہ بالنوم فاجبت بعدم النقض بناء علی ماھو الصحیح ان النوم نفسہ لیس بناقض وانما الناقض مایخرج ومن ذھب الی ان النوم نفسہ ناقض لزمہ نقض وضوء من بہ انفلات الریح بالنوم والله تعالی اعلم اھ ۔
ونقلہ ط علی مراقی الفلاح فاقرلکن قال فی النھر ینبغی ان یکون عینہ ای النوم ناقضا اتفاقا فیمن فیہ انفلات ریح اذمالا یخلو عنہ النائم لوتحقق وجودہ لم ینقض فالمتوھم
تو اسے یہ بتانا چاہئے کہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکےخصائص میں سے ہے ۔
پھر اس مسئلہ پر کہ نیند بذات خود ناقض نہیں علامہ احمد ابن الشلبی کے حاشیہ تبیین الحقائق کا یہ کلام متفر ع ہے وہ لکھتے ہیں : مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جوانفلات ریح ( برابر ہوا چھوٹتے رہنے) کا مریض ہے کہ نیند سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں میں نے جواب دیا کہ نہ ٹوٹے گا اس بنیاد پر کہ صحیح یہی ہے کہ نیند خود ناقض نہیں ناقض وہی خارج ہونے والی ریح ہے اور جس کا مذہب یہ کہ نیند خود ناقض ہے اس کو اس کا قائل ہونا لازم ہے کہ جو انقلات ریح کا مریض ہے اس کا وضو نیند سے ٹوٹ جائے گا والله تعالی اعلم اھ۔
اسے علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ۔ لیکن النہر الفائق میں ہے کہ جسے انفلات ریح کا مرض ہے اس کے حق میں خود نیند کے ناقض ہونے کا حکم بالاتفاق ہونا چاہئے اس لئے کہ سونے والا (بطور ظن) جس چیز سے خالی نہیں ہوتا اگر اس کا وجو د متحقق ہوتو ناقض نہیں پھر متوہم تو بدرجہ اولی
فـــ : مسئلہ : جسے ریح کا عارضہ حد معذوری تك ہو اس کا وضو سونے سے نہ جانا چاہیئے۔
ثـم من فـــــ المتفرع علی ان النوم نفسہ لیس ناقض ما فی حاشیۃ العلامۃ احمد ابن الشلبی علی التبیین سئلت عن شخص بہ انفلات ریح ھل ینتقض وضوؤہ بالنوم فاجبت بعدم النقض بناء علی ماھو الصحیح ان النوم نفسہ لیس بناقض وانما الناقض مایخرج ومن ذھب الی ان النوم نفسہ ناقض لزمہ نقض وضوء من بہ انفلات الریح بالنوم والله تعالی اعلم اھ ۔
ونقلہ ط علی مراقی الفلاح فاقرلکن قال فی النھر ینبغی ان یکون عینہ ای النوم ناقضا اتفاقا فیمن فیہ انفلات ریح اذمالا یخلو عنہ النائم لوتحقق وجودہ لم ینقض فالمتوھم
تو اسے یہ بتانا چاہئے کہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکےخصائص میں سے ہے ۔
پھر اس مسئلہ پر کہ نیند بذات خود ناقض نہیں علامہ احمد ابن الشلبی کے حاشیہ تبیین الحقائق کا یہ کلام متفر ع ہے وہ لکھتے ہیں : مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جوانفلات ریح ( برابر ہوا چھوٹتے رہنے) کا مریض ہے کہ نیند سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں میں نے جواب دیا کہ نہ ٹوٹے گا اس بنیاد پر کہ صحیح یہی ہے کہ نیند خود ناقض نہیں ناقض وہی خارج ہونے والی ریح ہے اور جس کا مذہب یہ کہ نیند خود ناقض ہے اس کو اس کا قائل ہونا لازم ہے کہ جو انقلات ریح کا مریض ہے اس کا وضو نیند سے ٹوٹ جائے گا والله تعالی اعلم اھ۔
اسے علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ۔ لیکن النہر الفائق میں ہے کہ جسے انفلات ریح کا مرض ہے اس کے حق میں خود نیند کے ناقض ہونے کا حکم بالاتفاق ہونا چاہئے اس لئے کہ سونے والا (بطور ظن) جس چیز سے خالی نہیں ہوتا اگر اس کا وجو د متحقق ہوتو ناقض نہیں پھر متوہم تو بدرجہ اولی
فـــ : مسئلہ : جسے ریح کا عارضہ حد معذوری تك ہو اس کا وضو سونے سے نہ جانا چاہیئے۔
حوالہ / References
حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۵۳ ، حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ فصل ینقض الوضوء دار الکتب العلمیۃ بیروت ص ۹۰
اولی اھ نقلہ ش۔
اقول : ظاھرہ فـــــ یشبہ المتناقض فان مفاد التعلیل عدم النقض اذلما علمنا ان النوم لاینقض بنفسہ بل لما یتوھم فیہ وھھنا محققہ لاینقض فماظنك بالموھوم وجب الحکم بعدم النقض لکن محط نظرہ رحمہ الله تعالی استبعاد ان یصلی الرجل العشاء فی اول الوقت فینام ولا یزال مستغرقا فی النوم طول اللیل الی قبیل الصباح ثم یقوم کما ھو فیجعل یصلی التھجد ولا یمس ماء فاضطر الی الحکم بجعل النوم نفسہ ناقضافی حقہ۔
اقول : کیف یعدل عن حق معول لمجرد استبعاد لاجرم ان قال الشامی بعد نقلہ “ فیہ نظر والاحسن مافی نہ ہوگا اھ۔ اسے علامہ شامی نے نقل کیا ۔
اقول : اس کلام کا ظاہر گویا تنا قض کاحامل ہے حامل ہے اس لئے کہ ( مدعایہ ہے کہ ناقض ہو اور ) تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ ناقض نہ ہو کیوں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نیند بذات خو د ناقض نہیں بلکہ اس کی وجہ سے جو نیند کی حالت میں متوہم ہے او ریہاں وہی چیز جب تحقیقی طور پر موجود ہے او رناقض نہیں تو موہوم کے بارے میں کیا خیال ہے ضروری ہے کہ ناقض نہ ہونے ہی کا حکم ہو ۔ لیکن صاحب نہر رحمۃ اللہ تعالی علیہعنہ کا مطمع نظر اس امر کو بعید قرار دینا ہے کہ وہ شخص اول وقت میں عشا کی نماز ادا کر کے سوجائے اور رات بھر صبح کے ذ را پہلے تك نیند میں مستغر ق رہے پھر اٹھ کر ویسے ہی نماز تہجد پڑھنے لگے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگائے اس کے لئے ناچار اس کے حق میں نیند کو ناقض قرار دینے کا حکم کیا ۔
اقول : محض ایك استبعا د کے باعث حق معتمد سے انحراف کیسے ہوسکتا ہے اسی حقیقت کے پیش نظر علامہ شامی نے کلام نہر نقل کرنے کے بعد اسے محل نطر بتا یا : “ اور کہا کہ احسن
فـــــ : تطفل علی النھر
اقول : ظاھرہ فـــــ یشبہ المتناقض فان مفاد التعلیل عدم النقض اذلما علمنا ان النوم لاینقض بنفسہ بل لما یتوھم فیہ وھھنا محققہ لاینقض فماظنك بالموھوم وجب الحکم بعدم النقض لکن محط نظرہ رحمہ الله تعالی استبعاد ان یصلی الرجل العشاء فی اول الوقت فینام ولا یزال مستغرقا فی النوم طول اللیل الی قبیل الصباح ثم یقوم کما ھو فیجعل یصلی التھجد ولا یمس ماء فاضطر الی الحکم بجعل النوم نفسہ ناقضافی حقہ۔
اقول : کیف یعدل عن حق معول لمجرد استبعاد لاجرم ان قال الشامی بعد نقلہ “ فیہ نظر والاحسن مافی نہ ہوگا اھ۔ اسے علامہ شامی نے نقل کیا ۔
اقول : اس کلام کا ظاہر گویا تنا قض کاحامل ہے حامل ہے اس لئے کہ ( مدعایہ ہے کہ ناقض ہو اور ) تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ ناقض نہ ہو کیوں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نیند بذات خو د ناقض نہیں بلکہ اس کی وجہ سے جو نیند کی حالت میں متوہم ہے او ریہاں وہی چیز جب تحقیقی طور پر موجود ہے او رناقض نہیں تو موہوم کے بارے میں کیا خیال ہے ضروری ہے کہ ناقض نہ ہونے ہی کا حکم ہو ۔ لیکن صاحب نہر رحمۃ اللہ تعالی علیہعنہ کا مطمع نظر اس امر کو بعید قرار دینا ہے کہ وہ شخص اول وقت میں عشا کی نماز ادا کر کے سوجائے اور رات بھر صبح کے ذ را پہلے تك نیند میں مستغر ق رہے پھر اٹھ کر ویسے ہی نماز تہجد پڑھنے لگے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگائے اس کے لئے ناچار اس کے حق میں نیند کو ناقض قرار دینے کا حکم کیا ۔
اقول : محض ایك استبعا د کے باعث حق معتمد سے انحراف کیسے ہوسکتا ہے اسی حقیقت کے پیش نظر علامہ شامی نے کلام نہر نقل کرنے کے بعد اسے محل نطر بتا یا : “ اور کہا کہ احسن
فـــــ : تطفل علی النھر
حوالہ / References
النہر الفائق کتاب الطہارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶ ، رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نوم من بہ انفلات ریح دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۵
فتاوی ابن الشلبی اھ “ ۔
اقـول : ولا تظن ان النوم مظنۃ الانتشار والانتشار مظنۃ خروج المذی فان المظنۃ الثانیۃ غیر مسلمۃ لعدم الغلبۃ ولذا قال فی الحلیۃ اذالم یکن الرجل مذأ فالانتشار لا یکون مظنۃ تلك البلۃ اھ
ولذا صرحوا بعدم سنیۃ الاستنجاء من النوم کما فی الدر وغیرہ فالاظھر ماذکر ابن الشلبی ولیتأمل عندالفتوی فانہ شیئ لانص فیہ عن الائمۃ والله المرجو لکشف کل غمۃ ولنسم ھذا التحریر “ نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم “ والحمدلله علی ماعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا و
وہ ہے جو ابن شلبی کے فتاوی میں ہے “ اھ۔
اقول : یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ نیند میں انتشار آلہ کا غالب گمان ہوتا ہے اور انتشار میں مذی نکلنے کا گمان ہوتا ہے (اس گمان کی بنا پر اس کی نیند کو ناقض ہونا چاہئے مگر یہ خیال درست نہیں ) اس لئے کہ دوسرا مظنہ (خروج مذی کا گمان) قابل تسلیم نہیں کیوں کہ غالب و اکثر اس کا عد م وقوع ہے اسی لئے حلیہ میں فرمایا جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار آلہ اس تری کا مظنہ نہیں اھ۔
اسی لئے نیند سے استنجاکے مسنون نہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے جیسا کہ درمختار وغیر ہ میں ہے تو اظہر وہی ہے جو ابن الشلبی نے ذکر کیا مگر وقت فتوی اس پر تامل کی ضرورت ہے کیو ں کہ یہ ایك ایسی بات ہے جس کے بارے میں ائمہ سے کوئی نص نہیں اور خداہی سے ہر مشکل کے ازالہ کی امید ہے مناسب ہے کہ ہم اس تحریر کو نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم ۱۳۲۵ ھ(آسانی سے دستیاب لوگو ں کی وہ گم شدہ چیز کہ وضو کس نیند سے لازم ہوتا ہے) سے موسوم کریں اور خداہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمائی
اقـول : ولا تظن ان النوم مظنۃ الانتشار والانتشار مظنۃ خروج المذی فان المظنۃ الثانیۃ غیر مسلمۃ لعدم الغلبۃ ولذا قال فی الحلیۃ اذالم یکن الرجل مذأ فالانتشار لا یکون مظنۃ تلك البلۃ اھ
ولذا صرحوا بعدم سنیۃ الاستنجاء من النوم کما فی الدر وغیرہ فالاظھر ماذکر ابن الشلبی ولیتأمل عندالفتوی فانہ شیئ لانص فیہ عن الائمۃ والله المرجو لکشف کل غمۃ ولنسم ھذا التحریر “ نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم “ والحمدلله علی ماعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا و
وہ ہے جو ابن شلبی کے فتاوی میں ہے “ اھ۔
اقول : یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ نیند میں انتشار آلہ کا غالب گمان ہوتا ہے اور انتشار میں مذی نکلنے کا گمان ہوتا ہے (اس گمان کی بنا پر اس کی نیند کو ناقض ہونا چاہئے مگر یہ خیال درست نہیں ) اس لئے کہ دوسرا مظنہ (خروج مذی کا گمان) قابل تسلیم نہیں کیوں کہ غالب و اکثر اس کا عد م وقوع ہے اسی لئے حلیہ میں فرمایا جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار آلہ اس تری کا مظنہ نہیں اھ۔
اسی لئے نیند سے استنجاکے مسنون نہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے جیسا کہ درمختار وغیر ہ میں ہے تو اظہر وہی ہے جو ابن الشلبی نے ذکر کیا مگر وقت فتوی اس پر تامل کی ضرورت ہے کیو ں کہ یہ ایك ایسی بات ہے جس کے بارے میں ائمہ سے کوئی نص نہیں اور خداہی سے ہر مشکل کے ازالہ کی امید ہے مناسب ہے کہ ہم اس تحریر کو نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم ۱۳۲۵ ھ(آسانی سے دستیاب لوگو ں کی وہ گم شدہ چیز کہ وضو کس نیند سے لازم ہوتا ہے) سے موسوم کریں اور خداہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمائی
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نوم من بہ انفلات ریح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۵
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہ وصحبہ وسلم والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور الله تعالی کی رحمت اور سلامتی نازل ہو ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر والله سبحانہ وتعالی اعلم (ت)
____________________
رسالہ
نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم ختم ہوا
____________________
____________________
جلد اول کا حصہ اول ختم ہوا
حصہ دوم رسالہ “ خلاصۃ تبیان الوضوء “ سے
شروع ہو رہا ہے
____________________
اور الله تعالی کی رحمت اور سلامتی نازل ہو ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر والله سبحانہ وتعالی اعلم (ت)
____________________
رسالہ
نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم ختم ہوا
____________________
____________________
جلد اول کا حصہ اول ختم ہوا
حصہ دوم رسالہ “ خلاصۃ تبیان الوضوء “ سے
شروع ہو رہا ہے
____________________
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
خلاصہ تبیان الوضو
(وضو و غسل کے مسائل کا مختصر بیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۲ : مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب الصبیان ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فرائض غسل جنابت جو تین ہیں ان میں مضمضہ واستنشاق واسالۃ الماء علی کل البدن سے کیسا مضمضہ واستنشاق واسا لہ ماء مراد ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ ت)
الجواب:
مضمضہ : سارے دہن کامع اس کے ہر گوشے پر زے کنج کے حلق کی حد تك دھلنا درمختارمیں ہے :
فرض الغسل غسل کل فمہ ( ) (غسل میں پورے منہ کو دھونافرض ہے۔ ( ت)
خلاصہ تبیان الوضو
(وضو و غسل کے مسائل کا مختصر بیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۲ : مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب الصبیان ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فرائض غسل جنابت جو تین ہیں ان میں مضمضہ واستنشاق واسالۃ الماء علی کل البدن سے کیسا مضمضہ واستنشاق واسا لہ ماء مراد ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ ت)
الجواب:
مضمضہ : سارے دہن کامع اس کے ہر گوشے پر زے کنج کے حلق کی حد تك دھلنا درمختارمیں ہے :
فرض الغسل غسل کل فمہ ( ) (غسل میں پورے منہ کو دھونافرض ہے۔ ( ت)
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸
ردالمحتارمیں ہے :
عبر عن المضمضۃ بالغسل لافادۃ الاستیعاب اھ( ) ۔
وفی افادتہ بنفس لفظ الغسل کلام قدمہ فی الوضوء والصحیح ان مفیدہ لفظ کل۔
اقول : وعلی فـــ التسلیم فلیست دلالتہ علی الاستیعاب ظاھرۃ کدلالۃ کل فلا یرد ما قال ش لکن علی الاول لاحاجۃ الی زیادۃ کل( )۔
مضمضہ کی تعبیر غسل(دھونے) سے کی تاکہ احاطہ کرلینے کا افادہ ہو۔ اھ(ت)
صرف لفظ غسل سے احاطہ کاافادہ ہونے میں کلام ہے جو خود علامہ شامی وضو کے بیان میں ذکرکرچکے ہیں ۔ اورصحیح یہ ہے کہ احاطہ کاافادہ لفظ “ کل “ سے ہو رہا ہے۔
اقول : اگر یہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ لفظ غسل (دھونا)احاطہ کوبتارہا ہے تو بھی احاطہ پر اس کی دلالت واضح نہیں جیسے اس معنی پرلفظ کل کی دلالت واضح ہے ۔ تو وہ اعتراض نہ وارد ہوگا جو علامہ شامی نے کیا کہ بر تقدیر اول 'لفظ کل بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (ت)
اسی میں بحرالرائق سے ہے :
المضمضۃ اصطلاحا استیعاب الماء جمیع الفم ( )۔
اصطلاح میں مضمضہ یہ ہے کہ پانی پورے منہ کا احاطہ کرے ۔ (ت)
اور ہم نے دھلنا کہا دھونا نہ کہا اس لئے کہ طہارت میں کچھ اپنا فعل یا قصد شرط نہیں پانی گزرنا چاہئے جس طرح ہو۔
اقول : وبہ ظھر ان عبارۃ البحر اقول : اور اسی سے ظاہر ہوا کہ عبارت بحر
فـــ : معروضہ علی العلامۃ ش۔
عبر عن المضمضۃ بالغسل لافادۃ الاستیعاب اھ( ) ۔
وفی افادتہ بنفس لفظ الغسل کلام قدمہ فی الوضوء والصحیح ان مفیدہ لفظ کل۔
اقول : وعلی فـــ التسلیم فلیست دلالتہ علی الاستیعاب ظاھرۃ کدلالۃ کل فلا یرد ما قال ش لکن علی الاول لاحاجۃ الی زیادۃ کل( )۔
مضمضہ کی تعبیر غسل(دھونے) سے کی تاکہ احاطہ کرلینے کا افادہ ہو۔ اھ(ت)
صرف لفظ غسل سے احاطہ کاافادہ ہونے میں کلام ہے جو خود علامہ شامی وضو کے بیان میں ذکرکرچکے ہیں ۔ اورصحیح یہ ہے کہ احاطہ کاافادہ لفظ “ کل “ سے ہو رہا ہے۔
اقول : اگر یہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ لفظ غسل (دھونا)احاطہ کوبتارہا ہے تو بھی احاطہ پر اس کی دلالت واضح نہیں جیسے اس معنی پرلفظ کل کی دلالت واضح ہے ۔ تو وہ اعتراض نہ وارد ہوگا جو علامہ شامی نے کیا کہ بر تقدیر اول 'لفظ کل بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (ت)
اسی میں بحرالرائق سے ہے :
المضمضۃ اصطلاحا استیعاب الماء جمیع الفم ( )۔
اصطلاح میں مضمضہ یہ ہے کہ پانی پورے منہ کا احاطہ کرے ۔ (ت)
اور ہم نے دھلنا کہا دھونا نہ کہا اس لئے کہ طہارت میں کچھ اپنا فعل یا قصد شرط نہیں پانی گزرنا چاہئے جس طرح ہو۔
اقول : وبہ ظھر ان عبارۃ البحر اقول : اور اسی سے ظاہر ہوا کہ عبارت بحر
فـــ : معروضہ علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۲
ردالمحتار ، کتاب الطہارت ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۲
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
ردالمحتار ، کتاب الطہارت ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۲
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸
احسن من عبارۃ الدرالا ان یجعل الغسل مبنیا للمفعول ای مغسولیۃ کل فمہ۔
عبارت درمختار سے بہتر ہے مگر یہ کہ عبارت در میں لفظ غسل کو مصدر مجہول مانا جائے یعنی پورے منہ کا دھل جانا۔ (ت)
آج کل بہت بے علم اس مضمضہ کے معنی صرف کلی کے سمجھتے ہیں کچھ پانی منہ میں لے کر اگل دیتے ہیں کہ زبان کی جڑ اور حلق کے کنارہ تك نہیں پہنچتا یوں غسل نہیں اترتا نہ اس غسل سے نماز ہوسکے نہ مسجد میں جاناجائزہوبلکہ فرض ہے کہ داڑھوں کے پیچھے گالوں کی تہ میں دانتوں کی جڑ میں دانتوں کی کھڑکیوں میں حلق کے کنارے تك ہرپرزے پر پانی بہے یہاں تك کہ اگر کوئی سخت فـــ۱ چیز کہ پانی کے بہنے کو روکے گی دانتوں کی جڑ یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اسے جداکرکے کلی کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ہاں اگر اس کے جدا فـــ۲ کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجرہوجاتا ہے کہ جب تك زیادہ ہوکر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے چھڑانے کے قابل نہیں ہو تا یاعورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تك یہ حالت رہے گی اس قدر کی معافی ہوگی فان الحرج مدفوع بالنص(اس لیےکہ نص سے ثابت ہے کہ جہاں حرج ہواسے دفع کیاجائے ۔ ت)درمختار میں ہے :
لایمنع طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح ( )۔
کھانے کا ٹکڑا جو دانتوں کے درمیان یا خول دار دانت کے اندر ہو وہ مانع نہیں اسی پر فتوی ہے۔ اور کہا گیاکہ اگر سخت ہو تو مانع ہے اور یہی اصح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بہ یفتی صرح بہ فی الخلاصۃ وقال لان الماء شیئ لطیف یصل تحتہ غالبا اھ ویرد
عبارت شارح “ اسی پر فتوی ہے “ خلاصہ میں اس کی تصریح ہے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ : وجہ یہ ہے کہ پانی لطیف شے ہے غالب یہی ہے کہ
فـــ۱ : مسئلہ : دانتوں کی جڑ یاکھڑکی میں سخت چیز جمی ہوتوچھڑا کرکلی کرنالازم ورنہ غسل نہ اترے گا۔
فـــ۲ : مسئلہ : چونایامسی کی ریخیں جن کے چھڑانے میں ضرر ہومعاف ہیں ۔
عبارت درمختار سے بہتر ہے مگر یہ کہ عبارت در میں لفظ غسل کو مصدر مجہول مانا جائے یعنی پورے منہ کا دھل جانا۔ (ت)
آج کل بہت بے علم اس مضمضہ کے معنی صرف کلی کے سمجھتے ہیں کچھ پانی منہ میں لے کر اگل دیتے ہیں کہ زبان کی جڑ اور حلق کے کنارہ تك نہیں پہنچتا یوں غسل نہیں اترتا نہ اس غسل سے نماز ہوسکے نہ مسجد میں جاناجائزہوبلکہ فرض ہے کہ داڑھوں کے پیچھے گالوں کی تہ میں دانتوں کی جڑ میں دانتوں کی کھڑکیوں میں حلق کے کنارے تك ہرپرزے پر پانی بہے یہاں تك کہ اگر کوئی سخت فـــ۱ چیز کہ پانی کے بہنے کو روکے گی دانتوں کی جڑ یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اسے جداکرکے کلی کرے ورنہ غسل نہ ہوگا ہاں اگر اس کے جدا فـــ۲ کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجرہوجاتا ہے کہ جب تك زیادہ ہوکر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے چھڑانے کے قابل نہیں ہو تا یاعورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تك یہ حالت رہے گی اس قدر کی معافی ہوگی فان الحرج مدفوع بالنص(اس لیےکہ نص سے ثابت ہے کہ جہاں حرج ہواسے دفع کیاجائے ۔ ت)درمختار میں ہے :
لایمنع طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف بہ یفتی وقیل ان صلبا منع وھو الاصح ( )۔
کھانے کا ٹکڑا جو دانتوں کے درمیان یا خول دار دانت کے اندر ہو وہ مانع نہیں اسی پر فتوی ہے۔ اور کہا گیاکہ اگر سخت ہو تو مانع ہے اور یہی اصح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بہ یفتی صرح بہ فی الخلاصۃ وقال لان الماء شیئ لطیف یصل تحتہ غالبا اھ ویرد
عبارت شارح “ اسی پر فتوی ہے “ خلاصہ میں اس کی تصریح ہے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ : وجہ یہ ہے کہ پانی لطیف شے ہے غالب یہی ہے کہ
فـــ۱ : مسئلہ : دانتوں کی جڑ یاکھڑکی میں سخت چیز جمی ہوتوچھڑا کرکلی کرنالازم ورنہ غسل نہ اترے گا۔
فـــ۲ : مسئلہ : چونایامسی کی ریخیں جن کے چھڑانے میں ضرر ہومعاف ہیں ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
علیہ ماقدمناہ انفا (ای ان مجرد الوصول غیرکاف بل الواجب الاسالۃ والتقاطر) ومفادہ ای مفاد مافی الخلاصۃ عدم الجواز اذ اعلم انہ لم یصل الماء تحتہ(ای لان غلبۃ الوقوع لاتعارض العلم بعدم الوقوع) قال فی الحلیۃ وھواثبت قولہ وھو الاصح صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج اھ ولایخفی ان ھذا التصحیح لاینافی ماقبلہ ( ) اھ ملخصا مزیدا ما مابین الاھلۃ۔
اس کے نیچے پہنچ جائے گا اھ۔ اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جو ابھی ہم نے ذکر کیا( یعنی یہ کہ محض پہنچناکافی نہیں بلکہ بہانا اور قطرے ٹپکنا واجب ہے) اور اس کا مفاد( یعنی کلام خلاصہ کا مفاد) یہ ہے کہ اگر معلوم ہوجائے کہ نیچے پانی نہ پہنچا تو جواز نہ ہوگا(یعنی اس لئے کہ جب یقین ہو کہ اس خاص حالت میں وقوع نہ ہواہو تواکثر حالات میں واقع ہونااس کے معارض نہیں ہوسکتا)حلیہ میں کہا : یہ اثبت ہے۔ عبارت شارح “ یہی اصح ہے “ اس کی تصریح شرح منیہ میں کی۔ اور یہ بھی لکھا کہ وجہ یہ ہے کہ سخت ہونے کی صورت میں پانی نفوذ نہ کرسکے گااور ضرورت و حرج کی صورت بھی نہیں اھ ۔ مخفی نہیں کہ یہ تصحیح اگلی تصحیح کے منافی نہیں ۔ رد المحتار کی عبارت ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
بالجملہ غسل میں ان احتیاطوں سے روزہ دار کوبھی چارہ نہیں ہاں غرغرہ فــــ اسے نہ چاہئے کہ کہیں پانی حلق سے نیچے نہ اتر جائے غیر روزہ دار کے لیےغرغرہ سنت ہے ۔ درمختار میں ہے
سنتہ المبالغۃ بالغرغرۃ لغیر الصائم لاحتمال الفساد ( )۔
وضو و غسل میں غرغر ہ کر کے مبالغہ سنت ہے اس کے لئے جو روزہ دار نہ ہو روزہ دار کے لئے نہیں کیونکہ اس میں روزہ جانے کا احتمال ہے۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : وضو و غسل میں غرغرہ سنت ہے مگرروزہ دار کو مکروہ ۔
اس کے نیچے پہنچ جائے گا اھ۔ اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جو ابھی ہم نے ذکر کیا( یعنی یہ کہ محض پہنچناکافی نہیں بلکہ بہانا اور قطرے ٹپکنا واجب ہے) اور اس کا مفاد( یعنی کلام خلاصہ کا مفاد) یہ ہے کہ اگر معلوم ہوجائے کہ نیچے پانی نہ پہنچا تو جواز نہ ہوگا(یعنی اس لئے کہ جب یقین ہو کہ اس خاص حالت میں وقوع نہ ہواہو تواکثر حالات میں واقع ہونااس کے معارض نہیں ہوسکتا)حلیہ میں کہا : یہ اثبت ہے۔ عبارت شارح “ یہی اصح ہے “ اس کی تصریح شرح منیہ میں کی۔ اور یہ بھی لکھا کہ وجہ یہ ہے کہ سخت ہونے کی صورت میں پانی نفوذ نہ کرسکے گااور ضرورت و حرج کی صورت بھی نہیں اھ ۔ مخفی نہیں کہ یہ تصحیح اگلی تصحیح کے منافی نہیں ۔ رد المحتار کی عبارت ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔
بالجملہ غسل میں ان احتیاطوں سے روزہ دار کوبھی چارہ نہیں ہاں غرغرہ فــــ اسے نہ چاہئے کہ کہیں پانی حلق سے نیچے نہ اتر جائے غیر روزہ دار کے لیےغرغرہ سنت ہے ۔ درمختار میں ہے
سنتہ المبالغۃ بالغرغرۃ لغیر الصائم لاحتمال الفساد ( )۔
وضو و غسل میں غرغر ہ کر کے مبالغہ سنت ہے اس کے لئے جو روزہ دار نہ ہو روزہ دار کے لئے نہیں کیونکہ اس میں روزہ جانے کا احتمال ہے۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : وضو و غسل میں غرغرہ سنت ہے مگرروزہ دار کو مکروہ ۔
حوالہ / References
رد المحتار ، کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
اسی کے بیان غسل میں ہے :
سننہ کسنن الوضوء سوی الترتیب ( )الخ
غسل کی سنتیں وضوکی سنتوں کی طرح ہیں بجز ترتیب کے الخ ۔ (ت)
استنشاق : ناك کے دونوں نتھنوں میں جہاں تك نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تك دھلنا۔ ردالمحتارمیں بحرالرائق سے ہے :
الاستنشاق اصطلاحا ایصال الماء الی المارن ولغۃ من النشق وھو جذب الماء داخلہ( ) ۔
اصطلاح میں استنشاق کا معنی ناك کے نرم حصہ تك پانی پہنچانا۔ اور لغت میں یہ لفظ نشق سے لیاگیا ہے جس کامعنی پانی اور اس جیسی چیز کو سانس کے ذریعہ ناك کے اندر کھینچنا۔ (ت)
اسی میں قاموس سے ہے :
المارن مالان من الانف ( )
مارن ناك کا وہ حصہ ہے جو نرم ہے(ت)
اور یہ یونہی ہوسکے گا کہ پانی لے کر سونگھے اور اوپر کو چڑھائے کہ وہاں تك پہنچ جائے لوگ اس کابالکل خیال نہیں کرتے اوپر ہی اوپر پانی ڈالتے ہیں کہ ناك کے سرے کو چھو کر گرجاتا ہے بانسے میں جتنی جگہ نرم ہے اس سب کو دھونا تو بڑی بات ہے ظاھر ہے کہ پانی کا بالطبع میل نیچے کوہے اوپربے چڑھائے ہرگزنہ چڑھے گاافسوس کہ عوام توعوام بعض پڑھے لکھے بھی اس بلامیں گرفتار ہیں ۔ کاش استنشاق کے لغوی ہی معنی پر نظر کرتے تو اس آفت میں نہ پڑتے استنشاق سانس کے ذریعہ سے کوئی چیز ناك کے اندر چڑھاناہے نہ کہ ناك کے کنارہ کو چھو جانا وضو فــــــ میں تو خیر اس کے ترك کی عادت ڈالے سے سنت چھوڑنے ہی کاگناہ ہوگاکہ مضمضہ واستنشاق بمعنی مذکور دونوں وضو میں سنت مؤکدہ ہیں کمافی الدرالمختار
فـــ : مسئلہ : منہ کے ہر ذرہ پر حلق تك پانی بہنا ناك کی ہڈی شروع ہونے تك پانی چڑھانا غسل میں فرض اور وضو میں سنت مؤکدہ ہیں ۔
سننہ کسنن الوضوء سوی الترتیب ( )الخ
غسل کی سنتیں وضوکی سنتوں کی طرح ہیں بجز ترتیب کے الخ ۔ (ت)
استنشاق : ناك کے دونوں نتھنوں میں جہاں تك نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تك دھلنا۔ ردالمحتارمیں بحرالرائق سے ہے :
الاستنشاق اصطلاحا ایصال الماء الی المارن ولغۃ من النشق وھو جذب الماء داخلہ( ) ۔
اصطلاح میں استنشاق کا معنی ناك کے نرم حصہ تك پانی پہنچانا۔ اور لغت میں یہ لفظ نشق سے لیاگیا ہے جس کامعنی پانی اور اس جیسی چیز کو سانس کے ذریعہ ناك کے اندر کھینچنا۔ (ت)
اسی میں قاموس سے ہے :
المارن مالان من الانف ( )
مارن ناك کا وہ حصہ ہے جو نرم ہے(ت)
اور یہ یونہی ہوسکے گا کہ پانی لے کر سونگھے اور اوپر کو چڑھائے کہ وہاں تك پہنچ جائے لوگ اس کابالکل خیال نہیں کرتے اوپر ہی اوپر پانی ڈالتے ہیں کہ ناك کے سرے کو چھو کر گرجاتا ہے بانسے میں جتنی جگہ نرم ہے اس سب کو دھونا تو بڑی بات ہے ظاھر ہے کہ پانی کا بالطبع میل نیچے کوہے اوپربے چڑھائے ہرگزنہ چڑھے گاافسوس کہ عوام توعوام بعض پڑھے لکھے بھی اس بلامیں گرفتار ہیں ۔ کاش استنشاق کے لغوی ہی معنی پر نظر کرتے تو اس آفت میں نہ پڑتے استنشاق سانس کے ذریعہ سے کوئی چیز ناك کے اندر چڑھاناہے نہ کہ ناك کے کنارہ کو چھو جانا وضو فــــــ میں تو خیر اس کے ترك کی عادت ڈالے سے سنت چھوڑنے ہی کاگناہ ہوگاکہ مضمضہ واستنشاق بمعنی مذکور دونوں وضو میں سنت مؤکدہ ہیں کمافی الدرالمختار
فـــ : مسئلہ : منہ کے ہر ذرہ پر حلق تك پانی بہنا ناك کی ہڈی شروع ہونے تك پانی چڑھانا غسل میں فرض اور وضو میں سنت مؤکدہ ہیں ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸و۷۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۷۹
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۸و۷۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۷۹
(جیساکہ درمختار میں ہے ۔ ت) اور سنت فـــ۱مؤکدہ کے ایك آدھ بار ترك سے اگرچہ گناہ نہ ہو عتاب ہی کااستحقاق ہو مگربارہا ترك سے بلاشبہ گناہگار ہوتا ہے کمافی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار(جیساکہ معتبرکتاب ردالمحتاروغیرہ میں ہے۔ ت) تاہم وضو ہوجاتا ہے اور غسل تو ہرگز اترے ہی گانہیں جب تك سارامنہ حلق کی حدتك اور سارا نرم بانسہ سخت ہڈی کے کنارہ تك پورا نہ دھل جائے یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں کہ اگر ناك فــــ۲کے اندر کثافت جمی ہے تو لازم کہ پہلے اسے صاف کرلے ورنہ اس کے نیچے پانی نے عبور نہ کیا توغسل نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے :
فرض الغسل غسل انفہ حتی ماتحت الدرن ( )۔
غسل میں ناك کا دھونا فرض ہے یہاں تك کہ وہ حصہ بھی جو کثافت اور میل کے نیچے ہے۔ (ت)
اس فـــ۳ احتیاط سے بھی روزہ دار کو مفر نہیں ہاں اس سے اوپرتك اسے نہ چاہئے کہ کہیں پانی دماغ کو نہ چڑھ جائے غیر روزہ دارکے لئے یہ بھی سنت ہے۔ درمختار میں ہے :
سنتہ المبالغۃ بمجاوزۃ المارن لغیر الصائم ( )۔
غیر روزہ دار کے لئے نرمہ سے اوپر پانی پہنچا کر مبالغہ سنت ہے۔ (ت)
اسالۃ الماء علی ظاھر البدن سر کے بالو ں سے تلووں سے نیچے تك جسم کے ہر پرزے رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا تقاطر کے ساتھ بہہ جانا سوا اس موضع یا حالت کے جس میں حرج ہو جس کا بیان آتا ہے۔ درمختار میں ہے :
یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلاحرج ( )۔
بدن کا ہر وہ حصہ دھونا فرض ہے جسے بغیر حرج کے دھونا ممکن ہے۔ (ت)
فـــ۱ : مسئلہ : سنت مؤکدہ کے ترك کی عادت سے گناہگار و مستحق عذاب ہوتاہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : ناك میں کوئی کثافت جمی ہوتوپہلے اس کاچھڑالیناغسل میں فرض اور وضو میں سنت ہے ۔
فـــ۳ : مسئلہ : وضو وغسل میں سنت ہے کہ ناك کی جڑ تك پانی چڑھائے مگر روزہ دار اس سے بچے ہاں تمام نرم بانسے تك چڑھانااسے بھی ضروری ہے ۔
فرض الغسل غسل انفہ حتی ماتحت الدرن ( )۔
غسل میں ناك کا دھونا فرض ہے یہاں تك کہ وہ حصہ بھی جو کثافت اور میل کے نیچے ہے۔ (ت)
اس فـــ۳ احتیاط سے بھی روزہ دار کو مفر نہیں ہاں اس سے اوپرتك اسے نہ چاہئے کہ کہیں پانی دماغ کو نہ چڑھ جائے غیر روزہ دارکے لئے یہ بھی سنت ہے۔ درمختار میں ہے :
سنتہ المبالغۃ بمجاوزۃ المارن لغیر الصائم ( )۔
غیر روزہ دار کے لئے نرمہ سے اوپر پانی پہنچا کر مبالغہ سنت ہے۔ (ت)
اسالۃ الماء علی ظاھر البدن سر کے بالو ں سے تلووں سے نیچے تك جسم کے ہر پرزے رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا تقاطر کے ساتھ بہہ جانا سوا اس موضع یا حالت کے جس میں حرج ہو جس کا بیان آتا ہے۔ درمختار میں ہے :
یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلاحرج ( )۔
بدن کا ہر وہ حصہ دھونا فرض ہے جسے بغیر حرج کے دھونا ممکن ہے۔ (ت)
فـــ۱ : مسئلہ : سنت مؤکدہ کے ترك کی عادت سے گناہگار و مستحق عذاب ہوتاہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : ناك میں کوئی کثافت جمی ہوتوپہلے اس کاچھڑالیناغسل میں فرض اور وضو میں سنت ہے ۔
فـــ۳ : مسئلہ : وضو وغسل میں سنت ہے کہ ناك کی جڑ تك پانی چڑھائے مگر روزہ دار اس سے بچے ہاں تمام نرم بانسے تك چڑھانااسے بھی ضروری ہے ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸
لوگ فــــ یہاں دوقسم کی بے احتیاطیاں کرتے ہیں جن سے غسل نہیں ہوتا اور نمازیں اکارت جاتی ہیں ۔
اولا : غسل بالفتح کے معنی میں نافہمی کہ بعض جگہ تیل کی طرح چپڑ لیتے ہیں یابھیگا ہاتھ پہنچ جانے پر قناعت کرتے ہیں حالانکہ یہ مسح ہوا غسل میں تقاطراور پانی کابہنا ضرور ہے جب تك ایك ایك ذرے پر پانی بہتا ہوا نہ گزرے گا غسل ہرگز نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے :
غسل ای اسالۃ الماء مع التقاطر( ) غسل یعنی قطرے ٹپکنے کے ساتھ پانی بہانا ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
البل بلاتقاطر مسح ( ) قطرے ٹپکے بغیر صرف ترکرلیناتو مسح ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لولم یسل الماء بان استعملہ استعمال الدھن لم یجز( )۔
اگر پانی نہ بہا اس طرح کہ تیل کی طرح پانی صرف مل لیا تو فرض ادا نہ ہوا۔ (ت)
ثانیا : پانی ایسی بے احتیاطی سے بہاتے ہیں کہ بعض مواضع بالکل خشك رہ جاتے ہیں یا ان تك کچھ اثر پہنچتا ہے تو وہی بھیگے ہاتھ کی تری۔ ان کے خیال میں شاید پانی میں ایسی کرامت ہے کہ ہر کنج وگوشہ میں آپ دوڑ جائے کچھ احتیاط خاص کی حاجت نہیں حالانکہ جسم ظاہر میں بہت موقع ایسے ہیں کہ وہاں ایك جسم کی سطح دوسرے جسم سے چھپ گئی ہے یا پانی کی گزرگاہ سے جدا واقع ہے کہ بے لحاظ خاص پانی اس پر بہنا ہرگز مظنون نہیں اور حکم یہ ہے کہ اگر ذرہ بھر جگہ یا کسی بال کی نوك بھی پانی بہنے سے رہ گئی تو غسل نہ ہوگا اور نہ صرف غسل بلکہ وضو میں بھی ایسی ہی بے احتیاطیاں کرتے ہیں کہیں ایڑیوں پر پانی نہیں بہتا کہیں کہنیوں پر کہیں ماتھے کے بالائی حصے پر کہیں کانوں کے پاس کنپٹیوں پر۔ ہم نے اس بارہ میں ایك مستقل تحریر لکھی ہے اس میں ان تمام مواضع کی تفصیل ہے جن کا لحاظ و خیال وضو وغسل میں ضرور ہے مردوں اور عورتوں کی تفریق اور طریقہ احتیاط کی تحقیق کے ساتھ ایسی سلیس وروشن بیان سے مذکور ہے جسے بعونہ تعالی ہر جاہل بچہ
فــــ : لوگ وضو و غسل میں دوقسم کی بے احتیاطیاں کرتے ہیں جن سے نمازیں اکارت جاتی ہیں ۔
اولا : غسل بالفتح کے معنی میں نافہمی کہ بعض جگہ تیل کی طرح چپڑ لیتے ہیں یابھیگا ہاتھ پہنچ جانے پر قناعت کرتے ہیں حالانکہ یہ مسح ہوا غسل میں تقاطراور پانی کابہنا ضرور ہے جب تك ایك ایك ذرے پر پانی بہتا ہوا نہ گزرے گا غسل ہرگز نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے :
غسل ای اسالۃ الماء مع التقاطر( ) غسل یعنی قطرے ٹپکنے کے ساتھ پانی بہانا ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
البل بلاتقاطر مسح ( ) قطرے ٹپکے بغیر صرف ترکرلیناتو مسح ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لولم یسل الماء بان استعملہ استعمال الدھن لم یجز( )۔
اگر پانی نہ بہا اس طرح کہ تیل کی طرح پانی صرف مل لیا تو فرض ادا نہ ہوا۔ (ت)
ثانیا : پانی ایسی بے احتیاطی سے بہاتے ہیں کہ بعض مواضع بالکل خشك رہ جاتے ہیں یا ان تك کچھ اثر پہنچتا ہے تو وہی بھیگے ہاتھ کی تری۔ ان کے خیال میں شاید پانی میں ایسی کرامت ہے کہ ہر کنج وگوشہ میں آپ دوڑ جائے کچھ احتیاط خاص کی حاجت نہیں حالانکہ جسم ظاہر میں بہت موقع ایسے ہیں کہ وہاں ایك جسم کی سطح دوسرے جسم سے چھپ گئی ہے یا پانی کی گزرگاہ سے جدا واقع ہے کہ بے لحاظ خاص پانی اس پر بہنا ہرگز مظنون نہیں اور حکم یہ ہے کہ اگر ذرہ بھر جگہ یا کسی بال کی نوك بھی پانی بہنے سے رہ گئی تو غسل نہ ہوگا اور نہ صرف غسل بلکہ وضو میں بھی ایسی ہی بے احتیاطیاں کرتے ہیں کہیں ایڑیوں پر پانی نہیں بہتا کہیں کہنیوں پر کہیں ماتھے کے بالائی حصے پر کہیں کانوں کے پاس کنپٹیوں پر۔ ہم نے اس بارہ میں ایك مستقل تحریر لکھی ہے اس میں ان تمام مواضع کی تفصیل ہے جن کا لحاظ و خیال وضو وغسل میں ضرور ہے مردوں اور عورتوں کی تفریق اور طریقہ احتیاط کی تحقیق کے ساتھ ایسی سلیس وروشن بیان سے مذکور ہے جسے بعونہ تعالی ہر جاہل بچہ
فــــ : لوگ وضو و غسل میں دوقسم کی بے احتیاطیاں کرتے ہیں جن سے نمازیں اکارت جاتی ہیں ۔
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۹
رد المحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
رد المحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی ۱ / ۶۵
رد المحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۵
رد المحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی ۱ / ۶۵
عورت سمجھ سکے یہاں اجمالا ان کا شمار کئے دیتے ہیں ۔
ضروریات فــــ وضو مطلقا یعنی مرد و عورت سب کیلئے :
(۱) پانی مانگ یعنی ماتھے کے سرے سے پڑنا بہت لوگ لپ یا چلو میں پانی لے کر ناك یا ابرو یا نصف ماتھے پر ڈالتے ہیں پانی تو بہہ کر نیچے آیا وہ اپنا ہاتھ چڑھا کر اوپر لے گئے اس میں سارا ماتھا نہ دھلا بھیگا ہاتھ پھرا اور وضو نہ ہوا۔
(۲) پٹیاں جھکی ہوں تو انہیں ہٹا کر پانی ڈالے کہ جو حصہ پیشانی کا ان کے نیچے ہے دھلنے سے نہ رہ جائے۔
(۳) بھووں کے بال چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال چمکتی ہو تو کھال پر پانی بہنا فرض ہے صرف بالوں پر کافی نہیں ۔
(۴) آنکھوں کے چاروں کوئے آنکھیں زور سے بند کرے یہاں کوئی سخت چیز جمی ہوئی ہو تو چھڑالے۔
(۵) پلك کا ہربال پورا بعض وقت کیچڑ وغیرہ سخت ہوکر جم جاتا ہے کہ اس کے نیچے پانی نہیں بہتا اس کا چھڑانا ضرور ہے۔
(۶)کان کے پاس تك کنپٹی ایسا نہ ہو کہ ماتھے کا پانی گال پر اتر آئے اور یہاں صرف بھیگا ہاتھ پھرے۔
(۷) ناك کا سوراخ عــــہ اگر کوئی گہنا یاتنکا ہوتو اسے پھرا پھرا کر ورنہ یونہی دھار ڈالے ہاں اگر بالکل بند ہوگیا تو حاجت نہیں ۔
(۸) آدمی جب خاموش بیٹھے تو دونوں لب مل کر کچھ حصہ چھپ جاتاکچھ ظاہر رہتا ہے یہ ظاہر رہنے والا حصہ بھی دھلنا فرض ہے اگر کلی نہ کی اور منہ دھونے میں لب سمیٹ کر بزور بند کرلئے تو اس پر پانی نہ بہے گا۔
(۹) ٹھوڑی کی ہڈی اس جگہ تك جہاں نیچے کے دانت جمے ہیں ۔
(۱۰) ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں ۔
(۱۱) انگلیوں کی کروٹیں کہ ملنے پر بند ہوجاتی ہیں ۔
(۱۲) دسوں ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے ہاں میل کا ڈر نہیں ۔
(۱۳) ناخنوں کے سرے سے کہنیوں کے اوپر تك ہاتھ کا ہر پہلو چلومیں پانی لے کر کلائی پر الٹ لینا
فــــ : مسئلہ : وضو میں پچیس۲۵ جگہ ہیں جن کی خاص احتیاط مرد و عورت سب پر لازم ہے۔
عــــہ : ناك کا سوراخ ہاتھ پاؤں کے چھلے کلائی کے گہنے چوڑیاں ۔
ضروریات فــــ وضو مطلقا یعنی مرد و عورت سب کیلئے :
(۱) پانی مانگ یعنی ماتھے کے سرے سے پڑنا بہت لوگ لپ یا چلو میں پانی لے کر ناك یا ابرو یا نصف ماتھے پر ڈالتے ہیں پانی تو بہہ کر نیچے آیا وہ اپنا ہاتھ چڑھا کر اوپر لے گئے اس میں سارا ماتھا نہ دھلا بھیگا ہاتھ پھرا اور وضو نہ ہوا۔
(۲) پٹیاں جھکی ہوں تو انہیں ہٹا کر پانی ڈالے کہ جو حصہ پیشانی کا ان کے نیچے ہے دھلنے سے نہ رہ جائے۔
(۳) بھووں کے بال چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال چمکتی ہو تو کھال پر پانی بہنا فرض ہے صرف بالوں پر کافی نہیں ۔
(۴) آنکھوں کے چاروں کوئے آنکھیں زور سے بند کرے یہاں کوئی سخت چیز جمی ہوئی ہو تو چھڑالے۔
(۵) پلك کا ہربال پورا بعض وقت کیچڑ وغیرہ سخت ہوکر جم جاتا ہے کہ اس کے نیچے پانی نہیں بہتا اس کا چھڑانا ضرور ہے۔
(۶)کان کے پاس تك کنپٹی ایسا نہ ہو کہ ماتھے کا پانی گال پر اتر آئے اور یہاں صرف بھیگا ہاتھ پھرے۔
(۷) ناك کا سوراخ عــــہ اگر کوئی گہنا یاتنکا ہوتو اسے پھرا پھرا کر ورنہ یونہی دھار ڈالے ہاں اگر بالکل بند ہوگیا تو حاجت نہیں ۔
(۸) آدمی جب خاموش بیٹھے تو دونوں لب مل کر کچھ حصہ چھپ جاتاکچھ ظاہر رہتا ہے یہ ظاہر رہنے والا حصہ بھی دھلنا فرض ہے اگر کلی نہ کی اور منہ دھونے میں لب سمیٹ کر بزور بند کرلئے تو اس پر پانی نہ بہے گا۔
(۹) ٹھوڑی کی ہڈی اس جگہ تك جہاں نیچے کے دانت جمے ہیں ۔
(۱۰) ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں ۔
(۱۱) انگلیوں کی کروٹیں کہ ملنے پر بند ہوجاتی ہیں ۔
(۱۲) دسوں ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے ہاں میل کا ڈر نہیں ۔
(۱۳) ناخنوں کے سرے سے کہنیوں کے اوپر تك ہاتھ کا ہر پہلو چلومیں پانی لے کر کلائی پر الٹ لینا
فــــ : مسئلہ : وضو میں پچیس۲۵ جگہ ہیں جن کی خاص احتیاط مرد و عورت سب پر لازم ہے۔
عــــہ : ناك کا سوراخ ہاتھ پاؤں کے چھلے کلائی کے گہنے چوڑیاں ۔
ہرگز کافی نہیں ۔
(۱۴)کلائی کا ہربال جڑ سے نوك تک۔ ایسا نہ ہو کہ کھڑے بالوں کی جڑ میں پانی گزر جائے نوکیں رہ جائیں ۔
(۱۵) آرسی چھلے اور کلائی کے ہر گہنے کے نیچے۔
(۱۶) عورتوں کو پھنسی چوڑیوں کا شوق ہوتا ہے انہیں ہٹا ہٹا کر پانی بہائیں ۔
(۱۷) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے پوروں کے سرے گزار دینا اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔
(۱۸) پاؤوں کی آٹھوں گھائیاں ۔
(۱۹) یہاں انگلیوں کی کروٹیں زیادہ قابل لحاظ ہیں کہ قدرتی ملی ہوئی ہیں ۔
(۲۰) ناخنوں کے اندر کوئی سخت چیز نہ ہو۔
(۲۱) پاؤوں کے چھلے اور جو گہنا گٹوں پر یا گٹوں سے نیچے ہو اس کے نیچے سیلان شرط ہے۔
(۲۲) گٹے۔
(۲۳) تلوے۔
(۲۴) ایڑیاں ۔
(۲۵) کونچیں خاص فــــ بہ مردان۔
(۲۶) مونچھیں ۔
(۲۷) صحیح مذہب میں ساری داڑھی دھونا فرض ہے یعنی جتنی چہرے کی حد میں ہے نہ لٹکی ہوئی کہ ہاتھ سے گلے کی طرف کو دباؤ تو ٹھوڑی کے اس حصے سے نکل جائے جس پر دانت جمے ہیں کہ اس کا صرف مسح سنت اور دھونا مستحب ہے۔
(۲۸ و ۲۹) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا۔
(۳۰) مونچھیں بڑھ کر لبوں کو چھپالیں تو انہیں ہٹا ہٹا کر لبوں کی کھال دھونا اگرچہ مونچھیں کیسی ہی گھنی ہوں ۔
درمختار میں ہے :
ارکان الوضوء غسل الوجہ من مبدء سطح جبھتہ الی منبت
ارکان وضو یہ ہیں : چہرے کو لمبائی میں پیشانی کی سطح کے شروع سے نیچے کے دانتوں کے اگنے کی
فــــ : وضو میں پانچ مواقع اورہیں جن کی احتیاط خاص مردوں پر لازم۔
(۱۴)کلائی کا ہربال جڑ سے نوك تک۔ ایسا نہ ہو کہ کھڑے بالوں کی جڑ میں پانی گزر جائے نوکیں رہ جائیں ۔
(۱۵) آرسی چھلے اور کلائی کے ہر گہنے کے نیچے۔
(۱۶) عورتوں کو پھنسی چوڑیوں کا شوق ہوتا ہے انہیں ہٹا ہٹا کر پانی بہائیں ۔
(۱۷) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے پوروں کے سرے گزار دینا اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔
(۱۸) پاؤوں کی آٹھوں گھائیاں ۔
(۱۹) یہاں انگلیوں کی کروٹیں زیادہ قابل لحاظ ہیں کہ قدرتی ملی ہوئی ہیں ۔
(۲۰) ناخنوں کے اندر کوئی سخت چیز نہ ہو۔
(۲۱) پاؤوں کے چھلے اور جو گہنا گٹوں پر یا گٹوں سے نیچے ہو اس کے نیچے سیلان شرط ہے۔
(۲۲) گٹے۔
(۲۳) تلوے۔
(۲۴) ایڑیاں ۔
(۲۵) کونچیں خاص فــــ بہ مردان۔
(۲۶) مونچھیں ۔
(۲۷) صحیح مذہب میں ساری داڑھی دھونا فرض ہے یعنی جتنی چہرے کی حد میں ہے نہ لٹکی ہوئی کہ ہاتھ سے گلے کی طرف کو دباؤ تو ٹھوڑی کے اس حصے سے نکل جائے جس پر دانت جمے ہیں کہ اس کا صرف مسح سنت اور دھونا مستحب ہے۔
(۲۸ و ۲۹) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا۔
(۳۰) مونچھیں بڑھ کر لبوں کو چھپالیں تو انہیں ہٹا ہٹا کر لبوں کی کھال دھونا اگرچہ مونچھیں کیسی ہی گھنی ہوں ۔
درمختار میں ہے :
ارکان الوضوء غسل الوجہ من مبدء سطح جبھتہ الی منبت
ارکان وضو یہ ہیں : چہرے کو لمبائی میں پیشانی کی سطح کے شروع سے نیچے کے دانتوں کے اگنے کی
فــــ : وضو میں پانچ مواقع اورہیں جن کی احتیاط خاص مردوں پر لازم۔
اسنانہ السفلی طولا ومابین شحمتی الاذنین عرضافیجب غسل المیاقی ومایظھر من الشفۃ عند انضمامھا(الطبیعی لاعند انضمامھا بشدۃ وتکلف اھ ح وکذالوغمض عینیہ شدیدا لا یجوزبحر) وغسل جمیع اللحیۃ فرض علی المذھب الصحیح المفتی بہ المرجوع الیہ وما عداھذہ الروایۃ مرجوع عنہ ثم لاخلاف ان المسترسل(وفسرہ ابن حجر فی شرح المنھاج بما لومد من جہۃ نزولہ لخرج عن دائرۃ الوجہ ثم رأیت المصنف فی شرحہ علی زادالفقیرقال وفی المجتبی قال البقالی ومانزل من شعراللحیۃ من الذقن لیس من الوجہ عندناخلافاللشافعی اھ) لایجب غسلہ ولا مسحہ بل یسن (المسح) وان الخفیفۃ التی تری بشرتھا یجب غسل ماتحتھا نھر وفی البرھان یجب غسل بشرۃ لم یسترھا الشعر
جگہ تک اور چوڑائی میں ایك کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تك جتناحصہ ہے سب دھونا-توآنکھوں کے گوشوں کو دھونا ضروری ہے اور لب کا وہ حصہ بھی جو لب بند ہونے کے وقت کھلا رہتا ہے (یعنی طبعی طور پر بندہونے کے وقت شدت اور تکلیف سے بند کرنے کے وقت نہیں اھ حلبی - اسی طرح اگر وقت وضو آنکھیں سختی سے بند کرلیں تو وضو نہ ہوگا - بحر-) اور پوری داڑھی کا دھونا فرض ہے - مذہب صحیح مفتی بہ پر- جس کی طرف امام نے رجوع کرلیا ہے۔ اور اس کے علاوہ جو روایت ہے اس سے رجوع ہوچکا ہے ۔ پھر اس میں اختلاف نہیں کہ داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا یا مسح کرنا فرض نہیں بلکہ ( اس کا مسح ) مسنون ہے۔ ( مستر سل لٹکتے بالوں کی تفسیر علامہ ابن حجر شافعی نے شرح منہاج میں یہ لکھی ہے : بالوں کا وہ حصہ جو نیچے کو پھیلایا جائے تو چہرے کے دائرے سے باہر ہوجائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مصنف نے زاد الفقیرکی شرح میں یہ لکھا ہے : مجتبی میں ہے کہ بقالی نے کہا : داڑھی کے وہ بال جو ٹھوڑی سے نیچے ہیں وہ امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیك چہرے میں شمار نہیں اھ)ہلکی داڑھی جس کی جلد نظر آتی ہے اس کے نیچے کی جلد دھونا فرض ہے نہر۔ اور برہان میں ہے : مذہب مختار میں اس جلد کو دھونا فرض ہے جو بالوں سے چھپی ہوئی نہیں ہے
جگہ تک اور چوڑائی میں ایك کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تك جتناحصہ ہے سب دھونا-توآنکھوں کے گوشوں کو دھونا ضروری ہے اور لب کا وہ حصہ بھی جو لب بند ہونے کے وقت کھلا رہتا ہے (یعنی طبعی طور پر بندہونے کے وقت شدت اور تکلیف سے بند کرنے کے وقت نہیں اھ حلبی - اسی طرح اگر وقت وضو آنکھیں سختی سے بند کرلیں تو وضو نہ ہوگا - بحر-) اور پوری داڑھی کا دھونا فرض ہے - مذہب صحیح مفتی بہ پر- جس کی طرف امام نے رجوع کرلیا ہے۔ اور اس کے علاوہ جو روایت ہے اس سے رجوع ہوچکا ہے ۔ پھر اس میں اختلاف نہیں کہ داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا یا مسح کرنا فرض نہیں بلکہ ( اس کا مسح ) مسنون ہے۔ ( مستر سل لٹکتے بالوں کی تفسیر علامہ ابن حجر شافعی نے شرح منہاج میں یہ لکھی ہے : بالوں کا وہ حصہ جو نیچے کو پھیلایا جائے تو چہرے کے دائرے سے باہر ہوجائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مصنف نے زاد الفقیرکی شرح میں یہ لکھا ہے : مجتبی میں ہے کہ بقالی نے کہا : داڑھی کے وہ بال جو ٹھوڑی سے نیچے ہیں وہ امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیك چہرے میں شمار نہیں اھ)ہلکی داڑھی جس کی جلد نظر آتی ہے اس کے نیچے کی جلد دھونا فرض ہے نہر۔ اور برہان میں ہے : مذہب مختار میں اس جلد کو دھونا فرض ہے جو بالوں سے چھپی ہوئی نہیں ہے
کحاجب وشارب وعنفقۃ فی المختار(ویستثنی منہ ما اذا کان الشارب طویلا یسترحمرۃ الشفتین لما فی السراجیۃ من ان تخلیل الشارب الساتر حمرۃ الشفتین واجب ( ))اھ ملخصا مزیدا ما بین الاھلۃ من ردالمحتار۔
قلت : واستحبابی غسل المسترسل نظرا الی خلاف الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ لما نصوافــ علیہ من ان الخروج عن الخلاف مستحب بالاجماع مالم یرتکب مکروہ مذھبہ کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ ( )
جیسے بھووں مونچھوں اور بچی کے بالوں سے [نہ چھپنے والی جلد ۱۲م] اس سے وہ صو رت مستثنی ہے جب مونچھیں اتنی لمبی ہوں کہ لبوں کی سرخی کو چھپالیں کیونکہ سراجیہ میں ہے کہ لبوں کی سرخی کو چھپالینے والی مونچھوں کا خلال کرنا یعنی ہٹا کر لب کی جلد دھونا فرض ہے)اھ۔ درمختار کی عبارت تلخیص اور ہلالین کے درمیان رد المحتار سے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
قلت داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کو دھونا میں نے امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے اختلاف کا لحاظ کرتے ہوئے مستحب کہا اس لئے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ صورت اختلاف سے بچنا بالا جماع مستحب ہے بشرطیکہ اس میں اپنے مذہب کے کسی مکروہ کاارتکاب نہ ہو جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔
اسی میں ہے :
سننہ تخلیل اصابع الیدین والرجلین وھذا بعد
ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال سنت ہے یہ اس وقت ہے جب پانی
فــــ : حتی الامکان اختلاف علما سے بچنا مستحب ہے جب تك اس کی رعایت میں اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے۔
قلت : واستحبابی غسل المسترسل نظرا الی خلاف الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ لما نصوافــ علیہ من ان الخروج عن الخلاف مستحب بالاجماع مالم یرتکب مکروہ مذھبہ کما فی ردالمحتار وغیرہ۔ ( )
جیسے بھووں مونچھوں اور بچی کے بالوں سے [نہ چھپنے والی جلد ۱۲م] اس سے وہ صو رت مستثنی ہے جب مونچھیں اتنی لمبی ہوں کہ لبوں کی سرخی کو چھپالیں کیونکہ سراجیہ میں ہے کہ لبوں کی سرخی کو چھپالینے والی مونچھوں کا خلال کرنا یعنی ہٹا کر لب کی جلد دھونا فرض ہے)اھ۔ درمختار کی عبارت تلخیص اور ہلالین کے درمیان رد المحتار سے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
قلت داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کو دھونا میں نے امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے اختلاف کا لحاظ کرتے ہوئے مستحب کہا اس لئے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ صورت اختلاف سے بچنا بالا جماع مستحب ہے بشرطیکہ اس میں اپنے مذہب کے کسی مکروہ کاارتکاب نہ ہو جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔
اسی میں ہے :
سننہ تخلیل اصابع الیدین والرجلین وھذا بعد
ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال سنت ہے یہ اس وقت ہے جب پانی
فــــ : حتی الامکان اختلاف علما سے بچنا مستحب ہے جب تك اس کی رعایت میں اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارت ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۸ ،۱۹ ، ردالمحتار کتاب الطہارت دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۶ تا۶۹
الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷ ، ردالمحتار کتاب الطہارت دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۹
الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷ ، ردالمحتار کتاب الطہارت دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۹
دخول الماء خلالھافلو منضمۃ فرض ( )۔
ان انگلیوں کے بیچ پہنچ گیاہو اگر ملی ہوئی ہوں ( کہ پانی نہ پہنچے ) تو پانی پہنچانا فرض ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
مستحبہ تحریك خاتمہ الواسع وکذاالضیق ان علم وصول الماء والافرض( )۔
کشادہ انگوٹھی کو حرکت دینا مستحب ہے اسی طرح تنگ کو بھی اگر معلوم ہو کہ پانی پہنچ گیا ورنہ فرض ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
ومن الاداب تعاھد موقیہ وکعبیہ وعرقوبیہ واخمصیہ ( )۔
قلت : وھذا ان کان الماء یسیل علیھا وان لم یتعاھد والافرض کنظائرہ المارۃ۔
آداب وضو میں سے یہ ہے کہ آنکھ کے گوشوں ٹخنوں ایڑیوں تلووں پر خاص دھیان دے اھ(ت)
قلت : یہ اس صورت میں ہے جب پانی ان جگہوں پر خاص دھیان دئیے بغیر بہہ جاتا ہو ورنہ فرض ہوگا جیسے اس کی سابقہ نظیروں میں حکم ہے ۔ (ت)
ضروریات فـــــ غسل مطلقا ظاہر ہے کہ وضو میں جس جس عضو کا دھونا فرض ہے غسل میں بھی فرض ہے تو یہ سب اشیاء یہاں بھی معتبر اور ان کے علاوہ یہ اور زائد۔
(۳۱) سر کے بال کہ گندھے ہوئے ہوں ہر بال پر جڑ سے نوك تك پانی بہنا۔
(۳۲)کانوں میں بالی پتے وغیرہ زیوروں کے سوراخ کا غسل میں وہی حکم ہے جو ناك میں بلاق وغیرہ کے چھید کا غسل و وضو دونوں میں تھا۔
(۳۳) بھنووں کے نیچے کی کھال اگرچہ بال کیسے ہی گھنے ہوں ۔
(۳۴)کان کا ہر پرزہ اس کے سوراخ کا منہ۔
فـــــ : غسل میں ان ۲۵ یا ۳۰ گزشتہ کے علاوہ ۲۲ جگہ اور ہیں جن کی احتیاط مرد و عورت سب پر لازم۔
ان انگلیوں کے بیچ پہنچ گیاہو اگر ملی ہوئی ہوں ( کہ پانی نہ پہنچے ) تو پانی پہنچانا فرض ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
مستحبہ تحریك خاتمہ الواسع وکذاالضیق ان علم وصول الماء والافرض( )۔
کشادہ انگوٹھی کو حرکت دینا مستحب ہے اسی طرح تنگ کو بھی اگر معلوم ہو کہ پانی پہنچ گیا ورنہ فرض ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
ومن الاداب تعاھد موقیہ وکعبیہ وعرقوبیہ واخمصیہ ( )۔
قلت : وھذا ان کان الماء یسیل علیھا وان لم یتعاھد والافرض کنظائرہ المارۃ۔
آداب وضو میں سے یہ ہے کہ آنکھ کے گوشوں ٹخنوں ایڑیوں تلووں پر خاص دھیان دے اھ(ت)
قلت : یہ اس صورت میں ہے جب پانی ان جگہوں پر خاص دھیان دئیے بغیر بہہ جاتا ہو ورنہ فرض ہوگا جیسے اس کی سابقہ نظیروں میں حکم ہے ۔ (ت)
ضروریات فـــــ غسل مطلقا ظاہر ہے کہ وضو میں جس جس عضو کا دھونا فرض ہے غسل میں بھی فرض ہے تو یہ سب اشیاء یہاں بھی معتبر اور ان کے علاوہ یہ اور زائد۔
(۳۱) سر کے بال کہ گندھے ہوئے ہوں ہر بال پر جڑ سے نوك تك پانی بہنا۔
(۳۲)کانوں میں بالی پتے وغیرہ زیوروں کے سوراخ کا غسل میں وہی حکم ہے جو ناك میں بلاق وغیرہ کے چھید کا غسل و وضو دونوں میں تھا۔
(۳۳) بھنووں کے نیچے کی کھال اگرچہ بال کیسے ہی گھنے ہوں ۔
(۳۴)کان کا ہر پرزہ اس کے سوراخ کا منہ۔
فـــــ : غسل میں ان ۲۵ یا ۳۰ گزشتہ کے علاوہ ۲۲ جگہ اور ہیں جن کی احتیاط مرد و عورت سب پر لازم۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲ و ۲۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۴
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲ و ۲۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۴
(۳۵)کانوں کے پیچھے بال ہٹا کر پانی بہائے۔
(۳۶) استنشاق بمعنی مذکور۔
(۳۷) مضمضہ بطرز مسطور۔
(۳۸) داڑھوں کے پیچھے
(۳۹) دانتوں کی کھڑکھیوں میں جو سخت چیز ہو پہلے جدا کرلیں ۔
(۴۰) چونا ریخیں وغیرہ جو بے ایذا چھوٹ سکے چھڑانا۔
(۴۱) ٹھوڑی اور گلے کاجوڑ کہ بے منہ اٹھائے نہ دھلے گا۔
(۴۲) بغلیں بے ہاتھ اٹھائے نہ دھلیں گی۔
(۴۳) بازو کا ہر پہلو
(۴۴) پیٹھ کا ہردرہ۔
(۴۵) پیٹ وغیرہ کی بلٹیں اٹھا کر دھوئیں ۔
(۴۶) ناف انگلی ڈال کر جبکہ بغیر اس کے پانی بہنے میں شك ہو۔
(۴۷) جسم کا کوئی رونگٹاکھڑا نہ رہ جائے۔
(۴۸) ران اور پیڑو کا جوڑ کھول کر دھوئیں ۔
(۴۹) دونوں سرین ملنے کی جگہ خصوصا جب کھڑے ہوکر نہائیں ۔
(۵۰) ران اور پنڈلی کا جوڑ جبکہ بیٹھ کر نہائیں ۔
(۵۱) رانوں کی گولائی۔
(۵۲) پنڈلیوں کی کروٹیں ۔
خاصفــــ بمرداں ۔
(۵۳)گندھے ہوئے بال کھول کر جڑ سے نوك تك دھونا۔
(۵۴) مونچھوں کے نیچے کی کھال اگرچہ گھنی ہوں ۔
(۵۵) داڑھی کا ہر بال جڑ سے نوك تک۔
فــــ : ان ۵۲کے سوا آٹھ مواقع اور ہیں جن کی احتیاط غسل میں خاص مردوں کو ضرور۔
(۳۶) استنشاق بمعنی مذکور۔
(۳۷) مضمضہ بطرز مسطور۔
(۳۸) داڑھوں کے پیچھے
(۳۹) دانتوں کی کھڑکھیوں میں جو سخت چیز ہو پہلے جدا کرلیں ۔
(۴۰) چونا ریخیں وغیرہ جو بے ایذا چھوٹ سکے چھڑانا۔
(۴۱) ٹھوڑی اور گلے کاجوڑ کہ بے منہ اٹھائے نہ دھلے گا۔
(۴۲) بغلیں بے ہاتھ اٹھائے نہ دھلیں گی۔
(۴۳) بازو کا ہر پہلو
(۴۴) پیٹھ کا ہردرہ۔
(۴۵) پیٹ وغیرہ کی بلٹیں اٹھا کر دھوئیں ۔
(۴۶) ناف انگلی ڈال کر جبکہ بغیر اس کے پانی بہنے میں شك ہو۔
(۴۷) جسم کا کوئی رونگٹاکھڑا نہ رہ جائے۔
(۴۸) ران اور پیڑو کا جوڑ کھول کر دھوئیں ۔
(۴۹) دونوں سرین ملنے کی جگہ خصوصا جب کھڑے ہوکر نہائیں ۔
(۵۰) ران اور پنڈلی کا جوڑ جبکہ بیٹھ کر نہائیں ۔
(۵۱) رانوں کی گولائی۔
(۵۲) پنڈلیوں کی کروٹیں ۔
خاصفــــ بمرداں ۔
(۵۳)گندھے ہوئے بال کھول کر جڑ سے نوك تك دھونا۔
(۵۴) مونچھوں کے نیچے کی کھال اگرچہ گھنی ہوں ۔
(۵۵) داڑھی کا ہر بال جڑ سے نوك تک۔
فــــ : ان ۵۲کے سوا آٹھ مواقع اور ہیں جن کی احتیاط غسل میں خاص مردوں کو ضرور۔
(۵۶) ذکر وانثیین کے ملنے کی سطحیں کہ بے جدا کیے نہ دھلیں گی۔
(۵۷) انثیین کی سطح زیریں جوڑ تک۔
(۵۸) انثیین کے نیچے کی جگہ تک۔
(۵۹) جس کا ختنہ نہ ہوا ہو بہت علماء کے نزدیك اس پر فرض ہے کہ کھال چڑھ سکتی ہو تو حشفہ کھول کر دھوئے۔
(۶۰) اس قول پر اس کھال کے اندر بھی پانی پہنچنا فرض ہوگا بے چڑھائے اس میں پانی ڈالے کہ چڑھنے کے بعد بند ہوجائے گی۔
خاصفــــ بزنان
(۶۱) گندھی چوٹی میں ہر بال کی جڑ تر کرنی چوٹی کھولنی ضرور نہیں مگر جب ایسی سخت گندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی۔
(۶۲) ڈھلکی ہوئی پستان اٹھا کر دھونی۔
(۶۳) پستان وشکم کے جوڑ کی تحریر۔
(۶۴تا۶۷) فرج خارج کے چاروں لبوں کی جیبیں جڑتک۔
(۶۸) گوشت پارہ بالاکاہر پرت کہ کھولے سے کھل سکے گا۔
(۶۹) گوشت پارہ زیریں کی سطح زیریں ۔
(۷۰) اس پارہ کے نیچے کی خالی جگہ غرض فرج خارج کے ہر گوشے پرزے کنج کا خیال لازم ہے ہاں فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھونا واجب نہیں بہتر ہے۔ درمختار میں ہے :
یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلا حرج مرۃ کاذن وسرۃ وشارب وحاجب (ای بشرۃ وشعراوان کثف بالاجماع کما فی المنیۃ) ولحیۃ وشعر رأس ولو متلبدا وفرج خارج لانہ کالفم لاداخل ولا تدخل اصبعھا فی قبلھا
بدن کا ہر وہ حصہ جسے بلاحرج دھونا ممکن ہے اسے ایك بار دھونا فرض ہے جیسے کان ناف مونچھیں بھوں ( یعنی جلد اور بال دونوں اگرچہ بال گھنے ہوں ۔ اس پر اجماع ہے جیسا کہ منیہ میں ہے )داڑھی سر کے بال اگرچہ گندھے ہوئے ہوں فرج خارج اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے۔ فرج داخل نہیں فرج داخل میں اسے انگلی ڈال کر دھونا
فــــ : ان۶۰ کے سوا دس۱۰ مواضع اور ہیں جن کی احتیاط غسل میں خاص عورتوں پر لازم۔
(۵۷) انثیین کی سطح زیریں جوڑ تک۔
(۵۸) انثیین کے نیچے کی جگہ تک۔
(۵۹) جس کا ختنہ نہ ہوا ہو بہت علماء کے نزدیك اس پر فرض ہے کہ کھال چڑھ سکتی ہو تو حشفہ کھول کر دھوئے۔
(۶۰) اس قول پر اس کھال کے اندر بھی پانی پہنچنا فرض ہوگا بے چڑھائے اس میں پانی ڈالے کہ چڑھنے کے بعد بند ہوجائے گی۔
خاصفــــ بزنان
(۶۱) گندھی چوٹی میں ہر بال کی جڑ تر کرنی چوٹی کھولنی ضرور نہیں مگر جب ایسی سخت گندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی۔
(۶۲) ڈھلکی ہوئی پستان اٹھا کر دھونی۔
(۶۳) پستان وشکم کے جوڑ کی تحریر۔
(۶۴تا۶۷) فرج خارج کے چاروں لبوں کی جیبیں جڑتک۔
(۶۸) گوشت پارہ بالاکاہر پرت کہ کھولے سے کھل سکے گا۔
(۶۹) گوشت پارہ زیریں کی سطح زیریں ۔
(۷۰) اس پارہ کے نیچے کی خالی جگہ غرض فرج خارج کے ہر گوشے پرزے کنج کا خیال لازم ہے ہاں فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھونا واجب نہیں بہتر ہے۔ درمختار میں ہے :
یفرض غسل کل مایمکن من البدن بلا حرج مرۃ کاذن وسرۃ وشارب وحاجب (ای بشرۃ وشعراوان کثف بالاجماع کما فی المنیۃ) ولحیۃ وشعر رأس ولو متلبدا وفرج خارج لانہ کالفم لاداخل ولا تدخل اصبعھا فی قبلھا
بدن کا ہر وہ حصہ جسے بلاحرج دھونا ممکن ہے اسے ایك بار دھونا فرض ہے جیسے کان ناف مونچھیں بھوں ( یعنی جلد اور بال دونوں اگرچہ بال گھنے ہوں ۔ اس پر اجماع ہے جیسا کہ منیہ میں ہے )داڑھی سر کے بال اگرچہ گندھے ہوئے ہوں فرج خارج اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے۔ فرج داخل نہیں فرج داخل میں اسے انگلی ڈال کر دھونا
فــــ : ان۶۰ کے سوا دس۱۰ مواضع اور ہیں جن کی احتیاط غسل میں خاص عورتوں پر لازم۔
بہ یفتی(ای لایجب ذلك کما فی الشرنبلالیۃ ح وفی التتارخانیۃ عن محمد انہ ان لم تدخل الاصبع فلیس بتنظیف ) لاداخل قلفۃ بل یندب ھوالاصح قالہ الکمال وعلله بالحرج وفی المسعودی ان امکن فتح القلفۃ بلامشقۃ یجب والا فلاوکفی بل اصل ضفیرتھا للحرج اما المنقوض فیفرض غسل کلہ ولولم یبتل اصلہا یجب نقضھاھوالاصح لایکفی بل ضفیرتہ فینقضھا وجوبا ولوعلویا اوترکیا لامکان حلقہ (ھو الصحیح )اھ ملخصا مزیدا من الشامی۔ ( )
نہیں ہے اسی پر فتوی ہے( یعنی واجب نہیں ہے جیسا کہ شر نبلالیہ میں ہے حلبی ۔ اور تاتا ر خانیہ میں ہے امام محمد سے روایت ہے کہ اگر عورت انگلی نہ ڈالے تو تنظیف نہ ہوگی ) جس کا ختنہ نہ ہوا ہو اس پر ختنہ کی کھال کے اندر دھونا فرض نہیں بلکہ مستحب ہے یہی اصح ہے ۔ یہ کمال ابن الہمام نے فرمایا اور اس کا سبب حرج کو بتایا ۔ اور مسعود ی میں ہے کہ اگر بغیر مشقت کے اس کھال کو کھول سکتا ہے تو واجب ہے ورنہ نہیں ۔ عورت کو اپنے جوڑوں کی جڑ تر کر لینا کافی ہے حرج کی بناء پر۔ لیکن بال کھلے ہوئے ہیں تو سب دھونا فرض ہے۔ اور اگر جوڑے کی جڑ تر نہیں ہوتی تو کھولنا واجب ہے یہی اصح ہے۔ مرد کو جوڑے تر کر لیناکافی نہیں بلکہ اس پر کھولنا واجب ہے اگرچہ علوی یا ترکی ہو اس لئے کہ وہ بال کٹاسکتا ہے ( یہی صحیح ہے ) اھ درمختار کی عبارت تلخیص اور شامی سے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
اسی میں ہے :
من آدابہ تحریك القرط ان علم وصول الماء والافرض۔ ( )
غسل کے آداب میں سے ہے کہ بالی کو حرکت دے اگر معلوم ہوکہ پانی پہنچ گیا ورنہ پانی پہنچانا فرض ہے ۔ (ت)
نہیں ہے اسی پر فتوی ہے( یعنی واجب نہیں ہے جیسا کہ شر نبلالیہ میں ہے حلبی ۔ اور تاتا ر خانیہ میں ہے امام محمد سے روایت ہے کہ اگر عورت انگلی نہ ڈالے تو تنظیف نہ ہوگی ) جس کا ختنہ نہ ہوا ہو اس پر ختنہ کی کھال کے اندر دھونا فرض نہیں بلکہ مستحب ہے یہی اصح ہے ۔ یہ کمال ابن الہمام نے فرمایا اور اس کا سبب حرج کو بتایا ۔ اور مسعود ی میں ہے کہ اگر بغیر مشقت کے اس کھال کو کھول سکتا ہے تو واجب ہے ورنہ نہیں ۔ عورت کو اپنے جوڑوں کی جڑ تر کر لینا کافی ہے حرج کی بناء پر۔ لیکن بال کھلے ہوئے ہیں تو سب دھونا فرض ہے۔ اور اگر جوڑے کی جڑ تر نہیں ہوتی تو کھولنا واجب ہے یہی اصح ہے۔ مرد کو جوڑے تر کر لیناکافی نہیں بلکہ اس پر کھولنا واجب ہے اگرچہ علوی یا ترکی ہو اس لئے کہ وہ بال کٹاسکتا ہے ( یہی صحیح ہے ) اھ درمختار کی عبارت تلخیص اور شامی سے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
اسی میں ہے :
من آدابہ تحریك القرط ان علم وصول الماء والافرض۔ ( )
غسل کے آداب میں سے ہے کہ بالی کو حرکت دے اگر معلوم ہوکہ پانی پہنچ گیا ورنہ پانی پہنچانا فرض ہے ۔ (ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸و۲۹ ، الدرالمختار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۳،۱۰۴
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳
اسی میں ہے :
لوخاتمہ ضیقانزعہ اوحرکہ وجوباکقرط ولولم یکن بثقب اذنہ قرط فدخل الماء فی الثقب عندمرورہ علی اذنہ اجزأہ کسرۃ واذن دخلہماالماء والایدخل ادخلہ ولوباصبعہ ولا یتکلف بخشب ونحوہ والمعتبرف غلبۃ ظنہ بالوصول ( )۔
اقول : ای فی غیرالموسوس وغیرماجن لایبالی فالاول ینزل الیقین الی محض الشك والثانی یرفع الشك الی عین الیقین کما ھو معلوم مشاھد والله المستعان۔
اگر انگوٹھی تنگ ہوتو اتاردے ورنہ واجب ہے کہ حرکت دے کر پانی پہنچائے جیسے بالی کا حکم ہے اور اگر کان کے سوراخ میں بالی نہیں ہے اور پانی کان پر گذرنے کے وقت سوراخ میں بھی چلاگیا تو کافی ہے جیسے ناف اور کان میں پانی چلا جائے تو کافی ہے اور اگر پانی نہ جائے تو پہنچائے اگر چہ انگلی کے ذریعہ۔ لکڑی وغیرہ کے استعمال کا تکلف نہ کرے۔ اعتبار اس کا ہے کہ پانی پہنچ جانے کا غالب گمان ہوجائے۔
اقول : یہ ضابطہ اعتبار وسوسہ کے مریض اور تماشہ باز بے پروا کے حق میں ہے اول تو یقین کو شك کی منزل میں لاتا ہے اور ثانی شك کو یقین بنالیتا ہے جیساکہ مشاہدہ اور معلوم ہے ۔ اور خدا ہی سے استعانت ہے۔ (ت)
بالجملہ تمام ظاہر بدن ہر ذرہ ہر رونگٹے پر سر سے پاؤں تك پانی بہنا فرض ہے ورنہ غسل نہ ہوگا مگر مواضع حرج فــــ۲معاف ہیں
مثلا :
(۱) آنکھوں کے ڈھیلے۔
(۲) عورت کے گندھے ہوئے بال۔
(۳) ناك کان کے زیوروں کے وہ سوراخ جو بند ہوگئے۔
فــــ۱ : مسئلہ : مواضع احتیاط میں پانی پہنچنے کاظن غالب کافی ہے یعنی دل کو اطمینان ہوکہ ضرور پہنچ گیا مگر یہ اطمینان نہ بے پرواہوں کاکافی ہے جو دیدہ ودانستہ بے احتیاطی کررہے ہیں نہ وہمی وسوسہ زدہ کا اطمینان ضرور جسے آنکھوں دیکھ کر بھی یقین آنا مشکل بلکہ متدین محتاط کااطمینان چاہئے ۔
فــــ۲ : اکیس۲۱ مواضع جو پانی بہانے میں بوجہ حرج معاف ہیں ۔
لوخاتمہ ضیقانزعہ اوحرکہ وجوباکقرط ولولم یکن بثقب اذنہ قرط فدخل الماء فی الثقب عندمرورہ علی اذنہ اجزأہ کسرۃ واذن دخلہماالماء والایدخل ادخلہ ولوباصبعہ ولا یتکلف بخشب ونحوہ والمعتبرف غلبۃ ظنہ بالوصول ( )۔
اقول : ای فی غیرالموسوس وغیرماجن لایبالی فالاول ینزل الیقین الی محض الشك والثانی یرفع الشك الی عین الیقین کما ھو معلوم مشاھد والله المستعان۔
اگر انگوٹھی تنگ ہوتو اتاردے ورنہ واجب ہے کہ حرکت دے کر پانی پہنچائے جیسے بالی کا حکم ہے اور اگر کان کے سوراخ میں بالی نہیں ہے اور پانی کان پر گذرنے کے وقت سوراخ میں بھی چلاگیا تو کافی ہے جیسے ناف اور کان میں پانی چلا جائے تو کافی ہے اور اگر پانی نہ جائے تو پہنچائے اگر چہ انگلی کے ذریعہ۔ لکڑی وغیرہ کے استعمال کا تکلف نہ کرے۔ اعتبار اس کا ہے کہ پانی پہنچ جانے کا غالب گمان ہوجائے۔
اقول : یہ ضابطہ اعتبار وسوسہ کے مریض اور تماشہ باز بے پروا کے حق میں ہے اول تو یقین کو شك کی منزل میں لاتا ہے اور ثانی شك کو یقین بنالیتا ہے جیساکہ مشاہدہ اور معلوم ہے ۔ اور خدا ہی سے استعانت ہے۔ (ت)
بالجملہ تمام ظاہر بدن ہر ذرہ ہر رونگٹے پر سر سے پاؤں تك پانی بہنا فرض ہے ورنہ غسل نہ ہوگا مگر مواضع حرج فــــ۲معاف ہیں
مثلا :
(۱) آنکھوں کے ڈھیلے۔
(۲) عورت کے گندھے ہوئے بال۔
(۳) ناك کان کے زیوروں کے وہ سوراخ جو بند ہوگئے۔
فــــ۱ : مسئلہ : مواضع احتیاط میں پانی پہنچنے کاظن غالب کافی ہے یعنی دل کو اطمینان ہوکہ ضرور پہنچ گیا مگر یہ اطمینان نہ بے پرواہوں کاکافی ہے جو دیدہ ودانستہ بے احتیاطی کررہے ہیں نہ وہمی وسوسہ زدہ کا اطمینان ضرور جسے آنکھوں دیکھ کر بھی یقین آنا مشکل بلکہ متدین محتاط کااطمینان چاہئے ۔
فــــ۲ : اکیس۲۱ مواضع جو پانی بہانے میں بوجہ حرج معاف ہیں ۔
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۹
(۴) نامختون کاحشفہ جبکہ کھال چڑھانے میں تکلیف ہو۔
(۵) اس حالت میں اس کھال کی اندرونی سطح جہاں تك پانی بے کھولے نہ پہنچے اور کھولنے میں مشقت ہو۔
(۶) مکھی یامچھر کی بیٹ جو بدن پر ہو اس کے نیچے۔
(۷) عورت کے ہاتھ پاؤں میں اگر کہیں مہندی کا جرم لگارہ گیا۔
(۸) دانتوں کا جما ہوا چونا۔
(۹) مسی کی ریخیں ۔
(۱۰) بدن کا میل۔
(۱۱) ناخنوں میں بھری ہوئی یا بدن پر لگی ہوئی مٹی۔
(۱۲) جو بال خود گرہ کھا کر رہ گیا ہو اگرچہ مرد کا۔
(۱۳) پلك یا کوئے میں سرمہ کا جرم۔
(۱۴) کاتب کے انگوٹھے پر روشنائی۔ ان دونوں کاذکر رسالہ الجود الحلو میں گزرا۔
(۱۵) رنگریز کا ناخن پر رنگ کا جرم۔
(۱۶) نان بائی یا پکانے والی عورت کے ناخن میں آٹا علی خلاف فیہ۔
(۱۷) کھانے کے ریزے کہ دانت کی جڑ یا جوف میں رہ گئے کما مرانفا عن الخلاصۃ۔ (جیسا کہ ابھی خلاصہ سے گزرا۔ (ت)
اقول : یوں ہی پان کے ریزے نہ چھالیا کے دانے کہ سخت ہیں کمامرایضا۔ (جیساکہ ابھی خلاصہ سے گزرا۔ ت)
اقول : وبتعلیل المسألۃ بالحرج لعموم البلوی یندفع مامر من الایراد۔
اقول : جب مسئلہ کی علت یہ بتادی گئی کہ ابتلاء عام کی وجہ سے حرج ہے تو وہ اعتراض دفع ہوگیا جو عبارت خلاصہ کے تحت گزرا ۔ (ت)
(۱۸) اقول : ہلتا ہوا فــــ دانت اگر تارسے جکڑاہے معافی ہونی چاہئے اگرچہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ
فــــ : مسئلہ : ہلتاہوا دانت چاندی کے تار سے باندھنایامسالے سے جمانا جائز ہے اوراس وقت غسل میں اس تار یامسالے کے نیچے پانی نہ بہنا معاف ہوناچاہئے ۔
(۵) اس حالت میں اس کھال کی اندرونی سطح جہاں تك پانی بے کھولے نہ پہنچے اور کھولنے میں مشقت ہو۔
(۶) مکھی یامچھر کی بیٹ جو بدن پر ہو اس کے نیچے۔
(۷) عورت کے ہاتھ پاؤں میں اگر کہیں مہندی کا جرم لگارہ گیا۔
(۸) دانتوں کا جما ہوا چونا۔
(۹) مسی کی ریخیں ۔
(۱۰) بدن کا میل۔
(۱۱) ناخنوں میں بھری ہوئی یا بدن پر لگی ہوئی مٹی۔
(۱۲) جو بال خود گرہ کھا کر رہ گیا ہو اگرچہ مرد کا۔
(۱۳) پلك یا کوئے میں سرمہ کا جرم۔
(۱۴) کاتب کے انگوٹھے پر روشنائی۔ ان دونوں کاذکر رسالہ الجود الحلو میں گزرا۔
(۱۵) رنگریز کا ناخن پر رنگ کا جرم۔
(۱۶) نان بائی یا پکانے والی عورت کے ناخن میں آٹا علی خلاف فیہ۔
(۱۷) کھانے کے ریزے کہ دانت کی جڑ یا جوف میں رہ گئے کما مرانفا عن الخلاصۃ۔ (جیسا کہ ابھی خلاصہ سے گزرا۔ (ت)
اقول : یوں ہی پان کے ریزے نہ چھالیا کے دانے کہ سخت ہیں کمامرایضا۔ (جیساکہ ابھی خلاصہ سے گزرا۔ ت)
اقول : وبتعلیل المسألۃ بالحرج لعموم البلوی یندفع مامر من الایراد۔
اقول : جب مسئلہ کی علت یہ بتادی گئی کہ ابتلاء عام کی وجہ سے حرج ہے تو وہ اعتراض دفع ہوگیا جو عبارت خلاصہ کے تحت گزرا ۔ (ت)
(۱۸) اقول : ہلتا ہوا فــــ دانت اگر تارسے جکڑاہے معافی ہونی چاہئے اگرچہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ
فــــ : مسئلہ : ہلتاہوا دانت چاندی کے تار سے باندھنایامسالے سے جمانا جائز ہے اوراس وقت غسل میں اس تار یامسالے کے نیچے پانی نہ بہنا معاف ہوناچاہئے ۔
بار بار کھولنا ضرر دے گا نہ اس سے ہر وقت بندش ہوسکے گی۔
(۱۹) یوں ہی اگر اکھڑا ہوادانت کسی مسالے مثلا برادہ آہن ومقناطیس وغیرہ سے جمایاگیاہے جمے ہوئے چونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہئے۔
اقول : لانہ ارتفاق مباح وفی الازالۃ حرج۔
اقول : کیونکہ یہ انتفاع و علاج مباح ہے اور زائل کرنے میں حرج ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لایشد سنہ المتحرك بذھب بل بفضۃ ( )۔
ہلتے ہوئے دانت کو سونے سے نہیں بلکہ چاندی سے باندھے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال الکرخی اذا سقطت ثنیۃ رجل فان اباحنیفۃ یکرہ ان یعیدھاویقول ھی کسن میتۃ ولکن یاخذ سن شاۃ ذکیۃ یشد مکانہا وخالفہ ابویوسف فقال لاباس بہ اھ اتقانی زادفی التاترخانیۃ قال بشر قال ابو یوسف سألت ابا حنیفۃ عن ذلك فی مجلس اخر فلم یرباعادتہا باسا( )۔
اقول : مبنی القول الاول ان السن عصب فیحلہ الموت امام کرخی نے کہا : کسی کا اگلا دانت گرگیا تو امام ابو حنیفہ اس کو اس کی جگہ پھر لگانا مکروہ کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ مردے کے دانت کی طرح ہے لیکن شرعی طور پر ذبح کی ہوئی کسی بکری کا دانت لے کر اس کی جگہ لگالے۔ امام ابو یوسف اس بارے میں امام کے خلاف ہیں وہ کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں اھ اتقانی۔ تاتار خانیہ میں یہ اضافہ ہے : بشر نے کہا امام ابو یوسف فرماتے ہیں میں نے ایك دوسری مجلس میں اس سے متعلق امام ابو حنیفہ سے پوچھاتواس دانت کو دوبارہ اس کی جگہ لگالینے میں انھوں نے کوئی حرج نہ قرار دیا اھ۔
اقول : قول اول کی بنیاد یہ ہے کہ دانت اعصاب میں سے ہے توموت اس میں
(۱۹) یوں ہی اگر اکھڑا ہوادانت کسی مسالے مثلا برادہ آہن ومقناطیس وغیرہ سے جمایاگیاہے جمے ہوئے چونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہئے۔
اقول : لانہ ارتفاق مباح وفی الازالۃ حرج۔
اقول : کیونکہ یہ انتفاع و علاج مباح ہے اور زائل کرنے میں حرج ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لایشد سنہ المتحرك بذھب بل بفضۃ ( )۔
ہلتے ہوئے دانت کو سونے سے نہیں بلکہ چاندی سے باندھے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال الکرخی اذا سقطت ثنیۃ رجل فان اباحنیفۃ یکرہ ان یعیدھاویقول ھی کسن میتۃ ولکن یاخذ سن شاۃ ذکیۃ یشد مکانہا وخالفہ ابویوسف فقال لاباس بہ اھ اتقانی زادفی التاترخانیۃ قال بشر قال ابو یوسف سألت ابا حنیفۃ عن ذلك فی مجلس اخر فلم یرباعادتہا باسا( )۔
اقول : مبنی القول الاول ان السن عصب فیحلہ الموت امام کرخی نے کہا : کسی کا اگلا دانت گرگیا تو امام ابو حنیفہ اس کو اس کی جگہ پھر لگانا مکروہ کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ مردے کے دانت کی طرح ہے لیکن شرعی طور پر ذبح کی ہوئی کسی بکری کا دانت لے کر اس کی جگہ لگالے۔ امام ابو یوسف اس بارے میں امام کے خلاف ہیں وہ کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں اھ اتقانی۔ تاتار خانیہ میں یہ اضافہ ہے : بشر نے کہا امام ابو یوسف فرماتے ہیں میں نے ایك دوسری مجلس میں اس سے متعلق امام ابو حنیفہ سے پوچھاتواس دانت کو دوبارہ اس کی جگہ لگالینے میں انھوں نے کوئی حرج نہ قرار دیا اھ۔
اقول : قول اول کی بنیاد یہ ہے کہ دانت اعصاب میں سے ہے توموت اس میں
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی اللبس مطبع مجتبائی دہلی ، ۲ / ۲۴۰
ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۱
ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ ، فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۱
والصحیح انہ عظم فلا ینجس ولو من میتۃ وقد نص فی البدائع والکافی والبحر والدروغیرھاان سن الانسان طاھرۃ علی ظاھرالمذھب وھوالصحیح وان مافی الذخیرۃ وغیرھامن انھانجسۃ ضعیف( ) اھ فارتفع الاشکال کیف لا وقد رجع عنہ الامام۔
سرایت کرے گی اور صحیح یہ ہے کہ دانت ایك ہڈی ہے تو وہ اگرچہ ایك مردے ہی کا ہو نجس نہ ہوگا۔ اور بدائع کافی بحر درمختار وغیرہا میں تصریح ہے کہ انسان کا دانت پاك ہے یہی ظاہر مذہب ہے اور یہی صحیح ہے اور ذخیرہ وغیرہا میں جو لکھاکہ نجس ہے یہ قول ضعیف ہے اھ تو اشکال دور ہوگیا ۔ پھر یہ کیسے نہ ہو جب کہ امام اس سے رجوع کرچکے ہیں ۔ (ت)
ہاں اگر کمانی چڑھی ہو جس کے اتارنے چڑھانے میں حرج نہیں اور پانی بہنے کو روکے گی تو اتارنا لازم ہے۔
(۲۰) پٹی کہ زخم پر ہو اور کھولنے میں ضرر یا حرج ہے۔
(۲۱) ہر وہ جگہ کہ کسی درد یا مرض کے سبب اس پر پانی بہنے سے ضرر ہوگا۔
والمسائل مشھورۃ وفی فتاونا مذکورۃ۔ (یہ مسائل مشہور ہیں اور ہمارے فتاوی میں مذکور بھی ہیں ۔ ت)غرض مدار حرج پر ہے اور حرج بنص قرآن مدفوع اور یہ امت دنیاوآخرت میں مرحومہ والحمد لله رب العالمین۔ درمختار میں ہے :
لایجب غسل مافیہ حرج کعین وان فــــ اکتحل بکحل نجس وثقب انضم وداخل قلفۃ وشعر المرأۃ المضفور ولایمنع
اسے دھونا واجب نہیں جس کے دھونے میں حرج ہے جیسے اندرون چشم۔ اگرچہ ناپاك سرمہ لگالیا ہو۔ اور ایساسوراخ جو بند ہوگیاہو اور ختنہ کی کھال کے اندر کا حصہ اور عورت کے گندھے ہوئے بال۔
فــــ : مسئلہ : ناپاك سرمہ انکوں میں لگا لیا انکھیں اندر سے دھونے کا حکم نہیں ۔
سرایت کرے گی اور صحیح یہ ہے کہ دانت ایك ہڈی ہے تو وہ اگرچہ ایك مردے ہی کا ہو نجس نہ ہوگا۔ اور بدائع کافی بحر درمختار وغیرہا میں تصریح ہے کہ انسان کا دانت پاك ہے یہی ظاہر مذہب ہے اور یہی صحیح ہے اور ذخیرہ وغیرہا میں جو لکھاکہ نجس ہے یہ قول ضعیف ہے اھ تو اشکال دور ہوگیا ۔ پھر یہ کیسے نہ ہو جب کہ امام اس سے رجوع کرچکے ہیں ۔ (ت)
ہاں اگر کمانی چڑھی ہو جس کے اتارنے چڑھانے میں حرج نہیں اور پانی بہنے کو روکے گی تو اتارنا لازم ہے۔
(۲۰) پٹی کہ زخم پر ہو اور کھولنے میں ضرر یا حرج ہے۔
(۲۱) ہر وہ جگہ کہ کسی درد یا مرض کے سبب اس پر پانی بہنے سے ضرر ہوگا۔
والمسائل مشھورۃ وفی فتاونا مذکورۃ۔ (یہ مسائل مشہور ہیں اور ہمارے فتاوی میں مذکور بھی ہیں ۔ ت)غرض مدار حرج پر ہے اور حرج بنص قرآن مدفوع اور یہ امت دنیاوآخرت میں مرحومہ والحمد لله رب العالمین۔ درمختار میں ہے :
لایجب غسل مافیہ حرج کعین وان فــــ اکتحل بکحل نجس وثقب انضم وداخل قلفۃ وشعر المرأۃ المضفور ولایمنع
اسے دھونا واجب نہیں جس کے دھونے میں حرج ہے جیسے اندرون چشم۔ اگرچہ ناپاك سرمہ لگالیا ہو۔ اور ایساسوراخ جو بند ہوگیاہو اور ختنہ کی کھال کے اندر کا حصہ اور عورت کے گندھے ہوئے بال۔
فــــ : مسئلہ : ناپاك سرمہ انکوں میں لگا لیا انکھیں اندر سے دھونے کا حکم نہیں ۔
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ البحر والبدائع والکافی کتاب الطہارۃ باب المیاہ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۳۸
الطہارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ ( )(لان الاحتراز عنہ غیر ممکن حلیہ( )) وحناء ولوجرمہ بہ یفتی و وسخ وتراب وطین ولو فی ظفر مطلقاقرویااومدنیا فی الاصح وما علی ظفر صباغ ( ) اھ ملخصا ۔
اسے دھونا واجب نہیں جس کے دھونے میں حرج ہے جیسے اندرون چشم۔ اگرچہ ناپاك سرمہ لگالیا ہو۔ اور ایساسوراخ جو بند ہوگیاہو اور ختنہ کی کھال کے اندر کا حصہ اور عورت کے گندھے ہوئے بال اور طہارت سے مانع نہیں مکھی اور مچھر کی وہ بیٹ جس کے نیچے پانی نہ پہنچا( اس لئے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں ۔ حلیہ )اور مہندی اگرچہ اس میں دبازت ہواسی پر فتوی ہے اور میل اور مٹی اور گارا اگرچہ ناخن میں ہومطلقا دیہی ہو یا شہری اصح یہی ہے اور وہ رنگ جو رنگریز کے ناخن پر بیٹھ گیا ہے اھ ملخصا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یؤخذ من مسألۃ الضفیرۃ انہ لایجب غسل عقد الشعر المنعقد بنفسہ لان الاحتراز عنہ غیر ممکن ولو من شعر الرجل ولم ارمن نبہ علیہ من علمائنا تامل( )۔
عورت کے جوڑے کے مسئلے سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ جو بال خود گرہ کھا کر بیٹھ گیا اسے دھونا واجب نہیں اس لئے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں اگر چہ مرد کا بال ہو ۔ میں نے اپنے علماء میں سے کسی کی اس پر تنبیہ نہ دیکھی ۔ تو غور کرو ۔
اسی میں ہے :
فی النھر لوفی اظفارہ عجین فالفتوی انہ مغتفر( )۔
نہر میں ہے اگر اس کے ناخنوں کے اندر خمیر رہ گیا ہو تو فتوی اس پر ہے کہ وہ معاف ہے (ت)
اقول : وبالله التوفیق فــــ حرج کی تین صورتیں ہیں :
فــــ : مصنف کی تحقیق کہ حرج تین قسم ہے ۔
اسے دھونا واجب نہیں جس کے دھونے میں حرج ہے جیسے اندرون چشم۔ اگرچہ ناپاك سرمہ لگالیا ہو۔ اور ایساسوراخ جو بند ہوگیاہو اور ختنہ کی کھال کے اندر کا حصہ اور عورت کے گندھے ہوئے بال اور طہارت سے مانع نہیں مکھی اور مچھر کی وہ بیٹ جس کے نیچے پانی نہ پہنچا( اس لئے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں ۔ حلیہ )اور مہندی اگرچہ اس میں دبازت ہواسی پر فتوی ہے اور میل اور مٹی اور گارا اگرچہ ناخن میں ہومطلقا دیہی ہو یا شہری اصح یہی ہے اور وہ رنگ جو رنگریز کے ناخن پر بیٹھ گیا ہے اھ ملخصا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یؤخذ من مسألۃ الضفیرۃ انہ لایجب غسل عقد الشعر المنعقد بنفسہ لان الاحتراز عنہ غیر ممکن ولو من شعر الرجل ولم ارمن نبہ علیہ من علمائنا تامل( )۔
عورت کے جوڑے کے مسئلے سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ جو بال خود گرہ کھا کر بیٹھ گیا اسے دھونا واجب نہیں اس لئے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں اگر چہ مرد کا بال ہو ۔ میں نے اپنے علماء میں سے کسی کی اس پر تنبیہ نہ دیکھی ۔ تو غور کرو ۔
اسی میں ہے :
فی النھر لوفی اظفارہ عجین فالفتوی انہ مغتفر( )۔
نہر میں ہے اگر اس کے ناخنوں کے اندر خمیر رہ گیا ہو تو فتوی اس پر ہے کہ وہ معاف ہے (ت)
اقول : وبالله التوفیق فــــ حرج کی تین صورتیں ہیں :
فــــ : مصنف کی تحقیق کہ حرج تین قسم ہے ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۸،۲۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۹
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۴
ایك : یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر۔
دوم : مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی۔
سوم : بعد علم واطلاع کوئی ضرر ومشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔
قسم اول ودوم کی معافی توظاہر اور قسم سوم میں بعد اطلاع ازالہ مانع ضرور ہے مثلا جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی سرمہ آٹا روشنائی رنگ بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی تو اب یہ نہ ہو کہ اسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہادے بلکہ چھڑالے کہ آخر ازالہ میں توکوئی حرج تھا ہی نہیں تعاہد میں تھابعداطلاع اس کی حاجت نہ رہی
ومن المعلوم ان ماکان لضرورۃ تقدربقدرھا ھذا ماظھرلی والعلم بالحق عند ربی والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
معلوم ہے کہ جو حکم کسی ضرورت کے باعث ہو وہ قدر ضرورت ہی کی حد پر رہے گا۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے اور خدائے پاك و برتر ہی کو خوب علم ہے اور اس مجد بزرگ والے کا علم زیادہ تام اور محکم ہے ۔ ا ور ہمارے آقا محمد ان کی آل اور تمام اصحاب پر خدائے برتر کا درود ہو۔ (ت)
مسئلہ۱۳ : ۷شعبان ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو زکام ہوا اور بسبب اس کے دردسر ہے اسی حالت میں اس کو حاجت غسل ہوئی اس نے اس خیال سے کہ اگر میں سر سے نہاؤں گا تو مرض میں ترقی ہوکر اور عوارض مثل بخار وغیرہ کے پیدا ہوجائیں گے اور زید کو ترقی مرض کا پورا یقین اور تجربہ ہے اس سبب سے اس نے سر کو چھوڑ کر باقی جسم سے نہالیا اور تمام سر کا خوب مسح کرلیا تو غسل اس کا صحیح اور نماز اس کی یا جس نے اس کے پیچھے پڑھی درست ہوگی یا نہیں یاایسی حالت میں اس کو تیمم کا حکم تھا بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس کی نماز امامت سب درست وصحیح ہوئی غریب الروایۃ پھر کتاب الفیض الموضوع لنقل ماھو المختار للفتوی پھر منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں ہے :
دوم : مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی۔
سوم : بعد علم واطلاع کوئی ضرر ومشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔
قسم اول ودوم کی معافی توظاہر اور قسم سوم میں بعد اطلاع ازالہ مانع ضرور ہے مثلا جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی سرمہ آٹا روشنائی رنگ بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی تو اب یہ نہ ہو کہ اسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہادے بلکہ چھڑالے کہ آخر ازالہ میں توکوئی حرج تھا ہی نہیں تعاہد میں تھابعداطلاع اس کی حاجت نہ رہی
ومن المعلوم ان ماکان لضرورۃ تقدربقدرھا ھذا ماظھرلی والعلم بالحق عند ربی والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
معلوم ہے کہ جو حکم کسی ضرورت کے باعث ہو وہ قدر ضرورت ہی کی حد پر رہے گا۔ یہ وہ ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے اور خدائے پاك و برتر ہی کو خوب علم ہے اور اس مجد بزرگ والے کا علم زیادہ تام اور محکم ہے ۔ ا ور ہمارے آقا محمد ان کی آل اور تمام اصحاب پر خدائے برتر کا درود ہو۔ (ت)
مسئلہ۱۳ : ۷شعبان ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو زکام ہوا اور بسبب اس کے دردسر ہے اسی حالت میں اس کو حاجت غسل ہوئی اس نے اس خیال سے کہ اگر میں سر سے نہاؤں گا تو مرض میں ترقی ہوکر اور عوارض مثل بخار وغیرہ کے پیدا ہوجائیں گے اور زید کو ترقی مرض کا پورا یقین اور تجربہ ہے اس سبب سے اس نے سر کو چھوڑ کر باقی جسم سے نہالیا اور تمام سر کا خوب مسح کرلیا تو غسل اس کا صحیح اور نماز اس کی یا جس نے اس کے پیچھے پڑھی درست ہوگی یا نہیں یاایسی حالت میں اس کو تیمم کا حکم تھا بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اس کی نماز امامت سب درست وصحیح ہوئی غریب الروایۃ پھر کتاب الفیض الموضوع لنقل ماھو المختار للفتوی پھر منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں ہے :
المرأۃ لوضرھا غسل رأسھا فی الجنابۃ اوالحیض تمسح علی شعرھا ثلث مسحات بمیاہ مختلفۃ وتغسل باقی جسدھا ( )۔
اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو تو تین الگ الگ پانیوں سے تین بار اپنے بالوں پر مسح کرلے اور باقی جسم دھوئے (ت)
حلیہ شرح منیہ میں ہے :
ان کان اکثرا عضائہ صحیحا بان کانت الجراحۃ علی راسہ وسائرجسدہ صحیح فانہ یدع الرأس ویغسل سائر الاعضاء ( )۔
اگر اکثر اعضاء ٹھیك ہوں (مثلا) اس طرح کہ سر میں زخم ہو اورباقی جسم صحت مند ہو تو سر چھوڑ کر دیگر اعضاء کو دھولے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
صح اقتداء غاسل بماسح ولو علی جبیرۃ ( )۔
جو اعضاء کو دھونے والا ہے وہ مسح کرنے والے کی اقتداء کرسکتا ہے اگرچہ زخم کی پٹی پر ہی مسح کرنے والا ہو۔ (ت)
اصل فـــ کلی یہ ہے کہ غسل میں اگر بعض جسم پر پانی ڈالنا مضر ہو تو کثرت کا اعتبار ہے اگر اکثر جسم وہی ہے جس پر پانی پہنچنا ضرر دے گا خواہ یوں کہ عارضہ خود اسی جسم میں ہو یا یوں کہ اس پر پانی ڈالنے سے پانی ایسی جگہ پہنچے گا جہاں پہنچنے سے ضرر ہے تو تیمم کرے اور اگر اکثر جسم سالم ہے تو جس قدر میں مضرت ہے وہاں مسح کرلے باقی پر پانی بہالے۔ درمختار میں ہے :
(تیمم لواکثرہ مجروحا) اوبہ جدری اعتبار اللاکثر (وبعکسہ یغسل) الصحیح ( )۔
(اگر اکثر جسم میں زخم ہے ) یا اس میں چیچك ہے تو اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے ( اسے تیمم کرلیناہے اور اس کے برعکس ہو تو دھونا ہے) یہی صحیح ہے ۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : جب بدن کے بعض حصہ پر پانی ضرر دیتاہو اور بعض پر نہیں تو اکثر کااعتبار ہے ۔
اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو تو تین الگ الگ پانیوں سے تین بار اپنے بالوں پر مسح کرلے اور باقی جسم دھوئے (ت)
حلیہ شرح منیہ میں ہے :
ان کان اکثرا عضائہ صحیحا بان کانت الجراحۃ علی راسہ وسائرجسدہ صحیح فانہ یدع الرأس ویغسل سائر الاعضاء ( )۔
اگر اکثر اعضاء ٹھیك ہوں (مثلا) اس طرح کہ سر میں زخم ہو اورباقی جسم صحت مند ہو تو سر چھوڑ کر دیگر اعضاء کو دھولے ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
صح اقتداء غاسل بماسح ولو علی جبیرۃ ( )۔
جو اعضاء کو دھونے والا ہے وہ مسح کرنے والے کی اقتداء کرسکتا ہے اگرچہ زخم کی پٹی پر ہی مسح کرنے والا ہو۔ (ت)
اصل فـــ کلی یہ ہے کہ غسل میں اگر بعض جسم پر پانی ڈالنا مضر ہو تو کثرت کا اعتبار ہے اگر اکثر جسم وہی ہے جس پر پانی پہنچنا ضرر دے گا خواہ یوں کہ عارضہ خود اسی جسم میں ہو یا یوں کہ اس پر پانی ڈالنے سے پانی ایسی جگہ پہنچے گا جہاں پہنچنے سے ضرر ہے تو تیمم کرے اور اگر اکثر جسم سالم ہے تو جس قدر میں مضرت ہے وہاں مسح کرلے باقی پر پانی بہالے۔ درمختار میں ہے :
(تیمم لواکثرہ مجروحا) اوبہ جدری اعتبار اللاکثر (وبعکسہ یغسل) الصحیح ( )۔
(اگر اکثر جسم میں زخم ہے ) یا اس میں چیچك ہے تو اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے ( اسے تیمم کرلیناہے اور اس کے برعکس ہو تو دھونا ہے) یہی صحیح ہے ۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : جب بدن کے بعض حصہ پر پانی ضرر دیتاہو اور بعض پر نہیں تو اکثر کااعتبار ہے ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ، ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۴
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الدرالمختار کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
الدرالمختار کتاب الطہارۃ (آخر باب التمیم) مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الدرالمختار کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
الدرالمختار کتاب الطہارۃ (آخر باب التمیم) مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
ردالمحتار میں ہے :
لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیۃ ( )۔
لیکن جب صحت مند حصے کو اس طرح دھونا ممکن ہوکہ زخمی حصے پر پانی نہ جائے تودھوئے ورنہ تیمم کرے ۔ حلیہ (ت)
ظاہر ہے کہ متن میں لفظ زخم یاشرح میں لفظ خارش کوئی قید نہیں مدار ضرر پر ہے کسی وجہ سے ہو کمالایخفی ھذا(جیساکہ پوشیدہ نہیں یہ ذہن نشین رہے۔ ت)
واعلم ان المدقق العلائی ذکر فی الدرالمختار اخر التیمم مانصہ(من بہ وجع راس لایستطیع معہ مسحہ)محدثاولا غسلہ جنباففی الفیض عن غریب الروایۃ تیمم وافتی قارئ الہدایۃ انہ(یسقط) عنہ(فرض مسحہ) وکذا یسقط غسلہ فیمسحہ( ) اھ ملخصا
قال الشامی وماافتی بہ نقلہ فی البحر عن الجلابی و نظمہ العلامۃ ابن الشحنۃ فی شرحہ علی الوھبانیۃ اھ وقال تحت قولہ وکذا یسقط غسلہ ای غسل الرأس
واضح ہو کہ مدقق علائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے درمختار با ب التیمم کے آخر میں یہ کیاہے [ ہلالین کے درمیان متن تنویر الابصار کے الفاظ ہیں ۱۲م](جس کے سر میں ایسی بیماری ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے مسح نہیں کرسکتا) جب بے وضو ہے۔ اور نہ دھوسکتاہے جب حالت جنابت میں ہے۔ تو فیض میں غریب الروایہ سے نقل ہے کہ وہ تیمم کرے۔ اور قاری ہدایہ نے فتوی دیاکہ ( اس سے فرض مسح ساقط ہے) اور اسی طرح اس کا دھونا ساقط ہے توو ہ مسح کرے گا اھ ملخصا۔
علامہ شامی نے کہا : قاری ہدایہ نے جو فتوی دیا ہے اسے البحر الرائق میں جلابی سے نقل کیا ہے اور اسی کو علامہ ابن الشحنہ نے وہبانیہ کی شرح میں نظم کیا ہے اھ۔ اور علامہ شامی نے عبارت درمختار “ اسی طرح اس کادھوناساقط ہے “ کے تحت لکھا ہے یعنی جنابت سے سر دھونا
لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیۃ ( )۔
لیکن جب صحت مند حصے کو اس طرح دھونا ممکن ہوکہ زخمی حصے پر پانی نہ جائے تودھوئے ورنہ تیمم کرے ۔ حلیہ (ت)
ظاہر ہے کہ متن میں لفظ زخم یاشرح میں لفظ خارش کوئی قید نہیں مدار ضرر پر ہے کسی وجہ سے ہو کمالایخفی ھذا(جیساکہ پوشیدہ نہیں یہ ذہن نشین رہے۔ ت)
واعلم ان المدقق العلائی ذکر فی الدرالمختار اخر التیمم مانصہ(من بہ وجع راس لایستطیع معہ مسحہ)محدثاولا غسلہ جنباففی الفیض عن غریب الروایۃ تیمم وافتی قارئ الہدایۃ انہ(یسقط) عنہ(فرض مسحہ) وکذا یسقط غسلہ فیمسحہ( ) اھ ملخصا
قال الشامی وماافتی بہ نقلہ فی البحر عن الجلابی و نظمہ العلامۃ ابن الشحنۃ فی شرحہ علی الوھبانیۃ اھ وقال تحت قولہ وکذا یسقط غسلہ ای غسل الرأس
واضح ہو کہ مدقق علائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے درمختار با ب التیمم کے آخر میں یہ کیاہے [ ہلالین کے درمیان متن تنویر الابصار کے الفاظ ہیں ۱۲م](جس کے سر میں ایسی بیماری ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے مسح نہیں کرسکتا) جب بے وضو ہے۔ اور نہ دھوسکتاہے جب حالت جنابت میں ہے۔ تو فیض میں غریب الروایہ سے نقل ہے کہ وہ تیمم کرے۔ اور قاری ہدایہ نے فتوی دیاکہ ( اس سے فرض مسح ساقط ہے) اور اسی طرح اس کا دھونا ساقط ہے توو ہ مسح کرے گا اھ ملخصا۔
علامہ شامی نے کہا : قاری ہدایہ نے جو فتوی دیا ہے اسے البحر الرائق میں جلابی سے نقل کیا ہے اور اسی کو علامہ ابن الشحنہ نے وہبانیہ کی شرح میں نظم کیا ہے اھ۔ اور علامہ شامی نے عبارت درمختار “ اسی طرح اس کادھوناساقط ہے “ کے تحت لکھا ہے یعنی جنابت سے سر دھونا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ (آخر باب التیمم) داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ (آخر باب التیمم) مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ (آخر باب التیمم) مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۶
من الجنابۃ( )اھ
اقول : فھذا الذی افتی بہ العلامۃ سراج الدین قاری الھدایۃ شیخ المحقق ابن الھمام موافق لما افتی بہ العبد الضعیف وھوالماشی علی الاصل المار الذی تظافرت علیہ کلماتھم جمیعاولم ازل اتعجب ممانقل عن غریب الروایۃ فی مسألۃ الجنابۃ من الامربالتیمم لاجل الضرر فی الرأس وحدہ ثم رأیت منحۃ الخالق فوجدت انہ نقل عن الفیض عن الغریب مافی الدرولصیقابہ ماقدمت من مسألۃ المرأۃ فزدت عجبافان فرع المرأۃ یخالف الفرع الاول صریحا ولذا قال فی الفیض عقیب نقلہ وھو عجیب کما فی المنحۃ( )ایضا
ثم ان المولی فــــ سبحنہ وتعالی فتح بمااوضح المرام وازاح العجب فان عبارۃ غریب الروایۃ ساقط ہے اھ۔ (ت)
اقول : ( میں کہتا ہو ں ) علامہ سراج الدین قاری الہدایہ شیخ محقق ابن الہام نے جو فتوی دیا بندہ ضعیف کے فتوے کے مطابق ہے اور یہی اس قاعدے پر جاری ہے جس پر تمام علماء متفق ہیں اور اس پر برابر مجھے تعجب رہا جو غریب الروایہ سے فیض میں منقول ہے کہ صرف سر میں ضرر کی وجہ سے تیمم کا حکم ہے پھرمیں نے منحۃ الخالق میں دیکھا کہ بحوالہ فیض غریب الراویہ سے وہی مسئلہ نقل کیا ہے جو درمختار میں ہے اور اس کے بعد بالکل متصل ہی وہ جزئیہ ہے جو عورت سے متعلق میں نے اس فتوے کے شروع میں پیش کیا۔ یہ دیکھ کر مجھے اور زیادہ تعجب ہوا اس لئے کہ جزئیہ عورت جزئیہ اول کے صراحۃ مخالف ہے۔ اسی لئے فیض میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا “ یہ عجیب ہے “ جیسا کہ منحۃ الخالق ہی میں ہے۔
پھر مولی سبحانہ و تعالی نے وہ امر منکشف فرمایا جس نے مقصد واضح کردیا اور تعجب جاتا رہا ۔ اس لئے کہ غریب الراویہ کی اصل عبارت اس
فــــ : توجیہ نفیس لمافی غریب الروایۃ ۔
اقول : فھذا الذی افتی بہ العلامۃ سراج الدین قاری الھدایۃ شیخ المحقق ابن الھمام موافق لما افتی بہ العبد الضعیف وھوالماشی علی الاصل المار الذی تظافرت علیہ کلماتھم جمیعاولم ازل اتعجب ممانقل عن غریب الروایۃ فی مسألۃ الجنابۃ من الامربالتیمم لاجل الضرر فی الرأس وحدہ ثم رأیت منحۃ الخالق فوجدت انہ نقل عن الفیض عن الغریب مافی الدرولصیقابہ ماقدمت من مسألۃ المرأۃ فزدت عجبافان فرع المرأۃ یخالف الفرع الاول صریحا ولذا قال فی الفیض عقیب نقلہ وھو عجیب کما فی المنحۃ( )ایضا
ثم ان المولی فــــ سبحنہ وتعالی فتح بمااوضح المرام وازاح العجب فان عبارۃ غریب الروایۃ ساقط ہے اھ۔ (ت)
اقول : ( میں کہتا ہو ں ) علامہ سراج الدین قاری الہدایہ شیخ محقق ابن الہام نے جو فتوی دیا بندہ ضعیف کے فتوے کے مطابق ہے اور یہی اس قاعدے پر جاری ہے جس پر تمام علماء متفق ہیں اور اس پر برابر مجھے تعجب رہا جو غریب الروایہ سے فیض میں منقول ہے کہ صرف سر میں ضرر کی وجہ سے تیمم کا حکم ہے پھرمیں نے منحۃ الخالق میں دیکھا کہ بحوالہ فیض غریب الراویہ سے وہی مسئلہ نقل کیا ہے جو درمختار میں ہے اور اس کے بعد بالکل متصل ہی وہ جزئیہ ہے جو عورت سے متعلق میں نے اس فتوے کے شروع میں پیش کیا۔ یہ دیکھ کر مجھے اور زیادہ تعجب ہوا اس لئے کہ جزئیہ عورت جزئیہ اول کے صراحۃ مخالف ہے۔ اسی لئے فیض میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا “ یہ عجیب ہے “ جیسا کہ منحۃ الخالق ہی میں ہے۔
پھر مولی سبحانہ و تعالی نے وہ امر منکشف فرمایا جس نے مقصد واضح کردیا اور تعجب جاتا رہا ۔ اس لئے کہ غریب الراویہ کی اصل عبارت اس
فــــ : توجیہ نفیس لمافی غریب الروایۃ ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ (آخر باب التیمم) داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۳
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۱۶۴
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۱۶۴
علی مافی المنحۃ عن الفیض عنہ ھکذا من برأسہ صداع من النزلۃ ویضرہ المسح فی الوضوءاو الغسل فی الجنابۃ یتیمم والمرأۃ لوضرھا( )الخ فتحدس فی خاطری ولله الحمدان الغسل ھھنا بضم الفاء دون فتحہافلیس فـــــ المراد غسل الرأس کما اوھمہ عبارۃ الدر بل المعنی ضرہ الغسل واسالۃ الماء علی بدنہ ولو بترك الرأس لماتصعد بہ الابخرۃ الی الدماغ فیزداد بہ ضررافی بعض الصورکماعلم فی الطب وھذاحکم صحیح لاغبار علیہ ولاخلاف فیہ للاصل السابق ولا للفرع اللاحق وانماخص المرأۃ بالذکرلیعلم حکم الرجل بالاولی فانہ اذاامر بمسح الشعرالنازل الذی لایکون ضررغسلہ کضررغسلہ نفس الرأس فنفسہ اجدر بالحکم ھذاکلہ بالغسل واماالوضوء فمن المعلوم ان من بلغ بہ النزلۃ مبلغا یضرہ مسح ربع
طرح ہے جیسا کہ منحۃ الخالق میں بحوالہ فیض اس سے نقل کیا ہے : “ جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکر آتا ہے اور اسے وضو میں مسح اور جنابت میں غسل ضرر دیتا ہے وہ تیمم کرے اور اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو الخ۔ تو میرے دل میں یہ خیال گذرا وﷲ الحمد کہ لفظ “ غسل “ یہاں زبر سے نہیں بلکہ پیش سے ہے اس سے مراد سردھونا نہیں جیسے کہ درمختار کی عبارت سے وہم ہوتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ اسے غسل اور سر چھوڑ کر بھی بدن پر پانی بہانے سے ضرر ہوتا ہے کیونکہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس سے بعض صورتوں میں تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جیسا کہ فن طب میں مذکور و معلوم ہے اور یہ حکم بالکل صحیح بے غبار ہے جس میں سابقہ قاعدے اور مابعد جزئیے کی کوئی مخالفت نہیں اور بعد والے جزئیے میں خاص عورت کاذکر اس لئے ہے کہ اس سے مرد کا حکم بطریق اولی دریافت ہوجائے۔ اس لئے جب یہ حکم ہے کہ عورت اپنے لٹکے ہوئے بالوں کا مسح کرلے جب کہ اس کے دھونے میں وہ ضرر نہیں ہوگا جو خود سر دھونے میں ہوتا ہے تو (مرد کے لئے) خود سر کے مسح کا حکم بدرجہ اولی ہوجائے گایہ ساری گفتگو تو غسل سے متعلق ہوئی اب رہا وضو کا معاملہ تو یہ معلوم ہے
فــــ : تطفل علی الدر۔
طرح ہے جیسا کہ منحۃ الخالق میں بحوالہ فیض اس سے نقل کیا ہے : “ جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکر آتا ہے اور اسے وضو میں مسح اور جنابت میں غسل ضرر دیتا ہے وہ تیمم کرے اور اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو الخ۔ تو میرے دل میں یہ خیال گذرا وﷲ الحمد کہ لفظ “ غسل “ یہاں زبر سے نہیں بلکہ پیش سے ہے اس سے مراد سردھونا نہیں جیسے کہ درمختار کی عبارت سے وہم ہوتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ اسے غسل اور سر چھوڑ کر بھی بدن پر پانی بہانے سے ضرر ہوتا ہے کیونکہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس سے بعض صورتوں میں تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جیسا کہ فن طب میں مذکور و معلوم ہے اور یہ حکم بالکل صحیح بے غبار ہے جس میں سابقہ قاعدے اور مابعد جزئیے کی کوئی مخالفت نہیں اور بعد والے جزئیے میں خاص عورت کاذکر اس لئے ہے کہ اس سے مرد کا حکم بطریق اولی دریافت ہوجائے۔ اس لئے جب یہ حکم ہے کہ عورت اپنے لٹکے ہوئے بالوں کا مسح کرلے جب کہ اس کے دھونے میں وہ ضرر نہیں ہوگا جو خود سر دھونے میں ہوتا ہے تو (مرد کے لئے) خود سر کے مسح کا حکم بدرجہ اولی ہوجائے گایہ ساری گفتگو تو غسل سے متعلق ہوئی اب رہا وضو کا معاملہ تو یہ معلوم ہے
فــــ : تطفل علی الدر۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۴
راسہ بید مبتلۃ فیضرہ غسل الوجہ والیدین والرجلین من باب اولی فان البردالذی یصل الی الدماغ باسالۃ الماء علی الاطراف اشدمن بردعسی ان یصل باصابۃ یدمبتلۃ بعض الرأس فلاجل ھذاامربالتیمم ھذاغایۃ مایوجہ بہ کلامہ فکان الاحری بالمولی المحقق المدقق العلائی ان یوجہہ ھکذا والا ترکہ اصلا کیف ومثل الحکم عن غریب الروایۃ غیرغریب کماقالہ فی الحلیۃ فی مسألۃ اخری نقلہاعنہ مخالفاللجمیع والالم یعزہ للفیض الذی ھو موضوع لنقل المذھب کیلا یکون تنویھا بھا والا اتم نقل کلام الفیض فانہ قال عقبیہ وھو عجیب ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف والله تعالی اعلم ۔
کہ جس کا نزلہ اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اس کے سر کے صرف چوتھائی حصہ بھیگا ہوا ہاتھ پھیرناضرر پہنچاتا ہے تو چہرہ اور دونوں ہاتھ پاؤں دھونے میں بدرجہ اولی ضرر ہوگا اس لئے کہ ان اعضاء پر پانی بہانے سے دماغ تك پہنچنے والی ٹھنڈك اس ٹھنڈك کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوگی جو سر کے ایك حصہ بھیگا ہوا ہاتھ لگنے سے پہنچتی ہے اسی وجہ سے اس شخص کو تیمم کا حکم ہوا یہ انتہائی توجیہ ہے جو اس کلام سے متعلق ہوسکتی ہے ۔ تو علامہ محقق مدقق علاء الدین کے لئے مناسب یہ تھا کہ کلام کی یہ توجیہ بھی پیش کردیتے ورنہ سرے سے اس کاذکر ہی چھوڑ دیتے کیونکہ غریب الروایہ میں ایسا حکم مذکور ہونا کوئی عجیب و غریب بات نہیں ۔ جیساکہ حلیہ میں یہی بات ایك دوسرے مسئلہ سے متعلق کہی ہے جو سب کے برخلاف غریب الروایہ سے نقل کیا ہے ۔ تیسری صورت یہ تھی کہ اس مسئلہ پر فیض کا حوالہ نہ دیتے کیوں کہ یہ نقل مذہب کے لئے لکھی گئی ہے اس کی جانب انتساب سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اگر فیض کا حوالہ دیا تو اس کے بعد فیض کا ریمارك “ وھو عجیب “ بھی نقل کرکے اس کا کلام مکمل کردینا چاہئے تھا۔ یہ سب وہ ہے جو بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
کہ جس کا نزلہ اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اس کے سر کے صرف چوتھائی حصہ بھیگا ہوا ہاتھ پھیرناضرر پہنچاتا ہے تو چہرہ اور دونوں ہاتھ پاؤں دھونے میں بدرجہ اولی ضرر ہوگا اس لئے کہ ان اعضاء پر پانی بہانے سے دماغ تك پہنچنے والی ٹھنڈك اس ٹھنڈك کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوگی جو سر کے ایك حصہ بھیگا ہوا ہاتھ لگنے سے پہنچتی ہے اسی وجہ سے اس شخص کو تیمم کا حکم ہوا یہ انتہائی توجیہ ہے جو اس کلام سے متعلق ہوسکتی ہے ۔ تو علامہ محقق مدقق علاء الدین کے لئے مناسب یہ تھا کہ کلام کی یہ توجیہ بھی پیش کردیتے ورنہ سرے سے اس کاذکر ہی چھوڑ دیتے کیونکہ غریب الروایہ میں ایسا حکم مذکور ہونا کوئی عجیب و غریب بات نہیں ۔ جیساکہ حلیہ میں یہی بات ایك دوسرے مسئلہ سے متعلق کہی ہے جو سب کے برخلاف غریب الروایہ سے نقل کیا ہے ۔ تیسری صورت یہ تھی کہ اس مسئلہ پر فیض کا حوالہ نہ دیتے کیوں کہ یہ نقل مذہب کے لئے لکھی گئی ہے اس کی جانب انتساب سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور اگر فیض کا حوالہ دیا تو اس کے بعد فیض کا ریمارك “ وھو عجیب “ بھی نقل کرکے اس کا کلام مکمل کردینا چاہئے تھا۔ یہ سب وہ ہے جو بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴ : مرسلہ سید مودود الحسن نبیرہ ڈپٹی سید اشفاق حسین صاحب ۱۱ / رجب ۱۳۱۷ھ
یاایھا العلماء رحمکم الله تعالی مریض لہ حاجۃ الی الغسل والماء یضرہ فما الحکم فی غسلہ واداء صلاتہ الرجاء ان تبینوا لناالجواب الان۔
اے علماء ! الله کی آپ پر رحمت۔ ایك مریض کو نہانے کی حاجت ہے اور پانی نقصان دیتا ہے تو اسکے غسل و نماز میں کیا حکم ہے امید ہے کہ ابھی جواب ارشاد ہو۔
الجواب :
ان ضرہ غسل راسہ لاغیرمسحہ وغسل سائر جسدہ وان ضرہ الاغتسال بماء بارداغتسل بحاراوفاتران قدروالا تیمم اومسح رأسہ وغسل بدنہ حسبمایقتضیہ حالہ وان ضرہ الاغتسال فی الوقت البارد تیمم فیہ اومسح وغسل کمامر واغتسل فی غیر ذلك الوقت وبالجملۃ یتبع الضررولا یجاوزہ فحیث لایجد سبیلا الی الغسل یتیمم الی ان یجد سبیلا والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
اگر اسے صرف سر دھونا مضر ہوتو سرکا مسح کرے اور باقی بدن دھوئے اور اگر ٹھنڈے پانی سے نہانا نقصان کرتا ہو تو گرم یا گنگنے پانی سے نہائے اگر مل سکے ورنہ تمیم کرے یا سر پر مسح کرے اور بدن دھولے جیسا اس کے حال مرض کا تقاضا ہو اور اگر ٹھنڈے وقت نہانا نقصان دیتاہے تو اس وقت تیمم یا بدستور سر کا مسح اور باقی بدن کا غسل کرلے پھر جب گرم وقت آئے نہالے غرض جہاں تك ضرر ہو اسی کا اتباع کرے اس سے آگے نہ بڑھے جب کسی طرح نہ نہا سکے تو جب تك یہ حالت رہے تیمم کرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵ : از کلکتہ کوچہ ٹارنب ڈاکخانہ ویلزی اسٹریٹ نمبر۶ مرسلہ رشید احمد خان ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۰۹ھ
زید کی ران میں پھوڑا یا اور کوئی بیماری ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانی یہاں نقصان کرے گا مگر صرف اسی جگہ مضر ہے اور بدن پر ڈال سکتاہے اس حالت میں وضویا غسل کے لیےتیمم درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو تیمم غسل کا ویسا ہی ہے جیسا وضو کا یا کیا حکم ہے باقی آداب۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں غسل یا وضو کسی کیلئے تیمم جائز نہیں وضو کیلئے نہ جائز ہوناتوظاہر کہ ران کو وضو سے کوئی علاقہ نہیں اور غسل کیلئے یوں نارواکہ اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہے لہذا وضو تو بلاشبہ تمام وکمال کرے
یاایھا العلماء رحمکم الله تعالی مریض لہ حاجۃ الی الغسل والماء یضرہ فما الحکم فی غسلہ واداء صلاتہ الرجاء ان تبینوا لناالجواب الان۔
اے علماء ! الله کی آپ پر رحمت۔ ایك مریض کو نہانے کی حاجت ہے اور پانی نقصان دیتا ہے تو اسکے غسل و نماز میں کیا حکم ہے امید ہے کہ ابھی جواب ارشاد ہو۔
الجواب :
ان ضرہ غسل راسہ لاغیرمسحہ وغسل سائر جسدہ وان ضرہ الاغتسال بماء بارداغتسل بحاراوفاتران قدروالا تیمم اومسح رأسہ وغسل بدنہ حسبمایقتضیہ حالہ وان ضرہ الاغتسال فی الوقت البارد تیمم فیہ اومسح وغسل کمامر واغتسل فی غیر ذلك الوقت وبالجملۃ یتبع الضررولا یجاوزہ فحیث لایجد سبیلا الی الغسل یتیمم الی ان یجد سبیلا والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
اگر اسے صرف سر دھونا مضر ہوتو سرکا مسح کرے اور باقی بدن دھوئے اور اگر ٹھنڈے پانی سے نہانا نقصان کرتا ہو تو گرم یا گنگنے پانی سے نہائے اگر مل سکے ورنہ تمیم کرے یا سر پر مسح کرے اور بدن دھولے جیسا اس کے حال مرض کا تقاضا ہو اور اگر ٹھنڈے وقت نہانا نقصان دیتاہے تو اس وقت تیمم یا بدستور سر کا مسح اور باقی بدن کا غسل کرلے پھر جب گرم وقت آئے نہالے غرض جہاں تك ضرر ہو اسی کا اتباع کرے اس سے آگے نہ بڑھے جب کسی طرح نہ نہا سکے تو جب تك یہ حالت رہے تیمم کرے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵ : از کلکتہ کوچہ ٹارنب ڈاکخانہ ویلزی اسٹریٹ نمبر۶ مرسلہ رشید احمد خان ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۰۹ھ
زید کی ران میں پھوڑا یا اور کوئی بیماری ہے ڈاکٹر کہتا ہے پانی یہاں نقصان کرے گا مگر صرف اسی جگہ مضر ہے اور بدن پر ڈال سکتاہے اس حالت میں وضویا غسل کے لیےتیمم درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو تیمم غسل کا ویسا ہی ہے جیسا وضو کا یا کیا حکم ہے باقی آداب۔
الجواب :
صورت مسئولہ میں غسل یا وضو کسی کیلئے تیمم جائز نہیں وضو کیلئے نہ جائز ہوناتوظاہر کہ ران کو وضو سے کوئی علاقہ نہیں اور غسل کیلئے یوں نارواکہ اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہے لہذا وضو تو بلاشبہ تمام وکمال کرے
اور غسل کی حاجت ہوتواگر مضرت صرف ٹھنڈاپانی کرتا ہے گرم نہ کرے گا اور اسے گرم پانی پر قدرت ہے توبیشك پورا غسل کرے اتنی جگہ کو گرم پانی سے دھوئے باقی بدن گرم یاسرد جیسے سے چاہے اور اگر ہر طرح کا پانی مضر ہے یا گرم مضر تو نہ ہوگا مگر اسے اس پر قدرت نہیں توضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسح کرلے اور اگر وہاں بھی مسح نقصان دے مگر دوا یا پٹی کے حائل سے پانی کی ایك دھار بہا دینی مضر نہ ہوگی تو وہاں اس حائل ہی پر بہادے باقی بدن بدستور دھوئے اور اگر حائل پر بھی پانی بہانا مضر ہوتو دوا یا پٹی پر مسح ہی کرلے اگر اس سے بھی مضرت ہوتو اتنی جگہ خالی چھوڑ دے جب وہ ضرر دفع ہوتوجتنی بات پر قدرت ملتی جائے بجالاتاجائے مثلا ابھی پٹی پر سے مسح بھی مضر تھا لہذا جگہ بالکل خشك بچادی چند روز بعد اتنا آرام ہوگیا کہ یہ مسح نقصان نہ دے گا تو فورا پٹی پر مسح کرلے اسی قدر کافی ہوگاباقی بدن تو پہلے کا دھویاہی ہواہے جب اتناآرام ہوجائے کہ اب بندش پر سے پانی بہانا بھی ضرر نہ کرے گا فورا اس پر پانی کی دھار ڈال دے صرف مسح پر جو پہلے کر چکا تھا قناعت نہ کرے جب اتناآرام ہوجائے کہ اب خاص موضع کا مسح بھی ضرر نہ دے گا فورا وہاں مسح کرلے پٹی کے غسل پر قانع نہ رہے جب اتناآرام ہو کہ اب خود وہاں پانی بہانا مضر نہ ہوگا فورا اس بدن کو پانی سے دھولے غرض رخصت کے درجے بتادئے گئے ہیں جب تك کم درجہ کی رخصت میں کام نکلے اعلی درجہ کی اختیار نہ کرے اور جب کوئی نیچے کا درجہ قدرت میں آئے فورا اس تك تنزل کرآئے۔ اسی طرح اگر یہ حالت ہو کہ اس جسم پر پانی تو نقصان نہ دے گا مگر بندھا ہوا ہے کھولنے سے نقصان پہنچے گا یا کھول کر پھر باندھ نہ سکے گا تو بھی اجازت ہے کہ بندش پر سے دھونے یا مسح کرنے جس بات کی قدرت ہو عمل میں لائے جب وہ عذر جاتا رہے کھول کر جسم کو مسح یا غسل جو مقدور ہوکرے یہی سب حکم وضو میں ہیں اگر اعضائے وضو میں کسی جگہ کوئی مرض ہو الحاصل یہاں اکثر کیلئے حکم کل کا ہے جب اکثر بدن پر پانی ڈال سکتا ہو تو ہرگز تیمم کی اجازت نہیں بلکہ یہی طریقے جو اوپر گزرے بجالائے ہاں اگر اکثر بدن پر پانی ڈالنے کی قدرت نہ ہو (خواہ یوں کہ خود مرض ہی اکثر بدن میں ہے یا مرض تو کم جگہ ہے مگر واقع ایسا ہوا کہ اس کے سبب اور صحیح جگہ کو بھی نہیں دھو سکتا کہ اس کا پانی اس تك پہنچے گا اور کوئی صورت بچا کر دھونے کی نہیں یوں اکثر بدن دھونے کی قدرت نہیں (مثلا رانوں پنڈلیوں بازوؤں کلائیوں پیٹھ پر جابجا دودو چارچار انگل کے فاصلے سے دانے ہیں کہ صرف دانوں کی جگہ جمع کی جائے تو سارے بدن کے نصف حصہ سے کم ہو مگر وہ پھیلے ہوئے اس طرح ہیں کہ ان کے بیچ بیچ کی خالی جگہ پر بھی پانی نہیں بہاسکتے) تو ایسی حالت میں بیشك تیمم کی اجازت ہوگی اب یہ نہ ہوگا کہ صرف تھوڑا سا بدن دھو کر باقی سارے جسم پر مسح کرلے۔
درمختار میں ہے :
درمختار میں ہے :
تیمم لوکان اکثرہ ای اکثر اعضاء الوضوء عددا وفی الغسل مساحۃ مجروحا اوبہ جدری اعتبار اللاکثر وبعکسہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح( )۔
اعضائے وضو میں سے بلحاظ تعداد اکثر اعضاء اور غسل میں بلحاظ مسافت اکثر بدن اگر زخمی ہے یا اس پر چیچك ہے تو اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے تیمم کا حکم ہے ۔ اور اس کے برعکس صورت ہے تو صحتمند حصہ کو دھونے اور زخمی حصہ پر مسح کرنے کا حکم ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیہ ( )۔
لیکن اگر صحت مند حصے کو اس طرح دھوسکتا ہے کہ زخمی حصہ پر پانی نہ جائے تواسے دھوناہے ورنہ تیمم کرے ۔ حلیہ (ت)
درمختار میں ہے :
الحاصل لزوم غسل المحل ولو بماء حارفان ضرمسحہ فان ضرمسحھافان ضرسقط اصلا ( )۔
حاصل یہ ہے کہ زخم کی جگہ کو دھونا لازم ہے اگرچہ گرم پانی سے دھوئے ۔ اگر دھونے سے ضرر ہوتو مسح کرے اگر جائے زخم پر مسح سے بھی ضرر ہو تو پٹی کرے اگر اس سے بھی ضرر ہوتو معافی ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولو بماء حارنص علیہ فی شرح الجامع لقاضیخان واقتصر علیہ فی الفتح وقیدہ بالقدرۃ علیہ وفی السراج انہ لایجب والظاھر الاول بحر( )۔
کلام شارح “ اگر چہ گرم پانی سے دھوئے “ اس کی تصریح قاضی خاں کی شرح جامع صغیر میں ہے اور فتح القدیر میں اسی پر اکتفا ہے اور اس میں اس حکم کو اس سے مقید کیاہے کہ اگر گرم پانی پر اسے قدرت ہو۔ اور سراج میں ہے کہ یہ واجب نہیں ۔ اور ظاہر اول ہے ۔ بحر۔
اعضائے وضو میں سے بلحاظ تعداد اکثر اعضاء اور غسل میں بلحاظ مسافت اکثر بدن اگر زخمی ہے یا اس پر چیچك ہے تو اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے تیمم کا حکم ہے ۔ اور اس کے برعکس صورت ہے تو صحتمند حصہ کو دھونے اور زخمی حصہ پر مسح کرنے کا حکم ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیہ ( )۔
لیکن اگر صحت مند حصے کو اس طرح دھوسکتا ہے کہ زخمی حصہ پر پانی نہ جائے تواسے دھوناہے ورنہ تیمم کرے ۔ حلیہ (ت)
درمختار میں ہے :
الحاصل لزوم غسل المحل ولو بماء حارفان ضرمسحہ فان ضرمسحھافان ضرسقط اصلا ( )۔
حاصل یہ ہے کہ زخم کی جگہ کو دھونا لازم ہے اگرچہ گرم پانی سے دھوئے ۔ اگر دھونے سے ضرر ہوتو مسح کرے اگر جائے زخم پر مسح سے بھی ضرر ہو تو پٹی کرے اگر اس سے بھی ضرر ہوتو معافی ہے ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولو بماء حارنص علیہ فی شرح الجامع لقاضیخان واقتصر علیہ فی الفتح وقیدہ بالقدرۃ علیہ وفی السراج انہ لایجب والظاھر الاول بحر( )۔
کلام شارح “ اگر چہ گرم پانی سے دھوئے “ اس کی تصریح قاضی خاں کی شرح جامع صغیر میں ہے اور فتح القدیر میں اسی پر اکتفا ہے اور اس میں اس حکم کو اس سے مقید کیاہے کہ اگر گرم پانی پر اسے قدرت ہو۔ اور سراج میں ہے کہ یہ واجب نہیں ۔ اور ظاہر اول ہے ۔ بحر۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخر باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ آخر باب التمیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخر مسح علی الخفین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ آخر باب المسح علی الخفین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۸۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ آخر باب التمیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخر مسح علی الخفین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ آخر باب المسح علی الخفین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۸۶
درمختار میں ہے :
یمسح علی کل عصابۃ ان ضرہ الماء اوحلہاومنہ ان لایمکنہ ربطھا ( )۔
پوری پٹی پر مسح کرے اگراسے پانی سے یا پٹی کھولنے سے ضرر ہو اسی ضرر کے تحت یہ بھی ہے کہ کھولنے کے بعد اسے باندھ نہ سکتا ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ان ضرہ الماء ای الغسل بہ اوالمسح علی المحل ط ( )۔
کلام شارح “ اگر پانی سے ضرر ہو “ ہے یعنی پانی سے دھونے میں 'یا زخم کی جگہ مسح کرنے میں ضرر ہو۔ طحطاوی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
انکسرظفرہ فجعل علیہ دواء او وضعہ علی شقوق رجلہ اجری الماء علیہ ان قدر والا مسحہ والاترکہ ( )۔
ناخن ٹوٹ گیااس جگہ دوا لگائی یا پیر کی پھٹن پر دوا لگائی تواس پر پانی بہائے اگر اس پرقدرت ہو ورنہ اس پر مسح کرے یہ بھی نہ ہوسکے تو چھوڑدے۔ ( ت)
ردالمحتارمیں ہے :
یمسح الجریح ان لم یضرہ والاعصبہابخرقۃ ومسح فوقھا خانیہ وغیرھاومفادہ کما قال ط انہ یلزمہ شد الخرقۃ ان لم تکن موضوعۃ ( )۔
زخمی حصہ پر مسح کرے اگر مسح سے ضرر نہ ہو ورنہ اس پر کوئی پٹی باندھ کر اس کے اوپر مسح کرے خانیہ وغیرہا۔ اس عبارت کا مفاد جیسا کہ طحطاوی نے بتایا یہ ہے کہ اس کے ذمہ پٹی باندھنا لازم ہے اگر پہلے بندھی نہ رہی ہو۔ (ت)
ہاں یہ بات کہ فلاں امر ضرر دے گا کسی کافر یاکھلے فاسق یا ناقص طبیب کے بتائے سے ثابت
یمسح علی کل عصابۃ ان ضرہ الماء اوحلہاومنہ ان لایمکنہ ربطھا ( )۔
پوری پٹی پر مسح کرے اگراسے پانی سے یا پٹی کھولنے سے ضرر ہو اسی ضرر کے تحت یہ بھی ہے کہ کھولنے کے بعد اسے باندھ نہ سکتا ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ان ضرہ الماء ای الغسل بہ اوالمسح علی المحل ط ( )۔
کلام شارح “ اگر پانی سے ضرر ہو “ ہے یعنی پانی سے دھونے میں 'یا زخم کی جگہ مسح کرنے میں ضرر ہو۔ طحطاوی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
انکسرظفرہ فجعل علیہ دواء او وضعہ علی شقوق رجلہ اجری الماء علیہ ان قدر والا مسحہ والاترکہ ( )۔
ناخن ٹوٹ گیااس جگہ دوا لگائی یا پیر کی پھٹن پر دوا لگائی تواس پر پانی بہائے اگر اس پرقدرت ہو ورنہ اس پر مسح کرے یہ بھی نہ ہوسکے تو چھوڑدے۔ ( ت)
ردالمحتارمیں ہے :
یمسح الجریح ان لم یضرہ والاعصبہابخرقۃ ومسح فوقھا خانیہ وغیرھاومفادہ کما قال ط انہ یلزمہ شد الخرقۃ ان لم تکن موضوعۃ ( )۔
زخمی حصہ پر مسح کرے اگر مسح سے ضرر نہ ہو ورنہ اس پر کوئی پٹی باندھ کر اس کے اوپر مسح کرے خانیہ وغیرہا۔ اس عبارت کا مفاد جیسا کہ طحطاوی نے بتایا یہ ہے کہ اس کے ذمہ پٹی باندھنا لازم ہے اگر پہلے بندھی نہ رہی ہو۔ (ت)
ہاں یہ بات کہ فلاں امر ضرر دے گا کسی کافر یاکھلے فاسق یا ناقص طبیب کے بتائے سے ثابت
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخرباب المسح علی الخفین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ آخرباب المسح علی الخفین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۸۷
الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخرباب المسح علی الخفین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۰
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ باب التمیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ آخرباب المسح علی الخفین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۸۷
الدرالمختار کتاب الطہارۃ آخرباب المسح علی الخفین مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۰
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ باب التمیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۷۱
نہیں ہوسکتی یا تو خود اپنا تجربہ ہوکہ نقصان ہوتاہے یاکوئی صاف علامت ایسی موجود ہو جس سے واقعی ظن غالب نقصان کا ہویاطبیب حاذق مسلم مستور بتائے جس کا کوئی فسق ظاہر نہ ہو۔ فی الدرالمختار و ردالمحتار :
تیمم لمرض یشتد اویمتد بغلبۃ ظن(عن امارۃ اوتجربۃ شرح منیۃ) اوقول (طبیب)حاذق مسلم (غیر ظاھر الفسق( ) اھ بالالتقاط ۔
جب ایسی بیماری ہو کہ( علامت یا تجربہ سے شرح منیہ)یا ایسے مسلمان ماہر طبیب کے بتانے سے جس کا فسق ظاہر نہ ہو غلبہ ظن ہو کہ پانی استعمال کرنے سے وہ بیماری اورسخت ہوجائے گی یا لمبی مدت لے لے گی تو تیمم کرے اھ ملتقطا۔ ( ت)
اورتیمم غسل ووضوکا ایك ہی ساہے بلکہ ایك ہی تیمم دونوں کے لئے کافی ہوسکتاہے خصوصا جبکہ نیت دونوں کو شامل ہو ۔
فی ردالمحتار عن الوقایۃ یکفی تیمم واحد عنہما ( ) والله تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں وقایہ سے منقول ہے کہ : ایك ہی تیمم غسل و وضودونوں کی جگہ کافی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
______________________
تیمم لمرض یشتد اویمتد بغلبۃ ظن(عن امارۃ اوتجربۃ شرح منیۃ) اوقول (طبیب)حاذق مسلم (غیر ظاھر الفسق( ) اھ بالالتقاط ۔
جب ایسی بیماری ہو کہ( علامت یا تجربہ سے شرح منیہ)یا ایسے مسلمان ماہر طبیب کے بتانے سے جس کا فسق ظاہر نہ ہو غلبہ ظن ہو کہ پانی استعمال کرنے سے وہ بیماری اورسخت ہوجائے گی یا لمبی مدت لے لے گی تو تیمم کرے اھ ملتقطا۔ ( ت)
اورتیمم غسل ووضوکا ایك ہی ساہے بلکہ ایك ہی تیمم دونوں کے لئے کافی ہوسکتاہے خصوصا جبکہ نیت دونوں کو شامل ہو ۔
فی ردالمحتار عن الوقایۃ یکفی تیمم واحد عنہما ( ) والله تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں وقایہ سے منقول ہے کہ : ایك ہی تیمم غسل و وضودونوں کی جگہ کافی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
______________________
حوالہ / References
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ باب التیمم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۶۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب التیمم داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۶۵
رسالہ
الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل ۱۳۲۰ھ
(احتلام اور تری کی اشکال کے حکم اور اسباب)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ۱۶: ۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کوئی شخص سوتے سے جاگا اور تری کپڑے یا بدن پر پائی یا خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر نہانا واجب ہوا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله ھادی الاحلام بانزال الاحکام والصلوۃ والسلام علی سیدالمعصومین عن الاحتلام والہ الکرام وصحبہ العظام الی یوم یبل فیہ وارد وحوضہ بل الاکرام امین۔
یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور ہر شخص کو اس کی ضرورت اور کتابوں میں اختلاف بکثرت لہذا ضرور ہے کہ فقیر بعون القدیر اس کی ضروری توضیح وتشریح اور مذہب معتمدو مختار کی تنقیح کرے۔
فاقول : وبالله التوفیق(تومیں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ ) یہاں چھ۶
الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل ۱۳۲۰ھ
(احتلام اور تری کی اشکال کے حکم اور اسباب)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ۱۶: ۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ کوئی شخص سوتے سے جاگا اور تری کپڑے یا بدن پر پائی یا خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر نہانا واجب ہوا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد لله ھادی الاحلام بانزال الاحکام والصلوۃ والسلام علی سیدالمعصومین عن الاحتلام والہ الکرام وصحبہ العظام الی یوم یبل فیہ وارد وحوضہ بل الاکرام امین۔
یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور ہر شخص کو اس کی ضرورت اور کتابوں میں اختلاف بکثرت لہذا ضرور ہے کہ فقیر بعون القدیر اس کی ضروری توضیح وتشریح اور مذہب معتمدو مختار کی تنقیح کرے۔
فاقول : وبالله التوفیق(تومیں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ ) یہاں چھ۶
صورتیں ہیں :
اول : تری کپڑے یا بدن کسی پر نہ دیکھی۔
دوم : دیکھی اور یقین ہے کہ یہ منی یا مذی نہیں بلکہ ودی یا بول یا پسینہ یا کچھ اور ہے ان دونوں صورتوں میں مطلقا اجماعا غسل اصلا نہیں اگرچہ خواب میں مجامعت اور اس کی لذت اور انزال تك یاد ہو۔ غنیہ میں ہے :
تذکر الاحتلام ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ( )۔
کسی کو خواب دیکھنا یاد آیا اور تری نہ پائی تو بالاجماع ا س پر غسل نہیں ۔ ( ت)
درمختار میں ہے :
لاان تذکر ولو مع اللذۃ والا نزال ولم یربلا اجماعا ( )
بالاجماع غسل نہیں ہے اس صورت میں جب کہ خواب یاد آیا اگرچہ لذت اور انزال بھی یاد ہو مگر تری نہ پائی۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لایجب اتفاقا فیما اذا علم انہ ودی مطلقا ( )۔
بالاتفاق مطلقا غسل واجب نہیں اس صورت میں جب کہ اسے تری کے ودی ہونے کا یقین ہو۔ ( ت)
جامع الرموز میں ہے :
احترز بقولہ المنی والمذی عن الودی فانہ غیر موجب عندھم وان تذکر الاحتلام کما فی الحقائق ( )۔
لفظ منی و مذی لکھ کر ودی سے احتراز کیا ہے اس لئے کہ ان ائمہ کے نزدیك اس سے غسل واجب نہیں ہوتا اگرچہ خواب دیکھنا یاد ہو۔ جیسا کہ حقائق میں ہے ۔ (ت)
سوم : ثابت ہو کہ یہ تری منی ہے اس میں بالاتفاق نہانا واجب ہے اگرچہ خواب وغیرہ اصلا یاد نہ ہو۔
اول : تری کپڑے یا بدن کسی پر نہ دیکھی۔
دوم : دیکھی اور یقین ہے کہ یہ منی یا مذی نہیں بلکہ ودی یا بول یا پسینہ یا کچھ اور ہے ان دونوں صورتوں میں مطلقا اجماعا غسل اصلا نہیں اگرچہ خواب میں مجامعت اور اس کی لذت اور انزال تك یاد ہو۔ غنیہ میں ہے :
تذکر الاحتلام ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ( )۔
کسی کو خواب دیکھنا یاد آیا اور تری نہ پائی تو بالاجماع ا س پر غسل نہیں ۔ ( ت)
درمختار میں ہے :
لاان تذکر ولو مع اللذۃ والا نزال ولم یربلا اجماعا ( )
بالاجماع غسل نہیں ہے اس صورت میں جب کہ خواب یاد آیا اگرچہ لذت اور انزال بھی یاد ہو مگر تری نہ پائی۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لایجب اتفاقا فیما اذا علم انہ ودی مطلقا ( )۔
بالاتفاق مطلقا غسل واجب نہیں اس صورت میں جب کہ اسے تری کے ودی ہونے کا یقین ہو۔ ( ت)
جامع الرموز میں ہے :
احترز بقولہ المنی والمذی عن الودی فانہ غیر موجب عندھم وان تذکر الاحتلام کما فی الحقائق ( )۔
لفظ منی و مذی لکھ کر ودی سے احتراز کیا ہے اس لئے کہ ان ائمہ کے نزدیك اس سے غسل واجب نہیں ہوتا اگرچہ خواب دیکھنا یاد ہو۔ جیسا کہ حقائق میں ہے ۔ (ت)
سوم : ثابت ہو کہ یہ تری منی ہے اس میں بالاتفاق نہانا واجب ہے اگرچہ خواب وغیرہ اصلا یاد نہ ہو۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی طہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، موجبات الغسل ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
جامع الرموز ، کتاب الطہارۃ ، بیان الغسل ، مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ، ۱ / ۴۴
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، موجبات الغسل ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
جامع الرموز ، کتاب الطہارۃ ، بیان الغسل ، مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ، ۱ / ۴۴
فی ردالمحتاریجب الغسل اتفاقا اذاعلم انہ منی مطلقا ( )۔
ردالمحتار میں ہے : بالاتفاق غسل واجب ہے مطلقا جب یقین ہو کہ یہ تری منی ہے۔ (ت)
اسی طرح عامہ کتب میں اس پر اجماع منقول
لکن فی شرح النقایۃ للقہستانی کان الفقیہ ابو جعفر یقول ھذا عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما الله تعالی واما عند ابی یوسف رحمہ الله تعالی فلا غسل علیہ اذا لم یتذکرالاحتلام کذا فی شرح الطحاوی ( ) اھ
اقول : لعل وجہہ والله تعالی اعلم ان نزول المنی لایوجب الغسل مطلقا بل اذا نزل عن شھوۃ دفقا فاذا نذکر الاحتلام ثم راہ علم انہ نزل عن شھوۃ واذالم یتذکر احتمل ان یکون نزل ھکذا من دون شھوۃ فلا یجب الغسل بالشك والجواب ان بالنوم تتوجہ الحرارۃ الی الباطن ولھذا یحصل الانتشار غالبا فالسبب مظنون والاحتمال الخلاف اعنی الخروج بلاشھوۃ نادر فلا یعتبر۔
لیکن علامہ قہستانی کی شرح نقایہ میں ہے : فقیہ ابو جعفر فرماتے تھے کہ یہ امام ابو حنیفہ و امام محمد رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك ہے امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك خواب یاد نہ آنے کی صورت میں اس پر غسل نہیں ۔ ایسا ہی شرح طحاوی میں ہے اھ ۔ (ت)
اقول : شاید اس کی وجہ - واﷲ تعالی اعلم - یہ ہے کہ مطلقامنی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ اس وقت جب کہ جست کے طور پر شہوت سے نکلے تو جب خواب دیکھنا یاد ہو پھر منی بھی دیکھے تو یقین ہوگا کہ شہوت سے ہی نکلی ہے اور جب احتلام یاد نہ ہو تو احتمال ہوگا کہ شاید یونہی بغیر شہوت کے نکل آئی ہے اس لئے شك سے غسل واجب نہ ہوگا-جواب یہ ہے کہ نیند سے حرارت جانب باطن کا رخ کرتی ہے اسی لئے عموما انتشارآلہ ہوتا ہے یہ سب غلبہ ظن کا حامل ہے اس کے خلاف کا احتمال یعنی بلا شہوت نکل آنا نادر ہے اس لئے قابل اعتبار نہیں ۔ ( ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے :
قد ظھر انہ لاخلاف فی رؤیۃ المنی
واضح ہوگیاکہ منی دیکھنے کی صورت میں کوئی اختلاف
ردالمحتار میں ہے : بالاتفاق غسل واجب ہے مطلقا جب یقین ہو کہ یہ تری منی ہے۔ (ت)
اسی طرح عامہ کتب میں اس پر اجماع منقول
لکن فی شرح النقایۃ للقہستانی کان الفقیہ ابو جعفر یقول ھذا عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما الله تعالی واما عند ابی یوسف رحمہ الله تعالی فلا غسل علیہ اذا لم یتذکرالاحتلام کذا فی شرح الطحاوی ( ) اھ
اقول : لعل وجہہ والله تعالی اعلم ان نزول المنی لایوجب الغسل مطلقا بل اذا نزل عن شھوۃ دفقا فاذا نذکر الاحتلام ثم راہ علم انہ نزل عن شھوۃ واذالم یتذکر احتمل ان یکون نزل ھکذا من دون شھوۃ فلا یجب الغسل بالشك والجواب ان بالنوم تتوجہ الحرارۃ الی الباطن ولھذا یحصل الانتشار غالبا فالسبب مظنون والاحتمال الخلاف اعنی الخروج بلاشھوۃ نادر فلا یعتبر۔
لیکن علامہ قہستانی کی شرح نقایہ میں ہے : فقیہ ابو جعفر فرماتے تھے کہ یہ امام ابو حنیفہ و امام محمد رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك ہے امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك خواب یاد نہ آنے کی صورت میں اس پر غسل نہیں ۔ ایسا ہی شرح طحاوی میں ہے اھ ۔ (ت)
اقول : شاید اس کی وجہ - واﷲ تعالی اعلم - یہ ہے کہ مطلقامنی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ اس وقت جب کہ جست کے طور پر شہوت سے نکلے تو جب خواب دیکھنا یاد ہو پھر منی بھی دیکھے تو یقین ہوگا کہ شہوت سے ہی نکلی ہے اور جب احتلام یاد نہ ہو تو احتمال ہوگا کہ شاید یونہی بغیر شہوت کے نکل آئی ہے اس لئے شك سے غسل واجب نہ ہوگا-جواب یہ ہے کہ نیند سے حرارت جانب باطن کا رخ کرتی ہے اسی لئے عموما انتشارآلہ ہوتا ہے یہ سب غلبہ ظن کا حامل ہے اس کے خلاف کا احتمال یعنی بلا شہوت نکل آنا نادر ہے اس لئے قابل اعتبار نہیں ۔ ( ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے :
قد ظھر انہ لاخلاف فی رؤیۃ المنی
واضح ہوگیاکہ منی دیکھنے کی صورت میں کوئی اختلاف
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، موجبات الغسل ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
جامع الرموز ، کتاب الطہارۃ ، بیان الغسل ، مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ، ۱ / ۴۳
جامع الرموز ، کتاب الطہارۃ ، بیان الغسل ، مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ، ۱ / ۴۳
حیث یجب الغسل اجماعا ونقل فی شرح الطحاوی عن الفقیہ ابی جعفر ان رؤیۃ المنی ایضا علی ھذا الاختلاف والمشھور ھو الاول ( ) اھ۔
نہیں بالا جماع غسل واجب ہے-اورشرح طحاوی میں فقیہ ابو جعفر سے منقول ہے کہ یہ اختلاف منی دیکھنے کی صورت میں بھی ہے-اور مشہور اول ہی ہے۔ اھ۔
اب رہیں تین صورتیں اس تری۴ کے منی ہونے کا احتمال ہو مذی۵ ہونے کا علم ہو منی۶نہ ہونا تو معلوم مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔ پس اگر خواب میں احتلام ہونا یاد ہے تو ان تینوں صورتوں میں بھی بالاتفاق نہانا واجب ہے۔
فی رد المحتار یجب اتفاقا اذا علم انہ مذی اوشك مع تذکر الاحتلام( ) اھ مختصر۔
اقول : وقد تظافرت الکتب علی ھذا متونا وشروحا وفتاوی فلا نظر الی ما فی الحلیۃ عن المصفی عن المختلفات “ انہ اذا تیقن بالاحتلام وتیقن انہ مذی فانہ لایجب الغسل عندھم جمیعا( ) “
و رأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الحلیۃ ھھنا مانصہ “ عامۃ المعتبرات علی نقل الاجماع فی ھذہ الصورۃ علی وجوب الغسل و فی بعضھا جعلوھا خلافیۃ بین ابی یوسف وصاحبیہ اماحکایۃ
رد المحتارمیں ہے : بالا تفاق غسل واجب ہے جب خواب یاد ہونے کے ساتھ اس بات کا یقین یا احتمال ہوکہ یہ تری مذی ہے اھ مختصرا۔
اقول : اس حکم پر متون شروح فتاوی تینوں درجے کی کتابیں متفق ہیں - تو وہ قابل تو جہ نہیں جو حلیہ میں مصفی سے اس میں مختلفات سے منقول ہے کہ : “ جب احتلام کا یقین ہو اور یہ بھی یقین ہو کہ یہ تری مذی ہے تو ان تینوں ائمہ کے نزدیك غسل واجب نہیں ۔ “ میں نے اپنے نسخہ حلیہ پر یہاں دیکھا کہ میں نے حاشیہ لکھا ہے : عامہ کتب معتبرہ نے اس صورت میں وجوب غسل پر اجماع نقل کیا ہے- بعض کتابوں کے اندر اس صورت میں امام ابو یوسف اور طرفین کا اختلاف بتایا ہے-لیکن یہ حکایت کہ اس صورت میں
نہیں بالا جماع غسل واجب ہے-اورشرح طحاوی میں فقیہ ابو جعفر سے منقول ہے کہ یہ اختلاف منی دیکھنے کی صورت میں بھی ہے-اور مشہور اول ہی ہے۔ اھ۔
اب رہیں تین صورتیں اس تری۴ کے منی ہونے کا احتمال ہو مذی۵ ہونے کا علم ہو منی۶نہ ہونا تو معلوم مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔ پس اگر خواب میں احتلام ہونا یاد ہے تو ان تینوں صورتوں میں بھی بالاتفاق نہانا واجب ہے۔
فی رد المحتار یجب اتفاقا اذا علم انہ مذی اوشك مع تذکر الاحتلام( ) اھ مختصر۔
اقول : وقد تظافرت الکتب علی ھذا متونا وشروحا وفتاوی فلا نظر الی ما فی الحلیۃ عن المصفی عن المختلفات “ انہ اذا تیقن بالاحتلام وتیقن انہ مذی فانہ لایجب الغسل عندھم جمیعا( ) “
و رأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الحلیۃ ھھنا مانصہ “ عامۃ المعتبرات علی نقل الاجماع فی ھذہ الصورۃ علی وجوب الغسل و فی بعضھا جعلوھا خلافیۃ بین ابی یوسف وصاحبیہ اماحکایۃ
رد المحتارمیں ہے : بالا تفاق غسل واجب ہے جب خواب یاد ہونے کے ساتھ اس بات کا یقین یا احتمال ہوکہ یہ تری مذی ہے اھ مختصرا۔
اقول : اس حکم پر متون شروح فتاوی تینوں درجے کی کتابیں متفق ہیں - تو وہ قابل تو جہ نہیں جو حلیہ میں مصفی سے اس میں مختلفات سے منقول ہے کہ : “ جب احتلام کا یقین ہو اور یہ بھی یقین ہو کہ یہ تری مذی ہے تو ان تینوں ائمہ کے نزدیك غسل واجب نہیں ۔ “ میں نے اپنے نسخہ حلیہ پر یہاں دیکھا کہ میں نے حاشیہ لکھا ہے : عامہ کتب معتبرہ نے اس صورت میں وجوب غسل پر اجماع نقل کیا ہے- بعض کتابوں کے اندر اس صورت میں امام ابو یوسف اور طرفین کا اختلاف بتایا ہے-لیکن یہ حکایت کہ اس صورت میں
حوالہ / References
شرح نقایۃ برجندی ، کتاب الطہارۃ ، نولکشور لکھنؤ بالسرور ، ۱ / ۳۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الاجماع فیھا علی عدم الوجوب فمخالفۃ لجمیع المعتبرات ولقد کدت ان اقول ان لاوقعت زائدۃ من قلم الناسخین لولا انی رأیت فی جامع الرموز مانصہ لو تیقن بالمذی لم یجب تذکر الاحتلام ام لا و ھذا عندھم علی ما فی المصفی عن المختلفات لکن فی المحیط وغیرہ انہ واجب حینئذ ( ) اھ “ ماکتبت علیہ۔
وانا الان عــــہ ایضا لا استبعد ان الامرکما ظننت من وقوع لا زائدۃ فی نسخۃ المصفی او المختلفات ونقلہ القہستانی بالمعنی ولم یتنبہ لما اسمعنا والله تعالی اعلم ۔
والخلاف الذی اشرت الیہ ھو ما فی الحصر والمختلف و العون و فتاوی العتابی والفتاوی الظھیریۃ ان برؤیۃ المذی لایجب الغسل عند ابی یوسف تذکر الاحتلام اولم یتذکر کما فی فتح الله المعین ( ) للسید ابی السعود الا زھری و
عدم وجوب پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے یہ تمام معتبر کتابوں کے خلاف ہے ۔ میں تو یہ کہہ دیتا کہ لفظ “ لا “ ( نہیں )-ناقلوں کے قلم سے زیادہ ہوگیا ہے لیکن جامع الرموز میں بھی دیکھا کہ یہ لکھا ہوا ہے : اگر مذی ہونے کا یقین ہو تو غسل واجب نہیں احتلام یاد ہو یا نہ ہو اور یہ تینوں ائمہ کے نزدیك ہے اس کے مطابق جو مصفی میں مختلفات سے نقل ہے۔ لیکن محیط وغیرہ میں ہے کہ اس صورت میں غسل واجب ہے اھ “ حلیہ پر میرا حاشیہ ختم ہوا۔
اور میں اس وقت بھی یہ بعید نہیں سمجھتا کہ حقیقت وہی ہو جو میرے خیال میں ہے کہ مصفی یا مختلفات کے نسخے میں “ لا “ ( نہیں ) زیادہ ہوگیا ہے اور قہستانی نے اسے بالمعنی نقل کردیا اور اس کاخیال نہ کیا جو ہم نے بیان کیا۔ والله تعالی اعلم
جس اختلاف کا میں نے اشارہ کیا وہ یہ ہے کہ حصر مختلف عون فتاوی عتابی اورفتاوی ظہیریہ میں یہ ہے کہ مذی دیکھنے سے امام ابو یوسف کے نزدیك غسل واجب نہیں ہوتا احتلام یاد ہو یا یاد نہ ہو جیسا کہ سید ابو السعود ازہری کی فتح الله المعین میں ہے۔ اور تبیین الحقائق میں
عــــہ : وسیاتی تاویل نفیس فانتظر اھ منہ۔
عـــــہ : اس کی ایك عمدہ تاویل بھی آگے آرہی ہے انتظار کیجئے ۱۲منہ (ت)
وانا الان عــــہ ایضا لا استبعد ان الامرکما ظننت من وقوع لا زائدۃ فی نسخۃ المصفی او المختلفات ونقلہ القہستانی بالمعنی ولم یتنبہ لما اسمعنا والله تعالی اعلم ۔
والخلاف الذی اشرت الیہ ھو ما فی الحصر والمختلف و العون و فتاوی العتابی والفتاوی الظھیریۃ ان برؤیۃ المذی لایجب الغسل عند ابی یوسف تذکر الاحتلام اولم یتذکر کما فی فتح الله المعین ( ) للسید ابی السعود الا زھری و
عدم وجوب پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے یہ تمام معتبر کتابوں کے خلاف ہے ۔ میں تو یہ کہہ دیتا کہ لفظ “ لا “ ( نہیں )-ناقلوں کے قلم سے زیادہ ہوگیا ہے لیکن جامع الرموز میں بھی دیکھا کہ یہ لکھا ہوا ہے : اگر مذی ہونے کا یقین ہو تو غسل واجب نہیں احتلام یاد ہو یا نہ ہو اور یہ تینوں ائمہ کے نزدیك ہے اس کے مطابق جو مصفی میں مختلفات سے نقل ہے۔ لیکن محیط وغیرہ میں ہے کہ اس صورت میں غسل واجب ہے اھ “ حلیہ پر میرا حاشیہ ختم ہوا۔
اور میں اس وقت بھی یہ بعید نہیں سمجھتا کہ حقیقت وہی ہو جو میرے خیال میں ہے کہ مصفی یا مختلفات کے نسخے میں “ لا “ ( نہیں ) زیادہ ہوگیا ہے اور قہستانی نے اسے بالمعنی نقل کردیا اور اس کاخیال نہ کیا جو ہم نے بیان کیا۔ والله تعالی اعلم
جس اختلاف کا میں نے اشارہ کیا وہ یہ ہے کہ حصر مختلف عون فتاوی عتابی اورفتاوی ظہیریہ میں یہ ہے کہ مذی دیکھنے سے امام ابو یوسف کے نزدیك غسل واجب نہیں ہوتا احتلام یاد ہو یا یاد نہ ہو جیسا کہ سید ابو السعود ازہری کی فتح الله المعین میں ہے۔ اور تبیین الحقائق میں
عــــہ : وسیاتی تاویل نفیس فانتظر اھ منہ۔
عـــــہ : اس کی ایك عمدہ تاویل بھی آگے آرہی ہے انتظار کیجئے ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
حواشی امام احمد رضا علی حلیۃ المحلی
فتح المعین کتاب الطہارۃایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
فتح المعین کتاب الطہارۃایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
نقلہ فی التبیین( ) عن غایۃ السروجی عن الامام الفقیہ ابی جعفر الھندوانی عن الامام الثانی رحمہم الله تعالی۔ وفی ابی السعود عن نوح افندی عن العلامۃ قاسم ابن قطلوبغا مانصہ “ قلت فیحتمل ان یکون عن ابی یوسف روایتان( ) اھ “
وفی الحلیۃ وجوب الاغتسال فیما اذا تیقن کون البلل مذیا وھو متذکر الاحتلام باجماع اصحابنا علی ما فی کثیر من الکتب المعتبرۃ وفی المصفی ذکر فی الحصر والمختلف والفتاوی الظہیریۃ اذارای مذیا وتذکر الاحتلام لاغسل علیہ عند ابی یوسف فیحتمل ان یکون عن ابی یوسف روایتان( ) اھ مختصرا۔
اقول : بل ثلث فــــ الاولی لا غسل بلا تذکر وان رأی منیا کما مرعن شرحی النقایۃ عن الامام علی الاسبیجابی “ الثانیۃ لا الا بالمنی
اسے غایۃ السروجی سے اس میں امام فقیہ ابوجعفر ہندوانی کے حوالے سے امام ثانی سے نقل کیا ہے رحمہم اللہ تعالی ۔ اور ابوالسعود میں علامہ نوح آفندی کے حوالہ سے علامہ قاسم ابن قطلوبغاسے یہ نقل ہے : میں کہتا ہوں ہوسکتاہے امام ابو یوسف سے دو۲ روایتیں ہوں اھ۔
اور حلیہ میں یہ ہے کہ اس صورت میں غسل واجب ہے جب یقین ہو کہ یہ تری مذی ہے اور اسے احتلام بھی یاد ہواس حکم پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے جیسا کہ بہت سی کتب معتبرہ میں مذکور ہے ۔ اور مصفی میں یہ لکھا ہے کہ حصر مختلف اور فتاوی ظہیریہ میں ذکر کیا ہے کہ جب مذی دیکھے اور احتلام یاد ہو تو امام ابو یوسف کے نزدیك اس پر غسل نہیں ۔ تو ہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دوروایتیں ہوں اھ مختصرا
اقول : بلکہ تین روایتیں (۱) احتلام یاد آئے بغیر غسل نہیں اگرچہ منی ہی دیکھ لے جیسا کہ امام علی اسبیجابی کے حوالے سے دونوں شرح نقایہ (قہستانی وبرجندی) سے نقل گزری۔
فــــ : تطفل ما علی الحلیۃ والعلامۃ قاسم۔
وفی الحلیۃ وجوب الاغتسال فیما اذا تیقن کون البلل مذیا وھو متذکر الاحتلام باجماع اصحابنا علی ما فی کثیر من الکتب المعتبرۃ وفی المصفی ذکر فی الحصر والمختلف والفتاوی الظہیریۃ اذارای مذیا وتذکر الاحتلام لاغسل علیہ عند ابی یوسف فیحتمل ان یکون عن ابی یوسف روایتان( ) اھ مختصرا۔
اقول : بل ثلث فــــ الاولی لا غسل بلا تذکر وان رأی منیا کما مرعن شرحی النقایۃ عن الامام علی الاسبیجابی “ الثانیۃ لا الا بالمنی
اسے غایۃ السروجی سے اس میں امام فقیہ ابوجعفر ہندوانی کے حوالے سے امام ثانی سے نقل کیا ہے رحمہم اللہ تعالی ۔ اور ابوالسعود میں علامہ نوح آفندی کے حوالہ سے علامہ قاسم ابن قطلوبغاسے یہ نقل ہے : میں کہتا ہوں ہوسکتاہے امام ابو یوسف سے دو۲ روایتیں ہوں اھ۔
اور حلیہ میں یہ ہے کہ اس صورت میں غسل واجب ہے جب یقین ہو کہ یہ تری مذی ہے اور اسے احتلام بھی یاد ہواس حکم پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے جیسا کہ بہت سی کتب معتبرہ میں مذکور ہے ۔ اور مصفی میں یہ لکھا ہے کہ حصر مختلف اور فتاوی ظہیریہ میں ذکر کیا ہے کہ جب مذی دیکھے اور احتلام یاد ہو تو امام ابو یوسف کے نزدیك اس پر غسل نہیں ۔ تو ہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دوروایتیں ہوں اھ مختصرا
اقول : بلکہ تین روایتیں (۱) احتلام یاد آئے بغیر غسل نہیں اگرچہ منی ہی دیکھ لے جیسا کہ امام علی اسبیجابی کے حوالے سے دونوں شرح نقایہ (قہستانی وبرجندی) سے نقل گزری۔
فــــ : تطفل ما علی الحلیۃ والعلامۃ قاسم۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۶۷
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
وان رأی المذی متذکرا و ھی “ ھذہ والثالثۃ یغتسل فی التذکر باحتمال المذی ایضا وفی عدمہ بعلم المنی وھی الاظھر الاشھر ومرویۃ الاکثر بل عند رابعۃ نحوقولھما علی ما فی القھستانی عــــہ عن العیون وغیرھا والله تعالی اعلم۔
(۲) بغیر منی دیکھے غسل نہیں اگرچہ مذی دیکھے اور احتلام بھی یاد ہو۔ یہی وہ اختلافی روایت ہے جس کا ذکر ہورہا ہے(۳) احتلام یاد ہونے کی صورت میں تری کے بارے میں مذی کا احتمال ہونے سے بھی غسل واجب ہے اور احتلام یاد نہ ہونے کی صورت میں جب تری کے منی ہونے کا یقین ہو تو غسل واجب ہے ۔ یہی اظہر واشہر اور مروی اکثر ہے ۔ بلکہ امام ابو یوسف سے ایك چوتھی روایت قول طرفین کے مطابق بھی ہے۔ جیسا کہ قہستانی میں عیون وغیرہا کے حوالے سے نقل ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
عـــــہ : حیث ذکرالوجوب عندھما بالمذی وان لم یتذکر ثم قال وکذا عند ابی یوسف اذا تذکرالاحتلام واما اذا لم یتذکر فلا غسل وفی العیون وغیرہ انہ واجب عندہ فلعل عنہ روایتین کما فی الحقائق( )اھ فالروایتان ھھنا عدم الوجوب بالمذی اذا لم یتذکر وھی المشہورۃ والوجوب بہ و ان لم
عـــــہ : اس میں یہ ذکر ہے کہ طرفین (امام اعظم و امام محمد کے نزدیك مذی سے غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو پھر یہ بتایا کہ ایسا ہی امام ابو یوسف کے نزدیك بھی ہے جب کہ احتلام یاد ہو۔ اور یاد نہ ہو تو ان کے نزدیك غسل نہیں ۔ اور عیون وغیرہ میں ہے کہ اس صورت میں بھی ان کے نزدیك غسل واجب ہے ۔ توشاید ان سے دو روایتیں ہوں جیسا کہ حقائق میں ہے اھ۔ تویہاں پر دو روایتیں یہ ہوئیں (۱) مذی سے غسل واجب نہیں جب کہ احتلام یاد نہ ہو یہی مشہور روایت(باقی برصفحہ ائندہ)
(۲) بغیر منی دیکھے غسل نہیں اگرچہ مذی دیکھے اور احتلام بھی یاد ہو۔ یہی وہ اختلافی روایت ہے جس کا ذکر ہورہا ہے(۳) احتلام یاد ہونے کی صورت میں تری کے بارے میں مذی کا احتمال ہونے سے بھی غسل واجب ہے اور احتلام یاد نہ ہونے کی صورت میں جب تری کے منی ہونے کا یقین ہو تو غسل واجب ہے ۔ یہی اظہر واشہر اور مروی اکثر ہے ۔ بلکہ امام ابو یوسف سے ایك چوتھی روایت قول طرفین کے مطابق بھی ہے۔ جیسا کہ قہستانی میں عیون وغیرہا کے حوالے سے نقل ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
عـــــہ : حیث ذکرالوجوب عندھما بالمذی وان لم یتذکر ثم قال وکذا عند ابی یوسف اذا تذکرالاحتلام واما اذا لم یتذکر فلا غسل وفی العیون وغیرہ انہ واجب عندہ فلعل عنہ روایتین کما فی الحقائق( )اھ فالروایتان ھھنا عدم الوجوب بالمذی اذا لم یتذکر وھی المشہورۃ والوجوب بہ و ان لم
عـــــہ : اس میں یہ ذکر ہے کہ طرفین (امام اعظم و امام محمد کے نزدیك مذی سے غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو پھر یہ بتایا کہ ایسا ہی امام ابو یوسف کے نزدیك بھی ہے جب کہ احتلام یاد ہو۔ اور یاد نہ ہو تو ان کے نزدیك غسل نہیں ۔ اور عیون وغیرہ میں ہے کہ اس صورت میں بھی ان کے نزدیك غسل واجب ہے ۔ توشاید ان سے دو روایتیں ہوں جیسا کہ حقائق میں ہے اھ۔ تویہاں پر دو روایتیں یہ ہوئیں (۱) مذی سے غسل واجب نہیں جب کہ احتلام یاد نہ ہو یہی مشہور روایت(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۳
اور اگر احتلام یاد نہیں تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك ان تینوں صورتوں میں اصلا غسل نہیں
وھو الاقیس وبہ اخذ الامام الاجل العارف بالله خلف بن ایوب والامام الفقیہ ابو اللیث السمرقندی کما فی الفتح وغیرہ۔
اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ اسی کو امام بزرگ عارف بالله خلف بن ایوب اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے اختیارکیا جیساکہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے ( ت)
شکل اخیر یعنی ششم میں طرفین یعنی حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہما بھی امام ابویوسف کے ساتھ ہیں یعنی جہاں نہ منی کا احتمال نہ مذی کا یقین بلکہ مذی کا احتمال ہے غسل بالاتفاق واجب نہیں ۔
فی رد المحتارلایجب اتفاقا فیما اذا شك فی الاخیرین (یعنی المذی والودی)
ردالمحتار میں ہے کہ بالاتفاق غسل واجب نہیں اس صورت میں جبکہ مذی و ودی میں شك ہو اور (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یتذکر وھی التی فی العیون وھی کما فی مذھبھما و الروایتان فی قول العلامۃ قاسم والحلیۃ الوجوب بالمذی اذا تذکر وھی المشہورۃ وعدمہ بہ وان تذکر وھی التی فی العیون فروایتا العون والعیون علی طرفی نقیض ھذا مایعطیہ سوق القھستانی والله اعلم بحقیقۃ الحال ۱۲ منہ (م)
ہے (۲) مذی سے غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ یہ وہ روایت ہے جو عیون میں ہے۔ اور یہ مذہب طرفین کے مطابق ہے۔ اور علامہ قاسم اور حلیہ کے کلام میں جو روایتیں مذکور ہوئیں وہ یہ ہیں (۱) مذی سے غسل واجب ہے۔ جب کہ احتلام یاد ہو۔ یہ وہی مشہور روایت ہے(۲) مذی سے غسل واجب نہیں اگرچہ احتلام یاد ہو۔ یہ وہ روایت ہے جو عیون میں مذکور ہے۔ تو عون اور عیون کی دونوں روایتیں بالکل ایك دوسری کی ضد ہیں ۔ قہستانی کے سیاق سے یہی حاصل ہوتاہے اور حقیقت حال خدائے برترہی کو خوب معلوم ہے ۱۲منہ ۔ (ت)
وھو الاقیس وبہ اخذ الامام الاجل العارف بالله خلف بن ایوب والامام الفقیہ ابو اللیث السمرقندی کما فی الفتح وغیرہ۔
اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ اسی کو امام بزرگ عارف بالله خلف بن ایوب اور امام فقیہ ابواللیث سمر قندی نے اختیارکیا جیساکہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے ( ت)
شکل اخیر یعنی ششم میں طرفین یعنی حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہما بھی امام ابویوسف کے ساتھ ہیں یعنی جہاں نہ منی کا احتمال نہ مذی کا یقین بلکہ مذی کا احتمال ہے غسل بالاتفاق واجب نہیں ۔
فی رد المحتارلایجب اتفاقا فیما اذا شك فی الاخیرین (یعنی المذی والودی)
ردالمحتار میں ہے کہ بالاتفاق غسل واجب نہیں اس صورت میں جبکہ مذی و ودی میں شك ہو اور (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یتذکر وھی التی فی العیون وھی کما فی مذھبھما و الروایتان فی قول العلامۃ قاسم والحلیۃ الوجوب بالمذی اذا تذکر وھی المشہورۃ وعدمہ بہ وان تذکر وھی التی فی العیون فروایتا العون والعیون علی طرفی نقیض ھذا مایعطیہ سوق القھستانی والله اعلم بحقیقۃ الحال ۱۲ منہ (م)
ہے (۲) مذی سے غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ یہ وہ روایت ہے جو عیون میں ہے۔ اور یہ مذہب طرفین کے مطابق ہے۔ اور علامہ قاسم اور حلیہ کے کلام میں جو روایتیں مذکور ہوئیں وہ یہ ہیں (۱) مذی سے غسل واجب ہے۔ جب کہ احتلام یاد ہو۔ یہ وہی مشہور روایت ہے(۲) مذی سے غسل واجب نہیں اگرچہ احتلام یاد ہو۔ یہ وہ روایت ہے جو عیون میں مذکور ہے۔ تو عون اور عیون کی دونوں روایتیں بالکل ایك دوسری کی ضد ہیں ۔ قہستانی کے سیاق سے یہی حاصل ہوتاہے اور حقیقت حال خدائے برترہی کو خوب معلوم ہے ۱۲منہ ۔ (ت)
مع عدم تذکر الاحتلام ( )۔
احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
اور شکل اول یعنی چہارم میں کہ منی کا احتمال ہو خواہ یوں کہ منی ومذی محتمل ہوں یا منی و ودی یا تینوں (اور ودی سے مراد ہر وہ تری کہ منی ومذی کے سوا ہو) ان سب صورتوں میں دونوں حضرات بالاتفاق روایات غسل واجب فرماتے ہیں ۔
فی رد المحتار یجب عندھما فیما اذا شك فی الاولین (ای المنی والمذی) اوفی الطرفین (ای المنی والودی)اوفی الثلثۃ احتیاطا ولا یجب عند ابی یوسف للشك فی وجود الموجب ( )۔
رد المحتارمیں ہے : امام اعظم و امام محمد علیہما الرحمہ کے نزدیك احتیاطا اس صورت میں غسل واجب ہے جب منی و مذی میں یا منی و ودی میں یا تینوں میں شك ہو۔ اور امام ابو یوسف کے نزدیك واجب نہیں کیونکہ موجب کے وجود میں شك ہے۔ (ت)
لیکن جہاں منی کے ساتھ مذی کا احتمال نہ ہو صرف ودی کا شبہہ ہو وجوب مطلق ہے اور جہاں مذی کا بھی شك ہو اس میں ایك صورت کا استشناء وہ یہ کہ اگر سونے سے کچھ پہلے اسے شہوت تھی ذکر قائم تھا اب جاگ کر تری دیکھی جس کا مذی ہونا محتمل ہے اور احتلام یاد نہیں تو اسے مذی ہی قرار دیں گے غسل واجب نہ کریں گے جب تك اس کے منی ہونے کا ظن غالب نہ ہو اور اگر ایسا نہ تھا یعنی نیند سے پہلے شہوت ہی نہ تھی یا تھی اور اسے بہت دیر گزر گئی۔ مذی جو اس سے نکلنی تھی نکل کر صاف ہوچکی اس کے بعد سویا اور تری مذکور پائی جس کا منی ومذی ہونا مشکوك ہے تو بدستور صرف اسی احتمال پر غسل واجب کردیں گے منی کے غالب ظن کی ضرورت نہ جانیں گے صور استثناء کہ مذکور ہوئے یاد رکھئے کہ آئندہ اس پر بحث ہونے والی ہے ان شاء الله تعالی۔
اب رہی شکل ثانی یعنی پنجم کہ مذی کا یقین ہو اس میں طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے بیان مذہب میں علماء کا اختلاف شدید ہے بہت اکابر نے جزم فرمایا کہ اس صورت میں بھی مثل صورت ششم غسل واجب نہ ہونے پر ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہم کا اتفاق ہےمبسوط امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ و۲ محیط امام برہان الدین و۳ مغنی و۴مصفی للامام النسفی و۵فتح القدیر نقلا و ۶ منیۃ المصلی و ۷شرح نقایہ للعلامۃ البرجندی و۸جامع الرموز للعلامۃ القہستانی و ۹حاشیہ الفاضل عبدالحلیم الرومی علی الدرر والغرر و۱۰بحر الرائق و۱۱ نہرالفائق و۱۲ در مختار و۱۳حواشی الدر
احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
اور شکل اول یعنی چہارم میں کہ منی کا احتمال ہو خواہ یوں کہ منی ومذی محتمل ہوں یا منی و ودی یا تینوں (اور ودی سے مراد ہر وہ تری کہ منی ومذی کے سوا ہو) ان سب صورتوں میں دونوں حضرات بالاتفاق روایات غسل واجب فرماتے ہیں ۔
فی رد المحتار یجب عندھما فیما اذا شك فی الاولین (ای المنی والمذی) اوفی الطرفین (ای المنی والودی)اوفی الثلثۃ احتیاطا ولا یجب عند ابی یوسف للشك فی وجود الموجب ( )۔
رد المحتارمیں ہے : امام اعظم و امام محمد علیہما الرحمہ کے نزدیك احتیاطا اس صورت میں غسل واجب ہے جب منی و مذی میں یا منی و ودی میں یا تینوں میں شك ہو۔ اور امام ابو یوسف کے نزدیك واجب نہیں کیونکہ موجب کے وجود میں شك ہے۔ (ت)
لیکن جہاں منی کے ساتھ مذی کا احتمال نہ ہو صرف ودی کا شبہہ ہو وجوب مطلق ہے اور جہاں مذی کا بھی شك ہو اس میں ایك صورت کا استشناء وہ یہ کہ اگر سونے سے کچھ پہلے اسے شہوت تھی ذکر قائم تھا اب جاگ کر تری دیکھی جس کا مذی ہونا محتمل ہے اور احتلام یاد نہیں تو اسے مذی ہی قرار دیں گے غسل واجب نہ کریں گے جب تك اس کے منی ہونے کا ظن غالب نہ ہو اور اگر ایسا نہ تھا یعنی نیند سے پہلے شہوت ہی نہ تھی یا تھی اور اسے بہت دیر گزر گئی۔ مذی جو اس سے نکلنی تھی نکل کر صاف ہوچکی اس کے بعد سویا اور تری مذکور پائی جس کا منی ومذی ہونا مشکوك ہے تو بدستور صرف اسی احتمال پر غسل واجب کردیں گے منی کے غالب ظن کی ضرورت نہ جانیں گے صور استثناء کہ مذکور ہوئے یاد رکھئے کہ آئندہ اس پر بحث ہونے والی ہے ان شاء الله تعالی۔
اب رہی شکل ثانی یعنی پنجم کہ مذی کا یقین ہو اس میں طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے بیان مذہب میں علماء کا اختلاف شدید ہے بہت اکابر نے جزم فرمایا کہ اس صورت میں بھی مثل صورت ششم غسل واجب نہ ہونے پر ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہم کا اتفاق ہےمبسوط امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ و۲ محیط امام برہان الدین و۳ مغنی و۴مصفی للامام النسفی و۵فتح القدیر نقلا و ۶ منیۃ المصلی و ۷شرح نقایہ للعلامۃ البرجندی و۸جامع الرموز للعلامۃ القہستانی و ۹حاشیہ الفاضل عبدالحلیم الرومی علی الدرر والغرر و۱۰بحر الرائق و۱۱ نہرالفائق و۱۲ در مختار و۱۳حواشی الدر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
للسید الحلبی و۱۴السید الطحطاوی و۱۵السید الشامی و۱۶مسکین علی الکنز و۱۷فتح المعین للسید الازہری و ۱۸تعلیقات ابیہ السید علی بن علی بن علی بن ابی الخیر الحسینی و۱۹رحمانیہ و۲۰ہندیہ و۲۱طحطاوی علی مراقی الفلاح و۲۲منحۃالخالق اسی طرف ہیں ۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
ان رأی بللا الا انہ لم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ مذی لایجب الغسل وان شك انہ منی اومذی قال ابو یوسف رحمہ الله تعالی لایجب حتی یتیقن بالاحتلام وقالا یجب ھکذا ذکرہ شیخ الاسلام کذا فی المحیط ( )۔
اگر تری دیکھے مگر احتلام یاد نہ آئے تو اگر یقین ہے کہ تری مذی ہے تو غسل واجب نہیں ۔ اور اگر شك ہے کہ وہ منی ہے یا مذی ہے تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ غسل واجب نہیں جب تك احتلام کا یقین نہ ہو۔ اور طرفین نے فرمایا : واجب ہے۔ ایسا ہی شیخ الاسلام نے ذکر کیا۔ ایسا ہی محیط میں ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لایجب الغسل اتفاقا فیما اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر الاحتلام( )۔
اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب نہیں جب تری کے مذی ہونے کا یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
درمختار میں دربارہ عدم تذکر احتلام ہے :
اذا علم انہ مذی فلا غسل علیہ اتفاقا ( )۔
جب یقین ہو کہ یہ تری مذی ہے بالاتفاق اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لایجب اتفاقا فیما اذا علم انہ مذی مع عدم تذکر الاحتلام( )۔
اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب نہیں جب اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
ان رأی بللا الا انہ لم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ مذی لایجب الغسل وان شك انہ منی اومذی قال ابو یوسف رحمہ الله تعالی لایجب حتی یتیقن بالاحتلام وقالا یجب ھکذا ذکرہ شیخ الاسلام کذا فی المحیط ( )۔
اگر تری دیکھے مگر احتلام یاد نہ آئے تو اگر یقین ہے کہ تری مذی ہے تو غسل واجب نہیں ۔ اور اگر شك ہے کہ وہ منی ہے یا مذی ہے تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ غسل واجب نہیں جب تك احتلام کا یقین نہ ہو۔ اور طرفین نے فرمایا : واجب ہے۔ ایسا ہی شیخ الاسلام نے ذکر کیا۔ ایسا ہی محیط میں ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لایجب الغسل اتفاقا فیما اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر الاحتلام( )۔
اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب نہیں جب تری کے مذی ہونے کا یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
درمختار میں دربارہ عدم تذکر احتلام ہے :
اذا علم انہ مذی فلا غسل علیہ اتفاقا ( )۔
جب یقین ہو کہ یہ تری مذی ہے بالاتفاق اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لایجب اتفاقا فیما اذا علم انہ مذی مع عدم تذکر الاحتلام( )۔
اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب نہیں جب اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ ، الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
بحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۶
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۱۱۰
بحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۶
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۱۱۰
بعینہ اسی طرح منحۃ الخالق میں ہے حاشیہ طحطاوی میں ہے :
اذا علم انہ مذی مع عدم التذکر لایجب الغسل اتفاقا ( )۔
جب یقین ہو کہ وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو تو بالاتفاق غسل واجب نہیں ۔ (ت)
برجندی میں ہے :
ذکر فی المبسوط والمحیط والمغنی ھھنا تفصیلات وھو انہ اذا استیقظ ورأی بللا ولم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ مذی لایجب الغسل وان تیقن انہ منی یجب وان شك انہ مذی اومنی قال ابو یوسف لایجب وقالا یجب ( )۔
مبسوط محیط اور مغنی میں یہاں کچھ تفصیلات ذکر کی ہیں وہ یہ کہ جب بیدار ہو کر تری دیکھے اور احتلام یاد نہ ہوتو اگر اسے یقین ہو کہ یہ منی ہے تو واجب اور اگر شك ہو کہ مذی ہے یا منی تو امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں اور طرفین نے فرمایا : واجب ہے ۔ (ت)
رحمانیہ میں محیط سے ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ او فخذہ بللا ولم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ منی یجب الغسل والا لایجب وان شك انہ منی اومذی قال ابو یوسف لایجب الغسل ( ) اھ
اقول : فی قولہ فـــ والا لایجب تدافع ظاھر مع مسألۃ الشك ولعل الجواب انھا حلت
بیدار ہونے کے بعد اپنے بستر یا ران پر تری پائی اور احتلام یاد نہیں تو اگر اسے یقین ہوکہ یہ تری منی ہے تو غسل واجب ہے ورنہ (اگر ایسا نہیں تو)واجب نہیں ۔ اور اگر شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں اھ ۔ (ت)
اقول : ان کی عبارت “ والا لایجب “ ورنہ واجب نہیں میں مسألہ شك کے ساتھ کھلا ہوا ٹکراؤ ہے (اول سے معلوم ہوا کہ منی کا
فـــ : تطفل علی المحیط
اذا علم انہ مذی مع عدم التذکر لایجب الغسل اتفاقا ( )۔
جب یقین ہو کہ وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو تو بالاتفاق غسل واجب نہیں ۔ (ت)
برجندی میں ہے :
ذکر فی المبسوط والمحیط والمغنی ھھنا تفصیلات وھو انہ اذا استیقظ ورأی بللا ولم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ مذی لایجب الغسل وان تیقن انہ منی یجب وان شك انہ مذی اومنی قال ابو یوسف لایجب وقالا یجب ( )۔
مبسوط محیط اور مغنی میں یہاں کچھ تفصیلات ذکر کی ہیں وہ یہ کہ جب بیدار ہو کر تری دیکھے اور احتلام یاد نہ ہوتو اگر اسے یقین ہو کہ یہ منی ہے تو واجب اور اگر شك ہو کہ مذی ہے یا منی تو امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں اور طرفین نے فرمایا : واجب ہے ۔ (ت)
رحمانیہ میں محیط سے ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ او فخذہ بللا ولم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ منی یجب الغسل والا لایجب وان شك انہ منی اومذی قال ابو یوسف لایجب الغسل ( ) اھ
اقول : فی قولہ فـــ والا لایجب تدافع ظاھر مع مسألۃ الشك ولعل الجواب انھا حلت
بیدار ہونے کے بعد اپنے بستر یا ران پر تری پائی اور احتلام یاد نہیں تو اگر اسے یقین ہوکہ یہ تری منی ہے تو غسل واجب ہے ورنہ (اگر ایسا نہیں تو)واجب نہیں ۔ اور اگر شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں اھ ۔ (ت)
اقول : ان کی عبارت “ والا لایجب “ ورنہ واجب نہیں میں مسألہ شك کے ساتھ کھلا ہوا ٹکراؤ ہے (اول سے معلوم ہوا کہ منی کا
فـــ : تطفل علی المحیط
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۹۳
شرح نقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۳۰
رحمانیہ
شرح نقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۳۰
رحمانیہ
محل الاستثناء ویعکرہ لزوم ان لایجب وفاقا اذا شك انہ منی او ودی لانہ لم یستثن الا الشك فی المنی والمذی الا ان یقال ان المراد بالمذی غیر المنی وھو ظاھر البعد والاولی ان یقال ان اصل قولہ والا لایجب وان لامفصولا والتقدیر وان تیقن انہ لامنی لایجب۔
یقین ہونے کی صورت میں ۔ جس میں صورت شك بھی داخل ہے۔ بالاتفاق غسل واجب نہیں اور مسئلہ شك سے معلوم ہو اکہ طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے)شاید اس کا یہ جواب دیا جائے کہ مسئلہ شك استثناء کے قائم مقام ہے ( یعنی صوت شك کے سوا اور صورتوں میں بالاتفاق غسل واجب نہیں ) مگراس جواب پر یہ اعتراض پڑتاہے کہ پھر لازم ہے کہ اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب نہ ہو جب منی یا ودی ہونے میں شك ہو کیونکہ استثناء صرف منی اور مذی میں شك کی صورت کا ہوا۔ مگر اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ مذی سے مراد غیر منی ہے خواہ ودی ہی ہو۔ اور اس مراد کا بعید ہونا ظاہر ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ ان کے قول “ والا لایجب “ کی اصل “ وان لا “ فصل کے ساتھ ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی کہ وان تیقن انہ لامنی لایجب ۔ اور اگر یقین ہو کہ وہ منی نہیں تو غسل واجب نہیں ۔ (ت)
شرح الکنز للعلامۃ مسکین میں ہے :
اذا لم یتذکر الاحتلام وتیقن انہ مذی فلا غسل علیہ( )۔
جب احتلام یاد نہ ہواوریقین ہوکہ یہ تری مذی کی ہے تو اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
ابو السعود میں ہے :
اما صور مالا یجب فیھا الغسل اتفاقا فاربعۃ (الی قولہ) الثالثۃ علم
لیکن بالاتفاق غسل واجب نہ ہونے کی چار صورتیں ہیں - تیسری صورت یہ کہ مذی ہونے کا
یقین ہونے کی صورت میں ۔ جس میں صورت شك بھی داخل ہے۔ بالاتفاق غسل واجب نہیں اور مسئلہ شك سے معلوم ہو اکہ طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے)شاید اس کا یہ جواب دیا جائے کہ مسئلہ شك استثناء کے قائم مقام ہے ( یعنی صوت شك کے سوا اور صورتوں میں بالاتفاق غسل واجب نہیں ) مگراس جواب پر یہ اعتراض پڑتاہے کہ پھر لازم ہے کہ اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب نہ ہو جب منی یا ودی ہونے میں شك ہو کیونکہ استثناء صرف منی اور مذی میں شك کی صورت کا ہوا۔ مگر اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ مذی سے مراد غیر منی ہے خواہ ودی ہی ہو۔ اور اس مراد کا بعید ہونا ظاہر ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ ان کے قول “ والا لایجب “ کی اصل “ وان لا “ فصل کے ساتھ ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی کہ وان تیقن انہ لامنی لایجب ۔ اور اگر یقین ہو کہ وہ منی نہیں تو غسل واجب نہیں ۔ (ت)
شرح الکنز للعلامۃ مسکین میں ہے :
اذا لم یتذکر الاحتلام وتیقن انہ مذی فلا غسل علیہ( )۔
جب احتلام یاد نہ ہواوریقین ہوکہ یہ تری مذی کی ہے تو اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
ابو السعود میں ہے :
اما صور مالا یجب فیھا الغسل اتفاقا فاربعۃ (الی قولہ) الثالثۃ علم
لیکن بالاتفاق غسل واجب نہ ہونے کی چار صورتیں ہیں - تیسری صورت یہ کہ مذی ہونے کا
حوالہ / References
شرح الکنزلملا مسکین علی ھامش فتح المعین کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۹
انہ مذی ولم یتذکر ( )۔
یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
حلیمی علی الدرر میں ہے :
لاغسل علیہ ان تیقن انہ مذی وکذا لوشك انہ مذی او ودی ولم یتذکر الاحتلام( )۔
اس پر غسل واجب نہیں اگر اسے یقین ہو کہ یہ مذی ہے اسی طرح اگراسے شك ہو کہ مذی ہے یا ودی اور احتلام یاد نہ ہو۔ ( ت)
فتح القدیر میں ہے :
مستیقظ وجد فی ثوبہ اوفخذہ بللا ولم یتذکر احتلاما لوتیقن انہ مذی لایجب اتفاقا لکن التیقن متعذر مع النوم ( ) اھ۔
بیدار ہونے والے نے اپنے کپڑے یا ران میں تری پائی اور احتلام یاد نہیں تو اگر اسے یقین ہوکہ وہ مذی ہے تو بالاتفاق غسل واجب نہیں ۔ لیکن سونے کے باوجود اس بات کا یقین متعذر ہے۔ ( ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
لایجب الغسل اتفاقا فیما اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر والمراد بالتیقن غلبۃ الظن لان حقیقۃ الیقین متعذرۃ مع النوم ( )۔
اقول : کانہ یشیر الی الجواب عما اورد المحقق وما کان المحقق لیغفل عن مثل ھذا وانما ھو لتحقیق انیق سنعود الیہ بتوفیق من لا توفیق الا من
بالاتفاق غسل واجب نہیں اس صورت میں جب کہ اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو اور یقین سے مراد غلبہ ظن ہے اس لئے کہ حقیقت یقین باوجود نیند کے متعذر ہے ۔
اقول : گویا یہ حضرت محقق کے اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے اور حضرت محقق اس طرح کی بات سے غافل رہنے والے نہیں دراصل ان کی عبارات ایك دلکش تحقیق کے پیش نظر ہے آگے ہم اس کی طرف لوٹیں گے اس کی
یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
حلیمی علی الدرر میں ہے :
لاغسل علیہ ان تیقن انہ مذی وکذا لوشك انہ مذی او ودی ولم یتذکر الاحتلام( )۔
اس پر غسل واجب نہیں اگر اسے یقین ہو کہ یہ مذی ہے اسی طرح اگراسے شك ہو کہ مذی ہے یا ودی اور احتلام یاد نہ ہو۔ ( ت)
فتح القدیر میں ہے :
مستیقظ وجد فی ثوبہ اوفخذہ بللا ولم یتذکر احتلاما لوتیقن انہ مذی لایجب اتفاقا لکن التیقن متعذر مع النوم ( ) اھ۔
بیدار ہونے والے نے اپنے کپڑے یا ران میں تری پائی اور احتلام یاد نہیں تو اگر اسے یقین ہوکہ وہ مذی ہے تو بالاتفاق غسل واجب نہیں ۔ لیکن سونے کے باوجود اس بات کا یقین متعذر ہے۔ ( ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
لایجب الغسل اتفاقا فیما اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر والمراد بالتیقن غلبۃ الظن لان حقیقۃ الیقین متعذرۃ مع النوم ( )۔
اقول : کانہ یشیر الی الجواب عما اورد المحقق وما کان المحقق لیغفل عن مثل ھذا وانما ھو لتحقیق انیق سنعود الیہ بتوفیق من لا توفیق الا من
بالاتفاق غسل واجب نہیں اس صورت میں جب کہ اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو اور یقین سے مراد غلبہ ظن ہے اس لئے کہ حقیقت یقین باوجود نیند کے متعذر ہے ۔
اقول : گویا یہ حضرت محقق کے اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے اور حضرت محقق اس طرح کی بات سے غافل رہنے والے نہیں دراصل ان کی عبارات ایك دلکش تحقیق کے پیش نظر ہے آگے ہم اس کی طرف لوٹیں گے اس کی
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۸ ، ۵۹
حاشیۃ الدررعلی الغررلعبد الحلیم دار سعادت ۱ / ۱۵
فتح القدیر ، کتاب الطہارات فصل فی الغسل ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۵۴
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹
حاشیۃ الدررعلی الغررلعبد الحلیم دار سعادت ۱ / ۱۵
فتح القدیر ، کتاب الطہارات فصل فی الغسل ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۵۴
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹
لدیہ۔
توفیق جس کے سوا اور کسی سے توفیق نہیں ۔ (ت)
منیہ میں ہے :
ان تیقن انہ مذی فلا غسل علیہ اذا لم یتذکر الاحتلام ( )۔
اگر یقین ہوکہ وہ مذی ہے تواس پر غسل نہیں جب کہ احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
مصفی میں ہے :
ان رای بللا ولم یتذکر الاحتلام ان تیقن انہ ودی او مذی لایجب الغسل وان تیقن انہ منی یجب وان شك انہ منی اومذی قال ابو یوسف لایجب حتی تیقن بالاحتلام وقالا یجب کذافی المحیط والمغنی ومبسوط شیخ الاسلام وفتاوی قاضی خان والخلاصۃ( )۔
تری دیکھی اور احتلام یاد نہیں اگر یقین ہو کہ وہ ودی یا مذی ہے تو غسل واجب نہیں ۔ اور اگر یقین ہو کہ منی ہے تو واجب ہے۔ اور اگر شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں یہاں تك کہ احتلام کا یقین ہو اور طرفین نے فرمایا : واجب ہے ۔ ایسا ہی محیط مغنی مبسوط شیخ الاسلام فتاوی قاضی خان اور خلاصہ میں ہے۔ (ت)
حلیہ میں یہ کلام مصفی نقل کرکے فرمایا :
لیس فی الفتاوی الخانیۃ ولا الخلاصۃ ذلك کما ذکرہ مطلقا وکذا لیس فی محیط رضی الدین واما المغنی ومبسوط شیخ الاسلام فلم اقف علیہا ( )اھ۔
اقول : اما المبسوط فقد قدمنا نقلہ عن الہندیۃ عن المحیط عن المبسوط وکذا عن البرجندی عن المبسوط وکذلك عنہ عن المغنی
فتاوی خانیہ اور خلاصہ میں یہ اس طرح نہیں جیسے انہوں نے مطلقا ذکر کیا ہے ایسے ہی محیط رضی الدین میں بھی نہیں اور مغنی و مبسوط شیخ الاسلام سے متعلق مجھے اطلاع نہیں اھ۔ (ت)
اقول : مبسوط کی عبارت تو پہلے ہم ہندیہ کے حوالے سے نقل کرآئے ہیں ہندیہ میں محیط اس میں مبسوط سے نقل ہے اسی طرح برجندی کے حوالہ سے مبسوط سے اور ایسے ہی بحوالہ برجندی مغنی سے نقل گزرچکی ہے۔ اور محیط سے مراد
توفیق جس کے سوا اور کسی سے توفیق نہیں ۔ (ت)
منیہ میں ہے :
ان تیقن انہ مذی فلا غسل علیہ اذا لم یتذکر الاحتلام ( )۔
اگر یقین ہوکہ وہ مذی ہے تواس پر غسل نہیں جب کہ احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
مصفی میں ہے :
ان رای بللا ولم یتذکر الاحتلام ان تیقن انہ ودی او مذی لایجب الغسل وان تیقن انہ منی یجب وان شك انہ منی اومذی قال ابو یوسف لایجب حتی تیقن بالاحتلام وقالا یجب کذافی المحیط والمغنی ومبسوط شیخ الاسلام وفتاوی قاضی خان والخلاصۃ( )۔
تری دیکھی اور احتلام یاد نہیں اگر یقین ہو کہ وہ ودی یا مذی ہے تو غسل واجب نہیں ۔ اور اگر یقین ہو کہ منی ہے تو واجب ہے۔ اور اگر شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں یہاں تك کہ احتلام کا یقین ہو اور طرفین نے فرمایا : واجب ہے ۔ ایسا ہی محیط مغنی مبسوط شیخ الاسلام فتاوی قاضی خان اور خلاصہ میں ہے۔ (ت)
حلیہ میں یہ کلام مصفی نقل کرکے فرمایا :
لیس فی الفتاوی الخانیۃ ولا الخلاصۃ ذلك کما ذکرہ مطلقا وکذا لیس فی محیط رضی الدین واما المغنی ومبسوط شیخ الاسلام فلم اقف علیہا ( )اھ۔
اقول : اما المبسوط فقد قدمنا نقلہ عن الہندیۃ عن المحیط عن المبسوط وکذا عن البرجندی عن المبسوط وکذلك عنہ عن المغنی
فتاوی خانیہ اور خلاصہ میں یہ اس طرح نہیں جیسے انہوں نے مطلقا ذکر کیا ہے ایسے ہی محیط رضی الدین میں بھی نہیں اور مغنی و مبسوط شیخ الاسلام سے متعلق مجھے اطلاع نہیں اھ۔ (ت)
اقول : مبسوط کی عبارت تو پہلے ہم ہندیہ کے حوالے سے نقل کرآئے ہیں ہندیہ میں محیط اس میں مبسوط سے نقل ہے اسی طرح برجندی کے حوالہ سے مبسوط سے اور ایسے ہی بحوالہ برجندی مغنی سے نقل گزرچکی ہے۔ اور محیط سے مراد
حوالہ / References
منیہ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۳۳
مصفی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مصفی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
والمراد فــــ۱بالمحیط المحیط البرھانی لاالرضوی وقد تقدم النقل عنہ عن الھندیۃ وعن البرجندی نعم لم ار ھذا فی الخانیۃ بل الواقع فیھا فــــ۲خلاف ھذا کما سیاتی ان شاء الله تعالی واما الخلاصۃ فنصہا علی ما فی نسختی ھکذا ان احتلم ولم یرشیا لاغسل علیہ بالاتفاق وان تذکر الاحتلام ورأی بللا ان کان ودیا لایجب الغسل بلا خلاف وان کان مذیا اومنیا یجب الغسل بالاجماع ولسنا نوجب الغسل بالمذی لکن المنی یرق باطالۃ المدۃ فکان مرادہ مایکون صورتہ المذی لاحقیقۃ المذی الثالث اذا رأی البلل علی فراشہ ولم یتذکر الاحتلام عندھما یجب علیہ الغسل وعند ابی یوسف لاغسل علیہ ( ) اھ وھو فــــ۳ فیما اری عار عن ذکر المسألۃ اصلا
فان قلت بل فیہ خلاف ما فی المصفی
محیط برہانی ہے محیط رضوی نہیں ۔ اور اس سے نقل ہندیہ کے حوالے سے اور برجندی کے حوالے سے بلکہ اس میں اس کے بخلاف واقع ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله آئے گا ۔ رہا خلاصہ تو میرے نسخہ میں اس کی عبارت اس طرح ہے : اگر خواب دیکھا اور کوئی تری نہ پائی تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں اور اگر خواب دیکھنا یاد ہے اور تری بھی پائی اگر وہ ودی ہو تو بلااختلاف غسل واجب نہیں اور اگر مذی یا منی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کرتے لیکن بات یہ ہے کہ دیر ہوجانے سے منی رقیق ہوجاتی ہے ۔ تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے حقیقت مذی مراد نہیں ۔ سوم جب اپنے بستر پر تری دیکھے اور احتلام یاد نہیں تو طرفین کے نزدیك اس پر غسل واجب ہے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اس پر غسل نہیں اھ میرا خیال ہے کہ زیر بحث مسئلہ کا اس عبارت میں سرے سے کوئی تذکرہ ہی نہیں ۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ اس میں مصفی کے برخلاف
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ
فــــ۲ : تطفل علی مصفی الامام النسفی ۔
فـــ ۳ : تطفل آخر علیہ ۔
فان قلت بل فیہ خلاف ما فی المصفی
محیط برہانی ہے محیط رضوی نہیں ۔ اور اس سے نقل ہندیہ کے حوالے سے اور برجندی کے حوالے سے بلکہ اس میں اس کے بخلاف واقع ہے جیسا کہ آگے ان شاء الله آئے گا ۔ رہا خلاصہ تو میرے نسخہ میں اس کی عبارت اس طرح ہے : اگر خواب دیکھا اور کوئی تری نہ پائی تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں اور اگر خواب دیکھنا یاد ہے اور تری بھی پائی اگر وہ ودی ہو تو بلااختلاف غسل واجب نہیں اور اگر مذی یا منی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کرتے لیکن بات یہ ہے کہ دیر ہوجانے سے منی رقیق ہوجاتی ہے ۔ تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے حقیقت مذی مراد نہیں ۔ سوم جب اپنے بستر پر تری دیکھے اور احتلام یاد نہیں تو طرفین کے نزدیك اس پر غسل واجب ہے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اس پر غسل نہیں اھ میرا خیال ہے کہ زیر بحث مسئلہ کا اس عبارت میں سرے سے کوئی تذکرہ ہی نہیں ۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ اس میں مصفی کے برخلاف
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ
فــــ۲ : تطفل علی مصفی الامام النسفی ۔
فـــ ۳ : تطفل آخر علیہ ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثانی فی الغسل مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳
حیث ارسل البلل ارسالا فشمل المذی وقد اوجب فیہ الغسل مع عدم التذکر ومثلہ مافی الخانیۃ عن مبسوط الامام محرر المذھب محمد بن الحسن رضی الله تعالی عنہ حیث قال وفی صلاۃ الاصل اذا استیقظ وعندہ انہ لم یحتلم و وجد بللا علیہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما الله تعالی( ) ۔
قلت : لا تعجل و اورد الکلام موردہ فانہ اما ان یکون المراد بلل معلوم الحقیقۃ اوغیر معلومھا او اعم لاسبیل الی الاول لانہ ارسل البلل ارسالا فیشمل ما اذا علم انہ منی ولیس مرادا قطعا لان فیہ الغسل بلاخلاف وما اذا علم انہ ودی ولیس مرادا قطعا اذ لا غسل فیہ بالاتفاق ولا الی الثالث لشمولہ الاول فیعود المحذوران فتعین الثانی وکانہ لھذا ابھم وارشد بالابہام اللفظی الی الابہام المعنوی
تذکرہ موجود ہے کیونکہ اس میں تری کو بغیر کسی قید کے مطلق ذکرکیا ہے تو یہ مذی کو بھی شامل ہے اور اس میں یاد نہ ہونے کے باوجود غسل واجب کیا ہے ۔ اسی کے مثل وہ بھی ہے جو خانیہ میں محرر مذہب امام محمد بن الحسن رضی اللہ تعالی عنہ کی مبسوط سے نقل ہے۔ امام قاضی خاں فرماتے ہیں : مبسوط کتاب الصلوۃ میں ہے : جب بیدار ہو اور اس کے خیال میں یہ ہے کہ اس نے خواب نہ دیکھا اور اس نے تری پائی تو اس پر امام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے قول پر غسل واجب ہے۔
تومیں کہوں گا جلدی نہ کرو اور کلام کو اس کے مورد ہی پر وارد کرو۔ اس لئے کہ یا تو ایسی تری مراد ہے جس کی حقیقت معلوم ہے یا نہ معلوم ہے یا وہ جو دونوں سے عام ہے اول ماننے کی کوئی سبیل نہیں اس لئے کہ اس میں تری کو مطلق ذکر کیا ہے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب یقین ہو کہ وہ منی ہے اور یہ قطعا مراد نہیں اس لئے کہ اس میں بلا اختلاف غسل ہے اور اس صورت کو بھی شامل ہے جب یقین ہوکہ وہ ودی ہے ۔ اور یہ بھی قطعا مراد نہیں اس لئے کہ اس میں بالاتفاق غسل نہیں ہے۔ اور سوم ماننے کی بھی گنجائش نہیں اس لئے کہ وہ اول کو بھی شامل ہے تو اس کے تحت جو دونوں خرابیاں ہیں وہ پھر لوٹ آئیں گی اب دوسری صورت متعین ہوگئی شاید اسی لئے امام محمد نے ابہام رکھا اور لفظی ابہام سے معنوی ابہام
قلت : لا تعجل و اورد الکلام موردہ فانہ اما ان یکون المراد بلل معلوم الحقیقۃ اوغیر معلومھا او اعم لاسبیل الی الاول لانہ ارسل البلل ارسالا فیشمل ما اذا علم انہ منی ولیس مرادا قطعا لان فیہ الغسل بلاخلاف وما اذا علم انہ ودی ولیس مرادا قطعا اذ لا غسل فیہ بالاتفاق ولا الی الثالث لشمولہ الاول فیعود المحذوران فتعین الثانی وکانہ لھذا ابھم وارشد بالابہام اللفظی الی الابہام المعنوی
تذکرہ موجود ہے کیونکہ اس میں تری کو بغیر کسی قید کے مطلق ذکرکیا ہے تو یہ مذی کو بھی شامل ہے اور اس میں یاد نہ ہونے کے باوجود غسل واجب کیا ہے ۔ اسی کے مثل وہ بھی ہے جو خانیہ میں محرر مذہب امام محمد بن الحسن رضی اللہ تعالی عنہ کی مبسوط سے نقل ہے۔ امام قاضی خاں فرماتے ہیں : مبسوط کتاب الصلوۃ میں ہے : جب بیدار ہو اور اس کے خیال میں یہ ہے کہ اس نے خواب نہ دیکھا اور اس نے تری پائی تو اس پر امام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے قول پر غسل واجب ہے۔
تومیں کہوں گا جلدی نہ کرو اور کلام کو اس کے مورد ہی پر وارد کرو۔ اس لئے کہ یا تو ایسی تری مراد ہے جس کی حقیقت معلوم ہے یا نہ معلوم ہے یا وہ جو دونوں سے عام ہے اول ماننے کی کوئی سبیل نہیں اس لئے کہ اس میں تری کو مطلق ذکر کیا ہے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب یقین ہو کہ وہ منی ہے اور یہ قطعا مراد نہیں اس لئے کہ اس میں بلا اختلاف غسل ہے اور اس صورت کو بھی شامل ہے جب یقین ہوکہ وہ ودی ہے ۔ اور یہ بھی قطعا مراد نہیں اس لئے کہ اس میں بالاتفاق غسل نہیں ہے۔ اور سوم ماننے کی بھی گنجائش نہیں اس لئے کہ وہ اول کو بھی شامل ہے تو اس کے تحت جو دونوں خرابیاں ہیں وہ پھر لوٹ آئیں گی اب دوسری صورت متعین ہوگئی شاید اسی لئے امام محمد نے ابہام رکھا اور لفظی ابہام سے معنوی ابہام
حوالہ / References
فتاوی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نو لکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
فالمعنی رأی بللا لایدری ماھو فھذہ صورۃ الشك فی انہ منی اوغیرہ ولا مساس لھا بصورۃ علم المذی ونظیرہ قول مسکین اذا استیقظ فوجد فی احلیلہ بللا ( ) اھ فقال ابو السعود وشك فی کونہ منیا اومذیا خانیۃ( )اھ وقول المنیۃ ان استیقظ فوجد فی احلیلہ بللا ( ) الخ فقال فی الغنیۃ لایدری ا منی ھو ام مذی ( )اھ
اقول : وبہ فــــ ظھر الجواب عن ایراد الحلیۃ بقولہ انت علیم بما فی ھذا الاطلاق فانہ یشتمل المنی والمذی ولاشك ان المنی غیر مراد منہ بالاتفاق فلاجرم ان ذکر المصنف انہ لوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل ( ) اھ ونظائر ھذا کثیر فی کلامھم غیر یسیر۔
کی جانب رہنمائی فرمائی۔ تو معنی یہ ہے کہ ایسی تری دیکھی جس کے بارے میں اسے پتہ نہیں کہ وہ کیا ہے تو یہ اس تری کے منی یا غیر منی ہونے میں شك کی صورت ہوئی۔ اور اسے مذی کے یقین کی صورت سے کوئی مس نہیں ۔ اسی کی نظیر مسکین کی یہ عبارت ہے : اگر بیدارہونے کے بعد ذکر کی نالی میں تری پائی الخ اس پر ابو السعود نے لکھا : اور اس کے منی یا مذی ہونے میں اسے شك ہوا-خانیہ - اھ۔ اور اسی طرح منیہ کی یہ عبارت ہے : اگر بیدار ہونے کے بعد ذکر کی نالی میں تری پائی الخ ۔ اس پر غنیہ میں لکھا : اور اسے پتہ نہیں کہ وہ منی ہے یا مذی اھ
اقول : اسی سے حلیہ کے اس اعتراض کا جواب بھی واضح ہوگیا جو ان الفاظ میں ہے : اس اطلاق میں جو خامی ہے وہ تمہیں معلوم ہے اس لئے کہ وہ منی و مذی دونوں کو شامل ہے۔ اور بلا شبہ اس سے منی بالاتفاق مراد نہیں تو لا محالہ مصنف نے یہ ذکر فرمایا کہ اگر اسے منی ہونے کا یقین ہے تو اس پر غسل ہے اھ۔ اور اس کی نظیریں کلام علماء میں ایك دو نہیں بہت ہیں ۔ (ت)
فــــ : تطفل علی الحلیۃ
اقول : وبہ فــــ ظھر الجواب عن ایراد الحلیۃ بقولہ انت علیم بما فی ھذا الاطلاق فانہ یشتمل المنی والمذی ولاشك ان المنی غیر مراد منہ بالاتفاق فلاجرم ان ذکر المصنف انہ لوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل ( ) اھ ونظائر ھذا کثیر فی کلامھم غیر یسیر۔
کی جانب رہنمائی فرمائی۔ تو معنی یہ ہے کہ ایسی تری دیکھی جس کے بارے میں اسے پتہ نہیں کہ وہ کیا ہے تو یہ اس تری کے منی یا غیر منی ہونے میں شك کی صورت ہوئی۔ اور اسے مذی کے یقین کی صورت سے کوئی مس نہیں ۔ اسی کی نظیر مسکین کی یہ عبارت ہے : اگر بیدارہونے کے بعد ذکر کی نالی میں تری پائی الخ اس پر ابو السعود نے لکھا : اور اس کے منی یا مذی ہونے میں اسے شك ہوا-خانیہ - اھ۔ اور اسی طرح منیہ کی یہ عبارت ہے : اگر بیدار ہونے کے بعد ذکر کی نالی میں تری پائی الخ ۔ اس پر غنیہ میں لکھا : اور اسے پتہ نہیں کہ وہ منی ہے یا مذی اھ
اقول : اسی سے حلیہ کے اس اعتراض کا جواب بھی واضح ہوگیا جو ان الفاظ میں ہے : اس اطلاق میں جو خامی ہے وہ تمہیں معلوم ہے اس لئے کہ وہ منی و مذی دونوں کو شامل ہے۔ اور بلا شبہ اس سے منی بالاتفاق مراد نہیں تو لا محالہ مصنف نے یہ ذکر فرمایا کہ اگر اسے منی ہونے کا یقین ہے تو اس پر غسل ہے اھ۔ اور اس کی نظیریں کلام علماء میں ایك دو نہیں بہت ہیں ۔ (ت)
فــــ : تطفل علی الحلیۃ
حوالہ / References
شرح الکنز لملامسکین علی ھامش فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
منیۃ المصلی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
منیۃ المصلی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۳
فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۹
منیۃ المصلی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
منیۃ المصلی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۳
اور عامہ متون مذہب وجما ہیرا جلہ عمائد کی تصریح ہے کہ صورت پنجم بھی مثل صورت چہارم ہمارے ائمہ میں مختلف فیہ ہے طرفین غسل واجب فرماتے ہیں اور امام ابو یوسف کا خلاف ہے رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ۱وقایہ و۲نقایہ و۳اصلاح و۴غرر و۵نور الایضاح و ۶تنویر الابصار و۷ ملتقی الابحر و ۸بدائع و۹ اسبیجابی و ۱۰صدرالشریعۃ و۱۱حلیہ و۱۲غنیہ و۱۳ایضاح و ۱۴درر و ۱۵مراقی الفلاح و۱۶ جوہرہ نیرہ و ۱۷تبیین الحقائق و۱۸ مستخلص و ۱۹شمنی و ۲۰مجمع الانہر و ۲۱فتوائے امام اجل نجم الدین نسفی و۲۲جواہرالفتاوی للامام الکرمانی و۲۳خانیہ و ۲۴سراجیہ و۲۵خجندی و۲۶بزازیہ و۲۷ تجنیس و۲۸حصر و ۲۹مختلف و۳۰ظہیریہ و ۳۱خزانۃ المفتین ۳۲و ارکان اربعہ اور شروح حدیث سے۳۳ لمعات و۳۴مرقاۃ جزما اسی طرف ہیں اور۳۵ امام محقق علی الاطلاق نے بحثا اس کا افادہ فرمایا کما مر ویاتی بیانہ ان شاء الله تعالی(جیساکہ گزرا اور اس کا بیان ان شاء الله تعالی آگے آئیگا۔ ت)وقایہ وشرح میں ہے :
(رؤیۃ المستیقظ المنی والمذی وان لم یحتلم) امافی المنی فظاھر واما فی المذی فلاحتمال کونہ منیا رق بحرارۃ البدن وفیہ خلاف لابی یوسف( )۔
(اور بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ احتلام یاد نہ ہو )منی میں تو وجہ ظاہر ہے ۔ مذی میں اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ منی رہی ہو جو بدن کی حرارت سے رقیق ہوگئی اور اس کے بارے میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے ۔
اصلاح وایضاح میں ہے :
(و رؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی وان لم یتذکر الاحتلام) فان ماظھر فی صورۃ المذی یحتمل ان یکون منیا رق بحرارۃ البدن او باصابۃ الھواء فمتی وجب من وجہ ما فالاحتیاط فی الایجاب وفیہ خلاف لابی یوسف ( )۔
(اوربیدار ہونے والے کا منی یا مذی کو دیکھنا ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو) اس لئے کہ جو تری مذی کی صورت میں نظر آرہی ہے ہو سکتاہے کہ منی رہی ہو جو بدن کی حرارت سے یا ہوا لگنے سے رقیق ہوگئی ہو تو جب کسی صورت سے غسل کا وجوب ہوتاہے تو احتیاط واجب رکھنے ہی میں ہے اور اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے۔ (ت)
مختصر الوقایہ میں ہے :
(رؤیۃ المستیقظ المنی والمذی وان لم یحتلم) امافی المنی فظاھر واما فی المذی فلاحتمال کونہ منیا رق بحرارۃ البدن وفیہ خلاف لابی یوسف( )۔
(اور بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ احتلام یاد نہ ہو )منی میں تو وجہ ظاہر ہے ۔ مذی میں اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ منی رہی ہو جو بدن کی حرارت سے رقیق ہوگئی اور اس کے بارے میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے ۔
اصلاح وایضاح میں ہے :
(و رؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی وان لم یتذکر الاحتلام) فان ماظھر فی صورۃ المذی یحتمل ان یکون منیا رق بحرارۃ البدن او باصابۃ الھواء فمتی وجب من وجہ ما فالاحتیاط فی الایجاب وفیہ خلاف لابی یوسف ( )۔
(اوربیدار ہونے والے کا منی یا مذی کو دیکھنا ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو) اس لئے کہ جو تری مذی کی صورت میں نظر آرہی ہے ہو سکتاہے کہ منی رہی ہو جو بدن کی حرارت سے یا ہوا لگنے سے رقیق ہوگئی ہو تو جب کسی صورت سے غسل کا وجوب ہوتاہے تو احتیاط واجب رکھنے ہی میں ہے اور اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے۔ (ت)
مختصر الوقایہ میں ہے :
حوالہ / References
شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ موجبات الغسل مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۸۲
اصلاح وایضاح
اصلاح وایضاح
ورؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی ( )۔
بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا۔
غرر ودرر میں ہے :
(وعند رؤیۃ مستیقظ منیا اومذیا وان لم یتذکر حلما) لان الظاھر انہ منی رق بھواء اصابہ( )۔
(اور بیدار ہونے والے کے منی یا مذی دیکھنے کی صورت میں اگرچہ اسے کوئی خواب یاد نہ ہو) اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا لگنے سے رقیق ہوگئی۔ (ت)
متن وشرح علامہ شرنبلالی میں ہے :
ومنھا (وجود ماء رقیق بعد) الانتباہ من (النوم) ولم یتذکر احتلاما عندھما خلافا لابی یوسف وبقولہ اخذ خلف بن ایوب وابو اللیث لانہ مذی وھو الاقیس ولھما ماروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم سئل عن الرجل یجد البلل ولم یذکر احتلاما قال یغتسل ولان النوم راحۃ تھیج الشھوۃ وقد یرق المنی لعارض والاحتیاط لازم فی العبادات( )۔
اور انہی اسباب میں سے (یہ ہے کہ نیند) سے بیدارہونے (کے بعد رقیق پانی پائے) اور اسے احتلام یاد نہ ہو۔ یہ طرفین کے نزدیك ہے امام ابویوسف اس کے خلا ف ہیں اور امام ابو یوسف ہی کا قول خلف بن ایوب اور امام ابواللیث نے اختیار کیا ہے اس لئے کہ وہ مذی ہے۔ اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ اور طرفین کی دلیل وہ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس مرد کے بارے میں سوال ہوا جو تری پائے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو فرمایا غسل کرے ۔ اور اس لئے بھی کہ نیند میں ایك راحت ہوتی ہے جو شہوت کو برانگیختہ کرتی ہے اور منی کبھی عارض کی وجہ سے رقیق ہوجاتی ہے اور عبادات کے معاملے میں احتیاط لازم ہے ۔ (ت)
تنویر الابصار میں ہے :
بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا۔
غرر ودرر میں ہے :
(وعند رؤیۃ مستیقظ منیا اومذیا وان لم یتذکر حلما) لان الظاھر انہ منی رق بھواء اصابہ( )۔
(اور بیدار ہونے والے کے منی یا مذی دیکھنے کی صورت میں اگرچہ اسے کوئی خواب یاد نہ ہو) اس لئے کہ ظاہر یہ ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا لگنے سے رقیق ہوگئی۔ (ت)
متن وشرح علامہ شرنبلالی میں ہے :
ومنھا (وجود ماء رقیق بعد) الانتباہ من (النوم) ولم یتذکر احتلاما عندھما خلافا لابی یوسف وبقولہ اخذ خلف بن ایوب وابو اللیث لانہ مذی وھو الاقیس ولھما ماروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم سئل عن الرجل یجد البلل ولم یذکر احتلاما قال یغتسل ولان النوم راحۃ تھیج الشھوۃ وقد یرق المنی لعارض والاحتیاط لازم فی العبادات( )۔
اور انہی اسباب میں سے (یہ ہے کہ نیند) سے بیدارہونے (کے بعد رقیق پانی پائے) اور اسے احتلام یاد نہ ہو۔ یہ طرفین کے نزدیك ہے امام ابویوسف اس کے خلا ف ہیں اور امام ابو یوسف ہی کا قول خلف بن ایوب اور امام ابواللیث نے اختیار کیا ہے اس لئے کہ وہ مذی ہے۔ اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ اور طرفین کی دلیل وہ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے اس مرد کے بارے میں سوال ہوا جو تری پائے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو فرمایا غسل کرے ۔ اور اس لئے بھی کہ نیند میں ایك راحت ہوتی ہے جو شہوت کو برانگیختہ کرتی ہے اور منی کبھی عارض کی وجہ سے رقیق ہوجاتی ہے اور عبادات کے معاملے میں احتیاط لازم ہے ۔ (ت)
تنویر الابصار میں ہے :
حوالہ / References
مختصر الوقایۃ کتاب الطہارۃ نورمحمد کتب کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۴
دررالحکام شرح غرر الاحکام ، کتاب الطہارۃ فرض الغسل ، میر محمدکتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۹
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل مایوجب الاغتسال دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹
دررالحکام شرح غرر الاحکام ، کتاب الطہارۃ فرض الغسل ، میر محمدکتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۹
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل مایوجب الاغتسال دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹
ورؤیۃ المستیقظ منیا اومذیا وان لم یتذکر الاحتلام( )۔
اور بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنااگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
ملتقی ومجمع میں ہے :
(و) فرض (لرؤیۃ مستیقظ لم یتذکر الاحتلام بللا ولو مذیا) عند الطرفین (خلافالہ) ای لابی یوسف لہ ان الاصل براء ۃ الذمۃ فلایجب الا بیقین وھو القیاس ولھما ان النائم غافل والمنی قد یرق بالھواء فیصیر مثل المذی فیجب علیہ احتیاطا ( )۔
(اوربیدارہونے والا جسے احتلام یاد نہ ہو اس کے تری دیکھنے کے سبب اگرچہ وہ مذی ہی ہو )غسل فرض ہے طرفین کے نزدیك ۔ (بخلاف ان کے ) یعنی امام ابو یوسف کے۔ انکی دلیل یہ ہے کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ذمہ غسل نہیں ہے پھر اس کے بخلاف اس پر غسل کا وجوب بغیر یقین کے نہ ہوگا اور قیاس یہی ہے۔ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ سونے والا غافل ہوتا ہے۔ اور منی کبھی ہوا سے رقیق ہوکر مذی ہوجاتی ہے تو احتیاطا اس پر غسل واجب ہوگا۔ (ت)
جوہر نیرہ میں ہے :
فی الخجندی ان کان منیا وجب الغسل بالاتفاق وان کان مذیا وجب عندھما تذکر الاحتلام او لا وقال ابو یوسف لایجب الا اذا تیقن الاحتلام( )۔
خجندی میں ہے : اگر منی ہو تو بالاتفاق غسل واجب ہے۔ اور اگرمذی ہو تو طرفین کے نزدیك واجب ہے احتلام یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ اور امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں مگر جب احتلام کا یقین ہو۔ (ت)
شرح امام زیلعی میں ہے :
اور بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنااگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
ملتقی ومجمع میں ہے :
(و) فرض (لرؤیۃ مستیقظ لم یتذکر الاحتلام بللا ولو مذیا) عند الطرفین (خلافالہ) ای لابی یوسف لہ ان الاصل براء ۃ الذمۃ فلایجب الا بیقین وھو القیاس ولھما ان النائم غافل والمنی قد یرق بالھواء فیصیر مثل المذی فیجب علیہ احتیاطا ( )۔
(اوربیدارہونے والا جسے احتلام یاد نہ ہو اس کے تری دیکھنے کے سبب اگرچہ وہ مذی ہی ہو )غسل فرض ہے طرفین کے نزدیك ۔ (بخلاف ان کے ) یعنی امام ابو یوسف کے۔ انکی دلیل یہ ہے کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ذمہ غسل نہیں ہے پھر اس کے بخلاف اس پر غسل کا وجوب بغیر یقین کے نہ ہوگا اور قیاس یہی ہے۔ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ سونے والا غافل ہوتا ہے۔ اور منی کبھی ہوا سے رقیق ہوکر مذی ہوجاتی ہے تو احتیاطا اس پر غسل واجب ہوگا۔ (ت)
جوہر نیرہ میں ہے :
فی الخجندی ان کان منیا وجب الغسل بالاتفاق وان کان مذیا وجب عندھما تذکر الاحتلام او لا وقال ابو یوسف لایجب الا اذا تیقن الاحتلام( )۔
خجندی میں ہے : اگر منی ہو تو بالاتفاق غسل واجب ہے۔ اور اگرمذی ہو تو طرفین کے نزدیك واجب ہے احتلام یاد ہو یا نہ یاد ہو۔ اور امام ابو یوسف نے فرمایا : غسل واجب نہیں مگر جب احتلام کا یقین ہو۔ (ت)
شرح امام زیلعی میں ہے :
حوالہ / References
الدرالمختارشرح تنویر الابصار ، کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۱
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۳
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۲
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۳
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۲
غشی فـــ علیہ اوکان سکران فوجد علی فخذہ او فراشہ مذیا لم یلزمہ الغسل لانہ یحال بہ علی ھذا السبب الظاھر بخلاف النائم ( )۔
بے ہوش ہوا یا نشے میں تھا پھر اپنی ران یا بستر پر مذی پائی تو اس پر غسل لازم نہ ہوگا اس لئے کہ اس مذی کو اسی ظاہری سبب کے حوالے کیا جائے گا بخلاف سونے والے کے۔ (ت)
مستخلص الحقائق میں ہے :
(لامذی و ودی واحتلام بلابلل) روی الشیخ ابو منصور الماتریدی باسنادہ الی عائشۃ رضی الله تعالی عنہا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال اذا رأی الرجل بعد ماینتبہ من نومہ بللا ولم یتذکر الاحتلام اغتسل وان تذکر الاحتلام ولم یر بللا فلا غسل علیہ وھذا النص فی الباب کذا فی البدائع ثم قولہ بلابلل مطلقا یتناول المنی والمذی وقال ابو یوسف لاغسل علیہ فی المذی وھذا نص فی المنی اعتبارا بحالۃ الیقظۃ ولہما اطلاق الحدیث ولان المنی قد یرق
(مذی اور ودی اور بغیرتری کے صرف خواب دیکھنا موجب غسل نہیں ) شیخ ابو منصور ماتریدی نے اپنی سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کی وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : مرد جب نیند سے بیدارہونے کے بعد تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرے اور اگر خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر غسل نہیں ۔ اور یہ اس باب میں نص ہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔ پھر متن میں “ بغیر تری کے “ مطلق ہے منی و مذی دونوں کو شامل ہے ۔ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ مذی کی صورت میں اس پر غسل نہیں ۔ اور ان کے نزدیك یہ نص منی سے متعلق ہوگا جیسے بیداری کی حالت میں اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ حدیث مطلق ہے۔ اور اس لئے بھی
فــــ : مسئلہ : بیماری وغیرہ سے غش آگیا یا معاذالله نشہ سے بیہوش ہوا اس کے بعد جو ہوش آیا تو اپنے کپڑے یا بدن پر مذی پائی تو اس پر سوا وضو کے غسل نہ ہوگا اس کا حکم سوتے سے جاگ کر مذی دیکھنے کے مثل نہیں کہ وہاں غسل واجب ہوتا ہے۔
بے ہوش ہوا یا نشے میں تھا پھر اپنی ران یا بستر پر مذی پائی تو اس پر غسل لازم نہ ہوگا اس لئے کہ اس مذی کو اسی ظاہری سبب کے حوالے کیا جائے گا بخلاف سونے والے کے۔ (ت)
مستخلص الحقائق میں ہے :
(لامذی و ودی واحتلام بلابلل) روی الشیخ ابو منصور الماتریدی باسنادہ الی عائشۃ رضی الله تعالی عنہا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال اذا رأی الرجل بعد ماینتبہ من نومہ بللا ولم یتذکر الاحتلام اغتسل وان تذکر الاحتلام ولم یر بللا فلا غسل علیہ وھذا النص فی الباب کذا فی البدائع ثم قولہ بلابلل مطلقا یتناول المنی والمذی وقال ابو یوسف لاغسل علیہ فی المذی وھذا نص فی المنی اعتبارا بحالۃ الیقظۃ ولہما اطلاق الحدیث ولان المنی قد یرق
(مذی اور ودی اور بغیرتری کے صرف خواب دیکھنا موجب غسل نہیں ) شیخ ابو منصور ماتریدی نے اپنی سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کی وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : مرد جب نیند سے بیدارہونے کے بعد تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرے اور اگر خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر غسل نہیں ۔ اور یہ اس باب میں نص ہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔ پھر متن میں “ بغیر تری کے “ مطلق ہے منی و مذی دونوں کو شامل ہے ۔ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ مذی کی صورت میں اس پر غسل نہیں ۔ اور ان کے نزدیك یہ نص منی سے متعلق ہوگا جیسے بیداری کی حالت میں اور طرفین کی دلیل یہ ہے کہ حدیث مطلق ہے۔ اور اس لئے بھی
فــــ : مسئلہ : بیماری وغیرہ سے غش آگیا یا معاذالله نشہ سے بیہوش ہوا اس کے بعد جو ہوش آیا تو اپنے کپڑے یا بدن پر مذی پائی تو اس پر سوا وضو کے غسل نہ ہوگا اس کا حکم سوتے سے جاگ کر مذی دیکھنے کے مثل نہیں کہ وہاں غسل واجب ہوتا ہے۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۶۸
بمرور الزمان فیصیر فی صورۃ المذی کذافی البدائع ایضا ( )۔
کہ منی کبھی وقت گزرنے کی وجہ سے رقیق ہوکر مذی کی صورت میں ہوجاتی ہے ۔ ایسا بدائع میں بھی ہے۔ (ت)
جواہر الفتاوی کے باب رابع میں کہ فتاوائے امام اجل نجم الدین نسفی کے لئے معقود ہوتا ہے فرمایا :
استیقظ وتذکر انہ رأی فی منامہ مباشرۃ ولم یربللا علی ثوبہ ولا فرشہ ومکث ساعۃ فخرج مذی لایجب الغسل لظاھر الحدیث من احتلم ولم یربللا فلاشیئ علیہ ولیس ھذا کما استیقظ ورأی بلۃ یلزمہ الغسل عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لانھما یحملان انہ کان منیا فرق بمرور الزمان وھھنا عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل قال ولا یلزم ھذا من احتلم لیلا فاستیقظ ولم یربللا فتوضأ وصلی الفجر ثم نزل المنی یجب الغسل وجازت صلاۃ الفجر عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لانہ انما یجب الغسل بنزول المنی بعد ما استیقظ ولہذا لایعید الفجر بخلاف مسألتنا لانہ زال
نیند سے بیدار ہوا اور اسے یاد آیا کہ اس نے خواب میں مباشرت دیکھی ہے اور اپنے کپڑے اور بستر پر کوئی تری نہ پائی اور کچھ دیر کے بعد مذی نکلی تواس پر غسل واجب نہیں اس کی دلیل اس حدیث کا ظاہر ہے کہ “ جس نے خواب دیکھا اور تری نہ پائی تواس پر کچھ نہیں “ ۔ اور یہ اس صورت کی طرح نہیں جب بیدار ہوا اور تری دیکھے ۔ اس پر امام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیکے نزدیك غسل لازم ہے اس لئے کہ ان کے نزدیك وہ اس پر محمول ہے کہ منی تھی وقت گزرنے کے کی وجہ سے رقیق ہوگئی۔ اور یہاں تو اس نے مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا ہے اس لئے اس پر وضو واجب ہے غسل نہیں ۔ فرماتے ہیں : اس پر اس مسئلے سے اعتراض نہ ہوگا کہ کسی نے رات کو خواب دیکھا اور بیدار ہوا تو تری نہ پائی وضو کرکے نماز فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اور نماز فجر ہوگئی ۔ امام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیکے نزدیك - اس لئے کہ یہاں بیداری کے بعد منی نکلنے کی وجہ سے غسل واجب ہوا اسی لئے اسے نماز فجر کا اعادہ نہیں کرنا ہے اور مسئلہ سابقہ میں ایسا نہیں اس لئے کہ بیدار
کہ منی کبھی وقت گزرنے کی وجہ سے رقیق ہوکر مذی کی صورت میں ہوجاتی ہے ۔ ایسا بدائع میں بھی ہے۔ (ت)
جواہر الفتاوی کے باب رابع میں کہ فتاوائے امام اجل نجم الدین نسفی کے لئے معقود ہوتا ہے فرمایا :
استیقظ وتذکر انہ رأی فی منامہ مباشرۃ ولم یربللا علی ثوبہ ولا فرشہ ومکث ساعۃ فخرج مذی لایجب الغسل لظاھر الحدیث من احتلم ولم یربللا فلاشیئ علیہ ولیس ھذا کما استیقظ ورأی بلۃ یلزمہ الغسل عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لانھما یحملان انہ کان منیا فرق بمرور الزمان وھھنا عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل قال ولا یلزم ھذا من احتلم لیلا فاستیقظ ولم یربللا فتوضأ وصلی الفجر ثم نزل المنی یجب الغسل وجازت صلاۃ الفجر عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لانہ انما یجب الغسل بنزول المنی بعد ما استیقظ ولہذا لایعید الفجر بخلاف مسألتنا لانہ زال
نیند سے بیدار ہوا اور اسے یاد آیا کہ اس نے خواب میں مباشرت دیکھی ہے اور اپنے کپڑے اور بستر پر کوئی تری نہ پائی اور کچھ دیر کے بعد مذی نکلی تواس پر غسل واجب نہیں اس کی دلیل اس حدیث کا ظاہر ہے کہ “ جس نے خواب دیکھا اور تری نہ پائی تواس پر کچھ نہیں “ ۔ اور یہ اس صورت کی طرح نہیں جب بیدار ہوا اور تری دیکھے ۔ اس پر امام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیکے نزدیك غسل لازم ہے اس لئے کہ ان کے نزدیك وہ اس پر محمول ہے کہ منی تھی وقت گزرنے کے کی وجہ سے رقیق ہوگئی۔ اور یہاں تو اس نے مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا ہے اس لئے اس پر وضو واجب ہے غسل نہیں ۔ فرماتے ہیں : اس پر اس مسئلے سے اعتراض نہ ہوگا کہ کسی نے رات کو خواب دیکھا اور بیدار ہوا تو تری نہ پائی وضو کرکے نماز فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اور نماز فجر ہوگئی ۔ امام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیکے نزدیك - اس لئے کہ یہاں بیداری کے بعد منی نکلنے کی وجہ سے غسل واجب ہوا اسی لئے اسے نماز فجر کا اعادہ نہیں کرنا ہے اور مسئلہ سابقہ میں ایسا نہیں اس لئے کہ بیدار
حوالہ / References
مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃ رام کانشی پرنٹنگ ورکس لاہور ص۱ / ۵۰ ، ۵۱
المذی بعدما استیقظ وھو یراہ فلم یلزم الغسل لانہ مذی ( ) اھ بنحو اختصار ۔
ہونے کے بعد اس کے سامنے مذی نکلی تو مذی ہونے کی وجہ سے اس پر غسل لازم نہ ہوا اھ کچھ اختصار کے ساتھ عبارت ختم ہوئی ۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
انتبہ ورأی علی فراشہ اوفخذہ المذی یلزمہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی تذکر الاحتلام اولم یتذکر ( )۔
بیدار ہوا اپنے بستر یا ران پر مذی دیکھی توامام ابو حنیفہ اورامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے قول پر غسل اس پر لازم ہے احتلام یاد ہو نہ ہو۔
اسی میں ہے :
مغمی علیہ افاق فوجد مذیا لاغسل علیہ وکذا السکران ولیس ھذا کالنوم لان مایراہ النائم سببہ مایجدہ من اللذۃ والراحۃ التی تھیج منھا الشہوۃ والاغماء والسکر لیسا من اسباب الراحۃ ( )۔
بے ہوش تھا افاقہ ہوا تو مذی پائی اس پر غسل نہیں ۔ یہی حکم نشہ والے کا ہے اور یہ نیند کی طرح نہیں اس لئے کہ سونے والا جو دیکھتا ہے اس کا سبب اسے محسوس ہونے والی وہ لذت و راحت ہے جس سے شہوت برانگیختہ ہوتی ہے اور بیہوشی و نشہ راحت کے اسباب سے نہیں ۔
سراجیہ میں ہے :
اذا استیقظ النائم فوجد علی فراشہ بللا علی صورۃ المذی اوالمنی علیہ الغسل وان لم یتذکر الاحتلام ( )۔
سونے والا بیدار ہوکر اپنے بستر پر مذی یا منی کی صورت میں تری پائے تو اس پر غسل ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
وجیر امام کردری میں ہے :
احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ
خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع
ہونے کے بعد اس کے سامنے مذی نکلی تو مذی ہونے کی وجہ سے اس پر غسل لازم نہ ہوا اھ کچھ اختصار کے ساتھ عبارت ختم ہوئی ۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
انتبہ ورأی علی فراشہ اوفخذہ المذی یلزمہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی تذکر الاحتلام اولم یتذکر ( )۔
بیدار ہوا اپنے بستر یا ران پر مذی دیکھی توامام ابو حنیفہ اورامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے قول پر غسل اس پر لازم ہے احتلام یاد ہو نہ ہو۔
اسی میں ہے :
مغمی علیہ افاق فوجد مذیا لاغسل علیہ وکذا السکران ولیس ھذا کالنوم لان مایراہ النائم سببہ مایجدہ من اللذۃ والراحۃ التی تھیج منھا الشہوۃ والاغماء والسکر لیسا من اسباب الراحۃ ( )۔
بے ہوش تھا افاقہ ہوا تو مذی پائی اس پر غسل نہیں ۔ یہی حکم نشہ والے کا ہے اور یہ نیند کی طرح نہیں اس لئے کہ سونے والا جو دیکھتا ہے اس کا سبب اسے محسوس ہونے والی وہ لذت و راحت ہے جس سے شہوت برانگیختہ ہوتی ہے اور بیہوشی و نشہ راحت کے اسباب سے نہیں ۔
سراجیہ میں ہے :
اذا استیقظ النائم فوجد علی فراشہ بللا علی صورۃ المذی اوالمنی علیہ الغسل وان لم یتذکر الاحتلام ( )۔
سونے والا بیدار ہوکر اپنے بستر پر مذی یا منی کی صورت میں تری پائے تو اس پر غسل ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ (ت)
وجیر امام کردری میں ہے :
احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ
خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع
حوالہ / References
جواہر الفتاوٰی الباب الرابع قلمی فوٹو ص ۵ ، ۶
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
فتاوٰی قاضی خاں ، کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۲۲
الفتاوی السراجیۃ کتاب الطہارۃ باب الغسل نولکشورلکھنؤ ص۳
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
فتاوٰی قاضی خاں ، کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل ، نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۲۲
الفتاوی السراجیۃ کتاب الطہارۃ باب الغسل نولکشورلکھنؤ ص۳
اجماعا ولو منیا اومذیا لزم لان الغالب انہ منی رق لمضی الزمان ( )۔
غسل نہیں ۔ اور اگر منی یا مذی دیکھی تو غسل لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان یہی ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ (ت)
اسی میں ہے :
افاق بعد الغشی اوالسکر و وجد علی فراشہ مذیا لاغسل علیہ بخلاف النائم ( )۔
بے ہوشی یا نشہ کے بعد ہوش آیا اور اپنے بستر پر مذی پائی تو اس پر غسل نہیں بخلاف سونے والے کے۔ (ت)
التجنیس والمزید میں ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ مذیا کان علیہ الغسل ان تذکر الاحتلام بالاجماع وان لم یتذکر فعند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لان النوم مظنۃ الاحتلام فیحال علیہ ثم یحتمل انہ منی رق بالھواء اوالغذاء فاعتبرناہ منیااحتیاطا ( ) اھ من الفتح ملتقطا۔
بیدار ہوکر اپنے بستر پر مذی پائی تواس پر غسل ہو گا اگراحتلام یاد ہو تو بالاجماع-اور یاد نہ ہو تو امام ابو حنیفہ اورامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك -اس لئے کہ نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اسے اسی کے حوالے کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا یا غذا سے رقیق ہوگئی توہم نے احتیاطا اسے منی ہی مانا اھ من فتح القدیر ملتقطا۔ ( ت)
حلیہ میں مصفی سے ہے :
ذکر فی الحصر والمختلف والفتاوی الظھیریۃ انہ اذا استیقظ فرأی مذیا وقد تذکر الاحتلام اولم یذکرہ فلاغسل علیہ عند ابی یوسف وقالا علیہ الغسل ( )۔
حصر مختلف اور فتاوی ظہیریہ میں ذکر کیا ہے کہ جب بیدار ہوکرمذی دیکھے اور احتلام یاد ہے یا نہیں توامام ابو یوسف کے نزدیك اس پر غسل نہیں اور طرفین نے فرمایا اس پر غسل ہے۔ (ت)
غسل نہیں ۔ اور اگر منی یا مذی دیکھی تو غسل لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان یہی ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ (ت)
اسی میں ہے :
افاق بعد الغشی اوالسکر و وجد علی فراشہ مذیا لاغسل علیہ بخلاف النائم ( )۔
بے ہوشی یا نشہ کے بعد ہوش آیا اور اپنے بستر پر مذی پائی تو اس پر غسل نہیں بخلاف سونے والے کے۔ (ت)
التجنیس والمزید میں ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ مذیا کان علیہ الغسل ان تذکر الاحتلام بالاجماع وان لم یتذکر فعند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی لان النوم مظنۃ الاحتلام فیحال علیہ ثم یحتمل انہ منی رق بالھواء اوالغذاء فاعتبرناہ منیااحتیاطا ( ) اھ من الفتح ملتقطا۔
بیدار ہوکر اپنے بستر پر مذی پائی تواس پر غسل ہو گا اگراحتلام یاد ہو تو بالاجماع-اور یاد نہ ہو تو امام ابو حنیفہ اورامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك -اس لئے کہ نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اسے اسی کے حوالے کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا یا غذا سے رقیق ہوگئی توہم نے احتیاطا اسے منی ہی مانا اھ من فتح القدیر ملتقطا۔ ( ت)
حلیہ میں مصفی سے ہے :
ذکر فی الحصر والمختلف والفتاوی الظھیریۃ انہ اذا استیقظ فرأی مذیا وقد تذکر الاحتلام اولم یذکرہ فلاغسل علیہ عند ابی یوسف وقالا علیہ الغسل ( )۔
حصر مختلف اور فتاوی ظہیریہ میں ذکر کیا ہے کہ جب بیدار ہوکرمذی دیکھے اور احتلام یاد ہے یا نہیں توامام ابو یوسف کے نزدیك اس پر غسل نہیں اور طرفین نے فرمایا اس پر غسل ہے۔ (ت)
حوالہ / References
الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰
التجنیس والمزید کتاب الطہارات مسئلہ۱۰۳ ادارۃالقرآن کراچی ۲ / ۱۷۸ ، ۱۷۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۰
التجنیس والمزید کتاب الطہارات مسئلہ۱۰۳ ادارۃالقرآن کراچی ۲ / ۱۷۸ ، ۱۷۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اسی میں ہے :
وجوب الغسل اذالم یتذکر حلما وتیقن انہ مذی اوشك فی انہ منی اومذی قول ابی حنیفۃ ومحمد خلافا لابی یوسف( )۔
جب خواب یاد نہ ہو اور یقین ہو کہ یہ مذی ہے یا شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو اس صورت میں وجوب غسل کا حکم امام ابو حنیفہ وامام محمد کا قول ہے بخلاف امام ابویوسف کے رحمہم اللہ تعالی ۔ (ت)
اسی میں ہے :
اطلق الجم الغفیر انہ اذا استیقظ ووجد مذیا یعنی ما صورتہ صورۃ المذی ولم یتذکر الاحتلام یجب علیہ الغسل عند ابی حنیفۃ و محمد خلافا لابی یوسف( )۔
جم غفیر نے بتایا کہ جب بیدار ہو اور مذی پائے یعنی وہ جو مذی کی صورت میں ہے اور احتلام یاد نہیں تو امام ابو حنیفہ وامام محمدکے نزدیك اس پر غسل واجب ہے بخلاف امام ابویوسف کے۔ (ت)
خزانہ امام سمعانی میں برمزطح لشرح الطحاوی ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ بللا فانکان مذیا فعند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی یجب الغسل احتیاطاتذکرالاحتلام اولم یتذکر وقال ابو یوسف رحمہ الله تعالی لاغسل علیہ حتی یتیقن بالاحتلام( )۔
بیدار ہوکر اپنے بستر پر تری پائی اگر وہ مذی ہوتوامام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك احتیاطا اس پر غسل واجب ہے ۔ احتلام یاد ہویانہ ہو۔ اورامام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : اس پر غسل نہیں یہاں تك کہ اسے احتلام کا یقین ہو ۔ (ت)
ارکان بحرالعلوم میں ہے :
من موجبات الغسل وجدان المستیقظ البلل سواء کان منیااومذیاوسواء تذکرالاحتلام ام لا عند الامام ابی حنیفۃ والامام محمد وقال ابویوسف لا
غسل کے موجبات میں سے یہ ہے کہ بیدار ہونے والا تری پائے خواہ وہ منی ہو یا مذی اور خواہ اسے احتلام یاد ہویانہ ہوامام ابو حنیفہ وامام محمد کے نزدیك ۔ اورامام ابو یوسف نے نفی کی اس لئے
وجوب الغسل اذالم یتذکر حلما وتیقن انہ مذی اوشك فی انہ منی اومذی قول ابی حنیفۃ ومحمد خلافا لابی یوسف( )۔
جب خواب یاد نہ ہو اور یقین ہو کہ یہ مذی ہے یا شك ہو کہ منی ہے یا مذی تو اس صورت میں وجوب غسل کا حکم امام ابو حنیفہ وامام محمد کا قول ہے بخلاف امام ابویوسف کے رحمہم اللہ تعالی ۔ (ت)
اسی میں ہے :
اطلق الجم الغفیر انہ اذا استیقظ ووجد مذیا یعنی ما صورتہ صورۃ المذی ولم یتذکر الاحتلام یجب علیہ الغسل عند ابی حنیفۃ و محمد خلافا لابی یوسف( )۔
جم غفیر نے بتایا کہ جب بیدار ہو اور مذی پائے یعنی وہ جو مذی کی صورت میں ہے اور احتلام یاد نہیں تو امام ابو حنیفہ وامام محمدکے نزدیك اس پر غسل واجب ہے بخلاف امام ابویوسف کے۔ (ت)
خزانہ امام سمعانی میں برمزطح لشرح الطحاوی ہے :
استیقظ فوجد علی فراشہ بللا فانکان مذیا فعند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی یجب الغسل احتیاطاتذکرالاحتلام اولم یتذکر وقال ابو یوسف رحمہ الله تعالی لاغسل علیہ حتی یتیقن بالاحتلام( )۔
بیدار ہوکر اپنے بستر پر تری پائی اگر وہ مذی ہوتوامام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك احتیاطا اس پر غسل واجب ہے ۔ احتلام یاد ہویانہ ہو۔ اورامام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : اس پر غسل نہیں یہاں تك کہ اسے احتلام کا یقین ہو ۔ (ت)
ارکان بحرالعلوم میں ہے :
من موجبات الغسل وجدان المستیقظ البلل سواء کان منیااومذیاوسواء تذکرالاحتلام ام لا عند الامام ابی حنیفۃ والامام محمد وقال ابویوسف لا
غسل کے موجبات میں سے یہ ہے کہ بیدار ہونے والا تری پائے خواہ وہ منی ہو یا مذی اور خواہ اسے احتلام یاد ہویانہ ہوامام ابو حنیفہ وامام محمد کے نزدیك ۔ اورامام ابو یوسف نے نفی کی اس لئے
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل (قلمی فوٹو) ۱ / ۵
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل (قلمی فوٹو) ۱ / ۵
لان الغسل لایجب بالاحتمال ولھماماروی الترمذی وابوداؤد عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا(فذکرالحدیث المذکور ثم قال) المعنی فی وجوب الغسل علی المستیقظ الواجد البلل ان النوم حالۃ غفلۃ ویتوجہ الی دفع الفضلات ویکون الذکرصلباشاھیاللجماع ولذا یکثر فی النوم الاحتلام وخروج المنی یکون بشھوۃ غالبابخلاف حالۃ الیقظۃ فانہ یندرفیہ خروج المنی بلاتحریك فاذا وجد المستیقظ البلل فالغالب انہ منی دفعہ الطبیعۃ بشھوۃ وان کان البلل رقیقا مثل الذی فالغالب فیہ انہ رق بحرارۃ البدن فاوجب الشارع فی البلل الغسل مطلقا لانہ مظنۃ الخروج بالشھوۃ فافھم( )۔
کہ محض احتمال سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ اور طرفین کی دلیل وہ حدیث ہے جو ترمذی و ابوداؤد نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی(اس کے بعد حدیث مذکور بیان کی پھر بیان فرمایا : ) بیدار ہوکر تری پانے والے پر غسل واجب ہونے کا سبب یہ ہے کہ نیند غفلت اور فضلات دفع کرنے کی جانب توجہ کی حالت ہے اوراس وقت ذکر میں سختی و شہوت جماع ہوتی ہے۔ اسی لئے نیند میں احتلام اور شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا زیادہ ہوتا ہے۔ بیداری کی حالت میں ایسا نہیں اس میں بغیر تحریك کے منی نکلنا نادر ہے ۔ تو بیدار ہونے والا جب تری پائے تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ منی ہے جسے طبیعت نے شہوت کے ساتھ دفع کیا ہے ۔ اورتری اگر مذی کی طرح رقیق ہوتو اس کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ وہ بدن کی حرارت سے رقیق ہوگئی ہے تو شارع نے تری میں مطلقا غسل واجب کیا اس لئے کہ اس میں شہوت سے نکلنے کے گمان کا موقع ہے ۔ فافہم (ت)
کبیری علی المنیہ میں قول مذکور متن کو عند ابی یوسف سے مقید کرکے وعندھما یجب( )فرمایا ۔ پھر محل دلیل میں افادہ کیا :
قولھماوجوب الغسل اذاتیقن انہ
طرفین کا قول کہ غسل واجب ہے جب یقین ہوکہ
کہ محض احتمال سے غسل واجب نہیں ہوتا۔ اور طرفین کی دلیل وہ حدیث ہے جو ترمذی و ابوداؤد نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی(اس کے بعد حدیث مذکور بیان کی پھر بیان فرمایا : ) بیدار ہوکر تری پانے والے پر غسل واجب ہونے کا سبب یہ ہے کہ نیند غفلت اور فضلات دفع کرنے کی جانب توجہ کی حالت ہے اوراس وقت ذکر میں سختی و شہوت جماع ہوتی ہے۔ اسی لئے نیند میں احتلام اور شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا زیادہ ہوتا ہے۔ بیداری کی حالت میں ایسا نہیں اس میں بغیر تحریك کے منی نکلنا نادر ہے ۔ تو بیدار ہونے والا جب تری پائے تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ منی ہے جسے طبیعت نے شہوت کے ساتھ دفع کیا ہے ۔ اورتری اگر مذی کی طرح رقیق ہوتو اس کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ وہ بدن کی حرارت سے رقیق ہوگئی ہے تو شارع نے تری میں مطلقا غسل واجب کیا اس لئے کہ اس میں شہوت سے نکلنے کے گمان کا موقع ہے ۔ فافہم (ت)
کبیری علی المنیہ میں قول مذکور متن کو عند ابی یوسف سے مقید کرکے وعندھما یجب( )فرمایا ۔ پھر محل دلیل میں افادہ کیا :
قولھماوجوب الغسل اذاتیقن انہ
طرفین کا قول کہ غسل واجب ہے جب یقین ہوکہ
حوالہ / References
رسائل الارکان الرسالۃالاولٰی فی الصّلوٰۃ فصل فی الغسل مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
مذی ولم یتذکرالاحتلام لان النوم حال ذھول وغفلۃ شدیدۃ یقع فیہ اشیاء فلا یشعربھافتیقن کون البلل مذیالایکاد یمکن الا باعتبارصورتہ و رقتہ وتلك الصورۃ کثیراما تکون للمنی بسبب بعض الاغذیۃ ونحوھا مما یوجب غلبۃ الرطوبۃ ورقۃ الاخلاط والفضلات وبسبب فعل الحرارۃ والھواء فوجوب الغسل ھوالوجہ ( )۔
وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند ذہول اور شدید غفلت کی حالت ہے اس میں بہت سی ایسی چیزیں واقع ہوجاتی ہیں جن کا سونے والے کو پتہ نہیں چلتا تو تری کے مذی ہونے کا یقین اس کی صورت اور رقت ہی کے اعتبار سے ہوپائے گا اور یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے جس کا سبب بعض غذائیں اور ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے رطوبت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ خلطیں اور فضلات رقیق ہوجاتے ہیں اور حرارت وہوا کے عمل سے بھی ایسا ہوتا ہے تو غسل کا وجوب ہی صحیح صورت ہے۔ (ت)
سنن دارمی وابو داؤد وترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
قالت سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجد البلل ولا یتذکر احتلاما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل وعن الرجل الذی یری انہ قداحتلم ولا یجد بللا قال لاغسل علیہ ( )۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے استفتاء ہو اکہ آدمی تری پائے اور احتلام یاد نہیں ۔ فرمایا : نہائے عرض کی : احتلام یاد ہے اور تری نہ پائی ۔ فرمایا : اس پر غسل نہیں ۔
مولنا علی قاری شرح مشکوۃ میں یجد البلل کے نیچے لکھتے ہیں : منیا کان او مذیا ( )۔ (منی ہو یا مذی۔ ت)
وہ مذی ہے اور احتلام یاد نہ ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند ذہول اور شدید غفلت کی حالت ہے اس میں بہت سی ایسی چیزیں واقع ہوجاتی ہیں جن کا سونے والے کو پتہ نہیں چلتا تو تری کے مذی ہونے کا یقین اس کی صورت اور رقت ہی کے اعتبار سے ہوپائے گا اور یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے جس کا سبب بعض غذائیں اور ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے رطوبت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ خلطیں اور فضلات رقیق ہوجاتے ہیں اور حرارت وہوا کے عمل سے بھی ایسا ہوتا ہے تو غسل کا وجوب ہی صحیح صورت ہے۔ (ت)
سنن دارمی وابو داؤد وترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
قالت سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجد البلل ولا یتذکر احتلاما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل وعن الرجل الذی یری انہ قداحتلم ولا یجد بللا قال لاغسل علیہ ( )۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے استفتاء ہو اکہ آدمی تری پائے اور احتلام یاد نہیں ۔ فرمایا : نہائے عرض کی : احتلام یاد ہے اور تری نہ پائی ۔ فرمایا : اس پر غسل نہیں ۔
مولنا علی قاری شرح مشکوۃ میں یجد البلل کے نیچے لکھتے ہیں : منیا کان او مذیا ( )۔ (منی ہو یا مذی۔ ت)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الرجل یجد البلۃ فی منامہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۳۱ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب من احتلم ولم یر بللا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۵ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ حدیث ۱۱۳ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۶۴۔ سنن الدارمی باب من یری بللا حدیث ۷۷۱ دارالمحاسن الطباعۃ القاھرہ ۱ / ۱۶۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۴۱ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۴
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الرجل یجد البلۃ فی منامہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۳۱ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب من احتلم ولم یر بللا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۵ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ حدیث ۱۱۳ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۶۴۔ سنن الدارمی باب من یری بللا حدیث ۷۷۱ دارالمحاسن الطباعۃ القاھرہ ۱ / ۱۶۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب الغسل تحت الحدیث ۴۴۱ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۴۴
لمعات التنقیح میں ہے :
مذھب ابی حنیفۃ ومحمد انہ اذا رأی المستیقظ بللا منیا کان اومذیا وجب الغسل یتذکر الاحتلام اولم یتذکر قال الشمنی قال ابو یوسف لاغسل اذارأی مذیا ولم یتذکر الاحتلام لان خروج المذی یوجب الوضوء لاالغسل ومتمسکہما ھذا الحدیث ) (۔
امام ابو حنیفہ وامام محمد کا مذہب یہ ہے کہ جب بیدار ہونے والا تری دیکھے ۔ منی ہو یا مذی ۔ تو اس پر غسل واجب ہے احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ شمنی نے فرمایا : امام ابو یوسف کا قول ہے کہ اس صورت میں غسل نہیں جب مذی دیکھے اوراحتلام یاد نہ ہو اس لئے کہ مذی نکلنے سے وضو واجب ہوتا ہے غسل نہیں اور طرفین کا استدلال اسی حدیث سے ہے۔ (ت)
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالی لہ فقہ وغیرہ ہر فن میں اختلاف اقوال بکثرت ہوتا ہے مگر اس رنگ کا اختلاف نادر ہے کہ ہر فریق یوں کلام فرماتا ہے گویا مسئلہ میں ایك یہی قول ہے قول دیگر واختلاف باہم کا اشعار تك نہیں کرتا گویا خلاف پر اطلاع ہی نہیں یہاں تك کہ جہاں ایك فریق کے شراح نے اپنے مشروح کا خلاف بھی کیا وہاں بھی ایرادیااصلاح کارنگ برتانہ یہ کہ مسئلہ خلافیہ ہے اور ہمارے نزدیك ارجح یہ ہے مثلا عبارت مذکور تنویر الابصار میں کہ فریق دوم کے موافق تھی مدقق علائی نے یہ استثنا بڑھایا :
الا اذا علم انہ مذی اوشك انہ مذی اوودی اوکان ذکرہ منتشرا قبل النوم فلا غسل علیہ اتفاقا ) (۔
مگر جب یقین ہو کہ وہ مذی ہے یا شك ہوکہ مذی ہے یا ودی یا سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
علامہ طحطاوی نے فرمایا :
یرد علی المصنف انہ فی صورۃ المذی مع عدم التذکر لایلزمہ الغسل وقدافادہ الشارح بقولہ
مصنف پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ احتلام یادنہ ہونے کے ساتھ مذی کی صورت میں غسل لازم نہیں ہوتا شارح نے اپنے قول “ مگر جب یقین ہو الخ “ سے
مذھب ابی حنیفۃ ومحمد انہ اذا رأی المستیقظ بللا منیا کان اومذیا وجب الغسل یتذکر الاحتلام اولم یتذکر قال الشمنی قال ابو یوسف لاغسل اذارأی مذیا ولم یتذکر الاحتلام لان خروج المذی یوجب الوضوء لاالغسل ومتمسکہما ھذا الحدیث ) (۔
امام ابو حنیفہ وامام محمد کا مذہب یہ ہے کہ جب بیدار ہونے والا تری دیکھے ۔ منی ہو یا مذی ۔ تو اس پر غسل واجب ہے احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ شمنی نے فرمایا : امام ابو یوسف کا قول ہے کہ اس صورت میں غسل نہیں جب مذی دیکھے اوراحتلام یاد نہ ہو اس لئے کہ مذی نکلنے سے وضو واجب ہوتا ہے غسل نہیں اور طرفین کا استدلال اسی حدیث سے ہے۔ (ت)
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالی لہ فقہ وغیرہ ہر فن میں اختلاف اقوال بکثرت ہوتا ہے مگر اس رنگ کا اختلاف نادر ہے کہ ہر فریق یوں کلام فرماتا ہے گویا مسئلہ میں ایك یہی قول ہے قول دیگر واختلاف باہم کا اشعار تك نہیں کرتا گویا خلاف پر اطلاع ہی نہیں یہاں تك کہ جہاں ایك فریق کے شراح نے اپنے مشروح کا خلاف بھی کیا وہاں بھی ایرادیااصلاح کارنگ برتانہ یہ کہ مسئلہ خلافیہ ہے اور ہمارے نزدیك ارجح یہ ہے مثلا عبارت مذکور تنویر الابصار میں کہ فریق دوم کے موافق تھی مدقق علائی نے یہ استثنا بڑھایا :
الا اذا علم انہ مذی اوشك انہ مذی اوودی اوکان ذکرہ منتشرا قبل النوم فلا غسل علیہ اتفاقا ) (۔
مگر جب یقین ہو کہ وہ مذی ہے یا شك ہوکہ مذی ہے یا ودی یا سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں ۔ (ت)
علامہ طحطاوی نے فرمایا :
یرد علی المصنف انہ فی صورۃ المذی مع عدم التذکر لایلزمہ الغسل وقدافادہ الشارح بقولہ
مصنف پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ احتلام یادنہ ہونے کے ساتھ مذی کی صورت میں غسل لازم نہیں ہوتا شارح نے اپنے قول “ مگر جب یقین ہو الخ “ سے
حوالہ / References
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، تاب الطہارۃ ، باب فی الغسل ، حدیث ۴۴۱ ، المکتبۃ المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۱۳،۱۱۴
الدرمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
الدرمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
الا اذا علم ( )۔
اس کا افادہ کیا۔ (ت)
علامہ شامی نے فرمایا :
اعلم ان الشارح قد اصلح عبارۃ المصنف فان قولہ اومذیایحتمل انہ رأی مذیا حقیقۃ بان علم انہ مذی اوصورۃ بان شك انہ مذی اوودی اوشك انہ مذی اومنی فاستثنی ماعدا الاخیر وصار قولہ اومذیا مفروضا فیما اذا شك انہ مذی اومنی فقط فھذہ الصورۃ یجب فیھا الغسل وان لم یتذکر الاحتلام لکن بقیت ھذہ صادقۃ بما اذاکان ذکرہ منتشرا قبل النوم اولا مع انہ اذاکان منتشرا لایجب الغسل فاستثناہ ایضا فصارجملۃ المستثنیات ثلث صور لایجب فیھا الغسل اتفاقا مع عدم تذکر الاحتلام الخ( )۔
واضح ہو کہ شارح نے عبارت مصنف کی اصلاح فرمائی ہے اس لئے کہ ان کے قول “ اومذیا “ میں احتمال تھا کہ اس نے حقیقۃ مذی دیکھی ہو اس طرح کہ اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے۔ یا صورۃ مذی دیکھی اس طرح کہ اسے شك ہو کہ وہ مذی ہے یا ودی یا شك ہو کہ وہ مذی ہے یا منی ۔ تو ماسوائے اخیر کا استثناء کردیا اور ان کا قول “ او مذیا “ کی صورت مفروضہ ہوگئی جس میں صرف یہ شك ہے کہ مذی ہے یامنی۔ تواس صورت میں غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ لیکن یہ اس صورت پر بھی صادق ٹھہری جب سونے سے قبل ذکر منتشر رہاہویانہ رہاہوحالاں کہ منتشر ہونے کی صورت میں غسل واجب نہیں ہوتا تو اس صورت کا بھی استثناء کردیا اب کل تین صورتیں مستثنی ہوگئیں جن میں احتلام یاد نہ ہونے کے ساتھ بالاتفاق غسل واجب نہیں ہوتا(ت) اور اسی کے مثل جامع الرموز علامہ قہستانی سے آتا ہے ان شاء الله تعالی ۔ ادھر صاحب منیۃ المصلی نے جو عبارت مذکورہ میں فریق اول کا قول اختیار کیا۔
علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں اس پر یوں فرمایا :
المصنف مشی علی قول ابی یوسف ولم ینبہ علیہ فیوھم انہ مجمع علیہ علی ان الفتوی علی
مصنف کی مشی امام ابو یوسف کے قول پر ہے مگر اس پر تنبیہ نہ کی جس سے یہ وہم ہوتاہے کہ اس حکم پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے ۔ علاوہ ازیں فتوی طرفین
اس کا افادہ کیا۔ (ت)
علامہ شامی نے فرمایا :
اعلم ان الشارح قد اصلح عبارۃ المصنف فان قولہ اومذیایحتمل انہ رأی مذیا حقیقۃ بان علم انہ مذی اوصورۃ بان شك انہ مذی اوودی اوشك انہ مذی اومنی فاستثنی ماعدا الاخیر وصار قولہ اومذیا مفروضا فیما اذا شك انہ مذی اومنی فقط فھذہ الصورۃ یجب فیھا الغسل وان لم یتذکر الاحتلام لکن بقیت ھذہ صادقۃ بما اذاکان ذکرہ منتشرا قبل النوم اولا مع انہ اذاکان منتشرا لایجب الغسل فاستثناہ ایضا فصارجملۃ المستثنیات ثلث صور لایجب فیھا الغسل اتفاقا مع عدم تذکر الاحتلام الخ( )۔
واضح ہو کہ شارح نے عبارت مصنف کی اصلاح فرمائی ہے اس لئے کہ ان کے قول “ اومذیا “ میں احتمال تھا کہ اس نے حقیقۃ مذی دیکھی ہو اس طرح کہ اسے یقین ہو کہ وہ مذی ہے۔ یا صورۃ مذی دیکھی اس طرح کہ اسے شك ہو کہ وہ مذی ہے یا ودی یا شك ہو کہ وہ مذی ہے یا منی ۔ تو ماسوائے اخیر کا استثناء کردیا اور ان کا قول “ او مذیا “ کی صورت مفروضہ ہوگئی جس میں صرف یہ شك ہے کہ مذی ہے یامنی۔ تواس صورت میں غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ لیکن یہ اس صورت پر بھی صادق ٹھہری جب سونے سے قبل ذکر منتشر رہاہویانہ رہاہوحالاں کہ منتشر ہونے کی صورت میں غسل واجب نہیں ہوتا تو اس صورت کا بھی استثناء کردیا اب کل تین صورتیں مستثنی ہوگئیں جن میں احتلام یاد نہ ہونے کے ساتھ بالاتفاق غسل واجب نہیں ہوتا(ت) اور اسی کے مثل جامع الرموز علامہ قہستانی سے آتا ہے ان شاء الله تعالی ۔ ادھر صاحب منیۃ المصلی نے جو عبارت مذکورہ میں فریق اول کا قول اختیار کیا۔
علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں اس پر یوں فرمایا :
المصنف مشی علی قول ابی یوسف ولم ینبہ علیہ فیوھم انہ مجمع علیہ علی ان الفتوی علی
مصنف کی مشی امام ابو یوسف کے قول پر ہے مگر اس پر تنبیہ نہ کی جس سے یہ وہم ہوتاہے کہ اس حکم پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے ۔ علاوہ ازیں فتوی طرفین
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۹۲
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰۹
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰۹
قولھما( )۔
کے قول پر ہے۔ (ت)
حالانکہ فریق اول کے طور پر ضروریہ قول مجمع علیہ ہی تھایوہیں حلیہ میں عبارت مذکورہ مصفی سے مبسوط ومحیط ومغنی کے نصوص نقل کرکے فرمایا :
یفید عدم الوجوب بالاجماع فی المذی کمافی الودی ولیس کذلك بل ھو علی الخلاف کما صرح بہ نفس صاحب المصفی فی الکافی وقاضی خان فی فتاویہ وغیرھمامن المشائخ( ) اھ
اس کا مفاد یہ ہے کہ ودی کی طرح مذی میں بھی بالاجماع غسل واجب نہیں حالاں کہ ایسا نہیں بلکہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ خود صاحب مصفی نے کافی میں امام قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں اور دیگر مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (ت)
بالجملہ یہ خلاف نوادر دہر سے ہے اور راہ تطبیق ہے یا ترجیح۔ اگر ترجیح لیجئے فاقول وہ تو سردست بوجوہ قول دوم کیلئے حاضر۔
اولا : اسی پر متون ہیں ۔
ثانیا : اسی طرف اکثر ہیں وانما العمل بما علیہ الاکثر( )۔ (عمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ ت)
ثالثا : اسی میں احتیاط بیشتر اور امر عبادات میں احتیاط کا لحاظ اوفر۔
رابعا : اس کے اختیار فرمانے والوں کی جلالت شان جن میں امام اجل فقیہ ابو اللیث سمرقندی صاحب حصرو امام ملك العلما ابو بکر مسعود کا شانی وامام اجل نجم الدین عمر نسفی وامام علی بن محمد اسبیجابی ہردو استاذ امام برہان الدین صاحب ہدایہ وخودامام اجل صاحب تجنیس وہدایہ وامام ظہیر الدین محمد بخاری وامام فقیہ النفس قاضیخان وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم ائمہ ترجیح وفتوے بکثرت ہیں اور قول اول کی طرف زیادہ متاخرین قریب العصر۔
اور اگر تطبیق کی طرف چلئے تو نظر ظاہر میں وہ توفیق حاضر جسے علامہ شامی عــــہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے
عــــہ : قال رحمہ الله تعالی تحت قول
عــــہ : علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے متن کی عبارت (باقی برصفحہ ائندہ)
کے قول پر ہے۔ (ت)
حالانکہ فریق اول کے طور پر ضروریہ قول مجمع علیہ ہی تھایوہیں حلیہ میں عبارت مذکورہ مصفی سے مبسوط ومحیط ومغنی کے نصوص نقل کرکے فرمایا :
یفید عدم الوجوب بالاجماع فی المذی کمافی الودی ولیس کذلك بل ھو علی الخلاف کما صرح بہ نفس صاحب المصفی فی الکافی وقاضی خان فی فتاویہ وغیرھمامن المشائخ( ) اھ
اس کا مفاد یہ ہے کہ ودی کی طرح مذی میں بھی بالاجماع غسل واجب نہیں حالاں کہ ایسا نہیں بلکہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ خود صاحب مصفی نے کافی میں امام قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں اور دیگر مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (ت)
بالجملہ یہ خلاف نوادر دہر سے ہے اور راہ تطبیق ہے یا ترجیح۔ اگر ترجیح لیجئے فاقول وہ تو سردست بوجوہ قول دوم کیلئے حاضر۔
اولا : اسی پر متون ہیں ۔
ثانیا : اسی طرف اکثر ہیں وانما العمل بما علیہ الاکثر( )۔ (عمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ۔ ت)
ثالثا : اسی میں احتیاط بیشتر اور امر عبادات میں احتیاط کا لحاظ اوفر۔
رابعا : اس کے اختیار فرمانے والوں کی جلالت شان جن میں امام اجل فقیہ ابو اللیث سمرقندی صاحب حصرو امام ملك العلما ابو بکر مسعود کا شانی وامام اجل نجم الدین عمر نسفی وامام علی بن محمد اسبیجابی ہردو استاذ امام برہان الدین صاحب ہدایہ وخودامام اجل صاحب تجنیس وہدایہ وامام ظہیر الدین محمد بخاری وامام فقیہ النفس قاضیخان وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم ائمہ ترجیح وفتوے بکثرت ہیں اور قول اول کی طرف زیادہ متاخرین قریب العصر۔
اور اگر تطبیق کی طرف چلئے تو نظر ظاہر میں وہ توفیق حاضر جسے علامہ شامی عــــہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے
عــــہ : قال رحمہ الله تعالی تحت قول
عــــہ : علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے متن کی عبارت (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ المریض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ المریض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۱۰
اختیار کیااور من وجہ اس کاپتااور بعض کتب سے بھی چلتاہے کہ قول اول میں حقیقت مذی مراد ہے یعنی جب یقین یا غلبہ ظن سے کہ وہ بھی فقہیات میں مثل یقین ہے معلوم ہو کہ یہ تری حقیقۃ مذی ہے اس کا منی ہونا محتمل نہیں تو بالاجماع غسل نہ ہوگااور قول دوم میں صورت مذی مقصود ہے یعنی صورۃ مذی ہونے کا علم ویقین ہواور دربارہ حقیقت تردد کہ شاید منی ہو جو گرمی پاکر اس شکل پر ہوگئی۔ عبارت درمختار ابھی گزری عبارت نقایہ رؤیۃ المستیقظ المنی اوالمذی ( )کی جامع الرموز میں یوں تفسیر کی :
(المنی) ای شیا یتیقن انہ منی
(منی) یعنی ایسی چیز جس کے متعلق اس کا یقین یہ ہے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الماتن رؤیۃ مستیقظ منیااومذیا( )قولہ اومذیا یقتضی انہ اذا علم مذی ولم یتذکر احتلاما یجب الغسل وقدعلمت خلافہ وعبارۃ النقایۃ کعبارۃ المصنف واشارالقہستانی الی الجواب حیث فسرقولہ اومذیابقولہ ای شیا شك فیہ انہ منی اومذی فالمراد ماصورتہ المذی لاحقیقتہ اھ فلیس فیہ مخالفۃ لما تقدم فافھم اھ فافادان المراد فی قول النفاۃ العلم بحقیقۃ المذی وفی قول الموجبین العلم بصورتہ فلا خلاف اھ منہ ۔ “ رؤیۃ مستیقظ منیا اومذیا “
(بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا موجب غسل ہے)کے تحت فرمایا عبارت متن “ او مذیا “ کا تقاضا یہ ہے کہ جب اسے مذی ہونے کا یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہوتو غسل واجب ہوا اور تمہیں اس کے خلاف حکم معلوم ہوچکا اور نقایہ کی عبارت بھی عبارت مصنف ہی کی طرح ہے اس کے تحت قہستانی نے جواب کی طر ف اشارہ کیا ۔ اس طرح کہ عبارت نقایہ “ اومذیا “ کی تفسیر یہ کی یعنی ایسی چیز جس کے بارے میں شك ہو کہ وہ منی ہے یامذی تو مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے وہ نہیں جو حقیقتا مذی ہے اھ تو اس میں حکم سابق کی مخالفت نہیں فافہم اھ۔ اس سے علامہ شامی نے یہ افادہ کیا کہ وجوب غسل کی نفی کرنے والے حضرات کے قول میں حقیقت مذی کا یقین مراد ہے اور وجوب غسل قراردینے والوں کے قول میں صورت مذی کا یقین مراد ہے تو کوئی اختلاف نہیں ۱۲ منہ(ت)
(المنی) ای شیا یتیقن انہ منی
(منی) یعنی ایسی چیز جس کے متعلق اس کا یقین یہ ہے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الماتن رؤیۃ مستیقظ منیااومذیا( )قولہ اومذیا یقتضی انہ اذا علم مذی ولم یتذکر احتلاما یجب الغسل وقدعلمت خلافہ وعبارۃ النقایۃ کعبارۃ المصنف واشارالقہستانی الی الجواب حیث فسرقولہ اومذیابقولہ ای شیا شك فیہ انہ منی اومذی فالمراد ماصورتہ المذی لاحقیقتہ اھ فلیس فیہ مخالفۃ لما تقدم فافھم اھ فافادان المراد فی قول النفاۃ العلم بحقیقۃ المذی وفی قول الموجبین العلم بصورتہ فلا خلاف اھ منہ ۔ “ رؤیۃ مستیقظ منیا اومذیا “
(بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا موجب غسل ہے)کے تحت فرمایا عبارت متن “ او مذیا “ کا تقاضا یہ ہے کہ جب اسے مذی ہونے کا یقین ہو اور احتلام یاد نہ ہوتو غسل واجب ہوا اور تمہیں اس کے خلاف حکم معلوم ہوچکا اور نقایہ کی عبارت بھی عبارت مصنف ہی کی طرح ہے اس کے تحت قہستانی نے جواب کی طر ف اشارہ کیا ۔ اس طرح کہ عبارت نقایہ “ اومذیا “ کی تفسیر یہ کی یعنی ایسی چیز جس کے بارے میں شك ہو کہ وہ منی ہے یامذی تو مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے وہ نہیں جو حقیقتا مذی ہے اھ تو اس میں حکم سابق کی مخالفت نہیں فافہم اھ۔ اس سے علامہ شامی نے یہ افادہ کیا کہ وجوب غسل کی نفی کرنے والے حضرات کے قول میں حقیقت مذی کا یقین مراد ہے اور وجوب غسل قراردینے والوں کے قول میں صورت مذی کا یقین مراد ہے تو کوئی اختلاف نہیں ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
مختصر الوقایہ فی مسائل الھدایہ کتاب الطہارۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۴
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
(اوالمذی)ای شیا یشك فیہ انہ منی اومذی تذکر الاحتلام اولا وھذا عندھماالخ ( )
کہ وہ منی ہے(یا مذی)یعنی ایسی چیز جس کے بارے میں اسے شك ہے کہ وہ منی ہے یا مذی۔ احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ اور یہ طرفین کے نزدیك ہے الخ۔ (ت)
عبارت مذکورہ وقایہ پر ذخیرۃ العقبی میں لکھا :
لایقال قد صرح فی جمیع المعتبرات بانہ لا یوجب الغسل کالودی فما بال المصنف رحمہ الله تعالی عدرؤیتہ من الموجبات لانا نقول الذی یحکم علیہ بعدم کونہ موجبا ھوالمذی یقینا والذی عدموجباھومایکون فی صورتہ مع احتمال کونہ منیارقیقاکمااشارالیہ الشارح رحمہ الله تعالی بقولہ اماالمذی فلاحتمال کونہ الخ ( )
یہاں اعتراض ہوسکتاہے کہ تمام معتبر کتابوں میں تصریح ہے کہ ودی کی طرح مذی سے بھی غسل واجب نہیں ہوتا پھر کیا وجہ ہے کہ مصنف نے مذی دیکھنے کو موجبات غسل میں شمار کیا مگر اس کا جواب یہ ہے کہ جس مذی کے غیر موجب ہونے کا حکم ہے وہ مذی یقینی ہے اور جسے موجب غسل شمار کیاہے وہ ایسی تری ہے جو مذی کی صورت میں ہے اور اس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ رقیق منی ہو جیسا کہ اس طرف شارح رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنے ا س قول سے اشارہ فرمایاکہ “ لیکن مذی تو اس لئے کہ احتمال ہے کہ “ الخ ۔ (ت)
اور تحقیق چاہئے توحقیقت امر وہ ہے جس کی طرف محقق علی الاطلاق نے اشارہ فرمایا یعنی قول اول ضرور فی نفسہ ایك ٹھیك بات ہے۔ واقعی جب ثابت ہوجائے کہ یہ تری فی الحقیقۃ مذی ہے تو بالضرورۃ منی ہونا محتمل نہ رہے گا اور جب منی کا احتمال تك نہیں تو با لاجماع عدم وجوب غسل میں کوئی شك نہیں مگر مانحن فیہ یعنی سوتے سے اٹھ کر تری دیکھنے میں یہ صورت کبھی موجود نہ ہوگی جب مذی دیکھی جائے گی منی ضرور محتمل رہے گی کہ بارہا بدن یا ہوا کی گرمی سے منی رقیق ہو کر شکل مذی ہوجاتی ہے تو بیدار ہوکر دیکھنے والے کو علم مذی ہمیشہ احتمال منی ہے اورشك نہیں کہ مذہب طرفین میں اسے احتمال منی ہمیشہ موجب غسل
کہ وہ منی ہے(یا مذی)یعنی ایسی چیز جس کے بارے میں اسے شك ہے کہ وہ منی ہے یا مذی۔ احتلام یاد ہو یا نہ ہو۔ اور یہ طرفین کے نزدیك ہے الخ۔ (ت)
عبارت مذکورہ وقایہ پر ذخیرۃ العقبی میں لکھا :
لایقال قد صرح فی جمیع المعتبرات بانہ لا یوجب الغسل کالودی فما بال المصنف رحمہ الله تعالی عدرؤیتہ من الموجبات لانا نقول الذی یحکم علیہ بعدم کونہ موجبا ھوالمذی یقینا والذی عدموجباھومایکون فی صورتہ مع احتمال کونہ منیارقیقاکمااشارالیہ الشارح رحمہ الله تعالی بقولہ اماالمذی فلاحتمال کونہ الخ ( )
یہاں اعتراض ہوسکتاہے کہ تمام معتبر کتابوں میں تصریح ہے کہ ودی کی طرح مذی سے بھی غسل واجب نہیں ہوتا پھر کیا وجہ ہے کہ مصنف نے مذی دیکھنے کو موجبات غسل میں شمار کیا مگر اس کا جواب یہ ہے کہ جس مذی کے غیر موجب ہونے کا حکم ہے وہ مذی یقینی ہے اور جسے موجب غسل شمار کیاہے وہ ایسی تری ہے جو مذی کی صورت میں ہے اور اس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ رقیق منی ہو جیسا کہ اس طرف شارح رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنے ا س قول سے اشارہ فرمایاکہ “ لیکن مذی تو اس لئے کہ احتمال ہے کہ “ الخ ۔ (ت)
اور تحقیق چاہئے توحقیقت امر وہ ہے جس کی طرف محقق علی الاطلاق نے اشارہ فرمایا یعنی قول اول ضرور فی نفسہ ایك ٹھیك بات ہے۔ واقعی جب ثابت ہوجائے کہ یہ تری فی الحقیقۃ مذی ہے تو بالضرورۃ منی ہونا محتمل نہ رہے گا اور جب منی کا احتمال تك نہیں تو با لاجماع عدم وجوب غسل میں کوئی شك نہیں مگر مانحن فیہ یعنی سوتے سے اٹھ کر تری دیکھنے میں یہ صورت کبھی موجود نہ ہوگی جب مذی دیکھی جائے گی منی ضرور محتمل رہے گی کہ بارہا بدن یا ہوا کی گرمی سے منی رقیق ہو کر شکل مذی ہوجاتی ہے تو بیدار ہوکر دیکھنے والے کو علم مذی ہمیشہ احتمال منی ہے اورشك نہیں کہ مذہب طرفین میں اسے احتمال منی ہمیشہ موجب غسل
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۳
ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ المبحث فی موجبات الغسل المطبعۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۳۰،۱۳۱
ذخیرۃ العقبی کتاب الطہارۃ المبحث فی موجبات الغسل المطبعۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۳۰،۱۳۱
ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو تو اس صورت میں بھی امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك وجوب غسل لازم بالجملہ ترجیح لویا تطبیق چلو۔ بہرحال صحیح وثابت وہی قول دوم ہے وبالله التوفیق۔
اقول : وبیان ذلك علی ماظھر للعبد الضعیف بحسن التوقیف من المولی اللطیف ان فـــــ الحکم بشیئ اما ان یحتمل خلافہ احتمالا صحیحا ناشئا عن دلیل غیر ساقط حتی یکون للقلب الیہ رکون اولا الاول ھو الظن باصطلاح الفقہ والثانی العلم ویشمل مااذالم یکن ثمہ تصورماللخلاف اصلا وھو الیقین بالمعنی الاخص او کان تصورہ بمجردامکانہ فی حدنفسہ من دون ان یکون ھھنا مثارلہ من دلیل مااصلا وھو الیقین با لمعنی الاعم اوکان عن دلیل ساقط مضمحل لا یرکن الیہ القلب و ھو غالب الظن واکبرالرأی و الیقین الفقہی لالتحاقۃ فیہ بالیقین۔
وبہ علم ان فی الاحکام الفقھیۃ لاعبرۃ بالاحتمال المضمحل الساقط اصلاکما لاحاجۃ الی الیقین الجازم بشیئ من المعنیین کذلك ففی بناء
اقول : اس کا بیان جیسا کہ رب لطیف کے حسن توقیف سے بندہ ضعیف پر منکشف ہوایہ ہے کہ کسی شئی کا حکم کرنے میں یا تو اس کے خلاف کا احتمال ہوگا۔ ایسااحتمال صحیح جو دلیل غیر ساقط سے پیدا ہوا ہویہاں تك کہ اس کی جانب دل کاجھکاؤ ہو۔ یا اس کے خلاف کا ایسا احتمال نہ ہوگا۔ اول اصطلاح فقہ میں ظن کہلاتاہے ۔ اور ثانی کو علم و یقین کہا جاتاہے۔ اس علم کے تحت تین صورتیں ہوتی ہیں (۱)خلاف کا وہاں بالکل کوئی تصور ہی نہ ہو۔ یہ یقین بمعنی اخص ہے (۲)خلاف کا تصور محض اس کے فی نفسہ ممکن ہونے کی حد تك ہو اس پر کسی طرح کی کوئی دلیل بالکل نہ ہویہ یقین بمعنی اعم ہے(۳)خلاف کا تصور ایسی کمزور ساقط دلیل سے پیدا ہو جس کی طرف دل کا جھکاؤ نہ ہو۔ یہ غالب ظن اکبر رائے اور یقین فقہی کہلاتا ہے اس لئے کہ فقہ میں اسے یقین کا حکم حاصل ہے ۔
اسی سے معلوم ہواکہ فقہی احکام میں کمزور ساقط احتمال کا بالکل کوئی اعتبار نہیں ۔ جیسے اس میں ان دونوں معنوں میں یقین جازم کی بھی احتیاج نہیں ۔ تو فقہابنائے احکام میں جب
فــــ : فائدہ : معانی العلم والظن والاحتمال فی اصطلاح الفقہ۔
اقول : وبیان ذلك علی ماظھر للعبد الضعیف بحسن التوقیف من المولی اللطیف ان فـــــ الحکم بشیئ اما ان یحتمل خلافہ احتمالا صحیحا ناشئا عن دلیل غیر ساقط حتی یکون للقلب الیہ رکون اولا الاول ھو الظن باصطلاح الفقہ والثانی العلم ویشمل مااذالم یکن ثمہ تصورماللخلاف اصلا وھو الیقین بالمعنی الاخص او کان تصورہ بمجردامکانہ فی حدنفسہ من دون ان یکون ھھنا مثارلہ من دلیل مااصلا وھو الیقین با لمعنی الاعم اوکان عن دلیل ساقط مضمحل لا یرکن الیہ القلب و ھو غالب الظن واکبرالرأی و الیقین الفقہی لالتحاقۃ فیہ بالیقین۔
وبہ علم ان فی الاحکام الفقھیۃ لاعبرۃ بالاحتمال المضمحل الساقط اصلاکما لاحاجۃ الی الیقین الجازم بشیئ من المعنیین کذلك ففی بناء
اقول : اس کا بیان جیسا کہ رب لطیف کے حسن توقیف سے بندہ ضعیف پر منکشف ہوایہ ہے کہ کسی شئی کا حکم کرنے میں یا تو اس کے خلاف کا احتمال ہوگا۔ ایسااحتمال صحیح جو دلیل غیر ساقط سے پیدا ہوا ہویہاں تك کہ اس کی جانب دل کاجھکاؤ ہو۔ یا اس کے خلاف کا ایسا احتمال نہ ہوگا۔ اول اصطلاح فقہ میں ظن کہلاتاہے ۔ اور ثانی کو علم و یقین کہا جاتاہے۔ اس علم کے تحت تین صورتیں ہوتی ہیں (۱)خلاف کا وہاں بالکل کوئی تصور ہی نہ ہو۔ یہ یقین بمعنی اخص ہے (۲)خلاف کا تصور محض اس کے فی نفسہ ممکن ہونے کی حد تك ہو اس پر کسی طرح کی کوئی دلیل بالکل نہ ہویہ یقین بمعنی اعم ہے(۳)خلاف کا تصور ایسی کمزور ساقط دلیل سے پیدا ہو جس کی طرف دل کا جھکاؤ نہ ہو۔ یہ غالب ظن اکبر رائے اور یقین فقہی کہلاتا ہے اس لئے کہ فقہ میں اسے یقین کا حکم حاصل ہے ۔
اسی سے معلوم ہواکہ فقہی احکام میں کمزور ساقط احتمال کا بالکل کوئی اعتبار نہیں ۔ جیسے اس میں ان دونوں معنوں میں یقین جازم کی بھی احتیاج نہیں ۔ تو فقہابنائے احکام میں جب
فــــ : فائدہ : معانی العلم والظن والاحتمال فی اصطلاح الفقہ۔
الاحکام اذااطلقواالاحتمال فانما یریدون الاحتمال الصحیح وھو الناشیئ عن دلیل غیر ساقط واذااطلقواالعلم فانمایعنون المعنی الاعم الشامل لاکبرالرأی ای مالایحتمل خلافہ احتمالاصحیحاوبہ علم ان غلبۃ الظن بشیئ واحتمال ضدہ لایمکن اجتماعھمابالمعنی المذکور۔
ثم ان الاشیاء ثلثۃ منی ومذی وودی نعنی بہ کل مالیس منیاولامذیا فصورۃ رؤیۃ البلل بالنظرالی تعلق العلم اوالاحتمال باحدالثلثۃ تتنوع الی سبع صور ثلث للعلم واربع فی الاحتمال وذلك ان یتردد المرئی بین منی و مذی اومنی وودی اومذی وودی اوبین الثلثۃ و مرجع الاربع الی ثنتین احتمال المنی مطلقا وھو فیماعدا الثالث واحتمال المذی خاصۃ ای یحتملہ لاالمنی فعادت السبع خمساوھی مع صورۃ عدم رؤیۃ البلل ست کمافعلنا۔
وضابطہا ان تقول یکون
لفظ احتمال بولتے ہیں تو اس سے احتمال صحیح مراد لیتے ہیں ۔ یہ وہی ہے جو کسی غیر ساقط دلیل سے پیدا ہوا ہو۔ اور جب لفظ علم ویقین بولتے ہیں تو اس سے وہ معنی اعم مراد لیتے ہیں جو اکبر رائے کو بھی شامل ہے یعنی جس کے خلاف کا کوئی صحیح احتمال نہ ہو۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی شئی کا غلبہ ظن اور اس کی ضد کا احتمال بمعنی مذکور دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں ۔
اب دیکھئے کہ تین چیزیں ہیں : منی مذی ودی۔ ودی سے ہماری مراد ہر وہ تری جونہ منی ہو نہ مذی۔ تینوں میں سے کسی ایك سے علم یااحتمال متعلق ہونے پر نظر کرتے ہوئے تری کے دیکھنے کی صورت سات صورتوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ تین صورتیں علم کی ہیں اور چار احتمال کی۔ وہ اس طرح کہ مرئی میں تردد منی و مذی کے درمیان ہوگا یا منی و ودی یا مذی و ودی یا تینوں کے درمیان ہوگا۔ ان چاروں کا مآل دو صورتیں ہیں ۔ منی کا احتمال ہو مطلقا یہ تیسری صورت کے ماسوا میں ہے ۔ صرف مذی کااحتمال ہو منی کا احتمال نہ ہو تو اب (احتمال کی دوصورتیں اور یقین کی سابقہ تین صورتیں رہ گئیں ) سات صورتیں صرف پانچ ہو گئیں ان کے ساتھ تری نہ دیکھنے کی صورت کو بھی ملالیا جائے توکل چھ صورتیں ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے یہی کیا ۔
اسے بطورضا بطہ یوں کہیں کہ منی یامذی ۱معلوم
ثم ان الاشیاء ثلثۃ منی ومذی وودی نعنی بہ کل مالیس منیاولامذیا فصورۃ رؤیۃ البلل بالنظرالی تعلق العلم اوالاحتمال باحدالثلثۃ تتنوع الی سبع صور ثلث للعلم واربع فی الاحتمال وذلك ان یتردد المرئی بین منی و مذی اومنی وودی اومذی وودی اوبین الثلثۃ و مرجع الاربع الی ثنتین احتمال المنی مطلقا وھو فیماعدا الثالث واحتمال المذی خاصۃ ای یحتملہ لاالمنی فعادت السبع خمساوھی مع صورۃ عدم رؤیۃ البلل ست کمافعلنا۔
وضابطہا ان تقول یکون
لفظ احتمال بولتے ہیں تو اس سے احتمال صحیح مراد لیتے ہیں ۔ یہ وہی ہے جو کسی غیر ساقط دلیل سے پیدا ہوا ہو۔ اور جب لفظ علم ویقین بولتے ہیں تو اس سے وہ معنی اعم مراد لیتے ہیں جو اکبر رائے کو بھی شامل ہے یعنی جس کے خلاف کا کوئی صحیح احتمال نہ ہو۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی شئی کا غلبہ ظن اور اس کی ضد کا احتمال بمعنی مذکور دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں ۔
اب دیکھئے کہ تین چیزیں ہیں : منی مذی ودی۔ ودی سے ہماری مراد ہر وہ تری جونہ منی ہو نہ مذی۔ تینوں میں سے کسی ایك سے علم یااحتمال متعلق ہونے پر نظر کرتے ہوئے تری کے دیکھنے کی صورت سات صورتوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ تین صورتیں علم کی ہیں اور چار احتمال کی۔ وہ اس طرح کہ مرئی میں تردد منی و مذی کے درمیان ہوگا یا منی و ودی یا مذی و ودی یا تینوں کے درمیان ہوگا۔ ان چاروں کا مآل دو صورتیں ہیں ۔ منی کا احتمال ہو مطلقا یہ تیسری صورت کے ماسوا میں ہے ۔ صرف مذی کااحتمال ہو منی کا احتمال نہ ہو تو اب (احتمال کی دوصورتیں اور یقین کی سابقہ تین صورتیں رہ گئیں ) سات صورتیں صرف پانچ ہو گئیں ان کے ساتھ تری نہ دیکھنے کی صورت کو بھی ملالیا جائے توکل چھ صورتیں ہوتی ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے یہی کیا ۔
اسے بطورضا بطہ یوں کہیں کہ منی یامذی ۱معلوم
المنی او المذی معلوما اومحتملا اولاولا۔ اقول : وان اخذت الاحتمال بحیث یشمل العلم ای تسویغ شیئ سواء ساغ معہ ضدہ فکان احتمالا بالمعنی المعروف اولا فکان علما فحینئذ یرجع التخمیس تثلیثا بان یقال یحتمل منی اومذی اولاولا فیندرج علم المنی واحتمالہ مع مذی او ودی اومعھمافی الاول وعلم المذی واحتمالہ مع ودی فی الثانی وعلم الودی ھو الثالث۔
ثم ان لکل من الثلثۃ صورۃ وحقیقۃ۔
اقول : و معلوم قطعا ان العلم بحقیقۃ شیئ ینفی احتمال ضدہ الکلامی الکلامی والفقھی الفقھی و کذا احتمالہا لا یکون احتمالہ وان صحب احتمالہ بخلاف العلم بصورتہ اواحتمالہ فانہ لا ینفی احتمال حقیقۃ ضدہ بل ربما یفیدہ اذا امکن ان تکون تلك الصورۃ لہ فحینئذ یجامع
یا ۴محتمل ہوگی یا ۵یہ دونوں نہ معلوم ہوں گی نہ محتمل ۔ ( ت)اقول : اور اگر احتمال کو اس طرح لیجئے کہ علم و یقین کو بھی شامل ہو ۔ یعنی کسی شئی کا جواز ہو خواہ اس کے ساتھ اس کی ضد کابھی جواز ہو۔ جواحتمال بمغی معروف ہے۔ یا اس کی ضد کا کوئی جواز نہ ہو جو علم بمعنی معروف ہے ۔ تو اس تقدیر پر پانچ صورتیں صرف تین ہو جائیں گی ۔ وہ اس طرح کہ ہم کہیں ۱منی کا احتمال ہو گا یا ۲مذی کا یا دونوں کا احتمال نہ ہوگا۔ تو منی کا ۱علم اور ۲مذی یا ۳ودی یا ۴دونوں کے ساتھ اس کا احتمال شق اول میں مندرج ہوجائے گا۔ اور ۵مذی کا علم اور ۶ودی کے ساتھ اس کا احتمال شق دوم میں مندرج ہوگا ۔ اور ودی کا علم یہ تیسری شق ہے ۔
پھر تینوں میں سے ہر ایك کی ایك صورت ہے اور ایك حقیقت ہے۔ (ت) اقول : اور یہ قطعا معلوم ہے کہ کسی شئی کی حقیقت کا یقین اس کی ضد کے احتمال کی نفی کرتا ہے ۔ یقین کلامی احتمال کلامی کی نفی کرتاہے اور یقین فقہی احتمال فقہی کی ۔ اسی طرح حقیقت شئی کااحتمال ضد شئی کااحتمال نہیں ہوتا اگر چہ اس کے احتمال کے ساتھ ہو ۔ اور شئی کی صورت کے علم یااحتمال کا حکم اس کے بر خلاف ہے ۔ اس لئے کہ وہ ضد شئی کی حقیقت کے احتمال کی نفی نہیں کرتا بلکہ بار ہااس کا افادہ کرتا ہے جب کہ یہ ممکن ہو کہ وہ صورت اس کی ضد ہو ۔
ثم ان لکل من الثلثۃ صورۃ وحقیقۃ۔
اقول : و معلوم قطعا ان العلم بحقیقۃ شیئ ینفی احتمال ضدہ الکلامی الکلامی والفقھی الفقھی و کذا احتمالہا لا یکون احتمالہ وان صحب احتمالہ بخلاف العلم بصورتہ اواحتمالہ فانہ لا ینفی احتمال حقیقۃ ضدہ بل ربما یفیدہ اذا امکن ان تکون تلك الصورۃ لہ فحینئذ یجامع
یا ۴محتمل ہوگی یا ۵یہ دونوں نہ معلوم ہوں گی نہ محتمل ۔ ( ت)اقول : اور اگر احتمال کو اس طرح لیجئے کہ علم و یقین کو بھی شامل ہو ۔ یعنی کسی شئی کا جواز ہو خواہ اس کے ساتھ اس کی ضد کابھی جواز ہو۔ جواحتمال بمغی معروف ہے۔ یا اس کی ضد کا کوئی جواز نہ ہو جو علم بمعنی معروف ہے ۔ تو اس تقدیر پر پانچ صورتیں صرف تین ہو جائیں گی ۔ وہ اس طرح کہ ہم کہیں ۱منی کا احتمال ہو گا یا ۲مذی کا یا دونوں کا احتمال نہ ہوگا۔ تو منی کا ۱علم اور ۲مذی یا ۳ودی یا ۴دونوں کے ساتھ اس کا احتمال شق اول میں مندرج ہوجائے گا۔ اور ۵مذی کا علم اور ۶ودی کے ساتھ اس کا احتمال شق دوم میں مندرج ہوگا ۔ اور ودی کا علم یہ تیسری شق ہے ۔
پھر تینوں میں سے ہر ایك کی ایك صورت ہے اور ایك حقیقت ہے۔ (ت) اقول : اور یہ قطعا معلوم ہے کہ کسی شئی کی حقیقت کا یقین اس کی ضد کے احتمال کی نفی کرتا ہے ۔ یقین کلامی احتمال کلامی کی نفی کرتاہے اور یقین فقہی احتمال فقہی کی ۔ اسی طرح حقیقت شئی کااحتمال ضد شئی کااحتمال نہیں ہوتا اگر چہ اس کے احتمال کے ساتھ ہو ۔ اور شئی کی صورت کے علم یااحتمال کا حکم اس کے بر خلاف ہے ۔ اس لئے کہ وہ ضد شئی کی حقیقت کے احتمال کی نفی نہیں کرتا بلکہ بار ہااس کا افادہ کرتا ہے جب کہ یہ ممکن ہو کہ وہ صورت اس کی ضد ہو ۔
العلم الفقھی بل الکلا می بصورۃ شیئ الاحتمال الکلامی بل الفقھی لحقیقتہ اذا کان ناشئاعن دلیل غیر مضمحل ۔
اذا وعیت ھذا۔ فاقول : لامساغ لان تؤخذ الصور ھھنا باعتبارتعلق العلم بحقیقۃ الشیئ عینا لوجوہ یجمعھا۔ اولھا فــــ وھوانہ یبطل ما اجمعوا علیہ من وجوب الغسل بعلم المذی عند تذکرالحلم کیف واذاعلم انہ مذی حقیقۃ لم یحتمل کونہ منیااصلا واذا لم یحتمل کونہ منیاامتنع ان یوجب غسلا ولوتذکرالف حلم لماعلم من الشرع ضرورۃ ان لاماء موجبا للماء الا المنی فیکون ایجابہ بما علم انہ مذی حقیقۃ تشریعاجدیداوالعیاذ بالله تعالی اما تراھم مفصحین بانالانوجب الغسل بالمذی بل قدیرق المنی فیری کالمذی کما تقدم فقد ابانوا ان لیس المراد العلم بحقیقۃ المذی والا لم تحتمل
تو ایسی حالت میں کسی شئی کی صورت کا یقین فقہی بلکہ کلامی بھی اس کی ضد کی حقیقت کے احتمال کلامی بلکہ فقہی کے ساتھ بھی جمع ہوتاہے جب کہ وہ احتمال کسی دلیل غیر مضمحل سے پیدا ہو ۔
جب یہ ذہن نشین ہو گیا تو میں کہتاہوں اس کی گنجائش نہیں کہ یہاں مذ کورہ صورتیں معین طور پر شئی کی حقیقت سے علم متعلق ہونے کے اعتبار سے لی جائیں ۔ اس کی چند وجہیں ہیں جن کی جامع وجہ اول ہے وہ یہ کہ اس سے وہ باطل ہوجائیگا جس پر اجماع ہے کہ خواب یا دہونے کی صورت میں مذی کے علم ویقین سے غسل واجب ہو تاہے۔ یہ کیسے ہو سکے گا جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ حقیقۃ مذی ہے تو اس کے منی ہونے کا احتمال بالکل نہ رہا ۔ اور جب اس کے منی ہو نے کا احتمال نہ رہا تو ناممکن ہے کہ اس سے غسل واجب ہواگر چہ اسے ہزار خواب یاد ہوں اس لئے کہ شرع سے ضروری طور پر معلوم ہے کہ سوامنی کے کوئی پانی غسل واجب نہیں کرتا ۔ توا سے جس پانی کے حقیقۃ مذی ہونے کا یقین ہو گیا اس سے غسل واجب کرنا ایك نئی شریعت نکا لنا ہوگا والعیاذ بالله تعالی ۔ دیکھتے نہیں کہ علماء صاف لکھتے ہیں کہ ہم مذی سے غسل واجب نہیں کرتے بلکہ بات یہ ہے کہ کبھی منی رقیق ہو کر مذی کی طرح دکھائی دیتی ہے ۔ جیسا کہ گزرا۔ ان الفاظ سے ان حضرات نے واضح کردیا کہ حقیقت مذی کا
فــــ : معروضہ علی العلامۃ ش۔
اذا وعیت ھذا۔ فاقول : لامساغ لان تؤخذ الصور ھھنا باعتبارتعلق العلم بحقیقۃ الشیئ عینا لوجوہ یجمعھا۔ اولھا فــــ وھوانہ یبطل ما اجمعوا علیہ من وجوب الغسل بعلم المذی عند تذکرالحلم کیف واذاعلم انہ مذی حقیقۃ لم یحتمل کونہ منیااصلا واذا لم یحتمل کونہ منیاامتنع ان یوجب غسلا ولوتذکرالف حلم لماعلم من الشرع ضرورۃ ان لاماء موجبا للماء الا المنی فیکون ایجابہ بما علم انہ مذی حقیقۃ تشریعاجدیداوالعیاذ بالله تعالی اما تراھم مفصحین بانالانوجب الغسل بالمذی بل قدیرق المنی فیری کالمذی کما تقدم فقد ابانوا ان لیس المراد العلم بحقیقۃ المذی والا لم تحتمل
تو ایسی حالت میں کسی شئی کی صورت کا یقین فقہی بلکہ کلامی بھی اس کی ضد کی حقیقت کے احتمال کلامی بلکہ فقہی کے ساتھ بھی جمع ہوتاہے جب کہ وہ احتمال کسی دلیل غیر مضمحل سے پیدا ہو ۔
جب یہ ذہن نشین ہو گیا تو میں کہتاہوں اس کی گنجائش نہیں کہ یہاں مذ کورہ صورتیں معین طور پر شئی کی حقیقت سے علم متعلق ہونے کے اعتبار سے لی جائیں ۔ اس کی چند وجہیں ہیں جن کی جامع وجہ اول ہے وہ یہ کہ اس سے وہ باطل ہوجائیگا جس پر اجماع ہے کہ خواب یا دہونے کی صورت میں مذی کے علم ویقین سے غسل واجب ہو تاہے۔ یہ کیسے ہو سکے گا جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ حقیقۃ مذی ہے تو اس کے منی ہونے کا احتمال بالکل نہ رہا ۔ اور جب اس کے منی ہو نے کا احتمال نہ رہا تو ناممکن ہے کہ اس سے غسل واجب ہواگر چہ اسے ہزار خواب یاد ہوں اس لئے کہ شرع سے ضروری طور پر معلوم ہے کہ سوامنی کے کوئی پانی غسل واجب نہیں کرتا ۔ توا سے جس پانی کے حقیقۃ مذی ہونے کا یقین ہو گیا اس سے غسل واجب کرنا ایك نئی شریعت نکا لنا ہوگا والعیاذ بالله تعالی ۔ دیکھتے نہیں کہ علماء صاف لکھتے ہیں کہ ہم مذی سے غسل واجب نہیں کرتے بلکہ بات یہ ہے کہ کبھی منی رقیق ہو کر مذی کی طرح دکھائی دیتی ہے ۔ جیسا کہ گزرا۔ ان الفاظ سے ان حضرات نے واضح کردیا کہ حقیقت مذی کا
فــــ : معروضہ علی العلامۃ ش۔
المنویۃ لما علمت۔
فان قلت العلم الفقہی بشیئ لاینفی احتمال ضدہ بل یحققۃ اذماھوالاغلبۃ ظن فلوقطع الاحتمال لکان قطعا۔ قلت بلی ینفی الفقہی اذلو نشأعن دلیل غیرساقط نفی غلبۃ الظن بضدہ والالم یکن احتمالا یبنی علیہ حکم فقہی لان الساقط المضمحل لاعبرۃ بہ کما سمعت والا لوجب الغسل فی علم الودی ایضا لاسیما عند تذکر الحلم اذیحتمل ان یکون فیہ قلیل منی رق وامتزج فصارمستہلکاولیس ھذا احتمالا عن غیردلیل فکفی بتذکر الاحتلام دلیلا علیہ بل النوم نفسہ مظنۃ لہ علی ماتقدم عن التجنیس والمزید۔
وثانیھا فــــ انہ یرفع الفرق بین التذکر وعدمہ علی مذھب الطرفین رضی الله تعالی عنہما لانھما یوجبان الغسل باحتمال المنی قطعا مطلقا وان لم یتذکر
یقین وعلم مراد نہیں ورنہ منی ہونے کااحتمال ہی نہ رہتا ۔ وجہ ابھی معلوم ہوئی ۔
اگر یہ کہو کہ کسی شئی کا یقین فقہی اس کی ضد کے احتمال کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کا اثبات کرتا ہے اس لئے کہ علم فقہی وہی غلبہ ظن ہے اگر احتمال ختم کردیا جائے تو وہ قطعی ہو جائے۔ میں کہوں گا کیوں نہیں وہ احتمال فقہی کی نفی کرتا ہے ۔ اس لئے کہ احتمال اگر دلیل غیر ساقط سے پیدا ہوا ہے تو اپنی ضد کے غلبہ ظن کی نفی کردے گا ورنہ وہ ایسا احتمال ہی نہ ہوگا جس پر کسی فقہی حکم کی بنیاد رکھی جائے اس لئے کہ ساقط مضمحل کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ پہلے سن چکے۔ ورنہ ودی کے یقین کی صورت میں بھی غسل واجب ہوتا خصوصا اس وقت جب خواب یاد ہو اس لئے کہ احتمال ہے کہ اس میں قلیل منی رہی ہو جو رقیق اور مخلوط ہوکر گم ہوگئی ۔ اور یہ احتمال بلادلیل نہیں (اگر چہ دلیل ساقط ہے ۱۲م ) احتلام کا یاد ہونا اس کی دلیل ہو نے کے لئے کافی ہے بلکہ خود نیند میں اس کے گمان کی جگہ ہے جیسا کہ تجنیس ومزید کے حوالہ سے گزرا ۔
وجہ دوم(اگر حقیقت شئی کے یقین کا اعتبار ہو تو) اس سے طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے مذہب پر خواب یاد ہونے اور نہ یا د ہونے کی تفریق اٹھ جائے گی اس لئے کہ یہ حضرات منی کے احتمال سے قطعا مطلقا غسل واجب کہتے ہیں ۔
فــــ : معروضۃ اخری علیہ ۔
فان قلت العلم الفقہی بشیئ لاینفی احتمال ضدہ بل یحققۃ اذماھوالاغلبۃ ظن فلوقطع الاحتمال لکان قطعا۔ قلت بلی ینفی الفقہی اذلو نشأعن دلیل غیرساقط نفی غلبۃ الظن بضدہ والالم یکن احتمالا یبنی علیہ حکم فقہی لان الساقط المضمحل لاعبرۃ بہ کما سمعت والا لوجب الغسل فی علم الودی ایضا لاسیما عند تذکر الحلم اذیحتمل ان یکون فیہ قلیل منی رق وامتزج فصارمستہلکاولیس ھذا احتمالا عن غیردلیل فکفی بتذکر الاحتلام دلیلا علیہ بل النوم نفسہ مظنۃ لہ علی ماتقدم عن التجنیس والمزید۔
وثانیھا فــــ انہ یرفع الفرق بین التذکر وعدمہ علی مذھب الطرفین رضی الله تعالی عنہما لانھما یوجبان الغسل باحتمال المنی قطعا مطلقا وان لم یتذکر
یقین وعلم مراد نہیں ورنہ منی ہونے کااحتمال ہی نہ رہتا ۔ وجہ ابھی معلوم ہوئی ۔
اگر یہ کہو کہ کسی شئی کا یقین فقہی اس کی ضد کے احتمال کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کا اثبات کرتا ہے اس لئے کہ علم فقہی وہی غلبہ ظن ہے اگر احتمال ختم کردیا جائے تو وہ قطعی ہو جائے۔ میں کہوں گا کیوں نہیں وہ احتمال فقہی کی نفی کرتا ہے ۔ اس لئے کہ احتمال اگر دلیل غیر ساقط سے پیدا ہوا ہے تو اپنی ضد کے غلبہ ظن کی نفی کردے گا ورنہ وہ ایسا احتمال ہی نہ ہوگا جس پر کسی فقہی حکم کی بنیاد رکھی جائے اس لئے کہ ساقط مضمحل کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ پہلے سن چکے۔ ورنہ ودی کے یقین کی صورت میں بھی غسل واجب ہوتا خصوصا اس وقت جب خواب یاد ہو اس لئے کہ احتمال ہے کہ اس میں قلیل منی رہی ہو جو رقیق اور مخلوط ہوکر گم ہوگئی ۔ اور یہ احتمال بلادلیل نہیں (اگر چہ دلیل ساقط ہے ۱۲م ) احتلام کا یاد ہونا اس کی دلیل ہو نے کے لئے کافی ہے بلکہ خود نیند میں اس کے گمان کی جگہ ہے جیسا کہ تجنیس ومزید کے حوالہ سے گزرا ۔
وجہ دوم(اگر حقیقت شئی کے یقین کا اعتبار ہو تو) اس سے طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے مذہب پر خواب یاد ہونے اور نہ یا د ہونے کی تفریق اٹھ جائے گی اس لئے کہ یہ حضرات منی کے احتمال سے قطعا مطلقا غسل واجب کہتے ہیں ۔
فــــ : معروضۃ اخری علیہ ۔
ولایمکن ان یوجبا بما لیس منیا اصلا حتی بالاحتمال وان تذکر لما تلونا علیك انفا فکان علم المذی والتردد بین المذی والودی کل کمثل العلم بالودی للاشتراك فی عدم احتمال ماھو موجب شرعا فبطل الفرق مع اجماعھم علی اثباتہ۔
وثالثھا فــــ یضیع حینئذ لحاظ شیئ من علم المذی واحتمالہ فی بیان الصور اذلا اثر لہ فی الحکم وکان یجب القصر علی ثلث علم المنی واحتمالہ فیوجب اولا ولافلابل اثنین علی الوجہ الثانی ای ان احتمل منیا وجب والا لاوھو ایضا خلاف الروایات قاطبۃ ۔
فبان کالشمس ان الصورلم تؤخذ الا باعتبار تعلق العلم بالصورۃ دون الحقیقۃ لاجرم ان صرح فی الخلاصۃ بان مرادہ ماصورتہ المذی لاحقیقۃ المذی اھ ( )
اگرچہ خواب یاد نہ ہو ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ایسی چیز سے غسل واجب قرار دے دیں جو منی ہر گز نہیں یہاں تك کہ احتمالا بھی نہیں اگرچہ خواب یاد ہی ہو اس کی وجہ ابھی ہم بتاچکے ۔ تو مذی کا یقین اور مذی وودی کے مابین تردد ہر ایك ویسے ہی ہوگا جیسے ودی کا علم ویقین اس لئے کہ سب میں یہ قدر مشترك ہے کہ اس چیز کااحتمال نہیں جو شرعا موجب غسل ہے ۔ تو یا د ہونے نہ ہونے کی تفریق بیکار ہوئی ۔ حالانکہ اس کے اثبات پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے ۔
وجہ سوم : برتقدیر مذکور صورتوں کے بیان میں مذی کے یقین واحتمال میں سے کسی کالحاظ بے کار ہوگا اس لئے کہ حکم میں اس کاکوئی اثر نہیں ۔ اور واجب تھاکہ صرف تین صورتوں پر اکتفاہو۔ اگر منی کا یقین یا احتمال ہے تو وجوب ہے ورنہ نہیں ۔ بلکہ بطریق دوم صرف دو ہی پر اکتفاء ضروری تھی ۔ اگر منی کا احتمال ہے تو وجوب ہے ورنہ نہیں ۔ یہ بھی تمام روایات کے برخلاف ہے ۔
تو مہر تاباں کی طرح روشن ہوا کہ مذکورہ صورتیں حقیقت نہیں بلکہ صورت ہی سے علم ویقین متعلق ہونے کے اعتبار سے لی گئی ہیں یہی بات ہے کہ خلاصہ میں تصریح کردی ہے یہ کہ حقیقت مذی مراد نہیں مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے اھ
فــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
