بسم الله الرحمن الرحیم ط
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں :
(۱) الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲) انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳) کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴) صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵) ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶) الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تک یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے جن میں بین الاقوامی معیار کے مطابق شائع ہونے والی مندرجہ ذیل عربی تصانیف خاص اہمیت کی حامل ہیں :
(۱) الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
مع الفیوضات الملکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ (۱۳۲۶ھ)
(۲) انباء الحی ان کلامہ المصون تبیانا لکل شیئ (۱۳۲۶ھ)
مع التعلیقات حاسم المفتری علی السید البری (۱۳۲۸ھ)
(۳) کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الداراھم (۱۳۲۴ھ)
(۴) صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (۱۳۰۵ھ)
(۵) ھادی الاضحیۃ بالشاۃ الھندیۃ (۱۳۱۴ھ)
(۶) الصافیۃ الموحیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ (۱۳۰۷ھ)
(۷) الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا چودہ سال کے مختصر عرصہ میں چھبیسویں جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی پچیس جلدوں کی تفصیل سنین اشاعت کتب وابواب مجموعی صفحات تعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ و خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا چودہ سال کے مختصر عرصہ میں چھبیسویں جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل شائع ہونے والی پچیس جلدوں کی تفصیل سنین اشاعت کتب وابواب مجموعی صفحات تعداد سوالات وجوابات اوران میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلح کتاب المضاربۃکتاب الامانات کتاب العاریۃکتاب الھبہ کتاب الاجارۃکتاب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہ کتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتاب المدایناتکتاب الاشربہکتاب الرھنباب القسمکتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ (جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلح کتاب المضاربۃکتاب الامانات کتاب العاریۃکتاب الھبہ کتاب الاجارۃکتاب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہ کتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
۲۳ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ سوم) ۴۰۹ ۷ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۶۸
۲۴ کتاب الحظر و لاباحۃ ۲۸۴ ۹ ذو الحجہ_____۱۴۲۳______فروری ۲۰۰۳ ۷۲۰
۲۵ کتاب المدایناتکتاب الاشربہکتاب الرھنباب القسمکتاب الوصایا ۱۸۳ ۳ رجب المرجب____۱۴۲۴ ___ستمبر ۲۰۰۳ ۶۵۸
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ (جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ بیسویں جلد کے بعد والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے
بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائےنیز اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی گرانقدر تحقیق انیق کو بھی ہم نے پیش نظر رکھا اور اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کی۔عام طور پر فقہ وفتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کاعنوان ذکر کیاجاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پرہواتھا لہذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرواباحۃ کی اشاعت کاآغاز کیاگیا۔ کتاب الحظروالاباحۃ (جوچارجلدوں ۲۱۲۲۲۳۲۴ پرمشتمل ہے) کی تکمیل کے بعد ابواب مداینات اشربہ رہن قسم اور وصایا پرمشتمل پچیسویں جلد بھی منصہ شہود پرآچکی ہے۔ اب ابواب فقہیہ میں سے صرف کتاب الفرائض باقی تھی جس کو پیش نظرجلد میں شامل کردیاگیاہے۔ باقی رہے مسائل کلامیہ ودیگر متفرق عنوانات پرمشتمل مباحث وفتاوائے اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم کی جلد نہم ودوازدہم میں غیرمبوب وغیرمترتب طورپرمندرج ہیں ان کی ترتیب وتبویب اگرچہ آسان کام نہ تھا مگررب العالمین عزوجل کی توفیق رحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین کی نظرعنایت اعلیحضرت اور مفتی اعظم رحمۃ اﷲ علیہما کے روحانی تصرف وکرامت سے راقم نے یہ گھاٹی بھی عبورکرلی اور کتاب الحظروالاباحۃ کی طرح ان بکھرے ہوئے موتیوں کوابواب کی لڑی میں پروکرمرتبط ومنضبط کردیاہے وﷲ الحمد۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا) ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب) تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج) ایک ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د) مذکورہ بالادونوں جلدوں (نہم ودوازدہم قدیم) میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ) رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
(و) کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلیحضرت کے بعض رسائل جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کوبھی موزوں و مناسب جگہ پر شامل کردیاہے۔
(ز) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرناپڑی۔
(ح) کتاب الشتی میں داخل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل ومفصل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
اس سلسلہ میں ہم نے مندرجہ ذیل امورکوبطورخاص ملحوظ رکھا:
(ا) ان تمام مسائل کلامیہ ومتفرقہ کو کتاب الشتی کامرکزی عنوان دے کر مختلف ابواب پرتقسیم کردیاہے۔
(ب) تبویب میں سوال واستفتاء کااعتبارکیاگیاہے۔
(ج) ایک ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق سوالات مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کومستفتی کے نام سمیت متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د) مذکورہ بالادونوں جلدوں (نہم ودوازدہم قدیم) میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(ھ) رسائل کی ابتداء وانتہاء کوممتاز کیاہے۔
(و) کتاب الشتی کے ابواب سے متعلق اعلیحضرت کے بعض رسائل جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کوبھی موزوں و مناسب جگہ پر شامل کردیاہے۔
(ز) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب چونکہ سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذامسائل کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے مرتب کرناپڑی۔
(ح) کتاب الشتی میں داخل تمام رسائل کے مندرجات کی مکمل ومفصل فہرستیں مرتب کی گئی ہیں۔
چھبیسویں۲۶ جلد
یہ جلد ۳۲۵ سوالوں کے جوابات اورمجموعی طور پر ۶۱۶ صفحات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیاہے۔ اس سے قبل گیارہویں بارہویں تیرہویں سولہویں سترہویں اٹھارہویں انیسویں بیسویں اور پچیسویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔
پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الفرائض اورکتاب الشتی(حصہ اول) کے چندابواب یعنی تاریخ وتذکرہ فوائدتفسیریہ وعلوم قرآن محافل ومجالس تصوف وطریقت اوراوراد ووظائف کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے۔
تاہم متعدد دیگرعنوانات سے متعلق کثیرمسائل ضمنا زیربحث آئے ہیں لہذا مذکورہ بالا بنیادی عنوانات کے تحت مندرج مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیارکردی گئی ہے نیز اس جلد میں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگرکہیں ایک دوسرے کے تحت ضمنا درج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ ابواب کی فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔ انتہائی وقیع اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل آٹھ رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱) المقصد النافع فی عصوبۃ الصنف الرابع(۱۳۱۵ھ)
عصبہ بنفسہ کی قسم چہارم یعنی فروع جدمیت کے بارے میں آٹھ سوالات پر مشتمل استفتاء کامفصل ومدلل جواب۔
(۲) طیب الامعان فی تعدد الجھات والابدان(۱۳۱۷ھ)
وراثت میں تعدد جہات وا بدان کے معتبر ہونے کاروشن بیان۔
(۳) تجلیۃ السلم فی مسائل من نصف العلم(۱۳۲۱ھ)
بعض مسائل فرائض میں کچھ علماء معاصرین کی غلط فہمیوں کاازالہ
(۴) نطق الھلال بارخ ولادالحبیب والوصال(۱۳۱۷ھ)
حبیب خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت مبارک اوروصال اقدس کی صحیح تاریخ باعتبار قمری ماہ وسال۔
(۵) جمع القران وبم عزوہ لعثمان (۱۳۲۲ھ)
جمع قرآن کی تاریخ اورحضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف اس کو منسوب کرنے کاسبب۔
یہ جلد ۳۲۵ سوالوں کے جوابات اورمجموعی طور پر ۶۱۶ صفحات پرمشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیاہے۔ اس سے قبل گیارہویں بارہویں تیرہویں سولہویں سترہویں اٹھارہویں انیسویں بیسویں اور پچیسویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔
پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الفرائض اورکتاب الشتی(حصہ اول) کے چندابواب یعنی تاریخ وتذکرہ فوائدتفسیریہ وعلوم قرآن محافل ومجالس تصوف وطریقت اوراوراد ووظائف کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے۔
تاہم متعدد دیگرعنوانات سے متعلق کثیرمسائل ضمنا زیربحث آئے ہیں لہذا مذکورہ بالا بنیادی عنوانات کے تحت مندرج مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیارکردی گئی ہے نیز اس جلد میں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگرکہیں ایک دوسرے کے تحت ضمنا درج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ ابواب کی فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔ انتہائی وقیع اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل آٹھ رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱) المقصد النافع فی عصوبۃ الصنف الرابع(۱۳۱۵ھ)
عصبہ بنفسہ کی قسم چہارم یعنی فروع جدمیت کے بارے میں آٹھ سوالات پر مشتمل استفتاء کامفصل ومدلل جواب۔
(۲) طیب الامعان فی تعدد الجھات والابدان(۱۳۱۷ھ)
وراثت میں تعدد جہات وا بدان کے معتبر ہونے کاروشن بیان۔
(۳) تجلیۃ السلم فی مسائل من نصف العلم(۱۳۲۱ھ)
بعض مسائل فرائض میں کچھ علماء معاصرین کی غلط فہمیوں کاازالہ
(۴) نطق الھلال بارخ ولادالحبیب والوصال(۱۳۱۷ھ)
حبیب خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت مبارک اوروصال اقدس کی صحیح تاریخ باعتبار قمری ماہ وسال۔
(۵) جمع القران وبم عزوہ لعثمان (۱۳۲۲ھ)
جمع قرآن کی تاریخ اورحضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف اس کو منسوب کرنے کاسبب۔
(۶) الصمصام علی مشکک فی ایۃ علوم الارحام (۱۳۱۵ھ)
علوم ارحام سے متعلق آیات کریمہ کی تفسیر اورڈاکٹروں کے ادعاء اورپادریوں کارد۔
(۷) اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ (۱۲۹۸ھ)
محفل میلاد میں بوقت ذکرولادت طیبہ قیام تعظیمی کاثبوت اور اس کے منکرین کا رد بلیغ
(۸) کشف حقائق واسرار دقائق(۱۳۰۸ھ)
تصوف سے متعلق چنداشعار کی توضیح وتشریح۔
ضروری بات
گو مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے وصال پرملال سے جامعہ نظامیہ رضویہ کوناقابل برداشت صدمہ سے دوچار ہوناپڑا مگریہ اس سراپا کرامت وجود باجود کافیضان ہے کہ ان کے فرزندارجمند حضرت مولانا علامہ مفتی محمدعبدالمصطفی ہزاروی مدظلہ جوعلوم دینیہ و عصریہ کے مستند فاضل اورحضرت مفتی اعظم کی علمی وتجرباتی وسعت وفراست کے وارث وامین ہیں نہایت صبرواستقامت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے تمام شعبہ جات کی ترویج وترقی کے لئے شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف نے جامعہ کے طلباء کی تعداد میں خاصا اضافہ ہونے کے باعث متعدد تجربہ کارمدرسین مقررکئے ہیں اور فتاوی رضویہ جدید کی اشاعت وطباعت میں بھی بدستور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے نقوش جمیلہ پرگامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حسب معمول سالانہ دو جلدوں کی اشاعت باقاعدگی سے ہورہی ہے۔ بس آپ حضرات سے درخواست ہے کہ دعاؤں سے نوازتے رہئے تاکہ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے مشن کو ان کے جسمانی وروحانی نائبین بحسن وخوبی ترقی سے ہمکنار کرنے میں اپناکردار سرانجام دیتے رہیں۔ فقط
۱۰ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
۲/مارچ ۲۰۰۴ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہور شیخوپورہ (پاکستان)
علوم ارحام سے متعلق آیات کریمہ کی تفسیر اورڈاکٹروں کے ادعاء اورپادریوں کارد۔
(۷) اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ (۱۲۹۸ھ)
محفل میلاد میں بوقت ذکرولادت طیبہ قیام تعظیمی کاثبوت اور اس کے منکرین کا رد بلیغ
(۸) کشف حقائق واسرار دقائق(۱۳۰۸ھ)
تصوف سے متعلق چنداشعار کی توضیح وتشریح۔
ضروری بات
گو مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے وصال پرملال سے جامعہ نظامیہ رضویہ کوناقابل برداشت صدمہ سے دوچار ہوناپڑا مگریہ اس سراپا کرامت وجود باجود کافیضان ہے کہ ان کے فرزندارجمند حضرت مولانا علامہ مفتی محمدعبدالمصطفی ہزاروی مدظلہ جوعلوم دینیہ و عصریہ کے مستند فاضل اورحضرت مفتی اعظم کی علمی وتجرباتی وسعت وفراست کے وارث وامین ہیں نہایت صبرواستقامت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے تمام شعبہ جات کی ترویج وترقی کے لئے شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف نے جامعہ کے طلباء کی تعداد میں خاصا اضافہ ہونے کے باعث متعدد تجربہ کارمدرسین مقررکئے ہیں اور فتاوی رضویہ جدید کی اشاعت وطباعت میں بھی بدستور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے نقوش جمیلہ پرگامزن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حسب معمول سالانہ دو جلدوں کی اشاعت باقاعدگی سے ہورہی ہے۔ بس آپ حضرات سے درخواست ہے کہ دعاؤں سے نوازتے رہئے تاکہ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے مشن کو ان کے جسمانی وروحانی نائبین بحسن وخوبی ترقی سے ہمکنار کرنے میں اپناکردار سرانجام دیتے رہیں۔ فقط
۱۰ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
۲/مارچ ۲۰۰۴ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہور شیخوپورہ (پاکستان)
کتاب الفرائض
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱: یکم ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ ایك عورت قوم طوائف سے تھی جس نے عمرو سے نکاح کیاہندہ کی نائکہ کے اور بھی چند رنڈیاں مختلف البطن تھیں جو اپنا پیشہ کسب اب تك کرتی ہیں ہندہ نے جس کا کوئی وارث نہ تھا شوہر کے بھتیجے کو متبنی کیا اور اپنی حیات میں اپنے کل متروکہ کی بابت جو اسے ترکہ شوہر ہی سے پہنچاتھا زید کے لئے وصیت کی کہ میرے بعد کل ترکہ کا مالك زید ہواب بعد انتقال ہندہ اس کی نائکہ کی دوسری رنڈیاں لیلی بدعوی خواہری ترکہ چاہتی ہے اس صورت میں شرعا حق لیلی کا ہے یا زید کا بینواتوجروا(بیان کرو اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
شوہر کا بھتیجا یہ اپنا متبنی شرعا وارث نہیںپس اگرگواہان عادل سے جنہیں شرع قبول کرلے وصیت ثابت ہوجائے تو شك نہیں کہ زید ہرطرح موصی لہ ہوگیا خواہ لیلی ہندہ کی بہن ہو یانہ ہو فرق یہ ہوگا کہ لیلی وہندہ ایك ماں کے پیٹ سے پیداہوئیں تو وہ اخیافی بہن ٹھہرکر چھٹے حصے کی فرضا اور نصف کی ردا مستحق ہوگی فان الرد مقدم عندنا علی الموصی لہ لجمیع المال(کیونکہ ہمارے نزدیك رد اس شخص پرمقدم ہے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی ہے۔ت)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱: یکم ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ ایك عورت قوم طوائف سے تھی جس نے عمرو سے نکاح کیاہندہ کی نائکہ کے اور بھی چند رنڈیاں مختلف البطن تھیں جو اپنا پیشہ کسب اب تك کرتی ہیں ہندہ نے جس کا کوئی وارث نہ تھا شوہر کے بھتیجے کو متبنی کیا اور اپنی حیات میں اپنے کل متروکہ کی بابت جو اسے ترکہ شوہر ہی سے پہنچاتھا زید کے لئے وصیت کی کہ میرے بعد کل ترکہ کا مالك زید ہواب بعد انتقال ہندہ اس کی نائکہ کی دوسری رنڈیاں لیلی بدعوی خواہری ترکہ چاہتی ہے اس صورت میں شرعا حق لیلی کا ہے یا زید کا بینواتوجروا(بیان کرو اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
شوہر کا بھتیجا یہ اپنا متبنی شرعا وارث نہیںپس اگرگواہان عادل سے جنہیں شرع قبول کرلے وصیت ثابت ہوجائے تو شك نہیں کہ زید ہرطرح موصی لہ ہوگیا خواہ لیلی ہندہ کی بہن ہو یانہ ہو فرق یہ ہوگا کہ لیلی وہندہ ایك ماں کے پیٹ سے پیداہوئیں تو وہ اخیافی بہن ٹھہرکر چھٹے حصے کی فرضا اور نصف کی ردا مستحق ہوگی فان الرد مقدم عندنا علی الموصی لہ لجمیع المال(کیونکہ ہمارے نزدیك رد اس شخص پرمقدم ہے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی ہے۔ت)
صرف ایك ثلث باقی بعدادائے دین میں وصیت نافذ ہوگی دو ثلث باقیماندہ لیلی کو ملیں گے۔فرضا و ردا اور اگر ثابت ہوگا کہ لیلی ہندہ کی بہن نہیں بلکہ صرف اس وجہ سے انہیں بہنیں کہاجاتا کہ دونوں ایك ڈیرے کی رنڈیاں تھیں تو وصیت کل مال میں جاری ہوگی اور بعدادائے دین اگرذمہ ہندہ ہو کل متروکہ زید کو ملے گا مگر اس امرکالحاظ واجب ہے کہ نسب کے ثبوت میں صرف شہرت کافی ہے کما فی الخلاصۃ والخانیۃ والھدایۃ والھندیۃ والدر وغیرھا(جیسا کہ خلاصہخانیہہدایہہندیہ اوردر وغیرہ میں ہے۔ت)پس اگر مشہور ہوکہ یہ دونوں عورتیں ایك ماں کے پیٹ سے ہیں اگرچہ اولاد زناہی ہوں تو بیشك وہ بہنیں ٹھہریں گی اور لیلی وارثہ ہوگی کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲: ۲۲جمادی الآخرہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے مرتے وقت زیور اپنے بھائی کے سپرد کیا اور یہ کہا یہ زیور میری بہومتوفی کاہےاس تفصیل سے کہ کچھ اس کے والدین کا دیاہوا ہے اور کچھ میرادیاہواہے اور اول بہوکا انتقال ہوا توا س کی تجہیزو تکفین میں نے کی اور بعدکو اس کے خاوند کاانتقال ہوا تو اس کی بھی تجہیزوتکفین میں نے کی اور دونوں لاولد مرے ہیں اور بالعوض اس کے مال دونوں کے مرنے میں اس مال کی تعداد سے زیادہ روپیہ خرچ ہوگیا ہے اوراس مال میں کسی کا دعوی نہیں ہے تم بعد میرے کل مال کے میرے خیرات کردینااب بہو کے والدین کہتے ہیں کہ ہماری دختر کامال ہے ہم وارث ہیں اور خاوند کے وار کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی اوربھاوج کامال ہے ہم وارث ہیںعورت کے والدین کہتے ہیں کہ ہماری دختر کامہربھی چاہئےخاوند کے وارث کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی نے کہا کہ مہرمجھ کو میری زوجہ نے بخش دیاہے۔اب بموجب شرع شریف کے وہ مال خیرات کیاجائے یاوارثان کو دیاجائے اور کس کس وارث کو کس تعداد سے دیاجائے
الجواب:
اگر عورت نے اپنی بہو کی تجہیزوتکفین اپنے پاس سے بطور خود کی تو اس کامعاوضہ پانے کی اصلا مستحق نہیں
فی العقود الدریۃ عن التتارخانیۃ عن العیون اذا کفن الوارث المیت عقودالدریہ میں تاتارخانیہ سے بحوالہ عیون منقول ہے کہ جب اپنے مال سے میت کو کفن پہنائے
مسئلہ ۲: ۲۲جمادی الآخرہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے مرتے وقت زیور اپنے بھائی کے سپرد کیا اور یہ کہا یہ زیور میری بہومتوفی کاہےاس تفصیل سے کہ کچھ اس کے والدین کا دیاہوا ہے اور کچھ میرادیاہواہے اور اول بہوکا انتقال ہوا توا س کی تجہیزو تکفین میں نے کی اور بعدکو اس کے خاوند کاانتقال ہوا تو اس کی بھی تجہیزوتکفین میں نے کی اور دونوں لاولد مرے ہیں اور بالعوض اس کے مال دونوں کے مرنے میں اس مال کی تعداد سے زیادہ روپیہ خرچ ہوگیا ہے اوراس مال میں کسی کا دعوی نہیں ہے تم بعد میرے کل مال کے میرے خیرات کردینااب بہو کے والدین کہتے ہیں کہ ہماری دختر کامال ہے ہم وارث ہیں اور خاوند کے وار کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی اوربھاوج کامال ہے ہم وارث ہیںعورت کے والدین کہتے ہیں کہ ہماری دختر کامہربھی چاہئےخاوند کے وارث کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی نے کہا کہ مہرمجھ کو میری زوجہ نے بخش دیاہے۔اب بموجب شرع شریف کے وہ مال خیرات کیاجائے یاوارثان کو دیاجائے اور کس کس وارث کو کس تعداد سے دیاجائے
الجواب:
اگر عورت نے اپنی بہو کی تجہیزوتکفین اپنے پاس سے بطور خود کی تو اس کامعاوضہ پانے کی اصلا مستحق نہیں
فی العقود الدریۃ عن التتارخانیۃ عن العیون اذا کفن الوارث المیت عقودالدریہ میں تاتارخانیہ سے بحوالہ عیون منقول ہے کہ جب اپنے مال سے میت کو کفن پہنائے
من مال نفسہ یرجع والا جنبی لایرجع اھ وفیہا عن نھج النجاۃ لوکفن المیت غیرالوارث من مال نفسہ لیرجع فی ترکتہ بغیر امرالوارث فلیس لہ الرجوع اشھد علی الوارث او لم یشھد ۔ تو وہ ترکہ میں رجوع کرسکتاہے اور اجنبی ایسا کرے تو رجوع نہیں کرسکتا اھ اور اسی میں نہج النجاۃ سے منقول ہے اگرغیر وارث اپنے مال سے وارث کی اجازت کے بغیر اس نیت سے میت کو کفن پہنائے کہ وہ میت کے ترکہ میں رجوع کرے گا تو اس کو رجوع کا حق نہیں چاہے وارث کی موجودگی میں ایساکرے یاغیرموجودگی میں۔(ت)
اس تقدیر پرنصف زیورخاص بہو کے ماں باپ کاہے جس کی نسبت عورت کی وصیت محض مہملاور اگرشوہر متوفاۃ یعنی اپنے پسرخواہ بہو کے مادریاپدرغرض اس کے کسی وارث کے اذن سے تجہیزوتکفین کی تو جس قدرصرف کفن دفن میں صرف ہوا بشرطیکہ اس میں قدرسنت یعنی پانچ کپڑوں اورکفن مثل سے زیادتی نہ کی ہو اس قدر کی قیمت بہو کے ترکہ سے لے سکتی ہے۔
فی العقود اما الاجنبی فلارجوع لہ مطلقا الا فی اذن لہ الوارث ۔ عقود میں ہے لیکن اجنبی کومطلقا رجوع کا حق نہیں سوائے اس کے کہ وارث نے اس کی اجازت دی ہو۔(ت)
باقی کانصف اس کے ماں باپ کاحق ہےرہادونوں صورتوں پرباقیماندہ آدھا نصیبہ شوہر تھااب تجہیزوتکفین پسر میں بھی نظر کریں گے اگرقدرسنت یاکفن مثل سے زیادت کی ہے مثلا تین کپڑوں کی جگہ چارکپڑے دئیے یاجیسے کپڑے وہ عید کو پہنتا تھا ان سے بہترکفن دیاتو یہاں بھی ترکہ پسری سے اس کامطالبہ نہ کرسکیں گے بلکہ یہ ٹھہرے گا کہ وہ ایك سلوك تھا جو اس نے بطور خود کیا
فی العقود عن الانقروی عن مجمع الفتاویان کفنہ باکثر من کفن المثل لایرجع لان احدالورثۃ لا یملکہ وھل لہ ان یرجع فی الترکۃ بقدر کفن المثل عقود میں انقروی سے بحوالہ مجمع الفتاوی منقول ہے اگروارث نے میت کو کفن مثلی سے زائد پہنایا تورجوع نہیں کرے گا کیونکہ کوئی ایك وارث ایسانہیں کرسکتاکیاصورت مذکورہ میں اس کو ترکہ میں کفن مثلی کی حد تك رجوع کا
اس تقدیر پرنصف زیورخاص بہو کے ماں باپ کاہے جس کی نسبت عورت کی وصیت محض مہملاور اگرشوہر متوفاۃ یعنی اپنے پسرخواہ بہو کے مادریاپدرغرض اس کے کسی وارث کے اذن سے تجہیزوتکفین کی تو جس قدرصرف کفن دفن میں صرف ہوا بشرطیکہ اس میں قدرسنت یعنی پانچ کپڑوں اورکفن مثل سے زیادتی نہ کی ہو اس قدر کی قیمت بہو کے ترکہ سے لے سکتی ہے۔
فی العقود اما الاجنبی فلارجوع لہ مطلقا الا فی اذن لہ الوارث ۔ عقود میں ہے لیکن اجنبی کومطلقا رجوع کا حق نہیں سوائے اس کے کہ وارث نے اس کی اجازت دی ہو۔(ت)
باقی کانصف اس کے ماں باپ کاحق ہےرہادونوں صورتوں پرباقیماندہ آدھا نصیبہ شوہر تھااب تجہیزوتکفین پسر میں بھی نظر کریں گے اگرقدرسنت یاکفن مثل سے زیادت کی ہے مثلا تین کپڑوں کی جگہ چارکپڑے دئیے یاجیسے کپڑے وہ عید کو پہنتا تھا ان سے بہترکفن دیاتو یہاں بھی ترکہ پسری سے اس کامطالبہ نہ کرسکیں گے بلکہ یہ ٹھہرے گا کہ وہ ایك سلوك تھا جو اس نے بطور خود کیا
فی العقود عن الانقروی عن مجمع الفتاویان کفنہ باکثر من کفن المثل لایرجع لان احدالورثۃ لا یملکہ وھل لہ ان یرجع فی الترکۃ بقدر کفن المثل عقود میں انقروی سے بحوالہ مجمع الفتاوی منقول ہے اگروارث نے میت کو کفن مثلی سے زائد پہنایا تورجوع نہیں کرے گا کیونکہ کوئی ایك وارث ایسانہیں کرسکتاکیاصورت مذکورہ میں اس کو ترکہ میں کفن مثلی کی حد تك رجوع کا
حوالہ / References
& ا لعقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الوصایا باب الوصی €∞ارگ بازار قندھار ۲ /۳۲€۷
& العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الوصایا باب الوصی €∞ارگ بازار قندھار ۲ /۳۲€۷
& العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الوصایا باب الوصی €∞ارگ بازار قندھار ۲ /۳۲۷€
& العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الوصایا باب الوصی €∞ارگ بازار قندھار ۲ /۳۲€۷
& العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الوصایا باب الوصی €∞ارگ بازار قندھار ۲ /۳۲۷€
قالوا لایرجع لان اختیارہ ذلك دلیل التبرع اھ قلت مثلہ فی الخانیۃ مقتصرا معللا وبہ حکم فی الخلاصۃ والبزازیۃ والملتقط وان قالوا فیما بعد انہ ان قیل یرجع بقدر الکفن المثل فلہ وجہ کما ھو لفظ الاولین اولایبعد کماھو لفظ الاخیر فان ذلك لیس بروایۃ ولافیہ دلالۃ علی الحکم بہ اوالاختیار کما لا یخفی۔ حق ہے مشائخ نے کہا کہ اسے حق نہیں کیونکہ کفن مثلی سے زائد کو اختیار کرناتبرع کی دلیل ہے اھ میں کہتاہوں اسی کی مثل خانیہ میں ہے اقتصار کرتے ہوئے اور علب بیان کرتے ہوئےاسی کے ساتھ حکم لگایاگیاہے خلاصہبزازیہ اور ملتقط میں اگرچہ اس کے بعد مشائخ نے فرمایا کہ اگر مثلی کفن کے برابررجوع کرنے کاقول کیاجائے تواس کی بھی وجہ ہے جیسا کہ پہلی دونوں کتابوں کی عبارت ہے یایہ کہ ایساکرنا بعید نہیں جیسا کہ آخری کتاب کی عبارت ہے کیونکہ یہ کوئی روایت نہیں اور نہ ہی اس میں مذکور کے ساتھ حکم لگانے یا اسے اختیار کرنے پردلالت ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
اسی طرح کفن دفن کے علاوہ سوئمچہلمفاتحہدرودوغیرہا کے مصارف کہیں مجرا نہیں ملتے
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار التجھیز لایدخل فیہ السبح و الصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا ۔ درمختار پرحاشیہ طحطاویہ میں ہے کہ میت کی تجہیزمیں دعاو درودلوگوں کو جمع کرنا اور کھانے کا اہتمام کرنا داخل نہیں کیونکہ یہ لازمی امورمیں سے نہیں ہیں لہذا ایساکرنے والا اگر وارثوں میں سے ہے تو اس کے حصے میں شمار کیاجائے گا اور وہ متبرع ہوگا۔اور یہی حکم ہوگا اگرایساکرنے والا اجنبی ہو۔(ت)
ہاں اگرتجہیزوتکفین پسرمطابق سنت کی اوراس میں کفن مثل پرزیادت نہ کی توبیشك ترکہ پسری
اسی طرح کفن دفن کے علاوہ سوئمچہلمفاتحہدرودوغیرہا کے مصارف کہیں مجرا نہیں ملتے
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار التجھیز لایدخل فیہ السبح و الصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا ۔ درمختار پرحاشیہ طحطاویہ میں ہے کہ میت کی تجہیزمیں دعاو درودلوگوں کو جمع کرنا اور کھانے کا اہتمام کرنا داخل نہیں کیونکہ یہ لازمی امورمیں سے نہیں ہیں لہذا ایساکرنے والا اگر وارثوں میں سے ہے تو اس کے حصے میں شمار کیاجائے گا اور وہ متبرع ہوگا۔اور یہی حکم ہوگا اگرایساکرنے والا اجنبی ہو۔(ت)
ہاں اگرتجہیزوتکفین پسرمطابق سنت کی اوراس میں کفن مثل پرزیادت نہ کی توبیشك ترکہ پسری
حوالہ / References
& العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب الوصایا باب الوصی €∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۳۲۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ ∞کانسی روڈ کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ ∞کانسی روڈ کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
میں اس قدر کا استحقاق سب وارثان سے پیشتر رکھتی ہے لانہ دین والدین مقدم علی الارث(کیونکہ وہ قرض ہے اور قرض میراث پرمقدم ہے۔ت)اور یہاں کسی وارث پسر کا اذن بھی درکارنہیں کہ عورت خود اپنے پسر کی وارث تھی۔
فی العقود عن حاوی الزاھدی احد الورثۃ انفق فی تجہیز المیت من الترکۃ بغیر اذن الباقین یحسب من مال المیت ولایکون متبرعا ۔ عقود میں حاوی الزاہدی سے منقول ہے اگر کسی ایك وارث نے باقی وارثوں کی اجازت کے بغیرمیت کے ترکہ میں سے اس کی تجہیزپرخرچ کیا تو وہ میت کے ترکہ سے شمار کیاجائے گا اور وہ خرچ کرنے والا متبرع نہیں ہوگا۔(ت)
مگرصرف اس کاکہنا کہ میں اپنے پاس سے پسر کا کفن دفن کیا حجت نہیں دیگرورثہ بھی مانیں یاگواہان شرعی سے ثبوت ہوتو اس وقت یہ ٹھہرے گا کہ پسر پراس قدر اس کی ماں کا دین ہے۔یونہی وارثان مرد کا یہ کہنا کہ ہمارے بھائی نے کہاتھا زوجہ نے مجھے مہربخش دیا محض نامسموع ہے اگر وہ سچ بھی کہتے ہیں تومدیون کا اپنی زبان سے دعوی عفوکیونکر حجت ہوسکتاہے بلکہ گواہ درکار ہیں کہ زوجہ نے مہربخش دیاتھا اگربخشش ثابت ہوجائے تو اس نصف سے جو نصیبہ مردقرارپایاتھا پہلے اس کی ماں کا دین جو بشرائط مذکورہ(یعنی ثبوت باقرار ورثہ یا شہادت گواہان وعدم تجاوز برقدرمسنون وکفن مثل)قابل ادا ہو اداکرکے باقی وارثان مرد پر (جن میں اس کی ماں بھی داخل ہے)حسب فرائض منقسم ہوجائے اوراگرمعافی ثابت نہ ہوتو یہ دیکھناہے کہ زوجہ کانصف مہر جس کا مطالبہ شوہر پرباقی رہا اور ماں کا دین بابت تجہیزوتکفین جوبشرط مذکورقابل اداثابت ہو(اور اسی طرح اور قرض بھی اگر ذمہ مرد ہوں)سب مل کر مقدار کل ترکہ مرد سے(خواہ یہ نصف حصہ زیور ہو جو اسے ترکہ زوجہ سے ملا یا اپنا مال ہو اس مجموع سے)زیادہ ہے یابرابر یاکم اگربرابر یا زائد ہو تو ماں یابھائی کوئی وارث بحیثیت وراثت کچھ نہ پائے گا بلکہ اس حصہ زیور اوردیگر ترکہ مرد سے سب دائنوں کاحق حصہ رسد اداکیاجائے گا اور اگر مجموعہ دیون مجموعہ ترکہ پسر سے کم ہے تو بعد ادائے دیون (وانفاذوصایاپسراگر کی ہوں)جو بچے گا وہ وارثان رمرد پرمع اس کی ماں کے تقسیم ہوجائے گا۔اب ان صورتوں میں جو کچھ اس
فی العقود عن حاوی الزاھدی احد الورثۃ انفق فی تجہیز المیت من الترکۃ بغیر اذن الباقین یحسب من مال المیت ولایکون متبرعا ۔ عقود میں حاوی الزاہدی سے منقول ہے اگر کسی ایك وارث نے باقی وارثوں کی اجازت کے بغیرمیت کے ترکہ میں سے اس کی تجہیزپرخرچ کیا تو وہ میت کے ترکہ سے شمار کیاجائے گا اور وہ خرچ کرنے والا متبرع نہیں ہوگا۔(ت)
مگرصرف اس کاکہنا کہ میں اپنے پاس سے پسر کا کفن دفن کیا حجت نہیں دیگرورثہ بھی مانیں یاگواہان شرعی سے ثبوت ہوتو اس وقت یہ ٹھہرے گا کہ پسر پراس قدر اس کی ماں کا دین ہے۔یونہی وارثان مرد کا یہ کہنا کہ ہمارے بھائی نے کہاتھا زوجہ نے مجھے مہربخش دیا محض نامسموع ہے اگر وہ سچ بھی کہتے ہیں تومدیون کا اپنی زبان سے دعوی عفوکیونکر حجت ہوسکتاہے بلکہ گواہ درکار ہیں کہ زوجہ نے مہربخش دیاتھا اگربخشش ثابت ہوجائے تو اس نصف سے جو نصیبہ مردقرارپایاتھا پہلے اس کی ماں کا دین جو بشرائط مذکورہ(یعنی ثبوت باقرار ورثہ یا شہادت گواہان وعدم تجاوز برقدرمسنون وکفن مثل)قابل ادا ہو اداکرکے باقی وارثان مرد پر (جن میں اس کی ماں بھی داخل ہے)حسب فرائض منقسم ہوجائے اوراگرمعافی ثابت نہ ہوتو یہ دیکھناہے کہ زوجہ کانصف مہر جس کا مطالبہ شوہر پرباقی رہا اور ماں کا دین بابت تجہیزوتکفین جوبشرط مذکورقابل اداثابت ہو(اور اسی طرح اور قرض بھی اگر ذمہ مرد ہوں)سب مل کر مقدار کل ترکہ مرد سے(خواہ یہ نصف حصہ زیور ہو جو اسے ترکہ زوجہ سے ملا یا اپنا مال ہو اس مجموع سے)زیادہ ہے یابرابر یاکم اگربرابر یا زائد ہو تو ماں یابھائی کوئی وارث بحیثیت وراثت کچھ نہ پائے گا بلکہ اس حصہ زیور اوردیگر ترکہ مرد سے سب دائنوں کاحق حصہ رسد اداکیاجائے گا اور اگر مجموعہ دیون مجموعہ ترکہ پسر سے کم ہے تو بعد ادائے دیون (وانفاذوصایاپسراگر کی ہوں)جو بچے گا وہ وارثان رمرد پرمع اس کی ماں کے تقسیم ہوجائے گا۔اب ان صورتوں میں جو کچھ اس
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۲۷€
عورت وصیت کنندہ کے حصہ میں آکر پڑے گا خواہ بہو کے ترکہ سے بذریعہ دین تجہیزوتکفین(جس حالت میں کہ وہ واجب الاداہو)یاپسر کے حصہ سے خواہ بذریعہ مطالبہ تجہیزوتکفین شرط مذکور یابطور وراثت یادونوں وجہوں سے ان سب کو جمع کرکے مع اس کے باقی مال کے(اگر رکھتی ہو)اس مجموع کی تہائی میں اس کی وصیت خیرات بے اجازت اس کے وارثوں کے نافذہوگی
فان الدین ایضا یدخل فی الوصیۃ بالمال علی مارجحہ فی الوھبانیۃ لانہ مال حکمی واذا خرج صار مالاحقیقۃ وثبوت حق الموصی لہ بعد الخروج ممکن کالموصی لہ فی القصاص واذا انقلب مالایثبت فیہ حقہ لانہ مال المیت اما قولھم من حلف لامال لہ ولہ دین لایحنث فذلك لان بناء الایمان علی العرف افادہ فی معراج الدرایۃ قلت ومن الدلیل علی ماقلت جوازالبیع بالدین وانما ھو مبادلۃ مال بمال فافھم۔ میت نے جوقرض لیناہے وہ بھی مال کی وصیت میں داخل ہوگا جیسا کہ وھبانیہ میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ وہ حکمی طورپر مال ہے اور جب وہ وصول ہوجائے تو حقیقۃ مال ہوگا اور موصی لہکے حق کا ثبوت وصولی کے بعد ہی ممکن ہے جیسا کہ قصاص میں موصی لہاور جب وہ قرض مال بن گیا تو اس میں موصی لہکاحق ثابت ہوجائے گا کیونکہ وہ میت کا مال ہے۔لیکن مشائخ کاقول کہ"جس شخص نے قسم کھائی کہ اس کا کوئی مال نہیں حالانکہ اس کا قرض کسی پر ہے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قسموں کی بنیاد عرف پر ہوتی ہے معراج الدرایہ میں اس کا فائدہ دیاہےمیں کہتاہوں میرے قول پرایك دلیل قرض کے بدلے بیع کاجائزہوتاہے کیونکہ بیع نام ہے مال کامال کے ساتھ تبادلے کرنے کا۔پس سمجھ۔(ت)باقی جو رہے گا خاص اس کے وارثوں کاہے۔واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ اولی جس نے نصف مہراپنا اپنی حیات میں زید کو ہبہ کردیاتھا ایك بیٹا اسی شوہر سے اور ایك ماں اور شوہر چھوڑ کر انتقال کرگئی اس کے بعد وہ لڑکا بھی باپ اور نانی کے سامنے مرگیازیدنے دوسری
فان الدین ایضا یدخل فی الوصیۃ بالمال علی مارجحہ فی الوھبانیۃ لانہ مال حکمی واذا خرج صار مالاحقیقۃ وثبوت حق الموصی لہ بعد الخروج ممکن کالموصی لہ فی القصاص واذا انقلب مالایثبت فیہ حقہ لانہ مال المیت اما قولھم من حلف لامال لہ ولہ دین لایحنث فذلك لان بناء الایمان علی العرف افادہ فی معراج الدرایۃ قلت ومن الدلیل علی ماقلت جوازالبیع بالدین وانما ھو مبادلۃ مال بمال فافھم۔ میت نے جوقرض لیناہے وہ بھی مال کی وصیت میں داخل ہوگا جیسا کہ وھبانیہ میں اس کو ترجیح دی ہے کیونکہ وہ حکمی طورپر مال ہے اور جب وہ وصول ہوجائے تو حقیقۃ مال ہوگا اور موصی لہکے حق کا ثبوت وصولی کے بعد ہی ممکن ہے جیسا کہ قصاص میں موصی لہاور جب وہ قرض مال بن گیا تو اس میں موصی لہکاحق ثابت ہوجائے گا کیونکہ وہ میت کا مال ہے۔لیکن مشائخ کاقول کہ"جس شخص نے قسم کھائی کہ اس کا کوئی مال نہیں حالانکہ اس کا قرض کسی پر ہے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قسموں کی بنیاد عرف پر ہوتی ہے معراج الدرایہ میں اس کا فائدہ دیاہےمیں کہتاہوں میرے قول پرایك دلیل قرض کے بدلے بیع کاجائزہوتاہے کیونکہ بیع نام ہے مال کامال کے ساتھ تبادلے کرنے کا۔پس سمجھ۔(ت)باقی جو رہے گا خاص اس کے وارثوں کاہے۔واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ اولی جس نے نصف مہراپنا اپنی حیات میں زید کو ہبہ کردیاتھا ایك بیٹا اسی شوہر سے اور ایك ماں اور شوہر چھوڑ کر انتقال کرگئی اس کے بعد وہ لڑکا بھی باپ اور نانی کے سامنے مرگیازیدنے دوسری
شادی کیزوجہ ثانیہ نے کل مہر اپنا زید کو معاف کردیااب زید نے یہ زوجہ اور دوبرادرحقیقی ورثہ اپنے چھوڑ کر وفات پائیاس صورت میں ترکہ زید کا کس طرح منقسم ہوگا اور بابت مہرباقیماندہ زوجہ اولی کے ترکہ سے کس قدر کسے دیاجائے گا بینوا توجروا
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات ترکہ زید سے پہلے پہلے بقیہ مہرزوجہ اولی جو ذمہ زیدواجب الاداء ہے یعنی نصف مہر باقیماندہ کے بہتر ۷۲حصوں سے انیس۱۹ حصے زوجہ اولی کی ماں کو دئیے جائیں کما یظہر بالتخریج(جیسا کہ مسئلہ کی تخریج سے ظاہرہوگا۔ت)اسی طرح اگر اوردیون ووصایائے زید ہو تو وہ بھی ادا ونافذ کئے جائیں۔اس کے بعد جس قدرباقی بچے آٹھ سہم پر منقسم ہو دو سہم زوجہ ثانیہ اورتین تین ہربھائی کو پہنچیں۔واﷲ اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم(اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کا علم اتم اور اس کا حکم مستحکم ہے۔ت)
مسئلہ ۴ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص تین پسر اور ایك دختر بطن زوجہ منکوحہ ذی مہر سے چھوڑ کر فوت ہوا اور تین پسر اور تین دختربطن دوعورتوں غیرمنکوحہ سے چھوڑے بعدہزوجہ منکوحہ بھی وہی اولاد مذکورچھوڑ کرفوت ہوئیاس صورت میں ترکہ متوفیہ کا کس طرح منقسم ہوگا اور بحالت زندہ رہنے اورعورات غیرمنکوحہ اور ان کی اولاد کے کون کون مستحق وراثت کا ہے اور ادائے دین مہرتقسیم ترکہ پرمقدم ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
جن دو۲ عورتوں کو سائل غیرمنکوحہ ظاہرکرتاہے اگر فی الواقع ان سے نکاح ہوناثابت نہیںنہ وہ کنیزان شرعینہ ایك مدت تك اس شخص کے پاس مثل ازواج رہیںاور باہم ان میں معاملات مانند زن وشوہر جاری نہ تھے تو وہ دونوں اور ان کی اولاد سب ترکہ سے محروم ہیں۔اس صورت میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث کا اداء الدیون واجراء الوصایا ترکہ شخص متوفی کاسات سہم پرمنقسم ہوکر دو۲ دو۲ سہم تینوں پسر زوجہ منکوحہ اورایك اس کی دختر کوملے گا اور ادائے دین مہرمثل سائردیون ووصایا تقسیم ترکہ پربلاریب مقدم ہے ھو مصرح بہ فی کتب الفقہ (کتب فقہ میں اس کی تصریح
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات ترکہ زید سے پہلے پہلے بقیہ مہرزوجہ اولی جو ذمہ زیدواجب الاداء ہے یعنی نصف مہر باقیماندہ کے بہتر ۷۲حصوں سے انیس۱۹ حصے زوجہ اولی کی ماں کو دئیے جائیں کما یظہر بالتخریج(جیسا کہ مسئلہ کی تخریج سے ظاہرہوگا۔ت)اسی طرح اگر اوردیون ووصایائے زید ہو تو وہ بھی ادا ونافذ کئے جائیں۔اس کے بعد جس قدرباقی بچے آٹھ سہم پر منقسم ہو دو سہم زوجہ ثانیہ اورتین تین ہربھائی کو پہنچیں۔واﷲ اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم(اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کا علم اتم اور اس کا حکم مستحکم ہے۔ت)
مسئلہ ۴ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص تین پسر اور ایك دختر بطن زوجہ منکوحہ ذی مہر سے چھوڑ کر فوت ہوا اور تین پسر اور تین دختربطن دوعورتوں غیرمنکوحہ سے چھوڑے بعدہزوجہ منکوحہ بھی وہی اولاد مذکورچھوڑ کرفوت ہوئیاس صورت میں ترکہ متوفیہ کا کس طرح منقسم ہوگا اور بحالت زندہ رہنے اورعورات غیرمنکوحہ اور ان کی اولاد کے کون کون مستحق وراثت کا ہے اور ادائے دین مہرتقسیم ترکہ پرمقدم ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
جن دو۲ عورتوں کو سائل غیرمنکوحہ ظاہرکرتاہے اگر فی الواقع ان سے نکاح ہوناثابت نہیںنہ وہ کنیزان شرعینہ ایك مدت تك اس شخص کے پاس مثل ازواج رہیںاور باہم ان میں معاملات مانند زن وشوہر جاری نہ تھے تو وہ دونوں اور ان کی اولاد سب ترکہ سے محروم ہیں۔اس صورت میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث کا اداء الدیون واجراء الوصایا ترکہ شخص متوفی کاسات سہم پرمنقسم ہوکر دو۲ دو۲ سہم تینوں پسر زوجہ منکوحہ اورایك اس کی دختر کوملے گا اور ادائے دین مہرمثل سائردیون ووصایا تقسیم ترکہ پربلاریب مقدم ہے ھو مصرح بہ فی کتب الفقہ (کتب فقہ میں اس کی تصریح
کردی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگر عد دین متوافقین کا مخرج جزء وفق بارہ ۱۲ ہو تو ان میں نسبت توافق بجزء من اثنی عشر(بارہ میں سے ایك جز کے ساتھ۔ت)کہنا جائزہے یانہیں اور اگر قبل تقسیم ترکہ ایك یا دو یا زائد ورثہ انتقال کریں اور ان کے وارث باعیانہم وہی ورثہ میت اول ہوں اور ان کی موت سے تقسیم متغیر نہ ہو تو ان ورثہ اموات کو بین سے خارج اور کأن لم یکن(گویا کہ وہ تھا ہی نہیں۔ت)کردینااولی ہے یا ان بطون کی اقامت اور ہرایك کی علیحدہ تصحیح۔بینوا توجروا(بیان کرواجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
واﷲ الموفق والصواب(اﷲ تعالی ہی سچائی اوردرستگی کی توفیق دینے والاہے۔ت)صورت مستفسرہ میں جیسے کہ تعبیر بکسر منطق اور ان عددین کو متوافقین بنصف السدس یابسدس النصف کہناجائز ویسے ہی تعبیر بالجزء اورانہیں متوافقین بجزمن اثنی عشر کہنا بھی روااورفرائضیوں میں شائع وذائع۔
فی السراجیہ ففی الاثنین بالنصف وفی الثلاثۃ بالثلث وفی الاربعۃ بالربع ھکذا الی العشرۃ وفی ما وراء العشرۃ یتوافقان بجزء منہ اعنی فی احد عشر بجزء من احد عشر وفی خمسۃ عشر بجز من خمسۃ عشر ۔وفی شرحہا الشریفیۃ وبالجملۃ یمکن فیما وراء العشرۃ باسرھا ان یعبر فی التوافق بالاجزاء المضافۃ الی المخرج کجزء من احد عشر وجزء من اثنی عشر سراجیہ میں ہے کہ دو میں آدھے کاتوافقتین میں تہائی کا اور چار میں چوتھائی کااور یونہی دس تك یعنی دس میں دسویں کا توافق ہوگا۔اور دس سے اوپرجوعدد ہے اس میں توافق اس کی ایك جزء کا ہوگا مثلا گیارہ میں گیارہ کی ایك جز کا اورپندرہ میں پندرہ کی ایك جز کا۔اس کی شرح شریفیہ میں ہے خلاصہ یہ کہ دس سے اوپر والے تمام عددوں کے توافق میں تعبیر ان اجزاء کے ساتھ ہوگی جومخرج کی طرف منسوب ہوتے ہیں جیسے گیارہ میں سے
مسئلہ ۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگر عد دین متوافقین کا مخرج جزء وفق بارہ ۱۲ ہو تو ان میں نسبت توافق بجزء من اثنی عشر(بارہ میں سے ایك جز کے ساتھ۔ت)کہنا جائزہے یانہیں اور اگر قبل تقسیم ترکہ ایك یا دو یا زائد ورثہ انتقال کریں اور ان کے وارث باعیانہم وہی ورثہ میت اول ہوں اور ان کی موت سے تقسیم متغیر نہ ہو تو ان ورثہ اموات کو بین سے خارج اور کأن لم یکن(گویا کہ وہ تھا ہی نہیں۔ت)کردینااولی ہے یا ان بطون کی اقامت اور ہرایك کی علیحدہ تصحیح۔بینوا توجروا(بیان کرواجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
واﷲ الموفق والصواب(اﷲ تعالی ہی سچائی اوردرستگی کی توفیق دینے والاہے۔ت)صورت مستفسرہ میں جیسے کہ تعبیر بکسر منطق اور ان عددین کو متوافقین بنصف السدس یابسدس النصف کہناجائز ویسے ہی تعبیر بالجزء اورانہیں متوافقین بجزمن اثنی عشر کہنا بھی روااورفرائضیوں میں شائع وذائع۔
فی السراجیہ ففی الاثنین بالنصف وفی الثلاثۃ بالثلث وفی الاربعۃ بالربع ھکذا الی العشرۃ وفی ما وراء العشرۃ یتوافقان بجزء منہ اعنی فی احد عشر بجزء من احد عشر وفی خمسۃ عشر بجز من خمسۃ عشر ۔وفی شرحہا الشریفیۃ وبالجملۃ یمکن فیما وراء العشرۃ باسرھا ان یعبر فی التوافق بالاجزاء المضافۃ الی المخرج کجزء من احد عشر وجزء من اثنی عشر سراجیہ میں ہے کہ دو میں آدھے کاتوافقتین میں تہائی کا اور چار میں چوتھائی کااور یونہی دس تك یعنی دس میں دسویں کا توافق ہوگا۔اور دس سے اوپرجوعدد ہے اس میں توافق اس کی ایك جزء کا ہوگا مثلا گیارہ میں گیارہ کی ایك جز کا اورپندرہ میں پندرہ کی ایك جز کا۔اس کی شرح شریفیہ میں ہے خلاصہ یہ کہ دس سے اوپر والے تمام عددوں کے توافق میں تعبیر ان اجزاء کے ساتھ ہوگی جومخرج کی طرف منسوب ہوتے ہیں جیسے گیارہ میں سے
حوالہ / References
السراجی فی المیراث فصل فی معرفۃ التماثل والتداخل الخ ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۳۳و۳۴€
وجزء من ثلثۃ عشر ویمکن فی بعضھا ان یعبر بالکسور المنطقۃ المرکبۃ وللتنبیہ علی ذلك خلط الشیخ المنطق بالاصم حیث ذکر احد عشر وخمسۃ معا ۔وفی حاشیتھا للقاضی عبدالنبی الاحمد نگری رحمہ اﷲ تعالی فان قیل لم قال المص وفیما وراء العشرۃ یتوافقان بجزء مع انہ یمکن التعبیر فی البعض بغیر لفظ الجزء قلت غرض المص رحمہ اﷲ تعالی ا ان توافق العددین فیما وراء العشرۃ بجزء حکم کلی دون التعبیر بلفظ اخرفافھم ۔وفی رد المحتار(تنبیہ)اذا توافقا فی عدد مرکب وھو مایتألف من ضرب عدد فی عدد کخمسۃ عشر مع خمسۃ و اربعین فان شئت قلت ھما متوافقان بجزء ایك جزء بارہ میں سے ایك جزء اور تیرہ میں سے ایك جزء اور ان میں سے بعض میں کسور منطقہ مرکبہ کے ساتھ تعبیر ممکن ہے۔اسی پرتنبیہ کرنے کے لئے شیخ(صاحب سراجیہ) نے منطق(جس کسر کولفظ جزئیت وغیرجزئیت سے تعبیر کیا جاسکتاہو)اوراصم(جس کسر کو فقط لفظ جزئیت کے ساتھ تعبیر کیاجاسکتاہو)کو ملاکر ذکرفرمایاکیونکہ اس نے گیارہ اورپندرہ کو اکٹھا ذکرکیا۔اس پرقاضی عبدالنبی احمدنگری علیہ الرحمہ کے حاشیہ میں ہے۔اگرکہاجائے کہ مصنف علیہ الرحمہ نے یہ کیوں کہا کہ دس سے اوپروالے اعداد میں توافق ان کی ایك جزء کے ساتھ ہوتاہے جبکہ بعض میں بغیر لفظ جزء کے ساتھ ہوتاہے جبکہ بعض میں بغیر لفظ جزء کے تعبیر ممکن ہے تو میں کہوں گا کہ مصنف علیہ الرحمہ کی غرض یہ ہےکہ دس سے اوپر والے اعداد میں جزء کے ساتھ توافق ایك حکم کلی ہے بخلاف کسی دوسرے لفظ کے ساتھ تعبیرکے۔پس سمجھو۔رد المحتار میں ہے(تنبیہ)جب دو عدد کسی عدد مرکب میں باہم متفق ہوجائیں جوکہ ایك عدد کی دوسرے میں ضرب سے مؤلف ہوتاہے جیسے پندہ پینتالیس کے ساتھ۔پس اگرتوچاہے تو یوں کہے کہ ان دونوں میں توافق پندرہ کی ایك
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیہ فصل فی معرفۃ التماثل والتداخل الخ ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص ۶۱€
حاشیۃ شرح الشریفیۃ
حاشیۃ شرح الشریفیۃ
من خمسۃ عشر وان شئت نسبت الواحد الیہ بکسرین یضاف احدھما الی الاخر فتقول بینھما موافقۃ ثلث خمس اوخمس ثلث فیعبر عنہ بالجزء و بالکسور المنطقۃ المضافۃ بخلاف غیرالمرکب فانہ لایعبر عنہ الا بالجزء ۔وفی الفتاوی العالمگیریۃ ان کان الجزء المفنی للعددین اکثر من عشرۃ فانظر فان کان المفنی فردا او لا وھوالذی لیس لہ جزء صحیح ای لایترکب من ضرب عدد فی عدد کأحد عشر فقل الموافقۃ بینھما بجزء من احد عشر لانہ لایمکن التعبیر عنہ صحیحا بشیئ اخر وان کان العدد المفنی زوجا کالثمانیۃ عشرا وفردا مرکبا و ھوالذی لہ جزء ان صحیحان اواکثر کخمسۃ عشر فان شئت ان تقول کما قلت فی الفرد الاول ایك جزء کے ساتھ ہے اور اگرتوچاہے تو واحد کی پندرہ کی طرف ایسی دوکسروں کے ساتھ نسبت کرے جن میں سے ایك دوسرے کی طرف مضاف ہوتی ہےاور تویوں کہے ان دونوں کے درمیان موافقت پانچویں کے تہائی کے ساتھ ہے یاتہائی کے پانچویں کے ساتھ۔چنانچہ اس کو جزء کے ساتھ اور کسور منطقہ جوکہ ایك دوسرے کی طرف مضاف ہوتی ہیں کے ساتھ تعبیر کیاجاتاہے بخلاف غیرمرکب کے کہ اس کو سوائے جزء کے تعبیرنہیں کیاجاسکتا۔اورفتاوی عالمگیریہ میں ہے: اگردوعددوں کو فناکرنے والا عدد دس سے زائد ہو توپھر نظرکر اگر وہ عدد فرد مفرد ہواور فردمفرد وہ ہے جس کی کوئی جزء صحیح نہ ہو یعنی وہ ایك عدد کی دوسرے میں ضرب سے مرکب نہ ہو جیسے گیارہ تواب کہہ کہ ان دونوں میں موافقت گیارہویں جزء کی ہے اس لئے کہ کسی دوسری شیئ کے ساتھ اس کی صحیح تعبیرممکن نہیںاوراگر دوعددوں کوفناکرنے والا عدد زوج ہوجیسے اٹھارہ یافردمرکب ہوارفردمرکب وہ ہوتا ہے جس کی دو یادوسے زائد جزئیں صحیح ہوں جیسے پندرہتو اس صورت میں اگرتوچاہے توایسے ہی کہے جیسا کہ تونے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الفرائض باب المخارج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۱۶€
ھو موافق بجزء من خمسۃ عشر وبجزء من ثمانیۃ عشروان شئت ان تنسب الواحد الیہ بکسرین یضاف احدھما الی الاخر فتقول فی خمسۃ عشر بینھما موافقہ بثلث الخمس وفی ثمانیۃ عشر بثلث السدس وقس علیہ نظائرہ وفی مختصر الفرائض فان اتفقا فی الاثنین فھما متوافقان بالنصف وفی الثلث بالثلث وھکذا فی العشرۃ بالعشرون توافقا فی احد عشر اواکثر منہ یعبر بالجزء مثلا فی احد عشربجزء من احد عشر وفی اثنی عشر بجزء من اثنی عشر وھکذا الخ۔وفی زبدۃ الفرائض مولانا عمادالدین البکنی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ واگر در دوازدہ متفق شوند توافق بجزء من اثنی عشرگویند یعنی توافق بحصہ دواز دہم چنانچہ بست وچہار۲۴ وسی وشش ۳۶ فرد مفرد میں کہاکہ اس میں توافق پندرہویں جزء کا ہے یا اٹھارہویں جزء کا۔اگرچاہے تو واحد کو اس کی طرف ایسی دو کسروں سے منسوب کرے جن میں سے ایك دوسرے کی طرف مضاف ہوتی ہےچنانچہ توپندرہ میں یوں کہے کہ یہ پانچویں کے تہائی میں موافق ہے اور اٹھارہ۱۸ میں یوں کہے کہ یہ چھٹے کے تہائی میں موافق ہے اور اسی پردیگر نظائر کوقیاس کرلے۔مختصر الفرائض میں ہے کہ اگر دو۲عدددو۲ میں متفق ہوجائیں تو ان میں آدھے کاتوافق ہے اورتین میں متفق ہوں تو تہائی کاتوافق ہے یونہی دس۱۰ تك کہ اس میں دسویں کاتوافق ہے اور اگر وہ دونوں گیارہ یا اس سے زائد میں متفق ہوں تو اس کو لفظ جزء کے ساتھ تعبیرکیاجائے گا مثلا گیارہ میں گیارہویں جزء اور بارہ۱۲ میں بارہویں جزاور اسی طرح آخر تک۔اور مولاناعماد الدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی تصنیف زبدۃ الفرائض میں ہے کہ اگر دو عدد بارہ۱۲ میں متفق ہوں تو کہیں گے کہ ان میں توافق بارہ کی ایك جز میں ہے یعنی توافق بارہویں حصہ میں ہے چنانچہ چوبیس۲۴ اور
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۶۷€
مختصرالفرائض
مختصرالفرائض
وعلی ھذا القیاس درجمیع مراتب وفی زبدۃ الفرائض مولاناعبدالباسط القنوجی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ درمافوق العشرۃ بجزء وے کہ مضاف بسوئے عاد باشد تعبیرکنند پس دراحد عشربجزوے ازاحدعشر واثنی عشر بجزوے ازاثنی عشر وھکذا تا غیرنہایت ۔ چھتیس کی صورت میں توافق چوبیسویں اور چھتیسویں حصہ میں ہوگااوراسی پرقیاس ہوگا تمام مراتب میں۔اور مولانا عبدالباسط قنوجی رحمہ اﷲ تعالی کی تصنیف زبدۃ الفرائض میں ہے کہ دس سے زائد عددوں میں اس عدد کی ایسی جزء کے ساتھ تعبیرکرتے ہیں جو جزء عددمفنی کی طرف مضاف ہوتی ہے چنانچہ گیارہ میں اس کی گیارہویں جزء اور بارہ میں اس کی بارہویں جزءاسی تك غیرنہایت تک۔(ت)
اور جب انتقال بعض ورثہ قبل ازتقسیم کیفیت مذکورہ سے ہوتو انہیں خارج من البین وکان لم یکن کرنا ھی اولی ہے نہ اقامت بطون وافراز تصحیحات۔
فی الفرائض الشریفیۃ(لوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ)فنقول ان کانت ورثۃ المیت الثانی من عداہ من ورثۃ المیت الاول ولم یقع فی القسمۃ تغییر فانہ یقسم المال حینئذ قسمۃ واحدۃ اذلافائدۃ فی تکرارھا کما اذا ترك بنین وبنات من امرأۃ واحدۃ ثم مات احدی البنات ولاوارث لہا سوی تلك الاخوۃ والاخوات لاب وام فانہ یقسم مجموع الترکۃ بین الباقین للذکر مثل حظ الانثیین قسمۃ واحدۃ واحدۃ کماکانت تقسم بین الجمیع فرائض شریفیہ میں ہے(اگربعض حصے تقسیم سے پہلے میراث ہوجائیں)تو ہم کہتے ہیں کہ اگرمیت ثانی کے ورثاء سوائے میت ثانی کے وہی ہین جو میت اول کے ورثاء ہیں اورتقسیم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو اس صورت میں مال کو ایك تقسیم کے ساتھ بانٹ دیاجائے گا کیونکہ تقسیم کی تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔جیسے کسی شخص نے ایك ہی بیوی سے کچھ بیٹے اور کچھ بیٹیاں چھوڑی ہوں پھرایك بیٹی مرگئی جس کا ان حقیقی بہن بھائیوں کے سوا کوئی وارث نہیں تو اس صورت میں تمام ترکہ باقی بیٹوں اوربیٹیوں میں ایك ہی تقسیم کے ساتھ للذکرمثل حظ الانثیین کے مطابق اسی طرح تقسیم کریں گے جیسا کہ ان تمام بیٹوں اوربیٹیوں میں تقسیم ہوتاتھا
اور جب انتقال بعض ورثہ قبل ازتقسیم کیفیت مذکورہ سے ہوتو انہیں خارج من البین وکان لم یکن کرنا ھی اولی ہے نہ اقامت بطون وافراز تصحیحات۔
فی الفرائض الشریفیۃ(لوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ)فنقول ان کانت ورثۃ المیت الثانی من عداہ من ورثۃ المیت الاول ولم یقع فی القسمۃ تغییر فانہ یقسم المال حینئذ قسمۃ واحدۃ اذلافائدۃ فی تکرارھا کما اذا ترك بنین وبنات من امرأۃ واحدۃ ثم مات احدی البنات ولاوارث لہا سوی تلك الاخوۃ والاخوات لاب وام فانہ یقسم مجموع الترکۃ بین الباقین للذکر مثل حظ الانثیین قسمۃ واحدۃ واحدۃ کماکانت تقسم بین الجمیع فرائض شریفیہ میں ہے(اگربعض حصے تقسیم سے پہلے میراث ہوجائیں)تو ہم کہتے ہیں کہ اگرمیت ثانی کے ورثاء سوائے میت ثانی کے وہی ہین جو میت اول کے ورثاء ہیں اورتقسیم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو اس صورت میں مال کو ایك تقسیم کے ساتھ بانٹ دیاجائے گا کیونکہ تقسیم کی تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔جیسے کسی شخص نے ایك ہی بیوی سے کچھ بیٹے اور کچھ بیٹیاں چھوڑی ہوں پھرایك بیٹی مرگئی جس کا ان حقیقی بہن بھائیوں کے سوا کوئی وارث نہیں تو اس صورت میں تمام ترکہ باقی بیٹوں اوربیٹیوں میں ایك ہی تقسیم کے ساتھ للذکرمثل حظ الانثیین کے مطابق اسی طرح تقسیم کریں گے جیسا کہ ان تمام بیٹوں اوربیٹیوں میں تقسیم ہوتاتھا
حوالہ / References
زبدۃ الفرائض
زبدۃ الفرائض
زبدۃ الفرائض
کذلك فکان المیت الثانی لم یکن فی البین وفی الدر المختار(مات بعض الورثۃ قبل القسمۃ للترکۃ صحت المسئلۃ الاولی)واعطیت سھام کل وارث(ثم الثانیۃ) الا اذا اتحد کأن مات عن عشرۃ بنین ثم مات احدھم عنھم وفی الفتاوی الھندیۃ ان کانت ورثۃ المیت الثانی ھم ورثۃ المیت الاول ولاتغیر فی القسمۃ تقسم قسمۃ واحدۃ لانہ لافائدۃ فی تکرار القسمۃ فی مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق(ان مات البعض قبل القسمۃ فصحح مسئلۃ المیت الاول و اعطی سہام کل وارث ثم صحح مسئلۃ المیت الثانی) ھذا اذا کانت ورثۃ یرثون خلاف مایرثون من المیت الاول اما اذا کانوا یرثونہ بعینھم فلاحاجۃ الی التصحیحین کمالومات عن عشرہ ابناء ثم مات احد البنین ولم یترك وارثا سواھم کذا فی الزاھدی گویا کہ میت ثانی درمیان میں تھا ہی نہیںدرمختار میں ہے ترکہ کی تقسیم سے پہلے وارثوں میں سے کوئی مرگیا تو پہلے مسئلہ کی تصحیح کرکے ہروارث کے حصے دئیے جائیں گے پھر دوسرے مسئلہ کی تصحیح کی جائے گی سوائے اس کے کہ دونوں مسئلے متحد ہوںجیسے کوئی شخص دس۱۰ بیٹے چھوڑ کر مرگیا پھر ان میں سے ایك باقی نوبھائی چھوڑ کر مرگیا۔فتاوی ہندیہ میں ہے اگرمیت ثانی کے ورثاء وہی ہوں جو میت اول کے ورثاء ہیں اور تقسیم میں کوئی تبدیلی نہ آتی ہو تو ایك ہی تقسیم کی جائے گی کیونکہ تقسیم کی تکرار میں کوئی فائدہ نہیں۔مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے اگروارثوں میں سے کوئی ترکہ کی تقسیم سے پہلے مرگیا تو پہلے میت اول کے مسئلہ کی تصحیح کرکے ہروارث کو حصے دئے جائیں گے پھر مسئلہ ثانی کے مسئلہ کی تصحیح کی جائے گییہ اس وقت ہوگا جب میت ثانی کے ورثاء میت اول کے ورثاء سے مختلف ہوں۔لیکن اگرمیت ثانی کے ورثاء بعینہ میت اول کے ورثاء ہوں تو پھر دوتصحیحوں کی کوئی ضرورت نہیں جیسے کوئی شخص دس بیٹے چھوڑ کر فوت ہوا پھر بیٹوں میں سے ایك مرگیا اور اس نے سوائے اپنے مذکورہ نو بھائیوں کے کوئی وارث نہیں چھوڑا۔یونہی زاہدی اور زبدہ باسطیہ
حوالہ / References
الشریفیہ شرح السراجیہ باب المناسخۃ ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۹€۱
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی المناسخۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۶€
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۷۰€
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی المناسخۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۶€
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۷۰€
وفی الزبدۃ الباسطیۃ بدانکہ اگرورثہ میت ثانی عین ورثہ میت اول باشند ونیزقسمت تغیر نباید بجہت آنکہ ازیك جنس بودند پس بنابراختصار میت ثانی راکالعدم شمارکردہ برتصحیح واحد اکتفا نمایند۔وفی مختصر الفرائض اعلم ان ورثۃ المیت الثانی ان کانواھم الوارثین للمیت الاول سوی المیت الثانی ولایتغیر التقسیم بموتہ تقسم الترکۃ علی الورثۃ الباقیۃ تقسیما واحدا ویجعل المیت الثانی کأن لم یکن فی البین مثلا ترك واربعۃ ابناء و ثلاث بنات کلھم من زوجۃ واحدۃ ثم مات ابن واحد قبل القسمۃ وترك ثلثۃ اخوۃ وثلث اخوات لاب وام ثم ماتت اخت وترکت ثلثۃ اخوۃ واختین کانت المسئلۃ من الثمانیۃ لکل من الابناء الثلثۃ اثنان ولکل من البنتین واحد ویجعل الابن والبنت کأن لم یکونا فی البین انتھت معھذا مطمح نظر علمائے میں ہے:توجان لے کہ اگرمیت ثانی کے ورثاء میت اول کے ورثاء کاعین ہوں اورتقسیم میں بھی کوئی تبدیلی نہ آتی ہو اس لحاظ سے کہ وہ ایك ہی جنس سے تعلق رکھتے ہوں تواختصار کی بنیاد پرمیت ثانی کوکالعدم شمارکرتے ہوئے ایك ہی تصحیح پر اکتفاء کرتے ہیں۔مختصرالفرائض میں ہے:توجان لے کہ میت ثانی کے ورثاء اگر وہی ہوں جو بیت اول کے وارث بنتے ہیں سوائے میت ثانی کے۔اور میت ثانی کی موت کی وجہ سے تقسیم میں کوئی تبدیلی نہ آتی ہو تو اس صورت میں ترکہ کو ایك ہی تقسیم کے ساتھ باقی وارثوں پر تقسیم کیاجائے گا اور میت ثانی کو درمیان سے کالعدم قرار دے دیاجائے گا مثلا کوئی شخص چاربیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑکرمرگیا جو کہ تمام ایك ہی بیوی سے ہیں پھر تقسیم سے پہلے ایك بیٹا مرگیا جس نے تین حقیقی بھائی اور دوبہنیں چھوڑی ہیں تو مسئلہ آٹھ سے بنے گا تین بیٹیوں میں سے ہرایك کودو۲ دو۲حصے ملیں گے اور دوبیٹیوں میں سے ہرایك کو ایك ایك حصہ ملے گا۔اور مرجانے والے بیٹے اوربیٹی کو ایساسمجھاجائے گا گویا کہ وہ درمیان میں تھے ہی نہیں انتہتاس کے باوجود ہمیشہ علماء فرائض کامطمح نظرسہام کوکم کرنا اور حساب کو
حوالہ / References
مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق
مختصر الفرائض
مختصر الفرائض
فرائض دواما تقلیل سھام وتسھیل حساب کما لیس بخاف علی من لہ ادنی مرور فی زقاق ھذا لفن۔ آسان کرنا ہوتاہےجیسا کہ اس شخص پرمخفی نہیں جس کا اس فن کی گلیوں میں تھوڑا سا گزرہواہے۔(ت)
ولہذا درصورت تعدد عاد اکثر الاعداد کااعتبار فرماتے ہیں تاجزء وفق اقل ہو اور حساب اہون واسہل اوراصول ثلثہ تصحیح سے کہ بین السہام والرؤس مقرر ہیں نسبت تداخل کو محض روما للاختصار خارج اوراگرسہام رؤس پرتقسیم ہوجائیں توتماثل ورنہ تو افق کی طرف راجع کرتے ہیں ونظائر ذلك کثیرۃ وفی اسفار الفن مسطورۃ(اس کی نظیریں بہت ہیں جو اس فن کی بڑی بڑی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔ت)اور پرظاہر کہ ورثہ مذکورین کو کأن لم یکن(گویا کہ وہ نہیں تھا۔ت)کرنے میں اختصار قسمت اورخفت مؤنث اورحساب کی ہے اور اسی مقصود فن سے کمال مناسبتواﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
مسئلہ ۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدمرا اور وارثوں میں اپنی دوزوجہ اورزوجہ اولی کامہرسوالاکھ روپیہ کا اورایك دختربھی ہے اور زوجہ ثانی لاولد اورمہراس کا دس ہزارروپیہ تك ہےاورایك بھائیکتنے سہام پرجائداد تقسیم ہوگی بینوا توجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ جائدادبقدر عہ/ کے ہے اور حکم شرع میں ادائے مہر ودیگردیون تقسیم ترکہ پرمقدم اس صورت میں کہ مقدار دونوں مہروں کی حیثیت جائداد سے زائدہےکسی وارث کو جائداد میں استحقاق مالکانہ نہیںلہذا کل جائداد متروکہ سے جو بعد تجہیزوتکفین کے باقی رہا دونوں زوجہ کے مہر اور ان کے سوا اگرکوئی اور دین ہو تو ان کے ساتھ وہ بھی سب بطورحصہ رسد ادا کردئیے جائیں اور کسی وارث کو کچھ نہ ملے گا مگر یہ کہ مہرمعاف ہوجائے یاکوئی وارث جائداد کے خالص کرلینے کو اپنے پاس سے ادا کردے تو بعد ادائے دین و اجراء وصیت جوبچے گا سولہ۱۶ سہام پر منقسم ہوکر ایك سہم ہرزوجہ اور آٹھ سہم دختر اور چھ برادر
ولہذا درصورت تعدد عاد اکثر الاعداد کااعتبار فرماتے ہیں تاجزء وفق اقل ہو اور حساب اہون واسہل اوراصول ثلثہ تصحیح سے کہ بین السہام والرؤس مقرر ہیں نسبت تداخل کو محض روما للاختصار خارج اوراگرسہام رؤس پرتقسیم ہوجائیں توتماثل ورنہ تو افق کی طرف راجع کرتے ہیں ونظائر ذلك کثیرۃ وفی اسفار الفن مسطورۃ(اس کی نظیریں بہت ہیں جو اس فن کی بڑی بڑی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔ت)اور پرظاہر کہ ورثہ مذکورین کو کأن لم یکن(گویا کہ وہ نہیں تھا۔ت)کرنے میں اختصار قسمت اورخفت مؤنث اورحساب کی ہے اور اسی مقصود فن سے کمال مناسبتواﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
مسئلہ ۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدمرا اور وارثوں میں اپنی دوزوجہ اورزوجہ اولی کامہرسوالاکھ روپیہ کا اورایك دختربھی ہے اور زوجہ ثانی لاولد اورمہراس کا دس ہزارروپیہ تك ہےاورایك بھائیکتنے سہام پرجائداد تقسیم ہوگی بینوا توجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ جائدادبقدر عہ/ کے ہے اور حکم شرع میں ادائے مہر ودیگردیون تقسیم ترکہ پرمقدم اس صورت میں کہ مقدار دونوں مہروں کی حیثیت جائداد سے زائدہےکسی وارث کو جائداد میں استحقاق مالکانہ نہیںلہذا کل جائداد متروکہ سے جو بعد تجہیزوتکفین کے باقی رہا دونوں زوجہ کے مہر اور ان کے سوا اگرکوئی اور دین ہو تو ان کے ساتھ وہ بھی سب بطورحصہ رسد ادا کردئیے جائیں اور کسی وارث کو کچھ نہ ملے گا مگر یہ کہ مہرمعاف ہوجائے یاکوئی وارث جائداد کے خالص کرلینے کو اپنے پاس سے ادا کردے تو بعد ادائے دین و اجراء وصیت جوبچے گا سولہ۱۶ سہام پر منقسم ہوکر ایك سہم ہرزوجہ اور آٹھ سہم دختر اور چھ برادر
کو ملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷: ۸ ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جائداد کے مالك زیدوعمرو وبکر سہ برادران حقیقی تھےاول زید فوت ہواخالد و عمدہ والدین چھوڑے۔پھر عمدہ نے عمروبکر پسر ہندہ سعیدہ دختر خالدشوہر چھوڑے پھرخالد نے وارثان مذکور سے انتقال کیا پھر عمرو نے زوجہ خدیجہ چھوڑ کر لاولد وفات پائی پھرہندہ شوہر عبداﷲ پسرحامد محموددختر فاطمہ چھوڑ کر مرگئیترکہ کیونکر منقسم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم مایقدم کالمہروالدین والوصیۃ ایك ثلث جائداد کہ حصہ زید ہے نوسوساٹھ ۹۶۰سہام پرمنقسم ہوکرورثہ احیاء پر جس حساب سے بٹ جائے۔
وذلك لان التصحیح یبلغ الفین وثمان مائۃ و ثمانین ۲۸۸۰ وکأن ینقسم ھکذا۔ اور یہ اس لئے ہے کہ تصحیح دو ہزار آٹھ سو اسی ۲۸۸۰ تك پہنچتی ہے گویا اس طرح تقسیم ہوتی ہے۔(ت)
کما یظھر بالتخریج فوجدنا فی السھام کلھا موافقہ بالثلث فرددنا المسئلۃ للاختصار الی ماتری۔ جیسا کہ تخریج سے ظاہرہوتاہےپس ہم نے تمام حصوں میں تہائی کاتوافق پایا تو ہم نے مسئلہ کواختصار کے لئے تہائی کی طرف لوٹادیا جیسا کہ تو دیکھ رہاہے۔(ت)
اورثلث دوم کہ حصہ عمروہے تین سو برس سہام پر انقسام پاکریوں ہروارث کوملے۔
مسئلہ ۷: ۸ ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جائداد کے مالك زیدوعمرو وبکر سہ برادران حقیقی تھےاول زید فوت ہواخالد و عمدہ والدین چھوڑے۔پھر عمدہ نے عمروبکر پسر ہندہ سعیدہ دختر خالدشوہر چھوڑے پھرخالد نے وارثان مذکور سے انتقال کیا پھر عمرو نے زوجہ خدیجہ چھوڑ کر لاولد وفات پائی پھرہندہ شوہر عبداﷲ پسرحامد محموددختر فاطمہ چھوڑ کر مرگئیترکہ کیونکر منقسم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم مایقدم کالمہروالدین والوصیۃ ایك ثلث جائداد کہ حصہ زید ہے نوسوساٹھ ۹۶۰سہام پرمنقسم ہوکرورثہ احیاء پر جس حساب سے بٹ جائے۔
وذلك لان التصحیح یبلغ الفین وثمان مائۃ و ثمانین ۲۸۸۰ وکأن ینقسم ھکذا۔ اور یہ اس لئے ہے کہ تصحیح دو ہزار آٹھ سو اسی ۲۸۸۰ تك پہنچتی ہے گویا اس طرح تقسیم ہوتی ہے۔(ت)
کما یظھر بالتخریج فوجدنا فی السھام کلھا موافقہ بالثلث فرددنا المسئلۃ للاختصار الی ماتری۔ جیسا کہ تخریج سے ظاہرہوتاہےپس ہم نے تمام حصوں میں تہائی کاتوافق پایا تو ہم نے مسئلہ کواختصار کے لئے تہائی کی طرف لوٹادیا جیسا کہ تو دیکھ رہاہے۔(ت)
اورثلث دوم کہ حصہ عمروہے تین سو برس سہام پر انقسام پاکریوں ہروارث کوملے۔
کما یظہر بالمناسخۃ(جیسا کہ سے ظاہرہوتاہے۔ت)
اورثلث سوم خاص بکرکاہے اور اگرساری جائداد ملاکر دفعۃ تقسیم کرلینا چاہیں تو بہت اختصار ہوجائے گا کل جائداد کے ایك سو چوالیس حصے کرکے اس طرح تقسیم کریں ہرایك اپنے تمام حقوق کو پہنچ جائے گا:
یہ اختصار قابل امتحان طلبہ ہے کہ کیونکر ان سہام میں بکرکاثلث الگ ہوکر دونوں ترکے پورے پورے تقسیم ہوگئے من دون ان یمکن فرض باطل کجعل المورث الاعلی واحدا اولیستعان بقاعدۃ فوق التقسیم المفرد علی ضوابطہا المقررۃ عند الحساب(بغیر اس کے کہ کسی باطل کو فرض کیاجائے مثلا صورت اعلی کو ایك قراردیاجائے یاتقسیم مفرد کے اوپروالے قاعدے سے ان ضوابط کے مطابق مدد لی جائے جو حساب میں طے شدہ ہیں۔ت)مگریہ جبھی ممکن کہ وقت تقسیم تینوں بھائی جائداد میں بحصہ مساوی شریك ہوں عام ازیں کہ اول ہی سے برابرتھے اور زیدوعمرو کے ترکہ پر دین وصیت کچھ نہ تھا یاتھا اور اس جائداد کے غیر سے اداکردیاگیا یا اول سے مختلف تھے اوردیون ووصایائے زیدوعمرو اس ترکہ سے اداہوکر اب تینوں حصے برابرآگئے اوراگروقت تقسیم کمی بیشی ہے خواہ ابتداء سے تھی یا اب بوجہ ادائے دین ووصیت ہوگئی توتقسیم کی وہی پہلی صورت رہے گی کہ ہرایك کا جدا بٹے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸: ۱۲ذی الحجہ ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید لڑکا بعمر ڈھائی برس اور زوجہ اوروالدہ اپنی اوربرادرحقیقی چھوڑکرفوت ہوگیا بعدہبلااجازت زوجہ زید کے چچازیدمتوفی نے مال متروکہ زید ونیزمال جہیزی زوجہ زید کا پسرزید کے نام کرکے تابلوغ پسر مذکور سپردبرادرحقیقی زید کے کردیا وقت سپردگی مال مذکور کے نانا لڑکے اور نیز اہل برادری نے سپردگی مال میں رضامندی ظاہرکی
اورثلث سوم خاص بکرکاہے اور اگرساری جائداد ملاکر دفعۃ تقسیم کرلینا چاہیں تو بہت اختصار ہوجائے گا کل جائداد کے ایك سو چوالیس حصے کرکے اس طرح تقسیم کریں ہرایك اپنے تمام حقوق کو پہنچ جائے گا:
یہ اختصار قابل امتحان طلبہ ہے کہ کیونکر ان سہام میں بکرکاثلث الگ ہوکر دونوں ترکے پورے پورے تقسیم ہوگئے من دون ان یمکن فرض باطل کجعل المورث الاعلی واحدا اولیستعان بقاعدۃ فوق التقسیم المفرد علی ضوابطہا المقررۃ عند الحساب(بغیر اس کے کہ کسی باطل کو فرض کیاجائے مثلا صورت اعلی کو ایك قراردیاجائے یاتقسیم مفرد کے اوپروالے قاعدے سے ان ضوابط کے مطابق مدد لی جائے جو حساب میں طے شدہ ہیں۔ت)مگریہ جبھی ممکن کہ وقت تقسیم تینوں بھائی جائداد میں بحصہ مساوی شریك ہوں عام ازیں کہ اول ہی سے برابرتھے اور زیدوعمرو کے ترکہ پر دین وصیت کچھ نہ تھا یاتھا اور اس جائداد کے غیر سے اداکردیاگیا یا اول سے مختلف تھے اوردیون ووصایائے زیدوعمرو اس ترکہ سے اداہوکر اب تینوں حصے برابرآگئے اوراگروقت تقسیم کمی بیشی ہے خواہ ابتداء سے تھی یا اب بوجہ ادائے دین ووصیت ہوگئی توتقسیم کی وہی پہلی صورت رہے گی کہ ہرایك کا جدا بٹے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸: ۱۲ذی الحجہ ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید لڑکا بعمر ڈھائی برس اور زوجہ اوروالدہ اپنی اوربرادرحقیقی چھوڑکرفوت ہوگیا بعدہبلااجازت زوجہ زید کے چچازیدمتوفی نے مال متروکہ زید ونیزمال جہیزی زوجہ زید کا پسرزید کے نام کرکے تابلوغ پسر مذکور سپردبرادرحقیقی زید کے کردیا وقت سپردگی مال مذکور کے نانا لڑکے اور نیز اہل برادری نے سپردگی مال میں رضامندی ظاہرکی
پس اس صورت میں جو رضامندی اور اجازت زوجہ زید سے نہیں لی گئی مال لڑکے کے نام قائم کرنا اوربرادرحقیقی زید کے سپرد کرنا جائزہے یانہیں اور مال زید کے سہام پر تقسیم ہوگا بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
مال جہیزتو خاص ملك زوجہ زید ہے نہ وہ زید کا ترکہ نہ زید کے کسی وارث کا اس میں کوئی حق۔ردالمحتار میں ہے:
کل احد یعلم ان الجہاز ملك المرأۃ لاحق لاحد فیہ ۔ ہرایك جانتاہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔(ت)
اورمتروکہ زید برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث مثل ادائے مہر ودیگر دیون و تنفیذوصایاچوبیس سہام پر منقسم ہوکرتین سہم زوجہ اورچار والدہ اور سترہ پسر کو ملیں گے تو متروکہ زید میں بھی چوبیس سہام سے سترہ کا استحقاق پسر کو تھا کل ترکہ زید بنام پسر زید کردینا ظلم وجہالت ہے اور اس کے ساتھ زوجہ زید کا جہیزبھی ملادینا اور ظلم برظلم اورنانا یا اہل برادری کی رضامندی کوئی چیزنہیں کہ وہ غیرمالك ہیں۔
قال اﷲ تعالی"یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والوآپس میں ایك دوسرے کامال ناحق نہ کھاؤ(ت)
پس کل مال لرکے کے نام قائم کرنا اور برادرزید کی سپردگی میں دیناسب بیہودہ و باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹: ماہ صفر۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مذہب اہل تسنن پرفوت ہوا اور اس نے ایك دختر سنی زوجہ اولی متوفیہ کے بطن سے اور ایك زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ اور ایك برادر خالہ زاد کہ زید کا بہنوئی ہے اور دوبھانجی حقیقی مذہب سنی اورایك بھائی چچا زاد شیعہ اور ایك نواسہ شیعہ اورداماد شیعہ یعنی باپ اس نواسہ کاکہ جس کی ماں حیات میں زید متوفی کی مرگئی تھی وارث چھوڑے جائداد مقبوضہ مملوکہ زیدمتوفی جمیع ورثہ پر ازروئے فرائض کس طرح
الجواب:
مال جہیزتو خاص ملك زوجہ زید ہے نہ وہ زید کا ترکہ نہ زید کے کسی وارث کا اس میں کوئی حق۔ردالمحتار میں ہے:
کل احد یعلم ان الجہاز ملك المرأۃ لاحق لاحد فیہ ۔ ہرایك جانتاہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔(ت)
اورمتروکہ زید برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث مثل ادائے مہر ودیگر دیون و تنفیذوصایاچوبیس سہام پر منقسم ہوکرتین سہم زوجہ اورچار والدہ اور سترہ پسر کو ملیں گے تو متروکہ زید میں بھی چوبیس سہام سے سترہ کا استحقاق پسر کو تھا کل ترکہ زید بنام پسر زید کردینا ظلم وجہالت ہے اور اس کے ساتھ زوجہ زید کا جہیزبھی ملادینا اور ظلم برظلم اورنانا یا اہل برادری کی رضامندی کوئی چیزنہیں کہ وہ غیرمالك ہیں۔
قال اﷲ تعالی"یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والوآپس میں ایك دوسرے کامال ناحق نہ کھاؤ(ت)
پس کل مال لرکے کے نام قائم کرنا اور برادرزید کی سپردگی میں دیناسب بیہودہ و باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹: ماہ صفر۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مذہب اہل تسنن پرفوت ہوا اور اس نے ایك دختر سنی زوجہ اولی متوفیہ کے بطن سے اور ایك زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ اور ایك برادر خالہ زاد کہ زید کا بہنوئی ہے اور دوبھانجی حقیقی مذہب سنی اورایك بھائی چچا زاد شیعہ اور ایك نواسہ شیعہ اورداماد شیعہ یعنی باپ اس نواسہ کاکہ جس کی ماں حیات میں زید متوفی کی مرگئی تھی وارث چھوڑے جائداد مقبوضہ مملوکہ زیدمتوفی جمیع ورثہ پر ازروئے فرائض کس طرح
حوالہ / References
ردالمحتار باب النفقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۵۳€
القرآن الکریم ∞۴ /۲۹€
القرآن الکریم ∞۴ /۲۹€
تقسیم ہوناچاہئے اور کون کون ذی حق جائداد مذکور میں ہوسکتا ہے بینواتوجروا
الجواب:
تحریرات مجتہد لکھنؤ وتجربہ خواص وعوام شیعہ سے ثابت کہ اس زمانے کے شیعہ ضروریات دین کے منکرہیں توہرگز نہ ان سے مناکحت جائزنہ وہ نکاح شرعا نکاحنہ وہ اہلسنت کا ترکہ پاسکیںنہ اہل سنت کو ان کامورث کہہ سکیں۔عالمگیری میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبقولھم فی خروج امام باطن(الی من قال) وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذا فی الظھیریۃ ۔ رافضیوں کوکافر قرار دیناواجب ہے ان کے اس قول کی وجہ سے کہ مردے دنیا کی طرف لوٹ آتے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ امام باطن کاظہورہوناہے(یہاں تك کہ کہا)اور یہ قوم ملت اسلام سے خارج ہے اور ان کے احکام مرتدوں جیسے ہیں۔یونہی ظہیریہ میں ہے(ت)
اسی میں ہے:
اختلاف الدین ایضا یمنع الارث ۔ دین کا اختلاف بھی میراث سے مانع ہے(ت)
پس کل ترکہ زید برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وعدم وارث اخروتقدیم یایقدم کالدین والوصیۃصرف اس کی دختر سنیہ کو ملے گا۔اور یہ مدخولہ اورچچازاد بھائی کہ شیعہ ہیں کچھ نہ پائیں گے نہ خالہ زاد بھائی بھانجوں نواسے داماد کاکوئی حق ہے ہاں اگر یہ مدخولہ یاچچازاد بھائی دونوں کسی ضروری دین کا انکار نہ کرتے ہوں تو بشرائط مذکورہ ترکہ آٹھ سہم پرمنقسم ہوگا ایك زوجہ اور چاردختر اورتین ابن العم کو ملیں گے اور صرف ابن العم منکرنہ ہو تو دوحصہ ہوکر دختر وابن العم کو نصفانصف پہنچے گا زوجہ کچھ نہ پائے گیاور صرف زوجہ منکرنہ ہوتو آٹھ پرتقسیم ہوکرایك سہم زوجہ اورسات دختر کو پہنچیں گے ابن العم محروم رہے گا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
الجواب:
تحریرات مجتہد لکھنؤ وتجربہ خواص وعوام شیعہ سے ثابت کہ اس زمانے کے شیعہ ضروریات دین کے منکرہیں توہرگز نہ ان سے مناکحت جائزنہ وہ نکاح شرعا نکاحنہ وہ اہلسنت کا ترکہ پاسکیںنہ اہل سنت کو ان کامورث کہہ سکیں۔عالمگیری میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبقولھم فی خروج امام باطن(الی من قال) وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذا فی الظھیریۃ ۔ رافضیوں کوکافر قرار دیناواجب ہے ان کے اس قول کی وجہ سے کہ مردے دنیا کی طرف لوٹ آتے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ امام باطن کاظہورہوناہے(یہاں تك کہ کہا)اور یہ قوم ملت اسلام سے خارج ہے اور ان کے احکام مرتدوں جیسے ہیں۔یونہی ظہیریہ میں ہے(ت)
اسی میں ہے:
اختلاف الدین ایضا یمنع الارث ۔ دین کا اختلاف بھی میراث سے مانع ہے(ت)
پس کل ترکہ زید برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وعدم وارث اخروتقدیم یایقدم کالدین والوصیۃصرف اس کی دختر سنیہ کو ملے گا۔اور یہ مدخولہ اورچچازاد بھائی کہ شیعہ ہیں کچھ نہ پائیں گے نہ خالہ زاد بھائی بھانجوں نواسے داماد کاکوئی حق ہے ہاں اگر یہ مدخولہ یاچچازاد بھائی دونوں کسی ضروری دین کا انکار نہ کرتے ہوں تو بشرائط مذکورہ ترکہ آٹھ سہم پرمنقسم ہوگا ایك زوجہ اور چاردختر اورتین ابن العم کو ملیں گے اور صرف ابن العم منکرنہ ہو تو دوحصہ ہوکر دختر وابن العم کو نصفانصف پہنچے گا زوجہ کچھ نہ پائے گیاور صرف زوجہ منکرنہ ہوتو آٹھ پرتقسیم ہوکرایك سہم زوجہ اورسات دختر کو پہنچیں گے ابن العم محروم رہے گا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶€۴
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۴€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۴€
مسئلہ ۱۰: ازاوجین علاقہ گوالیار مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمدیعقوب علی خاں ۲۰صفر۱۳۰۸ھ
چہ فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ زید بابرادر خرد حقیقی شریك حال بودہ مکان وزیور ونقدوظروف واشیائے خانہ داری تعدادی تخمینا پانزدہ صد روپیہ ہردوبشرکت بزور بازوئے خودفراہم کردند ودر خوردونوش معیشت ہیچ امتیازے نداشتند وعلاوہ اموال مذکورہ صدبیگھہ زمین ازسرکار خاص بنام زیدمعاف شد الادرستی وآبادی زمین مزبورہ وتیاری چاہ بزر مشترك شد وآمدنی سالیانہ بشرکت صرف می نورحالا زید زوجہ ثانیہ لاولد و زوجہ ثالثہ ویك پسروسہ دخترازبطن زوجہ اولی کہ پیش از زید مردہ بود وشادی اینہا زیدبحیات خودش کرد وسہ پسراز بطن زوجہ ثالثہ کہ ہرسہ بحیات زید ناکتخدا ماندند وہمیں یك برادر وارث گزاشتہ وفات یافت پس ترکہ زید چسان انقسام یابد وزمینے کہ تنہا بنام زید معاف ست دراں برادر دیگر را ہم حصہ است یاخیرودر اولاد زوجہ اولی و ثالثہ بوجہ کتخدا زدن بحیات زیدازرف زیدوناکتخذا ماندن فرقے در ارث خواہد بود یانے۔بینواتوجروا۔ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے چھوٹے حقیقی بھائی کے ساتھ تھا اور دونوں نے شراکت میں اپنے زوربازو سے مکانزیورنقدیبرتن اورخانہ داری کی دیگراشیاء جن کی مالیت تقریبا پندرہ سو روپے ہے جمع کیں اورکھانے پینے میں وہ دونوں آپس میں کوئی فرق نہیں رکھتےاحوال مذکورہ کے علاوہ سوبیگھہ زمین حکومت نے خاص زید کے نام الاٹ کی مگرمذکورہ زمین کی آبادی اورکنویں کی تیاری مشترکہ طور پرصرف ہوتی رہیاب زید مرگیا اور اس نے اپنی دوسری بیوی بے اولاد چھوڑی اورپہلی بیوی جو زید سے پہلے مرگئی سے ایك بیٹا اور تین بیٹیاں چھوڑیں جن کی شادی زید نے اپنی زندگی میں کردیاور تیسری بیوی چھوڑی جس سے زید کے تین بیٹے ہیں جو زید کی زندگی میں کنوارے رہے اور ایك یہ بھائی چھوڑاہےتوا ب زید کاترکہ کیسے تقسیم ہوگا اور جو زمین تنہا زید کے نام پرالاٹ ہوئی اس میں دوسرے بھائی کابھی حصہ ہے یانہیں اور اس کی پہلی اور تیسری بیویوں کی اولاد میں اس وجہ سے کوئی فرق ہوگا یانہیں کہ پہلی بیوی کی اولاد زید کی زندگی میں زید کے خرچ سے شادی شدہ ہوئی جبکہ تیسری بیوی کی اولاد کنواری رہی۔بیان کرواجردئیے جاؤگے(ت)
چہ فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ زید بابرادر خرد حقیقی شریك حال بودہ مکان وزیور ونقدوظروف واشیائے خانہ داری تعدادی تخمینا پانزدہ صد روپیہ ہردوبشرکت بزور بازوئے خودفراہم کردند ودر خوردونوش معیشت ہیچ امتیازے نداشتند وعلاوہ اموال مذکورہ صدبیگھہ زمین ازسرکار خاص بنام زیدمعاف شد الادرستی وآبادی زمین مزبورہ وتیاری چاہ بزر مشترك شد وآمدنی سالیانہ بشرکت صرف می نورحالا زید زوجہ ثانیہ لاولد و زوجہ ثالثہ ویك پسروسہ دخترازبطن زوجہ اولی کہ پیش از زید مردہ بود وشادی اینہا زیدبحیات خودش کرد وسہ پسراز بطن زوجہ ثالثہ کہ ہرسہ بحیات زید ناکتخدا ماندند وہمیں یك برادر وارث گزاشتہ وفات یافت پس ترکہ زید چسان انقسام یابد وزمینے کہ تنہا بنام زید معاف ست دراں برادر دیگر را ہم حصہ است یاخیرودر اولاد زوجہ اولی و ثالثہ بوجہ کتخدا زدن بحیات زیدازرف زیدوناکتخذا ماندن فرقے در ارث خواہد بود یانے۔بینواتوجروا۔ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے چھوٹے حقیقی بھائی کے ساتھ تھا اور دونوں نے شراکت میں اپنے زوربازو سے مکانزیورنقدیبرتن اورخانہ داری کی دیگراشیاء جن کی مالیت تقریبا پندرہ سو روپے ہے جمع کیں اورکھانے پینے میں وہ دونوں آپس میں کوئی فرق نہیں رکھتےاحوال مذکورہ کے علاوہ سوبیگھہ زمین حکومت نے خاص زید کے نام الاٹ کی مگرمذکورہ زمین کی آبادی اورکنویں کی تیاری مشترکہ طور پرصرف ہوتی رہیاب زید مرگیا اور اس نے اپنی دوسری بیوی بے اولاد چھوڑی اورپہلی بیوی جو زید سے پہلے مرگئی سے ایك بیٹا اور تین بیٹیاں چھوڑیں جن کی شادی زید نے اپنی زندگی میں کردیاور تیسری بیوی چھوڑی جس سے زید کے تین بیٹے ہیں جو زید کی زندگی میں کنوارے رہے اور ایك یہ بھائی چھوڑاہےتوا ب زید کاترکہ کیسے تقسیم ہوگا اور جو زمین تنہا زید کے نام پرالاٹ ہوئی اس میں دوسرے بھائی کابھی حصہ ہے یانہیں اور اس کی پہلی اور تیسری بیویوں کی اولاد میں اس وجہ سے کوئی فرق ہوگا یانہیں کہ پہلی بیوی کی اولاد زید کی زندگی میں زید کے خرچ سے شادی شدہ ہوئی جبکہ تیسری بیوی کی اولاد کنواری رہی۔بیان کرواجردئیے جاؤگے(ت)
الجواب:
زمینے کہ تنہا بنام زیدمعاف شدخاص ملك اوست برادر دیگر را دران استحقاقے نیست فان الاقطاع انما یکون لمن اقطع لہ کما ان الموھوب لایملکہ الا من وھب لہ ودرآبادی وتیاری چاہ صرف زرمشترك مستلزم ملك برادر درعین زمین نیست کما لا یخفی اما آنچہ بحالت اتحاد ویکجائی بزور بازوئے خود پیدا کردند اگرہردوبکسب واحد بروجہ شرکت اشتغال میداشتند گویکے عمل بیش می کرد ودیگرے کم یا آنچہ بہ مکاسب جداگانہ خود ہا می اند وختند خلط می کردند ویك جا صرف می نمودند کہ درملك ہر دو تفاوت معلوم نیست پس ہمہ آنچہ بہم حاصل کردہ اند نصفا نصف علی السویہ ملك ہردوبرادرباشد فی الفتاوی الخیریۃ سئل فی اخوین سعیھما واحد وعائلتھما واحدۃ حصلا بسعیھما اموالا من مواش وغیرھا فھل جمیع ماحصلاہ بسعیھما و کسبھما مشترك بینھما تجب جو زمین اورزید کے نام الاٹ ہوئی وہ خاص اسی کی ملکیت ہے۔دوسرے بھائی کا اس میں کوئی حق نہیںاس لئے کہ زمین کے قطعات اس کے لئے ہوتے ہیں جس کے لئے الاٹ کئے جائیں۔جیسا کہ موہوب کامالك سوائے اس کے کوئی نہیں ہوتا جس کے لئے ہبہ کیاگیا اورزمین کی آبادی اورکنویں کی تیاری میں مشترکہ مال کاخرچ ہوناعین زمین میں بھائی کی ملکیت کامقتضی نہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیںلیکن جو کچھ انہوں نے اتحاد واتفاق کی حالت میں اپنے زوربازو کے ساتھ کمایا اگردونوں ایك ہی کسب میں بطور شرکت مشغولیت رکھتے تھے اگرچہ ایك کام زیادہ کرتاہو اوردوسراکم یاوہ الگ الگ کسب کرکے جوکچھ جمع کرتے اس کو اکٹھا کرلیتے اور اکٹھا خرچ کرلیتے اس طور پر کہ دونوں کی ملکیت میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا پس جو کچھ انہوں نے حاصل کیاہے وہ ان دونوں بھائیوں میں مساوی طورپرنصف نصف ہوگا۔فتاوی خیریہ میں ہے دوبھائیوں کے بارے میں سوال کیاگیاجن کا کاروبار ایك ہے اور ان دونوں کاکنبہ بھی ایك ہے ان دونوں نے اپنی محنت سے مویشی وغیرہ کی صورت میں کچھ مال جمع کیاتو کیا جو کچھ انہوں نے اپنی محنت اور کسب سے
زمینے کہ تنہا بنام زیدمعاف شدخاص ملك اوست برادر دیگر را دران استحقاقے نیست فان الاقطاع انما یکون لمن اقطع لہ کما ان الموھوب لایملکہ الا من وھب لہ ودرآبادی وتیاری چاہ صرف زرمشترك مستلزم ملك برادر درعین زمین نیست کما لا یخفی اما آنچہ بحالت اتحاد ویکجائی بزور بازوئے خود پیدا کردند اگرہردوبکسب واحد بروجہ شرکت اشتغال میداشتند گویکے عمل بیش می کرد ودیگرے کم یا آنچہ بہ مکاسب جداگانہ خود ہا می اند وختند خلط می کردند ویك جا صرف می نمودند کہ درملك ہر دو تفاوت معلوم نیست پس ہمہ آنچہ بہم حاصل کردہ اند نصفا نصف علی السویہ ملك ہردوبرادرباشد فی الفتاوی الخیریۃ سئل فی اخوین سعیھما واحد وعائلتھما واحدۃ حصلا بسعیھما اموالا من مواش وغیرھا فھل جمیع ماحصلاہ بسعیھما و کسبھما مشترك بینھما تجب جو زمین اورزید کے نام الاٹ ہوئی وہ خاص اسی کی ملکیت ہے۔دوسرے بھائی کا اس میں کوئی حق نہیںاس لئے کہ زمین کے قطعات اس کے لئے ہوتے ہیں جس کے لئے الاٹ کئے جائیں۔جیسا کہ موہوب کامالك سوائے اس کے کوئی نہیں ہوتا جس کے لئے ہبہ کیاگیا اورزمین کی آبادی اورکنویں کی تیاری میں مشترکہ مال کاخرچ ہوناعین زمین میں بھائی کی ملکیت کامقتضی نہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیںلیکن جو کچھ انہوں نے اتحاد واتفاق کی حالت میں اپنے زوربازو کے ساتھ کمایا اگردونوں ایك ہی کسب میں بطور شرکت مشغولیت رکھتے تھے اگرچہ ایك کام زیادہ کرتاہو اوردوسراکم یاوہ الگ الگ کسب کرکے جوکچھ جمع کرتے اس کو اکٹھا کرلیتے اور اکٹھا خرچ کرلیتے اس طور پر کہ دونوں کی ملکیت میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا پس جو کچھ انہوں نے حاصل کیاہے وہ ان دونوں بھائیوں میں مساوی طورپرنصف نصف ہوگا۔فتاوی خیریہ میں ہے دوبھائیوں کے بارے میں سوال کیاگیاجن کا کاروبار ایك ہے اور ان دونوں کاکنبہ بھی ایك ہے ان دونوں نے اپنی محنت سے مویشی وغیرہ کی صورت میں کچھ مال جمع کیاتو کیا جو کچھ انہوں نے اپنی محنت اور کسب سے
قسمتہ بینھما مناصفۃ ام لااجاب نعم اھ ملخصافی ردالمحتار یؤخذ من ھذا ماافتی بہ فی الخیریۃفی زوج امرأۃ وابنھا اجتمعا فی دار واحدۃ واخذ کل منھما یکتسب علی حدۃ ویجمعان کسبھما ولایعلم التفاوت ولاالتساوی و لاالتمییز فاجاب بانہ بینھما سویۃ وکذلك لواجتمع اخوۃ یعملون فی ترکۃ ابیھم ونما المال فہو بینھم سویۃ ولواختلفوا فی العمل والرای اھ وناکتخدا ماندن بعض اولاد بحیات مورث موجب زیادت حصہ ایشاں برکتخد ایان نیست فان الارث انما یکون بعد الموت اوعندہ علی اختلاف العلماء لاقبلہ بالاجماع فما وصل الی بعضھم من قبل علی جھۃ تبرع حاصل کیا وہ ان دونوں کے درمیان مشترك ہے اس کی تقسیم ان دونوں کے درمیان نصف نصف واجب ہوگی یانہیں جواب دیا کہ ہاں اھ تلخیص۔ردالمحتار میں ہے اس سے اخذ کیا جائے گا وہ جوخیریہ میں ایك عورت کے شوہر اور ان کے بیٹے کے بارے میں فتوی دیاہے جودونوں ایك گھرمیں اکٹھے رہتے ہیں ہرایك ان میں سے الگ کمائی کرتاہے پھر وہ دونوں اپنی کمائی یکجا کرلیتے ہیں اور اس میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں برابری اور کمی بیشی کا پتہ چلتاہے توجواب دیاکہ وہ ان دونوں کے درمیان برابر ہوگا۔اسی طرح کچھ بھائی اکٹھے ہوکر اپنے باپ کے ترکہ میں کام کرتے ہیں اور مال بڑھ جاتاہے تو وہ ان کے درمیان برابربرابر ہوگا اگرچہ وہ عمل اور رائے میں مختلف ہوںاور بعض اولاد کاباپ کی زندگی میں کنوارہ رہ جانا اس بات کا سبب نہیں بنتا کہ ان کاحصہ شادی شدگان پر زیادہ ہوجائے کیونکہ میراث موت کے بعد یاموت کے وقت ثابت ہوتی ہے جیسا کہ علماء کے مختلف قول ہیں۔ موت سے پہلے میراث بالاجماع ثابت نہیں ہوتی۔اور جوکچھ بعض اولاد کو مورث کی طرف سے موت سے قبل بطور تبرع موصول ہوا
حوالہ / References
الفتاوی الخیریۃ کتاب الشرکۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۱۱۲€
ردالمحتار فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۴۹€
ردالمحتار فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۴۹€
من المورث لایمکن ان یحسب من الارث وسببہ ھی الوصلۃ المعلومۃ وھم فیھا سواء پس دریں صورت کل زمین معافی ونیمہ ایں اموال کہ درآنہا شرکت ہردوبرادر ست برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث مثل اداء مہر ہرسہ زوجہ و دیگر دیون وانفاذ وصایا بریك صد وہفتاد وشش سہام انقسام یافتہ یازدہ سہم بہر زن موجودہ وبست وہشت بہرپسر و چاردہ بہردختر رسد وبرادررادرترکہ زید حظے نیست واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب۔ اس کو میراث میں سے شمار کرناممکن نہیں اور اس کا سبب وہی ملاپ اورتعلق ہے جو معلوم ہے اور وہ سارے اس میں برابر ہیںچنانچہ اس صورت میں الاٹ شدہ تمام زمین اور دونوں بھائیوں کے درمیان مشترکہ اموال میں سے نصف اس تقدیر پرکہ میراث کے موانع میں سے کوئی موجود نہ ہو اور زید کے ورثاء صرف یہی مذکورہ افراد ہوں اور جن امور کو میراث سے مقدم کرنا لازم ہے مثلا تینوں بیویوں کامہر دیگرقرضوں کی ادائیگی اور وصیتوں کے نفاذکے بعد جومال بچے اس کے ایك سو چھہتر حصے کرکے گیارہ گیارہ حصے ہرموجودہ بیوی کو اٹھائیس۲۸ حصے ہربیٹے کو اور چودہ حصے ہربیٹی کو پہنچیں گے بھائی کے لئے زید کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں۔اﷲ سبحانہوتعالی درستگی کوخوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱ : ۸ربیع الاول ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مہرمسماۃ ریاست النساء مرحومہ کاذمہ احمدشاہ خاں شوہر کے واجب الادا ہے اور ترکہ مسماۃ سے نصف حصہ اس کے شوہر کا ہے مہر بتعداد پانچ ہزار(۵۰۰۰)روپیہ ہے اور ترکہ بمقدار قلیل مسماۃ کی والدہ اور بھائی دعویدار مہرہیں۔اس صورت میں ترکہ اس کے شوہر کوملے گا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بیشك ملے گا
فان الدین المحیط علی المیت تمنع تقسیم الترکۃ بین الورثۃ لادین اس لئے کہ ترکہ کا احاطہ کرنے والا قرض اگرمیت پرہوتو وہ ورثاء میں ترکہ کی تقسیم سے مانع ہوتا اوراگرمیت کاقرض دوسروں پرہو
مسئلہ ۱۱ : ۸ربیع الاول ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ مہرمسماۃ ریاست النساء مرحومہ کاذمہ احمدشاہ خاں شوہر کے واجب الادا ہے اور ترکہ مسماۃ سے نصف حصہ اس کے شوہر کا ہے مہر بتعداد پانچ ہزار(۵۰۰۰)روپیہ ہے اور ترکہ بمقدار قلیل مسماۃ کی والدہ اور بھائی دعویدار مہرہیں۔اس صورت میں ترکہ اس کے شوہر کوملے گا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بیشك ملے گا
فان الدین المحیط علی المیت تمنع تقسیم الترکۃ بین الورثۃ لادین اس لئے کہ ترکہ کا احاطہ کرنے والا قرض اگرمیت پرہوتو وہ ورثاء میں ترکہ کی تقسیم سے مانع ہوتا اوراگرمیت کاقرض دوسروں پرہو
المیت۔ تو وہ مانع نہیں ہوتا۔(ت)
وہ ترکہ سے اپناحصہ لے اورباقی وارث اس سے نصف مہرلیں اگرنہ دے دعوی کرلیں فان الدین قدحل بالموت(کیونکہ موت کے سبب سے قرض کی ادائےگی کاوقت آپہنچاہے۔ت)یہ خیال کہ اس پرمہرکثیراورجائداد قلیل اگرترکہ سے حصہ دے دیاجائے گاشاید کسی کے نام منتقل کردے اور مہرماراجائے ہرگز اسے ترکہ ملنے سے مانع نہ ہوگا نہ یہ روکناکچھ مفید کہ وہ بلاتقسیم بھی بیع کرسکتاہے جوقطعا نافذ ہوگی کہ یہ حجربالدین امام کے نزدیك مطلقا اور بے حکم قاضی اجماعا جائزنہیں۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
ثم لاخلاف عندھما ان الحجر بسبب الدین لا یثبت الابقضاء القاضی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ پھرصاحبین کے نزدیك اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرض کی وجہ سے پابندی قضاء قاضی کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲: ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك مردمذہب اہلسنت وجماعت نے عورت مذہب شیعہ تبرائی سے حسب طریقہ رفاض صیغہ پڑھایا اوراپنی زوجیت میں لایا وہ عورت زوجہ شرعی ہوسکتی ہے یانہیں اورترکہ اس مرد کی مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
وہ ہرگز زوجہ شرعیہ نہیںنہ اصلا ترکہ کی مستحق۔رافضی تبرائی ہمارے فقہاء کرام اصحاب فتاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیك مطلقا کافر ہےعامہ کتب فتاوی میں اس مسئلہ کی جابجا تصریح ہے اور فقہائے ممدوحین کے نزدیك ان کا کفر بوجوہ کثیرہ ثابت:
اولا:خود یہی تبرائے ملعون والعیاذباﷲ تعالی فقہاء کرام فرماتے ہیں حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کی شان میں ان کلمات ملعون کابکنے والاکافرہے۔فتاوی عالمگیری میں فتاوی خلاصہ سے ہے:
وہ ترکہ سے اپناحصہ لے اورباقی وارث اس سے نصف مہرلیں اگرنہ دے دعوی کرلیں فان الدین قدحل بالموت(کیونکہ موت کے سبب سے قرض کی ادائےگی کاوقت آپہنچاہے۔ت)یہ خیال کہ اس پرمہرکثیراورجائداد قلیل اگرترکہ سے حصہ دے دیاجائے گاشاید کسی کے نام منتقل کردے اور مہرماراجائے ہرگز اسے ترکہ ملنے سے مانع نہ ہوگا نہ یہ روکناکچھ مفید کہ وہ بلاتقسیم بھی بیع کرسکتاہے جوقطعا نافذ ہوگی کہ یہ حجربالدین امام کے نزدیك مطلقا اور بے حکم قاضی اجماعا جائزنہیں۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
ثم لاخلاف عندھما ان الحجر بسبب الدین لا یثبت الابقضاء القاضی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ پھرصاحبین کے نزدیك اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرض کی وجہ سے پابندی قضاء قاضی کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲: ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك مردمذہب اہلسنت وجماعت نے عورت مذہب شیعہ تبرائی سے حسب طریقہ رفاض صیغہ پڑھایا اوراپنی زوجیت میں لایا وہ عورت زوجہ شرعی ہوسکتی ہے یانہیں اورترکہ اس مرد کی مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
وہ ہرگز زوجہ شرعیہ نہیںنہ اصلا ترکہ کی مستحق۔رافضی تبرائی ہمارے فقہاء کرام اصحاب فتاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیك مطلقا کافر ہےعامہ کتب فتاوی میں اس مسئلہ کی جابجا تصریح ہے اور فقہائے ممدوحین کے نزدیك ان کا کفر بوجوہ کثیرہ ثابت:
اولا:خود یہی تبرائے ملعون والعیاذباﷲ تعالی فقہاء کرام فرماتے ہیں حضرات شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کی شان میں ان کلمات ملعون کابکنے والاکافرہے۔فتاوی عالمگیری میں فتاوی خلاصہ سے ہے:
حوالہ / References
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الحجر الباب الثانی الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۵۵€
الرافضی اذاکان لیسب الشیخین و یلعنھما والعیاذ باﷲ فھو کافر ۔ رافضی جب شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو گالی دے اور ان پر لعنت بھیجے العیاذباﷲ تو وہ کافرہوگا۔(ت)
بحرالرائق میں ہے: امام ابوزید دبوسی وامام ابواللیث سمرقندی وامام ابوعبداﷲ حاکم شہید وغیرہم ائمہ کبار نے رافضی تبرائی کے مطلقا کافرہونے کی تصریح فرمائی اور اسی پراشباہ والنظائر وتنویرالابصار ومنح الغفار ودرمختار وغیرہاکتب معتمدہ میں جزم کیا۔در مختارمیں ہے:
فی البحر عن الجوھرۃ معزیا للشھید من سب الشیخین اوطعن فیھما کفرولاتقبل توبۃ وبہ اخذ الدبوسی وابواللیثوھو المختار للفتوی انتھی و جزم بہ فی الاشباہ واقرہ المصنف الخ۔ بحرمیں بحوالہ جوہرہ شہیدکی طرف منسوب ہے کہ جس نے شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو گالی دی یا ان پرطعن کیا تو وہ کافر ہوگیا ور اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی اسی سے دبوسی اور ابو اللیث نے اخذ کیا اوروہی فتوی کے لئے مختارہے انتہی۔اشباہ میں اسی پرجزم کیا ہے اور مصنف علیہ الرحمہ نے اس کو مسلم رکھاہے الخ(ت)
ثانیا: حضرت افضل الاولیاء المحدبین امیرالمومنین امام المتقین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی امامت برحق سے انکار کرنافقہاء کرام فرماتے ہیں:صحیح مذہب پر اس کامنکر کافرہے۔فتاوی ظہیریہ پھر طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
من انکر امامۃ ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ای خلافتہ بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الامۃ فھو کافرفی القول الصحیح لاجماع الامۃ علی ذلك من غیرخلاف احد یعتدبہ ۔ جس نے ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی امامت یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد امت پرآپ کی خلافت کاانکارکیا توصحیح قول میں وہ کافر ہےکیونکہ اس پر اجماع امت ہے اور کسی قابل اعتبار شخص نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔(ت)
بحرالرائق میں ہے: امام ابوزید دبوسی وامام ابواللیث سمرقندی وامام ابوعبداﷲ حاکم شہید وغیرہم ائمہ کبار نے رافضی تبرائی کے مطلقا کافرہونے کی تصریح فرمائی اور اسی پراشباہ والنظائر وتنویرالابصار ومنح الغفار ودرمختار وغیرہاکتب معتمدہ میں جزم کیا۔در مختارمیں ہے:
فی البحر عن الجوھرۃ معزیا للشھید من سب الشیخین اوطعن فیھما کفرولاتقبل توبۃ وبہ اخذ الدبوسی وابواللیثوھو المختار للفتوی انتھی و جزم بہ فی الاشباہ واقرہ المصنف الخ۔ بحرمیں بحوالہ جوہرہ شہیدکی طرف منسوب ہے کہ جس نے شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما کو گالی دی یا ان پرطعن کیا تو وہ کافر ہوگیا ور اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی اسی سے دبوسی اور ابو اللیث نے اخذ کیا اوروہی فتوی کے لئے مختارہے انتہی۔اشباہ میں اسی پرجزم کیا ہے اور مصنف علیہ الرحمہ نے اس کو مسلم رکھاہے الخ(ت)
ثانیا: حضرت افضل الاولیاء المحدبین امیرالمومنین امام المتقین سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی امامت برحق سے انکار کرنافقہاء کرام فرماتے ہیں:صحیح مذہب پر اس کامنکر کافرہے۔فتاوی ظہیریہ پھر طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
من انکر امامۃ ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ای خلافتہ بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الامۃ فھو کافرفی القول الصحیح لاجماع الامۃ علی ذلك من غیرخلاف احد یعتدبہ ۔ جس نے ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی امامت یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد امت پرآپ کی خلافت کاانکارکیا توصحیح قول میں وہ کافر ہےکیونکہ اس پر اجماع امت ہے اور کسی قابل اعتبار شخص نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔(ت)
حوالہ / References
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶€۴
الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۷€
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثانی الفصل الاول ∞نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۲۱€
الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۷€
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثانی الفصل الاول ∞نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۲۱€
اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے:الصحیح انہ کافر (صحیح یہ ہے کہ وہ کافر ہے۔ت)
ثالثا:حضرت امیرالمومنین امام العادلین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت برحق سے منکر ہونافقہاء کرام فرماتے ہیں:اصح مذہب پریہ بھی کفرہے۔ظہیریہ وعالمگیریہ وسیرت احمدیہ وغیرہا میں ہے:
کذلك من انکر خلافۃ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فی اصح الاقوال ۔ اسی طرح جوحضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت کامنکرہے اصح قول میں وہ کافرہے۔(ت)
فتاوی خلاصہ وفتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:
ان انکر خلافۃ الصدیق اوعمر فھو کافر ۔ اگرکسی نے صدیق اکبر یاحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہما کی خلافت کا انکارکیا تو وہ کافرہے۔(ت)
اورکتب فقہ کاتتبع کیجئے تو ان کے سوا اور وجوہ کفربھی روافض تبرائی میں پیداہوں گی اور حق یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے یہ رافضی قطعا یقینا بالاجماع کافرمرتد ہیں کہ ان کامنکر ضروریات دین ہونا تحریرات مطبوعہ مجتہد لکھنؤ وغیرہ سے ثابت۔
وقد فصلنا ذلك فی بعض فتاونا ولن تجد احدا منھم الا وھو یقول بنقصان القران العظیم الموجود باید المسلمین الیوم عن القدر المنزل علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد افصح بذلك کبارھم وصغارھم وعلماؤھم وجھا لھم تحریرا ہم نے اپنے بعض فتووں میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے۔ ان میں سے ہرگز تجھے کوئی ایسانہ ملے گا کہ جو اس بات کا قائل نہ ہوکہ مسلمانوں کےہاتھ میں جو موجودہ قرآن مجید ہے وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرنازل شدہ قرآن مجید سے کم ہے۔اس بات کی تصریح ان کے بڑوںچھوٹوں عالموں اورجاہلوں نے تحریروتقریر میں کی ہے۔اسی
ثالثا:حضرت امیرالمومنین امام العادلین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت برحق سے منکر ہونافقہاء کرام فرماتے ہیں:اصح مذہب پریہ بھی کفرہے۔ظہیریہ وعالمگیریہ وسیرت احمدیہ وغیرہا میں ہے:
کذلك من انکر خلافۃ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فی اصح الاقوال ۔ اسی طرح جوحضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت کامنکرہے اصح قول میں وہ کافرہے۔(ت)
فتاوی خلاصہ وفتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے:
ان انکر خلافۃ الصدیق اوعمر فھو کافر ۔ اگرکسی نے صدیق اکبر یاحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہما کی خلافت کا انکارکیا تو وہ کافرہے۔(ت)
اورکتب فقہ کاتتبع کیجئے تو ان کے سوا اور وجوہ کفربھی روافض تبرائی میں پیداہوں گی اور حق یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے یہ رافضی قطعا یقینا بالاجماع کافرمرتد ہیں کہ ان کامنکر ضروریات دین ہونا تحریرات مطبوعہ مجتہد لکھنؤ وغیرہ سے ثابت۔
وقد فصلنا ذلك فی بعض فتاونا ولن تجد احدا منھم الا وھو یقول بنقصان القران العظیم الموجود باید المسلمین الیوم عن القدر المنزل علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد افصح بذلك کبارھم وصغارھم وعلماؤھم وجھا لھم تحریرا ہم نے اپنے بعض فتووں میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے۔ ان میں سے ہرگز تجھے کوئی ایسانہ ملے گا کہ جو اس بات کا قائل نہ ہوکہ مسلمانوں کےہاتھ میں جو موجودہ قرآن مجید ہے وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرنازل شدہ قرآن مجید سے کم ہے۔اس بات کی تصریح ان کے بڑوںچھوٹوں عالموں اورجاہلوں نے تحریروتقریر میں کی ہے۔اسی
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶€۴
الفتاوی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶۴€
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۴€
الفتاوی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۶۴€
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۴€
وتقریرا وکذلك بتفضیل سیدنا علی ن المرتضی وسائر الائمۃ الاطہار کرم اﷲ تعالی وجوھھم علی جمیع الانبیاء السابقین صلواۃ اﷲ وسلامہ علیھم اجمعین فلایجوز لمسلم ان یرتاب فی کفرھؤلاء الانجاس الارجاس و العیاذ باﷲ تعالی من شرکل وسواس خناس۔ طرح وہ سیدنا علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ اورباقی ائمہ اطہار کی تمام سابقہ انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات پرافضلیت کے قائل ہیں لہذا کسی مسلمان کے لئے جائزنہیں کہ وہ ان پلید وغلیظ لوگوں کے کفر میں شك کرےہرچھپ کر پھسلانے والے وسوسہ ڈالنے والے کے شرسے اﷲ تعالی کی پناہ۔(ت)
پس بلاشبہہ رافضیہ ہرگز اہلسنت کی زوجہ شرعیہ نہیں ہوسکتی اور ان سے مناکحت محض باطل اور اولاد اولاد زنا اور وہ ہرگز ترکہ اہلسنت کااستحقاق نہیں رکھتی۔عالمگیری میں ہے:
اختلاف الدین یمنع الارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ دین کا مختلف ہونا میراث سے مانع ہے اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳: ۱۹جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سیدحسین علی نے نوکری سے روپیہ پیداکیا اور اپنے مکان پرجمع کرکے بھیجا اس کی زوجہ معصومہ نے بعد انتقال میرحسین علی کے اس روپے سے اپنے نابالغ بیٹے میرفضل علی کے نام جائداد خرید دی میرعلی حسین نے یہی زوجہ وپسر اوردودختر مستینبسم اﷲ وارث چھوڑے پھرفضل علی نے یہی وارث اور حیدرعلی چچا پھربسم اﷲ نے شوہر علی جان اور یہی ورثہ پھر معصومہ نے دختر مستین وارث چھوڑ کر انتقال کی اس صورت میں وہ جائداد میرحسین علی کی قرار پائے گی یافضل علی کی اورہروارث کو کس قدرپہنچے گا بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مالك جائداد فضل علی ہے۔ عقودالدریۃ میں ہے:
ذکر فی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر ذخیرہ اورتجنیس میں ہے ایك عورت نے اپنے مال سے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے جائداد خریدی
پس بلاشبہہ رافضیہ ہرگز اہلسنت کی زوجہ شرعیہ نہیں ہوسکتی اور ان سے مناکحت محض باطل اور اولاد اولاد زنا اور وہ ہرگز ترکہ اہلسنت کااستحقاق نہیں رکھتی۔عالمگیری میں ہے:
اختلاف الدین یمنع الارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ دین کا مختلف ہونا میراث سے مانع ہے اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳: ۱۹جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سیدحسین علی نے نوکری سے روپیہ پیداکیا اور اپنے مکان پرجمع کرکے بھیجا اس کی زوجہ معصومہ نے بعد انتقال میرحسین علی کے اس روپے سے اپنے نابالغ بیٹے میرفضل علی کے نام جائداد خرید دی میرعلی حسین نے یہی زوجہ وپسر اوردودختر مستینبسم اﷲ وارث چھوڑے پھرفضل علی نے یہی وارث اور حیدرعلی چچا پھربسم اﷲ نے شوہر علی جان اور یہی ورثہ پھر معصومہ نے دختر مستین وارث چھوڑ کر انتقال کی اس صورت میں وہ جائداد میرحسین علی کی قرار پائے گی یافضل علی کی اورہروارث کو کس قدرپہنچے گا بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مالك جائداد فضل علی ہے۔ عقودالدریۃ میں ہے:
ذکر فی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر ذخیرہ اورتجنیس میں ہے ایك عورت نے اپنے مال سے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے جائداد خریدی
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۴€
من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ و الام تملك ذلك ویقع قبضا عنہ احکام الصغار من البیوع ۔ توخریداری ماں کی طرف سے واقع ہوگی کیونکہ وہ نابالغ اولاد کے لئے خریداری کی مالك نہیں اور جائداد بیٹے کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوگئی اور اس کی وہ مالك ہے اور ماں کا مبیع پرقبضہ بیٹے کی طرف سے واقع ہوگا(احکام الصغار کتاب البیوع)(ت)۔
پس جائداد مذکورہ برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء الدین واجراء الوصیۃچوبیس سہام پرمنقسم ہوکر اس حساب سے ورثہ فضل علی کی دی جائے گی۔
مستین حیدرعلی علی جان
۱۷ ۴ ۳
البتہ جبکہ وہ روپیہ جس کے عوض یہ جائداد خریدی گئی ملك میرحسین علی تھا اور اس میں تمام وارثان میرحسین علی کاحق تھا جسے معصومہ نے بے اجازت دیگرورثہ خرچ کرڈالا توباقی وارثوں کے حصص کا تاوان معصومہ پرآیا کہ وہ اس کے متروکہ سے(خواہ اسی جائداد فضل علی کاحصہ ہو یا اس کے سوا اور کوئی چیزہو)وصول کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ردالمحتار میں ہے:
ما اشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ شرکاء میں سے ایك نے جو کچھ اپنی ذات کےلئے خریدا وہ اسی کا ہوگا اور اس کے ثمن میں دیگر شرکاء کے حصہ کاتاوان دے گا اگر اس نے مشترکہ مال سے ثمن ادا کیاہو۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب سیدمظہرحسن صاحب خادم جبہ مقدسہ ۱۶ذیقعدہ ۱۳۰۸ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام حسین خاں لاولدمرا اور اس نے نکاح
پس جائداد مذکورہ برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء الدین واجراء الوصیۃچوبیس سہام پرمنقسم ہوکر اس حساب سے ورثہ فضل علی کی دی جائے گی۔
مستین حیدرعلی علی جان
۱۷ ۴ ۳
البتہ جبکہ وہ روپیہ جس کے عوض یہ جائداد خریدی گئی ملك میرحسین علی تھا اور اس میں تمام وارثان میرحسین علی کاحق تھا جسے معصومہ نے بے اجازت دیگرورثہ خرچ کرڈالا توباقی وارثوں کے حصص کا تاوان معصومہ پرآیا کہ وہ اس کے متروکہ سے(خواہ اسی جائداد فضل علی کاحصہ ہو یا اس کے سوا اور کوئی چیزہو)وصول کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ردالمحتار میں ہے:
ما اشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ شرکاء میں سے ایك نے جو کچھ اپنی ذات کےلئے خریدا وہ اسی کا ہوگا اور اس کے ثمن میں دیگر شرکاء کے حصہ کاتاوان دے گا اگر اس نے مشترکہ مال سے ثمن ادا کیاہو۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴: ازریاست رامپور مرسلہ جناب سیدمظہرحسن صاحب خادم جبہ مقدسہ ۱۶ذیقعدہ ۱۳۰۸ ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام حسین خاں لاولدمرا اور اس نے نکاح
حوالہ / References
العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۳€۷
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۳۸€
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۳۸€
بھی نہ کیاتھا اس کاوارث سواخیراتی خاناس کے پھوپھی زادبھائی کے اور کوئی نہ تھا مگر خیراتی خاں اس کے سامنے مرگیا۔خیراتی خاں نے اپنی زوجہ سے کہ اس کے سامنے مرچکی تھی ایك دخترچھچی او رزوجہ ثانیہ سے کہ زندہ ہے دوپسربندہ حسن ومجب حسین چھوڑےاس صورت میں یہ وارثان خیراتی خاں غلام حسین خاں کے وارث ہوں گے یانہیں اگرہوں گے تو کس کس کو کتناکتنا پہنچے گا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث کاداء الدین واجراء الوصیۃك ترکہ غلام حسین خاں کاپانچ سہام پرمنقسم ہوکر دو۲دو۲سہم بندہ حسن ومجب حسین اورایك سہم چھچی کو ملے گا اور زوجہ خیراتی خاں کچھ نہ پائے گی۔عالمگیریہ میں ہے:
ان اجتمعوا وکان حیزقرابتھم متحدا فالاقوی اولی ثم ولدالوارث اولیوان استوت قرابتھم فللذکر مثل حظ الانثیینفان ترك ابن عمۃ وابنۃ عمۃ فالمال بینھما للذکر مثل حظ الانثیین والکلام فی اولادھؤلاء بمنزلۃ الکلام فی ابائھم عند انعدام الاصول اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم۔ اگرذوی الارحام کی صنف رابع کے چند رشتہ دار جمع ہوں او ران کی قرابت متحد ہو تو ان میں سے جو اقوی ہوگا وہ اولی ہوگا۔پھروارث کی اولاد اولی ہوگیاو ر اگر ان کی قرابت برابر ہے تومذکر کے لئے مؤنث سے دگنا ہوگا۔اگر ایك پھوپھی کا بیٹا اورایك پھوپھی کی بیٹی چھوڑ کرمرگیا توترکہ کامال ان کے درمیان یوں تقسیم ہوگا کہ مذکر کومؤنث سے دگنا ملے گاان کی اولاد میں کلام ایسے ہی ہے جیسا ان کے آباء میں ہے جبکہ اصول معدوم ہوں اھ التقاط۔اوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۵: ازٹونك دروازہ کلاں مرسلہ احمدحسن خاں محرر تھانہ جھندوا پرگنہ سرونج ریاست ٹونك ۱۰رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بوہارخاں نے ایك عورت مسلمان کی تھی
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امور مقدمہ علی المیراث کاداء الدین واجراء الوصیۃك ترکہ غلام حسین خاں کاپانچ سہام پرمنقسم ہوکر دو۲دو۲سہم بندہ حسن ومجب حسین اورایك سہم چھچی کو ملے گا اور زوجہ خیراتی خاں کچھ نہ پائے گی۔عالمگیریہ میں ہے:
ان اجتمعوا وکان حیزقرابتھم متحدا فالاقوی اولی ثم ولدالوارث اولیوان استوت قرابتھم فللذکر مثل حظ الانثیینفان ترك ابن عمۃ وابنۃ عمۃ فالمال بینھما للذکر مثل حظ الانثیین والکلام فی اولادھؤلاء بمنزلۃ الکلام فی ابائھم عند انعدام الاصول اھ ملتقطا واﷲ تعالی اعلم۔ اگرذوی الارحام کی صنف رابع کے چند رشتہ دار جمع ہوں او ران کی قرابت متحد ہو تو ان میں سے جو اقوی ہوگا وہ اولی ہوگا۔پھروارث کی اولاد اولی ہوگیاو ر اگر ان کی قرابت برابر ہے تومذکر کے لئے مؤنث سے دگنا ہوگا۔اگر ایك پھوپھی کا بیٹا اورایك پھوپھی کی بیٹی چھوڑ کرمرگیا توترکہ کامال ان کے درمیان یوں تقسیم ہوگا کہ مذکر کومؤنث سے دگنا ملے گاان کی اولاد میں کلام ایسے ہی ہے جیسا ان کے آباء میں ہے جبکہ اصول معدوم ہوں اھ التقاط۔اوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۵: ازٹونك دروازہ کلاں مرسلہ احمدحسن خاں محرر تھانہ جھندوا پرگنہ سرونج ریاست ٹونك ۱۰رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بوہارخاں نے ایك عورت مسلمان کی تھی
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب العاشر الصنف الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۶۲ تا ۴۶۴€
اس سے تین لڑکے بوہارخاں کے پیداہوئے مگرنکاح نہ کیاتھا اب بوہارخاں کے ترکہ میں یہ لڑکے وارث ہوسکتے ہیں یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر فی الواقع ثبوت شرعی سے ثابت ہوکہ بوہارخاں اس عورت کو بے نکاح تصرف میں لایا اور یہ لڑکے معاذاﷲ محض زنا سے پیدا ہوئے غرض حالت وہ ہوکہ شرع ان کا نسب بوہارخاں سے اصلا نہ ثابت کرے توبیشك ترکہ بوہارخاں میں ان کا کوئی حق نہیں۔درمختار میں ہے:
یرث ولدالزنا واللعان بجہۃ الام فقط لما قدمناہ فی العصبات انہ لااب لھما ۔واﷲ تعالی اعلم۔ زنا اورلعان کی صورت اولاد فقط ماں کی طرف سے وارث ہوگی جیسا کہ ہم عصبات میں ذکرکرچکے ہیں کہ ان دونوں کاکوئی باپ نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶: ۲۴رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب زید پیداہوا اس کی خالہ نے اپنی بہن سے اسے لے کر اپنا بیٹا کرکے پالا اور بعد انتقال ہمشیرہ یہ عورت پدر زید کے نکاح میں آئی اس صورت میں کچھ ترکہ اسے ملے گا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرمراد سائل کی یہ ہے کہ اس صورت میں زید کو اپنی اس خالہ کے ترکہ سے بوجہ متبنی یا سوتیلے بیٹے ہونے کے کچھ پہنچے گا یا نہیںتوجواب یہ ہے کہ کچھ نہیں کہ متبنی یاسوتیلا بیٹاہونا شرعا ترکہ میں کوئی استحقاق نہیں پیداکرتا۔اوراگریہ مراد ہے کہ اس صورت میں زیداپنی حقیقی والدہ یاوالد کے ترکہ سے حصہ پائے گا یانہیںتوجواب یہ ہے کہ بیشك پائے گا کسی کا اسے اپنابیٹا بنالینا اپنے حقیقی والدین کے بیٹے ہونے سے خارج نہیں کرتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷: ازمارہرہ شریفہ باغ پختہ مرسلہ مولوی نبی بخش صاحب ۲۰شوال المکرم ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے فرزند سے
الجواب:
اگر فی الواقع ثبوت شرعی سے ثابت ہوکہ بوہارخاں اس عورت کو بے نکاح تصرف میں لایا اور یہ لڑکے معاذاﷲ محض زنا سے پیدا ہوئے غرض حالت وہ ہوکہ شرع ان کا نسب بوہارخاں سے اصلا نہ ثابت کرے توبیشك ترکہ بوہارخاں میں ان کا کوئی حق نہیں۔درمختار میں ہے:
یرث ولدالزنا واللعان بجہۃ الام فقط لما قدمناہ فی العصبات انہ لااب لھما ۔واﷲ تعالی اعلم۔ زنا اورلعان کی صورت اولاد فقط ماں کی طرف سے وارث ہوگی جیسا کہ ہم عصبات میں ذکرکرچکے ہیں کہ ان دونوں کاکوئی باپ نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶: ۲۴رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب زید پیداہوا اس کی خالہ نے اپنی بہن سے اسے لے کر اپنا بیٹا کرکے پالا اور بعد انتقال ہمشیرہ یہ عورت پدر زید کے نکاح میں آئی اس صورت میں کچھ ترکہ اسے ملے گا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرمراد سائل کی یہ ہے کہ اس صورت میں زید کو اپنی اس خالہ کے ترکہ سے بوجہ متبنی یا سوتیلے بیٹے ہونے کے کچھ پہنچے گا یا نہیںتوجواب یہ ہے کہ کچھ نہیں کہ متبنی یاسوتیلا بیٹاہونا شرعا ترکہ میں کوئی استحقاق نہیں پیداکرتا۔اوراگریہ مراد ہے کہ اس صورت میں زیداپنی حقیقی والدہ یاوالد کے ترکہ سے حصہ پائے گا یانہیںتوجواب یہ ہے کہ بیشك پائے گا کسی کا اسے اپنابیٹا بنالینا اپنے حقیقی والدین کے بیٹے ہونے سے خارج نہیں کرتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷: ازمارہرہ شریفہ باغ پختہ مرسلہ مولوی نبی بخش صاحب ۲۰شوال المکرم ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے فرزند سے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی الغرقٰی الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۶۵€
جوکہ عورت منکوحہ سے ہے بسبب اس کے اعمال زبون(یعنی فرزند اپنے باپ کی عزت کاخواہاں نہ ہے اور سخن نازیبا باپ کو کہتاہے اورقصدکرتاہے کہ اگرموقع ہوتوباپ کو مارڈالوں)کے سخت ناخوش ہے اورچاہتاہے کہ اس کو عاق کردے اور اپنی جائداد کو دواورلڑکوں کو جو عورت غیرمنکوحہ سے ہیں دے دے تو اس شخص کا اپنے فرزند کے ان افعال پرعاق کرنا اور اپنی جائداد کوغیرمنکوحہ کے لڑکوں کو دینا کیساہے اورعاق ہونے کے واسطے کون سے الفاظ کئے جاتے ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
بے علموں کے ذہن میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کاعلاقہ زوجیت قطع کرنے کے لئے شرع مطہر نے طلاق رکھی ہے کہ اس کا اختیار بدست شوہر ہے اور اس کے لئے کچھ الفاظ ہیں کہ جب شوہر سے صادرہوں طلاق واقع ہو یوں ہی اولاد کاعلاقہ ولدیت قطع کرنے کے لئے عاق کرنابھی کوئی شرعی چیزہے جس کا اختیار بدست والدین ہے اور اس کے لئے بھی کچھ الفاظ مقررہیں کہ والدین ان کا استعمال کریں تو اولاد عاق ہوکر ترکہ سے محروم ہوجائے۔مگریہ محض تراشیدہ خیال ہیں جس کی اصل شرع مطہر میں اصلا نہیںنہ علاقہ ولدیت وہ چیز ہے کہ کسی کے قطع کئے منقطع ہوسکےمگر معاذاﷲ بحالت ارتداد والعیاذباﷲ تعالی۔ شرع میں عقوق ناحق نافرمانی والدین کوکہتے ہیں کہ یہ کار اولاد ہےجوشخص اپنے ماں باپ کاحکم بے عذر شرعی نہ مانے گا یامعاذاﷲ انہیں آزارپہنچائےگا وہی عاق ہے اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں بلکہ اپنی فرط محبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں مگر کوئی شخص عاق ہونے کے سبب ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا اورجوفرمانبرداری والدین میں مصروف رہے اور وہ بے وجہ اس سے ناراض رہیں یابحکم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی (اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی بات نہیں مانی جائے گی۔ت)کسی مخالف شرع بات میں ان کا کہا نہ مانے اور وہ اس سبب سے ناخوش ہوں تو ہرگزعاق نہیں۔ اور اگر کوئی شخص لاکھ بار اپنے فرمانبردار خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ میں نے تجھے عاق کیا یا اپنے ترکہ سے محروم کردیا تونہ اس کایہ کہناکوئی نیا اثر پیداکرسکتاہے نہ وہ بدیں وجہ ترکہ سے محروم ہوسکے۔یہ شخص اگراپنی جائداد اپنے بیـٹے کومحروم کرنے کے لئے ان بے نکاحی عورت کے لڑکوں کو دے دے گا تودنیا میں یہ کاروائی اس کی اگرچہ چل جائے مگرعنداﷲ ماخوذہوگا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
الجواب:
بے علموں کے ذہن میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کاعلاقہ زوجیت قطع کرنے کے لئے شرع مطہر نے طلاق رکھی ہے کہ اس کا اختیار بدست شوہر ہے اور اس کے لئے کچھ الفاظ ہیں کہ جب شوہر سے صادرہوں طلاق واقع ہو یوں ہی اولاد کاعلاقہ ولدیت قطع کرنے کے لئے عاق کرنابھی کوئی شرعی چیزہے جس کا اختیار بدست والدین ہے اور اس کے لئے بھی کچھ الفاظ مقررہیں کہ والدین ان کا استعمال کریں تو اولاد عاق ہوکر ترکہ سے محروم ہوجائے۔مگریہ محض تراشیدہ خیال ہیں جس کی اصل شرع مطہر میں اصلا نہیںنہ علاقہ ولدیت وہ چیز ہے کہ کسی کے قطع کئے منقطع ہوسکےمگر معاذاﷲ بحالت ارتداد والعیاذباﷲ تعالی۔ شرع میں عقوق ناحق نافرمانی والدین کوکہتے ہیں کہ یہ کار اولاد ہےجوشخص اپنے ماں باپ کاحکم بے عذر شرعی نہ مانے گا یامعاذاﷲ انہیں آزارپہنچائےگا وہی عاق ہے اگرچہ والدین اسے عاق نہ کریں بلکہ اپنی فرط محبت سے دل میں ناراض بھی نہ ہوں مگر کوئی شخص عاق ہونے کے سبب ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتا اورجوفرمانبرداری والدین میں مصروف رہے اور وہ بے وجہ اس سے ناراض رہیں یابحکم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی (اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی بات نہیں مانی جائے گی۔ت)کسی مخالف شرع بات میں ان کا کہا نہ مانے اور وہ اس سبب سے ناخوش ہوں تو ہرگزعاق نہیں۔ اور اگر کوئی شخص لاکھ بار اپنے فرمانبردار خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ میں نے تجھے عاق کیا یا اپنے ترکہ سے محروم کردیا تونہ اس کایہ کہناکوئی نیا اثر پیداکرسکتاہے نہ وہ بدیں وجہ ترکہ سے محروم ہوسکے۔یہ شخص اگراپنی جائداد اپنے بیـٹے کومحروم کرنے کے لئے ان بے نکاحی عورت کے لڑکوں کو دے دے گا تودنیا میں یہ کاروائی اس کی اگرچہ چل جائے مگرعنداﷲ ماخوذہوگا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
حوالہ / References
کنزالعمال برمزق۔د۔ن عن علی ∞حدیث ۱۴۸۷۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۶۷€
وسلم فرماتے ہیں:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ۔ رواہ ابن ماجہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی اس کی میراث جنت سے قطع کردے(اس کو ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸: ازصاحب گنج گیا مکان سیدمحمدابوصالح خان بہاد ر رئیس کڑہ مرسلہ شیخ وزارت حسین خاں ۳ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے انتقال کیا اوردوماموں ایك بھتیجا یعنی پھوپھی زادہ بھائی کالڑکا جس کا باپ اس عورت کے سامنے مرچکا تھا اور ایك پھوپھی زادہ بہن کوچھوڑااس صورت میں ترکہ اس کا کس کس کو کس کس قدرملے گا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مایقدم کالدین والوصیۃکل ترکہ دونوں ماموں نصفا نصف پائیں گے۔پھپی کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔علامہ ابوعبداﷲمحمدغزی تنویرمیں ذوی الارحام کے احکام عامہ میں فرماتے ہیں:
یحجب اقربھم الابعدا اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ان میں سے جواقرب ہے وہ دوروالے کے لئے حاجب (رکاوٹ)بن جاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹: ازبدایوں مولانا مولوی عبدالرسول محب احمدسلمہ اﷲ تعالی ۲۳جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
مولانا الممجد زادمجدکم بادائے مایجب مستسعدبودہ شرف انداز معروضات ام ہمارے مولانا بزرگوار آپ کی بزرگی میں اضافہ ہو آداب واجبہ کی ادائےگی کے ساتھ سعادتمندی
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ۔ رواہ ابن ماجہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی اس کی میراث جنت سے قطع کردے(اس کو ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸: ازصاحب گنج گیا مکان سیدمحمدابوصالح خان بہاد ر رئیس کڑہ مرسلہ شیخ وزارت حسین خاں ۳ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے انتقال کیا اوردوماموں ایك بھتیجا یعنی پھوپھی زادہ بھائی کالڑکا جس کا باپ اس عورت کے سامنے مرچکا تھا اور ایك پھوپھی زادہ بہن کوچھوڑااس صورت میں ترکہ اس کا کس کس کو کس کس قدرملے گا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مایقدم کالدین والوصیۃکل ترکہ دونوں ماموں نصفا نصف پائیں گے۔پھپی کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔علامہ ابوعبداﷲمحمدغزی تنویرمیں ذوی الارحام کے احکام عامہ میں فرماتے ہیں:
یحجب اقربھم الابعدا اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ان میں سے جواقرب ہے وہ دوروالے کے لئے حاجب (رکاوٹ)بن جاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹: ازبدایوں مولانا مولوی عبدالرسول محب احمدسلمہ اﷲ تعالی ۲۳جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
مولانا الممجد زادمجدکم بادائے مایجب مستسعدبودہ شرف انداز معروضات ام ہمارے مولانا بزرگوار آپ کی بزرگی میں اضافہ ہو آداب واجبہ کی ادائےگی کے ساتھ سعادتمندی
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹€۸
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۳€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۳€
استفتاء بدست حامل ابلاغ والا خدمت ست۔ حاصل کرنے کے بعد آپ کی خدمت میں عرض پیش کرنے سے مشرف ہو رہاہوں کہ حامل ہذا کے ہاتھ خدمت اقدس میں استفتاء ارسال ہے جس کی صورت اس طرح ہے:
اصل المسئلۃ زید
صورت ھــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــکذا
مادر خواہر ابن ابن ابن عم جدالاب
۲ ۳ ۱
قال فی الدرثم العصبات بانفسھم اربعۃ اصناف جزء المیت ثم اصلہ ثم جزء ابیہ ثم جزء جدہ الخ۔قال العلامۃ الشامی قولہ ثم جزء جدہ اراد بالجد مایشمل اب الاب ومن فوقہ الی اخرھاواﷲ اعلم الساطرالوارد محب احمدعبدالرسول عفی عنہ فریق مخالف رادریں مسئلہ مخالفتے است میگوید کہ مراد از جزء جدہ فقط عم اب وعم جد است نہ آنہا کہ فوق اینہا اند ونزد شامی علیہ الرحمۃ از من فوقہ صرف ہمیں دواہل قرابت مراد اند در میں کہا پھرعصبہ بنفسہ کی چارقسمیں ہیں:میت کی جزءپھر میت کی اصلپھرمیت کے باپ کی جزءپھر میت کے دادا کی جزء الخ۔علامہ شامی نے کہا کہ مصنف کے قول"پھرمیت کے دادا کی جزء"میں دادا سے مراد وہ ہے جو باپ کے باپ اور اس سے اوپر والے کو شامل ہو الخ۔اﷲ تعالی خوب جانتاہے راقم السطور محب احمد عبدالرسول اس کی مغفرت ہوجائے۔ مخالف فریق اس مسئلہ کی مخالفت رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دادا کی جزء سے مراد فقط باپ کاچچا اوردادا کا چچاہے نہ کہ اس سے اوپروالے۔اورشامی علیہ الرحمہ کے نزدیك بھی اوپر والوں سے مراد یہی دواہل قرابت ہیں
اصل المسئلۃ زید
صورت ھــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــکذا
مادر خواہر ابن ابن ابن عم جدالاب
۲ ۳ ۱
قال فی الدرثم العصبات بانفسھم اربعۃ اصناف جزء المیت ثم اصلہ ثم جزء ابیہ ثم جزء جدہ الخ۔قال العلامۃ الشامی قولہ ثم جزء جدہ اراد بالجد مایشمل اب الاب ومن فوقہ الی اخرھاواﷲ اعلم الساطرالوارد محب احمدعبدالرسول عفی عنہ فریق مخالف رادریں مسئلہ مخالفتے است میگوید کہ مراد از جزء جدہ فقط عم اب وعم جد است نہ آنہا کہ فوق اینہا اند ونزد شامی علیہ الرحمۃ از من فوقہ صرف ہمیں دواہل قرابت مراد اند در میں کہا پھرعصبہ بنفسہ کی چارقسمیں ہیں:میت کی جزءپھر میت کی اصلپھرمیت کے باپ کی جزءپھر میت کے دادا کی جزء الخ۔علامہ شامی نے کہا کہ مصنف کے قول"پھرمیت کے دادا کی جزء"میں دادا سے مراد وہ ہے جو باپ کے باپ اور اس سے اوپر والے کو شامل ہو الخ۔اﷲ تعالی خوب جانتاہے راقم السطور محب احمد عبدالرسول اس کی مغفرت ہوجائے۔ مخالف فریق اس مسئلہ کی مخالفت رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ دادا کی جزء سے مراد فقط باپ کاچچا اوردادا کا چچاہے نہ کہ اس سے اوپروالے۔اورشامی علیہ الرحمہ کے نزدیك بھی اوپر والوں سے مراد یہی دواہل قرابت ہیں
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
ردالمحتار کتاب الفرائض فصل فی العصبات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۹۳€
ردالمحتار کتاب الفرائض فصل فی العصبات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۹۳€
چنانکہ ازمثال پرظاہر ست بواپسی حامل جواب مطلوب والسلام یکے ازخدم افقر البرایا عبدالرسول محب احمدعفی عنہ۔ جیسا کہ مثال سے خوب ظاہرہے حامل ہذا کے ہاتھ جواب مطلوب ہے۔آپ کامخلص خادم مخلوق میں سب سے زیادہ محتاج عبدالرسول محب احمداس کی مغفرت ہوجائے۔(ت)
الجواب:
مولانا المکرم اکرمکم الاکرام السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جواب جناب حق وصواب ست فی الواقع درصورت مستفسرہ بکر عصبہ زیدومستحق باقی ودرقول درجزء جدہ داخل است کہ در فرائض بلکہ ہمہ ابواب فقہ از جد ہمیں پدرپدریاجد قریب پدر مراد نباشد بلکہ ازنسب پدرجملہ ذکور کہ در نسبت بایشان زن نیاید بذلك عرفوہ قاطبۃ وھو المراد حیث اطلق سراجیہ در ہمیں بیان تقسیم عصبات فرمود ثم الجد ای اب الاب وان علا خود درہمیں عبارت درمختار است ثم الجد الصحیح و ھو اب الاب وان علا ۔در شریفیہ است ھو الذی لا تدخل فی نسبتہ الی المیت ام مولانا مکرم رب کریم آپ کو اکرام بخشےالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔جناب کاجواب حق اوردرست ہے۔فی الواقع صورت مسئولہ میں بکرزید کا عصبہ اوربچے ہوئے مال کا مستحق ہے اور در کے قول"میت کے دادا کی جزء"میں داخل ہے کیونکہ فرائض بلکہ فقہ کے تمام ابواب میں دادا سے فقط باپ کا باپ کاجدقریب ہی مراد نہیں ہوتابلکہ باپ کے نسب کے تما مذکر جن کی میت کی طرف نسبت میں کوئی عورت واسطہ نہ آتی ہو۔تمام نے دادا کی یہی تعریف کی ہے اور جب اس کا اطلاق کیاجائے تویہی مراد ہوتاہے۔صاحب سراجیہ نے تقسیم عبارت کے اسی بیان میں فرمایا پھرجد یعنی باپ کا باپ اگرچہ اوپرتك ہو۔خود درمختار کی اسی عبارت میں ہے پھر جد صحیح اور وہ باپ کا باپ ہے اگرچہ اوپرتك ہو۔شریفیہ میں جد صحیح وہ ہے جس کی میت کی طرف نسبت میں ماں داخل نہ ہو جیسے
الجواب:
مولانا المکرم اکرمکم الاکرام السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جواب جناب حق وصواب ست فی الواقع درصورت مستفسرہ بکر عصبہ زیدومستحق باقی ودرقول درجزء جدہ داخل است کہ در فرائض بلکہ ہمہ ابواب فقہ از جد ہمیں پدرپدریاجد قریب پدر مراد نباشد بلکہ ازنسب پدرجملہ ذکور کہ در نسبت بایشان زن نیاید بذلك عرفوہ قاطبۃ وھو المراد حیث اطلق سراجیہ در ہمیں بیان تقسیم عصبات فرمود ثم الجد ای اب الاب وان علا خود درہمیں عبارت درمختار است ثم الجد الصحیح و ھو اب الاب وان علا ۔در شریفیہ است ھو الذی لا تدخل فی نسبتہ الی المیت ام مولانا مکرم رب کریم آپ کو اکرام بخشےالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔جناب کاجواب حق اوردرست ہے۔فی الواقع صورت مسئولہ میں بکرزید کا عصبہ اوربچے ہوئے مال کا مستحق ہے اور در کے قول"میت کے دادا کی جزء"میں داخل ہے کیونکہ فرائض بلکہ فقہ کے تمام ابواب میں دادا سے فقط باپ کا باپ کاجدقریب ہی مراد نہیں ہوتابلکہ باپ کے نسب کے تما مذکر جن کی میت کی طرف نسبت میں کوئی عورت واسطہ نہ آتی ہو۔تمام نے دادا کی یہی تعریف کی ہے اور جب اس کا اطلاق کیاجائے تویہی مراد ہوتاہے۔صاحب سراجیہ نے تقسیم عبارت کے اسی بیان میں فرمایا پھرجد یعنی باپ کا باپ اگرچہ اوپرتك ہو۔خود درمختار کی اسی عبارت میں ہے پھر جد صحیح اور وہ باپ کا باپ ہے اگرچہ اوپرتك ہو۔شریفیہ میں جد صحیح وہ ہے جس کی میت کی طرف نسبت میں ماں داخل نہ ہو جیسے
حوالہ / References
السراجی فی المیراث باب العصبات ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۲€۲
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