وثالثھا فــــ یضیع حینئذ لحاظ شیئ من علم المذی واحتمالہ فی بیان الصور اذلا اثر لہ فی الحکم وکان یجب القصر علی ثلث علم المنی واحتمالہ فیوجب اولا ولافلابل اثنین علی الوجہ الثانی ای ان احتمل منیا وجب والا لاوھو ایضا خلاف الروایات قاطبۃ ۔
فبان کالشمس ان الصورلم تؤخذ الا باعتبار تعلق العلم بالصورۃ دون الحقیقۃ لاجرم ان صرح فی الخلاصۃ بان مرادہ ماصورتہ المذی لاحقیقۃ المذی اھ ( )
اگرچہ خواب یاد نہ ہو ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ ایسی چیز سے غسل واجب قرار دے دیں جو منی ہر گز نہیں یہاں تك کہ احتمالا بھی نہیں اگرچہ خواب یاد ہی ہو اس کی وجہ ابھی ہم بتاچکے ۔ تو مذی کا یقین اور مذی وودی کے مابین تردد ہر ایك ویسے ہی ہوگا جیسے ودی کا علم ویقین اس لئے کہ سب میں یہ قدر مشترك ہے کہ اس چیز کااحتمال نہیں جو شرعا موجب غسل ہے ۔ تو یا د ہونے نہ ہونے کی تفریق بیکار ہوئی ۔ حالانکہ اس کے اثبات پر تینوں ائمہ کا اجماع ہے ۔
وجہ سوم : برتقدیر مذکور صورتوں کے بیان میں مذی کے یقین واحتمال میں سے کسی کالحاظ بے کار ہوگا اس لئے کہ حکم میں اس کاکوئی اثر نہیں ۔ اور واجب تھاکہ صرف تین صورتوں پر اکتفاہو۔ اگر منی کا یقین یا احتمال ہے تو وجوب ہے ورنہ نہیں ۔ بلکہ بطریق دوم صرف دو ہی پر اکتفاء ضروری تھی ۔ اگر منی کا احتمال ہے تو وجوب ہے ورنہ نہیں ۔ یہ بھی تمام روایات کے برخلاف ہے ۔
تو مہر تاباں کی طرح روشن ہوا کہ مذکورہ صورتیں حقیقت نہیں بلکہ صورت ہی سے علم ویقین متعلق ہونے کے اعتبار سے لی گئی ہیں یہی بات ہے کہ خلاصہ میں تصریح کردی ہے یہ کہ حقیقت مذی مراد نہیں مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہے اھ
فــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ الفصل الثانی فی الغسل مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳
وفی الحلیۃ وجد مذیا یعنی ماصورتہ صورۃ المذی اھ( ) وکذلك عبربا لصورۃ فی البدائع والایضاح والسراجیۃ وغیرھامما تقدم فالتوفیق الذی سلکہ العلامۃ ش لاسبیل الیہ وایاك ان تغتر بما یوھمہ ظاھرکلام المحقق فی الفتح والسید ط فی حواشی المراقی تبعا للنھرکما ذکرہ فی حواشی الدرحیث حکما بتعذر الیقین مع النوم وانما المتعذر بہ التیقن بالحقیقۃ دون الصورۃ کمالایخفی فلیس ذلك لان المراد فی الصور العلم بالحقیقۃ بل السرفیہ۔ ما اقول : ان العلم بصورۃ الشیئ علم کلامی بحقیقتہ اذا لم تکن لغیرہ کصورۃ المنی وعلم فقھی بھا اذا امکنت لغیرھولم یکن احتمالہ ھنالك ناشنا عن دلیل یرکن الیہ ولیس علمابھااصلا اذانشأ عن دلیل صحیح کصورۃ المذی عند تذکر الاحتلام فانھالاتختص بہ بل ربما یکتسیھا المنی و
اور حلیہ میں ہے : مذی پائی یعنی وہ جس کی صورت مذی کی صورت ہے الخ ۔ اسی طرح بدائع ایضاح سراجیہ وغیرہا میں صورت سے تعبیر ہے ان کی عبارتیں گزر چکیں ۔ تو علامہ شامی نے جو راہ تطبیق اختیار کی ہے اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے فریب خوردہ نہیں ہوناچاہئے جس کا وہم فتح القدیر میں حضرت محقق کے کلام سے پیداہوتا ہے اسی طرح مراقی الفلاح کے حواشی میں یہ تبعیت نہر سید طحطاوی کے کلام سے جیسا کہ اس کو حواشی در میں ذکر کیاہے وہ یوں کہ دونوں حضرات نے نیند کے ساتھ یقین کے متعذر ہونے کا حکم کیا ہے حالانکہ نیند کے ساتھ متعذر صرف حقیقت کا یقین ہے صورت کا یقین متعذر نہیں جیسا کہ واضح ہے تو وہ حکم اس لئے نہیں کہ مذکورہ صورتوں میں حقیقت کا یقین مراد ہے بلکہ اس کا رمزوہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں کسی شیئ کی صورت کا یقین اس کی حقیقت کایقین کلامی ہوتا ہے جب کہ وہ صورت کسی اور چیز کی ہوتی ہی نہ ہو ۔ جیسے منی کی صورت۔ اور (صورت شیئ کا یقین حقیقت شیئ کا)یقین فقہی ہوتا ہے جب کہ وہ صورت کسی اور چیز کی بھی ہوسکتی ہو۔ اور وہاں اس کا احتمال کسی ایسی دلیل سے نہ پیدا ہوا ہو جس کی طرف قلب کا جھکاؤ ہوتاہے ۔ اور (صورت شئی کا یقین حقیقت شئی کا) یقین کسی معنی میں نہیں ہوتا جب کہ دوسری چیز کی صورت ہونے کا احتمال کسی دلیل صحیح
اور حلیہ میں ہے : مذی پائی یعنی وہ جس کی صورت مذی کی صورت ہے الخ ۔ اسی طرح بدائع ایضاح سراجیہ وغیرہا میں صورت سے تعبیر ہے ان کی عبارتیں گزر چکیں ۔ تو علامہ شامی نے جو راہ تطبیق اختیار کی ہے اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے فریب خوردہ نہیں ہوناچاہئے جس کا وہم فتح القدیر میں حضرت محقق کے کلام سے پیداہوتا ہے اسی طرح مراقی الفلاح کے حواشی میں یہ تبعیت نہر سید طحطاوی کے کلام سے جیسا کہ اس کو حواشی در میں ذکر کیاہے وہ یوں کہ دونوں حضرات نے نیند کے ساتھ یقین کے متعذر ہونے کا حکم کیا ہے حالانکہ نیند کے ساتھ متعذر صرف حقیقت کا یقین ہے صورت کا یقین متعذر نہیں جیسا کہ واضح ہے تو وہ حکم اس لئے نہیں کہ مذکورہ صورتوں میں حقیقت کا یقین مراد ہے بلکہ اس کا رمزوہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں کسی شیئ کی صورت کا یقین اس کی حقیقت کایقین کلامی ہوتا ہے جب کہ وہ صورت کسی اور چیز کی ہوتی ہی نہ ہو ۔ جیسے منی کی صورت۔ اور (صورت شیئ کا یقین حقیقت شیئ کا)یقین فقہی ہوتا ہے جب کہ وہ صورت کسی اور چیز کی بھی ہوسکتی ہو۔ اور وہاں اس کا احتمال کسی ایسی دلیل سے نہ پیدا ہوا ہو جس کی طرف قلب کا جھکاؤ ہوتاہے ۔ اور (صورت شئی کا یقین حقیقت شئی کا) یقین کسی معنی میں نہیں ہوتا جب کہ دوسری چیز کی صورت ہونے کا احتمال کسی دلیل صحیح
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الاحتلام اقوی دلیل علیہ فالعلم بصورۃ المذی لایکون فیہ علما بحقیقتہ ولا غالب الظن بل مع احتمال صحیح للمنویۃ فیجب الغسل بالاجماع اما اذا لم یتذکرفان کان ھناك مساغ للمنویۃ بدلیل اخرغیرمضمحل کان علمابصورۃ المذی مع احتمال المنی والا علمابھا مع عدمہ فکان علما فقھیا بالمذی فالاول یجب فیہ ایجاب الغسل عند الطرفین لکونہ فی الاحتمال مثل التذکر وھو مراد الموجبین وقد صدقواوالثانی لایجب فیہ الغسل اجماعا لماعلمت ان لا وجوب من دون احتمال المنی وھومرادالنفاۃ وقدصدقوا فھذا غایۃ مایوجہ بہ طریق التطبیق ۔
وبالجملۃ فالکلام انماھوفی علم الصورۃ غیر ان النفاۃ جعلوہ فی صورۃ النفی علما بالحقیقۃ لان صورۃ الشیئ لاتحمل
سے پید اہو۔ جیسے احتلام یا د ہونے کے وقت مذی کی صورت کہ یہ صورت مذی ہی سے خاص نہیں بلکہ بار ہا منی بھی وہ صورت اختیار کرلیتی ہے اور احتلام اس کی قوی دلیل ہے۔ تو صورت مذی کے یقین میں اس کی حقیقت کا نہ یقین ہوگا نہ ظن غالب بلکہ اس کے ساتھ منی ہونے کا بھی احتمال صحیح موجود ہوگا تو غسل بالاجماع واجب ہوگا۔ لیکن جب احتلام یاد نہ ہو تو اگر وہاں کسی دوسری غیر مضمحل دلیل سے منی ہونے کی گنجائش موجو د ہو تو یہ احتمال منی کے ساتھ صورت مذی کا یقین ہو گا ورنہ عدم احتمال منی کے ساتھ صور ت مذی کایقین ہوگاتویہ مذی کا یقین فقہی ہوگا۔ اول میں طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے کیونکہ یہ بھی احتمال میں احتلام یاد ہونے کی طرح ہے۔ غسل واجب قرار دینے والوں کی مراد یہی ہے۔ اور وہ راستی پر ہیں ۔ اور دوم میں بالا جماع غسل واجب نہیں کیونکہ واضح ہوچکا کہ بغیر احتمال منی کے وجوب غسل نہیں ۔ وجوب غسل کی نفی کرنے والوں کی مراد یہی ہے اور وہ بھی راستی پر ہیں ۔ یہ انتہائی کوشش ہے جس سے طریقہ تطبیق کی توجیہ ہو سکتی ہے۔
الحاصل کلام صورت ہی کے یقین میں ہے مگر یہ ہے کہ وجوب غسل کی نفی کرنے والے حضرات نے عدم وجوب کی صورت میں مذی کے یقین کو حقیقت مذ ی کا یقین قراردیا۔ اس لئے کہ ایك
وبالجملۃ فالکلام انماھوفی علم الصورۃ غیر ان النفاۃ جعلوہ فی صورۃ النفی علما بالحقیقۃ لان صورۃ الشیئ لاتحمل
سے پید اہو۔ جیسے احتلام یا د ہونے کے وقت مذی کی صورت کہ یہ صورت مذی ہی سے خاص نہیں بلکہ بار ہا منی بھی وہ صورت اختیار کرلیتی ہے اور احتلام اس کی قوی دلیل ہے۔ تو صورت مذی کے یقین میں اس کی حقیقت کا نہ یقین ہوگا نہ ظن غالب بلکہ اس کے ساتھ منی ہونے کا بھی احتمال صحیح موجود ہوگا تو غسل بالاجماع واجب ہوگا۔ لیکن جب احتلام یاد نہ ہو تو اگر وہاں کسی دوسری غیر مضمحل دلیل سے منی ہونے کی گنجائش موجو د ہو تو یہ احتمال منی کے ساتھ صورت مذی کا یقین ہو گا ورنہ عدم احتمال منی کے ساتھ صور ت مذی کایقین ہوگاتویہ مذی کا یقین فقہی ہوگا۔ اول میں طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے کیونکہ یہ بھی احتمال میں احتلام یاد ہونے کی طرح ہے۔ غسل واجب قرار دینے والوں کی مراد یہی ہے۔ اور وہ راستی پر ہیں ۔ اور دوم میں بالا جماع غسل واجب نہیں کیونکہ واضح ہوچکا کہ بغیر احتمال منی کے وجوب غسل نہیں ۔ وجوب غسل کی نفی کرنے والوں کی مراد یہی ہے اور وہ بھی راستی پر ہیں ۔ یہ انتہائی کوشش ہے جس سے طریقہ تطبیق کی توجیہ ہو سکتی ہے۔
الحاصل کلام صورت ہی کے یقین میں ہے مگر یہ ہے کہ وجوب غسل کی نفی کرنے والے حضرات نے عدم وجوب کی صورت میں مذی کے یقین کو حقیقت مذ ی کا یقین قراردیا۔ اس لئے کہ ایك
علی غیرہ الا بدلیل ولا دلیل فردہ المحقق بقیام احتمال المنویۃ فی صورۃ مذی یراھا المستیقظ مطلقا وظن العلامۃ ط ان مرادہ الاحتمال النافی للیقین فاجاب بان المراد العلم الفقہی ولم یتنبہ فـــ رحمہ الله تعالی ان ھذا ھو الذی ینکرہ المحقق ویدعی ان علم المستیقظ بصورۃ المذی لاعراء لہ عن احتمال صحیح للمنویۃ فکیف یکون علمافقہیا بحقیقۃ المذی۔
وانت تعلم ان مناط الامر ھھنا انما ھو ثبوت ھذا المدعی فانتم ضاع الجواب ولم یفد التطبیق ووجب التعویل علی قول الموجبین فالان ان ان نستعین بربناونسرح عنان النظر فی تحقیق ھذا المبحث لکی یتجلی حقیقۃ الامر۔
فاقول : وبالله التوفیق یظھر لی
شئی کی صورت کو کسی دوسری چیز کی صورت پر بلا دلیل محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اور دلیل کوئی ہے نہیں ۔ اسے حضرت محقق نے یوں رد کیا کہ اس مذی کی صورت میں جسے خواب سے بیدار ہونے والا دیکھے منی ہونے کا احتمال مطلقا موجود ہے۔ اور علامہ طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق کی مراد وہ احتمال ہے جو یقین کی نفی کردے توجواب دیا کہ یہاں یقین فقہی مراد ہے اور حضرت سید رحمۃ اللہ تعالی علیہاس پر متنبہ نہ ہوئے کہ حضرت محقق اسی کا تو انکار کررہے ہیں اور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ صورت مذی سے متعلق بیدار ہونے والے کا یقین فقہی منی ہونے کے احتمال صحیح سے خالی نہیں ہوسکتا تووہ حقیقت مذی کا یقین فقہی کیسے ہوسکے گا
آپ کو معلوم ہے کہ یہاں کی پوری بحث کا مدار اس پرہے کہ یہ دعوی ثابت ہو۔ اگر دعوی ثابت ہوجاتا ہے تو جواب بے کار او ر تطبیق بے سود ہوجائے گی اور غسل واجب قرار دینے والوں کے قول پر اعتماد واجب ہوگا۔ اب وقت آیا کہ ہم اپنے رب کی مدد حاصل کریں اور اس بحث کی تحقیق میں عنان نظر کو رخصت دیں تاکہ حقیقت امر عیاں ہو سکے۔
فاقول : وبالله التوفیق مجھے یہ سمجھ میں آتاہے
فـــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
وانت تعلم ان مناط الامر ھھنا انما ھو ثبوت ھذا المدعی فانتم ضاع الجواب ولم یفد التطبیق ووجب التعویل علی قول الموجبین فالان ان ان نستعین بربناونسرح عنان النظر فی تحقیق ھذا المبحث لکی یتجلی حقیقۃ الامر۔
فاقول : وبالله التوفیق یظھر لی
شئی کی صورت کو کسی دوسری چیز کی صورت پر بلا دلیل محمول نہیں کیا جا سکتا۔ اور دلیل کوئی ہے نہیں ۔ اسے حضرت محقق نے یوں رد کیا کہ اس مذی کی صورت میں جسے خواب سے بیدار ہونے والا دیکھے منی ہونے کا احتمال مطلقا موجود ہے۔ اور علامہ طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق کی مراد وہ احتمال ہے جو یقین کی نفی کردے توجواب دیا کہ یہاں یقین فقہی مراد ہے اور حضرت سید رحمۃ اللہ تعالی علیہاس پر متنبہ نہ ہوئے کہ حضرت محقق اسی کا تو انکار کررہے ہیں اور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ صورت مذی سے متعلق بیدار ہونے والے کا یقین فقہی منی ہونے کے احتمال صحیح سے خالی نہیں ہوسکتا تووہ حقیقت مذی کا یقین فقہی کیسے ہوسکے گا
آپ کو معلوم ہے کہ یہاں کی پوری بحث کا مدار اس پرہے کہ یہ دعوی ثابت ہو۔ اگر دعوی ثابت ہوجاتا ہے تو جواب بے کار او ر تطبیق بے سود ہوجائے گی اور غسل واجب قرار دینے والوں کے قول پر اعتماد واجب ہوگا۔ اب وقت آیا کہ ہم اپنے رب کی مدد حاصل کریں اور اس بحث کی تحقیق میں عنان نظر کو رخصت دیں تاکہ حقیقت امر عیاں ہو سکے۔
فاقول : وبالله التوفیق مجھے یہ سمجھ میں آتاہے
فـــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
ان الحق مع المحقق حیث اطلق وبیانہ ان المذی وان باین المنی صدقا لکنہ یجامع تحققا فرب مذی معہ منی کما ان کل منی معہ مذی وغلبۃ ظن المذویۃ بعد النوم المانع لاحاطۃ علم المستیقظ بحقیقۃ البلۃ عینا ان کان فانما یکون لاحدی ثلث صورۃ المذی اووجود اسبابہ المفضیۃ الیہ غالبا اورؤیۃ اثارہ المخصوصۃ بہ ولا شیئ منھاینفی احتمال المنی ۔
اماالاول فظاھر فانہ لاینافی کون المرئی کلہ منیا فضلا عن نفیہ وجود منی ھناك وذلك لان الصورۃ ربما تکون لہ۔
واما الثانی فلانہ انما یقتضی غلبۃ الظن بان فی المرئی مذیا لا ان لیس فیہ منی اصلا کیف والاسباب المفضیۃ الی الامذاء غالبا اسباب داعیۃ الی الامناء فتحققہا لاینفی المنویۃ بل
کہ حق حضرت محقق علی الا طلاق کے ساتھ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذی کامصداق اگر چہ منی کے مباین ہے مگر تحقق میں مذی منی کے ساتھ مجتمع ہوتی ہے۔ بہت سی مذی وہ ہے جس کے ساتھ منی بھی ہوتی ہے
جیسے ہر منی کے ساتھ مذی ہوتی ہے۔ اور نیند جو اس سے مانع ہے کہ بیدار ہونے والے کا علم تری کی حقیقت کا معین طور پر احاطہ کرسکے اس نیند کے بعدمذی ہونے کا غلبہ ظن اگر ہوگا تو تین چیزوں میں سے کسی ایك کے سبب ہوگا(۱) مذی کی صورت (۲)ان اسباب کا وجود جن کے نتیجے میں عموما مذی نکلتی ہے (۳)ان آثار کامشاہدہ جو مذی ہی کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ ان تینوں میں سے کوئی چیز بھی احتمال منی کی نفی نہیں کرتی۔
اول کاحال توظاہر ہے۔ اس لئے مذی کی صورت ہونا اس کے منافی نہیں کہ جو نگاہ کے سامنے ہے کل کی کل منی ہی ہو وہاں ذرا سی منی کے وجود کی بھی نفی کرنا تو دور کی بات ہے اس لئے کہ یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے ۔
دوم اس لئے کہ اس کا تقاضاصرف اس قدر ہے کہ شیئ مرئی میں کچھ مذی ہو اس کا تقاضا یہ نہیں کہ اس میں منی بالکل ہی نہ ہو یہ ہو بھی کیسے جب کہ وہ اسباب جو عام طور سے مذی نکلنے کا سبب ہوتے ہیں وہ منی نکلنے کے داعی اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ تو ان اسباب کا تحقق منی ہونے
اماالاول فظاھر فانہ لاینافی کون المرئی کلہ منیا فضلا عن نفیہ وجود منی ھناك وذلك لان الصورۃ ربما تکون لہ۔
واما الثانی فلانہ انما یقتضی غلبۃ الظن بان فی المرئی مذیا لا ان لیس فیہ منی اصلا کیف والاسباب المفضیۃ الی الامذاء غالبا اسباب داعیۃ الی الامناء فتحققہا لاینفی المنویۃ بل
کہ حق حضرت محقق علی الا طلاق کے ساتھ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مذی کامصداق اگر چہ منی کے مباین ہے مگر تحقق میں مذی منی کے ساتھ مجتمع ہوتی ہے۔ بہت سی مذی وہ ہے جس کے ساتھ منی بھی ہوتی ہے
جیسے ہر منی کے ساتھ مذی ہوتی ہے۔ اور نیند جو اس سے مانع ہے کہ بیدار ہونے والے کا علم تری کی حقیقت کا معین طور پر احاطہ کرسکے اس نیند کے بعدمذی ہونے کا غلبہ ظن اگر ہوگا تو تین چیزوں میں سے کسی ایك کے سبب ہوگا(۱) مذی کی صورت (۲)ان اسباب کا وجود جن کے نتیجے میں عموما مذی نکلتی ہے (۳)ان آثار کامشاہدہ جو مذی ہی کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ ان تینوں میں سے کوئی چیز بھی احتمال منی کی نفی نہیں کرتی۔
اول کاحال توظاہر ہے۔ اس لئے مذی کی صورت ہونا اس کے منافی نہیں کہ جو نگاہ کے سامنے ہے کل کی کل منی ہی ہو وہاں ذرا سی منی کے وجود کی بھی نفی کرنا تو دور کی بات ہے اس لئے کہ یہ صورت بارہا منی کی بھی ہوتی ہے ۔
دوم اس لئے کہ اس کا تقاضاصرف اس قدر ہے کہ شیئ مرئی میں کچھ مذی ہو اس کا تقاضا یہ نہیں کہ اس میں منی بالکل ہی نہ ہو یہ ہو بھی کیسے جب کہ وہ اسباب جو عام طور سے مذی نکلنے کا سبب ہوتے ہیں وہ منی نکلنے کے داعی اسباب بھی ہوتے ہیں ۔ تو ان اسباب کا تحقق منی ہونے
ھو من مقدماتہا ۔
واما الثالث فلانہ ان قضی فبان غالب المرئی مذی لاان لیس فیہ مزج منی فان الممزوج یکون فیہ لزوجۃ ورقۃ والقلۃ ایضا لاتنفی المنی لان الکثرۃ لاتلزمہ الا تری ان الشرع اوجب الغسل بایلاج الحشفۃ فقط وان اخرجہا من فورہ ولم یرعلیہا بلۃ اصلا سوی نداوۃ من رطوبۃ الفرج وماھو الا لان الا یلاج مظنۃ خروج المنی وربمایکون قلیلا لایحس بہ حتی انہ لم ینظرفیہ الی ان المنی اذانزل بشہوۃ یحس بہ المستیقظ لانہ یدفق ویلذذ ویحرك العضو بل یحس نازلا وانمالم ینظر الیہ لان ھذہ الاثار لکمال الانزال لا لخروج قطرہ بشھوۃ ربما لایتنبہ لھا لشغل البال اذ ذاك بمطلوب خطیر فثبت ان شیا من صورۃ المذی واسبابہ وآثارہ لاینفی احتمال المنویۃ اصلا ثم النوم من اسباب الاحتلام
کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ تو اس کے مقدمات سے ہے۔
سوم اس لئے کہ اس کا فیصلہ اگر ہوگا تو صرف اس قدر کہ شیئ مرئی کا اکثر حصہ مذی ہے یہ نہیں کہ اس میں منی کی آمیزش بھی نہیں ۔ اس لئے کہ اس امتزاج یا فتہ چیز میں لزوجت(چسپیدگی) اور رقت(پتلا پن) ہوتی ہے۔ اور کم ہونا بھی منی کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ اس کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں ۔ دیکھئے شریعت نے وقت جماع صرف مقدار حشفہ داخل کرنے پر غسل واجب کردیاہے اگرچہ فورانکال لیا ہو اور اس پر کوئی تری نظربھی نہ آتی ہو سوا اس کے کہ رطوبت فرج کی کچھ نمی ہو۔ اس کا سبب یہی ہے کہ داخل کرناخروج منی کا مظنہ ہے(گمان غالب کا محل ہے)اور منی بعض اوقات اتنی کم ہوتی ہے کہ اس کا احساس نہیں ہوتا یہاں تك کہ اس پر بھی نظر نہ فرمائی کہ منی جب شہوت سے نکلے گی تو بیدار شخص کو اس کااحساس ہوگا کیونکہ وہ جست کے ساتھ نکلے گی لذت پیدا کرے گی عضو کو حرکت دے گی بلکہ نکلتی ہوتی محسوس ہوگی۔ اس پر نظر اسی لئے نہ فرمائی کہ یہ آثار کمال انزال کے ہیں ۔ شہوت کے ساتھ ایك قطرہ نکلنے کے آثار نہیں جس کابسا اوقات اسے پتہ بھی نہ چلے گا کیونکہ اس وقت اس کا دل کسی خاص مطلوب میں مشغول ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مذی کی صورت۱ اس کے۲اسباب اور اس کے آثار
واما الثالث فلانہ ان قضی فبان غالب المرئی مذی لاان لیس فیہ مزج منی فان الممزوج یکون فیہ لزوجۃ ورقۃ والقلۃ ایضا لاتنفی المنی لان الکثرۃ لاتلزمہ الا تری ان الشرع اوجب الغسل بایلاج الحشفۃ فقط وان اخرجہا من فورہ ولم یرعلیہا بلۃ اصلا سوی نداوۃ من رطوبۃ الفرج وماھو الا لان الا یلاج مظنۃ خروج المنی وربمایکون قلیلا لایحس بہ حتی انہ لم ینظرفیہ الی ان المنی اذانزل بشہوۃ یحس بہ المستیقظ لانہ یدفق ویلذذ ویحرك العضو بل یحس نازلا وانمالم ینظر الیہ لان ھذہ الاثار لکمال الانزال لا لخروج قطرہ بشھوۃ ربما لایتنبہ لھا لشغل البال اذ ذاك بمطلوب خطیر فثبت ان شیا من صورۃ المذی واسبابہ وآثارہ لاینفی احتمال المنویۃ اصلا ثم النوم من اسباب الاحتلام
کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ تو اس کے مقدمات سے ہے۔
سوم اس لئے کہ اس کا فیصلہ اگر ہوگا تو صرف اس قدر کہ شیئ مرئی کا اکثر حصہ مذی ہے یہ نہیں کہ اس میں منی کی آمیزش بھی نہیں ۔ اس لئے کہ اس امتزاج یا فتہ چیز میں لزوجت(چسپیدگی) اور رقت(پتلا پن) ہوتی ہے۔ اور کم ہونا بھی منی کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ اس کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں ۔ دیکھئے شریعت نے وقت جماع صرف مقدار حشفہ داخل کرنے پر غسل واجب کردیاہے اگرچہ فورانکال لیا ہو اور اس پر کوئی تری نظربھی نہ آتی ہو سوا اس کے کہ رطوبت فرج کی کچھ نمی ہو۔ اس کا سبب یہی ہے کہ داخل کرناخروج منی کا مظنہ ہے(گمان غالب کا محل ہے)اور منی بعض اوقات اتنی کم ہوتی ہے کہ اس کا احساس نہیں ہوتا یہاں تك کہ اس پر بھی نظر نہ فرمائی کہ منی جب شہوت سے نکلے گی تو بیدار شخص کو اس کااحساس ہوگا کیونکہ وہ جست کے ساتھ نکلے گی لذت پیدا کرے گی عضو کو حرکت دے گی بلکہ نکلتی ہوتی محسوس ہوگی۔ اس پر نظر اسی لئے نہ فرمائی کہ یہ آثار کمال انزال کے ہیں ۔ شہوت کے ساتھ ایك قطرہ نکلنے کے آثار نہیں جس کابسا اوقات اسے پتہ بھی نہ چلے گا کیونکہ اس وقت اس کا دل کسی خاص مطلوب میں مشغول ہوگا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مذی کی صورت۱ اس کے۲اسباب اور اس کے آثار
لانہ یوجب الشھوۃ والانتشار وتوجہ الطبع الی دفع الفضلات و وجود بلۃ لاتخرج الابشھوۃ اعنی منیا اومذیا مؤذن بحصول قوۃ فی الانتشار والشہوۃ الی ان ادت الی اندفاع تلك الفضلات فانھا لا تندفع بکل شھوۃ وانتشارمالم یمتد او یشتد۔
فباجتماع ھذہ الوجوہ لا یکون احتمال المنی ضعیفامضمحلا بل ناشئا عن دلیل لایطرحہ القلب فیعمل بہ فی الاحتیاط فظھر ان علم المستیقظ بصورۃ المذی لایکون علما بحقیقتہ ولافقھیا ولا عراء لہ عن احتمال صحیح للمنویۃ فوجب ایجاب الغسل کما فی التذکر۔
ھذا ولنقررالمقام بتوفیق العلام بحیث یبین العلل لجمیع الاحکام فی تلك الصور الست والاقسام۔ فاقول : النوم سبب ضعیف للامناء لعدم غلبۃ الافضاء بل غلبۃ
میں سے کوئی چیز بھی منی ہونے کے احتمال کی بالکل نفی نہیں کرتی۔ پھر نیند احتلام کے اسباب میں سے ہے اس لئے کہ وہ شہوت انتشار آلہ اور دفع فضلات کی طرف طبیعت کی توجہ کا باعث ہوتی ہے۔ اور کسی بھی ایسی تری کا وجود جو شہوت سے نکلتی ہے۔ یعنی منی یا مذی اس بات کی خبر دیتا ہے کہ انتشار اور شہوت میں زورپیدا ہو جس کے نتیجے میں ان فضلات کا دفعیہ ظہور پذیر ہوا کیوں کہ یہ فضلات ہر شہوت اور انتشار سے دفع نہیں ہوتے جب تك کہ کچھ مدت و شدت کا وجود نہ ہو۔
تو ان وجہوں کے اجتماع کے پیش نظر احتمال منی ضعیف مضمحل نہیں بلکہ وہ ایسی دلیل سے پیدا ہے جسے قلب نظر انداز نہیں کرتا تو حالت احتیاط میں اس پر عمل ہوگا۔ اس تفصیل سے واضح ہو ا کہ بیدار ہونے والے کو صورت مذی کا یقین نہیں یقین فقہی بھی نہیں اوریہ یقین منی ہونے کے احتمال صحیح سے جدا نہیں ہو سکتا تو غسل واجب قرار دیناضروری ہے جیسے احتلام یاد ہونے کی صورت میں ضروری ہے۔ یہ بحث تمام ہوئی۔
اب ہم رب علام کی توفیق سے اس مقام کی تقریر اس انداز سے کریں کہ ان شش گانہ صورتوں اور قسموں میں تمام احکام کی علتیں عیاں ہوجائیں ۔ فاقول : نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے۔ اس لئے کہ نیند کا خروج منی تك موصل ہونا غالب واکثر
فباجتماع ھذہ الوجوہ لا یکون احتمال المنی ضعیفامضمحلا بل ناشئا عن دلیل لایطرحہ القلب فیعمل بہ فی الاحتیاط فظھر ان علم المستیقظ بصورۃ المذی لایکون علما بحقیقتہ ولافقھیا ولا عراء لہ عن احتمال صحیح للمنویۃ فوجب ایجاب الغسل کما فی التذکر۔
ھذا ولنقررالمقام بتوفیق العلام بحیث یبین العلل لجمیع الاحکام فی تلك الصور الست والاقسام۔ فاقول : النوم سبب ضعیف للامناء لعدم غلبۃ الافضاء بل غلبۃ
میں سے کوئی چیز بھی منی ہونے کے احتمال کی بالکل نفی نہیں کرتی۔ پھر نیند احتلام کے اسباب میں سے ہے اس لئے کہ وہ شہوت انتشار آلہ اور دفع فضلات کی طرف طبیعت کی توجہ کا باعث ہوتی ہے۔ اور کسی بھی ایسی تری کا وجود جو شہوت سے نکلتی ہے۔ یعنی منی یا مذی اس بات کی خبر دیتا ہے کہ انتشار اور شہوت میں زورپیدا ہو جس کے نتیجے میں ان فضلات کا دفعیہ ظہور پذیر ہوا کیوں کہ یہ فضلات ہر شہوت اور انتشار سے دفع نہیں ہوتے جب تك کہ کچھ مدت و شدت کا وجود نہ ہو۔
تو ان وجہوں کے اجتماع کے پیش نظر احتمال منی ضعیف مضمحل نہیں بلکہ وہ ایسی دلیل سے پیدا ہے جسے قلب نظر انداز نہیں کرتا تو حالت احتیاط میں اس پر عمل ہوگا۔ اس تفصیل سے واضح ہو ا کہ بیدار ہونے والے کو صورت مذی کا یقین نہیں یقین فقہی بھی نہیں اوریہ یقین منی ہونے کے احتمال صحیح سے جدا نہیں ہو سکتا تو غسل واجب قرار دیناضروری ہے جیسے احتلام یاد ہونے کی صورت میں ضروری ہے۔ یہ بحث تمام ہوئی۔
اب ہم رب علام کی توفیق سے اس مقام کی تقریر اس انداز سے کریں کہ ان شش گانہ صورتوں اور قسموں میں تمام احکام کی علتیں عیاں ہوجائیں ۔ فاقول : نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے۔ اس لئے کہ نیند کا خروج منی تك موصل ہونا غالب واکثر
عدم الافضاء بدلیل الحدیث المذکور وتجربۃ الدھور فلربما ینام الرجل شھور الا یحتلم وکثرتہ یعد من الامراض ۔
ومامر عن الفتح عن التجنیس انہ مظنۃ الاحتلام ومثلہ فی الغنیۃ وغیرھا فلیس بمعنی المظنۃ المصطلح والالدار الحکم علیہ و وجب الغسل بعلم الودی بل بمجرد النوم کالوضوء لکونہ مظنۃ خروج الریح ۔
اما ما مر عن الارکان الاربعۃ انہ یکثر فی النوم الاحتلام وخروج المنی بشھوۃ غالبا فمرادہ الکثرۃ الاضافیۃ بالنظر الی الیقظۃ بدلیل قولہ “ بخلاف حالۃ الیقظۃ فانہ یندر فیہ خروج المنی بلاتحریك( )۔
فان قلت الیس قال قبلہ ان النوم حالۃ غفلۃ ویتوجہ الی دفع الفضلات ویکون الذکر صلبا شاھیا للجماع ولذا
نہیں ہے بلکہ موصل نہ ہونا غالب واکثر ہے جس کی دلیل وہ حدیث ہے جو ذکر ہوئی اور مدتوں کا تجربہ بھی اس پر شاہد ہے۔ بہت ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مہینوں سوتا رہتا ہے اوراسے احتلام نہیں ہوتا۔ اور کثرت احتلام کا شمار امراض میں ہوتا ہے۔
اورفتح القدیرمیں تجنیس کے حوالے سے جو منقول ہے کہ : نیندمظنہ احتلام ہے۔ اور اسی کے مثل غنیہ وغیرہا میں بھی ہے تو وہاں مظنہ اصطلاحی معنی میں نہیں ورنہ اسی پر حکم کا مدار ہوجاتا۔ اور ودی کے علم ویقین بلکہ محض نیند ہی سے غسل واجب ہوجاتاجیسے نیند کے خروج ریح کا مظنہ ہونے کی وجہ سے (محض نیند ہی سے )وضو واجب ہوجاتا ہے۔
اوروہ جو ارکان اربعہ کے حوالے سے نقل ہوا کہ نیند میں احتلام اور عام طور سے شہوت سے منی کا نکلنا بکثرت ہوتا ہے تو وہاں بیدار ی کے مقابلہ میں اضافی کثرت مراد ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد ہی لکھا ہے : بخلاف حالت بیداری کے کہ اس میں بغیر تحریك کے منی کا نکلنا نادر ہے۔
اگر یہ کہو کہ کیا اس سے پہلے یہ نہیں فرمایا ہے کہ : “ نیند غفلت اور فضلات دفع کرنے کی جانب توجہ کی حالت ہے اور اس وقت ذکر میں سختی وشہوت جماع ہوتی ہے اسی لئے نیند میں احتلام اور شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا زیادہ
ومامر عن الفتح عن التجنیس انہ مظنۃ الاحتلام ومثلہ فی الغنیۃ وغیرھا فلیس بمعنی المظنۃ المصطلح والالدار الحکم علیہ و وجب الغسل بعلم الودی بل بمجرد النوم کالوضوء لکونہ مظنۃ خروج الریح ۔
اما ما مر عن الارکان الاربعۃ انہ یکثر فی النوم الاحتلام وخروج المنی بشھوۃ غالبا فمرادہ الکثرۃ الاضافیۃ بالنظر الی الیقظۃ بدلیل قولہ “ بخلاف حالۃ الیقظۃ فانہ یندر فیہ خروج المنی بلاتحریك( )۔
فان قلت الیس قال قبلہ ان النوم حالۃ غفلۃ ویتوجہ الی دفع الفضلات ویکون الذکر صلبا شاھیا للجماع ولذا
نہیں ہے بلکہ موصل نہ ہونا غالب واکثر ہے جس کی دلیل وہ حدیث ہے جو ذکر ہوئی اور مدتوں کا تجربہ بھی اس پر شاہد ہے۔ بہت ایسا ہوتا ہے کہ آدمی مہینوں سوتا رہتا ہے اوراسے احتلام نہیں ہوتا۔ اور کثرت احتلام کا شمار امراض میں ہوتا ہے۔
اورفتح القدیرمیں تجنیس کے حوالے سے جو منقول ہے کہ : نیندمظنہ احتلام ہے۔ اور اسی کے مثل غنیہ وغیرہا میں بھی ہے تو وہاں مظنہ اصطلاحی معنی میں نہیں ورنہ اسی پر حکم کا مدار ہوجاتا۔ اور ودی کے علم ویقین بلکہ محض نیند ہی سے غسل واجب ہوجاتاجیسے نیند کے خروج ریح کا مظنہ ہونے کی وجہ سے (محض نیند ہی سے )وضو واجب ہوجاتا ہے۔
اوروہ جو ارکان اربعہ کے حوالے سے نقل ہوا کہ نیند میں احتلام اور عام طور سے شہوت سے منی کا نکلنا بکثرت ہوتا ہے تو وہاں بیدار ی کے مقابلہ میں اضافی کثرت مراد ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد ہی لکھا ہے : بخلاف حالت بیداری کے کہ اس میں بغیر تحریك کے منی کا نکلنا نادر ہے۔
اگر یہ کہو کہ کیا اس سے پہلے یہ نہیں فرمایا ہے کہ : “ نیند غفلت اور فضلات دفع کرنے کی جانب توجہ کی حالت ہے اور اس وقت ذکر میں سختی وشہوت جماع ہوتی ہے اسی لئے نیند میں احتلام اور شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا زیادہ
حوالہ / References
رسائل الارکان الرسالۃ الاولٰی فی الصلوٰۃ بیان موجبات الغسل مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۳
یکثر ( ) الخ ومعلوم ان ھذا الذی فرع کثرۃ الاحتلام علیہ فالنوم سبب مفض الیہ۔
قلت نعم ھو مفض الی الانتشار بید ان الانتشار غیر مفض الی الامناء وقد نص فی الحلیۃ انہ اذا لم یکن الرجل مذاء فالانتشار لایکون مظنۃ تلك البلۃ ( ) اھ فاذا لم یفض الی الامذاء فکیف بالامناء وبالجملۃ فالمفضی الی السبب البعید لایکون مفضیا الی المسبب فما النوم سبب بالامناء الا من وراء وراء وراء فھو سبب بعید وحصول شھوۃ توجب انتشارا یمتد او یشتد حتی یوجب نزول بلۃ لاتنبعث الا عن شھوۃ سبب وسیط والاحتلام اعنی اندفاق المنی فی النوم وانفصالہ عن مقرہ بشھوۃ سبب قریب۔
ولیس من الاسباب مفضیا قطعا لایمکن التخلف عنہ عادۃ فلربما یری الانسان حلما ویکون من اضغاث احلام لا اثر
ہوتا ہے “ ۔ او ر معلوم ہے کہ جس امر پر کثرت احتلام کو متفرع قرار دیا ہے نیند اس کا سبب موصل ہے۔
میں کہوں گا ہاں نیند انتشار آلہ کی جانب موصل ہے مگر یہ ہے کہ انتشار خروج منی تك موصل نہیں - حلیہ میں تو تصریح موجود ہے کہ جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار اس تری کا مظنہ نہیں ۔ تو انتشار جب خروج منی( مذی)تك موصل نہیں تو خروج منی تك موصل کیسے ہوگا مختصر یہ کہ سبب بعید تك جو موصل ہو وہ مسبب تك موصل نہیں ہوتا۔ تو نیند خروج منی کا سبب اگر ہے تو بہت دور دراز فاصلے سے۔ لہذا یہ سبب بعید ہے۔ اور اس شہوت کا حصول جو ایسے انتشار مدیدیا شدید کی موجب ہوجو اس تری کے نکلنے کا موجب ہو جائے جو بغیر شہوت کے اپنی جگہ سے نہیں ابھرتی سبب وسیط ہے۔ اور احتلام یعنی نیند کی حالت میں منی کا جست کرنا اور اپنے مستقر سے شہوت کے ساتھ الگ ہونا سبب قریب ہے۔
اور ان اسباب میں سے کوئی بھی سبب ایسا موصل قطعی نہیں جس سے عادۃ تخلف ممکن نہ ہو کیونکہ بہت ایسا ہوتا ہے کہ انسان خواب دیکھتا ہے اور وہ بس ایك پر اگندہ خواب ثابت ہوتاہے
قلت نعم ھو مفض الی الانتشار بید ان الانتشار غیر مفض الی الامناء وقد نص فی الحلیۃ انہ اذا لم یکن الرجل مذاء فالانتشار لایکون مظنۃ تلك البلۃ ( ) اھ فاذا لم یفض الی الامذاء فکیف بالامناء وبالجملۃ فالمفضی الی السبب البعید لایکون مفضیا الی المسبب فما النوم سبب بالامناء الا من وراء وراء وراء فھو سبب بعید وحصول شھوۃ توجب انتشارا یمتد او یشتد حتی یوجب نزول بلۃ لاتنبعث الا عن شھوۃ سبب وسیط والاحتلام اعنی اندفاق المنی فی النوم وانفصالہ عن مقرہ بشھوۃ سبب قریب۔
ولیس من الاسباب مفضیا قطعا لایمکن التخلف عنہ عادۃ فلربما یری الانسان حلما ویکون من اضغاث احلام لا اثر
ہوتا ہے “ ۔ او ر معلوم ہے کہ جس امر پر کثرت احتلام کو متفرع قرار دیا ہے نیند اس کا سبب موصل ہے۔
میں کہوں گا ہاں نیند انتشار آلہ کی جانب موصل ہے مگر یہ ہے کہ انتشار خروج منی تك موصل نہیں - حلیہ میں تو تصریح موجود ہے کہ جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار اس تری کا مظنہ نہیں ۔ تو انتشار جب خروج منی( مذی)تك موصل نہیں تو خروج منی تك موصل کیسے ہوگا مختصر یہ کہ سبب بعید تك جو موصل ہو وہ مسبب تك موصل نہیں ہوتا۔ تو نیند خروج منی کا سبب اگر ہے تو بہت دور دراز فاصلے سے۔ لہذا یہ سبب بعید ہے۔ اور اس شہوت کا حصول جو ایسے انتشار مدیدیا شدید کی موجب ہوجو اس تری کے نکلنے کا موجب ہو جائے جو بغیر شہوت کے اپنی جگہ سے نہیں ابھرتی سبب وسیط ہے۔ اور احتلام یعنی نیند کی حالت میں منی کا جست کرنا اور اپنے مستقر سے شہوت کے ساتھ الگ ہونا سبب قریب ہے۔
اور ان اسباب میں سے کوئی بھی سبب ایسا موصل قطعی نہیں جس سے عادۃ تخلف ممکن نہ ہو کیونکہ بہت ایسا ہوتا ہے کہ انسان خواب دیکھتا ہے اور وہ بس ایك پر اگندہ خواب ثابت ہوتاہے
حوالہ / References
رسائل الارکان الرسالۃ الاولٰی فی الصلوٰۃ ، بیان موجبات الغسل مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
لہ فی الخارج۔
فاذا لم یربلل یحتمل انبعاثہ عن شہوۃ لم یجب الغسل وان تذکر الحلم لعدم الموجب قطعا ولا احتمالا فیشمل ما اذا لم یر بلل اصلا او رئ ودی ای صورۃ لاتحتمل منیا ولا مذیا۔
واذا رئ بلل یعلم او یحتمل انبعاثہ عن شہوۃ وان کان علی صورۃ منی وجب مطلقا للعلم بنزول المنی لان صورتہ لاتکون لغیرہ والنوم سبب الشھوۃ المفضی الیھا غالبا فیحال علیہ فیجب الغسل وفاقا ولا ینظر الی احتمال انفصالہ عندنا او خروجہ عندالامام ابی یوسف لا عن شھوۃ لندرتہ وقد انعقد سبب الشھوۃ فلا اغماض عنہ ۔
وکذا ان کان مراہ مترددا بین منی و ودی لانھما احتملا من جہۃ ما یری
جس کا خارج میں کوئی اثر رونما نہیں ہوتا۔
(۱۔ ۲) اس لئے جب وہ تری نظر نہ آئے جس کے شہوت سے نکلنے کا احتمال ہوتا ہے تو غسل واجب نہ ہوگا اگر چہ خواب یا د ہو اس لئے کہ وہ چیزہی موجود نہیں جو قطعا یا احتمالا موجب غسل ہوتی ہے۔ یہ حکم اس صورت کو بھی شامل ہے جب کوئی تری بالکل ہی نہ دیکھی جائے اور اس صورت کو بھی جب ودی دیکھی جائے یعنی ایسی صورت جو منی یا مذی کسی کا احتمال نہیں رکھتی۔
(۳) اور جب ایسی تری نظر آئے جس کے شہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے ابھرنے کا یقین یا احتمال ہوتو اگر وہ منی کی صورت میں ہے تو مطلقا غسل واجب ہے اس لئے کہ منی کے نکلنے کا یقین ہے کیونکہ اس کی صورت کسی اور کی نہیں ہوتی۔ اور نیند شہوت کا سبب ہے جو اکثر اس تك موصل ہوتاہے۔ تو اس منی کو اسی سے وابستہ کردیا جائے گا۔ اور اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب ہوگا۔ اور اس احتمال پر نظر نہ ہوگی کہ اس کا اپنی جگہ سے انفصال ۔ ہمارے نزدیک۔ یا عضو سے اس کا خروج۔ امام ابویوسف کے نزدیک-بغیر شہوت کے ہوا ہو کیوں کہ ایسا ہونا نادر ہے۔ اور شہوت کا سبب پایا جا چکا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(۴)یوں ہی اگر شکل مرئی میں منی اور ودی کے درمیان تردد ہو۔ اس لئے کہ دونوں کا احتمال شکل مرئی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اور جانب منی کو نیند کی وجہ سے
فاذا لم یربلل یحتمل انبعاثہ عن شہوۃ لم یجب الغسل وان تذکر الحلم لعدم الموجب قطعا ولا احتمالا فیشمل ما اذا لم یر بلل اصلا او رئ ودی ای صورۃ لاتحتمل منیا ولا مذیا۔
واذا رئ بلل یعلم او یحتمل انبعاثہ عن شہوۃ وان کان علی صورۃ منی وجب مطلقا للعلم بنزول المنی لان صورتہ لاتکون لغیرہ والنوم سبب الشھوۃ المفضی الیھا غالبا فیحال علیہ فیجب الغسل وفاقا ولا ینظر الی احتمال انفصالہ عندنا او خروجہ عندالامام ابی یوسف لا عن شھوۃ لندرتہ وقد انعقد سبب الشھوۃ فلا اغماض عنہ ۔
وکذا ان کان مراہ مترددا بین منی و ودی لانھما احتملا من جہۃ ما یری
جس کا خارج میں کوئی اثر رونما نہیں ہوتا۔
(۱۔ ۲) اس لئے جب وہ تری نظر نہ آئے جس کے شہوت سے نکلنے کا احتمال ہوتا ہے تو غسل واجب نہ ہوگا اگر چہ خواب یا د ہو اس لئے کہ وہ چیزہی موجود نہیں جو قطعا یا احتمالا موجب غسل ہوتی ہے۔ یہ حکم اس صورت کو بھی شامل ہے جب کوئی تری بالکل ہی نہ دیکھی جائے اور اس صورت کو بھی جب ودی دیکھی جائے یعنی ایسی صورت جو منی یا مذی کسی کا احتمال نہیں رکھتی۔
(۳) اور جب ایسی تری نظر آئے جس کے شہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے ابھرنے کا یقین یا احتمال ہوتو اگر وہ منی کی صورت میں ہے تو مطلقا غسل واجب ہے اس لئے کہ منی کے نکلنے کا یقین ہے کیونکہ اس کی صورت کسی اور کی نہیں ہوتی۔ اور نیند شہوت کا سبب ہے جو اکثر اس تك موصل ہوتاہے۔ تو اس منی کو اسی سے وابستہ کردیا جائے گا۔ اور اس صورت میں بالاتفاق غسل واجب ہوگا۔ اور اس احتمال پر نظر نہ ہوگی کہ اس کا اپنی جگہ سے انفصال ۔ ہمارے نزدیک۔ یا عضو سے اس کا خروج۔ امام ابویوسف کے نزدیک-بغیر شہوت کے ہوا ہو کیوں کہ ایسا ہونا نادر ہے۔ اور شہوت کا سبب پایا جا چکا ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
(۴)یوں ہی اگر شکل مرئی میں منی اور ودی کے درمیان تردد ہو۔ اس لئے کہ دونوں کا احتمال شکل مرئی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اور جانب منی کو نیند کی وجہ سے
وقد ترجح جانب المنی بالنوم الموجب للراحۃ واللذۃ وھیجان الحرارۃ والشھوۃ والانتشار ورب شیئ صلح مؤید او ان لم یصلح مثبتا فوجب عندھما احتیاطا وان لم یتذکراما ان تذکر فقد ترجح باقوی مرجح فوجب اجماعا۔
وکذا ان کان علی صورۃ مترددۃ بین منی ومذی بالاولی للعلم بان البلۃ ھی التی تنبعث عن شھوۃ وصورۃ المذی نفسھا تحتمل المنویۃ فیکون کونہ مذیا مجردا احتمالا فی احتمال فلا یعتبر ویجب الغسل وان لم یتذکر فان تذکر وافق الثانی ایضا وکان الاجماع۔
وان کان علی صورۃ مذی فقد علم حصول بلۃ عن شھوۃ وعلمت ان صورۃ المذی لاتنفك عن احتمال المنویۃ وقد تأید بحصول السبب الوسیط وان لم یتذکر فکان احتمالا صحیحا یوجب الاحتیاط اما اذا تذکر فقد تأید بالسبب الاقوی
ترجیح حاصل ہے کیونکہ نیند راحت ولذت کا اور حرارت وشہوت کے ہیجان اور انتشار کا باعث ہے۔ اور بہت ایسی چیـزیں ہوتی ہیں جو مؤید بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اگرچہ مثبت بننے کے قابل نہ ہوں ۔ تو طرفین کے نزدیك احتیاطاغسل واجب ہوا اگرچہ احتلام یادنہ ہو۔ اور اگر احتلام یاد ہو توجانب منی کو زیادہ قوی مرجح سے ترجیح مل جاتی ہے اس لئے اس صورت میں اجماعاغسل واجب ہے۔
(۵) اسی طرح اگر اس شکل مرئی میں منی اور مذی کے درمیان تردد ہو تو بدرجہ اولی غسل واجب ہے۔ اس لئے کہ معلوم ہے کہ یہ تری وہی ہے جو شہوت سے ابھرتی اورنکلتی ہے اور خود مذی کی صورت منی ہونے کا احتمال رکھتی ہے تو اس کامذی ہونا محض احتمال دراحتمال ہے اس لئے قابل اعتبار نہیں ۔ اور غسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو۔ اگرخواب بھی یاد ہو توامام ثانی بھی موافقت فرماتے ہیں اور بالاجماع غسل واجب ہوتاہے۔
(۶) اور اگر وہ مذی کی صورت میں ہو تو اتنا یقینی ہے کہ یہ ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوچکا کہ مذی کی صورت منی ہونے کے احتمال سے جدا نہیں ہوتی۔ اور اس احتمال کو سبب وسیط کے حصول سے بھی تائید مل گئی ہے اگرچہ خواب اسے یاد نہیں ۔ تو یہ ایسا احتمال صحیح ہے جو احتیاط لازم کرتاہے۔ اور خواب بھی یاد ہوتو اسے سبب اقوی سے تائید
وکذا ان کان علی صورۃ مترددۃ بین منی ومذی بالاولی للعلم بان البلۃ ھی التی تنبعث عن شھوۃ وصورۃ المذی نفسھا تحتمل المنویۃ فیکون کونہ مذیا مجردا احتمالا فی احتمال فلا یعتبر ویجب الغسل وان لم یتذکر فان تذکر وافق الثانی ایضا وکان الاجماع۔
وان کان علی صورۃ مذی فقد علم حصول بلۃ عن شھوۃ وعلمت ان صورۃ المذی لاتنفك عن احتمال المنویۃ وقد تأید بحصول السبب الوسیط وان لم یتذکر فکان احتمالا صحیحا یوجب الاحتیاط اما اذا تذکر فقد تأید بالسبب الاقوی
ترجیح حاصل ہے کیونکہ نیند راحت ولذت کا اور حرارت وشہوت کے ہیجان اور انتشار کا باعث ہے۔ اور بہت ایسی چیـزیں ہوتی ہیں جو مؤید بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں اگرچہ مثبت بننے کے قابل نہ ہوں ۔ تو طرفین کے نزدیك احتیاطاغسل واجب ہوا اگرچہ احتلام یادنہ ہو۔ اور اگر احتلام یاد ہو توجانب منی کو زیادہ قوی مرجح سے ترجیح مل جاتی ہے اس لئے اس صورت میں اجماعاغسل واجب ہے۔
(۵) اسی طرح اگر اس شکل مرئی میں منی اور مذی کے درمیان تردد ہو تو بدرجہ اولی غسل واجب ہے۔ اس لئے کہ معلوم ہے کہ یہ تری وہی ہے جو شہوت سے ابھرتی اورنکلتی ہے اور خود مذی کی صورت منی ہونے کا احتمال رکھتی ہے تو اس کامذی ہونا محض احتمال دراحتمال ہے اس لئے قابل اعتبار نہیں ۔ اور غسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو۔ اگرخواب بھی یاد ہو توامام ثانی بھی موافقت فرماتے ہیں اور بالاجماع غسل واجب ہوتاہے۔
(۶) اور اگر وہ مذی کی صورت میں ہو تو اتنا یقینی ہے کہ یہ ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوچکا کہ مذی کی صورت منی ہونے کے احتمال سے جدا نہیں ہوتی۔ اور اس احتمال کو سبب وسیط کے حصول سے بھی تائید مل گئی ہے اگرچہ خواب اسے یاد نہیں ۔ تو یہ ایسا احتمال صحیح ہے جو احتیاط لازم کرتاہے۔ اور خواب بھی یاد ہوتو اسے سبب اقوی سے تائید
فوجب اجماعا۔
وان تردد مراہ بین مذی و ودی فلم یتحقق حصول تلك البلۃ التی لاتخرج عادۃ الا عن شھوۃ فکان احتمال المنی احتمالا علی احتمال فلم یعتبر اجماعا مالم یتأکد بالسبب الی قوی بتذکر الاحتلام۔
فعلم ان الماشی علی الجادۃ قول الموجبین وبالجملۃ قول النفاۃ ان علم المذی بحیث لایحتمل المنی لم یجب الغسل قول صحیح فی نفسہ اذ لا غسل الا بالمنی ولا عبرۃ بمجرد سببیۃ النوم لما علمت انہ سبب ضعیف لاینھض موجبا لکن الشان فی تحقق مقدم ھذہ الشرطیۃ فی صورۃ التیقظ من النوم لما حققنا ان علم الذی فیہ سواء کان عن صورۃ اوسبب او اثر لاینفك عن احتمال المنی فقول الموجبین ان علم المذی ای واحتمل المنی وجب الغسل شرطیۃ قد علم لمقدمھا صحۃ الوقوع
مل جاتی ہے لہذا اجماعا غسل واجب ہوتا ہے۔
(۷) اور اگر شکل مرئی میں مذی و ودی کے درمیا ن تردد ہو تو اس تری کا حصول متحقق نہ ہو ا جو عادۃ بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ ایسی حالت میں منی کا احتمال احتمال دراحتمال ہے۔ اس لئے بالا جماع اس کا اعتبار نہیں جب تك کہ سبب اقوی احتلام یاد ہونے سے وہ مؤکد نہ ہوجائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ راہ عام پر چلنے والا ان ہی حضرات کا قول ہے جو غسل کا وجوب قرار دیتے ہیں ۔ اورنفی کرنے والے حضرات کا یہ قول کہ “ اگرمذی کا ایسا یقین ہو کہ منی کا احتمال نہ ہو تو غسل واجب نہیں “ اگرچہ فی نفسہ ایك صحیح قول ہے اس لئے کہ غسل بغیر منی کے واجب نہیں ہوتا اور نیند کے محض ایك سبب ہونے کا اعتبار نہیں کیونکہ واضح ہوچکاکہ وہ سبب ضعیف ہے جو موجب نہیں بن سکتا۔ لیکن نیند سے بیدار ہونے کی صورت میں معاملہ اس قضیہ شرطیہ کے مقدم (اگر ایسا یقین ہو کہ احتمال منی نہ ہوسکے) کے تحقق اور ثبوت کا ہے۔ اس لئے کہ ہم تحقیق کر آئے کہ اس صورت میں مذی کا یقین خواہ صورت کی وجہ سے ہو یا سبب سے یا اثر سے وہ احتمال منی سے جدا نہیں ہوسکتا۔ تو وجوب غسل قراردینے والوں کا یہ قول “ اگر مذی کا علم ہو۔ یعنی احتمال منی بھی ہو۔ تو غسل واجب ہے “ ایسا شرطیہ ہے جس کے مقدم (اگرمذی کا علم
وان تردد مراہ بین مذی و ودی فلم یتحقق حصول تلك البلۃ التی لاتخرج عادۃ الا عن شھوۃ فکان احتمال المنی احتمالا علی احتمال فلم یعتبر اجماعا مالم یتأکد بالسبب الی قوی بتذکر الاحتلام۔
فعلم ان الماشی علی الجادۃ قول الموجبین وبالجملۃ قول النفاۃ ان علم المذی بحیث لایحتمل المنی لم یجب الغسل قول صحیح فی نفسہ اذ لا غسل الا بالمنی ولا عبرۃ بمجرد سببیۃ النوم لما علمت انہ سبب ضعیف لاینھض موجبا لکن الشان فی تحقق مقدم ھذہ الشرطیۃ فی صورۃ التیقظ من النوم لما حققنا ان علم الذی فیہ سواء کان عن صورۃ اوسبب او اثر لاینفك عن احتمال المنی فقول الموجبین ان علم المذی ای واحتمل المنی وجب الغسل شرطیۃ قد علم لمقدمھا صحۃ الوقوع
مل جاتی ہے لہذا اجماعا غسل واجب ہوتا ہے۔
(۷) اور اگر شکل مرئی میں مذی و ودی کے درمیا ن تردد ہو تو اس تری کا حصول متحقق نہ ہو ا جو عادۃ بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ ایسی حالت میں منی کا احتمال احتمال دراحتمال ہے۔ اس لئے بالا جماع اس کا اعتبار نہیں جب تك کہ سبب اقوی احتلام یاد ہونے سے وہ مؤکد نہ ہوجائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ راہ عام پر چلنے والا ان ہی حضرات کا قول ہے جو غسل کا وجوب قرار دیتے ہیں ۔ اورنفی کرنے والے حضرات کا یہ قول کہ “ اگرمذی کا ایسا یقین ہو کہ منی کا احتمال نہ ہو تو غسل واجب نہیں “ اگرچہ فی نفسہ ایك صحیح قول ہے اس لئے کہ غسل بغیر منی کے واجب نہیں ہوتا اور نیند کے محض ایك سبب ہونے کا اعتبار نہیں کیونکہ واضح ہوچکاکہ وہ سبب ضعیف ہے جو موجب نہیں بن سکتا۔ لیکن نیند سے بیدار ہونے کی صورت میں معاملہ اس قضیہ شرطیہ کے مقدم (اگر ایسا یقین ہو کہ احتمال منی نہ ہوسکے) کے تحقق اور ثبوت کا ہے۔ اس لئے کہ ہم تحقیق کر آئے کہ اس صورت میں مذی کا یقین خواہ صورت کی وجہ سے ہو یا سبب سے یا اثر سے وہ احتمال منی سے جدا نہیں ہوسکتا۔ تو وجوب غسل قراردینے والوں کا یہ قول “ اگر مذی کا علم ہو۔ یعنی احتمال منی بھی ہو۔ تو غسل واجب ہے “ ایسا شرطیہ ہے جس کے مقدم (اگرمذی کا علم
فعندہ یؤل التعلیق الی التنجیز وقول النفاۃ شرطیۃ لایصح وقوع مقدمھا فلا نزول لجزائھا فی شیئ من الصور فلانتفاء الشرط یکون الواقع ابدا نفی الجزاء ای سلب عدم وجوب الغسل فیحصل الوجوب وھو المطلوب ھکذا ینبغی التحقیق باذن من بیدہ وحدہ التوفیق۔
ولا باس بایراد تنبیہات عدیدۃ نافعۃ مفیدۃ :
الاول بما قررنا علم ان من فسر علم الذی بالشك فی المنی والمذی کما فعل القھستانی وغیرہ ان اراد الشك فی الحقیقۃ دون الصورۃ لم یزد ولم یحاول بل اتی بما ھو المراد ومرجع المفاد لکن المدقق العلائی صرح انہ اذا علم المذی فلا غسل علیہ ( )
وزاد القھستانی ففرع علی تفسیرہ العلم بالشك انہ لو
مع احتمال منی ہو)کے وقوع کی صحت معلوم ہے تو بوقت وقوع یہ شرط وتعلیق تنجیزو تنفیذ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اور اہل نفی کا قول ایسا شرطیہ ہے جس کے مقدم کو صحت و قوع حاصل نہیں تو اس شرطیہ کی جزا(غسل واجب نہیں ) کسی بھی صورت میں وقوع نہیں پاتی۔ تو انتفائے شرط کے باعث ہمیشہ نفی جزا ہی واقع ہوتی ہے نفی جزا یعنی عدم وجوب غسل کا سلب ہوتا ہے تو وجوب غسل حاصل آتا ہے اور وہی مطلوب ہے ۔ اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اس کے اذن سے جس کے سوا اور کسی کی قدرت میں توفیق نہیں ۔
اب یہاں چند نفع بخش مفید تنبیہات لانے میں حرج نہیں :
پہلی تنبیہ : ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے “ علم مذی “ کی تفسیر منی و مذی میں شك ہونے سے کی ہے۔ جیسا کہ قہستانی وغیرہ نے کیا ہے۔ اگر ان کی مراد یہ ہے کہ حقیقت میں شك ہے صورت میں نہیں تو کوئی اضافہ نہ کیا نہ ہی اس کا ارادہ کیا بلکہ وہی ذکر کیا جو مراد اورمآل مفاد ہے۔ لیکن مدقق علائی نے تصریح کردی کہ جب مذی کا یقین ہو تو غسل نہیں ۔
اور قہستانی نے علم کی تفسیر شك سے کرنے کے بعد اس پر اس تفریع کا اضافہ کردیا کہ اگر مذی کا
ولا باس بایراد تنبیہات عدیدۃ نافعۃ مفیدۃ :
الاول بما قررنا علم ان من فسر علم الذی بالشك فی المنی والمذی کما فعل القھستانی وغیرہ ان اراد الشك فی الحقیقۃ دون الصورۃ لم یزد ولم یحاول بل اتی بما ھو المراد ومرجع المفاد لکن المدقق العلائی صرح انہ اذا علم المذی فلا غسل علیہ ( )
وزاد القھستانی ففرع علی تفسیرہ العلم بالشك انہ لو
مع احتمال منی ہو)کے وقوع کی صحت معلوم ہے تو بوقت وقوع یہ شرط وتعلیق تنجیزو تنفیذ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اور اہل نفی کا قول ایسا شرطیہ ہے جس کے مقدم کو صحت و قوع حاصل نہیں تو اس شرطیہ کی جزا(غسل واجب نہیں ) کسی بھی صورت میں وقوع نہیں پاتی۔ تو انتفائے شرط کے باعث ہمیشہ نفی جزا ہی واقع ہوتی ہے نفی جزا یعنی عدم وجوب غسل کا سلب ہوتا ہے تو وجوب غسل حاصل آتا ہے اور وہی مطلوب ہے ۔ اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اس کے اذن سے جس کے سوا اور کسی کی قدرت میں توفیق نہیں ۔
اب یہاں چند نفع بخش مفید تنبیہات لانے میں حرج نہیں :
پہلی تنبیہ : ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے “ علم مذی “ کی تفسیر منی و مذی میں شك ہونے سے کی ہے۔ جیسا کہ قہستانی وغیرہ نے کیا ہے۔ اگر ان کی مراد یہ ہے کہ حقیقت میں شك ہے صورت میں نہیں تو کوئی اضافہ نہ کیا نہ ہی اس کا ارادہ کیا بلکہ وہی ذکر کیا جو مراد اورمآل مفاد ہے۔ لیکن مدقق علائی نے تصریح کردی کہ جب مذی کا یقین ہو تو غسل نہیں ۔
اور قہستانی نے علم کی تفسیر شك سے کرنے کے بعد اس پر اس تفریع کا اضافہ کردیا کہ اگر مذی کا
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
تیقن بالمذی لم یجب تذکر الاحتلام ام لا الخ فعن فـــ۱ ھذا دخل علیھما الا یراد وظھر ان تفسیر العلائی لیس اصلاحا للمتن کما فـــ۲ زعم العلامۃ الشامی بل تحویل لہ عن الصلاح اما یوسف چلپی فلم ار فی کلامہما فاحببت ان لایعد اسمہ فی الفریق الاول۔
الثانی : بما بینا من ان المعتبر ھو الاحتمال لا الاحتمال علی الاحتمال ظھر الجواب عما کان یختلج ببالی وذکرتہ فیما علقتہ علی ردالمحتار فی تائید الفریق الاول ان لوکان علم المذی مع عدم التذکر موجبا للغسل بناء علی انہ لایعری عن احتمال المنویۃ لوجب ان یجب ایضا باحتمال المذی اعنی التردد بین یقین ہو تو غسل واجب نہیں احتلام یاد ہو یا نہ ہوالخ۔ اسی لئے ان دونوں حـضرات پراعتراض وارد ہوا اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ مدقق علائی کی تفسیرسے متن کی اصلاح نہ ہوئی۔ جیسا کہ علامہ شامی نے اسے اصلاح سمجھا۔ بلکہ یہ تو اسے صلاح و درستی سے منحرف کرنا ہوا۔ لیکن میں نے علامہ یوسف چلپی کے کلام میں ایسی کوئی بات نہ دیکھی جیسی ان دونوں حضرات کے کلام میں ہے اس لئے میں نے یہ پسند کیاکہ ان کا نام فریق اول میں شمار نہ ہو۔
دوسری تنبیہ : ہم نے بیان کیا کہ احتمال کا اعتبار ہے احتمال دراحتمال کا نہیں ۔ اس سے اس خیال کا جواب ظاہر ہوگیا جو میرے دل میں پیدا ہوتا تھا اور اسے میں نے اپنے حاشیہ رد المحتار میں فریق اول کی تائید میں ذکر کیا تھا کہ اگر احتلام یاد نہ ہونے کے باوجود مذی کا علم موجب غسل ہوتا اس بنا پر کہ وہ منی ہونے کے احتمال سے خالی نہیں تو ضروری تھا کہ یاد نہ ہونے کی صورت میں مذی کے احتمال سے بھی غسل واجب ہو ۔ احتمال مذی
فــــ۱ : تطفل علی المدقق العلائی و القہستانی۔
فـــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
الثانی : بما بینا من ان المعتبر ھو الاحتمال لا الاحتمال علی الاحتمال ظھر الجواب عما کان یختلج ببالی وذکرتہ فیما علقتہ علی ردالمحتار فی تائید الفریق الاول ان لوکان علم المذی مع عدم التذکر موجبا للغسل بناء علی انہ لایعری عن احتمال المنویۃ لوجب ان یجب ایضا باحتمال المذی اعنی التردد بین یقین ہو تو غسل واجب نہیں احتلام یاد ہو یا نہ ہوالخ۔ اسی لئے ان دونوں حـضرات پراعتراض وارد ہوا اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ مدقق علائی کی تفسیرسے متن کی اصلاح نہ ہوئی۔ جیسا کہ علامہ شامی نے اسے اصلاح سمجھا۔ بلکہ یہ تو اسے صلاح و درستی سے منحرف کرنا ہوا۔ لیکن میں نے علامہ یوسف چلپی کے کلام میں ایسی کوئی بات نہ دیکھی جیسی ان دونوں حضرات کے کلام میں ہے اس لئے میں نے یہ پسند کیاکہ ان کا نام فریق اول میں شمار نہ ہو۔
دوسری تنبیہ : ہم نے بیان کیا کہ احتمال کا اعتبار ہے احتمال دراحتمال کا نہیں ۔ اس سے اس خیال کا جواب ظاہر ہوگیا جو میرے دل میں پیدا ہوتا تھا اور اسے میں نے اپنے حاشیہ رد المحتار میں فریق اول کی تائید میں ذکر کیا تھا کہ اگر احتلام یاد نہ ہونے کے باوجود مذی کا علم موجب غسل ہوتا اس بنا پر کہ وہ منی ہونے کے احتمال سے خالی نہیں تو ضروری تھا کہ یاد نہ ہونے کی صورت میں مذی کے احتمال سے بھی غسل واجب ہو ۔ احتمال مذی
فــــ۱ : تطفل علی المدقق العلائی و القہستانی۔
فـــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۴۳
المذی والودی فی عدم التذکرلان بالتقریر المذکور کل احتمال مذی احتمال منی و احتمال المنی موجب عندھما مطلقا فیبطل الفرق بین التذکر وعدمہ فیجب القول بان احتمال المنی انما یکون باحد شیئین احدھما ان تکون الصورۃ مترددۃ بین المنی وغیرہ سواء تذکر الحلم او لا والاخر ان یری ماھو مذی ولو احتمالا و یتذکر الاحتلام فان تذکرہ اقوی دلیل علی الامناء فلاجلہ یحمل ما یری مذیا علی انہ منی رق اما اذا لم یتذکر ولم تحتمل الصورۃ المنویۃ فلم یعدل عن حکم الصورۃ من دون دلیل داع الیہ وتقریر الجواب واضح ممافتح القدیر الان من فیض فتح القدیر ولله الحمد۔
الثالث : عــــہ۱مع قطع النظر عن التحقیق الذی ظھرنا علیہ
اقول : کا معنی یہ کہ مذی اور ودی ہونے کے درمیان تردد ہو۔ اس لئے کہ تقریر مذکور کی روسے ہراحتمال مذی احتمال منی ہے۔ اور طرفین کے نزدیك احتمال منی سے مطلقا غسل واجب ہوتاہے تو یاد ہونے اور نہ ہونے کی تفریق بیکار ہے۔ تو یہ کہنا ضروری ہے کہ منی کا احتمال دوباتوں میں سے کسی ایك سے ہونا ہے(۱)یہ کہ صورت کے اندر منی اور غیر منی کے درمیان تردد ہو خواب یاد ہو یانہ ہو(۲) وہ شکل نظر آئے جو مذی ہے اگرچہ احتمالاسہی۔ اوراحتلام بھی یاد ہو کیوں کہ اس کا یاد ہونا منی نکلنے کی قوی دلیل ہے تو اس کی وجہ سے جو مذی کی شکل میں نظرآرہا ہے اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ وہ منی ہے جو رقیق ہوگئی۔ لیکن احتلام یاد نہ ہونے اور صورت منویہ کا احتمال نہ ہونے کی حالت میں حکم صورت سے انحراف نہ ہوا جب تك کہ اس کی داعی کوئی دلیل نہ ہو اور جواب کی تقریر اس سے واضح ہے جو اس وقت رب قدیر نے بفیض فتح القدیر مجھ پر منکشف فرمایا۔ ولله الحمد۔
تیسری تنبیہ : اقول قطع نظر اس تحقیق سے جو ہم پر واضح ہوئی۔ میں کہتا ہوں
عــــہ۱ : ای ماقدمنا ان العلم بالحقیقۃ لاالیہ سبیل للمستیقظ ولا لارادتہ مساغ فی کلام العلماء اھ منہ غفرلہ (م)
یعنی وہ تحقیق جو ہم پیش کر چکے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے لئے علم حقیقت کی کوئی سبیل نہیں اور کلام علماء میں اس کے مراد ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ۱۲منہ(ت)
الثالث : عــــہ۱مع قطع النظر عن التحقیق الذی ظھرنا علیہ
اقول : کا معنی یہ کہ مذی اور ودی ہونے کے درمیان تردد ہو۔ اس لئے کہ تقریر مذکور کی روسے ہراحتمال مذی احتمال منی ہے۔ اور طرفین کے نزدیك احتمال منی سے مطلقا غسل واجب ہوتاہے تو یاد ہونے اور نہ ہونے کی تفریق بیکار ہے۔ تو یہ کہنا ضروری ہے کہ منی کا احتمال دوباتوں میں سے کسی ایك سے ہونا ہے(۱)یہ کہ صورت کے اندر منی اور غیر منی کے درمیان تردد ہو خواب یاد ہو یانہ ہو(۲) وہ شکل نظر آئے جو مذی ہے اگرچہ احتمالاسہی۔ اوراحتلام بھی یاد ہو کیوں کہ اس کا یاد ہونا منی نکلنے کی قوی دلیل ہے تو اس کی وجہ سے جو مذی کی شکل میں نظرآرہا ہے اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ وہ منی ہے جو رقیق ہوگئی۔ لیکن احتلام یاد نہ ہونے اور صورت منویہ کا احتمال نہ ہونے کی حالت میں حکم صورت سے انحراف نہ ہوا جب تك کہ اس کی داعی کوئی دلیل نہ ہو اور جواب کی تقریر اس سے واضح ہے جو اس وقت رب قدیر نے بفیض فتح القدیر مجھ پر منکشف فرمایا۔ ولله الحمد۔
تیسری تنبیہ : اقول قطع نظر اس تحقیق سے جو ہم پر واضح ہوئی۔ میں کہتا ہوں
عــــہ۱ : ای ماقدمنا ان العلم بالحقیقۃ لاالیہ سبیل للمستیقظ ولا لارادتہ مساغ فی کلام العلماء اھ منہ غفرلہ (م)
یعنی وہ تحقیق جو ہم پیش کر چکے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے لئے علم حقیقت کی کوئی سبیل نہیں اور کلام علماء میں اس کے مراد ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ۱۲منہ(ت)
انما علم المنی یتصور مذیا ولیس ھذا للودی ولا تترك الصورۃ لمحض امکان فعلم المذی لا یکون احتمال الودی ولذا لم یفسروہ الا بالشك فی المنی والمذی فاستثناء عــــہ۲ الدر الشك فــــ فی
منی سے متعلق معلوم ہے کہ وہ مذی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ بات ودی میں نہیں ۔ اورصورت محض امکان کی وجہ سے ترك نہیں کی جاسکتی ۔ تو مذی کے علم کی حالت میں ودی کا احتمال نہ ہوگا۔ اسی لئے علماء نے علم مذی کی تفسیر میں صرف منی و مذی کے درمیا ن شك ہونے کو ذکر کیا۔ تو
فــــ : معروضۃ اخری علیہ۔
عــــہ۲ : قدمنا عبارۃ التنویر فی نصوص الفریق الثانی وذکرنا بعد انھاء المنقول مااستثنی فی الدر وبعدہ کلام العلامۃ الشامی الشارح قد اصلح الخ
وتمامہ وبھذا الحل الذی ھو من فیض الفتاح العلیم ظھر ان ھذا المتعاطفات مرتبطۃ ببعضھا وان الاستثناء فیھا کلہا متصل ولله در ھذا الشارح الفاضل فکثیرا ما تخفی اشاراتہ علی المعترضین و کانوا من الماھرین ہم نے فریق ثانی کے نصوص کے تحت تنویر الابصار کی یہ عبارت ذکر کی ہے (ورؤیۃ المستیقظ منیا او مذیا وان لم یتذکر الاحتلام۔
بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو) ۔ اور نقول ختم کرنے کے بعد درمختار کا استثنا ذکر کیا : (مگر جب اسے مذی کاعلم ہو یا اس میں شك ہوکہ مذی ہے یا ودی یا سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں ) اس کے بعد علامہ شامی کا یہ کلام ذکر کیا کہ “ شارح نے عبارت مصنف کی اصلاح کی ہے۔ الخ۔ “
اس کے آگے علامہ شامی کی پوری عبارت اس طرح ہے : فتاح علیم کے فیض سے منکشف ہونے والے اس حل سے ظاہر ہوگیا کہ یہ معطوفات باہم ایك دوسرے سے مرتبط ہیں (باقی برصفحہ ائندہ)
منی سے متعلق معلوم ہے کہ وہ مذی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ بات ودی میں نہیں ۔ اورصورت محض امکان کی وجہ سے ترك نہیں کی جاسکتی ۔ تو مذی کے علم کی حالت میں ودی کا احتمال نہ ہوگا۔ اسی لئے علماء نے علم مذی کی تفسیر میں صرف منی و مذی کے درمیا ن شك ہونے کو ذکر کیا۔ تو
فــــ : معروضۃ اخری علیہ۔
عــــہ۲ : قدمنا عبارۃ التنویر فی نصوص الفریق الثانی وذکرنا بعد انھاء المنقول مااستثنی فی الدر وبعدہ کلام العلامۃ الشامی الشارح قد اصلح الخ
وتمامہ وبھذا الحل الذی ھو من فیض الفتاح العلیم ظھر ان ھذا المتعاطفات مرتبطۃ ببعضھا وان الاستثناء فیھا کلہا متصل ولله در ھذا الشارح الفاضل فکثیرا ما تخفی اشاراتہ علی المعترضین و کانوا من الماھرین ہم نے فریق ثانی کے نصوص کے تحت تنویر الابصار کی یہ عبارت ذکر کی ہے (ورؤیۃ المستیقظ منیا او مذیا وان لم یتذکر الاحتلام۔
بیدار ہونے والے کا منی یا مذی دیکھنا اگرچہ اسے احتلام یاد نہ ہو) ۔ اور نقول ختم کرنے کے بعد درمختار کا استثنا ذکر کیا : (مگر جب اسے مذی کاعلم ہو یا اس میں شك ہوکہ مذی ہے یا ودی یا سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بالاتفاق اس پر غسل نہیں ) اس کے بعد علامہ شامی کا یہ کلام ذکر کیا کہ “ شارح نے عبارت مصنف کی اصلاح کی ہے۔ الخ۔ “
اس کے آگے علامہ شامی کی پوری عبارت اس طرح ہے : فتاح علیم کے فیض سے منکشف ہونے والے اس حل سے ظاہر ہوگیا کہ یہ معطوفات باہم ایك دوسرے سے مرتبط ہیں (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
المذی والودی منقطع
صاحب درمختار نے مذی و ودی کے مابین شک (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فافھم ( ) اھ وعرض بہ علی العلامۃ ح محشی الدر المعترض علیہ والعلامۃ ط المجیب بالتزام ان لاضیر فی عطف الاستثناء المنقطع علی المتصل۔
اقول : لاشك وقد اعترف ھذا المحقق ایضا ان المراد بالرؤیۃ العلم والاخرج الاعمی فقول المتن ورؤیۃ المستیقظ مذیا معناہ یجب الغسل اذا علم المذی وان لم یتذکر وانتم جعلتموہ محتملا لمعنیین الاول ان یکون المراد بالمذی حقیقتہ والثانی صورتہ وجعلتم الاول علما بانہ مذی والا خیر شکا فیہ وفی غیرہ فعلی الاول
اور ان سب میں استثنا ئے متصل ہے اور یہ حضرت شارح فاضل کا کمال ہے کہ ان کے اشارات ماہر معترضین کی نظر سے بھی مخفی رہ جاتے ہیں اھ اس سے علامہ شامی نے محشی درمختار علامہ حلبی معترض پر تعریـض کی ہے اور علامہ طحطاوی پر جنہوں نے استثنا ئے منقطع مان کر یہ جواب دیا ہے کہ استثنائے متصل پر استثنا ئے منقطع کا عطف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
اقول : اس میں کوئی شك نہیں اور ان محقق نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ دیکھنے سے مراد علم ہے ورنہ نابینا اس حکم سے خارج ہو جائے گا تو عبارت متن : (بیدار ہونے والے کا مذی دیکھنا) کا معنی یہ ہے کہ جب مذی کا علم ہو تو غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ او ر آپ نے اس عبارت میں دو معنوں کا احتمال بتایا ہے۔ اول یہ کہ مذی سے حقیقت مذی مراد ہو۔ دوم یہ کہ صورت مذی مراد ہو۔ اور اول کو آپ نے مذی ہونے کا علم قرار دیا ہے اور دوم کو مذی اور غیر مذی کے درمیان شك ٹھہرایا ہے۔ تو برتقدیر اول (باقی برصفحہ ائندہ)
صاحب درمختار نے مذی و ودی کے مابین شک (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فافھم ( ) اھ وعرض بہ علی العلامۃ ح محشی الدر المعترض علیہ والعلامۃ ط المجیب بالتزام ان لاضیر فی عطف الاستثناء المنقطع علی المتصل۔
اقول : لاشك وقد اعترف ھذا المحقق ایضا ان المراد بالرؤیۃ العلم والاخرج الاعمی فقول المتن ورؤیۃ المستیقظ مذیا معناہ یجب الغسل اذا علم المذی وان لم یتذکر وانتم جعلتموہ محتملا لمعنیین الاول ان یکون المراد بالمذی حقیقتہ والثانی صورتہ وجعلتم الاول علما بانہ مذی والا خیر شکا فیہ وفی غیرہ فعلی الاول
اور ان سب میں استثنا ئے متصل ہے اور یہ حضرت شارح فاضل کا کمال ہے کہ ان کے اشارات ماہر معترضین کی نظر سے بھی مخفی رہ جاتے ہیں اھ اس سے علامہ شامی نے محشی درمختار علامہ حلبی معترض پر تعریـض کی ہے اور علامہ طحطاوی پر جنہوں نے استثنا ئے منقطع مان کر یہ جواب دیا ہے کہ استثنائے متصل پر استثنا ئے منقطع کا عطف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
اقول : اس میں کوئی شك نہیں اور ان محقق نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ دیکھنے سے مراد علم ہے ورنہ نابینا اس حکم سے خارج ہو جائے گا تو عبارت متن : (بیدار ہونے والے کا مذی دیکھنا) کا معنی یہ ہے کہ جب مذی کا علم ہو تو غسل واجب ہے اگرچہ احتلام یاد نہ ہو۔ او ر آپ نے اس عبارت میں دو معنوں کا احتمال بتایا ہے۔ اول یہ کہ مذی سے حقیقت مذی مراد ہو۔ دوم یہ کہ صورت مذی مراد ہو۔ اور اول کو آپ نے مذی ہونے کا علم قرار دیا ہے اور دوم کو مذی اور غیر مذی کے درمیان شك ٹھہرایا ہے۔ تو برتقدیر اول (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
قطعا۔
کاجو استثناء کیا وہ قطعا استثنا سے منقطع ہے۔ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
معنی المتن اذا علم حقیقۃ المذی ولا شك انہ ھو المراد بقول الشارح الا اذا علم انہ مذی فیکون استثناء الشیئ عن نفسہ ویکون حاصل الاستثناء الثانی یجب اذا علم حقیقۃ المذی الا اذا شك انہ مذی او ودی ولا شك انہ استثناء منقطع وعلی الثانی معنی المتن یجب الغسل اذا علم صورۃ المذی وشك فی حقیقۃ انہ مذی اوغیرہ فیکون قول الشارح الا اذا علم حقیقۃ المذی استثناء منقطعا قطعا ولیس ھذا سبیل ماقصدتم بل کان ینبغی ان یقال ان المراد فی کلام المصنف العلم بالصورۃ لا غیرکما ذکرتموہ فی التوفیق والعلم بالصورۃ المذی یشمل ما اذا علم انہ فی الحقیقۃ ایضا مذی وما اذا شك انہ ھو اوغیرہ
متن کا معنی یہ ہوا کہ جب حقیقت مذی کا علم ہو(تو غسل واجب ہے) اور بلاشبہ شارح کے کلام “ الااذاعلم انہ مذی۔ مگر جب اسے علم ہو کہ وہ مذی ہے “ سے وہی (حقیقت مذی کا علم) مراد ہے تو یہ شیئ کا خوداسی شیئ سے استثناء ہوگا۔ استثنائے ثانی کا حاصل یہ ہوگا کہ غسل واجب ہے جب حقیقت مذی کا علم ہو مگر جب اسے شك ہو کہ مذی ہے یا ودی(توبالاتفاق واجب نہ ہوگا)بلا شبہہ یہ استثنا ئے منقطع ہے۔ برتقدیر دوم متن کا معنی یہ ہو کہ غسل واجب ہے۔ جب اسے مذی کی صورت کا علم ویقین ہو اور اس کی حقیقت میں شك ہو کہ وہ مذی ہے یا غیرمذی ۔ اب شارح کا قول “ مگر جب اسے حقیقت مذی کا علم ہو “ قطعااستثنا ئے منقطع ہوگا۔ تو آپ کا جو مقصد تھا(استثنائے متصل کا اثبات) اس کی یہ راہ نہ تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ مصنف کے کلام میں صورت مذی کا علم مراد ہے کچھ اور نہیں ۔ جیسا کہ تطبیق میں آپ نے یہی ذکر کیاہے۔ اور صورت مذی کا علم اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے علم ہو کہ وہ حقیقت میں بھی مذی ہی ہے اور اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے شك ہو (باقی برصفحہ ائندہ )
کاجو استثناء کیا وہ قطعا استثنا سے منقطع ہے۔ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
معنی المتن اذا علم حقیقۃ المذی ولا شك انہ ھو المراد بقول الشارح الا اذا علم انہ مذی فیکون استثناء الشیئ عن نفسہ ویکون حاصل الاستثناء الثانی یجب اذا علم حقیقۃ المذی الا اذا شك انہ مذی او ودی ولا شك انہ استثناء منقطع وعلی الثانی معنی المتن یجب الغسل اذا علم صورۃ المذی وشك فی حقیقۃ انہ مذی اوغیرہ فیکون قول الشارح الا اذا علم حقیقۃ المذی استثناء منقطعا قطعا ولیس ھذا سبیل ماقصدتم بل کان ینبغی ان یقال ان المراد فی کلام المصنف العلم بالصورۃ لا غیرکما ذکرتموہ فی التوفیق والعلم بالصورۃ المذی یشمل ما اذا علم انہ فی الحقیقۃ ایضا مذی وما اذا شك انہ ھو اوغیرہ
متن کا معنی یہ ہوا کہ جب حقیقت مذی کا علم ہو(تو غسل واجب ہے) اور بلاشبہ شارح کے کلام “ الااذاعلم انہ مذی۔ مگر جب اسے علم ہو کہ وہ مذی ہے “ سے وہی (حقیقت مذی کا علم) مراد ہے تو یہ شیئ کا خوداسی شیئ سے استثناء ہوگا۔ استثنائے ثانی کا حاصل یہ ہوگا کہ غسل واجب ہے جب حقیقت مذی کا علم ہو مگر جب اسے شك ہو کہ مذی ہے یا ودی(توبالاتفاق واجب نہ ہوگا)بلا شبہہ یہ استثنا ئے منقطع ہے۔ برتقدیر دوم متن کا معنی یہ ہو کہ غسل واجب ہے۔ جب اسے مذی کی صورت کا علم ویقین ہو اور اس کی حقیقت میں شك ہو کہ وہ مذی ہے یا غیرمذی ۔ اب شارح کا قول “ مگر جب اسے حقیقت مذی کا علم ہو “ قطعااستثنا ئے منقطع ہوگا۔ تو آپ کا جو مقصد تھا(استثنائے متصل کا اثبات) اس کی یہ راہ نہ تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ مصنف کے کلام میں صورت مذی کا علم مراد ہے کچھ اور نہیں ۔ جیسا کہ تطبیق میں آپ نے یہی ذکر کیاہے۔ اور صورت مذی کا علم اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے علم ہو کہ وہ حقیقت میں بھی مذی ہی ہے اور اس حالت کو بھی شامل ہے جب اسے شك ہو (باقی برصفحہ ائندہ )
علی ان جعل فــــ العلامۃ ش مراد
علاوہ ازیں شامی پہلے تو عبارت (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من منی او ودی اذ لا معنی للقطع بانہ لیس مذیا حقیقۃ مع العلم بانہ مذی صورۃ الا اذا احاط علمہ بانہ کان منیا تحول مذیا صورۃ ولا سبیل الی ذلك فی النوم فلا اقل من احتمال المذی ولامانع عندکم من العلم بحقیقتہ علی ماقررنا للفریق الاول فکان کلام المصنف بحملہ علی علم الصورۃ شاملا لثلث صور علم بحقیقۃ المذی والشك من المذی والودی والشك بین المذی والمنی وکل ذلك من صور العلم بصورۃ المذی لامجرد صورتی الشك کما قلتم وعند ذلك یکون استثناء علم الحقیقۃ والشك الاول کل متصلا کما قصدتم
کہ وہ مذی ہی ہے یا کچھ اور ہے یعنی منی یا ودی ۔ اس لئے کہ صورۃ مذی ہونے کا علم ہوتے ہوئے یہ قطعی حکم کرنے کا کوئی معنی نہیں کہ وہ حقیقۃ مذی نہیں ہاں جب احاطہ کے ساتھ اسے علم ہو کہ وہ تری پہلے منی تھی اب مذی کی صورت میں بدل گئی تو وہ قطعی حکم ہو سکتاہے مگرنیند میں ایسے علم و احاطہ کی گنجائش نہیں ۔ تو کم ازکم مذی کا احتمال ضرور ہوگا۔ اور آپ کے نزدیك اس کی حقیقت کے علم سے کوئی مانع نہیں جیسا کہ ہم نے فریق اول کی تقریر پیش کی۔ توعلم صورت پر محمول کرنے سے کلام مصنف تین صورتوں کو شامل ہوا : (۱)حقیقت مذی کاعلم(۲) مذی اور ودی میں شک(۳)مذی اورمنی میں شک۔ اور تینوں میں سے ہر ایك صورت مذی کے علم ہی کی صورتوں میں سے ہے ۔ نہ یہ کہ ان میں صرف شك والی دونوں صورتیں ہیں جیساکہ اپ نے کہا جب ایسا ہے تع علم حقیت اور شك اول (مذی و ودی میں شک)دونوں ہی کا استثناء استثنائے متصل ہوا جیساکہ اپ کا مقصود ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
فــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
علاوہ ازیں شامی پہلے تو عبارت (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من منی او ودی اذ لا معنی للقطع بانہ لیس مذیا حقیقۃ مع العلم بانہ مذی صورۃ الا اذا احاط علمہ بانہ کان منیا تحول مذیا صورۃ ولا سبیل الی ذلك فی النوم فلا اقل من احتمال المذی ولامانع عندکم من العلم بحقیقتہ علی ماقررنا للفریق الاول فکان کلام المصنف بحملہ علی علم الصورۃ شاملا لثلث صور علم بحقیقۃ المذی والشك من المذی والودی والشك بین المذی والمنی وکل ذلك من صور العلم بصورۃ المذی لامجرد صورتی الشك کما قلتم وعند ذلك یکون استثناء علم الحقیقۃ والشك الاول کل متصلا کما قصدتم
کہ وہ مذی ہی ہے یا کچھ اور ہے یعنی منی یا ودی ۔ اس لئے کہ صورۃ مذی ہونے کا علم ہوتے ہوئے یہ قطعی حکم کرنے کا کوئی معنی نہیں کہ وہ حقیقۃ مذی نہیں ہاں جب احاطہ کے ساتھ اسے علم ہو کہ وہ تری پہلے منی تھی اب مذی کی صورت میں بدل گئی تو وہ قطعی حکم ہو سکتاہے مگرنیند میں ایسے علم و احاطہ کی گنجائش نہیں ۔ تو کم ازکم مذی کا احتمال ضرور ہوگا۔ اور آپ کے نزدیك اس کی حقیقت کے علم سے کوئی مانع نہیں جیسا کہ ہم نے فریق اول کی تقریر پیش کی۔ توعلم صورت پر محمول کرنے سے کلام مصنف تین صورتوں کو شامل ہوا : (۱)حقیقت مذی کاعلم(۲) مذی اور ودی میں شک(۳)مذی اورمنی میں شک۔ اور تینوں میں سے ہر ایك صورت مذی کے علم ہی کی صورتوں میں سے ہے ۔ نہ یہ کہ ان میں صرف شك والی دونوں صورتیں ہیں جیساکہ اپ نے کہا جب ایسا ہے تع علم حقیت اور شك اول (مذی و ودی میں شک)دونوں ہی کا استثناء استثنائے متصل ہوا جیساکہ اپ کا مقصود ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
فــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
المتن مترددا بین ارادۃ الحقیقۃ والصورۃ
متن میں حقیقت اور صورت دونوں مراد ہونے کا احتمال (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فوقعت الزلۃ من وجھین فی تردید المتن بین الحملین وفی تخصیص الاخیر بالشك ثم ھذا کلہ اذا سلمنا لہ ان فی العلم بالمذی ای صورتہ یبقی احتمال الودی فی حقیقتہ لما علمت ان لا عبرۃ لمحض احتمال مستند الی مجرد امکان ذاتی بلا دلیل یدل علیہ فی خصوص المقام ولا دلیل للمستیقظ علی ان ھذا الذی ھو مذی قطعا بصورتہ ودی اصلا فی حقیقتہ بخلاف المنی کما علمت علی ان صورۃ المذی لم یثبت کونھا للودی کما ثبت للمنی فلا معنی لحمل رؤیۃ المذی علی معنی الشك بین المذی والودی واذ لم یشملہ کلام المصنف فاستثنائہ منہ لایکون قطعا الا منقطعا فھذہ زلۃ ثالثۃ اعظم من اختیہا و الرابعۃ لما تقدم
تو دو طرح لغزش ہوئی ایك یہ کہ متن میں حقیقت اور صورت دونوں مراد ہونے کا احتمال مانا دوسرے یہ کہ ارادہ صورت کو حالت شك سے خاص کردیا(حالانکہ وہ علم حقیقت کو بھی شامل ہے)۔ پھر یہ سب کچھ اس وقت ہے جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ مذی یعنی صورت مذی کا یقین ہونے کی حالت میں بھی یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ حقیقت میں ودی ہو۔ اس لئے کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایسے احتمال محض کا اعتبار نہیں جس کا استناد صرف امکان ذاتی پر ہو اور اس پر اس خاص مقام میں کوئی دلیل نہ ہو۔ اور بیدارہونے والے کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ جو صورت میں قطعا مذی ہے حقیقت میں اصلا ودی ہے۔ بخلاف منی کے جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ علاوہ ازیں مذی کی صورت ودی کے لئے ہونا ثابت نہیں جیسے منی کے لئے ہونا ثابت ہے۔ تو مذی دیکھنے کو مذی و ودی کے درمیان شك ہونے کے معنی پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ اور جب اسے کلام مصنف شامل نہیں تو اس سے اس کا استثنا قطعا استثنائے منقطع ہی ہوگا۔ تو یہ تیسری لغزش ہے جو پہلی دونوں سے بڑی ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
متن میں حقیقت اور صورت دونوں مراد ہونے کا احتمال (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فوقعت الزلۃ من وجھین فی تردید المتن بین الحملین وفی تخصیص الاخیر بالشك ثم ھذا کلہ اذا سلمنا لہ ان فی العلم بالمذی ای صورتہ یبقی احتمال الودی فی حقیقتہ لما علمت ان لا عبرۃ لمحض احتمال مستند الی مجرد امکان ذاتی بلا دلیل یدل علیہ فی خصوص المقام ولا دلیل للمستیقظ علی ان ھذا الذی ھو مذی قطعا بصورتہ ودی اصلا فی حقیقتہ بخلاف المنی کما علمت علی ان صورۃ المذی لم یثبت کونھا للودی کما ثبت للمنی فلا معنی لحمل رؤیۃ المذی علی معنی الشك بین المذی والودی واذ لم یشملہ کلام المصنف فاستثنائہ منہ لایکون قطعا الا منقطعا فھذہ زلۃ ثالثۃ اعظم من اختیہا و الرابعۃ لما تقدم
تو دو طرح لغزش ہوئی ایك یہ کہ متن میں حقیقت اور صورت دونوں مراد ہونے کا احتمال مانا دوسرے یہ کہ ارادہ صورت کو حالت شك سے خاص کردیا(حالانکہ وہ علم حقیقت کو بھی شامل ہے)۔ پھر یہ سب کچھ اس وقت ہے جب ہم یہ تسلیم کرلیں کہ مذی یعنی صورت مذی کا یقین ہونے کی حالت میں بھی یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ حقیقت میں ودی ہو۔ اس لئے کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایسے احتمال محض کا اعتبار نہیں جس کا استناد صرف امکان ذاتی پر ہو اور اس پر اس خاص مقام میں کوئی دلیل نہ ہو۔ اور بیدارہونے والے کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ یہ جو صورت میں قطعا مذی ہے حقیقت میں اصلا ودی ہے۔ بخلاف منی کے جیسا کہ معلوم ہوچکا۔ علاوہ ازیں مذی کی صورت ودی کے لئے ہونا ثابت نہیں جیسے منی کے لئے ہونا ثابت ہے۔ تو مذی دیکھنے کو مذی و ودی کے درمیان شك ہونے کے معنی پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ اور جب اسے کلام مصنف شامل نہیں تو اس سے اس کا استثنا قطعا استثنائے منقطع ہی ہوگا۔ تو یہ تیسری لغزش ہے جو پہلی دونوں سے بڑی ہے۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
ثم حصر فـــــ۱ الا خیر فی الشك عاد نقضا علی المقصود لان الارادتین لاتجتمعان وقد استثنی العلم والشك معا فاحدھما منقطع لاشك والحق فـــــ۲ ان لا محل لشیئ منھما فی کلام المصنف۔
الرابع : لکلام الغنیۃ جنوح الی ارادۃ الحقیقۃ حیث یقول النوم حال ذھول وغفلۃ شدیدۃ یقع فیہ اشیاء فلا یشعربھا فتیقن کون البلل مذیالایکاد یمکن الا باعتبار صورتہ ورقتہ ( ) الخ۔
رکھا۔ پھر ارادہ صورت کو شك میں منحصر کردیا۔ جو خود ان کے مقصود کے خلاف ہوگیا۔ اس لئے کہ ایك ساتھ حقیقت اور صورت دونوں مراد نہیں ہوسکتیں ۔ اور شارح نے علم اور شك دونوں کا استثناء کیا تو ایك استثنا ضروراستثنائے منقطع ہے۔ اور حق یہ ہے کہ کلام مصنف میں ان میں سے کسی استثنا کی گنجائش نہیں ۔
چوتھی تنبیہ : عبارت غنیہ میں ارادہ حقیقت کی جانب کچھ میلان ہے وہ اس طرح کہ اس کے الفاظ یہ ہیں : نیند شدید غفلت وذہول کی حالت ہے۔ اس میں ایسی چیزیں واقع ہوتی ہیں جن کا سونے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا تو تری کے مذی ہونے کا یقین نہ ہوپائے گا مگر اس کی صورت اور رقت ہی کے اعتبار سے الخ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من التحقیق وبہ ظھر ان کلام المصنف لامحل فیہ لشیئ من ھذین الاستثنائین فاستثناء الحقیقۃ باطل اذ لا سبیل الیہ واستثناء احتمال الودی ضائع اذلا دلیل علیہ وبالله التوفیق اھ منہ غفرلہ (م)
اور چوتھی لـغزش اس تحقیق کے پیش نظر جو بیان ہوئی اور اسی سے یہ بھی واضح ہوا کہ کلام مصنف میں ان دونوں استثناء میں سے کسی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ استثنائے حقیقت تو باطل ہی ہے اس کی کوئی صورت نہیں اور احتمال ودی کا استثناء بے کار ہے کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں وبالله التوفیق ۱۲ منہ(ت)
فـــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ۔
فـــ۲ : معروضۃ علی الدر۔
الرابع : لکلام الغنیۃ جنوح الی ارادۃ الحقیقۃ حیث یقول النوم حال ذھول وغفلۃ شدیدۃ یقع فیہ اشیاء فلا یشعربھا فتیقن کون البلل مذیالایکاد یمکن الا باعتبار صورتہ ورقتہ ( ) الخ۔
رکھا۔ پھر ارادہ صورت کو شك میں منحصر کردیا۔ جو خود ان کے مقصود کے خلاف ہوگیا۔ اس لئے کہ ایك ساتھ حقیقت اور صورت دونوں مراد نہیں ہوسکتیں ۔ اور شارح نے علم اور شك دونوں کا استثناء کیا تو ایك استثنا ضروراستثنائے منقطع ہے۔ اور حق یہ ہے کہ کلام مصنف میں ان میں سے کسی استثنا کی گنجائش نہیں ۔
چوتھی تنبیہ : عبارت غنیہ میں ارادہ حقیقت کی جانب کچھ میلان ہے وہ اس طرح کہ اس کے الفاظ یہ ہیں : نیند شدید غفلت وذہول کی حالت ہے۔ اس میں ایسی چیزیں واقع ہوتی ہیں جن کا سونے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا تو تری کے مذی ہونے کا یقین نہ ہوپائے گا مگر اس کی صورت اور رقت ہی کے اعتبار سے الخ (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من التحقیق وبہ ظھر ان کلام المصنف لامحل فیہ لشیئ من ھذین الاستثنائین فاستثناء الحقیقۃ باطل اذ لا سبیل الیہ واستثناء احتمال الودی ضائع اذلا دلیل علیہ وبالله التوفیق اھ منہ غفرلہ (م)
اور چوتھی لـغزش اس تحقیق کے پیش نظر جو بیان ہوئی اور اسی سے یہ بھی واضح ہوا کہ کلام مصنف میں ان دونوں استثناء میں سے کسی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ استثنائے حقیقت تو باطل ہی ہے اس کی کوئی صورت نہیں اور احتمال ودی کا استثناء بے کار ہے کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں وبالله التوفیق ۱۲ منہ(ت)
فـــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ۔
فـــ۲ : معروضۃ علی الدر۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۴۳
فلیس ملحظ ھذہ العبارۃ ماقررنا ان التیقن انما ھوبا لصورۃ مع التردد فی کونہ منیا اومذیا حقیقۃ بل جعلہ واثقابانہ مذی ونبہ علی خطأہ فی وثوقہ فکانہ رحمہ الله تعالی یقول ھذا الذی یزعم انہ تیقن بالمذی یقینہ مدخول فیہ ای ظن ظنہ یقینا و لیس بہ اذا لیس منشأہ الا الاعتماد علی مایری من الصورۃ والرقۃ وھو اعتماد من غیرعمدۃ وقد یشیرالیہ کلام الحلیۃ ایضا فیما اذا تیقن المذی متذکراحیث قال الظاھر کونہ لیس کذلك حقیقۃ لوجود سبب المنی ظاھراو ھو الا حتلام وکون المنی مما تعرض لہ الرقۃ الخ ( )۔
اقول : ارادۃ الحقیقۃ علی ھذاالوجہ لاباس بھاولا ینافی ماقدمت من التحقیق بیدان فـــــ اس عبارت کا مطمع نظر وہ نہیں جو ہم نے ثابت کیاکہ یقین صورت ہی کاہوگا ساتھ ہی حقیقت میں اس کے منی یا مذی ہونے میں تردد ہوگا بلکہ اس میں تو اس شخص کو اس بارے میں پر وثوق ٹھہر ایا ہے کہ وہ مذی ہے اور اس کے وثوق کی خطا پر تنبیہ کی ہے توگویا صاحب غنیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہیہ فرمارہے ہیں کہ یہ شخص جو گمان کر رہا ہے کہ اسے مذی کا یقین حاصل ہے اس کا یقین ایك دھوکا ہے یعنی اس نے اپنے گمان کو یقین سمجھ لیا ہے حالاں کہ وہ یقین نہیں اس لئے کہ اس کی بنیاد صرف اس پر ہے کہ اس نے دیکھی جانے والی اس صورت و رقت پر اعتماد کرلیا ہے اور یہ اعتماد بلا عماد ہے۔ اس طرف عبارت حلیہ میں بھی اشارہ ملتا ہے ۔ احتلام یاد ہوتے ہوئے مذی کا یقین ہونے کی صورت میں لکھتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ وہ حقیقت میں مذی نہیں اس لئے کہ منی کا سبب ۔ احتلام۔ ظاہرا موجود ہے اور منی ایسی چیز ہے جسے رقت عارض ہوتی ہے الخ۔
اقول : اس طورپرحقیقت مرادلینے میں کوئی حرج نہیں اور یہ ہماری بیان کردہ تحقیق کے منافی نہیں ۔ مگر یہ ہے کہ اس میں علم و
فـــ : تطفل علی الغنیۃ و الحلیۃ۔
اقول : ارادۃ الحقیقۃ علی ھذاالوجہ لاباس بھاولا ینافی ماقدمت من التحقیق بیدان فـــــ اس عبارت کا مطمع نظر وہ نہیں جو ہم نے ثابت کیاکہ یقین صورت ہی کاہوگا ساتھ ہی حقیقت میں اس کے منی یا مذی ہونے میں تردد ہوگا بلکہ اس میں تو اس شخص کو اس بارے میں پر وثوق ٹھہر ایا ہے کہ وہ مذی ہے اور اس کے وثوق کی خطا پر تنبیہ کی ہے توگویا صاحب غنیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہیہ فرمارہے ہیں کہ یہ شخص جو گمان کر رہا ہے کہ اسے مذی کا یقین حاصل ہے اس کا یقین ایك دھوکا ہے یعنی اس نے اپنے گمان کو یقین سمجھ لیا ہے حالاں کہ وہ یقین نہیں اس لئے کہ اس کی بنیاد صرف اس پر ہے کہ اس نے دیکھی جانے والی اس صورت و رقت پر اعتماد کرلیا ہے اور یہ اعتماد بلا عماد ہے۔ اس طرف عبارت حلیہ میں بھی اشارہ ملتا ہے ۔ احتلام یاد ہوتے ہوئے مذی کا یقین ہونے کی صورت میں لکھتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ وہ حقیقت میں مذی نہیں اس لئے کہ منی کا سبب ۔ احتلام۔ ظاہرا موجود ہے اور منی ایسی چیز ہے جسے رقت عارض ہوتی ہے الخ۔
اقول : اس طورپرحقیقت مرادلینے میں کوئی حرج نہیں اور یہ ہماری بیان کردہ تحقیق کے منافی نہیں ۔ مگر یہ ہے کہ اس میں علم و
فـــ : تطفل علی الغنیۃ و الحلیۃ۔
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
فیہ اطلاق العلم والیقین علی ظن ظنہ الظان بالغلط یقینا فالاحری بنا ان لا نحمل کلام العلماء علی مثل ھذا المحمل والوجہ الذی اخترتہ صاف لاکدر فیہ ولله الحمد۔
الخامس : قول الحلیۃ وجوب الغسل اذالم یتذکر حلماو تیقن انہ مذی اوشك فی انہ منی اومذی ( ) الخ یخالف ظاھرہ ماحققنا ان العلم بالمذی ھھنا مجامع للشك فی المذی والمنی۔
فانہ رحمہ الله تعالی جعل التیقن مقابلا للشك وجوابہ اما بالحمل علی الصورۃ کما ھو مسلکنافیعود الی انہ تیقن بان الصورۃ صورۃ مذی اوتردد فی الصورۃ فلا ینافی الشك فی الحقیقۃ اوبالحمل علی زعم التیقن من دون یقین فی الحقیقۃ کما ھو مسلك الغنیۃ فالمعنی سواء کان متیقنا بزعمہ اوشاکا۔
یقین کا اطلاق اس گمان پر کردیا ہے جسے گمان کرنے والے نے غلطی سے یقین سمجھ لیا۔ تو ہمارے لئے مناسب یہ ہے کہ کلام علما کو اس طرح کے معنی پر محمول نہ کریں ۔ اور میں نے جو صورت اختیار کی ہے وہ صاف بے غبار ہے ولله الحمد۔
پانچویں تنبیہ : حلیہ کی یہ عبارت : “ وجوب غسل ہے جب اسے خواب یاد نہ ہو اور یقین ہو کہ وہ مذی ہے یا اسے شك ہو کہ وہ منی ہے یا مذی “۔ بظاہر ہماری اس تحقیق کے خلاف ہے کہ یہاں مذی کا علم ویقین مذی ومنی میں شك کے ساتھ جمع ہوگا۔
مخالف اس لئے کہ صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یقین کو شك کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ اور جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یاتوصورت کا یقین ہے جیسا کہ یہ ہمارا مسلك ہے تو اب معنی عبارت یہ ہو گا کہ “ اسے یقین ہے کہ صورت مذی کی صورت ہے یا اسے صورت کے بارے میں تردد ہے کہ وہ منی کی ہے یا مذی کی “ تو یہ حقیقت میں شك ہونے کے منا فی نہ ہوگا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ اسے یقین ہونے کا گمان ہے اور درحقیقت یقین نہیں ہے جیسا کہ یہ غنیہ کا طرز ہے تو معنی یہ ہوا کہ اپنے گمان میں خواہ وہ یقین رکھنے والا ہو یا شك کرنے والا ہو۔
الخامس : قول الحلیۃ وجوب الغسل اذالم یتذکر حلماو تیقن انہ مذی اوشك فی انہ منی اومذی ( ) الخ یخالف ظاھرہ ماحققنا ان العلم بالمذی ھھنا مجامع للشك فی المذی والمنی۔
فانہ رحمہ الله تعالی جعل التیقن مقابلا للشك وجوابہ اما بالحمل علی الصورۃ کما ھو مسلکنافیعود الی انہ تیقن بان الصورۃ صورۃ مذی اوتردد فی الصورۃ فلا ینافی الشك فی الحقیقۃ اوبالحمل علی زعم التیقن من دون یقین فی الحقیقۃ کما ھو مسلك الغنیۃ فالمعنی سواء کان متیقنا بزعمہ اوشاکا۔
یقین کا اطلاق اس گمان پر کردیا ہے جسے گمان کرنے والے نے غلطی سے یقین سمجھ لیا۔ تو ہمارے لئے مناسب یہ ہے کہ کلام علما کو اس طرح کے معنی پر محمول نہ کریں ۔ اور میں نے جو صورت اختیار کی ہے وہ صاف بے غبار ہے ولله الحمد۔
پانچویں تنبیہ : حلیہ کی یہ عبارت : “ وجوب غسل ہے جب اسے خواب یاد نہ ہو اور یقین ہو کہ وہ مذی ہے یا اسے شك ہو کہ وہ منی ہے یا مذی “۔ بظاہر ہماری اس تحقیق کے خلاف ہے کہ یہاں مذی کا علم ویقین مذی ومنی میں شك کے ساتھ جمع ہوگا۔
مخالف اس لئے کہ صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے یقین کو شك کے مقابلہ میں رکھا ہے۔ اور جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یاتوصورت کا یقین ہے جیسا کہ یہ ہمارا مسلك ہے تو اب معنی عبارت یہ ہو گا کہ “ اسے یقین ہے کہ صورت مذی کی صورت ہے یا اسے صورت کے بارے میں تردد ہے کہ وہ منی کی ہے یا مذی کی “ تو یہ حقیقت میں شك ہونے کے منا فی نہ ہوگا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ اسے یقین ہونے کا گمان ہے اور درحقیقت یقین نہیں ہے جیسا کہ یہ غنیہ کا طرز ہے تو معنی یہ ہوا کہ اپنے گمان میں خواہ وہ یقین رکھنے والا ہو یا شك کرنے والا ہو۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
السادس : حصر الغنیۃ ذرائع علم المذی فی الصورۃ والرقۃ وکلام فـــ۱ الفقیر انہ اما بالصورۃ اوالاسباب اوالاثار والکل لاتنفی المنویۃ اجمع وانفع ولله الحمد۔
السابع : عامۃ المتون والشروح علی تصویر المسألۃ بالرؤیۃ فـــ۲مطلقا من دون ذکر المرئی علیہ ومنھم من صورھا بالرؤیۃ علی فراشہ ومنھم من قال ثوبہ ومنھم من زاد اوفخذہ ومنھم من صور بالوجدان فی احلیلہ کما تعلم بالرجوع الی ماسردنا من النصوص وھذا الاخیر فی الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ والمنیۃ وغیرھا بل ھو لفظ محرر المذھب محمد رحمہ الله تعالی کما فی الھندیۃ عن المحیط عن ابی علی النسفی عن نوادر ھشام عن محمد
ولفظ الخانیۃ وجد علی طرف احلیلہ بلۃ ( ) الخ ولم ارمن رفع لھذا رأسا واستطرق بہ الی خلاف
چھٹی تنبیہ : صاحب غنیۃ نے علم مذی کے ذرائع کو صورت اور رقت میں منحصر رکھاہے اور کلام فقیر میں یہ ہے کہ یہ علم یا تو صورت سے ہوگا یا اسباب سے یاآثار سے اور کسی سے بھی منی ہونے کی نفی نہیں ہوتی۔ تو یہ زیادہ جامع اور زیادہ نافع ہے ولله الحمد۔
ساتویں تنبیہ : عامہ متون وشروح نے صورت مسئلہ کے بیان میں تری دیکھنا مطلقا ذکر کیا ہے کس چیز پر تری دیکھی اس کا ذکر نہ کیا۔ اور بعض نے بستر پر دیکھنے کا ذکر کیا بعض نے کپڑے پر “ کہا بعض نے “ یا ران پر “ کا اضافہ کیا۔ اور کسی نے ذکر کی نالی میں پانے کا تذکرہ کیا جیسا کہ ہمارے بیان کردہ نصوص کو دیکھنے سے معلوم ہوگا۔ اور مذکورہ آخری صورت خانیہ محیط ذخیرہ منیہ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ محررمذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے الفاظ ہیں جیسا کہ ہندیہ میں محیط سے اس میں ابو علی نسفی سے نوادر ہشام کے حوالے سے امام محمد سے منقول ہے۔ خانیہ کے الفاظ یہ ہیں : “ ذکر کی نالی کے سرے پرتری پائی “ الخ۔ اور میں نے کسی کو نہ دیکھاکہ اس طرف توجہ کی ہو اوراسے کسی معنوی اختلاف پر محمول کیا ہو
فــــ۱ : ۔ تطفل علی الغنیۃ
فــــ۲ : مسئلہ : صورمذکورہ میں یکساں ہے خواہ تری کپڑے یاران پردیکھے یاسرذکرمیں ۔
السابع : عامۃ المتون والشروح علی تصویر المسألۃ بالرؤیۃ فـــ۲مطلقا من دون ذکر المرئی علیہ ومنھم من صورھا بالرؤیۃ علی فراشہ ومنھم من قال ثوبہ ومنھم من زاد اوفخذہ ومنھم من صور بالوجدان فی احلیلہ کما تعلم بالرجوع الی ماسردنا من النصوص وھذا الاخیر فی الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ والمنیۃ وغیرھا بل ھو لفظ محرر المذھب محمد رحمہ الله تعالی کما فی الھندیۃ عن المحیط عن ابی علی النسفی عن نوادر ھشام عن محمد
ولفظ الخانیۃ وجد علی طرف احلیلہ بلۃ ( ) الخ ولم ارمن رفع لھذا رأسا واستطرق بہ الی خلاف
چھٹی تنبیہ : صاحب غنیۃ نے علم مذی کے ذرائع کو صورت اور رقت میں منحصر رکھاہے اور کلام فقیر میں یہ ہے کہ یہ علم یا تو صورت سے ہوگا یا اسباب سے یاآثار سے اور کسی سے بھی منی ہونے کی نفی نہیں ہوتی۔ تو یہ زیادہ جامع اور زیادہ نافع ہے ولله الحمد۔
ساتویں تنبیہ : عامہ متون وشروح نے صورت مسئلہ کے بیان میں تری دیکھنا مطلقا ذکر کیا ہے کس چیز پر تری دیکھی اس کا ذکر نہ کیا۔ اور بعض نے بستر پر دیکھنے کا ذکر کیا بعض نے کپڑے پر “ کہا بعض نے “ یا ران پر “ کا اضافہ کیا۔ اور کسی نے ذکر کی نالی میں پانے کا تذکرہ کیا جیسا کہ ہمارے بیان کردہ نصوص کو دیکھنے سے معلوم ہوگا۔ اور مذکورہ آخری صورت خانیہ محیط ذخیرہ منیہ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ محررمذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے الفاظ ہیں جیسا کہ ہندیہ میں محیط سے اس میں ابو علی نسفی سے نوادر ہشام کے حوالے سے امام محمد سے منقول ہے۔ خانیہ کے الفاظ یہ ہیں : “ ذکر کی نالی کے سرے پرتری پائی “ الخ۔ اور میں نے کسی کو نہ دیکھاکہ اس طرف توجہ کی ہو اوراسے کسی معنوی اختلاف پر محمول کیا ہو
فــــ۱ : ۔ تطفل علی الغنیۃ
فــــ۲ : مسئلہ : صورمذکورہ میں یکساں ہے خواہ تری کپڑے یاران پردیکھے یاسرذکرمیں ۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الثانی فی الغسل الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
فتاوٰی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیمایجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
فتاوٰی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیمایجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
معنوی غیران العلامۃ المدقق الحلبی رحمہ الله تعالی قال فی الغنیۃ بقی شیئ وھو ان المنی اذا خرج عن شھوۃ سواء کان فی نوم اویقظۃ فانہ لابد من دفقہ وتجاوزہ عن رأس الذکر ایضا فکون البلل لیس الا فی رأس الذکر دلیل ظاھر انہ لیس بمنی سیماوالنوم محل الانتشار بسبب ھضم الغذاء وانبعاث الریح فایجاب الغسل فی الصورۃ المذکو رۃ مشکل بخلاف وجود البلل علی الفخذ ونحوہ لان الغالب انہ منی خرج بدفق وان لم یشعربہ ماقررناہ ( ) اھ
ورأیتنی کتبت علی قولہ لابد من دفقہ الخ مانصہ اقول : سبحن فـــ۱الله کیف یقال لابد مع اطباقھم ان عند الطرفین رضی الله تعالی عنہما یجب الغسل اذا انفصل المنی عن الصلب بشھوۃ ثم خرج بعدالسکون وکماذکروا من صورہ امساك الذکر کذالك ذکرما اذا انزل فـــ۲واغتسل قبل ان یبول ویمشی
سوا اس کے کہ علامہ مدقق حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے غنیہ میں لکھا : “ ایك چیز باقی رہ گئی وہ یہ کہ منی جب شہوت سے نکلے خواہ وہ نیند میں یا بیداری میں تو اس کا جست کرنااور سرذکر سے تجاوزکرجانا ضروری ہے۔ تو تری کا صرف سر ذکر کے اندر ہوناکھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ منی نہیں ۔ اور نیند غذا کے ہضم اور ہواکے اٹھنے کی وجہ سے انتشارآلہ کامحل ہے۔ تو مذکورہ صورت میں غسل واجب کرنامشکل ہے بخلاف اس صورت کے جب ران وغیرہ پرتری موجود ہو اس لئے کہ اس وقت غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو جست کے ساتھ نکلی ہے اگرچہ اس کا پتا نہ چلا جیسا کہ ہم نے تقریرکی “ اھ۔
میں نے ان کی عبارت “ اس کا جست کرنا ضروری الخ “ پر اپنا لکھا ہوا یہ حاشیہ دیکھا : اقول : سبحان الله “ یہ ضروری ہے “ کیسے کہا جا رہا ہے جب کہ مصنفین کا اتفاق ہے کہ طرفین رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك غسل واجب ہے جب منی شہوت کے ساتھ پشت سے جدا ہو پھر سکون کے بعد باہر آئے۔ اور جیسا کہ ان حضرات نے ذکر کیا اس کی ایك صورت ذکر تھام لینابھی ہے۔ اسی
فـــ۱ : تطفل جلیل علی الغنیۃ ۔
فـــ ۲ : مسئلہ : انزال ہوااور نہا لیا اس کے بعد پھر منی نکلی دوبارہ نہانا واجب ہوگا اگرچہ اس بار بے شہوت نکلی ہو مگر یہ کہ پیشاب کر چکا ہو یا سو لیا یا زیادہ چل لیا اس کے بعد منی بے شہوت نکلی تو غسل کا اعادہ نہیں ۔
ورأیتنی کتبت علی قولہ لابد من دفقہ الخ مانصہ اقول : سبحن فـــ۱الله کیف یقال لابد مع اطباقھم ان عند الطرفین رضی الله تعالی عنہما یجب الغسل اذا انفصل المنی عن الصلب بشھوۃ ثم خرج بعدالسکون وکماذکروا من صورہ امساك الذکر کذالك ذکرما اذا انزل فـــ۲واغتسل قبل ان یبول ویمشی
سوا اس کے کہ علامہ مدقق حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے غنیہ میں لکھا : “ ایك چیز باقی رہ گئی وہ یہ کہ منی جب شہوت سے نکلے خواہ وہ نیند میں یا بیداری میں تو اس کا جست کرنااور سرذکر سے تجاوزکرجانا ضروری ہے۔ تو تری کا صرف سر ذکر کے اندر ہوناکھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ منی نہیں ۔ اور نیند غذا کے ہضم اور ہواکے اٹھنے کی وجہ سے انتشارآلہ کامحل ہے۔ تو مذکورہ صورت میں غسل واجب کرنامشکل ہے بخلاف اس صورت کے جب ران وغیرہ پرتری موجود ہو اس لئے کہ اس وقت غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو جست کے ساتھ نکلی ہے اگرچہ اس کا پتا نہ چلا جیسا کہ ہم نے تقریرکی “ اھ۔
میں نے ان کی عبارت “ اس کا جست کرنا ضروری الخ “ پر اپنا لکھا ہوا یہ حاشیہ دیکھا : اقول : سبحان الله “ یہ ضروری ہے “ کیسے کہا جا رہا ہے جب کہ مصنفین کا اتفاق ہے کہ طرفین رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك غسل واجب ہے جب منی شہوت کے ساتھ پشت سے جدا ہو پھر سکون کے بعد باہر آئے۔ اور جیسا کہ ان حضرات نے ذکر کیا اس کی ایك صورت ذکر تھام لینابھی ہے۔ اسی
فـــ۱ : تطفل جلیل علی الغنیۃ ۔
فـــ ۲ : مسئلہ : انزال ہوااور نہا لیا اس کے بعد پھر منی نکلی دوبارہ نہانا واجب ہوگا اگرچہ اس بار بے شہوت نکلی ہو مگر یہ کہ پیشاب کر چکا ہو یا سو لیا یا زیادہ چل لیا اس کے بعد منی بے شہوت نکلی تو غسل کا اعادہ نہیں ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
کثیرا ثم بال فخرج منی یعید الغسل عندھما( ) فھو منی قد زال بدفق وبقی داخل البدن حتی خرج برفق فان جازھذا فلم لایجوز ان یاتی الی الاحلیل ولا یتجاوز
وان نوزع فی ھذا بان الدفق انما یستلزم خروج بعضہ لاکلہ فمع مطالبۃ الدلیل علی الفرق ماذا یصنع بفرع فتح القدیراحتلم فـــ فی الصلاۃ فلم ینزل حتی اتمھا فانزل لایعیدھا ویغتسل ( )اھ ھب ان یوجدھذا بان الحرکۃ تدریجیۃ لابدلہا من زمان فلعل صورتہ ان کان فی القعدۃ الاخیرۃ فاحتلم واندفق المنی نازلا من الصلب فالی
طرح ان حضرات نے یہ بھی ذکر کیاہے کہ جب انزال ہواور پیشاب کرنے یا زیادہ چلنے سے پہلے غسل کرلے پھر پیشاب کرے تو کچھ منی باہر آئے ایسی صورت میں طرفین کے نزدیك اسے دوبارہ غسل کرنا ہے کیونکہ وہ ایسی منی ہے جو جست کے ساتھ اپنی جگہ سے ہٹی او ربدن کے اندر رہ گئی یہاں تك کہ آہستگی سے باہر آئی۔ تو اگریہ ہو سکتا ہے تو یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ احلیل (ذکر کی نالی) تك آئے اور تجاوز نہ کرے۔
اگر اس میں نزاع کیا جائے کہ جست کرنا صرف اسے مستلزم ہے کہ کچھ باہر آجائے نہ اسے کہ کل باہر آئے تو اولا دونوں میں تفریق پردلیل کا مطالبہ ہوگا پھر فتح القدیر کے اس جزئیہ سے معارضہ ہوگا کہ “ نماز میں خواب دیکھا اورانزال نہ ہوا یہاں تك کہ نماز پوری کرلی پھرانزال ہوا تو اس کے ذمہ نماز کا اعادہ نہیں اور غسل ہے اھ “ ۔ مان لیجئے اس کی یہ توجیہ کردی جائے کہ حرکت ایك تدریجی عمل ہے جس کی صورت یہ ہو کہ قعدہ اخیرہ میں تھا اس وقت
فـــ : مسئلہ : نمازمیں احتلام ہوااورمنی باہرنہ آئی کہ نمازتمام کرلی اس کے بعد اتری توغسل واجب ہوگامگرنمازہوگئی کہ اس وقت تك جنب نہ ہواتھا۔
وان نوزع فی ھذا بان الدفق انما یستلزم خروج بعضہ لاکلہ فمع مطالبۃ الدلیل علی الفرق ماذا یصنع بفرع فتح القدیراحتلم فـــ فی الصلاۃ فلم ینزل حتی اتمھا فانزل لایعیدھا ویغتسل ( )اھ ھب ان یوجدھذا بان الحرکۃ تدریجیۃ لابدلہا من زمان فلعل صورتہ ان کان فی القعدۃ الاخیرۃ فاحتلم واندفق المنی نازلا من الصلب فالی
طرح ان حضرات نے یہ بھی ذکر کیاہے کہ جب انزال ہواور پیشاب کرنے یا زیادہ چلنے سے پہلے غسل کرلے پھر پیشاب کرے تو کچھ منی باہر آئے ایسی صورت میں طرفین کے نزدیك اسے دوبارہ غسل کرنا ہے کیونکہ وہ ایسی منی ہے جو جست کے ساتھ اپنی جگہ سے ہٹی او ربدن کے اندر رہ گئی یہاں تك کہ آہستگی سے باہر آئی۔ تو اگریہ ہو سکتا ہے تو یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ احلیل (ذکر کی نالی) تك آئے اور تجاوز نہ کرے۔
اگر اس میں نزاع کیا جائے کہ جست کرنا صرف اسے مستلزم ہے کہ کچھ باہر آجائے نہ اسے کہ کل باہر آئے تو اولا دونوں میں تفریق پردلیل کا مطالبہ ہوگا پھر فتح القدیر کے اس جزئیہ سے معارضہ ہوگا کہ “ نماز میں خواب دیکھا اورانزال نہ ہوا یہاں تك کہ نماز پوری کرلی پھرانزال ہوا تو اس کے ذمہ نماز کا اعادہ نہیں اور غسل ہے اھ “ ۔ مان لیجئے اس کی یہ توجیہ کردی جائے کہ حرکت ایك تدریجی عمل ہے جس کی صورت یہ ہو کہ قعدہ اخیرہ میں تھا اس وقت
فـــ : مسئلہ : نمازمیں احتلام ہوااورمنی باہرنہ آئی کہ نمازتمام کرلی اس کے بعد اتری توغسل واجب ہوگامگرنمازہوگئی کہ اس وقت تك جنب نہ ہواتھا۔
حوالہ / References
حواشی امام احمد رضاعلی غنیۃ المستملی فصل فی الطہارۃ الکبری قلمی فوٹو ص۱۳۴
فتح القدیر ، کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۴
فتح القدیر ، کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۴
ان ینزل الی القصبۃ ویخرج سلم فسلم من النزول فی الصلاۃ فماذا یجاب عن فرع الھندیۃ عن الذخیرۃ احتلم فـــ۱ لیلا ثم استیقظ ولم یربللا فتوضأ وصلی صلوۃالفجر ثم نزل المنی یجب علیہ الغسل( ) اھ اطلق ولم یقید با لانتشار عند الخروج فما کان الغسل الا باندفاقہ فی النوم وبقاء کلہ داخل البدن الی ان تیقظ وتوضأ وصلی ام فـــماذا یصنع بفرعھا عنہا استیقظ وھو یتذکر احتلاما ولم یربللا ومکث ساعۃ فخرج مذی لایلزمہ الغسل ( ) اھ “ فافاد بمفھومہ ان لو خرج منی لزم فان
احتلام ہوا او رمنی جست کر کے پشت سے چلی اور ذکر کی نالی میں آنے اور نکلنے تك اس نے سلام پھیر دیا اس لئے نماز کے اندر منی نکلنے سے بچ گیا۔ پھر اس جزئیہ کاکیا جو اب ہوگا جو ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے : رات کو احتلام ہوا پھر صبح بیدار ہوا اور تری نہ پائی وضو کر کے نماز فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اھ(اور نماز ہوگئی)۔ اسے مطلق ذکر کیا اور یہ قید نہ لگائی کہ خروج منی کے وقت انتشار آلہ تھاتو غسل اسی وجہ سے ہواکہ نیند کی حالت میں منی نے جست کیا اور سب کی سب بدن کے اندر رہ گئی یہاں تك کہ بیدار ہوا وضو کیا اور نماز پڑھی۔ یااس جزئیہ کو کیا کریں گے جو ہندیہ میں اسی ذخیرہ سے نقل ہے : اس حالت میں بیدار ہوا کہ اسے احتلام یاد ہے اور کوئی تری نہ دیکھی تھوڑی دیر رکا رہا پھر مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں ۔ اس کے مفہوم سے مستفاد ہواکہ اگر
فــ۱ : مسئلہ : رات کواحتلام ہواجاگاتوتری نہ پائی وضوکرکے نمازپڑھ لی اس کے بعد منی باہرآئی توغسل اب واجب ہوااور وہ نمازصحیح ہوگئی ۔
فــــ۲مسئلہ : جاگااحتلام خوب یاد ہے مگرتری نہیں پھرمذی نکلی غسل نہ ہوگا۔
احتلام ہوا او رمنی جست کر کے پشت سے چلی اور ذکر کی نالی میں آنے اور نکلنے تك اس نے سلام پھیر دیا اس لئے نماز کے اندر منی نکلنے سے بچ گیا۔ پھر اس جزئیہ کاکیا جو اب ہوگا جو ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے : رات کو احتلام ہوا پھر صبح بیدار ہوا اور تری نہ پائی وضو کر کے نماز فجر ادا کرلی پھر منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے اھ(اور نماز ہوگئی)۔ اسے مطلق ذکر کیا اور یہ قید نہ لگائی کہ خروج منی کے وقت انتشار آلہ تھاتو غسل اسی وجہ سے ہواکہ نیند کی حالت میں منی نے جست کیا اور سب کی سب بدن کے اندر رہ گئی یہاں تك کہ بیدار ہوا وضو کیا اور نماز پڑھی۔ یااس جزئیہ کو کیا کریں گے جو ہندیہ میں اسی ذخیرہ سے نقل ہے : اس حالت میں بیدار ہوا کہ اسے احتلام یاد ہے اور کوئی تری نہ دیکھی تھوڑی دیر رکا رہا پھر مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں ۔ اس کے مفہوم سے مستفاد ہواکہ اگر
فــ۱ : مسئلہ : رات کواحتلام ہواجاگاتوتری نہ پائی وضوکرکے نمازپڑھ لی اس کے بعد منی باہرآئی توغسل اب واجب ہوااور وہ نمازصحیح ہوگئی ۔
فــــ۲مسئلہ : جاگااحتلام خوب یاد ہے مگرتری نہیں پھرمذی نکلی غسل نہ ہوگا۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
لم یقنع بہ ففی الغنیۃ نفسہا رأی فی نومہ انہ یجامع فانتبہ ولم یربللا ثم بعد ساعۃ خرج منہ مذی لایجب الغسل وان خرج منی وجب ( ) اھ
فان اعتل بان النزول بدفق یستلزم الخروج والتجاوزعن الاحلیل ولوبعدحین فلاترد الفروع وھھنا اذلم یتجاوز رأس الذکر علم انہ لیس بمنی۔
قلت کان استنادہ الی الحرکۃ الدفقیۃ انھا توجب التجاوز لان مایندفق فھویندفع بقوۃ فلا یمنع الا قھراوقدابطلتہ الفروع وھذااعتلال بنفس الانفصال انہ اذاخلی مقرہ فلا بدلہ من الخروج ولو بعدحین وجوابہ ماقدمت ان الکثرۃ لاتلزم الامناء فقدلاینزل الاقطرۃ اوقطر تان کماعرف فی مسألۃ التقاء الختانین قال فی الھدایۃ قد یخفی علیہ
منی نکلتی توغسل لازم ہوتا۔ اگر اس پر قناعت نہ ہو تو خود غنیہ ہی میں ہے : خواب میں اپنے کو جماع کرتے دیکھا بیدار ہوا تو کوئی تری نہ پائی پھر کچھ دیر بعد مذی نکلی تو اس پر غسل واجب نہیں اور اگر منی نکلے تو واجب ہے اھ۔
اگر یہ علت پیش کریں کہ جست کے ساتھ اپنی جگہ سے اترنا نکلنے اور احلیل سے تجاوز کرنے کو مستلزم ہے اگرچہ کچھ دیر بعد سہی تو ان جزئیات سے اعتراض نہ ہو سکے گا۔ اور یہاں جب سر ذکر سے تجاوز نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ منی نہیں ۔
قلت(میں کہوں گا) پہلے ان کا استناد جست والی حرکت سے تھا کہ یہ تجاوز کو لازم کرتی ہے اس لئے کہ جو چیزجست کرے وہ بقوت دفع ہوگی تو اسے بغیر جبر وقسر کے روکانہ جاسکے گا۔ یہ استناد تو ان جزئیات سے باطل ہوگیا۔ اب یہ خود انفصال کو علت ٹھہرانا ہے کہ جب وہ اپنی جگہ چھوڑے گی تو اس کے لئے نکلناضروری ہے اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہو۔ اس کا جواب وہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ منی نکلنے کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قطرہ دو قطرہ آتا ہے جیسا کہ التقائے ختانین(مردوزن کے ختنہ کی جگہوں کے باہم ملنے ) کے مسئلہ میں معلوم ہوا) ہدایہ میں
فان اعتل بان النزول بدفق یستلزم الخروج والتجاوزعن الاحلیل ولوبعدحین فلاترد الفروع وھھنا اذلم یتجاوز رأس الذکر علم انہ لیس بمنی۔
قلت کان استنادہ الی الحرکۃ الدفقیۃ انھا توجب التجاوز لان مایندفق فھویندفع بقوۃ فلا یمنع الا قھراوقدابطلتہ الفروع وھذااعتلال بنفس الانفصال انہ اذاخلی مقرہ فلا بدلہ من الخروج ولو بعدحین وجوابہ ماقدمت ان الکثرۃ لاتلزم الامناء فقدلاینزل الاقطرۃ اوقطر تان کماعرف فی مسألۃ التقاء الختانین قال فی الھدایۃ قد یخفی علیہ
منی نکلتی توغسل لازم ہوتا۔ اگر اس پر قناعت نہ ہو تو خود غنیہ ہی میں ہے : خواب میں اپنے کو جماع کرتے دیکھا بیدار ہوا تو کوئی تری نہ پائی پھر کچھ دیر بعد مذی نکلی تو اس پر غسل واجب نہیں اور اگر منی نکلے تو واجب ہے اھ۔
اگر یہ علت پیش کریں کہ جست کے ساتھ اپنی جگہ سے اترنا نکلنے اور احلیل سے تجاوز کرنے کو مستلزم ہے اگرچہ کچھ دیر بعد سہی تو ان جزئیات سے اعتراض نہ ہو سکے گا۔ اور یہاں جب سر ذکر سے تجاوز نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ منی نہیں ۔
قلت(میں کہوں گا) پہلے ان کا استناد جست والی حرکت سے تھا کہ یہ تجاوز کو لازم کرتی ہے اس لئے کہ جو چیزجست کرے وہ بقوت دفع ہوگی تو اسے بغیر جبر وقسر کے روکانہ جاسکے گا۔ یہ استناد تو ان جزئیات سے باطل ہوگیا۔ اب یہ خود انفصال کو علت ٹھہرانا ہے کہ جب وہ اپنی جگہ چھوڑے گی تو اس کے لئے نکلناضروری ہے اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہو۔ اس کا جواب وہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ منی نکلنے کے لئے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قطرہ دو قطرہ آتا ہے جیسا کہ التقائے ختانین(مردوزن کے ختنہ کی جگہوں کے باہم ملنے ) کے مسئلہ میں معلوم ہوا) ہدایہ میں
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۶
لقلتہ ( ) اھ
وفی الفتح خفاء خروجہ لقلتہ وتکسلہ فی المجری لضعف الدفق لعدم بلوغ الشھوۃ منتھاھا کمایجدہ المجامع فی اثناء الجماع من اللذۃ بمقاربۃ المزایلۃ ( ) اھ
وزاد فی الحلیۃ لقلتہ مع غلبۃ الحرارۃ المجففۃ لہ ( ) اھ
اقول : فـــ۱ والامر فی النائم اظھر فقد یتجاوز بعضہ الاحلیل وینشفہ بعض ثیابہ ولایحس بہ لقلتہ
وبالجملۃ فـــ۲اطلاق المتون والشروح وقدوتھم محمد فی المبسوط کماقدمناعن الخانیۃ عن الاصل وتصریح فــــ۳ امثال الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ وغیرھم وعمدتھم محمد فی النوادر فرمایا :
منی قلت کی وجہ سے اس پر مخفی رہ جاتی ہے اھ۔
فتح القدیر میں ہے : خروج منی کا مخفی رہ جانااس کے کم ہونے اور مجرا(گزر گاہ)میں سست ہو جانے کے باعث ہے اس وجہ سے کہ جست کمزور تھی کیوں کہ شہوت اپنی انتہاء کو نہ پہنچی تھی جیسے جماع کرنے والا اثنائے جماع جدا ہونے کے قریب لذت پاتاہے اھ۔
اور حلیہ میں اضافہ کے ساتھ کہا : کیوں کہ وہ کم ہوتی ہے ساتھ ہی اسے خشك کرنے والی حرارت غالب ہوتی ہے اھ۔
اقول : اورمعاملہ سونے والے کے بارے میں اور زیادہ واضح ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کچھ منی احلیل سے تجاوز کرکے کپڑے میں جذب ہوجاتی ہے اور قلیل ہونے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتی ۔
مختصر یہ کہ ایك تو متون اور شروح میں اطلاق ہے اور ان کے پیشوا امام محمد ہیں جنہوں نے مبسوط میں سب سے پہلے ذکر کیا جیسا کہ ہم نے خانیہ سے بحوالہ مبسوط نقل کیا۔ دوسرے اصحاب خانیہ محیط ذخیرہ وغیرہم کی تصریحات ہیں اور ان کے معتمد امام محمد ہیں جنہوں نے نوادر
فـــ۱ : تطفل آخر علی الغنیۃ ۔
فــ۲ : تطفل ثالث علیہ ۔
فـــ۳ : تطفل رابع علیہ ۔
وفی الفتح خفاء خروجہ لقلتہ وتکسلہ فی المجری لضعف الدفق لعدم بلوغ الشھوۃ منتھاھا کمایجدہ المجامع فی اثناء الجماع من اللذۃ بمقاربۃ المزایلۃ ( ) اھ
وزاد فی الحلیۃ لقلتہ مع غلبۃ الحرارۃ المجففۃ لہ ( ) اھ
اقول : فـــ۱ والامر فی النائم اظھر فقد یتجاوز بعضہ الاحلیل وینشفہ بعض ثیابہ ولایحس بہ لقلتہ
وبالجملۃ فـــ۲اطلاق المتون والشروح وقدوتھم محمد فی المبسوط کماقدمناعن الخانیۃ عن الاصل وتصریح فــــ۳ امثال الخانیۃ والمحیط والذخیرۃ وغیرھم وعمدتھم محمد فی النوادر فرمایا :
منی قلت کی وجہ سے اس پر مخفی رہ جاتی ہے اھ۔
فتح القدیر میں ہے : خروج منی کا مخفی رہ جانااس کے کم ہونے اور مجرا(گزر گاہ)میں سست ہو جانے کے باعث ہے اس وجہ سے کہ جست کمزور تھی کیوں کہ شہوت اپنی انتہاء کو نہ پہنچی تھی جیسے جماع کرنے والا اثنائے جماع جدا ہونے کے قریب لذت پاتاہے اھ۔
اور حلیہ میں اضافہ کے ساتھ کہا : کیوں کہ وہ کم ہوتی ہے ساتھ ہی اسے خشك کرنے والی حرارت غالب ہوتی ہے اھ۔
اقول : اورمعاملہ سونے والے کے بارے میں اور زیادہ واضح ہے کیونکہ کبھی ایسا ہوتاہے کہ کچھ منی احلیل سے تجاوز کرکے کپڑے میں جذب ہوجاتی ہے اور قلیل ہونے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتی ۔
مختصر یہ کہ ایك تو متون اور شروح میں اطلاق ہے اور ان کے پیشوا امام محمد ہیں جنہوں نے مبسوط میں سب سے پہلے ذکر کیا جیسا کہ ہم نے خانیہ سے بحوالہ مبسوط نقل کیا۔ دوسرے اصحاب خانیہ محیط ذخیرہ وغیرہم کی تصریحات ہیں اور ان کے معتمد امام محمد ہیں جنہوں نے نوادر
فـــ۱ : تطفل آخر علی الغنیۃ ۔
فــ۲ : تطفل ثالث علیہ ۔
فـــ۳ : تطفل رابع علیہ ۔
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الطہارات فصل فی الغسل المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۴
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبۃنوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبۃنوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
لایترکان للبحث مجالا والحمدلله سبحنہ وتعالی۔ وفوق فـــ۱ کل ذلك اطلاق ماروینا من الحدیث فلا اتجاہ للبحث روایۃ ولا درایۃ والله سبحنہ ولی الھدایۃ۔
فائدہ : اقول : وظھرلك مماقدمناان ذکرھم الامساك فیمالواحتلم اونظربشھوۃ فامسك ذکرہ حتی سکن ثم ارسل فانزل وجب الغسل عندھماخلافا للثانی غیرقید فان فـــ۲ من الناس من یمسك المنی بمجرد التنفس صعداء عدۃ مرار وقدیبلغ ضعف الدفق فی بعضھم
میں ذکر کیا۔ ان دونوں کے پیش نظر بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ والحمدلله سبحانہ وتعالی۔
اور ان سب سے بڑھ کر اس حدیث کا اطلاق ہے جو ہم نے روایت کی ۔ تو روایت درایت کسی طرح بھی بحث کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ اور خدا ئے پاك ہی والی ہدایت ہے۔
فائدہ : اقول اگر احتلام ہوایا شہوت سے نظر کی پھر ذکر تھام لیا یہاں تك کہ منی ٹھہر گئی پھر چھوڑ دیاتو انزال ہوا طرفین کے نزدیك غسل واجب ہو گیا بخلاف امام ثانی کے۔ ہمارے بیان سابق سے واضح ہے کہ اس جزئیہ میں ذکرتھامنے کا جو ذکر ہے وہ قید وشرط نہیں (بلکہ کسی طرح بھی کچھ دیر کے لئے منی کا روك لینا مقصود ہے) اس لئے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو چند بار
فـــ۱ : تطفل خامس علیہ ۔
فـــ۲ : مسئلہ : منی کواپنے محل یعنی مرد کی پشت عورت کے سینہ سے جدا ہوتے وقت شہوت چاہئے پھر اگرچہ بلا شہوت نکلے غسل واجب ہوجائے گا مثلا احتلام ہوا یا نظر یافکر یاکسی اور طریق سوائے ادخال سے منی بشہوت اتری اس نے عضو کو تھام لیا نہ نکلنے دی یہاں تك کہ شہوت جاتی رہی یا بعض لوگ سانس اوپر چڑھا کر اترتی ہوئی منی کو روك لیتے ہیں یابعض میں ضعف شہوت کے سبب منی خیال بدلنے یاکروٹ لینے یا اٹھ بیٹھنے یاپشت پر پانی کاچھینٹا دے لینے سے رك جاتی ہے غرض کسی طرح شہوت کے وقت اترتی ہوئی منی کو روك لیا یاخود رك گئی پھر جب شہوت جاتی رہی نکلی تو امام اعظم وامام محمد کے نزدیك غسل واجب ہوجائے گا کہ اترتے وقت شہوت تھی اگرچہ نکلتے وقت نہ تھی اورامام ابویوسف کے نزدیك نہ ہوگا کہ ان کے نزدیك نکلتے وقت بھی شہوت شرط ہے ہاں جب تك نکلے گی نہیں غسل بالاتفاق واجب نہ ہوگا کہ نکلنا ضرور شرط ہے ۔
فائدہ : اقول : وظھرلك مماقدمناان ذکرھم الامساك فیمالواحتلم اونظربشھوۃ فامسك ذکرہ حتی سکن ثم ارسل فانزل وجب الغسل عندھماخلافا للثانی غیرقید فان فـــ۲ من الناس من یمسك المنی بمجرد التنفس صعداء عدۃ مرار وقدیبلغ ضعف الدفق فی بعضھم
میں ذکر کیا۔ ان دونوں کے پیش نظر بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ والحمدلله سبحانہ وتعالی۔
اور ان سب سے بڑھ کر اس حدیث کا اطلاق ہے جو ہم نے روایت کی ۔ تو روایت درایت کسی طرح بھی بحث کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی۔ اور خدا ئے پاك ہی والی ہدایت ہے۔
فائدہ : اقول اگر احتلام ہوایا شہوت سے نظر کی پھر ذکر تھام لیا یہاں تك کہ منی ٹھہر گئی پھر چھوڑ دیاتو انزال ہوا طرفین کے نزدیك غسل واجب ہو گیا بخلاف امام ثانی کے۔ ہمارے بیان سابق سے واضح ہے کہ اس جزئیہ میں ذکرتھامنے کا جو ذکر ہے وہ قید وشرط نہیں (بلکہ کسی طرح بھی کچھ دیر کے لئے منی کا روك لینا مقصود ہے) اس لئے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو چند بار
فـــ۱ : تطفل خامس علیہ ۔
فـــ۲ : مسئلہ : منی کواپنے محل یعنی مرد کی پشت عورت کے سینہ سے جدا ہوتے وقت شہوت چاہئے پھر اگرچہ بلا شہوت نکلے غسل واجب ہوجائے گا مثلا احتلام ہوا یا نظر یافکر یاکسی اور طریق سوائے ادخال سے منی بشہوت اتری اس نے عضو کو تھام لیا نہ نکلنے دی یہاں تك کہ شہوت جاتی رہی یا بعض لوگ سانس اوپر چڑھا کر اترتی ہوئی منی کو روك لیتے ہیں یابعض میں ضعف شہوت کے سبب منی خیال بدلنے یاکروٹ لینے یا اٹھ بیٹھنے یاپشت پر پانی کاچھینٹا دے لینے سے رك جاتی ہے غرض کسی طرح شہوت کے وقت اترتی ہوئی منی کو روك لیا یاخود رك گئی پھر جب شہوت جاتی رہی نکلی تو امام اعظم وامام محمد کے نزدیك غسل واجب ہوجائے گا کہ اترتے وقت شہوت تھی اگرچہ نکلتے وقت نہ تھی اورامام ابویوسف کے نزدیك نہ ہوگا کہ ان کے نزدیك نکلتے وقت بھی شہوت شرط ہے ہاں جب تك نکلے گی نہیں غسل بالاتفاق واجب نہ ہوگا کہ نکلنا ضرور شرط ہے ۔
الی حدانہ اذااحس بالانفصال فصرف خاطرہ عن الالتذاذوشغل بالہ بشیئ اخر وقعدان کان مستلقیااوتضور فی فراشہ او رش علی صلبہ ماء باردایقف المنی عن الخروج ثم اذا مشی اوبال ینزل وھو فاترفیجب الغسل فی ھذہ الصور ایضاعندھما لتحقق المناط وھو خروج منی زال عن مکانہ بشھوۃ فاحفظہ فقد کانت حادثۃ الفتوی۔
الثا من : اکتساء المنی صورۃ المذی لرقۃ تعرضہ احالہا فی شرح الوقایۃ علی حرارۃ البدن وفی الدرر والذخیرۃ علی الھواء و عبرفی البدائع و الخلاصۃ والبزازیۃ والجواھربمرور الزمان وھو یشملھماوجمعھما ابن کمال فی الایضاح واشارالی الاعتراض علی صدر الشریعۃ انہ قصر بالاقتصار۔
اقول : فــ ومثل ذالك لایعد
صرف سانس اوپر کھینچ کر منی روك لیتے ہیں اور کسی میں ضعف جست اس حد کو پہنچ جاتاہے کہ جب منی کے اپنی جگہ سے جدا ہونے کا احساس کرتا ہے لذت سے اپنی خاطر پھیر کر کسی اور چیز میں دل کو مشغول کرلیتاہے یا اگر لیٹا ہو تو بیٹھ جاتاہے یا بستر پر کروٹ بدل دیتاہے یا پشت پر ٹھنڈے پانی کا چھینٹا مارتاہے منی رك جاتی ہے پھر جب چلتایا پیشاب کرتا ہے تو منی اس وقت نکلتی ہے جب اس میں کسل وفتورآگیااور شہوت ختم ہوچکی توطرفین کے نزدیك ان صورتوں میں بھی غسل واجب ہوتاہے اس لئے کہ مدارو مناط متحقق ہے وہ یہ کہ منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ ہٹی ہے۔ تو یہ ذہن نشین رہے ایك بار خاص اسی معاملہ میں مجھ سے استفتاء ہوچکا ہے۔
آٹھویں تنبیہ : منی کا کسی عارض ہونے والی رقت کی وجہ سے مذی کی صورت اختیار کرلینا اسے شرح وقایہ میں حرارت بدن کے حوالہ کیا درمختار اور ذخیرہ میں ہوا کو سبب بنایا۔ بدائع خلاصہ بزازیہ اور جواہر میں مرورزمان سے تعبیرکیا۔ اور یہ حرارت وہوا دونوں کو شامل ہے۔ اور علامہ ابن کمال نے ایضاح میں دونوں کو جمع کیا اور صدر الشریعہ پر اقتصار کے سبب اعتراض کا اشارہ کیا۔
اقول : اس طرح کی بات اعتراض کے
فــــ : تطفل علی العلامۃ ابن کمال۔
الثا من : اکتساء المنی صورۃ المذی لرقۃ تعرضہ احالہا فی شرح الوقایۃ علی حرارۃ البدن وفی الدرر والذخیرۃ علی الھواء و عبرفی البدائع و الخلاصۃ والبزازیۃ والجواھربمرور الزمان وھو یشملھماوجمعھما ابن کمال فی الایضاح واشارالی الاعتراض علی صدر الشریعۃ انہ قصر بالاقتصار۔
اقول : فــ ومثل ذالك لایعد
صرف سانس اوپر کھینچ کر منی روك لیتے ہیں اور کسی میں ضعف جست اس حد کو پہنچ جاتاہے کہ جب منی کے اپنی جگہ سے جدا ہونے کا احساس کرتا ہے لذت سے اپنی خاطر پھیر کر کسی اور چیز میں دل کو مشغول کرلیتاہے یا اگر لیٹا ہو تو بیٹھ جاتاہے یا بستر پر کروٹ بدل دیتاہے یا پشت پر ٹھنڈے پانی کا چھینٹا مارتاہے منی رك جاتی ہے پھر جب چلتایا پیشاب کرتا ہے تو منی اس وقت نکلتی ہے جب اس میں کسل وفتورآگیااور شہوت ختم ہوچکی توطرفین کے نزدیك ان صورتوں میں بھی غسل واجب ہوتاہے اس لئے کہ مدارو مناط متحقق ہے وہ یہ کہ منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ ہٹی ہے۔ تو یہ ذہن نشین رہے ایك بار خاص اسی معاملہ میں مجھ سے استفتاء ہوچکا ہے۔
آٹھویں تنبیہ : منی کا کسی عارض ہونے والی رقت کی وجہ سے مذی کی صورت اختیار کرلینا اسے شرح وقایہ میں حرارت بدن کے حوالہ کیا درمختار اور ذخیرہ میں ہوا کو سبب بنایا۔ بدائع خلاصہ بزازیہ اور جواہر میں مرورزمان سے تعبیرکیا۔ اور یہ حرارت وہوا دونوں کو شامل ہے۔ اور علامہ ابن کمال نے ایضاح میں دونوں کو جمع کیا اور صدر الشریعہ پر اقتصار کے سبب اعتراض کا اشارہ کیا۔
اقول : اس طرح کی بات اعتراض کے
فــــ : تطفل علی العلامۃ ابن کمال۔
اعتراضافانما یکون المراد افادۃ تصویر لا الحصر وان کان فعلی العلامۃ فــــ المعترض مثلہ اذفی الفتح عن التجنیس رق بالھواء والغذاء( )
وجمع الکل فی الغنیۃ فقال بسبب بعض الاغذیۃ ونحوھاممایوجب غلبۃ الرطوبۃ و رقۃ الاخلاط والفضلات وبسبب فعل الحرارۃ والھواء( ) اھ
وما احسن قول الحلیۃ والمراقی قدیرق لعارض ( )اھ
اقول : ولا یھمناتنوع عباراتھم ھنالولا ان عدھم الغذاء وقدیوھم جوازان یخرج المنی متغیرامن الباطن وحینئذ ینشؤ منہ سؤال علی مسألۃ وھو ما اذا استیقظ ذاکرحلم ولم یربللا ثم خرج مذی فقدقدمناعن الذخیرۃ والغنیۃ والھندیۃ وغیرھاان
شمار میں نہیں اس لئے کہ اس سے بس صورت مسئلہ کا افادہ مقصود ہو تا ہے حصر مراد نہیں ہوتا۔ اور اگر یہ اعتراض ہے تو علامہ معترض پر بھی ویسے ہی اعتراض پڑے گا اس لئے فتح القدیر میں تجنیس کے حوالہ سے ہے : منی ہوا اور غذا سے رقیق ہوگئی۔
اور غنیہ میں سب کو جمع کر کے کہا : بعض غذاؤں اور ان جیسی چیزوں کے سبب جو رطوبت کے غلبہ اور اخلاط وفضلات کی رقت کا باعث ہوتی ہیں اور عمل حرارت وہوا کے سبب اھ۔
اور حلیہ ومراقی الفلاح کی عبارت کیا ہی خوب ہے : قدیرق لعارض اھ کسی عارض کی وجہ سے رقیق ہوجاتی ہے اھ۔
اقول : ہمیں یہاں ان کی عبارتوں کے تنوع کی فکر نہ ہوتی۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان حضرات کے غذا کو سبب شمار کرنے کی وجہ سے یہ وہم پیداہوتا ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ منی اندر سے ہی متغیر(اور رقیق) ہو کر نکلی ہو ۔ اور اس تقدیر پر اس سے ایك مسئلہ پر سوال پیدا ہوگا وہ یہ کہ خواب یاد رکھتے ہوئے جب بیدار ہوا اور تری نہ پائی پھر مذی نکلی تو ذخیرہ غنیہ ہندیہ وغیرہا کے حوالہ سے گزرا کہ اس پر
فـــ : تطفل آخر علیہ۔
وجمع الکل فی الغنیۃ فقال بسبب بعض الاغذیۃ ونحوھاممایوجب غلبۃ الرطوبۃ و رقۃ الاخلاط والفضلات وبسبب فعل الحرارۃ والھواء( ) اھ
وما احسن قول الحلیۃ والمراقی قدیرق لعارض ( )اھ
اقول : ولا یھمناتنوع عباراتھم ھنالولا ان عدھم الغذاء وقدیوھم جوازان یخرج المنی متغیرامن الباطن وحینئذ ینشؤ منہ سؤال علی مسألۃ وھو ما اذا استیقظ ذاکرحلم ولم یربللا ثم خرج مذی فقدقدمناعن الذخیرۃ والغنیۃ والھندیۃ وغیرھاان
شمار میں نہیں اس لئے کہ اس سے بس صورت مسئلہ کا افادہ مقصود ہو تا ہے حصر مراد نہیں ہوتا۔ اور اگر یہ اعتراض ہے تو علامہ معترض پر بھی ویسے ہی اعتراض پڑے گا اس لئے فتح القدیر میں تجنیس کے حوالہ سے ہے : منی ہوا اور غذا سے رقیق ہوگئی۔
اور غنیہ میں سب کو جمع کر کے کہا : بعض غذاؤں اور ان جیسی چیزوں کے سبب جو رطوبت کے غلبہ اور اخلاط وفضلات کی رقت کا باعث ہوتی ہیں اور عمل حرارت وہوا کے سبب اھ۔
اور حلیہ ومراقی الفلاح کی عبارت کیا ہی خوب ہے : قدیرق لعارض اھ کسی عارض کی وجہ سے رقیق ہوجاتی ہے اھ۔
اقول : ہمیں یہاں ان کی عبارتوں کے تنوع کی فکر نہ ہوتی۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان حضرات کے غذا کو سبب شمار کرنے کی وجہ سے یہ وہم پیداہوتا ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ منی اندر سے ہی متغیر(اور رقیق) ہو کر نکلی ہو ۔ اور اس تقدیر پر اس سے ایك مسئلہ پر سوال پیدا ہوگا وہ یہ کہ خواب یاد رکھتے ہوئے جب بیدار ہوا اور تری نہ پائی پھر مذی نکلی تو ذخیرہ غنیہ ہندیہ وغیرہا کے حوالہ سے گزرا کہ اس پر
فـــ : تطفل آخر علیہ۔
حوالہ / References
فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی الغسل ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۴
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃالطحطاوی ، کتاب الطہارۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ص۹۹
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃالطحطاوی ، کتاب الطہارۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ص۹۹
لا غسل ومثلہ فی الخلاصۃ وخزانۃ المفتین والبرجندی والحلیۃ وفی الغیاثیۃ عن غریب الروایۃ وعن فتاوی الناصری برمز(ن)وفی القنیۃ عن فتاوی ابی الفضل الکرمانی وفی غیرماکتاب وعلی ھذایجب الایجاب لان الاحتلام اقوی دلیل علی المنویۃ وصورۃ المذی لاتنفك اذن عن احتمال المنویۃ وان خرج بمراہ ولم یعمل فیہ حربدن وھواء لاحتمال التغیر فی الباطن بغذاء
لکن نص الامام الجلیل مفتی الجن والانس نجم الدین النسفی قدس سرہ ان التغیر لایکون فی الباطن کما قدمنا عن جواھر الفتاوی عن ذلك الامام من التفرقۃ بین ھذا وبین من استیقظ فوجد بلۃ حیث یجب الغسل لاحتمال کونہ منیارق بمرور الزمان اما ھھنا فقد عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل والتفرقۃ بینہ وبین ما اذامکث فخرج منی ان الغسل انماوجب بالمنی و
غسل نہیں ۔ اور اسی کے مثل خلاصہ خزانۃ المفتین بر جندی حلیہ میں بھی ہے۔ اور غیاثیہ میں غریب الروایہ سے اور فتاوی ناصری سے برمز (ن) منقول ہے اور قنیہ میں فتاوی ابو الفضل کرمانی سے نقل ہے اور متعدد کتابوں میں ہے۔ اور اس تقدیر پر غسل واجب کرنا ضروری ہے اس لئے کہ احتلام منی ہونے کی قوی تر دلیل ہے اور مذی کی صورت پر تقدیر مذکور احتمال منویت سے جدا نہ ہوگی اگرچہ اس کی آنکھ کے سامنے نکلی ہو اور اس میں بدن کی حرارت اور ہوا اثر انداز نہ ہوئی ہو اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ غذا کی وجہ سے اندر ہی متغیر ہوئی ہو۔
لیکن امام جلیل مفتی جن وانس نجم الدین نسفی قدس سرہ نے تصریح فرمائی ہے کہ تغیر باطن میں نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ان سے ہم نے بحوالہ جواہر الفتاوی فرق نقل کیاہے اس میں اور اس میں جو بیدار ہو کر تری پائے کہ اس پر غسل واجب ہوتا ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے وہ منی رہی ہوجو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ لیکن یہاں تو اس نے مذی نکلتے آنکھ سے دیکھی ہے تو وضو واجب ہوا غسل نہ ہوا۔ اور ان سے فرق نقل کیا۔ اس میں اور اس صورت میں جب وہ کچھ دیر ٹھہر چکا ہو پھر منی نکلی ہو کہ غسل منی ہی سے واجب ہوا اور یہاں اس کے سامنے مذی
لکن نص الامام الجلیل مفتی الجن والانس نجم الدین النسفی قدس سرہ ان التغیر لایکون فی الباطن کما قدمنا عن جواھر الفتاوی عن ذلك الامام من التفرقۃ بین ھذا وبین من استیقظ فوجد بلۃ حیث یجب الغسل لاحتمال کونہ منیارق بمرور الزمان اما ھھنا فقد عاین خروج المذی فوجب الوضوء دون الغسل والتفرقۃ بینہ وبین ما اذامکث فخرج منی ان الغسل انماوجب بالمنی و
غسل نہیں ۔ اور اسی کے مثل خلاصہ خزانۃ المفتین بر جندی حلیہ میں بھی ہے۔ اور غیاثیہ میں غریب الروایہ سے اور فتاوی ناصری سے برمز (ن) منقول ہے اور قنیہ میں فتاوی ابو الفضل کرمانی سے نقل ہے اور متعدد کتابوں میں ہے۔ اور اس تقدیر پر غسل واجب کرنا ضروری ہے اس لئے کہ احتلام منی ہونے کی قوی تر دلیل ہے اور مذی کی صورت پر تقدیر مذکور احتمال منویت سے جدا نہ ہوگی اگرچہ اس کی آنکھ کے سامنے نکلی ہو اور اس میں بدن کی حرارت اور ہوا اثر انداز نہ ہوئی ہو اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ غذا کی وجہ سے اندر ہی متغیر ہوئی ہو۔
لیکن امام جلیل مفتی جن وانس نجم الدین نسفی قدس سرہ نے تصریح فرمائی ہے کہ تغیر باطن میں نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ان سے ہم نے بحوالہ جواہر الفتاوی فرق نقل کیاہے اس میں اور اس میں جو بیدار ہو کر تری پائے کہ اس پر غسل واجب ہوتا ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے وہ منی رہی ہوجو وقت گزرنے سے رقیق ہوگئی ۔ لیکن یہاں تو اس نے مذی نکلتے آنکھ سے دیکھی ہے تو وضو واجب ہوا غسل نہ ہوا۔ اور ان سے فرق نقل کیا۔ اس میں اور اس صورت میں جب وہ کچھ دیر ٹھہر چکا ہو پھر منی نکلی ہو کہ غسل منی ہی سے واجب ہوا اور یہاں اس کے سامنے مذی
ھھنا زال المذی وھویراہ فلم یلزم لانہ مذی وصریح النص مانقل عنہ الامام الزیلعی فی التبیین حیث ذکر جوابہ فی المسألۃ انہ لایلزمہ شیئ قال فقیل لہ ذکر فی حیرۃ الفقہاء فیمن احتلم ولم یربللا فتوضأ وصلی ثم نزل منی انہ یجب علیہ الغسل فقال یجب بالمنی بخلاف المذی اذارأہ یخرج لانہ مذی ولیس فیہ احتمال انہ کان منیا فتغیر لان التغیر لایکون فی الباطن ( ) اھ ومثلہ فی الحلیۃ عن مجموع النوازل عن الامام نجم الدین وزادامافی الظاھر فقد یکون ( ) اھ
اقول : فعلی ھذا یجب ان یراد بکلام التجنیس ومن تبعہ ان الغذاء ونحوہ یعد المنی لسرعۃ التغیرفی الخارج بعمل حرارۃ تصلہ فیہ من بدن اوھواء وبھذایخرج جواب عمااوردنا علی العلامۃ ابن کمال من وجود قصور فی
نکلی ہے تو غسل لازم نہ ہواکیونکہ یہ مذی ہے۔ اور صریح نص وہ ہے جو ان سے امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں نقل کیاہے۔ اس طرح کہ صورت مسئلہ میں ان کا یہ جواب ذکر کیاکہ اس پرکچھ لازم نہیں ۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ حیرۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ جسے احتلام ہوا اور تری نہ پائی۔ وضو کر کے نماز ادا کرلی۔ اس کے بعد منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے۔ تو فرمایا منی کی وجہ سے واجب ہے بر خلاف مذی کے جب کہ مذی کو نکلتے دیکھا ہو اس لئے کہ وہ مذی ہے اور اس میں یہ احتمال نہیں کہ منی رہی ہو پھر متغیر ہو گئی ہو اس لئے کہ تغیر باطن میں (اندر) نہیں ہوتااھ۔ اسی کے مثل حلیہ میں مجموع النوازل کے حوالہ سے امام نجم الدین سے منقول ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے : لیکن ظاہر میں تغیر ہوتا ہے اھ۔
اقول : تو اس بنیاد پر ضروری ہے کہ صاحب تجنیس اور ان کے متبعین کے کلام سے مراد یہ ہو کہ غذا اور اس جیسی چیز منی کو اس قابل بنادیتی ہے کہ خارج میں وہ اس حرارت کے عمل سے جو بدن یا ہواسے پہنچے جلد متغیر ہوجائے ۔ اسی سے اس کا بھی جواب نکل آئے گا جو ہم نے علامہ ابن کمال پر اعتراض کیا کہ ان کی عبارت میں بھی
اقول : فعلی ھذا یجب ان یراد بکلام التجنیس ومن تبعہ ان الغذاء ونحوہ یعد المنی لسرعۃ التغیرفی الخارج بعمل حرارۃ تصلہ فیہ من بدن اوھواء وبھذایخرج جواب عمااوردنا علی العلامۃ ابن کمال من وجود قصور فی
نکلی ہے تو غسل لازم نہ ہواکیونکہ یہ مذی ہے۔ اور صریح نص وہ ہے جو ان سے امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں نقل کیاہے۔ اس طرح کہ صورت مسئلہ میں ان کا یہ جواب ذکر کیاکہ اس پرکچھ لازم نہیں ۔ اس پر ان سے کہا گیا کہ حیرۃ الفقہاء میں مذکور ہے کہ جسے احتلام ہوا اور تری نہ پائی۔ وضو کر کے نماز ادا کرلی۔ اس کے بعد منی نکلی تو اس پر غسل واجب ہے۔ تو فرمایا منی کی وجہ سے واجب ہے بر خلاف مذی کے جب کہ مذی کو نکلتے دیکھا ہو اس لئے کہ وہ مذی ہے اور اس میں یہ احتمال نہیں کہ منی رہی ہو پھر متغیر ہو گئی ہو اس لئے کہ تغیر باطن میں (اندر) نہیں ہوتااھ۔ اسی کے مثل حلیہ میں مجموع النوازل کے حوالہ سے امام نجم الدین سے منقول ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے : لیکن ظاہر میں تغیر ہوتا ہے اھ۔
اقول : تو اس بنیاد پر ضروری ہے کہ صاحب تجنیس اور ان کے متبعین کے کلام سے مراد یہ ہو کہ غذا اور اس جیسی چیز منی کو اس قابل بنادیتی ہے کہ خارج میں وہ اس حرارت کے عمل سے جو بدن یا ہواسے پہنچے جلد متغیر ہوجائے ۔ اسی سے اس کا بھی جواب نکل آئے گا جو ہم نے علامہ ابن کمال پر اعتراض کیا کہ ان کی عبارت میں بھی
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
کلامہ ایضالکن وقع فی الخلاصۃ مانصہ وعلی ھذا لواغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا وعند ابی یوسف لایغتسل ( ) اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ یرید خرج منہ ماھو علی صورۃ المذی کما صرح بہ ھو وغیرہ وقدمناہ فکن منہ علی ذکر ( ) اھ۔
اقول : ایش یفید فـــ التاویل بعدما تظافرت النقول عن اجلۃ الفحول منھم صاحب الخلاصۃ نفسہ انہ اذا احتلم فاستیقظ فلم یجد شیئا ثم نزل المذی لایغتسل فان بالاغتسال قبل البول وان لم یعلم انقطاع مادۃ المنی الزائل بشھوۃ لکن عاین خروج المذی والتغیرفی الباطن لایکون فکیف یجب الغسل بالمذی بل لعل الامرھھنااستھل لانہ قدامنی مرۃ واغتسل وبقاء شیئ مما زال فی داخل البدن غیرلازم بل ولاغالب بل الغالب ان المنی اذا اندفق
قصورو کمی موجود ہے۔ لیکن خلاصہ میں یہ عبارت آئی ہے۔ اور اسی بنیاد پر اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا پھر مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك غسل نہ کرے گا اھ۔ حلیہ میں اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھا : اس سے مرادوہ ہے جو مذی کی صورت پرنکلے جیسا کہ اس کی تصریح صاحب خلاصہ اوردوسرے حـضرات نے کی ہے اور پہلے ہم اسے پیش کر چکے ہیں ۔ تو وہ یاد رہے اھ۔
اقول : تاویل کا کیا فائدہ جب کہ اجلہ علماء سے بالاتفاق نقول وارد ہیں ان میں خود صاحب خلاصہ بھی ہیں وہ یہ کہ جب احتلام ہو پھر بیدار ہوکرکچھ نہ پائے پھر مذی نکلے تو غسل نہیں ۔ اس لئے کہ پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرنے سے شہوت کے ساتھ جدا ہونے والی منی کے مادہ کا ختم ہونا اگرچہ معلوم نہ ہوالیکن جب اس نے آنکھ سے دیکھ لیا کہ مذی نکلی ہے اور تغیر اندر نہیں ہوتا تو مذی سے غسل کیسے واجب ہوگا۔ بلکہ معاملہ یہاں شاید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ ایك بار اس سے منی نکلی اور اس نے غسل کرلیااور جداہونے والی منی میں سے کچھ اندر رہ جانالازم نہیں بلکہ غالب بھی نہیں بلکہ عمومایہ ہوتاہے کہ منی جست کرتی ہے
فـــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
اقول : ایش یفید فـــ التاویل بعدما تظافرت النقول عن اجلۃ الفحول منھم صاحب الخلاصۃ نفسہ انہ اذا احتلم فاستیقظ فلم یجد شیئا ثم نزل المذی لایغتسل فان بالاغتسال قبل البول وان لم یعلم انقطاع مادۃ المنی الزائل بشھوۃ لکن عاین خروج المذی والتغیرفی الباطن لایکون فکیف یجب الغسل بالمذی بل لعل الامرھھنااستھل لانہ قدامنی مرۃ واغتسل وبقاء شیئ مما زال فی داخل البدن غیرلازم بل ولاغالب بل الغالب ان المنی اذا اندفق
قصورو کمی موجود ہے۔ لیکن خلاصہ میں یہ عبارت آئی ہے۔ اور اسی بنیاد پر اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا پھر مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك غسل نہ کرے گا اھ۔ حلیہ میں اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھا : اس سے مرادوہ ہے جو مذی کی صورت پرنکلے جیسا کہ اس کی تصریح صاحب خلاصہ اوردوسرے حـضرات نے کی ہے اور پہلے ہم اسے پیش کر چکے ہیں ۔ تو وہ یاد رہے اھ۔
اقول : تاویل کا کیا فائدہ جب کہ اجلہ علماء سے بالاتفاق نقول وارد ہیں ان میں خود صاحب خلاصہ بھی ہیں وہ یہ کہ جب احتلام ہو پھر بیدار ہوکرکچھ نہ پائے پھر مذی نکلے تو غسل نہیں ۔ اس لئے کہ پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرنے سے شہوت کے ساتھ جدا ہونے والی منی کے مادہ کا ختم ہونا اگرچہ معلوم نہ ہوالیکن جب اس نے آنکھ سے دیکھ لیا کہ مذی نکلی ہے اور تغیر اندر نہیں ہوتا تو مذی سے غسل کیسے واجب ہوگا۔ بلکہ معاملہ یہاں شاید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ ایك بار اس سے منی نکلی اور اس نے غسل کرلیااور جداہونے والی منی میں سے کچھ اندر رہ جانالازم نہیں بلکہ غالب بھی نہیں بلکہ عمومایہ ہوتاہے کہ منی جست کرتی ہے
فـــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۲
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
اندفع بخلاف مااذا احتلم ولم یخرج شیئ ثم نزل مایشبہ مذیافان کونہ ھوالذی زال بالاحتلام اظھرمن کون النازل مرۃ اخری بقیۃ المنی الزائل۔
فان قلت الاحتلام قد یکون من اضغاث احلام فان النائم ربما یری مالا حقیقۃ لہ۔ قلت نعم لاحقیقۃ لما رأی من الافعال لکن اثرھا علی الطبع کمثلہا فی الخارج ولذا لایتخلف الانزال عن الاحتلام الا نادرا الا تری ان ائمتنا جمیعا اعتبروا مجرد احتمال المذی بدون احتمال منی اصلا مو جبا للغسل عند تذکر الحلم فلو لا انہ من اقوی الادلۃ علی الامناء لم یعتبروا المنویۃ الکائنۃ من جہۃ المرای احتمالا علی احتمال ومع ذلك تصریحہم جمیعا بان لواحتلم فرأی فی الیقظۃ زوال مذی لاغسل علیہ ناطق بان ماینزل بمرأی العین لایکون الا مایری وقد وافقہم علیہ صاحب
تو مندفع ہوجاتی ہے بخلاف اس صورت کے جب اسے احتلام ہوا اور کچھ باہر نہ آیا پھروہ چیز نکلی جو مذی کے مشابہ ہے تو اس کا احتلام ہی سے جدا ہونے والی ہونا زیادہ ظاہر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسری بار نکلنے والی چیز پہلی بار جدا ہونے والی منی کا بقیہ ہو۔
اگریہ کہو کہ احتلام بعض اوقات بس ایك پر اگندہ خواب ہوتا ہے اس لئے کہ سونے والا کبھی وہ دیکھتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ میں کہوں گا ہاں جو افعال اس نے دیکھے ان کی کوئی حقیقت نہیں لیکن طبیعت پر ان کا اثر ویسے ہی ہوتاہے جیسے ان افعال کا خارج میں ہوتاہے-یہی وجہ ہے کہ عموما احتلام کے بعد انزال ضرور ہوتاہے اس کے خلاف نادراہی ہوتاہے۔ یہی دیکھئے کہ ہمارے تمام ائمہ نے خواب یاد ہونے کے وقت محض احتمال مذی کو موجب غسل مانا ہے بغیر اس کے کہ وہاں منی کا کوئی احتمال ہو۔ تو احتلام اگر منی نکلنے کی قوی تردلیل نہ ہوتا تو اس منویت کا اعتبارنہ کرتے جو شکل مرئی کے لحاظ سے احتمال دراحتمال ہے۔ اس کے باوجود تمام حضرات کی تصریح ہے کہ اگر احتلام کے بعد بیداری میں مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا تو اس پرغسل نہیں یہ تصریح ناطق ہے کہ آنکھ کے سامنے نکلنے والی تری وہی ہے جو دیکھنے میں آر ہی ہے۔ اس مسئلہ پر ان تمام حضرات
فان قلت الاحتلام قد یکون من اضغاث احلام فان النائم ربما یری مالا حقیقۃ لہ۔ قلت نعم لاحقیقۃ لما رأی من الافعال لکن اثرھا علی الطبع کمثلہا فی الخارج ولذا لایتخلف الانزال عن الاحتلام الا نادرا الا تری ان ائمتنا جمیعا اعتبروا مجرد احتمال المذی بدون احتمال منی اصلا مو جبا للغسل عند تذکر الحلم فلو لا انہ من اقوی الادلۃ علی الامناء لم یعتبروا المنویۃ الکائنۃ من جہۃ المرای احتمالا علی احتمال ومع ذلك تصریحہم جمیعا بان لواحتلم فرأی فی الیقظۃ زوال مذی لاغسل علیہ ناطق بان ماینزل بمرأی العین لایکون الا مایری وقد وافقہم علیہ صاحب
تو مندفع ہوجاتی ہے بخلاف اس صورت کے جب اسے احتلام ہوا اور کچھ باہر نہ آیا پھروہ چیز نکلی جو مذی کے مشابہ ہے تو اس کا احتلام ہی سے جدا ہونے والی ہونا زیادہ ظاہر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسری بار نکلنے والی چیز پہلی بار جدا ہونے والی منی کا بقیہ ہو۔
اگریہ کہو کہ احتلام بعض اوقات بس ایك پر اگندہ خواب ہوتا ہے اس لئے کہ سونے والا کبھی وہ دیکھتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ میں کہوں گا ہاں جو افعال اس نے دیکھے ان کی کوئی حقیقت نہیں لیکن طبیعت پر ان کا اثر ویسے ہی ہوتاہے جیسے ان افعال کا خارج میں ہوتاہے-یہی وجہ ہے کہ عموما احتلام کے بعد انزال ضرور ہوتاہے اس کے خلاف نادراہی ہوتاہے۔ یہی دیکھئے کہ ہمارے تمام ائمہ نے خواب یاد ہونے کے وقت محض احتمال مذی کو موجب غسل مانا ہے بغیر اس کے کہ وہاں منی کا کوئی احتمال ہو۔ تو احتلام اگر منی نکلنے کی قوی تردلیل نہ ہوتا تو اس منویت کا اعتبارنہ کرتے جو شکل مرئی کے لحاظ سے احتمال دراحتمال ہے۔ اس کے باوجود تمام حضرات کی تصریح ہے کہ اگر احتلام کے بعد بیداری میں مذی نکلنے کا مشاہدہ کیا تو اس پرغسل نہیں یہ تصریح ناطق ہے کہ آنکھ کے سامنے نکلنے والی تری وہی ہے جو دیکھنے میں آر ہی ہے۔ اس مسئلہ پر ان تمام حضرات
الخلاصۃ قائلا ولورأی فی منامہ مباشرۃ امرأۃ ولم یربللا علی فراشہ فمکث ساعۃ فخرج منہ مذی لایلزمہ الغسل ( )اھ
والعبد الفقیر راجع الخانیۃ والبزازیۃ والفتح والبحر وشرح النقایۃ للقھستانی والبرجندی والمنیۃ والغنیۃ والھندیۃ وشرح الوقایۃ والسراجیۃ والغیاثیۃ وتبیین الحقائق ومجمع الانھر وشرح مسکین وابا السعود ومراقی الفلاح و ردالمحتار وغیرھا من الاسفار فوجدتھم جمیعا انما ذکروا فی المسألۃ خروج المنی وکذا رأیتہ منقولا عن الاجناس والمحیط والذخیرۃ والمصفی والمجتبی والنھر وغیرھا ولم ار احدا ذکر المذی الاما فی خزانۃ المفتین فانہ ذکر اولا خروج بقیۃ المنی ثم قال ولو اغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا ( ) ۔ ثم ذکر مسائل و رمز فی اخرھا (طح) ای شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی
کی موافقت صاحب خلاصہ نے بھی کی ہے اور کہا ہے کہ : “ اگرخواب میں اپنے کو کسی عورت سے مباشرت کرتے دیکھا اور بستر پر کوئی تری نہ پائی پھر تھوڑی دیر رکنے کے بعد اس سے مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں اھ۔ “
اور فقیر نے ۱خانیہ ۲ بزازیہ ۳فتح القدیر ۴البحر الرائق ۵شرح نقایہ ازقہستانی اور۶برجندی ۷منیہ ۸ غنیہ ۹ہندیہ ۱۰ شرح وقایہ ۱۱ سراجیہ ۱۲غیاثیہ ۱۳تبیین الحقائق ۱۴مجمع الانہر ۱۵ شرح مسکین ۱۶ابو السعود ۱۷مراقی الفلاح ۱۸رد المحتار وغیرہا کتابوں کی مراجعت کی تو دیکھا کہ سب نے مذکورہ مسئلہ میں منی کا نکلنا ذکر کیا ہےیعنی یہ کہ اگر پیشاب سے پہلے غسل کرلیا پھر منی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا برخلاف خلاصہ کے کہ اس میں یہاں مذی نکلنا مذکرمذکورہے ۱۲ م اسی طرح اس کو۱۹ اجناس ۲۰محیط ۲۱ذخیرہ ۲۲ مصفی۲۳ مجتبی۲۴النہر الفائق وغیرہا سے منقول پایا- اور کسی کو نہ دیکھا کہ یہاں مذی کا ذکر کیا ہو مگر وہ جو خزانۃ المفتین میں ہے کہ اس میں پہلے بقیہ منی کا نکلنا ذکر کیا پھر کہا : “ اور اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا پھر اس سے مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔ “
اس کے بعد کچھ اور مسائل ذکر کئے اور ان کے آخر میں طح یعنی امام اسبیجابی کی شرح طحاوی کا
والعبد الفقیر راجع الخانیۃ والبزازیۃ والفتح والبحر وشرح النقایۃ للقھستانی والبرجندی والمنیۃ والغنیۃ والھندیۃ وشرح الوقایۃ والسراجیۃ والغیاثیۃ وتبیین الحقائق ومجمع الانھر وشرح مسکین وابا السعود ومراقی الفلاح و ردالمحتار وغیرھا من الاسفار فوجدتھم جمیعا انما ذکروا فی المسألۃ خروج المنی وکذا رأیتہ منقولا عن الاجناس والمحیط والذخیرۃ والمصفی والمجتبی والنھر وغیرھا ولم ار احدا ذکر المذی الاما فی خزانۃ المفتین فانہ ذکر اولا خروج بقیۃ المنی ثم قال ولو اغتسل قبل ان یبول ثم خرج من ذکرہ مذی یغتسل ثانیا ( ) ۔ ثم ذکر مسائل و رمز فی اخرھا (طح) ای شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی
کی موافقت صاحب خلاصہ نے بھی کی ہے اور کہا ہے کہ : “ اگرخواب میں اپنے کو کسی عورت سے مباشرت کرتے دیکھا اور بستر پر کوئی تری نہ پائی پھر تھوڑی دیر رکنے کے بعد اس سے مذی نکلی تو اس پر غسل لازم نہیں اھ۔ “
اور فقیر نے ۱خانیہ ۲ بزازیہ ۳فتح القدیر ۴البحر الرائق ۵شرح نقایہ ازقہستانی اور۶برجندی ۷منیہ ۸ غنیہ ۹ہندیہ ۱۰ شرح وقایہ ۱۱ سراجیہ ۱۲غیاثیہ ۱۳تبیین الحقائق ۱۴مجمع الانہر ۱۵ شرح مسکین ۱۶ابو السعود ۱۷مراقی الفلاح ۱۸رد المحتار وغیرہا کتابوں کی مراجعت کی تو دیکھا کہ سب نے مذکورہ مسئلہ میں منی کا نکلنا ذکر کیا ہےیعنی یہ کہ اگر پیشاب سے پہلے غسل کرلیا پھر منی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا برخلاف خلاصہ کے کہ اس میں یہاں مذی نکلنا مذکرمذکورہے ۱۲ م اسی طرح اس کو۱۹ اجناس ۲۰محیط ۲۱ذخیرہ ۲۲ مصفی۲۳ مجتبی۲۴النہر الفائق وغیرہا سے منقول پایا- اور کسی کو نہ دیکھا کہ یہاں مذی کا ذکر کیا ہو مگر وہ جو خزانۃ المفتین میں ہے کہ اس میں پہلے بقیہ منی کا نکلنا ذکر کیا پھر کہا : “ اور اگر پیشاب کرنے سے پہلے غسل کرلیا پھر اس سے مذی نکلی تو دوبارہ غسل کرے گا۔ “
اس کے بعد کچھ اور مسائل ذکر کئے اور ان کے آخر میں طح یعنی امام اسبیجابی کی شرح طحاوی کا
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارات الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۳
خزانۃ المفتین ، فصل فی الغسل ، (قلمی فوٹو کاپی) ۱ / ۵
خزانۃ المفتین ، فصل فی الغسل ، (قلمی فوٹو کاپی) ۱ / ۵
فھذا ھو سلف الخلاصۃ فی ما اعلم ثم رأیت فی جواھر الاخلاطی ما نصہ بال بعد الجماع فاغتسل وصلی الوقتیۃ ثم خرج بقیۃ المنی لاغسل علیہ بخلاف ما لولم یبل قبل الاغتسال علیہ الغسل عندھما وکذا بخروج المذی ( )اھ۔
ولیس ھو فی الاعتماد کھؤلاء الاربعۃ اعنی الاسبیجابی و البخاری والسمعانی والحلبی رحمہم الله تعالی فلایزیدون بہ قوۃ وھم ناصون فی مسألۃ المحتلم الذی عاین خروج المذی بعدم الغسل وفاقا لسائر الکبراء فقد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ فی الحلیۃ وخزانۃ المفتین واقراہ ومعلوم قطعا ان لاوجہ لہ الا ان المذی اذا خرج عیانا لایجعل قط الا مذیا کما نص علیہ الامام الاجل مفتی الثقلین والامام ابن ابی المفاخر الکرمانی والامام الفخر الزیلعی وغیرھم رحمہم الله تعالی فقولھم فی الوفاق
رمز دے دیا تو میرے علم میں صاحب خلاصہ کے پیش رو یہی ہیں ۔ پھر میں نے جواہرالاخلاطی میں یہ عبارت دیکھی : جماع کے بعد پیشاب کیا پھر غسل کیا اور اس وقت کی نماز ادا کرلی پھر بقیہ منی نکلی تو اس پر غسل نہیں اس کے بر خلاف اگر غسل سے پہلے پیشاب نہیں کیا تھا تو طرفین کے نزدیك اس پر غسل واجب ہے۔ اور اسی طرح مذی نکلنے سے بھی۔ اھ۔
اور اعتماد میں ان کا وہ مقام نہیں جو ان چار حضرات یعنی اسبیجابی صاحب شرح طحاوی طاہر بن احمد بخاری صاحب خلاصۃ الفتاوی حسین بن محمد سمعانی صاحب خزانۃالمفتین اور محقق حلبی صاحب حلیہ رحمہم اللہ تعالیکا ہے۔ تواخلاطی کی عبارت سے ان کی قوت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اور یہ حضرات بموافق دیگر اکابر خروج مذی کا مشاہدہ کرنے والے محتلم کے مسئلہ میں عدم غسل کی تصریح کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے خلاصہ کی عبارت جو پہلے پیش کی اسے صاحب حلیہ وصاحب خزانۃ المفتین نے بھی نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے اور قطعا معلوم ہے کہ اس کی سوا اس کے کوئی وجہ نہیں کہ مذی جب سامنے نکلے تو مذی ہی قرار دی جائے گی جیسا کہ امام اجل مفتی ثقلین امام ابن ابی المفاخر کرمانی امام فخرالدین زیلعی وغیرہم رحمہم اللہ تعالینے اس کی تصریح فرمائی ہے تو میرے
ولیس ھو فی الاعتماد کھؤلاء الاربعۃ اعنی الاسبیجابی و البخاری والسمعانی والحلبی رحمہم الله تعالی فلایزیدون بہ قوۃ وھم ناصون فی مسألۃ المحتلم الذی عاین خروج المذی بعدم الغسل وفاقا لسائر الکبراء فقد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ فی الحلیۃ وخزانۃ المفتین واقراہ ومعلوم قطعا ان لاوجہ لہ الا ان المذی اذا خرج عیانا لایجعل قط الا مذیا کما نص علیہ الامام الاجل مفتی الثقلین والامام ابن ابی المفاخر الکرمانی والامام الفخر الزیلعی وغیرھم رحمہم الله تعالی فقولھم فی الوفاق
رمز دے دیا تو میرے علم میں صاحب خلاصہ کے پیش رو یہی ہیں ۔ پھر میں نے جواہرالاخلاطی میں یہ عبارت دیکھی : جماع کے بعد پیشاب کیا پھر غسل کیا اور اس وقت کی نماز ادا کرلی پھر بقیہ منی نکلی تو اس پر غسل نہیں اس کے بر خلاف اگر غسل سے پہلے پیشاب نہیں کیا تھا تو طرفین کے نزدیك اس پر غسل واجب ہے۔ اور اسی طرح مذی نکلنے سے بھی۔ اھ۔
اور اعتماد میں ان کا وہ مقام نہیں جو ان چار حضرات یعنی اسبیجابی صاحب شرح طحاوی طاہر بن احمد بخاری صاحب خلاصۃ الفتاوی حسین بن محمد سمعانی صاحب خزانۃالمفتین اور محقق حلبی صاحب حلیہ رحمہم اللہ تعالیکا ہے۔ تواخلاطی کی عبارت سے ان کی قوت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اور یہ حضرات بموافق دیگر اکابر خروج مذی کا مشاہدہ کرنے والے محتلم کے مسئلہ میں عدم غسل کی تصریح کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے خلاصہ کی عبارت جو پہلے پیش کی اسے صاحب حلیہ وصاحب خزانۃ المفتین نے بھی نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے اور قطعا معلوم ہے کہ اس کی سوا اس کے کوئی وجہ نہیں کہ مذی جب سامنے نکلے تو مذی ہی قرار دی جائے گی جیسا کہ امام اجل مفتی ثقلین امام ابن ابی المفاخر کرمانی امام فخرالدین زیلعی وغیرہم رحمہم اللہ تعالینے اس کی تصریح فرمائی ہے تو میرے
حوالہ / References
جواہر الاخلاطی ، کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل ، (قلمی فوٹو کاپی) ص۷
احب الی من قولھم فی الخلاف وجادۃ واضحۃ سلکوھا مع الجمیع احق بالقبول مما تفردوا بہ ولایعرف لہ وجہ الا القیاس علی المحتلم یستیقظ فیجد مذیا حیث یجب الغسل عند ائمتنا وقد علمت من کلام الامام مفتی الجن والانس انہ قیاس لایروج ھذا ماظھر للعبد الضعیف ومع ذلك ان تنزہ احد فھو خیرلہ عند ربہ والله تعالی اعلم۔
فائدہ : اقول : یتراأی لی ان الحل مامر عن الحلیۃ عن المصفی عن المختلفات انہ اذا تیقن بالاحتلام وتیقن انہ مذی لایجب الغسل عندھم جمیعا علی ھذہ المسألۃ المتظافرۃ علیھا کلمات العلماء من دون خلاف اعنی المحتلم یستیقظ فیخرج المذی بمرأی منہ والدلیل علیہ ماقدمنا تحقیقہ ان التیقن لاسبیل الیہ لمن خرجت البلۃ وھو نائم انما ھو لمن تیقظ فخرجت بمرأی عینہ و
نزدیك موافقت میں ان حضرات کا کلام ان کے مخالفت والے کلام سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور صاف واضح راہ جس پر وہ سب کے ساتھ چلے ہیں اس سے زیادہ قابل قبول ہے جس میں وہ متفرد ہیں ۔ اور اس کی کوئی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی سوا اس کے کہ اس محتلم پر قیاس کیا ہو جو بیدار ہو کر مذی پائے کہ ہمارے ائمہ کے نزدیك اس پر غسل واجب ہوتاہے۔ اور امام مفتی جن وانس کے کلام سے واضح ہوچکا ہے کہ یہ قیاس چلنے والا نہیں ۔ یہ وہ ہے جو بندہ ضعیف پر منکشف ہوا اس کے بعد اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے۔ والله تعالی اعلم۔
فائدہ : اقول وہ مسئلہ جو حلیہ کے حوالہ سے بواسطہ مصفی مختلفات سے نقل ہوا کہ جب احتلام کا یقین ہو اور تری کے مذی ہونے کا یقین ہو تو اس پر ان سبھی ائمہ کے نزدیك غسل واجب نہیں اس سے متعلق مجھے خیال ہوتا ہے کہ اسے اسی مسئلہ پر محمول کروں جس پر کلمات علماء بغیر کسی اختلاف کے باہم متفق ہیں یعنی وہ محتلم جو بیدار ہو پھر اس کے سامنے مذی نکلے اور اس پر دلیل ہماری سابقہ تحقیق ہے کہ سوتے میں جس سے تری نکلی اس کے لئے یقین کی کوئی راہ نہیں یہ تو اس کے لئے ہے جو بیدار ہوا پھر اس کی آنکھ کے سامنے تری نکلی۔ اس صورت
فائدہ : اقول : یتراأی لی ان الحل مامر عن الحلیۃ عن المصفی عن المختلفات انہ اذا تیقن بالاحتلام وتیقن انہ مذی لایجب الغسل عندھم جمیعا علی ھذہ المسألۃ المتظافرۃ علیھا کلمات العلماء من دون خلاف اعنی المحتلم یستیقظ فیخرج المذی بمرأی منہ والدلیل علیہ ماقدمنا تحقیقہ ان التیقن لاسبیل الیہ لمن خرجت البلۃ وھو نائم انما ھو لمن تیقظ فخرجت بمرأی عینہ و
نزدیك موافقت میں ان حضرات کا کلام ان کے مخالفت والے کلام سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور صاف واضح راہ جس پر وہ سب کے ساتھ چلے ہیں اس سے زیادہ قابل قبول ہے جس میں وہ متفرد ہیں ۔ اور اس کی کوئی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی سوا اس کے کہ اس محتلم پر قیاس کیا ہو جو بیدار ہو کر مذی پائے کہ ہمارے ائمہ کے نزدیك اس پر غسل واجب ہوتاہے۔ اور امام مفتی جن وانس کے کلام سے واضح ہوچکا ہے کہ یہ قیاس چلنے والا نہیں ۔ یہ وہ ہے جو بندہ ضعیف پر منکشف ہوا اس کے بعد اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے۔ والله تعالی اعلم۔
فائدہ : اقول وہ مسئلہ جو حلیہ کے حوالہ سے بواسطہ مصفی مختلفات سے نقل ہوا کہ جب احتلام کا یقین ہو اور تری کے مذی ہونے کا یقین ہو تو اس پر ان سبھی ائمہ کے نزدیك غسل واجب نہیں اس سے متعلق مجھے خیال ہوتا ہے کہ اسے اسی مسئلہ پر محمول کروں جس پر کلمات علماء بغیر کسی اختلاف کے باہم متفق ہیں یعنی وہ محتلم جو بیدار ہو پھر اس کے سامنے مذی نکلے اور اس پر دلیل ہماری سابقہ تحقیق ہے کہ سوتے میں جس سے تری نکلی اس کے لئے یقین کی کوئی راہ نہیں یہ تو اس کے لئے ہے جو بیدار ہوا پھر اس کی آنکھ کے سامنے تری نکلی۔ اس صورت
حینئذ ھی مسألۃ صحیحۃ لاغبار علیھا ولله الحمد ۔
التاسع : فـــ اجمعوا ان لو بال اونام اومشی کثیرا ثم خرج بقیۃ المنی بدون شھوۃ لایجب الغسل تظافرت الکتب علی نقل الاجماع فی ذلك کالتبیین والفتح والمصفی والمجتبی والحلیۃ والغنیۃ والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وغیرھا غیر ان منھم من یقتصر علی ذکر البول کا لخانیۃ ومنھم من یزید النوم کالمحیط والا سبیجابی والذخیرۃ وخزانۃ المفتین ومنھم من زاد المشی ایضا کالتبیین والفتح والمنتقی والظہیریۃ ثم اطلق المشی کثیر وقیدہ الزاھدی بالکثیر وھو الاوجہ کما ترجاہ فی الحلیۃ وجزم بہ فی البحر لان الخطوۃ والخطوتین لایکون منھما ذلك ونقل ش عن العلامۃ المقدسی قال فی خاطری انہ عین لہ اربعون خطوۃ فلینظر( )اھ۔
میں یہ مسئلہ صحیح بے غبار ہے۔ ولله الحمد۔
نویں تنبیہ : اس پر اجماع ہے کہ اگر پیشاب کیا یا سوگیا یا زیادہ چلا۔ پھر بقیہ منی بلا شہوت نکلی تو غسل واجب نہیں ۔ اس بارے میں نقل اجماع پر کتابیں متفق ہیں ۔ جیسے تبیین الحقائق فتح القدیر مصفی مجتبی حلیہ غنیہ خانیہ خلاصہ بزازیہ وغیرہا۔ فرق یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے صرف پیشاب کے ذکر پر اکتفاکی ہے جیسے خانیہ کسی نے اس پرسونے کا اضافہ کیا جیسے محیط اسبیجابی ذخیرہ خلاصہ وجیز اور خزانۃ المفتین۔ اور کسی نے چلنے کا بھی اضافہ کیا جیسے تبیین فتح القدیر منتقی اور ظہیریہ۔ پھر کـثیر نے چلنے کو مطلق رکھا اور زاہدی نے اسے کثیر سے مقید کیا (زیادہ چلنا کہا)۔ اور یہی اوجہ ہے جیسا کہ حلیہ میں اسے بطور توقع کہا اور بحر میں اس پر جزم کیا اس لئے کہ وہ قدم دو قدم چلنے سے نہ ہوگا۔ اور علامہ شامی نے علامہ مقدسی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ اس کے لئے چالیس قدم مقرر ہیں تو اس پر غور کرلیا جائے ۔ اھ۔
فـــ : مسئلہ : جماع یا احتلام پر سونے چلنے پھرنے یا پیشاپ کرنے کے بعدجو اور منی بلاشہوت نکلے اس سے غسل نہ ہوگا اور چلنے کی بعض نے چالیس قدم تعداد بتائی اور صحیح یہ ہونا چاہئے کہ جب اتنا چل لیا جس سے اطمینان ہوگیا کہ پہلی منی کا بقیہ ہوتا تو نکل چکتا اس کے بعد بلاشہوت نکلی تو غسل نہیں ۔
التاسع : فـــ اجمعوا ان لو بال اونام اومشی کثیرا ثم خرج بقیۃ المنی بدون شھوۃ لایجب الغسل تظافرت الکتب علی نقل الاجماع فی ذلك کالتبیین والفتح والمصفی والمجتبی والحلیۃ والغنیۃ والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وغیرھا غیر ان منھم من یقتصر علی ذکر البول کا لخانیۃ ومنھم من یزید النوم کالمحیط والا سبیجابی والذخیرۃ وخزانۃ المفتین ومنھم من زاد المشی ایضا کالتبیین والفتح والمنتقی والظہیریۃ ثم اطلق المشی کثیر وقیدہ الزاھدی بالکثیر وھو الاوجہ کما ترجاہ فی الحلیۃ وجزم بہ فی البحر لان الخطوۃ والخطوتین لایکون منھما ذلك ونقل ش عن العلامۃ المقدسی قال فی خاطری انہ عین لہ اربعون خطوۃ فلینظر( )اھ۔
میں یہ مسئلہ صحیح بے غبار ہے۔ ولله الحمد۔
نویں تنبیہ : اس پر اجماع ہے کہ اگر پیشاب کیا یا سوگیا یا زیادہ چلا۔ پھر بقیہ منی بلا شہوت نکلی تو غسل واجب نہیں ۔ اس بارے میں نقل اجماع پر کتابیں متفق ہیں ۔ جیسے تبیین الحقائق فتح القدیر مصفی مجتبی حلیہ غنیہ خانیہ خلاصہ بزازیہ وغیرہا۔ فرق یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے صرف پیشاب کے ذکر پر اکتفاکی ہے جیسے خانیہ کسی نے اس پرسونے کا اضافہ کیا جیسے محیط اسبیجابی ذخیرہ خلاصہ وجیز اور خزانۃ المفتین۔ اور کسی نے چلنے کا بھی اضافہ کیا جیسے تبیین فتح القدیر منتقی اور ظہیریہ۔ پھر کـثیر نے چلنے کو مطلق رکھا اور زاہدی نے اسے کثیر سے مقید کیا (زیادہ چلنا کہا)۔ اور یہی اوجہ ہے جیسا کہ حلیہ میں اسے بطور توقع کہا اور بحر میں اس پر جزم کیا اس لئے کہ وہ قدم دو قدم چلنے سے نہ ہوگا۔ اور علامہ شامی نے علامہ مقدسی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ اس کے لئے چالیس قدم مقرر ہیں تو اس پر غور کرلیا جائے ۔ اھ۔
فـــ : مسئلہ : جماع یا احتلام پر سونے چلنے پھرنے یا پیشاپ کرنے کے بعدجو اور منی بلاشہوت نکلے اس سے غسل نہ ہوگا اور چلنے کی بعض نے چالیس قدم تعداد بتائی اور صحیح یہ ہونا چاہئے کہ جب اتنا چل لیا جس سے اطمینان ہوگیا کہ پہلی منی کا بقیہ ہوتا تو نکل چکتا اس کے بعد بلاشہوت نکلی تو غسل نہیں ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۸
اقول : ھذا فــــ۱ ماعین بعضھم فی الاستبراء وقال بعضھم یزید بعد اربعین سنۃ بکل سنۃ خطوۃ وھو کما تری ناش عن منزع حسن لکن المنی اثقل واسرع زوالا ویظھر لی ان یفوض فــــ۲ الی رأی المبتلی بہ کما ھو داب اما منا رضی الله تعالی عنہ فی امثال المقام ای یعلم من نفسہ ان انقطع مادۃ الزائل بشھوۃ ولو کان لہ بقیۃ لخرج کیف وان الطبائع تختلف وھذا ماصححوہ فی الاستبراء کمافی الحلیۃ وغیرھا وقید فـــــ۳ مسألۃ الخروج بعد البول فی عامۃ
اقول : یہ وہ ہے جو بعض حضرات نے استبرا ء میں مقرر کیا ہے (استبرا پیشاب کے بعد بعـض طریقوں سے اس بات کا اطمینان حاصل کرنا کہ اب قطرہ نہ آئے گا ۱۲ م)اور بعض نے کہا چالیس سال کی عمر کے بعد ہر سال ایك قدم کا اضافہ کرے۔ یہ خیال جیسا کہ پیش نظر ہے ایك اچھی بنیادسے پیدا ہوا ہے لیکن منی زیادہ ثقیل اور زائل ہونے میں زیادہ سریع ہوتی ہے۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے خود مبتلا کی رائے کے سپرد کیا جائے جیسا کہ اس طرح کے مقام میں ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کا یہی دستور ہے یعنی اسے خود اطمینان ہو جائے کہ شہوت سے جدا ہونے والی منی کا مادہ ختم ہوگیا اور اگرکچھ بقیہ ہوتا تو نکل آتا۔ یہ کیوں نہ رکھا جائے جب کہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں اور استبرا میں بھی علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ حلیہ وغیرہامیں ہے ۔ پیشاب کے بعد منی نکلنے کے مسئلہ میں
فــــ۱ : مسئلہ : پیشاپ کے بعد مرد پر استبرا واجب ہے یعنی وہ افعال کرنا جس سے اطمینان ہوجائے کہ قطرات نکل چکے اب نہ آئیں گے مثلا کھنکارنا یا ٹہلنا یا ران پر ران رکھ کر عضو کو دبانا وغیرہ ذلك اس میں ٹہہرنے کی مقدار بعض نے چالیس قدم رکھی بعض نے یہ کہ چالیس برس کی عمر تك اسی قدر اور زیادہ پر فی برس ایك قدم اور۔ اور صحیح یہ کہ جہاں تك میں اطمینان حاصل ہو خواہ چالیس۴۰ سے کم یا زائد۔
فـــــ۲ : تطفل علی العلامۃ المقدسی و الشامی۔
فـــــ۳ : مسئلہ : وہ جو مسئلہ گزرا کہ پیشاب کے بعد منی اترے تو غسل نہیں اس میں یہ شرط ہے کہ اس وقت شہوت نہ ہو ورنہ یہ جدید انزال ہوگا۔
اقول : یہ وہ ہے جو بعض حضرات نے استبرا ء میں مقرر کیا ہے (استبرا پیشاب کے بعد بعـض طریقوں سے اس بات کا اطمینان حاصل کرنا کہ اب قطرہ نہ آئے گا ۱۲ م)اور بعض نے کہا چالیس سال کی عمر کے بعد ہر سال ایك قدم کا اضافہ کرے۔ یہ خیال جیسا کہ پیش نظر ہے ایك اچھی بنیادسے پیدا ہوا ہے لیکن منی زیادہ ثقیل اور زائل ہونے میں زیادہ سریع ہوتی ہے۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اسے خود مبتلا کی رائے کے سپرد کیا جائے جیسا کہ اس طرح کے مقام میں ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کا یہی دستور ہے یعنی اسے خود اطمینان ہو جائے کہ شہوت سے جدا ہونے والی منی کا مادہ ختم ہوگیا اور اگرکچھ بقیہ ہوتا تو نکل آتا۔ یہ کیوں نہ رکھا جائے جب کہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں اور استبرا میں بھی علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ حلیہ وغیرہامیں ہے ۔ پیشاب کے بعد منی نکلنے کے مسئلہ میں
فــــ۱ : مسئلہ : پیشاپ کے بعد مرد پر استبرا واجب ہے یعنی وہ افعال کرنا جس سے اطمینان ہوجائے کہ قطرات نکل چکے اب نہ آئیں گے مثلا کھنکارنا یا ٹہلنا یا ران پر ران رکھ کر عضو کو دبانا وغیرہ ذلك اس میں ٹہہرنے کی مقدار بعض نے چالیس قدم رکھی بعض نے یہ کہ چالیس برس کی عمر تك اسی قدر اور زیادہ پر فی برس ایك قدم اور۔ اور صحیح یہ کہ جہاں تك میں اطمینان حاصل ہو خواہ چالیس۴۰ سے کم یا زائد۔
فـــــ۲ : تطفل علی العلامۃ المقدسی و الشامی۔
فـــــ۳ : مسئلہ : وہ جو مسئلہ گزرا کہ پیشاب کے بعد منی اترے تو غسل نہیں اس میں یہ شرط ہے کہ اس وقت شہوت نہ ہو ورنہ یہ جدید انزال ہوگا۔
الکتب بان لا یکون ذکرہ اذ ذاك منتشرا والا وجب الغسل قال المحقق فی الفتح بعد نقلہ عن الظہیریۃ ھذا بعد ماعرف من اشتراط وجود الشھوۃ فی الانزال فیہ نظر الخ وکتبت علیہ مانصہ فان مجرد الانتشار لایستلزم الشھوۃ الا تری ان الانتشار ربما یحصل باجتماع البول حتی للطفل وانہ یبقی مدۃ صالحۃ بعد الانزال مع عدم الشھوۃ۔
اقول : والجواب فــــ ان المراد ھو الشھوۃ ووقع التعبیر باللازم مسامحۃ اھ ماکتبت۔ قال المحقق بخلاف ماروی عن محمد فی مستیقظ وجد ماء ولم یتذکر احتلاما ان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والا فیجب لانہ بناہ علی انہ المنی عن شھوۃ لکن ذھب عن خاطرہ اھ عامہ کتب نے یہ شرط رکھی ہے کہ اس وقت ذکر منتشر نہ ہو ورنہ غسل واجب ہوگا۔ اسے محقق علی الا طلاق نے فتح القدیر میں ظہیریہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا : یہ محل نظر ہے اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ انزال میں شہوت کا موجود ہونا شرط ہے الخ۔ اس کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا : کیوں کہ صرف انتشار شہوت کو مستلزم نہیں ۔ انتشار تو بار ہا پیشاب اکٹھا ہونے سے بھی ہوجاتاہے یہاں تك کہ بچے کو بھی۔ اور انزال کے بعد بھی خاصی دیر تك باقی رہ جاتا ہے باوجودیکہ شہوت ختم ہو چکی۔
میں کہتا ہوں جواب یہ ہے کہ مراد شہوت ہی ہے اور تسا محا لازم سے تعبیر ہوئی ہے اھ میرا حاشیہ ختم۔ آگے حضرت محقق لکھتے ہیں : بخلاف اس کے جو امام محمد سے مروی ہے کہ بیدار ہونے والا پانی دیکھے اور اسے احتلام یاد نہیں اگر سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو غسل واجب نہیں ورنہ واجب ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اس حکم کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ اسے منی شہوت سے نکلی مگر اسے خیال نہ رہا۔ اھ۔
فــــ : تطفل علی الفتح
اقول : والجواب فــــ ان المراد ھو الشھوۃ ووقع التعبیر باللازم مسامحۃ اھ ماکتبت۔ قال المحقق بخلاف ماروی عن محمد فی مستیقظ وجد ماء ولم یتذکر احتلاما ان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والا فیجب لانہ بناہ علی انہ المنی عن شھوۃ لکن ذھب عن خاطرہ اھ عامہ کتب نے یہ شرط رکھی ہے کہ اس وقت ذکر منتشر نہ ہو ورنہ غسل واجب ہوگا۔ اسے محقق علی الا طلاق نے فتح القدیر میں ظہیریہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا : یہ محل نظر ہے اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ انزال میں شہوت کا موجود ہونا شرط ہے الخ۔ اس کے حاشیہ پر میں نے یہ لکھا : کیوں کہ صرف انتشار شہوت کو مستلزم نہیں ۔ انتشار تو بار ہا پیشاب اکٹھا ہونے سے بھی ہوجاتاہے یہاں تك کہ بچے کو بھی۔ اور انزال کے بعد بھی خاصی دیر تك باقی رہ جاتا ہے باوجودیکہ شہوت ختم ہو چکی۔
میں کہتا ہوں جواب یہ ہے کہ مراد شہوت ہی ہے اور تسا محا لازم سے تعبیر ہوئی ہے اھ میرا حاشیہ ختم۔ آگے حضرت محقق لکھتے ہیں : بخلاف اس کے جو امام محمد سے مروی ہے کہ بیدار ہونے والا پانی دیکھے اور اسے احتلام یاد نہیں اگر سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو غسل واجب نہیں ورنہ واجب ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اس حکم کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ اسے منی شہوت سے نکلی مگر اسے خیال نہ رہا۔ اھ۔
فــــ : تطفل علی الفتح
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
حاشیہ امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل قلمی فوٹو ص۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
حاشیہ امام احمد رضا علی فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل قلمی فوٹو ص۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
اقول : لم یصل فــ الی فھمہ قاصر ذھنی فان محل الاستشھاد قولہ ان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب بناء علی ان المذی المرئی بعد التیقظ یحال علیہ کمافی الخانیۃ وعامۃ الکتب ولفظ الامام قاضی خان لانہ اذا کان منتشرا قبل النوم فما وجد من البلۃ بعد الانتباہ یکون من اثار ذلك الانتشار فلا یلزمہ الغسل الا ان یکون اکبر رأیہ انہ منی الخ ومعلوم ان المذی لایکون من اثار انتشار بغیر شھوۃ فکما اطلق محمد الانتشار واراد الشھوۃ وتبعہ العامۃ علی ذلك فکذا فی قولھم ھنا وجواب المحقق لایمسہ فلیتامل۔ قال المحقق ومحمل الاول (ای مامر عن الظہیریۃ) انہ وجد الشھوۃ یدل علیہ تعلیلہ فی التجنیس بقولہ لان فی الوجہ الاول یعنی حالۃ
اقول : ان کے فہم تك میرے ذہن قاصر کی رسائی نہ ہو سکی اس لئے کہ محل استشہاد یہ قول ہے کہ : “ اگر سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو غسل واجب نہیں “ اس بنیاد پر کہ بیدار ہونے کے بعد دیکھی جانے والی مذی اسی کے حوالہ کی جائے گی۔ جیسا کہ خانیہ اور عامہ کتب میں ہے ۔ امام قاضی خاں کے الفاظ یہ ہیں : اس لئے کہ جب سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بیدار ہونے کے بعد جو مذی پائی گئی اسی انتشار کے اثر سے ہوگی تو اس پر غسل واجب نہ ہوگا مگر یہ کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ منی ہے۔ الخ۔
اور معلوم ہے کہ مذی بغیر شہوت انتشار کے ا ثر سے نہیں ہوتی تو جس طرح امام محمد نے انتشار کہا اور شہوت مراد لی اور اس میں عامہ مصنفین نے ان کا اتباع کیا ویسے ہی ان حضرات کے قول میں یہاں ہے اور حضرت محقق کے جواب کو اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ تو اس میں تامل کی ضرورت ہے۔ آگے حضرت محقق نے فرمایا : اول( وہ جو ظہیریہ کے حوالہ سے گزرا)کا مطلب یہ ہے کہ اس نے شہوت پائی اس کی دلیل یہ ہے کہ تجنیس میں اس کی تعلیل ان الفاظ
فــــ : تطفل اخر علیہ۔
اقول : ان کے فہم تك میرے ذہن قاصر کی رسائی نہ ہو سکی اس لئے کہ محل استشہاد یہ قول ہے کہ : “ اگر سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو غسل واجب نہیں “ اس بنیاد پر کہ بیدار ہونے کے بعد دیکھی جانے والی مذی اسی کے حوالہ کی جائے گی۔ جیسا کہ خانیہ اور عامہ کتب میں ہے ۔ امام قاضی خاں کے الفاظ یہ ہیں : اس لئے کہ جب سونے سے پہلے ذکر منتشر تھا تو بیدار ہونے کے بعد جو مذی پائی گئی اسی انتشار کے اثر سے ہوگی تو اس پر غسل واجب نہ ہوگا مگر یہ کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ منی ہے۔ الخ۔
اور معلوم ہے کہ مذی بغیر شہوت انتشار کے ا ثر سے نہیں ہوتی تو جس طرح امام محمد نے انتشار کہا اور شہوت مراد لی اور اس میں عامہ مصنفین نے ان کا اتباع کیا ویسے ہی ان حضرات کے قول میں یہاں ہے اور حضرت محقق کے جواب کو اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ تو اس میں تامل کی ضرورت ہے۔ آگے حضرت محقق نے فرمایا : اول( وہ جو ظہیریہ کے حوالہ سے گزرا)کا مطلب یہ ہے کہ اس نے شہوت پائی اس کی دلیل یہ ہے کہ تجنیس میں اس کی تعلیل ان الفاظ
فــــ : تطفل اخر علیہ۔
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الاغتسال ، نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱ ، ۲۲
الانتشار وجد الخروج والانفضال علی وجہ الدفق والشھوۃ اھ وتبعہ فی البحر قال الشامی بعد عزوہ للبحر عبارۃ المحیط کما فی الحلیۃ رجل بال فخرج من ذکرہ منی ان کان منتشرا فعلیہ الغسل لان ذلك دلالۃ خروجہ عن شھوۃ اھ
اقول : وایاك ان تتوھم من تعقیبہ کلام البحر بہ انہ یرید بہ الاخذ علی البحر والفتح فی اشتراط وجد ان الشھوۃ لان المحیط یعنی الرضوی اذعنہ نقل فی الحلیۃ جعل نفس الانتشار دلیل الشھوۃ و ذلك لان فیہ نظرا ظاھرا لمن احاط بما قدمنا من الکلام وانما ملحظ الامام رضی الدین السرخسی فی ھذا القول عندی والله تعالی اعلم الایمان الی جواب عن سؤال اختلج ببالی وھو ما اقول : ان الجنابۃ قضاء الشھوۃ
میں پیش کی ہے : اس لئے کہ پہلی صورت۔ یعنی حالت انتشار۔ میں جست اور شہوت کے طور پر منی کا جدا ہونا اور نکلنا پایا گیا اھ۔ اور بحر میں اسی کا اتباع ہے۔ علامہ شامی نے بحر کا حوالہ پیش کرنے کے بعد لکھا : محیط کی عبارت جیسا کہ حلیہ میں ہے اس طرح ہے : ایك مرد نے پیشاب کیا پھر اس سے منی نکلی اگر ذکر منتشر تھا تو اس پر غسل ہے اس لئے کہ یہ منی کے شہوت سے نکلنے کی دلیل ہے اھ۔
اقول : ہر گز وہم نہ ہو کہ عبارت بحر کے بعد یہ عبارت لا کر علامہ شامی بحر وفتح پر شہوت پائے جانے کی شرط لگانے کے معاملہ میں گرفت کرنا چاہتے ہیں کہ محیط- یعنی محیط رضوی کیونکہ حلیہ میں اسی سے نقل کیا ہے۔ نے تو خود انتشار ہی کو دلیل شہوت قرار دیاہے۔ وہ اس لئے کہ اس سے ان پر گرفت ماننے میں نظر ہے جو ہمارے کلام سابق سے آگاہی رکھنے والے پر ظاہر ہے۔ میرے نزدیك اس کلام سے امام رضی الدین سرخسی کا مطمح نظر- والله تعالی اعلم - ایك سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ سوال جو میرے دل میں آیا ہے اس طر ح ہے : اقول : جنابت انزال سے قضائے شہوت کا
اقول : وایاك ان تتوھم من تعقیبہ کلام البحر بہ انہ یرید بہ الاخذ علی البحر والفتح فی اشتراط وجد ان الشھوۃ لان المحیط یعنی الرضوی اذعنہ نقل فی الحلیۃ جعل نفس الانتشار دلیل الشھوۃ و ذلك لان فیہ نظرا ظاھرا لمن احاط بما قدمنا من الکلام وانما ملحظ الامام رضی الدین السرخسی فی ھذا القول عندی والله تعالی اعلم الایمان الی جواب عن سؤال اختلج ببالی وھو ما اقول : ان الجنابۃ قضاء الشھوۃ
میں پیش کی ہے : اس لئے کہ پہلی صورت۔ یعنی حالت انتشار۔ میں جست اور شہوت کے طور پر منی کا جدا ہونا اور نکلنا پایا گیا اھ۔ اور بحر میں اسی کا اتباع ہے۔ علامہ شامی نے بحر کا حوالہ پیش کرنے کے بعد لکھا : محیط کی عبارت جیسا کہ حلیہ میں ہے اس طرح ہے : ایك مرد نے پیشاب کیا پھر اس سے منی نکلی اگر ذکر منتشر تھا تو اس پر غسل ہے اس لئے کہ یہ منی کے شہوت سے نکلنے کی دلیل ہے اھ۔
اقول : ہر گز وہم نہ ہو کہ عبارت بحر کے بعد یہ عبارت لا کر علامہ شامی بحر وفتح پر شہوت پائے جانے کی شرط لگانے کے معاملہ میں گرفت کرنا چاہتے ہیں کہ محیط- یعنی محیط رضوی کیونکہ حلیہ میں اسی سے نقل کیا ہے۔ نے تو خود انتشار ہی کو دلیل شہوت قرار دیاہے۔ وہ اس لئے کہ اس سے ان پر گرفت ماننے میں نظر ہے جو ہمارے کلام سابق سے آگاہی رکھنے والے پر ظاہر ہے۔ میرے نزدیك اس کلام سے امام رضی الدین سرخسی کا مطمح نظر- والله تعالی اعلم - ایك سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ سوال جو میرے دل میں آیا ہے اس طر ح ہے : اقول : جنابت انزال سے قضائے شہوت کا
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۸
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۸
بالانزال کمافی الفتح والحلیۃ والبحر وشتان مابینہ وبین مجرد مقارنۃ الشھوۃ لنزول منی فان الانزال الذی تقضی بہ الشھوۃ یعقب الفتور و زوال الشھوۃ ولامانع لان ینفصل منی من مقرہ بدون شھوۃ بعد ما بال ثم ینتعش الرجل قلیلا فینتشر فینزل ھذا المنفصل بلاشھوۃ مع شھوۃ فلایورث فتورا ولا تکسرا فیکون قدخرج حین الشھوۃ ولم یکن جنابۃ لعدم قضاء الشھوۃ بہ فاومی الی الجواب وتقریرہ علی ما اقول انا لا ننکر ان المنی قدینفصل بدون شھوۃ ولا نقول ان الشھوۃ ھو السبب المتعین لہ لکن المسبب لعدۃ اسباب اذا وجد و وجد معہ سبب لہ فانما یحال علی ھذا الموجود لایلتفت الی انہ لعلہ حصل بسبب اخر کما قال الامام رضی الله تعالی عنہ فی حیوان وجد فی البئر میتا ولا یدری متی
نام ہے۔ جیسا کہ فتح حلیہ اوربحر میں ہے۔ انزال سے قضائے شہوت اور انزال منی کے ساتھ شہوت کی صرف مقارنت ومعیت دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے کہ جس انزال سے قضائے شہوت کا وقوع ہوتاہے اس کے بعد فتور اور زوال شہوت کا ظہور ہوتاہے۔ اور یہ ہوسکتاہے کہ پیشاب کے بعد کوئی منی اپنے مستقر سے بلا شہوت جداہو پھر آدمی میں کچھ نشاط پیدا ہو تو انتشار ہو جائے پھر یہ بلا شہوت جدا ہونے والی منی شہوت کے ساتھ ساتھ اترآئے اور اس سے نہ کوئی فتور پیدا ہو نہ کوئی شکستگی آئے تو ہوگا یہ کہ منی حالت شہوت میں باہر آئی ہے اور جنابت نہیں کیونکہ اس سے قضائے شہوت واقع نہیں ۔ تو صاحب محیط نے اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور تقریر جواب اس طرح ہوگی اقول ہمیں اس سے انکار نہیں کہ منی کبھی بغیر شہوت کے بھی جدا ہوتی ہے اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں کہ شہو ت ہی اس کا سبب معین ہے۔ لیکن جو امر کئی اسباب کا مسبب ہے جب اس کا وجود ہو اور اس کے ساتھ اس کاکوئی ایك سبب بھی موجود ہو تو اسے اسی سبب موجود کے حوالہ کیا جائے گا اور اس طرف التفات نہ ہوگا کہ ہو سکتا ہے وہ کسی اور سبب سے وجود میں آیا ہو۔ جیسا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہکا اس حیوان سے متعلق ارشاد ہے جو کنویں میں مردہ ملا اور پتہ نہیں
نام ہے۔ جیسا کہ فتح حلیہ اوربحر میں ہے۔ انزال سے قضائے شہوت اور انزال منی کے ساتھ شہوت کی صرف مقارنت ومعیت دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے کہ جس انزال سے قضائے شہوت کا وقوع ہوتاہے اس کے بعد فتور اور زوال شہوت کا ظہور ہوتاہے۔ اور یہ ہوسکتاہے کہ پیشاب کے بعد کوئی منی اپنے مستقر سے بلا شہوت جداہو پھر آدمی میں کچھ نشاط پیدا ہو تو انتشار ہو جائے پھر یہ بلا شہوت جدا ہونے والی منی شہوت کے ساتھ ساتھ اترآئے اور اس سے نہ کوئی فتور پیدا ہو نہ کوئی شکستگی آئے تو ہوگا یہ کہ منی حالت شہوت میں باہر آئی ہے اور جنابت نہیں کیونکہ اس سے قضائے شہوت واقع نہیں ۔ تو صاحب محیط نے اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور تقریر جواب اس طرح ہوگی اقول ہمیں اس سے انکار نہیں کہ منی کبھی بغیر شہوت کے بھی جدا ہوتی ہے اور نہ ہی ہم اس کے قائل ہیں کہ شہو ت ہی اس کا سبب معین ہے۔ لیکن جو امر کئی اسباب کا مسبب ہے جب اس کا وجود ہو اور اس کے ساتھ اس کاکوئی ایك سبب بھی موجود ہو تو اسے اسی سبب موجود کے حوالہ کیا جائے گا اور اس طرف التفات نہ ہوگا کہ ہو سکتا ہے وہ کسی اور سبب سے وجود میں آیا ہو۔ جیسا کہ حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہکا اس حیوان سے متعلق ارشاد ہے جو کنویں میں مردہ ملا اور پتہ نہیں
وقع یحال موتہ علی الماء ولا یقال لعلہ مات بسبب اخر والقی فیہ میتا فاذا نزل عندالشھوۃ کان ذالك دلالۃ خروجہ عن شھوۃ فاوجب الغسل اما حدیث تعقیب الفتورفانما ذلك فی کمال الانزال الاتری کیف اوجب الشارع الغسل بمجرد ایلاج حشفۃ نظرا الی کونہ مظنۃ الانزال مع انہ لایعقبہ الفتور بل ربما یزید الانتشار ھکذا ینبغی ان یفہم ھذا المقام والله تعالی ولی الانعام۔
العاشر : فـــ۱ فی تعریف الجنابۃ قد علمت ما افادہ الفتح وتبعہ الحلبی والبحر ۔
اقول : وظھر فــــ۲ لك مماقررنا ان مایعطیہ ظاھرہ غیر مراد والاولی انھاالانزال عن شھوۃ ثم فـــ۳ الحق انہ تعریف بالسبب
اس میں کب واقع ہو ا تو اس کی موت کو آب ہی کے حوالہ کیا جائے گا اور یہ نہ کہا جائے گاکہ ہوسکتاہے وہ کسی اور سبب سے مراہو اور مرا ہو ا اس میں ڈال دیاگیاہو۔ تو جب وقت شہوت انزال ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس منی کا نکلنا شہوت ہی سے ہے اس لئے غسل واجب ہوا۔ رہی اس کے بعد سستی اور فتور آنے کی بات تو وہ کمال انزال میں ہے شریعت نے محض ادخال حشفہ سے غسل کیسے واجب کیا اسی پر نظر کرتے ہوئے کہ یہ مظنہ انزال ہے باوجودیکہ اس کے بعد کسل و فتور نہیں ہوتابلکہ بارہا انتشار میں اضافہ ہوجاتاہے۔ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے۔ اور خدائے بر تر ہی مالك فضل واحسان ہے۔
دسویں تنبیہ : تعریف جنابت سے متعلق- اس بارے میں ابھی وہ معلوم ہواجو صاحب فتح نے افادہ کیا اور حلبی وبحر نے جس میں ان کا اتباع کیا۔
اقول : تم پر ہماری تقریر سے واضح ہوگیا ہو گا کہ ان کا ظاہر کلام جو معنی ادا کر رہا ہے وہ مراد نہیں ۔ اور بہتر یہ کہنا ہے کہ جنابت شہوت سے انزال کا نام ہے۔ پھر حق یہ
فـــــ۱ : بحث تعریف الجنابۃ۔
فـــــ۲ : تطفل علی الفتح والحلیۃ و البحر۔
فـــــ۳ : تطفل اخر علیھا۔
العاشر : فـــ۱ فی تعریف الجنابۃ قد علمت ما افادہ الفتح وتبعہ الحلبی والبحر ۔
اقول : وظھر فــــ۲ لك مماقررنا ان مایعطیہ ظاھرہ غیر مراد والاولی انھاالانزال عن شھوۃ ثم فـــ۳ الحق انہ تعریف بالسبب
اس میں کب واقع ہو ا تو اس کی موت کو آب ہی کے حوالہ کیا جائے گا اور یہ نہ کہا جائے گاکہ ہوسکتاہے وہ کسی اور سبب سے مراہو اور مرا ہو ا اس میں ڈال دیاگیاہو۔ تو جب وقت شہوت انزال ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس منی کا نکلنا شہوت ہی سے ہے اس لئے غسل واجب ہوا۔ رہی اس کے بعد سستی اور فتور آنے کی بات تو وہ کمال انزال میں ہے شریعت نے محض ادخال حشفہ سے غسل کیسے واجب کیا اسی پر نظر کرتے ہوئے کہ یہ مظنہ انزال ہے باوجودیکہ اس کے بعد کسل و فتور نہیں ہوتابلکہ بارہا انتشار میں اضافہ ہوجاتاہے۔ اسی طرح اس مقام کو سمجھنا چاہئے۔ اور خدائے بر تر ہی مالك فضل واحسان ہے۔
دسویں تنبیہ : تعریف جنابت سے متعلق- اس بارے میں ابھی وہ معلوم ہواجو صاحب فتح نے افادہ کیا اور حلبی وبحر نے جس میں ان کا اتباع کیا۔
اقول : تم پر ہماری تقریر سے واضح ہوگیا ہو گا کہ ان کا ظاہر کلام جو معنی ادا کر رہا ہے وہ مراد نہیں ۔ اور بہتر یہ کہنا ہے کہ جنابت شہوت سے انزال کا نام ہے۔ پھر حق یہ
فـــــ۱ : بحث تعریف الجنابۃ۔
فـــــ۲ : تطفل علی الفتح والحلیۃ و البحر۔
فـــــ۳ : تطفل اخر علیھا۔
ویستفاد من نھایۃ ابن الاثیرانھاوجوب الغسل بجماع اوخروج منی۔
اقول : واطلق عن قید الشھوۃ بناء علی مذھبہ الشافعی ثم ھذا فـــ۱ تعریف بالحکم وحق الحد لھا ما اقول : انھاوصف حکمی اعتبرہ الشرع قائما بالمکلف مانعالہ عن تلاوۃ القرآن اذا خرج منہ ولوحکمامنی نزل عنہ بشھوۃ فقولی ولو حکما لادخال ادخال الحشفۃ بشروطہ وقولی نزل عنہ بشھوۃ لاخراج اخراج المرأۃ فـــ۲ منی زوجہا من فرجہافانما لاتجنب بہ وان اجنبت بالایلاج بل قدیخرج منیہ منھا ولاتجنب اصلاکما اذا اولج نصف حشفۃ فامنی فدخل المنی فرجہا فخرج ولم اقل الی غایۃ
ہے کہ یہ سبب کے ذریعہ تعریف ہے ( یعنی انزال سبب جنابت ہے خود جنابت نہیں ۱۲م)اور نہایہ ابن اثیر سے یہ تعریف مستفاد ہوتی ہے : جنابت جماع یا خروج منی سے وجوب غسل کا نام ہے۔
اقول : اس میں انہوں نے اپنے مذہب شافعی کی بناء پر شہوت کی قید نہ لگائی۔ پھر یہ حکم کے ذریعہ تعریف ہے( یعنی وجوب غسل حکم جنابت ہے خود جنابت نہیں ۱۲م)اور اس کی کماحقہ تعریف یہ ہے : اقول : جنابت ایك حکمی وصف ہے جسے شریعت نے مکلف کے ساتھ قائم اس کے لئے تلاوت قرآن سے مانع ماناہے جب کہ اس سے اس منی کا خروج ہو جو اس سے شہوت کے ساتھ اتری اگرچہ یہ خروج حکما ہی ہو ۔ “ اگرچہ حکما “ میں نے اس لئے کہا کہ ادخال حشفہ کی صورت بھی اس کی مقررہ شرطوں کے ساتھ اس تعریف میں داخل ہوجائے۔ اور میں نے کہا “ اس سے شہوت کے ساتھ اتری “ تاکہ وہ صورت اس تعریف سے خارج ہو جائے جب عورت کی شرم گاہ سے زوج کی منی باہر آئے کیوں کہ عورت کے لئے اس سے جنابت ثابت نہیں ہوتی اگرچہ ادخال سے وہ جنابت والی ہوجاتی ہے۔ بلکہ ایسابھی ہوگاکہ زوج کی منی
فـــ۱ : تطفل علی ابن کثیر۔
فـــ۲ : مسئلہ : زوج کی منی اگر عورت کی فرج سے نکلے تو اس پر وضو واجب ہوگا اس کے سبب غسل نہ ہوگا۔
اقول : واطلق عن قید الشھوۃ بناء علی مذھبہ الشافعی ثم ھذا فـــ۱ تعریف بالحکم وحق الحد لھا ما اقول : انھاوصف حکمی اعتبرہ الشرع قائما بالمکلف مانعالہ عن تلاوۃ القرآن اذا خرج منہ ولوحکمامنی نزل عنہ بشھوۃ فقولی ولو حکما لادخال ادخال الحشفۃ بشروطہ وقولی نزل عنہ بشھوۃ لاخراج اخراج المرأۃ فـــ۲ منی زوجہا من فرجہافانما لاتجنب بہ وان اجنبت بالایلاج بل قدیخرج منیہ منھا ولاتجنب اصلاکما اذا اولج نصف حشفۃ فامنی فدخل المنی فرجہا فخرج ولم اقل الی غایۃ
ہے کہ یہ سبب کے ذریعہ تعریف ہے ( یعنی انزال سبب جنابت ہے خود جنابت نہیں ۱۲م)اور نہایہ ابن اثیر سے یہ تعریف مستفاد ہوتی ہے : جنابت جماع یا خروج منی سے وجوب غسل کا نام ہے۔
اقول : اس میں انہوں نے اپنے مذہب شافعی کی بناء پر شہوت کی قید نہ لگائی۔ پھر یہ حکم کے ذریعہ تعریف ہے( یعنی وجوب غسل حکم جنابت ہے خود جنابت نہیں ۱۲م)اور اس کی کماحقہ تعریف یہ ہے : اقول : جنابت ایك حکمی وصف ہے جسے شریعت نے مکلف کے ساتھ قائم اس کے لئے تلاوت قرآن سے مانع ماناہے جب کہ اس سے اس منی کا خروج ہو جو اس سے شہوت کے ساتھ اتری اگرچہ یہ خروج حکما ہی ہو ۔ “ اگرچہ حکما “ میں نے اس لئے کہا کہ ادخال حشفہ کی صورت بھی اس کی مقررہ شرطوں کے ساتھ اس تعریف میں داخل ہوجائے۔ اور میں نے کہا “ اس سے شہوت کے ساتھ اتری “ تاکہ وہ صورت اس تعریف سے خارج ہو جائے جب عورت کی شرم گاہ سے زوج کی منی باہر آئے کیوں کہ عورت کے لئے اس سے جنابت ثابت نہیں ہوتی اگرچہ ادخال سے وہ جنابت والی ہوجاتی ہے۔ بلکہ ایسابھی ہوگاکہ زوج کی منی
فـــ۱ : تطفل علی ابن کثیر۔
فـــ۲ : مسئلہ : زوج کی منی اگر عورت کی فرج سے نکلے تو اس پر وضو واجب ہوگا اس کے سبب غسل نہ ہوگا۔
استعمال المزیل کما قال الفتح والبحر وغیرھما فی حدالحدث اذلافـــ حاجۃ الیہ فان زوال المنع بزوال المانع مما لاحاجۃ الی التنبیہ علیہ فضلا عن الاحتیاج الی اخذہ فی الحد فافھم ۔
واقتصرت مما یمنع بھا علی التلاوۃ لعدم الحاجۃ الی استیعاب الممنوعات فی التعریف وانما ذلك عند تعریف الاحکام۔
اقول : والحاجۃ الی ذکرہ اخراج نجاسۃ المنی الحقیقیۃ وحکم البلوغ باول انزال الصبی واخترت القران
عورت سے نکلے اور عورت جنابت زدہ بالکل نہ ہو مثلا اس نے نصف حشفہ داخل کیا پھر باہر اس سے منی نکلی جو عورت کی شرم گاہ میں چلی گئی پھر باہر آئی۔ اور میں نے “ الی غایۃ استعمال المزیل “ نہ کہا جیسا کہ فتح وبحر وغیرہما میں حدث کی تعریف میں کہا ہے( یعنی یہ کہ شریعت نے اس وصف کومانع قرار دیاہے جب تك کہ مکلف اس وصف کو “ زائل کرنے والی چیز استعمال نہ کرلے “ مثلا غسل یا تیمم جنابت نہ کرلے۱۲م)اس لئے کہ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ مانع ختم ہوجانے سے ممانعت کا ختم ہوجانا خود ہی ظاہر ہے اس پر تو تنبیہ کی حاجت نہیں کسی تعریف میں اسے داخل کرنے کی حاجت کیا ہوگی۔ اسے سمجھ لو۔
جنابت کی وجہ سے شرعا جو چیزیں ممنوع ہوجاتی ہیں ان میں صرف تلاوت کے ذکر پر میں نے اکتفا کی اس لئے کہ تعریف کے اندر ممنوعات کا احاطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ ضرورت تو احکام بتانے کے وقت ہے (کہا جاسکتاہے کہ مانع تلاوت ہونے کا ذکر کرنے کی بھی کیا حاجت اس کے جواب میں کہا ۱۲م) :
اقول : اس کے ذکر کی حاجت یہ ہے کہ منی کی نجاست حقیقیہ تعریف سے خارج ہوجائے اوربچے کے پہلی بار انزال سے ہی اس کے لئے بلوغ کا حکم ہوناثابت ہوجائے۔ اور میں نے مانع نماز
فـــــ۱ : تطفل علی الفتح و البحر وغیرھما۔
واقتصرت مما یمنع بھا علی التلاوۃ لعدم الحاجۃ الی استیعاب الممنوعات فی التعریف وانما ذلك عند تعریف الاحکام۔
اقول : والحاجۃ الی ذکرہ اخراج نجاسۃ المنی الحقیقیۃ وحکم البلوغ باول انزال الصبی واخترت القران
عورت سے نکلے اور عورت جنابت زدہ بالکل نہ ہو مثلا اس نے نصف حشفہ داخل کیا پھر باہر اس سے منی نکلی جو عورت کی شرم گاہ میں چلی گئی پھر باہر آئی۔ اور میں نے “ الی غایۃ استعمال المزیل “ نہ کہا جیسا کہ فتح وبحر وغیرہما میں حدث کی تعریف میں کہا ہے( یعنی یہ کہ شریعت نے اس وصف کومانع قرار دیاہے جب تك کہ مکلف اس وصف کو “ زائل کرنے والی چیز استعمال نہ کرلے “ مثلا غسل یا تیمم جنابت نہ کرلے۱۲م)اس لئے کہ یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ مانع ختم ہوجانے سے ممانعت کا ختم ہوجانا خود ہی ظاہر ہے اس پر تو تنبیہ کی حاجت نہیں کسی تعریف میں اسے داخل کرنے کی حاجت کیا ہوگی۔ اسے سمجھ لو۔
جنابت کی وجہ سے شرعا جو چیزیں ممنوع ہوجاتی ہیں ان میں صرف تلاوت کے ذکر پر میں نے اکتفا کی اس لئے کہ تعریف کے اندر ممنوعات کا احاطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ ضرورت تو احکام بتانے کے وقت ہے (کہا جاسکتاہے کہ مانع تلاوت ہونے کا ذکر کرنے کی بھی کیا حاجت اس کے جواب میں کہا ۱۲م) :
اقول : اس کے ذکر کی حاجت یہ ہے کہ منی کی نجاست حقیقیہ تعریف سے خارج ہوجائے اوربچے کے پہلی بار انزال سے ہی اس کے لئے بلوغ کا حکم ہوناثابت ہوجائے۔ اور میں نے مانع نماز
فـــــ۱ : تطفل علی الفتح و البحر وغیرھما۔
علی قربان الصلاۃ لان المنع منھالایختص بالحدث الاکبر ولم اقل قائما بظاھر بدن المکلف کی یصح الحمل علی کلامعنیی الحدث مایتجزی منہ وھی النجاسۃ الحکمیۃ القائمۃ بسطوح الاعضاء الظاھرۃ ومالا وھوتلبس المکلف بہاکمابینتہ فی الطرس المعدل فی حد الماء المستعمل ولوقلتہ لاختص بالاول۔
اقول : وبہ ظھران فی حد الحدث المذکور فی الحلیۃ انہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ والحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھما
ہونے کے بجائے مانع تلاوت ہونااختیار کیا اس لئے کہ نمازسے ممانعت حدث اکبر کے ساتھ خاص نہیں ۔ میں نے(قائم بمکلف کہا) “ مکلف کے ظاہر بدن کے ساتھ قائم “ نہ کہاتاکہ حدث کے دونوں معنوں پر محمول کرنا صحیح ہو سکے۔ حدث کا ایك معنی تو وہ ہے جس کی تجز ی اورانقسام ہو سکتاہے۔ یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو ظاہری اعضا کی سطحوں سے لگی ہوئی ہے (اس کی تجز ی مثلا یوں ہو سکتی ہے کہ بعض اعضا دھولئے ان سے نجاست حکمیہ دور ہوگئی اور بعض دیگر پر باقی رہ گئی ۱۲م) اور ایك معنی وہ ہے جس کی تجزی نہیں ہوسکتی۔ وہ ہے مکلف کا اس نجاست حکمیہ سے متلبس ہونا(بعض اعضا کے دھلنے سے مکلف کی ناپا کی کا حکم ختم نہیں ہوگا جب تك کہ مکمل طورپرتطہیرنہ ہوجائے۔ سب دھونے کے بعد ہی وہ پاك کہلائے گااسی طرح تیمم کی صورت میں ۱۲م )جیسا کہ میں نے اسے “ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل “ میں بیان کیاہے۔ اگر میں “ قائم بظاہر بدن مکلف : کہہ دیتا تو یہ تعریف صرف معنی اول کے ساتھ خاص ہوجاتی۔
اقول : اسی سے ظاہر ہوا کہ حدث کی درج ذیل تعریف جو صاحب حلیہ نے کی ہے اس میں کھلا ہوا تسامح ہے وہ لکھتے ہیں : “ حدث وہ وصف حکمی ہے شارع نے “ اعضا کے ساتھ جس کے قائم “ ہونے کو جنابت حیض نفاس پیشاب پاخانہ اوران دونوں کے علاوہ نواقض وضو کا مسبب
اقول : وبہ ظھران فی حد الحدث المذکور فی الحلیۃ انہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ والحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھما
ہونے کے بجائے مانع تلاوت ہونااختیار کیا اس لئے کہ نمازسے ممانعت حدث اکبر کے ساتھ خاص نہیں ۔ میں نے(قائم بمکلف کہا) “ مکلف کے ظاہر بدن کے ساتھ قائم “ نہ کہاتاکہ حدث کے دونوں معنوں پر محمول کرنا صحیح ہو سکے۔ حدث کا ایك معنی تو وہ ہے جس کی تجز ی اورانقسام ہو سکتاہے۔ یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو ظاہری اعضا کی سطحوں سے لگی ہوئی ہے (اس کی تجز ی مثلا یوں ہو سکتی ہے کہ بعض اعضا دھولئے ان سے نجاست حکمیہ دور ہوگئی اور بعض دیگر پر باقی رہ گئی ۱۲م) اور ایك معنی وہ ہے جس کی تجزی نہیں ہوسکتی۔ وہ ہے مکلف کا اس نجاست حکمیہ سے متلبس ہونا(بعض اعضا کے دھلنے سے مکلف کی ناپا کی کا حکم ختم نہیں ہوگا جب تك کہ مکمل طورپرتطہیرنہ ہوجائے۔ سب دھونے کے بعد ہی وہ پاك کہلائے گااسی طرح تیمم کی صورت میں ۱۲م )جیسا کہ میں نے اسے “ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل “ میں بیان کیاہے۔ اگر میں “ قائم بظاہر بدن مکلف : کہہ دیتا تو یہ تعریف صرف معنی اول کے ساتھ خاص ہوجاتی۔
اقول : اسی سے ظاہر ہوا کہ حدث کی درج ذیل تعریف جو صاحب حلیہ نے کی ہے اس میں کھلا ہوا تسامح ہے وہ لکھتے ہیں : “ حدث وہ وصف حکمی ہے شارع نے “ اعضا کے ساتھ جس کے قائم “ ہونے کو جنابت حیض نفاس پیشاب پاخانہ اوران دونوں کے علاوہ نواقض وضو کا مسبب
من نواقض الوضوء ومنع من قربان الصلاۃ ومافی معناھامعہ حال قیامہ بمن قام بہ الی غایۃ استعمال مایعتبرہ زائلا بہ اھ
تسامحا فــــ۱ ظاھرا فی جعل الحدث مسبباعن الجنابۃ بل ھی نفسہا احد الحدثین فان وجہ بان الحد للحدث بمعنی التلبس والمراد بالجنابۃ تلك النجاسۃ الحکمیۃ ولا بعد ان یقال ان تلبسہ بھا مسبب عن وجودھا۔
قلت : یدفعہ قولہ رحمہ الله تعالی قیامہ بالاعضاء فالقائم بھا ھی النجاسۃ الحکمیۃ دون تلبس المکلف بھا فلا محیدالا ان یرتکب المجاز فی الحدفیرادبھا المنی النازل عن شھوۃ۔
ثم اقول : خلل فــــ۲ اخرفی مانعتیہ فان الواوات فی قولہ والحیض والنفاس الخ بمعنی اوفیشمل
مانا ہے۔ اور اس وصف کے ساتھ نماز اور ان چیزوں کے قریب جانے سے روکا ہے جو نماز کے معنی میں ہیں اس حالت میں کہ یہ وصف جس کے ساتھ لگا ہے اس سے لگا ہوا ہو یہا ں تك کہ وہ چیز استعمال کرے جس سے شارع اس وصف کو زائل مانے “ ۔ اھ۔
تسامح اس طرح کہ حدث کو جنابت کا مسبب قرار دیا ہے حالاں کہ خود جنابت ایك حدث ہے۔ حدث اکبر۔ اب اگر یہ توجیہ کی جائے کہ یہ تعریف حدث بمعنی تلبس کی ہے اور جنابت سے مراد وہ نجاست حکمیہ ہے( جو اعضاء میں لگی ہوئی ہے۱۲م)اور بعید نہیں کہ یہ کہا جائے کہ جنابت سے مکلف کا تلبس اس نجاست حکمیہ کے موجود ہونے کا مسبب ہے۔
میں کہوں گا یہ توجیہ صاحب حلیہ کے الفاظ “ اعضاء کے ساتھ قائم “ سے رد ہوجاتی ہے کیوں کہ اعضاء کے ساتھ قائم تو وہی نجاست حکمیہ ہے مکلف کا اس سے تلبس اعضاء کے ساتھ قائم نہیں ۔ تواس سے مفر نہیں کہ تعریف میں مجاز کا ارتکاب ماناجائے اورجنابت سے مراد وہ منی لی جائے جو شہوت سے اتری ہو۔
ثم اقول : اس تعریف کے مانع ہونے میں ایك اورخلل ہے۔ وہ اس طرح کہ ان کی عبارت “ والحیض والنفاس الخ “ میں واؤ بمعنی
فـــــ۱ : ۱ تطفل علی الحلیۃ۔ فــــ۲ : تطفل آخر علیہا۔
تسامحا فــــ۱ ظاھرا فی جعل الحدث مسبباعن الجنابۃ بل ھی نفسہا احد الحدثین فان وجہ بان الحد للحدث بمعنی التلبس والمراد بالجنابۃ تلك النجاسۃ الحکمیۃ ولا بعد ان یقال ان تلبسہ بھا مسبب عن وجودھا۔
قلت : یدفعہ قولہ رحمہ الله تعالی قیامہ بالاعضاء فالقائم بھا ھی النجاسۃ الحکمیۃ دون تلبس المکلف بھا فلا محیدالا ان یرتکب المجاز فی الحدفیرادبھا المنی النازل عن شھوۃ۔
ثم اقول : خلل فــــ۲ اخرفی مانعتیہ فان الواوات فی قولہ والحیض والنفاس الخ بمعنی اوفیشمل
مانا ہے۔ اور اس وصف کے ساتھ نماز اور ان چیزوں کے قریب جانے سے روکا ہے جو نماز کے معنی میں ہیں اس حالت میں کہ یہ وصف جس کے ساتھ لگا ہے اس سے لگا ہوا ہو یہا ں تك کہ وہ چیز استعمال کرے جس سے شارع اس وصف کو زائل مانے “ ۔ اھ۔
تسامح اس طرح کہ حدث کو جنابت کا مسبب قرار دیا ہے حالاں کہ خود جنابت ایك حدث ہے۔ حدث اکبر۔ اب اگر یہ توجیہ کی جائے کہ یہ تعریف حدث بمعنی تلبس کی ہے اور جنابت سے مراد وہ نجاست حکمیہ ہے( جو اعضاء میں لگی ہوئی ہے۱۲م)اور بعید نہیں کہ یہ کہا جائے کہ جنابت سے مکلف کا تلبس اس نجاست حکمیہ کے موجود ہونے کا مسبب ہے۔
میں کہوں گا یہ توجیہ صاحب حلیہ کے الفاظ “ اعضاء کے ساتھ قائم “ سے رد ہوجاتی ہے کیوں کہ اعضاء کے ساتھ قائم تو وہی نجاست حکمیہ ہے مکلف کا اس سے تلبس اعضاء کے ساتھ قائم نہیں ۔ تواس سے مفر نہیں کہ تعریف میں مجاز کا ارتکاب ماناجائے اورجنابت سے مراد وہ منی لی جائے جو شہوت سے اتری ہو۔
ثم اقول : اس تعریف کے مانع ہونے میں ایك اورخلل ہے۔ وہ اس طرح کہ ان کی عبارت “ والحیض والنفاس الخ “ میں واؤ بمعنی
فـــــ۱ : ۱ تطفل علی الحلیۃ۔ فــــ۲ : تطفل آخر علیہا۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
التعریف الوصف الحکمی الذی یقوم بالاعضاء عند تلوثھابنجاسات الحیض وما بعدہ الحقیقۃ فانھا ایضاتمنع من قربان الصلاۃ الخ وکونھا نجاسات حقیقۃ لاینافی کون الوصف الذی یحصل للاعضاء بھاحکمیاکما حققہ المحقق حیث اطلق اذیقول فی الفتح من بحث الماء المستعمل معنی الحقیقۃ لیس الاکون النجاسۃ موصوفا بھا جسم محسوس مستقل بنفسہ عن المکلف ولیس التحقق لنامن معناھاسوی انھااعتبارشرعی منع الشارع من قربان الصلاۃ والسجودحال قیامہ لمن قام بہ الی غایۃ استعمال الماء فیہ فاذا استعملہ قطع ذلك الاعتبار کل ذلك ابتلاء للطاعۃ فاماان ھناك وصفا حقیقیاعقلیا اومحسوسافلا ومن ادعاہ لا یقدر فی اثباتہ علی غیرالدعوی فلا یقبل ویدل علی انہ اعتباراختلافہ باختلاف الشرائع الا تری ان الخمرمحکوم بنجاسۃ فی شریعتنا و بطہارتہ فی غیرھا
او(یا)ہے تو یہ تعریف اس وصف حکمی کو بھی شامل ہوگی جو حیض اور اسکے بعد ذکر شدہ چیزوں کی نجاست حقیقیہ سے اعضاء کے آلودہ ہونے کے وقت اعضاء کے ساتھ قائم ہو۔ اس لئے کہ یہ بھی نماز وغیرہ کے قریب جانے سے مانع ہے۔ اور ان کا نجاست حقیقیہ ہونا اس کے منافی نہیں کہ ان سے اعضاء کو حاصل ہونے والا وصف حکمی ہو۔ جیساکہ محقق علی الاطلاق نے اس کی تحقق فرمائی ہے وہ فتح القدیر بحث مائے مستعمل میں لکھتے ہیں : حقیقیہ کا معنی صرف اس قدر ہے کہ مکلف سے جدا ایك مستقل محسوس جسم اس نجاست سے متصف ہے اور ہمارے لئے اس کامعنی بس اتناہی محقق ہے کہ یہ ایك اعتبار شرعی ہے کہ جس کے ساتھ وہ قائم ہے اس سے قائم ہوتے ہوئے شارع نے اسے نماز و سجدہ کے قریب جانے سے روکا ہے یہاں تك کہ اس میں پانی کااستعمال کرے جب پانی استعمال کرلے گا تو وہ اعتبار ختم ہوجائے گا۔ یہ سب اطاعت کی آزمائش کے لئے ہے۔ لیکن یہ کہ وہاں کوئی عقلی یا محسوس وصف حقیقی ہے توایسا نہیں ۔ جواس کامدعی ہو وہ اس کے ثبوت میں دعوی سے زیادہ کچھ پیش نہیں کرسکتا۔ اس لئے یہ قابل قبول نہیں ۔ اور اعتبار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ شریعتوں کے مختلف ہونے سے یہ مختلف ہوتا رہا ہے ۔ دیکھئے ہماری شریعت میں شراب کی نجاست کا حکم ہے اور
او(یا)ہے تو یہ تعریف اس وصف حکمی کو بھی شامل ہوگی جو حیض اور اسکے بعد ذکر شدہ چیزوں کی نجاست حقیقیہ سے اعضاء کے آلودہ ہونے کے وقت اعضاء کے ساتھ قائم ہو۔ اس لئے کہ یہ بھی نماز وغیرہ کے قریب جانے سے مانع ہے۔ اور ان کا نجاست حقیقیہ ہونا اس کے منافی نہیں کہ ان سے اعضاء کو حاصل ہونے والا وصف حکمی ہو۔ جیساکہ محقق علی الاطلاق نے اس کی تحقق فرمائی ہے وہ فتح القدیر بحث مائے مستعمل میں لکھتے ہیں : حقیقیہ کا معنی صرف اس قدر ہے کہ مکلف سے جدا ایك مستقل محسوس جسم اس نجاست سے متصف ہے اور ہمارے لئے اس کامعنی بس اتناہی محقق ہے کہ یہ ایك اعتبار شرعی ہے کہ جس کے ساتھ وہ قائم ہے اس سے قائم ہوتے ہوئے شارع نے اسے نماز و سجدہ کے قریب جانے سے روکا ہے یہاں تك کہ اس میں پانی کااستعمال کرے جب پانی استعمال کرلے گا تو وہ اعتبار ختم ہوجائے گا۔ یہ سب اطاعت کی آزمائش کے لئے ہے۔ لیکن یہ کہ وہاں کوئی عقلی یا محسوس وصف حقیقی ہے توایسا نہیں ۔ جواس کامدعی ہو وہ اس کے ثبوت میں دعوی سے زیادہ کچھ پیش نہیں کرسکتا۔ اس لئے یہ قابل قبول نہیں ۔ اور اعتبار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ شریعتوں کے مختلف ہونے سے یہ مختلف ہوتا رہا ہے ۔ دیکھئے ہماری شریعت میں شراب کی نجاست کا حکم ہے اور
فعلم انہا لیست سوی اعتبار شرعی الزم معہ کذاالی غایۃ کذا ابتلاء اھ ولا عطر بعد عروس ۔
الحادی عشر : عدم وجوب الغسل بمنی خرج بعدالبول ونحوہ من دون الشھوۃ وقع تعلیلہ فی مصفی الامام النسفی رحمہ الله تعالی بانہ مذی ولیس بمنی لان البول والنوم والمشی یقطع مادۃ الشھوۃ اھ نقلہ فی البحر واقر۔
اقول : وفیہ نظر فــــ۱ ظاھر فان صورۃ المنی لاتکون قط للمذی وفی قولہ رحمہ الله تعالی انھا تقطع مادۃ الشھوۃ تسامح فـــ۲ واضح وانما تقطع مادۃ المنی المنفصل فیؤمن بھا ان یکون الخارج بعدھا بقیۃ منی کان نزل بشھوۃ وھذا ھو الصحیح فی تعلیل المسألۃ کماافادہ فی التبیین دوسری شریعت میں اس کی طہارت کاحکم رہا ہے تومعلوم ہوا کہ یہ نجاست صرف ایك اعتبار شرعی ہے جس کے ساتھ شریعت نے آزمائش کے لئے فلاں چیز فلاں حدتك لازم فرمائی ہے اھ۔ ولاعطر بعد عروس۔ (اس صاف تصریح کے بعد مزید تو ضیح واثبات کی حاجت ہی نہیں ۱۲)۔
گیارھویں تنبیہ : پیشاب وغیرہ کے بعد بلاشہوت نکلنے والی منی غسل واجب نہ ہونے کی تعلیل امام نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہکی مصفی میں یہ واقع ہوئی کہ وہ مذی ہے منی نہیں ہے۔ اس لئے کہ پیشاب نیند اورچلنا مادہ شہوت قطع کردیتاہے اھ۔ اسے بحر میں نقل کر کے بر قرار رکھا۔
اقول : یہ واضح طور پر محل نظر ہے۔ اس لئے کہ منی کی صورت مذی کے لئے کبھی نہیں ہوتی۔ اور امام موصوف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام “ یہ سب مادہ شہوت کو قطع کردیتے ہیں “ میں کھلا ہوا تسامح ہے۔ یہ چیزیں صرف جدا ہونے والی منی کا مادہ منقطع کردیتی ہیں تو ان کے باعث اس بات سے اطمینان ہوجاتا ہے کہ ان کے بعدنکلنے والی چیزاس منی کا بقیہ حصہ ہوجو شہوت کے ساتھ اتری تھی۔ اور یہی مسئلہ کی صحیح تعلیل ہے جیسا کہ تبیین وغیرہ
فـــ۱ : تطفل علی المصفی والبحر۔
فـــــ۲ : تطفل آخر علیہما۔
الحادی عشر : عدم وجوب الغسل بمنی خرج بعدالبول ونحوہ من دون الشھوۃ وقع تعلیلہ فی مصفی الامام النسفی رحمہ الله تعالی بانہ مذی ولیس بمنی لان البول والنوم والمشی یقطع مادۃ الشھوۃ اھ نقلہ فی البحر واقر۔
اقول : وفیہ نظر فــــ۱ ظاھر فان صورۃ المنی لاتکون قط للمذی وفی قولہ رحمہ الله تعالی انھا تقطع مادۃ الشھوۃ تسامح فـــ۲ واضح وانما تقطع مادۃ المنی المنفصل فیؤمن بھا ان یکون الخارج بعدھا بقیۃ منی کان نزل بشھوۃ وھذا ھو الصحیح فی تعلیل المسألۃ کماافادہ فی التبیین دوسری شریعت میں اس کی طہارت کاحکم رہا ہے تومعلوم ہوا کہ یہ نجاست صرف ایك اعتبار شرعی ہے جس کے ساتھ شریعت نے آزمائش کے لئے فلاں چیز فلاں حدتك لازم فرمائی ہے اھ۔ ولاعطر بعد عروس۔ (اس صاف تصریح کے بعد مزید تو ضیح واثبات کی حاجت ہی نہیں ۱۲)۔
گیارھویں تنبیہ : پیشاب وغیرہ کے بعد بلاشہوت نکلنے والی منی غسل واجب نہ ہونے کی تعلیل امام نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہکی مصفی میں یہ واقع ہوئی کہ وہ مذی ہے منی نہیں ہے۔ اس لئے کہ پیشاب نیند اورچلنا مادہ شہوت قطع کردیتاہے اھ۔ اسے بحر میں نقل کر کے بر قرار رکھا۔
اقول : یہ واضح طور پر محل نظر ہے۔ اس لئے کہ منی کی صورت مذی کے لئے کبھی نہیں ہوتی۔ اور امام موصوف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام “ یہ سب مادہ شہوت کو قطع کردیتے ہیں “ میں کھلا ہوا تسامح ہے۔ یہ چیزیں صرف جدا ہونے والی منی کا مادہ منقطع کردیتی ہیں تو ان کے باعث اس بات سے اطمینان ہوجاتا ہے کہ ان کے بعدنکلنے والی چیزاس منی کا بقیہ حصہ ہوجو شہوت کے ساتھ اتری تھی۔ اور یہی مسئلہ کی صحیح تعلیل ہے جیسا کہ تبیین وغیرہ
فـــ۱ : تطفل علی المصفی والبحر۔
فـــــ۲ : تطفل آخر علیہما۔
حوالہ / References
فتح القدیر1کتاب الطہارۃ1باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر1۱ / ۷۵
البحرالرائق بحوالہ المصفی ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۵
البحرالرائق بحوالہ المصفی ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۵
وغیرہ فان لیس خروج کل منی مجنبا بل منی نزل عن شھوۃ وقد انقطع مادتہ بہا فالخارج الان منیا منی قطعا لکن غیر نازل عن شھوۃ فلایوجب الغسل خلافا للامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ۔
فان قلت الیس افاد فی الفتح ان مانزل عن غیر شھوۃ لایکون منیا قال رحمہ الله تعالی کون المنی عن غیر شھوۃ ممنوع فان عائشۃ رضی الله تعالی عنہا اخذت فی تفسیرھا ایاہ الشھوۃ قال ابن المنذر حدثنا محمد بن یحیی حدثنا ابو حنیفۃ حدثنا عکرمۃ عن عبدربہ بن موسی عن امہ انھا سألت عائشۃ رضی الله تعالی عنھا عن المذی فقالت ان کل فحل یمذی وانہ المذی والودی والمنی فاماالمذی فالرجل یلاعب امراتہ فیظہر علی ذکرہ الشیئ فیغسل ذکرہ وانثییہ ویتوضأولا یغتسل واماالودی فانہ یکون بعد البول یغسل ذکرہ وانثییہ
میں اس کا افادہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ہر منی کانکلنا جنابت لانے والا نہیں بلکہ صرف وہ منی سبب جنابت ہوتی ہے جو شہوت سے اتری ہواور مذکورہ چیزوں سے اس کامادہ منقطع ہوگیا۔ تو اس وقت منی کی صورت میں نکلنے والی چیزقطعا منی ہی ہے لیکن وہ شہوت سے اترنے والی نہیں اس لئے موجب غسل نہیں بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے۔
اگر یہ سوال ہو کہ کیا فتح القدیر میں افادہ نہیں فرمایا ہے جو بلا شہوت نکلے وہ منی نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں : منی کا بغیر شہوت ہونا تسلیم نہیں ۔ اس لئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہانے اس کی جو تفسیر کی ہے اس میں شہوت کو لیا ہے۔ ابن المنذر نے کہا ہم سے محمد بن یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے ابو حنیفہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہم سے عکرمہ نے حدیث بیا ن کی انہوں نے عبدالله بن موسی سے انہوں نے اپنی ماں سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے مذی کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایاہرنر کو مذی آتی ہے۔ اور مذی ودی منی تین چیزیں ہیں ۔ مذی یہ کہ مرد اپنی بیوی سے ملاعبت کرتاہے تواس کے ذکر پر کچھ ظاہر ہوجاتاہے ۔ وہ اپنے ذکر اور انثیین کو دھوئے اور وضو کر ے اسے غسل نہیں کرنا ہے۔ اور ودی پیشاب کے بعد آتی ہے ۔ ذکر اور انثیین کو دھوئے گا
فان قلت الیس افاد فی الفتح ان مانزل عن غیر شھوۃ لایکون منیا قال رحمہ الله تعالی کون المنی عن غیر شھوۃ ممنوع فان عائشۃ رضی الله تعالی عنہا اخذت فی تفسیرھا ایاہ الشھوۃ قال ابن المنذر حدثنا محمد بن یحیی حدثنا ابو حنیفۃ حدثنا عکرمۃ عن عبدربہ بن موسی عن امہ انھا سألت عائشۃ رضی الله تعالی عنھا عن المذی فقالت ان کل فحل یمذی وانہ المذی والودی والمنی فاماالمذی فالرجل یلاعب امراتہ فیظہر علی ذکرہ الشیئ فیغسل ذکرہ وانثییہ ویتوضأولا یغتسل واماالودی فانہ یکون بعد البول یغسل ذکرہ وانثییہ
میں اس کا افادہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ہر منی کانکلنا جنابت لانے والا نہیں بلکہ صرف وہ منی سبب جنابت ہوتی ہے جو شہوت سے اتری ہواور مذکورہ چیزوں سے اس کامادہ منقطع ہوگیا۔ تو اس وقت منی کی صورت میں نکلنے والی چیزقطعا منی ہی ہے لیکن وہ شہوت سے اترنے والی نہیں اس لئے موجب غسل نہیں بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے۔
اگر یہ سوال ہو کہ کیا فتح القدیر میں افادہ نہیں فرمایا ہے جو بلا شہوت نکلے وہ منی نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں : منی کا بغیر شہوت ہونا تسلیم نہیں ۔ اس لئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہانے اس کی جو تفسیر کی ہے اس میں شہوت کو لیا ہے۔ ابن المنذر نے کہا ہم سے محمد بن یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے ابو حنیفہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہم سے عکرمہ نے حدیث بیا ن کی انہوں نے عبدالله بن موسی سے انہوں نے اپنی ماں سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے مذی کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایاہرنر کو مذی آتی ہے۔ اور مذی ودی منی تین چیزیں ہیں ۔ مذی یہ کہ مرد اپنی بیوی سے ملاعبت کرتاہے تواس کے ذکر پر کچھ ظاہر ہوجاتاہے ۔ وہ اپنے ذکر اور انثیین کو دھوئے اور وضو کر ے اسے غسل نہیں کرنا ہے۔ اور ودی پیشاب کے بعد آتی ہے ۔ ذکر اور انثیین کو دھوئے گا
ویتوضأولایغتسل واماالمنی فانہ الماء الاعظم الذی منہ الشھوۃ وفیہ الغسل و روی عبدالرزاق فی مصنفہ عن قتادۃ وعکرمۃ نحوہ فلایتصورمنی الامن خروجہ بشھوۃ والافیفسد الضابط الذی وضعتہ لتمییز المیاہ لتعطی احکامھا اھ
قلت علی تسلیمہ ایضا لایصح جعلہ مذیا بل ان کان فلخروجہ بعد البول ودیا۔
علا ان ما افادالمحقق شیئ تفردبہ لااظن احداسبقہ الیہ اوتبعہ علیہ وقول التبیین قال صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاحذفت الماء فاغتسل وان لم تکن حاذفا فلا تغتسل فاعتبر الحذف وھو لایکون الا بالشھوۃ اھ او روضو کرے گا غسل نہیں کرنا ہے ۔ لیکن منی تو وہ آب اعظم ہے جس سے شہوت ہوتی ہے اور اسی میں غسل ہے۔ اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت قتادہ سے انہوں نے عکرمہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی ہے۔ اور شہوت کے ساتھ نکلے بغیر منی ہونا متصور نہیں ۔ ورنہ وہ ضابطہ ہی فاسد ہوجائے گاجو ام المومنین نے احکام بتانے کے لئے پانیوں کے باہمی امتیاز کے لے وضع کیا ۔ اھ۔
قلت (میں جواب دوں گا) اس کلام محقق کو اگر تسلیم کرلیاجائے تو بھی اسے (پیشاب وغیرہ کے بعد نکلنے والی منی کو)مذی قرار دینا درست نہیں ۔ بلکہ اگر وہ ہو سکتی ہے تو پیشاب کے بعد نکلنے کی وجہ سے ودی ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں حضرت محقق نے جو افادہ کیا اس میں وہ متفرد ہیں ۔ میرے خیال میں ان سے پہلے کسی نے یہ بات نہ کہی اور نہ ان کے بعد اس میں کسی نے ان کی پیروی کی۔ اور تبیین کی یہ عبارت کلام فتح کی طرح نہیں تبیین میں ہے : حضور اقدس نے فرمایا جب تو پانی پھینکے تو غسل کر اور اگر پھینکنے والانہ ہو توغسل نہ کر۔ تو حضور نے پھینکنے کا اعتبار فرمایا اور یہ شہوت ہی کے ساتھ ہوتاہے ۔ اھ۔
قلت علی تسلیمہ ایضا لایصح جعلہ مذیا بل ان کان فلخروجہ بعد البول ودیا۔
علا ان ما افادالمحقق شیئ تفردبہ لااظن احداسبقہ الیہ اوتبعہ علیہ وقول التبیین قال صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاحذفت الماء فاغتسل وان لم تکن حاذفا فلا تغتسل فاعتبر الحذف وھو لایکون الا بالشھوۃ اھ او روضو کرے گا غسل نہیں کرنا ہے ۔ لیکن منی تو وہ آب اعظم ہے جس سے شہوت ہوتی ہے اور اسی میں غسل ہے۔ اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت قتادہ سے انہوں نے عکرمہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی ہے۔ اور شہوت کے ساتھ نکلے بغیر منی ہونا متصور نہیں ۔ ورنہ وہ ضابطہ ہی فاسد ہوجائے گاجو ام المومنین نے احکام بتانے کے لئے پانیوں کے باہمی امتیاز کے لے وضع کیا ۔ اھ۔
قلت (میں جواب دوں گا) اس کلام محقق کو اگر تسلیم کرلیاجائے تو بھی اسے (پیشاب وغیرہ کے بعد نکلنے والی منی کو)مذی قرار دینا درست نہیں ۔ بلکہ اگر وہ ہو سکتی ہے تو پیشاب کے بعد نکلنے کی وجہ سے ودی ہو سکتی ہے۔
علاوہ ازیں حضرت محقق نے جو افادہ کیا اس میں وہ متفرد ہیں ۔ میرے خیال میں ان سے پہلے کسی نے یہ بات نہ کہی اور نہ ان کے بعد اس میں کسی نے ان کی پیروی کی۔ اور تبیین کی یہ عبارت کلام فتح کی طرح نہیں تبیین میں ہے : حضور اقدس نے فرمایا جب تو پانی پھینکے تو غسل کر اور اگر پھینکنے والانہ ہو توغسل نہ کر۔ تو حضور نے پھینکنے کا اعتبار فرمایا اور یہ شہوت ہی کے ساتھ ہوتاہے ۔ اھ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳،۵۴
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ1دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۶۵
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ1دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۶۵
لیس کمثلہ لمن تأمل ففی الحذف الدفق ولا یکون الا بشھوۃ بخلاف نفس خروج المنی کیف فـــ۱ وقد نطقت الکتب عن اخرھا متونھا و شرو حہاوفتاوھا بتقیید المنی الذی یوجب الغسل بکونہ ذاشہوۃ وان ھذاالقیداحترازی وان المنی فـــ۲اذا خرج من ضربۃ اوسقطۃ اوحمل ثقیل من دون شھوۃ لایوجب الغسل ۔
امااحتجاجہ بقول ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا ۔
فاقول : فیہ فــــ۳ اولا ان امناانماترید تعریف المیاہ بخواص لہا اغلبیۃ والتعریف بالخاص سائغ شائع لاسیما فی الصدر الاول
وثانیا ماذا یراد فـــ۴ بالضابط االصدق الکلی من جانب المیاہ اوالخواص اوالجانبین والکل منقوض ۔
اما الاول فمع عدم وفائہ بالمقصودلان لزوم المنویۃ للشھوۃ یہ عبارت ویسی اس لئے نہیں کہ حذف (پھینکنے) میں دفق (جست کرنا)ہوتاہے اور وہ شہوت ہی سے ہوتاہے نفس خروج منی میں ایسا نہیں ۔ اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ متون شروح فتاوی تمام ترکتابوں میں غسل واجب کرنے والی منی کے ساتھ شہوت والی ہونے کی قید لگی ہوئی ہے۔ اور یہ احترازی ہے اور یہ بھی ہے کہ جب ضرب سے یا گرنے سے وزنی چیز اٹھانے سے بلا شہوت منی نکل آئے تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
رہا حضرت محقق کا کلام ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاسے استدلال اس پر چند کلام ہے۔
اقول : اول ہماری ماں رضی اللہ تعالی عنہاان پانیوں کی تعریف ان کے اکثری خواص سے کرناچاہتی ہیں اور خاص سے تعریف روا اور عام ہے خصوصا زمانہ اولی میں ۔
ثانی ضابطہ سے کیامراد ہے۔ پانیوں کی جانب سے صدق کلی یا خواص کی جانب سے یا ونوں جانب سے کوئی بھی درست نہیں ۔
اول اس لئے کہ ایك تو اس سے مقصد حاصل نہیں کیوں کہ اگر شہوت کو منی ہونالازم بھی ہو
فـــ : تطفل علی الفتح۔
فــــ : مسئلہ : چوٹ لگنے یاگرنے بوجھ اٹھانے سے منی بے شہوت نکل جائے تو غسل نہ ہوگاصر ف وضو آئے گا۔
فـــــ : تطفل آخر علی الفتح ۔
فــ : تطفل ثالث علیہ ۔
امااحتجاجہ بقول ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا ۔
فاقول : فیہ فــــ۳ اولا ان امناانماترید تعریف المیاہ بخواص لہا اغلبیۃ والتعریف بالخاص سائغ شائع لاسیما فی الصدر الاول
وثانیا ماذا یراد فـــ۴ بالضابط االصدق الکلی من جانب المیاہ اوالخواص اوالجانبین والکل منقوض ۔
اما الاول فمع عدم وفائہ بالمقصودلان لزوم المنویۃ للشھوۃ یہ عبارت ویسی اس لئے نہیں کہ حذف (پھینکنے) میں دفق (جست کرنا)ہوتاہے اور وہ شہوت ہی سے ہوتاہے نفس خروج منی میں ایسا نہیں ۔ اور یہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ متون شروح فتاوی تمام ترکتابوں میں غسل واجب کرنے والی منی کے ساتھ شہوت والی ہونے کی قید لگی ہوئی ہے۔ اور یہ احترازی ہے اور یہ بھی ہے کہ جب ضرب سے یا گرنے سے وزنی چیز اٹھانے سے بلا شہوت منی نکل آئے تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
رہا حضرت محقق کا کلام ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاسے استدلال اس پر چند کلام ہے۔
اقول : اول ہماری ماں رضی اللہ تعالی عنہاان پانیوں کی تعریف ان کے اکثری خواص سے کرناچاہتی ہیں اور خاص سے تعریف روا اور عام ہے خصوصا زمانہ اولی میں ۔
ثانی ضابطہ سے کیامراد ہے۔ پانیوں کی جانب سے صدق کلی یا خواص کی جانب سے یا ونوں جانب سے کوئی بھی درست نہیں ۔
اول اس لئے کہ ایك تو اس سے مقصد حاصل نہیں کیوں کہ اگر شہوت کو منی ہونالازم بھی ہو
فـــ : تطفل علی الفتح۔
فــــ : مسئلہ : چوٹ لگنے یاگرنے بوجھ اٹھانے سے منی بے شہوت نکل جائے تو غسل نہ ہوگاصر ف وضو آئے گا۔
فـــــ : تطفل آخر علی الفتح ۔
فــ : تطفل ثالث علیہ ۔
لایستلزم لزوم الشھوۃ للمنویۃ وانما الکلام فیہ لایصح فی نفسہ لان الرجل قد یمنی بالملاعبۃ فیکون ھذا الانزال مذیا ولا یوجب الغسل وقد یمنی بشھوۃ عقیب البول کما تقدم عن المحقق فیکون ھذا الامناء ودیا ولا غسل وکلاھماخلاف للاجماع ۔
واما الثانی فلان الانتشاربنظراوفکر من دون ملاعبۃ ربمایورث الامذاء لاسیما اذا کان الرجل مذاء وھل لایمذی الاعزب ابدا اذلا مرأۃ یلاعبہامع انہاقالت کل فحل یمذی فاذا لم یفسد الضابط بالتخلف فی المذی لایفسد ایضافی المنی ۔
وثالثا وھو فــــ الطرازالمعلم والحل المحکم ان ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا لم تقل ھو الماء الاعظم الذی من الشہوۃ لیلزم ان لا یخرج منی الا بشھوۃ وانماقالت منہ
تو یہ اسے مستلزم نہیں کہ منی ہونے کو شہوت بھی لازم ہو اور کلام اسی میں ہے۔ دوسرے یہ کہ خود بھی صحیح نہیں ( کہ جب بھی شہوت ہو تو منی بھی ہو)اس لئے کہ مرد کو کبھی ملاعبت سے منی آتی ہے تویہ انزال مذی ہوجاتاہے اور غسل واجب نہیں کرتا۔ اور کبھی اسے پیشاب کے بعد شہوت کے ساتھ منی آتی ہے۔ جیسا کہ حضرت محقق سے نقل ہوا۔ تویہ امنا(منی آنا) ودی قرار پاتا ہے اور غسل نہیں ہوتا۔ اور دونوں ہی خلاف اجماع ہیں ( کیوں کہ شہوت کے ساتھ انزال اور امناقطعا موجب غسل ہے)
دوم اس لئے کہ بغیر ملاعبت کے نظر یا فکر سے بھی انتشار آلہ سے بعض اوقات مذی آتی ہے خصوصا جب مرد زیادہ مذی والا ہو۔ اور کیابیوی نہ رکھنے والے کو کبھی مذی نہیں آتی اس لئے کہ کوئی عورت نہیں جس سے وہ ملاعبت کرے باوجودیکہ انہوں نے فرمایا ہر نر کو مذی آتی ہے۔ تو جب مذی کے بارے میں تخلف سے ضابطہ فاسد نہیں ہوتا تو منی میں تخلف سے بھی فاسد نہ ہو گا۔
ثالث اور یہی نشان زدہ نقش ونگار اور محکم حل ہے۔ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ “ یہ وہ آب اعظم ہے جو شہوت سے ہوتا ہے “ کہ یہ لازم آسکے کہ کوئی منی بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ انہوں نے تو فرمایا ہے : منہ
فـــــ : تطفل رابع علیہ ۔
واما الثانی فلان الانتشاربنظراوفکر من دون ملاعبۃ ربمایورث الامذاء لاسیما اذا کان الرجل مذاء وھل لایمذی الاعزب ابدا اذلا مرأۃ یلاعبہامع انہاقالت کل فحل یمذی فاذا لم یفسد الضابط بالتخلف فی المذی لایفسد ایضافی المنی ۔
وثالثا وھو فــــ الطرازالمعلم والحل المحکم ان ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا لم تقل ھو الماء الاعظم الذی من الشہوۃ لیلزم ان لا یخرج منی الا بشھوۃ وانماقالت منہ
تو یہ اسے مستلزم نہیں کہ منی ہونے کو شہوت بھی لازم ہو اور کلام اسی میں ہے۔ دوسرے یہ کہ خود بھی صحیح نہیں ( کہ جب بھی شہوت ہو تو منی بھی ہو)اس لئے کہ مرد کو کبھی ملاعبت سے منی آتی ہے تویہ انزال مذی ہوجاتاہے اور غسل واجب نہیں کرتا۔ اور کبھی اسے پیشاب کے بعد شہوت کے ساتھ منی آتی ہے۔ جیسا کہ حضرت محقق سے نقل ہوا۔ تویہ امنا(منی آنا) ودی قرار پاتا ہے اور غسل نہیں ہوتا۔ اور دونوں ہی خلاف اجماع ہیں ( کیوں کہ شہوت کے ساتھ انزال اور امناقطعا موجب غسل ہے)
دوم اس لئے کہ بغیر ملاعبت کے نظر یا فکر سے بھی انتشار آلہ سے بعض اوقات مذی آتی ہے خصوصا جب مرد زیادہ مذی والا ہو۔ اور کیابیوی نہ رکھنے والے کو کبھی مذی نہیں آتی اس لئے کہ کوئی عورت نہیں جس سے وہ ملاعبت کرے باوجودیکہ انہوں نے فرمایا ہر نر کو مذی آتی ہے۔ تو جب مذی کے بارے میں تخلف سے ضابطہ فاسد نہیں ہوتا تو منی میں تخلف سے بھی فاسد نہ ہو گا۔
ثالث اور یہی نشان زدہ نقش ونگار اور محکم حل ہے۔ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ “ یہ وہ آب اعظم ہے جو شہوت سے ہوتا ہے “ کہ یہ لازم آسکے کہ کوئی منی بغیر شہوت کے نہیں نکلتی۔ انہوں نے تو فرمایا ہے : منہ
فـــــ : تطفل رابع علیہ ۔
الشھوۃ فانما یلزم ان لزم ان لکل منی دخلافی ایراث الشہوۃ وما یورث الشہوۃ لایلزم ان لایخرج الابھافقد یعتریہ عارض یزیلہ عن مکانہ بدون شہوۃ ولا شك ان تخلق المنی فی البدن ھو الذی یولد الشھوۃ لتوجہ الطبع الی دفع تلك الفضلۃ فالمنی وان خرج لعارض بغیر شھوۃ لایخرج من انہ الماء الذی یولد الشھوۃ لایبعد ان ویکون لك جزء منہ دخل فیما لان کلہ فضلہ ومن المعلوم انہ کلما ازدادالمنی تزدادالشھوۃ ۔
فقول ام المؤمنین لایمس مااراد المحقق ولکن لاغروفلکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ وابی الله الصحۃ کلیۃ الالکلامہ وکلام صاحب النبوۃ صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ اولی الفتوۃ ونسأل المولی سبحنہ وتعالی عافیتہ وعفوہ۔
الشھوۃ “ اس سے شہوت ہوتی ہے۔ اس سے اگر لازم آئے گا تو یہی لازم آئے گا کہ ہر منی کو شہوت پیدا کرنے میں کچھ دخل ہوتاہے۔ اور جوچیزشہوت کو پید ا کرنے والی ہوضروری نہیں کہ شہوت کے ساتھ ہی نکلے۔ ایسا بھی عارض درپیش ہوگا جو اسے اس کی جگہ سے بغیر شہوت کے ہٹادے۔ اور اس میں شك نہیں کہ بدن میں منی کاپیدا ہونا ہی شہوت کی تولید کرتاہے کیوں کہ طبیعت اس فضلہ کو دفع کرنے کی جانب متوجہ ہوتی ہے۔ تو منی اگرچہ کسی عارض کے باعث بلا شہوت نکلی ہو مگر اس سے باہر نہ ہوگی کہ یہ وہ پانی ہے جو شہوت پیدا کرتاہے۔ اور بعید نہیں کہ اس کے ہر جز کو شہوت میں کچھ دخل ہو اس لئے کہ ہر جز فضلہ ہی ہے۔ اور معلوم ہے کہ جب منی زیادہ ہوتی ہے شہوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تو ام المومنین کے ارشاد کو حضرت محقق کی مراد سے کوئی مس نہیں ۔ مگر تعجب کی بات نہیں ا س لئے کہ (عرب نے کہا ہے) ہر اسپ خوش رفتار ٹھوکر بھی کھاتا ہے اورہر شمشیر براں ناموافق بھی ہوجاتی ہے اور خدا کو اپنے کلام اور اپنے نبی کے کلام کے سوا کسی اور کلام کی بالکلیہ صحت منظور نہیں ۔ خدا ئے برتر کا درودوسلام ہو حضرت نبی اور ان کے جوانمردآل واصحاب پر۔ اور ہم مولا ئے پاك وبرتر سے اس کی عافیت وعفو کے طالب ہیں ۔
فقول ام المؤمنین لایمس مااراد المحقق ولکن لاغروفلکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ وابی الله الصحۃ کلیۃ الالکلامہ وکلام صاحب النبوۃ صلوات الله تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ اولی الفتوۃ ونسأل المولی سبحنہ وتعالی عافیتہ وعفوہ۔
الشھوۃ “ اس سے شہوت ہوتی ہے۔ اس سے اگر لازم آئے گا تو یہی لازم آئے گا کہ ہر منی کو شہوت پیدا کرنے میں کچھ دخل ہوتاہے۔ اور جوچیزشہوت کو پید ا کرنے والی ہوضروری نہیں کہ شہوت کے ساتھ ہی نکلے۔ ایسا بھی عارض درپیش ہوگا جو اسے اس کی جگہ سے بغیر شہوت کے ہٹادے۔ اور اس میں شك نہیں کہ بدن میں منی کاپیدا ہونا ہی شہوت کی تولید کرتاہے کیوں کہ طبیعت اس فضلہ کو دفع کرنے کی جانب متوجہ ہوتی ہے۔ تو منی اگرچہ کسی عارض کے باعث بلا شہوت نکلی ہو مگر اس سے باہر نہ ہوگی کہ یہ وہ پانی ہے جو شہوت پیدا کرتاہے۔ اور بعید نہیں کہ اس کے ہر جز کو شہوت میں کچھ دخل ہو اس لئے کہ ہر جز فضلہ ہی ہے۔ اور معلوم ہے کہ جب منی زیادہ ہوتی ہے شہوت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
تو ام المومنین کے ارشاد کو حضرت محقق کی مراد سے کوئی مس نہیں ۔ مگر تعجب کی بات نہیں ا س لئے کہ (عرب نے کہا ہے) ہر اسپ خوش رفتار ٹھوکر بھی کھاتا ہے اورہر شمشیر براں ناموافق بھی ہوجاتی ہے اور خدا کو اپنے کلام اور اپنے نبی کے کلام کے سوا کسی اور کلام کی بالکلیہ صحت منظور نہیں ۔ خدا ئے برتر کا درودوسلام ہو حضرت نبی اور ان کے جوانمردآل واصحاب پر۔ اور ہم مولا ئے پاك وبرتر سے اس کی عافیت وعفو کے طالب ہیں ۔
الثانی عشر المرأۃ فـــ ۱ کالرجل فی الاحتلام نص علیہ محمد کمافی مختصر الامام الحاکم الشہید فان احتلمت ولم تربللا لاغسل علیہا ھو المذھب کما فی البحروالدر وبہ یؤخذ قالہ شمس الائمۃ الحلوانی وھوالصحیح قالہ فی الخلاصۃ وعلیہ الفتوی قالہ فی معراج الدرایۃ والبحر والمجتبی والحلیۃ والہندیۃ وبہ افتی الفقیہ ابوجعفر واعتمدہ فقیہ النفس فی الخانیۃ فلا تعویل علی ماروی عن محمد انہا یجب علیہاالغسل احتیاطا وھذہ غیر روایۃ الاصول عنہ فان محمدانص فی الاصل ان المرأۃ اذا احتملت لایجب علیہا الغسل حتی تری مثل مایری الرجل کما فی الحلیۃ عن الذخیرۃ۔
بارھویں تنبیہ : احتلام کے معاملے میں عورت بھی مرد ہی کی طرح ہے۔ امام محمد نے اس کی تصریح فرمائی ہے جیسا کہ امام حاکم شہید کی مختصر میں ہے۔ تو اگرعورت کو احتلام ہواور تری نہ دیکھے تو اس پرغسل نہیں ۔ یہی مذہب ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق ودرمختار میں ہے۔ اور اسی کولیاجائے گا یہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا۔ یہی صحیح ہے۔ یہ خلاصہ میں فرمایا۔ اسی پر فتوی ہے۔ یہ معراج الدرایہ البحر الرائق مجتبی حلیہ اور ہندیہ میں کہا۔ اور اسی پر فقیہ ابو جعفر نے فتوی دیا۔ اسی پر فقیہ النفس نے خانیہ میں اعتماد فرمایا۔ تو اس پر اعتماد نہیں جو امام محمد سے ایك روایت ہے کہ اس عورت پر احتیاطا غسل واجب ہے۔ یہ روایت امام محمد سے روایت اصول کے علاوہ ہے۔ اس لئے کہ امام محمد نے مبسوط میں نص فرمایا ہے کہ عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب نہیں یہاں تك کہ اسی کے مثل دیکھے جو مرد دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : عورت کو اگر احتلام یاد ہو اور جاگ کر تری نہ پائے تو مرد کی طرح اس پر بھی غسل نہیں اور اسی پر فتوی اور بعض مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ اگر خواب میں انزال ہونے کی لذت یاد ہو تو غسل واجب ہے بعض فرماتے ہیں کہ اس وقت چت لیٹی ہو تو غسل واجب ہے لہذا ان صورتوں میں بہتر یہ ہے کہ نہالے ۔
بارھویں تنبیہ : احتلام کے معاملے میں عورت بھی مرد ہی کی طرح ہے۔ امام محمد نے اس کی تصریح فرمائی ہے جیسا کہ امام حاکم شہید کی مختصر میں ہے۔ تو اگرعورت کو احتلام ہواور تری نہ دیکھے تو اس پرغسل نہیں ۔ یہی مذہب ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق ودرمختار میں ہے۔ اور اسی کولیاجائے گا یہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا۔ یہی صحیح ہے۔ یہ خلاصہ میں فرمایا۔ اسی پر فتوی ہے۔ یہ معراج الدرایہ البحر الرائق مجتبی حلیہ اور ہندیہ میں کہا۔ اور اسی پر فقیہ ابو جعفر نے فتوی دیا۔ اسی پر فقیہ النفس نے خانیہ میں اعتماد فرمایا۔ تو اس پر اعتماد نہیں جو امام محمد سے ایك روایت ہے کہ اس عورت پر احتیاطا غسل واجب ہے۔ یہ روایت امام محمد سے روایت اصول کے علاوہ ہے۔ اس لئے کہ امام محمد نے مبسوط میں نص فرمایا ہے کہ عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب نہیں یہاں تك کہ اسی کے مثل دیکھے جو مرد دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : عورت کو اگر احتلام یاد ہو اور جاگ کر تری نہ پائے تو مرد کی طرح اس پر بھی غسل نہیں اور اسی پر فتوی اور بعض مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ اگر خواب میں انزال ہونے کی لذت یاد ہو تو غسل واجب ہے بعض فرماتے ہیں کہ اس وقت چت لیٹی ہو تو غسل واجب ہے لہذا ان صورتوں میں بہتر یہ ہے کہ نہالے ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اقول : فقول فـــ۱ المنیۃ قال محمد لیس کما ینبغی وحمل الامام برھان الدین فی تجنیسہ ھذہ الروایۃ علی ما اذا وجدت لذۃ الانزال ثم اختارھا معللا بان ماء ھا لایکون وافقا کماء الرجل وانما ینزل من صدرھا اھ واعتمدہ البزازی فی الوجیز فجزم بالوجوب قال وقیل لا یلزمھا کالرجل اھ
اقول : واغرب فیفــــ۲السراجیۃ فقال علیھا الغسل افتی ابو بکر بن الفضل البخاری وعن محمد انہ لایجب اھ فجعل الظاھرنادرا والنادر ظاھرا و حکی روایۃ محمدکقول الکل وجعل قول الکل روایۃ عن محمد ثم ان المحقق ایضا
اقول : تو(روایت نوادر سے متعلق ۱۲م) منیہ کا قول : قال محمد(امام محمد نے فرمایا) مناسب نہیں ۔ اور امام برہان الدین نے اپنی کتاب تجنیس میں اس روایت کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب عورت لذت انزال محسوس کرے۔ پھر انہوں نے اسی روایت کو اختیار کیا یہ علت بیان کرتے ہوئے کہ عورت کا پانی مرد کے پانی کی طرح دفق اور جست والا نہیں ہوتاوہ اس کے سینے سے اترتا ہے اھ۔ اور اس پر بزازی نے وجیز میں اعتماد کرکے وجوب غسل پر جزم کیاپھر لکھاکہ “ اورکہاگیااس پر غسل لازم نہیں جیسے مردپر لازم نہیں ۔ اھ۔
اقول : اور سراجیہ میں توعجیب روش اختیار کی۔ اس میں لکھا : اس عورت پر غسل ہے۔ اسی پر ابو بکر بن الفضل بخاری نے فتوی دیا۔ اور امام محمد سے روایت ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ۔ اھ۔ یوں لکھ کر ظاہرالرویہ کو نادر اور نادر کو ظاہر بنا دیا اور امام محمد کی روایت کی حکایت اس طرح کی جیسے یہ تینوں ائمہ کا قول ہو اور جو سب کا قول تھا اسے امام محمد سے ایك روایت
فـــ۱ : تطفل علی المنیۃ۔ فـــ۲ : تطفل علی السراجیہ۔
اقول : واغرب فیفــــ۲السراجیۃ فقال علیھا الغسل افتی ابو بکر بن الفضل البخاری وعن محمد انہ لایجب اھ فجعل الظاھرنادرا والنادر ظاھرا و حکی روایۃ محمدکقول الکل وجعل قول الکل روایۃ عن محمد ثم ان المحقق ایضا
اقول : تو(روایت نوادر سے متعلق ۱۲م) منیہ کا قول : قال محمد(امام محمد نے فرمایا) مناسب نہیں ۔ اور امام برہان الدین نے اپنی کتاب تجنیس میں اس روایت کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب عورت لذت انزال محسوس کرے۔ پھر انہوں نے اسی روایت کو اختیار کیا یہ علت بیان کرتے ہوئے کہ عورت کا پانی مرد کے پانی کی طرح دفق اور جست والا نہیں ہوتاوہ اس کے سینے سے اترتا ہے اھ۔ اور اس پر بزازی نے وجیز میں اعتماد کرکے وجوب غسل پر جزم کیاپھر لکھاکہ “ اورکہاگیااس پر غسل لازم نہیں جیسے مردپر لازم نہیں ۔ اھ۔
اقول : اور سراجیہ میں توعجیب روش اختیار کی۔ اس میں لکھا : اس عورت پر غسل ہے۔ اسی پر ابو بکر بن الفضل بخاری نے فتوی دیا۔ اور امام محمد سے روایت ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ۔ اھ۔ یوں لکھ کر ظاہرالرویہ کو نادر اور نادر کو ظاہر بنا دیا اور امام محمد کی روایت کی حکایت اس طرح کی جیسے یہ تینوں ائمہ کا قول ہو اور جو سب کا قول تھا اسے امام محمد سے ایك روایت
فـــ۱ : تطفل علی المنیۃ۔ فـــ۲ : تطفل علی السراجیہ۔
حوالہ / References
التجنیس والمزید1کتاب الطہارات1مسئلہ ۱۰۲ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۷۷
الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الھندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثانی1نورانی کتب خانہ پشاور۴ / ۱۱
فتاوٰی سراجیہ کتاب الطہارۃ1باب الغسل1نولکشور لکھنؤ ص۳
الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الھندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثانی1نورانی کتب خانہ پشاور۴ / ۱۱
فتاوٰی سراجیہ کتاب الطہارۃ1باب الغسل1نولکشور لکھنؤ ص۳
استوجہہ فی الفتح وللامام الزیلعی فی التبیین ایضا میل الی اختیارھا حیث قدمہا جازما بھا واخردلیلہا وعلله اکالتجنیس بقولہ لان ماء ھا ینزل من صدرھا الی رحمہا بخلاف الرجل حیث یشترط الظہور الی ظاھر الفرج فی حقہ حقیقۃ اھ فھذا ماوجدت الان فی تشیید ھذہ الروایۃ۔
اما التعلیل فاقول : حاصلہ ان منی المرأۃ وان کان لہ دفق لشہادۃ قولہ تعالی “
مآء دافق(۶) یخر ج من بین الصلب و الترآىب(۷) “ لکن لاکمنی الرجل وذلك لانہ ینزل من صلبہ الی انثییہ الی ذکرہ وھو طریق ذوعوج فلولم یندفع بقوۃ شدیدۃ لبقی فی بعض الطریق بخلاف منیہافانہ ینزل من ترائبہاالی رحمہا وھو طریق مستقیم فکان یکفیہ
قراردے دیا۔ پھر حـضرت محقق نے بھی فتح القدیر میں ا س کوباوجہ قراردیاہے۔ اور تبیین میں امام زیلعی کا بھی اس کی ترجیح کی جانب میلان ہے اس طرح کہ جزم فرماتے ہوئے اسے پہلے ذکر کیاہے اور اس کی دلیل بعد میں ذکرکی۔ اور تجنیس کی طرح ان الفاظ سے اس کی تعلیل فرمائی ہے : اس لئے کہ اس کا پانی سینے سے رحم کی جانب اترتاہے اور مرد کا یہ حال نہیں کیونکہ اس کے حق میں بیرون شرم گاہ حقیقۃ ظاہر ہونا شرط ہے ۔ اھ۔ یہ وہ ہے جو میں نے اس وقت اس روایت کی تائید میں پایا۔
لیکن تعلیل تو میں کہتا ہوں اس کاحاصل یہ ہے کہ عورت کی منی میں اگر چہ کچھ دفق(جست) ہوتا ہے جس کی شہادت ارشاد باری تعالی : “ اچھلتاپانی جو پشت اور سینے کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے “ ہے لیکن وہ مرد کی منی کی طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ اس کی پشت سے انثیین پھر ذکر کی جانب اترتی ہے۔ یہ ایك پیچیدہ راستہ ہے۔ اس لئے وہ اگر شدید قوت کے ساتھ دفع نہ ہوتوراستے ہی میں رہ جائے بخلاف عورت کی منی کے۔ اس لئے کہ وہ اس کے سینے کی پسلیوں سے رحم کی جانب اترتی ہے یہ سیدھاراستہ ہے تو اس کے لئے
اما التعلیل فاقول : حاصلہ ان منی المرأۃ وان کان لہ دفق لشہادۃ قولہ تعالی “
مآء دافق(۶) یخر ج من بین الصلب و الترآىب(۷) “ لکن لاکمنی الرجل وذلك لانہ ینزل من صلبہ الی انثییہ الی ذکرہ وھو طریق ذوعوج فلولم یندفع بقوۃ شدیدۃ لبقی فی بعض الطریق بخلاف منیہافانہ ینزل من ترائبہاالی رحمہا وھو طریق مستقیم فکان یکفیہ
قراردے دیا۔ پھر حـضرت محقق نے بھی فتح القدیر میں ا س کوباوجہ قراردیاہے۔ اور تبیین میں امام زیلعی کا بھی اس کی ترجیح کی جانب میلان ہے اس طرح کہ جزم فرماتے ہوئے اسے پہلے ذکر کیاہے اور اس کی دلیل بعد میں ذکرکی۔ اور تجنیس کی طرح ان الفاظ سے اس کی تعلیل فرمائی ہے : اس لئے کہ اس کا پانی سینے سے رحم کی جانب اترتاہے اور مرد کا یہ حال نہیں کیونکہ اس کے حق میں بیرون شرم گاہ حقیقۃ ظاہر ہونا شرط ہے ۔ اھ۔ یہ وہ ہے جو میں نے اس وقت اس روایت کی تائید میں پایا۔
لیکن تعلیل تو میں کہتا ہوں اس کاحاصل یہ ہے کہ عورت کی منی میں اگر چہ کچھ دفق(جست) ہوتا ہے جس کی شہادت ارشاد باری تعالی : “ اچھلتاپانی جو پشت اور سینے کی پسلیوں کے درمیان سے نکلتا ہے “ ہے لیکن وہ مرد کی منی کی طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ اس کی پشت سے انثیین پھر ذکر کی جانب اترتی ہے۔ یہ ایك پیچیدہ راستہ ہے۔ اس لئے وہ اگر شدید قوت کے ساتھ دفع نہ ہوتوراستے ہی میں رہ جائے بخلاف عورت کی منی کے۔ اس لئے کہ وہ اس کے سینے کی پسلیوں سے رحم کی جانب اترتی ہے یہ سیدھاراستہ ہے تو اس کے لئے
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ1دارالکتب العلمیہ۱ / ۶۸
القرآن ۸۶ / ۷
القرآن ۸۶ / ۷
السیلان غیران نزولہ بحرارۃ فلزمہ نوع دفق ولاوجہ لانکارہ فانہ مشہودمعلوم۔
ولکن العجب من المدقق العلائی حیث قال لم یذکر الدفق لیشمل منی المرأۃ لان الدفق فیہ غیر ظاھرامااسنادہ الیہ فی الایۃ فیحتمل التغلیب فالمستدل بہا کالقہستانی تبعا لاخی چلپی غیر مصیب تامل اھ
اقول : فــــالنصوص تحمل علی ظواھرھامالم یصرف عنہادلیل فاحتمال التغلیب محتاج الی اثبات عدم الدفق فی منیہا واذلا دلیل فلا سبیل الا الاحتمال فلا اخذ علی الاستدلال۔
بہناکافی ہے مگر یہ ہے کہ اس کااترناکچھ حرارت کے ساتھ ہوتاہے تو ایك طرح کا دفق اسے بھی لازم ہے اور اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں اس لئے کہ یہ معلوم ومشاہد ہے۔
لیکن مدقق علائی پر تعجب ہے کہ وہ یوں لکھتے ہیں : دفق ذکر نہ کیاتاکہ عورت کی منی کو بھی شامل رہے اس لئے کہ اس میں دفق غیر ظاہر ہے۔ رہایہ کہ اس کی جانب بھی آیت میں دفق کی نسبت موجود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ نسبت بطور تغلیب ہو(کہ دراصل صرف مرد کی منی میں دفق ہوتاہے اسی لحاظ سے اس پانی کو مطلقا دفق والا فرمادیا گیام)تو اثبات دفق میں اس آیت سے استدلال کرنے والا درستی پر نہیں ۔ جیسے قہستانی نے اخی چلپی کی تبعیت میں اس سے استدلال کیاہے۔ تامل کرو اھ۔ (درمختار)
اقول : نصوص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوں گے جب تك کہ کوئی دلیل ظاہرسے پھیرنے والی موجود نہ ہو۔ تو تغلیب کا احتمال اس کا محتاج ہےکہ پہلے عورت کی منی میں عدم دفق ثابت کیا جائے۔ اور جب ا س پر کوئی دلیل نہیں تو احتمال کی کوئی سبیل نہیں لہذا استدلال پر کوئی گرفت نہیں ہوسکتی۔
فــــ : تطفل علی الدر۔
ولکن العجب من المدقق العلائی حیث قال لم یذکر الدفق لیشمل منی المرأۃ لان الدفق فیہ غیر ظاھرامااسنادہ الیہ فی الایۃ فیحتمل التغلیب فالمستدل بہا کالقہستانی تبعا لاخی چلپی غیر مصیب تامل اھ
اقول : فــــالنصوص تحمل علی ظواھرھامالم یصرف عنہادلیل فاحتمال التغلیب محتاج الی اثبات عدم الدفق فی منیہا واذلا دلیل فلا سبیل الا الاحتمال فلا اخذ علی الاستدلال۔
بہناکافی ہے مگر یہ ہے کہ اس کااترناکچھ حرارت کے ساتھ ہوتاہے تو ایك طرح کا دفق اسے بھی لازم ہے اور اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیں اس لئے کہ یہ معلوم ومشاہد ہے۔
لیکن مدقق علائی پر تعجب ہے کہ وہ یوں لکھتے ہیں : دفق ذکر نہ کیاتاکہ عورت کی منی کو بھی شامل رہے اس لئے کہ اس میں دفق غیر ظاہر ہے۔ رہایہ کہ اس کی جانب بھی آیت میں دفق کی نسبت موجود ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے یہ نسبت بطور تغلیب ہو(کہ دراصل صرف مرد کی منی میں دفق ہوتاہے اسی لحاظ سے اس پانی کو مطلقا دفق والا فرمادیا گیام)تو اثبات دفق میں اس آیت سے استدلال کرنے والا درستی پر نہیں ۔ جیسے قہستانی نے اخی چلپی کی تبعیت میں اس سے استدلال کیاہے۔ تامل کرو اھ۔ (درمختار)
اقول : نصوص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوں گے جب تك کہ کوئی دلیل ظاہرسے پھیرنے والی موجود نہ ہو۔ تو تغلیب کا احتمال اس کا محتاج ہےکہ پہلے عورت کی منی میں عدم دفق ثابت کیا جائے۔ اور جب ا س پر کوئی دلیل نہیں تو احتمال کی کوئی سبیل نہیں لہذا استدلال پر کوئی گرفت نہیں ہوسکتی۔
فــــ : تطفل علی الدر۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۰
قال العلامۃ ط الدلیل اذا طرقہ الاحتمال سقط بہ الاستدلال اھ
اقول : الاحتمال فــــ۱ اذا لم یدل دلیل علیہ لم ینظرالیہ وکان المدقق رحمہ الله تعالی الی ھذااشار بقولہ تامل۔
وقال العلامۃ ش لعلہ یشیر الی امکان الجواب لان کون الدفق منہاغیرظاھریشعر بان فیہ دفقا وان لم یکن کالرجل افادہ ابن عبدالرزاق اھ
اقول : لو انفــــ۲المدقق اراد ھذالناقض اول کلامہ اخرہ بل لم فــــ۳ یستقم اولہ لانہ بنی شمول الکلام لمنیہا علی ترك ذکر الدفق ولو کان فیہ دفق ولو خفیالشملہ وان ذکر بل مرادہ غیر ظاھر ای غیر ثابت وعلامہ طحطاوی فرماتے ہیں : دلیل میں جب احتمال کا گزر ہو جائے تو اس سے استدلال ساقط ہوجاتا ہے۔ اھ۔
اقول : جب احتمال پر کسی دلیل کی دلالت نہ ہو تو وہ نظر اندازہوجائے گا۔ اورشاید حضرت مدقق صاحب درمختار رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنے قول “ تامل کرو “ سے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
اور علامہ شامی فرماتے ہیں : شاید وہ اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اس کلام کا جواب دیا جاسکتاہے۔ اس لئے کہ عورت کی منی میں دفق کا غیرظاہرہونا پتہ دیتاہے کہ اس میں کچھ دفق ہوتاہے اگر چہ مرد کی طرح نہ ہو۔ اس کا ابن عبدالرزاق نے افادہ کیا۔ اھ۔
اقول : اگر حضرت مدقق کی مرادیہ ہوتو ان کے اول و آخر کلام میں تنا قض ٹھہرے گا بلکہ اول کلام درست ہی نہ ہوسکے گا اس لئے کہ عورت کی منی شامل کلام ہونے کی بنیادانہوں نے اس پر رکھی ہے کہ دفق کاذکر ترك کر دیا گیا ہے اور اگر اس میں کچھ دفق ہوتا اگرچہ خفی ہی ہو تو دفق ذکرکرنے سے بھی اسے شامل رہتا۔ بلکہ لفظ
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامہ ط۔
فـــــ۲ : معروضۃ علی العلامتین ش وابن عبدالرزاق۔
فـــــ۳ : معروضۃ اخری علیھما ۔
اقول : الاحتمال فــــ۱ اذا لم یدل دلیل علیہ لم ینظرالیہ وکان المدقق رحمہ الله تعالی الی ھذااشار بقولہ تامل۔
وقال العلامۃ ش لعلہ یشیر الی امکان الجواب لان کون الدفق منہاغیرظاھریشعر بان فیہ دفقا وان لم یکن کالرجل افادہ ابن عبدالرزاق اھ
اقول : لو انفــــ۲المدقق اراد ھذالناقض اول کلامہ اخرہ بل لم فــــ۳ یستقم اولہ لانہ بنی شمول الکلام لمنیہا علی ترك ذکر الدفق ولو کان فیہ دفق ولو خفیالشملہ وان ذکر بل مرادہ غیر ظاھر ای غیر ثابت وعلامہ طحطاوی فرماتے ہیں : دلیل میں جب احتمال کا گزر ہو جائے تو اس سے استدلال ساقط ہوجاتا ہے۔ اھ۔
اقول : جب احتمال پر کسی دلیل کی دلالت نہ ہو تو وہ نظر اندازہوجائے گا۔ اورشاید حضرت مدقق صاحب درمختار رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنے قول “ تامل کرو “ سے اسی جانب اشارہ کیا ہے۔
اور علامہ شامی فرماتے ہیں : شاید وہ اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اس کلام کا جواب دیا جاسکتاہے۔ اس لئے کہ عورت کی منی میں دفق کا غیرظاہرہونا پتہ دیتاہے کہ اس میں کچھ دفق ہوتاہے اگر چہ مرد کی طرح نہ ہو۔ اس کا ابن عبدالرزاق نے افادہ کیا۔ اھ۔
اقول : اگر حضرت مدقق کی مرادیہ ہوتو ان کے اول و آخر کلام میں تنا قض ٹھہرے گا بلکہ اول کلام درست ہی نہ ہوسکے گا اس لئے کہ عورت کی منی شامل کلام ہونے کی بنیادانہوں نے اس پر رکھی ہے کہ دفق کاذکر ترك کر دیا گیا ہے اور اگر اس میں کچھ دفق ہوتا اگرچہ خفی ہی ہو تو دفق ذکرکرنے سے بھی اسے شامل رہتا۔ بلکہ لفظ
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامہ ط۔
فـــــ۲ : معروضۃ علی العلامتین ش وابن عبدالرزاق۔
فـــــ۳ : معروضۃ اخری علیھما ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ ، المکتبۃ العربیہ کراچی ، ۱ / ۹۱
ردالمحتار1کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۸
ردالمحتار1کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۰۸
لا معلوم۔
رجعنا الی تقریر دلیل التجنیس۔ اقول: فاذاکان الامر کما وصفنا لم یجب فی انزالہا خروج المنی من الفرج الخارج الی الفخذ او الثوب غالباکما فی الرجل فعسی ان یخرج من الفرج الداخل ویبقی فی الفرج الخارج والضعف الدفق یکون قلیلا ولرقتہ یختلط برطوبۃ الفرج فلا یحس بہ فاذا کان الامر علی ھذا الحد من الخفاء اقمناوجدانھا لذۃ الانزال مقام الخروج کما اقام الشرع ایلاج الحشفۃ مقامہ لعین ذلك الوجہ اعنی الخفاء کما بینہ فی الھدایۃ و شروحہا کیف ولیس المراد بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی حدیث الشیخین عن انس رضی الله عالی عنہ لما سألتہ ام سلیم رضی الله تعالی عنہا یارسول الله ان الله لایستحیی من الحق فھل علی المرأۃ من غسل اذا احتلمت قال نعم اذارأت الماء ۔
غیر ظاہر سے ان کی مرادغیرثابت و غیر معلوم ہے۔
اب پھر دلیل تجنیس کی تقریر کی طرف لوٹے اقول جب حقیقت امروہ ہے جو ہم نے بیان کی تو عورت کے انزال میں منی کا فرج خارج سے ران یا کپڑے کی جانب نکلنا عموما ضروری نہیں جیسے مرد میں ہے۔ ہوسکتاہے فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں رہ جائے اور ضعف دفق کی وجہ سے قلیل ہو اور رقیق ہونے کی وجہ سے رطوبت فرج سے مخلوط ہوجائے تو محسوس ہی نہ ہوسکے۔ جب اس حد تك خفاوپوشیدگی کا معاملہ ہے تو ہم نے لذت انزال محسوس کرنے کو خروج منی کے قائم مقام کردیاجیسے شریعت نے ادخال حشفہ کو بعینہ اسی وجہ(خفا کی وجہ)سے اس کے قائم مقام کیا ہے جیسا کہ اسے ہدایہ اور اس کی شرحوں میں بیان کیا ہے۔ خصوصا اس لئے بھی کہ درج ذیل حدیث میں رؤیت سے رؤیت عینی نہیں بلکہ رؤیت علمی مراد ہے۔ شیخین نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سوال کیا یا رسول الله ! خدا حق سے حیا نہیں فرماتا کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہو تو سرکار نے جواب دیا : ہاں پانی دیکھے۔
رجعنا الی تقریر دلیل التجنیس۔ اقول: فاذاکان الامر کما وصفنا لم یجب فی انزالہا خروج المنی من الفرج الخارج الی الفخذ او الثوب غالباکما فی الرجل فعسی ان یخرج من الفرج الداخل ویبقی فی الفرج الخارج والضعف الدفق یکون قلیلا ولرقتہ یختلط برطوبۃ الفرج فلا یحس بہ فاذا کان الامر علی ھذا الحد من الخفاء اقمناوجدانھا لذۃ الانزال مقام الخروج کما اقام الشرع ایلاج الحشفۃ مقامہ لعین ذلك الوجہ اعنی الخفاء کما بینہ فی الھدایۃ و شروحہا کیف ولیس المراد بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی حدیث الشیخین عن انس رضی الله عالی عنہ لما سألتہ ام سلیم رضی الله تعالی عنہا یارسول الله ان الله لایستحیی من الحق فھل علی المرأۃ من غسل اذا احتلمت قال نعم اذارأت الماء ۔
غیر ظاہر سے ان کی مرادغیرثابت و غیر معلوم ہے۔
اب پھر دلیل تجنیس کی تقریر کی طرف لوٹے اقول جب حقیقت امروہ ہے جو ہم نے بیان کی تو عورت کے انزال میں منی کا فرج خارج سے ران یا کپڑے کی جانب نکلنا عموما ضروری نہیں جیسے مرد میں ہے۔ ہوسکتاہے فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں رہ جائے اور ضعف دفق کی وجہ سے قلیل ہو اور رقیق ہونے کی وجہ سے رطوبت فرج سے مخلوط ہوجائے تو محسوس ہی نہ ہوسکے۔ جب اس حد تك خفاوپوشیدگی کا معاملہ ہے تو ہم نے لذت انزال محسوس کرنے کو خروج منی کے قائم مقام کردیاجیسے شریعت نے ادخال حشفہ کو بعینہ اسی وجہ(خفا کی وجہ)سے اس کے قائم مقام کیا ہے جیسا کہ اسے ہدایہ اور اس کی شرحوں میں بیان کیا ہے۔ خصوصا اس لئے بھی کہ درج ذیل حدیث میں رؤیت سے رؤیت عینی نہیں بلکہ رؤیت علمی مراد ہے۔ شیخین نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سوال کیا یا رسول الله ! خدا حق سے حیا نہیں فرماتا کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہو تو سرکار نے جواب دیا : ہاں پانی دیکھے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الغسل باب اذا احتلمت المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۲ ، صحیح مسلم1 کتاب الحیض باب وجوب الغسل علی المرأۃ1قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۶
و رؤیۃ البصر قطعا فقد تکون عمیاء بل الرؤیۃ العلمیۃ والظن الغالب علم فی الفقہ والخروج ھو المظنون فی الانزال وقد علم بما قررنا ان عدم الاحساس بہ بصرا ولا لمسا لایعارض فی المرأۃ ھذا الظن فادیر الحکم علیہ وکان وجدانھا لذۃالانزال کرؤیتہا ایاہ خارجا فنحن لانقول ان الغسل یجب علیہا وان لم ترماء حتی یرد علینا الحدیث بل نقول اذا وجدت لذۃ الانزال فقد رأت الماء علی الوجہ الذی بینا ولا تحتاج الی ان تحس المنی خارج فرجہا ببصراولمس ھذا تقریرالدلیل بفیض الملك الجلیل۔ وھذا معنی ماقالہ المحقق فی الفتح والحق ان الاتفاق علی تعلق وجوب الغسل بوجود المنی فی احتلامھا والقائل بوجوبہ فی ھذہ الخلافیۃ انما یوجبہ بناء علی وجودہ وان لم ترہ یدل علی ذلك تعلیلہ فی التجنیس احتلمت و
یہاں دیکھنے سے آنکھ کادیکھنا قطعا مراد نہیں اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ عورت نابیناہو بلکہ یقین و علم مراد ہے۔ فقہ میں ظن غالب بھی علم ویقین ہے۔ اور انزال میں ظن غالب خروج ہی کا ہے۔ اور ہماری تقریر سابق سے یہ بھی معلوم ہواکہ دیکھنے اور چھونے سے اس کا احساس نہ ہونا عورت کے سلسلے میں اس ظن کے معارض نہیں ۔ اس لئے حکم کا مداراسی پر رکھا گیا۔ اور عورت کا لذت انزال محسوس کرنا ہی گویا منی کونکلتے ہوئے دیکھنا ہے۔ تو ہم اس کے قائل نہیں کہ عورت پر غسل واجب ہے اگرچہ وہ پانی نہ دیکھے کہ حدیث مذکور سے ہم پر اعتراض وارد ہو بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے لذت انزال محسوس کی تو اس کا پانی دیکھنا متحقق ہوگیا۔ اسی طور پر جو ہم نے بیان کیا۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ وہ فرج کے باہر دیکھ کر یا چھو کر منی محسوس کرے۔ یہ بفیض رب جلیل اس دلیل کی تقریر ہوئی۔ اور یہی فتح القدیر میں حضرت محقق کے درج ذیل کلام کا مقصود ہے وہ فرماتے ہیں : حق یہ ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے احتلام میں وجوب غسل کا تعلق منی کے پائے جانے ہی سے ہے۔ اور اس اختلافی روایت میں جو لوگ وجوب غسل کے قائل ہیں وہ اسی بناء پر غسل واجب کہتے ہیں کہ منی پائی جا چکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں ۔ اس کی دلیل تجنیس کی یہ تعلیل ہے :
یہاں دیکھنے سے آنکھ کادیکھنا قطعا مراد نہیں اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ عورت نابیناہو بلکہ یقین و علم مراد ہے۔ فقہ میں ظن غالب بھی علم ویقین ہے۔ اور انزال میں ظن غالب خروج ہی کا ہے۔ اور ہماری تقریر سابق سے یہ بھی معلوم ہواکہ دیکھنے اور چھونے سے اس کا احساس نہ ہونا عورت کے سلسلے میں اس ظن کے معارض نہیں ۔ اس لئے حکم کا مداراسی پر رکھا گیا۔ اور عورت کا لذت انزال محسوس کرنا ہی گویا منی کونکلتے ہوئے دیکھنا ہے۔ تو ہم اس کے قائل نہیں کہ عورت پر غسل واجب ہے اگرچہ وہ پانی نہ دیکھے کہ حدیث مذکور سے ہم پر اعتراض وارد ہو بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اس نے لذت انزال محسوس کی تو اس کا پانی دیکھنا متحقق ہوگیا۔ اسی طور پر جو ہم نے بیان کیا۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ وہ فرج کے باہر دیکھ کر یا چھو کر منی محسوس کرے۔ یہ بفیض رب جلیل اس دلیل کی تقریر ہوئی۔ اور یہی فتح القدیر میں حضرت محقق کے درج ذیل کلام کا مقصود ہے وہ فرماتے ہیں : حق یہ ہے کہ اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے احتلام میں وجوب غسل کا تعلق منی کے پائے جانے ہی سے ہے۔ اور اس اختلافی روایت میں جو لوگ وجوب غسل کے قائل ہیں وہ اسی بناء پر غسل واجب کہتے ہیں کہ منی پائی جا چکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں ۔ اس کی دلیل تجنیس کی یہ تعلیل ہے :
لم یخرج منہا الماء ان وجدت شھوۃ الانزال کان علیہا الغسل والا لالان ماء ھا لایکون دافقا الی اخر مامر قال فھذا التعلیل یفھمك ان المرام بعدم الخروج فی قولہ ولم یخرج منہا لم ترہ خرج فعلی ھذا الاوجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ والاحتلام یصدق برؤیتھا صورۃ الجماع فی نومھا وھو یصدق بصورتی وجود لذۃ الانزال وعدمہ فلذا لما اطلقت ام سلیم السؤال عن احتلام المرأۃ قید صلی الله تعالی علیہ وسلم جوابہا باحدی الصورتین فقال اذا رأت الماء ومعلوم ان المراد بالرؤیۃ العلم مطلقا فانہا لوتیقنت الانزال بان استیقظت فی فور الاحتلام فاحست بیدھا البلل ثم نامت فما استیقظت حتی جف فلم تربعینھا شیا لایسع القول بان لاغسل علیہا مع انہ لارؤیۃ بصر بل رؤیۃ علم ورأی یستعمل حقیقۃ فی معنی
“ عورت کو احتلام ہوا اور اس سے پانی نہ نکلا اگر اس نے شہوت انزال محسوس کی ہے تو اس پر غسل واجب ہے ورنہ نہیں ۔ اس لئے کہ اس کا پانی مردکی طرح دفق والا نہیں ہوتا وہ تو اس کے سینے سے اترتا ہے “ ۔ تو یہ تعلیل بتا رہی ہے کہ ان کے قول “ اس سے پانی نہ نکلا “ کا مطلب یہ ہے کہ اس نے “ نکلتے دیکھا نہیں “ ۔ اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو۔ اوراحتلام کا معنی اس سے صادق ہوجاتاہے کہ عورت اپنے خواب میں جماع کی صورت دیکھے۔ اور یہ لذت انزال پانے نہ پانے دونوں ہی صورتوں میں صادق ہے۔ اسی لئے حضرت ام سلیم نے احتلام زن سے متعلق جب سوال مطلق رکھاتو حضور نے اپنے جواب کو ایك صورت سے مقید کر کے فرمایا : ہاں جب پانی دیکھے۔ اور معلوم ہے کہ دیکھنے سے مطلقا علم مراد ہے۔ اس لئے کہ اگر اسے انزال کا یقین ہوگیا۔ مثلا وہ احتلام کے فورا بعد بیدار ہوگئی اور ہاتھ سے اس نے تری محسوس کرلی پھر سو گئی بیدار اس وقت ہوئی جب تری خشك ہو چکی تھی اس طرح اپنی آنکھ سے اس نے کچھ بھی نہ دیکھا۔ تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر غسل واجب نہیں ۔ باوجودیکہ یہ آنکھ کا دیکھنا نہیں بلکہ صرف علم ویقین ہے۔ اور لفظ رأی باتفاق اہل لغت علم کے معنی میں حقیقۃ
“ عورت کو احتلام ہوا اور اس سے پانی نہ نکلا اگر اس نے شہوت انزال محسوس کی ہے تو اس پر غسل واجب ہے ورنہ نہیں ۔ اس لئے کہ اس کا پانی مردکی طرح دفق والا نہیں ہوتا وہ تو اس کے سینے سے اترتا ہے “ ۔ تو یہ تعلیل بتا رہی ہے کہ ان کے قول “ اس سے پانی نہ نکلا “ کا مطلب یہ ہے کہ اس نے “ نکلتے دیکھا نہیں “ ۔ اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو۔ اوراحتلام کا معنی اس سے صادق ہوجاتاہے کہ عورت اپنے خواب میں جماع کی صورت دیکھے۔ اور یہ لذت انزال پانے نہ پانے دونوں ہی صورتوں میں صادق ہے۔ اسی لئے حضرت ام سلیم نے احتلام زن سے متعلق جب سوال مطلق رکھاتو حضور نے اپنے جواب کو ایك صورت سے مقید کر کے فرمایا : ہاں جب پانی دیکھے۔ اور معلوم ہے کہ دیکھنے سے مطلقا علم مراد ہے۔ اس لئے کہ اگر اسے انزال کا یقین ہوگیا۔ مثلا وہ احتلام کے فورا بعد بیدار ہوگئی اور ہاتھ سے اس نے تری محسوس کرلی پھر سو گئی بیدار اس وقت ہوئی جب تری خشك ہو چکی تھی اس طرح اپنی آنکھ سے اس نے کچھ بھی نہ دیکھا۔ تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر غسل واجب نہیں ۔ باوجودیکہ یہ آنکھ کا دیکھنا نہیں بلکہ صرف علم ویقین ہے۔ اور لفظ رأی باتفاق اہل لغت علم کے معنی میں حقیقۃ
حوالہ / References
فتح القدیرکتاب الطہارات فصل فی الغسل1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۵
علم باتفاق اللغۃ قال (رأیت الله اکبر کل شیئ) اھ وبما قررنا الدلیل بفیض فتح القدیر عز جلالہ ظھر ان الرادین علی کلام المحقق ھذا وھم العلماء الجلۃ تلمیذہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ والمحقق ابرھیم الحلبی فی الغنیۃ والعلامۃ السید الشامی فی المنحۃ اکثرھم لم یمنعوا النظر فی کلامہ رحمہ الله تعالی وایاھم ورحمنا بہم۔
اما الشامی فظن ان المحقق یرید بدعوی الاتفاق التوفیق بین الروایتین بان مراد الظاھرۃ عدم الوجوب اذالم یوجد الانزال و مرادالنادرۃ الوجوب اذا وجد ولم ترہ المرأۃ بعینہافاخذ علیہ بما ھوعنہ بریئ اذیقول “ یفھم من کلام الفتح ان مرادہ انھم اتفقوا علی انہ اذاوجد المنی فقد وجب الغسل ومحمد قال بوجوبہ بناء علی وجود المنی وان لم ترہ فلم
استعمال ہوتاہے۔ کسی نے کہا : رأیت الله اکبر کل شئی میں نے خدا کو ہر شے سے بڑا دیکھا (یعنی جانا اوریقین کیا) اھ۔ ہم نے بفیض فتح القدیر عز جلالہ جو تقریر دلیل رقم کی ہے اس سے واضح ہے کہ حضرت محقق کے اس کلام پر رد کرنے والے اکثر حضرات نے ان کے کلام میں اچھی طرح غورنہ کیا۔ رد کرنے والے یہ جلیل القدر علماء ہیں (۱) صاحب فتح کے تلمیذ محقق حلبی حلیہ میں (۲) محقق ابراہیم حلبی غنیہ میں (۳) علامہ سید شامی منحۃ الخالق میں ۔ خدا کی رحمت ہو حضرت محقق پر اور ان حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق دعوائے اتفاق کرکے دونوں روایتوں میں تطبیق دینا چاہتے ہیں کہ ظاہر الروایہ سے مراد اس صورت میں عدم وجوب ہے جب انزال نہ پایا جائے اور روایت نادرہ سے مراداس صورت میں وجوب ہے جب انزال پایاجاچکا ہو اور عورت نے اپنی آنکھ سے اسے دیکھا نہ ہو۔ یہ سمجھ کر ان پراس معنی کے تحت گرفت کی جس سے وہ بری ہیں ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : کلام فتح سے سمجھ میں آتاہے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ جب منی پائی جائے تو غسل واجب ہے۔ اور امام محمد نے اس بنا پر
اما الشامی فظن ان المحقق یرید بدعوی الاتفاق التوفیق بین الروایتین بان مراد الظاھرۃ عدم الوجوب اذالم یوجد الانزال و مرادالنادرۃ الوجوب اذا وجد ولم ترہ المرأۃ بعینہافاخذ علیہ بما ھوعنہ بریئ اذیقول “ یفھم من کلام الفتح ان مرادہ انھم اتفقوا علی انہ اذاوجد المنی فقد وجب الغسل ومحمد قال بوجوبہ بناء علی وجود المنی وان لم ترہ فلم
استعمال ہوتاہے۔ کسی نے کہا : رأیت الله اکبر کل شئی میں نے خدا کو ہر شے سے بڑا دیکھا (یعنی جانا اوریقین کیا) اھ۔ ہم نے بفیض فتح القدیر عز جلالہ جو تقریر دلیل رقم کی ہے اس سے واضح ہے کہ حضرت محقق کے اس کلام پر رد کرنے والے اکثر حضرات نے ان کے کلام میں اچھی طرح غورنہ کیا۔ رد کرنے والے یہ جلیل القدر علماء ہیں (۱) صاحب فتح کے تلمیذ محقق حلبی حلیہ میں (۲) محقق ابراہیم حلبی غنیہ میں (۳) علامہ سید شامی منحۃ الخالق میں ۔ خدا کی رحمت ہو حضرت محقق پر اور ان حضرات پر اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ سمجھ لیا کہ حضرت محقق دعوائے اتفاق کرکے دونوں روایتوں میں تطبیق دینا چاہتے ہیں کہ ظاہر الروایہ سے مراد اس صورت میں عدم وجوب ہے جب انزال نہ پایا جائے اور روایت نادرہ سے مراداس صورت میں وجوب ہے جب انزال پایاجاچکا ہو اور عورت نے اپنی آنکھ سے اسے دیکھا نہ ہو۔ یہ سمجھ کر ان پراس معنی کے تحت گرفت کی جس سے وہ بری ہیں ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : کلام فتح سے سمجھ میں آتاہے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ جب منی پائی جائے تو غسل واجب ہے۔ اور امام محمد نے اس بنا پر
حوالہ / References
فتح القدیر1کتاب الطہارات فصل فی الغسل1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۵
یخرج علی معنی ولم ترہ خرج لکن لایخفی ان غیر محمد لایقول بعدم الوجوب والحالۃ ھذہ فکیف یجعلون عدم الوجوب ظاھرالروایۃ اللھم الا ان یکون مرادہ الاعتراض علیھم فی نقل الخلاف وانھم لم یفھموا قول محمد وان مرادہ بعدمالخروج عدم الرؤیۃ ولا یخفی بعد ھذافانھم قید وا الوجوب عند غیر محمد بما اذاخرج الی الفرج الخارج فان کان مرادہ (یعنی محمدا) بعدم الرؤیۃ البصریۃ فھو ممالا یسع احدا ان یخالف فیہ وان کان العلمیۃ فلم یحصل الاتفاق علی تعلق الوجوب بوجود المنی فالظاھروجود الخلاف وان مافی التجنیس مبنی علی قول محمد وحینئذ لادلالۃ لہ علی ما ادعاہ فلیتامل اھ۔
اقول : لاھو فـــــ ینکر الخلاف غسل واجب کہا کہ منی پائی جاچکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں تو “ پانی نہ نکلا “ کا معنی یہ ہے کہ “ اس نے نکلتے دیکھا نہیں “ ۔ لیکن مخفی نہ ہوگاکہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدم وجوب کے قائل نہیں ہیں توعلماء عدم وجوب کو ظاہر الروایہ کیسے قرار دے سکتے ہیں مگر یہ کہ حضرت محقق کا مقصد ان علماء پر نقل اختلاف کے بارے میں اعتراض کرناہوکہ انہوں نے امام محمدکا قول سمجھا نہیں عدم خروج سے ان کی مراد عدم رؤیت ہے۔ اور اس مراد کا بعید ہونا پوشیدہ نہیں ۔ اس لئے کہ ان علماء نے غیر امام محمد کے نزدیك وجوب کو اس صورت سے مقید کیا ہے جب منی فرج خارج کی جانب نکل آئے۔ تو عدم رؤیت میں رؤیت سے اگر امام محمد کی مراد آنکھ سے دیکھنا ہے تو کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا اوراگراس سے ان کی مراد علم ویقین ہے تووجود منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کہاں ہےپس ظاہر یہی ہے کہ اختلاف باقی ہے اور تجنیس کا کلام امام محمد کے قول پر مبنی ہے۔ اس صورت میں حضرت محقق کے دعوے پر کلام تجنیس میں کوئی دلیل نہیں ۔ تو اس میں تامل کیا جائے۔ اھ۔
اقول : حضرت محقق کو نہ اختلاف سے
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
اقول : لاھو فـــــ ینکر الخلاف غسل واجب کہا کہ منی پائی جاچکی ہے اگرچہ عورت نے اسے دیکھا نہیں تو “ پانی نہ نکلا “ کا معنی یہ ہے کہ “ اس نے نکلتے دیکھا نہیں “ ۔ لیکن مخفی نہ ہوگاکہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدم وجوب کے قائل نہیں ہیں توعلماء عدم وجوب کو ظاہر الروایہ کیسے قرار دے سکتے ہیں مگر یہ کہ حضرت محقق کا مقصد ان علماء پر نقل اختلاف کے بارے میں اعتراض کرناہوکہ انہوں نے امام محمدکا قول سمجھا نہیں عدم خروج سے ان کی مراد عدم رؤیت ہے۔ اور اس مراد کا بعید ہونا پوشیدہ نہیں ۔ اس لئے کہ ان علماء نے غیر امام محمد کے نزدیك وجوب کو اس صورت سے مقید کیا ہے جب منی فرج خارج کی جانب نکل آئے۔ تو عدم رؤیت میں رؤیت سے اگر امام محمد کی مراد آنکھ سے دیکھنا ہے تو کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا اوراگراس سے ان کی مراد علم ویقین ہے تووجود منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کہاں ہےپس ظاہر یہی ہے کہ اختلاف باقی ہے اور تجنیس کا کلام امام محمد کے قول پر مبنی ہے۔ اس صورت میں حضرت محقق کے دعوے پر کلام تجنیس میں کوئی دلیل نہیں ۔ تو اس میں تامل کیا جائے۔ اھ۔
اقول : حضرت محقق کو نہ اختلاف سے
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
ولا ان ما فی التجنیس مبنی علی ماروی عن محمد ولا ھو یرید ببیان الاتفاق ابداء الوفاق وانما الامر انھم ظنوا ان محمدا فی ھذہ الروایۃ لایشترط فی احتلامھا وجود الماء لقول التجنیس وغیرہ المبنی علی تلك الروایۃ احتلمت ولم یخرج منھا الماء فردوا علیہا بقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نعم اذا رأت الماء علق ایجاب الغسل علیہا برؤیہ الماء فکیف یجب ولم یخرج ۔
فاشار المحقق الی الجواب عنہ بان وجدان الماء شرط بالاجماع ولاتنکرہ ھذہ الروایۃ انما نشأ الخلاف من واد اخر وذلك ان العلم بالشیئ قد یحصل بنفسہ وقد یحصل بالعلم بسببہ فالروایۃ الظاھرۃ شرطت العلم بالوجہ الاول وقالت لاغسل علیہا وان وجدت لذۃ الامناء مالم تحس بمنی خرج من فرجہا الداخل سواء کان الاحساس بالبصر اوباللمس کما ھو فی الرجل بالاتفاق و روایۃ محمد
انکار ہے نہ اس سے انکار ہے کہ کلام تجنیس اس پر مبنی ہے جو امام محمدسے ایك روایت ہے۔ نہ ہی بیان اتفاق سے ان کا مقصد اظہار مطابقت ہے۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھا کہ اس روایت میں امام محمداحتلام زن میں وجود منی کی شرط قرار نہیں دیتے کیونکہ اس روایت پر مبنی تجنیس وغیرہ کے کلام میں یہ آیا ہے کہ “ عورت کو احتلام ہوا اور اس نے پانی نہ دیکھا “ ۔ یہ سمجھ کران حضرات نے اس روایت پر اس حدیث سے رد کیاکہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے : “ ہاں جب وہ پانی دیکھے “ ۔ سرکار نے وجوب غسل کو پانی دیکھنے سے مشروط فرمایا۔ تو اس صورت میں غسل کیسے واجب ہوسکتا ہے جب پانی نہ نکلا ہو۔
حضرت محقق نے اس کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ منی کا پایا جانا بالاجماع شرط ہے اور اس روایت میں بھی اس کا انکار نہیں ہے۔ اختلاف ایك دوسری جگہ سے رونما ہوا ہے وہ یہ کہ شیئ کا علم کبھی خود شیئ سے ہوتاہے اور کبھی اس کے سبب کے علم سے ہوتاہے۔ روایت ظاہرہ میں بطریق اول علم کی شرط ہے اور اس میں یہ حکم ہے کہ عورت پر غسل نہیں اگرچہ اسے لذت انزال محسوس ہوجب تك کہ یہ محسوس نہ کرے کہ منی اس کی فرج داخل سے باہر آئی یہ احساس خواہ دیکھنے سے ہویا چھونے سے ہو۔ جیسا کہ مرد کے بارے میں بالا تفاق یہ شرط ہے۔ اور اما م محمدکی
فاشار المحقق الی الجواب عنہ بان وجدان الماء شرط بالاجماع ولاتنکرہ ھذہ الروایۃ انما نشأ الخلاف من واد اخر وذلك ان العلم بالشیئ قد یحصل بنفسہ وقد یحصل بالعلم بسببہ فالروایۃ الظاھرۃ شرطت العلم بالوجہ الاول وقالت لاغسل علیہا وان وجدت لذۃ الامناء مالم تحس بمنی خرج من فرجہا الداخل سواء کان الاحساس بالبصر اوباللمس کما ھو فی الرجل بالاتفاق و روایۃ محمد
انکار ہے نہ اس سے انکار ہے کہ کلام تجنیس اس پر مبنی ہے جو امام محمدسے ایك روایت ہے۔ نہ ہی بیان اتفاق سے ان کا مقصد اظہار مطابقت ہے۔ معاملہ صرف یہ ہے کہ لوگوں نے سمجھا کہ اس روایت میں امام محمداحتلام زن میں وجود منی کی شرط قرار نہیں دیتے کیونکہ اس روایت پر مبنی تجنیس وغیرہ کے کلام میں یہ آیا ہے کہ “ عورت کو احتلام ہوا اور اس نے پانی نہ دیکھا “ ۔ یہ سمجھ کران حضرات نے اس روایت پر اس حدیث سے رد کیاکہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے : “ ہاں جب وہ پانی دیکھے “ ۔ سرکار نے وجوب غسل کو پانی دیکھنے سے مشروط فرمایا۔ تو اس صورت میں غسل کیسے واجب ہوسکتا ہے جب پانی نہ نکلا ہو۔
حضرت محقق نے اس کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا کہ منی کا پایا جانا بالاجماع شرط ہے اور اس روایت میں بھی اس کا انکار نہیں ہے۔ اختلاف ایك دوسری جگہ سے رونما ہوا ہے وہ یہ کہ شیئ کا علم کبھی خود شیئ سے ہوتاہے اور کبھی اس کے سبب کے علم سے ہوتاہے۔ روایت ظاہرہ میں بطریق اول علم کی شرط ہے اور اس میں یہ حکم ہے کہ عورت پر غسل نہیں اگرچہ اسے لذت انزال محسوس ہوجب تك کہ یہ محسوس نہ کرے کہ منی اس کی فرج داخل سے باہر آئی یہ احساس خواہ دیکھنے سے ہویا چھونے سے ہو۔ جیسا کہ مرد کے بارے میں بالا تفاق یہ شرط ہے۔ اور اما م محمدکی
فرقت بینہا وبین الرجل بما بینا فاجتزت فیہا بالعلم بلذۃ الانزال وجعلتہ علما بخروج المنی وان لم تحس منیا خارج فرجہا ھذا مراد الکلام فاین فیہ رفع الخلاف او انکار ابتناء کلام التجنیس علی الروایۃ النادرۃ۔
ولو رأیتم فــــ۱ “ فعلی ھذا الاوجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ “ لعلمتم انہ یبقی الخلاف ویرید الترجیح لارفع الخلاف وابداء التوفیق ولکن سبحن من لایزل۔
قولکم لایخفی ان غیر محمد لایقول الخ اقول : بلی فــــ۲ ان غیر محمد بل و محمدا ایضا فی ظاھر الروایۃ یقول بعدم الوجوب اذا لم یحط علمہا بنفس خروج
روایت میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے اس طورپرجو ہم نے بیان کیا۔ یہ روایت عورت کے بارے میں لذت انزال کے علم کو کافی قرار دیتی ہے اور اسی کوخروج منی کا علم مانتی ہے اگرچہ عورت فرج خارج میں منی محسوس نہ کرے۔ یہ ہے حضرت محقق کے کلام کی مراد۔ اس میں اختلاف کو ختم کرنا یا کلام تجنیس کی روایت نادرہ پر مبنی ہونے کا انکار کہاں ہے
اگر آپ ان کی یہ عبارت ملاحظہ کرتے “ فعلی ھذا الا وجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ “ ( اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو) توآپ کو معلوم ہوتاکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ اختلاف باقی ہے اور ترجیح دینا چاہتے ہیں یہ نہیں کہ وہ اختلاف اٹھانا اور تطبیق دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن پاك ہے وہ ذات جسے لغزش نہیں ۔
علامہ شامی : مخفی نہ ہوگا کہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدم وجوب کے قائل نہیں اقول : کیوں نہیں امام محمد کے علاوہ حضرات اور خود امام محمد بھی ظاہرالروایہ میں عدم وجوب کے قائل ہیں جب عورت کو نفس خروج کا پورے طور پر
فـــ۱ : معروضۃ اخری علیہ۔ فـــ۲ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
ولو رأیتم فــــ۱ “ فعلی ھذا الاوجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ “ لعلمتم انہ یبقی الخلاف ویرید الترجیح لارفع الخلاف وابداء التوفیق ولکن سبحن من لایزل۔
قولکم لایخفی ان غیر محمد لایقول الخ اقول : بلی فــــ۲ ان غیر محمد بل و محمدا ایضا فی ظاھر الروایۃ یقول بعدم الوجوب اذا لم یحط علمہا بنفس خروج
روایت میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے اس طورپرجو ہم نے بیان کیا۔ یہ روایت عورت کے بارے میں لذت انزال کے علم کو کافی قرار دیتی ہے اور اسی کوخروج منی کا علم مانتی ہے اگرچہ عورت فرج خارج میں منی محسوس نہ کرے۔ یہ ہے حضرت محقق کے کلام کی مراد۔ اس میں اختلاف کو ختم کرنا یا کلام تجنیس کی روایت نادرہ پر مبنی ہونے کا انکار کہاں ہے
اگر آپ ان کی یہ عبارت ملاحظہ کرتے “ فعلی ھذا الا وجہ وجوب الغسل فی الخلافیۃ “ ( اس بنیاد پر اوجہ یہی ہے کہ اس اختلافی روایت میں غسل کا وجوب ہو) توآپ کو معلوم ہوتاکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ اختلاف باقی ہے اور ترجیح دینا چاہتے ہیں یہ نہیں کہ وہ اختلاف اٹھانا اور تطبیق دینا چاہتے ہیں ۔ لیکن پاك ہے وہ ذات جسے لغزش نہیں ۔
علامہ شامی : مخفی نہ ہوگا کہ امام محمد کے علاوہ حضرات بھی اس حالت میں عدم وجوب کے قائل نہیں اقول : کیوں نہیں امام محمد کے علاوہ حضرات اور خود امام محمد بھی ظاہرالروایہ میں عدم وجوب کے قائل ہیں جب عورت کو نفس خروج کا پورے طور پر
فـــ۱ : معروضۃ اخری علیہ۔ فـــ۲ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۷
المنی اصالۃ وفی النادرۃ یقول بالوجوب اذا علمت وجود المنی علما فقہیا بوجدان لذۃ الانزال
قولکم الا ان یکون مرادہ الاعتراض اقول : لم یردہ ولم فـــــ۱ یرد الخلاف بل اراد الجواب عما اورد علی محمد من مخالفۃ الحدیث بان الرؤیۃ فی الحدیث علمیۃ اجماعا ولا یسع احدا ان یخالف فیہ وھو اذن یعم العلم الحاصل بسبب العلم بالسبب
قولکم وان کان العلمیۃ الخ اقول : نعم فــــ۲ ھو المراد عند محمد وغیرہ جمیعا انما الخلف فی اشتراط العلم بالشیئ اصالۃ وعدمہ فلاینافی الاتفاق علی تعلق الوجوب بالوجود ۔
اما الغنیۃ فقال فیھا اصالۃ علم نہ ہو۔ اور روایت نادرہ میں وجوب کے قائل ہیں جب لذت انزال کے احساس کے ذریعہ اسے وجود منی کا علم فقہی حاصل ہو۔
علامہ شامی : مگر یہ کہ ان کامقصداعتراض ہو اقول : یہ ان کامقصد نہیں نہ ہی انہوں نے اختلاف کی تردید فرمائی ہے بلکہ امام محمد پر مخالفت حدیث کا جو اعتراض قائم کیاگیا وہ اس کاجواب دیناچاہتے ہیں کہ حدیث میں دیکھنے سے مراد علم ہے بالا جماع۔ اور کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ اور جب علم مراد ہے توعلم اس علم کو بھی شامل ہے جو علم بالسبب کے ذریعہ حاصل ہو۔
علامہ شامی : اوراگراس سے مرادعلم ویقین الخ اقول : ہاں یہی مراد ہے امام محمد کے نزدیك بھی اور دوسرے حـضرات کے نزدیك بھی۔ اختلاف صرف اس میں ہے کہ شے کا علم اصالۃ اوربراہ راست شرط ہے یا نہیں ( بلکہ بالواسطہ علم بھی کافی ہے) تو یہ وجود منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کے منافی نہیں ۔
صاحب غنیہ حضرت محقق کا کلام نقل کرنے
فــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
قولکم الا ان یکون مرادہ الاعتراض اقول : لم یردہ ولم فـــــ۱ یرد الخلاف بل اراد الجواب عما اورد علی محمد من مخالفۃ الحدیث بان الرؤیۃ فی الحدیث علمیۃ اجماعا ولا یسع احدا ان یخالف فیہ وھو اذن یعم العلم الحاصل بسبب العلم بالسبب
قولکم وان کان العلمیۃ الخ اقول : نعم فــــ۲ ھو المراد عند محمد وغیرہ جمیعا انما الخلف فی اشتراط العلم بالشیئ اصالۃ وعدمہ فلاینافی الاتفاق علی تعلق الوجوب بالوجود ۔
اما الغنیۃ فقال فیھا اصالۃ علم نہ ہو۔ اور روایت نادرہ میں وجوب کے قائل ہیں جب لذت انزال کے احساس کے ذریعہ اسے وجود منی کا علم فقہی حاصل ہو۔
علامہ شامی : مگر یہ کہ ان کامقصداعتراض ہو اقول : یہ ان کامقصد نہیں نہ ہی انہوں نے اختلاف کی تردید فرمائی ہے بلکہ امام محمد پر مخالفت حدیث کا جو اعتراض قائم کیاگیا وہ اس کاجواب دیناچاہتے ہیں کہ حدیث میں دیکھنے سے مراد علم ہے بالا جماع۔ اور کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ اور جب علم مراد ہے توعلم اس علم کو بھی شامل ہے جو علم بالسبب کے ذریعہ حاصل ہو۔
علامہ شامی : اوراگراس سے مرادعلم ویقین الخ اقول : ہاں یہی مراد ہے امام محمد کے نزدیك بھی اور دوسرے حـضرات کے نزدیك بھی۔ اختلاف صرف اس میں ہے کہ شے کا علم اصالۃ اوربراہ راست شرط ہے یا نہیں ( بلکہ بالواسطہ علم بھی کافی ہے) تو یہ وجود منی سے وجوب غسل متعلق ہونے پر اتفاق کے منافی نہیں ۔
صاحب غنیہ حضرت محقق کا کلام نقل کرنے
فــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۷
منحۃ الخالق علی البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۷
منحۃ الخالق علی البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۷
بعد نقل کلام المحقق “ ھذا لایفید کون الاوجہ وجوب الغسل فی المسألۃ المختلف فیھا لحدیث ام سلیم رضی الله تعالی عنہا سواء کانت الرؤیۃ بمعنی البصر اوبمعنی العلم فانھا لم تربعینھا ولا علمت خروجہ اللھم الا ان ادعی ان المراد برأت رؤیا الحلم ولکن لادلیل لہ علی ذلك فلایقبل منہ اھ۔
فاصاب فی فھم ان مراد المحقق الترجیح لا التوفیق والعجب فــــ۱ ان العلامۃ ش نقل کلامہ برمتہ بعد ما قدمنا عنہ ولم یحن منہ التفات الی مااعطاہ الغنیۃ من مفاد کلام المحقق۔
اقول : وحاشا فــــ۲المحقق ان یرید بالرؤیۃ رؤیا حلم بل اراد الرؤیۃ العلمیۃ کما قد افصح عنہ وقولکم ولا علمت مبنی علی حصر العلم بالشیئ فی کے بعد لکھتے ہیں : اس سے یہ مستفاد نہیں ہوتا کہ اس اختلافی مسئلہ میں حدیث ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے سبب اوجہ وجوب غسل ہے خواہ رؤیت آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں ہو یا علم ویقین کے معنی میں ہو اس لئے کہ خروج منی عورت نے نہ اپنی آنکھ سے دیکھا نہ اسے اس کا علم ہوا۔ مگر یہ کہ دعوی کیاجائے کہ دیکھنے سے مراد خواب میں دیکھنا ہے لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں لہذا یہ قابل قبول نہیں اھ۔
یہ انہوں نے صحیح سمجھا کہ حضرت محقق کامقصد ترجیح ہے تطبیق نہیں - اور تعجب ہے کہ علامہ شامی نے غنیہ کی پوری عبارت اپنی گزشتہ بحث کے بعد نقل کی ہے اور اس طر ف ا ن کی توجہ نہ کی گئی کہ غنیہ کی عبارت سے حضرت محقق کے کلام کا مفاد متعین ہوتا ہے۔
اقول : حضرت محقق اس سے بری ہیں کہ رؤیت سے خواب میں دیکھنا مراد لیں انہوں نے رؤیت علمی مراد لی ہے جیساکہ خودہی اسے صاف لفظوں میں کہا- اور آپ کا قول “ ولا علمت-نہ اسے اس کا علم ہوا “
فــــ۱ : معروضۃ سادسۃ علیہ۔ فــــ۲ : تطفل علی الغنیۃ۔
فاصاب فی فھم ان مراد المحقق الترجیح لا التوفیق والعجب فــــ۱ ان العلامۃ ش نقل کلامہ برمتہ بعد ما قدمنا عنہ ولم یحن منہ التفات الی مااعطاہ الغنیۃ من مفاد کلام المحقق۔
اقول : وحاشا فــــ۲المحقق ان یرید بالرؤیۃ رؤیا حلم بل اراد الرؤیۃ العلمیۃ کما قد افصح عنہ وقولکم ولا علمت مبنی علی حصر العلم بالشیئ فی کے بعد لکھتے ہیں : اس سے یہ مستفاد نہیں ہوتا کہ اس اختلافی مسئلہ میں حدیث ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا کے سبب اوجہ وجوب غسل ہے خواہ رؤیت آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں ہو یا علم ویقین کے معنی میں ہو اس لئے کہ خروج منی عورت نے نہ اپنی آنکھ سے دیکھا نہ اسے اس کا علم ہوا۔ مگر یہ کہ دعوی کیاجائے کہ دیکھنے سے مراد خواب میں دیکھنا ہے لیکن اس پر کوئی دلیل نہیں لہذا یہ قابل قبول نہیں اھ۔
یہ انہوں نے صحیح سمجھا کہ حضرت محقق کامقصد ترجیح ہے تطبیق نہیں - اور تعجب ہے کہ علامہ شامی نے غنیہ کی پوری عبارت اپنی گزشتہ بحث کے بعد نقل کی ہے اور اس طر ف ا ن کی توجہ نہ کی گئی کہ غنیہ کی عبارت سے حضرت محقق کے کلام کا مفاد متعین ہوتا ہے۔
اقول : حضرت محقق اس سے بری ہیں کہ رؤیت سے خواب میں دیکھنا مراد لیں انہوں نے رؤیت علمی مراد لی ہے جیساکہ خودہی اسے صاف لفظوں میں کہا- اور آپ کا قول “ ولا علمت-نہ اسے اس کا علم ہوا “
فــــ۱ : معروضۃ سادسۃ علیہ۔ فــــ۲ : تطفل علی الغنیۃ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۴
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۴
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۴
العلم المتعلق بنفسہ اصالۃ وھو باطل قطعا الاتری ان الشرع اوجب الغسل بغیبۃ الحشفۃ واقامھا مقام رؤیۃ المنی مع عدم العلم المتعلق بنفسہ قطعا۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یوھن کلام التجنیس قائلا لااثر فی نزول مائھا من صدرھا غیر دافق فی وجوب الغسل فان وجوب الغسل فی الاحتلام متعلق بخروج المنی من الفرج الداخل کما تعلق فی حق الرجل بخروجہ من رأس الذکر الی اخر مااطال۔
اقول : لم یرد فــــ التجنیس ان مجرد نزول مائھا من صدرھا یوجب الغسل بدون خروج وانما اثر النزول من صدرھا الی رحمہا فی عدم الدفق فی منیہا مثل الرجل وعدم الدفق اثر فی ضعف دلالۃ عدم الاحساس خارج الفرج علی عدم الخروج کما قررنا بما یکفی و
اس پر مبنی ہے کہ شیئ کاعلم صرف اس عالم میں منحصر ہے کہ جو اس سے براہ راست متعلق ہو۔ اور یہ بنیاد قطعا باطل ہے کیا آپ نے نہ دیکھاکہ شریعت نے حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب کیا ہے اور غیبت حشفہ کو ہی رؤیت منی کے قائم مقام رکھا ہے باوجودیکہ یہ وہ علم قطعا نہیں جو خود منی سے متعلق براہ راست ہو۔
اس کے بعد محقق حلبی نے ان الفاظ سے کلام تجنیس کی تضعیف شروع کی : عورت کا پانی اس کے سینے سے بغیردفق کے اترتاہے اس کاوجوب غسل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ احتلام میں وجوب غسل کا تعلق تواس سے ہے کہ منی فرج داخل سے نکلے جیسے مرد کے حق میں اس کا تعلق اس سے ہے کہ سرذکر سے نکلے۔ ان کے آخر کلام طویل تك ۔
اقول : تجنیس کی مراد یہ نہیں کہ عورت کا پانی سینے سے اترنا بس اتنی ہی بات موجب غسل ہے اگرچہ خروج منی نہ ہو۔ سینے سے رحم کی طرف اترنے کا اثرصرف یہ ہے کہ اس کی منی میں مرد کی طرح دفق نہیں ہوتا اورعدم دفق کا اثر یہ ہے کہ بیرون فرج منی محسوس نہ ہونے کی دلالت عدم خروج منی پر ضعیف ٹھہری جیساکہ کافی و شافی
فــــ : تطفل اخر علیہ۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یوھن کلام التجنیس قائلا لااثر فی نزول مائھا من صدرھا غیر دافق فی وجوب الغسل فان وجوب الغسل فی الاحتلام متعلق بخروج المنی من الفرج الداخل کما تعلق فی حق الرجل بخروجہ من رأس الذکر الی اخر مااطال۔
اقول : لم یرد فــــ التجنیس ان مجرد نزول مائھا من صدرھا یوجب الغسل بدون خروج وانما اثر النزول من صدرھا الی رحمہا فی عدم الدفق فی منیہا مثل الرجل وعدم الدفق اثر فی ضعف دلالۃ عدم الاحساس خارج الفرج علی عدم الخروج کما قررنا بما یکفی و
اس پر مبنی ہے کہ شیئ کاعلم صرف اس عالم میں منحصر ہے کہ جو اس سے براہ راست متعلق ہو۔ اور یہ بنیاد قطعا باطل ہے کیا آپ نے نہ دیکھاکہ شریعت نے حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب کیا ہے اور غیبت حشفہ کو ہی رؤیت منی کے قائم مقام رکھا ہے باوجودیکہ یہ وہ علم قطعا نہیں جو خود منی سے متعلق براہ راست ہو۔
اس کے بعد محقق حلبی نے ان الفاظ سے کلام تجنیس کی تضعیف شروع کی : عورت کا پانی اس کے سینے سے بغیردفق کے اترتاہے اس کاوجوب غسل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ احتلام میں وجوب غسل کا تعلق تواس سے ہے کہ منی فرج داخل سے نکلے جیسے مرد کے حق میں اس کا تعلق اس سے ہے کہ سرذکر سے نکلے۔ ان کے آخر کلام طویل تك ۔
اقول : تجنیس کی مراد یہ نہیں کہ عورت کا پانی سینے سے اترنا بس اتنی ہی بات موجب غسل ہے اگرچہ خروج منی نہ ہو۔ سینے سے رحم کی طرف اترنے کا اثرصرف یہ ہے کہ اس کی منی میں مرد کی طرح دفق نہیں ہوتا اورعدم دفق کا اثر یہ ہے کہ بیرون فرج منی محسوس نہ ہونے کی دلالت عدم خروج منی پر ضعیف ٹھہری جیساکہ کافی و شافی
فــــ : تطفل اخر علیہ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۴
یشفی وبہ وبالرقۃ وباشتمال فرجہا الخارج علی الرطوبۃ فارقت الرجل کما تقدم۔
ثم قال علی ان فی مسألتنا لم یعلم انفصال منیہا عن صدرھا وانما حصل ذلك فی النوم واکثر مایری فی النوم لاتحقق لہ فکیف یجب علیہا الغسل اھ
اقول : قدمنا فــــ فی التنبیہ الثامن ان تلك الافعال المرئیۃ علما وان لم تکن لہا حقیقۃ تؤثر علی الطبع کمثل الواقع منہا فی الخارج او ازید وقد جعل فی الغنیۃ نفس النوم مظنۃ الاحتلام قال وکم من رؤیا لا یتذکرھا الرائی فلا یبعد انہ احتلم ونسیہ فیجب الغسل اھ ای فیما اذا رأی بللا وتیقن انہ مذی ولیس منیا ولم یتذکر الحلم
طور پر ہم اس کی تقریرکرچکے۔ اور عورت کا حکم اسی عدم دفق سے اورمنی کے رقیق ہونے سے اور فرج خارج کی رطوبت پر مشتمل ہونے سے مردکے برخلاف ہوا۔ جیسا کہ گزرا۔
آگے فرماتے ہیں : علاوہ ازیں زیر بحث مسئلہ میں عورت کی منی کا سینے سے جدا ہونامعلوم نہ ہوا۔ یہ بات خواب میں حاصل ہوئی۔ اور خواب میں دیکھی جانے والی اکثر باتوں کا تحقق نہیں ہوتاتواس پر غسل کیسے واجب ہوگا۔ اھ
اقول : ہم آٹھویں تنبیہ میں بتاچکے ہیں کہ خواب میں دیکھے جانے والے ان افعال کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں ہوتی لیکن طبیعت پریہ ویسے ہی اثر اندازہوتے ہیں جیسے خارج میں ہونے والے یہ افعال یا ان سے بھی زیادہ۔ اورخود غنیہ میں نیند کو مظنہ احتلام بتایا ہے اور لکھا ہے کہ : کتنے خواب ہیں جو دیکھنے والے کو یاد نہیں رہتے تو بعید نہیں کہ اس نے خواب دیکھا ہواور بھول گیاہو تواس پرغسل واجب ہے اھ یعنی اس صورت میں جب کہ اس نے تری دیکھی اور اسے یقین ہے کہ وہ مذی ہے منی نہیں ہے اور خواب
فـــــ : تطفل ثالث علیہا۔
ثم قال علی ان فی مسألتنا لم یعلم انفصال منیہا عن صدرھا وانما حصل ذلك فی النوم واکثر مایری فی النوم لاتحقق لہ فکیف یجب علیہا الغسل اھ
اقول : قدمنا فــــ فی التنبیہ الثامن ان تلك الافعال المرئیۃ علما وان لم تکن لہا حقیقۃ تؤثر علی الطبع کمثل الواقع منہا فی الخارج او ازید وقد جعل فی الغنیۃ نفس النوم مظنۃ الاحتلام قال وکم من رؤیا لا یتذکرھا الرائی فلا یبعد انہ احتلم ونسیہ فیجب الغسل اھ ای فیما اذا رأی بللا وتیقن انہ مذی ولیس منیا ولم یتذکر الحلم
طور پر ہم اس کی تقریرکرچکے۔ اور عورت کا حکم اسی عدم دفق سے اورمنی کے رقیق ہونے سے اور فرج خارج کی رطوبت پر مشتمل ہونے سے مردکے برخلاف ہوا۔ جیسا کہ گزرا۔
آگے فرماتے ہیں : علاوہ ازیں زیر بحث مسئلہ میں عورت کی منی کا سینے سے جدا ہونامعلوم نہ ہوا۔ یہ بات خواب میں حاصل ہوئی۔ اور خواب میں دیکھی جانے والی اکثر باتوں کا تحقق نہیں ہوتاتواس پر غسل کیسے واجب ہوگا۔ اھ
اقول : ہم آٹھویں تنبیہ میں بتاچکے ہیں کہ خواب میں دیکھے جانے والے ان افعال کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں ہوتی لیکن طبیعت پریہ ویسے ہی اثر اندازہوتے ہیں جیسے خارج میں ہونے والے یہ افعال یا ان سے بھی زیادہ۔ اورخود غنیہ میں نیند کو مظنہ احتلام بتایا ہے اور لکھا ہے کہ : کتنے خواب ہیں جو دیکھنے والے کو یاد نہیں رہتے تو بعید نہیں کہ اس نے خواب دیکھا ہواور بھول گیاہو تواس پرغسل واجب ہے اھ یعنی اس صورت میں جب کہ اس نے تری دیکھی اور اسے یقین ہے کہ وہ مذی ہے منی نہیں ہے اور خواب
فـــــ : تطفل ثالث علیہا۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲ ، ۴۳
فاذا کان ھذا فی عدم التذکر فکیف وقد تذکرت الاحتلام وتذکرت شیا اخر فوقہ وھو وجد ان لذۃ الانزال فلو اھمل مایری فی النوم لضاع الفرق بالتذکر وعدمہ مع اجماع ائمتنا علیہ وبقیۃ الکلام یظھر مما قدمت ویاتی۔
ثم قال نعم قال بعضہم لوکانت مستلقیۃ وقت الاحتلام یجب علیہا الغسل لاحتمال الخروج ثم العود فیجب الغسل احتیاطا وھو غیر بعید الخ۔
اقول : مثل فــــ الکلام من شان ھذا المحقق بعید فانہ اذا جعل مایری فی النوم لاحقیقۃ لہ و جعلہا مع تذکرھا الاحتلام و وجدانھا لذۃ الانزال غیر عالمۃ بالخروج وصرح انھا لم تر ولا علمت وان الحدیث
اسے یاد نہیں ۔ جب یہ حکم خواب یادنہ ہونے کی صورت میں ہے تو اس صورت میں کیاہوگاجب عورت کوخواب دیکھنا بھی یادہے اور اس سے زیادہ بھی یاد ہے وہ ہے لذت انزال کا احساس توجوکچھ خواب میں نظرآتاہے اگر سب مہمل ٹھہر ایا جائے تویاد ہونے نہ ہونے کافرق بیکار ہوجائے حالاں کہ ہمارے ائمہ کا اس فرق پراجماع ہے۔ اور باقی کلام اس سے ظاہر ہے جوگزرچکا اور جو آئندہ آئے گا۔
آگے فرماتے ہیں : ہاں بعض نے کہا ہے کہ اگر وقت احتلام چت لیٹی ہوئی تھی تواس پر غسل واجب ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے منی نکلی ہوپھر عود کرگئی ہو تو احتیاطا غسل واجب ہوگا۔ اور وہ بعید نہیں ۔ الخ
اقول : اس طرح کی بات صاحب غنیہ جیسے محقق کی شان سے بعید ہے۔ اس لئے کہ ایك طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ خواب میں جو کچھ نظر آئے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اورعورت کو احتلام یاد ہونے اورلذت انزال کا احساس کرنے کے باوجودخروج منی سے بے خبر قرار دیتے ہیں اور تصریح کرتے ہیں کہ اس نے دیکھا نہ جانا اورحدیث
فــــ : تطفل رابع علیھا۔
ثم قال نعم قال بعضہم لوکانت مستلقیۃ وقت الاحتلام یجب علیہا الغسل لاحتمال الخروج ثم العود فیجب الغسل احتیاطا وھو غیر بعید الخ۔
اقول : مثل فــــ الکلام من شان ھذا المحقق بعید فانہ اذا جعل مایری فی النوم لاحقیقۃ لہ و جعلہا مع تذکرھا الاحتلام و وجدانھا لذۃ الانزال غیر عالمۃ بالخروج وصرح انھا لم تر ولا علمت وان الحدیث
اسے یاد نہیں ۔ جب یہ حکم خواب یادنہ ہونے کی صورت میں ہے تو اس صورت میں کیاہوگاجب عورت کوخواب دیکھنا بھی یادہے اور اس سے زیادہ بھی یاد ہے وہ ہے لذت انزال کا احساس توجوکچھ خواب میں نظرآتاہے اگر سب مہمل ٹھہر ایا جائے تویاد ہونے نہ ہونے کافرق بیکار ہوجائے حالاں کہ ہمارے ائمہ کا اس فرق پراجماع ہے۔ اور باقی کلام اس سے ظاہر ہے جوگزرچکا اور جو آئندہ آئے گا۔
آگے فرماتے ہیں : ہاں بعض نے کہا ہے کہ اگر وقت احتلام چت لیٹی ہوئی تھی تواس پر غسل واجب ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے منی نکلی ہوپھر عود کرگئی ہو تو احتیاطا غسل واجب ہوگا۔ اور وہ بعید نہیں ۔ الخ
اقول : اس طرح کی بات صاحب غنیہ جیسے محقق کی شان سے بعید ہے۔ اس لئے کہ ایك طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ خواب میں جو کچھ نظر آئے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اورعورت کو احتلام یاد ہونے اورلذت انزال کا احساس کرنے کے باوجودخروج منی سے بے خبر قرار دیتے ہیں اور تصریح کرتے ہیں کہ اس نے دیکھا نہ جانا اورحدیث
فــــ : تطفل رابع علیھا۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵
ناطق بتعلیق الغسل علی رؤیتھا الماء بصرا اوعلما فمع انتفائہا مطلقا کیف یجب علیہا الغسل بمجرد کونہا علی قفاھا برؤیا حلم لاحقیقۃ لھا وقد قلتم ان لادلیل علیہ فلا یقبل والعود انما یکون بعد الخروج وھھنا نفس الخروج غیر متحقق فما معنی احتمال العود فالحق ان استقرا بہ ھذا الکلام عود منہ الی قبول المرام۔
ثم ان القائل بھذا الشرط اعنی الاستلقاء الامام ابو الفضل مجد الدین فی الاختیار شرح متنہ المختار ولفظہ کما فی الحلیۃ المرأۃ اذا احتلمت ولم تربللا ان استیقظت وھی علی قفاھا یجب الغسل لاحتمال خروجہ ثم عودہ لان الظاھر فی الاحتلام الخروج بخلاف الرجل فانہ لایعود لضیق المحل وان استیقظت وھی علی جہۃ اخری لایجب اھ
نے نظر سے دیکھنے یاعلم و یقین حاصل ہونے سے غسل کو مشروط رکھا ہے۔ دوسری طرف ان ساری باتوں کے نہ ہونے کے باوجود عورت پر صرف اس وجہ سے غسل واجب مانتے ہیں کہ وہ چت لیٹی ہوئی تھی۔ کیا یہ وجوب خواب کے مشاہدہ کی وجہ سے ہوا جس کی کوئی حقیقت نہیں اورجس کے بارے میں آپ نے فرمایاکہ اس پر کوئی دلیل نہیں اس لئے قابل قبول نہیں ۔ اور لوٹنا عودکرنا توخروج کے بعد ہی ہوگا۔ یہاں خروج ہی متحقق نہیں ۔ تو احتمال عودکا کیامعنی۔ حق یہ ہے کہ محض حلبی کا اس کلام کے قریب جانا قبول مقصود کی طرف عود فرمانا ہے۔
پھر اس شرط یعنی چت لیٹنے کی شرط کے قائل امام ابو الفضل مجدالدین ہیں جنہوں نے اپنے متن “ مختار “ کی شرح “ اختیار “ میں اسے لکھا ہے۔ حلیہ کی نقل کے مطابق ان کے الفاظ یہ ہیں : عورت کوجب احتلام ہو اورتری نہ دیکھے اگروہ اس حالت میں بیدار ہوئی کہ چت لیٹی ہوئی تھی توغسل واجب ہے اس لئے کہ احتمال ہے کہ منی نکلی ہو پھر لوٹ گئی ہو کیونکہ احتلام میں ظاہر یہی ہے کہ منی نکلی ہو۔ مردکا حال ایسا نہیں کہ جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے اس کی منی عود نہ کر سکے گی۔ اور اگر عورت کسی دوسری جہت پر بیدار ہوئی توغسل واجب نہیں ۔ اھ۔
ثم ان القائل بھذا الشرط اعنی الاستلقاء الامام ابو الفضل مجد الدین فی الاختیار شرح متنہ المختار ولفظہ کما فی الحلیۃ المرأۃ اذا احتلمت ولم تربللا ان استیقظت وھی علی قفاھا یجب الغسل لاحتمال خروجہ ثم عودہ لان الظاھر فی الاحتلام الخروج بخلاف الرجل فانہ لایعود لضیق المحل وان استیقظت وھی علی جہۃ اخری لایجب اھ
نے نظر سے دیکھنے یاعلم و یقین حاصل ہونے سے غسل کو مشروط رکھا ہے۔ دوسری طرف ان ساری باتوں کے نہ ہونے کے باوجود عورت پر صرف اس وجہ سے غسل واجب مانتے ہیں کہ وہ چت لیٹی ہوئی تھی۔ کیا یہ وجوب خواب کے مشاہدہ کی وجہ سے ہوا جس کی کوئی حقیقت نہیں اورجس کے بارے میں آپ نے فرمایاکہ اس پر کوئی دلیل نہیں اس لئے قابل قبول نہیں ۔ اور لوٹنا عودکرنا توخروج کے بعد ہی ہوگا۔ یہاں خروج ہی متحقق نہیں ۔ تو احتمال عودکا کیامعنی۔ حق یہ ہے کہ محض حلبی کا اس کلام کے قریب جانا قبول مقصود کی طرف عود فرمانا ہے۔
پھر اس شرط یعنی چت لیٹنے کی شرط کے قائل امام ابو الفضل مجدالدین ہیں جنہوں نے اپنے متن “ مختار “ کی شرح “ اختیار “ میں اسے لکھا ہے۔ حلیہ کی نقل کے مطابق ان کے الفاظ یہ ہیں : عورت کوجب احتلام ہو اورتری نہ دیکھے اگروہ اس حالت میں بیدار ہوئی کہ چت لیٹی ہوئی تھی توغسل واجب ہے اس لئے کہ احتمال ہے کہ منی نکلی ہو پھر لوٹ گئی ہو کیونکہ احتلام میں ظاہر یہی ہے کہ منی نکلی ہو۔ مردکا حال ایسا نہیں کہ جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے اس کی منی عود نہ کر سکے گی۔ اور اگر عورت کسی دوسری جہت پر بیدار ہوئی توغسل واجب نہیں ۔ اھ۔
حوالہ / References
الاختیارلتعلیل المختار کتاب الطہارۃ فصل فرض الغسل...الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۳
اقول : فانظرکیف فــــ۱ بنی الامر علی ان الظاھر فی الاحتلام الخروج فقد جعلہ معلوما بحسب الظاھر ولو کان الامر کما قال فی الغنیۃ ان لم تر ولا علمت لم یکن معنی لایجاب الغسل وافاد ان عدم الوجدان بعد التیقظ لایعارض ھذا الظن اذا کانت مستلقیۃ لاحتمال العود۔
ثم اقول : بل ھو بعیداولا فـــــ۲ لانہ ذھب عنہ ان نفس کون منیہا غیر بین الدفق رقیقا قابلا للامتزاج برطوبۃ الفرج الخارج کاف فی دفع ھذہ المعارضۃ کما بینا بتوفیق الله تعالی۔
وثانیا اذالم فـــــ۳ ینظر الی ذلك فلقائل ان یقول احتمال العود بعد الخروج احتمال من غیر دلیل فلا یعتبر واستلقاؤھا لیس علۃ العود ولا ظنا بل ان کان فرفع مانع وعدم المانع لیس من الدلیل
اقول : تو دیکھئے انہوں نے کیسے بنائے کار اس پر رکھی کہ احتلام میں ظاہر یہی ہے کہ منی نکلی ہو۔ انہوں نے بطورظاہر اسے معلوم قرار دیا۔ اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو غنیہ میں ہے کہ “ اس نے نہ دیکھا نہ اسے علم ہوا “ تو غسل واجب کرنے کا کوئی معنی ہی نہ تھا اور یہ افادہ کیا کہ بیدارہونے کے بعد تری نہ پانا اس گمان خروج کے معارض نہیں جب کہ وہ چت لیٹی ہوئی ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے عود کر گئی ہو۔
اقول : بلکہ یہ بعید ہے۔ اولا اس لئے کہ- انہیں خیال نہ رہاکہ- تری نہ پانے کے معارضہ کو دفع کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ عورت کی منی میں دفق نمایاں نہیں ہوتا ساتھ ہی وہ رقیق اور اس قابل ہوتی ہے کہ فرج خارج کی رطوبت سے مختلط ہوجائے جیسا کہ بتوفیقہ تعالی ہم نے بیان کیا۔
ثانیا اگر یہ نظر انداز ہوتوکہنے والا کہہ سکتاہے کہ احتمال عود بعد خروج ایك بے دلیل احتمال ہے اس لئے لائق اعتبار نہیں اورچت لیٹنا عود کی علت نہیں ۔ ظنا بھی نہیں ۔ بلکہ اگر ہے توصرف اتناکہ رفع مانع ہے اور عدم مانع ہر گز کوئی دلیل نہیں جیسا کہ
فـــــ۱ : تطفل خامس علیھا۔
فـــــ۲ : تطفل علی الاختیار شرح المختار۔
فـــــ ۳ : تطفل آخرعلیہ۔
ثم اقول : بل ھو بعیداولا فـــــ۲ لانہ ذھب عنہ ان نفس کون منیہا غیر بین الدفق رقیقا قابلا للامتزاج برطوبۃ الفرج الخارج کاف فی دفع ھذہ المعارضۃ کما بینا بتوفیق الله تعالی۔
وثانیا اذالم فـــــ۳ ینظر الی ذلك فلقائل ان یقول احتمال العود بعد الخروج احتمال من غیر دلیل فلا یعتبر واستلقاؤھا لیس علۃ العود ولا ظنا بل ان کان فرفع مانع وعدم المانع لیس من الدلیل
اقول : تو دیکھئے انہوں نے کیسے بنائے کار اس پر رکھی کہ احتلام میں ظاہر یہی ہے کہ منی نکلی ہو۔ انہوں نے بطورظاہر اسے معلوم قرار دیا۔ اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو غنیہ میں ہے کہ “ اس نے نہ دیکھا نہ اسے علم ہوا “ تو غسل واجب کرنے کا کوئی معنی ہی نہ تھا اور یہ افادہ کیا کہ بیدارہونے کے بعد تری نہ پانا اس گمان خروج کے معارض نہیں جب کہ وہ چت لیٹی ہوئی ہے اس لئے کہ ہوسکتاہے عود کر گئی ہو۔
اقول : بلکہ یہ بعید ہے۔ اولا اس لئے کہ- انہیں خیال نہ رہاکہ- تری نہ پانے کے معارضہ کو دفع کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ عورت کی منی میں دفق نمایاں نہیں ہوتا ساتھ ہی وہ رقیق اور اس قابل ہوتی ہے کہ فرج خارج کی رطوبت سے مختلط ہوجائے جیسا کہ بتوفیقہ تعالی ہم نے بیان کیا۔
ثانیا اگر یہ نظر انداز ہوتوکہنے والا کہہ سکتاہے کہ احتمال عود بعد خروج ایك بے دلیل احتمال ہے اس لئے لائق اعتبار نہیں اورچت لیٹنا عود کی علت نہیں ۔ ظنا بھی نہیں ۔ بلکہ اگر ہے توصرف اتناکہ رفع مانع ہے اور عدم مانع ہر گز کوئی دلیل نہیں جیسا کہ
فـــــ۱ : تطفل خامس علیھا۔
فـــــ۲ : تطفل علی الاختیار شرح المختار۔
فـــــ ۳ : تطفل آخرعلیہ۔
فی شیئ کما تقرر فی الاصول ۔
وثالثا المانع وھو فــــ۱ضیق المحل انمایتحقق فی الاضطجاع لالتقاء الاسکتین وانسداد المسلك اما الانبطاح فکالاستلقاء فی اتساع المحل فلم خص الحکم بالاستلقاء فان اعتل بانھا ان کانت منبطحۃ وخرج المنی یسقط علی الفراش فلا یعود قلت ان ارید الخروج من الفرج الخارج ففی الاستلقاء ایضا اذا خرج منہ نزل الی الیتیہا فلا یعود و وان ارید الخروج من الفرج الداخل مع البقاء فی الفرج الخارج فالا ستلقاء کالانبطاح فی جواز العود ۔
و رابعا سنذکر فـــــ۲ انفافی تجویز العود مالایبقی للفرق مساغا۔
وخامسا بل فــــ۳ یجوز ان تکون مضطجعۃ وقد وضعت بین
اصول میں طے شدہ ہے۔
ثالثا مانع مقام کاتنگ ہونا۔ صرف اضطجاع میں متحقق ہوگا کیوں کہ دونوں کنارے مل جائیں گے اور گزر گاہ بند ہو جائے گی ۔ لیکن منہ کے بل لیٹناکشادگی مقام میں چت لیٹنے ہی کی طرح ہے تو استلقاء (چت لیٹنے) سے حکم کی تخصیص کیوں اگریہ علت بتائی جائے کہ منہ کے بل ہونے کی صورت ہو اور منی نکلے توبسترپرگرجائے گی عود نہ کر سکے گی۔ قلت(میں کہوں گا)اگرفرج خارج سے نکلنا مراد ہے تواستلقا کی صورت میں بھی جب اس سے باہر آئے گی تو سرینوں کی طرف ڈھلك آئے گی عود نہ کر سکے گی۔ اور اگر فرج خارج میں باقی رہنے کے ساتھ فرج داخل سے نکلنا مراد ہے تو امکان عودمیں صرف استلقا منہ کے بل لیٹنے ہی کی طرح ہے۔
رابعا امکان عود کے بارے میں ہم ابھی وہ ذکر کریں گے جس کے بعد فرق کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
خامسا بلکہ ہوسکتاہے کہ اضطجاع کی حالت ہواور رانوں کے درمیان موٹاساتکیہ
فـــــ۱ : تطفل ثالث علیہ
فـــــ۲ : تطفل رابع علیہ ۔
فـــــ۳ : تطفل خامس علیہ
وثالثا المانع وھو فــــ۱ضیق المحل انمایتحقق فی الاضطجاع لالتقاء الاسکتین وانسداد المسلك اما الانبطاح فکالاستلقاء فی اتساع المحل فلم خص الحکم بالاستلقاء فان اعتل بانھا ان کانت منبطحۃ وخرج المنی یسقط علی الفراش فلا یعود قلت ان ارید الخروج من الفرج الخارج ففی الاستلقاء ایضا اذا خرج منہ نزل الی الیتیہا فلا یعود و وان ارید الخروج من الفرج الداخل مع البقاء فی الفرج الخارج فالا ستلقاء کالانبطاح فی جواز العود ۔
و رابعا سنذکر فـــــ۲ انفافی تجویز العود مالایبقی للفرق مساغا۔
وخامسا بل فــــ۳ یجوز ان تکون مضطجعۃ وقد وضعت بین
اصول میں طے شدہ ہے۔
ثالثا مانع مقام کاتنگ ہونا۔ صرف اضطجاع میں متحقق ہوگا کیوں کہ دونوں کنارے مل جائیں گے اور گزر گاہ بند ہو جائے گی ۔ لیکن منہ کے بل لیٹناکشادگی مقام میں چت لیٹنے ہی کی طرح ہے تو استلقاء (چت لیٹنے) سے حکم کی تخصیص کیوں اگریہ علت بتائی جائے کہ منہ کے بل ہونے کی صورت ہو اور منی نکلے توبسترپرگرجائے گی عود نہ کر سکے گی۔ قلت(میں کہوں گا)اگرفرج خارج سے نکلنا مراد ہے تواستلقا کی صورت میں بھی جب اس سے باہر آئے گی تو سرینوں کی طرف ڈھلك آئے گی عود نہ کر سکے گی۔ اور اگر فرج خارج میں باقی رہنے کے ساتھ فرج داخل سے نکلنا مراد ہے تو امکان عودمیں صرف استلقا منہ کے بل لیٹنے ہی کی طرح ہے۔
رابعا امکان عود کے بارے میں ہم ابھی وہ ذکر کریں گے جس کے بعد فرق کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
خامسا بلکہ ہوسکتاہے کہ اضطجاع کی حالت ہواور رانوں کے درمیان موٹاساتکیہ
فـــــ۱ : تطفل ثالث علیہ
فـــــ۲ : تطفل رابع علیہ ۔
فـــــ۳ : تطفل خامس علیہ
فخذیھا وسادۃ ضخمۃ فیبقی الفرج متسعا کالا ستلقاء اوافرج ۔
وسادسا : ان استلقت فــــ۱وقدالتفت الساق بالساق لایکون للاستلقاء فضل علی الاضطجاع فی باب الاتساع فالقصر علیہ منقوض طردا وعکسا ولہ صور اخری لاتخفی۔
الا ان یقال ذکرالاستلقاء ونبہ بہ علی صور اتساع الفرج فیشمل الانبطاح والاضطجاع المذکور والمراد بجھۃ اخری جہۃ التقاء الشفرین ولو فی الاستلقاء علی الوجہ المزبور۔
ثم الصواب ما عبربہ فــــ۲فی الاختیار من ان تجد نفسہامستلقیۃ اذا تیقظت ولاحاجۃ الی ان تعلم استلقاءھاحین احتلمت کما وقع فی الغنیۃ ۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یردمااختارفی الاختیار فقال الا ان ماء ھااذا لم ینزل دفقا بل
رکھ لیاہو توشرمگاہ حالت استلقا کی طرح یا اس سے زیادہ کشادہ رہ جائے گی۔
سادسا : اگر حالت استلقاء میں ران ران سے لپٹی ہوئی ہو تو کشادگی کے معاملے میں استلقا کو اضطجاع پر کوئی زیادتی حاصل نہ ہوگی تو اس پر اقتصار جمعا اورمنعا کسی طرح درست نہیں رہ جاتا۔ اس کی اوربھی صورتیں ہیں جو مخفی نہ ہوں گی۔
مگر جوابا یہ کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے استلقا کو ذکر کرکے اس سے کشادگی کی صورتوں پر تنبیہ کردی ہے لہذا منہ کے بل لیٹنے اور مذکورہ صورت پر لینے کو بھی شامل ہے۔ اور کسی دوسری جہت سے ان کی مراد یہ ہے کہ دونوں کنارے باہم ملے ہوئے ہوں اگرچہ یہ ملنا مذکورہ صورت استلقا ہی میں ہو۔
پھر صحیح تعبیر وہ ہے جو “ اختیار “ میں آئی کہ بیدار ہونے کے وقت اپنے کو چت لیٹی ہوئی پائے۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ اسے وقت احتلام اپنے چت ہونے کا علم ہو۔ جیسا کہ غنیہ میں تعبیر کی۔
اس کے بعد محقق حلبی نے اس کی تردید شروع کی جسے “ اختیار “ میں اختیار کیا۔ کہتے ہیں : مگریہ ہے کہ جب اس کا پانی بطور دفق نہیں اترتا بلکہ
فــــ۱ : تطفل سادس علیہ ۔ فــــ۲ : تطفل سادس علی الغنیۃ ۔
وسادسا : ان استلقت فــــ۱وقدالتفت الساق بالساق لایکون للاستلقاء فضل علی الاضطجاع فی باب الاتساع فالقصر علیہ منقوض طردا وعکسا ولہ صور اخری لاتخفی۔
الا ان یقال ذکرالاستلقاء ونبہ بہ علی صور اتساع الفرج فیشمل الانبطاح والاضطجاع المذکور والمراد بجھۃ اخری جہۃ التقاء الشفرین ولو فی الاستلقاء علی الوجہ المزبور۔
ثم الصواب ما عبربہ فــــ۲فی الاختیار من ان تجد نفسہامستلقیۃ اذا تیقظت ولاحاجۃ الی ان تعلم استلقاءھاحین احتلمت کما وقع فی الغنیۃ ۔
ثم اخذ المحقق الحلبی یردمااختارفی الاختیار فقال الا ان ماء ھااذا لم ینزل دفقا بل
رکھ لیاہو توشرمگاہ حالت استلقا کی طرح یا اس سے زیادہ کشادہ رہ جائے گی۔
سادسا : اگر حالت استلقاء میں ران ران سے لپٹی ہوئی ہو تو کشادگی کے معاملے میں استلقا کو اضطجاع پر کوئی زیادتی حاصل نہ ہوگی تو اس پر اقتصار جمعا اورمنعا کسی طرح درست نہیں رہ جاتا۔ اس کی اوربھی صورتیں ہیں جو مخفی نہ ہوں گی۔
مگر جوابا یہ کہاجاسکتا ہے کہ انہوں نے استلقا کو ذکر کرکے اس سے کشادگی کی صورتوں پر تنبیہ کردی ہے لہذا منہ کے بل لیٹنے اور مذکورہ صورت پر لینے کو بھی شامل ہے۔ اور کسی دوسری جہت سے ان کی مراد یہ ہے کہ دونوں کنارے باہم ملے ہوئے ہوں اگرچہ یہ ملنا مذکورہ صورت استلقا ہی میں ہو۔
پھر صحیح تعبیر وہ ہے جو “ اختیار “ میں آئی کہ بیدار ہونے کے وقت اپنے کو چت لیٹی ہوئی پائے۔ اور اس کی ضرورت نہیں کہ اسے وقت احتلام اپنے چت ہونے کا علم ہو۔ جیسا کہ غنیہ میں تعبیر کی۔
اس کے بعد محقق حلبی نے اس کی تردید شروع کی جسے “ اختیار “ میں اختیار کیا۔ کہتے ہیں : مگریہ ہے کہ جب اس کا پانی بطور دفق نہیں اترتا بلکہ
فــــ۱ : تطفل سادس علیہ ۔ فــــ۲ : تطفل سادس علی الغنیۃ ۔
سیلانا یلزم اماعدم الخروج ان لم یکن الفرج فی صبب اوعدم العودان کان فی صبب فلیتامل اھ
اقول : کلا اللاز مین منتف اما الاول فـــــ۱ فلما حققنا ان منیہالایخلوعن دفق وان لم یکن کدفق الرجل فلا نسلم لزوم عدم الخروج اذا لم یکن الفرج فی صبب الاتری انھن ربما یوطأن بوضع وسادۃ تحت اعجازھن فیکون الفرج مرتفعا ومع ذلك یرمین بماء ھن
بل وبماء الرجل ایضا
واما الثانی فــــ۲ فلان للرحم قوۃ جاذبۃ شدیدۃ الجذب فربما یجوزان یخرج المنی من الفرج الداخل ویکون فی الفرج الخارج وتھیج جاذبۃ الرحم فتجذبہ من الفرج الخارج وان کان الفرج فی صبب بل یجوز ان یجوز المنی الفرج الخارج ایضا ثم یعود بجذب الرحم ۔
بہاؤ کے طور پراترتا ہے ۔ تو دو باتوں میں سے ایك لازم ہے۔ اگر فرج بہاؤ کیجانب میں نہ ہو تو عدم خروج لازم ہے اور اگر بہاؤ کی جانب میں ہوتوعدم عود لازم ہے۔ تو اس پر تامل کی ضرورت ہے۔ اھ ۔
اقول : دو باتوں میں سے ایك بھی لازم نہیں ۔ اول اس لئے کہ ہم تحقیق کر چکے کہ عورت کی منی دفق سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ وہ مرد کے دفق کی طرح نہ ہوتوہمیں یہ تسلیم نہیں کہ جب شرم گاہ بہاؤکی جانب میں نہ ہو توعدم خروج لازم ہے۔ کیا معلوم نہیں کہ عورتوں سے وطی یوں بھی ہوتی ہے کہ ان کے سرینوں کے نیچے تکیہ رکھ دیتے ہیں جس سے شرمگاہ اونچائی پرہوجاتی ہے اس کے باوجود اس سے پانی باہرآتاہے بلکہ اس کے ساتھ اس مرد کاپانی بھی باہر آتاہے۔
دوم اس لئے کہ رحم میں جذب کی شدید قوت ہوتی ہے۔ توبعض اوقات ہوسکتاہے کہ منی فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں ہو اور رحم کی قوت جاذبہ ابھر کر اسے فرج خارج سے جذب کرلے اگرچہ فرج بہاؤ کی جانب میں ہی ہو۔ بلکہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ منی فرج خارج سے بھی تجاوز کرجائے پھر بھی کشش رحم سے عود کر آئے۔
فـــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیہا۔
اقول : کلا اللاز مین منتف اما الاول فـــــ۱ فلما حققنا ان منیہالایخلوعن دفق وان لم یکن کدفق الرجل فلا نسلم لزوم عدم الخروج اذا لم یکن الفرج فی صبب الاتری انھن ربما یوطأن بوضع وسادۃ تحت اعجازھن فیکون الفرج مرتفعا ومع ذلك یرمین بماء ھن
بل وبماء الرجل ایضا
واما الثانی فــــ۲ فلان للرحم قوۃ جاذبۃ شدیدۃ الجذب فربما یجوزان یخرج المنی من الفرج الداخل ویکون فی الفرج الخارج وتھیج جاذبۃ الرحم فتجذبہ من الفرج الخارج وان کان الفرج فی صبب بل یجوز ان یجوز المنی الفرج الخارج ایضا ثم یعود بجذب الرحم ۔
بہاؤ کے طور پراترتا ہے ۔ تو دو باتوں میں سے ایك لازم ہے۔ اگر فرج بہاؤ کیجانب میں نہ ہو تو عدم خروج لازم ہے اور اگر بہاؤ کی جانب میں ہوتوعدم عود لازم ہے۔ تو اس پر تامل کی ضرورت ہے۔ اھ ۔
اقول : دو باتوں میں سے ایك بھی لازم نہیں ۔ اول اس لئے کہ ہم تحقیق کر چکے کہ عورت کی منی دفق سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ وہ مرد کے دفق کی طرح نہ ہوتوہمیں یہ تسلیم نہیں کہ جب شرم گاہ بہاؤکی جانب میں نہ ہو توعدم خروج لازم ہے۔ کیا معلوم نہیں کہ عورتوں سے وطی یوں بھی ہوتی ہے کہ ان کے سرینوں کے نیچے تکیہ رکھ دیتے ہیں جس سے شرمگاہ اونچائی پرہوجاتی ہے اس کے باوجود اس سے پانی باہرآتاہے بلکہ اس کے ساتھ اس مرد کاپانی بھی باہر آتاہے۔
دوم اس لئے کہ رحم میں جذب کی شدید قوت ہوتی ہے۔ توبعض اوقات ہوسکتاہے کہ منی فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں ہو اور رحم کی قوت جاذبہ ابھر کر اسے فرج خارج سے جذب کرلے اگرچہ فرج بہاؤ کی جانب میں ہی ہو۔ بلکہ یہ بھی ہوسکتاہے کہ منی فرج خارج سے بھی تجاوز کرجائے پھر بھی کشش رحم سے عود کر آئے۔
فـــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیہا۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵
الا تری الی مانصواعلیہ ان لوجومعت فــــ فیما دون الفرج فسبق الماء الی فرجہا او جومعت البکر لاغسل علیہا لفقد السبب وھو الانزال ومواراۃ الحشفۃ حتی لو حبلت کان علیہا الغسل لانھالاتحبل الااذا انزلت والمسألۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ والوجیز والکبری وخزانۃ المفتین والفتح والبحر والغنیۃ وغیرھا فقد جوزوا حتی فی البکران یقع الماء خارج فرجہا
دیکھئے فقہا تصریح فرماتے ہیں کہ اگرعورت سے قریب فرج جماع کیاپھر منی اس کی شرم گاہ میں چلی گئی یا کنواری سے جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی توان صورتوں میں عورت پر غسل نہیں اس لئے کہ غسل کا سبب۔ انزال زن یاد خول حشفہ۔ نہ پایاگیا۔ یہاں تك کہ اگر اسے حمل ٹھہر جائے تواس پر غسل ہوگا اس لئے کہ یہ اس کاثبوت ہے کہ عورت کو بھی انزال ہوا تھا کیوں کہ اس کے انزال کے بغیر استقرار حمل نہیں ہوسکتا۔ یہ مسئلہ خانیہ خلاصہ وجیز کبری خزانۃ المفتین فتح القدیر البحر الرائق غنیہ وغیرہا میں مذکور ہے ۔ توانہوں نے اس کا جواز مانا ہے۔ یہاں تك کہ کنواری میں بھی کہ
فــــ : مسئلہ : عورت کی ران پر جماع کیا اور منی اس کی فرج میں چلی گئی یاکنواری کی فرج میں جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی تو ان دونوں صورتوں میں عورت پر غسل نہ ہوگا کہ نہ اس کا انزال ثابت ہوا نہ اس کی فرج داخل میں حشفہ غائب ہوا ورنہ بکارت جاتی رہتی ہاں ان جماعوں سے اگر عورت کو حمل رہ گیاتواب اس پر اسی وقت جماع سے غسل واجب ہونے کاحکم دیں گے اور آج تك جتنی نمازیں قبل غسل پڑھی ہیں سب پھیرے کہ حمل رہ جانے سے ثابت ہواکہ عورت کو خود بھی انزال ہوگیاتھا ورنہ حمل نہ رہتا۔
دیکھئے فقہا تصریح فرماتے ہیں کہ اگرعورت سے قریب فرج جماع کیاپھر منی اس کی شرم گاہ میں چلی گئی یا کنواری سے جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی توان صورتوں میں عورت پر غسل نہیں اس لئے کہ غسل کا سبب۔ انزال زن یاد خول حشفہ۔ نہ پایاگیا۔ یہاں تك کہ اگر اسے حمل ٹھہر جائے تواس پر غسل ہوگا اس لئے کہ یہ اس کاثبوت ہے کہ عورت کو بھی انزال ہوا تھا کیوں کہ اس کے انزال کے بغیر استقرار حمل نہیں ہوسکتا۔ یہ مسئلہ خانیہ خلاصہ وجیز کبری خزانۃ المفتین فتح القدیر البحر الرائق غنیہ وغیرہا میں مذکور ہے ۔ توانہوں نے اس کا جواز مانا ہے۔ یہاں تك کہ کنواری میں بھی کہ
فــــ : مسئلہ : عورت کی ران پر جماع کیا اور منی اس کی فرج میں چلی گئی یاکنواری کی فرج میں جماع کیا اور اس کی بکارت زائل نہ ہوئی تو ان دونوں صورتوں میں عورت پر غسل نہ ہوگا کہ نہ اس کا انزال ثابت ہوا نہ اس کی فرج داخل میں حشفہ غائب ہوا ورنہ بکارت جاتی رہتی ہاں ان جماعوں سے اگر عورت کو حمل رہ گیاتواب اس پر اسی وقت جماع سے غسل واجب ہونے کاحکم دیں گے اور آج تك جتنی نمازیں قبل غسل پڑھی ہیں سب پھیرے کہ حمل رہ جانے سے ثابت ہواکہ عورت کو خود بھی انزال ہوگیاتھا ورنہ حمل نہ رہتا۔
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الاغتسال نولکشورلکھنؤ۱ / ۲۱ ، خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی فی الغسل مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۱ / ۱۳ ، الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الھندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱ ، فتح القدیر کتاب الطہارۃفصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۵ ، البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۵۷
الخارج ثم ینجذب فیدخل فی الرحم۔
قال فی الغنیۃ بعد ذکر ھذہ المسألۃ الاخیرۃ لاشك انہ مبنی علی وجوب الغسل علیہا بمجرد انفصال منیہا الی رحمہا وھو خلاف الاصح الذی ھو ظاھر الروایۃ قال فی التاترخانیہ وفی ظاھر الروایۃ یشترط الخروج من الفرج الداخل الی الفرج الخارج وفی النصاب وھو الاصح اھ اھ وقد تواردہ علیہ العلامۃ الشامی فی المنحۃ فقال اقول لایخفی ان الحبل یتوقف علی انفصال الماء عن مقرہ لاعلی خروجہ فالظاھر ان وجوب الغسل مبنی علی الروایۃ السابقۃ عن محمد تامل اھ
ثم رأی الحلبی صرح بہ فی الغنیۃ فحمد الله تعالی علیہ وقد تبعہ ایضافی الدر اذ نقل عنہ ما فی شرحہ الصغیر ان فیہ نظرلان خروج
منی اس کی فرج خارج سے باہر واقع ہوپھر جذب وکشش پاکر رحم میں چلی جائے۔
غنیہ میں آخری مسئلہ ذکر کرنے کے بعدلکھاکہ : اس میں شك نہیں کہ یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عورت پر صرف اس سے کہ اس کی منی جدا ہو کر رحم میں چلی جائے غسل واجب ہے اور یہ اصح ظاہر الروایہ کے خلاف ہے۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایہ میں فرج داخل سے نکل کر فرج خارج کی طرف آنا شرط ہے۔ اور نصاب میں ہے کہ : یہی اصح ہے اھ اھ ۔ اس بات پر صاحب غنیہ سے علامہ شامی کا بھی توارد ہوا ہے وہ منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں مخفی نہیں کہ استقرارحمل صرف اس پر موقوف ہے کہ منی اپنی جگہ سے جدا ہوجائے وہ منی کے باہر آنے پر موقوف نہیں ۔ توظاہر یہ ہے کہ اس صورت میں وجوب غسل کا حکم اس روایت پر مبنی ہے جو امام محمد سے ماسبق میں نقل ہوئی۔ تامل کرو۔ اھ۔
یہ لکھنے کے بعدعلامہ شامی نے غنیہ میں دیکھا کہ محقق حلبی نے اس کی تصریح کی ہے۔ تواس پرخداکاشکر اداکیا۔ حلبی کا اتباع درمختار میں بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ان کی شرح صغیر کا کلام نقل کیا ہے کہ یہ محل نظر ہے اس لئے کہ عورت
قال فی الغنیۃ بعد ذکر ھذہ المسألۃ الاخیرۃ لاشك انہ مبنی علی وجوب الغسل علیہا بمجرد انفصال منیہا الی رحمہا وھو خلاف الاصح الذی ھو ظاھر الروایۃ قال فی التاترخانیہ وفی ظاھر الروایۃ یشترط الخروج من الفرج الداخل الی الفرج الخارج وفی النصاب وھو الاصح اھ اھ وقد تواردہ علیہ العلامۃ الشامی فی المنحۃ فقال اقول لایخفی ان الحبل یتوقف علی انفصال الماء عن مقرہ لاعلی خروجہ فالظاھر ان وجوب الغسل مبنی علی الروایۃ السابقۃ عن محمد تامل اھ
ثم رأی الحلبی صرح بہ فی الغنیۃ فحمد الله تعالی علیہ وقد تبعہ ایضافی الدر اذ نقل عنہ ما فی شرحہ الصغیر ان فیہ نظرلان خروج
منی اس کی فرج خارج سے باہر واقع ہوپھر جذب وکشش پاکر رحم میں چلی جائے۔
غنیہ میں آخری مسئلہ ذکر کرنے کے بعدلکھاکہ : اس میں شك نہیں کہ یہ حکم اس پر مبنی ہے کہ عورت پر صرف اس سے کہ اس کی منی جدا ہو کر رحم میں چلی جائے غسل واجب ہے اور یہ اصح ظاہر الروایہ کے خلاف ہے۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایہ میں فرج داخل سے نکل کر فرج خارج کی طرف آنا شرط ہے۔ اور نصاب میں ہے کہ : یہی اصح ہے اھ اھ ۔ اس بات پر صاحب غنیہ سے علامہ شامی کا بھی توارد ہوا ہے وہ منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں مخفی نہیں کہ استقرارحمل صرف اس پر موقوف ہے کہ منی اپنی جگہ سے جدا ہوجائے وہ منی کے باہر آنے پر موقوف نہیں ۔ توظاہر یہ ہے کہ اس صورت میں وجوب غسل کا حکم اس روایت پر مبنی ہے جو امام محمد سے ماسبق میں نقل ہوئی۔ تامل کرو۔ اھ۔
یہ لکھنے کے بعدعلامہ شامی نے غنیہ میں دیکھا کہ محقق حلبی نے اس کی تصریح کی ہے۔ تواس پرخداکاشکر اداکیا۔ حلبی کا اتباع درمختار میں بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ان کی شرح صغیر کا کلام نقل کیا ہے کہ یہ محل نظر ہے اس لئے کہ عورت
حوالہ / References
غنیۃ المستملی مطلب فی الطہارۃ الکبرٰی سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵،۴۶
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
منیہامن فرجھا الداخل شرط لوجوب الغسل علی المفتی بہ ولم یوجد اھ فبزیادۃ قولہ علی المفتی بہ اشار الی ابتنائہ علی روایۃ محمد۔
اقول : وھذافــــ ماشبہ علی بعض الانظارفزعمت ان الروایۃ النادرۃلاتشترط الخروج وقد ازالہا المحقق وبیناہ بمایکفی ویشفی فلا وجہ لھذا الحمل امامایذکرعن المنصوریۃ انہ اعتبر فی منیھا الخروج الی فرجہا الخارج عند الفقیہ ابی جعفر والی فرجہا الداخل عند الامامین الحلوانی والسرخسی علی مانقل عنہا البرجندی
فاقول : متوغل فی الاغراب مثل ذلك الکتاب الا تری ان الامام الحلوانی ھو القائل لتلك الروایۃ عن محمد لایؤخذ بھذہ الروایۃ فان النساء یقلن ان منی
کی منی کافرج داخل سے باہرآنا وجوب غسل کے لئے مفتی بہ قول پرشرط ہے اوریہ شرط نہ پائی گئی۔ اھ۔ تو “ مفتی بہ قول پر “ کا اضافہ کرکے اس طرف اشارہ کیا کہ یہ امام محمد کی روایت پر مبنی ہے۔
اقول : یہ ان بعض نظروں کا اشتباہ ہے جس کے سبب انہوں نے یہ سمجھ لیاکہ روایت نادرہ میں خروج کی شرط نہیں اور محقق علی الاطلاق نے اس شبہ کاازالہ فرمایا ہے اورہم اسے کافی وشافی طور پر بیان کرآئے ہیں ۔ تو اس روایت پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ لیکن وہ جو منصوریہ کے حوالے سے بیان کیاجاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر کے نزدیك عورت کی منی میں فرج خارج کی طرف نکلنے کا اعتبار ہے اور امام حلوانی وامام سرخسی کے نزدیك صرف فرج داخل کی طرف نکلنے کااعتبار ہے۔ جیسا کہ بر جندی میں منصوریہ سے نقل کیاہے۔
فاقول : اس کتاب کی طرح ان دونوں اماموں کی طرف یہ انتساب بھی انتہائی غریب ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ امام حلوانی ہی نے تو امام محمد کی اس روایت نادرہ سے متعلق فرمایاکہ یہ روایت نہ لی جائے گی اس لئے کہ عورتیں
فـــــ : تطفل علی الغنیۃ والمنحۃ ۔
اقول : وھذافــــ ماشبہ علی بعض الانظارفزعمت ان الروایۃ النادرۃلاتشترط الخروج وقد ازالہا المحقق وبیناہ بمایکفی ویشفی فلا وجہ لھذا الحمل امامایذکرعن المنصوریۃ انہ اعتبر فی منیھا الخروج الی فرجہا الخارج عند الفقیہ ابی جعفر والی فرجہا الداخل عند الامامین الحلوانی والسرخسی علی مانقل عنہا البرجندی
فاقول : متوغل فی الاغراب مثل ذلك الکتاب الا تری ان الامام الحلوانی ھو القائل لتلك الروایۃ عن محمد لایؤخذ بھذہ الروایۃ فان النساء یقلن ان منی
کی منی کافرج داخل سے باہرآنا وجوب غسل کے لئے مفتی بہ قول پرشرط ہے اوریہ شرط نہ پائی گئی۔ اھ۔ تو “ مفتی بہ قول پر “ کا اضافہ کرکے اس طرف اشارہ کیا کہ یہ امام محمد کی روایت پر مبنی ہے۔
اقول : یہ ان بعض نظروں کا اشتباہ ہے جس کے سبب انہوں نے یہ سمجھ لیاکہ روایت نادرہ میں خروج کی شرط نہیں اور محقق علی الاطلاق نے اس شبہ کاازالہ فرمایا ہے اورہم اسے کافی وشافی طور پر بیان کرآئے ہیں ۔ تو اس روایت پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ لیکن وہ جو منصوریہ کے حوالے سے بیان کیاجاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر کے نزدیك عورت کی منی میں فرج خارج کی طرف نکلنے کا اعتبار ہے اور امام حلوانی وامام سرخسی کے نزدیك صرف فرج داخل کی طرف نکلنے کااعتبار ہے۔ جیسا کہ بر جندی میں منصوریہ سے نقل کیاہے۔
فاقول : اس کتاب کی طرح ان دونوں اماموں کی طرف یہ انتساب بھی انتہائی غریب ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ امام حلوانی ہی نے تو امام محمد کی اس روایت نادرہ سے متعلق فرمایاکہ یہ روایت نہ لی جائے گی اس لئے کہ عورتیں
فـــــ : تطفل علی الغنیۃ والمنحۃ ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲
شرح مختصرالوقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۰
شرح مختصرالوقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۰
المرأۃ یخرج من الداخل کمنی الرجل فھوجواب ظاھرالروایۃ کما فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عنہ رحمہ الله تعالی فکیف ینسب الیہ ھذا۔
فان قلت ففرع الحبل مامعناہ قلت معناہ فــــ ظاھران شاء الله تعالی فان بالحبل ثبت انزالہا والغالب فی الانزال الخروج والغالب کالمتحقق فی الفقہ فلاینافیہ نفی التوقف علی الخروج بمعنی لولاہ لم یکن ۔
فان قلت بل الحبل دلیل عدم الخروج لاجل الانعقاد الاتری انھن حین یحبلن یمسکن ماء الرجل فلا یرمین منہ الا شیأقلیلا قلت الانزال یقتضی الخروج والانعقاد یکون بجزء من الماء لابکلہ الاتری انھن حین یحبلن یرمین بشیئ من ماء الرجل ایضاولا یمسکن منہ الاجزء قدر الله
بتاتی ہیں کہ عورت کی منی مرد کی منی کی طرح فرج داخل سے باہر آتی ہے اور یہی ظاہرالروایہ کاحکم ہے جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل ہے توان کی جانب یہ انتساب کیسے ہوسکتاہے
اگر دریافت کرو کہ پھر استقرار حمل سے متعلق جوجزئیہ ہے اس کا مطلب کیاہے۔ میں کہوں گا اس کا مطلب واضح ہے۔ ان شاء الله تعالی۔ اس لئے کہ حمل سے عورت کو انزال ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ اور انزال میں غالب یہی ہے کہ منی باہرآتی ہے۔ اور غالب فقہ میں متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ تو یہ بات اس کے منافی نہیں کہ حمل خروج منی پر موقوف نہیں بایں معنی کہ اگر خروج نہ ہو توحمل ہی نہ ہو۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ حمل توعدم خروج کی دلیل ہے اس لئے کہ استقرار ہو چکا ہے۔ معلوم ہے کہ عورتوں کوجب حمل ٹھہر تا ہے تو وہ مرد کا پانی بھی روك لیتی ہیں اس میں سے بہت قلیل باہرگرتا ہے۔ میں کہوں گا انزال کا تقاضایہ ہے کہ خروج منی ہو۔ اور استقرار تو آب منی کے ایك جز سے ہوتاہے کل سے نہیں ۔ معلوم ہے کہ جب انہیں حمل ہوتاہے تومرد کاکچھ پانی ان سے باہر آگرتا ہے۔ اور اس میں سے صرف وہی جز
فـــ : تطفل آخر علیہم ۔
فان قلت ففرع الحبل مامعناہ قلت معناہ فــــ ظاھران شاء الله تعالی فان بالحبل ثبت انزالہا والغالب فی الانزال الخروج والغالب کالمتحقق فی الفقہ فلاینافیہ نفی التوقف علی الخروج بمعنی لولاہ لم یکن ۔
فان قلت بل الحبل دلیل عدم الخروج لاجل الانعقاد الاتری انھن حین یحبلن یمسکن ماء الرجل فلا یرمین منہ الا شیأقلیلا قلت الانزال یقتضی الخروج والانعقاد یکون بجزء من الماء لابکلہ الاتری انھن حین یحبلن یرمین بشیئ من ماء الرجل ایضاولا یمسکن منہ الاجزء قدر الله
بتاتی ہیں کہ عورت کی منی مرد کی منی کی طرح فرج داخل سے باہر آتی ہے اور یہی ظاہرالروایہ کاحکم ہے جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام حلوانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل ہے توان کی جانب یہ انتساب کیسے ہوسکتاہے
اگر دریافت کرو کہ پھر استقرار حمل سے متعلق جوجزئیہ ہے اس کا مطلب کیاہے۔ میں کہوں گا اس کا مطلب واضح ہے۔ ان شاء الله تعالی۔ اس لئے کہ حمل سے عورت کو انزال ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ اور انزال میں غالب یہی ہے کہ منی باہرآتی ہے۔ اور غالب فقہ میں متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ تو یہ بات اس کے منافی نہیں کہ حمل خروج منی پر موقوف نہیں بایں معنی کہ اگر خروج نہ ہو توحمل ہی نہ ہو۔
اگر یہ کہو کہ نہیں بلکہ حمل توعدم خروج کی دلیل ہے اس لئے کہ استقرار ہو چکا ہے۔ معلوم ہے کہ عورتوں کوجب حمل ٹھہر تا ہے تو وہ مرد کا پانی بھی روك لیتی ہیں اس میں سے بہت قلیل باہرگرتا ہے۔ میں کہوں گا انزال کا تقاضایہ ہے کہ خروج منی ہو۔ اور استقرار تو آب منی کے ایك جز سے ہوتاہے کل سے نہیں ۔ معلوم ہے کہ جب انہیں حمل ہوتاہے تومرد کاکچھ پانی ان سے باہر آگرتا ہے۔ اور اس میں سے صرف وہی جز
فـــ : تطفل آخر علیہم ۔
تعالی ان یکون منہ الزرع بل قدلا یرمین بہ الاحین ینزلن تبعا لمائھن وبالجملۃ دلالۃ الانزل علی خروج البعض لایعارضھا دلالۃ الحبل علی امساك البعض ھذاماظھرلی۔
ثم رأیت العلامۃ ط رحمہ الله تعالی جنح الی بعض ماذکرتہ فقال قلت والنظر لایتم الا اذا کانت البکارۃ تمنع خروج المنی والامربخلاف ذلك لخروج الحیض من ذلك المحل فلماکان الغالب فی تلك الحالۃ النزول خصوصا وقد ظھر الحبل وھو اکبر دلیل علیہ اعتبروہ واقاموا اللازم مقام الملزوم ومن یعرف مواقع الفقہ لایستبعد ذلك اھ فقد افادواجاد علیہ رحمۃ الجواد۔
اقول : غیرفــــ ان فی قولہ خصوصا رکتا ہے جس سے نسل کاوجود خدا تعالی نے مقدر فرمایاہے۔ بلکہ ایسابھی ہے کہ مرد کاپانی بھی اسی وقت گرتا ہے جب ان کے انزال کے ساتھ ان کاپانی بھی گرتاہے۔ مختصریہ کہ انزال بعض حصہ منی کے باہر آنے کی دلیل ہے دونوں میں کوئی تعارض نہیں ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پرظاہر ہوا۔
پھر میں نے دیکھا کہ میری مذکورہ کچھ باتوں کی طرف علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکابھی رجحان ہے وہ فرماتے ہیں : میں کہتاہوں یہ نظر(جودرمختار میں منقول ہے ۱۲م)اسی صورت میں تام ہوسکتی ہے جب بکارت خروج سے مانع ہو اور معاملہ اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ خون حیض بھی اسی جگہ سے باہر آتا ہے۔ تو اس حالت میں چوں کہ غالب منی کااترنا ہے۔ خصوصا جب کہ حمل ظاہر ہوچکا اور یہ اس کی بڑی دلیل ہے اس لئے اس کا اعتبار کرلیا گیااور لازم کو ملزوم کے قائم مقام قرار دیاگیا۔ اور جو فقہ کے مقامات سے آشنا ہے وہ اسے بعید نہ جانے گا ۔ اھ۔ ان الفاظ سے انہوں نے افادہ کیا اور خوب افادہ فرمایا رب جو اد کی ان پر رحمت ہو۔
اقول : مگر یہ ہے کہ ان کا لفظ “ خصوصا “ نمایاں
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
ثم رأیت العلامۃ ط رحمہ الله تعالی جنح الی بعض ماذکرتہ فقال قلت والنظر لایتم الا اذا کانت البکارۃ تمنع خروج المنی والامربخلاف ذلك لخروج الحیض من ذلك المحل فلماکان الغالب فی تلك الحالۃ النزول خصوصا وقد ظھر الحبل وھو اکبر دلیل علیہ اعتبروہ واقاموا اللازم مقام الملزوم ومن یعرف مواقع الفقہ لایستبعد ذلك اھ فقد افادواجاد علیہ رحمۃ الجواد۔
اقول : غیرفــــ ان فی قولہ خصوصا رکتا ہے جس سے نسل کاوجود خدا تعالی نے مقدر فرمایاہے۔ بلکہ ایسابھی ہے کہ مرد کاپانی بھی اسی وقت گرتا ہے جب ان کے انزال کے ساتھ ان کاپانی بھی گرتاہے۔ مختصریہ کہ انزال بعض حصہ منی کے باہر آنے کی دلیل ہے دونوں میں کوئی تعارض نہیں ۔ یہ وہ ہے جو مجھ پرظاہر ہوا۔
پھر میں نے دیکھا کہ میری مذکورہ کچھ باتوں کی طرف علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہکابھی رجحان ہے وہ فرماتے ہیں : میں کہتاہوں یہ نظر(جودرمختار میں منقول ہے ۱۲م)اسی صورت میں تام ہوسکتی ہے جب بکارت خروج سے مانع ہو اور معاملہ اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ خون حیض بھی اسی جگہ سے باہر آتا ہے۔ تو اس حالت میں چوں کہ غالب منی کااترنا ہے۔ خصوصا جب کہ حمل ظاہر ہوچکا اور یہ اس کی بڑی دلیل ہے اس لئے اس کا اعتبار کرلیا گیااور لازم کو ملزوم کے قائم مقام قرار دیاگیا۔ اور جو فقہ کے مقامات سے آشنا ہے وہ اسے بعید نہ جانے گا ۔ اھ۔ ان الفاظ سے انہوں نے افادہ کیا اور خوب افادہ فرمایا رب جو اد کی ان پر رحمت ہو۔
اقول : مگر یہ ہے کہ ان کا لفظ “ خصوصا “ نمایاں
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۹۵
حزازۃ ظاھرۃ لان الکلام ھھنافی اغلبیۃ الخروج عند الانزال ولامزیۃ فیہ لصورۃ الحبل بل المزیۃ لصورۃ عدمہ لماقدمت من وجوب الا مساك فی الحبل للانعقاد۔
ثم المستفاد فــــ من کلامہ ان مرادہ اغلبیۃ الانزال فی حالۃ الجماع وعلیہ یستقیم قولہ خصوصافان دلالۃ الحبل علی الانزال اظھر و ازھر ولکن لوکان الاغلب انزالہابالجماع لوجب الحکم علیھابالغسل وان لم یظھر الحبل لان الغالب کالمتحقق بل الاغلب فی النساء عدم الانزال بکل جماع الااحیاناکماصرح بہ اھل المعرفۃ بھذا الشان حتی قالوا لوانھا کلما جومعت انزلت لھلکت سریعا ھذا الکلام مع الغنیۃ۔
اما الحلیۃ فنقل فیھاکلام المحقق ثم نازعہ بقولہ دعوی وجودالمنی شرعافیمن احتملت ثم استیقظت وتذکرت
طورپر کھٹك رہاہے اس لئے کہ یہاں وقت انزال خروج منی کے اکثر ہونے سے متعلق گفتگو ہے اوراس میں صورت حمل کو کوئی خصوصیت نہیں بلکہ خصوصیت عدم حمل کو ہے کیوں کہ ابھی بیان ہواکہ حمل میں بوجہ استقرار(کچھ پانی) روك لینا ضروری ہے۔
پھران کے کلام سے مستفادیہ ہے کہ ان کی مراد حالت جماع میں اکثریت انزال ہے اسی مراد پران کا لفظ “ خصوصا “ ٹھیك بیٹھ سکتاہے کیونکہ انزال پر حمل کی دلالت بہت واضح وروشن ہے لیکن جماع سے اگر اسے انزال ہوجانااکثر و غالب ہوتاتوحمل ظاہرنہ ہوتے ہوئے بھی (مسئلہ مذکورہ میں ) اس پر غسل کا حکم کرنالازم ہوتا۔ اس لئے کہ غالب واکثر
متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ بلکہ عورتوں میں اکثروغالب یہی ہے کہ ہر جماع سے انہیں انزال نہ ہومگربعض اوقات میں ۔ جیسا کہ اس امر کی معرفت رکھنے والوں کی تصریح موجود ہے بلکہ انہوں نے تویہاں تك کہا ہے کہ اگرہرجماع کے ساتھ اسے انزال ہو توجلد ہی ہلاك ہوجائے۔ یہ کلام غنیہ پر ہوا۔
لیکن حلیہ تواس میں محقق علی الاطلاق کاکلام نقل کرنے کے بعدان الفاظ میں اس سے نزاع کیا ہے : عورت جسے احتلام ہوا پھر بیدار ہوئی او رخواب میں
فــــ : معروضۃ اخری علیہا
ثم المستفاد فــــ من کلامہ ان مرادہ اغلبیۃ الانزال فی حالۃ الجماع وعلیہ یستقیم قولہ خصوصافان دلالۃ الحبل علی الانزال اظھر و ازھر ولکن لوکان الاغلب انزالہابالجماع لوجب الحکم علیھابالغسل وان لم یظھر الحبل لان الغالب کالمتحقق بل الاغلب فی النساء عدم الانزال بکل جماع الااحیاناکماصرح بہ اھل المعرفۃ بھذا الشان حتی قالوا لوانھا کلما جومعت انزلت لھلکت سریعا ھذا الکلام مع الغنیۃ۔
اما الحلیۃ فنقل فیھاکلام المحقق ثم نازعہ بقولہ دعوی وجودالمنی شرعافیمن احتملت ثم استیقظت وتذکرت
طورپر کھٹك رہاہے اس لئے کہ یہاں وقت انزال خروج منی کے اکثر ہونے سے متعلق گفتگو ہے اوراس میں صورت حمل کو کوئی خصوصیت نہیں بلکہ خصوصیت عدم حمل کو ہے کیوں کہ ابھی بیان ہواکہ حمل میں بوجہ استقرار(کچھ پانی) روك لینا ضروری ہے۔
پھران کے کلام سے مستفادیہ ہے کہ ان کی مراد حالت جماع میں اکثریت انزال ہے اسی مراد پران کا لفظ “ خصوصا “ ٹھیك بیٹھ سکتاہے کیونکہ انزال پر حمل کی دلالت بہت واضح وروشن ہے لیکن جماع سے اگر اسے انزال ہوجانااکثر و غالب ہوتاتوحمل ظاہرنہ ہوتے ہوئے بھی (مسئلہ مذکورہ میں ) اس پر غسل کا حکم کرنالازم ہوتا۔ اس لئے کہ غالب واکثر
متحقق کاحکم رکھتا ہے۔ بلکہ عورتوں میں اکثروغالب یہی ہے کہ ہر جماع سے انہیں انزال نہ ہومگربعض اوقات میں ۔ جیسا کہ اس امر کی معرفت رکھنے والوں کی تصریح موجود ہے بلکہ انہوں نے تویہاں تك کہا ہے کہ اگرہرجماع کے ساتھ اسے انزال ہو توجلد ہی ہلاك ہوجائے۔ یہ کلام غنیہ پر ہوا۔
لیکن حلیہ تواس میں محقق علی الاطلاق کاکلام نقل کرنے کے بعدان الفاظ میں اس سے نزاع کیا ہے : عورت جسے احتلام ہوا پھر بیدار ہوئی او رخواب میں
فــــ : معروضۃ اخری علیہا
لذۃ انزال مناما ولم تجد بللا لمساولا رؤیۃ ممنوعۃ لان مایتذکر وقوعہ فی نفس الامرفی النوم انما یکون محقق الوجود شرعا اذا وجد فی الیقظۃ مایشھد بذلك ولیس الشاھد لتحقق وجود المنی منھا مناما الا علمہا بوجودہ فی الفرج الخارج یقظۃ بلمس اوبصر فاذافقد فقد ظھر عدم وجودہ وان المرئی لہا فی المنام کان خیالا وھذہ الصورۃ فیمایظھرھی محل الخلاف فظاھرالروایۃ لایجب الغسل وعن محمد نعم ولاشك فی ضعفھا کیف لاوھی مخالفۃ لظاھر النص وکذا القیاس الصحیح علی امثال ذلك من البول و الحیض ونحوھما فان الشارع لم یعتبر ھذہ الاشیاء موجودۃ الا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج کذا ھذا اھ
اقول : والجواب فــــ مااذناك انزال کی لذت اسے یاد ہے مگر اسے چھونے یا دیکھنے سے کوئی تری نہ ملی اس عورت سے متعلق یہ دعوی کہ شرعا اس کی منی پالی گئی قابل تسلیم نہیں ۔ اس لئے کہ خواب میں واقعی طور پر جس بات کا واقع ہونا یادآتاہے شرعا اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاجب بیداری میں اس کا کوئی شاہد مل جائے۔ اور خواب میں اس سے منی پائے جانے کے تحقق پر شاہد یہی ہے کہ بیداری میں چھونے یادیکھنے سے اس کو فرج خارج میں وجود منی کا علم ہوجب یہ شاہد موجود نہیں تو ظاہرہو گیاکہ منی پائی نہ گئی اور جوکچھ اس نے خواب میں دیکھاوہ محض ایك خیال تھا۔ اورظاہر یہی ہے کہ یہی صورت محل اختلاف ہے۔ اسی سے متعلق ظاہر الروایہ میں ہے کہ غسل واجب نہیں اور امام محمد سے ایك روایت ہے کہ واجب ہے اور اس روایت کے ضعیف ہونے میں کوئی شك نہیں اورضعیف کیوں نہ ہو جب کہ وہ ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اسی طرح اس کے مثل پیشاب حیض وغیرہ پر قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے اس لئے کہ شارع نے ان چیزوں کاوجود اسی وقت مانا ہے جب یہ فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں ظاہر ہوں ۔ تویہی حکم منی کا بھی ہوگا اھ۔
اقول : اس کا جواب وہی ہے جو ہم
فـــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
اقول : والجواب فــــ مااذناك انزال کی لذت اسے یاد ہے مگر اسے چھونے یا دیکھنے سے کوئی تری نہ ملی اس عورت سے متعلق یہ دعوی کہ شرعا اس کی منی پالی گئی قابل تسلیم نہیں ۔ اس لئے کہ خواب میں واقعی طور پر جس بات کا واقع ہونا یادآتاہے شرعا اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاجب بیداری میں اس کا کوئی شاہد مل جائے۔ اور خواب میں اس سے منی پائے جانے کے تحقق پر شاہد یہی ہے کہ بیداری میں چھونے یادیکھنے سے اس کو فرج خارج میں وجود منی کا علم ہوجب یہ شاہد موجود نہیں تو ظاہرہو گیاکہ منی پائی نہ گئی اور جوکچھ اس نے خواب میں دیکھاوہ محض ایك خیال تھا۔ اورظاہر یہی ہے کہ یہی صورت محل اختلاف ہے۔ اسی سے متعلق ظاہر الروایہ میں ہے کہ غسل واجب نہیں اور امام محمد سے ایك روایت ہے کہ واجب ہے اور اس روایت کے ضعیف ہونے میں کوئی شك نہیں اورضعیف کیوں نہ ہو جب کہ وہ ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اسی طرح اس کے مثل پیشاب حیض وغیرہ پر قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے اس لئے کہ شارع نے ان چیزوں کاوجود اسی وقت مانا ہے جب یہ فرج داخل سے نکل کر فرج خارج میں ظاہر ہوں ۔ تویہی حکم منی کا بھی ہوگا اھ۔
اقول : اس کا جواب وہی ہے جو ہم
فـــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
مرارا ان تذکرالاحتلام دلیل اعتبرہ الشرع لاسیما مع تذکرلذۃ الانزال ومن ثم نشأ الفرق بین الاحکام فی التذکروعدمہ فلولم یکن دلیلا علی نزول المنی کان احتمال المنی احتمالاعلی احتمال فی من تذکرو رأی بللا یعلم انہ لیس منیا بل ولایعلم ایضاانھابلۃ ناشئۃ عن شھوۃ انمایسوغہ لترددھا بین مذی وودی ومعلوم ان الاحتمال علی الاحتمال لایعبؤبہ فکان کمن رأھاولم یتذکر مع اجماعھم علی الفرق بینھما فما ھو الالان التذکردلیل خروج المنی فترقی بہ عن الاحتمال علی الاحتمال الی الاحتمال فوجب احتیاطالان الاحتمال معتبرفی محل الاحتیاط۔
قولکم انمایکون محقق الوجود شرعا الخ اقول : ماقام فـــ علیہ نے بار بار بتایا کہ احتلام یاد ہونا ایك ایسی دلیل ہے جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہے خصوصا جب کہ لذت انزال بھی یاد ہو۔ یہیں سے تو یاد ہونے اورنہ ہونے میں احکام کا فرق رونماہوا۔ اگریہ نزول منی کی دلیل نہ ہوتا تومنی کا احتمال احتمال دراحتمال ہوتا اس شخص کے بارے میں جسے احتلام یاد ہے اور بیداری میں اس نے ایسی تری دیکھی جسے وہ جانتا ہے کہ منی نہیں بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتاکہ یہ کوئی ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔ اس کا صرف امکان مانتاہے اس لئے کہ اس میں مذی اور ودی کے درمیان تردد ہے۔ اور معلوم ہے کہ احتمال در احتمال کاکوئی اعتبارنہیں تو یہ شخص اسی کی طرح ہواجس نے تری دیکھی اور اسے احتلام یادنہیں حالانکہ دونوں کے درمیان تفریق پر ہمارے ائمہ کااجماع ہے اس کاسبب اس کے سواکچھ نہیں کہ احتلام یاد ہونا خروج منی کی دلیل ہے اسی وجہ سے وہ احتمال در احتمال سے ترقی کر کے احتمال کے درجہ تك آگیا۔ تو احتیاط واجب ہوئی اس لئے کہ مقام احتیاط میں احتمال معتبر ہے۔
صاحب حلیہ : شرعا اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاالخ اقول : جس امر پر دلیل
فــــ : تطفل آخر علیہا۔
قولکم انمایکون محقق الوجود شرعا الخ اقول : ماقام فـــ علیہ نے بار بار بتایا کہ احتلام یاد ہونا ایك ایسی دلیل ہے جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہے خصوصا جب کہ لذت انزال بھی یاد ہو۔ یہیں سے تو یاد ہونے اورنہ ہونے میں احکام کا فرق رونماہوا۔ اگریہ نزول منی کی دلیل نہ ہوتا تومنی کا احتمال احتمال دراحتمال ہوتا اس شخص کے بارے میں جسے احتلام یاد ہے اور بیداری میں اس نے ایسی تری دیکھی جسے وہ جانتا ہے کہ منی نہیں بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتاکہ یہ کوئی ایسی تری ہے جو شہوت سے نکلی ہے۔ اس کا صرف امکان مانتاہے اس لئے کہ اس میں مذی اور ودی کے درمیان تردد ہے۔ اور معلوم ہے کہ احتمال در احتمال کاکوئی اعتبارنہیں تو یہ شخص اسی کی طرح ہواجس نے تری دیکھی اور اسے احتلام یادنہیں حالانکہ دونوں کے درمیان تفریق پر ہمارے ائمہ کااجماع ہے اس کاسبب اس کے سواکچھ نہیں کہ احتلام یاد ہونا خروج منی کی دلیل ہے اسی وجہ سے وہ احتمال در احتمال سے ترقی کر کے احتمال کے درجہ تك آگیا۔ تو احتیاط واجب ہوئی اس لئے کہ مقام احتیاط میں احتمال معتبر ہے۔
صاحب حلیہ : شرعا اس کا وجود اسی وقت ثابت ہوگاالخ اقول : جس امر پر دلیل
فــــ : تطفل آخر علیہا۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
دلیل شرعی فقد تحقق وجودہ شرعاولا یحتاج الی شاھد من لمس اوبصرالا تری ان المولج المکسل قام فیہ الدلیل الشرعی علی انزالہ فاعتبرموجودا شرعامع عدم شھادۃ لمس ولا بصر نعم یحتاج الحکم بالدلیل الی عدم المعارض وعدم وجدان الرجل المحتلم معارض لدلالۃ التذکر بخلاف المرأۃ کما بینا نعم دلالۃ الایلاج یقظۃ اعظم واقوی من دلالۃ الاحتلام فلم یقم لہا ھذا المعارض لاحتمالات بعیدۃ لم تکن تحمل لولا غایۃ مافی ھذا الدلیل من عظم القوۃ بخلاف تذکر الحلم۔
قولکم مخالفۃ لظاھر النص اقول : لواوجبت فـــ من دون
شرعی قائم ہوگئی شرعا اس کا وجود ثابت ہوگیا اور چھونے دیکھنے جیسے شاہد کی حاجت نہ رہی۔ کیا معلوم نہیں کہ ادخال حشفہ والے شخص کے بارے میں انزال پر دلیل شرعی قائم ہوگئی تو انزال کو شرعا موجود مان لیا گیا باوجود یکہ دیکھنے چھونے کی کوئی شہادت نہیں ۔ ہاں دلیل پر حکم کرنے میں اس کی ضرورت ہے کہ اس کا کوئی معارض نہ ہو۔ اور جس مرد نے خواب دیکھا اور احتلام اسے یاد ہے مگر اس نے کوئی تری نہ پائی تو اس کے یاد ہونے کا اعتبار نہ ہوا۔ اس لئے کہ تری نہ پانا دلیل تذکر(یاد ہونا)کے معارض ہے۔ اور عورت کی یہ حالت نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ ہاں بیداری میں ادخال کی دلالت خواب یاد ہونے کی دلالت سے زیادہ عظیم اور قوی ہے اس لئے یہ معارض(تری نہ پانا) اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ایسے بعید احتمالات کی وجہ سے جو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اگر اس دلیل میں انتہائی قوت نہ ہوتی اور خواب یاد ہونے کی دلیل ایسی قوی نہیں ۔
صاحب حلیۃ : یہ روایت ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اقول : اگر اس میں
فـــ : تطفل ثالث علیہا۔
قولکم مخالفۃ لظاھر النص اقول : لواوجبت فـــ من دون
شرعی قائم ہوگئی شرعا اس کا وجود ثابت ہوگیا اور چھونے دیکھنے جیسے شاہد کی حاجت نہ رہی۔ کیا معلوم نہیں کہ ادخال حشفہ والے شخص کے بارے میں انزال پر دلیل شرعی قائم ہوگئی تو انزال کو شرعا موجود مان لیا گیا باوجود یکہ دیکھنے چھونے کی کوئی شہادت نہیں ۔ ہاں دلیل پر حکم کرنے میں اس کی ضرورت ہے کہ اس کا کوئی معارض نہ ہو۔ اور جس مرد نے خواب دیکھا اور احتلام اسے یاد ہے مگر اس نے کوئی تری نہ پائی تو اس کے یاد ہونے کا اعتبار نہ ہوا۔ اس لئے کہ تری نہ پانا دلیل تذکر(یاد ہونا)کے معارض ہے۔ اور عورت کی یہ حالت نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ ہاں بیداری میں ادخال کی دلالت خواب یاد ہونے کی دلالت سے زیادہ عظیم اور قوی ہے اس لئے یہ معارض(تری نہ پانا) اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ایسے بعید احتمالات کی وجہ سے جو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اگر اس دلیل میں انتہائی قوت نہ ہوتی اور خواب یاد ہونے کی دلیل ایسی قوی نہیں ۔
صاحب حلیۃ : یہ روایت ظاہر نص کے مخالف ہے۔ اقول : اگر اس میں
فـــ : تطفل ثالث علیہا۔
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
دلیل علی الخروج لخالفت واذ قدبنت الامرعلی الدلیل وقد اعترفتم انہ لاشك فی الاتفاق علی وجوب الغسل بوجود المنی فی احتلامہا وفی ان المراد بالرؤیۃ العلم بوجودہ لارؤیۃ البصر اھ ففیم الخلاف۔
قولکم والقیاس الصحیح اقول : ماذافـــ۱المناط فی المقیس علیہا تعلق العلم بنفسہا اصالۃ ام اعم الثانی حاصل ھھناکماعلمت والاول غیر مسلم فی المقیس علیہا ففی الاشباہ ذکر عن فــــ۲ محمد رحمہ الله تعالی انہ اذا دخل بیت الخلاء وجلس للاستراحۃ وشك ھل
خروج منی کی دلیل کے بغیر وجوب غسل کاحکم ہوتاتو وہ نص کے مخالف ہوتی اورجب اس نے بنائے حکم دلیل پر رکھی ہے(تومخالفت کس بات میں رہی)اور آپ کوبھی اعتراف ہے کہ عورت کے احتلام میں منی پائے جانے سے وجوب غسل پر اتفاق ہونے میں کوئی شك نہیں اوراس میں بھی کوئی شك نہیں کہ رؤیت سے مراد وجود منی کا علم ہے آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں ۔ اھ۔ اب مخالفت کہاں ہوئی
صاحب حلیۃ : قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے۔ اقول : مقیس علیہ(پیشاب حیض وغیرہ۱۲م) میں مدار کیا ہے خود ان چیزوں سے براہ راست علم ویقین کاتعلق یا اس سے اعم (وہ علم جو دلیل کے ذریعہ علم کو بھی شامل ہو۱۲م) ثانی تویہاں حاصل ہے جیسا کہ واضح ہوا۔ اور اول خودمقیس علیہ میں تسلیم نہیں ۔ کیونکہ اشباہ میں امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے یہ مسئلہ نقل کیا ہے : یہ یاد ہے کہ بیت الخلا میں داخل ہوا اور قضائے حاجت
فــــ۱ : تطفل رابع علیہا۔
فــــ۲ : مسئلہ : یہ یاد ہے کہ بیت الخلاء میں گیا اور قضائے حاجت کے لئے بیٹھا تھا مگر یہ یاد نہیں کہ پیشاب وغیرہ کچھ ہوا یانہیں تو یہی ٹھہرائیں گے کہ ہواتھاوضولازم ہے ۔
قولکم والقیاس الصحیح اقول : ماذافـــ۱المناط فی المقیس علیہا تعلق العلم بنفسہا اصالۃ ام اعم الثانی حاصل ھھناکماعلمت والاول غیر مسلم فی المقیس علیہا ففی الاشباہ ذکر عن فــــ۲ محمد رحمہ الله تعالی انہ اذا دخل بیت الخلاء وجلس للاستراحۃ وشك ھل
خروج منی کی دلیل کے بغیر وجوب غسل کاحکم ہوتاتو وہ نص کے مخالف ہوتی اورجب اس نے بنائے حکم دلیل پر رکھی ہے(تومخالفت کس بات میں رہی)اور آپ کوبھی اعتراف ہے کہ عورت کے احتلام میں منی پائے جانے سے وجوب غسل پر اتفاق ہونے میں کوئی شك نہیں اوراس میں بھی کوئی شك نہیں کہ رؤیت سے مراد وجود منی کا علم ہے آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں ۔ اھ۔ اب مخالفت کہاں ہوئی
صاحب حلیۃ : قیاس صحیح کے بھی خلاف ہے۔ اقول : مقیس علیہ(پیشاب حیض وغیرہ۱۲م) میں مدار کیا ہے خود ان چیزوں سے براہ راست علم ویقین کاتعلق یا اس سے اعم (وہ علم جو دلیل کے ذریعہ علم کو بھی شامل ہو۱۲م) ثانی تویہاں حاصل ہے جیسا کہ واضح ہوا۔ اور اول خودمقیس علیہ میں تسلیم نہیں ۔ کیونکہ اشباہ میں امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے یہ مسئلہ نقل کیا ہے : یہ یاد ہے کہ بیت الخلا میں داخل ہوا اور قضائے حاجت
فــــ۱ : تطفل رابع علیہا۔
فــــ۲ : مسئلہ : یہ یاد ہے کہ بیت الخلاء میں گیا اور قضائے حاجت کے لئے بیٹھا تھا مگر یہ یاد نہیں کہ پیشاب وغیرہ کچھ ہوا یانہیں تو یہی ٹھہرائیں گے کہ ہواتھاوضولازم ہے ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
خرج منہ اولا کان محدثاوان فــــ۱ جلس للوضوء ومعہ ماء ثم شك ھل توضأ ام لاکان متوضیا عملا بالغالب فیھما اھ
وقد جزم بالفرع فی الفتح فقال شك فی الوضوء او الحدث وتیقن سبق احدھما بنی علی السابق الا ان تأید اللاحق فعن محمد علم المتوضیئ دخولہ الخلاء للحاجۃ وشك فی قضائھاقبل خروجہ علیہ الوضوء ثم ذکرمسألۃ الوضوء ثم قال وھذایؤید ماذکرناہ من الوجہ فی وجوب وضوء المفضاۃ اھ
ای اذا فــــ۲ خرج لہاریح
کے لئے بیٹھا تھااور اس میں شك ہے کہ کچھ خارج ہوا تھا یا نہیں تو وہ بے وضو قرار پائے گا۔ اور اگر یہ یاد ہے کہ وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھا تھامگراس میں شك ہے کہ وضوکیا تھایا نہیں تو یہ مانیں گے کہ وضوکرلیا تھا۔ دونوں مسئلوں میں غالب پر عمل کی رو سے یہ حکم ہے۔ اھ۔
اس جزئیہ پر فتح القدیر میں جزم کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : وضو یاحدث میں شك ہوا اور اس سے پہلے دونوں میں سے ایك کایقین ہے توسابق پربنا ء رکھے مگر یہ کہ لاحق کوکسی چیز سے تقویت حاصل ہو۔ کیونکہ امام محمد سے منقول ہے کہ باوضو شخص کو حاجت کے لئے خلاء میں جانے کا یقین ہے۔ اوراس میں شك ہے کہ نکلنے سے پہلے قضائے حاجت کیایانہیں تواسے وضو کرناہے۔ اس کے بعد مسألہ وضو ذکر کیا پھر فرمایا : اس سے اس وجہ کی تائید ہوتی ہے جو مفضاۃ پر وضو واجب ہونے کے بارے میں ہم نے ذکر کی ۔ اھ۔
مفضاۃ وہ عورت جس کے دونوں راستے
فــــ۱ : مسئلہ : وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھنایادہے مگر وضوکرنایادنہیں تویہی قرار دیں گے کہ وضوکرلیا۔
فـــ۲ : مسئلہ : جس عورت کے دونوں مسلك پردہ پھٹ کرایك ہوگئے اسے جو ریح آئے احتیاطا وضوکرے اگرچہ احتمال ہے کہ یہ ریح فرج سے آئی ہے۔
وقد جزم بالفرع فی الفتح فقال شك فی الوضوء او الحدث وتیقن سبق احدھما بنی علی السابق الا ان تأید اللاحق فعن محمد علم المتوضیئ دخولہ الخلاء للحاجۃ وشك فی قضائھاقبل خروجہ علیہ الوضوء ثم ذکرمسألۃ الوضوء ثم قال وھذایؤید ماذکرناہ من الوجہ فی وجوب وضوء المفضاۃ اھ
ای اذا فــــ۲ خرج لہاریح
کے لئے بیٹھا تھااور اس میں شك ہے کہ کچھ خارج ہوا تھا یا نہیں تو وہ بے وضو قرار پائے گا۔ اور اگر یہ یاد ہے کہ وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھا تھامگراس میں شك ہے کہ وضوکیا تھایا نہیں تو یہ مانیں گے کہ وضوکرلیا تھا۔ دونوں مسئلوں میں غالب پر عمل کی رو سے یہ حکم ہے۔ اھ۔
اس جزئیہ پر فتح القدیر میں جزم کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : وضو یاحدث میں شك ہوا اور اس سے پہلے دونوں میں سے ایك کایقین ہے توسابق پربنا ء رکھے مگر یہ کہ لاحق کوکسی چیز سے تقویت حاصل ہو۔ کیونکہ امام محمد سے منقول ہے کہ باوضو شخص کو حاجت کے لئے خلاء میں جانے کا یقین ہے۔ اوراس میں شك ہے کہ نکلنے سے پہلے قضائے حاجت کیایانہیں تواسے وضو کرناہے۔ اس کے بعد مسألہ وضو ذکر کیا پھر فرمایا : اس سے اس وجہ کی تائید ہوتی ہے جو مفضاۃ پر وضو واجب ہونے کے بارے میں ہم نے ذکر کی ۔ اھ۔
مفضاۃ وہ عورت جس کے دونوں راستے
فــــ۱ : مسئلہ : وضو کے لئے پانی لے کر بیٹھنایادہے مگر وضوکرنایادنہیں تویہی قرار دیں گے کہ وضوکرلیا۔
فـــ۲ : مسئلہ : جس عورت کے دونوں مسلك پردہ پھٹ کرایك ہوگئے اسے جو ریح آئے احتیاطا وضوکرے اگرچہ احتمال ہے کہ یہ ریح فرج سے آئی ہے۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۸۷
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۸
فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۸
لاتعلم ھل ھی من القبل او الدبرتجعل من الدبر لانہ الغالب فیجب علیہا الوضوء فی روایۃ ھشام عن محمد وبہ اخذ الامام ابوحفص الکبیر و مال المحقق الی ترجیحہ بماعلمت خلافا لمافی الہدایۃ وغیرھاانہا انمایستحب لہا الوضوء لعدم التیقن بکونہا من الدبر فھذا بول مثلا اعتبر موجودا شرعامع عدم احاطۃ العلم بہ عینا وفی الدر المختار النفاس دم فلولم فـــ ترہ (بان خرج الولد جافابلادم ش) ھل تکون نفساء المعتمدنعم اھ
پردہ پھٹ کر ایك ہوگئے۔ اس سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ جب اس سے ریح نکلی اوراسے علم نہیں کہ آگے کے مقام سے ہے یا پیچھے سے تو پیچھے کے مقام سے قراردی جائے گی اس لئے کہ یہی غالب ہے تواس پر وضو واجب ہوگا۔ یہ امام محمد سے ہشام کی روایت میں ہے اور اسی کوامام ابو حفص کبیر نے اختیار کیا ہے۔ وجہ مذکورسے اسی کی ترجیح کی جانب حضرت محقق کامیلان ہے اس کے برخلاف جو ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ اس پر وضو صرف مستحب ہے کیونکہ اس کے پیچھے کے مقام سے ہونے کا یقین نہیں ۔ تو مذکورہ بالاجزئیہ میں یہ مثلا پیشاب وپاخانہ ہے جسے شرعا موجود مان لیا گیاباوجود یکہ بعینہ اس سے متعلق احاطہ علم نہیں ۔ اب دم سے متعلق دیکھئے۔ درمختار میں ہے : نفاس ایك خون ہے تواگراسے نہ دیکھے (شامی میں ہے مثلا یوں کہ بچہ خشك نکل آیاجس پر خون کا کوئی نشان نہیں ) توکیا وہ نفاس والی ہوگی یانہیں ۔ معتمدیہ ہے کہ ہوگی اھ۔
فــــ : مسئلہ : بچہ بالکل صاف پیداہوا جس کے ساتھ خون کااصلا نشان نہیں نہ بعد کو خون آیا پھر بھی زچہ پر احتیاطا غسل واجب ہے ۔
پردہ پھٹ کر ایك ہوگئے۔ اس سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ جب اس سے ریح نکلی اوراسے علم نہیں کہ آگے کے مقام سے ہے یا پیچھے سے تو پیچھے کے مقام سے قراردی جائے گی اس لئے کہ یہی غالب ہے تواس پر وضو واجب ہوگا۔ یہ امام محمد سے ہشام کی روایت میں ہے اور اسی کوامام ابو حفص کبیر نے اختیار کیا ہے۔ وجہ مذکورسے اسی کی ترجیح کی جانب حضرت محقق کامیلان ہے اس کے برخلاف جو ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ اس پر وضو صرف مستحب ہے کیونکہ اس کے پیچھے کے مقام سے ہونے کا یقین نہیں ۔ تو مذکورہ بالاجزئیہ میں یہ مثلا پیشاب وپاخانہ ہے جسے شرعا موجود مان لیا گیاباوجود یکہ بعینہ اس سے متعلق احاطہ علم نہیں ۔ اب دم سے متعلق دیکھئے۔ درمختار میں ہے : نفاس ایك خون ہے تواگراسے نہ دیکھے (شامی میں ہے مثلا یوں کہ بچہ خشك نکل آیاجس پر خون کا کوئی نشان نہیں ) توکیا وہ نفاس والی ہوگی یانہیں ۔ معتمدیہ ہے کہ ہوگی اھ۔
فــــ : مسئلہ : بچہ بالکل صاف پیداہوا جس کے ساتھ خون کااصلا نشان نہیں نہ بعد کو خون آیا پھر بھی زچہ پر احتیاطا غسل واجب ہے ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۹۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۹۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
وفی المراقی من الوضوء قال ابو حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علیہا الغسل احتیاطا لعدم خلوہ عن قلیل دم ظاھراوصححہ فی الفتاوی وبہ افتی الصدرالشہید رحمہ الله تعالی عنہ اھ وفی حاشیتھا للعلامۃ ط من النفاس اکثر المشایخ علی قول الامام رضی الله تعالی عنہ اھ فھذا فی النفاس۔
ثم اقول : فی قولہ فــــ۱ رحمہ الله تعالی مشیرا الی البول والحیض ونحوھما انھا لاتعتبرالا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج تسامح ظاھربالنظرالی البول فانہ لایخرج من الفرج الداخل بل من ثقبۃ فی الفرج الخارج فوق مدخلالذکر فکان الاولی اسقاط قولہ من الفرج الداخل۔
ثم اورد فی الحلیۃ کلام مراقی الفلاح میں باب وضو کے تحت ہے : امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایااحتیاطا اس پر غسل ہے اس لئے کہ ظاہرا نفاس دم قلیل سے خالی نہیں ہوتا اسی کو فتاوی میں صحیح قرار دیا اوراسی پرصدرشہید رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فتوی دیا۔ اھ۔ اور علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں نفاس کے بیان میں ہے : اکثر مشائخ حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر ہیں اھ۔ یہ نفاس سے متعلق ہوگیا۔
ثم اقول : حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے پیشاب حیض اور ان جیسی چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ان کا اعتبار اسی وقت ہوتاہے جب یہ فرج داخل سے فرج خارج کی طرف نکلیں ۔ اس عبارت میں پیشاب کی بہ نسبت کھلاہو ا تسامح ہے اس لئے کہ پیشاب فرج داخل سے نہیں نکلتا بلکہ اس سوراخ سے نکلتا ہے جو فر ج خارج میں مدخل ذکرسے اوپر ہوتاہے تو بہتر یہ تھاکہ لفظ “ فرج داخل “ عبارت میں نہ لاتے۔
اس کے بعد حلیہ میں اختیار کی عبارت
فــــ : تطفل خامس علی الحلیۃ ۔
ثم اقول : فی قولہ فــــ۱ رحمہ الله تعالی مشیرا الی البول والحیض ونحوھما انھا لاتعتبرالا اذا برزت من الفرج الداخل الی الفرج الخارج تسامح ظاھربالنظرالی البول فانہ لایخرج من الفرج الداخل بل من ثقبۃ فی الفرج الخارج فوق مدخلالذکر فکان الاولی اسقاط قولہ من الفرج الداخل۔
ثم اورد فی الحلیۃ کلام مراقی الفلاح میں باب وضو کے تحت ہے : امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایااحتیاطا اس پر غسل ہے اس لئے کہ ظاہرا نفاس دم قلیل سے خالی نہیں ہوتا اسی کو فتاوی میں صحیح قرار دیا اوراسی پرصدرشہید رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فتوی دیا۔ اھ۔ اور علامہ طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں نفاس کے بیان میں ہے : اکثر مشائخ حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر ہیں اھ۔ یہ نفاس سے متعلق ہوگیا۔
ثم اقول : حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے پیشاب حیض اور ان جیسی چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ ان کا اعتبار اسی وقت ہوتاہے جب یہ فرج داخل سے فرج خارج کی طرف نکلیں ۔ اس عبارت میں پیشاب کی بہ نسبت کھلاہو ا تسامح ہے اس لئے کہ پیشاب فرج داخل سے نہیں نکلتا بلکہ اس سوراخ سے نکلتا ہے جو فر ج خارج میں مدخل ذکرسے اوپر ہوتاہے تو بہتر یہ تھاکہ لفظ “ فرج داخل “ عبارت میں نہ لاتے۔
اس کے بعد حلیہ میں اختیار کی عبارت
فــــ : تطفل خامس علی الحلیۃ ۔
حوالہ / References
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الطہارۃفصل ینقض الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ص۸۷
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃباب الحیض والنفاس دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۴۰
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃباب الحیض والنفاس دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۴۰
الاختیار کما قدمنا عنھا قال ویطرقہ ان الاحتیاط العمل باقوی الدلیلین وھو ھنامفقود اھ
اقول : بل موجود کماعلمت قال وکون الظاھر فی الاحتلام الخروج ممنوع بل قد وقد اھ۔
اقول : ان فــــ اراد التساوی فغیر صحیح والا لبطل دلالۃ التذکرعلی ان ھذا المتردد بین المذی والودی منی وان اراد ان الخروج قد یتخلف فنعم ولا یقدح فی الظھور۔
قال ثم لم یظھرمن الشارع اعتبارھذا الاحتمال بل قیدالشارع وجوب الغسل علیھا بعلمہا وجودہ لم یطلق لھا فی الجواب کمااطلقت (ای ام سلیم
ذکر کی ہے جیساکہ اس کے حوالہ سے ہم پیش کرچکے ۔ پھر لکھا ہے کہ : اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ احتیاط دلیل اقوی پر عمل میں ہے اور وہ یہاں مفقود ہے ۔ اھ۔
اقول : بلکہ موجود ہے جیسا واضح ہوچکا۔ آگے فرمایا : یہ کہ احتلام میں ظاہر خروج منی ہے قابل تسلیم نہیں ۔ بل قد وقد(یعنی بلا خروج منی بھی احتلام ہوتا ہے۱۲م)۔
اقول : اگریہ مرادہے کہ خروج اور عدم خروج دونوں احوال برابری پر ہیں تویہ صحیح نہیں ورنہ احتلام یاد ہونے کی دلالت اس امر پرباطل ہوئی کہ یہ شکل جس میں مذی وودی کے درمیان تردد ہے وہ منی ہی ہے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ کبھی ایساہوتاہے کہ احتلام ہواور خروج منی نہ ہوتوبات صحیح ہے مگراس سے اس میں کوئی خلل نہیں آتاکہ ظاہر خروج ہے۔
آگے فرماتے ہیں : پھر شارع کی جانب سے اس احتمال کا اعتبار ظاہر نہ ہوا بلکہ شارع نے عورت پر وجوب غسل اس سے مقید فرمایاکہ اسے وجودمنی کا علم ہوجائے اور اس کے لئے جواب مطلق نہ رکھا جیسے(حضرت ام سلیم رضی اللہ
فــــ : تطفل سادس علیہا۔
اقول : بل موجود کماعلمت قال وکون الظاھر فی الاحتلام الخروج ممنوع بل قد وقد اھ۔
اقول : ان فــــ اراد التساوی فغیر صحیح والا لبطل دلالۃ التذکرعلی ان ھذا المتردد بین المذی والودی منی وان اراد ان الخروج قد یتخلف فنعم ولا یقدح فی الظھور۔
قال ثم لم یظھرمن الشارع اعتبارھذا الاحتمال بل قیدالشارع وجوب الغسل علیھا بعلمہا وجودہ لم یطلق لھا فی الجواب کمااطلقت (ای ام سلیم
ذکر کی ہے جیساکہ اس کے حوالہ سے ہم پیش کرچکے ۔ پھر لکھا ہے کہ : اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ احتیاط دلیل اقوی پر عمل میں ہے اور وہ یہاں مفقود ہے ۔ اھ۔
اقول : بلکہ موجود ہے جیسا واضح ہوچکا۔ آگے فرمایا : یہ کہ احتلام میں ظاہر خروج منی ہے قابل تسلیم نہیں ۔ بل قد وقد(یعنی بلا خروج منی بھی احتلام ہوتا ہے۱۲م)۔
اقول : اگریہ مرادہے کہ خروج اور عدم خروج دونوں احوال برابری پر ہیں تویہ صحیح نہیں ورنہ احتلام یاد ہونے کی دلالت اس امر پرباطل ہوئی کہ یہ شکل جس میں مذی وودی کے درمیان تردد ہے وہ منی ہی ہے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ کبھی ایساہوتاہے کہ احتلام ہواور خروج منی نہ ہوتوبات صحیح ہے مگراس سے اس میں کوئی خلل نہیں آتاکہ ظاہر خروج ہے۔
آگے فرماتے ہیں : پھر شارع کی جانب سے اس احتمال کا اعتبار ظاہر نہ ہوا بلکہ شارع نے عورت پر وجوب غسل اس سے مقید فرمایاکہ اسے وجودمنی کا علم ہوجائے اور اس کے لئے جواب مطلق نہ رکھا جیسے(حضرت ام سلیم رضی اللہ
فــــ : تطفل سادس علیہا۔
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
رضی الله تعالی عنہا) فی السؤال فانعم النظر تجدہ تحقیقا لاغبار علیہ ان شاء الله تعالی اھ
اقول : اما الاحتمال الذی ابداہ فی الاختیار وھو العود حین الاستلقاء فقد عرفت الکلام علیہ وان لاحاجۃ الیہ وان العلم بالوجودمتحقق احتیاطاکمااسلفناو الحمدلله ۔
فھذامنتھی الکلام فی مسألۃ المرأۃ ولا اقول انا الذی وجھتھا بہ یوجب التعویل علی الروایۃ النادرۃ انما اقول ان الرد علی کلام المحقق غیر یسیر۔
اماالتعویل فعلی ماحکم بہ ائمتنا فی ظاھر الروایۃ ونص علی انہ الاصح وانہ الصحیح وبہ یؤخذ وعلیہ فتوی ائمۃ الدرایۃ فسقط معہ للبحث مجال وانماعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم اعاد الله علینا من برکاتھم ومع
تعالی عنہا کا) سوال مطلق تھا۔ توغور سے نظر ڈالویہ ایسی تحقیق ثابت ہوگی جس پر کوئی غبار نہیں ان شاء الله تعالی۔ اھ۔
اقول : وہ احتمال جو اختیار میں ظاہر کیا کہ ہو سکتاہے حالت استلقاء میں منی نکل کر عود کرگئی ہو تواس پرمکمل کلام گزر چکا اور وہاں واضح ہواکہ اس کی کوئی حاجت نہیں وجود منی کا علم یوں ہی احتیاطا ثابت ومتحقق ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا والحمد لله ۔
مسئلہ زن سے متعلق یہ منتہائے کلام ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے جوتوجیہ پیش کی ہے اس کے باعث روایت نادرہ پر اعتماد واجب ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ حضرت محقق کے کلام کی تردید آسان نہیں ۔
اعتماد تواسی پرہے جس پر ہمارے ائمہ نے ظاہر الروایہ میں حکم فرمایااورائمہ درایت نے جس کے بارے میں تصریح فرمائی کہ وہ اصح ہے۔ صحیح ہے۔ بہ یؤخذ(اسی کواختیار کیا جائے گا)اوراسی پر ائمہ درایت کا فتوی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے بحث کی جگہ ہی نہیں ۔ ہمارے ذمہ تواسی کااتباع لازم ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیاجسے اگروہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے توہمارے
اقول : اما الاحتمال الذی ابداہ فی الاختیار وھو العود حین الاستلقاء فقد عرفت الکلام علیہ وان لاحاجۃ الیہ وان العلم بالوجودمتحقق احتیاطاکمااسلفناو الحمدلله ۔
فھذامنتھی الکلام فی مسألۃ المرأۃ ولا اقول انا الذی وجھتھا بہ یوجب التعویل علی الروایۃ النادرۃ انما اقول ان الرد علی کلام المحقق غیر یسیر۔
اماالتعویل فعلی ماحکم بہ ائمتنا فی ظاھر الروایۃ ونص علی انہ الاصح وانہ الصحیح وبہ یؤخذ وعلیہ فتوی ائمۃ الدرایۃ فسقط معہ للبحث مجال وانماعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتونا فی حیاتھم اعاد الله علینا من برکاتھم ومع
تعالی عنہا کا) سوال مطلق تھا۔ توغور سے نظر ڈالویہ ایسی تحقیق ثابت ہوگی جس پر کوئی غبار نہیں ان شاء الله تعالی۔ اھ۔
اقول : وہ احتمال جو اختیار میں ظاہر کیا کہ ہو سکتاہے حالت استلقاء میں منی نکل کر عود کرگئی ہو تواس پرمکمل کلام گزر چکا اور وہاں واضح ہواکہ اس کی کوئی حاجت نہیں وجود منی کا علم یوں ہی احتیاطا ثابت ومتحقق ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا والحمد لله ۔
مسئلہ زن سے متعلق یہ منتہائے کلام ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے جوتوجیہ پیش کی ہے اس کے باعث روایت نادرہ پر اعتماد واجب ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ حضرت محقق کے کلام کی تردید آسان نہیں ۔
اعتماد تواسی پرہے جس پر ہمارے ائمہ نے ظاہر الروایہ میں حکم فرمایااورائمہ درایت نے جس کے بارے میں تصریح فرمائی کہ وہ اصح ہے۔ صحیح ہے۔ بہ یؤخذ(اسی کواختیار کیا جائے گا)اوراسی پر ائمہ درایت کا فتوی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے بحث کی جگہ ہی نہیں ۔ ہمارے ذمہ تواسی کااتباع لازم ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیاجسے اگروہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے توہمارے
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ذلك ان تنزہ احد فھو خیرلہ عند ربہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ذمہ یہی ہوتا۔ ہم پر الله تعالی ان کی برکتیں پھرو اپس لائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم(ت) ۔
صورت استثناء پر کلام
اس کے بیان کو تین۳ تنبیہیں اور اضافہ کریں :
تنبیہ ثالث عشر۱۳ : احتلام یاد ہونے کی حالت میں طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك احتمال منی پر وجوب غسل کا حکم ظاہر الروایۃ میں مطلق ہے اور تمام متون اسی پر ہیں مگر نوادر ہشام میں محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ سے وہ قید مروی ہوئی کہ اگر سونے سے کچھ پہلے شہوت تھی جاگ کر یہ تری دیکھی جس کے منی یا مذی ہونے میں شك ہے تو غسل واجب نہ ہوگا تبیین الحقائق میں ہے :
ذکر ھشام فی نوادرہ عن محمداذا استیقظ فوجد بللا فی احلیلہ ولم یتذکرالحلم فان کان ذکرہ قبل النوم منتشر افلا غسل علیہ وان کان غیر منتشر فعلیہ الغسل ۔
امام ہشام نے اپنی نوادر میں امام محمد سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ جب بیدار ہوکر احلیل(ذکر کی نالی ) میں تری پائے اور خواب یاد نہ ہوتواگرسونے سے پہلے ذکر منتشرتھاتو اس پر غسل نہیں اور اگر منشتر نہ تھا تواس پرغسل ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
روی عن محمد فی مستیقظ وجدماء ولم یتذکر احتلاماان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والایجب ۔
امام محمدسے روایت ہے بیدار ہونے والاتری پائے اوراسے احتلام یاد نہیں تواگرسونے سے پہلے منتشرتھاغسل واجب نہیں ورنہ واجب ہے۔ (ت)
اوراس کی وجہ یہ افادہ فرماتے ہیں کہ شہوت خروج مذی کی باعث ہے تو پیش از خواب قیام
ذمہ یہی ہوتا۔ ہم پر الله تعالی ان کی برکتیں پھرو اپس لائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی نزاہت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہتر ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم(ت) ۔
صورت استثناء پر کلام
اس کے بیان کو تین۳ تنبیہیں اور اضافہ کریں :
تنبیہ ثالث عشر۱۳ : احتلام یاد ہونے کی حالت میں طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك احتمال منی پر وجوب غسل کا حکم ظاہر الروایۃ میں مطلق ہے اور تمام متون اسی پر ہیں مگر نوادر ہشام میں محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ سے وہ قید مروی ہوئی کہ اگر سونے سے کچھ پہلے شہوت تھی جاگ کر یہ تری دیکھی جس کے منی یا مذی ہونے میں شك ہے تو غسل واجب نہ ہوگا تبیین الحقائق میں ہے :
ذکر ھشام فی نوادرہ عن محمداذا استیقظ فوجد بللا فی احلیلہ ولم یتذکرالحلم فان کان ذکرہ قبل النوم منتشر افلا غسل علیہ وان کان غیر منتشر فعلیہ الغسل ۔
امام ہشام نے اپنی نوادر میں امام محمد سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ جب بیدار ہوکر احلیل(ذکر کی نالی ) میں تری پائے اور خواب یاد نہ ہوتواگرسونے سے پہلے ذکر منتشرتھاتو اس پر غسل نہیں اور اگر منشتر نہ تھا تواس پرغسل ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
روی عن محمد فی مستیقظ وجدماء ولم یتذکر احتلاماان کان ذکرہ منتشرا قبل النوم لایجب والایجب ۔
امام محمدسے روایت ہے بیدار ہونے والاتری پائے اوراسے احتلام یاد نہیں تواگرسونے سے پہلے منتشرتھاغسل واجب نہیں ورنہ واجب ہے۔ (ت)
اوراس کی وجہ یہ افادہ فرماتے ہیں کہ شہوت خروج مذی کی باعث ہے تو پیش از خواب قیام
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ موجبات الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۷
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۳
شہوت بتائے گاکہ یہ مشکوك تری مذی ہے اور مذی سے غسل واجب نہیں ہوتا بخلاف اسکے کہ سونے سے پہلے شہوت نہ ہو تواب سبب مذی بیداری میں نہ تھا اور نیند مظنہ احتلام ہے لہذا اسے منی ٹھہرائیں گے اور رقت وغیرہ سے مذی کااشتباہ معتبر نہ رکھیں گے کہ منی بھی گرمی پہنچ کر رقیق ہوجاتی ہے۔ غیاثیہ میں ہے :
ان کان منتشرا عند النوم فعلیہ الوضوء لاغیر لانہ وجد سبب خروج المذی فیعتقدکونہ مذیا ویحال بہ الیہ الا اذا کان اکبر رأیہ انہ منی رق فحینئذ یلزمہ الغسل اھ
واطال فی الحلیۃ فی بیانہ بماحاصلہ ان النوم مظنۃ للمنی والانتشارللمذی وقد سبق والسبق سبب الترجیح مع ان الاصل براء ۃ الذمۃ وعدم التغیر فی المنی ثم قال ولا یدفعہ ماعن عائشۃ رضی الله تعالی عنہاقالت سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجدالبلل ولا یذکراحتلاماقال یغتسل وعن الرجل یری انہ قداحتلم ولم یجد بللا قال لاغسل علیہ فان الظاھران المراد
اگرسونے کے وقت ذکر منتشر تھا تواس پرصرف وضو ہے ۔ اس لئے کہ خروج مذی کا سبب موجود ہے تواسے مذی ہی ماناجائے گااور اسے اسی کے حوالے کیاجائے گا۔ لیکن جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ منی ہے جو رقیق ہوگئی ہے توایسی صورت میں اس پر غسل لازم ہے۔ اھ۔
اور حلیہ کے اندر اس کے بیان میں طول کلام ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نیند منی کا مظنہ ہے اور انتشار آلہ مذی کا مظنہ ہے او ر انتشار سابق ہے اور سبقت سبب ترجیح ہے باوجود یکہ اصل یہ ہے اس کے ذمہ غسل نہیں اور منی میں تغیر نہیں ۔ پھرفرمایا : اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی جوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے مروی ہے کہ رسول الله سے اس مرد کے بارے میں پوچھاگیاجوتری پائے احتلام یاد نہ ہو فرمایا غسل کرے اوراس مرد کے بارے میں پوچھاگیا جو یہ خیال رکھتاہے کہ اس نے خواب دیکھا ہے اور تری نہ پائے فرمایا اس پرغسل نہیں ۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے
ان کان منتشرا عند النوم فعلیہ الوضوء لاغیر لانہ وجد سبب خروج المذی فیعتقدکونہ مذیا ویحال بہ الیہ الا اذا کان اکبر رأیہ انہ منی رق فحینئذ یلزمہ الغسل اھ
واطال فی الحلیۃ فی بیانہ بماحاصلہ ان النوم مظنۃ للمنی والانتشارللمذی وقد سبق والسبق سبب الترجیح مع ان الاصل براء ۃ الذمۃ وعدم التغیر فی المنی ثم قال ولا یدفعہ ماعن عائشۃ رضی الله تعالی عنہاقالت سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن الرجل یجدالبلل ولا یذکراحتلاماقال یغتسل وعن الرجل یری انہ قداحتلم ولم یجد بللا قال لاغسل علیہ فان الظاھران المراد
اگرسونے کے وقت ذکر منتشر تھا تواس پرصرف وضو ہے ۔ اس لئے کہ خروج مذی کا سبب موجود ہے تواسے مذی ہی ماناجائے گااور اسے اسی کے حوالے کیاجائے گا۔ لیکن جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ منی ہے جو رقیق ہوگئی ہے توایسی صورت میں اس پر غسل لازم ہے۔ اھ۔
اور حلیہ کے اندر اس کے بیان میں طول کلام ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نیند منی کا مظنہ ہے اور انتشار آلہ مذی کا مظنہ ہے او ر انتشار سابق ہے اور سبقت سبب ترجیح ہے باوجود یکہ اصل یہ ہے اس کے ذمہ غسل نہیں اور منی میں تغیر نہیں ۔ پھرفرمایا : اس کی تردید اس سے نہیں ہوسکتی جوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے مروی ہے کہ رسول الله سے اس مرد کے بارے میں پوچھاگیاجوتری پائے احتلام یاد نہ ہو فرمایا غسل کرے اوراس مرد کے بارے میں پوچھاگیا جو یہ خیال رکھتاہے کہ اس نے خواب دیکھا ہے اور تری نہ پائے فرمایا اس پرغسل نہیں ۔ اس لئے کہ ظاہر یہ ہے
حوالہ / References
الفتاوٰی الغیاثیہ نوع فی اسباب الجنابۃ واحکامہا مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸،۱۹
بالبلل المذکور المنی بالاجماع علی ان فی سندہ عبدالله العمری ضعیف اھ مختصرا۔
اقول : فــــ۱ الحدیث قداحتج بہ اصحابنالامام المذھب ومحررہ فی ایجابھما الغسل بالمذی اذا لم یتذکرحلماکماتقدم وقدمناعن البدائع انہ نص فی الباب وان ابا یوسف یحملہ علی المنی وان للامامین اطلاق الحدیث۔
ثم العمری انما فـــ۲ضعفہ یحیی القطان من قبل حفظہ وقال النسائی وغیرہ لیس بالقوی ۔
اقول : وبون بین بینہ وبین لیس بقوی وقال ابن معین لیس بہ باس یکتب حدیثہ قیل لہ کیف حالہ فی نافع قال صالح ثقۃ
کہ مذکور ہ تری سے مراد منی ہے بالاجماع علاوہ ازیں اس کی سند میں عبدالله عمری راوی ضعیف ہے ۔ مختصرا۔
اقول : اس حدیث سے ہمارے اصحاب نے امام مذہب اور محررمذہب علیہما الرحمہ کی تائید میں اس بارے میں استدلال کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات احتلام یا د نہ ہونے کی صورت میں مذی سے غسل واجب قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ گزرا۔ اورہم نے بدائع کے حوالہ سے نقل کیا کہ یہ حدیث اس باب میں نص ہے اورامام ابویوسف اسے منی پر محمول کرتے ہیں اورطرفین کی تائید اطلاق حدیث سے ہوتی ہے۔
پھر عبدالله عمری کو یحیی قطان نے کمی حفظ کی وجہ سے ضعیف کہاہے اور امام نسائی وغیرہ نے لیس بالقوی (قوی نہیں ) کہا ہے۔
اقول : لیس بالقوی(قوی نہیں ) کہا اور لیس بقوی(ذرا بھی قوی نہیں ) میں نمایاں فرق ہے۔ اور ابن معین نے کہا : ان میں کوئی حرج نہیں ان کی حدیث لکھی جائے گی۔ پوچھا گیا : نافع سے روایت میں ان کا کیا حال ہے۔ فرمایا :
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فــــ۲ : تمشیۃ عبدالله العمری المکبر۔
اقول : فــــ۱ الحدیث قداحتج بہ اصحابنالامام المذھب ومحررہ فی ایجابھما الغسل بالمذی اذا لم یتذکرحلماکماتقدم وقدمناعن البدائع انہ نص فی الباب وان ابا یوسف یحملہ علی المنی وان للامامین اطلاق الحدیث۔
ثم العمری انما فـــ۲ضعفہ یحیی القطان من قبل حفظہ وقال النسائی وغیرہ لیس بالقوی ۔
اقول : وبون بین بینہ وبین لیس بقوی وقال ابن معین لیس بہ باس یکتب حدیثہ قیل لہ کیف حالہ فی نافع قال صالح ثقۃ
کہ مذکور ہ تری سے مراد منی ہے بالاجماع علاوہ ازیں اس کی سند میں عبدالله عمری راوی ضعیف ہے ۔ مختصرا۔
اقول : اس حدیث سے ہمارے اصحاب نے امام مذہب اور محررمذہب علیہما الرحمہ کی تائید میں اس بارے میں استدلال کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات احتلام یا د نہ ہونے کی صورت میں مذی سے غسل واجب قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ گزرا۔ اورہم نے بدائع کے حوالہ سے نقل کیا کہ یہ حدیث اس باب میں نص ہے اورامام ابویوسف اسے منی پر محمول کرتے ہیں اورطرفین کی تائید اطلاق حدیث سے ہوتی ہے۔
پھر عبدالله عمری کو یحیی قطان نے کمی حفظ کی وجہ سے ضعیف کہاہے اور امام نسائی وغیرہ نے لیس بالقوی (قوی نہیں ) کہا ہے۔
اقول : لیس بالقوی(قوی نہیں ) کہا اور لیس بقوی(ذرا بھی قوی نہیں ) میں نمایاں فرق ہے۔ اور ابن معین نے کہا : ان میں کوئی حرج نہیں ان کی حدیث لکھی جائے گی۔ پوچھا گیا : نافع سے روایت میں ان کا کیا حال ہے۔ فرمایا :
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فــــ۲ : تمشیۃ عبدالله العمری المکبر۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
بدائع الصنائع کتاب الطہارۃفصل فی احکام الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۷۸
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
بدائع الصنائع کتاب الطہارۃفصل فی احکام الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۲۷۸
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
وقال احمد صالح لاباس بہ وقال ابن عدی فی نفسہ صدوق وقال ایضا لاباس بہ وقال یعقوب بن شیبۃ صدوق ثقۃ فی حدیثہ اضطراب وقال الذھبی صدوق فی حفظہ شیئ وھذا مسلم قد اخرج لہ فی صحیحہ۔
وبالجملۃ فــــ لیس ممن یسقط حدیثہ ولا عبرۃ بما تعود بہ ابن حبان من عبارۃ واحدۃ یذکرھا فی کل من یرید بل لایبعد حدیثہ عن درجۃ الحسن ان شاء الله تعالی لاجرم ان سکت ابو داؤد علیہ۔
اما الجواب عنہ فاقول : ظاھر ان السؤال عن بلل ینشؤ بسبب النوم ولذا قال ولم یذکر احتلاما ای یجد المسبب ولا یذکر السبب قال یغتسل ثم سئل یذکر السبب ولا یجد المسبب قال لاغسل علیہ وحینئذ بمعزل عنہ مانحن فیہ۔
ثم انہ رحمہ الله تعالی
صالح ثقہ ہیں ۔ امام احمد نے فرمایا : صالح ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ۔ ابن عدی نے کہا : راست باز ہیں اور یہ بھی کہا : ان میں کوئی حرج نہیں ۔ اور یعقوب بن شیبہ نے کہا : صدوق ثقہ ہیں ان کی حدیث میں کچھ اضطراب ہے۔ ذہبی نے کہا : صدوق ہیں ان کے حفظ میں کچھ خامی ہے۔ اور یہ امام مسلم ہیں جنہوں نے اپنی صحیح میں ان کی حدیث روایت کی ہے۔
مختصر یہ کہ وہ ان میں سے نہیں جن کی حدیث ساقط ہوتی ہے اور اس کا اعتبارنہیں جس کے ابن حبان عادی ہیں ایك ہی عبارت ہے جس کے لئے چاہتے ہیں استعمال کردیتے ہیں بلکہ ان کی حدیث ان شاء الله تعالی درجہ حسن سے دور نہیں یہی وجہ ہے کہ ابوداؤد نے ان پرسکوت اختیار کیا۔
لیکن اس کا جواب فاقول : ظاہر ہے کہ سوال اس تری سے متعلق ہے جو نیندکے سبب پیدا ہوتی ہے اسی لئے سائل نے کہا “ اسے احتلام یاد نہیں “ ۔ یعنی مسبب موجود ہے اور سبب یاد نہیں فرمایا : غسل کرے۔ پھرسوال ہے کہ سبب یاد ہے مسبب کا وجود نہیں فرمایا : اس پرغسل نہیں ۔ ایسی صورت میں یہ حدیث ہمارے مبحث سے الگ ہے۔
: آگے صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے چند
فـــــ : تطفل اخر علیھا۔
وبالجملۃ فــــ لیس ممن یسقط حدیثہ ولا عبرۃ بما تعود بہ ابن حبان من عبارۃ واحدۃ یذکرھا فی کل من یرید بل لایبعد حدیثہ عن درجۃ الحسن ان شاء الله تعالی لاجرم ان سکت ابو داؤد علیہ۔
اما الجواب عنہ فاقول : ظاھر ان السؤال عن بلل ینشؤ بسبب النوم ولذا قال ولم یذکر احتلاما ای یجد المسبب ولا یذکر السبب قال یغتسل ثم سئل یذکر السبب ولا یجد المسبب قال لاغسل علیہ وحینئذ بمعزل عنہ مانحن فیہ۔
ثم انہ رحمہ الله تعالی
صالح ثقہ ہیں ۔ امام احمد نے فرمایا : صالح ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ۔ ابن عدی نے کہا : راست باز ہیں اور یہ بھی کہا : ان میں کوئی حرج نہیں ۔ اور یعقوب بن شیبہ نے کہا : صدوق ثقہ ہیں ان کی حدیث میں کچھ اضطراب ہے۔ ذہبی نے کہا : صدوق ہیں ان کے حفظ میں کچھ خامی ہے۔ اور یہ امام مسلم ہیں جنہوں نے اپنی صحیح میں ان کی حدیث روایت کی ہے۔
مختصر یہ کہ وہ ان میں سے نہیں جن کی حدیث ساقط ہوتی ہے اور اس کا اعتبارنہیں جس کے ابن حبان عادی ہیں ایك ہی عبارت ہے جس کے لئے چاہتے ہیں استعمال کردیتے ہیں بلکہ ان کی حدیث ان شاء الله تعالی درجہ حسن سے دور نہیں یہی وجہ ہے کہ ابوداؤد نے ان پرسکوت اختیار کیا۔
لیکن اس کا جواب فاقول : ظاہر ہے کہ سوال اس تری سے متعلق ہے جو نیندکے سبب پیدا ہوتی ہے اسی لئے سائل نے کہا “ اسے احتلام یاد نہیں “ ۔ یعنی مسبب موجود ہے اور سبب یاد نہیں فرمایا : غسل کرے۔ پھرسوال ہے کہ سبب یاد ہے مسبب کا وجود نہیں فرمایا : اس پرغسل نہیں ۔ ایسی صورت میں یہ حدیث ہمارے مبحث سے الگ ہے۔
: آگے صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے چند
فـــــ : تطفل اخر علیھا۔
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد اللہ بن عمر العمری۴۴۷۲ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۴۶۵
اعترض
اولا : علی عبارۃ المسألۃ حیث ارسل فیھا البلل قال “ ولا شك ان المنی غیر مراد لاجرم ان ذکر المصنف انہ لوتیقن منی فعلیہ الغسل اھ۔
وقد قدمنا الجواب عنہ ان المراد بلل لایدری ا منی ھو ام مذی قال فی الخانیۃ فی تصویر المسألۃ “ استیقظ فوجد علی طرف احلیہ بلۃ لایدری انھا منی او مذی الخ ولفظ الغیاثیۃ ذکر ھشام عن محمد فی نوادرہ انہ وجد البلل فی طرف احلیہ شبہ المذی ولم یذکر حلما الخ“۔
اقول : ونص الہندیۃ عن المحیط والحلیۃ عن الذخیرۃ کلیھما عن القاضی الامام ابی علی النسفی عن ھشام عن محمد اذا استیقظ فوجد البلل فی احلیلہ الخ۔
اعتراض کئے ہیں :
اعتراض اول عبارت مسئلہ سے متعلق ہے کہ اس میں تری مطلق ذکر ہے فرماتے ہیں : اسمیں کوئی شك نہیں کہ منی مراد نہیں ۔ اسی لئے مصنف نے ذکرکیاکہ اگر اسے منی ہونے کا یقین ہے تواس پرغسل ہے۔ اھ۔
اور اس کا جواب ہم پیش کر آئے ہیں کہ مراد ایسی تری ہے جس کے بارے میں اسے پتہ نہیں کہ منی ہے یا مذی خانیہ میں صورت مسئلہ کے بیان میں کہا : بیدار ہوکر سراحلیل پر ایسی تری پائی جس کے بارے میں وہ نہیں جانتاکہ منی ہے یا مذی الخ۔ اور غیاثیہ کے الفاظ یہ ہیں : ہشام نے نوادر میں امام محمدسے نقل کیاہے کہ جب کنارہ احلیل پر مذی کے مشابہ تری پائے اوراسے خواب یاد نہیں الخ۔
اقول : ہندیہ میں محیط کے حوالہ سے اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالہ سے دونوں قاضی امام ابو علی نسفی سے ناقل ہیں وہ ہشام سے وہ امام محمد سے : جب بیدارہوکر اپنے احلیل میں تری پائے۔ الخ۔
اولا : علی عبارۃ المسألۃ حیث ارسل فیھا البلل قال “ ولا شك ان المنی غیر مراد لاجرم ان ذکر المصنف انہ لوتیقن منی فعلیہ الغسل اھ۔
وقد قدمنا الجواب عنہ ان المراد بلل لایدری ا منی ھو ام مذی قال فی الخانیۃ فی تصویر المسألۃ “ استیقظ فوجد علی طرف احلیہ بلۃ لایدری انھا منی او مذی الخ ولفظ الغیاثیۃ ذکر ھشام عن محمد فی نوادرہ انہ وجد البلل فی طرف احلیہ شبہ المذی ولم یذکر حلما الخ“۔
اقول : ونص الہندیۃ عن المحیط والحلیۃ عن الذخیرۃ کلیھما عن القاضی الامام ابی علی النسفی عن ھشام عن محمد اذا استیقظ فوجد البلل فی احلیلہ الخ۔
اعتراض کئے ہیں :
اعتراض اول عبارت مسئلہ سے متعلق ہے کہ اس میں تری مطلق ذکر ہے فرماتے ہیں : اسمیں کوئی شك نہیں کہ منی مراد نہیں ۔ اسی لئے مصنف نے ذکرکیاکہ اگر اسے منی ہونے کا یقین ہے تواس پرغسل ہے۔ اھ۔
اور اس کا جواب ہم پیش کر آئے ہیں کہ مراد ایسی تری ہے جس کے بارے میں اسے پتہ نہیں کہ منی ہے یا مذی خانیہ میں صورت مسئلہ کے بیان میں کہا : بیدار ہوکر سراحلیل پر ایسی تری پائی جس کے بارے میں وہ نہیں جانتاکہ منی ہے یا مذی الخ۔ اور غیاثیہ کے الفاظ یہ ہیں : ہشام نے نوادر میں امام محمدسے نقل کیاہے کہ جب کنارہ احلیل پر مذی کے مشابہ تری پائے اوراسے خواب یاد نہیں الخ۔
اقول : ہندیہ میں محیط کے حوالہ سے اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالہ سے دونوں قاضی امام ابو علی نسفی سے ناقل ہیں وہ ہشام سے وہ امام محمد سے : جب بیدارہوکر اپنے احلیل میں تری پائے۔ الخ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتاوی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
الفتاوی الغیاثیہ نوع اسباب الجنابۃ واحکامہا مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۸
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
فتاوی قاضی خاں کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
الفتاوی الغیاثیہ نوع اسباب الجنابۃ واحکامہا مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۸
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
فاذا فــــ۱ کان ھذا لفظ محمد فلا معنی للاعتراض علیہ وانما کان سبیلہ بیان المراد کما فعل فقیہ النفس وغیرہ من الامجاد۔
ثم اعترض علی ما استشھد بہ من عبارۃ المنیۃ لوتیقن انہ منی بانہ یفید بمفھومہ ان لو لم یتیقن لاغسل فیفید ان لو کان اکبر رأیہ انہ منی لایجب لکنہ یجب کما صرح بہ قاضی خان فی فتاویہ اھ۔
اقول : فــــ۲ اکبر الرأی فی الفقہیات ملتحق بالیقین بل ربما اطلقوا علیہ الیقین ھذا۔
واعتراض ثانیا علی دلیل المسألۃ بما حاصلہ منع ان الانتشار مظنۃ الامذاء الا اذا کان الرجل مذاء قال “ اما اذا لم یکن فینفرد النوم
توجب یہ امام محمد کے الفاظ ہیں تواس پراعتراض کاکوئی معنی نہیں ۔ اس کا طریقہ یہ تھاکہ مراد بیان کی جاتی جیسا کہ امام فقیہ النفس وغیرہ بزرگوں نے کیا۔
اس کے بعد منیہ کی جو عبارت بطور شاہدپیش کی اس پراعتراض کیاکہ “ اگراسے یقین ہے کہ وہ منی ہے تو غسل ہے “ اس عبارت کے مفہوم سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگریقین نہ ہوتوغسل نہیں ۔ اب مفادیہ ہوگا کہ اگر اسے منی ہونے کا غالب گمان ہوتوغسل واجب نہیں ۔ حالاں کہ اس صورت میں بھی غسل واجب ہے جیساکہ امام قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح فرمائی ہے اھ۔
اقول : غالب گمان اور اکبر رائے فقہیات کے اندریقین میں شامل ہے بلکہ بارہا اس پر یقین کا اطلاق کرتے ہیں ۔ یہ ذہن نشین رہے۔
اعتراض دوم دلیل مسئلہ پرہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہمیں تسلیم نہیں کہ انتشار مذی نکلنے کامظنہ ہے ہاں مگر جب کہ مرد کثیر المذی ہو فرماتے ہیں : لیکن جب ایسا نہ ہوتوتنہا نیند
فــــ۱ : تطفل ثالث علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل رابع علیھا۔
ثم اعترض علی ما استشھد بہ من عبارۃ المنیۃ لوتیقن انہ منی بانہ یفید بمفھومہ ان لو لم یتیقن لاغسل فیفید ان لو کان اکبر رأیہ انہ منی لایجب لکنہ یجب کما صرح بہ قاضی خان فی فتاویہ اھ۔
اقول : فــــ۲ اکبر الرأی فی الفقہیات ملتحق بالیقین بل ربما اطلقوا علیہ الیقین ھذا۔
واعتراض ثانیا علی دلیل المسألۃ بما حاصلہ منع ان الانتشار مظنۃ الامذاء الا اذا کان الرجل مذاء قال “ اما اذا لم یکن فینفرد النوم
توجب یہ امام محمد کے الفاظ ہیں تواس پراعتراض کاکوئی معنی نہیں ۔ اس کا طریقہ یہ تھاکہ مراد بیان کی جاتی جیسا کہ امام فقیہ النفس وغیرہ بزرگوں نے کیا۔
اس کے بعد منیہ کی جو عبارت بطور شاہدپیش کی اس پراعتراض کیاکہ “ اگراسے یقین ہے کہ وہ منی ہے تو غسل ہے “ اس عبارت کے مفہوم سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگریقین نہ ہوتوغسل نہیں ۔ اب مفادیہ ہوگا کہ اگر اسے منی ہونے کا غالب گمان ہوتوغسل واجب نہیں ۔ حالاں کہ اس صورت میں بھی غسل واجب ہے جیساکہ امام قاضی خاں نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح فرمائی ہے اھ۔
اقول : غالب گمان اور اکبر رائے فقہیات کے اندریقین میں شامل ہے بلکہ بارہا اس پر یقین کا اطلاق کرتے ہیں ۔ یہ ذہن نشین رہے۔
اعتراض دوم دلیل مسئلہ پرہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہمیں تسلیم نہیں کہ انتشار مذی نکلنے کامظنہ ہے ہاں مگر جب کہ مرد کثیر المذی ہو فرماتے ہیں : لیکن جب ایسا نہ ہوتوتنہا نیند
فــــ۱ : تطفل ثالث علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل رابع علیھا۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مظنۃ اھ مختصرا۔
اقول : ان اراد فــــ۱ المظنۃ المصطلحۃ فقدمنا ان النوم ایضا لیس مظنۃ الامناء فالمراد السبب مطلقا ولولا مطلقا بھذا المعنی لاشك ان الانتشار مظنۃ الامذاء۔ وان فــــ۲ بغیت التحقیق فاقول : دونك مشرعا اعطیتك من قبل بہ یظھر تعلیل المسألۃ والجواب عن ایراد الحلیۃ معا فان النوم سبب ضعیف للامناء وانما کان یتقوی باحد شیئین تذکر الاحتلام او ان یحدث بلۃ لاتنبعث الا عن شھوۃ وقد انتفیا ھھنا اما الحلم فلعدم الذکر واما البلۃ فلا نعقاد سببہا قبل النوم فلم تدل علی احداثہ انتشارا شدیدا مدیدا یورث خروج بلۃ عن شھوۃ فلم یبق الا محض النوم وکان سببا ضعیفا فتقاعد ان ینتھض موجبا فجعلہما مظنتین وترجیح الانتشار بالسبق وعند عدمہ افراد النوم بالمظنیۃ کلہ بمعزل عن التحقیق والله سبحنہ ولی مظنہ ہے اھ مختصرا۔
اقول : اگرمظنہ اصطلاحی مراد ہے توہم بیان کر آئے کہ نیند بھی منی نکلنے کا مظنہ نہیں ۔ تومطلقا سبب ہونا مراد ہے اگرچہ سبب مطلق مرادنہ ہو۔ اور اس میں بلاشبہہ انتشار مذی نکلنے کامظنہ ہے اور اگرناظرکوتحقیق کی طلب ہے تو میں کہتاہوں وہ قاعدہ لے لو جو پہلے میں دے چکاہوں اس سے مسئلہ کی تعلیل اور اعتراض حلیہ کا جواب دونوں واضح ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے اگرچہ اسے دو باتوں میں کسی ایك سے قوت مل جاتی ہے۔ یاتواحتلام یادہو۔ یا ایسی تری نمودارہو جو بغیر شہوت کے اپنی جگہ سے نہیں اٹھتی۔ اوریہاں ایك بھی نہیں خواب یاد ہی نہیں اورتری ہے تو اس کا سبب سونے سے پہلے ہی متحقق ہوچکا ہے اس لئے یہ تری اس کی دلیل نہیں کہ نیند سے انتشار شدید مدید پیداہواجو شہوت سے تری نکلنے کا موجب ہے تو اب صرف نیندرہ گئی وہ سبب ضعیف ہے اس لئے موجب نہ بن سکی۔ تو صاحب حلیہ کا نیند اورانتشار کو دو مظنہ شمار کرنا اور انتشار کو بربنائے سبقت ترجیح دینا اوریہ نہ ہونے کے وقت تنہا نیند کو مظنہ ٹھہرانا سب تحقیق سے بے گانہ ہے۔ اور خدائے پاك ہی
فــــ۱ : تطفل خامس علیھا۔
فــــ۲ : تطفل سادس علیھا۔
اقول : ان اراد فــــ۱ المظنۃ المصطلحۃ فقدمنا ان النوم ایضا لیس مظنۃ الامناء فالمراد السبب مطلقا ولولا مطلقا بھذا المعنی لاشك ان الانتشار مظنۃ الامذاء۔ وان فــــ۲ بغیت التحقیق فاقول : دونك مشرعا اعطیتك من قبل بہ یظھر تعلیل المسألۃ والجواب عن ایراد الحلیۃ معا فان النوم سبب ضعیف للامناء وانما کان یتقوی باحد شیئین تذکر الاحتلام او ان یحدث بلۃ لاتنبعث الا عن شھوۃ وقد انتفیا ھھنا اما الحلم فلعدم الذکر واما البلۃ فلا نعقاد سببہا قبل النوم فلم تدل علی احداثہ انتشارا شدیدا مدیدا یورث خروج بلۃ عن شھوۃ فلم یبق الا محض النوم وکان سببا ضعیفا فتقاعد ان ینتھض موجبا فجعلہما مظنتین وترجیح الانتشار بالسبق وعند عدمہ افراد النوم بالمظنیۃ کلہ بمعزل عن التحقیق والله سبحنہ ولی مظنہ ہے اھ مختصرا۔
اقول : اگرمظنہ اصطلاحی مراد ہے توہم بیان کر آئے کہ نیند بھی منی نکلنے کا مظنہ نہیں ۔ تومطلقا سبب ہونا مراد ہے اگرچہ سبب مطلق مرادنہ ہو۔ اور اس میں بلاشبہہ انتشار مذی نکلنے کامظنہ ہے اور اگرناظرکوتحقیق کی طلب ہے تو میں کہتاہوں وہ قاعدہ لے لو جو پہلے میں دے چکاہوں اس سے مسئلہ کی تعلیل اور اعتراض حلیہ کا جواب دونوں واضح ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ نیند منی نکلنے کا سبب ضعیف ہے اگرچہ اسے دو باتوں میں کسی ایك سے قوت مل جاتی ہے۔ یاتواحتلام یادہو۔ یا ایسی تری نمودارہو جو بغیر شہوت کے اپنی جگہ سے نہیں اٹھتی۔ اوریہاں ایك بھی نہیں خواب یاد ہی نہیں اورتری ہے تو اس کا سبب سونے سے پہلے ہی متحقق ہوچکا ہے اس لئے یہ تری اس کی دلیل نہیں کہ نیند سے انتشار شدید مدید پیداہواجو شہوت سے تری نکلنے کا موجب ہے تو اب صرف نیندرہ گئی وہ سبب ضعیف ہے اس لئے موجب نہ بن سکی۔ تو صاحب حلیہ کا نیند اورانتشار کو دو مظنہ شمار کرنا اور انتشار کو بربنائے سبقت ترجیح دینا اوریہ نہ ہونے کے وقت تنہا نیند کو مظنہ ٹھہرانا سب تحقیق سے بے گانہ ہے۔ اور خدائے پاك ہی
فــــ۱ : تطفل خامس علیھا۔
فــــ۲ : تطفل سادس علیھا۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
التوفیق۔
وثالثا تکعکع عن قبولھا قائلا ان تم تقیید وجوب الغسل بالانتشار لاحدی الاحوال فکذا فی باقیھا والا فالکل علی الاطلاق اھ۔
اقول : ان فـــ۱ کان ھذا لما عن لہ من الایراد فقد علمت الجواب عنہ وان کان لان الروایات الظاھرۃ والمتون مطلقۃ فلا غر و فی القول بقید ذکر عن احد ائمۃ المذھب الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وتلقاہ الجملۃ الفحول بالتسلیم والقبول حتی ان المحقق الشرنبلالی ادخلہ فی متنہ نور الایضاح ونعما فعل وقصد المدقق العلائی تکمیل متن التنویر بزیادۃ ھذا الاستثناء و جعلہ الشامی اصلاح المتن۔
اقول : و مع فــــ۲ ذالك جواب التنویر نیر مستنیر ان المتون لم توضع الا لنقل ما فی الروایات الظاھرۃ
مالك توفیق ہے۔
اعتراض سوم اس روایت کو ماننے سے یہ کہتے ہوئے پس وپیش کی : اگر انتشار سے وجوب غسل کو مقید کرنا کسی ایك حالت میں درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا ورنہ کسی میں تقیید نہ ہوگی اھ۔
اقول : یہ بات اگراس اعتراض کی وجہ سے ہے جو ان کے ذہن میں آیا تو اس کاجواب واضح ہو چکا۔ اوراگراس وجہ سے ہے کہ روایات ظاہرہ اور متون میں تقیید نہیں ہے توایك ایسی قید کوماننے میں کوئی عجب نہیں جو تینوں ائمہ مذہب میں کسی ایك سے نقل کی گئی ہے اور اجلہ اکابر نے اسے تسلیم وقبول کے ساتھ لیا ہے یہاں تك کہ محقق شرنبلالی نے اسے اپنے متن نور الایضاح میں داخل کیا۔ اور بہت اچھاکیا۔ اور مدقق علائی نے اس استثناء کا اضافہ کر کے متن تنویر کی تکمیل کرنی چاہی اورعلامہ شامی نے اسے متن کی اصلاح قرار دیا۔
اقول : اس کے باوجود تنویر کا جواب روشن و واضح ہے کہ متون کی وضع اسی مذہب کی نقل کے لئے ہوئی ہے جو روایات ظاہرہ میں ہے۔
فــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فــــ۲ : معروضات علی العلامۃ ش۔
وثالثا تکعکع عن قبولھا قائلا ان تم تقیید وجوب الغسل بالانتشار لاحدی الاحوال فکذا فی باقیھا والا فالکل علی الاطلاق اھ۔
اقول : ان فـــ۱ کان ھذا لما عن لہ من الایراد فقد علمت الجواب عنہ وان کان لان الروایات الظاھرۃ والمتون مطلقۃ فلا غر و فی القول بقید ذکر عن احد ائمۃ المذھب الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وتلقاہ الجملۃ الفحول بالتسلیم والقبول حتی ان المحقق الشرنبلالی ادخلہ فی متنہ نور الایضاح ونعما فعل وقصد المدقق العلائی تکمیل متن التنویر بزیادۃ ھذا الاستثناء و جعلہ الشامی اصلاح المتن۔
اقول : و مع فــــ۲ ذالك جواب التنویر نیر مستنیر ان المتون لم توضع الا لنقل ما فی الروایات الظاھرۃ
مالك توفیق ہے۔
اعتراض سوم اس روایت کو ماننے سے یہ کہتے ہوئے پس وپیش کی : اگر انتشار سے وجوب غسل کو مقید کرنا کسی ایك حالت میں درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا ورنہ کسی میں تقیید نہ ہوگی اھ۔
اقول : یہ بات اگراس اعتراض کی وجہ سے ہے جو ان کے ذہن میں آیا تو اس کاجواب واضح ہو چکا۔ اوراگراس وجہ سے ہے کہ روایات ظاہرہ اور متون میں تقیید نہیں ہے توایك ایسی قید کوماننے میں کوئی عجب نہیں جو تینوں ائمہ مذہب میں کسی ایك سے نقل کی گئی ہے اور اجلہ اکابر نے اسے تسلیم وقبول کے ساتھ لیا ہے یہاں تك کہ محقق شرنبلالی نے اسے اپنے متن نور الایضاح میں داخل کیا۔ اور بہت اچھاکیا۔ اور مدقق علائی نے اس استثناء کا اضافہ کر کے متن تنویر کی تکمیل کرنی چاہی اورعلامہ شامی نے اسے متن کی اصلاح قرار دیا۔
اقول : اس کے باوجود تنویر کا جواب روشن و واضح ہے کہ متون کی وضع اسی مذہب کی نقل کے لئے ہوئی ہے جو روایات ظاہرہ میں ہے۔
فــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فــــ۲ : معروضات علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
من المذھب وھھنا تم بیان ان لا قصور فی عبارۃ المتن اصلا ولا حاجۃ لہا الی شیئ من الاستثناءات الثلثۃ ھذا۔
وقد قال شمس الائمۃ الحلوانی ان ھذہ المسألۃ یکثر وقوعھا والناس عنھا غافلون فیجب ان تحفظ کما فی المحیط والخانیۃ والمنیۃ و الغیاثیۃ والہندیۃ وغیرھا وھکذا اوصی بحفظھا فی الذخیرۃ کما نقل عنھا فی الحلیۃ وقد قال فی الغنیۃ فی مسألۃ فــــ۱ عفو بول انتضح کرؤس الابراذ قیدتہ روایۃ مذکورۃ فی الحلیۃ وغیرھا عن النھایۃ عن المحبوبی عن البقالی عن المعلی
اور یہاں اس بات کا بیان مکمل ہوجاتاہے کہ عبارت متن میں بالکل کوئی کمی نہیں اور اس میں درمختار کے مذکورہ تینوں استثناء میں سے کسی کی حاجت نہیں ۔ یہ ذہن نشین رہے۔
امام شمس الائمہ حلوانی نے فرمایاہے کہ یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ رکھنا ضروری ہے ان سے اسی طرح محیط خانیہ منیہ غیاثیہ ہندیہ وغیرہا میں منقول ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں اسے حفظ رکھنے کی تاکید کی ہے جیسا کہ اس سے حلیہ میں منقول ہے۔ سوئی کی نوك جیسی پیشاب کی باریك باریك بندکیوں کے معاف ہونے کامسئلہ ہے اس میں ایك قید کا اضافہ ہوا اس روایت کے باعث جوحلیہ وغیرہا میں نہایہ سے اس میں محبوبی سے پھر بقالی سے معلی سے
فـــــ : مسئلہ : سوئی کی نوك کے برابر باریك باریك بندکیاں نجس پانی یا پیشاپ کی کپڑے یا بدن پر پڑگئیں معاف رہیں گی اگرچہ جمع کرنے سے روپے بھر سے زائد جگہ میں ہوجائیں مگر پانی پہنچا اور نہ بہایا غیر جاری پانی وہ کپڑا گر گیا تو پانی نجس ہوجائے گا اور اب اس کی نجاست سے کپڑا بھی ناپاك ٹہہرے گا۔
وقد قال شمس الائمۃ الحلوانی ان ھذہ المسألۃ یکثر وقوعھا والناس عنھا غافلون فیجب ان تحفظ کما فی المحیط والخانیۃ والمنیۃ و الغیاثیۃ والہندیۃ وغیرھا وھکذا اوصی بحفظھا فی الذخیرۃ کما نقل عنھا فی الحلیۃ وقد قال فی الغنیۃ فی مسألۃ فــــ۱ عفو بول انتضح کرؤس الابراذ قیدتہ روایۃ مذکورۃ فی الحلیۃ وغیرھا عن النھایۃ عن المحبوبی عن البقالی عن المعلی
اور یہاں اس بات کا بیان مکمل ہوجاتاہے کہ عبارت متن میں بالکل کوئی کمی نہیں اور اس میں درمختار کے مذکورہ تینوں استثناء میں سے کسی کی حاجت نہیں ۔ یہ ذہن نشین رہے۔
امام شمس الائمہ حلوانی نے فرمایاہے کہ یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ رکھنا ضروری ہے ان سے اسی طرح محیط خانیہ منیہ غیاثیہ ہندیہ وغیرہا میں منقول ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں اسے حفظ رکھنے کی تاکید کی ہے جیسا کہ اس سے حلیہ میں منقول ہے۔ سوئی کی نوك جیسی پیشاب کی باریك باریك بندکیوں کے معاف ہونے کامسئلہ ہے اس میں ایك قید کا اضافہ ہوا اس روایت کے باعث جوحلیہ وغیرہا میں نہایہ سے اس میں محبوبی سے پھر بقالی سے معلی سے
فـــــ : مسئلہ : سوئی کی نوك کے برابر باریك باریك بندکیاں نجس پانی یا پیشاپ کی کپڑے یا بدن پر پڑگئیں معاف رہیں گی اگرچہ جمع کرنے سے روپے بھر سے زائد جگہ میں ہوجائیں مگر پانی پہنچا اور نہ بہایا غیر جاری پانی وہ کپڑا گر گیا تو پانی نجس ہوجائے گا اور اب اس کی نجاست سے کپڑا بھی ناپاك ٹہہرے گا۔
حوالہ / References
فتاوٰی غیاثیہ نوع فی اسباب الجنابۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۹ ، البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۸ ، الفتاوی الہندیۃ بحوالہ المحیط کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵ ، فتاوٰی قاضی خان کتاب الطہارۃ فصل فیما یوجب الغسل نولکشورلکھنؤ ۱ / ۲۲ ، منیۃ المصلی موجبات الغسل مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۳۳
عن ابی یوسف بان یکون بحیث لا یری اثرہ فان کان یری فلا بد من غسلہ مانصہ التقیید بعدم ادراك الطرف ذکرہ المعلی فی النوادر عن ابی یوسف
واذا صرح فــــ۱ بعض الائمۃ بقید لم یروعن غیرہ منھم تصریح بخلافہ یجب ان یعتبر الخ وبالجملۃ لاوجہ للعدول مع اتفاق الفحول علی تلقیہ بالقبول۔
امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ وہ بندکیاں ایسی ہوں کہ ان کانشان و اثر دکھائی نہ دیتا ہو اگر نشان دکھائی دیتا ہے تو دھونا ضروری ہے- اس مسئلہ اور قید کے تحت غنیہ میں ہے : نگاہ سے محسوس نہ ہونے کی قید معلی نے نوادر میں امام ابویوسف سے روایت کی ہے۔
اورجب ائمہ میں کسی ایك سے کسی ایسی قیدکی تصریح آئی ہوجس کے خلاف کی تصریح دوسرے حضرات سے مروی نہ ہوتو واجب ہے کہ اس قید کااعتبار کیاجائے الخ۔ مختصر یہ کہ جب اس روایت کے قبول پراکابر کا اتفاق موجود ہے تو اس سے انحراف کی کوئی وجہ نہیں ۔
تنبیہ رابع عشر۱۴)اقول : جس طرح فــــ۲یہ استثنا نہ احتلام ہونے کی کسی صورت سے متعلق نہ یاد ہونے کی حالت میں صورت سوم یعنی علم منی سے اسے تعلق نہ شکل ششم یعنی علم عدم منی میں اس کی کچھ حاجت کہ اس صورت میں خود ہی غسل کی ضرورت نہیں یونہی شکل چہارم کی صورت احتمال منی و ودی سے بھی اسے کچھ علاقہ نہیں کہ نیند سے پہلے شہوت و انتشار تو دلیل مذی ہوتے جب معلوم ہے کہ یہ تری مذی نہیں تو ان کا ہونا نہ ہونا یکساں ہوا اور بوجہ احتمال منی مطلقا غسل واجب رہا۔
ولقد احسن العلامۃ ط اذقال “ یجب الغسل عندھما لا عند ابی یوسف
اسے علامہ طحطاوی نے اچھے انداز میں بیان کیا : ان کے الفاظ یہ ہیں : طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے۔
فــــ۱ : فائدہ : اذا جاء قید فی مسئلۃ عن احد الائمۃ و لم یصرح غیرہ منہم بخلافہ وجب قبولہ۔
فــــ۲ : صورت استثنا صرف اس حالت سے متعلق ہے کہ احتلام یاد نہ ہو اور تری خاص مذی ہو یا منی و مذی میں مشکوک۔
واذا صرح فــــ۱ بعض الائمۃ بقید لم یروعن غیرہ منھم تصریح بخلافہ یجب ان یعتبر الخ وبالجملۃ لاوجہ للعدول مع اتفاق الفحول علی تلقیہ بالقبول۔
امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ وہ بندکیاں ایسی ہوں کہ ان کانشان و اثر دکھائی نہ دیتا ہو اگر نشان دکھائی دیتا ہے تو دھونا ضروری ہے- اس مسئلہ اور قید کے تحت غنیہ میں ہے : نگاہ سے محسوس نہ ہونے کی قید معلی نے نوادر میں امام ابویوسف سے روایت کی ہے۔
اورجب ائمہ میں کسی ایك سے کسی ایسی قیدکی تصریح آئی ہوجس کے خلاف کی تصریح دوسرے حضرات سے مروی نہ ہوتو واجب ہے کہ اس قید کااعتبار کیاجائے الخ۔ مختصر یہ کہ جب اس روایت کے قبول پراکابر کا اتفاق موجود ہے تو اس سے انحراف کی کوئی وجہ نہیں ۔
تنبیہ رابع عشر۱۴)اقول : جس طرح فــــ۲یہ استثنا نہ احتلام ہونے کی کسی صورت سے متعلق نہ یاد ہونے کی حالت میں صورت سوم یعنی علم منی سے اسے تعلق نہ شکل ششم یعنی علم عدم منی میں اس کی کچھ حاجت کہ اس صورت میں خود ہی غسل کی ضرورت نہیں یونہی شکل چہارم کی صورت احتمال منی و ودی سے بھی اسے کچھ علاقہ نہیں کہ نیند سے پہلے شہوت و انتشار تو دلیل مذی ہوتے جب معلوم ہے کہ یہ تری مذی نہیں تو ان کا ہونا نہ ہونا یکساں ہوا اور بوجہ احتمال منی مطلقا غسل واجب رہا۔
ولقد احسن العلامۃ ط اذقال “ یجب الغسل عندھما لا عند ابی یوسف
اسے علامہ طحطاوی نے اچھے انداز میں بیان کیا : ان کے الفاظ یہ ہیں : طرفین کے نزدیك غسل واجب ہے۔
فــــ۱ : فائدہ : اذا جاء قید فی مسئلۃ عن احد الائمۃ و لم یصرح غیرہ منہم بخلافہ وجب قبولہ۔
فــــ۲ : صورت استثنا صرف اس حالت سے متعلق ہے کہ احتلام یاد نہ ہو اور تری خاص مذی ہو یا منی و مذی میں مشکوک۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الشرط الثانی الطہارۃ من الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۷۹ ، ۱۸۰
فیما اذا شك انہ منی اومذی ولم یکن ذکرہ منتشرا او منی او ودی ولم یتذکر الاحتلام فیھم اھ۔
ففصل ھذہ عن الثنیا وخصہ بالاولی اماما فی البحر من بیانہ اولا صورتی الخلاف بین الثانی والطرفین مطلقا ثم قولہ بعد ذکر صورۃ الثنیا “ ھذہ تقید الخلاف المتقدم بین ابی یوسف وصاحبیہ بما اذا لم یکن ذکرہ منتشرا اھ فرأیتنی کتبت علی ھامشہ۔
اقول : ای الصورۃ الواحدۃ من صورتی الخلاف وھی ما اذا شك فی المنی والمذی اما اذاشك فی المنی والودی فلا دخل فیہ للانتشار قبل النوم اھ فاعرف ولاتزل۔
امام ابویوسف کے نزدیك نہیں ۔ اس صورت میں جب کہ اسے شك ہو کہ منی ہے یا مذی اور ذکر منتشر نہ رہا ہو یا شك ہو کہ منی ہے یا ودی اور ان دونوں صورتوں میں احتلام یاد نہ ہو۔ اھ(ت)
تو احتمال منی و ودی کی صورت کو انہوں نے استثناسے الگ کردیا اور استثنا کو صرف پہلی صورت سے خاص کیا مگر بحر میں امام ثانی اور طرفین کے درمیان اختلاف کی دونوں صورتیں پہلے مطلقا بیان کی ہیں پھرصورت استثنا ذکر کرکے لکھا ہے یہ صورت استثناامام ابویوسف اورطرفین کے درمیان ذکر شدہ سابقہ اختلاف کو اس حالت سے مقید کردیتی ہے جب ذکر منتشرنہ رہا ہواھ۔ یہاں میں نے دیکھا کہ اس کے حاشیہ پرمیں نے یہ لکھا ہے :
اقول : یعنی اختلاف کی دو صورتوں میں سے ایك صورت کو مقید کرتی ہے وہ منی یا مذی میں شك کی صورت ہے لیکن جب منی یا ودی میں شك ہو تواس میں سونے سے پہلے انتشار آلہ کا کوئی دخل نہیں اھ۔ تو تم اس سے آگاہ رہنا اور لغزش میں نہ پڑنا۔ (ت)
اب رہی شکل چہارم کی وہ صورت جس میں منی ومذی مشکوك ہو اور شکل پنجم جس میں مذی کا علم ہو عامہ کتب میں اسے صورت اولی یعنی حالت شك سے متعلق فرمایا ہے کما مر عن الخانیۃ وغیرھا(جیساکہ خانیہ وغیرہا سے گزرا۔ ت)
ففصل ھذہ عن الثنیا وخصہ بالاولی اماما فی البحر من بیانہ اولا صورتی الخلاف بین الثانی والطرفین مطلقا ثم قولہ بعد ذکر صورۃ الثنیا “ ھذہ تقید الخلاف المتقدم بین ابی یوسف وصاحبیہ بما اذا لم یکن ذکرہ منتشرا اھ فرأیتنی کتبت علی ھامشہ۔
اقول : ای الصورۃ الواحدۃ من صورتی الخلاف وھی ما اذا شك فی المنی والمذی اما اذاشك فی المنی والودی فلا دخل فیہ للانتشار قبل النوم اھ فاعرف ولاتزل۔
امام ابویوسف کے نزدیك نہیں ۔ اس صورت میں جب کہ اسے شك ہو کہ منی ہے یا مذی اور ذکر منتشر نہ رہا ہو یا شك ہو کہ منی ہے یا ودی اور ان دونوں صورتوں میں احتلام یاد نہ ہو۔ اھ(ت)
تو احتمال منی و ودی کی صورت کو انہوں نے استثناسے الگ کردیا اور استثنا کو صرف پہلی صورت سے خاص کیا مگر بحر میں امام ثانی اور طرفین کے درمیان اختلاف کی دونوں صورتیں پہلے مطلقا بیان کی ہیں پھرصورت استثنا ذکر کرکے لکھا ہے یہ صورت استثناامام ابویوسف اورطرفین کے درمیان ذکر شدہ سابقہ اختلاف کو اس حالت سے مقید کردیتی ہے جب ذکر منتشرنہ رہا ہواھ۔ یہاں میں نے دیکھا کہ اس کے حاشیہ پرمیں نے یہ لکھا ہے :
اقول : یعنی اختلاف کی دو صورتوں میں سے ایك صورت کو مقید کرتی ہے وہ منی یا مذی میں شك کی صورت ہے لیکن جب منی یا ودی میں شك ہو تواس میں سونے سے پہلے انتشار آلہ کا کوئی دخل نہیں اھ۔ تو تم اس سے آگاہ رہنا اور لغزش میں نہ پڑنا۔ (ت)
اب رہی شکل چہارم کی وہ صورت جس میں منی ومذی مشکوك ہو اور شکل پنجم جس میں مذی کا علم ہو عامہ کتب میں اسے صورت اولی یعنی حالت شك سے متعلق فرمایا ہے کما مر عن الخانیۃ وغیرھا(جیساکہ خانیہ وغیرہا سے گزرا۔ ت)
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۹۲ ، ۹۳
البحرا الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۸
البحرا الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۸
اقول : مگر اس سے متعلق کرنا ہی صورت ثانیہ یعنی علم مذی سے بدرجہ اولی تعلق بتاتا ہے کہ احتلام یاد نہ ہونے کی حالت میں جبکہ سوتے وقت شہوت ہونے سے صرف احتمال مذی پر مذی ٹھہرایا اور احتمال منی کا لحاظ نہ فرمایا تو جہاں مذی کا علم ہے بروجہ اولی مذی ہی قرار پائے گی اور غسل واجب نہ ہوگا۔ کتب میں حالت اولی کے ساتھ اس کی تخصیص فریق اول کے طور پر تو ظاہر کہ ان کے نزدیك علم مذی کی صورت میں خود ہی غسل نہ تھا کسی استثناکی کیا حاجت اور فریق دوم نے صورت خفا پر تنصیص فرمائی کہ بحال احتمال منی بھی صرف احتمال مذی سے مذی ٹھہرنا معلوم ہوجائے دوسری صورت کا حکم اس سے خود روشن ہوجائےگا لاجرم حلیہ میں فرمایا :
یکون الغسل اذا وجد البلۃ التی مذی بطریق شك اوفی غالب الرأی اوالیقین بشرط کونہ غیر ذاکر للاحتلام ولا منتشر الذکر قبیل النوم اھ
غسل ہوگاجب وہ تری پائے جس کے مذی ہونے کاشك یاظن غالب یایقین ہے بشرطیکہ احتلام یادنہ ہو نہ ہی سونے سے پہلے ذکرمنتشر رہاہواھ۔ (ت)
تنبیہ خامس عشر۱۵عامہ کتب مثل فتاوی امام قاضی خان و ذخیرہ ومحیط برہانی وتبیین الحقائق وفتح القدیر وجوہرہ نیرہ و خزانۃ المفتین و مجتبی وغیاثیہ وبحرالرائق وجامع الرموز و شرح نقایہ برجندی وعالمگیریہ و رحمانیہ ونورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرہا میں یہ استثنا یونہی مذکور ہے مگر منیہ میں اس استثنا میں ایك استثنا بتایا اور اسے محیط وذخیرہ اور درمختار ومجمع الانہر میں جواہر کی طرف نسبت فرمایا وہ یہ کہ اس استثنا کا حکم صرف اس صورت سے خاص ہے کہ آدمی کھڑا یا بیٹھا سویا ہو اور اگر لیٹ کر سویا تو مطلقا صورت مذکورہ میں غسل واجب ہوگا اگرچہ سونے سے پہلے ذکر قائم اور شہوت حاصل ہو منیہ میں ہے :
ھذا اذا نام قائما اوقاعدا اما اذا نام مضطجعا اوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل وھذا مذکور فی المحیط والذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ مسألۃ یکثر و قوعھا والناس عنھا
یہ اس صورت میں ہے جب کھڑا یا بیٹھاسویا ہو اور اگر لیٹ کرسویا ہویا اسے منی ہونے کا یقین ہو تو اس پر غسل واجب ہے۔ اوریہ محیط وذخیرہ میں مذکور ہے۔ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا : یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے
یکون الغسل اذا وجد البلۃ التی مذی بطریق شك اوفی غالب الرأی اوالیقین بشرط کونہ غیر ذاکر للاحتلام ولا منتشر الذکر قبیل النوم اھ
غسل ہوگاجب وہ تری پائے جس کے مذی ہونے کاشك یاظن غالب یایقین ہے بشرطیکہ احتلام یادنہ ہو نہ ہی سونے سے پہلے ذکرمنتشر رہاہواھ۔ (ت)
تنبیہ خامس عشر۱۵عامہ کتب مثل فتاوی امام قاضی خان و ذخیرہ ومحیط برہانی وتبیین الحقائق وفتح القدیر وجوہرہ نیرہ و خزانۃ المفتین و مجتبی وغیاثیہ وبحرالرائق وجامع الرموز و شرح نقایہ برجندی وعالمگیریہ و رحمانیہ ونورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرہا میں یہ استثنا یونہی مذکور ہے مگر منیہ میں اس استثنا میں ایك استثنا بتایا اور اسے محیط وذخیرہ اور درمختار ومجمع الانہر میں جواہر کی طرف نسبت فرمایا وہ یہ کہ اس استثنا کا حکم صرف اس صورت سے خاص ہے کہ آدمی کھڑا یا بیٹھا سویا ہو اور اگر لیٹ کر سویا تو مطلقا صورت مذکورہ میں غسل واجب ہوگا اگرچہ سونے سے پہلے ذکر قائم اور شہوت حاصل ہو منیہ میں ہے :
ھذا اذا نام قائما اوقاعدا اما اذا نام مضطجعا اوتیقن انہ منی فعلیہ الغسل وھذا مذکور فی المحیط والذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ مسألۃ یکثر و قوعھا والناس عنھا
یہ اس صورت میں ہے جب کھڑا یا بیٹھاسویا ہو اور اگر لیٹ کرسویا ہویا اسے منی ہونے کا یقین ہو تو اس پر غسل واجب ہے۔ اوریہ محیط وذخیرہ میں مذکور ہے۔ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا : یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور لوگ اس سے
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غافلون اھ وتبعہ مسکین فی شرح الکنز فعزاہ لھما۔
غافل ہیں اھ۔ شرح کنز میں مسکین نے بھی صاحب منیہ کا اتباع کرتے ہوئے دونوں کاحوالہ دیا ہے(ت)
مگر اولا فــــ۱اس کا پتا نہ ذخیرہ میں ہے نہ محیط میں والله اعلم صاحب منیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکو یہ اشباہ کیونکر ہوا
قال الشامی ذکر فی الحلیۃ انہ راجع الذخیرۃ والمحیط البرھانی فلم یرتقیید عدم الغسل بما اذانام قائما اوقاعدا اھ۔
اقول : فـــ۲ رحم الله السید متی راجع العلامۃ الحلبی المحیط البرھانی وھو قد صرح فی عدۃ مواضع من الحلیۃ انہ لم یقف علیہ وھکذا صرح ھھنا ایضا حیث یقول اسلفت فی شرح خطبۃ الکتاب ان الظاھر ان مراد المصنف بالمحیط المحیط لصاحب الذخیرۃ وانی لم اقف علیہ نفسہ و راجعت محیط الامام رضی الدین السرخسی فلم ار لھذہ المسألۃ فیہ ذکرا اما الذخیرۃ فراجعتھا فرأیتہ اشار الیہا بما لفظہ قال القاضی الامام ابو علی النسفی ذکر ھشام فی نوادرہ
علامہ شامی نے فرمایا : حلیہ میں ذکرہے کہ انہوں نے ذخیرہ اور محیط برہانی کی مراجعت فرمائی تواس میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے سونے کی صورت سے عدم غسل کی تقییدنہ پائی اھ۔ (ت)
اقول : علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو محقق حلبی نے محیط برہانی کی مراجعت کب فرمائی جب کہ انہوں نے حلیہ کے متعدد مقامات پر تصریح فرمائی ہے کہ انہیں محیط برہانی کی واقفیت بہم نہ ہوئی۔ اسی طرح اس مقام پر بھی انہوں نے تصریح فرمائی ہے لکھتے ہیں کہ میں خطبہ کتاب کی شرح میں بیان کرچکاہوں کہ ظاہر یہ ہے کہ محیط سے مصنف کی مراد صاحب ذخیرہ کی محیط ہے اور خوداس کی مجھے واقفیت نہ ہوئی۔ میں نے امام رضی الدین سرخسی کی محیط دیکھی تو اس میں اس مسئلہ کا ذکر نہ پایا۔ اورذخیرہ کی مراجعت کی تو اس میں ان الفاظ میں اس مسئلہ کی جانب اشارہ پایا : قاضی امام ابو علی نسفی نے فرمایاکہ ہشام نے اپنی نوادر میں
فــــ۱ : تطفل علی المنیۃ و شرح الکنز لمسکین۔ فــــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ الشامی۔
غافل ہیں اھ۔ شرح کنز میں مسکین نے بھی صاحب منیہ کا اتباع کرتے ہوئے دونوں کاحوالہ دیا ہے(ت)
مگر اولا فــــ۱اس کا پتا نہ ذخیرہ میں ہے نہ محیط میں والله اعلم صاحب منیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکو یہ اشباہ کیونکر ہوا
قال الشامی ذکر فی الحلیۃ انہ راجع الذخیرۃ والمحیط البرھانی فلم یرتقیید عدم الغسل بما اذانام قائما اوقاعدا اھ۔
اقول : فـــ۲ رحم الله السید متی راجع العلامۃ الحلبی المحیط البرھانی وھو قد صرح فی عدۃ مواضع من الحلیۃ انہ لم یقف علیہ وھکذا صرح ھھنا ایضا حیث یقول اسلفت فی شرح خطبۃ الکتاب ان الظاھر ان مراد المصنف بالمحیط المحیط لصاحب الذخیرۃ وانی لم اقف علیہ نفسہ و راجعت محیط الامام رضی الدین السرخسی فلم ار لھذہ المسألۃ فیہ ذکرا اما الذخیرۃ فراجعتھا فرأیتہ اشار الیہا بما لفظہ قال القاضی الامام ابو علی النسفی ذکر ھشام فی نوادرہ
علامہ شامی نے فرمایا : حلیہ میں ذکرہے کہ انہوں نے ذخیرہ اور محیط برہانی کی مراجعت فرمائی تواس میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے سونے کی صورت سے عدم غسل کی تقییدنہ پائی اھ۔ (ت)
اقول : علامہ شامی پر خدا کی رحمت ہو محقق حلبی نے محیط برہانی کی مراجعت کب فرمائی جب کہ انہوں نے حلیہ کے متعدد مقامات پر تصریح فرمائی ہے کہ انہیں محیط برہانی کی واقفیت بہم نہ ہوئی۔ اسی طرح اس مقام پر بھی انہوں نے تصریح فرمائی ہے لکھتے ہیں کہ میں خطبہ کتاب کی شرح میں بیان کرچکاہوں کہ ظاہر یہ ہے کہ محیط سے مصنف کی مراد صاحب ذخیرہ کی محیط ہے اور خوداس کی مجھے واقفیت نہ ہوئی۔ میں نے امام رضی الدین سرخسی کی محیط دیکھی تو اس میں اس مسئلہ کا ذکر نہ پایا۔ اورذخیرہ کی مراجعت کی تو اس میں ان الفاظ میں اس مسئلہ کی جانب اشارہ پایا : قاضی امام ابو علی نسفی نے فرمایاکہ ہشام نے اپنی نوادر میں
فــــ۱ : تطفل علی المنیۃ و شرح الکنز لمسکین۔ فــــ۲ : معروضۃ علی العلامۃ الشامی۔
حوالہ / References
منیۃ المصلی موجبات الغسل مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۳۳
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۰
عن محمد اذا استیقظ فوجد البلل فی احلیلہ ولم یتذکر حلما اذا کان قبل النوم منتشرا لاغسل علیہ وان کان قبل النوم ساکنا کان علیہ الغسل قال وینبغی ان یحفظ ھذا فان البلوی کثیر فیہا والناس عنھا غافلون انتھی اھ۔ نعم لیس ھو فی المحیط البرھانی ایضا فقد نقل عنہ فی الھندیۃ بعین لفظ الذخیرۃ غیر انہ زاد بعد قولہ لاغسل علیہ الا ان تیقن انہ منی وقال قال شمس الائمۃ الحلوانی ھذہ المسألۃ یکثر وقوعھا والناس عنہا غافلون فیجب ان تحفظ اھ۔
وھکذا نقل عن المحیط فی شرح النقایۃ للبرجندی والرحمانیۃ الا انھما ترکا ذکر الامام ابی علی النسفی والبرجندی قول شمس الائمۃ ایضا ومعلوم فــ ان المحیط اذا اطلق فی المتداولات کان المراد ھو المحیط البرھانی
امام محمد سے روایت کی ہے کہ جب بیدار ہو کر اپنے احلیل میں تری پائے اور خواب یاد نہیں تو اگر سونے سے پہلے ذکر منتشرتھا تواس پر غسل نہیں اور اگرسونے سے پہلے ساکن تھا تو اس پر غسل ہے۔ فرمایا : اور اسے حفظ رکھنا چاہئے کیونکہ اس میں ابتلابہت ہوتا ہے اورلوگ اس سے غافل ہیں انتہی اھ۔ ہاں یہ محیط برہانی میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے ہندیہ میں بعینہ ان ہی الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے جوذخیرہ میں ہیں سوا اس کے کہ “ اس پرغسل نہیں “ کے بعدیہ اضافہ ہے “ مگریہ کہ اسے منی ہونے کایقین ہو “ ۔ اور کہاکہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا ہے کہ یہ مسئلہ بہت واقع ہوتاہے اورلوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ کرناضروری ہے اھ۔
اسی طرح محیط سے برجندی کی شرح نقایہ اور رحمانیہ میں منقول ہے مگر دونوں نے امام ابو علی نسفی کا ذکر چھوڑ دیا ہے اوربرجندی نے شمس الائمہ کا قول بھی ترك کردیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ کتب متداولہ میں محیط جب مطلق بولی جاتی ہے تو محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے
فـــ : فائدہ : المحیط اذا اطلق فی الکتب المتداولۃ فالمراد بہ المحیط البرھانی لا محیط السرخسی الرضوی۔
وھکذا نقل عن المحیط فی شرح النقایۃ للبرجندی والرحمانیۃ الا انھما ترکا ذکر الامام ابی علی النسفی والبرجندی قول شمس الائمۃ ایضا ومعلوم فــ ان المحیط اذا اطلق فی المتداولات کان المراد ھو المحیط البرھانی
امام محمد سے روایت کی ہے کہ جب بیدار ہو کر اپنے احلیل میں تری پائے اور خواب یاد نہیں تو اگر سونے سے پہلے ذکر منتشرتھا تواس پر غسل نہیں اور اگرسونے سے پہلے ساکن تھا تو اس پر غسل ہے۔ فرمایا : اور اسے حفظ رکھنا چاہئے کیونکہ اس میں ابتلابہت ہوتا ہے اورلوگ اس سے غافل ہیں انتہی اھ۔ ہاں یہ محیط برہانی میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے ہندیہ میں بعینہ ان ہی الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے جوذخیرہ میں ہیں سوا اس کے کہ “ اس پرغسل نہیں “ کے بعدیہ اضافہ ہے “ مگریہ کہ اسے منی ہونے کایقین ہو “ ۔ اور کہاکہ شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا ہے کہ یہ مسئلہ بہت واقع ہوتاہے اورلوگ اس سے غافل ہیں تواسے حفظ کرناضروری ہے اھ۔
اسی طرح محیط سے برجندی کی شرح نقایہ اور رحمانیہ میں منقول ہے مگر دونوں نے امام ابو علی نسفی کا ذکر چھوڑ دیا ہے اوربرجندی نے شمس الائمہ کا قول بھی ترك کردیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ کتب متداولہ میں محیط جب مطلق بولی جاتی ہے تو محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے
فـــ : فائدہ : المحیط اذا اطلق فی الکتب المتداولۃ فالمراد بہ المحیط البرھانی لا محیط السرخسی الرضوی۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
کما یعرفہ من لہ عنایۃ بخدمۃ الفقہ الحنفی وقال الامام ابن امیر الحاج فی الحلیۃ المحیط البرھانی ھو المراد من اطلاقہ لغیر واحد کصاحب الخلاصۃ والنھایۃ لامحیط الامام رضی الدین السرخسی اھ ثم الھندیۃ قد افصحت بمرادھا فانھا اذا اثرت عن البرھانی اطلقت واذا نقلت عن المحیط الرضوی قالت کذا فی محیط السرخسی۔
جیسا کہ فقہ حنفی کی خدمت سے اعتنا ر کھنے والا اسے جانتا ہے۔ اور امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں لکھاہے کہ متعدد حضرات جیسے صاحب خلاصہ و نہایہ کے مطلق بولنے سے محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے محیط امام رضی الدین سرخسی نہیں اھ۔ پھر ہندیہ نے تواپنی مراد صاف بتادی ہے کیونکہ اس کا طریقہ یہی ہے کہ محیط برہانی سے نقل ہو تو مطلق محیط لکھا ہوتا ہے اور محیط رضوی سے نقل ہو تو “ کذافی محیط
السرخسی “ سے تعبیر ہوتی ہے اھ(ت)
ثانیا اقول : بلکہ محیط میں فــــ۱ ہے تو اس کا رد ہے اس میں صریح تصریح ہے کہ کھڑے بیٹھے چلتے لیٹے ہر طرح سونے کا تری دیکھنے میں ایك ہی حکم ہے
ففی الھندیۃ فــــ۲ اذا نام الرجل قاعدا اوقائما اوما شیا ثم استیقظ ووجد بللا فھذا و ما لونام مضطجعا سواء کذافی المحیط اھ۔
ہندیہ میں ہے جب مرد کھڑے بیٹھے چلتے سوجائے پھر بیدار ہو اور تری پائے تو یہ اور لیٹ کر سوجائے توسبھی صورتیں برابرہیں ایساہی محیط میں ہے۔ اھ۔ (ت)
ثالثا اقول : فــــ۳ منتہائے مسئلہ امام محمد ہیں رضی اللہ تعالی عنہ ان کے لفظ کریم ذخیرہ ومحیط وتبیین وفتح القدیر وغیرہا سے سن چکے ان میں اس نئے استثنا کا کہیں نشان نہیں ۔
رابعا : اقول : سونے فــــ۴کے طبعی وعادی وضع وہی لیٹ کر سوناہے اور کھڑے بیٹھے چلتے سونا اتفاقی تو اگر لیٹ کر سونے میں بحالت شہوت سابقہ علم یااحتمال مذی سے غسل نہ آتا اور دیگر اوضاع پر آتااور علما ء
فـــــ۱ : تطفل اخری علی المنیۃ و مسکین۔
فــــ۲ : مسئلہ : جاگ کر تری دیکھنے کے جملہ مسائل میں برابر ہے کہ لیٹا سویا ہو خواہ کھڑا بیٹھا چلتا۔
فـــــ۳ : تطفل ثالث علیھماوعلی الدرومجمع الانھر۔
فــــ۴ : تطفل رابع علیہم۔
جیسا کہ فقہ حنفی کی خدمت سے اعتنا ر کھنے والا اسے جانتا ہے۔ اور امام ابن امیر الحاج نے حلیہ میں لکھاہے کہ متعدد حضرات جیسے صاحب خلاصہ و نہایہ کے مطلق بولنے سے محیط برہانی ہی مراد ہوتی ہے محیط امام رضی الدین سرخسی نہیں اھ۔ پھر ہندیہ نے تواپنی مراد صاف بتادی ہے کیونکہ اس کا طریقہ یہی ہے کہ محیط برہانی سے نقل ہو تو مطلق محیط لکھا ہوتا ہے اور محیط رضوی سے نقل ہو تو “ کذافی محیط
السرخسی “ سے تعبیر ہوتی ہے اھ(ت)
ثانیا اقول : بلکہ محیط میں فــــ۱ ہے تو اس کا رد ہے اس میں صریح تصریح ہے کہ کھڑے بیٹھے چلتے لیٹے ہر طرح سونے کا تری دیکھنے میں ایك ہی حکم ہے
ففی الھندیۃ فــــ۲ اذا نام الرجل قاعدا اوقائما اوما شیا ثم استیقظ ووجد بللا فھذا و ما لونام مضطجعا سواء کذافی المحیط اھ۔
ہندیہ میں ہے جب مرد کھڑے بیٹھے چلتے سوجائے پھر بیدار ہو اور تری پائے تو یہ اور لیٹ کر سوجائے توسبھی صورتیں برابرہیں ایساہی محیط میں ہے۔ اھ۔ (ت)
ثالثا اقول : فــــ۳ منتہائے مسئلہ امام محمد ہیں رضی اللہ تعالی عنہ ان کے لفظ کریم ذخیرہ ومحیط وتبیین وفتح القدیر وغیرہا سے سن چکے ان میں اس نئے استثنا کا کہیں نشان نہیں ۔
رابعا : اقول : سونے فــــ۴کے طبعی وعادی وضع وہی لیٹ کر سوناہے اور کھڑے بیٹھے چلتے سونا اتفاقی تو اگر لیٹ کر سونے میں بحالت شہوت سابقہ علم یااحتمال مذی سے غسل نہ آتا اور دیگر اوضاع پر آتااور علما ء
فـــــ۱ : تطفل اخری علی المنیۃ و مسکین۔
فــــ۲ : مسئلہ : جاگ کر تری دیکھنے کے جملہ مسائل میں برابر ہے کہ لیٹا سویا ہو خواہ کھڑا بیٹھا چلتا۔
فـــــ۳ : تطفل ثالث علیھماوعلی الدرومجمع الانھر۔
فــــ۴ : تطفل رابع علیہم۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
مطلق بیان فرماتے کہ سونے سے پہلے شہوت ہونے میں غسل نہیں تو بعید نہ تھا کہ نادر صورتوں کا لحاظ نہ فرمایا نہ کہ خود لیٹ کر سونا ہی کہ اصل وضع خواب ومعروف ومعتاد ومتبادر الی الفہم ہے اس حکم سے مستثنی ہو پھر ائمہ کرام اور خود محرر مذہب رحمہم اللہ تعالیاس کا استنا چھوڑ جائیں یہ کس درجہ بعید ودور از کار ہے۔
خامسا اقول : امام شمس الائمہ حلوانی فــــ۱ کا ارشاد کہ کتب کثیرہ اور خود منیہ میں اس تازہ استثنا کے ساتھ مذکور کہ یہ مسئلہ بکثرت واقع ہوتا ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تو اس کا حفظ کر رکھنا واجب ہے صاف بتارہا ہے کہ اس کا تعلق صرف اس صورت خواب سے ہرگز نہیں جو نادر الوقوع ہے۔
سادسا : اس تفرقہ پر کوئی دلیل بھی نہیں ۔
اماماابداہ فی الغنیۃ اذقال “ عدم وجوب الغسل فیما اذا کان منتشرا انما ھو اذا نام قائما اوقاعدا لعدم الاستغراق فی النوم عادۃ فلم یعارض سببیۃ الانتشار سبب اخر فحمل علی انہ ھو السبب وانما یتسبب عنہ المذی لاالمنی والاضطجاع سبب الاسترخاء والاستغراق فی النوم الذی ھو سبب الاحتلام فعارض الانتشار فی السببیۃ فیحکم بسبیتہ للاحتلام وان البلل منی رق احتیاطا اھ وتبعہ السیدان ط وش۔
فاقول : لا فــــ۲ متضح ولا متجہ مگر غنیہ میں یہ رائے ظاہر کی ہے : ذکر منتشرہونے کی صورت میں عدم وجوب غسل اسی وقت ہے جب کھڑے یابیٹھے سویاہوکیونکہ ایسی حالت میں عادۃ گہری نیند نہیں آتی توسبب انتشار کے معارض کوئی اورسبب (اس حالت میں )نہیں پس یہ اس پر محمول ہوگا کہ انتشار ہی سبب ہے اور اس کی وجہ سے مذی ہی آتی ہے منی نہیں آتی۔ اور کروٹ لینا اعضا کے ڈھیلے پڑجانے اور سبب احتلام نیند میں استغراق کا سبب ہوتا ہے تویہ سبب ہونے کے معاملہ میں انتشار کے معارض ہوگااس لئے احتیاطا اس کے سبب احتلام ہونے کا حکم ہوگااوراس کا کہ تری منی ہے جو رقیق ہوگئی ۔ اھ۔ اس رائے میں سید طحطاوی وسید شامی نے بھی غنیہ کا اتباع کیاہے۔
اقول یہ رائے
فــــ۱ : تطفل خامس علیھم ۔ فـــــ۲ : تطفل علی الغنیۃ وط وش۔
خامسا اقول : امام شمس الائمہ حلوانی فــــ۱ کا ارشاد کہ کتب کثیرہ اور خود منیہ میں اس تازہ استثنا کے ساتھ مذکور کہ یہ مسئلہ بکثرت واقع ہوتا ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں تو اس کا حفظ کر رکھنا واجب ہے صاف بتارہا ہے کہ اس کا تعلق صرف اس صورت خواب سے ہرگز نہیں جو نادر الوقوع ہے۔
سادسا : اس تفرقہ پر کوئی دلیل بھی نہیں ۔
اماماابداہ فی الغنیۃ اذقال “ عدم وجوب الغسل فیما اذا کان منتشرا انما ھو اذا نام قائما اوقاعدا لعدم الاستغراق فی النوم عادۃ فلم یعارض سببیۃ الانتشار سبب اخر فحمل علی انہ ھو السبب وانما یتسبب عنہ المذی لاالمنی والاضطجاع سبب الاسترخاء والاستغراق فی النوم الذی ھو سبب الاحتلام فعارض الانتشار فی السببیۃ فیحکم بسبیتہ للاحتلام وان البلل منی رق احتیاطا اھ وتبعہ السیدان ط وش۔
فاقول : لا فــــ۲ متضح ولا متجہ مگر غنیہ میں یہ رائے ظاہر کی ہے : ذکر منتشرہونے کی صورت میں عدم وجوب غسل اسی وقت ہے جب کھڑے یابیٹھے سویاہوکیونکہ ایسی حالت میں عادۃ گہری نیند نہیں آتی توسبب انتشار کے معارض کوئی اورسبب (اس حالت میں )نہیں پس یہ اس پر محمول ہوگا کہ انتشار ہی سبب ہے اور اس کی وجہ سے مذی ہی آتی ہے منی نہیں آتی۔ اور کروٹ لینا اعضا کے ڈھیلے پڑجانے اور سبب احتلام نیند میں استغراق کا سبب ہوتا ہے تویہ سبب ہونے کے معاملہ میں انتشار کے معارض ہوگااس لئے احتیاطا اس کے سبب احتلام ہونے کا حکم ہوگااوراس کا کہ تری منی ہے جو رقیق ہوگئی ۔ اھ۔ اس رائے میں سید طحطاوی وسید شامی نے بھی غنیہ کا اتباع کیاہے۔
اقول یہ رائے
فــــ۱ : تطفل خامس علیھم ۔ فـــــ۲ : تطفل علی الغنیۃ وط وش۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ، مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
فان النوم کیفما کان لیس سببا قویا للاحتلام کما بیناہ وانما ینتھض موجبا اذا اعتضد بسبب وسیط اوقریب والاضطجاع لایسلب انعقاد سبب المذی قبل النوم بل یؤکد خروج ماھیأہ ھو للخروج لتمام الاسترخاء فلم یثبت ان النوم احدث تلك البلۃ التی لاتنبعث الا عن شھوۃ فلم یبق الا مجرد المنام وھو ولو مضطجعا لیس سببا قویا للاحتلام ھذا علی طریقتنا واما علی طریقۃ الحلیۃ فلان الانتشار قد استولی علی المسبب بالسبق فلا وجہ لقطع النسبۃ عنہ الا بتذکر حلم اوعلم منی ولم یعھد الشرع ھھنا فارقا بین نوم ونوم حتی یسقط الترجیح بالسبق لبعض الاوضاع دون بعض۔
نہ واضح ہے نہ باوجہ اس لئے کہ نیند جس حالت میں بھی ہووہ احتلام کا سبب قوی نہیں جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ وہ صرف اس حالت میں موجب بنتی ہے جس سبب وسیط یاقریب سے قوت پاجائے اورسونے سے پہلے جوسبب مذی متحقق ہوچکااضطجاع اسے سلب نہیں کرتا بلکہ اس سبب نے جس تری کو آمادہ خروج کردیا تھا اضطجاع اس کے خروج کو اور مؤکد کردیتاہے کیونکہ اس میں استرخاکامل ہوجاتاہے تویہ ثابت نہ ہوا کہ نیند ہی نے وہ تری پیدا کی تھی جو شہوت ہی سے برانگیختہ ہوتی ہے۔ اب صرف نیند رہ گئی اور نیند خواہ لیٹ ہی کر ہو احتلام کاسبب قوی نہیں ۔ یہ ہمارے طریقہ پر ہے اور حلیہ کے طریقہ پر یوں کہاجائے گاکہ انتشار سبقت کے باعث مسبب پرحاوی ہوگیا تواس سے اس مذی کی نسبت منقطع کرنے کی کوئی وجہ نہیں مگریہ کہ خواب یاد ہویا منی ہونے کا یقین ہواور شریعت سے یہاں ایك نیند اوردوسری نیند میں کوئی تفریق ثابت نہیں کہ انتشار کوسبقت کے باعث جو ترجیح ملی تھی وہ نیند کی بعض صورتوں میں ساقط ہوجائے اور بعض میں ساقط نہ ہو۔
لاجرم امام محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس تفرقہ سے صاف انکارفرمایا
حیث قال التفرقۃ غیر ظاھر الوجہ فلاجرم ان قال فی الخانیۃ اذانام الرجل قائما اوقاعدا او ماشیا فوجد مذیا
اس کے الفاظ یہ ہیں : تفریق کی وجہ ظاہر نہیں ۔ اسی حقیقت کے پیش نظر خانیہ میں فرمایا : جب مرد کھڑے بیٹھے یا چلتے ہوئے سوجائے پھرمذی
نہ واضح ہے نہ باوجہ اس لئے کہ نیند جس حالت میں بھی ہووہ احتلام کا سبب قوی نہیں جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ وہ صرف اس حالت میں موجب بنتی ہے جس سبب وسیط یاقریب سے قوت پاجائے اورسونے سے پہلے جوسبب مذی متحقق ہوچکااضطجاع اسے سلب نہیں کرتا بلکہ اس سبب نے جس تری کو آمادہ خروج کردیا تھا اضطجاع اس کے خروج کو اور مؤکد کردیتاہے کیونکہ اس میں استرخاکامل ہوجاتاہے تویہ ثابت نہ ہوا کہ نیند ہی نے وہ تری پیدا کی تھی جو شہوت ہی سے برانگیختہ ہوتی ہے۔ اب صرف نیند رہ گئی اور نیند خواہ لیٹ ہی کر ہو احتلام کاسبب قوی نہیں ۔ یہ ہمارے طریقہ پر ہے اور حلیہ کے طریقہ پر یوں کہاجائے گاکہ انتشار سبقت کے باعث مسبب پرحاوی ہوگیا تواس سے اس مذی کی نسبت منقطع کرنے کی کوئی وجہ نہیں مگریہ کہ خواب یاد ہویا منی ہونے کا یقین ہواور شریعت سے یہاں ایك نیند اوردوسری نیند میں کوئی تفریق ثابت نہیں کہ انتشار کوسبقت کے باعث جو ترجیح ملی تھی وہ نیند کی بعض صورتوں میں ساقط ہوجائے اور بعض میں ساقط نہ ہو۔
لاجرم امام محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس تفرقہ سے صاف انکارفرمایا
حیث قال التفرقۃ غیر ظاھر الوجہ فلاجرم ان قال فی الخانیۃ اذانام الرجل قائما اوقاعدا او ماشیا فوجد مذیا
اس کے الفاظ یہ ہیں : تفریق کی وجہ ظاہر نہیں ۔ اسی حقیقت کے پیش نظر خانیہ میں فرمایا : جب مرد کھڑے بیٹھے یا چلتے ہوئے سوجائے پھرمذی
کان علیہ الغسل فی قول ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما الله تعالی بمنزلۃ مالو نام مضطجعا اھ فاطلق فی الکل فان تم تقیید وجوب الغسل بالانتشار لاحدی الاحوال المذکورۃ فکذا فی باقیھا والا فالکل علی الاطلاق اذلایظھر بینھا فی ذلك افتراق اھ ورجع العلامتان ط وش فاثرا انکار الحلیۃ ھذا فی حواشی المراقی والدر و اقراہ۔
اقول : غیر فــــ ان فی نقل ط وقع ھھنا اخلال یوھم من لم یطالع الحلیۃ انہ کما انکر التفرقۃ انکر نفس الثنیا وحکم بوجوب الغسل علی الاطلاق حیث قال تحت قول الشرنبلالی “ اذالم یکن ذکرہ منتشرا قبل النوم مانصہ لم یفصل بین النوم مضطجعا وغیرہ کغیرہ وقال ابن امیر حاج التفرقۃ غیر ظاھرۃ
پائے توامام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیکے قول پر غسل واجب ہوگا جیسے کروٹ لیٹ کر سوجائے تو واجب ہو گااھ۔ توصاحب خانیہ نے حکم سب میں مطلق رکھا۔ تو انتشار سے وجوب غسل کو مقید کرنامذکورہ حالتوں میں سے کسی ایك میں اگرتام اور درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا ورنہ سب ہی حالتیں مطلق رہیں گی۔ اس لئے کہ اس بارے میں ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔ اور علامہ طحطاوی وشامی نے رجوع کرلیااس طرح کہ مراقی الفلاح اور درمختار کے حواشی میں صاحب حلیہ کا یہ انکار نقل کر کے برقراررکھا۔
اقول : مگر یہ ہے کہ یہاں سید طحطاوی کی نقل میں ایك خلل ہے جس سے حلیہ نہ دیکھے ہوئے شخص کو یہ وہم ہوگا کہ صاحب حلیہ نے جیسے تفریق کا انکارکیا ہے ویسے ہی استثنا ء کا انکار کیا ہے اورمطلقا وجوب غسل کا حکم کیا ہے یہ اس طرح کہ علامہ شرنبلالی کے قول “ جب کہ سونے سے پہلے اس کا ذکر منتشرنہ رہا ہو “ کے تحت سیدطحطاوی لکھتے ہیں : دوسرے حضرات کی طرح انہوں نے بھی کروٹ لیٹنے اور دوسرے طور پر لیٹنے میں فرق
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
اقول : غیر فــــ ان فی نقل ط وقع ھھنا اخلال یوھم من لم یطالع الحلیۃ انہ کما انکر التفرقۃ انکر نفس الثنیا وحکم بوجوب الغسل علی الاطلاق حیث قال تحت قول الشرنبلالی “ اذالم یکن ذکرہ منتشرا قبل النوم مانصہ لم یفصل بین النوم مضطجعا وغیرہ کغیرہ وقال ابن امیر حاج التفرقۃ غیر ظاھرۃ
پائے توامام ابو حنیفہ وامام محمد رحمہم اللہ تعالیکے قول پر غسل واجب ہوگا جیسے کروٹ لیٹ کر سوجائے تو واجب ہو گااھ۔ توصاحب خانیہ نے حکم سب میں مطلق رکھا۔ تو انتشار سے وجوب غسل کو مقید کرنامذکورہ حالتوں میں سے کسی ایك میں اگرتام اور درست ہے تو باقی حالتوں میں بھی ایسا ہی ہوگا ورنہ سب ہی حالتیں مطلق رہیں گی۔ اس لئے کہ اس بارے میں ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔ اور علامہ طحطاوی وشامی نے رجوع کرلیااس طرح کہ مراقی الفلاح اور درمختار کے حواشی میں صاحب حلیہ کا یہ انکار نقل کر کے برقراررکھا۔
اقول : مگر یہ ہے کہ یہاں سید طحطاوی کی نقل میں ایك خلل ہے جس سے حلیہ نہ دیکھے ہوئے شخص کو یہ وہم ہوگا کہ صاحب حلیہ نے جیسے تفریق کا انکارکیا ہے ویسے ہی استثنا ء کا انکار کیا ہے اورمطلقا وجوب غسل کا حکم کیا ہے یہ اس طرح کہ علامہ شرنبلالی کے قول “ جب کہ سونے سے پہلے اس کا ذکر منتشرنہ رہا ہو “ کے تحت سیدطحطاوی لکھتے ہیں : دوسرے حضرات کی طرح انہوں نے بھی کروٹ لیٹنے اور دوسرے طور پر لیٹنے میں فرق
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ط۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الوجہ فالکل علی الاطلاق اذلا یظھر بینہما افتراق اھ
فان المراد بالکل اوضاع النوم المذکورۃ وبا لاطلاق فی کلام الحلیۃ وجوب الغسل سواء کان منتشرا قبلہ اولا وھو لم یجزم بھذا الاطلاق بل بناہ علی ان لایتم تقیید المسألۃ بمامر والا فالکل علی التقیید کمالایخفی وما قدم من الا یراد لم یجزم بہ ایضا انما قال لوقال “ قائل کذا لاحتاج الی الجواب اھ فلیتنبہ لذلك وبالله التوفیق۔
ثم ان المحقق الحلبی فی الغنیۃ بعد ذکر مسألۃ الثنیا قال وھی تؤید قولھما فی وجوب الغسل اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر الاحتلام اھ
اقول : انما ھی عن فـــــ محمد
نہ کیا اورابن امیر الحاج نے فرمایا : تفریق کی وجہ ظاہر نہیں تو سبھی حالتوں میں حکم مطلق ہے کیونکہ ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔
اس لئے کہ سبھی حالتوں سے مراد نیندکی مذکورہ حالتیں ہیں اور کلام حلیہ میں “ مطلق ہونے “ سے مراد یہ ہے کہ غسل واجب ہے خواہ سونے سے پہلے ذکر منتشررہاہویا نہ رہا ہواور صاحب حلیہ نے اس اطلاق پرجزم نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے اس بات پرمبنی رکھاہے کہ مسئلہ کی تقیید مذکورہ امرسے اگرتام نہ ہو ورنہ سبھی میں تقیید ہوگی۔ جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ اورجو اعتراض انہوں نے پہلے ذکر کیا ہے اس پربھی جزم نہیں کیا ہے بلکہ یوں کہاہے کہ اگرکوئی کہنے والا یہ کہے توجواب کی ضرورت ہوگی ۔ اھ۔ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔
پھر محقق حلبی نے غنیہ میں مسئلہ استثناء ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے : اس روایت سے طرفین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جب مذی ہونے کایقین ہواوراحتلام یاد نہ ہو تو غسل واجب ہے۔ اھ۔
اقول : یہ روایت امام محمد ہی سے تو ہے
فــــ : تطفل علی الغنیۃ ۔
فان المراد بالکل اوضاع النوم المذکورۃ وبا لاطلاق فی کلام الحلیۃ وجوب الغسل سواء کان منتشرا قبلہ اولا وھو لم یجزم بھذا الاطلاق بل بناہ علی ان لایتم تقیید المسألۃ بمامر والا فالکل علی التقیید کمالایخفی وما قدم من الا یراد لم یجزم بہ ایضا انما قال لوقال “ قائل کذا لاحتاج الی الجواب اھ فلیتنبہ لذلك وبالله التوفیق۔
ثم ان المحقق الحلبی فی الغنیۃ بعد ذکر مسألۃ الثنیا قال وھی تؤید قولھما فی وجوب الغسل اذا تیقن انہ مذی ولم یتذکر الاحتلام اھ
اقول : انما ھی عن فـــــ محمد
نہ کیا اورابن امیر الحاج نے فرمایا : تفریق کی وجہ ظاہر نہیں تو سبھی حالتوں میں حکم مطلق ہے کیونکہ ان کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں اھ۔
اس لئے کہ سبھی حالتوں سے مراد نیندکی مذکورہ حالتیں ہیں اور کلام حلیہ میں “ مطلق ہونے “ سے مراد یہ ہے کہ غسل واجب ہے خواہ سونے سے پہلے ذکر منتشررہاہویا نہ رہا ہواور صاحب حلیہ نے اس اطلاق پرجزم نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے اس بات پرمبنی رکھاہے کہ مسئلہ کی تقیید مذکورہ امرسے اگرتام نہ ہو ورنہ سبھی میں تقیید ہوگی۔ جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ اورجو اعتراض انہوں نے پہلے ذکر کیا ہے اس پربھی جزم نہیں کیا ہے بلکہ یوں کہاہے کہ اگرکوئی کہنے والا یہ کہے توجواب کی ضرورت ہوگی ۔ اھ۔ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔
پھر محقق حلبی نے غنیہ میں مسئلہ استثناء ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے : اس روایت سے طرفین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جب مذی ہونے کایقین ہواوراحتلام یاد نہ ہو تو غسل واجب ہے۔ اھ۔
اقول : یہ روایت امام محمد ہی سے تو ہے
فــــ : تطفل علی الغنیۃ ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ فصل مایوجب الاغتسال دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مطلب فی الطہارۃ الکبری سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳
وانما تبتنی علی قولھمافکیف یؤید الشیئ بنفسہ ھذا واذا قد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ فلنسمہا “ الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل “ حامدین لله علی ماعلم و مصلین علی ھذا الحبیب الاکرم صلی الله تعالی علیہ والہ وصحبہ وبارك وسلم۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم ۔
اور ان ہی کے امام صاحب کے قول پر اس کی بنیاد بھی ہے تو شئی کی تائید خود اپنی ہی ذات سے کیسے ہوگی ۔ یہ بحث تمام ہوئی۔ اور یہ عجالہ جب ایك رسالہ کی صورت اختیار کرگیا تو ہم اسے الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل (۱۳۲۰ھ)(احتلام اور تری کی صورتوں سے متعلق احکام واسباب) سے موسوم کریں خدا کی حمد کرتے ہوئے اس پر جو اس نے سکھایا اور درود بھیجتے ہوئے اس حبیب اکرم پر۔ ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر خدائے برتر کی رحمت وبرکت اور سلام ہو۔ اور خدائے پاك وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔ (ت)
_________________
رسالہ
الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل
ختم ہوا
_________________
اور ان ہی کے امام صاحب کے قول پر اس کی بنیاد بھی ہے تو شئی کی تائید خود اپنی ہی ذات سے کیسے ہوگی ۔ یہ بحث تمام ہوئی۔ اور یہ عجالہ جب ایك رسالہ کی صورت اختیار کرگیا تو ہم اسے الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل (۱۳۲۰ھ)(احتلام اور تری کی صورتوں سے متعلق احکام واسباب) سے موسوم کریں خدا کی حمد کرتے ہوئے اس پر جو اس نے سکھایا اور درود بھیجتے ہوئے اس حبیب اکرم پر۔ ان پر اور ان کی آل و اصحاب پر خدائے برتر کی رحمت وبرکت اور سلام ہو۔ اور خدائے پاك وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔ (ت)
_________________
رسالہ
الاحکام والعلل فی اشکال الاحتلام والبلل
ختم ہوا
_________________
رسالہ
بارق النور فی مقادیر ماء الطھور ۱۳۲۷ھ
( نورکی تابش آب وضووغسل کی مقدارمیں )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۷ : ۲۲ / رمضان المبارك ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو وغسل میں پانی کی کیا مقدار شرعامعین ہے بینوا توجروا۔ (بیان فرمائیے اجرپائیے ۔ ت)
الجواب :
ہم قبل بیان فـــــ احادیث صاع ومدورطل کی مقادیربیان کریں کہ فہم معنی آسان ہو۔ صاع ایك پیمانہ ہے چارمد کا اور مدکہ اسی کو من بھی کہتے ہیں ہمارے نزدیك دور طل ہے اور ایك رطل شرعی یہاں کے روپے سے چھتیس روپے بھر کہ رطل بیس استارہے اوراستار ساڑھے چار مثقال اور مثقال ساڑھے چار ماشے
فــــ : مثقال واستار و رطل ومدوصاع کابیان ۔
بارق النور فی مقادیر ماء الطھور ۱۳۲۷ھ
( نورکی تابش آب وضووغسل کی مقدارمیں )
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۷ : ۲۲ / رمضان المبارك ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو وغسل میں پانی کی کیا مقدار شرعامعین ہے بینوا توجروا۔ (بیان فرمائیے اجرپائیے ۔ ت)
الجواب :
ہم قبل بیان فـــــ احادیث صاع ومدورطل کی مقادیربیان کریں کہ فہم معنی آسان ہو۔ صاع ایك پیمانہ ہے چارمد کا اور مدکہ اسی کو من بھی کہتے ہیں ہمارے نزدیك دور طل ہے اور ایك رطل شرعی یہاں کے روپے سے چھتیس روپے بھر کہ رطل بیس استارہے اوراستار ساڑھے چار مثقال اور مثقال ساڑھے چار ماشے
فــــ : مثقال واستار و رطل ومدوصاع کابیان ۔
اور یہ انگریزی روپیہ سواگیارہ ماشے یعنی ڈھائی مثقال تو رطل شرعی کہ نوے۹۰ مثقال ہوا ڈھائی پر تقسیم کئے سے چھتیس۳۶ آئے توصاع کہ ہمارے نزدیك آٹھ رطل ہے ایك سو اٹھاسی۱۸۸ روپے بھر ہوا یعنی رامپور کے سیر سے کہ چھیانوے۹۶روپے بھرکا ہے پورا تین سیر اور مد تین پاؤ۔ اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك صاع پانچ رطل اور ایك ثلث رطل کا ہے اور اس پر اجماع ہے کہ چار مدکا ایك صاع ہے تو ان کے نزدیك مدایك رطل اور ایك ثلث رطل ہوا یعنی رامپوری سیر سے آدھ سیر اور صاع دوسیر۔ اس بحث کی زیادہ تحقیق فتاواے فقیر سے کتاب الصوم وغیرہ میں ہے۔ اب حدیثیں سنئے : صحیحین میں انس رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد ویتوضأ بالمد ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك صاع سے پانچ مدتك پانی سے نہاتے اورایك مدپانی سے وضو فرماتے۔
صحیح مسلم ومسنداحمد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وشرح معانی الآثار امام طحاوی میں حضرت سفینہ اور مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وطحطاوی میں بسند صحیح حضرت جابر بن عبدالله نیز انہیں کتب میں بطرق کثیرہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتؤضأ بالمد ویغتسل بالصاع ۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے وضو اور ایك صاع سے غسل فرماتے ۔
اکثر احادیث اسی طرف ہیں اور انس رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث امام طحاوی کے یہاں یوں ہے :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد ویتوضأ بالمد ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك صاع سے پانچ مدتك پانی سے نہاتے اورایك مدپانی سے وضو فرماتے۔
صحیح مسلم ومسنداحمد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وشرح معانی الآثار امام طحاوی میں حضرت سفینہ اور مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وطحطاوی میں بسند صحیح حضرت جابر بن عبدالله نیز انہیں کتب میں بطرق کثیرہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتؤضأ بالمد ویغتسل بالصاع ۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے وضو اور ایك صاع سے غسل فرماتے ۔
اکثر احادیث اسی طرف ہیں اور انس رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث امام طحاوی کے یہاں یوں ہے :
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضوءباب الوضوء بالمُد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۳ ، صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، مسند احمد بن حنبل عن جابر ۱ / ۳۰۳ وعن عائشۃ رضی اللہ عنھا ۶ / ۲۴۹ المکتب الاسلامی بیروت ، شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۳۷۶ ، سنن الترمذی باب فی الوضو بالمدحدیث ۵۶ دارالفکربیروت ۱ / ۱۲۲
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، مسند احمد بن حنبل عن جابر ۱ / ۳۰۳ وعن عائشۃ رضی اللہ عنھا ۶ / ۲۴۹ المکتب الاسلامی بیروت ، شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۳۷۶ ، سنن الترمذی باب فی الوضو بالمدحدیث ۵۶ دارالفکربیروت ۱ / ۱۲۲
یتوضأ من مدفیسبغ الوضوء وعسی ان یفضل منہ الحدیث ۔
تمام وکمال وضو وسعت وفراغت کے ساتھ فرمالیتے اور قریب تھاکہ کچھ پانی بچ بھی رہتا۔
اور ابو یعلی وطبرانی وبیہقی نے ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہسے بسند ضعیف روایت کیا :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بنصف مد ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نصف مد سے وضو فرمایا۔
سنن ابی داؤد ونسائی میں ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ فاتی باناء فیہ ماء قدر ثلثی المد ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو فرمانا چاہا توایك برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مد کے قدرپانی تھا۔
نسائی کے لفظ یہ ہیں :
فاتی بماء فی اناء قدر ثلثی المد ۔
ایك برتن میں کہ دو ثلث مد کے قدر تھا پانی حاضر کیاگیا۔
ابن خزیمہ وابن حبان وحاکم کی صحاح میں عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
انہ رأی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلث مد عـــــہ ۔
انہوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھاکہ ایك تہائی مد سے وضو فرمایا۔
عــــہ : ھکذا عزالھم الزرقانی فی شرح المواھب وقد
عــــہ : اسی طرح ان کے حوالے سے علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ذکرکیااور(باقی برصفحہ ائندہ)
تمام وکمال وضو وسعت وفراغت کے ساتھ فرمالیتے اور قریب تھاکہ کچھ پانی بچ بھی رہتا۔
اور ابو یعلی وطبرانی وبیہقی نے ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہسے بسند ضعیف روایت کیا :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بنصف مد ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے نصف مد سے وضو فرمایا۔
سنن ابی داؤد ونسائی میں ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ فاتی باناء فیہ ماء قدر ثلثی المد ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو فرمانا چاہا توایك برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مد کے قدرپانی تھا۔
نسائی کے لفظ یہ ہیں :
فاتی بماء فی اناء قدر ثلثی المد ۔
ایك برتن میں کہ دو ثلث مد کے قدر تھا پانی حاضر کیاگیا۔
ابن خزیمہ وابن حبان وحاکم کی صحاح میں عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
انہ رأی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلث مد عـــــہ ۔
انہوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھاکہ ایك تہائی مد سے وضو فرمایا۔
عــــہ : ھکذا عزالھم الزرقانی فی شرح المواھب وقد
عــــہ : اسی طرح ان کے حوالے سے علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ذکرکیااور(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
شرح معافی الآثار ، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۶
مجمع الزوائدبحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الطہارۃباب مایکفی من الماء للوضوء الخ دارالکتاب بیروت۱ / ۲۱۹
سنن ابی داؤد ، کتاب الطہارۃ باب مایجوزمن الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳
سنن نسائی ، کتاب الطہارۃ باب القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نور محمدکارخانہ کراچی ۱ / ۲۴
المستدرک للحاکم ، کتاب الطہارۃ مایجزی من الماء للوضوء مطبوعہ دالفکربیروت ۱ / ۱۶۱ ، صحیح ابن خزیمہ کتاب الطہارۃ باب الرخصۃ فی الوضوء الخ حدیث ۱۱۸ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۶۲ ، موارد الظمأن باب ماجاء فی الوضو حدیث ۱۵۵ المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷
مجمع الزوائدبحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الطہارۃباب مایکفی من الماء للوضوء الخ دارالکتاب بیروت۱ / ۲۱۹
سنن ابی داؤد ، کتاب الطہارۃ باب مایجوزمن الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳
سنن نسائی ، کتاب الطہارۃ باب القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نور محمدکارخانہ کراچی ۱ / ۲۴
المستدرک للحاکم ، کتاب الطہارۃ مایجزی من الماء للوضوء مطبوعہ دالفکربیروت ۱ / ۱۶۱ ، صحیح ابن خزیمہ کتاب الطہارۃ باب الرخصۃ فی الوضوء الخ حدیث ۱۱۸ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۶۲ ، موارد الظمأن باب ماجاء فی الوضو حدیث ۱۵۵ المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷
اقول : احادیث سے ثابت ہے کہ وضو میں عادت کریمہ تثلیث تھی یعنی ہر عضو تین بار دھونا اور کبھی دو دو بار بھی اعضاء دھوئے۔
رواہ البخاری عن عبدالله بن زید وابو داؤد والترمذی وصححہ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنھما ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضاء مرتین مرتین ۔
اسے امام بخاری نے عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ اورابوداؤد نے اور ترمذی نے بافادہ تصحیح اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی کہ نبی نے وضومیں دودوبار اعضاء دھوئے۔ (ت)
اور کبھی ایك ہی ایك بار دھونے پر قناعت فرمائی۔
رواہ البخاری والدارمی وابو داؤد والنسائی
اسے بخاری دارمی ابوداؤد نسائی طحاوی (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
احتاط فنص علی الضبط قائلا ثلث بالافراد اھ ونقل البعض عن ابنی خزیمۃ وحبان بنحو ثلثی مد بالتثنیۃ وان الحافظ ابن حجر قال فی الثلث لم اجدہ کذا قال والله تعالی اعلم اھ منہ۔ (م)
براہ احتیاط یہ کہتے ہوئے ضبط لفظ کی صراحت کردی کہ ثلث بصیغہ واحدہے اھ۔ اور بعض نے ابن خزیمہ وابن حبان سے بصیغہ تثنیہ “ بنحوثلثی مد “ (تقریبا دو تہائی مد) نقل کیا۔ اور یہ کہ حافظ ابن حجر نے لفظ “ ثلث “ سے متعلق کہا کہ میں نے اسے نہ پایا۔ انہوں نے ایسا ہی لکھا ہے ۔ والله تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)
رواہ البخاری عن عبدالله بن زید وابو داؤد والترمذی وصححہ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنھما ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضاء مرتین مرتین ۔
اسے امام بخاری نے عبدالله بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ اورابوداؤد نے اور ترمذی نے بافادہ تصحیح اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی کہ نبی نے وضومیں دودوبار اعضاء دھوئے۔ (ت)
اور کبھی ایك ہی ایك بار دھونے پر قناعت فرمائی۔
رواہ البخاری والدارمی وابو داؤد والنسائی
اسے بخاری دارمی ابوداؤد نسائی طحاوی (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
احتاط فنص علی الضبط قائلا ثلث بالافراد اھ ونقل البعض عن ابنی خزیمۃ وحبان بنحو ثلثی مد بالتثنیۃ وان الحافظ ابن حجر قال فی الثلث لم اجدہ کذا قال والله تعالی اعلم اھ منہ۔ (م)
براہ احتیاط یہ کہتے ہوئے ضبط لفظ کی صراحت کردی کہ ثلث بصیغہ واحدہے اھ۔ اور بعض نے ابن خزیمہ وابن حبان سے بصیغہ تثنیہ “ بنحوثلثی مد “ (تقریبا دو تہائی مد) نقل کیا۔ اور یہ کہ حافظ ابن حجر نے لفظ “ ثلث “ سے متعلق کہا کہ میں نے اسے نہ پایا۔ انہوں نے ایسا ہی لکھا ہے ۔ والله تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء مرتین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۴۳ دارالفکربیروت ۱ / ۱۱۳ ، مواردالظمأن کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۱۵۷ المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷
شرح الزرقانی علی المواھب ا للدنیہ المقصد التاسع الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۷ / ۲۵۱
شرح الزرقانی علی المواھب ا للدنیہ المقصد التاسع الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۷ / ۲۵۱
والطحاوی وابن خزیمۃ عن ابن عباس رضی الله عنہما قال توضأ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مرۃ مرۃ ۔ وبمثلہ رواہ الطحاوی عن عبدالله بن عمر رضی الله تعالی عنھما وروی ایضا عن امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہ قال رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ وعن ابی رافع رضی الله تعالی عنہ قال رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا ثلثا ثلثا ورأیتہ غسل مرۃ مرۃ ۔
اور ابن خزیمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا انہوں نے فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو میں ایك ایك بار اعضاء دھوئے۔ اور اسی کے مثل امام طحاوی نے حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے بھی روایت کی۔ اور امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسے بھی روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھاکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك بار اعضادھوئے۔ اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تین تین بار اعضائے وضو دھوئے اور یہ بھی دیکھا کہ سرکار نے ایك ایك بار دھویا۔ (ت)
غالبا جب ایك ایك بار اعضائے کریمہ دھوئے تہائی مد پانی خرچ ہوا اور دودو بار میں دو تہائی اور تین تین بار دھونے میں پورا مد خرچ ہوتا تھا ۔
فان قلت لیس فی حدیث ام عمارۃ رضی اللہ
اگریہ سوال ہوکہ حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا
اور ابن خزیمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا انہوں نے فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو میں ایك ایك بار اعضاء دھوئے۔ اور اسی کے مثل امام طحاوی نے حضرت عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے بھی روایت کی۔ اور امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسے بھی روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھاکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك بار اعضادھوئے۔ اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تین تین بار اعضائے وضو دھوئے اور یہ بھی دیکھا کہ سرکار نے ایك ایك بار دھویا۔ (ت)
غالبا جب ایك ایك بار اعضائے کریمہ دھوئے تہائی مد پانی خرچ ہوا اور دودو بار میں دو تہائی اور تین تین بار دھونے میں پورا مد خرچ ہوتا تھا ۔
فان قلت لیس فی حدیث ام عمارۃ رضی اللہ
اگریہ سوال ہوکہ حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء مرتین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب الوضومرۃ مرۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۵ ، سنن الدارمی کتاب الطہارۃ باب الوضومرۃ مرۃ حدیث ۲۔ ۷ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱ / ۱۴۳ ، شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الوضوللصلوۃ مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸ ، صحیح ابن خزیمہ کتاب الوضوباب اباحۃ الوضومرۃ مرۃ حدیث ۱۷۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۸۸
معانی الآثار ، کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
معانی الآثار ، کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
تعالی عنہا انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد انما فیہ اتی بماءفی اناء قدر ثلثی مد۔
قلت لیس غرضہا منہ الا بیان قدر ماتوضأ بہ والاکان ذکر قدر الماء اوالاناء فضلا لاطائل تحتہ علی انہا لم تذکر طلبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم زیادۃ فافاد فحواہ انہ اجتزأ بہ ولعل ھذا ھو الباعث للعلامۃ الزرقانی اذ یقول فی شرح المواھب لابی داؤد عن ام عمارۃ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد اھ والا فلفظ ابی داؤد ماقد سقتہ لک۔
کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو تہائی مد سے وضو کیا اس میں صرف اتنا ہے کہ حضورکے پاس ایك برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مد کی مقدارمیں پانی تھا۔
قلت(تو میں جواب دوں گا)اس سے ان صحابیہ کامقصود یہی بتانا ہے کہ جتنے پانی سے حضورنے وضو فرمایا اس کی مقدار کیاتھی اگریہ نہ ہو تو پانی کی مقدار یابرتن کا تذکرہ بے فائدہ و فضول ٹھہر ے گا۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ ذکرنہ کیاکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مزید طلب فرمایا تو مضمون حدیث سے مستفادہو کہ اتنی ہی مقدارپرسرکارنے اکتفاء کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ ام عمارہ سے ابوداؤد کی روایت میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دوتہائی مد سے وضو فرمایااھ-کیونکہ ابوداؤد کے الفاظ تو وہی ہیں جو میں نے پیش کئے(کہ سرکار نے وضو فرمانا چاہا توایك برتن حاضر لایا گیاجس میں دوتہائی مد کے قدر پانی تھا)۔
بالجملہ وضو میں کم سے کم تہائی عـــــہ مد اور زیادہ سے زیادہ ایك مد کی حدیثیں آئی ہیں اور حدیث ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا:
وضأت رسول الله صلی الله تعالی علیہ
انہوں نے ایك برتن کی طرف جس میں ایك مد
عــــہ : ایك حدیث موقوف میں چہارم مد بھی آیاہے کماسیأتی۱۲منہ
قلت لیس غرضہا منہ الا بیان قدر ماتوضأ بہ والاکان ذکر قدر الماء اوالاناء فضلا لاطائل تحتہ علی انہا لم تذکر طلبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم زیادۃ فافاد فحواہ انہ اجتزأ بہ ولعل ھذا ھو الباعث للعلامۃ الزرقانی اذ یقول فی شرح المواھب لابی داؤد عن ام عمارۃ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد اھ والا فلفظ ابی داؤد ماقد سقتہ لک۔
کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو تہائی مد سے وضو کیا اس میں صرف اتنا ہے کہ حضورکے پاس ایك برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مد کی مقدارمیں پانی تھا۔
قلت(تو میں جواب دوں گا)اس سے ان صحابیہ کامقصود یہی بتانا ہے کہ جتنے پانی سے حضورنے وضو فرمایا اس کی مقدار کیاتھی اگریہ نہ ہو تو پانی کی مقدار یابرتن کا تذکرہ بے فائدہ و فضول ٹھہر ے گا۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ ذکرنہ کیاکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مزید طلب فرمایا تو مضمون حدیث سے مستفادہو کہ اتنی ہی مقدارپرسرکارنے اکتفاء کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ ام عمارہ سے ابوداؤد کی روایت میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دوتہائی مد سے وضو فرمایااھ-کیونکہ ابوداؤد کے الفاظ تو وہی ہیں جو میں نے پیش کئے(کہ سرکار نے وضو فرمانا چاہا توایك برتن حاضر لایا گیاجس میں دوتہائی مد کے قدر پانی تھا)۔
بالجملہ وضو میں کم سے کم تہائی عـــــہ مد اور زیادہ سے زیادہ ایك مد کی حدیثیں آئی ہیں اور حدیث ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالی عنہا:
وضأت رسول الله صلی الله تعالی علیہ
انہوں نے ایك برتن کی طرف جس میں ایك مد
عــــہ : ایك حدیث موقوف میں چہارم مد بھی آیاہے کماسیأتی۱۲منہ
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصدالتاسع الفصل الاول دارالمعرفۃبیروت ۷ / ۲۵۱
وسلم فی اناء نحو من ھذا الاناء وھی تشیر الی رکوۃ تاخذ مدا او مدا و ثلثارواہ سعید بن منصور فی سننہ وفی لفظ لبعضھم یکون مدا اومدا و ربعا واصل الحدیث عنہا فی السنن الاربعۃ۔
یا ایك مد اور تہائی مد پانی آتا اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اسی طرح کے ایك برتن سے وضو کرایا۔ یہ حدیث سعید بن منصورنے اپنی سنن میں روایت کی- اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ اس میں ایك مد یا سوا مد پانی ہوگا۔ اورحضرت ربیع سے اصل حدیث سنن اربعہ میں مروی ہے۔ (ت)
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس برتن سے وضو فرمایا جس میں ایك مد یا سوا مد اور دوسری روایت میں ہے کہ ایك مد یا ایك مد اور تہائی مد پانی تھا تو یہ مشکوك ہے اور شك سے زیادت ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں صحیحین وسنن ابی داؤد ونسائی و طحاوی میں انس رضی اللہ تعالی عنہکی ایك حدیث یوں ہے :
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یتوضأ بمکوك ویغتسل بخمسۃ مکاکی ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مکوك سے وضو اور پانچ سے غسل فرماتے۔
مکوك فــــ میں کیلہ ہے اور کیلہ نصف صاع تو مکوك ڈیڑھ صاع ہوا کما فی الصحاح والقاموس وغیرھما فی اقاویل اخر اور ایك صاع کو بھی کہتے ہیں بعض علماء نے حدیث میں یہی مراد لی تو وضو کیلئے چار مد ہوجائیں گے مگر راجح یہ ہے کہ یہاں مکوك سے مد مراد ہے جیسا کہ خود انھی کی دیگر روایات میں تصریح ہے والروایات تفسر بعضھا بعضا(اور روایات میں ایك کی تفسیردوسری سے ہوتی ہے ۔ ت)۔
فــــ : فائدہ : مکوك اورکیلہ کابیان
یا ایك مد اور تہائی مد پانی آتا اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو اسی طرح کے ایك برتن سے وضو کرایا۔ یہ حدیث سعید بن منصورنے اپنی سنن میں روایت کی- اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ اس میں ایك مد یا سوا مد پانی ہوگا۔ اورحضرت ربیع سے اصل حدیث سنن اربعہ میں مروی ہے۔ (ت)
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس برتن سے وضو فرمایا جس میں ایك مد یا سوا مد اور دوسری روایت میں ہے کہ ایك مد یا ایك مد اور تہائی مد پانی تھا تو یہ مشکوك ہے اور شك سے زیادت ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں صحیحین وسنن ابی داؤد ونسائی و طحاوی میں انس رضی اللہ تعالی عنہکی ایك حدیث یوں ہے :
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یتوضأ بمکوك ویغتسل بخمسۃ مکاکی ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مکوك سے وضو اور پانچ سے غسل فرماتے۔
مکوك فــــ میں کیلہ ہے اور کیلہ نصف صاع تو مکوك ڈیڑھ صاع ہوا کما فی الصحاح والقاموس وغیرھما فی اقاویل اخر اور ایك صاع کو بھی کہتے ہیں بعض علماء نے حدیث میں یہی مراد لی تو وضو کیلئے چار مد ہوجائیں گے مگر راجح یہ ہے کہ یہاں مکوك سے مد مراد ہے جیسا کہ خود انھی کی دیگر روایات میں تصریح ہے والروایات تفسر بعضھا بعضا(اور روایات میں ایك کی تفسیردوسری سے ہوتی ہے ۔ ت)۔
فــــ : فائدہ : مکوك اورکیلہ کابیان
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ص حدیث ۲۶۸۳۷ ، ۲۶۸۳۸ موسسۃالرسالہ بیروت۹ / ۴۳۲ ، ۴۳۳
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹ ، سنن ابی داؤدکتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماءآفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، سنن النسائی کتاب الطہاۃباب القدرالذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۴ ، شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹ ، سنن ابی داؤدکتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماءآفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، سنن النسائی کتاب الطہاۃباب القدرالذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۴ ، شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
امام طحاوی نے فرمایا :
احتمل ان یکون اراد بالمکوك المد لانھم کانوا یسمون المد مکوکا ۔
یہ احتمال ہے کہ انہوں نے مکوك سے مدمرادلیاہواس لئے کہ وہ حضرات مد کو مکوك کہاکرتے تھے(ت)
نہایہ ابن اثیر جزری میں ہے :
اراد بالمکوك المد وقیل الصاع والاول اشبہ لانہ جاء فی حدیث اخر مفسرا بالمد والمکوك اسم للمکیال ویختلف مقدارہ باختلاف اصطلاح الناس علیہ فی البلاد ۔
انہوں نے مکوك سے مد مرادلیا۔ اورکہاگیاکہ صاع مراد لیا۔ اور اول مناسب ہے اس لئے کہ دوسری حدیث میں اس کی تفسیر “ مد “ سے آئی ہے۔ اور مکوك ایك پیمانے کانام ہے۔ اس کی مقدار مختلف بلاد میں لوگوں کے عرف کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ (ت)
رہا غسل اس میں کمی کی جانب یہ حدیث ہے کہ صحیح مسلم میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
انھا کانت تغتسل ھی والنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی اناء واحد یسع ثلثۃ امداد اوقریبا من ذلك ۔
وہ اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن میں کہ تین مد یااس کے قریب کی گنجائش رکھتا نہالیتے۔
اس کے ایك معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں کا غسل اسی تین مد پانی سے ہوجاتا تو ایك غسل کو ڈیڑھ ہی مد رہا مگر علماء نے اسے بعید جان کر تین توجیہیں فرمائیں :
اول یہ کہ یہ ہر ایك کے جداگانہ غسل کا بیان ہے کہ حضور اسی ایك برتن سے جو تین مد کی قدر تھا غسل فرمالیتے اور اسی طرح میں بھی ذکرہ الامام القاضی عیاض(یہ توجیہ امام قاضی عیاض نے ذکرفرمائی ۔ ت)
فان قلت فعلی ھذا یضیع قولھا
اگر یہ سوال ہو کہ پھر توان کا “ ایك برتن میں
احتمل ان یکون اراد بالمکوك المد لانھم کانوا یسمون المد مکوکا ۔
یہ احتمال ہے کہ انہوں نے مکوك سے مدمرادلیاہواس لئے کہ وہ حضرات مد کو مکوك کہاکرتے تھے(ت)
نہایہ ابن اثیر جزری میں ہے :
اراد بالمکوك المد وقیل الصاع والاول اشبہ لانہ جاء فی حدیث اخر مفسرا بالمد والمکوك اسم للمکیال ویختلف مقدارہ باختلاف اصطلاح الناس علیہ فی البلاد ۔
انہوں نے مکوك سے مد مرادلیا۔ اورکہاگیاکہ صاع مراد لیا۔ اور اول مناسب ہے اس لئے کہ دوسری حدیث میں اس کی تفسیر “ مد “ سے آئی ہے۔ اور مکوك ایك پیمانے کانام ہے۔ اس کی مقدار مختلف بلاد میں لوگوں کے عرف کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ (ت)
رہا غسل اس میں کمی کی جانب یہ حدیث ہے کہ صحیح مسلم میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
انھا کانت تغتسل ھی والنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی اناء واحد یسع ثلثۃ امداد اوقریبا من ذلك ۔
وہ اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن میں کہ تین مد یااس کے قریب کی گنجائش رکھتا نہالیتے۔
اس کے ایك معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں کا غسل اسی تین مد پانی سے ہوجاتا تو ایك غسل کو ڈیڑھ ہی مد رہا مگر علماء نے اسے بعید جان کر تین توجیہیں فرمائیں :
اول یہ کہ یہ ہر ایك کے جداگانہ غسل کا بیان ہے کہ حضور اسی ایك برتن سے جو تین مد کی قدر تھا غسل فرمالیتے اور اسی طرح میں بھی ذکرہ الامام القاضی عیاض(یہ توجیہ امام قاضی عیاض نے ذکرفرمائی ۔ ت)
فان قلت فعلی ھذا یضیع قولھا
اگر یہ سوال ہو کہ پھر توان کا “ ایك برتن میں
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب الزکوۃباب وزن الصاع کم ہو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر باب المیم مع الکاف تحت اللفظ مکلک دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۹۸
صحیح مسلم کتاب الزکوۃباب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر باب المیم مع الکاف تحت اللفظ مکلک دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۹۸
صحیح مسلم کتاب الزکوۃباب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
فی اناء واحد فانما قصدھا بہ افادۃ اجتماعہا معہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الغسل من اناء واحد کما افصحت بہ فی الروایۃ الاخری کنت اغتسل فــــ انا ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من اناء واحد تختلف ایدینا فیہ من الجنابۃ رواہ الشیخان وفی اخری لمسلم من اناء بینی وبینہ واحد فیبادرنی حتی اقول دع لی ۔ وللنسائی من اناء واحد یبادرنی وابادرہ حتی یقول دعی لی وانا اقول دع لی ۔ “
کہنابے کار ہوجاتاہے کہ اس لفظ سے ان کا مقصد یہی بتاناہے کہ وہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ایك برتن سے غسل کرتی تھیں جیساکہ دوسری روایت میں اسے صاف طورپربیان کیا ہے : میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے اس میں ہمارے ہاتھ باری باری آتے جاتے-اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ اورمسلم کی ایك دوسری روایت میں ہے : ایك ہی برتن سے جو میرے اور ان کے درمیان ہوتا تو مجھ پر سبقت فرماتے یہاں کہ میں عرض کرتی میرے لیے بھی رہنے دیجئے اورنسائی کی روایت میں یہ ہے : ایك ہی برتن سے وہ مجھ سے سبقت فرماتے اور میں ان سے سبقت کرتی یہاں تك کہ حضور فرماتے : میرے لئے بھی رہنے دو۔ اور میں عرض کرتی : میرے لئے بھی رہنے دیجئے۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : جائز ہے کہ زن وشوہردونوں ایك برتن سے ایك ساتھ غسل جنابت کریں اگرچہ باہم سترنہ ہو اور اس وقت متعلق ضرورت غسل بات بھی کرسکتے ہیں مثلا ایك سبقت کرے تودوسراکہے میرے لیے پانی رہنے دو۔
کہنابے کار ہوجاتاہے کہ اس لفظ سے ان کا مقصد یہی بتاناہے کہ وہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ ایك برتن سے غسل کرتی تھیں جیساکہ دوسری روایت میں اسے صاف طورپربیان کیا ہے : میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے اس میں ہمارے ہاتھ باری باری آتے جاتے-اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ اورمسلم کی ایك دوسری روایت میں ہے : ایك ہی برتن سے جو میرے اور ان کے درمیان ہوتا تو مجھ پر سبقت فرماتے یہاں کہ میں عرض کرتی میرے لیے بھی رہنے دیجئے اورنسائی کی روایت میں یہ ہے : ایك ہی برتن سے وہ مجھ سے سبقت فرماتے اور میں ان سے سبقت کرتی یہاں تك کہ حضور فرماتے : میرے لئے بھی رہنے دو۔ اور میں عرض کرتی : میرے لئے بھی رہنے دیجئے۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : جائز ہے کہ زن وشوہردونوں ایك برتن سے ایك ساتھ غسل جنابت کریں اگرچہ باہم سترنہ ہو اور اس وقت متعلق ضرورت غسل بات بھی کرسکتے ہیں مثلا ایك سبقت کرے تودوسراکہے میرے لیے پانی رہنے دو۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتا ب الغسل ، باب ھل یدخل یدہ فی الاناء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۰ ، صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء... الخ1قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
صحیح مسلم کتاب الحیض ، باب القدرالمستحب من الماء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب الرخصۃ فی ذالک نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۴۷
صحیح مسلم کتاب الحیض ، باب القدرالمستحب من الماء... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب الرخصۃ فی ذالک نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۴۷
قلت لایلزم ان لاترید بھذا اللفظ کلما تکلمت بہ الا ھذہ الافادۃ فقد ترید ھھنا ان ذلك الاناء الواحد کان یکفیہ اذا اغتسل ولا یطلب زیادۃ ماء وکذلك انا اذا اغتسلت۔
میں جواب دوں گا ضروری نہیں کہ جب بھی وہ یہ لفظ بولیں توانہیں یہی بتانامقصودہو یہاں ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہی ایك برتن جب حضورغسل فرماتے تو ان کے لئے کافی ہوجاتا اور مزیدپانی طلب نہ فرماتے اوریہی حال میرا ہوتاجب میں نہاتی۔
دوم یہاں مد سے صاع مراد ہے۔
قالہ ایضا صرفا لہ الی وفاق حدیث الفرق الاتی فانہ ثلثۃ اصع واقرہ النووی۔
یہ توجیہ بھی امام قاضی عیاض ہی نے پیش کی تاکہ اس میں اور اگلی حدیث فرق میں مطابقت ہوجائے کیوں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔ امام نووی نے بھی اس توجیہ کوبرقرار رکھا۔
اقول : یہ اس فــــ کا محتاج ہے کہ مد بمعنی صاع زبان عرب میں آتا ہو اور اس میں سخت تامل ہے صحاح وصراح و مختار وقاموس وتاج العروس لغات عرب ومجمع البحار ونہایہ ومختصر سیوطی لغات حدیث وطلبۃ الطلبہ ومصباح المنیر لغات فقہ میں فقیر نے اس کا پتا نہ پایا اور بالفرض کہیں شاذونادر ورود ہو بھی تو اس پر حمل تجوز بے قرینہ سے کچھ بہتر نہیں ۔
اما جعل امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز المد بثلثۃ امداد فحادث لایحمل علیہ کلام ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہما۔
لیکن یہ کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہنے ایك مدتین مد کے برابر بنایاتویہ بعدکی بات ہے اس پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاکا کلام محمول نہیں ہوسکتا۔ (ت)
سوم : یہ کہ حدیث میں زیادہ کا انکار نہیں حضور وام المومنین معا تین مد سے نہائے ہوں اور جب پانی ختم ہوچکا اور زیادہ فرمالیا ہو
ابداہ الامام النووی حیث قال یجوزا ن یکون وقع
یہ توجیہ امام نووی نے پیش کی ان کے الفاظ یہ ہیں : ہوسکتاہے یہ ایك وقت(مثلا غسل شروع کرتے
فــــ : تطفل علی القاضی عیاض والامام النووی ۔
میں جواب دوں گا ضروری نہیں کہ جب بھی وہ یہ لفظ بولیں توانہیں یہی بتانامقصودہو یہاں ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہی ایك برتن جب حضورغسل فرماتے تو ان کے لئے کافی ہوجاتا اور مزیدپانی طلب نہ فرماتے اوریہی حال میرا ہوتاجب میں نہاتی۔
دوم یہاں مد سے صاع مراد ہے۔
قالہ ایضا صرفا لہ الی وفاق حدیث الفرق الاتی فانہ ثلثۃ اصع واقرہ النووی۔
یہ توجیہ بھی امام قاضی عیاض ہی نے پیش کی تاکہ اس میں اور اگلی حدیث فرق میں مطابقت ہوجائے کیوں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔ امام نووی نے بھی اس توجیہ کوبرقرار رکھا۔
اقول : یہ اس فــــ کا محتاج ہے کہ مد بمعنی صاع زبان عرب میں آتا ہو اور اس میں سخت تامل ہے صحاح وصراح و مختار وقاموس وتاج العروس لغات عرب ومجمع البحار ونہایہ ومختصر سیوطی لغات حدیث وطلبۃ الطلبہ ومصباح المنیر لغات فقہ میں فقیر نے اس کا پتا نہ پایا اور بالفرض کہیں شاذونادر ورود ہو بھی تو اس پر حمل تجوز بے قرینہ سے کچھ بہتر نہیں ۔
اما جعل امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز المد بثلثۃ امداد فحادث لایحمل علیہ کلام ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہما۔
لیکن یہ کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہنے ایك مدتین مد کے برابر بنایاتویہ بعدکی بات ہے اس پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہاکا کلام محمول نہیں ہوسکتا۔ (ت)
سوم : یہ کہ حدیث میں زیادہ کا انکار نہیں حضور وام المومنین معا تین مد سے نہائے ہوں اور جب پانی ختم ہوچکا اور زیادہ فرمالیا ہو
ابداہ الامام النووی حیث قال یجوزا ن یکون وقع
یہ توجیہ امام نووی نے پیش کی ان کے الفاظ یہ ہیں : ہوسکتاہے یہ ایك وقت(مثلا غسل شروع کرتے
فــــ : تطفل علی القاضی عیاض والامام النووی ۔
ھذا فی بعض الاحوال وزاداہ لما فرغ ۔
وقت)ہو اہو اور جب پانی ختم ہوگیاتودونوں حضرات نے اور لے لیا ہو۔ (ت)
اقول : یہ بھی بعید فــــ۱ہے کہ اس تقدیر پر ذکر مقدار عبث وبیکار ہوا جاتا ہے تو قریب تر وہی توجیہ اول ہے۔
وانا اقول : لوحمل علی الاشتراك لم یمتنع فقد قدمنا روایۃ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بنصف مد وروی عن الامام محمد رحمہ الله تعالی انہ قال ان المغتسل لایمکن ان یعم جسدہ باقل من مد ذکرہ العینی فی العمدۃ فافاد امکان تعمیم الجسد بمد فکان المجموع مدا ونصفا والله تعالی اعلم۔
اورمیں کہتاہوں : اگر شرکت پرمحمول کرلیاجائے توبھی(اتنی مقدارسے دونوں حضرات کا غسل) محال نہیں کیوں کہ یہ روایت ہم پیش کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے آدھے مد سے وضو فرمایا۔ اورامام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے کہ ایك مد سے کم پانی ہو توغسل کرنے والاپورے بدن پر نہیں پہنچا سکتا۔ اسے علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں ذکرکیا۔ اس کلام سے مستفادہوا کہ ایك مد ہو تو پورے بدن پر پہنچایا جاسکتاہے توکل ڈیڑھ مد ہوا(آدھے سے وضو باقی سے اورتمام بدن-اس طرح تین مد سے دو کا غسل ممکن ہوا ۱۲ م) والله تعالی اعلم(ت)
اور جانب زیادت میں اس قول کی تضعیف تو اوپر گزری کہ مکوك سے صاع مراد ہے جس سے غسل کیلئے پانچ صاع ہوجائیں ۔ ہاں موطائے مالك وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن سے
فــــ : تطفل آخرعلی الامام النووی ۔
وقت)ہو اہو اور جب پانی ختم ہوگیاتودونوں حضرات نے اور لے لیا ہو۔ (ت)
اقول : یہ بھی بعید فــــ۱ہے کہ اس تقدیر پر ذکر مقدار عبث وبیکار ہوا جاتا ہے تو قریب تر وہی توجیہ اول ہے۔
وانا اقول : لوحمل علی الاشتراك لم یمتنع فقد قدمنا روایۃ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ بنصف مد وروی عن الامام محمد رحمہ الله تعالی انہ قال ان المغتسل لایمکن ان یعم جسدہ باقل من مد ذکرہ العینی فی العمدۃ فافاد امکان تعمیم الجسد بمد فکان المجموع مدا ونصفا والله تعالی اعلم۔
اورمیں کہتاہوں : اگر شرکت پرمحمول کرلیاجائے توبھی(اتنی مقدارسے دونوں حضرات کا غسل) محال نہیں کیوں کہ یہ روایت ہم پیش کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے آدھے مد سے وضو فرمایا۔ اورامام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے کہ ایك مد سے کم پانی ہو توغسل کرنے والاپورے بدن پر نہیں پہنچا سکتا۔ اسے علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں ذکرکیا۔ اس کلام سے مستفادہوا کہ ایك مد ہو تو پورے بدن پر پہنچایا جاسکتاہے توکل ڈیڑھ مد ہوا(آدھے سے وضو باقی سے اورتمام بدن-اس طرح تین مد سے دو کا غسل ممکن ہوا ۱۲ م) والله تعالی اعلم(ت)
اور جانب زیادت میں اس قول کی تضعیف تو اوپر گزری کہ مکوك سے صاع مراد ہے جس سے غسل کیلئے پانچ صاع ہوجائیں ۔ ہاں موطائے مالك وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن سے
فــــ : تطفل آخرعلی الامام النووی ۔
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماءقدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء بالمد تحت الحدیث ۶۴ / ۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۱۴۱
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء بالمد تحت الحدیث ۶۴ / ۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۱۴۱
وسلم کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق من الجنابۃ ۔
غسل جنابت فرماتے تھے اور وہ فرق تھا۔
فرق فـــ میں اختلاف ہے اکثر تین۳صاع کہتے ہیں اوربعض دو۲صاع۔
ففی الحدیث عند مسلم قال سفین والفرق ثلثۃ اصع وکذلك ھو نص الامام الطحاوی وقال النووی کذا قالہ الجماھیر اھ قال العینی وقیل صاعان وقال الامام نجم الدین النسفی فی طلبۃ الطلبۃ ھو اناء یاخذ ستۃ عشر رطلا اھ وھکذا فی نھایۃ ابن الاثیروصحاح الجوھری وکذا نقلہ فی الطلبۃ عن القتبی ونقل عن شرح الغریبین انہ اثنا عشر مدا اھ وقال ابو داؤد سمعت احمد بن حنبل یقول الفرق ستۃ عشر رطلا ونقل الحافظ فی الفتح عن ابی عبدالله الاتفاق علیہ وعلی انہ
اس حدیث کے تحت امام مسلم کی روایت میں ہے کہ سفیان نے فرمایا فرق تین صاع ہوتاہے-یہی تصریح امام طحاوی نے فرمائی-اور امام نووی نے فرمایا یہی جمہور کا قول ہے اھ-علامہ عینی نے لکھا : اورکہاگیاکہ دوصاع اھ-امام نجم الدین نسفی نے طلبۃ الطلبہ میں لکھا : یہ ایك برتن ہے جس میں سولہ رطل آتے ہیں اھ-ایسے ہی نہایہ ابن اثیراورصحاع جوھری میں ہے اور اسی طر ح اس کو طلبۃ الطلبہ میں قتبی سے نقل کیا ہے اور شرح غریبین سے نقل کیا ہے کہ یہ بارہ مد ہوتا ہے اھ-اور ابو داؤد نے کہا : میں نے امام احمد بن حنبل سے سناکہ فرق سولہ رطل کاہوتاہے۔
اورحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابوعبد الله سے اس پر اور اس پر کہ وہ تین صاع
فــــ : تطفل علی الام القاضی عیاض ۔
غسل جنابت فرماتے تھے اور وہ فرق تھا۔
فرق فـــ میں اختلاف ہے اکثر تین۳صاع کہتے ہیں اوربعض دو۲صاع۔
ففی الحدیث عند مسلم قال سفین والفرق ثلثۃ اصع وکذلك ھو نص الامام الطحاوی وقال النووی کذا قالہ الجماھیر اھ قال العینی وقیل صاعان وقال الامام نجم الدین النسفی فی طلبۃ الطلبۃ ھو اناء یاخذ ستۃ عشر رطلا اھ وھکذا فی نھایۃ ابن الاثیروصحاح الجوھری وکذا نقلہ فی الطلبۃ عن القتبی ونقل عن شرح الغریبین انہ اثنا عشر مدا اھ وقال ابو داؤد سمعت احمد بن حنبل یقول الفرق ستۃ عشر رطلا ونقل الحافظ فی الفتح عن ابی عبدالله الاتفاق علیہ وعلی انہ
اس حدیث کے تحت امام مسلم کی روایت میں ہے کہ سفیان نے فرمایا فرق تین صاع ہوتاہے-یہی تصریح امام طحاوی نے فرمائی-اور امام نووی نے فرمایا یہی جمہور کا قول ہے اھ-علامہ عینی نے لکھا : اورکہاگیاکہ دوصاع اھ-امام نجم الدین نسفی نے طلبۃ الطلبہ میں لکھا : یہ ایك برتن ہے جس میں سولہ رطل آتے ہیں اھ-ایسے ہی نہایہ ابن اثیراورصحاع جوھری میں ہے اور اسی طر ح اس کو طلبۃ الطلبہ میں قتبی سے نقل کیا ہے اور شرح غریبین سے نقل کیا ہے کہ یہ بارہ مد ہوتا ہے اھ-اور ابو داؤد نے کہا : میں نے امام احمد بن حنبل سے سناکہ فرق سولہ رطل کاہوتاہے۔
اورحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابوعبد الله سے اس پر اور اس پر کہ وہ تین صاع
فــــ : تطفل علی الام القاضی عیاض ۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب المقدا رالماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۱
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۱۴۸
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب غسل الرجل مع امرأتہ تحت الحدیث۳ / ۲۵۰ ۳ / ۲۹۰
طلبۃ الطلبۃ کتاب الزکوٰۃ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان ص۱۹
طلبۃ الطلبۃ کتاب الزکوٰۃ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان ص۱۹
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب مقدارالماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۱
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۱۴۸
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب غسل الرجل مع امرأتہ تحت الحدیث۳ / ۲۵۰ ۳ / ۲۹۰
طلبۃ الطلبۃ کتاب الزکوٰۃ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان ص۱۹
طلبۃ الطلبۃ کتاب الزکوٰۃ دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان ص۱۹
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب مقدارالماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۱
ثلثۃ اصع قال لعلہ یرید اتفاق اھل اللغۃ
اقول : ویترا ای لی ان لاخلف فان ستۃ عشر رطلا صاعان بالعراق وثلثۃ اصوع بالحجاز۔
اھ ہوتا ہے اتفاق نقل کیا اور کہاشاید ان کی مراد یہ ہے کہ اہل لغت کا اتفاق ہے اھ۔
اقول : اورمیرا خیال ہے کہ ان اقوال میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ سولہ رطل دوصاع عراقی اورتین صاع حجازی کے برابر ہوتاہے۔ (ت)
امام نووی اس حدیث سے یہ جواب دیتے ہیں کہ پورے فرق سے تنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا غسل فرمانا مراد نہیں کہ یہی حدیث صحیح بخاری میں یوں ہے :
کنت اغتسل انا والنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من اناء واحد من قدح یقال لہ الفرق ۔
میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن سے نہاتے وہ ایك قدح تھا جسے فرق کہتے۔
اقول : یہ لفظ فــــ اجتماع میں نص نہیں
ما قدمنا فلا ینبغی الجزم بان الافراد غیر مراد بل لقائل ان یقول مخرج الحدیث الزھری عن عروۃ عن عائشۃ رضی الله تعالی عنہا فروی عن الزھری مالك ومن طریقہ مسلم وابو داؤد باللفظ الاول وابن
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا- تواس پرجزم نہیں کرناچاہئے کہ تنہاغسل فرمانا مراد نہیں -بلکہ کہنے والایہ بھی کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے راوی امام زہری ہیں جنہوں نے حضرت عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کی-پھرامام زہری سے امام مالك نے اور ان ہی کی سند سے امام مسلم اور ابو داؤد
فــــ : تطفل ثالث علی الامام النووی ۔
اقول : ویترا ای لی ان لاخلف فان ستۃ عشر رطلا صاعان بالعراق وثلثۃ اصوع بالحجاز۔
اھ ہوتا ہے اتفاق نقل کیا اور کہاشاید ان کی مراد یہ ہے کہ اہل لغت کا اتفاق ہے اھ۔
اقول : اورمیرا خیال ہے کہ ان اقوال میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ سولہ رطل دوصاع عراقی اورتین صاع حجازی کے برابر ہوتاہے۔ (ت)
امام نووی اس حدیث سے یہ جواب دیتے ہیں کہ پورے فرق سے تنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا غسل فرمانا مراد نہیں کہ یہی حدیث صحیح بخاری میں یوں ہے :
کنت اغتسل انا والنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من اناء واحد من قدح یقال لہ الفرق ۔
میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن سے نہاتے وہ ایك قدح تھا جسے فرق کہتے۔
اقول : یہ لفظ فــــ اجتماع میں نص نہیں
ما قدمنا فلا ینبغی الجزم بان الافراد غیر مراد بل لقائل ان یقول مخرج الحدیث الزھری عن عروۃ عن عائشۃ رضی الله تعالی عنہا فروی عن الزھری مالك ومن طریقہ مسلم وابو داؤد باللفظ الاول وابن
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا- تواس پرجزم نہیں کرناچاہئے کہ تنہاغسل فرمانا مراد نہیں -بلکہ کہنے والایہ بھی کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے راوی امام زہری ہیں جنہوں نے حضرت عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کی-پھرامام زہری سے امام مالك نے اور ان ہی کی سند سے امام مسلم اور ابو داؤد
فــــ : تطفل ثالث علی الامام النووی ۔
حوالہ / References
فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل تحت الحدیث۲۵۰دارالکتب العلمیہ ۲ / ۳۲۶
صحیح البخاری ، کتاب الغسل تحت الحدیث ۲۵۰ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
مؤطا امام مالک کتاب الطہارۃ ، العمل فی غسل الجنابۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۳۱صحیح مسلم کتاب الحیض ، باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب مقدار الماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۱
صحیح البخاری ، کتاب الغسل تحت الحدیث ۲۵۰ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
مؤطا امام مالک کتاب الطہارۃ ، العمل فی غسل الجنابۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۳۱صحیح مسلم کتاب الحیض ، باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب مقدار الماء الذی یجزئ بہ الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۱
ابی ذئب عند البخاری والطحاوی باللفظ الثانی تابعہ معمر و ابن جریج عند النسائی وجعفر بن برقان عند الطحاوی وروی عنہ اللیث عند النسائی وسفین بن عیینۃ عندہ وعند مسلم بلفظ کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل فی القدح وھو الفرق وکنت اغتسل انا وھو فی الاناء الواحد ولفظ سفین من اناء واحد فیشبہ ان تکون ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا اتت بحدیثین اغتسالہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من الفرق واغتسالھما من اناء واحد فاقتصر منھما مالك علی الحدیث الاول وجمع بینہما ابن ابی ذئب
نے پہلے الفاظ میں روایت کی (کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق) اور امام بخاری وامام طحاوی کی روایت میں امام زہری سے ابن ابی ذئب نے بلفظ دوم روایت کی(کنت اغتسل اناوالنبی الخ) ابن ابی ذئب کی متابعت امام نسائی کی روایت میں معمراورابن جریج نے اورامام طحاوی کی ایك روایت میں جعفر بن برقان نے کی-اورنسائی کی تخریج پر امام زہری سے امام لیث نے اور نسائی ومسلم کی تخریج میں ان سے امام سفین بن عیینہ نے ان الفاظ سے روایت کی : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك قدح میں غسل فرماتے اور وہ فرق ہے - اور میں اور حضور ایك برتن میں غسل کرتے-امام سفین کے الفاظ ہیں : “ ایك برتن سے “ غسل کرتے-توایسا معلوم ہوتاہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہانے دو حدیثیں روایت کیں ایك حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے فرق سے غسل فرمانے سے متعلق اور ایك دونوں حضرات کے ایك برتن سے غسل فرمانے سے متعلق-توامام مالك نے دونوں حدیثوں میں سے صرف پہلی حدیث ذکر کی۔
نے پہلے الفاظ میں روایت کی (کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق) اور امام بخاری وامام طحاوی کی روایت میں امام زہری سے ابن ابی ذئب نے بلفظ دوم روایت کی(کنت اغتسل اناوالنبی الخ) ابن ابی ذئب کی متابعت امام نسائی کی روایت میں معمراورابن جریج نے اورامام طحاوی کی ایك روایت میں جعفر بن برقان نے کی-اورنسائی کی تخریج پر امام زہری سے امام لیث نے اور نسائی ومسلم کی تخریج میں ان سے امام سفین بن عیینہ نے ان الفاظ سے روایت کی : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك قدح میں غسل فرماتے اور وہ فرق ہے - اور میں اور حضور ایك برتن میں غسل کرتے-امام سفین کے الفاظ ہیں : “ ایك برتن سے “ غسل کرتے-توایسا معلوم ہوتاہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہانے دو حدیثیں روایت کیں ایك حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے فرق سے غسل فرمانے سے متعلق اور ایك دونوں حضرات کے ایك برتن سے غسل فرمانے سے متعلق-توامام مالك نے دونوں حدیثوں میں سے صرف پہلی حدیث ذکر کی۔
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ ، باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۶
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر الدلالۃ علی انہ لا وقت فی ذلک نور محمد کارخانہ کراچی ۱ / ۴۷
شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ ، باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۶
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر الدلالۃ علی انہ لا وقت فی ذلک نور محمد کارخانہ کراچی ۱ / ۴۷
شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ ، باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۶
صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
ومتابعوہ واتی بھما سفیان واللیث مفصلین والله تعالی اعلم۔
اورابن ذئب اور ان کی متابعت کرنے والے حضرات (معمر ابن جریج)نے دونوں حدیثوں کو ملادیا۔ اورسفیان و لیث نے دونوں کوالگ الگ بیان کیا-اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔ (ت)
امام طحطاوی فرماتے ہیں : حدیث میں صرف برتن کا ذکر ہے کہ اس ظرف سے بہاتے بھرا ہونا نہ ہونا مذکور نہیں ۔
اقول : صرف فــــ برتن کا ذکر قلیل الجدوی ہے اس سے ظاہر مفاد وہی مقدار آب کا ارشاد ہے خصوصا حدیث لیث وسفیان میں لفظ فی سے تعبیر کہ ایك قدح میں غسل فرماتے اذ من المعلوم ان لیس المراد الظرفیۃ(اس لئے کہ معلوم ہے کہ ظرفیت (قدح کے اندر غسل کرنا)مراد نہیں ۔ ت) اور حدیث مالك میں لفظ واحد کی زیادت اذ من المعلوم ان لیس المراد نفی الغسل من غیرہ قط(کیونکہ معلوم ہے کہ یہ مراد نہیں کہ اس کے علاوہ کسی برتن سے کبھی غسل نہ کیا ) بہرحال اس قدر ضرور ہے کہ حدیث اس معنی میں نص صریح نہیں زیادت کا صریح نص اسی قدر ہے جو حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہمیں گزرا کہ پانچ مد سے غسل فرماتے اور پھر بھی اکثر و اشہر وہی وضو میں ایك مد اور غسل میں ایك صاع ہے اور احادیث کے ارشادات قولیہ تو خاص اسی طرف ہیں ۔ امام احمدعــہ و ابوبکر بن ابی شیبہ و
فـــ : تطفل ما علی الامام السید الاجل الطحاوی۔
عــــہ : زعم شیخ الوھابیۃ الشوکانی ان الحدیث اخرجہ ایضا ابو داؤد وابن ماجۃ بنحوہ اقول : کذب فـــــ۱ علی ابی داؤد و اخطأ فـــــ۲ علی ابن ماجۃ فان ابا داؤد لم یخرجہ اصلا انما عندہ عن جابر کان النبی
عــــہ : پیشوائے وہابیہ شوکانی کا زعم ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے بھی روایت کیا اور اس کے ہم معنی ابن ماجہ نے بھی اقول : اس نے ابوداؤد کی طرف تو جھوٹا انتساب کیا اور ابن ماجہ کی طرف نسبت میں خطا کی-اس لئے کہ ابوداؤد نے سرے سے اسے روایت ہی نہ کیا۔ ا ن کی روایت(باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ۱ : رد علی الشوکانی۔ فــــــ۲ : رد اخر علیہ۔
اورابن ذئب اور ان کی متابعت کرنے والے حضرات (معمر ابن جریج)نے دونوں حدیثوں کو ملادیا۔ اورسفیان و لیث نے دونوں کوالگ الگ بیان کیا-اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔ (ت)
امام طحطاوی فرماتے ہیں : حدیث میں صرف برتن کا ذکر ہے کہ اس ظرف سے بہاتے بھرا ہونا نہ ہونا مذکور نہیں ۔
اقول : صرف فــــ برتن کا ذکر قلیل الجدوی ہے اس سے ظاہر مفاد وہی مقدار آب کا ارشاد ہے خصوصا حدیث لیث وسفیان میں لفظ فی سے تعبیر کہ ایك قدح میں غسل فرماتے اذ من المعلوم ان لیس المراد الظرفیۃ(اس لئے کہ معلوم ہے کہ ظرفیت (قدح کے اندر غسل کرنا)مراد نہیں ۔ ت) اور حدیث مالك میں لفظ واحد کی زیادت اذ من المعلوم ان لیس المراد نفی الغسل من غیرہ قط(کیونکہ معلوم ہے کہ یہ مراد نہیں کہ اس کے علاوہ کسی برتن سے کبھی غسل نہ کیا ) بہرحال اس قدر ضرور ہے کہ حدیث اس معنی میں نص صریح نہیں زیادت کا صریح نص اسی قدر ہے جو حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہمیں گزرا کہ پانچ مد سے غسل فرماتے اور پھر بھی اکثر و اشہر وہی وضو میں ایك مد اور غسل میں ایك صاع ہے اور احادیث کے ارشادات قولیہ تو خاص اسی طرف ہیں ۔ امام احمدعــہ و ابوبکر بن ابی شیبہ و
فـــ : تطفل ما علی الامام السید الاجل الطحاوی۔
عــــہ : زعم شیخ الوھابیۃ الشوکانی ان الحدیث اخرجہ ایضا ابو داؤد وابن ماجۃ بنحوہ اقول : کذب فـــــ۱ علی ابی داؤد و اخطأ فـــــ۲ علی ابن ماجۃ فان ابا داؤد لم یخرجہ اصلا انما عندہ عن جابر کان النبی
عــــہ : پیشوائے وہابیہ شوکانی کا زعم ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے بھی روایت کیا اور اس کے ہم معنی ابن ماجہ نے بھی اقول : اس نے ابوداؤد کی طرف تو جھوٹا انتساب کیا اور ابن ماجہ کی طرف نسبت میں خطا کی-اس لئے کہ ابوداؤد نے سرے سے اسے روایت ہی نہ کیا۔ ا ن کی روایت(باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ۱ : رد علی الشوکانی۔ فــــــ۲ : رد اخر علیہ۔
عبد بن حمید واثرم وحاکم وبیہقی جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یجزئ من الغسل الصاع ومن الوضوء المد ۔
غسل میں ایك صاع اور وضو میں ایك مد کفایت کرتاہے۔
ابن ماجہ سنن میں حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یجزئ من الوضوء مد و من الغسل صاع ۔
وضو میں ایك مد غسل میں ایك صاع کافی ہے۔
طبرانی معجم اوسط میں عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صلی الله علیہ وسلم یغتسل بالصاع و یتوضأ بالمد و ابن ماجہ لم یخرجہ عن جابر بن عبد الله بل عن عبد الله بن محمد بن عقیل بن ابی طالب رضی الله عنہم اھ منہ۔
حضرت جابر سے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك صاع سے غسل فرماتے اور ایك سے وضو فرماتے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت جابر بن عبدالله سے روایت نہ کی بلکہ عبدالله بن محمد بن عقیل بن ابوطالب سے روایت کی رضی اللہ تعالی عنہم۔
یجزئ من الغسل الصاع ومن الوضوء المد ۔
غسل میں ایك صاع اور وضو میں ایك مد کفایت کرتاہے۔
ابن ماجہ سنن میں حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یجزئ من الوضوء مد و من الغسل صاع ۔
وضو میں ایك مد غسل میں ایك صاع کافی ہے۔
طبرانی معجم اوسط میں عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صلی الله علیہ وسلم یغتسل بالصاع و یتوضأ بالمد و ابن ماجہ لم یخرجہ عن جابر بن عبد الله بل عن عبد الله بن محمد بن عقیل بن ابی طالب رضی الله عنہم اھ منہ۔
حضرت جابر سے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك صاع سے غسل فرماتے اور ایك سے وضو فرماتے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت جابر بن عبدالله سے روایت نہ کی بلکہ عبدالله بن محمد بن عقیل بن ابوطالب سے روایت کی رضی اللہ تعالی عنہم۔
حوالہ / References
المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ ، مایجزئ من الماء للوضوء...الخ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۶۱ ، السنن الکبری کتاب الطہارۃ ، باب استحباب ان لا ینقص فی الوضوء... دار صادر بیروت ۱ / ۱۹۵ ، مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۳۷۰ ، المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارات ، باب فی الجنب کم یکفیہ...الخ حدیث۷۰۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۶
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارات ، باب ماجاء فی مقدار الماء...الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب ما یجزئ من الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۳
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارات ، باب ماجاء فی مقدار الماء...الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ، باب ما یجزئ من الماء فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۳
فذکر مثل حدیث عقیل غیرانہ قال فی مکان من فی الموضعین ۔
اس کے بعدحدیث عقیل ہی کے مثل ذکر کیافرق یہ ہے کہ دونوں جگہ “ من “ کے بجائے “ فی “ کہا۔ (ت)
امام احمد عـــــہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یکفی احدکم مدمن الوضوء ۔
تم میں سے ایك شخص کے وضو کوایك مد بہت ہے۔
ابو نعیم معرفۃ الصحابہ میں ام سعد بنت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الوضوء مدوالغسل صاع ۔
وضو ایك مد اور غسل ایك صاع ہے۔
اقول : اب یہاں چند امر تنقیح طلب ہیں :
امر اول صاع اور مد باعتبار وزن مراد ہیں یعنی دو اور آٹھ رطل وزن کا پانی ہوکہ رامپور کے سیر سے وضو میں تین پاؤ اور غسل میں تین سیر پانی ہوا اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ کے طور پر وضو میں آدھ سیر اور غسل میں دو سیر اور جانب کمی وضو میں پونے تین چھٹانك سے بھی کم اور غسل میں ڈیڑھ ہی سیر یا بااعتبار کیل وپیمانہ یعنی اتنا پانی کہ ناج کے پیمانہ مد یاصاع کوبھردے ظاہرہے کہ پانی ناج سے
عــــہ : وعزاہ الامام الجلیل فی الجامع الصغیر لجامع الترمذی بلفظ یجزئ فی الوضوء رطلان من ماء قال المناوی واسنادہ ضعیف اھ لکن العبد الضعیف لم یرہ فی ابواب الطھارۃ من الجامع فالله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ (م)
عــــہ : یہ حدیث امام جلال الدین سیوطی نے جامع ترمذی کے حوالے سے ان الفاظ سے جامع صغیرمیں ذکرکی ہے : وضو میں دو رطل پانی کافی ہے۔ علامہ مناوی نے کہا اس کی سند ضعیف ہے اھ۔ لیکن میں نے جامع ترمذی کے ابواب الطہارۃ میں یہ حدیث نہ پائی فالله تعالی اعلم ۱۲منہ(ت)
اس کے بعدحدیث عقیل ہی کے مثل ذکر کیافرق یہ ہے کہ دونوں جگہ “ من “ کے بجائے “ فی “ کہا۔ (ت)
امام احمد عـــــہ انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یکفی احدکم مدمن الوضوء ۔
تم میں سے ایك شخص کے وضو کوایك مد بہت ہے۔
ابو نعیم معرفۃ الصحابہ میں ام سعد بنت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالی عنہماسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الوضوء مدوالغسل صاع ۔
وضو ایك مد اور غسل ایك صاع ہے۔
اقول : اب یہاں چند امر تنقیح طلب ہیں :
امر اول صاع اور مد باعتبار وزن مراد ہیں یعنی دو اور آٹھ رطل وزن کا پانی ہوکہ رامپور کے سیر سے وضو میں تین پاؤ اور غسل میں تین سیر پانی ہوا اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ کے طور پر وضو میں آدھ سیر اور غسل میں دو سیر اور جانب کمی وضو میں پونے تین چھٹانك سے بھی کم اور غسل میں ڈیڑھ ہی سیر یا بااعتبار کیل وپیمانہ یعنی اتنا پانی کہ ناج کے پیمانہ مد یاصاع کوبھردے ظاہرہے کہ پانی ناج سے
عــــہ : وعزاہ الامام الجلیل فی الجامع الصغیر لجامع الترمذی بلفظ یجزئ فی الوضوء رطلان من ماء قال المناوی واسنادہ ضعیف اھ لکن العبد الضعیف لم یرہ فی ابواب الطھارۃ من الجامع فالله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ (م)
عــــہ : یہ حدیث امام جلال الدین سیوطی نے جامع ترمذی کے حوالے سے ان الفاظ سے جامع صغیرمیں ذکرکی ہے : وضو میں دو رطل پانی کافی ہے۔ علامہ مناوی نے کہا اس کی سند ضعیف ہے اھ۔ لیکن میں نے جامع ترمذی کے ابواب الطہارۃ میں یہ حدیث نہ پائی فالله تعالی اعلم ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
المعجم الاوسط ، حدیث ۷۵۵۱ ، مکتبۃ المعارف ریاض۸ / ۲۷۳
مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۲۶۴
تلخیص الحبیرفی تخریج احادیث الرافعی الکبیر کتاب الطہارۃ حدیث ۱۹۴باب الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۳۸۶
الجامع الصغیربحوالہ ت حدیث۹۹۹۷ دارلکتب العلمیہ بیروت۲ / ۵۸۹
التیسیر شرح الجامع ا لصغیر تحت الحدیث یجزئ فی الوضوالخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض۲ / ۵۰۷
مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۲۶۴
تلخیص الحبیرفی تخریج احادیث الرافعی الکبیر کتاب الطہارۃ حدیث ۱۹۴باب الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۳۸۶
الجامع الصغیربحوالہ ت حدیث۹۹۹۷ دارلکتب العلمیہ بیروت۲ / ۵۸۹
التیسیر شرح الجامع ا لصغیر تحت الحدیث یجزئ فی الوضوالخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض۲ / ۵۰۷
بھاری ہے توپیمانہ بھرپانی اس پیمانے کے رطلوں سے وزن میں زائد ہوگا کلمات فـــ ائمہ میں معنی دوم کی تصریح ہے اور اسی طرف بعض روایات احادیث ناظر۔ امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
باب الغسل بالصاع ای بالماء قدرملء الصاع ۔
باب الغسل بالصاع یعنی اتنے پانی سے غسل جس سے صاع بھر جائے۔ (ت)
امام ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں ـ :
المراد من الروایتین ان الاغتسال وقع بملء الصاع من الماء ۔
دونوں روایتوں سے مراد یہ ہے کہ غسل پانی کی اتنی مقدار سے ہوا جس سے صاع بھر جائے (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
ای بالماء الذی ھو قدر ملء الصاع ۔
یعنی اتنے پانی سے غسل جو صاع بھرنے کے بقدرہو۔ (ت)
نیز عمدۃ القاری میں حدیث طحاوی مجاہد سے بایں الفاظ ذکر کی :
قال دخلنا علی عائشۃ رضی الله تعالی عنہا فاستسقی بعضنا فاتی بعس قالت عائشۃ کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل بملء ھذا قال مجاھد فحررتہ فیما احزر ثمانیۃ ارطال تسعۃ ارطال عشرۃ ارطال قال واخرجہ النسائی حزرتہ ثمانیۃ
مجاہد نے کہاہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے یہاں گئے تو ہم میں سے کسی نے پانی مانگا۔ ایك بڑے برتن میں لایا گیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس برتن بھر پانی سے غسل فرماتے تھے۔ امام مجاہد نے کہا : میں نے اندازہ کیاتووہ برتن آٹھ رطل یانورطل یا دس رطل کاتھا۔ امام عینی نے کہا : یہ حدیث امام نسائی نے روایت کی تو اس میں یہ ہے کہ میں نے اسے آٹھ رطل کا
فـــ : تطفل علی العلامۃعلی قاری ۔
باب الغسل بالصاع ای بالماء قدرملء الصاع ۔
باب الغسل بالصاع یعنی اتنے پانی سے غسل جس سے صاع بھر جائے۔ (ت)
امام ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں ـ :
المراد من الروایتین ان الاغتسال وقع بملء الصاع من الماء ۔
دونوں روایتوں سے مراد یہ ہے کہ غسل پانی کی اتنی مقدار سے ہوا جس سے صاع بھر جائے (ت)
امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
ای بالماء الذی ھو قدر ملء الصاع ۔
یعنی اتنے پانی سے غسل جو صاع بھرنے کے بقدرہو۔ (ت)
نیز عمدۃ القاری میں حدیث طحاوی مجاہد سے بایں الفاظ ذکر کی :
قال دخلنا علی عائشۃ رضی الله تعالی عنہا فاستسقی بعضنا فاتی بعس قالت عائشۃ کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل بملء ھذا قال مجاھد فحررتہ فیما احزر ثمانیۃ ارطال تسعۃ ارطال عشرۃ ارطال قال واخرجہ النسائی حزرتہ ثمانیۃ
مجاہد نے کہاہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکے یہاں گئے تو ہم میں سے کسی نے پانی مانگا۔ ایك بڑے برتن میں لایا گیا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس برتن بھر پانی سے غسل فرماتے تھے۔ امام مجاہد نے کہا : میں نے اندازہ کیاتووہ برتن آٹھ رطل یانورطل یا دس رطل کاتھا۔ امام عینی نے کہا : یہ حدیث امام نسائی نے روایت کی تو اس میں یہ ہے کہ میں نے اسے آٹھ رطل کا
فـــ : تطفل علی العلامۃعلی قاری ۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۹۱
فتح الباری ، شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت۲ / ۳۲۷
ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۴۹۰
فتح الباری ، شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت۲ / ۳۲۷
ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۴۹۰
ارطال من دون شك ۔
اندازہ کیا۔ یعنی اس روایت میں بغیر شك کے ہے(ت)
اقول : ظاہر ہے فـــــ کہ پیمانے ناج کیلئے ہوتے ہیں پانی مکیل نہیں کہ اس کیلئے کوئی مدو صاع جدا موضوع ہوں بل نص علماؤنا انہ قیمی فاذن لاھو مکیل ولا موزون۔ (بلکہ ہمارے علماء نے تو تصریح کی ہے کہ پانی قیمت والی چیزوں میں ہے جب تووہ نہ مکیل ہے نہ موزون۔ ت)تواندازہ نہ بتایاگیامگر انہیں مدو صاع سے جو ناج کیلئے تھے اور کسی برتن سے پانی کا اندازہ بتایا جائے تو اس سے یہی مفہوم ہوگا کہ اس بھر پانی نہ یہ کہ اس برتن میں جتنا ناج آئے اس کے وزن کے برابر پانی۔
وھذا ظاھر جدا فاندفع ماوقع للعلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ حیث قال تحت حدیث انس کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع المراد بالمد والصاع وزنالا کیلا اھ فھذا قیلہ من قبلہ لم یستند فیہ لدلیل ولا قیل لاحد قبلہ واسمعناك نصوص العلماء والحجۃ الزھراء۔
فان قلت الیس قدقال انس رضی الله تعالی عنہ کان رسول الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ برطلین ویغتسل بالصاع رواہ الامام الطحاوی
اور یہ بہت واضح ہے تو وہ خیال دفع ہوگیا جو علامہ علی قاری سے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں واقع ہواکہ انہوں نے حضرت انس کی حدیث “ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے وضو فرماتے اور ایك صاع سے غسل فرماتے “ کے تحت لکھاکہ مد اور صاع سے مراد اتنے وزن بھر پانی ہے اتنے ناپ بھر نہیں اھ۔ یہ ضعیف قول خو دان کا ہے جس پر نہ تو انہوں نے کسی دلیل سے استناد کیانہ اپنے پہلے کے کسی شخص کے قول سے استناد کیا۔ اورعلماء کے نصوص اور روشن دلیل ہم پیش کرچکے۔
اگر سوال ہو کہ کیا حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہنے یہ نہیں فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدورطل سے وضو فرماتے اورایك صاع سے غسل فرماتے۔ اسے امام طحاوی نے روایت
فــــ : تطفل آخرعلیہ ۔
اندازہ کیا۔ یعنی اس روایت میں بغیر شك کے ہے(ت)
اقول : ظاہر ہے فـــــ کہ پیمانے ناج کیلئے ہوتے ہیں پانی مکیل نہیں کہ اس کیلئے کوئی مدو صاع جدا موضوع ہوں بل نص علماؤنا انہ قیمی فاذن لاھو مکیل ولا موزون۔ (بلکہ ہمارے علماء نے تو تصریح کی ہے کہ پانی قیمت والی چیزوں میں ہے جب تووہ نہ مکیل ہے نہ موزون۔ ت)تواندازہ نہ بتایاگیامگر انہیں مدو صاع سے جو ناج کیلئے تھے اور کسی برتن سے پانی کا اندازہ بتایا جائے تو اس سے یہی مفہوم ہوگا کہ اس بھر پانی نہ یہ کہ اس برتن میں جتنا ناج آئے اس کے وزن کے برابر پانی۔
وھذا ظاھر جدا فاندفع ماوقع للعلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ حیث قال تحت حدیث انس کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع المراد بالمد والصاع وزنالا کیلا اھ فھذا قیلہ من قبلہ لم یستند فیہ لدلیل ولا قیل لاحد قبلہ واسمعناك نصوص العلماء والحجۃ الزھراء۔
فان قلت الیس قدقال انس رضی الله تعالی عنہ کان رسول الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ برطلین ویغتسل بالصاع رواہ الامام الطحاوی
اور یہ بہت واضح ہے تو وہ خیال دفع ہوگیا جو علامہ علی قاری سے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں واقع ہواکہ انہوں نے حضرت انس کی حدیث “ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے وضو فرماتے اور ایك صاع سے غسل فرماتے “ کے تحت لکھاکہ مد اور صاع سے مراد اتنے وزن بھر پانی ہے اتنے ناپ بھر نہیں اھ۔ یہ ضعیف قول خو دان کا ہے جس پر نہ تو انہوں نے کسی دلیل سے استناد کیانہ اپنے پہلے کے کسی شخص کے قول سے استناد کیا۔ اورعلماء کے نصوص اور روشن دلیل ہم پیش کرچکے۔
اگر سوال ہو کہ کیا حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہنے یہ نہیں فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدورطل سے وضو فرماتے اورایك صاع سے غسل فرماتے۔ اسے امام طحاوی نے روایت
فــــ : تطفل آخرعلیہ ۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۹۲
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ مشکوۃ المصابیح تحت حدیث ۴۳۹ المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ۲ / ۱۴۳
شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ مشکوۃ المصابیح تحت حدیث ۴۳۹ المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ۲ / ۱۴۳
شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
والرطل من الوزن۔
قلت المراد بالرطلین ھوالمدبدلیل حدیثہ المذکور سابقاوالاحادیث یفسر بعضہا بعضا بل قد اخرج الامام الطحاوی عنہ رضی الله تعالی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد وھو رطلان فاتضح المراد وبھذا استدل ائمتنا علی ان الصاع ثمانیۃ ارطال ولذا قال الامام الطحاوی بعداخراجہ الحدیث الذی تمسکت بہ فی السؤال فھذا انس قد اخبر ان مد رسول الله صلی الله علیہ وسلم رطلان والصاع اربعۃ امداد فاذا ثبت ان المدرطلان ثبت ان الصاع ثمانیۃ ارطال اھ فقد جعل معنی قولہ توضأ برطلین توضأ بالمد وھو رطلان کما افصح بہ فی الروایۃ الاخری علی ان الرطل مکیال ایضا کما نص علیہ فی المصباح المنیر والله تعالی اعلم۔
کیا۔ اوررطل ایك وزن ہے۔
میں کہوں گا دو رطل سے وہی مد مراد ہے جس پردلیل خود ان ہی کی حدیث ہے جو پہلے ذکرہوئی۔ اور احادیث میں ایك کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے بلکہ امام طحاوی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے وضو فرماتے اور وہ دورطل ہے۔ تو مراد واضح ہوگئی۔ اور اسی سے ہمارے ائمہ نے صاع کے آٹھ رطل ہونے پراستدلال کیا ہے اور اسی لئے امام طحاوی نے سوال میں تمہاری پیش کردہ حدیث روایت کرنے کے بعدفرمایا : یہ حضرت انس ہیں جنہوں نے بتایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا مد دورطل تھااورصاع چار مد کا ہوتا ہے توجب یہ ثابت ہوگیاکہ مد دو رطل ہے تویہ بھی ثابت ہوا کہ صاع آٹھ رطل ہے اھ۔ تو امام طحاوی نے “ توضأ برطلین “ (دورطل سے وضو فرمایا) کا معنی یہ ٹھہرایا کہ توضأ بالمدوھو رطلان (ایك مد سے وضو فرمایا اور وہ دورطل ہے)جیسا کہ دوسری روایت میں اسے صاف بتایا۔ علاوہ ازیں رطل ایك پیمانہ بھی ہے جیساکہ مصباح منیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
قلت المراد بالرطلین ھوالمدبدلیل حدیثہ المذکور سابقاوالاحادیث یفسر بعضہا بعضا بل قد اخرج الامام الطحاوی عنہ رضی الله تعالی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد وھو رطلان فاتضح المراد وبھذا استدل ائمتنا علی ان الصاع ثمانیۃ ارطال ولذا قال الامام الطحاوی بعداخراجہ الحدیث الذی تمسکت بہ فی السؤال فھذا انس قد اخبر ان مد رسول الله صلی الله علیہ وسلم رطلان والصاع اربعۃ امداد فاذا ثبت ان المدرطلان ثبت ان الصاع ثمانیۃ ارطال اھ فقد جعل معنی قولہ توضأ برطلین توضأ بالمد وھو رطلان کما افصح بہ فی الروایۃ الاخری علی ان الرطل مکیال ایضا کما نص علیہ فی المصباح المنیر والله تعالی اعلم۔
کیا۔ اوررطل ایك وزن ہے۔
میں کہوں گا دو رطل سے وہی مد مراد ہے جس پردلیل خود ان ہی کی حدیث ہے جو پہلے ذکرہوئی۔ اور احادیث میں ایك کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے بلکہ امام طحاوی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك مد سے وضو فرماتے اور وہ دورطل ہے۔ تو مراد واضح ہوگئی۔ اور اسی سے ہمارے ائمہ نے صاع کے آٹھ رطل ہونے پراستدلال کیا ہے اور اسی لئے امام طحاوی نے سوال میں تمہاری پیش کردہ حدیث روایت کرنے کے بعدفرمایا : یہ حضرت انس ہیں جنہوں نے بتایا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا مد دورطل تھااورصاع چار مد کا ہوتا ہے توجب یہ ثابت ہوگیاکہ مد دو رطل ہے تویہ بھی ثابت ہوا کہ صاع آٹھ رطل ہے اھ۔ تو امام طحاوی نے “ توضأ برطلین “ (دورطل سے وضو فرمایا) کا معنی یہ ٹھہرایا کہ توضأ بالمدوھو رطلان (ایك مد سے وضو فرمایا اور وہ دورطل ہے)جیسا کہ دوسری روایت میں اسے صاف بتایا۔ علاوہ ازیں رطل ایك پیمانہ بھی ہے جیساکہ مصباح منیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
المصباح المنیر کتاب الراء تحت لفظ ''رطل '' منشورات دارالھجرہ قم ایران۱ / ۲۳۰
شرح معانی الآثارکتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
المصباح المنیر کتاب الراء تحت لفظ ''رطل '' منشورات دارالھجرہ قم ایران۱ / ۲۳۰
امر دوم غسل میں کہ ایك صاع بھر پانی ہے اس سے مراد مع اس وضو کے ہے جو غسل میں کیا جاتا ہے یا وضو سے جدا امام اجل طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے معنی دوم پر تنصیص فرمائی اور وہ اکثر احادیث میں ایك صاع اور حدیث انس میں پانچ مد ہے اس میں یہ تطبیق دی کہ ایك مد وضو کا اور ایك صاع بقیہ غسل کا یوں غسل میں پانچ مد ہوئے حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہیغتسل بخمس مکاکی روایت کرکے فرماتے ہیں :
یکون الذی کان یتؤضا بہ مدا ویکون الذی یغتسل بہ خمسۃ مکاکی یغتسل باربعۃ منھا وھی اربعۃ امداد وھی صاع ویتوضأ باخرو ھو مدفجمع فی ھذا الحدیث ماکان یتوضأ بہ للجنابۃ وما کان یغتسل بہ لھا وافرد فی حدیث عتبۃ (یعنی الذی فیہ الوضوء بمدوالغسل بصاع) ماکان یغتسل بہ لھا خاصۃ دون ماکان یتوضأ بہ اھ
اقول : لکن حدیثہ یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد لیس فی التوزیع فی التنویع کما لایخفی ای ان الغسل نفسہ کان تارۃ باربعۃ وتارۃ بخمسۃ سواء ارید بہ اسألۃ الماء علی سائر البدن وحدھا
جتنے پانی سے وضوفرماتے وہ ایك مد ہوگااورجتنے سے غسل فرماتے وہ پانچ مکوك ہوگا۔ چار مکوک۔ وہی چار مد اور چار مد ایك صاع۔ سے غسل فرماتے۔ اور باقی ایك مکوك ۔ ایك مد سے وضوفرماتے۔ تو اس حدیث میں جتنے سے جنابت کا غسل ووضو فرماتے دونوں کو جمع کردیا۔ اور حدیث عتبہ میں (یعنی جس میں یہ ہے کہ ایك مد سے وضو اور ایك صاع سے غسل ) صرف اس کو بیان کیا جس سے غسل فرماتے اس کوذکرنہ کیاجس سے وضو فرماتے اھ۔
اقول : لیکن حضرت انس کی یہ حدیث کہ حضورایك صاع سے پانچ مدتك پانی سے غسل فرماتے بیان تقسیم میں نہیں بلکہ بیان تنویع میں ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ یعنی خود غسل ہی کبھی چارمد سے ہوتااورکبھی پانچ مد سے ہوتاخواہ اس سے صرف پورے بدن پر پانی بہانا مرادلیں یا اس کے
یکون الذی کان یتؤضا بہ مدا ویکون الذی یغتسل بہ خمسۃ مکاکی یغتسل باربعۃ منھا وھی اربعۃ امداد وھی صاع ویتوضأ باخرو ھو مدفجمع فی ھذا الحدیث ماکان یتوضأ بہ للجنابۃ وما کان یغتسل بہ لھا وافرد فی حدیث عتبۃ (یعنی الذی فیہ الوضوء بمدوالغسل بصاع) ماکان یغتسل بہ لھا خاصۃ دون ماکان یتوضأ بہ اھ
اقول : لکن حدیثہ یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد لیس فی التوزیع فی التنویع کما لایخفی ای ان الغسل نفسہ کان تارۃ باربعۃ وتارۃ بخمسۃ سواء ارید بہ اسألۃ الماء علی سائر البدن وحدھا
جتنے پانی سے وضوفرماتے وہ ایك مد ہوگااورجتنے سے غسل فرماتے وہ پانچ مکوك ہوگا۔ چار مکوک۔ وہی چار مد اور چار مد ایك صاع۔ سے غسل فرماتے۔ اور باقی ایك مکوك ۔ ایك مد سے وضوفرماتے۔ تو اس حدیث میں جتنے سے جنابت کا غسل ووضو فرماتے دونوں کو جمع کردیا۔ اور حدیث عتبہ میں (یعنی جس میں یہ ہے کہ ایك مد سے وضو اور ایك صاع سے غسل ) صرف اس کو بیان کیا جس سے غسل فرماتے اس کوذکرنہ کیاجس سے وضو فرماتے اھ۔
اقول : لیکن حضرت انس کی یہ حدیث کہ حضورایك صاع سے پانچ مدتك پانی سے غسل فرماتے بیان تقسیم میں نہیں بلکہ بیان تنویع میں ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ یعنی خود غسل ہی کبھی چارمد سے ہوتااورکبھی پانچ مد سے ہوتاخواہ اس سے صرف پورے بدن پر پانی بہانا مرادلیں یا اس کے
حوالہ / References
شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۷
اومع الوضوء۔
ساتھ وضو بھی ملا لیں ۔ (ت)
امر سوم یہ صاع فـــ کس ناج کا تھاظاہرہے کہ ناج ہلکے بھاری ہیں جس پیمانے میں تین سیر جو آئیں گے گیہوں تین سیر سے زیادہ آئیں گے اور ماش اور بھی زائد ابو شجاع ثلجی نے صدقہ فطر میں ماش یا مسور کا پیمانہ لیا کہ ان کے دانے یکساں ہوتے ہیں تو ان کا کیل و وزن برابر ہوگا بخلاف گندم یا جو کہ ان میں بعض کے دانے ہلکے بعض کے بھاری ہوتے ہیں تو دو قسم کے گیہوں اگرچہ ایك ہی پیمانے سے لیں وزن میں مختلف ہوسکتے ہیں اور اسی طرح جو۔ درمختار میں اسی پر اقتصار کیا اور امام صدرالشریعۃ نے شرح وقایہ میں فرمایا کہ احوط کھرے گیہوں کا صاع ہے۔ اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں جو کا صاع احوط بتایا اور حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا :
ان الذی علیہ مشائخنابالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوا یفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ۔
یعنی حرم مکہ میں ہمارے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ اس پر ہیں کہ آٹھ رطل جو سے صاع کا اندازہ کیا جائے اور اکابر اسی پر فتوی دیتے تھے۔ (ت)
اقول ظاہر ہے کہ صاع اس ناج کا تھا جو اس زمان برکت نشان میں عام طعام تھا اور معلوم ہے کہ وہاں عام طعام جو تھا گیہوں کی کثرت زمانہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہوئی۔ حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہمیں ہے :
لما کثرالطعام فی زمن معویۃ جعلوہ مدین من حنطۃ ۔
جب حضرت معاویہ کے زمانے میں طعام کی فراوانی ہوئی تواسے گیہوں کے دو مدٹھہرائے (ت)
فـــ : مسئلہ : زیادہ احتیاط یہ ہے کہ صدقہ فطر وفدیہ روزہ ونماز وکفارہ قسم وغیرہ میں نیم صاع گیہوں جوکے پیمانے سے دئیے جائیں یعنی جس برتن میں ایك سو چوالیس روپے بھر جوٹھیك ہموارسطح سے آجائیں کہ نہ اونچے رہیں نہ نیچے اس برتن بھرکرگیہووں کوایك صدقہ سمجھاجائے ہم نے تجربہ کیاپیمانہ نیم صاع جومیں بریلی کے سیرسے کہ سوروپیہ بھرکاہے اٹھنی بھراوپرپونے دوسیرگیہوں آتے ہیں فی کس اتنے دئیے جائیں ۔
ساتھ وضو بھی ملا لیں ۔ (ت)
امر سوم یہ صاع فـــ کس ناج کا تھاظاہرہے کہ ناج ہلکے بھاری ہیں جس پیمانے میں تین سیر جو آئیں گے گیہوں تین سیر سے زیادہ آئیں گے اور ماش اور بھی زائد ابو شجاع ثلجی نے صدقہ فطر میں ماش یا مسور کا پیمانہ لیا کہ ان کے دانے یکساں ہوتے ہیں تو ان کا کیل و وزن برابر ہوگا بخلاف گندم یا جو کہ ان میں بعض کے دانے ہلکے بعض کے بھاری ہوتے ہیں تو دو قسم کے گیہوں اگرچہ ایك ہی پیمانے سے لیں وزن میں مختلف ہوسکتے ہیں اور اسی طرح جو۔ درمختار میں اسی پر اقتصار کیا اور امام صدرالشریعۃ نے شرح وقایہ میں فرمایا کہ احوط کھرے گیہوں کا صاع ہے۔ اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں جو کا صاع احوط بتایا اور حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا :
ان الذی علیہ مشائخنابالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوا یفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ۔
یعنی حرم مکہ میں ہمارے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ اس پر ہیں کہ آٹھ رطل جو سے صاع کا اندازہ کیا جائے اور اکابر اسی پر فتوی دیتے تھے۔ (ت)
اقول ظاہر ہے کہ صاع اس ناج کا تھا جو اس زمان برکت نشان میں عام طعام تھا اور معلوم ہے کہ وہاں عام طعام جو تھا گیہوں کی کثرت زمانہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہوئی۔ حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہمیں ہے :
لما کثرالطعام فی زمن معویۃ جعلوہ مدین من حنطۃ ۔
جب حضرت معاویہ کے زمانے میں طعام کی فراوانی ہوئی تواسے گیہوں کے دو مدٹھہرائے (ت)
فـــ : مسئلہ : زیادہ احتیاط یہ ہے کہ صدقہ فطر وفدیہ روزہ ونماز وکفارہ قسم وغیرہ میں نیم صاع گیہوں جوکے پیمانے سے دئیے جائیں یعنی جس برتن میں ایك سو چوالیس روپے بھر جوٹھیك ہموارسطح سے آجائیں کہ نہ اونچے رہیں نہ نیچے اس برتن بھرکرگیہووں کوایك صدقہ سمجھاجائے ہم نے تجربہ کیاپیمانہ نیم صاع جومیں بریلی کے سیرسے کہ سوروپیہ بھرکاہے اٹھنی بھراوپرپونے دوسیرگیہوں آتے ہیں فی کس اتنے دئیے جائیں ۔
حوالہ / References
ردالمحتار ،کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت۲ / ۷۷
شرح معانی الآثار ،کتاب الزکوۃ باب مقدار صدقۃ الفطر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۲
شرح معانی الآثار ،کتاب الزکوۃ باب مقدار صدقۃ الفطر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۷۲
شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے :
الطعام فی عرف اھل الحجاز اسم للحنطۃ خاصۃ ۔
طعام اہل حجاز کے عرف میں صرف گیہوں کانام ہے۔ (ت)
صحیح ابن خزیمہ میں عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے ہے :
قال لم تکن الصدقۃ علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الا التمرو الزیب والشعیر ولم تکن الحنطۃ ۔
فرمایا : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانے میں صدقہ کھجور خشك انگور او رجو سے دیا جاتااور گیہوں نہ ہوتا۔
صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
کان طعامنا یومئذ الشعیر الخ
ہمارا طعام اس وقت جو تھا۔ (ت)
اور اس سے قطع نظر بھی ہوتو شك نہیں کہ مد وصاع کا اطلاق مد وصاع شعیر کو بھی شامل تو اس پر عمل ضرور اتباع حدیث کی حد میں داخل۔ فقیر نے ۲۷ ماہ مبارك رمضان ۲۷ کو نیم صاع شعیری کا تجربہ کیا جو ٹھیك چار طل جو کا پیمانہ تھااس میں گیہوں برابر ہموار مسطح بھر کر تولے تو ثمن رطل کو پانچ رطل آئے یعنی ایك سو چوالیس۱۴۴ روپے بھر جوکی جگہ ایك سو پچھتر۱۷۵روپے آٹھ آنے بھر گیہوں کہ بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پونے دو سیر ہوئے یہ محفوظ رکھنا چاہئے کہ صدقہ فطر وکفارات وفدیہ صوم وصلاۃ میں اسی اندازہ سے گیہوں اداکرنا احوط وانفع للفقراء ہے اگرچہ اصل مذہب پر بریلی کی تول سے چھ۶روپے بھر کم ڈیڑھ سیر گیہوں ہیں ۔ پھر اسی پیمانے میں پانی بھر کر وزن کیا تو دو سو چودہ ۲۱۴ روپے بھر ایك دوانی کم آیا کہ کچھ کم چھ رطل ہوا تو تنہا وضو فـــــ۱ کا پانی رامپوری سیر سے تقریبا آدھ پاؤ سیر ہوا اور باقی غسل کا قریب ساڑھے چار سیر کے اور مجموع غسل کا چھٹانك اوپر ساڑھے پانسیر
فــــ۱ : مسئلہ : تنہاوضوکامسنون پانی رامپوری سیرسے کہ چھیانوے روپے بھرکاہے تقریباآدھ پاؤ اوپر سیر بھر ہے اورباقی غسل کاساڑھے چارسیر کے قریب مجموع غسل کاچھٹانك اوپرساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔
الطعام فی عرف اھل الحجاز اسم للحنطۃ خاصۃ ۔
طعام اہل حجاز کے عرف میں صرف گیہوں کانام ہے۔ (ت)
صحیح ابن خزیمہ میں عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے ہے :
قال لم تکن الصدقۃ علی عھد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الا التمرو الزیب والشعیر ولم تکن الحنطۃ ۔
فرمایا : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانے میں صدقہ کھجور خشك انگور او رجو سے دیا جاتااور گیہوں نہ ہوتا۔
صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
کان طعامنا یومئذ الشعیر الخ
ہمارا طعام اس وقت جو تھا۔ (ت)
اور اس سے قطع نظر بھی ہوتو شك نہیں کہ مد وصاع کا اطلاق مد وصاع شعیر کو بھی شامل تو اس پر عمل ضرور اتباع حدیث کی حد میں داخل۔ فقیر نے ۲۷ ماہ مبارك رمضان ۲۷ کو نیم صاع شعیری کا تجربہ کیا جو ٹھیك چار طل جو کا پیمانہ تھااس میں گیہوں برابر ہموار مسطح بھر کر تولے تو ثمن رطل کو پانچ رطل آئے یعنی ایك سو چوالیس۱۴۴ روپے بھر جوکی جگہ ایك سو پچھتر۱۷۵روپے آٹھ آنے بھر گیہوں کہ بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پونے دو سیر ہوئے یہ محفوظ رکھنا چاہئے کہ صدقہ فطر وکفارات وفدیہ صوم وصلاۃ میں اسی اندازہ سے گیہوں اداکرنا احوط وانفع للفقراء ہے اگرچہ اصل مذہب پر بریلی کی تول سے چھ۶روپے بھر کم ڈیڑھ سیر گیہوں ہیں ۔ پھر اسی پیمانے میں پانی بھر کر وزن کیا تو دو سو چودہ ۲۱۴ روپے بھر ایك دوانی کم آیا کہ کچھ کم چھ رطل ہوا تو تنہا وضو فـــــ۱ کا پانی رامپوری سیر سے تقریبا آدھ پاؤ سیر ہوا اور باقی غسل کا قریب ساڑھے چار سیر کے اور مجموع غسل کا چھٹانك اوپر ساڑھے پانسیر
فــــ۱ : مسئلہ : تنہاوضوکامسنون پانی رامپوری سیرسے کہ چھیانوے روپے بھرکاہے تقریباآدھ پاؤ اوپر سیر بھر ہے اورباقی غسل کاساڑھے چارسیر کے قریب مجموع غسل کاچھٹانك اوپرساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الزکوۃ باب الامر باخراج زکوۃ الفطر الخ تحت حدیث ۲۲۵۳ دارالفکربیروت ۴ / ۲۷۳۲
صحیح ابن خزیمہ ، باب الدلیل علی ان الامر الخ حدیث ۲۴۰۶ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۸۵
صحیح البخاری کتاب الزکوۃ باب الصدقۃ قبل العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۰۴ ، ۲۰۵
صحیح ابن خزیمہ ، باب الدلیل علی ان الامر الخ حدیث ۲۴۰۶ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۸۵
صحیح البخاری کتاب الزکوۃ باب الصدقۃ قبل العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۰۴ ، ۲۰۵
سے کچھ زیادہ۔ یہ بحمد الله تعالی قریب قیاس ہے بخلاف اس کے اگر تنقیحات مذکورہ نہ مانی جائیں تو مجموع غسل کا پانی صرف تین سیر رہتا ہے اور امام ابو یوسف کے طور پر دوہی سیر اسی میں وضو اسی میں غسل اور ہر عضو پر تین تین بار پانی کا بہنا یہ سخت دشوار بلکہ بہت دور ازکار ہے۔
فائدہ : فـــ ۱ ان پانیوں کے بیان میں جو اس حساب سے جدا ہیں :
(۱) آب استنجاء ہمارے فـــ۲ علما نے وضو کی تقسیم یوں فرمائی ہے کہ آدمی موزوں پر مسح کرے اور استنجے کی حاجت نہ ہوتونیم مدپانی کا فی ہے اور موزے اور استنجا دونوں ہوں یا دونوں نہ ہوں تو ایك مد اور موزے نہ ہوں اور استنجا کرنا ہو تو ڈیڑھ مد۔ حلیہ میں ہے :
روی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فی الوضوء ان کان متخففا ولا یستنجی کفاہ رطل لغسل الوجہ والیدین ومسح الرأس والخفین وان کان یستنجی کفاہ رطلان رطل للاستنجاء ورطل للباقی وان لم یکن متخففا ویستنجی کفاہ ثلثۃ ارطال رطل للاستنجاء ورطل للقدمین ورطل للباقی ۔
امام حسن بن زیادنے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے وضو بارے میں روایت کی ہے کہ اگر موزے پہنے ہیں اوراستنجا نہیں کرنا ہے توچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے دھونے اور سر اور موزوں کے مسح کے لئے ایك رطل کافی ہے۔ اوراگر استنجابھی کرنا ہے تو دو رطل۔ ایك رطل استنجا کے لئے اور ایك رطل باقی کے لئے اوراگر موزے نہیں ہیں اوراستنجاکرنا ہے توتین رطل کفایت کریں گے ایك رطل استنجا کے لئے ایك رطل دونوں پاؤں کے لئے اورایك رطل باقی کے لئے۔ (ت)
فــــ۱ : مسئلہ : ان پانیوں کابیان جواس حساب کے علاوہ ہیں ۔
فــــ۲ : مسئلہ : حالات وضوپرمسنون پانی کے اختلافات اوریہ کہ استنجے کے لئے چھٹانك آدھ سیرپانی چاہئے۔
فائدہ : فـــ ۱ ان پانیوں کے بیان میں جو اس حساب سے جدا ہیں :
(۱) آب استنجاء ہمارے فـــ۲ علما نے وضو کی تقسیم یوں فرمائی ہے کہ آدمی موزوں پر مسح کرے اور استنجے کی حاجت نہ ہوتونیم مدپانی کا فی ہے اور موزے اور استنجا دونوں ہوں یا دونوں نہ ہوں تو ایك مد اور موزے نہ ہوں اور استنجا کرنا ہو تو ڈیڑھ مد۔ حلیہ میں ہے :
روی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فی الوضوء ان کان متخففا ولا یستنجی کفاہ رطل لغسل الوجہ والیدین ومسح الرأس والخفین وان کان یستنجی کفاہ رطلان رطل للاستنجاء ورطل للباقی وان لم یکن متخففا ویستنجی کفاہ ثلثۃ ارطال رطل للاستنجاء ورطل للقدمین ورطل للباقی ۔
امام حسن بن زیادنے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے وضو بارے میں روایت کی ہے کہ اگر موزے پہنے ہیں اوراستنجا نہیں کرنا ہے توچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے دھونے اور سر اور موزوں کے مسح کے لئے ایك رطل کافی ہے۔ اوراگر استنجابھی کرنا ہے تو دو رطل۔ ایك رطل استنجا کے لئے اور ایك رطل باقی کے لئے اوراگر موزے نہیں ہیں اوراستنجاکرنا ہے توتین رطل کفایت کریں گے ایك رطل استنجا کے لئے ایك رطل دونوں پاؤں کے لئے اورایك رطل باقی کے لئے۔ (ت)
فــــ۱ : مسئلہ : ان پانیوں کابیان جواس حساب کے علاوہ ہیں ۔
فــــ۲ : مسئلہ : حالات وضوپرمسنون پانی کے اختلافات اوریہ کہ استنجے کے لئے چھٹانك آدھ سیرپانی چاہئے۔
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
(۲) ظاہر ہے کہ اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ ہو جیسے حاجت غسل میں ران وغیرہ پر منی تو اس کی تطہیر کاپانی اس حساب میں نہیں اور یہیں سے ظاہر کہ بعد جماع اگر کپڑا نہ ملے تو پانی کہ اب استنجے کو درکار ہوگا معمول سے بہت زائد ہوگا۔
(۳)پیش ازاستنجاتین فــــ۱بار دونوں کلائیوں تك دھونا مطلقا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ جاگا ہو یہ اس سنت سے جداہے کہ وضو کی ابتدا میں تین تین بار ہاتھ دھوئے جاتے ہیں سنت یوں ہے کہ تین بار ہاتھ دھو کر استنجا کرے پھر آغاز وضو میں باردیگر تین بار دھوئے پھر منہ فــــ۲ دھونے کے بعد جوہاتھ کہنیوں تك دھوئے گااس میں ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تك دھوئے تو دونوں کفدست تین مرتبہ دھوئے جائیں گے ہر مرتبہ تین تین بار۔ اخیر کے دونوں داخل حساب وضو ہیں اور اول خارج ہاں اگر استنجا کرنا نہ ہوتو دو ہی مرتبہ تین تین بار دھونا رہے گا۔ درمختار میں ہے :
(سنتہ البداءۃ بغسل الیدین) الطاھرتین ثلثا قبل الاستنجاء وبعدہ وقیدالاستیقاظ اتفاقی (الی الرسغین جوھو) سنۃ (ینوب عن الفرض) ویسن غسلہماایضامع الذارعین اھ ملتقطا۔
وضو کی سنت گٹوں تك دونوں پاك ہاتھوں کے دھونے سے ابتدا کرنا۔ تین بار استنجا سے پہلے اور اس کے بعدبھی۔ اور نیند سے اٹھنے کی قید اتفاقی ہے اور یہ ایسی سنت ہے جو فرض کی نیابت کردیتی ہے۔ اور کلائیوں کے ساتھ بھی ہاتھوں کو دھونامسنون ہے اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
خص المصنف بالمستیقظ تبرکابلفظ
مصنف نے نیندسے اٹھنے والے کے ساتھ لفظ
فـــ۱ : مسئلہ : استنجے سے پہلے تین بار دونو ں ہاتھ کلائیوں تك دھونا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ اٹھاہو ہاں سوتے سے جاٹھا اور بدن پر کوئی نجاست تھی توزیادہ تاکید یہاں تك کہ سنت مؤکدہ ہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : وضو کی ابتداء میں جو دونوں ہاتھ کلائیوں تك تین تین بار دھوئے جاتے ہیں سنت یہ ہے کہ منہ دھونے کے بعد جوہاتھ دھوئے اس میں پھر دونوں کفدست کو شامل کرلے سر ناخن سے کہنیوں کے اوپر تك تین بار دھوئے۔
(۳)پیش ازاستنجاتین فــــ۱بار دونوں کلائیوں تك دھونا مطلقا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ جاگا ہو یہ اس سنت سے جداہے کہ وضو کی ابتدا میں تین تین بار ہاتھ دھوئے جاتے ہیں سنت یوں ہے کہ تین بار ہاتھ دھو کر استنجا کرے پھر آغاز وضو میں باردیگر تین بار دھوئے پھر منہ فــــ۲ دھونے کے بعد جوہاتھ کہنیوں تك دھوئے گااس میں ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تك دھوئے تو دونوں کفدست تین مرتبہ دھوئے جائیں گے ہر مرتبہ تین تین بار۔ اخیر کے دونوں داخل حساب وضو ہیں اور اول خارج ہاں اگر استنجا کرنا نہ ہوتو دو ہی مرتبہ تین تین بار دھونا رہے گا۔ درمختار میں ہے :
(سنتہ البداءۃ بغسل الیدین) الطاھرتین ثلثا قبل الاستنجاء وبعدہ وقیدالاستیقاظ اتفاقی (الی الرسغین جوھو) سنۃ (ینوب عن الفرض) ویسن غسلہماایضامع الذارعین اھ ملتقطا۔
وضو کی سنت گٹوں تك دونوں پاك ہاتھوں کے دھونے سے ابتدا کرنا۔ تین بار استنجا سے پہلے اور اس کے بعدبھی۔ اور نیند سے اٹھنے کی قید اتفاقی ہے اور یہ ایسی سنت ہے جو فرض کی نیابت کردیتی ہے۔ اور کلائیوں کے ساتھ بھی ہاتھوں کو دھونامسنون ہے اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
خص المصنف بالمستیقظ تبرکابلفظ
مصنف نے نیندسے اٹھنے والے کے ساتھ لفظ
فـــ۱ : مسئلہ : استنجے سے پہلے تین بار دونو ں ہاتھ کلائیوں تك دھونا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ اٹھاہو ہاں سوتے سے جاٹھا اور بدن پر کوئی نجاست تھی توزیادہ تاکید یہاں تك کہ سنت مؤکدہ ہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : وضو کی ابتداء میں جو دونوں ہاتھ کلائیوں تك تین تین بار دھوئے جاتے ہیں سنت یہ ہے کہ منہ دھونے کے بعد جوہاتھ دھوئے اس میں پھر دونوں کفدست کو شامل کرلے سر ناخن سے کہنیوں کے اوپر تك تین بار دھوئے۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۰،۲۱
الحدیث والسنۃ تشمل المستیقظ وغیرہ وعلیہ الاکثرون اھ وفی النھر الاصح الذی علیہ الاکثر انہ سنۃ مطلقالکنہ عند توھم فــ النجاسۃ سنۃ مؤکدۃ کما اذا نام لاعن استنجاء اوکان علی بدنہ نجاسۃ وغیر مؤکدۃعند عدم توھمھا کما اذا نام لاعن شیئ من ذلك اولم یکن مستیقظا عن نوم اھ ونحوہ فی البحر اھ۔
اقول : ووجہہ ان النجاسۃ اذا کانت متحققۃ کمن نام غیرمستنج واصابۃ الید فی النوم غیر معلومۃ کانت النجاسۃ متوھمۃ امااذا لم تکن نفسھا
حدیث سے برکت حاصل کرنے کے لئے کلام خاص کیا۔ اورسنت نیند سے اٹھنے والے کے لئے بھی اور اس کے علاوہ کے لئے بھی ہے۔ اسی پر اکثر حضرات ہیں اھ۔ النہرالفائق میں ہے : اصح جس پر اکثرہیں یہ ہے کہ وہ مطلقاسنت ہے لیکن نجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنت مؤکدہ ہے مثلا بغیراستنجاکے سویاہو یاسوتے وقت اس کے بدن پرکوئی نجاست رہی ہو۔ اور نجاست کا احتمال نہ ہونے کی صورت میں سنت غیر مؤکدہ ہےمثلا ان میں سے کسی چیز کے بغیر سویا ہویانیند سے اٹھنے کی حالت نہ ہو۔ اھ۔ اسی کے ہم معنی بحر میں بھی ہے اھ
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ نجاست جب متحقق ہے۔ جیسے اس کے لئے جوبغیراستنجاکے سویاہو۔ اورنیند میں نجاست پر ہاتھ کاپہنچنا معلوم نہیں ہے توہاتھ میں نجاست لگنے کا صرف احتمال ہے لیکن جب خودنجاست ہی
فـــــ : مسئلہ : بدن پر کوئی نجاست ہومثلاتر خارش ہے یازخم یاپھوڑا یا پیشاب کے بعد بے استنجاسورہا کہ پسینہ آکر تری پہنچنے کااحتمال ہے جب تو گٹوں تك ہاتھ پہلے دھونا سنت مؤکدہ ہے اگرچہ سویانہ ہو جب کہ ہاتھ کااس نجاست پر پہنچنا محتمل ہو اور اگر بدن پر نجاست نہیں تو ان کا دھونا سنت ہے مگر مؤکدہ نہیں اگرچہ سو کر اٹھاہو یوں ہی اگر نجاست ہے اوراس پر ہاتھ نہ پہنچنا معلوم ہے یعنی جاگ رہاہے اوریادہے کہ ہاتھ وہاں تك نہ پہنچے تواس صورت میں بھی سنت مؤکدہ نہیں ہاں سنت مطلقا ہے۔
اقول : ووجہہ ان النجاسۃ اذا کانت متحققۃ کمن نام غیرمستنج واصابۃ الید فی النوم غیر معلومۃ کانت النجاسۃ متوھمۃ امااذا لم تکن نفسھا
حدیث سے برکت حاصل کرنے کے لئے کلام خاص کیا۔ اورسنت نیند سے اٹھنے والے کے لئے بھی اور اس کے علاوہ کے لئے بھی ہے۔ اسی پر اکثر حضرات ہیں اھ۔ النہرالفائق میں ہے : اصح جس پر اکثرہیں یہ ہے کہ وہ مطلقاسنت ہے لیکن نجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنت مؤکدہ ہے مثلا بغیراستنجاکے سویاہو یاسوتے وقت اس کے بدن پرکوئی نجاست رہی ہو۔ اور نجاست کا احتمال نہ ہونے کی صورت میں سنت غیر مؤکدہ ہےمثلا ان میں سے کسی چیز کے بغیر سویا ہویانیند سے اٹھنے کی حالت نہ ہو۔ اھ۔ اسی کے ہم معنی بحر میں بھی ہے اھ
اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ نجاست جب متحقق ہے۔ جیسے اس کے لئے جوبغیراستنجاکے سویاہو۔ اورنیند میں نجاست پر ہاتھ کاپہنچنا معلوم نہیں ہے توہاتھ میں نجاست لگنے کا صرف احتمال ہے لیکن جب خودنجاست ہی
فـــــ : مسئلہ : بدن پر کوئی نجاست ہومثلاتر خارش ہے یازخم یاپھوڑا یا پیشاب کے بعد بے استنجاسورہا کہ پسینہ آکر تری پہنچنے کااحتمال ہے جب تو گٹوں تك ہاتھ پہلے دھونا سنت مؤکدہ ہے اگرچہ سویانہ ہو جب کہ ہاتھ کااس نجاست پر پہنچنا محتمل ہو اور اگر بدن پر نجاست نہیں تو ان کا دھونا سنت ہے مگر مؤکدہ نہیں اگرچہ سو کر اٹھاہو یوں ہی اگر نجاست ہے اوراس پر ہاتھ نہ پہنچنا معلوم ہے یعنی جاگ رہاہے اوریادہے کہ ہاتھ وہاں تك نہ پہنچے تواس صورت میں بھی سنت مؤکدہ نہیں ہاں سنت مطلقا ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵
متحققۃ فالتنجس بالاصابۃ توھم علی توھم فلا یورث تاکدالاستنان
فان قلت الیس ان النوم مظنۃ الانتشار و الانتشارمظنۃ الامذاء والغالب کالمتحقق فالنوم مطلقا محل التوھم۔
قلت بینا فی رسالتنا الاحکام والعلل ان الانتشار لیس مظنۃ الامذاء بمعنی المفضی الیہ غالبا وقد نص علیہ فی الحلیۃ
فان قلت انما علق فی الحدیث الحکم علی مطلق النوم وعلله صلی الله تعالی علیہ وسلم بقولہ فانمالایدری این باتت یدہ والنوم لاعن استنجاء ان اریدبہ نفیہ مطلقا فمثلہ بعیدعن ذوی النظافۃ فضلاعن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم وھم المخاطبون اولا بقولہ صلی الله تعالی
متحقق نہیں تو ہاتھ میں نجاست لگنے کااحتمال دراحتمال ہے اس لئے اس سے مسنونیت مؤکد نہ ہوگی۔
اگریہ سوال ہو کہ کیا ایسانہیں کہ نیند انتشارآلہ کا مظنہ ہے اور انتشارمذی نکلنے کامظنہ ہے۔ اور گمان غالب متحقق کاحکم رکھتا ہے تونیندمطلقا احتمال نجاست کی جگہ ہے۔
میں کہوں گا ہم نے اپنے رسالہ “ الاحکام والعلل “ میں بیان کیا ہے کہ انتشار مذی نکلنے کا مظنہ اس معنی میں نہیں کہ یہ اکثر خروج مذی تك موصل ہوتاہے۔ حلیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
پھر اگر یہ سوال ہو کہ حدیث میں اس حکم کو مطلق نیندسے متعلق فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس ارشاد سے اس کی علت بیان فرمائی ہے کہ “ وہ نہیں جانتاکہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا “ ۔ اگریہ کہئے کہ لوگ بغیر استنجا کے سوتے تھے اس لئے یہ ارشاد ہوا تواس سے اگر یہ مراد ہے کہ مطلقا استنجا ہی نہ کرتے تھے توایساتوہر صاحب نظافت سے بعید ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے تو اور زیادہ بعید ہے اور وہی حضرات اولین مخاطب ہیں
فان قلت الیس ان النوم مظنۃ الانتشار و الانتشارمظنۃ الامذاء والغالب کالمتحقق فالنوم مطلقا محل التوھم۔
قلت بینا فی رسالتنا الاحکام والعلل ان الانتشار لیس مظنۃ الامذاء بمعنی المفضی الیہ غالبا وقد نص علیہ فی الحلیۃ
فان قلت انما علق فی الحدیث الحکم علی مطلق النوم وعلله صلی الله تعالی علیہ وسلم بقولہ فانمالایدری این باتت یدہ والنوم لاعن استنجاء ان اریدبہ نفیہ مطلقا فمثلہ بعیدعن ذوی النظافۃ فضلاعن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم وھم المخاطبون اولا بقولہ صلی الله تعالی
متحقق نہیں تو ہاتھ میں نجاست لگنے کااحتمال دراحتمال ہے اس لئے اس سے مسنونیت مؤکد نہ ہوگی۔
اگریہ سوال ہو کہ کیا ایسانہیں کہ نیند انتشارآلہ کا مظنہ ہے اور انتشارمذی نکلنے کامظنہ ہے۔ اور گمان غالب متحقق کاحکم رکھتا ہے تونیندمطلقا احتمال نجاست کی جگہ ہے۔
میں کہوں گا ہم نے اپنے رسالہ “ الاحکام والعلل “ میں بیان کیا ہے کہ انتشار مذی نکلنے کا مظنہ اس معنی میں نہیں کہ یہ اکثر خروج مذی تك موصل ہوتاہے۔ حلیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔
پھر اگر یہ سوال ہو کہ حدیث میں اس حکم کو مطلق نیندسے متعلق فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس ارشاد سے اس کی علت بیان فرمائی ہے کہ “ وہ نہیں جانتاکہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا “ ۔ اگریہ کہئے کہ لوگ بغیر استنجا کے سوتے تھے اس لئے یہ ارشاد ہوا تواس سے اگر یہ مراد ہے کہ مطلقا استنجا ہی نہ کرتے تھے توایساتوہر صاحب نظافت سے بعید ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے تو اور زیادہ بعید ہے اور وہی حضرات اولین مخاطب ہیں
حوالہ / References
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ حدیث۲۴ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۰ ، سنن ابن ماجہ1ابواب الطہارۃ باب الرجل یستیقظ من منامہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲
اذااستیقظ احدکم من نومہ وان ارید خصوص الاستنجاء بالماء فالصحیح المعتمدان الاستنجاء بالحجر مطھراذا لم تتجاوزالنجاسۃ المخرج اکثرمن قدرالدرھم کمابینتہ فیما علقتہ علی ردالمحتارفلا یظھر فرق بین الاستنجاء بالماء وترکہ فی ایراث التوھم و عدمہ۔
قلت الحدیث لافادۃ الاستنان اماتاکدہ عند تحقق النجاسۃ فی البدن فبالفحوی ۔
فان قلت ھذا البحرقائلا فی البحراعلم ان الابتداء بغسل الیدین واجب اذاکانت النجاسۃ محققۃ فیھما وسنۃ عند ابتداء الوضوء وسنۃ مؤکدۃ عند توھم النجاسۃ کمااذا استیقظ من النوم اھ فھذانص فی کون کل نوم موجب تاکداالاستنان۔
قلت نعم فــــ ارسل ھنا
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس ارشاد کے کہ “ جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ پانی سے استنجا نہ کرتے تھے تو صحیح معتمد یہ ہے کہ پتھر کے ذریعہ استنجا سے بھی طہارت ہوجاتی ہے جب کہ نجاست قدر درہم سے زیادہ مخرج سے تجاوزنہ کرے جیسا کہ ردالمحتارپرمیں نے اپنے حواشی میں بیان کیا ہے تواحتمال نجاست پیدا کرنے اور نہ کرنے میں پانی سے استنجا کرنے اور نہ کرنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں ۔
قلت(میں کہوں گا)حدیث مسنونیت بتانے کے لئے ہے اور بدن میں نجاست متحقق ہونے کے وقت اس سنت کامؤکدہونا مضمون کلام سے معلوم ہوا۔
اگرسوال ہو کہ محقق صاحب بحر البحرالرائق میں یہ لکھتے کہ : واضح ہوکہ دونوں ہاتھ دھونے سے ابتدأ واجب ہے جب ہاتھوں میں نجاست ثابت ہواور ابتدائے وضوکے وقت سنت ہے اور احتمال نجاست کے وقت سنت مؤکدہ ہے جیسے نیند سے اٹھنے کے وقت اھ۔ تو یہ عبارت اس بارے میں نص ہے کہ ہر نیند اس عمل کے سنت مؤکدہ ہونے کاسبب ہے۔
میں کہوں گا ہاں یہاں پرانہوں نے
فــــ : تطفل علی البحر۔
قلت الحدیث لافادۃ الاستنان اماتاکدہ عند تحقق النجاسۃ فی البدن فبالفحوی ۔
فان قلت ھذا البحرقائلا فی البحراعلم ان الابتداء بغسل الیدین واجب اذاکانت النجاسۃ محققۃ فیھما وسنۃ عند ابتداء الوضوء وسنۃ مؤکدۃ عند توھم النجاسۃ کمااذا استیقظ من النوم اھ فھذانص فی کون کل نوم موجب تاکداالاستنان۔
قلت نعم فــــ ارسل ھنا
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس ارشاد کے کہ “ جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ پانی سے استنجا نہ کرتے تھے تو صحیح معتمد یہ ہے کہ پتھر کے ذریعہ استنجا سے بھی طہارت ہوجاتی ہے جب کہ نجاست قدر درہم سے زیادہ مخرج سے تجاوزنہ کرے جیسا کہ ردالمحتارپرمیں نے اپنے حواشی میں بیان کیا ہے تواحتمال نجاست پیدا کرنے اور نہ کرنے میں پانی سے استنجا کرنے اور نہ کرنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں ۔
قلت(میں کہوں گا)حدیث مسنونیت بتانے کے لئے ہے اور بدن میں نجاست متحقق ہونے کے وقت اس سنت کامؤکدہونا مضمون کلام سے معلوم ہوا۔
اگرسوال ہو کہ محقق صاحب بحر البحرالرائق میں یہ لکھتے کہ : واضح ہوکہ دونوں ہاتھ دھونے سے ابتدأ واجب ہے جب ہاتھوں میں نجاست ثابت ہواور ابتدائے وضوکے وقت سنت ہے اور احتمال نجاست کے وقت سنت مؤکدہ ہے جیسے نیند سے اٹھنے کے وقت اھ۔ تو یہ عبارت اس بارے میں نص ہے کہ ہر نیند اس عمل کے سنت مؤکدہ ہونے کاسبب ہے۔
میں کہوں گا ہاں یہاں پرانہوں نے
فــــ : تطفل علی البحر۔
حوالہ / References
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ حدیث ۲۴ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۰۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷ ، ۱۸
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷ ، ۱۸
ماابان تقییدہ بعداسطراذیقول علم بماقررناہ ان ما فی شرح المجمع من ان السنۃ فی غسل الیدین للمستیقظ مقیدۃ بان یکون نام غیرمستنج اوکان علی بدنہ نجاسۃ حتی لولم یکن کذلك لایسن فی حقہ ضعیف او المراد نفی السنۃ المؤکدۃ لااصلہا اھ لاجرم ان قال فی الحلیۃ ھو مع الاستیقاظ اذاتوھم النجاسۃ اکد اھ فلم یجعل کل نوم محل توھم۔