کاب الاب وان علا درزبدۃ الفرائض ست یعنی اب الاب ہر چند بالا رودمسئلہ واضح ست وشك درآن از ہیچ ذی علم معقول نے تاہم نص جزئیہ خاصہ بشنوید در زبدہ است عصبہ بنفسہ چار قسم است(الی قولہ)چہارم جزء جدمیت مانند عم اعیانی و علاتی وابنائے ایشاں ہرچند بالاوپایان روند ہمدرانست بعدازاں جزء جد میت یعنی اعمام او وبعد ازاں جزء جد اب میت یعنی اعمام اب او بعد ازاں ابنائے ایشاں ہرچند پایان ردند بعدازاں اعمال جدمیت وابناء ایشاں ہرچند بالا وپایان روند تاغیر نہایت۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ باپ کا باپ اگرچہ اوپرتك ہو۔زبدۃ الفرائض میں ہے یعنی باپ کاباپ جہاں تك اوپرچلاجائے۔مسئلہ واضح ہے اس میں کسی علم والے کی طرف سے شك کاتصور نہیں ہوسکتا تاہم خاص جزئیہ کی نص سماعت فرمائیںزبدہ میں ہے عصبہ بنفسہ چارقسم پر ہے(اس کے اس قول تک)چوتھی قسم میت کے دادا کی جزء ہے جیسے اعیانی اورعلاتی چچے جہاں تك اوپرچلے جائیں اور ان کے بیٹے جہاں تك نیچے چلے جائیںاسی قسم میں داخل ہیں۔اس کے بعد میت کے باپ کے دادا کی جزء یعنی باپ کے چچے اس کے بعد ان کے بیٹے جہاں تك نیچے چلے جائیں اس کے بعد میت کے دادا کے چچے پھر ان کے بیٹے جہاں تك اوپریانیچے چلے جائیں غیرنہایت تک۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰: ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمدیعقوب علی خاں آخرشعبان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شرعیہ ومفتیان طریقہ نبویہ اس مسئلہ میں کہ مسمی حافظ فتح محمد صاحب کے تین فرزند حمیدالدین اور رحیم الدین اورنورالدینان تینوں برادران حقیقی کی اولاد سے کوئی ورثہ شرعیہ باقی نہیںمگر زوجہ رحیم الدین فقط باقی ہے لیکن نورالدین کی عورت مطلقہ کے نطفہ زنا سے ایك لڑکی پیداہوئی تھیاور اس سے ایك لڑکاپیداہوالڑکی توبحین حیات نور الدین فوت ہوئی اور زوجہ مطلقہ باقی ہےاب وہ لڑکا جونطفہ زنا دختر سے نورالدین کے پیداہوا زوجہ رحیم الدین سے حصہ چاہتا ہے توفرزند زنا زادہا ازروئے شرعی حقدار حصہ ہے یامحروم اورزوجہ رحیم الدین مرحوم نے اپنے برادرزادہ کو اس حصہ اپنے کا ترکہ شوہری سے حسب القاعدہ شرعیہ پایا تھا مالك ومتبنی ومختار کرکے ہبہ نامہ نمودہ قاضی صاحب لکھ کرقبضہ کرواکے چندروز کے بعد منتقل سوئے جنان ہوئی تو اس جائداد وہبہ شدہ حصہ ترکہ شوہری سے بنام برادر زادہ زوجہ رحیم الدین
مسئلہ ۲۰: ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمدیعقوب علی خاں آخرشعبان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شرعیہ ومفتیان طریقہ نبویہ اس مسئلہ میں کہ مسمی حافظ فتح محمد صاحب کے تین فرزند حمیدالدین اور رحیم الدین اورنورالدینان تینوں برادران حقیقی کی اولاد سے کوئی ورثہ شرعیہ باقی نہیںمگر زوجہ رحیم الدین فقط باقی ہے لیکن نورالدین کی عورت مطلقہ کے نطفہ زنا سے ایك لڑکی پیداہوئی تھیاور اس سے ایك لڑکاپیداہوالڑکی توبحین حیات نور الدین فوت ہوئی اور زوجہ مطلقہ باقی ہےاب وہ لڑکا جونطفہ زنا دختر سے نورالدین کے پیداہوا زوجہ رحیم الدین سے حصہ چاہتا ہے توفرزند زنا زادہا ازروئے شرعی حقدار حصہ ہے یامحروم اورزوجہ رحیم الدین مرحوم نے اپنے برادرزادہ کو اس حصہ اپنے کا ترکہ شوہری سے حسب القاعدہ شرعیہ پایا تھا مالك ومتبنی ومختار کرکے ہبہ نامہ نمودہ قاضی صاحب لکھ کرقبضہ کرواکے چندروز کے بعد منتقل سوئے جنان ہوئی تو اس جائداد وہبہ شدہ حصہ ترکہ شوہری سے بنام برادر زادہ زوجہ رحیم الدین
حوالہ / References
الشریفیہ شرح السراجیہ باب معرفۃ الفروض ومستحقیھا ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۹€
وزوجہ حمیدالدین موسومہ عظیم خاں خلف محبوب خانصاحب سے وہ لڑکا زنازادہ حصہ چاہتاہے۔درست یاممنوع اورخط تبنگی اور وہ ہبہ نامہ جو زوجہ رحیم الدین اور حمیدالدین نے جائداد منقولہ وغیرمنقولہ اور مقبوضہ وغیرمقبوضہ حصہ یافتہ کیاتھا جائز ہے یا منسوخ اس مسئلہ میں جو حکم بالتحقیق ہو بیان فرمائیں بحوالۃ الکتاب رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین۔
الجواب:
شرع مطہر کو اثبات نسب میں نہایت احتیاط منظورجہاں ادنی گنجائش پائی ہے نسب ثا بت فرمائی ہےاورحتی الامکان ہرگز ولد الزنا نہیں ٹھہراتی۔صدہا صورتیں نکلیں گی کہ عوام اپنے بے علمی سے بچہ کو ولدالزنا سمجھیں اور شرعا وہ ثابت النسل ہو مثلا یہی مطلقہ کی صورت ہے اگرعورت کوطلاق رجعی دے اور اس نے ہنوز انقضائے عدت کا اقرار نہ کیا تو اگرچہ طلاق سے بیس برس بعد بچہ پیدا ہو شوہر کا ہی قرارپائے گایونہی اگرطلاق بائن یامغلظ تھی اور ہنوز دوبرس نہ گزرے کہ بچہ ہوگیا یادوبرس کے بعد ہوا اورشوہر نے اقرار کیا کہ یہ میرابچہ ہے توبھی اس ہی کاٹھہرے گا۔یوں ہی بہت صورتیں ہیں جن میں زعم جہال مخالف شرع مطہر ہے۔درمختار میں ہے:
یثبت نسب ولد معتدۃ الرجعی وان ولدت لاکثر من سنتین ولولعشرین سنۃ فاکثر لاحتمال امتداد طھرھا وعلوقھا فی العدۃ مالم تقر بمضی العدۃ والمدۃ تحتملہ کمایثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ جاءت بہ لاقل منھما من وقت الطلاق لجواز طلاق رجعی کی عدت گزارنے والی عورت کے بچے کانسب ثابت ہوگا اگرچہ وہ دوسال سے زائد عرصہ میں بچہ جنے چاہے بیس سال یا اس سے زیادہ گزرجائیں کیونکہ طہر کے درازہونے اور عدت ك دوران حمل ٹھہرنے کا احتمال موجود ہے جب تك عورت نے عدت کے گزرجانے کااقرارنہ کیا ہو اور وہ مدت بھی عدت کے گزرجانے کا احتمال رکھتی ہو جیسا کہ بغیر دعوی کے احتیاطا بائنہ طلاق والی کے بچے کانسب ثابت ہوتاہے جبکہ وہ طلاق کے وقت سے
الجواب:
شرع مطہر کو اثبات نسب میں نہایت احتیاط منظورجہاں ادنی گنجائش پائی ہے نسب ثا بت فرمائی ہےاورحتی الامکان ہرگز ولد الزنا نہیں ٹھہراتی۔صدہا صورتیں نکلیں گی کہ عوام اپنے بے علمی سے بچہ کو ولدالزنا سمجھیں اور شرعا وہ ثابت النسل ہو مثلا یہی مطلقہ کی صورت ہے اگرعورت کوطلاق رجعی دے اور اس نے ہنوز انقضائے عدت کا اقرار نہ کیا تو اگرچہ طلاق سے بیس برس بعد بچہ پیدا ہو شوہر کا ہی قرارپائے گایونہی اگرطلاق بائن یامغلظ تھی اور ہنوز دوبرس نہ گزرے کہ بچہ ہوگیا یادوبرس کے بعد ہوا اورشوہر نے اقرار کیا کہ یہ میرابچہ ہے توبھی اس ہی کاٹھہرے گا۔یوں ہی بہت صورتیں ہیں جن میں زعم جہال مخالف شرع مطہر ہے۔درمختار میں ہے:
یثبت نسب ولد معتدۃ الرجعی وان ولدت لاکثر من سنتین ولولعشرین سنۃ فاکثر لاحتمال امتداد طھرھا وعلوقھا فی العدۃ مالم تقر بمضی العدۃ والمدۃ تحتملہ کمایثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ جاءت بہ لاقل منھما من وقت الطلاق لجواز طلاق رجعی کی عدت گزارنے والی عورت کے بچے کانسب ثابت ہوگا اگرچہ وہ دوسال سے زائد عرصہ میں بچہ جنے چاہے بیس سال یا اس سے زیادہ گزرجائیں کیونکہ طہر کے درازہونے اور عدت ك دوران حمل ٹھہرنے کا احتمال موجود ہے جب تك عورت نے عدت کے گزرجانے کااقرارنہ کیا ہو اور وہ مدت بھی عدت کے گزرجانے کا احتمال رکھتی ہو جیسا کہ بغیر دعوی کے احتیاطا بائنہ طلاق والی کے بچے کانسب ثابت ہوتاہے جبکہ وہ طلاق کے وقت سے
وجودہ وقتہ ولم تقر بمضیہا وان لتمامھما لایثبت النسب و قیل یثبتوزعم فی الجوھرۃ انہ الصواب الا بدعوتہ لانہ التزمہ الخ ملخصا۔ دوسال سے کم مدت میں بچہ جنے کیونکہ بوقت طلاق حمل کے موجود ہونے کا امکان ہے اور عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہیں کیا اور اگروہ پورے دوسال پربچہ جنے تونسب ثابت نہیں ہوگا اور کہاگیاہے کہ ثابت ہوجائے گاجوھرہ میں گمان کیاکہ یہی درست ہے مگرجب شوہر دعوی کرے تو نسب ثابت ہوجائے گا کیونکہ شوہر نے اس کا التزام اپنے اوپرکرلیا الخ ملخصا۔(ت)
پس اگرزن مطلقہ نورالدین کی وہ لڑکی جسے سائل نطفہ زنا سے بتاتاہے کسی ایسی ہی صورت پرپیداہوئی تھی جس میں شرعا وہ دخترنورالدین قرارپائی اگرچہ جہال دخترزنا کہیں توبیشك اس دخترکابچہ اگرچہ وہ اس کے بطن سے معاذاﷲ بذریعہ زناہی پیداہوا ہو نورالدین کانواسا اور اس کے ذوی الارحام سے ہے کہ اگرنورالدین کاکوئی وارث اہل فرض وعصبات سے نہ تھا تو وہ مستحق ترکہ نورالدین ہے اوراگرنورالدین اپنے کسی بھائی سے پہلے مرا تو ان بھائیوں میں جو سب سے پیچھے مراہوکہ نہ اس کاکوئی عصبہ ہو نہ سوائے زوجہ کے کوئی ذی فرض تو اس کا ترکہ اس لڑکے کوپہنچے گا کہ یہ اس کے بھائی کانواساہےولدالزنا کانسب اگرچہ باپ سے نہیں ہوتاشرعا اس کاکوئی باپ ہی نہیں وللعاھر الحجر (اورزانی کے لئے پتھر۔ت)مگر مال سے یقینا ثابت اور اس کی طرف سے ضرور وارث ہوتاہے اورنانا یانانا کے بھائی کی قرابت قرابت مادری ہے تو اس ذریعہ سے اس کی وراثت میں شك نہیں۔
فی الھندیۃ ولدالزنا لا اب لہفترثہ قرابۃ امہ و یرثھم اھ ملخصا۔ ہندیہ میں ہے کہ ولدالزنا کاکوئی باپ نہیں ہوتا چنانچہ اس کی ماں کے قرابت دار اس کے وراث نہیں بنیں گے اور وہ ان کا وارث بنے گا اھ تلخیص(ت)
ہاں اگر مطلقہ نورالدین کی دختر کانسب شرعا نورالدین سے نہ ٹھہرے تو اس کا یہ بیٹا
پس اگرزن مطلقہ نورالدین کی وہ لڑکی جسے سائل نطفہ زنا سے بتاتاہے کسی ایسی ہی صورت پرپیداہوئی تھی جس میں شرعا وہ دخترنورالدین قرارپائی اگرچہ جہال دخترزنا کہیں توبیشك اس دخترکابچہ اگرچہ وہ اس کے بطن سے معاذاﷲ بذریعہ زناہی پیداہوا ہو نورالدین کانواسا اور اس کے ذوی الارحام سے ہے کہ اگرنورالدین کاکوئی وارث اہل فرض وعصبات سے نہ تھا تو وہ مستحق ترکہ نورالدین ہے اوراگرنورالدین اپنے کسی بھائی سے پہلے مرا تو ان بھائیوں میں جو سب سے پیچھے مراہوکہ نہ اس کاکوئی عصبہ ہو نہ سوائے زوجہ کے کوئی ذی فرض تو اس کا ترکہ اس لڑکے کوپہنچے گا کہ یہ اس کے بھائی کانواساہےولدالزنا کانسب اگرچہ باپ سے نہیں ہوتاشرعا اس کاکوئی باپ ہی نہیں وللعاھر الحجر (اورزانی کے لئے پتھر۔ت)مگر مال سے یقینا ثابت اور اس کی طرف سے ضرور وارث ہوتاہے اورنانا یانانا کے بھائی کی قرابت قرابت مادری ہے تو اس ذریعہ سے اس کی وراثت میں شك نہیں۔
فی الھندیۃ ولدالزنا لا اب لہفترثہ قرابۃ امہ و یرثھم اھ ملخصا۔ ہندیہ میں ہے کہ ولدالزنا کاکوئی باپ نہیں ہوتا چنانچہ اس کی ماں کے قرابت دار اس کے وراث نہیں بنیں گے اور وہ ان کا وارث بنے گا اھ تلخیص(ت)
ہاں اگر مطلقہ نورالدین کی دختر کانسب شرعا نورالدین سے نہ ٹھہرے تو اس کا یہ بیٹا
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶€۱
الصحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۲€
الصحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الفرائض الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۲€
نورالدین کاکوئی نہیںاگرچہ یہ پسرولدالحلال ہے کہ دخترزنا شرعا درباہ میراث دخترنہیں تو وہ لڑکی خود ہی نورالدین کی بیٹی نہ تھی اس کا بیٹا نواساکیونکر ہوسکتاہےپھر جس حال پرہم اسے وارث کہہ آئے اس تقدیرپربھی زوجہ رحیم الدین کے مال میں اس کاکوئی حق نہیں کہ نانا کی بھاوج ہونا شرعا ذریعہ توریث نہیں خصوصا جومال کہ وہ اپنے بھتیجے کو ہبہ شرعیہ کرکے قابض کراچکی اس سے اسے بھی کچھ تعلق نہ رہا وہ خاص اس موہوب لہکامال ہوچکا اس میں اس شخص کادعوی اور بھی بے جاہےاورہبہ جس قدراشیائے منقسمہ جداگانہ بلاشرکت وشیوع تھا اور واہبہ نے موہوب لہکو اس پر قبضہ کاملہ دلادیا اس قدرمیں تام وکامل ہوگیا اور جن اشیائے موہوب لہکو قبضہ کاملہ نہ دلایا خواہ یوں کہ سرے سے قبضہ ہی نہ ہوا یا ہواتوشیئ موہوب جدا ومنقسم ہوکر قبضہ میں نہ آئی اس قدرمیں باطل ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل ۔ میم سے مراد سپردگی کے بعد واھب یاموہوب لہ میں سے کسی ایك کامرجانا ہے اور سپردگی سے پہلے مرگیا تو ہبہ باطل ہوگا۔(ت)
اس صورت میں یہ اشیاء جن کاہبہ ناتمام رہابعد موت واہبہ وارثان واہبہ کو وراثۃ پہنچے گیرہامتبنی کرنا وہ شرعا کوئی چیزنہیں
قال اﷲ تعالی "ان امہتہم الا الی و لدنہم " ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ ان کی مائیں نہیں مگر وہ جنہوں نے ان کوجنا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ محمد علی نے زوجہ رحمواابن غلام محمد دوبنت بجومنیرن او رایك مکان خام جس میں دوسوگززمین تھی چھوڑکرانتقال کیا پھربجو مادررحمواور شوہروپسر ودختر چھوڑکرفوت ہوئی پھررحمو نے پسرغلام محمد دختر منیرن چھوڑ کر وفات پائی غلام محمد نے بعد پدراس مکان خام کا ایك حصہ کچے گمے اور ایك حصہ بیرونی پختہ اینٹ سے بصرف خویش
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل ۔ میم سے مراد سپردگی کے بعد واھب یاموہوب لہ میں سے کسی ایك کامرجانا ہے اور سپردگی سے پہلے مرگیا تو ہبہ باطل ہوگا۔(ت)
اس صورت میں یہ اشیاء جن کاہبہ ناتمام رہابعد موت واہبہ وارثان واہبہ کو وراثۃ پہنچے گیرہامتبنی کرنا وہ شرعا کوئی چیزنہیں
قال اﷲ تعالی "ان امہتہم الا الی و لدنہم " ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ ان کی مائیں نہیں مگر وہ جنہوں نے ان کوجنا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ محمد علی نے زوجہ رحمواابن غلام محمد دوبنت بجومنیرن او رایك مکان خام جس میں دوسوگززمین تھی چھوڑکرانتقال کیا پھربجو مادررحمواور شوہروپسر ودختر چھوڑکرفوت ہوئی پھررحمو نے پسرغلام محمد دختر منیرن چھوڑ کر وفات پائی غلام محمد نے بعد پدراس مکان خام کا ایك حصہ کچے گمے اور ایك حصہ بیرونی پختہ اینٹ سے بصرف خویش
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
القرآن الکریم ∞۵۸ /۲€
القرآن الکریم ∞۵۸ /۲€
تعمیرکیا اور تین سو ساٹھ روپے اپنے اوپرقرضہ اور صرف اسی مکان کا حصہ متروکہ اور زوجہ تیاربی بی دوپسر علی محمدولی محمددختر آبادی بیگم چھوڑ کر رحلت کی۔علی محمدولی محمد نے باپ کی تجہیزوتکفین کی اور کل قرضہ اداکیا۔اس صورت میں حصہ غلام محمد کس قدرہوا اور وارثان آبادی بیگم ترکہ غلام محمد سے اپنی موروثہ کاحصہ علی محمد ولی محمد سے بے ادائے قرضہ پانے کے مستحق ہیں یا اب ترکہ علی محمد کہ صرف یہی حصہ ہے اور اس کی مقدار دین مذکور سے بہت کم ہے علی محمد وولی محمد کامدیون ہوگیا کہ جب تك یہ دین ادانہ ہو کوئی وارث حصہ پانے کا مستحق نہیں۔بینواتوجروا
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم مایقدم کالمہروالوصیۃ ترکہ شیخ محمدعلی سے حصہ غلام محمد ۲۸۸ / ۱۵۷ ہے کمایظہر بالتخریج و ردالکسر الی اقل المخارج(جیسا کہ تخریج اور کسر کو اقل مخرج کی طرف لوٹانے سے ظاہر ہے۔ت)یعنی اگر اس جائداد کے دوسو اٹھاسی حصے کئے جائیں تو ان میں سے ایك سو ستاون غلام محمد کے ہوں گے باقی وارثان منیرن وشوہر واولاد بجو کےاور جب کہ حسب بیان سائل ترکہ غلام محمدصرف یہی ہے اور وہ مقدار دین سے بہت کمتوجب تك دین ادانہ کرلیاجائے کوئی وارث غلام محمدبذریعہ وراثت اس سے کچھ نہیں پاسکتا۔جائداد جیسے پہلے اورشخص کے دین میں مستغرق تھی اب علی محمد و ولی محمد کا دین اس پرمحیط ہے جبکہ انہوں نے صراحۃ یہ نہ کہہ دیا ہو کہ ہم یہ قرضی محض بطور تبرع واحسان اداکرتے ہیں ترکہ پدری سے واپس نہ لیں گے۔ اشباہ میں ہے :
والدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارثفی جامع الفصولین لواستغرقہا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأہ المیت غریمہ او اداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداءاما لواداہ من مال نفسہ مطلقا یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین جوقرض ترکہ کو محیط ہو وہ وارث کی ملکیت سے مانع ہے۔ جامع الفصولین میں ہے اگر قرض ترکہ کا احاطہ کرلے تو بطور میراث اس ترکہ کا کوئی مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ جب قرض خواہ میت کو بری کردے یا اس میت کا کوئی وارث وہ قرض ادا کردے اس طور پر کہ وہ ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرے۔اور اگر اس نے اپنے مال سے قرض اداکیا مطلقا بغیرشرط تبرع ورجوع کے تو اس وارث
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم مایقدم کالمہروالوصیۃ ترکہ شیخ محمدعلی سے حصہ غلام محمد ۲۸۸ / ۱۵۷ ہے کمایظہر بالتخریج و ردالکسر الی اقل المخارج(جیسا کہ تخریج اور کسر کو اقل مخرج کی طرف لوٹانے سے ظاہر ہے۔ت)یعنی اگر اس جائداد کے دوسو اٹھاسی حصے کئے جائیں تو ان میں سے ایك سو ستاون غلام محمد کے ہوں گے باقی وارثان منیرن وشوہر واولاد بجو کےاور جب کہ حسب بیان سائل ترکہ غلام محمدصرف یہی ہے اور وہ مقدار دین سے بہت کمتوجب تك دین ادانہ کرلیاجائے کوئی وارث غلام محمدبذریعہ وراثت اس سے کچھ نہیں پاسکتا۔جائداد جیسے پہلے اورشخص کے دین میں مستغرق تھی اب علی محمد و ولی محمد کا دین اس پرمحیط ہے جبکہ انہوں نے صراحۃ یہ نہ کہہ دیا ہو کہ ہم یہ قرضی محض بطور تبرع واحسان اداکرتے ہیں ترکہ پدری سے واپس نہ لیں گے۔ اشباہ میں ہے :
والدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارثفی جامع الفصولین لواستغرقہا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأہ المیت غریمہ او اداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداءاما لواداہ من مال نفسہ مطلقا یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین جوقرض ترکہ کو محیط ہو وہ وارث کی ملکیت سے مانع ہے۔ جامع الفصولین میں ہے اگر قرض ترکہ کا احاطہ کرلے تو بطور میراث اس ترکہ کا کوئی مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ جب قرض خواہ میت کو بری کردے یا اس میت کا کوئی وارث وہ قرض ادا کردے اس طور پر کہ وہ ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرے۔اور اگر اس نے اپنے مال سے قرض اداکیا مطلقا بغیرشرط تبرع ورجوع کے تو اس وارث
فلایملکہا اھ ملخصاواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ کاقرض میت پرثابت ہوگا۔چنانچہ وہ ترکہ قرض میں مشغول ہوگا لہذا وارث اس کامالك نہیں بنے گا اھ ملخصاواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲: ۶ذیقعد۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ترکہ تاج محمد کا اس کے ورثہ احیاء پرچارلاکھ تین ہزار دوسوسہام ہوکریوں منقسم ہوا :
مسئلہ ۲۳: کیافرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو لڑکے عمروبکر ہیں جس میں سے عمر بڑا لڑکا اور بکرچھوٹا لڑکاہے۔زید نے دونوں لڑکوں کی شادی کراکر
مسئلہ ۲۲: ۶ذیقعد۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ترکہ تاج محمد کا اس کے ورثہ احیاء پرچارلاکھ تین ہزار دوسوسہام ہوکریوں منقسم ہوا :
مسئلہ ۲۳: کیافرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو لڑکے عمروبکر ہیں جس میں سے عمر بڑا لڑکا اور بکرچھوٹا لڑکاہے۔زید نے دونوں لڑکوں کی شادی کراکر
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۴€
اپنی جائدادکونصف نصف دونوں بہؤوں پریعنی زوجہ بکر وزوجہ عمرپرتقسیم کرکے بیع کردیبعد کو بکر کی زوجہ نے انتقال کیا۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
اگرمدعی اب تك وہاں موجود نہ تھا یابوجہ نابالغی وغیرہ معذورتھا یابکر کو اقرار ہوکہ یہ جائداد بذریعہ میراث زوجہ اس نے پائی ہے تو ان صورتوں میں دعوی مدعی قابل سماعت ہے ورنہ نہیں
کما فصلہ العلماء فی کتبھم مثل الفتاوی الخیریۃ و العقود الدریۃ وغیرھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ علماء نے اپنی کتابوں میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ مثلا فتاوی خیریہ اورعقودالدریۃ وغیرہ۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے(ت)
مسئلہ ۲۴: ۳۰صفر۱۳۱۱ھ
الجواب:
اگرمدعی اب تك وہاں موجود نہ تھا یابوجہ نابالغی وغیرہ معذورتھا یابکر کو اقرار ہوکہ یہ جائداد بذریعہ میراث زوجہ اس نے پائی ہے تو ان صورتوں میں دعوی مدعی قابل سماعت ہے ورنہ نہیں
کما فصلہ العلماء فی کتبھم مثل الفتاوی الخیریۃ و العقود الدریۃ وغیرھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ علماء نے اپنی کتابوں میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ مثلا فتاوی خیریہ اورعقودالدریۃ وغیرہ۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے(ت)
مسئلہ ۲۴: ۳۰صفر۱۳۱۱ھ
مسئلہ ۲۵: علمائے دین ومفتیان شرع متین کیافرماتے ہیں اس بارے میں کہ مسمی زیدفوت ہوا ایك زوجہ اورچنداولاد بیٹاوبیٹی متوفی کے وارث ہیںزوجہ چاہتی ہے کہ ترکہ متوفی کابعوض دین مہر کے کہ ادا نہیں ہوا ہے مجھ کو ملناچاہئے۔دین مہرکثیرترکہ قلیلدین مہر کو کافی نہیں ہوسکتا ہے۔دیگرورثاء کہتے ہیں کہ بموجب فرائض کے ترکہ میں سے وراثتا سب کو حصہ ملنا چاہئےاب اول ادائے دین مہر ہوناچاہئے یاترکہ وارث کل ورثاء پرتقسیم ہوئے۔
الجواب:
ادائے مہرتقسیم ترکہ پرمقدم ہے جب تك مہرادایامعاف نہ ہولے کوئی وارث کچھ نہیں پاسکتا جبکہ اس کی مقدار ترکہ سے زائد ہے۔
قال تعالی "من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اس وصیت کے بعد جوتم کرجاؤ اور قرض کے بعد۔(ت)
مگرعین جائداد کامہرمیں دیاجانا ضروری نہیں ورثہ کواختیار ہے کہ مہر اپنے پاس سے اداکریں اور جائداد تقسیم ترکہ کے لئے بچالیں یاجائداد بیچ کرادائے مہرمیں صرف کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶: صفرالمظفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلاوصیت انتقال کیا اور چھوڑی جائداد منقولہ مکسوبہ ومتفرقہ خودازقسم زر نقدوزبور طلائی وغیرہا اوراثاث البیت خانگیایك مکان مع حصہ اراضی موروثیاور وارثان شرعی زید کے حسب ذیل:یك برادر حقیقی بکرحیاتیك زوجہ ہندہ جوتخمینا یك ماہ بعد زید کے مرگئی اور اپنامہر شرعی روبرو شاہدین شوہر زید کو معاف کردیا تھا اور خوردونوش یکجائی ہندہ کے بعد وفات شوہر کے بہمراہی بکرمکان مذکور میں تھی چنانچہ تجہیز وتکفین ورسومات موتہ زید ونیز ہندہ کی زید کے روپے سے ہوئی۔بعد وفات کے مسمیان خالد ومحمودحامداحمدبرادران ہندہ متوفیہ زر نقد مع زیورمذکورہ بالا جس پر کہ زیدبحیات خود باختیار تصرف مثل رہن وبیع وغیرہ وقتا فوقتا مالکانہ متصرف تھا اس کو برادران ہندہ باخفائے ورثائے زید مکان موروثی سے لے گئےلہذا اب تنازع بابت
الجواب:
ادائے مہرتقسیم ترکہ پرمقدم ہے جب تك مہرادایامعاف نہ ہولے کوئی وارث کچھ نہیں پاسکتا جبکہ اس کی مقدار ترکہ سے زائد ہے۔
قال تعالی "من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اس وصیت کے بعد جوتم کرجاؤ اور قرض کے بعد۔(ت)
مگرعین جائداد کامہرمیں دیاجانا ضروری نہیں ورثہ کواختیار ہے کہ مہر اپنے پاس سے اداکریں اور جائداد تقسیم ترکہ کے لئے بچالیں یاجائداد بیچ کرادائے مہرمیں صرف کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶: صفرالمظفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بلاوصیت انتقال کیا اور چھوڑی جائداد منقولہ مکسوبہ ومتفرقہ خودازقسم زر نقدوزبور طلائی وغیرہا اوراثاث البیت خانگیایك مکان مع حصہ اراضی موروثیاور وارثان شرعی زید کے حسب ذیل:یك برادر حقیقی بکرحیاتیك زوجہ ہندہ جوتخمینا یك ماہ بعد زید کے مرگئی اور اپنامہر شرعی روبرو شاہدین شوہر زید کو معاف کردیا تھا اور خوردونوش یکجائی ہندہ کے بعد وفات شوہر کے بہمراہی بکرمکان مذکور میں تھی چنانچہ تجہیز وتکفین ورسومات موتہ زید ونیز ہندہ کی زید کے روپے سے ہوئی۔بعد وفات کے مسمیان خالد ومحمودحامداحمدبرادران ہندہ متوفیہ زر نقد مع زیورمذکورہ بالا جس پر کہ زیدبحیات خود باختیار تصرف مثل رہن وبیع وغیرہ وقتا فوقتا مالکانہ متصرف تھا اس کو برادران ہندہ باخفائے ورثائے زید مکان موروثی سے لے گئےلہذا اب تنازع بابت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۲€
متروکہ زید کے درمیان ورثاء زید یعنی بکروخالد وحامدومحمود واحمد کے ہےپس صورت مذکورہ بالا تقسیم متروکہ کے کس طورپر ہوناچاہئے اورتجہیزوتکفین وسویم وغیرہا زید کی بکرنے زید کے روپے سے اورہندہ کی تجہیزوتکفین وغیرہ برادران ہندہ نے زیدکے روپے سے کی۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جو زیورملك زیدتھا(یعنی نہ جہیزہندہ کاتھا نہ زید نے ہندہ کو تملیك کردیاتھا اگرچہ پہننے کو دیاہو)وہ متروکہ زید ہے خاص ورثاء اس کے مستحق نہیں۔برادر زید نے تجہیزوتکفین زیدبقدرسنت میں جوخرچ کیا وہ مجراپائے گا کہ اسے نکال کرباقی ترکہ وارثان زید پرتقسیم ہوگااور جوکچھ صدہ خیرات روز وفات وقت دفن وسوم وغیرہا میں اٹھایا وہ خاص برادر زید کے حصہ پر پڑے گاباقی ورثہ کو اس سے سروکارنہیں۔پس برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات خرچ تجہیزوتکفین زیدبقدر سنت اورنیز اگرکوئی دین ذمہ زید ہو وہ اداکرکے جوباقی بچے مع اس روپہے کے جو برادرزید وبرادران ہندہ نے خرچ فاتحہ وصدقہ وغیرہا میں اٹھایا سب کے سولہ سہام کریں ان میں سے چار سہم کامل خواہرزید کو دیں اور آٹھ سہم میں خرچ فاتحہ وصدقات زید شامل کرکے برادرزید کو دیں یعنی جوکچھ برادرزید نے فاتحہ میں اٹھایا وہ اسے وصول پایا ہوا تصور کریں باقی چارسہام میں کل خرچ تجہیزوتکفین ہندہ بقدرسنت وخرچ فاتحہ ہندہ کہ برادران ہندہ نے کیا سب شامل کرکے برادران ہندہ کودیں یعنی موت ہندہ کاکل خرچ انہیں چارسہام پرڈالیں پھر اس میں سے خرچ مسنون ترکہ ہندہ پرپڑے گا اور خرچ زائد صرف ان برادران کے حصہ پرجنہوں نے اٹھایا اور سب نے اٹھایا توسب پر۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷: ازشہرکہنہ ۹ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے بیٹے نے انتقال کیا پوتا اوربھتیجے موجود ہیںبھتیجے اس پرزورڈالتے ہیں کہ اپنامال ہمیں لکھ دے اس لئے کہ ہم تیرے وارث ہیں پوتا محجوب الارث ہوچکاہےاس صورت میں پوتے کو محروم کر کے بھتیجوں کو لکھ دیناجائزہے یانہیں اور ان کی درخواست قابل سماعت ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جو زیورملك زیدتھا(یعنی نہ جہیزہندہ کاتھا نہ زید نے ہندہ کو تملیك کردیاتھا اگرچہ پہننے کو دیاہو)وہ متروکہ زید ہے خاص ورثاء اس کے مستحق نہیں۔برادر زید نے تجہیزوتکفین زیدبقدرسنت میں جوخرچ کیا وہ مجراپائے گا کہ اسے نکال کرباقی ترکہ وارثان زید پرتقسیم ہوگااور جوکچھ صدہ خیرات روز وفات وقت دفن وسوم وغیرہا میں اٹھایا وہ خاص برادر زید کے حصہ پر پڑے گاباقی ورثہ کو اس سے سروکارنہیں۔پس برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات خرچ تجہیزوتکفین زیدبقدر سنت اورنیز اگرکوئی دین ذمہ زید ہو وہ اداکرکے جوباقی بچے مع اس روپہے کے جو برادرزید وبرادران ہندہ نے خرچ فاتحہ وصدقہ وغیرہا میں اٹھایا سب کے سولہ سہام کریں ان میں سے چار سہم کامل خواہرزید کو دیں اور آٹھ سہم میں خرچ فاتحہ وصدقات زید شامل کرکے برادرزید کو دیں یعنی جوکچھ برادرزید نے فاتحہ میں اٹھایا وہ اسے وصول پایا ہوا تصور کریں باقی چارسہام میں کل خرچ تجہیزوتکفین ہندہ بقدرسنت وخرچ فاتحہ ہندہ کہ برادران ہندہ نے کیا سب شامل کرکے برادران ہندہ کودیں یعنی موت ہندہ کاکل خرچ انہیں چارسہام پرڈالیں پھر اس میں سے خرچ مسنون ترکہ ہندہ پرپڑے گا اور خرچ زائد صرف ان برادران کے حصہ پرجنہوں نے اٹھایا اور سب نے اٹھایا توسب پر۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷: ازشہرکہنہ ۹ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کے بیٹے نے انتقال کیا پوتا اوربھتیجے موجود ہیںبھتیجے اس پرزورڈالتے ہیں کہ اپنامال ہمیں لکھ دے اس لئے کہ ہم تیرے وارث ہیں پوتا محجوب الارث ہوچکاہےاس صورت میں پوتے کو محروم کر کے بھتیجوں کو لکھ دیناجائزہے یانہیں اور ان کی درخواست قابل سماعت ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ان کی یہ درخواست مہمل وناقابل سماعت ہے اول توحیات مالك میں اس مال کاکوئی وارث نہیں اور بعد موت کب معلوم کون زندہ ہوگاکون مردہاوراگرعورت کے بعد پوتا اور بھتیجے سب باقی رہے توپوتاہی وارث ہوگا۔بھتیجے اس کے ہوتے کچھ نہ پائیں گے تومحجوب الارث خود بھتیجے ہوں نہ کہ پوتا۔پوتا اپنے دادی دادا کاخود وارث ہے نہ بواسطہ پدر کہ ان کے پہلے مرجانے سے یہ محجوب الارث ہوجائےیہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔عورت کو ہرگزجائزنہیں کہ پوتے کو محروم کرنے کے لئے اپنامال بھتیجوں کولکھ دے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فر من میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیمۃوالعیاذباﷲ تعالیرواہ ابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ جو اپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی روزقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے۔(اﷲ تعالی کی پناہ۔ اس کو ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۸: ازلکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ابوالخیر محمدجان صاحب ۱۹ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ مثلا زید کے تین لڑکوں اور دولڑکیوں میں سے ایك لڑکا بحیات والدین بالکل مفقودالخبرہوگیا پچیس تیس برس سے اس کاکہیں پتانہیںاس درمیان میں پہلے اس کے والد نے پھر اس کی والدہ نے انتقال کیا اب زید متوفی کے لڑکے اپنے والدین متوفیین کے متروکہ کو حسب ہدایت شرع شریف تقسیم کرنا چاہتے بلکہ ماں کے متروکہ کو کیونکہ جائداد ماں کے نام ہے لیکن اس مفقودالخبرلڑکے کی زوجہ جو ہنوز زندہ ہے عذرکرتی ہے کہ میرے زوج مفقودالخبر کابھی حصہ لگاؤ اورچونکہ وہ نہیں ہے لہذا حصہ وہ مجھے دوپس استفسار کیاجاتا ہے کہ ابن مفقودالخبر کی زوجہ عندالشرع زوج
ان کی یہ درخواست مہمل وناقابل سماعت ہے اول توحیات مالك میں اس مال کاکوئی وارث نہیں اور بعد موت کب معلوم کون زندہ ہوگاکون مردہاوراگرعورت کے بعد پوتا اور بھتیجے سب باقی رہے توپوتاہی وارث ہوگا۔بھتیجے اس کے ہوتے کچھ نہ پائیں گے تومحجوب الارث خود بھتیجے ہوں نہ کہ پوتا۔پوتا اپنے دادی دادا کاخود وارث ہے نہ بواسطہ پدر کہ ان کے پہلے مرجانے سے یہ محجوب الارث ہوجائےیہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔عورت کو ہرگزجائزنہیں کہ پوتے کو محروم کرنے کے لئے اپنامال بھتیجوں کولکھ دے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فر من میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیمۃوالعیاذباﷲ تعالیرواہ ابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ جو اپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی روزقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے۔(اﷲ تعالی کی پناہ۔ اس کو ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۸: ازلکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ابوالخیر محمدجان صاحب ۱۹ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ مثلا زید کے تین لڑکوں اور دولڑکیوں میں سے ایك لڑکا بحیات والدین بالکل مفقودالخبرہوگیا پچیس تیس برس سے اس کاکہیں پتانہیںاس درمیان میں پہلے اس کے والد نے پھر اس کی والدہ نے انتقال کیا اب زید متوفی کے لڑکے اپنے والدین متوفیین کے متروکہ کو حسب ہدایت شرع شریف تقسیم کرنا چاہتے بلکہ ماں کے متروکہ کو کیونکہ جائداد ماں کے نام ہے لیکن اس مفقودالخبرلڑکے کی زوجہ جو ہنوز زندہ ہے عذرکرتی ہے کہ میرے زوج مفقودالخبر کابھی حصہ لگاؤ اورچونکہ وہ نہیں ہے لہذا حصہ وہ مجھے دوپس استفسار کیاجاتا ہے کہ ابن مفقودالخبر کی زوجہ عندالشرع زوج
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹۸€
مفقودکاحصہ پاسکتی ہے یانہیں اگرپاسکتی ہے توکس قدر اور لڑکیوں کاحصہ کیا ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
وہ لڑکا کہ حیات مادر میں مفقودالخبرہوگیا ترکہ مادرمیں مثل میت ہے۔
فی التنویر میت فی حق غیرہ فلایرث من غیرہ ۔ تنویرمیں ہے مفقودالخبرغیر کے حق میں مردہ ہوتاہے لہذا وہ غیرکاوارث نہیں بنے گا۔(ت)
توجب تك بعد وفات مادر اس کازندہ رہناشرعا ثابت نہ ہوجائے اس کی زوجہ وغیرہ مدعیان ارث مفقود کوترکہ مادری سے اس کے حصہ کامطالبہ ہرگزنہیں پہنچتا کہ بے اس ثبوت کے شرعا خود اسے ترکہ مذکورہ سے کچھ نہ ملے گا اس کے ورثہ کو بذریعہ توریث بالواسطہ پہنچنا کیامعنیبلکہ وہ ترکہ برتقدیر عدم موانع ارث و وارث آخر وتقدم مقدم کالدین والوصیۃچوبیس سہام پر منقسم کریں ہرپسر موجود کو چھ ہردختر کوتین دے کرچھ موقوف رکھیں یہاں تك کہ عمرمففقود سے سترسال کامل گزرجائیں یعنی وہ مدت منقضی ہوکہ اگرزندہ ہوتا توستر۷۰ برس کاہوجاتا مثلا وقت فقدان بست ۲۰سالہ تھا اور مفقود ہوئے تیس ۳۰ برس ہوئے تو بیس برس اورانتظار کریں یاپینتیس ۳۵ سال کی عمرمیں گمااب پچیس۲۵ گزرے تودس۱۰ برس۔
ھذا احسن مایصار الیہ ویعول علیہ فانہ المؤید بالحدیث و شاھد حال الزمان للحدیث ان المرمی ھھنا ھو حصول الظن لیس الا فانہ لاسبیل الی الیقین فتقدیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیرمن تقدیر غیرہ وقد نص العلماء کشارحی المنیۃ العلامۃ المحقق محمد بن اور یہ بہتر ین قول ہے جس کی طرف رجوع کیاجائے اور اس پربھروسا کیاجائے کیونکہ حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے اور حال زمانہ حدیث کا شاہد ہے کیونہ یہاں عمرکی حد مقررکرنا محض گمان غالب کی بنیاد پرہے کیونکہ یہاں یقین کی کوئی صورت نہیں۔پس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اندازہ مقررفرمانا غیرکے اندازے سے بہترہے۔اورعلماء نے نص فرمائی ہے جیسا کہ منیہ کے دوشارحین علامہ محقق محمد بن امیر الحاج نے
الجواب:
وہ لڑکا کہ حیات مادر میں مفقودالخبرہوگیا ترکہ مادرمیں مثل میت ہے۔
فی التنویر میت فی حق غیرہ فلایرث من غیرہ ۔ تنویرمیں ہے مفقودالخبرغیر کے حق میں مردہ ہوتاہے لہذا وہ غیرکاوارث نہیں بنے گا۔(ت)
توجب تك بعد وفات مادر اس کازندہ رہناشرعا ثابت نہ ہوجائے اس کی زوجہ وغیرہ مدعیان ارث مفقود کوترکہ مادری سے اس کے حصہ کامطالبہ ہرگزنہیں پہنچتا کہ بے اس ثبوت کے شرعا خود اسے ترکہ مذکورہ سے کچھ نہ ملے گا اس کے ورثہ کو بذریعہ توریث بالواسطہ پہنچنا کیامعنیبلکہ وہ ترکہ برتقدیر عدم موانع ارث و وارث آخر وتقدم مقدم کالدین والوصیۃچوبیس سہام پر منقسم کریں ہرپسر موجود کو چھ ہردختر کوتین دے کرچھ موقوف رکھیں یہاں تك کہ عمرمففقود سے سترسال کامل گزرجائیں یعنی وہ مدت منقضی ہوکہ اگرزندہ ہوتا توستر۷۰ برس کاہوجاتا مثلا وقت فقدان بست ۲۰سالہ تھا اور مفقود ہوئے تیس ۳۰ برس ہوئے تو بیس برس اورانتظار کریں یاپینتیس ۳۵ سال کی عمرمیں گمااب پچیس۲۵ گزرے تودس۱۰ برس۔
ھذا احسن مایصار الیہ ویعول علیہ فانہ المؤید بالحدیث و شاھد حال الزمان للحدیث ان المرمی ھھنا ھو حصول الظن لیس الا فانہ لاسبیل الی الیقین فتقدیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیرمن تقدیر غیرہ وقد نص العلماء کشارحی المنیۃ العلامۃ المحقق محمد بن اور یہ بہتر ین قول ہے جس کی طرف رجوع کیاجائے اور اس پربھروسا کیاجائے کیونکہ حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے اور حال زمانہ حدیث کا شاہد ہے کیونہ یہاں عمرکی حد مقررکرنا محض گمان غالب کی بنیاد پرہے کیونکہ یہاں یقین کی کوئی صورت نہیں۔پس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اندازہ مقررفرمانا غیرکے اندازے سے بہترہے۔اورعلماء نے نص فرمائی ہے جیسا کہ منیہ کے دوشارحین علامہ محقق محمد بن امیر الحاج نے
حوالہ / References
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب المفقود ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۶۹€
امیرالحاج فی الحلیۃ والعلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ وغیرھما فی غیرھما انہ لایعدل عن درایۃ ماوافقتھا روایۃ لاسیما وھو الارفق بالناس و الاوفق بالزمان فقد تقاصرت الاعمار وتعجلت المنون وحسبنااﷲ ونعم الوکیل فلذا عولنا علیہ فی جمیع فتاونا وباﷲ التوفیق اخرج الترمذی عن ابی ھریرۃ وابویعلی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہما قالا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعمار امتی مابین الستین الی السبعین واقلھم من یجوز ذلک سندہ حسن کما نص علی الحافظ فی فتح الباری حلیہ میں اور علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میںاور ان دونوں کے علاوہ دیگرعلماء نے دیگر کتابوں میں تصریح فرمائی کہ اس درایت سے عدول نہیں کیاجائے گا جس کی موافقت روایت کرے خصوصا جبکہ اس میں لوگوں کے لئے زیادہ نرمی اور زمانے کے ساتھ زیادہ موافقت موجود ہو۔تحقیق عمریں کم ہو گئیں اور موتیں جلدی واقع ہونے لگیں۔اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے اور کیاہی اچھا کارسازہے۔اسی لئے ہم نے اپنے تمام فتاوی میں اس پراعتماد کیا اور توفیق اﷲ تعالی ہی کی ہے۔ترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اور ابو یعلی نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج کیان دونوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میری امت کی عمریں ساٹھ اورسترسال کے درمیان ہوں گی بہت کم ان میں سے ایسے ہوں گے جو اس سے آگے بڑھیں۔اس کی سند حسن ہے جیسا کہ فتح الباری میں حافظ نے اس پرنص کی ہے۔(ت)
امام محقق علی الاطلاق مالك ازمۃ الترجیح والفتیافتح القدیر میں فرماتے ہیں:
عندی الاحسن سبعون لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اعمار امتی مابین الستین الی میرے نزدیك سب سے بہتر سترسال والا قول ہے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ میری امت کی عمریں
امام محقق علی الاطلاق مالك ازمۃ الترجیح والفتیافتح القدیر میں فرماتے ہیں:
عندی الاحسن سبعون لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اعمار امتی مابین الستین الی میرے نزدیك سب سے بہتر سترسال والا قول ہے۔نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ میری امت کی عمریں
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فرائض الصلوٰۃ الثامن تعدیل الارکان ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۵،€جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منر ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۹۴€
کنزالعمال برمزت عن ابی ہریرہ ∞حدیث ۴۲۶۹۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۶۷۷€
کنزالعمال برمزت عن ابی ہریرہ ∞حدیث ۴۲۶۹۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۶۷۷€
السبعین فکانت المنتھی غالبا ۔ ساٹھ سے سترسال تك کے درمیان ہوں گی۔چنانچہ غالبا سترپر زندگی کی انتہا ہوتی ہے۔(ت)
جواہراخلاطی میں ہے:انہ احوط واقیس (بے شك وہ زیادہ احتیاط والا اور زیادہ قرین قیاس ہے۔ت)اسی میں ہے:وعلیہ الفتوی (اور اسی پرفتوی ہے۔ت)اس مدت میں اگرظاہرہو کہ مفقود زندہ ہے یابعد موت مادرزندہ تھا اگرچہ ایك آن بعد مر گیا تو یہ چھ سہام بحالت حیات خود اسےورنہ بحسب احکام فرائض اس کی زوجہ وغیرہ ان کے ورثہ کو کہ اس کی موت کے وقت زندہ تھے اگرچہ اب مرچکے ہوں دے دئیے جائیں اور اگرثابت ہوکہ مفقود پیش ازمادرمرگیاتھا یامدت مذکورہ گزرجائے اور کچھ ثبوت نہ ہو یہاں تك کہ روزفقدان سے اس کی موت کاحکم کردیاجائے تو ان سہام میں اس کے ورثہ کا کچھ حق نہیں بلکہ انہیں چار اولاد موجود کو دئیے جائیں ہرپسر کودو ہردخترکوایک۔
فی التنویر یوقف قسطہ فان ظھر حیافلہ ذلك وبعدہ یحکم بموتہ فی مال غیرہ من حین فقد فیرد الموقوف لہ الی من یرث مورثہ عند موتہ اھ ملخصا۔ تنویر میں ہے مفقود الخبر کاحصہ موقوف رکھیں گے اگروہ زندہ ظاہرہوگیا تو یہ حصہ اس کاہےاس کے بعد(یعنی اس کے ہم عمروں کے مرنے کے بعد(یعنی اس کے ہم عمروں کے مرنے کے بعد)اس کے گم ہونے کے وقت سے غیرکے مال میں اس کی موت کاحکم دیاجائے گاچنانچہ جوکچھ اس کے لئے موقوف رکھاگیا تھا وہ ان کی طرف لوٹادیں گے جو اس کے مورث کی موت کے وقت وارث بنے تھے اھ ملخصا(ت)
یہ چھ۶ سہام تاانفصال احکام اس کے پاس امانۃ رہیں گے جس کے قبضہ میں متروکہ مذکورہ اس وقت یعنی بعد موت مورثہ ہے خواہ وہ کوئی پسر موجود ہو یادختر یازن پسر یاکوئی اجنبی
جواہراخلاطی میں ہے:انہ احوط واقیس (بے شك وہ زیادہ احتیاط والا اور زیادہ قرین قیاس ہے۔ت)اسی میں ہے:وعلیہ الفتوی (اور اسی پرفتوی ہے۔ت)اس مدت میں اگرظاہرہو کہ مفقود زندہ ہے یابعد موت مادرزندہ تھا اگرچہ ایك آن بعد مر گیا تو یہ چھ سہام بحالت حیات خود اسےورنہ بحسب احکام فرائض اس کی زوجہ وغیرہ ان کے ورثہ کو کہ اس کی موت کے وقت زندہ تھے اگرچہ اب مرچکے ہوں دے دئیے جائیں اور اگرثابت ہوکہ مفقود پیش ازمادرمرگیاتھا یامدت مذکورہ گزرجائے اور کچھ ثبوت نہ ہو یہاں تك کہ روزفقدان سے اس کی موت کاحکم کردیاجائے تو ان سہام میں اس کے ورثہ کا کچھ حق نہیں بلکہ انہیں چار اولاد موجود کو دئیے جائیں ہرپسر کودو ہردخترکوایک۔
فی التنویر یوقف قسطہ فان ظھر حیافلہ ذلك وبعدہ یحکم بموتہ فی مال غیرہ من حین فقد فیرد الموقوف لہ الی من یرث مورثہ عند موتہ اھ ملخصا۔ تنویر میں ہے مفقود الخبر کاحصہ موقوف رکھیں گے اگروہ زندہ ظاہرہوگیا تو یہ حصہ اس کاہےاس کے بعد(یعنی اس کے ہم عمروں کے مرنے کے بعد(یعنی اس کے ہم عمروں کے مرنے کے بعد)اس کے گم ہونے کے وقت سے غیرکے مال میں اس کی موت کاحکم دیاجائے گاچنانچہ جوکچھ اس کے لئے موقوف رکھاگیا تھا وہ ان کی طرف لوٹادیں گے جو اس کے مورث کی موت کے وقت وارث بنے تھے اھ ملخصا(ت)
یہ چھ۶ سہام تاانفصال احکام اس کے پاس امانۃ رہیں گے جس کے قبضہ میں متروکہ مذکورہ اس وقت یعنی بعد موت مورثہ ہے خواہ وہ کوئی پسر موجود ہو یادختر یازن پسر یاکوئی اجنبی
جس میں حفظ واصلاح ضروری کے سوا کسی تصرف مالکانہ کا اسے اصلا اختیارنہ ہوگا جب تك اس سے کوئی خیانت ظاہرنہ ہو ورنہ اس کے قبضہ سے نکال کر کسی عادل ثقہ امین متقی خداترس کو سپرد کریں گےفتح میں ہے:
رجل مات عن ابنتین وابن مفقود وابن ابن والمال فی یداجنبی لاینزع من یدالاجنبی الا اذا ظھرت خیانتہ فیوخذ منہ ویوضع علی یدعدل ولوکان فی ید البنتین لایحول المال من موضعہ ولوکان فی یدولدا المفقود یوقف فی ید من کان فی یدہ اھ ملتقطا۔ کوئی شخص دوبیٹیاں ایك مفقود بیٹا اور ایك پوتاچھوڑ کرمرگیا جبکہ اس کامال کسی اجنبی کے قبضہ میں ہے تو وہ مال اجنبی کے ہاتھ سے واپس نہیں لیاجائے گا مگر اس وقت جب اس کی خیانت ظاہرہوجائے اس صورت میں اس سے مال لے کر کسی عادل کے قبضہ میں دے دیاجائے گااور اگر مال دونوں بیٹیوں کے قبضہ میں ہے تو وہ مال اپنی جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گااور اگروہ مقصود کی اولاد کے قبضہ میں ہے تو مفقود کا حصہ اسی کے ہاتھ میں موقوف رکھاجائے گا جس کے ہاتھ میں وہ ہے اھ ملتقطا(ت)
فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالی لہامین نہ کریں گے اس پر مگرجومال غیر کو نارسوزاں جانتاہو اور قبول نہ کرے گا اسے مگرفاسق افسق یاغافل احمق یاعادل مرفق قلیل ماھم ھیہات ھیہات کہاں علم اور کہاں عدالتلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ط واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹: ازتھانہ کچھا علاقہ خام ۲۳ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام غوث نے اپنی پہلی بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی کیپھردوسری کے انتقال ہوجانے کے بعد تیسری شادی کیپہلی کا حقیقی بھائی اوردوسری کی ایك لڑکی جو اس کے ساتھ آئی تھی اور تیسری مع اپنے لڑکے کے جو ہمراہ آیاتھا زندہ ہےتینوں عورتوں کامہرپینسٹھ پینسٹھ روپیہ کابندھاتھااب شرع شریف کے نزدیك کتنامہر کس کس وارث کو پہنچے گا بینواتوجروا۔
رجل مات عن ابنتین وابن مفقود وابن ابن والمال فی یداجنبی لاینزع من یدالاجنبی الا اذا ظھرت خیانتہ فیوخذ منہ ویوضع علی یدعدل ولوکان فی ید البنتین لایحول المال من موضعہ ولوکان فی یدولدا المفقود یوقف فی ید من کان فی یدہ اھ ملتقطا۔ کوئی شخص دوبیٹیاں ایك مفقود بیٹا اور ایك پوتاچھوڑ کرمرگیا جبکہ اس کامال کسی اجنبی کے قبضہ میں ہے تو وہ مال اجنبی کے ہاتھ سے واپس نہیں لیاجائے گا مگر اس وقت جب اس کی خیانت ظاہرہوجائے اس صورت میں اس سے مال لے کر کسی عادل کے قبضہ میں دے دیاجائے گااور اگر مال دونوں بیٹیوں کے قبضہ میں ہے تو وہ مال اپنی جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گااور اگروہ مقصود کی اولاد کے قبضہ میں ہے تو مفقود کا حصہ اسی کے ہاتھ میں موقوف رکھاجائے گا جس کے ہاتھ میں وہ ہے اھ ملتقطا(ت)
فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالی لہامین نہ کریں گے اس پر مگرجومال غیر کو نارسوزاں جانتاہو اور قبول نہ کرے گا اسے مگرفاسق افسق یاغافل احمق یاعادل مرفق قلیل ماھم ھیہات ھیہات کہاں علم اور کہاں عدالتلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ط واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹: ازتھانہ کچھا علاقہ خام ۲۳ربیع الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام غوث نے اپنی پہلی بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی کیپھردوسری کے انتقال ہوجانے کے بعد تیسری شادی کیپہلی کا حقیقی بھائی اوردوسری کی ایك لڑکی جو اس کے ساتھ آئی تھی اور تیسری مع اپنے لڑکے کے جو ہمراہ آیاتھا زندہ ہےتینوں عورتوں کامہرپینسٹھ پینسٹھ روپیہ کابندھاتھااب شرع شریف کے نزدیك کتنامہر کس کس وارث کو پہنچے گا بینواتوجروا۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب المفقود المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ ∞۵/ ۷۵۔۳۷۴€
الجواب:
صورت مستفسرہ میں پہلی بیوی لاولد کے بھائی یا اس کے سوا اورجو وارث ہوانہیں ترکہ غلام غوث سے مہر کے بتیس ۳۲روپے آٹھ آنے دئیے جائیںاور دوسری کی بیٹی وغیرہ ورثہ کو اس کے مہر کے ا ڑتالیس۴۸ روپے بارہ آنےاورتیسری کہ زندہ ہے اسے اس کے مہرکے پورے پینسٹھ(۶۵)روپے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۰: ازمیرٹھ چھتہ شیخاں مرسلہ حافظ محمداکبرصاحب ۲۵ربیع الآخر۱۳۱۲ھ
زید مع اپنے کل خاندان کے کافر ہےہندہ زید کی بیٹی اورجہندہ زید کی بیویبعد مرنے زید کے دونوں مسلمان ہوگئیں۔ہندہ رنڈی بن کر کسب کرانے لگی اپنی ذاتی جائداد پیدا کی اورنکاح کرلیا اب وہ مرگئی اورسوائے خاوند کے کوئی وارث نہیںہندہ کے ماموں زاد بھائی کی جو اس وقت تك کافرہے دوبیٹیاں مسلمان ہوگئیں ان کا باپ یعنی ہندہ کاماموں زاد بھائی کافرہےکیایہ دونوں وارث شرعی ہندہ کے ترکہ کی ہوسکتی ہیں اور ان کاباپ حاجب ہے اور مانع اختلاف دینیین کا اس پراثر ہے او ریہ دونوں ذوی الارحام ہیں۔بینواتوجروا
الجواب:
ہندہ کی ماں اگر اس سے پہلے مرگئی بعد اس کے صرف شوہر اوریہ دوعورتیں اس کے ماموں زاد بھائی کی بیٹیاں رہیں اس کاکوئی رشتہ دار مسلمان کہ درجہ وراثت میں ان کے ہمسریاان سے مقدم ہونہیںتومتروکہ ہندہ بعدادائے دیون ووصایا چارسہام پر منقسم ہوکردوسہم شوہر اور ایك ایك ان دونوں عورتوں کو ملے گا اور ان کے کافر باپ کا زندہ ہونا انہیں محروم نہ کرسکے کہ کافر ترکہ مسلم میں مردہ ہے اورمردہ نہ خود وارث ہونہ دوسرے وارث کومحروم کرسکے۔شریفیہ میں ہے:
المحروم عن المیراث بالکلیۃ لایحجب عندنا غیرہ اصلا لاحجب حرمان ولاحجب نقصان ھو قول عامۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم روی ان امرأۃ مسلمۃ ترکت زوجا مسلما جوشخص کلی طورپر میراث سے محروم ہوہمارے نزدیك وہ کسی غیرکے لئے بالکل حاجب نہیں بنتانہ حجب حرمان کے ساتھ اور نہ ہی حجب نقصان کے ساتھ۔عام صحابہ کرام کا یہی قول ہے رضی اﷲ تعالی عنہم۔مروی ہے کہ ایك مسلمان عورت نے مسلمان خاوند اور
صورت مستفسرہ میں پہلی بیوی لاولد کے بھائی یا اس کے سوا اورجو وارث ہوانہیں ترکہ غلام غوث سے مہر کے بتیس ۳۲روپے آٹھ آنے دئیے جائیںاور دوسری کی بیٹی وغیرہ ورثہ کو اس کے مہر کے ا ڑتالیس۴۸ روپے بارہ آنےاورتیسری کہ زندہ ہے اسے اس کے مہرکے پورے پینسٹھ(۶۵)روپے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۰: ازمیرٹھ چھتہ شیخاں مرسلہ حافظ محمداکبرصاحب ۲۵ربیع الآخر۱۳۱۲ھ
زید مع اپنے کل خاندان کے کافر ہےہندہ زید کی بیٹی اورجہندہ زید کی بیویبعد مرنے زید کے دونوں مسلمان ہوگئیں۔ہندہ رنڈی بن کر کسب کرانے لگی اپنی ذاتی جائداد پیدا کی اورنکاح کرلیا اب وہ مرگئی اورسوائے خاوند کے کوئی وارث نہیںہندہ کے ماموں زاد بھائی کی جو اس وقت تك کافرہے دوبیٹیاں مسلمان ہوگئیں ان کا باپ یعنی ہندہ کاماموں زاد بھائی کافرہےکیایہ دونوں وارث شرعی ہندہ کے ترکہ کی ہوسکتی ہیں اور ان کاباپ حاجب ہے اور مانع اختلاف دینیین کا اس پراثر ہے او ریہ دونوں ذوی الارحام ہیں۔بینواتوجروا
الجواب:
ہندہ کی ماں اگر اس سے پہلے مرگئی بعد اس کے صرف شوہر اوریہ دوعورتیں اس کے ماموں زاد بھائی کی بیٹیاں رہیں اس کاکوئی رشتہ دار مسلمان کہ درجہ وراثت میں ان کے ہمسریاان سے مقدم ہونہیںتومتروکہ ہندہ بعدادائے دیون ووصایا چارسہام پر منقسم ہوکردوسہم شوہر اور ایك ایك ان دونوں عورتوں کو ملے گا اور ان کے کافر باپ کا زندہ ہونا انہیں محروم نہ کرسکے کہ کافر ترکہ مسلم میں مردہ ہے اورمردہ نہ خود وارث ہونہ دوسرے وارث کومحروم کرسکے۔شریفیہ میں ہے:
المحروم عن المیراث بالکلیۃ لایحجب عندنا غیرہ اصلا لاحجب حرمان ولاحجب نقصان ھو قول عامۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم روی ان امرأۃ مسلمۃ ترکت زوجا مسلما جوشخص کلی طورپر میراث سے محروم ہوہمارے نزدیك وہ کسی غیرکے لئے بالکل حاجب نہیں بنتانہ حجب حرمان کے ساتھ اور نہ ہی حجب نقصان کے ساتھ۔عام صحابہ کرام کا یہی قول ہے رضی اﷲ تعالی عنہم۔مروی ہے کہ ایك مسلمان عورت نے مسلمان خاوند اور
واخوین من امہا مسلمین وابناکافرا فقضی فیہا علی وزید بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہما بان للزوج النصف ولاخویھا الثلث ومابقی فھو للعصبۃ اھ واﷲ تعالی اعلم۔ دومسلمان اخیافی بھائی اورایك کافربیٹا چھوڑا۔تو اس کے بارے میں حضرت علی مرتضی اور حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہما نے فیصلہ دیا کہ اس کے خاوند کے لئے نصف اور دنوں بھائیوں کے لئے ایك تہائی ہےاور جوباقی بچا وہ عصبہ کےلئے ہے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱: ۲۵ربیع الآخر۱۳۱۲ھ:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںایك عورت اوربیٹی اس کی مسلمان ہوئی اور ایك میں سے اس نے نکاح کرلیا اوراپنی بیٹی کابھی نکاح کردیا۔اور جس مردنے مال لیاتھا اس کی پہلی بی بی سے اولاد ہے اوراس نومسلم عورت اورشوہرثانی سے کوئی اولاد نہ ہوئی بجز اس لڑکی کے اورکوئی اولاد نہیںماں باپ فوت ہوگئےاب یہ عورت جو رہی اس کا خاوند مراموافق شرع شریف کے اس کے خاوند کا جوکچھ ترکہ تھا تقسیم ہوگیااب یہ عورت مریاس کی کوئی اولاد نہیں دوبھائی اس کے ہیں ماں میں شریك نہیں ماں باپ الگ ہیںاب اس عورت کاترکہ کس طرح تقسیم ہو بیان کرواﷲ تعالی اجردے گا۔
الجواب:
شوہرمادر کے بیٹے جونہ اپنے باپ کے نطفے نہ اپنی ماں کے پیٹ سے ہوں وارث نہیںپس اگرعورت مذکورہ کاکوئی وارث شرعی مسلمان موجودنہیں نہ اس نے کسی کے لئے اپنے مال کی وصیت کردی تو اس کاکل مال بعد ادائے دین(اگر اس کے ذمہ ہو) محتاج بیکس مسلمانوں کو دے دیاجائے یا ان دواداروکفن میں صرف کیاجائے اگریہ پسران شوہر مادربیکس محتاج ہیں توانہیں بھی دیں یا انہیں کودے دیںغرض یہ محتاج ہوں تو بوجہ محتاجی مستحق ہوسکتے ہیں نہ بوجہ وراثت۔درمختار میں ہے:
ترکۃ بلاوارث مصرفہا لقیط فقیر وفقیر بلاولی وہ ایساترکہ جس کاکوئی وارث نہیںاس کا مصرف وہ گراپڑا بچاہے جس کو
مسئلہ ۳۱: ۲۵ربیع الآخر۱۳۱۲ھ:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںایك عورت اوربیٹی اس کی مسلمان ہوئی اور ایك میں سے اس نے نکاح کرلیا اوراپنی بیٹی کابھی نکاح کردیا۔اور جس مردنے مال لیاتھا اس کی پہلی بی بی سے اولاد ہے اوراس نومسلم عورت اورشوہرثانی سے کوئی اولاد نہ ہوئی بجز اس لڑکی کے اورکوئی اولاد نہیںماں باپ فوت ہوگئےاب یہ عورت جو رہی اس کا خاوند مراموافق شرع شریف کے اس کے خاوند کا جوکچھ ترکہ تھا تقسیم ہوگیااب یہ عورت مریاس کی کوئی اولاد نہیں دوبھائی اس کے ہیں ماں میں شریك نہیں ماں باپ الگ ہیںاب اس عورت کاترکہ کس طرح تقسیم ہو بیان کرواﷲ تعالی اجردے گا۔
الجواب:
شوہرمادر کے بیٹے جونہ اپنے باپ کے نطفے نہ اپنی ماں کے پیٹ سے ہوں وارث نہیںپس اگرعورت مذکورہ کاکوئی وارث شرعی مسلمان موجودنہیں نہ اس نے کسی کے لئے اپنے مال کی وصیت کردی تو اس کاکل مال بعد ادائے دین(اگر اس کے ذمہ ہو) محتاج بیکس مسلمانوں کو دے دیاجائے یا ان دواداروکفن میں صرف کیاجائے اگریہ پسران شوہر مادربیکس محتاج ہیں توانہیں بھی دیں یا انہیں کودے دیںغرض یہ محتاج ہوں تو بوجہ محتاجی مستحق ہوسکتے ہیں نہ بوجہ وراثت۔درمختار میں ہے:
ترکۃ بلاوارث مصرفہا لقیط فقیر وفقیر بلاولی وہ ایساترکہ جس کاکوئی وارث نہیںاس کا مصرف وہ گراپڑا بچاہے جس کو
حوالہ / References
الشریفیہ شرح السراجیۃ باب الحجب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۹€
اھ ملخصا۔ کسی فقیرنے اٹھالیایاایسافقیرہے جس کاکوئی ولی نہیں اھ ملخصا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ وفقیر بلاولی ای لیس لہ من تجب نفقتہ علیہ قال فی البحر یعطی منہ نفقتھم وادویتھم ویکفن بہ موتاھم ویعقل بہ جنایتھم اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ مصنف کاقول کہ "ایسافقیر جس کاولی نہیں" اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایساشخص موجود نہیں جس پر اس فقیر کانفقہ واجب ہو۔بحرمیں فرمایا کہ اس مال میں سے فقراء کا نفقہدوائیاں ان کے مردوں کاکفن اور ان کی جنایتوں کی دیت دی جائے گی اھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مصنف کاقول کہ"ایسافقیر جس کاولی نہیں"اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایساشخص موجود نہیں جس پر اس فقیر کانفقہ واجب ہو۔ بحرمیں فرمایا کہ اس مال میں سے فقراء کا نفقہدوائیاںان کے مردوں کاکفن اور ان کی جنایتوں کی دیت دی جائے گی اھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲: ازکلکتہ مدرسہ عالیہ مرسلہ مولوی سیدعبدالرؤف صاحب طالبعلم ساکن ڈھاکہ عشرہ شعبان المعظم ۱۳۱۴ھ
چہ می فرمایند علماء دین متین اندرینکہ شخصے درہنگام زوجہ وے اموال خودرابحین حیات خود درمیان ورثہ کہ ورائے اوچہار پسرویك دختربودند ہیچك اعتراض نکردہ واظہار انکاربرعدم شمار اودرمیان ورثہ نانمودہ باہتمام خودحصہ یك پسرراکہ بر تقدیر عدم شمار اودرمیان ورثہ دوبہرہ ازنہ سہام می شدی بہ زوجہ پسرکلاں وے درعوض کابین نوشتہ داد وباختیار خود رجسٹری نمود بعداز وفات زن بوقت اخذ پسران دیگربہرہائے خودرا دعوی نماید ومیگوید کہ ربع ازاموال متروکہ زن کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی بیوی نے اپنی زندگی میں شوہر کے سوا دیگر ورثاء میں جوکہ چاربیٹے اور ایك بیٹی ہیں اپنا مال تقسیم کردیااورشوہر نے تقسیم کے وقت کوئی اعتراض نہیں کیااور وارثوں میں اسے شمار نہ کئے جانے پرانکار ظاہرنہیں کیا بلکہ ورثاء کے درمیان اس کاشمارنہ ہونے کی صورت میں ہرایك بیٹے کو نو میں سے جو دوحصے ملتے ہیں ان کوبڑے بیٹے کی بیوی کے مہر کے عوض تحریر کرتے ہوئے اپنے
ردالمحتار میں ہے:
قولہ وفقیر بلاولی ای لیس لہ من تجب نفقتہ علیہ قال فی البحر یعطی منہ نفقتھم وادویتھم ویکفن بہ موتاھم ویعقل بہ جنایتھم اھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ مصنف کاقول کہ "ایسافقیر جس کاولی نہیں" اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایساشخص موجود نہیں جس پر اس فقیر کانفقہ واجب ہو۔بحرمیں فرمایا کہ اس مال میں سے فقراء کا نفقہدوائیاں ان کے مردوں کاکفن اور ان کی جنایتوں کی دیت دی جائے گی اھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مصنف کاقول کہ"ایسافقیر جس کاولی نہیں"اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایساشخص موجود نہیں جس پر اس فقیر کانفقہ واجب ہو۔ بحرمیں فرمایا کہ اس مال میں سے فقراء کا نفقہدوائیاںان کے مردوں کاکفن اور ان کی جنایتوں کی دیت دی جائے گی اھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲: ازکلکتہ مدرسہ عالیہ مرسلہ مولوی سیدعبدالرؤف صاحب طالبعلم ساکن ڈھاکہ عشرہ شعبان المعظم ۱۳۱۴ھ
چہ می فرمایند علماء دین متین اندرینکہ شخصے درہنگام زوجہ وے اموال خودرابحین حیات خود درمیان ورثہ کہ ورائے اوچہار پسرویك دختربودند ہیچك اعتراض نکردہ واظہار انکاربرعدم شمار اودرمیان ورثہ نانمودہ باہتمام خودحصہ یك پسرراکہ بر تقدیر عدم شمار اودرمیان ورثہ دوبہرہ ازنہ سہام می شدی بہ زوجہ پسرکلاں وے درعوض کابین نوشتہ داد وباختیار خود رجسٹری نمود بعداز وفات زن بوقت اخذ پسران دیگربہرہائے خودرا دعوی نماید ومیگوید کہ ربع ازاموال متروکہ زن کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی بیوی نے اپنی زندگی میں شوہر کے سوا دیگر ورثاء میں جوکہ چاربیٹے اور ایك بیٹی ہیں اپنا مال تقسیم کردیااورشوہر نے تقسیم کے وقت کوئی اعتراض نہیں کیااور وارثوں میں اسے شمار نہ کئے جانے پرانکار ظاہرنہیں کیا بلکہ ورثاء کے درمیان اس کاشمارنہ ہونے کی صورت میں ہرایك بیٹے کو نو میں سے جو دوحصے ملتے ہیں ان کوبڑے بیٹے کی بیوی کے مہر کے عوض تحریر کرتے ہوئے اپنے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۴€
ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۸۲€
ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۸۲€
بمن میرسد پس اگر ربع ازمابقی بعد ازاخذ زوجہ پسریکہ دوبہرہ ازنہ برضائے اویافتہ گرفتہ آید حیف علی الارث پسران دیگرلازم آید کہ زن درحین حیات خودبریں راضی ناشدہ زوج را اجمالا چیزے ازاموال خود دادہ راضی برعدم اخذ ترکہ وے نمودہ بود تاحیف علی الارث درحقوق فرزندان دیگرکہ ورائے پسرکلاں اوبودند لازم نیاید بینواتوجروا۔ اختیار سے رجسٹری کرانے کااہتمام کیا۔اب بیوی کی وفات کے بعد دوسرے بیٹوں کے اپنا حصہ لینے کے وقت خاوند دعوی کرتے ہوئے کہتاہے کہ بیوی کے متروکہ مال میں سے چوتھا حص مجھے ملتاہے۔چنانچہ خاوند کی رضامندی سے بڑے بیٹے کی بیوی کے نو۹ میں سے دو۲ حصے وصول کرنے کے بعد باقی میں سے خاوند کو اگر چوتھا حصہ دیاجائے تودوسرے بیٹوں کی میراث پرظلم لازم آتاہے کیونکہ عورت نے اپنی زندگی میں اس صورت حال پرراضی نہ ہوتے ہوئے شوہر کواپنے مال میں سے کوئی چیز دے کرترکہ میں سے کچھ نہ لینے پراس کو راضی کیاتاکہ دوسرے بیٹوں کے حقوق میں میراث پر ظلم لازم نہ آئے جوکہ اس کے بڑے بیٹے کے علاوہ ہیں۔بیان کرو اجردئیے جاؤگے۔(ت)
الجواب:
اگرچہ مسئلہ بس غریبہ کہ از اغرب مسائل توان گفت بعض علماء صورتے آوردہ اند تابصورت تخارج بحیات مورث کما ذکرہ فی الاشباہ عن طبقات الشیخ عبدالقادر عن خزانۃ الجرجانی عن ابی العباس الناطقی عن بعض مشائخہ وفی جامع الرموز عن الناطقی ثم اعقبہ عن الجواھربما ھو اوفق واقرب وفی جامع الفصولین عن جامع الفتاوی حکی قولین کما فی ردالمحتار اگرچہ مسئلہ بہت انوکھا ہے کہ اس کو سب سے انوکھا مسئلہ کہاجاسکتاہے بعض علماء نے اس کومورث کی زندگی میں تخارج کی صورت قراردیاہے جیسا کہ اشباہ میں طبقات شیخ عبد القادر سے بحوالہ خزانۃ الجرجانی نقل کیاہےاورجرجانی نے ابوالعباس ناطقی سے اس کے بعض مشائخ کے حوالے سے ذکر کیااورجامع الرموز میں ناطقی سے نقل کیاپھر اس کے بعد جواہر کے حوالے سے ذکرکیا جوکہ اوفق واقرب ہے۔اورجامع الفصولین میں جامع الفتاوی کے حوالے سے منقول کہ انہوں نے دو۲قول نقل کئے جیسا کہ ردالمحتار
الجواب:
اگرچہ مسئلہ بس غریبہ کہ از اغرب مسائل توان گفت بعض علماء صورتے آوردہ اند تابصورت تخارج بحیات مورث کما ذکرہ فی الاشباہ عن طبقات الشیخ عبدالقادر عن خزانۃ الجرجانی عن ابی العباس الناطقی عن بعض مشائخہ وفی جامع الرموز عن الناطقی ثم اعقبہ عن الجواھربما ھو اوفق واقرب وفی جامع الفصولین عن جامع الفتاوی حکی قولین کما فی ردالمحتار اگرچہ مسئلہ بہت انوکھا ہے کہ اس کو سب سے انوکھا مسئلہ کہاجاسکتاہے بعض علماء نے اس کومورث کی زندگی میں تخارج کی صورت قراردیاہے جیسا کہ اشباہ میں طبقات شیخ عبد القادر سے بحوالہ خزانۃ الجرجانی نقل کیاہےاورجرجانی نے ابوالعباس ناطقی سے اس کے بعض مشائخ کے حوالے سے ذکر کیااورجامع الرموز میں ناطقی سے نقل کیاپھر اس کے بعد جواہر کے حوالے سے ذکرکیا جوکہ اوفق واقرب ہے۔اورجامع الفصولین میں جامع الفتاوی کے حوالے سے منقول کہ انہوں نے دو۲قول نقل کئے جیسا کہ ردالمحتار
قلت ورأیت فی جامع الفصولین قدم قبلہ عن السیر الکبیر للامام محمد ماھو الموافق للاصول والمرافق للمعقول والمنقول کما اشرنا الی کل ذلك فیما علقنا علی ردالمحتار اما آں نیز بایں طورست کہ مورث ہریکے از ورثہ امالے دہدبرآں شرط کہ پس ازمرگ بہرہ ازامیرشش نباشد اینجا بعداستفسار حالے ظاہرشد کہ زن شوہر خود راچیزے ندادہ است بلکہ مالے بنام پسرپنجمین اوکہ از ہمخوابہ پیشین بودہ ہمراہ پسران خودش تعیین نمود وشوہر ہمبریں معنی راضی باسقاط حقش ازمیراث شد پس ایں نماند جز وعدہ تبرك ارث ووعدہ مجردہ جز قضا رانسزد فی الظھیریۃ والخانیۃ و الھندیۃ لایلزمہ الوفا بالمواعید ۔وفی الذخیرۃ و الھندیۃ ھذا وعد منہ ولایلزمہ بذلك شیئ خاصہ در امرمیراث کہ ھم باختیار وارث نیست بلکہ بناچار رسد فی الاشباہ میں ہےمیں کہتاہوں میں نے جامع الفصولین میں دیکھا کہ انہوں نے اس سے ماقبل امام محمد کی سیر کبیر سے وہ قول نقل فرمایا جو اصول کے موافق اورمعقول ومنقول کے مناسب ہے جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پراپنی تعلیق میں اس تمام کی طرف اشارہ کیاہے لیکن وہ بھی اس طورپر ہے کہ مورث وارثوں میں سے ہرایك کو اس شرط پرکچھ مال دے کہ اس کے مرنے کے بعد میراث میں ان کاکوئی حصہ نہیں ہوگا جبکہ اس جگہ تفتیش کے بعد یہ حالت ظاہرہوئی کہ عورت نے اپنے شوہر کو کوئی چیز نہیں دی بلکہ کچھ مال اپنے پانچویں بیٹے کے لئے جوکہ پہلے خاوند سے ہے اپنے دوسرے بیٹوں کے ساتھ مختص کیا۔ اورشوہر اس صورت پرمیراث میں سے اپناحق ساقط کرنے پر راضی ہواچنانچہ یہ میراث چھوڑنے کے وعدہ کے سواکچھ نہیں اور محض وعدہ سوائے قاضی کی قضا کے کسی شیئ کے لائق نہیں۔ظہیریہخانیہ اورہندیہ میں ہے کہ وعدوں کی وفا اس پرلازم نہیں۔ذخیرہ اورہندیہ میں ہے یہ اس کی طرف سے وعدہ ہواجس سے اس پرکچھ لازم نہیں آتا خصوصا میراث کے معاملے میں جووارث کے اختیار سے نہیں بلکہ جبری طور پر اسے پہنچتی ہے۔
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الاجارہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲€۷
الفتاوی الھندیۃ کتاب الاجارہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۷€
الفتاوی الھندیۃ کتاب الاجارہ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۷€
من القول فی الملك لایدخل فی ملك الانسان شیئ بغیر اختیارہ الا الارث اتفاقا و کذا الوصیۃ فی مسألۃ الخ خاصہ بحالے آں وعدہ پیش ازثبوت ارث ہم درحیات مورث صورت بست وپیداست کہ سقوط پیش ازثبوت معنی ندارد الاتری ان المرأہ لو اسقطت حقھا من القسم کان لہا الرجوع قال فی غمز العیون انما جازلہا الرجوع لان حقہا لم یکن ثابتا بعد فیکون مجرد وعد فلایلزم کالمعیر الخ ولہذا اگرمورث برائے وارثے وصیتے کرد ودیگران بحیاتش رضا دادندایں اجازت بجولے نیز زدوایشاں راپس ازمرگ مورث رجوع میرسد۔فی الدر المختار لاتعتبر اجازتھم حال حیاتہ اصلا بل بعد وفاتہ فی ردالمحتار لانھا قبل ثبوت الحق لھم لان ثبوتہ عندالموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف الاجازۃ بعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق اشباہ کے اندرملکیت کے قول میں ہے کہ انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیرکوئی شیئ داخل نہیں ہوتی مگرمیراث بالاتفاق اس کی ملکیت میں داخل ہوتی ہے اور اسی طرح وصیت ایك مسئلہ میں الخ خاص طورپر اس حال میں کہ وہ وعدہ بھی میراث کے ثبوت سے پہلے مورث کی زندگی میں رونما ہوا۔پس ظاہرہے کہ کسی چیز کے ثبوت سے پہلے اس کا ساقط ہوناکچھ معنی نہیں رکھتا۔کیاتو نہیں دیکھتا کہ عورت اگر اپنی باری کاحق ساقط کردے تو اسے رجوع کاحق ہوتاہے۔ غمز العیون میں کہاکہ اس کو رجوع کاحق اس لئے ہوتاہے کہ اس کاحق ابھی تك ثا بت نہیں ہوا تو یہ محض ایك وعدہ ہوگا جو لازم نہیں ہوتا جیسا کہ عاریت پردینے والاالخ اور یہی وجہ ہے کہ اگرمورث نے کسی وارث کے لئے وصیت کی اور دوسروں نے اس کی زندگی میں رضامندی ظاہرکردی تو یہ اجازت وجوب کے لائق نہیں اور ان وارثوں کومورث کے مرنے کے بعد رجوع کاحق حاصل ہے۔درمختار میں ہے مورث کی زندگی میں وارثوں کی اجازت بالکل معتبرنہیں بلکہ اس کی وفات کے بعد معتبرہے۔ردالمحتارمیں ہے اس لئے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۲€
غمزعیون البصائر الفن الثالث احکام النقد ومایتعین فیہ الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۶۲€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷€
غمزعیون البصائر الفن الثالث احکام النقد ومایتعین فیہ الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۶۲€
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷€
وتمامہ فی المنح پس دعوی شوہربجائے خودست آنچہ ہنگام مرگ زن درملك زن بودہ ربع اوبشرط عدم موانع ارث وتقدیم ماتقدم کالدین والوصیۃ بشوہرش می رسد وہیچ حیف درمیراث لازم نیست کہ آنچہ پسرکلاں پیش ازموت مورثہ یافت اگرمابلکہ بروجہ صحیح شرعی تملیك اوکردہ بودآں مقدار از ارث خودبیروں رفت کہ ارث متعلق نہ شود جزبترکہ و ترکہ نیست جزآنکہ ہنگام موت مورث درملك اوست۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کہ وہ اجازت ان کاحق ثابت ہونے سے پہلے واقع ہوئی ہے کیونکہ ان کاحق موت کے وقت ثا بت ہوتاہے تو ان کے لئے جائزہے کہ وہ مورث کی وفات کے بعد اس کو رد کردیں بخلاف مورث کی موت کے بعد ہونے والی اجازت کے کیونکہ وہ حق کے ثبوت اور اس کی تمامیت کے بعد واقع ہوئی ہے(المنح)چنانچہ شوہر کا دعوی برمحل ہےجوکچھ بوقت موت عورت کی ملکیت میں تھا اس کا چوتھا حصہ شوہر کوملے گا بشرطیکہ میراث سے روکنے والی کوئی چیز نہ پائی جائےاور جو چیزیں میراث سے مقدم ہیں انہیں مقدم کردیاگیا ہو جیسے قرض اوروصیت۔اور میراث میں کوئی ظلم لازم نہیں آتا کیونکہ عورت کی موت سے پہلے جوکچھ اس کے بڑے بیٹے نے پایا اگر مابلکہ نے شرعی طریقے پر اس کومالك بنادیاتھا تو اتنی مقدار خودمیراث سے خارج ہوگئی کیونکہ میراث کاتعلق ترکہ کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہوتا اورترکہ سوائے اس شیئ کے نہیں جو مورث کی موت کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۳: ازاٹنگہ مرسلہ حامدحسین خاں ۱۰شوال ۲ ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ماں اور تین حقیقی چچاوارث چھوڑے اور اس کی ماں کےانتقال ہندہ سے سال بھر بعدایك لڑکاپیداہواپس ترکہ ہندہ کا کس طرح منقسم ہوگابینواتوجروا۔
الجواب:
غیرمیت سے جوحمل ہو وہ صرف تین صورتوں میں وارث ہوسکتاہےیاتو وقت موت میت
مسئلہ ۳۳: ازاٹنگہ مرسلہ حامدحسین خاں ۱۰شوال ۲ ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ماں اور تین حقیقی چچاوارث چھوڑے اور اس کی ماں کےانتقال ہندہ سے سال بھر بعدایك لڑکاپیداہواپس ترکہ ہندہ کا کس طرح منقسم ہوگابینواتوجروا۔
الجواب:
غیرمیت سے جوحمل ہو وہ صرف تین صورتوں میں وارث ہوسکتاہےیاتو وقت موت میت
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
سے ٹھیك چھ مہینے پریا چھ مہینے کے اندرپیدا ہو یا اس کی ماں موت یاطلاق کی عدت میں ہو اور اس کے پیداہونے تك عدت گزرجانے کااقرارنہ کرے یاباقی وارث اقرار کرتے ہوں کہ یہ بچہ وقت موت میت اپنی ماں کے پیٹ میں تھا۔سائل مظہر کہ یہاں یہ صورتیں نہ تھیں کہ لڑکا موت ہندہ سے سال بھربعد پیدا ہوا اور اس کاباپ زندہ رہا اور ماں کو طلاق بھی نہ ہوئی کہ عدت میں ہوتی اور دیگر ورثہ کو تسلیم بھی نہیں کہ یہ وقت موت ہندہ اپنی ماں کے حمل میں تھا۔پس صورت مستفسرہ میں بر تقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کالدین والوصیۃ ترکہ ہندہ کانو سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم اس کی ماں اور دودوہرحقیقی چچا کو ملیں گے
فی ردالمحتار وان کان(ای الحمل)من غیرہ فانما یرث لو ولد لستۃ اشھر او اقل والا فلا الا اذا کانت معتدۃ و لم تقربا نقضائھا اواقرالورثۃ بوجودہ کما یعلم من سکب الانہر مع شرح ابن کمال وحاشیۃ یعقوب ۔ واﷲ تعالی اعلم ردالمحتار میں ہے اگرحمل میت کے غیرکا ہے تو وہ اس صورت میں وارث بنے گا اگروہ پورے چھ ماہ کی مدت میں یا اس سے کم ترمدت میں پیداہوورنہ نہیں بنے گا سوائے اس کے کہ اس کی ماں معتدہ ہو اور اس نے عدت گزرجانے کا اقرارنہ کیاہو یاوارث اقرارکریں کہ یہ مورث کی موت کے وقت موجود تھا جیسا کہ سکب الانہر مع شرح ابن کمال اور حاشیہ یعقوب سے معلوم ہوتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴: ازپیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اورفضلائے شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك شادی ہندہ سے کی اور بہ سبب ناچاقی طرفین کے ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور بعد کو اسی زید نے ایك شادی ایك طوائف سے کیبعدہزیدفوت ہوگیااوربعدفوت ہونے زید کے طوائف بھی فوت ہوگئی اور اس طوائف نے اپنی کچھ ملکیت چھوڑیتو اس ملکیت کامالك کون ہوگا جبکہ طوائف لاولد ہے آیا زیدکابھائی بہن یاہندہ یاکون ہوگا
فی ردالمحتار وان کان(ای الحمل)من غیرہ فانما یرث لو ولد لستۃ اشھر او اقل والا فلا الا اذا کانت معتدۃ و لم تقربا نقضائھا اواقرالورثۃ بوجودہ کما یعلم من سکب الانہر مع شرح ابن کمال وحاشیۃ یعقوب ۔ واﷲ تعالی اعلم ردالمحتار میں ہے اگرحمل میت کے غیرکا ہے تو وہ اس صورت میں وارث بنے گا اگروہ پورے چھ ماہ کی مدت میں یا اس سے کم ترمدت میں پیداہوورنہ نہیں بنے گا سوائے اس کے کہ اس کی ماں معتدہ ہو اور اس نے عدت گزرجانے کا اقرارنہ کیاہو یاوارث اقرارکریں کہ یہ مورث کی موت کے وقت موجود تھا جیسا کہ سکب الانہر مع شرح ابن کمال اور حاشیہ یعقوب سے معلوم ہوتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴: ازپیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اورفضلائے شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك شادی ہندہ سے کی اور بہ سبب ناچاقی طرفین کے ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور بعد کو اسی زید نے ایك شادی ایك طوائف سے کیبعدہزیدفوت ہوگیااوربعدفوت ہونے زید کے طوائف بھی فوت ہوگئی اور اس طوائف نے اپنی کچھ ملکیت چھوڑیتو اس ملکیت کامالك کون ہوگا جبکہ طوائف لاولد ہے آیا زیدکابھائی بہن یاہندہ یاکون ہوگا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الفرائض فصل فی الغرقٰی والحرقٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۱۱€
الجواب:
زن فاحشہ اگر ولدالزنا ہو تو اس کاترکہ اس کے مادری اقربا مثل مادر ومادر مادر وبرادر وخواہر مادری یاخالہ ماموں وغیرہم کوملے گا اوراگرولدالزنا نہ تھی تو اس کاترکہ مثل تمام لوگوں کے اقربائے پدری ومادری سب کو حسب فرائض پہنچے گا اور اگر اس کا کوئی وارث اصلا نہ ہوگا توفقرائے مسلمین پرتقسیم کردیاجائے گا کما ھو حکم سائر الضوائع(جیسا کہ تمام لاوارث چیزوں کا حکم ہے۔ت)بہرحال زید کے بہن بھائی یاہندہ کااس میں کوئی حق نہیں مگر جب کہ ثابت ہوکہ اس کاکوئی وارث شرعی نہیں اور ترکہ فقراء کودیناٹھہرے توان میں جو فقیرہو بحکم فقرمثل اورفقرأ کے پاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۵: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ دام ظلہم العالی ۱۳ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ترکہ حرامیوں کاکیسے تقسیم ہوباپ کی سمت تومفقودمحض ہوگئے ماں کی سمت کوپہنچے گا یااس کوبھی نہیںمثلا ایك عورت کی دوبیٹیاں ہیں اوردونوں حرام سےتوبعد فوت ایك اخت کے دوسری اخت وارثہ ہوگی یا نہیںاوراگر ایك اخت عقد کرکے پردہ نشین ہوگئی دوسری بدستور بے پردہ اور پیشہ کسب کا رکھتی ہے تو اس اخت تائبہ کاترکہ اس غیر تائبہ کو ملے گایانہیں اوراگرملتا ہو اور یہ تائبہ اس خیال سے کہ میراترکہ فاحشہ کو نہ ملے کہ اس کے فسق وفجور میں مددپہنچے گی اپنامال امورخیر میں صرف کردے تو یہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اولادزنا صرف مادری رشتوں سے وارث ومورث ہوتی ہے مثلا صورت مسئولہ میں ایك بہن دوسری کاترکہ اخت مادری ہوکر پائے گی نہ اخت عینیہاگرچہ دونوں ایك ہی شخص کے نطفہ سے ہوں۔درمختارمیں ہے:
یرث ولدالزنا واللعان بجھۃ الام فقط لما قدمناہ فی العصبات انہ لااب لہما ۔ زنا اورلعان کی اولاد فقط ماں کی جہت سے وارث بنتی ہے جیسا کہ ہم عصبات میں ذکرکرچکے ہیں ان دونوں کاکوئی باپ نہیں ہوتا(ت)
زن فاحشہ اگر ولدالزنا ہو تو اس کاترکہ اس کے مادری اقربا مثل مادر ومادر مادر وبرادر وخواہر مادری یاخالہ ماموں وغیرہم کوملے گا اوراگرولدالزنا نہ تھی تو اس کاترکہ مثل تمام لوگوں کے اقربائے پدری ومادری سب کو حسب فرائض پہنچے گا اور اگر اس کا کوئی وارث اصلا نہ ہوگا توفقرائے مسلمین پرتقسیم کردیاجائے گا کما ھو حکم سائر الضوائع(جیسا کہ تمام لاوارث چیزوں کا حکم ہے۔ت)بہرحال زید کے بہن بھائی یاہندہ کااس میں کوئی حق نہیں مگر جب کہ ثابت ہوکہ اس کاکوئی وارث شرعی نہیں اور ترکہ فقراء کودیناٹھہرے توان میں جو فقیرہو بحکم فقرمثل اورفقرأ کے پاسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۵: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ دام ظلہم العالی ۱۳ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ترکہ حرامیوں کاکیسے تقسیم ہوباپ کی سمت تومفقودمحض ہوگئے ماں کی سمت کوپہنچے گا یااس کوبھی نہیںمثلا ایك عورت کی دوبیٹیاں ہیں اوردونوں حرام سےتوبعد فوت ایك اخت کے دوسری اخت وارثہ ہوگی یا نہیںاوراگر ایك اخت عقد کرکے پردہ نشین ہوگئی دوسری بدستور بے پردہ اور پیشہ کسب کا رکھتی ہے تو اس اخت تائبہ کاترکہ اس غیر تائبہ کو ملے گایانہیں اوراگرملتا ہو اور یہ تائبہ اس خیال سے کہ میراترکہ فاحشہ کو نہ ملے کہ اس کے فسق وفجور میں مددپہنچے گی اپنامال امورخیر میں صرف کردے تو یہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اولادزنا صرف مادری رشتوں سے وارث ومورث ہوتی ہے مثلا صورت مسئولہ میں ایك بہن دوسری کاترکہ اخت مادری ہوکر پائے گی نہ اخت عینیہاگرچہ دونوں ایك ہی شخص کے نطفہ سے ہوں۔درمختارمیں ہے:
یرث ولدالزنا واللعان بجھۃ الام فقط لما قدمناہ فی العصبات انہ لااب لہما ۔ زنا اورلعان کی اولاد فقط ماں کی جہت سے وارث بنتی ہے جیسا کہ ہم عصبات میں ذکرکرچکے ہیں ان دونوں کاکوئی باپ نہیں ہوتا(ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی الغرقٰی والحرقٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۵€
اور جس طرح اخت تائبہ غیرتائبہ کی وارث ہوتی ہے یونہی غیرتائبہ تائبہ کی وارث ہوگی کہ زانیہ ہوناموانع میراث سے نہیں ہاں بخیال مذکورتائبہ کااپنے مال کو وجوہ خیرمیں صرف کردینا اور فاحشہ کے لئے میراث نہ چھوڑنا بتصریح علماء جائزبلکہ یہی افضل وبہترہے۔خلاصہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا فارادان یصرف الی وجوہ الخیرہ ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ ۔ اگرکسی شخص کی اولاد فاسق ہو اور وہ شخص چاہے کہ اپنامال نیکی کے کاموں میں خرچ کرے اور فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے۔تو یہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑنے سے بہترہے۔(ت)
بزازیہ میں ہے:
ان اراد ان یصرف مالہ الی الخیر وابنہ فاسق فالصرف الی الخیر افضل من ترکہ لہ لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگرکسی نے ارادہ کیاکہ وہ اپنا مال نیك کام میں خرچ کرے اس حال میں کہ اس کا بیٹا فاسق ہو۔اس بیٹے کے لئے مال چھوڑنے سے نیك کام میں خرچ کرناافضل ہے کیونکہ اس کے لئے مال چھوڑنا گناہ پرمدد کرناہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۶ و ۳۷: ازلکھنؤ محمودنگر اصح المطابع مرسلہ مولوی محمدعبدالعلی صاحب مدراسی ۱۷صفر۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مصرحہ ذیل میں:
سوال اول
شاہ محمدعیسی وشاہ محمدیعقوب وشاہ محمد فصاحت ہرسہ برادران حقیقی ایك جائداد مشترك پرقابض ودخیل تھےشاہ محمد عیسی نے انتقال کیادولڑکے تین لڑکیاں چھوڑیںلڑکے نے دو لڑکیوں کانکاح مختلف جگہوں پرکردیاوہ دونوں چندروز کے بعد مرگئیں۔اب تقسیم ترکہ کے
لوکان ولدہ فاسقا فارادان یصرف الی وجوہ الخیرہ ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ ۔ اگرکسی شخص کی اولاد فاسق ہو اور وہ شخص چاہے کہ اپنامال نیکی کے کاموں میں خرچ کرے اور فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے۔تو یہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑنے سے بہترہے۔(ت)
بزازیہ میں ہے:
ان اراد ان یصرف مالہ الی الخیر وابنہ فاسق فالصرف الی الخیر افضل من ترکہ لہ لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگرکسی نے ارادہ کیاکہ وہ اپنا مال نیك کام میں خرچ کرے اس حال میں کہ اس کا بیٹا فاسق ہو۔اس بیٹے کے لئے مال چھوڑنے سے نیك کام میں خرچ کرناافضل ہے کیونکہ اس کے لئے مال چھوڑنا گناہ پرمدد کرناہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۶ و ۳۷: ازلکھنؤ محمودنگر اصح المطابع مرسلہ مولوی محمدعبدالعلی صاحب مدراسی ۱۷صفر۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مصرحہ ذیل میں:
سوال اول
شاہ محمدعیسی وشاہ محمدیعقوب وشاہ محمد فصاحت ہرسہ برادران حقیقی ایك جائداد مشترك پرقابض ودخیل تھےشاہ محمد عیسی نے انتقال کیادولڑکے تین لڑکیاں چھوڑیںلڑکے نے دو لڑکیوں کانکاح مختلف جگہوں پرکردیاوہ دونوں چندروز کے بعد مرگئیں۔اب تقسیم ترکہ کے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الھبۃ الفصل الاول الجنس الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۴۰۰€
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ،الجنس الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲۳۷€
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ھامش الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ،الجنس الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲۳۷€
وقت ترکہ میں وہ حصہ جائداد بھی شامل کیاجائے جولڑکیوں کے باپ کی جائداد متروکہ مشترکہ میں سے ہوتایانہیںاورواضح رہے کہ وہ جائداد اولا شاہ محمد عیسیشاہ محمد فصاحت میں مشترك تھی۔پھربعد انتقال شاہ محمدعیسی کے ان کے لڑکے اور شاہ محمدیعقوب وشاہ محمد فصاحت میں مشترك رہی اور آج تك بدستور مشترك ہے صرف نام تینوں آدمیوں کاکاغذات سرکاری میں داخل ہے لیکن تحصیل وصول انتظام وغیرہ سب ایك جابالا شتراك ہوتاہے آپس میں بقدرحصہ کے لوگ تقسیم کرلیتے ہیں۔ لڑکیوں نے اپنی حیات میں اپناحصہ بھی نہیں مانگا اور نہ دینے کاعرف ہے۔خلاصہ یہ کہ اس جائداد میں جومشترك درمشترك ہے(یعنی پہلااشتراك ابن شاہ محمدعیسی و شاہ محمدیعقوب وشاہ محمدفصاحت میں اور دوسرا اشتراك شاہ محمد عیسی کے لڑکے اورلڑکیوں میں)ان لڑکیوں کے شوہروں کاکچھ حق ہوتاہے کہ نہیں تفصیل سے حوالہ قلم فرمائیے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالك ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگےلے یانہ لےدینے کاعرف ہویانہ ہواگرچہ کتنی ہی مدت ترك کوگزر جائےکتنے ہی اشتراك دراشتراك کی نوبت آئے اصلا کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گینہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہےیہاں تك کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃ کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی ملك زائل نہ ہوگی توشاہ محمدعیسی کے ترکہ میں بشرط عدم مانع ارث و وارث آخر وتقدیم دین ووصیتہردختر سات سہام سے ایك سہم کی مالك ہوئی اور ہردختر کے متروکہ سے بشرائط مذکورہ اگرلاولد تھی شوہر نصف ورنہ ربع کاجس کے ثبوت میں دوآیہ قرآنیہ:
"یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین "
وقولہ تعالی " ولکم نصف ما ترک اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔(ت)
اور اس کافرمان ہے اور تمہاری بیبیاں جو
الجواب:
ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالك ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگےلے یانہ لےدینے کاعرف ہویانہ ہواگرچہ کتنی ہی مدت ترك کوگزر جائےکتنے ہی اشتراك دراشتراك کی نوبت آئے اصلا کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گینہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہےیہاں تك کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃ کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی ملك زائل نہ ہوگی توشاہ محمدعیسی کے ترکہ میں بشرط عدم مانع ارث و وارث آخر وتقدیم دین ووصیتہردختر سات سہام سے ایك سہم کی مالك ہوئی اور ہردختر کے متروکہ سے بشرائط مذکورہ اگرلاولد تھی شوہر نصف ورنہ ربع کاجس کے ثبوت میں دوآیہ قرآنیہ:
"یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین "
وقولہ تعالی " ولکم نصف ما ترک اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔(ت)
اور اس کافرمان ہے اور تمہاری بیبیاں جو
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
ازوجکم ان لم یکن لہن ولد فان کان لہن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیۃ یوصین بہا اودین " چھوڑجائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہوپھر اگر ان کی اولاد ہوتو ان کے ترکہ میں سے چوتھائی ہے جووصیت وہ کرگئیں اور دین نکال کر۔(ت)
اشباہ میں ہے:
لایدخل فی ملك الانسان شیئ بغیر اختیارہ الا الارث اتفاقا الخ۔ انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیر کوئی شیئ داخل نہیں ہوتی مگر میراث بالاتفاق داخل ہوتی ہے الخ(ت)
اسی میں ہے:
لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ اذا الملك لایبطل بالترک ۔ اگروارث نے کہا کہ میں نے اپناحق چھوڑدیاہے تو اس کاحق باطل نہیں ہوگا کیونکہ ملك چھوڑدینے سے باطل نہیں ہوتا۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے:
لومات عن ابنین فقال احدھما ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترك بالترك بل ان کان عینا فلابد من التملیك وان کان دینا فلابد من الابراء ۔ اگرکوئی شخص دوبیٹے چھوڑکرمرگیا ان میں سے ایك نے کہا کہ میں نے میراث میں سے اپناحصہ چھوڑدیا تو اس کاحصہ باطل نہیں ہوگاکیونکہ وہ حصہ لازم ہے جوچھوڑدینے سے متروك نہیں ہوتا بلکہ اگروہ عین ہوتو اس کے لئے تملیك ضروری ہےاور اگردین ہو تو اس سے برأت کرناضروری ہے الخ(ت)
اشباہ میں ہے:
اشباہ میں ہے:
لایدخل فی ملك الانسان شیئ بغیر اختیارہ الا الارث اتفاقا الخ۔ انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیر کوئی شیئ داخل نہیں ہوتی مگر میراث بالاتفاق داخل ہوتی ہے الخ(ت)
اسی میں ہے:
لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ اذا الملك لایبطل بالترک ۔ اگروارث نے کہا کہ میں نے اپناحق چھوڑدیاہے تو اس کاحق باطل نہیں ہوگا کیونکہ ملك چھوڑدینے سے باطل نہیں ہوتا۔ (ت)
غمزالعیون میں ہے:
لومات عن ابنین فقال احدھما ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترك بالترك بل ان کان عینا فلابد من التملیك وان کان دینا فلابد من الابراء ۔ اگرکوئی شخص دوبیٹے چھوڑکرمرگیا ان میں سے ایك نے کہا کہ میں نے میراث میں سے اپناحصہ چھوڑدیا تو اس کاحصہ باطل نہیں ہوگاکیونکہ وہ حصہ لازم ہے جوچھوڑدینے سے متروك نہیں ہوتا بلکہ اگروہ عین ہوتو اس کے لئے تملیك ضروری ہےاور اگردین ہو تو اس سے برأت کرناضروری ہے الخ(ت)
اشباہ میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۲€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۲€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۶۰€
غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۶۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۲€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۶۰€
غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۶۰€
الحق لایسقط بتقادم الزمان ۔ زیادہ زمانے کے گزرجانے کی وجہ سے حق ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
اسی میں ظہیریہ سے ہے:
التعامل بخلاف النص لایعتبر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نص کے خلاف لوگوں کاتعامل معتبرنہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
سوال دوم
احمدی بی بی نے انتقال کیا ماں اورشوہر اورایك بھائی اوردوبہنوں کوچھوڑاچونکہ تقسیم ترکہ کا رواج نہ تھا اور نہ کسی نے اپنے حصہ کا اس وقت مطالبہ کیا اس وجہ سے احمدی بی بی کے زیورات اور برتن وغیرہ اسباب جہیز میں سے(جوکل شوہر کے قبضہ میں تھے)شوہر نے بہت کچھ اپنی دوسری منکوحہ کوپہناکرسسرال سے میکے رخصت کردیا اوربرتن میں سے بھی کچھ اپنے عزیز کو بوقت ضرورت دے دیا اورخود یعنی وہ شوہر بھی تھوڑے دنوں کے بعد انتقال کرگیااب یہاں چندباتیں دریافت طلب ہیں:
ایك یہ کہ احمدی بی بی کے ترکہ میں سے شوہر کاکتناہوناتھا
دوسرے جوزیور وغیرہ کہ شوہر نے اپنی پہلی بیوی مسماۃ احمدی کے ترکہ مشترکہ میں سے بلا اجازت دیگر ورثہ کے دوسری منکوحہ کوپہنادیا وہ اس کایعنی دوسری منکوحہ کاہوایاشوہر کے مرنے کے بعد پھرشوہر کی طرف عودکرآئے گا اورشوہر ہی کی ملك سمجھا جائے گا
تیسرے یہ کہ اب احمدی بی بی کے باقی ورثہ یعنی ماں باپ بھائی وغیرہ اپنا حصہ لینے پر مستعد ہوئے ہیں تو اب ان ورثہ کاحق ان زیورات اوربرتن وغیرہ میں بھی ہوتاہے یانہیں جو شوہر متوفی نے اپنی دوسری منکوحہ کوبلا اجازت پہنادئیے تھے اورعزیز کو دے دئیے تھے اگرہوتاہے تویہ حق اب کس طرح لیاجائےآیا ان زیورات اوربرتنوں کو دوسری منکوحہ اورعزیز سے واپس لے کرہرشخص بقدرحصے کے تقسیم کرے یا ان زیورات وغیرہ دے دی ہوئی چیزوں سے دستبردار ہوکرشوہر متوفی کے علاقہ سے بقدراپنے حصہ کے نقد روپیہ وصول کریں۔
اسی میں ظہیریہ سے ہے:
التعامل بخلاف النص لایعتبر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نص کے خلاف لوگوں کاتعامل معتبرنہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
سوال دوم
احمدی بی بی نے انتقال کیا ماں اورشوہر اورایك بھائی اوردوبہنوں کوچھوڑاچونکہ تقسیم ترکہ کا رواج نہ تھا اور نہ کسی نے اپنے حصہ کا اس وقت مطالبہ کیا اس وجہ سے احمدی بی بی کے زیورات اور برتن وغیرہ اسباب جہیز میں سے(جوکل شوہر کے قبضہ میں تھے)شوہر نے بہت کچھ اپنی دوسری منکوحہ کوپہناکرسسرال سے میکے رخصت کردیا اوربرتن میں سے بھی کچھ اپنے عزیز کو بوقت ضرورت دے دیا اورخود یعنی وہ شوہر بھی تھوڑے دنوں کے بعد انتقال کرگیااب یہاں چندباتیں دریافت طلب ہیں:
ایك یہ کہ احمدی بی بی کے ترکہ میں سے شوہر کاکتناہوناتھا
دوسرے جوزیور وغیرہ کہ شوہر نے اپنی پہلی بیوی مسماۃ احمدی کے ترکہ مشترکہ میں سے بلا اجازت دیگر ورثہ کے دوسری منکوحہ کوپہنادیا وہ اس کایعنی دوسری منکوحہ کاہوایاشوہر کے مرنے کے بعد پھرشوہر کی طرف عودکرآئے گا اورشوہر ہی کی ملك سمجھا جائے گا
تیسرے یہ کہ اب احمدی بی بی کے باقی ورثہ یعنی ماں باپ بھائی وغیرہ اپنا حصہ لینے پر مستعد ہوئے ہیں تو اب ان ورثہ کاحق ان زیورات اوربرتن وغیرہ میں بھی ہوتاہے یانہیں جو شوہر متوفی نے اپنی دوسری منکوحہ کوبلا اجازت پہنادئیے تھے اورعزیز کو دے دئیے تھے اگرہوتاہے تویہ حق اب کس طرح لیاجائےآیا ان زیورات اوربرتنوں کو دوسری منکوحہ اورعزیز سے واپس لے کرہرشخص بقدرحصے کے تقسیم کرے یا ان زیورات وغیرہ دے دی ہوئی چیزوں سے دستبردار ہوکرشوہر متوفی کے علاقہ سے بقدراپنے حصہ کے نقد روپیہ وصول کریں۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۵۳€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۸€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۸€
چوتھے اس کی تصریح فرمائیے کہ شوہر اپنی حین حیات میں جوزیورات اورکپڑے کہ اپنی زوجہ کو پہنادئیے یاپہننے کو دے دئیے تو وہ زوجہ کاہوجاتاہے یانہیں یعنی اگرشوہرمرجائے تو وہ زیورات اورکپڑے زوجہ سے واپس لے کر شامل ترکہ کریں گے یا نہیںبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بحالت صحت واختصاص وراثت وتقدیم دین ووصیتترکہ احمدی بی بی بارہ سہم پرتقسیم ہوکر دوسہم مادرچھ شوہردوبرادر ایك ایك ہرخواہر کاہوا۔شوہر جوزیوراپنی عورت کوپہنائے اگرصراحۃ دلالۃ لفظا عرفا کسی طرح ثابت ہوکہ اس سے مقصود زوجہ کومالك کردیناہے توعورت بعد قبضہ مالك ہوجاتی ہے ورنہ نہیں۔یہی حال ثیاب ونفقہ کے سوا ان بھاری گرانبہا جوڑوں کاہے جوشادی براتوں میں آنے جانے کے لئے پہنتے ہیں عورت کاصرف پہننا برتنادلیل ملك نہیں کہ زن وشوہر اپنے اپنے باہمی انبساط کے باعث ایك دوسرے کے ملك سے تمتع کیا ہی کرتے ہیں۔ بحرالرائق و عقودالدریہ میں ہے:
لایکون استمتاعھا بمشربہ ورضاہ بذلك دلیلا علی ان ملکہا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام و قد افتیت بذلك مرارا ۔ عورت کاشوہر کی خواہش اوررضامندی سے زیور وغیرہ سے نفع اٹھانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت کی ملك ہے جیسا کہ عورتیں اورعوام سمجھتے ہیں حالانکہ میں کئی بار یہ فتوی دے چکاہوں۔(ت)
پس وہ زیور کہ شوہر احمدی بی بی نے اپنی زوجہ ثانیہ کوپہنایا اور وہ برتن کہ عزیز کودئیے اگر ان میں دلیل ہبہ وتملیك ثابت نہ ہوجب توظاہر ہے کہ وہ زوجہ ثانیہ وعزیز مذکور سے واپس لے کروارثان شوہر وبقیہ ورثہ احمدی بی بی پرنصفا نصف منقسم ہوں گے۔ہرچیز کانصف کہ حق شوہر تھا زوجہ ثانیہ ودیگرورثہ شوہر کوحسب فرائض پہنچے گا اور نصف باقی انہیں چھ سہام مذکورہ ہر مادروبرادر وخواہران احمدی بی بی کو اور اگرثابت ہوکہ شوہر نے یہ زیوربرتن زوجہ وعزیز کوہبہ کردئیے تھے تاہم وہ ہبہ ہرشیئ کے نصف میں کہ مملوك بقیہ ورثہ احمدی بی بی تھا بوجہ ناراضی مالکان باطل و
الجواب:
بحالت صحت واختصاص وراثت وتقدیم دین ووصیتترکہ احمدی بی بی بارہ سہم پرتقسیم ہوکر دوسہم مادرچھ شوہردوبرادر ایك ایك ہرخواہر کاہوا۔شوہر جوزیوراپنی عورت کوپہنائے اگرصراحۃ دلالۃ لفظا عرفا کسی طرح ثابت ہوکہ اس سے مقصود زوجہ کومالك کردیناہے توعورت بعد قبضہ مالك ہوجاتی ہے ورنہ نہیں۔یہی حال ثیاب ونفقہ کے سوا ان بھاری گرانبہا جوڑوں کاہے جوشادی براتوں میں آنے جانے کے لئے پہنتے ہیں عورت کاصرف پہننا برتنادلیل ملك نہیں کہ زن وشوہر اپنے اپنے باہمی انبساط کے باعث ایك دوسرے کے ملك سے تمتع کیا ہی کرتے ہیں۔ بحرالرائق و عقودالدریہ میں ہے:
لایکون استمتاعھا بمشربہ ورضاہ بذلك دلیلا علی ان ملکہا ذلك کما تفھمہ النساء والعوام و قد افتیت بذلك مرارا ۔ عورت کاشوہر کی خواہش اوررضامندی سے زیور وغیرہ سے نفع اٹھانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عورت کی ملك ہے جیسا کہ عورتیں اورعوام سمجھتے ہیں حالانکہ میں کئی بار یہ فتوی دے چکاہوں۔(ت)
پس وہ زیور کہ شوہر احمدی بی بی نے اپنی زوجہ ثانیہ کوپہنایا اور وہ برتن کہ عزیز کودئیے اگر ان میں دلیل ہبہ وتملیك ثابت نہ ہوجب توظاہر ہے کہ وہ زوجہ ثانیہ وعزیز مذکور سے واپس لے کروارثان شوہر وبقیہ ورثہ احمدی بی بی پرنصفا نصف منقسم ہوں گے۔ہرچیز کانصف کہ حق شوہر تھا زوجہ ثانیہ ودیگرورثہ شوہر کوحسب فرائض پہنچے گا اور نصف باقی انہیں چھ سہام مذکورہ ہر مادروبرادر وخواہران احمدی بی بی کو اور اگرثابت ہوکہ شوہر نے یہ زیوربرتن زوجہ وعزیز کوہبہ کردئیے تھے تاہم وہ ہبہ ہرشیئ کے نصف میں کہ مملوك بقیہ ورثہ احمدی بی بی تھا بوجہ ناراضی مالکان باطل و
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی لایکون استمتاع المرأۃ بما اشتراہ زوجہا الخ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۵€
بے اثر ہوا وہ ہرچیز کانصف زوجہ وعزیز سے بٹواسکتے ہیںباوصف بقائے عین متروکہ خواہی نخواہی اخذ قیمت پرمجبورنہ کئے جائیں گے کہ ہرعدد کانصف ان موہوب لہما کے ہاتھ میں بطور غصب تھا اور مغصوب جب تك بعینہ قائم ہوحکم اس کا ردعین ہے نہ کہ ایجاب ضمان۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الید ما اخذت حتی تؤدی رواہ احمد والاربعۃ والحاکم عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاتھ پرلازم ہے جوکچھ اس نے لیا یہاں تك کہ وہ اس کو اداکردے۔اس کو امام احمدبن حنبل اوراصحاب سنن اربعہ اورامام حاکم نے سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیاہے۔(ت)
ہاں نصف دیگرکہ حق شوہر تھابوجہ ہبہ شوہروقبضہ موہوب لہما وازانجاکہ زیور وبرتن دونوں ایسی چیزہیں جن کا ایك ایك عدد جداگانہ قابل تبعیض نہیں۔
ولایضر الشیوع فیما یضرہ التبعیض لکونہ ممالا یحتمل القسمۃ ولذاجاز ھبۃ درھم صحیح من رجلین علی الصحیح کما فی الخانیۃ وغیرھا وقال فی الحادی والثلثین من جامع الفصولین الشائع ینقسم علی قسمین شائع یحتمل القسمۃ کنصف الدار و نصف البیت الکبیر وشائع لایحتملہا کنصف قن و رحی وحمام وثوب وبیت صغیر فالفاصل بینھما غیرمنقسم ہونا اس چیزمیں نقصان دہ نہیں جس میں تقسیم نقصان دہ ہے اس وجہ سے کہ وہ ان چیزوں میں سے ہے جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتیں اسی لئے دوشخصوں کوایك درھم کا ہبہ صحیح قول کے مطابق درست ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے۔اورجامع الفصولین کی اکتیسویں فصل میں کہا کہ غیر منقسم جوتقسیم کا احتمال رکھتاہے جیسے گھرکانصف اوربڑے مکان کانصف(۲)وہ غیرمنقسم جوتقسیم کااحتمال نہیں رکھتا جیسے غلامچکیحمامکپڑے اور
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الید ما اخذت حتی تؤدی رواہ احمد والاربعۃ والحاکم عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاتھ پرلازم ہے جوکچھ اس نے لیا یہاں تك کہ وہ اس کو اداکردے۔اس کو امام احمدبن حنبل اوراصحاب سنن اربعہ اورامام حاکم نے سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیاہے۔(ت)
ہاں نصف دیگرکہ حق شوہر تھابوجہ ہبہ شوہروقبضہ موہوب لہما وازانجاکہ زیور وبرتن دونوں ایسی چیزہیں جن کا ایك ایك عدد جداگانہ قابل تبعیض نہیں۔
ولایضر الشیوع فیما یضرہ التبعیض لکونہ ممالا یحتمل القسمۃ ولذاجاز ھبۃ درھم صحیح من رجلین علی الصحیح کما فی الخانیۃ وغیرھا وقال فی الحادی والثلثین من جامع الفصولین الشائع ینقسم علی قسمین شائع یحتمل القسمۃ کنصف الدار و نصف البیت الکبیر وشائع لایحتملہا کنصف قن و رحی وحمام وثوب وبیت صغیر فالفاصل بینھما غیرمنقسم ہونا اس چیزمیں نقصان دہ نہیں جس میں تقسیم نقصان دہ ہے اس وجہ سے کہ وہ ان چیزوں میں سے ہے جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتیں اسی لئے دوشخصوں کوایك درھم کا ہبہ صحیح قول کے مطابق درست ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے۔اورجامع الفصولین کی اکتیسویں فصل میں کہا کہ غیر منقسم جوتقسیم کا احتمال رکھتاہے جیسے گھرکانصف اوربڑے مکان کانصف(۲)وہ غیرمنقسم جوتقسیم کااحتمال نہیں رکھتا جیسے غلامچکیحمامکپڑے اور
حوالہ / References
جامع الترمذی ∞۲/ ۱۵۲€ و سنن ابی داؤد ∞۲ /۱۴۵€ وسنن ابن ماجہ ∞ص۱۷۵€ ومسند احمدبن حنبل ∞۵ /۸€
فتاوی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ھبۃ المشاع ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۹€
فتاوی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ھبۃ المشاع ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۹€
حرف واحد وھو ان القاضی لو اجبر احد الشریکین علی القسمۃ بطلب الاخر فہو من القسم الاول ولو لم یجبرفہو من الثانی اذا الجبر آیۃ القبول اھ وفی القسمۃ الھندیۃ الاوانی المتخذۃ من اصل واحد کالاجانۃ والقمقمۃ والطست المتخذۃ من صفر ملحقۃ بمختلفۃ الجنس فلا یقسمہا القاضی جبرا کذا فی العنایۃ ویقسم تبرالفضۃ والذھب وما اشبہ ذلك مما لیس بمصوغ الخ۔ چھوٹے مکان کانصف۔ان دونوں قسموں کے درمیان فرق ایك لفظ کے ساتھ ہے اور وہ یہ کہ اگرقاضی نے دوشریکوں میں سے ایك کو دوسرے کے مطالبے کی وجہ سے تقسیم پر مجبور کیا تو وہ پہلی قسم سے ہےاوراگرمجبور نہیں کیا تو وہ دوسری قسم سے کیونکہ جبرقبول کرنے کی نشانی ہے الخ ہندیہ کی کتاب القسمۃ میں ہے کہ ایك ہی مادہ سے بنائے جانے والے برتن جیسے ٹبدیگچہ اور تھال جوکہ پیتل سے بنائے گئے ہوں وہ ان چیزوں کے ساتھ ملحق ہوتے ہیں جن کی جنسیں مختلف ہوںچنانچہ قاضی ان کو جبرا تقسیم نہیں کرے گا۔عنایہ میں یونہی ہےاورسونے چاندی کے ٹکڑوں اورجوان کے مشابہ ہے جسے پگھلایانہ گیاہو کو قاضی جبرا تقسیم کرے گا الخ(ت)
وہ برتن اورزیور زوجہ ثانیہ وعزیز مذکور کی ملك ہوگیا جن سے اب واپسی ممکن نہیں لمکان الزوجیۃ وموت الواہب وکلاھما یمنع الرجوع(زوجیت کی موجودگی اورواہب کی موت کے سبب سے اور وہ دونوں رجوع سے مانع ہیں۔ت)اس بیان سے تمام مراتب مسئولہ کا جواب واضح ہوگیا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۳۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی حیات میں بحالت نفاذ تصرفات ایك دکان اپنے نبیرہ کے نام اپنے روپے سے خریدکردی اور اسے بولایت اس کے باپ کے اس دکان پرقبضہ کرادیااب زید نے انتقال کیااس صورت میں وہ دکان حسب فرائض ورثہ زید پر منقسم ہوجائے گی یاصرف نبیرہ کو ملے بینوا توجروا۔
وہ برتن اورزیور زوجہ ثانیہ وعزیز مذکور کی ملك ہوگیا جن سے اب واپسی ممکن نہیں لمکان الزوجیۃ وموت الواہب وکلاھما یمنع الرجوع(زوجیت کی موجودگی اورواہب کی موت کے سبب سے اور وہ دونوں رجوع سے مانع ہیں۔ت)اس بیان سے تمام مراتب مسئولہ کا جواب واضح ہوگیا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۳۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی حیات میں بحالت نفاذ تصرفات ایك دکان اپنے نبیرہ کے نام اپنے روپے سے خریدکردی اور اسے بولایت اس کے باپ کے اس دکان پرقبضہ کرادیااب زید نے انتقال کیااس صورت میں وہ دکان حسب فرائض ورثہ زید پر منقسم ہوجائے گی یاصرف نبیرہ کو ملے بینوا توجروا۔
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الحادی والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۸€۲
الفتاوی الھندیۃ کتاب القسمۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۰۹€
الفتاوی الھندیۃ کتاب القسمۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۰۹€
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب کہ زید نے وہ دکان اس کے نام خریدی اوربولایت اس کے پدر کے اسے قابض کردیا تووہ نبیرہ اس کا مالك ہوگیا اور وہ دکان متروکہ زید نہ قرارپائے گی کہ حسب فرائض اس کے ورثہ پرتقسیم ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك بیٹا اور ایك بیٹی وارث چھوڑ کر انتقال کیا اور ہندہ نے اپنے پوتوں میں سے ایك پوتے کوجسے اپنا متبنی کیاتھا نسبت اپنی جائداد کے وصیت کیا بعد انتقال ہندہ اس کے ورثہ مذکورین اورنبیرہ موصی لہ میں پنچایت ہوئی سرپنچ و پنچان مقبولہ فریقین نے فیصلہ کردیا کہ تین بسوہ جائداد ہندہ سے بابت وصیت نافذہ فی الثلث نبیرہ موصی لہ کو دئیے اور باقی مال ورثہ پرتقسیم کردیا۔اب پسرہندہ نے انتقال کیا اس کے اور بیٹے اپنے بھائی پردعوی کرتے ہیں کہ وہ تین بسوہ حسب فرائض ہم پرمنقسم ہوجائیںاس صورت میں حکم شرع کیاہے بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ تین بسوہ کہ نبیرہ موصی لہ نے بابت وصیت حسب فیصلہ پنچایت پائے ان کامالك صرف یہی موصی لہ ہے۔اس کے اوربھائیوں کا اس میں کچھ حق دعوی نہیںنہ وہ حسب فرائض ان پرتقسیم ہوسکیں کہ یہ متروکہ ان کے باپ کانہیں بلکہ اسے مال جدہ سے از روئے وصیت پہنچے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام محمد فوت ہوا اس نے ایك زوجہ اور ایك پسر اورسہ دختران وارث اپنے چھوڑےذی مہرقابض جائدادہے ترہ مورث کاتقسیم نہیں ہونے دیتی اورکہتی ہے پانچ ہزارروپیہ دین مہرمیرے کابموجب وصیت مورث کے اداکردوبعدادا کرنے دین مہر کے جائداد تقسیم کرلو۔اس صورت میں ترکہ مورث کابدوں ادائے دین مہر کے تقسیم ہوسکتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ادائے دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہے پس جب تك مہر اور دیگردیون بھی اگرہوں ادانہ ہولیں
صورت مستفسرہ میں جب کہ زید نے وہ دکان اس کے نام خریدی اوربولایت اس کے پدر کے اسے قابض کردیا تووہ نبیرہ اس کا مالك ہوگیا اور وہ دکان متروکہ زید نہ قرارپائے گی کہ حسب فرائض اس کے ورثہ پرتقسیم ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك بیٹا اور ایك بیٹی وارث چھوڑ کر انتقال کیا اور ہندہ نے اپنے پوتوں میں سے ایك پوتے کوجسے اپنا متبنی کیاتھا نسبت اپنی جائداد کے وصیت کیا بعد انتقال ہندہ اس کے ورثہ مذکورین اورنبیرہ موصی لہ میں پنچایت ہوئی سرپنچ و پنچان مقبولہ فریقین نے فیصلہ کردیا کہ تین بسوہ جائداد ہندہ سے بابت وصیت نافذہ فی الثلث نبیرہ موصی لہ کو دئیے اور باقی مال ورثہ پرتقسیم کردیا۔اب پسرہندہ نے انتقال کیا اس کے اور بیٹے اپنے بھائی پردعوی کرتے ہیں کہ وہ تین بسوہ حسب فرائض ہم پرمنقسم ہوجائیںاس صورت میں حکم شرع کیاہے بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ تین بسوہ کہ نبیرہ موصی لہ نے بابت وصیت حسب فیصلہ پنچایت پائے ان کامالك صرف یہی موصی لہ ہے۔اس کے اوربھائیوں کا اس میں کچھ حق دعوی نہیںنہ وہ حسب فرائض ان پرتقسیم ہوسکیں کہ یہ متروکہ ان کے باپ کانہیں بلکہ اسے مال جدہ سے از روئے وصیت پہنچے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلام محمد فوت ہوا اس نے ایك زوجہ اور ایك پسر اورسہ دختران وارث اپنے چھوڑےذی مہرقابض جائدادہے ترہ مورث کاتقسیم نہیں ہونے دیتی اورکہتی ہے پانچ ہزارروپیہ دین مہرمیرے کابموجب وصیت مورث کے اداکردوبعدادا کرنے دین مہر کے جائداد تقسیم کرلو۔اس صورت میں ترکہ مورث کابدوں ادائے دین مہر کے تقسیم ہوسکتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ادائے دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہے پس جب تك مہر اور دیگردیون بھی اگرہوں ادانہ ہولیں
تقسیم نہ کرناچاہئے مگرہاں تعین مقدار پنج ہزاروپیہ میں تفصیل ہے اگریہ مقدار سوا اقرار مورث کے دوسرے طریقہ سے بھی ثابت ہے یامورث کاوہ مرض جس میں اس نے انتقال کیا مرض موت یعنی ایسا مرض نہ تھا جس میں غالب ہلاك ہوتا ہو یا اس کے سب سے وہ صاحب فراش یا کارہائے بیرون خانہ سے عاجز ہوگیا ہو یاورثہ نے بعد اقرار حیات مورث میں خواہ اس کے بعد تصدیق اس مقدار کے کئے تھے گو اب مجیز نہ ہوں یایہ مقدار مہرمثل زوجہ سے زائد نہیں تو ان سب صورتوں میں پورے پانچ ہزار دینالازم ہیں ورنہ بقدرمہر مثل دلایاجائے گا اورقدر زائد میں اقرار مورث کااعتبارنہ کیاجائے گا۔
فی الھندیۃ اقرفی مرض موتہ بدین من مہر لامرأۃ یصدق الی تمام مہرمثلہا وتحاص غرماء الصحۃ کذا فی خزانۃ المفتین ولواقرلہا بزیادۃ علی مھر مثلہا فالزیادۃ باطلۃ کذا فی المبسوط ۔ ہندیہ میں ہے کسی شخص نے مرض الموت میں اپنی بیوی کے لئے دین مہر کا اقرار کیاتو تمام مہرمثل تك اس کے اقرار کی تصدیق کی جائے گی اور وہ بیوی صحت کے قرضخواہوں میں شامل ہوجائے گی۔خزانۃ المفتین میں یونہی ہے اور اگربیوی کیلئے مہرمثل سے زائد کا اقرار کیاتو زیادتی باطل ہےمبسوط میں یونہی ہے۔(ت)
مسئلہ ۴۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ فوت ہوئی زیدپسرعائشہ دخترخالد زوج وارث چھوڑے۔زیور و اسباب متروکہ ہندہخالد اپنے تصرف میں لایا بعدہخالد بھی فوت ہوا۔فاطمہ زوجہ اورزید وعائشہ پسرودختر وارث چھوڑے۔ مہربندہ کاذمہ خالد ہےآیا زیدوعائشہ کوترکہ خالد سے مطالبہ اس زیورواسباب کاپہنچ سکتاہے یانہیں اورمہرہندہ تقسیم ترکہ پر مقدم ہوگایانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی زید وعائشہ کومطالبہ اپنے سہام شرعیہ کا اس زیورواسباب کے متروکہ خالد سے پہنچتاہے اور ان سہام اورنیز مہر ہندہ اورمہرفاطمہ بھی اگرہوتقسیم ترکہ پرمقدم ہے۔
فی الھندیۃ اقرفی مرض موتہ بدین من مہر لامرأۃ یصدق الی تمام مہرمثلہا وتحاص غرماء الصحۃ کذا فی خزانۃ المفتین ولواقرلہا بزیادۃ علی مھر مثلہا فالزیادۃ باطلۃ کذا فی المبسوط ۔ ہندیہ میں ہے کسی شخص نے مرض الموت میں اپنی بیوی کے لئے دین مہر کا اقرار کیاتو تمام مہرمثل تك اس کے اقرار کی تصدیق کی جائے گی اور وہ بیوی صحت کے قرضخواہوں میں شامل ہوجائے گی۔خزانۃ المفتین میں یونہی ہے اور اگربیوی کیلئے مہرمثل سے زائد کا اقرار کیاتو زیادتی باطل ہےمبسوط میں یونہی ہے۔(ت)
مسئلہ ۴۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ فوت ہوئی زیدپسرعائشہ دخترخالد زوج وارث چھوڑے۔زیور و اسباب متروکہ ہندہخالد اپنے تصرف میں لایا بعدہخالد بھی فوت ہوا۔فاطمہ زوجہ اورزید وعائشہ پسرودختر وارث چھوڑے۔ مہربندہ کاذمہ خالد ہےآیا زیدوعائشہ کوترکہ خالد سے مطالبہ اس زیورواسباب کاپہنچ سکتاہے یانہیں اورمہرہندہ تقسیم ترکہ پر مقدم ہوگایانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی زید وعائشہ کومطالبہ اپنے سہام شرعیہ کا اس زیورواسباب کے متروکہ خالد سے پہنچتاہے اور ان سہام اورنیز مہر ہندہ اورمہرفاطمہ بھی اگرہوتقسیم ترکہ پرمقدم ہے۔
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الاقرار الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۷۶€
مسئلہ ۴۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حیات ایك دخترسارہ اور ایك شوہر امیرالدین وارث اپنے چھوڑ کر فوت ہوئی بعدہ شوہر کا زوجہ فتح خاتون اورمریم اورتین پسرعلاء الدین بطن فتح خاتون سے اورحمید الدینبشیرالدین بطن مریم سے اور تین دختر سارہ بطن حیات خاتون اورسکینہ وہندہ بطن مریم سے وارث اپنے چھوڑ کرمرگیا اورامیرالدین نے اپنی حیات میں بحالت نفاذ تصرفات ایك حصہ اپنی جائداد کافتح خاتون اورعلاء الدین کودے کرالگ کردیاتھا اس صورت میں امیرالدین کو متروکہ حیات خاتون سے کیاملے گا اور وہ ورثہ امیرالدین پرکیونکر تقسیم ہوگا اورفتح خاتون و علاء الدین بھی ترکہ امیرالدین سے حصہ پائیں گے یابسبب اس کے کہ وہ بقدراپنے حصص کے حیات مورث میں لے کرجداہوگئے تھے اب نہ پائیں گے۔ بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی الخ متروکہ حیات خاتون سے چہارم امیرالدین کوملے گا اوروہ مثل اس کے اور متروکات کے بشرط عدم موانع ارث ووارث اخروتقدیم دیون ومہور زنان و وصایا ۱۴۴ سہام پرمنقسم ہوکر ۹۹سہام فتح خاتون و مریم اور ۲۸۲۸علاء الدین وحمیدالدین و بشیرالدین اور ۱۴۱۴سارہ وسکینہ وہندہ کوملیں گے اورامیرالدین کے فتح خاتون وعلاء الدین کوایك پارہ جائداد دے کرالگ کردینا مانع ارث نہیں مگر ہاں اگریہ دینابطریق تصالح وتخارج تھا یعنی امیرالدین نے وہ جائداد ان دونوں کو اس شرط سے دی تھی کہ یہ میں تمہارے اس حصہ میں دیتاہوں جوتمہیں بعد میرے پہنچے اب تمہیں میرے بعد میری جائداد میں استحقاق میراث نہیں اور انہوں نے اس معنی کوقبول کرلیا اور اس پرراضی ہوگئے تو اب انہیں دعوی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنا حصہ برضائے خود پہلے ہی لے چکے صرح بذلك الشیخ العلامۃ عبدالقادر فی الطبقات(شیخ علامہ عبدالقادر نے طبقات میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور جائداد پرقبضہ چھوڑا اور دین مہر(لہ صہ)روپیہ چھوڑا کچھ جائداد وصی وارثوں نے اپنے قبضہ میں لے لیبقیہ جائداد مسماۃ نے یعنی زوجہ متوفی نے بہ مجبوری بہ خوف کمی قیمت تصفیہ دین مہرفروخت کرکے قرضہ شوہر اداکیا اور آپ کچھ نہ لیااب ورثہ دعوی کرتے ہیں پس بلاادائے مہراور قرضہ یہ دعوی صحیح ہے یانہیں اور شرعا ایسی بیع درست ہے یانہیں اور
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی الخ متروکہ حیات خاتون سے چہارم امیرالدین کوملے گا اوروہ مثل اس کے اور متروکات کے بشرط عدم موانع ارث ووارث اخروتقدیم دیون ومہور زنان و وصایا ۱۴۴ سہام پرمنقسم ہوکر ۹۹سہام فتح خاتون و مریم اور ۲۸۲۸علاء الدین وحمیدالدین و بشیرالدین اور ۱۴۱۴سارہ وسکینہ وہندہ کوملیں گے اورامیرالدین کے فتح خاتون وعلاء الدین کوایك پارہ جائداد دے کرالگ کردینا مانع ارث نہیں مگر ہاں اگریہ دینابطریق تصالح وتخارج تھا یعنی امیرالدین نے وہ جائداد ان دونوں کو اس شرط سے دی تھی کہ یہ میں تمہارے اس حصہ میں دیتاہوں جوتمہیں بعد میرے پہنچے اب تمہیں میرے بعد میری جائداد میں استحقاق میراث نہیں اور انہوں نے اس معنی کوقبول کرلیا اور اس پرراضی ہوگئے تو اب انہیں دعوی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنا حصہ برضائے خود پہلے ہی لے چکے صرح بذلك الشیخ العلامۃ عبدالقادر فی الطبقات(شیخ علامہ عبدالقادر نے طبقات میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید فوت ہوا اور جائداد پرقبضہ چھوڑا اور دین مہر(لہ صہ)روپیہ چھوڑا کچھ جائداد وصی وارثوں نے اپنے قبضہ میں لے لیبقیہ جائداد مسماۃ نے یعنی زوجہ متوفی نے بہ مجبوری بہ خوف کمی قیمت تصفیہ دین مہرفروخت کرکے قرضہ شوہر اداکیا اور آپ کچھ نہ لیااب ورثہ دعوی کرتے ہیں پس بلاادائے مہراور قرضہ یہ دعوی صحیح ہے یانہیں اور شرعا ایسی بیع درست ہے یانہیں اور
دعوی تقسیم بلاتصفیہ مہرہوسکتاہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
تقریرسوال سے ظاہر کہ دین ترکہ کومحیط تھا اور درصورت احاطہ دین ورثہ کے لئے ترکہ میں ملك ثابت نہیں ہوتی نہ بے فراغ ذمہ بادایاابراء باہم تقسیم کرسکیں۔
فی الاشباہ والنظائر الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث قال فی جامع الفصولین من الفصل الثامن و العشرین لواستغرقہا الدین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ او اداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء الخ ۔ الاشباہ والنظائر میں ہے جوقرض ترکہ کااحاطہ کرنے والا ہو وہ ملك وارث سے مانع ہےجامع الفصولین کی اٹھائیسویں فصل میں ہے اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرے تو بطورمیراث کوئی اس کا مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ قرضخواہ میت کوبری الذمہ قراردے دے یاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرتے ہوئے اس کو اداکردے الخ(ت)
پس زوجہ زید نے کہ جائداد متروکہ بیچ کر زید کو باردیون سے سبکدوش کیا اور ان قرضخواہوں میں ایك خود وہ تھی جس نے آپ کچھ نہ لیا اور باقی دائنوں نے جنہیں اختیار نقض بیع حاصل تھاثمن مبیعہ سے اپنااپنا قرض لیا اور بیع پرکچھ اعتراض نہ کیا تو اب ورثہ زید کہ بغرض تقسیم وتصرف بے جا بے قصد استخلاص ترکہ بادائے مہرو دیگر دیون دعوی کرتے ہیں یہ دعوی ان کامحض نام قبول اورشرعا قابل سماعت سے معزول۔
فی فتاوی الفاضل العلامۃ خیرالدین الرملی رحمۃ اﷲ علیہ سئل فی رجل مات وعلیہ دین فباع بعض ورثتہ شیئا من عقارہ فی وفاء دینہ ھل لبقیۃ ورثتہ نقضہ فاضل علامہ خیرالدین رملی علیہ الرحمہ کے فتاوی میں ہے کہ اس شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس پرقرض تھا اور وہ مرگیا تو اس کے بعض وارثوں نے اس کاقرض اداکرنے کے لئے میت کی جائداد کاکچھ حصہ فروخت کردیاکیاباقی وارثوں
الجواب:
تقریرسوال سے ظاہر کہ دین ترکہ کومحیط تھا اور درصورت احاطہ دین ورثہ کے لئے ترکہ میں ملك ثابت نہیں ہوتی نہ بے فراغ ذمہ بادایاابراء باہم تقسیم کرسکیں۔
فی الاشباہ والنظائر الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث قال فی جامع الفصولین من الفصل الثامن و العشرین لواستغرقہا الدین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ او اداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء الخ ۔ الاشباہ والنظائر میں ہے جوقرض ترکہ کااحاطہ کرنے والا ہو وہ ملك وارث سے مانع ہےجامع الفصولین کی اٹھائیسویں فصل میں ہے اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرے تو بطورمیراث کوئی اس کا مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ قرضخواہ میت کوبری الذمہ قراردے دے یاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرتے ہوئے اس کو اداکردے الخ(ت)
پس زوجہ زید نے کہ جائداد متروکہ بیچ کر زید کو باردیون سے سبکدوش کیا اور ان قرضخواہوں میں ایك خود وہ تھی جس نے آپ کچھ نہ لیا اور باقی دائنوں نے جنہیں اختیار نقض بیع حاصل تھاثمن مبیعہ سے اپنااپنا قرض لیا اور بیع پرکچھ اعتراض نہ کیا تو اب ورثہ زید کہ بغرض تقسیم وتصرف بے جا بے قصد استخلاص ترکہ بادائے مہرو دیگر دیون دعوی کرتے ہیں یہ دعوی ان کامحض نام قبول اورشرعا قابل سماعت سے معزول۔
فی فتاوی الفاضل العلامۃ خیرالدین الرملی رحمۃ اﷲ علیہ سئل فی رجل مات وعلیہ دین فباع بعض ورثتہ شیئا من عقارہ فی وفاء دینہ ھل لبقیۃ ورثتہ نقضہ فاضل علامہ خیرالدین رملی علیہ الرحمہ کے فتاوی میں ہے کہ اس شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس پرقرض تھا اور وہ مرگیا تو اس کے بعض وارثوں نے اس کاقرض اداکرنے کے لئے میت کی جائداد کاکچھ حصہ فروخت کردیاکیاباقی وارثوں
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۴€
ام لا اجاب ان لم تکن الترکۃ مستغرقۃ بالدین لا ینفذ بیعہ الا فی حصتہ فلبقیۃ الورثۃ نقضہ فی حصصھم و ان کانت مستغرقۃ بہ لاینفذ بیعہ فی حصتہ اذا کان بغیر اذن الغرماء اوبغیر اذن القاضی فللغرماء نقضہ والحال ھذہ واﷲ اعلم اھ واﷲ تعالی اعلم۔ کویہ بیع توڑنے کا حق ہے یانہیں آپ نے جواب دیا اگرقرض نے ترکہ کا احاطہ نہیں کیاہوا تو بیع فقط فروخت کرنے والے کے حصہ میں نافذ ہوگی باقی وارثوں کو اپنے حصوں میں بیع کے توڑنے کا حق ہوگا اور اگرقرض نے ترکہ کا احاطہ کیاہوا ہے توخود بائع کے حصہ میں بھی بیع نافذ نہ ہوگی جبکہ وہ بیع قرضخواہوں اور قاضی کی اجازت کے بغیر ہو اورقرضخواہوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ بیع کو توڑدیں۔یہاں صورت حال ایسی ہی ہے اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۴:(مسئلہ مذکورنہیں غالبا یوں ہوناچاہئےکوئی شخص فوت ہوا جس کا قرض ترکہ کو محیط ہے۔ایك بیٹا زید او ردوبیٹیاں کبری اورصغری اس کی وارث ہیںقرض کی ادائیگی کے لئے زید اور صغری جائداد بیچناچاہتے ہیں جبکہ کبری اس سے منع کرتی ہےکیا وہ قرض کی ادائیگی کے لئے ترکہ کی جائداد فروخت کرسکتے ہیںاور کیا کبری کو منع کاحق ہے)
الجواب:
زیدوصغری کو بے رضائے ارباب دیون بیع ترکہ کا اختیارنہیں اور اگربیع کریں گے تونافذ نہ ہوگی کہ دین ترکہ کو مستغرق ہے۔
فی الاشباہ ولاینفذ بیع الوارث الترکۃ المستغرقۃ بالدین و انما یبیعہ القاضی قال الحموی قولہ ولا ینفذ بیع الوارث الخ یعنی ان بیعہ موقوف الاشباہ میں ہے:وارث کا ایسے ترکہ کی بیع کرنا نافذ نہ ہوگا جو قرض میں گھراہواہےفقط قاضی اس کی بیع کرسکتاہے۔ حموی نے فرمایا کہ صاحب اشباہ کے قول"وارث کی بیع نافذ نہ ہوگی"سے مراد یہ ہے کہ اس کی بیع
مسئلہ ۴۴:(مسئلہ مذکورنہیں غالبا یوں ہوناچاہئےکوئی شخص فوت ہوا جس کا قرض ترکہ کو محیط ہے۔ایك بیٹا زید او ردوبیٹیاں کبری اورصغری اس کی وارث ہیںقرض کی ادائیگی کے لئے زید اور صغری جائداد بیچناچاہتے ہیں جبکہ کبری اس سے منع کرتی ہےکیا وہ قرض کی ادائیگی کے لئے ترکہ کی جائداد فروخت کرسکتے ہیںاور کیا کبری کو منع کاحق ہے)
الجواب:
زیدوصغری کو بے رضائے ارباب دیون بیع ترکہ کا اختیارنہیں اور اگربیع کریں گے تونافذ نہ ہوگی کہ دین ترکہ کو مستغرق ہے۔
فی الاشباہ ولاینفذ بیع الوارث الترکۃ المستغرقۃ بالدین و انما یبیعہ القاضی قال الحموی قولہ ولا ینفذ بیع الوارث الخ یعنی ان بیعہ موقوف الاشباہ میں ہے:وارث کا ایسے ترکہ کی بیع کرنا نافذ نہ ہوگا جو قرض میں گھراہواہےفقط قاضی اس کی بیع کرسکتاہے۔ حموی نے فرمایا کہ صاحب اشباہ کے قول"وارث کی بیع نافذ نہ ہوگی"سے مراد یہ ہے کہ اس کی بیع
حوالہ / References
الفتاوٰی الخیریۃ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۲۳ و ۲۲۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
علی رضاء الغرماء قال فی البزازیۃ فی السابع من کتاب الوصایا لایمنلك الوارث بیع الترکۃ المستغرقۃ بالدین المحیط الا برضاء الغرماء اھ۔ قرضخواہوں کی اجازت پرموقوف ہوگی۔بزازیہ کتاب الوصایا کی ساتویں فصل میں ہے وارث قرضخواہوں کی اجازت کے بغیر ایسے ترکہ کی بیع کا مالك نہیں جو قرض سے گھراہوا ہو اھ (ت)
اورکبری اگراپنے مال سے ادائے دین چاہے تو زیدوصغری کو اگرچہ غرماء بیع پرراضی ہوں بلکہ خود حاکم کو بیچنے سے روك سکتی ہے ورنہ مجرد منع اس کا کچھ بکارآمد نہ ہوگا کہ ورثہ کوبوجہ استغراق دین کوئی استحقاق ملکیت اس ترکہ میں نہیں۔
قال الحموی قولہ وانما یبیع القاضی اقول ینبغی ان یکون البیع بحضرۃ الورثۃ لما لھم من حق امساکہا و قضاء الدین من مالھم اھ ملخصاو فی الاشباہ و الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حموی نے کہا صاحب الاشباہ کاقول کہ"فقط قاضی اس کو بیچ سکتا ہے"میں کہتاہوں کہ بیع وارثوں کی موجودگی میں ہونی چاہئے کیونکہ انہیں حق حاصل ہے کہ وہ ترکہ کے مال کو روك لیں اور میت کاقرض اپنے مال سے اداکردیں اھ تلخی اور الاشباہ میں ہے جو قرض ترکہ کو محیط ہو وہ وارث کی ملك سے مانع ہےاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور چند اولاد اور متروکہ میں جائداد چھوڑ کر انتقال کیا اس کاکفن ودفن اس کے مال سے کیاگیا اور اس کی عورت نے اس کی فاتحہ ودرودوسوم وچہلم وغیرہ میں بہت روپیہ اس کے مال سے اٹھایا اب وہ دعوی کرتی ہے کہ میں نے ان امور میں تین سو روپے اپنے مال سے اٹھائے میں ان کے پانے کی مستحق ہوں۔ اس صورت میں یہ دعوی اس کا مسموع ہے یانہیں بینواتوجروا
اورکبری اگراپنے مال سے ادائے دین چاہے تو زیدوصغری کو اگرچہ غرماء بیع پرراضی ہوں بلکہ خود حاکم کو بیچنے سے روك سکتی ہے ورنہ مجرد منع اس کا کچھ بکارآمد نہ ہوگا کہ ورثہ کوبوجہ استغراق دین کوئی استحقاق ملکیت اس ترکہ میں نہیں۔
قال الحموی قولہ وانما یبیع القاضی اقول ینبغی ان یکون البیع بحضرۃ الورثۃ لما لھم من حق امساکہا و قضاء الدین من مالھم اھ ملخصاو فی الاشباہ و الدین المستغرق للترکۃ یمنع ملك الوارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حموی نے کہا صاحب الاشباہ کاقول کہ"فقط قاضی اس کو بیچ سکتا ہے"میں کہتاہوں کہ بیع وارثوں کی موجودگی میں ہونی چاہئے کیونکہ انہیں حق حاصل ہے کہ وہ ترکہ کے مال کو روك لیں اور میت کاقرض اپنے مال سے اداکردیں اھ تلخی اور الاشباہ میں ہے جو قرض ترکہ کو محیط ہو وہ وارث کی ملك سے مانع ہےاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۴۵:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور چند اولاد اور متروکہ میں جائداد چھوڑ کر انتقال کیا اس کاکفن ودفن اس کے مال سے کیاگیا اور اس کی عورت نے اس کی فاتحہ ودرودوسوم وچہلم وغیرہ میں بہت روپیہ اس کے مال سے اٹھایا اب وہ دعوی کرتی ہے کہ میں نے ان امور میں تین سو روپے اپنے مال سے اٹھائے میں ان کے پانے کی مستحق ہوں۔ اس صورت میں یہ دعوی اس کا مسموع ہے یانہیں بینواتوجروا
حوالہ / References
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۴€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۴€
الجواب:
دعوی اس کاباطل ہے اور امورمذکورہ اگرچہ اس نے اپنے روپے سے کئے ہوں تبرع واحسان قرارپائیں گے اور ان کاصرف اس کے ترکہ سے واپس نہ ملے گار اور مال میت سے اٹھایا تو اسی قدر اس کے حصہ سے مجراہوجائے گا۔
فی الطحطاوی التجہیز لایدخل فیہ السبح و الصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الوارثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ۔ طحطاوی میں ہے فاتحہ ودرودلوگوں کا اجتماع اور ان کے لئے کھانے کااہتمام کرناتجہیزمیں داخل نہیں کیونکہ یہ چیزیں لازمی امور میں سے نہیںیہ کام کرنے والا اگروارثوں میں سے ہے تو اس کے حصہ میں سے بے شمار ہوگا اور وہ تبرع و احسان کرنے والا قرارپائے گااور یونہی اگرایساکرنے والا اجنبی ہو اھ۔(ت)
ہاں اگر کفن ودفن بطریق سنت اس نے اپنے مال خاص سے کیا ہو توبیشك بقدرقیمت کفن وخرچ قبرترکہ سے واپس لے سکتی ہے۔
فی الخانیۃ من باب الوصی بعض الورثۃ اذا قضی دین المیت اوکفن المیت من مال نفسہ لایکون متطوعا وکان لہ الرجوع فی مال المیت والترکۃ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ خانیہ کے باب الوصی میں ہے اگرکوئی وارث میت کاقرض اپنے مال سے ادا کردے یا میت کو اپنے مال سے کفن پہنادے تو وہ اس میں تبرع واحسان کرنے والا قرارنہیں پائے گا بلکہ وہ مال میت اورترکہ میں رجوع کرسکتاہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوا اور اس نے زوجہ ہندہ کو بالعوض دین مہر کے اپنی جائداد پر قابض کرادیا بعدہمنجملہ وارثان ایك وارث عمرو نے کل دین مہرزوجہ اپنے پاس سے اداکرکے جائداد کو اس کے قبضہ سے مستخلص کرایا۔اب سب وارثان اورزوجہ اپنے اپنے حصہ شرعی کے خواستگار ہیں اس صورت میں زوجہ اورجملہ وارثان کو
دعوی اس کاباطل ہے اور امورمذکورہ اگرچہ اس نے اپنے روپے سے کئے ہوں تبرع واحسان قرارپائیں گے اور ان کاصرف اس کے ترکہ سے واپس نہ ملے گار اور مال میت سے اٹھایا تو اسی قدر اس کے حصہ سے مجراہوجائے گا۔
فی الطحطاوی التجہیز لایدخل فیہ السبح و الصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الوارثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا اھ۔ طحطاوی میں ہے فاتحہ ودرودلوگوں کا اجتماع اور ان کے لئے کھانے کااہتمام کرناتجہیزمیں داخل نہیں کیونکہ یہ چیزیں لازمی امور میں سے نہیںیہ کام کرنے والا اگروارثوں میں سے ہے تو اس کے حصہ میں سے بے شمار ہوگا اور وہ تبرع و احسان کرنے والا قرارپائے گااور یونہی اگرایساکرنے والا اجنبی ہو اھ۔(ت)
ہاں اگر کفن ودفن بطریق سنت اس نے اپنے مال خاص سے کیا ہو توبیشك بقدرقیمت کفن وخرچ قبرترکہ سے واپس لے سکتی ہے۔
فی الخانیۃ من باب الوصی بعض الورثۃ اذا قضی دین المیت اوکفن المیت من مال نفسہ لایکون متطوعا وکان لہ الرجوع فی مال المیت والترکۃ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ خانیہ کے باب الوصی میں ہے اگرکوئی وارث میت کاقرض اپنے مال سے ادا کردے یا میت کو اپنے مال سے کفن پہنادے تو وہ اس میں تبرع واحسان کرنے والا قرارنہیں پائے گا بلکہ وہ مال میت اورترکہ میں رجوع کرسکتاہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوا اور اس نے زوجہ ہندہ کو بالعوض دین مہر کے اپنی جائداد پر قابض کرادیا بعدہمنجملہ وارثان ایك وارث عمرو نے کل دین مہرزوجہ اپنے پاس سے اداکرکے جائداد کو اس کے قبضہ سے مستخلص کرایا۔اب سب وارثان اورزوجہ اپنے اپنے حصہ شرعی کے خواستگار ہیں اس صورت میں زوجہ اورجملہ وارثان کو
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیۃ ∞کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا باب الوصی فصل فی تصرفات الوصی ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۳۵۴€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا باب الوصی فصل فی تصرفات الوصی ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۳۵۴€
بقدرحصہ رسدی دین مہر کے عمرو کو دیناچاہئے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ قبضہ زوجہ کا بذریعہ ہبہ بالعوض نہ تھا بلکہ جائداد دین مہر میں صرف مکفول تھیپس صورت مستفسرہ میں اگر عمرو نے دین مہرزوجہ اس شرط پر اداکیاتھا کہ یہ اپنے پاس سے بطریق تبرع دیتاہوں اورترکہ میت سے واپس نہ لوں گا تو ذمہ میت دین سے بری ہوا اور عمرو اس کامطالبہ ترکہ میت خواہ ورثہ باقین سے نہیں کرسکتا اورجو یہ شرط نہ لگائی تھی تو اس قدردین عمرو کاذمہ میت عائد رہا تاوقتیکہ اس ترکہ مشرکہ سے ادانہ کردیاجائے تقسیم نہ ہونے پائیگی مگریہ باقی ورثہ دین عمرو کو حصہ رسد اپنے پاس سے اپنے مال خاص سے اداکردیں اگرچہ یہ امر ان پرلازم نہیں کہ مدیون عمرومیت ہے"نہ ورثہ"یا دین مذکور ترکہ سے کم ہے اور اس جائداد کے سوا جس کی تقسیم مطلوب ہے اور مال بھی متوفی نے چھوڑا ہو جوادائے دین مسطور کے لئے کفایت کرے تو اس صورت میں بھی اس قدرجائداد کی تقسیم جائزہوگی اور دین عمرومال باقی غیرمقسوم سے اداکیاجائے گا۔
فی الاشباہ عن جامع الفصولین من الفصل الثامن والعشرین لواستغرقہا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لواداہ من مال نفسہ مطلقا بشرط التبرع او الرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین الخ وفیہ بعد سطور للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا اھ وفی العقود الدریۃ عن الفصول العمادیۃ عن قسمۃ اشباہ میں جامع الفصولین کی اٹھائیسویں فصل سے منقول ہے اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرلے تو بطورمیراث اس کاکوئی وارث نہیں ہوگا جبکہ قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرتے ہوئے اس قرض کواداکردے۔لیکن جب وارث نے تبرع اور رجوع کی شرط کئے بغیرمطلقا اپنے مال سے قرض اداکیاتومیت پر اس وارث کا قرض واجب ہوجائے گا۔اسی طرح وہ ترکہ وارث کے قرض میں مشغول ہوجائے گا الخ اور اسی میں چندسطروں کے بعدہے وارث کے لئے جائزہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کو وا گزارکرالے اگرچہ وہ قرض ترکہ کومحیط ہوالخ۔عقودالدریۃ میں فصول العمادیہ
الجواب:
سائل مظہر کہ یہ قبضہ زوجہ کا بذریعہ ہبہ بالعوض نہ تھا بلکہ جائداد دین مہر میں صرف مکفول تھیپس صورت مستفسرہ میں اگر عمرو نے دین مہرزوجہ اس شرط پر اداکیاتھا کہ یہ اپنے پاس سے بطریق تبرع دیتاہوں اورترکہ میت سے واپس نہ لوں گا تو ذمہ میت دین سے بری ہوا اور عمرو اس کامطالبہ ترکہ میت خواہ ورثہ باقین سے نہیں کرسکتا اورجو یہ شرط نہ لگائی تھی تو اس قدردین عمرو کاذمہ میت عائد رہا تاوقتیکہ اس ترکہ مشرکہ سے ادانہ کردیاجائے تقسیم نہ ہونے پائیگی مگریہ باقی ورثہ دین عمرو کو حصہ رسد اپنے پاس سے اپنے مال خاص سے اداکردیں اگرچہ یہ امر ان پرلازم نہیں کہ مدیون عمرومیت ہے"نہ ورثہ"یا دین مذکور ترکہ سے کم ہے اور اس جائداد کے سوا جس کی تقسیم مطلوب ہے اور مال بھی متوفی نے چھوڑا ہو جوادائے دین مسطور کے لئے کفایت کرے تو اس صورت میں بھی اس قدرجائداد کی تقسیم جائزہوگی اور دین عمرومال باقی غیرمقسوم سے اداکیاجائے گا۔
فی الاشباہ عن جامع الفصولین من الفصل الثامن والعشرین لواستغرقہا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لواداہ من مال نفسہ مطلقا بشرط التبرع او الرجوع یجب لہ دین علی المیت فتصیر مشغولۃ بدین الخ وفیہ بعد سطور للوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا اھ وفی العقود الدریۃ عن الفصول العمادیۃ عن قسمۃ اشباہ میں جامع الفصولین کی اٹھائیسویں فصل سے منقول ہے اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرلے تو بطورمیراث اس کاکوئی وارث نہیں ہوگا جبکہ قرضخواہ میت کو قرض سے بری کردے یاکوئی وارث ادائیگی کے وقت تبرع کی شرط کرتے ہوئے اس قرض کواداکردے۔لیکن جب وارث نے تبرع اور رجوع کی شرط کئے بغیرمطلقا اپنے مال سے قرض اداکیاتومیت پر اس وارث کا قرض واجب ہوجائے گا۔اسی طرح وہ ترکہ وارث کے قرض میں مشغول ہوجائے گا الخ اور اسی میں چندسطروں کے بعدہے وارث کے لئے جائزہے کہ وہ قرض اداکرکے ترکہ کو وا گزارکرالے اگرچہ وہ قرض ترکہ کومحیط ہوالخ۔عقودالدریۃ میں فصول العمادیہ
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵۔۲۰۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الہدایۃ ان القسمۃ مؤخرۃ قضاء الدین لحق المیت الا اذا بقی من الترکۃ مایفی بالدین فاذا قسمت جاز اھ ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم سے بحوالہ قسمۃ الہدایۃ(ہدایۃ کی کتاب القسمۃ)منقول ہے کہ حق میت کی وجہ سے میراث کی تقسیم قرض کی ادائیگی سے موخرہوگی مگرجبکہ تقسیم کے بعد ترکہ میں سے اتنامال باقی بچتاہے جوقرض کی ادائیگی کے لئے کافی ہے توایسی صورت میں اگرترکہ تقسیم کردیاگیا توجائزہے اھ التقاط۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدفوت ہوا اورترکہ اس کا عوض دین مہرزوجہ ہندہ مکفول تھاعمرووارث نے نالش انفکاك رہن کرکے بادائے ایك سوتریسٹھ۱۶۳ روپیہ دین مہر کے دائرکرکے ڈگری حاصل کی اور کل دین مہرزوجہ ہندہ کو بلاتبرع اداکردیابعدہہندہ نے اپناحصہ بدست مسماۃ حسینی دختراپنی کے بیع کردیااب حسینی بلاادائے دین کے ترکہ مورث تقسیم کردیناچاہتی ہےاس صورت میں بلاادائے دین مہررسدی کے حسینی حصہ اپنی ماں کاتقسیم کراسکتی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
جبکہ عمرو نے اپنے زرخاص سے دین مہرہندہ بلاتبرع اداکیا تو وہ ترکہ جس طرح پہلے دین ہندہ کے لئے محبوس تھا اب دین عمرو کے لئے محبوس ہوگیا
ذکر ذلك فی الحموی ان الوارث لولم یشترط التبرع لم تخلص الترکۃ من الدین لانہ صار محبوسا من حق الوارث ۔ اس کو حموی میں ذکرکیاہے کہ اگروارث تبرع کی شرط نہ کرے توترکہ قرض سے واگزارنہیں ہوگا کیونکہ وہ وارث کے حق میں محبوس ہوجائے گا(ت)
حتی کہ جب تك دین عمرو متروکہ زید سے ادانہ کیاجائے یاورثہ اپنے مال خاص سے بطریق تبرع قضانہ کردیں اس ترکہ میں کوئی تصرف ورثہ کامثل بیع وہبہ وغیرہما کے بلااجازت عمرومذہب راجح پرنافذ نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ ۴۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدفوت ہوا اورترکہ اس کا عوض دین مہرزوجہ ہندہ مکفول تھاعمرووارث نے نالش انفکاك رہن کرکے بادائے ایك سوتریسٹھ۱۶۳ روپیہ دین مہر کے دائرکرکے ڈگری حاصل کی اور کل دین مہرزوجہ ہندہ کو بلاتبرع اداکردیابعدہہندہ نے اپناحصہ بدست مسماۃ حسینی دختراپنی کے بیع کردیااب حسینی بلاادائے دین کے ترکہ مورث تقسیم کردیناچاہتی ہےاس صورت میں بلاادائے دین مہررسدی کے حسینی حصہ اپنی ماں کاتقسیم کراسکتی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
جبکہ عمرو نے اپنے زرخاص سے دین مہرہندہ بلاتبرع اداکیا تو وہ ترکہ جس طرح پہلے دین ہندہ کے لئے محبوس تھا اب دین عمرو کے لئے محبوس ہوگیا
ذکر ذلك فی الحموی ان الوارث لولم یشترط التبرع لم تخلص الترکۃ من الدین لانہ صار محبوسا من حق الوارث ۔ اس کو حموی میں ذکرکیاہے کہ اگروارث تبرع کی شرط نہ کرے توترکہ قرض سے واگزارنہیں ہوگا کیونکہ وہ وارث کے حق میں محبوس ہوجائے گا(ت)
حتی کہ جب تك دین عمرو متروکہ زید سے ادانہ کیاجائے یاورثہ اپنے مال خاص سے بطریق تبرع قضانہ کردیں اس ترکہ میں کوئی تصرف ورثہ کامثل بیع وہبہ وغیرہما کے بلااجازت عمرومذہب راجح پرنافذ نہیں ہوسکتا۔
حوالہ / References
العقودالدریۃ کتاب القسمۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۹۶۔۱۹۵€
غمزالعیون البصائر
غمزالعیون البصائر
فی الطحطاویۃ حکم الترکۃ قبل قضاء الدین کحکم المرھون بدین علی المیت فلاتنفذ تصرفات الورثۃ فیھا ھذا اذا کانت الترکۃ اقل من الدین اومساویۃ لہ واما اذاکان فیہا زیادۃ علیہ ففی نفوذ تصرفات الورثۃ وجہان احدھما النفوذ الی ان یبقی قدرالدین واظھر ھما عدم النفوذ علی قیاس المرھون اھ طحطاویہ میں ہے قرض کی ادائیگی سے پہلے ترکہ کاحکم میت پرقرض کے بدلے رہن رکھی ہوئی شے کے حکم کی مثل ہے۔ چنانچہ اگرترکہ قرض سے کم ہو یا ااس کے برابرہو توترکہ میں وارثوں کے تصرفات نافذ نہیں ہوں گے۔لیکن اگرترکہ میں قرض سے زیادتی موجود ہو تو وارثوں کے تصرفات نافذ ہونے میں دو۲ وجہیں ہیںان میں سے ایك یہ کہ تصرفات نافذ ہوں گے جب تك ترکہ بقدر قرض باقی رہے اور ان میں سے زیادہ ظاہروجہ مرہون پرقیاس کرتے ہوئے تصرفات کاعدم نفاذ ہے اھ(ت)
پس اگر عمرو نے بیع ہندہ کو اجازت نہ دی تو حسینی کواختیار ہے چاہے ا س وقت صبرکرے کہ ترکہ دین سے فارغ ہوجائے یاحکم شرع کی طرف رجوع کرکے بیع فسخ کرالے کما ھو حکم المرھون المصرح بہ فی المتون(جیسا کہ مرہون کاحکم ہے جس کی تصریح متون میں کردی گئی ہے۔ت)رہی تقسیم ترکہ پس اگراس ترکہ کے سوازید متوفی کا اور کوئی مال ایساہے جوادائے دین کے لئے وفا کرے یاورثہ اس جائداد سے بقدرکفایت دین جداکردیں توباقی ماندہ کو باہم حسب فرائض تقسیم کرسکتے ہیں ورنہ جب تك ترکہ دین سے فارغ نہ ہوجائے خواہ بایں طور کہ اسی جائداد سے دیاجائے یاورثہ اپنے پاس سے تبرعا دیں یاعمرو دین معاف کردےبے اس کے تقسیم ترکہ سے ممنوع رہیں گے کما فی القسمۃ الھندیۃ وغیرھا من کتب الفقہ(جیسا کہ ہندیہ وغیرہ کتب فقہ کی کتاب القسمۃ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں مادرزید زمین داری تھا وہ ایك پسر تین دخترچھوڑ کرفوت ہوئیایك دختر نے اپنا حصہ زید کو دے دیا باقی دختران کو زید نے دوحصہ بموجب شرع شریف گاؤں یں دے دئیےاس گاؤں میں چارقطعہ باغ زید نے اپنی ماں کی حیات میں اس کے رضامندی سے غرس کئے تھے۔اب بعد فوت مادران باغوں میں بہنوں کابھی کچھ حق
پس اگر عمرو نے بیع ہندہ کو اجازت نہ دی تو حسینی کواختیار ہے چاہے ا س وقت صبرکرے کہ ترکہ دین سے فارغ ہوجائے یاحکم شرع کی طرف رجوع کرکے بیع فسخ کرالے کما ھو حکم المرھون المصرح بہ فی المتون(جیسا کہ مرہون کاحکم ہے جس کی تصریح متون میں کردی گئی ہے۔ت)رہی تقسیم ترکہ پس اگراس ترکہ کے سوازید متوفی کا اور کوئی مال ایساہے جوادائے دین کے لئے وفا کرے یاورثہ اس جائداد سے بقدرکفایت دین جداکردیں توباقی ماندہ کو باہم حسب فرائض تقسیم کرسکتے ہیں ورنہ جب تك ترکہ دین سے فارغ نہ ہوجائے خواہ بایں طور کہ اسی جائداد سے دیاجائے یاورثہ اپنے پاس سے تبرعا دیں یاعمرو دین معاف کردےبے اس کے تقسیم ترکہ سے ممنوع رہیں گے کما فی القسمۃ الھندیۃ وغیرھا من کتب الفقہ(جیسا کہ ہندیہ وغیرہ کتب فقہ کی کتاب القسمۃ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں مادرزید زمین داری تھا وہ ایك پسر تین دخترچھوڑ کرفوت ہوئیایك دختر نے اپنا حصہ زید کو دے دیا باقی دختران کو زید نے دوحصہ بموجب شرع شریف گاؤں یں دے دئیےاس گاؤں میں چارقطعہ باغ زید نے اپنی ماں کی حیات میں اس کے رضامندی سے غرس کئے تھے۔اب بعد فوت مادران باغوں میں بہنوں کابھی کچھ حق
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
ہے یاوہ فقط غارس کے لئے ہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرزید نے تعین کی تھی کہ یہ باغ میں اپنے واسطے لگاتاہوں یا اس کی والدہ نے اس سے کہاتھا کہ تواپنے لئے باغ لگالے تو درختوں کامالك زید ہی ہے نہ دیگرورثہ۔اوراگرنہ اس نے اپنے لئے تعین کی نہ مورثہ کے کلام میں خاص اس کے لئے اجازت تھی بلکہ صرف باغ لگانے کی رضامندی ظاہر کی تو وہ باغ بی مادرزید کی ملك ٹھہرکر اس کے سب وارثوں پرحسب فرائض منقسم ہوجائیں گے۔
فی شتی الدرالمختار عمردارزوجتہ بمالہ باذنہا فالعمارۃ لہا والنفقۃ دین علیھا الصحہ امرھا و لو عمر لنفسہ فالعمارۃ لہ اھ ملتقطا۔قال الشامی فلوباذنہا تکون عاریۃ اھ وفی وقف الاشباہ کل م ن بنی فی ارض غیرہ بامرہ فالبناء لما لکہا قال الحموی قیل ھذا اذا طلق او عینہ للمالك فلوعینہ لنفسہ فھو لہ ویکون مستعیرالارض الخوذیلہ بقولہ درمختار کے مسائل شتی میں ہے مردنے بیوی کی اجازت سے اس کامکان اپنے مال سے تعمیر کیاتو وہ عمارت بیوی کی ہوگی اور خرچہ اس بیوی پرقرض ہوگا کیونکہ بیوی کاامرصحیح ہےاور اگر مرد نے اپنے لئے تعمیر کرائی تو وہ عمارت مرد کی ہوگی اھ التقاط۔شامی نے کہا اگرعورت کی اجازت سے تعمیرکرائی تو وہ عاریت ہوگی اھ الاشباہ کی کتاب الوقف میں ہے جس شخص نے غیر کی زمین میں اس کے حکم کے ساتھ عمارت بنائی تو وہ عمارت زمین کے مالك کی ہوگی۔حموی نے کہا:کہاگیاہے کہ یہ اس وقت ہے جب عمارت بنانے والا تعیین نہ کرے یامالك کے لئے تعیین کرے۔چنانچہ اگراس نے اپنی ذات کے لئے تعیین کی توعمارت اس کی ہوگی اور وہ
الجواب:
اگرزید نے تعین کی تھی کہ یہ باغ میں اپنے واسطے لگاتاہوں یا اس کی والدہ نے اس سے کہاتھا کہ تواپنے لئے باغ لگالے تو درختوں کامالك زید ہی ہے نہ دیگرورثہ۔اوراگرنہ اس نے اپنے لئے تعین کی نہ مورثہ کے کلام میں خاص اس کے لئے اجازت تھی بلکہ صرف باغ لگانے کی رضامندی ظاہر کی تو وہ باغ بی مادرزید کی ملك ٹھہرکر اس کے سب وارثوں پرحسب فرائض منقسم ہوجائیں گے۔
فی شتی الدرالمختار عمردارزوجتہ بمالہ باذنہا فالعمارۃ لہا والنفقۃ دین علیھا الصحہ امرھا و لو عمر لنفسہ فالعمارۃ لہ اھ ملتقطا۔قال الشامی فلوباذنہا تکون عاریۃ اھ وفی وقف الاشباہ کل م ن بنی فی ارض غیرہ بامرہ فالبناء لما لکہا قال الحموی قیل ھذا اذا طلق او عینہ للمالك فلوعینہ لنفسہ فھو لہ ویکون مستعیرالارض الخوذیلہ بقولہ درمختار کے مسائل شتی میں ہے مردنے بیوی کی اجازت سے اس کامکان اپنے مال سے تعمیر کیاتو وہ عمارت بیوی کی ہوگی اور خرچہ اس بیوی پرقرض ہوگا کیونکہ بیوی کاامرصحیح ہےاور اگر مرد نے اپنے لئے تعمیر کرائی تو وہ عمارت مرد کی ہوگی اھ التقاط۔شامی نے کہا اگرعورت کی اجازت سے تعمیرکرائی تو وہ عاریت ہوگی اھ الاشباہ کی کتاب الوقف میں ہے جس شخص نے غیر کی زمین میں اس کے حکم کے ساتھ عمارت بنائی تو وہ عمارت زمین کے مالك کی ہوگی۔حموی نے کہا:کہاگیاہے کہ یہ اس وقت ہے جب عمارت بنانے والا تعیین نہ کرے یامالك کے لئے تعیین کرے۔چنانچہ اگراس نے اپنی ذات کے لئے تعیین کی توعمارت اس کی ہوگی اور وہ
حوالہ / References
الدرالمختار مسائل شتّٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۸€
ردالمحار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۶€
الاشباہ والنظائر کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۰۲€
ردالمحار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۶€
الاشباہ والنظائر کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۰۲€
فاغتنمہ اھوفی متفرقات غصب الندیۃ اذا غزلت المرأۃ قطن زوجہا فان اذن لہا بالغزل وقال اغزلیہ لنفسك کان الغزل لہا ولو قال اغزلیہ ولم یذکر شیأ کان الغزل للزوج اھ بالالتقاط۔واﷲ تعالی اعلم۔ زمین کو عاریت پرلینے والا قرارپائے گا الخ اور اس کے آخر میں یہ قول لکھاکہ تو اس کوغنیمت جان اھ۔ہندیہ میں کتاب الغصب کے متفرقات میں ہے ایك عورت نے اپنے شوہر کی روئی سے سوت کاتااگرشوہر نے اس کوکاتنے کی اجازت دی اورکہا کہ تو اس کواپنے لئے کات لے(صاحب ہندیہ نے کہا) تو وہ سوت عورت کاہوگااوراگرکہا کہ تو اس کوکات لےاس کے علاوہ کچھ ذکرنہیں کیاتو سوت شوہرکاہوگا اھ التقاط۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۹:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اورچارپسر دونابالغ اورایك دختر بالغہ چھوڑ کرانتقال کیا اور کچھ روپیہ زید کالوگوں پرقرض اورکچھ نقدتھا اس میں نقد سے تین سوروپے والدہ ودوبرادران بالغ کی رضامندی سے دختر کی شادی اور کچھ روپے زید کی فاتحہ ودرودمیں صرف ہوئے اوردوسرے برادران بالغ نے بطور خود تجارت کی اور اس کے نفع کاقدرے روپیہ بھی فاتحہ زید میں اٹھایا۔اس صورت میں ترکہ زیدمکان وقرض ونقد کیونکر تقسیم ہوگا اور صرف شادی وفاتحہ کس کس پرپڑے گا اور کل مصارف شادی یہ ورثہ اس دختر سے مجرا لے سکتے ہیں یانہیں اورنفع تجارت کاصرف انہیں دو برادران کواستحقاق ہے یاکل وارث اس میں بھی شریك ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی قعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء المہرواجراء الوصیۃکل متروکہ زید مکان وقرض ونقدبہترسہام پرمنقسم ہوکر نوسہام اس کی زوجہ اورچودہ ہرپسر اورسات دختر کوملیں گے اورصرف فاتحہ کاخواہ ترکہ میں سے ہوا ہو یاجدامال سے جس جس نے کیا انہیں کے ذمہ پڑے گا اور جس کی اجازت
مسئلہ ۴۹:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اورچارپسر دونابالغ اورایك دختر بالغہ چھوڑ کرانتقال کیا اور کچھ روپیہ زید کالوگوں پرقرض اورکچھ نقدتھا اس میں نقد سے تین سوروپے والدہ ودوبرادران بالغ کی رضامندی سے دختر کی شادی اور کچھ روپے زید کی فاتحہ ودرودمیں صرف ہوئے اوردوسرے برادران بالغ نے بطور خود تجارت کی اور اس کے نفع کاقدرے روپیہ بھی فاتحہ زید میں اٹھایا۔اس صورت میں ترکہ زیدمکان وقرض ونقد کیونکر تقسیم ہوگا اور صرف شادی وفاتحہ کس کس پرپڑے گا اور کل مصارف شادی یہ ورثہ اس دختر سے مجرا لے سکتے ہیں یانہیں اورنفع تجارت کاصرف انہیں دو برادران کواستحقاق ہے یاکل وارث اس میں بھی شریك ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی قعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء المہرواجراء الوصیۃکل متروکہ زید مکان وقرض ونقدبہترسہام پرمنقسم ہوکر نوسہام اس کی زوجہ اورچودہ ہرپسر اورسات دختر کوملیں گے اورصرف فاتحہ کاخواہ ترکہ میں سے ہوا ہو یاجدامال سے جس جس نے کیا انہیں کے ذمہ پڑے گا اور جس کی اجازت
حوالہ / References
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۰۲€
الفتاوی الھندیۃ کتا ب الغصب الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۵۳۔۱۵۲€
الفتاوی الھندیۃ کتا ب الغصب الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۵۳۔۱۵۲€
نہ تھی وہ اس سے بری رہے گا والمسئلۃ فی الفرائض من الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار(یہ مسئلہ درمختارپرحاشیہ طحطاویہ کے فرائض میں سے ہے۔ت)علی الخصوص دونوں نابالغ کہ ان کے ذمہ تو ہرگزنہیں ہوسکتا اگرچہ انہوں نے اجازت بھی دے دی ہو وھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)اوربعینہ یہی حال صرف شادی کاہے جس نے صرف کیا فقط وہی اس کا متحمل ہوگا اجازت نہ دینے والوں یانابالغوں کو اس سے کچھ تعلق نہیں وہ اپنا حصہ متروکہ پدری سے پورا پوراپائیں گے اورصرف شادی کامطالبہ صرف دختر سے نہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سے ٹھہرالیاہو کہ ہم یہ سارا صرف تیرے حساب میں مجرا لیں گے
وذلك لان ماکانوا مضطرین فی ذلك وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختار والعقود الدریۃ۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ اس میں مجبورنہیں تھے نہ اس کی یہ سبیل ہے لہذاایساکرنے والا متبرع قرارپائے گا سوائے اس کے کہ اس نے رجوع کی شرط کی ہو جیسا کہ کوئی اجنبی میت کو کفن پہنائے یاکسی کی اجازت کے بغیر اس کا قرض اداکردے۔یہ دونوں مسئلے درمختار اورعقودالدریہ میں مذکورہیں(ت)
اورمال ترکہ سے تجارت کہ دو۲بالغین برادروں نے بطور خود کی اس کے نفع کاصرف انہیں دونوں کو استحقاق ہے اور کوئی وارث اس میں شریك نہیںمگرہاں اس قدرضرورہے کہ جو نفع حاصل ہوا وہ بقدران کے حصوں کے ان کے لئے طیب ہے باقی خبیث۔انہیں چاہئے کہ اس قدرباقی ورثہ کو بحساب ان کے حصوں کو دے دیں یاخیرات کردیں اپنے صرف میں نہ لائیں۔مثلا فرض کیجئے کہ روپیہ نفع میں حاصل ہوئے و اس میں للعہ عہ تو ان کے لئے پاك ہیں کہ بھائی کو معہ اورعہ عہ ناپاك ان عہ عہ کو یاتصدق کردیں یا ان میں سے للعہ عہ دونوں برادران نابالغ کودے دیں اور عہ ۸/ ہمشیرہ کو اور للعہ والدہ کواور یہی صورت بہتر ہے۔
فی العقود الدریۃ نقل المؤلف عن الفتاوی الرحیمیۃ سئل عن مال العقود الدریہ میں ہے مؤلف نے فتاوی الرحیمیہ سے نقل کیا ہے ایسے مال کے بارے میں سوال
وذلك لان ماکانوا مضطرین فی ذلك وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختار والعقود الدریۃ۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ اس میں مجبورنہیں تھے نہ اس کی یہ سبیل ہے لہذاایساکرنے والا متبرع قرارپائے گا سوائے اس کے کہ اس نے رجوع کی شرط کی ہو جیسا کہ کوئی اجنبی میت کو کفن پہنائے یاکسی کی اجازت کے بغیر اس کا قرض اداکردے۔یہ دونوں مسئلے درمختار اورعقودالدریہ میں مذکورہیں(ت)
اورمال ترکہ سے تجارت کہ دو۲بالغین برادروں نے بطور خود کی اس کے نفع کاصرف انہیں دونوں کو استحقاق ہے اور کوئی وارث اس میں شریك نہیںمگرہاں اس قدرضرورہے کہ جو نفع حاصل ہوا وہ بقدران کے حصوں کے ان کے لئے طیب ہے باقی خبیث۔انہیں چاہئے کہ اس قدرباقی ورثہ کو بحساب ان کے حصوں کو دے دیں یاخیرات کردیں اپنے صرف میں نہ لائیں۔مثلا فرض کیجئے کہ روپیہ نفع میں حاصل ہوئے و اس میں للعہ عہ تو ان کے لئے پاك ہیں کہ بھائی کو معہ اورعہ عہ ناپاك ان عہ عہ کو یاتصدق کردیں یا ان میں سے للعہ عہ دونوں برادران نابالغ کودے دیں اور عہ ۸/ ہمشیرہ کو اور للعہ والدہ کواور یہی صورت بہتر ہے۔
فی العقود الدریۃ نقل المؤلف عن الفتاوی الرحیمیۃ سئل عن مال العقود الدریہ میں ہے مؤلف نے فتاوی الرحیمیہ سے نقل کیا ہے ایسے مال کے بارے میں سوال
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۹،€العقودالدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۲۶€
مشترك بین ایتام وامھم استربحہ الوصی للایتام ھل تستحق الام ربح نصیبھا اولااجاب لاتستحق الام شیأا مما استربحہ الوصی بوجہ شرعی لغیرھا کاحد الشریکین اذا استربح من مال مشترك لنفسہ فقط ویکون ربح نصیبہا کسبا خبیثا ومثلہ سبیلہ التصدق علی الفقراء اھ اقول ایضا ویظہر من ھذا ومما قبلہ حکم مالوکان المباشر للعمل والسعی بعض الورثۃ بلاوصایۃ اووکالۃ من الباقین انتھی مافی العقود قلت واما ماذکرنا من ان الاولی الدفع لاصحاب الحصص فلما تقرر فی کلمات العلماء ان کان خبیثا مثل ھذا فسبیلہ التصدق وان رد علی المالك فھذا اولی والطیب لہ لکونہ ربح مبلکہ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔ کیاگیاجوکچھ یتیموں اور ان کی ماں کے درمیان مشترك ہے۔ وصی نے یتیموں کے لئے اس پرکچھ نفع حاصل کیا توکیاماں اپنے حصہ کے نفع کی مستحق ہوگی یانہیں امام نے جواب دیا جو نفع وصی نے اس طورپرحاصل کیاکہ خریداری ماں کے غیر کے لئے کی اس میں سے ماں کسی شیئ کی مستحق نہیں ہوگی جیسے دوشریکوں میں سے کوئی ایك اگرمال مشترك میں سے فقط اپنی ذات کے لئے نفع حاصل کرے۔البتہ ماں کے حصہ کا نفع ان کے لئے خبیث ہوگا جس کاشرعی راستہ یہ ہے کہ ف قراء پرصدقہ کردیاجائے اھ میں کہتاہوں اس سے اور اس کے ماقبل سے اس صورت کاحکم بھی ظاہرہوگیاکہ اگرمشترکہ مال میں کام اور محنت کرنے والے بعض وارث ہوں بغیر باقی وارثوں کی وصایت ووکالت کےالعقود الدریہ کی عبارت ختم ہوئی۔میں کہتاہوں یہ جو ہم نے ذکر کیاہے کہ حصوں کے مالکوں کونفع دے دینا اولی ہے اس کی دلیل وہ ہے جوعلماء کرام کی عبارات میں ہے کہ اس جیسا مال خبیث ہے چنانچہ اس کا شرعی راستہ فقراء پرصدقہ کرناہے اوراگرمالك کولوٹادے تویہ اس کے لئے اولی اورطیب ہے کیونکہ یہ اس کی ملك کانفع ہے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔(ت)
حوالہ / References
العقودالدریۃ کتاب الشرکۃ لاتستحق الام مما استربحہ الوصی ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۱ /۹۴€
مسئلہ ۵۰:(مسئلہ مذکورنہیں غالبا یوں ہوناچاہئے خورشید حسن خاں ایك بیٹا امدادحسن خاں اوردوبیٹیاں وجیہ النساء اور تنربیگم چھوڑ کرانتقال کرگیا امدادحسن خاں اپنے حصہ سے دستبردار ہوگیا اب تقسیم ترکہ کیسے ہوگا)
الجواب:
حق میراث حکم شرع ہے کہ رب العالمین تبارك وتعالی نے مقررفرمایا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا۔
قال علماؤنا کما فی الاشباہ وغیرہ الارث جبری لایسقط بالاسقاط۔ ہمارے علماء نے فرمایا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے کہ حق میراث جبری ہے کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
اوروجہ اس کی ظاہرہے کہ بیٹا مثلا اپنے باپ کا اس لئے وارث ہوتاہے کہ یہ اس کابیٹاہے تو جس طرح یہ اپنے بیٹے ہونے کونہیں مٹاسکتا یونہی اپنے حق میراث کونہیں ساقط کرسکتاپس امدادحسن خاں کاترکہ متوفی سے دستبردارہوناہرگزمعتبرنہیںاور وہ اس وجہ سے زنہار کالعدم نہیں ہوسکتا اگرلاکھ باردست برداری کرلے شرع تسلیم نہ فرمائے گی اور اسے اس کے حصہ کامالك ٹھہرائے گی ہاں اگراسے لینامنظورنہیں تو یوں کرے کہ لے کراپنی بہن خواہ بھاوج خواہ جسے چاہے ہبہ کامل کردے اورجومال قابل تقسیم ہواسے منقسم کرکے قبضہ دلادے اس وقت البتہ اس کاحق منتقل ہوجائے گا ورنہ مجرد دست برداری کچھ بکارآمدنہیں پس کل ترکہ خورشید حسن خاں منقولہ وغیرمنقولہ برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء المہرواجراء الوصیۃ چارسہام پرمنقسم ہوکرایك وجیہ انساء اوردوامدادحسن خاں اورایك تنربیگم کو ملے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۱:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کاکچھ زیور کہ وہ اپنے جہیزمیں لائی تھی باجازت اس کے خاص اپنے قرض کے عوض دائن کے پاس رہن رکھا اور اس کے سوا اورقرضہ بھی زیدپرتھا اورایکزوجہ زید کی اس کے سامنے مر گئی بعدہزید نے زوجہ ثانیہ اور ماں اورتین بیٹیاں ایك بطن زوجہ اولی اوردوبطن ثانیہ سے اورایك بھائی اوردوبہنیں وارث چھوڑکرانتقال کیازوجہ ثانیہ نے بعد وفات زیدزیور مرہون بالعوض اس قرضہ کے جس میں زیور رہین تھا مرتہن ك ودے دیا اور اس قدرروپیہ ترکہ شوہر سے لیناچاہتی ہے۔اس صورت
الجواب:
حق میراث حکم شرع ہے کہ رب العالمین تبارك وتعالی نے مقررفرمایا کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا۔
قال علماؤنا کما فی الاشباہ وغیرہ الارث جبری لایسقط بالاسقاط۔ ہمارے علماء نے فرمایا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے کہ حق میراث جبری ہے کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
اوروجہ اس کی ظاہرہے کہ بیٹا مثلا اپنے باپ کا اس لئے وارث ہوتاہے کہ یہ اس کابیٹاہے تو جس طرح یہ اپنے بیٹے ہونے کونہیں مٹاسکتا یونہی اپنے حق میراث کونہیں ساقط کرسکتاپس امدادحسن خاں کاترکہ متوفی سے دستبردارہوناہرگزمعتبرنہیںاور وہ اس وجہ سے زنہار کالعدم نہیں ہوسکتا اگرلاکھ باردست برداری کرلے شرع تسلیم نہ فرمائے گی اور اسے اس کے حصہ کامالك ٹھہرائے گی ہاں اگراسے لینامنظورنہیں تو یوں کرے کہ لے کراپنی بہن خواہ بھاوج خواہ جسے چاہے ہبہ کامل کردے اورجومال قابل تقسیم ہواسے منقسم کرکے قبضہ دلادے اس وقت البتہ اس کاحق منتقل ہوجائے گا ورنہ مجرد دست برداری کچھ بکارآمدنہیں پس کل ترکہ خورشید حسن خاں منقولہ وغیرمنقولہ برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث کاداء المہرواجراء الوصیۃ چارسہام پرمنقسم ہوکرایك وجیہ انساء اوردوامدادحسن خاں اورایك تنربیگم کو ملے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۱:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کاکچھ زیور کہ وہ اپنے جہیزمیں لائی تھی باجازت اس کے خاص اپنے قرض کے عوض دائن کے پاس رہن رکھا اور اس کے سوا اورقرضہ بھی زیدپرتھا اورایکزوجہ زید کی اس کے سامنے مر گئی بعدہزید نے زوجہ ثانیہ اور ماں اورتین بیٹیاں ایك بطن زوجہ اولی اوردوبطن ثانیہ سے اورایك بھائی اوردوبہنیں وارث چھوڑکرانتقال کیازوجہ ثانیہ نے بعد وفات زیدزیور مرہون بالعوض اس قرضہ کے جس میں زیور رہین تھا مرتہن ك ودے دیا اور اس قدرروپیہ ترکہ شوہر سے لیناچاہتی ہے۔اس صورت
میں وہ روپیہ زوجہ ثانیہ کودلایاجائے گایانہیں اور تقسیم ترکہ کس حساب سے ہوگی اورزوجہ اولی کہ زید سے پہلے مرگئی مستحق حصہ پانے کی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ورثہ میت نابالغین ہوں تو اس کاوصی اوروصی نہ ہوتو حاکم کوئی وصی نصب کرے کہ وہ شیئ مرہون کوبیع کرکے دین مرتہن اداکرے درمختار ص۶۲۳اور جوکبارہوں تو وہ خودچھٹالیں سہاگرترکہ دین مرتہن ومہرزوجیت ودیگر دیون کووفانہ کرے توپہے دین مرتہن اداکیاجائے بعدہاگرباقی بچے تو دیگردیون حصہ رسد اگرسب دین صحت یادین مرض ہوں ورنہ دین صحت مقدم ہوگا فرائض۔بعدہاگرکچھ باقی ہے تو اس کے ثلث سے اورورثہ زیادہ کی اجازت دیں توزیادہ سے وصایا اس کے اگرہوں تونافذ کی جائیں پھرمابقی برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین ترکہ زید متوفی کا دوسو اٹھاسی سہام پرمنقسم ہوکر۳۶سہام زوجہ اور۴۸ماں پائیں گی اور۶۴/۶۴ ہرسہ دختران کو ملیں گے اور۶بھائی اور۳/۳ دونوں بہنیں پائیں گی۔واﷲ تعالی اعلم
صورت مستفسرہ میں جب وہ زیورخاص ملك زوجہ ثانیہ تھا اورزید نے اس کی اجازت سے پہلے قرض کے عوض رہن رکھا اور اس کے بعد وفات زوجہ نے وہ قرضہ ادا کردیاتو وہ بلاشبہہ اس قدرروپیہ ترکہ زید سے واپس پائے گی
فی تنویرالابصار ولوافتکہ المعیر اجبرالمرتہن علی القبول ثم یرجع المعیر علی الراھن بماادی اھ تنویرالابصار میں ہے اگرعاریت پردینے والا رہن کوچھڑائے تومرتہن کوقبول کرنے پرمجبور کیاجائے گاپھرعاریت پردینے والے نے جوکچھ اداکیاہےوہ راہن سے اس کارجوع کرسکتاہے اھ(ت)
اسی طرح وہ قرضہ دوسروں کاجوذمہ زیدہے اور دونوں زوجہ کامہراگرباقی ہوالخ۔
مسئلہ ۵۲:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بازاری عورت کے بلانکاح ایك لڑکازیداورتین لڑکیاں لیلیسلمی عذرا پیداہوئیں وہ عورت مرگئی اور اس کا بیٹازید ایك بیٹا عمرو چھوڑ مرا اورلیلی سلمی نے نکاح کرلئے اب لیلی نے بھی سلمیعذرا دوبہنیں اورعمرو بھتیجا اورایك شوہرچھوڑ کرانتقال کیا۔اس صورت میں ترکہ لیلی کاکیونکر منقسم ہوگا اورعذرا کہ
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ورثہ میت نابالغین ہوں تو اس کاوصی اوروصی نہ ہوتو حاکم کوئی وصی نصب کرے کہ وہ شیئ مرہون کوبیع کرکے دین مرتہن اداکرے درمختار ص۶۲۳اور جوکبارہوں تو وہ خودچھٹالیں سہاگرترکہ دین مرتہن ومہرزوجیت ودیگر دیون کووفانہ کرے توپہے دین مرتہن اداکیاجائے بعدہاگرباقی بچے تو دیگردیون حصہ رسد اگرسب دین صحت یادین مرض ہوں ورنہ دین صحت مقدم ہوگا فرائض۔بعدہاگرکچھ باقی ہے تو اس کے ثلث سے اورورثہ زیادہ کی اجازت دیں توزیادہ سے وصایا اس کے اگرہوں تونافذ کی جائیں پھرمابقی برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین ترکہ زید متوفی کا دوسو اٹھاسی سہام پرمنقسم ہوکر۳۶سہام زوجہ اور۴۸ماں پائیں گی اور۶۴/۶۴ ہرسہ دختران کو ملیں گے اور۶بھائی اور۳/۳ دونوں بہنیں پائیں گی۔واﷲ تعالی اعلم
صورت مستفسرہ میں جب وہ زیورخاص ملك زوجہ ثانیہ تھا اورزید نے اس کی اجازت سے پہلے قرض کے عوض رہن رکھا اور اس کے بعد وفات زوجہ نے وہ قرضہ ادا کردیاتو وہ بلاشبہہ اس قدرروپیہ ترکہ زید سے واپس پائے گی
فی تنویرالابصار ولوافتکہ المعیر اجبرالمرتہن علی القبول ثم یرجع المعیر علی الراھن بماادی اھ تنویرالابصار میں ہے اگرعاریت پردینے والا رہن کوچھڑائے تومرتہن کوقبول کرنے پرمجبور کیاجائے گاپھرعاریت پردینے والے نے جوکچھ اداکیاہےوہ راہن سے اس کارجوع کرسکتاہے اھ(ت)
اسی طرح وہ قرضہ دوسروں کاجوذمہ زیدہے اور دونوں زوجہ کامہراگرباقی ہوالخ۔
مسئلہ ۵۲:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بازاری عورت کے بلانکاح ایك لڑکازیداورتین لڑکیاں لیلیسلمی عذرا پیداہوئیں وہ عورت مرگئی اور اس کا بیٹازید ایك بیٹا عمرو چھوڑ مرا اورلیلی سلمی نے نکاح کرلئے اب لیلی نے بھی سلمیعذرا دوبہنیں اورعمرو بھتیجا اورایك شوہرچھوڑ کرانتقال کیا۔اس صورت میں ترکہ لیلی کاکیونکر منقسم ہوگا اورعذرا کہ
حوالہ / References
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الرھن باب التصرف فی الرھن الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۷۵€
ہنوز اسی پیشہ پرہے مستحق ارث ہوگی یانہیں
الجواب:
بازاری عورت جو اپنے پیشہ پررہے اور ایك شخص کے ساتھ بطور زنان منکوحہ پابند ہوکرخانہ نشینی اختیارنہ کرے اسے صرف تعلق فاجرانہ کے سبب منکوحہ نہیں ٹھہراسکتے تاوقتیکہ حجت شرعیہ سے ثبوت نکاح نہ ہو اور جو اولاد بے نکاح پیداہو اس کانسب صرف ماں سے ثابت ہوتاہے نہ باپ سےاگرچہ اس کے نطفے سے ہونامتعین ہو اور وہ اس خیال سے اس کی طرف نسبت بھی کئے جائیں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کاہے او رزانی کے لئے پتھرہیں۔(ت)
تو وہ چاروں صرف ماں کے جانب سے بہن بھائی ہوئے اور اسی جہت سے وراثت پاسکتے ہیں۔
فی الدرالمختار یرث ولد الزنی واللعان بجھۃ الام حدہ لما قدمناہ فی العصبات انہ لااب لہما ۔ درمختار میں ہے زنا اور لعان کابچہ فقط ماں کی جہت سے وارث بنتاہےجیسا کہ ہم عصبات میں ذکرکرچکے ہیں کہ ان دونوں کاکوئی باپ نہیں ہوتا۔(ت)
اورعذرا کاپیشہ فسق وفجور میں ہونا مانع ارث نہیں کہ وہ گناہ ہے نہ کفر۔پس صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق سمستفتی وعدم موانع ارث وانحصارورثہ فی المذکورین وتقدیم ماتقدم کالدین والوصیۃ ترکہ لیلی کاچارسہام پرمنقسم ہوکردوسہام بکر اور ایك ایك سلمی وعذرا کو ملے گا
وذلك لانھما شریکتا ثلث وللزوج النصف بقی السدس یردعلیھما فتعودم ستۃ الی اربعۃ۔ اوریہ اس لئے ہے کہ وہ دونوں ایك تہائی میں شریك ہیں اور خاوند کے لئے ترکہ کا نصف ہوگا باقی چھٹا حصہ بچا جسے ان دونوں(سلمی وعذرا)پرردکیاجائے گا تومسئلہ چھ سے چار کی طرف عود کرے گا۔(ت)
الجواب:
بازاری عورت جو اپنے پیشہ پررہے اور ایك شخص کے ساتھ بطور زنان منکوحہ پابند ہوکرخانہ نشینی اختیارنہ کرے اسے صرف تعلق فاجرانہ کے سبب منکوحہ نہیں ٹھہراسکتے تاوقتیکہ حجت شرعیہ سے ثبوت نکاح نہ ہو اور جو اولاد بے نکاح پیداہو اس کانسب صرف ماں سے ثابت ہوتاہے نہ باپ سےاگرچہ اس کے نطفے سے ہونامتعین ہو اور وہ اس خیال سے اس کی طرف نسبت بھی کئے جائیں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الولد للفراش وللعاھر الحجر ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کاہے او رزانی کے لئے پتھرہیں۔(ت)
تو وہ چاروں صرف ماں کے جانب سے بہن بھائی ہوئے اور اسی جہت سے وراثت پاسکتے ہیں۔
فی الدرالمختار یرث ولد الزنی واللعان بجھۃ الام حدہ لما قدمناہ فی العصبات انہ لااب لہما ۔ درمختار میں ہے زنا اور لعان کابچہ فقط ماں کی جہت سے وارث بنتاہےجیسا کہ ہم عصبات میں ذکرکرچکے ہیں کہ ان دونوں کاکوئی باپ نہیں ہوتا۔(ت)
اورعذرا کاپیشہ فسق وفجور میں ہونا مانع ارث نہیں کہ وہ گناہ ہے نہ کفر۔پس صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق سمستفتی وعدم موانع ارث وانحصارورثہ فی المذکورین وتقدیم ماتقدم کالدین والوصیۃ ترکہ لیلی کاچارسہام پرمنقسم ہوکردوسہام بکر اور ایك ایك سلمی وعذرا کو ملے گا
وذلك لانھما شریکتا ثلث وللزوج النصف بقی السدس یردعلیھما فتعودم ستۃ الی اربعۃ۔ اوریہ اس لئے ہے کہ وہ دونوں ایك تہائی میں شریك ہیں اور خاوند کے لئے ترکہ کا نصف ہوگا باقی چھٹا حصہ بچا جسے ان دونوں(سلمی وعذرا)پرردکیاجائے گا تومسئلہ چھ سے چار کی طرف عود کرے گا۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع ∞۱ /۲۷۶€ وکتاب الفرائض ∞۲ /۱۰۰۱€ وباب للعاھرالحجر ∞۲ /۱۰۰۷€ وکتاب الاحکام ∞۲ /۱۰۶۵€
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی الغرقی والحرقی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۵€
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی الغرقی والحرقی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۵€
اورعمرو کہ لیلی کابھتیجا ہے بہنوں کے ہوتے کچھ نہ پائے گا فانہ ابن اخ لام فکان من ذوی الارحام کما فی تنویرالابصار وغیرھا(کیونکہ وہ اخیافی بھائی کابیٹا ہے لہذا ذوی الارحام میں سے ہوگاجیس اکہ تنویرالابصار وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرمحسن نے ایك مکان زنانہ اور ایك نشستگاہ مردانی اور اس کے متصل ایك قطعہ زمین افتادہ چھوڑکرانتقال کیا بعد ان کے سوا میرانفع علی پسراورمیرجمال علی وحسن شاہ پسران میراقنع علی برادر حقیقی میرانفع علی جو اپنے والد میرحسن کے سامنے قضاکرچکے تھے اور کوئی باقی نہ رہا جبکہ دونوں نبیرے اپنے چچا کے سامنے محروم تھے مگرمیرانفع علی نے براہ محبت ان کامحروم نہ کرنا چاہا اور ایك اقرارنامہ اس مضمون کالکھ دیا کہ میں اپنے دونوں بھتیجوں کوبھی وارث کرناچاہتاہوںیہ کل جائداد ان دونوں اورمیرے پسر میرعون علی کی ہے۔مکان زنانہ اپنے سامنے تین حصہ پر جدا جدا تقسیم کرکے ایك مکان پرمیرجمال علی اورایك پرمیرحسن شاہ اور ایك پراپنے پسرمیرعون علی کوقابض کردیا مگرمکان نشست منقسم نہ ہوا اور اس میں میرانفع علی وغیرہ یہ چاروں بیٹھاکرتے تھے۔اسی طرح وہ زمین افتادہ بھی منقسم نہ ہوئی مگرمیرانفع علی نے تحریرکل جائداد کے نسبت کی تھی جس میں وہ زمین ونشستگاہ بھی داخل تھی۔اب بعدانتقال میرجمال علیمیرحسن رضا ومیرملائی دوپسر اوربعدانتقال میرحسن شاہمیرعابد علی ومیرباقرعلی دوپسراورزبیدۃ النساء دختروارث ہوئےاورمیرانفع علی کا سوامیرعون علی کے کوئی وارث نہ تھا جس کے انتقال کے بعد صرف میرفیض علی پسر اس کے وارث ہوئےمیرفیض علی نے اپنا کل حق حقوق میرحسن رضاومیرمولائی کے ہاتھ بیع کردیا۔اب ان بائع و م شتریان نے بھی وفات پائی۔میرعابدعلی ومیر باقر علی پسران میرجمال علی دعوی کرتے ہیں کہ میرفیض علی سوامکان اندرونی موسوم بنام میرعون علی کے مکان نشستگاہ وزمین افتادہ میں کچھ حق نہ تھا۔لہذا وہ اس بیع میں داخل نہیں ہوسکتا۔آیا یہ دعوی ان کاشرعا صحیح ہے یانہیں اورزبیدۃ النساء کومتروکہ میر جمال علی سے کچھ پہنچتاہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جب کہ بعد انتقال میرمحسن کے شرعا میرانفع علی کے سواان کاکوئی وارث نہ تھا اور میرجمال علی ومیرحسن شاہ ان کے سامنے محجوب الارث تھے توغیروارث کووارث کرنا کسی کے اختیار میں نہیں تنہا میرانفع علی اس کل جائداد کے مالك ہوئے اور ان کی یہ خواہش کہ میں اپنے ان
مسئلہ ۵۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرمحسن نے ایك مکان زنانہ اور ایك نشستگاہ مردانی اور اس کے متصل ایك قطعہ زمین افتادہ چھوڑکرانتقال کیا بعد ان کے سوا میرانفع علی پسراورمیرجمال علی وحسن شاہ پسران میراقنع علی برادر حقیقی میرانفع علی جو اپنے والد میرحسن کے سامنے قضاکرچکے تھے اور کوئی باقی نہ رہا جبکہ دونوں نبیرے اپنے چچا کے سامنے محروم تھے مگرمیرانفع علی نے براہ محبت ان کامحروم نہ کرنا چاہا اور ایك اقرارنامہ اس مضمون کالکھ دیا کہ میں اپنے دونوں بھتیجوں کوبھی وارث کرناچاہتاہوںیہ کل جائداد ان دونوں اورمیرے پسر میرعون علی کی ہے۔مکان زنانہ اپنے سامنے تین حصہ پر جدا جدا تقسیم کرکے ایك مکان پرمیرجمال علی اورایك پرمیرحسن شاہ اور ایك پراپنے پسرمیرعون علی کوقابض کردیا مگرمکان نشست منقسم نہ ہوا اور اس میں میرانفع علی وغیرہ یہ چاروں بیٹھاکرتے تھے۔اسی طرح وہ زمین افتادہ بھی منقسم نہ ہوئی مگرمیرانفع علی نے تحریرکل جائداد کے نسبت کی تھی جس میں وہ زمین ونشستگاہ بھی داخل تھی۔اب بعدانتقال میرجمال علیمیرحسن رضا ومیرملائی دوپسر اوربعدانتقال میرحسن شاہمیرعابد علی ومیرباقرعلی دوپسراورزبیدۃ النساء دختروارث ہوئےاورمیرانفع علی کا سوامیرعون علی کے کوئی وارث نہ تھا جس کے انتقال کے بعد صرف میرفیض علی پسر اس کے وارث ہوئےمیرفیض علی نے اپنا کل حق حقوق میرحسن رضاومیرمولائی کے ہاتھ بیع کردیا۔اب ان بائع و م شتریان نے بھی وفات پائی۔میرعابدعلی ومیر باقر علی پسران میرجمال علی دعوی کرتے ہیں کہ میرفیض علی سوامکان اندرونی موسوم بنام میرعون علی کے مکان نشستگاہ وزمین افتادہ میں کچھ حق نہ تھا۔لہذا وہ اس بیع میں داخل نہیں ہوسکتا۔آیا یہ دعوی ان کاشرعا صحیح ہے یانہیں اورزبیدۃ النساء کومتروکہ میر جمال علی سے کچھ پہنچتاہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جب کہ بعد انتقال میرمحسن کے شرعا میرانفع علی کے سواان کاکوئی وارث نہ تھا اور میرجمال علی ومیرحسن شاہ ان کے سامنے محجوب الارث تھے توغیروارث کووارث کرنا کسی کے اختیار میں نہیں تنہا میرانفع علی اس کل جائداد کے مالك ہوئے اور ان کی یہ خواہش کہ میں اپنے ان
دونوں بھتیجوں کوبھی وارث کیاچاہتاہوں زبانی ہوخواہ تحریری ہرگزشرعا قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ توریث رب العالمین جل جلالہکے حکم سے ہے نہ زیدوعمرو کے زبان میں۔غایت یہ کہ اگرالفاظ اس اقرارنامہ کے صالح ہبہ ہوں یازبانی میرانفع علی سے الفاظ ہبہ صادرہوئے ہوں تویہ تینوں بھائی یعنی میرعون علی ومیرجمال ومیرحسن شاہ اس کل جائداد ے موہوب لہقرارپائیں گے مگرمکان اندرونی جسے میرانفع علی نے اپنی زندگی میں جداجداتین حصہ پرتقسیم کرکے ہرشخص کو ایك مکان علیحدہ پرقابض کرایا تو وہاں توہبہ واقعی حیح ونافذ وتام ہے اور وہ تینوںحصے ان تینوں کاشرعا مملوك ہوگئے لیکن مکان بیرونی وزمین افتادہ میں کہ اگرچہ ہزاربارہبہ زبانی خواہ تحریری ماناجائےشرعا مورث ملك نہیں ہوسکتا کہ تاوقت انتقال میرانفع علی کے وہ دونوں غیر منقسم تھے اور میرانفع علی نے اپناتعلق وتصرف ونشست وبرخاست حسب دستورقدیم بھی نہ اٹھادیا تھا پس تادم انتقال میرا نفع علی کے موہوب لہم کاقبضہ نہ پایاگیا اور ایساہبہ بعدانتقال واہب باطل ہوجاتاہے کما فی الدرالمختار(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ت)
اب کہ ہبہ باطل قرارپایا تواسمکان بیرونی وزمین افتادہ کاشرعا کوئی مالك سوامیرعون علی کے نہ ہوا اورمیرجمال علی ومیرحسن شاہ کاہرگز ان میں کچھ حق نہ تھا بعدانتقال میرعون علی کے میرفیض علی ان دونوں قطعوں اورایك مکان اندرونی کے بلاشرکت غیرے مالك ہوئے اور یہ سب مکانات بذریعہ بیع میرحسن رضااورمیرمولائی کی طرف بالمناصب منتقل کئے گئے میرعابد علی ومیرباقی علی کا حق شرعی سواس دوثلث مکان اندرونی کے جومیرانفع علی اپنی حیات میں ان کے مورث میرجمال علی کو دے کرقابض کرادیاتھا ہرگزنہیںاور اس میں بھی برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ کالدین والوصیۃ پانچواں حصہ ان کی بہن زبیدۃ النساء کاہےیہ ہے حکم شرعیاور اس کے خلاف جوکچھ ہوباطل محض۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۴:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ رحم علی وشیخ سعادت وشیخ احمد تین بھائی تھےانہوں نے اپنے روپے سے ایك جائداد پیداکیان تینوں کی زندگی تك مشترك رہے اورخوردونوش سب کایکجاتھاپس ازاں شیخ رحم علی کاانتقال ہو اوران کے اولیاء زوجہ اوربچن پسراوربجوبجوبلاقن تین دختروارث چھوڑے ان میں سے بجو نے ماں اولیاء اورشوہر محب اﷲ اورابن سعد اﷲ اوربنت عمدہ پھرنجو نے ماں اولیاء اوردوپسر وزیرمسیت اوردودخترامیرنفقیرن پھر اولیاء نے بچن وبلاقن پسرودختر چھوڑکرانتقال کیا۔بعد وفات
اب کہ ہبہ باطل قرارپایا تواسمکان بیرونی وزمین افتادہ کاشرعا کوئی مالك سوامیرعون علی کے نہ ہوا اورمیرجمال علی ومیرحسن شاہ کاہرگز ان میں کچھ حق نہ تھا بعدانتقال میرعون علی کے میرفیض علی ان دونوں قطعوں اورایك مکان اندرونی کے بلاشرکت غیرے مالك ہوئے اور یہ سب مکانات بذریعہ بیع میرحسن رضااورمیرمولائی کی طرف بالمناصب منتقل کئے گئے میرعابد علی ومیرباقی علی کا حق شرعی سواس دوثلث مکان اندرونی کے جومیرانفع علی اپنی حیات میں ان کے مورث میرجمال علی کو دے کرقابض کرادیاتھا ہرگزنہیںاور اس میں بھی برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امورمقدمہ کالدین والوصیۃ پانچواں حصہ ان کی بہن زبیدۃ النساء کاہےیہ ہے حکم شرعیاور اس کے خلاف جوکچھ ہوباطل محض۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۴:یافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ رحم علی وشیخ سعادت وشیخ احمد تین بھائی تھےانہوں نے اپنے روپے سے ایك جائداد پیداکیان تینوں کی زندگی تك مشترك رہے اورخوردونوش سب کایکجاتھاپس ازاں شیخ رحم علی کاانتقال ہو اوران کے اولیاء زوجہ اوربچن پسراوربجوبجوبلاقن تین دختروارث چھوڑے ان میں سے بجو نے ماں اولیاء اورشوہر محب اﷲ اورابن سعد اﷲ اوربنت عمدہ پھرنجو نے ماں اولیاء اوردوپسر وزیرمسیت اوردودخترامیرنفقیرن پھر اولیاء نے بچن وبلاقن پسرودختر چھوڑکرانتقال کیا۔بعد وفات
شیخ رحم علی کے وہ جائداد مشترکہ وغیرمنقسمہ سعادت احمد کے پاس رہی اورسعادت نے زوجہ عظیمہ اورچار ابن عبداﷲ جمن ننھےمہدی حسینچاربنت ورثہ چھوڑ کروفات پائی اور جائداد سب شیخ احمد کے ہاتھ میں رہی کہ قادربخش وممن دو پسران کے وارث رہے ان میں پہلے ممن دوبیبیاں بلاقن وبندہ جو قادربخش سے کچھ روپیہ لے کر ترکہ سے برضائے خودعلیحدہ ہوگئیں چھوڑکرانتقال کیا پھرقادربخش نے کہ بعد مرنے اپنے باپ اوربھائی کے تمام جائداد پرقابض تھا دوزوجہ مجوبنیك اورایك دختر نیازن اور پانچ بھائی چچازاد بچنعباداﷲجمنننھےمہدی حسین ورثہ چھوڑکروفات پائی اوراپنے مرض موت میں کل مال کے نسبت اپنی دختر وزوجین کے لئے وصیت کرگیا کہ مالك اس جائداد کے بعد میرے وہ ہیں اور پانچوں بھائی اس کے یہ وصیت گوارہ نہیں کرتےاس صورت میں وہ متروکہ کس حساب سے منقسم ہوگا اوریہ وصیت قادربخش کی صحیح ونافذ رہے گی یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مسئولہ میں مالك اس جائداد کے رحم علی وسعادت واحمد تینوں کے ورثہ ہیں صرف قادربخش مالك نہ تھا کہ سے اکل جائداد کے وصیت کرنے کااختیارہوتا اورایك حصہ ایك جائداد کا اس کے پاس رہنے سے حق دیگر ورثا کاباطل نہیں ہوتارہاحصہ اس کا اس میں وصیت نافذ ہوجاتی اگرپانچوں چچازادبھائی اس کی اجازت دیےت اب کہ وہ اسے گوارہ نہیں کرتے تو وہ بھی غیر نافذ ہوئیپس کل جائداد کے بوجہ اس کے کہ اصل مورثان اعلی تاحیات خود اس میں شریك رہے اورایك دوسرے کے مال میں باہم تمیزنہ تھی اور خوردونوش سب کایکجاتھا برابرتین حصے کئے جائیں گے اورہرمورث کاحصہ اس کے وارث پربرتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت تتیب اموات وتقدیم امور مقدمہ چوں ادائے مہمورزوجات و قضائے دیون اس طریق سے منقسم ہوجائے گا:
الجواب:
صورت مسئولہ میں مالك اس جائداد کے رحم علی وسعادت واحمد تینوں کے ورثہ ہیں صرف قادربخش مالك نہ تھا کہ سے اکل جائداد کے وصیت کرنے کااختیارہوتا اورایك حصہ ایك جائداد کا اس کے پاس رہنے سے حق دیگر ورثا کاباطل نہیں ہوتارہاحصہ اس کا اس میں وصیت نافذ ہوجاتی اگرپانچوں چچازادبھائی اس کی اجازت دیےت اب کہ وہ اسے گوارہ نہیں کرتے تو وہ بھی غیر نافذ ہوئیپس کل جائداد کے بوجہ اس کے کہ اصل مورثان اعلی تاحیات خود اس میں شریك رہے اورایك دوسرے کے مال میں باہم تمیزنہ تھی اور خوردونوش سب کایکجاتھا برابرتین حصے کئے جائیں گے اورہرمورث کاحصہ اس کے وارث پربرتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت تتیب اموات وتقدیم امور مقدمہ چوں ادائے مہمورزوجات و قضائے دیون اس طریق سے منقسم ہوجائے گا:
تقسیم ترکہ شیخ احمد
سوا اس مال کے جو اس کے پسرقادربخش نے بلاقن وبندہ ہردوزوجہ ممن کو دے کربتراضی اس کوترکہ سے خارج کردیا اس طورپر:
کان لم یکن لانہ لم یرثہ الا الاخ والزوجان ثم ان الزوجین قدتصالحتا علی شیئ معلوم وتخارجتا من الترکۃ فلم یکن الباقی الااخاہ قادربخش۔ گویا کہ وہ تھاہی نہیں چنانچہ سوائے بھائی اور دوبیویوں کے اس کاکوئی وارث نہ ہوا پھر بیویوں کے اس کا کوئی وارث نہ ہواپھربیویاں بھی کسی معین شیئ پرمصالحت کرکے ترکہ سے دست بردارہوگئیں اورسوائے اس کے بھائی قادربخش کے کوئی باقی نہ رہا۔(ت)
سوا اس مال کے جو اس کے پسرقادربخش نے بلاقن وبندہ ہردوزوجہ ممن کو دے کربتراضی اس کوترکہ سے خارج کردیا اس طورپر:
کان لم یکن لانہ لم یرثہ الا الاخ والزوجان ثم ان الزوجین قدتصالحتا علی شیئ معلوم وتخارجتا من الترکۃ فلم یکن الباقی الااخاہ قادربخش۔ گویا کہ وہ تھاہی نہیں چنانچہ سوائے بھائی اور دوبیویوں کے اس کاکوئی وارث نہ ہوا پھر بیویوں کے اس کا کوئی وارث نہ ہواپھربیویاں بھی کسی معین شیئ پرمصالحت کرکے ترکہ سے دست بردارہوگئیں اورسوائے اس کے بھائی قادربخش کے کوئی باقی نہ رہا۔(ت)
اتم وحکمہ احکم۔ کامل اوراس کاحکم مضبوط ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۵: ازڈونگر گڑھ ضلع رائے پور سنٹرل پرونسس مسئولہ شیخ حسن الدین احمدخاں صاحب ۱۱شعبان ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں ایك صاحب محمدعبدالکریم خاں ڈاکٹر نہایت عابد متقی لاولد ہیں جائداد بہت ہےخاص ان کی ذاتی پیداکی ہوئی ہے موروثی نہیں اپنے والد کی جائداد مین سے ایك حبہ نہ لیاکل جائداد پر ان کے علاتی بھائی قابض ہوگئےڈاکٹرصاحب کے کوئی بھائی بہن حقیقی نہیں ان کی خواہش ہے کہ کل جائداد اپنے ماموں زادبھائی کے نام کرکے مکہ معظمہ چلاجاؤں مگریہاں کے دیوان جواہل اسلام ہیں فرماتے ہیں کہ اس تحریر سے کچھ نہ ہوگا اس کے حقدارعلاتی بھائی بھی ہوں گےلہذا ڈاکٹر صاحب فتوی چاہتے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگربذریعہ بیع صحیح یاہبہ مع القبض اپنی تمام جائداد اپنے بھائی ماموں زاد کودے دیں گے وہ مالك مستقل ہوجائے گا علاتی بھائیوں کا کوئی استحقاق نہ ہ وگا مگریہ فعل اگربلاوجہ شرعی برادران علاتی کو اپنے ترکہ سے محروم کرنے کی غرض سے ہوگا توگناہ ہوگاحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فر من میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ ۔ جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی روزقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا۔
ہاں اگر وہ لوگ فساق فجار ہوں کہ جائداد کومعاصی الہی میں صرف کریں گے اور ماموں زادبھائی ایسانہیں توجائزبلکہ بہترہے۔
فی وجیزالامام الکردری ان اراد ان یصرف مالہ الی الخیر وابنہ فاسق فالصرف الی الخیر افضل من ترکہ لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ امام کردی کی وجیز میں ہے اگرکوئی شخص چاہتاہے کہ وہ اپنامال نیکی کے کام میں خرچ کرے درانحالیکہ اس کابیٹا فاسق ہے تو اس بیٹے کے لئے مال چھوڑجانے سے نیکی کے کام میں خرچ کر دیناافضل ہے کیونکہ اس کے لئے مال چھوڑنا گناہ پر مدد ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۵: ازڈونگر گڑھ ضلع رائے پور سنٹرل پرونسس مسئولہ شیخ حسن الدین احمدخاں صاحب ۱۱شعبان ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں ایك صاحب محمدعبدالکریم خاں ڈاکٹر نہایت عابد متقی لاولد ہیں جائداد بہت ہےخاص ان کی ذاتی پیداکی ہوئی ہے موروثی نہیں اپنے والد کی جائداد مین سے ایك حبہ نہ لیاکل جائداد پر ان کے علاتی بھائی قابض ہوگئےڈاکٹرصاحب کے کوئی بھائی بہن حقیقی نہیں ان کی خواہش ہے کہ کل جائداد اپنے ماموں زادبھائی کے نام کرکے مکہ معظمہ چلاجاؤں مگریہاں کے دیوان جواہل اسلام ہیں فرماتے ہیں کہ اس تحریر سے کچھ نہ ہوگا اس کے حقدارعلاتی بھائی بھی ہوں گےلہذا ڈاکٹر صاحب فتوی چاہتے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگربذریعہ بیع صحیح یاہبہ مع القبض اپنی تمام جائداد اپنے بھائی ماموں زاد کودے دیں گے وہ مالك مستقل ہوجائے گا علاتی بھائیوں کا کوئی استحقاق نہ ہ وگا مگریہ فعل اگربلاوجہ شرعی برادران علاتی کو اپنے ترکہ سے محروم کرنے کی غرض سے ہوگا توگناہ ہوگاحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فر من میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ ۔ جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی روزقیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا۔
ہاں اگر وہ لوگ فساق فجار ہوں کہ جائداد کومعاصی الہی میں صرف کریں گے اور ماموں زادبھائی ایسانہیں توجائزبلکہ بہترہے۔
فی وجیزالامام الکردری ان اراد ان یصرف مالہ الی الخیر وابنہ فاسق فالصرف الی الخیر افضل من ترکہ لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ امام کردی کی وجیز میں ہے اگرکوئی شخص چاہتاہے کہ وہ اپنامال نیکی کے کام میں خرچ کرے درانحالیکہ اس کابیٹا فاسق ہے تو اس بیٹے کے لئے مال چھوڑجانے سے نیکی کے کام میں خرچ کر دیناافضل ہے کیونکہ اس کے لئے مال چھوڑنا گناہ پر مدد ہے۔(ت)
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹۸€
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ الجنس الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/۲۳۷€
فتاوٰی بزازیۃ علٰی ہامش الفتاوی الھندیۃ کتاب الھبۃ الجنس الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/۲۳۷€
یونہی اگراپنے مال کاثلث ماموں زاد بھائی کو لکھ دیں تو کسی حال میں کچھ مضائقہ نہیںترکہ پدری سے جو حصہ ان کاتھا یہ اگر نقل صحیح شرعی مثل بیع یابعد تقسیم ہبہ مع القبض کے ذریعہ سے برادران علاتی کونہیں دے دیاہے تووہ بدستور ان کی ملك پرباقی ہے مطالبہ نہ کرنے یا یونہی چھوڑدینے سے ان کی ملك سے خارج نہ ہوا دوثلث جوبرادران علاتی کے لئے باقی چھوڑیں ان میں وہ حصہ بھی محسوب کرسکتے ہیں مثلا ان کاوہ حصہ جو ان کے قبضہ میں ہے اگردوہزار کاہے اور اس کے علاوہ جائداد پیداکردہ ہزار روپے کی ہے تویہ کل جائداد جدیدماموں زادبھائی کو دے سکتے ہیں کہ دوثلث ان کے پاس خود موجود ہے او ریہ نئی جائداد چارہزار کی ہے تو اس میں سے نصف ماموں زادبھائی کو دے دیں کہ نصف یہ اور وہ حصہ مل کر دوثلث ہوجائیں وعلی ھذا القیاس واﷲ سبحانہوتعالی اعلم(اور اسی پرقیاس ہوگااور اﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۵۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور تین شخص قرابتی اس کے باقی رہے جس میں ایك حقیقی چچازادبہن اورایك بھائی ماموں زادااورایك بہن ماموں زادہےپس ان تینوں میں ترکہ کس طرح پرتقسیم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث دیگروتقدیم دین ووصیت ترکہ ہندہ کانوسہام پرمنقسم ہوکرچھ سہم چچازاد بہن اوردوماموں زاد بھائی اور ایك ماموں زاد بہن کوملے گا۔
فی الشریفیۃ ان استودا فی القرب ولکن اختلف قرابتھم بان کان بعضھم من جانب الاب وبعض من جانب الام فلا اعتبار ھھنا لقوۃ القرابۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ فبنت العم لیست اولی من بنت الخال لعدم اعتبار کون بنت العم ولدا العصبۃ لکن الثلثین لمن یدلی بقرابۃ الاب شریفیہ میں ہے اگر وہ قرابت میں برابرہوں لیکن جہت قرابت میں مختلف ہوں جیسے بعض باپ کی جہت سے اور بعض ماں کی جہت سے ہوں تو یہاں ظاہرالروایۃ کے مطابق قوت قرابت اورعصبہ کی اولاد ہونے کاکوئی اعتبار نہیں چنانچہ چچا کی بیٹی خالہ کی بیٹی سے اولی نہیں ہوگی کیونکہ یہاں اس بات کااعتبار نہیں کہ چچا کی بیٹی عصبہ ہے لیکن جوباپ کی قرابت کے واسطے سے میت کی طرف منسوب ہو
مسئلہ ۵۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئی اور تین شخص قرابتی اس کے باقی رہے جس میں ایك حقیقی چچازادبہن اورایك بھائی ماموں زادااورایك بہن ماموں زادہےپس ان تینوں میں ترکہ کس طرح پرتقسیم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث دیگروتقدیم دین ووصیت ترکہ ہندہ کانوسہام پرمنقسم ہوکرچھ سہم چچازاد بہن اوردوماموں زاد بھائی اور ایك ماموں زاد بہن کوملے گا۔
فی الشریفیۃ ان استودا فی القرب ولکن اختلف قرابتھم بان کان بعضھم من جانب الاب وبعض من جانب الام فلا اعتبار ھھنا لقوۃ القرابۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ فبنت العم لیست اولی من بنت الخال لعدم اعتبار کون بنت العم ولدا العصبۃ لکن الثلثین لمن یدلی بقرابۃ الاب شریفیہ میں ہے اگر وہ قرابت میں برابرہوں لیکن جہت قرابت میں مختلف ہوں جیسے بعض باپ کی جہت سے اور بعض ماں کی جہت سے ہوں تو یہاں ظاہرالروایۃ کے مطابق قوت قرابت اورعصبہ کی اولاد ہونے کاکوئی اعتبار نہیں چنانچہ چچا کی بیٹی خالہ کی بیٹی سے اولی نہیں ہوگی کیونکہ یہاں اس بات کااعتبار نہیں کہ چچا کی بیٹی عصبہ ہے لیکن جوباپ کی قرابت کے واسطے سے میت کی طرف منسوب ہو
والثلث لمن یدلی بقرابۃ الام اھ مختصرا۔ اس کے لئے دوتہائی اورجوماں کی قرابت کے واسطے سے میت کی طرف منسوب ہو اس کے لئے ایك تہائی ہوگا اھ مختصرا(ت)
مسئلہ ۵۷: ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی ننھے فوت ہوایك زوجہ ایك بیٹا ایك بیٹی ایك بھائی حقیقی وارث چھوڑےننھے کی بی بی مہرمعاف کرچکی ہے اوراپنا نکاح ثانی کیاچاہتی ہے اور بچوں کو کہ ابھی نابالغ ہیں چھوڑے دیتی ہےپس ترکہ ننھے کا ان وارثوں کو کس قدرپہنچے گا اور حق ولایت بچوں کاکس کوپہنچتاہےبینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہوا کہ لڑکا آٹھ برس کا اور لڑکی چار برس کی ہے اورننھے کابھائی جوان ہے اور ان بچوں کی نانی بیوہ زندہ ہے اور عورت ایسے شخص سے نکاح کیاچاہتی ہے جو ان بچوں کامحرم نہیںپس صورت مستفسرہ میں لڑکا تو ابھی سے اپنے چچا پس رہے گا۔اورلڑکی اپنی ماں کے پاس نوبرس کی عمرتك رہے گی اگروہ عورت ایسے شخص سے نکاح نہ کرے اور اگرنکاح کرے گی تولڑکی تنی عمر تك اپنی نانی کے پاس رہے گی اس کے بعد چچا کی سپردگی میں دی جائے گی اور ترکہ ننھے کابرتقدیر عدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہرودیگر دیون ووصایا چوبیس ۲۴سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم زوجہ اورچودہ سہم پسر اورسات دختر کو ملیں گے اوربھائی کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۸: ۱۳ربیع الآخر۱۳۱۲ھ مرسلہ بولاقی خاں بریلی
جناب مولوی صاحب سلامتبعدآدب گزارش ہے کہ ایك ہمشیرہ اورتین ہم بھائی ہیںجناب والد صاحب نے ایك عرصہ سے سب کام چھوڑدیاتھا جومجھ کو میسرآتاتھا حاضرلاتاتھا ایك ہمشیرہ میری نابالغ تھی اس کو میں نے اپنی محنت سے پرورش کرکے شادی کردی اوردونوںبھائی چھوٹے ان کوبھی پرورش ك یا اور بھائیوں کی بھی شادی کردیاب جوجائداد والد کے وقت کی ہے وہ طلب کرتے ہیںواجب ہے یانہیں اوربعد گزرنے والد کے اور
مسئلہ ۵۷: ۱۹محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی ننھے فوت ہوایك زوجہ ایك بیٹا ایك بیٹی ایك بھائی حقیقی وارث چھوڑےننھے کی بی بی مہرمعاف کرچکی ہے اوراپنا نکاح ثانی کیاچاہتی ہے اور بچوں کو کہ ابھی نابالغ ہیں چھوڑے دیتی ہےپس ترکہ ننھے کا ان وارثوں کو کس قدرپہنچے گا اور حق ولایت بچوں کاکس کوپہنچتاہےبینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہوا کہ لڑکا آٹھ برس کا اور لڑکی چار برس کی ہے اورننھے کابھائی جوان ہے اور ان بچوں کی نانی بیوہ زندہ ہے اور عورت ایسے شخص سے نکاح کیاچاہتی ہے جو ان بچوں کامحرم نہیںپس صورت مستفسرہ میں لڑکا تو ابھی سے اپنے چچا پس رہے گا۔اورلڑکی اپنی ماں کے پاس نوبرس کی عمرتك رہے گی اگروہ عورت ایسے شخص سے نکاح نہ کرے اور اگرنکاح کرے گی تولڑکی تنی عمر تك اپنی نانی کے پاس رہے گی اس کے بعد چچا کی سپردگی میں دی جائے گی اور ترکہ ننھے کابرتقدیر عدم موانع ارث و انحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہرودیگر دیون ووصایا چوبیس ۲۴سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم زوجہ اورچودہ سہم پسر اورسات دختر کو ملیں گے اوربھائی کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۵۸: ۱۳ربیع الآخر۱۳۱۲ھ مرسلہ بولاقی خاں بریلی
جناب مولوی صاحب سلامتبعدآدب گزارش ہے کہ ایك ہمشیرہ اورتین ہم بھائی ہیںجناب والد صاحب نے ایك عرصہ سے سب کام چھوڑدیاتھا جومجھ کو میسرآتاتھا حاضرلاتاتھا ایك ہمشیرہ میری نابالغ تھی اس کو میں نے اپنی محنت سے پرورش کرکے شادی کردی اوردونوںبھائی چھوٹے ان کوبھی پرورش ك یا اور بھائیوں کی بھی شادی کردیاب جوجائداد والد کے وقت کی ہے وہ طلب کرتے ہیںواجب ہے یانہیں اوربعد گزرنے والد کے اور
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب ذوی الارحام فصل فی اولادھم ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور۲۰۔۱۱۹€
والدہ کے دونوں کو میں نے دفن کیا او رکوئی پیسہ ان کا خرچ نہیں ہو ااور قریب دوسوروپے کے والد پرقرض تھے وہ بھی میں نے دئیے اور بھائی اوربہن خود تسلیم کرتے ہیںلہذا آپ کوتکلیف دیتاہوں کہ شرعا کس کو حق پہنچتاہے
الجواب:
سائل نے بیان کیاکہ اس کے باپ نے ماں سے پہلے انتقال کیا ماں مہر معاف کردیا تھا دونوں کے وارث یہی تین بیٹے رہے۔اس صورت میں سائل نے جوکچھ اپنے ماں باپ کی خدمت میںصرف کیا وہ کسی سے نہ پائے گا جو اپنے بہن بھائیوں کی پرورش و شادی میں اٹھایا وہ کسی سے نہ ملے گاہاں جو کچھ باپ کا قرضہ اداکرنے اوربقدرسنت باپ کے کفن دفن میں اٹھایا وہ باپ کے مال پر اس کا قرض ہے پہلے یہ قرضہ اورجوقرضہ اس کے باپ کے ذمہ ہو ادا کرکے باقی تہائی سے اگرباپ نے کچھ وصیت کسی کے لئے کی ہونافذ کرکے باقی کے آٹھ حصے کریں ایك حصہ ماں اور دو دوہربیٹے اورایك بیٹی کواب یہ ایك حصہ جوان کی ماں کو پہنچاسائل بیان کرتاہے کہ اس کے سوا ماں کاکچھ اورترکہ نہیں اس میں سے جوان کی ماں کو پہنچاسائل بیان کرتاہے کہ اس کے سواماں کاکچھ اورترکہ نہیں اس میں سے جو کچھ سائل نے ماں کے کفن دفن بقدرمسنون میں اٹھایا وہ اور جوقرضہ اس کی ماں پر ہے اداکریں اگرکچھ نہ بچے توماں کے اس حصہ میں سے دوسرے وارثوں کو کچھ نہ ملے اوراگرکچھ باقی رہے تو اس کی تہائی سے ماں کی وصیت اگر اس نے نافذ کی ہواداکرکے باقی کے سات حصے کریں ہربیٹے کودوبیٹی کوایک۔واﷲ اعلم فقط۔
مسئلہ ۵۹: ازبیجناتھ بازار رائے پور ملك متوسط مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد ودیرانجمن نعمانیہ ۷جمادی الاول ۱۳۱۴ھ
فیض النساء بیگم کے شوہریعقوب علی مرحوم کی جائداد وقت مرنے کے اس قدرتھی جوفیض النساء بیگم کے مہر کواکتفاکرتی اس لئے فیض النساء بیگم کل جائداد پربعوض اپنے دین مہر کے قابض ہوئیفرمائیے کہ یعقوب علی مرحوم کی پہلی بیوی کی اولاد کواپنی ماں متوفیہ کے مہر میں اس جائداد سے بحصہ رسدی حق مل سکتاہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ دوسری عورت کابھی کچھ مہرذمہ شوہرباقی ہے تونہ ایك عورت کل ترکہ سے اپناہی دین پانے کی مستحق ہوسکتی ہے اگرچہ تنہا اسی کامہرمقدارترکہ سے زائدہو بلکہ دونوں عورتوں کابقدرواجب الادا مہراوران کے سوا اورجودین ذمہ مورث ہوں سب حصہ رسد متروکہ سے ادا
الجواب:
سائل نے بیان کیاکہ اس کے باپ نے ماں سے پہلے انتقال کیا ماں مہر معاف کردیا تھا دونوں کے وارث یہی تین بیٹے رہے۔اس صورت میں سائل نے جوکچھ اپنے ماں باپ کی خدمت میںصرف کیا وہ کسی سے نہ پائے گا جو اپنے بہن بھائیوں کی پرورش و شادی میں اٹھایا وہ کسی سے نہ ملے گاہاں جو کچھ باپ کا قرضہ اداکرنے اوربقدرسنت باپ کے کفن دفن میں اٹھایا وہ باپ کے مال پر اس کا قرض ہے پہلے یہ قرضہ اورجوقرضہ اس کے باپ کے ذمہ ہو ادا کرکے باقی تہائی سے اگرباپ نے کچھ وصیت کسی کے لئے کی ہونافذ کرکے باقی کے آٹھ حصے کریں ایك حصہ ماں اور دو دوہربیٹے اورایك بیٹی کواب یہ ایك حصہ جوان کی ماں کو پہنچاسائل بیان کرتاہے کہ اس کے سوا ماں کاکچھ اورترکہ نہیں اس میں سے جوان کی ماں کو پہنچاسائل بیان کرتاہے کہ اس کے سواماں کاکچھ اورترکہ نہیں اس میں سے جو کچھ سائل نے ماں کے کفن دفن بقدرمسنون میں اٹھایا وہ اور جوقرضہ اس کی ماں پر ہے اداکریں اگرکچھ نہ بچے توماں کے اس حصہ میں سے دوسرے وارثوں کو کچھ نہ ملے اوراگرکچھ باقی رہے تو اس کی تہائی سے ماں کی وصیت اگر اس نے نافذ کی ہواداکرکے باقی کے سات حصے کریں ہربیٹے کودوبیٹی کوایک۔واﷲ اعلم فقط۔
مسئلہ ۵۹: ازبیجناتھ بازار رائے پور ملك متوسط مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد ودیرانجمن نعمانیہ ۷جمادی الاول ۱۳۱۴ھ
فیض النساء بیگم کے شوہریعقوب علی مرحوم کی جائداد وقت مرنے کے اس قدرتھی جوفیض النساء بیگم کے مہر کواکتفاکرتی اس لئے فیض النساء بیگم کل جائداد پربعوض اپنے دین مہر کے قابض ہوئیفرمائیے کہ یعقوب علی مرحوم کی پہلی بیوی کی اولاد کواپنی ماں متوفیہ کے مہر میں اس جائداد سے بحصہ رسدی حق مل سکتاہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ دوسری عورت کابھی کچھ مہرذمہ شوہرباقی ہے تونہ ایك عورت کل ترکہ سے اپناہی دین پانے کی مستحق ہوسکتی ہے اگرچہ تنہا اسی کامہرمقدارترکہ سے زائدہو بلکہ دونوں عورتوں کابقدرواجب الادا مہراوران کے سوا اورجودین ذمہ مورث ہوں سب حصہ رسد متروکہ سے ادا
کئے جائیں گےنہ عورت بطورخود اپنے مہر کے بدلے جائداد پرقابض ہوسکتی ہے بلکہ جائداد بیچ کرمہراداکیاجائے گا فان حقہا فی المالیۃ لافی العین(کیونکہ عورت کاحق مالیت میں ہے نہ کہ عین میں۔ت)عالمگیریہ میں ہے:
میت اوصی الی المرأتہ وترك مالا و للمرأۃ علیہ مھرہا ان ترك المیت صامتا مثل مھرھا کان لہا ان تاخذ مھرھا من الصامت لانھا ظفرت بجنس حقھا وان لم یترك المیت صامتا کان لھا ان تبیع ماکان اصلح للبیع و تستوفی صداقھا من الثمن اھ قلت والتقیید بالاصلح حیث لم یکن الدین محیطا ولابیع کل شیئ کمالایخفی۔ میت نے اپنی بیوی کے لئے وصیت کی اور کچھ مال چھوڑا عورت کا اس کے ذمے مہرہےاگرمیت نے عورت کے مہر کی مثل نقدی چھوڑی ہے توعورت اس نقدی سے اپنامہر وصول کرسکتی ہے کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس کوپانے پرکامیاب ہوگئی ہےاور اگرمیت نے کوئی نقدی نہیں چھوڑی توعورت کے لئے جائزہے کہ وہ خاوند کے ترکہ میں سے جوچیز قابل بیع ہے اس کو بیچ کرثمن میں سے اپنامہروصول کرے اھمیں کہتا ہوں قابل بیع ہونے کی قیدوہاں ہوگی جہاں قرض ترکہ کو محیط نہ ہو اور اس کی ہرشیئ نہیں بیچی جائے گی جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
وارثان زوجہ اولی اپنی ماں کے مہر سے مقدارواجب الاداء کادعوی فیض النساء بیگم پرکرسکتے ہیں
لانھا وارثۃ فتصلح خسما للغرماء من ھذہ الجھۃ و ان لم تصلح من جہۃ انہا دائنۃ وذلك بناء علی ما اختارہ الفقیہ ان الوارث خصم الغریم وان کانت الترکۃ کیونکہ بیوی وارث ہے اس لئے وہ اس جہت سے قرضخواہوں کے لئے خصم بن سکتی ہے اگرچہ وہ قرضخواہ ہونے کی حیثیت سے خصومت کی صلاحیت نہیں رکھتیاور یہ مبنی ہے اس قول پرجس کوفقیہ نے اختیارکیاکہ وارث قرضخواہ کاخصم بن سکتا ہے اگرچہ ترکہ قرض میں
میت اوصی الی المرأتہ وترك مالا و للمرأۃ علیہ مھرہا ان ترك المیت صامتا مثل مھرھا کان لہا ان تاخذ مھرھا من الصامت لانھا ظفرت بجنس حقھا وان لم یترك المیت صامتا کان لھا ان تبیع ماکان اصلح للبیع و تستوفی صداقھا من الثمن اھ قلت والتقیید بالاصلح حیث لم یکن الدین محیطا ولابیع کل شیئ کمالایخفی۔ میت نے اپنی بیوی کے لئے وصیت کی اور کچھ مال چھوڑا عورت کا اس کے ذمے مہرہےاگرمیت نے عورت کے مہر کی مثل نقدی چھوڑی ہے توعورت اس نقدی سے اپنامہر وصول کرسکتی ہے کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس کوپانے پرکامیاب ہوگئی ہےاور اگرمیت نے کوئی نقدی نہیں چھوڑی توعورت کے لئے جائزہے کہ وہ خاوند کے ترکہ میں سے جوچیز قابل بیع ہے اس کو بیچ کرثمن میں سے اپنامہروصول کرے اھمیں کہتا ہوں قابل بیع ہونے کی قیدوہاں ہوگی جہاں قرض ترکہ کو محیط نہ ہو اور اس کی ہرشیئ نہیں بیچی جائے گی جیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
وارثان زوجہ اولی اپنی ماں کے مہر سے مقدارواجب الاداء کادعوی فیض النساء بیگم پرکرسکتے ہیں
لانھا وارثۃ فتصلح خسما للغرماء من ھذہ الجھۃ و ان لم تصلح من جہۃ انہا دائنۃ وذلك بناء علی ما اختارہ الفقیہ ان الوارث خصم الغریم وان کانت الترکۃ کیونکہ بیوی وارث ہے اس لئے وہ اس جہت سے قرضخواہوں کے لئے خصم بن سکتی ہے اگرچہ وہ قرضخواہ ہونے کی حیثیت سے خصومت کی صلاحیت نہیں رکھتیاور یہ مبنی ہے اس قول پرجس کوفقیہ نے اختیارکیاکہ وارث قرضخواہ کاخصم بن سکتا ہے اگرچہ ترکہ قرض میں
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/۱۵۳€
مستغرقۃ بالدین نعم لاحلف علیہ ح کما فی وصی الھندیۃ عن المحیط۔ گھراہواہو۔ہاں اس صورت میں اس پرقسم نہیں آتی۔جیساکہ ہندیہ کے باب الوصی میں محیط سے منقول ہے۔(ت)
مگریہ اس حالت میں ہے کہ وارثان زن متوفاۃ پرکوئی امرمسقط مدعی یامانع دعوی ثابت نہ ہو ورنہ دعوی نامسموع ہوگا کمالایخفی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(جیسا کہ پوشیدہ نہیںاوراﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۶۰: زید کی بیٹی کاخالد کے ساتھ نکاح ہوادس ہزار مہرمعین ہوازید کی بیٹی مرگئیایك لڑکا اورایك لڑکی اوروالدین اور شوہر اس کاباقی رہاخالد کے پاس پانچ ہزار کی ملکیت ہےدرصورت غیردعویدارہونے اولاد اورشوہر کے والدین کوحصہ کس قدر ملکیت موجودہ سے ملناچاہئے یا بقدرمہربینواتوجروا
الجواب:
صورۃ مستفسرہ میں چہارم مہرکاشوہر کے ذمہ سے ساقط ہوگیاباقی اگرتمام وکمال اسے حصول نہ ہوتوجتناوصول ہو ہروارث اس میں سے بقدر سہم فرائض کے لے سکتاہے نہ یہ کہ بعض ورثہ اپنا کل مطالبہ لے لیںسائل مظہر ہے کہ اولاد دونوں نابالغ ہیں اس صورت میں اس کادعوی نہ کرنا کب کیا مسقط حق ہوسکتاہے البتہ اگرکوئی وارث بالغ دین میں سے بقدر اپنے سہم کے معاف کردے تو باقی ورثہ اپنا اپنا مطالبہ لے سکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱: ۴شعبان ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںزیدمرازوجہ اپنی کو سہ ماہ کے حمل میں چھوڑابعد انتقال زید کے چھ ماہ کے بعد لڑکا پیداہواعمروازراہ ب دنیتی وخوف اس کے کہ لڑکازیدمتوفی کی جائداد کامستحق ہو اس کی حق تلفی کے واسطے لڑکے کو ولدالحرام بیان کرتاہے اور کہتاہے کہ بعدانتقال زید کے لڑکا سوابرس کے بعد پیداہوااولاتولڑکاصحیح طور پربعدانتقال زید کے چھ ماہ کے بعد پیدا ہوااوربالفرض عمروکاقول تصدیق کیاجائے کہ لڑکاسوابرس کے بعد پیداہوا توبموجب شرع شریف کے لڑکاحلالی ہے یاولد الحرام اورزیدمتوفی کے نطفے سے ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
مگریہ اس حالت میں ہے کہ وارثان زن متوفاۃ پرکوئی امرمسقط مدعی یامانع دعوی ثابت نہ ہو ورنہ دعوی نامسموع ہوگا کمالایخفی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(جیسا کہ پوشیدہ نہیںاوراﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۶۰: زید کی بیٹی کاخالد کے ساتھ نکاح ہوادس ہزار مہرمعین ہوازید کی بیٹی مرگئیایك لڑکا اورایك لڑکی اوروالدین اور شوہر اس کاباقی رہاخالد کے پاس پانچ ہزار کی ملکیت ہےدرصورت غیردعویدارہونے اولاد اورشوہر کے والدین کوحصہ کس قدر ملکیت موجودہ سے ملناچاہئے یا بقدرمہربینواتوجروا
الجواب:
صورۃ مستفسرہ میں چہارم مہرکاشوہر کے ذمہ سے ساقط ہوگیاباقی اگرتمام وکمال اسے حصول نہ ہوتوجتناوصول ہو ہروارث اس میں سے بقدر سہم فرائض کے لے سکتاہے نہ یہ کہ بعض ورثہ اپنا کل مطالبہ لے لیںسائل مظہر ہے کہ اولاد دونوں نابالغ ہیں اس صورت میں اس کادعوی نہ کرنا کب کیا مسقط حق ہوسکتاہے البتہ اگرکوئی وارث بالغ دین میں سے بقدر اپنے سہم کے معاف کردے تو باقی ورثہ اپنا اپنا مطالبہ لے سکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۱: ۴شعبان ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںزیدمرازوجہ اپنی کو سہ ماہ کے حمل میں چھوڑابعد انتقال زید کے چھ ماہ کے بعد لڑکا پیداہواعمروازراہ ب دنیتی وخوف اس کے کہ لڑکازیدمتوفی کی جائداد کامستحق ہو اس کی حق تلفی کے واسطے لڑکے کو ولدالحرام بیان کرتاہے اور کہتاہے کہ بعدانتقال زید کے لڑکا سوابرس کے بعد پیداہوااولاتولڑکاصحیح طور پربعدانتقال زید کے چھ ماہ کے بعد پیدا ہوااوربالفرض عمروکاقول تصدیق کیاجائے کہ لڑکاسوابرس کے بعد پیداہوا توبموجب شرع شریف کے لڑکاحلالی ہے یاولد الحرام اورزیدمتوفی کے نطفے سے ہے یانہیںبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
عمروجھوٹاہےایسی تہمت پرقرآن عظیم نے اسی کوڑوں کاحکم دیاہے اورگواہی کو ہمیشہ مردود۔سوابرس توتھوڑاہے دو۲برس تك بھی پیداہوتاتوبلاشبہہ زید کاقرارپاتایہ لڑکاشرعا ضرور زیدکااوراس کاوارث شرعی ہےہاں اگرعورت بعدموت شوہر قبل ولادت پسراقرارکرچکی ہوتی کہ میری عدت گزرگئیاور اس اقرار سے چھ ماہ یازائد کے بعد بچہ پیداہوتا توشوہر متوفی کاقرارنہ پاتا ورنہ صرف اس بنا پرکہ موت کے سوابرس بعد پیداہو اولادالحرام کہنا محض ظلم وباطل ہے۔درمختارمیں ہے:
یثبت نسب ولد معتدۃ الموت لاقل منہما(ای من سنتین)من وقت الموت الخ۔ موت کی عدت گزرانے والی خاتون اگرشوہر کی موت کے وقت سے دوسال سے کم مدت میں بچہ جنے تو اس کانسب ثابت ہوگا۔(ت)
شریفیہ میں ہے:
ان کان الحمل من المیت بان خلف امرأۃ حاملا و جائت بالولد لتمام اکثر مدۃ الحمل ای سنتین او اقل ولم تکن اقرت بانقضاء العدۃ یرث ذلك الولد من المیت واقاربہ ۔ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگرحمل میت کاہے جس کی صورت یہ ہے کہ میت نے حاملہ بیوی چھوڑی ہو اور وہ مدت حمل یعنی دوسال کے پوراہونے پر یااس سے کم مدت میں بچہ جنے جبکہ عورت نے عدت کے گزرجانے کااقرارنہ کیاہو تویہ بچہ میت اور اس کے قرابتداروں کاوارث بنے گا۔ملتقطاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۲: ازشہربنارس محلہ کنڈی گڈٹولہ مسجدبازار مرسلہ حافظ ولی محمدصاحب ۲۱شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ زوجہ زید کچھ اپنے ورثائے شرعی اورزید اپنے خاوند کو چھوڑ کرمرگئی اورمہرجوزید کے ذمہ واجب الاداء ہے وصول نہیں پایا اورکوئی اولاد اس نے نہیں چھوڑیاس صورت میں زید مہر میں سے بھی جو اس کے ذمہ واجب الاداء ہے نصف حصہ پاسکتاہے جیسا کہ ہندہ کے کل متروکہ سے پاسکتاہے یانہیںشبہ یہ ہوتاہے
عمروجھوٹاہےایسی تہمت پرقرآن عظیم نے اسی کوڑوں کاحکم دیاہے اورگواہی کو ہمیشہ مردود۔سوابرس توتھوڑاہے دو۲برس تك بھی پیداہوتاتوبلاشبہہ زید کاقرارپاتایہ لڑکاشرعا ضرور زیدکااوراس کاوارث شرعی ہےہاں اگرعورت بعدموت شوہر قبل ولادت پسراقرارکرچکی ہوتی کہ میری عدت گزرگئیاور اس اقرار سے چھ ماہ یازائد کے بعد بچہ پیداہوتا توشوہر متوفی کاقرارنہ پاتا ورنہ صرف اس بنا پرکہ موت کے سوابرس بعد پیداہو اولادالحرام کہنا محض ظلم وباطل ہے۔درمختارمیں ہے:
یثبت نسب ولد معتدۃ الموت لاقل منہما(ای من سنتین)من وقت الموت الخ۔ موت کی عدت گزرانے والی خاتون اگرشوہر کی موت کے وقت سے دوسال سے کم مدت میں بچہ جنے تو اس کانسب ثابت ہوگا۔(ت)
شریفیہ میں ہے:
ان کان الحمل من المیت بان خلف امرأۃ حاملا و جائت بالولد لتمام اکثر مدۃ الحمل ای سنتین او اقل ولم تکن اقرت بانقضاء العدۃ یرث ذلك الولد من المیت واقاربہ ۔ملتقطا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگرحمل میت کاہے جس کی صورت یہ ہے کہ میت نے حاملہ بیوی چھوڑی ہو اور وہ مدت حمل یعنی دوسال کے پوراہونے پر یااس سے کم مدت میں بچہ جنے جبکہ عورت نے عدت کے گزرجانے کااقرارنہ کیاہو تویہ بچہ میت اور اس کے قرابتداروں کاوارث بنے گا۔ملتقطاواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۲: ازشہربنارس محلہ کنڈی گڈٹولہ مسجدبازار مرسلہ حافظ ولی محمدصاحب ۲۱شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ زوجہ زید کچھ اپنے ورثائے شرعی اورزید اپنے خاوند کو چھوڑ کرمرگئی اورمہرجوزید کے ذمہ واجب الاداء ہے وصول نہیں پایا اورکوئی اولاد اس نے نہیں چھوڑیاس صورت میں زید مہر میں سے بھی جو اس کے ذمہ واجب الاداء ہے نصف حصہ پاسکتاہے جیسا کہ ہندہ کے کل متروکہ سے پاسکتاہے یانہیںشبہ یہ ہوتاہے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۶۱€
الشریفیہ شرح السراجیہ باب ذوی الارحام فصل فی الحمل ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۳۲€
الشریفیہ شرح السراجیہ باب ذوی الارحام فصل فی الحمل ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۳۲€
کہ قیاسا تومہرمیں سے بھی نصف حصہ زید کو پاناچاہئے ہے مگرمہر کوشارع اسلام نے بغرض احترام بضع رکھا ہے اورغایت اس کی عزت واحترام زوجہ ہے اور بحالت نصف حصہ پالینے زید کے مہرمیں سے بھی یہ غایت فی الجملہ ہوجائے گیہرصورت کے جزئی بھی باحوالہ کتب تحریرفرمائی جائے اورجواب سے جدل سرفرازی بخشی جائے فقط۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ضرور نصف مہرذمہ زید سے ساقط ہوا نہ بمعنی عدم وجوب رأسا کہ مہر بعد تأکد بالموت بایں معنی قابلیت سقوط نہیں رکھتا اورغایت مذکورہ میں اگر کچھ نقص آتا تو اسی صورت سےبلکہ بمعنی تملك بخلافت ووراثت زوجہ لقولہ تعالی " ولکم نصف ما ترک ازوجکم ان لم یکن لہن ولد " (اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اورتمہاری بیبیاں جوچھوڑ جائیں ان میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو۔ت)اورشك نہیں کہ مہربھی متروکہ زوجہ میں داخل ہے اور یہ معنی اس غایت کے منافی نہیں بلکہ مؤکد ومقرر ہیں کہ کل مہرزوجہ ولومالا منافی غرض مذکور ہوتو ہبہ وابرابھی ناجائزہوں مگر وہ یونہی جائز ہیں کہ ملك زوجہ پرمتفرع ہیں تو اس کے مقرر ہیں نہ دافع اگرچہ رافع ہوں بلکہ اگررفع بھی خلافت غایت ہو تو اس سے چارہ کہاں کہ موت قطعا نافی ملك ہےاگرکہئے کہ ملك ورثہ بوجہ خلافت قائم مقام ملك زوجہ ہے توگویا وہ ببقائے نائب باقی ہے توملك زوج بھی اس نصف میں وراثۃ ہی ہوئی یہاں بھی وہی گویا حاصل اورشبہ زائلقنیہ میں ہے:
قال استاذنارحمہ اﷲ تعالی سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب وام ولامال لھا سوی مھر علی زوجہا مائۃ دینار ثم مات الزوج و لم یترك الا خمسین دینارا ہمارے استاذصاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا مجھ سے اس عورت کے بارے میں پوچھاگیا جوخاوند اوردوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کرگئی اور اس کاکوئی مال نہیں سوائے اس کے کہ سودینار اس کے مہر کے خاوند کے ذمے ہیں پھرخاوندمرگیا اورسوائے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ضرور نصف مہرذمہ زید سے ساقط ہوا نہ بمعنی عدم وجوب رأسا کہ مہر بعد تأکد بالموت بایں معنی قابلیت سقوط نہیں رکھتا اورغایت مذکورہ میں اگر کچھ نقص آتا تو اسی صورت سےبلکہ بمعنی تملك بخلافت ووراثت زوجہ لقولہ تعالی " ولکم نصف ما ترک ازوجکم ان لم یکن لہن ولد " (اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اورتمہاری بیبیاں جوچھوڑ جائیں ان میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو۔ت)اورشك نہیں کہ مہربھی متروکہ زوجہ میں داخل ہے اور یہ معنی اس غایت کے منافی نہیں بلکہ مؤکد ومقرر ہیں کہ کل مہرزوجہ ولومالا منافی غرض مذکور ہوتو ہبہ وابرابھی ناجائزہوں مگر وہ یونہی جائز ہیں کہ ملك زوجہ پرمتفرع ہیں تو اس کے مقرر ہیں نہ دافع اگرچہ رافع ہوں بلکہ اگررفع بھی خلافت غایت ہو تو اس سے چارہ کہاں کہ موت قطعا نافی ملك ہےاگرکہئے کہ ملك ورثہ بوجہ خلافت قائم مقام ملك زوجہ ہے توگویا وہ ببقائے نائب باقی ہے توملك زوج بھی اس نصف میں وراثۃ ہی ہوئی یہاں بھی وہی گویا حاصل اورشبہ زائلقنیہ میں ہے:
قال استاذنارحمہ اﷲ تعالی سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب وام ولامال لھا سوی مھر علی زوجہا مائۃ دینار ثم مات الزوج و لم یترك الا خمسین دینارا ہمارے استاذصاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا مجھ سے اس عورت کے بارے میں پوچھاگیا جوخاوند اوردوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کرگئی اور اس کاکوئی مال نہیں سوائے اس کے کہ سودینار اس کے مہر کے خاوند کے ذمے ہیں پھرخاوندمرگیا اورسوائے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/۱۲€
فقلت یقسم بین البنتین والاخ اتساعا بقدر سھامھم لانہ ذکر فی کتاب العین والدین اذاکان علی بعض الورثۃ دین من جنس عین الترکۃ یحسب ما علیہ من الدین کانہ عین ویترك حصتہ علیہ و یترك العین لانصباء غیرہ من الورثۃ فحسبنا علی الزوج من المہر خمسۃ وعشرین دینارا کانہ عین و بقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین و الاخ فتکون بینھم علی سھامھم من اصل المسألۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ پچاس دینار کے کچھ نہیں چھوڑاتومیں نے کہا کہ ترکہ کے نو حصے بناکردوبیٹیوں اوربھائی کے درمیان ان کے سہام کے مطابق تقسیم کیاجائے گااس لئے کہ کتاب العین والدین میں مذکورہے جب کسی وارث پرعین ترکہ کی جنس سے کچھ قرض ہو تو اس قرض کو اس کے حصہ میں شمار کریں گے گویا کہ وہ عین ہےاور اس کاحصہ اس قرض پرچھوڑدین گے اور عین کو اس وارث کے علاوہ دیگرورثاء کے حصوں کیلئے چھوڑ دیاجائے گا۔چنانچہ ہم نے شوہر پرمہر میں سے پچیس دینارشمارکئے گویا کہ وہ عین ہیں۔اور باقی پچاس دینار دوبیٹیوں اوربھائی کے حصہ میں بچ گئے تو وہ ان کے درمیان اصل مسئلہ میں سے ان کے سہام کے مطابق ہوں گے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۶۳: ۹ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اوردولڑکے اول بیوی کے چھوڑےاورایك لڑکی دوسری بیوی سے چھوڑیاوربیوی دوسری زندہ ہے اورپہلی بیوی نے انتقال کیا شوہر کے روبرواورمہراس کاذمہ شوہر کے چاہئےاب لڑکے اس کے مہراپنی ماں کاطلب کرتے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ پہلی زوجہ کامہر پچیس ہزارہے اوردوسری کاتین سوساٹھ تھا جس میں سے ڈیڑھ سوزیدنے خود ہی اداکردئیے تھے اب دوسودس باقی ہیں اور جائداد دونوں مہروں کو
مسئلہ ۶۳: ۹ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اوردولڑکے اول بیوی کے چھوڑےاورایك لڑکی دوسری بیوی سے چھوڑیاوربیوی دوسری زندہ ہے اورپہلی بیوی نے انتقال کیا شوہر کے روبرواورمہراس کاذمہ شوہر کے چاہئےاب لڑکے اس کے مہراپنی ماں کاطلب کرتے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل مظہرکہ پہلی زوجہ کامہر پچیس ہزارہے اوردوسری کاتین سوساٹھ تھا جس میں سے ڈیڑھ سوزیدنے خود ہی اداکردئیے تھے اب دوسودس باقی ہیں اور جائداد دونوں مہروں کو
حوالہ / References
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الفرائض ∞مطبوعہ کلکۃ بھارت ۳۹۴€
کافی نہیں۔صورت مستفسرہ میں دونوں مہراور اسی طرح اورجودین زمہ زید ہوحصہ رسداداکریںپہلی بی بی اس سبب سے کہ اس کانکاح پہلے ہوا پہلے پانی کی(کہ جب تك اس کامہرادانہ ہولے زوجہ ثانیہ کابقیہ مہریااورکسی دائن کادین ثابت ادانہ کیا جائے) ہرگزمستحق نہیں بلکہ وہ سب ایك ساتھ اداکئے جائیں گے اورجبکہ جائداداورنہیںکافی نہیں دونوں مہروں اورہردین ثابت کو حصہ رسداداکیاجائے گا اورجب کچھ نہ بچے ورثہ کچھ بذریعہ وراثت نہ پائیں گے۔
قال اﷲ تعالی" من بعد وصیۃ یوصین بہا اودین " ۔
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم اﷲ تعالی نے فرمایا"اس وصیت کے بعد جو تم کرجاؤ اورقرض کے بعد"۔(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴: ازشہرکہنہ ۶شعبان ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد کثیراپنے محروم الارث بھتیجوں کولکھ دی او اپنے حقیقی بھائی وارث کے لئے ایك خفیف شیئ رکھی اس سے اس کی نیت بھائی کی حق تلفی تھی کہ اسے میرے بعد نہ پہنچےاس صورت میں اس پرکچھ مواخذہ عنداﷲ ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ وارث آوارہ بدوضع نہ ہو جس سے مظنون ہوکہ مال جو اس کے لئے رہے گا معاصی الہیہ میں اڑائے گا تو اسے محروم کرنے کی نیت سے کوئی کارروائی کرنی عنداﷲ قابل مواخذہ ہے حدیث میں ہے:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ ۔رواہ ابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جواپنے وارث کے میراث پانے سے بھاگے اﷲ تعالی روز قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا(اسے ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
قال اﷲ تعالی" من بعد وصیۃ یوصین بہا اودین " ۔
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم اﷲ تعالی نے فرمایا"اس وصیت کے بعد جو تم کرجاؤ اورقرض کے بعد"۔(ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴: ازشہرکہنہ ۶شعبان ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد کثیراپنے محروم الارث بھتیجوں کولکھ دی او اپنے حقیقی بھائی وارث کے لئے ایك خفیف شیئ رکھی اس سے اس کی نیت بھائی کی حق تلفی تھی کہ اسے میرے بعد نہ پہنچےاس صورت میں اس پرکچھ مواخذہ عنداﷲ ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ وارث آوارہ بدوضع نہ ہو جس سے مظنون ہوکہ مال جو اس کے لئے رہے گا معاصی الہیہ میں اڑائے گا تو اسے محروم کرنے کی نیت سے کوئی کارروائی کرنی عنداﷲ قابل مواخذہ ہے حدیث میں ہے:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ ۔رواہ ابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جواپنے وارث کے میراث پانے سے بھاگے اﷲ تعالی روز قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرمادے گا(اسے ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/۱۲€
سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸€
سنن ابن ماجہ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸€
اورکوئی خفیف شیئ باقی رکھنا کافی نہ ہوگا جبکہ نیت اس فساد کی ہو۔
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔ بے شك اعمال کادارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
مگرنیت کاثبوت چاہئے ورنہ صدیق اکبر وامام حسن مجتبی وام المومنین صدیقہ وغیرہم ائمہ دین رضی اﷲ تعالی عنہم نے بارہا اپنے کل مال تصدق فرمادئیے ہیں اپنے کھانے پہننے کوبھی کچھ نہ چھوڑاکما صحت بذلك الاحادیث(جیسا کہ اس پرصحیح احادیث وارد ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔ بے شك اعمال کادارومدار نیتوں پرہے اور ہرشخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
مگرنیت کاثبوت چاہئے ورنہ صدیق اکبر وامام حسن مجتبی وام المومنین صدیقہ وغیرہم ائمہ دین رضی اﷲ تعالی عنہم نے بارہا اپنے کل مال تصدق فرمادئیے ہیں اپنے کھانے پہننے کوبھی کچھ نہ چھوڑاکما صحت بذلك الاحادیث(جیسا کہ اس پرصحیح احادیث وارد ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
رسالہ
المقصدالنافع فی عصوبۃ الصنف الرابع ۱۳۱۵ھ
(چوتھی قسم کے عصبہ ہونے میں نفع دینے والامقصد)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۶۵: ازاٹاوہ متصل کچہری منصفی مکان مولوی حبیب علی صاحب مرسلہ مولوی وصی علی ۵رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عصبات کی جوچارقسم مقررہیںفروع میتاصول میتفروع اب میتفروع جد میتمنجملہ ان کی قسم اول ودوم وسوم میں کوئی بحث نہیں مگر قسم چہارم یعنی فروع جد میت کاسلسلہ ایساوسیع ہے کہ حق رسی اس کی دشوار بلکہ غیرممکن معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی مسلمان ایسانہ ہوگا جس کاعصبہ نسبی قسم چہارم یعنی دادا کی اولاد یا پر دادا کی اولاد یاسردادا کی اولاد یا ان سے بھی عالی کسی جد کی اولاد موجود نہ ہو اگردیہہ یاقصبہ مسکونہ میت میں نہ ہوگا تودوسرے دیہہ یاقصبہ میں یادوسرے شہریاملك میں ہوگا مثلا ہندمیں نہ ہوگا توعرب یاعجم میں ہوگا تمامی ربع مسکون میں کہیں نہ کہیں ضرورموجود ہوگاپس درصورت عدم موجودگی عصبات قسم اول ودوم وسوم کے ایسے عصبات کوتلاش کرنا
المقصدالنافع فی عصوبۃ الصنف الرابع ۱۳۱۵ھ
(چوتھی قسم کے عصبہ ہونے میں نفع دینے والامقصد)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۶۵: ازاٹاوہ متصل کچہری منصفی مکان مولوی حبیب علی صاحب مرسلہ مولوی وصی علی ۵رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عصبات کی جوچارقسم مقررہیںفروع میتاصول میتفروع اب میتفروع جد میتمنجملہ ان کی قسم اول ودوم وسوم میں کوئی بحث نہیں مگر قسم چہارم یعنی فروع جد میت کاسلسلہ ایساوسیع ہے کہ حق رسی اس کی دشوار بلکہ غیرممکن معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی مسلمان ایسانہ ہوگا جس کاعصبہ نسبی قسم چہارم یعنی دادا کی اولاد یا پر دادا کی اولاد یاسردادا کی اولاد یا ان سے بھی عالی کسی جد کی اولاد موجود نہ ہو اگردیہہ یاقصبہ مسکونہ میت میں نہ ہوگا تودوسرے دیہہ یاقصبہ میں یادوسرے شہریاملك میں ہوگا مثلا ہندمیں نہ ہوگا توعرب یاعجم میں ہوگا تمامی ربع مسکون میں کہیں نہ کہیں ضرورموجود ہوگاپس درصورت عدم موجودگی عصبات قسم اول ودوم وسوم کے ایسے عصبات کوتلاش کرنا
اور ان کا حصہ ان کو پہنچانا غیرممکن ہے اورظاہرا شرع شریف میں کوئی ایساحکم بھی پایانہیں جاتا کہ میت کے ورثاء حاضرین میت کے ترکہ کو باخودتقسیم کرلیں حقدار ان غیرحاضرین کو اطلاع بھی نہ دیں یاجولوگ بوجہ لاعلمی وفات مورث یابوجہ لاعلمی مسائل شرعی کے دعویدار نہ ہوں نے ان کے حقوق ضائع کردئیے جائیں بلکہ مفقود کے واسطے جبکہ یہ حکم ہے کہ حصہ اس کا نوے برس کی عمر تك امانت رہے تو ایسے حصہ دار کیونکر محروم کئے جاسکتے ہیںعلاوہ اس کے دیگر حقداران جوبصورت نہ ہونے عصبات نسبی کے مستحق ہیں مثلا مولی العتاق ذوی الفروض مستحق پانے حصہ کے بطور رد کے ذوی الارحام ولی الموالات مقرلہ النسب موصی لہ مستحق ردوغیرہ ان کے حقوق قائم ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں معلوم ہوتی کیونکہ جب عصبہ نسبی کا غیر موجودہونا حسب تشریح صدرغیرممکن ہے توحقداران مابعد کے حقوق قائم ہونا بھی غیرممکن ہے پس ایسے حقداران کے متعلق جومسائل ہیں وہ محض بیکارہوئے جاتے ہیں حالانکہ شریعت کا کوئی مسئلہ ایسانہیں ہے جومورداعتراض کسی قسم کاہوسکے لہذادریافت طلب امورمصرحہ ذیل ہیں:
اولا: عصبات کی جواقسام قراردی گئی ہیں خصوصا قسم چہارم جوالفاظ"ادعالیھا"(یا اس سے اوپر۔ت)مشروع ہیں ان کا ماخذ کیا ہے یعنی کس آیۃ قرآن شریف یا کس حدیث شریف سے ماخوذ ہے یااور کس ماخذ سے۔
ثانیا: عصبات نسبی کاغیرموجودہونا حسب شرح صدرناممکن ہے کہ نہیں۔
ثالثا: عصبات نسبی کاغیر اگرموجود ہوناناممکن ہے تومسائل متعلقہ عصبات سببی وغیرہ جوبصورت نہ ہونے عصبات نسبی کے مشروع ہیں کس صورت میں کارآمدہوسکتے ہیں۔
رابعا: شرع شریف میں کہیں ایساحکم ہے کہ غیرحاضرین حصہ داران کو اطلاع نہ دی جائے یاجولوگ بوجہ لاعلمی وفات مورث یا لاعلمی مسائل شرعی کے دعویدارنہ ہوں وہ اپنے حقوق واجبی سے محروم رہیں ان کی تلاش نہ کی جائے۔
خامسا: ایساہوسکتاہے کہ عرب سے کوئی شخص آئے اور آپ کو سیدمثلا اولادعلی وبنی فاطمہ ثابت کرکے ہند میں کسی اولاد علی بنی فاطمہ کاترکہ اس کے ذوی الفروض سے تقسیم کرالے یا ہند کاکوئی سیدعرب میں جاکرکسی سیدمتوفی کاترکہ پائے قاضیان عرب بصورت ثابت کردینے نسب کے اس کو دلادیں گے۔
سادسا: عہدصحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین یاتابعین یاتبع تابعین میں کبھی ایسے
اولا: عصبات کی جواقسام قراردی گئی ہیں خصوصا قسم چہارم جوالفاظ"ادعالیھا"(یا اس سے اوپر۔ت)مشروع ہیں ان کا ماخذ کیا ہے یعنی کس آیۃ قرآن شریف یا کس حدیث شریف سے ماخوذ ہے یااور کس ماخذ سے۔
ثانیا: عصبات نسبی کاغیرموجودہونا حسب شرح صدرناممکن ہے کہ نہیں۔
ثالثا: عصبات نسبی کاغیر اگرموجود ہوناناممکن ہے تومسائل متعلقہ عصبات سببی وغیرہ جوبصورت نہ ہونے عصبات نسبی کے مشروع ہیں کس صورت میں کارآمدہوسکتے ہیں۔
رابعا: شرع شریف میں کہیں ایساحکم ہے کہ غیرحاضرین حصہ داران کو اطلاع نہ دی جائے یاجولوگ بوجہ لاعلمی وفات مورث یا لاعلمی مسائل شرعی کے دعویدارنہ ہوں وہ اپنے حقوق واجبی سے محروم رہیں ان کی تلاش نہ کی جائے۔
خامسا: ایساہوسکتاہے کہ عرب سے کوئی شخص آئے اور آپ کو سیدمثلا اولادعلی وبنی فاطمہ ثابت کرکے ہند میں کسی اولاد علی بنی فاطمہ کاترکہ اس کے ذوی الفروض سے تقسیم کرالے یا ہند کاکوئی سیدعرب میں جاکرکسی سیدمتوفی کاترکہ پائے قاضیان عرب بصورت ثابت کردینے نسب کے اس کو دلادیں گے۔
سادسا: عہدصحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین یاتابعین یاتبع تابعین میں کبھی ایسے
عصبات بعیدہ کوبمقابلہ ذوی الفروض کے حصہ دلایاگیاہے کہ نہیںاگردلایا گیاتو کس کتاب سے ثابت ہے۔
سابعا اس استفتا کے مفتیان صاحبان کے علم میں کبھی ایسے عصبات بعیدہ مثلا پردادا کے بھائی کی اولاد یاسردادا کے عم کی اولاد یا ان سے بھی عالی کسی جد کی اولاد کوبحالت موجودگی ذوی الفروض نسبی کے حصہ ملاہے کہ نہیںاگرملاہے تو کب کس خاندان میں۔
ثامنا اگرکسی قصبہ یاشہر میں رواج یہ ہے کہ بصورت عدم موجودگی عصبات قسم اول ودوم وسوم کے منجملہ قسم چہارم جد کی اولاد تك بمقابلہ ذوی الفروض کے حصہ دیاجاتاہے اب الجد یا جد الجد یااس سے بھی عالی کسی جد کی اولاد کوحصہ نہیں دیاجاتا بلکہ ذوی الفروض پررد ہوجاتاہے تو یہ رواج قابل عملدرآمدولائق لحاظ ہے کہ نہیںبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے)
الجواب:
جواب سوال اول
ماخذ اس کاکلام اﷲ عزوجل وسنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔قال اﷲ تبارك وتعالی:
"واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم ﴿۷۵﴾" اوررشتہ والے ایك سے دوسرے زیادہ نزدیك ہیں اﷲ کی کتاب میں۔بیشك اﷲ سب کچھ جانتاہے۔(ت)
حدیث اول۱:عبدبن حمیدوابن جریر اپنی تفسیر میں قتادہ سے راوی:
ان ابابکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ قال فی خطبتہ الا ان الایۃ التی ختم بہا سورۃ الانفا انزلہا فی اولی الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اﷲ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا:خبردار وہ آیت جس پرسورئہ انفال ختم کی گئی اﷲ تبارت وتعالی نے اس کو رشتہ والوں کے بارے میں نازل فرمایاکہ"ان میں سے بعض بعض سے اولی ہیں
سابعا اس استفتا کے مفتیان صاحبان کے علم میں کبھی ایسے عصبات بعیدہ مثلا پردادا کے بھائی کی اولاد یاسردادا کے عم کی اولاد یا ان سے بھی عالی کسی جد کی اولاد کوبحالت موجودگی ذوی الفروض نسبی کے حصہ ملاہے کہ نہیںاگرملاہے تو کب کس خاندان میں۔
ثامنا اگرکسی قصبہ یاشہر میں رواج یہ ہے کہ بصورت عدم موجودگی عصبات قسم اول ودوم وسوم کے منجملہ قسم چہارم جد کی اولاد تك بمقابلہ ذوی الفروض کے حصہ دیاجاتاہے اب الجد یا جد الجد یااس سے بھی عالی کسی جد کی اولاد کوحصہ نہیں دیاجاتا بلکہ ذوی الفروض پررد ہوجاتاہے تو یہ رواج قابل عملدرآمدولائق لحاظ ہے کہ نہیںبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے)
الجواب:
جواب سوال اول
ماخذ اس کاکلام اﷲ عزوجل وسنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔قال اﷲ تبارك وتعالی:
"واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم ﴿۷۵﴾" اوررشتہ والے ایك سے دوسرے زیادہ نزدیك ہیں اﷲ کی کتاب میں۔بیشك اﷲ سب کچھ جانتاہے۔(ت)
حدیث اول۱:عبدبن حمیدوابن جریر اپنی تفسیر میں قتادہ سے راوی:
ان ابابکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ قال فی خطبتہ الا ان الایۃ التی ختم بہا سورۃ الانفا انزلہا فی اولی الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اﷲ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا:خبردار وہ آیت جس پرسورئہ انفال ختم کی گئی اﷲ تبارت وتعالی نے اس کو رشتہ والوں کے بارے میں نازل فرمایاکہ"ان میں سے بعض بعض سے اولی ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۸/۷۵€
ماجرت بہ الرحم من العصبۃ ھذا مختصر۔ اﷲ تعالی کی کتاب میں"یعنی ہروہ عصبہ جس میں نسبی رشتہ جاری ہو۔یہ مختصرہے۔(ت)
حدیث دوم۲:احمدوبخاری ومسلم وترمذی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فھو لاولی رجل ذکر ۔ فرائض ذوی الفروض کودواور جوبچ جائے وہ قریب ترین مرد کے لئے۔(ت)
حدیث سوم۳:صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرویحضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن مؤمن الا وانا اولی بہ فی الدنیا والاخرۃ اقرؤاان شئتم النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم فایما مؤمن مات وترك مالافلیرثہ عصبتہ من کانوا ومن ترك دینا اوضیاعا فلیؤتنی فانا مولاہ والحدیث عند الشیخین واحمد والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عنہ نحوہ۔ کوئی مومن نہیں مگریہ کہ میں دنیاوآخرت میں اس کاولی ہوںاگرتم چاہو تو آیت پڑھ لو"یہ نبی(صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم)مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالك ہے"۔پس جو کوئی مومن مرگیا اور اس نے کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے قریبی وارثوں اورعصبہ کے لئے ہے جوبھی وہ ہوںاور جس نے قرض یاکمزور اولاد چھوڑی ہو تو وہ میرے پاس آئے میں اس کامولی ہوں۔اور یہ حدیث شیخینامام احمداورنسائی وغیرہ کے نزدیك ثابت ہے(ت)
حدیث دوم۲:احمدوبخاری ومسلم وترمذی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فھو لاولی رجل ذکر ۔ فرائض ذوی الفروض کودواور جوبچ جائے وہ قریب ترین مرد کے لئے۔(ت)
حدیث سوم۳:صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرویحضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن مؤمن الا وانا اولی بہ فی الدنیا والاخرۃ اقرؤاان شئتم النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم فایما مؤمن مات وترك مالافلیرثہ عصبتہ من کانوا ومن ترك دینا اوضیاعا فلیؤتنی فانا مولاہ والحدیث عند الشیخین واحمد والنسائی وابن ماجۃ وغیرھم عنہ نحوہ۔ کوئی مومن نہیں مگریہ کہ میں دنیاوآخرت میں اس کاولی ہوںاگرتم چاہو تو آیت پڑھ لو"یہ نبی(صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم)مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالك ہے"۔پس جو کوئی مومن مرگیا اور اس نے کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے قریبی وارثوں اورعصبہ کے لئے ہے جوبھی وہ ہوںاور جس نے قرض یاکمزور اولاد چھوڑی ہو تو وہ میرے پاس آئے میں اس کامولی ہوں۔اور یہ حدیث شیخینامام احمداورنسائی وغیرہ کے نزدیك ثابت ہے(ت)
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیرابن جریر) تحت آیۃ لیستفتونك قل اﷲ یفتیکم فی الکلالۃ المطبعۃ المیمنہ ∞مصر۲۴۶،€الدرالمنثور بحوالہ عبدبن حمید وغیرہ ∞// // // // مکتبہ€ آیۃ اﷲ العظمی ∞قم ایران ۲/۲۵۱€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۹۷،€صحیح مسلم کتاب الفرائض ∞۲/۳۴€ وجامع الترمذی ∞۲/۳۱€ ومسند احمدبن حنبل ∞۱/۳۲۵€
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب الصلوٰۃ علی من ترك دینًا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۲۳،// //€کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب ∞// // ۲/۷۰۵€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۹۷،€صحیح مسلم کتاب الفرائض ∞۲/۳۴€ وجامع الترمذی ∞۲/۳۱€ ومسند احمدبن حنبل ∞۱/۳۲۵€
صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب الصلوٰۃ علی من ترك دینًا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۲۳،// //€کتاب التفسیر سورۃ الاحزاب ∞// // ۲/۷۰۵€
حدیث چہارم۴:احمدوابوداؤد ونسائی وابن ماجہ وبیہقی بسند صحیح بطریق عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ امیرالمومنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما احرز الولد اوالوالد فہو لعصبتہ من کان ۔ جوولاء اولاد یاوالد حاصل کرے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے چاہے وہ کوئی ہو۔(ت)
حدیث پنجم۵:عبدالرزاق اپنی مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی سے راویامیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کل نسب تووصل علیہ فی الاسلام فھو وارث موروث ۔ ہرنسب جواسلام میں ملتاہو وہ وارث و موروث ہے۔(ت)
حدیث ششم۶:سنن بیہقی میں ہے:
عن جریر عن المغیرۃ عن اصحابہ قال کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ اصحابہ اذا لم یجدوا ذاسھم اعطوا القرابۃ وماقرب اوبعد اذاکان رحما فلہ المال اذا لم یوجد غیرہ ھذا مختصر۔ حضرت جریر نے حضرت مغیرہ یعنی ان کے اصحاب سے روایت کیمغیرہ نے کہا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ اور ان کے اصحاب جب کوئی ذی سہم نہ پاتے تو وہ ترکہ رشتہ داروں کودے دیتے وہ قریب والا ہو یابعیدوالا جبکہ رشتہ دار ہو تو سب مال اسی کاہے جب اس کاغیر موجود نہ ہو۔یہ مختصرہے۔(ت)
آیۃ کریمہ نے رشتہ داروں کومطلق رکھا صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ نے تصریح فرمادی کہ آیت میں ہرعصبہ نسبی داخل۔ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حدیث سوم وچہارم میں صاف تعمیم فرمائی کہ عصبہ وارث ہے کوئی ہوحدیث پنجم میں فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا
ما احرز الولد اوالوالد فہو لعصبتہ من کان ۔ جوولاء اولاد یاوالد حاصل کرے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے چاہے وہ کوئی ہو۔(ت)
حدیث پنجم۵:عبدالرزاق اپنی مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی سے راویامیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کل نسب تووصل علیہ فی الاسلام فھو وارث موروث ۔ ہرنسب جواسلام میں ملتاہو وہ وارث و موروث ہے۔(ت)
حدیث ششم۶:سنن بیہقی میں ہے:
عن جریر عن المغیرۃ عن اصحابہ قال کان علی رضی اﷲ تعالی عنہ اصحابہ اذا لم یجدوا ذاسھم اعطوا القرابۃ وماقرب اوبعد اذاکان رحما فلہ المال اذا لم یوجد غیرہ ھذا مختصر۔ حضرت جریر نے حضرت مغیرہ یعنی ان کے اصحاب سے روایت کیمغیرہ نے کہا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ اور ان کے اصحاب جب کوئی ذی سہم نہ پاتے تو وہ ترکہ رشتہ داروں کودے دیتے وہ قریب والا ہو یابعیدوالا جبکہ رشتہ دار ہو تو سب مال اسی کاہے جب اس کاغیر موجود نہ ہو۔یہ مختصرہے۔(ت)
آیۃ کریمہ نے رشتہ داروں کومطلق رکھا صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ نے تصریح فرمادی کہ آیت میں ہرعصبہ نسبی داخل۔ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حدیث سوم وچہارم میں صاف تعمیم فرمائی کہ عصبہ وارث ہے کوئی ہوحدیث پنجم میں فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الفرائض باب فی الولاء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۴۸،€سنن ابن ماجہ ∞// //€ باب میراث الولاء ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۰۰€
المصنف لعبدالرزاق ∞// //€ باب الحمیل ∞حدیث ۱۹۱۸۰€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/۳۰۱€
السنن الکبرٰی للبیہقی ∞// //€ باب من قال بتوریث ذوی الارحام دارصادربیروت ∞۶/۲۱۷€
المصنف لعبدالرزاق ∞// //€ باب الحمیل ∞حدیث ۱۹۱۸۰€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/۳۰۱€
السنن الکبرٰی للبیہقی ∞// //€ باب من قال بتوریث ذوی الارحام دارصادربیروت ∞۶/۲۱۷€
اسلام میں نسب جہاں جاکرملے موجب وراثت ہےحدیث ششم میں مولاعلی کرم اﷲ وجہہ کاارشاد کہ رشتہ دارپاس کاہو یا دورکاجب اورنہ ہوتوسب مال اسی کاہے۔ان ارشادات نے تو تمام قریب وبعید کے عصبات نسبی کو دائرئہ توریث میں داخل فرمایا اورحدیث دوم میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد اقدس نے کہ جواہل فرائض سے بچے وہ قریب تر مرد کے لئے ہے ترتیب الاقرب فالاقرب کاحکم بتایا لاجرم بلحاظ قرب اتصال یہ اقسام اربعہ منتظم ہوئیں۔
جواب سوال دوم
ہرگزناممکن نہیں بلکہ بارہا واقع ہوا اور خودزمانہ رسالت میں ہوااوراب واقع ہے اورعادۃ واقع ہوتارہے گا۔
اولا: فرض کیجئے مجوس وہنوز ونصاری یہودوغیرہم کفار کی اقوام سے ایك شخص مسلمان ہوا اور اس کے باقی رشتہ داراپنے کفرپر ہیں ان میں ان کاعصبہ نسبی کون ہے کوئی نہیں۔
قال اﷲ تعالی"انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭"
۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:"وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بےشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایرث المسلم الکافر ولاالکافر المسلمرواہ الشیخان عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنھما۔ مسلمان کافرکاوارث نہیں ہوتا اورنہ ہی کافرمسلمان کا۔اس کو شیخین نے حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
جواب سوال دوم
ہرگزناممکن نہیں بلکہ بارہا واقع ہوا اور خودزمانہ رسالت میں ہوااوراب واقع ہے اورعادۃ واقع ہوتارہے گا۔
اولا: فرض کیجئے مجوس وہنوز ونصاری یہودوغیرہم کفار کی اقوام سے ایك شخص مسلمان ہوا اور اس کے باقی رشتہ داراپنے کفرپر ہیں ان میں ان کاعصبہ نسبی کون ہے کوئی نہیں۔
قال اﷲ تعالی"انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭"
۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:"وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بےشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایرث المسلم الکافر ولاالکافر المسلمرواہ الشیخان عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالی عنھما۔ مسلمان کافرکاوارث نہیں ہوتا اورنہ ہی کافرمسلمان کا۔اس کو شیخین نے حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۱/۴۶€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب لایرث المسلم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۰۰۱،€صحیح مسلم ∞// // €باب قدرالطریق الخ ∞// // ۲/۳۳€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب لایرث المسلم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۰۰۱،€صحیح مسلم ∞// // €باب قدرالطریق الخ ∞// // ۲/۳۳€
ثانیا: ایك کافرہ حاملہ مسلمان ہوئی اورایام اسلام میں بچہ پیداہوا اس کے چھوٹے بچے جوزمانہ کفرہی میں پیداہوئے تھے بحکم الولد یتبع خیرالابوین دینا (بچہ والدین میں سے بہتردین رکھنے والے کے تابع ہوتاہے۔ت)مسلمان قرارپائے ان بچوں کا کوئی قریب نسبی ان کا عصبہ نہیں۔
ثالثا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:للعاھر الحجر ۔زانی کے لئے پتھر(ت)
توولدالزنا کانہ کوئی باپ نہ کوئی عصبہ نسبیلہذا ایك عورت کے دوبچے کہ زنا سے ہوں اگرچہ ایك مردسے ہوں باہم ولدالام کی میراث پاتے ہیں نہ بھی الاعیان کی کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ درمختار وغیرہ ضخیم کتابوں میں ہے۔ت)
رابعا: زن وشونے لعان کیابچہ بے عصبہ نسبی رہ گیا لانہ ایضا لااب لہ کما فی الدر ایضا(کیونکہ اس کابھی کوئی باپ نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت)
خامسا:دارالحرب سے کچھ کفار مقیدہوکر آئے امیرالمومنین نے غانمین پرتقسیم فرمادئیے یہ سب کنیزوغلام مسلمان ہوگئے آپس میں نہایت قریب کے رشتہ دار ہیں اور سب مسلم مگرسب مملوکاب ان میں ایك آزاد ہواباقی اس کے عصبہ نسبی نہیں کہ رق مانع ارث ہے۔
سادسا: ایك بچہ سڑك پرپڑاہوا ملا پرورش کیاگیا اس کاعصبہ نسبی کسے کہاجائے اسی طرح اوربعض صوربھی ممکنان میں بعض صورتیں علم عدم کی ہیں جیسے ولدزنا ولعانبعض عدم علم کی جیسے لقیطاورمقصود اس سے بھی حاصل کہ توریث بے علم نا ممکنلاجرم ردوغیرہ مدارج تحتانیہ کی طرف رجوع ہوگیہمارے زمانے میں زوجین پربھی ردہوتاہے کمانصوا علیہ(جیسا کہ مشائخ نے اس پرنص فرمائی ہے۔ت)اب سوال سوم خود مندفع ہوگیا اورحاجت جواب نہیں۔
تنبیہ:ان امور کے سوا ایك صورت نادرہ اورہے کہ وہ بھی ایك بارواقع ہوئی اورممکن توبے شمار بارہے یعنی بچے کابن باپ کے پیداہونا۔سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے
ثالثا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:للعاھر الحجر ۔زانی کے لئے پتھر(ت)
توولدالزنا کانہ کوئی باپ نہ کوئی عصبہ نسبیلہذا ایك عورت کے دوبچے کہ زنا سے ہوں اگرچہ ایك مردسے ہوں باہم ولدالام کی میراث پاتے ہیں نہ بھی الاعیان کی کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ درمختار وغیرہ ضخیم کتابوں میں ہے۔ت)
رابعا: زن وشونے لعان کیابچہ بے عصبہ نسبی رہ گیا لانہ ایضا لااب لہ کما فی الدر ایضا(کیونکہ اس کابھی کوئی باپ نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت)
خامسا:دارالحرب سے کچھ کفار مقیدہوکر آئے امیرالمومنین نے غانمین پرتقسیم فرمادئیے یہ سب کنیزوغلام مسلمان ہوگئے آپس میں نہایت قریب کے رشتہ دار ہیں اور سب مسلم مگرسب مملوکاب ان میں ایك آزاد ہواباقی اس کے عصبہ نسبی نہیں کہ رق مانع ارث ہے۔
سادسا: ایك بچہ سڑك پرپڑاہوا ملا پرورش کیاگیا اس کاعصبہ نسبی کسے کہاجائے اسی طرح اوربعض صوربھی ممکنان میں بعض صورتیں علم عدم کی ہیں جیسے ولدزنا ولعانبعض عدم علم کی جیسے لقیطاورمقصود اس سے بھی حاصل کہ توریث بے علم نا ممکنلاجرم ردوغیرہ مدارج تحتانیہ کی طرف رجوع ہوگیہمارے زمانے میں زوجین پربھی ردہوتاہے کمانصوا علیہ(جیسا کہ مشائخ نے اس پرنص فرمائی ہے۔ت)اب سوال سوم خود مندفع ہوگیا اورحاجت جواب نہیں۔
تنبیہ:ان امور کے سوا ایك صورت نادرہ اورہے کہ وہ بھی ایك بارواقع ہوئی اورممکن توبے شمار بارہے یعنی بچے کابن باپ کے پیداہونا۔سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۹۹€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولد للفراش الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۹۹€
اب تك کوئی عصبہ نسبی نہیں یہاں تك کہ بعد نزول ان کے اولاد زکورپیداہوں۔اب رہا زمانہ رسالت میں وقوعاس کے لئے حدیثیں سنئے:
حدیث ہفتم۷:سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
ان مولی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مات وترك شیأا ولم یدع ولد اولا حمیما فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعطوا میراثہ رجلا من اھل قریتہ ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاایك آزاد شدہ غلام فوت ہوا اس نے کچھ مال چھوڑا اوراولاد نہیں چھوڑینہ کوئی اور قرابت دارچھوڑاتورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی میراث اس کے قریہ والے کسی مرد کو دے دو۔ (ت)
حدیث ہشتم۸:مسندالفردوس حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی:
ان ورد ان مولی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقع من عذق نخلۃ فمات فاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بمیراثہ فقال انظروالہ ذا قرابۃ قالوا مالہ ذوقرابۃ قال فانظروا ھمشھریا لہ فاعطوہ میراثہ یعنی بلدیا لہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاوردان نامی ایك آزاد شدہ گلام کھجور کے ایك درخت سے گرگیا اورفوت ہوگیا اس کی میراث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس کا کوئی قرابتدار دیکھوصحابہ نے عرض کی اس کاکوئی قرابتدار نہیں۔تو آپ نے فرمایا اس کاکوئی ہم وطن یعنی اس کے شہر کاکوئی شخص دیکھو تو اس کی میراث اسے دے دو۔(ت)
ان دونوں حدیثوں کاحاصل یہ کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ایك غلام آزادشدہ نے انتقال فرمایا ان کے نہ اولاد تھی نہ کوئی قرابتدارحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حدیث ہفتم۷:سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
ان مولی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مات وترك شیأا ولم یدع ولد اولا حمیما فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعطوا میراثہ رجلا من اھل قریتہ ۔ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاایك آزاد شدہ غلام فوت ہوا اس نے کچھ مال چھوڑا اوراولاد نہیں چھوڑینہ کوئی اور قرابت دارچھوڑاتورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی میراث اس کے قریہ والے کسی مرد کو دے دو۔ (ت)
حدیث ہشتم۸:مسندالفردوس حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی:
ان ورد ان مولی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقع من عذق نخلۃ فمات فاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بمیراثہ فقال انظروالہ ذا قرابۃ قالوا مالہ ذوقرابۃ قال فانظروا ھمشھریا لہ فاعطوہ میراثہ یعنی بلدیا لہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاوردان نامی ایك آزاد شدہ گلام کھجور کے ایك درخت سے گرگیا اورفوت ہوگیا اس کی میراث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس کا کوئی قرابتدار دیکھوصحابہ نے عرض کی اس کاکوئی قرابتدار نہیں۔تو آپ نے فرمایا اس کاکوئی ہم وطن یعنی اس کے شہر کاکوئی شخص دیکھو تو اس کی میراث اسے دے دو۔(ت)
ان دونوں حدیثوں کاحاصل یہ کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ایك غلام آزادشدہ نے انتقال فرمایا ان کے نہ اولاد تھی نہ کوئی قرابتدارحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الفرائض باب فی میراث ذوی الارحام ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۴۶€
کنزالعمال بحوالہ الدیلمی عن ابن عباس ∞حدیث ۳۰۶۶۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/۷۱€
کنزالعمال بحوالہ الدیلمی عن ابن عباس ∞حدیث ۳۰۶۶۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/۷۱€
نے ان کاترکہ ان کے ایك ہم وطن کو عطافرمادیا۔علماء فرماتے ہیں یہ عطافرمانا بطورتصدق تھا نہ کہ بطورتوریثاور خود حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بذریعہ ولائے عتاقہ وارث نہ ہوئے کہ انبیاء کرام نہ کسی کے وارث ہوں نہ کوئی ان کا وارث مال ہو علیہ الصلوۃ والسلام۔
جواب سوال چہارم
شرع مطہر میں کہیں ایساحکم نہیںنہ ترك دعویاگرچہ باوصف علم وفات مورث وعلم مسائل شرعیہ بالقصد بلکہ بالتصریح ہو موجب حرمان۔اشباہ میں ہے:
لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ ۔ اگروارث نے کہا میں نے اپناحق چھوڑدیا ہے تو اس کاحق باطل نہیں ہوگا۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
لومات عن ابنین فقال احدھما ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترك بالترک ۔ اگرکوئی شخص دو بیٹے چھوڑکرمرگیا ان میں سے ایك نے کہا میں نے میراث سے اپناحصہ چھوڑدیا تو اس کاحصہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ اس کاحصہ لازم ہے جوچھوڑنے سے متروك نہیں ہوتا(ت)
بلکہ شرع مطہر میں حکم ہے کہ اگرکچھ لوگ قاضی کے پاس حاضرآئیں اورکسی جائداد غیرمنقولہ کی نسبت ظاہرکریں کہ ان کے فلاں مورث سے ترکہ میں انہیں پہنچی اور اس کی تقسیم چاہیں توقاضی صرف ان کے بیان پراس کی تقسیم نہ کرے جب تك بینہ سے ثابت نہ کریں کہ مورث مرگیا اوراتنے وارث چھوڑے۔
فی الدرالمختار عقار یدعون انہ میراث عن زید لایقسم حتی یبرھنوا علی موتہ درمختار میں ہے کہ کچھ لوگ کسی غیرمنقولہ جائداد کے بارے میں یہ دعوی کریں کہ وہ زید کی میراث ہے توقاضی اس کی تقسیم نہ کرے
جواب سوال چہارم
شرع مطہر میں کہیں ایساحکم نہیںنہ ترك دعویاگرچہ باوصف علم وفات مورث وعلم مسائل شرعیہ بالقصد بلکہ بالتصریح ہو موجب حرمان۔اشباہ میں ہے:
لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ ۔ اگروارث نے کہا میں نے اپناحق چھوڑدیا ہے تو اس کاحق باطل نہیں ہوگا۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
لومات عن ابنین فقال احدھما ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترك بالترک ۔ اگرکوئی شخص دو بیٹے چھوڑکرمرگیا ان میں سے ایك نے کہا میں نے میراث سے اپناحصہ چھوڑدیا تو اس کاحصہ باطل نہیں ہوگا کیونکہ اس کاحصہ لازم ہے جوچھوڑنے سے متروك نہیں ہوتا(ت)
بلکہ شرع مطہر میں حکم ہے کہ اگرکچھ لوگ قاضی کے پاس حاضرآئیں اورکسی جائداد غیرمنقولہ کی نسبت ظاہرکریں کہ ان کے فلاں مورث سے ترکہ میں انہیں پہنچی اور اس کی تقسیم چاہیں توقاضی صرف ان کے بیان پراس کی تقسیم نہ کرے جب تك بینہ سے ثابت نہ کریں کہ مورث مرگیا اوراتنے وارث چھوڑے۔
فی الدرالمختار عقار یدعون انہ میراث عن زید لایقسم حتی یبرھنوا علی موتہ درمختار میں ہے کہ کچھ لوگ کسی غیرمنقولہ جائداد کے بارے میں یہ دعوی کریں کہ وہ زید کی میراث ہے توقاضی اس کی تقسیم نہ کرے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/۱۶۰€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر ∞// // // ۲/۱۶۰€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر ∞// // // ۲/۱۶۰€
وعددورثتہ ۔ جب تك وہ زید کی موت اور اس کے وارثوں کی تعداد پرگواہ قائم نہ کریں۔(ت)
اورمال منقول کواگرچہ تقسیم کردے گا مگرکاغذ قسمت میں لکھ دے گا کہ یہ صرف ان کے بیان پر تقسیم کیاگیا۔
فی الھندیۃ یذکر القاضی فی صك القسمۃ باقرارھم ۔ ہندیہ میں ہے کہ قاضی ان کااقرار کاغذ قسمت میں ذکرکردے گا۔(ت)
اس سوال کاجواب تویہ ہے مگر اس کومانحن فیہ یعنی توریث عصبہ بعیدہ قسم چہارم پرورود نہیں کما ستعرفہ ان شاء اﷲ تعالی (جیسا کہ عنقریب توجان لے گا اﷲ تعالی نے چاہا۔ت)
جواب سوال پنجم
اولا: مجرکسی کے زبانی ادعاپرکہ میں فلاں کانسیب ہوں توریث نہیں ہوسکتی اس کے لئے ثبوت شرعی چاہئے۔
ثانیا: استحقاق ارث عصوبت صرف نسیب ہونے پرمبنی نہیں بلکہ شرع میں اس کے لئے ترتیب ہے جب تك ثابت نہ ہو کہ اس ترتیب کی رو سے یہی مستحق یایہ بھی مستحق ہے ترکہ نہیں دیاجاسکتایہاں عدم علم حکم میں مثل علم عدم کے ہے ولہذا چندشخص ایك معرکہ میں مقتول یا ایك واقعہ میں غریق یاحریق ہوں اور ان کی موت کاتقدم تاخرنہ معلوم ہو تونہ باپ بیٹے کاترکہ پائے گا نہ بیٹاباپ کاہرایك کے ورثہ احیاء وارث ہوں گے وبس۔جب کسی سیدکاانتقال ہو تو جہاں تك اس کاسلسلہ نسب معلوم ہے اس کے آباء وآباء آباء الاقرب فالاقرب کی اولاد ذکورالاقرب فالاقرب تلاش کریں گے جو اقرب ثابت ہوگا اسے عصبہ ٹھہرائیں گے اگرچہ بیس پشت پر اس سے ملتا ہو اورسلسلہ معلومہ کی اولاد ذکورسے کوئی معلوم نہیں تو تمام یہاں کے سادات کرام کو عصبہ ٹھہرانا محال کہ ان میں یقینا بعض بعض سے اقرب ہیں اورایك معین کوجذافا عصبہ اقرب کہہ دینا محال کہ ترجیح بلامرجح ہے و حکم بلادلیل ہے اور جب کسی کی عصوبت ثابت نہیں کسی کا استحقاق ثابت نہیں تو ان میں کوئی شخص کیونکر ترکہ بٹاسکتاہے یا قاضی اسے دلاسکتاہے۔علامہ
اورمال منقول کواگرچہ تقسیم کردے گا مگرکاغذ قسمت میں لکھ دے گا کہ یہ صرف ان کے بیان پر تقسیم کیاگیا۔
فی الھندیۃ یذکر القاضی فی صك القسمۃ باقرارھم ۔ ہندیہ میں ہے کہ قاضی ان کااقرار کاغذ قسمت میں ذکرکردے گا۔(ت)
اس سوال کاجواب تویہ ہے مگر اس کومانحن فیہ یعنی توریث عصبہ بعیدہ قسم چہارم پرورود نہیں کما ستعرفہ ان شاء اﷲ تعالی (جیسا کہ عنقریب توجان لے گا اﷲ تعالی نے چاہا۔ت)
جواب سوال پنجم
اولا: مجرکسی کے زبانی ادعاپرکہ میں فلاں کانسیب ہوں توریث نہیں ہوسکتی اس کے لئے ثبوت شرعی چاہئے۔
ثانیا: استحقاق ارث عصوبت صرف نسیب ہونے پرمبنی نہیں بلکہ شرع میں اس کے لئے ترتیب ہے جب تك ثابت نہ ہو کہ اس ترتیب کی رو سے یہی مستحق یایہ بھی مستحق ہے ترکہ نہیں دیاجاسکتایہاں عدم علم حکم میں مثل علم عدم کے ہے ولہذا چندشخص ایك معرکہ میں مقتول یا ایك واقعہ میں غریق یاحریق ہوں اور ان کی موت کاتقدم تاخرنہ معلوم ہو تونہ باپ بیٹے کاترکہ پائے گا نہ بیٹاباپ کاہرایك کے ورثہ احیاء وارث ہوں گے وبس۔جب کسی سیدکاانتقال ہو تو جہاں تك اس کاسلسلہ نسب معلوم ہے اس کے آباء وآباء آباء الاقرب فالاقرب کی اولاد ذکورالاقرب فالاقرب تلاش کریں گے جو اقرب ثابت ہوگا اسے عصبہ ٹھہرائیں گے اگرچہ بیس پشت پر اس سے ملتا ہو اورسلسلہ معلومہ کی اولاد ذکورسے کوئی معلوم نہیں تو تمام یہاں کے سادات کرام کو عصبہ ٹھہرانا محال کہ ان میں یقینا بعض بعض سے اقرب ہیں اورایك معین کوجذافا عصبہ اقرب کہہ دینا محال کہ ترجیح بلامرجح ہے و حکم بلادلیل ہے اور جب کسی کی عصوبت ثابت نہیں کسی کا استحقاق ثابت نہیں تو ان میں کوئی شخص کیونکر ترکہ بٹاسکتاہے یا قاضی اسے دلاسکتاہے۔علامہ
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب القسمۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۱۹€
الفتاوی الھندیۃ ∞// //€ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۲۱۰€
الفتاوی الھندیۃ ∞// //€ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۲۱۰€
سیدشریف قدس سرہ الشریف شریفیہ میں فرماتے ہیں:
لناان سبب استحقاق کل منہما میراث صاحبہ غیرمعلوم یقینا ولما لم یتیقن بالسبب لم یثبت الاستحقاق اذلایتصور ثبوتہ بالشک۔ ہمارے نزدیك ان دونوں میں سے ہرایك کے استحقاق کاسبب اس کے ساتھ کی میراث ہے جوکہ یقینی طوپرمعلوم نہیں۔ جب سبب یقینی نہ ہوا تواستحقاق ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اس کاثبوت شك کے ساتھ متصورنہیں۔(ت)
جواب سوال ششم
اس مبحث میں بمقابلہ ذوی الفروض کی قید زائد وضائع ہے کلام ایسی عصوبت بعیدہ کے ترکہ پانے میں ہے وہ زمانہ صحابہ کرام بلکہ زمانہ اقدس سیدانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام میں واقع ہوا۔
حدیث نہم۹:عبدالرزاق اپنی مصنف میں اور ابن جریر وبیہقی ضحاك بن قیس سے راوی:
انہ کان طاعون بالشام فکانت القبیلۃ تموت باسرھا حتی ترثھا القبیلۃ الاخری الحدیث۔ یعنی زمانہ امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ملك شام میں طاعون واقع ہواکہ ساراقبیلہ مرجاتایہاں تك کہ دوسرا قبیلہ اس کاوارث ہوتا۔
حدیث دہم۱۰:ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف اورامام ابوداؤد سنن میں حضرت بریدہ بن الحصیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل فقال ان عندی میراث رجل من الازد ولست اجد ازدیا ادفعہ یعنی ایك صاحب نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوکرعرض کی میرے پاس ایك ازدی یعنی قبیلہ بنی ازد سے ایك شخص کاترکہ ہے اور
لناان سبب استحقاق کل منہما میراث صاحبہ غیرمعلوم یقینا ولما لم یتیقن بالسبب لم یثبت الاستحقاق اذلایتصور ثبوتہ بالشک۔ ہمارے نزدیك ان دونوں میں سے ہرایك کے استحقاق کاسبب اس کے ساتھ کی میراث ہے جوکہ یقینی طوپرمعلوم نہیں۔ جب سبب یقینی نہ ہوا تواستحقاق ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اس کاثبوت شك کے ساتھ متصورنہیں۔(ت)
جواب سوال ششم
اس مبحث میں بمقابلہ ذوی الفروض کی قید زائد وضائع ہے کلام ایسی عصوبت بعیدہ کے ترکہ پانے میں ہے وہ زمانہ صحابہ کرام بلکہ زمانہ اقدس سیدانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام میں واقع ہوا۔
حدیث نہم۹:عبدالرزاق اپنی مصنف میں اور ابن جریر وبیہقی ضحاك بن قیس سے راوی:
انہ کان طاعون بالشام فکانت القبیلۃ تموت باسرھا حتی ترثھا القبیلۃ الاخری الحدیث۔ یعنی زمانہ امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ملك شام میں طاعون واقع ہواکہ ساراقبیلہ مرجاتایہاں تك کہ دوسرا قبیلہ اس کاوارث ہوتا۔
حدیث دہم۱۰:ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف اورامام ابوداؤد سنن میں حضرت بریدہ بن الحصیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل فقال ان عندی میراث رجل من الازد ولست اجد ازدیا ادفعہ یعنی ایك صاحب نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوکرعرض کی میرے پاس ایك ازدی یعنی قبیلہ بنی ازد سے ایك شخص کاترکہ ہے اور
حوالہ / References
الشریفیہ شرح السراجیۃ فصل فی الغرقی والہدمٰی ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۴€۳
المصنف لعبدالرزاق کتاب الفرائض باب ذوالسہام ∞حدیث ۱۹۱۳۶€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/۲۸۸€
المصنف لعبدالرزاق کتاب الفرائض باب ذوالسہام ∞حدیث ۱۹۱۳۶€ المجلس العلمی بیروت ∞۱۰/۲۸۸€
الیہ قال فاذھب فالتمس ازدیا حولا قال فاتاہ بعد الحول فقال یارسول اﷲ لم اجد ازدیا ادفعہ الیہ قال فانطلق فانظر اول خزاعی تلقاہ فادفعہ الیہ فلما ولی قال علی الرجل فلما جائہ قال انظر کبرخزاعۃ فادفعہ الیہ ولفظ ابن ابی شیبۃ قال فاذھب فادفعہ الی اکبر خزاعۃ ۔ مجھے کوئی ازدی نہیں ملتا جسے دوںفرمایاسال بھر تك کوئی ازدی تلاش کروایك سال کے بعد حاضرہوئے اورعرض کی یا رسول اﷲ! میں نے کوئی ازدی نہیں پایا۔فرمایا توبنی خزاعہ میں جو شخص سب سے زیادہ جداعلی سے قریب ہو اسے دے دے۔جب وہ لوٹا توفرمایا اسے میرے پاس بلالاؤ۔جب وہ حاضرخدمت ہوا توفرمایا جوخزاعہ میں سب سے عمررسیدہ ہو اسے دے دینا۔ابن ابی شیبہ کے لفظ یہ ہیں آپ نے فرمایا جا اورخزاعہ کے سب سے عمررسیدہ شخص کودے دے۔
بنی ازدبنی خزاعہ کی ایك شاخ ہےجب میت کے قبیلہ اقرب کاکوئی نہ ملا تو ترکہ نے قبیلہ اعلی کی طرف رجوع کیاب کون بتا سکتا ہے کہ یہ میت اس اکبرخزاعی سے کہ اس کا عصبہ ٹھہراکس قدرپشتہا پشت کے فصل پرجاکر ملتاہوگا۔اس حدیث سے وہ تلاش کرنے کاحکم بھی معلوم ہوگیا جس کاسوال چہارم میں استفسارتھا۔
جواب سوال ہفتم
ان حدیثوں کے بعد اگرچہ نہ اس سوال کامحل نہ اس کے جواب کی حاجتمگراستفسار پرکہاجاتاہے کہ ہاں بارہا فقیرکے یہاں سے ایسی عصوبات بعیدہ کوترکہ دلایاگیاہے کئی کئی روز سائلوں نے کہا اس کاکوئی عصبہ نہ رہاکوئی نہیں اوران پرباربارتحقیق وتفتیش کی تاکید کی گئی اوربالآخر پتالگاکرلائے کہ پردادا یاپردادا کے باپ کی اولاد کافلاں مردفلاں جگہ باقی ہے۔فقیرنے پندرہ سولہ سال سے تقسیم ترکہ کے مسائل اپنے اصحاب واحباب کے متعلق
بنی ازدبنی خزاعہ کی ایك شاخ ہےجب میت کے قبیلہ اقرب کاکوئی نہ ملا تو ترکہ نے قبیلہ اعلی کی طرف رجوع کیاب کون بتا سکتا ہے کہ یہ میت اس اکبرخزاعی سے کہ اس کا عصبہ ٹھہراکس قدرپشتہا پشت کے فصل پرجاکر ملتاہوگا۔اس حدیث سے وہ تلاش کرنے کاحکم بھی معلوم ہوگیا جس کاسوال چہارم میں استفسارتھا۔
جواب سوال ہفتم
ان حدیثوں کے بعد اگرچہ نہ اس سوال کامحل نہ اس کے جواب کی حاجتمگراستفسار پرکہاجاتاہے کہ ہاں بارہا فقیرکے یہاں سے ایسی عصوبات بعیدہ کوترکہ دلایاگیاہے کئی کئی روز سائلوں نے کہا اس کاکوئی عصبہ نہ رہاکوئی نہیں اوران پرباربارتحقیق وتفتیش کی تاکید کی گئی اوربالآخر پتالگاکرلائے کہ پردادا یاپردادا کے باپ کی اولاد کافلاں مردفلاں جگہ باقی ہے۔فقیرنے پندرہ سولہ سال سے تقسیم ترکہ کے مسائل اپنے اصحاب واحباب کے متعلق
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۴۶€
المصنف لابن ابی شیبہ ∞// // حدیث ۱۶۳۹€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱۱/۴۱۴€
المصنف لابن ابی شیبہ ∞// // حدیث ۱۶۳۹€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱۱/۴۱۴€
کردئیے ہیں اورنادرا جوخودلکھناہوتاہے اپنے مجموعہ فتاوی میںان کی نقل نہیں رکھتا مگرجب کسی فائدہ نفیسہ پرمشتمل ہولہذا ان سب وقائع کاپتانہیں دے سکتا ہاں ابھی اسی شعبان میں اسی شہرکاایك مسئلہ لکھاگیاجس میں قاضی زادوں کے خاندان سے ایك عورت کے پردادا کاپرپوتا اس کاوارث ہوا۔ثواب الخیربنت رعایت علی بن قاضی رحمت علی بن قاضی مولوی شیخ الاسلام کاترکہ فرزند علی بن محمد علی بن قاضی ب درالاسلام بن قاضی مولوی شیخ الاسلام کوملا۔فرائض نویسان زمانہ دریافت نہیں کرتے سائلوں جاہلوں کے بتانے پرقناعت کرتے ہیں وہ کیاجانیں کس کس کو ترکہ پہنچتاہےلاجرم بلاوجہ حق تلفیاں ہوتی ہیں اگرتفتیش کامل کی عادت ہوتی توآج ایسی توریثیں اچنبھانہ معلوم ہوتیں۔سچ ہے جووارد ہواحدیث میں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مروی:
تعلموا الفرائض وعلموہ الناس فانہ نصف العلم وانہ ینسی وھو اول ماینزع من امتی ۔رواہ ابن ماجۃ و الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ فرائض سیکھو اورلوگوں کوسکھاؤ کہ وہ نصف علم ہے اوروہ بھولا جاتاہے اورپہلاعلم جومیری امت سے نکل جائے گا(اس کو ابن ماجہ اورحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
عــــــہ: بعدہ۹/صفر۱۳۱۹ھ کو اسی بریلی کے مسلمان حلوائیوں کاایك مناسخہ آیا جس میں احمدبخش نامی ایك شخص کاترکہ کہ اس کی زوجہ وہمشیرہ سے بچابلاقی وانعام اﷲ نے پایا کہ احمدبخش کے پردادا کے چچاپوتے ے پوتے ہیں ان کاسلسلہ نسب یوں ہےیہاں ذی فرض نسبی بھی موجود ہے پھراحمدبخش کی پھوپھی سراجن مری وہی دوعصبے اس کے بھی وارث ہوئے وہ اس کے دادا کے چچا کے پرپوتے کے بیٹے ہیںیہ بحمداﷲ اس تحقیق کانتیجہ ہے جوبیان کی جاتی ہے۔
زید
صلابت نورمحمد
کمو لال محمد غلام غوث
سعداﷲ عطاء اﷲ فیض اﷲ
محمدبخش
انعام اﷲ بلاقی احمدبخش
تعلموا الفرائض وعلموہ الناس فانہ نصف العلم وانہ ینسی وھو اول ماینزع من امتی ۔رواہ ابن ماجۃ و الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ فرائض سیکھو اورلوگوں کوسکھاؤ کہ وہ نصف علم ہے اوروہ بھولا جاتاہے اورپہلاعلم جومیری امت سے نکل جائے گا(اس کو ابن ماجہ اورحاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
عــــــہ: بعدہ۹/صفر۱۳۱۹ھ کو اسی بریلی کے مسلمان حلوائیوں کاایك مناسخہ آیا جس میں احمدبخش نامی ایك شخص کاترکہ کہ اس کی زوجہ وہمشیرہ سے بچابلاقی وانعام اﷲ نے پایا کہ احمدبخش کے پردادا کے چچاپوتے ے پوتے ہیں ان کاسلسلہ نسب یوں ہےیہاں ذی فرض نسبی بھی موجود ہے پھراحمدبخش کی پھوپھی سراجن مری وہی دوعصبے اس کے بھی وارث ہوئے وہ اس کے دادا کے چچا کے پرپوتے کے بیٹے ہیںیہ بحمداﷲ اس تحقیق کانتیجہ ہے جوبیان کی جاتی ہے۔
زید
صلابت نورمحمد
کمو لال محمد غلام غوث
سعداﷲ عطاء اﷲ فیض اﷲ
محمدبخش
انعام اﷲ بلاقی احمدبخش
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب الحث علی تعلیم الفرائض ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۹،ا€لمستدرك للحاکم کتاب الفرائض دارالفکر بیروت ∞۴/۳۳۲€
جواب سوال ہشتم
یہ رواج باطل ومردودونامعتبرہے کہ صراحۃ مخالف شرع مطہر ہے کوئی رواج نص کے خلاف معتبرنہیں ہوسکتا ورنہ رباوزنا وشراب ورباب کارواج اس سے بدرجہا زائدہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم توفرمائیں:
فلا ولی رجل ذکر ۔ کہ وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے(ت)
جوفرائض مقدرہ دلاکر باقی بچے وہ اس مرد کاہے جوبہ نسبت دیگراقارب کے میت سے قریب ترہےایسے مرد کے ہوتے ہوئے جورد کیاجائے گاصراحۃ حق تلفی وظلم ابعد اورایساردخودواجب الرد ہوگایہ رواج نہ صرف حدیث بلکہ اجماع امت کے خلاف ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
قال النووی رحمہ اﷲ تعالی قد اجمعوا علی ان مابقی بعد الفرائض فہو للعصبات یقدم الاقرب فالاقرب ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ امام نووی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ مشائخ کا اس پراجماع ہے جواصحاب الفرائض کے بعد باقی بچے وہ عصبوں کے لئے ہےجوسب سے زیادہ قریبی ہے اس کومقدم کیا جائے گا پھر اس کے بعد والا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۷۳: ازدیگر شریف ضلع ہردوئی مرسلہ حضرت سیدمحمد زاہد صاحب ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالد کی زوجہ اولی سے ایك پسر اور ایك دختر ہےبعد فوت زوجہ اولی خالد نے عقدثانی کیا اس سے بھی اولاد ہے اب خالد ن اولاد زوجہ اولی کو مکان سے نکال دیا اورجملہ حقوق سے محروم کیا او رذمہ خالد کے مہرزوجہ اولی کاواجب الاداہے۔پس اس صورت میں اولاد زوجہ اولی مستحق پانے مہر وغیرہ
یہ رواج باطل ومردودونامعتبرہے کہ صراحۃ مخالف شرع مطہر ہے کوئی رواج نص کے خلاف معتبرنہیں ہوسکتا ورنہ رباوزنا وشراب ورباب کارواج اس سے بدرجہا زائدہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم توفرمائیں:
فلا ولی رجل ذکر ۔ کہ وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے(ت)
جوفرائض مقدرہ دلاکر باقی بچے وہ اس مرد کاہے جوبہ نسبت دیگراقارب کے میت سے قریب ترہےایسے مرد کے ہوتے ہوئے جورد کیاجائے گاصراحۃ حق تلفی وظلم ابعد اورایساردخودواجب الرد ہوگایہ رواج نہ صرف حدیث بلکہ اجماع امت کے خلاف ہے۔ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
قال النووی رحمہ اﷲ تعالی قد اجمعوا علی ان مابقی بعد الفرائض فہو للعصبات یقدم الاقرب فالاقرب ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ امام نووی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ مشائخ کا اس پراجماع ہے جواصحاب الفرائض کے بعد باقی بچے وہ عصبوں کے لئے ہےجوسب سے زیادہ قریبی ہے اس کومقدم کیا جائے گا پھر اس کے بعد والا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۷۳: ازدیگر شریف ضلع ہردوئی مرسلہ حضرت سیدمحمد زاہد صاحب ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالد کی زوجہ اولی سے ایك پسر اور ایك دختر ہےبعد فوت زوجہ اولی خالد نے عقدثانی کیا اس سے بھی اولاد ہے اب خالد ن اولاد زوجہ اولی کو مکان سے نکال دیا اورجملہ حقوق سے محروم کیا او رذمہ خالد کے مہرزوجہ اولی کاواجب الاداہے۔پس اس صورت میں اولاد زوجہ اولی مستحق پانے مہر وغیرہ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۹۷،
€صحیح مسلم ∞// // // // // // // ۲/۳۴€
مرقاۃ المفاتیح کتاب البیوع باب الفرائض ∞حدیث ۳۰۴۲€ المکتبۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۶/۲۳۰€
€صحیح مسلم ∞// // // // // // // ۲/۳۴€
مرقاۃ المفاتیح کتاب البیوع باب الفرائض ∞حدیث ۳۰۴۲€ المکتبۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۶/۲۳۰€
مادر متوفیہ اپنی کے خالد سے ازروئے شرع شریف ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
مہرجبکہ کل یابعض ذمہ شوہر واجب الادا ہو اورعورت بے ابراومعافی معتبرشرعی مرجائے تووہ مثل دیگر دیون واموال متروکہ زن ہوتاہے اگرشوہربعد کو زندہ رہے تووہ خود بھی اس سے اپنا حصہ شرعی حسب شرائط مقررئہ علم فرائض پاتاہے جبکہ عورت کا ترکہ قابل تقسیم ورثہ ہو یعنی عورت پرکوئی دین ایسانہ ہو جواس کے تمام متروکہ نقدودین وجائداد کومحیط ومستغرق ہو ورنہ شوہر خواہ کوئی وارث بذریعہ وراثت مہرخواہ دیگرمتروکہ سے کچھ پانے کے مستحق نہ ہوں گے سب ادائے دین مورثہ میں صرف کیا جائے گا لقولہ تعالی "من بعد وصیۃ یوصین بہا اودین " (اﷲ تعالی کے اس ارشادکی وجہ سے"اس وصیت کے بعد جووہ کرگئیں اورقرض کے بعد"۔ت)پس صورت مستفسرہ میں زوجہ اولی پراگرایسادین تھا توکل مہرجس قدر ذمہ خالد واجب الاداء ہے اس سے وصول کرکے زن متوفاۃ کے قرضخواہوں کودیں اور اگرایسانہیں توجس قدردین غیرمحیط عورت پرہو اس کے کل متروکہ مہروغیرہ سے اداکرکے باقی ثلث میں اس کی وصیت اگر اس نے کی ہونافذ کرکے باقی کاایك ربع خالد پر سے ساقط کریں کہ یہ خود اس کاحصہ ہوا اورتین ربع دیگروارثان زن کودیں خواہ یہی پسرودختر ہوں یاان کے ساتھ اوربھی مثل مادر وپدرزن یا اس کے جد صحیح وجدہ صحیحہ علی قضیۃ الفرائض اﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۴: ازبہیڑی متصل مسجدلب سڑك مرسلہ مولوی مقیم الدین صاحب مصنف اسلام کھنڈ ۱۳صفر ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی بی بی فوت ہوئی او راس کے بعد ایك لڑکا اورایك لڑکی جواس سے تھے وہ بھی فوت ہوگئے۔اب متوفیہ کے باپ کی جائداد متروکہ میں سے جو اس کے بھائی اورماں کے قبضہ میںہے متوفیہ کے شوہر کو ازروئے شرع شریف حصہ مل سکتاہے یانہیں اگرمل سکتاہے توکس حساب سے اورمتوفیہ کے ماں اوربھائی اس کے شوہر سے اگر اس نے معاف نہ کیا ہو زرمہر پانے کے مستحق ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ہندہ یعنی زن متوفاۃ کابھائی اس کے مہروغیرہ متروکہ سے کسی شیئ کامستح نہیں اور لیلی یعنی
الجواب:
مہرجبکہ کل یابعض ذمہ شوہر واجب الادا ہو اورعورت بے ابراومعافی معتبرشرعی مرجائے تووہ مثل دیگر دیون واموال متروکہ زن ہوتاہے اگرشوہربعد کو زندہ رہے تووہ خود بھی اس سے اپنا حصہ شرعی حسب شرائط مقررئہ علم فرائض پاتاہے جبکہ عورت کا ترکہ قابل تقسیم ورثہ ہو یعنی عورت پرکوئی دین ایسانہ ہو جواس کے تمام متروکہ نقدودین وجائداد کومحیط ومستغرق ہو ورنہ شوہر خواہ کوئی وارث بذریعہ وراثت مہرخواہ دیگرمتروکہ سے کچھ پانے کے مستحق نہ ہوں گے سب ادائے دین مورثہ میں صرف کیا جائے گا لقولہ تعالی "من بعد وصیۃ یوصین بہا اودین " (اﷲ تعالی کے اس ارشادکی وجہ سے"اس وصیت کے بعد جووہ کرگئیں اورقرض کے بعد"۔ت)پس صورت مستفسرہ میں زوجہ اولی پراگرایسادین تھا توکل مہرجس قدر ذمہ خالد واجب الاداء ہے اس سے وصول کرکے زن متوفاۃ کے قرضخواہوں کودیں اور اگرایسانہیں توجس قدردین غیرمحیط عورت پرہو اس کے کل متروکہ مہروغیرہ سے اداکرکے باقی ثلث میں اس کی وصیت اگر اس نے کی ہونافذ کرکے باقی کاایك ربع خالد پر سے ساقط کریں کہ یہ خود اس کاحصہ ہوا اورتین ربع دیگروارثان زن کودیں خواہ یہی پسرودختر ہوں یاان کے ساتھ اوربھی مثل مادر وپدرزن یا اس کے جد صحیح وجدہ صحیحہ علی قضیۃ الفرائض اﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۴: ازبہیڑی متصل مسجدلب سڑك مرسلہ مولوی مقیم الدین صاحب مصنف اسلام کھنڈ ۱۳صفر ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی بی بی فوت ہوئی او راس کے بعد ایك لڑکا اورایك لڑکی جواس سے تھے وہ بھی فوت ہوگئے۔اب متوفیہ کے باپ کی جائداد متروکہ میں سے جو اس کے بھائی اورماں کے قبضہ میںہے متوفیہ کے شوہر کو ازروئے شرع شریف حصہ مل سکتاہے یانہیں اگرمل سکتاہے توکس حساب سے اورمتوفیہ کے ماں اوربھائی اس کے شوہر سے اگر اس نے معاف نہ کیا ہو زرمہر پانے کے مستحق ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ہندہ یعنی زن متوفاۃ کابھائی اس کے مہروغیرہ متروکہ سے کسی شیئ کامستح نہیں اور لیلی یعنی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/۱۲€
مادرہندہ ضروراپناحصہ مہرشوہر ہندہ سے پانے کی مستحق ہے یونہی زید یعنی شوہر ہندہ اپناحصہ ہندہ کے اس ترکہ سے جو اس نے متروکہ پدری سے پایا مادر وبرادرہندہ سے لینے کااستحقاق رکھتاہے۔باقی رہا یہ کہ لیلی کامہر اورزید کااس ترکہ میں کتنا حق ہے اس کی تعیین تفصیل ورثہ ہندہ پرموقوف تھیسائل نے کچھ نہ بتایا کہ عمرووسلمی یعنی پسرودخترہندہ کی شادیاں ہوئی تھیں یا نہیںان کے بعد عمرو کی زوجہ یاسلمی کاشوہر یاکسی کی کچھ اولاد رہی یانہیںاگررہی توازقسم اناث تھی یاکیابرتقدیر اول ایك دختر تھی یامتعددپھران وارثان عمرووسلمی میں اگر تھے کسی ایسے کاانتقال ہویانہیں جس کی موت سے لیلی کاحصہ بڑھے ہوا تو کتنوں کاکس ترتیب سےکیا کیاوارث چھوڑےان صور کے اختلاف سے زیدولیلی کے استحقاق میںیہ اختلاف پڑے گا کہ ان میں ہرایك ترکہ عمرووسلمی سے کبھی سدس پائے گا کبھی کم کبھی زائداوربعض صورتوں میں زیدکے لئے پانچ سدس ہوں گے لہذا تعیین نہیں کی جاسکتی کہ زیدولیلی ترکہ ومہرہندہ سے کس کس قدرکے مستحق ہوئے۔اجمالا اتناکہہ سکتے ہیں کہ ہندہ کو جوکچھ ترکہ پدری سے ملازیورومہروغیرہا اورجوکچھ اس کاذاتی تھا برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دین ووصیت چھتیس سہام ہوکر نوسہم زیداورچھ لیلی اورچودہ عمرواورسات سلمی کوملیں گےاور جوکچھ عمرووسلمی کوملاوہ ان کے ورثہ پرتقسیم ہوگا جن میں زید ولیلی بھی ضرورمستحق یاصرف یہی دونوں مستحق ہوں گےبہرحال وہ چہارم کہ زید نے ترکہ ہندہ سے پائے اورجوجوحصہ اسے ترکہ عمرووسلمی سے ملا اس کے مجموع کامطالبہ وہ اس ترکہ ہندہ سے کرسکتاہے جو قبضہ مادروبرادرہندہ میں ہے اور وہ چھٹا حصہ کہ لیلی نے مہرہندہ سے پایا اورجوجوکچھ اسے حصہ عمرووسلمی سے پہنچا منجملہ مہراس مجموع کامطالبہ لیلی زید سے کرسکتی ہے اگرصورت یہ ہوکہ عمرووسلمی نے سوازید ولیلی کے کوئی وارث نہ چھوڑا ہوتو کل متروکہ ہندہ مہروغیرہ سب بہترسہام ہوکر انیس سہم لیلی اورترپن ۵۳ زید کو ملیں گے اس صورت میں زیدمادر وبرادر ہندہ سے منجملہ حصہ ہندہ ازترکہ پدری ۷۲/۵۳ لینے کامستحق ہے اورلیلی منجملہ مہرزید سے ۷۲/۱۹کمالایخفی علی من یعرف التخریج(جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جوتخریج کی پہچان رکھتاہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵: ۲۵/رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین پسردودخترایك زوجہ تھی زوجہ نے انتقال کیاعمرو پسر کلاں نے کہ ماں اسی کے ساتھ رہتی تھی بے اذن زید بطورخود اپنی والدہ کی تجہیزوتکفین
مسئلہ ۷۵: ۲۵/رجب ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین پسردودخترایك زوجہ تھی زوجہ نے انتقال کیاعمرو پسر کلاں نے کہ ماں اسی کے ساتھ رہتی تھی بے اذن زید بطورخود اپنی والدہ کی تجہیزوتکفین
کی جب زیدکاوقت انتقال قریب آیا اس نے تیس روپیہ قرض لے کر اپنے منجھلے پسربکر کو کہ زید اس کے ساتھ رہتاتھا دئیے کہ کفن ودفن میں اٹھانا اب تقسیم جائداد زید پرمنازعت ہے۔عمروکہتاہے والد نے تیس روپے اپنی تجہیزکے لئے بکر کو دئیے تھے میں نے والدہ کی تجہیزوتکفین کی اس کے تیس روپیہ میں ترکہ والدہ سے لوں گاخالد پسرخوردکہتاہے والد نے اوربھائیوں کی شادی خود کی میری شادی نہ ہوئی اس کاصرف علاوہ حصہ شرعیہ کے ترکہ والد سے مجھ کوملےاس صورت میں شرعا کیاحکم ہے اور پسرکلاں وخورد کے یہ دونوں دعوے قابل سماعت ہیں یانہیںبینواتوجروا(بیان فرمائیے اوراجرپائیے۔ت)
الجواب:
دونوں دعوی باطل وناقابل سماعت ہیں عورت کی تجہیزوتکفین اگرچہ مذہب مفتی بہ میں مطلقا ذمہ شوہر لازم ہے توبکر نے اپنے باپ کا واجب اداکیا مگرجب کہ یہ فعل اس کابطور خود بے اذن پدر تھا تو وہ اس کی طرف سے تبرع یعنی احسان اورایك نیك سلوك ٹھہرے گا جس کامعاوضہ پانے کاوہ ماں یاباپ کسی کے ترکہ سے استحقاق نہیں رکھتا۔تنویرالابصار میں ہے:
اختلف فی الزوج والفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا ۔ زوج کے بارے میں اختلاف کیاگیا اورفتوی اس پر ہے کہ بیوی کاکفن خاوند پر واجب ہے اگرچہ بیوی نے مال چھوڑا ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لوکفنہ الحاضر من مالہ لیرجع علی الغائب منھم بحصتہ فلارجوع لہ ان انفق بلا اذن القاضی حاوی الزاھدی واستنبط منہ الخیر الرملی انہ لوکفن الزوجۃ غیرزوجھا بلااذنہ اگرچہ حاضرنے میت کو اپنے مال سے اس نیت سے کفن پہنایا کہ غائب وارثوں پراس کے حصہ کارجوع کرے گا تو اس کو رجوع کاحق نہیں ہوگا اگراس نے قاضی کی اجازت کے بغیر کفن پرخرچ کیاہو۔یہ حاوی الزاہدی میں ہے۔اسی سے علامہ خیرالدین رملی نے استنباط کیاکہ اگربیوی کو خاوند کے غیرنے خاوند اورقاضی کی اجازت کے
الجواب:
دونوں دعوی باطل وناقابل سماعت ہیں عورت کی تجہیزوتکفین اگرچہ مذہب مفتی بہ میں مطلقا ذمہ شوہر لازم ہے توبکر نے اپنے باپ کا واجب اداکیا مگرجب کہ یہ فعل اس کابطور خود بے اذن پدر تھا تو وہ اس کی طرف سے تبرع یعنی احسان اورایك نیك سلوك ٹھہرے گا جس کامعاوضہ پانے کاوہ ماں یاباپ کسی کے ترکہ سے استحقاق نہیں رکھتا۔تنویرالابصار میں ہے:
اختلف فی الزوج والفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا ۔ زوج کے بارے میں اختلاف کیاگیا اورفتوی اس پر ہے کہ بیوی کاکفن خاوند پر واجب ہے اگرچہ بیوی نے مال چھوڑا ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لوکفنہ الحاضر من مالہ لیرجع علی الغائب منھم بحصتہ فلارجوع لہ ان انفق بلا اذن القاضی حاوی الزاھدی واستنبط منہ الخیر الرملی انہ لوکفن الزوجۃ غیرزوجھا بلااذنہ اگرچہ حاضرنے میت کو اپنے مال سے اس نیت سے کفن پہنایا کہ غائب وارثوں پراس کے حصہ کارجوع کرے گا تو اس کو رجوع کاحق نہیں ہوگا اگراس نے قاضی کی اجازت کے بغیر کفن پرخرچ کیاہو۔یہ حاوی الزاہدی میں ہے۔اسی سے علامہ خیرالدین رملی نے استنباط کیاکہ اگربیوی کو خاوند کے غیرنے خاوند اورقاضی کی اجازت کے
حوالہ / References
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنازۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۲۱€
ولااذن القاضی فھو متبرع ۔ بغیرکفن پہنایا تو وہ اس میں احسان کرنے والا قرارپائے گا۔(ت)
اسی طرح شادی کاصرف مانگنا محض بے معنی ہے جس کی شرع مطہر میں کچھ اصل نہیںمصارف شادی زید پردین نہ تھے کہ اس کے ترکہ سے لئے جائیں کما لایخفی علی احد ممن لہ مساس بالعلم(جیسا کہ علم سے مس رکھنے والے کسی شخص پر پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۶: ۱۹/ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمدی بیگم فوت ہوئیایك بہن کی دو دختر زینب وسکینہاوردوسری بہن کے دوپسر ایك دخترخالدولیدہندہ اوربھائی کی ایك دخترہاجرہ وارث چھوڑے۔یہ سب بہن بھائی حقیقی تھے توترکہ محمدی بیگم کاان پرکس طور سے تقسیم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخر وتقدیم دین ووصیت ترکہ محمدی بیگم کا انچاس سہام پرمنقسم ہوکر چودہ سہم ہاجرہ اورپانچ پاچ زینب وسکینہ وہندہ اور دس دس خالد و ولید کوملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
صورۃ القسمۃ ھکذا(تقسیم کی صورت اس طرح ہے۔ت)
اسی طرح شادی کاصرف مانگنا محض بے معنی ہے جس کی شرع مطہر میں کچھ اصل نہیںمصارف شادی زید پردین نہ تھے کہ اس کے ترکہ سے لئے جائیں کما لایخفی علی احد ممن لہ مساس بالعلم(جیسا کہ علم سے مس رکھنے والے کسی شخص پر پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۶: ۱۹/ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمدی بیگم فوت ہوئیایك بہن کی دو دختر زینب وسکینہاوردوسری بہن کے دوپسر ایك دخترخالدولیدہندہ اوربھائی کی ایك دخترہاجرہ وارث چھوڑے۔یہ سب بہن بھائی حقیقی تھے توترکہ محمدی بیگم کاان پرکس طور سے تقسیم ہوگا بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخر وتقدیم دین ووصیت ترکہ محمدی بیگم کا انچاس سہام پرمنقسم ہوکر چودہ سہم ہاجرہ اورپانچ پاچ زینب وسکینہ وہندہ اور دس دس خالد و ولید کوملیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
صورۃ القسمۃ ھکذا(تقسیم کی صورت اس طرح ہے۔ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۸۰ و ۵۸۱€
مسئلہ ۷۷: ازملك بنگالہ ضلع بردوان ڈاکخانہ گدا موضع کدمیہ مرسلہ محمدمسلم صاحب ۲۸ربیع الآخرشریف ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت فوت ہوئی اس نے کوئی وارث نہ چھوڑا سوائے زوج البنت واخت الزوج وابن عم الزوج کےآیا انہیں کوملے گا بطور وراثت یابطور استحقاق بیت المال اس زمانہ میں بیت المال نہیں ایسا مال مہتمم مدرسہ کودیاجائے کہ وہ حوائج مدرسہ میں خرچ کرےجائزہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
جبکہ میت کاکوئی وارث شرعی موصی لہ بجمیع المال تك نہ ہو توجوکچھ اس کی تجہیزوتکفین وادائے دیون سے بچے فقرائے بیکس و بے قدرت عاجزین مسلمین کودیاجائے۔ان تین شخصوں میں اگر کوئی اس طرح کاہو تو اسے دیںاوراگرداماد فقیر عاجز ہوتو وہ مستحق ترہے اسے دینا انسب ہے کہ وہ سب سے زیادہ عورت کاقریب ہےداماد محرم ومانندپسرہوتاہےاس مال کامہتمم مدرسہ کو ایسے خرچ مدرسہ کے لئے دینا جومصرف مذکور سے جداہو عامہ کتب کے خلاف ہے۔درمختارمیں ہے:
بیوت المال اربعۃ(الی قولہ)ورابعھا الضوائع "مثل مالا *یکون لہ انا وارثونا * ثم قال ورابعھا فمصرفہ جھات* تساوی النفع فیھا المسلمونا * قال فی رد المحتار لکنہ مخالف لما فی الہدایۃ والزیلعی فان الذی فی الہدایۃ وعامۃ الکتب ان الذی یصرف فی مصالح المسلمین ھو الثالث اما الرابع فمصرفہ اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم کما فی الزیلعی وغیرہ عامۃ بیت المال کی اقسام چارہیں(ماتن کے اس قول تك کہ)ان میں چوتھی قسم گری پڑی اشیاء ہی جیسے وہ مال جس کاسرے سے کوئی وارث نہ ہو۔پھرکہا اس کامصرف وہ جہتیں ہیں جن کے نفع میں تمام مسلمان برابرہوںردالمحتار میں کہا لیکن یہ اس کے مخالف ہے جوکچھ ہدایہ اورزیلعی میں ہےکیونکہ ہدایہ وعام کتابوں میں ہے کہ جوکچھ مسلمانوں کی مصلحتوں پرخرچ کیاجاتا ہے وہ تیسری قسم ہے۔چوتھی قسم کامصرف تو وہ لقیط ہے جومحتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کاکوئی ولی نہیں ہوتا جیسا کہ زیلعی وغیرہ عام کتابوں میں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت فوت ہوئی اس نے کوئی وارث نہ چھوڑا سوائے زوج البنت واخت الزوج وابن عم الزوج کےآیا انہیں کوملے گا بطور وراثت یابطور استحقاق بیت المال اس زمانہ میں بیت المال نہیں ایسا مال مہتمم مدرسہ کودیاجائے کہ وہ حوائج مدرسہ میں خرچ کرےجائزہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
جبکہ میت کاکوئی وارث شرعی موصی لہ بجمیع المال تك نہ ہو توجوکچھ اس کی تجہیزوتکفین وادائے دیون سے بچے فقرائے بیکس و بے قدرت عاجزین مسلمین کودیاجائے۔ان تین شخصوں میں اگر کوئی اس طرح کاہو تو اسے دیںاوراگرداماد فقیر عاجز ہوتو وہ مستحق ترہے اسے دینا انسب ہے کہ وہ سب سے زیادہ عورت کاقریب ہےداماد محرم ومانندپسرہوتاہےاس مال کامہتمم مدرسہ کو ایسے خرچ مدرسہ کے لئے دینا جومصرف مذکور سے جداہو عامہ کتب کے خلاف ہے۔درمختارمیں ہے:
بیوت المال اربعۃ(الی قولہ)ورابعھا الضوائع "مثل مالا *یکون لہ انا وارثونا * ثم قال ورابعھا فمصرفہ جھات* تساوی النفع فیھا المسلمونا * قال فی رد المحتار لکنہ مخالف لما فی الہدایۃ والزیلعی فان الذی فی الہدایۃ وعامۃ الکتب ان الذی یصرف فی مصالح المسلمین ھو الثالث اما الرابع فمصرفہ اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم کما فی الزیلعی وغیرہ عامۃ بیت المال کی اقسام چارہیں(ماتن کے اس قول تك کہ)ان میں چوتھی قسم گری پڑی اشیاء ہی جیسے وہ مال جس کاسرے سے کوئی وارث نہ ہو۔پھرکہا اس کامصرف وہ جہتیں ہیں جن کے نفع میں تمام مسلمان برابرہوںردالمحتار میں کہا لیکن یہ اس کے مخالف ہے جوکچھ ہدایہ اورزیلعی میں ہےکیونکہ ہدایہ وعام کتابوں میں ہے کہ جوکچھ مسلمانوں کی مصلحتوں پرخرچ کیاجاتا ہے وہ تیسری قسم ہے۔چوتھی قسم کامصرف تو وہ لقیط ہے جومحتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کاکوئی ولی نہیں ہوتا جیسا کہ زیلعی وغیرہ عام کتابوں میں
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ باب العشر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴۰€
الکتب اھ مختصرا وتمام تحقیقہ البازغ فیما علقنا علیہ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ ہے اھ اختصاراو اس کی مکمل روشن تحقیق ردالمحتار پرہماری تعلیق میں ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے انتقال کیا اوراپنی ملکیت سے دومکان زنانے اورایك مردانہ اورایك کھپریل بقیمت مبلغ ۳۰ اور ایك درخت نیب بقیمت مبلغ آٹھ روپے کاچھوڑا۔زید اورعمرومکانات مذکور پربتقسیم مساوی کہ ایك مکان خاص زید کا اور ایك خاص عمرو کااورنشست گاہ اور کھپریل اوردرخت نیب پرمشترك قابض ہوئےزید نے خاص اپنا کہ جس میں صرف دوکوٹھے تھے فروخت کردیا بعد چند روز کے فوت ہوگیااولاد زید کی عرصہ تیس برس تك مکانات مشترکہ اوردرخت نیب وکھپریل پرقابض رہے اورسکونت بھی مکان خاص عمرو میں اپنے چچا کے پاس رہےقضاء عمرو اوراولاد زید میں نااتفاقی ہوئیاولاد زید نے جداہوکردوسری جگہ سکونت اختیار کیبعد چندروز کے عمرو بھی فوت ہوگیا تب اولاد عمرو نے وہ سب مکانات اوردرخت نیب تین حصہ مساوی پرآپس میں تقسیم کرلیااولادزید کوکچھ آیا بوجہ جداہوجانے اورقبضہ چھوڑدینے کے اولادزید کاحق نہ رہا۔
الجواب:
نہ جداہوجانے سے حق ساقط ہوسکتاہے نہ قبضہ چھوڑدینے سےنشست گاہ اور کھپریل اوردرخت میں نصف اولادزید کاہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹: ۱۱/ذی الحجہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ہندہ فوت ہوئی اورزینب اخت عینی اور زیدپسرہمشیرہ اورعمرو پسر برادر حقیقی اور خالد برادر علاتی اورشوہر وارث چھوڑےپس تقسیم ترکہ کس طرح ہوگی بینواتوجروا
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور
مسئلہ ۷۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے انتقال کیا اوراپنی ملکیت سے دومکان زنانے اورایك مردانہ اورایك کھپریل بقیمت مبلغ ۳۰ اور ایك درخت نیب بقیمت مبلغ آٹھ روپے کاچھوڑا۔زید اورعمرومکانات مذکور پربتقسیم مساوی کہ ایك مکان خاص زید کا اور ایك خاص عمرو کااورنشست گاہ اور کھپریل اوردرخت نیب پرمشترك قابض ہوئےزید نے خاص اپنا کہ جس میں صرف دوکوٹھے تھے فروخت کردیا بعد چند روز کے فوت ہوگیااولاد زید کی عرصہ تیس برس تك مکانات مشترکہ اوردرخت نیب وکھپریل پرقابض رہے اورسکونت بھی مکان خاص عمرو میں اپنے چچا کے پاس رہےقضاء عمرو اوراولاد زید میں نااتفاقی ہوئیاولاد زید نے جداہوکردوسری جگہ سکونت اختیار کیبعد چندروز کے عمرو بھی فوت ہوگیا تب اولاد عمرو نے وہ سب مکانات اوردرخت نیب تین حصہ مساوی پرآپس میں تقسیم کرلیااولادزید کوکچھ آیا بوجہ جداہوجانے اورقبضہ چھوڑدینے کے اولادزید کاحق نہ رہا۔
الجواب:
نہ جداہوجانے سے حق ساقط ہوسکتاہے نہ قبضہ چھوڑدینے سےنشست گاہ اور کھپریل اوردرخت میں نصف اولادزید کاہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹: ۱۱/ذی الحجہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ہندہ فوت ہوئی اورزینب اخت عینی اور زیدپسرہمشیرہ اورعمرو پسر برادر حقیقی اور خالد برادر علاتی اورشوہر وارث چھوڑےپس تقسیم ترکہ کس طرح ہوگی بینواتوجروا
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم امور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۸€
مقدمہ علی المیراث کالدین والوصیۃ ترکہ ہندہ کادوسہام پرمنقسم ہوکرایك سہم شوہر اورایك حقیقی خواہر کوملے گا باقی کوکوئی کچھ نہ پائے گابھانجا توذوی الارحام سے ہے اوربھتیجا بھائی کے ہوتے محروم بھائی عصبہ تھا اہل فرائض یعنی شوہر وخواہر سے جوبچتا لیتامگر ان سے کچھ باقی بچاہی نہیں لہذا کچھ نہ پہنچا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۰: ازالہ آباد کچہری دیوانی مرسلہ شیخ رضی الدین صاحب وکیل ۱۴محرم ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین فرقہ سنت وجماعت بیچ اس مسئلہ کے کہ شیخ معین الدین نے انتقال کی اورمسماۃ مینابی بی ایك زوجہ لاولد اورمسماۃ عائشہ بی بی ایك خالہ علاتی یعنی نانا کی دختردوسری ماں سے جومتوفی کی حقیقی نانی نہ تھی اورمسماۃ مصری بی بی ایك خالہ عینی کے تین پسراورایك دختر اورمسماۃ برکت النساء بی بی دختر عم حقیقی متوفی کوچھوڑا اوربعد فوت شیخ معین الدین مذکور کے مسماۃ برکت النساء بی بی بھی تین پسروتین دخترچھوڑکر فوت ہوگئی پس ایسی صورت میں املاك متروکہ شیخ معین الدین متوفی ازروئے شرع شریف حنفی کے کس کس کو کس کس قدرپہنچے گا وملے گافتوی بحوالہ عبارت کتاب کے ارقام و مرحمت فرمایاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مہرودیون ووصایا ترکہ شیخ معین الدین کاچارسہام پرمنقسم ہو کرایك سہم زوجہ اور تین سہم عائشہ کوملیں گے اورمصری کی اولاد یابرکت النساء کے لئے کچھ نہیں۔شرعا ذوی الارحام کے ہر صنف بلکہ عصبات کی بھی ہرنوع میں یہ حکم عام ہے کہ قرب درجہ مطلقا موجب ترجیح ہے ایك صنف کے ذوی الارحام یاایك نوع کے عصبات میں جسے میت تك انتساب میں وسائط کم ہوں گے وہ کثیر الوسائط پرہمیشہ مقدم رہے گا اگرچہ دوسراقوت قرابت یاولدیت عصبہ رکھتاہو مثلا برادرعلاتی ابن الاخ عینی سے مقدم ہے اور بنت خالہ ابن ابن العمہ پرمرجح ہے۔وھکذا شریفیہ میں ہے:
اولھم بالمیراث اقربھم الی المیت من ای جہۃ کان ای سواء کان الاقرب من جھۃ الاب اومن غیرجہتہ فاولاد العمۃ اولی من اولاد ان میں سے میراث کازیادہ حقدار وہ ہوگا جو میت کے زیادہ قریب ہوچاہے کسی بھی جہت سے ہو یعنی برابرہے کہ وہ زیادہ قریب باپ کی جانب سے ہو یا ماں کی جانب سے۔ چنانچہ پھوپھی کی اولادخالی کی اولاد کی اولاد سے
مسئلہ ۸۰: ازالہ آباد کچہری دیوانی مرسلہ شیخ رضی الدین صاحب وکیل ۱۴محرم ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین فرقہ سنت وجماعت بیچ اس مسئلہ کے کہ شیخ معین الدین نے انتقال کی اورمسماۃ مینابی بی ایك زوجہ لاولد اورمسماۃ عائشہ بی بی ایك خالہ علاتی یعنی نانا کی دختردوسری ماں سے جومتوفی کی حقیقی نانی نہ تھی اورمسماۃ مصری بی بی ایك خالہ عینی کے تین پسراورایك دختر اورمسماۃ برکت النساء بی بی دختر عم حقیقی متوفی کوچھوڑا اوربعد فوت شیخ معین الدین مذکور کے مسماۃ برکت النساء بی بی بھی تین پسروتین دخترچھوڑکر فوت ہوگئی پس ایسی صورت میں املاك متروکہ شیخ معین الدین متوفی ازروئے شرع شریف حنفی کے کس کس کو کس کس قدرپہنچے گا وملے گافتوی بحوالہ عبارت کتاب کے ارقام و مرحمت فرمایاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مہرودیون ووصایا ترکہ شیخ معین الدین کاچارسہام پرمنقسم ہو کرایك سہم زوجہ اور تین سہم عائشہ کوملیں گے اورمصری کی اولاد یابرکت النساء کے لئے کچھ نہیں۔شرعا ذوی الارحام کے ہر صنف بلکہ عصبات کی بھی ہرنوع میں یہ حکم عام ہے کہ قرب درجہ مطلقا موجب ترجیح ہے ایك صنف کے ذوی الارحام یاایك نوع کے عصبات میں جسے میت تك انتساب میں وسائط کم ہوں گے وہ کثیر الوسائط پرہمیشہ مقدم رہے گا اگرچہ دوسراقوت قرابت یاولدیت عصبہ رکھتاہو مثلا برادرعلاتی ابن الاخ عینی سے مقدم ہے اور بنت خالہ ابن ابن العمہ پرمرجح ہے۔وھکذا شریفیہ میں ہے:
اولھم بالمیراث اقربھم الی المیت من ای جہۃ کان ای سواء کان الاقرب من جھۃ الاب اومن غیرجہتہ فاولاد العمۃ اولی من اولاد ان میں سے میراث کازیادہ حقدار وہ ہوگا جو میت کے زیادہ قریب ہوچاہے کسی بھی جہت سے ہو یعنی برابرہے کہ وہ زیادہ قریب باپ کی جانب سے ہو یا ماں کی جانب سے۔ چنانچہ پھوپھی کی اولادخالی کی اولاد کی اولاد سے
اولاد الخالۃ وبالعکس لوجود الاقربیۃ مع اختلاف الجھۃ اھ مختصرا۔ اولی ہوگی اوریوں ہی اس کے برعکس کیونکہ جہت مختلف ہونے کے باوجود اقربیت پائی گئی اھ مختصرا(ت)
درمختارمیں ہے:
یقدم الاقرب فی کل صنف ۔ ہرصنف میں زیادہ قرب رکھنے والے کومقدم کیاجائے گا(ت)
اورشك نہیں کہ خالہ بنت العم سے اقرب ہےخالہ کے معنی ہیں خواہر مادرمیت اوربنت العم کے معنی دختربرادرپدرمیت ولہذا بنت العم ابن الخالہ یابنت الخالہ پرمقدم نہیں ہوتی دونوں ایك درجے میں لکھی جاتی ہیں۔حل المشکلات علامہ انقروی میں ہے:
من مات وترك بنت عم لابوین و ابن خال لاب اولام فالمال بین الفریقین اثلاثا ثلثا المال للبنت لانھا من جانب الاب وثلثہ للابن لانہ من جانب الام ۔ جوشخص حقیقی چچا کی بیٹی اورعلاتی یااخیافی ماموں کابیٹا چھوڑ کر فوت ہواتو اس کامال دونوں فریقوں میں تہائیوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگادوتہائی بیٹی کوملیں گے کیونکہ وہ باپ کی جانب سے ہے اور ایك تہائی بیٹے کوملے گاکیونکہ وہ ماں کی جانب سے ہے۔(ت)
اور جب بنت العم اولادخالہ سے مساوی الدرجہ ہوئی تو خالہ سے بالبداہۃ نیچے درجے میں ہوئی اورجب بنت العم نے بوجہ ولدیت عصبہ اولاد خالہ پرترجیح نہ پائی کہ حیزقرابت مختلف ہے توخالہ کے ہوتے ہوئے اس کی ولدیت عصبہ بدرجہ اولی ساقط الاعتبار ٹھہری۔سراجیہ وشریفیہ میں ہے:
ان استووا فی القرب ولکن اختلف حیزقرابتھم بان کان بعضھم اگر وہ قرب میں برابرہوں لیکن جہت قرابت میں مختلف ہوں مثلا ان میں سے بعض باپ
درمختارمیں ہے:
یقدم الاقرب فی کل صنف ۔ ہرصنف میں زیادہ قرب رکھنے والے کومقدم کیاجائے گا(ت)
اورشك نہیں کہ خالہ بنت العم سے اقرب ہےخالہ کے معنی ہیں خواہر مادرمیت اوربنت العم کے معنی دختربرادرپدرمیت ولہذا بنت العم ابن الخالہ یابنت الخالہ پرمقدم نہیں ہوتی دونوں ایك درجے میں لکھی جاتی ہیں۔حل المشکلات علامہ انقروی میں ہے:
من مات وترك بنت عم لابوین و ابن خال لاب اولام فالمال بین الفریقین اثلاثا ثلثا المال للبنت لانھا من جانب الاب وثلثہ للابن لانہ من جانب الام ۔ جوشخص حقیقی چچا کی بیٹی اورعلاتی یااخیافی ماموں کابیٹا چھوڑ کر فوت ہواتو اس کامال دونوں فریقوں میں تہائیوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگادوتہائی بیٹی کوملیں گے کیونکہ وہ باپ کی جانب سے ہے اور ایك تہائی بیٹے کوملے گاکیونکہ وہ ماں کی جانب سے ہے۔(ت)
اور جب بنت العم اولادخالہ سے مساوی الدرجہ ہوئی تو خالہ سے بالبداہۃ نیچے درجے میں ہوئی اورجب بنت العم نے بوجہ ولدیت عصبہ اولاد خالہ پرترجیح نہ پائی کہ حیزقرابت مختلف ہے توخالہ کے ہوتے ہوئے اس کی ولدیت عصبہ بدرجہ اولی ساقط الاعتبار ٹھہری۔سراجیہ وشریفیہ میں ہے:
ان استووا فی القرب ولکن اختلف حیزقرابتھم بان کان بعضھم اگر وہ قرب میں برابرہوں لیکن جہت قرابت میں مختلف ہوں مثلا ان میں سے بعض باپ
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ کتاب الفرائض باب ذوی الارحام ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۱۷€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۴€
حل المشکلات
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۴€
حل المشکلات
من جانب الاب وبعضھم من جانب الام فلااعتبار ھھنا لقوۃ القرابۃ ولالولد العصبۃ فی ظاھر الروایۃ فبنت العم لاب وام لیست اولی من بنت الخالۃ لعدم اعتبارکون بنت العم ولدالعصبۃ اھ باختصار۔ کی جانب سے اوربعض ماں کی جانب سے ہوں تویہاں قرابت کی قوت اورعصبہ کی اولاد ہونے کاظاہر الروایہ کے مطابق کوئی اعتبارنہیں ہوگالہذا حقیقی چچا کی بیٹی خالہ کی بیٹی سے اولی نہیں ہوگی کیونکہ یہاں چچا کی بیٹی کااولاد عصبہ ہونا معتبرنہیں ہے اھ اختصار(ت)
بالجملہ خالہ اگرعلاتیہ صنف رابع میں ہے اوربنت العم حکما اولاد صنف رابع کے مثل ہے حاشیہ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
حکم بنات الاعمام حکم اولاد الصنف الرابع ۔ چچوں کی بیٹیوں کاحکم صنف چہارم کی اولاد کے حکم کی طرح ہے۔(ت)
اورصنف رابع اولاد صنف رابع پربالاجماع مقدم ومرجح ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۸۱: ۱۰ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ مرسلہ محمدعبدالصبور
جناب مولوی صاحب قبلہ فیض رسان دام ظلہمبعد تسلیم کے عرض خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ ایك شخص کے ایك لڑکا اورایك لڑکی ہے اورایك نواسے کوبیٹابنایاہے اب وہ شخص اپنی حیات میں اپنامال واسباب تقسیم کرناچاہتاہے اوریہ دریافت کرتاہے کہ نواسے کو مثل بیٹے کے جواسباب وغیرہ تقسیم کرکے دوں تو اس کامواخذہ میرے ذمے تونہ ہوگا کہ بیٹی کے مقابلے میں نواسے کوبھی مثل بیٹے کے حصہ دیاہے اس کافتوی صحیح طورپرمہرلگاکر مرحمت فرمائیے گا تاکہ اس پرعمل کیاجائے۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہمہروغیرہ دین جوکچھ ادا کرکے جوباقی بچے تین حصے برابر کردیجئےایك پسرایك دخترایك نواسے کواس میں کوئی مواخذہ یاکسی کی حق تلفی نہ ہوگیزندگی میں
بالجملہ خالہ اگرعلاتیہ صنف رابع میں ہے اوربنت العم حکما اولاد صنف رابع کے مثل ہے حاشیہ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
حکم بنات الاعمام حکم اولاد الصنف الرابع ۔ چچوں کی بیٹیوں کاحکم صنف چہارم کی اولاد کے حکم کی طرح ہے۔(ت)
اورصنف رابع اولاد صنف رابع پربالاجماع مقدم ومرجح ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۸۱: ۱۰ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ مرسلہ محمدعبدالصبور
جناب مولوی صاحب قبلہ فیض رسان دام ظلہمبعد تسلیم کے عرض خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ ایك شخص کے ایك لڑکا اورایك لڑکی ہے اورایك نواسے کوبیٹابنایاہے اب وہ شخص اپنی حیات میں اپنامال واسباب تقسیم کرناچاہتاہے اوریہ دریافت کرتاہے کہ نواسے کو مثل بیٹے کے جواسباب وغیرہ تقسیم کرکے دوں تو اس کامواخذہ میرے ذمے تونہ ہوگا کہ بیٹی کے مقابلے میں نواسے کوبھی مثل بیٹے کے حصہ دیاہے اس کافتوی صحیح طورپرمہرلگاکر مرحمت فرمائیے گا تاکہ اس پرعمل کیاجائے۔
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہمہروغیرہ دین جوکچھ ادا کرکے جوباقی بچے تین حصے برابر کردیجئےایك پسرایك دخترایك نواسے کواس میں کوئی مواخذہ یاکسی کی حق تلفی نہ ہوگیزندگی میں
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ کتاب الفرائض باب ذوی الارحام ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۱€۹
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۴۰۱€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۴۰۱€
جواولاد پرتقسیم کی جائے اس میں بیٹابیٹی دونوں برابررکھے جاتے ہیں اکہرے دوہرے کاتفاوت بعد موت ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۸۲: ازفیروزپور مرسلہ مولوی غلام صدیق نائب مدرس مدرسہ شاہی ضلع بریلی ۲۷ربیع الآخرشریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ کو قابل نکاح سمجھ کر اپنے نکاح میں لایا اورہمبستر ہوا یہاں تك کہ ہندہ کوحمل رہا اس کے بعد زید پر واضح ہواکہ ہندہ نے دھوکادیا وہ عمرو کی منکوحہ ہے زید نے اسے اپنے یہاں سے نکال دیاہندہ نے اپنے شوہر عمرو کوکچھ دے کرطلاق لی اوربعد تین مہینے گزرنے کے پھرزید کے پاس آئی زید نے اب اسے رکھ لیا اورحمل مذکور سے لڑکا بھی پیدا ہولیاتھا مگراب بعد طلاق اس سے نکاح نہ کیا اس پرلوگ انگشت نماہوئے زیدنے پھر عورت کو نکال دیا اس نے تیسرے شخص سے نکاح کرلیااب زید کا انتقال ہواایك یہی لڑکا جو یقینا زید کے نطفہ سے ہے اورچارلڑکیاں اورایك بھائی ایك بھتیجا ایك چچازادبہن وارث چھوڑےاس صورت میں ترکہ زید کا کس طرح منقسم ہوگا اوریہ لڑکا اس کاوارث ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ لڑکا شرعا زیدکابیٹا اور اس کاوارث ہے منکوحہ غیر سے نکاح جبکہ ناکح کواس کانکاح غیرمیں ہونا معلوم نہ ہونکاح باطل نہیں بلکہ فاسد ہے۔
فی ردالمحتار عن البحر عن المجتبی اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا قال"فی البحر"فعلی ھذا یفرق بین فاسدہ و باطلہ فی العدۃ ولہذا یجب الحد مع العلم ردالمحتار میں بحرسے بحوالہ مجتبی منقول ہے غیرکی منکوحہ یا غیرکی معتدہ سے نکاح ہوا تو اس میں دخول عدت کو واجب نہیں کرتا اگرناکح جانتاہو کہ یہ غیرکی منکوحہ یامعتدہ ہے کیونکہ اس کے جائز ہونے کاقول کسی نے بھی ہیں کیاچنانچہ یہ نکاح بالکل منعقد نہیں ہوتا۔بحرمیں کہا اس بنیاد پرعدت کے بارے میں نکاح فاسد اورنکاح باطل کے درمیان فرق کیاجاتاہے۔اسی لئے حرمت کاعلم ہونے کے
مسئلہ ۸۲: ازفیروزپور مرسلہ مولوی غلام صدیق نائب مدرس مدرسہ شاہی ضلع بریلی ۲۷ربیع الآخرشریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ کو قابل نکاح سمجھ کر اپنے نکاح میں لایا اورہمبستر ہوا یہاں تك کہ ہندہ کوحمل رہا اس کے بعد زید پر واضح ہواکہ ہندہ نے دھوکادیا وہ عمرو کی منکوحہ ہے زید نے اسے اپنے یہاں سے نکال دیاہندہ نے اپنے شوہر عمرو کوکچھ دے کرطلاق لی اوربعد تین مہینے گزرنے کے پھرزید کے پاس آئی زید نے اب اسے رکھ لیا اورحمل مذکور سے لڑکا بھی پیدا ہولیاتھا مگراب بعد طلاق اس سے نکاح نہ کیا اس پرلوگ انگشت نماہوئے زیدنے پھر عورت کو نکال دیا اس نے تیسرے شخص سے نکاح کرلیااب زید کا انتقال ہواایك یہی لڑکا جو یقینا زید کے نطفہ سے ہے اورچارلڑکیاں اورایك بھائی ایك بھتیجا ایك چچازادبہن وارث چھوڑےاس صورت میں ترکہ زید کا کس طرح منقسم ہوگا اوریہ لڑکا اس کاوارث ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ لڑکا شرعا زیدکابیٹا اور اس کاوارث ہے منکوحہ غیر سے نکاح جبکہ ناکح کواس کانکاح غیرمیں ہونا معلوم نہ ہونکاح باطل نہیں بلکہ فاسد ہے۔
فی ردالمحتار عن البحر عن المجتبی اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا قال"فی البحر"فعلی ھذا یفرق بین فاسدہ و باطلہ فی العدۃ ولہذا یجب الحد مع العلم ردالمحتار میں بحرسے بحوالہ مجتبی منقول ہے غیرکی منکوحہ یا غیرکی معتدہ سے نکاح ہوا تو اس میں دخول عدت کو واجب نہیں کرتا اگرناکح جانتاہو کہ یہ غیرکی منکوحہ یامعتدہ ہے کیونکہ اس کے جائز ہونے کاقول کسی نے بھی ہیں کیاچنانچہ یہ نکاح بالکل منعقد نہیں ہوتا۔بحرمیں کہا اس بنیاد پرعدت کے بارے میں نکاح فاسد اورنکاح باطل کے درمیان فرق کیاجاتاہے۔اسی لئے حرمت کاعلم ہونے کے
بالحرمۃ لانہ زنا کما فی القنیۃ وغیرھا ۔ باوجود ایساکرنے والے پر حد واجب ہوتی ہے کیونکہ یہ زنا ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اورایسی صورت میں مذہب مفتی بہ پرحتی الامکان بچہ اسی ناکح ثانی بنکاح فاسد کا قرارپاتاہے نہ شوہراول صاحب نکاح صحیح کا۔
فی الدرالمختارغاب عن امرأتہ فتزوجت بآخر و ولدت اولادا ثم جاء الزوج الاول فالاولاد للثانی علی المذب الذی رجع الیہ الامام وعلیہ الفتوی کما فی الخانیۃ والجوھرۃ والکافی وغیرھا وفی حاشیۃ شرح المنار لابن الحنبلی وعلیہ الفتوی ان احتملہ الحال فی ردالمحتار قولہ غاب عن امرأتہ شامل لما اذا بلغہا موتہ او طلاقہ فاعتدت و تزوجت ثم بان خلافہ ولما اذا ادعت ذلك ثم بان خلافہ ح اھ وفیہ حکم الدخول فی درمختار میں ہے کوئی شخص بیوی کو چھوڑ کرغائب ہوگیا اس نے دوسرے شخص سے شادی کرکے اولاد جنیپھر پہلاخاوند آگیا تو اس مذہب کے مطابق جس کی طرف امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی نے رجوع فرمایا اولاد دوسرے خاوند کی ہوگیاور اسی پرفتوی ہے۔جیسا کہ خانیہجوہرہ اورکافی وغیرہ میں ہے۔ ابن الحنبلی کی شرح منار کے حاشیہ میں ہے اور اس پرفتوی ہے اگرحال اس کااحتمال رکھتاہوردالمحتارمیں ہے ماتن کاقول کہ"وہ بیوی چھوڑکرغائب ہوگیا"یہ اس صورت کو شامل ہے جب بیوی کوخاوند کی موت یااس کے طلاق دینے کی خبر پہنچی ہوتواس نے عدت گزار کرشادی کرلی پھراس کے خلاف ظاہرہوااور اس صورت کوبھی شامل ہے کہ جب اس عورت نے اس کا دعوی کیاہو پھر اس کے خلاف ظاہرہوا ہو(ح)الخ۔
اورایسی صورت میں مذہب مفتی بہ پرحتی الامکان بچہ اسی ناکح ثانی بنکاح فاسد کا قرارپاتاہے نہ شوہراول صاحب نکاح صحیح کا۔
فی الدرالمختارغاب عن امرأتہ فتزوجت بآخر و ولدت اولادا ثم جاء الزوج الاول فالاولاد للثانی علی المذب الذی رجع الیہ الامام وعلیہ الفتوی کما فی الخانیۃ والجوھرۃ والکافی وغیرھا وفی حاشیۃ شرح المنار لابن الحنبلی وعلیہ الفتوی ان احتملہ الحال فی ردالمحتار قولہ غاب عن امرأتہ شامل لما اذا بلغہا موتہ او طلاقہ فاعتدت و تزوجت ثم بان خلافہ ولما اذا ادعت ذلك ثم بان خلافہ ح اھ وفیہ حکم الدخول فی درمختار میں ہے کوئی شخص بیوی کو چھوڑ کرغائب ہوگیا اس نے دوسرے شخص سے شادی کرکے اولاد جنیپھر پہلاخاوند آگیا تو اس مذہب کے مطابق جس کی طرف امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی نے رجوع فرمایا اولاد دوسرے خاوند کی ہوگیاور اسی پرفتوی ہے۔جیسا کہ خانیہجوہرہ اورکافی وغیرہ میں ہے۔ ابن الحنبلی کی شرح منار کے حاشیہ میں ہے اور اس پرفتوی ہے اگرحال اس کااحتمال رکھتاہوردالمحتارمیں ہے ماتن کاقول کہ"وہ بیوی چھوڑکرغائب ہوگیا"یہ اس صورت کو شامل ہے جب بیوی کوخاوند کی موت یااس کے طلاق دینے کی خبر پہنچی ہوتواس نے عدت گزار کرشادی کرلی پھراس کے خلاف ظاہرہوااور اس صورت کوبھی شامل ہے کہ جب اس عورت نے اس کا دعوی کیاہو پھر اس کے خلاف ظاہرہوا ہو(ح)الخ۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۰۷€
الدرالمختار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۳€
ردالمحتار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۳۱€
الدرالمختار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۳€
ردالمحتار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۳۱€
النکاح الموقوف کالدخول فی الفاسدفیسقط الحد ویثبت النسب ویجب الاقل من المسمی ومن مھر المثل الخ۔ اور اسی میں ہے نکاح موقوف میں دخول کاحکم نکاح فاسد میں دخول کے حکم کی طرح ہےچنانچہ اس سے حدساقط ہوگینسب نامہ ثابت ہوگا اور مقررہ مہراورمہرمثل میں سے جو اقل ہوگا وہ واجب ہوگا الخ(ت)
اور جب شرعا اس کانسب زید سے ثابتاور وہ زید کابیٹا ہےتووارث ہونے میں شبہہ کیاہے حیث لامانع من الارث(اس لئے کہ میراث سے کوئی مانع موجودنہیں۔ت)پس برتقدیر عدم وارث آخروتقدیم دین ووصیت ترکہ زید چھ سہام پرمنقسم ہوکردوسہم یہ لڑکا اورایك ایك سہم ہرایك بیٹی پائے گی اوربھائی بھتیجا بہن کوئی کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۳: ازریاست عثمان پور ضلع بارہ بنکی مرسلہ شیخ محمدعنایت حسین صاحب ۳۰رمضان ۱۳۱۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اطہرومفتیان شرع مطہر اندریں مسئلہ کہ مسمی زید سہ پسردارد بکرعمروخالد۔خالد را شخصے لاولد بہ تبنیت گرفت وقائم مقام جائزخود نموددریں صورت خالد ازمتروکہ پدری شرعی حصہ ہم خواہد یافت یامحروم الارث خواہدشد فقط۔ کیافرماتے ہیں دین اطہر کے علماء اور شرع مطہر کے مفتی حضرات اس م سئلہ میں کہ زیدنامی شخص کے تین بیٹے ہیں: بکرعمرو اورخالد۔خالد کو ایك بے اولادشخص نے اپنابیٹابنالیا اور اس کو اپنی اولاد کے قائم مقام کرلیا۔اس صورت میں خالد اپنے باپ کے ترکہ سے بھی شرعی حصہ پائے گا یا اس کی میراث سے محروم ہوگافقط
الجواب:
پسرخواندہ نہ چنیں کس راپسرمی شود نہ خود بے علاقہ ازپدر ان الحقائق لاتغیرشرعا وارث پدر منہ بولابیٹانہ ایسے شخص کابیٹاہوتاہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق ہوتاہے کیونکہ حقیقتوں میں تغیرنہیں ہوتا۔شرعی طور
اور جب شرعا اس کانسب زید سے ثابتاور وہ زید کابیٹا ہےتووارث ہونے میں شبہہ کیاہے حیث لامانع من الارث(اس لئے کہ میراث سے کوئی مانع موجودنہیں۔ت)پس برتقدیر عدم وارث آخروتقدیم دین ووصیت ترکہ زید چھ سہام پرمنقسم ہوکردوسہم یہ لڑکا اورایك ایك سہم ہرایك بیٹی پائے گی اوربھائی بھتیجا بہن کوئی کچھ نہ پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۳: ازریاست عثمان پور ضلع بارہ بنکی مرسلہ شیخ محمدعنایت حسین صاحب ۳۰رمضان ۱۳۱۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اطہرومفتیان شرع مطہر اندریں مسئلہ کہ مسمی زید سہ پسردارد بکرعمروخالد۔خالد را شخصے لاولد بہ تبنیت گرفت وقائم مقام جائزخود نموددریں صورت خالد ازمتروکہ پدری شرعی حصہ ہم خواہد یافت یامحروم الارث خواہدشد فقط۔ کیافرماتے ہیں دین اطہر کے علماء اور شرع مطہر کے مفتی حضرات اس م سئلہ میں کہ زیدنامی شخص کے تین بیٹے ہیں: بکرعمرو اورخالد۔خالد کو ایك بے اولادشخص نے اپنابیٹابنالیا اور اس کو اپنی اولاد کے قائم مقام کرلیا۔اس صورت میں خالد اپنے باپ کے ترکہ سے بھی شرعی حصہ پائے گا یا اس کی میراث سے محروم ہوگافقط
الجواب:
پسرخواندہ نہ چنیں کس راپسرمی شود نہ خود بے علاقہ ازپدر ان الحقائق لاتغیرشرعا وارث پدر منہ بولابیٹانہ ایسے شخص کابیٹاہوتاہے اور نہ ہی اپنے باپ سے بے تعلق ہوتاہے کیونکہ حقیقتوں میں تغیرنہیں ہوتا۔شرعی طور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۵۰€
ست نہ اینکس دیگر۔خواستہ اش حسب خواستہ است کہ وصیت کرد بدست متبنی آمدہ باشد ایں وراثت نیست الا لا وصیۃ لوارث قال اﷲ تعالی "وما جعل ادعیاءکم ابناءکم " الی قولہ تعالی"ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ "
الایۃ وقال اﷲ تعالی "یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " نیست خاصہ تبنی کسے ازموانع ارث ارث پسرازپدر وھذا اظھرمن ان یظھر واﷲ تعالی اعلم۔ پروہ اپنے باپ کاوارث ہے نہ کہ اس دوسرے شخص کا جس نے اس کو منہ بولابیٹابنایاہے۔اگردوسرا شخص چاہے تو منہ بولے بیٹے کے حق میں وصیت کردے تاکہ اس کامال اس کے منہ بولے بیٹے کے ہاتھ میں آجائے۔اوریہ وراثت نہ ہوگیخبردار وارث کے لئے وصیت نہیں ہوتیاﷲ تعالی نے فرمایا:"اوراﷲ تعالی نے تمہارے لے پالکوں کوتمہارا بیٹا نہیں بنایا"(اﷲ تعالی کے اس ارشاد تک)"انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارو یہ اﷲ کے نزدیك زیادہ تھیك ہے"الآیہ اوراﷲ تعالی نے فرمایا:"اﷲ تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے"۔اور کسی کامنہ بولا بیٹابن جانا اس کے لئے باپ کی میراث سے مانع نہیں ہوا۔اور یہ بات سب سے زیادہ ظاہرہےاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے(ت)
مسئلہ ۸۴: ۵/شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے تین زوجہ لیلیسلمیسعاد اور ایك ماموں زادبھائی عمرو اورایك خالہ زاد بہن جمیلہ اورایك پھپی زادبہن حسینہ چھوڑکرانتقال کیا
الایۃ وقال اﷲ تعالی "یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " نیست خاصہ تبنی کسے ازموانع ارث ارث پسرازپدر وھذا اظھرمن ان یظھر واﷲ تعالی اعلم۔ پروہ اپنے باپ کاوارث ہے نہ کہ اس دوسرے شخص کا جس نے اس کو منہ بولابیٹابنایاہے۔اگردوسرا شخص چاہے تو منہ بولے بیٹے کے حق میں وصیت کردے تاکہ اس کامال اس کے منہ بولے بیٹے کے ہاتھ میں آجائے۔اوریہ وراثت نہ ہوگیخبردار وارث کے لئے وصیت نہیں ہوتیاﷲ تعالی نے فرمایا:"اوراﷲ تعالی نے تمہارے لے پالکوں کوتمہارا بیٹا نہیں بنایا"(اﷲ تعالی کے اس ارشاد تک)"انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارو یہ اﷲ کے نزدیك زیادہ تھیك ہے"الآیہ اوراﷲ تعالی نے فرمایا:"اﷲ تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے"۔اور کسی کامنہ بولا بیٹابن جانا اس کے لئے باپ کی میراث سے مانع نہیں ہوا۔اور یہ بات سب سے زیادہ ظاہرہےاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے(ت)
مسئلہ ۸۴: ۵/شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے تین زوجہ لیلیسلمیسعاد اور ایك ماموں زادبھائی عمرو اورایك خالہ زاد بہن جمیلہ اورایك پھپی زادبہن حسینہ چھوڑکرانتقال کیا
حوالہ / References
سنن ابن ماجۃ ابواب الوصایا باب الاوصیۃ لوارث ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹۹€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۴€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۵€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۴€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۵€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
اور اس کی زوجہ سلمی عمرو کی حقیقی بہن ہے اوردوسری زوجہ سعادجمیلہ کی حقیقی بہن ہےاس صورت میں ترکہ زید کاکس طرح تقسیم ہوگابینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہرہرسہ زوجہ ودیگر دیون ووصایا ترکہ زیدبہترسہم ہوکر اس حساب عــــــہ سے منقسم ہوگا:
واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۵: ازبشارت گنج بریلی ۶شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لفظ عاق بالعین وآق بالالف کے کیامعنی ہیں ایك کاغذ میں زید کے جانب سے زید کے بیٹے کاعاق ہونا لکھاہے جس کاکوئی ثبوت نہیں کہ اس کو زید نے لکھابھی ہے یانہیںوہ کاغذ زید کے مرنے کے سو سواسوبرس بعد ایك شخص پیش کرتاہےآیا وہ قابل تسلیم ہے یانہیں اور زید کالڑکا اس کاغذ کے روسے عاق ہوگایا نہیں درصورت عاق ہونے کے بھی آیا ترکہ سے محروم ہوگایا نہیں بینواتوجروا
الجواب:
"آق"ترکی سپید کوکہتے ہیںاور"عاق"عربی میں وہ اولاد کہ ماں یاباپ کوآزارپہنچائے
عــــــہ:اس لئے کہ چار سے ایك تینوں زوجہ پرمنکسرہے اور باقی تین سے دوقرابت پدری اورایك قرابت مادری کو پہنچا اس میں دو خال اوردوخالہ ہیں یاایك ایك خال وخالہ ہوں توبوجہ تعدد اولاد بجائے دوخال ودوخالہ ہیں بہرحال یہ ایك چھ پرمنقسم ہوگا اس پر منکسرہے تین اورچھ جن پرانکسارہوا متداخل ہیں اورچھ عدداکبرہے تو اسی کی ضرب چارمیں دی گئی اب قرابت مادری کو چھ پہنچے جن میں سے چار اولاد خال کے لئے ہیں اور وہ ایك بنت ہے چارتین پرمنکسرہوئے ۲۴میں پھر ۳ کی ضرب سے بہتر۷۲ ہوئے ۱۲منہ۔
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہرہرسہ زوجہ ودیگر دیون ووصایا ترکہ زیدبہترسہم ہوکر اس حساب عــــــہ سے منقسم ہوگا:
واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۵: ازبشارت گنج بریلی ۶شوال ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لفظ عاق بالعین وآق بالالف کے کیامعنی ہیں ایك کاغذ میں زید کے جانب سے زید کے بیٹے کاعاق ہونا لکھاہے جس کاکوئی ثبوت نہیں کہ اس کو زید نے لکھابھی ہے یانہیںوہ کاغذ زید کے مرنے کے سو سواسوبرس بعد ایك شخص پیش کرتاہےآیا وہ قابل تسلیم ہے یانہیں اور زید کالڑکا اس کاغذ کے روسے عاق ہوگایا نہیں درصورت عاق ہونے کے بھی آیا ترکہ سے محروم ہوگایا نہیں بینواتوجروا
الجواب:
"آق"ترکی سپید کوکہتے ہیںاور"عاق"عربی میں وہ اولاد کہ ماں یاباپ کوآزارپہنچائے
عــــــہ:اس لئے کہ چار سے ایك تینوں زوجہ پرمنکسرہے اور باقی تین سے دوقرابت پدری اورایك قرابت مادری کو پہنچا اس میں دو خال اوردوخالہ ہیں یاایك ایك خال وخالہ ہوں توبوجہ تعدد اولاد بجائے دوخال ودوخالہ ہیں بہرحال یہ ایك چھ پرمنقسم ہوگا اس پر منکسرہے تین اورچھ جن پرانکسارہوا متداخل ہیں اورچھ عدداکبرہے تو اسی کی ضرب چارمیں دی گئی اب قرابت مادری کو چھ پہنچے جن میں سے چار اولاد خال کے لئے ہیں اور وہ ایك بنت ہے چارتین پرمنکسرہوئے ۲۴میں پھر ۳ کی ضرب سے بہتر۷۲ ہوئے ۱۲منہ۔
ناحق ناراض کرے۔کوئی کاغذ بے شہادت شرعیہ قابل تسلیم نہیں ہوتانہ وہ منسوب الیہ لکھاقرارپاسکتاہے۔ہدایہ میں ہے:
الخط یشبہ الخط فلایعتبر ۔ خطخط کے مشابہ ہوتاہے لہذا اس کااعتبارنہیں کیاجائے گا(ت)
درمختارمیں ہے:
لایعمل بالخط ۔ خط پرعمل نہیں کیاجاتا۔(ت)
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او الاقرار اما الصك فلایصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط ۔ قاضی فقط حجت کے ساتھ فیصلہ کرےاور حجت(دلیل)گواہ ہیں یااقرار۔رہ تحریر تو وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ خطخط کے مشابہ ہوتاہے۔(ت)
توپسر زید اس کاغذ بے ثبوت کے ذریعہ سے ہرگز عاق نہیں ٹھہر سکتا اورجوشخص فی الواقع عاق ہوتو اس کا اثر امورآخرت میں ہے کہ اگراﷲ عزوجل والدین کوراضی کرکے اس کاگناہ معاف نہ فرمائے تو اس کی سزا جہنم ہےوالعیاذباﷲمگرمیراث پراس سے کوئی اثرنہیں پڑتانہ والدین کالکھ دیناکہ ہماری اولاد میں فلاں شخص عاق ہے ہماراترکہ اسے نہ پہنچے اصلا وجہ محرومی ہو سکتا ہے کہ اولاد کاحق میراث قرآن عظیم نے مقررفرمایاہے۔
وقال اﷲ تعالی یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " " اوراﷲ تعالی نے فرمایا:"اﷲ تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔
والدین خواہ تمام جہان میں کسی کالکھا اﷲ عزوجل کے لکھے پرغالب نہیں آسکتا ولہذا تمام
الخط یشبہ الخط فلایعتبر ۔ خطخط کے مشابہ ہوتاہے لہذا اس کااعتبارنہیں کیاجائے گا(ت)
درمختارمیں ہے:
لایعمل بالخط ۔ خط پرعمل نہیں کیاجاتا۔(ت)
فتاوی قاضی خاں میں ہے:
القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ او الاقرار اما الصك فلایصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط ۔ قاضی فقط حجت کے ساتھ فیصلہ کرےاور حجت(دلیل)گواہ ہیں یااقرار۔رہ تحریر تو وہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ خطخط کے مشابہ ہوتاہے۔(ت)
توپسر زید اس کاغذ بے ثبوت کے ذریعہ سے ہرگز عاق نہیں ٹھہر سکتا اورجوشخص فی الواقع عاق ہوتو اس کا اثر امورآخرت میں ہے کہ اگراﷲ عزوجل والدین کوراضی کرکے اس کاگناہ معاف نہ فرمائے تو اس کی سزا جہنم ہےوالعیاذباﷲمگرمیراث پراس سے کوئی اثرنہیں پڑتانہ والدین کالکھ دیناکہ ہماری اولاد میں فلاں شخص عاق ہے ہماراترکہ اسے نہ پہنچے اصلا وجہ محرومی ہو سکتا ہے کہ اولاد کاحق میراث قرآن عظیم نے مقررفرمایاہے۔
وقال اﷲ تعالی یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " " اوراﷲ تعالی نے فرمایا:"اﷲ تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔
والدین خواہ تمام جہان میں کسی کالکھا اﷲ عزوجل کے لکھے پرغالب نہیں آسکتا ولہذا تمام
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الزکوٰۃ باب فیمن یمرعلی العاشر المکتبۃ العربیۃ ∞کراچی ۱ /۱۷۷€
الدرالمختار کتاب القضاء باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۳€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی دعوی الوقف ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۲€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
الدرالمختار کتاب القضاء باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۳€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی دعوی الوقف ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۴۲€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
کتب فرائض وفقہ میں کسی نے اسے موانع ارث سے نہ گنا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۶: ازشہرکہنہ ۱۸ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ فوت ہوئی اس نے اپنے حقیقی چچا کی ایك دخترکے تین پسراورتین دختراوردوسرے حقیقی چچا کی دختر کے دودختراورحقیقی پھپی کے دختر کاایك پسراور حقیقی ماموں کے دختر کے دوپسر ایك دختراوراپنے شوہر کے حقیقی بھائی کی دختر اورشوہر کے حقیقی بہن کے دخترکے ایك دختر تین پسرچھوڑے۔اس صورت میں ترکہ ہندہ کاکس کو پہنچے گا اورکے سہام پرمنقسم ہوگا۔بینواتوجروا
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا ترکہ ہندہ کا دوہزار آٹھ سو پانچ سہام پرمنقسم ہوکرچچازاد بہن کے ہرپسر کوتین سوبیس۳۲۰ اوردونوں چچازادبہنوں کی ہردختر کوایك سوساٹھ۱۶۰ اورپھپی زادبہن کے پسرکوایك سودس۱۱۰ اورماموں زادبہن کے ہرپسر کوتین سوچوہتر۳۷۴ اوراس کی دخترکوایك سوستاسی ۱۸۷ ملیں گے اور شوہر کے بھائی بہن کی اولاد کچھ نہ پائے گی۔
وصورۃ المسألۃ ھکذا(مسئلہ کی صورت اس طرح ہے۔ت)
وذلك لا اصل المسئلۃ من ثلثۃ اثنان منھا القرابۃ الاب و واحد لقرابۃ الام ثم مااصاب یہ اس لئے ہے کہ مسئلہ تین سے بنے گا جس میں سے دو حصے باپ کی قرابت اورایك حصہ ماں کی قرابت کے لئے ہوگاپھر جوباپ
مسئلہ ۸۶: ازشہرکہنہ ۱۸ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ فوت ہوئی اس نے اپنے حقیقی چچا کی ایك دخترکے تین پسراورتین دختراوردوسرے حقیقی چچا کی دختر کے دودختراورحقیقی پھپی کے دختر کاایك پسراور حقیقی ماموں کے دختر کے دوپسر ایك دختراوراپنے شوہر کے حقیقی بھائی کی دختر اورشوہر کے حقیقی بہن کے دخترکے ایك دختر تین پسرچھوڑے۔اس صورت میں ترکہ ہندہ کاکس کو پہنچے گا اورکے سہام پرمنقسم ہوگا۔بینواتوجروا
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا ترکہ ہندہ کا دوہزار آٹھ سو پانچ سہام پرمنقسم ہوکرچچازاد بہن کے ہرپسر کوتین سوبیس۳۲۰ اوردونوں چچازادبہنوں کی ہردختر کوایك سوساٹھ۱۶۰ اورپھپی زادبہن کے پسرکوایك سودس۱۱۰ اورماموں زادبہن کے ہرپسر کوتین سوچوہتر۳۷۴ اوراس کی دخترکوایك سوستاسی ۱۸۷ ملیں گے اور شوہر کے بھائی بہن کی اولاد کچھ نہ پائے گی۔
وصورۃ المسألۃ ھکذا(مسئلہ کی صورت اس طرح ہے۔ت)
وذلك لا اصل المسئلۃ من ثلثۃ اثنان منھا القرابۃ الاب و واحد لقرابۃ الام ثم مااصاب یہ اس لئے ہے کہ مسئلہ تین سے بنے گا جس میں سے دو حصے باپ کی قرابت اورایك حصہ ماں کی قرابت کے لئے ہوگاپھر جوباپ
قرابۃ الاب یقسم علی اول بطن اختلف ذکورۃ و انوثۃ وھو البطن الاول و یعتبر فی الاصول ابدان الفروع فالعم الاول ستۃ اعمال والثانی عمان والعمۃ واحدۃ فھم کسبع عشرۃ عمات بینھن وبین سھمھن اعنی اثنین مباینۃ وما اصاب قرابۃ الام و ھوالواحد ینقسم علی خمسۃ وبینھما ایضا مباینۃ فقررنا الرأسین اعنی ۱۷ و۵ علی حالہما وبینھما ایضا تبائن فضربنا احدھما فی الاخر کانت ۸۵ ضربناہ فی المسئلۃ بلغت ۲۵۵ منھا ۸۵ لفریق الام منقسم اخماسا ۱۷ لبنت و۳۴ لکل ابن ومثلاہ اعنی ۱۷۰ لفریق الاب منقسما علی سبعۃ عشر فسھم منھا اعنی ۱۰ للعمۃ ای لابنھا و ھی طائفۃ الانثی عن ھذا الفریق وجمعنا بالطائفۃ الذکور منہ و کے قرابت داروں کوملاوہ اس پہلے بطن پر تقسیم ہوگا جومذکرومؤنث میں مختلف ہے اور وہ پہلابطن ہےچونکہ یہاں اصول میں فروع کے ابدان کا اعتبار کیاجاتا ہے لہذا پہلاچچا(گویاکہ)چھ اوردوسراچچا(گویاکہ)دوچچے ہوگئے جبکہ پھوپھی بھی ایك ہے تو اس طرح یہ سترہ پھوپھیوں کے برابر ہوگئے(کیونکہ ایك چچا دوپھوپھیوں کے برابرہوتاہے)ان سترہ اوران کے حصوں یعنی دومیں تباین کی نسبت ہےجوماں کی قرابت کوملاوہ پانچ پرمنقسم ہوگا جبکہ پانچ اوران کے حصے یعنی ایك میں بھی تباین کی نسبت ہے۔چنانچہ ہم نے دونوں کے رؤس یعنی ۱۷ اور۵ کوان کے حال پر برقراررکھااوران دونوں میں بھی تباین کی نسبت ہے۔پھرہم نے ایك کو دوسرے میں ضرب دی تو حاصل ضرب ۸۵ ہواجسے اصل مسئلہ(یعنی تین)میں ضرب دینے سے ۲۵۵ حاصل ہوا اس میں سے ۸۵ ماں کی قرابت والے فریق کوملیں گے جوپانچ پرمنقسم ہوں گے۔۱۷ بیٹی کو اور۳۴ ہرایك بیٹے کو دئیے جائیں گے اور ۸۵ کادوگنایعنی ۱۷۰ باپ کی قرابت والے فریق کو ملیں گے جو ۱۷ پرتقسیم ہوں گے۔ایك سترہواں حصہ یعنی ۱۰پھوپھی یعنی اس کے بیٹے(نواسے)کے لئے یہ اس فریق کا گروہ مؤنث ہے اس کوہم نے گروہ مذکر کے حصوں جوکہ
ھو ۱۶۰ ونظرنا تحتھم فلم یکن فی البطن الثانی اختلاف بذکورۃ وانوثۃ انما کان فی البطن الثالث الحی فیہ ثلثۃ ابناء وخمس بنات فی قوۃ احدی عشرۃ بنات و ۱۶۰ لاتستقیم علیھن بل تباین فضربنا ۱۱ فی المبلغ صحت من ۲۸۰۵ منھا لطائفۃ الذکور من فریق الاب لکل بنت ۱۶۰ ولکل ابن ۳۲۰۔واﷲ تعالی اعلم۔ ۱۶۰ ہیں کے ساتھ جمع کیا اورگروہ مذکرکے نیچے نظر کی تو دوسرے بطن میں مذکرومؤنث کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف تیسرے بطن میں ہے جس میں تین بیٹے اور چاربیٹیاں زندہ ہیں اور وہ تمام گیارہ بیٹیوں کی قوت میں ہیں جبکہ ان کے حصے جوکہ ۱۶۰ ہیں ان پر برابرتقسیم نہیں ہو سکتے بلکہ ان میں تباین کی نسبت ہے لہذا ہم نے ۱۱ کو ۱۷۶۰ مسئلہ کے مجموعے یعنی ۲۵۵ میں ضرب دی تو ۲۸۰۵ حاصل ضرب ہوا جس سے مسئلہ کی تصحیح ہوئی۔اس میں سے باپ والے فریق کے گروہ مذکر کے لئے ۱۷۶۰حصے ہیں۔ہربیٹی کو ۱۶۰ اورہربیٹے کو ۳۲۰ ملیں گے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۸۷: ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دوپسرتھے عمرو وبکراوردودختر ہندہ وسعادبعدانتقال زید کے بکر کی دخترکی پوتی لیلی باقی ہے اورسعاد کاپرپوتا خالد ہے اورعمرو کے ایك پسرایك دخترتھی دخترعمرو کاپوتاولیدہےاورپسرعمرو کی دوبیٹیاں تھیںایك کابیٹاسعیددوسری کی بیٹی جمیلہ زندہ ہےاورہندہ کے دوپسرتھے ایك پسرکا پوتا حمید ہے اوردوسرے پسرکے ایك بیٹا تھاجس کی دخترحسینہ اورایك بیٹی تھی جس کا پسر رشید ہے۔اس صورت میں زیدکاترکہ ان آٹھوں وارثوں پرکیونکر تقسیم ہوگا بینوا توجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون ووصایا ترکہ زید کانوسو پینتالیس۹۴۵ سہام پر منقسم ہو کراس حساب سے تقسیم پائے گا:
مسئلہ ۸۷: ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دوپسرتھے عمرو وبکراوردودختر ہندہ وسعادبعدانتقال زید کے بکر کی دخترکی پوتی لیلی باقی ہے اورسعاد کاپرپوتا خالد ہے اورعمرو کے ایك پسرایك دخترتھی دخترعمرو کاپوتاولیدہےاورپسرعمرو کی دوبیٹیاں تھیںایك کابیٹاسعیددوسری کی بیٹی جمیلہ زندہ ہےاورہندہ کے دوپسرتھے ایك پسرکا پوتا حمید ہے اوردوسرے پسرکے ایك بیٹا تھاجس کی دخترحسینہ اورایك بیٹی تھی جس کا پسر رشید ہے۔اس صورت میں زیدکاترکہ ان آٹھوں وارثوں پرکیونکر تقسیم ہوگا بینوا توجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون ووصایا ترکہ زید کانوسو پینتالیس۹۴۵ سہام پر منقسم ہو کراس حساب سے تقسیم پائے گا:
وذلك لان القسمۃ علی اول بطن اختلف بالذکورۃ و الانوثۃ وھو ھھنا البطن الاول ویعتبر عدد الفروع فی الاصول ففیہ ابن بابنین وابن اخر وبنت ببنتین و بنت اخری فاذاتساوی عدد الطائفتین فلطائفۃ الذکور ضعف بالطائفۃ الاناث فکانت المسئلۃ من ثلثۃ اثنان لطائفۃ البنین و واحد لطائفۃ البنات ثم فی طائفۃ البنین فی البطن الثانی ابن کابنین وبنتان فینقسم مالھما اعنی ۲ علی ستۃ اوریہ اس لئے ہے کہ تقسیم اس پہلے بطن پرہوگی جس میں مذکرومؤنث کے اعتبار سے اختلاف ہوا اوروہ یہاں پربطن اول ہے۔اوراصول میں فروع کی تعداد کااعتبار کیاجاتاہے۔ چنانچہ اس میں ایك بیٹاجوکہ دوبیٹیوں کے حکم میں ہوگیا اور ایك دوسرابیٹا ہے۔اسی طرح ایك بیٹی جوکہ دوکے حکم میں ہو گئی اورایك دوسری بیٹی ہےجب دونوں فریقوں کی تعداد برابرہے تومذکرفریق کے لئے مونث فریق سے دوگنا ہوگا۔ لہذا مسئلہ تین سے ہوکردوبیٹیوں کے فریق اورایك بیٹیوں کے فریق کوملے گا۔پھربیٹیوں کے گروہ کے بطن ثانی میں ایك بیٹا جودوکے حکم میں ہے اوردوبیٹیاں ہیں لہذا جوان کوملا یعنی دو حصے وہ چھ پرمنقسم ہوں گے۔
فیحتاج الی ضرب المسئلۃ فی ثلثۃ تصع من تسعۃ لطائفۃ البنین منہا ستۃ ومن ھذہ الستۃ فی البطن الثانی اثنان للبنتین واربعۃ للابن الکائن کابنین فنجعلھما طائفتین ثم لا اختلاف تحت احدمنھما فی البطن الثالث وفی الرابع تحت کل ابن وبنت فینقسم مالکل من ھاتین الطائفتین اعنی اربعۃ و اثنین علی ثلثۃ فلاجل التباین یحتاج اخری الی ضرب المبلغ فی ثلثۃ وتصح علی طائفۃبنی زید من سبعۃ وعشرین لسعید ثمانیۃ ولجمیلۃ اربعۃ وکذا الولید وللیلی اثنان جئنا الی طائفۃ بناتہ لھا واحد من اصل المسئلۃ ولااختلاف فی البطن الثانی بل فی الثالث بنت وثلثۃ ابناء فینقسم علی سبعۃ ویحتاج الی ضرب اصل المسئلۃ اعنی ثلثۃ فی سبعۃ تصح من احد وعشرین ھھنا لطائفۃ بنات زید سبعۃ تستقیم علی البطن الثالث ثم یجعل البطن الثالث طائفتین فالواحد الذی اصاب البنت یعطی ابنھا رشید ویجمع بالطائفۃ الابناء وھی ستۃ وتحتھم بنت وابنان فھم تو اس طرح اصل مسئلہ کوتین میں ضرب دینے کی ضرورت پڑے گی تو اس طرح مسئلہ نو(۹)سے بن جائے گا۔بیٹوں کے فریق کو اس میں چھ حصے ملیں گےپھران چھ میں سے بطن ثانی میں دوحصے دوبیٹیوں کواورچار بیٹے کوملیں گے جودوب یٹیوں کے قائم مقام ہے چنانچہ ہم ان کے دوگروہ بنائیں گے پھر ان دونوں فریقوں کے تحت تیسرے بطن میں کوئی اختلاف نہیں اورچوتھے بطن میں ہرایك کے تحت ایك بیٹا اور ایك بیٹی ہے۔لہذا ان دونوں فریقوں کے حصوں یعنی چار اور دوکوتین پر تقسیم کیاجائے گا۔اورتباین چاراور دوکوتین پر تقسیم کیاجائے گا۔اور تباین کی وجہ سے ایك بارپھر مسئلہ کے عدد کو تین میں ضرب دینی پڑے گی۔اس طرح زید کے بیٹوں کامسئلہ ۲۷ سے صحیح ہوگا۔سعید کو آٹھجمیلہ کوچار یونہی ولید کوچار اورلیلی کو دوحصے ملیں گے۔اب ہم زید کی بیٹیوں کی طرف آتے ہیں جن کا اصل مسئلہ سے ایك حصہ ہے۔ ان کے بطن ثانی میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ تیسرے بطن میں ایك بیٹی اورتین بیٹے ہیں۔چنانچہ ان کاحصہ سات پرمنقسم ہوگا اورتباین کی وجہ سے اصل مسئلہ یعنی تین کوسات میں ضرب دینی پڑے گی۔اس طرح حاصل ضرب اکیس ہو جائے گا زید کی بیٹیوں کے گروہ کویہاں پرسات حصے ملیں گے جوان کے تیسرے بطن پربرابر تقسیم ہوجائیں گے پھر تیسرے بطن کے دوفریق بنائے جائیں گے۔جوایك حصہ بیٹی کو ملاہے وہ اس کے بیٹے رشید کودیاجائے گا
کخمسۃ ولاتستقیم علیہ الستۃ فیضرب اصل المسئلۃ فی خمسۃ تکن من مائۃ وخمسۃ منھا لطائفۃ بنات زید خمسۃ و ثلثون منقسمۃ فی البطن الثالث علی سبعۃ للبنت اعنی لابنھا رشید خمسۃ ولطائفۃ الذکور ثلثون تنقسم علی خمسۃ للبنت وھی حسینۃ ستۃ ولکل ابن اثنی عشر فاذا کان تصحیح المسئلۃ علی طائفۃ ابناء زید من ۲۷ وعلی طائفۃ بناتہ من ۱۰۵ وبینھما توافق بالثلث ضربنا احدھما فی ثلث الاخر صارت تسعمائۃ و خمسۃ واربعین وذلك مبلغ التصحیح ولمعرفۃ السہام اضرب ماکان لاولاد الابناء من التصحیح الاول ۲۷ فی وفق تصحیح الثانی ۱۰۵ وھو ۳۵ وماکان لاولادالبنات من التصحیح الثانی فی وفق التصحیح الاول وھو یحصل ماذکرنا وان شئت عملت من الرأس تمرنا فقلت التصحیح من ۹۴۵ لطائفۃ ابناء زید منھا ستمائۃ وثلثون ۶۳۰ اوراس کو بیٹوں والے فریق کے حصوں جوکہ چھ ہیں کے ساتھ ملایاجائے گا اور ان کے تحت ایك بیٹی اوردوبیٹے ہیں تو وہ پانچ رؤس ہوئے جن پرچھ برابرتقسیم نہیں ہوسکتالہذا اصل مسئلہ یعنی اکیس کوپانچ میں ضرب دی جائے گی تو اس طرح ایك سوپانچ(۱۰۵)ہوجائیں گے جن میں پینتیس۳۵ زید کی بیٹیوں کے فریق کے لئے ہیں جوکہ تیسرے بطن میں سات پر منقسم ہوں گے۔بیٹی یعنی اس کے بیٹے رشید کوپانچ حصے ملیں گے اورگروہ مذکرین کوتیس جوپھرپانچ پرتقسیم ہوکربیٹی یعنی حسینہ کوچھ اورہربیٹے کوبارہ حصے ملیں گے۔جب زید کے بیٹوں کے فریق پرمسئلہ کی تصحیح ستائیس اوربیٹیوں کے فریق پرایك سوپانچ سے ہوئی اور ان دونوں تصحیحوں میں تہائی کاتوافق ہے لہذا ہم نے ایك کودوسرے کی تہائی میں ضرب دی تومجموعی طورپر مسئلہ کی تصحیح نوسوپینتالیس(۹۴۵)سے ہوئی۔وارثوں کے حصوں کی پہچان کے لئے جوکچھ بیٹوں کی اولاد کو تصحیح اول یعنی ستائیس۲۷ میں سے ملاہے اس کو تصحیح ثانی یعنی ۱۰۵ کے وفق یعنی ۳۵ میں ضرب دے اور بیٹیوں کی اولاد کو جوکچھ تصحیح ثانی یعنی ۱۰۵ میں سے ملاہے اس کوتصحیح ثانی یعنی ۱۰۵ میں سے ملاہے اس کوتصحیح اول یعنی ۲۷ کے وفق یعنی ۹ میں ضرب دے تو وہی حاصل ہوگا جوہم نے ذکرکیاہے۔اگرتونئے سرے سے عمل کرنے کاتکلف کرناچاہے تو یوں کہے گا
ینقسم فی البطن الثانی علی ستہ سدساہ اعنی مائتین وعشرۃ للبنتین واربعۃ اسداسہ اعنی اربعمائۃ وعشرین ۴۲۰ للابن الکائن کابنین ثم ماللبنتین منقسم فی البطن الرابع علی ثلثۃ ثلثاہ اعنی مائۃ واربعین۱۴۰ لولید وثلثہاعنی سبعین ۷۰للیلی و کذلك ماللابنین ینقسم فیہ اثلاثا ثلثاہ اعنی مائتین وثمانین۲۸۰ لسعید وثلثہ ای مائۃ واربعین ۱۴۰ لجمیلۃ ولطائفۃ بنات زید منھا ثلثمائۃ وخمسۃ عشر ۳۱۵ منقسمۃ فی البطن الثالث اسباعا سبعہا اعنی خمسۃ و اربعین ۴۵ للبنت ای لابنھا رشید و الباقی مائتان وسبعون لطائفۃ الذکور مقسومۃ فی البطن الرابع اخماسا خمسہ اربعۃ وخمسون لحسینۃ وخمساہ مائۃ وثمانیۃ لحمید ومثلہ لخالد و قد فرغ التقسیم التقن ھذا الطریق الانیق۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کہ مسئلہ کی تصحیح ۹۴۵ سے ہوئی۔زید کے بیٹوں کے گروہ کے لئے اس میں سے ۶۳۰ حصے ہیں جوبطن ثانی میں چھ پرمنقسم ہوئے۔ان میں دوچھٹے حصے(۶ /۲)یعنی ۲۱۰ دوبیٹیوں کے لئے اور چار چھٹے حصے(۶/ ۴)ایعنی ۴۲۰ اس بیٹے کے لئے ہیں جو دوبیٹوں کے حکم میں ہے۔پھرجودوبیٹیوں کے حصے ہیں وہ چوتھے بطن میں تین پرمنقسم ہوگئے جس میں سے دوتہائی یعنی ۱۴۰ ولید کو اورایك تہائی یعنی ۷۰ لیلی کوملے۔اسی طرح جوبیٹوں کے حصے ہیں وہ تین پرتقسیم ہوئے جن میں سے دو تہائی یعنی ۲۸۰ سعید کو اور ایك تہائی یعنی ۱۴۰ جمیلہ کودئیے گئے۔زید کی بیٹیوں کے گروہ کے لئے ۳۱۵ حصے ہوئے جو تیسرے بطن میں سات پر منقسم ہوگئے۔ان میں سے ایك ساتواں(۷ /۱)یعنی ۴۵ بیٹی یعنی اس کے بیٹے رشید کو ملے اور باقی ۲۷۰ مذکرگروہ کے لئے ہیں جوچوتھے بطن میں پانچ پر تقسیم ہوئے۔ایك پانچواں حصہ(۵ /۱)یعنی ۵۴ حسینہ کواور دوپانچویں حصے(۵ /۲)یعنی ۱۰۸ حمید کو اور اسی کی مثل یعنی ۱۰۸ خالد کودئیے۔تقسیم مکمل ہوگئی ہے۔اس پسندیدہ طریقے کو مضبوطی سے اختیارکر۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
__________________
__________________
رسالہ
طیب الامعان فی تعدد الجھات والابدان
(جہتوں اوربدنوں کے تعدد کے بارے میں انتہائی گہرائی میں بہترین نظرکرنا)
مسئلہ ۸۸: ۲۶ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دوبھائی تھے عمرو وبکر اوردوبہنیں ہندہ وعمرہعمرو کے دختر لیلی کے ایك پسر خالد ہوا اورعمرو کے پسر ولید کے ایك دختر سلمی ہوئی خالد وسلمی سے ایك دختر سعاد اورایك پسر سعید پیدا ہوئے بکر کی پوتی جمیلہ بنت حمیدبن بکر کانکاح رشیدبن فریدبن ہندہ خواھرزید سے ہواجن کی ایك دخترحسینہ ہے۔رشید کادوسرا نکاح اس کے چچا مجید بن ہندہ کی دخترحسن آراء سے ہوا ان دونوں کے ایك دخترگلچہرہ پیداہوئیحسن آراء نے انتقال رشید کے بعد اپنی پھپی محبوبہ بنت ہندہ کے پسر محبوب بن مطلوب بن عمرہ خواہر زید سے نکاح کیا جس سے ایك پسر گلفام پیدا ہوامحبوبہ ومطلوب کی ایك دختر حبیبیہ تھی جس کی دختر شہناز ہےاب زید نے انتقال کیا اور صرف ایك زوجہ چمن آراء اور یہی سعاد وسعید وحسینہ و گلچہرہ وگلفام وشہناز اس کے وارث ہوئے۔اس صورت میں ترکہ زید کاشرعا کس طرح منقسم ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجروثواب دئے جاؤگے۔ت)
طیب الامعان فی تعدد الجھات والابدان
(جہتوں اوربدنوں کے تعدد کے بارے میں انتہائی گہرائی میں بہترین نظرکرنا)
مسئلہ ۸۸: ۲۶ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دوبھائی تھے عمرو وبکر اوردوبہنیں ہندہ وعمرہعمرو کے دختر لیلی کے ایك پسر خالد ہوا اورعمرو کے پسر ولید کے ایك دختر سلمی ہوئی خالد وسلمی سے ایك دختر سعاد اورایك پسر سعید پیدا ہوئے بکر کی پوتی جمیلہ بنت حمیدبن بکر کانکاح رشیدبن فریدبن ہندہ خواھرزید سے ہواجن کی ایك دخترحسینہ ہے۔رشید کادوسرا نکاح اس کے چچا مجید بن ہندہ کی دخترحسن آراء سے ہوا ان دونوں کے ایك دخترگلچہرہ پیداہوئیحسن آراء نے انتقال رشید کے بعد اپنی پھپی محبوبہ بنت ہندہ کے پسر محبوب بن مطلوب بن عمرہ خواہر زید سے نکاح کیا جس سے ایك پسر گلفام پیدا ہوامحبوبہ ومطلوب کی ایك دختر حبیبیہ تھی جس کی دختر شہناز ہےاب زید نے انتقال کیا اور صرف ایك زوجہ چمن آراء اور یہی سعاد وسعید وحسینہ و گلچہرہ وگلفام وشہناز اس کے وارث ہوئے۔اس صورت میں ترکہ زید کاشرعا کس طرح منقسم ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجروثواب دئے جاؤگے۔ت)
الجواب:
تصویرصورت سوال اوربرتقدیر اجتماع شرائط معلومہ توریث تقسیم مال اس حال ومنوال پرہے:
اب اول یہ سمجھناچاہئے کہ ان میں پانچ ورثہ کو زید سے دودورشتے ہیں اورگلفام کوتین۔سعادبنت ابن بنت الاخ بھی ہے اور بنت بنت ابن الاخ بھی یعنی بھتیجی کی پوتی اوربھتیجے کی نواسی۔یونہی سعید بھی یہی دورشتے رکھتا اوربھتیجی کاپوتابھتیجے کانواسا ہے۔ حسینہ بنت بنت ابن الاخ اوربنت ابن ابن الاخت ہے یعنی بھتیجے کی نواسی اوربھانجے کی پوتی۔گلچہرہ بنت ابن ابن الاخت اوربنت بنت ابن الاخت ہے یعنی ایك بھانجے کی پوتی دوسرے کی نواسی۔شہناز بنت بنت بنت الاخت اوربنت بنت ابن الاخت ہے یعنی ایك بھانجی اورایك بھانجے دونوں کی نواسی۔گلفام ابن بنت ابن الاخت اورابن ابن بنت الاخت اور ابن ابن ابن الاخت ہے یعنی ایك بھانجے اورایك بھانجی دونوں کاپوتا اورایك بھانجے کانواسا۔اورہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ متعدد قرابتوں والا اپنی ہرقرابت کی رو سے حصہ پائے گا مگرامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی تعدد جہات کاخودفروع یعنی بطن زندہ میں اعتبار فرماتے ہیں تو ان کے نزدیك گویاگلفام تین وارث ہے اورباقی دودواورامام محمد رحمہ اﷲ تعالی تعدد جہات فروع کوان کے اصول میں ملحوظ فرماتے ہیں اس کی صورتیں دوہیں ایك یہ کہ فرع متعدد الجہات اصول متعددہ کی فرع ہو جیسے حسینہ کہ اس کے دورشتے بکروہندہ دواصول مختلفہ سے ہیں یا شہناز کہ ہندہ وعمرہ دونوں کی طرف سے قرابت دارہے جب تو
تصویرصورت سوال اوربرتقدیر اجتماع شرائط معلومہ توریث تقسیم مال اس حال ومنوال پرہے:
اب اول یہ سمجھناچاہئے کہ ان میں پانچ ورثہ کو زید سے دودورشتے ہیں اورگلفام کوتین۔سعادبنت ابن بنت الاخ بھی ہے اور بنت بنت ابن الاخ بھی یعنی بھتیجی کی پوتی اوربھتیجے کی نواسی۔یونہی سعید بھی یہی دورشتے رکھتا اوربھتیجی کاپوتابھتیجے کانواسا ہے۔ حسینہ بنت بنت ابن الاخ اوربنت ابن ابن الاخت ہے یعنی بھتیجے کی نواسی اوربھانجے کی پوتی۔گلچہرہ بنت ابن ابن الاخت اوربنت بنت ابن الاخت ہے یعنی ایك بھانجے کی پوتی دوسرے کی نواسی۔شہناز بنت بنت بنت الاخت اوربنت بنت ابن الاخت ہے یعنی ایك بھانجی اورایك بھانجے دونوں کی نواسی۔گلفام ابن بنت ابن الاخت اورابن ابن بنت الاخت اور ابن ابن ابن الاخت ہے یعنی ایك بھانجے اورایك بھانجی دونوں کاپوتا اورایك بھانجے کانواسا۔اورہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ متعدد قرابتوں والا اپنی ہرقرابت کی رو سے حصہ پائے گا مگرامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی تعدد جہات کاخودفروع یعنی بطن زندہ میں اعتبار فرماتے ہیں تو ان کے نزدیك گویاگلفام تین وارث ہے اورباقی دودواورامام محمد رحمہ اﷲ تعالی تعدد جہات فروع کوان کے اصول میں ملحوظ فرماتے ہیں اس کی صورتیں دوہیں ایك یہ کہ فرع متعدد الجہات اصول متعددہ کی فرع ہو جیسے حسینہ کہ اس کے دورشتے بکروہندہ دواصول مختلفہ سے ہیں یا شہناز کہ ہندہ وعمرہ دونوں کی طرف سے قرابت دارہے جب تو
اصول میں اعتبار یوں حاصل کہ جب وہ ہراصل اس فرع کے لحاظ سے تقسیم ملحوظ رہی ہرجہت قرابت لحاظ میں آگئی اورہرجہت کا حصہ اس وارث نے جمع کرلیا کتب متداولہ جو اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں اعتبار تعدد جہات فی الاصول کی زیادہ تشریح نہیں اورمثال جس نے دی اسی صورت خاصہ کی دی۔صورت دوم یہ کہ اس فرع کو ایك ہی اصل کے ذریعہ سے میت کے ساتھ دورشتے ہوں جیسے سعادوسعید کہ ان کے دونوں علاقے بذریعہ شخص واحد اعنی عمرو کے ہیں۔یونہی گلچہرہ وگلفام کو بذریعہ ہندہ اگرچہ گلفام کوایك رشتہ اصل دیگر عمرہ کی طرف سے بھی ہے اس صورت کی تصریح مثال اس وقت نظرمیں نہیں۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اورمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مانحن فیہ میں اعتبار تعددجہات فی الاصول کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فرع کی اصل کواصول متعددہ بعدد جہات حاصلہ بذریعہ فرع مذکور سمجھاجائےمثلا صورت مذکورہ میں عمرو بلحاظ سعادکہ ذات جہتین ہے دوبھائی ہے نیزبلحاظ سعید بھی ایساہی ہے تولحاظ جہات لحاظ ابدان کا اجتماع عمرو کو چاربھائی کر دے گا اورہندہ بلحاظ جہات گلچہرہ دوبہن ہے اور اسی طرح بلحاظ جہات گلفام اوربلحاظ بدن حسینہ وشہناز ایك ایك بہن تووہ مجموع چھ بہن ہے اورعمرہ میں صرف تعدد ابدان گلفام وشہناز ہے تعدد جہات نہیں کہ یہ دونوں اگرچہ جہات عدیدہ رکھتے ہوں مگرنہ بذریعہ تنہاعمرہ تو وہ صرف دوبہن ہے اوربکر جس کی فرع میں نہ تعددبدن ہے نہ اسی کے ذریعے سے تعددجہت تنہا ایك بھائی ہے توبطن اول میں زوجہ اورپانچ بھائی اور آٹھ بہنیں ہیں۔
والدلیل علیہ علی مایظھر للعبد الضعیف واﷲ سبحانہوتعالی اعلم ان تعدد الجھات یوجب تعدد الاشخاص ولو حکما الاتری ان ابایوسف لما اعتبر تعدد الجھات فی الفروع جعل کل فرع ذی جھتین کفرعین کما نصواعلیہ قاطبۃ وکذلك محمد رحمہ اﷲ تعالی اور اس پردلیل جیسا کہ اس عبدضعیف پرظاہرہوئیاو راﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتاہےیہ ہے کہ جہتوں کا متعدد ہونا اشخاص کے تعدد کو ثابت کرتاہے اگرچہ حکمی طورپر ہو۔ کیا تونہیں دیکھتا کہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے جب فروع میں جہتوں کے متعدد ہونے کا اعتبارکیاتو ہردوجہتوں والی فرع کو دوفرعوں کی طرح بنایاجیسا کہ اس پر تمام مشائخ نے نص فرمائی ہے۔یوں ہی
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اورمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مانحن فیہ میں اعتبار تعددجہات فی الاصول کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فرع کی اصل کواصول متعددہ بعدد جہات حاصلہ بذریعہ فرع مذکور سمجھاجائےمثلا صورت مذکورہ میں عمرو بلحاظ سعادکہ ذات جہتین ہے دوبھائی ہے نیزبلحاظ سعید بھی ایساہی ہے تولحاظ جہات لحاظ ابدان کا اجتماع عمرو کو چاربھائی کر دے گا اورہندہ بلحاظ جہات گلچہرہ دوبہن ہے اور اسی طرح بلحاظ جہات گلفام اوربلحاظ بدن حسینہ وشہناز ایك ایك بہن تووہ مجموع چھ بہن ہے اورعمرہ میں صرف تعدد ابدان گلفام وشہناز ہے تعدد جہات نہیں کہ یہ دونوں اگرچہ جہات عدیدہ رکھتے ہوں مگرنہ بذریعہ تنہاعمرہ تو وہ صرف دوبہن ہے اوربکر جس کی فرع میں نہ تعددبدن ہے نہ اسی کے ذریعے سے تعددجہت تنہا ایك بھائی ہے توبطن اول میں زوجہ اورپانچ بھائی اور آٹھ بہنیں ہیں۔
والدلیل علیہ علی مایظھر للعبد الضعیف واﷲ سبحانہوتعالی اعلم ان تعدد الجھات یوجب تعدد الاشخاص ولو حکما الاتری ان ابایوسف لما اعتبر تعدد الجھات فی الفروع جعل کل فرع ذی جھتین کفرعین کما نصواعلیہ قاطبۃ وکذلك محمد رحمہ اﷲ تعالی اور اس پردلیل جیسا کہ اس عبدضعیف پرظاہرہوئیاو راﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتاہےیہ ہے کہ جہتوں کا متعدد ہونا اشخاص کے تعدد کو ثابت کرتاہے اگرچہ حکمی طورپر ہو۔ کیا تونہیں دیکھتا کہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ نے جب فروع میں جہتوں کے متعدد ہونے کا اعتبارکیاتو ہردوجہتوں والی فرع کو دوفرعوں کی طرح بنایاجیسا کہ اس پر تمام مشائخ نے نص فرمائی ہے۔یوں ہی
لما اعتبر تعدد الجھات فی الجدات جعل الجدۃ جدتین وجداتکما فی السراجیۃ وغیرھا عامۃ الکتب وبالجملۃ لامعنی لتعدد الجھۃ الابتعدد الشخص ولوفی اللحاظ فمحمد اذا اعتبرہ ھھنا فی الاصول فان کانوا متعددین فقد حصل التعدد حقیقۃ باخذھم منفردین فی القسمۃ ثم ایصال ماوصل الیھم جمیعا الی الفرع الواحد المنتھی بھم کما ذکرنا اما اذا کان الاصل واحدا وقد اخذ عــــــہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے جب جدات(دادیوں)میں جہتوں کے متعدد ہونے کا اعتبار کیاتو ایك دادی کودویاکئی دادیوں کے برابر بنایاجیسا کہ سراجیہ وغیرہ عام کتابوں میں ہے۔خلاصہ یہ کہ اشخاص کے تعدد کے بغیر جہت کے متعدد ہونے کاکوئی معنی نہیں اگرچہ تعدد اشخاص اعتباری ہو۔ چنانچہ امام محمد علیہ الرحمۃ نے جب یہاں پر اصول میں تعدد کا اعتبارکیا تو اگراصول متعددہوں توحقیقتا تعددحاصل ہوگا اس طورپرکہ ان کوتقسیم میں الگ الگ لیاجائے گا۔پھرجوکچھ ان سب کوملے گا وہ اس ایك فرع تك پہنچایاجائے گا جس پر اصول کی انتہاہوتی ہے جیسا کہ ہم نے ذکرکیا۔لیکن اگراصل ایك ہواور اس کو
عــــــہ:احترازا عمااذا وقع فی بطن متفق بالذکورۃ والانوثۃ فانہ لایقسم علی من فیہ اصلا سواء کان لفرعہ جھۃ اوجھات کما لایلاحظ من فیہ بدنا سواء کان فی فرعہ بدن او ابدان ولیس ھذا لان الجہات لو الابدان لما تعتبر ھھنا بل لان مایصیبھم یجمع جمیعا ویقسم علی عــــــہ:اس صورت سے احتراز ہے کہ جب وہ ایسے بطن میں واقع ہو جو مذکر ومؤنث کے اعتبار سے متفق ہے کیونکہ وہ اس پرتقسیم نہیں کیاجاتا جس میں ایك اصل ہے چاہے اس کی فرع کی ایك جہت ہویا متعدد جہتیں ہوں جیسا کہ نہیں لحاظ کیاجاتا اس کا جس میں ایك بدن ہوچاہے اس کی فرع میں ایك بدن ہو یا متعدد۔یہ اس لئے نہیں کہ یہاں جہتوں اوربدنوں کا اعتبارنہیں کیا جاتابلکہ (باقی برصفحہ ائندہ)
عــــــہ:احترازا عمااذا وقع فی بطن متفق بالذکورۃ والانوثۃ فانہ لایقسم علی من فیہ اصلا سواء کان لفرعہ جھۃ اوجھات کما لایلاحظ من فیہ بدنا سواء کان فی فرعہ بدن او ابدان ولیس ھذا لان الجہات لو الابدان لما تعتبر ھھنا بل لان مایصیبھم یجمع جمیعا ویقسم علی عــــــہ:اس صورت سے احتراز ہے کہ جب وہ ایسے بطن میں واقع ہو جو مذکر ومؤنث کے اعتبار سے متفق ہے کیونکہ وہ اس پرتقسیم نہیں کیاجاتا جس میں ایك اصل ہے چاہے اس کی فرع کی ایك جہت ہویا متعدد جہتیں ہوں جیسا کہ نہیں لحاظ کیاجاتا اس کا جس میں ایك بدن ہوچاہے اس کی فرع میں ایك بدن ہو یا متعدد۔یہ اس لئے نہیں کہ یہاں جہتوں اوربدنوں کا اعتبارنہیں کیا جاتابلکہ (باقی برصفحہ ائندہ)
فی القسمۃ فلایظھر اعتبارہ تعدد الجھۃ فیہ الاباعتبارہ اصولا متعددۃ۔ویوضع لك ھذا ما اقول لیکن ابن ابن ابن بنت ھو ابن بنت بنت تلك البنت ایضا ومعہ ابن بنت بنت ابن ھکذا: تقسیم میں لیاجائے تو اس میں جہت کاتعدد ظاہرنہیں ہوگا سوائے اس کے کہ اس ایك اصل میں متعدداصول کااعتبار کر لیاجائے اورتیرے لئے اس مسئلہ کوواضح کردے گا وہ قول جو میں کہتاہوں وہ یہ کہ کسی شخص نے ایك بیٹی کے پوتے کا بیٹا چھوڑا اور وہ اسی بیٹی کی نواسی کابیٹابھی ہے۔اور اس کے ساتھ ایك بیٹے کی نواسی کابیٹابھی چھوڑا ہے۔مسئلہ کی صورت اس طرح ہے:
فلولم نجعل البنت لتعدد الجھۃ فی فرعھا بنتین اگرہم بیٹی کواس کی فرع میں تعدد جہت کے پائے جانی کی وجہ سے دوبیٹیاں نہ بنائیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ما تحتھم فلافائدۃ فی التفریق بالتقسیم ثم جمع ذاك المتفرق کمالایخفی ۱۲منہ۔ اس لئے ہے کہ جو کچھ ان کوملے گا وہ جمع کرکے ان کے نیچے والوں پرتقسیم کیاجائے گا لہذا اس کو تقسیم کے ذریعے متفرق کرکے پھر اس متفرق کوجمع کرنے کاکوئی فائدہ نہیں۔جیساکہ پوشیدہ نہیں ۱۲منہ(ت)۔
فلولم نجعل البنت لتعدد الجھۃ فی فرعھا بنتین اگرہم بیٹی کواس کی فرع میں تعدد جہت کے پائے جانی کی وجہ سے دوبیٹیاں نہ بنائیں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ما تحتھم فلافائدۃ فی التفریق بالتقسیم ثم جمع ذاك المتفرق کمالایخفی ۱۲منہ۔ اس لئے ہے کہ جو کچھ ان کوملے گا وہ جمع کرکے ان کے نیچے والوں پرتقسیم کیاجائے گا لہذا اس کو تقسیم کے ذریعے متفرق کرکے پھر اس متفرق کوجمع کرنے کاکوئی فائدہ نہیں۔جیساکہ پوشیدہ نہیں ۱۲منہ(ت)۔
لکانت المسئلۃ من ثلثۃ ثلثاھا لفرع الابن وثلثھا لفرع البنت لانك اذا قسمت المال علی البطن الاول لاختلافہ ذکورۃ وانوثۃ اثلاثا اصاب فرع الابن اثنان نصیب ابیھا وکان للبنت العلیا واحد وتحتھا فی البطنین وان کان اختلاف ذکورۃ وانوثۃ لکن لا حاجۃ الی اعتبارہ والضرب فی المسئلۃ لانکسارہ لان کل مایصیب طائفۃ الذکر والانثی تحتھا انما یحوزہ فرعھا لاخیرفیکون لہ واحد ولصاحبہ اثنان ولو لم یکن الاول ذاقرابتین کأن کان ابن ابن ابن بنت فقط او ابن بنت بنت بنت فحسب لکان التقسیم ایضا ھکذا لہ واحد ولصاحبہ اثنان فلم یصل الیہ من تعدد جھات قرابتہ الاما کان یصل لذی قرابۃ واحدۃ ھف بخلاف ما اذا جعلنا البنت بنتین فان المسئلۃ تکون تومسئلہ تین سے بنے گا۔اس میں سے دوتہائی بیٹے کی فرع کے لئے جبکہ ایك تہائی بیٹی کی فرع کے لئے ہوگا اس لئے کہ جب تونے مال کوتین حصے بناتے ہوئے پہلے بطن پرتقسیم کیا کیونکہ وہ مذکرومؤنث کے اعتبار سے مختلف ہے توبیٹے کی فرع کو دوحصے ملے جو اس کے باپ کاحصہ ہے اور سب سے اوپر والی بیٹی کوایك حصہ ملااور اس کے نیچے دوبطنوں میں اگرچہ مذکرومؤنث کے اعتبار سے اختلاف ہے لیکن اس اختلاف کا اعتبار کرنے اور کسر کی وجہ سے مسئلہ میں ضرب دین کی کوئی ضرورت نہیںاس لئے کہ جوکچھ مذکرفریق اورمؤنث کوملا اسے اس فریق کی آخری فرع سمیٹ لے گی۔چنانچہ مؤنث کی فرع کو ایك اور اس کے صاحب(مقابل)کودو ملیں گے اور اگرپہلا وارث دوقرابتوں والانہ ہو جیسا کہ وہ فقط بیٹی کے پوتے کابیٹاہو یافقط بیٹی کی نواسی کابیٹاہوتو اس صورت میں بھی تقسیم ویسی ہی ہوگی جیسی پہلے ہوئی یعنی بیٹی کی فرع کو ایك اور اس کے مقابل کو دوحصے ملیں گے۔چناچہ اس کوقرابت کی متعدد جہتوں سے بھی اتناہی حصہ موصول ہوا جتنا ایك قرابت والے کوملتاہے۔یہ خلاف مفروض ہے بخلاف اس کے کہ جب ہم بیٹی کو دوبیٹیاں فرض کرلیں تو اس صورت میں
حینئذ من اثنین لان الابن یساوی البنتین فیکون المال بین الفرعین نصفین وماھو الالکون فرع البنت ذاقرابتین والالاصاب ھو واحدا وفرع الابن اثنینوھذا بعون اﷲ تعالی ولوجہہ الحمد دلیل قاطع ویوضح ایضا ما اقول: لیعلم اولا ان ذاجھتین مساو لاثنین ذوی جہۃ مثلا ابن ابن ابن بنت وابن بنت بنت بنت اخر واخریجمع النسبین فھذا یساوی الاولین ھکذا: مسئلہ دو۲سے بنے گاکیونکہ بیٹا دوبیٹیوں کے برابر ہوتاہے لہذا مال دوفرعوں کے درمیان نصف نصف ہوگا۔اور یہ فقط اس لئے ہے کہ بیٹی کی فرع دو۲ قرابتوں والی ہے ورنہ اسے ایك اور بیٹے کی فرع کو دو ملتے ہیں۔اور یہ اﷲ تعالی کی مدد سے اس حال میں کہ حمد اسی کی ذات کے لئے ہے قطعی دلیل ہے نیز اس کو واضح کرتاہے وہ قول جو میں کہتاہوں اولا جاننا چاہئے کہ دوجہتوں والاالگ الگ جہتیں رکھنے والے دوکے برابر ہوتاہے مثلا ایك بیٹی کے پوتے کابیٹا ہو اورایك دوسری بیٹی کی نواسی کابیٹاہو اوران دونوں کے ساتھ ایك اوربیٹاموجود ہو جو ان دونوں نسبوں کاجامع ہو تویہ پہلے دونوں بیٹوں کے برابر ہوگا۔مسئلہ کی صورت اس طرح ہے:
قسمنا علی البطن الثانی لانہ اول ہم نے دوسرے بطن پرتقسیم کی کیونکہ وہی پہلا
قسمنا علی البطن الثانی لانہ اول ہم نے دوسرے بطن پرتقسیم کی کیونکہ وہی پہلا
بطن وقع فیہ الاختلاف وفیہ ابنان وبنتان فالمسئلۃ من ستۃ اربعۃ لطائفۃ الذکور واثنان لطائفۃ الاناث ثم لاخلف تحت شیئ من الطائفتین فی بطن مافیصیب الابن الاول من ابیہ اثنین و کذلك الابن الثانی والابن الاول من امہ واحد و کذلك الابن الثالث فیکون للاول ثلثۃ مثل ما لمجموع الباقین وھکذا کان ینبغی لانہ جامع لقرابتھما جمیعا ولیعلم ثانیا ان ھاتین الجھتین المذکورتین مثلا فی جانب البنات مجموعھما مساو لجھۃ واحدۃ فی جانب الابن اذا لم یکن صاحبھا وارثا ولاولد وارث کولدولد بنت ابن ھکذا: بطن ہے جس میں مذکور ومؤنث کے اعتبار سے اختلاف واقع ہوا۔اس بطن میں دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہیںچنانچہ مسئلہ چھ سے بنے گا جس میں سے چار مذکرفریق اوردو مؤنث فریق کے لئے ہوں گے پھران دونوں فریقوں کے نیچے کسی بطن میں مذکرومؤنث کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہیںلہذا پہلے بیٹے کو اس کے باپ کی طرف سے دوحصے ملیں گے یونہی دوسرے بیٹے کوبھی(اس کے باپ کی طرف سے دوحصے ملیں گے) اورپہلے بیٹے کوبھی اس کی ماں کی طرف سے ایك حصہ ملے گا یونہی تیسرے بیٹے کوبھی(اس کی ماں کی طرف سے ایك حصہ ملے گا)تو اس طرح پہلے بیٹے کو تین حصے ملے جوباقی دونوں بیٹوں کے مجموعی حصوں کے برابر ہیںاوریونہی ہونا چاہئے کیونکہ وہ ان دونوں کی قرابتوں کاجامع ہے۔اورثانیا جاننا چاہئے کہ یہ دونوں مذکورہ جہتیں جومثال کے طورپر بیٹیوں کی جانب میں ہیں ان کامجموعہ اس ایك جہت کے برابرہے جوبیٹے کی جانب میں ہے جبکہ اس کاصاحب نہ تو وارث ہو اورنہ ہی وارث کی اولاد ہوجیسے پوتی کی اولاد کی اولاد۔صورت مسئلہ یوں ہوگی:
image bhi hai
وانما اعبرنا فیھما بالولد لیعم الذکر والانثی فان الحکم لایختلفالمسئلۃ من اثنین لان ابنا کبنتین فنصیب الابن لفرع الاخیر ونصیب طائفۃ البنات یقسم فی البطن الثانی اثلاثا فتضرب المسئلۃ فی ثلثۃ وتصح من ستۃ ثلثۃ منھا لفرع الابن واثنان لابن الکائن فی البطن الثانی من طائفۃ البنات و واحد للبنت التی فیہ ثم ینتقلان الی فرعیہما فیکون مالفرعی البنتین مساویا لماکان لفرع الابن وبعد تمہید ھذا نقول اذا اجتمعوا اعنی صاحبی الجھتین وجامعھما من جانب البنات ہم نے ان دونوں بطنوں میں اولاد کے ساتھ اس لئے تعبیرکی تاکید یہ مذکر ومؤنث دونوں کو عام ہوجائے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں حکم مختلف نہیں ہوتا۔مسئلہ ۲ سے بنے گا کیونکہ ایك بیٹا دوبیٹیوں کی مثل ہے چنانچہ بیٹے کاحصہ اس کی آخری فرع کوملے گا جبکہ بیٹیوں کے فریق کاحصہ تین حصے بناتے ہوئے دوسرے بطن میں تقسیم ہوگا۔اصل مسئلہ یعنی دوکوتین میں ضرب دی جائے گی تو اس طرح چھ سے مسئلہ کی تصحیح ہوگی جس میں سے تین بیٹے کی فرع کوملیں گے اوردو اس بیٹے کو ملیں گے جوبیٹیوں کے فریق سے دوسرے بطن میں ہے جبکہ ایك بیٹی کوملے گا جو اس بطن میں ہے پھر ان دونوں کے حصے ان کی فرعوں کی طرف منتقل ہوں گے۔چنانچہ جو کچھ دونوں بیٹیوں کی فرعوں کوملا وہ بیٹے کی فرع کو ملنے والے حصوں کے برابر ہے۔اس تمہید کے بعد ہم کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہے جب دو الگ الگ جہتوں والے اوران دونوں جہتوں کا جامع بیٹیوں کی جانب سے جمع ہوئے ہیں
وانما اعبرنا فیھما بالولد لیعم الذکر والانثی فان الحکم لایختلفالمسئلۃ من اثنین لان ابنا کبنتین فنصیب الابن لفرع الاخیر ونصیب طائفۃ البنات یقسم فی البطن الثانی اثلاثا فتضرب المسئلۃ فی ثلثۃ وتصح من ستۃ ثلثۃ منھا لفرع الابن واثنان لابن الکائن فی البطن الثانی من طائفۃ البنات و واحد للبنت التی فیہ ثم ینتقلان الی فرعیہما فیکون مالفرعی البنتین مساویا لماکان لفرع الابن وبعد تمہید ھذا نقول اذا اجتمعوا اعنی صاحبی الجھتین وجامعھما من جانب البنات ہم نے ان دونوں بطنوں میں اولاد کے ساتھ اس لئے تعبیرکی تاکید یہ مذکر ومؤنث دونوں کو عام ہوجائے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں حکم مختلف نہیں ہوتا۔مسئلہ ۲ سے بنے گا کیونکہ ایك بیٹا دوبیٹیوں کی مثل ہے چنانچہ بیٹے کاحصہ اس کی آخری فرع کوملے گا جبکہ بیٹیوں کے فریق کاحصہ تین حصے بناتے ہوئے دوسرے بطن میں تقسیم ہوگا۔اصل مسئلہ یعنی دوکوتین میں ضرب دی جائے گی تو اس طرح چھ سے مسئلہ کی تصحیح ہوگی جس میں سے تین بیٹے کی فرع کوملیں گے اوردو اس بیٹے کو ملیں گے جوبیٹیوں کے فریق سے دوسرے بطن میں ہے جبکہ ایك بیٹی کوملے گا جو اس بطن میں ہے پھر ان دونوں کے حصے ان کی فرعوں کی طرف منتقل ہوں گے۔چنانچہ جو کچھ دونوں بیٹیوں کی فرعوں کوملا وہ بیٹے کی فرع کو ملنے والے حصوں کے برابر ہے۔اس تمہید کے بعد ہم کہتے ہیں کہ یہ اس وقت ہے جب دو الگ الگ جہتوں والے اوران دونوں جہتوں کا جامع بیٹیوں کی جانب سے جمع ہوئے ہیں
وفرع کذائی من جھۃ الابناء بحکم المقدمتین المذکورتین ان یکون المال بینھم اثلاثا ثلثہ للصاحبین واخرللجامع واخر للابنی لتساویھم جمیعا کما عرفت وھذا انما یتأتی اذا اعتبر اصل الفرع الجامع اصلین ھکذا: اوراگریہی صورت بیٹوں کی جانب سے متحقق ہو توبھی مذکورہ بالا دومقدموں کی بنیاد پرحکم یہی ہوگا کہ مال ان کے درمیان تین حصوں کے طورپرمنقسم ہوگاایك تہائی دو الگ الگ جہتوں والوں کے لئے اورایك تہائی دونوں کے جامع کے لئے اورایك تہائی بیٹے کی فرع کے لئےکیونکہ وہ سب آپس میں مساوی ہیں۔جیسا کہ توپہچان چکاہے۔اور یہ اسی وقت ہوگا جب دونوں جہتوں کی جامع فرع کی اص کودواصلیں فرض کیاجائے۔صورت مسئلہ یوں ہوگی:
اعتبرنا البنت الاولی بنتین فکان فی البطن الاول ابن واربع بنات کابنین وعلی الاختصار ثلثۃ ابناء فالمسئلۃ من ثلثۃ واحد منھا لفرع الابن واثنان لطائفۃ البنات وتحتھن فی البطن الثانی ابنان وبنتان ای کثلثۃ ابناء ولایستقیم اثنان علیھم فتضرب المسئلۃ فی ثلثۃ تکن من تسعۃ ہم نے پہلی بیٹی کودوبیٹیاں فرض کیا تو اس طرح پہلے بطن میں ایك بیٹا اورچاربیٹیاں ہوگئیں جوکہ دوبیٹیوں کے برابر ہے۔بطور اختصار یہ کہ تین بیٹے ہوگئے۔چنانچہ مسئلہ تین سے بنے گا جن میں سے ایك بیٹے کی فرع کے لئے اوردوبیٹیوں کے فریق کے لئے ہوں گے اور ان بیٹیوں کے نیچے دوسرے بطن میں دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہیں یعنی تین بیٹے ہوگئے۔اور دو
image reh gai
اعتبرنا البنت الاولی بنتین فکان فی البطن الاول ابن واربع بنات کابنین وعلی الاختصار ثلثۃ ابناء فالمسئلۃ من ثلثۃ واحد منھا لفرع الابن واثنان لطائفۃ البنات وتحتھن فی البطن الثانی ابنان وبنتان ای کثلثۃ ابناء ولایستقیم اثنان علیھم فتضرب المسئلۃ فی ثلثۃ تکن من تسعۃ ہم نے پہلی بیٹی کودوبیٹیاں فرض کیا تو اس طرح پہلے بطن میں ایك بیٹا اورچاربیٹیاں ہوگئیں جوکہ دوبیٹیوں کے برابر ہے۔بطور اختصار یہ کہ تین بیٹے ہوگئے۔چنانچہ مسئلہ تین سے بنے گا جن میں سے ایك بیٹے کی فرع کے لئے اوردوبیٹیوں کے فریق کے لئے ہوں گے اور ان بیٹیوں کے نیچے دوسرے بطن میں دوبیٹے اوردوبیٹیاں ہیں یعنی تین بیٹے ہوگئے۔اور دو
image reh gai
وبھا تصح لفرع الابن منھا ثلثۃ ولطائفۃ البنات ستۃ تنقسم فی البطن الثانی اثلاثا للبنتین اثنان منتقلان الی فرعیھما لعدم الاختلاف وللابنین اربعۃ منتقلۃ کذلك الی فرعیھما فیصیب الابن الجامع ثلثۃ اثنان من ابیہ و واحد من امہ ولصاحبی القرابتین اثنان و واحد مجموعھما ثلثۃ وللفرع الابن ایضا ثلثۃ کما کان حکم المقدمتین المذکورتین بخلاف ما اذا لم یعتبر الاصل اصلین فانہ یزید حینئذ سھم الابنی علی السھمین الباقیین ھکذا: ان تین پرتقسیم نہیں ہوسکتے۔لہذا مسئلہ کوتین میں ضرب دی جائے گی توحاصل ضرب نو(۹)ہوگااور اسی سے مسئلہ کی تصحیح ہوگی بیٹے کی فرع کے لئے نو میں سے تین جبکہ بیٹیوں کے فریق کے لئے چھ حصے ہوں گے جودوسرے بطن میں تین پرتقسیم ہوجائیں گیجن میں سے دوحصے دونوں بیٹیوں کے لئے ہوں گے جو عدم اختلاف کے سبب سے ان دونوں کی فرعوں کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔اور چارحصے دونوں بیٹیوں کے لئے ہوں گے جوکہ اسی طرح ان کی فرعوں کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔لہذا دونوں جہتوں کے جامع بیٹے کوتین حصے ملیں گے دوباپ کی طرف سے اورایك ماں کی طرف سے۔اوردوالگ الگ قرابتوں والوں کے لئے۔دواور ایك یعنی مجموعی طورپرتین حصے بنے۔اوربیٹے کی فرع کے لئے بھی تین حصے ہوں گے جیسا کہ دونوں مذکورہ مقدموں کا حکم ہے بخلاف اس کے کہ جب اصل کو دواصلیں فرض نہ کیا جائے کیونکہ اس صورت میں بیٹے کی فرع کاحصہ باقی دو بیٹوں کے حصوں سے زائد ہوجائے گا۔صورت مسئلہ یوں ہوگی (اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
image reh gai
والبیان ظاھرھف فظھران اعتبار تعدد الجھات فی الاصول انما یکون بحصول التعدد فی الذوات فان کان حقیقۃ ذاك کما فی الامثلۃ التی ذکروھا فی الکتب والاوجب اعتبارہ حکما وعد اصل اصلین فی القسمۃ و یظھر ھذا لمن تأمل فیما صوروہ ایضا من کون الجھۃ من اصلین کما اذا ترك بنتی بنت ابن بنت ھما ایضا بنتا ابن ابن بنت اخری وابن بنت بنت ابن بھذہ الصورۃ: اوربیان ظاہرہےیہ خلاف مفروض ہے۔پس ظاہرہوگیا کہ اصول میں تعدد جہات کا اعتبار ذوات میں تعدد کے اصول سے ہی ہوتاہے۔اگروہ تعدد حقیقتا ہوتوفبہا جیسا کہ ان مثالوں میں ہے جن کو مشائخ نے کتابوں میں ذکرفرمایا ورنہ حکمی طورپر تعدد کا اعتبارکرنا اورتقسیم میں ایك اصل کو دو اصلیں شمارکرنا ضروری ہوگا اور یہ اس شخص کے لئے بھی ظاہرہو جاتا ہے جومشائخ کی بیان کردہ اس صورت میں غورکرنے جو انہوں نے دواصلوں سے حاصل ہونے والی جہت کے بارے میں بیان کی ہے۔جیسے کسی شخص نے ایك بیٹی کی پوتی کی دو بیٹیاں چھوڑی ہیں اور وہی دونوں میت کی دوسری بیٹی کے پوتے کی بھی بیٹیاں ہیں۔اور ان کے علاوہ ایك بیٹے کی نواسی کا بیٹا چھوڑاہے۔صورت مسئلہ یوں ہوگی:
والبیان ظاھرھف فظھران اعتبار تعدد الجھات فی الاصول انما یکون بحصول التعدد فی الذوات فان کان حقیقۃ ذاك کما فی الامثلۃ التی ذکروھا فی الکتب والاوجب اعتبارہ حکما وعد اصل اصلین فی القسمۃ و یظھر ھذا لمن تأمل فیما صوروہ ایضا من کون الجھۃ من اصلین کما اذا ترك بنتی بنت ابن بنت ھما ایضا بنتا ابن ابن بنت اخری وابن بنت بنت ابن بھذہ الصورۃ: اوربیان ظاہرہےیہ خلاف مفروض ہے۔پس ظاہرہوگیا کہ اصول میں تعدد جہات کا اعتبار ذوات میں تعدد کے اصول سے ہی ہوتاہے۔اگروہ تعدد حقیقتا ہوتوفبہا جیسا کہ ان مثالوں میں ہے جن کو مشائخ نے کتابوں میں ذکرفرمایا ورنہ حکمی طورپر تعدد کا اعتبارکرنا اورتقسیم میں ایك اصل کو دو اصلیں شمارکرنا ضروری ہوگا اور یہ اس شخص کے لئے بھی ظاہرہو جاتا ہے جومشائخ کی بیان کردہ اس صورت میں غورکرنے جو انہوں نے دواصلوں سے حاصل ہونے والی جہت کے بارے میں بیان کی ہے۔جیسے کسی شخص نے ایك بیٹی کی پوتی کی دو بیٹیاں چھوڑی ہیں اور وہی دونوں میت کی دوسری بیٹی کے پوتے کی بھی بیٹیاں ہیں۔اور ان کے علاوہ ایك بیٹے کی نواسی کا بیٹا چھوڑاہے۔صورت مسئلہ یوں ہوگی:
image reh gai
المسئلۃ من ثلثۃ لان کل بنت فی البطن الاول کبنتین ای کابن فکانھم ثلثۃ بنین ومنھا تصح واحد لفرع الابن واثنان للبنتین والتقسیم فی البطن الثالث وان کان علی ثلثۃ لان فیہ بنتا کابن وابنا کابنین لااستقامۃ علی ثلثۃ لاثنین لکن لما کان الانقسام فی البطن الاخیر علی بنتین فحسب یصل کلامنھما ثلث من قبل الاب وثلث من قبل الام فکان لکل واحدۃ کملا ولاحاجۃ الی الضرب فجعل بنتین فی الاصول کاربع بنات انما اتی من جہۃ ان تعدد الجھۃ فی الفروع اورث التعدد فی مسئلہ تین۳ سے بنے گا کیونکہ پہلے بطن میں ہربیٹی دوبیٹیوں یعنی ایك بیٹے کے برابرہے گویا کہ وہ تین بیٹے ہوگئے اورتین سے ہی مسئلہ کی تصحیح ہوگی۔ایك حصہ بیٹے کی فرع کوجبکہ دوحصے دونوں بیٹیوں کوملیں گے اور تیسرے بطن میں اگرچہ تقسیم تین پرہوتی ہے کیونکہ اس میں ایك بیٹیبیٹے کی مثل ہے اورایك بیٹادوبیٹوں کی مثل ہے۔اور دوکاتین پرتقسیم ہونا بلا کسردرست نہیںلیکن جبکہ آخری بطن میں فقط دوہی بیٹیوں پر تقسیم ہوتی ہے ان دونوں کوایك تہائی باپ کی طرف سے اورایك تہائی ماں کی طرف سے موصول ہوگا۔ تو ہرایك کیلئے مکمل ثلث ہوگا اورضرب کی ضرورت پیش نہیں آئے گی لہذااصول میں دوبیٹیوں کوچاربیٹیوں کی طرح بنانافقط اس اعتبار سے ہے کہ فروع میں جہت کاتعدد اصول میں تعدد کو ثابت کرتاہے۔اور یہ محض فروع کے ابدان کے
المسئلۃ من ثلثۃ لان کل بنت فی البطن الاول کبنتین ای کابن فکانھم ثلثۃ بنین ومنھا تصح واحد لفرع الابن واثنان للبنتین والتقسیم فی البطن الثالث وان کان علی ثلثۃ لان فیہ بنتا کابن وابنا کابنین لااستقامۃ علی ثلثۃ لاثنین لکن لما کان الانقسام فی البطن الاخیر علی بنتین فحسب یصل کلامنھما ثلث من قبل الاب وثلث من قبل الام فکان لکل واحدۃ کملا ولاحاجۃ الی الضرب فجعل بنتین فی الاصول کاربع بنات انما اتی من جہۃ ان تعدد الجھۃ فی الفروع اورث التعدد فی مسئلہ تین۳ سے بنے گا کیونکہ پہلے بطن میں ہربیٹی دوبیٹیوں یعنی ایك بیٹے کے برابرہے گویا کہ وہ تین بیٹے ہوگئے اورتین سے ہی مسئلہ کی تصحیح ہوگی۔ایك حصہ بیٹے کی فرع کوجبکہ دوحصے دونوں بیٹیوں کوملیں گے اور تیسرے بطن میں اگرچہ تقسیم تین پرہوتی ہے کیونکہ اس میں ایك بیٹیبیٹے کی مثل ہے اورایك بیٹادوبیٹوں کی مثل ہے۔اور دوکاتین پرتقسیم ہونا بلا کسردرست نہیںلیکن جبکہ آخری بطن میں فقط دوہی بیٹیوں پر تقسیم ہوتی ہے ان دونوں کوایك تہائی باپ کی طرف سے اورایك تہائی ماں کی طرف سے موصول ہوگا۔ تو ہرایك کیلئے مکمل ثلث ہوگا اورضرب کی ضرورت پیش نہیں آئے گی لہذااصول میں دوبیٹیوں کوچاربیٹیوں کی طرح بنانافقط اس اعتبار سے ہے کہ فروع میں جہت کاتعدد اصول میں تعدد کو ثابت کرتاہے۔اور یہ محض فروع کے ابدان کے
الاصول ولیس ھذا من قبل ابدان الفروع فحسب فانما ھماثنتان لاغیرکما ان الاصل بنتان لاغیر فالتربیع لم یأت الا لاجل الجہات فان قلت لما کانت الفرعان فرعی کل من اصلین کانتا کاربعۃ فروع کانھا بنتان من قبل الاب وبنتان من قبل الاب وبنتان من قبل الام فلم تتعدد الاصول الابتعدد الفروع قلت تعدد الجھات فی فرع لایورث تکثر فی بدنہ فزید لایصیر زیدین لکونہ ابن ابیہ وابن امہ فالتربیع فی الفرعین ماجاء الابتعدد الجہات وجعلتموہ مستلزما لتربیع الاصلین فکان ذلك قولا منکم بقولنا من حیث لاتشعرون وبالجملۃ اذا صدقت المقدمان القائلتان کلما تعددت الجھات اعتبار سے نہیں کیونکہ ابدان توفقط دوہیں جیسا کہ اصل میں فقط دوبیٹیاں ہیں تو انہیں چاربتانا فقط تعددجہات کی وجہ سے ہے۔ اگر تو کہے کہ جب دونوں فرعیں دواصلوں میں سے ہر ایك کی فرعیں ہیں توکل فرعیں چارہوگئیں گویا کہ دوبیٹیاں باپ کی جانب سے اور دو ماں کی جانب سے ہیں۔تو اس طرح اصول بغیرتعدد فروع کے متعدد نہیں ہوئے۔میں کہوں گا فرع میں جہتوں کامتعدد ہونا بدن میں کثرت کوثابت نہیں کرتا۔چنانچہ زیداس وجہ سے دوزیدنہیں بن جاتا کہ وہ اپنے باپ کابھی بیٹا ہے اور اپنی ماں کابھیلہذا دوفرعوں کاچار بن جانانہیں ہوا مگرتعدد جہات کی وجہ سے۔اورتم اس کو دو اصلوں کے چارہونے کے لئے مستلزم قراردے چکے ہوتو غیر شعوری طورپر تم نے وہی بات کہہ دی جوہماراقول ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب مذکورہ بالا دونوں مقدمے سچے ہوں اوریوں کہاجائے کہ جب جہات متعدد ہوں توفروع متعدد ہوتی ہیں اور جب فروع متعدد ہوں تواصول متعدد ہوتے ہیں جیسا کہ تم اعتراف کرچکے ہو۔تونتیجے کاسچاہونا واجب ہے۔اوریوں کہا جائے گا کہ جب جہات متعدد ہوں تواصول متعدد ہوں گے۔اوریہی ہمارامقصود ہے۔یہ وہ ہے جو
تعددت الفروع وکلما تعددت الفروع تعددت الاصول کما اعترفتم وجب صدق النتیجۃ القائلۃ کلما تعدد الجہات تعددت الاصول وھوالمقصود ھذا ماظھر للعبد الفقیر بعون الملك القدیر عزجلالہ وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالی فعلیك بہ فلعلك لاتجدہ فی غیر ھذہ السطورواﷲ تعالی اعلم بحقائق الامور۔ قدرت والے بادشاہ جس کی بزرگی غالب ہے کی مدد کے محتاج بندے کے لئے ظاہرہوااورمیں امیدکرتاہوں کہ ان شاء اﷲ تعالی یہ درست ہوگالہذا تجھ پرلازم ہے کہ تو اس کو حاصل کر شاید تو اس کو ان سطور کے غیرمیں نہ پائے۔اور اﷲ تعالی امور کی حقیقتوں کوخوب جانتاہے۔(ت)
اب تقسیم مسئلہ کی طرف چلئےاصل مسئلہ بوجہ زوجہ چارسے ہے اس کافرض دے کر تین بچے جس کے مستحق پانچ بھائی اورآٹھ بہنیں برابر چاربھائیوں کےگویانوبھائی ہیں تین نوکوتین بارفناکرتاہےلہذا مسئلے میں تین۳ کی ضرب ہوکربارہ۱۲ ہوئے جس سے تین زوجہ کے اورپانچ طائفہ مردان اورچار طائفہ زنان کے۔اب طائفہ مردان کے نیچے بطن دوم میں لیلی دو۲ بنت ہے اور ولید دو۲ ابن اورحمید ایک۔مجموع تین۳ ابن دو۲بنتگویاچار۴ ابن ہیںبوجہ تبائن مسئلے میں چار۴ کی ضرب ہوکر اڑتالیس۴۸ ہوئےبارہ چمن آرا کے اوربیس۲۰ طائفہ مردان اورسولہ۱۶ طائفہ زنان کے۔یہ بیس۲۰ یوں تقسیم ہوئے
کہ لیلی کوپانچ اورطائفہ ذکور اعنی ولید وحمید کے پندرہیہ طائفہ ذکور کے بعد بطن ثالث میں اختلاف نہیںرابع ہیں ایك ابن سعید اوردوبنت سعادوحسینہگویاچاربنت ہیں۔پندرہ ان پرمستقیم نہیںاورلیلی کوبھی سعادوسعید ابن وبنت ہیںاورپانچ تین پر مستقیم نہیں لہذا بوجہ تبائن
image reh gai
اب تقسیم مسئلہ کی طرف چلئےاصل مسئلہ بوجہ زوجہ چارسے ہے اس کافرض دے کر تین بچے جس کے مستحق پانچ بھائی اورآٹھ بہنیں برابر چاربھائیوں کےگویانوبھائی ہیں تین نوکوتین بارفناکرتاہےلہذا مسئلے میں تین۳ کی ضرب ہوکربارہ۱۲ ہوئے جس سے تین زوجہ کے اورپانچ طائفہ مردان اورچار طائفہ زنان کے۔اب طائفہ مردان کے نیچے بطن دوم میں لیلی دو۲ بنت ہے اور ولید دو۲ ابن اورحمید ایک۔مجموع تین۳ ابن دو۲بنتگویاچار۴ ابن ہیںبوجہ تبائن مسئلے میں چار۴ کی ضرب ہوکر اڑتالیس۴۸ ہوئےبارہ چمن آرا کے اوربیس۲۰ طائفہ مردان اورسولہ۱۶ طائفہ زنان کے۔یہ بیس۲۰ یوں تقسیم ہوئے
کہ لیلی کوپانچ اورطائفہ ذکور اعنی ولید وحمید کے پندرہیہ طائفہ ذکور کے بعد بطن ثالث میں اختلاف نہیںرابع ہیں ایك ابن سعید اوردوبنت سعادوحسینہگویاچاربنت ہیں۔پندرہ ان پرمستقیم نہیںاورلیلی کوبھی سعادوسعید ابن وبنت ہیںاورپانچ تین پر مستقیم نہیں لہذا بوجہ تبائن
image reh gai
سہام ورؤس فریقین دونوں رؤس اعنی چار اورتین معتبرہوئے اوریہ بھی متبائن ہیں تو باہم ضرب دے کر اصل مسئلہ میں بارہ کی ضرب سے پانسوچھہتر(۵۷۶)ہوئےچمن آرا کے ایك سوچوالیس(۱۴۴)طائفہ زنان کے ایك سوبانوے(۱۹۲)طائفہ مردان کے دوسوچالیس(۲۴۰)جن میں سے لیلی کوساٹھ پہنچے کہ سعید کوچالیسسعاد کوبیس ہوکربٹ گئے اورولیدوحمیدکے ایك سواسی پون بٹے کہ سعید کو نوے اورسعاد وحسینہ کو پینتالیس۴۵ بالجملہ سعید کے مجموعے ایك سو تیس۱۳۰ ہوئے اور سعد کے پینسٹھ۶۵ اور حسینہ کے پینتالیس۴۵یہ تصحیح طائفہ مردان کامقتضی ہےاب طائفہ زنان لیجئے
اصل مسئلے سے اس طائفہ کے چارتھے اس کے بطن ثانی میں تین ابن ایك بنت ہےہرایك مثل دوکےگویا سات ابن ہیں تو مسئلہ چوراسی سے ہوا۔طائفہ زنان کے اٹھائیس ان میں چار محبوبہ کے ہیں بطن ثالث میں اس کے ابن وبنت محبوب وحبیبیہ یعنی تین پرمستقیم نہیں۔اورچوبیس۲۴ طائفہ ذکور فرید ومجید ومطلوب کے ہیںبطن ثالث میں فرید کاابن رشید دوابن ہے اورمجید کی بنت حسن آرا دو۲ بنتاورمطلوب کی اولاد محبوب وحبیبیہ ایك ایك ابن وبنتتومجموع تین ابن تین بنتیعنی نوبنت ہیں۔ چوبیس۲۴ اورنومیں توافق بالثلث ہے تو رؤس طائفہ انثی اعنی محبوبہ بھی تین ہوئےاور رؤس طائفہ ذکوربھی باعتبار وفق تین ہی رہے انہیں تماثل ہے صرف تین۳ کی ضرب ہوکر مسئلہ دوسوباون۲۵۲ سے ہوا جس سے طائفہ علیائے اناث کے چوراسی۸۴ ان سے بطن ثانی میں محبوبہ کے بارہ کہ محبوب کوآٹھ۸حبیبہ کوچارہوکربٹے اوروہ آٹھ۸ گلفام اوریہ چار۴ شہناز کوپہنچ گئے اورطائفہ ذکور کے بہتر کہ بطن ثالث میں رشید وحسن آرا محبوب وحبیبہ پراثلاثا بٹے یعنی اس تازہ طائفہ ذکور رشیدومحبوب کے اڑتالیس۴۸ اور
اصل مسئلے سے اس طائفہ کے چارتھے اس کے بطن ثانی میں تین ابن ایك بنت ہےہرایك مثل دوکےگویا سات ابن ہیں تو مسئلہ چوراسی سے ہوا۔طائفہ زنان کے اٹھائیس ان میں چار محبوبہ کے ہیں بطن ثالث میں اس کے ابن وبنت محبوب وحبیبیہ یعنی تین پرمستقیم نہیں۔اورچوبیس۲۴ طائفہ ذکور فرید ومجید ومطلوب کے ہیںبطن ثالث میں فرید کاابن رشید دوابن ہے اورمجید کی بنت حسن آرا دو۲ بنتاورمطلوب کی اولاد محبوب وحبیبیہ ایك ایك ابن وبنتتومجموع تین ابن تین بنتیعنی نوبنت ہیں۔ چوبیس۲۴ اورنومیں توافق بالثلث ہے تو رؤس طائفہ انثی اعنی محبوبہ بھی تین ہوئےاور رؤس طائفہ ذکوربھی باعتبار وفق تین ہی رہے انہیں تماثل ہے صرف تین۳ کی ضرب ہوکر مسئلہ دوسوباون۲۵۲ سے ہوا جس سے طائفہ علیائے اناث کے چوراسی۸۴ ان سے بطن ثانی میں محبوبہ کے بارہ کہ محبوب کوآٹھ۸حبیبہ کوچارہوکربٹے اوروہ آٹھ۸ گلفام اوریہ چار۴ شہناز کوپہنچ گئے اورطائفہ ذکور کے بہتر کہ بطن ثالث میں رشید وحسن آرا محبوب وحبیبہ پراثلاثا بٹے یعنی اس تازہ طائفہ ذکور رشیدومحبوب کے اڑتالیس۴۸ اور
نئے طائفہ اناث حسن آرا وحبیبہ کے چوبیساب یہ طائفے بھی جداکردئیے طائفہ ذکور کے نیچے ایك ابن دوبنت ہیںتوگلفام نے چوبیسحسینہ وگلچہرہ نے بارہ۱۲ بارہ۱۲ پائےاورطائفہ اناث کے نیچے بھی ایك ابن دو۲ بنت ہیںتوگلفام کوبارہ۱۲گلچہرہ شہناز کوچھ۶ چھ۶ ملے۔یہ تصحیح باعتبار طائفہ اناث ہوئیتصحیحین میں توافق بسدس السدس یاربع التسع یعنی بجزء من ستۃ وثلثین۳۶ جزء ہےاول کاوفق سولہ۱۶ ہے اورثانی کاسات۷توان میں جس کودوسرے کی وفق سے ضرب دی مبلغ تصحیح چارہزار بتیس ہوئے تصحیح اول میں جس نے جوپا یاتھا اسے سات میں ضرب دیاورتصحیح ثانی کے سہام کوسولہ۱۶ میں
توضیحش آنکہ اولا حافظ جان مردوہمیں ابناء وبنات ورثہ گزاشت بازنیاز علی گزشت وبقیہ اخوۃ واخوات وارث داشت پس ایں ہردوکان لم یکن شدند ومسئلہ بہ ۱۲ تقسیم یافت چار پسر را اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے حافظ جان مرا اور یہی بیٹے اور بیٹیاں ورثاء چھوڑےپھرنیازعلی فوت ہوااورباقی بہن بھائی وارث چھوڑےپس یہ دونوں کالعدم ہوگئے۔اورمسئلہ نے بارہ کے عدد سے تقسیم
image reh gai
توضیحش آنکہ اولا حافظ جان مردوہمیں ابناء وبنات ورثہ گزاشت بازنیاز علی گزشت وبقیہ اخوۃ واخوات وارث داشت پس ایں ہردوکان لم یکن شدند ومسئلہ بہ ۱۲ تقسیم یافت چار پسر را اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے حافظ جان مرا اور یہی بیٹے اور بیٹیاں ورثاء چھوڑےپھرنیازعلی فوت ہوااورباقی بہن بھائی وارث چھوڑےپس یہ دونوں کالعدم ہوگئے۔اورمسئلہ نے بارہ کے عدد سے تقسیم
image reh gai
ہشت وہر چاردختر راچہار بازامیرعلی بعدہمحمدعلی مرد وباقی دوبرادر وخواہران گزاشت بازحبن بازبنی جان مردن وہمیں اخوین واخوات ورثہ گزاشتند پس چارسہم کہ باین سہ می رسید دردوبرادر اعنی کلن ومحمد حسین ودوخواھر اعنی احمدی وبی جان منحصر گردید وایں چارکسان رابجائے شش دہ رسید وحاصل مسئلہ بآں گرائید کہ ازترکہ یك سدس بہ محمد علی وبقیہ پنچ اسداس بریں چہار اشخاص للذکر مثل حظ الانثیین برشش سہم منقسم۔اول عددیکہ سدس اوبرآوردہ باقی رابر ۶قسمت توانیم سی وشش ست ازہمیں مسئلہ کردیم ۶ بہ محمدعلی رسید وبہریك ازکلن ومحمدحسین دہ وبہریك ازاحمدی وبی جان پنج فامابعد اینہا بی جان مردہ وہمین کلن برادرش وارث گزاشتہ پس او را نیزبرآوردیم وسہم کلن پانزدہ کردیم فائدہ ایں تصرفات عجیبہ تخفیف عظیمی ست کہ در تقسیم مسئلہ راہ یافت چنانکہ برسالك طریق معہودبموازنہ ایں طرز محمودروشن شود۔ پائیچاروں بیٹوں کو آٹھ حصے اور چاروں بیٹیوں کوچارحصے ملےپھرامیرعلی اور اس کے بعد محمدعلی فوت ہواباقی دوبھائی اوربہنیں چھوڑیں۔پھرحبن اورپھربنی جان مرگئے اور وہی دو بھائی اوربہنیں ورثاء میں چھوڑے۔چنانچہ وہ چارحصے جوان تینوں کوپہنچتے ہیں وہ دو بھائیوں یعنی کلن اورمحمدحسین اوردوبہنوں یعنی احمدی اوربی جان میں منحصرہوگئے۔اور ان چارشخصوں کوبجائے چھ کے دس حصے ملتے مسئلہ کانتیجہ یہ ہوا کہ ترکہ میں سے ایك سدس یعنی چھٹا حصہ(۶ /۱)محمدعلی کوملا اورباقی پانچ چھٹے حصے(۶/ ۵)چارشخصوں پر اس طرح تقسیم ہونے ہیں کہ مذکر کاحصہ دومؤنثوں کے برابر ہوتو اس طرح یہ حصے چھ پرمنقسم ہوں گے اوروہ پہلاعدد جس کاچھٹا حصہ نکال کرباقی کو چھ پرتقسیم کریں وہ چھتیس ہے۔لہذا ہم نے چھتیس سے مسئلہ بنادیااس میں سے چھ محمدعلی کو اورکلن اور محمدحسین میں سے ہرایك کودس دس اوراحمدی اوربی جان میں سے ہرایك کوپانچ پانچ حصے دئیے۔لیکن ان کے بعد بی جان فوت ہوئی اوروہی کلن اپنابھائی وارث چھوڑا چنانچہ ہم نے بی جان کوتقسیم سے نکال دیا اور کلن کے حصے پندرہ کردئیے۔ان عجیب تصرفات کافائدہ اس مشقت میں کافی حد تك تخفیف کرناہے جومسئلہ کی تقسیم میں راہ پاتی ہے جیسا کہ معروف طریقہ پرچلنے والے شخص پر اس پسندیدہ طرز کے ساتھ موازنہ کرنے سے روشن ہوجاتاہے۔(ت)
barri image reh gai
اسودہ کہ بعدانتقال محمدحسین حسب بیان سائل محمدحسین کازرنقدواثاث البیت اپنے حصے سے زائد لے کرمع اپنے دوسالہ بچے علی حسین کے چلی گئی اوربارہ سال سے
اسودہ کہ بعدانتقال محمدحسین حسب بیان سائل محمدحسین کازرنقدواثاث البیت اپنے حصے سے زائد لے کرمع اپنے دوسالہ بچے علی حسین کے چلی گئی اوربارہ سال سے
مفقود الخبر ہے علی حسین کے سترسہام اس کی سترسال عمر تك امانت رہیں اگر وہ زندہ معلوم ہواسے دئیے جائیں یامرگیا ہوتواس کے ورثہ کوپہنچائے جائیںاوراگر اس مدت تك پتانہ چلے تواس وقت جو اس کے وارث شرعی ہوں وہ پائیں آسودہ جوکچھ اپنے حصص سے زائدلے گئی اگر اس کامہرواجب الاداتھا اور وہ مال کہ لے گئی مقدار مہرواجب الاداء سے زائد نہ تھا تو اس کاحصہ بھی بدستور اس کی سترسال عمرہونے تك امانت رہےاور اگرزائد تھا تواس کاالزام علی حسین نابالغ پرنہیں صرف آسودہ کے حصے سے بنی وبتولن اپنے حصے کانقصان وصول کرسکتی ہیں۔
وھو مسئلۃ الظفر بخلاف جنس الحق المفتی بہ الآن علی جواز الاخذ ۔واﷲ سبحانہوتعالی اعلم۔ اور وہ مسئلہ ہے اپنے حق کی جنس کے غیر کووصول کرنے پر کامیابی حاصل کرنے کا۔آج کے دور میں اس کولینے کے جواز پر فتوی ہے۔واﷲ سبحانہوتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۰: ازصوبہ نمچ علاقہ گوالیار مرسلہ مولوی مبارك حسین صاحب ۲۵/رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك بیوہ عورت نے وفات پائی اور اس نے جوترکہ چھوڑا اس میں کچھ تو اس کاذاتی ہی مال ہے اور کچھ ایساہے جواس کے شوہر نے اپنی حیات میں اسے دے دیاتھا متوفیہ کاکوئی رشتہ دار قریب وبعید نہیں ہے نہ ذوی الفروض میں نہ عصبات میں نہ ذوی الارحام میںغرضیکہ کسی قسم کاکوئی رشتہ دار نہیں ہےمتوفیہ کے شوہر کا ایك لڑکا پہلی عورت سے ہے اور وہ متوفیہ کے ترکہ کادعوی کرتاہے آیاترکہ ذاتی متوفیہ اورا س کے شوہر کا دیاہوا اس لڑکے کوملناچاہئے یانہیں اور اگر ملنا چاہئے تومتوفیہ کاذاتی وشوہری دونوں یاایکاوراگرنہ ملناچاہئے تووہ ترکہ کس کوملناچاہئے عملداری ہنود ہونے کی وجہ سے بیت المال بھی نہیں ہے جو اس میں جائے بصیغہ لاوارثی سرکار میں
وھو مسئلۃ الظفر بخلاف جنس الحق المفتی بہ الآن علی جواز الاخذ ۔واﷲ سبحانہوتعالی اعلم۔ اور وہ مسئلہ ہے اپنے حق کی جنس کے غیر کووصول کرنے پر کامیابی حاصل کرنے کا۔آج کے دور میں اس کولینے کے جواز پر فتوی ہے۔واﷲ سبحانہوتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۰: ازصوبہ نمچ علاقہ گوالیار مرسلہ مولوی مبارك حسین صاحب ۲۵/رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك بیوہ عورت نے وفات پائی اور اس نے جوترکہ چھوڑا اس میں کچھ تو اس کاذاتی ہی مال ہے اور کچھ ایساہے جواس کے شوہر نے اپنی حیات میں اسے دے دیاتھا متوفیہ کاکوئی رشتہ دار قریب وبعید نہیں ہے نہ ذوی الفروض میں نہ عصبات میں نہ ذوی الارحام میںغرضیکہ کسی قسم کاکوئی رشتہ دار نہیں ہےمتوفیہ کے شوہر کا ایك لڑکا پہلی عورت سے ہے اور وہ متوفیہ کے ترکہ کادعوی کرتاہے آیاترکہ ذاتی متوفیہ اورا س کے شوہر کا دیاہوا اس لڑکے کوملناچاہئے یانہیں اور اگر ملنا چاہئے تومتوفیہ کاذاتی وشوہری دونوں یاایکاوراگرنہ ملناچاہئے تووہ ترکہ کس کوملناچاہئے عملداری ہنود ہونے کی وجہ سے بیت المال بھی نہیں ہے جو اس میں جائے بصیغہ لاوارثی سرکار میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۰۰،€ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۹۵€
جاناچاہئے یامتوفیہ کے شوہر کالڑکا وارث ہوناچاہئے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں متوفیہ کاکل متروکہ خواہ اس کاذاتی مال ہو خواہ شوہرکادیاہوابعد ادائے دیون وانفاذ وصایا تمام وکمال فقرائے مسلمین کاحق ہے جوکسب سے عاجز ہوں اور ان کاکوئی کفالت کرنے والانہ ہو۔
فی ردالمحتار ترکۃ لاوارث لھا مصرفہ اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم فیعطی منہ نفقتھم و ادویتھم وکفنھم وعقل جنایتھم کما فی الزیلعی وغیرہ وحاصلہ ان مصرفہ العاجزون الفقراء اھ ملتقطا۔ ردالمحتار میں ہے کہ ایساترکہ جس کاکوئی وارث نہ ہو اس کا مصرف وہ لقیط ہے جومحتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کے لئے کوئی ولی نہ ہوں۔اس میں سے ان کوخرچہدوائیںکفن کے اخراجات اورجنایات کی دیتیں دی جائیں گی جیسا کہ زیلعی وغیرہ میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس کامصرف عاجز فقراء ہیں اھ التقاط(ت)
شوہرکا بیٹا اگرفقیر عاجزہے تووہ بھی اورفقرائے عاجزین کے مثل مستحق ہے ورنہ اس کا اصلا استحقاق نہیںنہ متوفیہ کے ذاتی مال میں نہ شوہر کے دئیے ہوئے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۱: ۳/شعبان المعظم ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مسمی حسین بخش کی دختر کانکاح ہوا اور اس نے اپنے شوہر کے یہاں کل ایك گھنٹہ قیام کیا اور بعدہ اپنے والد کے یہاں چلی آئی اور دوماہ بارہ یوم تك بعد نکاح کے زندہ رہی اور اس درمیان میں اپنے شوہر کے یہاں نہ گئی اور اپنے والدین کے یہاں مرگئی اس کے پاس زیور والدین کاتھا اورکچھ زیوراس کے شوہر نے چڑھایاتھا اب اس کاشوہر کل زیور کا دعوی کرتاہے اوراس کی تجہیزوتکفین اس کے والدین نے کیاس صورت میں ازروئے شرع شریف اس کاشوہر زیورپانے کا مستحق ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں متوفیہ کاکل متروکہ خواہ اس کاذاتی مال ہو خواہ شوہرکادیاہوابعد ادائے دیون وانفاذ وصایا تمام وکمال فقرائے مسلمین کاحق ہے جوکسب سے عاجز ہوں اور ان کاکوئی کفالت کرنے والانہ ہو۔
فی ردالمحتار ترکۃ لاوارث لھا مصرفہ اللقیط الفقیر والفقراء الذین لااولیاء لھم فیعطی منہ نفقتھم و ادویتھم وکفنھم وعقل جنایتھم کما فی الزیلعی وغیرہ وحاصلہ ان مصرفہ العاجزون الفقراء اھ ملتقطا۔ ردالمحتار میں ہے کہ ایساترکہ جس کاکوئی وارث نہ ہو اس کا مصرف وہ لقیط ہے جومحتاج ہو اور وہ فقراء ہیں جن کے لئے کوئی ولی نہ ہوں۔اس میں سے ان کوخرچہدوائیںکفن کے اخراجات اورجنایات کی دیتیں دی جائیں گی جیسا کہ زیلعی وغیرہ میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس کامصرف عاجز فقراء ہیں اھ التقاط(ت)
شوہرکا بیٹا اگرفقیر عاجزہے تووہ بھی اورفقرائے عاجزین کے مثل مستحق ہے ورنہ اس کا اصلا استحقاق نہیںنہ متوفیہ کے ذاتی مال میں نہ شوہر کے دئیے ہوئے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۱: ۳/شعبان المعظم ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مسمی حسین بخش کی دختر کانکاح ہوا اور اس نے اپنے شوہر کے یہاں کل ایك گھنٹہ قیام کیا اور بعدہ اپنے والد کے یہاں چلی آئی اور دوماہ بارہ یوم تك بعد نکاح کے زندہ رہی اور اس درمیان میں اپنے شوہر کے یہاں نہ گئی اور اپنے والدین کے یہاں مرگئی اس کے پاس زیور والدین کاتھا اورکچھ زیوراس کے شوہر نے چڑھایاتھا اب اس کاشوہر کل زیور کا دعوی کرتاہے اوراس کی تجہیزوتکفین اس کے والدین نے کیاس صورت میں ازروئے شرع شریف اس کاشوہر زیورپانے کا مستحق ہے یانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۸€
الجواب:
زیوربرتنکپڑے وغیرہ جوکچھ ماں باپ نے دختر کودیاتھا وہ سب ملك دخترہے اس میں سے بعدادائے دین اگرذمہ دختر ہونیز اجزائے وصیت اگردخترنے کی ہو ہرچیز کانصف شوہر کاحصہ ہے اورنصف ماں باپ کااورجو زیور شوہرنے چڑھایاتھا اس میں ان لوگوں کے رسم رواج کودیکھنا لازم ہے اگروہ چڑھاوا صرف اس نیت سے دیتے ہیں کہ دلہن پہنے مگردلہن کی ملك نہیں کردیتے بلکہ اپنی ہی ملك رکھتے ہیں جب توچڑھاوا شوہر یاشوہر کے ماں باپ کاہے جس نے چڑھایاہواوراگردلہن ہی کو اس کامالك کر دیتے ہیں تو وہ بھی مثل جہیزترکہ دختر ہے اسی حساب نصفانصف پرتقسیم ہوگا۔اور جس طرح شوہر آدھے ترکہ کامستحق ہے یونہی دختر کے والدین شوہر سے آدھا مہرلینے کے مستحق ہیں۔سائل نے جوبیان کیاکہ عورت صرف گھنٹہ بھرکیلئے دن میں مکان شوہر پرگئی تھی اسی دن اس کے بھائی کی شادی تھی جس میں بلالی گئی اور مکان تنہا میں زن وشوہر نہ رہنے پائے تو اس صورت میں بھی آدھا مہر کامل ہی والدین کوشوہرسے ملے گا کہ قبل خلوت طلاق ہوناسقوط نصف مہرہوتاہے۔موت اگرچہ قبل خلوت ہوکل مہرکو لازم کردیتی ہے۔
فی الدر یتأکد عند وطیئ اوخلوۃ صحت من الزوج او موت احدھما الخ۔ درمیں ہے کہ مہروطی کے وقت یاشوہر کی طرف سے خلوت صحیحہ کے وقت یازوجین میں سے کسی ایك کی موت کے وقت لازم ہوجاتاہے الخ۔(ت)
توبعد موت کل مہرلازم شدہ سے نصف حصہ زوج ہوا اورنصف والدین کوپہنچے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۲: ازکانپوربانس منڈی مرسلہ محمدعلیم الدین صاحب محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محمدیسین نے انتقال کیا اپنے وارثوں سے ایك ابن کریم بخش و بنت مریم وزوجہ عمرہ ووالدہ اخیافی وپانچ بھائی اور ایك بہن اخیافی چھوڑی ہنوز ورثہ تقسیم نہیں ہواتھا کہ اس میں سے زوجہ عمرہ نے انتقال کیا
زیوربرتنکپڑے وغیرہ جوکچھ ماں باپ نے دختر کودیاتھا وہ سب ملك دخترہے اس میں سے بعدادائے دین اگرذمہ دختر ہونیز اجزائے وصیت اگردخترنے کی ہو ہرچیز کانصف شوہر کاحصہ ہے اورنصف ماں باپ کااورجو زیور شوہرنے چڑھایاتھا اس میں ان لوگوں کے رسم رواج کودیکھنا لازم ہے اگروہ چڑھاوا صرف اس نیت سے دیتے ہیں کہ دلہن پہنے مگردلہن کی ملك نہیں کردیتے بلکہ اپنی ہی ملك رکھتے ہیں جب توچڑھاوا شوہر یاشوہر کے ماں باپ کاہے جس نے چڑھایاہواوراگردلہن ہی کو اس کامالك کر دیتے ہیں تو وہ بھی مثل جہیزترکہ دختر ہے اسی حساب نصفانصف پرتقسیم ہوگا۔اور جس طرح شوہر آدھے ترکہ کامستحق ہے یونہی دختر کے والدین شوہر سے آدھا مہرلینے کے مستحق ہیں۔سائل نے جوبیان کیاکہ عورت صرف گھنٹہ بھرکیلئے دن میں مکان شوہر پرگئی تھی اسی دن اس کے بھائی کی شادی تھی جس میں بلالی گئی اور مکان تنہا میں زن وشوہر نہ رہنے پائے تو اس صورت میں بھی آدھا مہر کامل ہی والدین کوشوہرسے ملے گا کہ قبل خلوت طلاق ہوناسقوط نصف مہرہوتاہے۔موت اگرچہ قبل خلوت ہوکل مہرکو لازم کردیتی ہے۔
فی الدر یتأکد عند وطیئ اوخلوۃ صحت من الزوج او موت احدھما الخ۔ درمیں ہے کہ مہروطی کے وقت یاشوہر کی طرف سے خلوت صحیحہ کے وقت یازوجین میں سے کسی ایك کی موت کے وقت لازم ہوجاتاہے الخ۔(ت)
توبعد موت کل مہرلازم شدہ سے نصف حصہ زوج ہوا اورنصف والدین کوپہنچے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۲: ازکانپوربانس منڈی مرسلہ محمدعلیم الدین صاحب محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محمدیسین نے انتقال کیا اپنے وارثوں سے ایك ابن کریم بخش و بنت مریم وزوجہ عمرہ ووالدہ اخیافی وپانچ بھائی اور ایك بہن اخیافی چھوڑی ہنوز ورثہ تقسیم نہیں ہواتھا کہ اس میں سے زوجہ عمرہ نے انتقال کیا
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۹۷€
اس نے ایك بھائی اخیافی اورایك بہن حقیقی اورایك بیٹا اورایك بیٹی حقیقی چھوڑیہنوز ورثہ تقسیم نہیں ہواتھا کہ ان میں سے ایك لڑکے کریم بخش نے انتقال کیا اس نے اپنے وارثوں میں سے ایك زوجہ مسماۃ آمنہ اوربہن حقیقی اورایك دادی اورپانچ چچے اخیافی اورایك پھوپھی اخیافی چھوڑے۔ازروئے شرع شریف کے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
عبارت سائل سے ظاہریہ ہے کہ اس کے نزدیك اخیافی سوتیلی کوکہتے ہیں یعنی جسے باپ کی طرف سے علاقہ ہو اورماں کی طرف سے جداولہذا اس نے اخیافیوالدہ کولکھا یعنی سوتیلی ماں۔اگربہن بھائی اخیافی میں بھی یہی مراد ہے یعنی وہ یسین کے سوتیلے بہن بھائی ہیں کہ باپ ایك اورماں جداتو اس صورت میں محمدیسین کاترکہ برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم دین و وصیت تیس سہام پر منقسم ہوکربیس سہام مریم اورپانچ آمنہ اور ایك یسین کے ہرسوتیلے بھائی کوملے گا۔صورت مناسخہ یہ ہے مگر اخیافی حقیقۃ ان بھائی بہن کوکہتے ہیں جوماں میں شریك ہوں اورباپ جدا۔اگریہ چھ شخص محمدیسین کے ایسے ہی بہن بھائی تھے تو ترکہ بشرائط مذکور صرف چھ سہام پرمنقسم ہوکرپانچ سہم مریم اورایك آمنہ کوملے گا۔محمدیسین کے ان بہن بھائیوں کاکچھ استحقاق نہیں لانھم من ذوی الارحام والرد مقدم علیھم(اس لئے کہ وہ ذوی الارحام ہیں اوررد ان پرمقدم ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
عبارت سائل سے ظاہریہ ہے کہ اس کے نزدیك اخیافی سوتیلی کوکہتے ہیں یعنی جسے باپ کی طرف سے علاقہ ہو اورماں کی طرف سے جداولہذا اس نے اخیافیوالدہ کولکھا یعنی سوتیلی ماں۔اگربہن بھائی اخیافی میں بھی یہی مراد ہے یعنی وہ یسین کے سوتیلے بہن بھائی ہیں کہ باپ ایك اورماں جداتو اس صورت میں محمدیسین کاترکہ برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم دین و وصیت تیس سہام پر منقسم ہوکربیس سہام مریم اورپانچ آمنہ اور ایك یسین کے ہرسوتیلے بھائی کوملے گا۔صورت مناسخہ یہ ہے مگر اخیافی حقیقۃ ان بھائی بہن کوکہتے ہیں جوماں میں شریك ہوں اورباپ جدا۔اگریہ چھ شخص محمدیسین کے ایسے ہی بہن بھائی تھے تو ترکہ بشرائط مذکور صرف چھ سہام پرمنقسم ہوکرپانچ سہم مریم اورایك آمنہ کوملے گا۔محمدیسین کے ان بہن بھائیوں کاکچھ استحقاق نہیں لانھم من ذوی الارحام والرد مقدم علیھم(اس لئے کہ وہ ذوی الارحام ہیں اوررد ان پرمقدم ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
رسالہ
تجلیۃ السلم فی مسائل من نصف العلم ۱۳۲۱ھ
(صلح کورشن کرنانصف العلم کے کچھ مسائل میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمد ﷲ الذی ادخلنا فی السلموعاملنا بالمن والعفو والحلموعلمنا من العلم ومن نصف العلموالصلوۃ والسلام علی الجواد الکریم الفائض علی عبیدہ من علم الفرائض و علی الہ وصحبہ واحبابہ وارثی علمہ وادابہ۔امین! اﷲ کے نام سے شروع جوبہت مہربان رحمت والا ہےتمام تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جس نے اسلام میں داخل فرمایا اور ہمارے ساتھ احساندرگزراورنرمی کامعاملہ فرمایا۔ اور ہمیں علم اورنصف علم(علم فرائض)سکھایا۔اوردرود وسلام ہو اس ذات پرجوسخیکرم فرمانے والااپنے غلاموں پرعلم میراث کافیضان فرمانے والا ہے اورآپ کی آل واصحاب اور دوستوں پرجوآپ کے علم اور آداب کے وارث ہیں۔الہی ! قبول فرما۔(ت)
امابعدیہ بعض مسائل فرائض ہیں جو فقیر کے سامنے پیش ہوئے اورابنائے زمان نے ان کی فہم میں اغلاط کئے۔مقصودازالہ اوہام واغلاط واراءت سواء الصراط ہےوباﷲ التوفیق۔
تجلیۃ السلم فی مسائل من نصف العلم ۱۳۲۱ھ
(صلح کورشن کرنانصف العلم کے کچھ مسائل میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمد ﷲ الذی ادخلنا فی السلموعاملنا بالمن والعفو والحلموعلمنا من العلم ومن نصف العلموالصلوۃ والسلام علی الجواد الکریم الفائض علی عبیدہ من علم الفرائض و علی الہ وصحبہ واحبابہ وارثی علمہ وادابہ۔امین! اﷲ کے نام سے شروع جوبہت مہربان رحمت والا ہےتمام تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جس نے اسلام میں داخل فرمایا اور ہمارے ساتھ احساندرگزراورنرمی کامعاملہ فرمایا۔ اور ہمیں علم اورنصف علم(علم فرائض)سکھایا۔اوردرود وسلام ہو اس ذات پرجوسخیکرم فرمانے والااپنے غلاموں پرعلم میراث کافیضان فرمانے والا ہے اورآپ کی آل واصحاب اور دوستوں پرجوآپ کے علم اور آداب کے وارث ہیں۔الہی ! قبول فرما۔(ت)
امابعدیہ بعض مسائل فرائض ہیں جو فقیر کے سامنے پیش ہوئے اورابنائے زمان نے ان کی فہم میں اغلاط کئے۔مقصودازالہ اوہام واغلاط واراءت سواء الصراط ہےوباﷲ التوفیق۔
فصل اول
مسئلہ ۹۳: ۱۴محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
اعلیحضرت مجددمائۃ الحاضرہ دام ظلکم العالیوقت قدم بوسی خادم نے مسئلہ پوچھاتھا کہ قمرعلی نے زوجہ لطیفن بیگم اورحقیقی بہن فاطمہ بیگم اور حقیقی بھتیجا اسدعلی اورمکان وزیور واثاث البیت مجموع تین ہزارروپے کا اوراکیس ہزار ے نوٹ چھوڑکرانتقال کیازوجہ نے مہرمعاف کردیاتھا اور وہ برضائے فاطمہ بیگم واسدعلی اپنے حصہ ترکہ کے عوض مکان وزیورواثاث البیت پرقابض رہیں اورباہم وارثان میں اقرارنامہ لکھاگیا کہ فاطمہ بیگم واسدعلی کا ان اشیاء میں اور لطیفن بیگم کازرنقد مذکور میں کوئی حصہ باقی نہ رہااب وہ نوٹ فاطمہ بیگم واسدعلی میں کس حساب سے تقسیم ہوں۔حضرت نے فرمایا کہ چودہ ہزار کے نوٹ فاطمہ بیگم اورسات ہزار کے نوٹ اسدعلی کوملیں۔چنانچہ خادم نے اسی کے مطابق تقسیم کرادئیےدوسرے روز اسدعلی آئے اور کہامیراحق زیادہ چاہئے مجھے اس میں ساڑھے تین ہزار روپے کانقصان ہےاورفتاوی مولوی عبدالحی صاحب جلداول مطبع علوی ص۱۰۱۱ کی عبارت پیش کی کہ اس کی رو سے روپیہ مجھ میں اورفاطمہ بیگم میں نصفا نصف تقسیم ہوناچاہئےاس کاخلاصہ عبارت ملاحظہ اقدس کے لئے حاضرکرتاہوں:
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں صورت کہ زید انتقال کرد ورثہ گزاشت یکے ہمشیرہ عینیہ مسمی بہ رابعہ وسہ برادر زادیاں مسمی فاطمہ وزینت وکلثوم ویك برادرزادیان مسمی فاطمہ و زینب وکلثوم ویك برادرزادہ حقیقی مسمے بکر ویك زوجہ مسماۃ خدیجہ کہ جملہ ورثہ مذکورہ صلبی او راحصہ ہشتم داد و راضی کردہ اند پس بقیہ متروکہ زید کہ چگونہ تقسیم باید ھو المصوب بعد تقدیم ماتقدم علی الارث ورفع موانع بقیہ ترکہ زیدتقسیم بدوسہم شدہ یك سہم ازاں بہمشیرہ حقیقی ویك سہم بہ برادر زادہ خواہد شد باقی ورثہ محجوب خواہند شد۔واﷲ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے یہ ورثاء چھوڑکرانتقال کیاایك حقیقی بہن جس کانام رابعہ ہے تین بھتیجیاں جن کے نام فاطمہزینب اورام کلثوم ہیںایك حقیقی بھائی جس کانام بکرہے اورایك بیوی جس کانام خدیجہ ہے۔تمام مذکورہ بالانسبی وارثوں نے بیوی کوآٹھواں حصہ دے کرراضی کردیاہے۔زیدکابقیہ ترکہ کیسے تقسیم ہونا چاہئےھوالمصوب۔جوچیزیں میراث پرمقدم ہیں ان کی تقدیم اور رکاوٹوں کے رفع کے بعد زیدکابقیہ ترکہ دوحصوں پر منقسم ہوگا۔اس میں سے
مسئلہ ۹۳: ۱۴محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
اعلیحضرت مجددمائۃ الحاضرہ دام ظلکم العالیوقت قدم بوسی خادم نے مسئلہ پوچھاتھا کہ قمرعلی نے زوجہ لطیفن بیگم اورحقیقی بہن فاطمہ بیگم اور حقیقی بھتیجا اسدعلی اورمکان وزیور واثاث البیت مجموع تین ہزارروپے کا اوراکیس ہزار ے نوٹ چھوڑکرانتقال کیازوجہ نے مہرمعاف کردیاتھا اور وہ برضائے فاطمہ بیگم واسدعلی اپنے حصہ ترکہ کے عوض مکان وزیورواثاث البیت پرقابض رہیں اورباہم وارثان میں اقرارنامہ لکھاگیا کہ فاطمہ بیگم واسدعلی کا ان اشیاء میں اور لطیفن بیگم کازرنقد مذکور میں کوئی حصہ باقی نہ رہااب وہ نوٹ فاطمہ بیگم واسدعلی میں کس حساب سے تقسیم ہوں۔حضرت نے فرمایا کہ چودہ ہزار کے نوٹ فاطمہ بیگم اورسات ہزار کے نوٹ اسدعلی کوملیں۔چنانچہ خادم نے اسی کے مطابق تقسیم کرادئیےدوسرے روز اسدعلی آئے اور کہامیراحق زیادہ چاہئے مجھے اس میں ساڑھے تین ہزار روپے کانقصان ہےاورفتاوی مولوی عبدالحی صاحب جلداول مطبع علوی ص۱۰۱۱ کی عبارت پیش کی کہ اس کی رو سے روپیہ مجھ میں اورفاطمہ بیگم میں نصفا نصف تقسیم ہوناچاہئےاس کاخلاصہ عبارت ملاحظہ اقدس کے لئے حاضرکرتاہوں:
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں صورت کہ زید انتقال کرد ورثہ گزاشت یکے ہمشیرہ عینیہ مسمی بہ رابعہ وسہ برادر زادیاں مسمی فاطمہ وزینت وکلثوم ویك برادرزادیان مسمی فاطمہ و زینب وکلثوم ویك برادرزادہ حقیقی مسمے بکر ویك زوجہ مسماۃ خدیجہ کہ جملہ ورثہ مذکورہ صلبی او راحصہ ہشتم داد و راضی کردہ اند پس بقیہ متروکہ زید کہ چگونہ تقسیم باید ھو المصوب بعد تقدیم ماتقدم علی الارث ورفع موانع بقیہ ترکہ زیدتقسیم بدوسہم شدہ یك سہم ازاں بہمشیرہ حقیقی ویك سہم بہ برادر زادہ خواہد شد باقی ورثہ محجوب خواہند شد۔واﷲ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے یہ ورثاء چھوڑکرانتقال کیاایك حقیقی بہن جس کانام رابعہ ہے تین بھتیجیاں جن کے نام فاطمہزینب اورام کلثوم ہیںایك حقیقی بھائی جس کانام بکرہے اورایك بیوی جس کانام خدیجہ ہے۔تمام مذکورہ بالانسبی وارثوں نے بیوی کوآٹھواں حصہ دے کرراضی کردیاہے۔زیدکابقیہ ترکہ کیسے تقسیم ہونا چاہئےھوالمصوب۔جوچیزیں میراث پرمقدم ہیں ان کی تقدیم اور رکاوٹوں کے رفع کے بعد زیدکابقیہ ترکہ دوحصوں پر منقسم ہوگا۔اس میں سے
اعلم بالصواب۔کتبہ ابوالحنات محمدعبدالحی عفاعنہ القوی۔ ایك حقیقی بہن اورایك بھتیجے کودیاجائے گا باقی ورثاء محروم ہوں گے۔اوراﷲ تعالی درستگی کوخوب جانتاہے۔اس کو محمد عبدالحی نے لکھاہے قوت والارب اس سے درگر فرمائے(ت)
جواب کی پوری عبارت عرض کی ہے یہ صورت بعینہ وہی صورت واقعہ ہےحضرت نے اگرچہ حکم زبانی فورا ارشاد فرمایاتھا مگر کتاب کاحوالہ مولوی عبدالحی صاحب نے بھی نہیں دیاہے لہذا امیدوارہوں کہ اس مسئلہ کی مفصل حقیقت نہایت عام فہم ارشاد ہو۔ ظلکم ممدودبادبندہ محمداحسان الحق عفی عنہ۔ ۱۴محرم شریف ۱۳۲۱ھ
الجواب:
مکرمی اکرمکم اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہحق وہی ہے جوفقیرنے عرض کیاتھامولوی صاحب سے سخت لغزش واقع ہوئی ہے اس صورت کو فقہ میں تخارج کہتے ہیں کہ ورثہ باہم بتراضی صلح کرلیں کہ فلاں وارث اپنے حصہ کے عوض فلاں شے لے کرجدا ہوجائےاس کاحاصل یہ نہیں ہوسکتا کہ گویا وہ وارث کہ جداہوگیا سرے سے معدوم تھا کہ بقیہ ترکہ کی تقسیم اس طرح ہو جو اس کے عدم کی حالت میں ہوتی اس نے ترکہ سے حصہ پایا ہے تو معدوم کیونکر قرارپاسکتاہے کہیں معدوم وقت موت المورث کوبھی ترکہ پہنچاہےبلکہ اس کاحاصل یہ ہے کہ ترکہ میں جتنے سہام کل ورثہ کے لئے تھے ان میں سے اس وارث نے اپنے سہام پالئے اب باقی میں باقی وارثوں کے سہام رہ گئے تو واجب ہے کہ وہ باقی ان بقیہ کے عــــــہ (اتنے اتنے) سہام ہی پرتقسیم ہو۔جس جس قدر انہیں اصل مسئلہ سے پہنچتے تھے یہاں کے مورث نے ایك زوجہ ایك بہن ایك بھتیجا چھوڑا مسئلہ چار سے ہوا ایك زوجہ دوبہن ایك بھتیجے کازوجہ ترکہ سے اتنامال لے کرجداہوگئی توچار میں سے اس کاایك اداہولیا باقی تین رہے جن میں دو بہن کے ہیں اورایك بھتیجے کاتولازم ہے کہ باقی مال یونہی تقسیم ہوبہن کودوبھتیجے کوایکنہ کہ دونوں کو نصفا نصف کہ اس تقدیر پربہن کاحصہ نصفباقی بعد فرض الزوجہ ہوجائے گا یعنی زوجہ کاحصہ نکال کر جوبچا اس کاآدھا حالانکہ نص قطعی قرآن عظیم سے بہن کاسہم نصف کل متروکہ تھا۔
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے شاید یہاں کچھ چھوٹ گیاہے اورغالبا عبارت یوں ہے:اس قدرسہام ہی پریا اتنے ہی سہام ہی ہےلہذاقوسین میں بنادیاہے۔ازہری غفرلہ
جواب کی پوری عبارت عرض کی ہے یہ صورت بعینہ وہی صورت واقعہ ہےحضرت نے اگرچہ حکم زبانی فورا ارشاد فرمایاتھا مگر کتاب کاحوالہ مولوی عبدالحی صاحب نے بھی نہیں دیاہے لہذا امیدوارہوں کہ اس مسئلہ کی مفصل حقیقت نہایت عام فہم ارشاد ہو۔ ظلکم ممدودبادبندہ محمداحسان الحق عفی عنہ۔ ۱۴محرم شریف ۱۳۲۱ھ
الجواب:
مکرمی اکرمکم اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہحق وہی ہے جوفقیرنے عرض کیاتھامولوی صاحب سے سخت لغزش واقع ہوئی ہے اس صورت کو فقہ میں تخارج کہتے ہیں کہ ورثہ باہم بتراضی صلح کرلیں کہ فلاں وارث اپنے حصہ کے عوض فلاں شے لے کرجدا ہوجائےاس کاحاصل یہ نہیں ہوسکتا کہ گویا وہ وارث کہ جداہوگیا سرے سے معدوم تھا کہ بقیہ ترکہ کی تقسیم اس طرح ہو جو اس کے عدم کی حالت میں ہوتی اس نے ترکہ سے حصہ پایا ہے تو معدوم کیونکر قرارپاسکتاہے کہیں معدوم وقت موت المورث کوبھی ترکہ پہنچاہےبلکہ اس کاحاصل یہ ہے کہ ترکہ میں جتنے سہام کل ورثہ کے لئے تھے ان میں سے اس وارث نے اپنے سہام پالئے اب باقی میں باقی وارثوں کے سہام رہ گئے تو واجب ہے کہ وہ باقی ان بقیہ کے عــــــہ (اتنے اتنے) سہام ہی پرتقسیم ہو۔جس جس قدر انہیں اصل مسئلہ سے پہنچتے تھے یہاں کے مورث نے ایك زوجہ ایك بہن ایك بھتیجا چھوڑا مسئلہ چار سے ہوا ایك زوجہ دوبہن ایك بھتیجے کازوجہ ترکہ سے اتنامال لے کرجداہوگئی توچار میں سے اس کاایك اداہولیا باقی تین رہے جن میں دو بہن کے ہیں اورایك بھتیجے کاتولازم ہے کہ باقی مال یونہی تقسیم ہوبہن کودوبھتیجے کوایکنہ کہ دونوں کو نصفا نصف کہ اس تقدیر پربہن کاحصہ نصفباقی بعد فرض الزوجہ ہوجائے گا یعنی زوجہ کاحصہ نکال کر جوبچا اس کاآدھا حالانکہ نص قطعی قرآن عظیم سے بہن کاسہم نصف کل متروکہ تھا۔
عــــــہ:اصل میں ایساہی ہے شاید یہاں کچھ چھوٹ گیاہے اورغالبا عبارت یوں ہے:اس قدرسہام ہی پریا اتنے ہی سہام ہی ہےلہذاقوسین میں بنادیاہے۔ازہری غفرلہ
قال اﷲ تعالی" ان امرؤا ہلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلہا نصف ما ترک " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگرکسی مرد کاانتقال ہوجو بے اولادہے اوراس کی ایك بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کاآدھا ہے۔ (ت)
لاجرم یہ سراسرغلط اورحسب تصریح علمائے کرام خلاف اجماع ہےزیادہ ایضاح چاہئے باآنکہ مسئلہ خود آفتاب کی طرح واضح ہے۔تویوں سمجھئے کہ یہاں تین صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ وہ مال ترکہ جوایك وارث لے کرجدا ہوا اس کے اصل استحقاق سے کم ہو جیسا یہاں واقع ہوا کہ زوجہ کاحصہ چہارم تھا اوروہ آٹھویں پرراضی ہوگئی۔