اقول : وھو معنی قول الفتح قیل سنۃ مطلقا للمستیقظ وغیرہ وھوالاولی نعم مع الاستیقاظ و توھم النجاسۃ السنۃ اکد اھ فاراد بالواو الاجتماع لترتب الحکم لامجرد التشریك فی ترتبہ وان کان کلامہ مطلقافی المستیقظ وغیرہ
مطلق رکھا مگر چند سطروں کے بعد اس کی قید واضح کردی ہے آگے وہ فرماتے ہیں : ہماری تقریرسابق سے معلوم ہواکہ شرح مجمع میں جولکھا ہے کہ “ نیند سے اٹھنے والے کے لئے دونوں ہاتھ دھونے کامسنون ہونا اس قید سے مقید ہے کہ بغیر استنجاسویا ہویاسوتے وقت اس کے بدن پر کوئی نجاست رہی ہویہاں تك کہ اگر یہ حالت نہ ہو تو اس کے حق میں سنت نہیں ہے “ ۔ (شرح مجمع کایہ قول)ضعیف ہے۔ یااس سے مرادیہ ہوکہ سنت مؤکدہ نہیں ہے یہ نہیں کہ سرے سے سنت ہی نہیں اھ۔ یہی وجہ ہے کہ حلیہ میں کہا : نیندسے اٹھنے کے وقت جب احتمال نجاست ہوتو یہ زیادہ مؤکد ہے اھ۔ توانہوں نے ہرنیند کو محل احتمال نہ ٹھہرایا۔
اقول : یہی فتح القدیر کی اس عبارت کابھی معنی ہے کہ : کہاگیانیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے لئے یہ مطلقا سنت ہے اور یہی قول اولی ہے ہاں نیند سے اٹھنے اورنجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنت زیادہ مؤکد ہے اھ۔ واؤ(اور) سے ان کی مراد یہ ہے کہ نیند سے اٹھنااور نجاست کااحتمال ہونادونوں باتیں جمع ہوں توسنت مؤکدہ ہے یہ مراد نہیں کہ نیند سے اٹھے
اقول : وھو معنی قول الفتح قیل سنۃ مطلقا للمستیقظ وغیرہ وھوالاولی نعم مع الاستیقاظ و توھم النجاسۃ السنۃ اکد اھ فاراد بالواو الاجتماع لترتب الحکم لامجرد التشریك فی ترتبہ وان کان کلامہ مطلقافی المستیقظ وغیرہ
مطلق رکھا مگر چند سطروں کے بعد اس کی قید واضح کردی ہے آگے وہ فرماتے ہیں : ہماری تقریرسابق سے معلوم ہواکہ شرح مجمع میں جولکھا ہے کہ “ نیند سے اٹھنے والے کے لئے دونوں ہاتھ دھونے کامسنون ہونا اس قید سے مقید ہے کہ بغیر استنجاسویا ہویاسوتے وقت اس کے بدن پر کوئی نجاست رہی ہویہاں تك کہ اگر یہ حالت نہ ہو تو اس کے حق میں سنت نہیں ہے “ ۔ (شرح مجمع کایہ قول)ضعیف ہے۔ یااس سے مرادیہ ہوکہ سنت مؤکدہ نہیں ہے یہ نہیں کہ سرے سے سنت ہی نہیں اھ۔ یہی وجہ ہے کہ حلیہ میں کہا : نیندسے اٹھنے کے وقت جب احتمال نجاست ہوتو یہ زیادہ مؤکد ہے اھ۔ توانہوں نے ہرنیند کو محل احتمال نہ ٹھہرایا۔
اقول : یہی فتح القدیر کی اس عبارت کابھی معنی ہے کہ : کہاگیانیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے لئے یہ مطلقا سنت ہے اور یہی قول اولی ہے ہاں نیند سے اٹھنے اورنجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنت زیادہ مؤکد ہے اھ۔ واؤ(اور) سے ان کی مراد یہ ہے کہ نیند سے اٹھنااور نجاست کااحتمال ہونادونوں باتیں جمع ہوں توسنت مؤکدہ ہے یہ مراد نہیں کہ نیند سے اٹھے
حوالہ / References
البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۱۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۱۹
والتوھم غیرمختص بالمستیقظ علی ان السنن الغیرالمؤکدۃ بعضھااکد من بعض فافھم۔
جب بھی سنت مؤکدہ اور احتمال نجاست ہوجب بھی سنت مؤکدہ اگرچہ ان کا کلام نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے حق میں مطلق ہے اور احتمال نجاست ہونا نیند سے اٹھنے والے ہی کے لئے خاص نہیں ۔ علاوہ ازیں سنن غیر مؤکدہ میں بعض سنتیں بعض دیگر کی بہ نسبت زیادہ مؤکدہوتی ہیں ۔ تو اسے سمجھو۔
(۴) اقول : اگرچہ فــــ مسواك ہمارے نزدیك سنت وضوہے خلافاللامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ فعندہ سنۃ الصلاۃ کمافی البحر وغیرہ (بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے کہ ان کے نزدیك سنت نمازہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) ولہذا جو ایك وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کیلئے مسواك کرنا مطلوب نہیں جب تك منہ میں کسی وجہ سے تغیر نہ آگیا ہو کہ اب اس دفع تغیر کیلئے مستقل سنت ہوگی ہاں وضوبے مسواك کرلیا ہو تو اب پیش از نماز کرلے کما فی الدروغیرہ (جیساکہ در وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اس کے وقت فــــ۲ میں ہمارے یہاں اختلاف ہے بدائع وغیرہ معتمدات میں قبل وضو فرمایااور مبسوط وغیرہ معتبرات میں وقت مضمضہ یعنی وضو میں کلی کرتے وقت ۔ حلیہ میں ہے :
وقت استعمالہ علی مافی روضۃ الناطفی والبدائع ونقلہ الزاھدی عن کفایۃ البیھقی والوسیلۃ والشفاء قبل الوضوء وربما یشھد
مسواك کے استعمال کاوقت قبل وضو ہے۔ ایسا ہی ر وضۃ الناطفی اور بدائع میں ہے اور زاہدی نے اسے کفایۃ البیہقی وسیلہ اورشفا سے نقل کیاہے۔ اوراس پرکچھ شہادت
فـــ۱ : مسئلہ : مسواك ہمارے نزدیك نماز کے لئے سنت نہیں بلکہ وضو کے لئے تو جو ایك وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کے لئے اس سے مسواك کامطالبہ نہیں جب تك منہ میں کوئی تغیر نہ آگیا ہو ہاں اگروضو بے مسواك کر لیاتھا تو اب وقت نماز مسواك کر لے ۔
فـــ۲ : مسواك کے وقت میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے کہ قبل وضو ہے یا وضو میں کلی کرتے وقت اوراس بارہ میں مصنف کی تحقیق ۔
جب بھی سنت مؤکدہ اور احتمال نجاست ہوجب بھی سنت مؤکدہ اگرچہ ان کا کلام نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے حق میں مطلق ہے اور احتمال نجاست ہونا نیند سے اٹھنے والے ہی کے لئے خاص نہیں ۔ علاوہ ازیں سنن غیر مؤکدہ میں بعض سنتیں بعض دیگر کی بہ نسبت زیادہ مؤکدہوتی ہیں ۔ تو اسے سمجھو۔
(۴) اقول : اگرچہ فــــ مسواك ہمارے نزدیك سنت وضوہے خلافاللامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ فعندہ سنۃ الصلاۃ کمافی البحر وغیرہ (بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے کہ ان کے نزدیك سنت نمازہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) ولہذا جو ایك وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کیلئے مسواك کرنا مطلوب نہیں جب تك منہ میں کسی وجہ سے تغیر نہ آگیا ہو کہ اب اس دفع تغیر کیلئے مستقل سنت ہوگی ہاں وضوبے مسواك کرلیا ہو تو اب پیش از نماز کرلے کما فی الدروغیرہ (جیساکہ در وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اس کے وقت فــــ۲ میں ہمارے یہاں اختلاف ہے بدائع وغیرہ معتمدات میں قبل وضو فرمایااور مبسوط وغیرہ معتبرات میں وقت مضمضہ یعنی وضو میں کلی کرتے وقت ۔ حلیہ میں ہے :
وقت استعمالہ علی مافی روضۃ الناطفی والبدائع ونقلہ الزاھدی عن کفایۃ البیھقی والوسیلۃ والشفاء قبل الوضوء وربما یشھد
مسواك کے استعمال کاوقت قبل وضو ہے۔ ایسا ہی ر وضۃ الناطفی اور بدائع میں ہے اور زاہدی نے اسے کفایۃ البیہقی وسیلہ اورشفا سے نقل کیاہے۔ اوراس پرکچھ شہادت
فـــ۱ : مسئلہ : مسواك ہمارے نزدیك نماز کے لئے سنت نہیں بلکہ وضو کے لئے تو جو ایك وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کے لئے اس سے مسواك کامطالبہ نہیں جب تك منہ میں کوئی تغیر نہ آگیا ہو ہاں اگروضو بے مسواك کر لیاتھا تو اب وقت نماز مسواك کر لے ۔
فـــ۲ : مسواك کے وقت میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے کہ قبل وضو ہے یا وضو میں کلی کرتے وقت اوراس بارہ میں مصنف کی تحقیق ۔
لہ مافی صحیح مسلم عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما عن رسول الله تعالی علیہ وسلم انہ تسوك وتوضأ عــــہ ثم قام فصلی وفی سنن ابی داؤد عن عائشۃ رضی الله تعالی عنہاان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان لا یرقد من لیل ولا نھار فیستیقظ الا تسوك قبل ان یتوضأ وفی المحیط وتحفۃ الفقھاء وزادالفقہاء ومبسوط شیخ الاسلام محلۃ المضمضۃ تکمیلا للانقاء واخرج الطبرانی عن ایوب قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ استنشق ثلثا و تمضمض وادخل اصبعہ فی فمہ وھذا ربمایدل علی ان وقت الاستیاك حالۃ المضمضۃ فان الاستیاك بالاصبع بدل عن الاستیاك بالسواك والاصل کون الاشتغال بالبدل
صحیح مسلم کی اس حدیث سے ملتی ہے جو حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہمانے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت فرمائی کہ سرکار نے مسواك کی اور وضو کیا پھر اٹھ کرنماز اداکی۔ اورسنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدن یا رات میں جب بھی سوکربیدار ہوتے تو وضوکرنے سے پہلے مسواك کرتے۔ اورمحیط تحفۃ الفقہا زادالفقہا اور مبسوط شیخ الاسلام میں ہے کہ مسواك کاوقت کلی کرنے کی حالت میں ہے تاکہ صفائی مکمل ہو جائے ۔ اورطبرانی نے حضرت “ ایوب “ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب وضو فرماتے توتین بار ناك میں پانی لے جاتے اور کلی کرتے اورانگلی منہ میں داخل کرتے۔ اس حدیث سے کچھ دلالت ہوتی ہے کہ مسواك کاوقت کلی کرنے کی حالت میں ہے اس لئے کہ انگلی استعمال کرنامسواك استعمال کرنے کابدل ہے
عــــہ : ھکذاھو فی نسختی الحلیۃ بالواو والذی فی صحیح مسلم رجع فتسوك فتوضأ ثم قام فصلی ولعلہ اظھردلالۃ علی المراد اھ
عــــہ : میرے نسخہ حلیہ میں اسی طرح وتوضأ(اور وضوکیا) واؤ کے ساتھ ہے۔ اورصحیح مسلم میں یہ ہے رجع فتسوك فتوضأثم قام فصلی (لوٹ کرمسواك کی پھروضوکیاپھر اٹھ کرنمازادا کی) اورشاید دلالت مقصودمیں یہ زیادہ ظاہر ہے اھ۔ ت)
صحیح مسلم کی اس حدیث سے ملتی ہے جو حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہمانے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت فرمائی کہ سرکار نے مسواك کی اور وضو کیا پھر اٹھ کرنماز اداکی۔ اورسنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدن یا رات میں جب بھی سوکربیدار ہوتے تو وضوکرنے سے پہلے مسواك کرتے۔ اورمحیط تحفۃ الفقہا زادالفقہا اور مبسوط شیخ الاسلام میں ہے کہ مسواك کاوقت کلی کرنے کی حالت میں ہے تاکہ صفائی مکمل ہو جائے ۔ اورطبرانی نے حضرت “ ایوب “ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب وضو فرماتے توتین بار ناك میں پانی لے جاتے اور کلی کرتے اورانگلی منہ میں داخل کرتے۔ اس حدیث سے کچھ دلالت ہوتی ہے کہ مسواك کاوقت کلی کرنے کی حالت میں ہے اس لئے کہ انگلی استعمال کرنامسواك استعمال کرنے کابدل ہے
عــــہ : ھکذاھو فی نسختی الحلیۃ بالواو والذی فی صحیح مسلم رجع فتسوك فتوضأ ثم قام فصلی ولعلہ اظھردلالۃ علی المراد اھ
عــــہ : میرے نسخہ حلیہ میں اسی طرح وتوضأ(اور وضوکیا) واؤ کے ساتھ ہے۔ اورصحیح مسلم میں یہ ہے رجع فتسوك فتوضأثم قام فصلی (لوٹ کرمسواك کی پھروضوکیاپھر اٹھ کرنمازادا کی) اورشاید دلالت مقصودمیں یہ زیادہ ظاہر ہے اھ۔ ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم ، کتاب الطہارۃ ، باب السواک ، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۸
وقت الاشتغال بالاصل اھ مختصرا۔
اقول : ھکذافی نسخت الحلیۃ عن ایوب فان کان عن ابی ایوب رضی الله تعالی عنہ واسقط الناسخ والا فمرسل والظاھرالاول فان للطبرانی حدیثا عن ابی ایوب الانصاری رضی الله تعالی عنہ فی صفۃ الوضوء لکن لفظہ کمافی نصب الرایۃ کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ تمضمض واستنشق وادخل اصابعہ من تحت لحیتہ فخللھا اھ فالله تعالی اعلم ۔
وعلی کل فـــــ یخلو عن ابعاد النجعۃ فقداخرج الامام احمد فی مسندہ عن امیر المؤمنین علی کرم الله تعالی وجہہ انہ دعا بکوز من ماء فغسل وجہہ وکفیہ ثلثا وتمضمض ثلثا فادخل
اورقاعدہ یہ ہے کہ بدل میں مشغولی اسی وقت ہو جس وقت اصل میں مشغولیت ہوتی اھ مختصرا۔
اقول : میرے نسخہ حلیہ میں “ عن ایوب “ (ایوب سے ) ہے۔ اگریہ اصل میں عن ابی ایوب رضی اللہ تعالی عنہہے اور کاتب سے “ ابی “ چھوٹ گیاہے جب تومسندہے ورنہ مرسل ہے اور ظاہراول ہے۔ اس لئے کہ طبرانی کی ایك حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے طریقہ وضو کے بارے میں آئی ہے۔ لیکن ا س کے الفاظ نصب الرایہ کے مطابق۔ یہ ہیں : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب وضو فرماتے تو کلی کرتے اورناك میں پانی ڈالتے اور اپنی انگلیاں داڑھی کے نیچے سے ڈال کرریش مبارك کا خلال کرتے اھ۔ توخدائے برترہی کو خوب علم ہے۔
بہر حال اس حدیث سے استناد تلاش مقصود میں قریب چھوڑکردور جانے کے مرادف ہے اس لئے کہ امام احمد نے مسند میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمسے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے ایك کوزہ میں پانی منگا کر چہرے اورہتھیلیوں کوتین بار دھویااور تین بار کلی کی تو اپنی
فــــ : تطفل علی الحلیۃ
اقول : ھکذافی نسخت الحلیۃ عن ایوب فان کان عن ابی ایوب رضی الله تعالی عنہ واسقط الناسخ والا فمرسل والظاھرالاول فان للطبرانی حدیثا عن ابی ایوب الانصاری رضی الله تعالی عنہ فی صفۃ الوضوء لکن لفظہ کمافی نصب الرایۃ کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ تمضمض واستنشق وادخل اصابعہ من تحت لحیتہ فخللھا اھ فالله تعالی اعلم ۔
وعلی کل فـــــ یخلو عن ابعاد النجعۃ فقداخرج الامام احمد فی مسندہ عن امیر المؤمنین علی کرم الله تعالی وجہہ انہ دعا بکوز من ماء فغسل وجہہ وکفیہ ثلثا وتمضمض ثلثا فادخل
اورقاعدہ یہ ہے کہ بدل میں مشغولی اسی وقت ہو جس وقت اصل میں مشغولیت ہوتی اھ مختصرا۔
اقول : میرے نسخہ حلیہ میں “ عن ایوب “ (ایوب سے ) ہے۔ اگریہ اصل میں عن ابی ایوب رضی اللہ تعالی عنہہے اور کاتب سے “ ابی “ چھوٹ گیاہے جب تومسندہے ورنہ مرسل ہے اور ظاہراول ہے۔ اس لئے کہ طبرانی کی ایك حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے طریقہ وضو کے بارے میں آئی ہے۔ لیکن ا س کے الفاظ نصب الرایہ کے مطابق۔ یہ ہیں : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب وضو فرماتے تو کلی کرتے اورناك میں پانی ڈالتے اور اپنی انگلیاں داڑھی کے نیچے سے ڈال کرریش مبارك کا خلال کرتے اھ۔ توخدائے برترہی کو خوب علم ہے۔
بہر حال اس حدیث سے استناد تلاش مقصود میں قریب چھوڑکردور جانے کے مرادف ہے اس لئے کہ امام احمد نے مسند میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریمسے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے ایك کوزہ میں پانی منگا کر چہرے اورہتھیلیوں کوتین بار دھویااور تین بار کلی کی تو اپنی
فــــ : تطفل علی الحلیۃ
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
نصب الرایۃ فی تخریج احادیث ھدایہ کتاب الطہارات اماحدیث ابی ایوب نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ / ۵۵
نصب الرایۃ فی تخریج احادیث ھدایہ کتاب الطہارات اماحدیث ابی ایوب نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ / ۵۵
بعض اصابعہ فی فیہ وقال فی اخرہ ھکذاکان وضوء نبی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم و نحوہ عندعبدبن حمیدعن ابی مطرعن علی رضی الله تعالی عنہ۔
ثم اقول : لیس نصافی کونہ بدلاعن السواك فقد تدخل الاصبع فی الفم لاستخراج النخاع مثلا واشارالیہ المحقق بقولہ ربمایدل ۔
علی انی اقول : معلوم فـــــ ضرورۃ شدۃ حبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم للسواك وانما فعل ھذا مرۃ بیاناللجواز فلیکن کونہ عند المضمضۃ ایضا لذالك ای من لم یستك سہوامثلا ولا سواك عندہ الان فلیستك بالاصابع حین المضمضۃ وبھذا تضعف الدلالۃ جدا۔
ایك انگلی منہ میں لے گئے۔ اوراس کے آخر میں یہ فرمایا : اسی طرح خداکے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضوتھا۔ اوراسی کے ہم معنی عبد بن حمید کی حدیث ہے جو ابو مطر کے واسطہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔
ثم اقول : یہ بھی اس بارے میں صریح نہیں کہ منہ میں انگلی ڈالنامسواك کے بدلہ میں تھا کیونکہ منہ میں انگلی کھنکاروغیرہ نکالنے کے لئے بھی ڈالی جاتی ہے۔ اسی بات کی طرف محقق حلبی نے اپنے لفظ ربما یدل(کچھ دلالت ہوتی ہے) سے اشارہ فرمایاہے۔
علاوہ ازیں میں کہتاہوں قطعی وضروری طورپرمعلوم ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکومسواك کرنا بہت محبوب تھااورصرف بیان جواز کے لئے ایك بار ایساکیا۔ توچاہئے کہ اس عمل کا وقت مضمضہ ہونابھی اسی غرض سے ہویعنی جس نے مثلا بھول کر مسواك نہیں کی او ربروقت اس کے پاس مسواك موجود نہیں تووہ وقت مـضمضہ انگلیوں سے صفائی کرلے۔ اوراس سے (مسواك کامقررہ وقت حالت مضمضہ ہونے پر )حدیث کی دلالت بہت ضعیف ہوتی ہے ۔
فـــ : تطفل آخر علیہا۔
ثم اقول : لیس نصافی کونہ بدلاعن السواك فقد تدخل الاصبع فی الفم لاستخراج النخاع مثلا واشارالیہ المحقق بقولہ ربمایدل ۔
علی انی اقول : معلوم فـــــ ضرورۃ شدۃ حبہ صلی الله تعالی علیہ وسلم للسواك وانما فعل ھذا مرۃ بیاناللجواز فلیکن کونہ عند المضمضۃ ایضا لذالك ای من لم یستك سہوامثلا ولا سواك عندہ الان فلیستك بالاصابع حین المضمضۃ وبھذا تضعف الدلالۃ جدا۔
ایك انگلی منہ میں لے گئے۔ اوراس کے آخر میں یہ فرمایا : اسی طرح خداکے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضوتھا۔ اوراسی کے ہم معنی عبد بن حمید کی حدیث ہے جو ابو مطر کے واسطہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔
ثم اقول : یہ بھی اس بارے میں صریح نہیں کہ منہ میں انگلی ڈالنامسواك کے بدلہ میں تھا کیونکہ منہ میں انگلی کھنکاروغیرہ نکالنے کے لئے بھی ڈالی جاتی ہے۔ اسی بات کی طرف محقق حلبی نے اپنے لفظ ربما یدل(کچھ دلالت ہوتی ہے) سے اشارہ فرمایاہے۔
علاوہ ازیں میں کہتاہوں قطعی وضروری طورپرمعلوم ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکومسواك کرنا بہت محبوب تھااورصرف بیان جواز کے لئے ایك بار ایساکیا۔ توچاہئے کہ اس عمل کا وقت مضمضہ ہونابھی اسی غرض سے ہویعنی جس نے مثلا بھول کر مسواك نہیں کی او ربروقت اس کے پاس مسواك موجود نہیں تووہ وقت مـضمضہ انگلیوں سے صفائی کرلے۔ اوراس سے (مسواك کامقررہ وقت حالت مضمضہ ہونے پر )حدیث کی دلالت بہت ضعیف ہوتی ہے ۔
فـــ : تطفل آخر علیہا۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت۱ / ۱۵۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
نعم روی ابو عبید فی کتاب الطھور عن امیر المؤمنین عثمن رضی الله تعالی عنہ انہ کان اذا توضأ یسوك فاہ باصبعہ لکنی اقول معترك عظیم فی دلالۃ کان یفعل علی الاستمرار بل علی التکرار و لی فیھا رسالۃ سمیتھا “ التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل “ فان اخترنا ان لا لم یدل علی الاستنان اونعم فما کان عثمن لیواظب علی ترك السواك فی محلہ مع انھم ھم الائمۃ الاعلام العاضون بنواجذھم علی سنن سید الانام علیہ وعلیھم الصلاۃ والسلام فاذن ینقدح فی الذھن والله اعلم ان السنۃ السواك قبل الوضوء وان یعالج باصبعہ عند المضمضۃ لکن لااجترئ علی القول بہ لانی لم اجد احدا من علمائنا مال الیہ۔
ہاں ابوعبید نے کتاب الطہور میں امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ “ کان اذاتو ضأ یسوك فاہ باصبعہ “ ( وہ جب وضو کرتے تھے توانگلی سے منہ(بطور مسواک) صاف کرلیا کرتے تھے-لیکن میں کہتا ہوں اس میں سخت معرکہ آرائی ہے کہ کان یفعل (کیاکرتے تھے) کی دلالت استمر اربلکہ تکرار پر ہوتی ہے یا نہیں اس کے بارے میں میرا ایك رسالہ بھی ہے جس کا نام ہے “ التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل “ (کان یفعل کے مدلول کی توضیح میں آراستہ تاج)-اگر ہم یہ اختیارکریں کہ یہ لفظ استمرار و دوام پردلالت نہیں کرتا تومسنون ہونے پر اس کی دلالت ثابت نہ ہوگی۔ اور اگر یہ اختیار کریں کہ استمرار پردلالت کرتاہے تو حضرت عثمان کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ اصل مقام پرمسواك ترك کرنے پروہ مداومت فرماتے رہے ہوں ۔ جب کہ یہی حضرات تو وہ بزرگ پیشوا و ائمہ ہیں جو سیدانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کی سنتوں کو دانت سے پکڑنے رہنے والے ہیں ۔ اب ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ سنت یہ ہے کہ وضو سے پہلے مسواك کرے اورکلی کرتے وقت
ہاں ابوعبید نے کتاب الطہور میں امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ “ کان اذاتو ضأ یسوك فاہ باصبعہ “ ( وہ جب وضو کرتے تھے توانگلی سے منہ(بطور مسواک) صاف کرلیا کرتے تھے-لیکن میں کہتا ہوں اس میں سخت معرکہ آرائی ہے کہ کان یفعل (کیاکرتے تھے) کی دلالت استمر اربلکہ تکرار پر ہوتی ہے یا نہیں اس کے بارے میں میرا ایك رسالہ بھی ہے جس کا نام ہے “ التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل “ (کان یفعل کے مدلول کی توضیح میں آراستہ تاج)-اگر ہم یہ اختیارکریں کہ یہ لفظ استمرار و دوام پردلالت نہیں کرتا تومسنون ہونے پر اس کی دلالت ثابت نہ ہوگی۔ اور اگر یہ اختیار کریں کہ استمرار پردلالت کرتاہے تو حضرت عثمان کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ اصل مقام پرمسواك ترك کرنے پروہ مداومت فرماتے رہے ہوں ۔ جب کہ یہی حضرات تو وہ بزرگ پیشوا و ائمہ ہیں جو سیدانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کی سنتوں کو دانت سے پکڑنے رہنے والے ہیں ۔ اب ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ سنت یہ ہے کہ وضو سے پہلے مسواك کرے اورکلی کرتے وقت
حوالہ / References
کتاب الطہور ، باب المضمضۃ والاستنشاق یستعان علیھا بالاصابہ ، حدیث۲۹۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۱۶
فان قلت ماحداك علی التقیید بقولك “ ولا سواك عندہ الان “ مع ان ابن عدی والدار قطنی والبیھقی والضیاء فی المختارۃ رووا عن انس بسند قال الضیاء لااری بہ باسا اھ وقد ضعفہ ابن عدی والبیہقی وقال البخاری فــــ فی روایۃ عن انس عبد الحکم القسملی منکر الحدیث وقال فی التقریب ضعیف انہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یجزئ من السواك الاصابع ورواہ البیھقی بطریق
انگلی سے صفائی کرے لیکن میں اسے کہنے کی جسارت نہیں کرتا کیونکہ اپنے علما میں سے کسی کو میں نے اس طرف مائل نہ پایا۔
اگر سوال ہو آپ نے یہ قیدکیوں لگائی کہ “ اوربروقت اس کے پاس مسواك موجودنہیں “ ۔ حالانکہ سرکار کی یہ حدیث موجود ہے کہ “ انگلیاں مسواك کی جگہ کافی ہیں “ ۔ اسے ابن عدی دارقطنی بیہقی نے اورضیاء مقدسی نے مختارہ میں حضرت انس سے روایت کیا اس کی سند سے متعلق ضیاء نے کہا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اھ۔ ابن عدی اور بیہقی نے اسے ضعیف کہا۔ اور امام بخاری نے اس حدیث کے حضرت انس سے روایت کرنے والے شخص عبدالحکم قسملی کو منکر الحدیث کہا۔ اورتقریب میں اسے ضعیف کہا ۔ اور بیہقی نے ایك اور سند سے اس کو روایت کیا اور اسے غیرمحفوظ کہا۔ اوراس کے ہم معنی طبرانی ابن عدی اورابونعیم
فــــ : تضعیف عبد الحکم القسملی۔
انگلی سے صفائی کرے لیکن میں اسے کہنے کی جسارت نہیں کرتا کیونکہ اپنے علما میں سے کسی کو میں نے اس طرف مائل نہ پایا۔
اگر سوال ہو آپ نے یہ قیدکیوں لگائی کہ “ اوربروقت اس کے پاس مسواك موجودنہیں “ ۔ حالانکہ سرکار کی یہ حدیث موجود ہے کہ “ انگلیاں مسواك کی جگہ کافی ہیں “ ۔ اسے ابن عدی دارقطنی بیہقی نے اورضیاء مقدسی نے مختارہ میں حضرت انس سے روایت کیا اس کی سند سے متعلق ضیاء نے کہا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اھ۔ ابن عدی اور بیہقی نے اسے ضعیف کہا۔ اور امام بخاری نے اس حدیث کے حضرت انس سے روایت کرنے والے شخص عبدالحکم قسملی کو منکر الحدیث کہا۔ اورتقریب میں اسے ضعیف کہا ۔ اور بیہقی نے ایك اور سند سے اس کو روایت کیا اور اسے غیرمحفوظ کہا۔ اوراس کے ہم معنی طبرانی ابن عدی اورابونعیم
فــــ : تضعیف عبد الحکم القسملی۔
حوالہ / References
المختارۃ فی الحدیث للضیاء
میزان الاعتدال ترجمہ عبد الحکم بن عبد اللہ القسملی۴۷۵۴دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۵۳۶ ، السنن الکبری(للبیہقی) کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع دار صادر بیروت ۱ / ۴۰
تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ ۳۷۶۱ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۵۳۳
السنن الکبری(للبیہقی) کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع دار صادر بیروت ۱ / ۴۰ ، الکامل لابن عدی ترجمہ عبد الحکم بن عبداللہ القسملی ، دارالفکر بیروت ۵ / ۱۹۷۱ ، کنزالعمال بحوالہ الضیاء حدیث ۲۷۱۸۸ ، مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۵
میزان الاعتدال ترجمہ عبد الحکم بن عبد اللہ القسملی۴۷۵۴دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۵۳۶ ، السنن الکبری(للبیہقی) کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع دار صادر بیروت ۱ / ۴۰
تقریب التہذیب حرف العین ترجمہ ۳۷۶۱ دارالکتب العلمیہ بیروت۱ / ۵۳۳
السنن الکبری(للبیہقی) کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع دار صادر بیروت ۱ / ۴۰ ، الکامل لابن عدی ترجمہ عبد الحکم بن عبداللہ القسملی ، دارالفکر بیروت ۵ / ۱۹۷۱ ، کنزالعمال بحوالہ الضیاء حدیث ۲۷۱۸۸ ، مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۵
اخر وقال غیر محفوظ و نحوہ للطبرانی وابن عدی وابی نعیم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا۔
قلت روی ابو نعیم فی کتاب السواك عن عمرو بن عوف المزنی رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الاصابع تجزئ مجزی السواك اذا لم یکن سواک وقد اطبق فــــ علماؤنا علی ھذا التقیید قال فی الحلیۃ لا یقوم الاصبع مقام السواك عند وجودہ فان لم یوجد یقم مقامہ ذکرہ فی الکافی وغیرہ یعنی ینال ثوابہ کما ذکرہ فی الخلاصہ اھ وفی الغنیۃ لاتقوم الاصبع مقام العود عند وجودہ وتجویز بعض الشافعیۃ اصبع الغیر دون اصبع نفسہ تحکم بلا دلیل اھ وفی الہندیۃ عن المحیط والظھیریۃ
نے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کی ہے۔
میں کہوں گا ابونعیم نے کتاب السواك میں حضرت عمر وبن عوف مزنی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : انگلیاں مسواك کی جگہ کافی ہوں گی جب مسواك نہ ہو۔ اور اس تقیید پر ہمارے علماء کا اتفاق ہے۔ حلیہ میں ہے کہ : مسواك موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی اور موجود نہیں ہے تواس کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اسے کافی وغیرہ میں ذکرکیا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ مسواك کا ثواب مل جائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ذکرکیا ہے اھ۔ اورغنیہ میں ہے کہ لکڑی موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہ ہوسکے گی۔ اور بعض شافعیہ کایہ کہنا کہ دوسرے کی انگلی بھی اپنی انگلی کی جگہ رواہے بلادلیل اور زبردستی کاحکم ہے اھ۔ ہندیہ میں محیط اور
فــــ : مسئلہ : مسواك موجود ہوتو انگلی سے دانت مانجنا ادائے سنت و حصول ثواب کے لئے کافی نہیں ۔ ہاں مسواك نہ ہو تو انگلی یا کھر کھرا کپڑا ادائے سنت کردے گا اور عورتوں کے لئے مسواك موجود ہو جب بھی مسی کافی ہے۔
قلت روی ابو نعیم فی کتاب السواك عن عمرو بن عوف المزنی رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الاصابع تجزئ مجزی السواك اذا لم یکن سواک وقد اطبق فــــ علماؤنا علی ھذا التقیید قال فی الحلیۃ لا یقوم الاصبع مقام السواك عند وجودہ فان لم یوجد یقم مقامہ ذکرہ فی الکافی وغیرہ یعنی ینال ثوابہ کما ذکرہ فی الخلاصہ اھ وفی الغنیۃ لاتقوم الاصبع مقام العود عند وجودہ وتجویز بعض الشافعیۃ اصبع الغیر دون اصبع نفسہ تحکم بلا دلیل اھ وفی الہندیۃ عن المحیط والظھیریۃ
نے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کی ہے۔
میں کہوں گا ابونعیم نے کتاب السواك میں حضرت عمر وبن عوف مزنی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : انگلیاں مسواك کی جگہ کافی ہوں گی جب مسواك نہ ہو۔ اور اس تقیید پر ہمارے علماء کا اتفاق ہے۔ حلیہ میں ہے کہ : مسواك موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی اور موجود نہیں ہے تواس کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اسے کافی وغیرہ میں ذکرکیا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ مسواك کا ثواب مل جائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ذکرکیا ہے اھ۔ اورغنیہ میں ہے کہ لکڑی موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہ ہوسکے گی۔ اور بعض شافعیہ کایہ کہنا کہ دوسرے کی انگلی بھی اپنی انگلی کی جگہ رواہے بلادلیل اور زبردستی کاحکم ہے اھ۔ ہندیہ میں محیط اور
فــــ : مسئلہ : مسواك موجود ہوتو انگلی سے دانت مانجنا ادائے سنت و حصول ثواب کے لئے کافی نہیں ۔ ہاں مسواك نہ ہو تو انگلی یا کھر کھرا کپڑا ادائے سنت کردے گا اور عورتوں کے لئے مسواك موجود ہو جب بھی مسی کافی ہے۔
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابو نعیم1فی کتاب السواک ، حدیث ۲۶۱۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہورص۳۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہورص۳۳
لاتقوم الاصبع مقام الخشبۃ فان لم توجد فحینئذ تقوم الاصبع من یمینہ مقام الخشبۃ اھ وفی الدر عند فقدہ اوفقد اسنانہ تقوم الخرقۃ الخشنۃ اوالاصبع مقامہ کما یقوم العلك مقامہ للمراۃ مع القدرۃ علیہ اھ وھو ماخوذ من البحر و زاد فیہ تقوم فی تحصیل الثواب لاعند وجودہ اھ
ظہیریہ سے نقل ہے کہ انگلی لکڑی کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ اگرمسواك موجودنہیں ہے تو داہنے ہاتھ کی انگلی اس کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اھ۔ درمختارمیں ہے : مسواك نہ ہویا دانت نہ ہوں توکھردرا کپڑا یا انگلی مسواك کے قائم مقام ہوجائے گی۔ جیسے عورت کو مسواك کی قدرت ہو جب بھی مسی اس کے قائم مقام ہوجائے گی اھ۔ یہ کلام بحر سے ماخوذ ہے اور بحر میں مزیدیہ بھی ہے کہ انگلی تحصیل ثواب میں مسواك کے قائم مقام ہوجائے گی اور مسواك موجود ہوتونہیں اھ۔ (ت)
امام زیلعی نے قول اول اختیار فرمایا کما سیاتی نقلہ (جیساکہ اسکی نقل آئیگی۔ ت) اور امام ابن امیر الحاج کے کلام سے اسکی ترجیح مفاد۔
حیث قال فی اداب الوضوء تحت قول المنیۃ وان یستاك بالسواك ان کان والا فبالاصبع کون الادب فی فعلہ ان یکون فی حالۃ المضمضۃ علی قول بعض المشائخ اھ
اس طرح کہ انہوں نے آداب وضوکے بیان میں منیہ کی عبارت وان یستاك بالسواک(اور یہ کہ مسواك سے صفائی کرے) کے تحت فرمایا : اگر مسواك موجود ہوورنہ انگلی سے۔ بعض مشائخ کے قول پراس کے استعمال میں مستحب یہ ہے کہ کلی کرتے وقت ہو۔ اھ۔ (ت)
جس کا مفاد فــــ یہ ہے کہ اکثر علما قول اول پر ہیں علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ میں فرماتے ہیں :
فـــ : ھذا قول بعض المشائخ مفادہ ان اکثرھم علی خلافہ۔
ظہیریہ سے نقل ہے کہ انگلی لکڑی کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔ اگرمسواك موجودنہیں ہے تو داہنے ہاتھ کی انگلی اس کے قائم مقام ہوجائے گی۔ اھ۔ درمختارمیں ہے : مسواك نہ ہویا دانت نہ ہوں توکھردرا کپڑا یا انگلی مسواك کے قائم مقام ہوجائے گی۔ جیسے عورت کو مسواك کی قدرت ہو جب بھی مسی اس کے قائم مقام ہوجائے گی اھ۔ یہ کلام بحر سے ماخوذ ہے اور بحر میں مزیدیہ بھی ہے کہ انگلی تحصیل ثواب میں مسواك کے قائم مقام ہوجائے گی اور مسواك موجود ہوتونہیں اھ۔ (ت)
امام زیلعی نے قول اول اختیار فرمایا کما سیاتی نقلہ (جیساکہ اسکی نقل آئیگی۔ ت) اور امام ابن امیر الحاج کے کلام سے اسکی ترجیح مفاد۔
حیث قال فی اداب الوضوء تحت قول المنیۃ وان یستاك بالسواك ان کان والا فبالاصبع کون الادب فی فعلہ ان یکون فی حالۃ المضمضۃ علی قول بعض المشائخ اھ
اس طرح کہ انہوں نے آداب وضوکے بیان میں منیہ کی عبارت وان یستاك بالسواک(اور یہ کہ مسواك سے صفائی کرے) کے تحت فرمایا : اگر مسواك موجود ہوورنہ انگلی سے۔ بعض مشائخ کے قول پراس کے استعمال میں مستحب یہ ہے کہ کلی کرتے وقت ہو۔ اھ۔ (ت)
جس کا مفاد فــــ یہ ہے کہ اکثر علما قول اول پر ہیں علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ میں فرماتے ہیں :
فـــ : ھذا قول بعض المشائخ مفادہ ان اکثرھم علی خلافہ۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ ، کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء ، الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷
الدرالمختارکتاب الطہارۃ ، سنن الوضوءمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۱
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوءایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الدرالمختارکتاب الطہارۃ ، سنن الوضوءمطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۱
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوءایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۱
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
قولہ واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر مفھومہ ان اکثر الائمۃ یجوز ۔ “
بعض ائمہ اس کی آزادی کا انکارکرتے ہیں “ ۔ اس کامفہوم یہ ہے کہ اکثر ائمہ جائز کہتے ہیں ۔ (ت)
اور یہ کہ قول فـــــ دوم نامعتمد ہے ردالمحتار باب صفۃ الصلوۃ میں ہے :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف المعتمد ۔
“ بعض کے نزدیك حرج نہیں “ یہ کہہ کرانہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیاکہ یہ قول خلاف معتمدہے۔ (ت)
اور بحرالرائق میں دوم کو قول اکثر بتایا اور بہتر ٹھہرایا اور اسی کے اتباع سے در مختار میں تضعیف اول کی طرف اشارہ کیا نہایہ وعنایہ وفتح میں دوم پر اقتصار فرمایا نہایہ وہندیہ میں ہے :
الاستیاك ھو وقت المضمضۃ ۔
مسواك کرنا وقت مضمضہ ہے ۔ (ت)
عنایہ میں ہے :
یستاك عرضا لاطولا عند المضمضمۃ ۔
کلی کے وقت مسواك کرے گا دانتوں کی چوڑائی میں لمبائی میں نہیں ۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
قولہ والسواك ای الاستیاك عند المضمضۃ ۔
“ اورمسواك کرنا “ یعنی کلی کے وقت مسواك کرنا(ت)
بحر میں ہے :
اختلف فی وقتہ ففی النھایۃ وفتح القدیر انہ عند المضمضۃ وفی البدائع والمجتبی
وقت مسواك میں اختلاف ہے۔ نہایہ اورفتح القدیرمیں ہے کہ یہ مضمضہ کے وقت ہے۔ بدائع اور
فـــــ : نسبۃ قول الی البعض تفید ان المعتمد خلافہ۔
بعض ائمہ اس کی آزادی کا انکارکرتے ہیں “ ۔ اس کامفہوم یہ ہے کہ اکثر ائمہ جائز کہتے ہیں ۔ (ت)
اور یہ کہ قول فـــــ دوم نامعتمد ہے ردالمحتار باب صفۃ الصلوۃ میں ہے :
قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف المعتمد ۔
“ بعض کے نزدیك حرج نہیں “ یہ کہہ کرانہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیاکہ یہ قول خلاف معتمدہے۔ (ت)
اور بحرالرائق میں دوم کو قول اکثر بتایا اور بہتر ٹھہرایا اور اسی کے اتباع سے در مختار میں تضعیف اول کی طرف اشارہ کیا نہایہ وعنایہ وفتح میں دوم پر اقتصار فرمایا نہایہ وہندیہ میں ہے :
الاستیاك ھو وقت المضمضۃ ۔
مسواك کرنا وقت مضمضہ ہے ۔ (ت)
عنایہ میں ہے :
یستاك عرضا لاطولا عند المضمضمۃ ۔
کلی کے وقت مسواك کرے گا دانتوں کی چوڑائی میں لمبائی میں نہیں ۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
قولہ والسواك ای الاستیاك عند المضمضۃ ۔
“ اورمسواك کرنا “ یعنی کلی کے وقت مسواك کرنا(ت)
بحر میں ہے :
اختلف فی وقتہ ففی النھایۃ وفتح القدیر انہ عند المضمضۃ وفی البدائع والمجتبی
وقت مسواك میں اختلاف ہے۔ نہایہ اورفتح القدیرمیں ہے کہ یہ مضمضہ کے وقت ہے۔ بدائع اور
فـــــ : نسبۃ قول الی البعض تفید ان المعتمد خلافہ۔
حوالہ / References
شرح الوہبانیہ
رد المحتار کتاب الصلوٰۃ ، فصل(فی بیان تألیف الصلوٰۃ الی انتہائہا) دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۲
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ(الفصل االثانی فی سنن الوضوء) نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶۰
العنایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱
فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲
رد المحتار کتاب الصلوٰۃ ، فصل(فی بیان تألیف الصلوٰۃ الی انتہائہا) دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۳۲
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ(الفصل االثانی فی سنن الوضوء) نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶۰
العنایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۱
فتح القدیر کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲
قبل الوضوء والاکثر علی الاول وھو الاولی لانہ الاکمل فی الانقاء ۔
مجتبی میں ہے کہ قبل وضو ہے۔ اوراکثر اول پرہیں اور وہی اولی ہے کیونکہ صفائی میں یہ زیادہ کامل ہے۔ (ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے : وعلیہ الاکثرون ۔ اور اکثر اسی پر ہیں (ت)
اقول : وبالله التوفیق۔ اولا یہ معلوم فــــ ہو کہ دربارہ سواك کلمات علما مختلف ہیں کہ سنت ہے یا مستحب۔ عامہ متون میں سنت ہونے کی تصریح فرمائی اور اسی پر اکثر ہیں صغیری میں اسی کو اصح کہا جوہرہ نیرہ ودرمختار میں سنت مؤکدہ ہونے پر جزم کیا لیکن ہدایہ واختیار میں استحباب کو اصح اور تبیین و خیرمطلوب میں صحیح بتایا فتح میں اسی کو حق ٹھہرایا حلیہ وبحر نے ان کا اتباع کیا۔ علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں :
قد عدہ القدوری والاکثرون من السنن وھو الاصح ۔
امام قدوری او ر اکثر حضرات نے اسے سنت شمار کیا اوریہی اصح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے : وعلیہ المتون (اور اسی پر متون ہیں ۔ ت)درمختار میں ہے :
السواك سنۃ مؤکدۃ کما فی الجوھرۃ
مسواك سنت مؤکدہ ہے جیساکہ جوھرہ میں ہے۔ (ت)
ہدایہ میں ہے : الاصح انہ مستحب (اصح یہ ہے کہ وہ یہ مستحب ہے۔ ت)امام زیلعی فرماتے ہیں :
الصحیح انھما مستحبان یعنی السواك والتسمیۃ
صحیح یہ ہے کہ دونوں - یعنی مسواك اور تسمیہ- مستحب
فـــــ : مسئلہ : مسواك وضو کے لئے سنت یا مستحب ہونے میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے اور اس بارہ میں مصنف کی تحقیق۔
مجتبی میں ہے کہ قبل وضو ہے۔ اوراکثر اول پرہیں اور وہی اولی ہے کیونکہ صفائی میں یہ زیادہ کامل ہے۔ (ت)
شرح نقایہ برجندی میں ہے : وعلیہ الاکثرون ۔ اور اکثر اسی پر ہیں (ت)
اقول : وبالله التوفیق۔ اولا یہ معلوم فــــ ہو کہ دربارہ سواك کلمات علما مختلف ہیں کہ سنت ہے یا مستحب۔ عامہ متون میں سنت ہونے کی تصریح فرمائی اور اسی پر اکثر ہیں صغیری میں اسی کو اصح کہا جوہرہ نیرہ ودرمختار میں سنت مؤکدہ ہونے پر جزم کیا لیکن ہدایہ واختیار میں استحباب کو اصح اور تبیین و خیرمطلوب میں صحیح بتایا فتح میں اسی کو حق ٹھہرایا حلیہ وبحر نے ان کا اتباع کیا۔ علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں :
قد عدہ القدوری والاکثرون من السنن وھو الاصح ۔
امام قدوری او ر اکثر حضرات نے اسے سنت شمار کیا اوریہی اصح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے : وعلیہ المتون (اور اسی پر متون ہیں ۔ ت)درمختار میں ہے :
السواك سنۃ مؤکدۃ کما فی الجوھرۃ
مسواك سنت مؤکدہ ہے جیساکہ جوھرہ میں ہے۔ (ت)
ہدایہ میں ہے : الاصح انہ مستحب (اصح یہ ہے کہ وہ یہ مستحب ہے۔ ت)امام زیلعی فرماتے ہیں :
الصحیح انھما مستحبان یعنی السواك والتسمیۃ
صحیح یہ ہے کہ دونوں - یعنی مسواك اور تسمیہ- مستحب
فـــــ : مسئلہ : مسواك وضو کے لئے سنت یا مستحب ہونے میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے اور اس بارہ میں مصنف کی تحقیق۔
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۲۰
شرح نقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ1نو لکشور لکھنؤ۱ / ۱۶
صغیری شرح منیۃ المصلی بحث سنن الوضوء مطبع مجتبائی دہلی ص۱۳ ، غنیۃ المستملی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۲
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۷۷
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الہدایۃ مع فتح القدیر ، کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲
شرح نقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ1نو لکشور لکھنؤ۱ / ۱۶
صغیری شرح منیۃ المصلی بحث سنن الوضوء مطبع مجتبائی دہلی ص۱۳ ، غنیۃ المستملی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۲
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ / ۷۷
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱
الہدایۃ مع فتح القدیر ، کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲
لانھما لیسا من خصائص الوضوء
ہیں اس لئے کہ یہ دونوں وضوکی خصوصیات میں سے نہیں ہیں ۔ (ت)
محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں :
الحق انہ من مستحبات الوضوء
حق یہ ہے کہ وہ مستحبات وضومیں سے ہے ۔ (ت)
امام ابن امیر الحاج بعد ذکر حدیث فرماتے ہیں :
ھذا عند التحقیق انما یفید الاستحباب فلا جرم ان قال فی خیر مطلوب ھو الصحیح وفی الاختیار قالوا والا صح انہ مستحب
عند التحقیق ان سب کامفاد استحباب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیرمطلوب میں اسی کو صحیح کہا اور “ اختیار “ میں ہے کہ علماء نے فرمایا : اصح یہ ہے کہ وہ مستحب ہے۔ (ت)
علامہ خیر الدین رملی قول بحر دربارہ استحباب نقلا عن الفتح ھو الحق (فتح سے نقل کیا گیا کہ وہ حق ہے۔ ت) پھر قول صغیری دربارہ سنیت ھو الاصح نقل کرکے فرماتے ہیں :
فقد علم بذلك اختلاف التصحیح اھ کما فی المنحۃ
اس سے معلوم ہواکہ اس بارے میں اختلاف تصحیح ہے اھ جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔ (ت)
اقول : جب تصحیح مختلف ہے تو متون پر عمل لازم کما نصوا علیہ (جیساکہ علماء نے اس فائدہ کی صراحت فرمائی ہے۔ ت)قول سنیت کی ایك وجہ ترجیح یہ ہوئی۔ وجہ دوم خود امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہسے سنیت پر نص وارد۔ امام عینی فرماتے ہیں :
المنقول عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علی ماذکرہ صاحب المفید ان السواك من سنن الدین اھ نقلہ الشلبی علی الکنز۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے۔ جیساکہ صاحب مفید نے یہ نقل ذکر کی ہے اھ۔ اسے شلبی نے حاشیہ کنز میں نقل کیا۔ (ت)
ہیں اس لئے کہ یہ دونوں وضوکی خصوصیات میں سے نہیں ہیں ۔ (ت)
محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں :
الحق انہ من مستحبات الوضوء
حق یہ ہے کہ وہ مستحبات وضومیں سے ہے ۔ (ت)
امام ابن امیر الحاج بعد ذکر حدیث فرماتے ہیں :
ھذا عند التحقیق انما یفید الاستحباب فلا جرم ان قال فی خیر مطلوب ھو الصحیح وفی الاختیار قالوا والا صح انہ مستحب
عند التحقیق ان سب کامفاد استحباب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیرمطلوب میں اسی کو صحیح کہا اور “ اختیار “ میں ہے کہ علماء نے فرمایا : اصح یہ ہے کہ وہ مستحب ہے۔ (ت)
علامہ خیر الدین رملی قول بحر دربارہ استحباب نقلا عن الفتح ھو الحق (فتح سے نقل کیا گیا کہ وہ حق ہے۔ ت) پھر قول صغیری دربارہ سنیت ھو الاصح نقل کرکے فرماتے ہیں :
فقد علم بذلك اختلاف التصحیح اھ کما فی المنحۃ
اس سے معلوم ہواکہ اس بارے میں اختلاف تصحیح ہے اھ جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔ (ت)
اقول : جب تصحیح مختلف ہے تو متون پر عمل لازم کما نصوا علیہ (جیساکہ علماء نے اس فائدہ کی صراحت فرمائی ہے۔ ت)قول سنیت کی ایك وجہ ترجیح یہ ہوئی۔ وجہ دوم خود امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہسے سنیت پر نص وارد۔ امام عینی فرماتے ہیں :
المنقول عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علی ماذکرہ صاحب المفید ان السواك من سنن الدین اھ نقلہ الشلبی علی الکنز۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے۔ جیساکہ صاحب مفید نے یہ نقل ذکر کی ہے اھ۔ اسے شلبی نے حاشیہ کنز میں نقل کیا۔ (ت)
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۳۳
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۲۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ اییم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰
حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۳۵ ، ۳۶
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۲۲
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ اییم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰
حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۳۵ ، ۳۶
بلکہ ہمارے صاحب مذہب کے تلمیذ جلیل امام الفقہاء امام المحدثین امام الاولیاء سیدنا عبدالله بن مباركرضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا : اگر بستی کے لوگ سنیت مسواك کے ترك پر اتفاق کریں تو ہم ان پر اس طرح جہاد کریں گے جیسا جمرتدوں پر کرتے ہیں تاکہ لوگ اس سنت کے ترك پر جرأت نہ کریں ۔ فتاوی حجہ میں ہے :
قال عبدالله بن المبارك لوان اھل قریۃ اجتمعوا علی ترك سنۃ السواك نقاتلھم کما نقاتل المرتدین کیلا یجترئ الناس علی ترك سنۃ السواك وھو من احکام الاسلام ۔
حضرت عبدالله بن مبارك رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : اگرکسی بستی والے سب کے سب سنت مسواك چھوڑدیں توہم ان سے اس طرح جنگ کریں گے جیسے مرتدین سے کرتے ہیں تاکہ لوگوں کوسنت مسواك کے ترك کی جسارت نہ ہوجب کہ یہ احکام اسلام میں سے ایك حکم ہے۔ (ت)
حلیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا :
وھذا یفید انہ من سنن الدین کما حکاہ قولا فی المفید ولیس بعید ۔
اس سے مستفاد ہوتاہے کہ یہ دین کی ایك سنت ہے جیسا کہ مفید میں بلفظہ یہی قول امام صاحب سے حکایت کیا اور یہ بعید نہیں ۔ (ت)
وجہ سوم یہی اقوی من حیث الدلیل ہے کہ احادیث متوافرہ اس کی تاکید اور اس میں قولا وفعلا اہتمام شدید پر ناطق جن سے کتب احادیث مملو ہیں بلکہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی اس پر مواظبت ومداومت گویا ضروریات وبدیہیات سے ہے ہر شخص کہ احوال قدسیہ پر مطلع ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا اس پر مداومت فرمانا جانتا ہے خود ہدایہ میں فرمایا :
والسواك لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یواظب علیہ ۔
اور مسواك کرنا اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس پر مداومت فرماتے تھے۔ (ت)
قال عبدالله بن المبارك لوان اھل قریۃ اجتمعوا علی ترك سنۃ السواك نقاتلھم کما نقاتل المرتدین کیلا یجترئ الناس علی ترك سنۃ السواك وھو من احکام الاسلام ۔
حضرت عبدالله بن مبارك رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : اگرکسی بستی والے سب کے سب سنت مسواك چھوڑدیں توہم ان سے اس طرح جنگ کریں گے جیسے مرتدین سے کرتے ہیں تاکہ لوگوں کوسنت مسواك کے ترك کی جسارت نہ ہوجب کہ یہ احکام اسلام میں سے ایك حکم ہے۔ (ت)
حلیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا :
وھذا یفید انہ من سنن الدین کما حکاہ قولا فی المفید ولیس بعید ۔
اس سے مستفاد ہوتاہے کہ یہ دین کی ایك سنت ہے جیسا کہ مفید میں بلفظہ یہی قول امام صاحب سے حکایت کیا اور یہ بعید نہیں ۔ (ت)
وجہ سوم یہی اقوی من حیث الدلیل ہے کہ احادیث متوافرہ اس کی تاکید اور اس میں قولا وفعلا اہتمام شدید پر ناطق جن سے کتب احادیث مملو ہیں بلکہ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی اس پر مواظبت ومداومت گویا ضروریات وبدیہیات سے ہے ہر شخص کہ احوال قدسیہ پر مطلع ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا اس پر مداومت فرمانا جانتا ہے خود ہدایہ میں فرمایا :
والسواك لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یواظب علیہ ۔
اور مسواك کرنا اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس پر مداومت فرماتے تھے۔ (ت)
حوالہ / References
الفتاوی الحجۃ
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہدایہ ، کتاب الطہارۃ ، المکتبۃ العربیہ کراچی ،۱ / ۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الہدایہ ، کتاب الطہارۃ ، المکتبۃ العربیہ کراچی ،۱ / ۶
تبیین میں فرمایا :
وقد واظب علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس پر مداومت فرمائی۔ (ت)
اسی طرح کافی امام نسفی وغیرہ میں ہے : ۔
وسیرد وعلیك بقیۃ الکلام فی اتمام تقریب المرام بعون المك العلام
(بعون ملك علام اس سے متعلق بقیہ کلام تقریب مقصود کی تکمیل میں آئے گا۔ ت)
ثانیا : سنیت کو مواظبت درکار اب ہم وضو میں کلی کے وقت احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہرگز اس وقت مسواك پر مواظبت ثابت نہیں ہوتی۔ خود امام محقق علی الاطلاق کو اس کا اعتراف ہے اور اسی بنا پر قول استحباب اختیار فرمایا۔ فتح میں فرماتے ہیں :
المطلوب مواظبتہ علیہ الصلوۃ والسلام عند الوضوء ولم اعلم حدیثا صریحا فیہ ۔
مطلوب یہ ہے کہ وضوکے وقت اس پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مداومت ثابت ہواورمیرے علم میں اس بارے میں کوئی صریح حدیث نہیں ہے۔ (ت)
اقول : بلکہ مواظبت درکنار چوبیس۲۴صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے صفت وضو قولا وفعلا نقل فرمائی :
(۱) امیر المومنین عثمان غنی (۲) امیر المومنین مولا علی (۳) عبدالله بن عباس
(۴) عبدالله بن زید بن عاصم (۵) مغیرہ بن شعبہ (۶) مقدام بن معدی کرب
(۷) ابو مالك اشعری (۸) ابو بکرہ نفیع بن الحارث (۹) ابو ہریرہ
(۱۰) وائل بن حجر (۱۱)نفیر بن مالك حضرمی (۱۲) ابو امامہ باہلی
(۱۳) انس بن مالك (۱۴)ابو ایوب انصاری (۱۵) کعب بن عمرو یامی
(۱۶) عبدالله بن ابی اوفی (۱۷)براء بن عازب (۱۸) قیس بن عائذ
(۱۹) ام المومنین صدیقہ (۲۰)ربیع بنت معوذ بن عفراء (۲۱) عبدالله بن انیس
(۲۲) عبدالله بن عمرو بن عاص (۲۳)امیر معویہ (۲۴) رجل من الصحابہ لم یسم رضی الله عنہم اجمعین
وقد واظب علیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس پر مداومت فرمائی۔ (ت)
اسی طرح کافی امام نسفی وغیرہ میں ہے : ۔
وسیرد وعلیك بقیۃ الکلام فی اتمام تقریب المرام بعون المك العلام
(بعون ملك علام اس سے متعلق بقیہ کلام تقریب مقصود کی تکمیل میں آئے گا۔ ت)
ثانیا : سنیت کو مواظبت درکار اب ہم وضو میں کلی کے وقت احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہرگز اس وقت مسواك پر مواظبت ثابت نہیں ہوتی۔ خود امام محقق علی الاطلاق کو اس کا اعتراف ہے اور اسی بنا پر قول استحباب اختیار فرمایا۔ فتح میں فرماتے ہیں :
المطلوب مواظبتہ علیہ الصلوۃ والسلام عند الوضوء ولم اعلم حدیثا صریحا فیہ ۔
مطلوب یہ ہے کہ وضوکے وقت اس پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مداومت ثابت ہواورمیرے علم میں اس بارے میں کوئی صریح حدیث نہیں ہے۔ (ت)
اقول : بلکہ مواظبت درکنار چوبیس۲۴صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے صفت وضو قولا وفعلا نقل فرمائی :
(۱) امیر المومنین عثمان غنی (۲) امیر المومنین مولا علی (۳) عبدالله بن عباس
(۴) عبدالله بن زید بن عاصم (۵) مغیرہ بن شعبہ (۶) مقدام بن معدی کرب
(۷) ابو مالك اشعری (۸) ابو بکرہ نفیع بن الحارث (۹) ابو ہریرہ
(۱۰) وائل بن حجر (۱۱)نفیر بن مالك حضرمی (۱۲) ابو امامہ باہلی
(۱۳) انس بن مالك (۱۴)ابو ایوب انصاری (۱۵) کعب بن عمرو یامی
(۱۶) عبدالله بن ابی اوفی (۱۷)براء بن عازب (۱۸) قیس بن عائذ
(۱۹) ام المومنین صدیقہ (۲۰)ربیع بنت معوذ بن عفراء (۲۱) عبدالله بن انیس
(۲۲) عبدالله بن عمرو بن عاص (۲۳)امیر معویہ (۲۴) رجل من الصحابہ لم یسم رضی الله عنہم اجمعین
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ1دارالکتب العلمیۃ بیروت۱ / ۳۵
فتح القدیر1کتاب الطہارۃ1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۲۲
فتح القدیر1کتاب الطہارۃ1مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۲۲
اول کے بیس۲۰ علامہ محدث جلیل زیلعی نے ذکر کئے ان کے بعد کے دو۲ امام محقق علی الاطلاق نے زیادہ فرمائے اخیرکے دو اس فقیرغفر لہ نے بڑھائے اوران کے پچیسویں امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہیں مگر ان سے خود ان کے وضو کی صفت مروی ہے اگرچہ وہ بھی حکم مرفوع میں ہے
رواہ سعید بن منصور فی سننہ عن الاسود بن الاسود بن یزید قال بعثنی عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ الی عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ الحدیث والحدیث قبلہ رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ والعدنی والخطیب عن رجل من الانصار ان رجلا قال الا اریکم کیف کان وضوء رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قالوا بلی الحدیث وحدیث معویۃ رضی الله تعالی عنہ عند ابن عساکر۔
اسے سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اسود بن اسود بن یزید سے روایت کیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہکے پاس بھیجا۔ اس کے بعدطریقہ وضوسے متعلق پوری حدیث ہے۔ اور اس سے قبل والی حدیث جسے ہم نے بتایا کہ ایك صحابی سے مروی ہے جن کا نام مذکور نہیں اسے ابوبکربن ابی شیبہ اور عدنی اورخطیب نے روایت کیا ایك انصاری سے کہ ایك شخص نے کہامیں تمہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکاوضونہ دکھاؤں لوگوں نے کہا کیوں نہیں !۔ اس کے بعد باقی حدیث ہے۔ اورحضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث ابن عساکرنے روایت کی ہے۔ (ت)
ان پچیس۲۵ صحابہ کی بہت کثیر التعداد حدیثیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں کہیں وضو یا کلی کرتے میں مسواك فرمانے کا اصلا ذکر نہیں جنہوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طریقہ وضو زبان سے بتایا انہوں نے مسواك کا ذکر نہ کیا جنہوں نے اسی لئے وضو کرکے دکھایاکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طریقہ مسنونہ بتائیں انہوں نے مسواك نہ کی علی الخصوص امیر المومنین ذوالنورین و
رواہ سعید بن منصور فی سننہ عن الاسود بن الاسود بن یزید قال بعثنی عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ الی عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ الحدیث والحدیث قبلہ رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ والعدنی والخطیب عن رجل من الانصار ان رجلا قال الا اریکم کیف کان وضوء رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قالوا بلی الحدیث وحدیث معویۃ رضی الله تعالی عنہ عند ابن عساکر۔
اسے سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اسود بن اسود بن یزید سے روایت کیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہکے پاس بھیجا۔ اس کے بعدطریقہ وضوسے متعلق پوری حدیث ہے۔ اور اس سے قبل والی حدیث جسے ہم نے بتایا کہ ایك صحابی سے مروی ہے جن کا نام مذکور نہیں اسے ابوبکربن ابی شیبہ اور عدنی اورخطیب نے روایت کیا ایك انصاری سے کہ ایك شخص نے کہامیں تمہیں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکاوضونہ دکھاؤں لوگوں نے کہا کیوں نہیں !۔ اس کے بعد باقی حدیث ہے۔ اورحضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث ابن عساکرنے روایت کی ہے۔ (ت)
ان پچیس۲۵ صحابہ کی بہت کثیر التعداد حدیثیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں کہیں وضو یا کلی کرتے میں مسواك فرمانے کا اصلا ذکر نہیں جنہوں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طریقہ وضو زبان سے بتایا انہوں نے مسواك کا ذکر نہ کیا جنہوں نے اسی لئے وضو کرکے دکھایاکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طریقہ مسنونہ بتائیں انہوں نے مسواك نہ کی علی الخصوص امیر المومنین ذوالنورین و
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ص عن الاسودبن الاسود حدیث ۲۶۹۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۴۴۶،۴۴۷
کنزالعمال بحوالہ ش والعدنی وخط عن رجل حدیث ۲۶۸۶۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۴۳۷
کنزالعمال بحوالہ ش والعدنی وخط عن رجل حدیث ۲۶۸۶۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۴۳۷
امیر المومنین مرتضیرضی اللہ تعالی عنہماکہ دونوں حضرات سے بوجوہ کثیرہ بارہا بکثرت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضو کر کے دکھانا مروی ہوا کسی بار میں مسواك کا ذکر نہیں ۔
عثمان غنی سے راوی ان کے مولی حمران عند احمد والبخاری ومسلم وابی داود والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ والبزاروابی یعلی والعدنی وابن حبان والدار قطنی وابن بشران فی امالیہ وابی نعیم فی الحلیۃ۔ ابن الجارود عند الامام الطحاوی وابن حبان والبغوی فی مسند عثمان وسعید بن منصور۔ ابو وائل شقیق بن سلمہ عند عبدالرزاق وابن منیع والدارمی وابی داؤد وابن خزیمۃ والدارقطنی۔ ابو دارہ عند احمد والدارقطنی والضیاء۔ عبدالرحمن سلمانی عند البغوی فیہ۔ عبدالله بن جعفر ابو علقمہ کلاھما عند الدارقطنی عبدالله بن ابی ملکیہ عند ابی داؤد ابو مالك دمشقی عند سعید بن منصور قال حدثت ابو النضر سالم عند ابن منیع والحارث وابی یعلی ولم یلق عثمن ۔
سیدناعثمان غنی سے ایك راوی ان کے آزاد کردہ غلام حمران ہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲بخاری ۳مسلم ۴ابو داؤد ۵نسائی ۶ابن ماجہ ۷ابن خزیمہ ۸بزار ۹ابویعلی ۱۰عدنی ۱۱ابن حبان ۱۲دارقطنی ۱۳ابن بشران نے اپنی امالی میں اور ۱۴ابو نعیم نے حلیۃ الاولیا میں ذکر کی ہے۔ دوسرے راوی ابن الجارود ہیں جن کی روایت ۱امام طحاوی ۲ابن حبان نے بغوی نے ۳مسندعثمان میں اور سعید بن منصور نے ذکر کی ہے۔ تیسرے راوی ابو وائل شقیق بن سلمہ ہیں جن کی روایت ۱عبدالرزاق ۲ابن منیع ۳دارمی ۴ابو داؤد ۵ابن خزیمہ اور ۶دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ چوتھے راوی ابو دارہ ہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲دارقطنی اور ۳ضیاء نے ذکر کی ہے۔ پانچویں راوی عبدالرحمان سلمانی ہیں جن کی روایت بغوی نے مسند عثمان میں ذکرکی ہے۔ چھٹے راوی عبدالله بن جعفر ساتویں ابو علقمہ ہیں دونوں حضرات کی روایت دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ آٹھویں راوی عبدالله بن ابی ملیکہ ہیں جن کی روایت ابو داؤد نے ذکر کی ہے۔ نویں راوی ابو مالك دمشقی ہیں جن کی روایت سعیدبن منصور نے ذکرکی ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیاگیا۔ دسویں راوی ابوالنضرسالم ہیں جن کی روایت ابن منیع حارث اور ابویعلی نے ذکرکی ہے اور انہیں حضرت عثمان کی ملاقات حاصل نہیں ۔ (ت)
عثمان غنی سے راوی ان کے مولی حمران عند احمد والبخاری ومسلم وابی داود والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ والبزاروابی یعلی والعدنی وابن حبان والدار قطنی وابن بشران فی امالیہ وابی نعیم فی الحلیۃ۔ ابن الجارود عند الامام الطحاوی وابن حبان والبغوی فی مسند عثمان وسعید بن منصور۔ ابو وائل شقیق بن سلمہ عند عبدالرزاق وابن منیع والدارمی وابی داؤد وابن خزیمۃ والدارقطنی۔ ابو دارہ عند احمد والدارقطنی والضیاء۔ عبدالرحمن سلمانی عند البغوی فیہ۔ عبدالله بن جعفر ابو علقمہ کلاھما عند الدارقطنی عبدالله بن ابی ملکیہ عند ابی داؤد ابو مالك دمشقی عند سعید بن منصور قال حدثت ابو النضر سالم عند ابن منیع والحارث وابی یعلی ولم یلق عثمن ۔
سیدناعثمان غنی سے ایك راوی ان کے آزاد کردہ غلام حمران ہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲بخاری ۳مسلم ۴ابو داؤد ۵نسائی ۶ابن ماجہ ۷ابن خزیمہ ۸بزار ۹ابویعلی ۱۰عدنی ۱۱ابن حبان ۱۲دارقطنی ۱۳ابن بشران نے اپنی امالی میں اور ۱۴ابو نعیم نے حلیۃ الاولیا میں ذکر کی ہے۔ دوسرے راوی ابن الجارود ہیں جن کی روایت ۱امام طحاوی ۲ابن حبان نے بغوی نے ۳مسندعثمان میں اور سعید بن منصور نے ذکر کی ہے۔ تیسرے راوی ابو وائل شقیق بن سلمہ ہیں جن کی روایت ۱عبدالرزاق ۲ابن منیع ۳دارمی ۴ابو داؤد ۵ابن خزیمہ اور ۶دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ چوتھے راوی ابو دارہ ہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲دارقطنی اور ۳ضیاء نے ذکر کی ہے۔ پانچویں راوی عبدالرحمان سلمانی ہیں جن کی روایت بغوی نے مسند عثمان میں ذکرکی ہے۔ چھٹے راوی عبدالله بن جعفر ساتویں ابو علقمہ ہیں دونوں حضرات کی روایت دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ آٹھویں راوی عبدالله بن ابی ملیکہ ہیں جن کی روایت ابو داؤد نے ذکر کی ہے۔ نویں راوی ابو مالك دمشقی ہیں جن کی روایت سعیدبن منصور نے ذکرکی ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیاگیا۔ دسویں راوی ابوالنضرسالم ہیں جن کی روایت ابن منیع حارث اور ابویعلی نے ذکرکی ہے اور انہیں حضرت عثمان کی ملاقات حاصل نہیں ۔ (ت)
علی مرتضی سے راوی عبد خیر
عندعبدالرزاق وابی بکربن ابی شیبۃ وسعید بن منصور والدارمی وابی داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والطحاوی وابن منیع وابن خزیمۃ وابی یعلی وابن الجارود وابن حبان والدارقطنی والضیاء ابوحیہ عند عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ واحمد وابی داؤد الترمذی و النسائی وابی یعلی والطحاوی والھروی فی مسند علی والضیاء سیدنا امام حسین رضی الله تعالی عنہ عند النسائی وابن جریرعبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما عند احمد وابی داؤد وابی یعلی وابن خزیمۃ والطحاوی وابن حبان والضیاء زربن حبیش عند احمد وابی داؤد سمویہ والضیاء ابو العریف عند احمد وابی یعلی ابو مطر عند عبد بن حمید۔
حضرت علی مرتضی سے ایك راوی عبدخیر ہیں جن کی روایت ۱عبدالرزاق ۲ابوبکربن ابی شیبہ ۳سعید بن منصور ۴دارمی ۵ابوداؤد ۶ترمذی ۷نسائی ۸ابن ماجہ ۹طحاوی ۱۰ابن منیع ۱۱ ابن خزیمہ ۱۲ابو یعلی ۱۳ابن الجارود ۱۴ابن حبان ۱۵دارقطنی اورضیاء نے ذکر کی ہے۔ دوسرے راوی ابوحیہ ہیں جن کی روایت۱عبدالرزاق ۲ابن ابی شیبہ ۳امام احمد ۴ابوداؤد ۵ترمذی ۶نسائی ۷ابو یعلی ۸طحاوی اور۹ہروی نے مسند علی میں اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔ تیسرے راوی سیدناامام حسین رضی اللہ تعالی عنہہیں جن کی روایت ۱نسائی ۲طحاوی اور۳ابن جریرنے ذکرکی ہے۔ چوتھے راوی عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲ابوداؤد ۳ابو یعلی ۴ابن خزیمہ ۵امام طحاوی ۶ابن حبان اور۷ضیاء نے ذکر کی ہے۔ پانچویں راوی زربن حبیش ہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲ابوداؤد ۳سمویہ اور۴ضیاء نے ذکر کی ہے۔ چھٹے راوی ابو العریف ہیں جن کی روایت امام احمداورابو یعلی نے ذکر کی ہے۔ ساتویں راوی ابو مطر ہیں جن کی روایت عبد بن حمید نے ذکر کی ہے۔
یوں ہی عبدالله بن عباس وعبدالله بن زیدرضی اللہ تعالی عنہمسے بھی احادیث کثیرہ بطریق عدیدہ مروی ہوئیں سب کی تفصیل باعث تطویل ان تمام حدیث کا ترك ذکر مسواك پر اتفاق تویہ بتارہا ہے کہ اس وقت مسواك نہ فرمانا ہی معتاد ورنہ کوئی تو ذکر کرتا۔
اقول : بلکہ صدہااحادیث متعلق وضو ومسواك اس وقت سامنے ہیں کسی ایك حدیث صحیح صریح سے اصلا مسواك کیلئے وقت مضمضہ یا داخل وضو ہونے کا پتہ نہیں چلتا جن بعض سے اشتباہ ہو اس سے
عندعبدالرزاق وابی بکربن ابی شیبۃ وسعید بن منصور والدارمی وابی داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والطحاوی وابن منیع وابن خزیمۃ وابی یعلی وابن الجارود وابن حبان والدارقطنی والضیاء ابوحیہ عند عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ واحمد وابی داؤد الترمذی و النسائی وابی یعلی والطحاوی والھروی فی مسند علی والضیاء سیدنا امام حسین رضی الله تعالی عنہ عند النسائی وابن جریرعبدالله بن عباس رضی الله تعالی عنہما عند احمد وابی داؤد وابی یعلی وابن خزیمۃ والطحاوی وابن حبان والضیاء زربن حبیش عند احمد وابی داؤد سمویہ والضیاء ابو العریف عند احمد وابی یعلی ابو مطر عند عبد بن حمید۔
حضرت علی مرتضی سے ایك راوی عبدخیر ہیں جن کی روایت ۱عبدالرزاق ۲ابوبکربن ابی شیبہ ۳سعید بن منصور ۴دارمی ۵ابوداؤد ۶ترمذی ۷نسائی ۸ابن ماجہ ۹طحاوی ۱۰ابن منیع ۱۱ ابن خزیمہ ۱۲ابو یعلی ۱۳ابن الجارود ۱۴ابن حبان ۱۵دارقطنی اورضیاء نے ذکر کی ہے۔ دوسرے راوی ابوحیہ ہیں جن کی روایت۱عبدالرزاق ۲ابن ابی شیبہ ۳امام احمد ۴ابوداؤد ۵ترمذی ۶نسائی ۷ابو یعلی ۸طحاوی اور۹ہروی نے مسند علی میں اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔ تیسرے راوی سیدناامام حسین رضی اللہ تعالی عنہہیں جن کی روایت ۱نسائی ۲طحاوی اور۳ابن جریرنے ذکرکی ہے۔ چوتھے راوی عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲ابوداؤد ۳ابو یعلی ۴ابن خزیمہ ۵امام طحاوی ۶ابن حبان اور۷ضیاء نے ذکر کی ہے۔ پانچویں راوی زربن حبیش ہیں جن کی روایت ۱امام احمد ۲ابوداؤد ۳سمویہ اور۴ضیاء نے ذکر کی ہے۔ چھٹے راوی ابو العریف ہیں جن کی روایت امام احمداورابو یعلی نے ذکر کی ہے۔ ساتویں راوی ابو مطر ہیں جن کی روایت عبد بن حمید نے ذکر کی ہے۔
یوں ہی عبدالله بن عباس وعبدالله بن زیدرضی اللہ تعالی عنہمسے بھی احادیث کثیرہ بطریق عدیدہ مروی ہوئیں سب کی تفصیل باعث تطویل ان تمام حدیث کا ترك ذکر مسواك پر اتفاق تویہ بتارہا ہے کہ اس وقت مسواك نہ فرمانا ہی معتاد ورنہ کوئی تو ذکر کرتا۔
اقول : بلکہ صدہااحادیث متعلق وضو ومسواك اس وقت سامنے ہیں کسی ایك حدیث صحیح صریح سے اصلا مسواك کیلئے وقت مضمضہ یا داخل وضو ہونے کا پتہ نہیں چلتا جن بعض سے اشتباہ ہو اس سے
دفع شبہ کریں ۔
حدیث اول محقق علی الاطلاق نے صرف ایك حدیث پائی جس سے اس پر استدلال ہوسکے :
حیث قال بعد ذکراحادیث وفی الصحیحین قال صلی الله تعالی علیہ وسلم لولاان اشق علی امتی لامرتھم بالسواك مع کل صلاۃ اوعند کل صلاۃ وعند النسائی فی روایۃ عند کل وضوء رواہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ وصححہا الحاکم وذکرھا البخاری تعلیقا ولا دلالۃ فی شیئ علی کونہ فی الوضوء الاھذہ وغایۃ مایفید الندب وھولا یستلزم سوی الاستحباب اذیکفیہ اذاندب لشیئ ان یتعبد بہ احیانا ولا سنۃ دون المواظبۃ ۔
اس طرح کہ انہوں نے متعدد حدیثیں ذکر کرنے کے بعدلکھا : اور بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : اگرمیں اپنی امت پرگراں نہ جانتا توانہیں ہرنمازکے ساتھ یا ہرنمازکے وقت مسواك کاحکم دیتا۔ اور نسائی کی ایك روایت میں ہے : ہروضوکے وقت اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ حاکم نے اسے صحیح کہا اور امام بخاری نے اسے تعلیقا ذکرکیا۔ ان احادیث میں سے کسی میں مسواك کے وضوکے اندرہونے پرکوئی دلالت نہیں مگرصرف اس روایت میں ۔ اور یہ بھی زیادہ سے زیادہ ندب کاافادہ کررہی ہے اور یہ صرف استحباب کو مستلزم ہے اس لئے کہ اس میں یہ کافی ہے کہ حضور جب کسی چیز کی ترغیب دیں تو بعض اوقات اسے عبادت قرار دے دیں اورمسنون ہونا حضور کی مداومت کے بغیر ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)
انھی کا اتباع ان کے تلمیذ محقق حلبی نے حلیہ میں کیا۔
اقول : اولا احادیث فـــــ میں مشہور ومستفیض یہاں ذکر نماز ہے یعنی لفظ :
عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ رواہ
ہر نماز کے وقت یا ہر نماز کے ساتھ “ اسے
فـــــ : تطفل علی الفتح والحلیۃ۔
حدیث اول محقق علی الاطلاق نے صرف ایك حدیث پائی جس سے اس پر استدلال ہوسکے :
حیث قال بعد ذکراحادیث وفی الصحیحین قال صلی الله تعالی علیہ وسلم لولاان اشق علی امتی لامرتھم بالسواك مع کل صلاۃ اوعند کل صلاۃ وعند النسائی فی روایۃ عند کل وضوء رواہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ وصححہا الحاکم وذکرھا البخاری تعلیقا ولا دلالۃ فی شیئ علی کونہ فی الوضوء الاھذہ وغایۃ مایفید الندب وھولا یستلزم سوی الاستحباب اذیکفیہ اذاندب لشیئ ان یتعبد بہ احیانا ولا سنۃ دون المواظبۃ ۔
اس طرح کہ انہوں نے متعدد حدیثیں ذکر کرنے کے بعدلکھا : اور بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : اگرمیں اپنی امت پرگراں نہ جانتا توانہیں ہرنمازکے ساتھ یا ہرنمازکے وقت مسواك کاحکم دیتا۔ اور نسائی کی ایك روایت میں ہے : ہروضوکے وقت اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ حاکم نے اسے صحیح کہا اور امام بخاری نے اسے تعلیقا ذکرکیا۔ ان احادیث میں سے کسی میں مسواك کے وضوکے اندرہونے پرکوئی دلالت نہیں مگرصرف اس روایت میں ۔ اور یہ بھی زیادہ سے زیادہ ندب کاافادہ کررہی ہے اور یہ صرف استحباب کو مستلزم ہے اس لئے کہ اس میں یہ کافی ہے کہ حضور جب کسی چیز کی ترغیب دیں تو بعض اوقات اسے عبادت قرار دے دیں اورمسنون ہونا حضور کی مداومت کے بغیر ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)
انھی کا اتباع ان کے تلمیذ محقق حلبی نے حلیہ میں کیا۔
اقول : اولا احادیث فـــــ میں مشہور ومستفیض یہاں ذکر نماز ہے یعنی لفظ :
عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ رواہ
ہر نماز کے وقت یا ہر نماز کے ساتھ “ اسے
فـــــ : تطفل علی الفتح والحلیۃ۔
حوالہ / References
فتح القدیرکتاب الطہارۃ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲
مالك واحمد والستۃ عـــــہ عن
امام مالک امام احمد اور اصحاب ستہ نےحضرت
عـــــہ : قال الشوکانی فی نیل الاوطار قال النووی غلط بعض الائمۃ الکبار فزعم ان البخاری لم یخرجہ وھوخطأ منہ وقد اخرجہ من حدیث مالك عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ھریرۃ ولیس ھو فی المؤطا من ھذا الوجہ بل ھو فیہ عن ابن شہاب عن حمید عن ابی ھریرۃ قال لولا ان ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواك مع کل وضوء ولم یصرح برفعہ قال ابن عبدالبر وحکمہ الرفع وقد رواہ الشافعی عن مالك مرفوعا ھذا کلامہ فی النیل ثم جعل یعد بعض ما ورد فی الباب ولم یعلم ماانتھی الیہ کلام الامام النووی
شوکانی نے نیل الاوطار میں لکھا کہ ۔ امام نووی نے فرمایا : بعض ائمہ کبارنے غلطی سے یہ دعوی کیا کہ امام بخاری نے یہ حدیث روایت نہ کی اوریہ دعوی غلط ہے۔ امام بخاری نے اسے امام مالك سے روایت کیاہے وہ ابوالزنادسے وہ اعرج سے وہ ابوہریرہ سے راوی ہیں ۔ اور امام مالك کی موطا میں یہ حدیث اس سند کے ساتھ نہیں بلکہ اس میں ابن شہاب زہری سے روایت ہے وہ حمید سے وہ ابوھریرہ سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا : “ اگر میں اپنی امت پر گراں نہ جانتا توانہیں ہر وضوکے ساتھ مسواك کا حکم دیتا “ ۔ اور اس کے مرفوع ہونے کی صراحت نہ کی۔ ابن عبدالبرنے کہا یہ مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔ اوراسے امام شافعی نے امام مالك سے مرفوعا روایت کیاہے۔ یہ نیل الاوطار کی عبارت ہے۔ ا س کے بعداس باب میں ارد ہونے والی کچھ حدیثیں شمارکرانا شروع کردیا اوریہ نہ بتایا کہ امام نووی کاکلام کہاں ختم ہوا۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
امام مالک امام احمد اور اصحاب ستہ نےحضرت
عـــــہ : قال الشوکانی فی نیل الاوطار قال النووی غلط بعض الائمۃ الکبار فزعم ان البخاری لم یخرجہ وھوخطأ منہ وقد اخرجہ من حدیث مالك عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ھریرۃ ولیس ھو فی المؤطا من ھذا الوجہ بل ھو فیہ عن ابن شہاب عن حمید عن ابی ھریرۃ قال لولا ان ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواك مع کل وضوء ولم یصرح برفعہ قال ابن عبدالبر وحکمہ الرفع وقد رواہ الشافعی عن مالك مرفوعا ھذا کلامہ فی النیل ثم جعل یعد بعض ما ورد فی الباب ولم یعلم ماانتھی الیہ کلام الامام النووی
شوکانی نے نیل الاوطار میں لکھا کہ ۔ امام نووی نے فرمایا : بعض ائمہ کبارنے غلطی سے یہ دعوی کیا کہ امام بخاری نے یہ حدیث روایت نہ کی اوریہ دعوی غلط ہے۔ امام بخاری نے اسے امام مالك سے روایت کیاہے وہ ابوالزنادسے وہ اعرج سے وہ ابوہریرہ سے راوی ہیں ۔ اور امام مالك کی موطا میں یہ حدیث اس سند کے ساتھ نہیں بلکہ اس میں ابن شہاب زہری سے روایت ہے وہ حمید سے وہ ابوھریرہ سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا : “ اگر میں اپنی امت پر گراں نہ جانتا توانہیں ہر وضوکے ساتھ مسواك کا حکم دیتا “ ۔ اور اس کے مرفوع ہونے کی صراحت نہ کی۔ ابن عبدالبرنے کہا یہ مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔ اوراسے امام شافعی نے امام مالك سے مرفوعا روایت کیاہے۔ یہ نیل الاوطار کی عبارت ہے۔ ا س کے بعداس باب میں ارد ہونے والی کچھ حدیثیں شمارکرانا شروع کردیا اوریہ نہ بتایا کہ امام نووی کاکلام کہاں ختم ہوا۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
مؤطا الامام مالک کتا ب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک میرمحمدکتب خانہ کراچی ص۵۱ ، مسند الامام احمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۴۲۵ ، صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۲ ، صحیح مسلم کتاب الطہارۃ با ب السواک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۸
نیل الاوطار ابواب السواک وسنن الفطرۃ باب الحث علی السواک مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۶
نیل الاوطار ابواب السواک وسنن الفطرۃ باب الحث علی السواک مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۶
ابی ھریرۃ ۔ واحمد وابو داؤد والنسائی و الترمذی و الضیا عن زید بن خالد ۔ واحمد بسند جید عن ام المؤمنین زینب بنت جحش وکابن ابی خیثمۃ وابن جریرعن ام المؤمنین ام حبیبۃ ۔ والبزار
ابو ہریرہ سے روایت کیا۔
امام احمد ابوداؤد نسائی ترمذی اور ضیاء نے زید بن خالد سے روایت کیا۔ امام احمد نے بسندجید ام المومنین زینب بنت جحش سے۔ اور ابن ابی خیثمہ وابن جریر کی طرح ام المومنین ام حبیبہ سے روایت کیا۔ بزار
اقول : لااظن قولہ لیس ھو فی المؤطا الخ من کلام الامام وھو خطأ فــــ اشد واعظم فان الحدیث فی المؤطا اولابعین السند المذکور فی البخاری رفعا ثم متصلا بہ بالسند الاخر وقفا وقدروی ھذا ایضا معن ابن عیسی وایوب ابن صالح وعبد الرحمن بن مھدی وغیرھم عن مالك مرفوعا وھؤلاء کلھم من رواۃ المؤطا اھ منہ ۔
اقول : میں نہیں سمجھتا کہ یہ الفاظ “ اور امام مالك کی مؤطا میں یہ حدیث اس سندکے ساتھ نہیں الخ “ ۔ امام نووی کے کلام میں ہوں جب کہ یہ بہت شدید اورعظیم خطا ہے اس لئے کہ یہ حدیث مؤطامیں پہلے بعینہ بخاری ہی کی ذکر کردہ سندکے ساتھ مرفوعا ہے پھر اس سے متصل دوسری سندکے ساتھ موقوفا ہے ۔ اوراسے معن بن عیسے ایوب بن صالح عبدالرحمن بن مہدی وغیرہم نے بھی امام مالك سے مرفوعا روایت کیا ہے اور یہ سب حـضرات مؤطا کے راوی ہیں ۱۲منہ۔ (ت)
فــــ : ردعلی الشوکانی ۔
ابو ہریرہ سے روایت کیا۔
امام احمد ابوداؤد نسائی ترمذی اور ضیاء نے زید بن خالد سے روایت کیا۔ امام احمد نے بسندجید ام المومنین زینب بنت جحش سے۔ اور ابن ابی خیثمہ وابن جریر کی طرح ام المومنین ام حبیبہ سے روایت کیا۔ بزار
اقول : لااظن قولہ لیس ھو فی المؤطا الخ من کلام الامام وھو خطأ فــــ اشد واعظم فان الحدیث فی المؤطا اولابعین السند المذکور فی البخاری رفعا ثم متصلا بہ بالسند الاخر وقفا وقدروی ھذا ایضا معن ابن عیسی وایوب ابن صالح وعبد الرحمن بن مھدی وغیرھم عن مالك مرفوعا وھؤلاء کلھم من رواۃ المؤطا اھ منہ ۔
اقول : میں نہیں سمجھتا کہ یہ الفاظ “ اور امام مالك کی مؤطا میں یہ حدیث اس سندکے ساتھ نہیں الخ “ ۔ امام نووی کے کلام میں ہوں جب کہ یہ بہت شدید اورعظیم خطا ہے اس لئے کہ یہ حدیث مؤطامیں پہلے بعینہ بخاری ہی کی ذکر کردہ سندکے ساتھ مرفوعا ہے پھر اس سے متصل دوسری سندکے ساتھ موقوفا ہے ۔ اوراسے معن بن عیسے ایوب بن صالح عبدالرحمن بن مہدی وغیرہم نے بھی امام مالك سے مرفوعا روایت کیا ہے اور یہ سب حـضرات مؤطا کے راوی ہیں ۱۲منہ۔ (ت)
فــــ : ردعلی الشوکانی ۔
حوالہ / References
مسند الامام احمد بن حنبل بقیہ حدیث زید بن خالدلجھنی المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۱۱۶ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک حدیث ۲۲ دارالفکر بیروت ۱ / ۹۹ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب کیف یستاک آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۷ ، کنزالعمال بحوالہ حم ، ت والضیاء عن زید بن خالد الجھنی حدیث ۲۶۱۹۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۵
مسند الامام احمد بن حنبل حدیث زینب بنت جحش المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۴۴۹
مسند الامام احمد بن حنبل حدیث ام حبیبہ بنت ابی سفیان المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۳۲۵ ، کنزالعمال بحوالہ ابن جریر حدیث ۲۶۲۰۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۷
مسند الامام احمد بن حنبل حدیث زینب بنت جحش المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۴۴۹
مسند الامام احمد بن حنبل حدیث ام حبیبہ بنت ابی سفیان المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۳۲۵ ، کنزالعمال بحوالہ ابن جریر حدیث ۲۶۲۰۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۷
وسمویہ عن انس وھما والطبرانی وابو یعلی والبغوی والحاکم عن سیدنا العباس واحمد والبغوی والطبرانی وابو نعیم والباوردی وابن قانع والضیاء عن تمام بن العباس ۔ واحمد والباوردی عن تمام بن قثم وصوبواکونہ عن العباس۔ وعثمن بن سعید الدارمی فی الرد علی الجھمیۃ والدار قطنی فی احادیث النزول عن امیر المؤمنین علی۔ والطبرانی فی الکبیرعن ابن عباس وفی الاوسط کالخطیب عن ابن عمر وابو نعیم فی السواك عن ابن عمرو و سعید بن منصور عن
وسمویہ نے حضرت انس سے ۔ بزاروسمویہ اور طبرانی ابویعلی بغوی اورحاکم نے سیدنا عباس سے ۔ امام احمد بغوی طبرانی ابو نعیم باوردی ابن قانع اور ضیاء نے تمام بن العباس سے۔ امام احمد وباوردی نے تمام بن قثم سے روایت کیا اور بتایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حضرت عباس سے ہے۔ عثمان بن سعید دارمی نے الردعلی الجہمیہ میں اور دارقطنی نے احادیث نزول میں امیرالمومنین حضرت علی سے۔ اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن عباس سے ۔ اور معجم اوسط میں خطیب کی طرح حضرت ابن عمرسے۔ اور ابو نعیم نے سواك میں حضرت ابن عمر وسے۔ اور سعید بن منصور
وسمویہ نے حضرت انس سے ۔ بزاروسمویہ اور طبرانی ابویعلی بغوی اورحاکم نے سیدنا عباس سے ۔ امام احمد بغوی طبرانی ابو نعیم باوردی ابن قانع اور ضیاء نے تمام بن العباس سے۔ امام احمد وباوردی نے تمام بن قثم سے روایت کیا اور بتایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حضرت عباس سے ہے۔ عثمان بن سعید دارمی نے الردعلی الجہمیہ میں اور دارقطنی نے احادیث نزول میں امیرالمومنین حضرت علی سے۔ اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن عباس سے ۔ اور معجم اوسط میں خطیب کی طرح حضرت ابن عمرسے۔ اور ابو نعیم نے سواك میں حضرت ابن عمر وسے۔ اور سعید بن منصور
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ البزار حدیث ۲۶۱۷۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۳ ، کنزالعمال بحوالہ سمویہ حدیث ۲۶۲۰۷ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۷
المعجم الکبیر حدیث۲ ۱۳۰ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۲ / ۶۴ ، المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ اولاان اشق علی امتی الخ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۴۶
المعجم الکبیر حدیث۳ ۱۳۰ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۲ / ۶۴ ، کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ حدیث ۲۶۲۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۸
کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ حدیث ۲۶۲۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۸ ، مسند الامام احمد بن حنبل حدیث قثم بن تمام اوتمام بن قثم الخ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۴۴۲
المعجم الکبیر حدیث۲۵ ۱۱۱،۱۱۱۳۳ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۸۵ ، ۸۷
المعجم الاوسط حدیث ۸۴۴۳ مکتبہ المعار ف ریاض۹ / ۲۰۴
کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم عن ابن عمر حدیث ۲۶۱۹۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۶
المعجم الکبیر حدیث۲ ۱۳۰ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۲ / ۶۴ ، المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ اولاان اشق علی امتی الخ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۴۶
المعجم الکبیر حدیث۳ ۱۳۰ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۲ / ۶۴ ، کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ حدیث ۲۶۲۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۸
کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ حدیث ۲۶۲۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۸ ، مسند الامام احمد بن حنبل حدیث قثم بن تمام اوتمام بن قثم الخ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۴۴۲
المعجم الکبیر حدیث۲۵ ۱۱۱،۱۱۱۳۳ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۸۵ ، ۸۷
المعجم الاوسط حدیث ۸۴۴۳ مکتبہ المعار ف ریاض۹ / ۲۰۴
کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم عن ابن عمر حدیث ۲۶۱۹۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۶
مکحول وابو بکر بن ابی شیبۃ عن حسان بن عطیۃ کلاھما مرسل۔ نے مکحول سے اور ابو بکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کی۔ یہ دونوں مرسل ہیں ۔ (ت)
اور بعض میں ذکر وضو ہے یعنی :
مع کل وضوء یا عندکل وضوء رواہ الائمۃ مالك والشافعی واحمد والنسائی وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی ھریرۃ
والطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن علی وفی الکبیر عن تمام بن العباس وابن جریر عن زید بن خالد رضی الله تعالی عنہم اجمین۔ ہر وضو کے ساتھ یا ہر وضوکے وقت ۔ اسے امام مالک امام شافعی امام احمد نسائی ابن خزیمہ ابن حبان حاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے ۔
اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسند حسن حضرت علی سے ۔ اورمعجم کبیر میں تمام بن عباس سے۔ اور ابن جریرنے زید بن خالد سے روایت کی۔ رضی اللہ تعالی عنہماجمعین۔ (ت)
جب روایات متواترہ میں عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ آنے سے ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك نماز سے اتصال بھی ثابت نہ ہوا بلکہ اتصال حقیقی اصلا کسی کا قول نہیں
اور بعض میں ذکر وضو ہے یعنی :
مع کل وضوء یا عندکل وضوء رواہ الائمۃ مالك والشافعی واحمد والنسائی وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی ھریرۃ
والطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن علی وفی الکبیر عن تمام بن العباس وابن جریر عن زید بن خالد رضی الله تعالی عنہم اجمین۔ ہر وضو کے ساتھ یا ہر وضوکے وقت ۔ اسے امام مالک امام شافعی امام احمد نسائی ابن خزیمہ ابن حبان حاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے ۔
اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسند حسن حضرت علی سے ۔ اورمعجم کبیر میں تمام بن عباس سے۔ اور ابن جریرنے زید بن خالد سے روایت کی۔ رضی اللہ تعالی عنہماجمعین۔ (ت)
جب روایات متواترہ میں عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ آنے سے ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك نماز سے اتصال بھی ثابت نہ ہوا بلکہ اتصال حقیقی اصلا کسی کا قول نہیں
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ص عن مکحول حدیث ۲۶۱۹۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۱۶
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارات ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۷
مؤطاالامام مالک لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۵۱ ، الام للشافعی کتاب الطہارۃ باب السواک دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۷۵ ، مسند الامام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۴۵ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواک الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۶۔ صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۰ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۷۳ ،
المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دارلفکربیروت ۱ / ۱۴۶ ، السنن الکبری للبیہقی کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواک الخ دارصادربیروت ۱ / ۳۶
المعجم الاوسط حدیث ۱۲۶۰ مکتبۃ المعارف بیروت ۲ / ۱۳۸
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۰۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ / ۶۴
کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن زید بن خالد حدیث ۲۶۱۹۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۶
القرآن الکریم ۵۳ /۱۴ ، ۱۵
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارات ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۷
مؤطاالامام مالک لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۵۱ ، الام للشافعی کتاب الطہارۃ باب السواک دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۷۵ ، مسند الامام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۴۵ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواک الخ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۶۔ صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۰ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۷۳ ،
المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دارلفکربیروت ۱ / ۱۴۶ ، السنن الکبری للبیہقی کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواک الخ دارصادربیروت ۱ / ۳۶
المعجم الاوسط حدیث ۱۲۶۰ مکتبۃ المعارف بیروت ۲ / ۱۳۸
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۰۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ / ۶۴
کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن زید بن خالد حدیث ۲۶۱۹۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۶
القرآن الکریم ۵۳ /۱۴ ، ۱۵
حتی کہ شافعیہ جو اسے سنن نماز سے مانتے ہیں تو بعض روایات میں عند کل وضوء آنے سے داخل وضو ہوناکیونکر رنگ ثبوت پائے گا۔
فلیست فــــ عند لجعل مدخولہاظرفا لموصوفہا بحیث یقع فیہ انما مفادھا القرب والحضور حسا اومعنی فلا تقول زید عند الدار اذا کان فیہا بل اذا کان قریبا منھا والقرب المفہوم ھو العرفی دون الحقیقی ولہ عرض عریض الاتری الی قولہ تعالی
عند سدرة المنتهى(۱۴) عندها جنة الماوى(۱۵) مع ان السدرۃ فی السماء السادسۃ کما فی صحیح مسلم عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ والجنۃ فوق السموت ۔
وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواك فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ
کیونکہ لفظ “ عند “ یہ بتانے کے لئے نہیں کہ اس کا مدخول اس کے موصوف کاایساظرف ہے کہ وہ اسی کے اندرواقع ہے بلکہ اس کا مفاد صرف قریب اور حاضرہوناہے حسا یا معنی۔ زید عندالدار(زید گھر کے پاس ہے)اس وقت نہیں بولتے جب زید گھر کے اندر ہو بلکہ اس وقت بولتے ہیں جب گھر سے قریب ہو۔ اوریہاں جو قریب سمجھاجاتاہے وہ عرفی ہوتاہے حقیقی نہیں ہوتا۔ اور قرب عرفی کا میدان بہت وسیع ہے۔ دیکھئے باری تعالی کا ارشاد ہے : “ سدرۃ المنتہی کے پاس اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے “ ۔ حالاں کہ سدرہ چھٹے آسمان میں ہے۔ جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ اور جنت آسمانوں کے اوپرہے۔
ہماری اس تقریر سے اس کا ضعف واضح ہوگیاجوعمدۃ القاری میں اس حدیث کے تحت رقم ہوگیاکہ : اس سے مسجد کے اندرمسواك کرنے کا جواز ثابت ہوتاہے اس لئے کہ “ عند “ حقیقۃ ظرفیت چاہتاہے تواس کا تقاضایہ ہوگاکہ مسواك ہرنمازکے اندرمستحب ہو۔ اور بعض مالکیہ
فـــ : بیان مفاد عند۔
فلیست فــــ عند لجعل مدخولہاظرفا لموصوفہا بحیث یقع فیہ انما مفادھا القرب والحضور حسا اومعنی فلا تقول زید عند الدار اذا کان فیہا بل اذا کان قریبا منھا والقرب المفہوم ھو العرفی دون الحقیقی ولہ عرض عریض الاتری الی قولہ تعالی
عند سدرة المنتهى(۱۴) عندها جنة الماوى(۱۵) مع ان السدرۃ فی السماء السادسۃ کما فی صحیح مسلم عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ والجنۃ فوق السموت ۔
وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواك فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ
کیونکہ لفظ “ عند “ یہ بتانے کے لئے نہیں کہ اس کا مدخول اس کے موصوف کاایساظرف ہے کہ وہ اسی کے اندرواقع ہے بلکہ اس کا مفاد صرف قریب اور حاضرہوناہے حسا یا معنی۔ زید عندالدار(زید گھر کے پاس ہے)اس وقت نہیں بولتے جب زید گھر کے اندر ہو بلکہ اس وقت بولتے ہیں جب گھر سے قریب ہو۔ اوریہاں جو قریب سمجھاجاتاہے وہ عرفی ہوتاہے حقیقی نہیں ہوتا۔ اور قرب عرفی کا میدان بہت وسیع ہے۔ دیکھئے باری تعالی کا ارشاد ہے : “ سدرۃ المنتہی کے پاس اسی کے پاس جنۃ الماوی ہے “ ۔ حالاں کہ سدرہ چھٹے آسمان میں ہے۔ جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ اور جنت آسمانوں کے اوپرہے۔
ہماری اس تقریر سے اس کا ضعف واضح ہوگیاجوعمدۃ القاری میں اس حدیث کے تحت رقم ہوگیاکہ : اس سے مسجد کے اندرمسواك کرنے کا جواز ثابت ہوتاہے اس لئے کہ “ عند “ حقیقۃ ظرفیت چاہتاہے تواس کا تقاضایہ ہوگاکہ مسواك ہرنمازکے اندرمستحب ہو۔ اور بعض مالکیہ
فـــ : بیان مفاد عند۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۳ /۱۴ ، ۱۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاسراء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۷
صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاسراء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۷
کراھتہ فی المسجد لاستقذارہ والمسجد ینزہ عنہ اھ۔
اقول اولا : فــــ۱حقیقۃالظرفیۃغیر معقولۃ فی الصلوۃ ولا ھی مفاد عند کما علمت۔
وثانیا : قد قال فـــــ۲الامام العینی نفسہ قبل ھذا بورقۃ مانصہ فان قلت کیف التوفیق بین روایۃ عند کل وضوء وروایۃ عند کل صلاۃ قلت السواك الواقع عند الوضوء واقع للصلاۃ لان الوضوء شرع لہا اھ۔
وثالثا : کیف فـــــ۳ یباح الاستیاك فـــــ۴ فی المسجد مع حرمۃ المضمضۃ والتفل فیہ والسواك یستعمل مبلولا ویستخرج الرطوبات فلا یؤمن ان یقطر منھا شیئ وکل ذلك لایجوز فی المسجد الا ان یکون فی اناء اوموضع فیہ کے نزدیك یہ ہے کہ مسجد میں مسواك کرنامکروہ ہے کیونکہ اس سے گندگی ہوگی اور مسجدکواس سے بچایاجائے گااھ۔
اقول : ا س پرچند کلام ہیں اول نماز کے اندرحقیقی ظرفیت کا تصورنہیں ہوسکتااوریہ “ عند “ کا مفاد بھی نہیں جیساکہ ابھی واضح ہوا۔
دوم : اس سے ایك ورق پہلے خود امام عینی یہ لکھ چکے ہیں : اگرسوال ہوکہ عندکل وضوء کی روایت اور عند کل صلوۃ کی روایت میں تطبیق کیسے ہوگی تومیں کہوں گا : وضو کے وقت ہونے والی مسواك نماز کے لئے بھی واقع ہے اس لئے کہ وضو نماز ہی کے لئے مشروع ہواہے اھ۔
سوم : مسجدمیں مسواك کرنا جائزکیسے ہوگا جب اس میں کلی کرنااور تھوکناحرام ہے ۔ اورمسواك ترکرکے استعمال ہوتی ہے اورمنہ سے رطوبتیں بھی نکالتی ہے جن میں سے کچھ مسجد میں ٹپکنے کابھی اندیشہ ہے اور یہ سب مسجد میں جائز نہیں مگریہ کہ کسی برتن کے اندر ہویا کوئی ایسی جگہ ہو
فـــــ۱ : تطفل علی الامام العینی ۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔ فـــــ۳ : تطفل ثالث علیہ ۔
فــــ۴ : مسئلہ : مسجد میں مسواك کرنی نہ چاہیے ۔ مسجد میں کلی کرناحرام مگریہ کہ کسی برتن میں یابانی مسجد نے وقت بنا ئے مسجداس میں کوئی جگہ خاص اس کام کے لےے بنادی ہوورنہ اجازت نہیں ۔
اقول اولا : فــــ۱حقیقۃالظرفیۃغیر معقولۃ فی الصلوۃ ولا ھی مفاد عند کما علمت۔
وثانیا : قد قال فـــــ۲الامام العینی نفسہ قبل ھذا بورقۃ مانصہ فان قلت کیف التوفیق بین روایۃ عند کل وضوء وروایۃ عند کل صلاۃ قلت السواك الواقع عند الوضوء واقع للصلاۃ لان الوضوء شرع لہا اھ۔
وثالثا : کیف فـــــ۳ یباح الاستیاك فـــــ۴ فی المسجد مع حرمۃ المضمضۃ والتفل فیہ والسواك یستعمل مبلولا ویستخرج الرطوبات فلا یؤمن ان یقطر منھا شیئ وکل ذلك لایجوز فی المسجد الا ان یکون فی اناء اوموضع فیہ کے نزدیك یہ ہے کہ مسجد میں مسواك کرنامکروہ ہے کیونکہ اس سے گندگی ہوگی اور مسجدکواس سے بچایاجائے گااھ۔
اقول : ا س پرچند کلام ہیں اول نماز کے اندرحقیقی ظرفیت کا تصورنہیں ہوسکتااوریہ “ عند “ کا مفاد بھی نہیں جیساکہ ابھی واضح ہوا۔
دوم : اس سے ایك ورق پہلے خود امام عینی یہ لکھ چکے ہیں : اگرسوال ہوکہ عندکل وضوء کی روایت اور عند کل صلوۃ کی روایت میں تطبیق کیسے ہوگی تومیں کہوں گا : وضو کے وقت ہونے والی مسواك نماز کے لئے بھی واقع ہے اس لئے کہ وضو نماز ہی کے لئے مشروع ہواہے اھ۔
سوم : مسجدمیں مسواك کرنا جائزکیسے ہوگا جب اس میں کلی کرنااور تھوکناحرام ہے ۔ اورمسواك ترکرکے استعمال ہوتی ہے اورمنہ سے رطوبتیں بھی نکالتی ہے جن میں سے کچھ مسجد میں ٹپکنے کابھی اندیشہ ہے اور یہ سب مسجد میں جائز نہیں مگریہ کہ کسی برتن کے اندر ہویا کوئی ایسی جگہ ہو
فـــــ۱ : تطفل علی الامام العینی ۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔ فـــــ۳ : تطفل ثالث علیہ ۔
فــــ۴ : مسئلہ : مسجد میں مسواك کرنی نہ چاہیے ۔ مسجد میں کلی کرناحرام مگریہ کہ کسی برتن میں یابانی مسجد نے وقت بنا ئے مسجداس میں کوئی جگہ خاص اس کام کے لےے بنادی ہوورنہ اجازت نہیں ۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ / ۲۶۳
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ / ۲۶۰
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ / ۲۶۰
معد لذلك من حین البناء کما بیناہ فی فتاونا۔
و رابعا : ما ذکرہ فــــ۱لیس قول بعض المالکیۃ بل قول امام دارالھجرۃنفسہ حکاہ عند القرطبی فی المفھم کما فی المواھب اللدنیۃ۔
جو تعمیر مسجدکے وقت ہی سے اسی لئے بنارکھی گئی ہو۔ جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔
چہارم : جو انہوں نے ذکرکیا وہ بعض مالکیہ کاقول نہیں بلکہ خودامام دارالہجرۃ کا قول ہے ان سے قرطبی نے المفہم میں اس کی حکایت کی ہے جیساکہ مواہب لدنیہ میں ہے۔
ثانیا عند الوضوء فــــ۲میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافھم
حدیث دوم طبرانی اوسط میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتےہیں :
ان العبداذا غسل رجلیہ خرجت خطایاہ واذا غسل وجہہ وتمضمض وتشوص واستنشق ومسح براسہ خرجت خطایا سمعہ وبصرہ و لسانہ واذا غسل ذراعیہ وقدمیہ کان کیوم ولدتہ امہ ۔
بے شك بندہ جب اپنے پاؤں دھوتاہے اس کے گناہ دور ہو جاتے ہیں اورجب منہ دھوتااورکلی کرتادھوتا مانجھتاپانی سونگھتا سرکا مسح کرتاہے اس کے کانوں آنکھوں اور زبان کے گناہ نکل جاتے ہیں اورجب کلائیاں اورپاؤں دھوتاہے ایسا ہوجاتا ہے جیسا اپنی ماں سے پیدا ہوتے وقت تھا۔
اقول اولا : شوص دھونا اور پاك کرنا ہے کما فی الصحاح (جیساکہ صحاح میں ہے ۔ ت)وقال الرازی :
الشوص الغسل والتنظیف اھ
شوص کے معنے دھونا اورصاف کرناہے اھ۔ (ت)
فــــ۱ : تطفل رابع علیہ ۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلی الفتح ۔
و رابعا : ما ذکرہ فــــ۱لیس قول بعض المالکیۃ بل قول امام دارالھجرۃنفسہ حکاہ عند القرطبی فی المفھم کما فی المواھب اللدنیۃ۔
جو تعمیر مسجدکے وقت ہی سے اسی لئے بنارکھی گئی ہو۔ جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔
چہارم : جو انہوں نے ذکرکیا وہ بعض مالکیہ کاقول نہیں بلکہ خودامام دارالہجرۃ کا قول ہے ان سے قرطبی نے المفہم میں اس کی حکایت کی ہے جیساکہ مواہب لدنیہ میں ہے۔
ثانیا عند الوضوء فــــ۲میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافھم
حدیث دوم طبرانی اوسط میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتےہیں :
ان العبداذا غسل رجلیہ خرجت خطایاہ واذا غسل وجہہ وتمضمض وتشوص واستنشق ومسح براسہ خرجت خطایا سمعہ وبصرہ و لسانہ واذا غسل ذراعیہ وقدمیہ کان کیوم ولدتہ امہ ۔
بے شك بندہ جب اپنے پاؤں دھوتاہے اس کے گناہ دور ہو جاتے ہیں اورجب منہ دھوتااورکلی کرتادھوتا مانجھتاپانی سونگھتا سرکا مسح کرتاہے اس کے کانوں آنکھوں اور زبان کے گناہ نکل جاتے ہیں اورجب کلائیاں اورپاؤں دھوتاہے ایسا ہوجاتا ہے جیسا اپنی ماں سے پیدا ہوتے وقت تھا۔
اقول اولا : شوص دھونا اور پاك کرنا ہے کما فی الصحاح (جیساکہ صحاح میں ہے ۔ ت)وقال الرازی :
الشوص الغسل والتنظیف اھ
شوص کے معنے دھونا اورصاف کرناہے اھ۔ (ت)
فــــ۱ : تطفل رابع علیہ ۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلی الفتح ۔
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۴۳۹۴ مکتبۃ المعارف ریاض ۵ / ۲۰۲ ، کنز العمال حدیث ۲۶۰۴۸ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۸۹
الصحاح( للجوہری) با ب الصاد فصل الشین داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۸۷۶
الصحاح( للجوہری) با ب الصاد فصل الشین داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۸۷۶
وفی القاموس الدلك بالید ومضغ السواك و الاستنان بہ اوالا ستیاك ووجع الضرس و البطن والغسل والتنقیۃ ۔ اور قاموس میں ہے : ہاتھ سے ملنا۔ مسواك چبانا اور اس سے دانت مانجنا۔ یامسواك کرنا۔ ڈاڑھ اور پیٹ کادرد ۔ دھونا اور صاف کرنا۔ (ت)
ثانیا : حدیث میں افعال بترتیب نہیں تو ممکن کہ مسواك سب سے پہلے ہو اور یہی حدیث کہ امام احمد نے بسند حسن مرتبا روایت کی اس میں ذکر شوص نہیں اس کے لفظ یہ ہیں :
عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ قال ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال ایما رجل قام الی وضوئہ یرید الصلاۃ ثم غسل کفیہ نزلت کل خطیئۃ من کفیہ مع اول قطرۃ فاذا مضمض واستنشق واستنثر نزل کل خطیئۃ من لسانہ و شفتیہ مع اول قطرۃ فاذا غسل وجہہ نزلت کل خطیئۃ من سمعہ وبصرہ مع اول قطرۃ فاذا غسل یدہ الی المرفقین ورجلہ الی الکعبین سلم من کل ذنب کھیاۃ یوم ولدتہ امہ ۔
(حضرت ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہنے کہاکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : )جب آدمی نماز کے ارادے سے وضو کواٹھے پھر ہاتھ دھوئے توہاتھ کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ نکل جائیں پھر جب کلی کرے اور ناك میں پانی ڈالے اور صاف کرے زبان ولب کے سب گناہ پہلی بوند کے ساتھ ٹپك جائیں پھر جب منہ دھوئے آنکھ کان کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ اترجائیں پھر جب کہنیوں تك ہاتھ اور گٹوں تك پاؤں دھوئے سب گناہوں سے ایساخالص ہوجائے جیساجس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔
فائدہ : فــــ یہ نفیس وعظیم بشارت کہ امت محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر رب عزوجل کا عظیم فضل اور نمازیوں کیلئے کمال تہنیت اور بے نمازوں پر سخت حسرت ہے بکثرت احادیث صحیحہ معتبرہ میں وارد ہوئی اس معنی کی حدیثیں حدیث ۱ابو امامہ کے علاوہ صحیح مسلم شریف میں
فـــــ : وضوسے گناہ دھلنے کی حدیثیں ۔
ثانیا : حدیث میں افعال بترتیب نہیں تو ممکن کہ مسواك سب سے پہلے ہو اور یہی حدیث کہ امام احمد نے بسند حسن مرتبا روایت کی اس میں ذکر شوص نہیں اس کے لفظ یہ ہیں :
عن ابی امامۃ رضی الله تعالی عنہ قال ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال ایما رجل قام الی وضوئہ یرید الصلاۃ ثم غسل کفیہ نزلت کل خطیئۃ من کفیہ مع اول قطرۃ فاذا مضمض واستنشق واستنثر نزل کل خطیئۃ من لسانہ و شفتیہ مع اول قطرۃ فاذا غسل وجہہ نزلت کل خطیئۃ من سمعہ وبصرہ مع اول قطرۃ فاذا غسل یدہ الی المرفقین ورجلہ الی الکعبین سلم من کل ذنب کھیاۃ یوم ولدتہ امہ ۔
(حضرت ابی امامہ رضی اللہ تعالی عنہنے کہاکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : )جب آدمی نماز کے ارادے سے وضو کواٹھے پھر ہاتھ دھوئے توہاتھ کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ نکل جائیں پھر جب کلی کرے اور ناك میں پانی ڈالے اور صاف کرے زبان ولب کے سب گناہ پہلی بوند کے ساتھ ٹپك جائیں پھر جب منہ دھوئے آنکھ کان کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ اترجائیں پھر جب کہنیوں تك ہاتھ اور گٹوں تك پاؤں دھوئے سب گناہوں سے ایساخالص ہوجائے جیساجس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔
فائدہ : فــــ یہ نفیس وعظیم بشارت کہ امت محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر رب عزوجل کا عظیم فضل اور نمازیوں کیلئے کمال تہنیت اور بے نمازوں پر سخت حسرت ہے بکثرت احادیث صحیحہ معتبرہ میں وارد ہوئی اس معنی کی حدیثیں حدیث ۱ابو امامہ کے علاوہ صحیح مسلم شریف میں
فـــــ : وضوسے گناہ دھلنے کی حدیثیں ۔
حوالہ / References
القاموس المحیط باب الصاد فصل الشین مصطفی البابی مصر ۲ / ۳۱۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ الباہلی المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۲۶۳
مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ الباہلی المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۲۶۳
۲امیر المومنین عثمن عـــــہ۱ غنی و۳ابو ہریرہ عـــــہ۲ و۴عمرو بن عـــــہ۳ عبسہ اور مالك واحمد ونسائی وابن ماجہ وحاکم کے یہاں عبدالله صنابحی اور طحاوی ومعجم کبیر طبرانی میں عباد والد ثعلبہ اور مسند احمد میں مرہ بن کعب اور مسند مسددو ابی یعلی میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہمسے مروی ہیں ان میں حدیث صنابحی وحدیث عمرو سب سے اتم ہیں کہ ان میں ناك کے گناہوں کا بھی ذکر ہے اور مسح سر کرنے سے سر کے گناہ نکل جانے کا بھی۔
ففی الاول اذا استنثر خرجت الخطایا من انفہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین فاذا مسح رأسہ خرجت الخطایا من رأسہ حتی تخرج من اذنیہ
وفی الثانی مامنکم رجل یقرب وضوءہ فیتمضمض ویستنشق ویستنثر الا
حدیث صنابحی میں یہ ہے : “ جب ناك صاف کرے توناك کے گناہ گرجائیں “ ۔ پھر چہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکر کے بعد ہے : “ پھراپنے سرکامسح کرے تو اس کے سر سے گناہ نکل جائیں یہاں تك کہ کانوں سے بھی نکل جائیں “ ۔
اورحدیث عمرو میں ہے : “ تم میں جوبھی وضو کے لئے جاکر کلی کرے ناك میں پانی ڈالے اور جھاڑ ے تواس کے چہرے
عـــــہ۱ : رواہ ایضااحمد وابن ماجۃ منہ ۔
عـــــہ۲ : ورواہ ایضامالك والشافعی والترمذی والطحاوی منہ۔
عـــــہ۳ : ورواہ ایضا احمدوابوبکر بن ابی شیبۃ و الامام الطحاوی والضیاء وھوعند الطبرانی فی الاوسط مختصراوابن زنجویۃ بسندصحیح منہ ۔ عـــــہ۱ : اوراسے امام احمد وابن ماجہ نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)۔
عـــــہ۲ : اوراسے اما م مالک اما م شافعی اورترمذی وطحاوی نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)
عـــــہ۳ : اوراسے امام احمد ابوبکربن ابی شیبہ امام طحاوی اورضیاء نے بھی روایت کیااوریہ طبرانی کی معجم اوسط میں مختصرا اورابن زنجویۃ کے یہاں بسندصحیح مروی ہے ۱۲منہ (ت)
ففی الاول اذا استنثر خرجت الخطایا من انفہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین فاذا مسح رأسہ خرجت الخطایا من رأسہ حتی تخرج من اذنیہ
وفی الثانی مامنکم رجل یقرب وضوءہ فیتمضمض ویستنشق ویستنثر الا
حدیث صنابحی میں یہ ہے : “ جب ناك صاف کرے توناك کے گناہ گرجائیں “ ۔ پھر چہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکر کے بعد ہے : “ پھراپنے سرکامسح کرے تو اس کے سر سے گناہ نکل جائیں یہاں تك کہ کانوں سے بھی نکل جائیں “ ۔
اورحدیث عمرو میں ہے : “ تم میں جوبھی وضو کے لئے جاکر کلی کرے ناك میں پانی ڈالے اور جھاڑ ے تواس کے چہرے
عـــــہ۱ : رواہ ایضااحمد وابن ماجۃ منہ ۔
عـــــہ۲ : ورواہ ایضامالك والشافعی والترمذی والطحاوی منہ۔
عـــــہ۳ : ورواہ ایضا احمدوابوبکر بن ابی شیبۃ و الامام الطحاوی والضیاء وھوعند الطبرانی فی الاوسط مختصراوابن زنجویۃ بسندصحیح منہ ۔ عـــــہ۱ : اوراسے امام احمد وابن ماجہ نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)۔
عـــــہ۲ : اوراسے اما م مالک اما م شافعی اورترمذی وطحاوی نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)
عـــــہ۳ : اوراسے امام احمد ابوبکربن ابی شیبہ امام طحاوی اورضیاء نے بھی روایت کیااوریہ طبرانی کی معجم اوسط میں مختصرا اورابن زنجویۃ کے یہاں بسندصحیح مروی ہے ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ مالک ، حم ، ن ، ھ ، ک حدیث۲۶۰۳۳ مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۹ / ۲۸۵ ، مؤطا الامام مالک کتاب الطہارۃ ، باب جامع الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ص۲۱ ، مسند احمد بن حنبل حدیث ابی عبد اللہ الصنابحی المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۳۴۸ و ۳۴۹ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب مسح الاذنین مع الرأس نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۹ ، المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ1دار الفکر بیروت ۱ / ۱۲۹
خرجت خطایا وجہہ من فیہ وخیاشمہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین ثم یمسح رأسہ الاخرجت خطایا رأسہ من اطراف شعرہ مع الماء ۔
کے گناہ منہ سے اور ناك کے بانسوں سے نکل پڑیں “ ۔ پھرچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکرکے بعد ہے : “ پھراپنے سرکامسح کرے تواس کے سر کے گناہ بال کے کناروں سے پانی کے ساتھ گرجائیں “ ۔ (ت)
بہت علماء فرماتے ہیں یہاں گناہوں سے صغائر مراد ہیں ۔
اقول : تحقیق یہ ہے کہ کبائر بھی دھلتے ہیں اگرچہ زائل نہ ہوں یہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہوغیرہ اکابر اولیائے کرام قدست اسرارہم کا مشاہدہ ہے جسے فقیر نے رسالہ “ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل(۱۳۲۰ھ) “ میں ذکر کیا اور کرم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبحر بے پایاں ہے حدث عن البحر ولاحرج والحمدلله رب العلمین (بحرسے بیان کیا اس میں کوئی حرج نہیں والحمدلله رب العلمین۔ ت)اور بات وہ ہے جو خود مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ بشارت بیان کرکے ارشاد فرمائی کہ لاتغتروا اس پر مغرور نہ ہونا رواہ البخاری عن عثمن ذی النورین رضی الله تعالی عنھم وحسبنا الله ونعم الوکیل۔
حدیث سوم سنن بیہقی میں ہے :
عن عبدالله بن المثنی قال حدثنی بعض اھل بیتی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان رجلا من الانصار من بنی عمرو بن عوف قال یا رسول الله انك رغبتنا فی السواك فھل دون ذلك من شیئ قال اصبعك سواك عند وضوء ک
عبدالله بن المثنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیان کیاکہ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا کہ بنی عمرو بن عوف سے ایك انصاری نے عرض کی یارسول اللہ! حضورنے مسواك کی طرف ہمیں ترغیب فرمائی کیااس کے سوابھی کوئی صورت ہے فرمایا : وضوکے وقت تیری انگلی مسواك ہے کہ
کے گناہ منہ سے اور ناك کے بانسوں سے نکل پڑیں “ ۔ پھرچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکرکے بعد ہے : “ پھراپنے سرکامسح کرے تواس کے سر کے گناہ بال کے کناروں سے پانی کے ساتھ گرجائیں “ ۔ (ت)
بہت علماء فرماتے ہیں یہاں گناہوں سے صغائر مراد ہیں ۔
اقول : تحقیق یہ ہے کہ کبائر بھی دھلتے ہیں اگرچہ زائل نہ ہوں یہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہوغیرہ اکابر اولیائے کرام قدست اسرارہم کا مشاہدہ ہے جسے فقیر نے رسالہ “ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل(۱۳۲۰ھ) “ میں ذکر کیا اور کرم مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبحر بے پایاں ہے حدث عن البحر ولاحرج والحمدلله رب العلمین (بحرسے بیان کیا اس میں کوئی حرج نہیں والحمدلله رب العلمین۔ ت)اور بات وہ ہے جو خود مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے یہ بشارت بیان کرکے ارشاد فرمائی کہ لاتغتروا اس پر مغرور نہ ہونا رواہ البخاری عن عثمن ذی النورین رضی الله تعالی عنھم وحسبنا الله ونعم الوکیل۔
حدیث سوم سنن بیہقی میں ہے :
عن عبدالله بن المثنی قال حدثنی بعض اھل بیتی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان رجلا من الانصار من بنی عمرو بن عوف قال یا رسول الله انك رغبتنا فی السواك فھل دون ذلك من شیئ قال اصبعك سواك عند وضوء ک
عبدالله بن المثنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیان کیاکہ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا کہ بنی عمرو بن عوف سے ایك انصاری نے عرض کی یارسول اللہ! حضورنے مسواك کی طرف ہمیں ترغیب فرمائی کیااس کے سوابھی کوئی صورت ہے فرمایا : وضوکے وقت تیری انگلی مسواك ہے کہ
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ مالک ، حم ، م حدیث ۲۶۰۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۸۶ ، صحیح مسلم کتاب صلوۃالمسافرین ، باب اسلام عمروبن عبسۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷۶
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب یایہاالناس ان وعد اللہ حق...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۵۲
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب یایہاالناس ان وعد اللہ حق...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۵۲
تمر بھا علی اسنانك انہ لاعمل لمن لانیۃ لہ ولا اجر لمن لاخشیۃ لہ ۔
اپنے دانتوں پرپھیرے بیشك بے نیت کے کوئی عمل نہیں اوربے خوف الہی کے ثواب نہیں ۔
اقول : اولا یہ حدیث ضعیف ہے لما تری من الجہالۃ فی سندہ وقد ضعفہ البیہقی۔ (جیساکہ تو دیکھتا ہے اس کی سند میں جہالت ہے اور امام بیہقی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ت)
ثانیا و ثالثا لفظ عند وضوء ك میں وہی مباحث ہیں کہ گزرے۔
حدیث چہارم ایك حدیث مرسل میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الوضوء شطر الایمان والسواك شطر الوضوء رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ عن حسان بن عطیۃ و رستۃ فی کتاب الایمان عنہ بلفظ السواك نصف الوضوء والوضوء نصف الایمان ۔
وضوایمان کا حصہ ہے اور مسواك وضوکاحصہ ہے۔ اس کو ابوبکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا اور رستہ نے اس کو ان سے کتاب الایمان میں ان الفاظ سے روایت کیاکہ : مسواك نصف وضو ہے اور وضونصف ایمان۔ (ت)
اقول : یعنی ایمان بے وضو کامل نہیں ہوتا اور وضو بے مسواک۔ اس سے مسواك کا داخل وضو ہونا ثابت نہیں ہوتا جس طرح وضو داخل ایمان نہیں ہاں وجہ تکمیل ہونا مفہوم ہوتا ہے وہ ہر سنت کیلئے حاصل ہے قبلیہ ہو یا بعدیہ جس طرح صبح و ظہر کی سنتیں فرضوں کی مکمل ہیں والله تعالی اعلم۔
ثالثا اقول : جب محقق ہو لیا کہ مسواك سنت ہے اور ہمارے علما اسے سنت وضو مانتے اور شافعیہ کے ساتھ اپنا خلاف یونہی نقل فرماتے ہیں کہ ان کے نزدیك سنت نماز ہے اور ہمارے نزدیك سنت وضو اور متون مذہب قاطبۃیك زبان یك زبان صریح فرمارہے ہیں کہ مسواك سنن وضو سے ہے تو اس سے عدول کی کیا وجہ ہے سنت شے قبلیہ ہوتی ہے یا بعدیہ یا داخلہ جیسے رکوع میں تسویہ ظہر۔ مگر روشن بیانوں سے ثابت ہواکہ مسواك وضو کی سنت داخلہ نہیں کہ سنت بے مواظبت نہیں اور وضو کرتے میں مسواك فرمانے پر مداومت درکنار اصلا ثبوت ہی نہیں اور سنت بعدیہ نہ کوئی مانتا ہے نہ اس کا محل ہے کہ مسواك سے خون نکلے تو وضو بھی جائے۔ بحرالرائق میں ہے :
اپنے دانتوں پرپھیرے بیشك بے نیت کے کوئی عمل نہیں اوربے خوف الہی کے ثواب نہیں ۔
اقول : اولا یہ حدیث ضعیف ہے لما تری من الجہالۃ فی سندہ وقد ضعفہ البیہقی۔ (جیساکہ تو دیکھتا ہے اس کی سند میں جہالت ہے اور امام بیہقی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ت)
ثانیا و ثالثا لفظ عند وضوء ك میں وہی مباحث ہیں کہ گزرے۔
حدیث چہارم ایك حدیث مرسل میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الوضوء شطر الایمان والسواك شطر الوضوء رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ عن حسان بن عطیۃ و رستۃ فی کتاب الایمان عنہ بلفظ السواك نصف الوضوء والوضوء نصف الایمان ۔
وضوایمان کا حصہ ہے اور مسواك وضوکاحصہ ہے۔ اس کو ابوبکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا اور رستہ نے اس کو ان سے کتاب الایمان میں ان الفاظ سے روایت کیاکہ : مسواك نصف وضو ہے اور وضونصف ایمان۔ (ت)
اقول : یعنی ایمان بے وضو کامل نہیں ہوتا اور وضو بے مسواک۔ اس سے مسواك کا داخل وضو ہونا ثابت نہیں ہوتا جس طرح وضو داخل ایمان نہیں ہاں وجہ تکمیل ہونا مفہوم ہوتا ہے وہ ہر سنت کیلئے حاصل ہے قبلیہ ہو یا بعدیہ جس طرح صبح و ظہر کی سنتیں فرضوں کی مکمل ہیں والله تعالی اعلم۔
ثالثا اقول : جب محقق ہو لیا کہ مسواك سنت ہے اور ہمارے علما اسے سنت وضو مانتے اور شافعیہ کے ساتھ اپنا خلاف یونہی نقل فرماتے ہیں کہ ان کے نزدیك سنت نماز ہے اور ہمارے نزدیك سنت وضو اور متون مذہب قاطبۃیك زبان یك زبان صریح فرمارہے ہیں کہ مسواك سنن وضو سے ہے تو اس سے عدول کی کیا وجہ ہے سنت شے قبلیہ ہوتی ہے یا بعدیہ یا داخلہ جیسے رکوع میں تسویہ ظہر۔ مگر روشن بیانوں سے ثابت ہواکہ مسواك وضو کی سنت داخلہ نہیں کہ سنت بے مواظبت نہیں اور وضو کرتے میں مسواك فرمانے پر مداومت درکنار اصلا ثبوت ہی نہیں اور سنت بعدیہ نہ کوئی مانتا ہے نہ اس کا محل ہے کہ مسواك سے خون نکلے تو وضو بھی جائے۔ بحرالرائق میں ہے :
حوالہ / References
السنن الکبری کتاب الطہارۃ ، باب الاستیاک بالاصابع دارصادربیروت ۱ / ۴۱
المصنّف لابن ابی شیبہ ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۷
الجامع الصغیر(للسیوطی ) بحوالہ رستۃ حدیث ۴۸۳۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۹۷
المصنّف لابن ابی شیبہ ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۵۷
الجامع الصغیر(للسیوطی ) بحوالہ رستۃ حدیث ۴۸۳۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۹۷
وعلله السراج الھندی فی شرح الھدایۃ بانہ اذا استاك للصلاۃ ربما یخرج منہ دم وھو نجس بالاجماع وان لم یکن ناقضا عندالشافعی رضی الله تعالی عنہ ۔
اور سراج ہندی نے اپنی شرح ہدایہ میں اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ جب نماز کے لئے وضوکرے گاتوبعض اوقات اس سے خون نکل جائے گا۔ اوریہ بالاجماع نجس ہے اگرچہ امام شافعی کے نزدیك ناقض وضو نہیں ۔ (ت)
لاجرم ثابت ہواکہ سنت قبلیہ ہے اوریہی مطلوب تھااورخود حدیث صحیح مسلم اس کی طرف ناظر اورحدیث ابی داؤد اس میں نص ۔
کما تقدم اما تعلیل التبیین عدم استنانہ فی الوضوء بانہ لایختص بہ ۔
اقول : اولا لا یلزم فــــ۱ لسنۃ الشیئ الاختصاص بہ الا تری ان ترك اللغوسنۃ مطلقا ویتأکد استنانہ للصائم والمحرم والمعتکف والتسمیۃ کمالا تختص بالوضوء لاتختص بالاکل ولا یسوغ انکار انھا سنۃ للاکل وثانیا اذا فـــــ۲ واظب النبی صلی الله علیہ وسلم علی شیئ فی شیئین فہل یکون ذلك سنۃ فیہما او فی احدھما اولا فی شیئ منھما الثالث
جیسا کہ گزرا مگر تبیین میں مسواك کے سنت وضونہ ہونے کی علت یہ بتانا کہ مسواك وضو کے ساتھ خاص نہیں ۔ (ت)
اقول : اس پر اولا یہ کلام ہے کہ سنت شے ہونے کے لئے یہ لازم نہیں کہ اس شے کے ساتھ خاص بھی ہو۔ دیکھئے ترك لغومطلقا سنت ہے اورروزہ درا صاحب احرام اورمعتکف کے لئے اس کامسنون ہونااورمؤکد ہو جاتاہے۔ اورتسمیہ جیسے وضو کے ساتھ خاص نہیں کھانے کے ساتھ بھی خاص نہیں مگر تسمیہ کے کھانے کی سنت ہونے سے انکارکی گنجائش نہیں ۔ دوسرا کلام یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکسی عمل پردوچیزوں کے اندر مواظبت فرمائیں تووہ ان دونوں میں سنت ہوگا یاایك میں ہوگایاکسی میں نہ ہوگا۔ تیسری
فــــ۱ : تطفل علی الامام الزیلعی ۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔
اور سراج ہندی نے اپنی شرح ہدایہ میں اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ جب نماز کے لئے وضوکرے گاتوبعض اوقات اس سے خون نکل جائے گا۔ اوریہ بالاجماع نجس ہے اگرچہ امام شافعی کے نزدیك ناقض وضو نہیں ۔ (ت)
لاجرم ثابت ہواکہ سنت قبلیہ ہے اوریہی مطلوب تھااورخود حدیث صحیح مسلم اس کی طرف ناظر اورحدیث ابی داؤد اس میں نص ۔
کما تقدم اما تعلیل التبیین عدم استنانہ فی الوضوء بانہ لایختص بہ ۔
اقول : اولا لا یلزم فــــ۱ لسنۃ الشیئ الاختصاص بہ الا تری ان ترك اللغوسنۃ مطلقا ویتأکد استنانہ للصائم والمحرم والمعتکف والتسمیۃ کمالا تختص بالوضوء لاتختص بالاکل ولا یسوغ انکار انھا سنۃ للاکل وثانیا اذا فـــــ۲ واظب النبی صلی الله علیہ وسلم علی شیئ فی شیئین فہل یکون ذلك سنۃ فیہما او فی احدھما اولا فی شیئ منھما الثالث
جیسا کہ گزرا مگر تبیین میں مسواك کے سنت وضونہ ہونے کی علت یہ بتانا کہ مسواك وضو کے ساتھ خاص نہیں ۔ (ت)
اقول : اس پر اولا یہ کلام ہے کہ سنت شے ہونے کے لئے یہ لازم نہیں کہ اس شے کے ساتھ خاص بھی ہو۔ دیکھئے ترك لغومطلقا سنت ہے اورروزہ درا صاحب احرام اورمعتکف کے لئے اس کامسنون ہونااورمؤکد ہو جاتاہے۔ اورتسمیہ جیسے وضو کے ساتھ خاص نہیں کھانے کے ساتھ بھی خاص نہیں مگر تسمیہ کے کھانے کی سنت ہونے سے انکارکی گنجائش نہیں ۔ دوسرا کلام یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکسی عمل پردوچیزوں کے اندر مواظبت فرمائیں تووہ ان دونوں میں سنت ہوگا یاایك میں ہوگایاکسی میں نہ ہوگا۔ تیسری
فــــ۱ : تطفل علی الامام الزیلعی ۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰
باطل و الا یختلف المحدود مع صدق الحد وکذا الثانی مع علاوۃ الترجیح بلا مرجح فتعین الاول وثبت ان الاختصاص لایلزم الاستنان۔
اما ما فی عمدۃ القاری اختلف العلماء فیہ فقال بعضھم انہ من سنۃ الوضوء وقال اخرون انہ من سنۃ الصلاۃ وقال اخرون انہ من سنۃ الدین وھو الاقوی نقل ذلك عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ اھ ذکرہ فی باب السواك من ابواب الوضوء زاد فی باب السواك یوم الجمعۃ ان المنقول عن ابی حنیفۃ انہ من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال اھ۔
اقول : یؤیدہ حدیث الدیلمی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم السواك سنۃ فاستاکوا ای وقت شئتم ۔
شق باطل ہے ورنہ لازم آئے گا کہ تعریف صادق ہے اور معرف صادق ہی نہیں ۔ یہی خرابی دوسری شق میں بھی لازم آئے گی مزیدبرآں ترجیح بلامرجح بھی۔ توپہلی شق متعین ہوگئی اورثابت ہوگیا کہ سنت ہونے کے لئے خاص ہونا لازم نہیں ۔
اب رہا وہ جو عمدۃ القاری میں ہے : اس کے بارے میں علماء کااختلاف ہے بعض نے فرمایا سنت وضوہے بعض دیگر نے کہاسنت نماز ہے۔ اور کچھ حضرات نے فرمایاسنت دین ہے اوریہی زیادہ قوی ہے یہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے اھ یہ علامہ عینی نے ابواب الوضو کے باب السواك میں ذکرکیا اور باب السواك یوم الجمعہ میں اتنا اضافہ کیا : امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ “ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے “ ۔ تو اس میں تمام احوال برابر ہوں گے اھ۔
اقول : اس کی تائید دیلمی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : مسواك سنت ہے توتم جس وقت چاہومسواك کرو۔
اما ما فی عمدۃ القاری اختلف العلماء فیہ فقال بعضھم انہ من سنۃ الوضوء وقال اخرون انہ من سنۃ الصلاۃ وقال اخرون انہ من سنۃ الدین وھو الاقوی نقل ذلك عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ اھ ذکرہ فی باب السواك من ابواب الوضوء زاد فی باب السواك یوم الجمعۃ ان المنقول عن ابی حنیفۃ انہ من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال اھ۔
اقول : یؤیدہ حدیث الدیلمی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم السواك سنۃ فاستاکوا ای وقت شئتم ۔
شق باطل ہے ورنہ لازم آئے گا کہ تعریف صادق ہے اور معرف صادق ہی نہیں ۔ یہی خرابی دوسری شق میں بھی لازم آئے گی مزیدبرآں ترجیح بلامرجح بھی۔ توپہلی شق متعین ہوگئی اورثابت ہوگیا کہ سنت ہونے کے لئے خاص ہونا لازم نہیں ۔
اب رہا وہ جو عمدۃ القاری میں ہے : اس کے بارے میں علماء کااختلاف ہے بعض نے فرمایا سنت وضوہے بعض دیگر نے کہاسنت نماز ہے۔ اور کچھ حضرات نے فرمایاسنت دین ہے اوریہی زیادہ قوی ہے یہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے اھ یہ علامہ عینی نے ابواب الوضو کے باب السواك میں ذکرکیا اور باب السواك یوم الجمعہ میں اتنا اضافہ کیا : امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ “ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے “ ۔ تو اس میں تمام احوال برابر ہوں گے اھ۔
اقول : اس کی تائید دیلمی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : مسواك سنت ہے توتم جس وقت چاہومسواك کرو۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء ، باب السواک تحت حدیث ۲۴۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۷۴
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعۃ ، باب السواک...الخ تحت حدیث ۸۸۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۲۶۱
کنزالعمال بحوالہ فر حدیث ۲۶۱۶۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۱
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعۃ ، باب السواک...الخ تحت حدیث ۸۸۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۲۶۱
کنزالعمال بحوالہ فر حدیث ۲۶۱۶۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۳۱۱
ولکن اولا لاکونہ فــــ۱ سنۃ فی الوضوء ینفی کونہ من سنن الدین بل یقررہ ولاکونہ سنۃ مستقلۃ ینافی کونہ من سنن الوضوء کما قررنا الا تری ان الماثور عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ من سنن الدین واطبقت حملۃ عرش مذھبہ المتین المتون انہ من سنن الوضوء ونصھا عین نصہ رضی الله تعالی عنہ ۔
وثانیا ھذا الامام العینی فــــ۲نفسہ ناصا قبل ھذا بنحو ورقۃ ان باب السواك من احکام الوضوء عند الاکثرین اھ فلم نعدل عن قول الاکثرین وعن اطباق المتون لروایۃ عن الامام لاتنافیہ اصل۔
وثالثا اعجب فــــ۳من ھذا قولہ رحمہ الله تعالی فی شرح قول الکنز وسنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواك
لیکن اولا نہ تواس کاسنت وضوہونا سنت دین ہونے کی نفی کرتاہے۔ بلکہ اس کی تائیدکرتاہے۔ اورنہ ہی اس کا سنت مستقلہ ہونا سنت وضو ہونے کے منافی ہے جیسا کہ ہم نے تقریر کی۔ یہی دیکھئے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ مسواك دین کی ایك سنت ہے اوران کے مذہب متین کے حامل جملہ متون کااس پر اتفاق ہے کہ مسواك وضو کی ایك سنت ہے۔ اورنص متون خود امام رضی اللہ تعالی عنہکانص ہے۔
ثانیا خود امام عینی نے اس سے ایك ورق پہلے صراحت فرمائی ہے کہ اکثرحضرات کے نزدیك مسواك کاباب احکام وضوسے ہے اھ توہم قول اکثراوراتفاق متون سے امام کی ایك ایسی روایت کے سبب عدول کیوں کریں جو اس کے منافی بھی نہیں ہے۔
ثالثا اس سے زیادہ عجیب شرح کنز میں علامہ عینی کاکلام ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ کنز کی عبارت یہ ہے : “ سنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک “ ۔
ـــــ۱ : تطفل علی الامام العینی۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔ فـــــ۳ : ثالث علیہ۔
وثانیا ھذا الامام العینی فــــ۲نفسہ ناصا قبل ھذا بنحو ورقۃ ان باب السواك من احکام الوضوء عند الاکثرین اھ فلم نعدل عن قول الاکثرین وعن اطباق المتون لروایۃ عن الامام لاتنافیہ اصل۔
وثالثا اعجب فــــ۳من ھذا قولہ رحمہ الله تعالی فی شرح قول الکنز وسنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواك
لیکن اولا نہ تواس کاسنت وضوہونا سنت دین ہونے کی نفی کرتاہے۔ بلکہ اس کی تائیدکرتاہے۔ اورنہ ہی اس کا سنت مستقلہ ہونا سنت وضو ہونے کے منافی ہے جیسا کہ ہم نے تقریر کی۔ یہی دیکھئے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ہے کہ مسواك دین کی ایك سنت ہے اوران کے مذہب متین کے حامل جملہ متون کااس پر اتفاق ہے کہ مسواك وضو کی ایك سنت ہے۔ اورنص متون خود امام رضی اللہ تعالی عنہکانص ہے۔
ثانیا خود امام عینی نے اس سے ایك ورق پہلے صراحت فرمائی ہے کہ اکثرحضرات کے نزدیك مسواك کاباب احکام وضوسے ہے اھ توہم قول اکثراوراتفاق متون سے امام کی ایك ایسی روایت کے سبب عدول کیوں کریں جو اس کے منافی بھی نہیں ہے۔
ثالثا اس سے زیادہ عجیب شرح کنز میں علامہ عینی کاکلام ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ کنز کی عبارت یہ ہے : “ سنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک “ ۔
ـــــ۱ : تطفل علی الامام العینی۔ فـــــ۲ : تطفل آخرعلیہ ۔ فـــــ۳ : ثالث علیہ۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب السواک دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۷۲
اذ قال الامام الزیلعی قولہ والسواك یحتمل وجھین احدھما ان یکون مجرورا عطفا علی التسمیۃ والثانی ان یکون مرفوعا عطفا علی الغسل والاول اظھر لان السنۃ ان یستاك عند ابتداء الوضوء اھ مانصہ بل الاظھر ھو الثانی لان المنقول عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ علی ما ذکرہ صاحب المفید ان السواك من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال اھ۔
اقول : کونہ من سنن الدین کان یقابل عندکم کونہ من سنن الوضوء فما یغنی الرفع مع کونہ عطفا علی خبر سنتہ ای سنۃ الوضوء وبوجہ اخر فــــ ما المراد باستواء الاحوال نفی ان یختص بہ حال
(وضو کی سنت گٹوں تك دونوں ہاتھوں کو شروع میں دھونا ہے جیسے تسمیہ اور مسواک)۔ اس پر امام زیلعی نے فرمایا : لفظ السواك کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں ایك یہ کہ لفظ التسمیۃ پر معطوف ہوکرمجرورہو۔ دوسری یہ کہ لفظ غسل (دھونا) پر معطوف ہوکر مرفوع ہو۔ اوراول زیادہ ظاہر ہے اس لئے کہ سنت یہ ہے کہ ابتدائے وضوکے وقت مسواك کرے اھ۔ اس پر علامہ عینی فرماتے ہیں : بلکہ زیادہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ جیسا کہ صاحب مفید نے ذکرکیا ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول یہ ہے کہ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے تواس صورت میں اس کے اندرتمام احوال برابر ہیں اھ۔
اقول : آپ کے نزدیك مسواك کا سنت دین ہونا سنت وضو ہونے کے مقابل تھا تولفظ السواك کے مرفوع ہونے سے کیاکام بنے گاجب کہ وہ لفظ سنتہ (یعنی سنت وضو)کی خبر پر عطف ہوگا(یعنی یہ ہوگاکہ اور - وضو کی سنت-مسواك کرنابھی ہے۔ تواس ترکیب پربھی سنت دین کے بجائے سنت وضو ہوناہی
فــــ : تطفل رابع علیہ ۔
اقول : کونہ من سنن الدین کان یقابل عندکم کونہ من سنن الوضوء فما یغنی الرفع مع کونہ عطفا علی خبر سنتہ ای سنۃ الوضوء وبوجہ اخر فــــ ما المراد باستواء الاحوال نفی ان یختص بہ حال
(وضو کی سنت گٹوں تك دونوں ہاتھوں کو شروع میں دھونا ہے جیسے تسمیہ اور مسواک)۔ اس پر امام زیلعی نے فرمایا : لفظ السواك کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں ایك یہ کہ لفظ التسمیۃ پر معطوف ہوکرمجرورہو۔ دوسری یہ کہ لفظ غسل (دھونا) پر معطوف ہوکر مرفوع ہو۔ اوراول زیادہ ظاہر ہے اس لئے کہ سنت یہ ہے کہ ابتدائے وضوکے وقت مسواك کرے اھ۔ اس پر علامہ عینی فرماتے ہیں : بلکہ زیادہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ جیسا کہ صاحب مفید نے ذکرکیا ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے منقول یہ ہے کہ مسواك دین کی سنتوں میں سے ہے تواس صورت میں اس کے اندرتمام احوال برابر ہیں اھ۔
اقول : آپ کے نزدیك مسواك کا سنت دین ہونا سنت وضو ہونے کے مقابل تھا تولفظ السواك کے مرفوع ہونے سے کیاکام بنے گاجب کہ وہ لفظ سنتہ (یعنی سنت وضو)کی خبر پر عطف ہوگا(یعنی یہ ہوگاکہ اور - وضو کی سنت-مسواك کرنابھی ہے۔ تواس ترکیب پربھی سنت دین کے بجائے سنت وضو ہوناہی
فــــ : تطفل رابع علیہ ۔
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۵
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۵
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ ، سنن الوضوء دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۵
بحیث تفقد السنیۃ فی غیرہ ام نفی التشکیك بحسب الاحوال بحیث لایکون التصاقہ بعضھا ازید من بعض علی الاول لاوجہ لاستظہار الثانی فلو کان سنۃ فی ابتداء الوضوء ای اشد طلبا فی ھذا الوقت والصق بہ لم ینتف استنانہ فی غیر الوضوء وعلی الثانی لاوجہ للثانی ولا للاول فضلا عن کون احدھما اظھر من الاخر۔
والعجب من البحر صاحب البحرانہ جعل الاولی کون وقتہ عند المضمضۃ لاقبل الوضوء وتبع الزیلعی فی ان الجر اظھر لیفید ان الابتداء بہ سنۃ نبہ علیہ اخوہ
نکلتاہے۱۲م)بطرز دیگر تمام احوال کے برابر ہونے سے کیا مراد ہے (۱)یہ کہ کسی حال میں مسواك کی ایسی کوئی خصوصیت نہیں جس کے باعث وہ دوسرے حال میں مسنون نہ رہ جائے (۲)یا احوال کے لحاظ سے تشکیك کی نفی مقصود ہے اس طرح کہ مسواك کابعض احوال سے تعلق بعض دیگر سے زیادہ نہ ہو۔ اگرتقدیراول مراد ہے تولفظ السواك کے رفع کوزیادہ ظاہرکہنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ کیونکہ مسواك اگر ابتدائے وضو میں سنت ہو۔ یعنی اس وقت میں اس کا مطالبہ اوراس سے اس کا تعلق زیادہ ہو۔ تواس سے غیر وضو میں اس کی مسنونیت کی نفی نہیں ہوتی۔ برتقدیر دوم نہ ترکیب ثانی کی کوئی وجہ رہ جاتی ہے نہ ترکیب اول کی کسی ایك کادوسری سے زیادہ ظاہر ہوناتودرکنار۔ (کیونکہ تمام احوال کے برابر ہونے کا مطلب جب یہ ٹھہراکہ کسی بھی حال سے اس کا تعلق دوسرے سے زیادہ نہیں تو نہ یہ کہنے کی کوئی وجہ رہی کہ ابتدائے وضومیں سنت ہے نہ یہ ماننے کی وجہ رہی کہ وضو میں مطلقا سنت ہے۱۲م)
اور صاحب بحر پرتعجب ہے کہ ایك طرف توانہوں نے یہ ماناہے کہ وقت مسواك حالت مضمضہ میں ہونااولی ہے قبل وضونہیں اوردوسری طرف انہوں نے کنز میں لفظ السواك کاجرزیادہ ظاہر ماننے میں امام زیلعی کی پیروی بھی کرلی ہے جس کا مفادیہ ہے مسواك وضو کے
والعجب من البحر صاحب البحرانہ جعل الاولی کون وقتہ عند المضمضۃ لاقبل الوضوء وتبع الزیلعی فی ان الجر اظھر لیفید ان الابتداء بہ سنۃ نبہ علیہ اخوہ
نکلتاہے۱۲م)بطرز دیگر تمام احوال کے برابر ہونے سے کیا مراد ہے (۱)یہ کہ کسی حال میں مسواك کی ایسی کوئی خصوصیت نہیں جس کے باعث وہ دوسرے حال میں مسنون نہ رہ جائے (۲)یا احوال کے لحاظ سے تشکیك کی نفی مقصود ہے اس طرح کہ مسواك کابعض احوال سے تعلق بعض دیگر سے زیادہ نہ ہو۔ اگرتقدیراول مراد ہے تولفظ السواك کے رفع کوزیادہ ظاہرکہنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ کیونکہ مسواك اگر ابتدائے وضو میں سنت ہو۔ یعنی اس وقت میں اس کا مطالبہ اوراس سے اس کا تعلق زیادہ ہو۔ تواس سے غیر وضو میں اس کی مسنونیت کی نفی نہیں ہوتی۔ برتقدیر دوم نہ ترکیب ثانی کی کوئی وجہ رہ جاتی ہے نہ ترکیب اول کی کسی ایك کادوسری سے زیادہ ظاہر ہوناتودرکنار۔ (کیونکہ تمام احوال کے برابر ہونے کا مطلب جب یہ ٹھہراکہ کسی بھی حال سے اس کا تعلق دوسرے سے زیادہ نہیں تو نہ یہ کہنے کی کوئی وجہ رہی کہ ابتدائے وضومیں سنت ہے نہ یہ ماننے کی وجہ رہی کہ وضو میں مطلقا سنت ہے۱۲م)
اور صاحب بحر پرتعجب ہے کہ ایك طرف توانہوں نے یہ ماناہے کہ وقت مسواك حالت مضمضہ میں ہونااولی ہے قبل وضونہیں اوردوسری طرف انہوں نے کنز میں لفظ السواك کاجرزیادہ ظاہر ماننے میں امام زیلعی کی پیروی بھی کرلی ہے جس کا مفادیہ ہے مسواك وضو کے
فی النھر رحمھم الله تعالی جمیعا۔
اما تعلیل الفتح ان لاسنیۃ دون المواظبۃ ولم تثبت عند الوضوء۔
اقول : الدلیل فــــ۱ اعم من الدعوی فان المقصود نفی الاستنان للوضوء والدلیل نفی کونہ من السنن الداخلۃ فیہ فلم لایختار کونہ سنۃ قبلیۃ للوضوء۔
شروع میں ہوناسنت ہے۔ اس پر ان کے برادر نے النہر الفائق میں تنبیہ کی رحمہم اللہ تعالیجمیعا۔
اب رہی فتح القدیر کی یہ تعلیل کہ بغیر مداومت کے سنیت ثابت نہیں ہوتی اور وقت وضو مداومت ثابت نہیں ۔
اقول : دلیل دعوی سے اعم ہے اس لئے کہ مدعایہ ہے کہ مسواك وضو کے لئے سنت نہیں ۔ اور دلیل یہ ہے کہ مسواکوضو کے اندر سنت نہیں ۔ توکیوں نہ یہ اختیارکیاجائے کہ مسواك وضو کی سنت قبلیہ ہے(یعنی وضو کے اندر تو نہیں مگر اس سے پہلے مسواك کرلینا سنت وضو ہے۱۲م)
بالجملہ بحکم متون واحادیث اظہر وہی مختار بدائع وزیلعی وحلیہ ہے کہ مسواك وضو کی سنت قبلیہ ہے ہاں سنت مؤکدہ اسی وقت ہے جبکہ منہ میں تغیر ہو اس تحقیق پر جبکہ مسواك وضو کی سنت ہے مگر وضو میں نہیں بلکہ اس سے پہلے ہے تو جو پانی کہ مسواك میں صرف ہوگا اس حساب سے خارج ہے سنت یہ ہے کہ مسواك فــــ۲ کرنے سے پہلے دھولی جائے اور فراغ کے بعد دھو کر رکھی جائے اور کم از کم اوپر کے دانتوں اور نیچے کے دانتوں میں تین تین بار تین پانیوں سے کی جائے۔ درمختار میں ہے :
اقلہ ثلاث فی الاعالی وثلاث فی الاسافل بمیاہ ثلثۃ ۔
اس کی کم سے کم مقداریہ ہے کہ تین بار اوپرکے دانتوں میں تین بارنیچے کے دانتوں میں تین تین پانیوں سے ہو۔
فـــ : تطفل علی الفتح ۔
فـــ۲ : مسئلہ : مسواك دھو کر کی جائے اور کرکے دھولیں اورکم ازکم تین تین بارتین پانیوں سے ہو۔
اما تعلیل الفتح ان لاسنیۃ دون المواظبۃ ولم تثبت عند الوضوء۔
اقول : الدلیل فــــ۱ اعم من الدعوی فان المقصود نفی الاستنان للوضوء والدلیل نفی کونہ من السنن الداخلۃ فیہ فلم لایختار کونہ سنۃ قبلیۃ للوضوء۔
شروع میں ہوناسنت ہے۔ اس پر ان کے برادر نے النہر الفائق میں تنبیہ کی رحمہم اللہ تعالیجمیعا۔
اب رہی فتح القدیر کی یہ تعلیل کہ بغیر مداومت کے سنیت ثابت نہیں ہوتی اور وقت وضو مداومت ثابت نہیں ۔
اقول : دلیل دعوی سے اعم ہے اس لئے کہ مدعایہ ہے کہ مسواك وضو کے لئے سنت نہیں ۔ اور دلیل یہ ہے کہ مسواکوضو کے اندر سنت نہیں ۔ توکیوں نہ یہ اختیارکیاجائے کہ مسواك وضو کی سنت قبلیہ ہے(یعنی وضو کے اندر تو نہیں مگر اس سے پہلے مسواك کرلینا سنت وضو ہے۱۲م)
بالجملہ بحکم متون واحادیث اظہر وہی مختار بدائع وزیلعی وحلیہ ہے کہ مسواك وضو کی سنت قبلیہ ہے ہاں سنت مؤکدہ اسی وقت ہے جبکہ منہ میں تغیر ہو اس تحقیق پر جبکہ مسواك وضو کی سنت ہے مگر وضو میں نہیں بلکہ اس سے پہلے ہے تو جو پانی کہ مسواك میں صرف ہوگا اس حساب سے خارج ہے سنت یہ ہے کہ مسواك فــــ۲ کرنے سے پہلے دھولی جائے اور فراغ کے بعد دھو کر رکھی جائے اور کم از کم اوپر کے دانتوں اور نیچے کے دانتوں میں تین تین بار تین پانیوں سے کی جائے۔ درمختار میں ہے :
اقلہ ثلاث فی الاعالی وثلاث فی الاسافل بمیاہ ثلثۃ ۔
اس کی کم سے کم مقداریہ ہے کہ تین بار اوپرکے دانتوں میں تین بارنیچے کے دانتوں میں تین تین پانیوں سے ہو۔
فـــ : تطفل علی الفتح ۔
فـــ۲ : مسئلہ : مسواك دھو کر کی جائے اور کرکے دھولیں اورکم ازکم تین تین بارتین پانیوں سے ہو۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۲
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۱
صغیری میں ہے :
یغسلہ عد الاستیاك وعند الفراغ منہ ۔
مسواك کو مسواك کرنے کے وقت اوراس سے فارغ ہونے کے بعد دھولے۔ (ت)
(۵) اس قدر تو درکار ہی ہے اور اس کے ساتھ اگر منہ میں کوئی تغیر رائحہ ہوا تو جتنی بار مسواك اور کلیوں سے اس کا ازالہ ہو لازم ہے اس کیلئے کوئی حد مقرر نہیں بدبو دار کثیف فــــ۱ بے احتیاطی کا حقہ پینے والوں کو اس کا خیال سخت ضروری ہے اور ان سے زیادہ سگریٹ والے کہ اس کی بدبو مرکب تمباکو سے سخت تر اور زیادہ دیرپا ہے اور ان سب سے زائد اشد ضرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اس کا جرم دبا رہتا اور منہ کو اپنی بدبو سے بسا دیتا ہے یہ سب لوگ وہاں تك مسواك اور کلیاں کریں کہ منہ بالکل صاف ہوجائے اور بو کا اصلا نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے منہ کے قریب لے جاکر منہ کھول کر زور سے تین بار حلق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اور معا سونگھیں بغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے اور جب منہ میں فــــ۲ بدبو ہوتو مسجد میں جانا حرام نماز میں داخل ہونا منع والله الھادی۔
(۶) یوں ہی جسے تر کھانسی ہو اور بلغم کثیر ولزوج کہ بمشکل بتدریج جدا ہو اور معلوم ہے کہ مسواك کی تکرار اور کلیوں غراروں کا اکثار اس کے خروج پر معین تو اس کے لئے بھی حد نہیں باندھ سکتے۔
(۷) یہی حال زکام کا ہے جبکہ ریزش زیادہ اور لزوجت دار ہو اس کے تصفیہ اور بار بار ہاتھ دھونے میں جو پانی صرف ہو وہ بھی جدا اور نامعین المقدار ہے۔
(۸) پانوں کی فــــ۳ کثرت سے عادی خصوصا جبکہ دانتوں میں فضا ہو تجربہ سے جانتے ہیں کہ چھالیا کے باریك ریزے اور پان کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس طرح منہ کے اطراف واکناف میں جاگیر ہوتے
فــــ۱ : مسئلہ : حقہ اورسگرٹ پینے اورتمباکوکھانے والوں کے لئے مسواك میں کہاں تك احتیاط واجب ہے اوران کے امتحان کاطریقہ۔
فــــ۲ : مسئلہ : منہ میں بدبو ہوتوجب تك صاف نہ کرلیں مسجدمیں جانایانمازپڑھنامنع ہے۔
فــــ۳ : مسئلہ : پان کے عادی کوکلیوں میں کتنی احتیاط لازم ۔
یغسلہ عد الاستیاك وعند الفراغ منہ ۔
مسواك کو مسواك کرنے کے وقت اوراس سے فارغ ہونے کے بعد دھولے۔ (ت)
(۵) اس قدر تو درکار ہی ہے اور اس کے ساتھ اگر منہ میں کوئی تغیر رائحہ ہوا تو جتنی بار مسواك اور کلیوں سے اس کا ازالہ ہو لازم ہے اس کیلئے کوئی حد مقرر نہیں بدبو دار کثیف فــــ۱ بے احتیاطی کا حقہ پینے والوں کو اس کا خیال سخت ضروری ہے اور ان سے زیادہ سگریٹ والے کہ اس کی بدبو مرکب تمباکو سے سخت تر اور زیادہ دیرپا ہے اور ان سب سے زائد اشد ضرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اس کا جرم دبا رہتا اور منہ کو اپنی بدبو سے بسا دیتا ہے یہ سب لوگ وہاں تك مسواك اور کلیاں کریں کہ منہ بالکل صاف ہوجائے اور بو کا اصلا نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے منہ کے قریب لے جاکر منہ کھول کر زور سے تین بار حلق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اور معا سونگھیں بغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے اور جب منہ میں فــــ۲ بدبو ہوتو مسجد میں جانا حرام نماز میں داخل ہونا منع والله الھادی۔
(۶) یوں ہی جسے تر کھانسی ہو اور بلغم کثیر ولزوج کہ بمشکل بتدریج جدا ہو اور معلوم ہے کہ مسواك کی تکرار اور کلیوں غراروں کا اکثار اس کے خروج پر معین تو اس کے لئے بھی حد نہیں باندھ سکتے۔
(۷) یہی حال زکام کا ہے جبکہ ریزش زیادہ اور لزوجت دار ہو اس کے تصفیہ اور بار بار ہاتھ دھونے میں جو پانی صرف ہو وہ بھی جدا اور نامعین المقدار ہے۔
(۸) پانوں کی فــــ۳ کثرت سے عادی خصوصا جبکہ دانتوں میں فضا ہو تجربہ سے جانتے ہیں کہ چھالیا کے باریك ریزے اور پان کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس طرح منہ کے اطراف واکناف میں جاگیر ہوتے
فــــ۱ : مسئلہ : حقہ اورسگرٹ پینے اورتمباکوکھانے والوں کے لئے مسواك میں کہاں تك احتیاط واجب ہے اوران کے امتحان کاطریقہ۔
فــــ۲ : مسئلہ : منہ میں بدبو ہوتوجب تك صاف نہ کرلیں مسجدمیں جانایانمازپڑھنامنع ہے۔
فــــ۳ : مسئلہ : پان کے عادی کوکلیوں میں کتنی احتیاط لازم ۔
حوالہ / References
صغیری شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک مطبع مجتبائی دہلی ص۱۴
ہیں کہ تین۳ بلکہ کبھی دس۱۰ بارہ۱۲ کلیاں بھی ان کے تصفیہ تام کو کافی نہیں ہوتیں نہ خلال انہیں نکال سکتا ہے نہ مسواك سوا کلیوں کے کہ پانی منافذ میں داخل ہوتا اور جنبشیں دینے سے ان جمے ہوئے باریك ذروں کو بتدریج چھڑ چھڑا کرلاتا ہے اس کی بھی کوئی تحدید نہیں ہوسکتی اور یہ کامل تصفیہ بھی بہت مؤکد ہے متعدد فـــ احادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بندہ نماز کو کھڑا ہوتا ہے فرشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھتا ہے یہ جو کچھ پڑھتا ہے اس کے منہ سے نکل کر فرشتہ کے منہ میں جاتا ہے اس وقت اگر کھانے کی کوئی شے اس کے دانتوں میں ہوتی ہے ملائکہ کو اس سے ایسی سخت ایذا ہوتی ہے کہ اور شے سے نہیں ہوتی۔
البیہقی فی الشعب وتمام فی فوائدہ والدیلمی فی مسند الفردوس والضیاء فی المختارۃ عن جابر رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا قام احدکم یصلی من اللیل فلیستك فان احدکم اذا قرأ فی صلاتہ وضع ملك فاہ علی فیہ ولا یخرج من فیہ شیئ الادخل فم الملك وللطبرانی فی الکبیر عن ابی ایوب الانصاری رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لیس شیئ اشد علی الملکین من ان یریابین اسنان صاحبھما شیئا وھو قائم یصلی وفی
بیہقی شعب الایمان میں تمام فوائد میں دیلمی مسندالفردوس میں اور ضیاء مختارہ میں حضرت جابررضی اللہ تعالی عنہسے بسند صحیح راوی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑاہوتو مسواك کرلے اس لئے کہ جب وہ اپنی نمازمیں قراء ت کرتاہے توایك فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور جو قراء ت اس کے منہ سے نکلتی ہے فرشتے کے منہ میں جاتی ہے۔ اورمعجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : دونوں فرشتوں پر اس سے زیادہ گراں کوئی چیزنہیں کہ وہ اپنے ساتھ والے انسان کے دانتوں کے درمیان کھانے کی کوئی چیز پائیں جب وہ کھڑانماز پڑھ رہاہو۔ اوراس
فـــ : مسئلہ : نمازمیں منہ کی کمال صفائی کالحاظ لازم ہے ورنہ فرشتوں کوسخت ایذاہوتی ہے ۔
البیہقی فی الشعب وتمام فی فوائدہ والدیلمی فی مسند الفردوس والضیاء فی المختارۃ عن جابر رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا قام احدکم یصلی من اللیل فلیستك فان احدکم اذا قرأ فی صلاتہ وضع ملك فاہ علی فیہ ولا یخرج من فیہ شیئ الادخل فم الملك وللطبرانی فی الکبیر عن ابی ایوب الانصاری رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لیس شیئ اشد علی الملکین من ان یریابین اسنان صاحبھما شیئا وھو قائم یصلی وفی
بیہقی شعب الایمان میں تمام فوائد میں دیلمی مسندالفردوس میں اور ضیاء مختارہ میں حضرت جابررضی اللہ تعالی عنہسے بسند صحیح راوی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑاہوتو مسواك کرلے اس لئے کہ جب وہ اپنی نمازمیں قراء ت کرتاہے توایك فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور جو قراء ت اس کے منہ سے نکلتی ہے فرشتے کے منہ میں جاتی ہے۔ اورمعجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : دونوں فرشتوں پر اس سے زیادہ گراں کوئی چیزنہیں کہ وہ اپنے ساتھ والے انسان کے دانتوں کے درمیان کھانے کی کوئی چیز پائیں جب وہ کھڑانماز پڑھ رہاہو۔ اوراس
فـــ : مسئلہ : نمازمیں منہ کی کمال صفائی کالحاظ لازم ہے ورنہ فرشتوں کوسخت ایذاہوتی ہے ۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ شعب الایمان وتمام والدیلمی حدیث ۲۶۲۲۱ مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۹ / ۳۱۹
المعجم الکبیر حدیث ۴۰۶۱ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ / ۱۷۷
المعجم الکبیر حدیث ۴۰۶۱ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ / ۱۷۷
الباب عند ابن المبارك فی الزھد عن ابی عبدالرحمن السلمی عن امیر المومنین علی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم والدیلمی عن عبدالله بن جعفر رضی الله تعالی عنہما عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وابن نصر فی الصلاۃ عن الزھری عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مرسلا والاجری فی اخلاق حملۃ القران عن علی کرم الله وجہہ موقوفا۔
بارے میں امام عبدالله بن مبارك کی کتاب الزہد میں بھی حدیث ہے جوابوعبدالرحمن سلمی سے مروی ہے وہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے راوی ہیں ۔ اوردیلمی نے بھی عبدالله بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہماسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی ہے۔ اورابن نصرنے کتاب الصلوۃ میں امام زہری سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مرسلا اورآجری نے اخلاق حملۃ القرآن میں حضرت علی کرم الله تعالی وجہہ سے موقوفا روایت کی ہے۔ (ت)
تنبیہ : سیدنا فــــ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے حسن بن زیاد کی روایت کہ مستثنی پانیوں سے آب اول کے نیچے گزری جس کا حاصل یہ تھا کہ ایك رطل پانی سے استنجا اور ایك رطل منہ اور دونوں ہاتھ اور ایك رطل دونوں پاؤں کیلئے اور اسی کو علامہ شرف بخاری رحمہ الباری نے مقدمۃالصلاۃ میں ذکرفرمایاکہ
(۱) در وضو آب یك من ونیم ست غسل راچار من زتعلیم ست
(۲) در وضو کن بہ نیم من استنجا دار مردست وروئے نیمن را
(۳) پس بداں نیم من کہ مے ماند پائے شوید ہرانکہ مے داند
(۱) پانی وضومیں ڈیڑھ سیرہے غسل کے لیے چارسیرکی تعلیم ہے۔
(۲) وضومیں آدھے سیرسے استنجاکر ہاتھ اورمنہ کے لیے آدھے سیرکورکھ ۔
(۳) پھراس آدھے سیرسے جوبچتاہے پاؤں دھوئے وہ جوکہ جانتاہے ۔
اقول : اس سے ظاہریہ ہے والله تعالی اعلم کہ وضو میں صرف فرائض غسل کا حساب بتایا ہے کہ
فـــ : مسئلہ : منہ دھونے سے پہلے کی تینوں سنتیں بھی اسی ایك مد میں داخل ہیں یانہیں ۔
بارے میں امام عبدالله بن مبارك کی کتاب الزہد میں بھی حدیث ہے جوابوعبدالرحمن سلمی سے مروی ہے وہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے وہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے راوی ہیں ۔ اوردیلمی نے بھی عبدالله بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہماسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی ہے۔ اورابن نصرنے کتاب الصلوۃ میں امام زہری سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مرسلا اورآجری نے اخلاق حملۃ القرآن میں حضرت علی کرم الله تعالی وجہہ سے موقوفا روایت کی ہے۔ (ت)
تنبیہ : سیدنا فــــ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے حسن بن زیاد کی روایت کہ مستثنی پانیوں سے آب اول کے نیچے گزری جس کا حاصل یہ تھا کہ ایك رطل پانی سے استنجا اور ایك رطل منہ اور دونوں ہاتھ اور ایك رطل دونوں پاؤں کیلئے اور اسی کو علامہ شرف بخاری رحمہ الباری نے مقدمۃالصلاۃ میں ذکرفرمایاکہ
(۱) در وضو آب یك من ونیم ست غسل راچار من زتعلیم ست
(۲) در وضو کن بہ نیم من استنجا دار مردست وروئے نیمن را
(۳) پس بداں نیم من کہ مے ماند پائے شوید ہرانکہ مے داند
(۱) پانی وضومیں ڈیڑھ سیرہے غسل کے لیے چارسیرکی تعلیم ہے۔
(۲) وضومیں آدھے سیرسے استنجاکر ہاتھ اورمنہ کے لیے آدھے سیرکورکھ ۔
(۳) پھراس آدھے سیرسے جوبچتاہے پاؤں دھوئے وہ جوکہ جانتاہے ۔
اقول : اس سے ظاہریہ ہے والله تعالی اعلم کہ وضو میں صرف فرائض غسل کا حساب بتایا ہے کہ
فـــ : مسئلہ : منہ دھونے سے پہلے کی تینوں سنتیں بھی اسی ایك مد میں داخل ہیں یانہیں ۔
حوالہ / References
نامِ حق1فصل سوم دربیان مقدار آب وضوو غسل مکتبہ قادریہ لاہور ص۱۴
جتنا پانی دونوں پاؤوں کیلئے رکھا ہے اسی قدر منہ اور دونوں ہاتھ کیلئے اول تو اسی قدرے بعد ہے۔ پاؤں کی ساخت اگر عالم کبیر میں شتر کی نظیر ہے جس کے سبب اس کے تمام اطراف پر گزرنے کیلئے پانی زیادہ درکار ہے تو شك نہیں کہ ناخن دست سے کہنی کے اوپر تك ہاتھ کی مساحت پاؤں سے بہت زائد ہے تو غایت یہ کہ ہاتھ کے برابر پاؤں پر صرف ہو نہ کہ منہ اور دونوں ہاتھ کے مجموعہ کے برابر پاؤوں پر ولہذا حدیث میں ہاتھوں اور پاؤوں پر برابر صرف کا ذکر آیا۔ بخاری و نسائی عــــہ وابو بکر بن ابی شیبہ عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
انہ توضأ فغسل وجہہ اخذ غرفۃ من ماء فتمضمض بھا واستنشق ثم اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ثم مسح برأسہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فرش علی رجلہ الیمنی حتی غسلہا ثم اخذ غرفۃ اخری فغسل بھا رجلہ الیسری ثم قال ھکذا رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ ۔
انہوں نے وضوکیا تو اپناچہرہ دھویا ایك چلو پانی لے کر اس سے کلی کی اورناك میں ڈالا پھر ایك چلو لے کر اس طرح کیا۔ اسے اپنے بائیں ہاتھ میں ملاکراس سے اپناچہرہ دھویا۔ پھرایك چلوپانی لے کر اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا۔ پھرایك چلو پانی لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا پھر سرکا مسح کیا۔ پھر ایك چلو پانی لے کر اسے دائیں پاؤں پرڈال کر اسے دھویا پھر دوسراچلو لے کر اس سے بایاں پاؤں دھویا پھر فرمایا : میں نے اسی طرح رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو وضوکرتے دیکھا۔ (ت)
عــــہ : و رواہ ابو داؤد مختصرا ویاتی وابن ماجۃ ایضا فاختصرہ جدا وفرقہ اھ منہ (م)
عـــــہ : ابو داؤد نے اسے مختصرا روایت کیا۔ یہ روایت آگے آئے گی۔ او راسے ابن ماجہ نے بھی روایت کیامگر بہت مختصر کردیااوراسے الگ الگ کردیا۱۲منہ۔ (ت)
انہ توضأ فغسل وجہہ اخذ غرفۃ من ماء فتمضمض بھا واستنشق ثم اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ثم مسح برأسہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فرش علی رجلہ الیمنی حتی غسلہا ثم اخذ غرفۃ اخری فغسل بھا رجلہ الیسری ثم قال ھکذا رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ ۔
انہوں نے وضوکیا تو اپناچہرہ دھویا ایك چلو پانی لے کر اس سے کلی کی اورناك میں ڈالا پھر ایك چلو لے کر اس طرح کیا۔ اسے اپنے بائیں ہاتھ میں ملاکراس سے اپناچہرہ دھویا۔ پھرایك چلوپانی لے کر اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا۔ پھرایك چلو پانی لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا پھر سرکا مسح کیا۔ پھر ایك چلو پانی لے کر اسے دائیں پاؤں پرڈال کر اسے دھویا پھر دوسراچلو لے کر اس سے بایاں پاؤں دھویا پھر فرمایا : میں نے اسی طرح رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو وضوکرتے دیکھا۔ (ت)
عــــہ : و رواہ ابو داؤد مختصرا ویاتی وابن ماجۃ ایضا فاختصرہ جدا وفرقہ اھ منہ (م)
عـــــہ : ابو داؤد نے اسے مختصرا روایت کیا۔ یہ روایت آگے آئے گی۔ او راسے ابن ماجہ نے بھی روایت کیامگر بہت مختصر کردیااوراسے الگ الگ کردیا۱۲منہ۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضوباب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃٍ واحدۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۶ ، سنن النسائی باب مسح الاذنین مع الرأس...الخ نورمحمدکتب خانہ کراچی۱ / ۲۹ ، المصنف لابن ابی شیبہ فی الوضوکم ھو مرۃ حدیث ۶۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷
اور اگر اس سے قطع نظر کیجئے تو دونوں ہاتھ کلائیوں تك دھونا کلی کرنا ناك میں پانی ڈالنا منہ دھونا دونوں ہاتھ ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تك دھونا اس تمام مجموعہ کے برابر صرف دونوں پاؤوں پر صرف ہونا غایت استبعاد میں ہے تو ظاہر یہی ہے کہ ابتدائی سنتیں یعنی کلائیوں تك ہاتھ تین بار دھونا تین کلیاں تین بار ناك میں پانی یہ سب بھی اس حساب یك مد سے خارج ہو عجب نہیں کہ حدیث ربیع رضی اللہ تعالی عنہاجس میں پورا وضو مع سنن مذکور ہوا اور وضو کا برتن بھی دکھایا اور راوی نے اس کا تخمینہ ایك مد اور تہائی تك کیا اس کا منشا یہی ہو کہ سنن قبلیہ کیلئے ثلث مد بڑھ گیا مگر احادیث مطلقہ سے متبادر وضو مع السنن ہے والله تعالی اعلم۔
امر چہارمفـــ : کیا پانی کی یہ مقداریں کہ مذکور ہوئیں حد محدود ہیں کہ ان سے کم وبیش ممنوع۔ ائمہ دین وعلمائے معتمدین مثل امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم اور امام محمود بدر عینی شرح صحیح بخاری اور امام محمد بن امیر الحاج شرح منیہ اور ملا علی قاری شرح مشکوۃ میں اجماع امت نقل فرماتے ہیں کہ ان مقادیر پر قصر نہیں مقصود یہ ہے کہ پانی بلاوجہ محض زیادہ خرچ نہ ہو نہ ادائے سنت میں تقصیر رہے پھر کسی قدر ہو کچھ بندش نہیں حدیث وظاہر الروایۃ میں جو مقادیر و چارمد آئیں ان سے مراد ادنی قدر سنت ہے۔ حلیہ میں ہے :
ثم اعلم انہ نقل غیر واحد اجماع المسلمین علی ان الماء الذی یجزئ فی الوضوء والغسل غیر مقدر بمقدار بعینہ بل یکفی فیہ القلیل والکثیر اذا وجد شرط الغسل و ھو جریان الماء علی الاعضاء وما فی ظاھر الروایۃ من ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مدللحدیث المتفق علیہ لیس بتقدیر لازم بل ھو بیان ادنی قدر الماء المسنون فی الوضوء والغسل السابغین ۔
پھرواضح ہوکہ متعدد حضرات نے اس بات پر اجماع مسلمین نقل کیا ہے کہ وضووغسل میں کتنا پانی کافی ہوگااس کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں بلکہ کم وبیش اس میں کفایت کرسکتاہے جب کہ دھونے کی شرط پالی جائے وہ یہ کہ پانی اعضاء پر بہہ جائے۔ اور وہ جو ظاہرالروایہ میں ہے کہ کم سے کم جتنا پانی غسل میں کفایت کرسکتاہے وہ ایك صاع ہے اور وضو میں ایك مدکیوں کہ اس بارے میں متفق علیہ حدیث آئی ہے تویہ کوئی لازمی مقدارنہیں بلکہ یہ کامل وضو وغسل میں پانی کی ادنی مقدار مسنون کا بیان ہے۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : مسلمانوں کااجماع ہے کہ وضو و غسل میں پانی کی کوئی مقدارخاص لازم نہیں ۔
امر چہارمفـــ : کیا پانی کی یہ مقداریں کہ مذکور ہوئیں حد محدود ہیں کہ ان سے کم وبیش ممنوع۔ ائمہ دین وعلمائے معتمدین مثل امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم اور امام محمود بدر عینی شرح صحیح بخاری اور امام محمد بن امیر الحاج شرح منیہ اور ملا علی قاری شرح مشکوۃ میں اجماع امت نقل فرماتے ہیں کہ ان مقادیر پر قصر نہیں مقصود یہ ہے کہ پانی بلاوجہ محض زیادہ خرچ نہ ہو نہ ادائے سنت میں تقصیر رہے پھر کسی قدر ہو کچھ بندش نہیں حدیث وظاہر الروایۃ میں جو مقادیر و چارمد آئیں ان سے مراد ادنی قدر سنت ہے۔ حلیہ میں ہے :
ثم اعلم انہ نقل غیر واحد اجماع المسلمین علی ان الماء الذی یجزئ فی الوضوء والغسل غیر مقدر بمقدار بعینہ بل یکفی فیہ القلیل والکثیر اذا وجد شرط الغسل و ھو جریان الماء علی الاعضاء وما فی ظاھر الروایۃ من ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مدللحدیث المتفق علیہ لیس بتقدیر لازم بل ھو بیان ادنی قدر الماء المسنون فی الوضوء والغسل السابغین ۔
پھرواضح ہوکہ متعدد حضرات نے اس بات پر اجماع مسلمین نقل کیا ہے کہ وضووغسل میں کتنا پانی کافی ہوگااس کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں بلکہ کم وبیش اس میں کفایت کرسکتاہے جب کہ دھونے کی شرط پالی جائے وہ یہ کہ پانی اعضاء پر بہہ جائے۔ اور وہ جو ظاہرالروایہ میں ہے کہ کم سے کم جتنا پانی غسل میں کفایت کرسکتاہے وہ ایك صاع ہے اور وضو میں ایك مدکیوں کہ اس بارے میں متفق علیہ حدیث آئی ہے تویہ کوئی لازمی مقدارنہیں بلکہ یہ کامل وضو وغسل میں پانی کی ادنی مقدار مسنون کا بیان ہے۔ (ت)
فـــ : مسئلہ : مسلمانوں کااجماع ہے کہ وضو و غسل میں پانی کی کوئی مقدارخاص لازم نہیں ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اسی میں ہمارے مشائخ کرام سے ہے :
من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلك اجزأہ وان لم یکفہ زاد علیہ ۔
جواس سے کم میں وضووغسل کامل کرلے اس کے لئے کافی ہے اوراگراتناکفایت نہ کرے تواس پراضافہ کرلے۔ (ت)
بلکہ ہمارے علماء فـــ۱نے تصریح فرمائی کہ غسل میں ایك صاع سے زیادت افضل ہے۔ فتاوی خلاصہ میں ہے :
الافضل ان لایقتصر علی الصاع فی الغسل بل یغتسل بازید منہ بعد ان لایؤدی الی الوسواس فان ادی لایستعمل الا قدرالحاجۃ ۔
افضل یہ ہے کہ غسل میں ایك صاع پرمحدود نہ رکھے بلکہ اس سے زائد سے غسل کرے بشرطیکہ وسوسے کی حد تك نہ پہنچائے اگر ایساہوتوصرف بقدر حاجت استعمال کرے۔ (ت)
اس عبارت میں تصریح ہے کہ قدر حاجت سے زیادہ خرچ کرنا مستحب ہے جبکہ حد وسوسہ تك نہ پہنچے ہاں وسوسہ کا قدم درمیان ہوتو حاجت سے زیادہ صرف نہ کرے۔
اقول : وبالله التوفیق فـــ۲ مراتب پانچ ہیں :
(۱) ضرورت(۲) حاجت(۳) منفعت(۴) زینت(۵) فضول۔
ضرورت : یہ کہ اس کے بغیر گزر نہ ہوسکے جیسے مکان میں جحر یتدخلہ وہ سوراخ جس میں آدمی بزور سما سکے۔ کھانے میں لقیمات یقمن صلبہ چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سدرمق کریں ادائے
فـــ۱ : مسئلہ : غسل میں ایك صاع سے زیادہ پانی خرچ کرناافضل ہے جب تك حداسراف بے سبب یاوسوسہ کی حالت نہ ہو۔
فـــ۲ : شیئ کے پانچ مرتبے ہیں : ضرورت حاجت منفعت زینت فضول اوران کی تحقیق اورمکان وطعام ولباس وطہارت میں ان کی مثالیں۔
من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلك اجزأہ وان لم یکفہ زاد علیہ ۔
جواس سے کم میں وضووغسل کامل کرلے اس کے لئے کافی ہے اوراگراتناکفایت نہ کرے تواس پراضافہ کرلے۔ (ت)
بلکہ ہمارے علماء فـــ۱نے تصریح فرمائی کہ غسل میں ایك صاع سے زیادت افضل ہے۔ فتاوی خلاصہ میں ہے :
الافضل ان لایقتصر علی الصاع فی الغسل بل یغتسل بازید منہ بعد ان لایؤدی الی الوسواس فان ادی لایستعمل الا قدرالحاجۃ ۔
افضل یہ ہے کہ غسل میں ایك صاع پرمحدود نہ رکھے بلکہ اس سے زائد سے غسل کرے بشرطیکہ وسوسے کی حد تك نہ پہنچائے اگر ایساہوتوصرف بقدر حاجت استعمال کرے۔ (ت)
اس عبارت میں تصریح ہے کہ قدر حاجت سے زیادہ خرچ کرنا مستحب ہے جبکہ حد وسوسہ تك نہ پہنچے ہاں وسوسہ کا قدم درمیان ہوتو حاجت سے زیادہ صرف نہ کرے۔
اقول : وبالله التوفیق فـــ۲ مراتب پانچ ہیں :
(۱) ضرورت(۲) حاجت(۳) منفعت(۴) زینت(۵) فضول۔
ضرورت : یہ کہ اس کے بغیر گزر نہ ہوسکے جیسے مکان میں جحر یتدخلہ وہ سوراخ جس میں آدمی بزور سما سکے۔ کھانے میں لقیمات یقمن صلبہ چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سدرمق کریں ادائے
فـــ۱ : مسئلہ : غسل میں ایك صاع سے زیادہ پانی خرچ کرناافضل ہے جب تك حداسراف بے سبب یاوسوسہ کی حالت نہ ہو۔
فـــ۲ : شیئ کے پانچ مرتبے ہیں : ضرورت حاجت منفعت زینت فضول اوران کی تحقیق اورمکان وطعام ولباس وطہارت میں ان کی مثالیں۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
خلاصۃالفتاوی کتاب الطہارۃ ، فی کیفیۃ الغسل مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴
مسند الامام احمد بن حنبل حدیث ابی عسیب رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۸۱
سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمہ ، باب الاقتصادفی الاکل...الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۸
خلاصۃالفتاوی کتاب الطہارۃ ، فی کیفیۃ الغسل مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴
مسند الامام احمد بن حنبل حدیث ابی عسیب رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۸۱
سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمہ ، باب الاقتصادفی الاکل...الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۸
فرائض کی طاقت دیں ۔ لباس میں خرقۃ تواری عورتہ اتنا ٹکڑا کہ ستر عورت کرے۔
حاجت : یہ کہ بے اس کے ضرر ہو جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے کھانا اتنا جس سے ادائے واجبات وسنن کی قوت ملے کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و مجمع ناس میں خلاف ادب وتہذیب ہے مثلا خالی پاجامے فـــــ سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
ابو داؤد والحاکم عن بریدۃ رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی ان یصلی الرجل فی سراویل ولیس علیہ رداء ۔
ابو داؤد اورحاکم نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے منع فرمایا کہ آدمی بے چادر اوڑھے صرف پاجامے میں نماز پڑھے ۔
مسند احمد وصحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
لایصلین احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ من شیئ ۔
ہرگزکوئی ایك کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ دونوں شانے کھلے ہوں ۔
ولفظ البخاری عاتقۃ بالافراد (اور بخاری نے مفرد لفظ عاتقہ ذکر کیا ہے۔ ت)فتاوی خلاصہ میں ہے :
لوصلی مع السراویل والقمیص
اگر کرتا ہوتے ہوئے صرف پاجامے میں نماز
فــــ : مسئلہ : خالی پاجامہ سے نمازمکروہ تحریمی ہے ۔
حاجت : یہ کہ بے اس کے ضرر ہو جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے کھانا اتنا جس سے ادائے واجبات وسنن کی قوت ملے کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و مجمع ناس میں خلاف ادب وتہذیب ہے مثلا خالی پاجامے فـــــ سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
ابو داؤد والحاکم عن بریدۃ رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی ان یصلی الرجل فی سراویل ولیس علیہ رداء ۔
ابو داؤد اورحاکم نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے منع فرمایا کہ آدمی بے چادر اوڑھے صرف پاجامے میں نماز پڑھے ۔
مسند احمد وصحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
لایصلین احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ من شیئ ۔
ہرگزکوئی ایك کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ دونوں شانے کھلے ہوں ۔
ولفظ البخاری عاتقۃ بالافراد (اور بخاری نے مفرد لفظ عاتقہ ذکر کیا ہے۔ ت)فتاوی خلاصہ میں ہے :
لوصلی مع السراویل والقمیص
اگر کرتا ہوتے ہوئے صرف پاجامے میں نماز
فــــ : مسئلہ : خالی پاجامہ سے نمازمکروہ تحریمی ہے ۔
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب الزہد حدیث ۲۳۴۸ دارالفکربیروت ۵ / ۱۵۳)(مسند احمدبن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۶۲و ۵ / ۸۱
سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ ، باب من قال تیزر بہ اذاکان ضیقا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۳ ، المستدرک للحاکم کتاب الصلوۃ ونہی ان یصلی الرجل وسراویل...الخ دارالفکربیروت ۱ / ۲۵۰
صحیح البخاری کتاب الصلوۃ باب اذاصلی فی الثوب الواحد...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲ ، صحیح مسلم کتاب الصلوۃ ، باب الصلوۃ فی ثوب واحد وصفۃ لبسہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۸ ، مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۴۳
سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ ، باب من قال تیزر بہ اذاکان ضیقا آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۳ ، المستدرک للحاکم کتاب الصلوۃ ونہی ان یصلی الرجل وسراویل...الخ دارالفکربیروت ۱ / ۲۵۰
صحیح البخاری کتاب الصلوۃ باب اذاصلی فی الثوب الواحد...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۲ ، صحیح مسلم کتاب الصلوۃ ، باب الصلوۃ فی ثوب واحد وصفۃ لبسہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۸ ، مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۴۳
عندہ یکرہ ۔
پڑھی تومکروہ ہے۔ (ت)
یوں ہی تنہا فــــپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ مردود الشہادۃ خفیف الحرکات ہے۔ یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی پھیلی ہے خصوصا وہ جن کے مکان سرراہ ہیں ۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لاتقبل شہادۃ من یمشی فی الطریق بسراویل وحدہ لیس علیہ غیرہ کذا فی النھایۃ ۔
اس کی شہادت مقبول نہیں جو راستے میں اس طرح چلتاہوکہ اس کے جسم پرصرف پاجامہ ہو اور کچھ نہ ہو۔ ایسا ہی نہایہ میں ہے۔ (ت)
منفعت : یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اس کا ہونا اصل مقصود میں نافع ومفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت کھانے میں سرکہ چٹنی سیری لباس نماز میں عمامہ۔
زینت : یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایك معمولی افزائش حسن وخوشنمائی کے سوا اور نفع وتائید غرض نہیں جیسے مکان کے دروں میں محرابیں کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سرخ ہو فرنی نہایت سفید براق ہو کپڑے میں بخیہ باریك ہو قطع میں کج نہ ہو۔
فضول : یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع وتدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کے کلس دیواروں پر قیمتی غلاف کھانا کھائے پر میوے شیرینیاں پائچے گٹوں سے نیچے اول مرتبہ فرض میں ہے دوم واجب وسنن مؤکدہ سوم وچہارم سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات وآداب زائدہ تك پنجم باختلاف مراتب مباح ومکروہ تنزیہی وتحریمی سے حرام تک
قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح ثم السید الحموی فی الغمز قاعدۃ الضرر یزال ھھنا خمسۃ مراتب ضرورۃ وحاجۃ ومنفعۃ وزینۃ وفضول فالضرورۃ
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں پھر سیدحموی نے غمزالعیون میں فرمایا : قاعدہ -ضرر دورکیاجائے گا۔ یہاں پانچ مراتب ہیں ۔ ضرورت حاجت منفعت زینت فضول۔ ضرورت : اس
فــــ : مسئلہ : تنہاپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والاساقط العدالۃ مردودالشہادۃ ہے ۔
پڑھی تومکروہ ہے۔ (ت)
یوں ہی تنہا فــــپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ مردود الشہادۃ خفیف الحرکات ہے۔ یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی پھیلی ہے خصوصا وہ جن کے مکان سرراہ ہیں ۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لاتقبل شہادۃ من یمشی فی الطریق بسراویل وحدہ لیس علیہ غیرہ کذا فی النھایۃ ۔
اس کی شہادت مقبول نہیں جو راستے میں اس طرح چلتاہوکہ اس کے جسم پرصرف پاجامہ ہو اور کچھ نہ ہو۔ ایسا ہی نہایہ میں ہے۔ (ت)
منفعت : یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اس کا ہونا اصل مقصود میں نافع ومفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت کھانے میں سرکہ چٹنی سیری لباس نماز میں عمامہ۔
زینت : یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایك معمولی افزائش حسن وخوشنمائی کے سوا اور نفع وتائید غرض نہیں جیسے مکان کے دروں میں محرابیں کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سرخ ہو فرنی نہایت سفید براق ہو کپڑے میں بخیہ باریك ہو قطع میں کج نہ ہو۔
فضول : یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع وتدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کے کلس دیواروں پر قیمتی غلاف کھانا کھائے پر میوے شیرینیاں پائچے گٹوں سے نیچے اول مرتبہ فرض میں ہے دوم واجب وسنن مؤکدہ سوم وچہارم سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات وآداب زائدہ تك پنجم باختلاف مراتب مباح ومکروہ تنزیہی وتحریمی سے حرام تک
قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح ثم السید الحموی فی الغمز قاعدۃ الضرر یزال ھھنا خمسۃ مراتب ضرورۃ وحاجۃ ومنفعۃ وزینۃ وفضول فالضرورۃ
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں پھر سیدحموی نے غمزالعیون میں فرمایا : قاعدہ -ضرر دورکیاجائے گا۔ یہاں پانچ مراتب ہیں ۔ ضرورت حاجت منفعت زینت فضول۔ ضرورت : اس
فــــ : مسئلہ : تنہاپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والاساقط العدالۃ مردودالشہادۃ ہے ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ ، الجنس فیمایکرہ فی الصلوۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۵۸
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الشہادات الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۶۹
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الشہادات الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۶۹
بلوغہ حدا ان لم یتناول الممنوع ھلك او قارب وہذا یبیح تناول الحرام والحاجۃ کالجائع الذی لولم یجد ما یاکلہ لم یھلك غیرانہ یکون فی جہد ومشقۃ وھذا لایبیح الحرام ویبیح الفطر فی الصوم والمنفعۃ کالذی یشتھی خبزا لبر ولحم الغنم والطعام الدسم والزینۃ کالمشتھی الحلوی والسکر و الفضول التوسع باکل الحرام والشبھۃ اھ
اقول : تکلم رحمہ الله تعالی فی مادۃ واحدۃ بخصوصہا وقنع عن التعریفات بالامثلۃ احالۃ علی فھم السامع وفی جعل فــ الحلوی والسکر من الزینۃ تامل فان فی الحلوی منافع لیست فی غیرھا وقد کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل
حد کوپہنچ جائے کہ اگر ممنوع چیز نہ کھائے تو ہلاك ہوجائے یا ہلاکت کے قریب پہنچ جائے۔ اس سے حرام کاکھانا جائز ہوجاتا ہے۔ اورحاجت جیسے اتنا بھوکا ہوکہ اگر کھانے کی چیز نہ پائے توہلاك تونہ ہومگر تکلیف اور مشقت میں پڑجائے۔ اس سے حرام کا کھانا جائز نہیں ہوتااورروزے میں افطار مباح ہوجاتاہے۔ منفعت جیسے وہ شخص جوگیہوں کی روٹی بکری کے گوشت اور چکنائی والے کھانے کی خواہش رکھتاہو۔ زینت جیسے حلوے اورشکرکی خواہش رکھنے ولا۔ اور فضول یہ کہ حرام اور مشتبہ چیزکھانے کی وسعت اختیارکرنا۔ (ت)
اقول : حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے صرف ایك بات (کھانے) پرکلام کیااورتعریفات پیش کرنے کے بجائے فہم سامع کے حوالے کرتے ہوئے مثالوں پر اکتفاکی۔ اورحلوے وشکر کوزینت شمارکرنا محل تامل ہے اس لئے کہ حلوے میں کچھ ایسے فوائد ہیں جو دوسری چیز میں نہیں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمحلوا اورشہد پسندفرماتے تھے جیساکہ
فـــ : تطفل علی الفتح والحموی ۔
اقول : تکلم رحمہ الله تعالی فی مادۃ واحدۃ بخصوصہا وقنع عن التعریفات بالامثلۃ احالۃ علی فھم السامع وفی جعل فــ الحلوی والسکر من الزینۃ تامل فان فی الحلوی منافع لیست فی غیرھا وقد کان صلی الله تعالی علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل
حد کوپہنچ جائے کہ اگر ممنوع چیز نہ کھائے تو ہلاك ہوجائے یا ہلاکت کے قریب پہنچ جائے۔ اس سے حرام کاکھانا جائز ہوجاتا ہے۔ اورحاجت جیسے اتنا بھوکا ہوکہ اگر کھانے کی چیز نہ پائے توہلاك تونہ ہومگر تکلیف اور مشقت میں پڑجائے۔ اس سے حرام کا کھانا جائز نہیں ہوتااورروزے میں افطار مباح ہوجاتاہے۔ منفعت جیسے وہ شخص جوگیہوں کی روٹی بکری کے گوشت اور چکنائی والے کھانے کی خواہش رکھتاہو۔ زینت جیسے حلوے اورشکرکی خواہش رکھنے ولا۔ اور فضول یہ کہ حرام اور مشتبہ چیزکھانے کی وسعت اختیارکرنا۔ (ت)
اقول : حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے صرف ایك بات (کھانے) پرکلام کیااورتعریفات پیش کرنے کے بجائے فہم سامع کے حوالے کرتے ہوئے مثالوں پر اکتفاکی۔ اورحلوے وشکر کوزینت شمارکرنا محل تامل ہے اس لئے کہ حلوے میں کچھ ایسے فوائد ہیں جو دوسری چیز میں نہیں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمحلوا اورشہد پسندفرماتے تھے جیساکہ
فـــ : تطفل علی الفتح والحموی ۔
حوالہ / References
غمز عیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن الخ کراچی ۱ / ۱۱۹
کما اخرجہ الستۃ عن ام المومنین رضی الله تعالی عنہا وما کان لیحب ما لا منفعۃ فیہ وقد نہاہ ربہ تبارك وتعالی عن زھرۃ الحیوۃ الدنیا فلولم تکن الازینۃ لما احبہا ولعل ماذکر العبد الضعیف امکن وامتن۔
اصحاب ستہ نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے۔ اور سرکار کی یہ شان نہ تھی کہ ایسی چیز محبوب رکھیں جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ حالاں کہ انہیں رب تعالی نے دنیاوی زندگی کی آرائش سے منع فرمایا ہے تویہ اگر محض زینت ہوتا توسرکار اسے پسند نہ فرماتے۔ اورشاید بندہ ضعیف نے جوذکرکیاوہ زیادہ پختہ اورمضبوط ہے۔ (ت)
انہیں مراتب کو طہارت میں لحاظ کیجئے تو جس عضو کا جتنا دھونا فرض ہے اس کے ذرے ذرے پر ایك بار پانی تقاطر کے ساتھ اگرچہ خفیف بہہ جانا مرتبہ ضرورت میں ہے کہ بے اس کے طہارت ناممکن اور تثلیث مرتبہ حاجت میں ہے یوں ہی وضو میں منہ دھونے سے پہلے کی سنن ثلاث کہ یہ چاروں مؤکدات ہیں اور ان کے ترك میں ضرر من زادا ونقص فقد تعدی وظلم (جس نے اس سے زیادہ یا کم کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ ت) اور ہر بار پانی بفراغت بہنا جس سے کمال تثلیث میں کوئی شبہ نہ گزرے اور ہر ہر ذرہ عضو پر غور وتامل کی حاجت نہ پڑے یہ منفعت ہے اور غرہ وتحجیل فـــــ کی اطاعت زینت اور کسی عضو کو قصدا چار بار دھونا فضول۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان امتی یدعون یوم القیمۃ غرا محجلین من اثار الوضوء
یعنی میری امت کے چہرے اورچاروں ہاتھ پاؤں روزقیامت وضو کے نور سے روشن و منور
فــــ : مسئلہ : وضو میں غرہ و تحجیل کا بڑھانا مستحب ہے اور اس کے معنی کا بیان۔
اصحاب ستہ نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے۔ اور سرکار کی یہ شان نہ تھی کہ ایسی چیز محبوب رکھیں جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ حالاں کہ انہیں رب تعالی نے دنیاوی زندگی کی آرائش سے منع فرمایا ہے تویہ اگر محض زینت ہوتا توسرکار اسے پسند نہ فرماتے۔ اورشاید بندہ ضعیف نے جوذکرکیاوہ زیادہ پختہ اورمضبوط ہے۔ (ت)
انہیں مراتب کو طہارت میں لحاظ کیجئے تو جس عضو کا جتنا دھونا فرض ہے اس کے ذرے ذرے پر ایك بار پانی تقاطر کے ساتھ اگرچہ خفیف بہہ جانا مرتبہ ضرورت میں ہے کہ بے اس کے طہارت ناممکن اور تثلیث مرتبہ حاجت میں ہے یوں ہی وضو میں منہ دھونے سے پہلے کی سنن ثلاث کہ یہ چاروں مؤکدات ہیں اور ان کے ترك میں ضرر من زادا ونقص فقد تعدی وظلم (جس نے اس سے زیادہ یا کم کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ ت) اور ہر بار پانی بفراغت بہنا جس سے کمال تثلیث میں کوئی شبہ نہ گزرے اور ہر ہر ذرہ عضو پر غور وتامل کی حاجت نہ پڑے یہ منفعت ہے اور غرہ وتحجیل فـــــ کی اطاعت زینت اور کسی عضو کو قصدا چار بار دھونا فضول۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان امتی یدعون یوم القیمۃ غرا محجلین من اثار الوضوء
یعنی میری امت کے چہرے اورچاروں ہاتھ پاؤں روزقیامت وضو کے نور سے روشن و منور
فــــ : مسئلہ : وضو میں غرہ و تحجیل کا بڑھانا مستحب ہے اور اس کے معنی کا بیان۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاشربۃ ، باب شرب الحلواء والعسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۴۰ ، سنن ابی داؤد کتاب الاشربۃ ، باب فی شرب العسل آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۶۶ ، سنن الترمذی کتاب الاطعمۃباب ماجاء فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحلو و العسل ، حدیث ۱۸۳۸ دارالفکربیروت ۳ / ۳۲۷ ، سنن ابن ماجۃ کتاب الاطعمۃ ، باب الحلواء ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۶
فمن استطاع منکم ان یطیل غرتہ فلیفعل رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وفی لفظ المسلم عنہ انتم الغر المحجلون یوم القیمۃ من اسباغ الوضوء فمن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ ۔
ہوں گے تو تم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے اسے شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور مسلم کی ایك روایت کے الفاظ یہ ہیں : تم لوگ وضو کامل کرنے کی وجہ سے روزقیامت روشن چہرے چمکتے دست و پا والے ہوگے تو تم میں جس سے ہوسکے اپنے چہرے اورہاتھوں کی روشنی زیادہ کرے۔ (ت)
یعنی میری امت کے چہرے اور چاروں ہاتھ پاؤں روزقیامت وضو کے نور سے روشن ہوں گے توتم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے یعنی چہرہ کے اطراف میں جو حدیں شرعا مقرر ہیں اس سے کچھ زیادہ دھوئے اور ہاتھ نصف بازو اور پاؤں نیم ساق تک۔ درمختار میں ہے :
من الاداب اطالۃ غرتہ وتحجیلہ ۔
آداب وضو میں سے یہ ہے کہ اپنے چہرے اور دست و پا کے نشانات نور زیادہ کرے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر اطالۃ الغرۃ بالزیادۃ علی الحد المحدود وفی الحلیۃ التحجیل فی الیدین والرجلین وھل لہ حد لم اقف فیہ علی شیئ لاصحابنا ونقل النووی اختلاف الشافعیۃ علی ثلثۃ اقوال الاول الزیادۃ بلا توقیف الثانی الی نصف العضد و الساق الثالث
بحر میں ہے : چہرے کی روشنی زیادہ کرنااس طرح کہ مقررہ حد سے زیادہ دھوئے۔ اورحلیہ میں ہے کہ تحجیل کا تعلق دونوں ہاتھ پاؤں سے ہے(ہاتھ پاؤں کومقدار سے زیادہ دھوئے)کیا زیادتی کی کوئی حدبھی ہے اس بارے میں اپنے اصحاب کی کسی بات سے واقفیت مجھے نہ ہوئی۔ امام نووی نے اس بارے میں شافعیہ کے تین اقوال لکھے ہیں اول یہ کہ بغیر کسی تحدید کے زیادتی ہو۔
ہوں گے تو تم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے اسے شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور مسلم کی ایك روایت کے الفاظ یہ ہیں : تم لوگ وضو کامل کرنے کی وجہ سے روزقیامت روشن چہرے چمکتے دست و پا والے ہوگے تو تم میں جس سے ہوسکے اپنے چہرے اورہاتھوں کی روشنی زیادہ کرے۔ (ت)
یعنی میری امت کے چہرے اور چاروں ہاتھ پاؤں روزقیامت وضو کے نور سے روشن ہوں گے توتم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے یعنی چہرہ کے اطراف میں جو حدیں شرعا مقرر ہیں اس سے کچھ زیادہ دھوئے اور ہاتھ نصف بازو اور پاؤں نیم ساق تک۔ درمختار میں ہے :
من الاداب اطالۃ غرتہ وتحجیلہ ۔
آداب وضو میں سے یہ ہے کہ اپنے چہرے اور دست و پا کے نشانات نور زیادہ کرے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی البحر اطالۃ الغرۃ بالزیادۃ علی الحد المحدود وفی الحلیۃ التحجیل فی الیدین والرجلین وھل لہ حد لم اقف فیہ علی شیئ لاصحابنا ونقل النووی اختلاف الشافعیۃ علی ثلثۃ اقوال الاول الزیادۃ بلا توقیف الثانی الی نصف العضد و الساق الثالث
بحر میں ہے : چہرے کی روشنی زیادہ کرنااس طرح کہ مقررہ حد سے زیادہ دھوئے۔ اورحلیہ میں ہے کہ تحجیل کا تعلق دونوں ہاتھ پاؤں سے ہے(ہاتھ پاؤں کومقدار سے زیادہ دھوئے)کیا زیادتی کی کوئی حدبھی ہے اس بارے میں اپنے اصحاب کی کسی بات سے واقفیت مجھے نہ ہوئی۔ امام نووی نے اس بارے میں شافعیہ کے تین اقوال لکھے ہیں اول یہ کہ بغیر کسی تحدید کے زیادتی ہو۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضوء ، باب فضل الوضوء الغر المحجلون من آثار الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵ ، صحیح مسلم کتاب الطہارۃ ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۶
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۶
الدرالمختار کتاب الطہارۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۶
الدرالمختار کتاب الطہارۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
الی المنکب والرکبتین قال والاحادیث تقتضی ذلك کلہ اھ ونقل ط الثانی عن شرح الشرعۃ مقتصرا علیہ اھ
دوم یہ کہ آدھے بازو اورنصف ساق تك زیادتی ہو۔ سوم یہ کہ کاندھے اور گھٹنوں تك زیادتی ہو۔ فرمایاکہ احادیث کامقتضا یہ سب ہے اھ۔ اور علامہ طحطاوی نے قول دوم کوشرح شرعہ سے نقل کیااوراسی پراکتفا کی اھ۔ (ت)
درمختار مکروہات وضو میں ہے :
والاسراف ومنہ الزیادۃ علی الثلاث ۔
اور اسراف اسی سے یہ بھی ہے کہ تین بار سے زیادہ دھوئے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوزاد (ای علی التثلیث) لطمانینۃ القلب لاباس بہ ۔
اگر اطمینان قلب کے لئے تین بارسے زیادہ دھویا تواس میں حرج نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لانہ امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ وینبغی ان یقید ھذابغیرالموسوس اما ھو فیلزمہ قطع مادۃ الوسواس عنہ وعدم التفاتہ الی التشکیك لانہ فعل الشیطان وقد امرنا بمعاداتہ و مخالفتہ رحمتی ۔
اس لئے کہ اسے حکم ہے کہ شك کی حالت چھوڑکر عدم شك کی حالت اختیارکرے اوریہ حکم غیر وسوسہ زدہ کے ساتھ مقید ہونا چاہئے۔ وسوسے والے پر تویہ لازم ہے کہ وسوسے کا مادہ قطع کرے اور تشکیك کی جانب التفات نہ کرے کیوں کہ یہ شیطان کا فعل ہے اور ہمیں حکم یہ ہے کہ اس سے دشمنی رکھیں اورا س کی مخالفت کریں -رحمتی-(ت)
اور شك نہیں کہ صرف ایك صاع سے غسل میں سر سے پاؤں تك بفراغ خاطر تثلیث کا حصول دشوار
دوم یہ کہ آدھے بازو اورنصف ساق تك زیادتی ہو۔ سوم یہ کہ کاندھے اور گھٹنوں تك زیادتی ہو۔ فرمایاکہ احادیث کامقتضا یہ سب ہے اھ۔ اور علامہ طحطاوی نے قول دوم کوشرح شرعہ سے نقل کیااوراسی پراکتفا کی اھ۔ (ت)
درمختار مکروہات وضو میں ہے :
والاسراف ومنہ الزیادۃ علی الثلاث ۔
اور اسراف اسی سے یہ بھی ہے کہ تین بار سے زیادہ دھوئے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوزاد (ای علی التثلیث) لطمانینۃ القلب لاباس بہ ۔
اگر اطمینان قلب کے لئے تین بارسے زیادہ دھویا تواس میں حرج نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لانہ امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ وینبغی ان یقید ھذابغیرالموسوس اما ھو فیلزمہ قطع مادۃ الوسواس عنہ وعدم التفاتہ الی التشکیك لانہ فعل الشیطان وقد امرنا بمعاداتہ و مخالفتہ رحمتی ۔
اس لئے کہ اسے حکم ہے کہ شك کی حالت چھوڑکر عدم شك کی حالت اختیارکرے اوریہ حکم غیر وسوسہ زدہ کے ساتھ مقید ہونا چاہئے۔ وسوسے والے پر تویہ لازم ہے کہ وسوسے کا مادہ قطع کرے اور تشکیك کی جانب التفات نہ کرے کیوں کہ یہ شیطان کا فعل ہے اور ہمیں حکم یہ ہے کہ اس سے دشمنی رکھیں اورا س کی مخالفت کریں -رحمتی-(ت)
اور شك نہیں کہ صرف ایك صاع سے غسل میں سر سے پاؤں تك بفراغ خاطر تثلیث کا حصول دشوار
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۸
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
لہذا ہمارے علماء نے اطمینان قلب کیلئے صاع سے زیادت کو افضل فرمایا۔
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك الی مالا یریبك فان الصدق طمانینۃ وان الکذب ریبۃ رواہ الائمۃ احمد والترمذی وابن حبان بسند جید عن الحسن المجتبی ریحانۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ ثم علیہ وسلم وھو عند ابن قانع عنہ بلفظ فان الصدق ینجی ۔
کیونکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشادہے : “ تجھے جوچیز شك میں ڈالے اسے چھوڑکر وہ اختیار کرجس میں تجھے شك نہ ہو۔ اس لئے کہ صدق طمانینت ہے اور کذب شك وقلق ۔ اسے امام احمد ترمذی اور ابن حبان نے بسند جیدریحانہ رسول حضرت حسن مجتبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا۔ اور ابن قانع نے ان سے جو روایت کی اس میں یہ الفاظ ہیں : اس لئے کہ صدق نجات بخش ہے۔ (ت)
اور یہ ضرور فوق الحاجۃ ہے کہ منفعت ہے یونہی میل کا چھڑانا داخل زینت اور اس میں جو زیارت ہو وہ بھی فوق الحاجۃ۔ یہ معنی ہیں قول خلاصہ کے کہ غیر موسوس کو حاجت سے زیادہ صرف کرنا افضل ہے۔
اقول : وبما و فقنی المولی تبارك وتعالی من ھذا التقریر المنیر ظھر الجواب عما اوردہ الامام ابن امیر الحاج اذ قال بعد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ لایعری اطلاق الافضیلۃ المذکورۃ من نظر
اقول : اس تقریرمنیر سے۔ جس سے مولی تبارك وتعالی نے مجھ کوواقف کرایا۔ اس اعتراض کاجواب واضح ہوگیاجوامام ابن امیر الحاج نے خلاصہ کی سابقہ عبارت نقل کرنے کے بعد پیش کیاکہ : مذکورہ افضلیت کومطلق رکھنا محل نظر ہے جیسا کہ تأمل کرنے والے
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك الی مالا یریبك فان الصدق طمانینۃ وان الکذب ریبۃ رواہ الائمۃ احمد والترمذی وابن حبان بسند جید عن الحسن المجتبی ریحانۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ ثم علیہ وسلم وھو عند ابن قانع عنہ بلفظ فان الصدق ینجی ۔
کیونکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشادہے : “ تجھے جوچیز شك میں ڈالے اسے چھوڑکر وہ اختیار کرجس میں تجھے شك نہ ہو۔ اس لئے کہ صدق طمانینت ہے اور کذب شك وقلق ۔ اسے امام احمد ترمذی اور ابن حبان نے بسند جیدریحانہ رسول حضرت حسن مجتبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا۔ اور ابن قانع نے ان سے جو روایت کی اس میں یہ الفاظ ہیں : اس لئے کہ صدق نجات بخش ہے۔ (ت)
اور یہ ضرور فوق الحاجۃ ہے کہ منفعت ہے یونہی میل کا چھڑانا داخل زینت اور اس میں جو زیارت ہو وہ بھی فوق الحاجۃ۔ یہ معنی ہیں قول خلاصہ کے کہ غیر موسوس کو حاجت سے زیادہ صرف کرنا افضل ہے۔
اقول : وبما و فقنی المولی تبارك وتعالی من ھذا التقریر المنیر ظھر الجواب عما اوردہ الامام ابن امیر الحاج اذ قال بعد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ لایعری اطلاق الافضیلۃ المذکورۃ من نظر
اقول : اس تقریرمنیر سے۔ جس سے مولی تبارك وتعالی نے مجھ کوواقف کرایا۔ اس اعتراض کاجواب واضح ہوگیاجوامام ابن امیر الحاج نے خلاصہ کی سابقہ عبارت نقل کرنے کے بعد پیش کیاکہ : مذکورہ افضلیت کومطلق رکھنا محل نظر ہے جیسا کہ تأمل کرنے والے
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ حدیث۲۵۲۶ دارالفکر بیروت ۴ / ۲۳۲ ، مسند احمد بن حنبل عن حسن رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۰۰ ، موار الظمآن الٰی زوائد ابن حبان حدیث۵۱۲ المطبعۃ السلفیۃ ص۱۳۷
نوٹ : موارد الظمآن کے الفاظ میں ہے : ان الخیر طمانیۃ والشر ریبۃ۔
کشف الخفاء بحوالہ ابن قانع عن الحسن حدیث۱۳۰۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۶۰
نوٹ : موارد الظمآن کے الفاظ میں ہے : ان الخیر طمانیۃ والشر ریبۃ۔
کشف الخفاء بحوالہ ابن قانع عن الحسن حدیث۱۳۰۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۶۰
کما لایخفی علی المتأمل اھ ولله الحمد۔
تنبیہ : ماذکرت ان تثلیث الغسل بالطمانینۃ عسیر بالصاع شیئ تشہد لہ التجربۃ وایش انا وانت وقد استبعدہ ریحانۃ من ریاحین المصطفی صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وسلم اعنی السید الامام الاجل محمدا الباقر رضی الله تعالی عنہ اخرج البخاری فــ(وعزاہ فی الحلیۃ لھما ولم ارہ لمسلم ولا عزاہ الیہ فی العمدۃ ولا الارشاد) عن ابی اسحق حدثنا ابو جعفر انہ کان عند جابر بن عبدالله ھو و ابوہ رضی الله تعالی عنھم وعندہ قوم فسألوہ عن الغسل فقال یکفیك صاع فقال رجل مایکفینی فقال جابر کان یکفی من ھو اوفی منك شعرا وخیرا منك ثم امنا فی ثوب
قال فی العمدۃ فی مسند اسحق بن راھویہ پر مخفی نہیں اھ۔ ولله الحمد۔
تنبیہ : یہ جومیں نے ذکر کیا کہ ایك صاع سے غسل میں اعضا کو تین تین بار دھولینا مشکل ہے ایسی بات ہے جس پر تجربہ شاہد ہے اور ما و شما کیاہیں اسے گلشن مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ایك گل تر امام اجل سیدنا محمد باقر رضی اللہ تعالی عنہنے بعید سمجھا۔ امام بخاری نے (حلیہ میں اس پربخاری ومسلم دونوں کا حوالہ دیا ہے اورمیں نے یہ حدیث مسلم میں نہ دیکھی۔ اورعمدۃ القاری وارشاد الساری میں بھی مسلم کا حوالہ نہ دیا)ابواسحاق سے روایت کی انہوں نے فرمایا ہم سے ابو جعفر(امام محمد باقر)نے حدیث بیان فرمائی کہ وہ اور ان کے والد حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہمکے پاس تھے۔ اورکچھ دوسرے لوگ بھی وہاں موجودتھے۔ ان حضرات نے حضرت جابر سے غسل کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا : ایك صاع تمہیں کافی ہے۔ ایك شخص نے کہا : مجھے کافی نہیں ہوتا۔ اس پر حضرت جابر نے فرمایا : کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم سے زیادہ بال اور خیر وخوبی والے تھے۔ پھر انہوں نے ایك ہی کپڑا اوڑھ کر ہماری امامت
فـــ : تطفل اخر علیہا۔
تنبیہ : ماذکرت ان تثلیث الغسل بالطمانینۃ عسیر بالصاع شیئ تشہد لہ التجربۃ وایش انا وانت وقد استبعدہ ریحانۃ من ریاحین المصطفی صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وسلم اعنی السید الامام الاجل محمدا الباقر رضی الله تعالی عنہ اخرج البخاری فــ(وعزاہ فی الحلیۃ لھما ولم ارہ لمسلم ولا عزاہ الیہ فی العمدۃ ولا الارشاد) عن ابی اسحق حدثنا ابو جعفر انہ کان عند جابر بن عبدالله ھو و ابوہ رضی الله تعالی عنھم وعندہ قوم فسألوہ عن الغسل فقال یکفیك صاع فقال رجل مایکفینی فقال جابر کان یکفی من ھو اوفی منك شعرا وخیرا منك ثم امنا فی ثوب
قال فی العمدۃ فی مسند اسحق بن راھویہ پر مخفی نہیں اھ۔ ولله الحمد۔
تنبیہ : یہ جومیں نے ذکر کیا کہ ایك صاع سے غسل میں اعضا کو تین تین بار دھولینا مشکل ہے ایسی بات ہے جس پر تجربہ شاہد ہے اور ما و شما کیاہیں اسے گلشن مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ایك گل تر امام اجل سیدنا محمد باقر رضی اللہ تعالی عنہنے بعید سمجھا۔ امام بخاری نے (حلیہ میں اس پربخاری ومسلم دونوں کا حوالہ دیا ہے اورمیں نے یہ حدیث مسلم میں نہ دیکھی۔ اورعمدۃ القاری وارشاد الساری میں بھی مسلم کا حوالہ نہ دیا)ابواسحاق سے روایت کی انہوں نے فرمایا ہم سے ابو جعفر(امام محمد باقر)نے حدیث بیان فرمائی کہ وہ اور ان کے والد حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ تعالی عنہمکے پاس تھے۔ اورکچھ دوسرے لوگ بھی وہاں موجودتھے۔ ان حضرات نے حضرت جابر سے غسل کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا : ایك صاع تمہیں کافی ہے۔ ایك شخص نے کہا : مجھے کافی نہیں ہوتا۔ اس پر حضرت جابر نے فرمایا : کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم سے زیادہ بال اور خیر وخوبی والے تھے۔ پھر انہوں نے ایك ہی کپڑا اوڑھ کر ہماری امامت
فـــ : تطفل اخر علیہا۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب الغسل بالصاع و نحوہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب الغسل بالصاع و نحوہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
ان متولی السؤال ھو ابو جعفر وقولہ قال رجل المراد بہ الحسن بن محمد بن علی بن ابی طالب الذی یعرف ابوہ بابن الحنفیۃ اھ وتبعہ القسطلانی۔
اقول : حدیث فــــ الحسن بن محمد علی ما فی الصحیحین ھکذا عن ابی جعفر قال لی جابر اتانی ابن عمك یعرض بالحسن بن محمد بن الحنفیۃ قال کیف الغسل من الجنابۃ فقلت کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یاخذ ثلث اکف فیفیضھا علی رأسہ ثم یفیض علی سائر جسدہ فقال لی الحسن انی رجل کثیر الشعر فقلت کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اکثر منك شعرا ھذا لفظ “ خ “ ونحوہ “ م “
وفیہ قال جابر فقلت لہ یاابن اخی کان شعر رسول الله
بھی فرمائی ہے۔ عمدۃ القاری میں ہے کہ مسند اسحق بن راہویہ میں ہے کہ سوال کرنے والے ابو جعفر(امام محمد باقر) تھے۔ اورانکی عبارت “ ایك شخص نے کہا “ میں قائل سے مراد حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب ہیں جن کے والد ابن الحنفیہ کے ساتھ معروف تھے اھ۔ اس پرقسطلانی نے بھی عینی کی پیروی کی ہے۔
اقول : حضرت حسن بن محمد کی حدیث صحیحین میں اس طرح ہے : ابوجعفرسے مروی ہے کہ مجھ سے حضرت جابرنے فرمایا : میرے پاس تمہارا عم زاد۔ حسن بن محمد بن الحنفیہ کی جانب اشارہ ہے۔ آیا۔ کہا : غسل جنابت کس طرح ہوتا ہے میں نے کہا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتین کف پانی لے کراپنے سرپربہاتے پھر باقی جسم پر بہاتے۔ اس پر حسن نے مجھ سے کہا : میرے بال بہت ہیں ۔ میں نے کہا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بال تم سے زیادہ تھے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اوراسی کے ہم معنی مسلم کی روایت میں بھی ہے
اوراس میں یوں ہے کہ جابر نے فرمایا : میں نے اس سے کہا جان برادر! رسول الله
فـــــ : تطفل علی الامام العینی والقسطلانی۔
اقول : حدیث فــــ الحسن بن محمد علی ما فی الصحیحین ھکذا عن ابی جعفر قال لی جابر اتانی ابن عمك یعرض بالحسن بن محمد بن الحنفیۃ قال کیف الغسل من الجنابۃ فقلت کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یاخذ ثلث اکف فیفیضھا علی رأسہ ثم یفیض علی سائر جسدہ فقال لی الحسن انی رجل کثیر الشعر فقلت کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اکثر منك شعرا ھذا لفظ “ خ “ ونحوہ “ م “
وفیہ قال جابر فقلت لہ یاابن اخی کان شعر رسول الله
بھی فرمائی ہے۔ عمدۃ القاری میں ہے کہ مسند اسحق بن راہویہ میں ہے کہ سوال کرنے والے ابو جعفر(امام محمد باقر) تھے۔ اورانکی عبارت “ ایك شخص نے کہا “ میں قائل سے مراد حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب ہیں جن کے والد ابن الحنفیہ کے ساتھ معروف تھے اھ۔ اس پرقسطلانی نے بھی عینی کی پیروی کی ہے۔
اقول : حضرت حسن بن محمد کی حدیث صحیحین میں اس طرح ہے : ابوجعفرسے مروی ہے کہ مجھ سے حضرت جابرنے فرمایا : میرے پاس تمہارا عم زاد۔ حسن بن محمد بن الحنفیہ کی جانب اشارہ ہے۔ آیا۔ کہا : غسل جنابت کس طرح ہوتا ہے میں نے کہا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتین کف پانی لے کراپنے سرپربہاتے پھر باقی جسم پر بہاتے۔ اس پر حسن نے مجھ سے کہا : میرے بال بہت ہیں ۔ میں نے کہا : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بال تم سے زیادہ تھے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اوراسی کے ہم معنی مسلم کی روایت میں بھی ہے
اوراس میں یوں ہے کہ جابر نے فرمایا : میں نے اس سے کہا جان برادر! رسول الله
فـــــ : تطفل علی الامام العینی والقسطلانی۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب الغسل ، تحت الحدیث ۲۵۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۹۵
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب الغسل ، تحت الحدیث ۲۵۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۹۵
صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب من افاض علی رأسہٖ ثلثا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری باب الغسل ، تحت الحدیث ۲۵۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۲۹۵
صحیح البخاری کتاب الغسل ، باب من افاض علی رأسہٖ ثلثا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
صلی الله تعالی علیہ وسلم اکثر من شعرك واطیب وھو نص فی ان محمدا لم یشھد مخاطبتہ جابر والحسن وانما حکاھا لہ جابر بخلاف حدیث الباب وفی الکلام ایضا نوع تفاوت بل الرجل القائل ھو الامام ابو جعفر نفسہ اومن قال منھم مع تسلیم الباقین اخرج النسائی عن ابی اسحاق عن ابی جعفر قال تمارینا فی الغسل عند جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنھما فقال جابر یکفی من الغسل من الجنابۃ صاع من ماء قلنا مایکفی صاع ولا صاعان قال جابر قدکان یکفی من کان خیرا منکم واکثر شعرا صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
قال فی الحلیۃ یشعر ایضا بان ھذا التقدیر لیس بلازم فی کل حالۃ لکل واحد ومن ثمہ قال الشیخ عزالدین بن عبدالسلام ھذا فی حق من
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بال تمہارے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ ترتھے۔ یہ روایت اس بارے میں نص ہے کہ امام محمد باقرحضرت جابروحسن کی جگفتگوکے وقت موجود نہ تھے اور ان سے حضرت جابر نے قصہ بتایا بخلاف زیر بحث حدیث کے (جس میں خود ان کی موجودگی مذکورہے) اورکلام میں کچھ تفاوت ہے۔ بلکہ اس حدیث میں ناکافی ہونے کی بات کہنے والے خود امام ابو جعفرہیں یاان حضرات میں سے کوئی اورشخص جنہوں نے کہا اور باقی نے تسلیم کیا۔ (کیوں کہ نسائی کی روایت میں یہ تفصیل ہے)امام نسائی نے ابواسحق سے روایت کی وہ ابو جعفر سے راوی ہیں انہوں نے کہا : ہم نے حضرت جابر بن عبداللهرضی اللہ تعالی عنہماکے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت جابرنے کہا : غسل جنابت میں ایك صاع پانی کافی ہے۔ ہم نے کہا : ایك صاع دو صاع ناکافی ہے۔ حضرت جابرنے فرمایا : کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم لوگوں سے بہتراورتم سے زیادہ بال والے تھے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
حلیہ میں لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ تحدید ہر حال میں ہرشخص کے لئے لازم نہیں ۔ اسی لئے شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے فرمایایہ اس کے حق میں ہے جس کا جسم نبی کریم
قال فی الحلیۃ یشعر ایضا بان ھذا التقدیر لیس بلازم فی کل حالۃ لکل واحد ومن ثمہ قال الشیخ عزالدین بن عبدالسلام ھذا فی حق من
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بال تمہارے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ ترتھے۔ یہ روایت اس بارے میں نص ہے کہ امام محمد باقرحضرت جابروحسن کی جگفتگوکے وقت موجود نہ تھے اور ان سے حضرت جابر نے قصہ بتایا بخلاف زیر بحث حدیث کے (جس میں خود ان کی موجودگی مذکورہے) اورکلام میں کچھ تفاوت ہے۔ بلکہ اس حدیث میں ناکافی ہونے کی بات کہنے والے خود امام ابو جعفرہیں یاان حضرات میں سے کوئی اورشخص جنہوں نے کہا اور باقی نے تسلیم کیا۔ (کیوں کہ نسائی کی روایت میں یہ تفصیل ہے)امام نسائی نے ابواسحق سے روایت کی وہ ابو جعفر سے راوی ہیں انہوں نے کہا : ہم نے حضرت جابر بن عبداللهرضی اللہ تعالی عنہماکے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت جابرنے کہا : غسل جنابت میں ایك صاع پانی کافی ہے۔ ہم نے کہا : ایك صاع دو صاع ناکافی ہے۔ حضرت جابرنے فرمایا : کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم لوگوں سے بہتراورتم سے زیادہ بال والے تھے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
حلیہ میں لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ تحدید ہر حال میں ہرشخص کے لئے لازم نہیں ۔ اسی لئے شیخ عزالدین بن عبدالسلام نے فرمایایہ اس کے حق میں ہے جس کا جسم نبی کریم
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الحیض ، باب استحباب افاضۃ الماء علٰی الرأس وغیرہ...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۹
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للغسل نورمحمد کارخانہ تجار ت کراچی۱ / ۴۶
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للغسل نورمحمد کارخانہ تجار ت کراچی۱ / ۴۶
یشبہ جسدہ جسدالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انتھی یعنی فی الحجم ولعل انکار جابر وردہ علی القائل لظھور ان جسد القائل کان نحوجسد رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مع فھم جابر عند الشك فی کون ذلك کافیا لہ اما لوسوسۃ اوغیرھا فاتی برد عنیف لیکون اقلع لذلك السبب من النفس واجمع فی التأسی بہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ذلک۔
ھذا التوجیہ الذی وفقنا لہ اولی من قول غیر واحد من المشائخ ان مافی ظاھر الروایۃ (ای ماتقدم ان الصاع والمداد فی مایکفی) بیان لمقدار الکفایۃ ثم یرد فونہ بقولھم حتی ان من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلك اجزاء ہ وان لم یکفہ زاد علیہ وکذا الکلام فیما روی الحسن عن ابی حنیفۃ (ای ماتقدم من رطل ورطلین وثلثۃ فی الاحوال) فی الوضوء اھ کلامہ الشریف مزید اما بین الاھلۃ۔
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جسم کی طرح ہو۔ انتہی۔ یعنی حجم میں ۔ شاید حضرت جابرکاانکاراورقائل کی تردید اسی لئے تھی کہ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جسم کی طرح تھا ساتھ ہی حضرت جابرنے قائل سے متعلق یہ سمجھا کہ اسے ایك صاع کے کافی ہونے میں شك ہے جس کی وجہ وسوسہ ہے یااورکچھ۔ تو اس کی ایسی سخت تردید فرمائی جو نفس سے اس شك کا سبب نکال باہر کردے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی اقتدا پر طمانینت قلب پیدا کردے۔
یہ توجیہ جس کی ہمیں توفیق ملی متعددمشائخ کے اس قول سے بہتر ہے کہ ظاہرالروایۃ کاکلام (یعنی وہ جوپہلے گزرا کہ صاع اورمد ادنی مقدار کفایت ہے)مقدار کفایت کابیان ہے پھر اس کے بعد وہی مشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو وضو اور غسل اس سے کم مقدار میں کامل کرلے اس کے لئے وہی کافی ہے اوراگر یہ اس کے لئے کافی نہ ہوتواضافہ کرلے ۔ اسی طرح اس میں بھی کلام ہے جوحسن بن زیادنے وضو کے بارے میں امام ابو حنیفہ سے روایت کی(یعنی وہ جوگزرا کہ مختلف احوال میں ایك رطل دو رطل اورتین رطل کافی ہے)محقق حلبی کا کلام ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوا۔
ھذا التوجیہ الذی وفقنا لہ اولی من قول غیر واحد من المشائخ ان مافی ظاھر الروایۃ (ای ماتقدم ان الصاع والمداد فی مایکفی) بیان لمقدار الکفایۃ ثم یرد فونہ بقولھم حتی ان من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلك اجزاء ہ وان لم یکفہ زاد علیہ وکذا الکلام فیما روی الحسن عن ابی حنیفۃ (ای ماتقدم من رطل ورطلین وثلثۃ فی الاحوال) فی الوضوء اھ کلامہ الشریف مزید اما بین الاھلۃ۔
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جسم کی طرح ہو۔ انتہی۔ یعنی حجم میں ۔ شاید حضرت جابرکاانکاراورقائل کی تردید اسی لئے تھی کہ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے جسم کی طرح تھا ساتھ ہی حضرت جابرنے قائل سے متعلق یہ سمجھا کہ اسے ایك صاع کے کافی ہونے میں شك ہے جس کی وجہ وسوسہ ہے یااورکچھ۔ تو اس کی ایسی سخت تردید فرمائی جو نفس سے اس شك کا سبب نکال باہر کردے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی اقتدا پر طمانینت قلب پیدا کردے۔
یہ توجیہ جس کی ہمیں توفیق ملی متعددمشائخ کے اس قول سے بہتر ہے کہ ظاہرالروایۃ کاکلام (یعنی وہ جوپہلے گزرا کہ صاع اورمد ادنی مقدار کفایت ہے)مقدار کفایت کابیان ہے پھر اس کے بعد وہی مشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو وضو اور غسل اس سے کم مقدار میں کامل کرلے اس کے لئے وہی کافی ہے اوراگر یہ اس کے لئے کافی نہ ہوتواضافہ کرلے ۔ اسی طرح اس میں بھی کلام ہے جوحسن بن زیادنے وضو کے بارے میں امام ابو حنیفہ سے روایت کی(یعنی وہ جوگزرا کہ مختلف احوال میں ایك رطل دو رطل اورتین رطل کافی ہے)محقق حلبی کا کلام ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوا۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اقول اولا : نظر فــــ۱ رحمہ الله تعالی الی لفظ البخاری قال رجل ولوکان متذکرا ما فی النسائی من قول الامام الباقر رضی الله تعالی عنہ قلنا لم یرض بذکر الوسوسۃ فحاشا محمد الباقر عنھا۔
ثانیا لوکانت فـــــ۲ علی ذکر منہ لم یذکر قولہ لظھور ان جسد القائل الخ فان ذلك ان فرض مستقیما ففی جسد بعضھم کالامام الباقر لا کلھم والقائلون القوم لقولہ قلنا وقول جابر من کان خیرا منکم وان تولی التکلم احدھم۔
وثالثا لایقتصر فــــ۳ الامر علی المقاربۃ فی الحجم وحدہ بل یختلف فـــــ۴
اقول اولا : صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بخاری کے الفاظ “ ایك شخص نے کہا “ پرنظررکھی اگر انہیں وہ یاد ہوتا جونسائی میں امام باقررضی اللہ تعالی عنہکاقول مذکورہے کہ “ ہم نے کہا “ تو وسوسہ کا تذکرہ پسندنہ کرتے۔ کیوں کہ امام محمد باقر وسوسہ سے دور ہیں ۔
ثانیا : وہ روایت یاد رہتی تو یہ بات نہ کہتے کہ “ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم الخ “ ۔ کیوں کہ اسے اگر درست بھی مان لیاجائے توان میں سے بعض جیسے امام باقر کے جسم سے متعلق یہ بات ہوسکتی ہے سب سے متعلق نہیں جب کہ قائل سبھی حضرات تھے کیونکہ امام باقر کے الفاظ یہ ہیں کہ “ ہم نے کہا “ اورحضرت جابر کے الفاظ یہ ہیں کہ “ تم لوگوں سے بہتر تھے “ ۔ اگرچہ بولنے والے ان حضرات میں سے ایك ہی فرد رہے ہوں ۔
ثالثا : معاملہ صرف حجم میں قریب قریب ہونے پرمحدود نہیں بلکہ فرق یوں بھی ہوتا ہے
فـــــ۱ : تطفل اخرعلیہا۔ فــــــ۲ تطفل اخر علیھا۔ فـــــ۳ : تطفل ثالث علیہا۔
فــــ۴ : مسئلہ : سب کے لیے غسل و وضو میں پانی کی مقدارجس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایك شخص دیو قامت ہے ایك نہایت نحیف دبلا پتلا ایك بہت درازقد ہے دوسراکمال ٹھنگنا ایك بدن نرم و نازك و تر دوسرا خشك کھرا ایك کے تمام اعضاء پر بال ہیں دوسرے کا بدن صاف ایك کی داڑھی بڑی اور گھنی دوسرا بے ریش یا چند بال ایك کے سر پر بڑے بڑے بال انبوہ دوسرے کا سر منڈھا ہوا۔ ان سب کے لئے ایك مقدار کیونکر ممکن بلکہ شخص واحد کیلئے فصلوں اور شہروں اور عمر و مزاج کے تبدل سے مقدار بدل جاتی ہے برسات میں بدن میں تری ہوتی ہے پانی جلد دوڑتا ہے جاڑے میں خشکی ہوتی ہے وعلی ہذاالقیاس۔
ثانیا لوکانت فـــــ۲ علی ذکر منہ لم یذکر قولہ لظھور ان جسد القائل الخ فان ذلك ان فرض مستقیما ففی جسد بعضھم کالامام الباقر لا کلھم والقائلون القوم لقولہ قلنا وقول جابر من کان خیرا منکم وان تولی التکلم احدھم۔
وثالثا لایقتصر فــــ۳ الامر علی المقاربۃ فی الحجم وحدہ بل یختلف فـــــ۴
اقول اولا : صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بخاری کے الفاظ “ ایك شخص نے کہا “ پرنظررکھی اگر انہیں وہ یاد ہوتا جونسائی میں امام باقررضی اللہ تعالی عنہکاقول مذکورہے کہ “ ہم نے کہا “ تو وسوسہ کا تذکرہ پسندنہ کرتے۔ کیوں کہ امام محمد باقر وسوسہ سے دور ہیں ۔
ثانیا : وہ روایت یاد رہتی تو یہ بات نہ کہتے کہ “ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم الخ “ ۔ کیوں کہ اسے اگر درست بھی مان لیاجائے توان میں سے بعض جیسے امام باقر کے جسم سے متعلق یہ بات ہوسکتی ہے سب سے متعلق نہیں جب کہ قائل سبھی حضرات تھے کیونکہ امام باقر کے الفاظ یہ ہیں کہ “ ہم نے کہا “ اورحضرت جابر کے الفاظ یہ ہیں کہ “ تم لوگوں سے بہتر تھے “ ۔ اگرچہ بولنے والے ان حضرات میں سے ایك ہی فرد رہے ہوں ۔
ثالثا : معاملہ صرف حجم میں قریب قریب ہونے پرمحدود نہیں بلکہ فرق یوں بھی ہوتا ہے
فـــــ۱ : تطفل اخرعلیہا۔ فــــــ۲ تطفل اخر علیھا۔ فـــــ۳ : تطفل ثالث علیہا۔
فــــ۴ : مسئلہ : سب کے لیے غسل و وضو میں پانی کی مقدارجس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایك شخص دیو قامت ہے ایك نہایت نحیف دبلا پتلا ایك بہت درازقد ہے دوسراکمال ٹھنگنا ایك بدن نرم و نازك و تر دوسرا خشك کھرا ایك کے تمام اعضاء پر بال ہیں دوسرے کا بدن صاف ایك کی داڑھی بڑی اور گھنی دوسرا بے ریش یا چند بال ایك کے سر پر بڑے بڑے بال انبوہ دوسرے کا سر منڈھا ہوا۔ ان سب کے لئے ایك مقدار کیونکر ممکن بلکہ شخص واحد کیلئے فصلوں اور شہروں اور عمر و مزاج کے تبدل سے مقدار بدل جاتی ہے برسات میں بدن میں تری ہوتی ہے پانی جلد دوڑتا ہے جاڑے میں خشکی ہوتی ہے وعلی ہذاالقیاس۔
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الطہارۃ ، باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل... الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۴۶
باختلاف بدنین نعومۃ وخشونۃ و رطوبۃ و یبوسۃ وکون الشخص اجرد اواشعر وکث اللحیۃ اوخفیفھا وتام الوفرۃ اومحلوقہا الی غیر ذلك من الاسباب بل یختلف لشخص واحد باختلاف الفصول والبلدان والعمر والمزاج وغیر ذلك ۔
ورابعا بہ فــــ۱ ظھران لوفرض لھم مداناۃ فی الحجم کان من المحال العادی المداناۃ فی جمیع اسباب الاختلاف بل ھو محال قطعا فمن اعظمھا النعومۃ ومن بدنہ کبدن ھذا القمر الزاھر صلی الله تعالی علیہ وسلم
وخامسا : لقی فــــ۲ الامام الباقر سیدنا جابرا رضی الله تعالی عنہما انما کان بعد ما صار بصیرا فکیف یعرف حجم ابدانھم۔
وسادسا : کلام فـــــ۳ جابر نفسہ یدل انہ انما بناہ علی کثرۃ شعرالراس وقلتہ ۔
کہ ایك بدن نرم ہو دوسرا سخت ایك رطب ہودوسرا یابس اور یوں بھی کہ ایك شخص کم بال والا ہو دوسرا زیادہ بال والا ایك کی داڑھی گھنی دوسرے کی خفیف ایك کے سر پرلمبے لمبے بال ہوں دوسرے کا سر منڈاہوا ہو اور اس طرح کے فرق کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں ۔ بلکہ موسم شہر عمر مزاج وغیرہ کی تبدیلیوں سے خود ایك ہی شخص کاحال مختلف ہواکرتاہے۔
رابعا : اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بالفرض ان سب حضرات میں حجم کاقریب قریب ہوناظاہرتھاتومحال عادی ہے کہ تمام اسباب اختلاف میں باہم قرب رہاہو بلکہ یہ محال قطعی ہے کیونکہ سب سے عظیم سبب فرق بدن کی نرمی و لطافت ہے اورایساکون ہوسکتاہے جس کابدن اس ماہ انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بدن جیساہو۔
خامسا : امام باقرکی ملاقات سیدناجابر رضی اللہ تعالی عنہماسے اس وقت ہوئی جب حضرت جابر آنکھوں سے معذور ہو چکے تھے تو وہ ان لوگوں کے حجم کی شناخت کیسے کرتے۔
سادسا : خود حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہکا کلام بھی بتارہا ہے کہ انہوں نے بنائے کلام سر کے بالوں کی کثرت وقلت پررکھی تھی۔
فـــــ۱ : تطفل رابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل خامس علیھا۔ فـــــ۳ : تطفل سادس علیھا۔
ورابعا بہ فــــ۱ ظھران لوفرض لھم مداناۃ فی الحجم کان من المحال العادی المداناۃ فی جمیع اسباب الاختلاف بل ھو محال قطعا فمن اعظمھا النعومۃ ومن بدنہ کبدن ھذا القمر الزاھر صلی الله تعالی علیہ وسلم
وخامسا : لقی فــــ۲ الامام الباقر سیدنا جابرا رضی الله تعالی عنہما انما کان بعد ما صار بصیرا فکیف یعرف حجم ابدانھم۔
وسادسا : کلام فـــــ۳ جابر نفسہ یدل انہ انما بناہ علی کثرۃ شعرالراس وقلتہ ۔
کہ ایك بدن نرم ہو دوسرا سخت ایك رطب ہودوسرا یابس اور یوں بھی کہ ایك شخص کم بال والا ہو دوسرا زیادہ بال والا ایك کی داڑھی گھنی دوسرے کی خفیف ایك کے سر پرلمبے لمبے بال ہوں دوسرے کا سر منڈاہوا ہو اور اس طرح کے فرق کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں ۔ بلکہ موسم شہر عمر مزاج وغیرہ کی تبدیلیوں سے خود ایك ہی شخص کاحال مختلف ہواکرتاہے۔
رابعا : اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بالفرض ان سب حضرات میں حجم کاقریب قریب ہوناظاہرتھاتومحال عادی ہے کہ تمام اسباب اختلاف میں باہم قرب رہاہو بلکہ یہ محال قطعی ہے کیونکہ سب سے عظیم سبب فرق بدن کی نرمی و لطافت ہے اورایساکون ہوسکتاہے جس کابدن اس ماہ انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے بدن جیساہو۔
خامسا : امام باقرکی ملاقات سیدناجابر رضی اللہ تعالی عنہماسے اس وقت ہوئی جب حضرت جابر آنکھوں سے معذور ہو چکے تھے تو وہ ان لوگوں کے حجم کی شناخت کیسے کرتے۔
سادسا : خود حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہکا کلام بھی بتارہا ہے کہ انہوں نے بنائے کلام سر کے بالوں کی کثرت وقلت پررکھی تھی۔
فـــــ۱ : تطفل رابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل خامس علیھا۔ فـــــ۳ : تطفل سادس علیھا۔
وسابعا : یرید فــــ۱رحمہ الله تعالی الاخذ علی المشایخ انھم حملوا ظاھر الروایۃ علی ادنی مابہ الکفایۃ ثم عادوا علیہا بالنقض بقولھم من اسبغ بدونہ اجزأہ مع انہ ھو الناقل لفظ الظاھر ماتقدم ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مد فلا محمل لہا الا ماذکروا مابدلوا وما غیروا۔
وثامنا : لایجوز فـــــ۲ ان یکون مراد الظاھر والمشائخ تقدیر ھذا لشخص واحد فی الدنیا یکون اضأل الناس واقصرھم واھزلھم واصغرھم حتی لایمکن لغیرہ ان یغتسل فی قدر ما یکفیہ وانما ھی متمسکۃ فی ذلك بالحدیث کما ذکرتم وتقدم ولا یسبق جالی وھم انھم لا یفرقون بین قصیر صغیر ضیئل اجرد امرد محلوق الراس وطویل کبیر عبل اشعرکث اللحیۃ وافی الوفرۃ فیحکموا ان ھذا ھو ادنی ما یکفی کلا منھما فاذن
سابعا : صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہحضرات مشایخ پر یہ گرفت کرناچاہتے ہیں کہ “ انہوں نے ظاہر الروایہ کوادنی مقدار کفایت پر محمول کیاپھرخودہی اس کے خلاف اس کے قائل ہوئے کہ جو اس سے کم میں پورا کرے تو اسے وہی کافی ہے “ ۔ حالانکہ صاحب حلیہ نے خودہی ظاہرالروایہ کے الفاظ یہ نقل کئے کہ غسل میں ادنی مقدار کافی ایك صاع اور وضو میں ایك مد ہے۔ ظاہر الروایہ کا مطلب ان حضرات نے جو ذکرکیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ۔ اوران حضرات نے کوئی تغیر وتبدل نہ کیا۔
ثامنا : ممکن نہیں کہ ظاہر الروایہ اورحضرات مشائخ کی مراد یہ ہوکہ تحدید دنیا کے ایسے فرد واحد کے لئے ہے جو سارے انسانوں سے کم جثہ پست قد دبلا پتلا اور چھوٹا ہوکہ اس کے لئے جس قدر پانی کافی ہوجاتاہے اتنے میں دوسرے کسی شخص کے لئے غسل کرلینا ممکن ہی نہ ہو۔ دراصل اس مقدار کے سلسلے میں ظاہر الروایہ کا استناد حدیث پاك سے ہے جیساکہ آپ نے ذکرکیااورحدیث بھی گزرچکی۔ اور کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتاکہ یہ حضرات پست قامت اور دراز قامت چھوٹے اوربڑے نحیف اورفربہ کم مداور بال دار بے ریش اورگھنی داڑھی والے سرمنڈے اور وافر گیسو والے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اورایك طرف سے
فـــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیھا۔
وثامنا : لایجوز فـــــ۲ ان یکون مراد الظاھر والمشائخ تقدیر ھذا لشخص واحد فی الدنیا یکون اضأل الناس واقصرھم واھزلھم واصغرھم حتی لایمکن لغیرہ ان یغتسل فی قدر ما یکفیہ وانما ھی متمسکۃ فی ذلك بالحدیث کما ذکرتم وتقدم ولا یسبق جالی وھم انھم لا یفرقون بین قصیر صغیر ضیئل اجرد امرد محلوق الراس وطویل کبیر عبل اشعرکث اللحیۃ وافی الوفرۃ فیحکموا ان ھذا ھو ادنی ما یکفی کلا منھما فاذن
سابعا : صاحب حلیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہحضرات مشایخ پر یہ گرفت کرناچاہتے ہیں کہ “ انہوں نے ظاہر الروایہ کوادنی مقدار کفایت پر محمول کیاپھرخودہی اس کے خلاف اس کے قائل ہوئے کہ جو اس سے کم میں پورا کرے تو اسے وہی کافی ہے “ ۔ حالانکہ صاحب حلیہ نے خودہی ظاہرالروایہ کے الفاظ یہ نقل کئے کہ غسل میں ادنی مقدار کافی ایك صاع اور وضو میں ایك مد ہے۔ ظاہر الروایہ کا مطلب ان حضرات نے جو ذکرکیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ۔ اوران حضرات نے کوئی تغیر وتبدل نہ کیا۔
ثامنا : ممکن نہیں کہ ظاہر الروایہ اورحضرات مشائخ کی مراد یہ ہوکہ تحدید دنیا کے ایسے فرد واحد کے لئے ہے جو سارے انسانوں سے کم جثہ پست قد دبلا پتلا اور چھوٹا ہوکہ اس کے لئے جس قدر پانی کافی ہوجاتاہے اتنے میں دوسرے کسی شخص کے لئے غسل کرلینا ممکن ہی نہ ہو۔ دراصل اس مقدار کے سلسلے میں ظاہر الروایہ کا استناد حدیث پاك سے ہے جیساکہ آپ نے ذکرکیااورحدیث بھی گزرچکی۔ اور کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتاکہ یہ حضرات پست قامت اور دراز قامت چھوٹے اوربڑے نحیف اورفربہ کم مداور بال دار بے ریش اورگھنی داڑھی والے سرمنڈے اور وافر گیسو والے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اورایك طرف سے
فـــــ۱ : تطفل سابع علیھا۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیھا۔
لم یریدوا الا رجلا سویا معتدل الخلق متوسط الاحوال وحینئذ لایکون ما اردفوا بہ مناقضا لظاھر الروایۃ ولا مغایرا للتوجیہ الذی نحوتم الیہ وبالجملۃ اری فھمی القاصر متقاعدا عن درك مرام ھذا الکلام۔
وبعد اللتیا والتی انما بغینی ان ھذا الامام رحمہ الله تعالی جعل الحدیث المذکور مشعرا بعدم التحدید ولا یستقیم الاشعار الابان یسلم استبعاد الامام الباقر ویجعل رد سیدنا جابر رضی الله تعالی عنہما حذار ان یکون ذلك عن وسوسۃ او نحوھا وحثا علی التأسی مھما امکن لاایجابا لانہ یکفی کلاما کان یکفیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وفیہ المقصود۔
ثم اقول : اذا کان فــــ ھذا یہ حکم کرتے ہیں کہ یہی وہ ادنی مقدار ہے جو دونوں میں سے ہرایك کوکافی ہے۔ توان کی مراد کیاہے تندرست معتدل ہیأت متوسط حالت کا آدمی۔ جب ایسا ہے توبعد میں جوانہوں نے ذکرکیا(اس سے کم میں ہوجائے تو وہ کافی اوراتنے میں نہ ہوسکے تواضافہ کرے) وہ نہ ظاہرالروایہ کے مخالف نہ اس توجیہ کے مغایر جوآپ نے اختیار کی۔ بالجملہ میری فہم ناقص اس کلام کے مقصود کی دریافت سے قاصر ہے۔
اس ساری بحث وتمحیص کے بعدعرض ہے کہ میرا مقصود صرف یہ ہے کہ امام حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ مانا ہے کہ حدیث مذکور پتا دے رہی ہے کہ تحدید نہیں اوریہ پتادینا اسی وقت راست آسکتاہے جب وہ امام باقر کا استبعاد تسلیم کریں اوریہ مانیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہماکی تردید اس اندیشہ سے تھی کہ وہ بات کہیں وسوسہ یااسی جیسی کسی چیز کے باعث نہ ہو اوراس بات پرآمادہ کرنے کی خاطرکہ جہاں تك ہوسکے سرکار کی پیروی کی جائے۔ یہ تردید ایجاب کے مقصدسے نہ تھی اس لئے کہ اس کے لئے تویہی کہنا کافی تھاکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے یہ مقدار کافی تھی اور مقصوداتنے ہی میں حاصل تھا۔
ثم اقول : جب ایك صاع کے بارے
فــــ : اشکال فی حدیث البخاری والکلام علیہ حسب الاستطاعۃ۔
وبعد اللتیا والتی انما بغینی ان ھذا الامام رحمہ الله تعالی جعل الحدیث المذکور مشعرا بعدم التحدید ولا یستقیم الاشعار الابان یسلم استبعاد الامام الباقر ویجعل رد سیدنا جابر رضی الله تعالی عنہما حذار ان یکون ذلك عن وسوسۃ او نحوھا وحثا علی التأسی مھما امکن لاایجابا لانہ یکفی کلاما کان یکفیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وفیہ المقصود۔
ثم اقول : اذا کان فــــ ھذا یہ حکم کرتے ہیں کہ یہی وہ ادنی مقدار ہے جو دونوں میں سے ہرایك کوکافی ہے۔ توان کی مراد کیاہے تندرست معتدل ہیأت متوسط حالت کا آدمی۔ جب ایسا ہے توبعد میں جوانہوں نے ذکرکیا(اس سے کم میں ہوجائے تو وہ کافی اوراتنے میں نہ ہوسکے تواضافہ کرے) وہ نہ ظاہرالروایہ کے مخالف نہ اس توجیہ کے مغایر جوآپ نے اختیار کی۔ بالجملہ میری فہم ناقص اس کلام کے مقصود کی دریافت سے قاصر ہے۔
اس ساری بحث وتمحیص کے بعدعرض ہے کہ میرا مقصود صرف یہ ہے کہ امام حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہ مانا ہے کہ حدیث مذکور پتا دے رہی ہے کہ تحدید نہیں اوریہ پتادینا اسی وقت راست آسکتاہے جب وہ امام باقر کا استبعاد تسلیم کریں اوریہ مانیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہماکی تردید اس اندیشہ سے تھی کہ وہ بات کہیں وسوسہ یااسی جیسی کسی چیز کے باعث نہ ہو اوراس بات پرآمادہ کرنے کی خاطرکہ جہاں تك ہوسکے سرکار کی پیروی کی جائے۔ یہ تردید ایجاب کے مقصدسے نہ تھی اس لئے کہ اس کے لئے تویہی کہنا کافی تھاکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے لئے یہ مقدار کافی تھی اور مقصوداتنے ہی میں حاصل تھا۔
ثم اقول : جب ایك صاع کے بارے
فــــ : اشکال فی حدیث البخاری والکلام علیہ حسب الاستطاعۃ۔
الاستبعاد فی الصاع فما ظنك بما یقتضیہ ظاھر حدیث الغرفات المار تحت الامر الثالث عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما فانہ یفیدا استیعاب کل من الوجہ والید والرجل بغرفۃ واحدۃ وظاھر ان المراد الاغتراف بالکف بل صرح بہ قولہ اخذ غرفۃ فاضافہا الی یدہ الاخری فاذن یعسرجدا استیعاب الوجہ بغرفۃ واحدۃ فانھا لاتزید علی قدر الکف بل لاتبلغہ اذ لا بد للاغتراف من تقعیر فی الکف وعرض الوجہ مابین الاذنین اکبر بکثیر من طول الکف فماء قدر کف لایستوعب الوجہ طولا وعرضا بحیث یمر علی کل ذرۃ منہ بالسیلان واضافتہ الی الید الاخری لاتزیدہ قدرا بل لوابقی الکفان متلاصقتین لم یبلغ عرض مجموعھما عرض الوجہ وان فرق بینھما ووضعتا علی الجبینین طولا لم یستوعبہما الماء بحیث ینحدر من جمیع مساحۃ
میں یہ استبعا د ہے تو اس سے متعلق کیاخیال ہے جو امر سوم کے تحت بیان شدہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی چلووں کے تذکرہ والی حدیث کے ظاہرکامقتضا ہے۔ کیونکہ اس کامفاد تویہ ہے کہ بس ایك چلو میں چہرے ہاتھ اور پاؤں ہر ایك کا استیعاب ہوجاتاتھا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ہتھیلی ہی سے چلو لینا مراد ہے بلکہ اس قول میں تواس کی صراحت بھی ہے کہ “ ایك چلو لے کر اسے اپنے دوسرے ہاتھ سے ملایا “ ۔ جب ایسا ہے توایك ہی چلومیں پورے چہرے کودھولینا بہت ہی مشکل ہے۔ اس لئے کہ ایك چلوہتھیلی بھر سے زیادہ نہ ہوگا بلکہ ہتھیلی بھربھی نہ ہوگا اس لئے کہ چلو لینے کی لئے ضروری ہے کہ ہتھیلی کچھ گہری رکھی جائے۔ اورایك کان سے دوسرے کان تك چہرے کی چوڑائی دیکھی جائے تووہ ہتھیلی کی لمبائی سے بہت زیادہ ہے توہتھیلی بھر پانی طول اورعرض دونوں میں چہرے کا اس طرح احاطہ نہیں کرسکتاکہ اسکے ہر ذرے پر بہہ جائے۔ اور اسے دوسرے ہاتھ سے ملالیں تواس کی مقدار میں اس سے کچھ اضافہ نہ ہوسکے گا بلکہ اگر دونوں ہتھیلیاں ملی ہوئی رکھی جائیں تو ان کی مجموعی چوڑائی بھی چہرے کی چوڑائی کے برابر نہ ہوگی۔ اور اگر ان کو الگ الگ کر کے پیشانی کے دونوں حصو ں پر لمبائی میں رکھاجائے توان دونوں میں اتنا پانی بھرا ہوا نہ ہوگا کہ دونوں کے طول کی پوری مساحت
میں یہ استبعا د ہے تو اس سے متعلق کیاخیال ہے جو امر سوم کے تحت بیان شدہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی چلووں کے تذکرہ والی حدیث کے ظاہرکامقتضا ہے۔ کیونکہ اس کامفاد تویہ ہے کہ بس ایك چلو میں چہرے ہاتھ اور پاؤں ہر ایك کا استیعاب ہوجاتاتھا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ہتھیلی ہی سے چلو لینا مراد ہے بلکہ اس قول میں تواس کی صراحت بھی ہے کہ “ ایك چلو لے کر اسے اپنے دوسرے ہاتھ سے ملایا “ ۔ جب ایسا ہے توایك ہی چلومیں پورے چہرے کودھولینا بہت ہی مشکل ہے۔ اس لئے کہ ایك چلوہتھیلی بھر سے زیادہ نہ ہوگا بلکہ ہتھیلی بھربھی نہ ہوگا اس لئے کہ چلو لینے کی لئے ضروری ہے کہ ہتھیلی کچھ گہری رکھی جائے۔ اورایك کان سے دوسرے کان تك چہرے کی چوڑائی دیکھی جائے تووہ ہتھیلی کی لمبائی سے بہت زیادہ ہے توہتھیلی بھر پانی طول اورعرض دونوں میں چہرے کا اس طرح احاطہ نہیں کرسکتاکہ اسکے ہر ذرے پر بہہ جائے۔ اور اسے دوسرے ہاتھ سے ملالیں تواس کی مقدار میں اس سے کچھ اضافہ نہ ہوسکے گا بلکہ اگر دونوں ہتھیلیاں ملی ہوئی رکھی جائیں تو ان کی مجموعی چوڑائی بھی چہرے کی چوڑائی کے برابر نہ ہوگی۔ اور اگر ان کو الگ الگ کر کے پیشانی کے دونوں حصو ں پر لمبائی میں رکھاجائے توان دونوں میں اتنا پانی بھرا ہوا نہ ہوگا کہ دونوں کے طول کی پوری مساحت
الطولین سیالا الی منتھی سطح الوجہ فان امر الید علی مسیل الماء ودلك بہا مالم یبلغہ من الوجہ کان غسلا لبعض ودھنا لبعض وکل ذلك معلوم مشاھد وامر الذراع والقدم اشد اشکالا اذلھما اطراف متباینۃ السموت واحاطۃ ماء قدر کف بجمیع اطراف الید من الظفر الی المرفق مما لایعقل والکف نفسہ لاتحیط بالذراع فی امرار واحد وان امرت علی ظھر الذراع ثم اعیدت علی البطن اوبالعکس لم یصحبھا من الماء مایزید علی قدر الدھن وکذلك فی القدم مع مافیھا من الصعود بعد الھبوط لاجل الاسالۃ الی فوق الکعبین وعمل الید قدذکرنا مافیہ ومن ادعی تیسر ھذا فلیرنا کیف یفعل فبالامتحان یکرم الرجل اویھان ۔
وقد استشعر الکرمانی فی الکواکب الدراری ورود ھذا وقنع بان منع ومرواثرہ الامام العینی و
سے ڈھلك کر بہتے ہوئے چہرے کی سطح زیریں کے آخری حصہ تك پہنچ جائے۔ اوراگرایساکرے کہ جتنے حصے پرپانی بہہ گیا ہے وہاں ہاتھ پھیرکران حصوں پر مل لے جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو یہ بعض حصوں کو دھونا اور بعض کو ملنا ہوا۔ سب کو دھونا نہ ہوا۔ اور یہ سب مشاہدہ وتجربہ سے معلوم ہے۔ کلائی اور پاؤں کامعاملہ تواور زیادہ مشکل ہے اس لئے کہ ان کے کنارے الگ الگ سمتوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ہتھیلی بھر پانی ہی ناخن سے لے کرکہنی تك ہاتھ کے تمام اطراف وجوانب کا احاطہ کرلے یہ عقل میں آنے والی بات نہیں ۔ اورایك بارپھیر نے میں خود ہتھیلی پوری کلائی کا احاطہ نہیں کرسکتی اور اگر ایك بار کلائی کی پشت پرہتھیلی پھیرے پھر اس کے پیٹ پر پھیرے یا اس کے برعکس کرے تواس میں اتنا پانی نہ رہ سکے گا جو ملنے سے زیادہ کام کرسکے۔ یہی حال پاؤں کاہے مزید اس میں یہ بھی ہے کہ پانی کو نیچے اترنے کے بعد پھر ٹخنوں کے اوپر تك بہنے کے لئے چڑھنا بھی ہے۔ اورہاتھ کیا کام کرسکتاہے بس وہی جو ہم نے ابھی بتایا۔ جودعوی رکھتا ہوکہ یہ آسان ہے وہ کر کے دکھادے کہ امتحان ہی سے آدمی کوعـزت ملتی ہے یا ذلت۔
الکواکب الدراری میں امام کرمانی کو اس اعتراض کاخیال ہوا اور صرف ناقابل تسلیم کہہ کر گزر گئے اورامام عینی نے بھی ان کا کلام نقل کرکے
وقد استشعر الکرمانی فی الکواکب الدراری ورود ھذا وقنع بان منع ومرواثرہ الامام العینی و
سے ڈھلك کر بہتے ہوئے چہرے کی سطح زیریں کے آخری حصہ تك پہنچ جائے۔ اوراگرایساکرے کہ جتنے حصے پرپانی بہہ گیا ہے وہاں ہاتھ پھیرکران حصوں پر مل لے جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو یہ بعض حصوں کو دھونا اور بعض کو ملنا ہوا۔ سب کو دھونا نہ ہوا۔ اور یہ سب مشاہدہ وتجربہ سے معلوم ہے۔ کلائی اور پاؤں کامعاملہ تواور زیادہ مشکل ہے اس لئے کہ ان کے کنارے الگ الگ سمتوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ہتھیلی بھر پانی ہی ناخن سے لے کرکہنی تك ہاتھ کے تمام اطراف وجوانب کا احاطہ کرلے یہ عقل میں آنے والی بات نہیں ۔ اورایك بارپھیر نے میں خود ہتھیلی پوری کلائی کا احاطہ نہیں کرسکتی اور اگر ایك بار کلائی کی پشت پرہتھیلی پھیرے پھر اس کے پیٹ پر پھیرے یا اس کے برعکس کرے تواس میں اتنا پانی نہ رہ سکے گا جو ملنے سے زیادہ کام کرسکے۔ یہی حال پاؤں کاہے مزید اس میں یہ بھی ہے کہ پانی کو نیچے اترنے کے بعد پھر ٹخنوں کے اوپر تك بہنے کے لئے چڑھنا بھی ہے۔ اورہاتھ کیا کام کرسکتاہے بس وہی جو ہم نے ابھی بتایا۔ جودعوی رکھتا ہوکہ یہ آسان ہے وہ کر کے دکھادے کہ امتحان ہی سے آدمی کوعـزت ملتی ہے یا ذلت۔
الکواکب الدراری میں امام کرمانی کو اس اعتراض کاخیال ہوا اور صرف ناقابل تسلیم کہہ کر گزر گئے اورامام عینی نے بھی ان کا کلام نقل کرکے
اقر حیث قال قال الکرمانی فان قلت لایمکن غسل الرجل بغرفۃ واحدۃ قلت الفرق ممنوع ولعل الغرض من ذکرہ علی ھذا الوجہ بیان تقلیل الماء فی العضو الذی ھو مظنۃ الاسراف فیہ اھ۔
اقول : ومجرد فــــ المنع فی امثال الواضحات لا یسمع ولا ینفع وحملہ المحقق فی الفتح علی تجدید الماء لکل عضو فقال وما فی حدیث ابن عباس فاخذ غرفۃ من ماء الی اخر ما تقد م یجب صرفہ الی ان المراد تجد ید الماء بقرینۃ قولہ بعد ذلك ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ومعلوم ان لکل من الیدین ثلث غرفات لا غرفۃ واحدۃ فکان المراد اخذ ماء للیمنی ثم ماء للیسری اذلیس یحکی الفرائض فقد حکی السنن من
برقرار رکھا۔ وہ لکھتے ہیں کرمانی فرماتے ہیں : اگر یہ کہوکہ ایك چلو میں پاؤں دھونا ممکن نہیں تو میں کہوں گا ہم یہ فرق نہیں مانتے۔ اور شاید اس طرح ذکر کرنے سے ان کامقصد یہ ہے کہ پانی اس عضو میں کم صرف کیاجائے جس میں اسراف ہونے کاگمان ہے اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) اس طرح کی واضح باتوں میں صرف منع سے کام نہیں چلتا نہ ہی یہ قابل قبول ہوتا ہے۔ اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں اس کواس پرمحمول کیاہے کہ ہر عضوکے لئے نیا پانی لیتے۔ وہ لکھتے ہیں : وہ جوحضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ پھر ایك چلو پانی لیا۔ الی آخر الحدیث ۔ اسے اس طرف پھیرناضروری ہے کہ مراد نیا پانی لینا ہے اس کا قرینہ اس کے بعد ان کایہ قول ہے کہ پھر ایك چلو پانی لیاتو اس سے دایاں ہاتھ دھویا پھر ایك چلو پانی لیا تو اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ اورمعلوم ہے کہ ہر ہاتھ کے لئے تین چلو لئے ہوں گے ایك ہی چلو نہیں تومرادیہ ہے کہ کچھ پانی دائیں ہاتھ کے لئے لیا پھر کچھ پانی بائیں ہاتھ کے لئے لیا۔ اس لئے کہ وہ صرف فرائض کی حکایت نہیں فرما رہے ہیں بلکہ
فـــــ : تطفل علی الامام العینی والکرمانی ۔
اقول : ومجرد فــــ المنع فی امثال الواضحات لا یسمع ولا ینفع وحملہ المحقق فی الفتح علی تجدید الماء لکل عضو فقال وما فی حدیث ابن عباس فاخذ غرفۃ من ماء الی اخر ما تقد م یجب صرفہ الی ان المراد تجد ید الماء بقرینۃ قولہ بعد ذلك ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ومعلوم ان لکل من الیدین ثلث غرفات لا غرفۃ واحدۃ فکان المراد اخذ ماء للیمنی ثم ماء للیسری اذلیس یحکی الفرائض فقد حکی السنن من
برقرار رکھا۔ وہ لکھتے ہیں کرمانی فرماتے ہیں : اگر یہ کہوکہ ایك چلو میں پاؤں دھونا ممکن نہیں تو میں کہوں گا ہم یہ فرق نہیں مانتے۔ اور شاید اس طرح ذکر کرنے سے ان کامقصد یہ ہے کہ پانی اس عضو میں کم صرف کیاجائے جس میں اسراف ہونے کاگمان ہے اھ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) اس طرح کی واضح باتوں میں صرف منع سے کام نہیں چلتا نہ ہی یہ قابل قبول ہوتا ہے۔ اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں اس کواس پرمحمول کیاہے کہ ہر عضوکے لئے نیا پانی لیتے۔ وہ لکھتے ہیں : وہ جوحضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ پھر ایك چلو پانی لیا۔ الی آخر الحدیث ۔ اسے اس طرف پھیرناضروری ہے کہ مراد نیا پانی لینا ہے اس کا قرینہ اس کے بعد ان کایہ قول ہے کہ پھر ایك چلو پانی لیاتو اس سے دایاں ہاتھ دھویا پھر ایك چلو پانی لیا تو اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ اورمعلوم ہے کہ ہر ہاتھ کے لئے تین چلو لئے ہوں گے ایك ہی چلو نہیں تومرادیہ ہے کہ کچھ پانی دائیں ہاتھ کے لئے لیا پھر کچھ پانی بائیں ہاتھ کے لئے لیا۔ اس لئے کہ وہ صرف فرائض کی حکایت نہیں فرما رہے ہیں بلکہ
فـــــ : تطفل علی الامام العینی والکرمانی ۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء ، تحت الحدیث۱۴۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۴۰۰ ، ۴۰۱
المضمضۃ وغیرھا ولو کان لکان المراد ان ذلك ادنی مایمکن اقامۃ المضمضۃ بہ کما ان ذلك ادنی مایقام فرض الید بہ لان المحکی انما ھو وضوء ہ الذی کان علیہ لیتبعہ المحکی لھم اھ وتبعہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ۔
قلت ومطمح نظرہ رحمہ الله تعالی سلخ الغرفۃ عن الواحدۃ مستندا الی ان المحکی الوضوء المسنون بدلیل ذکر المضمضۃ والاستنشاق والمسنون التثلیث فکیف یراد الواحدۃ وانما معناہ اخذ لکل عمل ماء جدید اوھو اعم من اخذہ مرۃ اومرارا فیکون معنی قولہ غرفۃ من ماء فتمضمض بہا واستنشق ان اخذلھا ماء جدیدا ولو مرارا فلا یدل علی انھما بماء واحد کما یقولہ الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ فھذا مرادہ وھو قد ینفعنا فیما نحن
مضمضہ وغیرہ سنتیں بھی بیان کی ہیں ۔ اوراگر وہی ہوتومراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے عمل مضمضہ کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ جیسے یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے فرض دست کی ادائیگی ہوجاتی ہے اس لئے کہ حکایت اس وضو کی ہورہی ہے جو سرکار نے کیاتھا تاکہ دیکھنے والے لوگ اسی طریقہ کی پیروی کریں اھ۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر اس کلام میں حضرت محقق کی پیروی کی ہے۔
قلت حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہکامطمح نظر یہ ہے کہ چلو کے لفظ سے وحدت کامفہوم الگ کردیں اس پران کا استناد اس سے ہے کہ یہاں وضوئے مسنون کی نقل ہو رہی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کا ذکر ہے۔ اورمسنون تین بار دھونا ہے تو وحدت کیسے مرادہوسکتی ہے۔ اس کا معنی بس یہ ہے کہ ہر عمل کے لئے نیاپانی لیا۔ اور یہ اس سے اعم ہے کہ ایك بار لیا یا چند بارلیا تو ان کے قول “ پانی کا ایك چلو لے کر اس سے مضمضہ اوراستنشاق کیا “ کا معنی یہ ہوگا کہ دونوں کے لئے جدید پانی لیااگرچہ چندبار۔ تو وہ یہ نہیں بتاتا کہ مضمضہ اور استنشاق دونوں ایك ہی پانی میں ہوا جیسا کہ امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہاس کے قائل ہیں ۔ یہ ہے حضرت محقق کی مراد۔ اور وہ ہمارے زیربحث
قلت ومطمح نظرہ رحمہ الله تعالی سلخ الغرفۃ عن الواحدۃ مستندا الی ان المحکی الوضوء المسنون بدلیل ذکر المضمضۃ والاستنشاق والمسنون التثلیث فکیف یراد الواحدۃ وانما معناہ اخذ لکل عمل ماء جدید اوھو اعم من اخذہ مرۃ اومرارا فیکون معنی قولہ غرفۃ من ماء فتمضمض بہا واستنشق ان اخذلھا ماء جدیدا ولو مرارا فلا یدل علی انھما بماء واحد کما یقولہ الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ فھذا مرادہ وھو قد ینفعنا فیما نحن
مضمضہ وغیرہ سنتیں بھی بیان کی ہیں ۔ اوراگر وہی ہوتومراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے عمل مضمضہ کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ جیسے یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے فرض دست کی ادائیگی ہوجاتی ہے اس لئے کہ حکایت اس وضو کی ہورہی ہے جو سرکار نے کیاتھا تاکہ دیکھنے والے لوگ اسی طریقہ کی پیروی کریں اھ۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر اس کلام میں حضرت محقق کی پیروی کی ہے۔
قلت حضرت محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہکامطمح نظر یہ ہے کہ چلو کے لفظ سے وحدت کامفہوم الگ کردیں اس پران کا استناد اس سے ہے کہ یہاں وضوئے مسنون کی نقل ہو رہی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کا ذکر ہے۔ اورمسنون تین بار دھونا ہے تو وحدت کیسے مرادہوسکتی ہے۔ اس کا معنی بس یہ ہے کہ ہر عمل کے لئے نیاپانی لیا۔ اور یہ اس سے اعم ہے کہ ایك بار لیا یا چند بارلیا تو ان کے قول “ پانی کا ایك چلو لے کر اس سے مضمضہ اوراستنشاق کیا “ کا معنی یہ ہوگا کہ دونوں کے لئے جدید پانی لیااگرچہ چندبار۔ تو وہ یہ نہیں بتاتا کہ مضمضہ اور استنشاق دونوں ایك ہی پانی میں ہوا جیسا کہ امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہاس کے قائل ہیں ۔ یہ ہے حضرت محقق کی مراد۔ اور وہ ہمارے زیربحث
حوالہ / References
فتح القدیر ، کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۴
فیہ وان کان کلامہ فی مسألۃ اخری۔
اقول : لکن فـــــ۱ فیہ بعد لایخفی والمحقق عارف بہ ولذا قال یجب صرفہ لکن الشان فی ثبوت الوجوب وما استند بہ سیاتی الکلام علیہ۔
علی ان الحدیث فـــــ۲ رواہ ابن ماجۃ عن زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما وھذا ھومخرج الحد یث رواہ البخاری عن سلیمن بن بلال عن زید والنسائی عن ابن عجلان عن زید مطولا وقال ابن ماجۃ حدثنا عبدالله بن الجراح وابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا عبدالعزیز بن محمد عن زید فاخرجہ مقتصرا علی قولہ ان رسول الله تعالی علیہ وسلم مضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃو
مسئلہ میں بھی کارآمد ہے اگرچہ ان کا کلام ایك دوسرے مسئلہ کے تحت ہے۔
اقول : لیکن اس میں نمایاں بعدہے۔ اورحضرت محقق اس سے واقف ہیں اسی لئے فرمایا : “ اسے پھیرنا “ واجب ہے ۔ لیکن مشکل معاملہ ثبوت وجوب ہے اورجس سے انہوں نے استناد فرمایا اس پر آگے کلام ہوگا۔
علاوہ ازیں یہ حدیث ابن ماجہ نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے وہ عطابن یسارسے وہ حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں ۔ اورمخرج حدیث یہی زیدبن اسلم ہیں ۔ اسے امام بخاری نے سلیمان بن بلال سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں ۔ اورنسائی نے ابن عجلان سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں مطولا۔ اور ابن ماجہ نے کہا : ہم سے عبدالله بن جراح اور ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمدنے حدیث بیا ن کی وہ راوی ہیں زیدسے۔ پھر اس میں صرف یہ روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك چلو (من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا۔ اور
فـــــ۱ : تطفل علی المحقق والغنیۃ ۔ فــــــ۲ : تطفل اخرعلیہما ۔
اقول : لکن فـــــ۱ فیہ بعد لایخفی والمحقق عارف بہ ولذا قال یجب صرفہ لکن الشان فی ثبوت الوجوب وما استند بہ سیاتی الکلام علیہ۔
علی ان الحدیث فـــــ۲ رواہ ابن ماجۃ عن زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما وھذا ھومخرج الحد یث رواہ البخاری عن سلیمن بن بلال عن زید والنسائی عن ابن عجلان عن زید مطولا وقال ابن ماجۃ حدثنا عبدالله بن الجراح وابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا عبدالعزیز بن محمد عن زید فاخرجہ مقتصرا علی قولہ ان رسول الله تعالی علیہ وسلم مضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃو
مسئلہ میں بھی کارآمد ہے اگرچہ ان کا کلام ایك دوسرے مسئلہ کے تحت ہے۔
اقول : لیکن اس میں نمایاں بعدہے۔ اورحضرت محقق اس سے واقف ہیں اسی لئے فرمایا : “ اسے پھیرنا “ واجب ہے ۔ لیکن مشکل معاملہ ثبوت وجوب ہے اورجس سے انہوں نے استناد فرمایا اس پر آگے کلام ہوگا۔
علاوہ ازیں یہ حدیث ابن ماجہ نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے وہ عطابن یسارسے وہ حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہیں ۔ اورمخرج حدیث یہی زیدبن اسلم ہیں ۔ اسے امام بخاری نے سلیمان بن بلال سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں ۔ اورنسائی نے ابن عجلان سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں مطولا۔ اور ابن ماجہ نے کہا : ہم سے عبدالله بن جراح اور ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمدنے حدیث بیا ن کی وہ راوی ہیں زیدسے۔ پھر اس میں صرف یہ روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك چلو (من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا۔ اور
فـــــ۱ : تطفل علی المحقق والغنیۃ ۔ فــــــ۲ : تطفل اخرعلیہما ۔
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب المضمضۃ والا ستنشاق الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳
من ھذا الطریق اخرجہ النسائی فقال اخبرنا الھیثم بن ایوب الطالقانی قال عبد العزیز بن محمد قال ثنازید وفیہ رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا فغسل یدیہ ثم تمضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃ الحدیث فھذا لایقبل الانسلاخ عن الواحدۃ وکاف فی الجواب ماافادہ اخرا بقولہ ولو کان لکان الخ مع ماقد م من احادیث ناطقۃ بالمذھب وزاد تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ حد ثنا اخر رواہ البزار بسند حسن۔
وانا اقول : وبالله التوفیق للعبد الضعیف فی الحدیث وجہان :
الاول حمل الغرفۃ علی المرۃ ای غسل کل عضو مرۃ مرۃ بھذا تنحل العقد بمرۃ ولانسلم ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق یستلزم استیعاب جمیع السنن لم
اسی طریق سے امام نسائی نے تخریج کی تو انہوں نے فرمایا : ہمیں ہیثم بن ایوب طالقانی نے خبر دی انہوں نے کہا عبدالعزیز بن محمد نے بتایا انہوں نے کہا ہم سے زید بن اسلم نے حدیث بیان کی۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ آپ نے وضو فرمایا تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر ایك چلو(من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا الحدیث۔ تواس روایت سے وحدت کامعنی الگ نہیں کیاجاسکتا(کیوں کہ اس میں غرفۃ واحدۃ صراحۃ موجود ہے)اور جواب میں وہی کافی ہوگا جو آخر میں افادہ فرمایا کہ اگر وہی ہو تو مراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنی مقدار ہے الخ۔ اس کے ساتھ ہمارے مذہب کی تائید میں بولتی ہوئی وہ احادیث بھی ہیں جوحضرت محقق پہلے پیش کر آئے ۔ اوران کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ایك اور حدیث کا اضافہ کیا جو بزار نے بسند حسن روایت کی۔
اقول : وبالله التوفیق میرے نزدیك تاویل حدیث کے دوطریقے ہیں :
پہلا طریقہ : یہ کہ لفظ غرفۃ کو مرۃ پر محمول کیا جائے یعنی ہرعضوکوایك ایك بار دھویا۔ اسی سے ساری گر ہیں یکبارگی کھل جائیں گی۔ اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ مضمضہ اور استنشاق کاذکر اسے مستلزم ہے کہ تمام سنتوں کااحاطہ رہا ہو۔
وانا اقول : وبالله التوفیق للعبد الضعیف فی الحدیث وجہان :
الاول حمل الغرفۃ علی المرۃ ای غسل کل عضو مرۃ مرۃ بھذا تنحل العقد بمرۃ ولانسلم ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق یستلزم استیعاب جمیع السنن لم
اسی طریق سے امام نسائی نے تخریج کی تو انہوں نے فرمایا : ہمیں ہیثم بن ایوب طالقانی نے خبر دی انہوں نے کہا عبدالعزیز بن محمد نے بتایا انہوں نے کہا ہم سے زید بن اسلم نے حدیث بیان کی۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ آپ نے وضو فرمایا تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر ایك چلو(من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا الحدیث۔ تواس روایت سے وحدت کامعنی الگ نہیں کیاجاسکتا(کیوں کہ اس میں غرفۃ واحدۃ صراحۃ موجود ہے)اور جواب میں وہی کافی ہوگا جو آخر میں افادہ فرمایا کہ اگر وہی ہو تو مراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنی مقدار ہے الخ۔ اس کے ساتھ ہمارے مذہب کی تائید میں بولتی ہوئی وہ احادیث بھی ہیں جوحضرت محقق پہلے پیش کر آئے ۔ اوران کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ایك اور حدیث کا اضافہ کیا جو بزار نے بسند حسن روایت کی۔
اقول : وبالله التوفیق میرے نزدیك تاویل حدیث کے دوطریقے ہیں :
پہلا طریقہ : یہ کہ لفظ غرفۃ کو مرۃ پر محمول کیا جائے یعنی ہرعضوکوایك ایك بار دھویا۔ اسی سے ساری گر ہیں یکبارگی کھل جائیں گی۔ اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ مضمضہ اور استنشاق کاذکر اسے مستلزم ہے کہ تمام سنتوں کااحاطہ رہا ہو۔
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب مسح الاذنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۱ / ۲۹
لا یجوزا ن یکون ھذا بیانا لجواز الاقتصار علی مرۃ فی الفرائض والسنن وما فیہ من البعد اللفظی یقربہ جمع طرق الحدیث ۔
فلعبد الرزاق عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما انہ توضأ فغسل کل عضو منہ غسلۃ واحدۃ ثم ذکران النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یفعلہ
ولسعید بن منصور فی سننہ بلفظ توضا النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فادخل یدہ فی الاناء فمضمض واستنشق مرۃ واحدۃ ثم ادخل یدہ فصب علی وجہہ مرۃ وصب علی یدہ مرۃ مرۃ ومسح براسہ واذنیہ مرۃ ثم اخذ ملأ کفہ من ماء فرش علی قدمیہ وھو منتعل اھ وسیاتی تفسیر ھذا الرش فی الحدیث۔
بل روی البخاری قال حدثنا محمد بن یوسف ثنا
یہ کیوں نہیں ہوسکتاکہ یہ وضو اس امر کے بیان کے لئے ہو کہ فرائض اورسنن دونوں ہی میں ایك بار پر اقتصار جائز ہے۔ اس میں جو لفظی بعد نظر آرہا ہے وہ اس حدیث کے مختلف طرق جمع کرنے سے قریب آجائے گا۔
(۱)عبدالرزاق کی روایت میں عطا بن یسارسے حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے یہ ہے کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہر عضو کوایك بار دھویا۔ پھر بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایسا کرتے تھے۔
( ۲)سنن سعید بن منصور کے الفاظ یہ ہیں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو کیاتو اپنا دست مبارك برتن میں ڈالا پھر کلی کی اور ناك میں پانی چڑھایا ایك بار۔ پھر اپنا دست مبارك داخل کر کے(پانی نکالا) توایك بار اپنے چہرے پر بہایا اوراپنے ہاتھ پر ایك ایك باربہایا۔ اوراپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ پھرہتھیلی بھر پانی لے کر اپنے قدموں پرچھڑکاجب کہ حضور نعلین پہنے ہوئے تھے۔ اس چھڑکنے کی تفسیر آگے حدیث ہی میں آئے گی۔
(۳) بلکہ امام بخاری نے روایت کی فرمایا : ہم سے محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا
فلعبد الرزاق عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما انہ توضأ فغسل کل عضو منہ غسلۃ واحدۃ ثم ذکران النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یفعلہ
ولسعید بن منصور فی سننہ بلفظ توضا النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فادخل یدہ فی الاناء فمضمض واستنشق مرۃ واحدۃ ثم ادخل یدہ فصب علی وجہہ مرۃ وصب علی یدہ مرۃ مرۃ ومسح براسہ واذنیہ مرۃ ثم اخذ ملأ کفہ من ماء فرش علی قدمیہ وھو منتعل اھ وسیاتی تفسیر ھذا الرش فی الحدیث۔
بل روی البخاری قال حدثنا محمد بن یوسف ثنا
یہ کیوں نہیں ہوسکتاکہ یہ وضو اس امر کے بیان کے لئے ہو کہ فرائض اورسنن دونوں ہی میں ایك بار پر اقتصار جائز ہے۔ اس میں جو لفظی بعد نظر آرہا ہے وہ اس حدیث کے مختلف طرق جمع کرنے سے قریب آجائے گا۔
(۱)عبدالرزاق کی روایت میں عطا بن یسارسے حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے یہ ہے کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہر عضو کوایك بار دھویا۔ پھر بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایسا کرتے تھے۔
( ۲)سنن سعید بن منصور کے الفاظ یہ ہیں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو کیاتو اپنا دست مبارك برتن میں ڈالا پھر کلی کی اور ناك میں پانی چڑھایا ایك بار۔ پھر اپنا دست مبارك داخل کر کے(پانی نکالا) توایك بار اپنے چہرے پر بہایا اوراپنے ہاتھ پر ایك ایك باربہایا۔ اوراپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ پھرہتھیلی بھر پانی لے کر اپنے قدموں پرچھڑکاجب کہ حضور نعلین پہنے ہوئے تھے۔ اس چھڑکنے کی تفسیر آگے حدیث ہی میں آئے گی۔
(۳) بلکہ امام بخاری نے روایت کی فرمایا : ہم سے محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا
حوالہ / References
المصنف لعبدالرزاق کتاب الطہارۃ ، باب کم الوضوء من غسلۃ ا لمکتب الا سلا می بیروت ۱ / ۴۱
کنز العمال بحوالہ سعید بن منصور حدیث ۲۶۹۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۴۵۴
کنز العمال بحوالہ سعید بن منصور حدیث ۲۶۹۳۵ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۴۵۴
سفیان عن زید بلفظ توضأ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مرۃ مرۃ
وقال ابو داؤد وحدثنا مسددثنا یحیی عن سفیان ثنا زید
وقال النسائی اخبرنا محمد بن مثنی ثنا یحیی عن سفین ثنا زید
وقال الامام الاجل الطحاوی حدثنا ابن مرزوق ثنا ابو عاصم عن سفین عن زید ولفظ الاولین فیہ الا اخبر کم بوضؤ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فتوضأ مرۃ مرۃ وبمعناہ لفظ الطحاوی ۔
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی وہ زید سے راوی ہیں اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك بار وضو کیا۔
(۴)ابوداؤد نے کہا : ہم سے مسدد نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا مجھ سے زید نے حدیث بیان کی۔
(۵)نسائی نے کہا : ہمیں محمدبن مثنی نے خبردی انہوں نے کہا ہم سے یحیی نے حدیث بیا ن کی وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا ہم سے زید نے حدیث بیان کی۔
(۶)امام اجل طحاوی نے کہا : ہم سے ابن مرزوق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے ابو عاصم نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زید سے راوی ہیں ۔ ابو داؤد نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : کیا میں تم لوگوں کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضو نہ بتاؤں ۔ پھر انہوں نے ایك ایك بار وضو کیا۔ اوراسی کے ہم معنی امام طحاوی کے الفاظ ہیں ۔
وقال ابو داؤد وحدثنا مسددثنا یحیی عن سفیان ثنا زید
وقال النسائی اخبرنا محمد بن مثنی ثنا یحیی عن سفین ثنا زید
وقال الامام الاجل الطحاوی حدثنا ابن مرزوق ثنا ابو عاصم عن سفین عن زید ولفظ الاولین فیہ الا اخبر کم بوضؤ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فتوضأ مرۃ مرۃ وبمعناہ لفظ الطحاوی ۔
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی وہ زید سے راوی ہیں اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك بار وضو کیا۔
(۴)ابوداؤد نے کہا : ہم سے مسدد نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا مجھ سے زید نے حدیث بیان کی۔
(۵)نسائی نے کہا : ہمیں محمدبن مثنی نے خبردی انہوں نے کہا ہم سے یحیی نے حدیث بیا ن کی وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا ہم سے زید نے حدیث بیان کی۔
(۶)امام اجل طحاوی نے کہا : ہم سے ابن مرزوق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے ابو عاصم نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زید سے راوی ہیں ۔ ابو داؤد نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : کیا میں تم لوگوں کو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا وضو نہ بتاؤں ۔ پھر انہوں نے ایك ایك بار وضو کیا۔ اوراسی کے ہم معنی امام طحاوی کے الفاظ ہیں ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضو باب الوضوء مرۃ مرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸
سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃمرۃ1نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی ۱ / ۲۵
شرح معانی الاثار کتاب الطہارۃ باب الوضو ء لصلوۃ مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ1نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی ۱ / ۲۵
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸
سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃمرۃ1نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی ۱ / ۲۵
شرح معانی الاثار کتاب الطہارۃ باب الوضو ء لصلوۃ مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ1نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی ۱ / ۲۵
وللنسائی من طریق ابن عجلان المذکور بعد مامر وغسل وجہہ وغسل یدیہ مرۃ مرۃ ومسح برأسہ واذنیہ مرۃ الحدیث
وفی ھذا والذی مرعن سعید بن منصور ابانۃ ماذکرتہ من ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق لایستلزم استیعاب السنن حتی ینافی ترك التثلیث فقد تظافرت الروایات علی لفظ مرۃ و الاحادیث یفسر بعضھا بعضا فکیف وقد اتحد المخرج۔
اقول : وقد یشد عضدہ ان الحدیث مطولا عند ابن ابی شیبۃ بزیادۃ ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ الحدیث فالغرفۃ التی کانت توضی کلا من الوجہ والید والرجل لو استعملت فی الرأس لغسلتہ فانما اراد والله تعالی اعلم
(۷) ابن عجلان کے مذکورہ طریق سے نسائی کی روایت میں سابقہ الفاظ کے بعدیہ ہے : اوراپنا چہرہ دھویااور اپنے دونوں ہاتھ ایك ایك بار دھوئے۔ اوراپنے سراور دو نوں کانوں کا ایك بار مسح کیا۔ الحدیث۔
اس میں اور سعید بن منصورسے نقل شدہ روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے جو میں نے ذکر کیاکہ مضمضہ واستنشاق کا تذکرہ تمام سنتوں کے احاطہ کو مستلزم نہیں کہ ترك تثلیت کے منافی ہو۔ کیوں کہ روایات “ ایك بار “ کے لفظ پر متفق ہیں اور احادیث میں ایك کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے۔ پھر جب مخرج ایک(زیدبن اسلم) ہیں توایك حدیث دوسری کی مفسر کیوں نہ ہوگی۔
اقول : اس کی تقویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن ابی شیبہ کے یہاں یہ حدیث مطولا اس اضافہ کے ساتھ ہے : ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ( پھر ایك چلو لے کر اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا) توجس چلوسے چہرہ ہاتھ اور پاؤں میں سے ہر ایك کا وضو ہوجاتا تھا وہ اگر سرمیں استعمال ہوتاتواسے دھونے کاکام کر دیتا(نہ کہ اس سے صرف مسح ہوتا۱۲م)
وفی ھذا والذی مرعن سعید بن منصور ابانۃ ماذکرتہ من ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق لایستلزم استیعاب السنن حتی ینافی ترك التثلیث فقد تظافرت الروایات علی لفظ مرۃ و الاحادیث یفسر بعضھا بعضا فکیف وقد اتحد المخرج۔
اقول : وقد یشد عضدہ ان الحدیث مطولا عند ابن ابی شیبۃ بزیادۃ ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ الحدیث فالغرفۃ التی کانت توضی کلا من الوجہ والید والرجل لو استعملت فی الرأس لغسلتہ فانما اراد والله تعالی اعلم
(۷) ابن عجلان کے مذکورہ طریق سے نسائی کی روایت میں سابقہ الفاظ کے بعدیہ ہے : اوراپنا چہرہ دھویااور اپنے دونوں ہاتھ ایك ایك بار دھوئے۔ اوراپنے سراور دو نوں کانوں کا ایك بار مسح کیا۔ الحدیث۔
اس میں اور سعید بن منصورسے نقل شدہ روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے جو میں نے ذکر کیاکہ مضمضہ واستنشاق کا تذکرہ تمام سنتوں کے احاطہ کو مستلزم نہیں کہ ترك تثلیت کے منافی ہو۔ کیوں کہ روایات “ ایك بار “ کے لفظ پر متفق ہیں اور احادیث میں ایك کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے۔ پھر جب مخرج ایک(زیدبن اسلم) ہیں توایك حدیث دوسری کی مفسر کیوں نہ ہوگی۔
اقول : اس کی تقویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن ابی شیبہ کے یہاں یہ حدیث مطولا اس اضافہ کے ساتھ ہے : ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ( پھر ایك چلو لے کر اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا) توجس چلوسے چہرہ ہاتھ اور پاؤں میں سے ہر ایك کا وضو ہوجاتا تھا وہ اگر سرمیں استعمال ہوتاتواسے دھونے کاکام کر دیتا(نہ کہ اس سے صرف مسح ہوتا۱۲م)
حوالہ / References
سنن نسائی کتاب الطہارۃ باب مسح الاذنین نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۹
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء کم ھو مرۃ حدیث ۶۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء کم ھو مرۃ حدیث ۶۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷
المرۃ مع التجدید ورحم الله ابا حاتم اذقال ماکنا نعرف الحدیث حتی نکتبہ من ستین وجہا وانا اعلم ان الجادۃ فی روایات الوقائع حمل الاعم علی الاخص ولکن لاغروفی العکس لاجل التصحیح۔
والثانی : حمل الغرفۃ علی الحفنۃ ای بکلتا الیدین وربما تطلق علیھا فروی البخاری عن ام المومنین رضی الله تعالی عنہا فیما حکت غسلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم “ ثم یصب علی رأسہ ثلث غرف بیدیہ ولا بی داؤد عن ثوبان رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اما المرأۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا ویؤیدہ حدیث ابی داؤد
تو مراد۔ والله تعالی اعلم۔ وہی ایك ایك بار ہے ساتھ ہی پانی کی تجدید بھی۔
خدا کی رحمت ہوابوحاتم پرکہ وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث کی معرفت نہ ہوتی جب تك اسے ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیتے۔ اورمجھے معلوم ہے کہ واقعات کی روایات میں عام راہ یہ ہے کہ اعم کواخص پر محمول کیا جائے مگر تصحیح کی اطر اس کے برعکس کرنا بھی جائے عجب نہیں ۔
دوسرا طریقہ : یہ کہ غرفہ کو حفنہ پر (چلو کو لپ پر) یعنی دونوں ہاتھ ملا کر لینے پر محمول کیاجائے۔ اور بعض اوقات لفظ غرفہ کا اس معنی پر اطلاق ہوتاہے(۱)بخاری کی روایت میں ہے جو حضرت ام المومنین رضی الله تعالی عنہا سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے غسل مبارك کی حکایت میں آئی ہے کہ : “ پھر اپنے سرپرتین چلو دونوں ہاتھوں سے بہاتے “ ۔ (۲) ابو داؤد کی روایت میں ہے جوحضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے “ لیکن عورت پراس میں کوئی حرج نہیں کہ بال نہ کھولے وہ اپنے سرپردونوں ہاتھوں سے تین چلوڈالے “ (۳) اور اس کی تائید ابوداؤد اور
والثانی : حمل الغرفۃ علی الحفنۃ ای بکلتا الیدین وربما تطلق علیھا فروی البخاری عن ام المومنین رضی الله تعالی عنہا فیما حکت غسلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم “ ثم یصب علی رأسہ ثلث غرف بیدیہ ولا بی داؤد عن ثوبان رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اما المرأۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا ویؤیدہ حدیث ابی داؤد
تو مراد۔ والله تعالی اعلم۔ وہی ایك ایك بار ہے ساتھ ہی پانی کی تجدید بھی۔
خدا کی رحمت ہوابوحاتم پرکہ وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث کی معرفت نہ ہوتی جب تك اسے ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیتے۔ اورمجھے معلوم ہے کہ واقعات کی روایات میں عام راہ یہ ہے کہ اعم کواخص پر محمول کیا جائے مگر تصحیح کی اطر اس کے برعکس کرنا بھی جائے عجب نہیں ۔
دوسرا طریقہ : یہ کہ غرفہ کو حفنہ پر (چلو کو لپ پر) یعنی دونوں ہاتھ ملا کر لینے پر محمول کیاجائے۔ اور بعض اوقات لفظ غرفہ کا اس معنی پر اطلاق ہوتاہے(۱)بخاری کی روایت میں ہے جو حضرت ام المومنین رضی الله تعالی عنہا سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے غسل مبارك کی حکایت میں آئی ہے کہ : “ پھر اپنے سرپرتین چلو دونوں ہاتھوں سے بہاتے “ ۔ (۲) ابو داؤد کی روایت میں ہے جوحضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے “ لیکن عورت پراس میں کوئی حرج نہیں کہ بال نہ کھولے وہ اپنے سرپردونوں ہاتھوں سے تین چلوڈالے “ (۳) اور اس کی تائید ابوداؤد اور
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الغسل با ب الوضوء قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۹
سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا عند الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴
سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا عند الغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴
والطحاوی عن محمد بن اسحق عن محمد بن طلحۃ عن عبید الله الخولانی عن عبدالله بن عباس عن علی رضی الله تعالی عنہم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وفیہ ثم ادخل یدیہ جمیعا فاخذ حفنۃ من ماء فضرب بھا علی رجلہ وفیھا النعل فغسلھا بھا ثم الاخری مثل ذلك
ولفظ الطحاوی ثم اخذ بیدیہ جمیعا حفنۃ من ماء فصك بھا علی قدمہ الیمنی والیسری کذلك واخرجہ ایضا احمد وابو یعلی وابن خزیمۃ و ابن حبان والضیاء وھذا معنی مامر من حدیث سعید بن منصور ان شاء الله تعالی و المعنی الاخر المسح وقد نسخ اوکان وفی القدمین جوربان ثخینان علی مابینہ الامام الطحاوی رحمہ الله تعالی۔
طحاوی کی روایت سے ہوتی ہے جس کی سند یہ ہے ۔ عن محمد بن اسحاق۔ عن محمد بن طلحہ عن عبیدالله الخولانی۔ عن عبد الله بن عباس عن علی رضی اللہ تعالی عنہم۔ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ اس میں یہ ہے کہ پھر اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر لپ بھر پانی لے کر اسے پاؤں پرمارا۔ جبکہ پاؤں میں جوتا موجود تھا۔ تواس سے پاؤں دھویاپھر اسی طرح دوسرا پاؤں دھویا۔
اور روایت طحاوی کے الفاظ میں یہ ہے : پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے لپ بھر پانی لیا تواسے دائیں قدم پر زور سے ماراپھر بائیں پر بھی اسی طرح کیا۔ اس کی تخریج امام احمد ابویعلی ابن خزیمہ ابن حبان اور ضیاء نے بھی کی ہے۔ اوریہی اس کا معنی ہے۔ ان شاء الله تعالی۔ جوسعید بن منصور کی حدیث میں آیا(کہ فرش علی قدمیہ تو اپنے دونوں قدموں پر چھڑکا “ ۱۲م) دوسرا معنی مسح ہے جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ یا مسح اس حالت میں ہوا کہ قدموں پر موٹے پاتا بے تھے جیسا کہ امام طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بیان کیا۔
ولفظ الطحاوی ثم اخذ بیدیہ جمیعا حفنۃ من ماء فصك بھا علی قدمہ الیمنی والیسری کذلك واخرجہ ایضا احمد وابو یعلی وابن خزیمۃ و ابن حبان والضیاء وھذا معنی مامر من حدیث سعید بن منصور ان شاء الله تعالی و المعنی الاخر المسح وقد نسخ اوکان وفی القدمین جوربان ثخینان علی مابینہ الامام الطحاوی رحمہ الله تعالی۔
طحاوی کی روایت سے ہوتی ہے جس کی سند یہ ہے ۔ عن محمد بن اسحاق۔ عن محمد بن طلحہ عن عبیدالله الخولانی۔ عن عبد الله بن عباس عن علی رضی اللہ تعالی عنہم۔ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ اس میں یہ ہے کہ پھر اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر لپ بھر پانی لے کر اسے پاؤں پرمارا۔ جبکہ پاؤں میں جوتا موجود تھا۔ تواس سے پاؤں دھویاپھر اسی طرح دوسرا پاؤں دھویا۔
اور روایت طحاوی کے الفاظ میں یہ ہے : پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے لپ بھر پانی لیا تواسے دائیں قدم پر زور سے ماراپھر بائیں پر بھی اسی طرح کیا۔ اس کی تخریج امام احمد ابویعلی ابن خزیمہ ابن حبان اور ضیاء نے بھی کی ہے۔ اوریہی اس کا معنی ہے۔ ان شاء الله تعالی۔ جوسعید بن منصور کی حدیث میں آیا(کہ فرش علی قدمیہ تو اپنے دونوں قدموں پر چھڑکا “ ۱۲م) دوسرا معنی مسح ہے جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔ یا مسح اس حالت میں ہوا کہ قدموں پر موٹے پاتا بے تھے جیسا کہ امام طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بیان کیا۔
حوالہ / References
سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضوء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۶
شرح معانی الآثار کتاب الطہارزۃ باب فرض الرجلین فی الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۸ المکتب الاسلامی بیروت۱ / ۷۷ ، مواردالظمآن کتاب الطہارۃ حدیث ۱۵۰ المطبعۃ السلفیہ ص۶۶ ، کنز العمال بحوالہ حم ، د ، ع وابن خزیمۃ الخ حدیث ۲۶۹۶۷ مؤسستہ الرسا لۃ بیروت ۹ / ۴۵۹۔ ۴۶۰
شرح معانی الآثار کتاب الطہارزۃ باب فرض الرجلین فی الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۸ المکتب الاسلامی بیروت۱ / ۷۷ ، مواردالظمآن کتاب الطہارۃ حدیث ۱۵۰ المطبعۃ السلفیہ ص۶۶ ، کنز العمال بحوالہ حم ، د ، ع وابن خزیمۃ الخ حدیث ۲۶۹۶۷ مؤسستہ الرسا لۃ بیروت ۹ / ۴۵۹۔ ۴۶۰
اقول : وما ذکرت من الوجہین فلنعم المحملان ھما لمثل طریق ابن ماجۃ حدثنا ابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا یحیی بن سعید القطان عن سفیان عن زید وفیہ رأیت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ
وحدیث ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ وقال لایقبل الله صلاۃ الابہ
فیکون علی الحمل الاول کحدیث سعید بن منصور وابن ماجۃ والطبرانی والدار قطنی والبیہقی عن ابن عمروابن ماجۃ والدار قطنی عن ابی بن کعب والدار قطنی فی غرائب مالك عن زید بن ثابت وابی ھریرۃ معارضی الله تعالی عنھم ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ وقال ھذا وضؤ لایقبل الله صلاۃ الابہ وکذا
اقول : میں نے جو دوطریقے ذکرکئے یہ بہت عمدہ محمل ہیں اس طرح کی روایات کے جو مثلا بطریق ابن ماجہ یوں آئی ہیں ہم سے ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے یحیی بن سعیدقطان نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زیدسے راوی ہیں ۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے دیکھا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك چلو سے وضوکیا۔