دوم:اس کے حق سے زیادہ ہومثلا صورت مذکورہ میں مکان وزیورواثاث البیت ۱۲ہزار کے ہوتے اوربارہ ہزار کے نوٹ توزوجہ کوبجائے ربع نصف مال پہنچتا۔
سوم:اس کے حق کے برابرہومثلا مکان وغیرہ چھ ہزار کے ہوتے اوراٹھارہ ہزار کے نوٹ۔
صورت ثالثہ میں واجب ہے کہ بقیہ ورثہ کومال اسی حساب سے پہنچے گا جوعدم تخارج کی حالت میں پہنچتا۔تخارج کا اثرصرف اس قدرہوگا جواعیان کے تقسیم کاہوتاہے کہ ہرایك اپناکامل حصہ بے کم وبیش پاتاہے حصے کہ ہرشیئ میں مشاع تھے فقط جداہوجاتے ہیں۔
صورت اولی میں جبکہ باقی میع ورثہ کے ساتھ اس وارث نے مصالحہ کیا اور وہ مال جس میں ہرایك کاحق تھا تنہاخود لیا اوراپنے حصہ سے کم پرراضی ہوا توجوکچھ اس کے حصے کاباقی رہاواجب ہے کہ ان سب وارثوں کوپہنچے نہ کہ صرف ایك اس زیادت کامالك ہوجائے دوسرامحروم کیاجائے کہ یہ محض ظلم ونا انصافی ہوگا اورپہنچنا بھی ضرورہے کہ حصہ رسد ہویعنی ہرایك کواس حساب سے بڑھے جواصل ترکہ میں اس کاحق تھا کہ وہ شیئ جو وارث مذکورلے کرجداہوگیاہے اس میں ہرایك کاحصہ اسی حساب سے تھا۔
صورت ثانیہ میں سب بقیہ ورثاء اس وارث کوزیادہ دینے پرراضی ہوئے ہیں تو واجب ہے کہ وہ زیادت ہرایك کے حق سے حصہ رسد لی جائے نہ یہ کہ سارا بارایك وارث پرڈال دیں حالانکہ ان میں سب کے حصے تھے اورسب راضی ہوئے تھے۔یہ باتیں سب ایسی ہی بدیہی ہیں
لاجرم یہ سراسرغلط اورحسب تصریح علمائے کرام خلاف اجماع ہےزیادہ ایضاح چاہئے باآنکہ مسئلہ خود آفتاب کی طرح واضح ہے۔تویوں سمجھئے کہ یہاں تین صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ وہ مال ترکہ جوایك وارث لے کرجدا ہوا اس کے اصل استحقاق سے کم ہو جیسا یہاں واقع ہوا کہ زوجہ کاحصہ چہارم تھا اوروہ آٹھویں پرراضی ہوگئی۔
دوم:اس کے حق سے زیادہ ہومثلا صورت مذکورہ میں مکان وزیورواثاث البیت ۱۲ہزار کے ہوتے اوربارہ ہزار کے نوٹ توزوجہ کوبجائے ربع نصف مال پہنچتا۔
سوم:اس کے حق کے برابرہومثلا مکان وغیرہ چھ ہزار کے ہوتے اوراٹھارہ ہزار کے نوٹ۔
صورت ثالثہ میں واجب ہے کہ بقیہ ورثہ کومال اسی حساب سے پہنچے گا جوعدم تخارج کی حالت میں پہنچتا۔تخارج کا اثرصرف اس قدرہوگا جواعیان کے تقسیم کاہوتاہے کہ ہرایك اپناکامل حصہ بے کم وبیش پاتاہے حصے کہ ہرشیئ میں مشاع تھے فقط جداہوجاتے ہیں۔
صورت اولی میں جبکہ باقی میع ورثہ کے ساتھ اس وارث نے مصالحہ کیا اور وہ مال جس میں ہرایك کاحق تھا تنہاخود لیا اوراپنے حصہ سے کم پرراضی ہوا توجوکچھ اس کے حصے کاباقی رہاواجب ہے کہ ان سب وارثوں کوپہنچے نہ کہ صرف ایك اس زیادت کامالك ہوجائے دوسرامحروم کیاجائے کہ یہ محض ظلم ونا انصافی ہوگا اورپہنچنا بھی ضرورہے کہ حصہ رسد ہویعنی ہرایك کواس حساب سے بڑھے جواصل ترکہ میں اس کاحق تھا کہ وہ شیئ جو وارث مذکورلے کرجداہوگیاہے اس میں ہرایك کاحصہ اسی حساب سے تھا۔
صورت ثانیہ میں سب بقیہ ورثاء اس وارث کوزیادہ دینے پرراضی ہوئے ہیں تو واجب ہے کہ وہ زیادت ہرایك کے حق سے حصہ رسد لی جائے نہ یہ کہ سارا بارایك وارث پرڈال دیں حالانکہ ان میں سب کے حصے تھے اورسب راضی ہوئے تھے۔یہ باتیں سب ایسی ہی بدیہی ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۷۶€
جنہیں ہرعاقل ادنی نظرسے سمجھ سکتاہے۔فقیرنے جوحکم گزارش کیا اس میں ہرصورت پریہ میزان عدل اپنی پوری استقامت پررہے گیصورت اولی میں جبکہ زوجہ کاحق چھ ہزارتھے اوروہ تین ہزار پرراضی ہوگئی توباقی تین ہزار فاطمہ بیگم واسدعلی کوان کے حصص کے قدرپہنچنے واجب ہیں فاطمہ بیگم کاحصہ بارہ۱۲ ہزاراوراسدعلی کاچھ ہزار تھا یعنی فاطمہ بیگم کا اس سے دوگنااور اسی حساب سے زیورومکان واثاث البیت میں ان دونوں نے اپناحصہ زوجہ کے لئے چھوڑاہے۔فاطمہ بیگم کے دوحصے اسے ملے اور اسدعلی کاایك توضرور ہے کہ معاوضہ کے تین ہزار سے بھی فاطمہ بیگم کو دو۲ ہزارملیں اوراسدعلی کوہزار کہ ان کے اصل حصوں سے مل کر فاطمہ بیگم کے چودہ۱۴ ہزار اور اسدعلی کے سات۷ ہزار ہوجائیں۔صورت ثانیہ میں زوجہ نے چھ۶ ہزار اپنے حق سے زائد پائے۔بہن بھتیجا دونوں اس زیادت پرراضی ہیں توہرایك کے حصہ سے حصہ رسد یہ زیادت نکالنی لازم۔بہن کے بارہ۱۲ ہزار سے چارہزار نکالیںاوربھتیجے کے چھ۶ ہزار سے دو۲ ہزار۔اب بقیہ بارہ۱۲ ہزار میں بہن کے آٹھ ہزاربھتیجے کے چارہزار رہے۔ اور وہی نسبت دو۲ اورایك کی آگئی۔صورت ثالثہ توخود ایسی ظاہرہے کہ حاجت اظہارنہیںعورت کوچھ۶ ہی ہزارپہنچتے ہیں جو اس کاحق تھے توبہن بھتیجے کسی کے حق میں ایك حبہ کم نہ ہوناچاہئے نہ زائدلیکن وہ طریقہ کہ مولوی صاحب نے اختیار کیا اس پرکسی صورت میں ہرگز عدل کانام ونشان نہ رہے گا۔پہلی صورت میں عورت کے تین۳ ہزارنکل کراکیس۲۱ ہزار فاطمہ بیگم و اسدعلی پرنصفا نصف سے دونوں کوساڑھے دس دس ہزارپہنچے اورچار۴سخت شناعتیں لازم آئیں:
(۱)تین ہزار کہ حق زوجہ سے چھوٹے تھے دونوں کوملنے چاہئے تھے بہن کو ان سے ایك حبہ نہ پہنچا۔
(۲)اگرنہ پہنچا تھا تو اس کا اپنا اصل حصہ کہ بارہ۱۲ ہزار تھے وہ توملتاڈیڑھ ہزار اس میں سے بھی کترگئےیہ کس قصور کاجرمانہ تھا۔
(۳)بھتیجا تنہا اس زیادت کامستحق نہ تھا حالانکہ صرف اس نے پائی۔
(۴)بالفرض اسی کوملتی توعورت نے صرف تین ہی ہزار توچھوڑے تھے بھتیجے کے اصل حصے چھ۶ ہزار میں مل کرنوہزار ہوتے یہ پندرہ سو اورکس کے گھرآئے۔
دوسری صورت میں عورت کو اس کے حق سے چھ ہزار زیادہ پہنچ کربقیہ بارہ ہزار بالمناصفہ بنے اور ویسی ہی شناعتیں پیش ائیں۔ بہن بھتیجا دونوں اپنے نقص حصص پرراضی ہوئے تھے مگر
(۱)تین ہزار کہ حق زوجہ سے چھوٹے تھے دونوں کوملنے چاہئے تھے بہن کو ان سے ایك حبہ نہ پہنچا۔
(۲)اگرنہ پہنچا تھا تو اس کا اپنا اصل حصہ کہ بارہ۱۲ ہزار تھے وہ توملتاڈیڑھ ہزار اس میں سے بھی کترگئےیہ کس قصور کاجرمانہ تھا۔
(۳)بھتیجا تنہا اس زیادت کامستحق نہ تھا حالانکہ صرف اس نے پائی۔
(۴)بالفرض اسی کوملتی توعورت نے صرف تین ہی ہزار توچھوڑے تھے بھتیجے کے اصل حصے چھ۶ ہزار میں مل کرنوہزار ہوتے یہ پندرہ سو اورکس کے گھرآئے۔
دوسری صورت میں عورت کو اس کے حق سے چھ ہزار زیادہ پہنچ کربقیہ بارہ ہزار بالمناصفہ بنے اور ویسی ہی شناعتیں پیش ائیں۔ بہن بھتیجا دونوں اپنے نقص حصص پرراضی ہوئے تھے مگر
پورانزلہ بہن پرگرا۔کامل چھ۶ ہزاراسی کے سہم سے اڑگئے اوربھتیجے نے اپناپوراحصہ چھ ہزار پالیا۔زیورمکان وغیرہا متاع میں بہن کے بھی دوحصے تھے اورنوٹوں میں عورت کاحق تھا بہن نے متاع میں اپناحصہ چھوڑا اورنوٹوں میں معاوضہ ایك حبہ بنایا اس کاحصہ مفت کاتھا الی غیرذلك مما یخاف ولایخاف الانصاف(وغیرہ ذالك جس کاڈرہے اور ڈرنہیں مگرانصاف کا۔ت)
تیسری صورت سب سے روشن ترہے کسی وارث نے اپنے حصہ سے کچھ نہ چھوڑاعورت کوجوچھ ہزارچاہئیں تھے بے کم وبیش اتنے ہی ملے اب وہ کون سا جرم ہے جس کے سبب فاطمہ بیگم کاحق ایك چہارم کااڑگیا اوروہ کون سی خدمت ہے جس کے صلہ میں اسدعلی نے اپنے حق سے دیوڑھاپالیا۔اگرنوٹ ومتاع کی تبدیلی نہ کرتے توفاطمہ بیگم بارہ ہزار پاتی اوراسدعلی ولطیفن چھ چھ ہزارصرف اس تبدیلی نے وہ کایاپلٹ کی کہ لطیفن کے چھ ہزار نکل کرفاطمہ کے بارہ ہزار سے نوہزاررہ گئے اوراسدعلی کے چھ ہزار سے نوہزار ہوگئے۔اس واضح روشن بدیہی بیان کے بعد کسی عبارت کی بھی حاجت نہ تھی مگرزیادت اطمینان عوام کے لئے ایسی کتاب کی صریح تصریح حاضرجو علم فرائض کی سب سے پہلی تعلیم کافی و وافی ومکمل اورہرمدرسے کے مبتدی طلبہ میں بھی مشہور ومعروف ومتداول ہے یعنی متن اما م سراج الدین وشرح علامہ سید شریف قدس سرہما اللطیف فرماتے ہیں:
(من صالح من الورثۃ علی شیئ معلوم من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح)ای صحح المسئلۃ مع وجود المصالح بین الورثۃ ثم اطرح سھامہ من التصحیح(ثم اقسم باقی الترکۃ)ای مابقی منھا بعد ما اخذہ المصالح(علی سھام الباقین)من التصحیح (کزوج وام وعم) فالمسئلۃ جس وارث نے ترکہ سے کوئی معین شیئ لے کر دیگرورثاء سے مصالحت کرلی تواس کاحصہ تصحیح میں سے نکال دو یعنی اس کووارثوں کے درمیان موجود تصورکرکے مسئلہ کی تصحیح کردو اورپھرتصحیح میں سے اس کے حصے نکال دو۔پھرصلح کرنے والے نے جب معین شیئ لے لی توتصحیح میں سے جوباقی بچا اس کودیگرورثاء کے حصوں پرتقسیم کردو جیسے کوئی خاتون اپنا شوہرماں اور چچا چھوڑکرفوت ہوگئی تومسئلہ خاوند کی موجودگی میں چھ سے
تیسری صورت سب سے روشن ترہے کسی وارث نے اپنے حصہ سے کچھ نہ چھوڑاعورت کوجوچھ ہزارچاہئیں تھے بے کم وبیش اتنے ہی ملے اب وہ کون سا جرم ہے جس کے سبب فاطمہ بیگم کاحق ایك چہارم کااڑگیا اوروہ کون سی خدمت ہے جس کے صلہ میں اسدعلی نے اپنے حق سے دیوڑھاپالیا۔اگرنوٹ ومتاع کی تبدیلی نہ کرتے توفاطمہ بیگم بارہ ہزار پاتی اوراسدعلی ولطیفن چھ چھ ہزارصرف اس تبدیلی نے وہ کایاپلٹ کی کہ لطیفن کے چھ ہزار نکل کرفاطمہ کے بارہ ہزار سے نوہزاررہ گئے اوراسدعلی کے چھ ہزار سے نوہزار ہوگئے۔اس واضح روشن بدیہی بیان کے بعد کسی عبارت کی بھی حاجت نہ تھی مگرزیادت اطمینان عوام کے لئے ایسی کتاب کی صریح تصریح حاضرجو علم فرائض کی سب سے پہلی تعلیم کافی و وافی ومکمل اورہرمدرسے کے مبتدی طلبہ میں بھی مشہور ومعروف ومتداول ہے یعنی متن اما م سراج الدین وشرح علامہ سید شریف قدس سرہما اللطیف فرماتے ہیں:
(من صالح من الورثۃ علی شیئ معلوم من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح)ای صحح المسئلۃ مع وجود المصالح بین الورثۃ ثم اطرح سھامہ من التصحیح(ثم اقسم باقی الترکۃ)ای مابقی منھا بعد ما اخذہ المصالح(علی سھام الباقین)من التصحیح (کزوج وام وعم) فالمسئلۃ جس وارث نے ترکہ سے کوئی معین شیئ لے کر دیگرورثاء سے مصالحت کرلی تواس کاحصہ تصحیح میں سے نکال دو یعنی اس کووارثوں کے درمیان موجود تصورکرکے مسئلہ کی تصحیح کردو اورپھرتصحیح میں سے اس کے حصے نکال دو۔پھرصلح کرنے والے نے جب معین شیئ لے لی توتصحیح میں سے جوباقی بچا اس کودیگرورثاء کے حصوں پرتقسیم کردو جیسے کوئی خاتون اپنا شوہرماں اور چچا چھوڑکرفوت ہوگئی تومسئلہ خاوند کی موجودگی میں چھ سے
مع وجود الزوج من ستۃ وھی مستقیمۃ علی الورثۃ للزوج عــــــہ۱ ثلثۃ وللام السھمان عــــــہ۲ وللعم سھم عــــــہ۳ (فصالح الزوج)من نصیبہ الذی ھو النصف (علی مافی ذمتہ للزوجۃ من المہر وخرج من البین فیقسم باقی الترکۃ)وھو ماعدالمھر(بین الام والعم اثلاثا بقدر سھامھما من التصحیح(وحینئذ یکون سھمان)من الباقی للام و سھم واحد للعم کما کان کذلك عــــــہ۴ فی سھامھما من التصحیح فانقلت ھلا جعلت الزوج بعد المصالحۃ و اخذہ المھر وخروجہ من البین بمنزلۃ المعدوم وای فائدۃ فی جعلہ داخلا فی تصحیح المسئلۃ مع انہ لایاخذ شیئا وراء ما اخذہ قلت فائدتہ انالوجعلناہ کان لم یکن وجعلنا الترکۃ ماوراء بنے گا جوکہ ورثاء پربرابرتقسیم ہوجائے گاخاوند کوتینماں کودو اورچچا کوایك حصہ ملے گا۔چونکہ شوہر اپنے ذمہ مہر کے بدلے میں ترکہ میں سے اپناحصہ جوکہ نصف ہے چھوڑنے پرصلح کرکے وارثوں کے درمیان سے خارج ہوگیا لہذاباقی ترکہ جوکہ مہر کے علاوہ ہے ماں اورچچا کے درمیان تصحیح میں سے ان کے حصوں کے مطابق تین پرتقسیم ہوگا۔اوراس صورت میں مہر کونکال کرباقی ترکہ میں سے دو حصے ماں کو اورایك حصہ چچاکوملے گا۔جیسا کہ یہی حال تصحیح سے حاصل شدہ ان دونوں کے حصوں میں تھا اگرتوکہے کہ صلح کے بعد اور شوہر کے مہر کو لے لینے اور وارثوں کے درمیان سے نکل جانے کے بعد تم نے شوہر کوبمنزلہ معدوم کے کیوں قرارنہیں دیااس کومسئلہ کی تصحیح میں داخل کرنے کاکیافائدہ ہے باوجودیکہ وہ اس کے ماسوا کچھ نہیں لیتا جوکچھ وہ لے چکاہے میں کہوں گا اس کافائدہ یہ ہے اگر ہم اس کوکالعدم قراردیتے اورمہر کے ماسوا کو
عــــــہ ۱: فی النسخۃ التی بایدینا وللزوج منہا سہام ثلثۃ۔
عــــــہ ۲:السھمان کذا فی نسختنا۔
عــــــہ ۳:وللعم الیك قوموسہم کذا عندنا۔
عــــــہ ۴: کماکان الحال کذلك کذا بنسختنا۔
عــــــہ ۱: فی النسخۃ التی بایدینا وللزوج منہا سہام ثلثۃ۔
عــــــہ ۲:السھمان کذا فی نسختنا۔
عــــــہ ۳:وللعم الیك قوموسہم کذا عندنا۔
عــــــہ ۴: کماکان الحال کذلك کذا بنسختنا۔
المھر لانقلب فرض الام من ثلث اصل المال الی ثلث مابقی اذحینئذ یقسم الباقی بینھما اثلاثا فیکون للام سھم وللعم سھمان وھو خلاف الاجماع اذ حقہا ثلث الاصل واذا ادخلنا الزوج فی اصل المسئلۃ کان للام سھمان من الستۃ وللعم سھم واحد فیقسم الباقی بینھما علی ھذا الطریق فتکون مستوفیۃ حقہا من المیراث ۱ھ واﷲ تعالی اعلم۔واعلم ان ھھنا طریقہ اخری اخذبھا بعض المشائخ رحمھم اﷲ تعالی لاتعلق لھا عندی بما نحن فیہ وان فرض فانما یکون علیھا فی الصورۃ المسئول عنہا لفاطمۃ ثلثۃ عشر الفا ومائۃ وخمسۃ وعشرون ولاسد علی سبعۃ الاف وثمان مائۃ وخمسۃ وسبعون لم نخترھا لان العمل والفتیا بالراجح لاسیما المذھب وانت تعلم ان ھذہ ترکہ بناتے توماں کافرضی حصہ مال کی تہائی سے باقی مال (مہرنکالنے کے بعد)کی تہائی کی طرف منتقل ہوجاتاکیونکہ اس صورت میں باقی مال ان دونوں(ماں اورچچا)کے درمیان تین حصوں میں تقسیم ہوتا جس میں سے ماں کو ایك حصہ اورچچا کودوحصے ملتے اور وہ اجماع کے خلاف ہے اس لئے کہ ماں کاحق اصل ترکہ کا ایك تہائی ہے۔اورجب ہم نے شوہر کواس مسئلہ میں داخل رکھا توماں کے لئے چھ میں سے دوجبکہ چچا کے لئے ایك حصہ ہوا۔چنانچہ مہرنکالنے کے بعد باقی بچ جانے والا مال ان دونوں کے درمیان اسی طریقے پر منقسم ہوگاتو اس طرح ماں میراث میں سے اپنا پوراحق وصول کرے گی۱ھ اور اﷲ تعالی خوب جانتاہےتو جان لے کہ یہاں ایك اورطریقہ جس کو بعض مشائخ رحمہم اﷲ تعالی نے اختیارکیامیرے نزدیك زیربحث مسئلہ سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔اگرہم اس کو فرض کرلیں تو اس تقدیر پر صورت مسئولہ میں فاطمہ کے لئے تیرہ ہزار ایك سوپچیس اوراسد علی کے لئے سات ہزارآٹھ سوپچھترحصے ہوں گے۔ہم نے اس کو اختیارنہیں کیا کیونکہ عمل اورفتوی قول راجح پرہوتاہے خصوصا جبکہ وہ مذہب ہو۔اورتوجانتاہے کہ یہ طریقہ
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ فصل فی التخارج ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور۷۳و۷۴€
ایضا لاتوافق ماسبلکہ المجیب اللکنوی فہو خلاف الاجماع قطعا وباﷲ العظمۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ بھی اس طریقے کے موافق نہیں جس پرمجیب لکھنوی چلے ہیں تو وہ قطعی طورپر خلاف اجماع ہوا۔اوراﷲ تعالی ہی سے عظمت حاصل ہوتی ہے اور اﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتاہے۔ (ت)
فصل دوم
مسئلہ ۹۴: ازریاست رامپور مرسلہ مولوی وحیداﷲ صاحب نائب پیشکارکچہری دیوانی ۲۵ربیع الاول ۱۳۲۱ھ
حضرت مطاع ومحترم مدظلہم العالی تحیہ تسلیم بالوف تکریم مشکلات کاحل آنحضرت کی ذات مجمع الکمالات کے ساتھ مخصوص ہے۔ناچارگزارش کیاجاتا ہے سراجی وغیرہا تمام کتابہائے فرائض وفقہ(جہاں تك حقیر نے دیکھیں)میں اخوات عینیہ وعلاتیہ کوبنات اورفقط بنات الابن کے ساتھ میں عصبہ مع الغیرلکھاہے وان سفل سے سفلیات کوداخل نہیں کیاگیاہے جیسا اور مواقع مثلا تفصیل اب میں ہے وابنۃ الابن کے بعد وان سفلت کوبھی شامل کرلیا اس سے خیال ہوتاہے سفلیات کی معیت عصوبت اخوات کی علت نہیں ہے چنانچہ شارح بسیط رحمہ اﷲ کایہ قول ہے:
اقتصرعلی بنات الابن ولم یقل وان سفلن وکذا فی غیرہ من کتب الفرائض فدل ذلك علی ان السفالۃ غیر معتبرۃ فی صیر ورتھن عصبۃ انتھی۔ مصنف نے پوتیوں پراکتفاء فرمایا اوریوں نہیں کہا اگرچہ نیچے تك ہوں اورایسا ہی علم فرائض کی دیگر کتابوں میں ہے۔یہ اس بات پردلالت کرتاہے کہ(پڑپوتیاں وغیرہ یعنی)جوبھی پوتیوں کے نیچے ہوں وہ بہنوں کوعصبہ بتانے میں معتبرنہیں ہیں انتہی۔(ت)
اس خیال کی تائید کرتاہے اطمینان کی غرض سے حضرت سے رجوع کیاجاتاہے کہ اس کو صحیح خیال کرکے سوالات میں اس پر عملدرآمدکیاجائے یاکیا امید ہے کہ آنحضرت کے عالمتاب
فصل دوم
مسئلہ ۹۴: ازریاست رامپور مرسلہ مولوی وحیداﷲ صاحب نائب پیشکارکچہری دیوانی ۲۵ربیع الاول ۱۳۲۱ھ
حضرت مطاع ومحترم مدظلہم العالی تحیہ تسلیم بالوف تکریم مشکلات کاحل آنحضرت کی ذات مجمع الکمالات کے ساتھ مخصوص ہے۔ناچارگزارش کیاجاتا ہے سراجی وغیرہا تمام کتابہائے فرائض وفقہ(جہاں تك حقیر نے دیکھیں)میں اخوات عینیہ وعلاتیہ کوبنات اورفقط بنات الابن کے ساتھ میں عصبہ مع الغیرلکھاہے وان سفل سے سفلیات کوداخل نہیں کیاگیاہے جیسا اور مواقع مثلا تفصیل اب میں ہے وابنۃ الابن کے بعد وان سفلت کوبھی شامل کرلیا اس سے خیال ہوتاہے سفلیات کی معیت عصوبت اخوات کی علت نہیں ہے چنانچہ شارح بسیط رحمہ اﷲ کایہ قول ہے:
اقتصرعلی بنات الابن ولم یقل وان سفلن وکذا فی غیرہ من کتب الفرائض فدل ذلك علی ان السفالۃ غیر معتبرۃ فی صیر ورتھن عصبۃ انتھی۔ مصنف نے پوتیوں پراکتفاء فرمایا اوریوں نہیں کہا اگرچہ نیچے تك ہوں اورایسا ہی علم فرائض کی دیگر کتابوں میں ہے۔یہ اس بات پردلالت کرتاہے کہ(پڑپوتیاں وغیرہ یعنی)جوبھی پوتیوں کے نیچے ہوں وہ بہنوں کوعصبہ بتانے میں معتبرنہیں ہیں انتہی۔(ت)
اس خیال کی تائید کرتاہے اطمینان کی غرض سے حضرت سے رجوع کیاجاتاہے کہ اس کو صحیح خیال کرکے سوالات میں اس پر عملدرآمدکیاجائے یاکیا امید ہے کہ آنحضرت کے عالمتاب
آفتاب فیض سے یہ حقیرذرہ بھی بہرہ یاب ہوگا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
مولانا المکرم اکرم اﷲ تعالی بعداہدائے ہدیہ تحفہ سینہ سنیہ ملتمس عصوبت اخوات کے لئے معیت بنت ابن الابن وبنت ابن ابن الابن وان سفلن قطعا کافی ہے۔اورشرح بسیط کابیان صریح لغزش بنت الابن حقیقۃ لغۃ یاعرفا شائعا بنت ضرور ابن الابن وغیرہا جملہ سفلیات کومتناول ہے تصریح وان سفلت محض ایضاح وتاکید عموم ہےنہ ادخال مالم یدخلتوعدم ذکرہرگزذکرعدم نہیں ہوسکتا ولہذا صدہا جگہ علماء نے وہاں کے عموم یقینا ہے لفظ سفول ذکرنہ فرمایا۔کنزالدقائق میں ہے:
للاب السدس مع الولد او ولد الابن ۔ اولاد یابیٹے کی اولاد کی موجودگی میں باپ کے لئے چھٹا حصہ ہوتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
ولدالابن کولدہ عن دعمدہ ۔ میت کے بیٹے کی اولاد بیٹے کی عدم موجودگی میں خودمیت کی اپنی اولاد کی طرح ہے۔(ت)
ملتقی الابحرمیں ہے:
ومن النساء سبع الام والجدۃ والبنت وبنت الابن والاخت الخ۔ اورعورتوں میں سے سات ہیں ماںجدہبیٹیپوتی اوربہن الخ(ت)
اسی میں ہے:
النصف للبنت ولبنت الابن عند عدمھا ۔ ترکہ کانصف بیٹی کے لئے ہے اور بیٹی کی عدم موجودگی میں پوتی کے لئے(ت)
الجواب:
مولانا المکرم اکرم اﷲ تعالی بعداہدائے ہدیہ تحفہ سینہ سنیہ ملتمس عصوبت اخوات کے لئے معیت بنت ابن الابن وبنت ابن ابن الابن وان سفلن قطعا کافی ہے۔اورشرح بسیط کابیان صریح لغزش بنت الابن حقیقۃ لغۃ یاعرفا شائعا بنت ضرور ابن الابن وغیرہا جملہ سفلیات کومتناول ہے تصریح وان سفلت محض ایضاح وتاکید عموم ہےنہ ادخال مالم یدخلتوعدم ذکرہرگزذکرعدم نہیں ہوسکتا ولہذا صدہا جگہ علماء نے وہاں کے عموم یقینا ہے لفظ سفول ذکرنہ فرمایا۔کنزالدقائق میں ہے:
للاب السدس مع الولد او ولد الابن ۔ اولاد یابیٹے کی اولاد کی موجودگی میں باپ کے لئے چھٹا حصہ ہوتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
ولدالابن کولدہ عن دعمدہ ۔ میت کے بیٹے کی اولاد بیٹے کی عدم موجودگی میں خودمیت کی اپنی اولاد کی طرح ہے۔(ت)
ملتقی الابحرمیں ہے:
ومن النساء سبع الام والجدۃ والبنت وبنت الابن والاخت الخ۔ اورعورتوں میں سے سات ہیں ماںجدہبیٹیپوتی اوربہن الخ(ت)
اسی میں ہے:
النصف للبنت ولبنت الابن عند عدمھا ۔ ترکہ کانصف بیٹی کے لئے ہے اور بیٹی کی عدم موجودگی میں پوتی کے لئے(ت)
حوالہ / References
کنزالدقائق کتاب الفرائض ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۳€۳
کنزالدقائق کتاب الفرائض ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۳€۴
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۵€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۵€
کنزالدقائق کتاب الفرائض ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۳€۴
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۵€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۵€
اسی میں ہے:
السدس للام عند وجود الولد او ولد الابن ولاب مع الولد او ولدالابن ولبنت الابن وان تعددت مع الواحدۃ من بنات الصلب ۔(ملتقطا) اولاد یابیٹے کی اولاد کی موجودگی میں ماں کے لئے چھٹاحصہ ہوگااورباپ کے لئے چھٹاحصہ ہوگا جبکہ میت کی اولاد یا اس کے بیٹے کی اولاد موجودہواورحقیقی بیٹی کی موجودگی میں پوتی کے لئے چھٹاحصہ ہوگا اگرچہ پوتیاں متعدد ہوجائیں۔(ت)
تنویرالابصار میں ہے:
للاب والجد السدس مع ولد او ولدابن ۔ میت کے باپ اوراس کے دادا کوچھٹاحصہ ملے گا جبکہ میت کی اپنی یا اس کے بیٹے کی اولاد موجودہو۔(ت)
درمختارمیں ہے:
والتعصیب مع البنت اوبنت عــــــہ الابن ۔ میت کی بیٹی یاپوتی کی موجودگی میں بہن کو عصبہ بنانا۔(ت)
اسی میں ہے:
ممن فرضہ النصف وھو خمسۃ البنت وبنت الابن والاخت لابوین ولاخت لأب والزوج ۔ جن کافرضی حصہ ترکہ کانصف ہوتاہے اور وہ پانچ ہیں بیٹی پوتیحقیقی بہنعلاتی بہن اورخاوند۔(ت)
سراجیہ میں ہے:
بنات الابن کبنات الصلب و پوتیاں حقیقی بیٹوں کی طرح ہیں اور ان کے
عــــــہ:ھذا الضم ملتقطا ملخصا۱۲ ازہری غفرلہ
السدس للام عند وجود الولد او ولد الابن ولاب مع الولد او ولدالابن ولبنت الابن وان تعددت مع الواحدۃ من بنات الصلب ۔(ملتقطا) اولاد یابیٹے کی اولاد کی موجودگی میں ماں کے لئے چھٹاحصہ ہوگااورباپ کے لئے چھٹاحصہ ہوگا جبکہ میت کی اولاد یا اس کے بیٹے کی اولاد موجودہواورحقیقی بیٹی کی موجودگی میں پوتی کے لئے چھٹاحصہ ہوگا اگرچہ پوتیاں متعدد ہوجائیں۔(ت)
تنویرالابصار میں ہے:
للاب والجد السدس مع ولد او ولدابن ۔ میت کے باپ اوراس کے دادا کوچھٹاحصہ ملے گا جبکہ میت کی اپنی یا اس کے بیٹے کی اولاد موجودہو۔(ت)
درمختارمیں ہے:
والتعصیب مع البنت اوبنت عــــــہ الابن ۔ میت کی بیٹی یاپوتی کی موجودگی میں بہن کو عصبہ بنانا۔(ت)
اسی میں ہے:
ممن فرضہ النصف وھو خمسۃ البنت وبنت الابن والاخت لابوین ولاخت لأب والزوج ۔ جن کافرضی حصہ ترکہ کانصف ہوتاہے اور وہ پانچ ہیں بیٹی پوتیحقیقی بہنعلاتی بہن اورخاوند۔(ت)
سراجیہ میں ہے:
بنات الابن کبنات الصلب و پوتیاں حقیقی بیٹوں کی طرح ہیں اور ان کے
عــــــہ:ھذا الضم ملتقطا ملخصا۱۲ ازہری غفرلہ
حوالہ / References
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۵ و۳۴۶€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۵€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۵€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۵€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۵€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
لھن احوال ست ۔ چھ حال ہیں۔(ت)
شریفیہ میں ہے:
أربع من النسوۃ فرضھن النصف والثلثان الاولی البنتوالثانیۃ بنت الابن فان حالہا کحال البنت عند عدمھا ۔(ملخصا) عورتوں میں سے چارجن کافرضی حصہ نصف اوردوتہائی ہوتا ہے۔ان میں سے پہلی بیٹی اوردوسری پوتی ہےکیونکہ بیٹی کی عدم موجودگی میں پوتی کاحال بیٹی کے حال جیساہوتا ہے۔ (ت)
بلکہ کئی جگہ صرف ذکربنت پراقتصار فرمایا حالانکہ بنات الابن وان سفلن قطعا سب اسی حکم میں داخل۔تنویرمیں ہے:
یصیر عصبۃ لغیرہ البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن والاخوات باخیھن ومع غیرہ الاخوات مع البنات ۔ بیٹیاں بیٹے کے ساتھپوتیاں پوتے کے ساتھ اوربہنیں اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بغیرہ ہوجاتی ہیں جبکہ بہنیں بیٹیوں کی موجودگی میں عصبہ مع غیرہ ہوجاتی ہیں۔(ت)
اسی مسئلہ کاکلیہ ارشاد ہواہے:
اجعلوا الاخوات مع البنات عصبۃ ۔ بیٹیوں کی موجودگی میں بہنوں کوعصبہ بناؤ۔(ت)
اورپھریہی نہیں کہ ان حضرات کوترك ذکرسفول کا التزام ہو جس سے ان کی عادت پرحمل کرکے سفول مفہوم ہونہیں بلکہ انہیں کتب میں جابجا سفول مذکور۔کنزمیں ہے:
للام الثلث ومع الولد او والد الابن وان سفل السدس ماں کے لئے ایك تہائی ہوتاہے اوراولادیابیٹے کی اولاد اگرچہ نیچے تك ہوکی موجودگی میں
شریفیہ میں ہے:
أربع من النسوۃ فرضھن النصف والثلثان الاولی البنتوالثانیۃ بنت الابن فان حالہا کحال البنت عند عدمھا ۔(ملخصا) عورتوں میں سے چارجن کافرضی حصہ نصف اوردوتہائی ہوتا ہے۔ان میں سے پہلی بیٹی اوردوسری پوتی ہےکیونکہ بیٹی کی عدم موجودگی میں پوتی کاحال بیٹی کے حال جیساہوتا ہے۔ (ت)
بلکہ کئی جگہ صرف ذکربنت پراقتصار فرمایا حالانکہ بنات الابن وان سفلن قطعا سب اسی حکم میں داخل۔تنویرمیں ہے:
یصیر عصبۃ لغیرہ البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن والاخوات باخیھن ومع غیرہ الاخوات مع البنات ۔ بیٹیاں بیٹے کے ساتھپوتیاں پوتے کے ساتھ اوربہنیں اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بغیرہ ہوجاتی ہیں جبکہ بہنیں بیٹیوں کی موجودگی میں عصبہ مع غیرہ ہوجاتی ہیں۔(ت)
اسی مسئلہ کاکلیہ ارشاد ہواہے:
اجعلوا الاخوات مع البنات عصبۃ ۔ بیٹیوں کی موجودگی میں بہنوں کوعصبہ بناؤ۔(ت)
اورپھریہی نہیں کہ ان حضرات کوترك ذکرسفول کا التزام ہو جس سے ان کی عادت پرحمل کرکے سفول مفہوم ہونہیں بلکہ انہیں کتب میں جابجا سفول مذکور۔کنزمیں ہے:
للام الثلث ومع الولد او والد الابن وان سفل السدس ماں کے لئے ایك تہائی ہوتاہے اوراولادیابیٹے کی اولاد اگرچہ نیچے تك ہوکی موجودگی میں
حوالہ / References
السراجی فی المیراث فصل فی النساء ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱€۲
الشریفیہ شرح السراجیہ باب العصبات ∞مطبع علیمی اندرون لاہوری گیٹ لاہور ص۴€۰
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵€۷
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۷،€الشریفیہ شرح السراجیہ فصل فی النساء ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۷€
الشریفیہ شرح السراجیہ باب العصبات ∞مطبع علیمی اندرون لاہوری گیٹ لاہور ص۴€۰
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵€۷
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۷،€الشریفیہ شرح السراجیہ فصل فی النساء ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۲۷€
وللزوج النصف ومع الولد اوولد الابن وان سفل الربعوللزوجۃ الربع ومع الولد او ولد الابن و ان سفل الثمن ۔ ماں کے لئے چھٹا ہوتا ہےخاوند کے لئے ترکہ کانصف ہوتا ہےاورمیت کی اولاد یا بیٹے کی اولاد اگرچہ نیچے تك ہوکی موجودگی میں چوتھا حصہ ہوتاہے۔اوربیوی کے لئے ترکہ کا چوتھا حصہ ہوتاہے جبکہ میت کی اولاد یا اس کے بیٹے کی اولاد اگرچہ نیچے تك ہوگی موجودگی میں بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے۔(ت)
ملتقی میں ہے:
اقربھم جزء المیت وھوالابن وابنہ وان سفل ۔ ان میں سے قریب ترین میت کی جزء ہےاور وہ میت کابیٹا یا اس کاپوتاہے اگرچہ نیچے تك ہو۔(ت)
اسی میں ہے:
وتحجب الاخوۃ بالابن وابنہ وان سفل ۔ میت کے بھائی محروم ہوتے ہیں جبکہ اس کابیٹا یاپوتا موجود ہواگرچہ نیچے تك ہوں۔(ت)
تنویرمیں ہے:
یقدم الاقرب فالاقرب منھم کالابن ثم ابنہ وان سفل ۔ ان میں سے جومیت کاسب سے زیادہ قریبی ہے اس کومقدم کیاجائے گا پھر اس کے بعد والاجیسا کہ میت کابیٹا پھربیٹے کابیٹا اگرچہ نیچے تك چلے جائیں۔(ت)
توظاہرہواکہ علماء کے نزدیك سفول کاذکر وعدم ذکریکساں ہے تو اگر کہیں سفلیات کاحکم عالیہ کے خلاف ہوتا فقط عدم ذکر سفول پر قناعت نہ فرماتے بلکہ واجب تھا کہ نفی سفلیات بالتصریح
ملتقی میں ہے:
اقربھم جزء المیت وھوالابن وابنہ وان سفل ۔ ان میں سے قریب ترین میت کی جزء ہےاور وہ میت کابیٹا یا اس کاپوتاہے اگرچہ نیچے تك ہو۔(ت)
اسی میں ہے:
وتحجب الاخوۃ بالابن وابنہ وان سفل ۔ میت کے بھائی محروم ہوتے ہیں جبکہ اس کابیٹا یاپوتا موجود ہواگرچہ نیچے تك ہوں۔(ت)
تنویرمیں ہے:
یقدم الاقرب فالاقرب منھم کالابن ثم ابنہ وان سفل ۔ ان میں سے جومیت کاسب سے زیادہ قریبی ہے اس کومقدم کیاجائے گا پھر اس کے بعد والاجیسا کہ میت کابیٹا پھربیٹے کابیٹا اگرچہ نیچے تك چلے جائیں۔(ت)
توظاہرہواکہ علماء کے نزدیك سفول کاذکر وعدم ذکریکساں ہے تو اگر کہیں سفلیات کاحکم عالیہ کے خلاف ہوتا فقط عدم ذکر سفول پر قناعت نہ فرماتے بلکہ واجب تھا کہ نفی سفلیات بالتصریح
حوالہ / References
کنزالدقائق کتاب الفرائض ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۴۳۳ و ۴۳۴€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی العصبات مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲ /۳۴۶€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی الحجب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲ /۳۴۸€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی العصبات مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲ /۳۴۶€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی الحجب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲ /۳۴۸€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۶€
بتاتے تاکہ عرف عام شائع سے خلاف مرادپرمحمول نہ ہو توشرح بسیط کاتمسك صراحۃ بالمخالف ہے اور خود شرع مطہر میں اس کی کہاں نظیرہے کہ یہاں سفلیات قوی کاحکم عالیات کے خلاف رکھاہو بلکہ ہمیشہ جس طرح بنات نہ ہوں توبنات الابن ان کی جگہ ہیں اوربنات ابن الابن کی جگہ۔یوں ہی بنات الابن نہ ہوں توبنات الابن کی جگہ ہیں اوربنات ابن ابن الابن بنات ابن الابن کی جگہ۔وھلم جرا ایسا واضح مسئلہ اسی قابل تھا کہ علماء اسے اعتماد فہم سامع پر چھوڑ جاتے مگرجزاہم اﷲ احسن جزاء انہوں نے اسے بھی مہمل نہ چھوڑا اورعامہ کتب معتمد متداولہ متون وشرح فتاوی مثل سراجیہ وشریفیہ وتبیین الحقائق وتکملۃ البحر للطوری ودرمختار وملتقی الابحر ومجمع الانہر وخزانۃ المفتین وفتاوی عالمگیریہ وقلائد المنظوم وغیرھا میں صاف صاف بلاخلاف حکم مذکور عصوبت اخوات مع بنات الابن کاسفلیات کوشمول بھی بتادیااب ناظر متعجب ہوگا کہ یہ کیونکر۔ہاں یہ فقیر سے سنئے۔ زید نے دوبنت ابن الابن اور دواخت چھوڑکر انتقال کیا بنتین ابن الابن کے لئے تو یہاں یقینا ثلثین ہے جس میں کسی ادنی طالب علم کوبھی محل ریب نہیںاوراخوت کے پانچ حال ہیںایك کونصفزائد کوثلثانبھائی)کے ساتھ " للذکر مثل حظ الانثیین " (مذکر کے لئے دومؤنثوں کے حصہ کی مثل ہوتا ہے۔ت)بنات کے ساتھ عصوبت ابن واب وان سفل وعلا کے ساتھ سقوط پہلی اورتیسری اورپانچویں حالت توصورت مذکورہ میں بداہۃ نہیں اب اگر چوتھی نہ مانو تو دوسری متعین ہوگی اور اختین بھی ثلثین کی مستحق ہوں گی۔یہ اولا: خود باطل ہےعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی مسئلے میں دوبار ثلثین جمع نہیں ہوسکتے۔مجمع الانہر میں ہے:
لایتصور فی مسئلۃ فقط اجتماع ثلثین وثلثین اوثلث وثلث وثلثین ۔ کسی مسئلہ میں یہ بالکل متصورنہیں کہ اس میں دوتہائی اوردو تہائی(دوبار)یا ایك تہائی اورایك تہائی اوردوتہائی جمع ہو جائیں۔(ت)
ثانیا: اس تقدیر پراصل مسئلہ تین سے ہوکر بوجہ اجتماع دوثلثین چارکی طرف عول کرنا واجب ہوگا حالانکہ کتب مذہب میں قاطبۃ تصریح ہےکہ تین ان اصول میں ہے جن میں
لایتصور فی مسئلۃ فقط اجتماع ثلثین وثلثین اوثلث وثلث وثلثین ۔ کسی مسئلہ میں یہ بالکل متصورنہیں کہ اس میں دوتہائی اوردو تہائی(دوبار)یا ایك تہائی اورایك تہائی اوردوتہائی جمع ہو جائیں۔(ت)
ثانیا: اس تقدیر پراصل مسئلہ تین سے ہوکر بوجہ اجتماع دوثلثین چارکی طرف عول کرنا واجب ہوگا حالانکہ کتب مذہب میں قاطبۃ تصریح ہےکہ تین ان اصول میں ہے جن میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۷۶۱€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی العول داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۷۶۱€
کبھی عول نہیں ہوتا۔سراجیہ میں ہے:
اعلم ان مجموع المخارج سبعۃ اربعۃ منھا لاتعول وھی الاثنان والثلثۃ والاربعۃ والثمانیۃ ۔ توجان لے کہ کل مخارج سات ہیںان میں سے چارہیں جن میں عول نہیں کرتا اوروہ یہ ہیں دو۲تینچار۴ اورآٹھ۔(ت)
شریفیہ ومنح الغفار وردالمحتار وغیرہ میں ہے:
اتعول اصلا لان الفروض المتعلقۃ بھذہ المخارج الاربعۃ اما ان یفی المال بھاء ویبقی منہ شیئ زائد علیھا۔ ان میں عول بالکل نہیں ہوتا کیونکہ ان چار مخرجوں سے جو فرضی حصے تعلق رکھتے ہیں یاتو ترکہ کامال ان پرپورا ہوجاتاہے یاان حصوں سے کچھ مال زائد بچ جاتاہے۔(ت)
یہ بھی تصریح ہے کہ دو۲ثلثین جمع نہیں ہوسکتےنیزشریفیہ وغیرہا میں ہے۔
لاعول فی الثلثۃ لان الخارج منھا اماثلث ومابقی کام واخ لاب و ام واما ثلثان ومابقی کبنتین واخ لاب وام واما ثلث وثلثان کاختین لام واختین لاب و ام ۔ تین میں عول نہیں ہوتاکیونکہ اس سے جوحصے نکلتے ہیں وہ یا تو ایك تہائی اورباقی بچ رہنے والاہےجیسے میت کی ماں اور حقیقی بھائی کی صورت میں ہوتا ہے یا دوتہائی اورباقی بچ جانے والا ہےجیسے میت کی دوبیٹیوں اورحقیقی بھائی کی صورت میں ہوتا ہے یاایك تہائی اوردوتہائی ہیں جیسا کہ میت کی دواخیافی بہنوں اوردوحقیقی بہنوں کی صورت میں ہوتاہے۔(ت)
اس حصر میں اوربھی واضح کردیا کہ اختین کوبنتین ابن الابن کے ثلثین کے ساتھ ثلثین دینامحض باطل ہے۔شرح الکنزللامام الزیلعی میں ہے:
جملۃ المخارج سبعۃ وانما تعول کل مخارج سات ہیں ان میں سے عول فقط
اعلم ان مجموع المخارج سبعۃ اربعۃ منھا لاتعول وھی الاثنان والثلثۃ والاربعۃ والثمانیۃ ۔ توجان لے کہ کل مخارج سات ہیںان میں سے چارہیں جن میں عول نہیں کرتا اوروہ یہ ہیں دو۲تینچار۴ اورآٹھ۔(ت)
شریفیہ ومنح الغفار وردالمحتار وغیرہ میں ہے:
اتعول اصلا لان الفروض المتعلقۃ بھذہ المخارج الاربعۃ اما ان یفی المال بھاء ویبقی منہ شیئ زائد علیھا۔ ان میں عول بالکل نہیں ہوتا کیونکہ ان چار مخرجوں سے جو فرضی حصے تعلق رکھتے ہیں یاتو ترکہ کامال ان پرپورا ہوجاتاہے یاان حصوں سے کچھ مال زائد بچ جاتاہے۔(ت)
یہ بھی تصریح ہے کہ دو۲ثلثین جمع نہیں ہوسکتےنیزشریفیہ وغیرہا میں ہے۔
لاعول فی الثلثۃ لان الخارج منھا اماثلث ومابقی کام واخ لاب و ام واما ثلثان ومابقی کبنتین واخ لاب وام واما ثلث وثلثان کاختین لام واختین لاب و ام ۔ تین میں عول نہیں ہوتاکیونکہ اس سے جوحصے نکلتے ہیں وہ یا تو ایك تہائی اورباقی بچ رہنے والاہےجیسے میت کی ماں اور حقیقی بھائی کی صورت میں ہوتا ہے یا دوتہائی اورباقی بچ جانے والا ہےجیسے میت کی دوبیٹیوں اورحقیقی بھائی کی صورت میں ہوتا ہے یاایك تہائی اوردوتہائی ہیں جیسا کہ میت کی دواخیافی بہنوں اوردوحقیقی بہنوں کی صورت میں ہوتاہے۔(ت)
اس حصر میں اوربھی واضح کردیا کہ اختین کوبنتین ابن الابن کے ثلثین کے ساتھ ثلثین دینامحض باطل ہے۔شرح الکنزللامام الزیلعی میں ہے:
جملۃ المخارج سبعۃ وانما تعول کل مخارج سات ہیں ان میں سے عول فقط
حوالہ / References
السراجی فی المیراث باب العول ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۳€۱
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب العول ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵€۶
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب العول ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵۶€
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب العول ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵€۶
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب العول ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵۶€
منھا الستۃ واثنا عشرۃ واربعۃ وعشرون والاربعۃ الاخری لاتعول۔ چھ۶بارہ۱۲ اورچوبیس۲۴ میں ہوتاہے دیگرچار میں عول نہیں ہوتا۔
بعینہ اسی طرح تکملہ طوری میں ہے۔درمختارمیں ہے:
المخارج سبعۃ اربعۃ لاتعول الاثنان والثلثۃ و الاربعۃ والثمانیۃ ۔ مخارج سات ہیں جن میں سے چارمیں عول نہیں ہوتا یعنی دوتینچاراورآٹھ۔(ت)
متن علامہ ابراہیم حلبی میں ہے:
اربعۃ مخارج لاتعول الاثنان والثلثۃ الخ۔ مخارج میں سے چارمیں عول نہیں ہوتا یعنی دواورتین الخ (ت)
خزانۃ المفتین میں پھرہندیہ میں ہے:
اعلم ان اصول المسائل سبعۃ اثنان وثلثۃ واربعۃ ستۃ و ثمانیۃ و اثنا عشر واربعۃ وعشرون فاربعۃ منھا لا تعول الاثنان والثلثۃ والاربعۃ والثمانیۃ الخ ۔ توجان لے کہ مسئلوں کے اصول سات ہیں جوکہ یہ ہیں دو۲ تین۳چار۴چھ۶آٹھ۸بارہ۱۲ اورچوبیس۲۴۔ان میں سے چار یعنی دو تینچار اور آٹھ میں عول نہیں ہوتاالخ(ت)
منظومہ علامہ ابن عبدالرزاق میں ہے:
وسبعۃ مخارج الاصول اربعۃ لیست بذات عول اثنان والثلثۃ التالیۃ واربع ضعفھا الثمانیۃ ۔ اصول کے مخارج سات ہیں جن میں سے چارعول والے نہیں ہیں یعنی دو اور اس کے ساتھ تین اورچار اوراس کادوگنا آٹھ۔ (ت)
بعینہ اسی طرح تکملہ طوری میں ہے۔درمختارمیں ہے:
المخارج سبعۃ اربعۃ لاتعول الاثنان والثلثۃ و الاربعۃ والثمانیۃ ۔ مخارج سات ہیں جن میں سے چارمیں عول نہیں ہوتا یعنی دوتینچاراورآٹھ۔(ت)
متن علامہ ابراہیم حلبی میں ہے:
اربعۃ مخارج لاتعول الاثنان والثلثۃ الخ۔ مخارج میں سے چارمیں عول نہیں ہوتا یعنی دواورتین الخ (ت)
خزانۃ المفتین میں پھرہندیہ میں ہے:
اعلم ان اصول المسائل سبعۃ اثنان وثلثۃ واربعۃ ستۃ و ثمانیۃ و اثنا عشر واربعۃ وعشرون فاربعۃ منھا لا تعول الاثنان والثلثۃ والاربعۃ والثمانیۃ الخ ۔ توجان لے کہ مسئلوں کے اصول سات ہیں جوکہ یہ ہیں دو۲ تین۳چار۴چھ۶آٹھ۸بارہ۱۲ اورچوبیس۲۴۔ان میں سے چار یعنی دو تینچار اور آٹھ میں عول نہیں ہوتاالخ(ت)
منظومہ علامہ ابن عبدالرزاق میں ہے:
وسبعۃ مخارج الاصول اربعۃ لیست بذات عول اثنان والثلثۃ التالیۃ واربع ضعفھا الثمانیۃ ۔ اصول کے مخارج سات ہیں جن میں سے چارعول والے نہیں ہیں یعنی دو اور اس کے ساتھ تین اورچار اوراس کادوگنا آٹھ۔ (ت)
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبری الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۲۴۴€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۹€
فتاوٰی خزانۃ المفتین کتاب الفرائض باب العول ∞قلمی نسخہ غیرمطبوعہ ۲ /۲۵۳€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۳۴۹€
فتاوٰی خزانۃ المفتین کتاب الفرائض باب العول ∞قلمی نسخہ غیرمطبوعہ ۲ /۲۵۳€
توواجب ہواکہ صورت مذکورہ میں حالت چہارم ہی مانی جائے اورسفلیات کے ساتھ ہی بہن کو عصوبت دی جائےشرح بسیط میں ایسی تصریحات جلیلہ سے ذہول اوراس نامفید بلکہ مخالف بات سے تمسك موجب تعجب ہے۔
ولکن لکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ ولکل عالم ھفوۃ نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ لیکن ہرتیزرفتار گھوڑے کے لئے ٹھوکرہے اورہرتلوار کبھی اچٹ جاتی ہے اورہرعالم سے کبھی لغزش ہوجاتی ہے۔ہم اﷲ تعالی سے درگزراورسلامتی کاسوال کرتے ہیں۔(ت)
فقیرنے بہ طریق استدلال اس غرض سے لیاکہ کلمات علمائے کرام سے اخذ مسائل کااندازمعلوم ہو ورنہ بحمداﷲ تعالی خاص اس جزئیہ شمول کی تصریحات فقیرکے پاس موجود ہیں۔الرحیق المختوم شرح قلائدالمنظوم میں ہے:
(والاخت)ولومتعددۃ(مع بنت)الصلب واحدۃ ایضا فاکثر(و)کذا مع(بنت الابن)وان سفلت کذلك و کذا مع بنت وبنت ابن(ذات اعتصاب مع غیر) ۔ اوربہن اگرچہ متعدد ہوں صلبی بیٹی کے ساتھ چاہے ایك ہو یاایك سے زائد۔یونہی پوتی کے ساتھ اگرچہ نیچے تك چلی جائیں۔چاہے ایك ہویااس سے زائد عصبہ مع غیرہ بن جاتی ہے۔(ت)
مختصرالفرائض میں اخوات لاب کے احوال میں ہے:
یصرن عصبۃ مع البنات اوبنات عــــــہ الابن وان سفلن ان لم توجد الاخوات لاب وام ۔ علاتی بہنیں بیٹیوں یاپوتیوں اگرنیچے تك ہوںکی موجودگی میں عصبہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ بہنیں موجود نہ ہوں۔(ت)
زبدۃ الفرائض میں ہے:
عصبہ مع غیرھا دو۲ زنان اندیکے عصبہ مع غیرہ دوعورتیں ہوتی ہیں ایك
عــــــہ:لعل الصواب اوبنات الابن صح۱۲ ازہری غفرلہ بل ھوالمتعین کمایظہرفیما معنی ومایاتی۔
ولکن لکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ ولکل عالم ھفوۃ نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ لیکن ہرتیزرفتار گھوڑے کے لئے ٹھوکرہے اورہرتلوار کبھی اچٹ جاتی ہے اورہرعالم سے کبھی لغزش ہوجاتی ہے۔ہم اﷲ تعالی سے درگزراورسلامتی کاسوال کرتے ہیں۔(ت)
فقیرنے بہ طریق استدلال اس غرض سے لیاکہ کلمات علمائے کرام سے اخذ مسائل کااندازمعلوم ہو ورنہ بحمداﷲ تعالی خاص اس جزئیہ شمول کی تصریحات فقیرکے پاس موجود ہیں۔الرحیق المختوم شرح قلائدالمنظوم میں ہے:
(والاخت)ولومتعددۃ(مع بنت)الصلب واحدۃ ایضا فاکثر(و)کذا مع(بنت الابن)وان سفلت کذلك و کذا مع بنت وبنت ابن(ذات اعتصاب مع غیر) ۔ اوربہن اگرچہ متعدد ہوں صلبی بیٹی کے ساتھ چاہے ایك ہو یاایك سے زائد۔یونہی پوتی کے ساتھ اگرچہ نیچے تك چلی جائیں۔چاہے ایك ہویااس سے زائد عصبہ مع غیرہ بن جاتی ہے۔(ت)
مختصرالفرائض میں اخوات لاب کے احوال میں ہے:
یصرن عصبۃ مع البنات اوبنات عــــــہ الابن وان سفلن ان لم توجد الاخوات لاب وام ۔ علاتی بہنیں بیٹیوں یاپوتیوں اگرنیچے تك ہوںکی موجودگی میں عصبہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ بہنیں موجود نہ ہوں۔(ت)
زبدۃ الفرائض میں ہے:
عصبہ مع غیرھا دو۲ زنان اندیکے عصبہ مع غیرہ دوعورتیں ہوتی ہیں ایك
عــــــہ:لعل الصواب اوبنات الابن صح۱۲ ازہری غفرلہ بل ھوالمتعین کمایظہرفیما معنی ومایاتی۔
حوالہ / References
الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم رسالہ من رسائل ابن عابدین باب العصبات ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲ /۲۱۵€
مختصرالفرائض
مختصرالفرائض
اخت اعیانی میت کہ بابنت یابنت ابن اوہرچند پایان رود عصبہ میگردد۔دوم اخت علاتی میت کہ باہمیں بنتین مسطور تین عصبہ می شود ۔ میت کی عینی بہن جبکہ میت کی بیٹی یاپوتی کے ساتھ ہواگرچہ پوتیاں نیچے تك ہوں۔دوسری میت کی علاتی بہن ہیں جومیت کی بیٹی اورپوتی کے ساتھ ہو اگرچہ وہ پوتیاں نیچے تك چلی جائیں۔(ت)
اسی میں اخت عینیہ کے احوال میں ہے:
چہارم عصبہ مع البنات الصلبیات ومع بنات الابن ہرچندپایاں روند ۔ عینی بہنوں کاچوتھا حال یہ ہے کہ وہ صلبی بیٹیوں اورپوتیوں اگرچہ نیچے تك ہوں کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہیں(ت)
اسی میں اخت علاتیہ کے حالات میں ہے:
پنجم عصبہ مع البنات الصلبیات ومع بنات الابن ہرچند پایاں روندوقتے کہ عینی نباشد ۔ علاتی بہنوں کاپانچواں حال یہ ہے کہ وہ صلبی بیٹیوں اورپوتیوں اگرچہ نیچے تك ہوں کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہیں بشرطیکہ عینی بہن موجود نہ ہو(ت)
علامہ ابن نوراﷲ انقروی نے حل المشکلات میں خوب طریقہ اختیارفرمایا کہ کہیں وان سفلت وان نزلن(اگرچہ نیچے تك چلی جائیں۔ت)نہ کہیں اورہرجگہ بے کہے مذکور ہویعنی ابتداء میں اپنی کتاب سے مسئلہ نکالنے کا طریق ارشاد فرمایا کہ جس مسئلہ میں فلاں وارث ہو اسے فلاں باب میں دیکھو مسائل بنات الابن کے لئے فرمایا:
ان کان فیھا بنت ابن المیت وان سفلت مع غیرھا من اصحاب الفرائض فھی فی الباب الثانی عشر ۔ اگرکسی مسئلہ میں میت کی پوتی اگرچہ نیچے تك ہودیگرذوی الفروض کے ساتھ جمع ہو تووہ مسئلہ بارہویں باب میں مذکورہوگا۔(ت)
پھرختم مقدمہ کے بعد فہرس ابواب دی اس میں بھی فرمایا:
الباب الثانی عشر منھا فی بنت الابن بارہواں باب میت کی پوتی کے بارے میں ہے
اسی میں اخت عینیہ کے احوال میں ہے:
چہارم عصبہ مع البنات الصلبیات ومع بنات الابن ہرچندپایاں روند ۔ عینی بہنوں کاچوتھا حال یہ ہے کہ وہ صلبی بیٹیوں اورپوتیوں اگرچہ نیچے تك ہوں کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہیں(ت)
اسی میں اخت علاتیہ کے حالات میں ہے:
پنجم عصبہ مع البنات الصلبیات ومع بنات الابن ہرچند پایاں روندوقتے کہ عینی نباشد ۔ علاتی بہنوں کاپانچواں حال یہ ہے کہ وہ صلبی بیٹیوں اورپوتیوں اگرچہ نیچے تك ہوں کی موجودگی میں عصبہ ہوتی ہیں بشرطیکہ عینی بہن موجود نہ ہو(ت)
علامہ ابن نوراﷲ انقروی نے حل المشکلات میں خوب طریقہ اختیارفرمایا کہ کہیں وان سفلت وان نزلن(اگرچہ نیچے تك چلی جائیں۔ت)نہ کہیں اورہرجگہ بے کہے مذکور ہویعنی ابتداء میں اپنی کتاب سے مسئلہ نکالنے کا طریق ارشاد فرمایا کہ جس مسئلہ میں فلاں وارث ہو اسے فلاں باب میں دیکھو مسائل بنات الابن کے لئے فرمایا:
ان کان فیھا بنت ابن المیت وان سفلت مع غیرھا من اصحاب الفرائض فھی فی الباب الثانی عشر ۔ اگرکسی مسئلہ میں میت کی پوتی اگرچہ نیچے تك ہودیگرذوی الفروض کے ساتھ جمع ہو تووہ مسئلہ بارہویں باب میں مذکورہوگا۔(ت)
پھرختم مقدمہ کے بعد فہرس ابواب دی اس میں بھی فرمایا:
الباب الثانی عشر منھا فی بنت الابن بارہواں باب میت کی پوتی کے بارے میں ہے
حوالہ / References
زبدۃ الفرائض
زبدۃ الفرائض
زبدۃ الفرائض
حل المشکلات
زبدۃ الفرائض
زبدۃ الفرائض
حل المشکلات
وان سفلت مع غیرھا من اصحاب الفرائض ۔ اگرچہ نیچے تك چلی جائے جبکہ وہ دیگرذوی الفروض کے ساتھ جمع ہو۔(ت)
اسی طرح اورابواب کی نسبت بھی فرمادیا اب ان بابوں میں جہاں مثلا بنت الابن ہو خواہی نخواہی بحکم تعلیمات سابقہ بنت الابن وان سفلت مرادہے۔اسی باب دوازدہم میں ہے:
من مات وترك بنت ابن واختا لابوین فالمسئلۃ من اثنین لان فیھا نصفا ومابقی فالنصف لبنت الابن والباقی للاخت بالعصوبۃ ۔
غرض حکم مسئلہ واضح ہے وﷲ الحمد واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ کوئی شخص ایك پوتی او رایك عینی بہن چھوڑکرفوت ہوگیا تومسئلہ دوسے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں نصف اوربقیہ ہے۔ چنانچہ نصف پوتی کواوربقیہ بہن کوبطور عصبہ ملے گا۔اوراﷲ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اوراﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
فصل سوم
مسئلہ ۹۵:ازاحمدآباد گجرات محلہ چکلہ کالوپور متصل پل گلیان مدرسہ طیبہ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۵/رمضان المبارکہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك چچا زادبھائی کے سواکوئی وارث شرعی نہیں اوردوبھتیجے چچازادبھائی کے بیٹے ہیں زید نے اپنے مرض الموت میں بھائی کوایك سوچالیس روپیہ دے کر اپنے متروکہ سے اس کاحق میراث معاف کرالیا بھائی نے معاف کردیا زید نے اس صلح کے بعد چھ سوباسٹھ روپے کے پانچ مکان خریدکربنام مدرسہ عربیہ دینیہ وقف کئے اور جومال باقی رہا اس میں یہ وصیت کی کہ اس سے اولا حج کرایاجائے اورحج سے جوبچے اس کامکان خریدکر وقف کردیاجائے بعدہ زید نے انتقال کیااس صورت میں یہ وقف ووصیت نافذ ہوئے یانہیں اورصلح جووارث سے مورث اپنی حیات میں کر لے شرعا معتبرہے یانہیں اگرصلح مذکور معتبرٹھہرے تو میراث میں بدیں جہت کہ بھائی کاحق بوجہ صلح ساقط ہوگیا اب بھتیجوں کا حق ثابت ہوگایانہیں بینواتوجروا۔
اسی طرح اورابواب کی نسبت بھی فرمادیا اب ان بابوں میں جہاں مثلا بنت الابن ہو خواہی نخواہی بحکم تعلیمات سابقہ بنت الابن وان سفلت مرادہے۔اسی باب دوازدہم میں ہے:
من مات وترك بنت ابن واختا لابوین فالمسئلۃ من اثنین لان فیھا نصفا ومابقی فالنصف لبنت الابن والباقی للاخت بالعصوبۃ ۔
غرض حکم مسئلہ واضح ہے وﷲ الحمد واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ کوئی شخص ایك پوتی او رایك عینی بہن چھوڑکرفوت ہوگیا تومسئلہ دوسے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں نصف اوربقیہ ہے۔ چنانچہ نصف پوتی کواوربقیہ بہن کوبطور عصبہ ملے گا۔اوراﷲ ہی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اوراﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
فصل سوم
مسئلہ ۹۵:ازاحمدآباد گجرات محلہ چکلہ کالوپور متصل پل گلیان مدرسہ طیبہ مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۵/رمضان المبارکہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك چچا زادبھائی کے سواکوئی وارث شرعی نہیں اوردوبھتیجے چچازادبھائی کے بیٹے ہیں زید نے اپنے مرض الموت میں بھائی کوایك سوچالیس روپیہ دے کر اپنے متروکہ سے اس کاحق میراث معاف کرالیا بھائی نے معاف کردیا زید نے اس صلح کے بعد چھ سوباسٹھ روپے کے پانچ مکان خریدکربنام مدرسہ عربیہ دینیہ وقف کئے اور جومال باقی رہا اس میں یہ وصیت کی کہ اس سے اولا حج کرایاجائے اورحج سے جوبچے اس کامکان خریدکر وقف کردیاجائے بعدہ زید نے انتقال کیااس صورت میں یہ وقف ووصیت نافذ ہوئے یانہیں اورصلح جووارث سے مورث اپنی حیات میں کر لے شرعا معتبرہے یانہیں اگرصلح مذکور معتبرٹھہرے تو میراث میں بدیں جہت کہ بھائی کاحق بوجہ صلح ساقط ہوگیا اب بھتیجوں کا حق ثابت ہوگایانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
حل المشکلات
حل المشکلات
حل المشکلات
الجواب:
وارث سے اس کے حصہ میراث کے بابت جوصلح حیات مورث میں کی جائے تحقیق یہ ہے کہ باطل وبے اثرہے اس سے وارث کاحق ارث اصلا زائل نہیں ہوتا۔ہاں اگربعد موت مورث اس صلح پررضامندی رہے تو اب صحیح ہوجائے گی۔
اقول:وباﷲ التوفیق تفصیل المقام ان الروایات فی ھذہ المسئلۃ توجد علی ثلثۃ انحاءالاول البطلان وھو واضح البرھان غنی عن البیان فان الارث لاثبوت لہ فی حیاتہ فکان اعتیاضا عن معدوم وھو باطل وبھذا ھو نص محرر المذھب رضی اﷲ تعالی عنہ قال فی جامع الفصولین ذکر ''م " رحمہ اﷲ تعالی فی سک(ای محمد رحمہ اﷲ تعالی فی السیر الکبیرالذی ھومن کتب الاصول الستۃ)ان المریض لواعطی من اعیان مالہ بعض ورثتہ لیکون لہ بحقہ من المیراث بطل ۱ھ۔الثانی الجواز ولایظھر لہ وجہ قال فیہ عقیبہ برمرجف لجامع الفتاوی جعل لاحد ابنیہ دارابنصیبہ اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اورتوفیق اﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔اس مقام کی تفصیل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تین قسم کی روایات پائی جاتی ہیںپہلی قسم یہ کہ یہ صلح باطل ہے۔اس کی دلیل واضح ہے جوبیان سے بے نیاز ہے کیونکہ میراث کا ثبوت مورث کی زندگی میں نہیں ہوتا تویہ معدوم کابدل طلب کرنا ہوااوروہ باطل ہے۔اوراسی پرمحرر مذہب حضرت امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے نص فرمائی۔جامع الفصولین میں ہے کہ "م" رحمہ اﷲ تعالی نے سك میں ذکر فرمایا (یعنی امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے سیرکبیر میں ذکر فرمایا جوکہ چھ کتب اصول میں سے ہے)کہ کسی مریض نے اگر اپنے عین مال میں سے کسی وارث کو اس لئے کچھ دیا کہ وہ میراث میں سے اس کاحق بن جائے تویہ باطل ہے الخ۔ دوسری قسم صلح کے جواز کی ہےاور اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں۔جامع الفصولین میں مذکورہ عبارت کے بعد جامع الفتاوی کی رمز یعنی جف کے ساتھ کہا کسی شخص نے اپنے دو۲ بیٹوں
وارث سے اس کے حصہ میراث کے بابت جوصلح حیات مورث میں کی جائے تحقیق یہ ہے کہ باطل وبے اثرہے اس سے وارث کاحق ارث اصلا زائل نہیں ہوتا۔ہاں اگربعد موت مورث اس صلح پررضامندی رہے تو اب صحیح ہوجائے گی۔
اقول:وباﷲ التوفیق تفصیل المقام ان الروایات فی ھذہ المسئلۃ توجد علی ثلثۃ انحاءالاول البطلان وھو واضح البرھان غنی عن البیان فان الارث لاثبوت لہ فی حیاتہ فکان اعتیاضا عن معدوم وھو باطل وبھذا ھو نص محرر المذھب رضی اﷲ تعالی عنہ قال فی جامع الفصولین ذکر ''م " رحمہ اﷲ تعالی فی سک(ای محمد رحمہ اﷲ تعالی فی السیر الکبیرالذی ھومن کتب الاصول الستۃ)ان المریض لواعطی من اعیان مالہ بعض ورثتہ لیکون لہ بحقہ من المیراث بطل ۱ھ۔الثانی الجواز ولایظھر لہ وجہ قال فیہ عقیبہ برمرجف لجامع الفتاوی جعل لاحد ابنیہ دارابنصیبہ اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اورتوفیق اﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔اس مقام کی تفصیل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں تین قسم کی روایات پائی جاتی ہیںپہلی قسم یہ کہ یہ صلح باطل ہے۔اس کی دلیل واضح ہے جوبیان سے بے نیاز ہے کیونکہ میراث کا ثبوت مورث کی زندگی میں نہیں ہوتا تویہ معدوم کابدل طلب کرنا ہوااوروہ باطل ہے۔اوراسی پرمحرر مذہب حضرت امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے نص فرمائی۔جامع الفصولین میں ہے کہ "م" رحمہ اﷲ تعالی نے سك میں ذکر فرمایا (یعنی امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ نے سیرکبیر میں ذکر فرمایا جوکہ چھ کتب اصول میں سے ہے)کہ کسی مریض نے اگر اپنے عین مال میں سے کسی وارث کو اس لئے کچھ دیا کہ وہ میراث میں سے اس کاحق بن جائے تویہ باطل ہے الخ۔ دوسری قسم صلح کے جواز کی ہےاور اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں۔جامع الفصولین میں مذکورہ عبارت کے بعد جامع الفتاوی کی رمز یعنی جف کے ساتھ کہا کسی شخص نے اپنے دو۲ بیٹوں
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الرابع والثلاثون کتاب الوصیۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۰€
علی ان لایکون لہ بعد موت الاب میراث قیل جاز وبہ افتی بعضھم وقیل لا ۱ھوقال فی فرائض الاشباہ و النظائر قال الشیخ عبدالقادر فی الطبقات فی باب الھمز فی احمد قال الجرجانی فی الخزانۃ قال ابو العباس الناطفی رأیت بخط بعض مشائخنا رحمھم اﷲ تعالی فی رجل جعل لاحد ابنیہ دارابنصیبہ علی ان لایکون بعد موت الاب میراث جازوافتی بہ الفقیہ ابوجعفر محمد بن الیمانی احد اصحاب محمد بن الشجاع البلخی وحکی ذلك اصحاب احمد بن ابی الحارث وابوعمر والطبری انتھی ۱ھ۔ قال فی غمز العیون یتامل فی وجہ صحۃ ذلك فانہ خفی ۱ھ والثالث الجواز اذا رضی بہ الوارث بعد ماورث میں سے ایك کو اس کے حصے کاگھر اس شرط پردیاکہ باپ کی موت کے بعد اس کے لئے میراث نہیں ہوگی۔ایك قول میں کہاگیاہے کہ یہ جائزہے اور اسی پربعض مشائخ نے فتوی دیا ہے۔اورایك قول میں ہے کہ جائزنہیں ہے۔الخ۔الاشباہ و النظائر کی کتاب الفرائض میں کہا کہ شیخ عبدالقادر نے طبقات کے باب الہمز فی احمد میں فرمایاجرجانی نے خزانہ میں کہا کہ ابوالعباس ناطفی نے فرمایا میں نے اپنے بعض مشائخ رحمہم اﷲ تعالی کی وہ تحریر دیکھی جو اس شخص کے بارے میں ہے جس نے دو بیٹوں میں سے ایك کو اس کے حصے کامکان اس شرط پر دیاکہ باپ کی موت کے بعد اس کے لئے میراث نہیں ہوگی تویہ جائزہے۔اسی پرفقیہ ابوجعفر محمدبن الیمانی نے فتوی دیا جوکہ محمدبن شجاع بلخی کے شاگردوں میں سے ایك ہیں۔احمد بن ابوحارث اورابوعمروطبری کے شاگردوں نے اس کونقل کیاہے۔انتہی۔غمزالعیون میں کہا اس کی صحت کی وجہ میں غورکرنا چاہئے کیونکہ یہ پوشیدہ ہے الخ۔اورتیسری قسم یہ ہے کہ صلح اس صورت میں جائزہوگی جب وارث بننے کے بعد مذکورہ بالا
حوالہ / References
جامع الفصولین کتاب الوصیۃ الفصل الرابع والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶€۰
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۳۲€
غمزعیون البصائرمع الاشباہ کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۳۲€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۳۲€
غمزعیون البصائرمع الاشباہ کتاب الفرائض ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۳۲€
قال فی جامع الرموز اعلم ان الناطقی ذکر عن بعض اشیاخہ ان المریض اذاعین الواحد من الورثۃ شیئا کالدار علی ان لایکون لہ فی سائر الترکۃ حق یجوز وقیل ھذا اذرضی ذلك الوارث بہ بعد موتہ فحینئذ یکون تعیین المیت کتعیین باقی الورثۃ معہ کما فی الجواھر ۱ھ ونقلہ فی اوائل وصایا ردالمحتار وزاد ان حکی القولین فی جامع الفصولین فقال قیل جازوبہ افتی بعضھم وقیل لاانتھی ۱ھ۔ولم یجنح لحکایۃ ماقدمہ فی جامع الفصولین عن السیر الکبیرمع انہ کان ھو العمدۃ فی الباب فان ماذکر من الجواز افتاء البعض لولم یکن مستندہ کما علمت الی خط بعض وارث اس صلح پررضامندی ظاہرکردےجامع الرموز میں کہاتوجان لے امام ناطفی نے اپنے بعض مشائخ سے ذکرکیاکہ مریض جب کسی ایك وارث کے لئے کوئی شے معین کردے مثلا گھر ا س شرط پرکہ باقی ترکہ میں اس کاکوئی حق نہیں ہوگا تو جائزہے۔اور کہاگیا ہے کہ یہ اس وقت جائزہوگا جب مریض کے مرنے کے بعد وہ وارث اس پررضامندی ظاہرکرے تواس صورت میں میت کامعین کرنا ایسے ہی ہے جیسے اس کے ساتھ باقی وارثوں نے تعیین کی ہو۔جیسا کہ جواہرمیں ہے الخ۔اس کوردالمحتار کے وصایا کے شروع میں نقل کیااوریہ زائد کیاکہ ان دونوں قولوں کوجامع الفصولین میں نقل کیا ہےاورکہا ہے کہ ایك قول میں کہاگیاہے کہ یہ جائزہے اور اسی پربعض مشائخ نے فتوی دیاہے۔اورایك قول یہ ہے کہ جائز نہیں ہے الخ اورماقبل جامع الفصولین میں بحوالہ سیر کبیر ذکرکردہ حکایات کی طرف میلان نہیں کیا حالانکہ اس باب میں وہ عمدہ ہے کیونکہ جواز اوربعض مشائخ کے فتوی کا ذکر اگربعض مشائخ کے خط کی طرف منسوب نہ ہو
حوالہ / References
جامع الرمور کتاب الوصایا ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ /۶۷€۹
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۲۰€
المشائخ مع مافی الخط من شبھۃ تنزلہ عن مرتبۃ الاشارۃ فضلا من العبارۃ فعندی فیما ذکر الحموی فی الغمز من احکام الکتابۃ یجوز الاعتماد علی خط المفتی اخذا من قولھم یجوز الاعتماد علی اشارتہ فالکتابۃ اولی ۱ھ نظر فی الاخذ وان قلنا بجواز الاخذ بہ عند حصول الامن و رکون القلب ولذا اجمعوا علی جواز النقل من الکتب المعتمدۃ المعروفۃ المتداولۃ کما افادہ فی الفتح فمع قطع النظر من کل ذلك لم یکن لہ بجنب نص محمد فی ظاھر الروایۃ قیام علی ساق مع مافیہ من عدم التئامہ بقواعد المذھب علی الاطلاق نعم ماذکر فی الجواھر محمل حسن وبہ یدنو من التحقیق ویزول القلق ویحصل التوفیق بیدان الواجب عندی جیسا کہ تونے جان لیا باوجودیکہ خط میں شبہہ ہوتاہے تویہ اشارہ کے مرتبہ سے بھی گرجائے گا چہ جائیکہ عبارت(کے برابرہو)چنانچہ میرے نزدیك اس میں جس کوامام حموی نے احکام کتابت سے غمز میں ذکرکیاہے کہ مفتی کے خط پراعتماد جائزہے۔مشائخ کے اس قول سے اخذ کرتے ہوئے کہ مفتی کے اشارے پراعتماد جائزہے تو کتابت پربدرجہ اولی جائز ہوگاالخ اس اخذمیں نظرہےاگرچہ ہم حصول امن اور میلان قلبی کے وقت اس کے ساتھ اخذ کے جواز کے قائل ہیںیہی وجہ ہے کہ مشہور ومروج اورقابل اعتماد کتابوں سے نقل کے جوازپر مشائخ نے اجماع کیاہے جیسا کہ فتح میں اس کا افادہ فرمایاہےاس تمام سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ قول ظاہر الروایہ میں مذکور امام محمدعلیہ الرحمۃ کی نص کے مقابل اپنی پنڈلی پرقائم نہیں ہوسکتا۔اس کے باوجود اس میں علی الاطلاق مذہب کے قواعد کے ساتھ مطا بقت بھی نہیں ہے۔ہاں جو جواہرمیں ہے وہ ایك اچھامحمل ہےاوراسی کے ساتھ یہ تحقیق کے قریب ہوجاتاہے اوراضطراب زائل ہوجاتاہے اور مطابقت وموافقت حاصل ہوجاتی ہے۔اس کے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۹۸€
رضی الورثۃ جمیعا بعد موت المورث لا رضی المصالح وحدہ فان التخارج مبادلۃ بینھم فلابد من رضاھم جمیعا لاسیما اذا کان الذی عین لہ ازید من حقہ و کانہ لحظ الی ان التعیین لواحد علی ان لایکون لہ فی سائر الترکۃ شیئ انما یکون غالبا باقل من حقہ اوما یساویہ ولیس فیہ مایقتضی عدم رضی سائر الورثۃ فاقتصر علی ذکر اشتراط رضاہ وحدہ واﷲ تعالی اعلم فان قلت لم لایجوز ان یحمل کلام محمد محرر المذھب رحمہ اﷲ تعالی علی بطلان الحق قلت کلا فان الارث جبری لایسقط باسقاط وکیف یسوغ ابطال مااثبتہ اﷲ تعالی فی کتابہ والتخارج مبادلۃ لا اسقاط والمبادلۃ تقرر الحق وتثبتہ لاتبطلہ فلو صح ما فعل المریض لقیل صح مافعل و الحق حصل لا ان بطل ھذا عندی علاوہ میرے نزدیك مورث کے مرنے کے بعد تمام وارثوں کی رضامندی ضروری ہے نہ کہ تنہا صلح کرنے والے کی رضامندی۔کیونکہ تخارج وارثوں کے درمیان باہمی تبادلہ ہے لہذا ان سب کی رضامندی ضروری ہے خصوصا اس صورت میں جب مذکورہ بالا وارث کے لئے اس کے حق سے زائد کی تعیین کردی گئی ہو۔گویا اس بات کوملحوظ رکھاگیاہے کہ کسی ایك وارث کے لئے تعیین اس شرط پرہوگی کہ ترکہ میں سے اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔غالبا یہ تعیین اس کے حق سے کم ترمیں یا اس کے حق کے مساوی میں ہی ہوتی ہے حالانکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جوباقی ورثاء کی عدم رضا کا تقاضا کرتی ہو۔چنانچہ اکیلے اس وارث کی رضامندی کے شرط ہونے کے ذکرپر اکتفاء کیاگیاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے اگرتوکہے کہ محرر مذہب امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے کلام کوبطلان حق پرمحمول کرنا کیوں جائزنہیں تومیں کہوں گا ہر گزنہیں کیونکہ وارث بنناجبری امرہے جوساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔توجس چیز کواﷲ تعالی نے اپنی کتاب میں ثابت فرمایا اس کوباطل کرناکیسے جائزہوگا اور تخارج باہمی تبادلہ ہے نہ کہ کسی حق کوساقط کرنا۔اور باہمی تبادلہ حق کوثابت کرتاہے نہ کہ اس کو باطل کرتاہے۔
والعلم بالحق عند ربی۔ اگروہ صحیح ہوتا جومریض نے کیاہے توالبتہ کہاجاتاکہ جوکچھ مریض نے کیاہے وہ صحیح ہے۔اورحق حاصل ہوگیا ہے نہ یہ کہ وہ باطل ہوگیاہےیہ وہ ہے جومیرے پاس ہے او رحق کا علم میرے ر ب کے پاس ہے۔(ت)
یہ نفس مسئلہ صلح وارث بحیات مورث کی تحقیق تھی جس سے سائل نے علی وجہ الاطلاق سوال کیا۔رہی یہ صورت خاصہ کہ یہاں واقع ہوئی اسے مسئلہ صلح وتخارج سے علاقہ ہی نہیں یہاں صلح ایك سوچالیس روپے پرواقع ہوئی اور ترکہ میں روپے زائد تھے اورروپے کے حق سے کم روپوں پرتخارج قطعا باطل ہے اگرچہ بعد موت مورث ہو۔
فی الدرالمختار فی اخراجہ عن نقدین وغیرھما باحد النقدین لایصلح الا ان یکون مااعطی لہ اکثر من حصتہ من ذلك الجنس تحرزاعن الربا ۔ درمختارمیں ہے نقدین(سونے چاندی)میں سے کسی ایك کے بدلے میں کسی وارث کونقدین وغیرہ سے خارج کرناصحیح نہیں مگر اس وقت کہ جوکچھ اس وارث کودیاگیاہے وہ اسی جنس میں سے اس کے استحقاقی حصے سے زائد ہو تاکہ سود سے بچاؤ ہوجائے۔(ت)
تو یہ تخارج ہوتاتویقینا باطل ہوتا مگریہاں دوسرا وارث کوئی ہے ہی نہیںنہ کوئی موصی لہ تھا جس سے مبادلہ ٹھہرے تویہاں صلح وتخارج ومبادلہ کودخل ہی نہیں اس کاحاصل صرف اتناہے کہ "میراث سے میں نے اتنے روپے لے لئے باقی ترکہ سے مجھے تعلق نہیں"۔یہ نہ کوئی عقدشرعی ہے نہ ایك مہمل وعدہ سے زائد کچھ معنی رکھتاہے تمام ترکہ میں بدستور اس کاحق باقی ہے تصرفات مذکورہ زیدبے اس کی اجازت کے ثلث سے زائد میں نافذ نہیں ہوسکتے بلکہ ان میں جووصایا تھیں ان کی اجازت تو بحال حیات موصی مفیدہی نہیں اگرچہ وارث نے صراحۃ اس وقت کہہ دیاہوکہ میں نے ان وصیتوں کونافذ کیاجائز رکھانہ اسے ان تصرفات زید کی اجازت معتبرہ ٹھہراسکتے ہیں جو اس گفتگو کے بعد زید سے واقع ہوئے کہ ان میں جووصایا تھیں ان کی اجازت کاتوحیات موصی میں کوئی محل ہی نہیں۔
فی الدرالمختار لاتعتبر اجازتھم درمختارمیں ہے کہ وارثوں کی اجازت موصی کی
یہ نفس مسئلہ صلح وارث بحیات مورث کی تحقیق تھی جس سے سائل نے علی وجہ الاطلاق سوال کیا۔رہی یہ صورت خاصہ کہ یہاں واقع ہوئی اسے مسئلہ صلح وتخارج سے علاقہ ہی نہیں یہاں صلح ایك سوچالیس روپے پرواقع ہوئی اور ترکہ میں روپے زائد تھے اورروپے کے حق سے کم روپوں پرتخارج قطعا باطل ہے اگرچہ بعد موت مورث ہو۔
فی الدرالمختار فی اخراجہ عن نقدین وغیرھما باحد النقدین لایصلح الا ان یکون مااعطی لہ اکثر من حصتہ من ذلك الجنس تحرزاعن الربا ۔ درمختارمیں ہے نقدین(سونے چاندی)میں سے کسی ایك کے بدلے میں کسی وارث کونقدین وغیرہ سے خارج کرناصحیح نہیں مگر اس وقت کہ جوکچھ اس وارث کودیاگیاہے وہ اسی جنس میں سے اس کے استحقاقی حصے سے زائد ہو تاکہ سود سے بچاؤ ہوجائے۔(ت)
تو یہ تخارج ہوتاتویقینا باطل ہوتا مگریہاں دوسرا وارث کوئی ہے ہی نہیںنہ کوئی موصی لہ تھا جس سے مبادلہ ٹھہرے تویہاں صلح وتخارج ومبادلہ کودخل ہی نہیں اس کاحاصل صرف اتناہے کہ "میراث سے میں نے اتنے روپے لے لئے باقی ترکہ سے مجھے تعلق نہیں"۔یہ نہ کوئی عقدشرعی ہے نہ ایك مہمل وعدہ سے زائد کچھ معنی رکھتاہے تمام ترکہ میں بدستور اس کاحق باقی ہے تصرفات مذکورہ زیدبے اس کی اجازت کے ثلث سے زائد میں نافذ نہیں ہوسکتے بلکہ ان میں جووصایا تھیں ان کی اجازت تو بحال حیات موصی مفیدہی نہیں اگرچہ وارث نے صراحۃ اس وقت کہہ دیاہوکہ میں نے ان وصیتوں کونافذ کیاجائز رکھانہ اسے ان تصرفات زید کی اجازت معتبرہ ٹھہراسکتے ہیں جو اس گفتگو کے بعد زید سے واقع ہوئے کہ ان میں جووصایا تھیں ان کی اجازت کاتوحیات موصی میں کوئی محل ہی نہیں۔
فی الدرالمختار لاتعتبر اجازتھم درمختارمیں ہے کہ وارثوں کی اجازت موصی کی
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۵€
حال حیاتہ اصلا بل بعد وفاتہ ۱ھ فی ردالمحتارای لانھا قبل ثبوت الحق لھم لان ثبوتہ عندالموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف الاجازۃ بعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق وتمامہ فی المنح ۔ زندگی میں بالکل معتبرنہیں بلکہ اس کی وفات کے بعد معتبر ہوتی ہے الخ۔ردالمحتار میں ہے اس لئے کہ وہ اجازت وارثوں کے حق کے ثبوت سے قبل ہے کیونکہ ان کے حق کاثبوت موصی کی موت کے وقت ہوتاہے لہذا وہ موصی کی وفات کے بعد اس اجازت کو رد کرسکتے ہیں بخلاف اس اجازت کے جو موصی کی موت کے بعد ہوئی کیونکہ وہ ثبوت حق کے بعد ہے۔اس کی پوری بحث منح کے اندرہے۔(ت)
البتہ وہ وقف کہ اس نے اپنے مرض میں فی الحال کردیا اگروارث سے حیات مورث ہی میں اس کی اجازت پائی گئی جب بھی نافذوتام ہوگیا کہ بعد موت مورث اب وارث اسے رد نہیں کرسکتا۔
فی ردالمحتار من البزازیۃ تعتبر الاجازۃ بعد الموت لاقبلہ ھذا فی الوصیۃ اما فی التصرفات المفیدۃ لاحکامھا کالاعتاق وغیرہ اذا صدرفی مرض الموت و اجازہ الوارث قبل الموت لاروایۃ فیہ عن اصحابنا قال الامام علاء الدین السمرقندی اعتق المریض عبدہ ورضی بہ الورثۃ قبل الموت لایسعی العبد فی شیئ ردالمحتارمیں بزازیہ سے منقول ہے کہ موت کے بعد کی اجازت معتبرہے نہ کہ پہلے کی۔یہ وصیت کے بارے میں ہے۔رہے وہ تصرفات جواپنے حکم کافائدہ دیتے ہیں جیسے آزاد کرنا وغیرہ جب یہ مرض الموت میں صادرہوں اورموت سے پہلے وارث اجازت دے دے توہمارے اصحاب سے اس بارے میں کوئی روایت موجودنہیں۔امام علاء الدین سمرقندی نے کہا کہ کسی مریض نے اپناغلام آزادکردیا اور موت سے پہلے وارثوں نے اس پررضامندی ظاہر کردی تووہ غلام کسی شیئ میں سعی نہیں کرے گا۔
البتہ وہ وقف کہ اس نے اپنے مرض میں فی الحال کردیا اگروارث سے حیات مورث ہی میں اس کی اجازت پائی گئی جب بھی نافذوتام ہوگیا کہ بعد موت مورث اب وارث اسے رد نہیں کرسکتا۔
فی ردالمحتار من البزازیۃ تعتبر الاجازۃ بعد الموت لاقبلہ ھذا فی الوصیۃ اما فی التصرفات المفیدۃ لاحکامھا کالاعتاق وغیرہ اذا صدرفی مرض الموت و اجازہ الوارث قبل الموت لاروایۃ فیہ عن اصحابنا قال الامام علاء الدین السمرقندی اعتق المریض عبدہ ورضی بہ الورثۃ قبل الموت لایسعی العبد فی شیئ ردالمحتارمیں بزازیہ سے منقول ہے کہ موت کے بعد کی اجازت معتبرہے نہ کہ پہلے کی۔یہ وصیت کے بارے میں ہے۔رہے وہ تصرفات جواپنے حکم کافائدہ دیتے ہیں جیسے آزاد کرنا وغیرہ جب یہ مرض الموت میں صادرہوں اورموت سے پہلے وارث اجازت دے دے توہمارے اصحاب سے اس بارے میں کوئی روایت موجودنہیں۔امام علاء الدین سمرقندی نے کہا کہ کسی مریض نے اپناغلام آزادکردیا اور موت سے پہلے وارثوں نے اس پررضامندی ظاہر کردی تووہ غلام کسی شیئ میں سعی نہیں کرے گا۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۷€
وقد نصوا علی ان وارث المجروح اذا عفا عن الجارح یصح ولایملك المطالبۃ بعد موت المجروح ۱ھ۔ اورمشائخ نے اس بات پرنص فرمائی کہ زخمی کاوارث جب زخمی کرنے والے کومعاف کردے تومعافی صحیح ہوگی اور وارث زخمی کی موت کے بعد مطالبے کامالك نہیں ہوگا۱ھ (ت)
اوریہیں سے واضح ہواکہ صورت کچھ واقع ہوئی ہوبھتیجوں کواصلا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اگروارث یعنی بھائی نے اس وقف کوبحال حیات مورث خواہ بعد وفات مورث اوروصایا کوخاص بعد وفات جائزکیاجب تو ایك سو چا لیس ۱۴۰ روپے کے سوا باقی مال حسب تصرفات مورث وقف و وصیت میں آ گیااوراگرناجائزکیاتوثلث وقف ووصیت کے لئے رہادوثلث بھائی کاحق ہوا بھتیجے کسی مال میں حصہ نہیں پاسکتےوھذا ظاھرجداواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(اور یہ خوب ظاہر ہےاور اﷲ سبحانہ و تعالی خوب جانتاہے۔ت)
فصل چہارم
مسئلہ ۹۶: ازلشکر گوالیار ڈاکخانہ دربار مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب ۲۶شوال ۱۳۱۴ھ
مخدوم ومطاع نیازمندان دام مجدکم پس ازاظہار نیازگزارش کہ ان دنوں بوجہ ضرورت ملازمان ریاست وامداد وکلا ایك رسالہ ترتیب دیاگیاہے جس میں فرائض وصیت ہبہوقفنکاحمہراور طلاق وغیرہاکابیان ہے اور وہ رسالہ چھپ رہاہے۔ایك شبہہ یہ پیداہواہے کہ آیا سوائے مادرحقیقی دیگرزوجات اب اورسوائے جدہ حقیقی دیگر زوجات جد میراث پاتی ہیں یانہیں اگرنہیں پاتیں تو درمختاراورفرائض شریفی وغیرہا میں جدہ کے آگے فصاعدا اور اواکثرسے کیامرادہے اور تصحیح کی مثالوں میں دو تین ام اور ۳ ۴۶ بالتفصیل اس کاجواب مطلوب ہے بمجرد ملاحظہ نیازنامہ مرحمت ہو۔نورالدین احمدعفی عنہ
الجواب:
مولاناالمکرم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہآدمی کی ام وجدہ وہی ہیں جن کے بطن کی طرف یہ منتسب ہو وہ اس کی اصل یہ ان کی فرع ہوئی باقی زوجات اب وجد ام و
اوریہیں سے واضح ہواکہ صورت کچھ واقع ہوئی ہوبھتیجوں کواصلا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اگروارث یعنی بھائی نے اس وقف کوبحال حیات مورث خواہ بعد وفات مورث اوروصایا کوخاص بعد وفات جائزکیاجب تو ایك سو چا لیس ۱۴۰ روپے کے سوا باقی مال حسب تصرفات مورث وقف و وصیت میں آ گیااوراگرناجائزکیاتوثلث وقف ووصیت کے لئے رہادوثلث بھائی کاحق ہوا بھتیجے کسی مال میں حصہ نہیں پاسکتےوھذا ظاھرجداواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(اور یہ خوب ظاہر ہےاور اﷲ سبحانہ و تعالی خوب جانتاہے۔ت)
فصل چہارم
مسئلہ ۹۶: ازلشکر گوالیار ڈاکخانہ دربار مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب ۲۶شوال ۱۳۱۴ھ
مخدوم ومطاع نیازمندان دام مجدکم پس ازاظہار نیازگزارش کہ ان دنوں بوجہ ضرورت ملازمان ریاست وامداد وکلا ایك رسالہ ترتیب دیاگیاہے جس میں فرائض وصیت ہبہوقفنکاحمہراور طلاق وغیرہاکابیان ہے اور وہ رسالہ چھپ رہاہے۔ایك شبہہ یہ پیداہواہے کہ آیا سوائے مادرحقیقی دیگرزوجات اب اورسوائے جدہ حقیقی دیگر زوجات جد میراث پاتی ہیں یانہیں اگرنہیں پاتیں تو درمختاراورفرائض شریفی وغیرہا میں جدہ کے آگے فصاعدا اور اواکثرسے کیامرادہے اور تصحیح کی مثالوں میں دو تین ام اور ۳ ۴۶ بالتفصیل اس کاجواب مطلوب ہے بمجرد ملاحظہ نیازنامہ مرحمت ہو۔نورالدین احمدعفی عنہ
الجواب:
مولاناالمکرم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہآدمی کی ام وجدہ وہی ہیں جن کے بطن کی طرف یہ منتسب ہو وہ اس کی اصل یہ ان کی فرع ہوئی باقی زوجات اب وجد ام و
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۱۷€
جدہ نہیںنہ ان کے لئے میراث سے کوئی حصہتصحیح کی مثالوں میں دوتین ام عامہ کتب میں ایك دوسرے کی طرف مضاف مرادہیں کہ دوسرے تیسرے درجہ کی جدہ امیہ ہوئیں یعنی ام الام نانی یاام الام نانی کی ماںنہ یہ کہ میت کی اپنی دوتین ماں۔ہاں علمائے کرام نے تعدد ام واب کی صورت بحالت تنازع قائم فرمائی ہے مثلا چندعورتیں ایك بچہ کی نسبت مدعی ہوں ہرایك کہے یہ میرا بیٹاہے میرے بطن سے پیداہواہےاور اس کاحال معلوم نہ ہواور وہ سب مدعیات اپنے اپنے دعوے پرشہادت شرعیہ قائم کردیں اورکسی کودوسری پرکوئی ترجیح نہ ہو تو قاضی مجبورا ان سب کی طرف اسے منتسب کردے گااور جب وہ مرے اوریہ عورتیں باقی رہیں توبحکم تنازع وعدم ترجیح سب ایك سدس یاثلث میں کہ سہم مادرہے شریك ہوجائیں گی۔اسی طرح ایك شخص کے چندپدر اوران کے تعدد کی ایك صورت ولد جاریہ مشترکہ کی ہے جبکہ سب شرکاء دعوی کریں۔
غمزالعیون کتاب الاقرارمیں ہے:
لایستحیل شرعا ان یکون للواحد ابوان اوثلثۃ الی خمسۃ کما فی الجاریۃ المشترکۃ اذا ادعاہ الشرکاء بل قدیثبت نسب الواحد الحر الاصیل من الطرفین کما فی اللقیط اذا ادعاہ رجلان حران کل واحد منھما من امرأۃ حرۃ کما فی التتارخانیۃ ۔ شرعی طورپر یہ محال نہیں کہ ایك شخص کے دویاتین بلکہ پانچ باپ ہوں جیسا کہ مشترکہ لونڈی میں جبکہ شرکاء اس کادعوی کریں بلکہ کبھی ایك اصلی حرکانسب دونوں طرفوں سے ثابت ہوتاہے جیسا کہ گرے پڑے بچے کے بارے میں جب دوآزاد مرد دعوی کریں اور ان دونوں میں سے ہرایك کسی آزاد عورت سے اس کی ولادت کامدعی ہوجیسا کہ تتارخانیہ میں ہے۔(ت)
خانیہ کتاب الدعوی فصل فیما یتعلق بالنکاح میں ہے:
جاریۃ بین رجلین اوثلثۃ اواکثر ولدت ولدافادعوہ جمیعا ثبت النسب من الکل فی قول ابی حنفیۃ ایك لونڈی نے بچہ جناجوکہ دویاتین یا اس سے زیادہ مردوں کی مملوکہ تھی ان سب نے اس بچے کادعوی کیاتو امام ابوحنیفہ امام زفر
غمزالعیون کتاب الاقرارمیں ہے:
لایستحیل شرعا ان یکون للواحد ابوان اوثلثۃ الی خمسۃ کما فی الجاریۃ المشترکۃ اذا ادعاہ الشرکاء بل قدیثبت نسب الواحد الحر الاصیل من الطرفین کما فی اللقیط اذا ادعاہ رجلان حران کل واحد منھما من امرأۃ حرۃ کما فی التتارخانیۃ ۔ شرعی طورپر یہ محال نہیں کہ ایك شخص کے دویاتین بلکہ پانچ باپ ہوں جیسا کہ مشترکہ لونڈی میں جبکہ شرکاء اس کادعوی کریں بلکہ کبھی ایك اصلی حرکانسب دونوں طرفوں سے ثابت ہوتاہے جیسا کہ گرے پڑے بچے کے بارے میں جب دوآزاد مرد دعوی کریں اور ان دونوں میں سے ہرایك کسی آزاد عورت سے اس کی ولادت کامدعی ہوجیسا کہ تتارخانیہ میں ہے۔(ت)
خانیہ کتاب الدعوی فصل فیما یتعلق بالنکاح میں ہے:
جاریۃ بین رجلین اوثلثۃ اواکثر ولدت ولدافادعوہ جمیعا ثبت النسب من الکل فی قول ابی حنفیۃ ایك لونڈی نے بچہ جناجوکہ دویاتین یا اس سے زیادہ مردوں کی مملوکہ تھی ان سب نے اس بچے کادعوی کیاتو امام ابوحنیفہ امام زفر
حوالہ / References
غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۵€
وزفر والحسن بن زیادہ رحمھم اﷲ تعالی وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی فی روایۃ یثبت من الخمسۃ لامن الزیادۃ الخ اقول:فافادان التحدید المذکور فی الغمزمبتن علی روایۃ نادرۃ والمذھب الاطلاق۔ اورحسن بن زیادہ رحمہم اﷲ تعالی کے قول میں سب سے نسب ثابت ہوگا۔اورامام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے ایك روایت میں منقول ہے کہ پانچ تك سے نسب ثابت ہوگازیادہ سے نہیں ۱ھ میں کہتاہوں اس قول نے یہ فائدہ دیا کہ غمز میں مذکور حدبندی نادر روایت پرمبنی ہے جبکہ مذہب مطلق ہے(ت)
ہندیہ کتاب الدعوی میں محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے:
قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ رجلان خارجان اقام کل واحد(منہما)البینۃ انہ ابنہ ولد علی فراشہ من امرأتہ ھذہ جعل ابن الرجلین والمرأتین الخ۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ دوغیرقابض مردوں میں سے ہرایك نے اس بات پرگواہ قائم کئے کہ یہ میرابیٹا ہے میرے فراش پرمیری اس بیوی سے پیدا ہوا ہے تو اس کو ان دونوں مردوں اوردونوں عورتوں کابیٹا قرار دے دیاجائے گاالخ(ت)
اورجدہ واقعی متعددہ ہوتی ہیں کہ آدمی کی جدہ ہروہ عورت ہے جو اس کی اصل کی اصل ہواصل دو۲ ہیں اب واماوران میں ہر ایك کے لئے دواصلیں ہیںتویہ پہلا درجہ اصل الاصول کاہے جس میں چار اصلیں پائی گئیں دو۲ مرد اوردو۲ عورتیںیہ دونوں عورتیں جدہ ہیں ایك امیہ یعنی ماں کی طرف سے کہ ام الام یعنی نانی ہے اوردوسری ابویہ باب کی طرف سے کہ ام الاب یعنی دادی ہے یہ دونوں جدہ صحیحہ ہیں۔پھرچاروں اصلوں میں ہرایك کے لئے دواصلیں ہیں تودوسرے درجہ میں آٹھ اصول ہوں گےچار مردچارعورتیںیہ چاروں عورات جدہ ہیںدو۲ امیہ ام اب الامام ام الام اور دو۲ ابویہ ام اب الاب ام ام الاب ابو یہ دونوں صحیحہ ہیں اور امیہ کی پہلی فاسدہ دوسری صحیحہ۔یونہی ہردرجہ میں جدات کاعدد دونا ہوتاجائے گا۔تیسرے درجہ میں آٹھچوتھے
ہندیہ کتاب الدعوی میں محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے:
قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ رجلان خارجان اقام کل واحد(منہما)البینۃ انہ ابنہ ولد علی فراشہ من امرأتہ ھذہ جعل ابن الرجلین والمرأتین الخ۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ دوغیرقابض مردوں میں سے ہرایك نے اس بات پرگواہ قائم کئے کہ یہ میرابیٹا ہے میرے فراش پرمیری اس بیوی سے پیدا ہوا ہے تو اس کو ان دونوں مردوں اوردونوں عورتوں کابیٹا قرار دے دیاجائے گاالخ(ت)
اورجدہ واقعی متعددہ ہوتی ہیں کہ آدمی کی جدہ ہروہ عورت ہے جو اس کی اصل کی اصل ہواصل دو۲ ہیں اب واماوران میں ہر ایك کے لئے دواصلیں ہیںتویہ پہلا درجہ اصل الاصول کاہے جس میں چار اصلیں پائی گئیں دو۲ مرد اوردو۲ عورتیںیہ دونوں عورتیں جدہ ہیں ایك امیہ یعنی ماں کی طرف سے کہ ام الام یعنی نانی ہے اوردوسری ابویہ باب کی طرف سے کہ ام الاب یعنی دادی ہے یہ دونوں جدہ صحیحہ ہیں۔پھرچاروں اصلوں میں ہرایك کے لئے دواصلیں ہیں تودوسرے درجہ میں آٹھ اصول ہوں گےچار مردچارعورتیںیہ چاروں عورات جدہ ہیںدو۲ امیہ ام اب الامام ام الام اور دو۲ ابویہ ام اب الاب ام ام الاب ابو یہ دونوں صحیحہ ہیں اور امیہ کی پہلی فاسدہ دوسری صحیحہ۔یونہی ہردرجہ میں جدات کاعدد دونا ہوتاجائے گا۔تیسرے درجہ میں آٹھچوتھے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الدعوی فصل فیما یتعلق بالنکاح الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۳ /۴۹۶€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الدعوی الباب الرابع عشرالفصل الخامس الخ ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۱۲۵€
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الدعوی الباب الرابع عشرالفصل الخامس الخ ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۱۲۵€
میں سولہپانچویں میں بتیس۳۲ وعلی ھذاالقیاس تضاعیف بیوت شطرنج کی طرح یہاں تك کہ بیسویں درجہ میں دس لاکھ اڑتالیس ہزارپانچ سوچھہتر جدہ ایك درجہ کی ہوں گینصف امیہ نصف ابویہاور ان میں صحیحہ کاشمار پہچاننے کاطریقہ یہ ہے کہ امیات میں توکسی درجہ میں ایك سے زائد جدہ صحیحہ نہ ہوگی کہ جدہ امیہ وہی صحیحہ ہے جس تك میت کے سلسلے میں سواام کے اب اصلا نہ واقع ہوا اورابویات ہردرجہ میں بشمار اس درجہ کے صحیحہ ہوں گی باقی ساقطہ مثلا پانچویں درجہ میں پانچ ابویہ ثابتہ ہیں گیارہ فاسدہاوردسویں میں دس صحیحہ پانچ سو دوساقطہ وعلی ھذا القیاس کہ جدہ ابویہ میں جب تك جانب نزول صرف لفظ اب اورجانب صعود صرف لفظ ام ہے جدہ صحیحہ ہے اور جہاں دو ام کے بیچ میں لفظ اب آیاوہیں فاسدہ ہوجائے گی پس جس قدر درجوں کی جدات صحیحہ لینی ہوں اتنی ہی بارلفظ اب برابر برابرلکھاجائے اوراس کے اوپرام لکھ دیجئےیہ سطراول ہوئی جس کے شروع میں لفظ ام باقی اب ہے۔سطردوم میں ام کے قریب جو پہلا اب ہے اسے بھی ام سے بدل دیجئے کہ دوام ہوں اورباقی اب اسی طرحسطر سوم میں تین امچارمیں چاریہاں تك کہ اخیرمیں سب ام ہوجائیں۔یہ سب جدات صحیحات ہوں گی یا اخیر کی امیہ اوراوپر کی سب ابویہ اورطریق اس کا احضر ہوناظاہرہے کہ طریق اول میں جتنی جدہ بتانی ہوں بقدر ان کے مجذور کے لفظ اب وام لکھنے ہوں گے اوریہاں ان کی ضعف سے بھی ایك کم مثلا سو جدہ دکھانے کواس طریق میں دس ہزارلفظ درکارہوں گے اور اس میں صرف ایك سوننانوے احضریہ ہے کہ جتنے درجہ کی جدہ لینی ہو دونوں کے وسط پرام لکھ دیجئے آباء وامہات کودوخط مستقیم عمودی سے ملادیجئے اورام اخیرہ سے اس کے قریب کے اب وام دونوں اورباقی ہرام سے اس کے ایك درجہ اوپر کے اب تك خطوط محرفہ کھینچ دیجئے خط عمودی امہات مع ام اورباقی ہرام سے اس کے ایك درجہ اوپر کے اب تك خطوط محرفہ کھیچ دیجئے خط عمودی امہات مع ام اخیرہ جدیہ امیہ کوبنالے گا اور باقی خطوط ابویات صحیحہ کویہ سب بیانات ان چار نقشوں سے کالعیان ہوجائیں گے دونقشہ اول میں جہاں لفظ ام بخط نسخ ہے وہ جدہ صحیحہ ہے باقی ساقطہ۔
(اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
(اگلا صفحہ ملاحظہ ہو)
total images
اس تقریر سے فصاعدا اوراواکثر اورایك درجہ میں پندرہ جدہ صحیحہ سب کے معنی منکشف ہوگئےاورظاہر ہواکہ کچھ پندرہ پرحصر نہیں جس قدرچاہیں حاصل کرسکتے ہیں مثلا پچیس جدہ صحیحہ ہمیں درجہ بست وچہارم میں ملیں گیاس درجہ کی کل جدات ایك کروڑسڑسٹھ لاکھ سترہزار دوسوسولہ(۱۶۷۷۷۲۱۶)میں سب ساقط مگرپچیس ایك امیہ اورچوبیس۲۴ ابویہ کہ صحیحہ ہیںیہ تمام بیان منیر فقیر حقیرنے عین وقت تحریر میں اپنے ذہن سے اسخراج کیاپھر دیکھا توہندیہ میں
اختیار شرحمختار سے طریق اول نقل فرمایا وﷲ الحمد واﷲ تعالی اعلم۔
فصل پنجم
مسئلہ ۹۷:ازکلکتہ مولوی امداد علی لین نمبر۱ مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب بنگالی منتہی طالب علم مدرسہ عالیہ کلکتہ ۹جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں کہ شخصے بحضوریك زوجہ وسہ بنت وسہ۳ بنت الابن ودو ابن ابن الاخ اموال گزاشتہ پیك اجل رالبیك گت پس ترکہ اش درمیان ورثہ مذکورین چگونہ منقسم خواہد شد بینواتوجروا۔ اے علماء کرام اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے اس شخص کے بارے میں اپ کا کیا ارشاد ہے جس نے ایك بیویتین بییٹیوںتین پوتیوں اوربھائی کے دوپوتوں کی موجودگی میں مال چھوڑ کرموت کے پیغام کو لبیك کہا۔پس اس کاترکہ مذکورہ وارثوں کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا بیان کرواجرپاؤگے۔(ت)
جناب من! حد ادبپس ازسلام سنت خیرالانام عرض بخدام برتر مقام میگزارم کہ برصورت مرقوم بالا دریں صوبہ بنگلہ اختلافات شتی رددادہ کہ بنت الابن یا ابن ابن الاخ عصبہ تواند شد یاچہ ازدلائل ردالمحتار وشریفیہ معلوم شد کہ بنات الابن چنانچہ بابرادر عینی خودعصبہ شوند ہمبران نسق بابن عم خود ہم عصبہ شوند وایشاں ھم بنی عم ایں زمان اند پس مستحق باقی مال زید تواندشد میری سرکار! بے حد ادباور تمام مخلوق سے بہترشخصیت کی سنت کے مطابق بارگاہ عالی میں سلام عرض کرنے کے بعد گزارش کرتاہون کہ مزکورہ بالا صورت میں صوبہ بنگال میں متعدد اختلاف رونماہوکچے کہں کہ میت کی پوتی یامیت کے بھائی کاپوتا عصبہ ہوسکتے ہیں یاکیاصورت ہے ردالمحتار اور شریفیہ کے دلائل سے معلوم ہوا کہ پوتیاں اپنے عینی بھائی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیںاسی طرح اپنے چچا کے یٹے کے ساتھ بھی عصبہ ہوجاتی ہیں۔وہ بھی اس وقت
فصل پنجم
مسئلہ ۹۷:ازکلکتہ مولوی امداد علی لین نمبر۱ مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب بنگالی منتہی طالب علم مدرسہ عالیہ کلکتہ ۹جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں کہ شخصے بحضوریك زوجہ وسہ بنت وسہ۳ بنت الابن ودو ابن ابن الاخ اموال گزاشتہ پیك اجل رالبیك گت پس ترکہ اش درمیان ورثہ مذکورین چگونہ منقسم خواہد شد بینواتوجروا۔ اے علماء کرام اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے اس شخص کے بارے میں اپ کا کیا ارشاد ہے جس نے ایك بیویتین بییٹیوںتین پوتیوں اوربھائی کے دوپوتوں کی موجودگی میں مال چھوڑ کرموت کے پیغام کو لبیك کہا۔پس اس کاترکہ مذکورہ وارثوں کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگا بیان کرواجرپاؤگے۔(ت)
جناب من! حد ادبپس ازسلام سنت خیرالانام عرض بخدام برتر مقام میگزارم کہ برصورت مرقوم بالا دریں صوبہ بنگلہ اختلافات شتی رددادہ کہ بنت الابن یا ابن ابن الاخ عصبہ تواند شد یاچہ ازدلائل ردالمحتار وشریفیہ معلوم شد کہ بنات الابن چنانچہ بابرادر عینی خودعصبہ شوند ہمبران نسق بابن عم خود ہم عصبہ شوند وایشاں ھم بنی عم ایں زمان اند پس مستحق باقی مال زید تواندشد میری سرکار! بے حد ادباور تمام مخلوق سے بہترشخصیت کی سنت کے مطابق بارگاہ عالی میں سلام عرض کرنے کے بعد گزارش کرتاہون کہ مزکورہ بالا صورت میں صوبہ بنگال میں متعدد اختلاف رونماہوکچے کہں کہ میت کی پوتی یامیت کے بھائی کاپوتا عصبہ ہوسکتے ہیں یاکیاصورت ہے ردالمحتار اور شریفیہ کے دلائل سے معلوم ہوا کہ پوتیاں اپنے عینی بھائی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیںاسی طرح اپنے چچا کے یٹے کے ساتھ بھی عصبہ ہوجاتی ہیں۔وہ بھی اس وقت
یانہ برہردو تقدیر از کتب معتبرہ استدلال نمودہ وجواب شافیش عنایت فرمودہ رہین منت فرمایند بفحوائے آیہ کریمہ وتعاونوا علی البر والتقویولاتکتموالحق زیادہ والسلام مع التعظیم والاکرام۔عرض پردازفدوی محمد عبدالعزیز عفی ساکن حال کلکتہ۔۹ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ۔ چچا کے بیٹے ہیںپس وہ زید کے باقی مال کے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں دونوں صورتوں میں معتبر کتابوں سے دلیل لاتے ہوئے تسلی بخش جواب عنایت فرماکر احسان مندفرمائیں اس آیت کریمہ کے تقاضے کی وجہ سے"اورنیکی کے کاموں اور تقوی پر ایك دوسرے سے تعاون کرو"اور"حق کو مت چھپاؤ "تعظیم وتکریم کے ساتھ مزیدسلام۔درخواست گزار فدوی محمدعبدالعزیز اس سے درگزرفرمایاجائے۔ساکن حال کلکتہ۔ ۹ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ(ت)
الجواب:
مکرما السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ در صورت مستفسرہ تصحیح از یك صد وچہل وچارست وبنات الابن محجوبات بہ بنات وتقسیم چناں۔ مکرما السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پوچھی گئی صورت میں مسئلہ کی تصحیح ایك سوچوالیس(۱۱۴)سے ہوگی۔پوتیاں بیٹیوں کی موجودگی میں محروم ہوں گی۔اور تقسیم اس طرح ہوگی:
اگردلائل بکارست فاقول وباﷲ التوفیق:
اولا:بنات الابن راعصبہ نتواں کرد مگرابن الابن وان سفل پس چوں بادویابیش اگردلائل درکارہیں تو میں کہتاہوں اوراﷲ تعالی کی طرف سے ہی توفیق حاصل ہوتی ہے:
پہلی دلیل:پوتیوں کوسوائے پوتے کے کوئی عصبہ نہیں بناسکتا اگرچہ وہ پوتا ان سے نچلے
الجواب:
مکرما السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ در صورت مستفسرہ تصحیح از یك صد وچہل وچارست وبنات الابن محجوبات بہ بنات وتقسیم چناں۔ مکرما السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پوچھی گئی صورت میں مسئلہ کی تصحیح ایك سوچوالیس(۱۱۴)سے ہوگی۔پوتیاں بیٹیوں کی موجودگی میں محروم ہوں گی۔اور تقسیم اس طرح ہوگی:
اگردلائل بکارست فاقول وباﷲ التوفیق:
اولا:بنات الابن راعصبہ نتواں کرد مگرابن الابن وان سفل پس چوں بادویابیش اگردلائل درکارہیں تو میں کہتاہوں اوراﷲ تعالی کی طرف سے ہی توفیق حاصل ہوتی ہے:
پہلی دلیل:پوتیوں کوسوائے پوتے کے کوئی عصبہ نہیں بناسکتا اگرچہ وہ پوتا ان سے نچلے
صلبیات باشند چیزے نیابند مطلقا مگر صورت واحدہ کہ باایشاں فافروتر ازیں شان مردے از اولاد پسرمیت باشد۔ علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبیداﷲ غزی تمرتاشی درتنویرالابصار متن الادرالمختار فرمود اذا استکمل البنات فرضھن سقط بنات الابن الا بتعصیب ابن ابن مواز اونازل علامہ ابراھیم حلبی درملتقی الابحر کہ ازمتون معتمدہ فی المذہب ست فرماید اذا استکمل بنات الصلب الثلثین سقط بنات الابن الا ان یکون بحذائھن اواسفل منھن ابن ابن فیعصب من بحذائہ ومن فوقہ من لیست بذات سھم وتسقط من دونہ ۔علامہ محمد بن حسین بن علی طوری درتکملہ بحرائق فرماید ان کان للمیت ابنتان فلا شیئ لبنت الابن الا ان یکون درجے میں ہو۔پس جب دو۲ یا دو۲ سے زائد میت کی صلبی بیٹیاں موجود ہوں تو پوتیاں بالکل کچھ نہیں پاتیں سوائے ایك صورت کے کہ ان کے ساتھ یا ان کے نیچے کے درجے میں میت کے بیٹے کی اولاد سے کوئی مرد موجود ہو۔علامہ ابو عبد اﷲ محمد بن عبیداﷲ غزی تمرتاشی نے درمختار کے متن تنویر الابصار میں فرمایا جب بیٹیاں اپنا فرضی حصہ مکمل طورپرلے لیں تو پوتیاں ساقط ہوجاتی ہیں سوائے اس کے کہ ان کے برابر یا ان سے نیچے کے درجے کاکوئی پوتا انہیں عصبہ بنادے۔ علامہ ابراہیم حلبی ملتقی الابحر جو کہ مذہب کے قابل اعتماد متون میں سے ہے فرماتے ہیں جب صلبی بیٹیاں دوتہائی مال مکمل طورپرلے لیں تو پوتیاں ساقط ہوجاتی ہیں سوائے اس کے کہ ان کے برابر یا ان کے نیچے کے درجے میں کوئی پوتا موجود ہو تو وہ پوتا اپنے برابر والیوں کو اوراپنے سے اوپروالیوں کو جو کہ ذی فرض نہ ہوں عصبہ بنادیتاہےاور اس پوتے سے نیچے کے درجے والیاں ساقط ہوجاتی ہیں۔علامہ محمدبن حسین بن علی طوری بحرالرائق کے تکملہ میں فرماتے ہیں اگرمیت کی دو بیٹیاں ہوں تو پوتیوں کے لئے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ ان پوتیوں
حوالہ / References
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۹€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی الحجب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲ /۳۴۸€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل فی الحجب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲ /۳۴۸€
فی درجتھا اواسفل منھا ابن ابن فتصیر عصبۃ لہ پیداست کہ ابن ابن الاخ ابن الابن نیست پس ازصورت استثناء خارج باشد۔
ثانیا:نص ہمیں درتعصب بنات بہ ابناء واخوات بہ اخوۃ آمدہ است وبس بنات وابنائے ابن دربنات وابنائے میت داخل اند بالاجماع پس تعصیب بنات ابن بہ ابنائے اخ بے دلیل شرعی ست۔علامہ شیخی زادہ رومی در مجمع الانہر فرماید ان النص الوارد فی صیرورۃ الاناث بالمذکور عصبۃ انما ھو فی موضعین البنات بالبنین والاخوات بالاخوۃ۔
ثالثا:علماء جائیکہ عصبات بغیرہن راشمارند بنت الابن رابقید تعصیب ابن الابن آرند درہندیہ ازحاوی القدسی آورد عصبۃ بغیرہ وھی کل انثی تصیر عصبۃ کے درجے میں یا ان سے نیچے کے درمیں یان ان سے نیچے کے درجے میں کوئی پوتاہو تووہ پوتیاں اس پوتے کی وجہ سے عصبہ بن جائیں گی۔ظاہرہے کہ میت کے کے بھائی کاپوتا میت کاپوتانہیں ہے لہذا وہ استثناء والی صورت سے خارج ہوگا۔
دوسری دلیل:نص تو فقط بیٹوں کے سبب سے بیٹیوں کے اور بھائیوں کے سبب سے بہنوں کے عصبہ بننے کے بارے میں آئی ہے میت کے پوتے اورپوتیاں اس کے بیٹوں اور بیٹیوں میں بالاجماع داخل ہیں۔چنانچہ میت کی بھتیجیوں کا اس کے بھتیجوں کے سبب سے عصبہ بننا دلیل شرعی کے بغیرہے۔ علامہ شیخی زادہ رومی مجمع الانہر میں فرماتے ہیں مزکر کے سبب سے مؤنث کے عصبہ ہوجانے کے بارے میں نص دوجگہوں میں وارد ہے(۱)بیٹیاں بیٹوں کے ساتھ(۲)بہنیں بھائیوں کے ساتھ۔
تیسری دلیل:علماء کرام نے جس جگہ عصبہ بغیرہ کوشمارکیاہے پوتی کے ساتھ یہ قید لائے ہیں کہ پوتا اس کو عصبہ بنائے۔ ہندیہ میں حاوی القدسی سے نقل کیاہے عصبہ بغیرہ ہروہ مؤنث ہے جو اپنے برابر کے
ثانیا:نص ہمیں درتعصب بنات بہ ابناء واخوات بہ اخوۃ آمدہ است وبس بنات وابنائے ابن دربنات وابنائے میت داخل اند بالاجماع پس تعصیب بنات ابن بہ ابنائے اخ بے دلیل شرعی ست۔علامہ شیخی زادہ رومی در مجمع الانہر فرماید ان النص الوارد فی صیرورۃ الاناث بالمذکور عصبۃ انما ھو فی موضعین البنات بالبنین والاخوات بالاخوۃ۔
ثالثا:علماء جائیکہ عصبات بغیرہن راشمارند بنت الابن رابقید تعصیب ابن الابن آرند درہندیہ ازحاوی القدسی آورد عصبۃ بغیرہ وھی کل انثی تصیر عصبۃ کے درجے میں یا ان سے نیچے کے درمیں یان ان سے نیچے کے درجے میں کوئی پوتاہو تووہ پوتیاں اس پوتے کی وجہ سے عصبہ بن جائیں گی۔ظاہرہے کہ میت کے کے بھائی کاپوتا میت کاپوتانہیں ہے لہذا وہ استثناء والی صورت سے خارج ہوگا۔
دوسری دلیل:نص تو فقط بیٹوں کے سبب سے بیٹیوں کے اور بھائیوں کے سبب سے بہنوں کے عصبہ بننے کے بارے میں آئی ہے میت کے پوتے اورپوتیاں اس کے بیٹوں اور بیٹیوں میں بالاجماع داخل ہیں۔چنانچہ میت کی بھتیجیوں کا اس کے بھتیجوں کے سبب سے عصبہ بننا دلیل شرعی کے بغیرہے۔ علامہ شیخی زادہ رومی مجمع الانہر میں فرماتے ہیں مزکر کے سبب سے مؤنث کے عصبہ ہوجانے کے بارے میں نص دوجگہوں میں وارد ہے(۱)بیٹیاں بیٹوں کے ساتھ(۲)بہنیں بھائیوں کے ساتھ۔
تیسری دلیل:علماء کرام نے جس جگہ عصبہ بغیرہ کوشمارکیاہے پوتی کے ساتھ یہ قید لائے ہیں کہ پوتا اس کو عصبہ بنائے۔ ہندیہ میں حاوی القدسی سے نقل کیاہے عصبہ بغیرہ ہروہ مؤنث ہے جو اپنے برابر کے
حوالہ / References
تکملہ بحرالرائق کتاب الفرائض ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸ /۴۹۴€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۷۵۴€
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۷۵۴€
بذکریوازیھا وھی اربعۃ البنت بالابن وبنت الابن بابن الابن والاخت لاب وام باخیھا والاخت لاب باخیھا در متن تنویر وشرح اودرمختار ست تصیر عصبۃ بغیرہ البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن وان سفلوا ۔امام حسین بن محمدسمعانی درخزانۃ المفتین فرماید الثانی وھو العصبۃ بغیرہ ووھواربع من النساء یصرن عصبۃ باخوھن فالبنات یصرن عصبۃ بالابن وبنات الابن بابن الابن والاخوات لاب وام باخیھن والاخوات لاب باخیھن ۔
رابعا:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود مذکر کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہے۔اور وہ چار عورتیں ہیں (۱)بیٹی بیٹے کے ساتھ(۲)پوتی پوتے کے ساتھ(۳)حقیقی بہن اپنے بھائی کے ساتھ(۴)علاتی بہن اپنے بھائی کے ساتھ۔ متن تنویر اور اس کی شرح درمختار میں ہے:بیٹیاں بیٹے کے ساتھ اور پوتیاں پوتے کے ساتھ اگرچہ وہ نیچے تك ہوں عصبہ بغیرہ بن جاتی ہیں۔امام حسین بن محمد سمعانی خزانۃ المفتین میں فرماتے ہیں:عصبہ کی دوسری قسم عصبہ بغیرہ ہےوہ چار عورتیں ہیں جو اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں چنانچہ بیٹیاں بیٹے کے ساتھپوتیاں پوتے کے ساتھحقیقی بہنیں اپنے بھائی کےاور علاتی بہنیں اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں
چوتھی دلیل:بیٹےپوتے اگرچہ نیچے تك ہوںحقیقی بھائی یا علاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تك کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بناسکتے۔علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا
رابعا:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود مذکر کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہے۔اور وہ چار عورتیں ہیں (۱)بیٹی بیٹے کے ساتھ(۲)پوتی پوتے کے ساتھ(۳)حقیقی بہن اپنے بھائی کے ساتھ(۴)علاتی بہن اپنے بھائی کے ساتھ۔ متن تنویر اور اس کی شرح درمختار میں ہے:بیٹیاں بیٹے کے ساتھ اور پوتیاں پوتے کے ساتھ اگرچہ وہ نیچے تك ہوں عصبہ بغیرہ بن جاتی ہیں۔امام حسین بن محمد سمعانی خزانۃ المفتین میں فرماتے ہیں:عصبہ کی دوسری قسم عصبہ بغیرہ ہےوہ چار عورتیں ہیں جو اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں چنانچہ بیٹیاں بیٹے کے ساتھپوتیاں پوتے کے ساتھحقیقی بہنیں اپنے بھائی کےاور علاتی بہنیں اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں
چوتھی دلیل:بیٹےپوتے اگرچہ نیچے تك ہوںحقیقی بھائی یا علاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تك کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بناسکتے۔علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا
حوالہ / References
الفتاوی الہندیہ کتاب الفرائض الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۵۱€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۷€
خزانۃ المفتین کتاب الفرائض ∞قلمی نسخہ ۲ /۲۵۲€
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۷€
خزانۃ المفتین کتاب الفرائض ∞قلمی نسخہ ۲ /۲۵۲€
قال فی السراجیۃ
ولیس ابن الاخ بالمعصب
من مثلہ اوفوقہ فی النسب
بخلاف ابن الابن وان سفل فانہ یعصب من مثلہ او فوقہ ممن لم تکن ذات سھم ویسقط من دونہ ۔ امام سمعانی درخزانۃ المفتین متصل بہ عبارت مذکورہ بالا فرماید والباقی العصبات ینفرد بالمیراث ذکورھم دون اخواتہم وھم اربعۃ ایضا العم وابن العم وابن الاخ وابن المعتق۔
خامسا:اگرمراد بوقوع غلام بمحاذات بنات یا بالا یافرودوقوع او درہمیں سلسلہ نسب ست کہ نوعیت انتساب متبدل نگرد وکما ھو الحق المبین بجزم و یقین پس آنگاہ ابناء اخ راخود مساعی نیست کہ ایں جاسخن درجئز میت ست واوجزء پدرمیت و اگرمراد اعم گیرند تاابن ابن الاخ کہ بمحاذات درجہ بنت الابن ست کہ سراجیہ میں کہاہے:بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپرہے۔بخلاف پوتے کے اگرچہ وہ نیچے تك ہو وہ اپنی مثل اوراپنے سے اوپروالیوں کوعصبہ بنادیتاہے جبکہ وہ ذی فرض نہ ہوں اور اس سے نیچے والیاں ساقط ہوجاتی ہیں۔امام سمعانی خزانۃ المفتین میں عبارت مذکورہ کے متصل فرماتے ہیں:باقی عصبات وہ ہیں جن کے مذکر تنہا میراث پاتے ہیں ان کی بہنیں میراث نہیں پاتیںوہ بھی چار ہیں:(۱)چچا(۲)چچا کابیٹا(۳)بھتیجا(۴)آزاد کرنے والے کابیٹا۔
پانچویں دلیل:اگربیٹیوں کے برابر یااوپر کے درجے میں یانیچے کے درمے میں لڑکے کے واقع ہونے سے مراد اسی سلسلہ نسب میں اس کاواقع ہوناہے کہ انتساب کی نوعیت میں تبدیلی نہ آئے جیسا کہ یہی حق ہےاورجزم ویقین کے ساتھ ظاہرہےتو اس صورت میں بھتیجوں کی یہاں کوئی گنجائش نہیں کیونکہ گفتگو یہاں میت کی جزء میں ہے جبکہ بھتیجا میت کے باپ کی جزہے۔اوراگراس سے مرادعام لی جائے تاکہ بھائی کاپوتا جومیت کی پوتی کے
ولیس ابن الاخ بالمعصب
من مثلہ اوفوقہ فی النسب
بخلاف ابن الابن وان سفل فانہ یعصب من مثلہ او فوقہ ممن لم تکن ذات سھم ویسقط من دونہ ۔ امام سمعانی درخزانۃ المفتین متصل بہ عبارت مذکورہ بالا فرماید والباقی العصبات ینفرد بالمیراث ذکورھم دون اخواتہم وھم اربعۃ ایضا العم وابن العم وابن الاخ وابن المعتق۔
خامسا:اگرمراد بوقوع غلام بمحاذات بنات یا بالا یافرودوقوع او درہمیں سلسلہ نسب ست کہ نوعیت انتساب متبدل نگرد وکما ھو الحق المبین بجزم و یقین پس آنگاہ ابناء اخ راخود مساعی نیست کہ ایں جاسخن درجئز میت ست واوجزء پدرمیت و اگرمراد اعم گیرند تاابن ابن الاخ کہ بمحاذات درجہ بنت الابن ست کہ سراجیہ میں کہاہے:بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپرہے۔بخلاف پوتے کے اگرچہ وہ نیچے تك ہو وہ اپنی مثل اوراپنے سے اوپروالیوں کوعصبہ بنادیتاہے جبکہ وہ ذی فرض نہ ہوں اور اس سے نیچے والیاں ساقط ہوجاتی ہیں۔امام سمعانی خزانۃ المفتین میں عبارت مذکورہ کے متصل فرماتے ہیں:باقی عصبات وہ ہیں جن کے مذکر تنہا میراث پاتے ہیں ان کی بہنیں میراث نہیں پاتیںوہ بھی چار ہیں:(۱)چچا(۲)چچا کابیٹا(۳)بھتیجا(۴)آزاد کرنے والے کابیٹا۔
پانچویں دلیل:اگربیٹیوں کے برابر یااوپر کے درجے میں یانیچے کے درمے میں لڑکے کے واقع ہونے سے مراد اسی سلسلہ نسب میں اس کاواقع ہوناہے کہ انتساب کی نوعیت میں تبدیلی نہ آئے جیسا کہ یہی حق ہےاورجزم ویقین کے ساتھ ظاہرہےتو اس صورت میں بھتیجوں کی یہاں کوئی گنجائش نہیں کیونکہ گفتگو یہاں میت کی جزء میں ہے جبکہ بھتیجا میت کے باپ کی جزہے۔اوراگراس سے مرادعام لی جائے تاکہ بھائی کاپوتا جومیت کی پوتی کے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی العصبات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۹€
خزانۃ المفتین کتاب الفرائض ∞قلمی نسخہ ۲ /۲۵۲€
خزانۃ المفتین کتاب الفرائض ∞قلمی نسخہ ۲ /۲۵۲€
او را عصبہ کند واجب شد کہ ابن الاخ کہ بالاترازوست بنت الابن رااز میراث افگند اگرچہ درانجا صلبیہ ہیچ نبود کہ سقوط سفلیات بغلام عالی عام ومطلق ست از درمختار شنیدی ویسقط من دونہ وخوددرمسئلہ تشبیب کہ لاشیئ للسفلیات گفتہ اند فرض مسئلہ بے صلبیات ست و خودپیداست کہ چوں کارتعصیب کشد اقرب حاجب ابعد بود حالانکہ ایں معنی مخالف اجماع است حجب بنات الابن ہمیں بہ ابن ودوصلبیہ نوشتہ اند نہ بابن الاخ وعلامہ انقروی درحل المشکلات کہ خود اوتاریخ تالیفش قد حل المشکلات۹۶۴ فرمودہ است م ی نگارد اذا مات رجل وترك ابن اخ وزوجۃوبنت ابن فالمسئلۃ من ثمانیۃ لان فیھا ثمنا ونصفا ومابقی فالثمن للزوجۃ والنصف لبنت الابن ومابقی محاذی(برابر درجے میں)ہے اس کو عصبہ بنادے توضروری ہوگا کہ بھائی کابیٹا جو پوتے سے اوپردرجے میں ہے پوتی کو میراث سے خارج کردے اگرچہ وہاں کوئی صلبی بیٹی موجود نہ ہو کیونکہ نچلے درجے والیوں کا اوپر کے درجے والے لڑکے کی وجہ سے ساقط ہوجانا عام اورمطلق ہے۔درمختارسے توسن چکا ہے کہ لڑکا اپنے سے نچلے درجے والی کوساقط کردیتاہے۔ خود مسئلہ تشبیب جس کوفرض ہی صلبی بیٹیوں سے خالی کیاگیا ہے میں کہاگیا ہے کہ نچلے درجے والیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔یہ خودظاہرہے کہ جہاں عصبہ بنانے کی کاروائی ہوتی ہے وہاں قریب والا دور والے کے لئے حاجب ہوتاہے حالانکہ یہ معنیئ اجماع کے خلاف ہے۔پوتیوں کامیراث سے محروم ہونا بیٹے اور دوصلبی بیٹیوں کی وجہ سے ہی مشائخ نے تحریر فرمایا ہے نہ کہ بھتیجے کی وجہ سے۔علامہ انقروی حل المشکلات میں لکھتے ہیں جس کی تاریخ تالیف خود انہوں نے قدحل المشکلات (تحقیق مشکلیں حل ہوگئیں)فرمائی ہے۔جب کوئی مرد فوت ہو اور اس نے ایك بھتیجاایك بیوی اورایك پوتی چھوڑی ہو تو مسئلہ آٹھ سے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں آٹھواں حصہ نصف اوربقیہ ہےچنانچہ آٹھواں حصہ بیوی کونصف پوتی کو
لابن الاخ الخ وفیہ مسائل اخری من ھذا النوع۔
سادسا:اگرابن الاخ حاجب بود اخ کہ اقرب ازدست اولی باوست وایں ہم باطل ست باجماع وفی حل المشکلات اذا مات رجل وترك اخاوبنت ابن فالمسئلۃ من اثنین لان فیھا نصفا ومابقی فالنصف لبنت الابن ومابقی للاخ۔
سابعا:ایں تعصیب اگربودے نبودے وشیئ چوں وجود او مستلزم عدم او باشد محال بودبیان ملازمت آنکہ درعصبات اصل مطرد آنست کہ جزء میت مقدم برجزء پدراوست پس ابن ابن الاخ اگربنت الابن راعصبہ نمودی بنت الابن او را محجوب فرمودے وچوں محجوب میشد تعصیب کہ میکردفھذا شیئ لوکان لم یکن وای محال اب عد منہ۔
ثامنا:تعصیب محاذ یہ مختص بوجود اوربقیہ بھتیجے کوملے گا الخ حل المشکلات میں اس نوعیت کے دیگرمسائل بھی ہیں۔(۱ حل المشکلات)
چھٹی دلیل:اگربھتیجا حاجب ہوتاہے اولی حاجب بنے گا۔اوریہ بھی بالاجماع باطل ہے۔حل المشکلات میں ہے جب کوئی مرد ایك بھائی اورایك پوتی چھوڑ کرفوت ہوجائے تومسئلہ دو۲ سے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں نصف اوربقیہ ہےچنانچہ نصف پوتی کو اوربقیہ بھائی کوملے گا۔
ساتویں دلیل:یہ عصبہ بنانا اگرچہ موجود ہوتا تومعدوم ہوتا۔ اورجس شیئ کاوجود اس کے عدم کوچاہے وہ شیئ محال ہوتی ہے۔ملازمہ کابیان یہ ہے عصبوں کے اندریہ قاعدہ کلیہ جاری ہے کہ میت کی جزئ اس کے باپ کی جزئ پرمقدم ہوتی ہے۔لہذابھائی کاپوتا اگرمیت کی پوتی کوعصبہ بناتاتو وہ پوتی اس کو میراث سے محروم کردیتی۔اورجب وہ خود محروم ہوجاتا تو عصبہ کیونکر بناتا یہ ایك ایسی شیئ ہے کہ اگرموجود ہوتو معدوم ہوگی اور اس سے بڑھ کرکون سا محال ہوگا
آٹھویں دلیل:کسی پوتے کااپنی برابروالی
سادسا:اگرابن الاخ حاجب بود اخ کہ اقرب ازدست اولی باوست وایں ہم باطل ست باجماع وفی حل المشکلات اذا مات رجل وترك اخاوبنت ابن فالمسئلۃ من اثنین لان فیھا نصفا ومابقی فالنصف لبنت الابن ومابقی للاخ۔
سابعا:ایں تعصیب اگربودے نبودے وشیئ چوں وجود او مستلزم عدم او باشد محال بودبیان ملازمت آنکہ درعصبات اصل مطرد آنست کہ جزء میت مقدم برجزء پدراوست پس ابن ابن الاخ اگربنت الابن راعصبہ نمودی بنت الابن او را محجوب فرمودے وچوں محجوب میشد تعصیب کہ میکردفھذا شیئ لوکان لم یکن وای محال اب عد منہ۔
ثامنا:تعصیب محاذ یہ مختص بوجود اوربقیہ بھتیجے کوملے گا الخ حل المشکلات میں اس نوعیت کے دیگرمسائل بھی ہیں۔(۱ حل المشکلات)
چھٹی دلیل:اگربھتیجا حاجب ہوتاہے اولی حاجب بنے گا۔اوریہ بھی بالاجماع باطل ہے۔حل المشکلات میں ہے جب کوئی مرد ایك بھائی اورایك پوتی چھوڑ کرفوت ہوجائے تومسئلہ دو۲ سے بنے گا کیونکہ اس مسئلہ میں نصف اوربقیہ ہےچنانچہ نصف پوتی کو اوربقیہ بھائی کوملے گا۔
ساتویں دلیل:یہ عصبہ بنانا اگرچہ موجود ہوتا تومعدوم ہوتا۔ اورجس شیئ کاوجود اس کے عدم کوچاہے وہ شیئ محال ہوتی ہے۔ملازمہ کابیان یہ ہے عصبوں کے اندریہ قاعدہ کلیہ جاری ہے کہ میت کی جزئ اس کے باپ کی جزئ پرمقدم ہوتی ہے۔لہذابھائی کاپوتا اگرمیت کی پوتی کوعصبہ بناتاتو وہ پوتی اس کو میراث سے محروم کردیتی۔اورجب وہ خود محروم ہوجاتا تو عصبہ کیونکر بناتا یہ ایك ایسی شیئ ہے کہ اگرموجود ہوتو معدوم ہوگی اور اس سے بڑھ کرکون سا محال ہوگا
آٹھویں دلیل:کسی پوتے کااپنی برابروالی
حوالہ / References
حل المشکلات
حل المشکلات
حل المشکلات
دو صلبہ نیست بلکہ بایك صلبیہ وبے صلبیہ نیزحکم ہمیں ست فی ردالمحتار للبنات ستۃ حوال ثلثۃ تتحقق فی بنات الصلب وبنات الابن وھی النصف للواحدۃ والثلثان لاکثر واذا کان معھن ذکر عصبھن ۔درسراجیہ و شریفیہ فرماید العصبۃ بغیرہ اربع من النسوۃ البنت و بنت الابن والاخت لاب و ام والاخت لاب یصرن عصبۃ باخوتھن ۱ھ مختصرا۔پس برتقدیر تعصیب لازم آید کہ درمسئلہ زوج و بنت وبنت الابن وابن ابن الاخ مسئلہ ازدوازدہ باشد سہ بشوہر وشش بدختروسہ باقی درعصبتین للذکرمثل حظ الانثیین کما ھو مصرح بہ فی جمیع الکتب فی مسئلۃ تعصیب بنت الابن بغلام معھا او اسفل منھا۔پس بنت الابن را یك باشد و پوتیوں کوعصبہ بنانا دو۲صلبی بیٹیوں کے موجودہونے کے ساتھ مختص نہیں بلکہ ایك صلبی بیتی ہویاکوئی صلبی بیٹی نہ ہوتب بھی حکم یہی ہے۔ردالمحتارمیں ہے:بیٹیوں کے چھ حال ہیں جن میں سے تین صلبی بیٹیوں اورپوتیوں میں متحقق ہوتے ہیںاور وہ یہ ہیں اکیلی ہو تونصفایك سے زائد ہوں تو دو تہائیاوراگران کے ساتھ کوئی مذکرہوتو وہ ان کوعصبہ بنائے گا۔سراجیہ اورشریفیہ میں فرماتے ہیں:عصبہ بغیرہ چار عوتیں ہیں:بیٹیپوتیعینی بہن اورعلاتی بہن۔یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بن جاتی ہیں اھ اختصارا۔پس عصبہ بنانے کی تقدیر پرلازم آتاہے کہ خاوندبیٹیپوتی اوربھائی کاپوتا چھوڑنے کی صورت میں مسئلہ بارہ سے ہوجس میں سے تین خاوند کو چھ بیٹی کو اورباقی تین دوعصبوں میں اس طرح تقسیم ہوں کہ مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصے کے برابر ہو جیسا کہ برابر والے لڑکے یانچلے درجے والے لڑکے کی وجہ سے پوتیوں کے عصبہ بن جانے والے مسئلہ میں تمام کتابوں میں اس کی تصریح کردی گئی ہےچنانچہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۹۲€
الشریفۃ شرح السراجیۃ باب العصبات ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۰€
الشریفۃ شرح السراجیۃ باب العصبات ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۰€
ابن ابن الاخ بلکہ ابن ابن ابن ابن الاخ ہرچہ فروتر روندہ را دولیکن دریں مسئلہ اگربجائے او اخ عینی گیرند امرمنعکس میشود بنت الابن رادوباشد وبرادر حقیقی را یک۔فی حل المشکلات اذ ماتت امرأۃ وترکت اخا وزوجا وبنت صب وبنت ابن فالمسئلۃ من اثنی عشر لان فیھا سدسا وربعا ونصفا ومابقی فالسدس لبنت الابن و الربع للزوج والنصف لبنت اللب ومابقی للاخ ۔پس استحقاق اخ کمتر از استحقاق ابن ابن ابن ابن خودش اگرچہ بصد درجہ پایان تر ازوست ایں خودشبیہہ بالمحال ست۔
تاسعا:بلکہ لازم آید کہ اخ عینی محروم باشد واینکہ بصد واسطہ دورترازوست ارث یابد مسئلہ زوج وام وبنت وبنت الابن و پوتی کو ایك حصہ ملے گا اوربھائی کے پوتے کو بلکہ بھائی کے پوتے کے پوتے کوجہاں تك نیچے چلاجائے دوحصے ملیں گے۔لیکن اس مسئلہ میں بھائی کے پوتے کے بجائے اگرحقیقی بھائی کو فرض کریں تو معاملہ الٹ جاتاہے۔اس صورت میں پوتی کودواورحقیقی بھائی کوایك حصہ ملتاہے۔حل المشکلات میں ہے جب کوئی عورت فوت ہوئی اور اس نے ایك بھائی خاوندایك صلبی بیٹی اور ایك پوتی چھوڑی تومسئلہ بارہ سے بنے گا۔کیونکہ اس مسئلہ میں ایك چھٹاحصہایك چوتھا حصہ نصف اور بقیہ ہے۔چنانچہ چھٹاحصہ پوی کے لئےچوتھا حصہ خاوند کے لئےنصف صلبی بیٹی کے لئےاور بقیہ بھائی کے لئے ہوگا۔تواس طرح بھائی کااستحقاق اپنے پوتے کے پوتے کے استحقاق سے کمترہوگا اگرچہ بھائی کے پوتے کاپوتا بھائی سے سودرجے نیچے ہو۔یہ خود محال کے مشابہ ہے۔
نویں دلیل:بلکہ لازم آتاہے کہ حقیقی بھائی محروم ہوجائے اور جو اس سے سو درجے دور ہے وہ میراث پائے۔خاوند ماں بیٹیپوتی اوربھائی کے پوتے کے پوتے کا
تاسعا:بلکہ لازم آید کہ اخ عینی محروم باشد واینکہ بصد واسطہ دورترازوست ارث یابد مسئلہ زوج وام وبنت وبنت الابن و پوتی کو ایك حصہ ملے گا اوربھائی کے پوتے کو بلکہ بھائی کے پوتے کے پوتے کوجہاں تك نیچے چلاجائے دوحصے ملیں گے۔لیکن اس مسئلہ میں بھائی کے پوتے کے بجائے اگرحقیقی بھائی کو فرض کریں تو معاملہ الٹ جاتاہے۔اس صورت میں پوتی کودواورحقیقی بھائی کوایك حصہ ملتاہے۔حل المشکلات میں ہے جب کوئی عورت فوت ہوئی اور اس نے ایك بھائی خاوندایك صلبی بیٹی اور ایك پوتی چھوڑی تومسئلہ بارہ سے بنے گا۔کیونکہ اس مسئلہ میں ایك چھٹاحصہایك چوتھا حصہ نصف اور بقیہ ہے۔چنانچہ چھٹاحصہ پوی کے لئےچوتھا حصہ خاوند کے لئےنصف صلبی بیٹی کے لئےاور بقیہ بھائی کے لئے ہوگا۔تواس طرح بھائی کااستحقاق اپنے پوتے کے پوتے کے استحقاق سے کمترہوگا اگرچہ بھائی کے پوتے کاپوتا بھائی سے سودرجے نیچے ہو۔یہ خود محال کے مشابہ ہے۔
نویں دلیل:بلکہ لازم آتاہے کہ حقیقی بھائی محروم ہوجائے اور جو اس سے سو درجے دور ہے وہ میراث پائے۔خاوند ماں بیٹیپوتی اوربھائی کے پوتے کے پوتے کا
حوالہ / References
حل المشکلات
ابن ابن ابن ابن ابن الاخ از دوازدہ شدہ بسی وشش تصحیح پذیر د نہ بشوھر وشش بمادر ہیجدہ بدختر و ودوبابن پسر برادر ویك بدختر پسرواگرجائے اوخودبرادرآید مسئلہ بسیزدہ عول کند و برادرعینی تہی دست روداذلاشیئ بعصبۃ مع العولاگر زاعمے زعم فرماید کہ اخ نیز تعصیب بنت الابن نماید خود نصوص صریحہ اسقاط اعلی السفلی را خلاف کردہ باشد۔
عاشرا:اگر ازیں ہمہ قطع نظر راکارفرمایم تابرتقدیر تعمیم غلام بایں ابنائے اعمام دلیلے کہ برمسئلہ آوردہ اندزینہار منطبق نباید وسخن بہ تناقض ونہافت گراید کلام سیدقدس سرہ شنیدن دارد کہ می فرماید ان بنات الابن اذاکان بحذائھن غلام سواء کان اخاھن اوابن عمھن فانہ یعصبھن کما ان الابن الصلبی یعصب البنات الصلبیۃ و ذلك لان الذکرمن اولاد الابن یعصب الاناث اللاتی مسئلہ بارہ سے بنے گا جس کی تصحیح چھتیس سے ہوگی۔نوحصے خاوند کوچھ ماں کواٹھارہ بیٹی کو اوردوبھائی کے پوتے کواور ایك پوتی کو ملے گا۔اوراگربھائی کے پوتے کی جگہ خودبھائی آتاتو مسئلہ تیرہ کی طرف عول کرتا اورحقیقی بھائی خالی ہاتھ جاتا اس لئے کہ عول کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ملتااگرکوئی گمان کرنے والا یہ گمان کرے کہ بھائی بھی پوتی کوعصبہ بناتاہے تووہ خود ان صریح ان نصوص کی خلاف ورزی کرنے والاہوگا جن میں اوپر والے وارث کے نیچے والے کوساقط کرنے کابیان ہے۔
دسویں دلیل:اگر اس تمام سے قطع نظر کاکروائی کریں توغلام (لڑکے)کوعام مان کر چچاکے بیٹوں کواس میں شامل کرنے کی صورت میں وہ دلیل جسے انہوں نے ذکرکیاہے وہ مسئلہ پر منطبق نہیں ہوگی اورکلام ٹکراؤ اور کمزوری کی طرف مائل ہو جائے گا۔سیدقدس سرہکاکلام سننے کے لائق ہےفرماتے ہیں کہ پوتیوں کے برابر جب کوئی لڑکاہو چاہے وہ ان کابھائی ہو یا ان کے چچاکابیٹاہو تو وہ انہیں عصبہ بنادیتاہے جیسا کہ صلبی بیٹا صلبی بیٹیوں کوعصبہ بنادیتا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ میت کے بیٹے کی اولاد میں سے جومذکر ہووہ میت کی صلبی اولاد
عاشرا:اگر ازیں ہمہ قطع نظر راکارفرمایم تابرتقدیر تعمیم غلام بایں ابنائے اعمام دلیلے کہ برمسئلہ آوردہ اندزینہار منطبق نباید وسخن بہ تناقض ونہافت گراید کلام سیدقدس سرہ شنیدن دارد کہ می فرماید ان بنات الابن اذاکان بحذائھن غلام سواء کان اخاھن اوابن عمھن فانہ یعصبھن کما ان الابن الصلبی یعصب البنات الصلبیۃ و ذلك لان الذکرمن اولاد الابن یعصب الاناث اللاتی مسئلہ بارہ سے بنے گا جس کی تصحیح چھتیس سے ہوگی۔نوحصے خاوند کوچھ ماں کواٹھارہ بیٹی کو اوردوبھائی کے پوتے کواور ایك پوتی کو ملے گا۔اوراگربھائی کے پوتے کی جگہ خودبھائی آتاتو مسئلہ تیرہ کی طرف عول کرتا اورحقیقی بھائی خالی ہاتھ جاتا اس لئے کہ عول کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ملتااگرکوئی گمان کرنے والا یہ گمان کرے کہ بھائی بھی پوتی کوعصبہ بناتاہے تووہ خود ان صریح ان نصوص کی خلاف ورزی کرنے والاہوگا جن میں اوپر والے وارث کے نیچے والے کوساقط کرنے کابیان ہے۔
دسویں دلیل:اگر اس تمام سے قطع نظر کاکروائی کریں توغلام (لڑکے)کوعام مان کر چچاکے بیٹوں کواس میں شامل کرنے کی صورت میں وہ دلیل جسے انہوں نے ذکرکیاہے وہ مسئلہ پر منطبق نہیں ہوگی اورکلام ٹکراؤ اور کمزوری کی طرف مائل ہو جائے گا۔سیدقدس سرہکاکلام سننے کے لائق ہےفرماتے ہیں کہ پوتیوں کے برابر جب کوئی لڑکاہو چاہے وہ ان کابھائی ہو یا ان کے چچاکابیٹاہو تو وہ انہیں عصبہ بنادیتاہے جیسا کہ صلبی بیٹا صلبی بیٹیوں کوعصبہ بنادیتا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ میت کے بیٹے کی اولاد میں سے جومذکر ہووہ میت کی صلبی اولاد
فی درجتہ اذا لم یکن للمیت ولد صلبی بالاتفاق فی استحقاق جمیع المال فکذا یعصبھا فی استحقاق الباقی من الثلثین مع الصبتین والیہ ذھب عامۃ الصحابۃ وعلیہ جمہورالعلماء وقال ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ لایعصبھن بل الباقی کلہ لابن الابن و لاشیئ لبناتہاذ الانثی انما تصیر عصبۃ بالذکر اذا کانت ذات فرض عند الانفراد عنہ کالبنات والاخوات واما اذا لم تکن کذلك فلاتصیربہ عصبۃ کبنات الاخوۃ والاعمام مع بنیھم واجیب بان بنت الابن صاحبۃ فرض عند الانفراد عن ابن الابن لکنھا محجوبۃ بالصلبیتین ھھنا الاتری انھا تاخذ النصف عند عدم الصلبیات بخلاف بنات الاخ و العم اذ لافرض لھا عند انفرادھا عن ابنھما فلا تصیر عصبۃ بہ نہ ہونے کی صورت میں اپنے درجے کی لڑکیوں کوتمام مال کے استحقاق میں بالاتفاق عصبہ بنادیتاہے اوریونہی دوصلبی بیٹیوں کی موجودگی میں دوتہائی سے بچ جانے والے مال کے استحقاق میں انہیں عصبہ بنادیتاہے۔عام صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین اسی طرف گئے ہیںاورجمہورعلماء کابھی یہی موقف ہے۔حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ وہ پوتیوں کوعصبہ نہیں بناتا بلکہ باقی تمام مال پوتے کے لئے ہوگا پوتیوں کوکچھ نہیں ملے گا۔کیونکہ مذکر کے ساتھ مل کر مونث اسی صورت میں عصبی بنتی ہے جب وہ اس مذکر سے الگ ہوکر ذی فرض ہوتی ہو جیسے بیٹیاں اور بہنیں۔اور اگروہ اس طرح نہ ہوتو مذکرکے ساتھ مل کر عصبہ نہیں بنتی جیسے بھائیوں اور چچوں کی بیٹیاں ان کے بیٹوں کے ساتھ۔اور اس کاجواب یوں دیاگیاہے کہ پوتی پوتے سے الگ ہوکرذی فرض ہوتی ہے لیکن یہاں پروہ دوصلبی بیٹیوں کی وجہ سے محروم ہے۔کیاتونہیں دیکھتا کہ صلبی بیٹیوں کی عدم موجودگی میں پوتی نصف مال لیتی ہے بخلاف بھائی اورچچا کی
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ فصل فی النساء ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۲و۲۳€
ایں کلام از سرتاپاشاہد عدل است کہ مرادبغلام ہمان ذکرے ازاولاد ابن ست کلام درہمان ست ودلیل ہم بران وخلاف ابن مسعودھم دراں ورنہ ہیچکس قائل نیست کہ ابن ابن الاخ حاجب بنات ابن است و ھم درنفس سخن تصریح ست کہ ابن عم مربنت عم خودش راتعصیب نتواں کرد۔لاجرم مرادبہ تعمیم سواء کان اخاھن اوابن عمھن ہمیں قدرست کہ خواہ آں پسرپسرہموں پسرباشد کہ ایں دختردختراوست یاپسرپسردیگر کہ عم ایں دختربودنہ ازبنی اعمام ایں زنان باشد معصب ایناں بود اگرچہ ازسلسلہ جزئیت میت بیرون بود ھذا مما لایقول بہ احدبایں تقدیر بحمداﷲ حکم مسئلہ نیز نقش بکرسی نشست وھم بوضوح پیوست کہ کلام درمختاروشریفیہ صراحۃ راغم زعم زاعم ست نہ آنکہ بوفاقش حاکم ست بازاگر بایں ہمہ ہا متسلی نشوند تا تصریح ازعالم تنقیح بشنوندعلامہ بیٹیوں کے کہ ان کے لئے ان دونوں کے بیٹوں سے الگ ہوکر کوئی فرضی حصہ نہیں ہوتالہذا بھائی اورچچا کی بیٹیاں ان کے بیٹے کے ساتھ مل کرعصبہ نہیں بنیں گی۔یہ کلام سرسے لے کرپاؤں تك عادل گواہ ہے کہ غلام(لڑکے)سے مراد وہی مذکرہے جومیت کے بیٹے کی اولادمیں سے ہو۔گفتگو اسی میں ہےدلیل بھی اسی پرہے اورابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کا اختلاف بھی اسی میں ہےورنہ کوئی شخص اس بات کاقائل نہیں کہ بھائی کاپوتامیت کی پوتیوں کے لئے حاجب ہوتاہے نیز نفس کلام میں تصریح موجودہے کہ چچا کابیٹا اپنے چچا کی بیٹی کوعصبہ نہیں بناسکتا تویقینا اس تعمیم سے کہ چاہے وہ ان پوتیوں کابھائی ہو یا ان کے چچا کابیٹاہو جس کی یہ بیٹی ہے یاکسی دوسرے بیٹے کابیٹاہو جو اسی بیٹی کاچچاہو۔یہ مرادنہیں کہ ان عورتوں کے چچاکے بیٹے ان کوعصبہ بنانے والے ہوتے ہیں اگرچہ وہ میت کی جزء کے سلسلہ سے باہرۃوں۔یہ وہ بات ہے جس کاکوئی بھی قائل نہیں۔اس تقدیرپراﷲ تعالی کی حمدوثناء کے ساتھ مسئلہ کاحکم بھی کرسی پرمنقش ہوگیا نیزخوب وضاحت کے ساتھ راسخ ہوگیا کہ درمختار اورشریفیہ کاکلام گمان کرنے والے کے گمان کے صراحۃ خلاف ہے نہ کہ اس کی موافقت کاحکم کرنے والاہے۔پھر اگر اس تمام کے باوجود ان کی تسلی نہ ہو حتی کہ وہ کسی عالم کی واضح
شامی قدس سرہ السامی درعقود الدریہ فرماید سئل فی امرأۃ ماتت عن بنتین وابن اخ شقیق وعن بنتی ابن و خلفت ترکۃ کیف تقسم الجواب للبنتین الثلثان والباقی لابن الاخ الشقیق وابن الاخ لایعصبہ اختہ ولامن ھی اعلی منہ او اسفل فضلا عن کونہ یعصب بنتی الابن
ولیس ابن الاخ بالمعصب
من مثلہ اوفوقہ فی النسب
نعم ابن الابن یعصب بنت الابن ھ ملخصا مسئلہ بکمال وضوحش ازایضاح بے نیاز بودایں مابہ اطناب چہ شا لیست اماچہ تواں کرد کہ بعد عروض وہم ازالہ اش ناگزیرمے بایست ولما بلغنا الی الدلیل الخامس وقفنا علی زلۃ ھھنا صدرت من قلم العلامۃ حامد آفندی فاکدذلك عزمنا علی الاکثار۔لینجلی الحق انجلاء الاھلۃ اذا امیط عنھا کل غیم وعلۃ وبربنا تصریح صاف طورپرسن لیں۔علامہ شامی قدس سرہ السامی عقودالدریہ میں فرماتے ہیں۔اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیا جودو۲بیٹیاںحقیقی بھائی کاایك بیٹا اوردوپوتیاں چھوڑکرفوت ہوئی اس نے کچھ ترکہ چھوڑا وہ کیسے تقسیم کیا جائے گا جواب:بیٹیوں کو دوتہائی ملے گا اورباقی حقیقی بھائی کے بیٹے کوملے گا۔بھائی کابیٹا اپنی بہن کوعصبہ نہیں بناتا اور نہ ہی اپنے سے اوپر کے درجے والی کویانچلے درجے والی کو چہ جائیکہ وہ میت کی پوتیوں کوعصبہ بنائے۔اوربھتیجاعصبہ بنانے والانہیں ہے نسب میں اپنی مثل کو اورنہ اپنے سے اوپر والی کو۔ہاں پوتاپوتی کو عصبہ بناتاہے الخ تلخیص۔مسئلہ کامل طورپرواضح ہونے کی وجہ سے وضاحت کرنے سے مستغنی تھا۔اس طویل بحث کی کیاضرورت تھیمگرکیا کیاجاسکتاہے کہ وہم کے عارض ہونے کے بعد اس کاازالہ ضرورہونا چاہئے۔جب ہم پانچویں دلیل تك پہنچے توہم اس لغزش پر آگاہ ہوئے جویہاں علامہ حامدآفندی کے قلم سے سرزدہوئی۔ تو اس نے ہمارے عزم کو مزیدوضاحت کرنے پر مضبوط کیا تاکہ حق اس طرح ہوجائے جس طرح بادل اورگردوغبار کے دورکئے جانے کے بعد چاند روشن ہوتے ہیں۔
ولیس ابن الاخ بالمعصب
من مثلہ اوفوقہ فی النسب
نعم ابن الابن یعصب بنت الابن ھ ملخصا مسئلہ بکمال وضوحش ازایضاح بے نیاز بودایں مابہ اطناب چہ شا لیست اماچہ تواں کرد کہ بعد عروض وہم ازالہ اش ناگزیرمے بایست ولما بلغنا الی الدلیل الخامس وقفنا علی زلۃ ھھنا صدرت من قلم العلامۃ حامد آفندی فاکدذلك عزمنا علی الاکثار۔لینجلی الحق انجلاء الاھلۃ اذا امیط عنھا کل غیم وعلۃ وبربنا تصریح صاف طورپرسن لیں۔علامہ شامی قدس سرہ السامی عقودالدریہ میں فرماتے ہیں۔اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیا جودو۲بیٹیاںحقیقی بھائی کاایك بیٹا اوردوپوتیاں چھوڑکرفوت ہوئی اس نے کچھ ترکہ چھوڑا وہ کیسے تقسیم کیا جائے گا جواب:بیٹیوں کو دوتہائی ملے گا اورباقی حقیقی بھائی کے بیٹے کوملے گا۔بھائی کابیٹا اپنی بہن کوعصبہ نہیں بناتا اور نہ ہی اپنے سے اوپر کے درجے والی کویانچلے درجے والی کو چہ جائیکہ وہ میت کی پوتیوں کوعصبہ بنائے۔اوربھتیجاعصبہ بنانے والانہیں ہے نسب میں اپنی مثل کو اورنہ اپنے سے اوپر والی کو۔ہاں پوتاپوتی کو عصبہ بناتاہے الخ تلخیص۔مسئلہ کامل طورپرواضح ہونے کی وجہ سے وضاحت کرنے سے مستغنی تھا۔اس طویل بحث کی کیاضرورت تھیمگرکیا کیاجاسکتاہے کہ وہم کے عارض ہونے کے بعد اس کاازالہ ضرورہونا چاہئے۔جب ہم پانچویں دلیل تك پہنچے توہم اس لغزش پر آگاہ ہوئے جویہاں علامہ حامدآفندی کے قلم سے سرزدہوئی۔ تو اس نے ہمارے عزم کو مزیدوضاحت کرنے پر مضبوط کیا تاکہ حق اس طرح ہوجائے جس طرح بادل اورگردوغبار کے دورکئے جانے کے بعد چاند روشن ہوتے ہیں۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الفرائض ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۳۴۷€
نخص الحمد کلہ والصلوۃ والسلام علی صاحب الملۃ محمد والہ وصحبہ والجلۃ آمینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اورہم اپنے رب کے لئے ہی تمام تعریفوں کومختص کرتے ہیںدرودوسلام ہوصاحب ملت پرجن کانام نامی اسم گرامی محمدہے اور آپ کی آل پراورصحابہ پر اور سب پرآمین! واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
فصل ششم
مسئلہ ۹۸: ازکلکتہ تال کمیدن باغ نمبر۴۱ مسجدمانك دفتری مرسلہ محمدعبدالکریم صاحب ۳رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
پس پیشکشی قدمبوسی وناصیہ فرسائی دست بستہ معروض میدارد کہ ازروئے کرم فرمائی ومرحمت گستری دریں مسئلہ مرسلہ بہ تحقیق خود حکم فرمایند اگرحکم موافق مسطور دست دہد ازروئے فیض رسانی برجملہ جہان بر قرطاس مرقوم دستخط نمودہ فیض المرام بخشند۔مسئلہ اینست کہ چہ مے فرمایند علماء دین رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ حق ارث بتقادم زمان ساقط شود یانہ بینواتوجروا۔
الجواب: حق ارث بتقادم زمان ساقط نمی شود کما فی رد المختار لوامر السلطان بعدم سماع الدعوی بعد خمس عشرۃ قدموں کوچومنے اوران پرپیشانی رکھنے کی پیشکش کے بعد دست بستہ گزارش ہے کہ کرم اورمہربانی فرماتے ہوئے اس ارسال کردہ مسئلہ میں اپنی تحقیقی کے مطابق فیصلہ صادرفرمائیںاگرجناب والا کافیصلہ اس تحریر کے موافق ہو توتمام جہان پرفیض رسانی کی رو سے تحریر کردہ کاغذ پردستخط کرکے حاجت برآری فرمائیںمسئلہ یہ ہےکیافرماتے ہیں اے علماء دین اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے اس مسئلہ میں کہ زیادہ عرصہ گزرجانے سے میراث کاحق ساقط ہوجاتاہے یا نہیں بیان کرواجردئیے جاؤگے۔(ت)
الجواب: میراث کاحق زیادہ عرصہ گزرجانے سے ساقط نہیں ہوتاجیسا کہ درمختارمیں ہےاگربادشاہ پندرہ سال کاعرصہ گزرجانے کے بعد قاضی کو دعوی کی
فصل ششم
مسئلہ ۹۸: ازکلکتہ تال کمیدن باغ نمبر۴۱ مسجدمانك دفتری مرسلہ محمدعبدالکریم صاحب ۳رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
پس پیشکشی قدمبوسی وناصیہ فرسائی دست بستہ معروض میدارد کہ ازروئے کرم فرمائی ومرحمت گستری دریں مسئلہ مرسلہ بہ تحقیق خود حکم فرمایند اگرحکم موافق مسطور دست دہد ازروئے فیض رسانی برجملہ جہان بر قرطاس مرقوم دستخط نمودہ فیض المرام بخشند۔مسئلہ اینست کہ چہ مے فرمایند علماء دین رحمکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ حق ارث بتقادم زمان ساقط شود یانہ بینواتوجروا۔
الجواب: حق ارث بتقادم زمان ساقط نمی شود کما فی رد المختار لوامر السلطان بعدم سماع الدعوی بعد خمس عشرۃ قدموں کوچومنے اوران پرپیشانی رکھنے کی پیشکش کے بعد دست بستہ گزارش ہے کہ کرم اورمہربانی فرماتے ہوئے اس ارسال کردہ مسئلہ میں اپنی تحقیقی کے مطابق فیصلہ صادرفرمائیںاگرجناب والا کافیصلہ اس تحریر کے موافق ہو توتمام جہان پرفیض رسانی کی رو سے تحریر کردہ کاغذ پردستخط کرکے حاجت برآری فرمائیںمسئلہ یہ ہےکیافرماتے ہیں اے علماء دین اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے اس مسئلہ میں کہ زیادہ عرصہ گزرجانے سے میراث کاحق ساقط ہوجاتاہے یا نہیں بیان کرواجردئیے جاؤگے۔(ت)
الجواب: میراث کاحق زیادہ عرصہ گزرجانے سے ساقط نہیں ہوتاجیسا کہ درمختارمیں ہےاگربادشاہ پندرہ سال کاعرصہ گزرجانے کے بعد قاضی کو دعوی کی
سنۃ فسمعھالم ینفذ قلت فلاتسمع الان بعدھا الابامر الا فی الوقف والارث و وجود عذر شرعی وبہ افتی المفتی ابوالسعود فلیحفظ ۔وفی ردالمحتار قال السید الحموی فی حاشیۃ الاشباہ ان السلاطین الآن یامرون قضاتھم فی جمیع الایاتھم ان الا یسمعوادعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ سوی الوقف والارث اھ وکما فی ردالمحتار عن الحامدیۃ انہ کتب علی ثلثۃ اسئلۃ انہ تسمع دعوی الارث ولا یمنعھا طول المدۃ وفی ردالمحتار عن الاشباہ وغیرھا ان الحق لایسقط بتقادم الزمان اھ ولذا قال فی الاشباہ ایضا ویجب علیہ سماعھا اھ ای یجب علی السلطان الذی نھی قضاتہ عن سماعت نہ کرنے کاحکم دے۔پھرقاضی اس کی سماعت کرے تو وہ نافذ نہ ہوگا۔میں کہتاہوں اب بادشاہ کی طرف سے ممانعت کے بعد اس کے حکم کے بغیر سماعت نہ کی جائے گی سوائے وقفمیراث اور کسی عذرشرعی کے پانے کی۔مفتی ابو السعود نے یہی فتوی دیاہےاس کویادرکھنا چاہئے۔ردالمحتار میں ہے سیدحموی نے الاشباہ کے حاشیہ میں کہاکہ اب بادشاہ اپنی تمام ولایتوں میں پندرہ سال گزرجانے کے بعد وقف اور میراث کے علاوہ دعوی کی سماعت کرنے سے قاضیوں کو روك دیتے ہیں اھ جیساکہ ردالمحتار میں حامدیہ سے منقول ہےانہوں نے تین مسئلوں کے جواب میں لکھا کہ میراث کے دعوی کی سماعت کی جائے گی اور مدت کادرازہونا اس سے مانع نہیں ہوگا۔ردالمحتار میں اشباہ وغیرہ سے منقول ہے کہ زیادہ عرصہ گزرجانے کی وجہ سے حق ساقط نہیں ہوا اھ۔اسی لئے اشباہ میں بھی کہاہے کہ اس پردعوی کی سماعت واجب ہے۱ھ یعنی جس بادشاہ نے پندرہ سال کاعرصہ گزرنے کے بعد اپنے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۱€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۲€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳€
سماع الدعوی بعد ھذہ المدۃ ان یسمعھا بنفسہ او یامر بسماعھا کی لایضیع حق المدعی والظاھر ان ھذا حیث لم یظھر عن المدعی امارۃ التزویر ۔مخفی مبادہ روایات فقہیہ کہ درباب عدم سماع دعوی ب عد ازمرورپانزدہ سال یاسی سال یاسی وسہ سال یاسی و شش سال وارد مخصوص بصورتے ست کہ دعوی متضضمن برعلامت تزویر یاحیلہ باشد چنانچہ ازعبارات ردالمحتار وغیرہ مفہوم می شود وھذا حکم الکتاب واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔ قاضیوں کودعوی کی سماعت سے منع کیا ہے خود اس پرواجب ہے کہ وہ بذات کود دعوی کی سماعت کرے یا اس کی سماعت کا حکم دے تاکہ مدعی کاحق ضائع نہ ہو۔ظاہریہی ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب مدعی کی طرف سے دھوکہ بازی کی کوئی علامت ظاہرنہ ہو۔پوشیدہ نہ رہے کہ پندرہ سالتیس سالتینتیس سال یاچھتیس سال گزرنے کے بعد دعوی کی سماعت نہ کرنے سے متعلق فقہی روایات اس صورت کے ساتھ مخصوص ہیں کہ دعوی دھوکہ دہی اورحیلہ سازی کی علامات کومتضمن ہوجیساکہ ردالمحتار وغیرہ کی عبارتوں سے معلوم ہوتاہے۔یہ کتاب کاحکم ہےاﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اسی کی طرف کرآناہے۔(ت)
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب ایں جادومقام ست یکے نفس الامر وابانت حکمش ہمان ست کہ ہیچ حق ثابت نامقید بوقتے خاص ارث باشد خواہ غیر اومطلقا اجماعا بتقادم زمان زنہار ساقط نشود چنانکہ درجوھرہ واشباہ وغیرہما اسے اﷲ حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرمااس جگہ دومقام ہیںمقام اول نفس الامراس کے حکم کی وضاحت یہ ہے کہ کوئی ثابت حق جو کسی خاص وقت کے ساتھ مقید نہ ہوچاہے میراث ہو یاکوئی اور مطلقا بالاتفاق زیادہ عرصہ کے گزرنے سے ہرگز ساقط نہیں ہوتاجیسا کہ جوہرہ اوراشباہ
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب ایں جادومقام ست یکے نفس الامر وابانت حکمش ہمان ست کہ ہیچ حق ثابت نامقید بوقتے خاص ارث باشد خواہ غیر اومطلقا اجماعا بتقادم زمان زنہار ساقط نشود چنانکہ درجوھرہ واشباہ وغیرہما اسے اﷲ حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرمااس جگہ دومقام ہیںمقام اول نفس الامراس کے حکم کی وضاحت یہ ہے کہ کوئی ثابت حق جو کسی خاص وقت کے ساتھ مقید نہ ہوچاہے میراث ہو یاکوئی اور مطلقا بالاتفاق زیادہ عرصہ کے گزرنے سے ہرگز ساقط نہیں ہوتاجیسا کہ جوہرہ اوراشباہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳€
منصوص شد وخود در ثبوت او آیات و احادیث وعقیدہ اجماعیہ مجازات یوم الدین برمظالم وتبعات بسندہ است اگرعند اﷲ بمروردہورحق ساقط شدے روزجزاجریان مجازات و مطالبہ تبعات مبادلہ حسنات ووضع سیئات بمیان نیامدے کہ بندہ رابربندہ حقے نماندہ گوازروئے تعدی حدودالہیہ ظالم مطالب بحقوق الہیہ باشد باطل اجماعا بلکہ عنداﷲ ہرچند ظالم برظلم متمادی رودظالم ترشود نہ آنکہ تمادی ایام ظلم برخیز دوحق بناحق آمیزد۔