اور ابن عساکر کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك چلو سے وضوکیا۔ اورفرمایا : الله نماز قبول نہیں فرماتامگراسی سے ۔
تویہ ہمارے بیان کردہ پہلے طریقہ کے مطابق حضرت ابن عمر سے سعیدبن منصور ابن ماجہ طبرانی دارقطنی اور بیہقی کی حدیث کی طرح ہوجائے گی اور جیسے حضرت ابی بن کعب سے ابن ماجہ ودارقطنی کی حدیث اور حضرت زید بن ثابت اور ابو ہریرہ دونوں حضرات رضی اللہ تعالی عنہمسے غرائب مالك میں دارقطنی کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك بار وضوکیااورفرمایا : یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر الله کوئی نماز قبول نہیں فرماتا۔ اسی طرح
وحدیث ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ وقال لایقبل الله صلاۃ الابہ
فیکون علی الحمل الاول کحدیث سعید بن منصور وابن ماجۃ والطبرانی والدار قطنی والبیہقی عن ابن عمروابن ماجۃ والدار قطنی عن ابی بن کعب والدار قطنی فی غرائب مالك عن زید بن ثابت وابی ھریرۃ معارضی الله تعالی عنھم ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ وقال ھذا وضؤ لایقبل الله صلاۃ الابہ وکذا
اقول : میں نے جو دوطریقے ذکرکئے یہ بہت عمدہ محمل ہیں اس طرح کی روایات کے جو مثلا بطریق ابن ماجہ یوں آئی ہیں ہم سے ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے یحیی بن سعیدقطان نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زیدسے راوی ہیں ۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے دیکھا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك چلو سے وضوکیا۔
اور ابن عساکر کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك چلو سے وضوکیا۔ اورفرمایا : الله نماز قبول نہیں فرماتامگراسی سے ۔
تویہ ہمارے بیان کردہ پہلے طریقہ کے مطابق حضرت ابن عمر سے سعیدبن منصور ابن ماجہ طبرانی دارقطنی اور بیہقی کی حدیث کی طرح ہوجائے گی اور جیسے حضرت ابی بن کعب سے ابن ماجہ ودارقطنی کی حدیث اور حضرت زید بن ثابت اور ابو ہریرہ دونوں حضرات رضی اللہ تعالی عنہمسے غرائب مالك میں دارقطنی کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك ایك بار وضوکیااورفرمایا : یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر الله کوئی نماز قبول نہیں فرماتا۔ اسی طرح
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ مرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۳
کنز العمال بحوالہ عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۲۶۸۳۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۴۳۱
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ و مرتین وثلثا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
کنز العمال بحوالہ عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۲۶۸۳۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۴۳۱
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ و مرتین وثلثا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
للیدین والرجلین فی حدیث ابن عباس غیرانہ یکدرھما جمیعا فی الوجہ قولہ اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ الا ان یتکلف فیحمل علی ان اضاف الغرفۃ ای الاغتراف الی الید الاخری ایضا غیر قاصر لہ علی ید واحدۃ فیرجع ای الاغتراف بالیدین ویکون کحدیث ابن عباس رضی الله تعالی عنہما ایضا عن علی کرم الله تعالی وجہہ عن رسول الله تعالی علیہ وسلم ادخل یدہ الیمنی فافرغ بھا علی الاخری ثم غسل کفیہ ثم تمضمض واستنثر ثم ادخل یدیہ فی الاناء جمیعا فاخذ بہما حفنۃ من ماء فضرب بھا علی وجہہ ثم الثانیۃ ثم الثالثۃمثل ذلک ورواہ الطحاوی مختصرا فقال اخذ حفنۃ من ماء بیدیہ جمیعا فصك بھما وجہہ ثم الثانیۃ مثل ذلک ثم الثالثۃ فذکر
حضرت ابن عباس کی حدیث میں دونوں ہاتھوں اور پیروں سے متعلق جو مذکور ہے اس کا بھی یہ عمدہ محمل ہوگا۔ مگر یہ ہے کہ چہرے سے متعلق دونوں تاویلیں اس سے مکدر ہوتی ہیں کہ ان کا قول ہے “ ایك چلو پانی لے کر اسے اس طرح کیا اسے دوسرے ہاتھ سے ملا کرچہرہ دھویا۔
مگر یہ کہ بتکلف اسی معنی پر محمول کیاجائے کہ انہوں نے چلو لینے میں دوسرے ہاتھ کو بھی ملالیاایك ہاتھ پر اکتفانہ کی تو یہ دونوں ہاتھ سے چلو لینے کے معنی کی طرف راجع ہوجائے گا اوراسی طرح ہوجائے گا جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی حدیث حضرت علی کرم الله وجہہ سے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرکے اس سے دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہتھیلیوں کودھویا پھر کلی کی اورناك میں پانی ڈال کر جھاڑا پھربرتن میں دونوں ہاتھ ڈال کر ایك لپ پانی لے کر چہرے پر مارا پھر دوسری پھر تیسری باراسی طرح کیا۔
اسے امام طحاوی نے مختصرا روایت کیا۔ اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مارا پھر دوسری بار اسی طرح کیا پھرتیسری بارایسے ہی۔ تومضمضہ و
حضرت ابن عباس کی حدیث میں دونوں ہاتھوں اور پیروں سے متعلق جو مذکور ہے اس کا بھی یہ عمدہ محمل ہوگا۔ مگر یہ ہے کہ چہرے سے متعلق دونوں تاویلیں اس سے مکدر ہوتی ہیں کہ ان کا قول ہے “ ایك چلو پانی لے کر اسے اس طرح کیا اسے دوسرے ہاتھ سے ملا کرچہرہ دھویا۔
مگر یہ کہ بتکلف اسی معنی پر محمول کیاجائے کہ انہوں نے چلو لینے میں دوسرے ہاتھ کو بھی ملالیاایك ہاتھ پر اکتفانہ کی تو یہ دونوں ہاتھ سے چلو لینے کے معنی کی طرف راجع ہوجائے گا اوراسی طرح ہوجائے گا جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکی حدیث حضرت علی کرم الله وجہہ سے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرکے اس سے دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہتھیلیوں کودھویا پھر کلی کی اورناك میں پانی ڈال کر جھاڑا پھربرتن میں دونوں ہاتھ ڈال کر ایك لپ پانی لے کر چہرے پر مارا پھر دوسری پھر تیسری باراسی طرح کیا۔
اسے امام طحاوی نے مختصرا روایت کیا۔ اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مارا پھر دوسری بار اسی طرح کیا پھرتیسری بارایسے ہی۔ تومضمضہ و
حوالہ / References
صحیح البخاری باب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃ واحدۃ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۲۶
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۶
شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الحکم الاذنین فی الوضوءللصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۶
شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الحکم الاذنین فی الوضوءللصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰
الی المضمضۃ والاستنشاق الاغتراف بکف واحدۃ فاذا اتی علی الوجہ اضافہ الی الید الاخری ایضا فان لم یقبل ھذا فقد علمت ان استیعاب الوجہ بکف واحدۃ متعسر بل متعذر۔
اقول : بل لربما تبقی الحفنۃ باقیۃ فضلا عن الکفۃ والدلیل علیہ ھذا الحدیث الذی ذکرنا تخریجہ عن الامام احمد وابی داؤد وابن خزیمۃ وابو یعلی والامام الطحاوی وابن حبان والضیاء عن ابن عباس عن علی عن النبی صلی الله علیہ وعلیہم وسلم حیث قال بعد ذکر غسل الوجہ بثلث حفنات کما تقدم ثم اخذ بکفہ الیمنی قبضۃ من ماء فصبہا علی ناصیتہ فترکہا تستن علی وجہہ ثم غسل ذراعیہ الی المرفقین ثلثا ثلثا الحدیث وھذا ایضا معلوم مشاھد۔
وبالجملۃ لولم یصرف حدیث الغرفۃ عن ظاھرہ لرجع الغسل الی الدھن وھو خلاف الروایۃ والدرایۃ بل الاجماع والروایۃ الشاذۃ عن
استنشاق تك توایك ہاتھ سے چلو لینا ذکر کیا۔ جب چہرے پرآئے تودوسراہاتھ بھی ملایا۔ اگر یہ تاویل نہ مانی جائے تو معلوم ہوچکا کہ ہتھیلی بھر پانی سے چہرے کا استیعاب دشوار بلکہ متعذر ہے۔ (ت)
اقول : بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے لینے پر بھی کچھ حصہ باقی رہ جائے گا صرف ہتھیلی بھر لینے کی توبات ہی کیاہے۔ اس پر دلیل یہی حدیث ہے جس کی تخریج ہم نے امام احمد ابوداؤد ابن خزیمہ ابو یعلی امام طحاوی ابن حبان اور ضیاء سے ذکر کی جو حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماکی روایت سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے اس میں جیسا کہ گزرا تین لپ سے چہرہ دھونے کے تذکرے کے بعد ہے پھر اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھرپانی لے کر پیشانی پر ڈال کر اسے چہرے پر بہتا چھوڑدیا۔ پھر اپنی کلائیوں کوکہنیوں تك تین تین بار دھویا۔ یہ بھی تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے۔
الحاصل اگرچلو لینے والی حدیث کو اس کے ظاہر سے نہ پھیریں تودھونا بس ملنا ہو کر رہ جائے گا۔ اوریہ روایت درایت بلکہ اجماع کے بھی خلاف ہے۔۔۔ اور امام ابو یوسف
اقول : بل لربما تبقی الحفنۃ باقیۃ فضلا عن الکفۃ والدلیل علیہ ھذا الحدیث الذی ذکرنا تخریجہ عن الامام احمد وابی داؤد وابن خزیمۃ وابو یعلی والامام الطحاوی وابن حبان والضیاء عن ابن عباس عن علی عن النبی صلی الله علیہ وعلیہم وسلم حیث قال بعد ذکر غسل الوجہ بثلث حفنات کما تقدم ثم اخذ بکفہ الیمنی قبضۃ من ماء فصبہا علی ناصیتہ فترکہا تستن علی وجہہ ثم غسل ذراعیہ الی المرفقین ثلثا ثلثا الحدیث وھذا ایضا معلوم مشاھد۔
وبالجملۃ لولم یصرف حدیث الغرفۃ عن ظاھرہ لرجع الغسل الی الدھن وھو خلاف الروایۃ والدرایۃ بل الاجماع والروایۃ الشاذۃ عن
استنشاق تك توایك ہاتھ سے چلو لینا ذکر کیا۔ جب چہرے پرآئے تودوسراہاتھ بھی ملایا۔ اگر یہ تاویل نہ مانی جائے تو معلوم ہوچکا کہ ہتھیلی بھر پانی سے چہرے کا استیعاب دشوار بلکہ متعذر ہے۔ (ت)
اقول : بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے لینے پر بھی کچھ حصہ باقی رہ جائے گا صرف ہتھیلی بھر لینے کی توبات ہی کیاہے۔ اس پر دلیل یہی حدیث ہے جس کی تخریج ہم نے امام احمد ابوداؤد ابن خزیمہ ابو یعلی امام طحاوی ابن حبان اور ضیاء سے ذکر کی جو حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماکی روایت سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے اس میں جیسا کہ گزرا تین لپ سے چہرہ دھونے کے تذکرے کے بعد ہے پھر اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھرپانی لے کر پیشانی پر ڈال کر اسے چہرے پر بہتا چھوڑدیا۔ پھر اپنی کلائیوں کوکہنیوں تك تین تین بار دھویا۔ یہ بھی تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے۔
الحاصل اگرچلو لینے والی حدیث کو اس کے ظاہر سے نہ پھیریں تودھونا بس ملنا ہو کر رہ جائے گا۔ اوریہ روایت درایت بلکہ اجماع کے بھی خلاف ہے۔۔۔ اور امام ابو یوسف
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۶
الامام الثانی رحمہ الله تعالی مؤولۃ کما فی رد المحتار عن الحلیۃ عن الذخیرۃ وغیرھا فاذن لایبقی الا ان نقول انالا نقدر علی مثل مافعل ابن عباس رضی الله تعالی عنھما تلك المرۃ فضلا عن فعل صاحب الاعجاز الجلیل المروی مرار اللجمع الجزیل بالماء القلیل علیہ من ربہ اعلی صلوۃ واکمل تبجیل۔ ویقرب منہ اواغرب منہ ماوقع فی سنن سعید بن منصور عن الامام الاجل ابرھیم النخعی رضی الله تعالی عنہ قال لم یکونوا یلطموا وجوھھم بالماء وکانوا اشد استبقاء للماء منکم فی الوضوء وکانوا یرون ان ربع المد یجزئ من الوضوء وکانوا صدق ورعا واسخی نفسا واصدق عندالباس ۔
اقول : فلا ادری کیف اجتزؤا بربع ما جعلہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مجزئابل لایظن بھم انھم قنعوا بالفرائض دون السنن فاذن یکفی
رحمۃ اللہ تعالی علیہسے جو شاذروایت آئی ہے وہ مؤول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے اس میں ذخیرہ وغیرہا سے نقل ہے۔ تاویل نہ کریں تو بس یہی صورت رہ جاتی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس بار حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہمانے جس طرح وضوکیاویسے وضو پرہمیں قدرت نہیں ۔ اوران کے عمل کی تو بات ہی اور ہے جو ایسے عظیم اعجاز والے ہیں کہ بار ہا بڑے لشکر کو قلیل پانی سے سیراب کردیا۔ ان پران کے رب کی جانب سے اعلی واکمل درود وتحیت ہو۔ اور اسی سے قریب یا اس سے بھی زیادہ عجیب وہ ہے جو سنن سعید بن منصور میں اما م اجل ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت آئی ہے کہ انہوں نے فرمایا : وہ حضرات اپنے چہروں پر زورسے پانی نہ مارتے تھے اور وضومیں وہ تم سے بہت زیادہ پانی بچانے کی کوشش رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ چوتھائی مدوضو کے لئے کافی ہے اس کے ساتھ وہ سچے ورع وپرہیز گاری والے بہت فیاض طبع اورجنگ کے وقت نہایت ثابت قدم بھی تھے۔
اقول : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جسے کافی قرار دیا(ایك مد۔ دو رطل) معلوم نہیں اس کے چوتھائی سے ان حضرات نے کیسے کفایت حاصل کرلی بلکہ ان کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیاجاسکتا کہ سنتیں چھوڑ کر
اقول : فلا ادری کیف اجتزؤا بربع ما جعلہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مجزئابل لایظن بھم انھم قنعوا بالفرائض دون السنن فاذن یکفی
رحمۃ اللہ تعالی علیہسے جو شاذروایت آئی ہے وہ مؤول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے اس میں ذخیرہ وغیرہا سے نقل ہے۔ تاویل نہ کریں تو بس یہی صورت رہ جاتی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس بار حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہمانے جس طرح وضوکیاویسے وضو پرہمیں قدرت نہیں ۔ اوران کے عمل کی تو بات ہی اور ہے جو ایسے عظیم اعجاز والے ہیں کہ بار ہا بڑے لشکر کو قلیل پانی سے سیراب کردیا۔ ان پران کے رب کی جانب سے اعلی واکمل درود وتحیت ہو۔ اور اسی سے قریب یا اس سے بھی زیادہ عجیب وہ ہے جو سنن سعید بن منصور میں اما م اجل ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت آئی ہے کہ انہوں نے فرمایا : وہ حضرات اپنے چہروں پر زورسے پانی نہ مارتے تھے اور وضومیں وہ تم سے بہت زیادہ پانی بچانے کی کوشش رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ چوتھائی مدوضو کے لئے کافی ہے اس کے ساتھ وہ سچے ورع وپرہیز گاری والے بہت فیاض طبع اورجنگ کے وقت نہایت ثابت قدم بھی تھے۔
اقول : نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے جسے کافی قرار دیا(ایك مد۔ دو رطل) معلوم نہیں اس کے چوتھائی سے ان حضرات نے کیسے کفایت حاصل کرلی بلکہ ان کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیاجاسکتا کہ سنتیں چھوڑ کر
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ص حدیث ۲۰۷۲۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ / ۴۷۳
لغسل الیدین الی الرسغین والمضمضۃ والاستنشاق وغسل الوجہ والیدین الی المرفقین والرجلین الی الکعبین کل مرۃ سدس رطل من الماء وھذا مما لایعقل ولا یقبل الا بمعجزۃ نبی اوکرامۃ ولی صلی الله تعالی علی الانبیاء والاولیاء وسلم۔
فان قلت مایدریك لعل المراد بالمد المد العمری المساوی لصاع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الاربعا فیکون ربع المد ثلثۃ ارباع المد النبوی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
قلت کلا فان ابرھیم سبق خلافۃ عمر ھذا رضی الله تعالی عنھما مات فـــــ سنۃ خمس اوست وتسعین و امیر المؤمنین فی رجب سنۃ احدی ومائۃ و خلافتہ سنتان ونصف رضی الله تعالی عنہ والله تعالی اعلم۔
انہوں نے صرف فرائض پرقناعت کرلی تو(سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ چوتھائی مد میں تین تین بار جب انہوں نے سارے اعضاء دھوئے۱۲م)لازم ہے کہ گٹو ں تك دونوں ہاتھ دھونے کلی کرنے ناك میں پانی ڈالنے چہرہ اور کہنیوں تك دونوں ہاتھ اور ٹخنوں تك دونوں پاؤں ہرایك کے ایك بار دھونے میں صرف ۶ / ۱ رطل پانی کافی ہوجاتاتھا۔ یہ عقل میں آنے والی اور ماننے والی بات نہیں مگر کسی نبی کے معجزے یا ولی کی کرامت ہی سے ایسا ہوسکتا ہے تمام انبیاء اور اولیاپرخدائے برترکادرودوسلام ہو۔
اگر کہئے آپ کو کیا معلوم شاید مد سے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہکا مد مرادہوجوچوتھائی کمی کے ساتھ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے صاع کے برابر تھا تو وہ چوتھائی مد حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے تین چوتھائی(۴ / ۳) مد کے برابر ہوگا۔
میں کہوں گا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہحضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہکے دور خلافت سے پہلے وفات فرماگئے۔ ان کی وفات ۹۵ھ یا ۹۶ھ میں ہوئی اورامیرالمومنین کی وفات رجب ۱۰۱ھ میں ہوئی اور مدت خلافت ڈھائی سال رہی رضی اللہ تعالی عنہا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت
فـــــ : تاریخ وفات حضرت امام ابراہیم نخعی وعمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہما۔
فان قلت مایدریك لعل المراد بالمد المد العمری المساوی لصاع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الاربعا فیکون ربع المد ثلثۃ ارباع المد النبوی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
قلت کلا فان ابرھیم سبق خلافۃ عمر ھذا رضی الله تعالی عنھما مات فـــــ سنۃ خمس اوست وتسعین و امیر المؤمنین فی رجب سنۃ احدی ومائۃ و خلافتہ سنتان ونصف رضی الله تعالی عنہ والله تعالی اعلم۔
انہوں نے صرف فرائض پرقناعت کرلی تو(سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ چوتھائی مد میں تین تین بار جب انہوں نے سارے اعضاء دھوئے۱۲م)لازم ہے کہ گٹو ں تك دونوں ہاتھ دھونے کلی کرنے ناك میں پانی ڈالنے چہرہ اور کہنیوں تك دونوں ہاتھ اور ٹخنوں تك دونوں پاؤں ہرایك کے ایك بار دھونے میں صرف ۶ / ۱ رطل پانی کافی ہوجاتاتھا۔ یہ عقل میں آنے والی اور ماننے والی بات نہیں مگر کسی نبی کے معجزے یا ولی کی کرامت ہی سے ایسا ہوسکتا ہے تمام انبیاء اور اولیاپرخدائے برترکادرودوسلام ہو۔
اگر کہئے آپ کو کیا معلوم شاید مد سے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہکا مد مرادہوجوچوتھائی کمی کے ساتھ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے صاع کے برابر تھا تو وہ چوتھائی مد حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے تین چوتھائی(۴ / ۳) مد کے برابر ہوگا۔
میں کہوں گا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالی عنہحضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہکے دور خلافت سے پہلے وفات فرماگئے۔ ان کی وفات ۹۵ھ یا ۹۶ھ میں ہوئی اورامیرالمومنین کی وفات رجب ۱۰۱ھ میں ہوئی اور مدت خلافت ڈھائی سال رہی رضی اللہ تعالی عنہا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت
فـــــ : تاریخ وفات حضرت امام ابراہیم نخعی وعمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہما۔
رسالہ
برکات السماء فی حکم اسراف الماء
(بے جا پانی خرچ کرنے کے حکم کے بار ے میں آسمانی برکات )
امر پنجم : طہارت فــــ میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنا کیا حکم رکھتا ہے۔
اقول : ملاحظہ کلمات علما ء سے اس میں چار قول معلوم ہوتے ہیں ان میں قوی تر دو ہیں اور فضل الہی سے امید ہے کہ بعد تحقیق وحصول توفیق اختلاف ہی نہ رہے وبالله التوفیق۔
(۱) مطلقا حرام وناجائز ہے حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ وناروا ہے یہ قول بعض شافعیہ کا ہے جسے خود شیخ مذہب شافعی سیدنا امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں نقل فرماکر ضعیف کردیا اور اسی طرح دیگر محققین شافعیہ نے اس کی تضعیف کی۔
(۲) مکروہ ہے اگرچہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنز یہی ہے۔ اگرچہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے حلیہ وبحرالرائق میں اسی کو اوجہ اور امام نووی نے اظہر اور بعض دیگر ائمہ شافعیہ نے صحیح کہا اور حکم آب جاری کو عام ہونے سے قطع نظر کریں تو کلام امام شمس الائمہ حلوانی وامام فقیہ النفس سے بھی اس کا استفادہ ہوتا ہے ہاں شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں عموم کی طرف صاف اشارہ کیا اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا :
اجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوکان علی شاطیئ البحر والاظھر انہ مکروہ کراھۃ تنزیہ وقال بعض اصحابنا الاسراف حرام ۔
اس پر علماء کا اجماع ہے کہ پانی میں اسراف منع ہے اگرچہ سمندرکے کنارے پرہو اوراظہریہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اورہمارے بعض اصحاب نے فرمایاکہ اسراف حرام ہے۔ (ت)
منیہ وحلیہ میں فرمایا :
م ولا یسرف فی الماء ش ای لا یستعمل منہ فوق الحاجۃ الشرعیۃ
(م کے تحت متن کے الفاظ ہیں ش کے تحت شرح کے۱۲م) م پانی میں اسراف نہ کرے
فــــ : مسئلہ : وضو یا غسل میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے کا کیا حکم ہے اور اس باب میں مصنف کی تحقیق مفرد ۔
برکات السماء فی حکم اسراف الماء
(بے جا پانی خرچ کرنے کے حکم کے بار ے میں آسمانی برکات )
امر پنجم : طہارت فــــ میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنا کیا حکم رکھتا ہے۔
اقول : ملاحظہ کلمات علما ء سے اس میں چار قول معلوم ہوتے ہیں ان میں قوی تر دو ہیں اور فضل الہی سے امید ہے کہ بعد تحقیق وحصول توفیق اختلاف ہی نہ رہے وبالله التوفیق۔
(۱) مطلقا حرام وناجائز ہے حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ وناروا ہے یہ قول بعض شافعیہ کا ہے جسے خود شیخ مذہب شافعی سیدنا امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں نقل فرماکر ضعیف کردیا اور اسی طرح دیگر محققین شافعیہ نے اس کی تضعیف کی۔
(۲) مکروہ ہے اگرچہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنز یہی ہے۔ اگرچہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے حلیہ وبحرالرائق میں اسی کو اوجہ اور امام نووی نے اظہر اور بعض دیگر ائمہ شافعیہ نے صحیح کہا اور حکم آب جاری کو عام ہونے سے قطع نظر کریں تو کلام امام شمس الائمہ حلوانی وامام فقیہ النفس سے بھی اس کا استفادہ ہوتا ہے ہاں شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں عموم کی طرف صاف اشارہ کیا اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا :
اجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوکان علی شاطیئ البحر والاظھر انہ مکروہ کراھۃ تنزیہ وقال بعض اصحابنا الاسراف حرام ۔
اس پر علماء کا اجماع ہے کہ پانی میں اسراف منع ہے اگرچہ سمندرکے کنارے پرہو اوراظہریہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اورہمارے بعض اصحاب نے فرمایاکہ اسراف حرام ہے۔ (ت)
منیہ وحلیہ میں فرمایا :
م ولا یسرف فی الماء ش ای لا یستعمل منہ فوق الحاجۃ الشرعیۃ
(م کے تحت متن کے الفاظ ہیں ش کے تحت شرح کے۱۲م) م پانی میں اسراف نہ کرے
فــــ : مسئلہ : وضو یا غسل میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے کا کیا حکم ہے اور اس باب میں مصنف کی تحقیق مفرد ۔
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی کتا ب الطہارۃ باب القدر المستحب من الماء الخ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۳۷۴
منیۃ المصلی آداب الوضوء مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
منیۃ المصلی آداب الوضوء مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
م وان کان علی شط نھر جار ش ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ سنۃ وعلیہ مشی قاضی خان و ھو اوجہ کما ھو غیر خاف فالاسراف یکون مکروھا کراھۃ تنزیہ وقد صرح النووی انہ الا ظھر وحکی حرمۃ الاسراف عن بعض اھل مذھبہ وعبارۃ بعض المتأخرین منھم والزیادہ فی الغسل علی الثلث مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی
ش یعنی حاجت شرعیہ سے زیادہ پانی استعمال نہ کرے۔
م اگرچہ بہتے دریاکے کنارے ش شمس الائمہ حلوانی نے ذکرکیا کہ یہ سنت ہے۔ اسی پر قاضی خاں چلے اور یہ اوجہ ہے جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ اور امام نووی نے اس کے اظہر ہونے کی تصریح کی اوراسراف کا حرام ہونا اپنے بعض اہل مذہب سے حکایت کیا اوران حضرات شافعیہ کے بعد متاخرین کی عبارت یہ ہے : تین بار سے زیادہ دھونا صحیح قول پر مکروہ ہے او ر کہا گیا کہ حرام ہے اور کہا گیا کہ خلاف اولی ہے (ت)
بحرالرائق میں ہے :
الاسراف ھو الاستعمال فوق الحاجۃ الشرعیہ وان کان علی شط نھر وقد ذکر قاضی خان ترکہ من السنن ولعلہ الاوجہ فیکون مکروھا تنزیھا ۔
اسراف یہ ہے کہ حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرے اگرچہ دریاکے کنارے ہو اور قاضی خاں نے ذکرکیا ہے کہ اس کا ترك سنت ہے اور شاید یہی اوجہ ہے تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)
(۳)مطلقا مکروہ تك نہیں نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایك ادب وامر مستحب کے خلاف ہے بدائع امام ملك العلما ابو بکر مسعود وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنیۃ المصلی وغیرہا میں ترك اسراف کو صرف آداب ومستحبات سے شمار کیا سنت تك نہ کہا اور مستحب کا ترك مکروہ نہیں ہوتا بلکہ سنت کا۔ حلیہ میں ہے :
قال فی البدائع والادب فیما بین الاسراف والتقتیر اذالحق بین الغلو و
بدائع میں فرمایا ادب اسراف اور تقتیر(زیادتی اورکمی) کے درمیان ہے اس لئے کہ حق غلو اور
ش یعنی حاجت شرعیہ سے زیادہ پانی استعمال نہ کرے۔
م اگرچہ بہتے دریاکے کنارے ش شمس الائمہ حلوانی نے ذکرکیا کہ یہ سنت ہے۔ اسی پر قاضی خاں چلے اور یہ اوجہ ہے جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ اور امام نووی نے اس کے اظہر ہونے کی تصریح کی اوراسراف کا حرام ہونا اپنے بعض اہل مذہب سے حکایت کیا اوران حضرات شافعیہ کے بعد متاخرین کی عبارت یہ ہے : تین بار سے زیادہ دھونا صحیح قول پر مکروہ ہے او ر کہا گیا کہ حرام ہے اور کہا گیا کہ خلاف اولی ہے (ت)
بحرالرائق میں ہے :
الاسراف ھو الاستعمال فوق الحاجۃ الشرعیہ وان کان علی شط نھر وقد ذکر قاضی خان ترکہ من السنن ولعلہ الاوجہ فیکون مکروھا تنزیھا ۔
اسراف یہ ہے کہ حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرے اگرچہ دریاکے کنارے ہو اور قاضی خاں نے ذکرکیا ہے کہ اس کا ترك سنت ہے اور شاید یہی اوجہ ہے تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)
(۳)مطلقا مکروہ تك نہیں نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایك ادب وامر مستحب کے خلاف ہے بدائع امام ملك العلما ابو بکر مسعود وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنیۃ المصلی وغیرہا میں ترك اسراف کو صرف آداب ومستحبات سے شمار کیا سنت تك نہ کہا اور مستحب کا ترك مکروہ نہیں ہوتا بلکہ سنت کا۔ حلیہ میں ہے :
قال فی البدائع والادب فیما بین الاسراف والتقتیر اذالحق بین الغلو و
بدائع میں فرمایا ادب اسراف اور تقتیر(زیادتی اورکمی) کے درمیان ہے اس لئے کہ حق غلو اور
حوالہ / References
منیۃ المصلی آداب الوضوء مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
التقصیر قال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خیر الامور اوسطہا انتھی وذکر الحلوانی انہ سنہ فعلی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ وعلی الثانی کراھۃ تنزیہ ۔
تقصیر(حد سے تجاوز اور کوتاہی)کے مابین ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : کاموں میں بہتر درمیانی ہیں انتہی۔ اور امام حلوانی نے ذکرفرمایاکہ ترك اسراف سنت ہے توقول اول کی بنیاد پر اسراف مکروہ نہ ہوگا اورثانی کی بنیاد پر مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)
بحر میں ہے :
فی فتح القدیر ان المندوبات نیف وعشرون ترك الاسراف والتقتیر وکلام الناس الخ فعلی کونہ مندوبا لایکون الاسراف مکروھا وعلی کونہ سنۃ یکون مکروھا تنزیھا۔
فتح القدیر میں ہے کہ مندوبات وضو بیس۲۰ سے زیادہ ہیں ۔ اسراف وتقتیر اورکلام دنیاکاترك الخ۔ توترك مندوب ہونے کی صورت میں اسراف مکروہ نہ ہوگااورسنت ہونے کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
(و) من الاداب (ان کان یسرف فی الماء) کان ینبغی ان یعدہ فی المناھی لان ترك الادب لا باس بہ ۔
(اور)آداب میں سے یہ ہے کہ (پانی میں اسراف نہ کرے) اسے ممنوعات میں شمارکرناچاہئے تھا اس لئے کہ ترك ادب میں توکوئی حرج نہیں ۔ (ت)
اقول : طہارت فـــــ میں ترك اسراف کا صرف ایك ادب ہونا مذہب وظاہر الروایۃ ونص صریح محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہہے امام بخاری نے خلاصہ فصل ثالث فی الوضوء میں ایك جنس سنن وآداب وضو میں وضع کی اس میں فرمایا :
فــــ : تطفل علی الغنیۃ
تقصیر(حد سے تجاوز اور کوتاہی)کے مابین ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : کاموں میں بہتر درمیانی ہیں انتہی۔ اور امام حلوانی نے ذکرفرمایاکہ ترك اسراف سنت ہے توقول اول کی بنیاد پر اسراف مکروہ نہ ہوگا اورثانی کی بنیاد پر مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)
بحر میں ہے :
فی فتح القدیر ان المندوبات نیف وعشرون ترك الاسراف والتقتیر وکلام الناس الخ فعلی کونہ مندوبا لایکون الاسراف مکروھا وعلی کونہ سنۃ یکون مکروھا تنزیھا۔
فتح القدیر میں ہے کہ مندوبات وضو بیس۲۰ سے زیادہ ہیں ۔ اسراف وتقتیر اورکلام دنیاکاترك الخ۔ توترك مندوب ہونے کی صورت میں اسراف مکروہ نہ ہوگااورسنت ہونے کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہوگا۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
(و) من الاداب (ان کان یسرف فی الماء) کان ینبغی ان یعدہ فی المناھی لان ترك الادب لا باس بہ ۔
(اور)آداب میں سے یہ ہے کہ (پانی میں اسراف نہ کرے) اسے ممنوعات میں شمارکرناچاہئے تھا اس لئے کہ ترك ادب میں توکوئی حرج نہیں ۔ (ت)
اقول : طہارت فـــــ میں ترك اسراف کا صرف ایك ادب ہونا مذہب وظاہر الروایۃ ونص صریح محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہہے امام بخاری نے خلاصہ فصل ثالث فی الوضوء میں ایك جنس سنن وآداب وضو میں وضع کی اس میں فرمایا :
فــــ : تطفل علی الغنیۃ
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴
البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴
اما سنن الوضوء فنقول من السنۃ غسل الیدین الی الرسغین ثلثا الخ
لیکن وضو کی سنتیں توہم کہتے ہیں سنت ہے دونوں ہاتھ گٹوں تك تین بار دھونا الخ۔ (ت)
پھر سنتیں گنا کر فرمایا :
واما اداب الوضوء فی الاصل من الادب ان لایسرف فی الماء ولا یقتر ان یشرب فضل وضوئہ اوبعضہ قائما اوقاعدا مستقبل القبلۃ الخ
رہے آداب وضو تو اصل(مبسوط) میں ہے کہ ادب یہ ہے کہ پانی میں نہ اسراف کرے نہ کمی کرے اور اپنے وضو کا بچا ہوا کل یا کچھ پانی کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر قبلہ روپی جائے الخ۔ (ت)
اسی کا بدائع وفتح القدیر ومنیہ وخلاصہ وہندیہ وغیرہا میں اتباع کیا اور اس سے زائد کس کا اتباع تھا تو اس پر مواخذہ محض بے محل ہے والله الموفق۔
(۴) نہر جاری میں اسراف جائز کہ پانی ضائع نہ جائے گا اور اس کے غیر میں مکروہ تحریمی۔ مدقق علائی نے درمختار میں اسی کو مختار رکھا علامہ مدقق عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں کراہت تحریم ہی کو ظاہر کہا اور اسی کوامام قاضی خان وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما اکابر کا مفاد کلام قرار دیا کہ ترك اسراف کو سنت کہنے سے ان کی مراد سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کا ترك مکروہ تحریمی نیز مقتضائے کلام امام زیلعی کہ مطلق مکروہ سے غالبا مکروہ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ اور بحرالرائق میں اسے قضیہ کلام منتقی بتایا کہ اس میں اسراف کو منہیات سے شمار فرمایا اور ہر منہی عنہ کم ازکم مکروہ تحریمی ہے۔
اقول : اور یہی عبارت آئندہ جواہر الفتاوی سے مستفاد
لفحوھا اذا لمفاھیم فـــــ معتبرۃ فی الکتب کما فی الدر والغمز والشامی وغیرھا والقضیۃ دلیلہا ایضا کما لایخفی۔
اس کے مضمون وسیاق کے پیش نظر کیونکہ کتابوں میں مفہوم معتبرہوتاہے جیسا کہ درمختار غمز العیون اورشامی وغیرہا میں ہے۔ اوراس کے مقتضائے دلیل کے پیش نظر بھی جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ (ت)
فـــــ : المفاھیم معتبرۃ فی الکتب بالاتفاق۔
لیکن وضو کی سنتیں توہم کہتے ہیں سنت ہے دونوں ہاتھ گٹوں تك تین بار دھونا الخ۔ (ت)
پھر سنتیں گنا کر فرمایا :
واما اداب الوضوء فی الاصل من الادب ان لایسرف فی الماء ولا یقتر ان یشرب فضل وضوئہ اوبعضہ قائما اوقاعدا مستقبل القبلۃ الخ
رہے آداب وضو تو اصل(مبسوط) میں ہے کہ ادب یہ ہے کہ پانی میں نہ اسراف کرے نہ کمی کرے اور اپنے وضو کا بچا ہوا کل یا کچھ پانی کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر قبلہ روپی جائے الخ۔ (ت)
اسی کا بدائع وفتح القدیر ومنیہ وخلاصہ وہندیہ وغیرہا میں اتباع کیا اور اس سے زائد کس کا اتباع تھا تو اس پر مواخذہ محض بے محل ہے والله الموفق۔
(۴) نہر جاری میں اسراف جائز کہ پانی ضائع نہ جائے گا اور اس کے غیر میں مکروہ تحریمی۔ مدقق علائی نے درمختار میں اسی کو مختار رکھا علامہ مدقق عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں کراہت تحریم ہی کو ظاہر کہا اور اسی کوامام قاضی خان وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما اکابر کا مفاد کلام قرار دیا کہ ترك اسراف کو سنت کہنے سے ان کی مراد سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کا ترك مکروہ تحریمی نیز مقتضائے کلام امام زیلعی کہ مطلق مکروہ سے غالبا مکروہ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ اور بحرالرائق میں اسے قضیہ کلام منتقی بتایا کہ اس میں اسراف کو منہیات سے شمار فرمایا اور ہر منہی عنہ کم ازکم مکروہ تحریمی ہے۔
اقول : اور یہی عبارت آئندہ جواہر الفتاوی سے مستفاد
لفحوھا اذا لمفاھیم فـــــ معتبرۃ فی الکتب کما فی الدر والغمز والشامی وغیرھا والقضیۃ دلیلہا ایضا کما لایخفی۔
اس کے مضمون وسیاق کے پیش نظر کیونکہ کتابوں میں مفہوم معتبرہوتاہے جیسا کہ درمختار غمز العیون اورشامی وغیرہا میں ہے۔ اوراس کے مقتضائے دلیل کے پیش نظر بھی جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ (ت)
فـــــ : المفاھیم معتبرۃ فی الکتب بالاتفاق۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی ، کتاب الطہارۃ الفصل الثالث ، مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ، ۱ / ۲۱
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۵
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۵
شرح تنویر میں ہے :
بل فی القہستانی معزیا للجواھر الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع فتامل ۔
بلکہ قہستانی میں جوہر کے حوالے سے ہے کہ بہتے پانی میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی بے کار نہ جائے گا تو تامل کرو۔ (ت)
پھر فرمایا :
مکروھہ الاسراف فیہ تحریما لوبماء النھر ولمملوك لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ ماء المدارس فحرام ۔
پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر دریاکاپانی یااپنی ملکیت کاپانی استعمال کرے لیکن طہارت حاصل کرنے والوں کے لئے وقف شدہ پانی ہوجس میں مدارس کا پانی بھی داخل ہے تواسراف حرام ہے۔ (ت)
بحر میں ہے :
صرح الزیلعی بکراھتہ وفی المنتقی انہ من المنھیات فتکو ن تحریمیۃ ۔
امام زیلعی نے اس کے مکروہ ہونے کی صراحت فرمائی اورمنتقی میں اسے منہیات سے شمار کیا تویہ مکروہ تحریمی ہوگا۔ (ت)
منحۃ الخالق میں نہر سے ہے :
الظاھر انہ مکروہ تحریما اذ اطلاق الکراھۃ مصروف الی التحریم فما فی المنتقی موافق لما فی السراج عـــــہ و
ظاہریہ ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ کراہت مطلق بولی جائے تو تحریمی کی جانب پھیری جاتی ہے تو منتقی کا کلام سراج کے مطابق ہے اور
عـــــہ : قال فی المنحۃ صوابہ لما فی الخانیۃ کما لا یخفی اذلا ذکر للسراج فی قولہ
منحۃ الخالق میں ہے صحیح یہ کہنا ہے کہ “ خانیہ کے مطابق “ جیسا کہ پوشیدہ نہیں اس لئے کہ سراج کا کوئی تذکرہ(باقی برصفحہ ائندہ)
بل فی القہستانی معزیا للجواھر الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع فتامل ۔
بلکہ قہستانی میں جوہر کے حوالے سے ہے کہ بہتے پانی میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی بے کار نہ جائے گا تو تامل کرو۔ (ت)
پھر فرمایا :
مکروھہ الاسراف فیہ تحریما لوبماء النھر ولمملوك لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ ماء المدارس فحرام ۔
پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر دریاکاپانی یااپنی ملکیت کاپانی استعمال کرے لیکن طہارت حاصل کرنے والوں کے لئے وقف شدہ پانی ہوجس میں مدارس کا پانی بھی داخل ہے تواسراف حرام ہے۔ (ت)
بحر میں ہے :
صرح الزیلعی بکراھتہ وفی المنتقی انہ من المنھیات فتکو ن تحریمیۃ ۔
امام زیلعی نے اس کے مکروہ ہونے کی صراحت فرمائی اورمنتقی میں اسے منہیات سے شمار کیا تویہ مکروہ تحریمی ہوگا۔ (ت)
منحۃ الخالق میں نہر سے ہے :
الظاھر انہ مکروہ تحریما اذ اطلاق الکراھۃ مصروف الی التحریم فما فی المنتقی موافق لما فی السراج عـــــہ و
ظاہریہ ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ کراہت مطلق بولی جائے تو تحریمی کی جانب پھیری جاتی ہے تو منتقی کا کلام سراج کے مطابق ہے اور
عـــــہ : قال فی المنحۃ صوابہ لما فی الخانیۃ کما لا یخفی اذلا ذکر للسراج فی قولہ
منحۃ الخالق میں ہے صحیح یہ کہنا ہے کہ “ خانیہ کے مطابق “ جیسا کہ پوشیدہ نہیں اس لئے کہ سراج کا کوئی تذکرہ(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
المراد بالسنۃ المؤکدۃ لاطلاق
سنت سے مراد سنت مؤکدہ ہے اس لئے کہ اسراف (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولافی الشارح ای صاحب البحر وانا اقول : ھذا بعید خطا ومعنی اما الاول فظاھر اذ لامناسبۃ بین لفظی السراج والخانیۃ واما الثانی ف فلان النھر فرع موافقۃ المنتقی المصرح بکونہ من المنھیات علی اطلاق الکراھۃ فان مطلقھا یحمل علی التحریم ولا ذکر للکراھۃ فی عبارۃ الخانیۃ نعم اراد توجیہ ما فی الخانیۃ الی مااستظھرہ بقولہ بعد والمراد بالسنۃ الخ واقرب خطا ومعنی بل الذی یجزم السامع بانہ ھو الواقع فی اصل نسخۃ النھر فحرفہ الناسخ ان نقول صوابہ لمافی الشرح والمراد بالشرح التبیین فی شرح
نہ تو کلام نہر میں ہے نہ کلام شارح یعنی کلام بحر میں ہے۔ اقول : یہ خط اورمعنی دونوں اعتبار سے بعید ہے اول توظاہر ہے اس لئے کہ لفظ “ سراج “ اورلفظ “ خانیہ “ میں کوئی مناسبت نہیں ۔ اورثانی اس لئے کہ کلام منتقی جس میں اسراف کے منہیات سے ہونے کی تصریح ہے اس کی کلام دیگرکے ساتھ مطابقت کی تفریع صاحب نہر نے اس پرفرمائی ہے کہ کراہت مطلق بولی جاتی ہے تو کراہت تحریم پرمحمول ہوتی ہے اور عبارت خانیہ میں کراہت کا کوئی تذکرہ نہیں ۔ ہاں انہوں نے کلام خانیہ کی توجیہ اس عبارت سے کرنی چاہی ہے جو بعد میں لکھی ہے کہ سنت سے مراد سنت مؤکدہ ہے الخ۔ رسم الخط اورمعنی دونوں لحاظ سے قریب تربلکہ جسے سننے کے بعد سامع جزم کرے کہ یقینا نہر کے اصل نسخہ میں یہی ہوگا اور کاتب نے تحریف کردی ہے یہ ہے کہ ہم کہیں صحیح عبارت “ موافق لمافی الشرح “ ہے یعنی کلام منتقی اس کے(باقی برصفحہ ائندہ)
فــــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
سنت سے مراد سنت مؤکدہ ہے اس لئے کہ اسراف (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ولافی الشارح ای صاحب البحر وانا اقول : ھذا بعید خطا ومعنی اما الاول فظاھر اذ لامناسبۃ بین لفظی السراج والخانیۃ واما الثانی ف فلان النھر فرع موافقۃ المنتقی المصرح بکونہ من المنھیات علی اطلاق الکراھۃ فان مطلقھا یحمل علی التحریم ولا ذکر للکراھۃ فی عبارۃ الخانیۃ نعم اراد توجیہ ما فی الخانیۃ الی مااستظھرہ بقولہ بعد والمراد بالسنۃ الخ واقرب خطا ومعنی بل الذی یجزم السامع بانہ ھو الواقع فی اصل نسخۃ النھر فحرفہ الناسخ ان نقول صوابہ لمافی الشرح والمراد بالشرح التبیین فی شرح
نہ تو کلام نہر میں ہے نہ کلام شارح یعنی کلام بحر میں ہے۔ اقول : یہ خط اورمعنی دونوں اعتبار سے بعید ہے اول توظاہر ہے اس لئے کہ لفظ “ سراج “ اورلفظ “ خانیہ “ میں کوئی مناسبت نہیں ۔ اورثانی اس لئے کہ کلام منتقی جس میں اسراف کے منہیات سے ہونے کی تصریح ہے اس کی کلام دیگرکے ساتھ مطابقت کی تفریع صاحب نہر نے اس پرفرمائی ہے کہ کراہت مطلق بولی جاتی ہے تو کراہت تحریم پرمحمول ہوتی ہے اور عبارت خانیہ میں کراہت کا کوئی تذکرہ نہیں ۔ ہاں انہوں نے کلام خانیہ کی توجیہ اس عبارت سے کرنی چاہی ہے جو بعد میں لکھی ہے کہ سنت سے مراد سنت مؤکدہ ہے الخ۔ رسم الخط اورمعنی دونوں لحاظ سے قریب تربلکہ جسے سننے کے بعد سامع جزم کرے کہ یقینا نہر کے اصل نسخہ میں یہی ہوگا اور کاتب نے تحریف کردی ہے یہ ہے کہ ہم کہیں صحیح عبارت “ موافق لمافی الشرح “ ہے یعنی کلام منتقی اس کے(باقی برصفحہ ائندہ)
فــــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
النھر عن الاسراف وبہ یضعف جعلہ مندوبا ۔
سے مطلقا نہی ہے اور اسی سے اسے مندوب قراردیناضعیف ہوجاتا ہے۔ (ت)
اب بتوفیق الله تعالی یہاں تحقیق مقام وتنقیح مرام وتصحیح احکام ونقض وایرام کیلئے بعض تنبیہات نافعہ ذکر کریں ۔
التنبیہ الاول : عرض العلامۃ الشامی نورقبرہ السامی بالمحقق صاحب البحر انہ تبع قولا لیس لاحد من اھل المذھب حیث قال “ قولہ تحریما الخ نقل ذلك فی الحلیۃ عن بعض المتاخرین من الشافعیۃ وتبعہ علیہ فی البحر وغیرہ الخ
اقول : لم یتبعہ فـــــ البحر بل تنبیہ(۱) علامہ شامی “ نور قبرہ السامی “ نے محقق صاحب بحرپرتعریض فرمائی کہ انہوں نے ایك ایسے قول کااتباع کر لیا جو اہل مذہب میں سے کسی کانہیں اس طرح کہ وہ درمختار کے قول تحریماالخ کے تحت لکھتے ہیں : اسے حلیہ میں بعض متاخرین شافعیہ سے نقل کیا ہے جس کی پیروی صاحب بحر وغیرہ نے کرلی ہے الخ۔
اقول : صاحب بحر نے ا س کی پیروی (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مشروح البحر والنھر الکنز للامام الزیلعی فانہ ھو الذی صرح بالکراھۃ واطلقہا ونقلہ البحر وقرنہ بکلام المنتقی والله تعالی اعلم۔ اھ عفی عنہ
مطابق ہے جوشرح میں ہے۔ اورشرح سے مرادامام زیلعی کی تبیین الحقائق ہے جو البحر الرائق اور النہر الفائق کے متن کنزالدقائق کی شرح ہے۔ اسی میں کراہت کی صراحت اور اطلاق ہے اسی کوصاحب بحر نے نقل کیا اور اس کے ساتھ منتقی کا کلام ملادیا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
فـــــ : معروضۃ اخری علیہ۔
سے مطلقا نہی ہے اور اسی سے اسے مندوب قراردیناضعیف ہوجاتا ہے۔ (ت)
اب بتوفیق الله تعالی یہاں تحقیق مقام وتنقیح مرام وتصحیح احکام ونقض وایرام کیلئے بعض تنبیہات نافعہ ذکر کریں ۔
التنبیہ الاول : عرض العلامۃ الشامی نورقبرہ السامی بالمحقق صاحب البحر انہ تبع قولا لیس لاحد من اھل المذھب حیث قال “ قولہ تحریما الخ نقل ذلك فی الحلیۃ عن بعض المتاخرین من الشافعیۃ وتبعہ علیہ فی البحر وغیرہ الخ
اقول : لم یتبعہ فـــــ البحر بل تنبیہ(۱) علامہ شامی “ نور قبرہ السامی “ نے محقق صاحب بحرپرتعریض فرمائی کہ انہوں نے ایك ایسے قول کااتباع کر لیا جو اہل مذہب میں سے کسی کانہیں اس طرح کہ وہ درمختار کے قول تحریماالخ کے تحت لکھتے ہیں : اسے حلیہ میں بعض متاخرین شافعیہ سے نقل کیا ہے جس کی پیروی صاحب بحر وغیرہ نے کرلی ہے الخ۔
اقول : صاحب بحر نے ا س کی پیروی (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مشروح البحر والنھر الکنز للامام الزیلعی فانہ ھو الذی صرح بالکراھۃ واطلقہا ونقلہ البحر وقرنہ بکلام المنتقی والله تعالی اعلم۔ اھ عفی عنہ
مطابق ہے جوشرح میں ہے۔ اورشرح سے مرادامام زیلعی کی تبیین الحقائق ہے جو البحر الرائق اور النہر الفائق کے متن کنزالدقائق کی شرح ہے۔ اسی میں کراہت کی صراحت اور اطلاق ہے اسی کوصاحب بحر نے نقل کیا اور اس کے ساتھ منتقی کا کلام ملادیا۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
فـــــ : معروضۃ اخری علیہ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ1دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ1دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۹
استوجہ کراھۃ التنزیہ ثم نقل عن الزیلعی کراھتہ وعن المنتقی النھی عنہ وافاد ان مقتضاہ کراھۃ التحریم وھذا لیس اختیار الہ بل اخبار عما یعطیہ کلام المنتقی کما اخبر اولا ان قضیۃ عدم الفتح ترکہ من المندوبات عدم کراھتہ اصلا فلیس فیہ میل الیہ فضلا عن الاتباع علیہ ولا سیما لیس فی کلامہ التنصیص بجریان الحکم فی الماء الجاری والاطلاق لایسد ھھنا مسد الفصاح بالتعمیم للفرق البین بالتضییع وعدمہ فکیف یجعل متابعا للقول الاول وعن ھذا ذکرنا کل من قضیۃ کلام المنع فی القول الرابع دون الاول اذلا ینسب الا الی من یفصح بشمول الحکم النھر ایضا نعم تبعہ علیہ فی الغنیۃ اذقال الاسراف مکروہ بل حرام وان کان علی شط نھر جار لقولہ تعالی ولا تبذر
نہیں کی بلکہ انہوں نے مکروہ تنزیہی ہونے کو اوجہ کہا پھر امام زیلعی سے اس کا مکروہ ہونا اور منتقی سے منہی عنہ ہونانقل کیا اور افادہ کیا کہ اس کا مقتضاکراہت تحریم ہے۔ یہ اس قول کواختیار کرنا نہ ہوا بلکہ منتقی سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے بتانا ہوا جیسے اس سے پہلے انہوں نے بتایاکہ صاحب فتح کے ترك اسراف کومندوبات سے شمارکرنے کا مقتضایہ ہے کہ اسراف بالکل مکروہ نہ ہوتواس میں اس کا اتباع درکناراس کی جانب میلان بھی نہیں خصوصا جبکہ ان کے کلام میں آب رواں کے اندرحکم اسراف جاری ہونے کی تصریح بھی نہیں ۔ اورمطلق بولنا اس مقام پرحکم کوصاف صریح طورپرعام قراردینے کے قائم مقام نہیں ہوسکتااس لئے کہ پانی کوضائع کرنے اور نہ کرنے کا بین فرق موجود ہے توانہیں قول اول کا متبع کیسے ٹھہر ایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے جن حضرات کے کلام کامقتضا ممانعت ہے انہیں ہم نے قول چہارم میں ذکر کیا قول اول کے تحت ذکر نہ کیا اس لئے کہ قول اول اسی کی جانب منسوب ہوسکتا ہے جو صاف طور پر اس کا قائل ہوکہ اسراف کاحکم دریا کوبھی شامل ہے۔ ہاں اس قول کی پیروی غنیہ میں ہے کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں : اسراف مکروہ بلکہ حرام ہے اگرچہ نہر جاری کے کنارے ہو اس لئے کہ باری تعالی کا ارشاد ہے
فــــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔
نہیں کی بلکہ انہوں نے مکروہ تنزیہی ہونے کو اوجہ کہا پھر امام زیلعی سے اس کا مکروہ ہونا اور منتقی سے منہی عنہ ہونانقل کیا اور افادہ کیا کہ اس کا مقتضاکراہت تحریم ہے۔ یہ اس قول کواختیار کرنا نہ ہوا بلکہ منتقی سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے بتانا ہوا جیسے اس سے پہلے انہوں نے بتایاکہ صاحب فتح کے ترك اسراف کومندوبات سے شمارکرنے کا مقتضایہ ہے کہ اسراف بالکل مکروہ نہ ہوتواس میں اس کا اتباع درکناراس کی جانب میلان بھی نہیں خصوصا جبکہ ان کے کلام میں آب رواں کے اندرحکم اسراف جاری ہونے کی تصریح بھی نہیں ۔ اورمطلق بولنا اس مقام پرحکم کوصاف صریح طورپرعام قراردینے کے قائم مقام نہیں ہوسکتااس لئے کہ پانی کوضائع کرنے اور نہ کرنے کا بین فرق موجود ہے توانہیں قول اول کا متبع کیسے ٹھہر ایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے جن حضرات کے کلام کامقتضا ممانعت ہے انہیں ہم نے قول چہارم میں ذکر کیا قول اول کے تحت ذکر نہ کیا اس لئے کہ قول اول اسی کی جانب منسوب ہوسکتا ہے جو صاف طور پر اس کا قائل ہوکہ اسراف کاحکم دریا کوبھی شامل ہے۔ ہاں اس قول کی پیروی غنیہ میں ہے کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں : اسراف مکروہ بلکہ حرام ہے اگرچہ نہر جاری کے کنارے ہو اس لئے کہ باری تعالی کا ارشاد ہے
فــــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔
تبذیرا اھ
التنبیہ الثانی : کان عرض علی البحر واتی بالتصریح علی الدر فقال ماذکرہ الشارح ھنا قد علمت انہ لیس من کلام مشائخ المذھب اھ
اقول : والدر فـــــ ایضا مصفی عن ھذا الکدر کدر مکنون وانما اغتر المحشی العلامۃ بقولہ لوبماء النھر ولم یفرق بین تعبیری التوضی من النھر وبماء النھر ورأیتنی کتبت ھھنا علی الدر قولہ لوبماء النھر۔
اقول : ای فی الارض لافی النھر واراد تعمیم الماء المباح والمملوك اخراجا للماء الموقوف فلا ینافی ماقدمہ عن القھستانی عن الجواھر ماکتبت علیہ۔ ولا تبذر تبذیرا اور فضول خرچی نہ کر اھ۔ (ت)
تنبیہ(۲)صاحب بحر پر تو تعریض کی تھی اورصاحب درمختار کے معاملہ میں توتصریح کردی اور لکھا کہ : “ شارح نے یہاں ججو بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ مشائخ مذہب میں سے کسی کاکلام نہیں “ اھ
اقول : اس کدورت سے دربھی کسی در مکنون کی طرح صاف ہے۔ علامہ محشی کو درمختار کے لفظ “ لوبماء النھر “ سے دھوکا ہوا اور التوضی من النھراور التوضی بماء النھر(دریا سے وضو کرنا اوردریا کے پانی سے وضو کرنا)کی تعبیروں میں فرق نہ کرسکے۔ یہاں در مختار کے قول “ لو بماء النھر “ پردیکھا کہ میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے :
اقول : (پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر نہر کے پانی سے طہارت حاصل کرے) یعنی نہر کے پانی سے زمین میں (وضوکرے) نہر کے اندرنہیں انہوں نے وقف شدہ پانی کو خارج کرنے کے لئے حکم آب مباح اورآب مملوك کو عام کرنا چاہا ہے تو یہ اس کے منافی نہیں جو وہ قہستانی کے حوالے سے جواہر سے سابقا نقل کرچکے۔ اھ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا۔
فـــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ
التنبیہ الثانی : کان عرض علی البحر واتی بالتصریح علی الدر فقال ماذکرہ الشارح ھنا قد علمت انہ لیس من کلام مشائخ المذھب اھ
اقول : والدر فـــــ ایضا مصفی عن ھذا الکدر کدر مکنون وانما اغتر المحشی العلامۃ بقولہ لوبماء النھر ولم یفرق بین تعبیری التوضی من النھر وبماء النھر ورأیتنی کتبت ھھنا علی الدر قولہ لوبماء النھر۔
اقول : ای فی الارض لافی النھر واراد تعمیم الماء المباح والمملوك اخراجا للماء الموقوف فلا ینافی ماقدمہ عن القھستانی عن الجواھر ماکتبت علیہ۔ ولا تبذر تبذیرا اور فضول خرچی نہ کر اھ۔ (ت)
تنبیہ(۲)صاحب بحر پر تو تعریض کی تھی اورصاحب درمختار کے معاملہ میں توتصریح کردی اور لکھا کہ : “ شارح نے یہاں ججو بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ مشائخ مذہب میں سے کسی کاکلام نہیں “ اھ
اقول : اس کدورت سے دربھی کسی در مکنون کی طرح صاف ہے۔ علامہ محشی کو درمختار کے لفظ “ لوبماء النھر “ سے دھوکا ہوا اور التوضی من النھراور التوضی بماء النھر(دریا سے وضو کرنا اوردریا کے پانی سے وضو کرنا)کی تعبیروں میں فرق نہ کرسکے۔ یہاں در مختار کے قول “ لو بماء النھر “ پردیکھا کہ میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے :
اقول : (پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر نہر کے پانی سے طہارت حاصل کرے) یعنی نہر کے پانی سے زمین میں (وضوکرے) نہر کے اندرنہیں انہوں نے وقف شدہ پانی کو خارج کرنے کے لئے حکم آب مباح اورآب مملوك کو عام کرنا چاہا ہے تو یہ اس کے منافی نہیں جو وہ قہستانی کے حوالے سے جواہر سے سابقا نقل کرچکے۔ اھ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا۔
فـــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۳۵۔ ۳۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ ، دار ا حیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۰
جد الممتار علی رد المحتا ر کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارک پور اعظم گڑھ (ہند )۱ / ۹۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ ، دار ا حیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۰
جد الممتار علی رد المحتا ر کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارک پور اعظم گڑھ (ہند )۱ / ۹۹
ومما اکد الاشتباہ علی العلامۃ المحشی ان المحقق الحلبی فی الحلیۃ نقل مسألۃ الماء الموقوف وماء المدارس عن عبارۃ الشافعی المتأخر۔ فتمامھا بعد قولہ مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی ومحل الخلاف مااذا توضا ء من نھر اوماء مملوك لہ فان توضأ من ماء موقوف حرمت الزیادۃ والسرف بلا خلاف لان الزیادۃ غیر ماذون فیھا وماء المدارس من ھذا القبیل لانہ انما یوقف ویساق لمن یتوضؤ الوضوء الشرعی ولم یقصدا باحتہا لغیر ذلك اھ
ثم رأی المسألتین فی عبارتی البحر والدر ورأی الحکم فیھما بکراھۃ التحریم فسبق الی خاطرہ انھما تبعا قیل التحریم العام ولیس کذلك فان حرمۃ الاسراف فی الاوقاف مجمع علیھا وقد غیرا فی التعبیر بما یبرئھما عن تعمیم التحریم فلم یقولا توضأ من نھر بل قال البحر ھذا اذا کان
اور علامہ شامی کے اشتباہ کو تقویت اس سے بھی ملی کہ محقق حلبی نے آب موقوف اور آب مدارس کا مسئلہ شافعی متاخر کی عبارت سے نقل کیا کیونکہ ان شافعی کے قول “ مکروہ برقول صحیح اور کہا گیا حرام اورکہاگیا خلاف اولی “ کے بعد ان کی بقیہ عبارت یہ ہے : اورمحل اختلاف وہ صورت ہے جب نہرسے وضوکیاہویااپنی ملکیت کے پانی سے کیا ہوتوزیادتی واسراف بلا اختلاف حرام ہے اس لئے کہ زیادتی کی اجازت نہیں اور مدارس کاپانی اسی قبیل سے ہے اس لئے کہ وہ ان لوگوں کے لئے وقف ہوتا اورلایا جاتا ہے جو اس سے وضو ئے شرعی کریں اور ان کے علاوہ کے لئے اس کی اباحت مقصود نہیں ہوتی اھ۔
پھرعلامہ شامی نے یہ دونوں مسئلے بحر اوردرکی عبارتوں میں بھی دیکھے یعنی یہ کہ ان دونوں میں کراہت تحریم کا حکم موجود ہے۔ تو ان کاذہن اس طرف چلاگیا کہ دونوں نے تحریم عام کے قول کی پیروی کرلی ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ۔ اس لئے کہ اوقاف میں اسراف کی حرمت اجماعی ہے اوردونوں حضرات نے تعبیر میں اتنی تبدیلی کردی جس کے باعث تحریم کوعام قرار دینے سے بری ہوگئے۔ توان حضرات نے “ توضأ من نھر “ (دریا سے وضو کیا)نہ کہابلکہ بحرنے کہا : ھذا اذا کان
ثم رأی المسألتین فی عبارتی البحر والدر ورأی الحکم فیھما بکراھۃ التحریم فسبق الی خاطرہ انھما تبعا قیل التحریم العام ولیس کذلك فان حرمۃ الاسراف فی الاوقاف مجمع علیھا وقد غیرا فی التعبیر بما یبرئھما عن تعمیم التحریم فلم یقولا توضأ من نھر بل قال البحر ھذا اذا کان
اور علامہ شامی کے اشتباہ کو تقویت اس سے بھی ملی کہ محقق حلبی نے آب موقوف اور آب مدارس کا مسئلہ شافعی متاخر کی عبارت سے نقل کیا کیونکہ ان شافعی کے قول “ مکروہ برقول صحیح اور کہا گیا حرام اورکہاگیا خلاف اولی “ کے بعد ان کی بقیہ عبارت یہ ہے : اورمحل اختلاف وہ صورت ہے جب نہرسے وضوکیاہویااپنی ملکیت کے پانی سے کیا ہوتوزیادتی واسراف بلا اختلاف حرام ہے اس لئے کہ زیادتی کی اجازت نہیں اور مدارس کاپانی اسی قبیل سے ہے اس لئے کہ وہ ان لوگوں کے لئے وقف ہوتا اورلایا جاتا ہے جو اس سے وضو ئے شرعی کریں اور ان کے علاوہ کے لئے اس کی اباحت مقصود نہیں ہوتی اھ۔
پھرعلامہ شامی نے یہ دونوں مسئلے بحر اوردرکی عبارتوں میں بھی دیکھے یعنی یہ کہ ان دونوں میں کراہت تحریم کا حکم موجود ہے۔ تو ان کاذہن اس طرف چلاگیا کہ دونوں نے تحریم عام کے قول کی پیروی کرلی ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ۔ اس لئے کہ اوقاف میں اسراف کی حرمت اجماعی ہے اوردونوں حضرات نے تعبیر میں اتنی تبدیلی کردی جس کے باعث تحریم کوعام قرار دینے سے بری ہوگئے۔ توان حضرات نے “ توضأ من نھر “ (دریا سے وضو کیا)نہ کہابلکہ بحرنے کہا : ھذا اذا کان
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ماء نھر وقال الدر لوبماء النھر والفرق فی التعبرین لایخفی علی المتأمل ۔
وبیان ذلك علی ما اقول : ان المتوضیئ من النھر وان لم یدل مطابقۃ الا علی التوضی بالاغتراف منہ لکن یدل عرفا علی نفی الواسطۃ فمن ملأکوزا من نھر واغترف عند التوضی من الکوز لایقال توضأ من النھر بل من الکوز الاعلی ارادۃ حذف ای بماء ماخوذ من النھر والتوضی من نھر بلا واسطۃ انما یکون فی متعارف الناس بان تدخل النھر اوتجلس علی شاطئہ وتغترف منہ بیدك وتتوضأ فیہ فوقوع الغسالۃ فی النھر ھو الطریق المعروف للتوضی من النھر فیدل علیہ دلالۃ التزام للعرف المعہود
ماء نھر( یہ حکم اس وقت ہے جب دریا کا پانی ہوالخ) اورصاحب درمختارنے کہا : لوبماء النھر (اگردریا کے پانی سے وضو کرے الخ)اور تأمل کرنے والے پردونوں تعبیروں کافرق مخفی نہیں ۔
اقول : اس کی توضیح یہ ہے کہ التوضی من النھر(دریاسے وضوکرنا)اگرمعنی مطابقی کے لحاظ سے یہی بتاتا ہے کہ اس سے ہاتھ یا برتن میں پانی لے کروضوکرنا لیکن عرفا اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس سے بغیرکسی واسطہ کے وضو کرنا تواگر کسی نے برتن میں دریا سے پانی بھر لیا اور وضو کے وقت برتن سے ہاتھ میں پانی لے کر وضو کیا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے دریا سے وضو کیا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ برتن سے وضوکیا۔ مگر خذف مراد لے کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ دریا سے۔ یعنی دریا سے لئے ہوئے پانی سے وضو کیا۔ اورنہر سے بلا واسطہ وضو کرنے کی صورت لوگوں کے عرف میں یہ ہوتی ہے کہ کوئی دریا کے اندر جا کر۔ یا اس کے کنارے بیٹھ کر اس سے ہاتھ میں پانی لیتے ہوئے اسی میں وضوکرے کہ غسالہ دریاہی میں گرے یہی نہرسے وضو کا معروف طریقہ ہے کہ غسالہ اسی میں گرتا ہے تو عرف معلوم کے سبب اس پراس
وبیان ذلك علی ما اقول : ان المتوضیئ من النھر وان لم یدل مطابقۃ الا علی التوضی بالاغتراف منہ لکن یدل عرفا علی نفی الواسطۃ فمن ملأکوزا من نھر واغترف عند التوضی من الکوز لایقال توضأ من النھر بل من الکوز الاعلی ارادۃ حذف ای بماء ماخوذ من النھر والتوضی من نھر بلا واسطۃ انما یکون فی متعارف الناس بان تدخل النھر اوتجلس علی شاطئہ وتغترف منہ بیدك وتتوضأ فیہ فوقوع الغسالۃ فی النھر ھو الطریق المعروف للتوضی من النھر فیدل علیہ دلالۃ التزام للعرف المعہود
ماء نھر( یہ حکم اس وقت ہے جب دریا کا پانی ہوالخ) اورصاحب درمختارنے کہا : لوبماء النھر (اگردریا کے پانی سے وضو کرے الخ)اور تأمل کرنے والے پردونوں تعبیروں کافرق مخفی نہیں ۔
اقول : اس کی توضیح یہ ہے کہ التوضی من النھر(دریاسے وضوکرنا)اگرمعنی مطابقی کے لحاظ سے یہی بتاتا ہے کہ اس سے ہاتھ یا برتن میں پانی لے کروضوکرنا لیکن عرفا اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس سے بغیرکسی واسطہ کے وضو کرنا تواگر کسی نے برتن میں دریا سے پانی بھر لیا اور وضو کے وقت برتن سے ہاتھ میں پانی لے کر وضو کیا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے دریا سے وضو کیا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ برتن سے وضوکیا۔ مگر خذف مراد لے کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ دریا سے۔ یعنی دریا سے لئے ہوئے پانی سے وضو کیا۔ اورنہر سے بلا واسطہ وضو کرنے کی صورت لوگوں کے عرف میں یہ ہوتی ہے کہ کوئی دریا کے اندر جا کر۔ یا اس کے کنارے بیٹھ کر اس سے ہاتھ میں پانی لیتے ہوئے اسی میں وضوکرے کہ غسالہ دریاہی میں گرے یہی نہرسے وضو کا معروف طریقہ ہے کہ غسالہ اسی میں گرتا ہے تو عرف معلوم کے سبب اس پراس
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۴
الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۴
بخلاف التوضی بماء النھر فلا دلالۃ لہ علی وقوع الغسالۃ فی شیئ اصلا الاتری ان من توضأ فی بیتہ بماء جلب من النھر تقول توضأ بماء النھر لامن النھر ھذا ھو العرف الفاشی والفرق فی الاسراف بین الماء الجاری وغیرہ بانہ تضییع فی غیرہ لافیہ انما یبتنی علی وقوع الغسالۃ فیہ ولا نھر وسکبہا علی الارض من دون نفع فقد ضیع وان افرغ جرۃ عندہ فی نھر لم یضیع والدال علی ھذا المبنی ھو لفظ من نھر لالفظ بماء النھر کما علمت ففی الاول تکون دلالۃ علی تعمیم التحریم لافی الثانی ھذا ھو الفارق بین تعبیر ذلك الشافعی وتعبیر البحر والدر و حینئذ وغیرھا فلا یکون
لفظ کی دلالت التزامی پائی جائے گی۔ اور التوضی بماء النھر(دریا کے پانی سے وضوکرنے) کا مفہوم یہ نہیں ہوتا اس لفظ کی دلالت کسی چیز کے اندر غسالہ کے گرنے پر بالکل نہیں ہوتی۔ دیکھئے اگر کسی نے اپنے گھر میں اس پانی سے وضو کیاجودریاسے لایاگیاتھا تویہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاکے پانی سے وضو کیااوریہ نہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاسے وضوکیا۔ یہی عام مشہور عرف ہے۔ آب رواں اورغیر رواں کے درمیان اسراف میں یہ فرق کہ غیر جاری میں پانی برباد ہوتا ہے اورجاری میں برباد نہیں ہوتا اس کی بنیادغسالہ کے اس کے اندر گرنے ہی پرہے۔ اور اس فرق میں ہاتھ یا برتن سے پانی لینے کوکوئی دخل نہیں کیوں کہ اگرکسی نے دریا سے گھڑا بھر کر زمین پر بے فائدہ بہادیاتو اس نے پانی بربادکیا۔ ا ور اگر اپنے پاس کا بھرا ہوا گھڑادریا میں انڈیل دیا تو اس نے پانی برباد نہ کیا اور اس بنیاد کو بتانے والالفظ وہی “ من نھر “ (دریاسے) ہے “ بما النھر “ (دریا کے پانی سے)نہیں جیسا کہ واضح ہوا۔ تو من نھر کہنے میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ حکم تحریم دریا سے وضو کوبھی شامل ہے اور بماء النھر کہنے میں یہ دلالت نہیں ہوتی ۔ یہی فرق ہے ان شافعی کی تعبیر میں اور بحر ودر کی تعبیر میں ۔ اورجب ایسا ہے تو صاحب در اپنے ساتھ جو اہر کو بھی پائیں گے اور منتقی ونہروغیرہا کو بھی۔ تووہ غیر مذہب کے کسی
لفظ کی دلالت التزامی پائی جائے گی۔ اور التوضی بماء النھر(دریا کے پانی سے وضوکرنے) کا مفہوم یہ نہیں ہوتا اس لفظ کی دلالت کسی چیز کے اندر غسالہ کے گرنے پر بالکل نہیں ہوتی۔ دیکھئے اگر کسی نے اپنے گھر میں اس پانی سے وضو کیاجودریاسے لایاگیاتھا تویہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاکے پانی سے وضو کیااوریہ نہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاسے وضوکیا۔ یہی عام مشہور عرف ہے۔ آب رواں اورغیر رواں کے درمیان اسراف میں یہ فرق کہ غیر جاری میں پانی برباد ہوتا ہے اورجاری میں برباد نہیں ہوتا اس کی بنیادغسالہ کے اس کے اندر گرنے ہی پرہے۔ اور اس فرق میں ہاتھ یا برتن سے پانی لینے کوکوئی دخل نہیں کیوں کہ اگرکسی نے دریا سے گھڑا بھر کر زمین پر بے فائدہ بہادیاتو اس نے پانی بربادکیا۔ ا ور اگر اپنے پاس کا بھرا ہوا گھڑادریا میں انڈیل دیا تو اس نے پانی برباد نہ کیا اور اس بنیاد کو بتانے والالفظ وہی “ من نھر “ (دریاسے) ہے “ بما النھر “ (دریا کے پانی سے)نہیں جیسا کہ واضح ہوا۔ تو من نھر کہنے میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ حکم تحریم دریا سے وضو کوبھی شامل ہے اور بماء النھر کہنے میں یہ دلالت نہیں ہوتی ۔ یہی فرق ہے ان شافعی کی تعبیر میں اور بحر ودر کی تعبیر میں ۔ اورجب ایسا ہے تو صاحب در اپنے ساتھ جو اہر کو بھی پائیں گے اور منتقی ونہروغیرہا کو بھی۔ تووہ غیر مذہب کے کسی
متبعا لقیل فی غیر المذھب۔
اقول : فـــــ بتحقیقنا ھذا ظھر الجواب عما اخذ بہ الامام المحقق الحلبی فی الحلیۃ علی المشائخ حیث یطلقون ھھنا من مکان فی یقولون توضا من حوض من نھر من کذا ویریدون وقوع الغسالۃ فیہ قول فی المنیۃ اذا کان الرجال صفوفا یتوضوء ن من الحوض الکبیر جاز قال فی الحلیۃ التوضی منہ لایستلزم البتۃ وقوع الغسالۃ فیہ بخلاف التوضی فیہ ووقوع غسالاتھم فیہ ھو مقصود الافادۃ واطال فی ذلك وکررہ فی مواضع من کتابہ وھو من باب التدنق والمشائخ یتساھلون باکثر من ھذا فکیف وھو المفاد من جہۃ المعتاد۔
قول ضعیف کی پیروی کرنے والے نہ ہوں گے۔
اقول : ہماری اسی تحقیق سے اس کا جواب بھی واضح ہوگیا جو امام محقق حلبی نے حلیہ میں حضرات مشائخ پرگرفت کی ہے اس طرح کہ وہ حضرات یہاں “ فی “ (میں ) کی جگہ “ من “ (سے) بولتے ہیں کہتے ہیں توضأ من حوض من نھر من کذا (حوض سے دریا سے فلاں سے وضو کیا)اور مراد یہ لیتے ہیں کہ غسالہ اسی میں گرا۔ منیہ میں لکھا : جب بہت سے لوگ قطاروں میں کسی بڑے حوض سے وضوکرنا جائز ہے ۔ اس پر حلیہ میں لکھا : حوض سے وضو کرناقطعی طورپراس بات کو مستلزم نہیں کہ غسالہ اسی میں گرے بخلاف حوض میں وضو کرنے کے۔ اورلوگوں کاغسالہ اس میں گرتا ہوسے یہی بتانا مقصود ہے۔ اس اعتراض کو بہت طویل بیان کیا ہے اور اپنی کتاب کے متعددمقامات پر باربار ذکرکیاہے حالاں کہ یہ عبارت میں بے جا تدقیق کے باب سے ہے۔ حضرات مشائخ تواس سے بہت زیادہ تسامح سے کام لیتے ہیں پھراس میں کیا جب کہ عرف عام اور طریق معمول کا مفاد بھی یہی ہے۔ (ت)
فــــــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
اقول : فـــــ بتحقیقنا ھذا ظھر الجواب عما اخذ بہ الامام المحقق الحلبی فی الحلیۃ علی المشائخ حیث یطلقون ھھنا من مکان فی یقولون توضا من حوض من نھر من کذا ویریدون وقوع الغسالۃ فیہ قول فی المنیۃ اذا کان الرجال صفوفا یتوضوء ن من الحوض الکبیر جاز قال فی الحلیۃ التوضی منہ لایستلزم البتۃ وقوع الغسالۃ فیہ بخلاف التوضی فیہ ووقوع غسالاتھم فیہ ھو مقصود الافادۃ واطال فی ذلك وکررہ فی مواضع من کتابہ وھو من باب التدنق والمشائخ یتساھلون باکثر من ھذا فکیف وھو المفاد من جہۃ المعتاد۔
قول ضعیف کی پیروی کرنے والے نہ ہوں گے۔
اقول : ہماری اسی تحقیق سے اس کا جواب بھی واضح ہوگیا جو امام محقق حلبی نے حلیہ میں حضرات مشائخ پرگرفت کی ہے اس طرح کہ وہ حضرات یہاں “ فی “ (میں ) کی جگہ “ من “ (سے) بولتے ہیں کہتے ہیں توضأ من حوض من نھر من کذا (حوض سے دریا سے فلاں سے وضو کیا)اور مراد یہ لیتے ہیں کہ غسالہ اسی میں گرا۔ منیہ میں لکھا : جب بہت سے لوگ قطاروں میں کسی بڑے حوض سے وضوکرنا جائز ہے ۔ اس پر حلیہ میں لکھا : حوض سے وضو کرناقطعی طورپراس بات کو مستلزم نہیں کہ غسالہ اسی میں گرے بخلاف حوض میں وضو کرنے کے۔ اورلوگوں کاغسالہ اس میں گرتا ہوسے یہی بتانا مقصود ہے۔ اس اعتراض کو بہت طویل بیان کیا ہے اور اپنی کتاب کے متعددمقامات پر باربار ذکرکیاہے حالاں کہ یہ عبارت میں بے جا تدقیق کے باب سے ہے۔ حضرات مشائخ تواس سے بہت زیادہ تسامح سے کام لیتے ہیں پھراس میں کیا جب کہ عرف عام اور طریق معمول کا مفاد بھی یہی ہے۔ (ت)
فــــــ : تطفل علی الحلیۃ ۔
حوالہ / References
منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۷
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
تنبیہ(۳) علامہ عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں قول سوم کو دوم کی طرف راجع کیا اور اپنے شیخ اکرم واخ اعظم محقق زین رحمہم اللہ تعالیکی تقریر سے یہ جواب دیا کہ ترك اسراف کو ادب یا مستحب گننا اسے مقتضی نہیں کہ اسراف مکروہ تنزیہی بھی نہ ہوا کہ آخر خلاف مستحب ہے اور خلاف مستحب خلاف اولی اور خلاف اولی مکروہ تنزیہی۔
قال فی المنحۃ قال فی النھر لانسلم ان ترك المندوب غیر مکروہ تنزیھا لما فی فتح القدیر من الجنائز والشہادات ان مرجع کراھۃ التنزیہ خلاف الاولی ولا شك ان تارك المندوب ات بخلاف الاولی ۔ اھ
منحۃ الخالق میں ہے نہر میں کہا : ہم اسے نہیں مانتے کہ ترك مندوب مکروہ تنزیہی نہیں اسلئے کہ فتح القدیر میں جنائز اورکتاب الشہادات میں لکھا ہے کہ کراہت تنزیہ کامآل خلاف اولی ہے اور مندوب کوترك کرنے والا بلاشبہ خلاف اولی کا مرتکب ہے اھ۔ (ت)
یہی جواب کلام بدائع پر محقق حلبی کی تقریر سے ہوگا۔ علامہ شامی نے یہاں اسے مقرر رکھا اور ردالمحتار میں صراحۃ اس کا اتباع کیا
حیث قال مامشی علیہ فی الفتح والبدائع وغیرھما من جعل ترکہ مندوبا فیکرہ تنزیھا اھ
(اس طرح کہ وہ لکھتے ہیں : جس پرفتح بدائع وغیرہما میں گئے ہیں وہ یہ ہے کہ ترك اسراف کو مندوب قراردیاہے تووہ اسراف تنزیہی ہوگا اھ۔ (ت)
اقول : وبالله استعین ( میں الله سے مدد طلب کرتا ہوں ) اولا : فـــــ یہ معلوم کیجئے کہ مکروہ تنزیہی کی تحدید میں کلمات علما ء مختلف بھی ہیں اور مضطرب بھی فتح القدیر کی طرح نہ ایك کتاب بلکہ بکثرت کتب میں ہے کہ کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی ہے اس طور پر ہر مستحب کا ترك بھی مکروہ تنزیہی ہونا چاہئے۔ درمختار آخر مکروہات نماز میں ہے :
یکرہ ترك کل سنۃ ومستحب
ہر سنت اور مستحب کا ترك مکروہ ہے۔ (ت)
فــــــ : مکروہ تنزیہی کی تحدید میں علماء کا اختلاف اورعبارات میں اضطراب۔
قال فی المنحۃ قال فی النھر لانسلم ان ترك المندوب غیر مکروہ تنزیھا لما فی فتح القدیر من الجنائز والشہادات ان مرجع کراھۃ التنزیہ خلاف الاولی ولا شك ان تارك المندوب ات بخلاف الاولی ۔ اھ
منحۃ الخالق میں ہے نہر میں کہا : ہم اسے نہیں مانتے کہ ترك مندوب مکروہ تنزیہی نہیں اسلئے کہ فتح القدیر میں جنائز اورکتاب الشہادات میں لکھا ہے کہ کراہت تنزیہ کامآل خلاف اولی ہے اور مندوب کوترك کرنے والا بلاشبہ خلاف اولی کا مرتکب ہے اھ۔ (ت)
یہی جواب کلام بدائع پر محقق حلبی کی تقریر سے ہوگا۔ علامہ شامی نے یہاں اسے مقرر رکھا اور ردالمحتار میں صراحۃ اس کا اتباع کیا
حیث قال مامشی علیہ فی الفتح والبدائع وغیرھما من جعل ترکہ مندوبا فیکرہ تنزیھا اھ
(اس طرح کہ وہ لکھتے ہیں : جس پرفتح بدائع وغیرہما میں گئے ہیں وہ یہ ہے کہ ترك اسراف کو مندوب قراردیاہے تووہ اسراف تنزیہی ہوگا اھ۔ (ت)
اقول : وبالله استعین ( میں الله سے مدد طلب کرتا ہوں ) اولا : فـــــ یہ معلوم کیجئے کہ مکروہ تنزیہی کی تحدید میں کلمات علما ء مختلف بھی ہیں اور مضطرب بھی فتح القدیر کی طرح نہ ایك کتاب بلکہ بکثرت کتب میں ہے کہ کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی ہے اس طور پر ہر مستحب کا ترك بھی مکروہ تنزیہی ہونا چاہئے۔ درمختار آخر مکروہات نماز میں ہے :
یکرہ ترك کل سنۃ ومستحب
ہر سنت اور مستحب کا ترك مکروہ ہے۔ (ت)
فــــــ : مکروہ تنزیہی کی تحدید میں علماء کا اختلاف اورعبارات میں اضطراب۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱ / ۲۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الاسراف فی الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۰
الدر المختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکر ہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۹۳
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الاسراف فی الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۰
الدر المختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکر ہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۹۳
اور بہت محققین کراہت کیلئے دلیل خاص یا صیغہ نہی کی حاجت جانتے ہیں یعنی جبکہ فعل سے باز رہنے کی طلب غیر حتمی پر دال ہو۔
اقول : ولو قطعی فـــــ۱ الثبوت فان المدار علی ما ذکرنا من حال الطلب کما قدمنا تحقیقہ فی الجود الحلووان قال فی الحلیۃ من صدر الکتاب المنہی خلاف المامور فان کان النھی المتعلق بہ قطعی الثبوت والدلالۃ فحرام وان کان ظنی الثبوت دون الدلالۃ اوبالعکس فمکروہ تحریما وان کان ظنی الثبوت والدلالۃ فمکروہ تنزیہا اھ
اقول : اگرچہ دلیل قطعی الثبوت ہواس لئے کہ مداراسی پر ہے جسے ہم نے ذکرکیا یعنی یہ کہ طلب کاحال کیا ہے حتمی ہے یا غیر حتمی جیساکہ اس کی تحقیق الجود الحلو میں ہم کر چکے ۔ اگرچہ حلیہ کے اندر شروع کتاب میں یہ لکھا ہے : منہی مامور کامخالف ہے۔ اگراس سے تعلق رکھنے والی نہی ثبوت اور دلالت میں قطعی ہوتووہ حرام ہے۔ اور اگرثبوت میں ظنی ہودلالت میں نہیں یا برعکس صورت ہوتومکروہ تحریمی ہے۔ اوراگر ثبوت ودلالت میں ظنی ہوتومکروہ تنزیہی ہے اھ۔ (ت)
اور شك نہیں کہ اس تقدیر پر ترك مستحب مکروہ نہ ہوگا مجمع الانہر باب الاذان میں ہے :
لاکراھۃ فی ترك المندوب
(ترك مندوب میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
اضطراب یہ کہ جن صاحب فـــــ فتح قدس سرہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ خلاف اولی مکروہ تنزیہی ہے اور اوقات مکروھہ نماز میں فرمایا کہ جانب ترك میں مکروہ تنزیہی جانب فعل میں مندوب کے رتبہ میں ہے
حیث قال التحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجب والتنزیہ برتبہ المندوب
(ان کے الفاظ یہ ہیں : تحریم رتبہ میں فرض کے مقابل ہے اورکراہت تحریم رتبہ میں واجب کے مقابل اورکراہت تنزیہ مندوب کے رتبہ میں ہے۔ (ت)
فـــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فــــــ۲ تطفل ما علی الفتح ۔
اقول : ولو قطعی فـــــ۱ الثبوت فان المدار علی ما ذکرنا من حال الطلب کما قدمنا تحقیقہ فی الجود الحلووان قال فی الحلیۃ من صدر الکتاب المنہی خلاف المامور فان کان النھی المتعلق بہ قطعی الثبوت والدلالۃ فحرام وان کان ظنی الثبوت دون الدلالۃ اوبالعکس فمکروہ تحریما وان کان ظنی الثبوت والدلالۃ فمکروہ تنزیہا اھ
اقول : اگرچہ دلیل قطعی الثبوت ہواس لئے کہ مداراسی پر ہے جسے ہم نے ذکرکیا یعنی یہ کہ طلب کاحال کیا ہے حتمی ہے یا غیر حتمی جیساکہ اس کی تحقیق الجود الحلو میں ہم کر چکے ۔ اگرچہ حلیہ کے اندر شروع کتاب میں یہ لکھا ہے : منہی مامور کامخالف ہے۔ اگراس سے تعلق رکھنے والی نہی ثبوت اور دلالت میں قطعی ہوتووہ حرام ہے۔ اور اگرثبوت میں ظنی ہودلالت میں نہیں یا برعکس صورت ہوتومکروہ تحریمی ہے۔ اوراگر ثبوت ودلالت میں ظنی ہوتومکروہ تنزیہی ہے اھ۔ (ت)
اور شك نہیں کہ اس تقدیر پر ترك مستحب مکروہ نہ ہوگا مجمع الانہر باب الاذان میں ہے :
لاکراھۃ فی ترك المندوب
(ترك مندوب میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
اضطراب یہ کہ جن صاحب فـــــ فتح قدس سرہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ خلاف اولی مکروہ تنزیہی ہے اور اوقات مکروھہ نماز میں فرمایا کہ جانب ترك میں مکروہ تنزیہی جانب فعل میں مندوب کے رتبہ میں ہے
حیث قال التحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجب والتنزیہ برتبہ المندوب
(ان کے الفاظ یہ ہیں : تحریم رتبہ میں فرض کے مقابل ہے اورکراہت تحریم رتبہ میں واجب کے مقابل اورکراہت تنزیہ مندوب کے رتبہ میں ہے۔ (ت)
فـــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ۔ فــــــ۲ تطفل ما علی الفتح ۔
حوالہ / References
حلیۃ ا لمحلی شرح منیۃ المصلی
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ، کتاب الصلوۃ باب الاذان دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت فصل فی اوقات المکروھۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۲
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ، کتاب الصلوۃ باب الاذان دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۵
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت فصل فی اوقات المکروھۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۲
انہی نے تحریر الاصول میں تحریر فرمایا کہ مکروہ تنزیہی وہ ہے جس میں صیغہ نہی وارد ہوا جس میں نہی نہیں وہ خلاف اولی ہے اور کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی کی طرف ہونا ایك اطلاق موسع کی بنا پر ہے
حیث قال فی الباب الاول من المقالۃ الثانیۃ من التحریر مسألۃ اطلاق المامور بہ علی المندوب مانصہ “ المکروہ منھی ای اصطلاحا حقیقۃ مجاز لغۃ والمراد تنزیھا ویطلق علی الحرام وخلاف الاولی مما لاصیغۃ فیہ والا فالتنزیھیۃ مرجعہا الیہ ۔
اس طرح کہ تحریر الاصول مقالہ دوم کے با ب اول مسألہ اطلاق الماموربہ علی المندوب کے تحت لکھا : مکروہ اصطلاح میں حقیقۃ منہی ہے اور لغت میں مجازا۔ ۔ ۔ اورمکروہ سے مراد تنزیہی ہے اور اس کا اطلاق حرام پر بھی ہوتاہے اور اس خلاف اولی پربھی جس سے متعلق صیغہ نہی وارد نہیں ورنہ کراہت تنزیہ کامرجع وہی ہے (جس میں صیغہ نہی وارد ہو)۔ (ت)
جس حلیہ فـــــ۱ میں یہ فرمایا کہ : علی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ (اسراف کو خلاف ادب ٹھہرانے والے قول پر اصراف مکروہ نہ ہوگا (ت)اسی کے صدر میں ہے
المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان
مکروہ تنزیہی کا مرجع خلاف اولی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ (ت)
جس غنیہ فـــــ۲ کے اوقات میں باتباع فتح تصریح فرمائی کہ التنزیھیۃ مقابلۃ المندوب (کراہت تنزیہیہ بمقابلہ مندوب ہے۔ ت)اسی کے مکروہات صلوۃ میں فرمایا :
الفعل ان تضمن ترك واجب فھو مکروہ کراھۃ تحریم وان تضمن ترك سنۃ فھو مکروہ
فعل اگر ترك واجب پرمشتمل ہوتو مکروہ تحریمی ہے اور ترك سنت پر مشتمل ہوتومکروہ تنزیہی لیکن
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ فـــ۲ : تطفل علی الغنیۃ ۔
حیث قال فی الباب الاول من المقالۃ الثانیۃ من التحریر مسألۃ اطلاق المامور بہ علی المندوب مانصہ “ المکروہ منھی ای اصطلاحا حقیقۃ مجاز لغۃ والمراد تنزیھا ویطلق علی الحرام وخلاف الاولی مما لاصیغۃ فیہ والا فالتنزیھیۃ مرجعہا الیہ ۔
اس طرح کہ تحریر الاصول مقالہ دوم کے با ب اول مسألہ اطلاق الماموربہ علی المندوب کے تحت لکھا : مکروہ اصطلاح میں حقیقۃ منہی ہے اور لغت میں مجازا۔ ۔ ۔ اورمکروہ سے مراد تنزیہی ہے اور اس کا اطلاق حرام پر بھی ہوتاہے اور اس خلاف اولی پربھی جس سے متعلق صیغہ نہی وارد نہیں ورنہ کراہت تنزیہ کامرجع وہی ہے (جس میں صیغہ نہی وارد ہو)۔ (ت)
جس حلیہ فـــــ۱ میں یہ فرمایا کہ : علی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ (اسراف کو خلاف ادب ٹھہرانے والے قول پر اصراف مکروہ نہ ہوگا (ت)اسی کے صدر میں ہے
المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان
مکروہ تنزیہی کا مرجع خلاف اولی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ (ت)
جس غنیہ فـــــ۲ کے اوقات میں باتباع فتح تصریح فرمائی کہ التنزیھیۃ مقابلۃ المندوب (کراہت تنزیہیہ بمقابلہ مندوب ہے۔ ت)اسی کے مکروہات صلوۃ میں فرمایا :
الفعل ان تضمن ترك واجب فھو مکروہ کراھۃ تحریم وان تضمن ترك سنۃ فھو مکروہ
فعل اگر ترك واجب پرمشتمل ہوتو مکروہ تحریمی ہے اور ترك سنت پر مشتمل ہوتومکروہ تنزیہی لیکن
فـــ۱ : تطفل علی الحلیۃ فـــ۲ : تطفل علی الغنیۃ ۔
حوالہ / References
التحریر فی الاصول الفقہ المقا لۃ الثا نیۃ البا ب الاول مصطفی البابی مصر ص۲۵۷۔ ۲۵۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الشرط الخامس سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۳۶
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الشرط الخامس سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۳۶
کراھۃ تنزیہ ولکن تتفاوت فی الشدۃ والقرب من التحریمیۃ بحسب تاکد السنۃ ۔
یہ شدت اورمکروہ تحریمی سے قرب کے معاملہ میں سنت کے تاکید پانے کے لحاظ سے تفاوت رکھتاہے۔ (ت)
نیز صدر کتاب میں فرمایا :
(اعلم ان للصلاۃ سننا) وترکھا یوجب کراھۃ تنزیہ (وادبا) جمع ادب ولا باس بترکہ ولا کراھۃ (وکراھیۃ) والمراد بھا ما یتضمن ترك سنۃ وھو کراھۃ تنزیہ اوترك واجب وھو کراھۃ التحریم ۔
(واضح ہوکہ نماز کی کچھ سنتیں ہیں ) اور ان کا ترك کراہت تنزیہ کا موجب ہے(اورکچھ آداب ہیں ) یہ ادب کی جمع ہے اوراس کے ترك میں کوئی حرج اورکراہت نہیں (اور کچھ مکروہات ہیں )ان سے مرادوہ جو ترك سنت پرمشتمل ہویہ مکروہ تنزیہی ہے یا وہ جو ترك واجب پر مشتمل ہویہ مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
جس بحر فــــ کے اوقات(نماز ) میں تھا التنزیہ فی رتبۃ المندوب (کراہت تنزیہی مندوب کے مقابل مرتبہ میں ہے۔ ت)اسی کے باب العیدین میں فرمایا :
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابدلھا من دلیل خاص فلذا کان المختار عدم کراھۃ الا کل قبل الصلاۃ اھ ای صلاۃ الاضحی۔
ترك مستحب سے کراہت لازم نہیں اس لئے کہ کراہت کے لئے دلیل خاص ضروری ہے۔ اسی لئے مختاریہ ہے کہ نمازعید قرباں سے پہلے کھالینا مکروہ نہیں ۔ (ت)
اور دربارہ عـــــہ ترك اسراف ان کا کلام گزرا اسی کے مکروہات نماز میں ایسی ہی تصریح فرما کر پھر
فــــــ : تطفل علی البحر۔
عــــہ : نیز ثانیا میں ان کا کلام آتا ہے کہ امام زیلعی نے لطم وجہ کو مکروہ لکھا تو اس کا ترك سنت ہوگا نہ کہ مستحب ۱۲ منہ غفرلہ۔
یہ شدت اورمکروہ تحریمی سے قرب کے معاملہ میں سنت کے تاکید پانے کے لحاظ سے تفاوت رکھتاہے۔ (ت)
نیز صدر کتاب میں فرمایا :
(اعلم ان للصلاۃ سننا) وترکھا یوجب کراھۃ تنزیہ (وادبا) جمع ادب ولا باس بترکہ ولا کراھۃ (وکراھیۃ) والمراد بھا ما یتضمن ترك سنۃ وھو کراھۃ تنزیہ اوترك واجب وھو کراھۃ التحریم ۔
(واضح ہوکہ نماز کی کچھ سنتیں ہیں ) اور ان کا ترك کراہت تنزیہ کا موجب ہے(اورکچھ آداب ہیں ) یہ ادب کی جمع ہے اوراس کے ترك میں کوئی حرج اورکراہت نہیں (اور کچھ مکروہات ہیں )ان سے مرادوہ جو ترك سنت پرمشتمل ہویہ مکروہ تنزیہی ہے یا وہ جو ترك واجب پر مشتمل ہویہ مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
جس بحر فــــ کے اوقات(نماز ) میں تھا التنزیہ فی رتبۃ المندوب (کراہت تنزیہی مندوب کے مقابل مرتبہ میں ہے۔ ت)اسی کے باب العیدین میں فرمایا :
لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابدلھا من دلیل خاص فلذا کان المختار عدم کراھۃ الا کل قبل الصلاۃ اھ ای صلاۃ الاضحی۔
ترك مستحب سے کراہت لازم نہیں اس لئے کہ کراہت کے لئے دلیل خاص ضروری ہے۔ اسی لئے مختاریہ ہے کہ نمازعید قرباں سے پہلے کھالینا مکروہ نہیں ۔ (ت)
اور دربارہ عـــــہ ترك اسراف ان کا کلام گزرا اسی کے مکروہات نماز میں ایسی ہی تصریح فرما کر پھر
فــــــ : تطفل علی البحر۔
عــــہ : نیز ثانیا میں ان کا کلام آتا ہے کہ امام زیلعی نے لطم وجہ کو مکروہ لکھا تو اس کا ترك سنت ہوگا نہ کہ مستحب ۱۲ منہ غفرلہ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل مکروہا ت الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۵
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مقدمۃ الکتاب1سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۹
البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب العیدین ، ایچ ایم سعید کمپنی ۲ / ۱۶۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مقدمۃ الکتاب1سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۹
البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب العیدین ، ایچ ایم سعید کمپنی ۲ / ۱۶۳
خود اس پر اشکال وارد کردیا کہ ہر مستحب خلاف اولی ہے اور یہی کراہت تنزیہ کا حاصل۔
حیث قال السنۃ ان کانت غیر مؤکدۃ فترکہا مکروہ تنزیھا وان کان الشیئ مستحبا او مندوبا ولیس بسنۃ فینبغی ان لایکون ترکہ مکروھا اصلا کما صرحوا بہ انہ یستحب یوم الاضحی ان لایاکل قالوا ولو اکل فلیس بمکروہ فلم یلزم من ترك المستحب ثبوت کراھتہ الا انہ یشکل علیہ ماقالوہ ان المکروہ تنزیھا خلاف الاولی ولا شك ان ترك المستحب خلاف الاولی اھ
اما العلامۃ الشامی فاضطراب اقوالہ ھھنا اکثروا وفرففی مستحبات فـــــ الوضوء نقل مسألۃ الاکل یوم الاضحی واستظھر ان ترك المستحب لا یکرہ حیث قال “ اقول وھذا ھو الظاھر ان النوافل فعلہا اولی ولا یقال ترکہا مکروہ اھ
ثم بعد صفحۃ رجع وقال قدمنا ان ترك المندوب
ان کے الفاظ یہ ہیں : سنت اگرغیر مؤکدہ ہوتواس کا ترك مکروہ تنزیہی ہے اور کوئی شی مستحب یامندوب ہے اورسنت نہیں ہے تواس کا ترك مکروہ بالکل نہ ہوناچاہئے جیسے علماء نے تصریح فرمائی کہ عیدا ضحی کے دن نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر کھالیاتومکروہ نہیں تو ترك مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہ ہوامگر اس پر اشکال علماء کے اس قول سے پڑتا ہے کہ مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے اور اس میں شك نہیں کہ ترك مستحب خلاف اولی ہے اھ۔
لیکن علامہ شامی توان کے اقوال کا اضطراب یہاں بہت بڑھا ہوا ہے مستحبات وضومیں روزاضحی کھانے کامسئلہ نقل کیا اور ترك مستحب کے مکروہ نہ ہونے کوظاہر کہاعبارت یہ ہے : میں کہتاہوں یہی ظاہر ہے اس لئے کہ نوافل کی ادائیگی اولی ہے او ریہ نہیں کہاجاسکتا کہ ان کا ترك مکروہ ہے اھ۔
پھر ایك صفحہ کے بعدرجوع کیااورکہا : ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ
فـــــ : معروضۃ علی العلا مۃ ش۔
حیث قال السنۃ ان کانت غیر مؤکدۃ فترکہا مکروہ تنزیھا وان کان الشیئ مستحبا او مندوبا ولیس بسنۃ فینبغی ان لایکون ترکہ مکروھا اصلا کما صرحوا بہ انہ یستحب یوم الاضحی ان لایاکل قالوا ولو اکل فلیس بمکروہ فلم یلزم من ترك المستحب ثبوت کراھتہ الا انہ یشکل علیہ ماقالوہ ان المکروہ تنزیھا خلاف الاولی ولا شك ان ترك المستحب خلاف الاولی اھ
اما العلامۃ الشامی فاضطراب اقوالہ ھھنا اکثروا وفرففی مستحبات فـــــ الوضوء نقل مسألۃ الاکل یوم الاضحی واستظھر ان ترك المستحب لا یکرہ حیث قال “ اقول وھذا ھو الظاھر ان النوافل فعلہا اولی ولا یقال ترکہا مکروہ اھ
ثم بعد صفحۃ رجع وقال قدمنا ان ترك المندوب
ان کے الفاظ یہ ہیں : سنت اگرغیر مؤکدہ ہوتواس کا ترك مکروہ تنزیہی ہے اور کوئی شی مستحب یامندوب ہے اورسنت نہیں ہے تواس کا ترك مکروہ بالکل نہ ہوناچاہئے جیسے علماء نے تصریح فرمائی کہ عیدا ضحی کے دن نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر کھالیاتومکروہ نہیں تو ترك مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہ ہوامگر اس پر اشکال علماء کے اس قول سے پڑتا ہے کہ مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے اور اس میں شك نہیں کہ ترك مستحب خلاف اولی ہے اھ۔
لیکن علامہ شامی توان کے اقوال کا اضطراب یہاں بہت بڑھا ہوا ہے مستحبات وضومیں روزاضحی کھانے کامسئلہ نقل کیا اور ترك مستحب کے مکروہ نہ ہونے کوظاہر کہاعبارت یہ ہے : میں کہتاہوں یہی ظاہر ہے اس لئے کہ نوافل کی ادائیگی اولی ہے او ریہ نہیں کہاجاسکتا کہ ان کا ترك مکروہ ہے اھ۔
پھر ایك صفحہ کے بعدرجوع کیااورکہا : ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ
فـــــ : معروضۃ علی العلا مۃ ش۔
حوالہ / References
البحرالرائق ، کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۲
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۴
مکروہ تنزیھا اھ وقال فی مکروھات الوضو فـــــ۱ المکروہ تنزیھا یرادف خلاف الاولی اھ ورجع آخر مکروھات الصلاۃ فقال الظاھر ان خلاف الاولی اعم فقد لایکون مکروھا حیث لادلیل خاص کترك صلاۃ الضحی اھ وقال فی صدرھا فــــــ۲ قلت ویعرف ایضا بلا دلیل نھی خاص بان تضمن ترك واجب اوسنۃ فالاول مکروہ تحریما والثانی تنزیھا اھ ورجع فی اخرھا فقال بعد ما مرو بہ یظھر ان کون ترك المستحب راجعا الی خلاف الاولی لایلزم منہ ان یکون مکروھا الا بنھی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل اھ
ترك مندوب مکروہ تنزیہی ہے اھ۔ مکروہات وضو میں کہا : مکروہ تنزیہی خلاف اولی کا مرادف ہے اور مکروہات نماز کے آخر میں رجوع کرکے کہا : ظاہر یہ ہے کہ خلاف اولی اعم ہے بعض اوقات یہ مکروہ نہیں ہوتا یہ ایسی جگہ جہاں کوئی دلیل خاص نہ ہوجیسے نماز چاشت کا ترك اھ۔ مکروہات نماز کے شروع میں کہا : میں کہتا ہوں اس کی معرفت نہی خاص کی دلیل کے بغیر بھی ہوتی ہے اس طرح کہ کسی واجب یا سنت کے ترك پر مشتمل ہو ۔ اول مکروہ تحریمی ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی اھ۔ اور مکروہات نمازکے آخرمیں رجوع کیا اس طرح کہ مذکورہ بالاعبارت کے بعدکہا : اوراسی سے ظاہر ہوتاہے کہ ترك مستحب خلاف اولی کی طرف راجع ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں مگر یہ کہ خاص نہی ہواس لئے کہ کراہت ایك حکم شرعی ہے تو اس کے لئے کوئی دلیل ضروری ہے۔ اھ۔
فــــ۱ : معروضۃ اخری علیہ ۔ فـــــ۲ : معروضۃ ثالث علیہ۔
ترك مندوب مکروہ تنزیہی ہے اھ۔ مکروہات وضو میں کہا : مکروہ تنزیہی خلاف اولی کا مرادف ہے اور مکروہات نماز کے آخر میں رجوع کرکے کہا : ظاہر یہ ہے کہ خلاف اولی اعم ہے بعض اوقات یہ مکروہ نہیں ہوتا یہ ایسی جگہ جہاں کوئی دلیل خاص نہ ہوجیسے نماز چاشت کا ترك اھ۔ مکروہات نماز کے شروع میں کہا : میں کہتا ہوں اس کی معرفت نہی خاص کی دلیل کے بغیر بھی ہوتی ہے اس طرح کہ کسی واجب یا سنت کے ترك پر مشتمل ہو ۔ اول مکروہ تحریمی ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی اھ۔ اور مکروہات نمازکے آخرمیں رجوع کیا اس طرح کہ مذکورہ بالاعبارت کے بعدکہا : اوراسی سے ظاہر ہوتاہے کہ ترك مستحب خلاف اولی کی طرف راجع ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں مگر یہ کہ خاص نہی ہواس لئے کہ کراہت ایك حکم شرعی ہے تو اس کے لئے کوئی دلیل ضروری ہے۔ اھ۔
فــــ۱ : معروضۃ اخری علیہ ۔ فـــــ۲ : معروضۃ ثالث علیہ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۵
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۹
ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۳۹
ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۲۹
ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۳۹
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۹
ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۳۹
ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۲۹
ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۳۹
ثم بعد فـــــ۱ ورقۃ رجع عن ھذا الرجوع فقال فی مسألۃ استقبال النیرین فی الخلاء الظاھر ان الکراھۃ فیہ تنزیہیۃ مالم یرد نھی خاص اھ
وقال فی فــــ۲ المنحۃ عند قول البحر قد صرحوا بان التفات فــــ۳ البصر یمنۃ ویسرۃ من غیر تحویل الوجہ اصلا غیر مکروہ مطلقا والاولی ترکہ لغیر حاجۃ مانصہ ای فیکون مکروھا تنزیھا کما ھو مرجع خلاف الاولی کما مر عـــــہ۱
و بہ صرح فی النھر وفی الزیلعی وشرح الملتقی للباقانی انہ مباح لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یلاحظ اصحابہ فی صلاتہ بموق عینیہ ولعل المراد عند عدم الحاجۃ عـــــہ۲فلا ینافی
ھر ایك ورق کے بعد بیت الخلا میں سورج اور چاندکے رخ پر ہونے کے مسئلہ میں اس سے رجوع کیا اورکہا : ظاہر یہ ہے کہ کراہت اس میں تنزیہی ہے جب تك کہ کوئی خاص نہی وارد نہ ہواھ۔ بحر کی عبارت ہے : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ذرا بھی چہرہ پھیرے بغیر نگاہ سے دائیں بائیں التفات مطلقا مکروہ نہیں اوراولی یہ ہے کہ کوئی حاجت نہ ہو تواس سے بازر ہے۔ اس پر منحۃ الخالق میں لکھا : یعنی ایسی صورت میں یہ مکروہ تنزیہی ہو گا جیسا کہ یہ خلاف اولی کا مآل ہے ۔ جیساکہ
گزرا۔ اور نہر میں بھی اسی کی تصریح کی ہے۔ زیلعی میں اور باقانی کی شر ح ملتقی میں ہے کہ یہ مباح ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے اصحاب کو نماز میں گوشہ چشم سے ملاحظہ کیاکرتے تھے۔ اور شاید مراد عدم حاجت کی حالت ہے تو یہ اس کے
فـــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔ فــــــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فــــــ۳ مسئلہ : نماز میں اگر کن انکھیوں سے بے گردن پھیرے ادھر ادھر دیکھے تو مکروہ نہیں ہاں بے حاجت ہوتو خلاف اولی ہے ۔
عــــــہ۱ : ای فی البحر صدر المکروہات ان المکروہ تنزیہا ومرجعہ الی ما ترکہ اولی اھ منہ
عــــــہ۲ اقول : لعل لفظۃ عدم وقعت زائدہ من قلم الناسخ فالصواب عدم العدم اھ منہ (م)
عــــہ۱ یعنی بحر کے اندرمکروہات نماز کے شروع میں گزرا کہ مکروہ تنزیہی کا مرجع ترك اولی ہے ۱۲منہ (ت)
عـــــہ۲ اقول : شاید لفظ “ عدم “ کاتب کے قلم سے سہوازائد ہوگیا ہے کیونکہ صحیح عدم عدم ہے(یعنی یہ کہ مراد وقت حاجت ہے ) ۱۲ منہ ۔ (ت)
وقال فی فــــ۲ المنحۃ عند قول البحر قد صرحوا بان التفات فــــ۳ البصر یمنۃ ویسرۃ من غیر تحویل الوجہ اصلا غیر مکروہ مطلقا والاولی ترکہ لغیر حاجۃ مانصہ ای فیکون مکروھا تنزیھا کما ھو مرجع خلاف الاولی کما مر عـــــہ۱
و بہ صرح فی النھر وفی الزیلعی وشرح الملتقی للباقانی انہ مباح لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یلاحظ اصحابہ فی صلاتہ بموق عینیہ ولعل المراد عند عدم الحاجۃ عـــــہ۲فلا ینافی
ھر ایك ورق کے بعد بیت الخلا میں سورج اور چاندکے رخ پر ہونے کے مسئلہ میں اس سے رجوع کیا اورکہا : ظاہر یہ ہے کہ کراہت اس میں تنزیہی ہے جب تك کہ کوئی خاص نہی وارد نہ ہواھ۔ بحر کی عبارت ہے : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ذرا بھی چہرہ پھیرے بغیر نگاہ سے دائیں بائیں التفات مطلقا مکروہ نہیں اوراولی یہ ہے کہ کوئی حاجت نہ ہو تواس سے بازر ہے۔ اس پر منحۃ الخالق میں لکھا : یعنی ایسی صورت میں یہ مکروہ تنزیہی ہو گا جیسا کہ یہ خلاف اولی کا مآل ہے ۔ جیساکہ
گزرا۔ اور نہر میں بھی اسی کی تصریح کی ہے۔ زیلعی میں اور باقانی کی شر ح ملتقی میں ہے کہ یہ مباح ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے اصحاب کو نماز میں گوشہ چشم سے ملاحظہ کیاکرتے تھے۔ اور شاید مراد عدم حاجت کی حالت ہے تو یہ اس کے
فـــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔ فــــــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فــــــ۳ مسئلہ : نماز میں اگر کن انکھیوں سے بے گردن پھیرے ادھر ادھر دیکھے تو مکروہ نہیں ہاں بے حاجت ہوتو خلاف اولی ہے ۔
عــــــہ۱ : ای فی البحر صدر المکروہات ان المکروہ تنزیہا ومرجعہ الی ما ترکہ اولی اھ منہ
عــــــہ۲ اقول : لعل لفظۃ عدم وقعت زائدہ من قلم الناسخ فالصواب عدم العدم اھ منہ (م)
عــــہ۱ یعنی بحر کے اندرمکروہات نماز کے شروع میں گزرا کہ مکروہ تنزیہی کا مرجع ترك اولی ہے ۱۲منہ (ت)
عـــــہ۲ اقول : شاید لفظ “ عدم “ کاتب کے قلم سے سہوازائد ہوگیا ہے کیونکہ صحیح عدم عدم ہے(یعنی یہ کہ مراد وقت حاجت ہے ) ۱۲ منہ ۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب الصلوٰہ ،1با ب یفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۴۰
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹
ماھنا اھ
ثم رجع عما قریب فقال خلاف الاولی اعم من امکروہ تنزیھا دائما بل قد یکون مکروھا ان وجد دلیل الکراھۃ والافلا اھ
اقول : ومن العجب فـــــ۱ ان البحر کان صرح فی الالتفات بنفی الکراھۃ مطلقا وان الاولی ترکہ لغیر حاجۃ فکان نصافی نفی الکراھۃ رأسا مع کونہ ترك الاولی فی بعض الصور ففسرہ بضدہ اعنی اثبات الکراھۃ لکونہ ترك الاولی مع نقلہ عن الزیلعی والباقانی انہ مباح وظاھرہ الاباحۃ الخالصۃ بدلیل الاستدلال بالحدیث فلم یتذکر ھناك ان خلاف الاولی لایستلزم الکراھۃ مالم یرد نھی۔
منافی نہیں جویہاں ہے اھ۔ پھرکچھ ہی آگے جاکر اس سے رجوع کرکے کہا : خلاف اولی مکروہ تنزیہی سے اعم ہے اور ترك مستحب ہمیشہ خلاف اولی ہوتا ہے ہمیشہ مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا بلکہ کبھی مکروہ ہوتا ہے اگردلیل کراہت موجود ہوورنہ نہیں ۔
اقول : اور تعجب یہ ہے کہ بحر نے تصریح کی تھی کہ التفات میں کوئی بھی کراہت نہیں اوراولی یہ ہے کہ حاجت نہ ہوتواسے ترك کرے یہ اس بارے میں نص تھا کہ ذرا بھی کراہت نہیں باوجودیکہ یہ بعض صورتوں میں ترك اولی ہے۔ علامہ شامی نے اس کی تفسیر اس کی ضد سے کی یعنی چوں کہ یہ ترك اولی ہے اس لئے مکروہ ہے باوجودیکہ زیلعی اور باقانی سے اس کامباح ہونا بھی نقل کیاہے اوراس کا ظاہر یہ ہے کہ مباح خالص ہے جس کی دلیل حدیث سے استدلال ہے توانہیں وہاں یہ یاد نہ رہا کہ خلاف اولی کراہت کو مستلزم نہیں جب تك کوئی نہی واردنہ ہو۔
بااینہمہ اس میں شك نہیں کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق کی تصریحات اسی طرف ہیں کہ ترك مستحب بھی مکروہ تنزیہی ہےتو ان کا فـــــ۲ آداب میں گننا نفی کراہت تزیہہ پر کیونکر دلیل ہو خصوصا اسی بحث کے آخر میں وہ صاف صاف کراہت اسراف کی تصریح بھی فرماچکے۔
حیث قال یکرہ الزیادۃ علی ثلث
ان کے الفاظ یہ ہیں : اعضاء کو تین بار سے
فـــــ۱ : معرو ضۃ سادسۃ علیہ ۔ فـــــ۲ : تطفل علی البحر ۔
ثم رجع عما قریب فقال خلاف الاولی اعم من امکروہ تنزیھا دائما بل قد یکون مکروھا ان وجد دلیل الکراھۃ والافلا اھ
اقول : ومن العجب فـــــ۱ ان البحر کان صرح فی الالتفات بنفی الکراھۃ مطلقا وان الاولی ترکہ لغیر حاجۃ فکان نصافی نفی الکراھۃ رأسا مع کونہ ترك الاولی فی بعض الصور ففسرہ بضدہ اعنی اثبات الکراھۃ لکونہ ترك الاولی مع نقلہ عن الزیلعی والباقانی انہ مباح وظاھرہ الاباحۃ الخالصۃ بدلیل الاستدلال بالحدیث فلم یتذکر ھناك ان خلاف الاولی لایستلزم الکراھۃ مالم یرد نھی۔
منافی نہیں جویہاں ہے اھ۔ پھرکچھ ہی آگے جاکر اس سے رجوع کرکے کہا : خلاف اولی مکروہ تنزیہی سے اعم ہے اور ترك مستحب ہمیشہ خلاف اولی ہوتا ہے ہمیشہ مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا بلکہ کبھی مکروہ ہوتا ہے اگردلیل کراہت موجود ہوورنہ نہیں ۔
اقول : اور تعجب یہ ہے کہ بحر نے تصریح کی تھی کہ التفات میں کوئی بھی کراہت نہیں اوراولی یہ ہے کہ حاجت نہ ہوتواسے ترك کرے یہ اس بارے میں نص تھا کہ ذرا بھی کراہت نہیں باوجودیکہ یہ بعض صورتوں میں ترك اولی ہے۔ علامہ شامی نے اس کی تفسیر اس کی ضد سے کی یعنی چوں کہ یہ ترك اولی ہے اس لئے مکروہ ہے باوجودیکہ زیلعی اور باقانی سے اس کامباح ہونا بھی نقل کیاہے اوراس کا ظاہر یہ ہے کہ مباح خالص ہے جس کی دلیل حدیث سے استدلال ہے توانہیں وہاں یہ یاد نہ رہا کہ خلاف اولی کراہت کو مستلزم نہیں جب تك کوئی نہی واردنہ ہو۔
بااینہمہ اس میں شك نہیں کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق کی تصریحات اسی طرف ہیں کہ ترك مستحب بھی مکروہ تنزیہی ہےتو ان کا فـــــ۲ آداب میں گننا نفی کراہت تزیہہ پر کیونکر دلیل ہو خصوصا اسی بحث کے آخر میں وہ صاف صاف کراہت اسراف کی تصریح بھی فرماچکے۔
حیث قال یکرہ الزیادۃ علی ثلث
ان کے الفاظ یہ ہیں : اعضاء کو تین بار سے
فـــــ۱ : معرو ضۃ سادسۃ علیہ ۔ فـــــ۲ : تطفل علی البحر ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۱
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۲
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۲
فی غسل الاعضاء ا ھ
زیادہ دھونا مکروہ ہے اھ۔ (ت)
ثانیا اقول : اور خود علامہ صاحب بحر نے بھی اسے ان سے نقل فرمایا تو اس حمل پر باعث کیا رہا۔ اس سے قطع نظر بھی ہو تو محقق نے انہیں آداب میں یہ افعال بھی شمار فرمائے
نزع خاتم علیہ اسمہ تعالی واسم نبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حال الاستنجاء وتعاھد ما تحت الخاتم وان لایلطم وجہہ بالماء والدلك خصوصا فی الشتاء وتجاوز حدود الوجہ والیدین والرجلین لیستیقن غسلہما ۔
استنجاء کے وقت اس انگوٹھی کو اتارلینا جس پر باری تعالی کا یا اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکانام ہو۔ اورانگشتری کے نیچے والے حصہ بدن دھونے میں خاص خیال رکھنا۔ چہرے پر پانی کا تھپیڑا نہ مارنا۔ اعضاء کو ملنا خصوصا جاڑے میں ۔ چہرے ہاتھوں اور پیروں کی حدوں سے زیادہ پانی پہنچانا تاکہ ان حدوں کے دھل جانے کا یقین ہوجائے۔ (ت)
اور شك فـــــ۱ نہیں کہ وقت استنجاء اس انگشتری کا جس پر الله عزوجل یا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك یا کوئی متبرك لفظ ہو اتار لینا صرف مستحب ہی نہیں قطعا سنت اور اس کا ترك ضرور مکروہ بلکہ اسأت ہے بلکہ مطلقا فـــــ۲کچھ لکھا ہو حروف ہی کا ادب چاہئے بلکہ فـــــ۳ ایسی انگوٹھی پہن کر بیت الخلا میں جانا ہی مکروہ ہے ولہذا فـــــ۴تعویذ لے جانے کی اجازت اس وقت ہوئی کہ خلاف مثلا موم جامہ میں ہو اور پھر بھی فرمایا کہ اب بھی بچنا ہی اولی ہے اگرچہ غلاف ہونے سے کراہت نہ رہی۔
فـــــ۱ : مسئلہ : جس انگشتری پر کوئی متبرك نا م لکھا ہوو قت استنجا ء اس کا اتار لینا بہت ضرور ہے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : مطلقا حروف کی تعظیم چاہیے کچھ لکھا ہو ۔
فـــــ۳ : مسئلہ : جس انگشتری پر کچھ لکھا ہواسے پہن کر بیت الخلا میں جانا مکروہ ہے ۔
فـــــ۴ : مسئلہ : تعویذ اگر غلاف میں ہو تو اسے پہن کربیت الخلا میں جانا مکروہ نہیں پھر بھی اس سے بچنا افضل ہے ۔
زیادہ دھونا مکروہ ہے اھ۔ (ت)
ثانیا اقول : اور خود علامہ صاحب بحر نے بھی اسے ان سے نقل فرمایا تو اس حمل پر باعث کیا رہا۔ اس سے قطع نظر بھی ہو تو محقق نے انہیں آداب میں یہ افعال بھی شمار فرمائے
نزع خاتم علیہ اسمہ تعالی واسم نبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حال الاستنجاء وتعاھد ما تحت الخاتم وان لایلطم وجہہ بالماء والدلك خصوصا فی الشتاء وتجاوز حدود الوجہ والیدین والرجلین لیستیقن غسلہما ۔
استنجاء کے وقت اس انگوٹھی کو اتارلینا جس پر باری تعالی کا یا اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکانام ہو۔ اورانگشتری کے نیچے والے حصہ بدن دھونے میں خاص خیال رکھنا۔ چہرے پر پانی کا تھپیڑا نہ مارنا۔ اعضاء کو ملنا خصوصا جاڑے میں ۔ چہرے ہاتھوں اور پیروں کی حدوں سے زیادہ پانی پہنچانا تاکہ ان حدوں کے دھل جانے کا یقین ہوجائے۔ (ت)
اور شك فـــــ۱ نہیں کہ وقت استنجاء اس انگشتری کا جس پر الله عزوجل یا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا نام پاك یا کوئی متبرك لفظ ہو اتار لینا صرف مستحب ہی نہیں قطعا سنت اور اس کا ترك ضرور مکروہ بلکہ اسأت ہے بلکہ مطلقا فـــــ۲کچھ لکھا ہو حروف ہی کا ادب چاہئے بلکہ فـــــ۳ ایسی انگوٹھی پہن کر بیت الخلا میں جانا ہی مکروہ ہے ولہذا فـــــ۴تعویذ لے جانے کی اجازت اس وقت ہوئی کہ خلاف مثلا موم جامہ میں ہو اور پھر بھی فرمایا کہ اب بھی بچنا ہی اولی ہے اگرچہ غلاف ہونے سے کراہت نہ رہی۔
فـــــ۱ : مسئلہ : جس انگشتری پر کوئی متبرك نا م لکھا ہوو قت استنجا ء اس کا اتار لینا بہت ضرور ہے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : مطلقا حروف کی تعظیم چاہیے کچھ لکھا ہو ۔
فـــــ۳ : مسئلہ : جس انگشتری پر کچھ لکھا ہواسے پہن کر بیت الخلا میں جانا مکروہ ہے ۔
فـــــ۴ : مسئلہ : تعویذ اگر غلاف میں ہو تو اسے پہن کربیت الخلا میں جانا مکروہ نہیں پھر بھی اس سے بچنا افضل ہے ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۳۲
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۳۲
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۳۲
ردالمحتار میں ہے :
نقلوا فــــ عندنا ان للحروف حرمۃ ولو مقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قران نزل علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام الخ
منقول ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی بھی عزت ہے اگرچہ الگ الگ کلمے ہوں ۔ اوربعض قرأ نے ذکرکیا کہ حروف تہجی وہ قرآن ہیں جس کا نزول حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوا الخ۔ (ت)
اسی میں عارف بالله سیدی عبدالغنی قدس سرہ القدسی سے ہے :
حروف الھجاء قران انزلت علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام کما صرح بذلك الامام القسطلانی فی کتابہ الاشارات فی علم القراء ات ۔
حروف تہجی قرآن ہیں یہ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئے جیسا کہ امام قسطلانی نے اپنی کتاب “ الاشارات فی القرأ ت “ میں اس کی تصریح کی ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
یکرہ ان یدخل الخلاء ومعہ خاتم مکتوب علیہ اسم الله تعالی اوشیئ من القران ۔
خلا میں ایسی انگوٹھی لے کر جانا مکروہ ہے جس پر الله تعالی کانا م یا قرآن سے کچھ لکھا ہو اہو۔ (ت)
در مختار میں ہے :
رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل ۔
ایسا تعویذ خلاء میں لے کر جانا مکروہ نہیں جوالگ غلاف میں ہو اور بچنا افضل ہے۔ ت
فــــ : حروف ہجا ایك قرآن ہے کہ سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر اترا ۔
نقلوا فــــ عندنا ان للحروف حرمۃ ولو مقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قران نزل علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام الخ
منقول ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی بھی عزت ہے اگرچہ الگ الگ کلمے ہوں ۔ اوربعض قرأ نے ذکرکیا کہ حروف تہجی وہ قرآن ہیں جس کا نزول حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوا الخ۔ (ت)
اسی میں عارف بالله سیدی عبدالغنی قدس سرہ القدسی سے ہے :
حروف الھجاء قران انزلت علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام کما صرح بذلك الامام القسطلانی فی کتابہ الاشارات فی علم القراء ات ۔
حروف تہجی قرآن ہیں یہ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئے جیسا کہ امام قسطلانی نے اپنی کتاب “ الاشارات فی القرأ ت “ میں اس کی تصریح کی ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
یکرہ ان یدخل الخلاء ومعہ خاتم مکتوب علیہ اسم الله تعالی اوشیئ من القران ۔
خلا میں ایسی انگوٹھی لے کر جانا مکروہ ہے جس پر الله تعالی کانا م یا قرآن سے کچھ لکھا ہو اہو۔ (ت)
در مختار میں ہے :
رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل ۔
ایسا تعویذ خلاء میں لے کر جانا مکروہ نہیں جوالگ غلاف میں ہو اور بچنا افضل ہے۔ ت
فــــ : حروف ہجا ایك قرآن ہے کہ سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر اترا ۔
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ،۱ / ۲۲۷
ردالمحتار کتاب الطہارۃ قبیل باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۲۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الانجاس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ قبیل باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۲۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الانجاس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۳
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
یونہی انگشتری فـــ۱ڈھیلی ہو تو اسے جنبش دینی وضو میں سنت ہے اور تنگ ہو کہ بے تحریك پانی نہ پہنچے گا تو فرض۔ خلاصہ میں ہے :
فی مجموع النوازل تحریك الخاتم سنۃ ان کان واسعا وفرض ان کان ضیقا بحیث لم یصل الماء تحتہ ۔
مجموع النوازل میں ہے : انگوٹھی کو حرکت دینا سنت ہے اگرچہ کشادہ ہو اور فرض ہے اگر اتنی تنگ ہوکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے۔ ت
یونہی فـــــ وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ اور اس کا ترك مسنون۔ درمختار میں ہے :
مکروھہ لطم الوجہ اوغیرہ بالماء تنزیھا ۔
چہرے یا کسی اور عضو پر پانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ (ت)
بحر میں ہے :
ان الزیلعی صرح بان لطم الوجہ بالماء مکروہ فیکو ن ترکہ سنۃ لاادبا ۔
اما م زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ چہرے پرپانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ ہے تو اس کا ترك صرف ادب نہیں بلکہ سنت ہوگا ۔ (ت)
یونہی اعضا ء کا ملنا فـــــ۳ بھی مثل غسل سنت وضو بھی ہے۔ درمختار میں ہے :
من السنن الدلك وترك الاسراف وترك لطم الوجہ بالماء ۔
سنتوں سے ہے اعضاء کو ملنا اسراف کا ترك کرنا چہرے پرپانی کا تھپیڑا لگانے کو ترك کرنا ۔ (ت)
فـــــ۱ : مسئلہ : انگوٹھی ڈھیلی ہو تو وضو میں اسے پھرا کر پانی ڈالناسنت ہے اورتنگ ہو کہ بے جنبش دئے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے یہی حکم بالی وغیرہ کا ہے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ ہے بلکہ کسی عضو پر اس زور سے نہ ڈالے کہ چھینٹیں اڑ کر بدن یا کپڑوں پر جائیں ۔
فـــــ۳ : مسئلہ : کا مل مل کر دھونا وضو اور غسل دونوں میں سنت ہے ۔
فی مجموع النوازل تحریك الخاتم سنۃ ان کان واسعا وفرض ان کان ضیقا بحیث لم یصل الماء تحتہ ۔
مجموع النوازل میں ہے : انگوٹھی کو حرکت دینا سنت ہے اگرچہ کشادہ ہو اور فرض ہے اگر اتنی تنگ ہوکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے۔ ت
یونہی فـــــ وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ اور اس کا ترك مسنون۔ درمختار میں ہے :
مکروھہ لطم الوجہ اوغیرہ بالماء تنزیھا ۔
چہرے یا کسی اور عضو پر پانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ (ت)
بحر میں ہے :
ان الزیلعی صرح بان لطم الوجہ بالماء مکروہ فیکو ن ترکہ سنۃ لاادبا ۔
اما م زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ چہرے پرپانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ ہے تو اس کا ترك صرف ادب نہیں بلکہ سنت ہوگا ۔ (ت)
یونہی اعضا ء کا ملنا فـــــ۳ بھی مثل غسل سنت وضو بھی ہے۔ درمختار میں ہے :
من السنن الدلك وترك الاسراف وترك لطم الوجہ بالماء ۔
سنتوں سے ہے اعضاء کو ملنا اسراف کا ترك کرنا چہرے پرپانی کا تھپیڑا لگانے کو ترك کرنا ۔ (ت)
فـــــ۱ : مسئلہ : انگوٹھی ڈھیلی ہو تو وضو میں اسے پھرا کر پانی ڈالناسنت ہے اورتنگ ہو کہ بے جنبش دئے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے یہی حکم بالی وغیرہ کا ہے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ ہے بلکہ کسی عضو پر اس زور سے نہ ڈالے کہ چھینٹیں اڑ کر بدن یا کپڑوں پر جائیں ۔
فـــــ۳ : مسئلہ : کا مل مل کر دھونا وضو اور غسل دونوں میں سنت ہے ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث سنن الوضو مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۳
الدرمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۲
الدرمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۲
خلاصہ فصل وضو جنس آخر صفت وضو میں ہے :
والدلك عندنا سنۃ
اعضاء کو ملنا ہمارے نزدیك سنت ہے۔ (ت)
رہا اعضا ء فــــ۱ میں حدود شرعیہ سے اتنا تجاوز جس سے یقین ہوجائے کہ حدود فرض کا استیعاب ہو لیا۔
اقول : اگر یقین فــــ۲سے یقین فقہی مراد ہو جیسا کہ کتب فقہیہ میں وہی متبادر ہے تو یہ ادب وسنت درکنار خود واجب ولابدی ہے ہاں یقین کلامی مراد ہو تو ادب کہنا عجب نہیں
ھذا وقدنبہ من ھذہ الافعال الاربعۃ علی سنیۃ الاخیرین فی البحر ۔
اقول : والعجب فــــ۳ ترك الاولین مع نقلہ ایاھما ایضا عن الفتح فالسکوت یکون اشد ایھامامما لولم یاثرھما ولا شك ان الثانی مثل الرابع الذی استند فیہ البحر الی ان الخلاصۃ جعلہ سنۃ فکذلك نص فیھا علی سنیۃ الثانی ایضا اما فــــ۴ الاول فاھم الکل واحقہا بالتنبیہ والبحر نفسہ صرح فی الاستنجاء
یہ ذہن نشین رہے ان چار افعال میں سے آخری دو کے مسنون ہونے پر بحر میں تنبیہ کردی ۔ (ت)
اقول : اور تعجب ہے کہ پہلے دونوں کوترك کر دیا حالانکہ ان دونوں کو بھی فتح القدیر سے نقل کیا ہے اس لیے یہاں سکوت اس صورت سے زیادہ ایہام خیز ہے جبکہ ان دونوں کو نقل ہی نہ کیا ہوتااورچہارم (اعضا ء کو ملنا ) سے متعلق تو بحر نے خلاصہ کی سند پیش کی کہ اس میں اسے سنت قرار دیا ہے جبکہ بلاشبہ دوم (انگشتری کوحرکت دینا) بھی اسی کی طرح ہے کہ اس سے متعلق بھی خلاصہ میں مسنون ہونے کی تصریح ہے رہا اول (جس انگشتری
فــــ۱ : اعضاء وضو دھونے میں حدشرعی سے اتنی خفیف تحریر بڑھانا جس سے حد شرعی تك استیعاب میں شبہہ نہ رہے واجب ہے ۔
فــــ ۲ : تطفل ما علی الفتح ۔ فــــ ۳ : تطفل علی البحر۔ فـــــ۴ : تطفل اخر علیہ ۔
والدلك عندنا سنۃ
اعضاء کو ملنا ہمارے نزدیك سنت ہے۔ (ت)
رہا اعضا ء فــــ۱ میں حدود شرعیہ سے اتنا تجاوز جس سے یقین ہوجائے کہ حدود فرض کا استیعاب ہو لیا۔
اقول : اگر یقین فــــ۲سے یقین فقہی مراد ہو جیسا کہ کتب فقہیہ میں وہی متبادر ہے تو یہ ادب وسنت درکنار خود واجب ولابدی ہے ہاں یقین کلامی مراد ہو تو ادب کہنا عجب نہیں
ھذا وقدنبہ من ھذہ الافعال الاربعۃ علی سنیۃ الاخیرین فی البحر ۔
اقول : والعجب فــــ۳ ترك الاولین مع نقلہ ایاھما ایضا عن الفتح فالسکوت یکون اشد ایھامامما لولم یاثرھما ولا شك ان الثانی مثل الرابع الذی استند فیہ البحر الی ان الخلاصۃ جعلہ سنۃ فکذلك نص فیھا علی سنیۃ الثانی ایضا اما فــــ۴ الاول فاھم الکل واحقہا بالتنبیہ والبحر نفسہ صرح فی الاستنجاء
یہ ذہن نشین رہے ان چار افعال میں سے آخری دو کے مسنون ہونے پر بحر میں تنبیہ کردی ۔ (ت)
اقول : اور تعجب ہے کہ پہلے دونوں کوترك کر دیا حالانکہ ان دونوں کو بھی فتح القدیر سے نقل کیا ہے اس لیے یہاں سکوت اس صورت سے زیادہ ایہام خیز ہے جبکہ ان دونوں کو نقل ہی نہ کیا ہوتااورچہارم (اعضا ء کو ملنا ) سے متعلق تو بحر نے خلاصہ کی سند پیش کی کہ اس میں اسے سنت قرار دیا ہے جبکہ بلاشبہ دوم (انگشتری کوحرکت دینا) بھی اسی کی طرح ہے کہ اس سے متعلق بھی خلاصہ میں مسنون ہونے کی تصریح ہے رہا اول (جس انگشتری
فــــ۱ : اعضاء وضو دھونے میں حدشرعی سے اتنی خفیف تحریر بڑھانا جس سے حد شرعی تك استیعاب میں شبہہ نہ رہے واجب ہے ۔
فــــ ۲ : تطفل ما علی الفتح ۔ فــــ ۳ : تطفل علی البحر۔ فـــــ۴ : تطفل اخر علیہ ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارات الفصل الثالث جنس آخرفی سنن الوضو مکتبہ حبیبیہ کو ئٹہ۱ / ۲۲
بما سمعت ولکن جل من لا یغیب عن علمہ شیئ قط۔
پر خدا ورسول کا نام ہو اسے اتار لینا ) تو وہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ مستحق تنبیہ ہے اورخودبحر نے بیان استنجا میں وہ تصریح کی ہے جو پیش ہوئی لیکن بزرگ ہے وہ جس کے علم سے کوئی شے کسی وقت اوجھل نہیں ہوتی ۔ (ت)
یہاں سے واضح ہوا کہ محقق کا اس عبارت میں ترك اسراف (ادب)شمار فرمانا نفی کراہت پر حاکم نہیں ۔
اقول : وکان من فـــــ۱ احسن الاعذار عن المحقق رحمہ الله تعالی انہ تجوز فاطلق الادب علی مایعم السنن لکنہ ھھنا قدمیز السنن من الاداب کما میز فی الخلاصۃ واخذ فـــــ۲ علی الکتاب فی جعلہ التیا من واستیعاب الرأس بالمسح مستحبین وقال بعد اقامۃ الدلیل فالحق عــــہ ان الکل سنۃ ومسح الرقبۃ مستحب اھ ثم قال و من
اقول : محقق کی جانب سے بہتر عذر یہ تھا کہ انہوں نے مجازالفظ ادب کا اطلاق اس پر کیا ہے جو سنتوں کو بھی شامل ہو لیکن انہوں نے یہاں سنتوں کوآداب سے الگ رکھا ہے جیسے خلاصہ میں الگ الگ رکھا ہے اور حضرت محقق نے کتاب (ہدایہ) پر داہنے سے شروع کرنے اور مسح کے پورے سر کے احاطہ کو مستحب قرار دینے پر گرفت کی ہے اوردلیل قائم کرنے کے بعد لکھا ہے : تو حق یہ ہے کہ سب سنت ہے اور گردن کا مسح مستحب ہے ۔ اھ پھر
فـــــ۱ : تطفل علی الفتح۔
فـــــ۲ مسئلہ : وضومیں ہاتھ اور یوں ہی پاوں بائیں سے پہلے داہنا دھونا یعنی سیدھے سے ابتدا کرنا سنت ہے اگر چہ بہت کتب میں اسے مستحب لکھا ۔
عـــــہ : تبعہ علی الاول فی البرھان ثم الشرنبلالی وغیرھما وعلی الثانی من لایحصی اھ منہ
عــــہ : اول پر حضرت محقق کا اتبا ع برہان پھر شرنبلالی وغیرہما میں ہے اور ثانی پر بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اھ منہ (ت)
پر خدا ورسول کا نام ہو اسے اتار لینا ) تو وہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ مستحق تنبیہ ہے اورخودبحر نے بیان استنجا میں وہ تصریح کی ہے جو پیش ہوئی لیکن بزرگ ہے وہ جس کے علم سے کوئی شے کسی وقت اوجھل نہیں ہوتی ۔ (ت)
یہاں سے واضح ہوا کہ محقق کا اس عبارت میں ترك اسراف (ادب)شمار فرمانا نفی کراہت پر حاکم نہیں ۔
اقول : وکان من فـــــ۱ احسن الاعذار عن المحقق رحمہ الله تعالی انہ تجوز فاطلق الادب علی مایعم السنن لکنہ ھھنا قدمیز السنن من الاداب کما میز فی الخلاصۃ واخذ فـــــ۲ علی الکتاب فی جعلہ التیا من واستیعاب الرأس بالمسح مستحبین وقال بعد اقامۃ الدلیل فالحق عــــہ ان الکل سنۃ ومسح الرقبۃ مستحب اھ ثم قال و من
اقول : محقق کی جانب سے بہتر عذر یہ تھا کہ انہوں نے مجازالفظ ادب کا اطلاق اس پر کیا ہے جو سنتوں کو بھی شامل ہو لیکن انہوں نے یہاں سنتوں کوآداب سے الگ رکھا ہے جیسے خلاصہ میں الگ الگ رکھا ہے اور حضرت محقق نے کتاب (ہدایہ) پر داہنے سے شروع کرنے اور مسح کے پورے سر کے احاطہ کو مستحب قرار دینے پر گرفت کی ہے اوردلیل قائم کرنے کے بعد لکھا ہے : تو حق یہ ہے کہ سب سنت ہے اور گردن کا مسح مستحب ہے ۔ اھ پھر
فـــــ۱ : تطفل علی الفتح۔
فـــــ۲ مسئلہ : وضومیں ہاتھ اور یوں ہی پاوں بائیں سے پہلے داہنا دھونا یعنی سیدھے سے ابتدا کرنا سنت ہے اگر چہ بہت کتب میں اسے مستحب لکھا ۔
عـــــہ : تبعہ علی الاول فی البرھان ثم الشرنبلالی وغیرھما وعلی الثانی من لایحصی اھ منہ
عــــہ : اول پر حضرت محقق کا اتبا ع برہان پھر شرنبلالی وغیرہما میں ہے اور ثانی پر بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اھ منہ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۱
النسننفـــــ۱ الترتیب بین المضمضۃ و الاشتنشاق (وعد اشیاء ثم قال)الاداب ترك الاسراف و المقتر الخ فسیا کلامہ رحمہ الله تعالی ینفی العذر المذکور و الله تعالی اعلم۔
لکھا ہے : اور سنتوں میں سےمضمضہ و استنشاق کے درمیان ترتیب ہے اور کچھ دوسری چیزیں شمار کیں پھر لکھا : اداب : ترك اسراف وتقتیر الخ۔ تو حضرت محقق رحمہ الله تعالی کا سیاق عذر مذکور کی نفی کردیتا ہے۔ والله تعالی اعلم(ت)
ثالثا اقو ل : عبارت فـــــ۲بدائع میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امام ملك العلماء رحمہم الله تعالی نے ترك اسراف کو صرف ادب ہی نہ فرمایا بلکہ حق بتایا تو اسراف خلاف حق ہوا باطل ہوا اور اس کاادنی درجہ کراہت فما ذا بعد الحق الا الضلل - (پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ ت) بلکہ اسراف کو غلو کہا اور دین میں غلو ممنوع لا تغلوا فی دینكم (اپنے دین میں زیادتی نہ کرو ۔ ت)
رابعا اقول : ان تمام تا ئیدات فـــــ۳کے بعد بھی نہر و ردالمحتار کا مطلب کہ قو ل سوم اور دوم کی طرف راجع کرنا ہے تمام نہیں ہوتا۔ مانا کہ بدائع وفتح کی عبارات نفی نہ کریں مانا کہ فتح کی رائے میں ترك ادب بھی مکروہ ہو مگرنص امام محمد رضی اللہ تعالی عنہکا کیا جواب ہے جس میں اس کے ادب ہونے کی تصریح فرمائی اور مستحبات محضہ کے ساتھ اس کی گنتی آئی اب اگر تحقیق یہ ہے کہ ترك مندوب مکروہ نہیں تو ضرور کلام امام کہ امام کلام ہے نفی کراہت کا اشعار فرمائے گا اس بارہ میں کلمات علماء کا اختلاف و اضطراب سن چکے۔
وانا اقول وبا لله التوفیق اولا فـــــ۴ حب وکراہت میں میں تناقض نہیں کہ ایك کا رفع دوسرے
مسئلہ : جہاں اور اعضاء میں ترتیب سنت ہے کہ پہلےم نہ دھوئے پھر ہاتھ پھر سرکا مسح پھرکہ پہلے پاؤں دھونا یونہی مضمضہ و استنشاق میں بھی۔ یعنی سنت ہے کہ پہلے کلی کرے اس کے بعد ناك میں پانی ڈالے۔
فـــــ ۲ : تطفل علی الحلیۃ۔
فــــــ۳ : تطفل علی النہر وش۔
فــــــ۴ : فائدہ جلیلہ : دربارہ مکروہ تنزیہی وتحریمی واساء ت وخلاف اولی مصنف کی تحقیق نفیس فوائدکثیرہ پر مشتمل اور واجب و سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ کے فرق احکام ۔
لکھا ہے : اور سنتوں میں سےمضمضہ و استنشاق کے درمیان ترتیب ہے اور کچھ دوسری چیزیں شمار کیں پھر لکھا : اداب : ترك اسراف وتقتیر الخ۔ تو حضرت محقق رحمہ الله تعالی کا سیاق عذر مذکور کی نفی کردیتا ہے۔ والله تعالی اعلم(ت)
ثالثا اقو ل : عبارت فـــــ۲بدائع میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امام ملك العلماء رحمہم الله تعالی نے ترك اسراف کو صرف ادب ہی نہ فرمایا بلکہ حق بتایا تو اسراف خلاف حق ہوا باطل ہوا اور اس کاادنی درجہ کراہت فما ذا بعد الحق الا الضلل - (پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ ت) بلکہ اسراف کو غلو کہا اور دین میں غلو ممنوع لا تغلوا فی دینكم (اپنے دین میں زیادتی نہ کرو ۔ ت)
رابعا اقول : ان تمام تا ئیدات فـــــ۳کے بعد بھی نہر و ردالمحتار کا مطلب کہ قو ل سوم اور دوم کی طرف راجع کرنا ہے تمام نہیں ہوتا۔ مانا کہ بدائع وفتح کی عبارات نفی نہ کریں مانا کہ فتح کی رائے میں ترك ادب بھی مکروہ ہو مگرنص امام محمد رضی اللہ تعالی عنہکا کیا جواب ہے جس میں اس کے ادب ہونے کی تصریح فرمائی اور مستحبات محضہ کے ساتھ اس کی گنتی آئی اب اگر تحقیق یہ ہے کہ ترك مندوب مکروہ نہیں تو ضرور کلام امام کہ امام کلام ہے نفی کراہت کا اشعار فرمائے گا اس بارہ میں کلمات علماء کا اختلاف و اضطراب سن چکے۔
وانا اقول وبا لله التوفیق اولا فـــــ۴ حب وکراہت میں میں تناقض نہیں کہ ایك کا رفع دوسرے
مسئلہ : جہاں اور اعضاء میں ترتیب سنت ہے کہ پہلےم نہ دھوئے پھر ہاتھ پھر سرکا مسح پھرکہ پہلے پاؤں دھونا یونہی مضمضہ و استنشاق میں بھی۔ یعنی سنت ہے کہ پہلے کلی کرے اس کے بعد ناك میں پانی ڈالے۔
فـــــ ۲ : تطفل علی الحلیۃ۔
فــــــ۳ : تطفل علی النہر وش۔
فــــــ۴ : فائدہ جلیلہ : دربارہ مکروہ تنزیہی وتحریمی واساء ت وخلاف اولی مصنف کی تحقیق نفیس فوائدکثیرہ پر مشتمل اور واجب و سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ کے فرق احکام ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۱
القرآن ۱۰ / ۱۳۲
القرآن ۴ / ۱۷۱
القرآن ۱۰ / ۱۳۲
القرآن ۴ / ۱۷۱
کے ثبوت کو مستلزم ہو۔ دیکھومباح سے دونوں مرتفع ہیں تو ترك مستحب مطلقامستلزم کراہت کیوں ہوا ۔
ثانیا اقول : اگر ترك مستحب موجب کراہت ہو تو آدمی جس وقت خالی بیٹھا ہو اور کوئی مطالبہ شرعیہ اس وقت اس پر لازم نہ ہو لازم کہ اس وقت لاکھوں مکروہ کا مرتکب ٹھہرے کہ مندوبات بے شمار ہیں اور وہ اس وقت ان سب کا تارک۔
ثالثا اقو ل : کراہت کا لفظ ہی بتارہاہے کہ وہ مقابل سنت نہ مقابل مندوب جو بندہ ہو کر بلا وجہ وجیہ ایسی چیز کا ارتکاب کرے جسے اس کا مولی مکروہ رکھتا ہے وہ کسی ملامت و سرزنش کا بھی مستحق نہ ہو تو مولی کے نزدیك مکروہ ہونے کا کیا اثر ہوا اور جب فعل پرسرزنش چاہئے تواس کا مرتبہ جانب ترك میں وہی ہوا جو جانب فعل میں سنت کاہے کہ اس کے تر ك پر ملامت ہے نہ کہ مندوب کا جس کے ترك پر کچھ نہیں ظاہر ہے کہ کراہت کچھ ہے کی مقتضی ہے اورترك مستحب پر کچھ نہیں اور کچھ نہیں کچھ ہے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔
رابعا اقول : وبالله التوفیق تحقیق بالغ وتنمیق بازغ یہ ہے کہ فعل مطلوب شرعی کاترك نادراہوگا یا عادۃ اور ہر ایك پر سزاکا استحقاق ہوگا یا سرزنش کا یا کچھ نہیں تو دونوں ترك تین قسم ہوئے ہیں اور تین کو تین میں ضرب دئیے سے نو قسمیں عقلی پیدا ہوئیں ان میں تین بداہۃباطل ہیں : ۱ترك عادی پر کچھ نہ ہو اور نادر پر عذاب یا عتاب۲ سوم۳ترك عادی پر عتاب اور نادر پر عقاب۔ اور دو قسمیں شرعا وجود نہیں رکھتیں ترك عادی پر عقاب یا عتاب اور نادر پر کچھ نہیں کہ شرعا مستحب کے ترك نادر پر کچھ نہیں تو عادی پر بھی کچھ نہیں اور سنت کے ترك عادی پر عتاب ہے تو نادر پر بھی ہے کہ وہ حکم سنت ہے اور حکم شے کو شے سے انفکاك نہیں ۔ اصول امام فخرالاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے :
حکم السنۃ ان یطالب المرء باقامتھا من غیر افتراض ولا وجوب لانھا طریقۃ امرنا باحیائھا فیستحق اللائمۃ بترکہا ۔
سنت کا حکم یہ ہے کہ آدمی سے اسے قائم کرنے کا مطالبہ ہو بغیر اس کے کہ اس پر فرض یا واجب ہو ۔ کیونکہ یہ ایسا طریقہ ہے جسے زندہ کرنے کاہمیں حکم دیا گیا تو اس کے ترك پر ملامت کا مستحق ہوگا ۔ (ت)
ثانیا اقول : اگر ترك مستحب موجب کراہت ہو تو آدمی جس وقت خالی بیٹھا ہو اور کوئی مطالبہ شرعیہ اس وقت اس پر لازم نہ ہو لازم کہ اس وقت لاکھوں مکروہ کا مرتکب ٹھہرے کہ مندوبات بے شمار ہیں اور وہ اس وقت ان سب کا تارک۔
ثالثا اقو ل : کراہت کا لفظ ہی بتارہاہے کہ وہ مقابل سنت نہ مقابل مندوب جو بندہ ہو کر بلا وجہ وجیہ ایسی چیز کا ارتکاب کرے جسے اس کا مولی مکروہ رکھتا ہے وہ کسی ملامت و سرزنش کا بھی مستحق نہ ہو تو مولی کے نزدیك مکروہ ہونے کا کیا اثر ہوا اور جب فعل پرسرزنش چاہئے تواس کا مرتبہ جانب ترك میں وہی ہوا جو جانب فعل میں سنت کاہے کہ اس کے تر ك پر ملامت ہے نہ کہ مندوب کا جس کے ترك پر کچھ نہیں ظاہر ہے کہ کراہت کچھ ہے کی مقتضی ہے اورترك مستحب پر کچھ نہیں اور کچھ نہیں کچھ ہے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔
رابعا اقول : وبالله التوفیق تحقیق بالغ وتنمیق بازغ یہ ہے کہ فعل مطلوب شرعی کاترك نادراہوگا یا عادۃ اور ہر ایك پر سزاکا استحقاق ہوگا یا سرزنش کا یا کچھ نہیں تو دونوں ترك تین قسم ہوئے ہیں اور تین کو تین میں ضرب دئیے سے نو قسمیں عقلی پیدا ہوئیں ان میں تین بداہۃباطل ہیں : ۱ترك عادی پر کچھ نہ ہو اور نادر پر عذاب یا عتاب۲ سوم۳ترك عادی پر عتاب اور نادر پر عقاب۔ اور دو قسمیں شرعا وجود نہیں رکھتیں ترك عادی پر عقاب یا عتاب اور نادر پر کچھ نہیں کہ شرعا مستحب کے ترك نادر پر کچھ نہیں تو عادی پر بھی کچھ نہیں اور سنت کے ترك عادی پر عتاب ہے تو نادر پر بھی ہے کہ وہ حکم سنت ہے اور حکم شے کو شے سے انفکاك نہیں ۔ اصول امام فخرالاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے :
حکم السنۃ ان یطالب المرء باقامتھا من غیر افتراض ولا وجوب لانھا طریقۃ امرنا باحیائھا فیستحق اللائمۃ بترکہا ۔
سنت کا حکم یہ ہے کہ آدمی سے اسے قائم کرنے کا مطالبہ ہو بغیر اس کے کہ اس پر فرض یا واجب ہو ۔ کیونکہ یہ ایسا طریقہ ہے جسے زندہ کرنے کاہمیں حکم دیا گیا تو اس کے ترك پر ملامت کا مستحق ہوگا ۔ (ت)
حوالہ / References
اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ1نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹
لا جرم چار قسمیں رہیں :
(۱) ترك عادی ہونا یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت فرض ورنہ واجب ہے۔
(۲) عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔ یہ سنت مؤکدہ ہے کہ اگر نادر پر بھی عذاب ہو تو اس میں اورواجب میں فرق نہ رہے گا اور عادی پر بھی عتاب ہی ہو تو اس میں اور سنت مؤکدہ میں تفاوت نہ ہوگا حالانکہ وہ ان دونوں میں برزخ ہے۔
(۳) عادی ہو یا نادر مطلقا مورث عتاب ہو۔ یہ سنت زائدہ ہے۔
(۴) مطلقا عذاب وعتاب کچھ نہ ہو۔ یہ مستحب ومندوب وادب ہے۔
پھر ازا نجا کہ فعل وترك میں تقابل ہے بغرض تعادل واجب ہے کہ ایسی ہی چار قسمیں جانب ترك نکلیں یعنی جس کا ترك مطلوب ہے :
(۱) اس کا فعل عادی ہو یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت حرام ورنہ مکروہ تحریمی ہے۔
(۲)فعل عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب یہ اساء ت ہے جس کی نسبت علماء نے تحقیق فرمائی کہ کراہت تنزیہی سے افحش اور تحریمی سے اخف ہے۔
(۳) مطلقا مورث عتاب ہی ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔
(۴) مطلقا کچھ نہ ہو یہ خلاف اولی ہے۔
تنویر : اس تقریر منیر سے چند جلیل فائدے متجلی ہوئے :
(۱) سنت مؤکدہ کا ترك مطلقا گناہ نہیں بلکہ اس کے ترك کی عادت گناہ ہے۔
(۲) اساء ت کے بارے میں اگرچہ کلمات علماء مضطرب ہیں کوئی اسے کراہت سے کم کہتا ہے۔
کما فی الدر صدر سنن الصلاۃ وبہ نص الامام عبدالعزیز فی الکشف وفی التحقیق۔
جیسا کہ درمختار میں سنن نماز کے شروع میں ہے اور امام عبد العزیز بخاری نے کشف میں اور تحقیق میں اسی کی تصریح کی ہے۔ (ت)
کوئی زائد کما فی الشامی عن شرح المنار للزین (جیسا کہ شامی میں محقق زین بن نجیم کی
(۱) ترك عادی ہونا یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت فرض ورنہ واجب ہے۔
(۲) عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔ یہ سنت مؤکدہ ہے کہ اگر نادر پر بھی عذاب ہو تو اس میں اورواجب میں فرق نہ رہے گا اور عادی پر بھی عتاب ہی ہو تو اس میں اور سنت مؤکدہ میں تفاوت نہ ہوگا حالانکہ وہ ان دونوں میں برزخ ہے۔
(۳) عادی ہو یا نادر مطلقا مورث عتاب ہو۔ یہ سنت زائدہ ہے۔
(۴) مطلقا عذاب وعتاب کچھ نہ ہو۔ یہ مستحب ومندوب وادب ہے۔
پھر ازا نجا کہ فعل وترك میں تقابل ہے بغرض تعادل واجب ہے کہ ایسی ہی چار قسمیں جانب ترك نکلیں یعنی جس کا ترك مطلوب ہے :
(۱) اس کا فعل عادی ہو یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت حرام ورنہ مکروہ تحریمی ہے۔
(۲)فعل عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب یہ اساء ت ہے جس کی نسبت علماء نے تحقیق فرمائی کہ کراہت تنزیہی سے افحش اور تحریمی سے اخف ہے۔
(۳) مطلقا مورث عتاب ہی ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔
(۴) مطلقا کچھ نہ ہو یہ خلاف اولی ہے۔
تنویر : اس تقریر منیر سے چند جلیل فائدے متجلی ہوئے :
(۱) سنت مؤکدہ کا ترك مطلقا گناہ نہیں بلکہ اس کے ترك کی عادت گناہ ہے۔
(۲) اساء ت کے بارے میں اگرچہ کلمات علماء مضطرب ہیں کوئی اسے کراہت سے کم کہتا ہے۔
کما فی الدر صدر سنن الصلاۃ وبہ نص الامام عبدالعزیز فی الکشف وفی التحقیق۔
جیسا کہ درمختار میں سنن نماز کے شروع میں ہے اور امام عبد العزیز بخاری نے کشف میں اور تحقیق میں اسی کی تصریح کی ہے۔ (ت)
کوئی زائد کما فی الشامی عن شرح المنار للزین (جیسا کہ شامی میں محقق زین بن نجیم کی
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۷۳
ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۱۸
ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۱۸
شرح منار سے نقل ہے ۔ ت) کوئی مساوی کما فی الطحطاوی ثمہ وفی ادراك الفریضۃ عن الحلبی شارح الدر (جیسا کہ طحطاوی نے سنن نمازاور باب ادراك الفریضہ میں حلبی شارح در مختار نقل ہے ۔ ت) مگر عندالتحقیق اس کا مقابل سنت مؤکدہ ہونا چاہئے کہ جس طرح سنت مؤکدہ واجب وسنت زائدہ میں برزخ ہے یوں ہی اساء ت کراہت تحریم وکراہت تنزیہ میں کما فی الشامی (جیسا کہ شامی میں ہے۔ ت)علمگیریہ فـــــ میں سراج وہاج سے ہے :
ان ترك المضمضۃ والاستنشاق اثم علی الصحیح لانھا من سنن الھدی وترکھا یوجب الاساء ۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لا یوجب الا ساء ۃ اھ
اقول : قولہ اثم ای ان اعتاد کما ھو معروف فی محلہ فیہ وفی نظائرہ۔
اگرمضمضہ واستنشاق کا تارك ہو تو بر قول صحیح گنہگار ہوگا اس لیے کہ یہ سنن ہدی سے ہے اور ان کا ترك موجب اساء ت ہے بخلاف سنن زوائد کے کہ ان کا ترك موجب اساء ت نہیں اھ۔ ت
اقول : قول مذکور “ گنہگار ہوگا “ یعنی اگر ترك کا عادی ہو جیسا کہ یہ معنی اپنی جگہ اس بارے میں اور اس کی نظیروں میں معروف ہے ۔ (ت)
اصول امام فخر الاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے :
والسنن نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساء ۃ وکراھیۃ
سنت کی دو قسمیں ہیں (۱) سنت ہدی اس کا تارك اسا ء ت وکراہت کا مستحق ہے
فـــــ : مسئلہ : وضو میں کلی یا ناك میں پانی ڈالنے کا ترك مکروہ ہے اور اس کی عادت ڈالے توگناہگارہوگایہ مسئلہ وہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ جو کلیاں ایسی نہیں کرتے کہ حلق تك ہر چیز کو دھوئیں اور وہ کہ پانی جن کی ناك کو چھو جاتا ہے سونگھ کر اوپر نہیں چڑھاتے یہ سب لوگ گنہگا ر ہیں اور غسل میں ایسا نہ ہو تو سرے سے غسل نہ ہوگا نہ نماز۔
ان ترك المضمضۃ والاستنشاق اثم علی الصحیح لانھا من سنن الھدی وترکھا یوجب الاساء ۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لا یوجب الا ساء ۃ اھ
اقول : قولہ اثم ای ان اعتاد کما ھو معروف فی محلہ فیہ وفی نظائرہ۔
اگرمضمضہ واستنشاق کا تارك ہو تو بر قول صحیح گنہگار ہوگا اس لیے کہ یہ سنن ہدی سے ہے اور ان کا ترك موجب اساء ت ہے بخلاف سنن زوائد کے کہ ان کا ترك موجب اساء ت نہیں اھ۔ ت
اقول : قول مذکور “ گنہگار ہوگا “ یعنی اگر ترك کا عادی ہو جیسا کہ یہ معنی اپنی جگہ اس بارے میں اور اس کی نظیروں میں معروف ہے ۔ (ت)
اصول امام فخر الاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے :
والسنن نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساء ۃ وکراھیۃ
سنت کی دو قسمیں ہیں (۱) سنت ہدی اس کا تارك اسا ء ت وکراہت کا مستحق ہے
فـــــ : مسئلہ : وضو میں کلی یا ناك میں پانی ڈالنے کا ترك مکروہ ہے اور اس کی عادت ڈالے توگناہگارہوگایہ مسئلہ وہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ جو کلیاں ایسی نہیں کرتے کہ حلق تك ہر چیز کو دھوئیں اور وہ کہ پانی جن کی ناك کو چھو جاتا ہے سونگھ کر اوپر نہیں چڑھاتے یہ سب لوگ گنہگا ر ہیں اور غسل میں ایسا نہ ہو تو سرے سے غسل نہ ہوگا نہ نماز۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الد ر المختار کتاب الصلوٰ ۃ باب صفۃ الصلوٰۃ المکتبۃ ا لعربیہ کوئٹہ ۱ / ۲۱۳
ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۱۹
الفتاو ی الہندیہ بحوالہ السراج الوہاج کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶ ، ۷
ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۱۹
الفتاو ی الہندیہ بحوالہ السراج الوہاج کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶ ، ۷
والزوائد وتارکھا لایستوجب اساء ۃ ۔
(۲) سنت زائدہ اس کا تارك اسا ءت کا مستحق نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار فــــــ صدر سنن الوضوء میں ہے :
مطلق السنۃ شامل لقسمیہا وھما السنۃ المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الھدی وغیر المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الزوائد ۔
مطلق لفظ سنت دونوں قسموں کو شامل ہے دونوں قسمیں یہ ہیں : (۱) سنت مؤکدہ جس کا نا م سنت ہدی ہے (۲) سنت غیرمؤکدہ جس کانا م سنت زائدہ ہے ۔ ت
بحرالرائق سنن نماز مسئلہ رفع یدین للتحریمہ میں ہے :
انہ من سنن الھدی فھو سنۃ مؤکدۃ ۔
وہ سنن ہدی سے ہے تو وہ سنت مؤکدہ ہے۔ (ت)
(۳) کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے نہ سنت مؤکدہ کے بلکہ سنت غیر مؤکدہ کے مقابل ہے اسے مستحب کے مقابل کہنا خلاف تحقیق ہے اور مطلق سنت کے مقابل بتانا اعم ہے جبکہ اسے اساء ت کو بھی شامل کرلیا جائے جس طرح کبھی اسا ء ت کو اعم لے کر سنت زائدہ کے مقابل بولتے ہیں جس طرح اطلاق موسع میں خلاف اولی کو مکر وہ تنزیہی کہہ دیتے ہیں ۔
(۴) خلاف اولی مستحب کا مقابل ہے اور معنی خاص پر مکروہ تنزیہی سے بالکل جدا بمعنی اعم اسے بھی شامل اور کراہت تنزیہ کا اس کی طرف مرجع ہونا اسی معنی پر ہے۔ بحر کے اشکال مذکور یشکل علیہ ما قالوہ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی (اس پر علماء کے اس قول سے اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس کا مرجع خلاف اولی ہے۔ ت) منحۃ الخالق میں فرمایا :
الکراھۃ لابدلھا من دلیل خاص
کراہت کیلئے دلیل خاص ضروری ہے ۔ اسی سے
فـــــ : سنت ہدی سنت مؤکدہ کا نام ہے اور سنت زائدہ سنت غیر مؤکدہ کا ۔
(۲) سنت زائدہ اس کا تارك اسا ءت کا مستحق نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار فــــــ صدر سنن الوضوء میں ہے :
مطلق السنۃ شامل لقسمیہا وھما السنۃ المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الھدی وغیر المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الزوائد ۔
مطلق لفظ سنت دونوں قسموں کو شامل ہے دونوں قسمیں یہ ہیں : (۱) سنت مؤکدہ جس کا نا م سنت ہدی ہے (۲) سنت غیرمؤکدہ جس کانا م سنت زائدہ ہے ۔ ت
بحرالرائق سنن نماز مسئلہ رفع یدین للتحریمہ میں ہے :
انہ من سنن الھدی فھو سنۃ مؤکدۃ ۔
وہ سنن ہدی سے ہے تو وہ سنت مؤکدہ ہے۔ (ت)
(۳) کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے نہ سنت مؤکدہ کے بلکہ سنت غیر مؤکدہ کے مقابل ہے اسے مستحب کے مقابل کہنا خلاف تحقیق ہے اور مطلق سنت کے مقابل بتانا اعم ہے جبکہ اسے اساء ت کو بھی شامل کرلیا جائے جس طرح کبھی اسا ء ت کو اعم لے کر سنت زائدہ کے مقابل بولتے ہیں جس طرح اطلاق موسع میں خلاف اولی کو مکر وہ تنزیہی کہہ دیتے ہیں ۔
(۴) خلاف اولی مستحب کا مقابل ہے اور معنی خاص پر مکروہ تنزیہی سے بالکل جدا بمعنی اعم اسے بھی شامل اور کراہت تنزیہ کا اس کی طرف مرجع ہونا اسی معنی پر ہے۔ بحر کے اشکال مذکور یشکل علیہ ما قالوہ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی (اس پر علماء کے اس قول سے اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس کا مرجع خلاف اولی ہے۔ ت) منحۃ الخالق میں فرمایا :
الکراھۃ لابدلھا من دلیل خاص
کراہت کیلئے دلیل خاص ضروری ہے ۔ اسی سے
فـــــ : سنت ہدی سنت مؤکدہ کا نام ہے اور سنت زائدہ سنت غیر مؤکدہ کا ۔
حوالہ / References
اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹
ردا لمحتارکتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۱
البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰۲
البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۲
ردا لمحتارکتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۱
البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰۲
البحرالرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۲
وبذلك یندفع الاشکال لان المکروہ تنزیھا الذی ثبتت کراھتہ بالدلیل یکون خلاف الاولی ولا یلزم من کون الشیئ خلاف الاولی ان یکون مکروھا تنزیھا مالم یوجد دلیل الکراھۃ ۔
اشکال دفع ہوجاتا ہے اس لئے کہ مکروہ تنزیہی جس کی کراہت دلیل سے ثابت ہے وہ خلاف اولی ہے اور کسی شے کے خلاف اولی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ وہ مکروہ تنزیہی ہو جب تك کہ دلیل کراہت دستیاب نہ ہو۔ ( ت)
(۵) کراہت کیلئے اگرچہ تنزیہی ہو ضرور دلیل کی حاجت ہے
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرھا وبیناہ فی رشاقۃ الکلام
(جیسا کہ اس پر حدیقۃ الندیہ وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور ہم نے اس کواس کو رسالہ رشاقۃ الکلام میں بیان کیا ہے۔ ت)
اقول : خلاف سنت فــــ ہونا خود کراہت پر دلیل شرعی ہے۔
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منی رواہ الشیخان عن انس
ولا بن ماجۃ عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی
فما مر عن العلامۃ الشامی من انھا قد یعرف بلا دلیل خاص کان تضمن ترك
کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے جو میری سنت سے روگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس سے روایت کیا۔
اور ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہاسے ابن ماجہ کی روایت میں ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ۔
تو و ہ کلام جوعلامہ شامی سے نقل ہوا مناسب نہیں (وہ کہتے ہیں )کراہت کی معرفت کبھی دلیل خاص کے بغیر ہوتی ہے جیسے یہ کہ وہ کسی
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
اشکال دفع ہوجاتا ہے اس لئے کہ مکروہ تنزیہی جس کی کراہت دلیل سے ثابت ہے وہ خلاف اولی ہے اور کسی شے کے خلاف اولی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ وہ مکروہ تنزیہی ہو جب تك کہ دلیل کراہت دستیاب نہ ہو۔ ( ت)
(۵) کراہت کیلئے اگرچہ تنزیہی ہو ضرور دلیل کی حاجت ہے
کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرھا وبیناہ فی رشاقۃ الکلام
(جیسا کہ اس پر حدیقۃ الندیہ وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور ہم نے اس کواس کو رسالہ رشاقۃ الکلام میں بیان کیا ہے۔ ت)
اقول : خلاف سنت فــــ ہونا خود کراہت پر دلیل شرعی ہے۔
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منی رواہ الشیخان عن انس
ولا بن ماجۃ عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی
فما مر عن العلامۃ الشامی من انھا قد یعرف بلا دلیل خاص کان تضمن ترك
کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے جو میری سنت سے روگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس سے روایت کیا۔
اور ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہاسے ابن ماجہ کی روایت میں ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ۔
تو و ہ کلام جوعلامہ شامی سے نقل ہوا مناسب نہیں (وہ کہتے ہیں )کراہت کی معرفت کبھی دلیل خاص کے بغیر ہوتی ہے جیسے یہ کہ وہ کسی
فــــ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲ / ۳۲
صحیح البخاری کتاب النکاح با ب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۲ / ۷۵۷ ، ۷۵۸ ، صحیح مسلم کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۴۴۹
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
صحیح البخاری کتاب النکاح با ب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۲ / ۷۵۷ ، ۷۵۸ ، صحیح مسلم کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۴۴۹
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
واجباو سنۃ لیس کما ینبغی ولا نعنی بالخاص خصوص النص فی الجزئی المعین اذلا حاجۃ الیہ قطعا لصحۃ الاحتجاج بالعمومات والقواعد الشرعیۃ الکلیۃ قطعا۔
واجب یا سنت کے ترك پر مشتمل ہو “ دلیل خاص سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اس معینہ جزئیہ میں کوئی خاص نص ہو اس لئے کہ اس کی حاجت قطعا نہیں کیونکہ شریعت کے عمومی احکام اور قوائد کلیہ سے بھی استدلال بلاشبہ درست ہے۔
(۶) یہ نفیس فــــ۱ جلیل تفرقے مقتضائے تقسیم عقلی واقتضائے نفس لفظ کراہت وقضیہ تفرقہ احکام ہیں نہ کہ نری اصطلاح اختیاری کہ جس کا جو چاہا نام رکھ لیا
کما قالہ المحقق فی الحلیۃ ان ھذا امر یرجع الی الاصطلاح والتزامہ لیس بلازم اھ
ونقل قبیلہ عن اللامشی فی حد المکروہ وھو مایکون ترکہ اولی من فعلہ وتحصیلہ اھ ثم قال اعلم ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ماھو خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان کما اشار الیہ اللامشی اھ وتبعہ فی ردالمحتار۔
جیسا کہ محقق نے حلیہ میں لکھا کہ یہ ایك ایسی چیز ہے کہ جس کا مرجع اصطلاح ہے اور اس کا التزام کوئی ضروری نہیں اھ۔ اور اس سے کچھ پہلے لامشی سے تعریف مکروہ میں نقل کیا کہ یہ وہ ہے جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہے اھ۔ پھر لکھا کہ واضح ہو کہ مکروہ تنزیہی کامرجع خلاف اولی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے جیسا کہ لامشی نے اس کی طرف اشارہ کیا اھ اس کلام پر علامہ شامی نے بھی ردالمحتار میں ان کا اتباع کیا ۔ (ت)
() مشہور فــــ۲ احکام خمسہ۵ ہیں ۱واجب ۲ مندوب ۳ مکروہ ۴ حرام ۵مباح وبہ بدء فی
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ وش ۔
فــــ۲ : احکام شرعیہ پانچ نہ سات نہ نو بلکہ گیارہ ہیں ۔
واجب یا سنت کے ترك پر مشتمل ہو “ دلیل خاص سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اس معینہ جزئیہ میں کوئی خاص نص ہو اس لئے کہ اس کی حاجت قطعا نہیں کیونکہ شریعت کے عمومی احکام اور قوائد کلیہ سے بھی استدلال بلاشبہ درست ہے۔
(۶) یہ نفیس فــــ۱ جلیل تفرقے مقتضائے تقسیم عقلی واقتضائے نفس لفظ کراہت وقضیہ تفرقہ احکام ہیں نہ کہ نری اصطلاح اختیاری کہ جس کا جو چاہا نام رکھ لیا
کما قالہ المحقق فی الحلیۃ ان ھذا امر یرجع الی الاصطلاح والتزامہ لیس بلازم اھ
ونقل قبیلہ عن اللامشی فی حد المکروہ وھو مایکون ترکہ اولی من فعلہ وتحصیلہ اھ ثم قال اعلم ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ماھو خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان کما اشار الیہ اللامشی اھ وتبعہ فی ردالمحتار۔
جیسا کہ محقق نے حلیہ میں لکھا کہ یہ ایك ایسی چیز ہے کہ جس کا مرجع اصطلاح ہے اور اس کا التزام کوئی ضروری نہیں اھ۔ اور اس سے کچھ پہلے لامشی سے تعریف مکروہ میں نقل کیا کہ یہ وہ ہے جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہے اھ۔ پھر لکھا کہ واضح ہو کہ مکروہ تنزیہی کامرجع خلاف اولی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے جیسا کہ لامشی نے اس کی طرف اشارہ کیا اھ اس کلام پر علامہ شامی نے بھی ردالمحتار میں ان کا اتباع کیا ۔ (ت)
() مشہور فــــ۲ احکام خمسہ۵ ہیں ۱واجب ۲ مندوب ۳ مکروہ ۴ حرام ۵مباح وبہ بدء فی
فــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ وش ۔
فــــ۲ : احکام شرعیہ پانچ نہ سات نہ نو بلکہ گیارہ ہیں ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۲۹
ردالمحتار بحوالہ الحلیہ کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۴
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار بحوالہ الحلیہ کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۴
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
مسلم الثبوت (اسی کو مسلم الثبوت میں پہلے نمبر پر بیان کیا ۔ ت) یہ مذہب شافعیہ سے الیق ہے کہ ان کے یہاں واجب وفرض میں فرق نہیں
والیہ اشارتبعا للتحریر فی التحریر بقولہ بعدہ والحنفیۃ لاحظوا حال الدال الخ
اور اسی کی طرف مسلم میں اس کے بعد محقق ابن الہمام کی تحریر الاصول کی تبعیت میں یہ کہہ کر اشارہ کیا کہ حنفیہ نے دلیل کی حالت کا اعتبار کیا ہے الخ۔
اور بعض نے برعایت مذہب حنفی فرض وواجب اور حرام ومکروہ تحریمی کو تقسیم میں جدا جدا اخذ کرکے سات قرار دئے وبہ ثنی فی المسلم (اور اسی کو مسلم الثبوت میں دوسرے نمبرپر بیان کیا (ت) بعض نے فرض واجب سنت نفل حرام مکروہ مباح یوں سات گنے۔
وعلیہ مشی فی التنقیح وتبعہ مولی خسرو فی مرقاۃ الوصول والعلامۃ الشمس محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع۔
اسی پر صدر الشریعہ تنقیح میں چلے ہیں اور ملا خسرو نے مرقاۃ الوصول میں اور علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فناری نے اصول البدائع میں تنقیح کی پیروی کی ہے ۔
بعض نے سنت میں سنت ہدی و سنت زائدہ اور مکروہ میں تحریمی وتنزیہی قسمیں کر کے نو شمار کیے۔
کمانص علیہ الفناری فی اخر کلامہ ویشیر الیہ کلام التوضیح ۔
جیساکہ فناری نے آخر کلام میں اس کی صراحت کی ہے اور کلام توضیح میں اس کی جانب اشارہ ہے۔ (ت)
اقول : تقسیم فــــ۱ اول میں کمال اجمال اور مذہب شافعی سے الیق ہونے کے علاوہ صحت مقابلہ اس پر مبنی کہ ہر مندوب کا ترك مکروہ ہو وقد علمت انہ خلاف التحقیق (تو نے جان لیا یہ خلاف تحقیق ہے۔ ت) نیز سنت ومندوب فــــ۲ میں فرق نہ کرنا مذہب حنفی وشافعی کسی کے مطابق نہیں ۔ یہی فــــ۳ دونوں کمی تقسیم دوم میں بھی ہیں سوم وچہارم میں عدم مقابلہ بدیہی کہ سوم فــــ۴ میں جانب فعل چار چیزیں ہیں ا ور جانب ترك دو۔ چہارم فــــ۵ میں جانب فعل پانچ ہیں اور جانب ترك تین۔ پھر
فــــ۱ : تطفل علی المشہور۔ فــــ ۲ : تطفل ا خرعلیہ ۔ فــــ۳ : معروضتان علی مسلم الثبوت ۔
فــــ ۴ : تطفل علی التوضیح والمولی خسرو ۔ فــــ ۵ : تطفل علی الشمس الفناری ۔
والیہ اشارتبعا للتحریر فی التحریر بقولہ بعدہ والحنفیۃ لاحظوا حال الدال الخ
اور اسی کی طرف مسلم میں اس کے بعد محقق ابن الہمام کی تحریر الاصول کی تبعیت میں یہ کہہ کر اشارہ کیا کہ حنفیہ نے دلیل کی حالت کا اعتبار کیا ہے الخ۔
اور بعض نے برعایت مذہب حنفی فرض وواجب اور حرام ومکروہ تحریمی کو تقسیم میں جدا جدا اخذ کرکے سات قرار دئے وبہ ثنی فی المسلم (اور اسی کو مسلم الثبوت میں دوسرے نمبرپر بیان کیا (ت) بعض نے فرض واجب سنت نفل حرام مکروہ مباح یوں سات گنے۔
وعلیہ مشی فی التنقیح وتبعہ مولی خسرو فی مرقاۃ الوصول والعلامۃ الشمس محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع۔
اسی پر صدر الشریعہ تنقیح میں چلے ہیں اور ملا خسرو نے مرقاۃ الوصول میں اور علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فناری نے اصول البدائع میں تنقیح کی پیروی کی ہے ۔
بعض نے سنت میں سنت ہدی و سنت زائدہ اور مکروہ میں تحریمی وتنزیہی قسمیں کر کے نو شمار کیے۔
کمانص علیہ الفناری فی اخر کلامہ ویشیر الیہ کلام التوضیح ۔
جیساکہ فناری نے آخر کلام میں اس کی صراحت کی ہے اور کلام توضیح میں اس کی جانب اشارہ ہے۔ (ت)
اقول : تقسیم فــــ۱ اول میں کمال اجمال اور مذہب شافعی سے الیق ہونے کے علاوہ صحت مقابلہ اس پر مبنی کہ ہر مندوب کا ترك مکروہ ہو وقد علمت انہ خلاف التحقیق (تو نے جان لیا یہ خلاف تحقیق ہے۔ ت) نیز سنت ومندوب فــــ۲ میں فرق نہ کرنا مذہب حنفی وشافعی کسی کے مطابق نہیں ۔ یہی فــــ۳ دونوں کمی تقسیم دوم میں بھی ہیں سوم وچہارم میں عدم مقابلہ بدیہی کہ سوم فــــ۴ میں جانب فعل چار چیزیں ہیں ا ور جانب ترك دو۔ چہارم فــــ۵ میں جانب فعل پانچ ہیں اور جانب ترك تین۔ پھر
فــــ۱ : تطفل علی المشہور۔ فــــ ۲ : تطفل ا خرعلیہ ۔ فــــ۳ : معروضتان علی مسلم الثبوت ۔
فــــ ۴ : تطفل علی التوضیح والمولی خسرو ۔ فــــ ۵ : تطفل علی الشمس الفناری ۔
حوالہ / References
مسلم الثبوت الباب الثانی فی الحکم مطبع مجتبائی دہلی ص۱۳
جانب ترك بسط فــــ۱ اقسام کرکے تصحیح مقابلہ کیجئے تو اسی مقابلہ نفل وکراہت سے چارہ نہیں مگر بتوفیق الله تعالی تحقیق فقیر سب خللوں سے پاك ہے اس نے ظاہر کیا کہ بلکہ احکام گیارہ ہیں پانچ جانب فعل میں متنازلا فرض۵واجب۴ سنت مؤکدہ ۳ غیرمؤکدہ ۲مستحب۱ اور پانچ جانب ترك میں متصاعدا خلاف۱ اولی ۲مکروہ تنزیہی ۳ اساءت۴مکروہ تحریمی ۵حرام جن میں میزان مقابلہ اپنے کمال اعتدال پر ہے کہ ہر ایك اپنے نظیر کا مقابل ہے اور سب کے بیچ میں گیارھواں مباح خالص۔ اس تقریر منیر کو حفظ کرلیجئے کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گی اورہزار ہا مسائل میں کام دے گی اور صد ہا عقدوں کو حل کرے گی کلمات اس کے موافق مخالف سب طرح کے ملیں گے مگر بحمدالله تعالی اس سے متجاوز نہیں فقیر طمع رکھتا ہے کہ اگر حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے حضور یہ تقریر عرض کی جاتی ضرور ارشاد فرماتے کہ یہ عطر مذہب وطراز ومذہب ہے والحمدلله رب العلمین۔ اس تحقیق انیق کے بعد قول سوم ہرگز دوم کی طرف راجع ہوکر منتفی نہیں بلکہ وہی من حیث الروایۃ سب سے اقوی ہے کہ خاص نص ظاہر الروایۃ کا مقتضی ہے۔
تنبیہ : (۴) علامہ عمر نے جبکہ قول چہارم اختیار فرمایا امام اجل قاضی خان وغیرہ کا ترك اسراف کو سنت فرمانا بھی اسی طرف راجع کرنا چاہا کہ سنت سے مراد مؤکدہ ہے اور اس کا ترك مکروہ تحریمی۔
اقول : اقوال بعض متاخرین میں فــــ۲ اس کی تائیدوں کا پتا چلے گا ۔ بحرالرائق فــــ۳ آخر مکروہات الصلوۃ پھر ردالمحتار میں ہے :
السنۃ اذا کانت مؤکدۃ قویۃ لایبعد ان یکون ترکہا مکروھا کراھۃ تحریم کترك الواجب ۔
سنت جب مؤکدہ قوی ہو تو بعید نہیں کہ اس کا ترك واجب کی طرح مکروہ تحریمی ہو۔ (ت)
ابو السعود علی مسکین پھر طحطاوی علی الدرالمختار صدر مکروہات نماز میں ہے :
الفعل اذا کان واجبا اومافی حکمہ
فعل جب واجب ہو یا واجب کے حکم
فــــ ۱ : تطفل ا خرعلی ھؤلاء الثلثۃ ۔
فــــ ۲ : تطفل علی النہر ۔
فــــ۳ : مسئلہ : سنت مؤکدہ کا ترك ایك آدھ بار مورث عتاب ہے مگر گناہ نہیں ہاں ترك کی عادت کرے تو گناہ گار ہوگا اور اس بارے میں دفع اوہام وتوفیق اقوال علماء کرام ۔
تنبیہ : (۴) علامہ عمر نے جبکہ قول چہارم اختیار فرمایا امام اجل قاضی خان وغیرہ کا ترك اسراف کو سنت فرمانا بھی اسی طرف راجع کرنا چاہا کہ سنت سے مراد مؤکدہ ہے اور اس کا ترك مکروہ تحریمی۔
اقول : اقوال بعض متاخرین میں فــــ۲ اس کی تائیدوں کا پتا چلے گا ۔ بحرالرائق فــــ۳ آخر مکروہات الصلوۃ پھر ردالمحتار میں ہے :
السنۃ اذا کانت مؤکدۃ قویۃ لایبعد ان یکون ترکہا مکروھا کراھۃ تحریم کترك الواجب ۔
سنت جب مؤکدہ قوی ہو تو بعید نہیں کہ اس کا ترك واجب کی طرح مکروہ تحریمی ہو۔ (ت)
ابو السعود علی مسکین پھر طحطاوی علی الدرالمختار صدر مکروہات نماز میں ہے :
الفعل اذا کان واجبا اومافی حکمہ
فعل جب واجب ہو یا واجب کے حکم
فــــ ۱ : تطفل ا خرعلی ھؤلاء الثلثۃ ۔
فــــ ۲ : تطفل علی النہر ۔
فــــ۳ : مسئلہ : سنت مؤکدہ کا ترك ایك آدھ بار مورث عتاب ہے مگر گناہ نہیں ہاں ترك کی عادت کرے تو گناہ گار ہوگا اور اس بارے میں دفع اوہام وتوفیق اقوال علماء کرام ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الصلوۃ با ب ما یفسد الصلوٰ ۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲ ، ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۹ ، حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۲۷۶
من سنۃ الھدی ونحوھا فالترك یکرہ تحریما وان کانت سنۃ زائدۃ اومافی حکمہا من الادب ونحوہ یکرہ تنزیھا اھ
اقول اولا تبعا القھستانی فــــ۱ فانہ ذکرہ ثمہ ولم ینقلہ عن احد بل زعم ان کلامھم یدل علیہ فما کان للسید الازھری ان یسوقہ مساق المنقول۔
وثانیا : لا یدری فــــ۲ ماذا اراد بنحوھا فالحکم لایسلم لہ فی السنۃ المؤکدۃ مالم یتعود بالترك ففیم یثبت بعدھا وھل تری قائلا بہ احدا۔
میں ہو جیسے سنت ہدی وغیرہا تو اس کا ترك مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت زائدہ ہو یا وہ ہو جو اس کے حکم میں ہے یعنی ادب اوراس کی مثل تو اس کا تر ك مکروہ تنزیہی ہے۔ (ت)
اقول اولا : ان دونوں حضرات (ابو سعود و طحطاوی ) نے قہستانی کی پیروی کی ہے ۔ قہستانی نے یہ بات مکروہات نماز کے شروع میں ذکر کی اور اسے کسی سے نقل نہ کیا بلکہ یہ دعوی کیاکہ کلام علماء اس پر دلالت کرتا ہے۔ تو سید ازہری کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اسے اس طرح ذکر کریں جیسے وہ کوئی منقول قاعدہ ہے۔
ثانیاسنت ہدی کے بعد : “ اور اس کے مثل “ کہا پتا نہیں اس سے کیا مراد ہے خود سنت موکدہ کو واجب کا حکم نہیں ملتاجب تك کہ اس کے تر ك کی عادی نہ ہو پھر اس کے بعد کس چیز میں وہ حکم ثابت ہوگا کیا اس کا بھی کوئی قائل مل سکتا ہے
کشف بزدوی وتحقیق علی الحسامی بحث عزیمت ورخصت میں اصول امام ابو الیسر فخر الاسلام بزدوی سے ہے :
فــــ ۱ : معروضۃ علی السید ابی السعود۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی القہستانی والسیدین ابی السعود وط۔
اقول اولا تبعا القھستانی فــــ۱ فانہ ذکرہ ثمہ ولم ینقلہ عن احد بل زعم ان کلامھم یدل علیہ فما کان للسید الازھری ان یسوقہ مساق المنقول۔
وثانیا : لا یدری فــــ۲ ماذا اراد بنحوھا فالحکم لایسلم لہ فی السنۃ المؤکدۃ مالم یتعود بالترك ففیم یثبت بعدھا وھل تری قائلا بہ احدا۔
میں ہو جیسے سنت ہدی وغیرہا تو اس کا ترك مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت زائدہ ہو یا وہ ہو جو اس کے حکم میں ہے یعنی ادب اوراس کی مثل تو اس کا تر ك مکروہ تنزیہی ہے۔ (ت)
اقول اولا : ان دونوں حضرات (ابو سعود و طحطاوی ) نے قہستانی کی پیروی کی ہے ۔ قہستانی نے یہ بات مکروہات نماز کے شروع میں ذکر کی اور اسے کسی سے نقل نہ کیا بلکہ یہ دعوی کیاکہ کلام علماء اس پر دلالت کرتا ہے۔ تو سید ازہری کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اسے اس طرح ذکر کریں جیسے وہ کوئی منقول قاعدہ ہے۔
ثانیاسنت ہدی کے بعد : “ اور اس کے مثل “ کہا پتا نہیں اس سے کیا مراد ہے خود سنت موکدہ کو واجب کا حکم نہیں ملتاجب تك کہ اس کے تر ك کی عادی نہ ہو پھر اس کے بعد کس چیز میں وہ حکم ثابت ہوگا کیا اس کا بھی کوئی قائل مل سکتا ہے
کشف بزدوی وتحقیق علی الحسامی بحث عزیمت ورخصت میں اصول امام ابو الیسر فخر الاسلام بزدوی سے ہے :
فــــ ۱ : معروضۃ علی السید ابی السعود۔
فــــ ۲ : معروضۃ علی القہستانی والسیدین ابی السعود وط۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۲۶۹ ، ۲۷۰ ، فتح المعین کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۱
حکم السنۃ ان یندب الی تحصیلہا ویلام علی ترکہا مع لحوق اثم یسیر ۔
سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کی بجا آوری کی دعوت ہو اور اس کے ترك پر ملامت ہو ساتھ میں کچھ گناہ بھی لاحق ہو ۔ (ت)
درمختار صدرحظر میں ہے :
یاثم بترك الواجب ومثلہ السنۃ المؤکدۃ ۔
ترك واجب سے گناہگا ر ہوگا اوراسی کے مثل سنت مؤکدہ بھی ہے ۔ (ت)
مگر صحیح وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے کہ سنت مؤکدہ کا ایك آدھ بار ترك گناہ نہیں ہاں برا ہے اور عادت کے بعد گناہ وناروا ہے۔
اقول : وھذا ان شاء الله تعالی سرقول الامام الاجل فخرالاسلام ان تارك السنۃ المؤکدۃ یستوجب اساءۃ ای بنفس الترك وکراھۃ ای تحریمیۃ ای عند الاعتیاد اذھی المحل عند الاطلاق ولھذا قال الامام عبدالعزیز فی شرحہ ان الاساء ۃ دون الکراھۃ واکتفی فی السنۃ الزائدۃ بنفی الاساء ۃ لان نفی الادنی یدل علی نفی الاعلی بالاولی وحیث ان الکراھۃ التنزیھیۃ ادنی من
اقول : اور یہی ان شاء الله تعالی امام الاجل فخر الاسلام کے اس ارشاد کارمز ہے کہ “ سنت مؤکدہ کا تارك اساء ت کا مستحق ہے “ یعنی نفس ترك سے “ اور کراہت کا “ مستحق ہے یعنی کراہت تحریمیہ کا جب کہ عادت ہو اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت کراہت تحریمیہ ہی مراد ہوتی ہے ۔ اس لئے امام عبد العزیز بخاری نے اپنی شرح میں فرمایا کہ : اساء ت کا درجہ کراہت سے نیچے ہے اور سنت زائدہ میں نفی اسا ء ت پر اکتفا کی اس لئے کہ ادنی کی نفی سے اعلی کی نفی بدرجہ اولی معلوم ہوجائے گی۔ اور چونکہ کراہت تنزیہیہ اساء ت سے ادنی ہے تو
سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کی بجا آوری کی دعوت ہو اور اس کے ترك پر ملامت ہو ساتھ میں کچھ گناہ بھی لاحق ہو ۔ (ت)
درمختار صدرحظر میں ہے :
یاثم بترك الواجب ومثلہ السنۃ المؤکدۃ ۔
ترك واجب سے گناہگا ر ہوگا اوراسی کے مثل سنت مؤکدہ بھی ہے ۔ (ت)
مگر صحیح وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے کہ سنت مؤکدہ کا ایك آدھ بار ترك گناہ نہیں ہاں برا ہے اور عادت کے بعد گناہ وناروا ہے۔
اقول : وھذا ان شاء الله تعالی سرقول الامام الاجل فخرالاسلام ان تارك السنۃ المؤکدۃ یستوجب اساءۃ ای بنفس الترك وکراھۃ ای تحریمیۃ ای عند الاعتیاد اذھی المحل عند الاطلاق ولھذا قال الامام عبدالعزیز فی شرحہ ان الاساء ۃ دون الکراھۃ واکتفی فی السنۃ الزائدۃ بنفی الاساء ۃ لان نفی الادنی یدل علی نفی الاعلی بالاولی وحیث ان الکراھۃ التنزیھیۃ ادنی من
اقول : اور یہی ان شاء الله تعالی امام الاجل فخر الاسلام کے اس ارشاد کارمز ہے کہ “ سنت مؤکدہ کا تارك اساء ت کا مستحق ہے “ یعنی نفس ترك سے “ اور کراہت کا “ مستحق ہے یعنی کراہت تحریمیہ کا جب کہ عادت ہو اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت کراہت تحریمیہ ہی مراد ہوتی ہے ۔ اس لئے امام عبد العزیز بخاری نے اپنی شرح میں فرمایا کہ : اساء ت کا درجہ کراہت سے نیچے ہے اور سنت زائدہ میں نفی اسا ء ت پر اکتفا کی اس لئے کہ ادنی کی نفی سے اعلی کی نفی بدرجہ اولی معلوم ہوجائے گی۔ اور چونکہ کراہت تنزیہیہ اساء ت سے ادنی ہے تو
حوالہ / References
کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۳۰۸
الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۵
اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹
کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۳۱۰
الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ1مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۵
اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹
کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ / ۳۱۰
الاساء ۃ فنفی الاعلی لایستلزم نفی الادنی ولذا ذکر توجہ اللائمۃ حکم ترك مطلق السنۃ ثم قسمھا قسمین وفرق بلزوم الاساء ۃ وعدمہ فتحصل ان المؤکدۃ وغیرھا تشتر کان فی توجہ الملام علی الترك وتتفار قان فی ان ترك المؤکدۃ اساءۃ وبعد التعود کراھۃ تحریم و لیس فی ترك غیرھا الاکراھۃ التنزیہ ولعمری ان اشارات ھذا الامام الھمام ادق من ھذا حتی لقبوہ ابا العسر واخاہ الامام صدر الاسلام ابا الیسر۔
اعلی کی نفی سے ادنی کی نفی لازم نہ آئے گی اس لئے مستحق ملامت ہونا مطلق سنت کے ترك کا حکم بتایا پھرسنت کی دوقسمیں کیں اور اساء ت لازم آنے اور نہ لازم آنے سے دونوں میں فرق کیا تو حاصل یہ نکلا کہ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ دونوں اس حکم میں مشترك ہیں کی ترك پر ملامت ہوگی اوردونوں آپس میں یوں جداجدا ہیں کہ مؤکدہ کا ترك اسا ء ت اورعادت کے بعد کراہت تحریم ہے اور غیر مؤکدہ کے ترك میں صرف کراہت تنزیہ ہے بخدا اس امام ہمام کے ارشادات اس سے بھی زیادہ دقیق ہوتے ہیں یہاں تك کہ علماء نے انہیں “ ابو العسر “ اور ان کے برادر امام صدرالاسلام کو “ ابوالیسر “ کا لقب دیا ۔ (ت)
جہاں جہاں کلمات علما ء میں اس پر حکم اثم ہے اس سے مراد بحال اعتیاد ورنہ اس میں اور واجب میں فرق نہ رہے۔
اقول : فـــــ۱ والفرق بتشکیك الاثم کما لجاء الیہ فی البحر لایجدی لان التشکیك حاصل فی الواجبات انفسھا۔
اقول : اور گناہ کی تشکیك سے فرق جیسا کہ بحر میں اس کا سہارا لیا ہے کارآمد نہیں اس لئے کہ تشکیك تو خو د واجبات میں بھی حاصل ہے(اسی میں کم درجہ کا گناہ ہے اسی میں اس سے سخت ) ۔ ت
اور جب اس کا مطلق ترك گناہ نہیں تو مکروہ تحریمی بے عادت نہیں ہوسکتا کہ ہر مکروہ تحریمی فـــــ۲ گناہ ومعصیت صغیرہ ہے ۔
ردالمحتار صدر واجبات صلوۃ میں ہے :
صرح العلامۃ ابن نجیم فی رسالتہ
علامہ ابن نجیم نے بیان معاصی سے متعلق اپنے
فـــــ۱ : تطفل علی البحر ۔ فـــــ۲ : مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے ۔
اعلی کی نفی سے ادنی کی نفی لازم نہ آئے گی اس لئے مستحق ملامت ہونا مطلق سنت کے ترك کا حکم بتایا پھرسنت کی دوقسمیں کیں اور اساء ت لازم آنے اور نہ لازم آنے سے دونوں میں فرق کیا تو حاصل یہ نکلا کہ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ دونوں اس حکم میں مشترك ہیں کی ترك پر ملامت ہوگی اوردونوں آپس میں یوں جداجدا ہیں کہ مؤکدہ کا ترك اسا ء ت اورعادت کے بعد کراہت تحریم ہے اور غیر مؤکدہ کے ترك میں صرف کراہت تنزیہ ہے بخدا اس امام ہمام کے ارشادات اس سے بھی زیادہ دقیق ہوتے ہیں یہاں تك کہ علماء نے انہیں “ ابو العسر “ اور ان کے برادر امام صدرالاسلام کو “ ابوالیسر “ کا لقب دیا ۔ (ت)
جہاں جہاں کلمات علما ء میں اس پر حکم اثم ہے اس سے مراد بحال اعتیاد ورنہ اس میں اور واجب میں فرق نہ رہے۔
اقول : فـــــ۱ والفرق بتشکیك الاثم کما لجاء الیہ فی البحر لایجدی لان التشکیك حاصل فی الواجبات انفسھا۔
اقول : اور گناہ کی تشکیك سے فرق جیسا کہ بحر میں اس کا سہارا لیا ہے کارآمد نہیں اس لئے کہ تشکیك تو خو د واجبات میں بھی حاصل ہے(اسی میں کم درجہ کا گناہ ہے اسی میں اس سے سخت ) ۔ ت
اور جب اس کا مطلق ترك گناہ نہیں تو مکروہ تحریمی بے عادت نہیں ہوسکتا کہ ہر مکروہ تحریمی فـــــ۲ گناہ ومعصیت صغیرہ ہے ۔
ردالمحتار صدر واجبات صلوۃ میں ہے :
صرح العلامۃ ابن نجیم فی رسالتہ
علامہ ابن نجیم نے بیان معاصی سے متعلق اپنے
فـــــ۱ : تطفل علی البحر ۔ فـــــ۲ : مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے ۔
ا المؤلفۃ فی بیان المعاصی بان کل مکروہ تحریما من الصغائر ۔
رسالہ میں تصریح فرمائی ہے کہ ہر مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
لایترك فـــــ ۳رفع الیدین ولو اعتاد یاثم ۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترك نہ کرے اگر ترك کی عادت کرے تو گنہگا رہوگا (ت)
غنیہ میں ہے :
لانہ سنۃ مؤکدۃ اما لو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتیاد لایاثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ ۔
اس لئے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر بغیر عادت کے کسی وقت ترك کر دیا تو گناہگارنہ ہوگا اور یہ حکم تمام سنن مؤکدہ میں ہے ۔ (ت)
حلیہ میں کلام مذکور امام الیسر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :
وھو حسن لکن بعد وجود الدلیل الدال علی لحوق الاثم لتارك السنۃ بمجرد الترك لھا ولیس ذلك بالسھل الواضح ۔
یہ کلام عمدہ ہے مگراس کے بعد تارك سنت کے لئے محض ترك سے ہی گناہ لاحق ہونے پر دلالت کرنے والی دلیل مل جائے اور یہ بہت آسان نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار سنن صلاۃ میں نہرالفائق سے بحوالہ کشف کبیر کلام امام ابی الیسر نقل کرکے فرمایا :
فی شرح التحریر المراد الترك بلا عذر علی سبیل الاصرار وفی شرح الکیدانیۃ عن الکشف قال محمد فی المصرین علی ترك السنۃ بالقتال وابو یوسف بالتادیب اھ
شرح تحریر میں ہے کہ ترك سے مراد بلا عذر ترك بطور اصرار ترك کرنا اور شرح کیدانیہ میں کشف سے ہے امام محمد نے ترك سنت پر قتال کااور امام ابو یوسف نے تادیب کا حکم دیا اھ تو
فـــــ : مسئلہ : تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین سنت مؤکدہ ہے ترك کی عادت سے گناہ گار ہوگا ورنہ مکروہ ضرور۔
رسالہ میں تصریح فرمائی ہے کہ ہر مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
لایترك فـــــ ۳رفع الیدین ولو اعتاد یاثم ۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترك نہ کرے اگر ترك کی عادت کرے تو گنہگا رہوگا (ت)
غنیہ میں ہے :
لانہ سنۃ مؤکدۃ اما لو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتیاد لایاثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ ۔
اس لئے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر بغیر عادت کے کسی وقت ترك کر دیا تو گناہگارنہ ہوگا اور یہ حکم تمام سنن مؤکدہ میں ہے ۔ (ت)
حلیہ میں کلام مذکور امام الیسر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :
وھو حسن لکن بعد وجود الدلیل الدال علی لحوق الاثم لتارك السنۃ بمجرد الترك لھا ولیس ذلك بالسھل الواضح ۔
یہ کلام عمدہ ہے مگراس کے بعد تارك سنت کے لئے محض ترك سے ہی گناہ لاحق ہونے پر دلالت کرنے والی دلیل مل جائے اور یہ بہت آسان نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار سنن صلاۃ میں نہرالفائق سے بحوالہ کشف کبیر کلام امام ابی الیسر نقل کرکے فرمایا :
فی شرح التحریر المراد الترك بلا عذر علی سبیل الاصرار وفی شرح الکیدانیۃ عن الکشف قال محمد فی المصرین علی ترك السنۃ بالقتال وابو یوسف بالتادیب اھ
شرح تحریر میں ہے کہ ترك سے مراد بلا عذر ترك بطور اصرار ترك کرنا اور شرح کیدانیہ میں کشف سے ہے امام محمد نے ترك سنت پر قتال کااور امام ابو یوسف نے تادیب کا حکم دیا اھ تو
فـــــ : مسئلہ : تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین سنت مؤکدہ ہے ترك کی عادت سے گناہ گار ہوگا ورنہ مکروہ ضرور۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۳۰۶
منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۷۸
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۷۸
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۰
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فیتعین حمل الترك علی الاصرار توفیقا بین کلامھم ۔
متعین ہے کہ ترك کو اصرار پر محمول کیا جائے تاکہ ان حضرات کے کلام میں تطبیق ہوجائے (ت)
اسی میں ہے :
کونہ سنۃ مؤکدۃ لایستلزم الا ثم بترکہ مرۃ واحدۃ بلا عذر فیتعین تقیید الترك بالاعتیاد ۔
اس کا سنت مؤکدہ ہونا اسے مستلزم نہیں بلا عذر ایك بار ترك سے بھی گناہ گار ہوجائے گاتو متعین ہے کہ ترك کے ساتھ عادت کی قید لگائی جائے۔ (ت)
اسی کے فـــــ۱ سنن وضؤ میں دربارہ نیت ہے :
یاثم بترکہا اثما یسیرا کما قدمنا عن الکشف والمراد الترك بلا عذر علی سبیل الاصرار کما قدمنا عن شرح التحریر وذلك لانھا سنۃ مؤکدۃ کما حققہ فی الفتح ۔
نیت وضو کے ترك سے کچھ گناہ گار ہوگا جیسا کہ کشف کے حوالے سے ہم نے سابقا نقل کیا اور مراد یہ ہے کہ بلاعذر بطور اصرار ترك کرے جیساکہ شرح التحریر کے حوالے سے ہم نے پہلے لکھا یہ اس لئے جیساکہ فتح القدیر میں تحقیق کی کہ وضومیں نیت سنت مؤکدہ ہے۔ ( ت)
فتح القدیر میں ہے :
حکی فی الخلاصۃ خلافافی ترکہ (ای ترك رفع الیدین عند التحریمۃ) قیل یاثم وقیل لاقال والمختار ان اعتادہ اثم لاان کان احیانا انتھی وینبغی ان نجعل
خلاصہ میں اس کے ترك پر اختلاف منقول ہے (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع بدین کے ترك پر) ایك قول ہے گنہگار ہوگا اور ایك ہے کہ نہیں ہوگا اور مختار یہ ہے کہ اگر عادت بنالی ہے تو گنہگار
فـــــ۱ : مسئلہ : وضومیں نیت نہ کرنے کی عادت سے گناہ گار ہو گا اس میں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔ )
متعین ہے کہ ترك کو اصرار پر محمول کیا جائے تاکہ ان حضرات کے کلام میں تطبیق ہوجائے (ت)
اسی میں ہے :
کونہ سنۃ مؤکدۃ لایستلزم الا ثم بترکہ مرۃ واحدۃ بلا عذر فیتعین تقیید الترك بالاعتیاد ۔
اس کا سنت مؤکدہ ہونا اسے مستلزم نہیں بلا عذر ایك بار ترك سے بھی گناہ گار ہوجائے گاتو متعین ہے کہ ترك کے ساتھ عادت کی قید لگائی جائے۔ (ت)
اسی کے فـــــ۱ سنن وضؤ میں دربارہ نیت ہے :
یاثم بترکہا اثما یسیرا کما قدمنا عن الکشف والمراد الترك بلا عذر علی سبیل الاصرار کما قدمنا عن شرح التحریر وذلك لانھا سنۃ مؤکدۃ کما حققہ فی الفتح ۔
نیت وضو کے ترك سے کچھ گناہ گار ہوگا جیسا کہ کشف کے حوالے سے ہم نے سابقا نقل کیا اور مراد یہ ہے کہ بلاعذر بطور اصرار ترك کرے جیساکہ شرح التحریر کے حوالے سے ہم نے پہلے لکھا یہ اس لئے جیساکہ فتح القدیر میں تحقیق کی کہ وضومیں نیت سنت مؤکدہ ہے۔ ( ت)
فتح القدیر میں ہے :
حکی فی الخلاصۃ خلافافی ترکہ (ای ترك رفع الیدین عند التحریمۃ) قیل یاثم وقیل لاقال والمختار ان اعتادہ اثم لاان کان احیانا انتھی وینبغی ان نجعل
خلاصہ میں اس کے ترك پر اختلاف منقول ہے (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع بدین کے ترك پر) ایك قول ہے گنہگار ہوگا اور ایك ہے کہ نہیں ہوگا اور مختار یہ ہے کہ اگر عادت بنالی ہے تو گنہگار
فـــــ۱ : مسئلہ : وضومیں نیت نہ کرنے کی عادت سے گناہ گار ہو گا اس میں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔ )
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۹
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۹
رد المحتار کتاب االطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۳
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۱۹
رد المحتار کتاب االطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۷۳
شقی ھذا القول محمل القولین فلا اختلاف ولا اثم لنفس الترك بل لان اعتیادہ للاستخفاف والا فمشکل اویکون واجبا ۔
ہوگا۔ اگر احیانا ہو تو نہ ہوگا انتہی اور مناسب ہے کہ اس قول کی دونوں شقوں کو دونوں قولوں کا محمل بنا لیا جائے تو نہ تو اختلاف ہوگا اور نہ ہی گناہ ہوگا نفس ترك میں بلکہ صرف عادت بنالینے کی صورت میں ہوگا کہ اس میں استخفاف کا پہلو نکلتا ہے ورنہ مشکل ہے یا پھر وہ چیز واجب ہو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ ۔
جماعت مردوں کیلئے سنت مؤکدہ ہے اور کہا گیاواجب ہے اور عامہ علماء اور ثمرہ اختلاف ایك بار ترك سے گنا ہگار ہونے سے حکم میں ظاہر ہو گا ۔ (ت)
اسی کے سنن وضو میں ہے :
وتثلیث فـــــ۱ الغسل المستوعب ولا عبرۃ فـــــ۲ للغرفات ولو اکتفی بمرۃ ان اعتادہ تین بار اس طرح دھونا کہ ہر مرتبہ پورے عضو کا احاطہ ہو جائے اس میں چلوؤں کی تعداد کا اعتبار نہیں
فـــــ۱ : مسئلہ : طہارت میں ہر عضو کا پورا تین بار دھونا سنت موکدہ ہے ترك کی عادت سے گناہ گار ہوگا
فـــــ۲ : مسئلہ : پانی ڈالنے کی گنتی معتبر نہیں جتنا دھونے کا حکم ہے اس پر پورا پانی بہہ جانا معتبر ہے مثلا ہاتھ پر ایك بار پانی ڈالا کہ تہائی کلائی پر بہا باقی پر بھیگا ہاتھ پھیرا دوبارہ دوسری تہائی دھلی سہ بارہ تیسری ۔ تو یہ ایك ہی بار دھونا ہوا ہر بار پورے ہاتھ پر کہنی سمیت پانی ذرہ ذرہ پر بہتا تو تین بار ہوتا اس طرح دھونے کی عادت سے گناہ گار ہوگا اور اگر سو بار پانی ڈالا اور ایك ہی جگہ بہا کچھ حصے کسی دفعہ نہ بہا اگرچہ بھیگا ہاتھ پھیرا تو وضو ہی نہ ہو گا ۔
ہوگا۔ اگر احیانا ہو تو نہ ہوگا انتہی اور مناسب ہے کہ اس قول کی دونوں شقوں کو دونوں قولوں کا محمل بنا لیا جائے تو نہ تو اختلاف ہوگا اور نہ ہی گناہ ہوگا نفس ترك میں بلکہ صرف عادت بنالینے کی صورت میں ہوگا کہ اس میں استخفاف کا پہلو نکلتا ہے ورنہ مشکل ہے یا پھر وہ چیز واجب ہو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ ۔
جماعت مردوں کیلئے سنت مؤکدہ ہے اور کہا گیاواجب ہے اور عامہ علماء اور ثمرہ اختلاف ایك بار ترك سے گنا ہگار ہونے سے حکم میں ظاہر ہو گا ۔ (ت)
اسی کے سنن وضو میں ہے :
وتثلیث فـــــ۱ الغسل المستوعب ولا عبرۃ فـــــ۲ للغرفات ولو اکتفی بمرۃ ان اعتادہ تین بار اس طرح دھونا کہ ہر مرتبہ پورے عضو کا احاطہ ہو جائے اس میں چلوؤں کی تعداد کا اعتبار نہیں
فـــــ۱ : مسئلہ : طہارت میں ہر عضو کا پورا تین بار دھونا سنت موکدہ ہے ترك کی عادت سے گناہ گار ہوگا
فـــــ۲ : مسئلہ : پانی ڈالنے کی گنتی معتبر نہیں جتنا دھونے کا حکم ہے اس پر پورا پانی بہہ جانا معتبر ہے مثلا ہاتھ پر ایك بار پانی ڈالا کہ تہائی کلائی پر بہا باقی پر بھیگا ہاتھ پھیرا دوبارہ دوسری تہائی دھلی سہ بارہ تیسری ۔ تو یہ ایك ہی بار دھونا ہوا ہر بار پورے ہاتھ پر کہنی سمیت پانی ذرہ ذرہ پر بہتا تو تین بار ہوتا اس طرح دھونے کی عادت سے گناہ گار ہوگا اور اگر سو بار پانی ڈالا اور ایك ہی جگہ بہا کچھ حصے کسی دفعہ نہ بہا اگرچہ بھیگا ہاتھ پھیرا تو وضو ہی نہ ہو گا ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
الدرلمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
الدرلمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
اثم والالا ۔
اگرایك بار دھونے پر اکتفا کی توبصورت عادت گنہگار ہے ا ورعادت نہ ہو تو نہیں ۔ ( ت)
خلاصہ میں فـــــ۱ ہے :
ان توضأ مرۃ مرۃ ان فعل لعزۃ الماء لعذر البرد اولحاجۃ لایکرہ وکذا ان فعلہ احیانا اما اذا اتخذ ذلك عادۃ یکرہ اھ
اقول : ای تحریما لانہ سنۃ مؤکدۃ وھی محمل الاطلاق والمنفیۃ عن فعلہ احیانا من دون عذر۔
اگر ایك بار وضو کیا اس وجہ سے کہ پانی کم یاب ہے یا ٹھنڈك لگنے کا عذر یا کوئی حاجت ہے تو مکروہ نہیں اسی طرح اگر احیانا ایساکیا لیکن جب اسے عادت بنالے تو مکروہ ہے اھ ۔
اقول : یعنی مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ سنت مؤکدہ ہے اورکراہت مطلق بولنے سے یہی مراد ہوتی ہے اور بلا عذر احیا نا کرنے سے جس کراہت کی نفی کی گئی ہے اس سے بھی یہی تحریمی مراد ہے (ت)
اس کے نظائر کثیروافر ہیں
فلا نظر الی ماوقع فی البحر صدر سنن الصلاۃ وقدردہ فی ردالمحتار بعض ماذکرنا ھنا وبالله التوفیق۔
تو وہ قابل توجہ نہیں جو بحر میں سنن نماز کے شروع میں تحریرہے اور ردالمحتار میں یہاں ہمارے ذکر کردہ بعض کلام کے ذریعہ اس کی تر دید بھی کردی ہے اور توفیق خدا ہی سے ہے ۔ (ت)
خوبتریہ فـــــ۲ ہے جب ہمارے مشایخ عراق نے جماعت کو واجب اور مشائخ خراسان نے سنت مؤکدہ فرمایا
فـــــ۱ : اگر پانی کم ہے یا سردی سخت ہے اور کسی ضرورت کے لئے پانی درکار ہے اس وجہ سے اعضا ایك ایك بار دھوئے تو مضائقہ نہیں ۔
فــــــ۲ : تطفل علی النھر۔
اگرایك بار دھونے پر اکتفا کی توبصورت عادت گنہگار ہے ا ورعادت نہ ہو تو نہیں ۔ ( ت)
خلاصہ میں فـــــ۱ ہے :
ان توضأ مرۃ مرۃ ان فعل لعزۃ الماء لعذر البرد اولحاجۃ لایکرہ وکذا ان فعلہ احیانا اما اذا اتخذ ذلك عادۃ یکرہ اھ
اقول : ای تحریما لانہ سنۃ مؤکدۃ وھی محمل الاطلاق والمنفیۃ عن فعلہ احیانا من دون عذر۔
اگر ایك بار وضو کیا اس وجہ سے کہ پانی کم یاب ہے یا ٹھنڈك لگنے کا عذر یا کوئی حاجت ہے تو مکروہ نہیں اسی طرح اگر احیانا ایساکیا لیکن جب اسے عادت بنالے تو مکروہ ہے اھ ۔
اقول : یعنی مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ سنت مؤکدہ ہے اورکراہت مطلق بولنے سے یہی مراد ہوتی ہے اور بلا عذر احیا نا کرنے سے جس کراہت کی نفی کی گئی ہے اس سے بھی یہی تحریمی مراد ہے (ت)
اس کے نظائر کثیروافر ہیں
فلا نظر الی ماوقع فی البحر صدر سنن الصلاۃ وقدردہ فی ردالمحتار بعض ماذکرنا ھنا وبالله التوفیق۔
تو وہ قابل توجہ نہیں جو بحر میں سنن نماز کے شروع میں تحریرہے اور ردالمحتار میں یہاں ہمارے ذکر کردہ بعض کلام کے ذریعہ اس کی تر دید بھی کردی ہے اور توفیق خدا ہی سے ہے ۔ (ت)
خوبتریہ فـــــ۲ ہے جب ہمارے مشایخ عراق نے جماعت کو واجب اور مشائخ خراسان نے سنت مؤکدہ فرمایا
فـــــ۱ : اگر پانی کم ہے یا سردی سخت ہے اور کسی ضرورت کے لئے پانی درکار ہے اس وجہ سے اعضا ایك ایك بار دھوئے تو مضائقہ نہیں ۔
فــــــ۲ : تطفل علی النھر۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲
اور مفیدمیں یوں تطبیق دی کہ واجب ہے اور اس کا ثبوت سنت سے خود علامہ عمر نے نہر میں اسے نقل کرکے فرمایا :
ھذا یقتضی الاتفاق علی ان ترکہا (مرۃ) بلا عذر یوجب اثما مع انہ قول العراقیین والخر اسانیین علی انہ یاثم اذا اعتاد الترك کما فی القنیۃ اھ
اس کا مقتضا یہ ہے بلاعذر ایك بار ترك کرنے سے گناہ گار ہونے پراتفاق ہو حالاں کہ یہ مشائخ عراق کا قول ہے اور اہل خراسان یہ کہتے ہیں کہ جب ترك کی عادت ہو تو گناہ گار ہوگا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
فائدہ : اس مسئلہ پر باقی کلام اور سنت کی تعریف واقسام اور سنت غیر مؤکدہ کی تحقیق احکام اور اس کا مستحب سے فرق اور مکروہ تحریمی وتنزیہی کی بحث جلیل اور یہ کہ مکروہ تنزیہی اصلا گناہ نہیں اور یہ کہ مکروہ تحریمی مطلقا گناہ ہے اور یہ کہ وہ بے اصرار ہرگز کبیرہ نہیں اور ان مسائل میں فاضل لکھنوی کی لغزشوں کا بیان یہ سب ہمارے رسالہ ۲۷ بسط الیدین فی السنۃ والمستحب والمکروھین میں ہے وبالله التوفیق۔
تنبیہ ۵ : جبکہ علامہ عمر نے کراہت تحریم کا استظہار کیا علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں تو ان کا کلام مقرر رکھا مگر ردالمحتار میں رائے جانب کراہت تنزیہ گئی لہذا دلائل تحریم کا جواب دینا چاہا۔ علامہ عمر نے تین دلیلیں پیش فرمائی تھیں :
(۱) کلام امام زیلعی میں کراہت کو مطلق رکھنا۔
(۲) اسراف سے نہی کی حدیثوں کا مطلق یعنی بے قرینہ صارفہ ہونا۔
(۳) منتقی میں اسے منہیات سے گننا۔
علامہ شامی نے اول کا یہ جواب دیا کہ مطلق کراہت ہمیشہ تحریم پر محمول نہیں
کما ذکرنا انفا اھ واشاربہ الی ماقدمہ قبل ھذا بصفحۃ عن البحران المکروہ نوعان احدھما ماکرہ تحریما وھو
جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا اھ (ردالمحتار) اس سے ان کا اشارہ اس کلام کی طرف ہے جو اس سے ایك صفحہ پہلے بحر کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ مکروہ کی دو قسمیں ہیں ایك مکروہ تحریمی۔ ۔ ۔ یہی مطلق
ھذا یقتضی الاتفاق علی ان ترکہا (مرۃ) بلا عذر یوجب اثما مع انہ قول العراقیین والخر اسانیین علی انہ یاثم اذا اعتاد الترك کما فی القنیۃ اھ
اس کا مقتضا یہ ہے بلاعذر ایك بار ترك کرنے سے گناہ گار ہونے پراتفاق ہو حالاں کہ یہ مشائخ عراق کا قول ہے اور اہل خراسان یہ کہتے ہیں کہ جب ترك کی عادت ہو تو گناہ گار ہوگا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
فائدہ : اس مسئلہ پر باقی کلام اور سنت کی تعریف واقسام اور سنت غیر مؤکدہ کی تحقیق احکام اور اس کا مستحب سے فرق اور مکروہ تحریمی وتنزیہی کی بحث جلیل اور یہ کہ مکروہ تنزیہی اصلا گناہ نہیں اور یہ کہ مکروہ تحریمی مطلقا گناہ ہے اور یہ کہ وہ بے اصرار ہرگز کبیرہ نہیں اور ان مسائل میں فاضل لکھنوی کی لغزشوں کا بیان یہ سب ہمارے رسالہ ۲۷ بسط الیدین فی السنۃ والمستحب والمکروھین میں ہے وبالله التوفیق۔
تنبیہ ۵ : جبکہ علامہ عمر نے کراہت تحریم کا استظہار کیا علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں تو ان کا کلام مقرر رکھا مگر ردالمحتار میں رائے جانب کراہت تنزیہ گئی لہذا دلائل تحریم کا جواب دینا چاہا۔ علامہ عمر نے تین دلیلیں پیش فرمائی تھیں :
(۱) کلام امام زیلعی میں کراہت کو مطلق رکھنا۔
(۲) اسراف سے نہی کی حدیثوں کا مطلق یعنی بے قرینہ صارفہ ہونا۔
(۳) منتقی میں اسے منہیات سے گننا۔
علامہ شامی نے اول کا یہ جواب دیا کہ مطلق کراہت ہمیشہ تحریم پر محمول نہیں
کما ذکرنا انفا اھ واشاربہ الی ماقدمہ قبل ھذا بصفحۃ عن البحران المکروہ نوعان احدھما ماکرہ تحریما وھو
جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا اھ (ردالمحتار) اس سے ان کا اشارہ اس کلام کی طرف ہے جو اس سے ایك صفحہ پہلے بحر کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ مکروہ کی دو قسمیں ہیں ایك مکروہ تحریمی۔ ۔ ۔ یہی مطلق
حوالہ / References
النہرالفائق کتاب الصلوٰۃ باب ا لامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲۳۸
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۰
المحمل عند اطلاقھم الکراھۃ کما فی زکاۃ فتح القدیر ثانیھما المکروہ تنزیھا وکثیرا مایطلقونہ کما شرح المنیۃ۔
کراہت بولنے کے وقت مراد ہوتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں کتاب الزکوۃ میں ہے۔ ۔ ۔ اور دوسری قسم مکروہ تنزیہی۔ ۔ ۔ ۔ اوربار ہا اسے بھی مطلق بولتے ہیں جیسا کہ منیہ کی شرح میں ہے۔ (ت)
اقول : فـــــ۱ اس میں کلام نہیں کہ فقہا ء بارہا فـــــ۲ کراہت مطلق بولتے اور اس سے خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی وتحریمی دونوں کو عام مراد لیتے ہیں مگر یہ وہاں ہے کہ ارادہ کراہت تحریم سے کوئی صارف موجود ہو مثلا دلیل سے ثابت یا خارج سے معلوم ہو کہ جسے یہاں مطلق مکروہ کہا مکروہ تحریمی نہیں یا جو افعال یہاں گنے ان میں مکروہ تنزیہی بھی ہیں کما یفعلونہ فی مکروھات الصلاۃ (جیسے مکروہات نماز میں ایسا کرتے۔ ت) بے قیام دلیل ہمارے مذہب میں اصل وہی ارادہ کراہت تحریم ہے کما مرعن نص المحقق علی الاطلاق وکتب المذہب طافحۃ بذلك (جیسا کہ نص محقق علی الاطلاق کی تصریح گزری اور کتب مذہب اس کے بیان سے لبریز ہیں ۔ ت) تو کراہت تنزیہ کی طرف پھیرنا ہی محتاج دلیل ہے ورنہ استدلال نہر تام ہے اب یہ جواب دلیل دوم کی جواب سے محتاج تکمیل ہوا اور اسی کی تضعیف بھی جلوہ نما۔ دوم سے یہ جواب دیا کہ صارف موجود ہے مثلا جس نے آب نہر سے وضو میں اسراف کیا اگر اسے سنت نہ جانا تو ایسا ہوا کہ نہر سے کوئی برتن بھر کر اسی میں الٹ دیا اس میں کیا محذور ہے سوا اس کے کہ ایك عبث بات ہے۔
اقول : فـــــ۳ اس کا مبنی اسی خیال پر ہے کہ علامہ نے قول اول وچہارم کو ایك سمجھا ہے ورنہ قول چہارم میں لب نہراسراف کی تحریم کہاں اور ماورا میں کہ پانی کی اضاعت ہے صارف کیا۔
وقد قدمنا مایکفی ویشفی ومنہ فـــــ۴ تعلم مافی تعبیرہ بالوضوء بماء النھر
اس پر ہم کافی وشافی بحث کر چکے ہیں ۔ اسی سے وہ نقطہ بھی معلوم ہوم جاتا ہے جو “ وضو بماء النہر “
فـــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲ : اگر فقہا خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی و تحریمی دونوں سے عام پر اطلاق کراہت فرماتے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ اس کے مطلق سے مراد کرا ہت تحریمی ہے جب تك دلیل سے اسکا خلاف نہ ثابت ہو ۔
فـــــ ۳ : معروضۃ اخری علیہ ۔ فـــــ ۴ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
کراہت بولنے کے وقت مراد ہوتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں کتاب الزکوۃ میں ہے۔ ۔ ۔ اور دوسری قسم مکروہ تنزیہی۔ ۔ ۔ ۔ اوربار ہا اسے بھی مطلق بولتے ہیں جیسا کہ منیہ کی شرح میں ہے۔ (ت)
اقول : فـــــ۱ اس میں کلام نہیں کہ فقہا ء بارہا فـــــ۲ کراہت مطلق بولتے اور اس سے خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی وتحریمی دونوں کو عام مراد لیتے ہیں مگر یہ وہاں ہے کہ ارادہ کراہت تحریم سے کوئی صارف موجود ہو مثلا دلیل سے ثابت یا خارج سے معلوم ہو کہ جسے یہاں مطلق مکروہ کہا مکروہ تحریمی نہیں یا جو افعال یہاں گنے ان میں مکروہ تنزیہی بھی ہیں کما یفعلونہ فی مکروھات الصلاۃ (جیسے مکروہات نماز میں ایسا کرتے۔ ت) بے قیام دلیل ہمارے مذہب میں اصل وہی ارادہ کراہت تحریم ہے کما مرعن نص المحقق علی الاطلاق وکتب المذہب طافحۃ بذلك (جیسا کہ نص محقق علی الاطلاق کی تصریح گزری اور کتب مذہب اس کے بیان سے لبریز ہیں ۔ ت) تو کراہت تنزیہ کی طرف پھیرنا ہی محتاج دلیل ہے ورنہ استدلال نہر تام ہے اب یہ جواب دلیل دوم کی جواب سے محتاج تکمیل ہوا اور اسی کی تضعیف بھی جلوہ نما۔ دوم سے یہ جواب دیا کہ صارف موجود ہے مثلا جس نے آب نہر سے وضو میں اسراف کیا اگر اسے سنت نہ جانا تو ایسا ہوا کہ نہر سے کوئی برتن بھر کر اسی میں الٹ دیا اس میں کیا محذور ہے سوا اس کے کہ ایك عبث بات ہے۔
اقول : فـــــ۳ اس کا مبنی اسی خیال پر ہے کہ علامہ نے قول اول وچہارم کو ایك سمجھا ہے ورنہ قول چہارم میں لب نہراسراف کی تحریم کہاں اور ماورا میں کہ پانی کی اضاعت ہے صارف کیا۔
وقد قدمنا مایکفی ویشفی ومنہ فـــــ۴ تعلم مافی تعبیرہ بالوضوء بماء النھر
اس پر ہم کافی وشافی بحث کر چکے ہیں ۔ اسی سے وہ نقطہ بھی معلوم ہوم جاتا ہے جو “ وضو بماء النہر “
فـــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ۲ : اگر فقہا خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی و تحریمی دونوں سے عام پر اطلاق کراہت فرماتے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ اس کے مطلق سے مراد کرا ہت تحریمی ہے جب تك دلیل سے اسکا خلاف نہ ثابت ہو ۔
فـــــ ۳ : معروضۃ اخری علیہ ۔ فـــــ ۴ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۹
اما استنادہ الی ان حدیث فمن زاد علی ھذا ونقص فقد تعدی وظلم محمول علی الاعتقاد عندنا کما فی الھدایۃ وغیرھا قال فی البدائع انہ الصحیح حتی لوزاد اونقص واعتقد ان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید قال وقدمنا انہ صریح فی عدم کراھۃ ذلك یعنی کراھۃ تحریم اھ
فاقول : لایفید فـــــ ماقصدہ من قصر الحکم علی کراھۃ التنزیہ مطلقا مالم یعتقد خلاف السنۃ کیف ولو کان ترك الاسراف سنۃ مؤکدۃ کما یقولہ النھر کان تعودہ مکروھا تحریما ووقوعہ احیانا تنزیھا والحدیث حاکم علی من زاد مطلقا ای ولو مرۃ بانہ ظالم فلزم تاویلہ بما یجعل الزیادۃ ممنوعۃ مطلقا فحملوہ علی ذلك فمن زاد اونقص
سے تعبیر میں ہے رہاان کایہ اسناد کہ حدیث “ جس نے اس پر زیادتی یا کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز اور ظلم کیا “ ہمارے نزدیك اعتقاد پر محمول ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اور بدائع میں فرمایا کہ یہی صحیح ہے یہاں تك کہ اگر کمی بیشی کی اور اعتقاد یہ ہے کہ تین بار دھونا ہی سنت ہے تو وعید اس سے لاحق نہ ہوگی۔ علامہ شامی نے کہا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ ا س میں کراہت یعنی کراہت تحریم نہیں اھ۔
فاقول : اس سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو ان کامقصد ہے کہ اسراف بہرحال مکروہ تنزیہی ہے جب تك مخالف سنت کا اعتقاد نہ ہو ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اگر ترك اسراف سنت مؤکدہ ہے۔ جیساکہ صاحب نہر اس کے قائل ہیں تو اس کی عادت بنا لینا مکروہ تحریمی اور احیانا ہونا مکروہ تنزیہی ہوگا اور حدیث یہ حکم کرتی ہے کہ مطلقاجو زیادتی کرے خواہ ایك ہی بار وہ ظالم ہے تو اس کی تاویل اس امر سے ضروری ہوئی جو زیادتی کو مطلقا ممنوع قرار دے دے اس لیے علما نے اسے اس معنی پر محمول
فـــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
فاقول : لایفید فـــــ ماقصدہ من قصر الحکم علی کراھۃ التنزیہ مطلقا مالم یعتقد خلاف السنۃ کیف ولو کان ترك الاسراف سنۃ مؤکدۃ کما یقولہ النھر کان تعودہ مکروھا تحریما ووقوعہ احیانا تنزیھا والحدیث حاکم علی من زاد مطلقا ای ولو مرۃ بانہ ظالم فلزم تاویلہ بما یجعل الزیادۃ ممنوعۃ مطلقا فحملوہ علی ذلك فمن زاد اونقص
سے تعبیر میں ہے رہاان کایہ اسناد کہ حدیث “ جس نے اس پر زیادتی یا کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز اور ظلم کیا “ ہمارے نزدیك اعتقاد پر محمول ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اور بدائع میں فرمایا کہ یہی صحیح ہے یہاں تك کہ اگر کمی بیشی کی اور اعتقاد یہ ہے کہ تین بار دھونا ہی سنت ہے تو وعید اس سے لاحق نہ ہوگی۔ علامہ شامی نے کہا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ ا س میں کراہت یعنی کراہت تحریم نہیں اھ۔
فاقول : اس سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو ان کامقصد ہے کہ اسراف بہرحال مکروہ تنزیہی ہے جب تك مخالف سنت کا اعتقاد نہ ہو ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اگر ترك اسراف سنت مؤکدہ ہے۔ جیساکہ صاحب نہر اس کے قائل ہیں تو اس کی عادت بنا لینا مکروہ تحریمی اور احیانا ہونا مکروہ تنزیہی ہوگا اور حدیث یہ حکم کرتی ہے کہ مطلقاجو زیادتی کرے خواہ ایك ہی بار وہ ظالم ہے تو اس کی تاویل اس امر سے ضروری ہوئی جو زیادتی کو مطلقا ممنوع قرار دے دے اس لیے علما نے اسے اس معنی پر محمول
فـــــ : معروضۃ رابعۃ علیہ ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو1داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۹۰
مرۃ ولم یعتقد لم یلحقہ الوعید الا تری انھم ھم الناصون بان من غسل الاعضاء مرۃ ان اعتاد اثم کما قدمناہ عن الدر ومعناہ عن الخلاصۃ وقد صرح بہ فی الحلیۃ وغیرما کتاب ۔
ثم فــــ العجب انی رأیت العلامۃ نفسہ قدصرح بھذا فی سنن الوضوء فقال “ لایخفی ان التثلیث حیث کان سنۃ مؤکدۃ واصر علی ترکہ یاثم وان کان یعتقدہ سنۃ واما حملھم الوعید فی الحدیث علی عدم رؤیۃ الثلث سنۃ کما یاتی فذلك فی الترك ولو مرۃ بدلیل ماقلنا (قال) وبہ اندفع مافی البحر من ترجیح القول بعدم الاثم لواقتصر علی مرۃ بانہ لواثم بنفس الترك لما احتج الی ھذا الحمل اھ واقرہ فی النھر وغیرہ وذلك لانہ مع عدم الاصرار محتاج الیہ فتدبر اھ
کیا ۔ ۔ ۔ اب جو ایك بار زیاتی یا کمی کرے اور مخالفت کا اعتقاد نہ رکھے تو وعید اسے شامل نہ ہوگی کیا یہ پیش نظر نہیں کہ علما ء اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ جو اعضا ء ایك بار دھوئے اگر اس کا عادی ہوتو گناہ گارجیسا کہ درمختار کے حوالے سے ہم نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی خلاصہ سے نقل کیا اور اس کی تصریح حلیہ وغیرہامتعدد کتابوں میں موجود ہے۔
پھر حیرت یہ ہے کہ میں نے دیکھا علامہ شامی نے سنن وضو کے باب میں خود اس کی تصریح کی ہے وہ لکھتے ہیں مخفی نہیں کہ تین بار دھونا جب بھی ہو سنت مؤکدہ ہے اور جو اس کے تر ك پر اصرار کرے گناہ گار ہے اگرچہ اس کے سنت ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو۔ اور علماء کا وعید حدیث کو تثلیث کے سنت نہ ماننے پرمحمول کر نا جیسا کہ آرہا ہے یہ تو ایك بار تر ك کرنے میں بھی ہے جس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے بیان کی ۔ ۔ ۔ ۔ آگے لکھا : اسی سے وہ دفع ہو جاتا ہے جو بحر میں صرف ایك با ر ترك تثلیث سے گناہگار نہ ہونے کے قول کو یہ کہہ کر ترجیح دی ہے کہ اگر نفس ترك سے گنا ہ گار ہوجاتا تو حدیث کی یہ تعبیر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی ا ھ اس کلام کو نہر وغیرہ میں برقرار رکھا ہے یہ کلام دفع یوں ہوجاتا ہے کہ عدم اصرار کے باوجود تاویل حدیث کی ضرورت ہے تو اس پر غور کرو ا ھ۔
فــــ : معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
ثم فــــ العجب انی رأیت العلامۃ نفسہ قدصرح بھذا فی سنن الوضوء فقال “ لایخفی ان التثلیث حیث کان سنۃ مؤکدۃ واصر علی ترکہ یاثم وان کان یعتقدہ سنۃ واما حملھم الوعید فی الحدیث علی عدم رؤیۃ الثلث سنۃ کما یاتی فذلك فی الترك ولو مرۃ بدلیل ماقلنا (قال) وبہ اندفع مافی البحر من ترجیح القول بعدم الاثم لواقتصر علی مرۃ بانہ لواثم بنفس الترك لما احتج الی ھذا الحمل اھ واقرہ فی النھر وغیرہ وذلك لانہ مع عدم الاصرار محتاج الیہ فتدبر اھ
کیا ۔ ۔ ۔ اب جو ایك بار زیاتی یا کمی کرے اور مخالفت کا اعتقاد نہ رکھے تو وعید اسے شامل نہ ہوگی کیا یہ پیش نظر نہیں کہ علما ء اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ جو اعضا ء ایك بار دھوئے اگر اس کا عادی ہوتو گناہ گارجیسا کہ درمختار کے حوالے سے ہم نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی خلاصہ سے نقل کیا اور اس کی تصریح حلیہ وغیرہامتعدد کتابوں میں موجود ہے۔
پھر حیرت یہ ہے کہ میں نے دیکھا علامہ شامی نے سنن وضو کے باب میں خود اس کی تصریح کی ہے وہ لکھتے ہیں مخفی نہیں کہ تین بار دھونا جب بھی ہو سنت مؤکدہ ہے اور جو اس کے تر ك پر اصرار کرے گناہ گار ہے اگرچہ اس کے سنت ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو۔ اور علماء کا وعید حدیث کو تثلیث کے سنت نہ ماننے پرمحمول کر نا جیسا کہ آرہا ہے یہ تو ایك بار تر ك کرنے میں بھی ہے جس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے بیان کی ۔ ۔ ۔ ۔ آگے لکھا : اسی سے وہ دفع ہو جاتا ہے جو بحر میں صرف ایك با ر ترك تثلیث سے گناہگار نہ ہونے کے قول کو یہ کہہ کر ترجیح دی ہے کہ اگر نفس ترك سے گنا ہ گار ہوجاتا تو حدیث کی یہ تعبیر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی ا ھ اس کلام کو نہر وغیرہ میں برقرار رکھا ہے یہ کلام دفع یوں ہوجاتا ہے کہ عدم اصرار کے باوجود تاویل حدیث کی ضرورت ہے تو اس پر غور کرو ا ھ۔
فــــ : معروضۃ خامسۃ علیہ ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۰ ، ۸۱
وقال بعیدہ صریح مافی البدائع انہ لاکراھۃ فی الزیادۃ والنقصان مع اعتقاد سنیۃ الثلث وھو مخالف لمامر من انہ لواکتفی بمرۃ واعتادہ اثم ولما سیاتی ان الاسراف مکروہ تحریما ولھذا فرع فی الفتح وغیرہ علی القول بحمل الوعید علی الاعتقاد بقولہ فلوزاد لقصد الوضوء علی الوضوء اولطمانیۃ القلب عند الشك اونقص لحاجۃ لا باس بہ فان مفاد ھذا التفریع انہ لو زاد اونقص بلا غرض صحیح یکرہ وان اعتقد سنیۃ الثلث وبہ صرح فی الحلیۃ فیحتاج الی التوفیق بین مافی البدائع وغیرہ ویمکن التوفیق بما قدمنا انہ اذا فعل ذلك مرۃ لایکرہ مالم یعتقدہ سنۃ وان اعتادہ یکرہ وان اعتقد سنیت الثلث الا اذا کان لغرض صحیح اھ ولکن سبحن من لاینسی۔
اقول : وانت تعلم ان الکراھیۃ اس کے کچھ آگے لکھاہے بدائع کی تصریح یہ ہے کہ تثلیث کو سنت مانتے ہوئے کم وبیش کر دینے میں کوئی کراہت نہیں ہے اور یہ اس کے مخالف ہے جو بیان ہوا کہ اگرایك بار دھونے پر اکتفاء کرے اور اس کا عادی ہو تو گنہگار ہو گا اور اس کے بھی خلاف ہے جو آگے آرہا ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اور اسی لئے فتح القدیر وغیرہ میں وعید کو اعتقاد پر محمو ل کرنے کے قول پر یہ تفریع کی ہے کہ اگر وضوپر وضو کے ارادے سے یا شك کی حالت میں اطمینان قلب کے لئے زیادتی کی یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں کیوں کہ اس تفریع کامفاد یہ ہے کہ اگر کسی غرض صحیح کے بغیر کمی بیشی کی تومکروہ ہے اگرچہ تثلیث کے مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور حلیہ میں اسکی تصریح کی ہے۔ توبدا ئع اور دوسری کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تطبیق دینے کی ضرورت ہے اوریہ تطبیق اس کلام سے ہو سکتی ہے جو ہم نے پہلے تحریر کیا کہ جب ایك بار ایسا کرے تو مکروہ نہیں جبکہ اسے سنت نہ سمجھے اور اگر اس کا عادی ہوتو مکروہ ہے اگر چہ تثلیث کو سنت مانے مگر جب کسی غرض صحیح کے تحت ہو اھ۔ لیکن پاك ہے وہ جسے نسیان نہیں ۔
اقول : ناظر کومعلوم ہے کہ کبھی ایك بار
اقول : وانت تعلم ان الکراھیۃ اس کے کچھ آگے لکھاہے بدائع کی تصریح یہ ہے کہ تثلیث کو سنت مانتے ہوئے کم وبیش کر دینے میں کوئی کراہت نہیں ہے اور یہ اس کے مخالف ہے جو بیان ہوا کہ اگرایك بار دھونے پر اکتفاء کرے اور اس کا عادی ہو تو گنہگار ہو گا اور اس کے بھی خلاف ہے جو آگے آرہا ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اور اسی لئے فتح القدیر وغیرہ میں وعید کو اعتقاد پر محمو ل کرنے کے قول پر یہ تفریع کی ہے کہ اگر وضوپر وضو کے ارادے سے یا شك کی حالت میں اطمینان قلب کے لئے زیادتی کی یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں کیوں کہ اس تفریع کامفاد یہ ہے کہ اگر کسی غرض صحیح کے بغیر کمی بیشی کی تومکروہ ہے اگرچہ تثلیث کے مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور حلیہ میں اسکی تصریح کی ہے۔ توبدا ئع اور دوسری کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تطبیق دینے کی ضرورت ہے اوریہ تطبیق اس کلام سے ہو سکتی ہے جو ہم نے پہلے تحریر کیا کہ جب ایك بار ایسا کرے تو مکروہ نہیں جبکہ اسے سنت نہ سمجھے اور اگر اس کا عادی ہوتو مکروہ ہے اگر چہ تثلیث کو سنت مانے مگر جب کسی غرض صحیح کے تحت ہو اھ۔ لیکن پاك ہے وہ جسے نسیان نہیں ۔
اقول : ناظر کومعلوم ہے کہ کبھی ایك بار
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۱ ، ۸۲
المنفیۃ فیما اذا نقص مرۃ ھی التحریمیۃ کما قدمنا لان ترك السنۃ المؤکدۃ مرۃ واحدۃ ایضا مکروہ ولولم یکن تحریما وعلی التعود یحمل التفریع المذکور فی الفتح والکافی والبحر وعامۃ الکتب فان نفی الباس یستعمل فی کراھۃ التنزیہ کما نصوا علیہ فاثباتہ المستفاد ھھنا بالمفھوم المخالف یفید کراھۃ التحریم۔
ھذا الکلام معہ رحمہ الله تعالی بما قرر نفسہ وعند العبد الضعیف منشؤ اخر لحمل العلماء الحدیث علی الاعتقاد کما سیاتی ان شاء الله تعالی۔
کمی کردینے پر کراہت کی جو نفی کی گئی ہے اس سے کراہت تحریم مراد ہے جیساکہ ہم نے سابقا بیان کیا اسلئے کہ سنت مؤکدہ کا ایك بار بھی ترك مکروہ ہے اگرچہ مکروہ تحریمی نہ ہو اور عادت ہونے کی صورت پر وہ تفریع محمول ہوگی جو فتح کافی بحر میں مذکور ہے اس لئے کہ “ لابأس بہ “ (اس میں حرج نہیں ) کراہت تنزیہ میں استعمال ہوتاہے جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح کی تو “ بأس “ (حرج ) جو یہاں مفہوم مخالف سے مستفادہے وہ کراہت تحریم کا افادہ کررہا ہے۔
یہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے ساتھ خود انہی کی تقریر وتحریر سے کلام ہوا اور بندہ ضعیف کے نزدیك حدیث کو اعتقاد پر محمول کیے جانے کامنشا دوسرا ہے جیساکہ آ گے ان شاء الله تعالی ذکرہوگا۔
سوم سے یہ جواب دیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃ اصطلاحا منہی عنہ ہے اگرچہ لغتا اسے منہی عنہ کہنا مجاز ہے کما فی التحریر (ت)
اقول : فــــ۱ اولا رحمۃ اللہ تعالی علیہالعلامۃ یہاں تحریرمیں اصطلاح سے امام محقق علی الاطلاق کی مراداصطلاح نحویاں ہے نہ کہ اصطلاح شرح یا فقہ یعنی جب کہ مکروہ تنزیہی میں صیغہ نہی اور بعض مندوبات میں صیغہ امرہوتا ہے اور نحوی صیغہ ہی کودیکھتے ہیں اختلاف معانی سے انہیں بحث نہیں کہ یہاں فعل یا ترك طلب حتمی ہے یا غیر حتمی تو ان کی اصطلاح میں حقیقۃ مندوب مامور بہ ہوگا اور مکروہ تنزیہی منہی عنہ مگرلغۃ فــــ۲ ان کو مامور بہ اور منہی عنہ کہنا مجاز ہے کہ لغت میں ما مور بہ واجب اور منہی عنہ نا جائز
فــــ ۱ : معروضۃ ثالثہ علیہ ۔
فــــ۲ : مکروہ تنزیہی لغتا و شرعا منہی عنہ نہیں اگرچہ نحویوں کے طور اس میں صیغہ نہی ہو۔
ھذا الکلام معہ رحمہ الله تعالی بما قرر نفسہ وعند العبد الضعیف منشؤ اخر لحمل العلماء الحدیث علی الاعتقاد کما سیاتی ان شاء الله تعالی۔
کمی کردینے پر کراہت کی جو نفی کی گئی ہے اس سے کراہت تحریم مراد ہے جیساکہ ہم نے سابقا بیان کیا اسلئے کہ سنت مؤکدہ کا ایك بار بھی ترك مکروہ ہے اگرچہ مکروہ تحریمی نہ ہو اور عادت ہونے کی صورت پر وہ تفریع محمول ہوگی جو فتح کافی بحر میں مذکور ہے اس لئے کہ “ لابأس بہ “ (اس میں حرج نہیں ) کراہت تنزیہ میں استعمال ہوتاہے جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح کی تو “ بأس “ (حرج ) جو یہاں مفہوم مخالف سے مستفادہے وہ کراہت تحریم کا افادہ کررہا ہے۔
یہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے ساتھ خود انہی کی تقریر وتحریر سے کلام ہوا اور بندہ ضعیف کے نزدیك حدیث کو اعتقاد پر محمول کیے جانے کامنشا دوسرا ہے جیساکہ آ گے ان شاء الله تعالی ذکرہوگا۔
سوم سے یہ جواب دیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃ اصطلاحا منہی عنہ ہے اگرچہ لغتا اسے منہی عنہ کہنا مجاز ہے کما فی التحریر (ت)
اقول : فــــ۱ اولا رحمۃ اللہ تعالی علیہالعلامۃ یہاں تحریرمیں اصطلاح سے امام محقق علی الاطلاق کی مراداصطلاح نحویاں ہے نہ کہ اصطلاح شرح یا فقہ یعنی جب کہ مکروہ تنزیہی میں صیغہ نہی اور بعض مندوبات میں صیغہ امرہوتا ہے اور نحوی صیغہ ہی کودیکھتے ہیں اختلاف معانی سے انہیں بحث نہیں کہ یہاں فعل یا ترك طلب حتمی ہے یا غیر حتمی تو ان کی اصطلاح میں حقیقۃ مندوب مامور بہ ہوگا اور مکروہ تنزیہی منہی عنہ مگرلغۃ فــــ۲ ان کو مامور بہ اور منہی عنہ کہنا مجاز ہے کہ لغت میں ما مور بہ واجب اور منہی عنہ نا جائز
فــــ ۱ : معروضۃ ثالثہ علیہ ۔
فــــ۲ : مکروہ تنزیہی لغتا و شرعا منہی عنہ نہیں اگرچہ نحویوں کے طور اس میں صیغہ نہی ہو۔
سے خاص ہے اوریہی عرف شرع واصطلاح فقہ ہے تو نحویوں کے طور پر لا تفعل کا صیغہ ہونے سے فقہاکیوں کر منہیات میں داخل ہونے لگا تحریر کی عبارت محل مذکور سابقاملخصا یہ ہے
مسئلۃ : اختلف فی لفظ المامور بہ فی المندوب قیل عن المحققین حقیقۃ والحنفیۃ وجمع من الشافعیۃ مجاز ویجب کون مراد المثبت ان الصیغۃ فی الندب یطلق علیھا لفظ امر حقیقۃ بناء علی عرف النحاۃ فی ان الامر للصیغۃ المقابلۃ للماضی واخیہ مستعملۃ فی الایجاب اوغیرہ فالمندوب مامور بہ حقیقۃ والنافی علی ماثبت ان الامر خاص فی الوجوب والاول (ای نفی الحقیقۃ) اوجہ لابتنائہ علی الثابت لغۃ وابتناء الاول علی الاصطلاح (للنحویین) ومثل ھذہ المکروہ (تنزیھا) منھی (عنہ) اصطلاحا (نحویا) حقیقۃ مجاز لغۃ (لان النھی فی الاصطلاح یقال علی لاتفعل استعلاء سواء کان للمنع الحتم اولا اما فی اللغۃ فیمتنع ان یقال حقیقۃ نہی عن کذا الا اذا منع منہ ) اھ مزید
مسئلہ : مندوب کے بارے میں لفظ ماموبہ کے بارے میں اختلاف ہے کہا گیا کہ محققین سے منقول ہے کہ وہ حقیقۃ مامور بہ ہے.اورحنفیہ اورایك جماعت شافعیہ سے منقول ہے کہ مجازاہے۔ ضروری ہے کہ مثبت کی مرادیہ ہوکہ ندب میں جو صیغہ ہوتا ہے اس پر لفظ امر حقیقتابولا جاتا ہے اس بنیاد پر کہ نحویوں کاعرف یہ ہے کہ امر اس صیغہ کو کہتے ہیں جو ماضی ومضارع کے مقابلے میں ہوتاہے یہ ایجاب یا غیرایجاب میں استعمال ہوتا ہے تو مندوب بہ حقیقۃ ما مور بہ اور نافی اس پر ہے جو ثابت ہوا کہ امر وجوب میں خاص ہے اوراول ( یعنی نفی حقیقت) اوجہ ہے اسلئے کہ وہ اس پر مبنی ہے جو لغتا ثابت ہے اور پہلے کی بنیاد (نحویوں کی )اصطلاح پر ہے اوراسی کی طرح مکروہ(تنزیہی )بھی(نحوی)اصطلاح میں حقیقتا منہی عنہ ہے اور لغت میں مجازااس لئے کہ اصطلاح میں نہی کا اطلاق بطور استعلاء “ لاتفعل “ (مت کر) پرہوتا ہے خواہ منع حتمی ہو یا نہ ہولیکن لغت میں حقیقتا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں کام سے نہی کی مگراسی وقت جب کہ اس سے اسی وقت منع کردیا ہو۔ اھ ہلالین کے
مسئلۃ : اختلف فی لفظ المامور بہ فی المندوب قیل عن المحققین حقیقۃ والحنفیۃ وجمع من الشافعیۃ مجاز ویجب کون مراد المثبت ان الصیغۃ فی الندب یطلق علیھا لفظ امر حقیقۃ بناء علی عرف النحاۃ فی ان الامر للصیغۃ المقابلۃ للماضی واخیہ مستعملۃ فی الایجاب اوغیرہ فالمندوب مامور بہ حقیقۃ والنافی علی ماثبت ان الامر خاص فی الوجوب والاول (ای نفی الحقیقۃ) اوجہ لابتنائہ علی الثابت لغۃ وابتناء الاول علی الاصطلاح (للنحویین) ومثل ھذہ المکروہ (تنزیھا) منھی (عنہ) اصطلاحا (نحویا) حقیقۃ مجاز لغۃ (لان النھی فی الاصطلاح یقال علی لاتفعل استعلاء سواء کان للمنع الحتم اولا اما فی اللغۃ فیمتنع ان یقال حقیقۃ نہی عن کذا الا اذا منع منہ ) اھ مزید
مسئلہ : مندوب کے بارے میں لفظ ماموبہ کے بارے میں اختلاف ہے کہا گیا کہ محققین سے منقول ہے کہ وہ حقیقۃ مامور بہ ہے.اورحنفیہ اورایك جماعت شافعیہ سے منقول ہے کہ مجازاہے۔ ضروری ہے کہ مثبت کی مرادیہ ہوکہ ندب میں جو صیغہ ہوتا ہے اس پر لفظ امر حقیقتابولا جاتا ہے اس بنیاد پر کہ نحویوں کاعرف یہ ہے کہ امر اس صیغہ کو کہتے ہیں جو ماضی ومضارع کے مقابلے میں ہوتاہے یہ ایجاب یا غیرایجاب میں استعمال ہوتا ہے تو مندوب بہ حقیقۃ ما مور بہ اور نافی اس پر ہے جو ثابت ہوا کہ امر وجوب میں خاص ہے اوراول ( یعنی نفی حقیقت) اوجہ ہے اسلئے کہ وہ اس پر مبنی ہے جو لغتا ثابت ہے اور پہلے کی بنیاد (نحویوں کی )اصطلاح پر ہے اوراسی کی طرح مکروہ(تنزیہی )بھی(نحوی)اصطلاح میں حقیقتا منہی عنہ ہے اور لغت میں مجازااس لئے کہ اصطلاح میں نہی کا اطلاق بطور استعلاء “ لاتفعل “ (مت کر) پرہوتا ہے خواہ منع حتمی ہو یا نہ ہولیکن لغت میں حقیقتا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں کام سے نہی کی مگراسی وقت جب کہ اس سے اسی وقت منع کردیا ہو۔ اھ ہلالین کے
حوالہ / References
التحریر فی اصول الفقہ المقالۃ الثانیۃ الباب الاول مصطفٰی البابی مصرص۲۵۵تا۲۵۷ ، التقریر والتحبیرالمقالۃ الثانیۃ الباب الاول دار الفکر بیروت۲ / ۱۹۱۔ ۱۹۰
امابین الاھلۃ من شرحہ التقریر والتحبیر لتلمیذہ المحقق ابن امیر الحاج رحمھما الله تعالی۔
درمیان اضافہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد (یعنی محقق ابن امیر الحاج) کی شرح التقریروالتحبیرسے ہیں ۔
ثانیا اقول : اگر مکرو ہ فــــ۱تنزیہی شرعا حقیقۃ منہی عنہ ہوتا واجب الاحتراز ہوتا لقولہ تعالی و ما نهىكم عنه فانتهوا- (کیونکہ باری تعالی کا ارشاد ہے اورتمہیں جس چیز سے روکیں اس سے باز آجاؤ۔ )تو مکروہ تنزیہی نہ رہتا بلکہ حرام یا تحریمی ہوتا اور ہم نے اپنے رسالہ جمل مجلیۃ ان المکروہ ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیۃ میں دلائل قاہرہ قائم کئے ہیں کہ وہ ہرگز شرعا منہی عنہ نہیں ۔
ثالثا : خود علامہ فــــ۲ شامی کو جابجا اس کا اعتراف ہے کلام حلیہ الظاھر ان السنۃ فعل المغرب فورا وبعدہ مباح الی اشتباك النجوم(ظاہر یہ ہے کہ مغرب کی ادائیگی فورا مسنون اوراسکے بعدستاروں کے باہم مل جانے تك مباح ہے ۔ ت) نقل کرکے فرمایا :
الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینافی کرا ھۃ التنزیہ ۔
ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے مباح سے وہ مراد لیا ہے جو ممنوع نہ ہو تویہ مکروہ مکروہ تنزیہی ہونے کے منافی نہیں ۔ ( ت)
آخر کتاب الاشربہ میں سید علامہ ابو السعود سے نقل کیا :
المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ اھ
(مکروہ تنز یہی مباح کے ساتھ جمع ہوتا ہے۔ ت)
رابعا وخامسا اقول : فـــــ۳ عجب تریہ کہ صدر حظر میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکا اجماع بتایا کہ مکروہ تنزیہی ممنوع نہیں ۔
ثم ادعی فــــ۴ تبعا لزلۃ وقعت فی
پھر تلویح میں واقع ہونے والی ایك لغزش کی
فـــــ۱ : معروضۃ سابعۃعلیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃثامنۃ علیہ ۔ فـــــ۳ معروضۃ تاسعۃ علیہ۔ فـــــ۴ : معروضۃ عاشر ۃ علیہ ۔
درمیان اضافہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد (یعنی محقق ابن امیر الحاج) کی شرح التقریروالتحبیرسے ہیں ۔
ثانیا اقول : اگر مکرو ہ فــــ۱تنزیہی شرعا حقیقۃ منہی عنہ ہوتا واجب الاحتراز ہوتا لقولہ تعالی و ما نهىكم عنه فانتهوا- (کیونکہ باری تعالی کا ارشاد ہے اورتمہیں جس چیز سے روکیں اس سے باز آجاؤ۔ )تو مکروہ تنزیہی نہ رہتا بلکہ حرام یا تحریمی ہوتا اور ہم نے اپنے رسالہ جمل مجلیۃ ان المکروہ ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیۃ میں دلائل قاہرہ قائم کئے ہیں کہ وہ ہرگز شرعا منہی عنہ نہیں ۔
ثالثا : خود علامہ فــــ۲ شامی کو جابجا اس کا اعتراف ہے کلام حلیہ الظاھر ان السنۃ فعل المغرب فورا وبعدہ مباح الی اشتباك النجوم(ظاہر یہ ہے کہ مغرب کی ادائیگی فورا مسنون اوراسکے بعدستاروں کے باہم مل جانے تك مباح ہے ۔ ت) نقل کرکے فرمایا :
الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینافی کرا ھۃ التنزیہ ۔
ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے مباح سے وہ مراد لیا ہے جو ممنوع نہ ہو تویہ مکروہ مکروہ تنزیہی ہونے کے منافی نہیں ۔ ( ت)
آخر کتاب الاشربہ میں سید علامہ ابو السعود سے نقل کیا :
المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ اھ
(مکروہ تنز یہی مباح کے ساتھ جمع ہوتا ہے۔ ت)
رابعا وخامسا اقول : فـــــ۳ عجب تریہ کہ صدر حظر میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکا اجماع بتایا کہ مکروہ تنزیہی ممنوع نہیں ۔
ثم ادعی فــــ۴ تبعا لزلۃ وقعت فی
پھر تلویح میں واقع ہونے والی ایك لغزش کی
فـــــ۱ : معروضۃ سابعۃعلیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃثامنۃ علیہ ۔ فـــــ۳ معروضۃ تاسعۃ علیہ۔ فـــــ۴ : معروضۃ عاشر ۃ علیہ ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۷
رد المحتار کتاب الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۴۶
رد المحتار کتاب الاشربہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۹۶
رد المحتار کتاب الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۴۶
رد المحتار کتاب الاشربہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۲۹۶
التلویح واقمنا فی رسالتنا بسط الیدین الدلائل الساطعۃ علی بطلانھا ونقلنا مائۃ نص من ائمتنا وکتب مذھبنا متونا وشروحا وفتاوی منھا کتب نفس الشامی کردالمحتار ونسمات الاسحار علی خلافھا ان المکروہ تحریما ایضا غیر ممنوع عند الشیخین رضی الله تعالی عنہما وسبحن الله ای ا عجب اعجب منھذا ان یکون المکروہ تنزیھا منھیا عنہ والمکروہ تحریما غیر ممنوع۔
تبعیت میں یہ دعوی کر دیا کہ شیخین (امام اعظم وامام ابو یوسف ) رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك مکروہ تحریمی بھی ممنوع نہیں خداہی کے لئے پاکی ہے اس سے زیادہ عجیب کون سا عجب ہوگا کہ مکروہ تنزیہی تو منہی عنہ ہو اور مکروہ تحریمی ممنوع نہ ہو ہم نے اس کے بطلان پر اپنے رسالہ بسط الیدین میں روشن دلائل قائم کیے ہیں اوراسکے خلاف سو ۱۰۰ نصوص اپنے آئمہ اور اپنے مذہب کی کتب متون وشروح وفتاوی سے نقل کیے ہیں جن میں خودعلامہ شامی کی کتابیں رد المحتار نسمات الاسحار وغیرہ بھی ہیں ۔ (ت)
سادسا : عجب تر یہ کہ جب شارح نے جواہر سے آب جاری میں اسراف جائز ہونا نقل فرمایا علامہ محشی نے قول کراہت کے خلاف دیکھ کر اس کی یہ تاویل فرمائی کہ جائز سے مراد غیر ممنوع ہے۔
ففی الحلیۃ عن اصول ابن الحاجب انہ قدیطلق ویراد بہ مالایمتنع شرعا وھو یشمل المباح والمکروہ والمندوب والواجب ۔
کیونکہ حلیہ میں اصول ابن حاجب سے نقل ہے کہ کبھی جائز بولا جاتا ہے اوراس سے وہ مراد ہوتا ہے جو شرعا ممنوع نہ ہویہ مباح مکروہ مندوب اور واجب سب کو شامل ہے۔ (ت) یعنی اب کراہت کے خلاف نہ ہوگا مکروہ تنزیہی بھی شرعا ممنوع نہیں ۔
اقول : فــــ۱ یہ ایك تو اس دعوے کا رد ہوگیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃ منہی عنہ ہے۔
سابعا : فــــ۲ اصل تحقیق علامہ محشی کے خلاف خود قول صاحب نہر کی تسلیم ہوگئی خود علامہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ کتب میں مفہوم مخالف معتبر ہے جب عبارت جواہر کے معنے یہ ٹھہرے کہ جاری پانی میں ممنوع
فـــــ۱ : المعروضۃ الحادیۃ عشرۃعلیہ ۔ فـــــ ۲ : المعروضۃا لثانیۃ عشرۃ علیہ۔
تبعیت میں یہ دعوی کر دیا کہ شیخین (امام اعظم وامام ابو یوسف ) رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك مکروہ تحریمی بھی ممنوع نہیں خداہی کے لئے پاکی ہے اس سے زیادہ عجیب کون سا عجب ہوگا کہ مکروہ تنزیہی تو منہی عنہ ہو اور مکروہ تحریمی ممنوع نہ ہو ہم نے اس کے بطلان پر اپنے رسالہ بسط الیدین میں روشن دلائل قائم کیے ہیں اوراسکے خلاف سو ۱۰۰ نصوص اپنے آئمہ اور اپنے مذہب کی کتب متون وشروح وفتاوی سے نقل کیے ہیں جن میں خودعلامہ شامی کی کتابیں رد المحتار نسمات الاسحار وغیرہ بھی ہیں ۔ (ت)
سادسا : عجب تر یہ کہ جب شارح نے جواہر سے آب جاری میں اسراف جائز ہونا نقل فرمایا علامہ محشی نے قول کراہت کے خلاف دیکھ کر اس کی یہ تاویل فرمائی کہ جائز سے مراد غیر ممنوع ہے۔
ففی الحلیۃ عن اصول ابن الحاجب انہ قدیطلق ویراد بہ مالایمتنع شرعا وھو یشمل المباح والمکروہ والمندوب والواجب ۔
کیونکہ حلیہ میں اصول ابن حاجب سے نقل ہے کہ کبھی جائز بولا جاتا ہے اوراس سے وہ مراد ہوتا ہے جو شرعا ممنوع نہ ہویہ مباح مکروہ مندوب اور واجب سب کو شامل ہے۔ (ت) یعنی اب کراہت کے خلاف نہ ہوگا مکروہ تنزیہی بھی شرعا ممنوع نہیں ۔
اقول : فــــ۱ یہ ایك تو اس دعوے کا رد ہوگیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃ منہی عنہ ہے۔
سابعا : فــــ۲ اصل تحقیق علامہ محشی کے خلاف خود قول صاحب نہر کی تسلیم ہوگئی خود علامہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ کتب میں مفہوم مخالف معتبر ہے جب عبارت جواہر کے معنے یہ ٹھہرے کہ جاری پانی میں ممنوع
فـــــ۱ : المعروضۃ الحادیۃ عشرۃعلیہ ۔ فـــــ ۲ : المعروضۃا لثانیۃ عشرۃ علیہ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
نہیں صرف مکروہ تنزیہی ہے تو صاف مستفاد ہوا کہ آب غیر جاری میں ممنوع ومکروہ تحریمی ہے اور یہی مدعائے صاحب نہر تھا بالجملہ نہر کی کسی دلیل کا جواب نہ ہوا۔ رہا یہ کہ پھر آخر حکم منقح کیا ہے اس کیلئے اولا تحقیق معنی اسراف کی طرف عود کریں پھر تنقیح حکم وبالله التوفیق۔
تنبیہ۶ : اسراف بلاشبہ ممنوع وناجائز ہے قال الله تعالی :
و لا تسرفوا -انه لا یحب المسرفین(۳۱)
بیہودہ صرف نہ کرو بیشك الله تعالی بیہودہ صرف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
قال الله تعالی :
و لا تبذر تبذیرا(۲۶)ان المبذرین كانوا اخوان الشیطین-و كان الشیطن لربه كفورا(۲۷)
مال بیجا نہ اڑا بیشك بیجا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا۔
اقول : اسراف فـــــ کی تفسیر میں کلمات متعدد وجہ پر آئے :
(۱) غیر حق میں صرف کرنا۔ یہ تفسیر سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمائی۔
الفریابی وسعید بن منصور وابو بکر بن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد وابنا جریر والمنذر وابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ والبیھقی فی شعب الایمان واللفظ لابن جریر کلھم عنہ رضی الله تعالی عنہ فی قولہ تعالی
و لا تبذر تبذیرا قال التبذیر فی غیر الحق وھو الاسراف ۔ فریابی سعید بن منصور ابو بکر بن ابی شیبہ ادب المفرد میں بخاری ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم طبرانی حاکم بافادہ تصحیح شعب الایمان میں بیہقی اور ا لفاظ ابن جریر کے ہیں ۔ یہ سب حضرات عبدالله ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے ارشاد باری تعالی “ ولا تبذر تبذیرا “ کے تحت راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا تبذیر غیرحق میں صرف کرنا اور یہی اسراف بھی ہے۔ (ت)
فـــــ : اسراف کے معنی کی تفصیل وتحقیق۔
تنبیہ۶ : اسراف بلاشبہ ممنوع وناجائز ہے قال الله تعالی :
و لا تسرفوا -انه لا یحب المسرفین(۳۱)
بیہودہ صرف نہ کرو بیشك الله تعالی بیہودہ صرف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
قال الله تعالی :
و لا تبذر تبذیرا(۲۶)ان المبذرین كانوا اخوان الشیطین-و كان الشیطن لربه كفورا(۲۷)
مال بیجا نہ اڑا بیشك بیجا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا۔
اقول : اسراف فـــــ کی تفسیر میں کلمات متعدد وجہ پر آئے :
(۱) غیر حق میں صرف کرنا۔ یہ تفسیر سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمائی۔
الفریابی وسعید بن منصور وابو بکر بن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد وابنا جریر والمنذر وابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ والبیھقی فی شعب الایمان واللفظ لابن جریر کلھم عنہ رضی الله تعالی عنہ فی قولہ تعالی
و لا تبذر تبذیرا قال التبذیر فی غیر الحق وھو الاسراف ۔ فریابی سعید بن منصور ابو بکر بن ابی شیبہ ادب المفرد میں بخاری ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم طبرانی حاکم بافادہ تصحیح شعب الایمان میں بیہقی اور ا لفاظ ابن جریر کے ہیں ۔ یہ سب حضرات عبدالله ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے ارشاد باری تعالی “ ولا تبذر تبذیرا “ کے تحت راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا تبذیر غیرحق میں صرف کرنا اور یہی اسراف بھی ہے۔ (ت)
فـــــ : اسراف کے معنی کی تفصیل وتحقیق۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱ ، ۷ / ۳۱
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ۱۷ / ۲۶ دار احیا ء التراث العربی بیروت۱۵ / ۸۵
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ۱۷ / ۲۶ دار احیا ء التراث العربی بیروت۱۵ / ۸۵
اور اسی کے قریب ہے وہ کہ تاج العروس میں بعض سے نقل کیا : وضع الشیئ فی غیر موضعہ یعنی بیجا خرچ کرنا۔
ابن ابی حاتم نے امام مجاہد تلمیذ سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کی :
لوانفقت مثل ابی قبیس ذھبا فی طاعۃ الله لم یکن اسرا فاولو انفقت صاعا فی معصیۃ الله کان اسرافا ۔
اگر تو پہاڑ برابر سونا طاعت الہی میں خرچ کردے تو اسراف نہیں اور اگر ایك صاع جو گناہ میں خرچ کرے تو اسراف ہے۔
کسی نے حاتم کی کثرت داد ودہش پر کہا : لا خیر فی سرف اسراف میں خیر نہیں ۔ اس نے جواب دیا : لاسرف فی خیر خیر میں اسراف نہیں ۔
اقول : حاتم کا مقصود تو خدا نہ تھا نام تھا کمانص علیہ فی الحدیث(جیسا کہ حدیث میں نص وارد ہے۔ ت) تو اس کی ساری داد ودہش اسراف ہی تھی مگر سخائے خیر میں بھی شرع مطہر فـــــ اعتدال کا حکم فرماتی ہے۔
قال الله تعالی
و لا تجعل یدك مغلولة الى عنقك و لا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا(۲۹)
باری تعالی کا ارشادہے اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا نہ رکھ اورنہ پور اکھول دے کہ تو بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا ۔ ( ت)
وقال تعالی :
و الذین اذا انفقوا لم یسرفوا و لم
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور
فـــــ : مصارف خیر میں اعتدال چاہیے یا اپنا کل مال یك لخت راہ خدا میں دے دینے کی بھی اجازت ہے اس کی تحقیق ۔
ابن ابی حاتم نے امام مجاہد تلمیذ سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کی :
لوانفقت مثل ابی قبیس ذھبا فی طاعۃ الله لم یکن اسرا فاولو انفقت صاعا فی معصیۃ الله کان اسرافا ۔
اگر تو پہاڑ برابر سونا طاعت الہی میں خرچ کردے تو اسراف نہیں اور اگر ایك صاع جو گناہ میں خرچ کرے تو اسراف ہے۔
کسی نے حاتم کی کثرت داد ودہش پر کہا : لا خیر فی سرف اسراف میں خیر نہیں ۔ اس نے جواب دیا : لاسرف فی خیر خیر میں اسراف نہیں ۔
اقول : حاتم کا مقصود تو خدا نہ تھا نام تھا کمانص علیہ فی الحدیث(جیسا کہ حدیث میں نص وارد ہے۔ ت) تو اس کی ساری داد ودہش اسراف ہی تھی مگر سخائے خیر میں بھی شرع مطہر فـــــ اعتدال کا حکم فرماتی ہے۔
قال الله تعالی
و لا تجعل یدك مغلولة الى عنقك و لا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسورا(۲۹)
باری تعالی کا ارشادہے اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا نہ رکھ اورنہ پور اکھول دے کہ تو بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا ۔ ( ت)
وقال تعالی :
و الذین اذا انفقوا لم یسرفوا و لم
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور
فـــــ : مصارف خیر میں اعتدال چاہیے یا اپنا کل مال یك لخت راہ خدا میں دے دینے کی بھی اجازت ہے اس کی تحقیق ۔
حوالہ / References
تاج العروس باب الفا فصل السین دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۳۸
تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶ / ۱۴۱ مطبع نزا رمصطفی الباز مکۃ المکرمہ) (مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ / ۱۷۶ ، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ / ۱۷۶
مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ / ۱۷۶
القرآن الکریم ۱۷ /۲۹
تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶ / ۱۴۱ مطبع نزا رمصطفی الباز مکۃ المکرمہ) (مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ / ۱۷۶ ، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ / ۱۷۶
مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ / ۱۷۶
القرآن الکریم ۱۷ /۲۹
یقتروا و كان بین ذلك قواما(۶۷)
نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ (ت)
آیہ کریمہ و اتوا حقه یوم حصاده ﳲ و لا تسرفوا- (اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو۔ ت)کی شان نزول میں ثابت عــــہ بن قیس رضی اللہ تعالی عنہکا قصہ معلوم ومعروف ہے رواھا ابن جریر وابن ابی حاتم عن ابن جریج۔ ادھر صحاح کی حدیث جلیل ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تصدق کا حکم فرمایا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہخوش ہوئے کہ اگر میں کبھی ابو بکر صدیق پر سبقت لے جاؤں گا تو وہ یہی بار ہے کہ میرے پاس مال بسیا رہے اپنے جملہ اموال سے نصف حاضر خدمت اقدس لائے۔ حضور نے فرمایا : اہل وعیال کیلئے کیا رکھا عرض کی اتنا ہی۔ اتنے میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہحاضر ہوئے اور کل مال حاضر لائے گھر میں کچھ نہ چھوڑا۔ ارشاد ہوا : اہل وعیال کیلئے کیا رکھا عرض کی : الله اور اس کا رسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس پر حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تم دونوں میں وہی فرق ہے جو تمہارے ان جوابوں میں ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ عام کیلئے وہی
عـــــہ : نیز ایك صاحب انڈے برابر سونا لے کر حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! میں نے ایك کان میں سے پایا میں اسے تصدق کرتا ہوں اس کے سوا میری ملك میں کچھ نہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اعراض فرمایا انہوں نے پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی حضور نے وہ سونا ان سے لے کر ایسا پھینکا کہ اگر ان کے لگتا تو درد پہنچاتا یا زخمی کرتا اور فرمایا تم میں ایك شخص اپنا پورا مال لاتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر بیٹھا لوگوں سے بھیك مانگے گا خیر الصدقۃ ماکان عن ظھر غنی۔ بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے رواہ ابو داؤد وغیرہ عن جابر رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (اس کو ابو داؤد وغیرہ نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت) (منہ)
نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ (ت)
آیہ کریمہ و اتوا حقه یوم حصاده ﳲ و لا تسرفوا- (اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو۔ ت)کی شان نزول میں ثابت عــــہ بن قیس رضی اللہ تعالی عنہکا قصہ معلوم ومعروف ہے رواھا ابن جریر وابن ابی حاتم عن ابن جریج۔ ادھر صحاح کی حدیث جلیل ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تصدق کا حکم فرمایا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہخوش ہوئے کہ اگر میں کبھی ابو بکر صدیق پر سبقت لے جاؤں گا تو وہ یہی بار ہے کہ میرے پاس مال بسیا رہے اپنے جملہ اموال سے نصف حاضر خدمت اقدس لائے۔ حضور نے فرمایا : اہل وعیال کیلئے کیا رکھا عرض کی اتنا ہی۔ اتنے میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہحاضر ہوئے اور کل مال حاضر لائے گھر میں کچھ نہ چھوڑا۔ ارشاد ہوا : اہل وعیال کیلئے کیا رکھا عرض کی : الله اور اس کا رسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماس پر حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تم دونوں میں وہی فرق ہے جو تمہارے ان جوابوں میں ۔ اور تحقیق یہ ہے کہ عام کیلئے وہی
عـــــہ : نیز ایك صاحب انڈے برابر سونا لے کر حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! میں نے ایك کان میں سے پایا میں اسے تصدق کرتا ہوں اس کے سوا میری ملك میں کچھ نہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اعراض فرمایا انہوں نے پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی حضور نے وہ سونا ان سے لے کر ایسا پھینکا کہ اگر ان کے لگتا تو درد پہنچاتا یا زخمی کرتا اور فرمایا تم میں ایك شخص اپنا پورا مال لاتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر بیٹھا لوگوں سے بھیك مانگے گا خیر الصدقۃ ماکان عن ظھر غنی۔ بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے رواہ ابو داؤد وغیرہ عن جابر رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (اس کو ابو داؤد وغیرہ نے جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت) (منہ)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۵ /۶۷
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱
الدر المنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶ / ۱۴۱ دارا حیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۱ ، جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ۶ / ۱۴۱ دار احیا ء التراث العربی بیروت۸ / ۷۴
سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ باب الرجل یخرج من مالہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۳۶ ، ۲۳۵
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱
الدر المنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶ / ۱۴۱ دارا حیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۱ ، جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ۶ / ۱۴۱ دار احیا ء التراث العربی بیروت۸ / ۷۴
سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ باب الرجل یخرج من مالہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۳۶ ، ۲۳۵
حکم میانہ روی ہے اور صدق عـــــہ توکل وکمال تبتل والوں کی شان بڑی ہے۔
عــــہ : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا :
انفق بلالا ولا تخشی من ذی العرش اقلالا ۔ رواہ البزار عن بلال وابو یعلی والطبرانی فی الکبیر و الاوسط والبیہقی فی شعب الایمان عن ابی ہریرۃ والطبرانی فی الکبیرکالبزارعن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہم باسانید حسان۔
اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالك سے کمی کا اندیشہ نہ کر۔ ( بزاز نے حضرت بلال سے اور ابو یعلی اور طبرانی نے کبیر میں اور اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ سے اور طبرانی نے کبیر میں جبکہ بزاز نے ا بن مسعود رضی الله عنہم سے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اس حدیث کا موردیوں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال رضی اللہ تعالی عنہکے پاس ایك خرمن خرمہ ملاحظہ فرمایا ارشاد ہوا : بلال ! یہ کیا ہے عرض کی : حضورکے مہمانوں کیلئے رکھ چھوڑاہے۔ فرمایا : اما تخشی ان یکون لك دخان فی نار جہنم کیا ڈرتا نہیں کہ اس کے سبب آتش دوزخ میں تیرے لئے دھواں ہو خرچ کر اے بلال !اور عرش کے مالك سے کمی کا خوف نہ کر۔ بلکہ خود انہی بلال سے ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان سے فرمایا : اے بلال! فقیر مرنا اور غنی نہ مرنا۔ عرض کی اس کیلئے کیا طریقہ برتوں فرمایا : مارزقت فلاتخباء وما سئلت فلا تمنع جو تجھے ملے اسے نہ چھپا اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے انکار نہ کر۔ عرض کی(باقی برصفحہ ائندہ)
عــــہ : رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا :
انفق بلالا ولا تخشی من ذی العرش اقلالا ۔ رواہ البزار عن بلال وابو یعلی والطبرانی فی الکبیر و الاوسط والبیہقی فی شعب الایمان عن ابی ہریرۃ والطبرانی فی الکبیرکالبزارعن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہم باسانید حسان۔
اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالك سے کمی کا اندیشہ نہ کر۔ ( بزاز نے حضرت بلال سے اور ابو یعلی اور طبرانی نے کبیر میں اور اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ سے اور طبرانی نے کبیر میں جبکہ بزاز نے ا بن مسعود رضی الله عنہم سے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
اس حدیث کا موردیوں ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بلال رضی اللہ تعالی عنہکے پاس ایك خرمن خرمہ ملاحظہ فرمایا ارشاد ہوا : بلال ! یہ کیا ہے عرض کی : حضورکے مہمانوں کیلئے رکھ چھوڑاہے۔ فرمایا : اما تخشی ان یکون لك دخان فی نار جہنم کیا ڈرتا نہیں کہ اس کے سبب آتش دوزخ میں تیرے لئے دھواں ہو خرچ کر اے بلال !اور عرش کے مالك سے کمی کا خوف نہ کر۔ بلکہ خود انہی بلال سے ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان سے فرمایا : اے بلال! فقیر مرنا اور غنی نہ مرنا۔ عرض کی اس کیلئے کیا طریقہ برتوں فرمایا : مارزقت فلاتخباء وما سئلت فلا تمنع جو تجھے ملے اسے نہ چھپا اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے انکار نہ کر۔ عرض کی(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
المعجم الکبیرحدیث۱۰۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۱ / ۳۴۰ ، الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی وابی یعلی والبزارالترغیب فی الانفاق مصطفی البابی مصر۲ / ۵۱ ، کشف الخفاء حدیث۶۳۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱ / ۱۹۰ ، کنز العمال حدیث ۱۶۱۸۵ ، ۱۶۱۸۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ / ۳۸۷
الترغیب والترھیب الترغیب فی الانفاق مصطفی البابی مصر۲ / ۵۱
الترغیب والترھیب الترغیب فی الانفاق مصطفی البابی مصر۲ / ۵۱
(۲) حکم الہی کی حد سے بڑھنا۔ یہ تفسیر ایاس بن معویہ بن قرہ تابعی ابن تابعی ابن صحابی کی ہے۔
ابن جریر وابو الشیخ عن سفین عــــہ بن
ابن جریر اور ابو الشیخ سفیان بن حسین سے راوی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یا رسول اللہ! یہ میں کیونکر کرسکوں ۔ فرمایا ھوذاك اوالنار یا یہ یا نار۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر و ابو الشیخ فی الثواب والحاکم وقال صحیح الاسناد(اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابو شیخ نے ثواب میں اور حاکم نے روایت کیا اور فرمایا یہ صحیح الاسناد ہے۔ ت)
اگر کہیے ان پر تاکید اس لئے تھی کہ وہ اصحاب صفہ سے تھے اور ان حضرات کرام کا عہد تھا کہ کچھ پاس نہ رکھیں گے۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہاں اور ہم بھی نہیں کہتے کہ ایسا کرنا ہر ایك پر لازم ہے مگر ان حضرات پر اس کے لازم فرمانے ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کام فی نفسہ محمود ہے اور ہر صادق التوکل کو اس کی اجازت ورنہ ان کو بھی منع کیا جاتاجیسے ایك صاحب نے عمر بھر رات کو نہ سونے کا عہد کیا اور ایك نے عمر بھر روزے رکھنے کا ایك نے کبھی نکاح نہ کرنے کا۔ اس پر ناراضی فرمائی اور ارشاد ہوا : میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور شب کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور نکاح کرتا ہوں فمن رغب عن سنتی فلیس منی تو جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے ہیں رواہ عن حضرت انس رضی الله عنہ ۔
ایك شخص نے پیادہ حج کرنے کی منت مانی ضعف سے دو آدمیوں پر تکیہ دیے کر چل رہا تھا اسے سوار ہونے کا حکم دیا اور فرمایا :
ان الله تعالی عن تعذیب ھذانفسہ لغنی ۔ رویاہ عنہ رضی الله عنہ منہ
عــــہ : وقع فی نسخۃ الدرالمنثور المطبوعۃ بمصر سعید بن جبیروھو تصحیف اھ منہ عفی عنہ۔
الله اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔ ( اس کوشیخین نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ۲۱ منہ۔ ت)
عــــہ : در منثورمطبوعہ مصر کے نسخہ میں سعید بن جبیر واقع ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ عفی عنہ
ابن جریر وابو الشیخ عن سفین عــــہ بن
ابن جریر اور ابو الشیخ سفیان بن حسین سے راوی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یا رسول اللہ! یہ میں کیونکر کرسکوں ۔ فرمایا ھوذاك اوالنار یا یہ یا نار۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر و ابو الشیخ فی الثواب والحاکم وقال صحیح الاسناد(اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابو شیخ نے ثواب میں اور حاکم نے روایت کیا اور فرمایا یہ صحیح الاسناد ہے۔ ت)
اگر کہیے ان پر تاکید اس لئے تھی کہ وہ اصحاب صفہ سے تھے اور ان حضرات کرام کا عہد تھا کہ کچھ پاس نہ رکھیں گے۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) ہاں اور ہم بھی نہیں کہتے کہ ایسا کرنا ہر ایك پر لازم ہے مگر ان حضرات پر اس کے لازم فرمانے ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کام فی نفسہ محمود ہے اور ہر صادق التوکل کو اس کی اجازت ورنہ ان کو بھی منع کیا جاتاجیسے ایك صاحب نے عمر بھر رات کو نہ سونے کا عہد کیا اور ایك نے عمر بھر روزے رکھنے کا ایك نے کبھی نکاح نہ کرنے کا۔ اس پر ناراضی فرمائی اور ارشاد ہوا : میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور شب کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور نکاح کرتا ہوں فمن رغب عن سنتی فلیس منی تو جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے ہیں رواہ عن حضرت انس رضی الله عنہ ۔
ایك شخص نے پیادہ حج کرنے کی منت مانی ضعف سے دو آدمیوں پر تکیہ دیے کر چل رہا تھا اسے سوار ہونے کا حکم دیا اور فرمایا :
ان الله تعالی عن تعذیب ھذانفسہ لغنی ۔ رویاہ عنہ رضی الله عنہ منہ
عــــہ : وقع فی نسخۃ الدرالمنثور المطبوعۃ بمصر سعید بن جبیروھو تصحیف اھ منہ عفی عنہ۔
الله اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔ ( اس کوشیخین نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ۲۱ منہ۔ ت)
عــــہ : در منثورمطبوعہ مصر کے نسخہ میں سعید بن جبیر واقع ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ عفی عنہ
حوالہ / References
المعجم الکبیرحدیث۱۰۲۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۱ / ۳۴۱ ، المستدرک لحاکم کتاب الرقاق دار الفکربیروت۴ / ۳۱۶ ، الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی وابی الشیخ والحاکم الخ الترغیب فی الانفاق الخ مصطفی البابی مصر۲ / ۵۲
صحیح البخاری ، کتاب النکاح ۲ / ۷۵۷ ، و صحیح مسلم کتاب النکاح ۱ / ۴۴۹
صحیح البخاری ابواب العمرۃ ۱ / ۲۵۱ وصحیح مسلم کتاب النذر۲ / ۴۵ قدیمی کتب خانہ کراچی
صحیح البخاری ، کتاب النکاح ۲ / ۷۵۷ ، و صحیح مسلم کتاب النکاح ۱ / ۴۴۹
صحیح البخاری ابواب العمرۃ ۱ / ۲۵۱ وصحیح مسلم کتاب النذر۲ / ۴۵ قدیمی کتب خانہ کراچی
حسین عن ابی بشر قال اطاف الناس بایاس بن معویۃ فقالوا ما السرف قال ماتجاوزت بہ امر الله فھو سرف ۔
ہیں وہ ابو البشر سے انہوں نے کہا ایاس بن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہکے گرد جمع ہوکرلوگوں نے ان سے پوچھا : اسراف کیا ہے فرمایا جس خرچ میں تم امر الہی سے تجاوز کر جاؤ وہ اسراف ہے ۔ (ت)
اور اسی کی مثل اہل لغت سے ابن الاعرابی کی تفسیر ہے کما سیاتی من التفسیر الکبیر (جیسا کہ تفسیر کبیر سے ذکر آئے گا۔ ت) تعریفات السید میں ہے
الاسراف تجاوز الحد فی النفقۃ
(نفقہ میں حد تجاوز کرنا اسراف ہے۔ ت)
اقول : یہ تفسیر مجمل ہے حکم الہی وضو میں کہنیوں تك ہاتھ گٹوں تك پاؤں دھونا ہے مگر اس سے تجاوز اسراف نہیں بلکہ نیم بازو ونیم ساق تك بڑھانا مستحب ہے جیسا کہ احادیث سے گزرا تو امر سے مراد تشریع لینی چاہئے یعنی حد اجازت سے تجاوز اور اب یہ تفسیر ایك تفسیر تبذیر کی طرف عود کرے گی۔
(۳) ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرع مطہر یا مروت کے خلاف ہو اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔ طریقہ محمدیہ میں ہے :
الاسراف والتبذیر ملکۃ بذل المال حیث یجب امساکہ بحکم الشرع اوالمرؤۃ بقدر مایمکن وھما فی مخالفۃ الشرع حرامان وفی مخالفۃ المروء ۃ مکروھان تنزیھا اھ
اقول : وزاد ملکۃ لیجعلھما من منکرات القلب لانہ فی
اسراف اور تبذیر : اس جگہ مال خرچ کرنے کا ملکہ(نفس کی قوت راسخہ ) جہاں شریعت یا مروت روکنا لازم کرے اور مروت امکانی حد تك پہنچانے کے کام میں نفس کی سچی رغبت کو کہتے ہیں اسراف وتبذیر شریعت کی مخالف میں ہوں تو حرام ہیں اور مروت کی مخالف میں ہوں تومکروہ تنزیہی ہیں اھ
اقول : ان دونوں کو منکرات قلب سے قرار دینے کے لئے لفظ ملکہ کا اضا فہ کر دیا
ہیں وہ ابو البشر سے انہوں نے کہا ایاس بن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہکے گرد جمع ہوکرلوگوں نے ان سے پوچھا : اسراف کیا ہے فرمایا جس خرچ میں تم امر الہی سے تجاوز کر جاؤ وہ اسراف ہے ۔ (ت)
اور اسی کی مثل اہل لغت سے ابن الاعرابی کی تفسیر ہے کما سیاتی من التفسیر الکبیر (جیسا کہ تفسیر کبیر سے ذکر آئے گا۔ ت) تعریفات السید میں ہے
الاسراف تجاوز الحد فی النفقۃ
(نفقہ میں حد تجاوز کرنا اسراف ہے۔ ت)
اقول : یہ تفسیر مجمل ہے حکم الہی وضو میں کہنیوں تك ہاتھ گٹوں تك پاؤں دھونا ہے مگر اس سے تجاوز اسراف نہیں بلکہ نیم بازو ونیم ساق تك بڑھانا مستحب ہے جیسا کہ احادیث سے گزرا تو امر سے مراد تشریع لینی چاہئے یعنی حد اجازت سے تجاوز اور اب یہ تفسیر ایك تفسیر تبذیر کی طرف عود کرے گی۔
(۳) ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرع مطہر یا مروت کے خلاف ہو اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔ طریقہ محمدیہ میں ہے :
الاسراف والتبذیر ملکۃ بذل المال حیث یجب امساکہ بحکم الشرع اوالمرؤۃ بقدر مایمکن وھما فی مخالفۃ الشرع حرامان وفی مخالفۃ المروء ۃ مکروھان تنزیھا اھ
اقول : وزاد ملکۃ لیجعلھما من منکرات القلب لانہ فی
اسراف اور تبذیر : اس جگہ مال خرچ کرنے کا ملکہ(نفس کی قوت راسخہ ) جہاں شریعت یا مروت روکنا لازم کرے اور مروت امکانی حد تك پہنچانے کے کام میں نفس کی سچی رغبت کو کہتے ہیں اسراف وتبذیر شریعت کی مخالف میں ہوں تو حرام ہیں اور مروت کی مخالف میں ہوں تومکروہ تنزیہی ہیں اھ
اقول : ان دونوں کو منکرات قلب سے قرار دینے کے لئے لفظ ملکہ کا اضا فہ کر دیا
حوالہ / References
جامع البیان (تفسیرابن جریر ) تحت الآیۃ۶ / ۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۸ / ۷۴ ، الدرالمنثور بحوالہ ابی الشیخ تحت الآیۃ۶ / ۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۲
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۱۰
طریقہ محمدیہ السابع والعشرون الاسراف والتبذیر مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱ / ۱۵و۱۶
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۱۰
طریقہ محمدیہ السابع والعشرون الاسراف والتبذیر مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱ / ۱۵و۱۶
تعدیدھا ومثل الشارح العلامۃ سیدی عبد الغنی النابلسی قدس سرہ القدسی مخالفۃ المروء ۃ بدفعہ للا جانب والتصدق بہ علیھم وترك الاقارب والجیران المحاویج اھ
اقول : اخرج الطبرانی فــــ۱ بسند صحیح عن ابی ھریرۃ فـــ۲ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لایقبل الله صدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ ویصرفہا الی غیرھم والذی نفسی بیدہ لاینظر الله الیہ یوم القیمۃ اھ فھو خلاف الشرع لامجرد خلاف المروء ۃ والله تعالی اعلم۔
کیونکہ یہاں وہ دل کی برائیاں ہی شمار کرا رہے ہیں ۔ اور شارح علامہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے مخالفت مروت کی مثال یہ پیش کی ہے کہ حاجت مندوں قرابت داروں اورہمسایوں کو چھوڑ کر دور والوں کو مال دے اوران پر صدقہ کرے اھ
اقول : طبرانی نے بسند صحیح حضرت ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : اے امت محمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا خدااس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے کچھ ایسے قرابت دارہوں جواس کے صلہ کے محتاج ہوں اور وہ دوسروں پرصرف کرتا ہو اس کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے خدا اسکی طرف روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا اھ تو یہ (حاجت مند اقارب کو چھوڑ کر اجانب کو دینا ) صرف مروت ہی کے خلاف نہیں شریعت کے بھی خلاف ہے اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے ۔ ( ت)
فـــ۱ : تطفل علی المولی النابلسی ۔
فـــ۲ : مسئلہ : جس کے عزیز محتا ج ہوں اسے منع ہے کہ انہیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے حدیث میں فرمایا ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگا اور الله تعالی روزقیامت اس کی طرف نظرنہ فرمائے گا ۔
اقول : اخرج الطبرانی فــــ۱ بسند صحیح عن ابی ھریرۃ فـــ۲ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لایقبل الله صدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ ویصرفہا الی غیرھم والذی نفسی بیدہ لاینظر الله الیہ یوم القیمۃ اھ فھو خلاف الشرع لامجرد خلاف المروء ۃ والله تعالی اعلم۔
کیونکہ یہاں وہ دل کی برائیاں ہی شمار کرا رہے ہیں ۔ اور شارح علامہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے مخالفت مروت کی مثال یہ پیش کی ہے کہ حاجت مندوں قرابت داروں اورہمسایوں کو چھوڑ کر دور والوں کو مال دے اوران پر صدقہ کرے اھ
اقول : طبرانی نے بسند صحیح حضرت ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : اے امت محمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا خدااس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے کچھ ایسے قرابت دارہوں جواس کے صلہ کے محتاج ہوں اور وہ دوسروں پرصرف کرتا ہو اس کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے خدا اسکی طرف روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا اھ تو یہ (حاجت مند اقارب کو چھوڑ کر اجانب کو دینا ) صرف مروت ہی کے خلاف نہیں شریعت کے بھی خلاف ہے اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے ۔ ( ت)
فـــ۱ : تطفل علی المولی النابلسی ۔
فـــ۲ : مسئلہ : جس کے عزیز محتا ج ہوں اسے منع ہے کہ انہیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے حدیث میں فرمایا ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگا اور الله تعالی روزقیامت اس کی طرف نظرنہ فرمائے گا ۔
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ السابع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۸
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الاقارب دارلکتاب بیروت ۳ / ۱۱۷
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الاقارب دارلکتاب بیروت ۳ / ۱۱۷
انا اقول : وبالله التوفیق آدمی کے پاس جو مال زائد بچا اور اس نے ایك فضو ل کام میں اٹھا دیا جیسے بے مصلحت شرعی مکان کی زینت وآرائش میں مبالغہ اس سے اسے تو کوئی نفع ہوا نہیں اور اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو دیتا تو ان کو کیسا نفع پہنچتا تو اس حرکت سے ظاہر ہوا کہ اس نے اپنی بے معنی خواہش کو ان کی حاجت پر مقدم رکھا اور یہ خلاف مروت ہے۔
(۴) طاعت الہی کے غیر میں اٹھانا۔ قاموس میں ہے :
الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ اھ
اسراف تبذیریا وہ جو غیر طاعت میں خرچ ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں اسی کی نقل پر اقتصار فرمایا۔
اقول : ظاہر فـــ ہے کہ مباحات نہ طاعت ہیں نہ ان میں خرچ اسراف مگر یہ کہ غیر طاعت سے خلاف طاعت مراد لیں تو مثل تفسیر دوم ہوگی اور اب علامہ شامی کا یہ فرمانا کہ :
لایلزم من کونہ غیر طاعۃ ان یکون حراما نعم اذا اعتقد سنیتہ (ای سنیۃ الزیادۃ علی الثلث فی الوضوء) یکون منھیا عنہ ویکون ترکہ سنۃ مؤکدۃ ۔
اس کے غیر طاعت ہونے سے حرام ہونا لازم نہیں آتا ہاں ( وضوء میں تین بار سے زیادہ دھونے کے) مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو تو وہ منہی عنہ ہے اور اس کا ترك سنت مؤکدہ ہوگا۔ ( ت)
(۵) حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا
کما تقدم فی صدر البحث عن الحلیۃ والبحر وتبعھما العلامۃ الشامی
(جیسا کہ اس مبحث کے شروع میں حلیہ وبحر کے حوالے بیان ہوااور علامہ علامہ شامی نے ان دونوں کا اتبا ع کیا ۔ ت)
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش والقاموس ایضا۔
(۴) طاعت الہی کے غیر میں اٹھانا۔ قاموس میں ہے :
الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ اھ
اسراف تبذیریا وہ جو غیر طاعت میں خرچ ہو ۔ (ت)
ردالمحتار میں اسی کی نقل پر اقتصار فرمایا۔
اقول : ظاہر فـــ ہے کہ مباحات نہ طاعت ہیں نہ ان میں خرچ اسراف مگر یہ کہ غیر طاعت سے خلاف طاعت مراد لیں تو مثل تفسیر دوم ہوگی اور اب علامہ شامی کا یہ فرمانا کہ :
لایلزم من کونہ غیر طاعۃ ان یکون حراما نعم اذا اعتقد سنیتہ (ای سنیۃ الزیادۃ علی الثلث فی الوضوء) یکون منھیا عنہ ویکون ترکہ سنۃ مؤکدۃ ۔
اس کے غیر طاعت ہونے سے حرام ہونا لازم نہیں آتا ہاں ( وضوء میں تین بار سے زیادہ دھونے کے) مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو تو وہ منہی عنہ ہے اور اس کا ترك سنت مؤکدہ ہوگا۔ ( ت)
(۵) حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا
کما تقدم فی صدر البحث عن الحلیۃ والبحر وتبعھما العلامۃ الشامی
(جیسا کہ اس مبحث کے شروع میں حلیہ وبحر کے حوالے بیان ہوااور علامہ علامہ شامی نے ان دونوں کا اتبا ع کیا ۔ ت)
فـــ : معروضۃ علی العلامۃ ش والقاموس ایضا۔
حوالہ / References
القاموس المحیط باب الفاء فصل السین تحت السرف مصطفی البابی مصر ۳ / ۱۵۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو1داراحیاء التراث العربی ۱ / ۹۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو1داراحیاء التراث العربی ۱ / ۹۰
اقول : اولافـــــ۱ مراتب خمسہ کہ ہم اوپر بیان کر آئے ان میں حاجت کے بعد منفعت پھر زینت ہے اور شك نہیں کہ ان میں خرچ بھی اسراف نہیں جب تك حد اعتدال سے متجاوز نہ ہو قال الله تعالی
قل من حرم زینة الله التی اخر ج لعباده و الطیبت من الرزق-
اے نبی! تم فرمادو کہ الله کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی اور پاکیزہ رزق کس نے حرام کئے ہیں ۔ (ت)
مگر یہ تاویل کریں کہ حاجت سے ہر بکار آمد بات مراد ہے۔
ثانیا : شرعیہ فـــ۲ کی قید بھی مانع جامعیت ہے کہ حاجت دنیویہ میں بھی زیادہ اڑانا اسراف ہے مگر یہ کہ شرعیہ سے مراد مشروعہ لیں یعنی جو حاجت خلاف شرع نہ ہو تو یہ اس قول پر مبنی ہوجائے گا جس میں اسراف وتبذیر میں حاجت جائزہ وناجائز ہ سے فرق کیا ہے۔ اگر کہیے ان علماء کا یہ کلام دربارہ وضو ہے اس میں تو جو زیادت ہوگی حاجت شرعیہ دینیہ ہی سے زائد ہوگی۔
اقول : اب مطلقا حکم ممانعت مسلم نہ ہوگا مثلا میل چھڑانے یا شدت گرما میں ٹھنڈ کی نیت سے زیادت کی تو اسراف نہیں کہہ سکتے کہ غرض صحیح جائز میں خرچ ہے۔ شاید اسی لئے علامہ طحطاوی نے لفظ شرعیہ کم فرما کر اتنا ہی کہا
الاسراف ھو الزیادۃ علی قدر الحاجۃ
(ضرورت سے زیادہ خرچ اسراف ہے۔ ت)
اقول : مگر یہ تعریف اگر مطلق اسراف کی ہو تو جامعیت میں ایك اور خلل ہوگا کہ قدر حاجت سے زیادت کیلئے وجود حاجت درکار اور جہاں حاجت ہی نہ ہو اسراف اور زائد ہے ہاں حلیہ واتباع کی طرح خاص اسراف فی الوضوء کا بیان ہوتو یہ خلل نہ ہوگا۔
(۶) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ نہایہ ابن اثیر ومجمع بحار الانوار میں ہے :
الاسراف والتبذیر فی النفقۃ لغیر حاجۃ اوفی غیر طاعۃ الله تعالی ۔
اسراف اور تبذیر : بغیر حاجت یا غیرطاعت الہی میں خرچ کرنا ہے ۔ (ت)
فـــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ والبحروش۔ فـــــ۲ : تطفل اخر علیہم۔
قل من حرم زینة الله التی اخر ج لعباده و الطیبت من الرزق-
اے نبی! تم فرمادو کہ الله کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی اور پاکیزہ رزق کس نے حرام کئے ہیں ۔ (ت)
مگر یہ تاویل کریں کہ حاجت سے ہر بکار آمد بات مراد ہے۔
ثانیا : شرعیہ فـــ۲ کی قید بھی مانع جامعیت ہے کہ حاجت دنیویہ میں بھی زیادہ اڑانا اسراف ہے مگر یہ کہ شرعیہ سے مراد مشروعہ لیں یعنی جو حاجت خلاف شرع نہ ہو تو یہ اس قول پر مبنی ہوجائے گا جس میں اسراف وتبذیر میں حاجت جائزہ وناجائز ہ سے فرق کیا ہے۔ اگر کہیے ان علماء کا یہ کلام دربارہ وضو ہے اس میں تو جو زیادت ہوگی حاجت شرعیہ دینیہ ہی سے زائد ہوگی۔
اقول : اب مطلقا حکم ممانعت مسلم نہ ہوگا مثلا میل چھڑانے یا شدت گرما میں ٹھنڈ کی نیت سے زیادت کی تو اسراف نہیں کہہ سکتے کہ غرض صحیح جائز میں خرچ ہے۔ شاید اسی لئے علامہ طحطاوی نے لفظ شرعیہ کم فرما کر اتنا ہی کہا
الاسراف ھو الزیادۃ علی قدر الحاجۃ
(ضرورت سے زیادہ خرچ اسراف ہے۔ ت)
اقول : مگر یہ تعریف اگر مطلق اسراف کی ہو تو جامعیت میں ایك اور خلل ہوگا کہ قدر حاجت سے زیادت کیلئے وجود حاجت درکار اور جہاں حاجت ہی نہ ہو اسراف اور زائد ہے ہاں حلیہ واتباع کی طرح خاص اسراف فی الوضوء کا بیان ہوتو یہ خلل نہ ہوگا۔
(۶) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ نہایہ ابن اثیر ومجمع بحار الانوار میں ہے :
الاسراف والتبذیر فی النفقۃ لغیر حاجۃ اوفی غیر طاعۃ الله تعالی ۔
اسراف اور تبذیر : بغیر حاجت یا غیرطاعت الہی میں خرچ کرنا ہے ۔ (ت)
فـــــ۱ : تطفل علی الحلیۃ والبحروش۔ فـــــ۲ : تطفل اخر علیہم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۳۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۷۶
النہایۃ لابن اثیر فی غریب الحدیث واثر تحت الفظ “ سرف “ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۳۲۵ ، مجمع بحار الانوارتحت الفظ سرف مکتبہ دار ایمان مدینۃ المنورۃ السعودیہ ۳ / ۶۶
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ / ۷۶
النہایۃ لابن اثیر فی غریب الحدیث واثر تحت الفظ “ سرف “ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۳۲۵ ، مجمع بحار الانوارتحت الفظ سرف مکتبہ دار ایمان مدینۃ المنورۃ السعودیہ ۳ / ۶۶
یہ تعریف گویا چہارم وپنجم کی جامع ہے۔
اقول اولا فــــ۱ ۱طاعت میں وہی تاویل لازم جو چہارم میں گزری۔
ثانیا : حاجت فــــ۲میں وہی تاویل ضرور جو پنجم میں مذکور ہوئی۔
(۷) دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی۔ تفسیر ابن جریر میں ہے :
الاسراف فی کلام العرب الاخطاء باصابۃ الحق فی العطیۃ اما بتجاوزہ حدہ فی الزیادۃ واما بتقصیر عن حدہ الواجب ۔
کلام عرب میں اسراف اسے کہتے ہیں کہ دینے میں حق کے حصول سے خطا کر جائے یا تو حق کی حد سے آگے بڑھ جائے یا اس کی واجبی حد سے پیچھے رہ جائے ۔ (ت)
اقول : یہ عطا کے ساتھ خاص ہے اور اسراف کچھ لینے دینے ہی میں نہیں اپنے خرچ کرنے میں بھی ہے۔ حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف رواہ سعید بن منصور عن یحیی بن ابی عمر و السیبانی الثقۃ مرسلا
وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے اور ہر کام میں اسراف کو دخل ہے اسے سعید بن منصور نے یحیی بن ابی عمرو سیبانی ثقہ سے مرسلا روایت کیا ہے ۔ (ت)
(۸) ذلیل غرض میں کثیر مال اٹھادینا۔ تعریفات السید میں ہے :
الاسراف انفاق المال الکثیر فی الغرض الخسیس اھ قدمہ ھھنا واقتصر علیہ فی المسرف۔
اسراف گھٹیا مقصد میں زیادہ مال خرچ کردینا اھ بیان اسرا ف میں اس تعریف کو مقدم رکھا اور مسرف کی تعریف میں صرف اسی کو ذکر کیا ۔ (ت)
اقول : یہ بھی جامع فــــ۴ نہیں بے غرض محض تھوڑا مال ضائع کردینا بھی اسراف ہے۔
فـــــ۱ : تطفل علی ابن الاثیر والعلامۃ طاہر ۔ فــــــ۲ : تطفل آخر علیہما ۔
فـــــ۳ : تطفل علی ابن جریر۔ فـــــ۴ : تطفل علی العلامۃ ا لسیدالشریف۔
اقول اولا فــــ۱ ۱طاعت میں وہی تاویل لازم جو چہارم میں گزری۔
ثانیا : حاجت فــــ۲میں وہی تاویل ضرور جو پنجم میں مذکور ہوئی۔
(۷) دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی۔ تفسیر ابن جریر میں ہے :
الاسراف فی کلام العرب الاخطاء باصابۃ الحق فی العطیۃ اما بتجاوزہ حدہ فی الزیادۃ واما بتقصیر عن حدہ الواجب ۔
کلام عرب میں اسراف اسے کہتے ہیں کہ دینے میں حق کے حصول سے خطا کر جائے یا تو حق کی حد سے آگے بڑھ جائے یا اس کی واجبی حد سے پیچھے رہ جائے ۔ (ت)
اقول : یہ عطا کے ساتھ خاص ہے اور اسراف کچھ لینے دینے ہی میں نہیں اپنے خرچ کرنے میں بھی ہے۔ حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف رواہ سعید بن منصور عن یحیی بن ابی عمر و السیبانی الثقۃ مرسلا
وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے اور ہر کام میں اسراف کو دخل ہے اسے سعید بن منصور نے یحیی بن ابی عمرو سیبانی ثقہ سے مرسلا روایت کیا ہے ۔ (ت)
(۸) ذلیل غرض میں کثیر مال اٹھادینا۔ تعریفات السید میں ہے :
الاسراف انفاق المال الکثیر فی الغرض الخسیس اھ قدمہ ھھنا واقتصر علیہ فی المسرف۔
اسراف گھٹیا مقصد میں زیادہ مال خرچ کردینا اھ بیان اسرا ف میں اس تعریف کو مقدم رکھا اور مسرف کی تعریف میں صرف اسی کو ذکر کیا ۔ (ت)
اقول : یہ بھی جامع فــــ۴ نہیں بے غرض محض تھوڑا مال ضائع کردینا بھی اسراف ہے۔
فـــــ۱ : تطفل علی ابن الاثیر والعلامۃ طاہر ۔ فــــــ۲ : تطفل آخر علیہما ۔
فـــــ۳ : تطفل علی ابن جریر۔ فـــــ۴ : تطفل علی العلامۃ ا لسیدالشریف۔
حوالہ / References
جامع البیان (تفسیر ابن جریر )تحت الآیۃ ۶ / ۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۸ / ۷۵
کنزا لعمال بحوالہ ص عن یحٰیی بن عمرو حدیث۲۶۲۴۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۹ / ۳۲۵
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰
کنزا لعمال بحوالہ ص عن یحٰیی بن عمرو حدیث۲۶۲۴۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۹ / ۳۲۵
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰
(۹) حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ کھانا حکاہ السید قیلا تعریفات میں سید شریف نے اسے بطور قیل حکایت کیا ۔ (ت)
اقول : یہ کھانے فـــــ سے خاص ہے۔
(۱۰) لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اٹھادینا ۔ تعریفات علامہ شریف میں ہے :
الاسراف صرف الشیئ فیما ینبغی زائداعلی ماینبغی بخلاف التبذیر فانہ صرف الشیئ فیما لاینبغی ۔
اسراف : مناسب کام میں حد مناسب سے زیادہ خرچ کرنا بخلاف تبذیر کے کہ وہ نا مناسب امر میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ (ت)
اقول : ینبغی کا اطلاق کم از کم مستحب پر آتا ہے اور اسراف مباح خالص میں اس سے بھی زیادہ ہے مگر یہ کہ جو کچھ لاینبغی نہیں سب کو ینبغی مان لیں کہ مباح کاموں کو بھی شامل ہوجائے ولیس بعید (اور یہ بعید نہیں ۔ ت) اور عبث محض اگرچہ بعض جگہ مباح بمعنی غیر ممنوع ہو مگر زیر لاینبغی داخل ہے تو اس میں جو کچھ اٹھے گا اس تفسیر پر داخل تبذیر ہوگا۔
(۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔ قاموس میں ہے :
ذھب ماء الحوض سرفا فاض من نواحیہ ۔
حوض کا پانی اسکے کناروں سے بہ گیا ۔ (ت)
تاج العروس میں ہے :
قال شمر سرف الماء ماذھب منہ فی غیر سقی ولا نفع یقال اروت البئر النخیل وذھب بقیۃ الماء سرفا۔
شمر نے کہا سرف الماء کے معنی وہ پانی جوسینچائی یا کسی فائدہ کے بغیر جاتا رہاکہا جاتا ہے کنویں نے کھجوروں کو سیراب کر دیا اور باقی پانی سرف (بے کار ) گیا ۔ (ت)
تفسیر کبیر وتفسیر نیشا پوری میں ہے :
فـــــ : معروضۃ علی من نقل عنہ السید ۔
اقول : یہ کھانے فـــــ سے خاص ہے۔
(۱۰) لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اٹھادینا ۔ تعریفات علامہ شریف میں ہے :
الاسراف صرف الشیئ فیما ینبغی زائداعلی ماینبغی بخلاف التبذیر فانہ صرف الشیئ فیما لاینبغی ۔
اسراف : مناسب کام میں حد مناسب سے زیادہ خرچ کرنا بخلاف تبذیر کے کہ وہ نا مناسب امر میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ (ت)
اقول : ینبغی کا اطلاق کم از کم مستحب پر آتا ہے اور اسراف مباح خالص میں اس سے بھی زیادہ ہے مگر یہ کہ جو کچھ لاینبغی نہیں سب کو ینبغی مان لیں کہ مباح کاموں کو بھی شامل ہوجائے ولیس بعید (اور یہ بعید نہیں ۔ ت) اور عبث محض اگرچہ بعض جگہ مباح بمعنی غیر ممنوع ہو مگر زیر لاینبغی داخل ہے تو اس میں جو کچھ اٹھے گا اس تفسیر پر داخل تبذیر ہوگا۔
(۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔ قاموس میں ہے :
ذھب ماء الحوض سرفا فاض من نواحیہ ۔
حوض کا پانی اسکے کناروں سے بہ گیا ۔ (ت)
تاج العروس میں ہے :
قال شمر سرف الماء ماذھب منہ فی غیر سقی ولا نفع یقال اروت البئر النخیل وذھب بقیۃ الماء سرفا۔
شمر نے کہا سرف الماء کے معنی وہ پانی جوسینچائی یا کسی فائدہ کے بغیر جاتا رہاکہا جاتا ہے کنویں نے کھجوروں کو سیراب کر دیا اور باقی پانی سرف (بے کار ) گیا ۔ (ت)
تفسیر کبیر وتفسیر نیشا پوری میں ہے :
فـــــ : معروضۃ علی من نقل عنہ السید ۔
حوالہ / References
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰
القاموس المحیط باب الفاء فصل السین مصطفی البابی مصر ۳ / ۱۵۶
تاج العروس باب الفاء فصل السین داراحیاء التراث العربی بیروت۶ / ۱۳۸
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰
القاموس المحیط باب الفاء فصل السین مصطفی البابی مصر ۳ / ۱۵۶
تاج العروس باب الفاء فصل السین داراحیاء التراث العربی بیروت۶ / ۱۳۸
اعلم ان لاھل اللغۃ فی تفسیر الاسراف قولین الاول قال ابن الاعرابی السرف تجاوز ماحد لك الثانی قال شمر عــــہ۱ سرف المال عــــہ۲ ماذھب منہ فی غیر منفعۃ ۔
واضع ہو کہ اسراف کی تفسیر میں اہل لغت کے دوقول ہیں : اول ابن الاعرابی نے کہا سرف کام معنی مقررہ حد سے تجاوز شمر نے کہا سرف الما ل وہ جو بے فا ئدہ چلا جائے(ت)
اقول : منفعت کے بعد بھی اگرچہ ایك مرتبہ زینت ہے مگر ایك معنی پر زینت بھی بے فائدہ نہیں ۔ ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ومانع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس عبدالله کی تعریف ہے جسے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعلم کی گٹھری فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالی عنہمکے بعد تمام جہان سے علم میں زائد ہے اور ابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مورث علم ہے رضی اللہ تعالی عنہوعنہ وعنہم اجمعین۔
تبذیر فـــــ کے باب میں علما ء کے دو قول ہیں :
(۱) وہ اور اسراف دونوں کے معنی ناحق صرف کرنا ہیں ۔
اقول : یہی صحیح ہے کہ یہی قول حضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن عباس وعامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکا ہے قول اول کی حدیث میں اس کی تصریح گزری اور وہی حدیث بطریق آخر ابن جریر نے یوں روایت کی :
کما اصحاب محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نتحدث ان التبذیر النفقۃ فی غیر حقہ ۔
ہم اصحاب محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیہ بیان کرتے تھے تبذیر غیر حق میں خرچ کرنے کا نا م ہے۔ ( ت)
فـــــ : تبذیر و اسراف کی معنی میں فرق کی بحث ۔
عـــــہ۱ : وقع ھھنا فی نسخۃ النیسا بوری المطبوعۃ بمصر عمر بالعین وھو تحریف منہ۔ (م)
عـــــہ۲ : ھکذا ھو المال باللام فی کلا التفسیرین وقضیۃ التاج انہ الماء بالھمزۃ۱۲منہ۔ (م)
یہاں تفسیر نیشاپوری کے مصری مطبوعہ نسخہ میں شمر کے بجائے عین سے عمر چھپ گیا ہے یہ تحریف ہے ۱۲ منہ (ت)
یہ دونوں تفسیروں میں اسی طرح “ لام “ سے مال لکھا ہوا ہے اور تا ج العروس کا تقاضہ ہے کہ یہ ہمزہ سے “ ماء “ ہو ۱۲منہ(ت)
واضع ہو کہ اسراف کی تفسیر میں اہل لغت کے دوقول ہیں : اول ابن الاعرابی نے کہا سرف کام معنی مقررہ حد سے تجاوز شمر نے کہا سرف الما ل وہ جو بے فا ئدہ چلا جائے(ت)
اقول : منفعت کے بعد بھی اگرچہ ایك مرتبہ زینت ہے مگر ایك معنی پر زینت بھی بے فائدہ نہیں ۔ ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ومانع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس عبدالله کی تعریف ہے جسے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعلم کی گٹھری فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالی عنہمکے بعد تمام جہان سے علم میں زائد ہے اور ابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مورث علم ہے رضی اللہ تعالی عنہوعنہ وعنہم اجمعین۔
تبذیر فـــــ کے باب میں علما ء کے دو قول ہیں :
(۱) وہ اور اسراف دونوں کے معنی ناحق صرف کرنا ہیں ۔
اقول : یہی صحیح ہے کہ یہی قول حضرت عبدالله بن مسعود وحضرت عبدالله بن عباس وعامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکا ہے قول اول کی حدیث میں اس کی تصریح گزری اور وہی حدیث بطریق آخر ابن جریر نے یوں روایت کی :
کما اصحاب محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم نتحدث ان التبذیر النفقۃ فی غیر حقہ ۔
ہم اصحاب محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیہ بیان کرتے تھے تبذیر غیر حق میں خرچ کرنے کا نا م ہے۔ ( ت)
فـــــ : تبذیر و اسراف کی معنی میں فرق کی بحث ۔
عـــــہ۱ : وقع ھھنا فی نسخۃ النیسا بوری المطبوعۃ بمصر عمر بالعین وھو تحریف منہ۔ (م)
عـــــہ۲ : ھکذا ھو المال باللام فی کلا التفسیرین وقضیۃ التاج انہ الماء بالھمزۃ۱۲منہ۔ (م)
یہاں تفسیر نیشاپوری کے مصری مطبوعہ نسخہ میں شمر کے بجائے عین سے عمر چھپ گیا ہے یہ تحریف ہے ۱۲ منہ (ت)
یہ دونوں تفسیروں میں اسی طرح “ لام “ سے مال لکھا ہوا ہے اور تا ج العروس کا تقاضہ ہے کہ یہ ہمزہ سے “ ماء “ ہو ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) تحت الآیۃ ۶ / ۱۴۱ دار الکتب العلمہ بیروت ۱۳ / ۱۷۵ ، ۱۷۶
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶ ، ۲۷ داراحیاء التراث ا لعربی بیروت ۱۵ / ۸۶
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶ ، ۲۷ داراحیاء التراث ا لعربی بیروت ۱۵ / ۸۶
سعید بن منصور سنن اور بخاری ادب مفرد اور ابن جریر وابن منذر تفاسیر اور بیہقی شعب الایمان میں عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
المبذر المنفق فی غیر حقہ ۔
(مبذر وہ جو غیرحق میں خرچ کرے ۔ ت)
ابن جریرکی ایك روایت ان سے یہ ہے :
لاتنفق فی الباطل فان المبذر ھو المسرف فی غیر حق وقال مجاھد لوانفق انسان مالہ کلہ فی الحق ماکان تبذیرا ولو انفق مدا فی الباطل کان تبذیرا ۔
باطل میں خرچ نہ کر کہ مبذر وہی ہے جو ناحق میں خرچ کرتا ہو۔ مجاہد نے کہا : کہ اگر انسان اپنا سارا مال حق میں خرچ کردے توتبذیر نہیں اور اگر ایك مد بھی باطل میں خرچ کردے توتبذیر ہے۔ (ت)
نیز قتادہ سے راوی :
التبذیر النفقۃ فی معصیۃ الله تعالی وفی غیر الحق وفی الفساد ۔
تبذیر : الله کی معصیت میں غیر حق میں اورفساد میں خرچ کرناہے۔ (ت)
نہایہ ومختصر امام سیوطی میں ہے :
المباذر والمبذر المسرف فی النفقۃ ۔
مباذر و مبذر : خرچ میں اسراف کرنے والا۔ (ت)
نیز مختصر میں ہے : الاسراف التبذیر (اسراف کا معنی تبذیر ہے۔ ت)قاموس میں ہے :
المبذر المنفق فی غیر حقہ ۔
(مبذر وہ جو غیرحق میں خرچ کرے ۔ ت)
ابن جریرکی ایك روایت ان سے یہ ہے :