دوم سماع دعوی بدارالقضاء۔اینجا نیزنفس مرورزمان فی حدود ذاتہ اصلا جمع باثبات منع نیرزد نہ درارث ونہ درغیرآں کائنا ماکان بلکہ منع از دوجہت خیزدیکے سدباب تزویر وقع اطماع فاسدہ ایں حکم حکم اجتہادی فقہائے کرام وائمہ اعلام ست ومتون وشروح وفتاوائے بدمذہب باوناطق وارث وغیرارث وغیرہ میں منصوص ہے۔اس کے ثبوت کے لئے کود قرآنی آیاتاحادیث اوریہ اجماعی عقیدہ کافی ہے کہ قیامت کے دن حقوق العباد سے متعلق ظلم اورزیادتیوں کابدلہ دلوایاجائے گااگرمدتوں کے گزرنے سے اﷲتعالی کے نزدیك حق ساقط ہوجاتا تو قیامت کے دن بدلہ دلوانے اورحقوق العباد کے مطالبے نیکیوں کے بدلے اورگناہوں کے مٹانے کاقانون جاری نہ ہوتاکیونکہ کسی بندے کادوسرے پرکوئی حق نہ رہتا اگرچہ حدودالہیہ تعدی کرنے سے حقوق اﷲ کے بارے میں ظالم سے مواخذہ ہوتااوریہ بھی بالاتفاق باطل ہےبلکہ اﷲ تعالی کے نزدیك ظالم جتناعرصہ ظلم پر قائم رہتاہے زیادہ ظالم ہوتا جاتاہےایسانہیں ہے کہ زیادہ دنوں کاگزرنا ظلم کواٹھا دے اورحق کوناحق کے ساتھ ملادے
مقام دوم قاضی کی کچہری میں دعوی کی سماعت۔اس میں بھی محض زیادہ زمانے کا گزرنا اپنی ذات کے اعتبارسے بالکل اس لائق نہیں کہ سماع دعوی کی ممانعت کاباعث بنےچاہے میراث کادعوی ہویااس کے علاوہ کسی بھی شیئ کا۔بلکہ ممانعت دووجہوں سے پیداہوتی ہےوجہ اول دھوکہ دہی کا دروازہ بندکرنا اورفاسد لالچوں کاختمہ کرنا۔یہ حکم فقہاء کرام اورمشہورائمہ عظام کااجتہادی حکم ہے۔جیسا کہ مذہب کے
دوم سماع دعوی بدارالقضاء۔اینجا نیزنفس مرورزمان فی حدود ذاتہ اصلا جمع باثبات منع نیرزد نہ درارث ونہ درغیرآں کائنا ماکان بلکہ منع از دوجہت خیزدیکے سدباب تزویر وقع اطماع فاسدہ ایں حکم حکم اجتہادی فقہائے کرام وائمہ اعلام ست ومتون وشروح وفتاوائے بدمذہب باوناطق وارث وغیرارث وغیرہ میں منصوص ہے۔اس کے ثبوت کے لئے کود قرآنی آیاتاحادیث اوریہ اجماعی عقیدہ کافی ہے کہ قیامت کے دن حقوق العباد سے متعلق ظلم اورزیادتیوں کابدلہ دلوایاجائے گااگرمدتوں کے گزرنے سے اﷲتعالی کے نزدیك حق ساقط ہوجاتا تو قیامت کے دن بدلہ دلوانے اورحقوق العباد کے مطالبے نیکیوں کے بدلے اورگناہوں کے مٹانے کاقانون جاری نہ ہوتاکیونکہ کسی بندے کادوسرے پرکوئی حق نہ رہتا اگرچہ حدودالہیہ تعدی کرنے سے حقوق اﷲ کے بارے میں ظالم سے مواخذہ ہوتااوریہ بھی بالاتفاق باطل ہےبلکہ اﷲ تعالی کے نزدیك ظالم جتناعرصہ ظلم پر قائم رہتاہے زیادہ ظالم ہوتا جاتاہےایسانہیں ہے کہ زیادہ دنوں کاگزرنا ظلم کواٹھا دے اورحق کوناحق کے ساتھ ملادے
مقام دوم قاضی کی کچہری میں دعوی کی سماعت۔اس میں بھی محض زیادہ زمانے کا گزرنا اپنی ذات کے اعتبارسے بالکل اس لائق نہیں کہ سماع دعوی کی ممانعت کاباعث بنےچاہے میراث کادعوی ہویااس کے علاوہ کسی بھی شیئ کا۔بلکہ ممانعت دووجہوں سے پیداہوتی ہےوجہ اول دھوکہ دہی کا دروازہ بندکرنا اورفاسد لالچوں کاختمہ کرنا۔یہ حکم فقہاء کرام اورمشہورائمہ عظام کااجتہادی حکم ہے۔جیسا کہ مذہب کے
ہمہ در ویکساں ومتوافق وعندالتحقیق متقید نیست بہیچ مدتے ممدودوعدتے معدود صورتش آنست کہ مثلا زیدرادارے ست کہ شراء یاارثا یابہیچ وجہ ازوجوہ تملك نزد اوست واو زمانے دروتصرفات مالکانہ مے کرد وعمروعاقل وبالغ ہمدراں شہرساکن وبرآں تصرفات آگاہ بودوموانع ارجاع دعوے یکسرمفقودحالاخود اویاوارث او برمی خیزد ونزاع مے انگیزد وگردن دعوی رمی فرازدکہ ای خانہ(خانہ)ازاں منست زینہار نشنوند گودعوی ازجہت ارث گاش زیراکہ سکوت تامدتے صالحہ باوصف انعدام موانع ووجود مقتضی اعنی اطلاع برتصرفات مالکانہ زید قرینہ واضحہ است برانکہ دار دارزیدست ودع۴وی عمروازراہ کیدلاجرم آں سکوت رادررنگ اقراراوبملك زید فراگرفتہ مانع دعوی دانند آنچنانکہ اگرصراحۃ مقرشدے کہ دارازاں زیدست وبازبے توفیق معقول وقابل قبول بدعوی برخاستے تناقض گریبانش گرفتے ودعوی پیش نہ رفتے کذا ھذا وپیداست کہ درایں باب متونشروح اورفتاوے اس پرشاہد ہیں۔میراث اورغیر میراث اس حکم میں برابرہیں۔تحقیق کی رو سے یہ حکم کسی لمبی مدت اورخاص عرصے کے ساتھ مقیدومشروط نہیں ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ زید کاایك گھرہے جو اس نے خریدا یامیراث میں پایایاملکیت کی وجوہ میں سے کسی اوروجہ سے اس کے پاس ہےوہ اس میں ایك عرصے تك مالکانہ تصرفات کرتارہا۔عمروجوکہ عاقل وبالغ اوراسی شہرمیں رہائش پذیرتھا زید کے تصرفات پرآگاہ تھا۔دعوی کرنے میں کوئی رکاوٹ بالکل موجودنہ تھی(اس کے باوجود وہ چپ رہا)اب عمرو خود یا اس کاکوئی وارث اٹھ کر جھگڑا پیداکرتاہے اورگردن دعوی بلند کرتے ہوئے کہتاہے اورگردن دعوی بلند کرتے ہوئے کہتاہے کہ یہ گھرمیراہے تویہ دعوی ہرگز قابل سماعت نہیں اگرچہ میراث کی جہت سے دعوی ہو اس لئے کہ دعوی کی صلاحیت رکھنے والی مدت میں چپ رہناجبکہ دعوی میں کوئی رکاوٹ موجودنہ تھی اوردعوی کامقتضی بھی موجودتھا یعنی زیدکے مالکانہ تصرفات سے آگاہییہ واضح قرینہ ہے کہ گھر زیدکاہے اورعمروکادعوی بطور مکرہے۔یقینا اس کی خاموشی کوزید کی ملکیت کااقراراقراردیتے ہوئے مشائخ کرام دعوی سے مانع سمجھتے ہیںجس طرح کہ اگروہ صراحۃ اقرارکرتاکہ یہ گھرزیدکاہے پھرکسی معقول اورقابل قبول توجیہ کے بغیراس
ادعائے ارث وغیرارث ہمہ یکساں ست اللھم مگرآنجا کہ زید مقرباشد بآنکہ دراملك مورث عمرو بودہ است ومن ازوشراء یاہبۃ گرفتہ ام آنگاہ امردعوی بازگونہ گرد و زید مدعی شود وعمرو مدعاعلی وتصرفات زیدتا زمانے مدید سودش نکند کہ دعوی رابینہ بایدنہ مجرد تصرفات۔کمالایخفی علی اھل التصرف۔دوم نہی سلطان اسلاماین ست آنچہ درارث وغیر ارث متخالف شود کاربرتحدید مدت ازپیشگاہ سلطنت قرارگیرد بے نظر بصددرتصرف واطلاق مدعی وعدم موانع وظہور تزویروغیرذلکسرایں کارآنست کہ ولایت قضاۃ مستفاد از جہت سلطان وقضابزمان ومکان واشخاص واشیاء ہرچہ سلطان مولی بآں تخصیص فرماید تخصیص پزیردپس اگرسلطان اسلام اعزاﷲ نصرہ قضاۃ خودرابعد مدتے معینہ مثلا پانزدہ سال یاماہ یا فرضادو سہ روز ازسماع دعوی نہی کند قاضیان بعدآں زمان درحق آں دعاوی معزول باشند سماع نامقبول دریں اختلاف استثنائے گھرپردعوی کے لئے اٹھ کھڑاہوتا تو ٹکراؤ اس کاگریبان پکڑلیتا اور اس کے دعوی میں پیشرفت نہ ہوتی اور یہ بھی ایسے ہی ہے۔ظاہرہے کہ اس باب میں میراث اورغیرمیراث کادعوی سب برابرہیں۔اے اﷲ! مگراس صورت میں کہ زید اس بات کااقرار کرتاہو کہ یہ گھر عمروکے مورث کی ملکیت میں تھا میں نے اس سے خریدلیایابطورہبہ حاصل کیاہے تو اس وقت دعوی کامعاملہ الٹ ہوجائے گا کہ زید مدعی اورعمرو مدعاعلیہ بن جائے گااور عرصہ درازتك زیدکااس میں تصرفات کرنا اس کوفائدہ نہیں دے گا۔کیونکہ دعوی کے لئے گواہ درکارہیں نہ کہ محض تصرفات۔جیساکہ اہل تصرف پرپوشیدہ نہیں ہے۔وجہ دوم بادشاہ اسلام کامنع کرنا۔یہ ہے وہ صورت جس میں میراث اورغیرمیراث مختلف ہوتے ہیں۔اسی میں کاروائی مدت کی حدبندی پرسلطنت کی طرف سے قرارپاتی ہے۔اس میں تصرف کاصادرہونامدعی کاآگاہ ہونارکاوٹوں کا موجود نہ ہونا اور دھوکہ دہی کاظاہرہونا وغیرہ امورملحوظ نہیں ہوتے۔اس کاروائی کارازیہ ہے کہ قاضیوں کی ولایت بادشاہ کی طرف سے حاصل شدہ ہے اورقضاء زمانےمکاناشخاص اور دیگرجن اشیاء کے ساتھ بادشاہ خاص کردے
وقف وارث ومال یتیم وغائب وغیرذلك ہمہ یابعض یامطلقا عدم استثناء ازہمیں جہت داشتہ است اسلطان ہرزمان آنکہ مطلق داشت علماء مطلق گزاشتند وآنکہ استثناکرد استثناء فرمودند کہ اینجا کاربرزبان شہریارست وبس وازیں بیان بوضوح پیوست کہ دریں وادی نیزارث وغیراوہمہ متساوی الاقدام ست تاآنکہ اگرسلطانے قضاۃ خودرابعدیك سال ملا خاص ازسماع دعوی ارث منع فرماید بالخصوص ہمیں دعوی ارث نامسموع باشد وغیراومسموع والعکس بالعکس ایں ست ریں مقام تحقیق انیق وباﷲ التوفیق سخن دریں باب درکتاب القضاء والدعاوی ازفتاوی خودم قدرے درازراندہ ام اینجا بر تلخیص عباراتے چندقناعت ورزیدن برازراہ اسہاب و اطناب گزیدن درفتاوی علامہ ابوعبداﷲ محمدبن عبداﷲ غزی تمرتاشی مصنف تنویرالابصار ست سئل عن رجل لہ بیت فی دارلیسکنہ مدۃ تزیدعلی ثلث سنوات ولہ جار بجابجانبہ والرجل المذکور یتصرف فی البیت المذبور بناء وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ فھل اذا ادعی البیت بعد خاص ہوجاتی ہےلہذااگربادشہ اسلام اﷲ تعالی اس کی نصرت کو غالب کرے اپنے قاضیوں کو ایك خاص مدت جیسے پندرہ سال یاپندرہ مہینے یابالفرض دوتین دن کے بعد دعوی کی سماعت سے منع کردے توقاضی صاحبان اس مدت کے بعد ان دعووں کے حق میں معزول ہوجاتے ہیں اور ان کی طرف سے دعوی کی سماعت نامقبول ہوتی ہے۔اس مسئلہ میں میراثوقفمال یتیم اورمال غائب وغیرہ میں کل یابعض کے استثناء یامطلقا عدم استثناء کااختلاف اسی وجہ سے ہے کہ ہردور کے بادشاہ نے جس کو مطلق رکھا علماء نے بھی اس کومطلق رکھا اور بادشاہ نے جسے مستثنی کردیا علماء نے بھی اسے مستثنی کردیاکیونکہ یہاں کاروائی فقط بادشاہ کی زبان پرہےاس بیان سے خوب وضاحت ہوگئی کہ اس وادی میں میرا اور غیرمیراث برابرہیں یہاں تك کہ اگربادشاہ مثال کے طورپر ایك سال کے بعد اپنے قاضیوں کو خاص دعوی میراث کی سماعت سے منع کردے توخاص اسی دعوی میراث کی ممانعت ہوگی اس کے علاوہ دیگردعووں کی
ماذکر تسمع دعواہ ام لا۔اجاب لاتسمع دعواہ علی ماعلیہ الفتوی ۔درفتاوی علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار است سئل فی رجل اشتری من اخر ستۃ اذرع من ارض بید البائع وبنی بھا بناء وتصرف فیہ ثم بعدہ ادعی رجل علی البانی المذکور ان لہ ثلثۃ قراریط ونصف قیراط فی المبیع المذکور ارثا عن امہ والحال ان امہ تنظر یتصرف بالبناء والانتفاع المذکورین ھل لہ ذلك ام لا۔اجاب لاتسمع دعواہ لان علمائنا نصوا فی متونھم وشروحھم وفتاواھم ان تصرف المشتری فی المبیع مع اطلاع الخصم ولوکان اجنبیا بنحوالبناء والغرس والذرع یمنعہ من سماعت ہوسکے گی اور اگربادشاہ اس کے برعکس حکم دے تومسئلہ کی صورت بھی برعکس ہوجائےگی۔اس مقام پریہ نفیس تحقیق ہے اورتوفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔اس مسئلے سے متعلق میں نے اپنے فتاوی کی کتاب القضاء اور کتاب الدعاوی میں قدرے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔اور یہاں پربطور خلاصہ چندعبارتوں پرقناعت اختیارکرناطوالت کاراستہ اپنانے سے بہترہے۔علامہ ا بوعبداﷲ محمد بن عبیداﷲ غزی تمرتاشی مصنف تنویرالابصار کے فتاوی میں ہے کہ ایك ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیاجس کے پاس کسی گھر کا ایك کمرہ ہے جس میں رہتے ہوئے اس کوتین سال سے زائد عرصہ ہوچکاہے۔اس گھر کی ایك جانب شخص مذکور کا ایك پڑوسی رہتاہے اور شخص مذکوراس کمرے میں جس کا ذکرگزرچکاہے عمارت و تعمیر وغیرہ کاتصرف تین سالہ مدت میں کرتارہا جس پراس کاپڑوسی آگاہ تھا۔کیا مدت مذکورہ کے بعد اگروہ پڑوسی اس کمرے پردعوی کرے تو اس کادعوی سنا جائے گا یانہیں آپ نے جواب دیامفتی بہ قول کے مطابق اس کادعوی نہیں سناجائے گا۔صاحب درمختار کے استاد علامہ خیر الدین رملی کے
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ فتاوی الامام الغزی کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۴€
سماع الدعوی قال صاحب المنظومۃ اتفق اساتیذنا علی انہ لاتسمع دعواہ ویجعل سکوتہ رضا للبیع قطعا للتزویر والاطماع والحیل و التلبیس وجعل الحضوروترك المنازعۃ اقرارا بانہ ملك البائع ۔
ہمدران ست سئل فیما اذا ادعی زید علی عمرو محدود انہ مبلکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریتہ من والدك وعمك وانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنۃ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعوی ھل یکون ذلك
فتاوی میں ہے ایك ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے بائع کے زیرقبضہ زمین میں سے چھ ہاتھ زمین خرید کر اس کو تعمیرکیا اور اس میں تصرف کیاپھربعدازاں ایك شخص نے تعمیر کرنے والے شخص مذکورپردعوی کردیا کہ اس فروخت شدہ زمین میں ساڑھے تین قیراط میرے ہیں جومجھے ماں کی میراث سے ملے ہیںحالانکہ اس کی ماں عمارت بنانے اورانتفاع مذکورکے تصرف کودیکھتی رہی۔کیا اس کو ایساکرنے کاحق ہے یانہیں توآپ نے جواب دیا اس کادعوی نہیں سناجائے گا کیونکہ ہمارے علماء نے اپنے متونشروح اورفتاوی میں نص فرمائی ہے کہ خصم کے مطلع ہوتے ہوئے مبیع میں مشتری کاتصرف اگرچہ وہ اجنبی ہو جیسے عمارت بنانادرخت لگانا اور کھیتی باڑی کرنا اس کے دعوی کی سماعت سے مانع ہوتاہے۔صاحب منظومہ نے کہاہمارے اساتذہ اس پر متفق ہیں کہ اس کادعوی نہیں سناجائے گا اوردھوکہ دہی لالچحیلے اورفریب کے خاتمہ کے لئے اس کی خاموشی کو بیع کے ساتھ رضامندی قراردیاجائے گا۔اس کی بوقت بیع وہاں موجودگی اورمنازعت کے ترك کرنے کو
ہمدران ست سئل فیما اذا ادعی زید علی عمرو محدود انہ مبلکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریتہ من والدك وعمك وانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنۃ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعوی ھل یکون ذلك
فتاوی میں ہے ایك ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے بائع کے زیرقبضہ زمین میں سے چھ ہاتھ زمین خرید کر اس کو تعمیرکیا اور اس میں تصرف کیاپھربعدازاں ایك شخص نے تعمیر کرنے والے شخص مذکورپردعوی کردیا کہ اس فروخت شدہ زمین میں ساڑھے تین قیراط میرے ہیں جومجھے ماں کی میراث سے ملے ہیںحالانکہ اس کی ماں عمارت بنانے اورانتفاع مذکورکے تصرف کودیکھتی رہی۔کیا اس کو ایساکرنے کاحق ہے یانہیں توآپ نے جواب دیا اس کادعوی نہیں سناجائے گا کیونکہ ہمارے علماء نے اپنے متونشروح اورفتاوی میں نص فرمائی ہے کہ خصم کے مطلع ہوتے ہوئے مبیع میں مشتری کاتصرف اگرچہ وہ اجنبی ہو جیسے عمارت بنانادرخت لگانا اور کھیتی باڑی کرنا اس کے دعوی کی سماعت سے مانع ہوتاہے۔صاحب منظومہ نے کہاہمارے اساتذہ اس پر متفق ہیں کہ اس کادعوی نہیں سناجائے گا اوردھوکہ دہی لالچحیلے اورفریب کے خاتمہ کے لئے اس کی خاموشی کو بیع کے ساتھ رضامندی قراردیاجائے گا۔اس کی بوقت بیع وہاں موجودگی اورمنازعت کے ترك کرنے کو
حوالہ / References
الفتاوٰی الخیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۸۷ و ۸۸€
من باب الاقرار بالتلقی من مورثیہ اجاب نعم دعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علی الی بینۃ وصار المدعی علیہ مداعیا وکل مدع یحتاج الی بینۃ ینوربھا دعواہ ولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکورولیس من باب ترك الدعوی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقربشیئ لغیرہ اخذ باقرارہ ولو کان فی یدہ احقابا کثیرۃ لاتعدوھذامالا یتوقف فیہ ۔ اس بات کااقرار قراردیاجائے گا کہ وہ بائع کی ملك ہے۔اسی میں ہے اس صورت کے بارے میں سوال کیاگیا جب زید نے عمرو پر ایك احاطہ سے متعلق دعوی کیاکہ یہ اس کاہے جو اسے اپنے والد سے بطورمیراث ملاہے۔مدعی علیہ(عمرو)نے جواب دیا کہ میں نے یہ احاطہ تمہارے والد اور چچا سے خریدا تھا اورچالیس سال سے زائد عرصہ ہوا کہ میں اس پرقابض ہوں جبکہ تم میرے ساتھ اسی شہر میں رہائش پذیرہونے کے باوجود اب تك دعوی سے خاموش رہے ہو حالانکہ کوئی عذرموجود نہ تھا جوتجھے دعوی سے روکتا۔کیایہ عمرو کی طرف سے اس احاطہ کو زید کے مورثوں(باپ اورچچے)سے حاصل کرنے کا اقرارہوگا توآپ نے جواب دیا کہ ہاں مورث سے ملك حاصل کرنے کادعویمورث کی ملکیت کا اقرار اور اس سے مقر کی طرف ملکیت کے منتقل ہونے کادعوی ہے۔چنانچہ مدعی علیہ گوہ پیش کرنے کامحتاج ہوگا اس صورت میں مدعی علیہ مدعی بن جائے گا۔اورہرمدعی ایسے گواہ پیش کرنے کامحتاج ہوتاہے جس سے اس کا دعوی ثابت ہو۔مذکورہ بالااقرار کے ہوتے ہوئے مدت مذکورہ تك عمرو کاقابض رہنا اس کوکچھ نفع نہ دے گا۔یہ ترك دعوی کے باب سے نہیں بلکہ اقرار کی وجہ سے مواخذہ کے باب سے ہے۔جوشخص دوسرے کے لئے کسی شیئ کے بارے میں اقرار کرلے
حوالہ / References
فتاوی الخیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۸۰ و ۸۱€
درعقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ ست
رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخر رای الار والتصرف ولم یدع ومات علی ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوی ولدہ اھ ولم یقیدوہ بمدۃ کما تری لان مایمنع صحۃ دعوی المورث یمنع صحۃ دعوی الوارث ثم البیع غیرقید بل مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی ولیس مبنیا علی المنع السلطانی بل ھو حکم اجتھادی نص علی الفقہاء کما رأیت ملقطا۔ہمدرانست سئل فی رجل یرید الدعوی علی زید بمیراث امہ المتوفاۃ من اکثر من خمس عشرۃ سنۃ وزید یجحد ومضت ھذہ المدۃ من بلوغہ تو وہ اپنے اقرار کے سبب سے پکڑاجائے گا اگرچہ وہ شیئ سالہاسال سے اس کے قبضہ میں ہو۔اس مسئلہ میں توقف نہیں کیاجائے گا۔(ت)
عقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ ایك شخص نے کچھ عرصہ تك ایك زمین میں تصرف کی اور ایك دوسرا شخص اس کو زمین میں تصرف کرتے ہوئے دیکھتارہا اوردعوی نہیں کیا اوراسی حالت میں وہ فوت ہوگیا تو اب اس کی اولاد کادعوی نہیں سناجائے گا اھ مشائخ نے اس حکم کو کسی مدت کے ساتھ مقیدنہیں کیاجیسا کہ تودیکھ رہاہے۔اورجو شیئ مورث کے دعوی کی صحت سے مانع ہو وہ وارث کے دعوی کی صحت سے بھی مانع ہوتی ہے۔پھربیع کی کوئی قید نہیں بلکہ محض تصرف پرمطلع ہونا دعوی سے مانع ہے اور یہ حکم بادشاہ کی طرف سے ممانعت پرمبنی نہیں ہے بلکہ یہ اجتہادی حکم ہے جس پرفقہأنے نص فرمائی ہے جیسا کہ میں نے دیکھاہے ملتقطا۔اسی میں ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جوزید پر اپنی ماں کی میرا کادعوی کرناچاہتاہے جس کو فوت ہوئے پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گزرچکاہے جبکہ زیداس سے انکارکرتاہے۔یہ عرصہ اس شخص کے عاقل بالغ ہونے کے
رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخر رای الار والتصرف ولم یدع ومات علی ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوی ولدہ اھ ولم یقیدوہ بمدۃ کما تری لان مایمنع صحۃ دعوی المورث یمنع صحۃ دعوی الوارث ثم البیع غیرقید بل مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی ولیس مبنیا علی المنع السلطانی بل ھو حکم اجتھادی نص علی الفقہاء کما رأیت ملقطا۔ہمدرانست سئل فی رجل یرید الدعوی علی زید بمیراث امہ المتوفاۃ من اکثر من خمس عشرۃ سنۃ وزید یجحد ومضت ھذہ المدۃ من بلوغہ تو وہ اپنے اقرار کے سبب سے پکڑاجائے گا اگرچہ وہ شیئ سالہاسال سے اس کے قبضہ میں ہو۔اس مسئلہ میں توقف نہیں کیاجائے گا۔(ت)
عقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ ایك شخص نے کچھ عرصہ تك ایك زمین میں تصرف کی اور ایك دوسرا شخص اس کو زمین میں تصرف کرتے ہوئے دیکھتارہا اوردعوی نہیں کیا اوراسی حالت میں وہ فوت ہوگیا تو اب اس کی اولاد کادعوی نہیں سناجائے گا اھ مشائخ نے اس حکم کو کسی مدت کے ساتھ مقیدنہیں کیاجیسا کہ تودیکھ رہاہے۔اورجو شیئ مورث کے دعوی کی صحت سے مانع ہو وہ وارث کے دعوی کی صحت سے بھی مانع ہوتی ہے۔پھربیع کی کوئی قید نہیں بلکہ محض تصرف پرمطلع ہونا دعوی سے مانع ہے اور یہ حکم بادشاہ کی طرف سے ممانعت پرمبنی نہیں ہے بلکہ یہ اجتہادی حکم ہے جس پرفقہأنے نص فرمائی ہے جیسا کہ میں نے دیکھاہے ملتقطا۔اسی میں ہے کہ ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جوزید پر اپنی ماں کی میرا کادعوی کرناچاہتاہے جس کو فوت ہوئے پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گزرچکاہے جبکہ زیداس سے انکارکرتاہے۔یہ عرصہ اس شخص کے عاقل بالغ ہونے کے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /€۳
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۴€
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۴€
رشید اولم یدع بذلك ولامنعہ مانع شرعی وھما مقیمان فی بلدۃ واحدۃ فھل تکون دعواہ بذلك غیرمسموعۃ للمنع السلطانی۔الجواب نعم والقضاء یجوز تخصیصہ وتقییدہ بالزمان والمکان واستثناء بعض الخصومات کما فی الخلاصۃاشباہ وفیھا الحق لایسقط بتقادم الزمان کذا فی الجوھرۃ قال الحموی السلاطین الان یامرون قضاتھم ان لایسمعوا دعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ سوعی الوقف والارثومقتضی ماافتی بہ الخیر الرملی ان الارث غیرمستثنیوقد کتب احمد آفندی المھمنداری علی ثلثۃ اسئلۃ بانہ تسمع دعوی الارث ولایمنعھا طول المدۃ وکتب علی سؤال اخر انھا لاتسمع وصرح العلائی قبیل باب التحکیم باستثناء الوقف و الارثونقل المنلاعلی عن فتاوی عل افندی مفتی الروم عدم سماعھاونقل مثلہ السائحانی عن فتاوی عبداﷲ بعد گزراہے اور اس نے دعوی نہیں کیاحالانکہ کسی شرعی مانع نے اس کو دعوی سے نہیں روکا اور وہ دونوں ایك ہی شہر میں رہائش پذیرہیں۔کیا بادشاہ کی طرف سے ممانعت کی وجہ سے اس کایہ دعوی نہیں سناجائے گاجواب : ہاںاورقضاء کوکسی خاص زمان ومکان کے ساتھ مختص اورمقیدکرنا اور بعض تنازعات کو اس سے مستثنی کردیناجائزہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(اشباہ)۔اسی میں ہے کہ زیادہ زمانہ کے گزرنے سے حق ساقط نہیں ہوتا جیسا کہ جوہرہ میں ہے۔امام حموی نے کہا کہ اب بادشاہ اپنے قاضیوں کوحکم دیتے ہیں کہ وہ پندرہ سال کاعرصہ گزرجانے کے بعد کسی دعوی کی سماعت نہ کریں سوائے میراث اوروقف کےاورخیرالدین رملی کے فتوے کا تقاضا یہ ہے کہ میراث مستثنی نہیں ہے۔احمدآفندی مہمنداری نے تین سوالوں پرلکھاکہ میراث کے دعوی کی سماعت کی جائے گی اورطوالت مدت اس سے مانع نہ ہوگی جبکہ ایك اور سوال تحریر فرمایا کہ میراث کے دعوی کی سماعت نہیں کی جائے گی۔علائی نے باب التحکیم سے تھوڑا ساپہلے وقف اور میراث کے مستثنی ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔منلاعلی نے مفتی روم علی آفندی کے فتاوی سے اس کاقابل سماعت نہ ہونا نقل کیا ہے۔اسی کی مثل سائحانی نے عبداﷲ آفندی کے
آفندی فقد اضطرب کلامھم کما تری فی مسألۃ الارث والظاھر انہ تارۃ ورد امر مع استثنائھا وتارۃ بدونہ اھ ملخصا۔
درردالمحتار است لیس لھذا(یعنی منع الدعوی للسکوت مع الاطلاع علی التصرفات)مدۃ محدودۃ واما عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ اذا ترکت بلاعذر فذاك فی غیر ھذہ الصورۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ فتاوی سے نقل کیاہےان کے کلا میں جیسا تودیکھ رہاہے میراث کے بارے میں اضطراب پایاگیاہے بظاہر کبھی تواس کے استثناء کے ساتھ امرواردہوا اورکبھی بغیر استثناء کے۔ اھ ملخصا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے کہ اس کے لئے(یعنی تصرفات پرمطلع ہو کرچپ رہنے کی سے دعوی کی ممانعت کے لئے)کوئی مدت متعین نہیں ہے۔رہاپندہ سال کے گزرجانے کے بعد دعوی کی سماعت نہ ہونے کامعاملہ جبکہ بغیرعذرکے اس کوچھوڑاہوتو وہ اس صورت کے علاوہ میں ہے۔اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۹۹ : ازشہر چاٹگام موضع نیاپارہ مرسلہ مولوی قدرت اﷲ صاحب آخرربیع الاول ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخصے وفات یافت یك زوجہ و والدہ ویك خواہر حقیقی ویك اخت علاتی ویك برادر اخیافی ویك ابن العم گزاشت وجمیع مال وصیت برائے ابن العم کردہ بودپس حکم وصیت چیست وتقسیم ترکہ چسان۔ بینوا توجروا۔ کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فوت ہوا اور وارثوں میں ایك بیویماںایك حقیقی بہنایك علاتی بہن ایك اخیافی بھائی اورایك چچاکابیٹاچھوڑا ہے جبکہ اس نے تمام مال کی وصیت چچا کے بیٹے کے لئے کردی تھیاس وصیت کا حکم کیاہے اور ترکہ کی رقم تقسیم کیسے ہوگی بیان کرو اجر پاؤگے۔(ت)
درردالمحتار است لیس لھذا(یعنی منع الدعوی للسکوت مع الاطلاع علی التصرفات)مدۃ محدودۃ واما عدم سماع الدعوی بعد مضی خمس عشرۃ سنۃ اذا ترکت بلاعذر فذاك فی غیر ھذہ الصورۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ فتاوی سے نقل کیاہےان کے کلا میں جیسا تودیکھ رہاہے میراث کے بارے میں اضطراب پایاگیاہے بظاہر کبھی تواس کے استثناء کے ساتھ امرواردہوا اورکبھی بغیر استثناء کے۔ اھ ملخصا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے کہ اس کے لئے(یعنی تصرفات پرمطلع ہو کرچپ رہنے کی سے دعوی کی ممانعت کے لئے)کوئی مدت متعین نہیں ہے۔رہاپندہ سال کے گزرجانے کے بعد دعوی کی سماعت نہ ہونے کامعاملہ جبکہ بغیرعذرکے اس کوچھوڑاہوتو وہ اس صورت کے علاوہ میں ہے۔اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۹۹ : ازشہر چاٹگام موضع نیاپارہ مرسلہ مولوی قدرت اﷲ صاحب آخرربیع الاول ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخصے وفات یافت یك زوجہ و والدہ ویك خواہر حقیقی ویك اخت علاتی ویك برادر اخیافی ویك ابن العم گزاشت وجمیع مال وصیت برائے ابن العم کردہ بودپس حکم وصیت چیست وتقسیم ترکہ چسان۔ بینوا توجروا۔ کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فوت ہوا اور وارثوں میں ایك بیویماںایك حقیقی بہنایك علاتی بہن ایك اخیافی بھائی اورایك چچاکابیٹاچھوڑا ہے جبکہ اس نے تمام مال کی وصیت چچا کے بیٹے کے لئے کردی تھیاس وصیت کا حکم کیاہے اور ترکہ کی رقم تقسیم کیسے ہوگی بیان کرو اجر پاؤگے۔(ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲ /۵€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل فیمایتعلق بوقف الاود داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۴۶€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل فیمایتعلق بوقف الاود داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۴۴۶€
برتقدیر عدم مانع ارث ووارث آخر بعدادائے مہرزوجہ وغیرہ ہرچہ دین ذمہ متوفی باشد ازباقی ماندہ ایك ثلث بے اجازت ورثہ وبیشتر ازاں بشرط اجازت وارثان بالغین نافذالتصرف بابن العم وصیۃ دہند ودوثلث مابقی یاکم ترازاں ہرچہ ماند برپانزدہ بخش قسمت کردہ سہ سہم بزوجہ ودوبوالدہ وشش بخواہر عینیہ ودوباخت علاتیہ ودوبہ برادر اخیافی رسانند ایں درصورتیست کہ ہمہ ورثہ اصحاء بالغین زیادت برثلث تاحد معین کم از کل مال روا داشتہ باشند۔واگرہیچ وارث اجازت ندادآنگاہ بعدادائے دیون بیش ازثلث بابن العم ندہند ودوثلث باقی تمام وکمال برہمہ حساب بورثہ بخشش نمایند واگرہمہ اجازت وصیت درجمیع مال دادند پس بعداخراج دیون ہرچہ ماند جملہ بابن العم رسانند واگربعض اجازت تمام وصیت دادند وبعض نے یابعض نابالغ باشند آنگاہ حصہ اجازت دہندگان ہم بابن العم دہند واگراجازت بعض در زیادہ برثلث بہرتمام وصیت نبود مثلا دردوثلث تنفیذ میراث سے کسی مانع اور مذکورہ وارثوں کے علاوہ کسی وارث کے موجودنہ ہونے کی صورت میں بیوی کامہر وغیرہ جوبھی فرض متوفی کے ذمہ ہے اس کی ادائیگی کے بعد ترکہ کا ایك تہائی وارثوں کی اجازت کے بغیر اور اس سے زیادہ بالغ ورثاء جن کاتصرف نافذ ہوتاہے کی اجازت سے چچا کے بیٹے کو بطوروصیت دیں گے جبکہ باقی دوتہائی یااس سے کمترجتنا بھی بچاہے اس کو پندرہ حصوں پرتقسیم کرکے تین حصے بیوی کو دوماں کوچھ حقیقی بہن کودوعلاتی بہن کو اوردواخیافی بھائی کو دیں گےیہ اس صورت میں ہے کہ تمام عاقل بالغ وارثوں نے ایك تہائی سے زائد کل مال سے کم معین حد تك کو جائزقراردیاہو۔اگرکسی وارث نے اجازت نہ دی توقرضوں کی ادائیگی کے بعد ایك تہائی سے زائد چچا کے بیٹے کو نہیں دیں گے اورباقی دوتہائی مکمل طورپرتمام وارثوں پران کے حصوں کے حساب سے تقسیم کریں گےاگرتمام وارثوں نے کل مال میں وصیت کی اجازت د ے دی تو قرضوں کی ادائیگی کے بعد جوکچھ باقی بچا وہ ساراچچا کے بیٹے کو دیں گےاگربعض وارثوں نے تمام وصیت کی اجازت دی اوربعض نے نہ دی یابعض ورثاء نابالغ ہوں تواجازت دینے والوں کاحصہ بھی
نمایند آنگاہ حصہ رسد ازسہام مجیزان کم کنند۔ابن العم اینجا اگرچہ اہل میراث ست ووارث راوصیت بے اجازت دیگرورثہ روانبود فاما ازانجاکہ اہل فرض چیزے برائے عصبہ نگزاشتند بلکہ مال برایشاں نیزتنگ آمد کہ حاجت بعول افتاد ابن العم وارث بالفعل نماند وصیت کہ ممنوع ست برائے وارث بالفعل ست نہ برائے ہرآنکہ مجرد اہلیت ارث دارد کما یرشد الیہ صدرالحدیث ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ الا لاوصیۃ لوارث الا ان یشاء الورثۃ آیا نہ بینی کہ وصیت برائے محجوب نیزازاہلیت واستحقاق ارث برکران نیست ہمیں تقدم دیگرے برو او را محجوب نمودہ است درتبیین الحقائق وردالمحتار وغیرہما است اوصی الاخیہ وھو وارث ثم ولد لہ ابن صحت الوصیۃ للاخ الخ۔ چچاکے بیٹے کودے دیں گے اوراگربعض وارثوں کی ایك تہائی سے زائد کی اجازت تمام وصیت کے لئے نہیں مثلا وہ دوتہائی تك وصیت کونافذکریں تواس صورت میں اتنی مقدار تك اجازت دینے والوں کے حصوں میں کمی کی جائے گی۔چچاکابیٹا یہاں پراگرچہ وارث بننے کی اہلیت رکھتاہے اوروارث کے لئے وصیت دیگر وارثوں کی اجازت کے بغیر جائزنہیں مگریہاں چونکہ ذوی الفروض نے عصبہ کے لئے کوئی شیئ نہیں چھوڑی بلکہ خود ان پرمال کے سہام تن پڑگئے جس کی وجہ سے عول کی ضرورت پیش آئی لہذا چچا کابیٹا بالفعل وارث نہ رہا اور وصیت کی ممانعت اس کے لئے ہے جو بالفعل وارث ہو نہ کہ محض وارث بننے کی اہلیت رکھتاہوجیساکہ اس حدیث کاابتدائی حصہ تیری رہنمائی کرتاہے کہ"بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدار کواس کاحق عطافرمادیا۔خبردار کسی وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء کی مرضی سے ہو"۔کیاتونہیں دیکھتاکہ محجوب کے لئے بالاجماع وصیت جائزہے حالانکہ وہ بھی وارث بننے کی اہلیت واستحقاق سے خالی نہیں ہے بلکہ محض کسی دوسرے وارث کے اس پرمقدم ہونے کی وجہ سے یہ میراث سے محروم ہوگیا ہے۔تبیین الحقائق اورردالمحتار
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب لاوصیۃ لوارث ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۹،€کنزالعمال ∞حدیث ۴۶۰۶۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/۱۵€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۶€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱۶€
درشریفیہ فرمود الاخوۃ مع الاب لایجعلون کالموتی وان کانوا لایرثون معہ لان اھلیۃ الارث ثابتۃ لھم وانما لم یرثوا فی ھذہ الحالۃ لفقدان الشرط وھو عدم الاب ۔
بلکہ حجب بجہۃ آں کہ اصحاب فرائض ہیچ نگزاشتند ودخل دراخراج او از زمرہ ورثہ است بہ نسبت حجب وارث اقرب زیراکہ آنجا فقد شرط است واینجا فقدان محل کہ عصبہ رامحل وراثت نیست مگرمالیکہ ازذوی الفرائض باقی مانددرسراجیہ فرمود العصبۃ کل من یاخذ من الترکۃ ما ابقتہ اصحاب الفرائض الخ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے اپنے بھائی کے لئے وصیت کی درا نحالیکہ وہ وارث تھا پھرمیت کابیٹا پیداہوگیاتو بھائی کے لئے وصیت صحیح ہوگئی۔(ت)
شریفیہ میں فرمایا کہ باپ کی موجودگی میں میت کے بھائیوں کو مردوں کی طرح نہیں بنایاجائے گا اگرچہ باپ کے ہوتے ہوئے وہ وارث نہیں بنتے کیونکہ ان کے لئے وارث بننے کی اہلیت ثابت ہے مگر اس حالت میں وہ اس لئے وارث نہیں بنتے کہ ان کے وارث بننے کی شرط مفقود ہے یعنی باپ کی عدم موجودگی۔(ت)
بلکہ عصبہ کا محجوب ہونا اس وجہ سے ہے کہ اصحاب فرائض نے اس کے لئے کچھ نہیں چھوڑااس کادخل عصبہ کو وارثوں کے زمرہ سے خارج کرنے میں زیادہ ہے بنسبت وارث اقرب کے وارث ابعد کومحجوب کرنے کےکیونکہ وارث اقرب کے سبب سے ابعد کے محجوب ہونے میں شرط مفقود ہے جبکہ صورت مذکورہ میں عصبہ کے محجوب ہونے میں محل مفقود ہے۔اس لئے کہ عصبہ کے لئے وراثت کامحل نہیں سوائے اس مال کے جواصحاب فرائض سے باقی بچ جائے۔سراجیہ میں فرمایا کہ عصبہ اس شخص کوکہتے ہیں جو اصحاب فرائض سے بچا ہوا ترکہ لے لے الخیہ وہ ہے جو میرے پاس تھا اورحق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔اﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
بلکہ حجب بجہۃ آں کہ اصحاب فرائض ہیچ نگزاشتند ودخل دراخراج او از زمرہ ورثہ است بہ نسبت حجب وارث اقرب زیراکہ آنجا فقد شرط است واینجا فقدان محل کہ عصبہ رامحل وراثت نیست مگرمالیکہ ازذوی الفرائض باقی مانددرسراجیہ فرمود العصبۃ کل من یاخذ من الترکۃ ما ابقتہ اصحاب الفرائض الخ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے اپنے بھائی کے لئے وصیت کی درا نحالیکہ وہ وارث تھا پھرمیت کابیٹا پیداہوگیاتو بھائی کے لئے وصیت صحیح ہوگئی۔(ت)
شریفیہ میں فرمایا کہ باپ کی موجودگی میں میت کے بھائیوں کو مردوں کی طرح نہیں بنایاجائے گا اگرچہ باپ کے ہوتے ہوئے وہ وارث نہیں بنتے کیونکہ ان کے لئے وارث بننے کی اہلیت ثابت ہے مگر اس حالت میں وہ اس لئے وارث نہیں بنتے کہ ان کے وارث بننے کی شرط مفقود ہے یعنی باپ کی عدم موجودگی۔(ت)
بلکہ عصبہ کا محجوب ہونا اس وجہ سے ہے کہ اصحاب فرائض نے اس کے لئے کچھ نہیں چھوڑااس کادخل عصبہ کو وارثوں کے زمرہ سے خارج کرنے میں زیادہ ہے بنسبت وارث اقرب کے وارث ابعد کومحجوب کرنے کےکیونکہ وارث اقرب کے سبب سے ابعد کے محجوب ہونے میں شرط مفقود ہے جبکہ صورت مذکورہ میں عصبہ کے محجوب ہونے میں محل مفقود ہے۔اس لئے کہ عصبہ کے لئے وراثت کامحل نہیں سوائے اس مال کے جواصحاب فرائض سے باقی بچ جائے۔سراجیہ میں فرمایا کہ عصبہ اس شخص کوکہتے ہیں جو اصحاب فرائض سے بچا ہوا ترکہ لے لے الخیہ وہ ہے جو میرے پاس تھا اورحق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔اﷲ سبحانہوتعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب الحجب ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۵۰€
السراجی فی المیراث مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۴ و۵€
السراجی فی المیراث مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۴ و۵€
مسئلہ ۱۰۰: ازلکنؤمحلہ باغ قاضی مکان داروغہ منشی مظفرعلی مرسلہ حکیم محمدابراہیم صاحب بریلوی ثم اللکنوی رجب ۱۳۲۱ھ
بعدآرزوئے قدمبوسی معروض خدمت یہاں دربارہ ترکہ جھگڑا ہےفرنگی محل کے علماء نے ترکہ زوجہ اورہمشیراورچچازادبھائی کے لڑکوں میں تقسیم کیاہے اور سگی بھتیجی اورچچازادبھائی کے لڑکوں میں تقسیم کیا ہے اور سگی بھتیجی اورچچازادبھائی کی لڑکیوں کومحجوب کیاہے مقصود صرف اس قدرہے کہ ان بھتیجوں کوکسی وجہ سے ترکہ پہنچتاہے جبکہ متوفی کے روبرو ان کے والد فوت ہو چکے ہیں فقط۔
الجواب:
فی الواقع جب تك دادا پرادادا کی اولاد میں کوئی مرد باقی ہے اگرچہ کتنے ہی دور کے رشتے کاہو اس کے سامنے سگی بھتیجیاں کچھ نہیں پاسکتیںحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسلم فرماتے ہیں:
الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فلاولی رجل ذکر۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اصحاب فرائض کو ان کے مقررہ حصے دوجوباقی بچے وہ قریبی مرد کے لئے ہے۔اس کو امام احمدامام بخاریامام مسلم اور ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۰۱: ازشہرکہنہ ۲۵صفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ایك باپ اور دوماں سے تین بیٹے ہیںپہلی بیوی سے سیدمحرم علی اوردوسری بیوی سے سیدوزیرعلی سیدمنیرعلی پیداہوئے اوردولڑکیاں پیداہوئیں۔سیدمحرم علی صحبت شیعہ میں شیعہ ہوگئے اب ان کاانتقال ہوا موافق وصیت کے تجہیزوتکفین ان کی شیعوں نے کی اسباب ان کامالیت تخمینا کاہے یہ اسباب بموجب شرع شریف سید وزیرعلی ومنیرعلی اورہمشیران پانے کے مستحق ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
بعدآرزوئے قدمبوسی معروض خدمت یہاں دربارہ ترکہ جھگڑا ہےفرنگی محل کے علماء نے ترکہ زوجہ اورہمشیراورچچازادبھائی کے لڑکوں میں تقسیم کیاہے اور سگی بھتیجی اورچچازادبھائی کے لڑکوں میں تقسیم کیا ہے اور سگی بھتیجی اورچچازادبھائی کی لڑکیوں کومحجوب کیاہے مقصود صرف اس قدرہے کہ ان بھتیجوں کوکسی وجہ سے ترکہ پہنچتاہے جبکہ متوفی کے روبرو ان کے والد فوت ہو چکے ہیں فقط۔
الجواب:
فی الواقع جب تك دادا پرادادا کی اولاد میں کوئی مرد باقی ہے اگرچہ کتنے ہی دور کے رشتے کاہو اس کے سامنے سگی بھتیجیاں کچھ نہیں پاسکتیںحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وسلم فرماتے ہیں:
الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فلاولی رجل ذکر۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اصحاب فرائض کو ان کے مقررہ حصے دوجوباقی بچے وہ قریبی مرد کے لئے ہے۔اس کو امام احمدامام بخاریامام مسلم اور ترمذی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۰۱: ازشہرکہنہ ۲۵صفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ایك باپ اور دوماں سے تین بیٹے ہیںپہلی بیوی سے سیدمحرم علی اوردوسری بیوی سے سیدوزیرعلی سیدمنیرعلی پیداہوئے اوردولڑکیاں پیداہوئیں۔سیدمحرم علی صحبت شیعہ میں شیعہ ہوگئے اب ان کاانتقال ہوا موافق وصیت کے تجہیزوتکفین ان کی شیعوں نے کی اسباب ان کامالیت تخمینا کاہے یہ اسباب بموجب شرع شریف سید وزیرعلی ومنیرعلی اورہمشیران پانے کے مستحق ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۷،€صحیح مسلم کتاب الفرائض ∞۲ /۳۴€ و جامع الترمذی ابواب الفرائض ∞۲ /۳۱،€مسنداحمدبن حنبل ∞۱ /۳۲۵€
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہواکہ سیدمحرم علی کے عقائد مثل عقائد اکثرروافض زمانہ حدکفرتك پہنچنا معلوم نہیںنہ کبھی ان سے کوئی بات ایسی سنی۔اورسید وزیرعلی وسیدمنیرعلی اوردونوں سیدانیاں غنی نہیں۔ پس صورت مذکورہ میں وہ مال انہیں چاروں بہن بھائیوں کوچھ حصے کرکے دیاجائے کہ دوحصے ہربھائی اورایك ایك ہربہن کوکہ اگرمحرم علی کے عقائد کفرتك نہ پہنچے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ یہ بہن بھائی وارث ہیں اوراگرپہنچ گئے ہوں تو اس میں سے جتنا مال محرم علی کے زمانہ اسلام کاکمایاہوا ہو اس کے بھی وارث یہی بہن بھائی ہیں۔
فان کسب المرتد فی الاسلام لورثۃ المسلمین کما نص عی فی الدر وغیرھا عامۃ الکتب۔ مرتد نے جوحالت اسلام میں کمایا وہ اس کے مسلمان وارثوں کے لئے ہے جیسا کہ دروغیرہ عام کتابوں میں اس پرنص کی گئی ہے(ت)
اورجتنا مال زمانہ کفرکاکمایاہواہو وہ حق فقرائے مسلمین ہے اور یہ بہن بھائی بھی فقراء ہیں اغنیاء نہیںتوہرحال میں انہیں اس مال کااستتحقاق ہے
وفی قسمتہ علیھم اثلاثا خروج عن العھد بیقین کما عرفت۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ان پرمال تین حصے بناکرتقسیم کرنے میں یقینی طورپرذمہ داری سے فراغت ہے جیسا کہ توجان چکا ہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۰۲: ازشہربریلی محلہ کہنہ منشی شرافت علی بتاریخ ۲۷ جمادی الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدقرضدارتھا اور اسی عرصہ میں فوت ہوگیاتوفرمائیے کہ اس کاترکہ قرضداروں کوملناچاہئے یاکہ بی بی کامہرملناچاہئے یاعزیزوں کوملناچاہئے اوربعد وفات اپنے شوہر کے بی بی نے کچھ قرضہ اپنا زیورفروخت کرکے قرضداروں کودیاتھامگروارثوں نے قرض اداکرتے وقت کچھ نہیں کہاتھاتوفرمائیے کہ وقت تقسیم ترکہ کے پہلے قرضداروں کوملناچاہئے یاکہ مہر بی بی کاملناچاہئے یااوروارثوں کواور ترکہ اس قدرنہیں ہے جوکہ سب کو کافی ہوسکے اور مہربی بی کابھی ویساہی قرضہ ہے جیسا کہ دوسرے قرضداروں کایانہیںاورمہرکا
بیان سائل سے واضح ہواکہ سیدمحرم علی کے عقائد مثل عقائد اکثرروافض زمانہ حدکفرتك پہنچنا معلوم نہیںنہ کبھی ان سے کوئی بات ایسی سنی۔اورسید وزیرعلی وسیدمنیرعلی اوردونوں سیدانیاں غنی نہیں۔ پس صورت مذکورہ میں وہ مال انہیں چاروں بہن بھائیوں کوچھ حصے کرکے دیاجائے کہ دوحصے ہربھائی اورایك ایك ہربہن کوکہ اگرمحرم علی کے عقائد کفرتك نہ پہنچے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ یہ بہن بھائی وارث ہیں اوراگرپہنچ گئے ہوں تو اس میں سے جتنا مال محرم علی کے زمانہ اسلام کاکمایاہوا ہو اس کے بھی وارث یہی بہن بھائی ہیں۔
فان کسب المرتد فی الاسلام لورثۃ المسلمین کما نص عی فی الدر وغیرھا عامۃ الکتب۔ مرتد نے جوحالت اسلام میں کمایا وہ اس کے مسلمان وارثوں کے لئے ہے جیسا کہ دروغیرہ عام کتابوں میں اس پرنص کی گئی ہے(ت)
اورجتنا مال زمانہ کفرکاکمایاہواہو وہ حق فقرائے مسلمین ہے اور یہ بہن بھائی بھی فقراء ہیں اغنیاء نہیںتوہرحال میں انہیں اس مال کااستتحقاق ہے
وفی قسمتہ علیھم اثلاثا خروج عن العھد بیقین کما عرفت۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ان پرمال تین حصے بناکرتقسیم کرنے میں یقینی طورپرذمہ داری سے فراغت ہے جیسا کہ توجان چکا ہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۰۲: ازشہربریلی محلہ کہنہ منشی شرافت علی بتاریخ ۲۷ جمادی الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدقرضدارتھا اور اسی عرصہ میں فوت ہوگیاتوفرمائیے کہ اس کاترکہ قرضداروں کوملناچاہئے یاکہ بی بی کامہرملناچاہئے یاعزیزوں کوملناچاہئے اوربعد وفات اپنے شوہر کے بی بی نے کچھ قرضہ اپنا زیورفروخت کرکے قرضداروں کودیاتھامگروارثوں نے قرض اداکرتے وقت کچھ نہیں کہاتھاتوفرمائیے کہ وقت تقسیم ترکہ کے پہلے قرضداروں کوملناچاہئے یاکہ مہر بی بی کاملناچاہئے یااوروارثوں کواور ترکہ اس قدرنہیں ہے جوکہ سب کو کافی ہوسکے اور مہربی بی کابھی ویساہی قرضہ ہے جیسا کہ دوسرے قرضداروں کایانہیںاورمہرکا
حوالہ / References
الدالمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۹€
دعوی اگرعورت تین سال یاکچھ زائد تك نہ کرے وہ ساقط ہوگایانہیں
الجوا ب:
مہرویساہی دین ہے جیسا کہ دیون۔اورمہراورتمام دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہیں جب تك مہروغیرہ سب دیون ادانہ ہولیں وارثوں پرتقسیم نہ ہوگی۔مہراوردیگردیون کوجب کہ جائداد کافی نہ ہوگی تومع مہرسب حصہ رسد اداہوں گے۔مہرکادعوی تین برس تك عائد نہ کرنے سے مہرشرعا ہرگز ساقط نہیں ہوتا یہ محض جھوٹ ہے۔ شوہر کاجوقرضہ عورت نے بطورخود اپنازیور بیچ کراداکیاہے وہ اب عورت کادین ترکہ پرہوگیا مہرکے ساتھ اس کابھی حصہ اس کے لئے لگایاجائے گا اگراس نے باقی وارثوں سے ترکہ میں واپس لینے کی شرط نہ کرلی ہو ہاں اگرعدم واپسی کی شرط کرلے کہ یہ میں اپنی طرف سے اداکرتی ہوں او رواپس نہ لوں گی توالبتہ اس قدرکی واپسی کا استحقاق نہ ہوگاجامع الفصولین میں ہے:
ولواستغرقھا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لو ادی من مال نفسہ مطلقا بلاشرط تبرع او رجوع یحب لہ دین علی المیت فتصیرالترکۃ مشغولۃ بدینہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرلے توکوئی وارث بطورمیراث اس کا مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ قرضخواہ میت کوقرض سے بری قراردے دے یاکوئی وارث اپنے مال سے میت کا قرض اداکردے اورادائیگی کے وقت تبرع کی شرط لگادے لیکن اگروارث نے مطلقا یعنی تبرع یارجوع کی شرط کے بغیر اپنے مال سے قرض اداکردیا تو میت پراس وارث کاقرض لازم ہو جائے گا اورترکہ اس کے قرض میں مشغول ہوجائے گا۔(ت)
مسئلہ ۱۰۳: ازبیرم نگر ڈاك خانہ شیرگڑھ ضلع بریلی مرسلہ غلام صدیق صاحب مدرس ۱۰شوال ۱۳۲۲ھ
زیدکاانتقال ہوااس نے ایك زوجہچاربھانجیاں اورچارچچازادبہنیں
الجوا ب:
مہرویساہی دین ہے جیسا کہ دیون۔اورمہراورتمام دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہیں جب تك مہروغیرہ سب دیون ادانہ ہولیں وارثوں پرتقسیم نہ ہوگی۔مہراوردیگردیون کوجب کہ جائداد کافی نہ ہوگی تومع مہرسب حصہ رسد اداہوں گے۔مہرکادعوی تین برس تك عائد نہ کرنے سے مہرشرعا ہرگز ساقط نہیں ہوتا یہ محض جھوٹ ہے۔ شوہر کاجوقرضہ عورت نے بطورخود اپنازیور بیچ کراداکیاہے وہ اب عورت کادین ترکہ پرہوگیا مہرکے ساتھ اس کابھی حصہ اس کے لئے لگایاجائے گا اگراس نے باقی وارثوں سے ترکہ میں واپس لینے کی شرط نہ کرلی ہو ہاں اگرعدم واپسی کی شرط کرلے کہ یہ میں اپنی طرف سے اداکرتی ہوں او رواپس نہ لوں گی توالبتہ اس قدرکی واپسی کا استحقاق نہ ہوگاجامع الفصولین میں ہے:
ولواستغرقھا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لو ادی من مال نفسہ مطلقا بلاشرط تبرع او رجوع یحب لہ دین علی المیت فتصیرالترکۃ مشغولۃ بدینہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرلے توکوئی وارث بطورمیراث اس کا مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ قرضخواہ میت کوقرض سے بری قراردے دے یاکوئی وارث اپنے مال سے میت کا قرض اداکردے اورادائیگی کے وقت تبرع کی شرط لگادے لیکن اگروارث نے مطلقا یعنی تبرع یارجوع کی شرط کے بغیر اپنے مال سے قرض اداکردیا تو میت پراس وارث کاقرض لازم ہو جائے گا اورترکہ اس کے قرض میں مشغول ہوجائے گا۔(ت)
مسئلہ ۱۰۳: ازبیرم نگر ڈاك خانہ شیرگڑھ ضلع بریلی مرسلہ غلام صدیق صاحب مدرس ۱۰شوال ۱۳۲۲ھ
زیدکاانتقال ہوااس نے ایك زوجہچاربھانجیاں اورچارچچازادبہنیں
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون ∞اسلامی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۲€
چھوڑیں۔ترکہ کیسے تقسیم ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپاؤگے۔)
الجواب:
برتقدیرعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہر ودیگردیون ووصایا ترکہ زیدکاسولہ سہام ہوکرچارسہم زوجہ اور تین تین ہربھانجی کوملیں گے اورچچازاد بہنیں کچھ نہ پائیں گی۔
من الصنف الثالث جزء ابوی المیت مقدم علی الصنف الرابع جزء جدیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تیسری قسم سے میت کے والدین کی جزء چوتھی قسم سے اس کے دادا کی جزء پرمقدم ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴: ازلاہور مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی ۲۴شعبان ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کاانتقال ہوا اور اس کی ایك منکوحہ ہے اور منکوحہ سے جوفوت ہوگئی ہے ایك لڑکا ہے۔یہ ایسی صورت ہے کہ متوفی کی منکوحہ کوآٹھواں حصہ متوفی کے متروکہ مال سے پہنچے اس شخص متوفی پردین بھی ہے کہ متوفی کے اس متروکہ سے دلوایاجاسکتاہے۔پس اگرمنکوحہ مذکورہ اپنے آٹھویں حصہ کو دین کے ادا سے بچالے اوریہ چاہے کہ اولاد متوفی کے دین کے بارکے متکفل ہوں اورمیراحصہ خالص رہےپس ایسی صورت میں حکم شرعی کیاہے قاضی شرع دین کاحساب اس آٹھویں میں بخوبی دے گا یااس پرجبرنہیں کرسکتابینواتوجروا۔
الجواب:
عورت کامہر اگرباقی ہے تووہ بھی مثل سائردیون ایك دین ہے اس کے ذریعہ سے حصہ رسد ثمن سدس نصف ثلث کم زائد جو کچھ پڑے اپنے لئے بچاسکتی ہے مگریہ خواہش کہ ترکہ سے اپناثمن حق زوجیت بذریعہ وراثت جداکرے اوردیون صرف ورثہ کے سہام پرڈالے
الجواب:
برتقدیرعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم مہر ودیگردیون ووصایا ترکہ زیدکاسولہ سہام ہوکرچارسہم زوجہ اور تین تین ہربھانجی کوملیں گے اورچچازاد بہنیں کچھ نہ پائیں گی۔
من الصنف الثالث جزء ابوی المیت مقدم علی الصنف الرابع جزء جدیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تیسری قسم سے میت کے والدین کی جزء چوتھی قسم سے اس کے دادا کی جزء پرمقدم ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴: ازلاہور مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی ۲۴شعبان ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کاانتقال ہوا اور اس کی ایك منکوحہ ہے اور منکوحہ سے جوفوت ہوگئی ہے ایك لڑکا ہے۔یہ ایسی صورت ہے کہ متوفی کی منکوحہ کوآٹھواں حصہ متوفی کے متروکہ مال سے پہنچے اس شخص متوفی پردین بھی ہے کہ متوفی کے اس متروکہ سے دلوایاجاسکتاہے۔پس اگرمنکوحہ مذکورہ اپنے آٹھویں حصہ کو دین کے ادا سے بچالے اوریہ چاہے کہ اولاد متوفی کے دین کے بارکے متکفل ہوں اورمیراحصہ خالص رہےپس ایسی صورت میں حکم شرعی کیاہے قاضی شرع دین کاحساب اس آٹھویں میں بخوبی دے گا یااس پرجبرنہیں کرسکتابینواتوجروا۔
الجواب:
عورت کامہر اگرباقی ہے تووہ بھی مثل سائردیون ایك دین ہے اس کے ذریعہ سے حصہ رسد ثمن سدس نصف ثلث کم زائد جو کچھ پڑے اپنے لئے بچاسکتی ہے مگریہ خواہش کہ ترکہ سے اپناثمن حق زوجیت بذریعہ وراثت جداکرے اوردیون صرف ورثہ کے سہام پرڈالے
یہ محض باطل تغییر حکم شرع ہے۔
قال تعالی فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ان(بیویوں)کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کونکالنے کے بعد جوتم کرجاؤ اورقرض کی ادائیگی کے بعد۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۵: ازقصبہ چاندپور ضلع بجنور متصل تھانہ مرسلہ مولوی حکیم سیدمشتاق حسین صاحب
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین وعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے ترکہ میں کچھ جائداد موروثی چھوڑی تھی اور نو(۹)وارث چھوڑے تھے تین فرزندچھ دختراناورہرکوئی اپنے حصے کاشرعا مالك قراردیاگیامگرقبضہ اورتصرف فرزندوں کا رہا اورہنوز ہے لیکن منجملہ دختران کے ایك دختر کے دوفرزندوں میں سے ایك فرزند جوعرصہ دس سال سے مفقود الخبر ہے اس کی زوجہ نے فی الحال انتقال کیا اس عورت کے حصہ کاجواپنے خاوند مفقودالخبر کے حصہ کی مالك متصورتھی اب کون قراردیاجائے اور کس کانام کتاب میں درج ہوآیا مفقودالخبرکابھائی ہوگا یا اس عورت کابھائی ہوگا یاحقیقت عود کرکے حصہ داران مذکوران تین فرزند ان کوجواب تك مالك وقابض ہیں پہنچیں گے بینواتوجروا۔فقط
الجواب:
سائل نے کچھ نہ بتایا کہ یہ مفقودالخبراپنی ماں کے انتقال سے پہلے مفقودہواتھا یابعداگر زندگی مادرمیں مفقودالخبرہوچکاتھا توہنوز اس کااستحقاق حصہ مادر میں ثابت ہیںجتنے ورثہ مادر بحال موت وحیات مفقودالخبر ہرحال میں جس قدر یقینی پائیں گے اتنا ان کو دے کرباقی موقوف رکھاجائے گا یہاں تك کہ مفقودالخبر کی موت وحیات کاحال معلوم ہویا اس کی عمر س سترسال گزرجائیں اورکچھ حال نہ کھلے پس اگر وہ زندہ ثابت ہوتوحصہ خود اس کاہے اس کی زوجہ وغیرہ کے لئے وراثت نہیں اور اس مدت تك کچھ حال نہ ظاہرہو یاثابت ہوکہ وہ اپنی ماں سے پہلے مرچکاتھا توخود اس کے لئے وراثت نہیں اس کی زوجہ وغیرہ کے لئے وراثت کیسے ثابت ہوگیاوراگرثابت ہوکہ ماں کے بعد مراتواگرموت زوجہ بھی اس کی موت سے پہلے ہے زوجہ کے لئے
قال تعالی فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ان(بیویوں)کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کونکالنے کے بعد جوتم کرجاؤ اورقرض کی ادائیگی کے بعد۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۵: ازقصبہ چاندپور ضلع بجنور متصل تھانہ مرسلہ مولوی حکیم سیدمشتاق حسین صاحب
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین وعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے ترکہ میں کچھ جائداد موروثی چھوڑی تھی اور نو(۹)وارث چھوڑے تھے تین فرزندچھ دختراناورہرکوئی اپنے حصے کاشرعا مالك قراردیاگیامگرقبضہ اورتصرف فرزندوں کا رہا اورہنوز ہے لیکن منجملہ دختران کے ایك دختر کے دوفرزندوں میں سے ایك فرزند جوعرصہ دس سال سے مفقود الخبر ہے اس کی زوجہ نے فی الحال انتقال کیا اس عورت کے حصہ کاجواپنے خاوند مفقودالخبر کے حصہ کی مالك متصورتھی اب کون قراردیاجائے اور کس کانام کتاب میں درج ہوآیا مفقودالخبرکابھائی ہوگا یا اس عورت کابھائی ہوگا یاحقیقت عود کرکے حصہ داران مذکوران تین فرزند ان کوجواب تك مالك وقابض ہیں پہنچیں گے بینواتوجروا۔فقط
الجواب:
سائل نے کچھ نہ بتایا کہ یہ مفقودالخبراپنی ماں کے انتقال سے پہلے مفقودہواتھا یابعداگر زندگی مادرمیں مفقودالخبرہوچکاتھا توہنوز اس کااستحقاق حصہ مادر میں ثابت ہیںجتنے ورثہ مادر بحال موت وحیات مفقودالخبر ہرحال میں جس قدر یقینی پائیں گے اتنا ان کو دے کرباقی موقوف رکھاجائے گا یہاں تك کہ مفقودالخبر کی موت وحیات کاحال معلوم ہویا اس کی عمر س سترسال گزرجائیں اورکچھ حال نہ کھلے پس اگر وہ زندہ ثابت ہوتوحصہ خود اس کاہے اس کی زوجہ وغیرہ کے لئے وراثت نہیں اور اس مدت تك کچھ حال نہ ظاہرہو یاثابت ہوکہ وہ اپنی ماں سے پہلے مرچکاتھا توخود اس کے لئے وراثت نہیں اس کی زوجہ وغیرہ کے لئے وراثت کیسے ثابت ہوگیاوراگرثابت ہوکہ ماں کے بعد مراتواگرموت زوجہ بھی اس کی موت سے پہلے ہے زوجہ کے لئے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۲€
وراثت نہیں جو حصہ اسے ماں سے پہنچا اسی کے بھائی وغیرہ ان وارثوں کا ہے جوموت مفقود کے بعد زندہ تھے اوراگرمعلوم ہو کہ زوجہ سے پہلے مراتو زوجہ بھی وارثہ ہے اورمفقود کے بھائی بھی وارث ہیںجو حصہ حصہ مفقود میں زوجہ کوپہنچے اس کا وارث زوجہ کابھائی ہے یا اورجووارث زوجہ ہودیگروارثان مفقود کا اس میں حق نہیںاواگر وہ شخص اپنی ماں کی موت کے بعد مفقودالخبرہوا تومتروکہ مادرمیں اس کاحصہ ثابت ہولیا اب وہ حصہ تقسیم نہیں ہوسکتا یہاں تك کہ اس کی موت وحیات ظاہرہویا اس کی پیدائش سے ستربرس گزرجائیںاگرسترسال گزریں اور کچھ حال موت وحیات مفقودالخبر معلوم نہ ہوتوزوجہ مفقود اور نیزوہ تمام اشخاص جواس سترسال گزرنے سے پہلے مرچکے ہوں گے کچھ نہ پائیں گےاس سترسال گزرنے کے وقت جو وارثان شرعی مفودکے لئے ہوں وہی مستحق ہوں گے اوراگرعمرکے سترسال گزرنے سے پہلے ظاہرہوجائے کومفقودزندہ ہے تو مال اس کاہے زوجہ وغیرہا کوئی وارث نہیںاوراگرظاہر ہوکہ موت زوجہ کے بعد مراتو زوجہ وارث نہیں مفقود کے بھائی وغیرہ جوورثہ موت مفقود پر رہے ہوں وہ پائیں گےاوراگرظاہرہوکہ زوجہ سے پہلے مراتوجوحصہ زوجہ کوپہنچے اس کے وارث زوجہ کے بھائی وغیرہ ہیں نہ کہ دیگروارثان مفقود۔اگرمفقود اپنی ماں کے بعد مفقود ہوا تو اس کے حصہ میں اسی کی مالکیت مندرج رہے گی یہاں تك کہ حال کھلے یاستر۷۰سال گزریں اورحسب تفصیل بالاورثہ کی طرف انتقال ہواوراگرموت مادر سے پہلے مفقود ہو توجس قدرموقوف رکھاجائے گا اس میں ہنوز کسی کانام درج نہیں ہوسکتا بلکہ حصہ موقوفہ ازترکہ فلاں بانتظار فلاں مفقود تامدت بست۲۰ سال ازیں تاریخ حاضراور پچاس سال کی عمرمیں مفقود ہوا توبجائے بست۲۰ سال دہ۱۰ سال لکھیں وعلی ھذالقیاس۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۶: شہربریلی محلہ بھوڑون نوازی میاں ۱۵شعبان یوم جمعہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ساتھ تعین مہر بدون گواہوں کے ایجاب قبول کرلیا۔ اور زیدکاہندہ کوحمل رہ گیا اور زیدمرگیااب ہندہ دادخواہ ہے ترکہ زید سے اپنے اوراپنے لڑکے کے حصہ کی۔وارثان زیدکہتے ہیں کہ تیراحصہ نہیں چاہئے ہم تجھ کونہیں دیں گے۔بینواتوجروا۔
مسئلہ ۱۰۶: شہربریلی محلہ بھوڑون نوازی میاں ۱۵شعبان یوم جمعہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ساتھ تعین مہر بدون گواہوں کے ایجاب قبول کرلیا۔ اور زیدکاہندہ کوحمل رہ گیا اور زیدمرگیااب ہندہ دادخواہ ہے ترکہ زید سے اپنے اوراپنے لڑکے کے حصہ کی۔وارثان زیدکہتے ہیں کہ تیراحصہ نہیں چاہئے ہم تجھ کونہیں دیں گے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرجس وقت زید نے ہندہ سے ایجاب وقبول کیاتھا دومردمسلمان یا ایك مرد دوعورتیں مسلمان وہاں موجودتھے اور ان کا ایجاب وقبول سن رہے تھے اورسمجھتے تھے کہ یہ نکاح ہو رہاہے جب تونکاح ہوگیاہندہ اور اس کالڑکادونوں ترکہ زید میں اپنے اپنے حصے کے مستحق ہیں کچھ اس کی ضرورت نہیں کہ خاص کرکے دو۲شخصوں کوگواہی کے ساتھ نامزدکیاجائے جبھی تونکاح ہوا اوراگرواقع میں اس وقت زید وہندہ تنہاتھے یافقط ایك مرد یا صرف چندعورتیں یاکچھ غیرمسلمان کفار موجودتھے اورزید وہندہ نے ایجاب وقبول کرلیا تو نکاح نہ ہوا ہندہ ترکہ کی مستحق نہیں مگربیٹاحصہ پائے گا۔
لان النکاح بغیر شھود فاسد لاباطل والصواب التفرقۃ بین فاسد النکاح وباطلہ کما تشھد بہ فروع جمۃ وماشاع علی السنۃ من ان النکاح لاینعقد الا بشھود فالمراد الصحۃ بقول الدر یجب مھرالمثل فی نکاح فاسد ھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود الخ۔ وفی ردالمحتار عن النھران النکاح لہ فی قولھم فرق۔ فسخ طلاق وھذا الدر یحکیھا تبائن الدار مع نقصان مھرکذا فساد عقد وفقد الکفؤ ینعیھا الی قولہ وتلك الفسخ یحصیھا
کیونکہ گواہوں کے بغیرنکاح فاسد ہے باطل نہیں اورصحیح یہ ہے کہ فاسد اورباطل نکاح میں فرق کیاجائے گا جیسا کہ تمام فروع اس پرگواہ ہیںاورعام لوگوں کی زبانوں پرجومشہور ہو گیا ہے کہ گواہوں کے بغیرنکاح منعقدنہیں ہوتا اس سے مراد نکاح کاصحیح ہوناہے۔درکے قول کے مطابق کہ نکاح فاسد میں مہرمثل واجب ہوتا ہے اورنکاح فاسدوہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہوجیسے گواہوں کی موجودگی الخ۔ رد المحتار میں نہر سے منقول ہے کہ مشائخ کے قول میں نکاح کی جدائیاں کئی قسم پرہیں فسخ اورطلاق۔اور موتی جیسی یہ نظم ان کوبیان کرتی ہے۔پہلی جدائی اختلاف داردوسری مہر کی کمی کے ساتھ نکاح کرنااسی طرح تیسری عقد کافاسد ہونا
اگرجس وقت زید نے ہندہ سے ایجاب وقبول کیاتھا دومردمسلمان یا ایك مرد دوعورتیں مسلمان وہاں موجودتھے اور ان کا ایجاب وقبول سن رہے تھے اورسمجھتے تھے کہ یہ نکاح ہو رہاہے جب تونکاح ہوگیاہندہ اور اس کالڑکادونوں ترکہ زید میں اپنے اپنے حصے کے مستحق ہیں کچھ اس کی ضرورت نہیں کہ خاص کرکے دو۲شخصوں کوگواہی کے ساتھ نامزدکیاجائے جبھی تونکاح ہوا اوراگرواقع میں اس وقت زید وہندہ تنہاتھے یافقط ایك مرد یا صرف چندعورتیں یاکچھ غیرمسلمان کفار موجودتھے اورزید وہندہ نے ایجاب وقبول کرلیا تو نکاح نہ ہوا ہندہ ترکہ کی مستحق نہیں مگربیٹاحصہ پائے گا۔
لان النکاح بغیر شھود فاسد لاباطل والصواب التفرقۃ بین فاسد النکاح وباطلہ کما تشھد بہ فروع جمۃ وماشاع علی السنۃ من ان النکاح لاینعقد الا بشھود فالمراد الصحۃ بقول الدر یجب مھرالمثل فی نکاح فاسد ھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود الخ۔ وفی ردالمحتار عن النھران النکاح لہ فی قولھم فرق۔ فسخ طلاق وھذا الدر یحکیھا تبائن الدار مع نقصان مھرکذا فساد عقد وفقد الکفؤ ینعیھا الی قولہ وتلك الفسخ یحصیھا
کیونکہ گواہوں کے بغیرنکاح فاسد ہے باطل نہیں اورصحیح یہ ہے کہ فاسد اورباطل نکاح میں فرق کیاجائے گا جیسا کہ تمام فروع اس پرگواہ ہیںاورعام لوگوں کی زبانوں پرجومشہور ہو گیا ہے کہ گواہوں کے بغیرنکاح منعقدنہیں ہوتا اس سے مراد نکاح کاصحیح ہوناہے۔درکے قول کے مطابق کہ نکاح فاسد میں مہرمثل واجب ہوتا ہے اورنکاح فاسدوہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہوجیسے گواہوں کی موجودگی الخ۔ رد المحتار میں نہر سے منقول ہے کہ مشائخ کے قول میں نکاح کی جدائیاں کئی قسم پرہیں فسخ اورطلاق۔اور موتی جیسی یہ نظم ان کوبیان کرتی ہے۔پہلی جدائی اختلاف داردوسری مہر کی کمی کے ساتھ نکاح کرنااسی طرح تیسری عقد کافاسد ہونا
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب النکاح باب المہر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۱€
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰۸€
الدالمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۳€
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰۸€
الدالمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۳€
قال فی ردالمحتار بعد مابدل الشطر الاول الی ما ذکرنا لتصحیح الوزنقولہ فساد عقد کان تزوج بغیر شھود اھ فھذا ایضا نص انہ اذا نکح بغیر شھودتکون الفرقۃ فیہ فسخا ومعلوم ان لافسخ الا بانعقاد ثم المرأۃ لاترث بالنکاح الفاسد بل الولد فی الدر المختار یستحق الارث بنکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولاباطل اجماعا قال الشامی قولہبفاسد ھو ما فقد شرط صحتہ کشھود ولاباطل کالمتعۃ اھ و فیہ اخر باب ثبوت النسب انہ نکاح باطلفالوطء فیہ زنا لایثبت بہ النسب بخلاف الفاسد فانہ وطء بشبھۃ فیثبت اورچوتھی کفوکامفقود ہونا عورت کوموت کی خبر سناتاہے اس قول تك کہ ان سب جدائیوں کوفسخ جمع کرتاہے۔ردالمحتار میں قسم اول کو جہاں تك ہم نے بیان کیا وزن کی تصحیح کے لئے کچھ تبدیل کرنے کے بعد فرمایا کہ ماتن کاقول"فسادعقد" جیسے کسی نے گواہوں کے بغیرنکاح کیاہو اھ۔تویہ بھی اس پر نص ہے کہ اگرگواہوں کے بغیرنکاح کیاتوجدائی بطور فسخ ہوگی اوریہ بات معلوم ہے کہ فسخ بغیر انعقاد کے نہیں ہوتا پھرنکاح فاسد کے ساتھ عورت وارث نہیں ہوتی بلکہ اولاد وارث ہوتی ہے۔درمختار میں ہے کہ میراث کا استحقاق نکاح صحیح کے ساتھ ہوتاہے نکاح فاسد اورنکاح باطل کے ساتھ بالاتفاق میراث جاری نہیں ہوتی۔شامی نے کہاکہ ماتن کے قول "نکاح فاسد میں میراث جاری نہیں ہوتی"میں نکاح فاسد سے مراد وہ نکاح ہے جس میں کوئی شرط صحت مفقود ہوجیسے گواہوں کاموجودہونا اور"نہ نکاح باطل میں میراث جاری ہوتی ہے"نکاح باطل کی مثال جیسے نکاح متعہ اھ۔اوراسی میں باب ثبوت نسب کے آخرمیں ہے کہ نکاح متعہ باطل ہے اور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۰۸€
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۶€
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۶€
بہ النسب ولذا تکون بالفاسد فراشا لابالباطل رحمتی ۔ اس میں وطی کرنازناہے جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا بخلاف نکاح فاسد کے۔کیونکہ وہ وطی ہے شبہہ کے ساتھ جس سے نسب ثابت ہوجاتاہے۔اسی لئے عورت نکاح فاسد کے ساتھ فراش ہوجاتی ہے نہ کہ نکاح باطل کے ساتھرحمتی۔ (ت)
ہاں عورت اپنامہر بہرحال پائے گی لحصول الوطء کما تقدمواﷲ تعالی اعلم(وطی کے حاصل ہوجانے کی وجہ سےجیسا کہ گزرچکاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۰۷: ہدایت علی شہرکہنہ بریلی ۱۴ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اور اس کے دولڑکیاں تھیںایك لڑکی جو زید کی حین حیات میں فوت ہوگئی اس کاایك لڑکافی الحال موجود ہے اور ایك لڑکی اورتین چچازادبھائی عمربکرخالد بعد فوت ہونے اپنے وارث چھوڑےعمربڑے چچاکالڑکا اپنی شریف خاندانی منکوحہ ماں سے ہے اوردوسرے چچاکالڑکاایك چمارن غیرمنکوحہ عورت سے ہے جس کاختنہ بھی نہیں ہواہےاورتیسرے چچاکالڑکا ایك رنڈی سے ہے جس کے نکاح کی تصدیق نہیںاس صورت میں ترکہ کی تقسیم کیاہےبینواتوجروا۔
مکرریہ ہے کہ زیدمذکور کی تین بہنیں تھیں اور دس بسوہ اراضی زیدکو اور اس کی تینوں بہنوں کوموروثی باپ کے ترکہ سے ملی تھی۔ایك بہن زید کی لاولد فوت ہوگئی اوردوبہنیں وہ بھی زید کے سامنے فوت ہوگئیں مگران دوکے اولادہے ایك بہن کے ایك لڑکادوسری کے تین پسر اورایك دخترتواب زید کے ان بھانجی بھانجوں کوترکہ زیدکاجوکہ اراضی تعدادی دس بسوہ ہے اور زید حین حیات میں اپنے بہنوں کے اس جائداد مذکورپر مالك اورقابض رہا اوربعد فوت اپنی تینوں بہنوں کے اس جائداد مذکور پرمالك اورقابض رہا کسی طرح تقسیم ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے ظاہرکیاکہ چماری کانکاح نہ ہواتھانہ یہ لڑکازید کے چچاکاتھا بلکہ چماری کے ساتھ آیا اور اس رنڈی کوپردہ نہ کرایاتھا بلکہ اخیرتك ویسی ہی بے پردہ پھرتی رہی اور اس کے
ہاں عورت اپنامہر بہرحال پائے گی لحصول الوطء کما تقدمواﷲ تعالی اعلم(وطی کے حاصل ہوجانے کی وجہ سےجیسا کہ گزرچکاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۰۷: ہدایت علی شہرکہنہ بریلی ۱۴ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اور اس کے دولڑکیاں تھیںایك لڑکی جو زید کی حین حیات میں فوت ہوگئی اس کاایك لڑکافی الحال موجود ہے اور ایك لڑکی اورتین چچازادبھائی عمربکرخالد بعد فوت ہونے اپنے وارث چھوڑےعمربڑے چچاکالڑکا اپنی شریف خاندانی منکوحہ ماں سے ہے اوردوسرے چچاکالڑکاایك چمارن غیرمنکوحہ عورت سے ہے جس کاختنہ بھی نہیں ہواہےاورتیسرے چچاکالڑکا ایك رنڈی سے ہے جس کے نکاح کی تصدیق نہیںاس صورت میں ترکہ کی تقسیم کیاہےبینواتوجروا۔
مکرریہ ہے کہ زیدمذکور کی تین بہنیں تھیں اور دس بسوہ اراضی زیدکو اور اس کی تینوں بہنوں کوموروثی باپ کے ترکہ سے ملی تھی۔ایك بہن زید کی لاولد فوت ہوگئی اوردوبہنیں وہ بھی زید کے سامنے فوت ہوگئیں مگران دوکے اولادہے ایك بہن کے ایك لڑکادوسری کے تین پسر اورایك دخترتواب زید کے ان بھانجی بھانجوں کوترکہ زیدکاجوکہ اراضی تعدادی دس بسوہ ہے اور زید حین حیات میں اپنے بہنوں کے اس جائداد مذکورپر مالك اورقابض رہا اوربعد فوت اپنی تینوں بہنوں کے اس جائداد مذکور پرمالك اورقابض رہا کسی طرح تقسیم ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے ظاہرکیاکہ چماری کانکاح نہ ہواتھانہ یہ لڑکازید کے چچاکاتھا بلکہ چماری کے ساتھ آیا اور اس رنڈی کوپردہ نہ کرایاتھا بلکہ اخیرتك ویسی ہی بے پردہ پھرتی رہی اور اس کے
حوالہ / References
ردالمحتار باب ثبت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۳۳€
نکاح کاکوئی ثبوت نہیں اگریہ بیان واقعی ہیں توزید کاترکہ حسب شرائط معلومہ دوحصے ہوں کرنصف دخترموجودہ زید اورنصف بڑے چچا کے لڑکے کو ملے گا جومنکوحہ سے ہے اورباقی دونوں لڑکے اوربھانجے اوربھانجیاں سب محروم ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۸: ازقصبہ شاہ آباد ضلع ہردوئی ڈیوڑھی کلاں ۲۲ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین زادھم اﷲ شرفا کہ زید اوربکر دوبھائی حقیقی تھےزید کا لڑکا عمرو اور عمروکالڑکاحامد اورحامد کی لڑکی ہندہ یہ لاولد فوت ہوئے زید کے لڑکے عمرو نے حامد کوبایں شرط اس مضمون کی وصیت تحریر کی"ہماری موروثی جائداد خاندان دیگرونسل وغیرہ میں منتقل نہ ہوگی"بعد فوت عمرو کے حامد قابض جائداد ہوئے حامد نے بھی ایك وصیت سعیدہ یعنی زوجہ خود ونیز دخترہندہ کو حسب شرائط تحریر کی"یعنی زوجہ منکوحہ سعیدہ اپنی حیات تك منتظم ومنصرم رہے گیبعد وفات اس کے ہندہ نسلا بعد نسل مالك و وارث کل جائداد کی ہوگی"چونکہ ہندہ بموجودگی مسماۃ سعیدہ اپنی والدہ کے فوت ہوئی اوربعد چندسال کے سعیدہ بھی فوت ہوگئی جوکہ خاندان غیرسے تھی اوربکرکے د ودختریعنی زاہدہ اورعابدہ۔زاہدہ منسوب چچازادبھائی عمرو کو جس کالڑکا حامد اور حامد کی ہندہ جولاولد فوت ہوئی بلکہ شاخ بھی ختم ہوگئی باقی رہی عابدہ جو منسوب ہوئی محمود کوجن سے ہوئے خالد اور ان سے ہوئے ولید حی القائمپس بموجب شرع شریف حنفی المذہب کے تقسیم حصص کیاہے اوروارث جائز کون ہے جبکہ عصبہ وذوی کوئی نہیں ہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپاؤگے۔ت) شجرہ مندرجہ ذیل ہے:
images reh gai hai
مسئلہ ۱۰۸: ازقصبہ شاہ آباد ضلع ہردوئی ڈیوڑھی کلاں ۲۲ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین زادھم اﷲ شرفا کہ زید اوربکر دوبھائی حقیقی تھےزید کا لڑکا عمرو اور عمروکالڑکاحامد اورحامد کی لڑکی ہندہ یہ لاولد فوت ہوئے زید کے لڑکے عمرو نے حامد کوبایں شرط اس مضمون کی وصیت تحریر کی"ہماری موروثی جائداد خاندان دیگرونسل وغیرہ میں منتقل نہ ہوگی"بعد فوت عمرو کے حامد قابض جائداد ہوئے حامد نے بھی ایك وصیت سعیدہ یعنی زوجہ خود ونیز دخترہندہ کو حسب شرائط تحریر کی"یعنی زوجہ منکوحہ سعیدہ اپنی حیات تك منتظم ومنصرم رہے گیبعد وفات اس کے ہندہ نسلا بعد نسل مالك و وارث کل جائداد کی ہوگی"چونکہ ہندہ بموجودگی مسماۃ سعیدہ اپنی والدہ کے فوت ہوئی اوربعد چندسال کے سعیدہ بھی فوت ہوگئی جوکہ خاندان غیرسے تھی اوربکرکے د ودختریعنی زاہدہ اورعابدہ۔زاہدہ منسوب چچازادبھائی عمرو کو جس کالڑکا حامد اور حامد کی ہندہ جولاولد فوت ہوئی بلکہ شاخ بھی ختم ہوگئی باقی رہی عابدہ جو منسوب ہوئی محمود کوجن سے ہوئے خالد اور ان سے ہوئے ولید حی القائمپس بموجب شرع شریف حنفی المذہب کے تقسیم حصص کیاہے اوروارث جائز کون ہے جبکہ عصبہ وذوی کوئی نہیں ہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپاؤگے۔ت) شجرہ مندرجہ ذیل ہے:
images reh gai hai
الجواب:
یہ سوال مجمل ہے معلوم نہیں کہ بکرکے بعد زید یاعمرو یاحامد کوئی زندہ تھا یانہیںنہ معلوم کہ عابدہ کاشوہر محمود عابدہ سے پہلے مرایابعداگربعد کومراتو اس کے ماں یاباپ یادوسری زوجہ اوراولاد سوائے ولید تھی یانہیںبہرحال حکم یہ ہے کہ عمروحامد کی وصایائے مذکورہ باطل وبے اثرہیںوہ تغییر حکم شرع جس پرکسی کوقدرت نہیںپس صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض ایك بھائی زید کاجوکچھ متروکہ ہے تمام وکمال وارثان سعیدہ کوپہنچے گا سعیدہ کاجوکوئی وارث وقت موت سعیدہ موجودتھا اس تمام حصہ کامالك ہے
لان مالزید وصل لابنہ حامدومنہ لعرسہ سعیدۃ و بنتہ ھندۃ ومن ھندہ لامھا سعیدۃ لان ذوی الارحام لاارث لھم مع اصحاب الفرائض فجمعت سعیدۃ کل ما لزید۔ اس لئے کہ جوکچھ زیدکاہے وہ اس کے بیٹے حامد کو ملاپھرحامد سے اس کی بیوی سعیدہ اور بیٹی ہندہ کوملاپھرہندہ سے اس کی ماں سعیدہ کوملا کیونکہ اصحاب فرائض کی موجودگی میں ذوی الارحام وارث نہیں بنتے تو اس طرح جوکچھ زیدکاتھا وہ تمام سعیدہ کوپہنچ گیا(ت)
رہادوسرے بھائی بکر کاحصہاس میں دوصورتیں ہیںایك یہ کہ انتقال بکرکے وقت زیدیاعمرو یاحامد کوئی زندہ تھا اس تقدیر پرحصہ بکرسے دوتہائی وارثان سعیدہ کاہے۔
لانہ یصیرا ثلاثا بین بنتہ والعصبۃ فماکان للعصبۃ یصل سعیدۃ کما قدمنا وماکان لزاھدہ تصیر لابنھا حامد ومنہ الی سعیدۃ۔ اس لئے کہ وہ بکر کی بیٹی اوراس کے عصبہ کے درمیان تین حصوں میں منقسم ہوگا پھرجوعصبہ کے درمیان تین حصوں میں منقسم ہوگا پھرجوعصبہ کے لئے ہے وہ سعیدہ کوپہنچے گا جیسا کہ ہم ذکرکرچکے ہیں اورجوکچھ زاہدہ کے لئے ہے وہ اس کے بیٹے حامد کوملے گا اور اس سے سعیدہ کوپہنچے گا۔(ت)
دوسرے یہ کہ ان میں سے کوئی وقت انتقال بکرزندہ نہ تھا اس صورت میں حصہ بکر کانصف وارثان سعیدہ کاہے
لانہ ینتصف بین بنتیہ فماکان لزاھدۃ یصل کیونکہ وہ اس کی دوبیٹیوں کے درمیان نصف نصف ہوگا پھر جو کچھ زاہدہ کوملاو ہ سعیدہ
یہ سوال مجمل ہے معلوم نہیں کہ بکرکے بعد زید یاعمرو یاحامد کوئی زندہ تھا یانہیںنہ معلوم کہ عابدہ کاشوہر محمود عابدہ سے پہلے مرایابعداگربعد کومراتو اس کے ماں یاباپ یادوسری زوجہ اوراولاد سوائے ولید تھی یانہیںبہرحال حکم یہ ہے کہ عمروحامد کی وصایائے مذکورہ باطل وبے اثرہیںوہ تغییر حکم شرع جس پرکسی کوقدرت نہیںپس صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض ایك بھائی زید کاجوکچھ متروکہ ہے تمام وکمال وارثان سعیدہ کوپہنچے گا سعیدہ کاجوکوئی وارث وقت موت سعیدہ موجودتھا اس تمام حصہ کامالك ہے
لان مالزید وصل لابنہ حامدومنہ لعرسہ سعیدۃ و بنتہ ھندۃ ومن ھندہ لامھا سعیدۃ لان ذوی الارحام لاارث لھم مع اصحاب الفرائض فجمعت سعیدۃ کل ما لزید۔ اس لئے کہ جوکچھ زیدکاہے وہ اس کے بیٹے حامد کو ملاپھرحامد سے اس کی بیوی سعیدہ اور بیٹی ہندہ کوملاپھرہندہ سے اس کی ماں سعیدہ کوملا کیونکہ اصحاب فرائض کی موجودگی میں ذوی الارحام وارث نہیں بنتے تو اس طرح جوکچھ زیدکاتھا وہ تمام سعیدہ کوپہنچ گیا(ت)
رہادوسرے بھائی بکر کاحصہاس میں دوصورتیں ہیںایك یہ کہ انتقال بکرکے وقت زیدیاعمرو یاحامد کوئی زندہ تھا اس تقدیر پرحصہ بکرسے دوتہائی وارثان سعیدہ کاہے۔
لانہ یصیرا ثلاثا بین بنتہ والعصبۃ فماکان للعصبۃ یصل سعیدۃ کما قدمنا وماکان لزاھدہ تصیر لابنھا حامد ومنہ الی سعیدۃ۔ اس لئے کہ وہ بکر کی بیٹی اوراس کے عصبہ کے درمیان تین حصوں میں منقسم ہوگا پھرجوعصبہ کے درمیان تین حصوں میں منقسم ہوگا پھرجوعصبہ کے لئے ہے وہ سعیدہ کوپہنچے گا جیسا کہ ہم ذکرکرچکے ہیں اورجوکچھ زاہدہ کے لئے ہے وہ اس کے بیٹے حامد کوملے گا اور اس سے سعیدہ کوپہنچے گا۔(ت)
دوسرے یہ کہ ان میں سے کوئی وقت انتقال بکرزندہ نہ تھا اس صورت میں حصہ بکر کانصف وارثان سعیدہ کاہے
لانہ ینتصف بین بنتیہ فماکان لزاھدۃ یصل کیونکہ وہ اس کی دوبیٹیوں کے درمیان نصف نصف ہوگا پھر جو کچھ زاہدہ کوملاو ہ سعیدہ
لھم کما تقدم۔ کے وارثوں کوپہنچے گاجیسا کہ گزرچکا۔(ت)
باقی حصہ بکرکا ایك ثلث یانصف وہ خاص ولید کے لئے ہےاگرمحمود عابدہ سے پہلے مرگیاہو یابعد کومرا اورسواولید کے محمود کا بھی کوئی وارث مثل مادر یاپدریا زوجہ ثانیہ یا اولاد محمود اززوجہ دیگرنہ تھا ورنہ اس تہائی یانسف کے تین ربع ولید کے لئے بلا شرکت ہیں اورایك رع میں کہ عابدہ سے محمود کوپہنچا باقی وارثان محمود کے ساتھ ولید کاہے جب تك بقیہ ورثہ محمود کی تعیین نہ ہو یابتانا ناممکن ہے کہ اس ربع سے ولید کوکیاپہنچے گا۔
بالجملہ مجموع جائداد زید وبکر کے اڑتالیس حصے کریںپھراگرانتقال بکر کے وقت حامد زندہ تھا توچالیس حصے وارثان سعیدہ کودے دیں اورباقی آٹھ ولید کواگر محمود کے اور وارث کا استحقاق نہ ہوورنہ آٹھ میں سے چھ ولید کواوردو مع ولید جمیع ورثہ محمود پر تقسیم ہوں اوراگرحامد بکر سے پہلے مراہوتو اڑتالیس سے چھتیس حصے وارثان سعیدہ کودیں باقی بارہ ولید کو اگروارث محمود مستحق نہ ہو ورنہ بارہ سے نوولید کواورتین ولید وغیرہ دیگرورثہ محمود پرمنقسم ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںزید نے ایك بیٹا اورایك پوتاچھوڑاترکہ زیدمیں سے پوتے کوحصہ ملے گا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
پوتے کوکچھ نہ ملے گا لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلا ولی رجل ذکر (نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے۔ت)بیٹے کے ساتھ پوتے کوحصہ دلانا کفارہند کامسئلہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۰: مرسلہ حاجی احمداﷲ خاں صاحب ازپیلی بھیت ۱۶جمادی الاولی ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ بہو اپنی ایك حمیدہ اور ایك فہمیدہ اوردواخترایك جمیلہ اورایك سعیدہ اورایك پوتی کلثوم چھوڑ کرفوت ہوگئی اوربعد وفات
باقی حصہ بکرکا ایك ثلث یانصف وہ خاص ولید کے لئے ہےاگرمحمود عابدہ سے پہلے مرگیاہو یابعد کومرا اورسواولید کے محمود کا بھی کوئی وارث مثل مادر یاپدریا زوجہ ثانیہ یا اولاد محمود اززوجہ دیگرنہ تھا ورنہ اس تہائی یانسف کے تین ربع ولید کے لئے بلا شرکت ہیں اورایك رع میں کہ عابدہ سے محمود کوپہنچا باقی وارثان محمود کے ساتھ ولید کاہے جب تك بقیہ ورثہ محمود کی تعیین نہ ہو یابتانا ناممکن ہے کہ اس ربع سے ولید کوکیاپہنچے گا۔
بالجملہ مجموع جائداد زید وبکر کے اڑتالیس حصے کریںپھراگرانتقال بکر کے وقت حامد زندہ تھا توچالیس حصے وارثان سعیدہ کودے دیں اورباقی آٹھ ولید کواگر محمود کے اور وارث کا استحقاق نہ ہوورنہ آٹھ میں سے چھ ولید کواوردو مع ولید جمیع ورثہ محمود پر تقسیم ہوں اوراگرحامد بکر سے پہلے مراہوتو اڑتالیس سے چھتیس حصے وارثان سعیدہ کودیں باقی بارہ ولید کو اگروارث محمود مستحق نہ ہو ورنہ بارہ سے نوولید کواورتین ولید وغیرہ دیگرورثہ محمود پرمنقسم ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںزید نے ایك بیٹا اورایك پوتاچھوڑاترکہ زیدمیں سے پوتے کوحصہ ملے گا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
پوتے کوکچھ نہ ملے گا لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلا ولی رجل ذکر (نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وہ قریب ترین مرد کے لئے ہے۔ت)بیٹے کے ساتھ پوتے کوحصہ دلانا کفارہند کامسئلہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۰: مرسلہ حاجی احمداﷲ خاں صاحب ازپیلی بھیت ۱۶جمادی الاولی ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہندہ بہو اپنی ایك حمیدہ اور ایك فہمیدہ اوردواخترایك جمیلہ اورایك سعیدہ اورایك پوتی کلثوم چھوڑ کرفوت ہوگئی اوربعد وفات
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۷،€صحیح مسلم کتاب الفرائض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۴€
ہندہ اس کی دختر سعیدہ بھی فوت ہوگئی بعد چاریوم کے اورہندہ کے دونوں فرزند اس کی حیات میں اس کی روبرو مرچکے تھے جن زوجہ حمیدہ اورفہمیدہ ہیں یعنی ان کے شوہر اورفہمیدہ کے بطن سے کلثوم ہے اور فہمیدہ حاملہ بھی اپنے شوہرسے ہے جواپنی ماں کے روبرو فوت ہوئی توایسی صورت میں جمیلہ اورکلثوم دونوں وراثت ہندہ پائیں گی یاصرف جمیلہ دخترہندہ اورحمل فہمیدہ قابل ہوگایانہیں
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخیر وصحت ترتیب اموات وتقدیم ماتقدم اگرموت ہندہ کو چھ مہینے ابھی نہ گزرے یاگزرگئے ہیں توجمیلہ کوتسلیم ہے کہ فہمیدہ اپنے شوہر سے حاملہ ہے توہندہ کا ترکہ اٹھارہ سہام پرتقسیم کرکے نوسہم فی الحال جمیلہ کو دے دیں اورباقی کو سہم موقوف رکھیں اگرفہمیدہ کے لڑکا پیداہوتو ان میں سے سات سہم اسے اوردوکلثوم کودیں اوراگرلڑکی ہویاکچھ نہ ہو تو وہ نوسہم بھی جمیلہ کودے دیں کلثوم وغیرہ کوکچھ نہ دیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: ازمحلہ بیچ ناتھ پاڑا مرزاعادل بیگ شہررائے پور
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ مرقومۃ الذیل میں کہ زیدکاانتقال ہوا اس کے بعد اس کی بیوی اور دو۲ بھائی ہیں عورت حاملہ ہے۔پس عند الشرع تقسیم مال کیسے ہوگا
الجواب:
عورت کے حمل تك انتظارہوتوبہتر ہے ورنہ ترکہ خالصہ(یعنی ادائے دیون ومہرووصایا کے بعد جوبچے)اس کے بعد سولہ حصہ کرکے دوحصہ عورت کوبالفعل دے دیں باقی کسی کوکچھ نہ ملے یہاں تك کہ وضع حمل ہو اگرلڑکا پیداہو باقی چودہ حصے سب اس لڑکے کودے دئیے جائیں اور بھائیوں کوکچھ نہ ملے اوراگرلڑکی پیدا ہو تو باقی چودہ میں سے آٹھ حصے اس دخترکودیں اورتین تین دونوں بھائیوں کواوراگربچہ زندہ نہ پیداہویاموت مورث کودوسال کامل گزرجائیں اورکچھ پیدانہ ہوتوباقی چودہ میں سے دوحصہ زوجہ کو اوردے دئیے جائیں اور چھ چھ دونوں بھائیوں کو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲ تا ۱۲۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہائے ذیل میں کہ سائل بحوالہ کتب فقہ حنفی جواب چاہتاہے بینواتوجروا۔
الجواب:
برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخیر وصحت ترتیب اموات وتقدیم ماتقدم اگرموت ہندہ کو چھ مہینے ابھی نہ گزرے یاگزرگئے ہیں توجمیلہ کوتسلیم ہے کہ فہمیدہ اپنے شوہر سے حاملہ ہے توہندہ کا ترکہ اٹھارہ سہام پرتقسیم کرکے نوسہم فی الحال جمیلہ کو دے دیں اورباقی کو سہم موقوف رکھیں اگرفہمیدہ کے لڑکا پیداہوتو ان میں سے سات سہم اسے اوردوکلثوم کودیں اوراگرلڑکی ہویاکچھ نہ ہو تو وہ نوسہم بھی جمیلہ کودے دیں کلثوم وغیرہ کوکچھ نہ دیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: ازمحلہ بیچ ناتھ پاڑا مرزاعادل بیگ شہررائے پور
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ مرقومۃ الذیل میں کہ زیدکاانتقال ہوا اس کے بعد اس کی بیوی اور دو۲ بھائی ہیں عورت حاملہ ہے۔پس عند الشرع تقسیم مال کیسے ہوگا
الجواب:
عورت کے حمل تك انتظارہوتوبہتر ہے ورنہ ترکہ خالصہ(یعنی ادائے دیون ومہرووصایا کے بعد جوبچے)اس کے بعد سولہ حصہ کرکے دوحصہ عورت کوبالفعل دے دیں باقی کسی کوکچھ نہ ملے یہاں تك کہ وضع حمل ہو اگرلڑکا پیداہو باقی چودہ حصے سب اس لڑکے کودے دئیے جائیں اور بھائیوں کوکچھ نہ ملے اوراگرلڑکی پیدا ہو تو باقی چودہ میں سے آٹھ حصے اس دخترکودیں اورتین تین دونوں بھائیوں کواوراگربچہ زندہ نہ پیداہویاموت مورث کودوسال کامل گزرجائیں اورکچھ پیدانہ ہوتوباقی چودہ میں سے دوحصہ زوجہ کو اوردے دئیے جائیں اور چھ چھ دونوں بھائیوں کو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲ تا ۱۲۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہائے ذیل میں کہ سائل بحوالہ کتب فقہ حنفی جواب چاہتاہے بینواتوجروا۔
(۱)عورت نے وقت وفات ایك زوجایك پسرایك دختر وارث چھوڑے۔پسرنے بہ نظر ثواب یابغرض نام آوری خود بصرف مبلغ دوہزار سات سوبلامشورت دیگر ورثاء تجہیزوتکفین وفاتحہچہلم وغیرہ مورث کاکیاورثاء کس قدرادائے اصرافات کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں
الجواب:
بقدرسنت غسل وکفن ودفن میں جس قدرصرف ہوتاہے بقیہ ورثاء صرف اسی قدر کے حصہ رسد ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔فاتحہ و صدقات وسوم وچہلم میں جوصرف ہوایاقبر کوپختہ کیایا اورمصارف قدرسنت سے زائد کئے وہ سب ذمہ پسرپڑیں گے باقی وارثوں کو اس سے سروکارنہیں۔طحطاوی کے حاشیہ میں ہے:
(تتمہ)التجھیز لایدخل فیہ السبح والصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور الازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علی من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا الخ واﷲ تعالی اعلم۔ (تتمہ)میت کی تجہیزمیں دعا وفاتحہ(سومچہلم وغیرہ)لوگوں کوجمع کرنا اوردعوت طعام وغیرہ داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ چیزیں لازمی امورسے نہیں ہیں۔چنانچہ ایساکرنے والا اگر وارثوں میں سے ہے تواس کے حصے میں ے شمارہوگا اور وہ متبرع ٹھہرے گا۔یونہی اگراجنبی نے ایساکیا تو وہ بھی متبرع قرار پائے گا الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)صرف تجہیزوتکفین وفاتحہ وسوم وچہلم وعرس وغیرہ شرعا کس قدرتبلیغ وراثت پرمقدم رکھاگیاہے
الجواب:
اس کاجواب جواب سوال اول میں ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)شرعا زمانہ حال میں اہل اﷲ کے تجہیزوتکفین وفاتحہ وعرس وغیرہ کے لئے کس قدر روپیہ کافی ہوسکتاہے
الجواب:
تجہیزوتکفین میں اسی قدر جوعام مسلمانوں کے لئے صرف ہوسکتاہے فاتحہ وعرس کے لئے
الجواب:
بقدرسنت غسل وکفن ودفن میں جس قدرصرف ہوتاہے بقیہ ورثاء صرف اسی قدر کے حصہ رسد ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔فاتحہ و صدقات وسوم وچہلم میں جوصرف ہوایاقبر کوپختہ کیایا اورمصارف قدرسنت سے زائد کئے وہ سب ذمہ پسرپڑیں گے باقی وارثوں کو اس سے سروکارنہیں۔طحطاوی کے حاشیہ میں ہے:
(تتمہ)التجھیز لایدخل فیہ السبح والصمدیۃ والجمع والموائد لان ذلك لیس من الامور الازمۃ فالفاعل لذلك ان کان من الورثۃ یحسب علی من نصیبہ ویکون متبرعا وکذا ان کان اجنبیا الخ واﷲ تعالی اعلم۔ (تتمہ)میت کی تجہیزمیں دعا وفاتحہ(سومچہلم وغیرہ)لوگوں کوجمع کرنا اوردعوت طعام وغیرہ داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ چیزیں لازمی امورسے نہیں ہیں۔چنانچہ ایساکرنے والا اگر وارثوں میں سے ہے تواس کے حصے میں ے شمارہوگا اور وہ متبرع ٹھہرے گا۔یونہی اگراجنبی نے ایساکیا تو وہ بھی متبرع قرار پائے گا الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)صرف تجہیزوتکفین وفاتحہ وسوم وچہلم وعرس وغیرہ شرعا کس قدرتبلیغ وراثت پرمقدم رکھاگیاہے
الجواب:
اس کاجواب جواب سوال اول میں ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم
(۳)شرعا زمانہ حال میں اہل اﷲ کے تجہیزوتکفین وفاتحہ وعرس وغیرہ کے لئے کس قدر روپیہ کافی ہوسکتاہے
الجواب:
تجہیزوتکفین میں اسی قدر جوعام مسلمانوں کے لئے صرف ہوسکتاہے فاتحہ وعرس کے لئے
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیۃ ∞کوئٹہ ۴ /۳۶۷€
شرع سے کوئی مطالبہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۴)شرعا لباس قیمتی اہل اﷲ کامریدان ومتعتقدین کوتبرکا ومساکین کوثوابا ایك وارث بلااسترضا دیگر ورثا تقسیم کرسکتاہے
الجواب:
قیمتی ہویاکم قیمتبلاوصیت مورث وبلارضائے دیگرورثاء نہیں دے سکتاجوکچھ دے گا وہ خاص دینے والے کے حصہ میں محسوب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
(۵)شرعا صاحب سجادہ کس کوکہتے ہیں اوردیگرورثاء پرسجادہ نشین مذکور کیاکیا حق فائق رکھتاہے
الجواب:
سجادہ نشین وہ صاحب ہدایت عــــــہ ہے کہ پہلے صاحب ہدایت کی وصیت یامسلمانان ذی رائے کی تجویز سے اس کاجانشین بغرض ہدایت ہواہو دربارہ وراثت اس کوکسی وارث پرکوئی حق فائق نہیں یہ محض بے اصل ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۶)شرعا عرس سالانہ مورث ونذرونیاز شہدائے کربلاوعرس بزرگان جن کومورث نے اپنی حیات میں جاری رکھاتھا بعد وفات مورث کے ورثاء بھی اس کے اجراء رکھنے پرمجبورہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
یہ امور اگربطور شرع شریف ہوں تو صرف مستحبات ہیں اورمستحب پرجبرنہیں ہوسکتاہاں اگر مورث کوئی جائداد کسی مصرف خیر کے لئے وقف کردیتا تواس کا اتباع ہوتا۔و اﷲ تعالی اعلم
(۷)شرعا خانقاہ کس کوکہتے ہیں
الجواب:
یہ کوئی اصطلاح شرعا مطہرنہیں عرف میں مکان مسند افاضہ اولیاء کوخانقاہ کہتے ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
عــــــہ:اقول:شرط اجازت ضروری ہے آج کل بہت لوگ صاحب سجادہ بطور وراثت بنادئیے جاتے ہیں اور وہ بیعت کرنے لگتے ہیں یہ حرام ہے۔۱۲
(۴)شرعا لباس قیمتی اہل اﷲ کامریدان ومتعتقدین کوتبرکا ومساکین کوثوابا ایك وارث بلااسترضا دیگر ورثا تقسیم کرسکتاہے
الجواب:
قیمتی ہویاکم قیمتبلاوصیت مورث وبلارضائے دیگرورثاء نہیں دے سکتاجوکچھ دے گا وہ خاص دینے والے کے حصہ میں محسوب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
(۵)شرعا صاحب سجادہ کس کوکہتے ہیں اوردیگرورثاء پرسجادہ نشین مذکور کیاکیا حق فائق رکھتاہے
الجواب:
سجادہ نشین وہ صاحب ہدایت عــــــہ ہے کہ پہلے صاحب ہدایت کی وصیت یامسلمانان ذی رائے کی تجویز سے اس کاجانشین بغرض ہدایت ہواہو دربارہ وراثت اس کوکسی وارث پرکوئی حق فائق نہیں یہ محض بے اصل ہے۔واﷲ تعالی اعلم
(۶)شرعا عرس سالانہ مورث ونذرونیاز شہدائے کربلاوعرس بزرگان جن کومورث نے اپنی حیات میں جاری رکھاتھا بعد وفات مورث کے ورثاء بھی اس کے اجراء رکھنے پرمجبورہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
یہ امور اگربطور شرع شریف ہوں تو صرف مستحبات ہیں اورمستحب پرجبرنہیں ہوسکتاہاں اگر مورث کوئی جائداد کسی مصرف خیر کے لئے وقف کردیتا تواس کا اتباع ہوتا۔و اﷲ تعالی اعلم
(۷)شرعا خانقاہ کس کوکہتے ہیں
الجواب:
یہ کوئی اصطلاح شرعا مطہرنہیں عرف میں مکان مسند افاضہ اولیاء کوخانقاہ کہتے ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
عــــــہ:اقول:شرط اجازت ضروری ہے آج کل بہت لوگ صاحب سجادہ بطور وراثت بنادئیے جاتے ہیں اور وہ بیعت کرنے لگتے ہیں یہ حرام ہے۔۱۲
(۸)جس مکان میں اہل اﷲ قیام پذیرہوں یاجس مکان میں لوگ مرید ہواکرتے ہوں یاجس مکان میں اہل اﷲ ذکر الہی کیا کرتے ہوں یاعرس یاجلسہ سماع ہوتاہو یا اس مکان میں پائخانہ یاباورچی خانہ خانقاہ ہو یا آئندگان عرس اس میں قیام کرتے ہوں وہ ترکہ مورث ہے یانہیں اورقابل تقسیم ہے یانہیں
الجواب:
اگریہ مکانات مملوکہ مورث تھے توضرور تقسیم کئے جائیں گے جب تك کہ مورث نے ان میں کسی کو وقف صحیح شرعی نہ کر دیاہو۔واﷲ تعالی اعلم
(۹)جس مکان کے گوشہ صحن میں قبوراہل اﷲ یاقبور مورث واقع ہوں وہ مکان مع صحن بعد مستثنی کرنے اراضی قبور کے شرعا قابل تقسیم ہے یانہیں
الجواب:
ہاں جبکہ وقف نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۰)جس مکان میں مورث کی ہمیشہ نشست گاہ رہی ہو اور اس نے اس کی اصلاح ومرمت اپنے اصراف سے کی ہو اوربلاشرکت غیرے اپناقبضہ خالص اہنی حیات تك رکھا ہے بلکہ اپنی ضرورت میں اس مکان کو مکفول کرکے قبضہ بھی مورث نے لیاہے وہ مکان بعد وفات مورث بوجہ اصراف کثیر تعمیرات مقبرہ وغیرہ تقسیم باہم شرکاء سے محفوظ رہ سکتاہے یانہیں اور ایسامکان وقف قراردیاجاسکتاہے یانہیں
الجواب:
جبکہ مورث اپنی ضروریات میں اس مکان کومکفول کرچکاتھا تو اس کے فعل سے صراحۃ اس کاوقف نہ ہونا ثابت ہے اور جب وہ مملوك مورث ہے توتقسیم برورثا سے محفوظی کی کوئی وجہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۱)فرش وشیشہ آلات ودیگراسبابمنقولہ جوعرس اہل اﷲ کے کارآمد ہوتاہے قابل تبلیغ وراثت ہے یانہیں
الجواب:
یہ مال اگرملك خاص مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگروقف ہے یامریدوں نے اس کام کے لئے لاکردیا اورمورث کومالك نہ کردیا تھا توتقسیم نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اگریہ مکانات مملوکہ مورث تھے توضرور تقسیم کئے جائیں گے جب تك کہ مورث نے ان میں کسی کو وقف صحیح شرعی نہ کر دیاہو۔واﷲ تعالی اعلم
(۹)جس مکان کے گوشہ صحن میں قبوراہل اﷲ یاقبور مورث واقع ہوں وہ مکان مع صحن بعد مستثنی کرنے اراضی قبور کے شرعا قابل تقسیم ہے یانہیں
الجواب:
ہاں جبکہ وقف نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۰)جس مکان میں مورث کی ہمیشہ نشست گاہ رہی ہو اور اس نے اس کی اصلاح ومرمت اپنے اصراف سے کی ہو اوربلاشرکت غیرے اپناقبضہ خالص اہنی حیات تك رکھا ہے بلکہ اپنی ضرورت میں اس مکان کو مکفول کرکے قبضہ بھی مورث نے لیاہے وہ مکان بعد وفات مورث بوجہ اصراف کثیر تعمیرات مقبرہ وغیرہ تقسیم باہم شرکاء سے محفوظ رہ سکتاہے یانہیں اور ایسامکان وقف قراردیاجاسکتاہے یانہیں
الجواب:
جبکہ مورث اپنی ضروریات میں اس مکان کومکفول کرچکاتھا تو اس کے فعل سے صراحۃ اس کاوقف نہ ہونا ثابت ہے اور جب وہ مملوك مورث ہے توتقسیم برورثا سے محفوظی کی کوئی وجہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۱)فرش وشیشہ آلات ودیگراسبابمنقولہ جوعرس اہل اﷲ کے کارآمد ہوتاہے قابل تبلیغ وراثت ہے یانہیں
الجواب:
یہ مال اگرملك خاص مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگروقف ہے یامریدوں نے اس کام کے لئے لاکردیا اورمورث کومالك نہ کردیا تھا توتقسیم نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۲)جس مکان کومتعلق خانقاہمہمان خانہ یالنگرخانہ موسومل کیاجائے یاجس مکان میں سجادہ نشین رہتے چلے آئے ہوں یاجس مکان میں مہمان عرس کے شریك ہونے والے یاتعلیم ذکرالہی پانے والے قیام پذیر ہواکرتے ہوں وہ مکان شرعا قابل تقسیم ہے یانہیں
الجواب:
اگرملك مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگر اس کاوقف ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہو تومنقسم نہ ہوسکے گا صرف اتنی بات سے کہ اس کانام مہمان خانہ یالنگرخانہ ہے یااس میں سجادہ نشین رہتے یااشخاص مذکورین قیام کرتے تھے وقف ہونا ثابت نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۳)اگرکسی مکان کوخانقاہ کے نام سے موسوم کیاہوتو وہ شرعا اس بناء پر وقف ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
نہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۴)قرآن وحدیث جس سے استخراج فتاوی کاہوتاہے اس میں کوئی تفصیل ایسی پائی جاتی ہے کہ احکام طریقت اوراحکام شریعت میں اختلاف یاکچھ تفاوت ہو۔
الجواب:
یہ محض جھوٹ ہے اوربددینوں کامذہب ہےاہل اسلام کے نزدیك جوطریقت شریعت کے خلاف ہومردود ہے۔حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی وغیرہ اکابراولیاء رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
"کل حقیقۃ ردتہ الشریعۃ فھی زندقۃ" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ "جس حقیقت کوشریعت ر د فرمائے وہ بے دینی ودہریت ہے"۔اﷲ تعالی خوب جاننے والاہے۔(ت)
(۱۵)ورثاء کی ناقابلیت ان کوکسی ترکہ مورث سے محروم رکھ سکتی ہے
الجواب:
وراثت سے محرومی کے صرف چار سبب ہیں کہ ۱وارث غلام ہویا۲مورث کاقاتل یا۳ کافر ہو یا۴دارالحرب میں رہتاہو باقی کوئی نا قابلیت اسے اس کے حق شرعی سے محروم نہ کرے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اگرملك مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگر اس کاوقف ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہو تومنقسم نہ ہوسکے گا صرف اتنی بات سے کہ اس کانام مہمان خانہ یالنگرخانہ ہے یااس میں سجادہ نشین رہتے یااشخاص مذکورین قیام کرتے تھے وقف ہونا ثابت نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۳)اگرکسی مکان کوخانقاہ کے نام سے موسوم کیاہوتو وہ شرعا اس بناء پر وقف ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
نہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۴)قرآن وحدیث جس سے استخراج فتاوی کاہوتاہے اس میں کوئی تفصیل ایسی پائی جاتی ہے کہ احکام طریقت اوراحکام شریعت میں اختلاف یاکچھ تفاوت ہو۔
الجواب:
یہ محض جھوٹ ہے اوربددینوں کامذہب ہےاہل اسلام کے نزدیك جوطریقت شریعت کے خلاف ہومردود ہے۔حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی وغیرہ اکابراولیاء رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
"کل حقیقۃ ردتہ الشریعۃ فھی زندقۃ" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ "جس حقیقت کوشریعت ر د فرمائے وہ بے دینی ودہریت ہے"۔اﷲ تعالی خوب جاننے والاہے۔(ت)
(۱۵)ورثاء کی ناقابلیت ان کوکسی ترکہ مورث سے محروم رکھ سکتی ہے
الجواب:
وراثت سے محرومی کے صرف چار سبب ہیں کہ ۱وارث غلام ہویا۲مورث کاقاتل یا۳ کافر ہو یا۴دارالحرب میں رہتاہو باقی کوئی نا قابلیت اسے اس کے حق شرعی سے محروم نہ کرے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الرسالہ القشیریۃ ومن ذلك الشریعۃ والحقیقۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۴۳،€الحدیقۃ الندیۃ الباب الاول الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۱۶۹€
(۱۶)کیاعورت بوجہ ناقابلیت فطرتی کے کسی ترکہ مورث سے محروم رہ سکتی ہے
الجواب:
دربارہ حرمان وراثت مردوعورت کا ایك ہی حکم ہےعورت فطرتی طورپر صرف اس وجہ سے کہ عورت ہے ہرگز قابل محرومی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کاخاص اس کاروپیہ تھا اس کے سواکسی کاایك حبہ نہیں تھا اس کے خاوند(زید)نے اس روپیہ سے ایك مکان اپنے نام خرید کیا اور وہ فوت ہوگیا اوراس کاگوروکفن اس کی بیوی نے سب اپنے پاس سے کیا اورمبلغ ۵۰ روپیہ اس کے خاوند نے مکان پرقرض لئے تھے وہ قرض ادا نہیں ہوئے وہ کس کس کو اداکرناچاہئے اور اس کے خاوند نے اپنی بیوی کوچھوڑا ہے اور دوبیٹی ہیں اور ایك ہمشیرہ اورپانچ بھتیجے ہیں اب کس کس کوپہنچتاہے
الجواب:
شوہرنے جوقرض لیاتھا وہ زید کے مال سے اداہوگا اس کے بعد وارثوں پرتقسیم ہوگااورمکان کہ زید نے اپنی بیوی کے روپے سے اپنے لئے خریدا اس کامالك زیدہوا پھراگر وہ روپیہ بے اجازت عورت سے لے کر دیا تھا یاعورت نے قرضا دیاتھا تواتنا روپیہ عورت کاذمہ شوہر قرض رہا اوراگرگواہان شرعی سے ثابت ہوکہ عورت نے وہ روپیہ شوہرکو ہبہ کردیاتھا توہبہ ہوگیا اس کامطالبہ نہیں اور گوروکفن جوبیوی نے بقدرسنت کیا اس قدرترکہ میں سے مجرا پائے گی اس سے زائد جوفاتحہ ودرود وغیرہ میں اٹھایا وہ کسی سے مجرانہ ملے گابالجملہ جوکچھ اس مکان وغیرہ تمام ترکہ شوہر رپردین ثابت ہومثلا عورت کامہر اور وہ پچاس روپیہ اوربقدر سنت گوروکفن کاصرف اورمکان کی قیمت کاروپیہ جب کہ عورت کاشوہر کوہبہ کردینا نہ ہو اور ان کے سوا اورجوکچھ شوہر پردین ہوسب ترکہ سے اداکرکے اگرکچھ بچے توباقی کے تہائی میں شوہرنے اگرکوئی وصیت کی ہونافذ کریں اس کے بعد جوباقی بچے اس کے چوبیس حصہ حسب شرائط فرائض ہوکر تین حصے زوجہ اور آٹھ آٹھ ہربیٹی اورپانچ بہن کوپہنچیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
الجواب:
دربارہ حرمان وراثت مردوعورت کا ایك ہی حکم ہےعورت فطرتی طورپر صرف اس وجہ سے کہ عورت ہے ہرگز قابل محرومی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کاخاص اس کاروپیہ تھا اس کے سواکسی کاایك حبہ نہیں تھا اس کے خاوند(زید)نے اس روپیہ سے ایك مکان اپنے نام خرید کیا اور وہ فوت ہوگیا اوراس کاگوروکفن اس کی بیوی نے سب اپنے پاس سے کیا اورمبلغ ۵۰ روپیہ اس کے خاوند نے مکان پرقرض لئے تھے وہ قرض ادا نہیں ہوئے وہ کس کس کو اداکرناچاہئے اور اس کے خاوند نے اپنی بیوی کوچھوڑا ہے اور دوبیٹی ہیں اور ایك ہمشیرہ اورپانچ بھتیجے ہیں اب کس کس کوپہنچتاہے
الجواب:
شوہرنے جوقرض لیاتھا وہ زید کے مال سے اداہوگا اس کے بعد وارثوں پرتقسیم ہوگااورمکان کہ زید نے اپنی بیوی کے روپے سے اپنے لئے خریدا اس کامالك زیدہوا پھراگر وہ روپیہ بے اجازت عورت سے لے کر دیا تھا یاعورت نے قرضا دیاتھا تواتنا روپیہ عورت کاذمہ شوہر قرض رہا اوراگرگواہان شرعی سے ثابت ہوکہ عورت نے وہ روپیہ شوہرکو ہبہ کردیاتھا توہبہ ہوگیا اس کامطالبہ نہیں اور گوروکفن جوبیوی نے بقدرسنت کیا اس قدرترکہ میں سے مجرا پائے گی اس سے زائد جوفاتحہ ودرود وغیرہ میں اٹھایا وہ کسی سے مجرانہ ملے گابالجملہ جوکچھ اس مکان وغیرہ تمام ترکہ شوہر رپردین ثابت ہومثلا عورت کامہر اور وہ پچاس روپیہ اوربقدر سنت گوروکفن کاصرف اورمکان کی قیمت کاروپیہ جب کہ عورت کاشوہر کوہبہ کردینا نہ ہو اور ان کے سوا اورجوکچھ شوہر پردین ہوسب ترکہ سے اداکرکے اگرکچھ بچے توباقی کے تہائی میں شوہرنے اگرکوئی وصیت کی ہونافذ کریں اس کے بعد جوباقی بچے اس کے چوبیس حصہ حسب شرائط فرائض ہوکر تین حصے زوجہ اور آٹھ آٹھ ہربیٹی اورپانچ بہن کوپہنچیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۲۹: ۲۹ذیقعدہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نیازاحمد کے دو زوجہ زینبننھیدونوں کا مہر۵۰۰ /۵۰۰جائداد ۲۰۰ روپے کی۔پہلی بیوی شوھر سے پہلے مروی جس کے وارث زوج نیازاحمدباپ جیون بخشچاردخترآمنہفضلونورالنساءبیگما۔ان میں بیگما نے انتقال کیا۔زوج عبدالرزاقباپ نیازاحمددخترشہربانو وارث چھوڑےعبدالرزاق کی وارث یہی دخترہی۔نیازاحمد نے وفات پائی توزوجہ ثانیہ اور اس کے بطن سے ایك پسرنتھوایك دخترمتیناور تین دخترزوجہ اولی سے وارث رہے۔ورثہ سب بالگ ہیں اورمہروں میں مکان دینے پرراضی ہیں اور ان مہروں کے سوا نیازاحمد پرکوئی قرض نہیں۔اس صورت میں ہروارث کتناپائے گا بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مکان کے پینتالیس حصے کئے جائیںازاں جملہ چھبیس حصہ زوجہ ثانیہ ننھی کواس کے مہر میں دے دیں اورانیس حصوں سے چارچار جیون بخشآمنہفضلونورالنساء کو اور تین شہربانو کواس لئے کہ جب دونوں زوجہ کومکان نصف نصف ملناچاہئے تھا مگرزوجہ اولی کاانتقال شوہر سے پہلے ہواتو اس کے مہر سے ۱۳ /۳ خودنیاز احمد کوپہنچے یعنی اس پرسے ساقط ہو گئے اور۱۳ /۲ جیون بخش اورہرچہار دخترزینب کوملے۔ان میں سے بیگمامرگئی اور اسے جوپہنچتا تھا اس کاچہارم پھرنیازاحمد کو پہنچا یعنی اس پرسے ساقط ہوگیا۔توحاصل یہ ہواکہ مہرزینب سے ۲۶ /۷ نیازاحمد سے ساقط ہوگیا ۲۶ /۱۹ باقی رہا اورمہرننھی پورباقی ہے بوجہ مساوات سابقہ اسے بھی ۲۶ سہم فرض کیجئے تومکان دونوں زوجہ پر اسی ۲۶ و۱۹ کی نسبت سے بٹناچاہئے کہ دیون جب ترکہ سے زائدہوں تودائنوں کو حصہ رسد دیاجاتاہے لہذا مکان کے ۴۵ حصہ کرکے ۲۶حصے ننھی کودئیے جائیں اور۱۹بحساب مذکور وارثان زینب پرتقسیم ہوں۔
فی القنیۃ قال استاذنا سئلت عمن ماتت عن زوج و بنتین واخ لاب و ام ولامال لہاسوی مھرعلی زوجھا قنیہ میں ہے ہمارے استاذنے فرمایا کہ مجھ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیاجوخاونددوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑکرمرگئی جبکہ سوائے سودینار کے جوبطورمہراس کے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نیازاحمد کے دو زوجہ زینبننھیدونوں کا مہر۵۰۰ /۵۰۰جائداد ۲۰۰ روپے کی۔پہلی بیوی شوھر سے پہلے مروی جس کے وارث زوج نیازاحمدباپ جیون بخشچاردخترآمنہفضلونورالنساءبیگما۔ان میں بیگما نے انتقال کیا۔زوج عبدالرزاقباپ نیازاحمددخترشہربانو وارث چھوڑےعبدالرزاق کی وارث یہی دخترہی۔نیازاحمد نے وفات پائی توزوجہ ثانیہ اور اس کے بطن سے ایك پسرنتھوایك دخترمتیناور تین دخترزوجہ اولی سے وارث رہے۔ورثہ سب بالگ ہیں اورمہروں میں مکان دینے پرراضی ہیں اور ان مہروں کے سوا نیازاحمد پرکوئی قرض نہیں۔اس صورت میں ہروارث کتناپائے گا بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مکان کے پینتالیس حصے کئے جائیںازاں جملہ چھبیس حصہ زوجہ ثانیہ ننھی کواس کے مہر میں دے دیں اورانیس حصوں سے چارچار جیون بخشآمنہفضلونورالنساء کو اور تین شہربانو کواس لئے کہ جب دونوں زوجہ کومکان نصف نصف ملناچاہئے تھا مگرزوجہ اولی کاانتقال شوہر سے پہلے ہواتو اس کے مہر سے ۱۳ /۳ خودنیاز احمد کوپہنچے یعنی اس پرسے ساقط ہو گئے اور۱۳ /۲ جیون بخش اورہرچہار دخترزینب کوملے۔ان میں سے بیگمامرگئی اور اسے جوپہنچتا تھا اس کاچہارم پھرنیازاحمد کو پہنچا یعنی اس پرسے ساقط ہوگیا۔توحاصل یہ ہواکہ مہرزینب سے ۲۶ /۷ نیازاحمد سے ساقط ہوگیا ۲۶ /۱۹ باقی رہا اورمہرننھی پورباقی ہے بوجہ مساوات سابقہ اسے بھی ۲۶ سہم فرض کیجئے تومکان دونوں زوجہ پر اسی ۲۶ و۱۹ کی نسبت سے بٹناچاہئے کہ دیون جب ترکہ سے زائدہوں تودائنوں کو حصہ رسد دیاجاتاہے لہذا مکان کے ۴۵ حصہ کرکے ۲۶حصے ننھی کودئیے جائیں اور۱۹بحساب مذکور وارثان زینب پرتقسیم ہوں۔
فی القنیۃ قال استاذنا سئلت عمن ماتت عن زوج و بنتین واخ لاب و ام ولامال لہاسوی مھرعلی زوجھا قنیہ میں ہے ہمارے استاذنے فرمایا کہ مجھ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیاجوخاونددوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑکرمرگئی جبکہ سوائے سودینار کے جوبطورمہراس کے
مائۃ دینار ثم مات الزوج ولم یترك الاخمسین دینارا فقلت یقسم بین البنتین والاخ اتساعا بقدر سھامھم لانہ ذکر فی کتاب العین والدین اذا کان علی بعض الورثۃ دین من جنس الترکۃ یحسب ماعلیہ من الدین کانہ عین وبقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین والاخ فتکون بینھم علی سھامھم من اصل المسئلۃ وقد افتی کثیر من مفتی زماننا انہ یقسم الخمسون بینھم اثلاثا وانہ غلط فاحش اھ اقول و نظیرہ الغلط الواقع فی مسئلۃ زوج وام وعم وقد تخارج الزوج علی مافی ذمتہ من المھر فقسموا البقیۃ اثلاثا للام سھم وللعم سھمان والصواب العکس للعم سھم وللام سھمان کما حررہ فی الدر المختار ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ خاوند پرقرض ہیں اس نے کوئی اورشیئ ترکہ میں نہیں چھوڑیپھر اس کاشوہر صرف پچاس دینار چھوڑ کر مرگیا تو میں نے جواب میں کہا کہ دونوں بیٹیوں اور بھائی پران کے سہام کے مطابق نوحصے بناکر مال کوتقسیم کیاجائے گا کیونکہ کتاب العین والدین میں مذکورہے کہ جب کسی وارث پر ترکہ کی جنس سے قرض ہوتو وہ قرض اس کے حصہ میں شمارہوگا گویا کہ وہ عین ہے اب چونکہ دونوں بیٹیوں اوربھائی کے حصے میں پچاس دینار باقی بچے ہیں لہذا وہ ان پراصل مسئلہ میں سے ان کے سہام کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ہمارے زمانے کے بہت سے مفتیوں نے فتوی دیاہے کہ پچاس دینار ان میں تین حصے بناکر تقسیم کئے جائیں گے حالانکہ یہ فاحش غلطی ہے اھ ۔میں کہتاہوں اس کی نظیر وہ غلطی ہے جوخاوند ماں اورچچا کے مسئلے میں واقع ہوئی جبکہ خاونداپنے مہرکے بدلے میں ترکہ سے دستبردار ہوگیا توعلماء نے باقی کو تین حصے بناکر ایك ماں اوردوچچا کودینے کافتوی دیا حالانکہ صحیح اس کے برعکس ہے یعنی ماں کودو اورچچا کوایك حصہ ملے گا جیسا کہ درمختارمیں اس کوتحریر فرمایاہے۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم
حوالہ / References
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الفرائض ∞مطبوعہ کلکتہ بھارت ص۳۹€۴
الدرالمختار کتاب الفرائض باب المخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۷۰€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب المخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۷۰€
image start ki nahi hai
مسئلہ ۱۳۰: ازدیورہ ڈاکخانہ مئو ضلع گیا مرسلہ شیخ ولایت حسین صاحب ۲۰جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنے ورثاء کو محروم الارث کرکے اپنی جائداد موروثی ومتروکی ومحصولی کواپنے بعض ورثاء کودے دیناچاہتاہے۔آیابموجب حدیث نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالی زید کایہ فعل ظلم ہوگا اوروہ شخص ظالم اورگنہ گارہوگا یانہیں اورحق تلفی اس شخص نے بعض ورثاء کے مقابل میں کیایانہیں بینواتوجروا بالکتاب والسنۃ۔
الجواب:
جس وارث کومحروم کرناچاہتاہے اگر وہ فاسق معاذاﷲ بدمذہب ہوتو اسے محروم کرناہی بہتر وافضل ہے۔خلاصہ ولسان الحکام و فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا واراد ا ن یصرف مالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیرمن ترکہ ۔ اگر کسی کی اولاد فاسق ہو اور وہ چاہے کہ اپنے مال کو نیکی کے کاموں پرخرچ کرکے فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے تو ایساکرنا فاسق کے لئے مال چھوڑجانے سے بہترہے۔(ت)
بدمذہب بدترین فساق ہےفاسق میں یہ خوف تھاکہ مال اعمال بد میں خرچ کرے گابدمذہب میں یہ اندیشہ کہ اعانت گمراہی و ضلالت میں اٹھائے گا یہ اس سے لاکھ درجے بدترہے۔غنیہ میں ہے:
الفسق من حیث العقیدۃ اشد من الفسق من حیث العمل ۔ عقیدہ کے اعتبارسے فاسق ہوناعمل کے اعتبارسے فاسق ہونے سے بدتر ہے(ت)
مسئلہ ۱۳۰: ازدیورہ ڈاکخانہ مئو ضلع گیا مرسلہ شیخ ولایت حسین صاحب ۲۰جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنے ورثاء کو محروم الارث کرکے اپنی جائداد موروثی ومتروکی ومحصولی کواپنے بعض ورثاء کودے دیناچاہتاہے۔آیابموجب حدیث نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالی زید کایہ فعل ظلم ہوگا اوروہ شخص ظالم اورگنہ گارہوگا یانہیں اورحق تلفی اس شخص نے بعض ورثاء کے مقابل میں کیایانہیں بینواتوجروا بالکتاب والسنۃ۔
الجواب:
جس وارث کومحروم کرناچاہتاہے اگر وہ فاسق معاذاﷲ بدمذہب ہوتو اسے محروم کرناہی بہتر وافضل ہے۔خلاصہ ولسان الحکام و فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا واراد ا ن یصرف مالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیرمن ترکہ ۔ اگر کسی کی اولاد فاسق ہو اور وہ چاہے کہ اپنے مال کو نیکی کے کاموں پرخرچ کرکے فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے تو ایساکرنا فاسق کے لئے مال چھوڑجانے سے بہترہے۔(ت)
بدمذہب بدترین فساق ہےفاسق میں یہ خوف تھاکہ مال اعمال بد میں خرچ کرے گابدمذہب میں یہ اندیشہ کہ اعانت گمراہی و ضلالت میں اٹھائے گا یہ اس سے لاکھ درجے بدترہے۔غنیہ میں ہے:
الفسق من حیث العقیدۃ اشد من الفسق من حیث العمل ۔ عقیدہ کے اعتبارسے فاسق ہوناعمل کے اعتبارسے فاسق ہونے سے بدتر ہے(ت)
اور اگرایسانہیں بعض ورثاء کومحروم کرناضرورظلم ہے جس کے لئے حدیث صحیح نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنہما لاتشہد فی علی جور (مجھے ظلم پرگواہ مت بنا۔ت)کافی۔ابن ماجہ کی حدیث میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیمۃ ۔وھو عند الدیلمی عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ بلفظ من زوی میراثا عن وراثہ زوی اﷲ عنہ میراثہ من الجنۃ ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی روزقیامت جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے۔(یہ حدیث دیلمی کے نزدیك حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ان لفظوں کے ساتھ مروی ہے کہ جس شخص نے اپنے وارث سے میراث کو سمیت دیا اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث کو سمیٹ دے۔ت)واﷲ سبحانہوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱: مرسلہ عبدالحق برادر حاجی عبدالرزاق ازپیلی بھیت محلہ عنایت گنج ۱۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
زیدنے بعد وفات تین بیٹے عبدالقدیرعبدالحفیظعبدالبصیر اوروالدہ مسماۃ فاطمہ بی کووارث چھوڑازید اپنی حیات میں بہ شراکت عمروتجارت کرتاتھا زید نے بحالت مرض الموت اپنی وفات سے ایك یا دو روز قبل اپنے شریك عمرو سے کہاتینوں پسر اپنے تمہارے سپرد کرتاہوں اور زید نے اپنی حیات میں بڑے بیٹے کی شادی کردی تھی عمرونے بعد وفات زید کے تجارت کو بجنسہ جاری رکھااس خیال سے کہ پسران زید خورد سال کی پرورش وشادی تجارت سے ہوجائے گی جوبچے گا وہ کام آئے گا۔چنانچہ بڑے لڑکے کو بجائے زیددکان پربٹھایا ہرسہ پسران کو تجارت مشترکہ سے تنخواہ ماہانہ دیتا رہا وفات زید کے تخمینا چھ سات سال بعد متروکہ زید سے عمرو نے دو۲ پسران کی شادی کردی ایك ہزار کے قریب صرف ہوا اورتیرہ سوکے قریب مصارف خوردو نوش میں صرف ہوا پھراکیس سو روپیہ کے
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القیمۃ ۔وھو عند الدیلمی عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ بلفظ من زوی میراثا عن وراثہ زوی اﷲ عنہ میراثہ من الجنۃ ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالی روزقیامت جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے۔(یہ حدیث دیلمی کے نزدیك حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ان لفظوں کے ساتھ مروی ہے کہ جس شخص نے اپنے وارث سے میراث کو سمیت دیا اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث کو سمیٹ دے۔ت)واﷲ سبحانہوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱: مرسلہ عبدالحق برادر حاجی عبدالرزاق ازپیلی بھیت محلہ عنایت گنج ۱۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
زیدنے بعد وفات تین بیٹے عبدالقدیرعبدالحفیظعبدالبصیر اوروالدہ مسماۃ فاطمہ بی کووارث چھوڑازید اپنی حیات میں بہ شراکت عمروتجارت کرتاتھا زید نے بحالت مرض الموت اپنی وفات سے ایك یا دو روز قبل اپنے شریك عمرو سے کہاتینوں پسر اپنے تمہارے سپرد کرتاہوں اور زید نے اپنی حیات میں بڑے بیٹے کی شادی کردی تھی عمرونے بعد وفات زید کے تجارت کو بجنسہ جاری رکھااس خیال سے کہ پسران زید خورد سال کی پرورش وشادی تجارت سے ہوجائے گی جوبچے گا وہ کام آئے گا۔چنانچہ بڑے لڑکے کو بجائے زیددکان پربٹھایا ہرسہ پسران کو تجارت مشترکہ سے تنخواہ ماہانہ دیتا رہا وفات زید کے تخمینا چھ سات سال بعد متروکہ زید سے عمرو نے دو۲ پسران کی شادی کردی ایك ہزار کے قریب صرف ہوا اورتیرہ سوکے قریب مصارف خوردو نوش میں صرف ہوا پھراکیس سو روپیہ کے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الھبات باب کراھیۃ تفضیل بعض الاولاد فی الھبۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۷€
سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹€۸
الفردوس بمأثورالخطاب ∞حدیث ۵۷۱۳€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۳ /۵۴۸€
سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹€۸
الفردوس بمأثورالخطاب ∞حدیث ۵۷۱۳€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۳ /۵۴۸€
قریب اورچارقطعہ مکانات تخمینا اکیس سو روپے کے جملہ چارہزار روپے کی مالیت بچی جس کو ہرسہ پسران زید نے باہم متساوی تقسیم کرلیا اورمسماۃ فاطمہ بی کو ترکہ زید سے کچھ نہ دیا پسران زیدمتروکہ سے تجارت کرتے رہےبعد تقسیم متروکہ تین چارسال بعد مسماۃ فاطمہ بی فوت ہوئی اس نے دو وارث ایك لڑکا عبداﷲ ایك دخترسعیدہ کو چھوڑاآج تك زید کو فوت ہوئے عرصہ تخمینا بارہ چودہ سال گزراہوگا پسران زید وقت تقسیم کرلینے متروکہ سے اس وقت تك علیحدہ علیحدہ تجارت کرتے رہے ہیں اور اس وقت ہرسہ پسران زید کے پاس تخمینا بیس ہزارروپے کے ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ ورثاء فاطمہ بیعبداﷲ و سعیدہ متروکہ زید سے جوکہ ذمہ پسران زید واجب الادا ہے پانے کے مستحق ہیں یانہیں آیا اس وقت جس قدرتعداد مالیت نزد پسران زید جوقریب بیس ہزار کے ہے اس جملہ مالیت سے کیونکہ ترکہ فاطمہ بی کاجوکچھ تھا کچھ نہ دیاگیا تو متروکہ فاطمہ بی بھی اس وقت تك شامل ہے ہرسہ پسران کے حصول میں اور ترقی پارہاہے یا اس تعداد میں جوبیالیس سورپے کی مالیت بعد پرورش و شادی بچی اورباہم پسران زید نے تقسیم کیا ہے اس میں سے پانے کی مستحق ہوگی یا ایك ہزار مصارف شادی اورتیرہ سو مصارف خوردونوش جملہ بیالیس سوتقسیم شدہ شامل کرکے کل چھ ہزار پانچ سو روپے ہوئے اس سے پانے کی مستحق ہے۔ جواب مع عبارات چاہئے۔
الجواب:
اگرپسران زید مقرہوں کہ یہ تجارت مملوکہ زید تھی اوروقت وفات زید اس کی والدہ فاطمہ زندہ تھی اور اس کو حصہ نہ دیاگیا تو وارثان فاطمہ پسران زید سے اس کل مال کاچھٹاحصہ حسب شرائط فرائض پانے کے مستحق ہیں جو وقت وفات زید موجود تھاخواہ مکانات موجود ہوں یامال تجارت یا زرنقد یا اسباب وغیرہ۔خوردونوش پسران میں جوصرف ہواوہ انہیں کے حصوں پر پڑے گا حصہ فاطمہ کو اس سے تعلق نہیں دو۲پسران کی شادی میں جو اٹھا وہ انہیں دوپرپڑے گا حصہ فاطمہ سے مجرانہ ہوگا بعد وفات زید تا زمان تقسیم وبعد تقسیم تاحال جوکچھ مال میں تجارت کے ترقیاں ہوئیں ان میں بھی فاطمہ کی ملك نہیں جبکہ وہ تجارت عمرو وصی زید وپسران زید بطورخود کرتے رہے اورفاطمہ اس میں شریك نہ ہوئی ہاں جبکہ حصہ فاطمہ اس میں شامل تھا تو اس کے حصہ سے جوترقی ہوئی پسران زید کے لئے ملك خبیث ہے ان کوحلال نہیں کہ وہ اسے اپنے تصرف میں لائیں بلکہ واجب ہے کہ اس قدرمال تصدیق کردیں یاوارثان فاطمہ کو دے دیں اوریہی بہتر وافضل ہے جومکان متروکہ زید نہ تھا بلکہ مال تجارت سے وصی زید یاپسران زید نے خودخریدا اس مکان میں حصہ فاطمہ نہیں بلکہ اس کاحصہ صرف اس قدر کا
الجواب:
اگرپسران زید مقرہوں کہ یہ تجارت مملوکہ زید تھی اوروقت وفات زید اس کی والدہ فاطمہ زندہ تھی اور اس کو حصہ نہ دیاگیا تو وارثان فاطمہ پسران زید سے اس کل مال کاچھٹاحصہ حسب شرائط فرائض پانے کے مستحق ہیں جو وقت وفات زید موجود تھاخواہ مکانات موجود ہوں یامال تجارت یا زرنقد یا اسباب وغیرہ۔خوردونوش پسران میں جوصرف ہواوہ انہیں کے حصوں پر پڑے گا حصہ فاطمہ کو اس سے تعلق نہیں دو۲پسران کی شادی میں جو اٹھا وہ انہیں دوپرپڑے گا حصہ فاطمہ سے مجرانہ ہوگا بعد وفات زید تا زمان تقسیم وبعد تقسیم تاحال جوکچھ مال میں تجارت کے ترقیاں ہوئیں ان میں بھی فاطمہ کی ملك نہیں جبکہ وہ تجارت عمرو وصی زید وپسران زید بطورخود کرتے رہے اورفاطمہ اس میں شریك نہ ہوئی ہاں جبکہ حصہ فاطمہ اس میں شامل تھا تو اس کے حصہ سے جوترقی ہوئی پسران زید کے لئے ملك خبیث ہے ان کوحلال نہیں کہ وہ اسے اپنے تصرف میں لائیں بلکہ واجب ہے کہ اس قدرمال تصدیق کردیں یاوارثان فاطمہ کو دے دیں اوریہی بہتر وافضل ہے جومکان متروکہ زید نہ تھا بلکہ مال تجارت سے وصی زید یاپسران زید نے خودخریدا اس مکان میں حصہ فاطمہ نہیں بلکہ اس کاحصہ صرف اس قدر کا
چھٹاحصہ ہے جوبوقت وفات زید متروکہ زید تھا۔
والمسائل مبینۃ فی الفتاوی العالمگیریۃ والفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھا وقد اوضحناھا فی فتاوانا غیرمرۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ان مسائل کوفتاوی عالمگیریہفتاوی خیریہ اور عقودالدریہ وغیرہ میں بیان کیاگیاہے اورہم نے اپنے فتاوی میں کئی بار ان کوواضح کیاہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۲: ازشہر مسئولہ جناب سلطان احمدخان صاحب زیدمجدہ ۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ آفتاب بیگم کا انتقال ہوا اس کے وارثوں میں ایك حقیقی چچا زادبہن مسماۃ عمدہ بیگم کاپوتاوصی احمداورایك علاتی خالہ بنوبیگم اورچاراخیافی بھتیجے جن کے باپ کاانتقال آفتاب بیگم کے سامنے ہو گیاموجودہیں وصی احمد نے تجہیزوتکفین اپنے صرف سے کی اور اس وصی احمد کومتوفیہ نے اس شرط سے اپناوصی بھی کیاکہ بعد اخراجات تجہیزوتکفین وفاتحہ ودرود بعد جس قدرروپیہ بچے وہ سب تیراہے اب تقسیم ترکہ ان وارثوں کے مقابلہ میں کیونکر ہوگا اور اخراجات تجہیزوتکفین متروکہ سے نکلے گا یانہیں شجرہ ذیل میں درج ہے۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا آفتاب بیگم کاترکہ چارسہم ہوکر ہراخیافی بھتیجے کو ایك ایك ملے گا اورچچازاد اورخالہ کچھ نہ پائیں گی آفتاب بیگم کی تجہیزوتکفین کہ وصی احمدغیروارث نے اپنے مال سے کی وہ بطوراحسان وسلوك نیك واقع ہوئی اس کامعاوضہ نہ پائے گا کہ وہ نہ وارث ہے نہ وصی ہے اس کہنے سے کہ بعد از ان
والمسائل مبینۃ فی الفتاوی العالمگیریۃ والفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھا وقد اوضحناھا فی فتاوانا غیرمرۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ان مسائل کوفتاوی عالمگیریہفتاوی خیریہ اور عقودالدریہ وغیرہ میں بیان کیاگیاہے اورہم نے اپنے فتاوی میں کئی بار ان کوواضح کیاہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۲: ازشہر مسئولہ جناب سلطان احمدخان صاحب زیدمجدہ ۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ آفتاب بیگم کا انتقال ہوا اس کے وارثوں میں ایك حقیقی چچا زادبہن مسماۃ عمدہ بیگم کاپوتاوصی احمداورایك علاتی خالہ بنوبیگم اورچاراخیافی بھتیجے جن کے باپ کاانتقال آفتاب بیگم کے سامنے ہو گیاموجودہیں وصی احمد نے تجہیزوتکفین اپنے صرف سے کی اور اس وصی احمد کومتوفیہ نے اس شرط سے اپناوصی بھی کیاکہ بعد اخراجات تجہیزوتکفین وفاتحہ ودرود بعد جس قدرروپیہ بچے وہ سب تیراہے اب تقسیم ترکہ ان وارثوں کے مقابلہ میں کیونکر ہوگا اور اخراجات تجہیزوتکفین متروکہ سے نکلے گا یانہیں شجرہ ذیل میں درج ہے۔
الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا آفتاب بیگم کاترکہ چارسہم ہوکر ہراخیافی بھتیجے کو ایك ایك ملے گا اورچچازاد اورخالہ کچھ نہ پائیں گی آفتاب بیگم کی تجہیزوتکفین کہ وصی احمدغیروارث نے اپنے مال سے کی وہ بطوراحسان وسلوك نیك واقع ہوئی اس کامعاوضہ نہ پائے گا کہ وہ نہ وارث ہے نہ وصی ہے اس کہنے سے کہ بعد از ان
مصارف کے جوبچے وہ تیراہے وہ موصی لہ ہوانہ کہ وصیہاں اگرآفتاب بیگم نے یوں کہاہوکہ میرے بعد میرے مصارف سے یہ یہ صرف کرنا اور جوبچے تیراہے تو اس صورت میں وہ وصی بھ ہوجائے گا اور اب جوتجہیزوتکفین میں اپنے مال سے صرف کیامجراپائے گا جس قدرکہ اس کے کفن وجہازمثل بقدرسنت میں اٹھایا ہو اس سے زیادہ وصی کو بھی مجرانہ ملے گا۔درالمختارمیں ہے:
الوصی کفنہ من مال نفسہ اوکفن الوارث المیت من مال نفسہ فانہ یرجع ولایکون متطوعا ۔ وصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا یامیت کے وارث نے اپنے مال سے میت کوکفن دیا تووہ ترکہ میں سے رجوع کرے گا اورمتبرع قرارنہیں پائے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:ای کفن المثل (یعنی کفن مثلی دیا۔ت)بلکہ اگر کفن مثل پرقیمت میں زیا دت فاحشہ کی مثلا ۸آنے گز کا کپڑا اس کاکفن مثل تھا اس نے بلاوصیت میت روپے گزکالگایا تو کچھ مجرانہ پائے گا۔درمختارمیں ہے:
لوزاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ وفی القیمۃ وقع الشراء لہ وحینئذ ضمن مادفعہ من مال الیتیم ولوالجیۃ ۔ اگروصی نے میت کے کفن مثلی پر شمار میں زیادتی کی تو وہ زیادتی کاتاوان دے گا اوراگرقیمت میں زیادتی کی توخریداری وصی کی طرف سے واقع ہوگی اوراس وقت وصی پران ثمنوں کاتاوان لازم آئے گا جو اس نے یتیم کے مال سے دئیےوالولجیہ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ضمن الزیادۃ الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث طقولہ وقع الشراء لہ لانہ متعد فی الزیادۃ وھی وہ زیادتی کاتاوان دے گا مگرجب میت نے اس کی وصیت کی ہو اوروہ ایك تہائی ترکہ سے نکل سکتاہو(توتاوان لازم نہیں ہوگا) (ط)ماتن کاقول کہ خریداری وصی کی طرف سے واقع
الوصی کفنہ من مال نفسہ اوکفن الوارث المیت من مال نفسہ فانہ یرجع ولایکون متطوعا ۔ وصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا یامیت کے وارث نے اپنے مال سے میت کوکفن دیا تووہ ترکہ میں سے رجوع کرے گا اورمتبرع قرارنہیں پائے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:ای کفن المثل (یعنی کفن مثلی دیا۔ت)بلکہ اگر کفن مثل پرقیمت میں زیا دت فاحشہ کی مثلا ۸آنے گز کا کپڑا اس کاکفن مثل تھا اس نے بلاوصیت میت روپے گزکالگایا تو کچھ مجرانہ پائے گا۔درمختارمیں ہے:
لوزاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ وفی القیمۃ وقع الشراء لہ وحینئذ ضمن مادفعہ من مال الیتیم ولوالجیۃ ۔ اگروصی نے میت کے کفن مثلی پر شمار میں زیادتی کی تو وہ زیادتی کاتاوان دے گا اوراگرقیمت میں زیادتی کی توخریداری وصی کی طرف سے واقع ہوگی اوراس وقت وصی پران ثمنوں کاتاوان لازم آئے گا جو اس نے یتیم کے مال سے دئیےوالولجیہ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ضمن الزیادۃ الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث طقولہ وقع الشراء لہ لانہ متعد فی الزیادۃ وھی وہ زیادتی کاتاوان دے گا مگرجب میت نے اس کی وصیت کی ہو اوروہ ایك تہائی ترکہ سے نکل سکتاہو(توتاوان لازم نہیں ہوگا) (ط)ماتن کاقول کہ خریداری وصی کی طرف سے واقع
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی شہادۃ الاوصیاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۹۰€
ردالمحتار کتاب الفرائض فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۸€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۸€
الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷€
غیرمتمیزۃ فیکون متبرعا بتکفین المیت بہ رحمتی ۔ ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وصی قیمت میں زیادتی کرکے تعدی کرنے والا ہو اس حال میں کہ وہ زیادتی ممتاز اورجدا نہیں ہے تو وہ میت کو زیادہ قیمتی کفن پہنانے میں متبرع ٹھہرارحمتی۔(ت)
رہی وصیت وہ بعدادائے دیون بلااجازت ورثہ تہائی مال میں سے نافذ ہوگی اس ثلث سے جس قدرفاتحہ ودرود بطورجائزومحمود معروف ومعہود میں صرف ہو وہ چاہیں ابھی مساکین پر خرچ کردیاجائے سال بھرکاانتظار ضرورنہیں پھرکچھ باقی بچے تو وہ وصی احمد کاہے ورنہ کچھ نہیں۔ہندیہ میں ہے:
فی النوازل اوصی بان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جاز کذا فی الاخلاصۃ۔ نوازل میں ہے میت نے وصیت کی کہ دس دن صدقہ کیا جائے اوروصی نے ایك ہی دن صدقہ دے دیا توجائز ہے۔ خلاصہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی الجامع مع قال اوصیت بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ بمائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ الاولی ولایوزع علی السنۃ کذا فی فتاوی خانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جامع میں ہے کہ موصی نے کہا میں نے اپنے تہائی مال سے ہر سال دو درھم صدقہ کرنے کی وصیت کی تو وصی پورے تہائی مال کوپہلے ہی سال صدقہ کردے گا اور اس کوکئی سالوں پر متفرق نہیں کرے گافتاوی خانیہ میں یونہی ہے۔(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۳:ازآرہ محلہ تری مطب حکیم عبدالوہاب صاحب مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب زید مجدہ مدرس اول مدرسہ حنفیہ ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بشرف ملاحظہ آقائے نعمت دریائے رحمت حضورپرنور متع اﷲ المسلمین بطول بقائہم۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہبدعائے والامع الخیررہ کرخواہان عافیت سرکارکے
رہی وصیت وہ بعدادائے دیون بلااجازت ورثہ تہائی مال میں سے نافذ ہوگی اس ثلث سے جس قدرفاتحہ ودرود بطورجائزومحمود معروف ومعہود میں صرف ہو وہ چاہیں ابھی مساکین پر خرچ کردیاجائے سال بھرکاانتظار ضرورنہیں پھرکچھ باقی بچے تو وہ وصی احمد کاہے ورنہ کچھ نہیں۔ہندیہ میں ہے:
فی النوازل اوصی بان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جاز کذا فی الاخلاصۃ۔ نوازل میں ہے میت نے وصیت کی کہ دس دن صدقہ کیا جائے اوروصی نے ایك ہی دن صدقہ دے دیا توجائز ہے۔ خلاصہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی الجامع مع قال اوصیت بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ بمائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ الاولی ولایوزع علی السنۃ کذا فی فتاوی خانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جامع میں ہے کہ موصی نے کہا میں نے اپنے تہائی مال سے ہر سال دو درھم صدقہ کرنے کی وصیت کی تو وصی پورے تہائی مال کوپہلے ہی سال صدقہ کردے گا اور اس کوکئی سالوں پر متفرق نہیں کرے گافتاوی خانیہ میں یونہی ہے۔(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۳:ازآرہ محلہ تری مطب حکیم عبدالوہاب صاحب مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب زید مجدہ مدرس اول مدرسہ حنفیہ ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بشرف ملاحظہ آقائے نعمت دریائے رحمت حضورپرنور متع اﷲ المسلمین بطول بقائہم۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہبدعائے والامع الخیررہ کرخواہان عافیت سرکارکے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۵۴€
الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن(مسائل شتی) ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۳€۴
الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن(مسائل شتی) ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۳۵€
الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن(مسائل شتی) ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۳€۴
الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن(مسائل شتی) ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۳۵€
جملہ خدام ہوں ایك بات دریافت طلب ہے وہ یہ کہ سراجی بیان مناسخہ میں تصحیح مسئلہ اورمافی الید کہ چارنسبتوں میں تین کو بیان کیا اورتداخل کوبالکل چھوڑدیا اگرچہ اس کی وجہ اس کی اظہریت معلوم ہوتی ہے اورصورت اس کی یہی ہوگی کہ اس کی دو۲ صورتیں ہیں یاتصحیح زائدہو اورمافی الید کم یابرعکساگراولی ہے توجزء تداخل کواوپر کی تصحیح میں ضرب دیں اورورثائے پیشین کے حصوں کو اسی حساب سے زیادہ کردیں اس میت کے ورثاء کے انصباء میں زیادتی کی ضرورت نہیںاوراگر تسحیح کم اورمافی الید زائد ہے تو جز تداخل کے انصباء وارثین اس میت کوضرب دیں اوپروالوں کے حصوں میں زیادتی نہ ہوگی یا اس کی اورکوئی صورت ہے فرضا اس کی تقدیر عربی زبان میں تحریر فرمائی جائے توبعیدشان بندہ نوازی سے نہیں۔
الجواب:
اعلم ان التداخل لیس الا قسما من التوافق وانما یجعل قسما عندالتفصیل بل التحقیق ان لیس ھھنا الاقسمان ولھما حکمان وذلك لان العددین ان عدھما ثالث ای عدد ولو مثلا لھما او لاحد ھما و الواحد لیس بعدد فمتوافقان والا فمتبائنان و لیسمی ذلك الثالث مابہ التوافق وحاصل قسمۃ کل من التوافقین علیہ وفقہ فمن صور التوافق اربعۃ و اربعۃ یعدھما اربعۃ وفق کل واحدوھذا یخص باسم التماثلومنھا اربعۃ توجان لےکہ تداخل تومحض ایك قسم ہے توافق کی صرف تفصیل کے وقت اس کو الگ قسم بنادیاجاتاہے بلکہ تحقیق یہ ہے کہ یہاں فقط دو ہی قسمیں ہیں اور ان کے دوحکم ہیںیہ اس لئے ہے کہ دوعدد دوحال سے خالی نہیں ہوں گے کہ ان دونوں کواگرکوئی تیسرایعنی تیسراعدد فناکردے اگرچہ وہ ان دونوں یا ان میں سے ایك کی مثل ہو اورایک(کاہندسہ)عدد نہیں ہوتاتو اس صورت میں وہ دونوں عدد متوا فقان کہلاتے ہیں ورنہ(یعنی اگرکوئی تیسرا عدد ان دونوں کوفنانہ کرے تو)تو وہ متبائنان ہوں گے۔اس تیسرے عدد کو مابہ التوافق(جس کے ذریعے سے باھم موافقت حاصل ہوئی)کہاجاتاہے اور متوافقین میں سے ہرایك کی مابہ التوافق پرتقسیم سے جو حاصل ہو وہ اس عدد کا وفق ہے۔توافق
الجواب:
اعلم ان التداخل لیس الا قسما من التوافق وانما یجعل قسما عندالتفصیل بل التحقیق ان لیس ھھنا الاقسمان ولھما حکمان وذلك لان العددین ان عدھما ثالث ای عدد ولو مثلا لھما او لاحد ھما و الواحد لیس بعدد فمتوافقان والا فمتبائنان و لیسمی ذلك الثالث مابہ التوافق وحاصل قسمۃ کل من التوافقین علیہ وفقہ فمن صور التوافق اربعۃ و اربعۃ یعدھما اربعۃ وفق کل واحدوھذا یخص باسم التماثلومنھا اربعۃ توجان لےکہ تداخل تومحض ایك قسم ہے توافق کی صرف تفصیل کے وقت اس کو الگ قسم بنادیاجاتاہے بلکہ تحقیق یہ ہے کہ یہاں فقط دو ہی قسمیں ہیں اور ان کے دوحکم ہیںیہ اس لئے ہے کہ دوعدد دوحال سے خالی نہیں ہوں گے کہ ان دونوں کواگرکوئی تیسرایعنی تیسراعدد فناکردے اگرچہ وہ ان دونوں یا ان میں سے ایك کی مثل ہو اورایک(کاہندسہ)عدد نہیں ہوتاتو اس صورت میں وہ دونوں عدد متوا فقان کہلاتے ہیں ورنہ(یعنی اگرکوئی تیسرا عدد ان دونوں کوفنانہ کرے تو)تو وہ متبائنان ہوں گے۔اس تیسرے عدد کو مابہ التوافق(جس کے ذریعے سے باھم موافقت حاصل ہوئی)کہاجاتاہے اور متوافقین میں سے ہرایك کی مابہ التوافق پرتقسیم سے جو حاصل ہو وہ اس عدد کا وفق ہے۔توافق
وثمانیۃ یعدھما اربعۃ وفق الاول واحد والثانی اثنان ویخص باسم التداخل و منھا اربعۃ وستۃ یعدھما اثنان وفق الاول اثنان والثانی ثلثۃ وھو التوافق بالمعنی الاخص وحیث ان الوفق فی التماثل لیس الا واحدا ولااثرلضرب شیئ فی واحد فاذا کان فی التصحیح و ما فی الید تماثل لایحتاج الی الضرب اصلا ولما کان فی التداخل وفق الاصغر واحدا لانہ حاصل قسمۃ الشیئ علی نفسہ ابدا فان کان التصحیح اصغر لم یحتج فی التصحیح العالی و الانصباء السابقۃ الی الضرب و ضرب فی انصباء ھذا البطن بوفق مافی الید الاکبر وان کان مافی الید الاصغر انعکس الحکم وفی صورۃ التوافق الاخص کی صورتوں میں سے ایك صورت یہ ہے کہ متوافقین چار اور چارہوں تو ان کوچار فناکرتاہےچنانچہ ان میں سے ہرایك کا وفق ایك ہوا اوریہ تماثل کے نام کے ساتھ مختص ہے۔ اور ایك صورت یہ ہے کہ متوافقین چار اور آٹھ ہوںان دونوں کو چارفناکردیتاہے۔پہلے کاوفق ایك اوردوسرے کادو ہے اور یہ تداخل کے نام کے ساتھ مختص ہے۔ایك صورت یہ ہےکہ متوافقین چاراور چھ ہوںان کودوفناکردیتاہے۔پہلے کا وفق دواوردوسرے کا تین ہے۔ اور یہی توافق بالمعنی الاخص ہے۔چونکہ تماثل میں وفق سوائے ایك کے نہیں ہوتا اورایك میں کسی شے کوضرب دینے کاکوئی اثرنہیں ہوتا لہذا جب تصحیح اورمافی الید(جوکچھ قبضہ میں ہے)میں تماثل ہوتوضرب کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔اورجبکہ تداخل میں چھوٹے عدد کاوفق ایك ہوتاہے کیونکہ کسی شیئ کواپنے آپ پر تقسیم کرنے سے ہمیشہ ایك ہی حاصل ہوتاہے لہذا اگرتصحیح کا عدد (مافی الیدسے)چھوٹاہے تواس کو اوپروالی تصحیح اورپہلے والے وارثوں کے حصوں میں ضرب دینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ البتہ اس بطن کے وارثوں کے حصوں کوبڑے مافی الید کے وفق کے ساتھ ضرب دی جائے گی۔اوراگرمافی الید(تصحیح سے)چھوٹاہواتوحکم الٹ جائے گا۔توافق اخص کی صورت میں چونکہ متوافقین میں سے
لماکان لکل من المتوافقین وفق فوق الواحد احتیج الی ضربین وھذا ھو التحقیق لان الاقسام انما تعتبر للاحکام وماثم الا حکمان الضرب بکل العدد فی التباین ویوفقہ فی التوافق وان استغنی عنہ عند کون الوفق واحدا کما فی التماثل فی الجانبین و فی التداخل فی جھۃ الاصغر وان شئت ثلثت فقلت العددان ان تساویان فتماثل وان اختلفا فان عدھما ثالث فتوافق والا فتبائن وحکم الاول ان لاضرب و الثانی الضرب بالوفق والثالث بالکلوان شئت ربعت وقلت العددان ان تساویا فتماثل والافان عد الاصغر الاکبر فتداخل والا فان عدھما ثالث فتوافق والا فتبائن وحکم الاول ان لاضرب اصلا و الثانی عدم الضرب فی جھۃ الاصغر والضرب بالوفق فی جہۃ الاکبر ہرایك کاوفق ایك سے اوپرہوتاہے لہذا دوضربوں کی ضرورت ہوتی ہے اوریہی تحقیق ہے کیونکہ اقسام کا اعتبار احکام کے لئے کیاجاتاہے اوریہاں صرف دوہی حکم ہیں(۱)تباین کی صورت میں کل عدد کے ساتھ ضرب دینا(۲)توافق کی صورت میں عدد کے وفق کے ساتھ ضرب دینااگرچہ وفق ایك ہونے کی صورت میں دونوں جانبوں میں ضرب کی ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ تماثل میں ہوتاہے اور تداخل کی صورت میں چھوٹے عدد کی جانب ضرب کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگرتو تین قسمیں بناناچاہے تویوں کہے گا کہ دوعدد اگرآپس میں برابر ہیں توتماثل اوراگرمختلف ہیں پھرتیسرا عدد ان کوفناکردیتاہے توتوافق ورنہ تباین ہے۔پہلی قسم کاحکم یہ ہے کہ اس میں کوئی ضرب نہیں ہوگیدوسری کاحکم وفق میں ضرب اورتیسری کاحکم کل میں ضرب ہے۔اگر تو چارقسمیں بنانا چاہے تویوں کہے گا کہ دوعدد اگرآپس میں برابر ہیں تو تماثل ہے اوراگرایسانہیں تو پھرچھوٹا عدد بڑے کوفناکرتاہے تو تداخل ہے اوراگرنہیں کرتا توپھرکوئی تیسراعدد ان دونوں کو فناکرتاہے یانہیںاگرکرتاہے توتوافق ورنہ تباین ہے۔پہلی قسم کاحکم یہ ہے کہ اس میں کوئی ضرب نہ ہوگی۔دوسری کا حکم یہ ہے کہ چھوٹے عدد کی جانب ضرب نہیں ہوگی اور بڑے کے جانب وفق میں ضرب دی جائے گی۔
والثالث الضرب بالوفق فی الجہتین والرابع الضرب بالکل فیھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ تیسری کاحکم یہ ہے کہ دونوں جانبوں میں وفق کے ساتھ ضرب دی جائے گیاورچوتھی کاحکم یہ ہے کہ دونوں جانبوں میں کل کے ساتھ ضرب دی جائے گیاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۴:ازمحل مذکور مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب سلخ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بحضورپرنور آقائے نعمت دریائے رحمت متع اﷲ المسلمین بطول بقائکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہخادم بارگاہ مع الخیررہ کر خواہان عوافی مزاج اقدس ہیں مع متعلقین کرام ہے تقریر پرتنویر نے شرف ورودفرماکر معزز ومشرف فرمایاقول مبارك بل التحقیق ان لیس ھناك الاقسمان پر ایك بات سمجھ میں آئی گزارش کرتاہوں:
قولہ مدظلہ بل التحقیق ان لیس ھناك الاقسمان اقول بل فی ظنی ان لاتعددھنا اصلالافی التقسم ولافی الحکم بل شیئ واحد ولہ حکم واحد لان العددین لابد ان یعدھما ثالث والواحد عدد لانہ نصف مجموع حاشیتیہ فان فی اعلاہ اثنین وفی تحتہ صفرمجموعھما اثنان فقط اذلا اثر لحط الصفر من عدد ولالزیادتہ فیہ ونصفھما واحد فاما ان یعدھما واحد فھما متبائنان اوعدد مثلھما فمتماثلان اومثل الاصغر فمتداخلان مصنف مدظلہکاقول"تحقیق یہ ہے کہ یہاں فقط دو ہی قسمیں ہیں"میں کہتاہوں بلکہ میرے گمان کے مطابق یہاں بالکل تعددنہیں ہے۔نہ تقسیم میں اورنہ ہی حکم میں بلکہ یہاں ایك ہی چیز ہے اوراس کاایك ہی حکم ہے کیونکہ دو عددوں کے لئے کسی ایسے تیسرے عددکاہونا ضروری ہے جو ان کوفناکرے اورایك بھی عدد ہے کیونکہ وہ اپنی دونوں طرفوں کے مجموعے کانصف ہے اس لئے کہ اس کے اوپر دو اورنیچے صفرہے جن کامجموعہ فقط دوہے کیونکہ صفرکوکسی عدد سے گھٹانے یا اسے کسی عدد میں جمع کرنے سے کوئی اثر نہیں ہوتااوردوکانصف ایك ہےچنانچہ دوعددوں کوفنا کرنے والا یاتو ایك ہوگا اس صورت میں وہ متبائنان ہوں گے یا ایساعدد ہوگا جوان دونوں عددوں کی مثل ہے۔اس صورت میں وہ متماثلان ہوں گے یاچھوٹے عدد کی مثل ہوگا
مسئلہ ۱۳۴:ازمحل مذکور مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب سلخ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
بحضورپرنور آقائے نعمت دریائے رحمت متع اﷲ المسلمین بطول بقائکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہخادم بارگاہ مع الخیررہ کر خواہان عوافی مزاج اقدس ہیں مع متعلقین کرام ہے تقریر پرتنویر نے شرف ورودفرماکر معزز ومشرف فرمایاقول مبارك بل التحقیق ان لیس ھناك الاقسمان پر ایك بات سمجھ میں آئی گزارش کرتاہوں:
قولہ مدظلہ بل التحقیق ان لیس ھناك الاقسمان اقول بل فی ظنی ان لاتعددھنا اصلالافی التقسم ولافی الحکم بل شیئ واحد ولہ حکم واحد لان العددین لابد ان یعدھما ثالث والواحد عدد لانہ نصف مجموع حاشیتیہ فان فی اعلاہ اثنین وفی تحتہ صفرمجموعھما اثنان فقط اذلا اثر لحط الصفر من عدد ولالزیادتہ فیہ ونصفھما واحد فاما ان یعدھما واحد فھما متبائنان اوعدد مثلھما فمتماثلان اومثل الاصغر فمتداخلان مصنف مدظلہکاقول"تحقیق یہ ہے کہ یہاں فقط دو ہی قسمیں ہیں"میں کہتاہوں بلکہ میرے گمان کے مطابق یہاں بالکل تعددنہیں ہے۔نہ تقسیم میں اورنہ ہی حکم میں بلکہ یہاں ایك ہی چیز ہے اوراس کاایك ہی حکم ہے کیونکہ دو عددوں کے لئے کسی ایسے تیسرے عددکاہونا ضروری ہے جو ان کوفناکرے اورایك بھی عدد ہے کیونکہ وہ اپنی دونوں طرفوں کے مجموعے کانصف ہے اس لئے کہ اس کے اوپر دو اورنیچے صفرہے جن کامجموعہ فقط دوہے کیونکہ صفرکوکسی عدد سے گھٹانے یا اسے کسی عدد میں جمع کرنے سے کوئی اثر نہیں ہوتااوردوکانصف ایك ہےچنانچہ دوعددوں کوفنا کرنے والا یاتو ایك ہوگا اس صورت میں وہ متبائنان ہوں گے یا ایساعدد ہوگا جوان دونوں عددوں کی مثل ہے۔اس صورت میں وہ متماثلان ہوں گے یاچھوٹے عدد کی مثل ہوگا
اولامثل احد فمتوافقان ویسمی ذلك العاد مابہ التوافق والحکم فی الکل الضرب فی الوفق لکن لماکان وفق المتباینین ھما العدد ان بانفسھما فانھما حاصل قسمتھا علی مابہ التوافق ای الواحد لان کل عدد یقسم علی واحد یحصل ذلك العدد بعینہ یضرب کل التصحیح فی کل التصحیح وکل مافی الید فی کل السھم لکل من الورثۃ ولان الوفق فی التماثل من الجانبین وفی التداخل من الاصغر لیس الا واحد او لایظھر اثر الضرب فی واحد لان کل عدد اذا ضرب فی واحد یحصل ذلك العدد بنفسہ اشتھر عند الناس انہ لایضرب فی التماثل وفی جانب الاصغر من التداخل وفی المتوافقین وفی جہۃ الاکبر من التداخل الضرب بالوفق کما ھو المشھور والعلم بالحق عند العلیم الغفور۔ اس صورت میں وہ متداخلان ہوں گے یا ان دونوں میں سے کسی کی مثل نہ ہوگا تو اس صورت میں وہ متوافقان ہوں گے۔ اس فناکرنے والے عدد کو مابہ التوافق کہاجاتاہے ان سب صورتوں کاحکم وفق میں ضرب دیناہے لیکن جب متبائنین کا وفق بذات خود وہی دونوں عدد ہیں کیونکہ انہیں جب مابہ التوافق یعنی ایك پرتقسیم کیاجائے توخود وہی حاصل ہوتے ہیں لہذا کل تصحیح کوکل تصحیح کو میں اور کل مافی الید کوہروارث کے کل حصے میں ضرب دی جائے گی۔اور اس لئے کہ بصورت تماثل دونوں جانبوں میں اور بصورت تداخل چھوٹے عدد کی جانب میں وفق صرف ایك ہی ہوتاہے اورایك ہی ضرب کاکوئی اثرنہیں ہوتاکیونکہ کسی بھی عدد کو جب ایك میں ضرب دی جائے توحاصل ضرب خود وہی عدد ہوتاہے لہذا لوگوں میں مشہورہوگیاکہ بصورت تماثل بالکل ضرب نہیں ہوتی اوربصورت تداخل چھوٹے عدد کی جانب ضرب نہیں ہوتی جبکہ بصورت توافق دونوں جانب اور بصورت تداخل بڑے عدد کی جانب وفق میں ضرب دی جاتی ہے جیساکہ مشہورہے اورحق کاعلم اس ذات کے پاس ہے جوعلم والی اور مغفرت فرمانے والی ہے(ت)
اوریہیں سے صورت تربیع کی ایك اورتقریر بھی ظاہرہوئی
لان العددین ان عدھما اواحد اس لئے کہ دوعددوں کویاتوایك فناکرے گا
اوریہیں سے صورت تربیع کی ایك اورتقریر بھی ظاہرہوئی
لان العددین ان عدھما اواحد اس لئے کہ دوعددوں کویاتوایك فناکرے گا
فتباین اوعدد مثلہما فتماثل او مثل الاصغر فتداخل والا فتوافقواﷲ تعالی اعلم۔ اس صورت میں ان کے درمیان تباین ہوگا یاایساعدد فناکرے گا جودونوں کی مثل ہے تو یہ تماثل ہوایاوہ چھوٹے عدد کی مثل ہوگا تو یہ تداخل ہوااوراگرمذکورہ تینوں صورتیں نہ ہوئیں تو توافق ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
اس کی صحت وسقم سے مطلع فرمایاجائے۔والسلام بالوف التعظیم ولاکرام(آپ پرہزاروں تعظیم وتکریم کے ساتھ سلام ہو۔ت)
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ یاولدی حفظك اﷲ الی یوم الدین وادام بك ظفرالدین اتیت التدقیق واعملتہ وابیت التحقیق واھملتہ اما اولا فلان الواحد لیس بعدد عندالمحققین وماقررہ اصحابنا رحمھم اﷲ تعالی فی انت طالق کم شئت کما فی الفتح وغیرہ فمبنی علی العرف اقول والدلیل القاطع علیہ ان العدد کم والکم عرض یقبل القسمۃ لذاتہ والواحد لیستحیل ان یفرض فیہ شیئ دون شیئ والالتعدد فلم یکن واحداوبعبارۃ اخری انما التحلیل الی مامنہ اورتم پربھی سلاماﷲ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں اے میرے بیٹے اﷲ تعالی آپ کوروزقیامت تك محفوظ رکھے اور آپ کے ذریعے دین کی کامیابی کوہمیشہ رکھےآپ نے تدقیق کوپیش نظررکھتے ہوئے اس پرعملدآمدکیا اور تحقیق سے منہ موڑتے ہوئے ا س کوچھوڑدیا ہے وجہ اول اس لئے کہ محققین کے نزدیك ایك عدد نہیں ہے اور ہمارے اصحاب علیہم الرحمہ نے"انت طالق کم شئت"میں جوتقریر کی ہے جیساکہ فتح وغیرہ میں ہے وہ عرف پرمبنی ہے اقول: (میں کہتاہوں)اس پردلیل قطعی یہ ہے کہ عدد کم ہے اورکم ایساعرض ہوتاہے جواپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کوقبول کرتاہے جبکہ واحد میں ایك شیئ کوفرض کرنا سوائے دوسری شیئ کے محال ہے ورنہ وہ متعدد ہوجائے گا اورواحد نہیں رہے گا۔دوسری عبارت کے ساتھ یوں کہ شیئ کی تحلیل اس کی طرف ہوتی ہے
اس کی صحت وسقم سے مطلع فرمایاجائے۔والسلام بالوف التعظیم ولاکرام(آپ پرہزاروں تعظیم وتکریم کے ساتھ سلام ہو۔ت)
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ یاولدی حفظك اﷲ الی یوم الدین وادام بك ظفرالدین اتیت التدقیق واعملتہ وابیت التحقیق واھملتہ اما اولا فلان الواحد لیس بعدد عندالمحققین وماقررہ اصحابنا رحمھم اﷲ تعالی فی انت طالق کم شئت کما فی الفتح وغیرہ فمبنی علی العرف اقول والدلیل القاطع علیہ ان العدد کم والکم عرض یقبل القسمۃ لذاتہ والواحد لیستحیل ان یفرض فیہ شیئ دون شیئ والالتعدد فلم یکن واحداوبعبارۃ اخری انما التحلیل الی مامنہ اورتم پربھی سلاماﷲ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں اے میرے بیٹے اﷲ تعالی آپ کوروزقیامت تك محفوظ رکھے اور آپ کے ذریعے دین کی کامیابی کوہمیشہ رکھےآپ نے تدقیق کوپیش نظررکھتے ہوئے اس پرعملدآمدکیا اور تحقیق سے منہ موڑتے ہوئے ا س کوچھوڑدیا ہے وجہ اول اس لئے کہ محققین کے نزدیك ایك عدد نہیں ہے اور ہمارے اصحاب علیہم الرحمہ نے"انت طالق کم شئت"میں جوتقریر کی ہے جیساکہ فتح وغیرہ میں ہے وہ عرف پرمبنی ہے اقول: (میں کہتاہوں)اس پردلیل قطعی یہ ہے کہ عدد کم ہے اورکم ایساعرض ہوتاہے جواپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کوقبول کرتاہے جبکہ واحد میں ایك شیئ کوفرض کرنا سوائے دوسری شیئ کے محال ہے ورنہ وہ متعدد ہوجائے گا اورواحد نہیں رہے گا۔دوسری عبارت کے ساتھ یوں کہ شیئ کی تحلیل اس کی طرف ہوتی ہے
الترکیب فلوانفسھم لکان شیئین لاواحدا وبعبارۃ اظھر ودفع للمقال لا انقسام ھنا الا الی الوحدات والوحدۃ لیستحیل ان تصیروحدتین والا لم تکن وحدۃ بل کثرۃ فیلزم الانقلاب فان صارت فماکانت الاوحدتین اخذنا واحدۃ بالاعتبار فکان اثنین لا واحدوبعبارۃ اخصرما ثم الاوحدات محضۃ فالواحد وحدۃ والاثنان وحدتان وھکذا ولایعقل للوحدۃ بعض اصلا اما الکسورفلیس معنی ۲ /۱ مثلا جزء من جزئ واحد حقیقی بل اعتباری ای واحد من اثنین فرض واحدا کما حققناہ فی رسالۃ الارثما طیقیواما ثانیا فلان الصفر لایمکن ان یکون حاشیۃ عدد فانہ محض سلب اذھو عبارۃ عن خلو المرتبۃ فلیس معناہ ان جس سے وہ شیئ مرکب ہےاگرواحد منقسم ہوجائے تو وہ دو چیزیں بن جائے گا اورواحدنہیں رہے گازیادہ ظاہراورگفتگو کا زیادہ دفاع کرنے والی عبارت کے ساتھ یوں کہاجائے گا کہ یہاں منقسم ہونانہیں ہے مگر وحدتوں کی طرف اورایك وحدت کادو وحدتیں ہوجانامحال ہے ورنہ وہ وحدۃ نہیں رہے گی بلکہ کثرۃ بن جائے گی تو اس طرح حقیقتوں میں انقلاب لازم آئے گااگروہ وحدت ہوبھی توحقیقت میں دو وحدتیں ہی ہوں گی جن کو ایك وحدت اعتبارکرلیاگیاہے تو وہ دو ہوئیں نہ کہ ایک۔زیادہ مختصر عبارت کے ساتھ یوں کہاجائے گا کہ یہاں تومحض وحدتیں ہیںچنانچہ واحد ایك وحدت اور اثنان دووحدتیں ہوں گیاوراسی طرح باقی میں ہوگا۔اور وحدت کے لئے بعض بالکل متصورنہیں۔لیکن کسریں توان میں مثال کے طورپر۲ /۱کامعنی یہ نہیں ہے کہ واحد حقیقی کی دوجزؤں میں سے ایك بلکہ واحد اعتباری کی دوجزؤں میں سے ایك یعنی ایسے دومیں سے ایك جن کوایك فرض کیا گیا ہے جیساکہ ہم نے اس کی تحقیق رسالہ ارثماطیقی میں کر دی ہے۔وجہ دوم اس لئے کہ صفرکاکسی عدد کیلئے حاشیہ (طرف) بننامکن نہیں کیونکہ صفرتو محض نفی ہے اس لئے کہ وہ مرتبہ کے خالی ہونے کانام ہے تواس کایہ معنی نہ ہوگا کہ
ھناك شیئا یسمی صفرا بل معناہ ان لاشیئ ھناك اصلا ولھذا لا اثر لحطہ من عدد ولاضمہ الیہ کما ذکرت ولوکان شیئا لاستحال ان یکون شیئ دون شیئ اوشیئ مع شیئ مساویا لشیئ نفسہ فیتساوی الکل والجزء بل کل الکل وجزء الجز کما لایخفی وبہ تبین وجہ ثالث وھو ان الصفر مع اثنین مثلا لیس مجموع شیئین بل الشیئ وحدہ ومعنی جمع الصفر مع عدد ان لم یجمع معہ شیئ فلیس الواحد نصف مجموع حاشیتیہ بل نصف حاشیۃ واحدۃ واما رابعا فلانہ لوسوغ کون العدم حاشیۃ لکان العدم المضاف الی شیئ معین مثل او ۲ وغیرھما اولی بذلك فکان الصفر ایضا عدد الان احدی حاشیتیہ واحد والاخری۔اومجموعھما صفرنصفہ صفر وکونہ مثل المجموع لاینفی کونہ نصفہ لانہ معتبر فی الحساب قطعا الاتری ان نصف وہاں کوئی ایسی شیئ موجودہے جس کانام صفر ہے بلکہ معنی یہ ہوگا کہ وہاں بالکل کوئی شیئ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ صفر کوکسی عدد سے گھٹائیں یا اس کے ساتھ ملائیں کوئی اثرنہیں ہوتاجیساکہ تونے ذکرکیا ہے۔اگروہ شیئ ہو تو اس کاایك شیئ ہونا سوائے دوسری شیئ کے اورکسی شیئ کے ساتھ اس طرح شیئ ہوناکہ وہ شیئ خود اس کے مساوی ہوجائے محال ہوگاکیونکہ اس طرح تو کل جزء کے بلکہ کل کاکل جزء کے جزء کے برابرہوجائے گا جیساکہ پوشیدہ نہیںاور اسی سے وجہ سوم واضح ہوگئی اور وہ یہ ہے کہ صفر کادوکے ساتھ اکٹھاہونا دو چیزوں کامجموعہ نہیں بلکہ ایك ہی چیزہے۔صفرکے عدد کے ساتھ جمع ہونے کامعنی یہ ہے کہ اس عدد کے ساتھ کوئی شیئ جمع نہیں ہوئی تو اس طرح واحد اپنی دونوں طرفوں کانصف نہ ہوابلکہ ایك طرف کانصف ہوا۔وجہ چہارم اس لئے کہ اگر عدد کوعدد کاحاشیہ(طرف)قرار دے دیاجائے توکسی معین شیئ کی طرف مضاف ہونے والا عدم بدرجہ اولی طرف قرارپائے گا جیسے ۱ اور ۲ وغیرہ تو اس طرح صفر بھی عدد بن جائے گی کیونکہ اس کے ایك طرف واحد اور دوسری طرف ۱ (ایک)ہے جن کامجموعہ صفرہے اور اس کانصف بھی صفر ہے۔اس کامجموعے کی مثل ہونا اس کے نصف ہونے کی نفی نہیں کرتا کیونکہ حساب میں یہ قطعی طورپرمعتبرہے۔ کیا تو نہیں دیکھتاکہ ۲۰ کا
۲۰ = ۱۰ ویکفی لصدق المحدود صدق الحد وان صدق علیہ ماسواہ ایضا وعددیۃ الصفر باطلۃ ببداھۃ العقل لان العددشیئ والصفر لاشیئ واما خامسا لوتنزلنا عن ھذا کلہ وسلمنا ان الصفر ایضا عدد لعاد التدقیق علی مقصودہ بالنقض فان المراد نفی القسمۃ وارجاع الکل الی التوافق والآن یستحیل ذلك لان الصفر کلما قیس مع واحد اوشیئ من الاعداد لم یمکن ان یعدھما ثالث فان الصفرلا یعدہ الا الصفروالصفرلایعدالاالصفرفالصفر وکل عدد سواہ متباینان وکل باقیین فیما بینھما متوافقان فوجب التقسم وذھب الانکار ولزم الوقوع فیما عنہ الفرار ھذاوقولك اما ان یعدھما واحد فمتبائنان اوعدد مثلھما فمتماثلان ماتقول فی واحد مع واحد أھمامتبائنان ومتماثلان معا بل قل ان عدھما نصف ۱۰ ہےمحدود کے صدق کے لئے حدکاصادق آناکافی ہے اگرچہ اس پرحد کاغیربھی صادق آتاہو اورصفرکاعددہونا بداہت عقل کے ساتھ باطل ہے کیونکہ عددشیئ ہے اور صفرکوئی شیئ نہیں ہے۔وجہ پنجم اگرہم اس سب کچھ سے نیچے اترکرمان لیں کہ صفربھی عدد ہے توتدقیق اپنے مقصود پربطور نقض وارد ہوگی کیونکہ تدقیق سے مقصود توتقسیم کی نفی اور سب کوتوافق کی طرف لوٹاناتھا جواس صورت میں محال ہوجائے گا اس لئے کہ صفرکوجب واحد یاکسی عدد کے ساتھ ملایاجائے توممکن نہیں کہ کوئی تیسرا ان دونوں کوفناکر دےکیونکہ صفرکوصرف صفر ہی فناکرتی ہے اور صفرصرف صفرکوہی فناکرتی ہے لہذا صفراورہر وہ عدد جوصفرکے ماسواہے متبائنین ہوں گے۔ان کے علاوہ ہردوعدد آپس میں متوافقین ہوں گے تو اس طرح تقسیم کا انکار گیا اورتقسیم ضروری ہوگئی اور اسی میں گرنالازم آیا جس سے فرار اختیارکیاتھا۔اس کویاد کرلو۔اورتمہارا یہ کہناکہ ان دونوں عددوں کویا تو واحد فنا کرے گا تو وہ متبائنین ہوں گے یاایساعددفناکرے گا جودونوں کی مثل ہے تو وہ متماثلین ہوں گے تو واحد اور واحد جمع ہونے کی صورت میں توکیاکہے گاکیاوہ دونوں بیك وقت متبائنین اورمتماثلین ہوں گے
مثلھما فتماثل اومثل احدھما فتداخل اولاولا فان کان العادفوق الواحد فتوافق اوواحد فتبائن وھذا ھو معنی التربیع الذی ذکرت سابقا واما ماذکرت انت قبل ھذا فی کتاب منك وسألت عن صحتہ ان العددین ان کان احدھما ھو الآخر بعینہ فتماثل والا فینقص الاصغر من الاکبر مرۃ اومرارا من جانب او جانبین فان انتھی الی التماثل فتداخل او الی واحد فتبائن والا فتوافق ففیہ ان النھایۃ فی التداخل الی النفاد لاالی بقاء مثل الاصغر فلیس ان اربعۃ تسقط من عشرین اربع مرات فتبقی اربعۃ مماثلۃ للاصغر بل تسقط خمس مرات فلایبقی شیئ وذلك لانہ یتعرف بالتقسیم واذا قسمنا عشرین علی اربعۃ حصل خمسۃ ومابقی شیئ لاانہ یحصل اربعۃ وتبقی اربعۃ بل النھایۃ فی الکل بلکہ یوں کہوکہ اگردوعددوں کووہ عددفناکرے جوان دونوں کی مثل ہے توتماثل ہے اوراگر ان میں سے ایك کی مثل ہے توتداخلاوراگر ایسانہیں یعنی نہ تو وہ دونوں کی مثل ہے اورنہ ان میں سے ایك کی مثل ہے توپھراگرفنا کرنے والا عددایك سے اوپرہے توتوافقاوراگر ایك توتباین ہوگا۔یہ معنی ہے چار قسمیں بنانے کا جس کا آپ پہلے ذکر کرچکے ہیں۔رہا وہ جس کا ذکر آپ نے اس سے پہلے اپنے خط میں کیا اور اس کے صحیح ہونے کے بارے میں سوال کیاکہ دوعددوں میں سے ایك اگر بعینہ دوسرا ہوتوتماثلورنہ اگرچھوٹے عدد کو بڑے سے ایك یاکئی بارکم کرنے سے وہ تماثل تك پہنچ جائے توتداخل اور اگرایك تك پہنچ جائے توتباینورنہ توافق ہے۔اس میں یہ اعتراض ہے کہ تداخل میں انتہا ختم ہونے پر ہے نہ کہ چھوٹے عدد کی مثل باقی رہنے پر۔ایسانہیں ہے کہ چارکو بیس میں سے چارمرتبہ ساقط کیاجائے گا تو چارباقی بچے جوچھوٹے عدد کی مثل ہے بلکہ چارکو بیس میں سے پانچ مرتبہ ساقط کیا جائے گا تو اس طرح کچھ بھی باقی نہیں بچے گا کیونکہ یہی تقسیم کی پہچان ہے۔جب ہم بیس کو چار پرتقسیم کریں تو پانچ حاصل ہوگا اور باقی کچھ نہیں بچے گا۔ایسانہیں ہے کہ چارحاصل ہو اور چارباقی بچے بلکہ کل میں
الی النفاد الاتری انك ذکرت فی الکل العد وماالعد الا الانفاد فنسقط ثلثۃ من خمسۃ یبقی اثنان فنسقطھما من ثلثۃ یبقی واحد نسقطہ من اثنین لا یبقی شیئ وھنالك یتحقق العدوان ترك العمل بعد خروج الواحد للعلم بانہ یعد کل شیئ بل قل ان تساویا فتماثل والا فینقص الاصغر من الاکبر فان افناہ فتداخل والایسقط الباقی من الاصغر فان بقی فالباقی من الباقی وھکذا الی ان یحصل النفاد فان کان بواحد فتباین اوبعدد فتوافق ثم لیس حاصلہ الا ماقدمت فی التربیع اما ذکر الاسقاطات فبطریق استخراج النسبۃ الصق۔واﷲ تعالی اعلم۔ انتہا اس کے ختم ہونے پرہے۔کیانہیں دیکھتے کہ آپ نے کل میں عدکوذکرکیا ہے اورعدنہیں ہے مگرختم کرنا۔چنانچہ ہم تین کو پانچ سے ساقط کریں گے باقی دوبچے گا پھردوکوتین سے ساقط کریں گے باقی ایك بچے گا پھردوکوتین سے ساقط کریں گے توباقی کچھ نہیں بچے گا تو وہاں پرعد(ختم کرنا)متحقق ہوگا۔ اگرچہ ایك کے نکلنے کے بعد عمل کوچھوڑدیاجاتاہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ ایك ہرشیئ کوختم کردیتاہے بلکہ یوں کہوکہ اگردوعدد باہم مساوی ہیں توتماثل ہے ورنہ چھوٹے کو بڑے سے کم کیاجائے گا اگرچھوٹا بڑے کوفناکردے توتداخل اوراگرفنانہ کرے تو باقی کوچھوٹے عدد سے کم کیاجائے گا پھر اگرکچھ باقی بچا تو اس کوباقی سے کم کریں گے اسی طرح کرتے رہیں گے یہاں تك ختم ہونا حاصل ہوجائے۔اگرختم ہونا واحد سے حاصل ہواتوتباین اوراگرکسی عدد سے حاصل ہواتو افق ہے۔پھر اس کاحاصل نہیں مگر وہی جومیں چارقسمیں بناتے ہوئے ذکر کرچکاہوں۔رہااسقاطات کاذکرتو اس کو نسبت کے استخراج کے طورپر ملحق کرلے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۵: ۸/جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
جب زید کی بی بی کاانتقال ہواتو اس کے زیور یعنی جہیزمیں سے اس کی تجہیزوتکفین کی اس واسطے کہ زیدخوددست نگردوسرے کاہے صرفہ میت اورفاتحہ وغیرہ کااس کے جہیز سے کیاگیااس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس کے جہیزواپس کرنے میں یہ صرفہ مجراہویانہیں
الجواب:
فاتحہ کاصرف اصلامجرانہ ہوگا وہ ایك ثواب کی بات ہے جوکرے گا اس کے ذمہ ہوگا
مسئلہ ۱۳۵: ۸/جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
جب زید کی بی بی کاانتقال ہواتو اس کے زیور یعنی جہیزمیں سے اس کی تجہیزوتکفین کی اس واسطے کہ زیدخوددست نگردوسرے کاہے صرفہ میت اورفاتحہ وغیرہ کااس کے جہیز سے کیاگیااس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس کے جہیزواپس کرنے میں یہ صرفہ مجراہویانہیں
الجواب:
فاتحہ کاصرف اصلامجرانہ ہوگا وہ ایك ثواب کی بات ہے جوکرے گا اس کے ذمہ ہوگا
اور عورت کا کفن دفن شوہرپرواجب ہے اسے عورت کے ترکہ سے نہیں کرسکتادرمختارمیں ہے:
الفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا ۔ فتوی اس پر ہے کہ عورت کاکفن اس کے شوہر پرواجب ہے اگرچہ وہ مال چھوڑ کرفوت ہوئی ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الواجب علیہ تکفینہا وتجہیزھا الشرعیان من کفن السنۃ اوالکفایۃ وحنوط واجرۃ غسل وحمل و دفن الخ۔ شوہر پربیوی کی شرعی تجہیزوتکفین واجب ہے چاہے کفن سنت ہویاکفن کفایت۔خوشبوغسل کی اجرتجنازہ اٹھانے کی اجرت اور دفن کی اجرت بھی شوہر پرواجب ہے الخ(ت)
تویہ جس قدرشوہرنے صرف کیاہے سب شوہر پرپڑے گانصف جہیزتمام وکمال اسے واپس کردینا ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۶: ۱۰/ماہ محرم الحرام ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میںزیدنے عمروکے پاس انتقال کیا اورعمروہی زیدکاکھاتا یازید کو کھلاتا رہااب زیدنے انتقال کیاتوزیدکے مال کو زید کے وارث پائیں گے یاعمروکودلایاجائے گا
الجواب:
عمرو کے پاس رہنے یاانتقال کرنے یازیدکاکھانے یازیدکوکھلانے سے نہ عمرو زیدکاوارث ہوگیا نہ زید کے وارث اس کے مال سے محروم ہوگئے
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ ۔ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیا۔(ت)
ہاں اگرزید عمروکاکھایاکرتا ہو اورحسب قرارداد وہ کھانا اسے بطور قرض دیتاہو تو زید اس مقدار
الفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا ۔ فتوی اس پر ہے کہ عورت کاکفن اس کے شوہر پرواجب ہے اگرچہ وہ مال چھوڑ کرفوت ہوئی ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الواجب علیہ تکفینہا وتجہیزھا الشرعیان من کفن السنۃ اوالکفایۃ وحنوط واجرۃ غسل وحمل و دفن الخ۔ شوہر پربیوی کی شرعی تجہیزوتکفین واجب ہے چاہے کفن سنت ہویاکفن کفایت۔خوشبوغسل کی اجرتجنازہ اٹھانے کی اجرت اور دفن کی اجرت بھی شوہر پرواجب ہے الخ(ت)
تویہ جس قدرشوہرنے صرف کیاہے سب شوہر پرپڑے گانصف جہیزتمام وکمال اسے واپس کردینا ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۶: ۱۰/ماہ محرم الحرام ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میںزیدنے عمروکے پاس انتقال کیا اورعمروہی زیدکاکھاتا یازید کو کھلاتا رہااب زیدنے انتقال کیاتوزیدکے مال کو زید کے وارث پائیں گے یاعمروکودلایاجائے گا
الجواب:
عمرو کے پاس رہنے یاانتقال کرنے یازیدکاکھانے یازیدکوکھلانے سے نہ عمرو زیدکاوارث ہوگیا نہ زید کے وارث اس کے مال سے محروم ہوگئے
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ ۔ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیا۔(ت)
ہاں اگرزید عمروکاکھایاکرتا ہو اورحسب قرارداد وہ کھانا اسے بطور قرض دیتاہو تو زید اس مقدار
میں عمرو کامدیون ہوگا اورادائے دین تقسیم ترکہ پرمقدم ہے پہلے وہ اورجواور دین ہو اداکرکے باقی میں میراث جاری ہوگی مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عمروبلاوجہ شرعی زید کی جائدادپرقابض ہ وجائے اسے اپنے دین کامطالبہ پہنچتاہے اگرواقع میں دین ہواوراگرعمرو اس کے پاس یابطور مہمان غرض قرضا کہلانے کاقراردادنہ تھا توعمرو ایك حبہ کامطالبہ نہیں کرسکتا اورجائداد سے وارثان شرعی کومحروم کرناظلم وغصب ہے والظلم ظلمات یوم القیمۃ (اورظلم قیامت کے دن تاریکیوں کاباعث بنے گا۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: ازکانپور چوك صرافہ بردکان محمدعمر محمدقمرسوداگر مسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۹صفر۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خاندان طوائف میں جولڑکے کے نکاح پربیوی اس کو اس کی والدہ اور والد اور ماموں وغیرہ کاحق متروکہ میں ملے گا یا خالد کی لڑکی کے لڑکے کوبوجہ کمائی پیشہ طوائفی کے حق ملے گاخلاصہ یہ کہ خاندان طوائف میں نکاح کرنے سے حق زائل ہوجاتا ہے یاشرع شریف کے مطابق حق ملتاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
نکاح کرنے سے حق زائل نہیں ہوتا ہے خصوصا اس فرقہ کانکاح کہ وہ توگناہ عظیم سے توبہ ہے مگرطوائف کے لئے بے نکاحی اولاد صرف اپنی ماں اورمادری رشتہ والوں کاحصہ پائیں گے شرعا اس کے لئے کوئی باپ نہیں کہ اس سے یاپدری رشتہ والوں سے حصہ پائیں۔واﷲ تعالی تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸: ازاحمدآباد گجرات مرسلہ مولوی علاؤالدین صاحب زیدمجدہ ۵ ربیع الآخر۱۳۳۱ھ
اس ملك گجرات میں ایك قوم ہے جومیمن وبورے کرکے مشہورہیں ان میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ اپنے مال متروکہ سے اپنی لڑکی کو محروم رکھتے ہیں اور جس قدرمال واسباب ہوتاہے وہ کل لڑکوں کاحصہ مقررکرکے جاتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہوں کہتے ہیںاورسرکاری دفتروں میں دستخط
مسئلہ ۱۳۷: ازکانپور چوك صرافہ بردکان محمدعمر محمدقمرسوداگر مسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۹صفر۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خاندان طوائف میں جولڑکے کے نکاح پربیوی اس کو اس کی والدہ اور والد اور ماموں وغیرہ کاحق متروکہ میں ملے گا یا خالد کی لڑکی کے لڑکے کوبوجہ کمائی پیشہ طوائفی کے حق ملے گاخلاصہ یہ کہ خاندان طوائف میں نکاح کرنے سے حق زائل ہوجاتا ہے یاشرع شریف کے مطابق حق ملتاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
نکاح کرنے سے حق زائل نہیں ہوتا ہے خصوصا اس فرقہ کانکاح کہ وہ توگناہ عظیم سے توبہ ہے مگرطوائف کے لئے بے نکاحی اولاد صرف اپنی ماں اورمادری رشتہ والوں کاحصہ پائیں گے شرعا اس کے لئے کوئی باپ نہیں کہ اس سے یاپدری رشتہ والوں سے حصہ پائیں۔واﷲ تعالی تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸: ازاحمدآباد گجرات مرسلہ مولوی علاؤالدین صاحب زیدمجدہ ۵ ربیع الآخر۱۳۳۱ھ
اس ملك گجرات میں ایك قوم ہے جومیمن وبورے کرکے مشہورہیں ان میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ اپنے مال متروکہ سے اپنی لڑکی کو محروم رکھتے ہیں اور جس قدرمال واسباب ہوتاہے وہ کل لڑکوں کاحصہ مقررکرکے جاتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہوں کہتے ہیںاورسرکاری دفتروں میں دستخط
حوالہ / References
صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب الظلم ظلمات اوریوم القٰیمۃ ∞قدیمی کتب کراچی ۱ /۳۳۱€
کرچکے ہیں کہ ہم ہنودلوگوں کے طریق میراث تقسیم کرنے میں راضی ہیں اسلام وشریعت کے موافق راضی نہیں ہیں وہ لوگ لڑکیوں کومیراث نہیں دیتے ہیں کل مال لڑکے کودیتے ہیں اور وہ لوگ مسلمان ہیں حج وزکوۃ ونماز وروزہ ودیگرکل احکام کوحق جانتے ہیں اورمانتے ہیں ان کاکیاحکم ہے
الجواب:لڑکیوں کوحصہ نہ دینا حرام قطعی ہے اور قرآن مجید کی صریح مخالفت ہے۔
قال اﷲ تعالی" یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔ اﷲ تعالی کافرمان ہے:اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔ (ت)
ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فرمن میراثہ وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ ۔ جواپنے وارث کومیراث پہنچنے سے بھاگے گا اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے گا۔
اورجنہوں نے یہ لفظ کہے یالکھے ہیں کہ وہ رسم ہنود پرراضی ہیں اورحکم شریعت پرراضی نہیں ہوہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اوراپنی عورتوں سے نکاح کریں۔ غمزالعیون والبصائر میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس نے کافروں کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھا قراردیا ا سکی تکفیر پرمشائخ کااتفاق ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۹: مسئولہ محمدعبدالحلیم خان صاحب مدرس ومہتمم مدرسہ انجمن ظفرالاسلام ضلع بھنڈارہ ۲۷صفر۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان حنفی نے اپنی دختر کا نکاح مع کل لوازمات شادی کے کرادیابعد چندعرصہ کے داماد شخص مذکور کافوت
الجواب:لڑکیوں کوحصہ نہ دینا حرام قطعی ہے اور قرآن مجید کی صریح مخالفت ہے۔
قال اﷲ تعالی" یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔ اﷲ تعالی کافرمان ہے:اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔ (ت)
ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من فرمن میراثہ وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ ۔ جواپنے وارث کومیراث پہنچنے سے بھاگے گا اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے گا۔
اورجنہوں نے یہ لفظ کہے یالکھے ہیں کہ وہ رسم ہنود پرراضی ہیں اورحکم شریعت پرراضی نہیں ہوہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اوراپنی عورتوں سے نکاح کریں۔ غمزالعیون والبصائر میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس نے کافروں کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھا قراردیا ا سکی تکفیر پرمشائخ کااتفاق ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۳۹: مسئولہ محمدعبدالحلیم خان صاحب مدرس ومہتمم مدرسہ انجمن ظفرالاسلام ضلع بھنڈارہ ۲۷صفر۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان حنفی نے اپنی دختر کا نکاح مع کل لوازمات شادی کے کرادیابعد چندعرصہ کے داماد شخص مذکور کافوت
حوالہ / References
۱لقرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
سنن ابن ماجۃ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹۸€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ∞۱/ ۲۹۵€
سنن ابن ماجۃ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۹۸€
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ∞۱/ ۲۹۵€
ہوگیا دخترنے اپنا نکاح ثانی کاارادہ غیرکفو سے کرنے کاکیاباپ نے دخترمذکور کوکہاکہ میں تمہارا نکاح ثانی کسی عمدہ جگہ کفو میں کرادیتاہوں مگردختر مذکورنے نہیں سنا اورنکاح ثانی غیرکفو میں کرلیا۔باپ نے ناراض ہوکرلڑکی کوعاق کردیا او کہا کہ اب تجھ سے کوئی واسطہ نہیں رہاکیونکہ تم نے غیرکفو میں اپنا نکاح بغیرمیری اجازت کے کیا اور تحریر کردیا کہ بعد میرے مرنے کے لڑکی کومیرے مال سے کوئی حق نہ دیا جائے اس کاجوحق تھا وہ میں نے شادی کرکے اداکردیا ہےاب بعد مرنے کے شخص مذکورکی دخترمذکور کومع دیگر ورثاء کے حق ملے گا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اولاد کاعاق ہونا یہ ہے کہ ماں باپ کی ناحق نافرمانی کریں یا انہیں ایذادیں ماں باپ کے عاق کرنے سے کوئی اثرنہیں پیداہوتا عوام کے خیال میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کوطلاق دینے سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے یونہی اولاد عاق کئے سے اولاد ہونے سے خارج ہوجاتی ہے یہ محض غلط ہےنہ اس کے سبب اولاد ترکہ سے محروم ہوسکےہاں لڑکی نے باپ کی نافرمانی کی اس سے وہ گنہگار ہوئیپھراگرغیرکفوکے معنی یہ ہیں کہ جس سے نکاح ہوا وہ مذہب یانسب یاچال چلن یا پیشہ میں ایساکم ہے کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اس کے باپ کے لئے باعث ننگ وعارہو تو وہ نکاح سے سے ہوا ہی نہیں محض باطل ہے اگر قربت ہوگی زناہوگی ان دونوں مردوعورت پرفورا جداہوجانا لازم ہے بایں ہمہ لڑکی ترکہ سے محروم نہ ہوگی۔
قال اﷲ تعالی " یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۰: ۵/ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ مسئولہ حکیم ضمیراحمدصاحب ازشاہجہانپور محلہ متالی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کی اورکچھ جائداد چھوڑیزید کے کوئی اولادنہیں ہوئیزیدنے اپنی زوجہ کامہربھی نہیں اداکیا اور
الجواب:
اولاد کاعاق ہونا یہ ہے کہ ماں باپ کی ناحق نافرمانی کریں یا انہیں ایذادیں ماں باپ کے عاق کرنے سے کوئی اثرنہیں پیداہوتا عوام کے خیال میں یہ ہے کہ جس طرح عورت کوطلاق دینے سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہے یونہی اولاد عاق کئے سے اولاد ہونے سے خارج ہوجاتی ہے یہ محض غلط ہےنہ اس کے سبب اولاد ترکہ سے محروم ہوسکےہاں لڑکی نے باپ کی نافرمانی کی اس سے وہ گنہگار ہوئیپھراگرغیرکفوکے معنی یہ ہیں کہ جس سے نکاح ہوا وہ مذہب یانسب یاچال چلن یا پیشہ میں ایساکم ہے کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اس کے باپ کے لئے باعث ننگ وعارہو تو وہ نکاح سے سے ہوا ہی نہیں محض باطل ہے اگر قربت ہوگی زناہوگی ان دونوں مردوعورت پرفورا جداہوجانا لازم ہے بایں ہمہ لڑکی ترکہ سے محروم نہ ہوگی۔
قال اﷲ تعالی " یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کاحصہ دوبیٹیوں کے برابرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۰: ۵/ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ مسئولہ حکیم ضمیراحمدصاحب ازشاہجہانپور محلہ متالی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کی اورکچھ جائداد چھوڑیزید کے کوئی اولادنہیں ہوئیزیدنے اپنی زوجہ کامہربھی نہیں اداکیا اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/۱۱€
نہ اس بارہ میں کوئی وصیت کیبعدانتقال زید کے اس کی زوجہ ۳۶ سال سے اس کی ملکیت پر قابض ہےتو اب یہ اس ملك میں بیع وہبہ وغیرہ کاپوراتصرف اپنی مرضی کے موافق کرسکتی ہے یانہیں اوربعد انتقال اس زوجہ زید کے اس کی ملکیت کے وارث اورمالك زیدکے رشتہ دار ہوں گے یازوجہ کے بینواتوجروا۔
الجواب:
مسئلہ بہت کثیر الشقوق والمباحث ہے بقیہ ورثہ کی رضا سے کل متروکہ پربعوض مہرقابض ہوئیاور وہ سب عاقل بالغ تھے جب تو بالاتفاق وہ کل متروکہ کی مالك ہوگئی اوراگر بے ان کی اجازت کے ہے تو اب یہ دیکھنا ہوگاکہ مہرمقدار جائداد سے کم ہے یا نہیںاگرکم ہے تو بے ان کی رضا کے زرمہر کے عوض جائداد بطورخود لے لینااصل مذہب میں جائزنہ ہوگا کہ دین غیرمستغرق مانع ملك ورثہ نہیں ہوتااوراگر ان میں بعض نابالغ ہیں تو ان کی اجازت بھی کافی نہ ہوگیاوراگرمہر برابر یا زائد ہے تواگرچہ ورثہ کے لئے جائداد میں ملك نہیں مگر ان کوحق استخلاص حاصل ہے کمانص علیہ فی جامع الفصولین والاصباح وغیرھا (جیساکہ جامع الفصولین اوراصباح وغیرہ میں اس پرنص کی گئی ہے۔ت)اور اب وہ مسئلہ وارد ہوگا کہ غیرجنس سے استیفائے حق مثلا روپے کے عوض اورمال کہ اس سے زائد کی حیثیت کا نہ ہولے لینا جائز ہے یانہیںہمارا مذہب عدم جواز ہے اور اب بوجہ فساد زمان متأخرین نے جواز پر فتوی دیا کما ذکرہ فی ردالمحتار(جیساکہ ردالمحتارمیں اس کوذکرکیاہے۔ت)پھر یہ بحث پیش آئے گی کہ جائداد سے استیفائے مہرعورت کومطلقا جائز ہے اگرچہ وہ میت کی وصی ہو کما فی الخانیۃ(جیساکہ خانیہ میں ہے۔ت) مگران سب مباحث سے قطع نظر کرکے جب چھتیس سال گزرگئے اورکوئی مدعی نہ ہوا اور وہ تصرفات مالکانہ رکھتی ہے اور ورثاء دیکھاکئے اورمعترض نہ ہوئے تو اسی پرحمل کیاجائے گا کہ عورت بروجہ صحیح مالك کل جائداد ہے کما بینہ فی مواضع کثیرۃ من عقود الدریۃ و فصلناہ فی فتاوانا(جیساکہ عقود الدریۃکے متعدد مقامات پر اس کو ذکرکیاگیاہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیل سے بیان کیاہے۔ت)لہذا بعدموت زن وراثت صرف ورثہ زن کوپہنچے گی نہ کہ ورثہ زیدکو۔ واﷲ تعالی اعلم
الجواب:
مسئلہ بہت کثیر الشقوق والمباحث ہے بقیہ ورثہ کی رضا سے کل متروکہ پربعوض مہرقابض ہوئیاور وہ سب عاقل بالغ تھے جب تو بالاتفاق وہ کل متروکہ کی مالك ہوگئی اوراگر بے ان کی اجازت کے ہے تو اب یہ دیکھنا ہوگاکہ مہرمقدار جائداد سے کم ہے یا نہیںاگرکم ہے تو بے ان کی رضا کے زرمہر کے عوض جائداد بطورخود لے لینااصل مذہب میں جائزنہ ہوگا کہ دین غیرمستغرق مانع ملك ورثہ نہیں ہوتااوراگر ان میں بعض نابالغ ہیں تو ان کی اجازت بھی کافی نہ ہوگیاوراگرمہر برابر یا زائد ہے تواگرچہ ورثہ کے لئے جائداد میں ملك نہیں مگر ان کوحق استخلاص حاصل ہے کمانص علیہ فی جامع الفصولین والاصباح وغیرھا (جیساکہ جامع الفصولین اوراصباح وغیرہ میں اس پرنص کی گئی ہے۔ت)اور اب وہ مسئلہ وارد ہوگا کہ غیرجنس سے استیفائے حق مثلا روپے کے عوض اورمال کہ اس سے زائد کی حیثیت کا نہ ہولے لینا جائز ہے یانہیںہمارا مذہب عدم جواز ہے اور اب بوجہ فساد زمان متأخرین نے جواز پر فتوی دیا کما ذکرہ فی ردالمحتار(جیساکہ ردالمحتارمیں اس کوذکرکیاہے۔ت)پھر یہ بحث پیش آئے گی کہ جائداد سے استیفائے مہرعورت کومطلقا جائز ہے اگرچہ وہ میت کی وصی ہو کما فی الخانیۃ(جیساکہ خانیہ میں ہے۔ت) مگران سب مباحث سے قطع نظر کرکے جب چھتیس سال گزرگئے اورکوئی مدعی نہ ہوا اور وہ تصرفات مالکانہ رکھتی ہے اور ورثاء دیکھاکئے اورمعترض نہ ہوئے تو اسی پرحمل کیاجائے گا کہ عورت بروجہ صحیح مالك کل جائداد ہے کما بینہ فی مواضع کثیرۃ من عقود الدریۃ و فصلناہ فی فتاوانا(جیساکہ عقود الدریۃکے متعدد مقامات پر اس کو ذکرکیاگیاہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیل سے بیان کیاہے۔ت)لہذا بعدموت زن وراثت صرف ورثہ زن کوپہنچے گی نہ کہ ورثہ زیدکو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۱: مرسلہ احمدخان صاحب صابری قادری ازتلونڈی رائے ڈاك خانہ خاص ضلع لدھیانہ ملك پنجاب ۸ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ایك شخص ایك متوفی کوچھٹی پشت پرملتاہے اورمتوفی اولادنرینہ نہیں رکھتا ہے صرف اولاد دختری ہے اور وہ شخص جوکہ متوفی کو چھٹی پشت پرملتاہے اپنے حق کو حق دختری پرفائق بیان کرتاہےآیا وہ شخص غاصب ہے یاکہ نہیں اورامامت کے لائق ہے دوسرے اس کے گھرکاخوردونو ش کیساہے یہ شخص رشیداحمدگنگوہی کامرید اورہمارے گاؤں میں گروہ وہابیہ کذابیہ کاسرغنہ ہے یوں تونام کومولوی کہلاتاہے لیکن مولوی تودرکنار اس میں جاہلوں سے بھی بڑھ کر برے اوصاف ظہورمیں آتے ہیں جوکہ ایك کافروفاسق میں بھی نہیں پائے جاتے۔
الجواب:
جوصرف اولاددختری رکھتاہو اس کے بعد اس کی اولاد ذکور میں جومرد کتنے ہی فاصلہ پرجاکے ملتاہو وہ اس کاعصبہ ہے کہ اصحاب فرائض سے جوباقی بچے اس کا مستحق ہے جبکہ اس سے قریب تر دوسراعصبہ موجود نہ ہو تو یہ شخص کہ مورث سے چھٹی پشت میں ملتاہے ضرور اس کاوارث اورباقی بعدالفروض کامستحق ہوتاہے جبکہ صالح وراثت ہوتا اوراس سے اقرب اور عصبہ نہ ہوتا اس حالت میں اس کادعوی استحقاق باطل نہ ہوتا اگرچہ اپناحق حق بنات پر فائق کہنا بہرحال غلط تھا کہ عصبہ کاحق اہل فرائض کے برابربھی نہیں بلکہ متأخر ہے۔
لانہ لیس لہ الاما ابقتہ اصحاب الفرائض حتی لولم یبق شیئالم یکن لہ شیئ۔ کیونکہ عصبہ کوسوائے اس کےکچھ نہیں ملتا جو اصحاب فرائض سے باقی بچاہو یہاں تك کہ اگرکچھ باقی نہ بچا تو اس کے لئے کوئی شیئ نہیں ہوگی۔(ت)
یہ غلطی ایسی نہ تھی جس کے سبب وہ قابل امامت نہ رہتا یاغاصب ٹھہرتا یا اس کے گھر کاخوردونوش ممنوع ہوتا لیکن یہ سب اس صورت میں تھا کہ وہ مسلمان ہوتاطائفہ گنگوہیہ کی نسبت علمائے حرمین شریفین کافتوی ہے کہ وہ کفارمرتدین ہیں اور اسی میں شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کتب معتمدہ کے حوالہ سے فرمایاہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے ا س کے عذاب اورکفرمیں شك کیا کافرہوگیا۔(ت)
ایك شخص ایك متوفی کوچھٹی پشت پرملتاہے اورمتوفی اولادنرینہ نہیں رکھتا ہے صرف اولاد دختری ہے اور وہ شخص جوکہ متوفی کو چھٹی پشت پرملتاہے اپنے حق کو حق دختری پرفائق بیان کرتاہےآیا وہ شخص غاصب ہے یاکہ نہیں اورامامت کے لائق ہے دوسرے اس کے گھرکاخوردونو ش کیساہے یہ شخص رشیداحمدگنگوہی کامرید اورہمارے گاؤں میں گروہ وہابیہ کذابیہ کاسرغنہ ہے یوں تونام کومولوی کہلاتاہے لیکن مولوی تودرکنار اس میں جاہلوں سے بھی بڑھ کر برے اوصاف ظہورمیں آتے ہیں جوکہ ایك کافروفاسق میں بھی نہیں پائے جاتے۔
الجواب:
جوصرف اولاددختری رکھتاہو اس کے بعد اس کی اولاد ذکور میں جومرد کتنے ہی فاصلہ پرجاکے ملتاہو وہ اس کاعصبہ ہے کہ اصحاب فرائض سے جوباقی بچے اس کا مستحق ہے جبکہ اس سے قریب تر دوسراعصبہ موجود نہ ہو تو یہ شخص کہ مورث سے چھٹی پشت میں ملتاہے ضرور اس کاوارث اورباقی بعدالفروض کامستحق ہوتاہے جبکہ صالح وراثت ہوتا اوراس سے اقرب اور عصبہ نہ ہوتا اس حالت میں اس کادعوی استحقاق باطل نہ ہوتا اگرچہ اپناحق حق بنات پر فائق کہنا بہرحال غلط تھا کہ عصبہ کاحق اہل فرائض کے برابربھی نہیں بلکہ متأخر ہے۔
لانہ لیس لہ الاما ابقتہ اصحاب الفرائض حتی لولم یبق شیئالم یکن لہ شیئ۔ کیونکہ عصبہ کوسوائے اس کےکچھ نہیں ملتا جو اصحاب فرائض سے باقی بچاہو یہاں تك کہ اگرکچھ باقی نہ بچا تو اس کے لئے کوئی شیئ نہیں ہوگی۔(ت)
یہ غلطی ایسی نہ تھی جس کے سبب وہ قابل امامت نہ رہتا یاغاصب ٹھہرتا یا اس کے گھر کاخوردونوش ممنوع ہوتا لیکن یہ سب اس صورت میں تھا کہ وہ مسلمان ہوتاطائفہ گنگوہیہ کی نسبت علمائے حرمین شریفین کافتوی ہے کہ وہ کفارمرتدین ہیں اور اسی میں شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کتب معتمدہ کے حوالہ سے فرمایاہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے ا س کے عذاب اورکفرمیں شك کیا کافرہوگیا۔(ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶،€حسام الحرمین ∞مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳€
جوشخص گنگوہی اور اس کے مثال کے کافرہونے میں شك کرے وہ خود کافرہے نہ کہ جو اس کا مرید اوراس کے گروہ کاسرغنہ ہو ایسے مرید کے نیچے کے نطفے ضرور اوپرہوجائیں گے اورمرتد کسی کاوارث نہیں ہوسکتا اور اس کی امامت کے کیا معنیجو اس کی اس حالت پرآگاہ ہوکر اسے قابل امامت جانے گا اس کی نمازدرکنا ایمان بھی نہ رہے گا لان من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر (اس لئے کہ جو اس کے عذاب اورکفرمیں شك کرے وہ خود کافر ہے۔ت)اور ایسے سے میل جول اوراختلاط بلاشبہہ حرام ہے
قال اﷲ تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔
وقال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
اوراﷲ تعالی نے فرمایا:اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآنے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۲: ۱۰/جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك دادا کے سامنے سب بہن بھائی بالکل محروم ہیں اورصاحبین رضی اﷲ تعالی عنہما سگے سوتیلے بہن بھائیوں کو دادا کے ساتھ ترکہ دلاتے ہیںشریفیہ میں فرمایا:مفتی کو اختیارہے جیساموقع دیکھے فتوی دے۔اس"موقع"کی کیاصورت ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
مفتی بہ امام ہی کاقول ہے رضی اﷲ تعالی عنہ مفتی اسی پرفتوی دےمتون نے قول امام ہی اخذکیا اورعامہ ائمہ فتوی نے اسی پر فتوی دیا صرف مبسوط شمس الائمہ سرخسی سے قول صاحبین پر فتوی منقول ہوا اورزاہدی نے مجتبی میں کہ تصنیف ومصنف دونوں نامعتبرہیں اورمصنف سراجیہ نے اپنی شرع میں اس کا اتباع کیاتوفتوی احق واقعی قول امام ہی پر ہے۔صاحب شریفیہ نے بیان لحاظ موقع نہ لکھانہ اورکسی معتمد کے کلام سے یہاں ایساخیال میں ہے کہ مفتی جیساموقع دیکھے
قال اﷲ تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔
وقال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت)
اوراﷲ تعالی نے فرمایا:اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآنے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۲: ۱۰/جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك دادا کے سامنے سب بہن بھائی بالکل محروم ہیں اورصاحبین رضی اﷲ تعالی عنہما سگے سوتیلے بہن بھائیوں کو دادا کے ساتھ ترکہ دلاتے ہیںشریفیہ میں فرمایا:مفتی کو اختیارہے جیساموقع دیکھے فتوی دے۔اس"موقع"کی کیاصورت ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
مفتی بہ امام ہی کاقول ہے رضی اﷲ تعالی عنہ مفتی اسی پرفتوی دےمتون نے قول امام ہی اخذکیا اورعامہ ائمہ فتوی نے اسی پر فتوی دیا صرف مبسوط شمس الائمہ سرخسی سے قول صاحبین پر فتوی منقول ہوا اورزاہدی نے مجتبی میں کہ تصنیف ومصنف دونوں نامعتبرہیں اورمصنف سراجیہ نے اپنی شرع میں اس کا اتباع کیاتوفتوی احق واقعی قول امام ہی پر ہے۔صاحب شریفیہ نے بیان لحاظ موقع نہ لکھانہ اورکسی معتمد کے کلام سے یہاں ایساخیال میں ہے کہ مفتی جیساموقع دیکھے
حوالہ / References
حسام الحرمین ∞مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳،€الدالمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶€
القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۶/۶۸€
القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۶/۶۸€
فتوی دے بلکہ صاحب شریفیہ رحمہ اﷲ تعالی نے صرف اس پربنائے کار کی ہے کہ جب امام ایك طرف اورصاحبین دوسری جانب ہوں تومفتی کو اختیارہے جس طرف چاہے فتوی دے مگرتحقیق یہ کہ یہ صرف اس مفتی کے لئے ہے کہ منصب اجتہاد رکھتاہومفتی مقلد پرلازم ہے کہ ہمیشہ قول امام پرفتوی دے مگریہ کہ ائمہ فتوی نے اس کے خلاف پراختلاف کیاہو
کما فی البحر الرائق وتنویرالابصار والفتاوی الخیریۃ و الدرالمختار وغیرھا من معتمدات الاسفار۔ جیسا کہ البحرالرائقتنویرالابصارفتاوی خیریہ اوردرمختار وغیرہ کتابوں میں ہے۔(ت)
تویہاں موقع کی بحث ہی فضول ہے نہ یہاں اختلاف موقع کی کوئی وجہ چنداں معقول ہے ہاں کہہ سکتے ہیں اولا اگردادا مفلس اوربھائی غنی ہوں توقول امام پرفتوی اولی ہے اورعکس ہوتو مقاسمہ۔
ثانیا: بھائیوں میں کوئی فاسق ومسرف ہوکہ اسے مال دینافسق پراعانت کرناہے اوردادا صالح توقول امام پرفتوی اولی ہے اور عکس تومقاسمہ۔
ثالثا: اگردادا اپنا حصہ لے کر امورخیر واشاعت علم دین میں وقف کردیناچاہتاہے نہ بھائی توقول امام پرفتوی اولی ہے کہ نفع دین ہے اور عکس ہوتومقاسمہ۔
رابعا:جد جواد وسخی ہے اور اس کامال اکثر امورخیر میں صرف ہوتاہے اوربھائی ایسے نہیں توقول امام پرفتوی اولی ہے کہ نفع مساکین مسلمین ہے اور عکس ہوتو مقاسمہ مگر ان میں کوئی وجہ ایسی نہیں کہ مذہب مفتی بہ سے عدول چاہے عمل ہمیشہ اسی پر ہے جومفتی بہ ہو۔واﷲ التوفیق۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۳: ۱۰/جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کسی وارث کے کان لم یکن(کالعدم)کرنے کی مثالیں ارشاد ہوں جن سے اس کے مواقع پر روشنی پڑے۔بینواتوجروا۔
کما فی البحر الرائق وتنویرالابصار والفتاوی الخیریۃ و الدرالمختار وغیرھا من معتمدات الاسفار۔ جیسا کہ البحرالرائقتنویرالابصارفتاوی خیریہ اوردرمختار وغیرہ کتابوں میں ہے۔(ت)
تویہاں موقع کی بحث ہی فضول ہے نہ یہاں اختلاف موقع کی کوئی وجہ چنداں معقول ہے ہاں کہہ سکتے ہیں اولا اگردادا مفلس اوربھائی غنی ہوں توقول امام پرفتوی اولی ہے اورعکس ہوتو مقاسمہ۔
ثانیا: بھائیوں میں کوئی فاسق ومسرف ہوکہ اسے مال دینافسق پراعانت کرناہے اوردادا صالح توقول امام پرفتوی اولی ہے اور عکس تومقاسمہ۔
ثالثا: اگردادا اپنا حصہ لے کر امورخیر واشاعت علم دین میں وقف کردیناچاہتاہے نہ بھائی توقول امام پرفتوی اولی ہے کہ نفع دین ہے اور عکس ہوتومقاسمہ۔
رابعا:جد جواد وسخی ہے اور اس کامال اکثر امورخیر میں صرف ہوتاہے اوربھائی ایسے نہیں توقول امام پرفتوی اولی ہے کہ نفع مساکین مسلمین ہے اور عکس ہوتو مقاسمہ مگر ان میں کوئی وجہ ایسی نہیں کہ مذہب مفتی بہ سے عدول چاہے عمل ہمیشہ اسی پر ہے جومفتی بہ ہو۔واﷲ التوفیق۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۳: ۱۰/جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کسی وارث کے کان لم یکن(کالعدم)کرنے کی مثالیں ارشاد ہوں جن سے اس کے مواقع پر روشنی پڑے۔بینواتوجروا۔
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۷۰۔۲۶۹،€الفتاوی الخیریۃ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۳۳،€الدرالمختار رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴€
الجواب:
پہلی مثال:زیدتین بھائی حقیقی یاتینوں علاتی چھوڑکر مرگیاپھر ان میں ایك بھائی نے قبل تقسیم ترکہ یہ ہی دوبھائی اپنے وارث چھوڑ کرانتقال کیا اس صورت میں اس میت دوم کو کان لم یکن(کالعدم)کرکے مسئلہ صرف دو سے تقسیم کردیں گے اس شکل پر:
اس کی صورت یہ ہے کہ زیدنے ایك زوجہ اورماں اورایك حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کیا پھر قبل تقسیم ترکہ اس بھائی نے انتقال کیا اور اس کے وارث یہی ماں رہی توازانجاکہ اس کی موت وحیات سے صورت تقسیم نہیں بدلتی کہ حی مان کردوسرا بطن قائم کریں جب بھی حاصل وہی ہوگا
image
پہلی مثال:زیدتین بھائی حقیقی یاتینوں علاتی چھوڑکر مرگیاپھر ان میں ایك بھائی نے قبل تقسیم ترکہ یہ ہی دوبھائی اپنے وارث چھوڑ کرانتقال کیا اس صورت میں اس میت دوم کو کان لم یکن(کالعدم)کرکے مسئلہ صرف دو سے تقسیم کردیں گے اس شکل پر:
اس کی صورت یہ ہے کہ زیدنے ایك زوجہ اورماں اورایك حقیقی بھائی چھوڑ کرانتقال کیا پھر قبل تقسیم ترکہ اس بھائی نے انتقال کیا اور اس کے وارث یہی ماں رہی توازانجاکہ اس کی موت وحیات سے صورت تقسیم نہیں بدلتی کہ حی مان کردوسرا بطن قائم کریں جب بھی حاصل وہی ہوگا
image
کہ زوجہ کو ربع اورباقی ماں کوسدس پہلی میت سے اورباقی دوسری میت سےاور دوسرے سے کان لم یکن(کالعدم)مانیں جب بھی حاصل یہی ہوگا اس لئے کہ زوجہ اہل رد سے نہیں اس کا حصہ ربع سے نہ بڑھے گا اورباقی ماں ہی کوملے گا لہذا کان لم یکن(کالعدم)ہی کرنا اولی ہوا۔
اس کی صورت یہ ہے کہ اول ہندہ نے شوہر زید اورماں لیلی اورایك بھائی حقیقی عمرو اور دوبہنیں حقیقی سلمیسعاد چھوڑ کر وفات پائی پھر عمرومرا اور اس کے ورثہ یہی ماں اوردونوں بہنیں رہیں پھرسلمی مری اور اس کے وارث یہی ماں اوربہن ہوئی پھرسعاد مری اور اس کی وارث صرف ماں رہیاب اگر اس طریقہ پر مناسخہ کرتے جولوگوں میں رائج ہے تو اس کی صورت یہ ہوتی:
image reh gai
اس کی صورت یہ ہے کہ اول ہندہ نے شوہر زید اورماں لیلی اورایك بھائی حقیقی عمرو اور دوبہنیں حقیقی سلمیسعاد چھوڑ کر وفات پائی پھر عمرومرا اور اس کے ورثہ یہی ماں اوردونوں بہنیں رہیں پھرسلمی مری اور اس کے وارث یہی ماں اوربہن ہوئی پھرسعاد مری اور اس کی وارث صرف ماں رہیاب اگر اس طریقہ پر مناسخہ کرتے جولوگوں میں رائج ہے تو اس کی صورت یہ ہوتی:
image reh gai
اس میں کس قدر تطویل ہوئی اور وہ ہی ہوا کہ نصف زوج نصف ماں کالہذا اول ہی سے بھائی بہنوں تینوں کو کان لم یکن (کالعد)کردیناچاہئےہمارے اس بیان سے واضح ہواکہ عام کتابوں میں جو کان لم یکن(کالعدم)کے لئے یہ قید لگائی ہے کہ جو وارث مرا اس کے سب ماورا اس کے وارث ہوں یہ قید ہرگز لازم نہیں اور بعض کتابوں میں جو یہ شرط کی کہ وہ ورثہ سب ایك جنس کے ہوں یہ بھی غلط ہے اس کی بھی حاجت نہیں صرف دوباتیں درکار ہیں ایك یہ کہ وارث کاوارث وارثان مورث کے سوا اورنہ ہو۔دوسرے یہ کہ تقسیم بدلے نہیں بلکہ حقیقۃ صرف یہی شرط ہے پہلی شرط بھی ہرجگہ لازم نہیں مثلا مثال ثالث میں ام مری اور اپنی ایك بنت اور وارث چھوڑے کہ وہ ورثہ مورث اول کے سوا ہیں لیکن پھر یہ بنت مری اور ابن الاخ مذکور کے سوا وارث نہ چھوڑا تو حاصل وہی ہواکہ ثمن زوجہ کے بعد باقی سب ابن کا۔مناسخہ یوں ہوگا:
مآل وہی رہا یہاں ام کو کان لم یکن(کالعدم)یوں لکھاجائے گا:
image reh gai
مآل وہی رہا یہاں ام کو کان لم یکن(کالعدم)یوں لکھاجائے گا:
image reh gai
یہ تمام بیان ہمارے فتاوی میں مشرح ہے اور اس میں صورکان لم یکن(کالعدم کی صورتوں)میں عجیب عجیب تصرفات بدیعہ ہیں کہ اس کے غیرمیں نہ ملیں گے ازانجملہ ایك صورت تشحیذاذہان فرائض دانان کے لئے لکھتے ہیں ۲۷جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ کو سوال آیاتھا کہ محمدیار نے ایك زوجہ حافظ جان اورپانچ بیٹے نیازعلیمحمدعلیکلنمحمد حسینامیرعلی اور چاربیٹیاں احمدیبی جانبنی جانحسین وارث چھوڑےپھرحافظ جان مری اوریہی بیٹے بیٹیاں وارث رہےپھرنیازعلی مرا اوریہی بہن بھائی وارث ہوئے۔پھرمحمدعلی نے ایك زوجہ محبوبن اوردوبیٹے وزیرعلیاحمدعلی چھوڑکرانتقال کیا جن میں محبوبن مری اوریہی دوبیٹے چھوڑے۔پھر وزیرعلی مرا اوریہی بھائی وارث رہا۔پھرامیرعلی مرااورباقی دوبھائی اورچاروں بہنیں وارث ہوئیں۔پھر حسین پھر بنی جان نے انتقال کیا اوریہی بقیہ بہن بھائی وارث چھوڑے۔پھراحمدی نے شوہر وپسرودخترمحمدی چھوڑ کرانتقال کیا پھرشوہر کے وارث یہی بیٹا بیٹی ہوئے۔پھرپسر کی وارثہ یہی ہمشیرہ محمدی رہی۔پھرمحمدحسین ایك زوجہ آسودہ اوربیٹاعلی حسین اوربیٹیاں بنی بتولاچھوڑکرمرگیا۔پھربی جان مری اورصرف کلن اس کاوارث ہوا۔پھرکلن نے زوجہ مونگا اوردوابن واحد یا رو حامد یار اور ایك بنت بسم اﷲ چھوڑ کروفات پائی اس مسئلہ کو جس میں پندرہ میت ہیں صرف پانچ بطن سے تقسیم کیاہے تصحیح اخیر ۵۷۶ ہے اوربطن اول یوں بانٹاہے:
image reh gai
image reh gai
باقی سب کان لم یکن(کالعدم)فرائض دان حضرات اس پرغورفرماکر بتائیں ورنہ فتاوائے فقیر کی طرف رجوع فرمائیں کہ اس میں اس کی توضیح کردی ہے۔
مسئلہ ۱۴۴: ۱۰/جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
فرائض میں قوانین وہ رکھے گئے ہیں کہ تقسیم چھوٹے سے چھوٹے عدد ممکن سے ہوہرجگہ اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ باوصف اس کے تصحیح اخیرمناسخہ کبھی پھرقابل اختصار ہوجاتی ہے اگرہوجاتی ہے تووہاں خلاصہ عمل کہ آخرمناسخہ میں لکھاجاتاہے کس طرح تحریرکیاجائے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
ہاں بعض وقت یہ ہوتاہے کہ بطون میں تقسیم مسائل جس طرح کی گئی ان سے کمی ناممکن تھی مگرجب زیرمداحیاء ہرایك کے سہام مقبوضہ جمع کرکے لکھے تو ان میں باہم توافق ہوگیا کہ ہرایك کو ایك عدد کاٹ سکتاہے اس عدد کو مابہ التوافق کہتے ہیں اور فرائض میں حتی الامکان عدد اقل ہی لیاجاتا ہے ولہذا ہرنسبت میں مقدم علیہ اعظم اورہرتصحیح میں ذواضعاف اقل کالحاظ رہتا ہے تو ہر بطن میں کم ازکم دو وارثوں کے سہم میں تباین ضرورہوتاہے جس کے سبب اختصار ناممکن مگرتباین متباین مل کربھی متوافق ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں مداحیاء کے بعد ایك مداختصار کھینچے اوراسمائے ورثہ ثبت کرکے ہرایك کے سہم مکتوب مداحیاء اس مابہ التوافق مشترك پرتقسیم کرکے درج کرے یونہی مبلغ کو اوپرتقسیم کرکے یہ مبلغ دوم بالائے مداختصار لکھے اور آخر کی معمولی عبارت جولکھی جاتی ہے کہ جب شرائط فرائض ترکہ فلاں ا تنے سہام پرمنقسم ہوکر ہروارث کو اس قدرسہم کہ بمد احیاء اس کے نام لکھے ہیں ملیں گے اس میں بجائے سہام مخرج بالاسہام مبلغ دوم تحریر کرے اور مداحیاء کے عوض مداختصار کانام لے اس کی مختصر مثال دوہی بطن میں اختصار کی ضرورت ہویہ ہے:
image
مسئلہ ۱۴۴: ۱۰/جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
فرائض میں قوانین وہ رکھے گئے ہیں کہ تقسیم چھوٹے سے چھوٹے عدد ممکن سے ہوہرجگہ اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ باوصف اس کے تصحیح اخیرمناسخہ کبھی پھرقابل اختصار ہوجاتی ہے اگرہوجاتی ہے تووہاں خلاصہ عمل کہ آخرمناسخہ میں لکھاجاتاہے کس طرح تحریرکیاجائے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
ہاں بعض وقت یہ ہوتاہے کہ بطون میں تقسیم مسائل جس طرح کی گئی ان سے کمی ناممکن تھی مگرجب زیرمداحیاء ہرایك کے سہام مقبوضہ جمع کرکے لکھے تو ان میں باہم توافق ہوگیا کہ ہرایك کو ایك عدد کاٹ سکتاہے اس عدد کو مابہ التوافق کہتے ہیں اور فرائض میں حتی الامکان عدد اقل ہی لیاجاتا ہے ولہذا ہرنسبت میں مقدم علیہ اعظم اورہرتصحیح میں ذواضعاف اقل کالحاظ رہتا ہے تو ہر بطن میں کم ازکم دو وارثوں کے سہم میں تباین ضرورہوتاہے جس کے سبب اختصار ناممکن مگرتباین متباین مل کربھی متوافق ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں مداحیاء کے بعد ایك مداختصار کھینچے اوراسمائے ورثہ ثبت کرکے ہرایك کے سہم مکتوب مداحیاء اس مابہ التوافق مشترك پرتقسیم کرکے درج کرے یونہی مبلغ کو اوپرتقسیم کرکے یہ مبلغ دوم بالائے مداختصار لکھے اور آخر کی معمولی عبارت جولکھی جاتی ہے کہ جب شرائط فرائض ترکہ فلاں ا تنے سہام پرمنقسم ہوکر ہروارث کو اس قدرسہم کہ بمد احیاء اس کے نام لکھے ہیں ملیں گے اس میں بجائے سہام مخرج بالاسہام مبلغ دوم تحریر کرے اور مداحیاء کے عوض مداختصار کانام لے اس کی مختصر مثال دوہی بطن میں اختصار کی ضرورت ہویہ ہے:
image
ان کودیکھا توتمام اعداد توافق بالثلث رکھتے ہیں لہذا مبلغ وسہام سب کوتین پرتقسیم کرکے مداختصار یوں لکھا:
یہاں نقشہ کی امیج بنانی ہے جلد ۲۶ ص ۳۲۵
حسب شرائط فرائض ترکہ زید کابتیس سہام ہوکر ہروارث کو اس قدرسہم کہ بعدا ختصار اس کے نام لکھے ہیں ملیں گےواﷲ تعالی اعلم۔
حسب شرائط فرائض ایك مجمل لفظ ہے تفصیل یوں لکھتے ہیں برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث مثل ادائے مہر ودیگر دیون وانفاذ وصایا من ثلث الباقی بعدالدین(قرض کی ادائیگی کے بعد باقی کے تہائی میں سے وصیتوں کونافذکرنا۔ت)ترکہ زیدکا الخ اوراس کا اختصاریہ ہے برتقدیرعدم مانع ارث ووارث آخر وصحت ترتیب اموات وتقدیم مہرودیون ووصایا ترکہ الخ ذکرتجہیز وتکفین کی اس لئے حاجت نہیں کہ سوال غالبا بعد تجہیزوتکفین ہوتاہے تو اس کی تقدیم خودہولیاوراگر وہ ترکہ پرقرض لے کرکی گئی ہے تودیون میں آگئی مہرکاذکراس وقت چاہئے جب اصل مورث خواہ مناسخہ میں کسی میت نے زوجہ یا زوجات چھوڑی ہوں جیساکہ صحت ترتیب کی قیدصرف مناسخہ میں ہے نہ کہ بطن واحد میں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵: ازقصبہ بڑاودہ علاقہ ریاست مالوہ جاورہ مسئولہ محمدیسین خاں صاحب ۱۴جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ہندو تھا اس کے مادراورایك زوجہ دودختران ودوپسران تھے عرصہ چارسال کاہوا کہ زید مذہب ہندو میں بقضائے الہی فوت ہویا وراس کی مادر وزوجہ ودو دختران ودوپسران بقید حیات رہے
یہاں نقشہ کی امیج بنانی ہے جلد ۲۶ ص ۳۲۵
حسب شرائط فرائض ترکہ زید کابتیس سہام ہوکر ہروارث کو اس قدرسہم کہ بعدا ختصار اس کے نام لکھے ہیں ملیں گےواﷲ تعالی اعلم۔
حسب شرائط فرائض ایك مجمل لفظ ہے تفصیل یوں لکھتے ہیں برتقدیرصدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات وتقدیم امورمقدمہ علی المیراث مثل ادائے مہر ودیگر دیون وانفاذ وصایا من ثلث الباقی بعدالدین(قرض کی ادائیگی کے بعد باقی کے تہائی میں سے وصیتوں کونافذکرنا۔ت)ترکہ زیدکا الخ اوراس کا اختصاریہ ہے برتقدیرعدم مانع ارث ووارث آخر وصحت ترتیب اموات وتقدیم مہرودیون ووصایا ترکہ الخ ذکرتجہیز وتکفین کی اس لئے حاجت نہیں کہ سوال غالبا بعد تجہیزوتکفین ہوتاہے تو اس کی تقدیم خودہولیاوراگر وہ ترکہ پرقرض لے کرکی گئی ہے تودیون میں آگئی مہرکاذکراس وقت چاہئے جب اصل مورث خواہ مناسخہ میں کسی میت نے زوجہ یا زوجات چھوڑی ہوں جیساکہ صحت ترتیب کی قیدصرف مناسخہ میں ہے نہ کہ بطن واحد میں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵: ازقصبہ بڑاودہ علاقہ ریاست مالوہ جاورہ مسئولہ محمدیسین خاں صاحب ۱۴جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ہندو تھا اس کے مادراورایك زوجہ دودختران ودوپسران تھے عرصہ چارسال کاہوا کہ زید مذہب ہندو میں بقضائے الہی فوت ہویا وراس کی مادر وزوجہ ودو دختران ودوپسران بقید حیات رہے
زیدکی زوجہ مسلمان ہوگئی اوردوپسران بھی کہ جن کی عمر ۸ و۴ سال کی ہے ان کوبھی مسلمان کیا اور دو دختران ومادر زید نے اسلام ناقبول کرکے زوجہ زید سے علیحدگی اختیار کی بعدانتقال زید کے زوجہ مال منقولہ وغیرمنقولہ پرقابض ومتصرف رہی اور اب بھی قابض ہے مادر زید نے زوجہ زید کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے عدالت مجازمیں دعوی کیاہے کہ مال منقولہ وغیرمنقولہ اوردونوں پسر میرے سپردکئے جائیں کیونکہ زوجہ زیدمسلمان ہوچکی جب کہ زوجہ زیدودونوں پسران مسلمان ہو کر اسلام قبول کرچکے ہیں توایسی حالت میں کیازوجہ زید شوہر کی جائداد سے محروم ہوسکتی ہے اوردونوں پسران جواسلام لاچکے ہیں وہ سپرد زید کی مادرجوہندوہے ہوسکتے ہیں اوران پسران کی پرورش کااب اہل اسلام کوحق ہے یااہل ہنودکو اورکیامسلمان ہونے کے بعد ہندوپسران کے حقدارہوسکتے ہیں بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
تقریرسوال سے صراحۃ ظاہرہے کہ عورت بعدمرگ زید مسلمان ہوئی ہے اس لئے وہ اور اس کی اولاد ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتی اگرچہ اس کے بعد مسلمان ہوگئےدرمختارمیں ہے:
الکافر یرث بالنسب والسبب کالمسلم ۔ کافرمسلمان کی طرح نسب اورسبب کی وجہ سے وارث ہوتا ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
معلوم انہ حین موت مورث لم یکن مسلما فلم یوجد المانع حین استحقاقہ الارث وانما وجد بعدہ فکان کمن اسلم بعد موت مورثہ الکافر فلم یکن فی الحقیقۃ ارث مسلم من کافر بل ھو ارث کافر من کافر ۔ یہ معلوم ہے کہ وہ مورث کی موت کے وقت مسلمان نہیں تھا تومیراث کامستحق ہونے کے وقت مانع نہیں پایاگیابلکہ بعد میں پایاگیا تو گویا وہ اس شخص کی طرح ہوگیا جوکافرمورث کے مرنے کے بعد مسلمان ہواتو یہ درحقیقت مسلمان کاکافر کی میراث پانانہ ہوا بلکہ کافر کاکافر کی میراث پاناہوا۔(ت)
الجواب:
تقریرسوال سے صراحۃ ظاہرہے کہ عورت بعدمرگ زید مسلمان ہوئی ہے اس لئے وہ اور اس کی اولاد ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتی اگرچہ اس کے بعد مسلمان ہوگئےدرمختارمیں ہے:
الکافر یرث بالنسب والسبب کالمسلم ۔ کافرمسلمان کی طرح نسب اورسبب کی وجہ سے وارث ہوتا ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
معلوم انہ حین موت مورث لم یکن مسلما فلم یوجد المانع حین استحقاقہ الارث وانما وجد بعدہ فکان کمن اسلم بعد موت مورثہ الکافر فلم یکن فی الحقیقۃ ارث مسلم من کافر بل ھو ارث کافر من کافر ۔ یہ معلوم ہے کہ وہ مورث کی موت کے وقت مسلمان نہیں تھا تومیراث کامستحق ہونے کے وقت مانع نہیں پایاگیابلکہ بعد میں پایاگیا تو گویا وہ اس شخص کی طرح ہوگیا جوکافرمورث کے مرنے کے بعد مسلمان ہواتو یہ درحقیقت مسلمان کاکافر کی میراث پانانہ ہوا بلکہ کافر کاکافر کی میراث پاناہوا۔(ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض فصل فی الغرقٰی والحرقٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۵€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۹€
ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۸۹€
ماں کے مسلمان ہونے دونوں نابالغ بچے مسلمان ہوگئےہدایہ ودرمختاروغیرہما میں ہے:
الولد یتبع خیرالابوین دینا ۔ بچہ والدین میں سے بہتردین والے کے تابع ہوتاہے۔(ت)
زید کی ماں یا کسی ہندوکاان میں کچھ حق نہیںقرآن عظیم میں ہے:
"ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اوراﷲ تعالی ہرگزکافروں کومومنین پرکوئی راہ نہیں دے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۶: ازریاست رامپور مرسلہ مولوی قاری محمدنورصاحب معرفت مولوی فضل حسن صاحب نائب ایڈیٹر دبدبہ سکندری ۲۹جمادی الآخر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ مسماۃ ہندہ نے وفات کیوارثان دوپسرایك دختر مادر چھوڑی کچھ عرصہ کے بعد ہندہ سے ہندہ کے پسر خوردنے وفات کیاس نے اپنے وارثان میں زید مذکور اورنانی اورایك بھائی ایك بہن چھوڑیبعد گزرنے عرصہ آٹھ سال ہندہ متوفیہ سے ہندہ کی مادر اورہندہ کے پسرمتوفی کی نانی ہوتی تھی وفات پائی اس نے اپناوارث ایك پسریعنی عمروچھوڑابعدگزرنے دوسال ہندہ متوفیہ کے زید نے اپناعقدنکاح ثانی بدین مہرپچیس ہزار ۲۵۰۰۰روپیہ زبیدہ سے کیا اوراسی قدرمہر زوجہ اولی ہندہ متوفیہ تھا عرصہ سہ ماہ کاہواکہ زیدنے وفات کیزوجہ ثانیہ زبیدہ اور دو۲ پسر جو زبیدہ سے ہوئے ہیں چھوڑےآیاشرعا ترکہ زیدمکان واثاثہ تقریبا آٹھ سوروپے کی مالیت کا ہے وارثانب ہندہ متوفیہ و پسر ہندہ متوفی ہرایك کوحصہ کس قدرپہنچے گا اورزید کے زوجہ انی یعنی زبیدہ مع ہردوپسران کومتروکہ زیددین مہرمیں کس قدر پہنچے گا تشریحا وتفصیلا ارشاد فرمائیے۔بینواتوجروا۔فقط
الجواب:
صورت مستفسرہ میں کہ مہروترکہ سے زائد اوردونوں مہروں کی مقدار مساوی ہے اگرزیدپر کوئی اوردین نہ ہو توکل متروکہ زید دوسواسی۲۸۰ سہم ہوکر حسب شرائط فرائض یوں تقسیم ہو:
الولد یتبع خیرالابوین دینا ۔ بچہ والدین میں سے بہتردین والے کے تابع ہوتاہے۔(ت)
زید کی ماں یا کسی ہندوکاان میں کچھ حق نہیںقرآن عظیم میں ہے:
"ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا ﴿۱۴۱﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اوراﷲ تعالی ہرگزکافروں کومومنین پرکوئی راہ نہیں دے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۶: ازریاست رامپور مرسلہ مولوی قاری محمدنورصاحب معرفت مولوی فضل حسن صاحب نائب ایڈیٹر دبدبہ سکندری ۲۹جمادی الآخر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ مسماۃ ہندہ نے وفات کیوارثان دوپسرایك دختر مادر چھوڑی کچھ عرصہ کے بعد ہندہ سے ہندہ کے پسر خوردنے وفات کیاس نے اپنے وارثان میں زید مذکور اورنانی اورایك بھائی ایك بہن چھوڑیبعد گزرنے عرصہ آٹھ سال ہندہ متوفیہ سے ہندہ کی مادر اورہندہ کے پسرمتوفی کی نانی ہوتی تھی وفات پائی اس نے اپناوارث ایك پسریعنی عمروچھوڑابعدگزرنے دوسال ہندہ متوفیہ کے زید نے اپناعقدنکاح ثانی بدین مہرپچیس ہزار ۲۵۰۰۰روپیہ زبیدہ سے کیا اوراسی قدرمہر زوجہ اولی ہندہ متوفیہ تھا عرصہ سہ ماہ کاہواکہ زیدنے وفات کیزوجہ ثانیہ زبیدہ اور دو۲ پسر جو زبیدہ سے ہوئے ہیں چھوڑےآیاشرعا ترکہ زیدمکان واثاثہ تقریبا آٹھ سوروپے کی مالیت کا ہے وارثانب ہندہ متوفیہ و پسر ہندہ متوفی ہرایك کوحصہ کس قدرپہنچے گا اورزید کے زوجہ انی یعنی زبیدہ مع ہردوپسران کومتروکہ زیددین مہرمیں کس قدر پہنچے گا تشریحا وتفصیلا ارشاد فرمائیے۔بینواتوجروا۔فقط
الجواب:
صورت مستفسرہ میں کہ مہروترکہ سے زائد اوردونوں مہروں کی مقدار مساوی ہے اگرزیدپر کوئی اوردین نہ ہو توکل متروکہ زید دوسواسی۲۸۰ سہم ہوکر حسب شرائط فرائض یوں تقسیم ہو:
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/۲۱۰€
القرآن الکریم ∞۴/۱۴۱€
القرآن الکریم ∞۴/۱۴۱€
اوراگر زیدپراوردین بھی ہوتو دین مہرزبیدہ پچیس ہزار۲۵۰۰۰اوردین مہرہندہ تیرہ ہزار آٹھ سو اٹھاسی(۱۳۸۸۸)روپیہ چودہ آنے ۲۔۳/ ۲ پائیاوردین جوکچھ ہو ان سب پرمتروکہ زید کوحصہ رسد تقسیم کریں پھرجوحصہ مہرہندہ ہو وارثان ہندہ پر اسی طرح سوحصے ہوکربٹے۳۷ برادر اور ۴۲ پسر ۲۱ دخترکو۔اوربہرحال پسران زبیدہ کہ وارثان ہندہ نہیں اورزبیدہ خود زندہ ہے کچھ نہ پائیں گے۔یہ مسئلہ وہاں اکثر علمائے زماں کی سمجھ میں سہل آنے کانہیں اگرچہ ہمارے یہاں سے طریقہ مسلوکہ واضح ہے۔ ذرا غورکوکام فرمائیں جلدی نہ کریں۔حدیث میں ہے حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: من استعجل اخطأ جوجلدی کرتاہے خطاء میں پڑتا ہےوالعیاذباﷲ۔اوراب بھی سمجھ میں نہ آئے توفتاوائے فقیرمیں اس کا ایضاح ہے اس کی طرف رجوع لائیں وباﷲ التوفیق۔واﷲ تعالی اعلم۔توضیح اس کی یہ ہے کہ جب ہندہ نے انتقال کیا اس کے وارث شوہر زید اورماں سلمی اور وپسربکروخالد اور ایك دخترلیلی ہوئےربع کہ حق زیدتھا اوپرسے ساقط ہوگیاتوبقیہ کی تقسیم یوں رہی:
پھرخالدکا انتقال ہوا اس کاسدس ام الام نے پایا اورباقی زیدنے توسہم خالد کے پانچ سدس زیدپرسے اورساقط ہوگئے۱۴کو۶ سے توافق بثلث تھا لہذا بقیہ کامسئلہ یوں ہوا:
پھرخالدکا انتقال ہوا اس کاسدس ام الام نے پایا اورباقی زیدنے توسہم خالد کے پانچ سدس زیدپرسے اورساقط ہوگئے۱۴کو۶ سے توافق بثلث تھا لہذا بقیہ کامسئلہ یوں ہوا:
حوالہ / References
نوادرالاصول الاصل التاسع والثمانون والمائتان فی تمثیل الحرص الخ دارصادربیروت ∞ص۴۲۳،€الجامع الصغیر ∞حدیث ۸۴۱۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۵۱۲€
خالدکے ۴۲ سے ۳۵ بحق زیدساقط ہوئے اورسات سلمی کوگئے جواس کی موت پراس کے بیٹے عمروکو ملے اور حاصل یہ ہوا:
تومسئلہ ہندہ کہ ۱۸۰ سے ہو تو ۱۰۰ سے رہ گیا۱۸۰ /۸۰ یعنی چار تسع بحق زیدساقط ہوئے توپچیس ہزار سے تیرہ ہزار آٹھ سواٹھاسی دو آنے ۲۔۳ /۲ پائی کامطالبہ رہا۔قنیہ میں ہے:
قال استاذنا سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب وام ولامال لھا سوی مھرعلی زوجھا مائۃ دینار ثم مات الزوج ولم یترك الاخمسین دینارا فقلت یقسم بین الابنتین والخ اتساعا بقد رسھامھم لانہ ذکرفی کتاب العین والدین اذاکان علی بعض الورثۃ دین من جنس عین الترکۃ یحسب ماعلیہ من الدین کانہ عین ویترك حصتہ علیہ وتترك العین لانصباء غیرہ من الورثۃ فحسبنا علی الزوج من المھر خمسۃ وعشرین دینارا کانہ عین ہمارے استاذ نے فرمایا کہ مجھ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیا جوخاونددوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑکر فوت ہوگئی جبکہ سوائے سو دینار کے جوبطورمہراس کے خاوند پر قرض ہیں اس نے کوئی اورشیئ ترکہ میں نہیں چھوڑیپھر اس کاخاوند صرف پچاس دینارچھوڑ کرمرگیا۔تومیں نے جواب میں کہاکہ دونوں بیٹیوں اوربھائی پران کے سہام کے مطابق نوحصے بناکرمال کوتقسیم کیاجائے گا کیونکہ کتاب العین والدین میں مذکورہے کہ جب کسی وارث پرترکہ کی جنس سے قرض ہو تو وہ قرض اس کے حصہ میں شمارہوگا گویاکہ وہ عین
image
تومسئلہ ہندہ کہ ۱۸۰ سے ہو تو ۱۰۰ سے رہ گیا۱۸۰ /۸۰ یعنی چار تسع بحق زیدساقط ہوئے توپچیس ہزار سے تیرہ ہزار آٹھ سواٹھاسی دو آنے ۲۔۳ /۲ پائی کامطالبہ رہا۔قنیہ میں ہے:
قال استاذنا سئلت عمن ماتت عن زوج وبنتین واخ لاب وام ولامال لھا سوی مھرعلی زوجھا مائۃ دینار ثم مات الزوج ولم یترك الاخمسین دینارا فقلت یقسم بین الابنتین والخ اتساعا بقد رسھامھم لانہ ذکرفی کتاب العین والدین اذاکان علی بعض الورثۃ دین من جنس عین الترکۃ یحسب ماعلیہ من الدین کانہ عین ویترك حصتہ علیہ وتترك العین لانصباء غیرہ من الورثۃ فحسبنا علی الزوج من المھر خمسۃ وعشرین دینارا کانہ عین ہمارے استاذ نے فرمایا کہ مجھ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیاگیا جوخاونددوبیٹیاں اور ایك حقیقی بھائی چھوڑکر فوت ہوگئی جبکہ سوائے سو دینار کے جوبطورمہراس کے خاوند پر قرض ہیں اس نے کوئی اورشیئ ترکہ میں نہیں چھوڑیپھر اس کاخاوند صرف پچاس دینارچھوڑ کرمرگیا۔تومیں نے جواب میں کہاکہ دونوں بیٹیوں اوربھائی پران کے سہام کے مطابق نوحصے بناکرمال کوتقسیم کیاجائے گا کیونکہ کتاب العین والدین میں مذکورہے کہ جب کسی وارث پرترکہ کی جنس سے قرض ہو تو وہ قرض اس کے حصہ میں شمارہوگا گویاکہ وہ عین
image
وبقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین والاخ فتکون بینھم علی سھامھم من اصل المسئلۃ وقد افتی بہ کثیر من مفتی زماننا انہ یقسم الخمسون بینھم اثلاثا وانہ غلط فاحش اھ اقول: معنی حسبان ماعلیہ عینا وترك حصتہ علیہ ان یجعل کانہ وجد ھذا بسھمہ فیضرج من البین علی رسم التخارج فتصحح المسئلۃ معہ ثم یسقط سھمہ و یقسم الباقی علی الباقی بقدر سھامھم من اصل التصحیح لاان یجعل کأن لم یکن وتصحح المسئلۃ بدونہ کما فعل اولئك وکما غلط مثلہ بعض الکبراء فی مسئلۃ التخارج کما ذکرہ فی الدرالمختار وبہ ظھر ان ماسقط منہ لایورث عنہ لان الساقط غیرمملوك و لامتروك فلاموروث الا تری ان لو ورث الربع من الزوج لکانت المسئلۃ ہے۔مقروض وارث کاحصہ اس قرض پرچھوڑدیاجائے گا اور عین دیگر وارثوں کے حصوں کے لئے چھوڑدیاجائے گا چنانچہ ہم نے شوہر پر مہر میں سے پچیس دینار شمارکرلئے گویاکہ وہ عین ہیں اور بیٹیوں اوربھائی کے حصے کے لئے پچاس دینار باقی بچے تووہ اصل مسئلہ میں سے ان کے حصوں کے مطابق ان کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے۔ہمارے زمانے کے بہت سے مفتیوں نے فتوی دیاہے کہ پچاس دیناران میں تین حصے بناکر تقسیم کئے جائیں گے حالانکہ یہ فاحش غلطی ہے اھ اقول: (میں کہتاہوں کہ)وارث پرجو قرض ہے اس کو عین شمار کرنے اورمقروض وارث کے حصہ کو اس پرچھوڑنے کامعنی یہ ہے کہ اس وارث کے بارے میں یہ فرض کیاجائے گاگویاکہ وہ اپناحصہ لے کرتخارج کے طریقہ پردرمیان سے نکل گیا۔ لہذامسئلہ کی تصحیح اس وارث سمیت کی جائے گی پھر اس کے حصہ کوتصحیح میں سے ساقط کیاجائے گا اورباقی کوباقی وارثوں پرتقسیم کیاجائے گا ان حصوں کے مطاق جوان کو اصل تصحیح میں سے ملے ہیں یوں نہیں ہے کہ اس وارث کوکالعدم قرار دے کر اس کے بغیر مسئلہ کی تصحیح کی جائے جیساکہ ان مفتیوں نے کیا اورجیساکہ بعض اکابرنے مسئلہ تخارج میں ایسی ہی غلطی کی ہے جیساکہ درمختارمیں مذکور ہے۔اسی سے ظاہر ہو گیاکہ جوکچھ ساقط ہوجائے اس کاکوئی وارث نہیں ہوتا کیونکہ ساقط نہ تومملوك ہے اورنہ ہی متروک(ترکہ میت) ہے لہذا اس کومیراث نہیں بنایاجائے گا۔کیا تونہیں دیکھتاکہ اگر (صورت مذکورہ میں)خاوند کو چوتھے حصے کاوارث بنایاجاتا
حوالہ / References
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الفرائض ∞مطبوعہ کلکتہ بھارت ص۳۹۴€
من۲۴ لکل بنت۱۱ وللاخ ۲ ولیس ھکذا بل ھو من ۹ لکل بنت۴ وللاخ واحد فھذا ھوالفقہ فی المسئلۃ و باﷲ التوفیقواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ تو مسئلہ ۲۴ سے بنتاگیارہ گیارہ ہربیٹی کواوردو بھائی ملتے حالانکہ ایسانہیں ہے بلکہ مسئلہ نوسے بناکر چارچار ہربیٹی کو اور ایك حصہ بھائی کو دیں گے۔چنانچہ مسئلہ میں یہی فقہ ہےاور اﷲ تعالی ہی کی طرف سے توفیق ہے۔واﷲ سبحانہوتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۴۷۱۴۸: ازقصبہ بہارضلع بھنڈ ریاست گوالیار مرسلہ قاضی یعقوب علی ۷رجب ۱۳۳۲ھ
سوال اول: بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد کیافرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین کہ
ترکہ سسر میں بموجودگی دیگرورثاء بلاواسطہ براہ مستقیم داماد کاکیاحق ہے یانہیں ہےبینواتوجروا۔
امیدکہ جواب سے بغورملاحظہ بصیغہ بیرنگ مشرف فرمائے۔والسلام
الجواب:
داماد یاخسرہونا اصلا کوئی حق وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ایك شخص مرے اوردووارث چھوڑے ایك دختراورایك بھتیجا کہ وہی اس کاداماد ہے توداماد بوجہ برادرزادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
سوال دوم: بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
متبنی کرنااوروارث بنانااسلام میں جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
متبنی کرنااسلام میں کچھ اصل نہیں رکھتانہ وہ وارث ہوسکے۔
قال اﷲ تعالی " ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اباءہم فاخونکم اﷲ تعالی نے فرمایا: انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارویہ اﷲ تعالی کے نزدیك ٹھیك ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم
مسئلہ ۱۴۷۱۴۸: ازقصبہ بہارضلع بھنڈ ریاست گوالیار مرسلہ قاضی یعقوب علی ۷رجب ۱۳۳۲ھ
سوال اول: بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد کیافرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین کہ
ترکہ سسر میں بموجودگی دیگرورثاء بلاواسطہ براہ مستقیم داماد کاکیاحق ہے یانہیں ہےبینواتوجروا۔
امیدکہ جواب سے بغورملاحظہ بصیغہ بیرنگ مشرف فرمائے۔والسلام
الجواب:
داماد یاخسرہونا اصلا کوئی حق وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ایك شخص مرے اوردووارث چھوڑے ایك دختراورایك بھتیجا کہ وہی اس کاداماد ہے توداماد بوجہ برادرزادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
سوال دوم: بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
متبنی کرنااوروارث بنانااسلام میں جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
متبنی کرنااسلام میں کچھ اصل نہیں رکھتانہ وہ وارث ہوسکے۔
قال اﷲ تعالی " ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اباءہم فاخونکم اﷲ تعالی نے فرمایا: انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارویہ اﷲ تعالی کے نزدیك ٹھیك ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم
فی الدین و مولیکم " ۔ نہ ہوں تودین میں تمہارے بھائی ہیں اوربشریت میں تمہارے چچازاد۔(ت)
وارث بنانے کی دوصورتیں ہیں ایك حقیقۃ وہ یہ کہ مثلا کوئی نومسلم عاقل بالغ جس کاکوئی وارث نسبی نہیں اپنے مسلمان کرنے والے خواہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تومیرامولی ہے میں مرجاؤں توتومیراوارث ہو اورمیں جرم کروں توتومیری طرف سے جرمانہ دے اور وہ قبول کرلے تویہ قبول کرنے والا اس کاشرعا وارث ہوجاتاہے کہ اس کاکوئی رشتہ دار نہ ہوتو یہ اس کاترکہ پاتاہے۔
دوم حکما وہ یہ کہ زیدکسی کی نسبت اپنے ایسے رشتہ کااقرارکرے جس سے وہ اس مقرکے کسی عزیز کی اولاد قرارپاتا ہوخود اپنی اولاد نہ بتائے مثلاکہے میرابھائی ہے یابھتیجاہے یاچچاہے یاچچاکابیٹاہے اورجس سے اس کانسب قراردیاہے اس سے نسب ثابت ہوجائے مثلابھائی کہااورباپ نے تسلیم کیاکہ واقعی یہ میرابیٹاہے تووہ حقیقی بھائی ہوگیا اوریہ مقراپنے اس اقرارسے کبھی پھرے نہیں تو اس صورت میں یہ شخص اس مقرکاترکہ پائے گا جبکہ اس کانہ کوئی رشتہ دارہو نہ پہلی صورت کاحقیقی وارث بنایاہوا۔ بس یہ دوصورتیں وارث بنانے کی ہیں اورکوئی نہیں۔ والمسائل مصرح بھا فی الکتاب(اوران مسائل کی کتاب میں تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۹ تا ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسماۃ عائشہ بیگم بنت نامدارخاں(زوجہ غلام احمدخاں ساکن بریلی محلہ قلعہ) نے بسبب لاولدہونے کے اپنے حقیقی بھائی وزیرخاں ولدنامدار خاں ساکن بدایون کےبیٹے مولوی یعقوب علی خاں کوبحالت شیرخواری بطور اپنے بیٹے کے پرورش کرکے تعلیم وتربیت میں کماحقہ کوشش کی اورشادی بیاہ وغیرہ کے تمام رسومات مثل اولاد خودانجام دئیے۔ مولوی یعقوب علی خاں کے زوجہ اولی سے علی مظفرخاں پیداہوئے علی مظفرخاں کی ماں کاانتقال ہوگیا جبکہ مولوی یعقوب علی خاں نے دوسری شادی کاقصدکیا تو ان کی پھوپھی مسماۃ عائشہ بیگم نے بنظر دوراندیشی اپنی نصف جائداد بنام مولوی یعقوب علی خاں (بلفظ مولوی یعقوب علی خاں خلف غلام احمدخاں) اورنصف جائداد بنام علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں منتقل کردی بموجب اس کے سرکاری کاغذات میں عملدرآمدہوکر اس جائداد پر قبضہ مالکانہ مولوی یعقوب علی خاں اور
وارث بنانے کی دوصورتیں ہیں ایك حقیقۃ وہ یہ کہ مثلا کوئی نومسلم عاقل بالغ جس کاکوئی وارث نسبی نہیں اپنے مسلمان کرنے والے خواہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تومیرامولی ہے میں مرجاؤں توتومیراوارث ہو اورمیں جرم کروں توتومیری طرف سے جرمانہ دے اور وہ قبول کرلے تویہ قبول کرنے والا اس کاشرعا وارث ہوجاتاہے کہ اس کاکوئی رشتہ دار نہ ہوتو یہ اس کاترکہ پاتاہے۔
دوم حکما وہ یہ کہ زیدکسی کی نسبت اپنے ایسے رشتہ کااقرارکرے جس سے وہ اس مقرکے کسی عزیز کی اولاد قرارپاتا ہوخود اپنی اولاد نہ بتائے مثلاکہے میرابھائی ہے یابھتیجاہے یاچچاہے یاچچاکابیٹاہے اورجس سے اس کانسب قراردیاہے اس سے نسب ثابت ہوجائے مثلابھائی کہااورباپ نے تسلیم کیاکہ واقعی یہ میرابیٹاہے تووہ حقیقی بھائی ہوگیا اوریہ مقراپنے اس اقرارسے کبھی پھرے نہیں تو اس صورت میں یہ شخص اس مقرکاترکہ پائے گا جبکہ اس کانہ کوئی رشتہ دارہو نہ پہلی صورت کاحقیقی وارث بنایاہوا۔ بس یہ دوصورتیں وارث بنانے کی ہیں اورکوئی نہیں۔ والمسائل مصرح بھا فی الکتاب(اوران مسائل کی کتاب میں تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۹ تا ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسماۃ عائشہ بیگم بنت نامدارخاں(زوجہ غلام احمدخاں ساکن بریلی محلہ قلعہ) نے بسبب لاولدہونے کے اپنے حقیقی بھائی وزیرخاں ولدنامدار خاں ساکن بدایون کےبیٹے مولوی یعقوب علی خاں کوبحالت شیرخواری بطور اپنے بیٹے کے پرورش کرکے تعلیم وتربیت میں کماحقہ کوشش کی اورشادی بیاہ وغیرہ کے تمام رسومات مثل اولاد خودانجام دئیے۔ مولوی یعقوب علی خاں کے زوجہ اولی سے علی مظفرخاں پیداہوئے علی مظفرخاں کی ماں کاانتقال ہوگیا جبکہ مولوی یعقوب علی خاں نے دوسری شادی کاقصدکیا تو ان کی پھوپھی مسماۃ عائشہ بیگم نے بنظر دوراندیشی اپنی نصف جائداد بنام مولوی یعقوب علی خاں (بلفظ مولوی یعقوب علی خاں خلف غلام احمدخاں) اورنصف جائداد بنام علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں منتقل کردی بموجب اس کے سرکاری کاغذات میں عملدرآمدہوکر اس جائداد پر قبضہ مالکانہ مولوی یعقوب علی خاں اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۵€
علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کاہوگیا مولوی یعقوب علی خاں پسرمحمدوزیرخاں اپنے پھوپھا نواب غلام احمدخاں کوبطور اپنے باپ کے مانتے تھے اوراپنے نام کومولوی یعقوب علی خاں خلف نواب غلام احمدخاں جیسا کہ ان کی پھوپھی نے کہلایاتھا تحریرکرتے تھے مولوی یعقو ب علی خاں کی وفات کے بعد ان کی دوبیویاں مسماۃ الطاف بیگم اورمسماۃ نادرالنساء اور ایك لڑکاعلی مظفرخاں باقی تھے۔ علی مظفرخاں اپنی اوراپنے باپ مولوی یعقوب علی خاں کی تمام جائداد کے مالك وقابض ہوگئے۔ مولوی یعقوب علی خاں کی ایك بیوی مسماۃ الطاف بیگم کاانتقال ہوگیا دوسری بیوی مسماۃ نادرالنساء موجودہے۔ علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کے کوئی اولادنہیں ہوئی علی مظفرخاں نے اپنی زندگی میں اپنی بیوی مسماۃ حسینی بیگم کادین مہرادا کر دیا۔ اب علی مظفرخاں کاانتقال ہوگیا مسماۃ حسینی بیگم بیوہ علی مظفر خاں کی موجودہے۔ مسماۃ حسینی بیگم بیوہ علی مظفرخاں نے بحق زوجیت اورنواب عبدالقادر خاں نے بدعوی اس کے کہ نواب غلام احمدخاں میرے دادا کے بھائی تھے جائداد متروکہ علی مظفرخاں کو نصف نصف کرکے آپس میں تقسیم کرلیا اوراپنے اپنے حصوں پرقابض ہوگئے۔
سوال اول: اس صورت میں مولوی یعقوب علی خاں پسر وزیرخاں متصورہوں گے یانواب غلام احمدخاں کے اور(الف) لفظ خلف سے کیامرادہے
الجواب:
اگریہ بیان صحیح ہے تومولوی یعقوب علی خاں صاحب وزیرخاں کے پسرہیں نواب غلام احمدخاں سے کوئی تعلق نہیں متبنی بنانے کا مسئلہ ہنودکے یہاں ہے شریعت مطہرہ نے اسے باطل فرمادیاہے۔
قال اﷲ تعالی"ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اباءہم فاخونکم فی الدین و مولیکم " ۔وقال اﷲ تعالی" ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن اﷲ تعالی نے فرمایاکہ انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارو یہ اﷲ تعالی کے نزدیك زیادہ ٹھیك ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اوربشریت میں تمہارے چچازاد۔ اوراﷲ تعالی نے فرمایا: محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) تمہارے مردوں
سوال اول: اس صورت میں مولوی یعقوب علی خاں پسر وزیرخاں متصورہوں گے یانواب غلام احمدخاں کے اور(الف) لفظ خلف سے کیامرادہے
الجواب:
اگریہ بیان صحیح ہے تومولوی یعقوب علی خاں صاحب وزیرخاں کے پسرہیں نواب غلام احمدخاں سے کوئی تعلق نہیں متبنی بنانے کا مسئلہ ہنودکے یہاں ہے شریعت مطہرہ نے اسے باطل فرمادیاہے۔
قال اﷲ تعالی"ادعوہم لابائہم ہو اقسط عند اللہ فان لم تعلموا اباءہم فاخونکم فی الدین و مولیکم " ۔وقال اﷲ تعالی" ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن اﷲ تعالی نے فرمایاکہ انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارو یہ اﷲ تعالی کے نزدیك زیادہ ٹھیك ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اوربشریت میں تمہارے چچازاد۔ اوراﷲ تعالی نے فرمایا: محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) تمہارے مردوں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۵€
رسول اللہ و خاتم النبین " وقال تعالی
" لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازوج ادعیائہم" میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں اﷲ تعالی کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ اوراﷲ تعالی نے فرمایا کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیویوں میں۔(ت)
خلف بمعنی جانشین ہے اوربیٹے کوبھی کہتے ہیں جبکہ اپنے باپ کے بعد رہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
سوال دوم: اگرکوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپناباپ کہے تووہی شخص اس کااصلی باپ سمجھاجائے گایانہیں
الجواب:
ہرگزنہیں مگر اس صورت میں کہ یہ شخص مجہول النسب ہو اوربلحاظ عمراس کابیٹاہوسکتاہو اوراسے اپناباپ بتائے اوروہ قبول کرے کہ واقعی یہ میرے نطفہ سے ہے تو وہ اس کااصلی باپ سمجھاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
سوال سوم: متروکہ علی مظفرخاں کے وارث شرعی خاندان وزیرخاں ساکن بدایوں کے سمجھے جائیں گے یاخاندان نواب غلام احمد خاں ساکن بریلی کے
الجواب:
جب کہ علی مظفرخاں لاولدتھے اورکوئی بھائی بھتیجابھی نہ تھا توان کے وارث وزیرخاں کے بیٹے پوتے ہوں گے نہ کہ خاندان نواب غلام احمدخاں۔
قال اﷲ تعالی
" واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اوررشتے والے ایك سے دوسرے زیادہ نزدیك ہیں اﷲ کی کتاب میں۔(ت)
حدیث میں ہے:
" لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازوج ادعیائہم" میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں اﷲ تعالی کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ اوراﷲ تعالی نے فرمایا کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں کی بیویوں میں۔(ت)
خلف بمعنی جانشین ہے اوربیٹے کوبھی کہتے ہیں جبکہ اپنے باپ کے بعد رہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
سوال دوم: اگرکوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپناباپ کہے تووہی شخص اس کااصلی باپ سمجھاجائے گایانہیں
الجواب:
ہرگزنہیں مگر اس صورت میں کہ یہ شخص مجہول النسب ہو اوربلحاظ عمراس کابیٹاہوسکتاہو اوراسے اپناباپ بتائے اوروہ قبول کرے کہ واقعی یہ میرے نطفہ سے ہے تو وہ اس کااصلی باپ سمجھاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
سوال سوم: متروکہ علی مظفرخاں کے وارث شرعی خاندان وزیرخاں ساکن بدایوں کے سمجھے جائیں گے یاخاندان نواب غلام احمد خاں ساکن بریلی کے
الجواب:
جب کہ علی مظفرخاں لاولدتھے اورکوئی بھائی بھتیجابھی نہ تھا توان کے وارث وزیرخاں کے بیٹے پوتے ہوں گے نہ کہ خاندان نواب غلام احمدخاں۔
قال اﷲ تعالی
" واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا: اوررشتے والے ایك سے دوسرے زیادہ نزدیك ہیں اﷲ کی کتاب میں۔(ت)
حدیث میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۴۰€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۷€
القرآن الکریم ∞۸/ ۷۵€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۷€
القرآن الکریم ∞۸/ ۷۵€
الحقواالفرائض باھلھا فما بقی فھو لاولی رجل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فرائض اہل فرائض کودو جوباقی بچے وہ قریبی مرد کے لئے ہے۔ اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
سوال چہارم: اگرعلی مظفرعلی خاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کے وارث شرعی خاندان وزیرخاں ساکن بدایوں سے متصور ہوں توجائداد متروکہ علی مظفرخاں حسب تفصیل مندرجہ شجرہ آپس میں کس طرح تقسیم ہوگی امیدکہ جواب باصواب بآیات قرآن وحدیث مرفوعہ موافق مذہب حنفیہ مع عبارات وحوالہ کتاب صحیح صحیح طورپرصاف صاف لفظوں میں بمصداق آیہ کریمہ:
" ولا تلبسوا الحق بالبطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون﴿۴۲﴾ " اور حق سے باطل کونہ ملاؤ اوردیدہ دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔ (ت)
مرحمت فریایاجائے۔ بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے نہ لکھاکہ علی مظفرخاں کے بعد ان کے پانچوں چچوں میں کوئی زندہ تھایانہیں۔ علی مظفرخاں کے ترکہ سے حسب شرائط فرائض چہارم حسینی بیگم کاہے باقی حسین علی خاں کاہے اگروہ زندہ رہاہو تو سوتیلے چاروں چچوں میں ایك یازائد جتنے علی مظفرخاں کے بعد زندہ رہے ہوں وہ باقی ان سب کابحصہ مساوی ہے اوراگرکوئی زندہ نہ تھا توباقی ان دسوں چچازادبھائیوں کاہے ولایتی بیگم واولاد افرادبیگم کابہرحال کچھ نہیں۔ اسی طرح باقی آٹھوں دختران اعمام علاتی کچھ نہ پائیں گی۔ یہ سب جواب اس تقدیر پرہے کہ سائل نے پوری صحیح بات لکھی ہو حق نہ چھپایاہو نہ سچ میں جھوٹ ملایاہو ورنہ وبال اس پرہے۔واﷲ تعالی اعلم
(شجرہ اگلے صفحہ پر)
سوال چہارم: اگرعلی مظفرعلی خاں پسرمولوی یعقوب علی خاں کے وارث شرعی خاندان وزیرخاں ساکن بدایوں سے متصور ہوں توجائداد متروکہ علی مظفرخاں حسب تفصیل مندرجہ شجرہ آپس میں کس طرح تقسیم ہوگی امیدکہ جواب باصواب بآیات قرآن وحدیث مرفوعہ موافق مذہب حنفیہ مع عبارات وحوالہ کتاب صحیح صحیح طورپرصاف صاف لفظوں میں بمصداق آیہ کریمہ:
" ولا تلبسوا الحق بالبطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون﴿۴۲﴾ " اور حق سے باطل کونہ ملاؤ اوردیدہ دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔ (ت)
مرحمت فریایاجائے۔ بینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے نہ لکھاکہ علی مظفرخاں کے بعد ان کے پانچوں چچوں میں کوئی زندہ تھایانہیں۔ علی مظفرخاں کے ترکہ سے حسب شرائط فرائض چہارم حسینی بیگم کاہے باقی حسین علی خاں کاہے اگروہ زندہ رہاہو تو سوتیلے چاروں چچوں میں ایك یازائد جتنے علی مظفرخاں کے بعد زندہ رہے ہوں وہ باقی ان سب کابحصہ مساوی ہے اوراگرکوئی زندہ نہ تھا توباقی ان دسوں چچازادبھائیوں کاہے ولایتی بیگم واولاد افرادبیگم کابہرحال کچھ نہیں۔ اسی طرح باقی آٹھوں دختران اعمام علاتی کچھ نہ پائیں گی۔ یہ سب جواب اس تقدیر پرہے کہ سائل نے پوری صحیح بات لکھی ہو حق نہ چھپایاہو نہ سچ میں جھوٹ ملایاہو ورنہ وبال اس پرہے۔واﷲ تعالی اعلم
(شجرہ اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث الولد من ابیہ وامہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۹۷،€صحیح مسلم کتاب الفرائض ∞۲/ ۳۴€ و جامع الترمذی کتاب الفرائض ∞۲/ ۳۱€ مسنداحمدبن حنبل ∞۱/ ۳۲۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۴۲€
القرآن الکریم ∞۲/ ۴۲€
image
جناب مولوی یعقوب علی خاں کی تین بیویاں تھیں پہلی بیوی سے علی مظفرخاں تھے علی مظفرخاں کی ماں کاانتقال ہوگیا اس لئے مولوی صاحب موصوف نے دوسری شادی بمقام چھاؤنی اشرف خاں بانکے میں مسماۃ الطاف بیگم بنت زوربازخاں کے ساتھ کی ان سے اولاد نہیں ہوئی اس لئے تیسری شادی مولوی یعقوب علی خاں نے شہربریلی میں مسماۃ نادرالنساء کے ساتھ کی ان سے اولادہوئی مگرزندہ نہ رہی۔ مولوی یعقوب علی خاں کی وفات کے بعد مسماۃ الطاف بیگم کا انتقال ہوگیا۔ تیسری بیوی مسماۃ نادرالنساء ہنوزموجودہے۔
مسئلہ ۱۵۳: ۱۸شعبان ۱۳۳۲ھ
ہندہ نے انتقال کیا اورایك زوج (جوکہ متوفیہ کاابن الخال بھی ہے) ایك بنت العمہ اورایك بنت الخال کو چھوڑا اس صورت مسئولہ میں ترکہ متوفیہ کاازروئے فقہ احناف کس طرح تقسیم ہوگابینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مذکورہ میں ترکہ ہندہ حسب شرائط فرائض اٹھارہ۱۸ سہام ہوکرگیارہ۱۱ سہم زوجہ کو تسعۃ للزوجیۃ واثنان للرحم (نو۹بیوی ہونے کی وجہ سے اور دوذوی الارحام میں سے ہونے کی وجہ سے۔ت) اور ایک۱ بنت الخال اور چھ۶ بنت العمہ کوملیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: ازانولہ گھیرانوخاں مرسلہ حاجی اﷲ بخش صاحب ۸ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نے انتقال کیا اوراس قدروارث چھوڑے:شوہر ماں دو۲بہنیں ایك لڑکا ایك لڑکی۔ اورجو مال کہ ہندہ کے پاس تھا اس میں بعض مال توایساتھاکہ اس کوجہیزمیں ملاتھا اوربعض مال اس کوبوقت شادی شوہرکی جانب سے بطور چھڑاوے کے ملاتھا اوربعض مال بعد شادی کے شوہرنے اس کوپہنادیاتھا اوربعض مال انتظام خانگی سے پس انداز کرکے اس نے جمع کیاتھا اب ان اموال مذکورہ سے کون سامال ہندہ کی ملکیت میں شرعا متحقق ہے اورکون ساہندہ کی ملکیت سے خارج ہے اور درصورت ہندہ کے مابلکہ نہ ہونے کے اس مال کاکون مالك ہے اورہندہ کی قوم میں رواج ایسابھی ہے کہ بعد انتقال کے لڑکی والے جہیزاپنا دیاہواجوکہ اس وقت موجودہوتاہے واپس کرلیتے ہیں اورلڑکے والے اپناچڑھاوا موجودلے لیتے ہیں بعد معافی دین مہرکے اوردین مہرشوہرپراگرباقی ہے وہ کس کوملناچاہئے اورجس مال کی ہندہ شرعا مابلکہ ہے اس کی تقسیم وارثوں مذکورہ بالا پرکتنے سہام کے منقسم ہوناچاہئے اورنابالغوں کا
مسئلہ ۱۵۳: ۱۸شعبان ۱۳۳۲ھ
ہندہ نے انتقال کیا اورایك زوج (جوکہ متوفیہ کاابن الخال بھی ہے) ایك بنت العمہ اورایك بنت الخال کو چھوڑا اس صورت مسئولہ میں ترکہ متوفیہ کاازروئے فقہ احناف کس طرح تقسیم ہوگابینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مذکورہ میں ترکہ ہندہ حسب شرائط فرائض اٹھارہ۱۸ سہام ہوکرگیارہ۱۱ سہم زوجہ کو تسعۃ للزوجیۃ واثنان للرحم (نو۹بیوی ہونے کی وجہ سے اور دوذوی الارحام میں سے ہونے کی وجہ سے۔ت) اور ایک۱ بنت الخال اور چھ۶ بنت العمہ کوملیں گے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: ازانولہ گھیرانوخاں مرسلہ حاجی اﷲ بخش صاحب ۸ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ہندہ نے انتقال کیا اوراس قدروارث چھوڑے:شوہر ماں دو۲بہنیں ایك لڑکا ایك لڑکی۔ اورجو مال کہ ہندہ کے پاس تھا اس میں بعض مال توایساتھاکہ اس کوجہیزمیں ملاتھا اوربعض مال اس کوبوقت شادی شوہرکی جانب سے بطور چھڑاوے کے ملاتھا اوربعض مال بعد شادی کے شوہرنے اس کوپہنادیاتھا اوربعض مال انتظام خانگی سے پس انداز کرکے اس نے جمع کیاتھا اب ان اموال مذکورہ سے کون سامال ہندہ کی ملکیت میں شرعا متحقق ہے اورکون ساہندہ کی ملکیت سے خارج ہے اور درصورت ہندہ کے مابلکہ نہ ہونے کے اس مال کاکون مالك ہے اورہندہ کی قوم میں رواج ایسابھی ہے کہ بعد انتقال کے لڑکی والے جہیزاپنا دیاہواجوکہ اس وقت موجودہوتاہے واپس کرلیتے ہیں اورلڑکے والے اپناچڑھاوا موجودلے لیتے ہیں بعد معافی دین مہرکے اوردین مہرشوہرپراگرباقی ہے وہ کس کوملناچاہئے اورجس مال کی ہندہ شرعا مابلکہ ہے اس کی تقسیم وارثوں مذکورہ بالا پرکتنے سہام کے منقسم ہوناچاہئے اورنابالغوں کا
ورثہ باپ کے پاس رہناچاہئے یانانی کے پاس اولی مستحق کون ہے اوربچوں کی پرورش وخدمت کا حق کس کے ذمہ ہے اورمیت کی قضانمازوں اورروزوں کاکفارہ کس کے ذمہ ہوناچاہئے بینواتوجروا۔
الجواب:
جہیز میں عام عرف یہ ہے کہ عورت اس کی مالك ہوتی ہے۔ ردالمحتارباب النفقہ میں ہے:
کل احدیعلم ان الجھازملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ۔ ہرکوئی جانتاہے کہ جہیزعورت کی ملك ہوتاہے جب خاوند اس کوطلاق دے دے توساراجہیزلے لیتی ہے اورجب وہ مرجائے توبطورمیراث (عورت کے وارثوں میں) تقسیم کیاجاتاہے۔(ت)
ہندہ کی قوم میں بھی اگریہی عرف ہے اوربعد موت جہیزموجودکاواپس لینااس گمان پرہے کہ لڑکی کوتاحین حیات اس کامالك کرتے ہیں بعد موت جوباقی رہا ااپنی ملك سجھ کرواپس لیتے ہیں تویہ سخت غلطی ہے جوچیزتاحین حیات کسی کی ملك کرکے اس کے قبضہ میں دے دی گئی وہ اس کا مالك مستقل ہوجاتاہے بعد موت اس کاواپس لیناناممکن وحرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العمری میراث لاھلھا۔رواہ مسلم عن جابر۔ عمری(تاحیات ہبہ)اس کی میراث ہے جس کو وہ دیاگیاہے۔ اس کوامام مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیاہے۔(ت)
دوسری روایت میں فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
العمری لمن وھبت لہ۔رواہ عن جابر وابوداؤد و النسائی۔ عمری(تاحیات ہبہ)اس کے لئے ہے جس کو ہبہ کیاگیا۔اس کو امام مسلم نے جابررضی اﷲ عنہ سے نیزابوداؤد اورنسائی نے روایت کیاہے(ت)
الجواب:
جہیز میں عام عرف یہ ہے کہ عورت اس کی مالك ہوتی ہے۔ ردالمحتارباب النفقہ میں ہے:
کل احدیعلم ان الجھازملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا ۔ ہرکوئی جانتاہے کہ جہیزعورت کی ملك ہوتاہے جب خاوند اس کوطلاق دے دے توساراجہیزلے لیتی ہے اورجب وہ مرجائے توبطورمیراث (عورت کے وارثوں میں) تقسیم کیاجاتاہے۔(ت)
ہندہ کی قوم میں بھی اگریہی عرف ہے اوربعد موت جہیزموجودکاواپس لینااس گمان پرہے کہ لڑکی کوتاحین حیات اس کامالك کرتے ہیں بعد موت جوباقی رہا ااپنی ملك سجھ کرواپس لیتے ہیں تویہ سخت غلطی ہے جوچیزتاحین حیات کسی کی ملك کرکے اس کے قبضہ میں دے دی گئی وہ اس کا مالك مستقل ہوجاتاہے بعد موت اس کاواپس لیناناممکن وحرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العمری میراث لاھلھا۔رواہ مسلم عن جابر۔ عمری(تاحیات ہبہ)اس کی میراث ہے جس کو وہ دیاگیاہے۔ اس کوامام مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیاہے۔(ت)
دوسری روایت میں فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
العمری لمن وھبت لہ۔رواہ عن جابر وابوداؤد و النسائی۔ عمری(تاحیات ہبہ)اس کے لئے ہے جس کو ہبہ کیاگیا۔اس کو امام مسلم نے جابررضی اﷲ عنہ سے نیزابوداؤد اورنسائی نے روایت کیاہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۶۸€
صحیح مسلم کتاب الہبات باب العمرٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳€۸
صحیح مسلم کتاب الہبات باب العمرٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۸،€سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب العمرٰی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۴۴€
صحیح مسلم کتاب الہبات باب العمرٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳€۸
صحیح مسلم کتاب الہبات باب العمرٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۸،€سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب العمرٰی ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۴۴€
درمختارمیں ہے:
جازالعمری للمعمرلہ ولورثتہ بعدہ لبطلان الشرط ۔ عمری(تاحیات ہبہ)جائزہے اس کے لئے جس کے لئے ہبہ کیا گیا اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لئےکیونکہ اس میں شرط باطل ہے۔(ت)
ہاں اگرقوم ہندہ میں یہ رواج ہے کہ جہیزعاریۃ دیاجاتاہے عورت کو اس کامالك نہیں سمجھاجاتا توبیشك وہ ملك ہندہ نہ ہوگا اورجس نے دیاتھا اس کوواپس ملے گا
فان العاریۃ موداۃ وعلی الید مااخذت حتی تردھا ۔ عاریت پر لی ہوئی چیزواپس کی جائے گی اورہاتھ کے ذمے ہے جو اس نے لیایہاں تك کہ اس کو لوٹادے۔(ت)
یوں ہی چڑھاوے میں اگر اس قوم کاعرف دلہن کومالك کردیناہے اگرچہ تاحین حیات تو چڑھاوا بھی ہندہ کی ملك ہے ورنہ جس نے چڑھایاتھا اس کاہے فان العادۃ محکمۃ(کیونکہ عادت مستحکم ہے۔ت)بعد شادی جوزیورشوھرنے پہنایاوہ شوہرکی ملك ہے مگریہ کہ صراحۃ یاعرفا ہندہ کومالك کردینامفہوم ہواہو۔
فی احکام الصغاروالہندیۃ عن الملتقط وفی ردالمحتار عن العلامۃ بیری عن خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیک ۔ احکام الصغار اورہندیہ میں ملتقط سے اور ردالمحتار میں علامہ بیری سے بحوالہ خزانۃ الفتاوی منقول ہے جب کسی نے اپنے بیٹے کوکچھ مال دیا اوربیٹے نے اس میں تصرف کردیاتووہ باپ کاہی ہوگا سوائے اس کے کہ وہاں کوئی تملیك پردلالت کرنے والی دلیل پائی جائے۔(ت)
جازالعمری للمعمرلہ ولورثتہ بعدہ لبطلان الشرط ۔ عمری(تاحیات ہبہ)جائزہے اس کے لئے جس کے لئے ہبہ کیا گیا اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لئےکیونکہ اس میں شرط باطل ہے۔(ت)
ہاں اگرقوم ہندہ میں یہ رواج ہے کہ جہیزعاریۃ دیاجاتاہے عورت کو اس کامالك نہیں سمجھاجاتا توبیشك وہ ملك ہندہ نہ ہوگا اورجس نے دیاتھا اس کوواپس ملے گا
فان العاریۃ موداۃ وعلی الید مااخذت حتی تردھا ۔ عاریت پر لی ہوئی چیزواپس کی جائے گی اورہاتھ کے ذمے ہے جو اس نے لیایہاں تك کہ اس کو لوٹادے۔(ت)
یوں ہی چڑھاوے میں اگر اس قوم کاعرف دلہن کومالك کردیناہے اگرچہ تاحین حیات تو چڑھاوا بھی ہندہ کی ملك ہے ورنہ جس نے چڑھایاتھا اس کاہے فان العادۃ محکمۃ(کیونکہ عادت مستحکم ہے۔ت)بعد شادی جوزیورشوھرنے پہنایاوہ شوہرکی ملك ہے مگریہ کہ صراحۃ یاعرفا ہندہ کومالك کردینامفہوم ہواہو۔
فی احکام الصغاروالہندیۃ عن الملتقط وفی ردالمحتار عن العلامۃ بیری عن خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیک ۔ احکام الصغار اورہندیہ میں ملتقط سے اور ردالمحتار میں علامہ بیری سے بحوالہ خزانۃ الفتاوی منقول ہے جب کسی نے اپنے بیٹے کوکچھ مال دیا اوربیٹے نے اس میں تصرف کردیاتووہ باپ کاہی ہوگا سوائے اس کے کہ وہاں کوئی تملیك پردلالت کرنے والی دلیل پائی جائے۔(ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۲€
احکام الصغار مسائل الہبۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞ص۱۷۴،€الفتاوی الہندیۃ کتاب الہبۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۲،€ ردالمحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۲€
احکام الصغار مسائل الہبۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞ص۱۷۴،€الفتاوی الہندیۃ کتاب الہبۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۲،€ ردالمحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
جومال ہندہ نے خرچ خانگی سے پس اندازکرکے جمع کیا اس کی دو۲صورتیں ہیں اگرشوہر انتظامات خانگی کے لئے اسے روپیہ دیتا ہے جس سے سارے گھرکاخوردونوش ہوتاہے جس میں خودشوہر بھی داخلاس میں نوکروں کی تنخواہیں وغیرہ بھی شامل۔ جیسا کہ غالب رواج یہی ہے جب تو اس مال کامالك شوہرہے اورعورتیں جو اس میں سے خفیہ بچاکرجمع کرلیتی ہیں یہ جائزنہیں اوراگرشوہر نے نفقہ زن میں کوئی مقدار مثلا دس۱۰ بیس۲۰ یاسو۱۰۰دوسو۲۰۰روپے ماہوار مقررکردی ہے کہ وہ خاص عورت کو دی جاتی ہے اس میں سے عورت نے پس اندازکیاتووہ عورت کی ملك ہے۔ درمختارمیں ہے:
وقالوا مابقی من النفقۃ لھا فیقضی باخری ۔ مشائخ نے کہاجونفقہ سے بچ جائے وہ عورت کی ملکیت ہے اورقاضی مزید نفقہ اس کو دلائے گا۔(ت)
طحاوی میں ہے:
ویتفرع علیہ مالوقررلہا کل یوم مثلا قدرامعینا من الفضۃ فامرتہ بانفاق البعض وارادت ان تمسك الباقی فمقتضی التملیك ان لھا ذلك وقدمناہ ۔ اسی پرمتفرع ہے کہ اگرعورت کے لئے یومیہ چاندی کی ایك خاص مقدارمعین کی گئی عورت نے اس میں سے بعض کو خرچ کرنے کاکہا اور ارادہ کیا کہ باقی کو روك رکھے توتملیك کا تقاضایہ ہے کہ وہ ایساکرسکتی ہے اورہم اس کو پہلے ذکرکرچکے ہیں۔(ت)
پس ان سب باتوں سے حسب تفصیل بالاجومال کی ملك ہندہ سمجھاجائے مع مہرہندہ حسب شرائط فرائض سب کے چھتیس۳۶ سہام ہو کرنو۹سہم شوہراورچھ۶ سہم مادر اورچودہ۱۴ پسراورسات دخترکوملیں گےبہنوں کا کچھ نہیںنابالغوں کاحصہ ان کے باپ کے قبضہ میں رہے گانانی سے کچھ تعلق نہیںلڑکاسات برس اورلڑکی نوبرس کی عمرتك نانی کے پاس رہیں گے پھرباپ لے لے گا۔ نمازروزوں کے کفارہ کی اگرہندہ نے وصیت کی ہے تووہ قبل تقسیم ترکہ بعدادائے
وقالوا مابقی من النفقۃ لھا فیقضی باخری ۔ مشائخ نے کہاجونفقہ سے بچ جائے وہ عورت کی ملکیت ہے اورقاضی مزید نفقہ اس کو دلائے گا۔(ت)
طحاوی میں ہے:
ویتفرع علیہ مالوقررلہا کل یوم مثلا قدرامعینا من الفضۃ فامرتہ بانفاق البعض وارادت ان تمسك الباقی فمقتضی التملیك ان لھا ذلك وقدمناہ ۔ اسی پرمتفرع ہے کہ اگرعورت کے لئے یومیہ چاندی کی ایك خاص مقدارمعین کی گئی عورت نے اس میں سے بعض کو خرچ کرنے کاکہا اور ارادہ کیا کہ باقی کو روك رکھے توتملیك کا تقاضایہ ہے کہ وہ ایساکرسکتی ہے اورہم اس کو پہلے ذکرکرچکے ہیں۔(ت)
پس ان سب باتوں سے حسب تفصیل بالاجومال کی ملك ہندہ سمجھاجائے مع مہرہندہ حسب شرائط فرائض سب کے چھتیس۳۶ سہام ہو کرنو۹سہم شوہراورچھ۶ سہم مادر اورچودہ۱۴ پسراورسات دخترکوملیں گےبہنوں کا کچھ نہیںنابالغوں کاحصہ ان کے باپ کے قبضہ میں رہے گانانی سے کچھ تعلق نہیںلڑکاسات برس اورلڑکی نوبرس کی عمرتك نانی کے پاس رہیں گے پھرباپ لے لے گا۔ نمازروزوں کے کفارہ کی اگرہندہ نے وصیت کی ہے تووہ قبل تقسیم ترکہ بعدادائے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطلاق باب النفقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۶۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطلاق باب النفقہ المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۲/ ۲۶۰€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطلاق باب النفقہ المکتبۃ العربیہ ∞کوئٹہ ۲/ ۲۶۰€
دین اگرذمہ ہندہ تھا تہائی مال تك وجوبا جاری کی جائے گی اوراگروصیت نہ کی تو وہ کسی وارث پرواجب نہیں جو اپنی طرف سے کرے گا ثواب پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۵:مسئولہ محمدحسین ازجودہ پورملك مارواڑہ امام مسجدمحلہ نائکان متصل جونی بال زیرقلعہ بروزچہارشنبہ بتاریخ ۴ذوالقعدہ ۱۳۳۲ھ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ازراہ عنایت مندرجہ ذیل کے استفتاء کاجواب مدلل تحریرفرماکر مشکورکریں۔چونکہ اس مسئلہ کی اشدضرورت ہے لہذابہت ممنون فرمائیں۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دخترہندہ کو اپنی زندگی میں کل جائداد منقولہ اور غیرمنقولہ ہبہ کرکے اس کا قبضہ کردیا جواب تك قابض ہے کیونکہ سوائے ہندہ کے اورکوئی اولاد زید کے نہیں ہےزیدکا انتقال ہوئے قریبا آٹھ دس برس کاعرصہ گزرچکاہےاب زیدکے ایك چچااورچچیرے بھائیوں نے اس کی اوردخترہندہ پرمکان سکنی کے بابت عدالت میں دعوی کیا ہے اورمحض اپنے فائدے کے واسطے خلاف واقعہ اپنے بیان میں یہ لکھایاہے کہ یہ خاندان ہندو دھرم شاستری ہے اسی حق بازگشت کاپابندہےجومسلمان اپنے فائدہ کی غرض سے شرع شریف کے احکامات سے انحراف کرکے ہندوشاسترکاپابند بنے تواس کے واسطے شرع شریف میں کیاحکم ہے مع حوالہ کتب کے جواب دیں۔
الجواب:
اپنے دنیوی فائدے مال حرام خلاف شرع ملنے کے لئے اپنے آپ کو برخلاف احکام قرآن مجید ہندودھرم شاسترکاپابندبنانا معاذ اﷲ اپنے کفرکااقرارکرنا ہے اوراپنے سارے خاندان کی طرف اسے نسبت کرناسارے خاندان کوکافربناناہےایسے لوگوں کو تجدید اسلام کاحکم ہےپھراپنی عورتوں سے نکاح کریں۔
قال اﷲ تعالی " ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾" والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورجواﷲ کے اتارے پرحکم نہ کرے وہی لوگ کافرہیں۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵۵:مسئولہ محمدحسین ازجودہ پورملك مارواڑہ امام مسجدمحلہ نائکان متصل جونی بال زیرقلعہ بروزچہارشنبہ بتاریخ ۴ذوالقعدہ ۱۳۳۲ھ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ازراہ عنایت مندرجہ ذیل کے استفتاء کاجواب مدلل تحریرفرماکر مشکورکریں۔چونکہ اس مسئلہ کی اشدضرورت ہے لہذابہت ممنون فرمائیں۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی دخترہندہ کو اپنی زندگی میں کل جائداد منقولہ اور غیرمنقولہ ہبہ کرکے اس کا قبضہ کردیا جواب تك قابض ہے کیونکہ سوائے ہندہ کے اورکوئی اولاد زید کے نہیں ہےزیدکا انتقال ہوئے قریبا آٹھ دس برس کاعرصہ گزرچکاہےاب زیدکے ایك چچااورچچیرے بھائیوں نے اس کی اوردخترہندہ پرمکان سکنی کے بابت عدالت میں دعوی کیا ہے اورمحض اپنے فائدے کے واسطے خلاف واقعہ اپنے بیان میں یہ لکھایاہے کہ یہ خاندان ہندو دھرم شاستری ہے اسی حق بازگشت کاپابندہےجومسلمان اپنے فائدہ کی غرض سے شرع شریف کے احکامات سے انحراف کرکے ہندوشاسترکاپابند بنے تواس کے واسطے شرع شریف میں کیاحکم ہے مع حوالہ کتب کے جواب دیں۔
الجواب:
اپنے دنیوی فائدے مال حرام خلاف شرع ملنے کے لئے اپنے آپ کو برخلاف احکام قرآن مجید ہندودھرم شاسترکاپابندبنانا معاذ اﷲ اپنے کفرکااقرارکرنا ہے اوراپنے سارے خاندان کی طرف اسے نسبت کرناسارے خاندان کوکافربناناہےایسے لوگوں کو تجدید اسلام کاحکم ہےپھراپنی عورتوں سے نکاح کریں۔
قال اﷲ تعالی " ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾" والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورجواﷲ کے اتارے پرحکم نہ کرے وہی لوگ کافرہیں۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۴€
مسئلہ ۱۵۶: بروزیکشنبہ بتاریخ ۱۲محرم ۱۳۳۴ھ
کیاحکم ہے شرع متین کا اس مسئلہ میںزید نے انتقال کیاایك زوجہایك دادی حقیقی کابھائیایك والد کی سوتیلی ہمشیرہ کالڑکا یعنی حقیقی دادا کاحقیقی نواسہ اوردو والد کے پھوپھیرے بھائی یعنی دادا کی بہن کے لڑکے۔ترکہ زید کا اس صورت میں کس طرح تقسیم ہوگا مذکورین کے سوا کوئی غیر وارث نہیں ہے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض بعدادائے مہروغیرہ ترکہ چارحصے ہوگا ایك حصہ زوجہ اورتین زیدکی سوتیلی پھوپھی کے پسرکوملیں گےباپ کاماموں اورباپ کے پھوپھی زاد بھائی اس کے آگے محجوب ہیں کہ وہ خود زید کی پھوپھی کابیٹا ہےتوپدرزید کے ماموںپھوپھی اور ان کی اولاد پرمقدم ہے۔درمختارمیں ہے:
ثم جزء جدیہ اوجدتیہ وھم الاخوال والخالات ثم عمات الاباء والامھات واخوالھم وخالاتہم واولاد ھؤلاء ۔(ملتقطا) پھرمیت کے دونوں دادوں(دادا اورنانا)کی جزء یا اس کی دونوں دادیوں(دادی اورنانی)کی جزء جوکہ ماموں اورخالائیں ہیں۔پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاںان کے ماموں اوران کی خالائیں اوران کی اولادیں ہیں بالالتقاط(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حاصلہ انہ اذالم یوجد عمومۃ المیت وخؤولتہ و اولادھم انتقل حکمھم المذکور الی ھؤلاء ثم اولادھم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ جب میت کے چچےماموں اوران کی اولادیں موجودنہ ہوں تو مذکورہ بالا حکم ان لوگوں(میت کے آباء وامہات کی پھوپیوںمامؤوں اورخالاؤں)کی طرف پھر ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
کیاحکم ہے شرع متین کا اس مسئلہ میںزید نے انتقال کیاایك زوجہایك دادی حقیقی کابھائیایك والد کی سوتیلی ہمشیرہ کالڑکا یعنی حقیقی دادا کاحقیقی نواسہ اوردو والد کے پھوپھیرے بھائی یعنی دادا کی بہن کے لڑکے۔ترکہ زید کا اس صورت میں کس طرح تقسیم ہوگا مذکورین کے سوا کوئی غیر وارث نہیں ہے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض بعدادائے مہروغیرہ ترکہ چارحصے ہوگا ایك حصہ زوجہ اورتین زیدکی سوتیلی پھوپھی کے پسرکوملیں گےباپ کاماموں اورباپ کے پھوپھی زاد بھائی اس کے آگے محجوب ہیں کہ وہ خود زید کی پھوپھی کابیٹا ہےتوپدرزید کے ماموںپھوپھی اور ان کی اولاد پرمقدم ہے۔درمختارمیں ہے:
ثم جزء جدیہ اوجدتیہ وھم الاخوال والخالات ثم عمات الاباء والامھات واخوالھم وخالاتہم واولاد ھؤلاء ۔(ملتقطا) پھرمیت کے دونوں دادوں(دادا اورنانا)کی جزء یا اس کی دونوں دادیوں(دادی اورنانی)کی جزء جوکہ ماموں اورخالائیں ہیں۔پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاںان کے ماموں اوران کی خالائیں اوران کی اولادیں ہیں بالالتقاط(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حاصلہ انہ اذالم یوجد عمومۃ المیت وخؤولتہ و اولادھم انتقل حکمھم المذکور الی ھؤلاء ثم اولادھم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس کاخلاصہ یہ ہے کہ جب میت کے چچےماموں اوران کی اولادیں موجودنہ ہوں تو مذکورہ بالا حکم ان لوگوں(میت کے آباء وامہات کی پھوپیوںمامؤوں اورخالاؤں)کی طرف پھر ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۴۔۳۶۳€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۸€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۸€
مسئلہ ۱۵۷۱۵۸: مسئولہ حاجی لعل خان صاحب یکم صفر۱۳۳۴ھ بروزپنجشنبہ
تنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ جلیسن بی بی وصحیبن بی بی دختران شیخ امیربخش صاحب مرحوم
سوال۱:جناب والدصاحب مرحوم نے(یعنی شیخ امیرحسن صاحب مرحوم نے)جومال ومتاع منقولہ یاغیرمنقولہ چھوڑکرقضاکر گئے ان میں حصہ نثارحسین کاہوتا ہے یانہیںکیاہمارے بھائیوں کوشرعا جائزہے کہ ہم بہنوں کاحصہ شرعی ہضم کرکے نثار حسین کومساوی یااپنے سے کم وبیش حصہ دے دیں کاش وہ لوگ غلطی سے اگرایسی کارروائی کرگزرے ہوں تو کیایہ غلط تقسیم خلاف شرع اور قابل استردادنہیں ہے اورکیا اس غلط کارروائی سے شرعا ہم لوگوں کاشرعی حصہ سوخت ہوسکتاہے
الجواب:
باپ کے مال میں بیٹیوں کاحق بنص قرآن قطعی قرآن ہے جسے کوئی ردنہیں کرسکتابیٹوں نے اگر بیٹیوں کوحصہ نہ دیا کل آپ نے لے لیا یابعض کسی غیروارث کودے دیا تویہ ضرورظلم ہے اوروہ تقسیم واجب الرد۔نثارحسین اس مسئلہ میں محجوب الارث ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
سوال۲:شیخ امیربخش مرحوم نے جس وقت اپنے فرزند اصغرحسین کوجداکیاتجارتی مال میں پانچواں حصہ دیااس عملی کارروائی سے صاف معلوم ہوتاہے کہ شیخ صاحب مرحوم کو اپنے فرزند زادہ یعنی نثارحسین کوباوجودمحجوب ہونے کے حصہ دینامنظورتھا ورنہ اصگرحسین کوپانچواں حصہ نہ دیتے بلکہ چوتھائی حصہ دیتے کیونکہ لڑکے چارہی موجودتھے ونیز بعد وفات امیربخش صاحب کے جب نثارحسین کے چچالوگوں نے ترکہ تقسیم کیاتونثارحسین کابھی ایك حصہ اپنے برابر دے دیااس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ شیخ امیربخش مرحوم کے ارادہ کو ان کے لڑکوں نے باوجود خودمختار ہونے کے قبول اورمنظورکرلیا۔اس صورت میں جوحصہ نثارحسین کے قبضہ میں آگیا وہ اس کے شرعا مالك ہوگئے یانہیں
الجواب:
وراثت میں نہ نیت واردہ مورث کودخل ہے نہ بعض ورثہ کے عمل کوان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ (بیشك اﷲ تعالی نے ہر حقدار کو اس کاحق عطافرمادیاہے۔ت)بہنوں کے
تنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ جلیسن بی بی وصحیبن بی بی دختران شیخ امیربخش صاحب مرحوم
سوال۱:جناب والدصاحب مرحوم نے(یعنی شیخ امیرحسن صاحب مرحوم نے)جومال ومتاع منقولہ یاغیرمنقولہ چھوڑکرقضاکر گئے ان میں حصہ نثارحسین کاہوتا ہے یانہیںکیاہمارے بھائیوں کوشرعا جائزہے کہ ہم بہنوں کاحصہ شرعی ہضم کرکے نثار حسین کومساوی یااپنے سے کم وبیش حصہ دے دیں کاش وہ لوگ غلطی سے اگرایسی کارروائی کرگزرے ہوں تو کیایہ غلط تقسیم خلاف شرع اور قابل استردادنہیں ہے اورکیا اس غلط کارروائی سے شرعا ہم لوگوں کاشرعی حصہ سوخت ہوسکتاہے
الجواب:
باپ کے مال میں بیٹیوں کاحق بنص قرآن قطعی قرآن ہے جسے کوئی ردنہیں کرسکتابیٹوں نے اگر بیٹیوں کوحصہ نہ دیا کل آپ نے لے لیا یابعض کسی غیروارث کودے دیا تویہ ضرورظلم ہے اوروہ تقسیم واجب الرد۔نثارحسین اس مسئلہ میں محجوب الارث ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
سوال۲:شیخ امیربخش مرحوم نے جس وقت اپنے فرزند اصغرحسین کوجداکیاتجارتی مال میں پانچواں حصہ دیااس عملی کارروائی سے صاف معلوم ہوتاہے کہ شیخ صاحب مرحوم کو اپنے فرزند زادہ یعنی نثارحسین کوباوجودمحجوب ہونے کے حصہ دینامنظورتھا ورنہ اصگرحسین کوپانچواں حصہ نہ دیتے بلکہ چوتھائی حصہ دیتے کیونکہ لڑکے چارہی موجودتھے ونیز بعد وفات امیربخش صاحب کے جب نثارحسین کے چچالوگوں نے ترکہ تقسیم کیاتونثارحسین کابھی ایك حصہ اپنے برابر دے دیااس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ شیخ امیربخش مرحوم کے ارادہ کو ان کے لڑکوں نے باوجود خودمختار ہونے کے قبول اورمنظورکرلیا۔اس صورت میں جوحصہ نثارحسین کے قبضہ میں آگیا وہ اس کے شرعا مالك ہوگئے یانہیں
الجواب:
وراثت میں نہ نیت واردہ مورث کودخل ہے نہ بعض ورثہ کے عمل کوان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ (بیشك اﷲ تعالی نے ہر حقدار کو اس کاحق عطافرمادیاہے۔ت)بہنوں کے
حوالہ / References
کنزالعمال ∞حدیث ۴۶۰۵۶ و ۴۶۰۵۷€ المؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۶۱۴€
حصہ کا نثارحسین بے ان کی اجازت کے کسی طرح مالك نہیں ہوسکتااوربھائیوں کے حصہ کی تفصیل وہ ہے جو ابھی گزری۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۹: ازضلع کانپورڈاکخانہ موسی نگر موضع چاندپور مسئولہ عبدالحق کاشت کارموروثی بتاریخ ۱۷صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
بعد مرجانے عورت کے مہرکاروپیہ کس کودیناچاہئے کس کاحق ہوتاہے اوراگرحق تحریر کیاجائے توافضل کون شخص ہوتاہے جس کو مہراداکیاجائے
الجواب:
مہرمیراث ہے اورمیراث میں افضل وغیرافضل نہیں دیکھے جاتے جس کاجتنا حق حضرت حق عزوجل جلالہ نے مقررفرمادیاوہ اسے دینالازم ہے اور وہ خود اس کے لینے پرمجبورہے الارث جبری لایسقط بالاسقاط(میراث جبری ہے(اختیاری نہیں)لہذا ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ تا۱۶۲: مرزابیگ مسئولہ محمدمحی الدین موضع چاندیانہ ضلع بلندشہر روزیك شنبہ بتاریخ ۲۵صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
ایك مسلمان بدمذہب حنفی قتل ہوا اورقاتل ایك مرد اوردوسری اس کی زوجہ قراردئیےمردکے ذمہ قتل کرنا اورعورت کے ذمہ قتل کرانے کاالزام عائد ہوکر قاتل کوحکم موت اورعورت کو بعبور دریائے شور کی سزا دی گئیچونکہ عورت حاملہ متروکہ مقتول پرشمول پسران متوفی کے زوج کے نام بھی حصہ شرعی درج کاغذات ہواکیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ زوج مقتول کومحض شبہہ میں بلاشہادت عینی کے عدالت سے سزاہوئی توکیاترکہ مقتول میں حصہ شرعی ومہریابی کے مستحق ہے یا نہیں
دوم:قتل کے واسطے شہادت چشم دید یاشبہہ کے حالات میں شرعا گواہی واجب ہے کیا
سوم:بعد مقتول جولڑکا زوجہ کے پیداہوا وہ بھی مستحق ترکہ مقتول سے حصہ یابی کاہے یانہیں فقط
الجواب:
بچہ اگرموت پدرسے دوبرس کے اندرپیداہواوارث ہوگایہ توپانچ ہی مہینے کے اندر
مسئلہ ۱۵۹: ازضلع کانپورڈاکخانہ موسی نگر موضع چاندپور مسئولہ عبدالحق کاشت کارموروثی بتاریخ ۱۷صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
بعد مرجانے عورت کے مہرکاروپیہ کس کودیناچاہئے کس کاحق ہوتاہے اوراگرحق تحریر کیاجائے توافضل کون شخص ہوتاہے جس کو مہراداکیاجائے
الجواب:
مہرمیراث ہے اورمیراث میں افضل وغیرافضل نہیں دیکھے جاتے جس کاجتنا حق حضرت حق عزوجل جلالہ نے مقررفرمادیاوہ اسے دینالازم ہے اور وہ خود اس کے لینے پرمجبورہے الارث جبری لایسقط بالاسقاط(میراث جبری ہے(اختیاری نہیں)لہذا ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰ تا۱۶۲: مرزابیگ مسئولہ محمدمحی الدین موضع چاندیانہ ضلع بلندشہر روزیك شنبہ بتاریخ ۲۵صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
ایك مسلمان بدمذہب حنفی قتل ہوا اورقاتل ایك مرد اوردوسری اس کی زوجہ قراردئیےمردکے ذمہ قتل کرنا اورعورت کے ذمہ قتل کرانے کاالزام عائد ہوکر قاتل کوحکم موت اورعورت کو بعبور دریائے شور کی سزا دی گئیچونکہ عورت حاملہ متروکہ مقتول پرشمول پسران متوفی کے زوج کے نام بھی حصہ شرعی درج کاغذات ہواکیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ زوج مقتول کومحض شبہہ میں بلاشہادت عینی کے عدالت سے سزاہوئی توکیاترکہ مقتول میں حصہ شرعی ومہریابی کے مستحق ہے یا نہیں
دوم:قتل کے واسطے شہادت چشم دید یاشبہہ کے حالات میں شرعا گواہی واجب ہے کیا
سوم:بعد مقتول جولڑکا زوجہ کے پیداہوا وہ بھی مستحق ترکہ مقتول سے حصہ یابی کاہے یانہیں فقط
الجواب:
بچہ اگرموت پدرسے دوبرس کے اندرپیداہواوارث ہوگایہ توپانچ ہی مہینے کے اندر
پیداہواضرور وارث ہےاورعورت اگرقتل بھی کرتی مہرنہ ساقط ہوتا لانہ دین واجب لایسقط بالقتل(کیونکہ وہ دین واجب ہے جو قتل کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا۔ت)ہاں اگرخود قتل کرتی تومیراث نہ پاتی۔رہا اس کے ثبوت گویاعورت کااقرارہونا یادوسرے ثقہ عادل کی شہادت معائنہ بغیر اس کے ثبوت قتل نہ ہوتا یہاں تو اسے سزابھی قتل کرنے کے جرم میں نہ ہوتی بلکہ قتل کرانے کےاگرواقع میں اس نے قتل کرایابھی ہوتو قتل کرنا میراث سے محروم کرتاہے۔عالمگیریہ میں ہے:
التسبب الی القتل لایحرم المیراث۔ قتل کاسبب بننامیراث سے محروم نہیں کرتا۔(ت)
بہرحال بچہ بھی وارث ہے اورعورت بھی مہرپائے گی اوربعدمہرودیگر دیون ترکہ سے آٹھواں حصہ میراث بھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: مسئولہ عبداﷲ ازبریلی محلہ گلاب نگر ۱۹/ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ بروزسہ شنبہ
کیاحکم فرماتے ہیں حضرات علمائے دین اسلام ادام اﷲ برکاتہم مسئلہ ذیل میں کہ مسماۃ زبیدہ مطلقہ نے اپنا عقد ثالث ساتھ مسمی عبداﷲ کے بمہرشرعی جس کی تعداد چارسودرھم چاندی وقت عقد وکیل نے قائم کردی تھی کیا۔مسمی عبداﷲ مبلغ پانچسو روپیہ کاپہلے سے قرضدارتھا جب مسماۃ زبیدہ کوحال مقروضی شوہرمعلوم ہواتواپنا مہربخشنے پرازخود آمادہ ہوئی شوہر نے آئندہ وقت پرملتوی رکھامسماۃ ساڑھے تین ماہ عبداﷲ کے گھر زندہ رہی جب بیمارہوئی عبداﷲ کو روپیہ قرض لے کرعلاج کرانے سے منع کرتی تھیعلاج ہوا مگرمرگئیمتوفیہ کے وارث ایك شوہر ایك بیٹی جوان جودوسرے شوہرسے پیداتھی اورایك بہن دوحقیقی بھائی ہیں۔قبل وفات اپنے شوہر سے چھ روزہ کاکفارہ دے دینے کوکہا اورباوجوددریافت اپنے مہر کی بابت کچھ وصیت نہ کی اور اپنی بیٹی اپنی بہن کے سپرد کی اس کاباپ اسی شہر میں موجودتھا وقت وفات اس کے ایك بہن ایك بیوی موجود تھی بعد وفات انہوں نے کہا کہ گوروکفن فاتحہ خیرات اچھی طرح ہوناچاہئےعبداﷲ نے کہا کہ میں مقروض ہوں مگرمہر اس کامیرے ذمہ ضرورچاہئے مقدارمہر تم چاہو تو میں روپیہ قرض لے کر گوروکفن اورفاتحہ خیرات حسب مرضی تمہاری کردوں توانہوں نے رضامندی اپنی ظاہر کی تو عبداﷲ نے روپیہ قرض لے کرگوروکفن وکفارہ وخیرات بروزدفن(۰۱/عہ)اورفاتحہ سوم میں(۸/ہہ) اور
التسبب الی القتل لایحرم المیراث۔ قتل کاسبب بننامیراث سے محروم نہیں کرتا۔(ت)
بہرحال بچہ بھی وارث ہے اورعورت بھی مہرپائے گی اوربعدمہرودیگر دیون ترکہ سے آٹھواں حصہ میراث بھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: مسئولہ عبداﷲ ازبریلی محلہ گلاب نگر ۱۹/ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ بروزسہ شنبہ
کیاحکم فرماتے ہیں حضرات علمائے دین اسلام ادام اﷲ برکاتہم مسئلہ ذیل میں کہ مسماۃ زبیدہ مطلقہ نے اپنا عقد ثالث ساتھ مسمی عبداﷲ کے بمہرشرعی جس کی تعداد چارسودرھم چاندی وقت عقد وکیل نے قائم کردی تھی کیا۔مسمی عبداﷲ مبلغ پانچسو روپیہ کاپہلے سے قرضدارتھا جب مسماۃ زبیدہ کوحال مقروضی شوہرمعلوم ہواتواپنا مہربخشنے پرازخود آمادہ ہوئی شوہر نے آئندہ وقت پرملتوی رکھامسماۃ ساڑھے تین ماہ عبداﷲ کے گھر زندہ رہی جب بیمارہوئی عبداﷲ کو روپیہ قرض لے کرعلاج کرانے سے منع کرتی تھیعلاج ہوا مگرمرگئیمتوفیہ کے وارث ایك شوہر ایك بیٹی جوان جودوسرے شوہرسے پیداتھی اورایك بہن دوحقیقی بھائی ہیں۔قبل وفات اپنے شوہر سے چھ روزہ کاکفارہ دے دینے کوکہا اورباوجوددریافت اپنے مہر کی بابت کچھ وصیت نہ کی اور اپنی بیٹی اپنی بہن کے سپرد کی اس کاباپ اسی شہر میں موجودتھا وقت وفات اس کے ایك بہن ایك بیوی موجود تھی بعد وفات انہوں نے کہا کہ گوروکفن فاتحہ خیرات اچھی طرح ہوناچاہئےعبداﷲ نے کہا کہ میں مقروض ہوں مگرمہر اس کامیرے ذمہ ضرورچاہئے مقدارمہر تم چاہو تو میں روپیہ قرض لے کر گوروکفن اورفاتحہ خیرات حسب مرضی تمہاری کردوں توانہوں نے رضامندی اپنی ظاہر کی تو عبداﷲ نے روپیہ قرض لے کرگوروکفن وکفارہ وخیرات بروزدفن(۰۱/عہ)اورفاتحہ سوم میں(۸/ہہ) اور
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس فی الموانع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۴€
فاتحہ چہلم میں(۲/عہ)اورسہ ماہی اور شش ماہی میں(۰۱۵/لعہ)صرف کرکے کھانا پکاکرقبروں پریتیموں اورمساکین کودیاگیا اوردوجوڑے پارچہ جدیدتیارکرکے دئیے گئے جملہ(۰۱۱/صہ لعہ)فاتحہ وخیرات میں بہ نیت ادائے دین مہرصرف کیا (۰۱۲عہ) منجملہ ایك سوبارہ روپے آٹھ آنہ دین مہرباقی ہیں اورمتوفیہ نے قبل وفات یہ کہاتھا کہ میری بیٹی کاخیال رکھنا چنانچہ(۱۱صہ للعہ) کاپارچہ پوشیدنی جووقت ولیمہ نکاح متوفیہ کی قرض لے کربنایاتھا اورکچھ پارچہ اورجو اس کودیاتھا جملہ(ال ہہ صہ)بمنشائے متوفیہ اس کی بیٹی کودے دیااوردیگر پارچہ فخاجان کودئیے گئے متوفیہ کاترکہ صرف چارسودرھم چاندی جس کے(ماعہ ۳عہ) ہوتے ہیں تھا اورکچھ زیورونقد نہ تھا۔فتوی یہ طلب ہے کہ مہرکے ترکہ میں ورثاء کاکتناکتناحصہ شرعی تھا اورصرفہ گوروکفن وفاتحہ وخیرات میں جوشوہر نے بمرضی بہن و بیٹی متوفیہ قرض لے کر مبلغ(معہ لعہ ۰۱۱)صرف کیا اس قدرذمہ شوہرسے دین مہرادا ہوایانہیںاس کے وارثان نے ایك پیسہ فاتحہ خیرات میں صرف نہیں کیا بلکہ اپناخرچ بھی عبداﷲ پرڈالاتھا فقط۔
الجواب:
اگریہ بیان واقعی ہے کہ بیٹی اوربہن نے اس پررضامندی ظاہرکی تھی کہ مہرمیں سے یہ مصارف کردواوران کی اجازت سے یہ صرف ہوئے تویہ مصارف شوہراوربیٹی اوربہن کے حصص مہر پر پڑیں گے بھائی کہ اس اجازت سے الگ ہیں ان کے حصہ پرنہ پڑیں گے اور(لہ صہ)کاکپڑا جو زبیدہ کی دخترکودیاوہ صرف عبداﷲ کے حصہ پرہیں چارسودرھم چاندی یہاں کے سکہ سے پورے ایك سوبارہ(ماعہ عہ)روپے بھرہے آٹھ(۸/)اوپر زائدنہیں سائل نے دین مہرحساب میں گوروکفن وخیرات برقبر وتوشہ کفارہ ۶/روزہ رمضان المبارك میں(عہ ۱۱/)بتایا اس میں سے قبر کی خیرات اورتوشہ منہاکیاجائے گا باقی ضروری تھاکہ وارثوں پرتقسیم سے پہلے لازم تھا اس کے بعد جوکچھ بچا اس کے بیس حصہ ہوں گے پانچ شوہر کےدس۱۰ دخترکےدو۲ دو۲ ہربھائی کےایك بہن کااب جو توشہ وخیرات وسوم وچہلم وغیرہ میں صرف ہوا وہ جب کہ بیٹی اوربہن کی اجازت سے ہوا تو ان کے اورشوہر کے حصوں پرپڑے گا دونوں بھائیوں کوان کاحصہ پوراپورا دیاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴: ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ مرسلہ عبدالستار بروزچہارشنبہ تاریخ ۱۲/رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
مسلمان سنی المذہب ورثہ لیتے وقت بجائے قانون شریعت مطہرہ کے ہندویعنی مطابق
الجواب:
اگریہ بیان واقعی ہے کہ بیٹی اوربہن نے اس پررضامندی ظاہرکی تھی کہ مہرمیں سے یہ مصارف کردواوران کی اجازت سے یہ صرف ہوئے تویہ مصارف شوہراوربیٹی اوربہن کے حصص مہر پر پڑیں گے بھائی کہ اس اجازت سے الگ ہیں ان کے حصہ پرنہ پڑیں گے اور(لہ صہ)کاکپڑا جو زبیدہ کی دخترکودیاوہ صرف عبداﷲ کے حصہ پرہیں چارسودرھم چاندی یہاں کے سکہ سے پورے ایك سوبارہ(ماعہ عہ)روپے بھرہے آٹھ(۸/)اوپر زائدنہیں سائل نے دین مہرحساب میں گوروکفن وخیرات برقبر وتوشہ کفارہ ۶/روزہ رمضان المبارك میں(عہ ۱۱/)بتایا اس میں سے قبر کی خیرات اورتوشہ منہاکیاجائے گا باقی ضروری تھاکہ وارثوں پرتقسیم سے پہلے لازم تھا اس کے بعد جوکچھ بچا اس کے بیس حصہ ہوں گے پانچ شوہر کےدس۱۰ دخترکےدو۲ دو۲ ہربھائی کےایك بہن کااب جو توشہ وخیرات وسوم وچہلم وغیرہ میں صرف ہوا وہ جب کہ بیٹی اوربہن کی اجازت سے ہوا تو ان کے اورشوہر کے حصوں پرپڑے گا دونوں بھائیوں کوان کاحصہ پوراپورا دیاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴: ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ مرسلہ عبدالستار بروزچہارشنبہ تاریخ ۱۲/رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