لاتنفق فی الباطل فان المبذر ھو المسرف فی غیر حق وقال مجاھد لوانفق انسان مالہ کلہ فی الحق ماکان تبذیرا ولو انفق مدا فی الباطل کان تبذیرا ۔
باطل میں خرچ نہ کر کہ مبذر وہی ہے جو ناحق میں خرچ کرتا ہو۔ مجاہد نے کہا : کہ اگر انسان اپنا سارا مال حق میں خرچ کردے توتبذیر نہیں اور اگر ایك مد بھی باطل میں خرچ کردے توتبذیر ہے۔ (ت)
نیز قتادہ سے راوی :
التبذیر النفقۃ فی معصیۃ الله تعالی وفی غیر الحق وفی الفساد ۔
تبذیر : الله کی معصیت میں غیر حق میں اورفساد میں خرچ کرناہے۔ (ت)
نہایہ ومختصر امام سیوطی میں ہے :
المباذر والمبذر المسرف فی النفقۃ ۔
مباذر و مبذر : خرچ میں اسراف کرنے والا۔ (ت)
نیز مختصر میں ہے : الاسراف التبذیر (اسراف کا معنی تبذیر ہے۔ ت)قاموس میں ہے :
حوالہ / References
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ / ۸۶ ، الدر المنثور بحوالہ سعید بن منصور والبخاری فی الادب و ابن المنذر ولبیہقی شعب الایمان دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۲۳۹
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ / ۸۷
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ / ۸۷
النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثرباب الباء مع الذال ، تحت لفظ بذر دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۱۰مختصر احیاء العلوم
مختصر احیاء العلوم
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ / ۸۷
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ / ۸۷
النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثرباب الباء مع الذال ، تحت لفظ بذر دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۱۰مختصر احیاء العلوم
مختصر احیاء العلوم
بذرہ تبذیرا خربہ و فرقہ اسرافا
بذرہ تبذیرا اسے خراب کیا اور بطور اسراف بانٹ دیا۔ (ت)
تعریفات السید میں ہے :
التبذیر تفریق المال علی وجہ الاسراف
تبذیر : بطور اسراف مال بانٹنا۔ (ت)
اسی طرح مختار الصحاح میں اسراف کو تبذیر اور تبذیر کو اسراف سے تفسیر کیا۔
(۲) ان میں فرق ہے تبذیر خاص معاصی میں مال برباد کرنے کا نام ہے ابن جریر عبدالرحمن بن زید بن اسلم مولائے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
لاتبذر تبذیرا لا تعط فی المعاصی
“ لاتبذر تبذیرا “ کا معنی “ معاصی میں نہ دے “ ۔ (ت)
اقول : اس تقدیر پر اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عبث میں صرف کو بھی شامل اور عبث مطلقا گناہ نہیں تو از انجا کہ اسراف ناجائز ہے یہ صرف معصیت ہوگا مگر جس میں صرف کیا وہ خود معصیت نہ تھا اور عبارت “ لاتعط فی المعاصی “ (اس کی نافرمانی میں مت دے۔ ت) کا ظاہر یہی ہے کہ وہ کام خود ہی معصیت ہو بالجملہ تبذیر کے مقصود وحکم دونوں معصیت ہیں اور اسراف کو صرف حکم میں معصیت لازم
وھذا ھو المشتھر الیوم و وقع فی التاج عن شیخہ عن ائمۃ الاشتقاق ان التبذیر یشمل الاسراف فی عرف اللغۃ اہ وبہ صرح العلامۃ الشہاب فی عنایۃ القاضی و
اوراس وقت یہی مشہور ہے اور تاج العروس میں اپنے شیخ کی روایت سے اشتقاق سے نقل کیا ہے کہ لغت کے عرف میں تبذیر اسراف کوشامل ہے اھ-اسکی صراحت علامہ شہاب خفاجی نے عنایۃ القاضی میں کی ہے اور
بذرہ تبذیرا اسے خراب کیا اور بطور اسراف بانٹ دیا۔ (ت)
تعریفات السید میں ہے :
التبذیر تفریق المال علی وجہ الاسراف
تبذیر : بطور اسراف مال بانٹنا۔ (ت)
اسی طرح مختار الصحاح میں اسراف کو تبذیر اور تبذیر کو اسراف سے تفسیر کیا۔
(۲) ان میں فرق ہے تبذیر خاص معاصی میں مال برباد کرنے کا نام ہے ابن جریر عبدالرحمن بن زید بن اسلم مولائے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
لاتبذر تبذیرا لا تعط فی المعاصی
“ لاتبذر تبذیرا “ کا معنی “ معاصی میں نہ دے “ ۔ (ت)
اقول : اس تقدیر پر اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عبث میں صرف کو بھی شامل اور عبث مطلقا گناہ نہیں تو از انجا کہ اسراف ناجائز ہے یہ صرف معصیت ہوگا مگر جس میں صرف کیا وہ خود معصیت نہ تھا اور عبارت “ لاتعط فی المعاصی “ (اس کی نافرمانی میں مت دے۔ ت) کا ظاہر یہی ہے کہ وہ کام خود ہی معصیت ہو بالجملہ تبذیر کے مقصود وحکم دونوں معصیت ہیں اور اسراف کو صرف حکم میں معصیت لازم
وھذا ھو المشتھر الیوم و وقع فی التاج عن شیخہ عن ائمۃ الاشتقاق ان التبذیر یشمل الاسراف فی عرف اللغۃ اہ وبہ صرح العلامۃ الشہاب فی عنایۃ القاضی و
اوراس وقت یہی مشہور ہے اور تاج العروس میں اپنے شیخ کی روایت سے اشتقاق سے نقل کیا ہے کہ لغت کے عرف میں تبذیر اسراف کوشامل ہے اھ-اسکی صراحت علامہ شہاب خفاجی نے عنایۃ القاضی میں کی ہے اور
حوالہ / References
قاموس المحیط باب الراء فصل الباء مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۸۳
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۲۳
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت۱۵ / ۸۷
تاج العروس باب الراء ، فصل الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۶
التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۲۳
جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ / ۲۶،۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت۱۵ / ۸۷
تاج العروس باب الراء ، فصل الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۶
مفادہ ان التبذیر اعم ولم یفسراہ۔
اس کا مفاد یہ ہے کہ تبذیر اعم ہے اور دونوں نے اس کی تفسیر نہ کی ہے۔ (ت)
بعض نے یوں فرق کیا کہ مقدار میں حد سے تجاوز اسراف ہے اور بے موقع بات میں صرف کرنا تبذیر دونوں برے ہیں اور تبذیر بدتر۔
قال الخفاجی وفرق بینھما علی مانقل فی الکشف بان الاسراف تجاوز فی الکمیۃ وھو جہل بمقادیر الحقوق والتبذیر تجاوز فی موقع الحق وھو جہل بالکیفیۃ وبمواقعھا وکلاھما مذموم والثانی ادخل فی الذم ۔
خفاجی نے فرمایا : جیساکشف میں نقل کیا ہے ان دونوں میں یہ فرق کیا گیاہے کہ اسراف مقدار میں حد سے آگے بڑھنا اور یہ حقوق کی قدروں سے نا آشنائی ہے - اور تبذیر حق کی جگہ سے تجاوز کرنا اور یہ کیفیت ہے اور اس کے مقامات سے نا آشنائی ہے اور دونوں ہی مذموم ہیں اورثانی زیادہ براہے۔ (ت)
اس تقدیر پر دونوں متباین ہوں گے۔
اقول : اگرچہ مقدار سے زیادہ صرف بھی بے موقع بات میں صرف ہے کہ وہ مصرف اس زیادت کا موقع ومحل نہ تھا ورنہ اسراف ہی نہ ہوتا مگر بے موقع سے مراد یہ ہے کہ سرے سے وہ محل اصلا مصرف نہ ہو۔
بالجملہ احاطہ کلمات فــــ سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاك دورہ کرتے ہیں دو ہیں ایك مقصدمعصیت دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع وکراہت۔
اقول : معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہذا اس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ واستہلاك ہے کہ اہم بالافادہ یہی ہے معاصی میں صرف معصیت ہونا تو بدیہی ہے زید نے سونے چاندی کے کڑے اپنے ہاتھوں میں ڈالے یہ اسراف ہوا کہ فعل خود گناہ ہے اگرچہ تھوڑی دیر پہننے سے کڑے خرچ نہ ہوجائیں گے اور بلا وجہ محض اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے تو
فــــ : مسئلہ : اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ایسا ہوتا ہے ایك یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں ۔
اس کا مفاد یہ ہے کہ تبذیر اعم ہے اور دونوں نے اس کی تفسیر نہ کی ہے۔ (ت)
بعض نے یوں فرق کیا کہ مقدار میں حد سے تجاوز اسراف ہے اور بے موقع بات میں صرف کرنا تبذیر دونوں برے ہیں اور تبذیر بدتر۔
قال الخفاجی وفرق بینھما علی مانقل فی الکشف بان الاسراف تجاوز فی الکمیۃ وھو جہل بمقادیر الحقوق والتبذیر تجاوز فی موقع الحق وھو جہل بالکیفیۃ وبمواقعھا وکلاھما مذموم والثانی ادخل فی الذم ۔
خفاجی نے فرمایا : جیساکشف میں نقل کیا ہے ان دونوں میں یہ فرق کیا گیاہے کہ اسراف مقدار میں حد سے آگے بڑھنا اور یہ حقوق کی قدروں سے نا آشنائی ہے - اور تبذیر حق کی جگہ سے تجاوز کرنا اور یہ کیفیت ہے اور اس کے مقامات سے نا آشنائی ہے اور دونوں ہی مذموم ہیں اورثانی زیادہ براہے۔ (ت)
اس تقدیر پر دونوں متباین ہوں گے۔
اقول : اگرچہ مقدار سے زیادہ صرف بھی بے موقع بات میں صرف ہے کہ وہ مصرف اس زیادت کا موقع ومحل نہ تھا ورنہ اسراف ہی نہ ہوتا مگر بے موقع سے مراد یہ ہے کہ سرے سے وہ محل اصلا مصرف نہ ہو۔
بالجملہ احاطہ کلمات فــــ سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاك دورہ کرتے ہیں دو ہیں ایك مقصدمعصیت دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع وکراہت۔
اقول : معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہذا اس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ واستہلاك ہے کہ اہم بالافادہ یہی ہے معاصی میں صرف معصیت ہونا تو بدیہی ہے زید نے سونے چاندی کے کڑے اپنے ہاتھوں میں ڈالے یہ اسراف ہوا کہ فعل خود گناہ ہے اگرچہ تھوڑی دیر پہننے سے کڑے خرچ نہ ہوجائیں گے اور بلا وجہ محض اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے تو
فــــ : مسئلہ : اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ایسا ہوتا ہے ایك یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں ۔
حوالہ / References
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۷ / ۲۶ دار الکتب العلمیۃبیروت ۶ / ۴۲
اسراف نہیں کہ نہ فعل گناہ ہے نہ مال ضائع ہوا اور اگر دریا میں پھینك دیے تو اسراف ہوا کہ مال کی اضاعت ہوئی اور اضاعت کی ممانعت پر حدیث صحیح ناطق صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان الله تعالی کرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال ۔
بے شك الله تعالی تمہارے لئے مکروہ رکھتا ہے فضول بك بك اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت۔
یہ تحقیق معنی اسراف ہے جسے محفوط وملحوظ رکھناچاہئے کہ آئندہ انکشاف احکام اسی پر موقوف وبالله التوفیق۔
فائدہفــــ : یہاں سے ظاہر ہوا کہ وضو وغسل میں تین بار سے زیادہ پانی ڈالنا جبکہ کسی غرض صحیح سے ہو ہرگز اسراف نہیں کہ جائز غرض میں خرچ کرنا نہ خود معصیت ہے نہ بیکار اضاعت۔ اس کی بہت مثالیں ان پانیوں میں ملیں گی جن کو ہم نے آب وضوء سے مستثنی بتایا نیز تبرید وتنظیف کی دو مثالیں ابھی گزریں اور ان کے سوا علماء کرام نے دو صورتیں اور ارشاد فرمائی ہیں جن میں غرض صحیح ہونے کے سبب اسراف نہ ہوا :
(۱) یہ کہ وضو علی الوضوء کی نیت کرے کہ نور علی نور ہے۔
(۲) اگر وضو کرتے میں کسی عضو کی تثلیث میں شك واقع ہو تو کم پر بنا کرکے تثلیث کامل کرلے مثلا شك ہوا کہ منہ یا ہاتھ یا پاؤں شاید دو ہی بار دھویا تو ایك بار اور دھولے اگرچہ واقع میں یہ چوتھی بار ہو اور ایك بار کا خیال ہوا تو دوبار اور یہ شك پڑا کہ دھویا ہی نہیں تو تین بار دھوئے اگرچہ واقع کے لحاظ سے چھ بار ہوجائے یہ اسراف نہیں کہ اطمینان قلب حاصل کرنا غرض صحیح ہے۔ ہم امر چہارم میں ارشاد اقدس حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبیان کر آئے کہ : دع ما یریبك الی مالا یریبك شك کی
فــــ : مسئلہ : ان صحیح غرضوں کا بیان جن کے لئے وضو و غسل میں تین تین با ر سے زیادہ اعضاء کا دھونا داخل اسرف نہیں بلکہ جائز وروا یا محمود و مستحسن ہے ۔
ان الله تعالی کرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال ۔
بے شك الله تعالی تمہارے لئے مکروہ رکھتا ہے فضول بك بك اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت۔
یہ تحقیق معنی اسراف ہے جسے محفوط وملحوظ رکھناچاہئے کہ آئندہ انکشاف احکام اسی پر موقوف وبالله التوفیق۔
فائدہفــــ : یہاں سے ظاہر ہوا کہ وضو وغسل میں تین بار سے زیادہ پانی ڈالنا جبکہ کسی غرض صحیح سے ہو ہرگز اسراف نہیں کہ جائز غرض میں خرچ کرنا نہ خود معصیت ہے نہ بیکار اضاعت۔ اس کی بہت مثالیں ان پانیوں میں ملیں گی جن کو ہم نے آب وضوء سے مستثنی بتایا نیز تبرید وتنظیف کی دو مثالیں ابھی گزریں اور ان کے سوا علماء کرام نے دو صورتیں اور ارشاد فرمائی ہیں جن میں غرض صحیح ہونے کے سبب اسراف نہ ہوا :
(۱) یہ کہ وضو علی الوضوء کی نیت کرے کہ نور علی نور ہے۔
(۲) اگر وضو کرتے میں کسی عضو کی تثلیث میں شك واقع ہو تو کم پر بنا کرکے تثلیث کامل کرلے مثلا شك ہوا کہ منہ یا ہاتھ یا پاؤں شاید دو ہی بار دھویا تو ایك بار اور دھولے اگرچہ واقع میں یہ چوتھی بار ہو اور ایك بار کا خیال ہوا تو دوبار اور یہ شك پڑا کہ دھویا ہی نہیں تو تین بار دھوئے اگرچہ واقع کے لحاظ سے چھ بار ہوجائے یہ اسراف نہیں کہ اطمینان قلب حاصل کرنا غرض صحیح ہے۔ ہم امر چہارم میں ارشاد اقدس حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبیان کر آئے کہ : دع ما یریبك الی مالا یریبك شك کی
فــــ : مسئلہ : ان صحیح غرضوں کا بیان جن کے لئے وضو و غسل میں تین تین با ر سے زیادہ اعضاء کا دھونا داخل اسرف نہیں بلکہ جائز وروا یا محمود و مستحسن ہے ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب ما ینہی عن اضاعت المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲۴ ، صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نہی عن کثر ۃ المسائل الخ قدیمی کتب خا نہ کراچی ۲ / ۷۵
صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷۵
صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷۵
بات چھوڑ کروہ کر جس میں شك نہ رہے۔ کافی امام حافظ الدین نسفی میں ہے۔
حدیث پاك “ جس نے اس سے زیادتی یا کمی کی وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا “ کی وعید اس صورت میں ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھتے ہوئے زیادہ کرے کہ زیادہ کرناہی سنت ہے لیکن شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کرے یادوسرے وضو کی نیت ہو تو کوئی حرج نہیں ا س لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنےحکم دیا ہے کہ شك کی حالت چھوڑ کر وہ صورت اختیار کرے جس میں شك نہ رہے ۔ (ت)
ھذا (ای وعید الحدیث من زاد علی ھذا اونقص فقد تعدی وظلم) اذا زادہ معتقدا ان السنۃ ھذا فاما لو زاد لطمانیۃ القلب عند الشك اونیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ ۔
فتح القدیر میں قول ہدایہ الوعید لعدم رویتہ سنۃ (وعید اس لئے ہے کہ وہ سنت نہیں سمجھتا ہے۔ ت) کے تحت میں ہے :
تو اگر تثلیث کو سنت مانا اور وضو پر وضو کے ارادے یا شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کیا یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی تو کوئی حرج نہیں (ت)
فلو راہ و زاد لقصد الوضوء علی الوضوء او لطمانیۃ القلب عند الشك اونقص لحاجۃ لا باس بہ ۔
عنایہ میں ہے :
اذا زاد لطمانیۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ فان الوضوء علی الوضوء نور علی نور وقد امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ ۔
شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے یا دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیا تو حرج نہیں اس لئے کہ وضو پر وضو نور علی نور ہے اور اسے حکم ہے کہ شك کی صورت چھوڑ کر وہ راہ اختیار کرے جس میں اسے شك نہ ہو (ت)
حدیث پاك “ جس نے اس سے زیادتی یا کمی کی وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا “ کی وعید اس صورت میں ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھتے ہوئے زیادہ کرے کہ زیادہ کرناہی سنت ہے لیکن شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کرے یادوسرے وضو کی نیت ہو تو کوئی حرج نہیں ا س لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنےحکم دیا ہے کہ شك کی حالت چھوڑ کر وہ صورت اختیار کرے جس میں شك نہ رہے ۔ (ت)
ھذا (ای وعید الحدیث من زاد علی ھذا اونقص فقد تعدی وظلم) اذا زادہ معتقدا ان السنۃ ھذا فاما لو زاد لطمانیۃ القلب عند الشك اونیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ ۔
فتح القدیر میں قول ہدایہ الوعید لعدم رویتہ سنۃ (وعید اس لئے ہے کہ وہ سنت نہیں سمجھتا ہے۔ ت) کے تحت میں ہے :
تو اگر تثلیث کو سنت مانا اور وضو پر وضو کے ارادے یا شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کیا یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی تو کوئی حرج نہیں (ت)
فلو راہ و زاد لقصد الوضوء علی الوضوء او لطمانیۃ القلب عند الشك اونقص لحاجۃ لا باس بہ ۔
عنایہ میں ہے :
اذا زاد لطمانیۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ فان الوضوء علی الوضوء نور علی نور وقد امر بترك مایریبہ الی مالا یریبہ ۔
شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے یا دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیا تو حرج نہیں اس لئے کہ وضو پر وضو نور علی نور ہے اور اسے حکم ہے کہ شك کی صورت چھوڑ کر وہ راہ اختیار کرے جس میں اسے شك نہ ہو (ت)
حوالہ / References
الکافی شرح الوافی
فتح القدیر۔ کتا ب الطہارت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۷
عنایہ مع الفتح القدیر علی الہدایۃ کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۷
فتح القدیر۔ کتا ب الطہارت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۷
عنایہ مع الفتح القدیر علی الہدایۃ کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۷
حلیہ میں ہے :
الوعید علی الاعتقاد المذکور دون نفس الفعل وعلی ھذا مشی فی الھدایۃ ومحیط رضی الدین والبدائع ونص فی البدائع انہ الصحیح لان من لم یرسنۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقد ابتدع فلیحقہ الوعید وان کانت الزیادۃ علی الثلاث لقصد الوضو علی الوضوء اولطمانینۃ القلب عند الشك فلا یلحقہ الوعید وھو ظاھر وھل لو زاد علی الثلث من غیر قصد لشیئ مما ذکر یکرہ الظاھر نعم لانہ اسراف ۔
وعید اعتقاد مذکور پر ہے خود فعل پر نہیں ۔ اسی کو ہدایہ محیط رضی الدین اور بدائع میں بھی اختیار کیا ہے اور بدائع میں صراحت کی ہے کہ یہی صحیح ہے اس لئے کہ جو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت کو نہ مانے وہ بد مذہب ہے اسے وعیدلاحق ہوگی۔ اگر تین پراضافہ وضو علی وضو کے ارادے سے ہے یا شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی اوریہ ظاہرہے۔ سوال یہ ہے کہ اگرمذکورہ با توں میں سے کسی کا قصد ہوئے بغیراس نے تین بار سے زیادہ دھویا مکروہ ہے یانہیں ظاہریہ ہے کہ مکروہ ہے کیونکہ یہ اسراف ہے ۔ ( ت)
اسی طرح نہایہ ومعراج الہدایہ ومبسوط وسراج وہاج وبرجندی ودرمختار وعالمگیری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے مگر بعض متاخرین شراح کو ان صورتوں میں کلام واقع ہوا :
صورت اولی میں تین۳ وجہ سے :
وجہ اول وضو عبادت فــــ مقصودہ نہیں بلکہ نماز وغیرہ کیلئے وسیلہ ہے ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے
فــــ : مسئلہ : بعض نے فرمایا کہ وضو پر وضو اسی وقت مستحب ہے کہ پہلے سے وضو کوئی نمازیا سجدہ تلاوت وغیرہ کوئی فعل جس کے لئے با وضو ہونے کا حکم ہے ادا کر چکا ہوبغیر اس کے تجدید وضو مکروہ ہے ۔ بعض نے فرمایا کہ ایك بار تجدید تو بغیر اس کے بھی مستحب ہے ایك سے زیادہ بے اسکے مکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ ہمارے ائمہ کا کلام اور نیز احادیث خیر الانام علیہ افضل الصلوۃ السلام مطلقا تجدید وضو کو مستحب فرماتی ہیں اوران قیدوں کا کوئی ثبوت ظاہر نہیں ۔
الوعید علی الاعتقاد المذکور دون نفس الفعل وعلی ھذا مشی فی الھدایۃ ومحیط رضی الدین والبدائع ونص فی البدائع انہ الصحیح لان من لم یرسنۃ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقد ابتدع فلیحقہ الوعید وان کانت الزیادۃ علی الثلاث لقصد الوضو علی الوضوء اولطمانینۃ القلب عند الشك فلا یلحقہ الوعید وھو ظاھر وھل لو زاد علی الثلث من غیر قصد لشیئ مما ذکر یکرہ الظاھر نعم لانہ اسراف ۔
وعید اعتقاد مذکور پر ہے خود فعل پر نہیں ۔ اسی کو ہدایہ محیط رضی الدین اور بدائع میں بھی اختیار کیا ہے اور بدائع میں صراحت کی ہے کہ یہی صحیح ہے اس لئے کہ جو رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت کو نہ مانے وہ بد مذہب ہے اسے وعیدلاحق ہوگی۔ اگر تین پراضافہ وضو علی وضو کے ارادے سے ہے یا شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی اوریہ ظاہرہے۔ سوال یہ ہے کہ اگرمذکورہ با توں میں سے کسی کا قصد ہوئے بغیراس نے تین بار سے زیادہ دھویا مکروہ ہے یانہیں ظاہریہ ہے کہ مکروہ ہے کیونکہ یہ اسراف ہے ۔ ( ت)
اسی طرح نہایہ ومعراج الہدایہ ومبسوط وسراج وہاج وبرجندی ودرمختار وعالمگیری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے مگر بعض متاخرین شراح کو ان صورتوں میں کلام واقع ہوا :
صورت اولی میں تین۳ وجہ سے :
وجہ اول وضو عبادت فــــ مقصودہ نہیں بلکہ نماز وغیرہ کیلئے وسیلہ ہے ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے
فــــ : مسئلہ : بعض نے فرمایا کہ وضو پر وضو اسی وقت مستحب ہے کہ پہلے سے وضو کوئی نمازیا سجدہ تلاوت وغیرہ کوئی فعل جس کے لئے با وضو ہونے کا حکم ہے ادا کر چکا ہوبغیر اس کے تجدید وضو مکروہ ہے ۔ بعض نے فرمایا کہ ایك بار تجدید تو بغیر اس کے بھی مستحب ہے ایك سے زیادہ بے اسکے مکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ ہمارے ائمہ کا کلام اور نیز احادیث خیر الانام علیہ افضل الصلوۃ السلام مطلقا تجدید وضو کو مستحب فرماتی ہیں اوران قیدوں کا کوئی ثبوت ظاہر نہیں ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
تو جب تك اس سے کوئی فعل مقصود مثل نماز یا سجدہ تلاوت یا مس مصحف واقع نہ ہولے اس کی تجدید مشروع نہ ہونی چاہئے کہ اسراف محض ہوگی۔ یہ اعتراض محقق ابراہیم حلبی کا ہے۔ خلاصہ میں اعضائے وضو چار بار دھونے کی کراہت میں دو قول نقل کرکے فرمایا تھا :
ھذا اذالم یفرغ من الوضوء فان فرغ ثم استأنف الوضوء لایکرہ بالاتفاق ۔
یہ اس صورت میں ہے کہ ابھی وضو سے فارغ نہ ہواہو اگرفارغ ہوگیا پھرازسر نو وضو کیا تو بالاتفاق مکروہ نہیں ۔ (ت )
اسی طرح تاتارخانیہ میں امام ناطفی سے ہے کما فی ش اس سے ثابت کہ ایك وضو سے فارغ ہو کر معا بہ نیت وضو علی الوضو شروع کردینا ہمارے یہاں بالاتفاق جائز ہے اور کسی کے نزدیك مکروہ نہیں ۔ اس پرعلامہ حلبی نے وہ اشکال قائم کیا اور علامہ علی قاری نے مرقات باب السنن الوضوء فصل ثانی میں زیر حدیث فمن زاد علی ھذا فقدا ساء وتعدی (جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا اور حد سے آگے بڑھا۔ ت) ان کی تبعیت کی۔
اقول : اولا فــــ۱ جب ائمہ ثقات نے ہمارے علماء کا اتفاق نقل کیا اور دوسری جگہ سے خلاف ثابت نہیں تو بحث کی کیا گنجائش۔
ثانیا : فــــ۲عبادت غیر مقصودہ بالذات ہونے پر اتفاق سے یہ لازم نہیں کہ وہ وسیلہ ہی ہو کر جائز ہو بلکہ فی نفسہ بھی ایك نوع مقصودیت سے حظ رکھتا ہے ولہذا اجماع ہے کہ ہر وقت باوضو رہنا فــ۳ ہر حدث کے بعد معا وضوء کرنا مستحب ہے۔ فتاوی قاضی خان وخزانۃ المفتین وفتاوی ہندیہ وغیرہا میں وضوئے مستحب کے شمار میں ہے :
ومنھا المحافظۃ علی الوضوء وتفسیرہ ان یتوضأ کلما احدث لیکون علی الوضوء فی الاوقات کلھا ۔
اسی میں سے وضو کی محافظت یہ ہے کہ جب بے وضو ہو وضو کر لے تاکہ ہمہ وقت با وضورہے وضو کی محافظت اسلام کی سنت ہے۔ (ت)
فــــ ۱ : تطفل علی الغنیۃ وعلی القاری ۔ فــــ۲ : تطفل اخر علیہما۔
فــــ ۳ مسئلہ : ہروقت با وضو رہنا مستحب ہے اور اس کے فضائل۔
ھذا اذالم یفرغ من الوضوء فان فرغ ثم استأنف الوضوء لایکرہ بالاتفاق ۔
یہ اس صورت میں ہے کہ ابھی وضو سے فارغ نہ ہواہو اگرفارغ ہوگیا پھرازسر نو وضو کیا تو بالاتفاق مکروہ نہیں ۔ (ت )
اسی طرح تاتارخانیہ میں امام ناطفی سے ہے کما فی ش اس سے ثابت کہ ایك وضو سے فارغ ہو کر معا بہ نیت وضو علی الوضو شروع کردینا ہمارے یہاں بالاتفاق جائز ہے اور کسی کے نزدیك مکروہ نہیں ۔ اس پرعلامہ حلبی نے وہ اشکال قائم کیا اور علامہ علی قاری نے مرقات باب السنن الوضوء فصل ثانی میں زیر حدیث فمن زاد علی ھذا فقدا ساء وتعدی (جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا اور حد سے آگے بڑھا۔ ت) ان کی تبعیت کی۔
اقول : اولا فــــ۱ جب ائمہ ثقات نے ہمارے علماء کا اتفاق نقل کیا اور دوسری جگہ سے خلاف ثابت نہیں تو بحث کی کیا گنجائش۔
ثانیا : فــــ۲عبادت غیر مقصودہ بالذات ہونے پر اتفاق سے یہ لازم نہیں کہ وہ وسیلہ ہی ہو کر جائز ہو بلکہ فی نفسہ بھی ایك نوع مقصودیت سے حظ رکھتا ہے ولہذا اجماع ہے کہ ہر وقت باوضو رہنا فــ۳ ہر حدث کے بعد معا وضوء کرنا مستحب ہے۔ فتاوی قاضی خان وخزانۃ المفتین وفتاوی ہندیہ وغیرہا میں وضوئے مستحب کے شمار میں ہے :
ومنھا المحافظۃ علی الوضوء وتفسیرہ ان یتوضأ کلما احدث لیکون علی الوضوء فی الاوقات کلھا ۔
اسی میں سے وضو کی محافظت یہ ہے کہ جب بے وضو ہو وضو کر لے تاکہ ہمہ وقت با وضورہے وضو کی محافظت اسلام کی سنت ہے۔ (ت)
فــــ ۱ : تطفل علی الغنیۃ وعلی القاری ۔ فــــ۲ : تطفل اخر علیہما۔
فــــ ۳ مسئلہ : ہروقت با وضو رہنا مستحب ہے اور اس کے فضائل۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ سنن الوضوء مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب سنن الوضو تحت الحدیث۴۱۷ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۱۲۴
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب سنن الوضو تحت الحدیث۴۱۷ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۱۲۴
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹
بلکہ امام رکن الاسلام محمد بن ابی بکر نے شرعۃ الاسلام میں اسے اسلام کی سنتوں سے بتایا فرماتے ہیں :
المحافظۃ علی الوضوء سنۃ الاسلام
(ہمیشہ باوضو رہنا اسلام کی سنت ہے۔ ت)
اس کی شرح مفاتیح الجنان ومصابیح الجنان میں بستان العارفین امام فقیہ ابو اللیث سے ہے :
بلغنا ان الله تعالی قال لموسی علیہ الصلاۃ والسلام یا موسی اذا اصابتك مصیبۃ وانت علی غیر وضوء فلا تلو من الانفسك ۔
یعنی ہم کو حدیث پہنچی کہ الله عزوجل نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا اے موسی! اگر بے وضو ہونے کی حالت میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو خود اپنے آپ کو ملامت کرنا۔
اسی میں کتاب خا لصۃ الحقائق ابو القاسم محمود بن احمد فارابی سے ہے : قال بعض اھل المعرفۃ من داوم علی الوضوء اکرمہ الله تعالی بسبع خصال الخ
یعنی بعض عارفین نے فرمایا جو ہمیشہ باوضو رہے الله تعالی اسے سات۷ فضیلتوں سے مشرف فرمائے :
(۱) ملائکہ اس کی صحبت میں رغبت کریں ۔
(۲) قلم اس کی نیکیاں لکھتا رہے۔
(۳) اس کے اعضاء تسبیح کریں ۔
(۴) اسے تکبیر اولی فوت نہ ہو۔
(۵) جب سوئے الله تعالی کچھ فرشتے بھیجے کہ جن وانس کے شر سے اس کی حفاظت کریں ۔
(۶) سکرات موت اس پر آسان ہو۔
(۷) جب تك باوضو ہو امان الہی میں رہے۔
اسی میں بحوالہ مقدمہ غزنویہ وخالصۃ الحقائق انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ الله عزوجل فرماتا ہے :
من احدث ولم یتوضأ فقد جفانی
جسے حدث ہو اور وضو نہ کرے اس نے میرا کمال ادب جیسا چاہئے ملحوظ نہ رکھا۔
المحافظۃ علی الوضوء سنۃ الاسلام
(ہمیشہ باوضو رہنا اسلام کی سنت ہے۔ ت)
اس کی شرح مفاتیح الجنان ومصابیح الجنان میں بستان العارفین امام فقیہ ابو اللیث سے ہے :
بلغنا ان الله تعالی قال لموسی علیہ الصلاۃ والسلام یا موسی اذا اصابتك مصیبۃ وانت علی غیر وضوء فلا تلو من الانفسك ۔
یعنی ہم کو حدیث پہنچی کہ الله عزوجل نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا اے موسی! اگر بے وضو ہونے کی حالت میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو خود اپنے آپ کو ملامت کرنا۔
اسی میں کتاب خا لصۃ الحقائق ابو القاسم محمود بن احمد فارابی سے ہے : قال بعض اھل المعرفۃ من داوم علی الوضوء اکرمہ الله تعالی بسبع خصال الخ
یعنی بعض عارفین نے فرمایا جو ہمیشہ باوضو رہے الله تعالی اسے سات۷ فضیلتوں سے مشرف فرمائے :
(۱) ملائکہ اس کی صحبت میں رغبت کریں ۔
(۲) قلم اس کی نیکیاں لکھتا رہے۔
(۳) اس کے اعضاء تسبیح کریں ۔
(۴) اسے تکبیر اولی فوت نہ ہو۔
(۵) جب سوئے الله تعالی کچھ فرشتے بھیجے کہ جن وانس کے شر سے اس کی حفاظت کریں ۔
(۶) سکرات موت اس پر آسان ہو۔
(۷) جب تك باوضو ہو امان الہی میں رہے۔
اسی میں بحوالہ مقدمہ غزنویہ وخالصۃ الحقائق انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ الله عزوجل فرماتا ہے :
من احدث ولم یتوضأ فقد جفانی
جسے حدث ہو اور وضو نہ کرے اس نے میرا کمال ادب جیسا چاہئے ملحوظ نہ رکھا۔
حوالہ / References
شرعۃ الاسلام مع شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۴
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۴
اقول : مگر ظاہرا یہ حدیث بے اصل ہے
تشہد بہ قریحۃ من نظرہ فیہ بتمامہ وایضا لوصح لوجبت استدامۃ الوضوء ولا قائل بہ والله تعالی اعلم
جوپوری حدیث میں غور کرے تواسکی طبیعت اس کی شہادت دے گی اور اگر یہ درست ہوتی تو ہمیشہ با وضو رہنا واجب ہوتا اور کوئی اس کا قائل نہیں ۔ والله تعالی اعلم (ت )
ثالثا : وہ تنظیف فــــ۱ ہے اور دین کی بنا نظافت پر ہے اور شك نہیں کہ تجدید موجب تنظیف مزید ولہذا فـــ۲جمعہ وعیدین وعرفہ عــــہ واحرام ووقوف عرفات ووقوف مزدلفہ حاضری حرم وحاضری سرکار اعظم
فــــ۱ : تطفل ثالث علیہما۔
فـــــ۲ : مسئلہ : ان بعض اوقات و مواقع کا ذکر جن کے لیے غسل مستحب ہے ۔
عـــــہ : قال فی الدرو فی جبل عرفۃ قال ش “ اقحم لفظ جبل اشارۃ الی ان الغسل للوقوف نفسہ لالد خول عرفات ولا للیوم وما فی البدائع من انہ یجوز ان یکون علی الاختلاف ای للوقوف اوللیوم کما فی الجمعۃ ردہ فی الحلیۃ بان الظاھر انہ للوقوف قال وما اظن ان احد اذھب الی استنانہ لیوم عرفۃ بلا حضور عرفات اھ
عــــہ : در مختار میں ہے میں “ جبل عرفات پرغسل “ شامی میں ہے لفظ جبل اس بات کی جانب اشارہ کے لئے بڑھا دیا کہ غسل خود وقوف کی وجہ سے ہے عرفات میں داخل ہونے یا روز عرفہ کی وجہ سے نہیں اور بدائع میں جو ہے کہ “ ہوسکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہوکہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے یا اس دن کی وجہ سے ہے جیسے جمعہ میں اختلاف ہے “ حلیہ میں اسکی تردید یوں کی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے۔ اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ کسی کا یہ مذہب ہو کہ عر فات کی حاضری کے بغیر روزعرفہ کا غسل مسنون ہے ۔ اھ(باقی برصفحہ ائندہ)
تشہد بہ قریحۃ من نظرہ فیہ بتمامہ وایضا لوصح لوجبت استدامۃ الوضوء ولا قائل بہ والله تعالی اعلم
جوپوری حدیث میں غور کرے تواسکی طبیعت اس کی شہادت دے گی اور اگر یہ درست ہوتی تو ہمیشہ با وضو رہنا واجب ہوتا اور کوئی اس کا قائل نہیں ۔ والله تعالی اعلم (ت )
ثالثا : وہ تنظیف فــــ۱ ہے اور دین کی بنا نظافت پر ہے اور شك نہیں کہ تجدید موجب تنظیف مزید ولہذا فـــ۲جمعہ وعیدین وعرفہ عــــہ واحرام ووقوف عرفات ووقوف مزدلفہ حاضری حرم وحاضری سرکار اعظم
فــــ۱ : تطفل ثالث علیہما۔
فـــــ۲ : مسئلہ : ان بعض اوقات و مواقع کا ذکر جن کے لیے غسل مستحب ہے ۔
عـــــہ : قال فی الدرو فی جبل عرفۃ قال ش “ اقحم لفظ جبل اشارۃ الی ان الغسل للوقوف نفسہ لالد خول عرفات ولا للیوم وما فی البدائع من انہ یجوز ان یکون علی الاختلاف ای للوقوف اوللیوم کما فی الجمعۃ ردہ فی الحلیۃ بان الظاھر انہ للوقوف قال وما اظن ان احد اذھب الی استنانہ لیوم عرفۃ بلا حضور عرفات اھ
عــــہ : در مختار میں ہے میں “ جبل عرفات پرغسل “ شامی میں ہے لفظ جبل اس بات کی جانب اشارہ کے لئے بڑھا دیا کہ غسل خود وقوف کی وجہ سے ہے عرفات میں داخل ہونے یا روز عرفہ کی وجہ سے نہیں اور بدائع میں جو ہے کہ “ ہوسکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہوکہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے یا اس دن کی وجہ سے ہے جیسے جمعہ میں اختلاف ہے “ حلیہ میں اسکی تردید یوں کی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے۔ اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ کسی کا یہ مذہب ہو کہ عر فات کی حاضری کے بغیر روزعرفہ کا غسل مسنون ہے ۔ اھ(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
ا لدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ مجتبائی دہلی۱ / ۳۲
ودخول منی ورمی جمار ہرسہ روزہ شب برات وشب قدر وشب عرفہ وحاضری مجلس میلاد مبارك وغیرہا کے غسل مستحب ہوئے درمختار میں قول ماتن سن لصلاۃ جمعۃ وعید الخ ماتن نے کہا جمعہ وعیدین کیلئے سنت ہے الخ۔ (ت) کے بعد ہے :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
واقر ہ فی البحر والنہر لکن قال المقد سی فی شرح نظم الکنز لا یستبعد سنیتہ للیوم لفضیلتہ حتی لوحلف بطلاق امرأتہ فی افضل الایام العام تطلق یوم العرفۃ ذکرہ ابن ملك فی شرح الشارق اھ
اقول : ھذاصاحب فـــــ الدر ناصا علی استنانہ ای استحبابہ لیلۃ عرفۃ وقدعد ھافی التاتارخانیہ والقہستانی فالیوم احق فلذا افردت عرفۃ من الوقوف وکذا دخول من رمی الجمار تبعاللتنویر شرح الغزنویۃ کما نقل عنہ ش والله تعالی اعلم اھ منہ
اوراسے بحر ونہر میں برقراررکھا لیکن مقدسی نے شرح نظم کنز میں لکھا کہ : “ دن کے باعث اس غسل کا مسنون ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ دن فضیلت رکھتا ہے یہا ں تك کہ اگر یہ کہا کہ میری عور ت کو سال کے سب سے افضل دن میں طلاق تو روز عرفہ اسپرطلاق واقع ہوگی اسے ابن ملك نے شرح مشارق میں ذکر کیا اھ
اقول : یہ خود صاحب درمختارہیں جنہوں نے عرفہ کی شب غسل مسنون یعنی مستحب ہونے کی صراحت فرمائی اور تاتار خانیہ وقہستانی نے بھی اسے شمار کیا اسی طرح دخول منی کو رمی جمار سے الگ کیا تنویر اور شرح غزنویہ کی تبعیت میں جیسا کہ اس سے علامہ شامی نے نقل کیا ہے والله تعالی اعلم ۱۲منیہ (ت)
فـــــ : تطفل علی الدر۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
واقر ہ فی البحر والنہر لکن قال المقد سی فی شرح نظم الکنز لا یستبعد سنیتہ للیوم لفضیلتہ حتی لوحلف بطلاق امرأتہ فی افضل الایام العام تطلق یوم العرفۃ ذکرہ ابن ملك فی شرح الشارق اھ
اقول : ھذاصاحب فـــــ الدر ناصا علی استنانہ ای استحبابہ لیلۃ عرفۃ وقدعد ھافی التاتارخانیہ والقہستانی فالیوم احق فلذا افردت عرفۃ من الوقوف وکذا دخول من رمی الجمار تبعاللتنویر شرح الغزنویۃ کما نقل عنہ ش والله تعالی اعلم اھ منہ
اوراسے بحر ونہر میں برقراررکھا لیکن مقدسی نے شرح نظم کنز میں لکھا کہ : “ دن کے باعث اس غسل کا مسنون ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ دن فضیلت رکھتا ہے یہا ں تك کہ اگر یہ کہا کہ میری عور ت کو سال کے سب سے افضل دن میں طلاق تو روز عرفہ اسپرطلاق واقع ہوگی اسے ابن ملك نے شرح مشارق میں ذکر کیا اھ
اقول : یہ خود صاحب درمختارہیں جنہوں نے عرفہ کی شب غسل مسنون یعنی مستحب ہونے کی صراحت فرمائی اور تاتار خانیہ وقہستانی نے بھی اسے شمار کیا اسی طرح دخول منی کو رمی جمار سے الگ کیا تنویر اور شرح غزنویہ کی تبعیت میں جیسا کہ اس سے علامہ شامی نے نقل کیا ہے والله تعالی اعلم ۱۲منیہ (ت)
فـــــ : تطفل علی الدر۔
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۴
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۴
وکذا الدخول المدینۃ ولحضور مجمع الناس الخ
اسی طرح مدینہ میں داخل ہونے والے اور لوگوں کے مجمع میں حاضر ہونے کیلئے سنت ہے الخ۔ ( ت)
ان سب میں نماز کیلئے وسیلہ ہونا کہاں کہ جنابت نہیں ۔
رابعا : فـــ۱ صرف وسیلہ ہی ہوکر مشروع ہوتا تو ایك بار کوئی فعل مقصود کرلینے کے بعد بھی تجدید مکروہ ہی رہتی کہ پہلا وضو جب تك باقی ہے وسیلہ باقی ہے تو دوبارہ کرنا تحصیل حاصل وبیکار واسراف ہے۔
خامسا : بلکہ فـــــ۲ چاہئے تھا کہ شرع مطہر وضو میں تثلیث بھی مسنون نہ فرماتی کہ وسیلہ تو ایك بار دھونے سے حاصل ہوگیا اب دوبارہ سہ بارہ کس لئے۔
سادسا : رزین فــــ۳نے عبدالله فــــ۴ بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا مرتین مرتین وقال ھو نور علی نور ۔
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو میں اعضائے کریمہ دو دوبار دھوئے اور فرمایا یہ نور پر نور ہے۔
ایك ہی بار کے دھونے میں نور حاصل تھا پھر دوبارہ اور سہ بارہ نور پر نور لینا فضول نہ ہوا تو اس پر اور زیادت کیوں فضول ہوگی حالانکہ انہی رزین کی حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الوضوء علی الوضوء نور علی نور
وضو پر وضو نور پر نور ہے۔ (ت)
سابعا ابو داؤد وترمذی وابن ماجہ عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من توضا علی طھر کتب لہ عشر
جو باوضو وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں
فــــ۱ : تطفل رابعۃ علی الغنیۃ والقاری ۔ فــــ ۲ : تطفل خامس علیہما ۔
فــــ ۳ : تطفل سادس علیہما۔ فــــ ۴ : وضو پر وضو کے مسائل ۔
اسی طرح مدینہ میں داخل ہونے والے اور لوگوں کے مجمع میں حاضر ہونے کیلئے سنت ہے الخ۔ ( ت)
ان سب میں نماز کیلئے وسیلہ ہونا کہاں کہ جنابت نہیں ۔
رابعا : فـــ۱ صرف وسیلہ ہی ہوکر مشروع ہوتا تو ایك بار کوئی فعل مقصود کرلینے کے بعد بھی تجدید مکروہ ہی رہتی کہ پہلا وضو جب تك باقی ہے وسیلہ باقی ہے تو دوبارہ کرنا تحصیل حاصل وبیکار واسراف ہے۔
خامسا : بلکہ فـــــ۲ چاہئے تھا کہ شرع مطہر وضو میں تثلیث بھی مسنون نہ فرماتی کہ وسیلہ تو ایك بار دھونے سے حاصل ہوگیا اب دوبارہ سہ بارہ کس لئے۔
سادسا : رزین فــــ۳نے عبدالله فــــ۴ بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم توضا مرتین مرتین وقال ھو نور علی نور ۔
یعنی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو میں اعضائے کریمہ دو دوبار دھوئے اور فرمایا یہ نور پر نور ہے۔
ایك ہی بار کے دھونے میں نور حاصل تھا پھر دوبارہ اور سہ بارہ نور پر نور لینا فضول نہ ہوا تو اس پر اور زیادت کیوں فضول ہوگی حالانکہ انہی رزین کی حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
الوضوء علی الوضوء نور علی نور
وضو پر وضو نور پر نور ہے۔ (ت)
سابعا ابو داؤد وترمذی وابن ماجہ عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من توضا علی طھر کتب لہ عشر
جو باوضو وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں
فــــ۱ : تطفل رابعۃ علی الغنیۃ والقاری ۔ فــــ ۲ : تطفل خامس علیہما ۔
فــــ ۳ : تطفل سادس علیہما۔ فــــ ۴ : وضو پر وضو کے مسائل ۔
حوالہ / References
لدر المختار کتاب الطہارۃ مکتبہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲
مشکوٰۃ المصابیح باب سنن الوضوء الفصل الثالث قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۷
کشف الخفاء حدیث۲۸۹۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۳۰۳
مشکوٰۃ المصابیح باب سنن الوضوء الفصل الثالث قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۷
کشف الخفاء حدیث۲۸۹۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۳۰۳
حسنات ۔
لکھی جائیں ۔
مناوی نے تیسیر میں کہا : ای عشر وضوءات یعنی دس بار وضو کرنے کا ثواب لکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ حدیثوں میں فصل نماز وغیرہ کی قید نہیں تو مشایخ کرام کا اتفاق اور حدیث کریم کا اطلاق دونوں متوافق ہیں اسی بنا پر سیدی عارف بالله علامہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہاں محقق حلبی کا خلاف فرمایا ردالمحتار میں ہے :
لکن ذکر سیدی عبدالغنی النابلسی ان المفہوم من اطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاۃ اومجلس اخرو لااسراف فیما ھو مشروع اما لوکررہ ثالثا او رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکروا لاکان اسرافا محضا اھ فتامل اھ۔
اقول : لکن فـــــ اطلاق الحدیثین یشمل الثالث والرابع ایضا وایضا اذالم یکن اسرافا فی الثانی لم یکن فی
سیدی عبدالغنی النابلسی نے فرمایا کہ حدیث کے اطلاق کا مفہوم تو یہ ہے کہ یہ مشروع ہے خواہ اس کے درمیان کسی نماز یا کسی مجلس سے فصل نہ ہواور جو چیز مشروع ہو اس میں اسراف نہیں ہوتا لیکن اگر تیسری چوتھی مرتبہ کیا تو اس کی مشروعیت کیلئے ان چیزوں سے فصل ضروری ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ور نہ تو محض اسراف ہوگا اھ تو تا مل کرو اھ۔ (ت)
اقول : لیکن دونوں حدیثوں کا اطلاق تو تیسری اور چوتھی بار کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ہے کہ جب دوسری بار میں اسراف نہ ہوا
فـــــ : تطفل علی المولی النابلسی ۔
لکھی جائیں ۔
مناوی نے تیسیر میں کہا : ای عشر وضوءات یعنی دس بار وضو کرنے کا ثواب لکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ حدیثوں میں فصل نماز وغیرہ کی قید نہیں تو مشایخ کرام کا اتفاق اور حدیث کریم کا اطلاق دونوں متوافق ہیں اسی بنا پر سیدی عارف بالله علامہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہاں محقق حلبی کا خلاف فرمایا ردالمحتار میں ہے :
لکن ذکر سیدی عبدالغنی النابلسی ان المفہوم من اطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاۃ اومجلس اخرو لااسراف فیما ھو مشروع اما لوکررہ ثالثا او رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکروا لاکان اسرافا محضا اھ فتامل اھ۔
اقول : لکن فـــــ اطلاق الحدیثین یشمل الثالث والرابع ایضا وایضا اذالم یکن اسرافا فی الثانی لم یکن فی
سیدی عبدالغنی النابلسی نے فرمایا کہ حدیث کے اطلاق کا مفہوم تو یہ ہے کہ یہ مشروع ہے خواہ اس کے درمیان کسی نماز یا کسی مجلس سے فصل نہ ہواور جو چیز مشروع ہو اس میں اسراف نہیں ہوتا لیکن اگر تیسری چوتھی مرتبہ کیا تو اس کی مشروعیت کیلئے ان چیزوں سے فصل ضروری ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ور نہ تو محض اسراف ہوگا اھ تو تا مل کرو اھ۔ (ت)
اقول : لیکن دونوں حدیثوں کا اطلاق تو تیسری اور چوتھی بار کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ہے کہ جب دوسری بار میں اسراف نہ ہوا
فـــــ : تطفل علی المولی النابلسی ۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ با ب الرجل یجددا لوضومن غیر حدیث آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹ ، سنن التررمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو لکل الصلوٰۃ حدیث ۵۹ دار الفکر بیروت۱ / ۱۲۲،۱۲۳ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الوضو علی الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۹
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضأ علی طہر مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۴۱۱
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضأ علی طہر مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۴۱۱
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
الثالث والرابع وکان المولی النابلسی قدس سرہ القدسی نظر الی لفظ الوضوء علی الوضوء فھما وضوان فحسب وکذلك من توضأ علی طھر۔
اقول : ووھنہ لایخفی فقولہ تعالی وهنا على وهن لایدل ان ھناك وھنین فقط وکان الشامی الی ھذا اشار بقولہ تأمل وسیاتی ماخذ کلام العارف مع الکلام علیہ قریبا ان شاء الله تعالی۔
تو تیسری چوتھی بار میں بھی نہ ہوگا شاید علامہ نابلسی قدس سرہ کی نظر لفظ وضو علی الوضوء پر ہے کہ یہ صرف دو وضو ہوتے ہیں اور یہی حال اس کا ہے جس نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا ۔
اقول : اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں دیکھیے ارشاد باری تعالی وهنا على وهن (کمزوری پرکمزوری)یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ “ تأمل “ سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء الله تعالی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)
ثامنا اقول : فـــ۱ حل یہ ہے کہ جو وضو فرض ہے وہ وسیلہ ہے کہ شرط صحت یا جواز ہے اور شروط وسائل ہوتے ہیں مگر جو وضو مستحب فــــ۲ہے وہ صرف ترتب ثواب کیلئے مقرر فرمایا جاتا ہے تو قصد ذاتی سے خالی نہیں اگرچہ اس سے عمل مستحب فیہ میں حسن بڑھے کہ مستحب فـــــ۳ کی یہی شان ہے کہ وہ اکمال سنن کیلئے ہوتا ہے اور سنن اکمال واجب اور واجب اکمال فرض۔
اقول : اور فرض اکمال ایمان کیلئے اس سے ان کا غیر مقصود ہونا لازم نہیں آتا۔ خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
الواجبات اکمال الفرائض والسنن اکمال
واجبات فرائض کا تکملہ ہیں اور سنتیں واجبات
فـــــ۱ : تطفل سابعا علی الغنیۃ والقاری ۔
فـــــ۲ : مصنف کی تحقیق کہ جو وضو یا غسل مستحب ہے وہ وسیلہ محضہ نہیں خود بھی مخصوص ہے۔
فـــــ۳ : مستحب سنت کی تکمیل ہے سنت واجب کی واجب فرض کی فرض ایمان کی۔
اقول : ووھنہ لایخفی فقولہ تعالی وهنا على وهن لایدل ان ھناك وھنین فقط وکان الشامی الی ھذا اشار بقولہ تأمل وسیاتی ماخذ کلام العارف مع الکلام علیہ قریبا ان شاء الله تعالی۔
تو تیسری چوتھی بار میں بھی نہ ہوگا شاید علامہ نابلسی قدس سرہ کی نظر لفظ وضو علی الوضوء پر ہے کہ یہ صرف دو وضو ہوتے ہیں اور یہی حال اس کا ہے جس نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا ۔
اقول : اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں دیکھیے ارشاد باری تعالی وهنا على وهن (کمزوری پرکمزوری)یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ “ تأمل “ سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء الله تعالی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)
ثامنا اقول : فـــ۱ حل یہ ہے کہ جو وضو فرض ہے وہ وسیلہ ہے کہ شرط صحت یا جواز ہے اور شروط وسائل ہوتے ہیں مگر جو وضو مستحب فــــ۲ہے وہ صرف ترتب ثواب کیلئے مقرر فرمایا جاتا ہے تو قصد ذاتی سے خالی نہیں اگرچہ اس سے عمل مستحب فیہ میں حسن بڑھے کہ مستحب فـــــ۳ کی یہی شان ہے کہ وہ اکمال سنن کیلئے ہوتا ہے اور سنن اکمال واجب اور واجب اکمال فرض۔
اقول : اور فرض اکمال ایمان کیلئے اس سے ان کا غیر مقصود ہونا لازم نہیں آتا۔ خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
الواجبات اکمال الفرائض والسنن اکمال
واجبات فرائض کا تکملہ ہیں اور سنتیں واجبات
فـــــ۱ : تطفل سابعا علی الغنیۃ والقاری ۔
فـــــ۲ : مصنف کی تحقیق کہ جو وضو یا غسل مستحب ہے وہ وسیلہ محضہ نہیں خود بھی مخصوص ہے۔
فـــــ۳ : مستحب سنت کی تکمیل ہے سنت واجب کی واجب فرض کی فرض ایمان کی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۱ /۱۴
الواجبات والاداب اکمال السنن ۔
کا تکملہ اورآداب سنتوں کا تکملہ ۔ (ت)
درمختار باب ادر اك الفریضہ میں ہے :
یأتی بالسنۃ مطلقا ولو صلی منفرداعلی الاصح لکونھا مکملات ۔
سنت کی ادائیگی کا حکم مطلقا ہے اگر چہ تنہا نماز پڑھے یہی اصح ہے اس لئے کہ (فرائض وواجبات ) کی تکمیل کرنے والی ہیں ۔ (ت)
اسی کی بحث تراویح میں ہے :
ھی عشرون رکعۃ حکمۃ مساواۃ المکمل للمکمل
تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اس میں حکمت یہ ہے کہ مکمل مکمل کے برابر ہوجائے۔ (ت)
ولہذا ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ وضوئے بے نیت پر ثواب نہیں ۔ بحرالرائق میں ہے :
اعلم ان النیۃ لیست شرطافی کون الوضوء مفتاحا للصلاۃ قیدنا بقولنا فی کونہ مفتاحا لانھا شرط فی کونہ سببا للثواب علی الاصح ۔
واضح ہو کہ وضو کے کلید نماز بننے میں نیت شرط نہیں کلید نماز بننے کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ وضو کے سبب ثواب بننے میں بر قول اصح نیت ضرور شرط ہے۔ (ت)
اور مستحب پر ثواب ہے تو وضوئے فـــــ مستحب محتاج نیت ہوا اور وسائل محضہ محتاج نیت نہیں ہوتے۔
فـــــ : وضوئے مستحب بے نیت ادا نہ ہوگا ۔
کا تکملہ اورآداب سنتوں کا تکملہ ۔ (ت)
درمختار باب ادر اك الفریضہ میں ہے :
یأتی بالسنۃ مطلقا ولو صلی منفرداعلی الاصح لکونھا مکملات ۔
سنت کی ادائیگی کا حکم مطلقا ہے اگر چہ تنہا نماز پڑھے یہی اصح ہے اس لئے کہ (فرائض وواجبات ) کی تکمیل کرنے والی ہیں ۔ (ت)
اسی کی بحث تراویح میں ہے :
ھی عشرون رکعۃ حکمۃ مساواۃ المکمل للمکمل
تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اس میں حکمت یہ ہے کہ مکمل مکمل کے برابر ہوجائے۔ (ت)
ولہذا ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ وضوئے بے نیت پر ثواب نہیں ۔ بحرالرائق میں ہے :
اعلم ان النیۃ لیست شرطافی کون الوضوء مفتاحا للصلاۃ قیدنا بقولنا فی کونہ مفتاحا لانھا شرط فی کونہ سببا للثواب علی الاصح ۔
واضح ہو کہ وضو کے کلید نماز بننے میں نیت شرط نہیں کلید نماز بننے کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ وضو کے سبب ثواب بننے میں بر قول اصح نیت ضرور شرط ہے۔ (ت)
اور مستحب پر ثواب ہے تو وضوئے فـــــ مستحب محتاج نیت ہوا اور وسائل محضہ محتاج نیت نہیں ہوتے۔
فـــــ : وضوئے مستحب بے نیت ادا نہ ہوگا ۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الثانی واجبات الصلوٰۃ عشرۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۱ / ۵۱ ، خزانۃ المفتین فرائض الصلوٰۃ وواجباتہا قلمی (فوٹو ) ۱ / ۲۶
الدر المختار ادراک الفریضۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۰
الدرالمختار ، کتا ب الصلوٰۃ ، باب الوتر والنوافل ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۸
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴
الدر المختار ادراک الفریضۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۰
الدرالمختار ، کتا ب الصلوٰۃ ، باب الوتر والنوافل ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۸
البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴
فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے :
اذالم ینو حتی لم یقع عبادۃ سببا للثواب فھل یقع الشرط المعتبر للصلاۃ حتی تصح بہ اولا قلنا نعم لان الشرط مقصود التحصیل لغیرہ لالذاتہ فکیف حصل حصل المقصود وصار کستر العورۃ باقی شروط الصلاۃ لایفتقر اعتبار ھا الی ان تنوی ۔
بے نیت وضو کر لیا جس کے باعث وہ عبادت سبب ثواب نہ بن سکا تو کیا اس (بے نیت وضو ) سے نماز صحیح ہوجائے گی اور یہ اس وضوکی جگہ ہو جائے گی جس کی شرط نماز میں رکھی گئی ہے ہم جواب دیں گے ہاں اس لئے کہ شرط دوسری چیز کو بروئے کار لانے کے لئے مقصود ہے بذات خود مقصود نہیں تو یہ جیسے بھی حاصل ہومقصود حاصل ہوجائے گا جیسے ستر عورت اور باقی شرائط نماز ہیں کہ ان کے قابل اعتبار ہونے کے لئے ان میں نیت ہونے کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
تو ثابت ہوا کہ وضوئے مستحب وسیلہ نہیں وھو المقصود والحمدلله الودود۔
تاسعا : محقق حلبی کا یہ استناد کہ اکیلا فـــــ۱سجدہ (یعنی سجدہ تلاوت وسجدہ شکر کے سوا محض سجدہ بے سبب) جبکہ عبادت مقصودہ نہ تھا تو علماء نے اس پر حکم کراہت دیا تو وضوئے جدید کی کراہت بدرجہ اولی۔
اقول : خود محقق فـــــ۲رحمہ الله نے آخر غنیہ میں سجدہ نماز وسہو وتلاوت ونذر وشکر پانچ سجدے ذکر کرکے فرمایا :
اما بغیر سبب فلیس بقربۃ ولامکروہ نقلہ عن المجتبی مقرا علیہ و
یعنی سجدہ بے سبب میں نہ ثواب نہ کراہت۔ غنیہ میں اسے مجتبی سے نقل کر کے برقرار رکھا
فـــــ۱ : سجدہ بے سبب کا حکم ۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیہما ۔
اذالم ینو حتی لم یقع عبادۃ سببا للثواب فھل یقع الشرط المعتبر للصلاۃ حتی تصح بہ اولا قلنا نعم لان الشرط مقصود التحصیل لغیرہ لالذاتہ فکیف حصل حصل المقصود وصار کستر العورۃ باقی شروط الصلاۃ لایفتقر اعتبار ھا الی ان تنوی ۔
بے نیت وضو کر لیا جس کے باعث وہ عبادت سبب ثواب نہ بن سکا تو کیا اس (بے نیت وضو ) سے نماز صحیح ہوجائے گی اور یہ اس وضوکی جگہ ہو جائے گی جس کی شرط نماز میں رکھی گئی ہے ہم جواب دیں گے ہاں اس لئے کہ شرط دوسری چیز کو بروئے کار لانے کے لئے مقصود ہے بذات خود مقصود نہیں تو یہ جیسے بھی حاصل ہومقصود حاصل ہوجائے گا جیسے ستر عورت اور باقی شرائط نماز ہیں کہ ان کے قابل اعتبار ہونے کے لئے ان میں نیت ہونے کی ضرورت نہیں ۔ (ت)
تو ثابت ہوا کہ وضوئے مستحب وسیلہ نہیں وھو المقصود والحمدلله الودود۔
تاسعا : محقق حلبی کا یہ استناد کہ اکیلا فـــــ۱سجدہ (یعنی سجدہ تلاوت وسجدہ شکر کے سوا محض سجدہ بے سبب) جبکہ عبادت مقصودہ نہ تھا تو علماء نے اس پر حکم کراہت دیا تو وضوئے جدید کی کراہت بدرجہ اولی۔
اقول : خود محقق فـــــ۲رحمہ الله نے آخر غنیہ میں سجدہ نماز وسہو وتلاوت ونذر وشکر پانچ سجدے ذکر کرکے فرمایا :
اما بغیر سبب فلیس بقربۃ ولامکروہ نقلہ عن المجتبی مقرا علیہ و
یعنی سجدہ بے سبب میں نہ ثواب نہ کراہت۔ غنیہ میں اسے مجتبی سے نقل کر کے برقرار رکھا
فـــــ۱ : سجدہ بے سبب کا حکم ۔ فـــــ۲ : تطفل ثامن علیہما ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵ ، ۲۶ ، فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۸
غنیۃ المستملی فصل مسائل شتی سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۶ ، ۶۱۷
غنیۃ المستملی فصل مسائل شتی سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۶ ، ۶۱۷
نقلہ عن الغنیۃ فی ردالمحتار ایضا واقر ھذا ھھنا واعتمد ذاك ثمہ الا ان یحمل ماھنا علی کراھۃ التنزیہ وما ثم علی نفی المأ ثم ای کراھۃ التحریم فیتوافقان لکن یحتاج الحکم بکراھتہ ولو تنزیہا الی دلیل یفیدہ شرعا کما تقدم وھو لم یستند ھھناا لی نقل فالله تعالی اعلم۔
اور غنیہ سے اسے ردالمحتار میں بھی نقل کیا اور وضو علی الوضو کے بیان میں غنیہ کے قول (سجدہ بے سبب کی کراہت ) کوبرقرار رکھااور آخر باب سجدہ تلاوت میں سجدہ بے سبب کے غیر مکروہ ہونے پر اعتماد کیا مگر تطبیق یوں ہوسکتی ہے یہاں جو کراہت مذکور ہے وہ کراہت تنزیہیہ پر محمول ہو اور وہاں جو نفی کراہت ہے وہ نفی گناہ یعنی کراہت تحریم کی نفی پرمحمول ہو لیکن کراہت کا حکم کرنے کے لئے اگر چہ کراہت تنزیہیہ ہی ہو اس دلیل کی حاجت ہے جو شرعا اس کی کراہت بتاتی ہو جیسا کہ یہ قاعدہ ذکر ہوا اور یہاں انہوں نے کسی نقل سے استناد نہ کیا اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
عاشرا : وبالله فـــــ التوفیق سجدہ سب سے زیادہ خاص حاضری دربار ملك الملوك عزجلالہ ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثروا الدعاء رواہ مسلم وابو داؤد والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ۔
سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اس میں دعا بکثرت کرو (اسے مسلم ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا )
فـــــ : تطفل تاسع علیہا۔
اور غنیہ سے اسے ردالمحتار میں بھی نقل کیا اور وضو علی الوضو کے بیان میں غنیہ کے قول (سجدہ بے سبب کی کراہت ) کوبرقرار رکھااور آخر باب سجدہ تلاوت میں سجدہ بے سبب کے غیر مکروہ ہونے پر اعتماد کیا مگر تطبیق یوں ہوسکتی ہے یہاں جو کراہت مذکور ہے وہ کراہت تنزیہیہ پر محمول ہو اور وہاں جو نفی کراہت ہے وہ نفی گناہ یعنی کراہت تحریم کی نفی پرمحمول ہو لیکن کراہت کا حکم کرنے کے لئے اگر چہ کراہت تنزیہیہ ہی ہو اس دلیل کی حاجت ہے جو شرعا اس کی کراہت بتاتی ہو جیسا کہ یہ قاعدہ ذکر ہوا اور یہاں انہوں نے کسی نقل سے استناد نہ کیا اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)
عاشرا : وبالله فـــــ التوفیق سجدہ سب سے زیادہ خاص حاضری دربار ملك الملوك عزجلالہ ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثروا الدعاء رواہ مسلم وابو داؤد والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ۔
سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اس میں دعا بکثرت کرو (اسے مسلم ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا )
فـــــ : تطفل تاسع علیہا۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب ما یقال فی الرکوع والسجود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۱ ، سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب الدعاء فی الرکوع والسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۲۷ ، سنن النسائی کتاب افتتاح الصلوۃ باب اقرب ما یکون العبد من اللہ نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۷۰ ، ۱۷۱
اور دربار شاہی میں بے اذن حاضری جرأت ہے اور سجدہ بے سبب کے لئے اذن معلوم نہیں ولہذا شافعیہ کے نزدیك حرام ہے کما صرح بہ الامام الا ردبیلی الشافعی فی الانوار جیسا کہ امام اردبیلی شافعی نے انوار میں تصریحات کی۔ ت) اس بناء پر اگر سجدہ بے سبب مکروہ ہو تو وضو کا اس پر قیاس محض بلا جامع ہے۔ رہا علامہ شامی کا اس کی تائید میں فرمانا کہ ہدیہ ابن عماد میں ہے :
قال فی شرح المصابیح انما یستحب الوضوء اذا صلی بالوضوء الاول صلوۃ کذا فی الشرعۃ والقنیۃ اھ وکذا ماقالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیرعندحدیث من توضأ علی طھران المراد الوضوء الذی صلی بہ فرضا او نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر ابن عمر رضی الله تعالی عنہما فمن لم یصل بہ شیا لایسن لہ تجدیدہ اھ ومقتضی ھذا کراھتہ وان تبدل المجلس مالم یؤدبہ صلاۃ اونحوھا اھ
شرح مصابیح میں فرمایا کہ وضو اسی وقت مستحب ہے جب پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ایسا شرعۃ الاسلام اور قنیہ میں ہے اھ اسی طرح وہ بھی ہے جو مناوی نے شرح جامع صغیر میں با وضو ہوتے ہوئے دس نیکیاں ملنے سے متعلق حدیث کے تحت فرمایا کہ مراد وہ وضو ہے جس سے کوئی فرض یا نفل نماز ادا کر چکا ہوجیسا کہ راوی حدیث حضرت عبد الله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کے عمل سے اس کا بیان ظاہر ہوتا ہے تو پہلے وضو سے جس نے کوئی نماز ادا نہ کی اس کے لئے تجدید مسنون نہیں اھ ا ور اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر مجلس بدل جائے تو بھی دوبارہ وضو مکروہ ہو جب تك نما ز یا ایسا ہی کوئی عمل ادا نہ کر لے اھ(ت)
اقول : شرعۃ الاسلام میں اس کا پتا نہیں اس میں صرف اس قدر ہے :
التطھر لکل صلاۃ سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام ۔
ہر نماز کے لئے وضو کرنا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت ہے۔ (ت)
قال فی شرح المصابیح انما یستحب الوضوء اذا صلی بالوضوء الاول صلوۃ کذا فی الشرعۃ والقنیۃ اھ وکذا ماقالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیرعندحدیث من توضأ علی طھران المراد الوضوء الذی صلی بہ فرضا او نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر ابن عمر رضی الله تعالی عنہما فمن لم یصل بہ شیا لایسن لہ تجدیدہ اھ ومقتضی ھذا کراھتہ وان تبدل المجلس مالم یؤدبہ صلاۃ اونحوھا اھ
شرح مصابیح میں فرمایا کہ وضو اسی وقت مستحب ہے جب پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ایسا شرعۃ الاسلام اور قنیہ میں ہے اھ اسی طرح وہ بھی ہے جو مناوی نے شرح جامع صغیر میں با وضو ہوتے ہوئے دس نیکیاں ملنے سے متعلق حدیث کے تحت فرمایا کہ مراد وہ وضو ہے جس سے کوئی فرض یا نفل نماز ادا کر چکا ہوجیسا کہ راوی حدیث حضرت عبد الله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کے عمل سے اس کا بیان ظاہر ہوتا ہے تو پہلے وضو سے جس نے کوئی نماز ادا نہ کی اس کے لئے تجدید مسنون نہیں اھ ا ور اس کا مقتضا یہ ہے کہ اگر مجلس بدل جائے تو بھی دوبارہ وضو مکروہ ہو جب تك نما ز یا ایسا ہی کوئی عمل ادا نہ کر لے اھ(ت)
اقول : شرعۃ الاسلام میں اس کا پتا نہیں اس میں صرف اس قدر ہے :
التطھر لکل صلاۃ سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام ۔
ہر نماز کے لئے وضو کرنا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی سنت ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
شرعۃ الاسلام مع شرح مصابیح الجنا ن فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳
شرعۃ الاسلام مع شرح مصابیح الجنا ن فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳
ہاں سید علی زادہ نے اس کی شرح میں مضمون مذکور شرح مصابیح سے نقل کیا اور اس سے پہلے صاف تعمیم کا حکم دیا
حیث قال فالمؤمن ینبغی ان یجدد الوضوء فی کل وقت وان کان علی طہر قال صلی الله تعالی علیہ وسلم من توضأ علی طھر کتب لہ عشر حسنات وقال فی شرح المصابیح تجدید الوضوء فی کل وقت انما یستجب اذا صلی بالوضوء الاول صلاۃ والا فلا اھ
قلت وبہ ظھر ان قولہ کذا فی الشرعۃ ای شرحہا اشارۃ الی قولہ قال فی شرح المصابیح لاداخل تحت قال۔
ان کے الفاظ یہ ہیں : تومومن کو چاہیے کہ ہر وقت تازہ وضو کرے اگرچہ باوضو رہا ہو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے جس نے باوضو ہوتے ہوئے وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ ۔ ۔ اورشرح مصابیح میں کہا کہ ہر وقت تجدید وضو مستحب ہونے کی شرط یہ ہے کہ پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ورنہ نہیں ۔
قلت اسی سے ظاہر ہوا کہ ابن عماد کی عبارت “ کذافی الشرعۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ایساہی شرعۃ الاسلام یعنی اسکی شرح میں ہے “ کا اشارہ ان کی عبارت “ قال فی شرح المصابیح “ (شرح مصابیح میں کہا ) کی طرف ہے ۔ یہ شرح مصابیح کے کلام میں شامل نہیں (ت)
بہرحال اولا قنیہ کا فــــ۱ حال ضعف معلوم ہے اور شرح شرعہ بھی مبسوط ونہایہ وعنایہ ومعراج الدرایہ وکافی وفتح القدیر وحلیہ وسراج وخلاصہ وناطفی میں کسی کے معارض نہیں ہوسکتی نہ کہ ان کا اور ان کے ساتھ اور کتب کثیرہ سب کے مجموع کا معارضہ کرے۔ پھر اعتبار منقول عنہ کا ہے اور شرح فــــ۲ مصابیح شروح حدیث سے ہے معتمدات فقہ کا مقابلہ نہ کرے گی نہ کہ مسئلہ اتفاق
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ ۲ : کتب شروح حدیث میں جو مسئلہ کتب فقہ کے خلاف ہو معتبر نہیں ۔
حیث قال فالمؤمن ینبغی ان یجدد الوضوء فی کل وقت وان کان علی طہر قال صلی الله تعالی علیہ وسلم من توضأ علی طھر کتب لہ عشر حسنات وقال فی شرح المصابیح تجدید الوضوء فی کل وقت انما یستجب اذا صلی بالوضوء الاول صلاۃ والا فلا اھ
قلت وبہ ظھر ان قولہ کذا فی الشرعۃ ای شرحہا اشارۃ الی قولہ قال فی شرح المصابیح لاداخل تحت قال۔
ان کے الفاظ یہ ہیں : تومومن کو چاہیے کہ ہر وقت تازہ وضو کرے اگرچہ باوضو رہا ہو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے جس نے باوضو ہوتے ہوئے وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ ۔ ۔ اورشرح مصابیح میں کہا کہ ہر وقت تجدید وضو مستحب ہونے کی شرط یہ ہے کہ پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ورنہ نہیں ۔
قلت اسی سے ظاہر ہوا کہ ابن عماد کی عبارت “ کذافی الشرعۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ایساہی شرعۃ الاسلام یعنی اسکی شرح میں ہے “ کا اشارہ ان کی عبارت “ قال فی شرح المصابیح “ (شرح مصابیح میں کہا ) کی طرف ہے ۔ یہ شرح مصابیح کے کلام میں شامل نہیں (ت)
بہرحال اولا قنیہ کا فــــ۱ حال ضعف معلوم ہے اور شرح شرعہ بھی مبسوط ونہایہ وعنایہ ومعراج الدرایہ وکافی وفتح القدیر وحلیہ وسراج وخلاصہ وناطفی میں کسی کے معارض نہیں ہوسکتی نہ کہ ان کا اور ان کے ساتھ اور کتب کثیرہ سب کے مجموع کا معارضہ کرے۔ پھر اعتبار منقول عنہ کا ہے اور شرح فــــ۲ مصابیح شروح حدیث سے ہے معتمدات فقہ کا مقابلہ نہ کرے گی نہ کہ مسئلہ اتفاق
فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ ۲ : کتب شروح حدیث میں جو مسئلہ کتب فقہ کے خلاف ہو معتبر نہیں ۔
حوالہ / References
مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳
علامہ مصطفی رحمتی نے شرح مشارق ابن ملك کے نص صریح کو اسی بنا پر رد کیا اور اسے اطلاقات کتب مذہب کے مقابل معارضہ کے قابل نہ مانا اور خود علامہ شامی نے اسے نقل کرکے مقرر فرمایا۔
حیث قال علی قولہ لکن فی شرح المشارق لابن ملك لو وطئہا وھی نائمۃ لایحلہا للاول لعدم ذوق العسیلۃ فیہ ان ھذا الکتاب لیس موضوعا لنقل المذھب واطلاق المتون والشروح یردہ وذوق العسیلۃ للنائمۃ موجود حکما الا یری ان النائم اذا وجد البلل یجب علیہ الغسل وکذا المغمی علیہ الخ
تفصیل یہ ہے کہ درمختار میں لکھا لیکن ابن ملك کی شرح المشارق میں ہے کہ اگر عورت سو رہی تھی اور اس سے وطی کی تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی اس لئے کہ اس کے حق میں ذوق عسیلہ (مر دکے چھتے کا مزہ پانے) کی شرط نہ پائی گئی اس پر علامہ رحمتی نے یہ اعتراض کیا : اس میں خامی یہ ہے کہ کتاب نقل مذہب کے لئے نہ لکھی گئی اور متون وشروح کے اطلاق سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اور سونے والی کے لئے بھی مزہ پانے کی شرط حکما موجود ہے کیا دیکھا نہیں کہ سونے والا تری پائے تواس پر غسل واجب ہوجاتاہے اسی طرح وہ بھی جو بے ہوش رہا ہو ۔ (ت)
ثانیا : علامہ مناوی فــــ۱ شافعی ہیں فقہ میں ان کا کلام نصوص فقہ حنفی کے خلاف کیا قابل ذکر۔
ثالثا : فــــ۲وہی مناوی اسی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں کہ شرح کبیر کی تلخیص ہے اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں
فتجدید الوضوء سنۃ مؤکدۃ اذا صلی بالاول صلاۃ ما ۔
توتجدید وضوء سنت مؤکدہ ہے جب پہلے وضو سے کوئی بھی نماز اداکر چکا ہو۔ ( ت)
معلوم ہوا کہ لایسن سے ان کی مراد نفی سنت مؤکدہ ہے وصاحب الدارا دری (اور صاحب خانہ
فــــ۱ : معروضۃ اخری علیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
حیث قال علی قولہ لکن فی شرح المشارق لابن ملك لو وطئہا وھی نائمۃ لایحلہا للاول لعدم ذوق العسیلۃ فیہ ان ھذا الکتاب لیس موضوعا لنقل المذھب واطلاق المتون والشروح یردہ وذوق العسیلۃ للنائمۃ موجود حکما الا یری ان النائم اذا وجد البلل یجب علیہ الغسل وکذا المغمی علیہ الخ
تفصیل یہ ہے کہ درمختار میں لکھا لیکن ابن ملك کی شرح المشارق میں ہے کہ اگر عورت سو رہی تھی اور اس سے وطی کی تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی اس لئے کہ اس کے حق میں ذوق عسیلہ (مر دکے چھتے کا مزہ پانے) کی شرط نہ پائی گئی اس پر علامہ رحمتی نے یہ اعتراض کیا : اس میں خامی یہ ہے کہ کتاب نقل مذہب کے لئے نہ لکھی گئی اور متون وشروح کے اطلاق سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اور سونے والی کے لئے بھی مزہ پانے کی شرط حکما موجود ہے کیا دیکھا نہیں کہ سونے والا تری پائے تواس پر غسل واجب ہوجاتاہے اسی طرح وہ بھی جو بے ہوش رہا ہو ۔ (ت)
ثانیا : علامہ مناوی فــــ۱ شافعی ہیں فقہ میں ان کا کلام نصوص فقہ حنفی کے خلاف کیا قابل ذکر۔
ثالثا : فــــ۲وہی مناوی اسی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں کہ شرح کبیر کی تلخیص ہے اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں
فتجدید الوضوء سنۃ مؤکدۃ اذا صلی بالاول صلاۃ ما ۔
توتجدید وضوء سنت مؤکدہ ہے جب پہلے وضو سے کوئی بھی نماز اداکر چکا ہو۔ ( ت)
معلوم ہوا کہ لایسن سے ان کی مراد نفی سنت مؤکدہ ہے وصاحب الدارا دری (اور صاحب خانہ
فــــ۱ : معروضۃ اخری علیہ۔ فـــــ۲ : معروضۃ ثالثۃ علیہ۔
حوالہ / References
ردا لمحتار کتاب الطلاق باب الرجعۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۵۴۰
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضاء علی طہر مکتبہ الامام الشافعی ریاض۲ / ۴۱۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضاء علی طہر مکتبہ الامام الشافعی ریاض۲ / ۴۱۱
کو زیادہ علم ہوتا ہے۔ ت) اور اس کی نفی مقتضی کراہت نہیں کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ ت)
وجہ دوم : ایك جلسہ فــــ۱ میں وضو کی تکرار مکروہ ہے۔ سراج وہاج میں اسے اسراف کہا تو قبل تبدل مجلس وضو علی الوضوء کی نیت کیونکر کرسکتا ہے۔ یہ شبہہ بحرالرائق کا ہے کہ اسی عبارت خلاصہ پر وارد فرمایا۔
اقول : جس مسئلہ پر عبارت فـــــ۲ سراج سے اعتراض فرمایا وہ خود سراج کا بھی مسئلہ ہے۔ ہندیہ میں ہے :
لوزاد علی الثلث لطمانینۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ ھکذا فی النھایۃ والسراج الوھاج ۔
شك ہونے کے وقت اطمینان قلب کیلئے یا دوسرے وضو کی نیت سے دھویا تو کوئی حرج نہیں ایساہی نہایہ اور سراج وہاج میں ہے ۔ (ت)
کیا کلام سراج خود اپنے مناقض ہے اور اگر ہے تو ان کا وہ کلام احق بالقبول ہوگا جو عامہ اکابر فحول کے موافق ہے یاوہ کہ ان سب کے اور خود اپنے بھی مخالف ہے۔ لاجرم صاحب بحر کے برادر وتلمیذ نے نہرالفائق میں ظاہر کردیا کہ سراج نے ایك مجلس میں چند بار وضو کو مکروہ کہا ہے دوبار میں حرج نہیں تو اعتراض نہ رہا۔ سراج وہاج کی عبارت یہ ہے :
لو تکرر الوضوء فی مجلس واحد مرارا لم یستحب بل یکرہ لما فیہ من الاسراف اھ
اگر وضو ایك مجلس میں چند بار مکرر ہو تو مستحب نہیں بلکہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں اسراف ہے اھ
فــــ۱ : مسئلہ : بعض نے فرمایا ایك جلسہ میں دوبار وضومکروہ ہے۔ بعض نے فرمایا دوبارتك مستحب اس سے زائدمکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ احادیث وکلمات ائمہ مطلق ہیں اور تحدیدوں کا ثبوت ظاہر نہیں ۔
فــــ۲ : تطفل علی البحر۔
وجہ دوم : ایك جلسہ فــــ۱ میں وضو کی تکرار مکروہ ہے۔ سراج وہاج میں اسے اسراف کہا تو قبل تبدل مجلس وضو علی الوضوء کی نیت کیونکر کرسکتا ہے۔ یہ شبہہ بحرالرائق کا ہے کہ اسی عبارت خلاصہ پر وارد فرمایا۔
اقول : جس مسئلہ پر عبارت فـــــ۲ سراج سے اعتراض فرمایا وہ خود سراج کا بھی مسئلہ ہے۔ ہندیہ میں ہے :
لوزاد علی الثلث لطمانینۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ ھکذا فی النھایۃ والسراج الوھاج ۔
شك ہونے کے وقت اطمینان قلب کیلئے یا دوسرے وضو کی نیت سے دھویا تو کوئی حرج نہیں ایساہی نہایہ اور سراج وہاج میں ہے ۔ (ت)
کیا کلام سراج خود اپنے مناقض ہے اور اگر ہے تو ان کا وہ کلام احق بالقبول ہوگا جو عامہ اکابر فحول کے موافق ہے یاوہ کہ ان سب کے اور خود اپنے بھی مخالف ہے۔ لاجرم صاحب بحر کے برادر وتلمیذ نے نہرالفائق میں ظاہر کردیا کہ سراج نے ایك مجلس میں چند بار وضو کو مکروہ کہا ہے دوبار میں حرج نہیں تو اعتراض نہ رہا۔ سراج وہاج کی عبارت یہ ہے :
لو تکرر الوضوء فی مجلس واحد مرارا لم یستحب بل یکرہ لما فیہ من الاسراف اھ
اگر وضو ایك مجلس میں چند بار مکرر ہو تو مستحب نہیں بلکہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں اسراف ہے اھ
فــــ۱ : مسئلہ : بعض نے فرمایا ایك جلسہ میں دوبار وضومکروہ ہے۔ بعض نے فرمایا دوبارتك مستحب اس سے زائدمکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ احادیث وکلمات ائمہ مطلق ہیں اور تحدیدوں کا ثبوت ظاہر نہیں ۔
فــــ۲ : تطفل علی البحر۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۷
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
ردا لمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۱
وھذا ھو ماخذ ماقدمنا عن المولی النابلسی رحمہ الله تعالی۔
یہی اس کلام کا ماخذ ہے جو ہم نے علامہ نابلسی رحمہ الله کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق فـــــ وضوئے جدید میں کوئی غرض صحیح مقبول شرع ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو واجب کہ مطلقا تجدید مکروہ وممنوع ہو اگرچہ ایك ہی بار اگرچہ مجلس بدل کر اگرچہ ایك نماز پڑھ کرکہ بیکار بہانا ہی اسراف ہے اور اسراف ناجائز ہے اور اگر غرض صحیح ہے مثلا زیادت نظافت تو وہ غرض زیادت قبول کرتی ہے یا نہیں اگر نہیں تو ایك ہی بار کی اجازت چاہئے اگرچہ مجلس بدل جائے کہ تبدیل مجلس نامتزاید نہ کردے گا وہ کونسی غرض شرعی ہے کہ ایك جگہ بیٹھے بیٹھے تو قابل زیادت نہیں اور وہاں سے اٹھ کر ایك قدم ہٹ کر بیٹھ جائے تو از سرنو زیادت پائے اور اگر ہاں تو کیا وجہ ہے کہ مجلس میں دوبارہ تکرار کی اجازت نہ ہو بالجملہ جگہ بدلنے کو اسباب میں کوئی دخل نظر نہیں آتا تو قدم قدم ہٹ کر سوبار تکرار کی اجازت اور بے ہٹے ایك بار سے زیادہ کی ممانعت کوئی وجہ نہیں رکھتی۔ احادیث بے شك مطلق ہیں اور ہمارے ائمہ کا متفق علیہ مسئلہ بھی یقینا مطلق اور ایك اور متعدد کا تفرقہ ناموجہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
واشار فی الدر الی الجواب بوجہ اخر فقال لعل کراھۃ تکرارہ فی مجلس تنزیہیۃ اھ ای فلا یخالف قولھم لو زاد بنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لان الکلمۃ غالب استعمالھا فی کراھۃ التنزیہ۔
اقول : ویبتنی علی مااختارہ ان الاسراف مکروہ تحریما لان المستثنی اذا ثبت فیہ کراھۃ التنزیہ فلولم تکن فی المستثنی در مختار میں ایك دوسرے طریقے پر جواب کی طرف اشارہ کیا اس کے الفاظ یہ ہیں شاید ایك مجلس کے اندر تکرار وضو کی کراہت تنزیہی ہو اھ مطلب یہ ہے کہ یہ مان لینے سے ان کے اس قول کی مخالفت نہ ہوگی کہ “ اگر وضو کی نیت سے زیادتی کی تو کوئی حرج نہیں ( فلا بأس بہ ) اس لئے کہ یہ کلمہ زیادہ تر کراہت تنزیہیہ میں استعمال ہوتا ہے
اقول : اس جواب کی بنیاد اس پر ہے جو صاحب در مختار نے اختیار کیا کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مستثنی میں جب کراہت
فــــــ : تطفل علی سراج الوہاج والنہر والبحر ۔
یہی اس کلام کا ماخذ ہے جو ہم نے علامہ نابلسی رحمہ الله کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق فـــــ وضوئے جدید میں کوئی غرض صحیح مقبول شرع ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو واجب کہ مطلقا تجدید مکروہ وممنوع ہو اگرچہ ایك ہی بار اگرچہ مجلس بدل کر اگرچہ ایك نماز پڑھ کرکہ بیکار بہانا ہی اسراف ہے اور اسراف ناجائز ہے اور اگر غرض صحیح ہے مثلا زیادت نظافت تو وہ غرض زیادت قبول کرتی ہے یا نہیں اگر نہیں تو ایك ہی بار کی اجازت چاہئے اگرچہ مجلس بدل جائے کہ تبدیل مجلس نامتزاید نہ کردے گا وہ کونسی غرض شرعی ہے کہ ایك جگہ بیٹھے بیٹھے تو قابل زیادت نہیں اور وہاں سے اٹھ کر ایك قدم ہٹ کر بیٹھ جائے تو از سرنو زیادت پائے اور اگر ہاں تو کیا وجہ ہے کہ مجلس میں دوبارہ تکرار کی اجازت نہ ہو بالجملہ جگہ بدلنے کو اسباب میں کوئی دخل نظر نہیں آتا تو قدم قدم ہٹ کر سوبار تکرار کی اجازت اور بے ہٹے ایك بار سے زیادہ کی ممانعت کوئی وجہ نہیں رکھتی۔ احادیث بے شك مطلق ہیں اور ہمارے ائمہ کا متفق علیہ مسئلہ بھی یقینا مطلق اور ایك اور متعدد کا تفرقہ ناموجہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
واشار فی الدر الی الجواب بوجہ اخر فقال لعل کراھۃ تکرارہ فی مجلس تنزیہیۃ اھ ای فلا یخالف قولھم لو زاد بنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لان الکلمۃ غالب استعمالھا فی کراھۃ التنزیہ۔
اقول : ویبتنی علی مااختارہ ان الاسراف مکروہ تحریما لان المستثنی اذا ثبت فیہ کراھۃ التنزیہ فلولم تکن فی المستثنی در مختار میں ایك دوسرے طریقے پر جواب کی طرف اشارہ کیا اس کے الفاظ یہ ہیں شاید ایك مجلس کے اندر تکرار وضو کی کراہت تنزیہی ہو اھ مطلب یہ ہے کہ یہ مان لینے سے ان کے اس قول کی مخالفت نہ ہوگی کہ “ اگر وضو کی نیت سے زیادتی کی تو کوئی حرج نہیں ( فلا بأس بہ ) اس لئے کہ یہ کلمہ زیادہ تر کراہت تنزیہیہ میں استعمال ہوتا ہے
اقول : اس جواب کی بنیاد اس پر ہے جو صاحب در مختار نے اختیار کیا کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مستثنی میں جب کراہت
فــــــ : تطفل علی سراج الوہاج والنہر والبحر ۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارت مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
منہ الاھی لم یصح الثنیا ۔
فان قلت معھا مسألۃ الزیادۃ للطمانینۃ عند الشك وقد حکموا علیہما بحکم واحد وھو لاباس بہ وھذہ الزیادۃ مطلوبۃ قطعا لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك فکیف یحمل علی کراھۃ التنزیہ۔
قلت المعنی لایمنع شرعا فیشمل المکروہ تنزیھا والمستحب ھذا وردہ فی ردالمحتار اخذا من ط بانھم عللوہ بانہ نور علی نور قال وفیہ اشارۃ الی ان ذالك مندوب فکلمۃ فـــــ لاباس وان کان الغالب استعمالہا فیما ترکہ اولی لکنھا قد تستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد اھ
تنزیہیہ ثابت ہوئی تو اگرمستثنی منہ میں بھی یہی کراہت رہی ہو تو استثنا ء درست نہ ہو ا۔
اگر یہ سوال ہو کہ اس کے ساتھ بوقت شك اطمینان کے لئے زیادتی کا مسئلہ بھی توہے اوردونوں پر ایك ہی حکم لگایا گیا ہے کہ لا بأس بہ (اس میں حرج نہیں )حالانکہ کہ یہ زیادتی تو قطعا مطلوب ہے اس لئے کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے شك کی حالت چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شك سے خالی ہو تو اسے کراہت تنزیہ پر کیسے محمول کریں گے ۔
قلت میں کہوں گا(لابأس بہ) کامعنی یہ ہوگا کہ شرعا ممنوع نہیں تویہ مکروہ تنزیہی اورمستحب دونوں کوشامل ہوگا یہ بات توہوگئی مگر ردالمحتار میں طحطاوی سے اخذ کرتے ہوئے درمختار کے جواب کی یہ تردید کی ہے کہ علماء نے اس کی علت یہ بتائی ہے کہ وہ نور علی نو ر ہے۔ فرمایا : اس تعلیل میں اس کا اشارہ ہے کہ وہ مندوب ہے تولفظ “ لاباس “ اگرچہ زیادہ تر اس میں استعمال ہوتا ہے جس کاترك اولی ہے لیکن بعض اوقات مندوب میں بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ البحرالرائق کے بیان جنائز وجہاد میں ہے اھ۔ (ت)
فـــــ : کلمۃ لا بأس لما ترکوہ اولی وقد تستعمل فی المندوب ۔
فان قلت معھا مسألۃ الزیادۃ للطمانینۃ عند الشك وقد حکموا علیہما بحکم واحد وھو لاباس بہ وھذہ الزیادۃ مطلوبۃ قطعا لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك فکیف یحمل علی کراھۃ التنزیہ۔
قلت المعنی لایمنع شرعا فیشمل المکروہ تنزیھا والمستحب ھذا وردہ فی ردالمحتار اخذا من ط بانھم عللوہ بانہ نور علی نور قال وفیہ اشارۃ الی ان ذالك مندوب فکلمۃ فـــــ لاباس وان کان الغالب استعمالہا فیما ترکہ اولی لکنھا قد تستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد اھ
تنزیہیہ ثابت ہوئی تو اگرمستثنی منہ میں بھی یہی کراہت رہی ہو تو استثنا ء درست نہ ہو ا۔
اگر یہ سوال ہو کہ اس کے ساتھ بوقت شك اطمینان کے لئے زیادتی کا مسئلہ بھی توہے اوردونوں پر ایك ہی حکم لگایا گیا ہے کہ لا بأس بہ (اس میں حرج نہیں )حالانکہ کہ یہ زیادتی تو قطعا مطلوب ہے اس لئے کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے شك کی حالت چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شك سے خالی ہو تو اسے کراہت تنزیہ پر کیسے محمول کریں گے ۔
قلت میں کہوں گا(لابأس بہ) کامعنی یہ ہوگا کہ شرعا ممنوع نہیں تویہ مکروہ تنزیہی اورمستحب دونوں کوشامل ہوگا یہ بات توہوگئی مگر ردالمحتار میں طحطاوی سے اخذ کرتے ہوئے درمختار کے جواب کی یہ تردید کی ہے کہ علماء نے اس کی علت یہ بتائی ہے کہ وہ نور علی نو ر ہے۔ فرمایا : اس تعلیل میں اس کا اشارہ ہے کہ وہ مندوب ہے تولفظ “ لاباس “ اگرچہ زیادہ تر اس میں استعمال ہوتا ہے جس کاترك اولی ہے لیکن بعض اوقات مندوب میں بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ البحرالرائق کے بیان جنائز وجہاد میں ہے اھ۔ (ت)
فـــــ : کلمۃ لا بأس لما ترکوہ اولی وقد تستعمل فی المندوب ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع باب التفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۷۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۸۱
اقول : الندب فـــــ۱ لاینافی فـــــ۲ فی الکراھۃ فلا یبعد ان یکون مندوبا فی نفسہ لما فیہ من الفضیلۃ لکن ترکہ فی مجلس واحد اولی قال فی الحلیۃ النفل لاینافی عدم الاولویۃ اھ ذکرہ فی صفۃالصلوۃ مسألۃ القراء ۃ فی الاخریین وقال السید ط فی حواشی المراقی الکراھۃ لاتنافی الثواب افادہ العلامۃ نوح اھ قالہ فی فصل الاحق بالامامۃ مسألۃ الاقتداء بالمخالف۔ نعم یرد علیہ ماذکرنا ان لااثر للمجلس فیما ھنا والله تعالی اعلم۔
اقول : ندب کراہت کے منافی نہیں توبعید نہیں کہ بربنائے فضیلت فی نفسہ مندوب ہولیکن ایك مجلس میں اس کاترك اولی ہو۔ حلیہ میں لکھا ہے کہ نفل خلاف اولی ہونے کے منافی نہیں اھ اسے صفۃ الصلوۃ کے تحت بعد والی دونوں رکعتوں میں قرأت کے مسئلہ میں ذکرکیاہے اور سید طحطاوی نے حواشی مراقی میں لکھا ہے کہ کراہت ثواب کے منافی نہیں علامہ نوح نے اس کا افادہ کیااھ۔ یہ انہوں نے فصل احق بالامامۃ میں اقتدائے مخالف کے مسئلہ میں ذکرکیاہے۔ ہاں اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جوہم نے بیان کیاکہ “ جگہ بدلنے کو اس باب میں کوئی دخل نہیں “ ۔ والله تعالی اعلم ۔ (ت)
وجہ سوم یہ سب کچھ سہی پھر تجدید وضو تو بعد تکمیل وضوئے اول ہو اثنائے وضو میں تجدید کیسی۔ یہ اعتراض علامہ علی قاری کا ہے کہ مرقاۃ موضع مذکور میں اصل مسئلہ دائرہ یعنی بہ نیت وضو علی الوضو تین بار سے زیادہ اعضا ء دھونے پر ایراد کیا۔
والی ھذا اشارط اذقال علی قول الدر لقصد الوضوء علی الوضوء ظاھرہ ان نیۃ وضوء اخر متحققۃ فی الغرفۃ الرابعۃ اوالخامسۃ
اور اسی اعتراض کی طرف سید طحطاوی نے اشارہ کیا اس طرح کہ درمختار کی عبارت لقصد الوضوء علی الوضوء پر لکھا : س کا ظاہر یہ ہے کہ چوتھے یا پانچویں چلو میں دوسرے وضو کی نیت متحقق
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔ فـــــ۲ : الندب لا ینافی الکراھۃ۔
اقول : ندب کراہت کے منافی نہیں توبعید نہیں کہ بربنائے فضیلت فی نفسہ مندوب ہولیکن ایك مجلس میں اس کاترك اولی ہو۔ حلیہ میں لکھا ہے کہ نفل خلاف اولی ہونے کے منافی نہیں اھ اسے صفۃ الصلوۃ کے تحت بعد والی دونوں رکعتوں میں قرأت کے مسئلہ میں ذکرکیاہے اور سید طحطاوی نے حواشی مراقی میں لکھا ہے کہ کراہت ثواب کے منافی نہیں علامہ نوح نے اس کا افادہ کیااھ۔ یہ انہوں نے فصل احق بالامامۃ میں اقتدائے مخالف کے مسئلہ میں ذکرکیاہے۔ ہاں اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جوہم نے بیان کیاکہ “ جگہ بدلنے کو اس باب میں کوئی دخل نہیں “ ۔ والله تعالی اعلم ۔ (ت)
وجہ سوم یہ سب کچھ سہی پھر تجدید وضو تو بعد تکمیل وضوئے اول ہو اثنائے وضو میں تجدید کیسی۔ یہ اعتراض علامہ علی قاری کا ہے کہ مرقاۃ موضع مذکور میں اصل مسئلہ دائرہ یعنی بہ نیت وضو علی الوضو تین بار سے زیادہ اعضا ء دھونے پر ایراد کیا۔
والی ھذا اشارط اذقال علی قول الدر لقصد الوضوء علی الوضوء ظاھرہ ان نیۃ وضوء اخر متحققۃ فی الغرفۃ الرابعۃ اوالخامسۃ
اور اسی اعتراض کی طرف سید طحطاوی نے اشارہ کیا اس طرح کہ درمختار کی عبارت لقصد الوضوء علی الوضوء پر لکھا : س کا ظاہر یہ ہے کہ چوتھے یا پانچویں چلو میں دوسرے وضو کی نیت متحقق
فــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔ فـــــ۲ : الندب لا ینافی الکراھۃ۔
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلوٰۃ فصل فی بیان الاحق بالامامۃ دار الکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلوٰۃ فصل فی بیان الاحق بالامامۃ دار الکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴
ولا کراھۃ والحدیث یدل علی غیر ھذا اھ
قلت وکانہ الی ھذا نظر العلامۃ فـــــ البحر فزاد علی خلاف سائر المعتمدات قید الفراغ من الاول وعزاہ لاکثر شروح الھدایۃ مع عدمہ فیھا ظنا منہ رحمہ الله تعالی انہ ھو المحمل المتعین لکلامھم فقال وعلی الاقوال کلھا لوزاد لطمانینۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر بعد الفراغ من الاول فلا باس بہ لانہ نور علی نور وکذا ان نقص لحاجۃ لاباس بہ کذا فی المبسوط واکثر شروح الھدایۃ اھ
ثم بعد ھذا الحمل البعید من کلامھم کل البعد تکلم فیہ باتحاد المجلس کما تقدم قال الا ان یحمل علی ما اذا اختلف المجلس وھو بعید کمالا یخفی اھ
ہوجاتی ہے اور کوئی کراہت نہیں ۔ مگر حدیث کچھ اور بتا رہی ہے اھ۔
قلت شاید علامہ بحر نے اسی طرف نظر کرتے ہوئے تمام کتب معتمدہ کے برخلاف “ وضوئے اول سے فارغ ہونے “ کی قید کا اضافہ کردیااوراسے اکثر شروح ہدایہ کی جانب منسوب کیا جبکہ ان میں یہ بات نہیں ۔ صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہکا خیال ہے کہ ان شارحین کے کلام کا یہی مطلب متعین ہے۔ بحر کے الفاظ یہ ہیں : اورتمام اقوال پر اگر شك کی حالت میں اطمینا ن قلب کے لئے زیادہ کیا یا “ پہلے وضو سے فارغ ہونے کے بعد “ دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیاتو کوئی حرج نہیں اس لئے یہ نور علی نور ہے۔ یوں ہی اگر کسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں ایساہی مبسوط اور اکثر شروح ہدایہ میں ہے اھ۔
پھر ان حضرات کے کلام سے یہ بالکل ہی بعید مطلب لینے کے بعداس پراتحادمجلس سے کلام کیاجوگزرا آگے فرمایا : مگر یہ کہ مجلس بدل جانے کی صورت پرمحمول ہو اور وہ بعید ہے جیسا کہ مخفی نہیں اھ۔
فـــــ : ثالث علی البحر
قلت وکانہ الی ھذا نظر العلامۃ فـــــ البحر فزاد علی خلاف سائر المعتمدات قید الفراغ من الاول وعزاہ لاکثر شروح الھدایۃ مع عدمہ فیھا ظنا منہ رحمہ الله تعالی انہ ھو المحمل المتعین لکلامھم فقال وعلی الاقوال کلھا لوزاد لطمانینۃ القلب عند الشك اوبنیۃ وضوء اخر بعد الفراغ من الاول فلا باس بہ لانہ نور علی نور وکذا ان نقص لحاجۃ لاباس بہ کذا فی المبسوط واکثر شروح الھدایۃ اھ
ثم بعد ھذا الحمل البعید من کلامھم کل البعد تکلم فیہ باتحاد المجلس کما تقدم قال الا ان یحمل علی ما اذا اختلف المجلس وھو بعید کمالا یخفی اھ
ہوجاتی ہے اور کوئی کراہت نہیں ۔ مگر حدیث کچھ اور بتا رہی ہے اھ۔
قلت شاید علامہ بحر نے اسی طرف نظر کرتے ہوئے تمام کتب معتمدہ کے برخلاف “ وضوئے اول سے فارغ ہونے “ کی قید کا اضافہ کردیااوراسے اکثر شروح ہدایہ کی جانب منسوب کیا جبکہ ان میں یہ بات نہیں ۔ صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہکا خیال ہے کہ ان شارحین کے کلام کا یہی مطلب متعین ہے۔ بحر کے الفاظ یہ ہیں : اورتمام اقوال پر اگر شك کی حالت میں اطمینا ن قلب کے لئے زیادہ کیا یا “ پہلے وضو سے فارغ ہونے کے بعد “ دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیاتو کوئی حرج نہیں اس لئے یہ نور علی نور ہے۔ یوں ہی اگر کسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں ایساہی مبسوط اور اکثر شروح ہدایہ میں ہے اھ۔
پھر ان حضرات کے کلام سے یہ بالکل ہی بعید مطلب لینے کے بعداس پراتحادمجلس سے کلام کیاجوگزرا آگے فرمایا : مگر یہ کہ مجلس بدل جانے کی صورت پرمحمول ہو اور وہ بعید ہے جیسا کہ مخفی نہیں اھ۔
فـــــ : ثالث علی البحر
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ۱ / ۷۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳
اقول : رحمك فـــــ۱ الله ورحمنا بك اولیس ما حملتم علیہ بعیدا فاین الزیادۃ علی الثلث فی الغسلات من التجدید بعد انھا الوضوء الاول۔
اقول : آپ پرخدا کی رحمت ہواورآپ کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔ کیاآپ نے جو مطلب لیاوہ بعید نہیں کہاں دوران وضو کسی عضو کوتین بارسے زیادہ دھونا اورکہاں پہلا وضو پورا کرنے کے بعد تازہ وضو کرنا(ان کے کلام میں وہ تھا اورآپ نے اس کامعنی یہ لیا دونوں میں کیا نسبت)
یہ اعتراض ضرور محتاج توجہ ہے۔
وانا اقول : وبالله استعین فـــــ۲ (میں کہتا ہوں الله تعالی کی مدد کے ساتھ۔ ت) شے کے فـــــ۳ اسباب وشروط ہوں یا احکام وآثار اس کا ذکر اگرچہ مطلق ہو ان سب کی طرف اشعار کہ مسبب ومشروط کا وجود بے سبب وشرط نہ ہوگا۔
ان عقلیا فعقلیا اوشرعیا فشرعیا کصلاۃ الظہر قبل الزوال او بدون نیۃ ۔
اگر وہ امر عقلی ہے تو اس کا وجود عقلی اور اگرشرعی ہے تووجودشرعی بے سبب وشرط نہ ہوگا جیسے قبل زوال یابے نیت نماز ظہر کا وجود شرعی نہیں ہوسکتا(اول فقدان سبب کی مثال ہے دوم فقدان شرط کی ۱۲م)۔
نہ شے اپنے احکام وآثار سے خالی ہوگی کہ یہ دونوں فریق دو طرف تقدم وتاخر ذاتی میں لوازم وجود شے ہیں والشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ (اگر کچھ ثابت ہوگا تو تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوگا۔ ت) تبیین الحقائق مسئلہ ذکاۃ الجنین میں ہے :
ای اذبحوہ وکلوہ وھذا مثل مایروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یعنی اسے ذبح کرلوتب کھاؤ اور یہ اسی کے مثل ہے جو مروی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
فــــ۱ : تطفل رابع علیہ ۔
فــــ۲ : تطفل عاشر علی الغنیۃ و ثامن علی القاری و خامس علی البحر و معروضۃ علی ط وغیرھم
اقول : آپ پرخدا کی رحمت ہواورآپ کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔ کیاآپ نے جو مطلب لیاوہ بعید نہیں کہاں دوران وضو کسی عضو کوتین بارسے زیادہ دھونا اورکہاں پہلا وضو پورا کرنے کے بعد تازہ وضو کرنا(ان کے کلام میں وہ تھا اورآپ نے اس کامعنی یہ لیا دونوں میں کیا نسبت)
یہ اعتراض ضرور محتاج توجہ ہے۔
وانا اقول : وبالله استعین فـــــ۲ (میں کہتا ہوں الله تعالی کی مدد کے ساتھ۔ ت) شے کے فـــــ۳ اسباب وشروط ہوں یا احکام وآثار اس کا ذکر اگرچہ مطلق ہو ان سب کی طرف اشعار کہ مسبب ومشروط کا وجود بے سبب وشرط نہ ہوگا۔
ان عقلیا فعقلیا اوشرعیا فشرعیا کصلاۃ الظہر قبل الزوال او بدون نیۃ ۔
اگر وہ امر عقلی ہے تو اس کا وجود عقلی اور اگرشرعی ہے تووجودشرعی بے سبب وشرط نہ ہوگا جیسے قبل زوال یابے نیت نماز ظہر کا وجود شرعی نہیں ہوسکتا(اول فقدان سبب کی مثال ہے دوم فقدان شرط کی ۱۲م)۔
نہ شے اپنے احکام وآثار سے خالی ہوگی کہ یہ دونوں فریق دو طرف تقدم وتاخر ذاتی میں لوازم وجود شے ہیں والشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ (اگر کچھ ثابت ہوگا تو تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوگا۔ ت) تبیین الحقائق مسئلہ ذکاۃ الجنین میں ہے :
ای اذبحوہ وکلوہ وھذا مثل مایروی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یعنی اسے ذبح کرلوتب کھاؤ اور یہ اسی کے مثل ہے جو مروی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
فــــ۱ : تطفل رابع علیہ ۔
فــــ۲ : تطفل عاشر علی الغنیۃ و ثامن علی القاری و خامس علی البحر و معروضۃ علی ط وغیرھم
اذن فی اکل لحم الخیل ای اذا اذبح لان الشیئ اذا عرف شروطہ وذکر مطلقا ینصرف الیھا کقولہ تعالی اقم الصلاۃ ای بشروطھا ۔
نے گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی یعنی جب ذبح کرلئے جائیں۔ اس لئے کہ کسی شے کی شرطیں جب معروف ہوں اور ا س کومطلقا ذکرکردیاجائے تواس کا ان شرطوں کے ساتھ ہونا ہی مراد ہوگا جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے نماز قائم کر یعنی اس کی شرطوں کے ساتھ۔ (ت)
اب وضو دو۲ قسم ہے : ۱واجب و۲مندوب۔
واجب کا سبب معلوم ہے کہ اس چیز کا ارادہ جو بغیر اس کے حلال نہ ہو جیسے نماز یا سجدہ یا مصحف کریم کو ہاتھ لگانا۔ اور مندوب فـــــ۱ کے اسباب کثیر میں ازانجملہ :
(۱)قہقہہ سے ہنسنا(۲)غیبت کرنا(۳)چغلی کھانا(۴)کسی کو گالی دینا(۵)کوئی فحش لفظ زبان سے نکالنا(۶)جھوٹی بات صادر ہونا(۷)حمد ونعت ومنقبت ونصیحت کے علاوہ کوئی دنیوی شعر پڑھنا (۸)غصہ آنا(۹)غیر عورت کے حسن پر نظر۔ (۱۰)کسی کافر سے بدن چھو جانا اگرچہ کلمہ پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسا فـــــ۲ قادیانی عـــــہ۱
فـــــ ۱ : مسئلہ : ان بعض اشیاء کا بیان جن کے سبب وضوکی تجدید مطلقا بالا تفاق مستحب ہوتی ہے خوا ہ ابھی اس سے نماز وغیرہ کوئی فعل ادا کیا ہو یا نہیں مجلس بدلی ہو یا نہیں وضو پورا ہوا ہو یا نہیں تجدید ایك با ر ہو یا سو بار ۔
فـــــ۲ : فائدہ ضروریہ : ان دس فرقوں کا بیان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور شرعا مرتد ہیں ۔
عـــــہ۱ : ۱غلام احمد قادیانی کے پیرو جو اپنے آپ کو نبی ورسول کہتا اپنے کلام کو کلام الہی بتاتا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتا چارسو انبیا کی پیشگوئی جھوٹی بتاتا خاتم النبیین میں استثنا کی پچر لگاتا وغیرہ کفریات ملعونہ ۱۲ (م)
نے گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی یعنی جب ذبح کرلئے جائیں۔ اس لئے کہ کسی شے کی شرطیں جب معروف ہوں اور ا س کومطلقا ذکرکردیاجائے تواس کا ان شرطوں کے ساتھ ہونا ہی مراد ہوگا جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے نماز قائم کر یعنی اس کی شرطوں کے ساتھ۔ (ت)
اب وضو دو۲ قسم ہے : ۱واجب و۲مندوب۔
واجب کا سبب معلوم ہے کہ اس چیز کا ارادہ جو بغیر اس کے حلال نہ ہو جیسے نماز یا سجدہ یا مصحف کریم کو ہاتھ لگانا۔ اور مندوب فـــــ۱ کے اسباب کثیر میں ازانجملہ :
(۱)قہقہہ سے ہنسنا(۲)غیبت کرنا(۳)چغلی کھانا(۴)کسی کو گالی دینا(۵)کوئی فحش لفظ زبان سے نکالنا(۶)جھوٹی بات صادر ہونا(۷)حمد ونعت ومنقبت ونصیحت کے علاوہ کوئی دنیوی شعر پڑھنا (۸)غصہ آنا(۹)غیر عورت کے حسن پر نظر۔ (۱۰)کسی کافر سے بدن چھو جانا اگرچہ کلمہ پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسا فـــــ۲ قادیانی عـــــہ۱
فـــــ ۱ : مسئلہ : ان بعض اشیاء کا بیان جن کے سبب وضوکی تجدید مطلقا بالا تفاق مستحب ہوتی ہے خوا ہ ابھی اس سے نماز وغیرہ کوئی فعل ادا کیا ہو یا نہیں مجلس بدلی ہو یا نہیں وضو پورا ہوا ہو یا نہیں تجدید ایك با ر ہو یا سو بار ۔
فـــــ۲ : فائدہ ضروریہ : ان دس فرقوں کا بیان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور شرعا مرتد ہیں ۔
عـــــہ۱ : ۱غلام احمد قادیانی کے پیرو جو اپنے آپ کو نبی ورسول کہتا اپنے کلام کو کلام الہی بتاتا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتا چارسو انبیا کی پیشگوئی جھوٹی بتاتا خاتم النبیین میں استثنا کی پچر لگاتا وغیرہ کفریات ملعونہ ۱۲ (م)
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الذبائح دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ / ۴۶۵
یا چکڑالوی عـــــہ۲نیچری عـــــہ۳ یا آج کل کے تبرائی رافضی عـــــہ۴یاکذابی عـــــہ۵یا بہائمی عـــــہ۶یا شیطانی عـــــہ۷ خواتمی عـــــہ۸وہابی جن کے عقائد کفر کا بیان حسام الحرمین میں ہے۔ یا اکثر غیر عـــــہ۹ مقلد خواہ بظاہر مقلد وہابیہ کہ ان عقائدار تداد پر مطلع ہو کر
عـــــہ۲ : یہ ایك نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی پیروی سے منکر ہے تمام احادیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو صراحۃ باطل وناقابل بتاتا اور صرف قرآن عظیم کے اتباع کا ادعا رکھتا ہے اور حقیقۃ خود قرآن عظیم کا منکر ومبطل ہے ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی جدا گھڑی ہے جس میں ہر وقت کی صرف دو ہی رکعتیں ہیں ۱۲۔
عـــــہ۳ : یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معانی قطعیہ ضروریہ میں در پردہ تاویل وتحریف وتبدیل کرتا وجود ملائکہ وآسمان وجن وشیطان وحشر ابدان وناروجنان ومعجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے انہیں ملعون تاویلوں کی آڑ میں انکاررکھتا ہے ۱۲۔
عـــــہ۴ : یہ ملاعنہ صراحۃ قرآن عظیم کو ناقص بتاتے اور مولی علی وائمہ اطہار رضی اللہ تعالی عنہمکو انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے افضل ٹھہراتے ہیں ۱۲۔
عـــــہ۵ : یہ ملاعنہ طائفہ الله تعالی کو بالفعل جھوٹا بتاتا اور صاف کہتا ہے کہ وقوع کذب کے معنے درست ہوگئے ۱۲۔
عـــــہ۶ : یہ گروہ لعین ہر پاگل اور چوپائے کے لئے علم غیب مان کر صاف کہتا ہے کہ جیسا علم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو تھا ایسا علم تو ہر پاگل اور جانور کو ہوتا ہے ۱۲
عـــــہ۷ : اس شیطانی گروہ کے نزدیك ابلیس لعین کا علم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علم سے زیادہ بلکہ بے شمار زیادہ ہے ابلیس کی وسعت علم کو نص قطعی سے ثابت کہتا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وسعت علم کو باطل بے ثبوت مانتا ہے ان کیلئے وسعت علم کے ماننے کو خالص شرك بتاتا مگر ابلیس کو وسعت علم میں خدا کا شریك جانتا ہے ۱۲۔
عـــــہ ۸ : یہ شقی گروہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کرتا اور بمعنی آخر النبیین لینے کو خیال جہال بتاتا یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے چھ یا سات مثل موجود مانتا ہے ۱۲
عـــــہ۹ : یہ بدبخت طائفہ ان ملعون ارتدادوں کو دفع تو کر نہیں سکتا بلکہ خوب جانتا ہے کہ ان سے دفع ارتداد ناممکن ہے مگر ان مرتدوں کو پیشوا اور ممدوح دینی ماننے سے بھی باز نہیں آتا الله جل وعلا ورسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مقابل ان کی حمایت پر تلا ہوا ہے الله ورسول کو گالیاں (باقی برصفحہ ائندہ)
عـــــہ۲ : یہ ایك نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی پیروی سے منکر ہے تمام احادیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو صراحۃ باطل وناقابل بتاتا اور صرف قرآن عظیم کے اتباع کا ادعا رکھتا ہے اور حقیقۃ خود قرآن عظیم کا منکر ومبطل ہے ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی جدا گھڑی ہے جس میں ہر وقت کی صرف دو ہی رکعتیں ہیں ۱۲۔
عـــــہ۳ : یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معانی قطعیہ ضروریہ میں در پردہ تاویل وتحریف وتبدیل کرتا وجود ملائکہ وآسمان وجن وشیطان وحشر ابدان وناروجنان ومعجزات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے انہیں ملعون تاویلوں کی آڑ میں انکاررکھتا ہے ۱۲۔
عـــــہ۴ : یہ ملاعنہ صراحۃ قرآن عظیم کو ناقص بتاتے اور مولی علی وائمہ اطہار رضی اللہ تعالی عنہمکو انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے افضل ٹھہراتے ہیں ۱۲۔
عـــــہ۵ : یہ ملاعنہ طائفہ الله تعالی کو بالفعل جھوٹا بتاتا اور صاف کہتا ہے کہ وقوع کذب کے معنے درست ہوگئے ۱۲۔
عـــــہ۶ : یہ گروہ لعین ہر پاگل اور چوپائے کے لئے علم غیب مان کر صاف کہتا ہے کہ جیسا علم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو تھا ایسا علم تو ہر پاگل اور جانور کو ہوتا ہے ۱۲
عـــــہ۷ : اس شیطانی گروہ کے نزدیك ابلیس لعین کا علم رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے علم سے زیادہ بلکہ بے شمار زیادہ ہے ابلیس کی وسعت علم کو نص قطعی سے ثابت کہتا اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وسعت علم کو باطل بے ثبوت مانتا ہے ان کیلئے وسعت علم کے ماننے کو خالص شرك بتاتا مگر ابلیس کو وسعت علم میں خدا کا شریك جانتا ہے ۱۲۔
عـــــہ ۸ : یہ شقی گروہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کرتا اور بمعنی آخر النبیین لینے کو خیال جہال بتاتا یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے چھ یا سات مثل موجود مانتا ہے ۱۲
عـــــہ۹ : یہ بدبخت طائفہ ان ملعون ارتدادوں کو دفع تو کر نہیں سکتا بلکہ خوب جانتا ہے کہ ان سے دفع ارتداد ناممکن ہے مگر ان مرتدوں کو پیشوا اور ممدوح دینی ماننے سے بھی باز نہیں آتا الله جل وعلا ورسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مقابل ان کی حمایت پر تلا ہوا ہے الله ورسول کو گالیاں (باقی برصفحہ ائندہ)
ان کو عالم دین وعمدہ مسلمین کہتے یا الله ورسول کےمقابل الله ورسول کو گالیاں دینے والوں کی حمایت کرتے ہیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دینا بہت ہلکا جانتا ہے مگر ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی بیان کرنے کو گالیاں دینا کہتا اور بہت سخت برا مانتا ہے اور ازانجا ف کہ ان صریح ارتدادوں کی حمایت سے قطعا عاجز ہے باوصف ہزاروں تقاضوں کے ان کا نام زبان پر نہیں لاتا اور براہ گریز خدا ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جناب میں ان صریح گالیوں کو بالائے طاق رکھ کر سہل اختلاف مسئلہ عطائے بعض علوم غیبیہ کی طرف بحث کو پھیرنا چاہتا ہے پھر اس میں بھی افترا واختراع سے کام لیتا ہے اور اصل مقصود صرف اتنا کہ وہ قہر عظیم والی دشنام ہائے خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھول میں پڑ جائیں اور بات این وآں کی طرف منتقل ہو اس چالاکی کا موجد امر تسر کے پرچہ “ اہلحدیث “ کا ایڈیٹر ہے دیکھو چابك لیث اور ظفر الدین الطیب اور کین کش پنجہ پیچ وغیرہا یہ چالاك پرچہ۲۶ جمادی الاولی ۱۳۲۶ھ میں حسام الحرمین کا ذکر منہ پر لایا مگر یوں کہ براہ عیاری اس کے تمام مقاصد سے دامن بچا کر دو بالائی باتوں امکان کذب وعلم غیب کو اس کا مبنائے بحث ٹھہرایا پھر ان میں بھی امکان کذب کو الگ چھوڑ کر صرف علم غیب میں اپنی بعض فاحشہ جہالتیں دکھائیں جن کا ردبا رہا ہو چکا اسی پرچہ کے رد میں چابك لیث براہل حدیث دومجلد میں ہے پھر ۳۰ جولائی ۲۰ اگست ۹ء کے پرچوں میں وہی انداز کہ الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جناب میں گالیاں شیر مادر۔ قاہر مناظروں کے جواب سے گنگ وکر۔ اور اغوائے عوام کو مناظرہ کا نام زبان پر اس کے رد میں ظفر الدین الطیب چھاپ کر بھیج دیا انتالیس رات بعد پرچہ ۲۹ رمضان میں اس کے دیکھنے کا اقرار تو کیا مگر چال وہی کہ اس کے تمام اعتراضات سے ایك کا بھی جواب نہ دیا اور ایك بالائی لطیفہ تردید کے متعلق لکھا تھا صرف اس کے ذکر پر اکتفا کیا کہ میری ارد ودانی پر بھی اعتراض ہے۔ اے سبحن الله اور وہ جو آپ کے دعوی ایمان پر قاہر اعتراض ہیں وہ کیا ہوئے وہ جو ثابت کیا تھا کہ تم نے محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر جتنا افترا اٹھایا اور اس پر تمہاری حدیث دانی سے بارہ۱۲ سوال تھے وہ کدھر گئے۔ خیر اس کے جواب میں رسالہ کین کش پنجہ پیچ برایڈیٹر اے ایچ رجسٹری شدہ بھیجا آج پچپن دن ہوئے اس کا بھی ذکر غائب مگر بکمال حیا بعد کے بعض پرچوں میں وہی رٹ موجود خدا جانے ان صاحبوں کے نزدیك مناظرہ کس شے کا (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : ایڈیٹر الحدیث امر تسر کی باربار گریز فرار پر فرار اور عوام کے بہکانے کو نام مناظرہ کی عیارانہ پکار۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
دینا بہت ہلکا جانتا ہے مگر ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی بیان کرنے کو گالیاں دینا کہتا اور بہت سخت برا مانتا ہے اور ازانجا ف کہ ان صریح ارتدادوں کی حمایت سے قطعا عاجز ہے باوصف ہزاروں تقاضوں کے ان کا نام زبان پر نہیں لاتا اور براہ گریز خدا ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جناب میں ان صریح گالیوں کو بالائے طاق رکھ کر سہل اختلاف مسئلہ عطائے بعض علوم غیبیہ کی طرف بحث کو پھیرنا چاہتا ہے پھر اس میں بھی افترا واختراع سے کام لیتا ہے اور اصل مقصود صرف اتنا کہ وہ قہر عظیم والی دشنام ہائے خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھول میں پڑ جائیں اور بات این وآں کی طرف منتقل ہو اس چالاکی کا موجد امر تسر کے پرچہ “ اہلحدیث “ کا ایڈیٹر ہے دیکھو چابك لیث اور ظفر الدین الطیب اور کین کش پنجہ پیچ وغیرہا یہ چالاك پرچہ۲۶ جمادی الاولی ۱۳۲۶ھ میں حسام الحرمین کا ذکر منہ پر لایا مگر یوں کہ براہ عیاری اس کے تمام مقاصد سے دامن بچا کر دو بالائی باتوں امکان کذب وعلم غیب کو اس کا مبنائے بحث ٹھہرایا پھر ان میں بھی امکان کذب کو الگ چھوڑ کر صرف علم غیب میں اپنی بعض فاحشہ جہالتیں دکھائیں جن کا ردبا رہا ہو چکا اسی پرچہ کے رد میں چابك لیث براہل حدیث دومجلد میں ہے پھر ۳۰ جولائی ۲۰ اگست ۹ء کے پرچوں میں وہی انداز کہ الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی جناب میں گالیاں شیر مادر۔ قاہر مناظروں کے جواب سے گنگ وکر۔ اور اغوائے عوام کو مناظرہ کا نام زبان پر اس کے رد میں ظفر الدین الطیب چھاپ کر بھیج دیا انتالیس رات بعد پرچہ ۲۹ رمضان میں اس کے دیکھنے کا اقرار تو کیا مگر چال وہی کہ اس کے تمام اعتراضات سے ایك کا بھی جواب نہ دیا اور ایك بالائی لطیفہ تردید کے متعلق لکھا تھا صرف اس کے ذکر پر اکتفا کیا کہ میری ارد ودانی پر بھی اعتراض ہے۔ اے سبحن الله اور وہ جو آپ کے دعوی ایمان پر قاہر اعتراض ہیں وہ کیا ہوئے وہ جو ثابت کیا تھا کہ تم نے محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر جتنا افترا اٹھایا اور اس پر تمہاری حدیث دانی سے بارہ۱۲ سوال تھے وہ کدھر گئے۔ خیر اس کے جواب میں رسالہ کین کش پنجہ پیچ برایڈیٹر اے ایچ رجسٹری شدہ بھیجا آج پچپن دن ہوئے اس کا بھی ذکر غائب مگر بکمال حیا بعد کے بعض پرچوں میں وہی رٹ موجود خدا جانے ان صاحبوں کے نزدیك مناظرہ کس شے کا (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : ایڈیٹر الحدیث امر تسر کی باربار گریز فرار پر فرار اور عوام کے بہکانے کو نام مناظرہ کی عیارانہ پکار۔
جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ یا عــــہ۱۰ جھو ٹے متصوف کہ حلول واتحاد کے قائل یا شریعت مطہرہ کے صراحۃ منکر ومبطل
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نام ہے ان سے سیکھ کر یہی چال ایك گمنام صاحب چاند پوری دیوبند دربھنگی چلے۔ دشنامی اکابر جن کے رد میں پینتیس سال سے بکثرت رسائل آستانہ علیہ رضویہ سے شائع ہورہے ہیں اور ان کو خود اقرار ہے کہ آج تك ایك پرچہ کا جواب نہ دے سکے بلکہ بڑے بڑوں نے مناظرہ سے عجز کا صاف صاف اقرار کیا بلکہ لکھ دیا (دیکھو رسالہ دفع زیغ ورسالہ بطش غیب) اب ان کی حمایت میں جمے ہوئے مناظرے یوں ہی چھوڑ کر یہ دربھنگی صاحب سوال علی السوال لے کر چلے اور ایك بے معنی رسالہ بنام اسکات المعتدی چھاپا اور بعنایت الہی خود بھی اس رسالے میں صاف اقرار کردیا کہ ان کے تمام اکابر آج تك لاجواب ہیں ۔ یہ رسالہ یہاں ۹ شعبان کو پہنچا اور ۲۰ شعبان کو اس کا رد ظفر الدین الطیب چھپا ہوا تیار تھا کہ اسی دن جلسہ مدرسہ اہلسنت میں شائع کردیا اور ۲۱ شعبان کو ان کے سرآمد کے پاس رجسٹری شدہ اور اتباع کے یہاں نام بنام بھیج دیا۔ ساٹھ رات کے بعد دربھنگی صاحب بولے تو یہ بولے کہ رسالہ کسی کو بھیجا ہی نہیں اور ایك خط اسی چالاکی پر مشتمل بھیجا کہ صرف دو مسئلہ امکان کذب وعلم غیب میں اختلاف ہے وبس یعنی وہ شدید شدید گالیاں کہ ان کے اکابر نے الله ورسول جل وعلاوصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو لکھ لکھ کر چھاپیں اصلا کوئی قابل پروابات نہیں ۔ اس خط کے جواب میں معا دو رسالے تصنیف ہو کر رجسٹری شدہ ان کے پاس روانہ ہوئے اول بارش سنگی دوسرا پیکان جانگداز برجان مکذبان بے نیاز اس دوسرے میں گریز والے صاحبوں کی وہ ہوس بھی پوری کردی یعنی مسئلہ امکان کذب وعلم غیب ہی میں مناظرہ تازہ کردیا۔ رجسٹری رسید طلب تھی ڈاك کی رسید تو آئی مگر آج پچاس دن ہوئے وہ بھی سو رہے حالانکہ ان کو صرف دس دن کی مہلت تھی۔ مسلمانو! لله انصاف یہ ان مدعیان دین ودیانت کی حالت ہے منہ بھر بھر کر الله ورسول کو سخت سخت گالیاں دیں پھر جب مسلمان اس پر مؤاخذہ کریں جواب نہ دیں سوالات جائیں جواب غائب رسائل جائیں جواب غائب رجسٹریاں جائیں جواب غائب۔ مناظرہ سے اپنا عجز صاف صاف لکھ دیں کہہ دیں اپنے اکابر کا لاجواب رہنا قبول کریں چھاپ دیں اور پھر عوام کے بہکانے کو مناظرہ مناظرہ کی پکار۔ اس پکار پر جو گرفت ہو اس کے جواب سے پھر فرار اور وہی پکار اس حیا کی کوئی حد ہے۔ سچ فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے : (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نام ہے ان سے سیکھ کر یہی چال ایك گمنام صاحب چاند پوری دیوبند دربھنگی چلے۔ دشنامی اکابر جن کے رد میں پینتیس سال سے بکثرت رسائل آستانہ علیہ رضویہ سے شائع ہورہے ہیں اور ان کو خود اقرار ہے کہ آج تك ایك پرچہ کا جواب نہ دے سکے بلکہ بڑے بڑوں نے مناظرہ سے عجز کا صاف صاف اقرار کیا بلکہ لکھ دیا (دیکھو رسالہ دفع زیغ ورسالہ بطش غیب) اب ان کی حمایت میں جمے ہوئے مناظرے یوں ہی چھوڑ کر یہ دربھنگی صاحب سوال علی السوال لے کر چلے اور ایك بے معنی رسالہ بنام اسکات المعتدی چھاپا اور بعنایت الہی خود بھی اس رسالے میں صاف اقرار کردیا کہ ان کے تمام اکابر آج تك لاجواب ہیں ۔ یہ رسالہ یہاں ۹ شعبان کو پہنچا اور ۲۰ شعبان کو اس کا رد ظفر الدین الطیب چھپا ہوا تیار تھا کہ اسی دن جلسہ مدرسہ اہلسنت میں شائع کردیا اور ۲۱ شعبان کو ان کے سرآمد کے پاس رجسٹری شدہ اور اتباع کے یہاں نام بنام بھیج دیا۔ ساٹھ رات کے بعد دربھنگی صاحب بولے تو یہ بولے کہ رسالہ کسی کو بھیجا ہی نہیں اور ایك خط اسی چالاکی پر مشتمل بھیجا کہ صرف دو مسئلہ امکان کذب وعلم غیب میں اختلاف ہے وبس یعنی وہ شدید شدید گالیاں کہ ان کے اکابر نے الله ورسول جل وعلاوصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو لکھ لکھ کر چھاپیں اصلا کوئی قابل پروابات نہیں ۔ اس خط کے جواب میں معا دو رسالے تصنیف ہو کر رجسٹری شدہ ان کے پاس روانہ ہوئے اول بارش سنگی دوسرا پیکان جانگداز برجان مکذبان بے نیاز اس دوسرے میں گریز والے صاحبوں کی وہ ہوس بھی پوری کردی یعنی مسئلہ امکان کذب وعلم غیب ہی میں مناظرہ تازہ کردیا۔ رجسٹری رسید طلب تھی ڈاك کی رسید تو آئی مگر آج پچاس دن ہوئے وہ بھی سو رہے حالانکہ ان کو صرف دس دن کی مہلت تھی۔ مسلمانو! لله انصاف یہ ان مدعیان دین ودیانت کی حالت ہے منہ بھر بھر کر الله ورسول کو سخت سخت گالیاں دیں پھر جب مسلمان اس پر مؤاخذہ کریں جواب نہ دیں سوالات جائیں جواب غائب رسائل جائیں جواب غائب رجسٹریاں جائیں جواب غائب۔ مناظرہ سے اپنا عجز صاف صاف لکھ دیں کہہ دیں اپنے اکابر کا لاجواب رہنا قبول کریں چھاپ دیں اور پھر عوام کے بہکانے کو مناظرہ مناظرہ کی پکار۔ اس پکار پر جو گرفت ہو اس کے جواب سے پھر فرار اور وہی پکار اس حیا کی کوئی حد ہے۔ سچ فرمایا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے : (باقی برصفحہ ائندہ)
ہیں ان میں دسوں ۱۰ طائفوں اور ان کے امثال سے مصافحہ کرنا تو خود ہی حرام قطعی گناہ کبیرہ ہے اگر بلا قصد
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اذالم تستحی فاصنع ماشئت
جب تجھے حیا نہ ہو تو جو چاہے کر۔ ع
بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن
(بیحیا ہو جاپھر جو چاہے کر )
ہاں ہاں اے الله ورسول (جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو گالیاں دینے والو! کیا مسلمان الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے معاذ الله ایسے بے علاقہ ہوگئے کہ تم انہیں گالیاں لکھ لکھ کر چھاپو اور وہ بے پروائی کرکے ٹال دیں ۔ نہیں نہیں ضرور تمہیں دو باتوں سے ایك ماننی ہوگی یا تو خدا توفیق دے ان گالیوں سے صراحۃ توبہ کرو جس طرح ان کی اشاعت کی ان سے صاف صاف اپنی توبہ اور اپنے حکم دشنام کا اعتراف چھاپو یا ان تمام رسائل وکتب کا جواب دو جواب دو جواب دو۔ اس کے سوا تمہارے حیلے حوالے ٹالے بالے ہرگز نہ سنے جائیں گے و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) ۔ ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم ۱۲ عبدہ محمد ظفر الدین قادری غفرلہ۔
عـــــہ۱۰ : ان تمام مرتد طوائف کارد کافی وشافی کتاب مستطاب المعتمد المستند وکتاب لاجواب حسام الحرمین وکتاب کامل النصاب تمہید ایمان بآیات قرآن وظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب وغیرہا میں ملاحظہ ہو سوا فرقہ چکڑالو یہ کہ تالیف المعتمد المستند تك اس کا کوئی تذکرہ ان بلاد میں نہ آیا تھا یہ کتابیں بریلی مطبع اہلسنت وجماعت کے پتے سے مولوی حکیم حسین رضا خان صاحب سلمہ سے مل سکتی ہیں ۔ المعتمد المستند عربی زبان میں ۲۳۲ صفحہ میں ہے قیمت (عہ)________ تمہید ایمان بآیات قرآن (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : ان نفیس اسلامی کتابوں کے نام جن سے ایمان تازہ ہو اور مرتدوں کی چالاکیوں کا حال کھلے ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اذالم تستحی فاصنع ماشئت
جب تجھے حیا نہ ہو تو جو چاہے کر۔ ع
بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن
(بیحیا ہو جاپھر جو چاہے کر )
ہاں ہاں اے الله ورسول (جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو گالیاں دینے والو! کیا مسلمان الله ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے معاذ الله ایسے بے علاقہ ہوگئے کہ تم انہیں گالیاں لکھ لکھ کر چھاپو اور وہ بے پروائی کرکے ٹال دیں ۔ نہیں نہیں ضرور تمہیں دو باتوں سے ایك ماننی ہوگی یا تو خدا توفیق دے ان گالیوں سے صراحۃ توبہ کرو جس طرح ان کی اشاعت کی ان سے صاف صاف اپنی توبہ اور اپنے حکم دشنام کا اعتراف چھاپو یا ان تمام رسائل وکتب کا جواب دو جواب دو جواب دو۔ اس کے سوا تمہارے حیلے حوالے ٹالے بالے ہرگز نہ سنے جائیں گے و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) ۔ ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم ۱۲ عبدہ محمد ظفر الدین قادری غفرلہ۔
عـــــہ۱۰ : ان تمام مرتد طوائف کارد کافی وشافی کتاب مستطاب المعتمد المستند وکتاب لاجواب حسام الحرمین وکتاب کامل النصاب تمہید ایمان بآیات قرآن وظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب وغیرہا میں ملاحظہ ہو سوا فرقہ چکڑالو یہ کہ تالیف المعتمد المستند تك اس کا کوئی تذکرہ ان بلاد میں نہ آیا تھا یہ کتابیں بریلی مطبع اہلسنت وجماعت کے پتے سے مولوی حکیم حسین رضا خان صاحب سلمہ سے مل سکتی ہیں ۔ المعتمد المستند عربی زبان میں ۲۳۲ صفحہ میں ہے قیمت (عہ)________ تمہید ایمان بآیات قرآن (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : ان نفیس اسلامی کتابوں کے نام جن سے ایمان تازہ ہو اور مرتدوں کی چالاکیوں کا حال کھلے ۔
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۶۵۸ ، ۶۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ / ۲۳۷ ، ۲۳۸
القران الکریم ۲۶ / ۲۷۷
القران الکریم ۲۶ / ۲۷۷
بھی ان کے بدن سے بدن چھو جائے تو وضو کا اعادہ مستحب ہے۔
(۱۱) ناخن سے کہنی تك اپنے ہاتھ کا کوئی حصہ اگرچہ کھجانے میں اگرچہ بھولے سے بلا حائل اپنے ذکر کو لگ جانا۔
(۱۲) ہتھیلی یا کسی انگلی کا پیٹ اپنے یا پرائے ستر غلیظ یعنی ذکر یا فرج یا دبر کو بے حائل چھو جانا اگرچہ وہ دوسرا آدمی کتنا ہی چھوٹا بچہ یا مردہ ہو۔
(۱۳) نامحرم عورت کے کسی حصہ جلد سے اپنا کوئی حصہ جلد بے حائل چھو جانا اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ عورت مردہ یا بڑھیا ہو اگرچہ نہ قصد ہو نہ شہوت چاہے لذت نہ پائے جبکہ وہ عورت بہت صغیرہ چار پانچ برس کی بچی نہ ہو۔
(۱۴) اگر اس چھو جانے سے لذت آئی تو نامحرم کی بھی قید نہیں نہ جلد کی خصوصیت نہ بے حائل کی ضرورت مثلا رقیق یامتوسط حائل کے اوپر سے اپنی بہن یا بیٹی کے بال سے مس ہوجانے پر اتفاقا لذت کا آجانا جبکہ عورت قابل لذت ہو اور حائل بہت بھاری مثل رضائی وغیرہ کے نہ ہو۔
(۱۵) نامحرم عورت قابل لذت کو بقصد شہوت چھوجانا اگرچہ حائل کتنا ہی بھاری ہو اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ لذت نہ پائے مثلا لحاف کے اوپر سے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھنا اور ان کے سوا اور بہت صورتیں ہیں اور ایك اصل کلی یہ ہے کہ جس بات سے کسی اور امام
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
میں صرف آیات قرآنیہ سے بتایا ہے کہ ایمان کے یہ معنی ہیں الله ورسول( جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کی تعظیم ومحبت ایسی ہوتو مسلمان ہے الله ورسول (جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو گالیاں دینا کفر ہے۔ ایسوں کے کفر میں جو خود یہ لوگ اور آج کل کے بعض آزاد خیال والے حیلے حوالے نکالتے ہیں نہایت سلیس ومہذب بیان میں قرآن مجید سے ان کا جواب ہے یہ وہ کتاب ہے جس کا دیکھنا ہر مسلمان کو نہایت ضروری ہے ۔ حسام الحرمین میں اکابر علمائے حرمین شریفین کی مہری تصدیقات وفتاوی ہیں جن میں ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے دونوں کا مجموعہ ۱۵ جز ہے۔ ہدیہ ۱۰۔ اور یکم محرم ۱۳۲۸ھ سے ۱۲ربیع الاول تك آٹھ ہی آنے (۸۔ )ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب۔ ان دشنامیوں کے فرار اور عیاریوں کے اظہار میں ۔ حجم سواد وجزقیمت (۱۔ ) مسلمان اپنا دینی فائدہ حاصل کریں وبالله التوفیق ۱۲ سید عبدالرحمن عفا عنہ ۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ۔ م
(۱۱) ناخن سے کہنی تك اپنے ہاتھ کا کوئی حصہ اگرچہ کھجانے میں اگرچہ بھولے سے بلا حائل اپنے ذکر کو لگ جانا۔
(۱۲) ہتھیلی یا کسی انگلی کا پیٹ اپنے یا پرائے ستر غلیظ یعنی ذکر یا فرج یا دبر کو بے حائل چھو جانا اگرچہ وہ دوسرا آدمی کتنا ہی چھوٹا بچہ یا مردہ ہو۔
(۱۳) نامحرم عورت کے کسی حصہ جلد سے اپنا کوئی حصہ جلد بے حائل چھو جانا اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ عورت مردہ یا بڑھیا ہو اگرچہ نہ قصد ہو نہ شہوت چاہے لذت نہ پائے جبکہ وہ عورت بہت صغیرہ چار پانچ برس کی بچی نہ ہو۔
(۱۴) اگر اس چھو جانے سے لذت آئی تو نامحرم کی بھی قید نہیں نہ جلد کی خصوصیت نہ بے حائل کی ضرورت مثلا رقیق یامتوسط حائل کے اوپر سے اپنی بہن یا بیٹی کے بال سے مس ہوجانے پر اتفاقا لذت کا آجانا جبکہ عورت قابل لذت ہو اور حائل بہت بھاری مثل رضائی وغیرہ کے نہ ہو۔
(۱۵) نامحرم عورت قابل لذت کو بقصد شہوت چھوجانا اگرچہ حائل کتنا ہی بھاری ہو اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ لذت نہ پائے مثلا لحاف کے اوپر سے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھنا اور ان کے سوا اور بہت صورتیں ہیں اور ایك اصل کلی یہ ہے کہ جس بات سے کسی اور امام
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
میں صرف آیات قرآنیہ سے بتایا ہے کہ ایمان کے یہ معنی ہیں الله ورسول( جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کی تعظیم ومحبت ایسی ہوتو مسلمان ہے الله ورسول (جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو گالیاں دینا کفر ہے۔ ایسوں کے کفر میں جو خود یہ لوگ اور آج کل کے بعض آزاد خیال والے حیلے حوالے نکالتے ہیں نہایت سلیس ومہذب بیان میں قرآن مجید سے ان کا جواب ہے یہ وہ کتاب ہے جس کا دیکھنا ہر مسلمان کو نہایت ضروری ہے ۔ حسام الحرمین میں اکابر علمائے حرمین شریفین کی مہری تصدیقات وفتاوی ہیں جن میں ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے دونوں کا مجموعہ ۱۵ جز ہے۔ ہدیہ ۱۰۔ اور یکم محرم ۱۳۲۸ھ سے ۱۲ربیع الاول تك آٹھ ہی آنے (۸۔ )ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب۔ ان دشنامیوں کے فرار اور عیاریوں کے اظہار میں ۔ حجم سواد وجزقیمت (۱۔ ) مسلمان اپنا دینی فائدہ حاصل کریں وبالله التوفیق ۱۲ سید عبدالرحمن عفا عنہ ۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ۔ م
مجتہد کے مذہب میں وضو جاتا رہتا ہے اس کے وقوع سے ہمارے مذہب میں اعادہ وضو مستحب ہےدرمختار میں ہے :
الوضوء مندوب فی نیف وثلثین موضعا ذکرتھا فی الخزائن منھا بعد کذب وغیبۃ وقہقہۃ و شعر واکل جزور وبعد کل خطیئۃ وللخروج من خلاف العلماء اھ
اقول : والحقت النمیمۃ لانھا کالغیبۃ اواشد ثم رأیتھا فی میزان الامام الشعرانی وغیرہ والحقت الفحش لانہ اخنأمن الشعر وربما یدخل فی قولہ خطیئۃ والشتم لانہ اخبث واخنع ثم رأیت التصریح بہ فی انوار الشافعیۃ۔
وضوتیس۳۰ سے زیادہ مقامات میں مستحب ہے ان سب کا ذکر میں نے خزائن میں کیا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں جھوٹ غیبت قہقہہ شعر اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد اور ہر گناہ کے بعد اور اختلاف علماء سے نکلنے کیلئے اھ۔ (ت)
اقول : میں نے چغلی کو بھی شامل کیا اس لئے کہ وہ غیبت ہی کی طرح ہے یا اس سے بھی سخت پھر میں نے میزان امام شعرانی وغیرہ میں اس کا ذکر دیکھا اور فحش کو میں نے شامل کیا اس لئے کہ وہ شعر سے زیادہ برا ہے اور یہ در مختار کے لفظ ہر گناہ کے تحت آسکتا ہے ۔ اور گالی دینے کواس لئے کہ یہ اور بد تر اور فحش تر ہے پھر انوار شافعیہ میں میں نے اس کی تصریح دیکھی۔ ( ت)
ردالمحتار میں ہے :
منھا لغضب ونظر لمحاسن امرأۃ وبعد کذب وغیبۃ لانھما من نجاسات فــــ المعنویۃ ولذا یخرج
ان اسباب میں چند یہ ہیں غصہ آنا کسی عورت کے حسن پر نظر اور جھوٹ اور غیبت کے بعد اس لئے کہ یہ دونوں معنوی نجاستیں ہیں اس لئے جھوٹ
فـــــ : جھوٹ اور غیبت معنوی نجاست ہیں ولہذا جھوٹے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ حفاظت
الوضوء مندوب فی نیف وثلثین موضعا ذکرتھا فی الخزائن منھا بعد کذب وغیبۃ وقہقہۃ و شعر واکل جزور وبعد کل خطیئۃ وللخروج من خلاف العلماء اھ
اقول : والحقت النمیمۃ لانھا کالغیبۃ اواشد ثم رأیتھا فی میزان الامام الشعرانی وغیرہ والحقت الفحش لانہ اخنأمن الشعر وربما یدخل فی قولہ خطیئۃ والشتم لانہ اخبث واخنع ثم رأیت التصریح بہ فی انوار الشافعیۃ۔
وضوتیس۳۰ سے زیادہ مقامات میں مستحب ہے ان سب کا ذکر میں نے خزائن میں کیا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں جھوٹ غیبت قہقہہ شعر اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد اور ہر گناہ کے بعد اور اختلاف علماء سے نکلنے کیلئے اھ۔ (ت)
اقول : میں نے چغلی کو بھی شامل کیا اس لئے کہ وہ غیبت ہی کی طرح ہے یا اس سے بھی سخت پھر میں نے میزان امام شعرانی وغیرہ میں اس کا ذکر دیکھا اور فحش کو میں نے شامل کیا اس لئے کہ وہ شعر سے زیادہ برا ہے اور یہ در مختار کے لفظ ہر گناہ کے تحت آسکتا ہے ۔ اور گالی دینے کواس لئے کہ یہ اور بد تر اور فحش تر ہے پھر انوار شافعیہ میں میں نے اس کی تصریح دیکھی۔ ( ت)
ردالمحتار میں ہے :
منھا لغضب ونظر لمحاسن امرأۃ وبعد کذب وغیبۃ لانھما من نجاسات فــــ المعنویۃ ولذا یخرج
ان اسباب میں چند یہ ہیں غصہ آنا کسی عورت کے حسن پر نظر اور جھوٹ اور غیبت کے بعد اس لئے کہ یہ دونوں معنوی نجاستیں ہیں اس لئے جھوٹ
فـــــ : جھوٹ اور غیبت معنوی نجاست ہیں ولہذا جھوٹے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ حفاظت
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۷ ، ۱۸
من الکاذب نتن یتبا عدمنہ
بولنے والے سے ایسی بد بو اٹھتی ہے جس سے محافظ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کے فرشتے اس وقت اس کے پاس سے دور ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے اور اسی طرح ایك بدبو کی نسبت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے خبر دی کہ یہ ان کے منہ کی سٹراند ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں اور ہمیں جو جھوٹ یا غیبت کی بدبو محسوس نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس سے مالوف ہوگئے ہماری ناکیں اس سے بھری ہوئی ہیں جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلہ میں جو رہتا ہے اس کی بدبو سے ایذا نہیں ہوتی دوسرا آئے تو اس سے ناك نہ رکھی جائے انتھی
مسلمان اس نفیس فائدے کو یاد رکھیں اور اپنے رب سے ڈریں جھوٹ اور غیبت ترك کریں کیا معاذ الله منہ سے پاخانہ نکلنا کسی کو پسند ہوگا باطن کی ناك کھلے تو معلوم ہو کہ جھوٹ اور غیبت میں پاخانے سے بدتر سڑاند ہو۔ رہیں وہ حدیثیں جن کی طرف علامہ شامی نے اشارہ کیا۔ جامع ترمذی بسند حسن عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا کذب العبد کذبۃ تباعد الملك عنہ مسیرۃ میل من نتن ماجاء بہ رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت وابونعیم فی جحلیۃ الاولیاء عنہ رضی الله تعالی عنہ ۔
جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو کے باعث فرشتہ ایك میل مسافت تك اس سے دور ہوجاتا ہے۔ کتاب الصمت میں ابن ابی الدنیا اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا عنہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
امام احمد بسند صحیح جابر بن عبداللهرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر تھے کہ ایك بدبو اٹھی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اتدرون ماھذہ الریح ھذہ
جانتے ہو کہ یہ بدبو کیا ہے یہ ان کی بدبو ہے جو(باقی برصفحہ ائندہ)
بولنے والے سے ایسی بد بو اٹھتی ہے جس سے محافظ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کے فرشتے اس وقت اس کے پاس سے دور ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے اور اسی طرح ایك بدبو کی نسبت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے خبر دی کہ یہ ان کے منہ کی سٹراند ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں اور ہمیں جو جھوٹ یا غیبت کی بدبو محسوس نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس سے مالوف ہوگئے ہماری ناکیں اس سے بھری ہوئی ہیں جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلہ میں جو رہتا ہے اس کی بدبو سے ایذا نہیں ہوتی دوسرا آئے تو اس سے ناك نہ رکھی جائے انتھی
مسلمان اس نفیس فائدے کو یاد رکھیں اور اپنے رب سے ڈریں جھوٹ اور غیبت ترك کریں کیا معاذ الله منہ سے پاخانہ نکلنا کسی کو پسند ہوگا باطن کی ناك کھلے تو معلوم ہو کہ جھوٹ اور غیبت میں پاخانے سے بدتر سڑاند ہو۔ رہیں وہ حدیثیں جن کی طرف علامہ شامی نے اشارہ کیا۔ جامع ترمذی بسند حسن عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا کذب العبد کذبۃ تباعد الملك عنہ مسیرۃ میل من نتن ماجاء بہ رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت وابونعیم فی جحلیۃ الاولیاء عنہ رضی الله تعالی عنہ ۔
جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے اس کی بدبو کے باعث فرشتہ ایك میل مسافت تك اس سے دور ہوجاتا ہے۔ کتاب الصمت میں ابن ابی الدنیا اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا عنہ رضی اللہ تعالی عنہ(ت)
امام احمد بسند صحیح جابر بن عبداللهرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر تھے کہ ایك بدبو اٹھی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اتدرون ماھذہ الریح ھذہ
جانتے ہو کہ یہ بدبو کیا ہے یہ ان کی بدبو ہے جو(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب البر والصلۃ حدیث۱۹۷۹ دار الفکر بیروت ۳ / ۳۹۲
حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبد العزیز بن ابی رواد ۴۰۰حدیث ۱۱۹۱۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۸ / ۲۱۴
حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبد العزیز بن ابی رواد ۴۰۰حدیث ۱۱۹۱۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۸ / ۲۱۴
الملك الحافظ کما ورد فی الحدیث وکذا اخبر صلی الله تعالی علیہ وسلم عن ریح منتنۃ بانھا ریح الذین یغتابون الناس والمؤمنین ولالف ذالك منا وامتلاء انوفنا منہا لا تطہر لنا کا لساکن فی محلہ الدباغین وقہقہۃ لانہالما کانت فی الصلوۃ جنایۃ تنقض الوضوء اوجبت نقصان الطہارۃ خارجا فکان الوضوء منہا مستحباکما ذکرہ سیدی عبد الغنی النابلسی فی نہایۃ المراد علی ھدیۃ ابن العمادو شعر ای قبیح للخروج من خلاف العلماء کمس ذکرہ وامرأۃ اھ
فرشتہ دور ہٹ جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اسی طرح حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك بد بو سے متعلق بتایا کہ یہ ان کی بد بو ہے جولوگوں کی اور مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں چونکہ ہمیں ان سے الفت ہوگئی ہے اور ہماری ناکیں ان سے بھری ہوئی ہیں اس لئے یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلے میں رہنے والوں کا حال ہوتا ہے اور قہقہہ اس لئے کہ جب اندرون نماز ایساجرم ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو بیرون نماز اس سے وضو میں نقص آجا ئے گا اس لئے اس سے وضو مستحب ہواجیسا کہ سیدی عبد الغنی نابلسی نے “ نہایۃ المراد علی ہدیۃ ابن ا لعماد میں ذکر کیا ہے ۔ اور شعر یعنی برا شعر اپنے ذکر یا کسی عورت کا چھو جانا اھ ملتقطا(ت)
میزان امام شعرانی قدس سرہ الربانی میں ہے :
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللہ
میں نے سیدی علی الخواص رحمۃ الله تعالی سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ریح الذین یغتابون المومنین ورواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الغیبت عنہ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں (اس کو ابن الدنیا نے کتاب ذم الغیبت میں روایت کیا ہے الله ان سے راضی ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)
فرشتہ دور ہٹ جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اسی طرح حضورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك بد بو سے متعلق بتایا کہ یہ ان کی بد بو ہے جولوگوں کی اور مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں چونکہ ہمیں ان سے الفت ہوگئی ہے اور ہماری ناکیں ان سے بھری ہوئی ہیں اس لئے یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلے میں رہنے والوں کا حال ہوتا ہے اور قہقہہ اس لئے کہ جب اندرون نماز ایساجرم ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو بیرون نماز اس سے وضو میں نقص آجا ئے گا اس لئے اس سے وضو مستحب ہواجیسا کہ سیدی عبد الغنی نابلسی نے “ نہایۃ المراد علی ہدیۃ ابن ا لعماد میں ذکر کیا ہے ۔ اور شعر یعنی برا شعر اپنے ذکر یا کسی عورت کا چھو جانا اھ ملتقطا(ت)
میزان امام شعرانی قدس سرہ الربانی میں ہے :
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللہ
میں نے سیدی علی الخواص رحمۃ الله تعالی سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ریح الذین یغتابون المومنین ورواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الغیبت عنہ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں (اس کو ابن الدنیا نے کتاب ذم الغیبت میں روایت کیا ہے الله ان سے راضی ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۱
مسند احمد بن حمبل عن جابر بن عبداللہ المکتب ا لاسلامی بیروت۳ / ۳۵۱
مسند احمد بن حمبل عن جابر بن عبداللہ المکتب ا لاسلامی بیروت۳ / ۳۵۱
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالی یقول وجہ من نقض الطہارۃ بالقہقہۃ اونوم الممکن فــــ۱ مقعدۃ اومس فــــ۲الابط الذی فیہ صنان اومس فــــ۳ ابرص اوجذم اوکافر اوصلیب فــــ۴او غیر ذلك مماوردت فیہ الاخبار الاخذ بالاحتیاط قال وجمیع النواقض متولدۃ من الاکل ولیس لنا ناقض من غیر الاکل ابدا فلولا الاکل والشرب مااشتھینا لمس النساء ولا تکلمنا بغیبۃ ولا نمیمۃ اھ بالا لتقاط ۔
سنا قہقہہ سے طہارت ٹوٹ جاتی ہے اسی طرح وہ نیند جس میں مقعد زمین سے لگی ہو بغل کو کھجانا جس میں بدبو ہو برص والے کو یا جذامی کو یا کافر کو چھونے سے یا صلیب کو چھونے سے اس کے علاوہ اور دوسری اشیاء جن کے بارے میں احادیث وارد ہیں احتیاط کے طور پر۔ فرمایا تمام نواقض وضو کھانے سے پیدا ہونے والے ہیں اور ہمارے لئے غیر اکل سے کوئی ناقض نہیں اگر کھانا پینا نہ ہوتا توعورتوں کے چھونے کی ہم میں شہوت بھی نہ ہوتی نہ ہی غیبت وچغلی ہماری زبان پر آتی اھ بالالتقاط۔ (ت)
کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی میں ہے :
لاینقض بالکذب والشتم والغیبۃ والنمیمۃ ویستحب فی الکل للخلاف
جھوٹ گالی دینے غیبت چغلی سے وضو نہیں ٹوٹتا اور مستحب ان سب میں ہے کیوں کہ محل اختلاف ہے ۔ (ت)
فتح العین بشرح قرۃ العین للعلامۃ زین الشافعی تلمیذ ابن حجر المکی میں ہے :
فـــــ۱ مسئلہ : سوتے میں دونوں سرین زمین پر جمے ہوں تو وضو نہیں جاتا مگر اعادہ وضو مستحب جب بھی ہے۔
فـــــ۲ : مسئلہ : بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بد بو ہو ۔
فـــــ۳ مسئلہ : جزامی یا برص والے سے مس کرنے میں بھی تجدید وضو مستحب ہے۔
فـــــ۴ : مسئلہ : صلیب جسے نصاری پوجتے ہیں اور ہنود کے بت وغیرہ کے چھونے سے بھی نیا وضو چاہیے ۔
سنا قہقہہ سے طہارت ٹوٹ جاتی ہے اسی طرح وہ نیند جس میں مقعد زمین سے لگی ہو بغل کو کھجانا جس میں بدبو ہو برص والے کو یا جذامی کو یا کافر کو چھونے سے یا صلیب کو چھونے سے اس کے علاوہ اور دوسری اشیاء جن کے بارے میں احادیث وارد ہیں احتیاط کے طور پر۔ فرمایا تمام نواقض وضو کھانے سے پیدا ہونے والے ہیں اور ہمارے لئے غیر اکل سے کوئی ناقض نہیں اگر کھانا پینا نہ ہوتا توعورتوں کے چھونے کی ہم میں شہوت بھی نہ ہوتی نہ ہی غیبت وچغلی ہماری زبان پر آتی اھ بالالتقاط۔ (ت)
کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی میں ہے :
لاینقض بالکذب والشتم والغیبۃ والنمیمۃ ویستحب فی الکل للخلاف
جھوٹ گالی دینے غیبت چغلی سے وضو نہیں ٹوٹتا اور مستحب ان سب میں ہے کیوں کہ محل اختلاف ہے ۔ (ت)
فتح العین بشرح قرۃ العین للعلامۃ زین الشافعی تلمیذ ابن حجر المکی میں ہے :
فـــــ۱ مسئلہ : سوتے میں دونوں سرین زمین پر جمے ہوں تو وضو نہیں جاتا مگر اعادہ وضو مستحب جب بھی ہے۔
فـــــ۲ : مسئلہ : بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بد بو ہو ۔
فـــــ۳ مسئلہ : جزامی یا برص والے سے مس کرنے میں بھی تجدید وضو مستحب ہے۔
فـــــ۴ : مسئلہ : صلیب جسے نصاری پوجتے ہیں اور ہنود کے بت وغیرہ کے چھونے سے بھی نیا وضو چاہیے ۔
حوالہ / References
میزان الشریعۃ الکبری ، با ب اسباب الحد ث دارا لکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۴۵
الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل اسبا ب الحدث مطبع جمالیہ مصر ۱ / ۲۹
الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل اسبا ب الحدث مطبع جمالیہ مصر ۱ / ۲۹
یندب الوضوء من لمس یھودی ونظر بشھوۃ ولوالی محرم وتلفظ بمعصیۃ وغضب ۔
یہودی کو چھو جانے شہوت سے نظر کرنے اگرچہ محرم ہی کی طرف ہو ۔ ۔ معصیت کی بات زبان پر لانے اور غصہ سے وضو مستحب ہے ۔
رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے :
اتفقوا علی ان من مس فرجہ بعضو غیریدہ لا ینتقض وضوؤہ واختلفوا فیمن مس ذکرہ بیدہ فقال ابو حنیفۃ لامطلقا والشافعی ینتقض بالمس باطن کفہ دون ظاھرہ من غیر حائل بشھوۃ اوبغیرھا والمشہور عند احمد انہ ینتقض باطن کفہ وبظاھرہ ۔
اس پر اتفاق ہے کہ جو اپنی شرمگاہ ہاتھ کے علاوہ کسی اور عضو سے چھودے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا اور اس کے بارے میں اختلاف ہے جس نے اپنا ذکر اپنے ہاتھ سے چھو دیا امام ابو حنیفہ نے فرمایا : مطلقا نہ ٹوٹے گا اور امام شافعی نے فرمایا پشت دست سے چھو دے تو نہ ٹوٹے گا اور اگر ہتھیلی کے پیٹ سے بغیر کسی حائل کے شہوت کے ساتھ یا بلا شہوت چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ (ت) اور امام احمد کے نزدیك مشہور یہ ہے کہ ہتھیلی کے باطن وظاہر کسی طرف سے بھی چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ (ت)
میزان میں ہے :
وجہ من نقض الطہارۃ بلمس الذکر بظھر الکف اوبالید الی المر فق فھو الاحتیاط لکون الید تطلق علی ذلك کما فی حدیث اذا افضی احدکم بیدہ الی فرجہ ولیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضأ ۔
ہتھیلی کی پشت سے یا کہنی تك ہاتھ کے کسی حصے سے وضو ٹوٹنے کی وجہ احتیاط کو بتایا گیا ہے اس لئے کہ ہاتھ کا اطلاق اس پر ہو تا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : جب تم میں کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تك پہنچادے اور دونوں میں کوئی پردہ اور حائل نہ رہ جائے تو وہ وضو کرے ۔ (ت)
یہودی کو چھو جانے شہوت سے نظر کرنے اگرچہ محرم ہی کی طرف ہو ۔ ۔ معصیت کی بات زبان پر لانے اور غصہ سے وضو مستحب ہے ۔
رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے :
اتفقوا علی ان من مس فرجہ بعضو غیریدہ لا ینتقض وضوؤہ واختلفوا فیمن مس ذکرہ بیدہ فقال ابو حنیفۃ لامطلقا والشافعی ینتقض بالمس باطن کفہ دون ظاھرہ من غیر حائل بشھوۃ اوبغیرھا والمشہور عند احمد انہ ینتقض باطن کفہ وبظاھرہ ۔
اس پر اتفاق ہے کہ جو اپنی شرمگاہ ہاتھ کے علاوہ کسی اور عضو سے چھودے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا اور اس کے بارے میں اختلاف ہے جس نے اپنا ذکر اپنے ہاتھ سے چھو دیا امام ابو حنیفہ نے فرمایا : مطلقا نہ ٹوٹے گا اور امام شافعی نے فرمایا پشت دست سے چھو دے تو نہ ٹوٹے گا اور اگر ہتھیلی کے پیٹ سے بغیر کسی حائل کے شہوت کے ساتھ یا بلا شہوت چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ (ت) اور امام احمد کے نزدیك مشہور یہ ہے کہ ہتھیلی کے باطن وظاہر کسی طرف سے بھی چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ (ت)
میزان میں ہے :
وجہ من نقض الطہارۃ بلمس الذکر بظھر الکف اوبالید الی المر فق فھو الاحتیاط لکون الید تطلق علی ذلك کما فی حدیث اذا افضی احدکم بیدہ الی فرجہ ولیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضأ ۔
ہتھیلی کی پشت سے یا کہنی تك ہاتھ کے کسی حصے سے وضو ٹوٹنے کی وجہ احتیاط کو بتایا گیا ہے اس لئے کہ ہاتھ کا اطلاق اس پر ہو تا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے : جب تم میں کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تك پہنچادے اور دونوں میں کوئی پردہ اور حائل نہ رہ جائے تو وہ وضو کرے ۔ (ت)
حوالہ / References
فتح المعین شرح قرۃ العین بیان نواقض الوضو ء عامر الاسلام پور پریس کیبرص ص ۲۴ ، ۲۵
رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ، باب اسبا ب الوضوء دولۃ قطرص ۱۳
میزان الشعریعۃ ، باب اسباب الحدث ، دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۴۲
رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ، باب اسبا ب الوضوء دولۃ قطرص ۱۳
میزان الشعریعۃ ، باب اسباب الحدث ، دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۴۲
انوار ائمہ شافعیہ میں ہے :
اسباب الحدث اربعۃ الرابع مس فرج ادمی بالراحۃ اوبطن اصبع قبلا کان اودبرا ناسیا اوعامدا من ذکر اوانثی صغیر اوکبیرحی اومیت من نفسہ اوغیرہ ولومس برؤس الاصابع اوبما بینھا مما لایلی بطن الکف اوبحروف الکفین اومس انثییہ اوالیتیہ اوعجانہ اوعانتہ لم ینتقض۔
حدث کے چار اسباب ہیں چوتھا کسی انسان کی شرمگاہ کا مس ہوجانا ہتھیلی سے یا انگلی کے پیٹ سے آگے کی شرمگاہ ہو یا پیچھے کی بھول کر ہو یا قصدا مرد کی ہو یا عورت کی چھوٹا ہو یا بڑا زندہ یا مردہ اپنی شرمگاہ ہویا دوسرے کی اور اگر انگلیوں کے سروں سے مس ہو جائے یا انگلیوں کے ان درمیانی حصوں سے جو بطن کف سے ملے ہوئے نہیں ہیں یا ہتھیلیوں کے کناروں سے مس ہو یا انثیین کو یا سرینوں کو یا خصیتین اور دبرکے درمیان کے حصے کو یا پیڑو کو چھو دے تو وضو نہ ٹوٹے گا (ت)
اسی میں ہے :
الثالث لمس بشرۃ المرأۃ الکبیرۃ الاجنبیۃ بلا حائل فان لمس شعرا اوسنا اوظفرا اوبالشعر اوالسن اوالظفر اوصغیرۃ لاتشتھی اومحرما بنسب اورضاع اومصاھرۃ اوکبیرۃ اجنبیۃ مع حائل وان رق ولو بشھوۃ لم ینتقض ولو لمس امراتہ اوامتہ اومیتۃ اوعجوزۃ فانیۃ اوبلا شھوۃ اوبلا قصد انتقض واذا کانت المرأۃ فوق سبع
تیسرا اجنبی قابل شہوت عورت کی جلد کا بغیر حائل چھو جانا اگر بال یا دانت یا ناخن کو مس یا بال یا دانت یا ناخن سے مس کیا یا عورت اتنی چھوٹی ہے کہ قابل شہوت نہیں یا نسب یا رضاعت یا مصاہرت کسی سبب سے وہ محرم ہے یا بڑی اجنبیہ ہے مگر کوئی حا ئل درمیان ہے اگرچہ باریك ہوا گرچہ شہوت کے ساتھ ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اور اگر اپنی بیوی یا باندی یا مری ہوئی یا فانیہ بڑھیا کو مس کیا تو وضو ٹوٹ جا ئے گا اور
اسباب الحدث اربعۃ الرابع مس فرج ادمی بالراحۃ اوبطن اصبع قبلا کان اودبرا ناسیا اوعامدا من ذکر اوانثی صغیر اوکبیرحی اومیت من نفسہ اوغیرہ ولومس برؤس الاصابع اوبما بینھا مما لایلی بطن الکف اوبحروف الکفین اومس انثییہ اوالیتیہ اوعجانہ اوعانتہ لم ینتقض۔
حدث کے چار اسباب ہیں چوتھا کسی انسان کی شرمگاہ کا مس ہوجانا ہتھیلی سے یا انگلی کے پیٹ سے آگے کی شرمگاہ ہو یا پیچھے کی بھول کر ہو یا قصدا مرد کی ہو یا عورت کی چھوٹا ہو یا بڑا زندہ یا مردہ اپنی شرمگاہ ہویا دوسرے کی اور اگر انگلیوں کے سروں سے مس ہو جائے یا انگلیوں کے ان درمیانی حصوں سے جو بطن کف سے ملے ہوئے نہیں ہیں یا ہتھیلیوں کے کناروں سے مس ہو یا انثیین کو یا سرینوں کو یا خصیتین اور دبرکے درمیان کے حصے کو یا پیڑو کو چھو دے تو وضو نہ ٹوٹے گا (ت)
اسی میں ہے :
الثالث لمس بشرۃ المرأۃ الکبیرۃ الاجنبیۃ بلا حائل فان لمس شعرا اوسنا اوظفرا اوبالشعر اوالسن اوالظفر اوصغیرۃ لاتشتھی اومحرما بنسب اورضاع اومصاھرۃ اوکبیرۃ اجنبیۃ مع حائل وان رق ولو بشھوۃ لم ینتقض ولو لمس امراتہ اوامتہ اومیتۃ اوعجوزۃ فانیۃ اوبلا شھوۃ اوبلا قصد انتقض واذا کانت المرأۃ فوق سبع
تیسرا اجنبی قابل شہوت عورت کی جلد کا بغیر حائل چھو جانا اگر بال یا دانت یا ناخن کو مس یا بال یا دانت یا ناخن سے مس کیا یا عورت اتنی چھوٹی ہے کہ قابل شہوت نہیں یا نسب یا رضاعت یا مصاہرت کسی سبب سے وہ محرم ہے یا بڑی اجنبیہ ہے مگر کوئی حا ئل درمیان ہے اگرچہ باریك ہوا گرچہ شہوت کے ساتھ ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اور اگر اپنی بیوی یا باندی یا مری ہوئی یا فانیہ بڑھیا کو مس کیا تو وضو ٹوٹ جا ئے گا اور
حوالہ / References
الانوار لاعمال الابرار ، کتاب الطہارۃ ، فصل اسبا ب الحدث ، مطبع جمالیہ مصر ۱ / ۳۱
سنین فلا شك فی انتقاض الوضوء بلمسھا واما اذا کانت دون ست سنین فاصحابنا خرجوا علی قولین المذھب انہ لاینتقض
جب سات سال سے زیادہ کی ہو تو اس کے چھونے سے وضوٹوٹنے میں کوئی شك نہیں اور اگر چھ سال سے کم کی ہو تو یہاں ہمارے اصحاب کے دو۲ قول ہیں مذہب یہ ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا
عشماویہ اور اس کی شرح جواہر زکیۃ العلامۃ احمد المالکی میں ہے :
(و) ینتقض الوضوء( بلمس) اجنبیۃ یلتذ بمثلھا عادۃ ولو ظفرھا اوشعرھا اوفوق حائل خفیف قیل والکثیف (وان لم یقصد اللذۃ ولم یجدھا فلا وضوء علیہ
ایسی اجنبیہ جوعادتا قابل لذت ہے اس کے چھو جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ اس کے ناخن یا بال ہی کو چھوئے یا خفیف حائل کے اوپر سے چھوئے ایك قول ہے کہ دبیز کے اوپر سے بھی اور اگر لذت کا قصد نہیں نہ لذت پائی تو اس پر وضو نہیں ۔ (ت)
حاشیہ علامہ سفطی میں ہے :
قولہ لمس اجنبیۃ ھذا ضعیف والمعتمد ان وجود اللذۃ بالمحرم ناقض ولا فرق بین المحرم وغیرھا الافی القصد وحدہ بدون وجدان ففی الاجنبیۃ ناقض وفی المحرم غیر ناقض قولہ عادۃ ای عادۃ الناس لاالملتذ وحدہ فخرج بہ صغیرۃ لاتشتھی کبنت خمس وعجوز مسنۃ انقطع منھا ارب الرجال بالکلیۃ قولہ والکثیف قال الشیخ حاشیۃ
ان کا قول “ اجنبیہ کو مس کرنا “ یہ ضعیف ہے معتمد یہ ہے کہ محرم سے لذت پائی گئی تو یہ بھی ناقض ہے اور محرم و نا محرم میں فرق یہ ہے کہ قصد لذت نہ ملے تو اجنبیہ میں ناقض ہے اور محرم میں ناقض نہیں ان کا قول “ عادۃ “ یعنی لوگوں کی عادت کے لحاظ سے صرف لذت پانے والے کی عاد ت مراد نہیں تو اس قید سے وہ صغیرہ خارج ہو گئی جو قابل شہوت نہیں جیسے پا نچ سال کی بچی اور وہ سن رسیدہ بڑھیا جس سے مردوں کی خواہش با لکل منقطع ہو چکی۔ ۔ قولہ “ دبیز
جب سات سال سے زیادہ کی ہو تو اس کے چھونے سے وضوٹوٹنے میں کوئی شك نہیں اور اگر چھ سال سے کم کی ہو تو یہاں ہمارے اصحاب کے دو۲ قول ہیں مذہب یہ ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا
عشماویہ اور اس کی شرح جواہر زکیۃ العلامۃ احمد المالکی میں ہے :
(و) ینتقض الوضوء( بلمس) اجنبیۃ یلتذ بمثلھا عادۃ ولو ظفرھا اوشعرھا اوفوق حائل خفیف قیل والکثیف (وان لم یقصد اللذۃ ولم یجدھا فلا وضوء علیہ
ایسی اجنبیہ جوعادتا قابل لذت ہے اس کے چھو جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ اس کے ناخن یا بال ہی کو چھوئے یا خفیف حائل کے اوپر سے چھوئے ایك قول ہے کہ دبیز کے اوپر سے بھی اور اگر لذت کا قصد نہیں نہ لذت پائی تو اس پر وضو نہیں ۔ (ت)
حاشیہ علامہ سفطی میں ہے :
قولہ لمس اجنبیۃ ھذا ضعیف والمعتمد ان وجود اللذۃ بالمحرم ناقض ولا فرق بین المحرم وغیرھا الافی القصد وحدہ بدون وجدان ففی الاجنبیۃ ناقض وفی المحرم غیر ناقض قولہ عادۃ ای عادۃ الناس لاالملتذ وحدہ فخرج بہ صغیرۃ لاتشتھی کبنت خمس وعجوز مسنۃ انقطع منھا ارب الرجال بالکلیۃ قولہ والکثیف قال الشیخ حاشیۃ
ان کا قول “ اجنبیہ کو مس کرنا “ یہ ضعیف ہے معتمد یہ ہے کہ محرم سے لذت پائی گئی تو یہ بھی ناقض ہے اور محرم و نا محرم میں فرق یہ ہے کہ قصد لذت نہ ملے تو اجنبیہ میں ناقض ہے اور محرم میں ناقض نہیں ان کا قول “ عادۃ “ یعنی لوگوں کی عادت کے لحاظ سے صرف لذت پانے والے کی عاد ت مراد نہیں تو اس قید سے وہ صغیرہ خارج ہو گئی جو قابل شہوت نہیں جیسے پا نچ سال کی بچی اور وہ سن رسیدہ بڑھیا جس سے مردوں کی خواہش با لکل منقطع ہو چکی۔ ۔ قولہ “ دبیز
حوالہ / References
الانوار لاعمال الابرار کتاب الطہارۃ فصل اسبا ب الحدث مطبع جمالیہ مصر ۱ / ۳۱
ا لجواہر الزکیۃ شرح مقدمۃ العشماویۃ
ا لجواہر الزکیۃ شرح مقدمۃ العشماویۃ
ابی الحسن المعتمد ان الاقسام ثلثۃ خفیف جد اوکثیف لاجد اکالقباء وجدا کالطراحۃ فالاولان حکمھا النقض علی الراجح واما الاخیر فالنقض فی القصد دون الوجدان ۔
سے بھی “ شیخ نے حاشیہ ابو الحسن میں لکھا ہے کہ معتمد یہ ہے کہ تین قسمیں ہیں : (۱)بہت خفیف (۲) دبیز جو بہت زیادہ دبیز نہ ہو جیسے قبا (۳)اور بہت دبیز جیسے لحاف تو پہلے دونوں کا حکم بر قول راجح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اخیر میں یہ حکم ہے کہ قصد ہو تو وضو ٹوٹ جائے گاا ور اتفاقا لذت مل جانے سے نہ ٹوٹے گا ۔ (ت)
مستحب وضو اور بھی ہیں مگر یہاں وہی اکثر ذکر کئے جن کا وضو میں وقوع عادۃ بعید نہ ہو۔ ولہذا کفار کی وہ قسمیں بیان کرنی ہوئیں جو بغلط مدعی اسلام ہیں کہ ان میں بہتیرے نماز پڑھتے وضو کرتے مسجدوں میں آتے ہیں تو وضو کرتے ہیں ان سے بدن چھوجانا بعید نہیں ۔ یوں ہی کبھی وضو کرتے میں پانی کم ہوجاتا اور آدمی اپنی کنیز یا خادمہ یا زوجہ وغیرہا سے مانگتا اور لینے میں ہاتھ سے ہاتھ لگ جاتا ہے وغیرہ ذلک۔ کامل احتیاط والے کو ان مسائل پر اطلاع نہایت مناسب ہے۔ اب بے فصل نماز وغیرہ عبادات مقصودہ یابے تبدل مجلس اعادہ وضو کی کراہت اگر ہوگی بھی تو وہاں کہ اعادہ کیلئے کوئی سبب خاص نہ ہو ورنہ بعد وجود سبب وہ بے وجہ نہیں کہ اسراف ہو۔ اور اگر مواضع خلاف میں نزاع عود بھی کرے کہ رعایت خلاف وہیں مستحب ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے کما فی ردالمحتار وغیرہ تو پہلی نو دس صورتیں کہ گویا حدث معنوی ونجاست باطنی مانی گئیں اثباتے وضو میں ان کا وقوع کیا نادر ہے اور شك فـــــ نہیں کہ دربارہ نقض ونقض وضو بعض وضو کا حکم ایك ہی ہے جس طرح وضوئے کامل پر کوئی ناقض طاری ہونے سے پورا وضو جاتا رہتا ہے اور خلال وضو میں اس کے وقوع سے جتنا وضو ہوچکا ہے اتنا ٹوٹ جاتا ہے یونہی یہ اشیا جن سے طہارت ناقص وبے نور ہوجاتی ہے جب کامل وضو پر واقع ہوں تو پورے وضو کا اعادہ مستحب ہوگا اور اثنائے وضو میں ہوں تو جتنا کر چکا ہے اس قدر کا۔ اور بہرحال یہ وضوئے آخر یا وضو علی الوضو سے خارج نہ ہوگا کہ وضوئے اول متنقض نہ ہوا۔ اس تقریر پر نہ صرف یہی وجہ اخیر بلکہ تینوں وجہیں مندفع ہوگئیں ولله الحمد۔
فــــــ : جن باتوں سے اعادہ وضو مستحب ہے جب وہ وضو کرتے میں واقع ہوں تو مستحب ہے کہ پھر سے وضو کرے۔
سے بھی “ شیخ نے حاشیہ ابو الحسن میں لکھا ہے کہ معتمد یہ ہے کہ تین قسمیں ہیں : (۱)بہت خفیف (۲) دبیز جو بہت زیادہ دبیز نہ ہو جیسے قبا (۳)اور بہت دبیز جیسے لحاف تو پہلے دونوں کا حکم بر قول راجح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اخیر میں یہ حکم ہے کہ قصد ہو تو وضو ٹوٹ جائے گاا ور اتفاقا لذت مل جانے سے نہ ٹوٹے گا ۔ (ت)
مستحب وضو اور بھی ہیں مگر یہاں وہی اکثر ذکر کئے جن کا وضو میں وقوع عادۃ بعید نہ ہو۔ ولہذا کفار کی وہ قسمیں بیان کرنی ہوئیں جو بغلط مدعی اسلام ہیں کہ ان میں بہتیرے نماز پڑھتے وضو کرتے مسجدوں میں آتے ہیں تو وضو کرتے ہیں ان سے بدن چھوجانا بعید نہیں ۔ یوں ہی کبھی وضو کرتے میں پانی کم ہوجاتا اور آدمی اپنی کنیز یا خادمہ یا زوجہ وغیرہا سے مانگتا اور لینے میں ہاتھ سے ہاتھ لگ جاتا ہے وغیرہ ذلک۔ کامل احتیاط والے کو ان مسائل پر اطلاع نہایت مناسب ہے۔ اب بے فصل نماز وغیرہ عبادات مقصودہ یابے تبدل مجلس اعادہ وضو کی کراہت اگر ہوگی بھی تو وہاں کہ اعادہ کیلئے کوئی سبب خاص نہ ہو ورنہ بعد وجود سبب وہ بے وجہ نہیں کہ اسراف ہو۔ اور اگر مواضع خلاف میں نزاع عود بھی کرے کہ رعایت خلاف وہیں مستحب ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے کما فی ردالمحتار وغیرہ تو پہلی نو دس صورتیں کہ گویا حدث معنوی ونجاست باطنی مانی گئیں اثباتے وضو میں ان کا وقوع کیا نادر ہے اور شك فـــــ نہیں کہ دربارہ نقض ونقض وضو بعض وضو کا حکم ایك ہی ہے جس طرح وضوئے کامل پر کوئی ناقض طاری ہونے سے پورا وضو جاتا رہتا ہے اور خلال وضو میں اس کے وقوع سے جتنا وضو ہوچکا ہے اتنا ٹوٹ جاتا ہے یونہی یہ اشیا جن سے طہارت ناقص وبے نور ہوجاتی ہے جب کامل وضو پر واقع ہوں تو پورے وضو کا اعادہ مستحب ہوگا اور اثنائے وضو میں ہوں تو جتنا کر چکا ہے اس قدر کا۔ اور بہرحال یہ وضوئے آخر یا وضو علی الوضو سے خارج نہ ہوگا کہ وضوئے اول متنقض نہ ہوا۔ اس تقریر پر نہ صرف یہی وجہ اخیر بلکہ تینوں وجہیں مندفع ہوگئیں ولله الحمد۔
فــــــ : جن باتوں سے اعادہ وضو مستحب ہے جب وہ وضو کرتے میں واقع ہوں تو مستحب ہے کہ پھر سے وضو کرے۔
حوالہ / References
حاشیہ علامہ سفطی مقدمۃ العشماویۃ
صورت ثانیہ یعنی شك میں فقیر نے نہ دیکھا کہ کسی کو شك ہوماسوا ملا علی قاری کے کہ انہوں نے شك کویکسر ساقط اللحاظ کیا اور اس کے اعتبار کو وسوسہ کی طرف منجر مانا مرقاۃ میں فرمایا :
قلت اما قولہ (ای قول الامام النسفی فی الکافی) لطمانینۃ القلب عند الشك ففیہ ان الشك بعد التثلیث لاوجہ لہ وان وقع بعدہ فلا نھایۃ لہ وھو الوسوسۃ ولھذا اخذ ابن المبارك بظاھرہ فقال لاامن اذا زاد علی الثلث انہ یاثم وقال احمد واسحق لایزید یحتاط لدینہ قال ابن حجر ولقد شاھد نامن الموسوسین من یغسل یدہ فوق المئین وھو مع ذلك یعتقد ان حدثہ ھو الیقین قال واما قولہ (ای الامام النسفی) لانہ امر بترك مایریبہ ففیہ ان غسل المرۃ الاخری مما یر یبہ فینبغی ترکہ الی مالایریبہ وھو ماعینہ الشارع لیتخلص عن الریبۃ والوسو سۃ اھ
کافی میں امام نسفی کے قول “ شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادتی “ پر یہ کلام ہے کہ تین بار دھو لینے کے بعد شك کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اس کے بعد بھی شك واقع ہوتو اس کی کوئی انتہا نہیں اور یہی وسوسہ ہے ۔ اسی لئے حضرت ابن مبارك نے ظاہر حدیث کواختیار کرکے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تین بار سے زیادہ دھونے کی صور ت میں وہ گناہ گارہو ۔ امام احمد واسحاق نے فرمایا : تین پر زیادتی وہی کرے گا جو جنون میں مبتلا ہو اس گمان کی وجہ سے کہ وہ اپنے دین میں احتیاط سے کا م لے رہا ہے ۔ ۔ ۔ ابن حجر نے فرمایا : ہم نے ایسے وسوسہ زدہ بھی دیکھے جو سو بار سے زیادہ ہاتھ دھوکر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اب بھی اس کا حدث یقینا باقی ہے مولانا علی قاری آگے لکھتے ہیں کہ امام نسفی کا یہ فرمانا کہ اسے شك کی حالت چھوڑ دینے کا حکم ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ ایك با ر اور دھونے سے بھی اسے شك ہی رہے گا تو اسے یہی چاہیے کہ اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرے جس سے شك نہ پیدا ہو اور یہ وہی ہے جسے شارحین نے متعین فرمایا ہے تاکہ شك اور وسوسہ سے چھٹکارا پائے اھ (ت)
قلت اما قولہ (ای قول الامام النسفی فی الکافی) لطمانینۃ القلب عند الشك ففیہ ان الشك بعد التثلیث لاوجہ لہ وان وقع بعدہ فلا نھایۃ لہ وھو الوسوسۃ ولھذا اخذ ابن المبارك بظاھرہ فقال لاامن اذا زاد علی الثلث انہ یاثم وقال احمد واسحق لایزید یحتاط لدینہ قال ابن حجر ولقد شاھد نامن الموسوسین من یغسل یدہ فوق المئین وھو مع ذلك یعتقد ان حدثہ ھو الیقین قال واما قولہ (ای الامام النسفی) لانہ امر بترك مایریبہ ففیہ ان غسل المرۃ الاخری مما یر یبہ فینبغی ترکہ الی مالایریبہ وھو ماعینہ الشارع لیتخلص عن الریبۃ والوسو سۃ اھ
کافی میں امام نسفی کے قول “ شك کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادتی “ پر یہ کلام ہے کہ تین بار دھو لینے کے بعد شك کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اس کے بعد بھی شك واقع ہوتو اس کی کوئی انتہا نہیں اور یہی وسوسہ ہے ۔ اسی لئے حضرت ابن مبارك نے ظاہر حدیث کواختیار کرکے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تین بار سے زیادہ دھونے کی صور ت میں وہ گناہ گارہو ۔ امام احمد واسحاق نے فرمایا : تین پر زیادتی وہی کرے گا جو جنون میں مبتلا ہو اس گمان کی وجہ سے کہ وہ اپنے دین میں احتیاط سے کا م لے رہا ہے ۔ ۔ ۔ ابن حجر نے فرمایا : ہم نے ایسے وسوسہ زدہ بھی دیکھے جو سو بار سے زیادہ ہاتھ دھوکر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اب بھی اس کا حدث یقینا باقی ہے مولانا علی قاری آگے لکھتے ہیں کہ امام نسفی کا یہ فرمانا کہ اسے شك کی حالت چھوڑ دینے کا حکم ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ ایك با ر اور دھونے سے بھی اسے شك ہی رہے گا تو اسے یہی چاہیے کہ اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرے جس سے شك نہ پیدا ہو اور یہ وہی ہے جسے شارحین نے متعین فرمایا ہے تاکہ شك اور وسوسہ سے چھٹکارا پائے اھ (ت)
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ تحت الحدیث۴۱۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۱۲۴
اقول اولا : فـــــ۱شك کیلئے منشأ صحیح ہوتا ہے مثل سہو وغفلت بخلاف وسوسہ۔ اول بلا شبہ شرعا معتبر اور فقہ میں صدہا مسائل اس پر متفرع۔ اگر اسے ساقط اللحاظ کریں تو شك کا باب ہی مرتفع ہوجائے گا اور ایك جم غفیر مسائل واحکام سے جن پر اطباق واتفاق ائمہ ہے انکار کرنا ہوگا۔
ثانیا حدیث فـــــ۲ دع مایریبك الی مالایریبك کا صریح ارشاد طرح مشکوك واخذ متیقن ہے کہ مشکوك میں ریب ہے اور متیقن بلا ریب نہ یہ کہ شك کا کچھ لحاظ نہ کرو اور امر مشکوك ہی پر قانع رہ کر یہ مالا یریبك نہ ہوا بلکہ یریبک۔
ثالثا صحیح فــــــ۳مسلم شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا شك احدکم فی صلاتہ فلا یدرکم صلی ثلثا اواربعا فلیطرح الشك ولیبن علی مااستیقن ثم یسجد سجدتین قبل ان یسلم فان کان یصلی خمسا شفعن لہ صلاتہ وان کان صلی تماما لاربع کانتا ترغیما للشیطن ۔
جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شك پڑے یہ نہ جانے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو جتنی بات مشکوك ہے اسے چھوڑ دے اور جس قدر پر یقین ہے اس پر بنائے کار رکھے (یعنی صورت مذکورہ میں تین ہی رکعتیں سمجھے کہ اس قدر پر یقین ہے اور چوتھی میں شك ہے تو چارنہ سمجھے لہذا ایك رکعت اور پڑھ کر) سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے اب اگر واقع میں اس کی پانچ رکعتیں ہوئیں تو یہ دونوں سجدے (گویا ایك رکعت کے قام مقام ہوکر) اس کی نماز کا دوگانہ پورا کردیں گے (ایك رکعت اکیلی نہ رہے گی جو شرعا باطل ہے بلکہ ان سجدوں سے مل کر ایك نفل دوگانہ جدا گانہ ہوجائے گا) اور اگر واقع میں چار ہی ہوئیں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت وخواری ہوں گے
(کہ اس نے شك ڈال کر نماز باطل کرنی چاہی تھی اس کی نہ چلی اور مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی رحمت سے نماز پوری کی پوری رہی)یہ اس مطلب کا خاص جزئیہ خود حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد مقدس سے ہے۔
فـــــ۱ : تطفل تاسع علی القاری ۔ فــــــ۲ : تطفل عاشر علیہ ۔
فـــــ۳ : تطفل الحادی عشر علیہ ۔
ثانیا حدیث فـــــ۲ دع مایریبك الی مالایریبك کا صریح ارشاد طرح مشکوك واخذ متیقن ہے کہ مشکوك میں ریب ہے اور متیقن بلا ریب نہ یہ کہ شك کا کچھ لحاظ نہ کرو اور امر مشکوك ہی پر قانع رہ کر یہ مالا یریبك نہ ہوا بلکہ یریبک۔
ثالثا صحیح فــــــ۳مسلم شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا شك احدکم فی صلاتہ فلا یدرکم صلی ثلثا اواربعا فلیطرح الشك ولیبن علی مااستیقن ثم یسجد سجدتین قبل ان یسلم فان کان یصلی خمسا شفعن لہ صلاتہ وان کان صلی تماما لاربع کانتا ترغیما للشیطن ۔
جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شك پڑے یہ نہ جانے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو جتنی بات مشکوك ہے اسے چھوڑ دے اور جس قدر پر یقین ہے اس پر بنائے کار رکھے (یعنی صورت مذکورہ میں تین ہی رکعتیں سمجھے کہ اس قدر پر یقین ہے اور چوتھی میں شك ہے تو چارنہ سمجھے لہذا ایك رکعت اور پڑھ کر) سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے اب اگر واقع میں اس کی پانچ رکعتیں ہوئیں تو یہ دونوں سجدے (گویا ایك رکعت کے قام مقام ہوکر) اس کی نماز کا دوگانہ پورا کردیں گے (ایك رکعت اکیلی نہ رہے گی جو شرعا باطل ہے بلکہ ان سجدوں سے مل کر ایك نفل دوگانہ جدا گانہ ہوجائے گا) اور اگر واقع میں چار ہی ہوئیں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت وخواری ہوں گے
(کہ اس نے شك ڈال کر نماز باطل کرنی چاہی تھی اس کی نہ چلی اور مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی رحمت سے نماز پوری کی پوری رہی)یہ اس مطلب کا خاص جزئیہ خود حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد مقدس سے ہے۔
فـــــ۱ : تطفل تاسع علی القاری ۔ فــــــ۲ : تطفل عاشر علیہ ۔
فـــــ۳ : تطفل الحادی عشر علیہ ۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد فصل من شک فی صلوٰۃ فلم یدرکم صلی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱۱
رابعا فــــ۱ مسند احمد میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من صلی صلاۃ یشك فی النقصان فلیصل حتی یشك فی الزیادۃ ۔
جسے نماز میں کامل وناقص کا شك ہو وہ اتنی پڑھے کہ کامل وزائد میں شك ہوجائے۔
مثلا تین اور چار میں شبہ تھا تو یہ تمامی ونقصان میں شك ہے اسے حکم ہے کہ ایك رکعت اور پڑھے اب چار اور پانچ میں شبہ ہوجائے گا کہ تمامی وزیادت میں شك ہے۔ یہ حدیث سے تو اس مطلب کی دوسری تصریح ہے ہی مگر دکھانا یہ ہے کہ اس کی شرح میں خود ملا علی قاری فرماتے ہیں :
لیبن علی الاقل المتیقن فان زیادۃ الطاعۃ خیر من نقصانھا ۔
یعنی کم پر بنا رکھے جتنی یقینا ادا کی ہیں کہ اگر واقع میں کامل ہوچکی تھیں اور ایك رکعت بڑھ گئی تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایك رکعت کم رہ جائے طاعت کی افزونی اس کی کمی سے افضل ہے۔
معلوم نہیں یہ حکم وضو میں کیوں نہ جاری فرمایا حالانکہ اس کی بیشی نماز میں رکعت بڑھا دینے کے برابر نہیں ہوسکتی۔
خامسا وہ جو فـــــ۲فرمایا تثلیث کے بعد شك کی کوئی وجہ نہیں اس سے مراد علم الہی میں تثلیث ہولینا ہے یا علم متوضی میں ۔ برتقدیر ثانی بیشك شك کی کوئی وجہ نہیں مگر وہ ہرگز مراد نہیں کہ کلام شك میں ہے نہ علم میں ۔ اور برتقدیر اول علم الہی شك عبد کا کیا منافی۔ بندہ اس پر مکلف ہے جو اس کے علم میں ہے نہ اس پر جو علم الہی میں ہے جس کے علم کی طرف اسے کوئی سبیل نہیں ۔
سادسا فـــــ۳ معلوم ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمغسل میں سر انور پر تین بار پانی ڈالتے اور اسی کا حکم مردوں عورتوں سب کو فرمایا خاص عورتوں کے باب میں بھی یہی حکم بالتصریح ارشاد ہوا۔
فـــــ۱ : تطفل الثانی عشر علیہ ۔ فـــــ۲ : تطفل الثالث عشر علیہ ۔
فـــــ ۳ : تطفل الرابع عشر علیہ ۔
من صلی صلاۃ یشك فی النقصان فلیصل حتی یشك فی الزیادۃ ۔
جسے نماز میں کامل وناقص کا شك ہو وہ اتنی پڑھے کہ کامل وزائد میں شك ہوجائے۔
مثلا تین اور چار میں شبہ تھا تو یہ تمامی ونقصان میں شك ہے اسے حکم ہے کہ ایك رکعت اور پڑھے اب چار اور پانچ میں شبہ ہوجائے گا کہ تمامی وزیادت میں شك ہے۔ یہ حدیث سے تو اس مطلب کی دوسری تصریح ہے ہی مگر دکھانا یہ ہے کہ اس کی شرح میں خود ملا علی قاری فرماتے ہیں :
لیبن علی الاقل المتیقن فان زیادۃ الطاعۃ خیر من نقصانھا ۔
یعنی کم پر بنا رکھے جتنی یقینا ادا کی ہیں کہ اگر واقع میں کامل ہوچکی تھیں اور ایك رکعت بڑھ گئی تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایك رکعت کم رہ جائے طاعت کی افزونی اس کی کمی سے افضل ہے۔
معلوم نہیں یہ حکم وضو میں کیوں نہ جاری فرمایا حالانکہ اس کی بیشی نماز میں رکعت بڑھا دینے کے برابر نہیں ہوسکتی۔
خامسا وہ جو فـــــ۲فرمایا تثلیث کے بعد شك کی کوئی وجہ نہیں اس سے مراد علم الہی میں تثلیث ہولینا ہے یا علم متوضی میں ۔ برتقدیر ثانی بیشك شك کی کوئی وجہ نہیں مگر وہ ہرگز مراد نہیں کہ کلام شك میں ہے نہ علم میں ۔ اور برتقدیر اول علم الہی شك عبد کا کیا منافی۔ بندہ اس پر مکلف ہے جو اس کے علم میں ہے نہ اس پر جو علم الہی میں ہے جس کے علم کی طرف اسے کوئی سبیل نہیں ۔
سادسا فـــــ۳ معلوم ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمغسل میں سر انور پر تین بار پانی ڈالتے اور اسی کا حکم مردوں عورتوں سب کو فرمایا خاص عورتوں کے باب میں بھی یہی حکم بالتصریح ارشاد ہوا۔
فـــــ۱ : تطفل الثانی عشر علیہ ۔ فـــــ۲ : تطفل الثالث عشر علیہ ۔
فـــــ ۳ : تطفل الرابع عشر علیہ ۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۱۹۵
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلوٰۃ باب السہو حدیث ۱۰۲۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۱۰۸
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصلوٰۃ باب السہو حدیث ۱۰۲۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۱۰۸
صحیح مسلم وسنن اربعہ میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہاسے ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں سرگندھواتی ہوں کیا نہاتے میں کھول دیا کروں فرمایا :
انما یکفیك ان تحثی علی رأسك ثلث حثیات ۔
سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو یہی کافی ہے۔
آخر امر چہارم میں حدیث ابی داؤد ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے گزری کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اما المراۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا ۔
عورت کو کچھ ضرور نہیں کہ اپنا گندھا سر کھولے بس تین لپ پانی ڈال لے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے طریقہ غسل میں روایت فرماتی ہیں :
ثم یصب علی رأسہ ثلث غرفات بیدیہ ۔ رؤیاہ عنہا رضی الله تعالی عنہا۔
پھر سر مبارك پر تین لپ ڈالتے تھے ۔
اور خود اپنا فرماتی ہیں :
لقد کنت اغتسل انا ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من اناء واحد وما ازید علی ان افرغ علی رأسی ثلث افراغات رواہ احمد ومسلم ۔
میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن سے نہایا کرتے اور میں اپنے سر پر تین ہی بار پانی ڈالتی یعنی جعد مبارك نہ کھولتیں ۔ اسے احمد ومسلم نے روایت کیا ت)
انما یکفیك ان تحثی علی رأسك ثلث حثیات ۔
سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو یہی کافی ہے۔
آخر امر چہارم میں حدیث ابی داؤد ثوبان رضی اللہ تعالی عنہسے گزری کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اما المراۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا ۔
عورت کو کچھ ضرور نہیں کہ اپنا گندھا سر کھولے بس تین لپ پانی ڈال لے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے طریقہ غسل میں روایت فرماتی ہیں :
ثم یصب علی رأسہ ثلث غرفات بیدیہ ۔ رؤیاہ عنہا رضی الله تعالی عنہا۔
پھر سر مبارك پر تین لپ ڈالتے تھے ۔
اور خود اپنا فرماتی ہیں :
لقد کنت اغتسل انا ورسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من اناء واحد وما ازید علی ان افرغ علی رأسی ثلث افراغات رواہ احمد ومسلم ۔
میں اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك برتن سے نہایا کرتے اور میں اپنے سر پر تین ہی بار پانی ڈالتی یعنی جعد مبارك نہ کھولتیں ۔ اسے احمد ومسلم نے روایت کیا ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰ ، سنن ترمذی ابواب الطہارۃ باب ھل تنقض المرأۃ شعرہا عندالغسل حدیث ۱۰۵ دارلفکر بیروت ۱ / ۱۶۰ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃباب ما جاء فی غسل النساء من الجنابۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۴۵ ، سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۳
سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴
صحیح البخاری کتاب الغسل باب الوضوء1قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۳۹
صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰ ، مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۴۳
سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۴
صحیح البخاری کتاب الغسل باب الوضوء1قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۳۹
صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰ ، مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۴۳
بااینہمہ ف۱ یہی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں :
کان رسول الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ وضؤہ للصلاۃ ثم یفیض علی رأسہ ثلث مرار ونحن نفیض علی رؤسنا خمسا من اجل للضفر ۔ رواہ ابو داؤد۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنماز کا سا وضو کرکے سر اقدس پر تین بار پانی بہاتے تھے اور ہم بیبیاں سر گندھے ہونے کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ بار پانی بہاتی ہیں ۔ (اس کو ابو داؤد نے روایت کیا )
اب کون کہہ سکتا ہے کہ معاذ الله امہات المومنین کا یہ فعل وسوسہ تھا حاشا بلکہ وہی اطمینان قلب جسے علماء کرام یہاں فرمارہے ہیں ۔
سابعا وھو فــــ۲ الحل صورتیں تین ہیں :
اول : یہ کہ متوضی جانتا ہے کہ میں نے تین بار دھو لیا ہر بار بالاستیعاب پھر اس کا دل مطمئن نہ ہو اور چوتھی بار اور بہانا چاہے۔
دوم : یاد نہیں کہ تین بار پانی ڈالا یا دو بار۔
سوم : تثلیث تو معلوم ہے مگر ہر بار استیعاب میں شك ہے۔
ملا علی صورت اولی سمجھے ہیں جب تو فرماتے ہیں کہ تین پورے ہونے کے بعد شك کے کیا معنے۔ اپنا شك چھوڑ ے اور جو عدد شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مقرر فرمایا اس پر قانع رہے۔ اس صورت پر ان کا انکار بیشك صحیح ہے مگر یہ ہرگز مراد علماء نہیں ان کا کلام صورت شك میں ہے اور یہ صورت صورت علم ہے اور وسوسہ مردود دونا معتبر ہے۔ شك کی صورت دو صورت اخیر ہیں وہی مراد ائمہ ہیں اور ان پر قاری کا کوئی اعتراض وارد نہیں ان میں طمانینت قلب ضرور مطلوب شرع ہے جن میں سے امہات المومنین کا پانچ بارپانی ڈالنا صورت اخیرہ ہے وبالله التوفیق۔
بالجملہ جس مسئلہ پر ہمارے علماء کے کلمات متظافر ہوں اپنے فہم سے اس پر اعتراض آسان نہیں
فـــــ۱ مسئلہ : عورت کے بال گندھے ہوں اور تین بار سر پر پانی بہانے سے تثلیث میں شبہ رہے تو پانچ بار بہا سکتی ہے
فـــــ۲ : تطفل الخامس عشر علیہ۔
کان رسول الله تعالی علیہ وسلم یتوضأ وضؤہ للصلاۃ ثم یفیض علی رأسہ ثلث مرار ونحن نفیض علی رؤسنا خمسا من اجل للضفر ۔ رواہ ابو داؤد۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنماز کا سا وضو کرکے سر اقدس پر تین بار پانی بہاتے تھے اور ہم بیبیاں سر گندھے ہونے کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ بار پانی بہاتی ہیں ۔ (اس کو ابو داؤد نے روایت کیا )
اب کون کہہ سکتا ہے کہ معاذ الله امہات المومنین کا یہ فعل وسوسہ تھا حاشا بلکہ وہی اطمینان قلب جسے علماء کرام یہاں فرمارہے ہیں ۔
سابعا وھو فــــ۲ الحل صورتیں تین ہیں :
اول : یہ کہ متوضی جانتا ہے کہ میں نے تین بار دھو لیا ہر بار بالاستیعاب پھر اس کا دل مطمئن نہ ہو اور چوتھی بار اور بہانا چاہے۔
دوم : یاد نہیں کہ تین بار پانی ڈالا یا دو بار۔
سوم : تثلیث تو معلوم ہے مگر ہر بار استیعاب میں شك ہے۔
ملا علی صورت اولی سمجھے ہیں جب تو فرماتے ہیں کہ تین پورے ہونے کے بعد شك کے کیا معنے۔ اپنا شك چھوڑ ے اور جو عدد شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مقرر فرمایا اس پر قانع رہے۔ اس صورت پر ان کا انکار بیشك صحیح ہے مگر یہ ہرگز مراد علماء نہیں ان کا کلام صورت شك میں ہے اور یہ صورت صورت علم ہے اور وسوسہ مردود دونا معتبر ہے۔ شك کی صورت دو صورت اخیر ہیں وہی مراد ائمہ ہیں اور ان پر قاری کا کوئی اعتراض وارد نہیں ان میں طمانینت قلب ضرور مطلوب شرع ہے جن میں سے امہات المومنین کا پانچ بارپانی ڈالنا صورت اخیرہ ہے وبالله التوفیق۔
بالجملہ جس مسئلہ پر ہمارے علماء کے کلمات متظافر ہوں اپنے فہم سے اس پر اعتراض آسان نہیں
فـــــ۱ مسئلہ : عورت کے بال گندھے ہوں اور تین بار سر پر پانی بہانے سے تثلیث میں شبہ رہے تو پانچ بار بہا سکتی ہے
فـــــ۲ : تطفل الخامس عشر علیہ۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤدکتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۳۲
معترضین ہی کی لغزش نظر ثابت ہوتی ہے اگرچہ غنیہ وبحر وقاری جیسے ماہرین ہوں والحمدلله رب العلمین۔
تنبیہ۷ : الحمدلله کلام اپنے منتہی کو پہنچا اور اسراف کے معنے وصور نے بھی بروجہ کامل انکشاف پایا اب بتوفیق الله تعالی تحقیق حکم کی طرف باگ پھیریں ۔
اقول : انصافا چاروں قول میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے مطروح وناقابل التفات سمجھئے۔
قول سوم کی عظمت تو محتاج بیان نہیں بدائع وفتح وخلاصہ کی وقعت درکنار خود ظاہر الروایۃ میں محرر المذہب کا نص ہے
قول دوم کے ساتھ حلیہ وبحر کا اوجہ کہنا ہے کہ الفاظ فتوی سے ہے اور امام ابو زکریا نووی کے استظہار پر نظر کیجئے تو گویا اسی پر اجماع کا پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اسراف سے نہی پر اجماع علماء نقل فرما کر نہی سے کراہت تنزیہ مراد ہونے کو اظہر بتایا ۔
قول چہارم جسے علامہ شامی نے خارج از مذہب گمان فرمایا تھا اس کی تحقیق سن چکے اور یہ کہ وہی مختار درمختار۱ونہر الفائق۲ ومفاد۳ منتقی وجواہر۴الفتاوی وتبیین۵الحقائق ہے نیز زبدہ۶وحجہ۷سے مستفاد کہ ان میں بھی کراہت مطلق ہے جامع الرموز میں ہے :
تکرہ الزیادۃ عی الثلث کما فی الزبدۃ ۔
تین مرتبہ سے زیادہ مکروہ ہے جیسا کہ زبدہ میں ہے۔ (ت)
ط علی المراقی میں ہے :
فی فتاوی الحجۃ یکرہ صب الماء فی الوضوء زیادۃ علی العدد المسنون والقدر المعھود لماورد فی الخبر شرار امتی الذین یسرفون فی صب الماء ۔
فتاوی الحجہ میں ہے وضو میں تعدا د مسنون اور مقدا معہود سے زیادہ پانی بہا نا مکروہ ہے اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں
بلکہ علامہ طحطاوی نے اس پر اتفاق بتایا قول در الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع (ماء جاری میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی ضائع نہیں جاتا (ت)پر لکھتے ہیں :
تنبیہ۷ : الحمدلله کلام اپنے منتہی کو پہنچا اور اسراف کے معنے وصور نے بھی بروجہ کامل انکشاف پایا اب بتوفیق الله تعالی تحقیق حکم کی طرف باگ پھیریں ۔
اقول : انصافا چاروں قول میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے مطروح وناقابل التفات سمجھئے۔
قول سوم کی عظمت تو محتاج بیان نہیں بدائع وفتح وخلاصہ کی وقعت درکنار خود ظاہر الروایۃ میں محرر المذہب کا نص ہے
قول دوم کے ساتھ حلیہ وبحر کا اوجہ کہنا ہے کہ الفاظ فتوی سے ہے اور امام ابو زکریا نووی کے استظہار پر نظر کیجئے تو گویا اسی پر اجماع کا پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اسراف سے نہی پر اجماع علماء نقل فرما کر نہی سے کراہت تنزیہ مراد ہونے کو اظہر بتایا ۔
قول چہارم جسے علامہ شامی نے خارج از مذہب گمان فرمایا تھا اس کی تحقیق سن چکے اور یہ کہ وہی مختار درمختار۱ونہر الفائق۲ ومفاد۳ منتقی وجواہر۴الفتاوی وتبیین۵الحقائق ہے نیز زبدہ۶وحجہ۷سے مستفاد کہ ان میں بھی کراہت مطلق ہے جامع الرموز میں ہے :
تکرہ الزیادۃ عی الثلث کما فی الزبدۃ ۔
تین مرتبہ سے زیادہ مکروہ ہے جیسا کہ زبدہ میں ہے۔ (ت)
ط علی المراقی میں ہے :
فی فتاوی الحجۃ یکرہ صب الماء فی الوضوء زیادۃ علی العدد المسنون والقدر المعھود لماورد فی الخبر شرار امتی الذین یسرفون فی صب الماء ۔
فتاوی الحجہ میں ہے وضو میں تعدا د مسنون اور مقدا معہود سے زیادہ پانی بہا نا مکروہ ہے اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں
بلکہ علامہ طحطاوی نے اس پر اتفاق بتایا قول در الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع (ماء جاری میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی ضائع نہیں جاتا (ت)پر لکھتے ہیں :
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الطہارۃ سنن الوضوء مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ / ۳۵
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃفصل فی المکروہات دار الکتب ا لعلمیہ بیروت ص ۸۰
الدرا لمختار ، کتاب الطہارۃ سنن الوضو مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃفصل فی المکروہات دار الکتب ا لعلمیہ بیروت ص ۸۰
الدرا لمختار ، کتاب الطہارۃ سنن الوضو مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
ای لانہ یعود الیہ ثانیا فلواخرج الماء خارجہ یکرہ اتفاقا اھ ومن الظاھر ان ھذہ الکراھۃ مذکورۃ فی مقابلۃ الجائز فتکون تحریمیۃ۔
یعنی اس لئے کہ پانی اس میں دوبارہ لوٹ جائیگا اگر پانی نکال کر اس کے باہر گرائے تو بالاتفاق مکروہ ہے اھ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ جائز کے مقابلہ میں مذکور ہے تو تحریمی ہوگا(ت)
اور ہماری تقریرات سابقہ سے اس کے دلائل کی قوت ظاہر ہاں قول اول بعض شافعیہ سے منقول تھا مگر ۱علامہ محقق ابراہیم حلبی نے کتب مذہب سے غنیہ میں اس پر جزم فرمایا کما سمعت پھر علامہ ابراہیم حلبی و۲علامہ سید احمد مصری نے حواشی در میں اسی پر اعتماد کیا اور اس کے خلاف کو ضعیف بتایا درمختار میں قول مذکور جواہر نقل فرمایا :
الاسراف فی الماء الجاری جائز ۔
بہتے پانی میں اسراف جائز ہے۔ (ت)
علامہ طحطاوی اس پر فرماتے ہیں :
ضعیف بل ھو مکروہ سواء کان فی وسط الماء اوفی ضفتہ حیث کان لغیر حاجۃ اھ
حلبی یہ قول ضعیف ہے بلکہ آب رواں میں بھی اسراف مکروہ ہے چاہے بیچ نہر میں ہو یا کنارے ہو اس لئے کہ بلاضرورت ہے اھ حلبی (ت)
نیز دونوں حاشیوں میں ہے :
من المعلوم ان الاسراف مکروہ تحریما لا تنزیھا ۔
معلوم ہے کہ اسراف مکروہ تنزیہی نہیں تحریمی ہے ۔ (ت)
بلکہ شرح شرعۃ الاسلام میں ہے :
ھو حرام وان کان فی شط النھر
اسراف حرام ہے اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔ ( ت)
یعنی اس لئے کہ پانی اس میں دوبارہ لوٹ جائیگا اگر پانی نکال کر اس کے باہر گرائے تو بالاتفاق مکروہ ہے اھ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ جائز کے مقابلہ میں مذکور ہے تو تحریمی ہوگا(ت)
اور ہماری تقریرات سابقہ سے اس کے دلائل کی قوت ظاہر ہاں قول اول بعض شافعیہ سے منقول تھا مگر ۱علامہ محقق ابراہیم حلبی نے کتب مذہب سے غنیہ میں اس پر جزم فرمایا کما سمعت پھر علامہ ابراہیم حلبی و۲علامہ سید احمد مصری نے حواشی در میں اسی پر اعتماد کیا اور اس کے خلاف کو ضعیف بتایا درمختار میں قول مذکور جواہر نقل فرمایا :
الاسراف فی الماء الجاری جائز ۔
بہتے پانی میں اسراف جائز ہے۔ (ت)
علامہ طحطاوی اس پر فرماتے ہیں :
ضعیف بل ھو مکروہ سواء کان فی وسط الماء اوفی ضفتہ حیث کان لغیر حاجۃ اھ
حلبی یہ قول ضعیف ہے بلکہ آب رواں میں بھی اسراف مکروہ ہے چاہے بیچ نہر میں ہو یا کنارے ہو اس لئے کہ بلاضرورت ہے اھ حلبی (ت)
نیز دونوں حاشیوں میں ہے :
من المعلوم ان الاسراف مکروہ تحریما لا تنزیھا ۔
معلوم ہے کہ اسراف مکروہ تنزیہی نہیں تحریمی ہے ۔ (ت)
بلکہ شرح شرعۃ الاسلام میں ہے :
ھو حرام وان کان فی شط النھر
اسراف حرام ہے اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔ ( ت)
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ سنن الوضوء ، المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۲
الدرالمختار ، کتاب الطہارت ، سنن الوضوء مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ سنن الوضوء المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ سنن الوضوء ، المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۲
شرعۃ الاسلام شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۱
الدرالمختار ، کتاب الطہارت ، سنن الوضوء مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ سنن الوضوء المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ، کتاب الطہارۃ سنن الوضوء ، المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۷۲
شرعۃ الاسلام شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۱
اور اس کے ساتھ نص فـــــ حدیث ہے۔
حدیث عـــــہ ۱ : امام احمد بن حنبل وابن ماجہ وابو یعلی اور بیہقی شعب الایمان میں عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مر بسعد وھو یتوضأ فقال ماھذا السرف فقال افی الوضوء اسراف قال نعم وان کنت علی نھر جار ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسعد رضی اللہ تعالی عنہپر گزرے وہ وضو کررہے تھے ارشاد فرمایا : یہ اسراف کیسا عرض کی : کیا وضو میں اسراف ہے فرمایا : ہاں اگرچہ تم نہر رواں پر ہو۔ (ت)
اقول : اتمام تقریب یہ کہ حدیث نے نہر جاری میں بھی اسراف ثابت فرمایا اور اسراف شرع میں مذموم ہی ہو کر آیا ہے۔ آیہ کریمہ و لا تسرفوا-انه لا یحب المسرفین(۱۴۱) (اور اسراف نہ کرو الله مسرفین کو محبوب نہیں رکھتا۔ ت) مطلق ہے تو یہ اسراف بھی مذموم وممنوع ہی ہوگا بلکہ خود اسراف فی الوضوء میں بھی صیغہ نہی وارد اور نہی حقیقۃ مفید تحریم۔
حدیث۲ : سنن ابن ماجہ میں عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے ہے :
رأی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم رجلا یتوضأ فقال لاتسرف لاتسرف ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا اسراف نہ کر اسراف نہ کر۔
حدیث۳ : سعید بن منصور سنن اور حاکم کنی اور ابن عساکر تاریخ میں ابن شہاب زہری سے
عـــــہ : فتاوی حجہ سے ایك حدیث ابھی گزری کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیری امت کے بد لوگ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں ۔
فــــــ : وضو میں ممانعت اسراف کی حدیثیں ۔
حدیث عـــــہ ۱ : امام احمد بن حنبل وابن ماجہ وابو یعلی اور بیہقی شعب الایمان میں عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم مر بسعد وھو یتوضأ فقال ماھذا السرف فقال افی الوضوء اسراف قال نعم وان کنت علی نھر جار ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسعد رضی اللہ تعالی عنہپر گزرے وہ وضو کررہے تھے ارشاد فرمایا : یہ اسراف کیسا عرض کی : کیا وضو میں اسراف ہے فرمایا : ہاں اگرچہ تم نہر رواں پر ہو۔ (ت)
اقول : اتمام تقریب یہ کہ حدیث نے نہر جاری میں بھی اسراف ثابت فرمایا اور اسراف شرع میں مذموم ہی ہو کر آیا ہے۔ آیہ کریمہ و لا تسرفوا-انه لا یحب المسرفین(۱۴۱) (اور اسراف نہ کرو الله مسرفین کو محبوب نہیں رکھتا۔ ت) مطلق ہے تو یہ اسراف بھی مذموم وممنوع ہی ہوگا بلکہ خود اسراف فی الوضوء میں بھی صیغہ نہی وارد اور نہی حقیقۃ مفید تحریم۔
حدیث۲ : سنن ابن ماجہ میں عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے ہے :
رأی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم رجلا یتوضأ فقال لاتسرف لاتسرف ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا اسراف نہ کر اسراف نہ کر۔
حدیث۳ : سعید بن منصور سنن اور حاکم کنی اور ابن عساکر تاریخ میں ابن شہاب زہری سے
عـــــہ : فتاوی حجہ سے ایك حدیث ابھی گزری کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیری امت کے بد لوگ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں ۔
فــــــ : وضو میں ممانعت اسراف کی حدیثیں ۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل ، عن عبد اللہ بن عمر و ، المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۲۱ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱ ، ۷ / ۳۱
سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱ ، ۷ / ۳۱
سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
مرسلا راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ایك شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا !یاعبدالله لاتسرف (الله کے بندے اسراف نہ کر۔ ت) انہوں نے عرض کی : یانبی الله وفی الوضوء اسراف قال نعم (زاد الاخیران) وفی کل شیئ اسراف یا رسول اللہ! کیا وضو میں بھی اسراف ہے فرمایا : ہاں اور ہر شے میں اسراف کودخل ہے۔
حدیث۴ : مرسل یحیی بن ابی عمرو کہ بیان معانی اسراف میں گزری
فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف
وضو میں اسراف ہے اور ہر شے میں اسراف ہے۔
حدیث۵ : ترمذی وابن ماجہ وحاکم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان للوضوء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماء ۔
بے شك وضو کیلئے ایك شیطان ہے جس کانام ولہان ہے تو پانی کے وسواس سے بچو۔
حدیث۶ : مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وصحیح ابن حبان ومستدرك حاکم میں عبدالله بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
انہ سیکون فی ھذہ الامۃ قوم یعتدون فی الطہور والدعاء ۔
بیشك عنقریب اس امت میں وہ لوگ ہوں گے کہ طہارت ودعاء میں حد سے بڑھیں گے۔
اور الله عزوجل فرماتا ہے :
و من یتعد حدود الله فقد ظلم نفسه-
جو الله تعالی کی باندھی حدوں سے بڑھے بیشك اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
حدیث۴ : مرسل یحیی بن ابی عمرو کہ بیان معانی اسراف میں گزری
فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف
وضو میں اسراف ہے اور ہر شے میں اسراف ہے۔
حدیث۵ : ترمذی وابن ماجہ وحاکم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان للوضوء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماء ۔
بے شك وضو کیلئے ایك شیطان ہے جس کانام ولہان ہے تو پانی کے وسواس سے بچو۔
حدیث۶ : مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وصحیح ابن حبان ومستدرك حاکم میں عبدالله بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
انہ سیکون فی ھذہ الامۃ قوم یعتدون فی الطہور والدعاء ۔
بیشك عنقریب اس امت میں وہ لوگ ہوں گے کہ طہارت ودعاء میں حد سے بڑھیں گے۔
اور الله عزوجل فرماتا ہے :
و من یتعد حدود الله فقد ظلم نفسه-
جو الله تعالی کی باندھی حدوں سے بڑھے بیشك اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
حوالہ / References
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ابو عیسٰی الدمشقی ۹۰۸۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷۱ / ۹۴ ، کنز العمال بحوالہ الحاکم فی الکنٰی و ابن عساکر عن الزہری مرسلا حدیث ۲۶۲۶۱ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۳۲۷
کنز العمال بحوالہ یحیی بن ابی عمر الشیبانی حدیث ۲۶۲۴۸ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۳۲۵
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی کراھیۃ الاسراف حدیث ۵۷ دار الفکر بیروت۱ / ۱۲۲ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارت باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۴
سنن ابو داؤد کتاب الطہارۃ باب الاسراف فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد و ابی داؤدوابن ماجہ کتاب الطہارت با ب سنن الوضو قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۷
القرآن الکریم ۶۵ /۱
کنز العمال بحوالہ یحیی بن ابی عمر الشیبانی حدیث ۲۶۲۴۸ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ / ۳۲۵
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی کراھیۃ الاسراف حدیث ۵۷ دار الفکر بیروت۱ / ۱۲۲ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارت باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۴
سنن ابو داؤد کتاب الطہارۃ باب الاسراف فی الوضوء آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳ ، مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد و ابی داؤدوابن ماجہ کتاب الطہارت با ب سنن الوضو قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۷
القرآن الکریم ۶۵ /۱
حدیث۷ : ابو نعیم حلیہ میں انس رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
لاخیر فی صب الماء الکثیر فی الوضوء وانہ من الشیطان ۔
وضو میں بہت سا پانی بھپکانے میں کچھ خیر نہیں اور وہ شیطان کی طرف سے ہے۔
نفی خیر اپنے فــــــ۱معنی لغوی پر اگرچہ مباح سے بھی ممکن کہ جب طرفین برابر ہیں تو کسی میں نہ خیر نہ شرو لہذا علامہ عمر نے نہرالفائق میں مسئلہ فــــــ۲ کراہت کلام بعد طلوع فجر تا طلوع شمس وبعد نماز فــــــ۳ عشا میں فرمایا :
المراد مالیس بخیر وانما یتحقق فی کلام ھو عبادۃ اذالمباح لاخیر فیہ کما لااثم فیہ فیکرہ فی ھذہ الاوقات کلہا نقلہ السید ابو السعود فی فتح الله المعین۔
مراد وہ کلام ہے جو خیر نہ ہو اور خیر کا تحقق اسی کلام میں ہوگا جو عبادت ہو اس لئے کہ مباح میں “ کوئی خیر نہیں “ جیسے اس میں “ کوئی گناہ نہیں تو مباح کلام بھی ان اوقات میں مکروہ ہوگا اسے سید ابو السعود نے فتح الله المعین میں نہر سے نقل کیا (ت)
اقول : مگر نظر دقیق لیس بخیر اور لاخیر فیہ میں فرق کرتی ہے مباح ضرور نہ خیر نہ شر مگر اس کے فعل پر مواخذہ نہیں اور مؤاخذہ نہ ہونا خود خیر کثیر ونفع عظیم ہے تو لاخیر فیہ وہیں اطلاق ہوگا جہاں شر حاصل ہو۔
فاصاب فــــــ۴ رحمہ الله تعالی فی قولہ المراد ما لیس بخیر وتسامح فی قولہ لاخیر فیہ فحق العبارۃ المباح لیس
بخیر کما انہ لیس بشر۔ صاحب النہر نے یہ تو ٹھیك فرمایا کہ مراد مالیس بخیر (وہ جو خیر نہیں ) اور اس میں ان سے تسامح ہوا کہ المباح لا خیر فیہ (مباح
فــــــ۱ : تحقیق مفاد لا خیر فیہ ۔
فــــــ ۲ مسئلہ : طلوع صبح صادق سے طلوع شمس تك دنیاوی کلام مطلقا مکروہ ہے ۔
فــــــ ۳ مسئلہ : نماز عشاء پڑھنے کے بعد بے حاجت دنیاوی باتوں میں اشتغال مکروہ ہے۔
فــــــ۴ : تطفل علی النہر ومن تبعہ ۔
لاخیر فی صب الماء الکثیر فی الوضوء وانہ من الشیطان ۔
وضو میں بہت سا پانی بھپکانے میں کچھ خیر نہیں اور وہ شیطان کی طرف سے ہے۔
نفی خیر اپنے فــــــ۱معنی لغوی پر اگرچہ مباح سے بھی ممکن کہ جب طرفین برابر ہیں تو کسی میں نہ خیر نہ شرو لہذا علامہ عمر نے نہرالفائق میں مسئلہ فــــــ۲ کراہت کلام بعد طلوع فجر تا طلوع شمس وبعد نماز فــــــ۳ عشا میں فرمایا :
المراد مالیس بخیر وانما یتحقق فی کلام ھو عبادۃ اذالمباح لاخیر فیہ کما لااثم فیہ فیکرہ فی ھذہ الاوقات کلہا نقلہ السید ابو السعود فی فتح الله المعین۔
مراد وہ کلام ہے جو خیر نہ ہو اور خیر کا تحقق اسی کلام میں ہوگا جو عبادت ہو اس لئے کہ مباح میں “ کوئی خیر نہیں “ جیسے اس میں “ کوئی گناہ نہیں تو مباح کلام بھی ان اوقات میں مکروہ ہوگا اسے سید ابو السعود نے فتح الله المعین میں نہر سے نقل کیا (ت)
اقول : مگر نظر دقیق لیس بخیر اور لاخیر فیہ میں فرق کرتی ہے مباح ضرور نہ خیر نہ شر مگر اس کے فعل پر مواخذہ نہیں اور مؤاخذہ نہ ہونا خود خیر کثیر ونفع عظیم ہے تو لاخیر فیہ وہیں اطلاق ہوگا جہاں شر حاصل ہو۔
فاصاب فــــــ۴ رحمہ الله تعالی فی قولہ المراد ما لیس بخیر وتسامح فی قولہ لاخیر فیہ فحق العبارۃ المباح لیس
بخیر کما انہ لیس بشر۔ صاحب النہر نے یہ تو ٹھیك فرمایا کہ مراد مالیس بخیر (وہ جو خیر نہیں ) اور اس میں ان سے تسامح ہوا کہ المباح لا خیر فیہ (مباح
فــــــ۱ : تحقیق مفاد لا خیر فیہ ۔
فــــــ ۲ مسئلہ : طلوع صبح صادق سے طلوع شمس تك دنیاوی کلام مطلقا مکروہ ہے ۔
فــــــ ۳ مسئلہ : نماز عشاء پڑھنے کے بعد بے حاجت دنیاوی باتوں میں اشتغال مکروہ ہے۔
فــــــ۴ : تطفل علی النہر ومن تبعہ ۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابی نعیم عن انس حدیث ۲۶۲۶۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۳۲۷
النہر الفائق کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۹۹ ، فتح المعین کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷
النہر الفائق کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶۹۹ ، فتح المعین کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۷
بخیر کما انہ لیس بشر۔
میں کوئی خیر نہیں ) صحیح تعبیر یہ تھی کہ المباح لیس بخیر کما انہ لیس بشر مباح اچھا نہیں جیسے کہ وہ برا بھی نہیں ۔ (ت)
ولہذا جبکہ ہدایہ میں فرمایا :
لاخیر فی السلم فی اللحم
(گوشت میں بیع سلم بہتر نہیں ۔ ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :
ھذہ العبارۃ تاکید فی نفی الجواز
( یہ عبارت نفی جواز کی تاکید کرتی ہے۔ ت)
اقول : رب عزوجل فرماتا ہے :
لا خیر فی كثیر من نجوىهم الا من امر بصدقة او معروف او اصلاحۭ بین الناس- ۔
ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات اچھی با ت یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔ (ت)
ہر معروف کو استثنا فرمالیا اور ہر طاعت معروف ہے تو باقی نہ رہے مگر مباح یا معاصی تو اگر لاخیر فیہ مباح کو بھی شامل ہوتا فی کثیر نہ فرماتے بلکہ فی شی من نجوھم لاجرم وہ معصیت کے ساتھ خاص ہے والله تعالی اعلم۔
حدیث۸ : حدیث صحیح جس کی طرف بارہا اشارہ گزرا احمد وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داؤد ونسائی وابن ماجہ وطحاوی عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ایك اعرابی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوکر وضو کو پوچھا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انہیں وضو کر کے دکھایا جس میں ہر عضو تین تین بار دھویا پھر فرمایا :
ھکذا الوضوء فمن زاد علی ھذا اونقص فقد اساء وظلم اوظلم واساء ھذا لفظ د وقد اوردہ
اسی طرح ہے وضو تو جس نے اس پر بڑھایاگھٹایا تویقینااس نے برا کیااور ظلم کیا۔ ۔ یا (فرمایا ) ظلم کیا اور برا کیا ۔ ۔ یہ ابوداؤ د کے الفاظ
میں کوئی خیر نہیں ) صحیح تعبیر یہ تھی کہ المباح لیس بخیر کما انہ لیس بشر مباح اچھا نہیں جیسے کہ وہ برا بھی نہیں ۔ (ت)
ولہذا جبکہ ہدایہ میں فرمایا :
لاخیر فی السلم فی اللحم
(گوشت میں بیع سلم بہتر نہیں ۔ ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :
ھذہ العبارۃ تاکید فی نفی الجواز
( یہ عبارت نفی جواز کی تاکید کرتی ہے۔ ت)
اقول : رب عزوجل فرماتا ہے :
لا خیر فی كثیر من نجوىهم الا من امر بصدقة او معروف او اصلاحۭ بین الناس- ۔
ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات اچھی با ت یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔ (ت)
ہر معروف کو استثنا فرمالیا اور ہر طاعت معروف ہے تو باقی نہ رہے مگر مباح یا معاصی تو اگر لاخیر فیہ مباح کو بھی شامل ہوتا فی کثیر نہ فرماتے بلکہ فی شی من نجوھم لاجرم وہ معصیت کے ساتھ خاص ہے والله تعالی اعلم۔
حدیث۸ : حدیث صحیح جس کی طرف بارہا اشارہ گزرا احمد وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داؤد ونسائی وابن ماجہ وطحاوی عبدالله بن عمررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی ایك اعرابی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوکر وضو کو پوچھا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انہیں وضو کر کے دکھایا جس میں ہر عضو تین تین بار دھویا پھر فرمایا :
ھکذا الوضوء فمن زاد علی ھذا اونقص فقد اساء وظلم اوظلم واساء ھذا لفظ د وقد اوردہ
اسی طرح ہے وضو تو جس نے اس پر بڑھایاگھٹایا تویقینااس نے برا کیااور ظلم کیا۔ ۔ یا (فرمایا ) ظلم کیا اور برا کیا ۔ ۔ یہ ابوداؤ د کے الفاظ
حوالہ / References
الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ۳ / ۹۵
فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ / ۲۱۵
القرآن الکریم ۴ /۱۱۴
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء ثلثا آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۸
فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ / ۲۱۵
القرآن الکریم ۴ /۱۱۴
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء ثلثا آفتاب عالم پریس لاہور۱ / ۱۸
مطولا مع ذکر صفۃ الوضو۔ ومثلہ لفظ الامام الطحاوی ومقتصرا علی قولہ اساء وظلم من دون شک ولفظ س وق فمن زاد علی ھذا فقد اساء وتعدی وظلم ولفظ سعید وابی بکر فمن زاد او نقص فقد تعدی وظلم ۔
ہیں اور انہوں نے یہ حدیث طریقہ وضو کے بیان کے ساتھ طویل ذکر کی ہے ۔ اسی کے مثل امام طحاوی کے بھی الفاظ ہیں اور ان کی راویت میں بغیر شك صرف اتنا ہے کہ اس “ اس نے برا کیا اور ظلم کیا “ سعید بن منصور اور ابوبکر بن شیبہ کے الفاظ یہ ہیں جس نے زیادتی یا کمی کی تو یقینا وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔ ۔ (ت)اور نسائی و ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : تو جس نے اس پر زیادتی کی بہ تحقیق اس نے بر اکیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔ (ان تمام روایات کا حاصل یہ ہوا کہ)
وضو اس طرح ہے جس نے اس پر بڑھایا یا گھٹایا اس نے برا کیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا۔ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور مذہب اول وچہارم کی مؤید بالجملہ ان میں کوئی مذہب مطر ودو مطروح نہیں لہذا راہ یہ ہے کہ بتوفیق الہی جانب توفیق چلئے۔
فاقول : وبالله فــــــ التوفیق وبہ الاصول الی ذری التحقیق (تحقیق کی انتہاء تك پہنچنا الله ہی کی توفیق سے ہے۔ ت) تقدیر شرعی سے زیادہ پانی ڈالنا سہوا ہوگا یا بحال شك یا دیدہ ودانستہ۔ اول یہ کہ تین بار استیعابا دھو لیا اور یاد رہا کہ دو۲ ہی بار دھویا ہے۔ اور دوم یہ کہ مثلا دو یا تین میں شبہ ہوگیا یہ دونوں صورتیں یقینا ممانعت سے خارج ہیں ۔
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا
فــــــ : مسئلہ : مصنف کی تحقیق مفرد۔
ہیں اور انہوں نے یہ حدیث طریقہ وضو کے بیان کے ساتھ طویل ذکر کی ہے ۔ اسی کے مثل امام طحاوی کے بھی الفاظ ہیں اور ان کی راویت میں بغیر شك صرف اتنا ہے کہ اس “ اس نے برا کیا اور ظلم کیا “ سعید بن منصور اور ابوبکر بن شیبہ کے الفاظ یہ ہیں جس نے زیادتی یا کمی کی تو یقینا وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔ ۔ (ت)اور نسائی و ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : تو جس نے اس پر زیادتی کی بہ تحقیق اس نے بر اکیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔ (ان تمام روایات کا حاصل یہ ہوا کہ)
وضو اس طرح ہے جس نے اس پر بڑھایا یا گھٹایا اس نے برا کیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا۔ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور مذہب اول وچہارم کی مؤید بالجملہ ان میں کوئی مذہب مطر ودو مطروح نہیں لہذا راہ یہ ہے کہ بتوفیق الہی جانب توفیق چلئے۔
فاقول : وبالله فــــــ التوفیق وبہ الاصول الی ذری التحقیق (تحقیق کی انتہاء تك پہنچنا الله ہی کی توفیق سے ہے۔ ت) تقدیر شرعی سے زیادہ پانی ڈالنا سہوا ہوگا یا بحال شك یا دیدہ ودانستہ۔ اول یہ کہ تین بار استیعابا دھو لیا اور یاد رہا کہ دو۲ ہی بار دھویا ہے۔ اور دوم یہ کہ مثلا دو یا تین میں شبہ ہوگیا یہ دونوں صورتیں یقینا ممانعت سے خارج ہیں ۔
لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا
فــــــ : مسئلہ : مصنف کی تحقیق مفرد۔
حوالہ / References
شرح معانی الاثار کتاب الطہارۃ با ب فرض الرجلین فی وضوء الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۲
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی قصد الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
المصنف ابن ابی شیبۃ کتاب النہارۃ باب الوضوء کم ہو مرۃ حدیث ۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی قصد الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴
المصنف ابن ابی شیبۃ کتاب النہارۃ باب الوضوء کم ہو مرۃ حدیث ۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷
رفع عن امتی الخطأ والنسیان وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع مایریبك ۔
ارشادہے میری امت سے خطاء ونسیان اٹھا لیا گیا ہے ۔ (ت)
اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : جو شك پیدا کرے اسے چھوڑ وہ لو جس میں شك نہ ہو ۔
اور دیدہ ودانستہ کسی غرض صحیح وجائز کیلئے ہوگا یا غرض فاسد وممنوع کیلئے یا محض بلا وجہ برتقدیر اول کسی طرح اسراف نہیں ہوسکتا نہ اس سے منع کی کوئی وجہ عام ازینکہ وہ غرض غرض مطلوب شرعی ہو جیسے منہ سے ازالہ بدبو یا پان یا چھالیہ کے ریزوں کا اخراج یا حسب بیانات سابقہ وضو علی الوضو کی نیت یا غرض صحیح جسمانی جیسے میل کا ازالہ یا شدت گرما میں تحصیل برودت۔ تواب نہ رہیں مگر دو صورتیں اور یہی ان اقوال اربعہ میں زیر بحث ہیں تحقیق معنی اسراف میں ہمارا بیان یاد کیجئے یہ وہی دو قطب ہیں جن پر اس کا فلك دورہ کرتا ہے اور یہ بھی اسی تقریر پر نظر ڈالے سے واضح ہوگا کہ ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد وناروا کیلئے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع وناجائز ہے اگرچہ پانی اصلا ضائع نہ ہو۔
قول اول کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اسی پر حمل کے لئے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنت حاصل ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایك چلو بلکہ ایك بوند زیادہ ڈالنا اسراف وگناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اس نیت میں ہے گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا۔ رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو اوپر واضح ہولیا کہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں اگر ہوا مثلا زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف وناروا ہے۔ اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب وصحیح بلکہ متفق علیہ ہے کون کہے گا کہ بیکار پانی ضائع کرنا جائز وروا ہے۔ باقی رہی ایك شکل
ارشادہے میری امت سے خطاء ونسیان اٹھا لیا گیا ہے ۔ (ت)
اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : جو شك پیدا کرے اسے چھوڑ وہ لو جس میں شك نہ ہو ۔
اور دیدہ ودانستہ کسی غرض صحیح وجائز کیلئے ہوگا یا غرض فاسد وممنوع کیلئے یا محض بلا وجہ برتقدیر اول کسی طرح اسراف نہیں ہوسکتا نہ اس سے منع کی کوئی وجہ عام ازینکہ وہ غرض غرض مطلوب شرعی ہو جیسے منہ سے ازالہ بدبو یا پان یا چھالیہ کے ریزوں کا اخراج یا حسب بیانات سابقہ وضو علی الوضو کی نیت یا غرض صحیح جسمانی جیسے میل کا ازالہ یا شدت گرما میں تحصیل برودت۔ تواب نہ رہیں مگر دو صورتیں اور یہی ان اقوال اربعہ میں زیر بحث ہیں تحقیق معنی اسراف میں ہمارا بیان یاد کیجئے یہ وہی دو قطب ہیں جن پر اس کا فلك دورہ کرتا ہے اور یہ بھی اسی تقریر پر نظر ڈالے سے واضح ہوگا کہ ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد وناروا کیلئے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع وناجائز ہے اگرچہ پانی اصلا ضائع نہ ہو۔
قول اول کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اسی پر حمل کے لئے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنت حاصل ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایك چلو بلکہ ایك بوند زیادہ ڈالنا اسراف وگناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اس نیت میں ہے گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا۔ رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو اوپر واضح ہولیا کہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں اگر ہوا مثلا زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف وناروا ہے۔ اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب وصحیح بلکہ متفق علیہ ہے کون کہے گا کہ بیکار پانی ضائع کرنا جائز وروا ہے۔ باقی رہی ایك شکل
حوالہ / References
الجامع الصغیر حدیث ۴۴۶۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۷۳ ، کشف الخفاء حدیث ۱۳۹۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۸۲ ، کشف الخفاء حدیث ۱۳۰۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۶۰
الجامع الصغیر حدیث ۴۲۱۱تا ۴۲۱۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۵۶ ، ۲۵۷
الجامع الصغیر حدیث ۴۲۱۱تا ۴۲۱۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۵۶ ، ۲۵۷
کہ زیادت ہو تو بلاوجہ مگر پانی ضائع نہ ہو۔ مثلا بلا وجہ چوتھی بار پانی اس طرح ڈالے کہ نہر میں گرے یا کسی پیڑ کے تھالے میں جسے پانی کی حاجت ہے یا کسی برتن میں جس کا پانی اسپ وگاؤ وغیرہ جانوروں کو پلایا جائے گا یا گارا بنانے کیلئے تغار میں پڑے گا یا زمین ہی پرگرا مگر موسم گرما ہے چھڑکاؤ کی حاجت ہے یا ہوا سے ریتا اڑتا ہے اس کے دبانے کی ضرورت ہے اور انہیں کے مثل اور اغراض صحیحہ جن کے سبب پانی ضائع نہ جائے۔ یہ غرضیں اگرچہ صحیح وروا ہیں جن کی سبب اضاعت نہ ہوگی مگر اعضا پر یہ پانی مثلا چوتھی بار ڈالنا محض بے وجہ ہی رہا کہ یہ غرضیں تو برتن میں ڈالنا یا زمین پر بہانا چاہتی ہیں عضو پر ڈال کر گرانے کو ان میں کیا دخل تھا لاجرم وہ عبث محض رہا مگر پانی ضائع نہ ہوگیا تو اسراف کی کوئی صورت متحقق نہ ہوئی اور اس کے ممنوع وناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں یہی قول دوم وسوم کا محمل ہے اور قطعا مقبول وبے خلل ہے بلکہ اتفاق واطباق کا محمل ہے۔ اب نہ باقی رہی مگر ان دونوں قولوں پر نظر وہ ایك مقدمہ کی تقدیم چاہتی ہے۔
فاقول : وبالله التوفیق فائدہ تحقیق فـــــ معنی وحکم عبث میں تتبع کلمات علماء سے اس کی تعریف وجوہ عدیدہ پر ملے گی۔
(۱) جس فعل میں غرض غیر صحیح ہو وہ عبث ہے اور اصلا غرض نہ ہو تو سفہ۔ یہ تفسیر امام بدرالدین کردری کی ہے امام نسفی نے مستصفی پھر علامہ حلبی نے غنیہ میں اسی طرح ان سے نقل فرما کر اس پر اعتماد کیا اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر اور علامہ طرابلسی نے برہان شرح مواہب الرحمن اور دیگر شراح نے شروح ہدایہ وغیرہا میں اسی کو اختیار فرمایا غنیہ حلبیہ میں ہے :
فی المستصفی قال الامام بدر الدین یعنی الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض غیر صحیح والسفہ مالاغرض فیہ اصلا ۔
مستصفی میں ہے کہ امام بدرالدین عینی کردری نے فرمایا : فرماتے ہیں عبث وہ فعل ہے جس میں کوئی غرض غیر صحیح ہو اور سفہ وہ ہے جس میں بالکل کوئی غرض نہ ہو ۔ ( ت)
غنیہ شرنبلالیہ میں ہے :
فـــــ : عبث کسے کہتے ہیں اور اس کا حکم کیا ہے۔
فاقول : وبالله التوفیق فائدہ تحقیق فـــــ معنی وحکم عبث میں تتبع کلمات علماء سے اس کی تعریف وجوہ عدیدہ پر ملے گی۔
(۱) جس فعل میں غرض غیر صحیح ہو وہ عبث ہے اور اصلا غرض نہ ہو تو سفہ۔ یہ تفسیر امام بدرالدین کردری کی ہے امام نسفی نے مستصفی پھر علامہ حلبی نے غنیہ میں اسی طرح ان سے نقل فرما کر اس پر اعتماد کیا اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر اور علامہ طرابلسی نے برہان شرح مواہب الرحمن اور دیگر شراح نے شروح ہدایہ وغیرہا میں اسی کو اختیار فرمایا غنیہ حلبیہ میں ہے :
فی المستصفی قال الامام بدر الدین یعنی الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض غیر صحیح والسفہ مالاغرض فیہ اصلا ۔
مستصفی میں ہے کہ امام بدرالدین عینی کردری نے فرمایا : فرماتے ہیں عبث وہ فعل ہے جس میں کوئی غرض غیر صحیح ہو اور سفہ وہ ہے جس میں بالکل کوئی غرض نہ ہو ۔ ( ت)
غنیہ شرنبلالیہ میں ہے :
فـــــ : عبث کسے کہتے ہیں اور اس کا حکم کیا ہے۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
فی البرھان ھو فعل لغرض غیر صحیح ۔
برہا ن میں ہے وہ ایسا کا م ہے جو غرض غیر صحیح کے لئے ہو۔ (ت)
فتح میں ہے :
العبث الفعل لغرض غیر صحیح ۔
عبث غرض غیر صحیح کے لئے کوئی کام کر نا ہے ۔ ت
(۲) جس میں غرض غیر شرعی ہو۔
اقول : یہ اول سے اعم ہے کہ ہر غرض غیر صحیح غیر شرعی ہے اور ضرور نہیں کہ ہر غرض غیر شرعی غیر صحیح ہو جیسے ٹھنڈ کیلئے زیادہ پانی ڈالنا کہ غرض صحیح ہے مگر شرعی نہیں ۔ علامہ اکمل اور ان کی تبعیت سے حلیہ وبحر نے امام بدرالدین سے اسی طرح نقل کیا عنایہ میں ہے :
قال بدرالدین الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض لکنہ لیس بشرعی والسفہ مالا غرض فیہ اصلا ۔
بدرالدین کردری نے فرمایا : عبث وہ کام ہے جس میں کوئی غرض تو ہولیکن شرعی نہ ہو اور سفہ وہ ہے جس میں کوئی غرض ہی نہ ہو۔ ( ت)
(۳) جس میں غرض صحیح نہ ہو۔
اقول : یہ ان دونوں سے اعم ہے کہ اصلا عدم غرض کو بھی شامل اور ثانی سے اخص بھی کہ غرض غیر شرعی صحیح کو بھی شامل یہ تفسیر امام حمید الدین کی ہے عنایہ میں بعد عبارت مذکور ہے :
وقال حمید الدین العبث کل عمل لیس فیہ غرض صحیح
امام حمید الدین نے فرمایا : عبث ہر وہ کام ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو۔
مفردات راغب میں ہے :
یقال لما لیس لہ غرض صحیح عبث۔
عبث اسے کہا جاتا ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو ۔ ( ت)
برہا ن میں ہے وہ ایسا کا م ہے جو غرض غیر صحیح کے لئے ہو۔ (ت)
فتح میں ہے :
العبث الفعل لغرض غیر صحیح ۔
عبث غرض غیر صحیح کے لئے کوئی کام کر نا ہے ۔ ت
(۲) جس میں غرض غیر شرعی ہو۔
اقول : یہ اول سے اعم ہے کہ ہر غرض غیر صحیح غیر شرعی ہے اور ضرور نہیں کہ ہر غرض غیر شرعی غیر صحیح ہو جیسے ٹھنڈ کیلئے زیادہ پانی ڈالنا کہ غرض صحیح ہے مگر شرعی نہیں ۔ علامہ اکمل اور ان کی تبعیت سے حلیہ وبحر نے امام بدرالدین سے اسی طرح نقل کیا عنایہ میں ہے :
قال بدرالدین الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض لکنہ لیس بشرعی والسفہ مالا غرض فیہ اصلا ۔
بدرالدین کردری نے فرمایا : عبث وہ کام ہے جس میں کوئی غرض تو ہولیکن شرعی نہ ہو اور سفہ وہ ہے جس میں کوئی غرض ہی نہ ہو۔ ( ت)
(۳) جس میں غرض صحیح نہ ہو۔
اقول : یہ ان دونوں سے اعم ہے کہ اصلا عدم غرض کو بھی شامل اور ثانی سے اخص بھی کہ غرض غیر شرعی صحیح کو بھی شامل یہ تفسیر امام حمید الدین کی ہے عنایہ میں بعد عبارت مذکور ہے :
وقال حمید الدین العبث کل عمل لیس فیہ غرض صحیح
امام حمید الدین نے فرمایا : عبث ہر وہ کام ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو۔
مفردات راغب میں ہے :
یقال لما لیس لہ غرض صحیح عبث۔
عبث اسے کہا جاتا ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو ۔ ( ت)
حوالہ / References
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام باب ما یفسدالصلٰوۃ الخ میر محمد کتب خانہ کراچی / ۱۰۷
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
المفردات امام راغب باب العین مع الباء نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۲
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
المفردات امام راغب باب العین مع الباء نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۲
تفسیر رغائب الفرقان میں ہے :
ھو الفعل الذی لاغایۃ لہ صحیحۃ
عبث ایسا کام ہے جس کا کوئی صحیح مقصد نہ ہو۔ (ت)
(۴) غرض شرعی نہ ہو۔
اقول : یہ اول ثانی ثالث سب سے اعم مطلقا ہے کہ انتفائے غرض صحیح انتفائے غرض شرعی کو مستلزم ہے اور عکس نہیں اور انتفائے غرض شرعی انتفائے مطلق غرض سے بھی حاصل امام نسفی اپنی وافی کی شرح کافی میں فرماتے ہیں :
العبث مالا غرض فیہ شرعا فانما کرہ لانہ غیر مفید
عبث بلا ضرورت شرعی مکروہ ہے اس لئے کہ یہ بے فائدہ ہے۔ (ت)
(۵) جس میں فاعل کیلئے کوئی غرض صحیح نہ ہو۔
اقول : یہ ۱ و ۳ سے اعم عــــہ مطلقا ہے کہ ممکن کہ فعل غرض صحیح رکھتا ہو اور فاعل بے غرض یا غرض صحیح کیلئے کرے اور ۲ و ۴ سے اعم من وجہ کہ غرض فاسد میں تینوں صادق اور غرض صحیح غیر شرعی مقصود فاعل ہے تو وہ دو صادق خامس منتفی اور غرض شرعی میں مقصود فاعل ہے تو بالعکس۔ تعریفات السید میں ہے :
وقیل مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ اھ
اقول : اشارفــ الی ضعفہ وسیاتیك ان شاء الله تعالی انہ الحق۔ اور کہا گیا کہ عبث وہ کام ہے جس میں کرنے والے کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ (ت)
اقول : حضرت سید نے اس کے ضعیف ہونے کا اشارہ دیا اور ان شاء الله تعالی آگے بیان ہوگا کہ یہی تعریف حق ہے ۔ ( ت)
فـــــ : تطفل علی العلامۃ الشریف ۔
عــــہ : اور اگر قصد غلط بھی ملحوظ کر لیجئے کہ جس فعل کی غرض فاسد ہے یہ جہلا اس سے غرض صحیح کا قصد کرے تو ان دو سے بھی عام من وجہ ہوگا ۱۲منہ۔
ھو الفعل الذی لاغایۃ لہ صحیحۃ
عبث ایسا کام ہے جس کا کوئی صحیح مقصد نہ ہو۔ (ت)
(۴) غرض شرعی نہ ہو۔
اقول : یہ اول ثانی ثالث سب سے اعم مطلقا ہے کہ انتفائے غرض صحیح انتفائے غرض شرعی کو مستلزم ہے اور عکس نہیں اور انتفائے غرض شرعی انتفائے مطلق غرض سے بھی حاصل امام نسفی اپنی وافی کی شرح کافی میں فرماتے ہیں :
العبث مالا غرض فیہ شرعا فانما کرہ لانہ غیر مفید
عبث بلا ضرورت شرعی مکروہ ہے اس لئے کہ یہ بے فائدہ ہے۔ (ت)
(۵) جس میں فاعل کیلئے کوئی غرض صحیح نہ ہو۔
اقول : یہ ۱ و ۳ سے اعم عــــہ مطلقا ہے کہ ممکن کہ فعل غرض صحیح رکھتا ہو اور فاعل بے غرض یا غرض صحیح کیلئے کرے اور ۲ و ۴ سے اعم من وجہ کہ غرض فاسد میں تینوں صادق اور غرض صحیح غیر شرعی مقصود فاعل ہے تو وہ دو صادق خامس منتفی اور غرض شرعی میں مقصود فاعل ہے تو بالعکس۔ تعریفات السید میں ہے :
وقیل مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ اھ
اقول : اشارفــ الی ضعفہ وسیاتیك ان شاء الله تعالی انہ الحق۔ اور کہا گیا کہ عبث وہ کام ہے جس میں کرنے والے کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ (ت)
اقول : حضرت سید نے اس کے ضعیف ہونے کا اشارہ دیا اور ان شاء الله تعالی آگے بیان ہوگا کہ یہی تعریف حق ہے ۔ ( ت)
فـــــ : تطفل علی العلامۃ الشریف ۔
عــــہ : اور اگر قصد غلط بھی ملحوظ کر لیجئے کہ جس فعل کی غرض فاسد ہے یہ جہلا اس سے غرض صحیح کا قصد کرے تو ان دو سے بھی عام من وجہ ہوگا ۱۲منہ۔
حوالہ / References
غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ مصطفی البابی مصر ۱۸ / ۴۲
الکافی شرح الوافی
التعریفات للسید الشریف باب العین انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص ۶۳
الکافی شرح الوافی
التعریفات للسید الشریف باب العین انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص ۶۳
(۶) بے فائدہ کام۔
بحرالرائق میں نہایہ امام سغناقی سے ہے :
مالیس بمفید فھو العبث
جو فائدہ مند نہ ہو وہ عبث ہے۔ ( ت)
امام سیوطی کی درنثیر میں ہے : عبثا ای لالمنفعۃ عبث یعنی بے فائدہ ۔ (ت) مراقی الفلاح میں ہے :
العبث عمل لافائدۃ فیہ ولا حکمۃ تقتضیہ
عبث وہ کام ہے جس میں نہ کوئی فائدہ ہو نہ کو ئی حکمت اس کی مقتضی ہو ۔ (ت)
جلالین میں ہے : عبثا لالحکمۃ (عبث بے حکمت۔ ت)غنیہ میں ہے :
الفرقعۃ فعل لافائدۃ فیہ فکان کالعبث
(انگلیاں چٹخانا ایسا کام ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں تو یہ عبث کی طرح ہوا ۔ ( ت)
اقول : عبدالملك بن جریج تابعی نے کہ عبث کو باطل سے تفسیر کیا اسی معنے کی طرف مشیر ہے : فان الشیئ اذا خلا عن الثمرۃ بطل (کیونکہ شے کا جب کوئی ثمرہ نہ ہو تو وہ باطل ہے۔ ت) تفسیر ابن جریر میں ان سے مروی : عبثا قال باطلا (عبث کے معنی میں کہا باطل ۔ ت)(۷) جس میں فائدہ معتد بہانہ ہو۔ تاج العروس میں ہے :
قیل العبث مالافائدۃ فیہ
کہا گیا عبث ایساکام ہے جس میں کوئی قابل لحاظ
بحرالرائق میں نہایہ امام سغناقی سے ہے :
مالیس بمفید فھو العبث
جو فائدہ مند نہ ہو وہ عبث ہے۔ ( ت)
امام سیوطی کی درنثیر میں ہے : عبثا ای لالمنفعۃ عبث یعنی بے فائدہ ۔ (ت) مراقی الفلاح میں ہے :
العبث عمل لافائدۃ فیہ ولا حکمۃ تقتضیہ
عبث وہ کام ہے جس میں نہ کوئی فائدہ ہو نہ کو ئی حکمت اس کی مقتضی ہو ۔ (ت)
جلالین میں ہے : عبثا لالحکمۃ (عبث بے حکمت۔ ت)غنیہ میں ہے :
الفرقعۃ فعل لافائدۃ فیہ فکان کالعبث
(انگلیاں چٹخانا ایسا کام ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں تو یہ عبث کی طرح ہوا ۔ ( ت)
اقول : عبدالملك بن جریج تابعی نے کہ عبث کو باطل سے تفسیر کیا اسی معنے کی طرف مشیر ہے : فان الشیئ اذا خلا عن الثمرۃ بطل (کیونکہ شے کا جب کوئی ثمرہ نہ ہو تو وہ باطل ہے۔ ت) تفسیر ابن جریر میں ان سے مروی : عبثا قال باطلا (عبث کے معنی میں کہا باطل ۔ ت)(۷) جس میں فائدہ معتد بہانہ ہو۔ تاج العروس میں ہے :
قیل العبث مالافائدۃ فیہ
کہا گیا عبث ایساکام ہے جس میں کوئی قابل لحاظ
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ / ۱۹
درنثیر
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ فصل فی المکروہات دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۴۵
جلالین تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ النصف الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۲۹۱
غنیۃ المستملی کراھیۃ الصلوٰۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
جامع البیان( تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۲۳ / ۵۱۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۸ / ۷۹
درنثیر
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ فصل فی المکروہات دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۴۵
جلالین تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ النصف الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۲۹۱
غنیۃ المستملی کراھیۃ الصلوٰۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
جامع البیان( تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۲۳ / ۵۱۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۸ / ۷۹
یعتد بھا
فائدہ نہ ہو۔ ( ت)
اقول : اسی طرف کلام علامہ ابو السعود ناظر کہ ارشاد العقل میں فرمایا :
عبثا بغیر حکمۃ بالغۃ اھ فافھم
عبث جس میں کوئی حکمت بالغہ نہ ہو اھ تو اسے سمجھو ۔ (ت)
(۸) اس کام کے قابل فائدہ نہ ہو یعنی اس میں جتنی محنت ہو نفع اس سے کم ہو۔
اقول : اسے ہفتم سے عموم وخصوص من وجہ ہے کہ اگر کام نہایت سہل ہوا جس میں کوئی محنت معتد بہا نہیں تو فائدہ غیر معتمد بہا اس کے قابل ہوگا اس تقدیرپر ہفتم صادق ہوگا نہ ہشتم اور اگر فائدہ فی نفسہا معتد بہا ہے مگر اس کام کے لائق نہیں تو ہشتم صادق ہوگا نہ ہفتم۔ علامہ شہاب کی عنایۃ القاضی میں ہے :
العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ مطلقا او عن الفائدۃ المعتد بھا اوعما یقاوم الفعل کما ذکرہ الاصولیون ۔
عبث لعب کی طرح کام ہے جس میں مطلقا کوئی فائدہ نہ ہویا قابل لحاظ فائدہ نہ ہو یا اس فعل کے مقابل فائدہ نہ ہو جیسا کہ اہل اصول نے ذکر کیا۔ (ت)
اقول : مقابلہ مشعر مغایرت ہے یوں یہ قول اضعف الاقوال ہوگا کہ خاص مشقت طلب کاموں سے خاص رہے گا ہاں اگر معتدبہ سے معتدبہ بنظر فعل مراد لیں تو ہفتم وہشتم ایك ہوجائیں گے اور اعتراض نہ رہے گا اور کہہ سکتے ہیں کہ تغییر تعبیر مجوز مقابلہ ہے۔
(۹) وہ کام جس کا فائدہ معلوم نہ ہو۔
اقول : اولا مراد عدم علم فاعل ہے تو حکیم کے دقیق کام جن کا فائدہ عام لوگوں کی فہم سے ورا ہو عبث نہیں ہوسکتے۔
ثانیا حکمت وغایت میں فرق ہے احکام تعبدیہ غیر معقولۃ المعنی کی حکمت ہمیں معلوم نہیں فائدہ معلوم ہے کہ الاسلام گردن نہادن۔
فائدہ نہ ہو۔ ( ت)
اقول : اسی طرف کلام علامہ ابو السعود ناظر کہ ارشاد العقل میں فرمایا :
عبثا بغیر حکمۃ بالغۃ اھ فافھم
عبث جس میں کوئی حکمت بالغہ نہ ہو اھ تو اسے سمجھو ۔ (ت)
(۸) اس کام کے قابل فائدہ نہ ہو یعنی اس میں جتنی محنت ہو نفع اس سے کم ہو۔
اقول : اسے ہفتم سے عموم وخصوص من وجہ ہے کہ اگر کام نہایت سہل ہوا جس میں کوئی محنت معتد بہا نہیں تو فائدہ غیر معتمد بہا اس کے قابل ہوگا اس تقدیرپر ہفتم صادق ہوگا نہ ہشتم اور اگر فائدہ فی نفسہا معتد بہا ہے مگر اس کام کے لائق نہیں تو ہشتم صادق ہوگا نہ ہفتم۔ علامہ شہاب کی عنایۃ القاضی میں ہے :
العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ مطلقا او عن الفائدۃ المعتد بھا اوعما یقاوم الفعل کما ذکرہ الاصولیون ۔
عبث لعب کی طرح کام ہے جس میں مطلقا کوئی فائدہ نہ ہویا قابل لحاظ فائدہ نہ ہو یا اس فعل کے مقابل فائدہ نہ ہو جیسا کہ اہل اصول نے ذکر کیا۔ (ت)
اقول : مقابلہ مشعر مغایرت ہے یوں یہ قول اضعف الاقوال ہوگا کہ خاص مشقت طلب کاموں سے خاص رہے گا ہاں اگر معتدبہ سے معتدبہ بنظر فعل مراد لیں تو ہفتم وہشتم ایك ہوجائیں گے اور اعتراض نہ رہے گا اور کہہ سکتے ہیں کہ تغییر تعبیر مجوز مقابلہ ہے۔
(۹) وہ کام جس کا فائدہ معلوم نہ ہو۔
اقول : اولا مراد عدم علم فاعل ہے تو حکیم کے دقیق کام جن کا فائدہ عام لوگوں کی فہم سے ورا ہو عبث نہیں ہوسکتے۔
ثانیا حکمت وغایت میں فرق ہے احکام تعبدیہ غیر معقولۃ المعنی کی حکمت ہمیں معلوم نہیں فائدہ معلوم ہے کہ الاسلام گردن نہادن۔
حوالہ / References
تاج العروس باب الثا ء فصل العین دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۳۲
ارشاد العقل السلیم تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۳
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۶۱۱
ارشاد العقل السلیم تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۳
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۶۱۱
ثالثا عدم علم مستلزم عدم نہیں تو یہ تفسیر ان تینوں سے اعم ہے۔ تعریفات السید میں ہے :
العبث ارتکاب امر غیر معلوم الفائدۃ
عبث ایسے امر کا ارتکاب جس کا فائدہ معلوم نہ ہو ۔ (ت)
اقول : مگر فـــــ۱ علم بے قصد کیا مفید بلالکہ اس کی شناعت اور مزید تو یہ حد جامع نہیں ۔
(۱۰) وہ کام جس سے فائدہ مقصود نہ ہوا
اقول : یہ نہم سے بھی اعم کہ عدم علم عدم قصد کو مستلزم ولا عکس تا العروس میں ہے :
وقیل ما لایقصد بہ فائدۃ اھ
اقول : اوما فـــــ۲الی تزیفہ وستسمع بعونہ تعالی انہ ھو الصحیح ۔
اور کہا گیا وہ جس سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہو۔ اھ
اقول : اس کی خامی کا اشارہ دیا اور بعونہ تعالی آگے واضع ہوگا کہ یہی تعریف صحیح ہے۔ (ت)
(۱۱) بے لذت کام عبث ہے اور لذت ہو تو لعب۔ جوہرہ نیرہ میں ہے :
العبث کل فعل لالذۃ فیہ فاما الذی فیہ لذۃ فھو لعب
عبث ہروہ کام جس میں کوئی لذت نہ ہو اور جس میں کوئی لذت ہو وہ لعب ہے۔ ت)
اقول : یہ فـــــ۳ اپنے اس ارسال پر بدیہی البطلان ہے نہ ہر بے لذت کام عبث جیسے دوائے تلخ پینا نہ ہر لذت والا لعب جیسے درود شریف ونعت مقدس کا ورد۔ تو بعض تعریفات مذکورہ سے اسے مقید کرنا لازم مثلا یہ کہ جس فعل میں غرض صحیح نہ ہو۔
(۱۲) عبث ولعب ایك شے ہیں ۔ یہ تفسیر سیدنا عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے ہے اورکثرت اقوال بھی اسی طرف ہے۔ ابن جریر اس جناب مشرف بہ تشریف اللھم علمہ الکتاب سے راوی تعبثون تلعبون تم عبث کرتے ہو یعنی کھیل کود کرتے ہو ۔ (ت)بعینہ اسی طرح
فـــــ۱ : تطفل ا خر علیہ ۔ فــــ۲ : معروضۃ علی السید مرتضی ۔ فـــــ۳ : تطفل علی الجوھرۃ ۔
العبث ارتکاب امر غیر معلوم الفائدۃ
عبث ایسے امر کا ارتکاب جس کا فائدہ معلوم نہ ہو ۔ (ت)
اقول : مگر فـــــ۱ علم بے قصد کیا مفید بلالکہ اس کی شناعت اور مزید تو یہ حد جامع نہیں ۔
(۱۰) وہ کام جس سے فائدہ مقصود نہ ہوا
اقول : یہ نہم سے بھی اعم کہ عدم علم عدم قصد کو مستلزم ولا عکس تا العروس میں ہے :
وقیل ما لایقصد بہ فائدۃ اھ
اقول : اوما فـــــ۲الی تزیفہ وستسمع بعونہ تعالی انہ ھو الصحیح ۔
اور کہا گیا وہ جس سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہو۔ اھ
اقول : اس کی خامی کا اشارہ دیا اور بعونہ تعالی آگے واضع ہوگا کہ یہی تعریف صحیح ہے۔ (ت)
(۱۱) بے لذت کام عبث ہے اور لذت ہو تو لعب۔ جوہرہ نیرہ میں ہے :
العبث کل فعل لالذۃ فیہ فاما الذی فیہ لذۃ فھو لعب
عبث ہروہ کام جس میں کوئی لذت نہ ہو اور جس میں کوئی لذت ہو وہ لعب ہے۔ ت)
اقول : یہ فـــــ۳ اپنے اس ارسال پر بدیہی البطلان ہے نہ ہر بے لذت کام عبث جیسے دوائے تلخ پینا نہ ہر لذت والا لعب جیسے درود شریف ونعت مقدس کا ورد۔ تو بعض تعریفات مذکورہ سے اسے مقید کرنا لازم مثلا یہ کہ جس فعل میں غرض صحیح نہ ہو۔
(۱۲) عبث ولعب ایك شے ہیں ۔ یہ تفسیر سیدنا عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے ہے اورکثرت اقوال بھی اسی طرف ہے۔ ابن جریر اس جناب مشرف بہ تشریف اللھم علمہ الکتاب سے راوی تعبثون تلعبون تم عبث کرتے ہو یعنی کھیل کود کرتے ہو ۔ (ت)بعینہ اسی طرح
فـــــ۱ : تطفل ا خر علیہ ۔ فــــ۲ : معروضۃ علی السید مرتضی ۔ فـــــ۳ : تطفل علی الجوھرۃ ۔
حوالہ / References
التعریفات للسید الشریف1باب العین انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۶۳
تاج العروس باب الثاء فصل العین1دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۳۲
الجوہرۃ النیرۃ ، کتاب الصلوٰۃباب صفۃ الصلوٰۃ ، مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۴
جامع البیان ( تفسیر ابن جریر)1تحت الایۃ ۲۶ / ۱۲۸ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹ / ۱۱۱
تاج العروس باب الثاء فصل العین1دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۳۲
الجوہرۃ النیرۃ ، کتاب الصلوٰۃباب صفۃ الصلوٰۃ ، مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۷۴
جامع البیان ( تفسیر ابن جریر)1تحت الایۃ ۲۶ / ۱۲۸ ، دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹ / ۱۱۱
ان کے تلمیذ ضحاك سے روایت کیا۔ نہایہ اثیریہ ومختار الصحاح میں ہے : العبث اللعب عبث لعب ہے۔ (ت) اسی طرح سمین وجمل میں ہے وسیاتی مصباح المنیر وقاموس میں ہے : عبث کفرح لعب (عبث فر ح کی طرح ہے(یعنی باب سمع سے ہے )کھیل کا نام ہے۔ (ت) تاج العروس میں ہے :
عابث لاعب بمالا یعینہ ولیس من بالہ
(عابث ایسا کھیل کرنے والا جو بے معنی اور جس سے اسے کام نہیں ۔ (ت)
صراح میں ہے : عبث بازی (عبث ایك کھیل ہے ۔ ت) درر شرح غرر میں ہے : عبثہ ای لعبہ (عبث یعنی لعب۔ ت) مفردات راغب میں ہے :
العبث ان یخلط بعملہ لعبا الخ
اقول : وانما صار عبثا لما خلط لالذاتہ فالعبث حقیقۃ ماخلط لاما خلط بہ ۔ عبث یہ ہے کہ اپنے کام میں کوئی کھیل ملا لے ۔ ت)
اقول : وہ کام عبث اسی کھیل کی وجہ سے ہوا جو اس میں ملا دیا خود عبث نہ ہوا تو عبث حقیقتا وہ ہے جس کو ملا یا گیاوہ نہیں جس میں ملایا گیا۔ (ت)
طحطاوی علی الدر میں ہے :
العبث اللعب وقیل مالا لذۃ فیہ واللعب مافیہ لذۃ
عبث کھیل کو کہتے ہیں او ر کہاگیاوہ جس میں کوئی لذت نہ ہو اور لعب وہ جس میں کوئی لذت ہو ۔ ( ت)
عابث لاعب بمالا یعینہ ولیس من بالہ
(عابث ایسا کھیل کرنے والا جو بے معنی اور جس سے اسے کام نہیں ۔ (ت)
صراح میں ہے : عبث بازی (عبث ایك کھیل ہے ۔ ت) درر شرح غرر میں ہے : عبثہ ای لعبہ (عبث یعنی لعب۔ ت) مفردات راغب میں ہے :
العبث ان یخلط بعملہ لعبا الخ
اقول : وانما صار عبثا لما خلط لالذاتہ فالعبث حقیقۃ ماخلط لاما خلط بہ ۔ عبث یہ ہے کہ اپنے کام میں کوئی کھیل ملا لے ۔ ت)
اقول : وہ کام عبث اسی کھیل کی وجہ سے ہوا جو اس میں ملا دیا خود عبث نہ ہوا تو عبث حقیقتا وہ ہے جس کو ملا یا گیاوہ نہیں جس میں ملایا گیا۔ (ت)
طحطاوی علی الدر میں ہے :
العبث اللعب وقیل مالا لذۃ فیہ واللعب مافیہ لذۃ
عبث کھیل کو کہتے ہیں او ر کہاگیاوہ جس میں کوئی لذت نہ ہو اور لعب وہ جس میں کوئی لذت ہو ۔ ( ت)
حوالہ / References
النہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب العین مع الباء دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۱۵۴ ، مختار الصحاح باب العین1موسسۃ علوم القرآن بیروت ص۴۰۷
القاموس المحیط باب الثاء فصل العین مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
تاج العروس باب الثاء فصل العین1دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۳۲
صراح باب الثاء فصل العین مطبع مجیدی کانپور ۱ / ۷۵
االدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الصلوٰۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷
المفردات باب العین مع الباء نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۲۷۰
القاموس المحیط باب الثاء فصل العین مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۶
تاج العروس باب الثاء فصل العین1دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۶۳۲
صراح باب الثاء فصل العین مطبع مجیدی کانپور ۱ / ۷۵
االدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الصلوٰۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷
المفردات باب العین مع الباء نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ / ۲۷۰
تفسیر ابن جریر میں ہے : عبثا لعبا وباطلا عبث جولعب اورباطل ہے۔ (ت)
یہ بارہ تعریفیں فــــ۱ ہیں اور بعونہ تعالی بعد تنقیح سب کا مآل ایك اگرچہ ۹۱۱ کی عبارات میں تقصیر واقع ہوئی اس کی تحقیق چند امور سے ظاہر فاقول : وبالله التوفیق اولا لعب فــــ۲ولہو وہزل ولغو وباطل وعبث سب کا محصل متقارب ہے کہ بے ثمرہ نامفید ہونے کے گرد دورہ کرتا ہے۔ نہایہ ابن اثیر میں ہے :
یقال لکل من عمل عملا لایجدی علیہ نفعا انما انت لاعب
جو شخص کوئی ایساکام کرے جو اسے کو ئی فائدہ نہ دے اس سے کہا جاتا ہے کہ تم بس کھیل کرتے ہو۔ (ت)
علامہ خفاجی سے گزرا :
العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ
عبث لعب کی طرح ہے جوفائدہ سے خالی ہو ۔ (ت)
تعریفات علامہ شریف میں ہے :
اللعب ھو فعل الصبیان یعقب التعب من غیر فائدۃ اھ
اقول : وتعقیب التعب خرج نظرا الی الغالب و لیس شرطا لازما کما لایخفی ۔ لعب و ہ بچوں کا کام ہے جس کے بعد تکان آتی ہے اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔
اقول : بعدمیں تکان ہونے کا ذکر غالب واکثر کے لحاظ سے ہوا یہ لعب کی کوئی لازمی شرط نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
فـــــ۱ : مصنف کی تحقیق کہ عبث کی بارہ تعریفو ں کا حاصل ایك ہے اوراس کی تعریف جامع مانع کا استخراج ۔
فـــــ ۲ : لعب ولہوو ہزل وباطل وعبث متقارب المعنی ہیں ۔
یہ بارہ تعریفیں فــــ۱ ہیں اور بعونہ تعالی بعد تنقیح سب کا مآل ایك اگرچہ ۹۱۱ کی عبارات میں تقصیر واقع ہوئی اس کی تحقیق چند امور سے ظاہر فاقول : وبالله التوفیق اولا لعب فــــ۲ولہو وہزل ولغو وباطل وعبث سب کا محصل متقارب ہے کہ بے ثمرہ نامفید ہونے کے گرد دورہ کرتا ہے۔ نہایہ ابن اثیر میں ہے :
یقال لکل من عمل عملا لایجدی علیہ نفعا انما انت لاعب
جو شخص کوئی ایساکام کرے جو اسے کو ئی فائدہ نہ دے اس سے کہا جاتا ہے کہ تم بس کھیل کرتے ہو۔ (ت)
علامہ خفاجی سے گزرا :
العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ
عبث لعب کی طرح ہے جوفائدہ سے خالی ہو ۔ (ت)
تعریفات علامہ شریف میں ہے :
اللعب ھو فعل الصبیان یعقب التعب من غیر فائدۃ اھ
اقول : وتعقیب التعب خرج نظرا الی الغالب و لیس شرطا لازما کما لایخفی ۔ لعب و ہ بچوں کا کام ہے جس کے بعد تکان آتی ہے اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔
اقول : بعدمیں تکان ہونے کا ذکر غالب واکثر کے لحاظ سے ہوا یہ لعب کی کوئی لازمی شرط نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
فـــــ۱ : مصنف کی تحقیق کہ عبث کی بارہ تعریفو ں کا حاصل ایك ہے اوراس کی تعریف جامع مانع کا استخراج ۔
فـــــ ۲ : لعب ولہوو ہزل وباطل وعبث متقارب المعنی ہیں ۔
حوالہ / References
جامع البیان (تفسیرابن جریر)تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۸ / ۷۸
ا لنہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب اللام مع العین دار الکتب العلمیۃ بیروت۴ / ۲۱۸
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ / ۱۱۱
التعریفات للسید الشریف باب اللام انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۸۳
ا لنہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب اللام مع العین دار الکتب العلمیۃ بیروت۴ / ۲۱۸
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ / ۱۱۱
التعریفات للسید الشریف باب اللام انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۸۳
اصول امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرہ میں ہے :
اما الھزل فتفسیرہ اللعب وھو ان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وضدہ الجد
ھزل کی تفسیر لعب ہے وہ یہ کہ کسی شے سے وہ قصد کیاجائے جس کے لئے اس کی وضع نہ ہوئی اس کی ضد “ جد “ ہے ۔ (ت)
اس کی شرح کشف الاسرار میں ہے :
لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیر بل وضع العقل اوالشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ حقیقۃ کان اومجاز اوالتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیرموضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا ارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادتہ الحکم اصلا فھو الھزل ولھذا فسرہ الشیخ باللعب اذاللعب مالا یفید فائدۃ اصلا وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ الله تعالی ان الھزل ما لا یراد بہ معنی
یہاں وضع سے صرف وضع لغت مراد نہیں ۔ بلکہ وضع عقل یا وضع شرعی بھی مراد ہے۔ اس لئے کہ عقلا کلام کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے معنی کاافادہ کرے خواہ وہ معنی حقیقی ہویا مجازی۔ اورتصرف شرعی کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے حکم کا افادہ کرے۔ توجب کلام کامقصد وہ ہو جس کے لئے عقلا اس کی وضع نہ ہوئی۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ اور تصرف کا مقصد وہ ہو جس کے لئے شرعا اس کی وضع نہ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو وہ ھزل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئے شیخ نے ھزل کی تفسیر لعب سے فرمائی اس لئے کہ لعب وہ ہے جوبالکل کوئی فائدہ نہ دے اور یہی اس کا مطلب ہے جو شیخ ابو منصور رحمۃ اللہ تعالی علیہسے منقول ہے کہ ہزل وہ ہے جس سے کوئی معنی مقصود نہ ہو۔ (ت)
تو تفسیر ۶ ۱۲ کا حاصل ایك ہے ولہذا مصباح میں عبث من باب تعب لعب
اما الھزل فتفسیرہ اللعب وھو ان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وضدہ الجد
ھزل کی تفسیر لعب ہے وہ یہ کہ کسی شے سے وہ قصد کیاجائے جس کے لئے اس کی وضع نہ ہوئی اس کی ضد “ جد “ ہے ۔ (ت)
اس کی شرح کشف الاسرار میں ہے :
لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیر بل وضع العقل اوالشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ حقیقۃ کان اومجاز اوالتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیرموضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا ارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادتہ الحکم اصلا فھو الھزل ولھذا فسرہ الشیخ باللعب اذاللعب مالا یفید فائدۃ اصلا وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ الله تعالی ان الھزل ما لا یراد بہ معنی
یہاں وضع سے صرف وضع لغت مراد نہیں ۔ بلکہ وضع عقل یا وضع شرعی بھی مراد ہے۔ اس لئے کہ عقلا کلام کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے معنی کاافادہ کرے خواہ وہ معنی حقیقی ہویا مجازی۔ اورتصرف شرعی کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے حکم کا افادہ کرے۔ توجب کلام کامقصد وہ ہو جس کے لئے عقلا اس کی وضع نہ ہوئی۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ اور تصرف کا مقصد وہ ہو جس کے لئے شرعا اس کی وضع نہ ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو وہ ھزل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئے شیخ نے ھزل کی تفسیر لعب سے فرمائی اس لئے کہ لعب وہ ہے جوبالکل کوئی فائدہ نہ دے اور یہی اس کا مطلب ہے جو شیخ ابو منصور رحمۃ اللہ تعالی علیہسے منقول ہے کہ ہزل وہ ہے جس سے کوئی معنی مقصود نہ ہو۔ (ت)
تو تفسیر ۶ ۱۲ کا حاصل ایك ہے ولہذا مصباح میں عبث من باب تعب لعب
حوالہ / References
اصول البزدوی فصل الہزل نور محمد خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۴۷
کشف الاسرار فصل الہزل دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۳۵۷
کشف الاسرار فصل الہزل دارالکتاب العربی بیروت ۴ / ۳۵۷
وعمل مالافائدۃ فیہ (عبث باب تعب(سمع) سے ہے اس کا معنی کھیل کیا اور بے فائدہ کام کیا ۔ ت) اور منتخب میں عبث بفتتحین بازی وبے فائدہ بطور عطف تفسیری لکھا۔
ثانیا اقول : جس طرح عاقل سے کوئی فعل اختیاری صادر نہ ہوگا جب تك تصور بوجہ ما وتصدیق بفائدۃ ما نہ ہو یونہی انسان کے ہوش وحواس جب تك حاضر ہیں بے کسی شغل کے نہیں رہتا خواہ عقلی ہو جیسے کسی قسم کا تصور یا عملی جیسے جوارح سے کوئی حرکت تو کسی قسم کا شغل ہو نفس کیلئے اس میں اپنی عادت کا حصول اور اپنے مقتضی کا تیسر ہے اور یہ خود اس کیلئے ایك نوع نفع ہے اگرچہ دین ودنیا میں سوا ایك عادت بے معنے کی تحصیل کے اور کوئی ثمر ونفع اس پر مترتب نہ ہو یابایں معنی کوئی فعل اختیاری فاعل کیلئے اصلا فائدہ سے عاری محض نہ ہوگا ہاں یہ ممکن کہ وہ فائدہ قضیہ شرع بلکہ قضیہ عقل سلیم کے نزدیك بھی مثل لافائدہ محض غیر معتد بہا ہو بلکہ ممکن کہ اس کا مآل ضرربحت ہو جیسے کفار کی عبادات شاقہ عاملة ناصبة(۳) تصلى نارا حامیة(۴) عمل کریں مشقت جھیلیں اور نتیجہ یہ کہ بھڑکتی آ گ میں غرق ہوں گے تو ۶ سے مقصود وہی ۷ ہے ۔
ثالثا : یہ بھی ظاہر کہ کوہ کندن وکاہ برآور دن ہر عاقل کے نزدیك حرکت عبث ہے تو مقدار فائدہ وفعل میں اگرچہ تساوی درکار نہیں تفاوت فاحش بھی نہ ہونا ضرور ۸ سے یہی مراد اور معتدبہ بنظر فعل ہونے سے یہی ہفتم کا مفاد۔ فائدہ کا فی نفسہا کوئی امر عظیم مہتم بالشان ہونا ہرگز ضرور نہیں بلکہ جیسا کام اسی کے قابل فائدہ معتد بہا ہے وھذا ما کنا اشـرنا الیہ (یہ وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ت)
رابعا : لذت لعب شرع کریم وعقل سلیم کے نزدیك فائدہ معتد بہا نہیں جبکہ فـــــــ لہو مباح ہو اور تعب کے بعد اس سے ترویح قلب مقصود اب نہ وہ عبث رہے گا نہ حقیقۃ لعب اگرچہ صورت لعب ہو ۔
ولہذا حدیث میں ہے حضور سید اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
فــــــ : مسئلہ : عبادت ومحنت دینیہ کے بعد دفع کلال وملال وحصول تازگی وراحت کے لئے احیانا کسی امر مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعا مباح بلکہ مطلوب ہے ۔
ثانیا اقول : جس طرح عاقل سے کوئی فعل اختیاری صادر نہ ہوگا جب تك تصور بوجہ ما وتصدیق بفائدۃ ما نہ ہو یونہی انسان کے ہوش وحواس جب تك حاضر ہیں بے کسی شغل کے نہیں رہتا خواہ عقلی ہو جیسے کسی قسم کا تصور یا عملی جیسے جوارح سے کوئی حرکت تو کسی قسم کا شغل ہو نفس کیلئے اس میں اپنی عادت کا حصول اور اپنے مقتضی کا تیسر ہے اور یہ خود اس کیلئے ایك نوع نفع ہے اگرچہ دین ودنیا میں سوا ایك عادت بے معنے کی تحصیل کے اور کوئی ثمر ونفع اس پر مترتب نہ ہو یابایں معنی کوئی فعل اختیاری فاعل کیلئے اصلا فائدہ سے عاری محض نہ ہوگا ہاں یہ ممکن کہ وہ فائدہ قضیہ شرع بلکہ قضیہ عقل سلیم کے نزدیك بھی مثل لافائدہ محض غیر معتد بہا ہو بلکہ ممکن کہ اس کا مآل ضرربحت ہو جیسے کفار کی عبادات شاقہ عاملة ناصبة(۳) تصلى نارا حامیة(۴) عمل کریں مشقت جھیلیں اور نتیجہ یہ کہ بھڑکتی آ گ میں غرق ہوں گے تو ۶ سے مقصود وہی ۷ ہے ۔
ثالثا : یہ بھی ظاہر کہ کوہ کندن وکاہ برآور دن ہر عاقل کے نزدیك حرکت عبث ہے تو مقدار فائدہ وفعل میں اگرچہ تساوی درکار نہیں تفاوت فاحش بھی نہ ہونا ضرور ۸ سے یہی مراد اور معتدبہ بنظر فعل ہونے سے یہی ہفتم کا مفاد۔ فائدہ کا فی نفسہا کوئی امر عظیم مہتم بالشان ہونا ہرگز ضرور نہیں بلکہ جیسا کام اسی کے قابل فائدہ معتد بہا ہے وھذا ما کنا اشـرنا الیہ (یہ وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ت)
رابعا : لذت لعب شرع کریم وعقل سلیم کے نزدیك فائدہ معتد بہا نہیں جبکہ فـــــــ لہو مباح ہو اور تعب کے بعد اس سے ترویح قلب مقصود اب نہ وہ عبث رہے گا نہ حقیقۃ لعب اگرچہ صورت لعب ہو ۔
ولہذا حدیث میں ہے حضور سید اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
فــــــ : مسئلہ : عبادت ومحنت دینیہ کے بعد دفع کلال وملال وحصول تازگی وراحت کے لئے احیانا کسی امر مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعا مباح بلکہ مطلوب ہے ۔
حوالہ / References
مصباح المنیر کتاب العین تحت لفظ عبث منشورات دار الہجرۃ قم ایران ۲ / ۳۸۹
شعب الایمان حدیث ۶۵۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۲۴۷
شعب الایمان حدیث ۶۵۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۲۴۷
الھوا والعبوا فانی اکرہ ان یری فی دینکم غلظۃ رواہ البیہقی ۔ فی شعب الایمان عن المطلب بن عبدالله المخزومی رضی الله تعالی عنہ۔
لہو ولعب(کھیل کود) کرو کیوں کہ میں یہ پسند نہیں کرتاکہ لوگ تمہارے دین میں سختی و درشتی دیکھیں ۔ اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں مطلب بن عبدالله مخز ومی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ (ت)
امام ابن حجر مکی کف الرعاع پھر سیدی عارف بالله حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
اللھو المباح ماذون فیہ منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وانہ فی بعض الاحوال قد لاینافی الکمال وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الھوا والعبوا دلیل لطلب ترویح النفوس اذا سئمت وجلاھا اذا صدئت باللھو واللعب المباح ۔
حضور اقدس کی طرف سے مباح لہو کی اجازت ہے او ریہ بعض احوال میں منافی کمال نہیں ۔ حضور کا ارشاد “ کھیل کود کرو “ اس بات کی دلیل ہے کہ جب طبیعت اکتاجائے اورزنگ خوردہ سی ہوجائے تو مباح لہو و لعب کے ذریعہ اسے راحت دینا اوراس کازنگ دور کرنا مطلوب ہے۔ (ت)
تو ۱۱ بھی ان تفا سیر سے جدا نہیں نہ لعب میں بوجہ لذت فائدہ معتد بہا ہوا نہ عبث سے بسبب عدم لذت فائدہ نامعتبرہ منتفی۔
خامسا : بلا شبہ فاعل سے دفع عبث کیلئے صرف فعل فی نفسہ مفید ہونا کافی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ یہ بھی اس سے فائدہ معتدبہا بمعنی مذکور کا قصد کرے ورنہ اس نے اگر کسی قصد فضول وبیمعنے سے کیا تو اس پر الزام عبث ضرور لازم
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی
(کیوں کہ اعمال کا مدارنیت پر ہے اورہر آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)
لہو ولعب(کھیل کود) کرو کیوں کہ میں یہ پسند نہیں کرتاکہ لوگ تمہارے دین میں سختی و درشتی دیکھیں ۔ اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں مطلب بن عبدالله مخز ومی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ (ت)
امام ابن حجر مکی کف الرعاع پھر سیدی عارف بالله حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
اللھو المباح ماذون فیہ منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وانہ فی بعض الاحوال قد لاینافی الکمال وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الھوا والعبوا دلیل لطلب ترویح النفوس اذا سئمت وجلاھا اذا صدئت باللھو واللعب المباح ۔
حضور اقدس کی طرف سے مباح لہو کی اجازت ہے او ریہ بعض احوال میں منافی کمال نہیں ۔ حضور کا ارشاد “ کھیل کود کرو “ اس بات کی دلیل ہے کہ جب طبیعت اکتاجائے اورزنگ خوردہ سی ہوجائے تو مباح لہو و لعب کے ذریعہ اسے راحت دینا اوراس کازنگ دور کرنا مطلوب ہے۔ (ت)
تو ۱۱ بھی ان تفا سیر سے جدا نہیں نہ لعب میں بوجہ لذت فائدہ معتد بہا ہوا نہ عبث سے بسبب عدم لذت فائدہ نامعتبرہ منتفی۔
خامسا : بلا شبہ فاعل سے دفع عبث کیلئے صرف فعل فی نفسہ مفید ہونا کافی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ یہ بھی اس سے فائدہ معتدبہا بمعنی مذکور کا قصد کرے ورنہ اس نے اگر کسی قصد فضول وبیمعنے سے کیا تو اس پر الزام عبث ضرور لازم
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی
(کیوں کہ اعمال کا مدارنیت پر ہے اورہر آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۶۵۴۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۵ / ۲۴۷
حدیقۃ الندیۃ الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۴۳۹ ، کف الرعاع الباب الثانی القسم الاول دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۵۲
صحیح البخاری باب کیف کان بدو الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲
حدیقۃ الندیۃ الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۴۳۹ ، کف الرعاع الباب الثانی القسم الاول دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۵۲
صحیح البخاری باب کیف کان بدو الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲
اور قصد کیلئے علم درکار کہ مجہول کا ارادہ نہیں ہوسکتا۔ زید سرراہ بیٹھا تھا ایك کھاتا پیتا ناشناسا گھوڑے پرسوار جارہا تھا اس نے ہزار روپے اٹھا کر اسے دے دیے کہ نہ صدقہ نہ صلہ رحم نہ محتاج کی اعانت نہ دوست کی امداد کوئی نیت صالحہ نہ تھی نہ ریایا نام وغیرہ کسی مقصد بد کا محل تھا تو اسے ضرور حرکت عبث کہیں گے اگرچہ واقع میں وہ اس کا کوئی ذی رحم ہو جسے یہ نہ پہچانتا تھا مقاصد شرعیہ پر نظر کرنے سے یہ حکم خوب منجلی ہوتا ہے ۔ رب فـــــــ عزوجل فرماتا ہے :
و ما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند الله-و ما اتیتم من زكوة تریدون وجه الله فاولىك هم المضعفون(۳۹)
جو فزونی تم دو کہ لوگوں کے مال میں زیادت ہووہ خدا کے نزدیك نہ بڑھے گی اورجو صدقہ دوخدا کی رضا چاہتے تو انہیں لوگوں کے دونے ہیں ۔
عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے آیہ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
الم تر الی الرجل یقول للرجل لامولنك فیعطیہ فھذا لایربو عندالله لانہ یعطیہ لغیر الله لیثری مالہ ۔
کیا تونے نہ دیکھاکہ ایك شخص دوسرے سے کہتا ہے میں تجھے مالدارکردوں گا پھر اسے دیتا ہے تو یہ دینا خداکے یہاں نہ بڑھے گا کہ اس نے غیر خدا کے لئے صرف اس نیت سے دیا کہ اس کا مال بڑھادوں ۔
امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں :
کان ھذا فی الجاھلیۃ یعطی احدھم ذا القرابۃ المال یکثربہ مالہ ۔
یہ زمانہ جاہلیت میں تھا اپنے عزیز کا مال بڑھانے کو اسے مال دیا کرتے۔
رواھما ابن جریر ان دونوں کو ابن جریر نے روایت کیا(ت)
فـــــ : مسئلہ : صلہ رحم اور اپنے اقرباء کی مواسات عمدہ حسنات سے ہے مگر اگر نیت لوجہ الله نہ ہو بلکہ خون کی شرکت اور طبعی محبت کا تقاضا ہو تو اس سے عندالله کچھ فائدہ نہیں ۔
و ما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند الله-و ما اتیتم من زكوة تریدون وجه الله فاولىك هم المضعفون(۳۹)
جو فزونی تم دو کہ لوگوں کے مال میں زیادت ہووہ خدا کے نزدیك نہ بڑھے گی اورجو صدقہ دوخدا کی رضا چاہتے تو انہیں لوگوں کے دونے ہیں ۔
عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے آیہ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
الم تر الی الرجل یقول للرجل لامولنك فیعطیہ فھذا لایربو عندالله لانہ یعطیہ لغیر الله لیثری مالہ ۔
کیا تونے نہ دیکھاکہ ایك شخص دوسرے سے کہتا ہے میں تجھے مالدارکردوں گا پھر اسے دیتا ہے تو یہ دینا خداکے یہاں نہ بڑھے گا کہ اس نے غیر خدا کے لئے صرف اس نیت سے دیا کہ اس کا مال بڑھادوں ۔
امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں :
کان ھذا فی الجاھلیۃ یعطی احدھم ذا القرابۃ المال یکثربہ مالہ ۔
یہ زمانہ جاہلیت میں تھا اپنے عزیز کا مال بڑھانے کو اسے مال دیا کرتے۔
رواھما ابن جریر ان دونوں کو ابن جریر نے روایت کیا(ت)
فـــــ : مسئلہ : صلہ رحم اور اپنے اقرباء کی مواسات عمدہ حسنات سے ہے مگر اگر نیت لوجہ الله نہ ہو بلکہ خون کی شرکت اور طبعی محبت کا تقاضا ہو تو اس سے عندالله کچھ فائدہ نہیں ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۰ /۳۹
جامع البیان ( تفسیر الطبری ) عن ابن عباس تحت الایہ ۳۰ / ۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳۱ / ۵۵
جامع البیان ( تفسیر الطبری ) بحوالہ ابراہیم نخعی تحت الایہ ۳۰ / ۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳۱ / ۵۵
جامع البیان ( تفسیر الطبری ) عن ابن عباس تحت الایہ ۳۰ / ۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳۱ / ۵۵
جامع البیان ( تفسیر الطبری ) بحوالہ ابراہیم نخعی تحت الایہ ۳۰ / ۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳۱ / ۵۵
دیکھو فعل فی نفسہ مثمر ثمرہ شرعیہ ہونے کا صالح فائدہ شرعیہ یعنی صلہ رحم و مواسات پر مشتمل تھا مگرجبکہ اس نے اس کا قصد نہ یا بے ثمر رہا تو حاصل یہ ٹھہرا کہ دفع عبث کو فائدہ معتد بہا بنظر فعل معلومہ مقصودہ للفاعل درکار ہے تو ان تفاسیر کا وہی مآل ہوا جو ۹ ۱۰ میں ملحوظ تھامفردات راغب میں ہے :
لعب فلان اذا کان فعلہ غیر قاصد بہ مقصدا صحیحا
لعب فلاں اس وقت بولتے ہیں جب ایسا کام کرے جس سے وہ کوئی صحیح مقصدنہ رکھتا ہو۔ (ت)
سادسا : غرض وہی فائدہ مقصودہ ہے اور صحیح یہی کہ معتد بہا ہو تو ۳ ۵ بھی اسی معنی کو ادا کررہی ہیں اور غرض میں جبکہ قصد ملحوظ ہے تو تعریف سوم ودہم اوضح واخصر تعریفات ہیں اور یہیں سے واضح ہوا کہ قول سمین وجمل العبث اللعب وما لا فائدۃ فیہ وکل مالیس فیہ غرض صحیح (عبث لعب بے فائدہ جن میں غرض صحیح نہ ہو۔ ت)
میں سب عطف تفسیری ہیں ۔
سابعا : ہم بیان کر آئے کہ فعل اختیاری بے غرض محض صادر نہ ہوگا تو جو بے غرض صحیح ہے ضرور بغرض صحیح ہے تو ۱ ۳ کا مفاد واحد ہے اور اس تقدیر پر سفہ کا مصداق افعال جنون ہوں گے۔
ثامنا : فـــــشرعی سے اگر مقبول شرع مراد لیں تو وہی حاصل غرض صحیح ہے کہ ہر غرض صحیح کو اگرچہ مطلوب فی الشرع نہ ہو شرع قبول فرماتی ہے جبکہ اپنے اقوی سے معارض نہ ہو اور ہنگام معارضہ عدم قبول قبول فی نفسہ کا منافی نہیں جیسے حدیث آحاد وقیاس کہ بجائے خود حجت شرعیہ ہیں اور معارضہ کتاب کے وقت نا مقبول امام نسفی کا عدم غرض شرعی سے تعریف فرما کر تعلیل کراہت میں لانہ غیر مفید (اس لئے کہ یہ غیر مفید ہے۔ ت) فرمانا اس کی طرف مشعر ہوسکتا ہے اس تقدیر پر ۲ اول اور ۴ سوم کی طرف عائد اور ظاہر ہوا کہ بارہ کی بارہ تعریفوں کا حاصل واحد
اقول : مگر غیر شرعی سے متبادر تر غرض عـــــــہ مطلوب فی الشرع ہے اب یہ تخصیص بحسب
عـــــہ : وعن ھذا ما قال فی البحر
یہی منشا ہے اس کا جوبحرمیں فرمایاکہ(باقی برصفحہ ائندہ)
فــــ : شرع کے دو معنی ہیں مقبول فی الشرع و مطلوب فی الشرع۔
لعب فلان اذا کان فعلہ غیر قاصد بہ مقصدا صحیحا
لعب فلاں اس وقت بولتے ہیں جب ایسا کام کرے جس سے وہ کوئی صحیح مقصدنہ رکھتا ہو۔ (ت)
سادسا : غرض وہی فائدہ مقصودہ ہے اور صحیح یہی کہ معتد بہا ہو تو ۳ ۵ بھی اسی معنی کو ادا کررہی ہیں اور غرض میں جبکہ قصد ملحوظ ہے تو تعریف سوم ودہم اوضح واخصر تعریفات ہیں اور یہیں سے واضح ہوا کہ قول سمین وجمل العبث اللعب وما لا فائدۃ فیہ وکل مالیس فیہ غرض صحیح (عبث لعب بے فائدہ جن میں غرض صحیح نہ ہو۔ ت)
میں سب عطف تفسیری ہیں ۔
سابعا : ہم بیان کر آئے کہ فعل اختیاری بے غرض محض صادر نہ ہوگا تو جو بے غرض صحیح ہے ضرور بغرض صحیح ہے تو ۱ ۳ کا مفاد واحد ہے اور اس تقدیر پر سفہ کا مصداق افعال جنون ہوں گے۔
ثامنا : فـــــشرعی سے اگر مقبول شرع مراد لیں تو وہی حاصل غرض صحیح ہے کہ ہر غرض صحیح کو اگرچہ مطلوب فی الشرع نہ ہو شرع قبول فرماتی ہے جبکہ اپنے اقوی سے معارض نہ ہو اور ہنگام معارضہ عدم قبول قبول فی نفسہ کا منافی نہیں جیسے حدیث آحاد وقیاس کہ بجائے خود حجت شرعیہ ہیں اور معارضہ کتاب کے وقت نا مقبول امام نسفی کا عدم غرض شرعی سے تعریف فرما کر تعلیل کراہت میں لانہ غیر مفید (اس لئے کہ یہ غیر مفید ہے۔ ت) فرمانا اس کی طرف مشعر ہوسکتا ہے اس تقدیر پر ۲ اول اور ۴ سوم کی طرف عائد اور ظاہر ہوا کہ بارہ کی بارہ تعریفوں کا حاصل واحد
اقول : مگر غیر شرعی سے متبادر تر غرض عـــــــہ مطلوب فی الشرع ہے اب یہ تخصیص بحسب
عـــــہ : وعن ھذا ما قال فی البحر
یہی منشا ہے اس کا جوبحرمیں فرمایاکہ(باقی برصفحہ ائندہ)
فــــ : شرع کے دو معنی ہیں مقبول فی الشرع و مطلوب فی الشرع۔
حوالہ / References
المفردات فی غرائب القرۤن تحت لفظ لعب الام مع العین نور محمد کارخانہ کراچی ص ۴۶۶
الفتوحات الالہیۃ تحت الایہ ۳۲ / ۱۱۵ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۶۷
الفتوحات الالہیۃ تحت الایہ ۳۲ / ۱۱۵ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۶۷
مقام ہوگی کہ ان کا کلام عبث فی الصلاۃ میں ہے تو وہاں غرض مطلوب شرع ہی غرض صحیح ہے نہ غیر۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اختلف فی تفسیر العبث فذکر الکردری انہ فعل فیہ غرض لیس بشرعی والمذکور فی شرح الھدایۃ وغیرھا ان العبث الفعل لغرض غیر صحیح حتی قال فی النھایۃ ما لیس بمفید فھو العبث اھ فاقام الخلاف لاجل التعبیر فی احدھما بشرعی وفی الاخر بصحیح ومال سعدی افندی الی ان المراد بالصحیح ھو الشرعی اذفیہ الکلام فاشار الی نحوما نحونا الیہ ان التخصیص لخصوص المقام و لقد احسن فی البحر اذ جعل مال مافی النھایۃ وغیرھا من الشروح واحد ا ولم یلتفت الی الفرق بین الغرض الغیر الصحیح وعدم الغرض ولکن کان عبارۃ العنایۃ محتملا للفرق بہ ایضا حیث نقل التعریف بما فیہ غرض غیر شرعی وبما لیس فیہ غرض صحیح ثم
عبث کی تفسیرمیں اختلاف ہے۔ بدر الدین کردری نے فرمایاوہ ایسا کام ہے جس میں کوئی ایسی غرض ہوجوشرعی نہ ہو۔ اور شرح ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ عبث وہ کام ہے جو غرض غیر صحیح کے سبب ہو یہاں تك کہ نہایہ میں فرمایا : جو فائدہ مند نہیں وہی عبث ہے اھ۔ توصاحب بحرنے ایك میں “ شرعی “ سے تعبیر اوردوسری میں “ صحیح “ سے تعبیر کی وجہ سے اختلاف قرار دیا اور سعدی آفندی کا میلان اس طرف ہے کہ صحیح سے مراد وہی شرعی ہے اس لئے کہ کلام اسی سے متعلق ہے۔ توجس ر وش پرہم چلے اسی کی جانب انہوں نے اشارہ کردیاکہ یہ تخصیص خصوصیت مقام کے پیش نظر ہے۔ اوربحرمیں یہ بہت خوب کیا کہ نہایہ اوراس کے علاوہ شروح کی تعبیرات کا مآل ایك ٹھہرایا اور “ غرض غیرصحیح “ و “ عدم غرض “ کے فرق پر التفات نہ کیا۔ مگر عنایہ کی عبارت اس تفریق کابھی احتمال رکھتی تھی کیوں کہ اس میں دونوں تعریفیں نقل کیں : “ وہ جس میں غرض غیر شرعی ہواوروہ جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو “ ۔ پھرکہا کہ :
(باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اختلف فی تفسیر العبث فذکر الکردری انہ فعل فیہ غرض لیس بشرعی والمذکور فی شرح الھدایۃ وغیرھا ان العبث الفعل لغرض غیر صحیح حتی قال فی النھایۃ ما لیس بمفید فھو العبث اھ فاقام الخلاف لاجل التعبیر فی احدھما بشرعی وفی الاخر بصحیح ومال سعدی افندی الی ان المراد بالصحیح ھو الشرعی اذفیہ الکلام فاشار الی نحوما نحونا الیہ ان التخصیص لخصوص المقام و لقد احسن فی البحر اذ جعل مال مافی النھایۃ وغیرھا من الشروح واحد ا ولم یلتفت الی الفرق بین الغرض الغیر الصحیح وعدم الغرض ولکن کان عبارۃ العنایۃ محتملا للفرق بہ ایضا حیث نقل التعریف بما فیہ غرض غیر شرعی وبما لیس فیہ غرض صحیح ثم
عبث کی تفسیرمیں اختلاف ہے۔ بدر الدین کردری نے فرمایاوہ ایسا کام ہے جس میں کوئی ایسی غرض ہوجوشرعی نہ ہو۔ اور شرح ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ عبث وہ کام ہے جو غرض غیر صحیح کے سبب ہو یہاں تك کہ نہایہ میں فرمایا : جو فائدہ مند نہیں وہی عبث ہے اھ۔ توصاحب بحرنے ایك میں “ شرعی “ سے تعبیر اوردوسری میں “ صحیح “ سے تعبیر کی وجہ سے اختلاف قرار دیا اور سعدی آفندی کا میلان اس طرف ہے کہ صحیح سے مراد وہی شرعی ہے اس لئے کہ کلام اسی سے متعلق ہے۔ توجس ر وش پرہم چلے اسی کی جانب انہوں نے اشارہ کردیاکہ یہ تخصیص خصوصیت مقام کے پیش نظر ہے۔ اوربحرمیں یہ بہت خوب کیا کہ نہایہ اوراس کے علاوہ شروح کی تعبیرات کا مآل ایك ٹھہرایا اور “ غرض غیرصحیح “ و “ عدم غرض “ کے فرق پر التفات نہ کیا۔ مگر عنایہ کی عبارت اس تفریق کابھی احتمال رکھتی تھی کیوں کہ اس میں دونوں تعریفیں نقل کیں : “ وہ جس میں غرض غیر شرعی ہواوروہ جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو “ ۔ پھرکہا کہ :
(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
بحرالرائق کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹
آخر نہ دیکھا کہ مٹی سے بچانے فـــــ۱ کیلئے دامن اٹھانا غرض صحیح ہے اور نماز میں مکروہ کہ غرض مطلوب شرعی نہیں اور پیشانی فــــــ۲ سے پسینہ پونچھنا باآنکہ غرض مطلوب فی الشرع نہیں نماز میں بلا کراہت روا جبکہ ایذا دے اور شغل خاطر کا باعث ہو کہ اب اس کا ازالہ غرض مطلوب شرع ہوگیا۔ عنایہ ونہایہ و
قال ولا نزاع فی الاصطلاح اھ فلہذا اجاب عنہ سعدی افندی بان النفی فی التعارف الثانی داخل علی القید اھ
اقول : وھو مشکل بظاھرہ فان النفی اذا استولی علی مقید بقید صدق بانتفاء ایھما کان وانما یتم بالتحقیق الذی القینا علیك ان لا وقوع للفعل الاختیاری من دون غرض اصلا اھ منہ عفی منہ۔ (م)
اصطلاح میں کوئی نزاع نہیں اھ۔ اسی لئے سعدی آفندی نے اس کا جواب دیا کہ دوسری تعریف میں نفی قید پر داخل ہے اھ۔
اقول : اور وہ بظاہر مشکل ہے اس لئے کہ نفی جب کسی ایسی چیز پر وارد ہوتی ہے جو کسی قیدسے مقید ہے تو مقید اورقید کسی کے بھی انتفا سے نفی کا صدق ہوجاتا ہے۔ اب دونوں کے مآل میں وحدت کی بات اسی وقت تام ہوسکتی ہے جب وہ تحقیق لی جائے جو ہم نے پیش کی کہ فعل اختیار ی کا وقوع بغیر کسی غرض کے ہوتا ہی نہیں (تومالیس فیہ غرض صحیح کا مآل یہی ہوگاکہ اس کی کوئی غرض تو ضرور ہے مگرغرض صحیح ہے اوریہ صورت کہ سرے سے صحیح غیر صحیح کوئی غرض ہی نہ ہو واقع میں اس کا وجود نہ ہوگا ۱۲م)۱۲ منہ۔ (ت)
فــــ ۱ : مسئلہ : نماز میں مٹی سے بچانے کے لئے دامن اٹھانا مکروہ ہے ۔
فــــ ۲ : مسئلہ : نماز میں منہ پر پسینہ ایسا آیا کہ ایذا دیتا اور دل بٹتا ہے تو اس کا پونچھنا مکروہ نہیں ورنہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
قال ولا نزاع فی الاصطلاح اھ فلہذا اجاب عنہ سعدی افندی بان النفی فی التعارف الثانی داخل علی القید اھ
اقول : وھو مشکل بظاھرہ فان النفی اذا استولی علی مقید بقید صدق بانتفاء ایھما کان وانما یتم بالتحقیق الذی القینا علیك ان لا وقوع للفعل الاختیاری من دون غرض اصلا اھ منہ عفی منہ۔ (م)
اصطلاح میں کوئی نزاع نہیں اھ۔ اسی لئے سعدی آفندی نے اس کا جواب دیا کہ دوسری تعریف میں نفی قید پر داخل ہے اھ۔
اقول : اور وہ بظاہر مشکل ہے اس لئے کہ نفی جب کسی ایسی چیز پر وارد ہوتی ہے جو کسی قیدسے مقید ہے تو مقید اورقید کسی کے بھی انتفا سے نفی کا صدق ہوجاتا ہے۔ اب دونوں کے مآل میں وحدت کی بات اسی وقت تام ہوسکتی ہے جب وہ تحقیق لی جائے جو ہم نے پیش کی کہ فعل اختیار ی کا وقوع بغیر کسی غرض کے ہوتا ہی نہیں (تومالیس فیہ غرض صحیح کا مآل یہی ہوگاکہ اس کی کوئی غرض تو ضرور ہے مگرغرض صحیح ہے اوریہ صورت کہ سرے سے صحیح غیر صحیح کوئی غرض ہی نہ ہو واقع میں اس کا وجود نہ ہوگا ۱۲م)۱۲ منہ۔ (ت)
فــــ ۱ : مسئلہ : نماز میں مٹی سے بچانے کے لئے دامن اٹھانا مکروہ ہے ۔
فــــ ۲ : مسئلہ : نماز میں منہ پر پسینہ ایسا آیا کہ ایذا دیتا اور دل بٹتا ہے تو اس کا پونچھنا مکروہ نہیں ورنہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
حوالہ / References
العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶
بحر وغیرہا میں ہے :
کل عمل یفید المصلی لاباس بہ لما روی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم عرق فی صلاتہ لیلۃ فسلت العرق عن جبینہ ای مسحہ لانہ کان یؤذیہ فکان مفید اواذا قام فـــــ من سجودہ فی الصیف نفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ کیلا تبقی صورۃ ۔
جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایك رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارك سے پسینہ پونچھ دیا اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹك دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔ (ت)
حاشیہ سعدی افندی میں ہے :
یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ ۔
یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلیس نفضہ للتراب فلا یرد ما فی البحر عن الحلیۃ انہ اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب لایکون نفضہ من التراب عملا مفیدا اھ
ورأیتنی کتبت
تواسے جھٹکنا مٹی کی وجہ سے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے وہ اعتراض واردنہ ہوگا جوبحرمیں حلیہ سے منقول ہے کہ جب خاك آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھالینامکروہ ہے تو مٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا اھ۔ اس عبارت پر میراحاشیہ
فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹك دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔
کل عمل یفید المصلی لاباس بہ لما روی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم عرق فی صلاتہ لیلۃ فسلت العرق عن جبینہ ای مسحہ لانہ کان یؤذیہ فکان مفید اواذا قام فـــــ من سجودہ فی الصیف نفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ کیلا تبقی صورۃ ۔
جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایك رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارك سے پسینہ پونچھ دیا اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹك دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔ (ت)
حاشیہ سعدی افندی میں ہے :
یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ ۔
یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فلیس نفضہ للتراب فلا یرد ما فی البحر عن الحلیۃ انہ اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب لایکون نفضہ من التراب عملا مفیدا اھ
ورأیتنی کتبت
تواسے جھٹکنا مٹی کی وجہ سے نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے وہ اعتراض واردنہ ہوگا جوبحرمیں حلیہ سے منقول ہے کہ جب خاك آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھالینامکروہ ہے تو مٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا اھ۔ اس عبارت پر میراحاشیہ
فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹك دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔
حوالہ / References
العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر باب مایفسد الصلوۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ ، البحرالرائق بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹ ، رد المحتار بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰
حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰
حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰
علیہ اقول : الذی فـــــ۱ فی الحلیۃ ھکذاثم فی الخلاصۃ والنھایۃ وحاصلہ فــــــ۲ ان کل عمل مفید للمصلی فلا باس بفعلہ کسلت العرق عن جبینہ ونفض ثوبہ من التراب ومالیس بمفید یکرہ للمصلی الاشتغال بہ اھ واعترض علیہ بثلثۃ وجوہ فقال قلت لکن اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب کما تقدم وانہ قد فـــ وقع الخلاف فی انہ یکرہ مسح التراب عن جبھتہ فی الصلاۃ کما سنذکرہ وانہ قد وقع
یہ ہے : اقول : حلیہ کی عبارت اس طرح ہے : پھرخلاصہ اورنہایہ میں ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مصلی کے لئے مفیدہواس کے کرنے میں حرج نہیں جیسے پیشانی سے پسینہ پونچھنا اورمٹی سے کپڑا جھاڑنا۔ اورجومفید نہیں ہے اس میں مشغول ہونا مصلی کے لئے مکروہ ہے اھ۔
حلبی نے اس عبارت پرتین طرح اعتراض کیا وہ لکھتے ہیں : میں کہوں گا (۱)جب خاك آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھانا مکروہ ہے تومٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا (۲)اوراس بارے میں اختلاف ہے کہ نماز میں پیشانی سے مٹی صاف کرنامکروہ ہے یا نہیں جیسا کہ آگے اسے ہم ذکرکریں گے۔
عـــــہ : ذکـر فیہ معترکا ولم یتخلص من
اس میں معرکہ آرائی کی جگہ بتائی ہے اور(باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ ۱ : مسئلہ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ ۲ : مسئلہ : نمازی کو ہر وہ عمل کہ نماز میں مفید ہو جائز و غیر مکروہ اور ہر وہ عمل جس کا فائدہ نماز کی طرف عائد نہ ہو کم از کم مکروہ و خلاف اولی ہے ۔
فـــــ۳ : سجدہ میں ماتھے پر لگی ہوئی مٹی اگر ایذاء دے مثلا اس میں باریك کنکریاں ہوں یا کثیر ہوں کہ آنکھوں پلکوں پر چھڑتی ہے جب تو مطلقا اسے پونچھنے میں حرج نہیں اور نہ اخیر التحیات کے ختم سے پہلے مکروہ ہے اور اس کے بعد سلام سے پہلے حرج نہیں اور سلام کے بعد اسے صاف کردینا تو مستحب ہے بلکہ اگر ریا کا خیال ہو کہ لوگ ٹیکا دیکھ کر نمازی سمجھیں جب تو اس کا باقی رکھنا حرام ہوگا۔
یہ ہے : اقول : حلیہ کی عبارت اس طرح ہے : پھرخلاصہ اورنہایہ میں ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مصلی کے لئے مفیدہواس کے کرنے میں حرج نہیں جیسے پیشانی سے پسینہ پونچھنا اورمٹی سے کپڑا جھاڑنا۔ اورجومفید نہیں ہے اس میں مشغول ہونا مصلی کے لئے مکروہ ہے اھ۔
حلبی نے اس عبارت پرتین طرح اعتراض کیا وہ لکھتے ہیں : میں کہوں گا (۱)جب خاك آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھانا مکروہ ہے تومٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا (۲)اوراس بارے میں اختلاف ہے کہ نماز میں پیشانی سے مٹی صاف کرنامکروہ ہے یا نہیں جیسا کہ آگے اسے ہم ذکرکریں گے۔
عـــــہ : ذکـر فیہ معترکا ولم یتخلص من
اس میں معرکہ آرائی کی جگہ بتائی ہے اور(باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ ۱ : مسئلہ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فـــــ ۲ : مسئلہ : نمازی کو ہر وہ عمل کہ نماز میں مفید ہو جائز و غیر مکروہ اور ہر وہ عمل جس کا فائدہ نماز کی طرف عائد نہ ہو کم از کم مکروہ و خلاف اولی ہے ۔
فـــــ۳ : سجدہ میں ماتھے پر لگی ہوئی مٹی اگر ایذاء دے مثلا اس میں باریك کنکریاں ہوں یا کثیر ہوں کہ آنکھوں پلکوں پر چھڑتی ہے جب تو مطلقا اسے پونچھنے میں حرج نہیں اور نہ اخیر التحیات کے ختم سے پہلے مکروہ ہے اور اس کے بعد سلام سے پہلے حرج نہیں اور سلام کے بعد اسے صاف کردینا تو مستحب ہے بلکہ اگر ریا کا خیال ہو کہ لوگ ٹیکا دیکھ کر نمازی سمجھیں جب تو اس کا باقی رکھنا حرام ہوگا۔
حوالہ / References
جدالمحتار علی رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ الخ المجمع الاسلامی مبارکپور ، ہند ۱ / ۳۰۵
الندب فـــــ الی تتریب الوجہ فی السجود
(۳) اور کپڑا تو درکنار چہرے کو سجدے میں خاك آلود
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کلامہ کبیر شیئ اقول : والاوفق الالصق باصول المذھب ان لو اذاہ وشغل قلبہ کأن کان فیہ صغار حصی اوکان کثیرا یتناثر علی عیونہ وجفونہ مسح مطلقا ولو فی وسط الصلوۃ والاکرہ فی خلال الصلوۃ ولو فی التشہد الاخیر امابعدہ وقبل السلام فقد نصوا ان لاباس بہ بلا خلاف وبعد السلام یستحب المسح دفعا للاذی وکراھۃ للمثلۃ ففی الخانیۃ لاباس بان یمسح جبھتہ من التراب والحشیش بعد الفراغ من الصلوۃ وقبلہ اذا کان یضر ذالك و یشغلہ عن الصلوۃ وان کان ذالك یکرہ فی وسط الصلوۃ ولا یکرہ قبل التشہد والسلام اھ وفی الحلیۃ وفی التحفۃ
ان کے کلام سے کوئی بڑی بات حاصل نہیں ہوتی۔ اقول : اصول مذہب سے زیادہ مطابق اور ہم آہنگ یہ ہے کہ مٹی سے اگر اسے تکلیف ہو اور اس کا دل بٹے مثلا یہ کہ اس پر کنکریوں کے ریزے ہوں یا مٹی اتنی زیادہ ہوکہ آنکھوں اورپلکوں پرجھڑکرگرتی ہو تو اسے صاف کردے۔ مطلقا۔ اگرچہ درمیان نماز میں ہو۔ ورنہ درمیان نماز صاف کرنامکروہ ہے اگرچہ تشہد اخیر میں ہو اور اس کے بعد سلام سے قبل صاف کرنے سے متعلق علماء کی بلا اختلاف تصریح ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور بعدسلام صاف کرنادفع اذی اورکراہت مثلہ کے پیش نظر مستحب ہے۔ خانیہ میں ہے : اس میں حرج نہیں کہ پیشانی سے مٹی اورتنکا نماز سے فارغ ہونے کے بعدصاف کردے اوراس سے پہلے بھی جب کہ اس سے اسے ضررہو اور نماز سے اس کا دل بٹتاہو۔ اور اگر اس سے ضرر نہ ہو تودرمیان نماز مکروہ ہے اورتشہد وسلام سے پہلے مکروہ نہیں ۔ اھ۔ حلیہ میں ہے : تحفہ میں ہے کہ (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : مسئلہ : مستحب ہے کہ سجدہ میں سر خاك پر بلا حائل ہو ۔
(۳) اور کپڑا تو درکنار چہرے کو سجدے میں خاك آلود
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کلامہ کبیر شیئ اقول : والاوفق الالصق باصول المذھب ان لو اذاہ وشغل قلبہ کأن کان فیہ صغار حصی اوکان کثیرا یتناثر علی عیونہ وجفونہ مسح مطلقا ولو فی وسط الصلوۃ والاکرہ فی خلال الصلوۃ ولو فی التشہد الاخیر امابعدہ وقبل السلام فقد نصوا ان لاباس بہ بلا خلاف وبعد السلام یستحب المسح دفعا للاذی وکراھۃ للمثلۃ ففی الخانیۃ لاباس بان یمسح جبھتہ من التراب والحشیش بعد الفراغ من الصلوۃ وقبلہ اذا کان یضر ذالك و یشغلہ عن الصلوۃ وان کان ذالك یکرہ فی وسط الصلوۃ ولا یکرہ قبل التشہد والسلام اھ وفی الحلیۃ وفی التحفۃ
ان کے کلام سے کوئی بڑی بات حاصل نہیں ہوتی۔ اقول : اصول مذہب سے زیادہ مطابق اور ہم آہنگ یہ ہے کہ مٹی سے اگر اسے تکلیف ہو اور اس کا دل بٹے مثلا یہ کہ اس پر کنکریوں کے ریزے ہوں یا مٹی اتنی زیادہ ہوکہ آنکھوں اورپلکوں پرجھڑکرگرتی ہو تو اسے صاف کردے۔ مطلقا۔ اگرچہ درمیان نماز میں ہو۔ ورنہ درمیان نماز صاف کرنامکروہ ہے اگرچہ تشہد اخیر میں ہو اور اس کے بعد سلام سے قبل صاف کرنے سے متعلق علماء کی بلا اختلاف تصریح ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور بعدسلام صاف کرنادفع اذی اورکراہت مثلہ کے پیش نظر مستحب ہے۔ خانیہ میں ہے : اس میں حرج نہیں کہ پیشانی سے مٹی اورتنکا نماز سے فارغ ہونے کے بعدصاف کردے اوراس سے پہلے بھی جب کہ اس سے اسے ضررہو اور نماز سے اس کا دل بٹتاہو۔ اور اگر اس سے ضرر نہ ہو تودرمیان نماز مکروہ ہے اورتشہد وسلام سے پہلے مکروہ نہیں ۔ اھ۔ حلیہ میں ہے : تحفہ میں ہے کہ (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : مسئلہ : مستحب ہے کہ سجدہ میں سر خاك پر بلا حائل ہو ۔
حوالہ / References
فتوی قاضی خان کتاب الصلوۃ باب الحدث الصلوۃ الخ نولکشور لکھنو ص ۱ / ۵۷
فضلا عن الثوب فکون نفض
کرنے کی ترغیب آئی ہے تو یہ بات عیاں طور پر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فی ظاھر الروایۃ یکرہ فی وسطھا ولا باس بہ اذا قعد قدر التشہد ونص علی انہ الصحیح ونص رضی الدین فی المحیط علی انہ الاصح الخ وفیھا نصوا علی انہ لاباس بان یمسح بعد مافرغ من صلوتہ قبل ان یسلم قال فی البدائع بلا خلاف لانہ لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ فلأن لایکرہ ادخال فعل قلیل اولی الخ وفیھا عن الذخیرۃ اذمسح جبھۃ بعد السلام یستحب لہ ذلك لانہ خرج من الصلوۃ وفیہ ازالۃ الاذی عن نفسہ الخ
اقول : ولو ابقاہ معاذ الله ریاء ظاہر الروایہ میں یہ درمیان نماز مکروہ ہے اور جب بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اوراس پر نص فرمایا کہ یہی صحیح ہے اورمحیط میں رضی الدین نے یہ تصریح فرمائی کہ یہ اصح ہے الخ۔ اورحلیہ میں یہ بھی ہے : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ بدائع میں فرمایا اس میں کوئی اختلاف نہیں تو فعل قلیل اختلاف نہیں کیوں کہ اس حالت میں اس کا نماز قطع کردینا مکروہ نہیں توفعل قلیل داخل کردینا بدرجہ اولی مکروہ نہ ہوگا۔ اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے : بعد سلام اپنی پیشانی صاف کرے تویہ اس کے لئے مستحب ہے اس لئے کہ وہ نماز سے باہر آچکا ہے اوراس میں اپنے سے گندگی(اذی) دور کرنا بھی ہے الخ۔
اقول : اور اگر معاذالله ریا کاری کے لئے (باقی برصفحہ ائندہ)
کرنے کی ترغیب آئی ہے تو یہ بات عیاں طور پر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فی ظاھر الروایۃ یکرہ فی وسطھا ولا باس بہ اذا قعد قدر التشہد ونص علی انہ الصحیح ونص رضی الدین فی المحیط علی انہ الاصح الخ وفیھا نصوا علی انہ لاباس بان یمسح بعد مافرغ من صلوتہ قبل ان یسلم قال فی البدائع بلا خلاف لانہ لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ فلأن لایکرہ ادخال فعل قلیل اولی الخ وفیھا عن الذخیرۃ اذمسح جبھۃ بعد السلام یستحب لہ ذلك لانہ خرج من الصلوۃ وفیہ ازالۃ الاذی عن نفسہ الخ
اقول : ولو ابقاہ معاذ الله ریاء ظاہر الروایہ میں یہ درمیان نماز مکروہ ہے اور جب بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اوراس پر نص فرمایا کہ یہی صحیح ہے اورمحیط میں رضی الدین نے یہ تصریح فرمائی کہ یہ اصح ہے الخ۔ اورحلیہ میں یہ بھی ہے : علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ بدائع میں فرمایا اس میں کوئی اختلاف نہیں تو فعل قلیل اختلاف نہیں کیوں کہ اس حالت میں اس کا نماز قطع کردینا مکروہ نہیں توفعل قلیل داخل کردینا بدرجہ اولی مکروہ نہ ہوگا۔ اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے : بعد سلام اپنی پیشانی صاف کرے تویہ اس کے لئے مستحب ہے اس لئے کہ وہ نماز سے باہر آچکا ہے اوراس میں اپنے سے گندگی(اذی) دور کرنا بھی ہے الخ۔
اقول : اور اگر معاذالله ریا کاری کے لئے (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
تحفۃ الفقہاء کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا دارالفکر بیروت ص ۷۲
بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۱۹
بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۲۰ ، ۲۱۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۱۹
بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۲۰ ، ۲۱۹
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
الثوب من التراب عملا مفیدا
محل نظر ہے کہ مٹی سے کپڑے کو جھاڑنا کوئی مفید عمل ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الناس حرم قطعا کما لایخفی ورأیتنی کتبت علی قول البدائع لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ مانصہ۔
اقـول : کیف فـــــ لایکرہ مع ان الواجب علیہ الانھاء بالسلام لاالقطع بعمل غیرہ فان اراد بالقطع الانھاء منعنا القیاس لانہ مامور بہ کیف یقاس علیہ مالیس مطلوبا وھو مالم ینھھا لایقع مایقع الا فی خلالھا الا تری الی الاثنا عشریۃ قال فی الھدایۃ علی تخریج البردعی ان الخروج عن الصلوۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فاعتراض ھذہ العوارض عندہ فی ھذہ الحالۃ کاعتراضھا فی خلال الصلوۃ اھ وفی الفتح
اسے باقی رکھے تو قطعا حرام ہے جیسا کہ واضح ہے۔ اور بدائع کی عبارت “ اس حالت میں اس کانماز قطع کردینا مکروہ نہیں “ پرمیں نے اپنا تحریر کردہ یہ حاشیہ دیکھا:
اقول : کیوں مکروہ نہیں جب کہ اس پرواجب یہ ہے کہ سلام پرنماز پوری کرے نہ یہ کہ سلام کے علاوہ کسی عمل سے نماز قطع کر دے۔ تواگر قطع سے ان کی مراد نماز پوری کرنا ہے تو قیاس درست نہیں کیوں کہ سلام پرنماز پوری کرنے کا تواسے حکم ہے اس پراس عمل کاقیاس کیسے ہوسکتا ہے جو مطلوب نہیں اورجب تك وہ نماز سلام سے پوری نہ کرے جو عمل بھی ہوگا درمیان نماز ہی ہوگا کیاوہ مشہور بارہ مسائل پیش نظر نہیں ۔ ہدایہ میں فرمایا : امام بردعی کی تخریج پریہ ہے کہ نماز سے مصلی کا اپنے عمل کے ذریعہ باہر آنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك فرض ہے۔ تو ان کے نزدیك اس حالت میں ان عوارض کا پیش آنا ایسا ہی ہے جیسے نماز کے درمیان پیش آنا اھ۔ اور فتح القدیر میں امام (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : تطفل علی الامام الجلیل صاحب البدائع۔
محل نظر ہے کہ مٹی سے کپڑے کو جھاڑنا کوئی مفید عمل ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الناس حرم قطعا کما لایخفی ورأیتنی کتبت علی قول البدائع لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ مانصہ۔
اقـول : کیف فـــــ لایکرہ مع ان الواجب علیہ الانھاء بالسلام لاالقطع بعمل غیرہ فان اراد بالقطع الانھاء منعنا القیاس لانہ مامور بہ کیف یقاس علیہ مالیس مطلوبا وھو مالم ینھھا لایقع مایقع الا فی خلالھا الا تری الی الاثنا عشریۃ قال فی الھدایۃ علی تخریج البردعی ان الخروج عن الصلوۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فاعتراض ھذہ العوارض عندہ فی ھذہ الحالۃ کاعتراضھا فی خلال الصلوۃ اھ وفی الفتح
اسے باقی رکھے تو قطعا حرام ہے جیسا کہ واضح ہے۔ اور بدائع کی عبارت “ اس حالت میں اس کانماز قطع کردینا مکروہ نہیں “ پرمیں نے اپنا تحریر کردہ یہ حاشیہ دیکھا:
اقول : کیوں مکروہ نہیں جب کہ اس پرواجب یہ ہے کہ سلام پرنماز پوری کرے نہ یہ کہ سلام کے علاوہ کسی عمل سے نماز قطع کر دے۔ تواگر قطع سے ان کی مراد نماز پوری کرنا ہے تو قیاس درست نہیں کیوں کہ سلام پرنماز پوری کرنے کا تواسے حکم ہے اس پراس عمل کاقیاس کیسے ہوسکتا ہے جو مطلوب نہیں اورجب تك وہ نماز سلام سے پوری نہ کرے جو عمل بھی ہوگا درمیان نماز ہی ہوگا کیاوہ مشہور بارہ مسائل پیش نظر نہیں ۔ ہدایہ میں فرمایا : امام بردعی کی تخریج پریہ ہے کہ نماز سے مصلی کا اپنے عمل کے ذریعہ باہر آنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك فرض ہے۔ تو ان کے نزدیك اس حالت میں ان عوارض کا پیش آنا ایسا ہی ہے جیسے نماز کے درمیان پیش آنا اھ۔ اور فتح القدیر میں امام (باقی برصفحہ ائندہ)
فـــــ : تطفل علی الامام الجلیل صاحب البدائع۔
حوالہ / References
الہدایۃ کتا الصلوۃ باب الحدث فی الصلوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۱۱۰
وانہ لاباس بہ مطلقا فیہ نظر ظاھر اھ وانت تعلم ان اعتراضہ علی مانقل عن الخلاصۃ والنھایۃ صحیح الی الغایۃ للتصریح فیہ ان النفض من التراب۔
اور اس میں “ مطلقا “ کوئی حرج نہیں ہے اھ۔ ناظر کو معلوم ہے کہ حلبی نے خلاصہ ونہایہ سے جس طرح عبارت نقل کی ہے اس پر ان کا اعتراض بالکل درست اوربجا ہے کیوں کہ اس عبارت میں مٹی سے جھاڑنے کی صراحت موجود ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ناقلا عن الکرخی انما تبطل عندہ فیھا لانہ فی اثنائہا کیف وقد بقی علیہ واجب وھو السلام وھو اخرھا داخلا فیھا اھ فاتفق التخریجان ان ماقبل السلام داخل فی خلال الصلوۃ فلم لایکرہ مایکون فیہ مما لیس من افعال الصلوۃ ولا مفیدا محتاجا الیہ فتدبر اذلابحث مع الاطباق لاسیما من مثلی والاتباع للمنقول وان لم یظھر للعقول والله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ۔ (م)
امام کرخی سے نقل ہے : امام صاحب کے نزدیك ان عوارض کی صورتوں میں نماز اسی لئے باطل ہوتی ہے کہ وہ ابھی اثنائے نماز میں ہے کیوں نہ ہو جب کہ ابھی اس کے ذمہ ایك واجب باقی ہے وہ ہے سلام یہ نماز کا آخری عمل ہے اورنماز میں داخل ہے اھ۔ تو امام بردعی وامام کرخی دونوں حضرات کی تخریجیں اس پر متفق ہیں کہ ماقبل سلام درمیان نماز داخل ہے تواس حالت میں واقع ہونے والا وہ کام مکروہ کیوں نہ ہوگا جو نہ افعال نماز سے ہے نہ مفید ہے نہ اس کی حاجت ہے تو تدبر کرو۔ اس لئے کہ اتفاق موجود ہوتے ہوئے بحث کی خصوصا مجھ جیسے سے۔ گنجائش نہیں ۔ اتباع منقول کا ہوگا اگرچہ اس کی وجہ معقول ظاہر نہ ہو ۔ والله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ ۔ (ت)
اور اس میں “ مطلقا “ کوئی حرج نہیں ہے اھ۔ ناظر کو معلوم ہے کہ حلبی نے خلاصہ ونہایہ سے جس طرح عبارت نقل کی ہے اس پر ان کا اعتراض بالکل درست اوربجا ہے کیوں کہ اس عبارت میں مٹی سے جھاڑنے کی صراحت موجود ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ناقلا عن الکرخی انما تبطل عندہ فیھا لانہ فی اثنائہا کیف وقد بقی علیہ واجب وھو السلام وھو اخرھا داخلا فیھا اھ فاتفق التخریجان ان ماقبل السلام داخل فی خلال الصلوۃ فلم لایکرہ مایکون فیہ مما لیس من افعال الصلوۃ ولا مفیدا محتاجا الیہ فتدبر اذلابحث مع الاطباق لاسیما من مثلی والاتباع للمنقول وان لم یظھر للعقول والله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ۔ (م)
امام کرخی سے نقل ہے : امام صاحب کے نزدیك ان عوارض کی صورتوں میں نماز اسی لئے باطل ہوتی ہے کہ وہ ابھی اثنائے نماز میں ہے کیوں نہ ہو جب کہ ابھی اس کے ذمہ ایك واجب باقی ہے وہ ہے سلام یہ نماز کا آخری عمل ہے اورنماز میں داخل ہے اھ۔ تو امام بردعی وامام کرخی دونوں حضرات کی تخریجیں اس پر متفق ہیں کہ ماقبل سلام درمیان نماز داخل ہے تواس حالت میں واقع ہونے والا وہ کام مکروہ کیوں نہ ہوگا جو نہ افعال نماز سے ہے نہ مفید ہے نہ اس کی حاجت ہے تو تدبر کرو۔ اس لئے کہ اتفاق موجود ہوتے ہوئے بحث کی خصوصا مجھ جیسے سے۔ گنجائش نہیں ۔ اتباع منقول کا ہوگا اگرچہ اس کی وجہ معقول ظاہر نہ ہو ۔ والله تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ ۔ (ت)
حوالہ / References
البحر الرائق بحوالہ الجلی کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلوٰۃ و مایکرہ فیھا ایچ ایم سعید کراچی ۲ / ۱۹
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب الحدث فی الصلوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳۶
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب الحدث فی الصلوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۳۶
اقــول : وانما فــــــ قید بقولہ مطلقا لان الثوب ان کان مما یفسدہ التراب کأن یکون من لاحریر المخلوط للرجل اوالخالص للمرأۃ وکان فی التراب نداوۃ فلولم یغسل بقی متلوثا ولو غسل فسد فحینئذا فان الضرورات تبیح المحظورات ۔ والله تعالی اعلم ۔
ولکن الشان ان لیس لفظ التراب لافی الخلاصۃ ولا فی النھایۃ فنص نسختی الخلاصۃ ولا یعبث بشیئ من جسدہ وثیابہ والحاصل ان کل عمل ھو مفید لاباس بہ للمصلی وقد صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ سلت العرق عن جبینہ وکان اذا قام من سجودہ فنفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ وما لیس بمفید یکرہ کاللعب ونحوہ اھ
اقول : اعتراض کے الفاظ میں انہوں نے “ مطلقا “ کی قید اس لئے رکھی ہے کہ اگرکپڑا ایسا ہو جوکہ مٹی سے خراب ہوجائے مثلا مرد کا کپڑا مخلوط ریشم کا یاعورت کاخالص ریشم کا ہو اورمٹی میں نمی ہو اب اگر اسے دھوتا نہیں تو کپڑا خاك آلود رہ جاتا ہے اوردھوتا ہے تو خراب ہوتا ہے ایسی صورت میں مٹی سے بچانا ممنوع نہ ہونا چاہئے کیوں کہ ضرورتوں کے پاس ممنوعات مباح ہوجاتے ہیں والله تعالی اعلم۔
لیکن معاملہ یہ ہے کہ لفظ “ تراب(مٹی) “ نہ خلاصہ میں ہے نہ نہایہ میں ہے۔ میرے نسخہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے : “ اوراپنے جسم یا کپڑے کے کسی حصے سے کھیل نہ کرے۔ اورحاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مفید ہو مصلی کے لئے اس میں حرج نہیں نبی سے بطریق صحیح ثابت ہے کہ جبین مبارك سے پسینہ صاف کیا اورجب سجدہ سے اٹھتے تو اپنا کپڑا دائیں بائیں جھٹك دیتے۔ اورجو مفید نہیں وہ مکروہ ہے جیسے لعب اوراس کے مثل اھ۔
فـــــ : مسئلہ : اگر کپڑا بیش قیمت ہے جیسے ریشمیں تانے کا مرد کے لئے یا خالص ریشمی عورت کے لئے اور نماز خالی زمین پر پڑھ رہا ہے اور مٹی گیلی ہے کہ کپڑا نہ بچائے تو کیچڑ سے خراب ہوگا اور دھونے سے بگڑ جائے گا تو ایسی حالت میں بچانے کی اجازت ہونی چاہیئے والله تعالی اعلم۔
ولکن الشان ان لیس لفظ التراب لافی الخلاصۃ ولا فی النھایۃ فنص نسختی الخلاصۃ ولا یعبث بشیئ من جسدہ وثیابہ والحاصل ان کل عمل ھو مفید لاباس بہ للمصلی وقد صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ سلت العرق عن جبینہ وکان اذا قام من سجودہ فنفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ وما لیس بمفید یکرہ کاللعب ونحوہ اھ
اقول : اعتراض کے الفاظ میں انہوں نے “ مطلقا “ کی قید اس لئے رکھی ہے کہ اگرکپڑا ایسا ہو جوکہ مٹی سے خراب ہوجائے مثلا مرد کا کپڑا مخلوط ریشم کا یاعورت کاخالص ریشم کا ہو اورمٹی میں نمی ہو اب اگر اسے دھوتا نہیں تو کپڑا خاك آلود رہ جاتا ہے اوردھوتا ہے تو خراب ہوتا ہے ایسی صورت میں مٹی سے بچانا ممنوع نہ ہونا چاہئے کیوں کہ ضرورتوں کے پاس ممنوعات مباح ہوجاتے ہیں والله تعالی اعلم۔
لیکن معاملہ یہ ہے کہ لفظ “ تراب(مٹی) “ نہ خلاصہ میں ہے نہ نہایہ میں ہے۔ میرے نسخہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے : “ اوراپنے جسم یا کپڑے کے کسی حصے سے کھیل نہ کرے۔ اورحاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مفید ہو مصلی کے لئے اس میں حرج نہیں نبی سے بطریق صحیح ثابت ہے کہ جبین مبارك سے پسینہ صاف کیا اورجب سجدہ سے اٹھتے تو اپنا کپڑا دائیں بائیں جھٹك دیتے۔ اورجو مفید نہیں وہ مکروہ ہے جیسے لعب اوراس کے مثل اھ۔
فـــــ : مسئلہ : اگر کپڑا بیش قیمت ہے جیسے ریشمیں تانے کا مرد کے لئے یا خالص ریشمی عورت کے لئے اور نماز خالی زمین پر پڑھ رہا ہے اور مٹی گیلی ہے کہ کپڑا نہ بچائے تو کیچڑ سے خراب ہوگا اور دھونے سے بگڑ جائے گا تو ایسی حالت میں بچانے کی اجازت ہونی چاہیئے والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۵۷
ونص النھایۃ علی مانقل فی البحر مثل مااثرتہ عن العنایۃ بمعناہ وقد صرح فیہ بالمراد اذقال کیلا تبقی صورۃ ولا توجہ علیہ لشیئ من الایرادات بیدان الامام الحلبی ثقۃ حجۃ امین فی النقل فالظاھر انہ وقع ھکذا فی نسختیہ الخلاصۃ والنھایۃ ولکن العجب فــــ۱ من البحر نقل عبارۃ النھایۃ مصرحۃ بالصواب ثم عقبہا بالاعتراضات الواردۃ علی لفظ من التراب واقرھا کانہ لیس عنہا جواب۔
اور نہایہ کی عبارت جیسے بحرمیں نقل کی ہے بالمعنی اسی کی طرح ہے جو میں نے عنایہ سے نقل کی اوراس میں مراد کی تصریح کردی ہے کیوں کہ اس میں کہاہے : “ تاکہ صورت نہ باقی رہے “ اوراس عبارت پر ان تینوں اعتراضوں میں سے ایك بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ مگر امام حلبی نقل میں ثقہ حجت امین ہیں توظاہر یہ ہے کہ ان کے خلاصہ اورنہایہ کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہوگی جیسے انہوں نے نقل کی۔ لیکن تعجب بحر پر ہے کہ انہوں نے نہایہ کی عبارت تو صاف صحیح کی تصریح کے ساتھ نقل کی (وہ جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا) پھر بھی اس کے بعد لفظ “ تراب “ سے متعلق وارد ہونے والے اعتراضات نقل کرکے انہیں برقرار رکھا گویا ان کا کوئی جواب نہیں ۔
یہ نہایت فـــــ۲ کلام ہے تحقیق معنی عبث میں اب تنقیح حکم کی طرف چلئے وبالله التوفیق ۔
اقول : بیان سابق سے واضح ہوکہ عبث کا مناط فعل میں فائدہ معتدبہا مقصود نہ ہونے پر ہے اور وہ اپنے عموم سے قصد مضر وارادہ شرکو بھی شامل تو بظاہر مثل اسراف اس کی بھی دو صورتیں ایك فعل بقصد شنیع دوسری یہ کہ نہ کوئی بری نیت ہو نہ اچھی۔ رب عزوجل نے فرمایا :
افحسبتم انما خلقنكم عبثا و انكم الینا لا ترجعون(۱۱۵)
کیا اس گمان میں ہو کہ ہم نے تمہیں عبث بنایا اور تم ہماری طرف نہ پلٹوگے۔
فـــــ ۱ : تظفل علی البحر ۔ فـــــ ۲ : حکم عبث کی تنقیح ۔
اور نہایہ کی عبارت جیسے بحرمیں نقل کی ہے بالمعنی اسی کی طرح ہے جو میں نے عنایہ سے نقل کی اوراس میں مراد کی تصریح کردی ہے کیوں کہ اس میں کہاہے : “ تاکہ صورت نہ باقی رہے “ اوراس عبارت پر ان تینوں اعتراضوں میں سے ایك بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ مگر امام حلبی نقل میں ثقہ حجت امین ہیں توظاہر یہ ہے کہ ان کے خلاصہ اورنہایہ کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہوگی جیسے انہوں نے نقل کی۔ لیکن تعجب بحر پر ہے کہ انہوں نے نہایہ کی عبارت تو صاف صحیح کی تصریح کے ساتھ نقل کی (وہ جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا) پھر بھی اس کے بعد لفظ “ تراب “ سے متعلق وارد ہونے والے اعتراضات نقل کرکے انہیں برقرار رکھا گویا ان کا کوئی جواب نہیں ۔
یہ نہایت فـــــ۲ کلام ہے تحقیق معنی عبث میں اب تنقیح حکم کی طرف چلئے وبالله التوفیق ۔
اقول : بیان سابق سے واضح ہوکہ عبث کا مناط فعل میں فائدہ معتدبہا مقصود نہ ہونے پر ہے اور وہ اپنے عموم سے قصد مضر وارادہ شرکو بھی شامل تو بظاہر مثل اسراف اس کی بھی دو صورتیں ایك فعل بقصد شنیع دوسری یہ کہ نہ کوئی بری نیت ہو نہ اچھی۔ رب عزوجل نے فرمایا :
افحسبتم انما خلقنكم عبثا و انكم الینا لا ترجعون(۱۱۵)
کیا اس گمان میں ہو کہ ہم نے تمہیں عبث بنایا اور تم ہماری طرف نہ پلٹوگے۔
فـــــ ۱ : تظفل علی البحر ۔ فـــــ ۲ : حکم عبث کی تنقیح ۔
حوالہ / References
القرآن ۲۳ / ۱۱۵
علماء نے اس آیہ کریمہ میں عبث کو معنی دوم پر لیا یعنی کیا ہم نے تم کو بیکار بنایا تمہاری آفر ینش میں کوئی حکمت نہ تھی یوں ہی بے معنی پیدا ہوئے بیہودہ مرجاؤ گے نہ حساب نہ کتاب نہ عذاب نہ ثواب جیسے وہ خبیث کہا کرتے تھے :
ان هی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا و ما نحن بمبعوثینﭪ(۳۷)
یہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اورمرنے کے بعددوبارہ ہم اٹھائے نہ جائیں گے۔ (ت)
اس پر رد کو یہ آیت اتری۔
کما تقدم بعض نقولہ وزعم العلامۃ الخفاجی بعدما ذکر فی العبث ثلث عبارات تقدمت والظاھر ان المراد (ای فی ھذہ الکریمۃ) الاول اھ
اقول : اولا علمت فـــــ۱ ان الکل واحد وثانیا ان فــــ۲ ابقینا التغایر فالظاھر الاخیران لان فی الھمزۃ انکار ما حسبوہ لایجاب ما سلبوہ ولیس المراد اثبات فائدۃ ما ولو غیر معتمدبھا ولھذا قال فی الارشاد بغیر حکمۃ بالغۃ واطلق الجلال لان حکم الله تعالی کلھا بالغۃ
جیسا کہ اس کی کچھ نقلیں گزرچکیں ۔ اور علامہ خفاجی نے عبث سے متعلق وہ تین عبارتیں ذکرکیں جوگذر چکیں پھر یہ کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں مراد پہلا معنی ہے۔ اھ۔
اقول اولا : یہ واضح ہوچکا کہ سب تعریفیں ایك ہی ہیں ۔ ثانیا اگرہم تغایر باقی رکھیں توظاہر آخری دوتعریفیں ہیں ۔ اس لئے کہ ہمزہ میں ان کے گمان کا انکار ہے تاکہ اس کا اثبات ہوجس کی انہوں نے نفی کی۔ اور مراد یہ نہیں کہ کسی بھی فائدہ کا اثبات ہو جائے اگرچہ قابل لحاظ وشمار نہ ہو۔ اوراس لئے ارشاد میں فرمایا : بغیر حکمت بالغہ کے۔ اور جلال نے مطلق رکھا کیوں کہ الله تعالی کا ہر حکم بالغ ہے
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ الخفاجی۔ فـــــ۲ : معروضۃ اخری علیہ ۔
ان هی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا و ما نحن بمبعوثینﭪ(۳۷)
یہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اورمرنے کے بعددوبارہ ہم اٹھائے نہ جائیں گے۔ (ت)
اس پر رد کو یہ آیت اتری۔
کما تقدم بعض نقولہ وزعم العلامۃ الخفاجی بعدما ذکر فی العبث ثلث عبارات تقدمت والظاھر ان المراد (ای فی ھذہ الکریمۃ) الاول اھ
اقول : اولا علمت فـــــ۱ ان الکل واحد وثانیا ان فــــ۲ ابقینا التغایر فالظاھر الاخیران لان فی الھمزۃ انکار ما حسبوہ لایجاب ما سلبوہ ولیس المراد اثبات فائدۃ ما ولو غیر معتمدبھا ولھذا قال فی الارشاد بغیر حکمۃ بالغۃ واطلق الجلال لان حکم الله تعالی کلھا بالغۃ
جیسا کہ اس کی کچھ نقلیں گزرچکیں ۔ اور علامہ خفاجی نے عبث سے متعلق وہ تین عبارتیں ذکرکیں جوگذر چکیں پھر یہ کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں مراد پہلا معنی ہے۔ اھ۔
اقول اولا : یہ واضح ہوچکا کہ سب تعریفیں ایك ہی ہیں ۔ ثانیا اگرہم تغایر باقی رکھیں توظاہر آخری دوتعریفیں ہیں ۔ اس لئے کہ ہمزہ میں ان کے گمان کا انکار ہے تاکہ اس کا اثبات ہوجس کی انہوں نے نفی کی۔ اور مراد یہ نہیں کہ کسی بھی فائدہ کا اثبات ہو جائے اگرچہ قابل لحاظ وشمار نہ ہو۔ اوراس لئے ارشاد میں فرمایا : بغیر حکمت بالغہ کے۔ اور جلال نے مطلق رکھا کیوں کہ الله تعالی کا ہر حکم بالغ ہے
فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ الخفاجی۔ فـــــ۲ : معروضۃ اخری علیہ ۔
حوالہ / References
القرآن ۲۳ / ۳۷
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الایہ ۲۳ / ۱۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۶۱۱
الارشاد العقل السلیم تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۳
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الایہ ۲۳ / ۱۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۶۱۱
الارشاد العقل السلیم تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۳
علی ان الحکمۃ نفسہا یستحیل ان لایعتد بھا۔
علاوہ ازیں بذات خود حکمت ناممکن ہے کہ غیر معتد بہا ہو۔ (ت)
اور سیدنا ہود علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے اپنی قوم عاد سے فرمایا :
اتبنون بكل ریع ایة تعبثون(۱۲۸)و تتخذون مصانع لعلكم تخلدون(۱۲۹)
یا ہر بلندی پرایك نشان بناتے ہوعبث کرتے یا عبث کے لئے اور کارخانے بناتے ہوگویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔
اس آیہ کریمہ میں بعض نے کہا راستوں میں مسافروں کیلئے بے حاجت بھی جگہ جگہ علامتیں قائم کرتے تھے۔
ذکرہ فی الکبیر وتبعہ البیضاوی وابو السعود والجمل قال فی الانوار (ایۃ) علما لمارۃ (تعبثون) بنائھا اذکانوا یھتدون بالنجوم فی اسفارھم فلا یحتاجون الیھا اھ فاورد ان لانجوم بالنھار وقد یحدث باللیل من الغیوم ما یسترالنجوم واجاب فی العنایۃ بانھم لایحتاجون الیھا غالبا اذ ا مرالغیم نادر لاسیما فی دیار العرب اھ
اقـول : اولا لم فـــــ یجب عن اسے تفسیر کبیر میں ذکر کیا اور بیضاوی ابو السعود اورجمل نے اس کا اتباع کیا۔ انوار التنزیل بیضاوی میں ہے (نشان) گذرنے ولوں کے لئے علامت (عبث کرتے ہو) اسے بنا کر۔ اس لئے کہ وہ اپنے سفروں میں ستاروں سے راہ معلوم کرتے تھے تو انہیں نشانات کی حاجت نہ تھی اھ۔ اس پراعتراض ہواکہ دن میں ستارے نہیں ہوتے اور رات کو بھی کبھی اتنی بدلی ہوجاتی ہے کہ ستارے چھپ جاتے ہیں ۔ عنایۃ القاضی میں علامہ خفاجی نے اس کا یہ جواب دیاکہ زیادہ ترانہیں اس کی حاجت نہ تھی اس لئے کہ بدلی ہونا نادرہے خصوصا دیار عرب میں ۔ اھ۔
اقول : اولا دن والی صورت سے
فـــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔
علاوہ ازیں بذات خود حکمت ناممکن ہے کہ غیر معتد بہا ہو۔ (ت)
اور سیدنا ہود علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے اپنی قوم عاد سے فرمایا :
اتبنون بكل ریع ایة تعبثون(۱۲۸)و تتخذون مصانع لعلكم تخلدون(۱۲۹)
یا ہر بلندی پرایك نشان بناتے ہوعبث کرتے یا عبث کے لئے اور کارخانے بناتے ہوگویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔
اس آیہ کریمہ میں بعض نے کہا راستوں میں مسافروں کیلئے بے حاجت بھی جگہ جگہ علامتیں قائم کرتے تھے۔
ذکرہ فی الکبیر وتبعہ البیضاوی وابو السعود والجمل قال فی الانوار (ایۃ) علما لمارۃ (تعبثون) بنائھا اذکانوا یھتدون بالنجوم فی اسفارھم فلا یحتاجون الیھا اھ فاورد ان لانجوم بالنھار وقد یحدث باللیل من الغیوم ما یسترالنجوم واجاب فی العنایۃ بانھم لایحتاجون الیھا غالبا اذ ا مرالغیم نادر لاسیما فی دیار العرب اھ
اقـول : اولا لم فـــــ یجب عن اسے تفسیر کبیر میں ذکر کیا اور بیضاوی ابو السعود اورجمل نے اس کا اتباع کیا۔ انوار التنزیل بیضاوی میں ہے (نشان) گذرنے ولوں کے لئے علامت (عبث کرتے ہو) اسے بنا کر۔ اس لئے کہ وہ اپنے سفروں میں ستاروں سے راہ معلوم کرتے تھے تو انہیں نشانات کی حاجت نہ تھی اھ۔ اس پراعتراض ہواکہ دن میں ستارے نہیں ہوتے اور رات کو بھی کبھی اتنی بدلی ہوجاتی ہے کہ ستارے چھپ جاتے ہیں ۔ عنایۃ القاضی میں علامہ خفاجی نے اس کا یہ جواب دیاکہ زیادہ ترانہیں اس کی حاجت نہ تھی اس لئے کہ بدلی ہونا نادرہے خصوصا دیار عرب میں ۔ اھ۔
اقول : اولا دن والی صورت سے
فـــــ : معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۹ /۱۲۸ ، ۱۲۹
انوار التنزیل ( تفسیر بیضاوی) تحت الایہ ۶ / ۱۲۸، ۱۲۹ دارالفکر بیروت ۴ / ۲۴۷
عنایۃ القاضی علی التفسیر البیضاوی تحت الایہ ۶ / ۱۲۸، ۱۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۴۷
انوار التنزیل ( تفسیر بیضاوی) تحت الایہ ۶ / ۱۲۸، ۱۲۹ دارالفکر بیروت ۴ / ۲۴۷
عنایۃ القاضی علی التفسیر البیضاوی تحت الایہ ۶ / ۱۲۸، ۱۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۴۷
النھار و انمابہ اکثر الاسفار ۔
وثـانـیا ان سلم فــــ۱ الندور فعمل مایحتاج الیہ ولو احیانا لایعد عبثا قال مع انہ لو احتیج الیھا لم یحتج الی ان یجعل فی کل ریع فان کثرتھا عبث اھ۔
اقول : ھذا فـــــ۲ منزع اخر فلا یرفع الایراد عن القاضی قال وقال الفاضل الیمنی ان اما کنہا المرتفعۃ تغنی عنھا فھی عبث اھ۔
اقول : اولا ارتفاع فــــ۳ الاماکن لا یبلغ بحیث یراھا القاصد من ای مکان بعید قصد ۔
وثانیا : ھو فـــــ۴منزع ثالث وکلامنا فی کلامی و الانوار بالجملۃ ھو وجہ
اعتراض کا جواب نہ دیا جب کہ زیادہ تر سفر دن ہی میں ہوتے ہیں ۔
ثانیا اگر بدلی کا نادرا ہی ہونا تسلیم کرلیاجائے توبھی ایسی چیز بنانا جس کی ضرورت پڑتی ہو اگرچہ کبھی کبھی پڑتی ہو عبث شمار نہ ہوگا۔ آگے فرماتے ہیں : باوجود یکہ اگر اس کی ضرورت ہو تو بھی اس کی ضرورت نہیں کہ ہر بلندی پر بنائیں اس لئے کہ ان نشانات کی کثرت بلا شبہہ عبث ہے اھ۔
اقول : یہ ایك دوسرا رخ ہے اس سے قاضی کا اعتراض نہیں اٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ آگے لکھتے ہیں : فاضل یمنی نے کہا : ان بلند جگہوں سے ان نشانات کا مقصد یونہی پورا ہوجاتاتھا تویہ عبث ٹھہرے اھ۔
اقول : اولا جگہوں کی انچائی اس حد تك نہیں ہوتی کہ عازم سفرجس دورجگہ سے بھی چاہے دیکھ لے۔
ثانیا : یہ ایك تیسرا رخ ہوا۔ اورہماری گفتگو کلام بیضاوی سے متعلق ہے۔ الحاصل
فـــــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ۔
فـــــــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فـــــــ۳ : معروضۃ سادسۃ علیہ و علی الفاضل الیمنی ۔
فـــــــ۴ : معروضۃ سابعۃ علیھما۔
وثـانـیا ان سلم فــــ۱ الندور فعمل مایحتاج الیہ ولو احیانا لایعد عبثا قال مع انہ لو احتیج الیھا لم یحتج الی ان یجعل فی کل ریع فان کثرتھا عبث اھ۔
اقول : ھذا فـــــ۲ منزع اخر فلا یرفع الایراد عن القاضی قال وقال الفاضل الیمنی ان اما کنہا المرتفعۃ تغنی عنھا فھی عبث اھ۔
اقول : اولا ارتفاع فــــ۳ الاماکن لا یبلغ بحیث یراھا القاصد من ای مکان بعید قصد ۔
وثانیا : ھو فـــــ۴منزع ثالث وکلامنا فی کلامی و الانوار بالجملۃ ھو وجہ
اعتراض کا جواب نہ دیا جب کہ زیادہ تر سفر دن ہی میں ہوتے ہیں ۔
ثانیا اگر بدلی کا نادرا ہی ہونا تسلیم کرلیاجائے توبھی ایسی چیز بنانا جس کی ضرورت پڑتی ہو اگرچہ کبھی کبھی پڑتی ہو عبث شمار نہ ہوگا۔ آگے فرماتے ہیں : باوجود یکہ اگر اس کی ضرورت ہو تو بھی اس کی ضرورت نہیں کہ ہر بلندی پر بنائیں اس لئے کہ ان نشانات کی کثرت بلا شبہہ عبث ہے اھ۔
اقول : یہ ایك دوسرا رخ ہے اس سے قاضی کا اعتراض نہیں اٹھتا۔ ۔ ۔ ۔ آگے لکھتے ہیں : فاضل یمنی نے کہا : ان بلند جگہوں سے ان نشانات کا مقصد یونہی پورا ہوجاتاتھا تویہ عبث ٹھہرے اھ۔
اقول : اولا جگہوں کی انچائی اس حد تك نہیں ہوتی کہ عازم سفرجس دورجگہ سے بھی چاہے دیکھ لے۔
ثانیا : یہ ایك تیسرا رخ ہوا۔ اورہماری گفتگو کلام بیضاوی سے متعلق ہے۔ الحاصل
فـــــــ۱ : معروضۃ رابعۃ علیہ۔
فـــــــ۲ : معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فـــــــ۳ : معروضۃ سادسۃ علیہ و علی الفاضل الیمنی ۔
فـــــــ۴ : معروضۃ سابعۃ علیھما۔
حوالہ / References
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الآیۃ ۲۶ / ۱۲۸ ، ۱۲۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۷ / ۱۹۹
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الآیۃ ۲۶ / ۱۲۸ ، ۱۲۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۷ / ۱۹۹
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الآیۃ ۲۶ / ۱۲۸ ، ۱۲۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۷ / ۱۹۹
زیف ولا اعلم لہ سندا من السلف ولقد احسن النیسابوری اذا سقطہ من تلخیص الکبیر ۔ اقول : وتعبیری فــــــ ۱اذ قلت یبنون من دون حاجۃ ایضا احسن من تعبیر الکبیر ومن تبعہ کما تری۔
یہ ایك کمزوروجہ ہے اورسلف سے اس کی کوئی سند میرے علم میں نہیں ۔ اورنیشاپوری نے بہت اچھا کیا کہ تفسیر کبیر کی تلخیص سے اسے ساقط کردیا۔ اقول : میری یہ تعبیر کہ “ بے حاجت بھی بناتے تھے “ تفسیرکبیراوراس کے متبعین کی تعبیرسے بہتر ہے جیسا کہ پیش نظر ہے۔ (ت)
امام مجاہد و سعید بن جبیر نے فرمایا : جگہ جگہ کبوتروں کی کابکیں بناتے ہیں ۔
رواہ عن الاول ابن جریر فی (ایۃ) وھو والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ و عبد بن حمید واباالمنذر وابی حاتم فی ( مصانع ) وعزاہ للثانی فی المعالم
اسے امام مجاہد سے ابن جریر نے “ آیہ “ کے معنی میں روایت کیا او رابن جریر فریابی سعیدبن منصور ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ان سے “ مصانع “ کے معنی میں روایت کیا۔ اورمعالم التنزیل میں اسے حضرت سعیدبن جبیر کے حوالے سے بیان کیا۔ (ت)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی دوم ہوگا یعنی لغو و لہو۔ بعض نے کہا ہر جگہ اونچے اونچے محل تکبر وتفاخر کے لئے بناتے ۔
ذکرہ الکبیر ومن بعدہ وللفریابی وابناء حمید وجریر والمنذر وابی حاتم عن مجاھد و تتخذون مصانع قال
اسے تفسیر کبیر میں ذکرکیا اوراس کے بعدکے مفسرین نے بھی۔ اورفریابی ابن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد سے روایت کی “ وتتخذون مصانع “ انہوں نے کہا
فـــــــ ۱ : علی الامام الرازی والبیضاوی وابی سعود۔
یہ ایك کمزوروجہ ہے اورسلف سے اس کی کوئی سند میرے علم میں نہیں ۔ اورنیشاپوری نے بہت اچھا کیا کہ تفسیر کبیر کی تلخیص سے اسے ساقط کردیا۔ اقول : میری یہ تعبیر کہ “ بے حاجت بھی بناتے تھے “ تفسیرکبیراوراس کے متبعین کی تعبیرسے بہتر ہے جیسا کہ پیش نظر ہے۔ (ت)
امام مجاہد و سعید بن جبیر نے فرمایا : جگہ جگہ کبوتروں کی کابکیں بناتے ہیں ۔
رواہ عن الاول ابن جریر فی (ایۃ) وھو والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ و عبد بن حمید واباالمنذر وابی حاتم فی ( مصانع ) وعزاہ للثانی فی المعالم
اسے امام مجاہد سے ابن جریر نے “ آیہ “ کے معنی میں روایت کیا او رابن جریر فریابی سعیدبن منصور ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم نے ان سے “ مصانع “ کے معنی میں روایت کیا۔ اورمعالم التنزیل میں اسے حضرت سعیدبن جبیر کے حوالے سے بیان کیا۔ (ت)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی دوم ہوگا یعنی لغو و لہو۔ بعض نے کہا ہر جگہ اونچے اونچے محل تکبر وتفاخر کے لئے بناتے ۔
ذکرہ الکبیر ومن بعدہ وللفریابی وابناء حمید وجریر والمنذر وابی حاتم عن مجاھد و تتخذون مصانع قال
اسے تفسیر کبیر میں ذکرکیا اوراس کے بعدکے مفسرین نے بھی۔ اورفریابی ابن حمید ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد سے روایت کی “ وتتخذون مصانع “ انہوں نے کہا
فـــــــ ۱ : علی الامام الرازی والبیضاوی وابی سعود۔
حوالہ / References
جامع البیان( تفسیر الطبری) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۹ / ۱۱۰
الدرالمنثور بحوالہ الفریابی تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۶ / ۲۸۲
معالم التنزیل ( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۶
الدرالمنثور بحوالہ الفریابی تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۶ / ۲۸۲
معالم التنزیل ( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۶
قصورا مشیدۃ وبنیانا مخلدا ولابن جریر عنہ قال ایۃ ۔
مضبوط محل اوردوامی عمارت۔ اور ابن جریر نے ان سے روایت کیا کہ آیۃ یعنی عمارت۔ (ت)
ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے منقول ہوا جو راستے سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف جاتے ان پر محل بنائے تھے کہ ان میں بیٹھ کر خدمت رسالت میں حاضر ہونے والوں سے تمسخر کرتے ذکرہ فی مفاتیح الغیب ورغائب الفرقان مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر )اور رغائب الفرقان (نیشاپوری) میں اس کا ذکر کیا گیا۔ ت) یا سرراہ بناتے ہر راہ گیر سے ہنستے ذکرہ البغوی والبیضاوی وابو السعود واقتصر علیہ الجلال ملتزما الاقتصار علی اصح الاقوال (ذکر کیا بغوی اور بیضاوی اور ابو السعود نے اختصار کیا جلال نے اختصار اقوال اصح میں لازم ہے۔ ت)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی اول ہوگا یعنی قصد شر و ارادہ ضرر۔ بالجملہ دونوں معنے کا پتا قرآن عظیم سے چلتا ہے اگرچہ متعارف غالب میں اس کا استعمال معنی دوم ہی پر ہے بیہودہ وبے معنے کام ہی کو عبث کہتے ہیں نہ کہ معاصی وظلم وغصب وزنا وربا وغیرہا کو۔
اذا تقرر ھذا فـاقـول ظھر ان لاعتب علی الامام الجلیل صاحب الھدایۃ رحمہ الله تعالی اذ یقول ان العبث خارج الصلاۃ حرام فما ظنك فی الصلوۃ اھ وقد اقرہ فی العنایۃ و
جب یہ طے ہوگیا تومیں کہتاہوں واضح ہوگیا کہ امام جلیل صاحب ہدایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہپرکوئی عتاب نہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ : عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرون نماز سے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اھ۔ اسے عنایہ وفتح القدیر میں برقرار رکھا
مضبوط محل اوردوامی عمارت۔ اور ابن جریر نے ان سے روایت کیا کہ آیۃ یعنی عمارت۔ (ت)
ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے منقول ہوا جو راستے سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف جاتے ان پر محل بنائے تھے کہ ان میں بیٹھ کر خدمت رسالت میں حاضر ہونے والوں سے تمسخر کرتے ذکرہ فی مفاتیح الغیب ورغائب الفرقان مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر )اور رغائب الفرقان (نیشاپوری) میں اس کا ذکر کیا گیا۔ ت) یا سرراہ بناتے ہر راہ گیر سے ہنستے ذکرہ البغوی والبیضاوی وابو السعود واقتصر علیہ الجلال ملتزما الاقتصار علی اصح الاقوال (ذکر کیا بغوی اور بیضاوی اور ابو السعود نے اختصار کیا جلال نے اختصار اقوال اصح میں لازم ہے۔ ت)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی اول ہوگا یعنی قصد شر و ارادہ ضرر۔ بالجملہ دونوں معنے کا پتا قرآن عظیم سے چلتا ہے اگرچہ متعارف غالب میں اس کا استعمال معنی دوم ہی پر ہے بیہودہ وبے معنے کام ہی کو عبث کہتے ہیں نہ کہ معاصی وظلم وغصب وزنا وربا وغیرہا کو۔
اذا تقرر ھذا فـاقـول ظھر ان لاعتب علی الامام الجلیل صاحب الھدایۃ رحمہ الله تعالی اذ یقول ان العبث خارج الصلاۃ حرام فما ظنك فی الصلوۃ اھ وقد اقرہ فی العنایۃ و
جب یہ طے ہوگیا تومیں کہتاہوں واضح ہوگیا کہ امام جلیل صاحب ہدایہ رحمۃ اللہ تعالی علیہپرکوئی عتاب نہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ : عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرون نماز سے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اھ۔ اسے عنایہ وفتح القدیر میں برقرار رکھا
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ الفریابی وغیرہ تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۲۸۲
جامع البیان ( تفسیر الطبری ) تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۹ / ۱۱۰
مفاتیح الغیب ( التفسیر الکبیر ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۴ / ۱۳۵ ، غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹مصطفی البابی مصر ۱۹ / ۶۵
معالم التنزیل( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالکتب العلمیہ بیروت۳ / ۳۳۷ ، انوار التنزیل ( تفسیر البیضاوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالفکر بیروت۴ / ۲۴۸
تفسیر الجلالین الایہ ۲۶ / ۱۲۸ا صح المطابع دہلی ص ۳۱۴
الھدایہ کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ مایقرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۱۹ ، ۰ ۱۲
جامع البیان ( تفسیر الطبری ) تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۹ / ۱۱۰
مفاتیح الغیب ( التفسیر الکبیر ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۴ / ۱۳۵ ، غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹مصطفی البابی مصر ۱۹ / ۶۵
معالم التنزیل( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالکتب العلمیہ بیروت۳ / ۳۳۷ ، انوار التنزیل ( تفسیر البیضاوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالفکر بیروت۴ / ۲۴۸
تفسیر الجلالین الایہ ۲۶ / ۱۲۸ا صح المطابع دہلی ص ۳۱۴
الھدایہ کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ مایقرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۱۹ ، ۰ ۱۲
الفتح وتبعہ فی الدرر والغنیۃ ولفظ مولی خسرو انہ خارج الصلاۃ منھی عنہ فما ظنك فیھا ھ
ولفظ المحقق الحلبی العبث حرام خارج الصلاۃ ففی الصلوۃ اولی اھ
فان قلت اطلقوا وانما ھو حکم القسم الاول۔ قلت اصل الکلام فی الصلاۃ وکل عبث فیہا من القسم الاول فتعین مرادا وکان اللام للعھد فحصل التفصی عما او رد فــــــ السروجی فی الغایۃ وتبعہ فی البحر والشرنبلالی فی الغنیۃ وش ان العبث خارجہا بثوبہ اوبدنہ خلاف الاولی ولا یحرم قال والحدیث (ای ان الله کرہ لکم ثلثا العبث فی الصلاۃ والرفث فی الصیام والضحك فی المقابر رواہ القضاعی عن یحیی بن ابی کثیر مرسلا) قید بکونہ
اور درروغنیہ میں اس کا اتباع کیا۔ مولی خسرو کے الفاظ یہ ہیں : وہ بیرون نماز منہی عنہ ہے تو اندرون نماز سے متعلق تمہاراکیاخیال ہے اھ اورمحقق حلبی کے الفاظ یہ ہیں : عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرون نماز بدرجہ اولی(حرام) ہوگا اھ۔
اگر کہئے ان حضرات نے مطلق رکھاہے اور یہ قسم اول کا حکم ہے میں کہوں گااصل کلام نماز سے متعلق ہے اورنمازمیں ہرعبث قسم اول سے ہے تو اسی کا مراد ہونا متعین ہے اور “ العبث “ میں لام عہد کا ہے تو اس اعتراض سے چھٹکارا ہوگیا جو سروجی نے غایہ میں وارد کیا اور صاحب بحر نے بحر میں اورشرنبلالی نے غنیہ میں اورشامی نے اس کی پیروی کی۔ (اعتراض یہ ہے)کہ بیرون نماز اپنے کپڑے یابدن سے عبث(کھیل کرنا) خلاف اولی ہے حرام نہیں ۔ اور کہا کہ : یہ حدیث “ بیشك الله نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائیں : نماز میں عبث روزے میں بے ہودگی قبرستانوں میں ہنسنا۔ قضاعی نے یحیی بن ابی کثیر سے مرسلا روایت کی “ ۔ اس میں عبث کے ساتھ اندورن نماز
فــــــ : تظفل علی السروجی والبحر والشرنبلالی و ش۔ ۔
ولفظ المحقق الحلبی العبث حرام خارج الصلاۃ ففی الصلوۃ اولی اھ
فان قلت اطلقوا وانما ھو حکم القسم الاول۔ قلت اصل الکلام فی الصلاۃ وکل عبث فیہا من القسم الاول فتعین مرادا وکان اللام للعھد فحصل التفصی عما او رد فــــــ السروجی فی الغایۃ وتبعہ فی البحر والشرنبلالی فی الغنیۃ وش ان العبث خارجہا بثوبہ اوبدنہ خلاف الاولی ولا یحرم قال والحدیث (ای ان الله کرہ لکم ثلثا العبث فی الصلاۃ والرفث فی الصیام والضحك فی المقابر رواہ القضاعی عن یحیی بن ابی کثیر مرسلا) قید بکونہ
اور درروغنیہ میں اس کا اتباع کیا۔ مولی خسرو کے الفاظ یہ ہیں : وہ بیرون نماز منہی عنہ ہے تو اندرون نماز سے متعلق تمہاراکیاخیال ہے اھ اورمحقق حلبی کے الفاظ یہ ہیں : عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرون نماز بدرجہ اولی(حرام) ہوگا اھ۔
اگر کہئے ان حضرات نے مطلق رکھاہے اور یہ قسم اول کا حکم ہے میں کہوں گااصل کلام نماز سے متعلق ہے اورنمازمیں ہرعبث قسم اول سے ہے تو اسی کا مراد ہونا متعین ہے اور “ العبث “ میں لام عہد کا ہے تو اس اعتراض سے چھٹکارا ہوگیا جو سروجی نے غایہ میں وارد کیا اور صاحب بحر نے بحر میں اورشرنبلالی نے غنیہ میں اورشامی نے اس کی پیروی کی۔ (اعتراض یہ ہے)کہ بیرون نماز اپنے کپڑے یابدن سے عبث(کھیل کرنا) خلاف اولی ہے حرام نہیں ۔ اور کہا کہ : یہ حدیث “ بیشك الله نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائیں : نماز میں عبث روزے میں بے ہودگی قبرستانوں میں ہنسنا۔ قضاعی نے یحیی بن ابی کثیر سے مرسلا روایت کی “ ۔ اس میں عبث کے ساتھ اندورن نماز
فــــــ : تظفل علی السروجی والبحر والشرنبلالی و ش۔ ۔
حوالہ / References
الدرر ا لحکام شرح غرر الاحکام کتاب الصلوۃ مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیتہ الصلوٰۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
البحرالرائق بحوالہ القضاعی فی مسند الشہاب کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیتہ الصلوٰۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
البحرالرائق بحوالہ القضاعی فی مسند الشہاب کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
فی الصلاۃ اھ
ہونے کی قید لگی ہوئی ہے اھ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ معنی اول پرعبث ممنوع و ناجائز ہوگا نہ دوم پر اور یہاں ہمارا کلام قسم دوم میں ہے یعنی جہاں نہ قصد معصیت نہ پانی کی اضاعت۔
بل اقـول : لك فـــــ۱ ان تقول ان فی النظر الدقیق لاحکم علی العبث فی نفسہ بالحظر والتحریم اصلا وما کان لانضمام ضمیمۃ ذمیمۃ فانما مرجعہ الیہا دونہ وتحقیق ذلك انا اریناك تظافر الکلمات علی ان مناط العبث علی عدم قصد الفائدۃ بالفعل وھذہ حقیقۃ متحصلۃ بنفسھا ولیس قصد المضر اوعدم قصدہ من مقوماتھا ولا مما یتوقف علیہ وجود ھا کسبب وشرط فیعد من محصلاتھا فاذن لیس قصد مضرا لا من مجاوراتھا وما کان لمجاور یکون حکمالہ لالصاحبہ الا تری البیع یحرم بشرط فاسد وبعد اذان الجمعۃ واذا سئلت
بلکہ میں کہتاہوں تم کہہ سکتے ہوکہ بنظر دقیق دیکھا جائے توخود عبث پرمنع وتحریم کاحکم بالکل نہیں اور جو حکم منع کسی مذموم ضمیمہ کے شامل ہوجانے کی وجہ سے ہے اس کا مرجع اس ضمیمہ کی طرف ہے عبث کی جانب نہیں ۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ ہم دکھا چکے کہ کلمات کا اس پر اتفاق ہے کہ عبث کا مدار اس پر ہے کہ بالفعل فائدہ کا قصد نہ ہو۔ اوریہ ایك ایسی حقیقت ہے جو خود حصول وثبوت رکھتی ہے۔ اورمضرکاقصد یاعدم قصد اس کا نہ توجز ہے نہ سبب وشرط کی طرح اس پراس کا وجودموقوف ہے کہ اسے اس کا محصل شمار کیاجائے۔ تو کسی مضر کا قصدبس اس کا مجاوراور اس سے متصل ہی ہوسکتا ہے اورجو حکم کسی مجاور ومتصل کے سبب ہو وہ دراصل اسی متصل کا حکم ہے اس کے ساتھ والے کا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھئے کسی شرط فاسد سے بیع حرام ہوتی ہے
فـــــ : تحقیق المصنف ان فی تقسیم الشیئ بحسب المجاور لایکون حك القسم حکم المقسم۔
ہونے کی قید لگی ہوئی ہے اھ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ معنی اول پرعبث ممنوع و ناجائز ہوگا نہ دوم پر اور یہاں ہمارا کلام قسم دوم میں ہے یعنی جہاں نہ قصد معصیت نہ پانی کی اضاعت۔
بل اقـول : لك فـــــ۱ ان تقول ان فی النظر الدقیق لاحکم علی العبث فی نفسہ بالحظر والتحریم اصلا وما کان لانضمام ضمیمۃ ذمیمۃ فانما مرجعہ الیہا دونہ وتحقیق ذلك انا اریناك تظافر الکلمات علی ان مناط العبث علی عدم قصد الفائدۃ بالفعل وھذہ حقیقۃ متحصلۃ بنفسھا ولیس قصد المضر اوعدم قصدہ من مقوماتھا ولا مما یتوقف علیہ وجود ھا کسبب وشرط فیعد من محصلاتھا فاذن لیس قصد مضرا لا من مجاوراتھا وما کان لمجاور یکون حکمالہ لالصاحبہ الا تری البیع یحرم بشرط فاسد وبعد اذان الجمعۃ واذا سئلت
بلکہ میں کہتاہوں تم کہہ سکتے ہوکہ بنظر دقیق دیکھا جائے توخود عبث پرمنع وتحریم کاحکم بالکل نہیں اور جو حکم منع کسی مذموم ضمیمہ کے شامل ہوجانے کی وجہ سے ہے اس کا مرجع اس ضمیمہ کی طرف ہے عبث کی جانب نہیں ۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ ہم دکھا چکے کہ کلمات کا اس پر اتفاق ہے کہ عبث کا مدار اس پر ہے کہ بالفعل فائدہ کا قصد نہ ہو۔ اوریہ ایك ایسی حقیقت ہے جو خود حصول وثبوت رکھتی ہے۔ اورمضرکاقصد یاعدم قصد اس کا نہ توجز ہے نہ سبب وشرط کی طرح اس پراس کا وجودموقوف ہے کہ اسے اس کا محصل شمار کیاجائے۔ تو کسی مضر کا قصدبس اس کا مجاوراور اس سے متصل ہی ہوسکتا ہے اورجو حکم کسی مجاور ومتصل کے سبب ہو وہ دراصل اسی متصل کا حکم ہے اس کے ساتھ والے کا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھئے کسی شرط فاسد سے بیع حرام ہوتی ہے
فـــــ : تحقیق المصنف ان فی تقسیم الشیئ بحسب المجاور لایکون حك القسم حکم المقسم۔
حوالہ / References
البحرالرائق بحوالہ الغایہ للسروجی کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰ ، غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام علی ہامش درر الحکام باب مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷ ، رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰
عن حکم البیع قلت مشروع بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ کما ذکرہ فی غایۃ البیان وغیرھا والصلاۃ تکرہ فی ثیاب الحریر للرجل وفی الارض المغصوبۃ ولا یمنعك ذلك بان تقول اذا سئلت عن حکمھا ان الصلاۃ خیر موضوع فمن استطاع ان یستکثر منھا فلیستکثر کما رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ان المصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم وبالجملۃ یؤاخذ علی المعصیۃ من حیث قصد الشر لا من حیث عدم قصد الخیر وھی انما کانت عبثا من ھذہ الحیثیۃ لامن تلك فلیس الحظر حکم العبث اصلا۔
یوں ہی اذان جمعہ کے بعد بیع حرام ہے اور اگرخود بیع کاحکم پوچھا جائے توجواب ہوگاکہ جائز اورکتاب وسنت واجماع امت سے مشر وع ہے جیسا کہ اسے غایۃ البیان وغیرہامیں ذکرکیا ہے۔ یوں ہی نماز ریشمی کپڑے میں مردکے لئے اور غصب کردہ زمین میں کسی کے لئے بھی مکروہ ہے لیکن اگرخود نماز کا حکم پوچھاجائے توجواب یہی ہوگا نماز ایك وضع شدہ خیر اورنیکی ہے توجس سے ہوسکے کہ اسے زیادہ حاصل کرے تو اسے چاہئے کہ وہ زیادہ حاصل کرے۔ جیسا کہ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا ہے ۔ الحاصل معصیت پرمواخذہ اس لحاظ سے ہے کہ شرکا قصد ہوا اس لحاظ سے نہیں کہ خیر کا قصد نہ ہوا اوروہ عبث اسی حیثیت سے ہے اس حیثیت سے نہیں توعبث کا حکم ممانعت بالکل نہیں ۔ (ت)
اس کا حکم وہی ہے جو ابھی غایہ سروجی وبحرالرائق وغنیہ شرنبلالی وردالمحتار سے منقول ہوا کہ خلاف اولی ہے اور یہی مفاد درمختار ہے ۔
حیث قال کرہ عبثہ للنھی الالحاجۃ ولا باس بہ خارج الصلاۃ اھ فان لاباس لما ترکہ اولی
(اس کے الفاظ یہ ہیں : اس کا عبث نہی کی وجہ سے مکروہ ہے مگریہ کہ کسی حاجت کی وجہ سے ہواوربیرون نمازاس میں حرج نہیں اھ۔ اس لئے کہ لاباس(حرج نہیں ) اسی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا ترك اولی ہے۔ (ت)
یوں ہی اذان جمعہ کے بعد بیع حرام ہے اور اگرخود بیع کاحکم پوچھا جائے توجواب ہوگاکہ جائز اورکتاب وسنت واجماع امت سے مشر وع ہے جیسا کہ اسے غایۃ البیان وغیرہامیں ذکرکیا ہے۔ یوں ہی نماز ریشمی کپڑے میں مردکے لئے اور غصب کردہ زمین میں کسی کے لئے بھی مکروہ ہے لیکن اگرخود نماز کا حکم پوچھاجائے توجواب یہی ہوگا نماز ایك وضع شدہ خیر اورنیکی ہے توجس سے ہوسکے کہ اسے زیادہ حاصل کرے تو اسے چاہئے کہ وہ زیادہ حاصل کرے۔ جیسا کہ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا ہے ۔ الحاصل معصیت پرمواخذہ اس لحاظ سے ہے کہ شرکا قصد ہوا اس لحاظ سے نہیں کہ خیر کا قصد نہ ہوا اوروہ عبث اسی حیثیت سے ہے اس حیثیت سے نہیں توعبث کا حکم ممانعت بالکل نہیں ۔ (ت)
اس کا حکم وہی ہے جو ابھی غایہ سروجی وبحرالرائق وغنیہ شرنبلالی وردالمحتار سے منقول ہوا کہ خلاف اولی ہے اور یہی مفاد درمختار ہے ۔
حیث قال کرہ عبثہ للنھی الالحاجۃ ولا باس بہ خارج الصلاۃ اھ فان لاباس لما ترکہ اولی
(اس کے الفاظ یہ ہیں : اس کا عبث نہی کی وجہ سے مکروہ ہے مگریہ کہ کسی حاجت کی وجہ سے ہواوربیرون نمازاس میں حرج نہیں اھ۔ اس لئے کہ لاباس(حرج نہیں ) اسی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا ترك اولی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۲۴۵ مکتبۃ المعارف ریاض بیروت ۱ / ۱۸۳
الدر المختار کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتباہی دہلی ۱ / ۹۱
الدر المختار کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتباہی دہلی ۱ / ۹۱
اور یہی وہ ہے جو قول سوم میں ارشاد ہوا کہ پانی میں اسراف نہ کرنا آداب سے ہے۔
اما ما فی الحلیۃ فی مسألۃ فرقعۃ الاصابع فــــ۱ ھل یکرہ خارج الصلاۃ فی النوازل یکرہ والظاھران المراد کراھۃ تنزیہ حیث لایکون لغرض صحیح اما لغرض صحیح ولو اراحۃ الاصابع فلا اھ
وفی فــــ۲ تشبیکھا بعد ذکر النھی عنہ فی الصلاۃ وفی السعی الیھا ولمنتظرھا کمثلھم فی الفرقعۃ مانصہ فیبقی فیما وراء ھذہ الاحوال حیث لایکون عبثا علی الاباحۃ من غیر کراھۃ وان کان علی سبیل العبث یکرہ تنزیھا اھ وتبعہ فیہما ش والبحر فی الاولی و زاد انہ لما لم یکن فیھا خارجہا نھی لم تکن تحریمیۃ کما اسلفناہ قریبا اھ یرید ماقدم انہ
مگر حلیہ میں انگلیاں چٹخانے کے مسئلہ میں ہے : کیا یہ بیرون نماز بھی مکروہ ہے نوازل میں ہے کہ مکروہ ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہ مراد ہے جبکہ اس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ اوراگرکسی غرض صحیح کے تحت ہو اگرچہ انگلیوں کو راحت دینا ہی مقصودہوتوکراہت نہیں اھ۔
اور ایك ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے سے متعلق نمازمیں اورنمازکے لئے جانے اور نمازکے انتظار کی حالتوں میں انگلیاں چٹخانے کی طرح نہی کاذکرکرنے کے بعد حلیہ میں لکھا ہے : ان کے علاوہ احوال میں جہاں کہ عبث نہ ہو بغیر کسی کراہت کے اباحت پرحکم رہے گا اور اگر بطور عبث ہو تومکروہ تنزیہی ہوگااھ۔
ان دونوں مسئلوں میں شامی نے حلیہ کا اتباع کیا ہے اوربحرنے پہلے مسئلہ میں اتباع کیا ہے اور مزیدیہ لکھا : چوں کہ انگلیاں چٹخانے سے متعلق بیرون نماز ممانعت نہیں اس لئے وہاں یہ مکروہ
فـــــ۱ : مسئلہ : نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے یوں ہی اگر نماز کے انتظار میں بیٹھنا ہے یا نماز کے لئے جارہا ہے ۔ اور ان کے سوا اگر حاجت ہو مثلا انگلیوں میں بخارات کے سبب کسل پیدا ہو تو خالص اباحت ہے اور بے حاجت خلاف اولی و ترك ادب ہے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : یہی سب احکام اپنے ایك ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کے ہیں :
اما ما فی الحلیۃ فی مسألۃ فرقعۃ الاصابع فــــ۱ ھل یکرہ خارج الصلاۃ فی النوازل یکرہ والظاھران المراد کراھۃ تنزیہ حیث لایکون لغرض صحیح اما لغرض صحیح ولو اراحۃ الاصابع فلا اھ
وفی فــــ۲ تشبیکھا بعد ذکر النھی عنہ فی الصلاۃ وفی السعی الیھا ولمنتظرھا کمثلھم فی الفرقعۃ مانصہ فیبقی فیما وراء ھذہ الاحوال حیث لایکون عبثا علی الاباحۃ من غیر کراھۃ وان کان علی سبیل العبث یکرہ تنزیھا اھ وتبعہ فیہما ش والبحر فی الاولی و زاد انہ لما لم یکن فیھا خارجہا نھی لم تکن تحریمیۃ کما اسلفناہ قریبا اھ یرید ماقدم انہ
مگر حلیہ میں انگلیاں چٹخانے کے مسئلہ میں ہے : کیا یہ بیرون نماز بھی مکروہ ہے نوازل میں ہے کہ مکروہ ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہ مراد ہے جبکہ اس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ اوراگرکسی غرض صحیح کے تحت ہو اگرچہ انگلیوں کو راحت دینا ہی مقصودہوتوکراہت نہیں اھ۔
اور ایك ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے سے متعلق نمازمیں اورنمازکے لئے جانے اور نمازکے انتظار کی حالتوں میں انگلیاں چٹخانے کی طرح نہی کاذکرکرنے کے بعد حلیہ میں لکھا ہے : ان کے علاوہ احوال میں جہاں کہ عبث نہ ہو بغیر کسی کراہت کے اباحت پرحکم رہے گا اور اگر بطور عبث ہو تومکروہ تنزیہی ہوگااھ۔
ان دونوں مسئلوں میں شامی نے حلیہ کا اتباع کیا ہے اوربحرنے پہلے مسئلہ میں اتباع کیا ہے اور مزیدیہ لکھا : چوں کہ انگلیاں چٹخانے سے متعلق بیرون نماز ممانعت نہیں اس لئے وہاں یہ مکروہ
فـــــ۱ : مسئلہ : نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے یوں ہی اگر نماز کے انتظار میں بیٹھنا ہے یا نماز کے لئے جارہا ہے ۔ اور ان کے سوا اگر حاجت ہو مثلا انگلیوں میں بخارات کے سبب کسل پیدا ہو تو خالص اباحت ہے اور بے حاجت خلاف اولی و ترك ادب ہے ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : یہی سب احکام اپنے ایك ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کے ہیں :
حوالہ / References
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
بحرالرائق مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی
بحرالرائق مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
ان لم یکن الدلیل نھیا بل کان مفیدا للترك الغیر الجازم فھی تنزیھیۃ اھ وعقب الثانیۃ بقولہ وقد قدمناہ عن الھدایۃ ان العبث خارج الصلوۃ حرام وحملناہ علی کراھۃ التحریم فینبغی انیکون العبث خارجہا لغیر حاجۃ کذلك اھ
فـاقول : دعوی کراھۃ التنزیہ مبتنیہ علی عدم الفرق بین خلاف الاولی وکراھۃ التنزیہ وزعم ان ترك کل مستحب مکروہ کما قدمنا فی التنبیہ الثالث عن الحلیۃ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ خلاف الاولی والظاھر انہما متساویان وعن البحر ان التنزیہ فی رتبۃ المندوب وعن ش ان ترك المندوب مکروہ تنزیھا وقد علمت ما ھوالتحقیق وبالله التوفیق۔
اما ما عقب بہ الثانیۃ فاقول : اولا اعجب واغرب مع انہ اسلف الان ان لیس
تحریمی نہیں جیساکہ کچھ پہلے اسے ہم بیان کرچکے اھ۔ پہلے یہ بتایا ہے کہ اگردلیل مخالفت نہ کرتی ہوبلکہ غیر جزمی طورپرترك کاافادہ کررہی ہو تو کراہت تنزیہی ہو گی اھ او ربحر نے مسئلہ دوم کے بعد یہ لکھا کہ : ہم ہدایہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ بیرون نماز عبث حرام ہے اور اسے ہم نے کراہت تحریم پر محمول کیا تو بیرون نماز بے حاجت عبث کا حکم بھی یہی ہونا چاہئے اھ۔
اس پر میں کہتاہوں کراہت تنزیہ کا دعوی خلاف اولی اور کراہت تنزیہ کے درمیان عدم فرق پر اور اس خیال پر مبنی ہے کہ ہر مستحب کاترك مکروہ ہے جیسا کہ تنبیہ سوم میں حلیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ : مکروہ تنـزیہی کا مرجع خلاف اولی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ اوربحر سے نقل کیا کہ کراہت تنزیہ کا مرتبہ مندوب کے مقابل ہے اورشامی سے نقل کیاکہ ترك مندوب مکروہ تنزیہی ہے۔ اور وہاں واضح ہوچکا کہ تحقیق کیاہے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔ اب رہا وہ جو بحر نے مسئلہ دوم کے بعد لکھا تو میں کہتاہوں اولا بہت زیادہ عجیب وغریب ہے باوجودیکہ ابھی انہوں نے
ف : تطفل علی البحر ۔
فـاقول : دعوی کراھۃ التنزیہ مبتنیہ علی عدم الفرق بین خلاف الاولی وکراھۃ التنزیہ وزعم ان ترك کل مستحب مکروہ کما قدمنا فی التنبیہ الثالث عن الحلیۃ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ خلاف الاولی والظاھر انہما متساویان وعن البحر ان التنزیہ فی رتبۃ المندوب وعن ش ان ترك المندوب مکروہ تنزیھا وقد علمت ما ھوالتحقیق وبالله التوفیق۔
اما ما عقب بہ الثانیۃ فاقول : اولا اعجب واغرب مع انہ اسلف الان ان لیس
تحریمی نہیں جیساکہ کچھ پہلے اسے ہم بیان کرچکے اھ۔ پہلے یہ بتایا ہے کہ اگردلیل مخالفت نہ کرتی ہوبلکہ غیر جزمی طورپرترك کاافادہ کررہی ہو تو کراہت تنزیہی ہو گی اھ او ربحر نے مسئلہ دوم کے بعد یہ لکھا کہ : ہم ہدایہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ بیرون نماز عبث حرام ہے اور اسے ہم نے کراہت تحریم پر محمول کیا تو بیرون نماز بے حاجت عبث کا حکم بھی یہی ہونا چاہئے اھ۔
اس پر میں کہتاہوں کراہت تنزیہ کا دعوی خلاف اولی اور کراہت تنزیہ کے درمیان عدم فرق پر اور اس خیال پر مبنی ہے کہ ہر مستحب کاترك مکروہ ہے جیسا کہ تنبیہ سوم میں حلیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ : مکروہ تنـزیہی کا مرجع خلاف اولی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ اوربحر سے نقل کیا کہ کراہت تنزیہ کا مرتبہ مندوب کے مقابل ہے اورشامی سے نقل کیاکہ ترك مندوب مکروہ تنزیہی ہے۔ اور وہاں واضح ہوچکا کہ تحقیق کیاہے اور توفیق خدا ہی سے ہے۔ اب رہا وہ جو بحر نے مسئلہ دوم کے بعد لکھا تو میں کہتاہوں اولا بہت زیادہ عجیب وغریب ہے باوجودیکہ ابھی انہوں نے
ف : تطفل علی البحر ۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹ ، ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۲۹
بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰ ، ۲۱
بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰ ، ۲۱
خارجہا نھی فلا تحریمیۃ وثانیا فــــ حققنا ان کلام الہدایۃ فی القسم الاول من العبث فاجراؤہ فی الثانی غیر سدید۔
پہلے بتایاکہ بیرون نماز نہی نہیں تومکروہ تحریمی نہیں ثانیا ہم تحقیق کرچکے کہ ہدایہ کا کلام عبث کی قسم اول سے متعلق ہے تواسے قسم دوم میں جاری کرنا درست نہیں ۔ (ت)
ہم اوپر بیان کر آئے کہ کراہت تنزیہی کیلئے بھی نہی ودلیل خاص کی حاجت ہے اور مطلقا کوئی فعل کبھی کسی فائدہ غیر معتد بہا کیلئے کرنے سے شرع میں کون سی نہی مصروف ہے کہ کراہت تنزیہ ہو ہاں خلاف اولی ہونا ظاہر کہ ہر وقت اولی یہی ہے کہ انسان فائدہ معتد بہا کی طرف متوجہ ہو۔ رہی حدیث صحیح :
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والبیہقی فی الشعب عن ابی ھریرۃ والحاکم فی الکنی عن ابی بکر الصدیق وفی تاریخہ عن علی المرتضی واحمد و الطبرانی فی الکبیر عن سید ابن السید الحسین بن علی والشیرازی فی الالقاب عن ابی ذر والطبرانی فی الصغیر عن زید بن ثابت وابن عساکر عن الحارث بن ھشام
انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے یہ بات کہ غیر مہم کام میں مشغول نہ ہولایعنی بات ترك کرے (اس کو ترمذی وابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت ابو ھریرہ سے اورحاکم نے کنی میں حضرت ابو بکر صدیق سے اور اپنی تاریخ میں حضرت علی مرتضی سے اور امام احمد نے اور معجم کبیرمیں طبرانی نے سید ابن سید حضرت حسین بن علی سے اورشیرازی نے القاب میں حضرت ابو ذر سے اورمعجم صغیر میں طبرانی نے حضرت زید بن ثابت سے اورابن عساکر نے حضرت حارث بن ہشام
فــــ : تطفل اخر علیہ ۔
پہلے بتایاکہ بیرون نماز نہی نہیں تومکروہ تحریمی نہیں ثانیا ہم تحقیق کرچکے کہ ہدایہ کا کلام عبث کی قسم اول سے متعلق ہے تواسے قسم دوم میں جاری کرنا درست نہیں ۔ (ت)
ہم اوپر بیان کر آئے کہ کراہت تنزیہی کیلئے بھی نہی ودلیل خاص کی حاجت ہے اور مطلقا کوئی فعل کبھی کسی فائدہ غیر معتد بہا کیلئے کرنے سے شرع میں کون سی نہی مصروف ہے کہ کراہت تنزیہ ہو ہاں خلاف اولی ہونا ظاہر کہ ہر وقت اولی یہی ہے کہ انسان فائدہ معتد بہا کی طرف متوجہ ہو۔ رہی حدیث صحیح :
من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والبیہقی فی الشعب عن ابی ھریرۃ والحاکم فی الکنی عن ابی بکر الصدیق وفی تاریخہ عن علی المرتضی واحمد و الطبرانی فی الکبیر عن سید ابن السید الحسین بن علی والشیرازی فی الالقاب عن ابی ذر والطبرانی فی الصغیر عن زید بن ثابت وابن عساکر عن الحارث بن ھشام
انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے یہ بات کہ غیر مہم کام میں مشغول نہ ہولایعنی بات ترك کرے (اس کو ترمذی وابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت ابو ھریرہ سے اورحاکم نے کنی میں حضرت ابو بکر صدیق سے اور اپنی تاریخ میں حضرت علی مرتضی سے اور امام احمد نے اور معجم کبیرمیں طبرانی نے سید ابن سید حضرت حسین بن علی سے اورشیرازی نے القاب میں حضرت ابو ذر سے اورمعجم صغیر میں طبرانی نے حضرت زید بن ثابت سے اورابن عساکر نے حضرت حارث بن ہشام
فــــ : تطفل اخر علیہ ۔
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب الزہد حدیث ۲۳۲۴ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۴۲ ، سنن الترمذی کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۹۵ ، مجمع الزوائد کتاب الادب باب من حسن اسلام المرء الخ دارالکتب بیروت ۸ / ۱۸
رضی الله تعالی عنھم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حسنہ النووی وصححہ ابن عبد البر والھیثمی۔
سے ان حضرات رضی اللہ تعالی عنہمنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا۔ امام نووی نے اسے حسن اور ابن عبدالبروھیثمی نے صحیح کہا۔ (ت)
اقول : اس کا مفاد بھی اس قدر کہ حسن اسلام سب محسنات سے ہے اور محسنات میں سب مستحسنات بھی نہ کہ ہر غیر مہم سے نہی ورنہ غیر مہم تو بیکار سے بھی اعم ہے تو سوا مہمات کے سب زیر نہی آکر مباحات سراسر مرتفع ہوجائیں گے۔ لاجرم امام ابن حجر مکی شرح اربعین نووی میں فرماتے ہیں :
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ مما یشبعہ من جوع ویرویہ من عطش ویستر عورتہ ویعف فرجہ ونحوہ ذلك مما یدفع الضرورۃ دون ما فیہ تلذذ واستمتاع واستکثار وسلامتہ فی معادہ ۔
انسان کے لئے مہم امور وہ ہیں جو اس کی حیات ومعاش کی ضر ورت سے وابستہ ہوں اس قدر خوراك جو اس کی بھوك دورکرکے سیری حاصل کرائے اورپانی اس کی پیاس دور کرکے سیراب کردے اور کپڑا جس سے اس کی ستر پوشی ہو اور وہ جس سے اس کی پارسائی کی حفاظت اورعفت ہو اوراسی طرح کے امور جن سے اس کی ضرورت دفع ہو اورجس میں اس کے معاد و آخرت کی سلامتی ہو وہ نہیں جس میں صرف لطف ولذت اندوزی اورکثرت طلبی ہو۔ (ت)
ابن عطیہ مالکی کی شرح اربعین میں ہے :
مالایعنیہ ھو مالا تدعو الحاجۃ الیہ مما لایعود علیہ منہ نفع اخروی والذی یعنیہ مایدفع الضرورۃ دون مافیہ تلذذ وتنعم وقال الشیخ یوسف بن عمر مالایعنیہ ھو مایخاف فیہ فوات الاجر
لا یعنی وغیر مہم امور وہ ہیں جن کی کوئی حاجت نہ ہو جن سے کوئی اخروی فائدہ نہ ہو۔ اورمہم امور وہ ہیں جن سے ضرورت دفع ہو نہ وہ جن میں لذت اندوزی وآسائش طلبی ہو۔ اورشیخ یوسف بن عمر نے فرمایا : لایعنی امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ اور
سے ان حضرات رضی اللہ تعالی عنہمنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا۔ امام نووی نے اسے حسن اور ابن عبدالبروھیثمی نے صحیح کہا۔ (ت)
اقول : اس کا مفاد بھی اس قدر کہ حسن اسلام سب محسنات سے ہے اور محسنات میں سب مستحسنات بھی نہ کہ ہر غیر مہم سے نہی ورنہ غیر مہم تو بیکار سے بھی اعم ہے تو سوا مہمات کے سب زیر نہی آکر مباحات سراسر مرتفع ہوجائیں گے۔ لاجرم امام ابن حجر مکی شرح اربعین نووی میں فرماتے ہیں :
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ مما یشبعہ من جوع ویرویہ من عطش ویستر عورتہ ویعف فرجہ ونحوہ ذلك مما یدفع الضرورۃ دون ما فیہ تلذذ واستمتاع واستکثار وسلامتہ فی معادہ ۔
انسان کے لئے مہم امور وہ ہیں جو اس کی حیات ومعاش کی ضر ورت سے وابستہ ہوں اس قدر خوراك جو اس کی بھوك دورکرکے سیری حاصل کرائے اورپانی اس کی پیاس دور کرکے سیراب کردے اور کپڑا جس سے اس کی ستر پوشی ہو اور وہ جس سے اس کی پارسائی کی حفاظت اورعفت ہو اوراسی طرح کے امور جن سے اس کی ضرورت دفع ہو اورجس میں اس کے معاد و آخرت کی سلامتی ہو وہ نہیں جس میں صرف لطف ولذت اندوزی اورکثرت طلبی ہو۔ (ت)
ابن عطیہ مالکی کی شرح اربعین میں ہے :
مالایعنیہ ھو مالا تدعو الحاجۃ الیہ مما لایعود علیہ منہ نفع اخروی والذی یعنیہ مایدفع الضرورۃ دون مافیہ تلذذ وتنعم وقال الشیخ یوسف بن عمر مالایعنیہ ھو مایخاف فیہ فوات الاجر
لا یعنی وغیر مہم امور وہ ہیں جن کی کوئی حاجت نہ ہو جن سے کوئی اخروی فائدہ نہ ہو۔ اورمہم امور وہ ہیں جن سے ضرورت دفع ہو نہ وہ جن میں لذت اندوزی وآسائش طلبی ہو۔ اورشیخ یوسف بن عمر نے فرمایا : لایعنی امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ اور
حوالہ / References
شرح اربعین لامام ابن حجر مکی
والذی یعنیہ ھو الذی لایخاف فیہ فوات ذلک اھ مختصرا۔
یعنی و مہم امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اھ مختصرا۔ (ت)
علامہ احمد بن حجازی کی شرح اربعین میں ہے :
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ وسلامتہ فی معادہ ومما لایعنیہ التوسع فی الدنیا وطلب المناصب والریاسۃ اھ ملخصا۔
انسان کے لئے مہم وہ امور ہیں جو اس کی معاشی زندگی اوراخروی سلامتی کی ضرورت سے متعلق ہوں اور لایعنی وغیرمہم امور دنیا کی وسعت اورمنصب وریاست کی طلب ہے اھ ملخصا۔ (ت)
تیسیر میں ہے :
الذی یعنیہ ما تعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ دون ما زاد وقال الغزالی حدما لایعنی ھوالذی لو ترك لم یفت بہ ثواب ولم ینجزبہ ضرر ۔
مہم امر وہ ہے جواس کی معاشی زندگی کی ضرورت سے وابستہ ہو وہ نہیں جو زیادہ ہو۔ اورامام غزالی نے فرمایا : لایعنی کی تعریف یہ ہے کہ اگراسے ترك کردے تو اس سے کوئی ثواب فوت نہ ہو اور اس سے کوئی ضرر عائد نہ ہو۔ (ت)
مرقاۃ میں ہے :
حقیقۃ مالا یعنیہ مالا یحتاج الیہ فی ضرورۃ دینہ ودنیاہ ولا ینفعہ فی مرضاۃ مولاہ بان یکون عیشہ بدونہ ممکنا وھو فی استقامۃ حالہ بغیرہ متمکنا قال الغزالی وحد مالا یعنیك ان تتکلم بکل مالو سکت عنہ
لا یعنی کی حقیقت یہ ہے کہ دین ودنیاکی ضرورت میں اس سے کام نہ ہو اور رضائے مولا میں وہ نفع بخش نہ ہو اس طرح کہ وہ اس کے بغیر زندگی گزارسکتاہو اور وہ نہ ہو توبھی وہ اپنی حالت درست رکھ سکتا ہو۔ امام غزالی نے فرمایا : لایعنی کی حد یہ ہے کہ تم ایسی بات بولو جو
یعنی و مہم امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اھ مختصرا۔ (ت)
علامہ احمد بن حجازی کی شرح اربعین میں ہے :
الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ وسلامتہ فی معادہ ومما لایعنیہ التوسع فی الدنیا وطلب المناصب والریاسۃ اھ ملخصا۔
انسان کے لئے مہم وہ امور ہیں جو اس کی معاشی زندگی اوراخروی سلامتی کی ضرورت سے متعلق ہوں اور لایعنی وغیرمہم امور دنیا کی وسعت اورمنصب وریاست کی طلب ہے اھ ملخصا۔ (ت)
تیسیر میں ہے :
الذی یعنیہ ما تعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ دون ما زاد وقال الغزالی حدما لایعنی ھوالذی لو ترك لم یفت بہ ثواب ولم ینجزبہ ضرر ۔
مہم امر وہ ہے جواس کی معاشی زندگی کی ضرورت سے وابستہ ہو وہ نہیں جو زیادہ ہو۔ اورامام غزالی نے فرمایا : لایعنی کی تعریف یہ ہے کہ اگراسے ترك کردے تو اس سے کوئی ثواب فوت نہ ہو اور اس سے کوئی ضرر عائد نہ ہو۔ (ت)
مرقاۃ میں ہے :
حقیقۃ مالا یعنیہ مالا یحتاج الیہ فی ضرورۃ دینہ ودنیاہ ولا ینفعہ فی مرضاۃ مولاہ بان یکون عیشہ بدونہ ممکنا وھو فی استقامۃ حالہ بغیرہ متمکنا قال الغزالی وحد مالا یعنیك ان تتکلم بکل مالو سکت عنہ
لا یعنی کی حقیقت یہ ہے کہ دین ودنیاکی ضرورت میں اس سے کام نہ ہو اور رضائے مولا میں وہ نفع بخش نہ ہو اس طرح کہ وہ اس کے بغیر زندگی گزارسکتاہو اور وہ نہ ہو توبھی وہ اپنی حالت درست رکھ سکتا ہو۔ امام غزالی نے فرمایا : لایعنی کی حد یہ ہے کہ تم ایسی بات بولو جو
حوالہ / References
شرح اربعین للامام ابن عطیۃ مالکی
المجالس السنیہ فی الکلام علی اربعین للنوویہ المجلس الثانی عشر الخ دار احیاء الکتب العربیہ مصر ص۳۶ ، ۳۷
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من حسن اسلام المرء الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۳۸۱
المجالس السنیہ فی الکلام علی اربعین للنوویہ المجلس الثانی عشر الخ دار احیاء الکتب العربیہ مصر ص۳۶ ، ۳۷
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من حسن اسلام المرء الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۳۸۱
لم تأثم ولم تتضرر فی حال ولا مال ومثالہ ان تجلس مع قوم فتحکی معھم اسفارك ومارایت فیھا من جبال وانھار وما وقع لك من الوقائع وما استحسنتہ من الاطعمۃ والثیاب وما تعجبت منہ من مشائخ البلاد ووقائعھم فھذہ امور لوسکت عنھا لم تأثم ولم تتضرر واذا بالغت فی الاجتھاد حتی لم یمتزج بحکایتك زیادۃ ولا نقصان ولا تزکیۃ نفس من حیث التفاخر بمشا ھدۃ الاحوال العظیمۃ ولا اغتیاب لشخص ولا مذمۃ لشیئ مما خلقہ الله تعالی فانت مع ذلك کلہ مضیع زمانك ومحاسب علی عمل لسانك اذ تستبدل الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر لانك لو صرفت زمان الکلام فی الذکر والفکر ربما ینفتح لکن من نفحات رحمۃ الله تعالی ما یعظم جدواہ ولو سبحت الله تعالی بنی لك بھا قصر فی الجنۃ ومن قدر علی ان یاخذ کنزا من الکنوز فاخذ بدلہ عـــــہ مدرۃ لاینتفع بھا
نہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے نہ حال ومآل میں اس سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بیٹھ کر لوگوں سے تم اپنے سفروں کا قصہ بیان کرو اوریہ کہ میں نے اتنے پہاڑ اتنے دریا دیکھے اوریہ یہ واقعات پیش آئے اتنے عمدہ کھانوں اور کپڑوں سے سابقہ پڑا اورایسے ایسے مشائخ بلادسے ملاقات ہوئی ان کے واقعات یہ ہیں ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو تم نہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے نہ ان سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اورجب تمہاری پوری کوشش یہ ہوکہ تمہاری حکایت میں نہ کسی کمی بیشی کی آمیزش ہو نہ ان عظیم احوال کے مشاہدہ پر تفاخر کے اعتبار سے خود ستائی کا شائبہ ہو نہ کسی انسان کی غیبت ہو نہ خدائے تعالی کی مخلوقات میں سے کسی شئی کی مذمت ہو توان ساری احتیاطوں کے بعد بھی تم اپنا وقت برباد کرنے والے ہو اور تم سے اپنی زبان کے عمل پر حساب ہوگا اس لئے کہ تم خیر کے عوض اسے لے رہے ہو جو ادنی وکمترہے کیونکہ گفتگو کا یہ وقت اگرتم ذکر وفکر میں صرف کرتے تورحمت الہی کے فیوض سے تم پر وہ درفیض کشادہ ہوتا جس کا نفع عظیم ہوتا اگر تم خدائے بزرگ وبرتر کی تسبیح کرتے تواس کے بدلے تمہارے لئے جنت میں ایك محل تعمیر ہوتا۔ جو ایك خزانہ لے سکتا ہو مگر اسے چھوڑ کر ایك بے کار کا ڈھیلا اٹھالے تو وہ کھلے ہوئے خسارہ
عـــــہ : وقع فی نسخۃ المرقاۃ المطبوعۃ بمصر بدرۃ بالباء وھو تصحیف اھ منہ (م)
مرقاۃ مطبوعہ مصر کے نسخہ میں مدرہ کی جگہ باء سے بدرہ چھپا ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ (ت)
نہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے نہ حال ومآل میں اس سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بیٹھ کر لوگوں سے تم اپنے سفروں کا قصہ بیان کرو اوریہ کہ میں نے اتنے پہاڑ اتنے دریا دیکھے اوریہ یہ واقعات پیش آئے اتنے عمدہ کھانوں اور کپڑوں سے سابقہ پڑا اورایسے ایسے مشائخ بلادسے ملاقات ہوئی ان کے واقعات یہ ہیں ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو تم نہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے نہ ان سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اورجب تمہاری پوری کوشش یہ ہوکہ تمہاری حکایت میں نہ کسی کمی بیشی کی آمیزش ہو نہ ان عظیم احوال کے مشاہدہ پر تفاخر کے اعتبار سے خود ستائی کا شائبہ ہو نہ کسی انسان کی غیبت ہو نہ خدائے تعالی کی مخلوقات میں سے کسی شئی کی مذمت ہو توان ساری احتیاطوں کے بعد بھی تم اپنا وقت برباد کرنے والے ہو اور تم سے اپنی زبان کے عمل پر حساب ہوگا اس لئے کہ تم خیر کے عوض اسے لے رہے ہو جو ادنی وکمترہے کیونکہ گفتگو کا یہ وقت اگرتم ذکر وفکر میں صرف کرتے تورحمت الہی کے فیوض سے تم پر وہ درفیض کشادہ ہوتا جس کا نفع عظیم ہوتا اگر تم خدائے بزرگ وبرتر کی تسبیح کرتے تواس کے بدلے تمہارے لئے جنت میں ایك محل تعمیر ہوتا۔ جو ایك خزانہ لے سکتا ہو مگر اسے چھوڑ کر ایك بے کار کا ڈھیلا اٹھالے تو وہ کھلے ہوئے خسارہ
عـــــہ : وقع فی نسخۃ المرقاۃ المطبوعۃ بمصر بدرۃ بالباء وھو تصحیف اھ منہ (م)
مرقاۃ مطبوعہ مصر کے نسخہ میں مدرہ کی جگہ باء سے بدرہ چھپا ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ (ت)
کان خاسرا خسرانا مبینا وھذا علی فرض السلامۃ من الوقوع فی کلام المعصیۃ وانی تسلم من الافات التی ذکرناھا ۔
اور صریح نقصان کا شکار اور یہ اس مفروضہ پر ہے کہ معصیت کی بات میں پڑنے سے سلامت رہ جاؤ او ر ان آفتوں سے سلامتی کہاں جو ہم نے ذکرکیں ۔ (ت)
خلاصہ فـــــ ان سب نفیس کلاموں کا یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنی امت کو لایعنی باتیں چھوڑنے کی طرف ارشاد فرماتے ہیں جتنی بات آدمی کے دین میں نافع اور ثواب الہی کی باعث ہویا دنیا میں ضرورت کے لائق ہو جیسے بھوك پیاس کا ازالہ بدن ڈھانکنا پارسائی حاصل کرنا اسی قدر امر مہم ہے اور اس سے زائد جو کچھ ہو جیسے دنیا کی لذتیں نعمتیں منصب ریاستیں غرض جملہ افعال واقوال واحوال جن کے بغیر زندگانی ممکن ہو اور ان کے ترك میں نہ ثواب کا فوت نہ اب یا آئندہ کسی ضرر کا خوف وہ سب لایعنی وقابل ترك مثلا لوگوں کے سامنے اپنے سفر کی حکایتیں کہ اتنے عـــــہ۱ اتنے شہر اور پہاڑ اور دریا دیکھے عـــــہ۲ یہ یہ معاملے پیش آئے عـــــہ۳ فلاں فلاں کھانے اور لباس عمدہ پائے عـــــہ۴ ایسے ایسے مشایخ سے
عـــــہ۱ : اقول : مگر جبکہ نیت بیان عجائب وصنعت وحکمت وقدرت ربانی وذکر الہی ہو قال تعالی فی الافاق و فی انفسكم-افلا تبصرون(۲۱) ۱۲ منہ (م)الله تعالی نے فرمایا : دنیا بھر میں اور خود تم میں کتنی نشانیاں ہیں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں ۔
عـــــہ۲ : اقول : مگر جبکہ ان کے ذکر میں اپنی یا سامعین کی منفعت دینی ہو اور خالص اسی کا قصد کرے قال الله تعالی و ذكرهم بایىم الله- (الله تعالی نے فرمایا : اور انہیں الله کے دن یاد دلاؤ۔ ت )۱۲منہ
عـــــہ۳ : اقول : مگر جبکہ اس سے مقصود اپنے اوپر احسانات الہی کا بیان ہو کہ ایسی جگہ ایسی بے سروسامانی میں مجھ سے ناچیز کو اپنے کرم سے ایسا ایسا عطا فرمایا قال تعالی و اما بنعمة ربك فحدث(۱۱) (الله تعالی نے فرمایا : اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچا کرو۔ ت
عـــــہ۴ : اقول : مگر جبکہ علمائے سنت وصلحائے امت کے فضائل کا نشر اور سامعین کو ان سے استفادہ کی ترغیب مقصود ہو عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ (صالحین کے ذکر پر الله کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ ت)
فــــــ : حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت : لا یعنی باتوں کاموں کے ترك کی ہدایت اور لا یعنی معنی کا بیان ۔
اور صریح نقصان کا شکار اور یہ اس مفروضہ پر ہے کہ معصیت کی بات میں پڑنے سے سلامت رہ جاؤ او ر ان آفتوں سے سلامتی کہاں جو ہم نے ذکرکیں ۔ (ت)
خلاصہ فـــــ ان سب نفیس کلاموں کا یہ ہے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنی امت کو لایعنی باتیں چھوڑنے کی طرف ارشاد فرماتے ہیں جتنی بات آدمی کے دین میں نافع اور ثواب الہی کی باعث ہویا دنیا میں ضرورت کے لائق ہو جیسے بھوك پیاس کا ازالہ بدن ڈھانکنا پارسائی حاصل کرنا اسی قدر امر مہم ہے اور اس سے زائد جو کچھ ہو جیسے دنیا کی لذتیں نعمتیں منصب ریاستیں غرض جملہ افعال واقوال واحوال جن کے بغیر زندگانی ممکن ہو اور ان کے ترك میں نہ ثواب کا فوت نہ اب یا آئندہ کسی ضرر کا خوف وہ سب لایعنی وقابل ترك مثلا لوگوں کے سامنے اپنے سفر کی حکایتیں کہ اتنے عـــــہ۱ اتنے شہر اور پہاڑ اور دریا دیکھے عـــــہ۲ یہ یہ معاملے پیش آئے عـــــہ۳ فلاں فلاں کھانے اور لباس عمدہ پائے عـــــہ۴ ایسے ایسے مشایخ سے
عـــــہ۱ : اقول : مگر جبکہ نیت بیان عجائب وصنعت وحکمت وقدرت ربانی وذکر الہی ہو قال تعالی فی الافاق و فی انفسكم-افلا تبصرون(۲۱) ۱۲ منہ (م)الله تعالی نے فرمایا : دنیا بھر میں اور خود تم میں کتنی نشانیاں ہیں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں ۔
عـــــہ۲ : اقول : مگر جبکہ ان کے ذکر میں اپنی یا سامعین کی منفعت دینی ہو اور خالص اسی کا قصد کرے قال الله تعالی و ذكرهم بایىم الله- (الله تعالی نے فرمایا : اور انہیں الله کے دن یاد دلاؤ۔ ت )۱۲منہ
عـــــہ۳ : اقول : مگر جبکہ اس سے مقصود اپنے اوپر احسانات الہی کا بیان ہو کہ ایسی جگہ ایسی بے سروسامانی میں مجھ سے ناچیز کو اپنے کرم سے ایسا ایسا عطا فرمایا قال تعالی و اما بنعمة ربك فحدث(۱۱) (الله تعالی نے فرمایا : اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچا کرو۔ ت
عـــــہ۴ : اقول : مگر جبکہ علمائے سنت وصلحائے امت کے فضائل کا نشر اور سامعین کو ان سے استفادہ کی ترغیب مقصود ہو عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ (صالحین کے ذکر پر الله کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ ت)
فــــــ : حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت : لا یعنی باتوں کاموں کے ترك کی ہدایت اور لا یعنی معنی کا بیان ۔
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح کتاب الادب باب حفظ اللسان تحت الحدیث ۴۸۴۰ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ / ۵۸۵ ، ۵۸۶
القرآن الکریم ۴۱ /۵۳
القرآن الکریم ۵۱ /۲۱
القرآن الکریم ۱۴ /۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
کشف الخفاء حدیث ۱۷۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۶۵
القرآن الکریم ۴۱ /۵۳
القرآن الکریم ۵۱ /۲۱
القرآن الکریم ۱۴ /۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
کشف الخفاء حدیث ۱۷۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۶۵
ملنا ہوا۔ یہ سب باتیں اگر تو نہ بیان کرتا تو نہ گناہ تھا نہ ضرر عــــــہ۱ ہوتا اور اگر تو کامل کوشش کرے کہ تیرے کلام میں واقعیت سے کچھ کمی عــــــہ۲ بیشی نہ ہونے پائے نہ اس تفاخر سے نفس کی تعریف نکلے کہ ہم نے ایسے ایسے عظیم حال دیکھے نہ اس عــــــہ۳ میں کسی شخص کی غیبت ہو۔ نہ الله تعالی کی پیدا عــــــہ۴ کی ہوئی کسی چیز کی مذمت ہو تو اتنی
عـــــہ۱ : اقول : ثواب نہ ملنا بھی ایك نوع ضرر ہے خود امام غزالی سے بحوالہ تیسیر اور کلام ابن عطیہ ومرقاۃ میں گزرا کہ جو کچھ آخرت میں نافع ہو لایعنی نہیں ورنہ اس کے یہ معنی لیں کہ جس کے ترك میں نہ گناہ اخروی نہ ضرر دنیوی تو تمام مستحبات بھی داخل لایعنی ہوجائیں گے اور وہ بداہۃ باطل ہے ۱۲ منہ (م)
عـــــہ۲ : اقول : یعنی وہ کمی جس سے معنی کلام بدل جائیں جیسے کسی ضروری استثناء کا ترك ورنہ جبکہ ترك کل میں گناہ نہیں ترك بعض میں کیوں ہونے لگا ۱۲ منہ (م)
عـــــہ۳ اقول : مگر جبکہ جس کی برائی بیان کی وہ گمراہ بد مذہب ہوکہ ان کی شناعت سے مسلمانوں کو مطلع کرنا واجبات دینیہ سے ہے حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس کیا فاجر کی برائی بیان کرنے سے پرہیز رکھتے ہو لوگ اسے کب پہچانیں گے فاجر میں جو شناعتیں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے پرہیز کریں
رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والامام الترمذی ا لحکیم فی النوادر والحاکم۔ فی الکنی والشیرازی فی الالقاب وابن عدی فی الکامل والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن والخطیب فی التاریخ عن معویۃ بن حیدۃ القشیری والخطیب فی رواۃ مالك عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہم۱۲ منہ (م)
عـــــہ۴ : اقول مگر جبکہ اس میں مصلحت دینیہ ہو اورمعاذ الله اعتراض کے پہلو سے پاك ہو جیسے کچھ لوگ کسی طرف عازم سفر ہیں ان کو بتانا کہ فلاں راستہ بہت خراب ہے اس سے نہ جانا یا کوئی کسی عورت سے نکاح چاہتا ہے اسے اس کی صورت نسب وغیرہ وغیرہ میں عیوب معلوم ہیں ان کو خالص خیر خواہی کی نیت سے بیان کرنا لحدیث ان فی اعین الانصار شیئا رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
عـــــہ۱ : اقول : ثواب نہ ملنا بھی ایك نوع ضرر ہے خود امام غزالی سے بحوالہ تیسیر اور کلام ابن عطیہ ومرقاۃ میں گزرا کہ جو کچھ آخرت میں نافع ہو لایعنی نہیں ورنہ اس کے یہ معنی لیں کہ جس کے ترك میں نہ گناہ اخروی نہ ضرر دنیوی تو تمام مستحبات بھی داخل لایعنی ہوجائیں گے اور وہ بداہۃ باطل ہے ۱۲ منہ (م)
عـــــہ۲ : اقول : یعنی وہ کمی جس سے معنی کلام بدل جائیں جیسے کسی ضروری استثناء کا ترك ورنہ جبکہ ترك کل میں گناہ نہیں ترك بعض میں کیوں ہونے لگا ۱۲ منہ (م)
عـــــہ۳ اقول : مگر جبکہ جس کی برائی بیان کی وہ گمراہ بد مذہب ہوکہ ان کی شناعت سے مسلمانوں کو مطلع کرنا واجبات دینیہ سے ہے حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس کیا فاجر کی برائی بیان کرنے سے پرہیز رکھتے ہو لوگ اسے کب پہچانیں گے فاجر میں جو شناعتیں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے پرہیز کریں
رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والامام الترمذی ا لحکیم فی النوادر والحاکم۔ فی الکنی والشیرازی فی الالقاب وابن عدی فی الکامل والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن والخطیب فی التاریخ عن معویۃ بن حیدۃ القشیری والخطیب فی رواۃ مالك عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہم۱۲ منہ (م)
عـــــہ۴ : اقول مگر جبکہ اس میں مصلحت دینیہ ہو اورمعاذ الله اعتراض کے پہلو سے پاك ہو جیسے کچھ لوگ کسی طرف عازم سفر ہیں ان کو بتانا کہ فلاں راستہ بہت خراب ہے اس سے نہ جانا یا کوئی کسی عورت سے نکاح چاہتا ہے اسے اس کی صورت نسب وغیرہ وغیرہ میں عیوب معلوم ہیں ان کو خالص خیر خواہی کی نیت سے بیان کرنا لحدیث ان فی اعین الانصار شیئا رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
نوادرالاصول الاصل السادس والستون والمائۃ فی ذکرالفاجر دارصادربیروت ۱ / ۴۵۶ ، السنن الکبری کتا ب الشہادات باب الرجل من اہل الفقہ الخ دارصادربیروت ۱۰ / ۲۱۰ ، المعجم الکبیر حدیث ۱۰۱۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹ / ۴۱۸ ، اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ الخطیب وغیر ہ کتاب آفات اللسان دارالفکربیروت ۷ / ۵۵۶
صحیح مسلم کتاب النکاح باب ندب من اراد نکاح امرأۃالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۶
صحیح مسلم کتاب النکاح باب ندب من اراد نکاح امرأۃالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۵۶
احتیاطوں کے بعد بھی اس کلام کا حاصل یہ ہوگا کہ تونے اتنی دیر اپنا وقت ضائع کیا اور تیری زبان سے اس کا حساب ہوگا تو خیر کے عوض ادنی بات اختیار کررہا ہے اس لئے کہ جتنی دیر تونے یہ باتیں کیں اگر اتنا وقت الله عزوجل کی یاد اور اس کی نعمتوں صنعتوں کی فکر میں صرف کرتا تو غالبا رحمت الہی کے فیوض سے تجھ پر وہ کھلتا جو بڑا نفع دیتا او ر تسبیح الہی کرتا تو تیرے لئے جنت میں عــــہ۱ محل چنا جاتا اور جو ایك خزانہ لے سکتا ہو وہ ایك نکما ڈھیلا لینے پر بس کرے تو صریح زیاں کار ہو اور یہ سب بھی اس تقدیر پر ہے کہ کلام معصیت سے بچ جائے اور وہ آفتیں جو ہم نے ذکر کیں ان سے بچنا کہاں ہوتا ہے۔ ظاہر ہوا کہ لایعنی جملہ مباحات کو شامل ہے نہ کہ مطلقا مکروہ ہو۔
فیذکرعنہ عــــہ۲ صلی الله تعالی علیہ وسلم من کان یؤمن بالله والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم وفی الباب عن
کہ حضور اکر م سے مذکورہے کہ جو خدا اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہووہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ ٹھہرے اوراس باب میں امیر المومنین
عـــــہ۱ : اقول : ہر بار تسبیح الہی کرنے پر جنت میں ایك پیڑ بویا جاتا ہے احادیث کثیرہ میں ہے : من احادیث ابن مسعود وابن عمرو وجابر وابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنھم اما بناء القصر فالله تعالی اعلم۔ (م)
عــــہ : اوردہ فی الکشاف من اخرسورۃ الاحزاب والعلامۃ الشرنبلالی قبیل سجود السھو من مراقی الفلاح۔ (م)
کشاف میں سورہ احزاب کے آخر میں اور علامہ شرنبلالی نے سجدہ کے بیان میں مراقی الفلاح میں لکھا ہے۔ (ت)
فیذکرعنہ عــــہ۲ صلی الله تعالی علیہ وسلم من کان یؤمن بالله والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم وفی الباب عن
کہ حضور اکر م سے مذکورہے کہ جو خدا اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہووہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ ٹھہرے اوراس باب میں امیر المومنین
عـــــہ۱ : اقول : ہر بار تسبیح الہی کرنے پر جنت میں ایك پیڑ بویا جاتا ہے احادیث کثیرہ میں ہے : من احادیث ابن مسعود وابن عمرو وجابر وابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنھم اما بناء القصر فالله تعالی اعلم۔ (م)
عــــہ : اوردہ فی الکشاف من اخرسورۃ الاحزاب والعلامۃ الشرنبلالی قبیل سجود السھو من مراقی الفلاح۔ (م)
کشاف میں سورہ احزاب کے آخر میں اور علامہ شرنبلالی نے سجدہ کے بیان میں مراقی الفلاح میں لکھا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
الکشاف تحت الآیۃ ۳۳ / ۵۶ دارالکتاب العربی ۳ / ۵۵۸ ، کشف الخفا حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۷ ، مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراک الفریضہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۴۸۸
سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث ۳۴۷۵و۳۴۷۶ دارالفکربیروت ۵ / ۱۸۶ ، ۲۸۷
سنن الترمذی کتاب الدعوات حدیث ۳۴۷۵و۳۴۷۶ دارالفکربیروت ۵ / ۱۸۶ ، ۲۸۷
امیر المؤمنین عـــــہ الفاروق رضی الله تعالی عنہ۔
فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے۔ (ت)
یہ منشأ قول دوم ہے
بالجملہ حاصل حکم یہ نکلا بے حاجت زیادت اگر باعتقاد سنیت ہو مطلقا ناجائز وگناہ ہے اگرچہ دریا میں اور اگر پانی ضائع جائے تو جب بھی مطلقا مکروہ تحریمی اگرچہ اعتقاد سنیت نہ ہو اور اگر نہ فساد عقیدت نہ اضاعت تو خلاف ادب ہے مگر عادت کرلے تو مکروہ تنزیہی یہ ہے بحمدالله تعالی فقہ جامع وفکر نافع ودرك بالغ ونور بازغ وکمال توفیق وجمال تطبیق وحسن تحقیق وعطر تدقیق وبالله التوفیق والحمدلله رب العلمین۔
اقول : اس تنقیح جلیل سے چند فائدے روشن ہوئے :
اولا : اصل حکم وہی ہے جو امام محرر المذہب رضی اللہ تعالی عنہنے کتاب اصل میں ارشاد فرمایا کہ بقیہ احکام کے مناط عقیدت واضاعت وعادت ہیں اور وہ نفس فعل سے زائد فی نفسہ اس کا حکم اسی قدر کہ قول سوم میں مذکور ہوا۔
ثانیا : دوم وسوم میں اس زیادت کو اسراف سے تعبیر فرمانا محض بنظر صورت ہے ورنہ جب نہ معصیت نہ اضاعت تو حقیقت اسراف زنہار نہیں ۔
ثالثا : دربارہ زیادت منع واجازت میں عادت وندرت کو دخل نہیں کہ فساد عقیدت یا پانی کی اضاعت ہو تو ایك بار بھی جائز نہیں اور ان دونوں سے بری ہو تو بارہا بھی گناہ معصیت نہیں کراہت تنزیہی جدا بات ہے ہاں دربارہ نقص یہ تفصیل ہے کہ بے ضرورت تین بار سے کم دھونے کی عادت مکروہ تحریمی اور احیانا ہو تو بے فساد عقیدت صرف مکروہ تنزیہی ورنہ تحریمی کہ تثلیث سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کے ترك کا یہی حکم بخلاف زیادت کہ ترك تثلیث نہیں بلکہ تثلیث پوری کرکے
عـــــہ : رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ قال من اقام نفسہ مقام التہمۃ فلا یلومن اساء الظن بہ منہ
خرائطی رضی اللہ تعالی عنہنے مکارم الاخلاق میں امیر المومنین عمر فاروق سے روایت کیا ہے کہ جس نے تہمت کی جگہ اپنے آپ کو پہنچایا تو بدگمانی کرنے والے کو ملامت نہ کرو۔ (ت)
فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے روایت ہے۔ (ت)
یہ منشأ قول دوم ہے
بالجملہ حاصل حکم یہ نکلا بے حاجت زیادت اگر باعتقاد سنیت ہو مطلقا ناجائز وگناہ ہے اگرچہ دریا میں اور اگر پانی ضائع جائے تو جب بھی مطلقا مکروہ تحریمی اگرچہ اعتقاد سنیت نہ ہو اور اگر نہ فساد عقیدت نہ اضاعت تو خلاف ادب ہے مگر عادت کرلے تو مکروہ تنزیہی یہ ہے بحمدالله تعالی فقہ جامع وفکر نافع ودرك بالغ ونور بازغ وکمال توفیق وجمال تطبیق وحسن تحقیق وعطر تدقیق وبالله التوفیق والحمدلله رب العلمین۔
اقول : اس تنقیح جلیل سے چند فائدے روشن ہوئے :
اولا : اصل حکم وہی ہے جو امام محرر المذہب رضی اللہ تعالی عنہنے کتاب اصل میں ارشاد فرمایا کہ بقیہ احکام کے مناط عقیدت واضاعت وعادت ہیں اور وہ نفس فعل سے زائد فی نفسہ اس کا حکم اسی قدر کہ قول سوم میں مذکور ہوا۔
ثانیا : دوم وسوم میں اس زیادت کو اسراف سے تعبیر فرمانا محض بنظر صورت ہے ورنہ جب نہ معصیت نہ اضاعت تو حقیقت اسراف زنہار نہیں ۔
ثالثا : دربارہ زیادت منع واجازت میں عادت وندرت کو دخل نہیں کہ فساد عقیدت یا پانی کی اضاعت ہو تو ایك بار بھی جائز نہیں اور ان دونوں سے بری ہو تو بارہا بھی گناہ معصیت نہیں کراہت تنزیہی جدا بات ہے ہاں دربارہ نقص یہ تفصیل ہے کہ بے ضرورت تین بار سے کم دھونے کی عادت مکروہ تحریمی اور احیانا ہو تو بے فساد عقیدت صرف مکروہ تنزیہی ورنہ تحریمی کہ تثلیث سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کے ترك کا یہی حکم بخلاف زیادت کہ ترك تثلیث نہیں بلکہ تثلیث پوری کرکے
عـــــہ : رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ قال من اقام نفسہ مقام التہمۃ فلا یلومن اساء الظن بہ منہ
خرائطی رضی اللہ تعالی عنہنے مکارم الاخلاق میں امیر المومنین عمر فاروق سے روایت کیا ہے کہ جس نے تہمت کی جگہ اپنے آپ کو پہنچایا تو بدگمانی کرنے والے کو ملامت نہ کرو۔ (ت)
حوالہ / References
کشف الخفاء بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق تحت الحدیث ۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۳۷
زیادت ہے۔
وبہ ظھر فـــــ ضعف ما مر عن العلامۃ ش فی التنبیہ الخامس من التوفیق بین نفی البدائع الکراھۃ ای التحریمیۃ عن الزیادۃ علی الثلاث والنقص عنھا عند عدم الاعتقاد مع اشعار الفتح وغیرہ بثبوتھا اذا زاد اونقص لغیر حاجۃ بان محمل الاول اذا فعلہ مرۃ والثانی علی الاعتیاد فھذا مسلم فی النقص ممنوع فی الزیادۃ۔
اما الاستناد الی مفہوم تفریع الفتح وغیرہ المارثمہ وقد تمسك بہ ایضا العلامۃ ط علی ان کراھۃ الاسراف کراھۃ تحریم حیث قال اقول یاثم بالاسراف ولو اعتقد سنیۃ الثلاث فقط فلذا قالوا فی المفھوم (ای بیان مفہوم قولھم ان الحدیث
اسی سے اس تطبیق کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو علامہ شامی سے ہم نے تنبیہ پنجم میں نقل کی۔ تفصیل یہ کہ صاحب بدائع نے تین بارسے کم وبیش دھونے سے متعلق بتایا کہ اگر (کمی بیشی کے مسنون ہونے) کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہیں یعنی مکروہ تحریمی نہیں ۔ اورصاحب فتح القدیر وغیرہ نے پتا دیا کہ اگرزیادتی یا بے حاجت کمی کرے تو کراہت ثابت ہے اگرچہ وہ تین باردھونے کو ہی مسنون مانتا ہو۔ علامہ شامی کی تطبیق یہ ہے کہ نفی بدائع کا مطلب یہ ہے کہ اگرکبھی ایك بار کمی بیشی کا مرتکب ہوا توکراہت نہیں اور فتح وغیرہ کے اثبات کراہت کا معنی یہ ہے کہ اگر کمی یا زیادتی کی عادت کرے توکراہت ہے۔ اس تطبیق پر کلام یہ ہے کہ کمی کی صورت میں تو یہ تسلیم ہے مگر زیادتی کی صورت میں تسلیم نہیں (جیسا کہ اوپر واضح ہوا۔ م)
اب ایك بحث اور رہ گئی کہ فتح القدیر وغیرہ میں جیساکہ وہاں گزرا وعیدحدیث کو عدم اعتقاد پرمحمول کرکے یہ تفریع کی ہے کہ اگرکسی حاجت کے تحت کمی بیشی کی تو اس میں حرج نہیں ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر بلا حاجت کمی بیشی ہے تومکروہ ہے۔ اس تفریع کے مفہوم سے علامہ شامی نے اسراف کی کراہت پر استناد کیاہے اوراس سے
فــــــ : حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت : لایعنی باتوں کاموں کے ترك کی ہدایت اورلایعنی کے معنی کابیان ۔
وبہ ظھر فـــــ ضعف ما مر عن العلامۃ ش فی التنبیہ الخامس من التوفیق بین نفی البدائع الکراھۃ ای التحریمیۃ عن الزیادۃ علی الثلاث والنقص عنھا عند عدم الاعتقاد مع اشعار الفتح وغیرہ بثبوتھا اذا زاد اونقص لغیر حاجۃ بان محمل الاول اذا فعلہ مرۃ والثانی علی الاعتیاد فھذا مسلم فی النقص ممنوع فی الزیادۃ۔
اما الاستناد الی مفہوم تفریع الفتح وغیرہ المارثمہ وقد تمسك بہ ایضا العلامۃ ط علی ان کراھۃ الاسراف کراھۃ تحریم حیث قال اقول یاثم بالاسراف ولو اعتقد سنیۃ الثلاث فقط فلذا قالوا فی المفھوم (ای بیان مفہوم قولھم ان الحدیث
اسی سے اس تطبیق کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو علامہ شامی سے ہم نے تنبیہ پنجم میں نقل کی۔ تفصیل یہ کہ صاحب بدائع نے تین بارسے کم وبیش دھونے سے متعلق بتایا کہ اگر (کمی بیشی کے مسنون ہونے) کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہیں یعنی مکروہ تحریمی نہیں ۔ اورصاحب فتح القدیر وغیرہ نے پتا دیا کہ اگرزیادتی یا بے حاجت کمی کرے تو کراہت ثابت ہے اگرچہ وہ تین باردھونے کو ہی مسنون مانتا ہو۔ علامہ شامی کی تطبیق یہ ہے کہ نفی بدائع کا مطلب یہ ہے کہ اگرکبھی ایك بار کمی بیشی کا مرتکب ہوا توکراہت نہیں اور فتح وغیرہ کے اثبات کراہت کا معنی یہ ہے کہ اگر کمی یا زیادتی کی عادت کرے توکراہت ہے۔ اس تطبیق پر کلام یہ ہے کہ کمی کی صورت میں تو یہ تسلیم ہے مگر زیادتی کی صورت میں تسلیم نہیں (جیسا کہ اوپر واضح ہوا۔ م)
اب ایك بحث اور رہ گئی کہ فتح القدیر وغیرہ میں جیساکہ وہاں گزرا وعیدحدیث کو عدم اعتقاد پرمحمول کرکے یہ تفریع کی ہے کہ اگرکسی حاجت کے تحت کمی بیشی کی تو اس میں حرج نہیں ۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر بلا حاجت کمی بیشی ہے تومکروہ ہے۔ اس تفریع کے مفہوم سے علامہ شامی نے اسراف کی کراہت پر استناد کیاہے اوراس سے
فــــــ : حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت : لایعنی باتوں کاموں کے ترك کی ہدایت اورلایعنی کے معنی کابیان ۔
محمول علی الاعتقاد) حتی لورأی سنیۃ العدد وزاد لقصد الوضوء علے الوضوء اولطمانینۃ القلب اونقص لحاجۃ فلا باس بہ (ای فافادوا ان لو زاد بلا غرض کان فیہ باس) ولو کان کما ذکر (ان لاباس الا فی الاعتقاد) لاتکرہ الزیادۃ مطلقا اھ مزیدا منا بین الاھلۃ ۔
وھذا ھو منزع کلام ش بیدانہ حملہ علی التعود واطلق ط۔ اقول : ولاطلاقہ مستندات کما علمت امافــ تفصیل ش ان الاسراف یکرہ تنزیھا ان وقع احیانا وتحریما ان تعود فلا اعلم من صرح بہ وکانہ اخذہ من جعل النھر
علامہ طحطاوی نے بھی اسراف کی کراہت تحریم پراستناد کیاہے وہ کہتے ہیں : میں کہتاہوں اگرصرف تثلیث کے مسنون ہونے کااعتقاد رکھتا ہو تو بھی اسراف سے گنہگار ہوجائے گا۔ اسی لئے مفہوم میں ( “ حدیث اعتقاد پرمحمول ہے “ اس کلام کے مفہوم کے بیان میں ) علما نے کہاہے کہ “ اگر تین کے عدد کومسنون مانتاہواوروضوعلی الوضو کے ارادے سے یااطمینان قلب کے لئے زیادتی کر دے یا کسی حاجت کی وجہ سے کمی کردے توکوئی حرج نہیں “ ۔ یعنی اس سے مستفاد یہ ہواکہ اگر بلا غرض زیادہ کردے تو اس میں حرج ہے) اور اگرایسا ہوتا جیسا ذکر کیاگیا(کہ حرج صرف اعتقاد خلاف میں ہے) تو “ مطلقا “ زیادتی مکروہ نہ ہوتی اھ طحطاوی کی عبارت ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
کلام شامی کا منشابھی یہی ہے فرق یہ ہے کہ انہوں نے اسے عادت پرمحمول کیاہے اور طحطاوی نے مطلق رکھا ہے اقول : اوران کے اطلاق کی تائیدمیں کچھ قابل استناد عبارتیں ہیں جیساکہ معلوم ہوا۔ رہی علامہ شامی کی یہ تفصیل کہ اسراف اگر احیانا واقع ہوتومکروہ تنزیہی ہے اورعادۃ ہوتومکروہ تحریمی ہے میرے علم میں کسی نے اس کی تصریح نہیں کی ہے۔ علامہ شامی
فـــــ : معروضۃ اخری علیہ ۔
وھذا ھو منزع کلام ش بیدانہ حملہ علی التعود واطلق ط۔ اقول : ولاطلاقہ مستندات کما علمت امافــ تفصیل ش ان الاسراف یکرہ تنزیھا ان وقع احیانا وتحریما ان تعود فلا اعلم من صرح بہ وکانہ اخذہ من جعل النھر
علامہ طحطاوی نے بھی اسراف کی کراہت تحریم پراستناد کیاہے وہ کہتے ہیں : میں کہتاہوں اگرصرف تثلیث کے مسنون ہونے کااعتقاد رکھتا ہو تو بھی اسراف سے گنہگار ہوجائے گا۔ اسی لئے مفہوم میں ( “ حدیث اعتقاد پرمحمول ہے “ اس کلام کے مفہوم کے بیان میں ) علما نے کہاہے کہ “ اگر تین کے عدد کومسنون مانتاہواوروضوعلی الوضو کے ارادے سے یااطمینان قلب کے لئے زیادتی کر دے یا کسی حاجت کی وجہ سے کمی کردے توکوئی حرج نہیں “ ۔ یعنی اس سے مستفاد یہ ہواکہ اگر بلا غرض زیادہ کردے تو اس میں حرج ہے) اور اگرایسا ہوتا جیسا ذکر کیاگیا(کہ حرج صرف اعتقاد خلاف میں ہے) تو “ مطلقا “ زیادتی مکروہ نہ ہوتی اھ طحطاوی کی عبارت ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔
کلام شامی کا منشابھی یہی ہے فرق یہ ہے کہ انہوں نے اسے عادت پرمحمول کیاہے اور طحطاوی نے مطلق رکھا ہے اقول : اوران کے اطلاق کی تائیدمیں کچھ قابل استناد عبارتیں ہیں جیساکہ معلوم ہوا۔ رہی علامہ شامی کی یہ تفصیل کہ اسراف اگر احیانا واقع ہوتومکروہ تنزیہی ہے اورعادۃ ہوتومکروہ تحریمی ہے میرے علم میں کسی نے اس کی تصریح نہیں کی ہے۔ علامہ شامی
فـــــ : معروضۃ اخری علیہ ۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ بیروت ۱ / ۷۲
ترکہ سنۃ مؤکدۃ مع خلافہ لہ فی حمل الکراھۃ علی التحریم۔
فاقول : ھم فـــــ۱ انفسھم فی ابانۃ المفھوم وشرح نوطھم الحکم بالاعتقاد فذکروا تصویرا لا یکون فیہ الزیادۃ والنقص لاجل الاعتقاد بل لغرض اخرلان العاقل لابد لفعلہ من غرض فاذا لم یکن المشی علی مااعتقد فلیکن ماذکروا فلا یدل علی ادارۃ الامر علی ھذا التصویر والا لخالف الشرح المشروح فان المشروح ناطہ بالاعتقاد وصرح ان لو زاد او نقص واعتقدان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید کما تقدم عن البدائع وھذا ینوطہ بشیئ اخر غیرہ وبالجملۃ لانسلم ان لشرح المفھوم مفھوما اخرو ان فـــــ۲ سلم فمفہومہ
نے شاید اس کو اس سے اخذ کیاہے کہ صاحب نہر نے ترك اسراف کو سنت مؤکدہ قراردیاہے باوجودیکہ صاحب نہر نے اسراف کی کراہت کا تحریمی ہونا ظاہر کیاتو علامہ شامی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
اب تفریع مذکورکے مفہوم سے استناد پر میں کہتاہوں وہ حضرات توخود مفہوم کی توضیح کررہے ہیں اور اس بات کی تشریح فرمارہے ہیں کہ حکم حدیث کو انہوں نے اعتقاد سے وابستہ رکھا ہے اسی کے لئے انہوں نے ایسی صورت پیش کی ہے جس میں زیادتی یاکمی اعتقاد کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور غرض کے تحت ہو۔ اس لئے کہ کارعاقل کے لئے کوئی غرض ہونا ضروری ہے۔ تواگر اس کے اعتقادپر نہ چلیں تووہی ہونا چاہئے جو ان حضرات نے ذکر کیا(اب اگر اعتقاد کو بنیاد نہ مان کر مطلقا اسراف کومکروہ تحریمی کہتے ہیں م)تو یہ اس کو نہیں بتاتا کہ مدار کا راس صورت پرہے جو ان حضرات نے پیش کی ورنہ شرح اورمشروح مخالفت لازم آئے گی اس لئے کہ مشروح نے توحکم کامدار اعتقاد پر رکھا ہے اور یہ صراحت کردی ہے کہ اگرتین باردھونے کوسنت مانتے ہوئے زیادتی یا کمی کی تووعید اسے لاحق نہ ہوگی جیساکہ بدائع سے نقل ہوا۔ اورشرح حکم کو اس کے علاوہ کسی اورچیز سے وابستہ کرتی ہے۔
فــــ۱ : معروضۃ ثالثۃ علیہ وعلی العلامۃط۔
فـــــ۲ : معروضۃ رابعۃ علی ش واخری علی ط۔
فاقول : ھم فـــــ۱ انفسھم فی ابانۃ المفھوم وشرح نوطھم الحکم بالاعتقاد فذکروا تصویرا لا یکون فیہ الزیادۃ والنقص لاجل الاعتقاد بل لغرض اخرلان العاقل لابد لفعلہ من غرض فاذا لم یکن المشی علی مااعتقد فلیکن ماذکروا فلا یدل علی ادارۃ الامر علی ھذا التصویر والا لخالف الشرح المشروح فان المشروح ناطہ بالاعتقاد وصرح ان لو زاد او نقص واعتقدان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید کما تقدم عن البدائع وھذا ینوطہ بشیئ اخر غیرہ وبالجملۃ لانسلم ان لشرح المفھوم مفھوما اخرو ان فـــــ۲ سلم فمفہومہ
نے شاید اس کو اس سے اخذ کیاہے کہ صاحب نہر نے ترك اسراف کو سنت مؤکدہ قراردیاہے باوجودیکہ صاحب نہر نے اسراف کی کراہت کا تحریمی ہونا ظاہر کیاتو علامہ شامی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
اب تفریع مذکورکے مفہوم سے استناد پر میں کہتاہوں وہ حضرات توخود مفہوم کی توضیح کررہے ہیں اور اس بات کی تشریح فرمارہے ہیں کہ حکم حدیث کو انہوں نے اعتقاد سے وابستہ رکھا ہے اسی کے لئے انہوں نے ایسی صورت پیش کی ہے جس میں زیادتی یاکمی اعتقاد کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور غرض کے تحت ہو۔ اس لئے کہ کارعاقل کے لئے کوئی غرض ہونا ضروری ہے۔ تواگر اس کے اعتقادپر نہ چلیں تووہی ہونا چاہئے جو ان حضرات نے ذکر کیا(اب اگر اعتقاد کو بنیاد نہ مان کر مطلقا اسراف کومکروہ تحریمی کہتے ہیں م)تو یہ اس کو نہیں بتاتا کہ مدار کا راس صورت پرہے جو ان حضرات نے پیش کی ورنہ شرح اورمشروح مخالفت لازم آئے گی اس لئے کہ مشروح نے توحکم کامدار اعتقاد پر رکھا ہے اور یہ صراحت کردی ہے کہ اگرتین باردھونے کوسنت مانتے ہوئے زیادتی یا کمی کی تووعید اسے لاحق نہ ہوگی جیساکہ بدائع سے نقل ہوا۔ اورشرح حکم کو اس کے علاوہ کسی اورچیز سے وابستہ کرتی ہے۔
فــــ۱ : معروضۃ ثالثۃ علیہ وعلی العلامۃط۔
فـــــ۲ : معروضۃ رابعۃ علی ش واخری علی ط۔
معارض لمنطوق البدائع وغیرھا والمنطوق مقدم فافھم۔
الحاصل ہم یہ نہیں مانتے کہ شرح مفہوم کا کوئی دوسرا مفہوم ہوسکتاہے۔ اگراسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کا مفہوم بدائع وغیرھا کے منطوق کے معارض ہے اورمنطوق مقدم ہوتاہے۔ تو اسے سمجھو۔
رابعا : جبکہ حدیث نے بے قید حال ومکان زیادت ونقص پر حکم اسأت وظلم وتعدی ارشاد فرمایا اور زیادت میں تعدی خاص مکان اضاعت میں ہے اور نقص میں خاص بحال عادت لہذا ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالینے حدیث کو ایك منشاء ونیت یعنی اعتقاد سنیت پر حمل فرمایا جس سے بے قید حال ومکان مطلقا حکم تعدی واسأت ہو۔
خامسا : بدائع وغیرہ کی تصریح کہ اگر بے اعتقاد سنیت نقص وزیادت ہو تو وعید نہیں صحیح ونجیح ہے کہ عادت نقص یا اضاعت زیادت میں طوق وعید اس ضم ضمیمہ پر ہے تو فعل بجائے خود اپنے منشأ وغایت ومقصد نیت میں مواخذہ سے پاك ہے کما علمت ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق (جیسا کہ واضح ہوا اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدا ہی مالك توفیق ہے۔ ت)
الحمد لله اس امر پنجم اعنی حکم اسراف آب کا بیان ایسی وجہ جلیل وجمیل پر واقع ہوا کہ خود ہی ایك مستقل نفیس رسالہ ہونے اور تاریخی نام
برکات السماء فی حکم اسراف الماء رکھنے کے قابل والحمدلله علی نعمہ الجلائل وصلی الله تعالی علی سید الا واخر والاوائل والہ وصحبہ الکرام الافاضل۔
فائدہ مہمہ : فـــــ۱ : وضو میں پانی زیادہ نہ خرچ ہونے کیلئے چند امور کا لحاظ رکھیں :
(۱) وضو دیکھ فـــــ۲ دیکھ کر ہوشیاری واحتیاط کے ساتھ کریں عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ وضو
فــــ۱ : فائدہ : وہ باتیں جن کے لحاظ سے وضومیں پانی کم خرچ ہو۔
فــــ۲ : مسئلہ : وضومیں جلدی نہ چاہئے بلکہ درنگ واحتیاط کے ساتھ کریں عوام میں جویہ مشہورہے کہ وضوجوانوں کاسا نمازبوڑھوں کی سی یہ وضوکے بارے میں غلط ہے۔
الحاصل ہم یہ نہیں مانتے کہ شرح مفہوم کا کوئی دوسرا مفہوم ہوسکتاہے۔ اگراسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کا مفہوم بدائع وغیرھا کے منطوق کے معارض ہے اورمنطوق مقدم ہوتاہے۔ تو اسے سمجھو۔
رابعا : جبکہ حدیث نے بے قید حال ومکان زیادت ونقص پر حکم اسأت وظلم وتعدی ارشاد فرمایا اور زیادت میں تعدی خاص مکان اضاعت میں ہے اور نقص میں خاص بحال عادت لہذا ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالینے حدیث کو ایك منشاء ونیت یعنی اعتقاد سنیت پر حمل فرمایا جس سے بے قید حال ومکان مطلقا حکم تعدی واسأت ہو۔
خامسا : بدائع وغیرہ کی تصریح کہ اگر بے اعتقاد سنیت نقص وزیادت ہو تو وعید نہیں صحیح ونجیح ہے کہ عادت نقص یا اضاعت زیادت میں طوق وعید اس ضم ضمیمہ پر ہے تو فعل بجائے خود اپنے منشأ وغایت ومقصد نیت میں مواخذہ سے پاك ہے کما علمت ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق (جیسا کہ واضح ہوا اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدا ہی مالك توفیق ہے۔ ت)
الحمد لله اس امر پنجم اعنی حکم اسراف آب کا بیان ایسی وجہ جلیل وجمیل پر واقع ہوا کہ خود ہی ایك مستقل نفیس رسالہ ہونے اور تاریخی نام
برکات السماء فی حکم اسراف الماء رکھنے کے قابل والحمدلله علی نعمہ الجلائل وصلی الله تعالی علی سید الا واخر والاوائل والہ وصحبہ الکرام الافاضل۔
فائدہ مہمہ : فـــــ۱ : وضو میں پانی زیادہ نہ خرچ ہونے کیلئے چند امور کا لحاظ رکھیں :
(۱) وضو دیکھ فـــــ۲ دیکھ کر ہوشیاری واحتیاط کے ساتھ کریں عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ وضو
فــــ۱ : فائدہ : وہ باتیں جن کے لحاظ سے وضومیں پانی کم خرچ ہو۔
فــــ۲ : مسئلہ : وضومیں جلدی نہ چاہئے بلکہ درنگ واحتیاط کے ساتھ کریں عوام میں جویہ مشہورہے کہ وضوجوانوں کاسا نمازبوڑھوں کی سی یہ وضوکے بارے میں غلط ہے۔
بہت جلد کرناچاہئے اور اسی معنے پر کہتے ہیں کہ وضو نوجوان کا سا اور نماز بوڑھوں کی سی یہ غلط ہے بلکہ وضو میں بھی درنگ وترك عجلت مطلوب ہے۔ فتح وبحر وشامی شمار آداب وضوء میں ہے والتانی (ٹھہر ٹھہرکر دھونا۔ ت)
عالمگیریہ میں معراج الدرایہ سے ہے لایستعجل فی الوضوء (وضو میں جلدی نہ کرے۔ ت)
اقول : ظاہر ہے کہ جس شے کیلئے شرع نے ایك حدباندھی ہے کہ اس سے نہ کمی چاہئے نہ بیشی تو اس فعل کو باحتیاط بجالانے ہی میں حد کا موازنہ ہوسکے گا نہ کہ لپ جھپ اناپ شناپ میں ۔
(۲) بعض لوگ چلو لینے میں پانی ایسا ڈالتے ہیں کہ ابل جاتاہے حالانکہ جو گرا بیکار گیااس سے احتیاط چاہئے۔
(۳) ہر چلو بھرا ہونا ضرور نہیں بلکہ جس کام کیلئے لیں اس کا اندازہ رکھیں مثلا ناك میں نرم بانسے تك پانی چڑھانے کو پورا چلو کیاضرور نصف بھی کافی ہے بلکہ بھرا چلو کلی کیلئے بھی درکار نہیں ۔
(۴) لوٹے کی ٹونٹی متوسط معتدل چاہئے نہ ایسی تنگ کہ پانی بدیر دے نہ فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرائے اس کا فرق یوں معلوم ہوسکتا ہے کہ کٹوروں میں پانی لے کر وضو کیجئے تو بہت خرچ ہوگا یونہی فراخ ٹونٹی سے بہانا زیادہ خرچ کا باعث ہے اگر لوٹاایسا ہوتو احتیاط کرے پوری دھارنہ گرائے بلکہ باریک۔
(۵) بہت بھاری برتن سے وضو نہ کرے خصوصا کمزورکہ پورا قابو نہ ہونے کے باعث پانی بے احتیاط گرے گا۔
(۶) اعضاء فـــــ دھونے سے پہلے ان پر بھیگا ہاتھ پھیرلے کہ پانی جلد دوڑتاہے اور تھوڑا بہت کا کام دیتا ہے خصوصا موسم سرمامیں اس کی زیادہ حاجت ہے کہ اعضأ میں خشکی ہوتی ہے بہتی دھار بیچ میں جگہ خالی چھوڑ جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ بحر الرائق میں ہے :
عن خلف بن ایوب انہ قال
خلف بن ایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے
فـــــ : مسئلہ : مستحب ہے کہ اعضاء دھونے سے پہلے بھیگاہاتھ پھیرلے خصوصاجاڑے میں ۔
عالمگیریہ میں معراج الدرایہ سے ہے لایستعجل فی الوضوء (وضو میں جلدی نہ کرے۔ ت)
اقول : ظاہر ہے کہ جس شے کیلئے شرع نے ایك حدباندھی ہے کہ اس سے نہ کمی چاہئے نہ بیشی تو اس فعل کو باحتیاط بجالانے ہی میں حد کا موازنہ ہوسکے گا نہ کہ لپ جھپ اناپ شناپ میں ۔
(۲) بعض لوگ چلو لینے میں پانی ایسا ڈالتے ہیں کہ ابل جاتاہے حالانکہ جو گرا بیکار گیااس سے احتیاط چاہئے۔
(۳) ہر چلو بھرا ہونا ضرور نہیں بلکہ جس کام کیلئے لیں اس کا اندازہ رکھیں مثلا ناك میں نرم بانسے تك پانی چڑھانے کو پورا چلو کیاضرور نصف بھی کافی ہے بلکہ بھرا چلو کلی کیلئے بھی درکار نہیں ۔
(۴) لوٹے کی ٹونٹی متوسط معتدل چاہئے نہ ایسی تنگ کہ پانی بدیر دے نہ فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرائے اس کا فرق یوں معلوم ہوسکتا ہے کہ کٹوروں میں پانی لے کر وضو کیجئے تو بہت خرچ ہوگا یونہی فراخ ٹونٹی سے بہانا زیادہ خرچ کا باعث ہے اگر لوٹاایسا ہوتو احتیاط کرے پوری دھارنہ گرائے بلکہ باریک۔
(۵) بہت بھاری برتن سے وضو نہ کرے خصوصا کمزورکہ پورا قابو نہ ہونے کے باعث پانی بے احتیاط گرے گا۔
(۶) اعضاء فـــــ دھونے سے پہلے ان پر بھیگا ہاتھ پھیرلے کہ پانی جلد دوڑتاہے اور تھوڑا بہت کا کام دیتا ہے خصوصا موسم سرمامیں اس کی زیادہ حاجت ہے کہ اعضأ میں خشکی ہوتی ہے بہتی دھار بیچ میں جگہ خالی چھوڑ جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔ بحر الرائق میں ہے :
عن خلف بن ایوب انہ قال
خلف بن ایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے
فـــــ : مسئلہ : مستحب ہے کہ اعضاء دھونے سے پہلے بھیگاہاتھ پھیرلے خصوصاجاڑے میں ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲ ، البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
الفتاوٰی الہندیہ کتاب الطہارات الفصل الثالث فی المستحبات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹
الفتاوٰی الہندیہ کتاب الطہارات الفصل الثالث فی المستحبات نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹
ینبغی للمتوضیئ فی الشتاء ان یبل اعضاء ہ بالماء شبہ الدھن ثم یسیل الماء علیھا لان الماء یتجافی عن الاعضاء فی الشتاء کذا فی البدائع ۔ فرمایا : وضوکرنے والے کو چاہئے کہ جاڑے میں اپنے اعضاکو پانی سے تیل کی طرح ترکرے پھران پرپانی بہائے اس لئے کہ پانی جاڑے میں اعضا سے الگ رہ جاتاہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
الاداب امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ والتأنی والدلك خصوصا فی الشتاء اھ ۔
واعترضہ فی البحر بانہ ذکر الدلك من المندوبات وفی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا اھ و قدمناہ فی التنبیہ الثالث وقال العلامۃ ش فی المنحۃ قولہ ذکر الدلك الخ یمکن ان یجاب عنہ بان مرادہ امرار الید المبلولۃ علی الاعضاء المغسولۃ لما قدمہ الشارح عندالکلام علی غسل الوجہ عن خلف بن ایوب (ای مانقلناہ انفا قال) لکن کان ینبغی تقییدہ بالشتاء تامل اھ۔
وضو کے آداب میں یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضا پرہاتھ پھیرلے اورٹھہر ٹھہرکردھوئے اور مل لیا کرے خصوصا جاڑے میں اھ۔ (ت)
اس پر بحر کااعتراض ہے کہ انہوں نے ملنے کو مندوبات میں شمارکردیاجب کہ خلاصہ میں یہ ہے کہ وہ ہمارے نزدیك سنت ہے
اوریہ اعتراض ہم تنبیہ سوم میں ذکرکرچکے ہیں ۔ علامہ شامی منحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں بحر کے اعتراض مذکور کے تحت لکھتے ہیں : اس کا یہ جواب دیاجاسکتاہے کہ صاحب فتح کی مراد یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضاء پر بھیگا ہواہاتھ پھیرلیاجائے اس کی وجہ وہ ہے جو شارح نے غسل وجہ پرکلام کے تحت حضرت خلف بن ایوب سے نقل کی(وہی جواوپر ہم نے ابھی نقل کیا)لیکن انہیں اس کے ساتھ “ جاڑے “ کی قید لگادینا چاہئے تھا۔ تامل کرو۔ اھ۔
فتح القدیر میں ہے :
الاداب امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ والتأنی والدلك خصوصا فی الشتاء اھ ۔
واعترضہ فی البحر بانہ ذکر الدلك من المندوبات وفی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا اھ و قدمناہ فی التنبیہ الثالث وقال العلامۃ ش فی المنحۃ قولہ ذکر الدلك الخ یمکن ان یجاب عنہ بان مرادہ امرار الید المبلولۃ علی الاعضاء المغسولۃ لما قدمہ الشارح عندالکلام علی غسل الوجہ عن خلف بن ایوب (ای مانقلناہ انفا قال) لکن کان ینبغی تقییدہ بالشتاء تامل اھ۔
وضو کے آداب میں یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضا پرہاتھ پھیرلے اورٹھہر ٹھہرکردھوئے اور مل لیا کرے خصوصا جاڑے میں اھ۔ (ت)
اس پر بحر کااعتراض ہے کہ انہوں نے ملنے کو مندوبات میں شمارکردیاجب کہ خلاصہ میں یہ ہے کہ وہ ہمارے نزدیك سنت ہے
اوریہ اعتراض ہم تنبیہ سوم میں ذکرکرچکے ہیں ۔ علامہ شامی منحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں بحر کے اعتراض مذکور کے تحت لکھتے ہیں : اس کا یہ جواب دیاجاسکتاہے کہ صاحب فتح کی مراد یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضاء پر بھیگا ہواہاتھ پھیرلیاجائے اس کی وجہ وہ ہے جو شارح نے غسل وجہ پرکلام کے تحت حضرت خلف بن ایوب سے نقل کی(وہی جواوپر ہم نے ابھی نقل کیا)لیکن انہیں اس کے ساتھ “ جاڑے “ کی قید لگادینا چاہئے تھا۔ تامل کرو۔ اھ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۹
اقول : اولا ان فــــــ۱ اراد انہ لایندب الیہ الا فی الشتاء فممنوع لان الماء وان کان یتجافی عن الاعضاء فی غیر الشتاء فلا شك ان البل قبل الغسل ینفع فی کل زمان فانہ یسہل مرور الماء ویقلل المصروف منہ کما ھو مجرب مشاھد فالنقل عن الامام خلف فی الشتاء لاینفیہ فی غیرہ انما یقتضی ان الحاجۃ الیہ فی الشتاء اشد وھذا قد صرح بہ المحقق حیث قال خصوصا فی الشتاء ۔
وثانیا امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ قد افرزہ المحقق عن الدلك کما سمعت فکیف یحمل علیہ لکن التحقیق مااقول ان الامرار المذکور لہ ثلثۃ محتملات الاول الامرار بعد الغسل اعنی بعد فــــــ۲
اقول : اولا اگر علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ وہ صرف جاڑے ہی میں مندوب ہے تویہ قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ غیر سرمامیں پانی اگرچہ اعضا سے الگ نہیں ہوتا مگر اس میں شك نہیں کہ دھونے سے پہلے ترکرلینا ہر موسم میں مفید ہے کیوں کہ اس سے پانی بآسانی گزرتاہے اور کم صرف ہوتاہے۔ جیسا کہ یہ تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے ۔ توامام خلف سے نقل اگرچہ خاص جاڑے کے لفظ کے ساتھ ہے مگراس سے غیرسرماکی نفی نہیں ہوتی اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ جاڑے میں ضرورت زیادہ ہے اور اس کی تو حضرت محقق نے تصریح کردی ہے اس طرح کہ انہوں نے لکھا : “ خصوصا جاڑے میں “ ۔
ثانیا : دھوئے جانے والے اعـضا پرہاتھ پھیرنے کو حضرت محقق نے دلک(اعضاکوملنے)سے الگ ذکرکیا ہے جیساکہ ان کی عبارت پیش ہوئی تواسے اس پرکیسے محمول کیاجائے گا۔ لیکن تحقیق وہ ہے جو میں کہتاہوں کہ مذکورہ ہاتھ پھیرنے میں تین معنی کا احتمال ہے : ۔
اول : دھولینے کے بعد ہاتھ پھیرنایعنی پانی گرجانے
فــــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــــ۲ : مسئلہ : ہرعضودھوکراس پرہاتھ پھیردیناچاہئے کہ پانی کی بوندیں ٹپکناموقوف ہوجائے تاکہ بدن یاکپڑے پرنہ ٹپکیں ۔
وثانیا امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ قد افرزہ المحقق عن الدلك کما سمعت فکیف یحمل علیہ لکن التحقیق مااقول ان الامرار المذکور لہ ثلثۃ محتملات الاول الامرار بعد الغسل اعنی بعد فــــــ۲
اقول : اولا اگر علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ وہ صرف جاڑے ہی میں مندوب ہے تویہ قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ غیر سرمامیں پانی اگرچہ اعضا سے الگ نہیں ہوتا مگر اس میں شك نہیں کہ دھونے سے پہلے ترکرلینا ہر موسم میں مفید ہے کیوں کہ اس سے پانی بآسانی گزرتاہے اور کم صرف ہوتاہے۔ جیسا کہ یہ تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے ۔ توامام خلف سے نقل اگرچہ خاص جاڑے کے لفظ کے ساتھ ہے مگراس سے غیرسرماکی نفی نہیں ہوتی اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ جاڑے میں ضرورت زیادہ ہے اور اس کی تو حضرت محقق نے تصریح کردی ہے اس طرح کہ انہوں نے لکھا : “ خصوصا جاڑے میں “ ۔
ثانیا : دھوئے جانے والے اعـضا پرہاتھ پھیرنے کو حضرت محقق نے دلک(اعضاکوملنے)سے الگ ذکرکیا ہے جیساکہ ان کی عبارت پیش ہوئی تواسے اس پرکیسے محمول کیاجائے گا۔ لیکن تحقیق وہ ہے جو میں کہتاہوں کہ مذکورہ ہاتھ پھیرنے میں تین معنی کا احتمال ہے : ۔
اول : دھولینے کے بعد ہاتھ پھیرنایعنی پانی گرجانے
فــــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــــ۲ : مسئلہ : ہرعضودھوکراس پرہاتھ پھیردیناچاہئے کہ پانی کی بوندیں ٹپکناموقوف ہوجائے تاکہ بدن یاکپڑے پرنہ ٹپکیں ۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
ماانحدر الماء لنشف الباقی کیلا یترشش علی الثیاب ۔
والثانی مع الغسل ای حین کون الماء بعد مارا علی الاعضاء وھو عین الدلك المطلوب قال فی البحر خلف ماقدم عن خلف الدلك لیس من مفہومہ (ای الغسل بالفتح) وانما ھو مندوب وذکر فی الخلاصۃ انہ سنۃ وحدہ امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ اھ۔
والثالث قبل الغسل ویحتاج الی التقیید بالمبلولۃ والتجوز فی المغسولۃ بمعنی ماسیغسل اوما امر بہ ان یغسل فح قد یمکن ان یراد بالدلك الثالث کما زعم العلامۃ ش وبالا مرار الاول فلا ھو ینافی الافراز ولا یلزم عدم الثانی من المندوبات خلافا لما ھو المذھب المذکور فی الخلاصۃ ومن القرینۃ علیہ ان المحقق بحث فی
کے بعد باقی کو خشك کرنے کے لئے ہاتھ پھیرنا تاکہ کپڑوں پر نہ ٹپکے۔
دوم : دھونے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پھیرنا۔ یعنی جس وقت پانی اعضا پر گررہا ہے اسی وقت ہاتھ پھیرتے جانا۔ یہ بعینہ وہی دلک(اعضا کو ملنا) ہے جو مطلوب ہے۔ بحر میں حضرت خلف سے نقل شدہ کلام کے بعد لکھا : دلک غسل بالفتح۔ دھونے۔ کے مفہوم میں داخل نہیں ۔ وہ صرف مندوب ہے۔ اور خلاصہ میں ذکرکیاکہ سنت ہے۔ اور اس کی تعریف یہ ہے : دھوئے جانے والے اعضاء پر ہاتھ پھیرنا اھ۔
سوم : دھونے سے پہلے ہاتھ پھیرنا(فتح کی عبارت ہے : امر ار الید علی الاعضاء المغسولۃ اعضائے مغسولہ پر ہاتھ پھیرنا۱۲م)عبارت فتح کے اندر یہ معنی لینے کے لئے دوباتوں کی ضرورت ہے۔ ایك یہ کہ ہاتھ کے ساتھ “ تر “ کی قیدلگائی جائے۔ دوسری یہ کہ “ مغسولہ “ میں مجاز مانا جائے اورکہا جائے کہ مغسولہ کا معنی یہ کہ وہ جودھوئے جائیں گے یا وہ جن کے دھونے کاحکم ہے۔ ایسی صورت میں دلک(اعضا کو ملنا) سے تیسرا معنی مراد لیاجاسکتاہے جیسا کہ علامہ شامی کا خیال ہے اور “ ہاتھ پھیرنے “ سے پہلا معنی مراد ہوسکتا ہے۔ یہ معنی اسے الگ ذکر کرنے
والثانی مع الغسل ای حین کون الماء بعد مارا علی الاعضاء وھو عین الدلك المطلوب قال فی البحر خلف ماقدم عن خلف الدلك لیس من مفہومہ (ای الغسل بالفتح) وانما ھو مندوب وذکر فی الخلاصۃ انہ سنۃ وحدہ امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ اھ۔
والثالث قبل الغسل ویحتاج الی التقیید بالمبلولۃ والتجوز فی المغسولۃ بمعنی ماسیغسل اوما امر بہ ان یغسل فح قد یمکن ان یراد بالدلك الثالث کما زعم العلامۃ ش وبالا مرار الاول فلا ھو ینافی الافراز ولا یلزم عدم الثانی من المندوبات خلافا لما ھو المذھب المذکور فی الخلاصۃ ومن القرینۃ علیہ ان المحقق بحث فی
کے بعد باقی کو خشك کرنے کے لئے ہاتھ پھیرنا تاکہ کپڑوں پر نہ ٹپکے۔
دوم : دھونے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پھیرنا۔ یعنی جس وقت پانی اعضا پر گررہا ہے اسی وقت ہاتھ پھیرتے جانا۔ یہ بعینہ وہی دلک(اعضا کو ملنا) ہے جو مطلوب ہے۔ بحر میں حضرت خلف سے نقل شدہ کلام کے بعد لکھا : دلک غسل بالفتح۔ دھونے۔ کے مفہوم میں داخل نہیں ۔ وہ صرف مندوب ہے۔ اور خلاصہ میں ذکرکیاکہ سنت ہے۔ اور اس کی تعریف یہ ہے : دھوئے جانے والے اعضاء پر ہاتھ پھیرنا اھ۔
سوم : دھونے سے پہلے ہاتھ پھیرنا(فتح کی عبارت ہے : امر ار الید علی الاعضاء المغسولۃ اعضائے مغسولہ پر ہاتھ پھیرنا۱۲م)عبارت فتح کے اندر یہ معنی لینے کے لئے دوباتوں کی ضرورت ہے۔ ایك یہ کہ ہاتھ کے ساتھ “ تر “ کی قیدلگائی جائے۔ دوسری یہ کہ “ مغسولہ “ میں مجاز مانا جائے اورکہا جائے کہ مغسولہ کا معنی یہ کہ وہ جودھوئے جائیں گے یا وہ جن کے دھونے کاحکم ہے۔ ایسی صورت میں دلک(اعضا کو ملنا) سے تیسرا معنی مراد لیاجاسکتاہے جیسا کہ علامہ شامی کا خیال ہے اور “ ہاتھ پھیرنے “ سے پہلا معنی مراد ہوسکتا ہے۔ یہ معنی اسے الگ ذکر کرنے
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
کون الدلك خارجا عن حقیقۃ الغسل ومال الی ان المقصود بشرعیۃ الغسل لایحصل الابہ وقد اجاب عنہ فی الغنیۃ بما کفی وشفی فیبعد ان یدخلہ ھھنا فی مجرد ادب نازل عن الاستنان ایضا خلفۃ عن الافتراض وقد یؤیدہ ایضا لفظۃ خصوصا فی الشتاء لان الثانی صرحوا باستنانہ مطلقا وانما قیدوا بالشتاء الثالث فھذا غایۃ توجیہ ما فی المنحۃ وبہ یندفع ایراد البحر وان کان المتبادر من الدلك ھو الثانی ولذا مشی علیہ فی البحر واقتفینا اثرہ فیما مربل مشی علیہ ش نفسہ فی ردالمحتار واعترض علی الفتح بما اعترض فی البحر قائلا لکن قدمنا ان الدلك سنۃ
کے خلاف نہ پڑے گا۔ اوریہ بھی لازم نہ آئے گا کہ انہوں نے دوسرے معنی کوخلاصہ میں ذکرشدہ مذہب کے برخلاف مندوبات میں شمار کردیا۔ اوراس پر ایك قرینہ بھی ہے وہ یہ کہ حضرت محقق نے دلك (بمعنی دوم) کے حقیقت غسل سے خارج ہونے پر بحث کی ہے اوران کا میلان اس طرف ہے کہ دھونے کی مشروعیت کا جو مقصود ہے وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اس بحث کاصاحب غنیہ نے کافی وشافی جواب دے دیاہے(مگرجب وہاں دلك کو عین غسل اور نفس فرض قراردینے کی طرف مائل ہیں م) توبعید ہے کہ یہاں فرضیت کے بدلے مسنونیت سے بھی فروترصرف ایك ادب کے تحت اسے داخل کردیں ۔ اور ان کے لفظ “ خصوصاجاڑے میں “ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس لئے کہ معنی دوم کے تو مطلقا مسنون ہونے کی علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ اورجاڑے کی قید صرف معنی سوم میں لگائی ہے۔ یہ منحۃ الخالق کے جواب کی انتہائی توجیہ ہے اور اسی سے بحر کا اعتراض بھی دفع ہوجاتاہے۔ اگرچہ لفظ دلك سے متبادر وہی معنی دوم ہے اسی لئے صاحب بحر اسی پرگئے ہیں اور سابق میں ہم نے بھی ان ہی کے نشان قدم کی پیروی کی ہے۔ بلکہ خود علامہ شامی ردالمحتار میں اسی پر گام زن ہیں اور فتح پر وہی اعتراض کیاہے جو بحر نے کیا وہ لکھتے ہیں : لیکن ہم پہلے ذکر کر چکے کہ دلك سنت ہے۔
کے خلاف نہ پڑے گا۔ اوریہ بھی لازم نہ آئے گا کہ انہوں نے دوسرے معنی کوخلاصہ میں ذکرشدہ مذہب کے برخلاف مندوبات میں شمار کردیا۔ اوراس پر ایك قرینہ بھی ہے وہ یہ کہ حضرت محقق نے دلك (بمعنی دوم) کے حقیقت غسل سے خارج ہونے پر بحث کی ہے اوران کا میلان اس طرف ہے کہ دھونے کی مشروعیت کا جو مقصود ہے وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ اس بحث کاصاحب غنیہ نے کافی وشافی جواب دے دیاہے(مگرجب وہاں دلك کو عین غسل اور نفس فرض قراردینے کی طرف مائل ہیں م) توبعید ہے کہ یہاں فرضیت کے بدلے مسنونیت سے بھی فروترصرف ایك ادب کے تحت اسے داخل کردیں ۔ اور ان کے لفظ “ خصوصاجاڑے میں “ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس لئے کہ معنی دوم کے تو مطلقا مسنون ہونے کی علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ اورجاڑے کی قید صرف معنی سوم میں لگائی ہے۔ یہ منحۃ الخالق کے جواب کی انتہائی توجیہ ہے اور اسی سے بحر کا اعتراض بھی دفع ہوجاتاہے۔ اگرچہ لفظ دلك سے متبادر وہی معنی دوم ہے اسی لئے صاحب بحر اسی پرگئے ہیں اور سابق میں ہم نے بھی ان ہی کے نشان قدم کی پیروی کی ہے۔ بلکہ خود علامہ شامی ردالمحتار میں اسی پر گام زن ہیں اور فتح پر وہی اعتراض کیاہے جو بحر نے کیا وہ لکھتے ہیں : لیکن ہم پہلے ذکر کر چکے کہ دلك سنت ہے۔
قال ولعل المراد بما قبلہ (ای امرار الید) امرارھا علیہ مبلولۃ قبل الغسل تأمل اھ۔
اقول : قد فــــ۱ علمت ان ھذا اضعف احتمالا تہ واذا کان ھذا مرادہ فحمل الدلك علیہ یکون تکرار بلا شك فان قلت ذکر المحقق بعدہ من الاداب حفظ ثیابہ من المتقاطر فبحمل الامرار علی الاول یتکرر مع ھذا قلت امرار الید وان کان معلولا بالحفظ تعلیل الفعل بغایتہ فلیس علۃ کافیۃ لحصولہ بحیث لایحتاج بعدہ فی الحفظ الی احتراس سواہ فلا یکون ذکرہ مغنیا عن ذکر الحفظ۔
ثم اقول : عجبا فــــ۲ للبحر اورکہتے ہیں : شاید ماقبل (یعنی ہاتھ پھیرنے) سے مراد دھونے سے پہلے اعضا پر ترہاتھ پھیرنا ہے تأمل کرو اھ۔
اقول : واضح ہوچکا کہ اس لفظ میں یہ سب سے ضعیف احتمال ہے اگر اس لفظ سے یہ ان کی مراد ہوتواس پر “ دلک “ کو محمول کرنے میں بلاشبہہ تکرار لازم آئے گی۔ اگر سوال ہو کہ حضرت محقق نے اس کے بعد آداب میں “ ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کوبچانا “ بھی شمارکیاہے۔ توہاتھ پھیرنے سے اگرمعنی اول مراد لیاجائے تب بھی تویہاں آکر تکرار ہوجائے گی تومیں جواباکہوں گا اگرچہ ہاتھ پھیرنے کی علت “ کپڑوں کی حفاظت بتائی گئی ہے جیسے کسی فعل کی علت اس کی غایت کو بتایاجاتاہے مگر یہ ہاتھ پھیرنا بچاؤ حاصل ہونے کے لئے ایسی کافی علت نہیں ہے کہ اس کے بعد بچاؤ میں مزید کسی احتیاط اور ہوشیاری برتنے کی ضرورت ہی نہ ہوتوہاتھ پھیرنے کاذکر ہوجانے کے بعد بھی اس کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کے بچانے کو مستقلا ذکر کیاجائے۔
ثم اقول : صاحب بحر پر تعجب ہے
فــــ۱ : معروضۃ علی ش۔ فـــــ۲ : تطفل علی البحر۔
اقول : قد فــــ۱ علمت ان ھذا اضعف احتمالا تہ واذا کان ھذا مرادہ فحمل الدلك علیہ یکون تکرار بلا شك فان قلت ذکر المحقق بعدہ من الاداب حفظ ثیابہ من المتقاطر فبحمل الامرار علی الاول یتکرر مع ھذا قلت امرار الید وان کان معلولا بالحفظ تعلیل الفعل بغایتہ فلیس علۃ کافیۃ لحصولہ بحیث لایحتاج بعدہ فی الحفظ الی احتراس سواہ فلا یکون ذکرہ مغنیا عن ذکر الحفظ۔
ثم اقول : عجبا فــــ۲ للبحر اورکہتے ہیں : شاید ماقبل (یعنی ہاتھ پھیرنے) سے مراد دھونے سے پہلے اعضا پر ترہاتھ پھیرنا ہے تأمل کرو اھ۔
اقول : واضح ہوچکا کہ اس لفظ میں یہ سب سے ضعیف احتمال ہے اگر اس لفظ سے یہ ان کی مراد ہوتواس پر “ دلک “ کو محمول کرنے میں بلاشبہہ تکرار لازم آئے گی۔ اگر سوال ہو کہ حضرت محقق نے اس کے بعد آداب میں “ ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کوبچانا “ بھی شمارکیاہے۔ توہاتھ پھیرنے سے اگرمعنی اول مراد لیاجائے تب بھی تویہاں آکر تکرار ہوجائے گی تومیں جواباکہوں گا اگرچہ ہاتھ پھیرنے کی علت “ کپڑوں کی حفاظت بتائی گئی ہے جیسے کسی فعل کی علت اس کی غایت کو بتایاجاتاہے مگر یہ ہاتھ پھیرنا بچاؤ حاصل ہونے کے لئے ایسی کافی علت نہیں ہے کہ اس کے بعد بچاؤ میں مزید کسی احتیاط اور ہوشیاری برتنے کی ضرورت ہی نہ ہوتوہاتھ پھیرنے کاذکر ہوجانے کے بعد بھی اس کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کے بچانے کو مستقلا ذکر کیاجائے۔
ثم اقول : صاحب بحر پر تعجب ہے
فــــ۱ : معروضۃ علی ش۔ فـــــ۲ : تطفل علی البحر۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۵
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
جزم ھھنا یندب الدلك ونسب الاستنان للخلاصۃ کغیر المرتضی لہ واعترض ثمہ علی المحقق بان فی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا ۔
کہ یہاں دلك کے مندوب ہونے پر جزم کیااور مسنون ہونے کوخلاصہ کی طرف یوں منسوب کیا جیسے یہ ان کا پسندیدہ نہیں اور وہاں حضرت محقق پر یہی اعتراض کیاہے کہ خلاصہ میں لکھا ہے کہ وہ ہمارے نزدیك سنت ہے۔
(۷) کلائیوں پر بال ہوں تو ترشوادیں کہ ان کا ہونا پانی زیادہ چاہتا ہے اور مونڈنے سے سخت ہوجاتے ہیں اور تراشنا مشین سے بہتر کہ خوب صاف کردیتی ہے اور سب سے احسن وافضل نورہ ہے کہ ان اعضأ میں یہی سنت سے ثابت ابن ماجہ فــــ ام المومنین ام سلمہرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذا طلی بدأ بعورتہ فطلاھا بالنورۃ وسائر جسدہ اھلہ ۔
رسول الله جب نورہ کا استعمال فرماتے تو ستر مقدس پراپنے دست مبارك سے لگاتے اور باقی بدن مبارك پر ازواج مطہرات لگادیتیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
اور ایسا نہ کریں تو دھونے سے پہلے پانی سے خوب بھگولیں کہ سب بال بچھ جائیں ورنہ کھڑے بال کی جڑ میں پانی گزر گیااور نوك سے نہ بہا تو وضو نہ ہوگا۔
(۸) دست وپاپر اگر لوٹے سے دھار ڈالیں تو ناخنوں سے کہنیوں یا گٹوں کے اوپر تك علی الاتصال اتاریں کہ ایك بار میں ہر جگہ پر ایك ہی بار گرے پانی جبکہ گر رہا ہے اور ہاتھ کی روانی میں دیر ہوگی تو ایك جگہ پر مکرر گرے گا۔
(۹) بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ ناخن سے کہنی تك یا گٹے تك بہاتے لائے پھر دوبارہ سہ بارہ
فـــــ : مسئلہ : ہاتھ پاؤں سینہ پشت پربال ہوں تونورہ سے دورکرنابہترہے ۔ اورموئے زیرناف پربھی استعمال نورہ آیاہے ۔
کہ یہاں دلك کے مندوب ہونے پر جزم کیااور مسنون ہونے کوخلاصہ کی طرف یوں منسوب کیا جیسے یہ ان کا پسندیدہ نہیں اور وہاں حضرت محقق پر یہی اعتراض کیاہے کہ خلاصہ میں لکھا ہے کہ وہ ہمارے نزدیك سنت ہے۔
(۷) کلائیوں پر بال ہوں تو ترشوادیں کہ ان کا ہونا پانی زیادہ چاہتا ہے اور مونڈنے سے سخت ہوجاتے ہیں اور تراشنا مشین سے بہتر کہ خوب صاف کردیتی ہے اور سب سے احسن وافضل نورہ ہے کہ ان اعضأ میں یہی سنت سے ثابت ابن ماجہ فــــ ام المومنین ام سلمہرضی اللہ تعالی عنہماسے راوی :
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان اذا طلی بدأ بعورتہ فطلاھا بالنورۃ وسائر جسدہ اھلہ ۔
رسول الله جب نورہ کا استعمال فرماتے تو ستر مقدس پراپنے دست مبارك سے لگاتے اور باقی بدن مبارك پر ازواج مطہرات لگادیتیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
اور ایسا نہ کریں تو دھونے سے پہلے پانی سے خوب بھگولیں کہ سب بال بچھ جائیں ورنہ کھڑے بال کی جڑ میں پانی گزر گیااور نوك سے نہ بہا تو وضو نہ ہوگا۔
(۸) دست وپاپر اگر لوٹے سے دھار ڈالیں تو ناخنوں سے کہنیوں یا گٹوں کے اوپر تك علی الاتصال اتاریں کہ ایك بار میں ہر جگہ پر ایك ہی بار گرے پانی جبکہ گر رہا ہے اور ہاتھ کی روانی میں دیر ہوگی تو ایك جگہ پر مکرر گرے گا۔
(۹) بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ ناخن سے کہنی تك یا گٹے تك بہاتے لائے پھر دوبارہ سہ بارہ
فـــــ : مسئلہ : ہاتھ پاؤں سینہ پشت پربال ہوں تونورہ سے دورکرنابہترہے ۔ اورموئے زیرناف پربھی استعمال نورہ آیاہے ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۲۹
سنن ابن ماجۃ ابواب الادب باب الاطلاء بالنورۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۴
سنن ابن ماجۃ ابواب الادب باب الاطلاء بالنورۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۴
کیلئے جو ناخن کی طرف لے گئے تو ہاتھ نہ روکا بلکہ دھار جاری رکھی ایسا نہ کریں کہ تثلیث کے عوض پانچ بار ہوجائے گا بلکہ ہر بار کہنی یا گٹے تك لاکر دھار روك لیں اور رکا ہوا ہاتھ ناخنوں تك لے جاکر وہاں سے پھر اجرا کریں کہ سنت یہی فـــــ۱ہے کہ ناخن سے کہنیوں یا گٹوں تك پانی بہے نہ اس کا عکس کما نص علیہ فی الخلاصۃ وغیرھا (جیساکہ خلاصہ وغیرہ میں اس کی تنصیص کی ہے۔ ت)
(۱۰) قول جامع یہ ہے کہ سلیقہ سے کام لیں سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہنے کیا خوب فرمایا ہے :
قد یرفق بالقلیل فیکفی ویخرق بالکثیر فلا یکفی ذکرہ الامام النووی فی شرح مسلم و اوردہ الامام العینی فی شرح البخاری بلفظ قد یرفق الفقیہ بالقلیل فیکفی ویخرق الاخرق ولا یکفی ۔
یعنی سلیقہ سے اٹھاؤ تو تھوڑا بھی کافی ہوجاتاہے اوربدسلیقگی برتوتوبہت بھی کفایت نہیں کرتا(اسے امام نووی نے شرح مسلم میں ذکرکیااورامام عینی نے شرح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا :
فائدہ : اوپر حدیث فـــــ۲ گزری کہ ولہان نام شیطان وضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اس کے وسوسہ سے بچو۔ دفع وسوسہ کے لئے بہترین تدبیران باتوں کا التزام ہے :
(۱) رجوع الی الله واعوذ۱ ولا حول۲وسورہ۳ناس کی قرأت اور۴امنت بالله ورسولہ ط کہنا ۵اور
هو الاول و الاخر و الظاهر و الباطن-و هو بكل شیء علیم(۳) ان سے
فـــــ۱ : مسئلہ : سنت یہ ہے کہ پانی ہاتھ پاؤں کے ناخن کی طرف سے کہنیوں اورگٹوں کے اوپرتك ڈالیں ادھرسے ادھرکونہ لائیں ۔
فـــــ۲ : فائدہ جلیلہ : دفع وسواس کی دعائیں اورعلاج )۔
(۱۰) قول جامع یہ ہے کہ سلیقہ سے کام لیں سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہنے کیا خوب فرمایا ہے :
قد یرفق بالقلیل فیکفی ویخرق بالکثیر فلا یکفی ذکرہ الامام النووی فی شرح مسلم و اوردہ الامام العینی فی شرح البخاری بلفظ قد یرفق الفقیہ بالقلیل فیکفی ویخرق الاخرق ولا یکفی ۔
یعنی سلیقہ سے اٹھاؤ تو تھوڑا بھی کافی ہوجاتاہے اوربدسلیقگی برتوتوبہت بھی کفایت نہیں کرتا(اسے امام نووی نے شرح مسلم میں ذکرکیااورامام عینی نے شرح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا :
فائدہ : اوپر حدیث فـــــ۲ گزری کہ ولہان نام شیطان وضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اس کے وسوسہ سے بچو۔ دفع وسوسہ کے لئے بہترین تدبیران باتوں کا التزام ہے :
(۱) رجوع الی الله واعوذ۱ ولا حول۲وسورہ۳ناس کی قرأت اور۴امنت بالله ورسولہ ط کہنا ۵اور
هو الاول و الاخر و الظاهر و الباطن-و هو بكل شیء علیم(۳) ان سے
فـــــ۱ : مسئلہ : سنت یہ ہے کہ پانی ہاتھ پاؤں کے ناخن کی طرف سے کہنیوں اورگٹوں کے اوپرتك ڈالیں ادھرسے ادھرکونہ لائیں ۔
فـــــ۲ : فائدہ جلیلہ : دفع وسواس کی دعائیں اورعلاج )۔
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للامام النووی کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء دارالفکربیروت ۲ / ۱۳۷۳
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء باب الوضو بالمد1تحت الحدیث ۶۴۔ ۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت۳ / ۱۴۱
القرآن الکریم ۵۷ /۳
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء باب الوضو بالمد1تحت الحدیث ۶۴۔ ۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت۳ / ۱۴۱
القرآن الکریم ۵۷ /۳
فورا وسوسہ دفع ہوجاتا ہے۔ اور ۶ سبحن الملك الخلاق ط ان یشا یذهبكم و یات بخلق جدید(۱۹) و ما ذلك على الله بعزیز(۲۰) کی کثرت اسے جڑ سے قطع کردیتی ہے۔ حدیث۷ میں ہے ایك صاحب نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر وسوسہ کی شکایت کی کہ نماز میں پتا نہیں چلتا دو پڑھیں یا تین۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اذا وجدت ذلك فارفع اصبعك السبابۃ الیمنی فاطعنہ فی فخذك الیسری وقل بسم الله فانھا سکین الشیطان رواہ البزار والطبرانی عن والد ابی الملیح ورواہ ایضا الحکیم الترمذی۔
جب تو ایسا پائے تواپنی دا ہنی انگشت شہادت اٹھا کر اپنی بائیں ران میں مار اوربسم الله کہہ کہ وہ شیطان کے حق میں چھری ہے (اس کو بزار اور طبرانی نے ابو ملیح کے والدسے روایت کیاہے اورحکیم ترمذی نے بھی اسے روایت کیاہے۔ ت)
(۲) وسوسہ کی نہ سننا اس پر عمل نہ کرنا اس کے خلاف کرنا اس بلائے عظیم کی عادت ہے کہ جس قدر اس پر عمل ہو اسی قدر بڑھے اور جب قصدا اس کا خلاف کیا جائے تو باذنہ تعالی تھوڑی مدت میں بالکل دفع ہوجائے۔ عمرو بن مرہ رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
ماوسوسۃ باولع ممن یراھا تعمل فیہ ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ ۔
شیطان جسے دیکھتاہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگرہوتاہے سب سے زیادہ اسی کے پیچھے پڑتاہے۔ (اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ ت)
امام ابن حجر مکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں مجھ سے بعض ثقہ لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسہ والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی دریائے نیل پرگئے طلوع صبح کے بعد پہنچے ایك نے دوسرے سے کہا تو اتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سر کو پہنچا یا نہیں وہ اترا اور غوطے لگانا شروع کئے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے وہاں پانی نہ پہنچا
اذا وجدت ذلك فارفع اصبعك السبابۃ الیمنی فاطعنہ فی فخذك الیسری وقل بسم الله فانھا سکین الشیطان رواہ البزار والطبرانی عن والد ابی الملیح ورواہ ایضا الحکیم الترمذی۔
جب تو ایسا پائے تواپنی دا ہنی انگشت شہادت اٹھا کر اپنی بائیں ران میں مار اوربسم الله کہہ کہ وہ شیطان کے حق میں چھری ہے (اس کو بزار اور طبرانی نے ابو ملیح کے والدسے روایت کیاہے اورحکیم ترمذی نے بھی اسے روایت کیاہے۔ ت)
(۲) وسوسہ کی نہ سننا اس پر عمل نہ کرنا اس کے خلاف کرنا اس بلائے عظیم کی عادت ہے کہ جس قدر اس پر عمل ہو اسی قدر بڑھے اور جب قصدا اس کا خلاف کیا جائے تو باذنہ تعالی تھوڑی مدت میں بالکل دفع ہوجائے۔ عمرو بن مرہ رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
ماوسوسۃ باولع ممن یراھا تعمل فیہ ۔ رواہ ابن ابی شیبۃ ۔
شیطان جسے دیکھتاہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگرہوتاہے سب سے زیادہ اسی کے پیچھے پڑتاہے۔ (اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ ت)
امام ابن حجر مکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں مجھ سے بعض ثقہ لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسہ والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی دریائے نیل پرگئے طلوع صبح کے بعد پہنچے ایك نے دوسرے سے کہا تو اتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سر کو پہنچا یا نہیں وہ اترا اور غوطے لگانا شروع کئے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے وہاں پانی نہ پہنچا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۴ /۱۹
کنزالعمال بحوالہ طب والحکیم عن ابی الملیح حدیث ۱۲۷۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۵۲ ، المعجم الکبیر حدیث ۵۱۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۱۹۲ ، مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزاز کتاب الصلوۃ باب السہو فی الصلوٰۃ دارالکتاب بیروت ۲ / ۱۵۱
المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الطہارات حدیث ۲۰۵۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷۹
کنزالعمال بحوالہ طب والحکیم عن ابی الملیح حدیث ۱۲۷۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۵۲ ، المعجم الکبیر حدیث ۵۱۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ / ۱۹۲ ، مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزاز کتاب الصلوۃ باب السہو فی الصلوٰۃ دارالکتاب بیروت ۲ / ۱۵۱
المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب الطہارات حدیث ۲۰۵۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۷۹
ایك صبح سے دوپہر ہوگیا آخر تھك کر باہر آیا اور دل میں شك رہا کہ غسل اترا نہیں ۔ پھر اس نے دوسرے سے کہا اب تو اتر میں گنوں گا اس نے ڈبکیاں لگائیں اور یہ کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا یہاں تك کہ دوپہر سے شام ہوگئی مجبور وہ بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شبہ کا شبہ ہی رہا دن بھر کی نمازیں کھوئیں اور غسل اترنے پر یقین نہ ہونا تھا نہ ہوا والعیاذ بالله تعالی ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ (اسے حدیقہ ندیہ میں بیان کیاگیا۔ ت)یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔
اور صالحین میں سے ایك صاحب فرماتے ہیں مجھے دربارہ طہارت وسوسہ تھا راستہ کی کیچڑ اگر کپڑے میں لگ جاتی اسے دھوتا (حالانکہ شرعا جب تك خاص اس جگہ نجاست کا ہونا ثابت ومتحقق نہ ہو حکم طہارت ہے) ایك دن نماز صبح کیلئے جاتا تھا راہ کی کیچڑ لگ گئی میں نے دھونا چاہا اور خیال آیا کہ دھوتا ہوں تو جماعت جاتی ہے ناگاہ الله عزوجل نے مجھے ہدایت فرمائی میرے دل میں ڈالا کہ اس کیچڑ میں لوٹ اور سب کپڑے سان لے اور یونہی نماز میں شریك ہوجا میں نے ایسا ہی کیا پھر وسوسہ نہ ہوا ۔ ذکرہ فی الطریقۃ المحمدیۃ (اسے طریقہ محمدیہ میں نقل کیاگیا۔ ت)یہ اس کی مخالفت کی برکت تھی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا احدکم اذا کان فی المسجد جاء الشیطان فابس بہ کما یبس الرجل بدابتہ فان اسکن لہ وثقہ اوالجمہ۔
جب تم میں کوئی مسجدمیں ہوتا ہے شیطان آکر اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے گھوڑے کو رام کرنے کے لئے اس پرہاتھ پھیرتا ہے پس اگروہ شخص ٹھہر ارہا یعنی اس کے وسوسہ سے فورا الگ نہ ہوگیا تو اسے باندھ لیتا یا لگام دے دیتاہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہنے اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا :
وانتم ترون ذلك اما الموثوق فتراہ مائلا کذا لایذکراللہ
یعنی حدیث کی تصدیق تم آنکھوں دیکھ رہے ہو وہ جو بندھا ہوا ہے اسے تودیکھے گا یوں جھکاہوا
اور صالحین میں سے ایك صاحب فرماتے ہیں مجھے دربارہ طہارت وسوسہ تھا راستہ کی کیچڑ اگر کپڑے میں لگ جاتی اسے دھوتا (حالانکہ شرعا جب تك خاص اس جگہ نجاست کا ہونا ثابت ومتحقق نہ ہو حکم طہارت ہے) ایك دن نماز صبح کیلئے جاتا تھا راہ کی کیچڑ لگ گئی میں نے دھونا چاہا اور خیال آیا کہ دھوتا ہوں تو جماعت جاتی ہے ناگاہ الله عزوجل نے مجھے ہدایت فرمائی میرے دل میں ڈالا کہ اس کیچڑ میں لوٹ اور سب کپڑے سان لے اور یونہی نماز میں شریك ہوجا میں نے ایسا ہی کیا پھر وسوسہ نہ ہوا ۔ ذکرہ فی الطریقۃ المحمدیۃ (اسے طریقہ محمدیہ میں نقل کیاگیا۔ ت)یہ اس کی مخالفت کی برکت تھی۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا احدکم اذا کان فی المسجد جاء الشیطان فابس بہ کما یبس الرجل بدابتہ فان اسکن لہ وثقہ اوالجمہ۔
جب تم میں کوئی مسجدمیں ہوتا ہے شیطان آکر اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے گھوڑے کو رام کرنے کے لئے اس پرہاتھ پھیرتا ہے پس اگروہ شخص ٹھہر ارہا یعنی اس کے وسوسہ سے فورا الگ نہ ہوگیا تو اسے باندھ لیتا یا لگام دے دیتاہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہنے اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا :
وانتم ترون ذلك اما الموثوق فتراہ مائلا کذا لایذکراللہ
یعنی حدیث کی تصدیق تم آنکھوں دیکھ رہے ہو وہ جو بندھا ہوا ہے اسے تودیکھے گا یوں جھکاہوا
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیۃ الباب الثانی النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۹۱
الطریقہ المحمدیۃ النوع الثالث فی علاج الوسوسۃالخ مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۲ / ۲۳۰
الطریقہ المحمدیۃ النوع الثالث فی علاج الوسوسۃالخ مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۲ / ۲۳۰
واما الملجم ففاتح فاہ لایذکر الله عزوجل رواہ الامام احمد ۔
کہ ذکر الہی نہیں کرتا اور وہ جولگام دیاہوا ہے وہ منہ کھولے ہے الله تعالی کا ذکر نہیں کرتا(اسے امام احمد نے روایت کیا۔ ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
واذا وجد احدکم فی بطنہ شیا فاشکل علیہ اخرج منہ شیئ ام لافلا یخرج من المسجد حتی یسمع صوتا اویجد ریحا رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ۔
والا حمد والترمذی وابن ماجۃ والخطیب عنہ مختصرا بلفظ لاوضوء الامن صوت اوریح
ولا حمد والشیخین وابی داؤد والنسائی وابناء ماجۃ وخزیمۃ وحبان عن عباد بن تمیم عن عمہ عــــــہ عبدالله
جب تم میں کوئی اپنے شکم میں کچھ محسوس کرے جس سے اس پر اشتباہ ہوجائے کہ اس سے کچھ خارج ہوا یا نہیں تووہ مسجد سے نہ نکلے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے۔ اسے مسلم وترمذی نے حضرت ابوھریرہ سے روایت کیا۔
اوران سے امام احمد ترمذی ابن ماجہ اورخطیب نے مختصرا ان الفاظ میں روایت کیاہے : وضو نہیں مگر آواز یا بو سے۔ اورامام احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن خزیمہ اورابن حبان کی روایت عباد بن تمیم سے ہے وہ اپنے چچا عبدالله
عـــــہ : وقع ھھنا فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ بحیدراباد عن عمر مکان عن عمہ وھو تصحیف شدید فاجتنبہ اھ منہ۔
یہاں کنزالعمال کے نسخہ مطبوعہ حیدرآباد میں عن عمہ کی جگہ عن عمر چھپ گیا ہے اور یہ شدید قسم کی تصحیف ہے۔ اس سے ہوشیار رہنا چاہئے اھ منہ۔ (ت)
کہ ذکر الہی نہیں کرتا اور وہ جولگام دیاہوا ہے وہ منہ کھولے ہے الله تعالی کا ذکر نہیں کرتا(اسے امام احمد نے روایت کیا۔ ت)
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
واذا وجد احدکم فی بطنہ شیا فاشکل علیہ اخرج منہ شیئ ام لافلا یخرج من المسجد حتی یسمع صوتا اویجد ریحا رواہ مسلم والترمذی عن ابی ھریرۃ۔
والا حمد والترمذی وابن ماجۃ والخطیب عنہ مختصرا بلفظ لاوضوء الامن صوت اوریح
ولا حمد والشیخین وابی داؤد والنسائی وابناء ماجۃ وخزیمۃ وحبان عن عباد بن تمیم عن عمہ عــــــہ عبدالله
جب تم میں کوئی اپنے شکم میں کچھ محسوس کرے جس سے اس پر اشتباہ ہوجائے کہ اس سے کچھ خارج ہوا یا نہیں تووہ مسجد سے نہ نکلے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے۔ اسے مسلم وترمذی نے حضرت ابوھریرہ سے روایت کیا۔
اوران سے امام احمد ترمذی ابن ماجہ اورخطیب نے مختصرا ان الفاظ میں روایت کیاہے : وضو نہیں مگر آواز یا بو سے۔ اورامام احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی ابن ماجہ ابن خزیمہ اورابن حبان کی روایت عباد بن تمیم سے ہے وہ اپنے چچا عبدالله
عـــــہ : وقع ھھنا فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ بحیدراباد عن عمر مکان عن عمہ وھو تصحیف شدید فاجتنبہ اھ منہ۔
یہاں کنزالعمال کے نسخہ مطبوعہ حیدرآباد میں عن عمہ کی جگہ عن عمر چھپ گیا ہے اور یہ شدید قسم کی تصحیف ہے۔ اس سے ہوشیار رہنا چاہئے اھ منہ۔ (ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حبنل عن ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۳۳۰
صحیح مسلم کتاب الحیض باب الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۸ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء من الریح حدیث ۷۵ دارالفکربیر وت ۱ / ۱۵۸
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوءمن الریح حدیث ۷۵ دارالفکربیر وت ۱ / ۱۳۴ ، سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب لاوضو الامن حدث ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۹ ، مسند احمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۱۰ ، ۴۳۵
صحیح مسلم کتاب الحیض باب الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۸ ، سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء من الریح حدیث ۷۵ دارالفکربیر وت ۱ / ۱۵۸
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوءمن الریح حدیث ۷۵ دارالفکربیر وت ۱ / ۱۳۴ ، سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب لاوضو الامن حدث ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۹ ، مسند احمدبن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۱۰ ، ۴۳۵
بن زید بن عاصم قال شکی الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الرجل یخیل الیہ انہ یجد الشیئ فی الصلوۃ قال لاتنصرف حتی تسمع صوتا اوتجد ریحا ۔
ولا حمد وابی یعلی عن ابی سعید عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الشیطان لیاتی احدکم وھو فی صلاتہ فیاخذ بشعرۃ من دیرہ فیمدھا فیری انہ قداحدث فلا ینصرف حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۔
ورواہ عنہ سعید بن منصور مختصرا نحو المرفوع من حدیث عباد وللبراز عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یاتی احدکم الشیطان فی الصلاۃ فینفح فی مقعدتہ فیخیل انہ احدث ولم یحدث فاذا وجد ذلك فلا ینصرف حتی
بن زید بن عاصم سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں ایك شخص نے نبی کے پاس یہ شکایت عرض کی کہ اسے خیال ہوتاہے کہ نماز میں وہ کچھ محسوس کررہا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : نمازسے نہ پھرویہاں تك کہ آواز سنویا بو پاؤ۔
اور امام احمد وابو یعلی حضرت ابو سعید سے وہ نبی سے راوی ہیں کہ تم میں کوئی نماز میں ہوتاہے اورشیطان اس کے پاس آکر اس کے پیچھے سے کوئی بال کھینچتاہے جس سے وہ یہ خیال کرنے لگتاہے کہ اس کا وضو جاتارہا ایساہوتو وہ نمازسے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے۔
اوراسے ان سے سعید بن منصور نے مختصرا حضرت عباد کی حدیث کے مرفوع الفاظ کے ہم معنی ذکر کیاہے۔ اوربزار حضرت ابن عباس سے وہ نبی سے راوی ہیں کہ تم میں کسی کے پاس نماز میں شیطان آکر اس کے پیچھے پھونك دیتا ہے جس سے اس کو خیال ہوتاہے کہ مجھے حدث ہوگیا حالانکہ اسے حدث نہ ہوا توکوئی ایسامحسوس کرے
ولا حمد وابی یعلی عن ابی سعید عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان الشیطان لیاتی احدکم وھو فی صلاتہ فیاخذ بشعرۃ من دیرہ فیمدھا فیری انہ قداحدث فلا ینصرف حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۔
ورواہ عنہ سعید بن منصور مختصرا نحو المرفوع من حدیث عباد وللبراز عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یاتی احدکم الشیطان فی الصلاۃ فینفح فی مقعدتہ فیخیل انہ احدث ولم یحدث فاذا وجد ذلك فلا ینصرف حتی
بن زید بن عاصم سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں ایك شخص نے نبی کے پاس یہ شکایت عرض کی کہ اسے خیال ہوتاہے کہ نماز میں وہ کچھ محسوس کررہا ہے ۔ سرکار نے فرمایا : نمازسے نہ پھرویہاں تك کہ آواز سنویا بو پاؤ۔
اور امام احمد وابو یعلی حضرت ابو سعید سے وہ نبی سے راوی ہیں کہ تم میں کوئی نماز میں ہوتاہے اورشیطان اس کے پاس آکر اس کے پیچھے سے کوئی بال کھینچتاہے جس سے وہ یہ خیال کرنے لگتاہے کہ اس کا وضو جاتارہا ایساہوتو وہ نمازسے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے۔
اوراسے ان سے سعید بن منصور نے مختصرا حضرت عباد کی حدیث کے مرفوع الفاظ کے ہم معنی ذکر کیاہے۔ اوربزار حضرت ابن عباس سے وہ نبی سے راوی ہیں کہ تم میں کسی کے پاس نماز میں شیطان آکر اس کے پیچھے پھونك دیتا ہے جس سے اس کو خیال ہوتاہے کہ مجھے حدث ہوگیا حالانکہ اسے حدث نہ ہوا توکوئی ایسامحسوس کرے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الوضو با ب لایتوضأمن الشک قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵ ، صحیح مسلم کتاب الحیض الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۸ ، سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب الوضومن الریح نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۳۷ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب اذاشک فی الحدث آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۳ ، سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب لاوضوالامن حدث ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۹
الجامع الصغیر بحوالہ حم ع حدیث ۲۰۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۴
الجامع الصغیر بحوالہ حم ع حدیث ۲۰۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۲۴
یسمع صوتا اویجد ریحا ورواہ عنہ الطبرانی فی الکبیر مختصرا بلفظ من خیل لہ فی صلاتہ انہ قد احدث فلا ینصرفن حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ولعبد الرزاق وابن ابی الدنیا عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال ان الشیطان یطیف باحدکم فی الصلاۃ لیقطع علیہ صلاتہ فاذا اعیاہ ان ینصرف نفخ فی دبرہ یریہ انہ قداحدث فلا ینصر فن احدکم حتی یجد ریحا اویسمع صوتا وفی روایۃ اخری عنہ رضی الله تعالی عنہ حتی انہ یاتی احدکم وھو فی الصلاۃ فینفخ فی دبرہ ویبل احلیلہ ثم یقول قد احدثت فلا ینصر فن احدکم حتی یجد ریحا ویسمع صوتا ویجد بللا ولعبد الرزاق وابن ابی شیبۃ فی مصنفیھما وابن ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ
تونماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بوپائے۔ اور اسے طبرانی نے ان سے مختصرا ان الفاظ میں روایت کیاہے جسے نماز کے اندر ایسا خیال ہوکہ اسے حدث ہواتوہرگز وہ نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے۔ اور عبد الرزاق وابن ابی الدنیا حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ہیں انہوں نے فرمایا : شیطان تم میں کسی کے گرد اس کی نماز توڑنے کے لئے گھیرا ڈال دیتا ہے جب اس سے عاجز ہوجاتاہے کہ وہ اپنی نمازسے پھرے تواس کے پیچھے پھونك دیتا ہے تاکہ اسے یہ خیال ہوکہ اسے حدث ہوگیا۔ ایسا ہوتو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ بو پائے یا آواز سنے۔ اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے ہی ایك اورروایت میں یہ ہے کہ وہ نماز میں کسی کے پاس آکر اس کے پیچھے پھونك دیتاہے اوراس کے احلیل(ذکر کی نالی)کو ترکردیتاہے پھرکہتا ہے تو بے وضو ہوگیا۔ توہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ بو پائے اورآواز سنے اورتری پائے۔ اور عبدالرزاق وابن ابی شیبہ اپنی اپنی مصنف میں اورابن ابی داؤد کتاب الوسوسۃ میں حضرت
تونماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بوپائے۔ اور اسے طبرانی نے ان سے مختصرا ان الفاظ میں روایت کیاہے جسے نماز کے اندر ایسا خیال ہوکہ اسے حدث ہواتوہرگز وہ نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے۔ اور عبد الرزاق وابن ابی الدنیا حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے راوی ہیں انہوں نے فرمایا : شیطان تم میں کسی کے گرد اس کی نماز توڑنے کے لئے گھیرا ڈال دیتا ہے جب اس سے عاجز ہوجاتاہے کہ وہ اپنی نمازسے پھرے تواس کے پیچھے پھونك دیتا ہے تاکہ اسے یہ خیال ہوکہ اسے حدث ہوگیا۔ ایسا ہوتو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ بو پائے یا آواز سنے۔ اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے ہی ایك اورروایت میں یہ ہے کہ وہ نماز میں کسی کے پاس آکر اس کے پیچھے پھونك دیتاہے اوراس کے احلیل(ذکر کی نالی)کو ترکردیتاہے پھرکہتا ہے تو بے وضو ہوگیا۔ توہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ بو پائے اورآواز سنے اورتری پائے۔ اور عبدالرزاق وابن ابی شیبہ اپنی اپنی مصنف میں اورابن ابی داؤد کتاب الوسوسۃ میں حضرت
حوالہ / References
کشف الاستار عن زوائد البزار باب مالاینقض الوضوء موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۱۴۷
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۹۴۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۳۴۱
المصنف لعبدالرزاق حدیث ۵۳۶ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ / ۱۴۱
آکام المرجان بحوالہ عبداللہ بن مسعود باب ۱۲۰ مکتبہ خیر کثیر کراچی ص ۹۲
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۹۴۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۳۴۱
المصنف لعبدالرزاق حدیث ۵۳۶ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ / ۱۴۱
آکام المرجان بحوالہ عبداللہ بن مسعود باب ۱۲۰ مکتبہ خیر کثیر کراچی ص ۹۲
عن ابرھیم النخعی قال کان یقال ان الشیطان یجری فی الاحلیل وفی الدبر عـــــہ فیری الرجل انہ قداحدث فلا ینصر فن احدکم حتی یسمع صوتا اویجد ریحا اویری بللا
قلت ذکر ھذین الاثرین الامام الجلیل الجلال السیوطی فی لقط المرجان مقتصرا علیھما ھو وصاحبہ البدر فی اصلہ اکام المرجان مع ثبوتہ فی المرفوع کما علمت وقال عامر الشعبی من اجلاء علماء التابعین ان الشیطان بزقۃ یعنی بلۃ طرف الاحلیل ذکرہ العارف فی الحدیقۃ الندیۃ۔
ابراہیم نخعی سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا : کہا جاتاتھاکہ شیطان احلیل میں اور دبر میں دوڑجاتا ہے ۔ آدمی کو یہ خیال دلاتاہے کہ اسے حدث ہوگیا تو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے یا تری دیکھے۔
قلت یہ دونوں اثر ( اثر ابن مسعود واثرامام نخعی)امام جلال الدین سیوطی نے “ لقط المرجان “ میں ذکر کئے اورانہوں نے انہی دونوں پر اکتفا کی اسی طرح اس کی اصل آکام المرجان میں قاضی بدرالدین شبلی نے بھی ان ہی دونوں پر اکتفا کی ہے حالانکہ یہ مضمون مرفوع میں موجود ہے جیساکہ معلوم ہوا۔ اور اجلہ علمائے تابعین میں سے امام عامر شعبی فرماتے ہیں : شیطان کبھی تھوك دیتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ سر احلیل ترکردیتاہے۔ اسے عارف بالله عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں ذکر کیا۔ (ت)
عـــــہ : فی نسختی لقط المرجان بین الواو وفی لفظۃ لم یقمہا الکاتب وھو ینفخ فی الدبر اونحوہ اھ منہ (م)
لقط المرجان کا جو نسخہ میرے پاس ہے اس میں واؤ او رفی کے درمیان ایك لفظ ہے جس کو کاتب نے نہیں لکھا اور وہ ینفخ فی الدبر یا اس کی مثل ہے۔ (ت)
قلت ذکر ھذین الاثرین الامام الجلیل الجلال السیوطی فی لقط المرجان مقتصرا علیھما ھو وصاحبہ البدر فی اصلہ اکام المرجان مع ثبوتہ فی المرفوع کما علمت وقال عامر الشعبی من اجلاء علماء التابعین ان الشیطان بزقۃ یعنی بلۃ طرف الاحلیل ذکرہ العارف فی الحدیقۃ الندیۃ۔
ابراہیم نخعی سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا : کہا جاتاتھاکہ شیطان احلیل میں اور دبر میں دوڑجاتا ہے ۔ آدمی کو یہ خیال دلاتاہے کہ اسے حدث ہوگیا تو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تك کہ آواز سنے یا بو پائے یا تری دیکھے۔
قلت یہ دونوں اثر ( اثر ابن مسعود واثرامام نخعی)امام جلال الدین سیوطی نے “ لقط المرجان “ میں ذکر کئے اورانہوں نے انہی دونوں پر اکتفا کی اسی طرح اس کی اصل آکام المرجان میں قاضی بدرالدین شبلی نے بھی ان ہی دونوں پر اکتفا کی ہے حالانکہ یہ مضمون مرفوع میں موجود ہے جیساکہ معلوم ہوا۔ اور اجلہ علمائے تابعین میں سے امام عامر شعبی فرماتے ہیں : شیطان کبھی تھوك دیتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ سر احلیل ترکردیتاہے۔ اسے عارف بالله عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں ذکر کیا۔ (ت)
عـــــہ : فی نسختی لقط المرجان بین الواو وفی لفظۃ لم یقمہا الکاتب وھو ینفخ فی الدبر اونحوہ اھ منہ (م)
لقط المرجان کا جو نسخہ میرے پاس ہے اس میں واؤ او رفی کے درمیان ایك لفظ ہے جس کو کاتب نے نہیں لکھا اور وہ ینفخ فی الدبر یا اس کی مثل ہے۔ (ت)
حوالہ / References
المصنف لعبدالرزاق باب الرجل یشتبہ علیہ فی الصلوۃ احدث الخ حدیث ۵۳۸ المکتب الاسلامی حدیث ۱ / ۱۴۲
حدیقۃ الندیۃ الباب الثالث النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۸
حدیقۃ الندیۃ الباب الثالث النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۸
ان حدیثوں فــــ۱ کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نماز میں دھوکا دینے کیلئے کبھی انسان کی شرمگاہ پر آگے سے تھوك دیتا ہے کہ اسے قطرہ آنے کا گمان ہوتا ہے کبھی پیچھے پھونکتا یا بال کھینچتا ہے کہ ریح خارج ہونے کا خیال گزرتا ہے اس پر حکم ہوا کہ نماز سے نہ پھرو جب تك تری یا آواز یا بو نہ پاؤ جب تك وقوع حدث پر یقین نہ ہولے۔
ہمارے امام اعظم کے شاگرد جلیل سیدنا عبدالله بن مبارك فرماتے ہیں :
اذا شك فی الحدث فانہ لایجب علیہ الوضوءحتی یستیقن استیقانا یقدران یحلف علیہ ا۔ علقہ الترمذی فی باب الوضوء من الریح ـ
یعنی یقین ایسا درکار ہے جس پر قسم کھا سکے کو ضرور حدث ہوا اور جب قسم کھاتے ہچکچائے تو معلوم ہواکہ معلوم نہیں مشکوك ہے اورشك کا اعتبار نہیں کہ طہارت پر یقین تھا اور یقین شك سے نہیں جاتا۔ (ترمذی نے باب الوضو من الریح میں اسے ابن مبارك سے تعلیقا روایت کیاہے۔ ت)
اسی لئے فــــ۲ سنت ہوا کہ وضو کے بعد ایك چھینٹا رومالی یا تہ بند ہو تو اس کے ا ندرونی حصے پر جو بدن کے قریب ہے دے لیا کریں ثم لیقل ھو من الماء پھر اگر قطرہ کا شبہ ہوتو خیال کرلیں کہ پانی جو چھڑکا تھا اس کا اثر ہے۔ حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا توضأت فانتضح۔ رواہ ابن ماجہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
جب تو وضو کرے تو چھینٹا دے لے (اسے ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی سے روایت کیا ۔ ) (ت)
فـــــ۱ : مسئلہ : شیطان کے تھوك اور پھونك سے نماز میں قطرے اور ریح کاشبہ جاتا ہے حکم ہے کہ جب تك ایسا یقین نہ ہو جس پر قسم کھاسکے اس پر لحاظ نہ کرے شیطان کہے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو دل میں جواب دے لے کہ خبیث تو جھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے۔
فـــــ۲ : مسئلہ : سنت ہے کہ وضو کے بعد رومالی پر چھنیٹادے لے ۔
ہمارے امام اعظم کے شاگرد جلیل سیدنا عبدالله بن مبارك فرماتے ہیں :
اذا شك فی الحدث فانہ لایجب علیہ الوضوءحتی یستیقن استیقانا یقدران یحلف علیہ ا۔ علقہ الترمذی فی باب الوضوء من الریح ـ
یعنی یقین ایسا درکار ہے جس پر قسم کھا سکے کو ضرور حدث ہوا اور جب قسم کھاتے ہچکچائے تو معلوم ہواکہ معلوم نہیں مشکوك ہے اورشك کا اعتبار نہیں کہ طہارت پر یقین تھا اور یقین شك سے نہیں جاتا۔ (ترمذی نے باب الوضو من الریح میں اسے ابن مبارك سے تعلیقا روایت کیاہے۔ ت)
اسی لئے فــــ۲ سنت ہوا کہ وضو کے بعد ایك چھینٹا رومالی یا تہ بند ہو تو اس کے ا ندرونی حصے پر جو بدن کے قریب ہے دے لیا کریں ثم لیقل ھو من الماء پھر اگر قطرہ کا شبہ ہوتو خیال کرلیں کہ پانی جو چھڑکا تھا اس کا اثر ہے۔ حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا توضأت فانتضح۔ رواہ ابن ماجہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
جب تو وضو کرے تو چھینٹا دے لے (اسے ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی سے روایت کیا ۔ ) (ت)
فـــــ۱ : مسئلہ : شیطان کے تھوك اور پھونك سے نماز میں قطرے اور ریح کاشبہ جاتا ہے حکم ہے کہ جب تك ایسا یقین نہ ہو جس پر قسم کھاسکے اس پر لحاظ نہ کرے شیطان کہے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو دل میں جواب دے لے کہ خبیث تو جھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے۔
فـــــ۲ : مسئلہ : سنت ہے کہ وضو کے بعد رومالی پر چھنیٹادے لے ۔
حوالہ / References
سنن الترمذی باب الطہارت حدیث ۷۶ دارالفکر بیروت ۱ / ۳۵
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارہ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارہ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶
بلکہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
عشر عـــــہ من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ والسواك واستنشاق الماء وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانۃ وانتقاض الماء ۔
قـال الراوی ونسیت العاشرۃ الا ان تکون المضمضۃ
دس باتیں قدیم سے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہیں : لبیں کترنا داڑھی بڑھانا مسواك کرنا وضو وغسل میں پانی سونگھ کر اوپر چڑھانا ناخن تراشنا انگلیوں کے جوڑ (یعنی جہاں جہاں میل جمع ہونے کا محل ہے اسے) دھونا بغل اور زیر ناف بالوں سے صاف کرنا شرمگاہ پرپانی ڈالنا۔ راوی نے کہادسویں میں بھول گیا
عـــــہ ۱ : قال المناوی من للتبعیض ولذا لم یذکر الختان ھنا اھ اقول کونھا فـــــ للتبعیض لاشك فیہ فان الختان والمضمضۃ کلا من الفطرۃ کما یاتی فالزیادۃ علی العشر معلومۃ ولکن ماعلل بہ من عدم ذکر الختان ھنا لامحل لہ وکانہ نسی ان الراوی نسی العاشرۃ فما یدریك لعلہا الختان استظھرہ جمع کما سیاتی اھ منہ (م)
علامہ مناوی نے کہا من الفطرۃ میں من تبعیض کاہے۔ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہ کیا اھ اقول من برائے تبعیض ہونے میں کوئی شك نہیں اس لئے کہ ختنہ اورکلی ہرایك کا شمار فطرت کے تحت ہے جیساکہ آرہا ہے تودس سے زیادہ ہونا معلوم ہے۔ لیکن من برائے تبعیض ہونے کی جو علت بیان کی ہے کہ “ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہیں “ اس کا کوئی موقع نہیں شاید وہ یہ بھول گئے کہ راوی دسویں چیز بھول گئے ہیں ۔ ہوسکتاہے وہ ختنہ ہی ہوجیساکہ ایك جماعت نے اسے ظاہر کہاہے جیساکہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے ۱۲منہ۔ (ت)
فـــــ : دس۱۰ باتیں قدیم سے سنت انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ہیں ۔
عشر عـــــہ من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ والسواك واستنشاق الماء وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانۃ وانتقاض الماء ۔
قـال الراوی ونسیت العاشرۃ الا ان تکون المضمضۃ
دس باتیں قدیم سے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہیں : لبیں کترنا داڑھی بڑھانا مسواك کرنا وضو وغسل میں پانی سونگھ کر اوپر چڑھانا ناخن تراشنا انگلیوں کے جوڑ (یعنی جہاں جہاں میل جمع ہونے کا محل ہے اسے) دھونا بغل اور زیر ناف بالوں سے صاف کرنا شرمگاہ پرپانی ڈالنا۔ راوی نے کہادسویں میں بھول گیا
عـــــہ ۱ : قال المناوی من للتبعیض ولذا لم یذکر الختان ھنا اھ اقول کونھا فـــــ للتبعیض لاشك فیہ فان الختان والمضمضۃ کلا من الفطرۃ کما یاتی فالزیادۃ علی العشر معلومۃ ولکن ماعلل بہ من عدم ذکر الختان ھنا لامحل لہ وکانہ نسی ان الراوی نسی العاشرۃ فما یدریك لعلہا الختان استظھرہ جمع کما سیاتی اھ منہ (م)
علامہ مناوی نے کہا من الفطرۃ میں من تبعیض کاہے۔ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہ کیا اھ اقول من برائے تبعیض ہونے میں کوئی شك نہیں اس لئے کہ ختنہ اورکلی ہرایك کا شمار فطرت کے تحت ہے جیساکہ آرہا ہے تودس سے زیادہ ہونا معلوم ہے۔ لیکن من برائے تبعیض ہونے کی جو علت بیان کی ہے کہ “ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہیں “ اس کا کوئی موقع نہیں شاید وہ یہ بھول گئے کہ راوی دسویں چیز بھول گئے ہیں ۔ ہوسکتاہے وہ ختنہ ہی ہوجیساکہ ایك جماعت نے اسے ظاہر کہاہے جیساکہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے ۱۲منہ۔ (ت)
فـــــ : دس۱۰ باتیں قدیم سے سنت انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ہیں ۔
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث عشر من الفطرۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۱۳۲
رواہ احمد ومسلم والاربعۃ عن
شاید عـــــہ کلی ہو۔ امام احمد مسلم اور اصحاب سنن اربعہ نے
عـــــہ : امام قاضی عیاض پھر امام نووی نے استظہار فرمایا کہ غالبادسویں ختنہ ہوکہ دوسری حدیث میں ختنہ بھی خصال فطرت سے شمار فرمایا ہے انتہی یعنی حدیث احمد و شیخین ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے
خمس من الفطرت الختان والاستحداد وقص الشارب و تقلیم الاظافر و نتف الابط
پانچ چیزیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت قدیمہ سے ہیں : ختنہ اور استرا لینا اور لبیں اور ناخن تراشوانا اور بغل کے بال دورکرنا۔
اقول : ایك حدیث میں کلی کو بھی خصال فطرت سے گناہے ۔ امام احمد و ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوداؤد وابن ماجہ وعمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہمسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستشاق ( الی قولہ ) والانتضاح بالماء والاختنان والله تعالی اعلم منہ ۔
فطرت سے ہے کلی اورناك میں پانی ڈالنا(الی قولہ) شرم گاہ پر چھینٹا اور ختنہ۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
شاید عـــــہ کلی ہو۔ امام احمد مسلم اور اصحاب سنن اربعہ نے
عـــــہ : امام قاضی عیاض پھر امام نووی نے استظہار فرمایا کہ غالبادسویں ختنہ ہوکہ دوسری حدیث میں ختنہ بھی خصال فطرت سے شمار فرمایا ہے انتہی یعنی حدیث احمد و شیخین ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے
خمس من الفطرت الختان والاستحداد وقص الشارب و تقلیم الاظافر و نتف الابط
پانچ چیزیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت قدیمہ سے ہیں : ختنہ اور استرا لینا اور لبیں اور ناخن تراشوانا اور بغل کے بال دورکرنا۔
اقول : ایك حدیث میں کلی کو بھی خصال فطرت سے گناہے ۔ امام احمد و ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوداؤد وابن ماجہ وعمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہمسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستشاق ( الی قولہ ) والانتضاح بالماء والاختنان والله تعالی اعلم منہ ۔
فطرت سے ہے کلی اورناك میں پانی ڈالنا(الی قولہ) شرم گاہ پر چھینٹا اور ختنہ۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۹ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۵ ، مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۱۳۷ ، سنن الترمذی کتاب الادب حدیث ۲۷۶۶ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۴۸ ، سنن النسائی کتاب الزینۃ باب من سنن الفطرۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۲۷۳ ، ۲۷۴
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۲۹
صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۷۵ ، صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ ۱ / ۱۲۸ ، ۱۲۹ ، مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۲۹ ، ۲۳۹ ، ۲۸۳
مسند احمد بن حنبل عن عمار بن یاسر المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۶۴ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۶
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۲۹
صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۷۵ ، صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ ۱ / ۱۲۸ ، ۱۲۹ ، مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۲۹ ، ۲۳۹ ، ۲۸۳
مسند احمد بن حنبل عن عمار بن یاسر المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۶۴ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۶
ام المومنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنہا ۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا۔ (ت)
شرمگاہ پر پانی ڈالنے کی علماء نے دو تفسیریں کیں : ایك استنجأ رواہ مسلم عن وکیع ۔ دوسرے وہی چھینٹا اور اس کے مؤید ہے کہ ایك روایت عــــــہ میں بجائے انتفاض الماء لفظ والانتضاح آیا ہے جمہور علماء نے فرمایا انتضاح وہی چھینٹا ہے ذکرہ الامام النووی ۔ اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ یہ چھینٹا خاص اہل وسوسہ ہی کیلئے نہیں بلکہ سب کیلئے سنت ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے وسوسہ کو کیا علاقہ
ان عبادی لیس لك علیهم سلطن
(بے شك میرے بندوں پر تیرا غلبہ اور تسلط نہیں ہوسکتا۔ (ت)
ابو داؤد نسائی ابن ماجہ حکم بن سفین یا سفین بن حکم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی قال
کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا بال توضأ ونضح فرجہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب پیشاب فرماتے وضو فرماتے اور شرمگاہ اقدس پر چھینٹا دیتے۔
ابن ماجہ حضرت جابررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی قال
توضأ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فنضح فرجہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو فرما کر ستر مبارك پر چھینٹا دیا۔
عــــــہ : یہ وہی روایت عمار رضی اللہ تعالی عنہ ہے کہ ابھی ہم نے ذکر کی۱۲منہ۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا۔ (ت)
شرمگاہ پر پانی ڈالنے کی علماء نے دو تفسیریں کیں : ایك استنجأ رواہ مسلم عن وکیع ۔ دوسرے وہی چھینٹا اور اس کے مؤید ہے کہ ایك روایت عــــــہ میں بجائے انتفاض الماء لفظ والانتضاح آیا ہے جمہور علماء نے فرمایا انتضاح وہی چھینٹا ہے ذکرہ الامام النووی ۔ اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ یہ چھینٹا خاص اہل وسوسہ ہی کیلئے نہیں بلکہ سب کیلئے سنت ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے وسوسہ کو کیا علاقہ
ان عبادی لیس لك علیهم سلطن
(بے شك میرے بندوں پر تیرا غلبہ اور تسلط نہیں ہوسکتا۔ (ت)
ابو داؤد نسائی ابن ماجہ حکم بن سفین یا سفین بن حکم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی قال
کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا بال توضأ ونضح فرجہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب پیشاب فرماتے وضو فرماتے اور شرمگاہ اقدس پر چھینٹا دیتے۔
ابن ماجہ حضرت جابررضی اللہ تعالی عنہماسے راوی قال
توضأ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فنضح فرجہ
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے وضو فرما کر ستر مبارك پر چھینٹا دیا۔
عــــــہ : یہ وہی روایت عمار رضی اللہ تعالی عنہ ہے کہ ابھی ہم نے ذکر کی۱۲منہ۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۹
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۹
القرآن الکریم ۱۵ / ۴۲
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الانتضاح آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۲ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ماجاءفی النضح الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب النضح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۳۳
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ کتاب الطہارۃ ماجاءفی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۹
القرآن الکریم ۱۵ / ۴۲
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الانتضاح آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۲ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ماجاءفی النضح الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶ ، سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب النضح نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۳۳
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ کتاب الطہارۃ ماجاءفی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۶
احمد وابن ماجہ و دار قطنی وحاکم وحارث بن ابی اسامہ حضرت محبوب ابن المحبوب سیدنا وابن سیدنا اسامہ بن زیدرضی اللہ تعالی عنہماوہ اپنے والد ماجد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اللهصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اتانی جبریل فی اول ما اوحی الی فعلمنی الوضوء والصلاۃ فلما فرغ الوضوءاخذ غرفۃ من الماء فنضح بھا فرجہ
یعنی اول اول جو مجھ پر وحی اتری ہے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے حاضر ہو کر مجھے وضو ونماز کی تعلیم دی جبریل نے وضو خود کرکے دکھایا جب وضو کر چکے ایك چلو پانی لے کر اپنی اس صورت مثالیہ کے موضع شرمگاہ پر چھڑك دیا۔
ولفظ ق :
علمنی جبرئیل الوضوءوامرنی ان انضح تحت ثوبی لما یخرج من البول بعد الوضوء ۔
جبریل علیہ السلام نے مجھے وضو کی تعلیم دی اور مجھے بلایا کہ زیر جامہ پانی چھڑکوں اس خدشہ کو ختم کرنے کیلئے کہ وضو کے بعد کوئی قطرہ نکلا ہو۔ (ت)
ترمذی عـــــہ ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
وعزاہ الامام الجلیل فی جامعیہ الی ابن ماجۃ ایضا اقول لیس عندہ ف جاء نی جبریل فقال یا محمد انما عندہ ماقدمت ای عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا توضأت فانتضح اھ منہ۔ (م)
امام جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر وجامع کبیر میں اس حدیث کو ابن ماجہ کی طرف منسوب کیا ہے میں کہتا ہوں ابن ماجہ کے نزدیك ان الفاظ کے ساتھ نہیں بلکہ وہ ہے جس کا ذکر میں نے ابی ھریرہ سے کیا ہے اذا توضات فانتضح اھ منہ (ت)
فـــــ : تطفل علی الامام الجلیل الجلال الدین السیوطی ۔
اتانی جبریل فی اول ما اوحی الی فعلمنی الوضوء والصلاۃ فلما فرغ الوضوءاخذ غرفۃ من الماء فنضح بھا فرجہ
یعنی اول اول جو مجھ پر وحی اتری ہے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے حاضر ہو کر مجھے وضو ونماز کی تعلیم دی جبریل نے وضو خود کرکے دکھایا جب وضو کر چکے ایك چلو پانی لے کر اپنی اس صورت مثالیہ کے موضع شرمگاہ پر چھڑك دیا۔
ولفظ ق :
علمنی جبرئیل الوضوءوامرنی ان انضح تحت ثوبی لما یخرج من البول بعد الوضوء ۔
جبریل علیہ السلام نے مجھے وضو کی تعلیم دی اور مجھے بلایا کہ زیر جامہ پانی چھڑکوں اس خدشہ کو ختم کرنے کیلئے کہ وضو کے بعد کوئی قطرہ نکلا ہو۔ (ت)
ترمذی عـــــہ ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
وعزاہ الامام الجلیل فی جامعیہ الی ابن ماجۃ ایضا اقول لیس عندہ ف جاء نی جبریل فقال یا محمد انما عندہ ماقدمت ای عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا توضأت فانتضح اھ منہ۔ (م)
امام جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر وجامع کبیر میں اس حدیث کو ابن ماجہ کی طرف منسوب کیا ہے میں کہتا ہوں ابن ماجہ کے نزدیك ان الفاظ کے ساتھ نہیں بلکہ وہ ہے جس کا ذکر میں نے ابی ھریرہ سے کیا ہے اذا توضات فانتضح اھ منہ (ت)
فـــــ : تطفل علی الامام الجلیل الجلال الدین السیوطی ۔
حوالہ / References
الجامع الصغیر بحوالہ حم ، ، قط ، ک حدیث ۸۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۲ ، جامع الاحادیث بحوالہ حم ، ، قط ، ک حدیث ۲۲۹ دار الفکر بیروت ۱ / ۵۵ ، سنن الدار قطنی کتاب الطہارۃ حدیث ۳۸۳ / ۱ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۵۵ ،
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶
جاء نی جبریل فقال یا محمد اذا توضأت فانتضح ۔
جبریل نے حاضر ہو کر مجھ سے عرض کی یا رسول الله جب حضور وضو فرمائیں چھینٹا دے لیا کریں ۔
جبریل کا اپنی صورت مثالیہ کے ستر پر چھڑکنا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حضور طریقہ وضو عرض کرنے کیلئے تھا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فعل تعلیم امت کیلئے۔ مرقاۃ میں ہے :
نضح فرجہ ای ورش ازارہ بقلیل من الماء اوسرا ولہ بہ لدفع الوسوسۃ تعلیما للامۃ
ستر مبارگ پر چھینٹا دیا یعنی تہبند یا پاجامے پر بھی امت کو دفع وسوسہ کی تعلیم دینے لئے تھوڑا پانی چھڑك دیا ۔
معہذا اس میں اقویا کیلئے جن کو برودت مثانہ کا عارضہ نہ ہو ایك نفع اور بھی ہے کہ شرمگاہ پر سرد پانی پڑنے سے اس میں تکاثف واستمساك پیدا ہو کر قطرہ موقوف ہوجاتا ہے کما ارشد الیہ حدیث زید رضی اللہ تعالی عنہعند ق عـــــہ
عـــــہ : سیدنا امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں :
اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال اذا وجدت شیا من البلۃ فانضحہ مایلیہ من ثوبك بالماء ثم قل ھو من الماء قال حماد قال لی سعید بن جبیر انضحہ بالماء ثم اذا وجدتہ فقل ھو من الماء قال محمد وبھذا ناخذ اذا کان کثر ذلك من الانسان وھو قول ابی حنیفۃ ۔
یعنی سیدنا امام اعظم حما د بن سلیمان سے وہ سعید بن جبیر سے وہ عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تری پاؤ تو شرمگاہ اور وہاں کے کپڑے پر چھینٹا دے لیا کرو پھر شبہ گزرے تو خیال کرو کہ پانی کا اثر ہے۔ امام حماد نے فرمایا کہ ایسا ہی سعید بن جبیر نے مجھ سے فرمایا امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی کو شبہ زیادہ ہوا کرے تو یہی طریقہ برتے اور یہی قول امام اعظم کا ہے رضی اللہ تعالی عنہماجمعین۔
جبریل نے حاضر ہو کر مجھ سے عرض کی یا رسول الله جب حضور وضو فرمائیں چھینٹا دے لیا کریں ۔
جبریل کا اپنی صورت مثالیہ کے ستر پر چھڑکنا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حضور طریقہ وضو عرض کرنے کیلئے تھا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا فعل تعلیم امت کیلئے۔ مرقاۃ میں ہے :
نضح فرجہ ای ورش ازارہ بقلیل من الماء اوسرا ولہ بہ لدفع الوسوسۃ تعلیما للامۃ
ستر مبارگ پر چھینٹا دیا یعنی تہبند یا پاجامے پر بھی امت کو دفع وسوسہ کی تعلیم دینے لئے تھوڑا پانی چھڑك دیا ۔
معہذا اس میں اقویا کیلئے جن کو برودت مثانہ کا عارضہ نہ ہو ایك نفع اور بھی ہے کہ شرمگاہ پر سرد پانی پڑنے سے اس میں تکاثف واستمساك پیدا ہو کر قطرہ موقوف ہوجاتا ہے کما ارشد الیہ حدیث زید رضی اللہ تعالی عنہعند ق عـــــہ
عـــــہ : سیدنا امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں :
اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما قال اذا وجدت شیا من البلۃ فانضحہ مایلیہ من ثوبك بالماء ثم قل ھو من الماء قال حماد قال لی سعید بن جبیر انضحہ بالماء ثم اذا وجدتہ فقل ھو من الماء قال محمد وبھذا ناخذ اذا کان کثر ذلك من الانسان وھو قول ابی حنیفۃ ۔
یعنی سیدنا امام اعظم حما د بن سلیمان سے وہ سعید بن جبیر سے وہ عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تری پاؤ تو شرمگاہ اور وہاں کے کپڑے پر چھینٹا دے لیا کرو پھر شبہ گزرے تو خیال کرو کہ پانی کا اثر ہے۔ امام حماد نے فرمایا کہ ایسا ہی سعید بن جبیر نے مجھ سے فرمایا امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی کو شبہ زیادہ ہوا کرے تو یہی طریقہ برتے اور یہی قول امام اعظم کا ہے رضی اللہ تعالی عنہماجمعین۔
حوالہ / References
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء حدیث ۵۰ دار الفکر بیروت ۱ / ۱۸ ، الجامع الصغیر بحوالہ ت و ھ حدیث ۳۵۷۳ دار الکتب العلمیہ دار الفکر بیروت ۲ / ۲۱۸
مرقاہ المفاتیح کتاب الطہارۃ حدیث ۳۶۱ المکتبۃ الجیبیۃ کوئٹہ ۲ / ۷۷
کتاب الاثار باب الرجل یجد اللیل حدیث ۱۵۹ ادارۃ القرآن کراچی ص ۳۲
مرقاہ المفاتیح کتاب الطہارۃ حدیث ۳۶۱ المکتبۃ الجیبیۃ کوئٹہ ۲ / ۷۷
کتاب الاثار باب الرجل یجد اللیل حدیث ۱۵۹ ادارۃ القرآن کراچی ص ۳۲
اقول : مگر یہاں فـــــ۱ اولا یہ ملحوظ رہے کہ مقصود نفی وسوسہ ہے نہ ابطال حقیقت تو جسے قطرہ اترنے کا یقین ہوجائے وہ پانی پر حوالہ نہیں کرسکتا یونہی جسے معاذ الله سلس البول کا عارضہ ہو اسے یہ چھینٹا مفید نہیں بلکہ بسا اوقات مضر ہے کہ پانی کی تری سے نجاست بڑھ جائے گی۔
ثانیا : سفید کپڑا پانی پڑنے سے بدن سے چمٹ کر بے حجابی لاتا ہے اس کا خیال فرض ہے۔
ثالثا : یہ حیلہ اسی وقت تك نافع ہے کہ چھڑکا ہوا پانی خشك نہ ہوگیا ہو ورنہ اس پر حوالہ نہ کرسکیں گے۔ وجیز امام کردری میں ہے :
رأی البلۃ بعد الوضوءسائلا من ذکرہ یعید الوضوء وان کان یعرض کثیرا ولا یعلم انہ بول اوماء لایلتفت الیہ وینضح فرجہ او ازارہ بالماء قطعا للوسوسۃ واذا بعد عھدہ عن الوضوءاوعلم انہ بول لاتنفعہ الحیلۃ ۔
وضو کے بعد ذکر سے تری بہتی دیکھی تو وضو کا اعادہ کرے اور اگر ایسا بہت پیش آتا ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ پیشاب ہے یا پانی تو اس کی طرف التفات نہ کرے اور اپنی شرمگاہ یا تہمد پر قطع وسوسہ کے لئے پانی چھڑك دیاکرے۔ اور جب وضو کئے دیر گزرچکی ہواوراسے معلوم ہوکہ پیشاب ہے تویہ حیلہ اس کے لئے کارآمد نہ ہوگا۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
ولفظھما وینبغی ان ینضح فرجہ و ازارہ عــہ الخ
ان کے الفاظ یہ ہیں : اپنی شرمگاہ اور تہبند پر پانی چھڑك لینا چاہئے۔ (ت)
فائدہ : ہم نے فــــ۲ زیر امر سوم آٹھ پانی گنائے تھے جو آب وضو کے شمار سے جدا ہیں یہ ان کانواں ہوا۔ ان دیار میں رواج ایسے لوٹوں کا ہے جن میں جانب پشت بغرض گرفت دستے لگے ہوتے ہیں یہاں بھی ایسے لوٹے دیکھے مگر کم۔ علما فرماتے فــــ ہیں ادب یہ ہے کہ پانی ڈالتے میں لوٹے کے منہ پر
فـــــ۱ : مسئلہ : اس چھینٹے میں چند عمل ملحوظ ہیں ۔
فـــــ۲ : علاوہ ان آٹھ پانیوں کے دو پانی اور جو حساب آب وضو سے جدا ہے۔
فـــــ۳ : مسئلہ دستہ دار لوٹا ہو تو مستحب یہ ہے کہ پانی ڈالتے وقت اس کا دستہ تھامے اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے
عـــــہ : ای بالواؤ دون او اھ منہ ( یعنی دونوں پر یہ واوکے ساتھ ہے او (یا) کے ساتھ نہیں ۱۲منہ ۔ ت)
ثانیا : سفید کپڑا پانی پڑنے سے بدن سے چمٹ کر بے حجابی لاتا ہے اس کا خیال فرض ہے۔
ثالثا : یہ حیلہ اسی وقت تك نافع ہے کہ چھڑکا ہوا پانی خشك نہ ہوگیا ہو ورنہ اس پر حوالہ نہ کرسکیں گے۔ وجیز امام کردری میں ہے :
رأی البلۃ بعد الوضوءسائلا من ذکرہ یعید الوضوء وان کان یعرض کثیرا ولا یعلم انہ بول اوماء لایلتفت الیہ وینضح فرجہ او ازارہ بالماء قطعا للوسوسۃ واذا بعد عھدہ عن الوضوءاوعلم انہ بول لاتنفعہ الحیلۃ ۔
وضو کے بعد ذکر سے تری بہتی دیکھی تو وضو کا اعادہ کرے اور اگر ایسا بہت پیش آتا ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ پیشاب ہے یا پانی تو اس کی طرف التفات نہ کرے اور اپنی شرمگاہ یا تہمد پر قطع وسوسہ کے لئے پانی چھڑك دیاکرے۔ اور جب وضو کئے دیر گزرچکی ہواوراسے معلوم ہوکہ پیشاب ہے تویہ حیلہ اس کے لئے کارآمد نہ ہوگا۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
ولفظھما وینبغی ان ینضح فرجہ و ازارہ عــہ الخ
ان کے الفاظ یہ ہیں : اپنی شرمگاہ اور تہبند پر پانی چھڑك لینا چاہئے۔ (ت)
فائدہ : ہم نے فــــ۲ زیر امر سوم آٹھ پانی گنائے تھے جو آب وضو کے شمار سے جدا ہیں یہ ان کانواں ہوا۔ ان دیار میں رواج ایسے لوٹوں کا ہے جن میں جانب پشت بغرض گرفت دستے لگے ہوتے ہیں یہاں بھی ایسے لوٹے دیکھے مگر کم۔ علما فرماتے فــــ ہیں ادب یہ ہے کہ پانی ڈالتے میں لوٹے کے منہ پر
فـــــ۱ : مسئلہ : اس چھینٹے میں چند عمل ملحوظ ہیں ۔
فـــــ۲ : علاوہ ان آٹھ پانیوں کے دو پانی اور جو حساب آب وضو سے جدا ہے۔
فـــــ۳ : مسئلہ دستہ دار لوٹا ہو تو مستحب یہ ہے کہ پانی ڈالتے وقت اس کا دستہ تھامے اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے
عـــــہ : ای بالواؤ دون او اھ منہ ( یعنی دونوں پر یہ واوکے ساتھ ہے او (یا) کے ساتھ نہیں ۱۲منہ ۔ ت)
حوالہ / References
الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارہ الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۳
خلاصہ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث نوع آخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۸
خلاصہ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث نوع آخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۸
ہاتھ نہ رکھے بلکہ دستہ پر۔ اور جب بھیگے ہاتھ سے دستہ چھوا جائے گا تو مستحب فــــ۱ہوا کہ وضو سے پہلے اسے تین بار دھولے یہ دسواں پانی ہوا تلك عشرۃ کاملۃ۔ فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتار آداب وضو میں ہے :
کون فـــــ۲ انیتہ من خزف وان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاراسہ ۔
مستحب یہ ہے کہ وضو کا برتن مٹی کا ہو اورلوٹے کا دستہ تین بار دھولے اور دھوتے وقت ہاتھ دستے پر رکھے لوٹے کے منہ پرنہیں ۔ (ت)
(۳) اگر شیطان فــــ۳ حیلہ سے بھی نہ مانے اور وسوسہ ڈالے ہی جائے کہ تیرے وضو میں غلطی رہی یا تری نماز ٹھیك نہ ہوئی تو سیدھا جواب یہ ہے کہ خبیث تو جھوٹا ہے۔ ابن حبان وحاکم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا جاء احدکم الشیطان فقال انك احدثت فلیقل انك کذبت ولابن حبان فلیقل فی نفسہ ۔
جب تم میں کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتارہا توفورا اسے جواب دے کہ توجھوٹا ہے(اوراگر مثلا نماز میں ہے تو) دل میں یہی کہہ لے مطلب وہی ہے کہ وسوسہ کی طرف التفات نہ کرے۔
اقول : حالتیں تین ہوتی ہیں :
فــــ۱ : مسئلہ : مستحب ہے کہ وضو سے پہلے لوٹے کا دستہ تین بار دھولے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : مستحب ہے کہ وضو مٹی کے برتن سے کرے ۔
فــــ۳ : رد وسوسہ کا تیسرا علاج
کون فـــــ۲ انیتہ من خزف وان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاراسہ ۔
مستحب یہ ہے کہ وضو کا برتن مٹی کا ہو اورلوٹے کا دستہ تین بار دھولے اور دھوتے وقت ہاتھ دستے پر رکھے لوٹے کے منہ پرنہیں ۔ (ت)
(۳) اگر شیطان فــــ۳ حیلہ سے بھی نہ مانے اور وسوسہ ڈالے ہی جائے کہ تیرے وضو میں غلطی رہی یا تری نماز ٹھیك نہ ہوئی تو سیدھا جواب یہ ہے کہ خبیث تو جھوٹا ہے۔ ابن حبان وحاکم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اذا جاء احدکم الشیطان فقال انك احدثت فلیقل انك کذبت ولابن حبان فلیقل فی نفسہ ۔
جب تم میں کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتارہا توفورا اسے جواب دے کہ توجھوٹا ہے(اوراگر مثلا نماز میں ہے تو) دل میں یہی کہہ لے مطلب وہی ہے کہ وسوسہ کی طرف التفات نہ کرے۔
اقول : حالتیں تین ہوتی ہیں :
فــــ۱ : مسئلہ : مستحب ہے کہ وضو سے پہلے لوٹے کا دستہ تین بار دھولے ۔
فــــ۲ : مسئلہ : مستحب ہے کہ وضو مٹی کے برتن سے کرے ۔
فــــ۳ : رد وسوسہ کا تیسرا علاج
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی تیمم المندوبات داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۸۴ ، فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲ ، البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸
المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دار الفکر بیروت ۱ / ۱۳۴ ، موارد الظمان کتاب الطہارۃ حدیث ۱۸۷ المطبعۃ السلفیہ ص۷۳
المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دار الفکر بیروت ۱ / ۱۳۴ ، موارد الظمان کتاب الطہارۃ حدیث ۱۸۷ المطبعۃ السلفیہ ص۷۳
ایك تو یہ کہ عدو کا وسوسہ مان لیا اس پر عمل کیا یہ تو اس ملعون کی عین مراد ہے اور جب یہ ماننے لگا تو وہ کیا ایك ہی بار وسوسہ ڈال کر تھك رہے گا حاشا وہ ملعون آٹھ پہر اس کی تاك میں ہے جتنا جتنا یہ مانتا جائے گا وہ اس کا سلسلہ بڑھاتا رہے گا یہاں تك کہ نتیجہ وہی ہوگا دو دوپہر کامل دریا میں غوطے لگائے اور سر نہ دھلا۔
دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اس کے ساتھ نزاع وبحث میں مصروف ہوجائے یہ بھی اس کے مقصد ناپاك کا حصول ہے کہ اس کی غرض تو یہی تھی کہ یہ اپنی عبادت سے غافل ہو کر کسی دوسرے جھگڑے میں پڑ جائے اور پھر اس حیص بیص میں ممکن ہے کہ وہی خبیث غالب آئے اور صورت ثانیہ صورت اولی کی طرف عود کرجائے ۔ والعیاذ بالله تعالی۔
لہذا نجات اس تیسری صورت میں ہے جو ہمارے نبی کریم حکیم علیم رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ والتسلیم نے تعلیم فرمائی کہ فورا اتنا کہہ کر الگ ہوجائے کہ تو جھوٹا ہے۔
اقول : یعنی یہ نہیں کہ صرف اس معنے کا تصور کرلیا کہ یہ کافی نہ ہوگا بلکہ دل میں جمالے کہ ملعون جھوٹا ہے پھر اس کی طرف التفات اور اس سے بحث وبردومات کی کیا حاجت شاید اسی لئے فی نفسہ زیادہ فرمایا۔
تنبیہفــــ ضروری سخت ضروری اشد ضروری : اقول : ہمارے حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجوامع الکلم عطا فرمائے گئے مختصر لفظ فرمائیں اور معانی کثیرہ پر مشتمل ہوں ۔ بشیطان دو قسم ہیں ۱شیاطین الجن کہ ابلیس لعین اور اس کی اولاد ملاعین ہیں اعاذ نا الله والمسلمین من شرھم وشر الشیطین اجمعین (اے اللہ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔ ت) ۲دوسرے شیاطین الانس کہ کفار و مبتدعین کے داعی ومنادی ہے ۔
لعنہ الله وخذلھم ابدا ونصرنا علیہم نصرا مؤبدا
خدا ان پر لعنت فرمائے اوران کوہمیشہ بے سہارا رکھے اوران پر ہمیں دائمی نصرت عطا فرمائے
فــــــ : یہ ضروری ضروری سخت ضروری : آریوں پادریوں وغیرہم کے لکچر ندائیں سننے کو جانے سے قرآن عظیم سخت مما نعت فرماتا ہے۔
دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اس کے ساتھ نزاع وبحث میں مصروف ہوجائے یہ بھی اس کے مقصد ناپاك کا حصول ہے کہ اس کی غرض تو یہی تھی کہ یہ اپنی عبادت سے غافل ہو کر کسی دوسرے جھگڑے میں پڑ جائے اور پھر اس حیص بیص میں ممکن ہے کہ وہی خبیث غالب آئے اور صورت ثانیہ صورت اولی کی طرف عود کرجائے ۔ والعیاذ بالله تعالی۔
لہذا نجات اس تیسری صورت میں ہے جو ہمارے نبی کریم حکیم علیم رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلاۃ والتسلیم نے تعلیم فرمائی کہ فورا اتنا کہہ کر الگ ہوجائے کہ تو جھوٹا ہے۔
اقول : یعنی یہ نہیں کہ صرف اس معنے کا تصور کرلیا کہ یہ کافی نہ ہوگا بلکہ دل میں جمالے کہ ملعون جھوٹا ہے پھر اس کی طرف التفات اور اس سے بحث وبردومات کی کیا حاجت شاید اسی لئے فی نفسہ زیادہ فرمایا۔
تنبیہفــــ ضروری سخت ضروری اشد ضروری : اقول : ہمارے حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجوامع الکلم عطا فرمائے گئے مختصر لفظ فرمائیں اور معانی کثیرہ پر مشتمل ہوں ۔ بشیطان دو قسم ہیں ۱شیاطین الجن کہ ابلیس لعین اور اس کی اولاد ملاعین ہیں اعاذ نا الله والمسلمین من شرھم وشر الشیطین اجمعین (اے اللہ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔ ت) ۲دوسرے شیاطین الانس کہ کفار و مبتدعین کے داعی ومنادی ہے ۔
لعنہ الله وخذلھم ابدا ونصرنا علیہم نصرا مؤبدا
خدا ان پر لعنت فرمائے اوران کوہمیشہ بے سہارا رکھے اوران پر ہمیں دائمی نصرت عطا فرمائے
فــــــ : یہ ضروری ضروری سخت ضروری : آریوں پادریوں وغیرہم کے لکچر ندائیں سننے کو جانے سے قرآن عظیم سخت مما نعت فرماتا ہے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وعلیھم اجمعین امین
الہی بطفیل سید المرسلین قبول فرما۔ حضور پر اورتمام رسولوں پر خدائے برتر کا درود سلام ہو۔ آمین۔ (ت)
ہمارا رب عزوجل فرماتا ہے :
و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا شیطین الانس و الجن یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا- ۔
یوں ہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کو کہ آپس میں ایك دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں دھوکا دینے کیلئے۔
حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا : الله کی پناہ مانگ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے۔ عرض کی : کیا آدمیوں میں بھی شیطان ہیں فرمایا : ہاں ۔ رواہ احمد وابن حاتم الطبرانی عن ابی امامۃ واحمد وابن مردویہ والبیھقی فی الشعب عن ابی ذر رضی الله تعالی عنہما۔ (اس کی روایت احمد نے ابن حاتم اور طبرانی نے ابی امامہ سے اور احمد نے ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابو ذررضی اللہ تعالی عنہماسے کی۔ ت)
ائمہ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔ رواہ ابن جریر عن عبدالرحمن بن زید۔ (اس کی روایت ابن جریر نے عبدالرحمن بن زید سے کی۔ ت)
اقول : آیہ کریمہ میں شیاطین الانس کی تقدیم بھی اس طرف مشیر اس حدیث کریم نے کہ “ جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تو جھوٹا ہے “ ۔ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا شیطان آدمی ہو خواہ جن اس کا قابو اسی وقت چلتا ہے جب اس کے سنئے اور تنکا توڑ کر ہاتھ پر دھر دیجئے کہ تو جھوٹا ہے تو خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔
آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا یہ سننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں ۔ کسی پادری
الہی بطفیل سید المرسلین قبول فرما۔ حضور پر اورتمام رسولوں پر خدائے برتر کا درود سلام ہو۔ آمین۔ (ت)
ہمارا رب عزوجل فرماتا ہے :
و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا شیطین الانس و الجن یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا- ۔
یوں ہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کو کہ آپس میں ایك دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں دھوکا دینے کیلئے۔
حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا : الله کی پناہ مانگ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے۔ عرض کی : کیا آدمیوں میں بھی شیطان ہیں فرمایا : ہاں ۔ رواہ احمد وابن حاتم الطبرانی عن ابی امامۃ واحمد وابن مردویہ والبیھقی فی الشعب عن ابی ذر رضی الله تعالی عنہما۔ (اس کی روایت احمد نے ابن حاتم اور طبرانی نے ابی امامہ سے اور احمد نے ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابو ذررضی اللہ تعالی عنہماسے کی۔ ت)
ائمہ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔ رواہ ابن جریر عن عبدالرحمن بن زید۔ (اس کی روایت ابن جریر نے عبدالرحمن بن زید سے کی۔ ت)
اقول : آیہ کریمہ میں شیاطین الانس کی تقدیم بھی اس طرف مشیر اس حدیث کریم نے کہ “ جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تو جھوٹا ہے “ ۔ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا شیطان آدمی ہو خواہ جن اس کا قابو اسی وقت چلتا ہے جب اس کے سنئے اور تنکا توڑ کر ہاتھ پر دھر دیجئے کہ تو جھوٹا ہے تو خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔
آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا یہ سننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں ۔ کسی پادری
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۱۱۲
مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۱۷۸ ، ۲۶۵ ، الدرالمنثور بحوالہ احمد و ابن ابی حاتم وغیرھا تحت الایہ ۶ / ۱۱۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۷ ، ۳۰۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ / ۱۷۸ ، ۲۶۵ ، الدرالمنثور بحوالہ احمد و ابن ابی حاتم وغیرھا تحت الایہ ۶ / ۱۱۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۷ ، ۳۰۸
نے اعلان کیا کہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی یہ سننے کیلئے دوڑے جاتے ہیں ۔ بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عزوجل تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمان کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ تو جھوٹا ہے نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے ان کے پاس جاؤ اور اپنے رب جل وعلا اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان میں کلمات ملعونہ سنو۔
اقول : یہ آیت جو ابھی تلاوت ہوئی اسی کا تتمہ اور ا س کے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جاؤ دیکھو قرآن عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتا تا اور ان ناپاك لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے آیہ کریمہ مذکورہ کے تتمہ میں ارشاد ہوتا ہے :
و لو شآء ربك ما فعلوه فذرهم و ما یفترون(۱۱۲)
اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور ان کے بہتانوں کو یك لخت چھوڑ دے۔
دیکھو انہیں اور ان کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا ان کے پاس سننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سنئے اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے :
و لتصغى الیه افـدة الذین لا یؤمنون بالاخرة و لیرضوه و لیقترفوا ما هم مقترفون(۱۱۳)
اور اس لئے کہ ان کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں ۔
دیکھو ان کی باتوں کی طرف کان لگانا ان کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی ان جیسے ہوجائیں والعیاذ بالله تعالی۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر ان کا کیا اثر ہوگا حالانکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
اقول : یہ آیت جو ابھی تلاوت ہوئی اسی کا تتمہ اور ا س کے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جاؤ دیکھو قرآن عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتا تا اور ان ناپاك لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے آیہ کریمہ مذکورہ کے تتمہ میں ارشاد ہوتا ہے :
و لو شآء ربك ما فعلوه فذرهم و ما یفترون(۱۱۲)
اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور ان کے بہتانوں کو یك لخت چھوڑ دے۔
دیکھو انہیں اور ان کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا ان کے پاس سننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سنئے اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے :
و لتصغى الیه افـدة الذین لا یؤمنون بالاخرة و لیرضوه و لیقترفوا ما هم مقترفون(۱۱۳)
اور اس لئے کہ ان کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں ۔
دیکھو ان کی باتوں کی طرف کان لگانا ان کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی ان جیسے ہوجائیں والعیاذ بالله تعالی۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر ان کا کیا اثر ہوگا حالانکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۱۱۲
القرآن ۶ / ۱۱۳
القرآن ۶ / ۱۱۳
من سمع بالدجال فلینأمنہ فوالله ان الرجل لیأتیہ وھو یحسب انہ مؤمن فیتبعہ مما یبعث بہ من الشبھات ۔ رواہ ابوداؤد عن عمران بن حصین رضی الله تعالی عنہ و عن الصحابۃ جمیعا۔
جو دجال کی خبر سنے اس پر واجب ہے کہ اس سے دور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیانقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیروہو جائے گا(اسے ابوداؤد نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہاورتمام صحابہ سے روایت کیا۔ ت)
کیا دجال ایك اسی دجال اخبث کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے حاشا تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اس میں یہی اندیشہ بتایا ہےرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یکون فی اخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا اباؤکم فایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
آخر زمانے میں دجال کذاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھوکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں (اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
اور سنئے اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے :
افغیر الله ابتغی حكما و هو الذی انزل الیكم الكتب مفصلا-و الذین اتینهم الكتب یعلمون انه منزل من ربك بالحق فلا تكونن من الممترین(۱۱۴) و تمت كلمت ربك صدقا
تو کیا الله کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اتاری اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اتری تو خبردار تو شك نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ
جو دجال کی خبر سنے اس پر واجب ہے کہ اس سے دور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیانقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیروہو جائے گا(اسے ابوداؤد نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہاورتمام صحابہ سے روایت کیا۔ ت)
کیا دجال ایك اسی دجال اخبث کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے حاشا تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اس میں یہی اندیشہ بتایا ہےرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
یکون فی اخر الزمان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا اباؤکم فایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
آخر زمانے میں دجال کذاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھوکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں (اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
اور سنئے اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے :
افغیر الله ابتغی حكما و هو الذی انزل الیكم الكتب مفصلا-و الذین اتینهم الكتب یعلمون انه منزل من ربك بالحق فلا تكونن من الممترین(۱۱۴) و تمت كلمت ربك صدقا
تو کیا الله کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اتاری اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اتری تو خبردار تو شك نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الملاہم باب خروج الدجال آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۳۷
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفا ء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفا ء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
و عدلا-لا مبدل لكلمته-و هو السمیع العلیم(۱۱۵) و ان تطع اكثر من فی الارض یضلوك عن سبیل الله-ان یتبعون الا الظن و ان هم الا یخرصون(۱۱۶) ان ربك هو اعلم من یضل عن سبیله-و هو اعلم بالمهتدین(۱۱۷)
اور انصاف میں کامل ہے کوئی اس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشك تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔
یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو ان شیطان آدمیوں کی باتیں سننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرمادی اس کے بعد تم کو کسی لکچر ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی کتاب دینی کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شك پیدا ہو کہ ان کی سننا چاہے تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تك جو اس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اس میں فرق آیا کہ اس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال کوئی خیال خدا سے چھپ رہے گا وہ سنتا جانتا ہے دیکھ اگر تونے ان کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان کا علم دیکھوں کہاں تك ہے یہ کیا کہتے ہیں ارے ان کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا جب الله واحد قہار کی گواہی ہے کہ ان کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو ان کو سننے کے کیا معنے سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تعلیم فرمایا کہ کذبت شیطان تو جھوٹا ہے اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے تو پورا راہ پرہوتا ہے بے راہوں کی سننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا ذرھم فذرهم و ما یفترون(۱۳۷) چھوڑ دے انہیں اور ان کے بہتانوں کو۔ تیرے
اور انصاف میں کامل ہے کوئی اس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشك تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔
یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو ان شیطان آدمیوں کی باتیں سننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرمادی اس کے بعد تم کو کسی لکچر ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی کتاب دینی کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں ! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شك پیدا ہو کہ ان کی سننا چاہے تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تك جو اس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اس میں فرق آیا کہ اس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال کوئی خیال خدا سے چھپ رہے گا وہ سنتا جانتا ہے دیکھ اگر تونے ان کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان کا علم دیکھوں کہاں تك ہے یہ کیا کہتے ہیں ارے ان کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا جب الله واحد قہار کی گواہی ہے کہ ان کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو ان کو سننے کے کیا معنے سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تعلیم فرمایا کہ کذبت شیطان تو جھوٹا ہے اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے تو پورا راہ پرہوتا ہے بے راہوں کی سننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا ذرھم فذرهم و ما یفترون(۱۳۷) چھوڑ دے انہیں اور ان کے بہتانوں کو۔ تیرے
حوالہ / References
القرآن ۶ / ۱۱۴ تا۱۱۷
القرآن ۶ / ۱۱۲
القرآن ۶ / ۱۱۲
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرما چکے ایاکم وایاھم ان سے دور رہو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں ۔
بھائیو! ایك سہل بات ہے اسے غور فرمالو۔ تم اپنے رب عـــــہ۱جل وعلا اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر سچا ایمان رکھتے ہو یا معاذ الله کچھ شك ہے! جسے شك ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے۔ اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے رب عـــــہ۲ وقرآن ونبی وایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا عـــــہ۳ونبی وقرآن ودین کی توہین وتکذیب کریں ۔
اب ذرا غور کرلیجئے ایك شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ ولد الحرام اور تیری ماں زانیہ تھی لله انصاف کیا کوئی غیرت والا حمیت والا انسانیت والا جبکہ اسے اس بیان سے روك دینے باز رکھنے پر قادر نہ ہو اسے سننے جائے گا حاشا لله کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ دیکھو کہ الله ورسول عـــــہ۴ وقرآن عظیم کی توہین تکذیب مذمت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے ہو تو اسے اس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے ان جگر شگاف ناپاك ملعون بہتانوں افتراؤں شیطانی اٹکلوں ڈھکوسلوں کو سننے جاتے ہو بلکہ حقیقۃفـــ انصافا وہ جو کچھ بکتے اور الله ورسول عـــــہ۵ وقرآن عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کے باعث یہ سننے والے ہیں اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں اپنے رب عـــــہ۶وقرآن ورسول کی عزت عظمت پیش نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فورا وہی مبارك ارشاد کا کلمہ کہہ کر تو جھوٹا ہے چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھروں سے اپنا سر پھوڑیں گے تو تم سن سن کر کہلواتے ہو نہ تم سنو نہ وہ کہیں پھر انصاف
عـــــہ۱ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ عـــــہ۲ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
عـــــہ۳ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ عـــــہ۴ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
عـــــہ۵ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ عـــــہ۶ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
فـــــ : الله ورسول و قرآن عظیم کی جتنی توہین آریہ و پادری اپنے لیکچروں میں کرتے ہیں ان سب کا وبال شرعا ان پر ہے جو سننے جاتے ایسے جلسوں میں شریك ہوتے ہیں ۔
بھائیو! ایك سہل بات ہے اسے غور فرمالو۔ تم اپنے رب عـــــہ۱جل وعلا اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر سچا ایمان رکھتے ہو یا معاذ الله کچھ شك ہے! جسے شك ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے۔ اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے رب عـــــہ۲ وقرآن ونبی وایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا عـــــہ۳ونبی وقرآن ودین کی توہین وتکذیب کریں ۔
اب ذرا غور کرلیجئے ایك شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ ولد الحرام اور تیری ماں زانیہ تھی لله انصاف کیا کوئی غیرت والا حمیت والا انسانیت والا جبکہ اسے اس بیان سے روك دینے باز رکھنے پر قادر نہ ہو اسے سننے جائے گا حاشا لله کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ دیکھو کہ الله ورسول عـــــہ۴ وقرآن عظیم کی توہین تکذیب مذمت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے ہو تو اسے اس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے ان جگر شگاف ناپاك ملعون بہتانوں افتراؤں شیطانی اٹکلوں ڈھکوسلوں کو سننے جاتے ہو بلکہ حقیقۃفـــ انصافا وہ جو کچھ بکتے اور الله ورسول عـــــہ۵ وقرآن عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کے باعث یہ سننے والے ہیں اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں اپنے رب عـــــہ۶وقرآن ورسول کی عزت عظمت پیش نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فورا وہی مبارك ارشاد کا کلمہ کہہ کر تو جھوٹا ہے چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھروں سے اپنا سر پھوڑیں گے تو تم سن سن کر کہلواتے ہو نہ تم سنو نہ وہ کہیں پھر انصاف
عـــــہ۱ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ عـــــہ۲ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
عـــــہ۳ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ عـــــہ۴ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
عـــــہ۵ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔ عـــــہ۶ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
فـــــ : الله ورسول و قرآن عظیم کی جتنی توہین آریہ و پادری اپنے لیکچروں میں کرتے ہیں ان سب کا وبال شرعا ان پر ہے جو سننے جاتے ایسے جلسوں میں شریك ہوتے ہیں ۔
حوالہ / References
صحیح مسلم1باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
کیجئے کہ اس کہنے کا وبال کس پر ہوا۔ علماء فرماتے ہیں ہٹے کٹے جوان تندرست جو بھیك مانگنے کے عادی ہوتے اور اسی کو اپنا پیشہ کرلیتے ہیں انہیں دینا ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر شہ دینی ہے لوگ نہ دیں تو جھك ماریں اور محنت مزدوری کریں ۔ بھائیو! جب اس میں گناہ کی امداد ہے تو اس میں تو کفر کی مدد ہے والعیاذ بالله تعالی قرآن عظیم فـــــ کی نص قطعی نے ایسی جگہ سے فورا ہٹ جانا فرض کردیا اور وہاں ٹھہرنا فقط حرام ہی نہ فرمایا بلکہ سنو تو کیا ارشاد کیا۔ رب عزوجل فرماتا ہے :
و قد نزل علیكم فی الكتب ان اذا سمعتم ایت الله یكفر بها و یستهزا بها فلا تقعدوا معهم حتى یخوضوا فی حدیث غیره ﳲ انكم اذا مثلهم-ان الله جامع المنفقین و الكفرین فی جهنم جمیعاﰳ (۱۴۰)
یعنی بے شك الله تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور ان کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ آیات الله پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو بیشك الله تعالی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو الله واحد قہاریہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔
مسلمانو! کیا قرآن عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا الله عزوجل کی اس سخت وعید کو سچا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو ان جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں ان جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا عـــــہ ورسول وقرآن پر اعتراضوں کیلئے جاتے ہیں ۔ بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ انكم اذا مثلهم- تم بھی ان ہی جیسے ہو۔ ت)ان لکچروں پر جمگھٹ والے ان جلسوں میں شرکت والے سب انہیں کافروں کے مثل ہیں وہ علانیہ بك کر
عـــــہ : جل و علا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ
فــــــ : دیکھو قرآن فرماتا ہے ہاں تمہارا رب رحمان فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے۔
و قد نزل علیكم فی الكتب ان اذا سمعتم ایت الله یكفر بها و یستهزا بها فلا تقعدوا معهم حتى یخوضوا فی حدیث غیره ﳲ انكم اذا مثلهم-ان الله جامع المنفقین و الكفرین فی جهنم جمیعاﰳ (۱۴۰)
یعنی بے شك الله تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور ان کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ آیات الله پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو بیشك الله تعالی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو الله واحد قہاریہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔
مسلمانو! کیا قرآن عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا الله عزوجل کی اس سخت وعید کو سچا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو ان جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں ان جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا عـــــہ ورسول وقرآن پر اعتراضوں کیلئے جاتے ہیں ۔ بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ انكم اذا مثلهم- تم بھی ان ہی جیسے ہو۔ ت)ان لکچروں پر جمگھٹ والے ان جلسوں میں شرکت والے سب انہیں کافروں کے مثل ہیں وہ علانیہ بك کر
عـــــہ : جل و علا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۱۲ منہ
فــــــ : دیکھو قرآن فرماتا ہے ہاں تمہارا رب رحمان فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے۔
کافر ہوئے یہ زبان سے کلمہ پڑھیں اور دل میں خدا عـــــہ۱ اورسول وقرآن کی اتنی عزت نہیں کہ جہاں ان کی توہین ہوتی ہو وہاں سے بچیں تو یہ منافق ہوئے جب تو فرمایا کہ الله انہیں اور انہیں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا کہ یہاں تم لکچر دو اور تم سنو ذق ذق ﳐ انك انت العزیز الكریم(۴۹) ( کھولتے پانی کا عذاب چکھ ہاں ہاں توہی بڑا عزت والا کرم والا ہے ۔ ت)
الہی اسلامی کلمہ پڑھنے والوں کی آنکھیں کھول ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم مسلمان اگر قرآن عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اعداء الله کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ملك میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا جہنم کے کندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے الله عـــــہ۲ ورسول وقرآن عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے اے رب میرے توفیق دے وحسبنا الله ونعم الوکیل وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
خیر بات دور پہنچی اور بحمدالله تعالی بہت نافع وضرور تھی کہنا یہ تھا کہ وسوسہ شیطان کا تیسرا علاج یہ ہے کہ خبیث تو جھوٹا ہے امام ابو حازم کہ اجلہ ائمہ تابعین سے ہیں ان کے پاس ایك شخص آکر شاکی ہوا کہ شیطان مجھے وسوسے میں ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ سخت مجھ پر یہ گزرتا ہے کہ آکر کہتا ہے تو نے اپنی عورت کو طلاق دے دی امام نے فورا فرمایا کیا تونے میرے پاس آکر میرے سامنے اپنی عورت کو طلاق نہ دی وہ گھبرا کر بولا خدا کی قسم میں نے کبھی آپ کے پاس اسے طلاق نہ دی فرمایا جس طرح میرے آگے قسم کھائی شیطان سے کیوں نہیں قسم کھا کر کہتا کہ وہ تیرا پیچھا چھوڑے اخرجہ ابو بکر ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ ۔ ( ابوبکر بن ابو داؤد نے اسے کتاب الوسوسہ میں بیان کیا۔ ت)
(۴) وسوسہ فـــــ کا اتباع اپنے حول وقوت پر نظر سے ہوتا ہے ابلیس خیال ڈالتا ہے کہ تونے
عـــــہ۱ : جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم عـــــہ۲ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
فـــــ : دفع وسواس کے دو آخری علاج ۔
الہی اسلامی کلمہ پڑھنے والوں کی آنکھیں کھول ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم مسلمان اگر قرآن عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اعداء الله کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ملك میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا جہنم کے کندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے الله عـــــہ۲ ورسول وقرآن عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے اے رب میرے توفیق دے وحسبنا الله ونعم الوکیل وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
خیر بات دور پہنچی اور بحمدالله تعالی بہت نافع وضرور تھی کہنا یہ تھا کہ وسوسہ شیطان کا تیسرا علاج یہ ہے کہ خبیث تو جھوٹا ہے امام ابو حازم کہ اجلہ ائمہ تابعین سے ہیں ان کے پاس ایك شخص آکر شاکی ہوا کہ شیطان مجھے وسوسے میں ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ سخت مجھ پر یہ گزرتا ہے کہ آکر کہتا ہے تو نے اپنی عورت کو طلاق دے دی امام نے فورا فرمایا کیا تونے میرے پاس آکر میرے سامنے اپنی عورت کو طلاق نہ دی وہ گھبرا کر بولا خدا کی قسم میں نے کبھی آپ کے پاس اسے طلاق نہ دی فرمایا جس طرح میرے آگے قسم کھائی شیطان سے کیوں نہیں قسم کھا کر کہتا کہ وہ تیرا پیچھا چھوڑے اخرجہ ابو بکر ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ ۔ ( ابوبکر بن ابو داؤد نے اسے کتاب الوسوسہ میں بیان کیا۔ ت)
(۴) وسوسہ فـــــ کا اتباع اپنے حول وقوت پر نظر سے ہوتا ہے ابلیس خیال ڈالتا ہے کہ تونے
عـــــہ۱ : جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم عـــــہ۲ : جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
فـــــ : دفع وسواس کے دو آخری علاج ۔
حوالہ / References
القرآن ۴۴ / ۴۹
آکام المرجان بحوالہ ابن ابی داؤد الباب السابع والثمانون مکتبہ خیریہ کثیر کراچی ص ۱۶۵
آکام المرجان بحوالہ ابن ابی داؤد الباب السابع والثمانون مکتبہ خیریہ کثیر کراچی ص ۱۶۵
یہ عمل کامل نہ کیا اس میں فلاں نقص رہ گیا یہ اس تکمیل کے خیال میں پڑتا ہے حالانکہ جتنا رخصت شرعیہ کے مطابق ہوگیا وہ بھی کامل وکافی ہے اکملیت کے درجات اکملوں کے لائق ہیں دشمن سے کہہ کہ اپنی دلسوزی اٹھا رکھے مجھ سے تو اتنا ہی ہوسکتا ہے ناقص ہے تو میں خود ناقص ہوں اپنے لائق میں بجالایا میرا مولی کریم ہے میرے عجزو ضعف پر رحم فرما کر اتنا ہی قبول فرمالے گا اس کی عظمت کے لائق کون بجا لاسکتا ہے
بندہ ہمان بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد
ورنہ سزا وار خدا وندیش کس نتواند کہ بجا آورد
(بندہ وہی بہتر ہے کہ اپنے قصور کا عذر الله تعالی کی درگاہ میں کرے ورنہ خدا کی شان کے لائق کوئی شخص پورا نہیں کرسکتا۔ ت)
علامہ محمد زرقانی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں :
قال فی النصائح الوسوسۃ من افات الطھارۃ و اصلہا جھل بالسنۃ اوخبال فی العقل ومتبعھا متکبر مدل بنفسہ سیئ الظن بعبادۃ الله معتمد علی عملہ معجب بہ وبقوتہ وعلاجہا بالتلھی عنھا الخ
نصائح میں فرمایا : وسوسہ طہارت کی ایك آفت ہے اور اس کی بنیادسنت سے بے خبری یا عقل کی خرابی ہے۔ اس کی پیروی کرنے والا تکبر خود رائی الله کی عبادت کے ساتھ سوء ظن اپنے عمل پر اعتماد اپنی ذات اوراپنی فریفتگی کا شکار ہے اور وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ اس سے بے پروا ہوجائے۔ (ت)
مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں :
درد دفع آں خاطر تکلف ننما یندو درپے آن نروند وہم برخصت عمل کنند واگر شیطان بسیار مزاحمت دہد و گوید کہ ایں عمل کہ توکردی ناقص ونادرست ست وپذیرائے درگاہ حق نے برغم اوبگوید کہ تو برواز دست من زیادہ بریں نمی آید ومولائے من کریم ست
اس خیال کو دفع کرنے میں تکلیف نہ کرے اوراس کے پیچھے نہ پڑے اوررخصت پرعمل کرے۔ اگر شیطان بہت مزاحمت کرے اور کہے کہ یہ عمل جو تونے کیا وہ ناقص ونادرست ہے اور بارگاہ حق میں مقبول نہیں اس کے برخلاف کہے : توجا مجھ سے اس سے زیادہ نہیں ہوسکتا
بندہ ہمان بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد
ورنہ سزا وار خدا وندیش کس نتواند کہ بجا آورد
(بندہ وہی بہتر ہے کہ اپنے قصور کا عذر الله تعالی کی درگاہ میں کرے ورنہ خدا کی شان کے لائق کوئی شخص پورا نہیں کرسکتا۔ ت)
علامہ محمد زرقانی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں :
قال فی النصائح الوسوسۃ من افات الطھارۃ و اصلہا جھل بالسنۃ اوخبال فی العقل ومتبعھا متکبر مدل بنفسہ سیئ الظن بعبادۃ الله معتمد علی عملہ معجب بہ وبقوتہ وعلاجہا بالتلھی عنھا الخ
نصائح میں فرمایا : وسوسہ طہارت کی ایك آفت ہے اور اس کی بنیادسنت سے بے خبری یا عقل کی خرابی ہے۔ اس کی پیروی کرنے والا تکبر خود رائی الله کی عبادت کے ساتھ سوء ظن اپنے عمل پر اعتماد اپنی ذات اوراپنی فریفتگی کا شکار ہے اور وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ اس سے بے پروا ہوجائے۔ (ت)
مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہشرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں :
درد دفع آں خاطر تکلف ننما یندو درپے آن نروند وہم برخصت عمل کنند واگر شیطان بسیار مزاحمت دہد و گوید کہ ایں عمل کہ توکردی ناقص ونادرست ست وپذیرائے درگاہ حق نے برغم اوبگوید کہ تو برواز دست من زیادہ بریں نمی آید ومولائے من کریم ست
اس خیال کو دفع کرنے میں تکلیف نہ کرے اوراس کے پیچھے نہ پڑے اوررخصت پرعمل کرے۔ اگر شیطان بہت مزاحمت کرے اور کہے کہ یہ عمل جو تونے کیا وہ ناقص ونادرست ہے اور بارگاہ حق میں مقبول نہیں اس کے برخلاف کہے : توجا مجھ سے اس سے زیادہ نہیں ہوسکتا
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب ا للدنیۃ المقصد التاسع النوع الاول دار المعرفہ بیروت ۷ / ۲۵۲
تعالی ازمن ہمیں قدر پذیر دوفضل ورحمت وی واسع ست ۔
اورمیرا مولا کریم ہے مجھ سے اسی قدر قبول فرمالے گا اس کا فضل اوراس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ (ت)
(۵) اخر الدواء الکی واخر الحیل السیف (آخری دوا داغنا ہے اور آخری حیلہ تلوار۔ ت) یوں بھی گزرے تو کہے فرض کردم کہ میرا وضو نہ ہوا میری نماز نہ سہی مگر مجھے تیرے زعم کے مطابق بے وضو یا ظہر کی تین رکعت پڑھنی گوارا ہے اور اے ملعون تیری اطاعت قبول نہیں ۔ جب یوں دل میں ٹھان لی وسوسہ کی جڑ کٹ جائے گی اور بعونہ تعالی دشمن ذلیل وخوار پسپا ہوگا۔ یہی معنے ہیں اس ارشاد امام اجل مجاہد تلمیذ سیدنا عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماکے کہ فرماتے :
لان اصلی وقد خرج منی شیئ احب الی من ان اطیع الشیطان ۔ ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ۔
مجھے بے وضو پڑھ لینی اس سے زیادہ پسند ہے کہ شیطان کی اطاعت کروں ۔ ( اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان کیا گیا ہے)
امام اجل قاسم محمد بن بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسے ایك شخص نے شکایت کی کہ نماز میں مجھے بہت سہو ہوتا ہے سخت پریشان ہوتا ہوں فرمایا :
امض فی صلاتك فانہ لن یذھب ذلك عنك حتی تنصرف وانت تقول مااتممت صلاتی ۔ رواہ امام دار الھجرۃ رضی الله تعالی عنہ فی مؤطاہ۔ اپنی نماز پڑھے جاکہ یہ شبہے دفع نہ ہوں گے جب تك تو یہ نہ کہے کہ ہاں میں نے نماز پوری نہ کی یعنی یونہی سہی مگرمیں تیری نہیں سنتا۔ (اسے امام دارالہجرۃ رضی اللہ تعالی عنہنے اپنی مؤطا میں روایت کیا۔ ت)
مرقاۃ میں ہے :
المعنی لاتذھب عنك تلك الخطرات الشیطانیۃ حتی تفرغ من الصلوۃ
معنی یہ ہے کہ وہ شیطانی خیالات تم سے دور نہ ہوں گے جب تك ایسا نہ ہو کہ تم نماز سے فارغ
اورمیرا مولا کریم ہے مجھ سے اسی قدر قبول فرمالے گا اس کا فضل اوراس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ (ت)
(۵) اخر الدواء الکی واخر الحیل السیف (آخری دوا داغنا ہے اور آخری حیلہ تلوار۔ ت) یوں بھی گزرے تو کہے فرض کردم کہ میرا وضو نہ ہوا میری نماز نہ سہی مگر مجھے تیرے زعم کے مطابق بے وضو یا ظہر کی تین رکعت پڑھنی گوارا ہے اور اے ملعون تیری اطاعت قبول نہیں ۔ جب یوں دل میں ٹھان لی وسوسہ کی جڑ کٹ جائے گی اور بعونہ تعالی دشمن ذلیل وخوار پسپا ہوگا۔ یہی معنے ہیں اس ارشاد امام اجل مجاہد تلمیذ سیدنا عبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہماکے کہ فرماتے :
لان اصلی وقد خرج منی شیئ احب الی من ان اطیع الشیطان ۔ ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ۔
مجھے بے وضو پڑھ لینی اس سے زیادہ پسند ہے کہ شیطان کی اطاعت کروں ۔ ( اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان کیا گیا ہے)
امام اجل قاسم محمد بن بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہسے ایك شخص نے شکایت کی کہ نماز میں مجھے بہت سہو ہوتا ہے سخت پریشان ہوتا ہوں فرمایا :
امض فی صلاتك فانہ لن یذھب ذلك عنك حتی تنصرف وانت تقول مااتممت صلاتی ۔ رواہ امام دار الھجرۃ رضی الله تعالی عنہ فی مؤطاہ۔ اپنی نماز پڑھے جاکہ یہ شبہے دفع نہ ہوں گے جب تك تو یہ نہ کہے کہ ہاں میں نے نماز پوری نہ کی یعنی یونہی سہی مگرمیں تیری نہیں سنتا۔ (اسے امام دارالہجرۃ رضی اللہ تعالی عنہنے اپنی مؤطا میں روایت کیا۔ ت)
مرقاۃ میں ہے :
المعنی لاتذھب عنك تلك الخطرات الشیطانیۃ حتی تفرغ من الصلوۃ
معنی یہ ہے کہ وہ شیطانی خیالات تم سے دور نہ ہوں گے جب تك ایسا نہ ہو کہ تم نماز سے فارغ
حوالہ / References
شرح سفر السعادۃ باب در طہارت حضرت پیغمبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۳۰
الحدیقۃ الندیہ الباب الثالث الفصل الاول النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۸
موطأ الامام مالک کتاب السہو العمل فی السہو میرمحمد کتب خانہ کراچی ص ۸۴
الحدیقۃ الندیہ الباب الثالث الفصل الاول النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۸
موطأ الامام مالک کتاب السہو العمل فی السہو میرمحمد کتب خانہ کراچی ص ۸۴
وانت تقول للشیطان صدقت مااتممت صلاتی لکن ما اقبل قولك ولا اتمہا ارغا مالك ونقضا لما اردتہ منی وھذا اصل عظیم لدفع الوساوس وقمع ھو اجس الشیطن فی سائر الطاعات والحاصل ان الخلاص من الشیطان انما ھو بعون الرحمن والاعتصام بظواھر الشریعۃ و عدم الالتفات الی الخطرات والوساوس الذمیمۃ ولاحول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم ۔
ہوجاؤ اور شیطان سے کہو تو ٹھیك کہتا ہے میں نے اپنی نماز پوری نہ کی لیکن میں تیری بات نہیں مانتا اور تیری تحقیر کے لئے اور تیرے ارادہ کو شکست دینے کے لئے میں اسے پوری نہ کروں گا۔ یہ وسوسوں کے دفعیہ اور شیطانی خیالات کی بیخ کنی کے لئے تمام طاعات میں بہت عظیم بنیاد ہے۔ حاصل یہ کہ شیطان سے چھٹکارا اسی طرح ملے گا کہ خدا کی مدد ہو اور ظاہر شریعت کہ مضبوطی سے تھامے رہے بر ے خیالات اور وسوسوں کی طرف التفات نہ کرے۔ اور طاقت وقوت نہیں مگر برتری وعظمت والے خدا ہی سے۔ (ت)
الحمدلله یہ فتوی لاحول شریف پر تمام ہوا اس سوال کے متعلق کسی کتاب میں چند سطروں سے زائد نہ تھا خیال تھا کہ دو تین ورق لکھ دئے جائیں گے ولہذا ابتدا میں خطبہ بھی نہ لکھا مگر جب فیض بارگاہ عالم پناہ سید العالمین محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجوش پر آیا فتوی ایك مبسوط رسالہ ہوگیا عظیم وجلیل فوائد جزیل پر مشتمل جو اس کے غیر میں نہ ملیں گے والحمدلله رب العالمین بلکہ متعدد جگہ قلم روك لیا کہ طول زائد ہوتا اور اسی کے مضامین سے ایك مستقل رسالہ بسط الیدین جس کا ذکر اوپر گزرا جدا کر لیا لہذا مناسب کہ اس کا تاریخی نام بارق النور فی مقادیر ماء الطھور۱۳۲۷ نور کی تابش آب طہارت کی مقدار میں ۔ ت) ہو اور خطبہ کہ سابقا نہ ہوا لاحقا مسطور ہو ۱۳۲۷ھ ہو کہ النھایۃ ھی الرجوع الی البدایۃ (انتہا ابتدا کی طرف لوٹتی ہے۔ ت) اول بآخر نسبتے دارد (اول آخر سے نسبت رکھتا ہے۔ ت)
فالحمدلله الذی انزل من السماء ماء طھورا لیذھب عنا الرجس ویطھرنا بہ تطھیرا ووضع
توساری تعریف خدا کے لئے جس نے آسمان سے پاك اور پاك کرنے والا پانی اتارا تاکہ اس سے ہماری پلیدی دور کرکے ہمیں خوب خوب پاك کردے۔ اور
ہوجاؤ اور شیطان سے کہو تو ٹھیك کہتا ہے میں نے اپنی نماز پوری نہ کی لیکن میں تیری بات نہیں مانتا اور تیری تحقیر کے لئے اور تیرے ارادہ کو شکست دینے کے لئے میں اسے پوری نہ کروں گا۔ یہ وسوسوں کے دفعیہ اور شیطانی خیالات کی بیخ کنی کے لئے تمام طاعات میں بہت عظیم بنیاد ہے۔ حاصل یہ کہ شیطان سے چھٹکارا اسی طرح ملے گا کہ خدا کی مدد ہو اور ظاہر شریعت کہ مضبوطی سے تھامے رہے بر ے خیالات اور وسوسوں کی طرف التفات نہ کرے۔ اور طاقت وقوت نہیں مگر برتری وعظمت والے خدا ہی سے۔ (ت)
الحمدلله یہ فتوی لاحول شریف پر تمام ہوا اس سوال کے متعلق کسی کتاب میں چند سطروں سے زائد نہ تھا خیال تھا کہ دو تین ورق لکھ دئے جائیں گے ولہذا ابتدا میں خطبہ بھی نہ لکھا مگر جب فیض بارگاہ عالم پناہ سید العالمین محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجوش پر آیا فتوی ایك مبسوط رسالہ ہوگیا عظیم وجلیل فوائد جزیل پر مشتمل جو اس کے غیر میں نہ ملیں گے والحمدلله رب العالمین بلکہ متعدد جگہ قلم روك لیا کہ طول زائد ہوتا اور اسی کے مضامین سے ایك مستقل رسالہ بسط الیدین جس کا ذکر اوپر گزرا جدا کر لیا لہذا مناسب کہ اس کا تاریخی نام بارق النور فی مقادیر ماء الطھور۱۳۲۷ نور کی تابش آب طہارت کی مقدار میں ۔ ت) ہو اور خطبہ کہ سابقا نہ ہوا لاحقا مسطور ہو ۱۳۲۷ھ ہو کہ النھایۃ ھی الرجوع الی البدایۃ (انتہا ابتدا کی طرف لوٹتی ہے۔ ت) اول بآخر نسبتے دارد (اول آخر سے نسبت رکھتا ہے۔ ت)
فالحمدلله الذی انزل من السماء ماء طھورا لیذھب عنا الرجس ویطھرنا بہ تطھیرا ووضع
توساری تعریف خدا کے لئے جس نے آسمان سے پاك اور پاك کرنے والا پانی اتارا تاکہ اس سے ہماری پلیدی دور کرکے ہمیں خوب خوب پاك کردے۔ اور
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الوسوسۃ حدیث ۷۸ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۵۶
المیزان وقدر کل شیئ تقدیرا کی نختار العدل ویجتنب طرفیہ اسرافا وتقتیرا واطھر الصلاۃ واطیب السلام علی من ارسل بشیرا ونذیرا وداعیا الی الله باذنہ سراجا منیرا فطھرنا بمیاہ فیضہ الھامر لاماطر کثیرا غزیرا واذھب عنا ارجاس الکفر وانجاس الضلال بسحاب فضلہ المنھل ابدا کل حین وان ھلا کبیرا فصلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا امین ۔
ھذا ولاجل العجل اذکان تنمیقہ وطبع الفتاوی جار والطبع مشغول بشیون اھم عظیمۃ الاخطار مع ھجوم الھموم وجمود الذھن وخمود الافکار بقی خبایا المرام فی زوایا الکلام لاسیما اثنان
الاول فــــ حدیث الغرفۃ وقد علمت مافیہ من الاشکال فلو ارسلت جس نے ترازو رکھی اور ہر چیز کی ایك مقدار متعین فرمائی تاکہ ہم عدل اختیار کریں اوراس کے دونوں کنارے زیادتی اورکمی سے بچیں ۔ اورپاك تر درود پاکیزہ ترسلام ان پر جو مژدہ دینے والے ڈرسنانے والے بناکر بھیجے گئے اور خدا کی طرف سے اس کے اذن سے دعوت دینے والے اور روشن چراغ بناکر مبعوث ہوئے۔ توانہوں نے ہمیں اپنے فیض کی فراواں بھرپور موسلادھار بارش سے پاك فرمایا اورہم اپنے فضل کے ہر لمحہ وہر آن خوب خوب برستے بادل کے ذریعہ ہم سے کفر کی پلیدی ضلالت کی ناپاکی دور کردی۔ تو ان پر ان کی آل پر اوران کے اصحاب پر خدا کی رحمت وبرکت اوراس کا زیادہ سے زیادہ سلام نازل ہو۔ الہی قبول فرما۔
یہ رسالہ توپورا ہوا۔ اورچوں کہ عجلت درپیش تھی اس لئے کہ ایك طرف رسالہ لکھا جارہاتھا دوسری طرف طباعت ہوتی جارہی تھی اور طبیعت کچھ عظیم اہم معاملات میں مشغول تھی ساتھ ہی پریشانیوں کا ہجوم ذہن کی بستگی فکر کی فروماندگی بھی دامنگیر رہی اس طرح کلام کے گوشوں میں کچھ باتیں چھپی رہ گئیں ۔ خصوصا دو باتیں :
اول چلو سے متعلق حدیث۔ اس میں جو اشکال ہے معلوم ہوچکا۔ سنت یہ ہے
فــــ : مسئلہ : منہ دھونے میں نہ گالوں پر ڈالے نہ ناك پر نہ زور سے پیشانی پر ۔ یہ سب افعال جہال کے ہیں بلکہ بآہستگی بالائے پیشانی سے ڈالے کہ ٹھوڑی سے نیچے تك بہتا آئے ۔
ھذا ولاجل العجل اذکان تنمیقہ وطبع الفتاوی جار والطبع مشغول بشیون اھم عظیمۃ الاخطار مع ھجوم الھموم وجمود الذھن وخمود الافکار بقی خبایا المرام فی زوایا الکلام لاسیما اثنان
الاول فــــ حدیث الغرفۃ وقد علمت مافیہ من الاشکال فلو ارسلت جس نے ترازو رکھی اور ہر چیز کی ایك مقدار متعین فرمائی تاکہ ہم عدل اختیار کریں اوراس کے دونوں کنارے زیادتی اورکمی سے بچیں ۔ اورپاك تر درود پاکیزہ ترسلام ان پر جو مژدہ دینے والے ڈرسنانے والے بناکر بھیجے گئے اور خدا کی طرف سے اس کے اذن سے دعوت دینے والے اور روشن چراغ بناکر مبعوث ہوئے۔ توانہوں نے ہمیں اپنے فیض کی فراواں بھرپور موسلادھار بارش سے پاك فرمایا اورہم اپنے فضل کے ہر لمحہ وہر آن خوب خوب برستے بادل کے ذریعہ ہم سے کفر کی پلیدی ضلالت کی ناپاکی دور کردی۔ تو ان پر ان کی آل پر اوران کے اصحاب پر خدا کی رحمت وبرکت اوراس کا زیادہ سے زیادہ سلام نازل ہو۔ الہی قبول فرما۔
یہ رسالہ توپورا ہوا۔ اورچوں کہ عجلت درپیش تھی اس لئے کہ ایك طرف رسالہ لکھا جارہاتھا دوسری طرف طباعت ہوتی جارہی تھی اور طبیعت کچھ عظیم اہم معاملات میں مشغول تھی ساتھ ہی پریشانیوں کا ہجوم ذہن کی بستگی فکر کی فروماندگی بھی دامنگیر رہی اس طرح کلام کے گوشوں میں کچھ باتیں چھپی رہ گئیں ۔ خصوصا دو باتیں :
اول چلو سے متعلق حدیث۔ اس میں جو اشکال ہے معلوم ہوچکا۔ سنت یہ ہے
فــــ : مسئلہ : منہ دھونے میں نہ گالوں پر ڈالے نہ ناك پر نہ زور سے پیشانی پر ۔ یہ سب افعال جہال کے ہیں بلکہ بآہستگی بالائے پیشانی سے ڈالے کہ ٹھوڑی سے نیچے تك بہتا آئے ۔
الغرفۃ علی الجبہۃ کما ھو السنۃ فی فتاوی الامام قاضی خان وخزانۃ المفتین ان اراد غسل وجہہ یضع الماء علی جبینہ حتی ینحدر الماء الی اسفل الذقن ولا یضع علی خدہ ولا علی انفہ ولا یضرب علی جبینہ ضربا عنیفا اھ
فمعلوم قطعا ان الماء لایستوعب جمیع اجزاء الوجہ وان استقبل الماء فی مسیلہ فاخذہ بالید وامرھا علی اطراف الوجہ لم یکن غسلا کما قدمت من قبل نفسی لوضوحہ بشھادۃ العقل والتجربۃ ثم رأیتہ منصوصا علیہ فی فـــ الخلاصۃ والخزانۃ اذ یقولان الغسل مرۃ فریضۃ عندنا وان توضأ مرۃ سابغۃ جاز و تفسیر السبوغ ان یصل الماء الی العضو ویسیل ویتقاطر منہ قطرات اما اذا افاض الماء علی راس العضو فقبل ان یصل الی المرفق اوالکعب یمسك
کہ چلو پیشانی پر ڈالا جائے۔ فتاوی امام قاضیخاں اور خزانۃ المفتین میں ہے : جب چہرہ دھونا چاہے توپانی جبین پرڈالے تاکہ وہ اترکر ٹھوڑی کے نیچے تك آئے اوررخسار پر یاناك پر نہ ڈالے اورنہ پیشانی پرزور سے دے مارے اھ
اب اگر اس طرح پیشانی پرچلو ڈالے توقطعا معلوم ہے کہ پانی چہرے کے تمام حصوں کا احاطہ نہ کرسکے گا۔ اور بہتے ہوئے پانی پر بیچ میں ہاتھ لگاکر چہرے کے اور حصوں تك ہاتھ پھیردیا تو یہ دھونا نہ ہوا جیسا کہ پہلے اسے میں نے اپنی طرف سے لکھا تھا کیوں کہ یہ عقل وتجربہ کی شہادت کے مطابق بالکل واضح بات تھی پھر میں نے دیکھا کہ خلاصہ اورخزانہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ان کی عبارتیں یہ ہیں : ایك بار دھونا ہمارے نزدیك فرض ہے اور اگرایك بارکامل وسابغ طور پر دھولیاتووضو ہوگیا۔ اور سابع کا معنی یہ ہے کہ پانی عضو تك پہنچے اوراس سے اس طرح بہہ جائے کہ کچھ قطرے ٹپکتے جائیں لیکن اگر عضو کے سرے پرپانی بہایا اورکہنی یاٹخنے تك پہنچنے سے
فـــ : مسئلہ ضروریہ : خود پانی کا تمام عضو پر بہنا ضرور ہے اگر ہاتھ یا پاؤں کے پنجے پر پانی ڈالا کہنیوں گٹوں تك نہ پہنچاتھا کہ بیچ میں ہاتھ لگا کر آخر عضو تك پھیر دیا تو وضو نہ ہوگا کہ یہ بہانا نہ ہوا بلکہ چپڑنا ہوا۔
فمعلوم قطعا ان الماء لایستوعب جمیع اجزاء الوجہ وان استقبل الماء فی مسیلہ فاخذہ بالید وامرھا علی اطراف الوجہ لم یکن غسلا کما قدمت من قبل نفسی لوضوحہ بشھادۃ العقل والتجربۃ ثم رأیتہ منصوصا علیہ فی فـــ الخلاصۃ والخزانۃ اذ یقولان الغسل مرۃ فریضۃ عندنا وان توضأ مرۃ سابغۃ جاز و تفسیر السبوغ ان یصل الماء الی العضو ویسیل ویتقاطر منہ قطرات اما اذا افاض الماء علی راس العضو فقبل ان یصل الی المرفق اوالکعب یمسك
کہ چلو پیشانی پر ڈالا جائے۔ فتاوی امام قاضیخاں اور خزانۃ المفتین میں ہے : جب چہرہ دھونا چاہے توپانی جبین پرڈالے تاکہ وہ اترکر ٹھوڑی کے نیچے تك آئے اوررخسار پر یاناك پر نہ ڈالے اورنہ پیشانی پرزور سے دے مارے اھ
اب اگر اس طرح پیشانی پرچلو ڈالے توقطعا معلوم ہے کہ پانی چہرے کے تمام حصوں کا احاطہ نہ کرسکے گا۔ اور بہتے ہوئے پانی پر بیچ میں ہاتھ لگاکر چہرے کے اور حصوں تك ہاتھ پھیردیا تو یہ دھونا نہ ہوا جیسا کہ پہلے اسے میں نے اپنی طرف سے لکھا تھا کیوں کہ یہ عقل وتجربہ کی شہادت کے مطابق بالکل واضح بات تھی پھر میں نے دیکھا کہ خلاصہ اورخزانہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ان کی عبارتیں یہ ہیں : ایك بار دھونا ہمارے نزدیك فرض ہے اور اگرایك بارکامل وسابغ طور پر دھولیاتووضو ہوگیا۔ اور سابع کا معنی یہ ہے کہ پانی عضو تك پہنچے اوراس سے اس طرح بہہ جائے کہ کچھ قطرے ٹپکتے جائیں لیکن اگر عضو کے سرے پرپانی بہایا اورکہنی یاٹخنے تك پہنچنے سے
فـــ : مسئلہ ضروریہ : خود پانی کا تمام عضو پر بہنا ضرور ہے اگر ہاتھ یا پاؤں کے پنجے پر پانی ڈالا کہنیوں گٹوں تك نہ پہنچاتھا کہ بیچ میں ہاتھ لگا کر آخر عضو تك پھیر دیا تو وضو نہ ہوگا کہ یہ بہانا نہ ہوا بلکہ چپڑنا ہوا۔
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الطہارۃ ، باب الوضوء والغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۶ ، خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ ، فصل فی الوضوء قلمی ۱ / ۲
الماء ویمد بکفہ الی اخرالعضو لایکون سبوغا اھ ھذا لفظ الخلاصۃ ولفظ خزانۃ المفتین الغسل مرۃ سابغۃ فریضۃ ثم ذکر مثلہ وزیادۃ ۔
والثانی روایۃ الحسن فی توزیغ الماء علی الاعضاء وما استظھرت فی توجیھہ قبیل الامر الرابع فیعکرہ بعدان یحاسبوا سنۃ الاستنجاء ویترکوا ھذہ السنن التی کانھا للوضوء من الاجزاء لاسیما ولفظ الخلاصۃ فی اخر فصل الغسل والحاصل ان الرطل للاستنجاء والرطل للقدمین والرطل لسائر الاعضاء اھ ولفظ وجیز الکردری فی صدر فصل الوضوءرطل للاستنجاء واخر لغسل الرجل واخر لبقیۃ الاعضاء اھ فھذا ظاھر فی شمول الفم والانف فکذا الیدان الی الرسغین علی انك علمت
پہلے پانی روك کرہتھیلی کے ذریعہ عضو کے آخر تك پھیلادیا تو سبوغ نہ ہوا اھ یہ خلاصہ کے الفاظ ہیں ۔ اور کے الفاظ یہ ہیں : ایك بارسابغ (احاطہ کے) طور پر دھونا فرض ہے (آگے عبارت خلاصہ کے مثل ہے اورکچھ زیادہ ہے)۔
دوم اعضاء پر پانی کی تقسیم سے متعلق حسن بن زیاد کی روایت اورامر چہارم سے کچھ پہلے اس کی توجیہ میں میں نے جو استظہارکیا اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ ایسا بعد ہے کہ سنت استنجا کوتوشمار کریں اور ان سنتوں کوجوگویاوضوکے جز کی حیثیت رکھتی ہیں چھوڑجائیں ۔ فصل غسل کے آخرمیں خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں : حاصل یہ کہ ایك رطل استنجا کے لئے ایك رطل دونوں قدم کے لئے ایك رطل باقی اعضا کے لئے اھ۔ اورفصل وضو کے شروع میں وجیز کردری کے الفاظ یہ ہیں : ایك رطل استنجا کے لئے ایك پیر دھونے کے لئے ایك اور بقیہ اعضاء کے لئے اھ۔ تو یہ منہ اورناك کو شامل ہونے میں ظاہر ہے ایسے ہی گٹوں تك دونوں ہاتھ بھی ہیں ۔ علاوہ اس کے یہ معلوم ہوچکا ہے
والثانی روایۃ الحسن فی توزیغ الماء علی الاعضاء وما استظھرت فی توجیھہ قبیل الامر الرابع فیعکرہ بعدان یحاسبوا سنۃ الاستنجاء ویترکوا ھذہ السنن التی کانھا للوضوء من الاجزاء لاسیما ولفظ الخلاصۃ فی اخر فصل الغسل والحاصل ان الرطل للاستنجاء والرطل للقدمین والرطل لسائر الاعضاء اھ ولفظ وجیز الکردری فی صدر فصل الوضوءرطل للاستنجاء واخر لغسل الرجل واخر لبقیۃ الاعضاء اھ فھذا ظاھر فی شمول الفم والانف فکذا الیدان الی الرسغین علی انك علمت
پہلے پانی روك کرہتھیلی کے ذریعہ عضو کے آخر تك پھیلادیا تو سبوغ نہ ہوا اھ یہ خلاصہ کے الفاظ ہیں ۔ اور کے الفاظ یہ ہیں : ایك بارسابغ (احاطہ کے) طور پر دھونا فرض ہے (آگے عبارت خلاصہ کے مثل ہے اورکچھ زیادہ ہے)۔
دوم اعضاء پر پانی کی تقسیم سے متعلق حسن بن زیاد کی روایت اورامر چہارم سے کچھ پہلے اس کی توجیہ میں میں نے جو استظہارکیا اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ ایسا بعد ہے کہ سنت استنجا کوتوشمار کریں اور ان سنتوں کوجوگویاوضوکے جز کی حیثیت رکھتی ہیں چھوڑجائیں ۔ فصل غسل کے آخرمیں خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں : حاصل یہ کہ ایك رطل استنجا کے لئے ایك رطل دونوں قدم کے لئے ایك رطل باقی اعضا کے لئے اھ۔ اورفصل وضو کے شروع میں وجیز کردری کے الفاظ یہ ہیں : ایك رطل استنجا کے لئے ایك پیر دھونے کے لئے ایك اور بقیہ اعضاء کے لئے اھ۔ تو یہ منہ اورناك کو شامل ہونے میں ظاہر ہے ایسے ہی گٹوں تك دونوں ہاتھ بھی ہیں ۔ علاوہ اس کے یہ معلوم ہوچکا ہے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات ، الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۲
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ ، فصل فی الوضوء قلمی ۱ / ۳
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات ، الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱
خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ ، فصل فی الوضوء قلمی ۱ / ۳
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات ، الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴
الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۱
بعد التسویۃ بین مجموع نفس الوجہ والیدین وبین القدمین فلیتأمل لعل الله یحدث بعد ذلك امرا وصلی الله تعالی علی اعظم الانبیاء قدر اوفخرا وعلی الہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ اولی واخری وبارك وسلم والله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل شانہ اتم واحکم۔
کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کے مجموعے اور دونوں پیروں کے درمیان پانی کی مقدار برابر ہونا بعید ہے۔ توان باتوں پر تامل کی ضرورت ہے شاید خدا اس کے بعدکچھ اور ظاہر فرمائے۔ اور خدا کا درودوسلام اوربرکت ہوا ن پر جو قدرو فخر میں تمام انبیا سے عظیم ہیں اور حضور کی آل واصحاب ان کے اولیا وجماعت پربھی دنیا وآخرت میں ۔ اور خدائے پاك وبرترہی کو خوب علم ہے اور اس ذات بزرگ کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸ : ازکلکتہ دھرم تلا نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ ھ وبار دوم از ملك بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیا مرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۱۵ ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت جنابت میں ہاتھ دھو کر کلی کر کے کھانا کھانا کراہت رکھتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نہ اور بغیر اس کے مکروہ۔ اور افضل تو یہ ہے کہ غسل ہی کرلے ورنہ وضو کہ جہاں جنب ہوتا ہے ملائکہ رحمت اس مکان میں نہیں آتے۔ کما نطقت بہ الاحادیث (جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
لاباس باکل وشرب بعد مضمضۃ وغسل ید واما قبلہا فیکرہ للجنب اھ ملخصا
کلی کرنے اورہاتھ دھولینے کے بعدکھانے پینے میں حرج نہیں اوراس سے پہلے جنب کے لئے مکروہ ہے اھ ملخصا ۔ (ت)
ردالمحتار میں حاشیہ علامہ حلبی سے ہے :
کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کے مجموعے اور دونوں پیروں کے درمیان پانی کی مقدار برابر ہونا بعید ہے۔ توان باتوں پر تامل کی ضرورت ہے شاید خدا اس کے بعدکچھ اور ظاہر فرمائے۔ اور خدا کا درودوسلام اوربرکت ہوا ن پر جو قدرو فخر میں تمام انبیا سے عظیم ہیں اور حضور کی آل واصحاب ان کے اولیا وجماعت پربھی دنیا وآخرت میں ۔ اور خدائے پاك وبرترہی کو خوب علم ہے اور اس ذات بزرگ کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸ : ازکلکتہ دھرم تلا نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ ھ وبار دوم از ملك بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیا مرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۱۵ ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت جنابت میں ہاتھ دھو کر کلی کر کے کھانا کھانا کراہت رکھتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نہ اور بغیر اس کے مکروہ۔ اور افضل تو یہ ہے کہ غسل ہی کرلے ورنہ وضو کہ جہاں جنب ہوتا ہے ملائکہ رحمت اس مکان میں نہیں آتے۔ کما نطقت بہ الاحادیث (جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
لاباس باکل وشرب بعد مضمضۃ وغسل ید واما قبلہا فیکرہ للجنب اھ ملخصا
کلی کرنے اورہاتھ دھولینے کے بعدکھانے پینے میں حرج نہیں اوراس سے پہلے جنب کے لئے مکروہ ہے اھ ملخصا ۔ (ت)
ردالمحتار میں حاشیہ علامہ حلبی سے ہے :
حوالہ / References
الدر المختار کتاب الطہارۃ ، باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
وضوء الجنب لھذہ الاشیاء مستحب کوضوء المحدث ۔
ان کاموں کے لئے جنب کو وضو ئے محدث کی طرح وضو کرلینا مستحب ہے۔ (ت)
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں مالك بن عبادہ غافقی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی کہ انہوں نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ حاجت غسل میں کھانا تناول فرمایا انہوں نے فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے سامنے اس کا ذکر کیا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہکو اعتبار نہ آیا انہیں کھینچے ہوئے بارگاہ انور میں حاضر لائے اور عرض کی : یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم! یہ کہتے ہیں کہ حضور نے بحال جنابت کھانا تناول کیا۔ فرمایا :
نعم اذا توضأت اکلت وشربت ولکنی لااصلی ولا اقرء حتی اغتسل
ہاں جب میں وضو فرمالوں توکھاتاپیتا ہوں مگر نماز وقرآن بے نہائے نہیں پڑھتا۔ (ت)
مسئلہ : غرہ شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حالت ناپاکی میں مسجد میں جانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب : حرام ہے مگر بضرورت شدیدہ کہ نہانے کی ضرورت ہے اور ڈول رسی اندر رکھا ہے اور یہ اس کے سوا کوئی سامان کر نہیں سکتا نہ کوئی اندر سے لا دینے والا ہے یا کسی دشمن سے خائف ہے اور مسجد کے سوا جائے پناہ نہیں اور نہانے کی مہلت نہیں ایسی حالتوں میں تیمم کرکے جاسکتا ہے صورت اولی میں صرف اتنی دیر کے لئے ڈول رسی لے آئے اور صورت ثانیہ میں جب تك وہ خوف باقی رہے۔
اقول : : بلکہ صورت ثانیہ میں اگر دشمن سر پر آگیا تیمم کی بھی مہلت نہیں تو بے تیمم چلا جائے اور کواڑ بند کرنے کے بعد تیمم کرلے فان الحقین اذا اجتمعا قدم حق العبد لفقرہ وغنی المولی (کیونکہ جب حق الله اور حق العبد دونوں جمع ہوں توحق العبد کو مقدم کرے اس لئے کہ بندہ محتاج ہے او ر مولا بے نیازہے ۔ ت) صرف اس ضرورت کیلئے کہ گرم پانی سقائے میں ہے اور سقایہ مسجد کے اندر ہے باہر تازہ
ان کاموں کے لئے جنب کو وضو ئے محدث کی طرح وضو کرلینا مستحب ہے۔ (ت)
امام طحاوی شرح معانی الآثار میں مالك بن عبادہ غافقی رضی اللہ تعالی عنہسے راوی کہ انہوں نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ حاجت غسل میں کھانا تناول فرمایا انہوں نے فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے سامنے اس کا ذکر کیا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہکو اعتبار نہ آیا انہیں کھینچے ہوئے بارگاہ انور میں حاضر لائے اور عرض کی : یا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم! یہ کہتے ہیں کہ حضور نے بحال جنابت کھانا تناول کیا۔ فرمایا :
نعم اذا توضأت اکلت وشربت ولکنی لااصلی ولا اقرء حتی اغتسل
ہاں جب میں وضو فرمالوں توکھاتاپیتا ہوں مگر نماز وقرآن بے نہائے نہیں پڑھتا۔ (ت)
مسئلہ : غرہ شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حالت ناپاکی میں مسجد میں جانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب : حرام ہے مگر بضرورت شدیدہ کہ نہانے کی ضرورت ہے اور ڈول رسی اندر رکھا ہے اور یہ اس کے سوا کوئی سامان کر نہیں سکتا نہ کوئی اندر سے لا دینے والا ہے یا کسی دشمن سے خائف ہے اور مسجد کے سوا جائے پناہ نہیں اور نہانے کی مہلت نہیں ایسی حالتوں میں تیمم کرکے جاسکتا ہے صورت اولی میں صرف اتنی دیر کے لئے ڈول رسی لے آئے اور صورت ثانیہ میں جب تك وہ خوف باقی رہے۔
اقول : : بلکہ صورت ثانیہ میں اگر دشمن سر پر آگیا تیمم کی بھی مہلت نہیں تو بے تیمم چلا جائے اور کواڑ بند کرنے کے بعد تیمم کرلے فان الحقین اذا اجتمعا قدم حق العبد لفقرہ وغنی المولی (کیونکہ جب حق الله اور حق العبد دونوں جمع ہوں توحق العبد کو مقدم کرے اس لئے کہ بندہ محتاج ہے او ر مولا بے نیازہے ۔ ت) صرف اس ضرورت کیلئے کہ گرم پانی سقائے میں ہے اور سقایہ مسجد کے اندر ہے باہر تازہ
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ ، باب الحیض دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۹۵
شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ ، باب ذکر الجنب والحائض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۵
شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ ، باب ذکر الجنب والحائض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۵
پانی موجود ہے گرم پانی لینے کو بے غسل مسجد میں جانا جائز نہیں مگر وہی ضرورت کی حالت میں اگر تازہ پانی سے نہائے گا تو صحیح تجربے یا طبیب حاذق مسلم غیر فاسق کے بتانے سے معلوم ہے کہ بیمار ہوجائے گا یا مرض بڑھ جائے گا اور باہر کہیں گرم پانی کا سامان نہیں کرسکتا نہ اندر سے کوئی لادینے والا ہے تو تیمم کرکے اندر جاکر لاسکتا ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ : ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان کو نہانے کی حاجت ہو اس حالت میں مسجد کے لوٹے وغیرہ کو ناپاك ہاتھ سے چھونا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ہاتھ پر اگر کوئی نجاست لگی ہے کہ ہاتھ سے چھوٹ کر لگ جائے گی تو چھونا جائز نہیں اگرچہ لوٹا نہ مسجد کا ہو نہ کسی دوسرے شخص کا بلکہ خود اپنی ملك ہو کہ بلا ضرورت فـــــ پاك شے کو ناپاك کرنا ناجائز وگناہ ہے بحرالرائق بحث ماء مستعمل میں بدائع سے ہے تنجیس الطاھر حرام (پاك کو ناپاك کرنا حرام ہے۔ ت) اور اگر کوئی نجاست نہیں صرف نہانے کی حاجت ہے تو جائز ہے اگرچہ ہاتھ یا لوٹا تر ہو۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ : ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں اول یہ کہ سوا مصحف خاص کے کہ جس کے چھونے کی جنب اور محدث کے حق میں شریعت سے ممانعت صریح واقع ہوئی ہے بعض مصاحف اس قسم کے رائج ہوئے ہیں کہ ان میں علاوہ نظم قرآن شریف کے دیگر مضامین بھی شامل ہوتے ہیں چنانچہ بعض قسم اس کی مترجم ہیں کہ مابین السطور ترجمہ فارسی یا اردو کا ہوتا ہے اور بعض مترجم کے حواشی پر کچھ کچھ فوائد بھی متعلق ترجمہ کے ثبت ہوتے ہیں بلکہ بعض میں فوائد متعلق قراء ت اور رسم خط وغیرہ بھی درج ہوتے ہیں اور بعض اقسام مترجم کے حاشیوں پر کوئی کوئی تفسیر بھی چڑھی ہوتی ہے بعض پر عربی مثل جلالین وغیرہ کے اور بعض میں فارسی اور اردو مثل حسینی وغیرہ کے چڑھاتے ہیں علی ہذا القیاس اس قسم کے مصاحف کے مس کرنے کا حکم بحق جنب اور محدث کے حرام ہے یا مکروہ اور در صورت کراہت تحریمی ہوگی یا تنزیہی یا جائز بلا کراہت ہے بینوا توجروا۔
فــــ : مسئلہ : بلاضرورت پاك چیز کو ناپاك کرنا حرام ہے۔
مسئلہ : ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان کو نہانے کی حاجت ہو اس حالت میں مسجد کے لوٹے وغیرہ کو ناپاك ہاتھ سے چھونا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
ہاتھ پر اگر کوئی نجاست لگی ہے کہ ہاتھ سے چھوٹ کر لگ جائے گی تو چھونا جائز نہیں اگرچہ لوٹا نہ مسجد کا ہو نہ کسی دوسرے شخص کا بلکہ خود اپنی ملك ہو کہ بلا ضرورت فـــــ پاك شے کو ناپاك کرنا ناجائز وگناہ ہے بحرالرائق بحث ماء مستعمل میں بدائع سے ہے تنجیس الطاھر حرام (پاك کو ناپاك کرنا حرام ہے۔ ت) اور اگر کوئی نجاست نہیں صرف نہانے کی حاجت ہے تو جائز ہے اگرچہ ہاتھ یا لوٹا تر ہو۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ : ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں اول یہ کہ سوا مصحف خاص کے کہ جس کے چھونے کی جنب اور محدث کے حق میں شریعت سے ممانعت صریح واقع ہوئی ہے بعض مصاحف اس قسم کے رائج ہوئے ہیں کہ ان میں علاوہ نظم قرآن شریف کے دیگر مضامین بھی شامل ہوتے ہیں چنانچہ بعض قسم اس کی مترجم ہیں کہ مابین السطور ترجمہ فارسی یا اردو کا ہوتا ہے اور بعض مترجم کے حواشی پر کچھ کچھ فوائد بھی متعلق ترجمہ کے ثبت ہوتے ہیں بلکہ بعض میں فوائد متعلق قراء ت اور رسم خط وغیرہ بھی درج ہوتے ہیں اور بعض اقسام مترجم کے حاشیوں پر کوئی کوئی تفسیر بھی چڑھی ہوتی ہے بعض پر عربی مثل جلالین وغیرہ کے اور بعض میں فارسی اور اردو مثل حسینی وغیرہ کے چڑھاتے ہیں علی ہذا القیاس اس قسم کے مصاحف کے مس کرنے کا حکم بحق جنب اور محدث کے حرام ہے یا مکروہ اور در صورت کراہت تحریمی ہوگی یا تنزیہی یا جائز بلا کراہت ہے بینوا توجروا۔
فــــ : مسئلہ : بلاضرورت پاك چیز کو ناپاك کرنا حرام ہے۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۴
الجواب :
محدث کو مصحف چھونا مطلقا حرام ہے خواہ اس میں صرف نظم قرآن عظیم مکتوب ہو یا اس کے ساتھ ترجمہ وتفسیر ورسم خط وغیرہا بھی کہ ان کے لکھنے سے نام مصحف زائل نہ ہوگا آخر اسے قرآن مجید ہی کہا جائے گا ترجمہ یا تفسیر یا اور کوئی نام نہ رکھا جائےگا یہ زوائد قرآن عظیم کے توابع ہیں اور مصحف شریف سے جدا نہیں ولہذا فـــ۱ حاشیہ مصحف کی بیاض سادہ کو چھونا بھی ناجائز ہوا بلکہ پٹھوں کو بھی بلکہ چولی پر سے بھی بلکہ ترجمہ کا چھونا فـــ۲ خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جدا لکھا ہو۔ ہندیہ میں ہے :
منھا حرمۃ مس المصحف لا یجوز لہما وللجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجاف عنہ کالخریطۃ والجلد الغیر المشرز لابما ھو متصل بہ ھو الصحیح ھکذا فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الجوھرۃ النیرۃ والصحیح منع مس حواشی المصحف والبیاض الذی لاکتابۃ علیہ ھکذا فی التبیین ۔
ان ہی امور میں سے مصحف چھونے کی حرمت بھی ہے۔ حیض ونفاس والی کے لئے جنب کے لئے اوربے وضو کے لئے مصحف چھونا جائز نہیں ۔ مگر ایسے غلاف کے ساتھ جو اس سے الگ ہوجیسے جزدان اوروہ جلد جو مصحف کے ساتھ لگی ہوئی نہ ہو اس غلاف کے ساتھ چھونا جائز نہیں جو مصحف سے جڑا ہوا ہو یہی صحیح ہے ایسا ہی ہدایہ میں ہے اسی پر فتوی ہے اسی طرح جوہرہ نیرہ میں ہے ۔ اور صحیح ہے کہ مصحف کے کناروں اوراس بیاض کو بھی چھونا منع ہے جس پر کتابت نہیں ہے۔ ایسا ہی تبیین میں ہے۔ (ت)
فـــ۱ : مسئلہ : بے وضو آیت کو چھونا تو خود ہی حرام ہے اگرچہ آیت کسی اور کتاب میں لکھی ہو مگر قرآن مجید کے سادہ حاشیہ بلکہ پٹھوں بلکہ چولی کا بھی چھونا حرام ہے ہاں جزدان میں ہو تو جزدان کو ہاتھ لگاسکتاہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : قرآن مجید کا خالی ترجمہ اگر جدا لکھا ہو اسے بھی بے وضو چھونا منع ہے۔
محدث کو مصحف چھونا مطلقا حرام ہے خواہ اس میں صرف نظم قرآن عظیم مکتوب ہو یا اس کے ساتھ ترجمہ وتفسیر ورسم خط وغیرہا بھی کہ ان کے لکھنے سے نام مصحف زائل نہ ہوگا آخر اسے قرآن مجید ہی کہا جائے گا ترجمہ یا تفسیر یا اور کوئی نام نہ رکھا جائےگا یہ زوائد قرآن عظیم کے توابع ہیں اور مصحف شریف سے جدا نہیں ولہذا فـــ۱ حاشیہ مصحف کی بیاض سادہ کو چھونا بھی ناجائز ہوا بلکہ پٹھوں کو بھی بلکہ چولی پر سے بھی بلکہ ترجمہ کا چھونا فـــ۲ خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جدا لکھا ہو۔ ہندیہ میں ہے :
منھا حرمۃ مس المصحف لا یجوز لہما وللجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجاف عنہ کالخریطۃ والجلد الغیر المشرز لابما ھو متصل بہ ھو الصحیح ھکذا فی الھدایۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الجوھرۃ النیرۃ والصحیح منع مس حواشی المصحف والبیاض الذی لاکتابۃ علیہ ھکذا فی التبیین ۔
ان ہی امور میں سے مصحف چھونے کی حرمت بھی ہے۔ حیض ونفاس والی کے لئے جنب کے لئے اوربے وضو کے لئے مصحف چھونا جائز نہیں ۔ مگر ایسے غلاف کے ساتھ جو اس سے الگ ہوجیسے جزدان اوروہ جلد جو مصحف کے ساتھ لگی ہوئی نہ ہو اس غلاف کے ساتھ چھونا جائز نہیں جو مصحف سے جڑا ہوا ہو یہی صحیح ہے ایسا ہی ہدایہ میں ہے اسی پر فتوی ہے اسی طرح جوہرہ نیرہ میں ہے ۔ اور صحیح ہے کہ مصحف کے کناروں اوراس بیاض کو بھی چھونا منع ہے جس پر کتابت نہیں ہے۔ ایسا ہی تبیین میں ہے۔ (ت)
فـــ۱ : مسئلہ : بے وضو آیت کو چھونا تو خود ہی حرام ہے اگرچہ آیت کسی اور کتاب میں لکھی ہو مگر قرآن مجید کے سادہ حاشیہ بلکہ پٹھوں بلکہ چولی کا بھی چھونا حرام ہے ہاں جزدان میں ہو تو جزدان کو ہاتھ لگاسکتاہے۔
فـــ۲ : مسئلہ : قرآن مجید کا خالی ترجمہ اگر جدا لکھا ہو اسے بھی بے وضو چھونا منع ہے۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ ، الباب السادس ، الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۸ ، ۳۹
اسی میں ہے :
لوکان القران مکتوبا بالفارسیۃ یکرہ لھم مسہ عند ابی حنیفۃ وھکذا عندھما علی الصحیح ھکذا فی الخلاصۃ ۔
اگر قرآن فارسی میں لکھا ہوا ہو تومذکورہ افراد کے لئے امام ابو حنیفہ کے نزدیك اس کا چھونا مکروہ ہے اور صحیح یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیك بھی ایسا ہی ہے۔ اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ولو مکتوبا بالفار سیۃ فی الاصح الا بغلافہ المنفصل ۔
اصح یہ ہے کہ فارسی میں قرآن لکھا ہوتوبھی چھونا جائز نہیں مگر ایسے غلاف کے ساتھ جو مصحف سے الگ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
دون المتصل کالجلد المشرز ھو الصحیح وعلیہ الفتوی لان الجلد تبع لہ سراج ۔
اس غلاف کے ساتھ نہیں جو مصحف سے ملا ہوا ہو جیسے اس کے ساتھ جڑی ہوئی جلد یہی صحیح ہے اوراسی پر فتوی ہے اس لئے کہ جلد تابع ہے۔ سراج۔ (ت)
اسی فـــ میں ہے :
فی السراج عن الایضاح ان کتب التفسیر لایجوز مس موضع القران منہا ولہ ان یمس
سراج میں ایضاح کے حوالے سے ہے کہ کتب تفسیر میں جہاں قرآن لکھا ہوا ہے اس جگہ کو چھونا جائز نہیں اور وہ دوسری جگہ کو
فـــ : مسئلہ : کتب تفسیر و حدیث و فقہ میں جہاں آیت لکھی ہو خاص اس جگہ بے وضو ہاتھ لگانا حرام ہے باقی عبارت میں افضل یہ ہے کہ باوضو ہو۔
لوکان القران مکتوبا بالفارسیۃ یکرہ لھم مسہ عند ابی حنیفۃ وھکذا عندھما علی الصحیح ھکذا فی الخلاصۃ ۔
اگر قرآن فارسی میں لکھا ہوا ہو تومذکورہ افراد کے لئے امام ابو حنیفہ کے نزدیك اس کا چھونا مکروہ ہے اور صحیح یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیك بھی ایسا ہی ہے۔ اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ولو مکتوبا بالفار سیۃ فی الاصح الا بغلافہ المنفصل ۔
اصح یہ ہے کہ فارسی میں قرآن لکھا ہوتوبھی چھونا جائز نہیں مگر ایسے غلاف کے ساتھ جو مصحف سے الگ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
دون المتصل کالجلد المشرز ھو الصحیح وعلیہ الفتوی لان الجلد تبع لہ سراج ۔
اس غلاف کے ساتھ نہیں جو مصحف سے ملا ہوا ہو جیسے اس کے ساتھ جڑی ہوئی جلد یہی صحیح ہے اوراسی پر فتوی ہے اس لئے کہ جلد تابع ہے۔ سراج۔ (ت)
اسی فـــ میں ہے :
فی السراج عن الایضاح ان کتب التفسیر لایجوز مس موضع القران منہا ولہ ان یمس
سراج میں ایضاح کے حوالے سے ہے کہ کتب تفسیر میں جہاں قرآن لکھا ہوا ہے اس جگہ کو چھونا جائز نہیں اور وہ دوسری جگہ کو
فـــ : مسئلہ : کتب تفسیر و حدیث و فقہ میں جہاں آیت لکھی ہو خاص اس جگہ بے وضو ہاتھ لگانا حرام ہے باقی عبارت میں افضل یہ ہے کہ باوضو ہو۔
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ ، الباب السادس ، الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۹
الدرالمختار کتاب الطہارۃ ، باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
رد المحتار کتاب الطہارۃ ، باب الحیض دار احیاء التراث العربی ۱ / ۱۹۵
الدرالمختار کتاب الطہارۃ ، باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
رد المحتار کتاب الطہارۃ ، باب الحیض دار احیاء التراث العربی ۱ / ۱۹۵
غیرہ وکذا کتب الفقہ اذا کان فیہا شیئ من القران بخلاف المصحف فان الکل فیہ تبع للقران اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
چھوسکتاہے۔ یہی حکم کتب فقہ کاہے جب ان میں قرآن سے کچھ لکھا ہوا ہو بخلاف مصحف کے کہ اس میں سب قرآن کے تابع ہیں اھ۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
______________________
چھوسکتاہے۔ یہی حکم کتب فقہ کاہے جب ان میں قرآن سے کچھ لکھا ہوا ہو بخلاف مصحف کے کہ اس میں سب قرآن کے تابع ہیں اھ۔ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
______________________
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ ، قبیل باب المیاہ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۸ ، ۱۱۹
رسالہ
ارتفاع الحجب عن وجوہ قراءۃ الجنب ۱۳۲۸ھ
(بحالت جنابت قرآن پڑھنے کی مختلف صورتوں کی نقاب کشائی)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۲۲ : ۲۲محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنب کو کلام الله شریف کی پوری آیت پڑھنی ناجائز ہے یا آیت سے کم بھی مثلا کسی کام کیلئے حسبنا الله ونعم الوکیل یا کسی تکلیف پر انا لله وانا الیہ راجعون کہہ سکتا ہے کہ یہ پوری آیتیں نہیں آیتوں کے ٹکڑے ہیں یا اس قدر کی بھی اجازت نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم
حمد المن انزل کتابہ وقدس جنابہ فحرم قراءتہ حال
حمد ہے اسے جس نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی بارگاہ مقدس رکھی کہ اس کی قرأت
ارتفاع الحجب عن وجوہ قراءۃ الجنب ۱۳۲۸ھ
(بحالت جنابت قرآن پڑھنے کی مختلف صورتوں کی نقاب کشائی)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۲۲ : ۲۲محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنب کو کلام الله شریف کی پوری آیت پڑھنی ناجائز ہے یا آیت سے کم بھی مثلا کسی کام کیلئے حسبنا الله ونعم الوکیل یا کسی تکلیف پر انا لله وانا الیہ راجعون کہہ سکتا ہے کہ یہ پوری آیتیں نہیں آیتوں کے ٹکڑے ہیں یا اس قدر کی بھی اجازت نہیں ۔ بینوا توجروا
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم
حمد المن انزل کتابہ وقدس جنابہ فحرم قراءتہ حال
حمد ہے اسے جس نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی بارگاہ مقدس رکھی کہ اس کی قرأت
الجنابۃ والصلاۃ والسلم علی من اتاہ خطابہ وطھر رحابہ وعلی الال والصحابۃ وامۃ الاجابۃ۔
بحالت جنابت حرام فرمائی۔ اور درودوسلام ہو ان پر جنہیں اپنا کلام عطا کیا اورجن کا صحن پاکیزہ رکھا اور ان کے آل واصحاب اور امت اجابت پر بھی ۔ (ت)
اولا : یہ معلوم فـــــ رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں هو الله الذی لا اله الا هو-علم الغیب و الشهادة سے آخر سورۃ تك بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں بسم الله الرحمن الرحیم کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایك آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرك واستفتاح ہوتا ہے نہ تلاوت تو حسبنا الله ونعم الوکیل اور انا الله وانا الیہ راجعون کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گمنے پر عسى ربنا ان یبدلنا خیرا منها انا الى ربنا رغبون(۳۲) کہنا ۔ بحر میں ذکر مسائل ممانعت ہے :
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قران اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء اوافتتاح امرکذا فی الخلاصۃ وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ اھ واختارہ الحلوانی وذکر غایۃ البیان انہ المختار ۔
یہ سب اس وقت ہے جب بقصد قرآن پڑھے۔ لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں ۔ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں ۔ ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے : اگر سورہ فاتحہ بطور دعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوت قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ اسی کو امام حلوانی نے اختیارکیا اورغایۃ البیان میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔ (ت)
فــــ : مسئلہ : جو آیت پوری سورت خالص دعا وثنا ہو جنب و حائض بے نیت قرآن صرف دعا و ثنا کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں جیسے الحمد و آیۃ الکرسی۔
بحالت جنابت حرام فرمائی۔ اور درودوسلام ہو ان پر جنہیں اپنا کلام عطا کیا اورجن کا صحن پاکیزہ رکھا اور ان کے آل واصحاب اور امت اجابت پر بھی ۔ (ت)
اولا : یہ معلوم فـــــ رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں هو الله الذی لا اله الا هو-علم الغیب و الشهادة سے آخر سورۃ تك بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں بسم الله الرحمن الرحیم کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایك آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرك واستفتاح ہوتا ہے نہ تلاوت تو حسبنا الله ونعم الوکیل اور انا الله وانا الیہ راجعون کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گمنے پر عسى ربنا ان یبدلنا خیرا منها انا الى ربنا رغبون(۳۲) کہنا ۔ بحر میں ذکر مسائل ممانعت ہے :
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قران اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء اوافتتاح امرکذا فی الخلاصۃ وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ اھ واختارہ الحلوانی وذکر غایۃ البیان انہ المختار ۔
یہ سب اس وقت ہے جب بقصد قرآن پڑھے۔ لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں ۔ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں ۔ ایسا ہی خلاصہ میں ہے۔ امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے : اگر سورہ فاتحہ بطور دعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوت قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ اسی کو امام حلوانی نے اختیارکیا اورغایۃ البیان میں مذکور ہے کہ یہی مختار ہے۔ (ت)
فــــ : مسئلہ : جو آیت پوری سورت خالص دعا وثنا ہو جنب و حائض بے نیت قرآن صرف دعا و ثنا کی نیت سے پڑھ سکتے ہیں جیسے الحمد و آیۃ الکرسی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۲۲
القرآن الکریم ۶۸ /۳۲
البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض1ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
القرآن الکریم ۶۸ /۳۲
البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض1ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
ہاں آیۃ الکرسی یا سورہ فاتحہ اور ان کے مثل ایسی قراء ت کہ سننے والا جسے قرآن سمجھے ان عوام کے سامنے جن کو اس کا جنب ہونا معلوم ہو بآواز بہ نیت ثنا ودعا بھی پڑھنا مناسب نہیں کہ کہیں وہ بحال جنابت تلاوت جائز نہ سمجھ لیں یا اس کا عدم جواز جانتے ہوں تو اس پر گناہ کی تہمت نہ رکھیں ۔
وھذا معنی ما قال الامام الفقیہ ابو جعفر الھندوانی لاافتی بھذا وان روی عن ابی حنیفۃ اھ قالہ فی الفاتحۃ قال الشیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی والدالسید العارف عبد الغنی النابلسی فی حاشیۃ علی الدرر لم یرد الھند وانی رد ھذہ الروایۃ بل قال ذلك لما یتبادر الی ذھن من یسمعہ من الجنب من غیر اطلاع علی نیۃ قائلہ من جوازہ منہ وکم من قول صحیح لایفتی بہ خوفا من محذورا خر ولم یقل لااعمل بہ کیف وھو مروی عن ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی اھ
اقول : وقید بالجھر وکونہ عند من یعلم من العوام انہ جنب لان المحذور انما یتوقع فیہ وھذا محمل حسن جدا وما بحث
یہی اس کا معنی ہے جو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے فرمایا کہ میں اس پر فتوی نہیں دیتا اگرچہ یہ امام ابو حنیفہ سے مروی ہے اھ۔ یہ بات انہوں نے سورہ فاتحہ سے متعلق فرمائی۔ شیخ اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی سیدی العارف عبدالغنی نابلسی کے والد گرامی اپنے حاشیہ دررمیں فرماتے ہیں : امام ہندوانی کا مقصد اس روایت کی تردید نہیں بلکہ یہ انہوں نے اس خیال سے فرمایاہے کہ جو اس جنابت والے کی نیت جانے بغیر اس سے سنے گاتو اس کاذہن اس طرف جائے گا کہ بحالت جنابت تلاوت جائز ہے۔ اوربہت ایسی صحیح باتیں ہوتی ہیں جن پر کسی اورخرابی کی وجہ سے فتوی نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے یہ نہ فرمایاکہ میں اس پر عمل نہیں کرتااوریہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے اھ۔
اقول : میں نے بآواز بلندپڑھنے کی قید لگائی اوریہ کہ ان عوام کے سامنے جن کو اس کاجنب ہونا معلوم ہواس لئے کہ خرابی کا اندیشہ اسی صورت میں ہے۔ اوریہ کلام ابو جعفر
وھذا معنی ما قال الامام الفقیہ ابو جعفر الھندوانی لاافتی بھذا وان روی عن ابی حنیفۃ اھ قالہ فی الفاتحۃ قال الشیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی والدالسید العارف عبد الغنی النابلسی فی حاشیۃ علی الدرر لم یرد الھند وانی رد ھذہ الروایۃ بل قال ذلك لما یتبادر الی ذھن من یسمعہ من الجنب من غیر اطلاع علی نیۃ قائلہ من جوازہ منہ وکم من قول صحیح لایفتی بہ خوفا من محذورا خر ولم یقل لااعمل بہ کیف وھو مروی عن ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی اھ
اقول : وقید بالجھر وکونہ عند من یعلم من العوام انہ جنب لان المحذور انما یتوقع فیہ وھذا محمل حسن جدا وما بحث
یہی اس کا معنی ہے جو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے فرمایا کہ میں اس پر فتوی نہیں دیتا اگرچہ یہ امام ابو حنیفہ سے مروی ہے اھ۔ یہ بات انہوں نے سورہ فاتحہ سے متعلق فرمائی۔ شیخ اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی سیدی العارف عبدالغنی نابلسی کے والد گرامی اپنے حاشیہ دررمیں فرماتے ہیں : امام ہندوانی کا مقصد اس روایت کی تردید نہیں بلکہ یہ انہوں نے اس خیال سے فرمایاہے کہ جو اس جنابت والے کی نیت جانے بغیر اس سے سنے گاتو اس کاذہن اس طرف جائے گا کہ بحالت جنابت تلاوت جائز ہے۔ اوربہت ایسی صحیح باتیں ہوتی ہیں جن پر کسی اورخرابی کی وجہ سے فتوی نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے یہ نہ فرمایاکہ میں اس پر عمل نہیں کرتااوریہ کیسے ہوسکتاہے جب کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے اھ۔
اقول : میں نے بآواز بلندپڑھنے کی قید لگائی اوریہ کہ ان عوام کے سامنے جن کو اس کاجنب ہونا معلوم ہواس لئے کہ خرابی کا اندیشہ اسی صورت میں ہے۔ اوریہ کلام ابو جعفر
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
البحر تبعا للحلیۃ فسیأتی جوابہ وما احلی قول الشیخ اسمعیل انہ مروی عن الامام وکیف یرد ماقالت خدام۔
کا بہت نفیس مطلب ہے۔ اور بحر نے بہ تبعیت حلیہ جو بحث کی ہے آگے اس کاجواب آرہا ہے ۔ اورشیخ اسمعیل کا یہ جملہ کتنا شیریں ہے کہ یہ امام سے مروی ہے اورخدام کا کلام اس کی تردید میں کیسے ہوسکتاہے
ثانیا آیت فـــــ طویلہ کا پارہ کہ ایك آیت کے برابر ہو جس سے نماز میں فرض قراء ت مذہب سیدنا امام اعظم کی روایت مصححہ امام قدوری وامام زیلعی پر ادا ہوجائے جس کے پڑھنے والے کو عرفا تالی قرآن کہیں جنب کو بہ نیت قرآن اس سے ممانعت محل منازعت نہ ہونی چاہئے۔
اقول : کیف وھو قرآن حقیقۃ وعرفا فیشملہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئامن القرآن رواہ الترمذی و ابن ماجۃ وحسنہ المنذری و صححہ النووی کما فی الحلیۃ۔
اقول : اس میں نزاع کیوں ہو جب کہ یہ حقیقۃ وعرفا قرآن ہے توسرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد قطعا اسے شامل ہے : “ جنب اور حائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں “ اسے ترمذی وابن ماجہ نے روایت کیا اور منذری نے اسے حسن اورامام نووی نے صحیح کہا جیسا کہ حلیہ میں ہے۔
قطعاکون کہہ سکتا ہے کہ آیہ مدانیت کے اول سے یا ایھا الذین امنوا یا آخر سے لفظ علیم چھوڑ کر ایك صفحہ بھر سے زائد کلام الله بہ نیت کلام الله پڑھنے کی جنب کو اجازت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
لوکانت طویلۃ کان بعضہا کایۃ
آیت اگر طویل ہو تواس کا بعض حصہ ایك آیت
فـــ : مسئلہ : کسی آیت کا اتنا ٹکڑا کہ ایك چھوٹی آیت کے برابر ہو بہ نیت قرآن جنب و حائض کوبالاتفاع( بالاتفاق) ممنوع ہے۔
کا بہت نفیس مطلب ہے۔ اور بحر نے بہ تبعیت حلیہ جو بحث کی ہے آگے اس کاجواب آرہا ہے ۔ اورشیخ اسمعیل کا یہ جملہ کتنا شیریں ہے کہ یہ امام سے مروی ہے اورخدام کا کلام اس کی تردید میں کیسے ہوسکتاہے
ثانیا آیت فـــــ طویلہ کا پارہ کہ ایك آیت کے برابر ہو جس سے نماز میں فرض قراء ت مذہب سیدنا امام اعظم کی روایت مصححہ امام قدوری وامام زیلعی پر ادا ہوجائے جس کے پڑھنے والے کو عرفا تالی قرآن کہیں جنب کو بہ نیت قرآن اس سے ممانعت محل منازعت نہ ہونی چاہئے۔
اقول : کیف وھو قرآن حقیقۃ وعرفا فیشملہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئامن القرآن رواہ الترمذی و ابن ماجۃ وحسنہ المنذری و صححہ النووی کما فی الحلیۃ۔
اقول : اس میں نزاع کیوں ہو جب کہ یہ حقیقۃ وعرفا قرآن ہے توسرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ ارشاد قطعا اسے شامل ہے : “ جنب اور حائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں “ اسے ترمذی وابن ماجہ نے روایت کیا اور منذری نے اسے حسن اورامام نووی نے صحیح کہا جیسا کہ حلیہ میں ہے۔
قطعاکون کہہ سکتا ہے کہ آیہ مدانیت کے اول سے یا ایھا الذین امنوا یا آخر سے لفظ علیم چھوڑ کر ایك صفحہ بھر سے زائد کلام الله بہ نیت کلام الله پڑھنے کی جنب کو اجازت ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
لوکانت طویلۃ کان بعضہا کایۃ
آیت اگر طویل ہو تواس کا بعض حصہ ایك آیت
فـــ : مسئلہ : کسی آیت کا اتنا ٹکڑا کہ ایك چھوٹی آیت کے برابر ہو بہ نیت قرآن جنب و حائض کوبالاتفاع( بالاتفاق) ممنوع ہے۔
حوالہ / References
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ ، باب ماجاء فی الجنب والحائض ، حدیث۱۳۱ دارلفکر بیروت ۱ / ۱۸۲ ، سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ ، باب ماجاء فی قراء ۃ القرآن1الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴
لانھا تعدل ثلث ایات ذکرہ فی الحلیۃ عن شرح الجامع لفخر الاسلام اھ
اقول : ذھب قدس سرہ الی مصطلح الفقہاء ان الطویلۃ ھی التی یتأدی بھا واجب ضم السورۃ وھی التی تعدل ثلث ایات ولکن فـــــ۱ ارادۃ ھذا المعنی غیرلازم ھھنا اذا لمناط کون المقروء قدرما یتأدی بہ فرض القراء ۃ عند الامام وھو الذی یعدل ایۃ فلو کانت ایۃ تعدل ایتین عدل نصفھا ایۃ فینبغی ان یدخل تحت النھی قطعا وقس علیہ۔
وکیف یستقیم فـــــ۲ ان لایجوز تلاوۃ ثلث ایۃ تعدل ثلث ایات لکونہ یعدل ایۃ ویجوز تلاوۃ
کے حکم میں ہوگا اس لئے کہ پوری آیت تین آیتوں کے برابر ہے اسے حلیہ میں فخرالاسلام کی شرح جامع صغیر کے حوالے سے ذکر کیا ہے اھ۔ (ت)
اقول : حضرت موصوف قدس سرہ اصطلاح فقہاء کی طرف چلے گئے کہ لمبی آیت وہ ہے جس سے واجب نماز ضم سورہ کی ادائیگی ہوجائے اوریہ وہ ہے جو تین آیتوں کے برابر ہو۔ لیکن یہاں پر یہ معنی مراد لینا ضروری نہیں اس لئے کہ مدار حرمت اس پر ہے کہ جتنے حصے کی تلاوت ہو وہ اس قدر ہوجس سے حضرت امام کے نزدیك فرض قراء ت ادا ہوجاتا ہے اور یہ وہ ہے جو ایك آیت کے برابر ہو ۔ توپوری آیت اگر دوآیتوں کے برابر ہے تو اس کا نصف ایك آیت کے برابر ہوگا تو اسے نہی کے تحت قطعا داخل ہونا چاہئے۔ اورمزید اسی پر قیاس کرلو۔
اور یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ تین آیت کے مساوی ایك آیت کے
فـــــ۱ : تطفل خویدم ذلیل علی خدام الامام الجلیل فخر الاسلام ثم الحلیۃ و ش
فـــــ۲ : تطفل اخرعلیہم۔
اقول : ذھب قدس سرہ الی مصطلح الفقہاء ان الطویلۃ ھی التی یتأدی بھا واجب ضم السورۃ وھی التی تعدل ثلث ایات ولکن فـــــ۱ ارادۃ ھذا المعنی غیرلازم ھھنا اذا لمناط کون المقروء قدرما یتأدی بہ فرض القراء ۃ عند الامام وھو الذی یعدل ایۃ فلو کانت ایۃ تعدل ایتین عدل نصفھا ایۃ فینبغی ان یدخل تحت النھی قطعا وقس علیہ۔
وکیف یستقیم فـــــ۲ ان لایجوز تلاوۃ ثلث ایۃ تعدل ثلث ایات لکونہ یعدل ایۃ ویجوز تلاوۃ
کے حکم میں ہوگا اس لئے کہ پوری آیت تین آیتوں کے برابر ہے اسے حلیہ میں فخرالاسلام کی شرح جامع صغیر کے حوالے سے ذکر کیا ہے اھ۔ (ت)
اقول : حضرت موصوف قدس سرہ اصطلاح فقہاء کی طرف چلے گئے کہ لمبی آیت وہ ہے جس سے واجب نماز ضم سورہ کی ادائیگی ہوجائے اوریہ وہ ہے جو تین آیتوں کے برابر ہو۔ لیکن یہاں پر یہ معنی مراد لینا ضروری نہیں اس لئے کہ مدار حرمت اس پر ہے کہ جتنے حصے کی تلاوت ہو وہ اس قدر ہوجس سے حضرت امام کے نزدیك فرض قراء ت ادا ہوجاتا ہے اور یہ وہ ہے جو ایك آیت کے برابر ہو ۔ توپوری آیت اگر دوآیتوں کے برابر ہے تو اس کا نصف ایك آیت کے برابر ہوگا تو اسے نہی کے تحت قطعا داخل ہونا چاہئے۔ اورمزید اسی پر قیاس کرلو۔
اور یہ بات کیسے درست ہوسکتی ہے کہ تین آیت کے مساوی ایك آیت کے
فـــــ۱ : تطفل خویدم ذلیل علی خدام الامام الجلیل فخر الاسلام ثم الحلیۃ و ش
فـــــ۲ : تطفل اخرعلیہم۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶ ، البحرالرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
ایۃ تعدل ایتین بترك حرف منھا مع انہ یقرب قدر ایتین فتبصر۔
تہائی حصہ کی تلاوت جائز نہیں اس لئے کہ وہ ایك آیت کے برابر ہے۔ اور دو آیتوں کے مساوی ایك آیت کی تلاوت اس کا کوئی حرف چھوڑ کر جائز ہے حالانکہ وہ تقریبا دوآیت کے برابر ہے۔ توبصیرت سے کام لو۔ (ت)
ہاں جو فــــ پارہ آیت ایسا قلیل ہو کہ عرفا اس کے پڑھنے کو قرأت قرآن نہ سمجھیں اس سے فرض قراء ت یك آیت ادا نہ ہو اتنے کو بہ نیت قرآن پڑھنے میں اختلاف ہے امام کرخی منع فرماتے ہیں امام ملك العلماء نے بدائع اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید اور امام عبدالرشید ولو لوالجی نے اپنے فتاوی میں اس کی تصحیح فرمائی ہدایہ وکافی وغیرہما میں اسی کو قوت دی درمختار میں اسی کو مختار کہا حلیہ وبحر میں اسی کو ترجیح دی تحفہ وبدائع میں اسی کو قول عامہ مشایخ بتایا اور امام طحاوی اجازت دیتے ہیں خلاصہ کی فصل حادی عشر فی القراء ۃ میں اسی کی تصحیح کی امام فخر الاسلام نے شرح جامع صغیر اور امام رضی الدین۔ سرخسی نے محیط پھر محقق علی الاطلاق نے فتح میں اسی کی توجیہ کی اور زاہدی نے اس کو اکثر کی طرف نسبت کیا۔ غرض یہ دو قول مرجح ہیں :
اقول : اور اول یعنی ممانعت ہی بوجوہ اقوی ہے۔
اولا : اکثر تصحیحات اسی طرف ہیں ۔
ثانیا : اس کے مصححین کی جلالت قدر جن میں امام فقیہ النفس جیسے اکابر ہیں جن کی نسبت تصریح ہے کہ ان کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے۔
ثالثا : اسی میں احتیاط زیادہ اور وہی قرآن عظیم کی تعظیم تام سے اقرب۔
رابعا : اکثر ائمہ اسی طرف ہیں اور قاعدہ ہے کہ العمل بما علیہ الاکثر ( عمل اسی پرہوگا جس پر اکثر ہوں ۔ ت) اور زاہدی کی نقل امام اجل علاء الدین صاحب تحفۃ الفقہاء وامام اجل ملك العلماء صاحب بدائع کی نقل کے معارض نہیں ہوسکتی۔
فــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ بہ نیت قرآن ایك حرف کی بھی جنب و حائض کو اجازت نہیں ۔
تہائی حصہ کی تلاوت جائز نہیں اس لئے کہ وہ ایك آیت کے برابر ہے۔ اور دو آیتوں کے مساوی ایك آیت کی تلاوت اس کا کوئی حرف چھوڑ کر جائز ہے حالانکہ وہ تقریبا دوآیت کے برابر ہے۔ توبصیرت سے کام لو۔ (ت)
ہاں جو فــــ پارہ آیت ایسا قلیل ہو کہ عرفا اس کے پڑھنے کو قرأت قرآن نہ سمجھیں اس سے فرض قراء ت یك آیت ادا نہ ہو اتنے کو بہ نیت قرآن پڑھنے میں اختلاف ہے امام کرخی منع فرماتے ہیں امام ملك العلماء نے بدائع اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید اور امام عبدالرشید ولو لوالجی نے اپنے فتاوی میں اس کی تصحیح فرمائی ہدایہ وکافی وغیرہما میں اسی کو قوت دی درمختار میں اسی کو مختار کہا حلیہ وبحر میں اسی کو ترجیح دی تحفہ وبدائع میں اسی کو قول عامہ مشایخ بتایا اور امام طحاوی اجازت دیتے ہیں خلاصہ کی فصل حادی عشر فی القراء ۃ میں اسی کی تصحیح کی امام فخر الاسلام نے شرح جامع صغیر اور امام رضی الدین۔ سرخسی نے محیط پھر محقق علی الاطلاق نے فتح میں اسی کی توجیہ کی اور زاہدی نے اس کو اکثر کی طرف نسبت کیا۔ غرض یہ دو قول مرجح ہیں :
اقول : اور اول یعنی ممانعت ہی بوجوہ اقوی ہے۔
اولا : اکثر تصحیحات اسی طرف ہیں ۔
ثانیا : اس کے مصححین کی جلالت قدر جن میں امام فقیہ النفس جیسے اکابر ہیں جن کی نسبت تصریح ہے کہ ان کی تصحیح سے عدول نہ کیا جائے۔
ثالثا : اسی میں احتیاط زیادہ اور وہی قرآن عظیم کی تعظیم تام سے اقرب۔
رابعا : اکثر ائمہ اسی طرف ہیں اور قاعدہ ہے کہ العمل بما علیہ الاکثر ( عمل اسی پرہوگا جس پر اکثر ہوں ۔ ت) اور زاہدی کی نقل امام اجل علاء الدین صاحب تحفۃ الفقہاء وامام اجل ملك العلماء صاحب بدائع کی نقل کے معارض نہیں ہوسکتی۔
فــــ : مسئلہ : صحیح یہ ہے کہ بہ نیت قرآن ایك حرف کی بھی جنب و حائض کو اجازت نہیں ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ ، فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۵۱
خامسا : اطلاق احادیث بھی اسی طرف ہے کہ فرمایا جنب وحائض قرآن میں سے کچھ نہ پڑھیں ۔
سادسا : خاص جزئیہ کی تصریح میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کا ارشاد موجود کہ فرماتے ہیں :
اقرؤا القران مالم یصب احدکم جنابۃ فان اصابہ فلا ولا حرفا واحدا۔ رواہ الدار قطنی وقال ھو صحیح عن علی رضی الله تعالی عنہ۔
قرآن پڑھو جب تك تمہیں نہانے کی حاجت نہ ہواور جب حاجت غسل ہوتو قرآن کا ایك حرف بھی نہ پڑھو۔ (اسے دارقطنی نے روایت کیااور کہا یہی صحیح ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ ت)
سابعا : وہی ظاہر الروایۃ کا مفاد ہے امام قاضی خان شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
لم یفصل فی الکتاب بین الایۃ وما دونھا وھو الصحیح اھ
امام محمد نے کتاب میں آیت اورآیت سے کم حصہ میں کوئی تفریق نہ رکھی اوریہی صحیح ہے اھ۔ (ت)
بخلاف قول دوم کہ روایت نوادر ہے۔
رواھا ابن سماعۃ عن الامام رضی الله تعالی عنہ کما ذکرہ الزاھدی۔
اسے ابن سماعہ نے حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیاہے جیساکہ زاہدی نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
ثامنا : قوت دلیل بھی اسی طرف ہے تو اسی پر اعتماد واجب۔
ویظھر ذلك بالکلام علی مااستدلوا بہ للامام الطحاوی فاعلم انہ وجہہ رضی الدین فی محیطہ والامام فخر الاسلام فی شرح الجامع الصغیر بان النظم والمعنی یقصر فیما دون الایۃ
یہ ان دلیلوں پرکلام سے ظاہر ہوگا جن سے ان مرجحین نے امام طحاوی کی حمایت میں استدلال کیا ہے۔ اب واضح ہوکہ محیط میں رضی الدین نے اور شرح جامع صغیرمیں امام فخرالاسلام نے مذہب امام طحاوی کی توجیہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ مادون الآیۃ(جو حصہ ایك آیت سے کم ہے اس)
سادسا : خاص جزئیہ کی تصریح میں امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کا ارشاد موجود کہ فرماتے ہیں :
اقرؤا القران مالم یصب احدکم جنابۃ فان اصابہ فلا ولا حرفا واحدا۔ رواہ الدار قطنی وقال ھو صحیح عن علی رضی الله تعالی عنہ۔
قرآن پڑھو جب تك تمہیں نہانے کی حاجت نہ ہواور جب حاجت غسل ہوتو قرآن کا ایك حرف بھی نہ پڑھو۔ (اسے دارقطنی نے روایت کیااور کہا یہی صحیح ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے۔ ت)
سابعا : وہی ظاہر الروایۃ کا مفاد ہے امام قاضی خان شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
لم یفصل فی الکتاب بین الایۃ وما دونھا وھو الصحیح اھ
امام محمد نے کتاب میں آیت اورآیت سے کم حصہ میں کوئی تفریق نہ رکھی اوریہی صحیح ہے اھ۔ (ت)
بخلاف قول دوم کہ روایت نوادر ہے۔
رواھا ابن سماعۃ عن الامام رضی الله تعالی عنہ کما ذکرہ الزاھدی۔
اسے ابن سماعہ نے حضرت امام رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیاہے جیساکہ زاہدی نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
ثامنا : قوت دلیل بھی اسی طرف ہے تو اسی پر اعتماد واجب۔
ویظھر ذلك بالکلام علی مااستدلوا بہ للامام الطحاوی فاعلم انہ وجہہ رضی الدین فی محیطہ والامام فخر الاسلام فی شرح الجامع الصغیر بان النظم والمعنی یقصر فیما دون الایۃ
یہ ان دلیلوں پرکلام سے ظاہر ہوگا جن سے ان مرجحین نے امام طحاوی کی حمایت میں استدلال کیا ہے۔ اب واضح ہوکہ محیط میں رضی الدین نے اور شرح جامع صغیرمیں امام فخرالاسلام نے مذہب امام طحاوی کی توجیہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ مادون الآیۃ(جو حصہ ایك آیت سے کم ہے اس)
حوالہ / References
سنن الدار قطنی کتاب الطہارۃ ، باب فی النہی للجنب والحائض ، حدیث۴۱۸ / ۶ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۳ ، ۲۹۴
شرح الجامع الصغیرللامام قاضی خان
شرح الجامع الصغیرللامام قاضی خان
ویجری مثلہ فی محاورات الناس وکلامھم فتمکنت فیہ شبھۃ عدم القران ولھذا لاتجوز الصلوۃ بہ اھ
اقول اولا : لم فــــ یصل فھمی القاصر الی قصور النظم والمعنی فیما دون الایۃ فبعض ایۃ ربما یکون جملۃ تامۃ مستقلۃ بالافادۃ کقولہ تعالی و اصبر وایۃ تامۃ لاتکون کذلك کقولہ تعالی اذا جآء نصر الله و الفتح ھذا فی المعنی والنظم یتبعہ وان ارید التحدی فلیس الا بنحوا قصر سورۃ لابکل ایۃ ایۃ فابلغ ماوردبہ التحدی قولہ تعالی فاتوا بسورة من مثله۪- ۔
میں نظم ومعنی دونوں میں قصوروکمی ہے۔ اوراس طرح کی عبارت لوگوں کی بول چال اور گفتگو میں بھی آتی رہتی ہے تواس میں عدم قرآن کاشبہہ جاگزیں ہو جاتاہے اور اسی لئے اتنے حصہ سے نمازجائز نہیں ہوتی اھ۔ (ت)
اقول اولا : مادون الایۃ میں نظم ومعنی کے قصور وکمی تك میرے فہم قاصر کی رسائی نہ ہوسکی۔ اس لئے کہ جزوآیت کبھی پورا جملہ اور افادہ معنی میں مستقل ہوتا ہے جیسے باری تعالی کاارشاد : واصبر(اورصبرکر)اورکبھی پوری آیت ایسی نہیں ہوتی جیسے ارشاد باری تعالی ہے : “ جب خدا کی مدد فتح آئے “ ۔ یہ گفتگومعنی سے متعلق ہوئی اور نظم اسی کے تابع ہے۔ اوراگر یہ مراد ہے کہ مادون الایۃ سے مقابلے کا چیلنج نہیں تو چیلنج توصرف سب سے مختصر سورہ کے مثل سے ہے ہر ہر آیت سے نہیں کیوں کہ سب سے زیادہ مبالغہ کے ساتھ جو تحدی(چیلنج) وارد ہے وہ یہ ارشاد ربانی ہے : “ تواس کے مثل کوئی سورہ لے آؤ “ ۔
فـــ : تطفل ثالث علی خدام الامام فخرالاسلام وعلی الامام رضی الدین السرخسی۔
اقول اولا : لم فــــ یصل فھمی القاصر الی قصور النظم والمعنی فیما دون الایۃ فبعض ایۃ ربما یکون جملۃ تامۃ مستقلۃ بالافادۃ کقولہ تعالی و اصبر وایۃ تامۃ لاتکون کذلك کقولہ تعالی اذا جآء نصر الله و الفتح ھذا فی المعنی والنظم یتبعہ وان ارید التحدی فلیس الا بنحوا قصر سورۃ لابکل ایۃ ایۃ فابلغ ماوردبہ التحدی قولہ تعالی فاتوا بسورة من مثله۪- ۔
میں نظم ومعنی دونوں میں قصوروکمی ہے۔ اوراس طرح کی عبارت لوگوں کی بول چال اور گفتگو میں بھی آتی رہتی ہے تواس میں عدم قرآن کاشبہہ جاگزیں ہو جاتاہے اور اسی لئے اتنے حصہ سے نمازجائز نہیں ہوتی اھ۔ (ت)
اقول اولا : مادون الایۃ میں نظم ومعنی کے قصور وکمی تك میرے فہم قاصر کی رسائی نہ ہوسکی۔ اس لئے کہ جزوآیت کبھی پورا جملہ اور افادہ معنی میں مستقل ہوتا ہے جیسے باری تعالی کاارشاد : واصبر(اورصبرکر)اورکبھی پوری آیت ایسی نہیں ہوتی جیسے ارشاد باری تعالی ہے : “ جب خدا کی مدد فتح آئے “ ۔ یہ گفتگومعنی سے متعلق ہوئی اور نظم اسی کے تابع ہے۔ اوراگر یہ مراد ہے کہ مادون الایۃ سے مقابلے کا چیلنج نہیں تو چیلنج توصرف سب سے مختصر سورہ کے مثل سے ہے ہر ہر آیت سے نہیں کیوں کہ سب سے زیادہ مبالغہ کے ساتھ جو تحدی(چیلنج) وارد ہے وہ یہ ارشاد ربانی ہے : “ تواس کے مثل کوئی سورہ لے آؤ “ ۔
فـــ : تطفل ثالث علی خدام الامام فخرالاسلام وعلی الامام رضی الدین السرخسی۔
حوالہ / References
البحر الرائق بحوالہ المحیط کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۱۹
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۵
القرآن الکریم ۱۱۰ /۱
القرآن الکریم ۲ /۲۳
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۵
القرآن الکریم ۱۱۰ /۱
القرآن الکریم ۲ /۲۳
وثانیا : رب فـــــ۱ ایۃ تامۃ تجری الفاظھا علی الالسنۃ فی محاورات الناس کقولہ تعالی ثم نظر(۲۱) وقول تعالی لم یلد ﳔ وقولہ تعالی و لم یولد(۳) علی انھما ایتان وقولہ تعالی مدهآ متن(۶۴) ۔
وثالثا : جریانہ فـــــ۲ فی تحاور الناس انما یورث الشتباہ علی السامع انہ جری علی لسانہ وافق لفظہ نظم القران اوقصد قراء ۃ القران فتتمکن الشبھۃ عند السامع اما ھو فالانسان علی نفسہ بصیرۃ فاذا قصد التلاوۃ فلا معنی للاشتباہ عندہ وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی والاشتباہ عندالسامع
ثانیا : بہت سی پوری آیتیں بھی ایسی ہیں جن کے الفاظ لوگوں کی بول چال میں زبانوں پر آتے رہتے ہیں جیسے ارشاد باری تعالی : “ ثم نظر “ پھر دیکھا۔ اور ارشاد حق تعالی : “ لم یلد “ وہ والد نہیں ۔ اوراس کا ارشاد : “ ولم یولد “ اور وہ مولود نہیں ۔ باوجود یکہ یہ دو آیتیں ہیں ۔ اور اس کا ارشاد : “ مدهآ متن “ ۔
ثالثا : لوگوں کی گفتگو میں اس کے جاری ہونے سے صرف سامع پر اشتباہ ہوتا ہے کہ بولنے والے کی زبان پر وہ عبارت یوں آگئی جس کے الفاظ نظم قرآن کے موافق ہوگئے یا اس نے قرآن پڑھنے کی نیت کی ہے توسننے والے کے نزدیك شبہہ جاگزیں ہوجاتاہے۔ رہا اس عبارت کوادا کرنے والا توانسان اپنے متعلق پوری طرح آشناہوتاہے اگر واقعی اس کی نیت تلاوت کی ہے تو اس کے نزدیك اشتباہ کا کوئی معنی نہیں ۔ “ اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی “ ۔ اور
فـــــ۱ : تطفل رابع علیہ و ثان علی السرخسی۔
فـــــ۲ : تطفل خامس علیہ و ثالث علی السرخسی۔
وثالثا : جریانہ فـــــ۲ فی تحاور الناس انما یورث الشتباہ علی السامع انہ جری علی لسانہ وافق لفظہ نظم القران اوقصد قراء ۃ القران فتتمکن الشبھۃ عند السامع اما ھو فالانسان علی نفسہ بصیرۃ فاذا قصد التلاوۃ فلا معنی للاشتباہ عندہ وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی والاشتباہ عندالسامع
ثانیا : بہت سی پوری آیتیں بھی ایسی ہیں جن کے الفاظ لوگوں کی بول چال میں زبانوں پر آتے رہتے ہیں جیسے ارشاد باری تعالی : “ ثم نظر “ پھر دیکھا۔ اور ارشاد حق تعالی : “ لم یلد “ وہ والد نہیں ۔ اوراس کا ارشاد : “ ولم یولد “ اور وہ مولود نہیں ۔ باوجود یکہ یہ دو آیتیں ہیں ۔ اور اس کا ارشاد : “ مدهآ متن “ ۔
ثالثا : لوگوں کی گفتگو میں اس کے جاری ہونے سے صرف سامع پر اشتباہ ہوتا ہے کہ بولنے والے کی زبان پر وہ عبارت یوں آگئی جس کے الفاظ نظم قرآن کے موافق ہوگئے یا اس نے قرآن پڑھنے کی نیت کی ہے توسننے والے کے نزدیك شبہہ جاگزیں ہوجاتاہے۔ رہا اس عبارت کوادا کرنے والا توانسان اپنے متعلق پوری طرح آشناہوتاہے اگر واقعی اس کی نیت تلاوت کی ہے تو اس کے نزدیك اشتباہ کا کوئی معنی نہیں ۔ “ اور اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اورہرشخص کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی “ ۔ اور
فـــــ۱ : تطفل رابع علیہ و ثان علی السرخسی۔
فـــــ۲ : تطفل خامس علیہ و ثالث علی السرخسی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۴ /۲۱
القرآن الکریم ۱۱۲ /۳
القرآن الکریم ۱۱۲ /۳
القرآن الکریم ۵۵ /۶۴
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی الی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲
القرآن الکریم ۱۱۲ /۳
القرآن الکریم ۱۱۲ /۳
القرآن الکریم ۵۵ /۶۴
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی الی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲
لاینفی مایعلمہ من نفسہ۔
وکانہ لاجل ھذا عدل المحقق علی الاطلاق فی الفتح عن ھذا التقریر واقتصر علی ماحط علیہ کلامھما اخرا وھو عدم جواز الصلاۃ بہ حیث قال وجہہ ان مادون الایۃ لایعد بہ قارئا قال تعالی فاقرؤا ما تیسر من القران کما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرأ الجنب القران فکما لایعد قارئا بما دون الایۃ حتی لاتصح بھا الصلوۃ کذا لایعدبھا قارئا فلا یحرم علی الجنب والحائض اھ
وردہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ تبعا للامام النسفی فی الکافی باطلاق الحدیث من دون فصل بین قلیل وکثیر قالا وھو تعلیل فی مقابلۃ النص فیرد لان شیا نکرۃ فی موضع النفی
سامع کا اشتباہ اس علم کی نفی نہیں کرسکتا جو قاری کو خود اپنی ذات سے متعلق حاصل ہے۔
شاید اسی لئے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تقریر سے ہٹ کر صرف اس پر اکتفا کی جوصاحب محیط وامام فخر الاسلام کے آخرکلام میں واقع ہے وہ یہ کہ اس قدرسے نماز نہیں ہوتی۔ حضرت محقق لکھتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ مادون الایۃ پڑھنے والے کو قراء ت کرنے والاشمار نہیں کیاجاتا۔ باری تعالی کا ارشاد ہے : “ توقرآن جو میسر آئے پڑھو “ ۔ جیسے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ جنابت والا قرآن کی قراء ت نہ کرے “ ۔ توجیسے وہاں مادون الایۃ پڑھنے سے اس کو قراء ت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتاکہ اتنے سے نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی اتنے حصے سے اس کوقراء ت کرنے والاشمار نہ کیاجائے گا تو اتنا پڑھنا جنب وحائض پر حرام نہ ہوگا اھ۔
اسے محقق حلبی نے حلیہ میں کافی امام نسفی کی تبعیت میں رد کردیا کہ حدیث مطلق ہے اس میں قلیل وکثیر کا کوئی فرق نہیں ۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : یہ نص کے معاملہ میں تعلیل ہے اس لئے قابل قبول نہیں کیوں کہ حدیث (لایقرأ الجنب والحائض شیئامن القران) میں شیئا
وکانہ لاجل ھذا عدل المحقق علی الاطلاق فی الفتح عن ھذا التقریر واقتصر علی ماحط علیہ کلامھما اخرا وھو عدم جواز الصلاۃ بہ حیث قال وجہہ ان مادون الایۃ لایعد بہ قارئا قال تعالی فاقرؤا ما تیسر من القران کما قال صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرأ الجنب القران فکما لایعد قارئا بما دون الایۃ حتی لاتصح بھا الصلوۃ کذا لایعدبھا قارئا فلا یحرم علی الجنب والحائض اھ
وردہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ تبعا للامام النسفی فی الکافی باطلاق الحدیث من دون فصل بین قلیل وکثیر قالا وھو تعلیل فی مقابلۃ النص فیرد لان شیا نکرۃ فی موضع النفی
سامع کا اشتباہ اس علم کی نفی نہیں کرسکتا جو قاری کو خود اپنی ذات سے متعلق حاصل ہے۔
شاید اسی لئے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تقریر سے ہٹ کر صرف اس پر اکتفا کی جوصاحب محیط وامام فخر الاسلام کے آخرکلام میں واقع ہے وہ یہ کہ اس قدرسے نماز نہیں ہوتی۔ حضرت محقق لکھتے ہیں : اس کی وجہ یہ ہے کہ مادون الایۃ پڑھنے والے کو قراء ت کرنے والاشمار نہیں کیاجاتا۔ باری تعالی کا ارشاد ہے : “ توقرآن جو میسر آئے پڑھو “ ۔ جیسے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے : “ جنابت والا قرآن کی قراء ت نہ کرے “ ۔ توجیسے وہاں مادون الایۃ پڑھنے سے اس کو قراء ت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتاکہ اتنے سے نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی اتنے حصے سے اس کوقراء ت کرنے والاشمار نہ کیاجائے گا تو اتنا پڑھنا جنب وحائض پر حرام نہ ہوگا اھ۔
اسے محقق حلبی نے حلیہ میں کافی امام نسفی کی تبعیت میں رد کردیا کہ حدیث مطلق ہے اس میں قلیل وکثیر کا کوئی فرق نہیں ۔ یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں : یہ نص کے معاملہ میں تعلیل ہے اس لئے قابل قبول نہیں کیوں کہ حدیث (لایقرأ الجنب والحائض شیئامن القران) میں شیئا
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ ، باب الحیض والاستحاضۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۴۸
فتعم وما دون الایۃ قران فیمتنع کالایۃ اھ وتبعھما البحر ثم ش۔
ورأیتنی علقت علیہ مانصہ۔ اقولالمحقق فـــــ لا یقیس المسألۃ علی المسألۃ بل یرید ان الاحادیث انما حرمت علی الجنب قراء ۃ القران وقد علمنا ان قراء ۃ مادون الایۃ لاتعد قراء ۃ القران شرعا والا لجازت بہ الصلاۃ لان قولہ تعالی فاقرؤا ما تیسر من القران قد فرض القراء ۃ من دون فصل بین قلیل وکثیر مع تاکید الاطلاق بما تیسر وحینئذ لاحجۃ لکم فی اطلاق الاحادیث فافھم اھ ۔
ثم لما قال شرط۱۲ الدر لوقصد
مقام نفی میں نکرہ ہے اس لئے وہ عام ہوگا اور مادون الایۃ بھی قرآن ہے تو اس کا پڑھنا بھی نا جائز ہوگاجیسے پوری آیت کا پڑھنا اھ۔ اس تردید میں ان دونوں حضرات کی پیروی بحر پھر شامی نے بھی کی ہے۔ میں نے دیکھااس پرمیں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول : حضرت محقق مسئلہ کا مسئلہ پرقیاس نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ احادیث نے جنب پر قراء ت قرآن حرام کی ہے اورہمیں معلوم ہے کہ مادون الایۃ (آیت سے کم حصہ)کو پڑھنا شرعا قراء ت قرآن شمار نہیں ہوتا ورنہ اس سے نماز ہوجاتی۔ اس لئے کہ ارشاد باری تعالی فاقرءوا ما تیسر من القران- (تو قراء ت کرو جو بھی قرآن سے میسر آئے)نے قراء ت فرض کی جس میں قلیل وکثیر کاکوئی فرق نہیں ساتھ ہی ماتیسر(جو بھی میسر آئے) کے اطلاق کی تاکید بھی ہے جب ایسا ہے تو اطلاق احادیث میں بھی تمہارے لئے حجت نہیں تو اسے سمجھو۔
پھر درمختار کی عبارت ہے : اگر سکھانے
فـــــــ : تطفل علی الحلیۃ والبحر و ش۔
ورأیتنی علقت علیہ مانصہ۔ اقولالمحقق فـــــ لا یقیس المسألۃ علی المسألۃ بل یرید ان الاحادیث انما حرمت علی الجنب قراء ۃ القران وقد علمنا ان قراء ۃ مادون الایۃ لاتعد قراء ۃ القران شرعا والا لجازت بہ الصلاۃ لان قولہ تعالی فاقرؤا ما تیسر من القران قد فرض القراء ۃ من دون فصل بین قلیل وکثیر مع تاکید الاطلاق بما تیسر وحینئذ لاحجۃ لکم فی اطلاق الاحادیث فافھم اھ ۔
ثم لما قال شرط۱۲ الدر لوقصد
مقام نفی میں نکرہ ہے اس لئے وہ عام ہوگا اور مادون الایۃ بھی قرآن ہے تو اس کا پڑھنا بھی نا جائز ہوگاجیسے پوری آیت کا پڑھنا اھ۔ اس تردید میں ان دونوں حضرات کی پیروی بحر پھر شامی نے بھی کی ہے۔ میں نے دیکھااس پرمیں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول : حضرت محقق مسئلہ کا مسئلہ پرقیاس نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ احادیث نے جنب پر قراء ت قرآن حرام کی ہے اورہمیں معلوم ہے کہ مادون الایۃ (آیت سے کم حصہ)کو پڑھنا شرعا قراء ت قرآن شمار نہیں ہوتا ورنہ اس سے نماز ہوجاتی۔ اس لئے کہ ارشاد باری تعالی فاقرءوا ما تیسر من القران- (تو قراء ت کرو جو بھی قرآن سے میسر آئے)نے قراء ت فرض کی جس میں قلیل وکثیر کاکوئی فرق نہیں ساتھ ہی ماتیسر(جو بھی میسر آئے) کے اطلاق کی تاکید بھی ہے جب ایسا ہے تو اطلاق احادیث میں بھی تمہارے لئے حجت نہیں تو اسے سمجھو۔
پھر درمختار کی عبارت ہے : اگر سکھانے
فـــــــ : تطفل علی الحلیۃ والبحر و ش۔
حوالہ / References
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ، باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
جد الممتار علی رد المحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور ہند ۱ / ۱۱۷
جد الممتار علی رد المحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور ہند ۱ / ۱۱۷
التعلیم ولقن کلمۃ کلمۃ حل فی الاصح وکتب علیہ ش ھذا علی قول الکرخی وعلی قول الطحاوی تعلم نصف ایۃ نہایۃ وغیرھا ونظر فیہ فی البحر بان الکرخی قال باستواء الایۃ وما دونھا فی المنع واجاب فی النھر بان مرادہ بما دونھما مابہ یسمی قارئا وبالتعلیم کلمۃ کلمۃ لایعد قارئا اھ۔
کتبت علیہ اقول ھذا فـــــ یؤید کلام المحقق فانکم ایضا لم تنظروا ھھنا الی ان الاحادیث لم تفصل بین القلیل والکثیر وانما مفزعکم فیہ الی ان من قرأ کلمۃ لایعد قارئا مع ان تلك الکلمۃ ایضا بعض القران قطعا فکذلك ھم یقولون ان من قرأ مادون الایۃ لایعد قارئا ایضا والا لکان ممتثلا لقولہ
کا قصد ہو اور ایك ایك کلمہ بول کر سکھائے توبرقول اصح جائز ہے۔ اس پر علامہ شامی نے لکھا : یہ حکم امام کرخی کے قول پر ہے۔ اور امام طحاوی کے قول پر نصف آیت سکھائے۔ نہایہ وغیرہا۔ اس پر بحرنے یہ کلام کیا کہ امام کرخی کے نزدیك آیت اور مادون الآیۃ یہ دونوں ہی عدم جواز میں برابر ہیں ۔ نہر میں اس کا یہ جواب دیا کہ مادون الآیۃ سے ان کی مراد اس قدر ہے جتنے سے اس کو قراء ت کرنے والا کہاجاسکے اور ایك ایك کلمہ سکھانے سے اس کو قراء ت کرنے والا شمارنہ کیا جائے گا اھ اھ۔
اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول اس سے کلام محقق کی تائید ہوتی ہے۔ اسی لئے کہ یہاں آپ حضرات کی نظر بھی اس طر ف نہیں کہ احادیث میں قلیل وکثیر کے درمیان کوئی تفریق نہیں بلکہ یہاں آپ نے صرف اس کا سہارا لیا ہے کہ جس نے ایك کلمہ پڑھااسے قاری شمار نہیں کیاجاتاباوجودیکہ وہ کلمہ بھی قطعا بعض قرآن ہے۔ اسی طرح وہ حضرات بھی کہتے ہیں کہ جس نے مادون الآیہ پڑھا اسے بھی قراء ت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتاورنہ وہ ارشاد
فـــــ : تطفل علی النھر و ش۔
کتبت علیہ اقول ھذا فـــــ یؤید کلام المحقق فانکم ایضا لم تنظروا ھھنا الی ان الاحادیث لم تفصل بین القلیل والکثیر وانما مفزعکم فیہ الی ان من قرأ کلمۃ لایعد قارئا مع ان تلك الکلمۃ ایضا بعض القران قطعا فکذلك ھم یقولون ان من قرأ مادون الایۃ لایعد قارئا ایضا والا لکان ممتثلا لقولہ
کا قصد ہو اور ایك ایك کلمہ بول کر سکھائے توبرقول اصح جائز ہے۔ اس پر علامہ شامی نے لکھا : یہ حکم امام کرخی کے قول پر ہے۔ اور امام طحاوی کے قول پر نصف آیت سکھائے۔ نہایہ وغیرہا۔ اس پر بحرنے یہ کلام کیا کہ امام کرخی کے نزدیك آیت اور مادون الآیۃ یہ دونوں ہی عدم جواز میں برابر ہیں ۔ نہر میں اس کا یہ جواب دیا کہ مادون الآیۃ سے ان کی مراد اس قدر ہے جتنے سے اس کو قراء ت کرنے والا کہاجاسکے اور ایك ایك کلمہ سکھانے سے اس کو قراء ت کرنے والا شمارنہ کیا جائے گا اھ اھ۔
اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول اس سے کلام محقق کی تائید ہوتی ہے۔ اسی لئے کہ یہاں آپ حضرات کی نظر بھی اس طر ف نہیں کہ احادیث میں قلیل وکثیر کے درمیان کوئی تفریق نہیں بلکہ یہاں آپ نے صرف اس کا سہارا لیا ہے کہ جس نے ایك کلمہ پڑھااسے قاری شمار نہیں کیاجاتاباوجودیکہ وہ کلمہ بھی قطعا بعض قرآن ہے۔ اسی طرح وہ حضرات بھی کہتے ہیں کہ جس نے مادون الآیہ پڑھا اسے بھی قراء ت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتاورنہ وہ ارشاد
فـــــ : تطفل علی النھر و ش۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
تعالی فاقرؤا ماتیسر منہ ولزم جواز الصلاۃ بما دون الایۃ بالمعنی المذکور وھو خلاف ما اجمعنا علیہ اھ۔
ثم لما قال ش بقی ما لوکانت الکلمۃ ایۃ کص وق نقل نوح افندی عن بعضھم انہ ینبغی الجواز اقول : وینبغی عدمہ فی مدھا متان تأمل اھ۔
کتبت علیہ اقول : فـــــ و وجہہ علی ذلك ظاھر فانہ لایعد بھذا قارئا والا لجازت الصلوۃ بہ وبہ یظھر وجہ مابحث العلامۃ المحشی فی “ مدھامتان “ فانہ تجوز بہ الصلاۃ عندالامام علی ما مشی علیہ ملك العلماء فی البدائع والامام الاسبیجابی فی شرح المختصر وشرح الجامع الصغیر من دون حکایۃ
باری تعالی فاقرؤا ماتیسر منہ کی بجاآوری کرنے والا قرار پاتا اور مادون الآیہ بمعنی مذکورسے نماز کا جواز لازم ہوتا۔ حالانکہ یہ ہمارے اور آپ کے اجماعی حکم کے برخلاف ہے اھ۔
پھر علامہ شامی لکھتے ہیں : یہ صورت رہ گئی کہ اگر وہ کلمہ پوری ایك آیت ہوجیسے ص اور ق توکیا حکم ہےعلامہ نوح آفندی نے بعض حضرات سے نقل کیاہے کہ جواز ہونا چاہئے۔
میں کہتاہوں اور مدھامتان میں عدم جواز چاہئے۔ تأمل کرو اھ۔ اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول : اس قول کی بنیاد پر اس کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ وہ اتنی مقدار پڑھنے سے قراء ت کرنے والا شمارنہ ہوگا ورنہ اس سے نماز جائز ہوتی۔ اوراسی سے اس کی وجہ ظاہر ہوجاتی ہے جو علامہ شامی نے مدھامتان میں بحث کی ہے کیوں کہ اس سے حضرت امام کے نزدیك نماز ہوجاتی ہے جیسا کہ اس پر بدائع میں ملك العلماء اور شرح مختصر وشرح جامع صغیر میں امام اسبیجابی گئے ہیں اور مذہب امام
فـــــ : معروضۃ اخری علی العلامۃ ش۔
ثم لما قال ش بقی ما لوکانت الکلمۃ ایۃ کص وق نقل نوح افندی عن بعضھم انہ ینبغی الجواز اقول : وینبغی عدمہ فی مدھا متان تأمل اھ۔
کتبت علیہ اقول : فـــــ و وجہہ علی ذلك ظاھر فانہ لایعد بھذا قارئا والا لجازت الصلوۃ بہ وبہ یظھر وجہ مابحث العلامۃ المحشی فی “ مدھامتان “ فانہ تجوز بہ الصلاۃ عندالامام علی ما مشی علیہ ملك العلماء فی البدائع والامام الاسبیجابی فی شرح المختصر وشرح الجامع الصغیر من دون حکایۃ
باری تعالی فاقرؤا ماتیسر منہ کی بجاآوری کرنے والا قرار پاتا اور مادون الآیہ بمعنی مذکورسے نماز کا جواز لازم ہوتا۔ حالانکہ یہ ہمارے اور آپ کے اجماعی حکم کے برخلاف ہے اھ۔
پھر علامہ شامی لکھتے ہیں : یہ صورت رہ گئی کہ اگر وہ کلمہ پوری ایك آیت ہوجیسے ص اور ق توکیا حکم ہےعلامہ نوح آفندی نے بعض حضرات سے نقل کیاہے کہ جواز ہونا چاہئے۔
میں کہتاہوں اور مدھامتان میں عدم جواز چاہئے۔ تأمل کرو اھ۔ اس پر میں نے یہ حاشیہ لکھا : اقول : اس قول کی بنیاد پر اس کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ وہ اتنی مقدار پڑھنے سے قراء ت کرنے والا شمارنہ ہوگا ورنہ اس سے نماز جائز ہوتی۔ اوراسی سے اس کی وجہ ظاہر ہوجاتی ہے جو علامہ شامی نے مدھامتان میں بحث کی ہے کیوں کہ اس سے حضرت امام کے نزدیك نماز ہوجاتی ہے جیسا کہ اس پر بدائع میں ملك العلماء اور شرح مختصر وشرح جامع صغیر میں امام اسبیجابی گئے ہیں اور مذہب امام
فـــــ : معروضۃ اخری علی العلامۃ ش۔
حوالہ / References
جد الممتار علی رد المحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور ہند ۱ / ۱۱۸
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
خلاف فیہ علی مذھب الامام رضی الله تعالی عنہ وکل ذلك یؤید ماقدمنا فی تقریر کلام المحقق اھ ماعلقت علیہ
وھذا کلہ کلام معہم علی ماقرروا انا اقول : فـــــ و بالله التوفیق انما توجہ ھذا علی کلام النھروش لانھما حملا مذھب الکرخی علی ماال بہ الی قول الطحاوی فانا اثبتنا عرش التحقیق ان مایعدبہ قارئا لایجوز وفاقا ولو بعض ایۃ وقد شھدبہ کلام اولئك الاعلام الثلثۃ الموجھین قول ابی جعفرکماسمعت وھذا فخر الاسلام المختار قولہ مصرحابعدم جواز بعض ایۃ طویلۃ یکون کایۃ فان کان ابو الحسن ایضا لا یمنع الا مایعدبہ قارئا لم یبق
رضی اللہ تعالی عنہپر اس میں کسی خلاف کی کوئی حکایت بھی نہیں ۔ ان سب سے اس بیان کی تائید ہوتی ہے جو ہم نے کلام محقق علیہ الرحمہ کی تقریر میں پیش کیا اھ میرا حاشیہ ختم ہوا۔
یہ سب ان حضرات کی تقریرات کے مطابق ان کے ساتھ کلام تھا۔ اور میں کہتاہوں ۔ وبالله التوفیق۔ یہ اعتراض نہروشامی کے کلام پرصرف اس لئے متوجہ ہواکہ ان حضرات نے مذہب امام کرخی کو ایسے معنی پر محمول کیا جس سے وہ امام طحاوی کے قول کی طرف راجع ہوگیا۔ ہم نے تو قصر تحقیق کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ جتنے سے بھی اسے قرأت کرنے والا شمار کیاجائے اس کا پڑھنابالاتفاق جائز نہیں اگرچہ وہ بعض آیت ہی ہو۔ اوراس پرامام ابو جعفر طحاوی کے قول کی توجیہ فرمانے والے ان تینوں بزرگوں (فخر الاسلام رضی الدین حضرت محقق)کا کلام بھی شاہد ہے جیسا کہ ہم نے پیش کیا۔ امام طحاوی کاقول اختیار کرنے والے یہ فخر الاسلام ہیں جو اس بات کی تصریح فرمارہے ہیں کہ کسی لمبی آیت کا اتنا حصہ جو ایك آیت کی طرح ہو پڑھنا جائز نہیں ۔ تو
فـــــ : تطفل آخرعلی النھروثالث علی ش۔
وھذا کلہ کلام معہم علی ماقرروا انا اقول : فـــــ و بالله التوفیق انما توجہ ھذا علی کلام النھروش لانھما حملا مذھب الکرخی علی ماال بہ الی قول الطحاوی فانا اثبتنا عرش التحقیق ان مایعدبہ قارئا لایجوز وفاقا ولو بعض ایۃ وقد شھدبہ کلام اولئك الاعلام الثلثۃ الموجھین قول ابی جعفرکماسمعت وھذا فخر الاسلام المختار قولہ مصرحابعدم جواز بعض ایۃ طویلۃ یکون کایۃ فان کان ابو الحسن ایضا لا یمنع الا مایعدبہ قارئا لم یبق
رضی اللہ تعالی عنہپر اس میں کسی خلاف کی کوئی حکایت بھی نہیں ۔ ان سب سے اس بیان کی تائید ہوتی ہے جو ہم نے کلام محقق علیہ الرحمہ کی تقریر میں پیش کیا اھ میرا حاشیہ ختم ہوا۔
یہ سب ان حضرات کی تقریرات کے مطابق ان کے ساتھ کلام تھا۔ اور میں کہتاہوں ۔ وبالله التوفیق۔ یہ اعتراض نہروشامی کے کلام پرصرف اس لئے متوجہ ہواکہ ان حضرات نے مذہب امام کرخی کو ایسے معنی پر محمول کیا جس سے وہ امام طحاوی کے قول کی طرف راجع ہوگیا۔ ہم نے تو قصر تحقیق کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ جتنے سے بھی اسے قرأت کرنے والا شمار کیاجائے اس کا پڑھنابالاتفاق جائز نہیں اگرچہ وہ بعض آیت ہی ہو۔ اوراس پرامام ابو جعفر طحاوی کے قول کی توجیہ فرمانے والے ان تینوں بزرگوں (فخر الاسلام رضی الدین حضرت محقق)کا کلام بھی شاہد ہے جیسا کہ ہم نے پیش کیا۔ امام طحاوی کاقول اختیار کرنے والے یہ فخر الاسلام ہیں جو اس بات کی تصریح فرمارہے ہیں کہ کسی لمبی آیت کا اتنا حصہ جو ایك آیت کی طرح ہو پڑھنا جائز نہیں ۔ تو
فـــــ : تطفل آخرعلی النھروثالث علی ش۔
حوالہ / References
جد الممتار علی رد المحتار کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارکپور (ہند)۱ / ۱۱۸
الخلاف فالصحیح مانص علیہ فی الحلیۃ وتبعہ البحر ان منع الکرخی مبقی علی صرافۃ ارسالہ ومحوضۃ اطلاقہ بعد ان تکون القرأۃ بقصد القران وقد سمعت نص امیرالمؤمنین المرتضی رضی الله تعالی عنہ ولا حرفاواحدا۔
قال فی الحلیۃ المذکور فی النھایۃ وغیرھا اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین علی قول الکرخی وعلی قول الطحاوی تعلم نصف ایۃ انتھی قال قلت وفی التفریع المذکور علی قول الکرخی نظر فانہ قائل باستوا الایۃ وما دونھا فی المنع اذا کان بقصد القران کما تقدم فھی حینئذعندہ ممنوعۃ من ذکر الکلمۃ بقصدالقران لصدق مادون الایۃ علیھاوھذا اذا لم تکن الکلمۃ ایۃ فان کانت کمد ھامتان فالمنع اظھر
اگر امام ابو الحسن کرخی بھی صرف اسی کو ناجائزکہتے ہیں جس سے اس کو قرأت کرنے والاشمار کیا جائے تب توکوئی اختلاف ہی نہیں رہ جاتا۔ توصحیح وہ ہے جس کی تصریح صاحب حلیہ نے فرمائی اوربحر نے ان کا اتباع کیا کہ امام کرخی کی ممانعت اپنے خالص اطلاق وعدم تقیید پر باقی ہے اس شرط کے ساتھ کہ قرأت بہ نیت قرآن ہو اور امیر المومنین علی المرتضے رضی اللہ تعالی عنہکا نص سن چکے کہ بحالت جنابت “ ایك حرف بھی “ نہ پڑھو۔
حلیہ میں کہا : نہایہ وغیرہا میں مذکور ہے کہ جب معلمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایك ایك کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے یہ حکم امام کرخی کے قول پر ہے۔ اورامام طحاوی کے قول پر یہ ہے کہ نصف آیت سکھائے انتہی۔ صاحب حلیہ لکھتے ہیں : میں کہتاہوں امام کرخی کے قول پر تفریع مذکور محل نظر ہے اس لئے کہ وہ اس کے قائل ہیں کہ آیت اورمادون الآیہ دونوں ہی کو بقصد قرآن پڑھنامنع ہے جیساکہ گزرا توان کے نزدیك حائضہ کو بہ قصد قرآن ایك کلمہ بھی زبان پرلانے سے ممانعت ہوگی اس لئے کہ مادون الآیہ اس پر بھی صادق ہے۔ یہ گفتگو اس صورت میں ہے جب کہ ایك کلمہ کامل آیت نہ ہو اگرایسا ہوجیسے مدهآ متن(۶۴)تو ممانعت اور زیادہ ظاہر ہے۔
قال فی الحلیۃ المذکور فی النھایۃ وغیرھا اذا حاضت المعلمۃ فینبغی لہا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین کلمتین علی قول الکرخی وعلی قول الطحاوی تعلم نصف ایۃ انتھی قال قلت وفی التفریع المذکور علی قول الکرخی نظر فانہ قائل باستوا الایۃ وما دونھا فی المنع اذا کان بقصد القران کما تقدم فھی حینئذعندہ ممنوعۃ من ذکر الکلمۃ بقصدالقران لصدق مادون الایۃ علیھاوھذا اذا لم تکن الکلمۃ ایۃ فان کانت کمد ھامتان فالمنع اظھر
اگر امام ابو الحسن کرخی بھی صرف اسی کو ناجائزکہتے ہیں جس سے اس کو قرأت کرنے والاشمار کیا جائے تب توکوئی اختلاف ہی نہیں رہ جاتا۔ توصحیح وہ ہے جس کی تصریح صاحب حلیہ نے فرمائی اوربحر نے ان کا اتباع کیا کہ امام کرخی کی ممانعت اپنے خالص اطلاق وعدم تقیید پر باقی ہے اس شرط کے ساتھ کہ قرأت بہ نیت قرآن ہو اور امیر المومنین علی المرتضے رضی اللہ تعالی عنہکا نص سن چکے کہ بحالت جنابت “ ایك حرف بھی “ نہ پڑھو۔
حلیہ میں کہا : نہایہ وغیرہا میں مذکور ہے کہ جب معلمہ حائض ہو تو اسے چاہئے کہ بچوں کو ایك ایك کلمہ سکھائے اور دوکلموں کے درمیان فصل کردے یہ حکم امام کرخی کے قول پر ہے۔ اورامام طحاوی کے قول پر یہ ہے کہ نصف آیت سکھائے انتہی۔ صاحب حلیہ لکھتے ہیں : میں کہتاہوں امام کرخی کے قول پر تفریع مذکور محل نظر ہے اس لئے کہ وہ اس کے قائل ہیں کہ آیت اورمادون الآیہ دونوں ہی کو بقصد قرآن پڑھنامنع ہے جیساکہ گزرا توان کے نزدیك حائضہ کو بہ قصد قرآن ایك کلمہ بھی زبان پرلانے سے ممانعت ہوگی اس لئے کہ مادون الآیہ اس پر بھی صادق ہے۔ یہ گفتگو اس صورت میں ہے جب کہ ایك کلمہ کامل آیت نہ ہو اگرایسا ہوجیسے مدهآ متن(۶۴)تو ممانعت اور زیادہ ظاہر ہے۔
فان قلت لعل مراد ھذا القائل التعلیم المذکور بنیۃ غیر قراء ۃ القران قلت ظاھران الکرخی حینئذ لیس بمشترط ان یکون ذلك کلمۃ بل یجیزہ ولواکثر من نصف ایۃ بعد ان لایکون ایۃ نعم لعل التقیید بالکلمۃ لکونہ الغالب فی التعلیم اولان الضرورۃ تندفع فلا حاجۃ الی فتح باب المزید علیہ اھ ۔
اقول : ولہ عـــــہ ملمح ثالث مثل الاول اوحسن وھو ان المرکب من کلمتین ربما لاتجد فیہ نیۃ غیرالقران کقولہ تعالی انا الله وقولہ تعالی فاعبدنی وقولہ تعالی عصى ادم فان من قالہ فی غیر التلاوۃ
اگر یہ سوال ہو کہ شاید اس قائل کی مراد یہ ہوکہ تعلیم مذکور قرأت قرآن کے علاوہ کسی اورنیت سے ہو۔ تومیں کہوں گا ظاہرہے کہ ایسی صورت میں امام کرخی ایك کلمہ ہونے کی شرط نہیں رکھتے بلکہ اسے جائز کہتے ہیں اگرچہ نصف آیت سے زیادہ ہو اس کے بعدکی پوری آیت نہ ہو۔ ہاں ایك ایك کلمہ کی قید شاید اس لئے ہو کہ سکھانے میں عمومایہی ہوتاہے یا اس لئے کہ اتنے سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو اس سے زیادہ کا دروازہ کھولنے کی حاجت نہیں اھ۔
اقول : اس کی ایك تیسری صورت بھی ہے جو اول کے مثل یا اس سے بھی خوب ترہے۔ وہ یہ کہ دو کلموں کے مرکب میں بارہاایسا ہوگا کہ غیر قرآن کی نیت ہی نہ ہو پائے گی جیسے ارشاد باری تعالی : انا الله (میں خدا ہوں ) اور یہ ارشاد : فاعبدنی (تومیری عبادت کر) اوریہ فرمان : عصى ادم کہ غیر تلاوت میں
عـــــہ : ذکرتہ مما شاۃ وسیاتی ان الوجہ عندی الثانی اھ منہ
عـــــہ : میری یہ روش ہم قدمی کے طورپرہے ورنہ آگے ذکر ہوگا کہ میرے نزدیك باوجہ ثا نی ہے۱۲منہ(ت)
اقول : ولہ عـــــہ ملمح ثالث مثل الاول اوحسن وھو ان المرکب من کلمتین ربما لاتجد فیہ نیۃ غیرالقران کقولہ تعالی انا الله وقولہ تعالی فاعبدنی وقولہ تعالی عصى ادم فان من قالہ فی غیر التلاوۃ
اگر یہ سوال ہو کہ شاید اس قائل کی مراد یہ ہوکہ تعلیم مذکور قرأت قرآن کے علاوہ کسی اورنیت سے ہو۔ تومیں کہوں گا ظاہرہے کہ ایسی صورت میں امام کرخی ایك کلمہ ہونے کی شرط نہیں رکھتے بلکہ اسے جائز کہتے ہیں اگرچہ نصف آیت سے زیادہ ہو اس کے بعدکی پوری آیت نہ ہو۔ ہاں ایك ایك کلمہ کی قید شاید اس لئے ہو کہ سکھانے میں عمومایہی ہوتاہے یا اس لئے کہ اتنے سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو اس سے زیادہ کا دروازہ کھولنے کی حاجت نہیں اھ۔
اقول : اس کی ایك تیسری صورت بھی ہے جو اول کے مثل یا اس سے بھی خوب ترہے۔ وہ یہ کہ دو کلموں کے مرکب میں بارہاایسا ہوگا کہ غیر قرآن کی نیت ہی نہ ہو پائے گی جیسے ارشاد باری تعالی : انا الله (میں خدا ہوں ) اور یہ ارشاد : فاعبدنی (تومیری عبادت کر) اوریہ فرمان : عصى ادم کہ غیر تلاوت میں
عـــــہ : ذکرتہ مما شاۃ وسیاتی ان الوجہ عندی الثانی اھ منہ
عـــــہ : میری یہ روش ہم قدمی کے طورپرہے ورنہ آگے ذکر ہوگا کہ میرے نزدیك باوجہ ثا نی ہے۱۲منہ(ت)
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی
القرآن الکریم ۲۸ /۳۰
القرآن الکریم ۲۰ /۱۴
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۱
القرآن الکریم ۲۸ /۳۰
القرآن الکریم ۲۰ /۱۴
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۱
فقد غوی بخلاف المفردات القرانیۃ فلیس شیئ منھا بحیث یتعین للقرانیۃ ولا یصلح الدخول فی مجاری المحاورات الانسانیۃ فذکر ماھو اعم واکفی ولا یحتاج الی ادراك المعنی ولا غائلۃ فیہ اصلا حتی للجہال لاسیما النساء المخدرات فی الجھال ۔
وھذا(ای افادہ فی الحلیۃ ۱۲) کما تری کلام حسن من الحسن بمکان غیر انی اقول : لاوجہ فــــ لقولہ بعد ان لا یکون ایۃ فان ماکان بنیۃ غیر القرآن لایتقید بما دون ایۃ کما تقدم وکل من ایۃ وما دونھما قد یصلح لنیۃ غیرہ وقدلا کایۃ الکرسی و الابعاض التی تلونا فما صلح صح ولو ایۃ وما لا فلا ولو دونھا۔
وما بحث فی الفاتحۃ وعدم تغیرھا بنیۃ الثناء والدعاء ان الخصوصیۃ القرانیۃ لازمۃ لہا قطعا کیف لاو
جو اس طرح کہے گمراہ ہوجائے اور قرآنی مفردات میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کا قرآن ہونا ہی متعین ہواور انسانی بول چال کے مقامات میں آنے کے قابل نہ ہوتووہ ذکرکیا جو زیادہ عام اور زیادہ کافی ہواور جس میں ادراك معنی کی حاجت نہ ہو اوراس میں کوئی خرابی نہیں یہاں تك کہ جہال خصوصا پردہ نشین عورتوں کے لئے بھی۔
صاحب حلیہ نے جو افادہ کیا بہت عمدہ وباوقعت کلام ہے مگر یہ کہ میں کہتا ہوں “ اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو “ یہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ اس لئے کہ جو غیر قرآن کی نیت سے ہو اس میں یہ قید نہیں کہ ایك آیت سے کم ہو اور آیت ومادون الایۃ ہر ایك کبھی غیر قرآن کی نیت کے قابل ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا جیسے آیۃ الکرسی اور وہ بعض ٹکڑے جو ہم نے تلاوت کئے۔ تو جو غیر قرآن کی نیت کے قابل ہوجائے اس کا پڑھنا صحیح ہے اگرچہ ایك آیت ہو اور جوایسانہ ہو اسے پڑھنا درست نہیں اگرچہ ایك آیت سے کم ہو۔
اور صاحب حلیہ نے سورہ فاتحہ سے متعلق جو بحث کی ہے اور کہا ہے کہ ثنا ودعا کی نیت سے اس میں تغیر نہیں ہوتا اس لئے کہ خصوصیت قرآنیہ اسے قطعا لازم ہے۔ کیوں کہ نہ ہو جب کہ
فــــــ : تطفل علی الحلیۃ۔
وھذا(ای افادہ فی الحلیۃ ۱۲) کما تری کلام حسن من الحسن بمکان غیر انی اقول : لاوجہ فــــ لقولہ بعد ان لا یکون ایۃ فان ماکان بنیۃ غیر القرآن لایتقید بما دون ایۃ کما تقدم وکل من ایۃ وما دونھما قد یصلح لنیۃ غیرہ وقدلا کایۃ الکرسی و الابعاض التی تلونا فما صلح صح ولو ایۃ وما لا فلا ولو دونھا۔
وما بحث فی الفاتحۃ وعدم تغیرھا بنیۃ الثناء والدعاء ان الخصوصیۃ القرانیۃ لازمۃ لہا قطعا کیف لاو
جو اس طرح کہے گمراہ ہوجائے اور قرآنی مفردات میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کا قرآن ہونا ہی متعین ہواور انسانی بول چال کے مقامات میں آنے کے قابل نہ ہوتووہ ذکرکیا جو زیادہ عام اور زیادہ کافی ہواور جس میں ادراك معنی کی حاجت نہ ہو اوراس میں کوئی خرابی نہیں یہاں تك کہ جہال خصوصا پردہ نشین عورتوں کے لئے بھی۔
صاحب حلیہ نے جو افادہ کیا بہت عمدہ وباوقعت کلام ہے مگر یہ کہ میں کہتا ہوں “ اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو “ یہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ اس لئے کہ جو غیر قرآن کی نیت سے ہو اس میں یہ قید نہیں کہ ایك آیت سے کم ہو اور آیت ومادون الایۃ ہر ایك کبھی غیر قرآن کی نیت کے قابل ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا جیسے آیۃ الکرسی اور وہ بعض ٹکڑے جو ہم نے تلاوت کئے۔ تو جو غیر قرآن کی نیت کے قابل ہوجائے اس کا پڑھنا صحیح ہے اگرچہ ایك آیت ہو اور جوایسانہ ہو اسے پڑھنا درست نہیں اگرچہ ایك آیت سے کم ہو۔
اور صاحب حلیہ نے سورہ فاتحہ سے متعلق جو بحث کی ہے اور کہا ہے کہ ثنا ودعا کی نیت سے اس میں تغیر نہیں ہوتا اس لئے کہ خصوصیت قرآنیہ اسے قطعا لازم ہے۔ کیوں کہ نہ ہو جب کہ
فــــــ : تطفل علی الحلیۃ۔
ھو معجزیقع بہ التحدی فلا یجری فی کل ایۃ کما لایخفی فلا ادری ما الحامل لہ علی التقیید بھا مع انہ ھو الناقل فـــــ۱ عن الخلاصۃ معتمدا علیہ جواز مثل ثم نظر ولم یولد ثم بحثہ فی مثل الفاتحۃ وان کان لہ تماسك فما کان لبحث ان یقضی علی النص۔
ثم ماذکرہ فـــــ۲ ھھنا سؤالا وتر جیا ان مراد الکرخی فی التعلیم مااذا نوی غیر القران قد جزم بہ من قبل قائلا ینبغی ان یشترط فیہ (ای فی التعلیم) ایضا عدم نیۃ القران لما سنذکرہ عن قریب معنی واثرا اھ وقال عند قول الماتن لایکرہ التھجی بالقران والتعلیم للصبیان حرفا حرفا ھذا فیما یظھر اذا لم ینوبہ القران اما اذا نواہ بہ فانہ یکرہ اھ۔
یہ وہ قدر معجز ہے جس سے تحدی واقع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بحث ہر آیت میں جاری نہیں ہوتی تو پتہ نہیں کہ آیت کی قید لگانے پر ان کے لئے باعث کیا ہے(یعنی ان کے اس قول میں : اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو) باجودیکہ خلاصہ سے انہوں نے اعتماد کے ساتھ خود ہی نقل کیا ہے کہ ثم نظر اورلم یولد کے مثل میں جواز ہے۔ پھر سورہ فاتحہ کے مثل میں ان کی بحث کواگر کچھ سہارا بھی مل جائے تو بھی کوئی بحث نص کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتی۔
پھر یہاں سوال اورشاید کے طورپر جوبات ذکر کی ہے کہ “ تعلیم میں امام کرخی کی مراد غیر قرآن کا قصد ہونے کی صورت میں ہے “ اس کو اس سے پہلے بطورجزم بیان کیا ہے اورکہا ہے کہ تعلیم میں بھی نیت قرآن نہ ہوناچاہئے اس کی وجہ ہم معنی واثر کے لحاظ سے آگے بیان کریں گے اھ۔ ماتن کی عبارت تھی : “ قرآن کی تہجی اور بچوں کوایك ایك حرف سکھانا مکروہ نہیں “ اس پر حلیہ میں لکھا : بظاہر یہ حکم اسی صورت میں ہے جب نیت قرآن نہ ہو اور اگر اس سے قرآن کی نیت ہو تومکروہ ہے اھ۔
فــــ۱ : تطفل آخرعلیہا۔
فــــ۲ : مسئلہ : تعلیم کی نیت سے قرآن مجیدقرآن ہی رہے گاصرف اتنی نیت جنب وحائض کوکافی نہیں ۔
ثم ماذکرہ فـــــ۲ ھھنا سؤالا وتر جیا ان مراد الکرخی فی التعلیم مااذا نوی غیر القران قد جزم بہ من قبل قائلا ینبغی ان یشترط فیہ (ای فی التعلیم) ایضا عدم نیۃ القران لما سنذکرہ عن قریب معنی واثرا اھ وقال عند قول الماتن لایکرہ التھجی بالقران والتعلیم للصبیان حرفا حرفا ھذا فیما یظھر اذا لم ینوبہ القران اما اذا نواہ بہ فانہ یکرہ اھ۔
یہ وہ قدر معجز ہے جس سے تحدی واقع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بحث ہر آیت میں جاری نہیں ہوتی تو پتہ نہیں کہ آیت کی قید لگانے پر ان کے لئے باعث کیا ہے(یعنی ان کے اس قول میں : اس کے بعد کہ پوری آیت نہ ہو) باجودیکہ خلاصہ سے انہوں نے اعتماد کے ساتھ خود ہی نقل کیا ہے کہ ثم نظر اورلم یولد کے مثل میں جواز ہے۔ پھر سورہ فاتحہ کے مثل میں ان کی بحث کواگر کچھ سہارا بھی مل جائے تو بھی کوئی بحث نص کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتی۔
پھر یہاں سوال اورشاید کے طورپر جوبات ذکر کی ہے کہ “ تعلیم میں امام کرخی کی مراد غیر قرآن کا قصد ہونے کی صورت میں ہے “ اس کو اس سے پہلے بطورجزم بیان کیا ہے اورکہا ہے کہ تعلیم میں بھی نیت قرآن نہ ہوناچاہئے اس کی وجہ ہم معنی واثر کے لحاظ سے آگے بیان کریں گے اھ۔ ماتن کی عبارت تھی : “ قرآن کی تہجی اور بچوں کوایك ایك حرف سکھانا مکروہ نہیں “ اس پر حلیہ میں لکھا : بظاہر یہ حکم اسی صورت میں ہے جب نیت قرآن نہ ہو اور اگر اس سے قرآن کی نیت ہو تومکروہ ہے اھ۔
فــــ۱ : تطفل آخرعلیہا۔
فــــ۲ : مسئلہ : تعلیم کی نیت سے قرآن مجیدقرآن ہی رہے گاصرف اتنی نیت جنب وحائض کوکافی نہیں ۔
حوالہ / References
حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی
حلیۃالمحلی شرح منیۃالمصلی
اقول : وھذا ھو الحق الناصع فمجرد نیۃ التعلیم غیر مغیر فما تعلیم شیئ الاالقاؤہ علی غیرہ لیحصل لہ العلم بہ فاذا قرأ ونوی تعلیم القران فقد اراد قراء ۃ القران لیلقیہ ویلقنہ فنیۃ التعلیم لایغیرہ بل یقررہ فما وقع فـــــ۱ فی الدرالمختار من عدہ نیۃ التعلیم فی نیات غیر القران لیس فی محلہ فلیتنبہ۔
فانقلت نیۃ التعلیم ان لم تکن مغیرۃ فما بال فتح المصلی علی غیر امامہ یفسد صلاتہ وما ھو الا التعلیم وقراء ۃ القران لاتفسد الصلاۃ قلت لیس الفساد لان القران تغیر بنیۃ الفتح بل لان الفتح فـــــ۲علی غیر الامام لیس من اعمال الصلاۃ وھو عمل کثیر فیفسد الا تری فـــــ۳ ان المصلی ان قیل لہ
اقول : یہی بے داغ خالص حق ہے۔ توصرف نیت تعلیم سے کوئی تغیر نہیں ہوتاکیوں کہ کسی شے کی تعلیم یہی ہے کہ اس شے کو دوسرے کے سامنے اس لئے پیش کرے کہ اسے اس کا علم حاصل ہوجائے۔ تو جب اس نے پڑھا اور تعلیم قرآن کی نیت کی تو یہ متحقق ہوگیا کہ دوسرے کو بتانے سکھانے کے لئے اس نے قرآن پڑھنے کا قصد کیا۔ تو نیت تعلیم سے نیت قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کی اور تائید و تاکید ہوتی ہے۔ تو درمختار میں نیت تعلیم کو غیر قرآن کی نیتوں میں شمار کرانا بے جاہے اس پر متنبہ رہنا چاہئے۔
اگر سوال ہو کہ جب نیت تعلیم سے کوئی تغیر نہیں ہوتا توکیا وجہ ہے کہ نمازی اگر اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دے دے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے حالانکہ وہ بھی تعلیم ہی ہے اور قرأت قرآن مفسد نماز نہیں میں کہوں گا فساد نماز کا سبب یہ نہیں ہے کہ لقمہ دینے کی نیت سے قرآن میں تغیر ہوگیا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر امام کو لقمہ دینا اعمال نماز میں نہیں اوریہ عمل کثیرہے اس لےے نماز کو فاسد کردے گا۔ دیکھو اگر مصلی سے کہا جائے فلاں
فـــــ۱ : تطفل عل الدرالمختار۔
فـــــ۲ : مسئلہ : نمازی اگراپنے امام کے سواکسی کوقرآن مجید میں لقمہ دے گانمازجاتی رہے گی
فـــــ۳ : مسئلہ : نمازی نمازمیں ہے اس وقت کسی نے کہافلاں آیت یاسورت پڑھ۔ اس نے اس کاکہاماننے کی نیت سے پڑھی نمازجاتی رہے گی۔
فانقلت نیۃ التعلیم ان لم تکن مغیرۃ فما بال فتح المصلی علی غیر امامہ یفسد صلاتہ وما ھو الا التعلیم وقراء ۃ القران لاتفسد الصلاۃ قلت لیس الفساد لان القران تغیر بنیۃ الفتح بل لان الفتح فـــــ۲علی غیر الامام لیس من اعمال الصلاۃ وھو عمل کثیر فیفسد الا تری فـــــ۳ ان المصلی ان قیل لہ
اقول : یہی بے داغ خالص حق ہے۔ توصرف نیت تعلیم سے کوئی تغیر نہیں ہوتاکیوں کہ کسی شے کی تعلیم یہی ہے کہ اس شے کو دوسرے کے سامنے اس لئے پیش کرے کہ اسے اس کا علم حاصل ہوجائے۔ تو جب اس نے پڑھا اور تعلیم قرآن کی نیت کی تو یہ متحقق ہوگیا کہ دوسرے کو بتانے سکھانے کے لئے اس نے قرآن پڑھنے کا قصد کیا۔ تو نیت تعلیم سے نیت قرآن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کی اور تائید و تاکید ہوتی ہے۔ تو درمختار میں نیت تعلیم کو غیر قرآن کی نیتوں میں شمار کرانا بے جاہے اس پر متنبہ رہنا چاہئے۔
اگر سوال ہو کہ جب نیت تعلیم سے کوئی تغیر نہیں ہوتا توکیا وجہ ہے کہ نمازی اگر اپنے امام کے علاوہ کسی اور کو لقمہ دے دے تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے حالانکہ وہ بھی تعلیم ہی ہے اور قرأت قرآن مفسد نماز نہیں میں کہوں گا فساد نماز کا سبب یہ نہیں ہے کہ لقمہ دینے کی نیت سے قرآن میں تغیر ہوگیا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر امام کو لقمہ دینا اعمال نماز میں نہیں اوریہ عمل کثیرہے اس لےے نماز کو فاسد کردے گا۔ دیکھو اگر مصلی سے کہا جائے فلاں
فـــــ۱ : تطفل عل الدرالمختار۔
فـــــ۲ : مسئلہ : نمازی اگراپنے امام کے سواکسی کوقرآن مجید میں لقمہ دے گانمازجاتی رہے گی
فـــــ۳ : مسئلہ : نمازی نمازمیں ہے اس وقت کسی نے کہافلاں آیت یاسورت پڑھ۔ اس نے اس کاکہاماننے کی نیت سے پڑھی نمازجاتی رہے گی۔
اقرا ایۃ کذا فقرأ امتثالا لامرہ فسدت صلاتہ مع انہ لم یقرأ الا القران۔ وبالله التوفیق
بقی الکلام علی توجیہ الامام ابن الھمام وما ذکرنا لہ من تقریر المرام فلنعم الجواب عنہ ما نقلہ فی الحلیۃ بعد الجواب الاول المذکور اذقال مع انہ قداجیب ایضا بالاخذ بالاحتیاط فیھما وھو عدم الجواز فی الصلاۃ والمنع للجنب اھ۔
اقول : تقریرہ ان الامام وصاحبیہ رضی الله تعالی عنھم اختلفوا فی فرض القراء ۃ فقالا ثلث قصاراوایۃ طویلۃ ای مایعدل ثلثا لانہ لایسمی فی العرف قارئا بدونہ وقال بل ایۃ ای اذا لم تکن مما یجری فی تحاور الناس ویشبہ تکلمھم فیما بینھم کثم نظر فانھا اذا کانت کذلك عدقارئا عرفا بخلاف مادون الایۃ بالمعنی الذی اعطینا من قبل فھو وان کان بہ قارئا حقیقۃ لایعد قارئا عرفا فتطرقت الشبھۃ
آیت پڑھو اس نے اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے پڑھاتو اس کی نماز فاسد ہوگئی باوجودیکہ اس نے قرآن ہی پڑھا۔ وبالله التوفیق۔
اب اس پر کلام رہ گیا جو امام ابن الہمام نے توجیہ کی اورہم نے جو ان کے مقصد کی تقریر کی تواس کا بہت عمدہ جواب وہ ہے جو حلیہ میں مذکورہ جواب اول کے بعدنقل کیا وہ لکھتے ہیں : باجودیکہ یہ جواب بھی دیاگیا ہے کہ دونوں میں احتیاط پر عمل ہے وہ یہ کہ نماز میں عدم جواز ہے اورجنب کے لئے پڑھنے کی ممانعت ہے اھ۔
اقول : اس کی تقریر یہ ہے کہ حضرت امام اور صاحبین رضی اللہ تعالی عنہمکے درمیان فرض قرأت کی مقدار میں اختلاف ہے صاحبین نے فرمایا تین چھوٹی آیتوں یا تین آیتوں کے برابر ایك لمبی آیت کی قرأت فرض ہے اس لئے کہ عرف میں اس کے بغیر اسے قرأت کرنے والانہیں کہاجاتا اورامام نے فرمایا بلکہ ایك آیت پڑھنا فرض ہے جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو جو لوگوں کی بول چال میں جاری ہے اورجو ان کی باہمی گفتگوکے مشابہ ہے جیسے “ ثم نظر “ ۔ کیوں کہ جب اس شرط کے ساتھ کوئی آیت پڑھے گاتو عرفا اسے قرأت کرنے والا شمار کیا جائے گا بخلاف اس کے جو ایك آیت سے کم ہو اسی معنی میں جوہم نے پہلے بیان کیا۔ تو وہ اس کی وجہ سے اگرچہ حقیقۃ قرأت کرنے والا ہے مگر عرفا اسے قرأت کرنے والا
بقی الکلام علی توجیہ الامام ابن الھمام وما ذکرنا لہ من تقریر المرام فلنعم الجواب عنہ ما نقلہ فی الحلیۃ بعد الجواب الاول المذکور اذقال مع انہ قداجیب ایضا بالاخذ بالاحتیاط فیھما وھو عدم الجواز فی الصلاۃ والمنع للجنب اھ۔
اقول : تقریرہ ان الامام وصاحبیہ رضی الله تعالی عنھم اختلفوا فی فرض القراء ۃ فقالا ثلث قصاراوایۃ طویلۃ ای مایعدل ثلثا لانہ لایسمی فی العرف قارئا بدونہ وقال بل ایۃ ای اذا لم تکن مما یجری فی تحاور الناس ویشبہ تکلمھم فیما بینھم کثم نظر فانھا اذا کانت کذلك عدقارئا عرفا بخلاف مادون الایۃ بالمعنی الذی اعطینا من قبل فھو وان کان بہ قارئا حقیقۃ لایعد قارئا عرفا فتطرقت الشبھۃ
آیت پڑھو اس نے اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے پڑھاتو اس کی نماز فاسد ہوگئی باوجودیکہ اس نے قرآن ہی پڑھا۔ وبالله التوفیق۔
اب اس پر کلام رہ گیا جو امام ابن الہمام نے توجیہ کی اورہم نے جو ان کے مقصد کی تقریر کی تواس کا بہت عمدہ جواب وہ ہے جو حلیہ میں مذکورہ جواب اول کے بعدنقل کیا وہ لکھتے ہیں : باجودیکہ یہ جواب بھی دیاگیا ہے کہ دونوں میں احتیاط پر عمل ہے وہ یہ کہ نماز میں عدم جواز ہے اورجنب کے لئے پڑھنے کی ممانعت ہے اھ۔
اقول : اس کی تقریر یہ ہے کہ حضرت امام اور صاحبین رضی اللہ تعالی عنہمکے درمیان فرض قرأت کی مقدار میں اختلاف ہے صاحبین نے فرمایا تین چھوٹی آیتوں یا تین آیتوں کے برابر ایك لمبی آیت کی قرأت فرض ہے اس لئے کہ عرف میں اس کے بغیر اسے قرأت کرنے والانہیں کہاجاتا اورامام نے فرمایا بلکہ ایك آیت پڑھنا فرض ہے جب کہ وہ اس میں سے نہ ہو جو لوگوں کی بول چال میں جاری ہے اورجو ان کی باہمی گفتگوکے مشابہ ہے جیسے “ ثم نظر “ ۔ کیوں کہ جب اس شرط کے ساتھ کوئی آیت پڑھے گاتو عرفا اسے قرأت کرنے والا شمار کیا جائے گا بخلاف اس کے جو ایك آیت سے کم ہو اسی معنی میں جوہم نے پہلے بیان کیا۔ تو وہ اس کی وجہ سے اگرچہ حقیقۃ قرأت کرنے والا ہے مگر عرفا اسے قرأت کرنے والا
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
فی براء ۃ الذمۃ من قبل العرف ھکذا قررہ ھذا المحقق نفسہ وقال قولہ تعالی ماتیسر مقتضاہ الجواز بدون الایۃ وھو قول ابن عباس فانہ قال اقرأ ماتیسر معك من القران ولیس شیئ من القران بقلیل الا ان مادون الایۃ خارج من النص اذا المطلق ینصرف الی الکامل فی الماھیۃ ولا یجزم بکونہ قارئا عرفا بہ فلم یخرج عن عہدۃ مالزمہ بیقین اذلم یجزم بکونہ من افرادہ فلم تبرء بہ الذمۃ خصوصا والموضع موضع الاحتیاط بخلاف الایۃ اذیطلق علیہ قارئا بھا فالخلاف (ای بین الامام وصاحبیہ) مبنی علی الخلاف فی قیام العرف فی عدہ قارئا بالقصیرۃ قالا لاوھو یمنع وفی الاسراف ماقالاہ احتیاط فان قولہ لم یلد ثم نظر لایتعارف قرانا وھو قران حقیقۃ فمن حیث الحقیقۃ حرم علی الحائض والجنب
شمار نہیں کیا جاتا۔ توعرف کی جہت سے اس کے بری الذمہ ہونے میں شبہہ راہ پاگیا۔ اسی طرح اس کی خود محقق حلبی نے تقریر کی ہے اورفرمایا ہے کہ باری تعالی کے ارشاد ماتیسر کا تقاضا یہ ہے کہ مادون الآیہ سے بھی نماز ہوجائے اوریہی حضرت ابن عباس کا قول ہے انہوں نے فرمایا تمہیں قرآن سے جو بھی میسر آئے پڑھو اور قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں ۔ مگر یہ ہے کہ مادون الآیہ نص سے خارج ہے اس لئے کہ مطلق اسی کی طرف پھرتا ہے جو ماہیت میں کامل ہو اور مادون الآیہ سے اس کوعرفا قرأت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتا تواس پر جو لازم ہوا اس سے وہ یقینی طور پر عہدہ بر آنہ ہوا اس لئے کہ اس پر جزم نہ ہوا کہ یہ مقدار قدر لازم کے افراد سے ہے تواتنے سے وہ بری الذمہ نہ ہوا خصوصا جب کہ یہ مقام احتیاط ہے بخلاف کامل آیت کے کہ اسے پڑھنے کی وجہ سے اس پر قرأت کرنے والے کا اطلاق ہوتاہے۔ (توحضرت امام اور صاحبین کے درمیان) اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ چھوٹی آیت پڑھنے سے عرفا اسے قرأت کرنے والاشمار کیا جاتا ہے یا نہیں صاحبین نے فرمایا : نہیں اورامام نے فرمایا : ہاں ۔ اوراسرار میں ہے کہ قول صاحبین میں احتیاط ہے اس لئے کہ ارشاد باری لم یلد۔ اور۔ ثم نظر۔ بطور قرآن متعارف نہیں اور درحقیقت یہ قرآن ہے ۔ تو حقیقت کا اعتبار
شمار نہیں کیا جاتا۔ توعرف کی جہت سے اس کے بری الذمہ ہونے میں شبہہ راہ پاگیا۔ اسی طرح اس کی خود محقق حلبی نے تقریر کی ہے اورفرمایا ہے کہ باری تعالی کے ارشاد ماتیسر کا تقاضا یہ ہے کہ مادون الآیہ سے بھی نماز ہوجائے اوریہی حضرت ابن عباس کا قول ہے انہوں نے فرمایا تمہیں قرآن سے جو بھی میسر آئے پڑھو اور قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں ۔ مگر یہ ہے کہ مادون الآیہ نص سے خارج ہے اس لئے کہ مطلق اسی کی طرف پھرتا ہے جو ماہیت میں کامل ہو اور مادون الآیہ سے اس کوعرفا قرأت کرنے والا شمار نہیں کیاجاتا تواس پر جو لازم ہوا اس سے وہ یقینی طور پر عہدہ بر آنہ ہوا اس لئے کہ اس پر جزم نہ ہوا کہ یہ مقدار قدر لازم کے افراد سے ہے تواتنے سے وہ بری الذمہ نہ ہوا خصوصا جب کہ یہ مقام احتیاط ہے بخلاف کامل آیت کے کہ اسے پڑھنے کی وجہ سے اس پر قرأت کرنے والے کا اطلاق ہوتاہے۔ (توحضرت امام اور صاحبین کے درمیان) اختلاف کی بنیاد اس پر ہے کہ چھوٹی آیت پڑھنے سے عرفا اسے قرأت کرنے والاشمار کیا جاتا ہے یا نہیں صاحبین نے فرمایا : نہیں اورامام نے فرمایا : ہاں ۔ اوراسرار میں ہے کہ قول صاحبین میں احتیاط ہے اس لئے کہ ارشاد باری لم یلد۔ اور۔ ثم نظر۔ بطور قرآن متعارف نہیں اور درحقیقت یہ قرآن ہے ۔ تو حقیقت کا اعتبار
ومن حیث العرف لم تجز الصلاۃ بہ احتیاطا فیھما اھ مختصرا
فعدم تناول الاطلاق مادون الایۃ فی قولہ تعالی فاقرءوا ما تیسر من القران- لایستلزم عدم تناولہ لہ فی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئا من القران بل قضیۃ الدلیل ھو التناول ھھنا والخروج ثمہ۔
ثم اقول : لایخفی فـــــ علیك ان لوبنی الامر ھھنا علی مایعد بہ قارئا عرفا لزم ان یحل عند الصاحبین للجنب واختیہ قراء ۃ مادون ثلث ایات بنیۃ القران ولا قائل بہ فتحقق
کرکے حائض و جنب پراس کی قرأت حرام رکھی گئی اورعرف کا لحاظ کرکے ہم نے اس سے نماز جائز نہ کہی تاکہ دونوں مسئلوں میں ہمارا عمل احتیاط پررہے اھ مختصرا۔
تو باری تعالی کے ارشاد : میں مادون الآیہ کو اطلاق کاشامل نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشادلایقرأ الجنب و لا الحائض شیئا من القران (جنب اورحائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں ) میں بھی اطلاق اسے شامل نہ ہو بلکہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں شامل ہو اور وہاں شامل نہ ہو۔
ثم اقول : مخفی نہیں کہ اگر “ یہاں “ (مسئلہ جنب میں ) بنائے کاراس پر ہوتی جس کی وجہ سے اس کو عرفا قرأت کرنے والا شمار کیاجائے تولازم تھاکہ صاحبین کے نزدیك جنب اورحیض ونفاس والی کے لئے تین آیت سے کم بہ نیت قرآن پڑھنا جائز ہو۔ حالانکہ
فــــــ : تطفل علی الفتح ۔
فعدم تناول الاطلاق مادون الایۃ فی قولہ تعالی فاقرءوا ما تیسر من القران- لایستلزم عدم تناولہ لہ فی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایقرء الجنب ولا الحائض شیئا من القران بل قضیۃ الدلیل ھو التناول ھھنا والخروج ثمہ۔
ثم اقول : لایخفی فـــــ علیك ان لوبنی الامر ھھنا علی مایعد بہ قارئا عرفا لزم ان یحل عند الصاحبین للجنب واختیہ قراء ۃ مادون ثلث ایات بنیۃ القران ولا قائل بہ فتحقق
کرکے حائض و جنب پراس کی قرأت حرام رکھی گئی اورعرف کا لحاظ کرکے ہم نے اس سے نماز جائز نہ کہی تاکہ دونوں مسئلوں میں ہمارا عمل احتیاط پررہے اھ مختصرا۔
تو باری تعالی کے ارشاد : میں مادون الآیہ کو اطلاق کاشامل نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشادلایقرأ الجنب و لا الحائض شیئا من القران (جنب اورحائض قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھیں ) میں بھی اطلاق اسے شامل نہ ہو بلکہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں شامل ہو اور وہاں شامل نہ ہو۔
ثم اقول : مخفی نہیں کہ اگر “ یہاں “ (مسئلہ جنب میں ) بنائے کاراس پر ہوتی جس کی وجہ سے اس کو عرفا قرأت کرنے والا شمار کیاجائے تولازم تھاکہ صاحبین کے نزدیك جنب اورحیض ونفاس والی کے لئے تین آیت سے کم بہ نیت قرآن پڑھنا جائز ہو۔ حالانکہ
فــــــ : تطفل علی الفتح ۔
حوالہ / References
فتح القدیرکتاب الصلٰوۃفصل فی القرأۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۲۹۰
القرآن الکریم ۷۳ /۲۰
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الجنب والحائض الخ حدیث ۱۳۱ دارالفکربیروت ۱ / ۱۸۲ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی قراء ۃ القرآن علی غیرالطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴
القرآن الکریم ۷۳ /۲۰
سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الجنب والحائض الخ حدیث ۱۳۱ دارالفکربیروت ۱ / ۱۸۲ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی قراء ۃ القرآن علی غیرالطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴
ان قول الکرخی ھو الارجح روایۃ ودرایۃ والحمد لله ولی الھدایۃ۔
ولکن العجب من المحقق الحلبی کتبت ھذا ثم رأیت فی غنیتہ مال الی ماقلت ان لاقائل بہ حیث قال وینبغی ان تقید الایۃ بالقصیرۃ التی لیس مادونھا مقدار ثلث ایات قصار فانہ اذا قرأ مقدار سورۃ الکوثر یعد قارئاوان کان دون ایۃ حتی جازت بہ الصلاۃ واماما علی وجہ الدعاء والثناء فلانہ لیس بقران لانہ الاعمال بالنیات والالفاظ محتملۃ فتعتبر النیۃ ولذا لوقرأ ذلك فی الصلاۃ بنیۃ الدعاء والثناء لاتصح بہ الصلاۃ اھ۔
اقول اولا فــــــ : وقع بحثہ علی خلاف المنصوص فی شرح الجامع الصغیر للامام فخرالاسلام فانہ
کوئی اس کا قائل نہیں ۔ تو ثابت ہواکہ امام کرخی ہی کا قول روایت ودرایت دونوں لحاظ سے ارجح ہے اورساری حمدخدا کے لئے ہے جو ہدایت کا مالك ہے۔
لیکن محقق حلبی (صاحب غنیہ) پر تعجب ہے کہ وہ اس طرف مائل ہیں جس کے بارے میں میں نے کہاکہ اس کا کوئی قائل نہیں ۔ مذکورہ بالا سطور لکھنے کے بعد میں نے غنیہ میں دیکھا کہ وہ لکھتے ہیں : آیت کے ساتھ یہ قیدہونی چاہئے کہ ایسی چھوٹی آیت جس سے ذرا کم ہو تووہ آیت تین چھوٹی آیتوں کے بقدر نہ ہواس لئے کہ جب وہ سورہ کوثر کے بقدر پڑھے اگرچہ وہ ایك آیت سے کم ہی ہوتو اس کی وجہ سے وہ قرأت کرنے والا شمار ہوگایہاں تك کہ اس سے اس کی نماز ہوجائے گی۔ لیکن جو دعا اورثنا کے طور پرہو تووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پرہے اورالفاظ میں احتمال ہوتاہے تو نیت کا اعتبار ہوا۔ اسی لئے اگراسے نماز میں بہ نیت دعا وثنا پڑھا تو نماز درست نہ ہوگی اھ۔
اقول اولا : ان کی بحث اس کے خلاف واقع ہے جو امام فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر میں منصوص ہے اس لئے کہ انہوں نے لمبی
فــــــ : تطفل علی الغنیۃ ۔
ولکن العجب من المحقق الحلبی کتبت ھذا ثم رأیت فی غنیتہ مال الی ماقلت ان لاقائل بہ حیث قال وینبغی ان تقید الایۃ بالقصیرۃ التی لیس مادونھا مقدار ثلث ایات قصار فانہ اذا قرأ مقدار سورۃ الکوثر یعد قارئاوان کان دون ایۃ حتی جازت بہ الصلاۃ واماما علی وجہ الدعاء والثناء فلانہ لیس بقران لانہ الاعمال بالنیات والالفاظ محتملۃ فتعتبر النیۃ ولذا لوقرأ ذلك فی الصلاۃ بنیۃ الدعاء والثناء لاتصح بہ الصلاۃ اھ۔
اقول اولا فــــــ : وقع بحثہ علی خلاف المنصوص فی شرح الجامع الصغیر للامام فخرالاسلام فانہ
کوئی اس کا قائل نہیں ۔ تو ثابت ہواکہ امام کرخی ہی کا قول روایت ودرایت دونوں لحاظ سے ارجح ہے اورساری حمدخدا کے لئے ہے جو ہدایت کا مالك ہے۔
لیکن محقق حلبی (صاحب غنیہ) پر تعجب ہے کہ وہ اس طرف مائل ہیں جس کے بارے میں میں نے کہاکہ اس کا کوئی قائل نہیں ۔ مذکورہ بالا سطور لکھنے کے بعد میں نے غنیہ میں دیکھا کہ وہ لکھتے ہیں : آیت کے ساتھ یہ قیدہونی چاہئے کہ ایسی چھوٹی آیت جس سے ذرا کم ہو تووہ آیت تین چھوٹی آیتوں کے بقدر نہ ہواس لئے کہ جب وہ سورہ کوثر کے بقدر پڑھے اگرچہ وہ ایك آیت سے کم ہی ہوتو اس کی وجہ سے وہ قرأت کرنے والا شمار ہوگایہاں تك کہ اس سے اس کی نماز ہوجائے گی۔ لیکن جو دعا اورثنا کے طور پرہو تووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پرہے اورالفاظ میں احتمال ہوتاہے تو نیت کا اعتبار ہوا۔ اسی لئے اگراسے نماز میں بہ نیت دعا وثنا پڑھا تو نماز درست نہ ہوگی اھ۔
اقول اولا : ان کی بحث اس کے خلاف واقع ہے جو امام فخر الاسلام کی شرح جامع صغیر میں منصوص ہے اس لئے کہ انہوں نے لمبی
فــــــ : تطفل علی الغنیۃ ۔
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث قرأۃ القرآن للجنب سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۷
اعتبرکون بعضھا کایۃ لاکثلث کما تقدم ۔
وثانیا : عدل فـــــ۱ عن قول الامام الی قولھما فی افتراض ثلث فان راعی الاحتیاط لمامرعن الاسراران ماقالہ احتیاط لمامر عن الاسرار نفسہا ان ذلك فی الصلاۃ اما فی مسألۃ الجنب فالاحتیاط فی المنع وقد نقلہ ھکذا فی الغنیۃ۔
وثالثا : ماذکر فـــــ۲ من عدم الاجزاء فــــ۳ اذا قرأ فی الصلاۃ بنیۃ الثناء خلاف المنصوص ایضا ففی البحر عن التوشیح عن الامام الخاصی اذا قرأ الفاتحۃ فی الاولیین بنیۃ الدعاء نصوا علی انھا مجزئۃ اھ وعن التجنیس اذا قرأفی الصلاۃ فاتحۃ الکتاب علی قصد الثناء جازت صلاتہ لانہ وجدت القراء ۃ فی محلھا فلا یتغیر حکمھا بقصد اھ ومثلہ فی الدر نعم نقل فی البحر عن القنیۃ
آیت کے بعض کو ایك آیت کے مثل شمار کیاہے تین آیت کے مثل نہیں جیساکہ گزرا۔
ثانیا : قول امام سے عدول کرکے تین آیت کی فرضیت میں قول صاحبین کی طرف آگئے۔ اگراس میں انہوں نے احتیاط کی رعایت کی ہے کیوں کہ اسرار کے حوالہ سے گزرا کہ قول صاحبین میں احتیاط ہے توخود اسرار ہی کے حوالہ سے یہ بھی گزرا کہ یہ نماز کے بارے میں ہے اور مسئلہ جنب میں احتیاط ممانعت میں ہے۔ اسے اسی طرح غنیہ میں نقل بھی کیا ہے۔
ثالثا : نماز میں قرأت بہ نیت ثنا ہوتونماز نہ ہوگی یہ مسئلہ انہوں نے منصوص کے برخلا ف ذکرکیا کیوں کہ بحر میں امام خاصی کی تو شیح سے منقول ہے کہ جب پہلی دونوں رکعتوں میں سورہئ فاتحہ کی قرأت بہ نیت دعا کرے تو علماء نے نص فرمایاہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی اھ۔ اور تجنیس سے نقل ہے کہ جب نماز میں بہ نیت ثنا فاتحۃ الکتاب کی قرأت کرے تونماز جائز ہے اس لئے کہ قرأت اپنے محل میں پائی گئی تونیت سے اس کا حکم نہ بدلے گا اھ۔ اسی کے مثل درمختار میں بھی ہے۔ ہاں بحر میں قنیہ سے نقل کیاہے کہ اس
فــــــ۱ : تطفل اخر علیھا۔ فـــــــ۲ : تطفل ثالث علیھما۔
فــــــ۳ : مسئلہ : نماز میں سورۃفاتحہ یاسورت پڑھی اورقراء ت کی نیت نہ کی دعاوثناکی نیت کی جب بھی نمازہوجائے گی ۔
وثانیا : عدل فـــــ۱ عن قول الامام الی قولھما فی افتراض ثلث فان راعی الاحتیاط لمامرعن الاسراران ماقالہ احتیاط لمامر عن الاسرار نفسہا ان ذلك فی الصلاۃ اما فی مسألۃ الجنب فالاحتیاط فی المنع وقد نقلہ ھکذا فی الغنیۃ۔
وثالثا : ماذکر فـــــ۲ من عدم الاجزاء فــــ۳ اذا قرأ فی الصلاۃ بنیۃ الثناء خلاف المنصوص ایضا ففی البحر عن التوشیح عن الامام الخاصی اذا قرأ الفاتحۃ فی الاولیین بنیۃ الدعاء نصوا علی انھا مجزئۃ اھ وعن التجنیس اذا قرأفی الصلاۃ فاتحۃ الکتاب علی قصد الثناء جازت صلاتہ لانہ وجدت القراء ۃ فی محلھا فلا یتغیر حکمھا بقصد اھ ومثلہ فی الدر نعم نقل فی البحر عن القنیۃ
آیت کے بعض کو ایك آیت کے مثل شمار کیاہے تین آیت کے مثل نہیں جیساکہ گزرا۔
ثانیا : قول امام سے عدول کرکے تین آیت کی فرضیت میں قول صاحبین کی طرف آگئے۔ اگراس میں انہوں نے احتیاط کی رعایت کی ہے کیوں کہ اسرار کے حوالہ سے گزرا کہ قول صاحبین میں احتیاط ہے توخود اسرار ہی کے حوالہ سے یہ بھی گزرا کہ یہ نماز کے بارے میں ہے اور مسئلہ جنب میں احتیاط ممانعت میں ہے۔ اسے اسی طرح غنیہ میں نقل بھی کیا ہے۔
ثالثا : نماز میں قرأت بہ نیت ثنا ہوتونماز نہ ہوگی یہ مسئلہ انہوں نے منصوص کے برخلا ف ذکرکیا کیوں کہ بحر میں امام خاصی کی تو شیح سے منقول ہے کہ جب پہلی دونوں رکعتوں میں سورہئ فاتحہ کی قرأت بہ نیت دعا کرے تو علماء نے نص فرمایاہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی اھ۔ اور تجنیس سے نقل ہے کہ جب نماز میں بہ نیت ثنا فاتحۃ الکتاب کی قرأت کرے تونماز جائز ہے اس لئے کہ قرأت اپنے محل میں پائی گئی تونیت سے اس کا حکم نہ بدلے گا اھ۔ اسی کے مثل درمختار میں بھی ہے۔ ہاں بحر میں قنیہ سے نقل کیاہے کہ اس
فــــــ۱ : تطفل اخر علیھا۔ فـــــــ۲ : تطفل ثالث علیھما۔
فــــــ۳ : مسئلہ : نماز میں سورۃفاتحہ یاسورت پڑھی اورقراء ت کی نیت نہ کی دعاوثناکی نیت کی جب بھی نمازہوجائے گی ۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰
انھا ذکرت فیہ خلافا ورقمت لشرح شمس الائمۃ انھا لاتنوب عن القراء ۃ وانت تعلم ان القنیۃ لاتعارض المعتمدات والزاھدی غیر موثوق بہ فی نقلہ ایضا کما نصوا علیہ والله تعالی اعلم۔
نے اس بارے میں اختلاف ذکر کیاہے اورشرح شمس الائمہ کا نشان(رمز) دےکر لکھا ہے کہ وہ قرأت کی جگہ کافی نہ ہو سکے گی اھ۔ اورمعلوم ہے کہ قنیہ کتب معتمدہ کے مقابلہ میں نہیں آسکتی اور زاہدی نقل میں بھی ثقہ نہیں جیساکہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔
تنبیہ۱ : عیون امام فقیہ ابو اللیث کی عبارت کہ صدر کلام میں گزری جس میں فرمایا تھاکہ فاتحہ وغیرہاآیات دعا بہ نیت دعا پڑھنے میں حرج نہیں نہرالفائق میں اس سے یہ استنباط فرمایا کہ یہ حکم صرف انہی آیات سے خاص ہے جن میں معنی دعا وثنا ہوں ورنہ مثلا سورہ لہب وغیرہااگربنیت غیر قرآن پڑھے تو ظاہر ا روا نہ ہونا چاہئے۔
حیث قال ظاھر التقیید بالایات التی فیھا معنی الدعاء یفھم ان مالیس کذلك کسورۃ ابی لھب لایؤثر فیھا قصد غیرالقرانیۃ لم ار التصریح بہ فی کلامھم ۔
ان کے الفاظ یہ ہیں : آیات میں معنی دعا ہونے کی قید سے بظاہر یہی مفہوم ہوتاہے کہ جوآیات ایسی نہ ہوں ۔ جیسے سورہ ابی لہب۔ اس میں غیر قرآن کی نیت اثر انداز نہ ہوگی مگر اس کی تصریح کلام علماء میں میری نظر سے نہ گزری۔ (ت)
علامہ شامی نے منحۃ الخالق وردالمحتار میں اس کی تائید فرمائی کہ :
قد صرحوا ان مفاھیم الکتب حجۃ اھ ولفظ المنحۃ المفہوم معتبر مالم یصرح بخلافہ اھ
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ کتابوں میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اھ۔ منحۃ الخالق کے الفاظ یہ ہیں : مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے جب تك اس کے خلاف کی تصریح نہ ہو۔ (ت)
نے اس بارے میں اختلاف ذکر کیاہے اورشرح شمس الائمہ کا نشان(رمز) دےکر لکھا ہے کہ وہ قرأت کی جگہ کافی نہ ہو سکے گی اھ۔ اورمعلوم ہے کہ قنیہ کتب معتمدہ کے مقابلہ میں نہیں آسکتی اور زاہدی نقل میں بھی ثقہ نہیں جیساکہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔
تنبیہ۱ : عیون امام فقیہ ابو اللیث کی عبارت کہ صدر کلام میں گزری جس میں فرمایا تھاکہ فاتحہ وغیرہاآیات دعا بہ نیت دعا پڑھنے میں حرج نہیں نہرالفائق میں اس سے یہ استنباط فرمایا کہ یہ حکم صرف انہی آیات سے خاص ہے جن میں معنی دعا وثنا ہوں ورنہ مثلا سورہ لہب وغیرہااگربنیت غیر قرآن پڑھے تو ظاہر ا روا نہ ہونا چاہئے۔
حیث قال ظاھر التقیید بالایات التی فیھا معنی الدعاء یفھم ان مالیس کذلك کسورۃ ابی لھب لایؤثر فیھا قصد غیرالقرانیۃ لم ار التصریح بہ فی کلامھم ۔
ان کے الفاظ یہ ہیں : آیات میں معنی دعا ہونے کی قید سے بظاہر یہی مفہوم ہوتاہے کہ جوآیات ایسی نہ ہوں ۔ جیسے سورہ ابی لہب۔ اس میں غیر قرآن کی نیت اثر انداز نہ ہوگی مگر اس کی تصریح کلام علماء میں میری نظر سے نہ گزری۔ (ت)
علامہ شامی نے منحۃ الخالق وردالمحتار میں اس کی تائید فرمائی کہ :
قد صرحوا ان مفاھیم الکتب حجۃ اھ ولفظ المنحۃ المفہوم معتبر مالم یصرح بخلافہ اھ
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ کتابوں میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اھ۔ منحۃ الخالق کے الفاظ یہ ہیں : مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے جب تك اس کے خلاف کی تصریح نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۰
النہرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃباب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۳
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
النہرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارۃباب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۳
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
اقول اولا : خلاصہ فــــــ وبزازیہ وبحر میں ہے :
وھذا لفظ الوجیز ا ما اذا قصد الثناء اوافتتاح امر فلا فی الصحیح ۔
اور یہ وجیز کے الفاظ ہیں : لیکن جب ثناء یاکوئی کام شروع کرنے کی نیت سے پڑھے تو صحیح قول پر ممانعت نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فلو قصد الدعاء اوالثناء اوافتتاح امرحل ۔
اگر دعا یاثناء یا کسی کام کے شروع کرنے کی نیت ہوتو جائز ہے۔ (ت)
یہاں تو کہہ سکتے ہیں کہ بعد تنقیح افتتاح کا حاصل دعا وثنا سے جدا نہ ہوگا مگر خلاصہ وحلیہ وبحر میں ہے :
وحرمۃ قراء ۃ القران (ای من احکام الحیض) الا اذا کانت ایۃ قصیرۃ تجری علی اللسان عندا لکلام کقولہ ثم نظر اولم یولد اھ
(احکام حیض میں سے)قرأت قرآن کی حرمت بھی ہے مگر جب ایسی چھوٹی آیت ہوجو بول چال میں زبان پر آتی رہتی ہے جیسے ارشاد باری تعالی : ثم نظر۔ یا۔ ولم یولد۔ (ت)
یعنی جبکہ قرأت قرآن کی نیت نہ ہو اور اپنے کلام میں پوری آیت سے موافقت واقع ہوجائے مثلا زید کی حکایت حال میں کہا : ثم نظر زید (پھر زید نے نظر کی۔ ت) یا کسی ہندہ کے حمل کو پوچھا کہ پیدا ہواکہا ماوضع ولم یولد بعد (نہیں پیدا کیا اور لم یولد بعد میں کہا۔ ت) تو اس میں حرج نہیں اگرچہ ثم نظر بالاتفاق اور ولم یولد علی الخلاف پوری آیتیں ہیں اس لئے کہ بہ نیت قرآن نہ کہی گئیں یہاں سے صراحۃ ظاہر کہ جواز کیلئے عدم نیت قرآن کافی ہے خاص نیت دعا یا ثنا ضرور نہیں کہ ان صورتوں میں دعا وثنا کہاں ! یوں ہی اگر نقل حدیث میں کہا محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
فــــــ : تطفل علی النھر و ش۔
وھذا لفظ الوجیز ا ما اذا قصد الثناء اوافتتاح امر فلا فی الصحیح ۔
اور یہ وجیز کے الفاظ ہیں : لیکن جب ثناء یاکوئی کام شروع کرنے کی نیت سے پڑھے تو صحیح قول پر ممانعت نہیں ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فلو قصد الدعاء اوالثناء اوافتتاح امرحل ۔
اگر دعا یاثناء یا کسی کام کے شروع کرنے کی نیت ہوتو جائز ہے۔ (ت)
یہاں تو کہہ سکتے ہیں کہ بعد تنقیح افتتاح کا حاصل دعا وثنا سے جدا نہ ہوگا مگر خلاصہ وحلیہ وبحر میں ہے :
وحرمۃ قراء ۃ القران (ای من احکام الحیض) الا اذا کانت ایۃ قصیرۃ تجری علی اللسان عندا لکلام کقولہ ثم نظر اولم یولد اھ
(احکام حیض میں سے)قرأت قرآن کی حرمت بھی ہے مگر جب ایسی چھوٹی آیت ہوجو بول چال میں زبان پر آتی رہتی ہے جیسے ارشاد باری تعالی : ثم نظر۔ یا۔ ولم یولد۔ (ت)
یعنی جبکہ قرأت قرآن کی نیت نہ ہو اور اپنے کلام میں پوری آیت سے موافقت واقع ہوجائے مثلا زید کی حکایت حال میں کہا : ثم نظر زید (پھر زید نے نظر کی۔ ت) یا کسی ہندہ کے حمل کو پوچھا کہ پیدا ہواکہا ماوضع ولم یولد بعد (نہیں پیدا کیا اور لم یولد بعد میں کہا۔ ت) تو اس میں حرج نہیں اگرچہ ثم نظر بالاتفاق اور ولم یولد علی الخلاف پوری آیتیں ہیں اس لئے کہ بہ نیت قرآن نہ کہی گئیں یہاں سے صراحۃ ظاہر کہ جواز کیلئے عدم نیت قرآن کافی ہے خاص نیت دعا یا ثنا ضرور نہیں کہ ان صورتوں میں دعا وثنا کہاں ! یوں ہی اگر نقل حدیث میں کہا محمد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
فــــــ : تطفل علی النھر و ش۔
حوالہ / References
الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الصلوۃ الفصل الحادی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۴۱
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الحیض الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۳۰
الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الحیض الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۲۳۰
فرماتے ہیں اس کے جواز میں بھی شبہ نہیں اگرچہ محمد رسول الله ضرور قرآن عظیم ہے اور یہاں نام اقدس مقصود نہ کہ دعا وثناء لاجرم بحر سے گزرا
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قران
(یہ سب اس وقت ہے جب بہ نیت قرآن پڑھا ہو۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں ہے تنویر میں ہے :
یحرم قراء ۃ قران بقصدہ
(قرآن کا کوئی حصہ بہ نیت قرآن پڑھنا(اس کے لئے) حرام ہے۔ (ت)
ثانیا عیون فــــ کا اتنا مفاد مسلم کہ آیات دعا میں نیت دعا درکار ہے نہ یہ کہ نیت دعا ہی پر مدار ہے
وذلك انہ تصویرلنیۃ غیر القران وھی فی ایات الدعاء بنیۃ الدعاء فیفید ان الجواز بنیۃ الدعا مقصور علی آیات الدعاء لاقصر الجواز مطلقا علی نیۃ الدعاء کأن تقول لو قرأ التسمیۃ بنیۃ الافتتاح ولم یرد القراء ۃ فلا بأس بہ لایدل علی قصر الحکم فی جمیع القران علی نیۃ الافتتاح۔
وہ اس لئے کہ عبارت عیون میں نیت غیر قرآن کی صورت پیش کی گئی ہے وہ یہ کہ آیات دعا بہ نیت دعا پڑھی جائیں اس کا مفاد یہ ہے کہ آیات دعا پڑھنے کا جواز صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ بہ نیت دعا پڑھی جائیں نہ یہ کہ مطلقا ہر آیت پڑھنے کا جواز صرف نیت دعا ہی کی صورت میں محدود ہے۔ مثلا کہاجائے کہ اگر کام شروع کرنے کے ارادہ سے بسم الله پڑھی اورتلاوت کی نیت نہ کی تواس میں کوئی حرج نہیں تواسکا یہ معنی نہ ہوگا کہ پورے قرآن میں حکم جواز بس اسی ایك صورت میں محدود ہے کہ اسے کوئی کام شروع کرنے کے ارادہ سے پڑھا جائے۔ (ت)
فــــــ : تطفل آخرعلیھما۔
ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قران
(یہ سب اس وقت ہے جب بہ نیت قرآن پڑھا ہو۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں ہے تنویر میں ہے :
یحرم قراء ۃ قران بقصدہ
(قرآن کا کوئی حصہ بہ نیت قرآن پڑھنا(اس کے لئے) حرام ہے۔ (ت)
ثانیا عیون فــــ کا اتنا مفاد مسلم کہ آیات دعا میں نیت دعا درکار ہے نہ یہ کہ نیت دعا ہی پر مدار ہے
وذلك انہ تصویرلنیۃ غیر القران وھی فی ایات الدعاء بنیۃ الدعاء فیفید ان الجواز بنیۃ الدعا مقصور علی آیات الدعاء لاقصر الجواز مطلقا علی نیۃ الدعاء کأن تقول لو قرأ التسمیۃ بنیۃ الافتتاح ولم یرد القراء ۃ فلا بأس بہ لایدل علی قصر الحکم فی جمیع القران علی نیۃ الافتتاح۔
وہ اس لئے کہ عبارت عیون میں نیت غیر قرآن کی صورت پیش کی گئی ہے وہ یہ کہ آیات دعا بہ نیت دعا پڑھی جائیں اس کا مفاد یہ ہے کہ آیات دعا پڑھنے کا جواز صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ بہ نیت دعا پڑھی جائیں نہ یہ کہ مطلقا ہر آیت پڑھنے کا جواز صرف نیت دعا ہی کی صورت میں محدود ہے۔ مثلا کہاجائے کہ اگر کام شروع کرنے کے ارادہ سے بسم الله پڑھی اورتلاوت کی نیت نہ کی تواس میں کوئی حرج نہیں تواسکا یہ معنی نہ ہوگا کہ پورے قرآن میں حکم جواز بس اسی ایك صورت میں محدود ہے کہ اسے کوئی کام شروع کرنے کے ارادہ سے پڑھا جائے۔ (ت)
فــــــ : تطفل آخرعلیھما۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
لکنی اقول : وبالله التوفیق(لیکن خداکی توفیق سے میں کہتاہوں ۔ ت)تحقیق مقام فـــ۱ یہ ہے کہ یہاں دوصورتیں ہیں : عدم نیت واعدام نیت ۔ عدم نیت یہ کہ بعض الفاظ اتفاقا موافق نظم قرآن زبان سے اپنے کلام سے ادا ہوجائیں جیسے صورمذکورہ میں ثم نظراور ولم یولد کہ ان کے تکلم کے وقت خیال بھی نہیں جاتاکہ یہ الفاظ آیات قرآنیہ ہیں یہاں قرآن عظیم کی طرف قصد سرے سے پایاہی نہ گیا۔ اور اعدام نیت یہ کہ آیات قرآنیہ کی طرف التفات کرے اوربالقصدانہیں نیت قرآن سے پھیرکر غیرقرآن کاارادہ کرے ۔ آیۃ الکرسی یاسورۃ فاتحہ یاسورہ تبت وغیرھاہرکلام طویل میں یہی صورت متحقق ہوسکتی ہے ناممکن ہے کہ بلاقصد زبان سے تین آیت کے برابر کلام نکل جائے جوبالکل نظم قرآنی کے موافق ہوکہ اس قدرسے تحدی فرمائی گئی ہے توکوئی اتنے پرکیوں کر قادر ہوسکتاہے ۔ نہیں بلکہ یقیناالفاظ قرآنیہ ہی کا قصد کرے گا پھر ان کو بالارادہ نیت قرآن سے نیت غیر قرآن کی طرف پھیر ے گااورموجودات حقیقیہ اعتبارمعتبرکے تابع نہیں ہوتے نہ باوجود علم قصدا تبدیل نیت سے علم منتفی ہوااگرکوئی شخص شہد کوجان بوجھ کراس نیت سے کھائے کہ یہ شہد نہیں نمك ہے تونہ وہ واقعی نمك ہوجائے گا نہ اس کاعلم کہ یہ واقع میں شہد ہے زوال پائے گا۔ یونہی جب اس نے نظم قرآنی کی طرف قصدکیااوراسے اداکرناچاہاتوباوصف علم حقیقت اس کا یہ خیال کرلیناکہ میں یہ قرآن نہیں پڑھتا کچھ اورپڑھتاہوں نہ قرآن عظیم کو اس کی حقیقت سے مغیرہوسکتاہے نہ یہ دیدہ ودانستہ اس تبدیل خیال سے کچھ نفع پاسکتاہے توکیونکرممکن کہ تعظیم قرآن عظیم کے لئے جوحکم شرع مطہرنے اسے دیایہ دانستہ نیت پھیرکراسے ساقط کردے۔
اقول : وبہ فـــــ۲ استبان ضعف مااجاب بہ العلامۃ اسمعیل فی حواشی الدرر عن بحث الحلیۃ فی قراء ۃ الفاتحۃ بنیۃ الدعاء اذ قال المحقق ان ھذا قران حقیقۃ وحکما و لفظا ومعنی کیف لا وھو معجز یقع بہ التحدی وتغییر المشروع فی مثلہ بالقصد
اقول : اسی سے اس کی کمزوری واضح ہو گئی جو حواشی درر میں علامہ اسمعیل نے بہ نیت دعا قرأت فاتحہ کے بارے میں بحث حلیہ کے جواب میں لکھا ہے۔ محقق حلبی نے لکھا تھا : یہ حقیقۃ حکما لفظا معنی ہر طرح قرآن ہے ۔ کیوں نہ ہو جب کہ یہ قدر معجز ہے جس سے تحدی واقع ہوئی ہے اورایسے کلام میں جو امر شرعا ثابت ہے
فـــــ۱ : مسئلہ : قراء ت جنب کی صورتوں میں مصنف کی تحقیق جلیل مفرد۔
فـــــ۲ : تطفل علی سیدی اسمعیل محشی الدرروالعلامۃ ش۔
اقول : وبہ فـــــ۲ استبان ضعف مااجاب بہ العلامۃ اسمعیل فی حواشی الدرر عن بحث الحلیۃ فی قراء ۃ الفاتحۃ بنیۃ الدعاء اذ قال المحقق ان ھذا قران حقیقۃ وحکما و لفظا ومعنی کیف لا وھو معجز یقع بہ التحدی وتغییر المشروع فی مثلہ بالقصد
اقول : اسی سے اس کی کمزوری واضح ہو گئی جو حواشی درر میں علامہ اسمعیل نے بہ نیت دعا قرأت فاتحہ کے بارے میں بحث حلیہ کے جواب میں لکھا ہے۔ محقق حلبی نے لکھا تھا : یہ حقیقۃ حکما لفظا معنی ہر طرح قرآن ہے ۔ کیوں نہ ہو جب کہ یہ قدر معجز ہے جس سے تحدی واقع ہوئی ہے اورایسے کلام میں جو امر شرعا ثابت ہے
فـــــ۱ : مسئلہ : قراء ت جنب کی صورتوں میں مصنف کی تحقیق جلیل مفرد۔
فـــــ۲ : تطفل علی سیدی اسمعیل محشی الدرروالعلامۃ ش۔
المجرد مردودعلی فاعلہ فان الخصوصیۃ القرانیۃ فیہ لازمۃ قطعا ولیس فی قدرۃ المتکلم اسقاطھا عنہ مع ما ھو علیہ من النظم الخاص اھ۔
فاجاب العلامۃ النابلسی وتبعہ فی المنحۃ بانہ اذا لم یرد بھا القران فات مافیہ من المزایا التی یعجز عن الاتیان بھا جمیع المخلوقات اذ المعتبر فیھا القصد اما تفصیلا وھو من البلیغ اواجمالا وذلك بحکایۃ کلامہ وکلاھما منتف حینئذ کما لایخفی اھ۔
ولعمری ان فی حکایتہ غنی من نکایتہ ولیت شعری کیف تفوت المزایا الثابتۃ اللازمۃ الواقعیۃ بمجرد صرف القارئ النیۃ عن نسبۃ الی متکلمہ مع بقاء الکلام علی نظمہ وقد کان نبہ علیہ المحقق
اسے اگرکوئی محض نیت سے بدلنا چاہے تو وہ نیت خود رد ہوجائے گی اس لئے کہ اسے قرآنی خصوصیت قطعا لازم ہے۔ اور اس نظم خاص پر اس کے برقرار ہوتے ہوئے اس خصوصیت قرآنیہ کو کوئی متکلم اس سے ساقط نہیں کرسکتا اھ۔
علامہ نابلسی نے اس کے جواب میں لکھا ۔ اور منحۃ الخالق میں علامہ شامی نے بھی ان کا اتباع کیا۔ کہ : جب وہ اس کے پڑھنے میں قرآن کا قصد نہیں کرے گا تو اس کی وہ خصوصیات نہ رہ جائیں گی جنہیں بروئے کارلانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں اس لئے کہ ان خصوصیات میں قصد کا اعتبار ہے یا تو تفصیلا ہو جوبلیغ کاکام ہے۔ یا اجمالا ہواس طرح کہ اس کاکلام بھی ویسا ہوجائے جیسا وہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں دونوں باتیں نہیں ہیں اھ۔
بخدا اس جواب کوذکر کردینا ہی اس کا منصف ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ جب تك وہ کلام اپنے نظم پر برقرار ہے اس کی لازمی واقعی ثابت شدہ خصوصیات محض اتنے سے کیوں کر ختم ہوجائیں گی کہ قاری نے اس کلام کے متکلم کی جانب انتساب سے اپنی نیت پھیرلی اس پر تومحقق حلبی نے اپنی بحث ہی
فاجاب العلامۃ النابلسی وتبعہ فی المنحۃ بانہ اذا لم یرد بھا القران فات مافیہ من المزایا التی یعجز عن الاتیان بھا جمیع المخلوقات اذ المعتبر فیھا القصد اما تفصیلا وھو من البلیغ اواجمالا وذلك بحکایۃ کلامہ وکلاھما منتف حینئذ کما لایخفی اھ۔
ولعمری ان فی حکایتہ غنی من نکایتہ ولیت شعری کیف تفوت المزایا الثابتۃ اللازمۃ الواقعیۃ بمجرد صرف القارئ النیۃ عن نسبۃ الی متکلمہ مع بقاء الکلام علی نظمہ وقد کان نبہ علیہ المحقق
اسے اگرکوئی محض نیت سے بدلنا چاہے تو وہ نیت خود رد ہوجائے گی اس لئے کہ اسے قرآنی خصوصیت قطعا لازم ہے۔ اور اس نظم خاص پر اس کے برقرار ہوتے ہوئے اس خصوصیت قرآنیہ کو کوئی متکلم اس سے ساقط نہیں کرسکتا اھ۔
علامہ نابلسی نے اس کے جواب میں لکھا ۔ اور منحۃ الخالق میں علامہ شامی نے بھی ان کا اتباع کیا۔ کہ : جب وہ اس کے پڑھنے میں قرآن کا قصد نہیں کرے گا تو اس کی وہ خصوصیات نہ رہ جائیں گی جنہیں بروئے کارلانے سے تمام مخلوقات عاجز ہیں اس لئے کہ ان خصوصیات میں قصد کا اعتبار ہے یا تو تفصیلا ہو جوبلیغ کاکام ہے۔ یا اجمالا ہواس طرح کہ اس کاکلام بھی ویسا ہوجائے جیسا وہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہاں دونوں باتیں نہیں ہیں اھ۔
بخدا اس جواب کوذکر کردینا ہی اس کا منصف ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ جب تك وہ کلام اپنے نظم پر برقرار ہے اس کی لازمی واقعی ثابت شدہ خصوصیات محض اتنے سے کیوں کر ختم ہوجائیں گی کہ قاری نے اس کلام کے متکلم کی جانب انتساب سے اپنی نیت پھیرلی اس پر تومحقق حلبی نے اپنی بحث ہی
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ با ب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ با ب الحیض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۹
فی بحثہ فلم یلتفت الیہ العلامۃ واعاد الکلام من دون جواب ولاالمام۔
واقول : فی فــــــ۱ الحل وجود المزایا بثبوتھا الواقعی وظھورھا بالعلم تفصیلا اواجمالا کما وصفتم وبھمایتم امرالتحدی وکلاھما حاصل حینئذ اذما قصد الاخذ الا مماھو قران وما احدث الا صرف النیۃ ولا صرف الابعد العلم ولا علم ینتقی بالصرف۔
وایضا لوفات فـــــ۲ المزایا المعجزۃ للخلق بصرف القصد لوجب فوت عجزھم وھو باطل بداھۃ ۔
وکذا مااجاب النھر وتبعہ فی ردالمحتار بان کونہ قرانا فی الاصل لایمنع من اخراجہ عن القرانیۃ بالقصد اھ وقد کان
میں تنبیہ کردی تھی مگر علامہ نے اس کی طرف توجہ نہ کی اور وہی بات دہرادی نہ اس کا جواب دیا نہ جواب کے قریب گئے۔
واقول : حل مسئلہ سے متعلق میں عرض گزار ہوں ۔ خصوصیات کا وجود توان کے ثبوت واقعی سے ہوتا ہے اوران کا ظہور ان کے تفصیلی یا اجمالی علم سے ہوتا ہے جیساکہ آپ نے بیان کیا۔ اورکارتحدی ان دونوں ہی سے مکمل ہوتا ہے۔ اور دونوں اس صورت میں حاصل ہیں اس لئے کہ اس نے اسی سے اخذ کاقصد کیا جو قرآن ہے۔ اور اپنی جانب سے کچھ نہ کیا سوا اس کے کہ نیت پھیردی۔ اور پھیرنا علم کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اور پھیرنے سے علم ختم نہیں ہوجاتا۔
یہ بھی ہے کہ قصد پھیرنے کی وجہ سے اگرمخلوق کو عاجز کردینے والی خصوصیات ختم ہوجاتیں توضروری تھاکہ اس سے ان کی عاجزی بھی ختم ہوجاتی اور یہ بداہۃ باطل ہے۔
اسی طرح اس جواب کا بھی ضعف واضح ہوگیا جو صاحب نہر نے پیش کیا۔ اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ان کا اتباع کیا۔ کہ اصل میں اس کا قرآن ہونا اس سے مانع نہیں کہ قصد کے باعث وہ قرآنیت سے خارج ہوجائے اھ۔
فــ۱ : تطفل آخرعلیھما۔ فــ۲ : تطفل ثالث علیھما۔
واقول : فی فــــــ۱ الحل وجود المزایا بثبوتھا الواقعی وظھورھا بالعلم تفصیلا اواجمالا کما وصفتم وبھمایتم امرالتحدی وکلاھما حاصل حینئذ اذما قصد الاخذ الا مماھو قران وما احدث الا صرف النیۃ ولا صرف الابعد العلم ولا علم ینتقی بالصرف۔
وایضا لوفات فـــــ۲ المزایا المعجزۃ للخلق بصرف القصد لوجب فوت عجزھم وھو باطل بداھۃ ۔
وکذا مااجاب النھر وتبعہ فی ردالمحتار بان کونہ قرانا فی الاصل لایمنع من اخراجہ عن القرانیۃ بالقصد اھ وقد کان
میں تنبیہ کردی تھی مگر علامہ نے اس کی طرف توجہ نہ کی اور وہی بات دہرادی نہ اس کا جواب دیا نہ جواب کے قریب گئے۔
واقول : حل مسئلہ سے متعلق میں عرض گزار ہوں ۔ خصوصیات کا وجود توان کے ثبوت واقعی سے ہوتا ہے اوران کا ظہور ان کے تفصیلی یا اجمالی علم سے ہوتا ہے جیساکہ آپ نے بیان کیا۔ اورکارتحدی ان دونوں ہی سے مکمل ہوتا ہے۔ اور دونوں اس صورت میں حاصل ہیں اس لئے کہ اس نے اسی سے اخذ کاقصد کیا جو قرآن ہے۔ اور اپنی جانب سے کچھ نہ کیا سوا اس کے کہ نیت پھیردی۔ اور پھیرنا علم کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اور پھیرنے سے علم ختم نہیں ہوجاتا۔
یہ بھی ہے کہ قصد پھیرنے کی وجہ سے اگرمخلوق کو عاجز کردینے والی خصوصیات ختم ہوجاتیں توضروری تھاکہ اس سے ان کی عاجزی بھی ختم ہوجاتی اور یہ بداہۃ باطل ہے۔
اسی طرح اس جواب کا بھی ضعف واضح ہوگیا جو صاحب نہر نے پیش کیا۔ اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ان کا اتباع کیا۔ کہ اصل میں اس کا قرآن ہونا اس سے مانع نہیں کہ قصد کے باعث وہ قرآنیت سے خارج ہوجائے اھ۔
فــ۱ : تطفل آخرعلیھما۔ فــ۲ : تطفل ثالث علیھما۔
حوالہ / References
النہرالفائق کتاب الطہارۃ باب الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۳ ، ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۱۶
اتی المحقق علی ھذا ایضا کما سمعت اما نحن فقد فـــــ۱ وضحنا باحسن وجہ ان لااثر للقصد فی تغییرا الحقائق
وکذا ماتقدم من تمسك الغنیۃ ان ماعلی وجہ الدعاء لیس بقران لان الاعمال بالنیات الخ
اقول : نعم لایثاب فـــــ۲ ثواب التلاوت من نواہ دعاء لکن القران کیف ینسلح عن القرانیۃ مع بقاء النظم المتحدی بہ واذا لقصد الی الاخذ منہ فمجرد صرف النیۃ کیف یزیل التعظیم الواجب علیہ فان صرفہا عن شیئ مع العلم بہ انکان لہ اثر ففی حرمان الصارف عما ھو لہ دون اسقاط ماھو علیہ وبالجملۃ لیس فی شیئ من ھذہ مایغنی من جوع۔
ثم اقول : عساك فـــــ۳ ایقنت مما
محقق نے اپنے کلام میں اس کا بھی اشارہ دے دیا تھا جیسا کہ پیش ہوا۔ اور ہم نے توبہت اچھی طرح واضح کردیا کہ قصد میں یہ تاثیر قطعا نہیں ہوتی کہ وہ حقائق واقعیہ کو تبدیل کردے۔
اسی طرح اس کی کمزوری بھی عیاں ہوگئی جس نے غنیہ سے استناد کیاکہ “ جو بطوردعا ہووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پر ہے الخ “ جیسا کہ گزرا۔
اقول : ہاں جس نے دعا کا قصد کیا اسے تلاوت کا ثواب نہیں ملے گا لیکن جس نظم کے ذریعہ تحدی ہوئی ہے اس کے برقرار رہتے ہوئے قرآن سے قرآنیت کیونکر نکل جائے جب کہ قرآن ہی سے اخذ کا قصد بھی موجود ہے تو محض نیت کے پھیردینے سے وہ اس تعظیم کو کیسے ختم کردے گا جو اس کے ذمہ واجب تھی۔ اس لئے کہ کسی چیز کو جانتے ہوئے اس سے نیت پھیرلینے کا اگرکوئی اثر ہوسکتاہے تویہی کہ اس میں اس کاجو فائدہ تھا اس سے وہ محروم ہوجائے نہ یہ کہ اس پر جو لازم تھا وہ بھی اس سے ساقط ہوجائے۔ الحاصل ان میں سے کسی میں کوئی کار آمد بات نہیں ۔
ثم اقول : امید ہے کہ ناظر کو ہمارے
فـــــ ۱ : تطفل علی النھر ورابع علی ش۔ فـــــ ۲ : تطفل علی الغنیۃ ۔
فـــــ ۳ : تطفل علی الحلیۃ۔
وکذا ماتقدم من تمسك الغنیۃ ان ماعلی وجہ الدعاء لیس بقران لان الاعمال بالنیات الخ
اقول : نعم لایثاب فـــــ۲ ثواب التلاوت من نواہ دعاء لکن القران کیف ینسلح عن القرانیۃ مع بقاء النظم المتحدی بہ واذا لقصد الی الاخذ منہ فمجرد صرف النیۃ کیف یزیل التعظیم الواجب علیہ فان صرفہا عن شیئ مع العلم بہ انکان لہ اثر ففی حرمان الصارف عما ھو لہ دون اسقاط ماھو علیہ وبالجملۃ لیس فی شیئ من ھذہ مایغنی من جوع۔
ثم اقول : عساك فـــــ۳ ایقنت مما
محقق نے اپنے کلام میں اس کا بھی اشارہ دے دیا تھا جیسا کہ پیش ہوا۔ اور ہم نے توبہت اچھی طرح واضح کردیا کہ قصد میں یہ تاثیر قطعا نہیں ہوتی کہ وہ حقائق واقعیہ کو تبدیل کردے۔
اسی طرح اس کی کمزوری بھی عیاں ہوگئی جس نے غنیہ سے استناد کیاکہ “ جو بطوردعا ہووہ قرآن نہیں اس لئے کہ اعمال کا مدارنیتوں پر ہے الخ “ جیسا کہ گزرا۔
اقول : ہاں جس نے دعا کا قصد کیا اسے تلاوت کا ثواب نہیں ملے گا لیکن جس نظم کے ذریعہ تحدی ہوئی ہے اس کے برقرار رہتے ہوئے قرآن سے قرآنیت کیونکر نکل جائے جب کہ قرآن ہی سے اخذ کا قصد بھی موجود ہے تو محض نیت کے پھیردینے سے وہ اس تعظیم کو کیسے ختم کردے گا جو اس کے ذمہ واجب تھی۔ اس لئے کہ کسی چیز کو جانتے ہوئے اس سے نیت پھیرلینے کا اگرکوئی اثر ہوسکتاہے تویہی کہ اس میں اس کاجو فائدہ تھا اس سے وہ محروم ہوجائے نہ یہ کہ اس پر جو لازم تھا وہ بھی اس سے ساقط ہوجائے۔ الحاصل ان میں سے کسی میں کوئی کار آمد بات نہیں ۔
ثم اقول : امید ہے کہ ناظر کو ہمارے
فـــــ ۱ : تطفل علی النھر ورابع علی ش۔ فـــــ ۲ : تطفل علی الغنیۃ ۔
فـــــ ۳ : تطفل علی الحلیۃ۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث قرأۃ القرآن للجنب سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۷
القیت علیك ان المناط ھو ان یعمد الی القران فیاخذ من نظمہ ویقرأہ علی نیۃ غیرہ سواء کان قدر ما وقع بہ التحدی اولا فان القلیل والکثیر من الکلام العزیز سواء فی وجوب الادب والتعظیم اما سمعت الی قول حبر الامۃ سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله تعالی عنہمالیس شیئ من القرآن بقلیل فتخصیص المحقق الکلام بما تحدی بہ لیس فی محلہ ولا یتوقف فــــ علیہ کونہ قرآنا حقیقۃ وحکما ولفظا ومعنی کما یوھمہ کلامہ نعم لزوم الخصوصیۃ القرانیۃ یختص بذلك لاستحالۃ جریانہ علی اللسان اتفاقا دون مادونہ کما علم من موافقات الفرقان والفاروق رضی الله تعالی عنہ وقولہ عند سماع ایۃ اطوار الخلق فتبرك الله احسن الخلقین(۱۴) فنزل کذلك لکن اسمعناك ان لاحاجۃ الیہ بعد تعمد الاخذ من القران العظیم فھو
بیا ن سابق سے اس بات کا بھی یقین حاصل ہوچکا ہوگاکہ مدار اس پر ہے کہ قرآن کی طرف توجہ کرکے اس کے نظم سے کچھ اخذ کرے اور اسے غیر قرآن کی نیت سے پڑھے خواہ وہ اس مقدار میں ہو جس سے تحدی ہوئی ہے یا نہ ہواس لئے کہ وجوب ادب وتعظیم کے معاملہ میں کلام عزیز کے قلیل وکثیر کا حکم ایك ہے۔ آپ سن چکے کہ حبرامت سیدناعبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا : قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں ۔ تو محقق حلبی نے اپنی گفتگو جو مقدار تحدی سے خاص فرمائی وہ بے محل ہے۔ اور اس کا حقیقۃ حکما لفظا معنی قرآن ہونا اس پر موقوف بھی نہیں جیساکہ ان کے کلام سے وہم ہوتاہے ۔ ہاں خصوصیت قرآنیہ مقدار تحدی ہی کو لازم ہے اس لئے کہ اسی مقدار کا زبان پر اتفاقاجاری ہوجانا محال ہے اس سے کم کا نہیں ۔ جیساکہ فرقان اورجناب فاروق رضی اللہ تعالی عنہکے موافقات سے معلوم ہے اور اس سے بھی کہ جب تخلیق کے مراحل کے ذکر پر مشتمل آیت مبارکہ سنی توکہہ دیا “ فتبرك الله احسن الخلقین(۱۴) “ پھر ایسا ہی نازل بھی ہوا۔ لیکن ہم بتا چکے کہ جب خود اس کے دل میں قرآن عظیم سے اخذ کا قصد موجود ہے تو تحدی والی گفتگو
فــــ ۳ : تطفل اخر علیھا۔
بیا ن سابق سے اس بات کا بھی یقین حاصل ہوچکا ہوگاکہ مدار اس پر ہے کہ قرآن کی طرف توجہ کرکے اس کے نظم سے کچھ اخذ کرے اور اسے غیر قرآن کی نیت سے پڑھے خواہ وہ اس مقدار میں ہو جس سے تحدی ہوئی ہے یا نہ ہواس لئے کہ وجوب ادب وتعظیم کے معاملہ میں کلام عزیز کے قلیل وکثیر کا حکم ایك ہے۔ آپ سن چکے کہ حبرامت سیدناعبدالله بن عباسرضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا : قرآن میں سے کچھ بھی قلیل نہیں ۔ تو محقق حلبی نے اپنی گفتگو جو مقدار تحدی سے خاص فرمائی وہ بے محل ہے۔ اور اس کا حقیقۃ حکما لفظا معنی قرآن ہونا اس پر موقوف بھی نہیں جیساکہ ان کے کلام سے وہم ہوتاہے ۔ ہاں خصوصیت قرآنیہ مقدار تحدی ہی کو لازم ہے اس لئے کہ اسی مقدار کا زبان پر اتفاقاجاری ہوجانا محال ہے اس سے کم کا نہیں ۔ جیساکہ فرقان اورجناب فاروق رضی اللہ تعالی عنہکے موافقات سے معلوم ہے اور اس سے بھی کہ جب تخلیق کے مراحل کے ذکر پر مشتمل آیت مبارکہ سنی توکہہ دیا “ فتبرك الله احسن الخلقین(۱۴) “ پھر ایسا ہی نازل بھی ہوا۔ لیکن ہم بتا چکے کہ جب خود اس کے دل میں قرآن عظیم سے اخذ کا قصد موجود ہے تو تحدی والی گفتگو
فــــ ۳ : تطفل اخر علیھا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۳ /۱۴
بما فی نفسہ علیم فافھم وتثبت۔
کی یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ اسے اپنے دل کی بات کا خود ہی علم حاصل ہے تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔ (ت)
تو واجب تھا کہ سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی بالائے سرفقط الحمدلله یا سبحن الله یا لاالہ الا الله بھی جنب کو جائز نہ ہو جبکہ ان میں اخذ عن القرآن کا قصد کرے اگرچہ نیت قرآن سے پھیر کر غیر قرآن کی کرلے مگر شرع مطہر نے لحاظ فرمایا کہ مسلمان ہر وقت ہر حال میں اپنے رب جل وعلا کے ذکر وثنا اور اس سے سوال ودعا کا محتاج ہے اور ثنائے الہی وہی اتم واکمل ہے جو خود اس نے اپنے نفس کریم پر کی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعرض کرتے ہیں :
لااحصی ثناء علیك انت کما اثنیت علی نفسك ۔
الہی! میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی ثنا کی۔
یوں ہی جو دعائیں قرآن عظیم نے تعلیم فرمائیں بندہ ان کی مثال کہاں سے لاسکتا ہے رحمت شریعت نے نہ چاہا کہ بندہ ان خزائن بے مثال سے روکا جائے علی الخصوص حیض ونفاس والیاں جن کی تہائی عمر انہیں عوارض میں گزرتی ہے لہذا یہاں بہ تبدیل نیت اجازت فرمائی جسے بسم الله الرحمن الرحیم بہ نیت افتتاح کہنے کے جواز پر علماء نے ظاہر کردیا اس کی نظیر یہ ہے کہ نماز فــــ میں کسی کلام سے اگرچہ آیت یا ذکر الہی ہو ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے باہر ہے مفسد نماز ہے مثلا کسی خوشی کی خبر کے جواب میں کہا الحمدلله رب العلمین یا خبر غم کے جواب میں انا الله وانا الیہ راجعون یا کسی نے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے اس کی خوبی بتانے کو کہا سبحان الله نماز جاتی رہے گی مگر کسی شخص نے آواز دی اور اس نے یہ جتانے کو کہ میں نماز پڑھتا ہوں لا الہ الا الله یا سبحن الله یا اس کے مثل
فــــ : مسئلہ : نماز میں اگر کسی آیت یا ذکر الہی سے کسی شخص کو خطاب یا بات کا جواب چاہے گا مثلا بقصد جواب خوشی کی خبر پر الحمدلله رنج کی خبر پر انا لله وا نا الیہ راجعون کہا نماز جاتی رہے گی ہاں اگر کسی نے پکارا اسے یہ جتانے کے لئے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں سبحان الله یا لاالہ الا الله وغیرہ کہا نمازنہ جائے گی ۔
کی یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ اسے اپنے دل کی بات کا خود ہی علم حاصل ہے تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔ (ت)
تو واجب تھا کہ سورہ فاتحہ وآیۃ الکرسی بالائے سرفقط الحمدلله یا سبحن الله یا لاالہ الا الله بھی جنب کو جائز نہ ہو جبکہ ان میں اخذ عن القرآن کا قصد کرے اگرچہ نیت قرآن سے پھیر کر غیر قرآن کی کرلے مگر شرع مطہر نے لحاظ فرمایا کہ مسلمان ہر وقت ہر حال میں اپنے رب جل وعلا کے ذکر وثنا اور اس سے سوال ودعا کا محتاج ہے اور ثنائے الہی وہی اتم واکمل ہے جو خود اس نے اپنے نفس کریم پر کی رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمعرض کرتے ہیں :
لااحصی ثناء علیك انت کما اثنیت علی نفسك ۔
الہی! میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ویسا ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی ثنا کی۔
یوں ہی جو دعائیں قرآن عظیم نے تعلیم فرمائیں بندہ ان کی مثال کہاں سے لاسکتا ہے رحمت شریعت نے نہ چاہا کہ بندہ ان خزائن بے مثال سے روکا جائے علی الخصوص حیض ونفاس والیاں جن کی تہائی عمر انہیں عوارض میں گزرتی ہے لہذا یہاں بہ تبدیل نیت اجازت فرمائی جسے بسم الله الرحمن الرحیم بہ نیت افتتاح کہنے کے جواز پر علماء نے ظاہر کردیا اس کی نظیر یہ ہے کہ نماز فــــ میں کسی کلام سے اگرچہ آیت یا ذکر الہی ہو ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے باہر ہے مفسد نماز ہے مثلا کسی خوشی کی خبر کے جواب میں کہا الحمدلله رب العلمین یا خبر غم کے جواب میں انا الله وانا الیہ راجعون یا کسی نے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے اس کی خوبی بتانے کو کہا سبحان الله نماز جاتی رہے گی مگر کسی شخص نے آواز دی اور اس نے یہ جتانے کو کہ میں نماز پڑھتا ہوں لا الہ الا الله یا سبحن الله یا اس کے مثل
فــــ : مسئلہ : نماز میں اگر کسی آیت یا ذکر الہی سے کسی شخص کو خطاب یا بات کا جواب چاہے گا مثلا بقصد جواب خوشی کی خبر پر الحمدلله رنج کی خبر پر انا لله وا نا الیہ راجعون کہا نماز جاتی رہے گی ہاں اگر کسی نے پکارا اسے یہ جتانے کے لئے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں سبحان الله یا لاالہ الا الله وغیرہ کہا نمازنہ جائے گی ۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب القنوت فی الوتر1آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰۲
ذکر یا قرآن عظیم سے کچھ کہا نماز نہ جائے گی کہ شرع مطہر نے اس حاجت کے دفع کو اتنے کی اجازت عطا فرمادی درمختار میں ہے :
یفسدھا جواب خبر سوء بالاسترجاع ۔
خبر بد کے جواب میں انا لله وانا الیہ راجعون پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
اراد ا علامہ بانہ فی الصلاۃ لاتفسد اتفاقا ابن ملك وملتقی ۔
اگر یہ بتانے کا ارادہ ہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس سے نماز بالا تفاق فاسدنہ ہوگی ابن ملك وملتقی۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
لواجاب رجلا فی الصلاۃ بلا الہ الا الله فھذ اکلام مفسدوان اراد اعلامہ انہ فی الصلاۃ لم تفسد بالاجماع لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا نابت احدکم نائبۃ فی الصلوۃ فلیسبح اھ ۔
اقـول : فبھذا ظھر الجواب عن بحث الحلیۃ ولله الحمد ومحصلہ ان ذلك مستثنی بالاذن الشرعی کما استثنی بہ قصد الاعلام بانہ فی الصلاۃ مع تحقق المعنی
اگر اندرون نماز لا الہ الا الله کہہ کر کسی کو جواب دیا تویہ کلام مفسد نماز ہے اور اگر اپنے اندرون نماز ہونے سے اس کو آگاہ کرنا مقصود ہے تو بالاجماع نماز فاسد نہ ہوگی اس لئے کہ حضور کا ارشاد ہے : جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان الله کہے اھ۔ (ت)
اقول : تواسی سے بحث حلیہ کاجواب ظاہر ہوگیا۔ ولله الحمد۔ اوراس کا حاصل یہ ہے کہ یہ باذن شریعت مستثنی ہے جیسے باذن شرعی اپنے مشغول نماز ہونے کو بتانے کا قصد مستثنی ہے باوجودیکہ معنی مفسد قطعا متحقق ہے وہ ہے
یفسدھا جواب خبر سوء بالاسترجاع ۔
خبر بد کے جواب میں انا لله وانا الیہ راجعون پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
اراد ا علامہ بانہ فی الصلاۃ لاتفسد اتفاقا ابن ملك وملتقی ۔
اگر یہ بتانے کا ارادہ ہے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں تو اس سے نماز بالا تفاق فاسدنہ ہوگی ابن ملك وملتقی۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
لواجاب رجلا فی الصلاۃ بلا الہ الا الله فھذ اکلام مفسدوان اراد اعلامہ انہ فی الصلاۃ لم تفسد بالاجماع لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا نابت احدکم نائبۃ فی الصلوۃ فلیسبح اھ ۔
اقـول : فبھذا ظھر الجواب عن بحث الحلیۃ ولله الحمد ومحصلہ ان ذلك مستثنی بالاذن الشرعی کما استثنی بہ قصد الاعلام بانہ فی الصلاۃ مع تحقق المعنی
اگر اندرون نماز لا الہ الا الله کہہ کر کسی کو جواب دیا تویہ کلام مفسد نماز ہے اور اگر اپنے اندرون نماز ہونے سے اس کو آگاہ کرنا مقصود ہے تو بالاجماع نماز فاسد نہ ہوگی اس لئے کہ حضور کا ارشاد ہے : جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان الله کہے اھ۔ (ت)
اقول : تواسی سے بحث حلیہ کاجواب ظاہر ہوگیا۔ ولله الحمد۔ اوراس کا حاصل یہ ہے کہ یہ باذن شریعت مستثنی ہے جیسے باذن شرعی اپنے مشغول نماز ہونے کو بتانے کا قصد مستثنی ہے باوجودیکہ معنی مفسد قطعا متحقق ہے وہ ہے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹
الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۱۶
الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹
الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصّلٰوۃ ومایکرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۱۶
المفسد قطعا وھو افادۃ معنی لیس من اعمال الصلاۃ فافھم وتثبت۔
ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے نہیں ۔ تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔ (ت)
اور جب حاجت اکملیت ذکر ودعا کا لحاظ فرمایا تو حاجت تعلیم قرآن تو اس سے اہم ہے خصوصا حائض کیلئے کہ اس کا زمانہ ممتد ہے :
حتی ان مالکا اباح لھا التلاوۃ لھذا وبہ فرق بینھا وبین الجنب ۔
(یہاں تك کہ اسی وجہ سے امام مالك نے اس کے لئے تلاوت جائز کہی اوراسی سے اس میں اور جنب میں فرق کیا۔ (ت)
مگر یہ حاجت ایك ایك کلمہ سکھانے سے پوری ہوجاتی ہے اور شك نہیں کہ وہ بہ نسبت مرکبات صورت نظم قرآنی سے دور تر ہے لہذا اسی قدر کی اجازت ہوئی۔
وقد اشار الامام الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر الی ان اباحۃ التعلیم لاجل العذر کما فی الحلیۃ وعبر فی محیط السرخسی بالعذر والضرورۃ کما فیھا ایضا۔
اقول : وبما فـــــ قررت وذکرت من حدیث اعلام الصلاۃ مع عدم الضرورۃ بالمعنی الحقیقی ومن اعتبار الشرع حاجۃ الجنب فی الدعاء مع تمکنہ من الاغتسال بل ومن الدعاء بالفاظ اخر بخلاف التعلیم ینفتح الجواب عن ایرادی الحلیۃ علی مسألۃ التعلیم بقولہ لایخفی
امام فقیہ ابو اللیث نے شرح جامع صغیر میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تعلیم کا جوازعذر کی وجہ سے ہے۔ جیساکہ حلیہ میں نقل کیا۔ اورمحیط سرخسی کی تعبیریہ ہے کہ “ عذر و ضرورت کی وجہ سے ہے “ ۔ اسے بھی حلیہ میں نقل کیا۔
اقول : میری تقریر سابق سے اور اس بیان سے کہ اپنے مشغول نماز ہونے کو مذکورہ کلمات سے بتاسکتا ہے جب کہ یہاں ضرورت بمعنی حقیقی موجود نہیں ۔ اور یہ کہ شریعت نے دعاکے معاملہ میں جنب کی حاجت کا لحاظ کیا ہے حالاں کہ وہ غسل کرسکتا ہے بلکہ دوسرے الفاظ سے دعابھی کرسکتاہے۔ بخلاف تعلیم کے۔ (اس تقریر وبیان سے) صاحب حلیہ کے دو اعتراضوں کا جواب منکشف ہوجاتا ہے
فـــــ : تطفل رابع و خامس علیہا۔
ایسے معنی کا افادہ جو اعمال نماز سے نہیں ۔ تواسے سمجھو اور ثابت قدم رہو۔ (ت)
اور جب حاجت اکملیت ذکر ودعا کا لحاظ فرمایا تو حاجت تعلیم قرآن تو اس سے اہم ہے خصوصا حائض کیلئے کہ اس کا زمانہ ممتد ہے :
حتی ان مالکا اباح لھا التلاوۃ لھذا وبہ فرق بینھا وبین الجنب ۔
(یہاں تك کہ اسی وجہ سے امام مالك نے اس کے لئے تلاوت جائز کہی اوراسی سے اس میں اور جنب میں فرق کیا۔ (ت)
مگر یہ حاجت ایك ایك کلمہ سکھانے سے پوری ہوجاتی ہے اور شك نہیں کہ وہ بہ نسبت مرکبات صورت نظم قرآنی سے دور تر ہے لہذا اسی قدر کی اجازت ہوئی۔
وقد اشار الامام الفقیہ ابو اللیث فی شرح الجامع الصغیر الی ان اباحۃ التعلیم لاجل العذر کما فی الحلیۃ وعبر فی محیط السرخسی بالعذر والضرورۃ کما فیھا ایضا۔
اقول : وبما فـــــ قررت وذکرت من حدیث اعلام الصلاۃ مع عدم الضرورۃ بالمعنی الحقیقی ومن اعتبار الشرع حاجۃ الجنب فی الدعاء مع تمکنہ من الاغتسال بل ومن الدعاء بالفاظ اخر بخلاف التعلیم ینفتح الجواب عن ایرادی الحلیۃ علی مسألۃ التعلیم بقولہ لایخفی
امام فقیہ ابو اللیث نے شرح جامع صغیر میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تعلیم کا جوازعذر کی وجہ سے ہے۔ جیساکہ حلیہ میں نقل کیا۔ اورمحیط سرخسی کی تعبیریہ ہے کہ “ عذر و ضرورت کی وجہ سے ہے “ ۔ اسے بھی حلیہ میں نقل کیا۔
اقول : میری تقریر سابق سے اور اس بیان سے کہ اپنے مشغول نماز ہونے کو مذکورہ کلمات سے بتاسکتا ہے جب کہ یہاں ضرورت بمعنی حقیقی موجود نہیں ۔ اور یہ کہ شریعت نے دعاکے معاملہ میں جنب کی حاجت کا لحاظ کیا ہے حالاں کہ وہ غسل کرسکتا ہے بلکہ دوسرے الفاظ سے دعابھی کرسکتاہے۔ بخلاف تعلیم کے۔ (اس تقریر وبیان سے) صاحب حلیہ کے دو اعتراضوں کا جواب منکشف ہوجاتا ہے
فـــــ : تطفل رابع و خامس علیہا۔
مافیہ بالنسبۃ الی الجنب ثم مافی کون ھذا الاحتیاج مبیحا لذلك اھ فافھم واعلم والله اعلم۔
جو انہوں نے مسئلہ تعلیم سے متعلق ان الفاظ میں پیش کئے ہیں کہ : اس مسئلہ میں جنب کی بہ نسبت جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں ۔ پھر اس کے لئے تعلیماکلمہ قرآن پڑھنے کے حکم میں اس ضرورت کے باعث اباحت ہونے میں جوکلام ہے وہ بھی مخفی نہیں اھ۔ تواسے سمجھو اورجانو ۔ والله اعلم۔ (ت)
ظاہر ہے کہ ان کے ماورا مثل قصص وغیرہا میں نہ تو حاجت ہے نہ وہ دعا وثنا کے معنے ہیں کہ ان سے ملحق ہوسکیں تو بعد قصد قرآن پھر تبدیل نیت وہی شہد کو دانستہ نمك ٹھہرا کر کھانا ہوگا تو حکم ممانعت ہی چاہئے جب تك شرع سے اجازت ثابت نہ ہو اور وہ کہیں ثابت نہیں ۔ معہذا اگر مطلق تبدیل نیت کی اجازت ہو تو جو کلام طویل قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں مقبولوں یا دشمنوں سے نقل فرمائے اور دور تك ان کا سلسلہ چلا گیا ہے جیسے سورہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام میں قال چھوڑ کر
رب انی دعوت قومی لیلا و نهارا(۵) سے لتسلكوا منها سبلا فجاجا(۲۰) تك سولہ۱۶ آیتیں متواتر اور سورہ جن میں انا سمعنا قرانا عجبا(۱) سے و اما القسطون فكانوا لجهنم حطبا(۱۵) تك پندرہ آیتیں اور سورہ لقمان میں یبنی انها ان تك سے ان انكر الاصوات لصوت الحمیر(۱۹) تك چار۴ طویل آیتیں کہ ہر ایك تین۳ آیت کی مقدار سے زائد ہے اور سورہ اسرا میں وقالوا چھوڑ کر لن نؤمن سے كتبا نقرؤه- تك اس نیت سے کہ یہ نوح ولقمان وجن وکفار کے کلام ہیں پڑھ سکے بلکہ تمام سورہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام شروع سورت کے اذ قال یوسف لابیه سے گیارھویں رکوع کے اواخر و الحقنی بالصلحین(۱۰۱) تك جس کی مقدار نصف پارہ قرآن عظیم سے بھی زائد ہے بحال جنابت بہ نیت حکایت قصہ پڑھ جائے اور جائز ہو صرف بیچ بیچ میں سے چند جملے جو قرآنیت کیلئے متعین ہیں ترك کردے یعنی رکوع دوم میں و اوحینا الیه لتنبئنهم نصف آیت سوم میں و كذلك مكناسے نجزی المحسنین(۲۲) تك کچھ کم دو آیتیں پھر كذلك لنصرف نصف آیت ہفتم میں
جو انہوں نے مسئلہ تعلیم سے متعلق ان الفاظ میں پیش کئے ہیں کہ : اس مسئلہ میں جنب کی بہ نسبت جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں ۔ پھر اس کے لئے تعلیماکلمہ قرآن پڑھنے کے حکم میں اس ضرورت کے باعث اباحت ہونے میں جوکلام ہے وہ بھی مخفی نہیں اھ۔ تواسے سمجھو اورجانو ۔ والله اعلم۔ (ت)
ظاہر ہے کہ ان کے ماورا مثل قصص وغیرہا میں نہ تو حاجت ہے نہ وہ دعا وثنا کے معنے ہیں کہ ان سے ملحق ہوسکیں تو بعد قصد قرآن پھر تبدیل نیت وہی شہد کو دانستہ نمك ٹھہرا کر کھانا ہوگا تو حکم ممانعت ہی چاہئے جب تك شرع سے اجازت ثابت نہ ہو اور وہ کہیں ثابت نہیں ۔ معہذا اگر مطلق تبدیل نیت کی اجازت ہو تو جو کلام طویل قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں مقبولوں یا دشمنوں سے نقل فرمائے اور دور تك ان کا سلسلہ چلا گیا ہے جیسے سورہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام میں قال چھوڑ کر
رب انی دعوت قومی لیلا و نهارا(۵) سے لتسلكوا منها سبلا فجاجا(۲۰) تك سولہ۱۶ آیتیں متواتر اور سورہ جن میں انا سمعنا قرانا عجبا(۱) سے و اما القسطون فكانوا لجهنم حطبا(۱۵) تك پندرہ آیتیں اور سورہ لقمان میں یبنی انها ان تك سے ان انكر الاصوات لصوت الحمیر(۱۹) تك چار۴ طویل آیتیں کہ ہر ایك تین۳ آیت کی مقدار سے زائد ہے اور سورہ اسرا میں وقالوا چھوڑ کر لن نؤمن سے كتبا نقرؤه- تك اس نیت سے کہ یہ نوح ولقمان وجن وکفار کے کلام ہیں پڑھ سکے بلکہ تمام سورہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام شروع سورت کے اذ قال یوسف لابیه سے گیارھویں رکوع کے اواخر و الحقنی بالصلحین(۱۰۱) تك جس کی مقدار نصف پارہ قرآن عظیم سے بھی زائد ہے بحال جنابت بہ نیت حکایت قصہ پڑھ جائے اور جائز ہو صرف بیچ بیچ میں سے چند جملے جو قرآنیت کیلئے متعین ہیں ترك کردے یعنی رکوع دوم میں و اوحینا الیه لتنبئنهم نصف آیت سوم میں و كذلك مكناسے نجزی المحسنین(۲۲) تك کچھ کم دو آیتیں پھر كذلك لنصرف نصف آیت ہفتم میں
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیتہ المصلی
القرآن الکریم ۷۱ / ۵ تا ۲۰
القرآن الکریم ۷۲ / ۱ تا ۱۵
القرآن الکریم ۳۱ / ۱۶تا ۱۹
القرآن الکریم ۱۷ / ۹۰تا ۹۳
القرآن الکریم ۱۲ / ۴تا۱۰۱
القرآن الکریم۱۲ / ۱۵
القرآن الکریم۱۲ / ۲۱ ، ۲۲
القرآن الکریم ۱۲ / ۲۴
القرآن الکریم ۷۱ / ۵ تا ۲۰
القرآن الکریم ۷۲ / ۱ تا ۱۵
القرآن الکریم ۳۱ / ۱۶تا ۱۹
القرآن الکریم ۱۷ / ۹۰تا ۹۳
القرآن الکریم ۱۲ / ۴تا۱۰۱
القرآن الکریم۱۲ / ۱۵
القرآن الکریم۱۲ / ۲۱ ، ۲۲
القرآن الکریم ۱۲ / ۲۴
و كذلك مكنا ایك آیت ہشتم میں و انه لذو علم لما علمنه تہائی آیت نہم میں كذلك كدنا لیوسف-اور نرفع درجت من نشآء- چہارم آیت وبس جس کی مقدار چورانوے۹۴ آیت طویل ہوئی یہ کس قدر مستبعد اور قرآن عظیم کے ادب سے جدا وابعد ہے تو سوا ا ن صور استثناء کے مطلقا ممانعت چاہئے اور فــــ۱حاصل حکم یہ ٹھہرا کہ بہ نیت قرآن ایك حرف بھی روا نہیں اور جو الفاظ اپنے کلام میں زبان پر آجائیں اور بے قصد موافقت اتفاقا کلمات قرآنیہ سے متفق ہوجائیں زیر حکم نہیں اور قرآن عظیم کا خیال کرکے بے نیت قرآن ادا کرنا چاہئے تو صرف دو صورتوں میں اجازت ایك یہ کہ آیات دعا وثنا بہ نیت ودعا وثنا پڑھے دوسرے یہ کہ بحاجت تعلیم ایك ایك کلمہ مثلا اس نیت سے کہ یہ زبان عرب کے الفاظ مفردہ ہیں کہتا جائے اور ہر دو لفظ میں فصل کرے متواتر نہ کہے کہ عبارت منتظم ہوجائے کما نصوا علیہ ان کے سوا کسی صورت میں اجازت نہیں ( جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ ت)
ھذا ماظھرلی وارجوا ن یکون صوابا وبالله التوفیق ولله الحمدا بدا۔
یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور امید رکھتاہوں کہ درست ہو اورخداہی سے توفیق ہے اورالله ہی کے لئے ہمیشہ حمد ہے۔ (ت)
تنبیہ ۲ : اقول : تمام کتب فــــ ۲ میں آیات ثنا کو مطلق چھوڑا اور اس میں ایك قید ضروری ہے کہ ضروری یعنی بدیہی ہونے کے سبب علماء نے ذکر نہ فرمائی وہ آیات ثنا جن میں رب عزوجل نے بصیغہ متکلم اپنی حمد فرمائی جیسے و انی لغفار لمن تاب ان کو بہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے کہ وہ قرآنیت کیلئے متعین ہیں بندہ انہیں میں انشائے ثنا کی نیت کرسکتا ہے جن میں ثنا بصیغہ غیبت یا خطاب ہے۔
تنبیہ ۳ : اقول : یہاں فــــ۳ ایك اور نکتہ ہے بعض آیتیں یا سورتیں ایسی ہی دعا وثنا ہیں کہ بندہ ان کی
فـــ۱ : مسئلہ : ان مسائل کا خلاصہ حکم جامع و منقح ۔
فـــ۲ : مسئلہ : جنت کو وہ آیات ثنابہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے جن میں رب عزوجل نے اپنے لئے متکلم کی ضمیریں ذکر فرمائیں
فـــ۳ : مسئلہ : جن آیات دعا وثنا کے اول میں قل ہے ان میں جنب یہ لفظ چھوڑ کر بہ نیت دعا پڑھے ورنہ جائز نہیں ۔
ھذا ماظھرلی وارجوا ن یکون صوابا وبالله التوفیق ولله الحمدا بدا۔
یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور امید رکھتاہوں کہ درست ہو اورخداہی سے توفیق ہے اورالله ہی کے لئے ہمیشہ حمد ہے۔ (ت)
تنبیہ ۲ : اقول : تمام کتب فــــ ۲ میں آیات ثنا کو مطلق چھوڑا اور اس میں ایك قید ضروری ہے کہ ضروری یعنی بدیہی ہونے کے سبب علماء نے ذکر نہ فرمائی وہ آیات ثنا جن میں رب عزوجل نے بصیغہ متکلم اپنی حمد فرمائی جیسے و انی لغفار لمن تاب ان کو بہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے کہ وہ قرآنیت کیلئے متعین ہیں بندہ انہیں میں انشائے ثنا کی نیت کرسکتا ہے جن میں ثنا بصیغہ غیبت یا خطاب ہے۔
تنبیہ ۳ : اقول : یہاں فــــ۳ ایك اور نکتہ ہے بعض آیتیں یا سورتیں ایسی ہی دعا وثنا ہیں کہ بندہ ان کی
فـــ۱ : مسئلہ : ان مسائل کا خلاصہ حکم جامع و منقح ۔
فـــ۲ : مسئلہ : جنت کو وہ آیات ثنابہ نیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے جن میں رب عزوجل نے اپنے لئے متکلم کی ضمیریں ذکر فرمائیں
فـــ۳ : مسئلہ : جن آیات دعا وثنا کے اول میں قل ہے ان میں جنب یہ لفظ چھوڑ کر بہ نیت دعا پڑھے ورنہ جائز نہیں ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ / ۲۱
القرآن الکریم۱۲ / ۶۸
القرآن الکریم ۱۳ / ۷۶
القرآن الکریم۱۲ / ۶۸
القرآن الکریم ۱۳ / ۷۶
انشا کرسکتا ہے بلکہ بندہ کو اسی لئے تعلیم فرمائی گئی ہیں مگر ان کے آغاز میں لفظ قل ہے جیسے تینوں قل اور کریمہ قل اللهم ملك الملك ان میں سے یہ لفظ چھوڑ کر پڑھے کہ اگر اس سے امر الہی مراد لیتا ہے تو وہ عین قرأت ہے اور اگر یہ تاویل کرے کہ خود اپنے نفس کی طرف خطاب کرکے کہتا ہے قل اس طرح کہہ یوں ثنا ودعا کر۔ تو یہ امر بدعا وثنا ہوا نہ دعا وثنا اور شرع سے اجازت اس کی ثابت ہوئی ہے نہ اس کی۔
تنبیہ : اقول : یوں ہی فــــ۱ وہ ادعیہ واذکار جن میں حروف مقطعات ہیں مثلا صبح فــــ۲ وشام کی دعاؤں میں آیۃ الکرسی کے ساتھ سورہ غافر کا آغاز حم(۱) تنزیل الكتب من الله العزیز العلیم(۲) غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب-ذی الطول-لا اله الا هو-الیه المصیر(۳) تك پڑھنے کو حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو صبح پڑھے شام تك ہر بلا سے محفوظ رہے اور شام پڑھے تو صبح تك رواہ الترمذی والبزار وابنا نصر ومردویہ والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بحال جنابت اسے نہیں پڑھ سکتا ہے کہ حروف مقطعات کے معنے الله ورسول ہی جانتے ہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیا معلوم کہ وہ ایسا کلام ہو جس کے ساتھ غیر خدا بے حکایت کلام الہی تکلم نہ کرسکتا ہو۔ معہذا اجازت صرف دعا وثنا کی ہے کیا معلوم کہ ان کے معنے میں کچھ اور بھی ہو والله تعالی اعلم۔
تنبیہ ۵ : اقول : ہماری اس تقریر سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ جن آیات فــــ۳ میں بندہ دعا وثنا کی نیت نہیں کرسکتا بحال جنابت وحیض انہیں بطور عمل بھی نہیں پڑھ سکتا مثلا تفریق اعدا کے لئے سورہ تبت نہ کہ سورہ کوثر کہ بوجہ ضمائر متکلم انا اعطینا قرآنیت کے لئے متعین ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : اسے حروف مقطعات والی دعا کی بھی اجازت نہیں ۔
فــــ۲ : بلاؤں سے محفوظی کی دعا۔
فــــ۳ : مسئلہ : جن آیات میں خالص دعا و ثنا نہیں انہیں جنب یا حائض بہ نیت عمل بھی نہیں پڑھ سکتے ۔
تنبیہ : اقول : یوں ہی فــــ۱ وہ ادعیہ واذکار جن میں حروف مقطعات ہیں مثلا صبح فــــ۲ وشام کی دعاؤں میں آیۃ الکرسی کے ساتھ سورہ غافر کا آغاز حم(۱) تنزیل الكتب من الله العزیز العلیم(۲) غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب-ذی الطول-لا اله الا هو-الیه المصیر(۳) تك پڑھنے کو حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو صبح پڑھے شام تك ہر بلا سے محفوظ رہے اور شام پڑھے تو صبح تك رواہ الترمذی والبزار وابنا نصر ومردویہ والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بحال جنابت اسے نہیں پڑھ سکتا ہے کہ حروف مقطعات کے معنے الله ورسول ہی جانتے ہیں جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیا معلوم کہ وہ ایسا کلام ہو جس کے ساتھ غیر خدا بے حکایت کلام الہی تکلم نہ کرسکتا ہو۔ معہذا اجازت صرف دعا وثنا کی ہے کیا معلوم کہ ان کے معنے میں کچھ اور بھی ہو والله تعالی اعلم۔
تنبیہ ۵ : اقول : ہماری اس تقریر سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ جن آیات فــــ۳ میں بندہ دعا وثنا کی نیت نہیں کرسکتا بحال جنابت وحیض انہیں بطور عمل بھی نہیں پڑھ سکتا مثلا تفریق اعدا کے لئے سورہ تبت نہ کہ سورہ کوثر کہ بوجہ ضمائر متکلم انا اعطینا قرآنیت کے لئے متعین ہے۔
فــــ۱ : مسئلہ : اسے حروف مقطعات والی دعا کی بھی اجازت نہیں ۔
فــــ۲ : بلاؤں سے محفوظی کی دعا۔
فــــ۳ : مسئلہ : جن آیات میں خالص دعا و ثنا نہیں انہیں جنب یا حائض بہ نیت عمل بھی نہیں پڑھ سکتے ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۲۶
القرآن ۴۰ / ۱ تا ۳
الدر المنثور بحوالہ الترمذی والبزار ومحمد بن نصر الخ تحت الایۃ ۴۰ / ۱ تا ۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷ / ۲۳۳
القرآن ۴۰ / ۱ تا ۳
الدر المنثور بحوالہ الترمذی والبزار ومحمد بن نصر الخ تحت الایۃ ۴۰ / ۱ تا ۳ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷ / ۲۳۳
عمل میں تین نیتیں ہوتی ہیں یا ۱تو دعا جیسے حزب البحر حرزیمانی یا ۲الله عزوجل کے نام وکلام سے کسی مطلب خاص میں استعانت جیسے عمل سورہ یس وسورہ مزمل صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا ۳اعداد معینہ خواہ ایام مقررہ تك اس غرض سے اس کی تکرار کہ عمل میں آجائے حاکم ہوجائے اس کے موکلات تابع ہوجائیں اس تیسری نیت والے تو بحال جنابت کیا معنے بے وضو پڑھنا بھی روا نہیں رکھتے اور اگر بالفرض کوئی جرأت کرے بھی تو اس نیت فـــ۱سے وہ آیت وسورت بھی جائز نہیں ہوسکتی ۔ جس میں صرف معنی دعا وثنا ہی ہے کہ اولا یہ نیت نیت دعا وثنا نہیں ثانیا اس میں خود آیت وسورت ہی کہ تکرار مقصود ہوتی ہے کہ اس کے خدام مطیع ہوں تو نیت قرآنیت اس میں لازم ہے۔ رہیں پہلی دو نیتیں جب وہ آیات معنی دعا سے خالی ہیں تو نیت اولی ناممکن اور نیت ثانیہ عین نیت قرآن ہے اور بقصد قرآن اسے ایك حرف روا نہیں ۔
تنبیہ۶ : یہی حکم دم کرنے کیلئے پڑھنے فــــــ۲ کا ہے کہ طلب شفا کی نیت تغییر قرآن نہیں کرسکتی آخر قرآن ہی سے تو شفا چاہ رہا ہے کون کہے گا کہ انما افحسبتم فــــ۳ خلقنكم عبثا تا آخری سورت عــــــہ مصروع ومجنون کے کان میں جنب پڑھ سکتا ہے ہاں جس آیت یا سورت میں خالص معنی دعا وثنا بصیغہ غیبت وخطاب
عـــــہ : حدیث میں ہے کہ کوئی آسیب زدہ یا مجنون تھا حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے اس کے کان میں یہی آیتیں پڑھیں وہ فورا اچھا ہوگیا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا انہوں نے عرض کیا فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سچے یقین والا اگر ان آیتوں کو پہاڑ پر پڑھے تو اسے جگہ سے ہٹادے گا اخرجہ الامام الحکیم الترمذی وابو یعلی وابن حاتم وابن السنی وابو نعیم فی الحلیۃ وابن مردو یہ عنہ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ
فــــــ۱ : مسئلہ صرف عمل میں لانے کی نیت سے جنب و حائض خالص آیات دعا وثنا بھی نہیں پڑھ سکتے۔
فــــــ۲ : مسئلہ دم کرنے کے لئے بھی جنب وہی خالص آیات دعا وثنا بے نیت قرآن خاص بہ نیت دعا و ثنا ہی پڑھ سکتا ہے
فــــــ۳ : آسیب زدہ و مصروع و مجنون کا علاج۔
تنبیہ۶ : یہی حکم دم کرنے کیلئے پڑھنے فــــــ۲ کا ہے کہ طلب شفا کی نیت تغییر قرآن نہیں کرسکتی آخر قرآن ہی سے تو شفا چاہ رہا ہے کون کہے گا کہ انما افحسبتم فــــ۳ خلقنكم عبثا تا آخری سورت عــــــہ مصروع ومجنون کے کان میں جنب پڑھ سکتا ہے ہاں جس آیت یا سورت میں خالص معنی دعا وثنا بصیغہ غیبت وخطاب
عـــــہ : حدیث میں ہے کہ کوئی آسیب زدہ یا مجنون تھا حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے اس کے کان میں یہی آیتیں پڑھیں وہ فورا اچھا ہوگیا رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا انہوں نے عرض کیا فرمایا قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سچے یقین والا اگر ان آیتوں کو پہاڑ پر پڑھے تو اسے جگہ سے ہٹادے گا اخرجہ الامام الحکیم الترمذی وابو یعلی وابن حاتم وابن السنی وابو نعیم فی الحلیۃ وابن مردو یہ عنہ رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ
فــــــ۱ : مسئلہ صرف عمل میں لانے کی نیت سے جنب و حائض خالص آیات دعا وثنا بھی نہیں پڑھ سکتے۔
فــــــ۲ : مسئلہ دم کرنے کے لئے بھی جنب وہی خالص آیات دعا وثنا بے نیت قرآن خاص بہ نیت دعا و ثنا ہی پڑھ سکتا ہے
فــــــ۳ : آسیب زدہ و مصروع و مجنون کا علاج۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۳ /۱۱۵
الدر المنثور بحوالہ الحکیم و ابی یعلی وابن ابی حاتم و غیرھم تحت الایۃ۲۳ / ۱۱۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۱۴
الدر المنثور بحوالہ الحکیم و ابی یعلی وابن ابی حاتم و غیرھم تحت الایۃ۲۳ / ۱۱۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۱۴
ہوں اور اس کے اول میں قل بھی نہ ہو نہ اس میں حروف مقطعات ہوں اور اس سے قرآن عظیم کی نیت بھی نہ کرے بلکہ دعا و ثنا کی برکت سے طلب شفا کرنے کیلئے اس پر دم کر ے تو روا ہے۔
تبنبیہ۷ : علمت فـــــ مما القیت علیك ان التغیر بنیۃ الدعاء والثناء د
ون نیۃ الاستشفاء ووقع فی ش نقلا عن سیدی عبدالغنی قدس سرہ ما یوھم خلافہ اذقال الھیکل والحمائلی المشتمل علی الایات القرانیۃ اذا کان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلأ بہ ومسہ وحملہ للجنب ویستفاد منہ ان ماکتب من الایات بنیۃ الدعاء والثناء لایخرج عن کونہ قرانا بخلاف قراء تہ بھذہ النیۃ فالنیۃ تعمل فی تغییر المنطوق لاالمکتوب اھ ومبناہ کما تری علی فھم ان نیۃ الاستشفاء مغیرۃ کنیۃ الدعاء ولم تعمل فی المکتوب فکذلك نیۃ الدعاء اونقول الاستشفاء من باب الدعاء فنیتہ نیتہ۔
ہمارے بیان سابق سے واضح ہواکہ تغیر دعا و ثنا کی نیت سے ہوتاہے شفا طلبی کی نیت سے نہیں ہوتا۔ اورشامی میں سیدی عبدالغنی قدس سرہ سے نقل کرتے ہوئے وہ لکھاہے جس سے اس کے خلاف وہم پیدا کرتا ہے وہ لکھتے ہیں : جو تعویذ قرآنی آیات پر مشتمل ہو اگر اس کا خول اس سے الگ ہو۔ جیسے وہ جو موم جامہ وغیرہ کے اندرہوتاہے۔ تو اسے لے کر بیت الخلا میں جانا او رجنب کے لئے اسے چھونا اورلینا جائز ہے۔ اور اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو آیات بہ نیت دعا وثنا لکھی گئی ہوں وہ قرآنیت سے خارج نہ ہوں گی بخلاف ان کے جو اس نیت سے پڑھی جائیں تونیت منطوق کی تبدیلی میں اثرانداز ہوتی ہے مکتوب کی تبدیلی میں نہیں اھ۔ جیساکہ پیش نظر ہے اس کی بنیاد یہ سمجھنے پر ہے کہ نیت دعا کی طرح شفا طلبی کی نیت سے بھی تبدیلی ہوتی ہے اوریہ نیت مکتوب میں اثر انداز نہیں ہوتی تو یہی حکم نیت دعا کا بھی ہے یا یوں کہیں کہ شفا طلبی بھی دعا ہی کے باب سے ہے تو شفا طلبی کی نیت
فـــــ : مسئلہ : فقط شفا لینے کی نیت قرآن مجید کو قرآنیت سے خارج نہیں کرسکتی ۔
تبنبیہ۷ : علمت فـــــ مما القیت علیك ان التغیر بنیۃ الدعاء والثناء د
ون نیۃ الاستشفاء ووقع فی ش نقلا عن سیدی عبدالغنی قدس سرہ ما یوھم خلافہ اذقال الھیکل والحمائلی المشتمل علی الایات القرانیۃ اذا کان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلأ بہ ومسہ وحملہ للجنب ویستفاد منہ ان ماکتب من الایات بنیۃ الدعاء والثناء لایخرج عن کونہ قرانا بخلاف قراء تہ بھذہ النیۃ فالنیۃ تعمل فی تغییر المنطوق لاالمکتوب اھ ومبناہ کما تری علی فھم ان نیۃ الاستشفاء مغیرۃ کنیۃ الدعاء ولم تعمل فی المکتوب فکذلك نیۃ الدعاء اونقول الاستشفاء من باب الدعاء فنیتہ نیتہ۔
ہمارے بیان سابق سے واضح ہواکہ تغیر دعا و ثنا کی نیت سے ہوتاہے شفا طلبی کی نیت سے نہیں ہوتا۔ اورشامی میں سیدی عبدالغنی قدس سرہ سے نقل کرتے ہوئے وہ لکھاہے جس سے اس کے خلاف وہم پیدا کرتا ہے وہ لکھتے ہیں : جو تعویذ قرآنی آیات پر مشتمل ہو اگر اس کا خول اس سے الگ ہو۔ جیسے وہ جو موم جامہ وغیرہ کے اندرہوتاہے۔ تو اسے لے کر بیت الخلا میں جانا او رجنب کے لئے اسے چھونا اورلینا جائز ہے۔ اور اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو آیات بہ نیت دعا وثنا لکھی گئی ہوں وہ قرآنیت سے خارج نہ ہوں گی بخلاف ان کے جو اس نیت سے پڑھی جائیں تونیت منطوق کی تبدیلی میں اثرانداز ہوتی ہے مکتوب کی تبدیلی میں نہیں اھ۔ جیساکہ پیش نظر ہے اس کی بنیاد یہ سمجھنے پر ہے کہ نیت دعا کی طرح شفا طلبی کی نیت سے بھی تبدیلی ہوتی ہے اوریہ نیت مکتوب میں اثر انداز نہیں ہوتی تو یہی حکم نیت دعا کا بھی ہے یا یوں کہیں کہ شفا طلبی بھی دعا ہی کے باب سے ہے تو شفا طلبی کی نیت
فـــــ : مسئلہ : فقط شفا لینے کی نیت قرآن مجید کو قرآنیت سے خارج نہیں کرسکتی ۔
حوالہ / References
رد المحتار کتاب الطہارۃ قبیل باب المیاہ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۱ / ۱۱۹
واقول : لیس فـــــ۱ الا مرکذا فمعنی القرأۃ بنیۃ الدعاء ان یکون الکلام نفسہ دعاء فیرید بہ انشاءہ لاتلاوۃ الکلام العزیز والاستشفاء دعاء معنوی لایجعل اللفظ بمعنی الدعاء فلیس ھومن بابہ ولا تغییر ایضا فان الذی یقراء اویکتب مستشفیا متبرکا فانما یرید التبرك والاستشفاء بالکلام العــزیز لاانہ یخرجہ عن القرانیۃ ثم یستشفی بغیر القران ولو کانت فــ تغیر لجاز ان یقرأ الجنب القران ولو کانت فـــــ۲ تغیر لجاز ان یقرأ الجنب القران کلہ بنیۃ الشفاء فان القران من اولہ الی اخرہ نور وھدی وشفاء وھذا لایسوغ ان یقول بہ احد وبالجملۃ فالمنوی فی الرقیۃ ھو القران نفسہ لاغیرہ الا تری فــــــ۳ ان بعض الصحابۃ رضی الله تعالی عنہم لمارقی السلیم بالفاتحۃ علی شاۃ وجاء بھا الی اصحابہ کرھوا ذالك وقالوا اخذت علی کتاب الله اجرا حتی قدموا المدینۃ فقالوا یارسول الله اخذ علی کتاب الله اجرا فقال رسول الله صلی الله علیہ وسلم
بھی نیت دعا ہی ہے۔ واقول : اور معاملہ ایسا نہیں کیوں کہ بہ نیت دعا پڑھنے کا معنی یہ ہے کہ کلام خود دعا ہو اور اس سے بجائے تلاوت کے انشائے دعا کا قصد کرے۔ اورشفا طلبی تومعنوی دعا ہے جو لفظ کو دعا کے معنی پرمشتمل نہیں کردیتی لہذا وہ اس دعا کے باب سے نہیں ۔ اور تبدیلی بھی نہیں اس لئے کہ جو شفا وبرکت حاصل کرنے کے لئے پڑھتاہے وہ کلام عزیز ہی سے شفا حاصل کرناچاہتا ہے یہ نہیں کہ اسے قرآنیت سے خارج کرلیتا ہے پھرغیر قرآن سے شفا کا طالب ہوتا ہے۔ اگر یہ نیت تبدیلی لانے والی ہو توجائز ہوگا کہ جنب پورا قرآن بہ نیت شفا پڑھ جائے اس لئے کہ قرآن شروع سے آخرتك سبھی نوروہدایت اورشفا ہے۔ اوراس جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہوسکتا۔ الحاصل تعویذ میں خود قرآن ہی مقصود ہوتاہے غیر قرآن مقصود نہیں ہوتا۔ دیکھئے ایك صحابی نے کچھ بکریاں لینے کی شرط پرجب سانپ کاٹے شخص کو سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے توانہوں نے اسے مکروہ وناپسند سمجھااورکہا کہ تم نے کتاب الله پر اجرت حاصل کی یہاں تك کہ ان حضرات نے مدینہ حاضر ہوکر عرض کیا : یارسول اللہ! اس نے کتاب الله پر اجرت لی ہے۔ تو رسول الله
فــــــ ۱ : تطفل علی سیدی عبد الغنی و ش ۔ فــــــ۲ : تطفل اخر علیھا ۔ فــــــ ۳ : تطفل ثالث علیھما ۔
بھی نیت دعا ہی ہے۔ واقول : اور معاملہ ایسا نہیں کیوں کہ بہ نیت دعا پڑھنے کا معنی یہ ہے کہ کلام خود دعا ہو اور اس سے بجائے تلاوت کے انشائے دعا کا قصد کرے۔ اورشفا طلبی تومعنوی دعا ہے جو لفظ کو دعا کے معنی پرمشتمل نہیں کردیتی لہذا وہ اس دعا کے باب سے نہیں ۔ اور تبدیلی بھی نہیں اس لئے کہ جو شفا وبرکت حاصل کرنے کے لئے پڑھتاہے وہ کلام عزیز ہی سے شفا حاصل کرناچاہتا ہے یہ نہیں کہ اسے قرآنیت سے خارج کرلیتا ہے پھرغیر قرآن سے شفا کا طالب ہوتا ہے۔ اگر یہ نیت تبدیلی لانے والی ہو توجائز ہوگا کہ جنب پورا قرآن بہ نیت شفا پڑھ جائے اس لئے کہ قرآن شروع سے آخرتك سبھی نوروہدایت اورشفا ہے۔ اوراس جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہوسکتا۔ الحاصل تعویذ میں خود قرآن ہی مقصود ہوتاہے غیر قرآن مقصود نہیں ہوتا۔ دیکھئے ایك صحابی نے کچھ بکریاں لینے کی شرط پرجب سانپ کاٹے شخص کو سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے توانہوں نے اسے مکروہ وناپسند سمجھااورکہا کہ تم نے کتاب الله پر اجرت حاصل کی یہاں تك کہ ان حضرات نے مدینہ حاضر ہوکر عرض کیا : یارسول اللہ! اس نے کتاب الله پر اجرت لی ہے۔ تو رسول الله
فــــــ ۱ : تطفل علی سیدی عبد الغنی و ش ۔ فــــــ۲ : تطفل اخر علیھا ۔ فــــــ ۳ : تطفل ثالث علیھما ۔
ان احق مااخذتم علیہ اجرا کتاب الله کما فی الجامع الصحیح عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما فلم یخرج الاسترقاء الفاتحۃ عن کونھا کتاب الله مع انھا تصلح للدعاء والثناء فکیف بمالا یصلح لھما ۔
اما فـــــ۱ ما افاد من ان النیۃ لاتعمل فی المکتوب فاقول : نعم ماکتب قرانا ولو فاتحۃ لایصح للجنب ان یقول فی نفسہ لیس ھذا قرانا بل دعاء اویقول لا ارید بہ قرانا بل دعاءوثناء ثم یمسہ اذلا مدخل لارادتہ فی ظھورہ فی ھذہ الکسوۃ التی قدتم امرھا۔
اما ان ینشیئ فـــــ۲ کتابۃ مثلھا نے فرمایا : جن پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ حق کتاب الله کا ہے جیسا کہ بخاری کی جامع صحیح میں حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے توتعویذ بنانے اور دم کرنے سے سورہ فاتحہ کتاب الله ہونے سے خارج نہ ہوئی جب کہ دعا و ثنا ہونے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کا کیا حال ہوگا جو دعا وثنا بننے کے قابل نہیں ۔
اور یہ جو افادہ کیاکہ نیت مکتوب میں اثر انداز نہیں ہوتی تو میں کہتا ہوں ہاں جسے بطور قرآن لکھاگیا اگرچہ وہ سورہ فاتحہ ہی ہواس سے متعلق یہ نہیں ہوسکتاکہ جنب اپنے دل میں کہے یہ قرآن نہیں بلکہ دعا ہے یا کہے میں اس سے قرآن کا قصد نہیں بلکہ دعا وثنا کا قصد کرتا ہوں پھر اسے مس کرے اس لئے کہ اس کے ارادہ کا اس حصہ قرآن کے اس لباس میں ظاہر ہونے میں کوئی دخل نہ ہوا اس کاکام توپہلے ہی انجام پذیر ہوچکاہے۔
رہی یہ صورت کہ ازسر نو وہ اسی طرح لکھے
فـــــ۱ : مسئلہ : لکھے ہوئے قرآن کو جنب اپنی نیت سے نہیں بدل سکتا مگر سورۃ فاتحہ تنہا کہیں لکھی ہے اس میں یہ نیت کرلے کہ یہ ایك دعا ہے اور اسے ہاتھ لگائے یہ جائز نہیں ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : آیات دعا وثناکو بہ نیت دعا و ثنا پڑھنے کی اجازت ہے لکھنے کی اجازت نہ ہونی چاہیئے اگرچہ دعا ہی کی نیت کرے تو جنب وہ تعویذ کسی نیت سے نہ لکھے جس میں آیات قرآنیہ ہوں ۔
اما فـــــ۱ ما افاد من ان النیۃ لاتعمل فی المکتوب فاقول : نعم ماکتب قرانا ولو فاتحۃ لایصح للجنب ان یقول فی نفسہ لیس ھذا قرانا بل دعاء اویقول لا ارید بہ قرانا بل دعاءوثناء ثم یمسہ اذلا مدخل لارادتہ فی ظھورہ فی ھذہ الکسوۃ التی قدتم امرھا۔
اما ان ینشیئ فـــــ۲ کتابۃ مثلھا نے فرمایا : جن پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سب سے زیادہ حق کتاب الله کا ہے جیسا کہ بخاری کی جامع صحیح میں حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے توتعویذ بنانے اور دم کرنے سے سورہ فاتحہ کتاب الله ہونے سے خارج نہ ہوئی جب کہ دعا و ثنا ہونے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے تو اس کا کیا حال ہوگا جو دعا وثنا بننے کے قابل نہیں ۔
اور یہ جو افادہ کیاکہ نیت مکتوب میں اثر انداز نہیں ہوتی تو میں کہتا ہوں ہاں جسے بطور قرآن لکھاگیا اگرچہ وہ سورہ فاتحہ ہی ہواس سے متعلق یہ نہیں ہوسکتاکہ جنب اپنے دل میں کہے یہ قرآن نہیں بلکہ دعا ہے یا کہے میں اس سے قرآن کا قصد نہیں بلکہ دعا وثنا کا قصد کرتا ہوں پھر اسے مس کرے اس لئے کہ اس کے ارادہ کا اس حصہ قرآن کے اس لباس میں ظاہر ہونے میں کوئی دخل نہ ہوا اس کاکام توپہلے ہی انجام پذیر ہوچکاہے۔
رہی یہ صورت کہ ازسر نو وہ اسی طرح لکھے
فـــــ۱ : مسئلہ : لکھے ہوئے قرآن کو جنب اپنی نیت سے نہیں بدل سکتا مگر سورۃ فاتحہ تنہا کہیں لکھی ہے اس میں یہ نیت کرلے کہ یہ ایك دعا ہے اور اسے ہاتھ لگائے یہ جائز نہیں ۔
فـــــ۲ : مسئلہ : آیات دعا وثناکو بہ نیت دعا و ثنا پڑھنے کی اجازت ہے لکھنے کی اجازت نہ ہونی چاہیئے اگرچہ دعا ہی کی نیت کرے تو جنب وہ تعویذ کسی نیت سے نہ لکھے جس میں آیات قرآنیہ ہوں ۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب الشرط فی الرقیہ بقطع من الغم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۵۴
وینوی الدعاء والثنا فاقول قضیۃ ماقدمت من التحقیق المنع لان الاذن ورد للحاجۃ ولا حاجۃ فی الدعاء والثناء الی الکتابۃ وما ورد علی خلاف القیاس لایتعداہ وبہ یظھر انہ لایؤذن فی کتابۃ الرقی بالایات وان تمحضت للدعاء والثناء ونواھما فلیراجع ولیحرر والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور دعاوثنا کی نیت رکھے تومیں کہتا ہوں سابقا میں نے جو تحقیق رقم کی اس کا تقاضا یہی ہے کہ ممانعت ہو اس لئے کہ اجازت حاجت کے باعث ہوئی ہے اور دعا وثنا میں کتابت کی کوئی حاجت نہیں ۔ اورجو امر خلاف قیاس وارد ہوتاہے وہ اپنی جگہ سے متجاوزنہیں ہوتا۔ اسی سے ظاہر ہے کہ جنب کوآیات کے تعویذات لکھنے کی اجازت نہ ہوگی اگرچہ وہ خالص دعا وثنا پر ہی مشتمل ہوں اور دعا وثناہی کی نیت بھی ہو۔ اس بارے میں مزیدمراجعت کی جائے اور اس کا حکم واضح کرلیا جائے۔ اور خدائے پاك وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔
تنبیہ مہم فــــ یہ کہ ہم نے سلسلہ کلام میں اوپر ذکر کیا کہ غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سید نا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایك جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا مولی کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے فرمائے دوسرا کہے تو اس کی زبان گدی کے پیچھے سے کھینچی جائے لله المثل الا علی بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے ادب دینے جزم وعزم واحتیاط اتم سکھانے کیلئے مثلا بیہودہ نالائق احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا باپ کو اس کا اختیار تھا اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام خالد انہیں الفاظ کو سند بنا کر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے حاشا اگر کہے گا سخت گستاخ ومردود و ناسزا ومستحق عذاب وتعزیر وسزا ہوگا جب یہاں یہ حالت ہے تو الله عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید ومدید عذاب جہنم وغضب الہی کا مستحق نہ ہوگا والعیاذ بالله تعالی۔
امام عبدالله قرطبی تفسیر میں زیر قولہ تعالی و طفقا یخصفن علیهما من ورق الجنة-
فــــ : فائدہ ضروریہ : تلاوت قرآن یا قراء ت حدیث کے سوا اپنی طرف سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام خواہ کسی نبی کو معصیت کی طرف منسوب کرنا سخت حرام ہے ۔
اور دعاوثنا کی نیت رکھے تومیں کہتا ہوں سابقا میں نے جو تحقیق رقم کی اس کا تقاضا یہی ہے کہ ممانعت ہو اس لئے کہ اجازت حاجت کے باعث ہوئی ہے اور دعا وثنا میں کتابت کی کوئی حاجت نہیں ۔ اورجو امر خلاف قیاس وارد ہوتاہے وہ اپنی جگہ سے متجاوزنہیں ہوتا۔ اسی سے ظاہر ہے کہ جنب کوآیات کے تعویذات لکھنے کی اجازت نہ ہوگی اگرچہ وہ خالص دعا وثنا پر ہی مشتمل ہوں اور دعا وثناہی کی نیت بھی ہو۔ اس بارے میں مزیدمراجعت کی جائے اور اس کا حکم واضح کرلیا جائے۔ اور خدائے پاك وبرتر ہی کو خوب علم ہے۔
تنبیہ مہم فــــ یہ کہ ہم نے سلسلہ کلام میں اوپر ذکر کیا کہ غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سید نا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایك جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا مولی کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے فرمائے دوسرا کہے تو اس کی زبان گدی کے پیچھے سے کھینچی جائے لله المثل الا علی بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے ادب دینے جزم وعزم واحتیاط اتم سکھانے کیلئے مثلا بیہودہ نالائق احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا باپ کو اس کا اختیار تھا اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام خالد انہیں الفاظ کو سند بنا کر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے حاشا اگر کہے گا سخت گستاخ ومردود و ناسزا ومستحق عذاب وتعزیر وسزا ہوگا جب یہاں یہ حالت ہے تو الله عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید ومدید عذاب جہنم وغضب الہی کا مستحق نہ ہوگا والعیاذ بالله تعالی۔
امام عبدالله قرطبی تفسیر میں زیر قولہ تعالی و طفقا یخصفن علیهما من ورق الجنة-
فــــ : فائدہ ضروریہ : تلاوت قرآن یا قراء ت حدیث کے سوا اپنی طرف سے آدم علیہ الصلوۃ والسلام خواہ کسی نبی کو معصیت کی طرف منسوب کرنا سخت حرام ہے ۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ / ۱۲۱
اور آدم و حوا اپنے جسم پر جنت کے پتے چپکانے لگے ۔ ت ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
قـال القاضی ابو بکر بن العربی رحمہ الله تعالی لایجوز لاحدمنا الیوم ان یخبر بذلك عن ادم علیہ الصلاۃ والسلام الا اذا ذکرناہ فی اثنأ قولہ تعالی عنہ اوقول نبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فاما ان نبتدئ ذالك من قبل انفسنا فلیس بجائزلنا فی ابائھا الادنین الینا المما ثلین لنا فکیف بابین الاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین ۔
قاضی ابو بکرابن العربی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں کہ : آج ہم میں سے کسی کے لئے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق یہ کہنا جائز نہیں مگر صرف اس صورت میں کہ اسے باری تعالی کے کلام یا اس کے نبی کے کلام کے اثناء میں ذکر کریں ۔ اسے ابتداء اپنی طرف سے بتانا توہمارے لئے اپنے ان قریبی آباء کے حق میں بھی جائز نہیں جو ہماری ہی طرح ہیں پھر ان کے حق میں کیوں کر روا ہوگا جوہمارے سب سے پہلے باپ ہیں جو بڑی عظمت وبزرگی والے اور سب سے پہلے نبی بھی ہیں ان پر اور تمام انبیاء ومرسلین پر خدائے بر تر کا درودو سلام ہو۔ (ت)
امام ابو عبدالله محمد بن عبدری ابن الحاج مدخل میں فرماتے ہیں :
قد قال علما ؤ نا رحمہم الله تعالی ان من قال عن نبی من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عصی اوخالف فقد کفر نعوذ بالله من ذلك ۔
ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالیفرماتے ہیں کہ جوشخص انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی نبی کے بھی بارے میں غیر تلاوت وحدیث میں یہ کہے کہ انہوں نے نا فرمانی یا خلاف ورزی کی تووہ کافرہے اس سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔ (ت)
ایسے امور میں سخت احتیاط فرض ہے الله تعالی اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے ۔ آمین
وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم والله سبحنہ وتعالی اعلم
_____________________
قـال القاضی ابو بکر بن العربی رحمہ الله تعالی لایجوز لاحدمنا الیوم ان یخبر بذلك عن ادم علیہ الصلاۃ والسلام الا اذا ذکرناہ فی اثنأ قولہ تعالی عنہ اوقول نبیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فاما ان نبتدئ ذالك من قبل انفسنا فلیس بجائزلنا فی ابائھا الادنین الینا المما ثلین لنا فکیف بابین الاقدم الاعظم الاکبر النبی المقدم صلی الله تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین ۔
قاضی ابو بکرابن العربی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں کہ : آج ہم میں سے کسی کے لئے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق یہ کہنا جائز نہیں مگر صرف اس صورت میں کہ اسے باری تعالی کے کلام یا اس کے نبی کے کلام کے اثناء میں ذکر کریں ۔ اسے ابتداء اپنی طرف سے بتانا توہمارے لئے اپنے ان قریبی آباء کے حق میں بھی جائز نہیں جو ہماری ہی طرح ہیں پھر ان کے حق میں کیوں کر روا ہوگا جوہمارے سب سے پہلے باپ ہیں جو بڑی عظمت وبزرگی والے اور سب سے پہلے نبی بھی ہیں ان پر اور تمام انبیاء ومرسلین پر خدائے بر تر کا درودو سلام ہو۔ (ت)
امام ابو عبدالله محمد بن عبدری ابن الحاج مدخل میں فرماتے ہیں :
قد قال علما ؤ نا رحمہم الله تعالی ان من قال عن نبی من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام فی غیر التلاوۃ والحدیث انہ عصی اوخالف فقد کفر نعوذ بالله من ذلك ۔
ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالیفرماتے ہیں کہ جوشخص انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی نبی کے بھی بارے میں غیر تلاوت وحدیث میں یہ کہے کہ انہوں نے نا فرمانی یا خلاف ورزی کی تووہ کافرہے اس سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔ (ت)
ایسے امور میں سخت احتیاط فرض ہے الله تعالی اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے ۔ آمین
وصلی الله تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین وبارك وسلم والله سبحنہ وتعالی اعلم
_____________________
حوالہ / References
الجامع للاحکام القرآن تحت الایہ ۲۰ / ۱۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۱ / ۱۲۹ ، مدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی صلی الله علیہ وسلم بیروت ۲ / ۱۶
مدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی صلی الله علیہ وسلم بیروت ۲ / ۱۵
مدخل لابن الحاج فصل فی مولد النبی صلی الله علیہ وسلم بیروت ۲ / ۱۵
مآخذومراجع
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شرح المشکوۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح والایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل الی تحریرالمسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ الانوارلعمل الابرار امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۷۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۸۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
۱۹۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۲۰۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ ۲۰۰
۲۱۔ الام محمدبن ادریس الشافعی ۲۰۴
۲۲۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری ۲۵۶
۲۳۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی ۳۶۰
۲۴۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری ۴۰۵
۲۵۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۶۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی ۶۷۶
۲۷۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی ۶۷۶
۲۸۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی ۶۳۰
۲۹۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی ۸۰۶
۳۰۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی ۸۵۶
۳۱۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی ۹۰۳
۳۲۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۳۳۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی ۹۷۴
۳۴۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری) ۱۰۱۴
۳۵۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم ۱۱۷۹
۳۶۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۳۷۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی ۱۲۷۳
۳۸۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۳۹۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا ۴۲۸
۱۷۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۸۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
۱۹۔ الاصل (مبسوط) ابوعبداﷲمحمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۲۰۔ اخبار مدینہ محمدبن حسن المدنی ابن زبالہ ۲۰۰
۲۱۔ الام محمدبن ادریس الشافعی ۲۰۴
۲۲۔ اخبار مدینہ زبیرابن بکار الزبیری ۲۵۶
۲۳۔ امثال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی ۳۶۰
۲۴۔ اربعین للحاکم ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ نیشاپوری ۴۰۵
۲۵۔ احیاء العلوم امام محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۶۔ اربعین نووی محی الدین یحیی بن شرف النووی الشافعی ۶۷۶
۲۷۔ الاذکار المنتخبہ من کلام سیدالابرار ابوزکریایحیی شرف النووی ۶۷۶
۲۸۔ اسدالغابۃ فی معرفۃالصحابۃ علی بن محمد ابن اثیرالشیبانی ۶۳۰
۲۹۔ الفیۃ العراقی فی اصول الحدیث امام زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی ۸۰۶
۳۰۔ الاصابۃ فی تمییزالصحابہ شہاب الدین احمد بن علی بن حجرعسقلانی ۸۵۶
۳۱۔ انموذج العلوم علامہ جلال الدین محمد بن اسعدالدوانی ۹۰۳
۳۲۔ الاتقان جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۳۳۔ اعلام بقواطع الاسلام احمدبن حجرالھیتمی المکی ۹۷۴
۳۴۔ الاسرار المرفوعہ فی الاخبارالموضوعہ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری (ملاعلی القاری) ۱۰۱۴
۳۵۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء شاہ ولی اﷲ بن عبدالرحیم ۱۱۷۹
۳۶۔ اتحاف السادۃ المتقین سیدمحمد بن محمد مرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۳۷۔ انجاح الحاجۃ حاشیۃ سنن ابن ماجہ عبدالغنی الدہلوی المدنی ۱۲۷۳
۳۸۔ اعانۃ الطالبین سیدمحمد شطاالدمیاطی
۳۹۔ الاشارات ابن سینا ابوعلی حسن بن عبداﷲ الشہیربابن سینا ۴۲۸
ب
۴۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۴۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۴۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۴۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۴۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۴۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۴۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
۴۷۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی ۷۱۳
۴۸۔ بلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی ۸۵۲
۴۹۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ ۱۲۳۹
۵۰۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ۱۹۰۵ء
ت
۵۱۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۵۲۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۵۳۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۴۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۵۵۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۵۶۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۵۷۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۵۸۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۵۹۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۶۰۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۴۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۴۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۴۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۴۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۴۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۴۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۴۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
۴۷۔ بہجۃ الاسرار یوسف بن جریراللخمی الشطنوفی ۷۱۳
۴۸۔ بلوغ المرام احمدبن علی ابن حجرعسقلانی ۸۵۲
۴۹۔ بستان المحدثین شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اﷲ ۱۲۳۹
۵۰۔ براہین قاطعہ رشیداحمدگنگوہی ۱۹۰۵ء
ت
۵۱۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۵۲۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۵۳۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۴۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۵۵۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۵۶۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۵۷۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۵۸۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۵۹۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۶۰۔ التمہیدلمافی المؤطا من المعانی والاسانید یوسف بن عبداﷲابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۶۱۔ تنبیہ الانام فی آداب الصیام
۶۲۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۶۴۔ ۹۱۱
۶۳۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۶۴۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی ۹۲۳
۶۵۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ) ۳۲۷
۶۶۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر ۱۳۱۰
۶۷۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۶۸۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۶۹۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۷۰۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۷۱۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۷۲۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۷۳۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۷۴۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۷۵۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۷۶۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
۷۷۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری ۳۱۰
۷۸۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳۷۳
۷۹۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار ۶۴۳
۸۰۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۸۱۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ ۷۴۷
۸۲۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۳۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۴۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی ۷۹۲
۸۵۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۶۲۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۶۴۔ ۹۱۱
۶۳۔ تہذیب التہذیب ابوالفضل احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۶۴۔ تنزیہ الشرعیۃ المرفوعہ عن اخبارالشنیعۃ الموضوعۃ ابوالحسن علی بن محمد بن عراق الکنانی ۹۲۳
۶۵۔ تفسیرابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمدالرازی (حافظ) ۳۲۷
۶۶۔ تہذیب الاثار ابوجعفرمحمدبن محمدبن جریر ۱۳۱۰
۶۷۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۶۸۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۶۹۔ التیسیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۷۰۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۷۱۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۷۲۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۷۳۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۷۴۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۷۵۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۷۶۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
۷۷۔ تاریخ الطبری محمد بن جریرالطبری ۳۱۰
۷۸۔ تنبیہ الغافلین نصربن محمد بن ابراہیم سمرقندی ۳۷۳
۷۹۔ تاریخ ابن نجار محمد بن محمود بن حسن بغدادی ابن نجار ۶۴۳
۸۰۔ الترغیب والترہیب زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۸۱۔ التوضیح شرح التنقیح فی اصول الفقہ عبیداﷲ بن مسعود بن تاج الشریعۃ ۷۴۷
۸۲۔ تذکرۃ الحفاظ شمس الدین ابوعبداﷲ محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۳۔ تذہیب تہذیب الکمال شمس الدین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۸۴۔ التلویح شرح توضیح سعدالدین مسعود بن عمربن عبداﷲ تفتازانی ۷۹۲
۸۵۔ تدریب الراوی جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۸۶۔ التعقبات علی الموضوعات جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۸۸۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۱۰۰۸
۸۹۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۹۰۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون ۱۱۳۰
۹۱۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۹۲۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی ۱۲۳۹
۹۳۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین ۱۲۵۲
۹۴۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی ۱۳۲۳
۹۵۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی ۹۸۶
۹۶۔ تجنیس الملتقط
۹۷۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۹۸۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ ۹۱۰
ث
۹۹۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری ۳۶۰
۱۰۰۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۱۰۱۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۱۰۲۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۱۰۳۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۱۰۴۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۰۵۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۱۰۶۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۸۷۔ تاریخ الخمیس شیخ حسین بن محمد بن الحسن دیاربکری ۹۶۶
۸۸۔ تذکرہ اولی الالباب انطاکی داؤدبن عمرانطاکی ۱۰۰۸
۸۹۔ التبیان فی بیان مافی لیلۃ النصف من شعبان علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۹۰۔ تفسیرات احمدیہ احمدبن ابوسعید المعروف ملاجیون ۱۱۳۰
۹۱۔ التفسیرالمظہری قاضی ثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۹۲۔ تحفہ اثناء عشریہ الشاہ عبدالعزیزدہلوی ۱۲۳۹
۹۳۔ تنبیہ ذوی الافہام محمدامین ابن عابدین ۱۲۵۲
۹۴۔ التحریرالمختار(تقریرات الرافعی) عبدالقادرالرافعی الفاروقی ۱۳۲۳
۹۵۔ تذکرۃ الموضوعات للفتنی محمدبن طاہرالفتنی ۹۸۶
۹۶۔ تجنیس الملتقط
۹۷۔ تحفۃ المومنین فی الطب محمدمومن بن محمدزمان الحسینی
۹۸۔ تحفۃ الصلوۃ(فارسی) حسین بن علی الکاشفی الواعظ ۹۱۰
ث
۹۹۔ الثمانون فی الحدیث ابوبکرمحمدبن الحسین الآجری ۳۶۰
۱۰۰۔ ثبت ابومحمدبن امیرالمکی المصری
ج
۱۰۱۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۱۰۲۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۱۰۳۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۱۰۴۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۰۵۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۱۰۶۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۱۰۷۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۱۰۸۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۱۰۹۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۱۱۰۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۱۱۱۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۱۱۲۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۱۳۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۱۱۴۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۱۱۵۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن (تفسیرطبری)محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۱۶۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز ۲۵۶
۱۱۷۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۱۱۸۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی ۶۳۶
۱۱۹۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی ۴۶۴
۱۲۰۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری ۹۱۱
۱۲۱۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری ۹۷۰
۱۲۲۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی ۹۱۱
۱۲۳۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اﷲ علیہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۲۴۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
۱۲۵۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۵۵۶
ح
۱۲۶۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۱۲۷۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۱۲۸۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۱۲۹۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۰۸۔ الجامع الکبیرفی فروع الحنفیۃ ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۱۰۹۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۱۱۰۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۱۱۱۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۱۱۲۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۱۳۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۱۱۴۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
۱۱۵۔ جامع البیان فی تفسیرالقرآن (تفسیرطبری)محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۱۶۔ جزء حدیثی حسن بن عرفہ ابوعلی حسن بن عرفہ بعداز ۲۵۶
۱۱۷۔ الجامع لاخلاق الراوی والسامع ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۱۱۸۔ جامع احکام الصغار فی الفروع محمدبن محمودالاستروشنی ۶۳۶
۱۱۹۔ جامع الادویہ والاغذیہ ضیاء الدین عبداﷲ بن احمدالمالقی ۴۶۴
۱۲۰۔ جواہرالعقدین فی فضل الشرفین نورالدین علی بن احمدالسمہودی والمصری ۹۱۱
۱۲۱۔ جواہرخمسہ محمدغوث بن عبداﷲ گوالیاری ۹۷۰
۱۲۲۔ جمع الجوامع فی الحدیث ابوبکرجلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین سیوطی ۹۱۱
۱۲۳۔ جوہرمنظم فی زیارت قبرالنبی المکرم صلی اﷲ علیہ وسلم شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۲۴۔ جذب القلوب الی دیارالمحبوب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
۱۲۵۔ الجامع الکبیر فی الفتاوی امام ناصراالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۵۵۶
ح
۱۲۶۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۱۲۷۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۱۲۸۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۱۲۹۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۳۰۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی
۱۳۱۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۱۳۲۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۱۳۳۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۱۳۴۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۱۳۵۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۱۳۶۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
۱۳۷۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی ۵۹۰
۱۳۸۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی ۶۸۲
۱۳۹۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری ۸۳۳
۱۴۰۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۴۱۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی ۶۶۸
۱۴۲۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۱۴۳۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۴۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۵۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی ۱۲۵۷
۱۴۶۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۱۴۷۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۱۴۸۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۱۴۹۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۰۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
خ
۱۵۱۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۱۵۲۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۳۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۱۳۱۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی علی العنایۃ سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۱۳۲۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۱۳۳۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۱۳۴۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۱۳۵۔ حلیۃ الاولیاء فی الحدیث ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۱۳۶۔ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
۱۳۷۔ حرزالامانی ووجہ التہانی ابومحمدقاسم بن فیرہ الشاطبی المالکی ۵۹۰
۱۳۸۔ حیوۃ الحیوان الکبری للدمیری زکریابن محمدبن محمودالفروینی ۶۸۲
۱۳۹۔ الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم شمس الدین محمد بن محمد ابن الجزری ۸۳۳
۱۴۰۔ حاشیۃ التلویح ملاخسرو محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۴۱۔ حاشیۃ التلویح حسین چلپی حسن بن محمدشاہ الفناری چلپی ۶۶۸
۱۴۲۔ حرزثمین شرح حصن حصین نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۱۴۳۔ حجۃ اﷲ البالغہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۴۔ حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۵۔ حصرالشاردفی اسانیدالشیخ محمدعابدالسندی ۱۲۵۷
۱۴۶۔ حاشیۃ الکمثری علی الانوار
۱۴۷۔ حاشیۃ کفایۃ الطالب الربانی
۱۴۸۔ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علامہ الحفنی
۱۴۹۔ الحاوی للفتاوی جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۰۔ حسن المقصد فی عمل المولد جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
خ
۱۵۱۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۱۵۲۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۳۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۱۵۴۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۱۵۵۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۶۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
۱۵۷۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۸۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
۱۵۹۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی ۱۰۸۸
د
۱۶۰۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۶۱۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۱۶۲۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۶۳۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۱۶۴۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
ذ
۱۶۵۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۱۶۶۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۱۶۷۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۱۶۸۔ الرحمانیۃ
۱۶۹۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۰۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۱۷۱۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۱۵۵۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۱۵۶۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
۱۵۷۔ الخصائص الکبری جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۵۸۔ خلاصۃ الوفا علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
۱۵۹۔ خزائن الاسرارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین محمد بن علی الحصکفی ۱۰۸۸
د
۱۶۰۔ الدرایۃ شرح الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۶۱۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۱۶۲۔ الدرالمختارفی شرح تنویرالابصار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۶۳۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۱۶۴۔ الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
ذ
۱۶۵۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۱۶۶۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۱۶۷۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۱۶۸۔ الرحمانیۃ
۱۶۹۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۰۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۱۷۱۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۱۷۲۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۸۰
۱۷۳۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
۱۷۴۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۷۵۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری ۴۶۵
۱۷۶۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی ۸۵۵
۱۷۷۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری ۸۷۹
۱۷۸۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۷۹۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۸۰۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۱۸۱۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری ۱۰۱۴
۱۸۲۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی ۱۰۹۸
۱۸۳۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۱۷۹
۱۸۴۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۱۸۵۔ رسالہ میلاد مبارک (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی ۱۳۱۷
۱۸۶۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی ۶۹۴
۱۸۷۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۸۸۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۱۸۹۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۳۴۳
ز
۱۹۰۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۱۹۱۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۱۹۲۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۹۳۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۴۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۷۳۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
۱۷۴۔ رسالہ نذور مولوی اسمعیل دہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۷۵۔ رسالہ قشیریہ عبدالکریم بن ہوازن القشیری ۴۶۵
۱۷۶۔ رمزالحقائق شرح کنزالدقائق بدرالدین ابومحمدمحمودبن احمدالعینی ۸۵۵
۱۷۷۔ رفع الاشتباہ عن سبل المیاہ قاسم بن قطلوبغاالمصری ۸۷۹
۱۷۸۔ رسالہ طلوع ثریا جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۷۹۔ رسالہ اتحاف الغرفہ جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۱۸۰۔ رسائل ابن نجیم زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۱۸۱۔ رسالہ اہتداء علی بن سلطان محمد القاری ۱۰۱۴
۱۸۲۔ رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ احمد بن سیدمحمد مکی الحموی ۱۰۹۸
۱۸۳۔ رسالہ انصاف شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۱۷۹
۱۸۴۔ رسائل ابن عابدین محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۱۸۵۔ رسالہ میلاد مبارک (الکوکب الانوارعلی عقدالجوہر) جعفراسمعیل البرزنجی ۱۳۱۷
۱۸۶۔ الریاض النضرہ فی فضائل العشرہ ابوجعفر احمد بن احمدالشہیربالمحب الطبری المکی ۶۹۴
۱۸۷۔ رسالہ بدعت میاں اسمعیل بن شاہ عبدالغنی الدہلوی ۱۸۳۱ء ۱۲۴۶
۱۸۸۔ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی
۱۸۹۔ رسالہ غایۃ المقال ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۳۴۳
ز
۱۹۰۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۱۹۱۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۱۹۲۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۹۳۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۴۔ زہرالنسرین فی حدیث المعمرین محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۹۵۔ زہرالربی علی المجتبی جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۱۹۶۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ ۹۲۱
۱۹۷۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۹۸۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
۱۹۹۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
س
۲۰۰۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۲۰۱۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۲۰۲۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۲۰۳۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۲۰۴۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۲۰۵۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۲۰۶۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۲۰۷۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
۲۰۸۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملک بن ہشام ۲۱۳
۲۰۹۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس ۷۳۴
۲۱۰۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۲۱۱۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی ۷۳۸
۲۱۲۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی ۱۳۰۴
۲۱۳۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۲۱۴۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار ۱۵۱
۲۱۵۔ سراج القاری
۲۱۶۔ السعدیہ
۲۱۷۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی ۱۳۰۴
۱۹۶۔ زہرالروض فی مسئلۃ الحوض محمدبن عبداﷲ ابن شحنہ ۹۲۱
۱۹۷۔ الزواجرعن الکبائر شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجرالمکی ۹۷۴
۱۹۸۔ زبدۃ الآثارفی اخبارقطب الاخبار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
۱۹۹۔ زبدۃ الاسرارفی مناقب غوث الابرار شیخ عبدالحق محدث دہلوی ۱۲۵۲
س
۲۰۰۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۲۰۱۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۲۰۲۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۲۰۳۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۲۰۴۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۲۰۵۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۲۰۶۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۲۰۷۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
۲۰۸۔ سیرت ابن ہشام ابومحمدعبدالملک بن ہشام ۲۱۳
۲۰۹۔ سیرت عیون الاثر محمدبن عبداﷲ ابن سیدالناس ۷۳۴
۲۱۰۔ سراجی فی المیراث سراج الدین سجاوندی ساتویں صدی ہجری
۲۱۱۔ سیراعلام النبلاء شمس الدین محمداحمدالذہبی ۷۳۸
۲۱۲۔ السعایہ فی کشف مافی شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی لکھنوی ۱۳۰۴
۲۱۳۔ سیرت عمربن محمدملا عمربن محمدملا
۲۱۴۔ سیرت ابن اسحاق محمدبن اسحاق بن یسار ۱۵۱
۲۱۵۔ سراج القاری
۲۱۶۔ السعدیہ
۲۱۷۔ السعی المشکورفی ردالمذہب الماثور محمدبن عبدالحی لکھنوی ہندی ۱۳۰۴
ش
۲۱۸۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۲۱۹۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۲۰۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۲۲۱۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۲۲۲۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۲۲۳۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۲۲۴۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۲۲۵۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۲۶۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۲۲۷۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۲۲۸۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۲۹۔ شرح الغریبین
۲۳۰۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۱۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۲۳۲۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۲۳۳۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۳۴۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۲۳۵۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۶۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۷۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۸۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۲۳۹۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۲۴۰۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۲۱۸۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۲۱۹۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۲۰۔ شرح الاربعین للنوی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۲۲۱۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۲۲۲۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۲۲۳۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۲۲۴۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۲۲۵۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۲۶۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۲۲۷۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۲۲۸۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۲۹۔ شرح الغریبین
۲۳۰۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۱۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۲۳۲۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۲۳۳۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۳۴۔ شرح الصدوربشرح حال الموتی والقبور علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
۲۳۵۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۶۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۲۳۷۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۳۸۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۲۳۹۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
۲۴۰۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۲۴۱۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۲۴۲۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۷
۲۴۳۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۴۴۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
۲۴۵۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی ۵۴۴
۲۴۶۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۷۶
۲۴۷۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۷۶
۲۴۸۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی ۷۳۹
۲۴۹۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی ۷۵۶
۲۵۰۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۱۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۲۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۳۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۴۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی ۸۴۱
۲۵۵۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین ۹۵۴
۲۵۶۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۷۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۸۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۵۹۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۰۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۱۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۲۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۳۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز ۹۰۷
۲۶۴۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملک بن محمدنیشاپوری ۴۰۶
۲۶۵۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
۲۴۲۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۷
۲۴۳۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۲۴۴۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
۲۴۵۔ الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالفضل عیاض بن موسی قاضی ۵۴۴
۲۴۶۔ شرح شافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۷۶
۲۴۷۔ شرح کافیہ ابن حاجب رضی الدین محمد بن الحسن الاستراباذی ۶۷۶
۲۴۸۔ شرح طوالع الانوار محمود بن عبدالرحمان الاصفہانی ۷۳۹
۲۴۹۔ شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی ۷۵۶
۲۵۰۔ شرح عقائدالنسفی سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۱۔ شرح المقاصد سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی ۷۹۲
۲۵۲۔ شرح المواقف سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۳۔ شرح السراجی سیدشریف علی بن محمدالجرجانی ۸۱۶
۲۵۴۔ شرح چغمینی موسی پاشابن محمدالرومی ۸۴۱
۲۵۵۔ شرح حاشیۃالکنزملامسکین معین الدین الہروی ملامسکین ۹۵۴
۲۵۶۔ شرح فقہ اکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۷۔ شرح عین العلم علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۲۵۸۔ شرح قصیدہ اطیب النغم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۵۹۔ شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۰۔ شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۱۔ شرح فواتح الرحموت شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۲۔ شفاء العلیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۶۳۔ شرح النقایہ لابی المکارم ابوالمکارم بن عبداﷲ بن محمد بعداز ۹۰۷
۲۶۴۔ شرف المصطفی حافظ عبدالملک بن محمدنیشاپوری ۴۰۶
۲۶۵۔ شرح مقدمہ عشماویہ احمدبن ترکی المالکی
۲۶۶۔ شرح جامع الاصول للمضیف مبارک بن محمدالمعروف بابن الاثیرالجزری ۶۸۶
۲۶۷۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی ۹۸۷
۲۶۸۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان ۷۶۸
ص
۲۶۹۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۲۷۰۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان ۳۵۴
۲۷۱۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۲۷۲۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
۲۷۳۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی ۹۵۶
۲۷۴۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی ۱۲۴۶
۲۷۵۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
ط
۲۷۶۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۷۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۸۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۹۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۲۸۰۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن برعلی المعروف برکلی ۹۸۱
۲۸۱۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۲۸۲۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۲۸۳۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۲۸۴۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۲۶۷۔ شرح الملتقی للبہنسی محمدبن محمدالمعروف بابن البھنسی ۹۸۷
۲۶۸۔ شرح دررالبحار عبدالوہاب ابن احمدالشہیربابن وہبان ۷۶۸
ص
۲۶۹۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۲۷۰۔ صحیح ابن حبان(کتاب التقاسیم والانواع) محمدبن حبان ۳۵۴
۲۷۱۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۲۷۲۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
۲۷۳۔ صغیری شرح منیہ ابراہیم الحلبی ۹۵۶
۲۷۴۔ صراط مستقیم سیداحمدشہیدبریلوی ۱۲۴۶
۲۷۵۔ الصواعق المحرقۃ شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
ط
۲۷۶۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۷۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۲۷۸۔ طبقات المقرئین محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۹۔ طبقات القراء محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۲۸۰۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن برعلی المعروف برکلی ۹۸۱
۲۸۱۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۲۸۲۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۲۸۳۔ العنایۃ شرح الہدایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۲۸۴۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ علی تفسیرالبیضاوی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۲۸۵۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۲۸۶۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۸۷۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۲۸۸۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی ۳۶۴
۲۸۹۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی ۶۳۲
۲۹۰۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی ۶۹۹
۲۹۱۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی ۸۳۰
۲۹۲۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۹۳۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۲۹۴۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی ۱۳۰۴
غ
۲۹۵۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۲۹۶۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۲۹۷۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۲۹۸۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۲۹۹۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۳۰۰۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۳۰۱۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
ف
۳۰۲۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۳۰۳۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۳۰۴۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۳۰۵۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۸۶۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۸۷۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۲۸۸۔ عمل الیوم واللیلۃ ابوبکراحمدبن محمدابن السنی ۳۶۴
۲۸۹۔ عوارف المعارف شہاب الدین سہروردی ۶۳۲
۲۹۰۔ عقدالفرید ابوعبداﷲمحمدبن عبدالقوی المقدسی ۶۹۹
۲۹۱۔ عین العلم محمدبن عثمان بن عمرالحنفی البلخی ۸۳۰
۲۹۲۔ عقدالجید شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۲۹۳۔ عقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ محمدامین آفندی ابن عابدین ۱۲۵۲
۲۹۴۔ عمدۃ الرعایہ فی حل شرح الوقایہ محمدبن عبدالحی اللکھنوی ۱۳۰۴
غ
۲۹۵۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۲۹۶۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۲۹۷۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۲۹۸۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۲۹۹۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۳۰۰۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۳۰۱۔ غیث النفع فی القراء السبع یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
ف
۳۰۲۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۳۰۳۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۳۰۴۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۳۰۵۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۳۰۶۔ فتاوی حجہ
۳۰۷۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۳۰۸۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۳۰۹۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۳۱۰۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۳۱۱۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۳۱۲۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۳۱۳۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۳۱۴۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۳۱۵۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۳۱۶۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۳۱۷۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۳۱۸۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۳۱۹۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۳۲۰۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۳۲۱۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۳۲۲۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۳۲۳۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۳۲۴۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
۳۲۵۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی ۲۹۴
۳۲۶۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی ۴۹۲
۳۲۷۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی ۶۳۶
۳۲۸۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی ۷۸۶
۳۲۹۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۳
۳۳۰۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۳۰۷۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۳۰۸۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۳۰۹۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۳۱۰۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۳۱۱۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۳۱۲۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۳۱۳۔ فتاوی ظہیریۃ ظہرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۳۱۴۔ فتاوی ولوالجیۃ عبدالرشیدبن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۳۱۵۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۳۱۶۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۳۱۷۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۳۱۸۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۳۱۹۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۳۲۰۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۳۲۱۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۳۲۲۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۳۲۳۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۳۲۴۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
۳۲۵۔ فضائل القرآن لابن ضریس ابوعبداﷲ محمدبن ایوب ابن ضریس البجلی ۲۹۴
۳۲۶۔ فوائدالخلعی ابوالحسن علی بن الحسین الموصلی ۴۹۲
۳۲۷۔ فصول العمادی محمدبن محمود استروشنی ۶۳۶
۳۲۸۔ فتاوی تاتارخانیہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی ۷۸۶
۳۲۹۔ فتح المغیث امام محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۳
۳۳۰۔ فتاوی زینیہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم ۹۷۰
۳۳۱۔ فتح المعین شرح اربعین شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۲۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۳۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۴۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی
۳۳۵۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی ۱۱۱۶
۳۳۶۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی ۱۲۵۰
۳۳۷۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱۲۸۴
۳۳۸۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۳۳۹۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۳۴۰۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۳۴۲۔ فتح الملک المجید
۳۴۳۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی ۱۲۳۹
ق
۳۴۴۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۳۴۵۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۳۴۶۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۳۴۷۔ القرآن الکریم
۳۴۸۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی ۳۸۶
۳۴۹۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی ۸۵۲
۳۵۰۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۱۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۲۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری ۱۳۰۴
۳۵۳۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی ۱۳۰۴
۳۳۲۔ فتح الالہ شرح المشکاۃ شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۳۔ فتاوی الفقہیہ ابن حجرمکی شہاب الدین احمدبن محمدابن حجرالمکی ۹۷۴
۳۳۴۔ فتاوی انقرویہ محمدبن حسین الانقروی
۳۳۵۔ فتاوی اسعدیہ سیداسعد ابن ابی بکرالمدنی الحسینی ۱۱۱۶
۳۳۶۔ فوائدمجموعہ شوکانی محمد بن علی بن محمودالشوکانی ۱۲۵۰
۳۳۷۔ فتاوی جمال بن عمرالمکی جمال بن عمرالمکی ۱۲۸۴
۳۳۸۔ فضل لباس العمائم ابوعبداﷲ محمدبن وضاح
۳۳۹۔ فتاوی قاعدیہ ابوعبداﷲ محمدبن علی القاعدی
۳۴۰۔ فتاوی غزی محمد بن عبداللہ التمر تاشی ۱۰۰۴
۳۴۱۔ فتاوی شمس الدین الرملی
۳۴۲۔ فتح الملک المجید
۳۴۳۔ فتح العزیز(تفسیرعزیزی) عبدالعزیزبن ولی اﷲالدہلوی ۱۲۳۹
ق
۳۴۴۔ القاموس المحیط محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۳۴۵۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۳۴۶۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۳۴۷۔ القرآن الکریم
۳۴۸۔ قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ابوطالب محمدبن علی المکی ۳۸۶
۳۴۹۔ القول المسدد شہاب الدین احمد بن علی القسطلانی ۸۵۲
۳۵۰۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۱۔ القول الجمیل شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۳۵۲۔ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار محمدبن عبدالحی لکھنوی انصاری ۱۳۰۴
۳۵۳۔ القول الصواب فی فضل عمربن الخطاب ابراہیم بن عبداﷲ الیمنی ۱۳۰۴
ک
۳۵۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۳۵۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۳۵۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۳۵۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۵۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۳۵۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۳۶۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۳۶۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۳۶۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۳۶۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۳۶۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۶۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۳۶۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۳۶۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۳۶۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۳۶۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۳۷۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۳۷۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۳۷۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۳۷۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۳۷۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۳۷۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۳۷۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۳۵۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۳۵۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۳۵۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۳۵۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۵۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۳۵۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۳۶۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۳۶۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۳۶۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۳۶۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۳۶۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۶۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
۳۶۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۳۶۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۳۶۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۳۶۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۳۷۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۳۷۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۳۷۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۳۷۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۳۷۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۳۷۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۳۷۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۳۷۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۲
۳۷۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۳۷۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
۳۸۰۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۱۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۲۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی ۲۷۵
۳۸۳۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۴۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۵۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی ۳۲۲
۳۸۶۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی ۴۵۸
۳۸۷۔ کتاب الرواۃ عن مالک ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۳۸۸۔ کتاب الحجہ علی تارک الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی ۴۹۰
۳۸۹۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۳۹۰۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی ۹۳۹
ابن ابی زہرالقہروانی
۳۹۱۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ ۱۰۶۷
۳۹۲۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
۳۹۳۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۳۹۴۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۳۹۵۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری ۱۲۳۳
۳۹۶۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی ۲۰۷
ل
۳۹۷۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۶
۳۹۸۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
۳۷۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۳۷۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
۳۸۰۔ کتاب الحجہ امام محمدرحمہ اﷲ تعالی ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۱۔ کتاب المشیخۃ امام محمد ابوعبداﷲ محمدبن حسن الشیبانی ۱۸۹
۳۸۲۔ کتاب المراسیل سلیمان بن اشعث السجستانی ۲۷۵
۳۸۳۔ کتاب البعث والنشور عبداﷲبن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۴۔ کتاب الاخوان ابوبکرعبداﷲ بن محمد ابن ابی الدنیا ۲۸۱
۳۸۵۔ کتاب الضعفاء الکبیر ابوجعفرمحمدبن عمروالعقیلی المکی ۳۲۲
۳۸۶۔ کتاب الزہدالکبیرللبیہقی احمدبن حسن البیہقی ۴۵۸
۳۸۷۔ کتاب الرواۃ عن مالک ابن انس ابوبکراحمدبن علی خطیب بغدادی ۴۶۳
۳۸۸۔ کتاب الحجہ علی تارک الحجہ نصربن ابراہیم المقدسی ۴۹۰
۳۸۹۔ کیمیائے سعادت امام محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۳۹۰۔ کفایۃ الطالب الربانی شرح لرسالہ ابوالحسن علی بن ناصرالدین الشاذلی ۹۳۹
ابن ابی زہرالقہروانی
۳۹۱۔ کشف الظنون مصطفی بن عبداﷲ حاجی خلیفہ ۱۰۶۷
۳۹۲۔ کشف الغمہ شیخ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
۳۹۳۔ کتاب الصفین یحیی بن سلیمان الجعفی (استادامام بخاری)
۳۹۴۔ کتاب المصاحف ابن الانباری
۳۹۵۔ کمالین حاشیہ جلالین شیخ سلام اﷲ بن محمدشیخ الاسلام محدث رامپوری ۱۲۳۳
۳۹۶۔ کتاب المغازی محمدبن عمربن واقدالواقدی ۲۰۷
ل
۳۹۷۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۶
۳۹۸۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
۳۹۹۔ لسان العرب جمال الدین محمدبن مکرم ابن منظورالمصری ۷۱۱
۴۰۰۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۰۱۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
م
۴۰۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۴۰۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۴۰۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۴۰۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی ۹۹۵
۴۰۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۴۰۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۴۰۸۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ ۱۰۷۸
۴۰۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۴۱۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۴۱۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۴۱۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۴۱۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۴۱۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۴۱۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۴۱۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۴۱۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۴۲۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۴۲۱۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۴۰۰۔ الآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ابوبکرعبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۰۱۔ لواقع الانوار القدسیہ سیدالمنتخب من الفتوحات المکیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۳
م
۴۰۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۴۰۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۴۰۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۴۰۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی ۹۹۵
۴۰۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۴۰۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۴۰۸۔ مجمع الانہرفی شرح ملتقی الابحر عبدالرحمن بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی شیخی زادہ ۱۰۷۸
۴۰۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۴۱۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۴۱۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۴۱۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۴۱۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۴۱۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۴۱۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۴۱۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۴۱۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۴۱۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۴۲۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۴۲۱۔ المستصفی شرح الفقہ النافع حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۴۲۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۴۲۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۴۲۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۴۲۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۴۲۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۴۲۷۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۴۲۸۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۴۲۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۴۳۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۴۳۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۳۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۴۳۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۴۳۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۴۳۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۴۳۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۴۴۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۴۴۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۴۴۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۴۴۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۴۴۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی ۹۳۱
۴۴۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۴۴۶۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۴۲۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۴۲۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۴۲۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۴۲۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۴۲۷۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۴۲۸۔ مسند الکبیرفی الحدیث ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۴۲۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۴۳۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۴۳۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۳۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۴۳۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۴۳۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
۴۳۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۴۳۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۴۳۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۴۴۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۴۴۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۴۴۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۴۴۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۴۴۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدعلی ۹۳۱
۴۴۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۴۴۶۔ المقدمۃ العشماویۃفی الفقہ المالکیۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۴۴۷۔ الملتقط (فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۴۴۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۴۴۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۴۵۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۴۵۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۴۵۲۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۴۵۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۴۵۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۴۵۵۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۴۵۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۴۵۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۴۵۸۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۴۵۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۴۶۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۴۶۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۴۶۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۴۶۳۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۴۶۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۴۶۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۴۶۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۴۶۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۴۶۸۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۴۶۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
۴۷۰۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ۱۵۰
۴۷۱۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی ۱۸۹
۴۴۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۴۴۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۴۵۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۴۵۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۴۵۲۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۴۵۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۴۵۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۴۵۵۔ منہاج النووی (شرح صحیح مسلم) شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۴۵۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۴۵۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۴۵۸۔ المبسوط عبدالعزیز بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۴۵۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
۴۶۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۴۶۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۴۶۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۴۶۳۔ مواردالظمان نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۴۶۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۴۶۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۴۶۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۴۶۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۴۶۸۔ المستخرج عل الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۴۶۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
۴۷۰۔ مسندالامام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت ۱۵۰
۴۷۱۔ مؤطاالامام محمد ابوعبداﷲمحمدبن الحسن الشیبانی ۱۸۹
۴۷۲۔ المسندفی الحدیث حسن بن سفیان النسوی ۳۰۳
۴۷۳۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی ۳۸۸
۴۷۴۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری ۵۱۶
۴۷۵۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی ۵۱۶
۴۷۶۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی ۵۴۸
۴۷۷۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی ۵۹۷
۴۷۸۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح ۶۴۲
۴۷۹۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۴۸۰۔ مدارک التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۸۱۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد ۷۵۶
۴۸۲۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۴۸۳۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۲
۴۸۴۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی ۹۲۳
۴۸۵۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۶۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۷۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی ۱۰۵۲
۴۸۸۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین ۱۰۹۶
۴۸۹۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالک شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۰۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۱۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۲۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۳۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۴۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۴۹۵۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۲۴۳
۴۹۶۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی ۱۲۴۳
۴۷۳۔ معالم السنن لابی سلیمان الخطابی احمدبن محمدبن ابراہیم الخطابی ۳۸۸
۴۷۴۔ مقامات حریری قاسم ابن علی الحریری ۵۱۶
۴۷۵۔ معالم التنزیل تفسیرالبغوی ابومحمدالحسین بن مسعود البغوی ۵۱۶
۴۷۶۔ الملل والنحل ابوالفتح محمدبن عبدالکریم الشہرستانی ۵۴۸
۴۷۷۔ موضوعات ابن جوزی ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن الجوزی ۵۹۷
۴۷۸۔ مقدمہ ابن الصلاح فی علوم الحدیث ابوعمروعثمان بن عبدالرحمن ابن الصلاح ۶۴۲
۴۷۹۔ مختصرسنن ابی داؤدللحافظ المنذری عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری ۶۵۶
۴۸۰۔ مدارک التنزیل تفسیرالنسفی ابوالبرکات عبداﷲ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۴۸۱۔ المواقف السطانیہ فی علم الکلام عضدالدین عبدالرحمن بن رکن الدین احمد ۷۵۶
۴۸۲۔ مقدمہ جزریہ محمدبن محمدالجزری ۸۳۳
۴۸۳۔ مقاصدحسنہ شمس الدین محمدبن عبدالرحمن السخاوی ۹۰۲
۴۸۴۔ المواہب اللدنیہ احمدبن محمدالقسطلانی ۹۲۳
۴۸۵۔ المنح الفکریہ شرح مقدمہ جزریہ علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۶۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۸۷۔ ماثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق بن سیف الدین الدہلوی ۱۰۵۲
۴۸۸۔ المیبذی قاضی میرحسین بن معین الدین ۱۰۹۶
۴۸۹۔ مسوی مصفی شرح موطاامام مالک شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۰۔ مکتوبات شاہ ولی اﷲ شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۴۹۱۔ مکتوبات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۲۔ ملفوظات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۳۔ معمولات مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۴۹۴۔ مخزن ادویہ فی الطب محمدحسین بن محمد الہادی بہادرخاں
۴۹۵۔ مجموعہ فتاوی ابوالحسنات محمدعبدالحی ۱۲۴۳
۴۹۶۔ معیارالحق سیدنذیرحسین الدہلوی ۱۲۴۳
۴۹۷۔ مظاہرحق مولوی نذیرالحق میرٹھی
۴۹۸۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی ۱۰۳۴
۴۹۹۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۵۰۰۔ مفتاح الصلوۃ
۵۰۱۔ مجتبی شرح قدوری
۵۰۲۔ مشیخہ ابن شاذان
۵۰۳۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی ۴۳
۵۰۴۔ مفاتیح الغیب (تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی ۶۰۶
ن
۵۰۵۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۵۰۶۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۵۰۷۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۵۰۸۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۵۰۹۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۵۱۰۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۵۱۱۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۵۱۲۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۵۱۳۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۵۱۴۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
و
۵۱۵۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۵۱۶۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۵۱۷۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۴۹۸۔ مکتوبات امام ربانی شیخ احمدسرہندی ۱۰۳۴
۴۹۹۔ مناصحہ فی تحقیق مسئلۃ المصافحہ
۵۰۰۔ مفتاح الصلوۃ
۵۰۱۔ مجتبی شرح قدوری
۵۰۲۔ مشیخہ ابن شاذان
۵۰۳۔ معرفۃ الصحابہ لابی نعیم احمدبن عبداﷲ اصبہانی ۴۳
۵۰۴۔ مفاتیح الغیب (تفسیرکبیر) امام فخرالدین رازی ۶۰۶
ن
۵۰۵۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۵۰۶۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۵۰۷۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۵۰۸۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۵۰۹۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۵۱۰۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۵۱۱۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۵۱۲۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۵۱۳۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۵۱۴۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
و
۵۱۵۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۵۱۶۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۵۱۷۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۵۱۸۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۵۱۹۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۵۲۰۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۵۲۱۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
_______________________
ھ
۵۱۹۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۵۲۰۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۵۲۱۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
_______________________
ضمیمہ
مآخذومراجع
نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی ۶۹۱ / ۶۹۶ / ۶۸۵
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین ۱ / ۴۶۳
۲۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی ۴۶۲
۳۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی ۱۰۰۴
۴۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۵۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی ۳۸۵
۶۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی ۵۴۳
۷۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی ۴۶۸
۸۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۹۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۰۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۱۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی ۱۰۴۴
۱۲۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۳۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی ۹۸۹
مآخذومراجع
نمبر شمار نام کتاب مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ انوار التنزیل فی اسرار التاویل ناصرالدین ابوسعیدعبداﷲبن عمرالبیضاوی ۶۹۱ / ۶۹۶ / ۶۸۵
(تفسیر البیضاوی) ھدیۃ العارفین ۱ / ۴۶۳
۲۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ابوعمریوسف بن عبداﷲ النمری القرطبی ۴۶۲
۳۔ اوضح رمزعلی شرح نظم الکنز علی بن محمدابن غانم المقدسی ۱۰۰۴
۴۔ الاستذکار یوسف بن عبداﷲ ابن عبدالبرالاندلسی ۴۶۳
۵۔ الافراد علی بن عمرالدارقطنی ۳۸۵
۶۔ الایضاح فی شرح التجرید امام ابوالفضل عبدالرحمن بن احمدالکرمانی ۵۴۳
۷۔ اسباب النزول ابوالحسن علی بن احمد الواحدی ۴۶۸
۸۔ ایضاح الحق الصریح فی احکام المیت والضریح شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۹۔ انفاس العارفین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۰۔ انسان العین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۱۱۔ انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون علی بن برہان الدین حلبی ۱۰۴۴
۱۲۔ ارشاد الطالبین قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۳۔ الاعلام باعلام بلداﷲ الحرام قطب الدین محمدبن احمدالحنفی ۹۸۹
۱۴۔ ارشادالساری الی مناسک الملاعلی القاری حسین بن محمدسعیدعبدالغنی المکی الحنفی
۱۵۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۶۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی ۵۵۵
۱۷۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۸۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملک ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین ۴۷۸
۱۹۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
۲۰۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی ۵۸۴
ت
۲۱۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی ۶۵۲
۲۲۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی ۷۳۹
۲۳۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۲۴۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۲۵۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی ۵۳۵
۲۶۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۲۷۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۸۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری ۵۳۴
۲۹۔ تفہیم المسائل
۳۰۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
ث
۳۱۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی ۴۸۹
۳۲۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
ج
۳۳۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی ۶۷۱
۱۵۔ الآداب الحمیدہ والاخلاق محمدبن جریرالطبری ۳۱۰
۱۶۔ الاربعین طائیہ ابوالفتح محمدبن محمدالطائی الھمدانی ۵۵۵
۱۷۔ انیس الغریب جلال الدین عبداﷲ بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۸۔ الارشادفی الکلام امام ابوالمعالی عبدالملک ابن عبداﷲ الجوینی الشہیربامام الحرمین ۴۷۸
۱۹۔ افضل القراء بقراء ام القراء احمدبن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
۲۰۔ الاعتبارفی بیان الناسخ والمنسوخ من الاخبار محمدبن موسی الحازمی الشافعی ۵۸۴
ت
۲۱۔ تلخیص الجامع الکبیر کمال الدین محمدبن عبادالحنفی ۶۵۲
۲۲۔ تحفۃ الحریص فی شرح التلخیص علی بن بلبان الفارسی المصری الحنفی ۷۳۹
۲۳۔ تقویۃ الایمان شاہ محمداسمعیل بن شاہ عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۲۴۔ تعلیم المتعلم امام برہان الدین الزرنوجی
۲۵۔ الترغیب والترھیب ابوالقاسم اسمعیل بن محمدالاصبہانی ۵۳۵
۲۶۔ تذکرۃ الموتی والقبور قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۲۷۔ التثبیت عندالتبییت جلال الدین عبدالرحمن بن کمال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۸۔ تلخیص الادلہ لقواعدالتوحید ابواسحق ابراہیم بن اسمعیل الصفارالبخاری ۵۳۴
۲۹۔ تفہیم المسائل
۳۰۔ تنبیہ الغافل والاسنان محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
ث
۳۱۔ ثقفیات ابوعبداﷲ قاسم بن الفضل الثقفی الاصفہانی ۴۸۹
۳۲۔ ثواب الاعمال لابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
ج
۳۳۔ الجامع لاحکام القرآن(تفسیرطبی) ابوعبداﷲمحمدابن احمدالقرطبی ۶۷۱
۳۴۔ جامع المضمرات والمشکلات(شرح قدوری) یوسف بن عمرالصوفی ۸۳۲
۳۵۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں ۱۳۴۰
ح
۳۶۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی ۶۴۴
۳۷۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی ۱۰۶۲
۳۸۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی ۹۸۲
۳۹۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
۴۰۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
خ
۴۱۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
د
۴۲۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۳۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۴۴۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی ۸۶۷
۴۵۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۶۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۷۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار ۶۴۳
۴۸۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان ۱۳۰۴
ذ
۴۹۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی ۲۸۱
۳۵۔ جدالممتارعلی ردالمتحتار امام احمدرضابن نقی علی خاں ۱۳۴۰
ح
۳۶۔ الحسامی محمدبن محمدبن عمرحسام الدین الحنفی ۶۴۴
۳۷۔ حاشیہ درغررنابلسی اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی ۱۰۶۲
۳۸۔ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل عبدالقادرالفاکہی ۹۸۲
۳۹۔ حواشی علی معالم التنزیل امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
۴۰۔ حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین امام احمدرضاخاں بن نقی علی خاں ۱۳۴۰
خ
۴۱۔ خلاصۃ خلاصۃ الوفاء نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
د
۴۲۔ دلائل النبوۃ ابوبکربن احمد بن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۳۔ درثمین فی مبشرات النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۴۴۔ درمنظم فی مولدالنبی المعظم صلی اﷲ علیہ وسلم ابوالقاسم محمدبن عثمان الؤلؤی الدمشقی ۸۶۷
۴۵۔ کتاب الدعوات احمدبن حسین البیہقی ۴۵۸
۴۶۔ الدرۃ المغیبۃ فی زیارۃ المصطفویۃ نورالدین علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
۴۷۔ الدرۃ الثمنیہ فی اخبارالمدنیۃ حافظ محب الدین محمد بن محمودبن نجار ۶۴۳
۴۸۔ الدررالسنیۃ فی الرد علی الوہابیۃ مفتی احمدبن السید زینی دحلان ۱۳۰۴
ذ
۴۹۔ ذکرالموت عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا البغدادی ۲۸۱
ر
۵۰۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
س
۵۱۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی ۵۸۶
۵۲۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی ۱۰۷۰
۵۳۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۵۴۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی ۳۵۳
ش
۵۵۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری ۱۲۷۶
۵۶۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی ۸۹۵
۵۷۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی ۴۰۲
۵۸۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی ۷۹۶
۵۹۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
۶۰۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۶۱۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین ۹۳۳
۶۲۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
ص
۶۳۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اﷲ علیہ تعالی علیہ وسلم
۶۴۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۶۵۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
۵۰۔ رفع الانتقاض ودفع الاعتراض الخ محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
س
۵۱۔ سلفیات من اجزاء الحدیث حافظ ابوالطاہراحمدبن محمدالسلفی ۵۸۶
۵۲۔ السراج المنیرفی شرح جامع الصغیر علی بن محمدبن ابراہیم المعری العزیزی ۱۰۷۰
۵۳۔ سنن الہدی عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس گنگوہی
۵۴۔ سنن فی الحدیث حافظ ابوعلی سعید بن عثمان ابن السکن البغدادی ۳۵۳
ش
۵۵۔ شرح رسالہ فضالیہ علامہ ابراہیم بن محمدالباجوری ۱۲۷۶
۵۶۔ شرح الصغری علامہ محمدیوسف السنوسی ۸۹۵
۵۷۔ الشامل فی فروع الحنفیہ ابوالقاسم اسمعیل بن حسین البیہقی الحنفی ۴۰۲
۵۸۔ شرح صحیح بخاری الکواکب الدراری محمدبن یوسف الکرمانی ۷۹۶
۵۹۔ شفاء العلیل شرح القول الجمیل مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
۶۰۔ شرح صحیح بخاری ناصرالدین علی بن محمدابن منیر
۶۱۔ شرح زیج سلطانی عبدالعلی بن محمدبن حسین ۹۳۳
۶۲۔ شفاء العلیل وبل الغلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
ص
۶۳۔ الصحاح الماثورہ عن النبی صلی اﷲ علیہ تعالی علیہ وسلم
۶۴۔ صغری شرح منیۃ المصلی شیخ ابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
۶۵۔ صراط مستقیم شاہ محمداسمعیل بن عبدالغنی دہلوی ۱۲۴۶
ط
۶۶۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری ۲۳۰
غ
۶۷۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری ۷۲۸
۶۸۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی ۲۲۴
۶۹۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی ۲۸۵
۷۰۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
ف
۷۱۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۷۲۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی ۲۸۱
۷۳۔ فاتح شرح قدوری
۷۴۔ فوائدحاکم وخلاص
۷۵۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۷۶۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۷۷۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین ۱۱۳۳
۷۸۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی ۹۷۴
۷۹۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۸۰۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی ۵۶۱
۸۱۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی ۱۰۰۴
ق
۸۲۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
۶۶۔ الطبقات الکبری محمدبن سعدالزہری ۲۳۰
غ
۶۷۔ غرائب القرآن ورغائب الفرقان(تفسیرنیشاپوری) نظام الدین حسن بن محمدنیشاپوری ۷۲۸
۶۸۔ غریب الحدیث قاسم بن سلام البغدادی ۲۲۴
۶۹۔ غریب الحدیث ابراہیم بن اسحق الحربی ۲۸۵
۷۰۔ غایۃ الاوطار ترجمہ درمختار مولوی خرم علی بلہوری غالبا ۱۲۷۱
ف
۷۱۔ الفتوحات الالہیۃ (تفسیرجمل) سلیمان بن عمرالشافعی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۷۲۔ الفرج بعدالشدۃ عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیاالبغدادی ۲۸۱
۷۳۔ فاتح شرح قدوری
۷۴۔ فوائدحاکم وخلاص
۷۵۔ فیض القدیرشرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۷۶۔ فیوض الحرمین شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم ۱۱۷۶
۷۷۔ فتاوی شاہ رفیع الدین شاہ رفیع الدین ۱۱۳۳
۷۸۔ الفتح المبین شرح اربعین نووی احمدبن محمد ابن حجرمکی ۹۷۴
۷۹۔ فصل الخطاب فی ردضلالات ابن عبدالوہاب
۸۰۔ فتوح الغیب سیدشیخ عبدالقادرگیلانی ۵۶۱
۸۱۔ فتاوی عزیزی عبدالعزیزبن ولی اﷲ الدہلوی ۱۰۰۴
ق
۸۲۔ قرۃ عیون الاخبار محمدامین ابن عابدین الشہیربابن عابدین ۱۲۵۲
ک
۸۳۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۸۴۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی ۲۸۵
۸۵۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی ۳۶۰
۸۶۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر ۳۹۹
۸۷۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی ۱۱۴۳
۸۸۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل ۲۴۱
۸۹۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۹۰۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۹۱۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی ۲۴۳
۹۲۔ کتاب ذکرالموت
۹۳۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی ۱۲۸۹
۹۴۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۹۵۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی ۱۸۲
۹۶۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
ل
۹۷۔ لباب المناسک شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی ۹۷۸
م
۹۸۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
مجموعہ خانی (فارسی)
۹۹۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۱۰۰۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۴
۸۳۔ کشف الغطاء مالزم لموتی علی الاحیاء محمدشیخ الاسلام بن محمدفخرالدین
۸۴۔ کتاب اتباع الاموات ابراہیم بن اسحاق الحربی ۲۸۵
۸۵۔ کتاب الدعوات سلیمان بن احمدالطبرانی ۳۶۰
۸۶۔ کتاب الثواب فی الحدیث ابوالشیخ عبداﷲ بن محمدبن جعفر ۳۹۹
۸۷۔ کشف النورعن اصحاب القبور عبدالغنی نابلسی ۱۱۴۳
۸۸۔ کتاب الزہد امام احمدبن محمد بن حنبل ۲۴۱
۸۹۔ کتاب القبور عبداﷲ بن محمدابن ابی الدنیا ۲۸۱
۹۰۔ کتاب الروضہ ابوالحسن بن براء
۹۱۔ کتاب الزہد حافظ ہنادبن السری التمیمی الدارمی ۲۴۳
۹۲۔ کتاب ذکرالموت
۹۳۔ کتاب ادعیۃ الحج والعمرہ قطب الدین الدہلوی ۱۲۸۹
۹۴۔ کنوزالحقائق فی حدیث خیرالخلائق عبدالرؤف بن تاج الدین بن علی المناوی ۱۰۳۱
۹۵۔ کتاب الخروج قاضی امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم حنفی ۱۸۲
۹۶۔ کف الرعاع عن المحرمات اللہود السماع ابوالعباس احمد بن محمدابن حجرمکی ۹۷۴
ل
۹۷۔ لباب المناسک شیخ رحمۃ اﷲ بن قاضی عبداﷲ السندی ۹۷۸
م
۹۸۔ منح الروض الازہرفی شرح الفقہ الاکبر علی بن سلطان محمدالقاری ۱۰۱۴
مجموعہ خانی (فارسی)
۹۹۔ مقامات مظہروضمیمہ مقامات مظہر مرزامظہرجان جاناں ۱۱۹۵
۱۰۰۔ مشارق الانوارالقدسیہ فی بیان العہودالمحمدیہ عبدالوہاب بن احمدالشعرانی ۹۷۴
۱۰۱۔ مسندالکبیرفی الحدیث ابومحمدعبیدبن حمید الکشی ۲۴۹
۱۰۲۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ ۷۲۸
۱۰۳۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
۱۰۴۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی ۷۳۹
۱۰۵۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی ۳۱۶
۱۰۶۔ مسندالشامیین
۱۰۷۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۸۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۹۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۱۰۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور ۷۱۱
۱۱۱۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۲۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۳۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۱۴۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب ۷۴۰
۱۱۵۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۱۶۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۲۳۰
۱۱۷۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی ۷۲۲
۱۱۸۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف ۸۱۶
۱۱۹۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی ۷۹۱
۱۲۰۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۱۲۱۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۱۲۲۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
۱۲۳۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
ن
۱۲۴۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۴۰۲
۱۰۲۔ المنتقی فی احادیث الاحکام عن خیرالانام احمدبن عبدالحلیم ابن تیمیہ ۷۲۸
۱۰۳۔ منظومۃ النسفی فی الخلاف نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
۱۰۴۔ معراج الدرایۃ فی شرح ہدایۃ امام قوام الدین بن محمدالکاکی ۷۳۹
۱۰۵۔ المسندالصحیح فی الحدیث ابوعوانہ یعقوب بن اسحق الاسفرائنی ۳۱۶
۱۰۶۔ مسندالشامیین
۱۰۷۔ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۸۔ مجمع البرکات شیخ عبدالحق محدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۹۔ مناھل الصفافی تخریج احادیث الشفاء جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکرالسیوطی ۹۱۱
۱۱۰۔ مختصرتاریخ ابن عساکر امام محمدبن مکرم المعروف بابن منظور ۷۱۱
۱۱۱۔ مائۃ مسائل محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۲۔ مسائل اربعین محمداسحق محدث دہلوی ۱۲۶۲
۱۱۳۔ مالابدمنہ قاضی محمدثناء اﷲ پانی پتی ۱۲۲۵
۱۱۴۔ مشکوۃ المصابیح ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ الخطیب ۷۴۰
۱۱۵۔ متشق یادرمنتقی فی شرح الملتقی علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۱۱۶۔ موضح القرآن ترجمۃ القرآن شاہ عبدالقادربن شاہ ولی اﷲ الدہلوی ۱۲۳۰
۱۱۷۔ مثنوی شریف فارسی منظوم ملاجلال الدین محمدبن محمدبن محمد الرومی البلخی القونوی ۷۲۲
۱۱۸۔ مصطلحات الحدیث علی بن السیدمحمدبن علی الجرجانی سیدشریف ۸۱۶
۱۱۹۔ المقاصدفی علم الکلام علامہ سعدالدین مسعود بن عمرالتفتازانی ۷۹۱
۱۲۰۔ مغنی المستفتی عن سوال المفتی علامہ حامدآفندی
۱۲۱۔ مظاہرتی ترجمہ مشکوۃ المصابیح قطب الدین دہلوی ۱۲۸۹
۱۲۲۔ منۃ الجلیل ابن عابدبن محمدامین آفندی ۱۲۵۲
۱۲۳۔ مفتاح الغیب فی شرح فتوح الغیب عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی ۱۰۵۲
ن
۱۲۴۔ نافع فی الفروع امام ناصرالدین محمدبن یوسف السمرقندی ۴۰۲
۱۲۵۔ نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار محمدبن علی الشوکانی ۱۲۵۰
۱۲۶۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی بلہوری ۱۲۷۱
۱۲۷۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی ۸۹۸
۱۲۸۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی ۱۰۶۹
۱۲۹۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری ۸۳۳
۱۳۰۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی ۸۵۲
۱۳۱۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی ۱۳۰۶
۱۳۲۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی ۲۵۵
۱۳۳۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۱۳۴۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۱۳۵۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ ۹۴۴
۱۳۶۔ نافع شرح قدوری
۱۳۷۔ نام حق شرف الدین بخاری
۱۳۸۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ ۹۸۸
و
۱۳۹۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان ۶۸۱
۱۴۰۔ واقعات المفتیین ۳۲۵
۱۴۱۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
ھ
۱۴۲۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۳۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
_______________________
۱۲۶۔ نصیحۃ المسلمین خرم علی بلہوری ۱۲۷۱
۱۲۷۔ نفحات الانس من حضرات القد س عبدالرحمن بن احمدالجامی ۸۹۸
۱۲۸۔ نسیم الریاض فی شرح شفاء قاضی عیاض قاضی عیاض احمد بن محمدالخفاجی ۱۰۶۹
۱۲۹۔ النشرفی قراۃ العشر شمس الدین محمدبن محمدابن الجزری ۸۳۳
۱۳۰۔ نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر احمدبن علی حجرالقسطلانی ۸۵۲
۱۳۱۔ نفع المفتی والمسائل مولوی عبدالعلی مدراسی ۱۳۰۶
۱۳۲۔ نوادرالاصول ابوعبداﷲ محمدبن علی حکیم الترمذی ۲۵۵
۱۳۳۔ نصاب الاحتساب فی الفتاوی عمربن محمد بن عوف الشامی
۱۳۴۔ نورالشمعہ فی ظفرالجمعہ علی بن غانم المقدسی
۱۳۵۔ نظم الفرائدوجمع الفوائدفی الاصول عبدالرحیم بن علی الرومی المعروف شیخ زادہ ۹۴۴
۱۳۶۔ نافع شرح قدوری
۱۳۷۔ نام حق شرف الدین بخاری
۱۳۸۔ نتائج الافکار فی کشف الرموزوالاسرار شمس الدین احمدبن قوردالمعروف بقاضی زادہ ۹۸۸
و
۱۳۹۔ وفیات الاعیان شمس الدین احمدبن محمدابن خلکان ۶۸۱
۱۴۰۔ واقعات المفتیین ۳۲۵
۱۴۱۔ وفاء الوفا نورالدین علی بن احمدالسمہودی ۹۱۱
ھ
۱۴۲۔ ہوامع شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
۱۴۳۔ ہمعات شاہ ولی اﷲ بن شاہ عبدالرحیم الدہلوی ۱۱۷۹
_______________________