مسلمان سنی المذہب ورثہ لیتے وقت بجائے قانون شریعت مطہرہ کے ہندویعنی مطابق
احکام مذہب ہنود کے جس سے بہت حقوق شرعی باطل ہوتے ہیں ورثہ لے یادے تو اس کے لئے کیاحکم ہے
الجواب:
قال اﷲ عزوجل:"الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ "" (اﷲ عزوجل نے فرمایا:)کیا تم انہیں نہیں دیکھتے جن کازبانی دعوی تویہ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پرجوتمہاری طرف اتارا گیا اورجوتم سے پہلے اتاراگیا پھر فیصلہ چاہتے ہیں کفر کا اور انہیں حکم تویہ تھا کہ اس سے انکارکریں اورشیطان چاہتاہے کہ انہیں گمراہ کرکے دورپھینك دے۔
جولوگ شریعت مطہرہ کے خلاف میراث مانگیں یالیں یابخوشی دیں یااس میں سعی کریں سب گمراہ ہیں اورعذاب شدید کے سزاواراوراگراسے پسند کریں تو کھلے کفاربہرحال وہ مال ان کے لئے حرام وقطعہ ناراورجومجبور ہوکردے وہ مظلوم ومعذور۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵: ازکوہ شملہ کفایت حسین یکشنبہ ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
ایك پھوپھی کاترکہ دوبھتیجوں کوبرابرملا جس میں سے ایك بھتیجے نے پھوپھی کی بیماری کا خرچ اورتجہیزوتکفین کاخرچ مع برسی تك کاخرچ اپنے پاس سے کیا قریب ایك سوروپیہ کے اب نصف روپیہ دوسرے بھتیجے کواداکرنا واجب ہے یانہیں فقط۔
الجواب:
یہ اس نے اپنی خوشی سے اٹھایا دوسرے بھتیجے پراس کانصف یا کوئی جزء دینالازم نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: ازبمبئی پوسٹ مانڈوی مکان چمناجی راجوبھائی پان والانمبر۲۸۔۱۳۲
ناگدیوی سٹریٹ مرسلہ مانك بھائی باپوبھائی ۱۳شوال ۱۳۳۵ھ
ایك شخص چمناجی دکھنی مسلمان فوت ہوگیا اس نے ایك عورت ایك لڑکا حسین میاں
الجواب:
قال اﷲ عزوجل:"الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ "" (اﷲ عزوجل نے فرمایا:)کیا تم انہیں نہیں دیکھتے جن کازبانی دعوی تویہ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پرجوتمہاری طرف اتارا گیا اورجوتم سے پہلے اتاراگیا پھر فیصلہ چاہتے ہیں کفر کا اور انہیں حکم تویہ تھا کہ اس سے انکارکریں اورشیطان چاہتاہے کہ انہیں گمراہ کرکے دورپھینك دے۔
جولوگ شریعت مطہرہ کے خلاف میراث مانگیں یالیں یابخوشی دیں یااس میں سعی کریں سب گمراہ ہیں اورعذاب شدید کے سزاواراوراگراسے پسند کریں تو کھلے کفاربہرحال وہ مال ان کے لئے حرام وقطعہ ناراورجومجبور ہوکردے وہ مظلوم ومعذور۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵: ازکوہ شملہ کفایت حسین یکشنبہ ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
ایك پھوپھی کاترکہ دوبھتیجوں کوبرابرملا جس میں سے ایك بھتیجے نے پھوپھی کی بیماری کا خرچ اورتجہیزوتکفین کاخرچ مع برسی تك کاخرچ اپنے پاس سے کیا قریب ایك سوروپیہ کے اب نصف روپیہ دوسرے بھتیجے کواداکرنا واجب ہے یانہیں فقط۔
الجواب:
یہ اس نے اپنی خوشی سے اٹھایا دوسرے بھتیجے پراس کانصف یا کوئی جزء دینالازم نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: ازبمبئی پوسٹ مانڈوی مکان چمناجی راجوبھائی پان والانمبر۲۸۔۱۳۲
ناگدیوی سٹریٹ مرسلہ مانك بھائی باپوبھائی ۱۳شوال ۱۳۳۵ھ
ایك شخص چمناجی دکھنی مسلمان فوت ہوگیا اس نے ایك عورت ایك لڑکا حسین میاں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۶۰€
ایك لڑکی لال بائی یہ تین وارث چھوڑے پھرعورت بھی گزرگئی اورکچھ عرصہ کے بعد لڑکابھی مرگیا حسین میاں مرحوم کے مرنے پراس کی بی بی شرعی طورپراپناحصہ لے کر الگ ہوگئی اس کے ماسوا اورجوحقدار نکلے سب کو ان کے حق کے مطابق ورثہ ملا لال بائی جوچمناجی کی بیٹی تھی وہ بھی اپناحصہ لے کر الگ ہوگئی پہلے لال بائی کاشوہر مرگیا پھر وہ مرگئی اس نے اپنا وارث ایك لڑکا ابراہیم چھوڑا ابراہیم بھی دوسال بعد مرگیا ابراہیم کے دوبیبیاں ہیں ایك بسم اﷲ ایك مریم نیزچمناجی کاسالاڈھونڈھی بھائی لال بھائی کے مرحوم مرد کاماموں قاسم حاشہ یایہ دونوں دعوی کرتے ہوئے مرگئےاب ان دونوں کے دولڑکے دعوی کرناچاہتے ہیں لہذا اس مسئلہ میں کیا حکم شرع ہے آخروارث ابراہیم ہوا اس نے کوئی اولاد یا بھائی بہن وغیرہ نہ چھوڑا صرف دو۲ بی بی ہیں لہذا کس طرح حق ہوتا ہے اور فی ہزارکیا ہرحقدار کانکلے گا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سوال میں رشتے بہت بعیدالفاظ مجمل محتمل سے لکھے ہیں ڈھونڈھی بھائی کوچمناجی کاسالا لکھاممکن کہ وہ لال بائی کاماموں ہو اور ممکن کہ چمناجی کی کسی اورعورت کابھائی ہو جسے لال بائی سے کوئی علاقہ نہیں یوں ہی قاسم حاشہ کولال بی کے شوہر کاماموں لکھا۔محتمل کہ وہ ابراہیم کے باپ کا ماموں ہو یاکسی دوسرے شوہرکامگرسوال میں نہ چمناجی کی کوئی اورعورت لکھی ہے۔نہ لال بائی کادوسرا نکاح بتایا جس سے ظاہر یہی ہے کہ ڈھونڈھے بھائی ابراہیم کی ماں کاماموں ہے اورقاسم حاشہ ابراہیم کے باپ کا ماموںاگرواقعہ اسی طرح ہے اوران کے سوا اورکوئی وارث نہیں تو بعدتقدیم حقوق مقدمہ مثل مہرہردوزوجہ وغیرہ ابراہیم کا ترکہ آٹھ سہم ہوکر ایك ایك سہم ہرزوجہ اورچارسہم قاسم حاشہ اوردوسہم ڈھونڈے بھائی کوملیں گے یعنی دونوں عورتوں کامہر جس قدر ذمہ ابراہیم لازم رہا اور اس کے سوا اورجودین ابراہیم پرہو اول اداکریں۔پھرجوبچے اس کے تہائی سے ابراہیم نے اگر کوئی جائزوصیت کی ہو نافذکریں باقی مال میں فی ہزار ایك سوپچیس روپے ایك بی بی کوایك سوپچیس روپے دوسری بی بی کو اور پانچ سوپچیس ۵۲۵روپے قاسم حاشہ کو ڈھائی سوڈھونڈے بھائی کودیں۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے:
ثم عمات الاباء والامہات واخوالھم وخالاتھم واذا استووا فی درجۃ واتحدت الجہۃ قدم پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاںان کے ماموں اور ان کی خالائیں ہیں۔جب ذوی الارحام درجے میں برابرہوں اورقرابت
الجواب:
سوال میں رشتے بہت بعیدالفاظ مجمل محتمل سے لکھے ہیں ڈھونڈھی بھائی کوچمناجی کاسالا لکھاممکن کہ وہ لال بائی کاماموں ہو اور ممکن کہ چمناجی کی کسی اورعورت کابھائی ہو جسے لال بائی سے کوئی علاقہ نہیں یوں ہی قاسم حاشہ کولال بی کے شوہر کاماموں لکھا۔محتمل کہ وہ ابراہیم کے باپ کا ماموں ہو یاکسی دوسرے شوہرکامگرسوال میں نہ چمناجی کی کوئی اورعورت لکھی ہے۔نہ لال بائی کادوسرا نکاح بتایا جس سے ظاہر یہی ہے کہ ڈھونڈھے بھائی ابراہیم کی ماں کاماموں ہے اورقاسم حاشہ ابراہیم کے باپ کا ماموںاگرواقعہ اسی طرح ہے اوران کے سوا اورکوئی وارث نہیں تو بعدتقدیم حقوق مقدمہ مثل مہرہردوزوجہ وغیرہ ابراہیم کا ترکہ آٹھ سہم ہوکر ایك ایك سہم ہرزوجہ اورچارسہم قاسم حاشہ اوردوسہم ڈھونڈے بھائی کوملیں گے یعنی دونوں عورتوں کامہر جس قدر ذمہ ابراہیم لازم رہا اور اس کے سوا اورجودین ابراہیم پرہو اول اداکریں۔پھرجوبچے اس کے تہائی سے ابراہیم نے اگر کوئی جائزوصیت کی ہو نافذکریں باقی مال میں فی ہزار ایك سوپچیس روپے ایك بی بی کوایك سوپچیس روپے دوسری بی بی کو اور پانچ سوپچیس ۵۲۵روپے قاسم حاشہ کو ڈھائی سوڈھونڈے بھائی کودیں۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے:
ثم عمات الاباء والامہات واخوالھم وخالاتھم واذا استووا فی درجۃ واتحدت الجہۃ قدم پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاںان کے ماموں اور ان کی خالائیں ہیں۔جب ذوی الارحام درجے میں برابرہوں اورقرابت
ولدالوارث فلو اختلف فلقرابۃ الاب الثلثان ولقرابۃ الام الثلث ۔ کی جہت بھی متحد ہوتو وارث کی اولاد مقدم کی جائے گیاوراگرقرابت کی جہت مختلف ہو تو باپ کی قرابت والوں کے لئے میت کے ترکہ میں سے دوتہائی اورماں کی قرابت والوں کے لئے ایك تہائی ہوگی۔(ت)واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۶۷: ازعلی گڑھ محلہ سرائے بی بی مرسلہ حافظ عبداللطیف صاحب مورخہ ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان حنفی المذہب اپنے لڑکے مسلمان حافظ قرآن پابندصوم وصلوۃ کوکسی وجہ سے عاق کردے تویہ حافظ قرآن عاق ہوجائے گا یانہیں اوراپنے والد کاترکہ پائے گا یانہیں اوربہ تقدیر پانے اور نہ پانے کے اس کاثبوت قرآن وحدیث سے بیان فرمائیے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
عاق ہونا نہ ہونا اولاد کے فعل پرہے جوبلاوجہ شرعی ماں یاباپ کوایذادے وہ عاق ہے اگرچہ ماں باپ اس سے راضی ہوں ورنہ نہیں اگرچہ ماں باپ بلاوجہ اس سے ناراض ہوں۔ماں یاباپ کا عاق کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔عوام کے خیال میں یہ ہے کہ اولاد کو عاق کرنا ایسا ہے جیسا عورت کو طلاق دیناطلاق دینے سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہےیونہی ماں باپ کے عاق کرنے سے اولاد اولاد ہونے سے خارج اورترکہ سے محروم ہوجاتی ہےیہ محض باطل ہےاولاد کسی طرح اولاد ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی سواکفرکے۔والعیاذباﷲ تعالی۔اور کسی طرح ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی سوا موانع خمسہ معلومہ کے کہ دین مختلف ہو یادارمختلف یامملوك ہو یامعاذاﷲ مورث کو قتل کرے یادونوں کااس طرح انتقال ہو کہ معلوم نہ ہو ان میں پہلے کون مراان کے سوا وہی عام حکم ہے کہ:
"یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے حصے کے برابرہے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۶۷: ازعلی گڑھ محلہ سرائے بی بی مرسلہ حافظ عبداللطیف صاحب مورخہ ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان حنفی المذہب اپنے لڑکے مسلمان حافظ قرآن پابندصوم وصلوۃ کوکسی وجہ سے عاق کردے تویہ حافظ قرآن عاق ہوجائے گا یانہیں اوراپنے والد کاترکہ پائے گا یانہیں اوربہ تقدیر پانے اور نہ پانے کے اس کاثبوت قرآن وحدیث سے بیان فرمائیے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
عاق ہونا نہ ہونا اولاد کے فعل پرہے جوبلاوجہ شرعی ماں یاباپ کوایذادے وہ عاق ہے اگرچہ ماں باپ اس سے راضی ہوں ورنہ نہیں اگرچہ ماں باپ بلاوجہ اس سے ناراض ہوں۔ماں یاباپ کا عاق کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔عوام کے خیال میں یہ ہے کہ اولاد کو عاق کرنا ایسا ہے جیسا عورت کو طلاق دیناطلاق دینے سے عورت نکاح سے نکل جاتی ہےیونہی ماں باپ کے عاق کرنے سے اولاد اولاد ہونے سے خارج اورترکہ سے محروم ہوجاتی ہےیہ محض باطل ہےاولاد کسی طرح اولاد ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی سواکفرکے۔والعیاذباﷲ تعالی۔اور کسی طرح ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی سوا موانع خمسہ معلومہ کے کہ دین مختلف ہو یادارمختلف یامملوك ہو یامعاذاﷲ مورث کو قتل کرے یادونوں کااس طرح انتقال ہو کہ معلوم نہ ہو ان میں پہلے کون مراان کے سوا وہی عام حکم ہے کہ:
"یوصیکم اللہ فی اولدکم ٭ للذکر مثل حظ الانثیین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے حصے کے برابرہے۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۱€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۱€
مسئلہ ۱۶۸: ازقصبہ سانگودسوائے بادھپور مدرسہ انجمن اسلامیہ ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خاں مہتمم انجمن ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
ایك شخص متوفی کی جائداد قیمتی(سہ ۳۰۰)روپے ایك شخص کے پاس ایك صدروپے میں رہن ہے اورمتوفی کاکوئی اصلی وارث نہیں ہے توکارروائی بیع کی کس کے ساتھ کی جائے گی
الجواب:
بحکم حاکم شرع فقراء کے ساتھ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۳: مرسلہ مولوی محمدظہورحسین صاحب فاروقی رام پوری ۵ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)زیدنے اپنی زندگی کے وقت دونکاح کئےزوجہ اولی کاانتقال زید کے سامنے ہوابعد عقدثانی زیدنے انتقال کیا اورایك مکان قیمتی تین چار سوروپے کاچھوڑا۔زوجہ اولی کادین مہرڈھائی ہزارروپے کاتھا اورزوجہ ثانیہ کانوسوروپے کا۔زوجہ ثانیہ خود موجودہے اورزوجہ اولی کے ورثہ میں تین بھائیایك بہندوبھتیجیاںایك زوج یعنی زیدمرحوم کاکہ جس کی وارث اس وقت زوجہ ثانیہ ہے۔ایسی صورت میں کیامکان مذکور کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اولا دونوں دین مہروں میں مکان نصف نصف ہوجائے گا من بعد نصف ثانی جوزوجہ اولی کاحصہ ہے اس میں سے بحق زوجیت زید کو نصف ملے گا اوریہ نصف زوجہ ثانیہ کی طرف منتقل ہو جائے گا باقی ایك ربع جورہے گا وہ زوجہ اولی کے ورثہ میں تقسیم ہوجائے گا۔
(۲)ایسی حالت میں کہ مکان متروکہ زیددونوں دین مہر سے قیمتا کم ہے کل مکان دونوں دین مہروں میں مستغرق ہوکرنصف نصف ہوگا یاجس زوجہ کادین مہرنوسوکاہے اس کومکان مذکور میں سے ایك حصہ اورجس کادین مہرڈھائی ہزار کاہے اس کے ورثہ کوباقی مکان ملے گا تقسیم ورثہ کی اس وقت کیاصورت ہوگی
(۳)یہ کہ زید کی تجہیزوتکفین اورزوجہ ثانیہ کی عدت وچارماہ تك فاتحہ وغیرہ کاخرچ جومجموعہ تین سو روپیہ کا ہوا وہ اسی مکان سے لیاجائے گا یانہیں
(۴)زیدنے اپنے حین حیات جوکچھ خرچ اورروپیہ زوجہ ثانیہ کے ہاتھ میں دیا وہ اس کے واسطے ہبہ تھا یانہیں اور اس روپے سے جواسباب زوجہ ثانیہ اپنے استعمال کا جیسے کپڑا
ایك شخص متوفی کی جائداد قیمتی(سہ ۳۰۰)روپے ایك شخص کے پاس ایك صدروپے میں رہن ہے اورمتوفی کاکوئی اصلی وارث نہیں ہے توکارروائی بیع کی کس کے ساتھ کی جائے گی
الجواب:
بحکم حاکم شرع فقراء کے ساتھ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹ تا ۱۷۳: مرسلہ مولوی محمدظہورحسین صاحب فاروقی رام پوری ۵ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)زیدنے اپنی زندگی کے وقت دونکاح کئےزوجہ اولی کاانتقال زید کے سامنے ہوابعد عقدثانی زیدنے انتقال کیا اورایك مکان قیمتی تین چار سوروپے کاچھوڑا۔زوجہ اولی کادین مہرڈھائی ہزارروپے کاتھا اورزوجہ ثانیہ کانوسوروپے کا۔زوجہ ثانیہ خود موجودہے اورزوجہ اولی کے ورثہ میں تین بھائیایك بہندوبھتیجیاںایك زوج یعنی زیدمرحوم کاکہ جس کی وارث اس وقت زوجہ ثانیہ ہے۔ایسی صورت میں کیامکان مذکور کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اولا دونوں دین مہروں میں مکان نصف نصف ہوجائے گا من بعد نصف ثانی جوزوجہ اولی کاحصہ ہے اس میں سے بحق زوجیت زید کو نصف ملے گا اوریہ نصف زوجہ ثانیہ کی طرف منتقل ہو جائے گا باقی ایك ربع جورہے گا وہ زوجہ اولی کے ورثہ میں تقسیم ہوجائے گا۔
(۲)ایسی حالت میں کہ مکان متروکہ زیددونوں دین مہر سے قیمتا کم ہے کل مکان دونوں دین مہروں میں مستغرق ہوکرنصف نصف ہوگا یاجس زوجہ کادین مہرنوسوکاہے اس کومکان مذکور میں سے ایك حصہ اورجس کادین مہرڈھائی ہزار کاہے اس کے ورثہ کوباقی مکان ملے گا تقسیم ورثہ کی اس وقت کیاصورت ہوگی
(۳)یہ کہ زید کی تجہیزوتکفین اورزوجہ ثانیہ کی عدت وچارماہ تك فاتحہ وغیرہ کاخرچ جومجموعہ تین سو روپیہ کا ہوا وہ اسی مکان سے لیاجائے گا یانہیں
(۴)زیدنے اپنے حین حیات جوکچھ خرچ اورروپیہ زوجہ ثانیہ کے ہاتھ میں دیا وہ اس کے واسطے ہبہ تھا یانہیں اور اس روپے سے جواسباب زوجہ ثانیہ اپنے استعمال کا جیسے کپڑا
زیوروغیرہ جوخاص عورتوں کے استعمال کاہے کیا اس کی بھی تقسیم ہوگی
(۵)زید کی زوجہ اولی کااسباب اس قسم کاتقسیم ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
زوجہ اولی جوجہیزلائی وہ اس کامتروکہ ہے حسب شرائط فرائض اس میں سے نصف شوہرکاہےجوکچھ روپیہ زید نے زوجہ اولی یا ثانیہ کودیااگر تملیکا دیا اس کی مالك زوجات ہیں اور اس سے جواسباب خریدا انہیں کاہے اوراگرتملیکا نہ دیا گھرکے خرچ کے لئے دیا اورعورات کو حسب دستور اسباب خانگی خریدنے کی اجازت دی تو وہ اسباب اورجتنا روپیہ بچاہو سب ملك زید ہے۔بیان سائل سے معلوم ہواکہ تجہیزوتکفین میں صرف پندرہ۱۵ روپے خرچ ہوئے باقی فاتحہ وخرچ عدت ہے خرچ عدت تو زوجہ کسی سے مجرا نہیں لے سکتی کہ معتدہ وفات کے لئے نفقہ نہیں یوں ہی جوکچھ فاتحہ میں اٹھایا تبرع ہے اس کابھی معاوضہ نہیں پاسکتیہاں وہ پندرہ۱۵ کہ تجہیزوتکفین میں اٹھے ازانجاکہ زوجہ وارثہ ہے اوروارث کہ تجہیزوتکفین کرے مجراپاتاہے یہ پندرہ پائے گی مگر اس وجہ سے کہ تجہیزوتکفین جوہرحق پرمقدم تھی ہوچکی زوجہ کامطالبہ باقی رہاتویہ پندرہ۱۵ بھی دین میں آگئے اور اس کادین نوسوپندرہ۹۱۵ روپے ہوئے اورزوجہ اولی کانصف مہربحق شوہر ساقط ہوکر اس کادین ساڑھے بارہ سو۱۲۵۰روپے ہوئے مجموع دین اکیس سوپینسٹھ۲۱۶۵ روپے ہیں متروکہ زیدکہ تین چارسوکامکان ہے اگر اس زرواسباب وغیرہ سے مل کرجو اسے ترکہ زوجہ اولی سے ملایا دونوں زوجہ کے پاس اس کی اپنی ملك تھا اگراس مجموع کے برابر ہو اورزید پراورکوئی دین نہ ہو تو ۱۲۵۰ زوجہ اولی کے ورثہ کو دین اور۹۱۵ زوجہ ثانیہ کو۔اوراگر اس سے زائد ہے تودونوں دین پورے اداکرکے جوبچے اس کے ثلث سے وصیت اگرزیدنے کی ہو نافذ کرکے باقی سے ایك ربع زوجہ ثانیہ کودیں اورتین ربع اورجوکوئی وارث زید عصبات یاذوی الارحام سے ہو اسے دیں اورکوئی نہ ہو اور کسی کے لئے ثلث سے زائد کی وصیت کی ہو اس کی وصیت کی تکمیل کریں اگرچہ یہ تین ربع کل اس وصیت میں چلے جائیں اوراگرموصی لہ بھی کوئی نہ ہوتویہ تینوں ربع اوراگرہو اوراس کی وصیت پوری کرنے کے بعد بھی کچھ بچے تووہ باقی سب زوجہ ثانیہ کو دے دیں فان الازواج یردعلیھا عند عدم انتظام بیت المال(بیت المال منظم نہ ہونے کے وقت خاوند اوربیوی پررد کیاجائے گا۔ت)اوراگرکل متروکہ زید اس مجموع دین ۲۱۶۵ سے کم ہے اورزیدپر اوردین نہیں تو اس کا کل متروکہ چارسوتینتیس۴۳۳ سہام کرکے دوسوپچاس۲۵۰ سہم وارثان زوجہ اولی کودیں اورایك سوتراسی۱۸۳ سہم زوجہ ثانیہ کو۔اور
(۵)زید کی زوجہ اولی کااسباب اس قسم کاتقسیم ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
زوجہ اولی جوجہیزلائی وہ اس کامتروکہ ہے حسب شرائط فرائض اس میں سے نصف شوہرکاہےجوکچھ روپیہ زید نے زوجہ اولی یا ثانیہ کودیااگر تملیکا دیا اس کی مالك زوجات ہیں اور اس سے جواسباب خریدا انہیں کاہے اوراگرتملیکا نہ دیا گھرکے خرچ کے لئے دیا اورعورات کو حسب دستور اسباب خانگی خریدنے کی اجازت دی تو وہ اسباب اورجتنا روپیہ بچاہو سب ملك زید ہے۔بیان سائل سے معلوم ہواکہ تجہیزوتکفین میں صرف پندرہ۱۵ روپے خرچ ہوئے باقی فاتحہ وخرچ عدت ہے خرچ عدت تو زوجہ کسی سے مجرا نہیں لے سکتی کہ معتدہ وفات کے لئے نفقہ نہیں یوں ہی جوکچھ فاتحہ میں اٹھایا تبرع ہے اس کابھی معاوضہ نہیں پاسکتیہاں وہ پندرہ۱۵ کہ تجہیزوتکفین میں اٹھے ازانجاکہ زوجہ وارثہ ہے اوروارث کہ تجہیزوتکفین کرے مجراپاتاہے یہ پندرہ پائے گی مگر اس وجہ سے کہ تجہیزوتکفین جوہرحق پرمقدم تھی ہوچکی زوجہ کامطالبہ باقی رہاتویہ پندرہ۱۵ بھی دین میں آگئے اور اس کادین نوسوپندرہ۹۱۵ روپے ہوئے اورزوجہ اولی کانصف مہربحق شوہر ساقط ہوکر اس کادین ساڑھے بارہ سو۱۲۵۰روپے ہوئے مجموع دین اکیس سوپینسٹھ۲۱۶۵ روپے ہیں متروکہ زیدکہ تین چارسوکامکان ہے اگر اس زرواسباب وغیرہ سے مل کرجو اسے ترکہ زوجہ اولی سے ملایا دونوں زوجہ کے پاس اس کی اپنی ملك تھا اگراس مجموع کے برابر ہو اورزید پراورکوئی دین نہ ہو تو ۱۲۵۰ زوجہ اولی کے ورثہ کو دین اور۹۱۵ زوجہ ثانیہ کو۔اوراگر اس سے زائد ہے تودونوں دین پورے اداکرکے جوبچے اس کے ثلث سے وصیت اگرزیدنے کی ہو نافذ کرکے باقی سے ایك ربع زوجہ ثانیہ کودیں اورتین ربع اورجوکوئی وارث زید عصبات یاذوی الارحام سے ہو اسے دیں اورکوئی نہ ہو اور کسی کے لئے ثلث سے زائد کی وصیت کی ہو اس کی وصیت کی تکمیل کریں اگرچہ یہ تین ربع کل اس وصیت میں چلے جائیں اوراگرموصی لہ بھی کوئی نہ ہوتویہ تینوں ربع اوراگرہو اوراس کی وصیت پوری کرنے کے بعد بھی کچھ بچے تووہ باقی سب زوجہ ثانیہ کو دے دیں فان الازواج یردعلیھا عند عدم انتظام بیت المال(بیت المال منظم نہ ہونے کے وقت خاوند اوربیوی پررد کیاجائے گا۔ت)اوراگرکل متروکہ زید اس مجموع دین ۲۱۶۵ سے کم ہے اورزیدپر اوردین نہیں تو اس کا کل متروکہ چارسوتینتیس۴۳۳ سہام کرکے دوسوپچاس۲۵۰ سہم وارثان زوجہ اولی کودیں اورایك سوتراسی۱۸۳ سہم زوجہ ثانیہ کو۔اور
اس صورت میں اگریہ چاہیں کہ ورثہ زوجہ اولی پربھی ساتھ ہی تقسیم ہوجائے توکل متروکہ زیدتین ہزاراکتیس۳۰۳۱ سہم کرکے زوجہ اولی کے ہربھائی کو پانچ سوسہم بہن کو دوسوپچاس۲۵۰زوجہ ثانیہ کو بارہ سواکیاسی۱۲۸۱ دیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۴: ازاحمدآباد محلہ مرزاپور مرسلہ شاہ محمد مورخہ ۱۶/ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
جناب مخدومنا ومولانا مولوی احمدرضاخاں صاحبالسلام علیکم! واضح رائے عالی ہوکہ شہراحمدآبادمیں جماعت گاؤقصابوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکی اوربہن کوورثہ مال متروکہ میت سے کبھی کچھ نہیں دیاکرتے اور ان کامقولہ یہ ہے کہ لڑکی اوربہن کاورثہ میت کے مال میں سے کسی چیزمیں نہیں پہنچتا۔لہذا آپ پرفرض ہے کہ فتوی لکھ کرروانہ کریں تاکہ وارث اس شخص کی اپناپورا حق عدالت سے لڑکروصول کریں لہذا ٹکٹ(۳/)کی اس رجسٹری لفافہ میں ملفوف ہیںمولانا صاحب تخمینا پندرہ۱۵ سال کا عرصہ ہواکہ ایك رجسٹری سوال سود کے بارہ میں حضورکے یہاں روانہ کیاتھا مگربالکل جواب سے آپ نے مجھے محروم رکھاتھا شاید کہ آپ سے وہ استفتاء گم ہوگیاہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفقہائے متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص گزرگیا اس نے ایك لڑکی اوردوبہنیں حقیقی اورچاربھتیجے اورایك زوجہ چھوڑے۔اب ان میں کون کون سے وارث کوحق پہنچتاہے اورکون سے وارث محروم رہتے ہیں بینواحکم الکتاب توجروا بیوم الحساب(کتاب کاحکم بیان کرو قیامت کے دن اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض ترکہ اس شخص کاسولہ سہام ہوکردوسہم اس کی زوجہ اورآٹھ سہم دختر اورتین تین سہم ہربہن کوملیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم" پھراگرتمہاری اولادہوتو ان(بیویوں)کاتمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔(ت)
اورفرماتاہے:
مسئلہ ۱۷۴: ازاحمدآباد محلہ مرزاپور مرسلہ شاہ محمد مورخہ ۱۶/ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
جناب مخدومنا ومولانا مولوی احمدرضاخاں صاحبالسلام علیکم! واضح رائے عالی ہوکہ شہراحمدآبادمیں جماعت گاؤقصابوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکی اوربہن کوورثہ مال متروکہ میت سے کبھی کچھ نہیں دیاکرتے اور ان کامقولہ یہ ہے کہ لڑکی اوربہن کاورثہ میت کے مال میں سے کسی چیزمیں نہیں پہنچتا۔لہذا آپ پرفرض ہے کہ فتوی لکھ کرروانہ کریں تاکہ وارث اس شخص کی اپناپورا حق عدالت سے لڑکروصول کریں لہذا ٹکٹ(۳/)کی اس رجسٹری لفافہ میں ملفوف ہیںمولانا صاحب تخمینا پندرہ۱۵ سال کا عرصہ ہواکہ ایك رجسٹری سوال سود کے بارہ میں حضورکے یہاں روانہ کیاتھا مگربالکل جواب سے آپ نے مجھے محروم رکھاتھا شاید کہ آپ سے وہ استفتاء گم ہوگیاہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفقہائے متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص گزرگیا اس نے ایك لڑکی اوردوبہنیں حقیقی اورچاربھتیجے اورایك زوجہ چھوڑے۔اب ان میں کون کون سے وارث کوحق پہنچتاہے اورکون سے وارث محروم رہتے ہیں بینواحکم الکتاب توجروا بیوم الحساب(کتاب کاحکم بیان کرو قیامت کے دن اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض ترکہ اس شخص کاسولہ سہام ہوکردوسہم اس کی زوجہ اورآٹھ سہم دختر اورتین تین سہم ہربہن کوملیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم" پھراگرتمہاری اولادہوتو ان(بیویوں)کاتمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔(ت)
اورفرماتاہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۲€
"و ان کانت وحدۃ فلہا النصف " اوراگر ایك لڑکی ہوتواس کاحصہ آدھا ہے(یعنی ترکہ کانصف)۔ (ت)
حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجعلوا الاخوات مع البنات عصبۃ ۔ بہنوں کوبیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنادو(ت)
اوراﷲعزوجل فرماتاہے:
"واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ " اوررشتہ والے ایك سے دوسرے زیادہ نزدیك ہیں اﷲ کی کتاب میں۔(ت)
جولوگ بیٹیوں اوربہنوں کوترکہ نہیں دیتے قرآن مجید کے خلاف ہیںاورجن کایہ قول ہوکہ ان کومیت کے مال سے کچھ نہیں پہنچتا جس کے ظاہرمعنی یہ ہیں کہ ان کاترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا یہ صریح کلمہ کفرہےایسوں پرتوبہ فرض ہے نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اس کے بعد اپنی عورتوں سے نکاح دوبارہ کریں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۵۱۷۶: ازکراچی جھونہ مارکیٹ مرسلہ سیدکریم شاہ صاحب ۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس جماعت کے بارے میں جوکچھ عرصہ سے مسلمان ہوئے ہیں اور تمام احکام شریعت کو وہ تسلیم کرتے ہیں مگرقانون شریعت وراثت کے بالکل منکرہیں اوراپنے آباء قدیم ہنود کے قانون کوصراحۃ اپناقانون بتاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم اپنے آباء ہنود کے اس قانون وراثت کونہیں چھوڑسکتے اورکچہری میں بیان کیاہے کہ ہم مسلمان ہیں مگر شریعت محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کووراثت کے بارے میں تسلیم نہیں کرتے بلکہ ہندولایعنی قانون وراثت اہل ہنود کو اپناقانون تسلیم کرتے ہیں اور کچہری سے خواہش کرتے ہیں کہ ہمارے احکام وراثت ہندوقانون پرہونے چاہئیں۔
اس جماعت کے بارے میں شریعت کاکیاحکم ہےیہ لوگ منکرنص قرآن ہیں یانہیں
حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجعلوا الاخوات مع البنات عصبۃ ۔ بہنوں کوبیٹیوں کے ساتھ عصبہ بنادو(ت)
اوراﷲعزوجل فرماتاہے:
"واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتب اللہ " اوررشتہ والے ایك سے دوسرے زیادہ نزدیك ہیں اﷲ کی کتاب میں۔(ت)
جولوگ بیٹیوں اوربہنوں کوترکہ نہیں دیتے قرآن مجید کے خلاف ہیںاورجن کایہ قول ہوکہ ان کومیت کے مال سے کچھ نہیں پہنچتا جس کے ظاہرمعنی یہ ہیں کہ ان کاترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا یہ صریح کلمہ کفرہےایسوں پرتوبہ فرض ہے نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اس کے بعد اپنی عورتوں سے نکاح دوبارہ کریں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۵۱۷۶: ازکراچی جھونہ مارکیٹ مرسلہ سیدکریم شاہ صاحب ۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس جماعت کے بارے میں جوکچھ عرصہ سے مسلمان ہوئے ہیں اور تمام احکام شریعت کو وہ تسلیم کرتے ہیں مگرقانون شریعت وراثت کے بالکل منکرہیں اوراپنے آباء قدیم ہنود کے قانون کوصراحۃ اپناقانون بتاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم اپنے آباء ہنود کے اس قانون وراثت کونہیں چھوڑسکتے اورکچہری میں بیان کیاہے کہ ہم مسلمان ہیں مگر شریعت محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کووراثت کے بارے میں تسلیم نہیں کرتے بلکہ ہندولایعنی قانون وراثت اہل ہنود کو اپناقانون تسلیم کرتے ہیں اور کچہری سے خواہش کرتے ہیں کہ ہمارے احکام وراثت ہندوقانون پرہونے چاہئیں۔
اس جماعت کے بارے میں شریعت کاکیاحکم ہےیہ لوگ منکرنص قرآن ہیں یانہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۱€
سنن الدارمی کتاب الفرائض باب فی بنت واخت ∞حدیث ۲۸۸۴€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرہ ∞۲/ ۲۵۱،€السراجی فی المیراث فصل فی النساء ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۶€
القرآن الکریم ∞۸/ ۷۵€
سنن الدارمی کتاب الفرائض باب فی بنت واخت ∞حدیث ۲۸۸۴€ دارالمحاسن للطباعۃ القاھرہ ∞۲/ ۲۵۱،€السراجی فی المیراث فصل فی النساء ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۶€
القرآن الکریم ∞۸/ ۷۵€
اورجونص قرآن کوجان بوجھ کرنہ مانے وہ دائرہ اسلام میں رہ سکتاہے یانہیں قال اﷲ تعالی:
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾ " ۔ اور جو اﷲ تعالی کے اتارے پرحکم نہ کرے وہی لوگ کافرہیں۔ (ت)
سوال دوم:وہ لوگ جن کاسوال اول میں ذکرہے مسلمانوں کے اوقاف یامسجد دونوں کے متولی ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
یہ لوگ ہرگزمسلمان نہیںاگرمسلمان ہوئے بھی تھے تو دربارہ وارثت احکام شرعیہ ماننے سے انکارکرکے مرتد ہوگئےوہ نہ مسجد کے متولی کئے جاسکتے ہیں نہ اوقاف مسلمین کے۔
قال اﷲ تعالی" فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تواے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جوکچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اوردل سے مان لیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷۷: ازترگہ گوری ڈاکخانہ کچہا ضلع نینی تال مرسلہ ملانذیراحمد صاحب مورخہ ۸/ربیع الآخرشریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایك بیوی کیاس کے ساتھ ایك لڑکی آئی اورلڑکی ایك اسی بیوی سے زید کی پیدا ہوئیبعد چندروز کے زیدکاانتقال ہوگیا اب یہ دولڑکیاں ایك توزید کی ہے اورایك جو بیوی اگلے خاوند کی ساتھ لائی تھیبعدوفات زید کے بھتیجانے یعنی حقیقی تایا کے بیٹے نے اپنا حق معاف کردیا اوربیوی نے بھی معاف کرکے وہ جائداد دونوں لڑکیوں پرتقسیم کردیاب زید کی بیوی اپنامہرلیناچاہتی ہے اب یہ تقسیم جائزہے یانہیں شرع شریف سے آگاہی
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾ " ۔ اور جو اﷲ تعالی کے اتارے پرحکم نہ کرے وہی لوگ کافرہیں۔ (ت)
سوال دوم:وہ لوگ جن کاسوال اول میں ذکرہے مسلمانوں کے اوقاف یامسجد دونوں کے متولی ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
یہ لوگ ہرگزمسلمان نہیںاگرمسلمان ہوئے بھی تھے تو دربارہ وارثت احکام شرعیہ ماننے سے انکارکرکے مرتد ہوگئےوہ نہ مسجد کے متولی کئے جاسکتے ہیں نہ اوقاف مسلمین کے۔
قال اﷲ تعالی" فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تواے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جوکچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اوردل سے مان لیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷۷: ازترگہ گوری ڈاکخانہ کچہا ضلع نینی تال مرسلہ ملانذیراحمد صاحب مورخہ ۸/ربیع الآخرشریف ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایك بیوی کیاس کے ساتھ ایك لڑکی آئی اورلڑکی ایك اسی بیوی سے زید کی پیدا ہوئیبعد چندروز کے زیدکاانتقال ہوگیا اب یہ دولڑکیاں ایك توزید کی ہے اورایك جو بیوی اگلے خاوند کی ساتھ لائی تھیبعدوفات زید کے بھتیجانے یعنی حقیقی تایا کے بیٹے نے اپنا حق معاف کردیا اوربیوی نے بھی معاف کرکے وہ جائداد دونوں لڑکیوں پرتقسیم کردیاب زید کی بیوی اپنامہرلیناچاہتی ہے اب یہ تقسیم جائزہے یانہیں شرع شریف سے آگاہی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۴€
القرآن الکریم ∞۴/ ۶۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۶۵€
بخشی جائے۔
الجواب:
مہرمعاف کرنے سے معاف ہوگیا اب دوبارہ نہیں لے سکتی مگرترکہ معاف کرنے سے معاف نہیں ہوسکتا اگروارث یہی ہیں تو حسب شرائط فرائض زید کاترکہ آٹھ حصہ ہوکرایك حصہ بی بی کو اورچارحصہ زید کی لڑکی کو اورتین بھتیجے کوملیں گے اوراگلے شوہرکی بیٹی کچھ نہ پائے گیبھتیجا اگر نہ لیناچاہے تولے کرتقسیم کراکرپھرزید کی دختر کوہبہ کرکے قبضہ دے دے یایوں ہی بلا تقسیم اپنا حصہ اس کے ہاتھ بیچ کر قیمت اسے معاف کردے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۸: ازگوندیا ضلع بھنڈارا ملك متوسط ۸ ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
ایك مسماۃ نے اپنی کچھ رقم مالی کے لئے اپنے حین حیات میں وصیت کی کہ بعد وفات میرے ایك فرزند میراجونابالغ ہے یہ رقم اس کو دی جائے اگرفرزند میراقضاکرجائے تویہ رقم مالی مکہ مدینہ کے کسی کارخیر میں بھیج دی جائےبعد وفات مسماۃ اس کافرزند بالغ ہوکرفوت ہواتو اب اس کی وہ رقم کس کو دی جائے چونکہ اس کاایك چچازاد زندہ ہے مگرلڑکے کی پرورش بعد اس کی والدہ کے ماموں نے کی اورایك اس کی مدد میں شریك رہااس کاچچامالدارہے اس کے کسی امرمیں مونس بھی نہیں ہوابجز ماموں کے لہذا ہم اس لڑکے کی رقم کو اس کے ماموں کودیناچاہتے ہیں چونکہ اس کاماموں بہت غریب مفلس معذورشخص ہے محض اس کے عزیزواقارب اس کی اعانت کیاکرتے ہیں لہذایہ رقم ہم اس کے ماموں کودیناپسند کرتے ہیں چونکہ شرعا بھی مفلس عزیز کو مدددینالازم ہے۔
الجواب:
فرزند کے لئے وصیت توبیکارتھی وہ خود ہی مالك ہواجبکہ عورت کااس کے سوا اورکوئی وارث نہ تھا جیسا کہ ظاہرسوال ہے اب اس کے انتقال کے بعد اس کے جووارث ہیں ان کوپہنچے گی اگرصرف یہی چچاوارث ہے تویہی پائے گا وارث ہونے کے لئے کچھ یہ شرط نہیں کہ وہ اس کے کسی امرمیں شریك ہواہوماموں کتناہی محتاج ہو نہ بہن کے ترکہ میں اس کاکچھ حق ہے کہ بیٹاموجودتھانہ بھانجے کے ترکہ میں کہ اس کاچچا موجودہے قریبی غریب کی اعانت کابیشك حکم ہے مگراپنے مال سے نہ پرائے مال سے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۹: ازچتیرہ ڈاکخانہ امال پورپرگنہ سہاورضلع ایٹہ مرسلہ عبداﷲ خان صاحب ۲۶ جمادی الاول ۱۳۳۶ھ
زید سے وقت مناکحت مہرمعجل قرارپایا اوربعد ازمدت درازوولادت طفل یازدہ سالہ مرحوم
الجواب:
مہرمعاف کرنے سے معاف ہوگیا اب دوبارہ نہیں لے سکتی مگرترکہ معاف کرنے سے معاف نہیں ہوسکتا اگروارث یہی ہیں تو حسب شرائط فرائض زید کاترکہ آٹھ حصہ ہوکرایك حصہ بی بی کو اورچارحصہ زید کی لڑکی کو اورتین بھتیجے کوملیں گے اوراگلے شوہرکی بیٹی کچھ نہ پائے گیبھتیجا اگر نہ لیناچاہے تولے کرتقسیم کراکرپھرزید کی دختر کوہبہ کرکے قبضہ دے دے یایوں ہی بلا تقسیم اپنا حصہ اس کے ہاتھ بیچ کر قیمت اسے معاف کردے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۸: ازگوندیا ضلع بھنڈارا ملك متوسط ۸ ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
ایك مسماۃ نے اپنی کچھ رقم مالی کے لئے اپنے حین حیات میں وصیت کی کہ بعد وفات میرے ایك فرزند میراجونابالغ ہے یہ رقم اس کو دی جائے اگرفرزند میراقضاکرجائے تویہ رقم مالی مکہ مدینہ کے کسی کارخیر میں بھیج دی جائےبعد وفات مسماۃ اس کافرزند بالغ ہوکرفوت ہواتو اب اس کی وہ رقم کس کو دی جائے چونکہ اس کاایك چچازاد زندہ ہے مگرلڑکے کی پرورش بعد اس کی والدہ کے ماموں نے کی اورایك اس کی مدد میں شریك رہااس کاچچامالدارہے اس کے کسی امرمیں مونس بھی نہیں ہوابجز ماموں کے لہذا ہم اس لڑکے کی رقم کو اس کے ماموں کودیناچاہتے ہیں چونکہ اس کاماموں بہت غریب مفلس معذورشخص ہے محض اس کے عزیزواقارب اس کی اعانت کیاکرتے ہیں لہذایہ رقم ہم اس کے ماموں کودیناپسند کرتے ہیں چونکہ شرعا بھی مفلس عزیز کو مدددینالازم ہے۔
الجواب:
فرزند کے لئے وصیت توبیکارتھی وہ خود ہی مالك ہواجبکہ عورت کااس کے سوا اورکوئی وارث نہ تھا جیسا کہ ظاہرسوال ہے اب اس کے انتقال کے بعد اس کے جووارث ہیں ان کوپہنچے گی اگرصرف یہی چچاوارث ہے تویہی پائے گا وارث ہونے کے لئے کچھ یہ شرط نہیں کہ وہ اس کے کسی امرمیں شریك ہواہوماموں کتناہی محتاج ہو نہ بہن کے ترکہ میں اس کاکچھ حق ہے کہ بیٹاموجودتھانہ بھانجے کے ترکہ میں کہ اس کاچچا موجودہے قریبی غریب کی اعانت کابیشك حکم ہے مگراپنے مال سے نہ پرائے مال سے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۹: ازچتیرہ ڈاکخانہ امال پورپرگنہ سہاورضلع ایٹہ مرسلہ عبداﷲ خان صاحب ۲۶ جمادی الاول ۱۳۳۶ھ
زید سے وقت مناکحت مہرمعجل قرارپایا اوربعد ازمدت درازوولادت طفل یازدہ سالہ مرحوم
حیات طفل مرحوم میں زیدنے بواسطہ کچہری وہ مہرادا کردیا بعدہ زیدکاانتقال ہوگیا اب زوجہ اپنے حق ربع کی مدعیہ ہے مقدمہ کچہری میں زیربحث ہے کوئی تحریری تقریری ثبوت طلاق نہیں ہے نہ قبل ازادائے مہرنہ مابعدآںپس حکم شرع شریف سے مطلع فرمائیں۔
الجواب:
ہرمعجل کااداکرنا پیش رخصت ضرورہوتاہے اوراگرعورت قبل رخصت نہ مانگے توجب طلب کرے اس کااداکرنا کسی طرح طلاق دینے کی دلیل کیاشبہہ بھی نہیں ہوسکتا اوربے ثبوت شرعی طلاق ہرگزنہیں مانی جاسکتی عورت ضرور مستحق میراث ہے۔
قال اﷲ تعالی" ولہن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورتمہارے ترکہ میں عورتوں کاچوتھائی ہے اگرتمہاری اولادنہ ہوپھراگرتمہاری اولاد ہوتو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکال کر۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۰: ازلکھنؤ بلوچ دروازہ مسجد متصل اکھاڑہ مرسلہ مولوی محمدعثمان طالب علم ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
بعد تحیۃ سلام گزارش ہے کہ یہاں علماء مسائل ذوالارحام میں مختلف ہیں بعض امام ابویوسف کے قول کے موافق جواب دیتے ہیں بعض امام محمد کے قول کے موافق جناب کی رائے میں کس قول کے موافق عمل درآمد ہونا چاہئے اور جناب کا معمول کیا ہے
الجواب :
اصل فتوی قول امام محمد علیہ الرحمۃ پر ہے فقیر کا اسی پر عمل ہے مگر اس کے استخراج میں قدرے دشواری ہوتی ہے لہذا بعض مشائخ نے بغرض آسانی قول امام ثانی علیہ الرحمہ پرفتوی دیا۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: ۱۴/شعبان ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کاانتقال ہوا اس نے ایك دادی
الجواب:
ہرمعجل کااداکرنا پیش رخصت ضرورہوتاہے اوراگرعورت قبل رخصت نہ مانگے توجب طلب کرے اس کااداکرنا کسی طرح طلاق دینے کی دلیل کیاشبہہ بھی نہیں ہوسکتا اوربے ثبوت شرعی طلاق ہرگزنہیں مانی جاسکتی عورت ضرور مستحق میراث ہے۔
قال اﷲ تعالی" ولہن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا اودین " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورتمہارے ترکہ میں عورتوں کاچوتھائی ہے اگرتمہاری اولادنہ ہوپھراگرتمہاری اولاد ہوتو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکال کر۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۰: ازلکھنؤ بلوچ دروازہ مسجد متصل اکھاڑہ مرسلہ مولوی محمدعثمان طالب علم ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
بعد تحیۃ سلام گزارش ہے کہ یہاں علماء مسائل ذوالارحام میں مختلف ہیں بعض امام ابویوسف کے قول کے موافق جواب دیتے ہیں بعض امام محمد کے قول کے موافق جناب کی رائے میں کس قول کے موافق عمل درآمد ہونا چاہئے اور جناب کا معمول کیا ہے
الجواب :
اصل فتوی قول امام محمد علیہ الرحمۃ پر ہے فقیر کا اسی پر عمل ہے مگر اس کے استخراج میں قدرے دشواری ہوتی ہے لہذا بعض مشائخ نے بغرض آسانی قول امام ثانی علیہ الرحمہ پرفتوی دیا۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: ۱۴/شعبان ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کاانتقال ہوا اس نے ایك دادی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۲€
اورایك نانی اورباپ اوربہن وارث چھوڑے توازروئے شرع شریف ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض ترکہ چھ سہم ہو ایك سہم نانی اورپانچ باپ کوپہنچیں گے اوردادی اوربہن کوکچھ نہیں ھذا ھو قضیۃ النظر الفقھی وان کانت الروایات فیہ مختلفۃ(نظر فقہی کاتقاضایہی ہے اگرچہ اس میں روایتیں مختلف ہیں۔ ت)اختیار شرح مختار پھرفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوترك ابا وام اب وام ام فام الاب محجوبۃ بالاب واختلفوا ماذا لام الام قیل لھا السدس وقیل لھا نصف السدس اھ اقول:مامنزع القول الاخر الا القیاس علی مسئلۃ اب وام واخوین فانھما محجوبان بالاب و یحجبانھا من الثلث الی السدس کذالك ام الاب محجوبۃ بالاب وتحجب الامیۃ من السدس الی نصفہ وھذا لیس شیئ۔اما اولا فلان حجب النقصان یکون من فرض الی فرض دونہ ولافرض للجدۃ الا السدس وماکان التنصیف اگرکسی شخص نے باپدادی اور نانی چھوڑی تو دادی باپ کی وجہ سے میراث سے محروم ہوگیاورنانی کے بارے میں مشائخ نے اختلاف کیا۔ایك قول ہے کہ اس کوچھٹاحصہ دیا جائے گا اوردوسراقول ہے کہ اس کوبارہواں حصہ ملے گاالخ۔ میں کہتاہوں دوسرے قول کاماخذ توفقط باپماں اور دو بھائیوں کے مسئلہ پرقیاس ہے کیونکہ دونوں بھائی باپ کی وجہ سے محروم ہوں گے اوروہ دونوں ماں کو تہائی سے محروم کرکے چھٹے حصے کی طرف منتقل کردیں گے۔اسی طرح دادی باپ کی وجہ سے محروم ہوگی حالانکہ وہ نانی کوچھٹے حصے سے بارہویں حصے کی طرف منتقل کردے گی۔اوریہ بوجوہ کوئی شیئ نہیں۔وجہ اول کیونکہ حجب نقصان ایك مقررہ حصے سے دوسرے مقررہ حصے کی طرف ہوتاہے جوپہلے حصے سے کمتر ہو جبکہ جدہ کامقررہ حصہ صرف چھٹاہے اوراس کو
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض ترکہ چھ سہم ہو ایك سہم نانی اورپانچ باپ کوپہنچیں گے اوردادی اوربہن کوکچھ نہیں ھذا ھو قضیۃ النظر الفقھی وان کانت الروایات فیہ مختلفۃ(نظر فقہی کاتقاضایہی ہے اگرچہ اس میں روایتیں مختلف ہیں۔ ت)اختیار شرح مختار پھرفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوترك ابا وام اب وام ام فام الاب محجوبۃ بالاب واختلفوا ماذا لام الام قیل لھا السدس وقیل لھا نصف السدس اھ اقول:مامنزع القول الاخر الا القیاس علی مسئلۃ اب وام واخوین فانھما محجوبان بالاب و یحجبانھا من الثلث الی السدس کذالك ام الاب محجوبۃ بالاب وتحجب الامیۃ من السدس الی نصفہ وھذا لیس شیئ۔اما اولا فلان حجب النقصان یکون من فرض الی فرض دونہ ولافرض للجدۃ الا السدس وماکان التنصیف اگرکسی شخص نے باپدادی اور نانی چھوڑی تو دادی باپ کی وجہ سے میراث سے محروم ہوگیاورنانی کے بارے میں مشائخ نے اختلاف کیا۔ایك قول ہے کہ اس کوچھٹاحصہ دیا جائے گا اوردوسراقول ہے کہ اس کوبارہواں حصہ ملے گاالخ۔ میں کہتاہوں دوسرے قول کاماخذ توفقط باپماں اور دو بھائیوں کے مسئلہ پرقیاس ہے کیونکہ دونوں بھائی باپ کی وجہ سے محروم ہوں گے اوروہ دونوں ماں کو تہائی سے محروم کرکے چھٹے حصے کی طرف منتقل کردیں گے۔اسی طرح دادی باپ کی وجہ سے محروم ہوگی حالانکہ وہ نانی کوچھٹے حصے سے بارہویں حصے کی طرف منتقل کردے گی۔اوریہ بوجوہ کوئی شیئ نہیں۔وجہ اول کیونکہ حجب نقصان ایك مقررہ حصے سے دوسرے مقررہ حصے کی طرف ہوتاہے جوپہلے حصے سے کمتر ہو جبکہ جدہ کامقررہ حصہ صرف چھٹاہے اوراس کو
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الرابع فی الحجب ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۳€
لان فرضھا اذ ذاك نصف السدس بل لیس فرضھا الا السدس وکانت کل منھما تدعیہ لنفسھا کملا فجعلناہ بینھما نصفین علی سبیل المنازعۃ لعدم المرجح کما اذا اقام کل من الخارجین علی ان الارض لہ فانھا تنصف بینھما کذلك ھھنا فاذا سقطت مزاحمۃ الابویۃ لحجب الاب ایاھا بقیت دعوی الامیۃ بلامعارض فکان لھا السدس کملا کما اذاکان لدار شفیعان متساویان وادعی کل منھما جمیع الدار المشفوعۃ ثم عرض لاحدھما مایسقط حقہ کانت الدار کلھا للثانی لزوال المزاحمۃ۔واما ثانیا فلان اﷲ سبحانہ و تعالی قد اعطی کل ذی حق حقہ فلایجوز ان ینقل من فرض احد شیئ الی غیرہ وقد نصف نہیں کیاجائے گااس لئے کہ اس صورت میں جدہ کا مقررہ حصہ چھٹے کانصف(بارہواں حصہ)ہوجائے گا حالانکہ ایسانہیں بلکہ اس کامقررہ حصہ فقط چھٹاہے تو ان دونوں(دادی اورنانی)میں سے ہرایك اپنے لئے پورے چھٹے حصے کادعوی کرے گی۔چنانچہ ہم نے منازعت کے باعث اورمرجح نہ ہونے کی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ان دونوں کے درمیان نصف نصف کردیا۔جیساکہ بائع اورمشتری کے علاوہ دواجنبی مردوں میں سے ہرایك نے اس بات پرگواہ قائم کردئیے کہ فروخت شدہ زمین اس کی ہے تو وہ زمین دونوں کے درمیان نصف نصف کردی جائے گی۔ایساہی یہاں بھی ہوگا۔جب دادی کی مزاحمت اس وجہ سے ختم ہوگئی کہ باپ نے اس کو محروم کردیاہے تونانی کادعوی بلامنازعت رہا لہذا اس کومکمل چھٹاحصہ دیاجائے گا۔جیسے کسی گھرکے دومساوی شفیع ہوں اورہرایك شفعہ والے پورے گھرکادعوی کرے پھران میں سے ایك کو ایساعارضہ لاحق ہو جس کی وجہ سے اس کاحق ساقط ہوجائے تومزاحمت کے ختم ہوجانے کی وجہ سے پورا گھر دوسرے کوملے گا۔وجہ دوم کیونکہ اﷲ تعالی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیاہے لہذا یہ جائزنہ ہوگا کہ کسی کے مقررہ حصے سے کوئی شے دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے۔ بیشك
حوالہ / References
کنزالعمال ∞حدیث ۴۶۰۵۶ و ۴۶۰۵۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۶۱۴€
اجمعنا ان فرض الجدۃ السدس فان نصفناہ ھھنا ولاحق للابویۃ یرجع النصف لامحالۃ الی الاب فیشارك الجدۃ فی فرضہا ولانظیرلہ فی الشرع فتبین ان الاول ھو المرجح وکانھا لھذا قدمہ فی الاختیار۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارا اس پراجماع ہے کہ جدہ کامقررہ حصہ فقط چھٹاہے۔ اگر یہاں ہم اس کونصف کردیں(یعنی بارہواں بنادیں) حالانکہ دادی کایہاں کوئی حق نہیں تویقینا چھٹے کانصف(بارہواں حصہ)باپ کی طرف لوٹے گا تو اس طرح وہ جدہ کے مقررہ حصے میں شریك ہوجائے گا اورشریعت میں اس کی کوئی نظیرنہیں ملتی تو واضح ہوگیا کہ پہلے قول کوہی ترجیح دی جائے گی گویا اسی وجہ سے اختیارمیں اس کومقدم کیاہے۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مفصلہ ذیل میں:
اورچراغ علی مرحوم کے محمدمسح اپنے خلیرے بھائی اورمسماۃ فاطمہ زہرا اپنی خلیری بہن بھی ہیںاب چراغ علی مرحوم کامتروکہ کس کوملے گا عبدالعلیم عرف شہرو کوملے گایاخلیرے بھائی وبہن کوملے گابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض چراغ علی کاکل ترکہ تین حصہ ہوکردوحصے اس کے
مسئلہ ۱۸۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مفصلہ ذیل میں:
اورچراغ علی مرحوم کے محمدمسح اپنے خلیرے بھائی اورمسماۃ فاطمہ زہرا اپنی خلیری بہن بھی ہیںاب چراغ علی مرحوم کامتروکہ کس کوملے گا عبدالعلیم عرف شہرو کوملے گایاخلیرے بھائی وبہن کوملے گابینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض چراغ علی کاکل ترکہ تین حصہ ہوکردوحصے اس کے
خالہ زادبھائی کواورایك حصہ اس کی خالہ زاد بہن کوملے گا عبدالعلیم کچھ نہ پائے گا کہ وہ بہت دوررشتہ دارہے ایك رشتہ پرابن بنت ابن عم الجدہے یعنی چراغ علی کے پردادا کے باپ ناصری کے پوتے کانواسہ ہے اوردوسرے رشتہ پر ابن ابن بنت عم الجد ہے یعنی چراغ علی کے باپ کے پردادا کے پوتی کاپوتاہے بہرحال ذوی الارحام سے ہے خود عصبہ وارث نہیں اور اولادخالہ سے درجے میں بعیدہے لہذا ان کے سامنے اسے کچھ نہ ملے گا۔ تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
یقدم الاقرب فی کل صنف واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہرصنف میں زیادہ قریبی کومقدم کیاجائے گااگروہ درجہ میں برابرہوں تو وارث کی اولاد کومقدم کیاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۳: ازبہٹ ضلع سہارنپور مرسلہ مشتاق حسین ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے بعدمعاف کرنے مہر شرعی جن کے شاہد اس کی ماں اوربہن نیز ماموں حقیقی ہیں انتقال کیا اورایك لڑکی سہ سالہ اورخاوند چھوڑے اسباب جہیزی میں سے کچھ زیوراورکپڑا اس کے شوہرکے یہاں سے اس کی ماں اوربہن لے گئے باقی کی ایك فہرست اس کے شوہرکودی اورکہاکہ اس کوبیچ کرایصال ثواب اورفاتحہ میں خرچ کریںبس کیاحکم شرعی ہے اس بارے میں پسماندہ اسباب کاکون مالك اورمصرف ہے اور ماں باپ اوربہن کو اس کی واپسی کاکیاحق ہے
الجواب:
جہیزوغیرہ جوکچھ عورت کی ملك تھا صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض اگر وارث صرف یہی ہیں ہرہرچیز کے بارہ۱۲ حصے ہوں گے تین۳ حصہ شوہرکےدو۲ماں کےچھ بیٹی کےایك بہن کا۔ماں بہن جوکچھ لے گئیں واپس لاکر سب ملاکر بارہ حصہ کر کے اپنے تین حصے لے کر ان کو فاتحہ وغیرہ جس میں چاہیں صرف کریں شوہرکے تین حصوں کااختیار شوہرکوہے اوردخترکے چھ۶تو کوئی بھی فاتحہ وغیرہ میں صرف نہیں کرسکتا وہ اس کے باپ کے قبضے میں رہ کر خود
یقدم الاقرب فی کل صنف واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہرصنف میں زیادہ قریبی کومقدم کیاجائے گااگروہ درجہ میں برابرہوں تو وارث کی اولاد کومقدم کیاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۳: ازبہٹ ضلع سہارنپور مرسلہ مشتاق حسین ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے بعدمعاف کرنے مہر شرعی جن کے شاہد اس کی ماں اوربہن نیز ماموں حقیقی ہیں انتقال کیا اورایك لڑکی سہ سالہ اورخاوند چھوڑے اسباب جہیزی میں سے کچھ زیوراورکپڑا اس کے شوہرکے یہاں سے اس کی ماں اوربہن لے گئے باقی کی ایك فہرست اس کے شوہرکودی اورکہاکہ اس کوبیچ کرایصال ثواب اورفاتحہ میں خرچ کریںبس کیاحکم شرعی ہے اس بارے میں پسماندہ اسباب کاکون مالك اورمصرف ہے اور ماں باپ اوربہن کو اس کی واپسی کاکیاحق ہے
الجواب:
جہیزوغیرہ جوکچھ عورت کی ملك تھا صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض اگر وارث صرف یہی ہیں ہرہرچیز کے بارہ۱۲ حصے ہوں گے تین۳ حصہ شوہرکےدو۲ماں کےچھ بیٹی کےایك بہن کا۔ماں بہن جوکچھ لے گئیں واپس لاکر سب ملاکر بارہ حصہ کر کے اپنے تین حصے لے کر ان کو فاتحہ وغیرہ جس میں چاہیں صرف کریں شوہرکے تین حصوں کااختیار شوہرکوہے اوردخترکے چھ۶تو کوئی بھی فاتحہ وغیرہ میں صرف نہیں کرسکتا وہ اس کے باپ کے قبضے میں رہ کر خود
حوالہ / References
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
اس کے خوردونوش میں صرف ہوں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۴: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پورضلع مظفرپورمرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دوبھائی کافرمیں سے ایك مسلمان ہوگیا تو اب وہ بھائی کافراس کااس کوحق حصہ نہیں دیتا ہے اورکہتاہے کہ تم ہمارے مذہب سے نکل گئے تمہاراحق کیساآیا اس کاحق ہوگایانہیں
الجواب:
اگرمثلا باپ کاترکہ دونوں بھائیوں نے پایاتھا اب ایك مسلمان ہوگیاتووہ اپنے حصے کامالك ہے مسلمان ہوجانے سے ملك زائل نہ ہوئی ہاں اس کے اسلام کے بعد ان کافروں میں جومرا اس کاترکہ اسے نہ ملے گا لاختلاف الدین(دین کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۵: ازدربھنگہ قلعہ گھاٹ مرسلہ غلام اکبر ۱۴/رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك ہندو مرا اوراس کی بی بی مرنے کے بعد اس کی کل جائداد پرقابض ودخیل ہوئی اوراپنا اندراج نام بھی دفاتر گورنمنٹی میں کرایا۔چندسال کے بعد وہ مسلمان ہوگئی تواب جائداد مذکورہ بعد تبدیل مذہب زن نو مسلمہ کوشرعا ملے گی یانہیں
الجواب:
جوچیز اس وقت اس کی ملك سمجھی جاتی تھی وہ بعداسلام بھی اس کی ملك رہے گیاسلام قاطع ملك نہیںواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۶: ازججہ کلاں ڈاکخانہ خاص ضلع لاہور براستہ چھانگامانگا سب آفس بلوکی مرسلہ عبدالرحمن صاحب ۵/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے حقیقی بھائی خوردعمروکو بصدمحنت تعلیم کتب دینیہ کی دے کر اچھاخاصہ اہل علم بنادیا اوردیگرحقوق خوردہونے کے بھی اداکئے مگرعمرو اس جوہرکانکلاکہ جملہ حقوق پرخاك ڈال کر بے مروتی پرکمرباندھ لی اوراپنے بڑے بھائی واستاد وہمسایہ کی ایذارسانی پرکوئی دقیقہ نہ اٹھارکھاحتی کہ فی الحال بلاولد زید کے
مسئلہ ۱۸۴: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پورضلع مظفرپورمرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دوبھائی کافرمیں سے ایك مسلمان ہوگیا تو اب وہ بھائی کافراس کااس کوحق حصہ نہیں دیتا ہے اورکہتاہے کہ تم ہمارے مذہب سے نکل گئے تمہاراحق کیساآیا اس کاحق ہوگایانہیں
الجواب:
اگرمثلا باپ کاترکہ دونوں بھائیوں نے پایاتھا اب ایك مسلمان ہوگیاتووہ اپنے حصے کامالك ہے مسلمان ہوجانے سے ملك زائل نہ ہوئی ہاں اس کے اسلام کے بعد ان کافروں میں جومرا اس کاترکہ اسے نہ ملے گا لاختلاف الدین(دین کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۵: ازدربھنگہ قلعہ گھاٹ مرسلہ غلام اکبر ۱۴/رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك ہندو مرا اوراس کی بی بی مرنے کے بعد اس کی کل جائداد پرقابض ودخیل ہوئی اوراپنا اندراج نام بھی دفاتر گورنمنٹی میں کرایا۔چندسال کے بعد وہ مسلمان ہوگئی تواب جائداد مذکورہ بعد تبدیل مذہب زن نو مسلمہ کوشرعا ملے گی یانہیں
الجواب:
جوچیز اس وقت اس کی ملك سمجھی جاتی تھی وہ بعداسلام بھی اس کی ملك رہے گیاسلام قاطع ملك نہیںواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۶: ازججہ کلاں ڈاکخانہ خاص ضلع لاہور براستہ چھانگامانگا سب آفس بلوکی مرسلہ عبدالرحمن صاحب ۵/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے حقیقی بھائی خوردعمروکو بصدمحنت تعلیم کتب دینیہ کی دے کر اچھاخاصہ اہل علم بنادیا اوردیگرحقوق خوردہونے کے بھی اداکئے مگرعمرو اس جوہرکانکلاکہ جملہ حقوق پرخاك ڈال کر بے مروتی پرکمرباندھ لی اوراپنے بڑے بھائی واستاد وہمسایہ کی ایذارسانی پرکوئی دقیقہ نہ اٹھارکھاحتی کہ فی الحال بلاولد زید کے
عمرو زیدکی موت کاملتجی ہے اورزیدنے ان حرکات ناشائستہ سے تخمینا عرصہ سات برس تك صبرکیامگر جب طاقت بشری تحمل کی نہ رہی تومجبورا زیدکو عمروکاعاق کرناپڑاکیایہ عمرو عاق کرنے کے لائق ہے یانہیں اورعاق ہونے کے بعد وراث ہوسکتاہے یا نہیں
الجواب:
صورت مذکورہ میں عمرو ضرورعاق وفاسق ومستحق عذاب النارہے مگرعقوق بمعنی ارث نہیں۔
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ ۔ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدارکواس کاحق عطافرمادیاہے۔ (ت)
نہ عاق کردینا شرع میں کوئی اصل رکھتاہے نہ اس سے میراث ساقط ہوہاں اگرزیدچاہے تواپنی جائداد وقف اہلی کردے اوراس میں عمرو کے لئے شرط لگادے کہ اگروہ اپنے حال کی اصلاح کرے اوران ان باتوں کاپابند ہوتو اس قدرپائے ورنہ نہ پائےیوں مقصود زیدحاصل ہوسکتاہےاوراگر امیداصلاح نہ ہو اوربالکل محروم کردے جب بھی حرج نہیں کہ فاسق کومیراث سے محروم کردینے کی اجازت ہے یہ تو وقف ہے۔فتاوی خلاصہ و لسان الحکام وفتاوی ہندیہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا واراد ان یصرف مالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ ۔ و اﷲ تعالی اعلم۔ اگر اس کی اولاد فاسق ہواور وہ چاہے کہ اپنا مال نیکی کے کاموں میں خرچ کردے اورفاسق اولاد کو اس سے محروم کردے تویہ اس کے لئے بہترہے بنسبت اس کے کہ وہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑجائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۷: ازشہرسیالکوٹ بازار پینج پورہ زیرقلعہ مرسلہ امام الدین صاحب ۵شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید تین لڑکے چھوڑ کرمرگیا دو۲ بڑے
الجواب:
صورت مذکورہ میں عمرو ضرورعاق وفاسق ومستحق عذاب النارہے مگرعقوق بمعنی ارث نہیں۔
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ ۔ بیشك اﷲ تعالی نے ہرحقدارکواس کاحق عطافرمادیاہے۔ (ت)
نہ عاق کردینا شرع میں کوئی اصل رکھتاہے نہ اس سے میراث ساقط ہوہاں اگرزیدچاہے تواپنی جائداد وقف اہلی کردے اوراس میں عمرو کے لئے شرط لگادے کہ اگروہ اپنے حال کی اصلاح کرے اوران ان باتوں کاپابند ہوتو اس قدرپائے ورنہ نہ پائےیوں مقصود زیدحاصل ہوسکتاہےاوراگر امیداصلاح نہ ہو اوربالکل محروم کردے جب بھی حرج نہیں کہ فاسق کومیراث سے محروم کردینے کی اجازت ہے یہ تو وقف ہے۔فتاوی خلاصہ و لسان الحکام وفتاوی ہندیہ میں ہے:
لوکان ولدہ فاسقا واراد ان یصرف مالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ ۔ و اﷲ تعالی اعلم۔ اگر اس کی اولاد فاسق ہواور وہ چاہے کہ اپنا مال نیکی کے کاموں میں خرچ کردے اورفاسق اولاد کو اس سے محروم کردے تویہ اس کے لئے بہترہے بنسبت اس کے کہ وہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑجائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۷: ازشہرسیالکوٹ بازار پینج پورہ زیرقلعہ مرسلہ امام الدین صاحب ۵شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید تین لڑکے چھوڑ کرمرگیا دو۲ بڑے
عمروبکر شادی شدہ تھے اورتیسراخالد کم سن غیرشادی شدہ تھا عمروبکر نے جوقرضہ والدکاتھا وہ اپنے ذمے لے لیا اورمکان کاتیسرا حصہ اور مبلغ دوصد روپیہ شادی کے واسطے اس چھوٹے بھائی خالد کو دے دئیے اورقرضہ اورجائداد دونوں بڑے بھائیوں نے نصف نصف کرلیا اس کے بعد بڑابھائی عمروفوت ہوا اوراس کی عورت کوچھوٹے بھائی خالدنے اپنے ساتھ نکاح کرلیاعمرو کی دو لڑکیاں تھیں چونکہ وہ کم سن غیرشادی شدہ ہیں اس واسطے وہ بھی اپنی والدہ کے ہمراہ خالد اپنے چچا کے پاس آئیں۔اس نے اپنی مرضی سے بڑی لڑکی کانکاح کردیا اس کے بعد دونوں لڑکیاں فوت ہوگئیںاب اس کے پاس عمرو کی سب جائداد معہ عورت موجودہے اوردوسرے بھائی بکر کوکچھ نہیں دیتا اور جورقم مبلغ دوصدروپیہ کی اس کو قبل تقسیم اس کی شادی کے واسطے دئیے گئے تھے وہ بھی اس کے پاس ہے کیونکہ اس کی شادی پروہ خرچ نہیں ہوئے کیونکہ رانڈبھاوج سے نکاح کرلیاہے اب کس طرح اس جائداد کو تقسیم کیاجائے نیزان تینوں بھائیوں کی نانی حقیقی کو ان کے والدمرحوم زیدنے کچھ حصہ مکان کا بیع کردیا ہواتھا وہ بھی مرگئی وہ بھی اسی خالد کے قبضے میں ہے اس میں سے بھی عمرو بکر کوحصہ آتاہے یانہیں
الجواب:
سوال میں کچھ نہ بتایا کہ مکان کے علاوہ زید کی باقی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ وجنس ترکہ کس قدرتھا اور اس پرقرض کتنانہ یہ کہ دونوں لڑکیوں میں پہلے کون مریاور جس کی شادی ہوگئی تھی اس کے بعد اس کاشوہریاکوئی بچہ رہایانہیںاوردوسری کی شادی ہوئی تھی یانہیں ہوئیتو اس کے وارث کون کون سے رہےان کی ماں ان کی نانی سے پہلے مری یابعداس کے کون کون ورثہ رہےتقسیم جائداد کاجواب بے تفصیل کامل ورثہ وترتیب اموات نہیں ہوسکتااتنا اجمالا کہاجاسکتاہے کہ اگربعدادائے قرضہ زید اس کامتروکہ چھ سوروپے سے زیادہ کاتھا اورخالد کو صرف دوسوپہنچے توعمروبکرکے پاس خالد کاحق رہا اورجائداد باہم بانٹ لینا اور خالد نابالغ کوروپیہ دینایہ بھی ناجائزتھا پھرخالد کاجتنا حق عمروکے پاس رہا وہ توخالد کے قبضے میں آہی گیا جتنا بکرکو گیاتھا اگروہ ان حصوں کے برابر ہے جوبکرکودختران عمرو اوراپنی نانی کے مال سے پہنچتے ہیں تو برابرہوگئے ورنہ بکر یاخالد جس کے پاس پہنچا ہوا ہے وہ دوسرے کودے کہ حق العباد سے پاك ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
سوال میں کچھ نہ بتایا کہ مکان کے علاوہ زید کی باقی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ وجنس ترکہ کس قدرتھا اور اس پرقرض کتنانہ یہ کہ دونوں لڑکیوں میں پہلے کون مریاور جس کی شادی ہوگئی تھی اس کے بعد اس کاشوہریاکوئی بچہ رہایانہیںاوردوسری کی شادی ہوئی تھی یانہیں ہوئیتو اس کے وارث کون کون سے رہےان کی ماں ان کی نانی سے پہلے مری یابعداس کے کون کون ورثہ رہےتقسیم جائداد کاجواب بے تفصیل کامل ورثہ وترتیب اموات نہیں ہوسکتااتنا اجمالا کہاجاسکتاہے کہ اگربعدادائے قرضہ زید اس کامتروکہ چھ سوروپے سے زیادہ کاتھا اورخالد کو صرف دوسوپہنچے توعمروبکرکے پاس خالد کاحق رہا اورجائداد باہم بانٹ لینا اور خالد نابالغ کوروپیہ دینایہ بھی ناجائزتھا پھرخالد کاجتنا حق عمروکے پاس رہا وہ توخالد کے قبضے میں آہی گیا جتنا بکرکو گیاتھا اگروہ ان حصوں کے برابر ہے جوبکرکودختران عمرو اوراپنی نانی کے مال سے پہنچتے ہیں تو برابرہوگئے ورنہ بکر یاخالد جس کے پاس پہنچا ہوا ہے وہ دوسرے کودے کہ حق العباد سے پاك ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸: ۲۶/رمضان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك لڑکااورتین لڑکیاں ہیں اورلڑکے کی ولایت ثابت ہوچکی ہے لڑکابدچلن اور بدوضع ہے اوراپنی ہمشیرگان وپدرکونہایت تکلیف دہ ہے زیداسے عاق کرناچاہتاہے کہ وہ آئندہ میری لڑکیوں کے اور میرے متروکہ میں اگرکچھ میرے پاس باقی بچے تووہ اس حق سے جومجھ سے پہنچے اورلڑکیوں کے حقوق کی حفاظت کی غرض سے عاق کرناکس حد تك جائزہے
الجواب:
عاق کرناشرع میں کوئی چیزنہیںنہ وہ اس کے سبب ترکہ سے محروم ہوسکےہاں اگروہ واقعی فاسق وآوارہ ہے تویہ جائزہے کہ اپناسب مال بذریعہ وقف علی الاولاد یابذریعہ بیعنامہ یاجداجدا تقسیم کرکے قبضہ دے کربذریعہ ہبہ نامہ اپنی بیٹیوں کے نام کر دے یوں بیٹے کوآپ ہی کچھ نہ پہنچے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۹: ازشہربریلی محلہ گندانالہ مسئولہ حافظ محمدجان صاحب ۱۱ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے انتقال کیا اس نے دولڑکے چھوڑےایك لڑکے کواپنی زندگی میں جوکچھ اس کے پاس چیزتھی وہ دے دی اور اس پراس کو قابض کرگئیلڑکے نے والدہ کی زندگی میں اس میں سے صرف بھی کیا اپنے اختیارسےاورجوکچھ باقی رہا وہ اس کے قبضہ میں ہےپس اس صورت میں شریعت مطہرہ دوسرے لڑکے کوکچھ دلاسکتی ہے یا نہیں
الجواب:
اگرمرض الموت سے پہلے دے کر قبضہ تامہ دے گئی تھی تودوسرے لڑکے کااس میں کچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۰: ازشاہجہانپور مرسلہ شیخ علی حسین صاحب ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کہ کوئی وراثت کانہیں حق رکھتا اور شرعا ترکہ کابوجہ من الوجوہ ذی استحقاق نہیں ہوسکتااب بحالت مول لینے جائداد ترکے کے ترکہ دین مہرپانے کاجوحق بیچنے والے وارثوں کاہے کیایہ خریدنے والادعوی کرسکتاہے کہ جائداد ترکہ لینے سے مجھ کوترکہ دین مہر پانے کاحق حاصل ہے اوردعوی اس کاشرعا جائزہے یانہیں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك لڑکااورتین لڑکیاں ہیں اورلڑکے کی ولایت ثابت ہوچکی ہے لڑکابدچلن اور بدوضع ہے اوراپنی ہمشیرگان وپدرکونہایت تکلیف دہ ہے زیداسے عاق کرناچاہتاہے کہ وہ آئندہ میری لڑکیوں کے اور میرے متروکہ میں اگرکچھ میرے پاس باقی بچے تووہ اس حق سے جومجھ سے پہنچے اورلڑکیوں کے حقوق کی حفاظت کی غرض سے عاق کرناکس حد تك جائزہے
الجواب:
عاق کرناشرع میں کوئی چیزنہیںنہ وہ اس کے سبب ترکہ سے محروم ہوسکےہاں اگروہ واقعی فاسق وآوارہ ہے تویہ جائزہے کہ اپناسب مال بذریعہ وقف علی الاولاد یابذریعہ بیعنامہ یاجداجدا تقسیم کرکے قبضہ دے کربذریعہ ہبہ نامہ اپنی بیٹیوں کے نام کر دے یوں بیٹے کوآپ ہی کچھ نہ پہنچے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۸۹: ازشہربریلی محلہ گندانالہ مسئولہ حافظ محمدجان صاحب ۱۱ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نے انتقال کیا اس نے دولڑکے چھوڑےایك لڑکے کواپنی زندگی میں جوکچھ اس کے پاس چیزتھی وہ دے دی اور اس پراس کو قابض کرگئیلڑکے نے والدہ کی زندگی میں اس میں سے صرف بھی کیا اپنے اختیارسےاورجوکچھ باقی رہا وہ اس کے قبضہ میں ہےپس اس صورت میں شریعت مطہرہ دوسرے لڑکے کوکچھ دلاسکتی ہے یا نہیں
الجواب:
اگرمرض الموت سے پہلے دے کر قبضہ تامہ دے گئی تھی تودوسرے لڑکے کااس میں کچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۰: ازشاہجہانپور مرسلہ شیخ علی حسین صاحب ۱۹ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کہ کوئی وراثت کانہیں حق رکھتا اور شرعا ترکہ کابوجہ من الوجوہ ذی استحقاق نہیں ہوسکتااب بحالت مول لینے جائداد ترکے کے ترکہ دین مہرپانے کاجوحق بیچنے والے وارثوں کاہے کیایہ خریدنے والادعوی کرسکتاہے کہ جائداد ترکہ لینے سے مجھ کوترکہ دین مہر پانے کاحق حاصل ہے اوردعوی اس کاشرعا جائزہے یانہیں
الجواب:
ہرگزخریدار ترکہ کوکوئی استحقاق دعوی مہرکانہیں مہر کی مالك عورت ہے نہ کہ یہ مشتری متروکہ بلکہ اگرقبل ادائے دین مہرو دیگردیون(اگرہوں)ورثہ غیرزوجہ نے جائداد بیع کردی اورمہرتنہا یامع دیگردیون جائدادمتروکہ کومحیط یعنی اس کے مساوی یازائد ہے توزوجہ ودیگر دائنان کواختیارہے کہ یہ بیع رد کردیں اوراپنے مہرودیون اس سے وصول کریں
فان الترکۃ المستغرقۃ بالدیون لاتصیر ملکا للورثۃ کما فی الاشباہ وغیرھا۔ جس ترکہ کوقرضوں نے گھیررکھا ہو وہ وارثوں کی ملکیت نہیں ہوتا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اوراگرمتروکہ کے ساتھ عورت سے اس کامہربھی مشتری نے خریدلیاہے جب بھی اس کادعوی باطل ہے کہ دین غیرمدیون کے ہاتھ بیع نہیں ہوسکتااشباہ ودرمختار وغیرہا میں تصریح ہے کہ:
بیع الدین ممن لیس علیہ باطل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قرض کی بیع اس شخص کے ہاتھ کرنا جس پروہ قرض نہیں ہے باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۹۱: ازہلدوانی ضلع نینی تال مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ اسرارالحق صاحب ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوج زوجہ کاانتقال ہوگیابعدانتقال کے روپیہ نقد اورزیورچھوڑاروپیہ اورزیور کو برادری نے جمع کرلیا شخص مرنے والے کی ایك بھتیجی حقیقی یعنی حقیقی بھائی کی لڑکی بیوہ اوریتیم بچے ہمراہاوربرادری یہ بات کہتی ہے کہ یہ روپیہ اورزیور مسجدکودے دیناچاہئے اوربھتیجی کونہ دینا آیا اس صورت میں بھتیجی بیوہ کاحق نکلتاہے یانہیں یاکہ مسجد کودے دیںاس صورت میں مسجدکودیناجائزہے یاناجائز زوجہ مرنے والی کے بھائی بھانجے ہیں وہ بھی اس روپیہ زیور میں سے حصہ کے دعویدارہیں یانہیں مگریہ بھائی بھانجے حقیقی نہیں ہیں اوردوررشتہ کے ہیں ان کابھائی حق روپیہ زیورمیں سے نکلتاہے یانہیں
ہرگزخریدار ترکہ کوکوئی استحقاق دعوی مہرکانہیں مہر کی مالك عورت ہے نہ کہ یہ مشتری متروکہ بلکہ اگرقبل ادائے دین مہرو دیگردیون(اگرہوں)ورثہ غیرزوجہ نے جائداد بیع کردی اورمہرتنہا یامع دیگردیون جائدادمتروکہ کومحیط یعنی اس کے مساوی یازائد ہے توزوجہ ودیگر دائنان کواختیارہے کہ یہ بیع رد کردیں اوراپنے مہرودیون اس سے وصول کریں
فان الترکۃ المستغرقۃ بالدیون لاتصیر ملکا للورثۃ کما فی الاشباہ وغیرھا۔ جس ترکہ کوقرضوں نے گھیررکھا ہو وہ وارثوں کی ملکیت نہیں ہوتا جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اوراگرمتروکہ کے ساتھ عورت سے اس کامہربھی مشتری نے خریدلیاہے جب بھی اس کادعوی باطل ہے کہ دین غیرمدیون کے ہاتھ بیع نہیں ہوسکتااشباہ ودرمختار وغیرہا میں تصریح ہے کہ:
بیع الدین ممن لیس علیہ باطل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قرض کی بیع اس شخص کے ہاتھ کرنا جس پروہ قرض نہیں ہے باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۹۱: ازہلدوانی ضلع نینی تال مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ اسرارالحق صاحب ۱۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زوج زوجہ کاانتقال ہوگیابعدانتقال کے روپیہ نقد اورزیورچھوڑاروپیہ اورزیور کو برادری نے جمع کرلیا شخص مرنے والے کی ایك بھتیجی حقیقی یعنی حقیقی بھائی کی لڑکی بیوہ اوریتیم بچے ہمراہاوربرادری یہ بات کہتی ہے کہ یہ روپیہ اورزیور مسجدکودے دیناچاہئے اوربھتیجی کونہ دینا آیا اس صورت میں بھتیجی بیوہ کاحق نکلتاہے یانہیں یاکہ مسجد کودے دیںاس صورت میں مسجدکودیناجائزہے یاناجائز زوجہ مرنے والی کے بھائی بھانجے ہیں وہ بھی اس روپیہ زیور میں سے حصہ کے دعویدارہیں یانہیں مگریہ بھائی بھانجے حقیقی نہیں ہیں اوردوررشتہ کے ہیں ان کابھائی حق روپیہ زیورمیں سے نکلتاہے یانہیں
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۴€
الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۶۶۔۱۶۵€
الدرالمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۶۶۔۱۶۵€
الجواب:
برادری کاکہنا قابل سماعت نہیںوہ مال وارثوں کاہےزوج یا زوجہ جس کا مال ہے۔اس کے جو وارث ہوں اگرچہ کتنے ہی دور کے رشتہ کے بھائی یعنی دادا پردادا کی اولاد کے بھائی ان میں جوقریب ترہے وہ وارث ہوگا اس کے ہوتے بھتیجی بھی وارث نہیںنہ بے اجازت وارثایك جبہ اس میں سے مسجد میں لگاناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۲: ازچتورگڑھ میواڑ مرسلہ فتح محمد ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قوم میں تقسیم ترکہ کارواج نہیں تو ایسے مال سے کہ جس میں بالغ اورنابالغ وارث ہیں کھانالینا دیناخیرات کاہونا جائزہے یاناجائز جب کہ بالغ بھی وارث مال ہیں اور وہ کریں جیسے کاکوکریم بخش کی صورت کہ تقسیم ترکہ ہوتاہی نہیں اناث تو متروك الارث سمجھے جاتے ہوں اورذکورہی صرف وارث بنے جاتے ہیں ہمارے یہاں تو بالغین کاصرف کرنا کیسا
الجواب:
اناث کومحروم کرنا حرام قطعی ہے ہنودکااتباع اورشریعت مطہرہ سے منہ پھیرنا ہے جبکہ اس میں نابالغوں کا حق مخلوط ہے اور معلوم ہے کہ یہ خالص اپنے حصے سے نہیں کرتے بلکہ کل کو اپناہی حصہ جانتے ہیں تو اس میں سے نہ کھانا جائزنہ کچھ لینا۔
قال اﷲ تعالی" ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا:)وہ جویتیموں کامال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نہیں بھرتے مگرآگ اورعنقریب بھڑکتی آگ میں جائیں گے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳:ازدفتر صدراول بزم حنفیہ لاہور خواجگان منزل مرسلہ مولوی حکیم عبدالحمیدصاحب صدراول ۲۶جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہل اسلام مفتیان حنفیہ کرام اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نہایت متشرع فوت ہوا۔زیدعمروبکرخالد اور زبیدہ وہندہ یہ چھ اولادیں چھوڑیں۔نمبر۱ و۲ و۳
برادری کاکہنا قابل سماعت نہیںوہ مال وارثوں کاہےزوج یا زوجہ جس کا مال ہے۔اس کے جو وارث ہوں اگرچہ کتنے ہی دور کے رشتہ کے بھائی یعنی دادا پردادا کی اولاد کے بھائی ان میں جوقریب ترہے وہ وارث ہوگا اس کے ہوتے بھتیجی بھی وارث نہیںنہ بے اجازت وارثایك جبہ اس میں سے مسجد میں لگاناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۲: ازچتورگڑھ میواڑ مرسلہ فتح محمد ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قوم میں تقسیم ترکہ کارواج نہیں تو ایسے مال سے کہ جس میں بالغ اورنابالغ وارث ہیں کھانالینا دیناخیرات کاہونا جائزہے یاناجائز جب کہ بالغ بھی وارث مال ہیں اور وہ کریں جیسے کاکوکریم بخش کی صورت کہ تقسیم ترکہ ہوتاہی نہیں اناث تو متروك الارث سمجھے جاتے ہوں اورذکورہی صرف وارث بنے جاتے ہیں ہمارے یہاں تو بالغین کاصرف کرنا کیسا
الجواب:
اناث کومحروم کرنا حرام قطعی ہے ہنودکااتباع اورشریعت مطہرہ سے منہ پھیرنا ہے جبکہ اس میں نابالغوں کا حق مخلوط ہے اور معلوم ہے کہ یہ خالص اپنے حصے سے نہیں کرتے بلکہ کل کو اپناہی حصہ جانتے ہیں تو اس میں سے نہ کھانا جائزنہ کچھ لینا۔
قال اﷲ تعالی" ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا وسیصلون سعیرا ﴿۱۰﴾ " ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا:)وہ جویتیموں کامال ناحق کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں نہیں بھرتے مگرآگ اورعنقریب بھڑکتی آگ میں جائیں گے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳:ازدفتر صدراول بزم حنفیہ لاہور خواجگان منزل مرسلہ مولوی حکیم عبدالحمیدصاحب صدراول ۲۶جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہل اسلام مفتیان حنفیہ کرام اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نہایت متشرع فوت ہوا۔زیدعمروبکرخالد اور زبیدہ وہندہ یہ چھ اولادیں چھوڑیں۔نمبر۱ و۲ و۳
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۰€
نے اس کے ترکہ کو بقوانین شرع تقسیم پرصاف انکارکیانمبر۳ کی طرف سے اس پرڈیڑھ سال تك اعتراض اورانکارہوتا رہا بالآخرانہوں نے جوثالث کیا اس نے بھی فیصلہ بحق ہرسہ بالابخلاف شریعت کردیا۔اس فیصلہ میں نمبر۳ کابہت ساحق زائل کرلیا گیا زبیدہ بھی خلاف شرع حصہ پاچکی ہے مگرہندہ جوبعد متوفی فوت ہوگئیاب فریق نمبر۳ اپنے قلیل حصہ سے بھی جو اس کو وراثۃ ملاہے اپنی ہمشیرہ مرحومہ کے شرعی حصہ سے سبکدوش ہوناچاہتاہے مرحومہ کی سسرال اوربالخصوص خاوند فاسق فاجر عقائد میں صلح کل جس کاپسر الولد سر لابیہ(بیٹا اپنے باپ کابھیدہوتاہے)ہے پس فریق نمبر۳ حیرت میں ہے کہ مرحومہ کاورثہ کس کو اداکیاجائے اس کاارادہ ہے کہ یہ حصہ بنام بزم حنفیہ کردیاجائے اوروہ بتدریج اشاعت مذہب حنفیہ وحمایت کلام مجید صرف کرےاب استفسار ہے کہ کیا اس صورت میں جب کہ لڑکا بھی فاسق فاجرکے قبضہ میں ہے اگریہ روپیہ اس کودے دیاجائے تو فسق وفجوراوربدمذہبی میں صرف ہوگاتو کیا اس ترکہ کو(جویك صدروپے کے اندراندرہوگا)بزم حنفیہ حمایت کلام مجید اور اشاعت مذہب اہلسنت میں صرف کرسکتی ہے یانہیں
الجواب:
سوال زائدباتوں سے بہت مفصل اورضروری باتوں سے نہایت مجمل ہے کیسی تقسیم خلاف شرع ہوئی اگراس شیطانی مسئلہ پرعمل ہوا جوآج کل شیاطین الانس میں ہے کہ بنات کوترکہ نہیں دیتے توزبیدہ کوکیسے ملااورپسرسوم کاحق کیسے زائل ہوا اوراگریہ ہے کہ تینوں بیٹوں اورایك بیٹی نے باہم لے لیا اور ایك دختر کوکچھ نہ دیا اورپسرسوم کو اس کے حصہ سے بہت کم دیا اس صورت میں اس دختر کے حصہ کا اس پسرپر کیابارہے اس نے اس کا کیادبایاہے جس سے سبکدوشی چاہتاہے ترکہ کیاچیزہے اورتقسیم کس طرح صاف تحریر فرمائیں کہ جواب دیاجائےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۶: ازکانپور نئی سڑك دکان حاجی رحیم بخش وحاجی فہم بخش مرسلہ کاظم حسین صاحب ۲۶جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زیدفوت ہوگیا اور اپنی بیوی اورایك نابالغہ لڑکی چھوڑی عمروجوزیدکاباپ ہے اس وجہ سے کہ اس نے ایك غیرکفو کی عورت سے بعد وفات والدہ زیدنکاح کرلیاتھا ہمیشہ زیدسے علیحدہ رہا۔اب بعد وفات زید زید کی جائداد پرناجائزصورت سے قابض ہوگیاہے اوراتلاف جائداد کی نیت سے لڑکی نابالغہ کاولی بننا چاہتا ہے۔اس صورت میں کیاحکم ہے
الجواب:
سوال زائدباتوں سے بہت مفصل اورضروری باتوں سے نہایت مجمل ہے کیسی تقسیم خلاف شرع ہوئی اگراس شیطانی مسئلہ پرعمل ہوا جوآج کل شیاطین الانس میں ہے کہ بنات کوترکہ نہیں دیتے توزبیدہ کوکیسے ملااورپسرسوم کاحق کیسے زائل ہوا اوراگریہ ہے کہ تینوں بیٹوں اورایك بیٹی نے باہم لے لیا اور ایك دختر کوکچھ نہ دیا اورپسرسوم کو اس کے حصہ سے بہت کم دیا اس صورت میں اس دختر کے حصہ کا اس پسرپر کیابارہے اس نے اس کا کیادبایاہے جس سے سبکدوشی چاہتاہے ترکہ کیاچیزہے اورتقسیم کس طرح صاف تحریر فرمائیں کہ جواب دیاجائےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۶: ازکانپور نئی سڑك دکان حاجی رحیم بخش وحاجی فہم بخش مرسلہ کاظم حسین صاحب ۲۶جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زیدفوت ہوگیا اور اپنی بیوی اورایك نابالغہ لڑکی چھوڑی عمروجوزیدکاباپ ہے اس وجہ سے کہ اس نے ایك غیرکفو کی عورت سے بعد وفات والدہ زیدنکاح کرلیاتھا ہمیشہ زیدسے علیحدہ رہا۔اب بعد وفات زید زید کی جائداد پرناجائزصورت سے قابض ہوگیاہے اوراتلاف جائداد کی نیت سے لڑکی نابالغہ کاولی بننا چاہتا ہے۔اس صورت میں کیاحکم ہے
اول: زید کی متروکہ جائداد زید کی لڑکی وبیوی پرتقسیم ہونے کی کیاصورت ہے
دوم: زیدکے متروکہ میں عمروکا اورزید کے علاتی بھائی خالد کاکوئی حق ہے یانہیں ہے توکتنا
سوم: ایسی حالت میں جبکہ عمرو کی ولایت سے جائداد کے تلف ہوجانے کااحتمال ہے تو نابالغہ کی ماں ولیہ نابالغہ ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب:
بعدادائے مہرودیگردیون حسب شرائط فرائض متروکہ زیدکے آٹھ حصوں سے ایك حصہ اس کی زوجہ اورچارسہم دختر اورتین سہم عمرو کوملیں گے فرضا وعصوبۃ(بطور فرض اور بطورعصبہ)اورعلاتی بھائی کاکوئی حق نہیں شریعت مطہرہ نے پدرووصی پدرکے بعد نابالغ کے مال کا ولی اس کے دادا کوبنایاہے ماں کسی طرح ولی مال نہیںنہ کہ داداپر اس کوترجیح ہو۔درمختارمیں ہے:
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ نابالغ کاولی اس کے مال میں اس کاباپ پھر باپ کاوصی پھر اس کادادا پھردادا کاوصی ہوتاہے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۹۷: مرسلہ حافظ جان محمدصاحب ساکن گندہ نالہ شہربریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے انتقال کیااورایك مکان واسطے ادائیگی مہراپنی بیوی کے چھوڑا ایك لڑکا پانچ لڑکیاں اولاد چھوڑی ایك لڑکی کی شادی والد نے خود کردی ۴لڑکیاں رہیں ان لڑکیوں کی والدہ نے اپنے لڑکے سے کہاکہ تم اپنی کمائی سے ان کے عقدنکاح کاانتظام کردو اس مکان کاتم کومالك کیا چنانچہ لڑکے نے حسب فرمان اپنی والدہ کے چاروں کا عقد نکاح کردیا بعد کووالدہ نے انتقال کیا اس کے بعد دولڑکیاں انتقال کرگئیں بعد اس کے اس لڑکے نے بھی انتقال کیا اس نے تین ہمشیرہ اوراپنی بیوی اوردولڑکے اورچارلڑکیاں چھوڑیں بعد کوایك ہمشیرہ اورانتقال کرگئی لیکن ان سب کی اولاد موجودہیں کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنا حصہ طلب کرتے ہیں اورایك وہ ہمشیرہ جس کی شادی خود والد نے کیزندگی میں نہ کسی نے مکان پر قبضہ کیانہ طلب کیا اوراس لڑکی کے ذمہ قرضہ دیناہے جتنے کامکان کاحصہ ہے اتنا قرضہ بھی ہے
دوم: زیدکے متروکہ میں عمروکا اورزید کے علاتی بھائی خالد کاکوئی حق ہے یانہیں ہے توکتنا
سوم: ایسی حالت میں جبکہ عمرو کی ولایت سے جائداد کے تلف ہوجانے کااحتمال ہے تو نابالغہ کی ماں ولیہ نابالغہ ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب:
بعدادائے مہرودیگردیون حسب شرائط فرائض متروکہ زیدکے آٹھ حصوں سے ایك حصہ اس کی زوجہ اورچارسہم دختر اورتین سہم عمرو کوملیں گے فرضا وعصوبۃ(بطور فرض اور بطورعصبہ)اورعلاتی بھائی کاکوئی حق نہیں شریعت مطہرہ نے پدرووصی پدرکے بعد نابالغ کے مال کا ولی اس کے دادا کوبنایاہے ماں کسی طرح ولی مال نہیںنہ کہ داداپر اس کوترجیح ہو۔درمختارمیں ہے:
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ نابالغ کاولی اس کے مال میں اس کاباپ پھر باپ کاوصی پھر اس کادادا پھردادا کاوصی ہوتاہے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۹۷: مرسلہ حافظ جان محمدصاحب ساکن گندہ نالہ شہربریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے انتقال کیااورایك مکان واسطے ادائیگی مہراپنی بیوی کے چھوڑا ایك لڑکا پانچ لڑکیاں اولاد چھوڑی ایك لڑکی کی شادی والد نے خود کردی ۴لڑکیاں رہیں ان لڑکیوں کی والدہ نے اپنے لڑکے سے کہاکہ تم اپنی کمائی سے ان کے عقدنکاح کاانتظام کردو اس مکان کاتم کومالك کیا چنانچہ لڑکے نے حسب فرمان اپنی والدہ کے چاروں کا عقد نکاح کردیا بعد کووالدہ نے انتقال کیا اس کے بعد دولڑکیاں انتقال کرگئیں بعد اس کے اس لڑکے نے بھی انتقال کیا اس نے تین ہمشیرہ اوراپنی بیوی اوردولڑکے اورچارلڑکیاں چھوڑیں بعد کوایك ہمشیرہ اورانتقال کرگئی لیکن ان سب کی اولاد موجودہیں کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنا حصہ طلب کرتے ہیں اورایك وہ ہمشیرہ جس کی شادی خود والد نے کیزندگی میں نہ کسی نے مکان پر قبضہ کیانہ طلب کیا اوراس لڑکی کے ذمہ قرضہ دیناہے جتنے کامکان کاحصہ ہے اتنا قرضہ بھی ہے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
پس اس صورت میں شریعت مطہرہ کیاحکم دیتی ہے آیالڑکی یاان کی اولاد کوحصہ مل سکتاہے یانہیں اورلڑکے کی بیوی کو اور اولاد کوحق پہنچے گا یاقرض اداکیاجائے گابینواتوجروا۔
الجواب:
ماں نے جولفظ لڑکے سے کہے تھے کہ ان کانکاح کردوتمہیں مکان کامالك کیا اس سے ہبہ خواہ بیع کہ ٹھہرائیں جبکہ ماں بلکہ لڑکابھی قبل قبضہ مکان انتقال کرگئے لڑکا کسی طرح اس مکان کامالك نہ ہوا ہبہ میں توظاہرکہ قبل قبضہ ان میں ایك کی موت سے باطل ہوتاہے اوربیع میں یوں کہ یہ بیع بوجہ جہالت ثمن باطل تھی اوربیع فاسد میں قبل قبضہ مشتری مالك نہیں ہوتا۔در مختارمیں ہے:
اذا قبض المشتری المبیع برضاء بائعہ فی البیع الفاسد ولم ینھہ ملکہ ۔(ملتقطا) جب مشتری بیع فاسد میں بائع کی رضامندی سے مبیع پرقبضہ کرلے اوربائع اس کومنع نہ کرے تووہ مبیع کامالك ہوجائے گا۔(بالالتقاط)۔(ت)
تومکان کہ ماں کے مہر میں تھا اسی کی ملك رہا اس کے لڑکے اورپانچوں لڑکیوں سب کا اس میں حصہ ہوا جوموجود ہیں ان کو اورجن کاانتقال ہوگیا ان کی اولاد ورثہ کوحصہ پہنچے گاجوحصہ اس پسرکاہوگا اس سے جوقرضہ اس پرہے اداکیاجائے گا اگرکچھ بچاتو اس کی زوجہ اوربیٹے بیٹیاں پائیں گے ورنہ کچھ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: ازپولیس لائن ضلع سیتاپور مرسلہ عرفان خاں کانسٹیبل محرر ۲شعبان ۱۳۳۸ھ
اصغری بیگم کاخاوند مرگیااصغری بیگم کے ایك لڑکا بالغ عرفان خاں اور ایك نابالغہ لڑکی مظہری بیگم ہےمسماۃ بیوہ نے مظہری کا عقد بکرکے ساتھ کرناچاہااورعرفان خاں کوخط لکھا کہ میں تمہاری بہن مظہری بیگم کاعقد بکرکے ساتھ کرناچاہتی ہوں تمہاری کیارائے ہے۔عرفان خاں نے اپنی ماں کوجواب دیاکہ بکربدچلن اورخلاف شرع شخص ہے مجھے اپنی بہن کاعقد اس سے منظور نہیں باوجود ممانعت عرفان خاں ماں نے بولایت خود خلاف مرضی عرفان خاں بکر کے ساتھ مظہری کاعقدکردیا اور پندرہ دن بعد بذریعہ خط عرفان خاں کوعقد مذکورکی اطلاع دی عرفان خاں نے جواب دیاکہ تم نے میری بلااجازت اورخلاف مرضی جو نکاح مظہری کابکرکے ساتھ کردیاہے میں اس کوہرگزنہ مانوں گا اورمظہری کی رخصت بکرکے ساتھ نہ کروں گا نکاح کوڈھائی سال ہوئے مظہری اب بالغہ ہے اور
الجواب:
ماں نے جولفظ لڑکے سے کہے تھے کہ ان کانکاح کردوتمہیں مکان کامالك کیا اس سے ہبہ خواہ بیع کہ ٹھہرائیں جبکہ ماں بلکہ لڑکابھی قبل قبضہ مکان انتقال کرگئے لڑکا کسی طرح اس مکان کامالك نہ ہوا ہبہ میں توظاہرکہ قبل قبضہ ان میں ایك کی موت سے باطل ہوتاہے اوربیع میں یوں کہ یہ بیع بوجہ جہالت ثمن باطل تھی اوربیع فاسد میں قبل قبضہ مشتری مالك نہیں ہوتا۔در مختارمیں ہے:
اذا قبض المشتری المبیع برضاء بائعہ فی البیع الفاسد ولم ینھہ ملکہ ۔(ملتقطا) جب مشتری بیع فاسد میں بائع کی رضامندی سے مبیع پرقبضہ کرلے اوربائع اس کومنع نہ کرے تووہ مبیع کامالك ہوجائے گا۔(بالالتقاط)۔(ت)
تومکان کہ ماں کے مہر میں تھا اسی کی ملك رہا اس کے لڑکے اورپانچوں لڑکیوں سب کا اس میں حصہ ہوا جوموجود ہیں ان کو اورجن کاانتقال ہوگیا ان کی اولاد ورثہ کوحصہ پہنچے گاجوحصہ اس پسرکاہوگا اس سے جوقرضہ اس پرہے اداکیاجائے گا اگرکچھ بچاتو اس کی زوجہ اوربیٹے بیٹیاں پائیں گے ورنہ کچھ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: ازپولیس لائن ضلع سیتاپور مرسلہ عرفان خاں کانسٹیبل محرر ۲شعبان ۱۳۳۸ھ
اصغری بیگم کاخاوند مرگیااصغری بیگم کے ایك لڑکا بالغ عرفان خاں اور ایك نابالغہ لڑکی مظہری بیگم ہےمسماۃ بیوہ نے مظہری کا عقد بکرکے ساتھ کرناچاہااورعرفان خاں کوخط لکھا کہ میں تمہاری بہن مظہری بیگم کاعقد بکرکے ساتھ کرناچاہتی ہوں تمہاری کیارائے ہے۔عرفان خاں نے اپنی ماں کوجواب دیاکہ بکربدچلن اورخلاف شرع شخص ہے مجھے اپنی بہن کاعقد اس سے منظور نہیں باوجود ممانعت عرفان خاں ماں نے بولایت خود خلاف مرضی عرفان خاں بکر کے ساتھ مظہری کاعقدکردیا اور پندرہ دن بعد بذریعہ خط عرفان خاں کوعقد مذکورکی اطلاع دی عرفان خاں نے جواب دیاکہ تم نے میری بلااجازت اورخلاف مرضی جو نکاح مظہری کابکرکے ساتھ کردیاہے میں اس کوہرگزنہ مانوں گا اورمظہری کی رخصت بکرکے ساتھ نہ کروں گا نکاح کوڈھائی سال ہوئے مظہری اب بالغہ ہے اور
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸€
اس نکاح سے اپنی نارضامندی ظاہرکرتی ہے اور فسخ کراناچاہتی ہے کیاحکم ہے
الجواب:
اگریہ بیان صحیح ہے توعرفان خاں نے جس وقت نکاح کی اطلاع پانے پراس نکاح کے ماننے سے انکارکیااسی وقت وہ نکاح رد ہوگیا اور مظہری کوبکرسے کچھ علاقہ نہ رہا فسخ کی کیاحاجت کہ وہ سرے سے نہ رہا مظہری کواختیارہے جس مناسب جگہ چاہے نکاح کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: ازمدرسہ عین العلوم پوسٹ برتلہ ۲۴ پرگنہ مرسلہ محمدسراج الدین صاحب ۱۲/رمضان ۱۳۳۸ھ
زید نے انتقال کیا اورزوجہ واب وام وایك اخت عینی وارث چھوڑے ہرایك کاحصہ کیاہوگا اگر اس صورت میں ام کوثلث مابقی ملے توسراجی کی عبارت ذیل کاکیامطلب ہوگا:
وثلث مابقی بعد فرض احد الزوجین وذلك فی مسألتین زوج وابوین اوزوجۃ وابوین ۔بینوا توجروا۔ ماں کو زوج یازوجہ کاحصہ نکالنے کے بعد باقی کا تہائی ملے گا اور وہ دومسئلوں میں ہوتاہے:(۱)میت نے خاوند اوروالدین چھوڑے ہوں۔(۲)میت نے بیوی اوروالدین چھوڑے ہوں۔بیان کیجئے اجرپاؤگے۔(ت)
الجواب:
ہاں اس صورت میں ام کو ثلث باقی ملے گا اوریہ عبارت سراجیہ کے مخالف نہیںوہی صورت زوجہ وابوین کی ہے کہ اخت عینیہ کاوجودوعدم یکساں ہے کہ خود محجوب بالاب ہے اورام کو حاجبہ عن الثلث نہیںہاں دو عینیہ ہوتیں توام کو سدس ملتا زوجہ کو ربع باقی اب کو عصوبۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰:لکھنؤ محلہ رکاب گنج گڈھیا متصل احاطہ کمال خاں ۲ مکان مرسلہ مہدی حسن خاں صاحب مورخہ ۱۹جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں حضرات علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر اول سے دوپسرزید وبکر اورہندہ کے شوہرثانی سے ایك پسر خالد ہےاورہندہ کے شوہرثانی کی زوجہ اولی سے ایك پسرولید ہے۔خالد فوت ہوا اس نے ورثہ ذیل چھوڑے ایك بیوہ لاولد
الجواب:
اگریہ بیان صحیح ہے توعرفان خاں نے جس وقت نکاح کی اطلاع پانے پراس نکاح کے ماننے سے انکارکیااسی وقت وہ نکاح رد ہوگیا اور مظہری کوبکرسے کچھ علاقہ نہ رہا فسخ کی کیاحاجت کہ وہ سرے سے نہ رہا مظہری کواختیارہے جس مناسب جگہ چاہے نکاح کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: ازمدرسہ عین العلوم پوسٹ برتلہ ۲۴ پرگنہ مرسلہ محمدسراج الدین صاحب ۱۲/رمضان ۱۳۳۸ھ
زید نے انتقال کیا اورزوجہ واب وام وایك اخت عینی وارث چھوڑے ہرایك کاحصہ کیاہوگا اگر اس صورت میں ام کوثلث مابقی ملے توسراجی کی عبارت ذیل کاکیامطلب ہوگا:
وثلث مابقی بعد فرض احد الزوجین وذلك فی مسألتین زوج وابوین اوزوجۃ وابوین ۔بینوا توجروا۔ ماں کو زوج یازوجہ کاحصہ نکالنے کے بعد باقی کا تہائی ملے گا اور وہ دومسئلوں میں ہوتاہے:(۱)میت نے خاوند اوروالدین چھوڑے ہوں۔(۲)میت نے بیوی اوروالدین چھوڑے ہوں۔بیان کیجئے اجرپاؤگے۔(ت)
الجواب:
ہاں اس صورت میں ام کو ثلث باقی ملے گا اوریہ عبارت سراجیہ کے مخالف نہیںوہی صورت زوجہ وابوین کی ہے کہ اخت عینیہ کاوجودوعدم یکساں ہے کہ خود محجوب بالاب ہے اورام کو حاجبہ عن الثلث نہیںہاں دو عینیہ ہوتیں توام کو سدس ملتا زوجہ کو ربع باقی اب کو عصوبۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰:لکھنؤ محلہ رکاب گنج گڈھیا متصل احاطہ کمال خاں ۲ مکان مرسلہ مہدی حسن خاں صاحب مورخہ ۱۹جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں حضرات علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر اول سے دوپسرزید وبکر اورہندہ کے شوہرثانی سے ایك پسر خالد ہےاورہندہ کے شوہرثانی کی زوجہ اولی سے ایك پسرولید ہے۔خالد فوت ہوا اس نے ورثہ ذیل چھوڑے ایك بیوہ لاولد
حوالہ / References
السراجی فی المیراث فصل فی النساء ∞مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۸€
اورزید وبکر برادران اخیافی اوربرادرعلاتی ولیدجوکہ رافضی المذہب ہے۔توایسی صورت میں تقسیم ترکہ کن کن ورثہ پرہوگا دیگریہ کہ متوفی نے جوجائداد چھوڑی ہے وہ متوفی کی خاص قوت بازو سے حاصل کی ہوئی ہے کسی مورث قدیم کاکچھ ترکہ اس میں شامل نہیں ہے اور بیوہ لاولد متوفی کی کسی وارثان استحقاق شدہ کو کچھ حصہ نہیں دیتی ہے بلکہ آمادہ جنگ وجدال ہے تو اس صورت میں نزدیك شرع شریف کے عنداﷲ گنہ گارہوگی یانہیں فقط۔بینواتوجروا۔
الجواب:
بیوہ کامہرواجب الادا اگرقدر متروکہ سے زائد یابرابرہے اور وہ اس دعوی سے کسی وارث کوکچھ دینا نہیں چاہتی توگنہ گار نہیں وارث اگرمہر میں جائداد دینانہ چاہیں مہراداکریں اس کے بعد جائداد میں حصہ لیںاوراگرمہر نہیں یا قدرمتروکہ سے کم ہے تو بیوہ کاکل جائداد پرقبضہ کرنا اوروارثوں کونہ دیناظلم ہے اوروہ گنہ گار۔خالد کاترکہ حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہرودیگردیون و انفاذ وصایا وانحصار ورثہ فی المذکورین آٹھ سہم ہوکردوسہم زوجہ اورتین تین سہم دونوں اخیافی بھائیوں کو ملیں گے اورولید برادرعلاتی کوبوجہ اختلاف دین کچھ نہ ملے۔فتاوی عالمگیریہ میں فتاوی ظہیریہ سے دربارہ روافض ہے:
احکامھم احکام المرتدین ۔ رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام کی طرح ہیں۔(ت)
اوراسی میں ہے:
واختلاف الدین یمنع الارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ دین کامختلف ہونا میراث سے مانع ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۱: ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ کوٹ غربی متولیان مسئولہ سیدمحمدعلی صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص سنی المذہب کاانتقال ہوا اور اس نے اپنی دوبہنیں سنی المذہب اورایك بیٹی شیعی المذہب چھوڑیںشرعا اس صورت
الجواب:
بیوہ کامہرواجب الادا اگرقدر متروکہ سے زائد یابرابرہے اور وہ اس دعوی سے کسی وارث کوکچھ دینا نہیں چاہتی توگنہ گار نہیں وارث اگرمہر میں جائداد دینانہ چاہیں مہراداکریں اس کے بعد جائداد میں حصہ لیںاوراگرمہر نہیں یا قدرمتروکہ سے کم ہے تو بیوہ کاکل جائداد پرقبضہ کرنا اوروارثوں کونہ دیناظلم ہے اوروہ گنہ گار۔خالد کاترکہ حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہرودیگردیون و انفاذ وصایا وانحصار ورثہ فی المذکورین آٹھ سہم ہوکردوسہم زوجہ اورتین تین سہم دونوں اخیافی بھائیوں کو ملیں گے اورولید برادرعلاتی کوبوجہ اختلاف دین کچھ نہ ملے۔فتاوی عالمگیریہ میں فتاوی ظہیریہ سے دربارہ روافض ہے:
احکامھم احکام المرتدین ۔ رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام کی طرح ہیں۔(ت)
اوراسی میں ہے:
واختلاف الدین یمنع الارث ۔واﷲ تعالی اعلم۔ دین کامختلف ہونا میراث سے مانع ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۱: ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ کوٹ غربی متولیان مسئولہ سیدمحمدعلی صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص سنی المذہب کاانتقال ہوا اور اس نے اپنی دوبہنیں سنی المذہب اورایك بیٹی شیعی المذہب چھوڑیںشرعا اس صورت
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞۶/ ۴۵۴€
الفتاوی الہندیۃ کتاب الفرائض الباب الخامس ∞۶/ ۴۵۴€
میں ترکہ متوفی کس طرح تقسیم کیاجائے گا بینوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان کرو حساب کے روز اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض متوفی کاترکہ نصف نصف دونوں بہنوں کوپہنچے گا اوربیٹی کو کچھ نہ ملے گا۔ عالمگیریہ میں ہے:
احکامھم احکام المرتدین کذا فی الفتاوی الظھیریۃ ۔ رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام جیسے ہیں۔فتاوی ظہیریہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
المرتدین لایرث من مسلم ولامن مرتد مثلہ کذا فی المحیط ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مرتد نہ تومسلمانوں کاوارث بنتاہے اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔ایساہی محیط میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۲: ازشہر بہارچوك بازارپٹنہ دکان پارچہ حاجی ناصرعلی محمدابراہیم ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
زیدنے انتقال کیاتین لڑکے چھ لڑکیاں چھوڑیں جن میں چار لڑکیاں شادی شدہ تھیں اور دونابالغہ اورایك لڑکا نابالغاوراحد و محمود دولڑکے بالغیہ پانچوں اوران کی والدہ ایك ساتھ رہےاور کل متروکہ انہیں کے قبضہ میں رہا۔وہ چار لڑکیاں شادی شدہ تھیںوقت انتقال زیدحق پدرکی طالب نہ ہوئیںمتروکہ پدری سے احدومحمود نے تجارتیں کیں کچھ ایسے ہی اورکچھ میں مضارب بن کر جس سے عظیم کاروبار ہوگیا وہ چاروں دختر اب پدری حق چاہتی ہیں اورکہتی ہیں کہ جوکچھ تجارتوں میں زیادتی ہوئی ہے وہ بھی ہمارے ہی باپ کامال ہے اس میں بھی ہماراحق ہوناچاہئےاس صورت میں کیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)اوراگرنفع میں بھی ان کوحصہ دیاجائے توکیا اس نفع سے بھی حصہ ملے گا جس میں احدومحمود مضارب ہوئے تھے
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض متوفی کاترکہ نصف نصف دونوں بہنوں کوپہنچے گا اوربیٹی کو کچھ نہ ملے گا۔ عالمگیریہ میں ہے:
احکامھم احکام المرتدین کذا فی الفتاوی الظھیریۃ ۔ رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام جیسے ہیں۔فتاوی ظہیریہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
المرتدین لایرث من مسلم ولامن مرتد مثلہ کذا فی المحیط ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مرتد نہ تومسلمانوں کاوارث بنتاہے اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔ایساہی محیط میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۲: ازشہر بہارچوك بازارپٹنہ دکان پارچہ حاجی ناصرعلی محمدابراہیم ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
زیدنے انتقال کیاتین لڑکے چھ لڑکیاں چھوڑیں جن میں چار لڑکیاں شادی شدہ تھیں اور دونابالغہ اورایك لڑکا نابالغاوراحد و محمود دولڑکے بالغیہ پانچوں اوران کی والدہ ایك ساتھ رہےاور کل متروکہ انہیں کے قبضہ میں رہا۔وہ چار لڑکیاں شادی شدہ تھیںوقت انتقال زیدحق پدرکی طالب نہ ہوئیںمتروکہ پدری سے احدومحمود نے تجارتیں کیں کچھ ایسے ہی اورکچھ میں مضارب بن کر جس سے عظیم کاروبار ہوگیا وہ چاروں دختر اب پدری حق چاہتی ہیں اورکہتی ہیں کہ جوکچھ تجارتوں میں زیادتی ہوئی ہے وہ بھی ہمارے ہی باپ کامال ہے اس میں بھی ہماراحق ہوناچاہئےاس صورت میں کیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)اوراگرنفع میں بھی ان کوحصہ دیاجائے توکیا اس نفع سے بھی حصہ ملے گا جس میں احدومحمود مضارب ہوئے تھے
حوالہ / References
الفتاوی الہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴€
الفتاوی الہندیۃ کتا ب الفرائض الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۵€
الفتاوی الہندیۃ کتا ب الفرائض الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۵€
الجواب:
جبکہ نہ ان لڑکیوں نے اپناحصہ مانگا نہ لڑکوں نے دیا اوربطور خود اس میں تجارت کرتے رہے تو وہ چاروں لڑکیاں اصل متروکہ میں اپناحصہ طلب کرسکتی ہیں تجارت سے جونفع ہوا وہ لڑکیاں اس کی مالك نہیںہاں ان کے حصہ پرجونفع ہوا لڑکوں کے لئے ملك خبیث ہے لڑکوں کوجائزنہیں کہ اسے اپنے تصرف میں لائیںان پرواجب ہے کہ یاتووہ نفع فقراء مسلمین پرتصدق کریں یاچاروں لڑکیوں کو دے دیں اوریہی بوجوہ افضل واولی ہے اوران لڑکیوں کے لئے حلال طیب ہے کہ انہیں کی ملك کانفع ہے جبکہ لڑکوں پرشرعا حرام ہے کہ ان لڑکیوں کے حصہ کانفع اپنے صرف میں لائیں تولڑکیوں ہی کوکیوں نہ دیں کہ ان کی دلجوئی ہو صلہ رحم ہو صاحب حق کی ملك کانفع اسی کوپہنچےواﷲ تعالی اعلم
اوراس میں برابرہے وہ نفع کہ انہیں مال متروکہ کی تجارت پرملا اور وہ جس میں احد ومحمود مضارب ہے کہ ان چارلڑکیوں نے نہ حصہ طلب کیا نہ ان کومضارب کیابطورخود مضارب بن جانا مہمل محض ہے اوراگرماں نے مضارب کیاتوان چارلڑکیوں کے حصوں پر اسے بھی کوئی اختیارنہ تھا بہرحال ان کاحصہ ان کے ہاتھ میں بطور غصب رہا اور اس پرنفع جس طرح بھی حاصل ہوا خبیث ہوا اور اس کاوہی حکم ہے جوگزرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: ازبمبئی محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مسئولہ محمدعثمان صاحب سنی حنفی قادری ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایك نادارشخص ہے جس کی اہلیہ اور ایك دختر تین سال کی ہے قرض لے کراپنی زوجہ ودختر کوزیوربنادیااوراب بھی مقروض ہے اس کی خوشدامن بغیراجازت زیداپنی لڑکی اورنواسی کواپنے مکان پرلے گئی اور آنے نہ دیا اس درمیان میں زوجہ زید بیمارہوگئی اورحالت بیماری میں اپنے شوہر کودوآدمیوں کے روبروبلواکرمہرمعاف کردیا۔ زیدنے قرض لے کر تجہیزوتکفین کردی اب خسرزید زیوراورنواسی کودینے سے انکارکرتاہے کہ تمہارا اب کوئی حق نہیں اورنہ تمہاری ہمشیرہ کو لڑکی کے پرورش کرنے کاکوئی حق ہے لہذا صورت مسئولہ میں زیور اورنواسی کونہ دینا کیاحکم شرع رکھتاہے بینوابیانا شافیا توجروااجرا وافیا(تسلی بخش طورپربیان کروپھرپورااجرپاؤگے۔ت)
جبکہ نہ ان لڑکیوں نے اپناحصہ مانگا نہ لڑکوں نے دیا اوربطور خود اس میں تجارت کرتے رہے تو وہ چاروں لڑکیاں اصل متروکہ میں اپناحصہ طلب کرسکتی ہیں تجارت سے جونفع ہوا وہ لڑکیاں اس کی مالك نہیںہاں ان کے حصہ پرجونفع ہوا لڑکوں کے لئے ملك خبیث ہے لڑکوں کوجائزنہیں کہ اسے اپنے تصرف میں لائیںان پرواجب ہے کہ یاتووہ نفع فقراء مسلمین پرتصدق کریں یاچاروں لڑکیوں کو دے دیں اوریہی بوجوہ افضل واولی ہے اوران لڑکیوں کے لئے حلال طیب ہے کہ انہیں کی ملك کانفع ہے جبکہ لڑکوں پرشرعا حرام ہے کہ ان لڑکیوں کے حصہ کانفع اپنے صرف میں لائیں تولڑکیوں ہی کوکیوں نہ دیں کہ ان کی دلجوئی ہو صلہ رحم ہو صاحب حق کی ملك کانفع اسی کوپہنچےواﷲ تعالی اعلم
اوراس میں برابرہے وہ نفع کہ انہیں مال متروکہ کی تجارت پرملا اور وہ جس میں احد ومحمود مضارب ہے کہ ان چارلڑکیوں نے نہ حصہ طلب کیا نہ ان کومضارب کیابطورخود مضارب بن جانا مہمل محض ہے اوراگرماں نے مضارب کیاتوان چارلڑکیوں کے حصوں پر اسے بھی کوئی اختیارنہ تھا بہرحال ان کاحصہ ان کے ہاتھ میں بطور غصب رہا اور اس پرنفع جس طرح بھی حاصل ہوا خبیث ہوا اور اس کاوہی حکم ہے جوگزرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: ازبمبئی محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مسئولہ محمدعثمان صاحب سنی حنفی قادری ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایك نادارشخص ہے جس کی اہلیہ اور ایك دختر تین سال کی ہے قرض لے کراپنی زوجہ ودختر کوزیوربنادیااوراب بھی مقروض ہے اس کی خوشدامن بغیراجازت زیداپنی لڑکی اورنواسی کواپنے مکان پرلے گئی اور آنے نہ دیا اس درمیان میں زوجہ زید بیمارہوگئی اورحالت بیماری میں اپنے شوہر کودوآدمیوں کے روبروبلواکرمہرمعاف کردیا۔ زیدنے قرض لے کر تجہیزوتکفین کردی اب خسرزید زیوراورنواسی کودینے سے انکارکرتاہے کہ تمہارا اب کوئی حق نہیں اورنہ تمہاری ہمشیرہ کو لڑکی کے پرورش کرنے کاکوئی حق ہے لہذا صورت مسئولہ میں زیور اورنواسی کونہ دینا کیاحکم شرع رکھتاہے بینوابیانا شافیا توجروااجرا وافیا(تسلی بخش طورپربیان کروپھرپورااجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
اگرزوجہ ودختر کوزیورکامالك نہ کردیاتھانہ وہاں کے عرف ورواج سے مالك کردینا مفہوم ہوتاہوتواس زیورکامالك خود زید ہے عورت کاماں باپ کو اس کے رکھ لینے کاکوئی حق نہیں اوراگرمالك کردیاتھا جب بھی لڑکی کازیوروہ نہیں رکھ سکتے کہ نابالغہ لڑکی کا ولی اس کاباپ ہے نہ کہ نانانانی۔رہا عورت کازیور اس کے تیرہ حصوں میں سے چارحصے اس کے ماں باپ کے اورتین حصے شوہر اورچھ حصے لڑکی کےعورت کے والدین اپنے چار حصے لے سکتے ہیںباقی نوحصے لینے اوررکھنے کامستحق اس کاشوہرہے۔یوں ہی مہر کے تیرہ حصوں میں سے تین حصے بحق شوہر ساقط ہوگئے اورچھ حصے کہ حق دختر ہیں نانا نانی ان کامطالبہ نہیں کرسکتے اپنے چار حصے مانگ سکتے ہیںاگرعورت کا معاف کرنا کہ مرض الموت میں تھا منظورنہ رکھیں اوراگربعد مرگ زن اس معافی کو منظورکرچکے ہوں تو ان کامہرمیں کوئی حق نہ رہا لڑکی نوبرس کی عمرہونے تك نانی کے پاس رہے گی پھرباپ لے لے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: ازجہجہ شریف ریاست بہاولپور مرسلہ جناب احمد بخش صاحب چشتی سجادہ نشین ۱۳ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ موجب روایت متون سراجی وہدایہ وکنزوملتقی الابحرعنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ وبکون الاصل وارثا معتبر نہیں یعنی بنت العم وابن الخال میں سے کسی کوترجیح نہیں بلکہ بنت العم کو دوحصہ ابن الخال کوایك حصہ دیاجائے گا اوراسی روایت کو صاحب فتاوی حامدیہ نے مفتی بہ قراردیاہے بقولہ المعتبر مافی المتون لانھا موضوعۃ لنقل المذھب (اپنے اس قول کے ساتھ کہ معتبروہی ہے جوکچھ متون میں ہے کیونکہ وہ نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ت)اور صاحب فتاوی خیریہ نے روایت شمس الائمہ سرخسی کوبہت نقول کے ساتھ مؤید کرکے مفتی بہ قراردیا یعنی عنداختلاف الجہۃ ولد عصبہ کو ترجیح ہےعلامہ شامی نے بھی اسی روایت کی بڑی تائید کرتے ہوئے اپنی کتاب تنقیح حامدیہ میں مفتی بہ قراردیا مگر عنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ(اختلاف جہت کے وقت قوت قرابت کے ساتھ ترجیح۔ت)میں اضطراب کرکے امربمراجعۃ کتب کیاہے
اگرزوجہ ودختر کوزیورکامالك نہ کردیاتھانہ وہاں کے عرف ورواج سے مالك کردینا مفہوم ہوتاہوتواس زیورکامالك خود زید ہے عورت کاماں باپ کو اس کے رکھ لینے کاکوئی حق نہیں اوراگرمالك کردیاتھا جب بھی لڑکی کازیوروہ نہیں رکھ سکتے کہ نابالغہ لڑکی کا ولی اس کاباپ ہے نہ کہ نانانانی۔رہا عورت کازیور اس کے تیرہ حصوں میں سے چارحصے اس کے ماں باپ کے اورتین حصے شوہر اورچھ حصے لڑکی کےعورت کے والدین اپنے چار حصے لے سکتے ہیںباقی نوحصے لینے اوررکھنے کامستحق اس کاشوہرہے۔یوں ہی مہر کے تیرہ حصوں میں سے تین حصے بحق شوہر ساقط ہوگئے اورچھ حصے کہ حق دختر ہیں نانا نانی ان کامطالبہ نہیں کرسکتے اپنے چار حصے مانگ سکتے ہیںاگرعورت کا معاف کرنا کہ مرض الموت میں تھا منظورنہ رکھیں اوراگربعد مرگ زن اس معافی کو منظورکرچکے ہوں تو ان کامہرمیں کوئی حق نہ رہا لڑکی نوبرس کی عمرہونے تك نانی کے پاس رہے گی پھرباپ لے لے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: ازجہجہ شریف ریاست بہاولپور مرسلہ جناب احمد بخش صاحب چشتی سجادہ نشین ۱۳ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ موجب روایت متون سراجی وہدایہ وکنزوملتقی الابحرعنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ وبکون الاصل وارثا معتبر نہیں یعنی بنت العم وابن الخال میں سے کسی کوترجیح نہیں بلکہ بنت العم کو دوحصہ ابن الخال کوایك حصہ دیاجائے گا اوراسی روایت کو صاحب فتاوی حامدیہ نے مفتی بہ قراردیاہے بقولہ المعتبر مافی المتون لانھا موضوعۃ لنقل المذھب (اپنے اس قول کے ساتھ کہ معتبروہی ہے جوکچھ متون میں ہے کیونکہ وہ نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ت)اور صاحب فتاوی خیریہ نے روایت شمس الائمہ سرخسی کوبہت نقول کے ساتھ مؤید کرکے مفتی بہ قراردیا یعنی عنداختلاف الجہۃ ولد عصبہ کو ترجیح ہےعلامہ شامی نے بھی اسی روایت کی بڑی تائید کرتے ہوئے اپنی کتاب تنقیح حامدیہ میں مفتی بہ قراردیا مگر عنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ(اختلاف جہت کے وقت قوت قرابت کے ساتھ ترجیح۔ت)میں اضطراب کرکے امربمراجعۃ کتب کیاہے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتا ب الفرائض ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۴۰€
بقولہ بقی مااذا اختلفت الجھۃ فھل یرجح بقوۃ القرابۃ ام لااما علی روایۃ انہ لاترجیح لولد العصبۃ علی ولد ذی الرحم فقد صرحوا بانہ لا ترجیح ایضا بقوۃ القرابۃ فلایرجح ولدالعمۃ لا بوین علی ولد الخال اوالخالۃ لابقالوا وانما یعتبر ذلك فی کل فریق بخصوصہ فالمدلولون بقرابۃ الاب یعتبرفیما بینھم قوۃ القرابۃ ثم ولد العصبۃ ای فیقدم ولدالعمۃ لابوین علی ولد العمۃ اوالعم لابو کذا المدلولون بقرابۃ الام فیعتبر فیھم قوۃ القرابۃ ولاتتصور عصوبۃ فی قرابۃ الام فولد الخالۃ لابوین مقدم علی ولد الخال لابواما علی روایۃ ترجیح ولد العصبۃ عنداختلاف الجھۃ فلم ارمن ذکرانہ یرجح بقوۃ القرابۃبل ظاھر اطلاق ھذہ الروایۃ ترجیح بنت العم لاب علی ابن الخال لابوین وان کان ابن الخال اقوی منھاومقتضی ما مرعن السید من التعلیل بان اپنے اس قول کے ساتھباقی رہی اختلاف جہۃ کی صورت کہ کیا اس میں قرابت کی قوت سے ترجیح ہوگی یانہیں۔اس روایت کی بنیاد پرکہ عصبہ کی اولاد کو ذی رحم کی اولادپرکوئی ترجیح نہیں مشائخ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قوت قرابت کے ساتھ بھی ترجیح نہیں ہوگی۔چنانچہ حقیقی پھوپھی کی اولاد کو علاتی ماموں یاعلاتی خالہ کی اولاد پرترجیح نہ ہوگی۔ مشائخ نے کہاکہ قوت قرابت کااعتبار ہرفریق میں علیحدہ ہوگا۔ لہذا جورشتہ دار باپ کی قرابت سے میت کی طرف منسوب ہیں ان کے درمیان قوت قرابت پھرعصبہ کی اولاد ہونا معتبرہوگا یعنی سگی پھوپھی کی اولاد علاتی پھوپھی یاعلاتی چچاکی اولاد پرمقدم ہوگی۔یونہی ماں کی قرابت سے میت کی طرف منسوب ہونے والوں کے درمیان قرابت کی قوت معتبرہوگی مگران میں عصبہ ہونا متصورنہیں ہے۔چنانچہ حقیقی خالہ کی اولاد علاتی ماموں کی اولادپرمقدم ہوگی۔لیکن اس روایت کی بنیادپرکہ جہت مختلف ہونے کے باوجود عصبہ کی اولاد کوترجیح ہوگی میں نے کسی شخص کونہیں دیکھا جس نے قوت قرابت کے ساتھ ترجیح کا ذکرکیاہو بلکہ اس روایت کے اطلاق کاظاہر تو یہ ہے کہ حقیقی ماموں کے بیٹے پرعلاتی چچا کی بیٹی کوترجیح حاصل ہوگی حالانکہ ماموں کابیٹا چچا کی بیٹی سے اقوی ہے۔اور سید کے حوالے سے جودلیل پہلے گزری کہ کسی شخص کو اس معنی کے
ترجیح شخص بمعنی فیہ اقوی من الترجیح بمعنی فی غیرہ یقتضی ترجیح ابن الخال فی المثال المذکور ویؤیدہ ان الترجیح بقوۃ القرابۃ اقوی من الترجیح بکون الاصل وارثا فمن قال یرجح ولد العصبۃ علی ولد ذی الرحم یلزمہ ان یرجح بقوۃ القرابۃ ایضا لانھا اقوی فتامل وراجع اھ۔ اعتبارسے ترجیح جو اس کی ذات میں پایاجاتاہے اقوی ہے اس ترجیح سے جو اس کو غیرمیں پائے جانے والے معنی کے اعتبار سے حاصل ہو اس کامقتضی تومثال مذکورمیں ماموں کے بیٹے کی ترجیح کوچاہتاہےاس کی تائید یہ بات کرتی ہے کہ قرابت کی قوت سے حاصل ہونے والی ترجیح اس ترجیح سے اقوی ہے جواصل کے وارث ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔چنانچہ جس نے کہاکہ عصبہ کی اولاد کو ذی رحم کی اولاد پرترجیح ہے۔اس کے لئے قوت قرابت سے ترجیح دینابھی لازم ہوگا کیونکہ یہ زیادہ قوی ہے۔غورکراورمراجعت کرالخ(ت)
الغرض آپ کے نزدیك روایت شمس الائمہ مفتی بہ یامتوناگرروایت شمس الائمہ مفتی بہ ہے توترجیح قوت قرابت بھی کی جائے گی
کماھو رأی الشامی بقولہ ویؤیدہ الخ یانہ کما ھو الظاھر من اطلاق روایۃ السرخسی۔ جیساکہ شامی کی رائے ہے اس قول کے ساتھ کہ اس کی تائید کرتاہے الخ یانہیںجیساکہ سرخسی کی روایت کے اطلاق سے ظاہرہے۔(ت)
پس بموجب متون قاعدہ اولاد صنف رابع اس طرح ہے:
یرجعون بقرب الدرجۃ ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث ثم یعتبر فی کل فریق علیحدۃ الترجیح بقوۃ القرابۃ ثم بولد العصبۃ۔ وہ قرب درجہ کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں پھر باپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایك تہائی دیاجائے گا پھرہرفریق میں علیحدہ قوت قرابتپھر اولاد عصبہ ہونے سے ترجیح ہوگی۔(ت)
اوربموجب ظاہراطلاق سرخسی قاعدہ یہ ہے:
الغرض آپ کے نزدیك روایت شمس الائمہ مفتی بہ یامتوناگرروایت شمس الائمہ مفتی بہ ہے توترجیح قوت قرابت بھی کی جائے گی
کماھو رأی الشامی بقولہ ویؤیدہ الخ یانہ کما ھو الظاھر من اطلاق روایۃ السرخسی۔ جیساکہ شامی کی رائے ہے اس قول کے ساتھ کہ اس کی تائید کرتاہے الخ یانہیںجیساکہ سرخسی کی روایت کے اطلاق سے ظاہرہے۔(ت)
پس بموجب متون قاعدہ اولاد صنف رابع اس طرح ہے:
یرجعون بقرب الدرجۃ ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث ثم یعتبر فی کل فریق علیحدۃ الترجیح بقوۃ القرابۃ ثم بولد العصبۃ۔ وہ قرب درجہ کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں پھر باپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایك تہائی دیاجائے گا پھرہرفریق میں علیحدہ قوت قرابتپھر اولاد عصبہ ہونے سے ترجیح ہوگی۔(ت)
اوربموجب ظاہراطلاق سرخسی قاعدہ یہ ہے:
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الفرائض ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۳۴۱€
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بکون الاصل وارثا ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث ثم یعتبر فی کل فریق الترجیح بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا۔ وہ قرب درجہ پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں۔پھرباپ کے تعلق والے فریق کودوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کوایك تہائی دیاجائے گا۔پھرہرفریق میں قوت قرابت پھراصل کے وارث ہونے سے ترجیح ہوگی۔ (ت)
اوربموجب مذاق شامی قاعدہ یہ ہے:
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا اتحدت الجھۃ اواختلفت ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث۔ وہ قرب درجہپھرقوت قرابتپھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں چاہے جہت متحد ہویامختلفپھرباپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایك تہائی دیاجائے گا(ت)
پس ان میں سے کس قاعدہ کومعمول بہ کیاجائے بینواتوجروا۔
بخدمت حضرت مولانا صاحب علامۃ الدہرمولوی احمد رضاخاں سلمہ الرحمنالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔
چونکہ یہ خاکسار اس وقت ایك ایسے رسالہ علم میراث کی تصنیف میں لگاہواہے جونہایت سہلمختصراورمنضبط قواعد پرمشتمل ہوتقلید قواعد قدیمہ کی بالکل ترك کرکے جدیدقواعد ایسے ایجاد ہوچکے ہیں جوایك ہی عمل کے ذریعے سے مناسخہ تك مسئلہ جاتا ہے کہ دوسرے عمل ردعول تصحیح وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔علی ہذالقیاس ذوی الارحام اوراس کے مناسخہ کی تسہیل بھی پرلے درجہ تك کی گئی ہےامیدکہ بعد تکمیل وہی رسالہ بنابرتقریظ حضور کی خدمت میں بھی ارسال کیاجائے گاچونکہ اولاد صنف رابع کے قاعدہ تحریمی میں سخت اختلاف ہے لہذا حل ہونا اس مشکل کابغیرامداد آں حل المشکلات صاحب کمال کے سخت مشکل ہے اورکوئی دوسرااہل فن باکمال میری رائے میں موجودنہیں کہ حل کرسکےپس بہرحال دوسرے شغل کوبالفعل بندفرماکر مکمل قاعدہ مفتی بہ بمع نقل عبارات فقہیہ لکھ کرارسال فرمائیں تاکہ بعینہ آپ کے فتوی کودرج رسالہ کیاجائے میرے پاس کوئی اورکتاب بجزشامی ودر و
اوربموجب مذاق شامی قاعدہ یہ ہے:
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا اتحدت الجھۃ اواختلفت ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث۔ وہ قرب درجہپھرقوت قرابتپھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں چاہے جہت متحد ہویامختلفپھرباپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایك تہائی دیاجائے گا(ت)
پس ان میں سے کس قاعدہ کومعمول بہ کیاجائے بینواتوجروا۔
بخدمت حضرت مولانا صاحب علامۃ الدہرمولوی احمد رضاخاں سلمہ الرحمنالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔
چونکہ یہ خاکسار اس وقت ایك ایسے رسالہ علم میراث کی تصنیف میں لگاہواہے جونہایت سہلمختصراورمنضبط قواعد پرمشتمل ہوتقلید قواعد قدیمہ کی بالکل ترك کرکے جدیدقواعد ایسے ایجاد ہوچکے ہیں جوایك ہی عمل کے ذریعے سے مناسخہ تك مسئلہ جاتا ہے کہ دوسرے عمل ردعول تصحیح وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔علی ہذالقیاس ذوی الارحام اوراس کے مناسخہ کی تسہیل بھی پرلے درجہ تك کی گئی ہےامیدکہ بعد تکمیل وہی رسالہ بنابرتقریظ حضور کی خدمت میں بھی ارسال کیاجائے گاچونکہ اولاد صنف رابع کے قاعدہ تحریمی میں سخت اختلاف ہے لہذا حل ہونا اس مشکل کابغیرامداد آں حل المشکلات صاحب کمال کے سخت مشکل ہے اورکوئی دوسرااہل فن باکمال میری رائے میں موجودنہیں کہ حل کرسکےپس بہرحال دوسرے شغل کوبالفعل بندفرماکر مکمل قاعدہ مفتی بہ بمع نقل عبارات فقہیہ لکھ کرارسال فرمائیں تاکہ بعینہ آپ کے فتوی کودرج رسالہ کیاجائے میرے پاس کوئی اورکتاب بجزشامی ودر و
فتاوی تنقیح الحامدیہ کے نہیں ہے تاکہ صریح جزئی کامسئلہ حاصل کرسکوںجوابی لفافہ مرسل خدمت ہےجب تك جواب نہیں آئے گا میں سخت انتظار میں مضطرب رہوں گا اوررسالہ بھی ناقص رہے گا
ختم ۲۸مارچ ۱۹۱۸ء راقم خادم الشرع سراج احمد مدرس علوم عربیہ جہجہ ریاست بہاولپور ازطرف فقیراحمدبخش چشتی سجادہ نشین جہجہ شریف۔تاکید مزید بعدسلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔
بخدمت جناب ابوالعلامہ امجدصاحب سلمہ المذہب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ! مسئلہ قاعدہ تحریم صنف رابع ذوی الارحام مندرجہ لفافہ ہمارے علماء گردونواح کامختلف فیہ واقع ہواہے کوئی متون کوترجیح دیتے ہیں دیوبندیوں کا فتوی بھی یہ ہے حتی کہ کتاب مفید الوارثین میں بالتصریح مذکورہے اور کوئی فتاوی خیریہ کو مقدم سمجھتے جس کی شامی نے بھی تائید کی۔اب مسئلہ معرکہ آرابن گیا ہے ایك نقل اس استفتاء کامولوی عبدالغفور ہمایونی کو بھیجا گیا ہے مگر افسوس ہےکہ وہ فوت ہوگئےہیں باقی دیوبندی علماء غیر مقلد ہیں ان کے فتوے پراعتبارنہیں آتا۔آج کل فقہ حنفی کاعالم متبحر بغیرمولوی صاحب مولوی احمدرضاخاں صاحب کے علاوہ اور کوئی نظرنہیں آتاایك خط پہلے دربارہ استفتائے مذکور مولوی احمدرضاخاں صاحب کے پاس بھیجاگیا سب علماء اس جگہ والے منتظر جواب ہیں اس لئے آج دوسرااستفتائے مذکور کی نقل آپ کی وساطت سے بجناب مولوی صاحب بھیجی جاتی ہے براہ عنایت واعانت دین آپ بنفس نفیس یہ استفتاء مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کرکے جواب لکھواکر واپس فرمائیں اﷲ تعالی جل شانہآپ کو اس تکلیف کانعم البدل عطافرمائے گا مگرجواب صرف نعم اور لا میں نہ ہوبلکہ بہ نقول وحوالہ کتب فقہ حنفی مستدل ومبرہن لکھوادیں ایسے اختلاف عظیم کامٹانا اورحق دریافت کرنا جس میں علامہ شامی جیسامحقق بھی عاجزہوکر دوسروں کوفیصلہ پرامربمراجعہ کتب فرمارہاہے بجزمولوی صاحب جیسے علامہ متبحر کے اورکوئی قادرنہ ہوسکے گا۔آج مولوی صاحب جیسی شمع روشن ہے کل کوخدانخواستہ کوئی شخص اس کو حل نہ کرسکے گا۔مولوی صاحب کے ہاں ذخیرہ کتب موجودہے امیدہے کہ کسی عالم مصریاشام نے اپنے فتاوی میں ذکر اس جزئی کاکیاہو وہ ضرورنقل فرمائیں فقط ۱۱/اگست ۱۹۱۸ء راقم فقیراحمدبخش سجادہ نشین شہرجہجہ ریاست بہاولپور
الجواب:
یہاں دو۲ مسئلے ہیں:اول۱: بحالت اختلاف حیزبھی ولدالوارث کوترجیح ہے یانہیں۔
ختم ۲۸مارچ ۱۹۱۸ء راقم خادم الشرع سراج احمد مدرس علوم عربیہ جہجہ ریاست بہاولپور ازطرف فقیراحمدبخش چشتی سجادہ نشین جہجہ شریف۔تاکید مزید بعدسلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔
بخدمت جناب ابوالعلامہ امجدصاحب سلمہ المذہب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ! مسئلہ قاعدہ تحریم صنف رابع ذوی الارحام مندرجہ لفافہ ہمارے علماء گردونواح کامختلف فیہ واقع ہواہے کوئی متون کوترجیح دیتے ہیں دیوبندیوں کا فتوی بھی یہ ہے حتی کہ کتاب مفید الوارثین میں بالتصریح مذکورہے اور کوئی فتاوی خیریہ کو مقدم سمجھتے جس کی شامی نے بھی تائید کی۔اب مسئلہ معرکہ آرابن گیا ہے ایك نقل اس استفتاء کامولوی عبدالغفور ہمایونی کو بھیجا گیا ہے مگر افسوس ہےکہ وہ فوت ہوگئےہیں باقی دیوبندی علماء غیر مقلد ہیں ان کے فتوے پراعتبارنہیں آتا۔آج کل فقہ حنفی کاعالم متبحر بغیرمولوی صاحب مولوی احمدرضاخاں صاحب کے علاوہ اور کوئی نظرنہیں آتاایك خط پہلے دربارہ استفتائے مذکور مولوی احمدرضاخاں صاحب کے پاس بھیجاگیا سب علماء اس جگہ والے منتظر جواب ہیں اس لئے آج دوسرااستفتائے مذکور کی نقل آپ کی وساطت سے بجناب مولوی صاحب بھیجی جاتی ہے براہ عنایت واعانت دین آپ بنفس نفیس یہ استفتاء مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کرکے جواب لکھواکر واپس فرمائیں اﷲ تعالی جل شانہآپ کو اس تکلیف کانعم البدل عطافرمائے گا مگرجواب صرف نعم اور لا میں نہ ہوبلکہ بہ نقول وحوالہ کتب فقہ حنفی مستدل ومبرہن لکھوادیں ایسے اختلاف عظیم کامٹانا اورحق دریافت کرنا جس میں علامہ شامی جیسامحقق بھی عاجزہوکر دوسروں کوفیصلہ پرامربمراجعہ کتب فرمارہاہے بجزمولوی صاحب جیسے علامہ متبحر کے اورکوئی قادرنہ ہوسکے گا۔آج مولوی صاحب جیسی شمع روشن ہے کل کوخدانخواستہ کوئی شخص اس کو حل نہ کرسکے گا۔مولوی صاحب کے ہاں ذخیرہ کتب موجودہے امیدہے کہ کسی عالم مصریاشام نے اپنے فتاوی میں ذکر اس جزئی کاکیاہو وہ ضرورنقل فرمائیں فقط ۱۱/اگست ۱۹۱۸ء راقم فقیراحمدبخش سجادہ نشین شہرجہجہ ریاست بہاولپور
الجواب:
یہاں دو۲ مسئلے ہیں:اول۱: بحالت اختلاف حیزبھی ولدالوارث کوترجیح ہے یانہیں۔
دوم: اگرہے تو قوت قرابت بھی مرجح ہے یانہیں۔
مسئلہ اولی کو علامہ خیرالدین رملی نے فتاوی خیریہ لنفع البریہ پھرعلامہ شامی نے عقود الدریہ میں صاف فرمادیاہے کہ دونوں کو ظاہرالروایۃ کہاگیا اورترجیح متون التزامی ہے اورجانب اثبات صریح تصحیحاتتومعتمد یہ ہے کہ ولد وارث مرجح ہے اگرچہ حیز مختلف ہو۔عقودالدریہ سائل فاضل سلمہ اﷲ تعالی کے پیش نظر ہے اورفقیر نے خیریہ سے مقابلہ کیا اس کی عبارات بتمامہا عقود میں منقول ہے ان دونوں عبارتوں سے مستفاد کہ قول اول یعنی عدم ترجیح کوکواکب مضیہ میں ظاہرالروایۃ کہااورسراجی وصاحب ہدایہ ومتن کنزوملتقی واکثرشروح کنزوہدایہ نے اس پر مشی کی اور اس بناپر کہ وضع متون نقل مذہب کے لئے ہے۔علامہ حامد افندی عالم متاخرنے اسے اختیارکیا
اقول:اسی پر فاضل شجاع بن نوراﷲ انقروی مدرس اورنہ نے اپنی کتاب"حل المشکلات"تصنیف ۹۶۴ھ میں مشی کی۔
حیث قال بنت عم لابوین وبنت خال لام یقسم اثلاثا لان قوۃ القرابۃ وولد العصبۃ غیر معتبرۃ بین فریق الاب وفریق الام اھ بالتخصیص۔ جہاں فرمایاکہ حقیقی چچا کی بیٹی اوراخیافی ماموں کی بیٹی میں مال تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا(اول الذکرکودوتہائی اور موخرالذکرکو ایك تہائی)کیونکہ باپ کے فریق اورماں کے فریق کے درمیان قرابت کی قوت اورعصبہ کی اولاد ہونامعتبر نہیں اھ تلخیص(ت)
بعد کے بہت متاخر رسائل مثل مختصرالفرائض مولوی نجابت حسین بن عبدالواحد الصدیقی البریلوی تصنیف ۱۲۴۱ھ وزبدۃ الفرائض مولوی عبدالباسط بن رستم علی بن علی اصغر قنوجی اس طرف جانا ہی چاہیں کہ ان کاماخذ سراجیہ ہےاول کی عبارت یہ ہے:
وان کان واسطۃ قرابتھم مختلفۃ فثلثا المال لقرابۃ الاب وثلثہ لقرابۃ الام والاعتبار اوراگران کی قرابت کاواسطہ مختلف ہوتودوتہائی ماں باپ کی قرابت اورایك تہائی ماں کی قرابت کے لئے ہوگا۔ان کے درمیان قوت قرابت
مسئلہ اولی کو علامہ خیرالدین رملی نے فتاوی خیریہ لنفع البریہ پھرعلامہ شامی نے عقود الدریہ میں صاف فرمادیاہے کہ دونوں کو ظاہرالروایۃ کہاگیا اورترجیح متون التزامی ہے اورجانب اثبات صریح تصحیحاتتومعتمد یہ ہے کہ ولد وارث مرجح ہے اگرچہ حیز مختلف ہو۔عقودالدریہ سائل فاضل سلمہ اﷲ تعالی کے پیش نظر ہے اورفقیر نے خیریہ سے مقابلہ کیا اس کی عبارات بتمامہا عقود میں منقول ہے ان دونوں عبارتوں سے مستفاد کہ قول اول یعنی عدم ترجیح کوکواکب مضیہ میں ظاہرالروایۃ کہااورسراجی وصاحب ہدایہ ومتن کنزوملتقی واکثرشروح کنزوہدایہ نے اس پر مشی کی اور اس بناپر کہ وضع متون نقل مذہب کے لئے ہے۔علامہ حامد افندی عالم متاخرنے اسے اختیارکیا
اقول:اسی پر فاضل شجاع بن نوراﷲ انقروی مدرس اورنہ نے اپنی کتاب"حل المشکلات"تصنیف ۹۶۴ھ میں مشی کی۔
حیث قال بنت عم لابوین وبنت خال لام یقسم اثلاثا لان قوۃ القرابۃ وولد العصبۃ غیر معتبرۃ بین فریق الاب وفریق الام اھ بالتخصیص۔ جہاں فرمایاکہ حقیقی چچا کی بیٹی اوراخیافی ماموں کی بیٹی میں مال تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا(اول الذکرکودوتہائی اور موخرالذکرکو ایك تہائی)کیونکہ باپ کے فریق اورماں کے فریق کے درمیان قرابت کی قوت اورعصبہ کی اولاد ہونامعتبر نہیں اھ تلخیص(ت)
بعد کے بہت متاخر رسائل مثل مختصرالفرائض مولوی نجابت حسین بن عبدالواحد الصدیقی البریلوی تصنیف ۱۲۴۱ھ وزبدۃ الفرائض مولوی عبدالباسط بن رستم علی بن علی اصغر قنوجی اس طرف جانا ہی چاہیں کہ ان کاماخذ سراجیہ ہےاول کی عبارت یہ ہے:
وان کان واسطۃ قرابتھم مختلفۃ فثلثا المال لقرابۃ الاب وثلثہ لقرابۃ الام والاعتبار اوراگران کی قرابت کاواسطہ مختلف ہوتودوتہائی ماں باپ کی قرابت اورایك تہائی ماں کی قرابت کے لئے ہوگا۔ان کے درمیان قوت قرابت
حوالہ / References
حل المشکلات فی الفرائض
بقوۃ القرابۃ وولدیۃ العصبۃ بینھا کما لوترك اخت الاب لاب وام واخت الام لاب لیس للاولی ترجیح علی الثانیۃ وان کانت الاولی ولدالعصبۃ وایضا لھا قوۃ القرابۃ کذا ھذا ۔ اورعصبہ کی اولادہونے کاکوئی اعتبارنہ ہوگا۔جیسے کسی نے باپ کی حقیقی بہن اورماں کی علاتی بہن چھوڑی ہوتوپہلی کو دوسری پرترجیح نہیں ہوگی حالانکہ پہلی عصبہ کی اولادہے اوراسے قوت قرابت بھی حاصل ہے۔(ت)
دوم میں ہے:
واگرہم بدرجہ قرابت برابرباشند ودرحیز قرابت مختلف کہ بعض ازجانب اب بوند وبعض ازجانب ام دریں ہنگام درظاہر الروایۃ مرقوت قرابت وولد عصبہ رااعتبار نہ باشد پس ولد عمہ اعیانی ازولد خال یاخالہ علاتی یا اخیافی اولی نبود کہ قوت قرابت ولدعمہ رااعتبارنیست وہم چنیں بنت عم اعیانی از بنت خال یاخالہ اعیانی اولی نباشد کہ ولد عصبہ رااعتبار نیست برقیاس آنکہ عمہ اعیانی ازخالہ علاتی یااخیافی اولی نہ بود باوجودآنکہ عمہ اعیانی ذوقرابتین است و ولد وارث ازجہتین یعنی ازجہت اب وام زیراکہ پدراوجدصحیح است ام اوجدہ صحیحہ ۔ اگرقرابت کے درجہ میں برابر ہوں اورجہت قرابت میں مختلف یعنی باپ کی جانب سے اوربعض ماں کی جانب سے ہوں تواس وقت ظاہرالروایہ میں قوت قرابت اور عصبہ کی اولادہونے کااعتبارنہ ہوگا۔لہذاحقیقی پھوپھی کی اولاد علاتی یا اخیافی ماموں یاخالہ کی اولاد سے اولی نہ ہوگی کیونکہ پھوپھی کی اولاد کے لئے قوت قرابت کااعتبارنہیں ہے۔اسی طرح حقیقی چچا کی بیٹی حقیقی ماموں یا خالہ کی بیٹی سے اولی نہ ہوگی کیونکہ عصبہ کی اولاد ہونے کااعتبارنہیں ہے جیساکہ حقیقی پھوپھی علاتی یا اخیافی خالہ سے اولی نہیں ہوتی باوجودیکہ حقیقی پھوپھی دوقرابتوں والی ہے اوردوجہتوں سے وارث کی اولاد ہے یعنی باپ کی طرف سے بھی اورماں کی طرف سے بھی کیونکہ اس کاباپ میت کاجدصحیح اوراس کی ماں میت جدہ صحیحہ ہے۔ (ت)
دوم میں ہے:
واگرہم بدرجہ قرابت برابرباشند ودرحیز قرابت مختلف کہ بعض ازجانب اب بوند وبعض ازجانب ام دریں ہنگام درظاہر الروایۃ مرقوت قرابت وولد عصبہ رااعتبار نہ باشد پس ولد عمہ اعیانی ازولد خال یاخالہ علاتی یا اخیافی اولی نبود کہ قوت قرابت ولدعمہ رااعتبارنیست وہم چنیں بنت عم اعیانی از بنت خال یاخالہ اعیانی اولی نباشد کہ ولد عصبہ رااعتبار نیست برقیاس آنکہ عمہ اعیانی ازخالہ علاتی یااخیافی اولی نہ بود باوجودآنکہ عمہ اعیانی ذوقرابتین است و ولد وارث ازجہتین یعنی ازجہت اب وام زیراکہ پدراوجدصحیح است ام اوجدہ صحیحہ ۔ اگرقرابت کے درجہ میں برابر ہوں اورجہت قرابت میں مختلف یعنی باپ کی جانب سے اوربعض ماں کی جانب سے ہوں تواس وقت ظاہرالروایہ میں قوت قرابت اور عصبہ کی اولادہونے کااعتبارنہ ہوگا۔لہذاحقیقی پھوپھی کی اولاد علاتی یا اخیافی ماموں یاخالہ کی اولاد سے اولی نہ ہوگی کیونکہ پھوپھی کی اولاد کے لئے قوت قرابت کااعتبارنہیں ہے۔اسی طرح حقیقی چچا کی بیٹی حقیقی ماموں یا خالہ کی بیٹی سے اولی نہ ہوگی کیونکہ عصبہ کی اولاد ہونے کااعتبارنہیں ہے جیساکہ حقیقی پھوپھی علاتی یا اخیافی خالہ سے اولی نہیں ہوتی باوجودیکہ حقیقی پھوپھی دوقرابتوں والی ہے اوردوجہتوں سے وارث کی اولاد ہے یعنی باپ کی طرف سے بھی اورماں کی طرف سے بھی کیونکہ اس کاباپ میت کاجدصحیح اوراس کی ماں میت جدہ صحیحہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References
مختصرالفرائض
زبدۃ الفرائض
زبدۃ الفرائض
اسے ظاہرالروایہ کہنا اوریہ دلیل کہ ان دونوں کتابوں میں ہے بعینہ سراجی سے ماخوذہےاورعلامہ سیدشریف نے اسے مقرر رکھا۔علامہ مدقق علائی نے درمختارمیں اسی کومختاررکھایوں کہ قول متن:
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث۔ جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا۔(ت)
میں واتحدت الجھۃ (اورجہت متحد ہو۔ت)کی قیدبڑھادی اورآگے فرمایا:
فلواختلفت فلقرابۃ الاب الثلثان ولقرابۃ الام الثلث اگرجہت مختلف ہوتوباپ کی قرابت کودوتہائی اورماں کی قرابت کو ایك تہائی ملے گا(ت)
علامہ سیداحمدمصری طحطاوی نے اسے مقرررکھابلکہ تصریح کی کہ:
ان اختلف حیز القرابۃ فلا عبرۃ للاقوی ولالولد العصبۃ ۔ اگرقرابت کی جہت مختلف ہوتو اقوی اورعصبہ کی اولاد ہونے کااعتبارنہ ہوگا۔(ت)
یونہی علامہ شیخی زادہ نے مجمع الانہرمیں نص ملتقی پرتقریرکی۔
یہ ہیں وہ عبارات جواس قول پرنظر حاضرمیں ہیں اوریہاں چندضروری تنبیہات ہیں۔
فاقول:ظاہرعبارت خیریہ سے متوہم ہوتاہے کہ یہ قول ہدایہ وکنزمیں ہے اوران دونوں کے اکثر شراح نے اس پرمشی کی پھر ملتقی وسراجیہ اسی پرہیں لہذا علامہ حامدآفندی نے اسے مسئلہ متون قراردیا مگراولا: وہ ہدایہ میں نہیں بلکہ امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب"فرائض عثمانی"میں کہ رسالہ فرائض شیخ عثمانی کاتکملہ ہے ذکرفرمایا۔ہدایہ میں سرے سے کتاب الفرائض ہی نہیں حالانکہ اس کے ماخذ ثانی مختصرالقدوری میں فرائض ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
ھذا ظاھرالروایۃ کما فی السراجیۃ والفرائض العثمانیۃ لصاحب الھدایۃ ۔ یہ ظاہرالروایہ ہے جیساکہ سراجیہ اورصاحب ہدایہ کی فرائض عثمانیہ میں ہے۔(ت)
ثانیا: شروح ہدایہ سے کفایہ امام کرمانی وعنایہ امام اکمل وبنایہ امام عینی وغایۃ البیان
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث۔ جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا۔(ت)
میں واتحدت الجھۃ (اورجہت متحد ہو۔ت)کی قیدبڑھادی اورآگے فرمایا:
فلواختلفت فلقرابۃ الاب الثلثان ولقرابۃ الام الثلث اگرجہت مختلف ہوتوباپ کی قرابت کودوتہائی اورماں کی قرابت کو ایك تہائی ملے گا(ت)
علامہ سیداحمدمصری طحطاوی نے اسے مقرررکھابلکہ تصریح کی کہ:
ان اختلف حیز القرابۃ فلا عبرۃ للاقوی ولالولد العصبۃ ۔ اگرقرابت کی جہت مختلف ہوتو اقوی اورعصبہ کی اولاد ہونے کااعتبارنہ ہوگا۔(ت)
یونہی علامہ شیخی زادہ نے مجمع الانہرمیں نص ملتقی پرتقریرکی۔
یہ ہیں وہ عبارات جواس قول پرنظر حاضرمیں ہیں اوریہاں چندضروری تنبیہات ہیں۔
فاقول:ظاہرعبارت خیریہ سے متوہم ہوتاہے کہ یہ قول ہدایہ وکنزمیں ہے اوران دونوں کے اکثر شراح نے اس پرمشی کی پھر ملتقی وسراجیہ اسی پرہیں لہذا علامہ حامدآفندی نے اسے مسئلہ متون قراردیا مگراولا: وہ ہدایہ میں نہیں بلکہ امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب"فرائض عثمانی"میں کہ رسالہ فرائض شیخ عثمانی کاتکملہ ہے ذکرفرمایا۔ہدایہ میں سرے سے کتاب الفرائض ہی نہیں حالانکہ اس کے ماخذ ثانی مختصرالقدوری میں فرائض ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
ھذا ظاھرالروایۃ کما فی السراجیۃ والفرائض العثمانیۃ لصاحب الھدایۃ ۔ یہ ظاہرالروایہ ہے جیساکہ سراجیہ اورصاحب ہدایہ کی فرائض عثمانیہ میں ہے۔(ت)
ثانیا: شروح ہدایہ سے کفایہ امام کرمانی وعنایہ امام اکمل وبنایہ امام عینی وغایۃ البیان
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام المکتبۃ العربیہ ∞کانسی روڈ کوئٹہ ۴/ ۴۰۱€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب توریث فی الارحام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۷€
الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام المکتبۃ العربیہ ∞کانسی روڈ کوئٹہ ۴/ ۴۰۱€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب توریث فی الارحام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰۷€
امام اتقانی ونتائج الافکار قاضی زادہ تکملہ فتح القدیر پیش نظرہیں۔ان میں مثل ہدایہ کے فرائض نہیں اورمعراج الدرایہ میں قول دوم کی تصحیح نقل کی۔غالبا یہ زیادت کتاب الفرائض میں ہو جس طرح نہایہ نے اسے تکمیلا اضافہ کیا اورمحقق بابرتی نے اس کی تلخیص میں پھرحذف فرمادیا توظاہرا غالب شروح ہدایہ کہناخیریہ کاسبق قلم ہے۔واﷲ تعالی اعلم
ثالثا: کنزکی عبارت یہ ہے:
وذورحم وھو قریب لیس بذی سھم وعصبۃ(الی ان قال)وترتیبھم کترتیب العصبات والترجیح بقرب الدرجۃ ثم بکون الاصل وارثا وعند اختلاف جہۃ القرابۃ فلقرابۃ الاب ضعف قرابۃ الام ۔ ذورحم وہ قریبی رشتہ دارہے جوصاحب فرض اورعصبہ نہ ہو (یہاں تك کہ فرمایا)او ان کی ترتیب عصبات کی ترتیب کی طرح ہے اورترجیح قرب درجہ پھراصل کے وارث ہونے سے ہے جہت قرابت مختلف ہوئی توباپ کی قرابت کو ماں کی قرابت سے دوگناملے گا۔(ت)
حضرت علامہ شامی اس میں محل استدلال جملہ اخیرہ کااطلاق اوراسی بناء پر اسے متون وشروح کی طرف نسبت کیاجانابتاتے ہیں۔ ردالمحتارمیں بعد عبارت مذکورہ آنفا ہے:
وھو ظاھر اطلاق المتون والشروح حیث قالوا وعند اختلاف جھۃ القرابۃ فلقرابۃ الاب ضعف قرابۃ الام فلم یفرقوا بین ولد العصبۃ وغیرہ ۔ وہ متون وشروح کاظاہر اطلاق ہے جہاں مشائخ نے فرمایا کہ جہت مختلف ہوئی توباپ کی قرابت کوماں کی قرابت سے دوگنا ملے گا۔چنانچہ انہوں نے عصبہ کی اولاد اوراس کے غیرمیں کوئی فرق نہیں کیا۔(ت)
اقول:یہ جملہ دوقاعدہ ترجیح کے بعد مذکورہے وہ قواعد عامہ تھے کہ جمیع اصناف واحوال ذوی الارحام کوشامل تھے تویہ قطعا ان سے مقیدہے ورنہ اختلاف جہت کے وقت قرب درجہ سے بھی ترجیح نہ ہو اوروہ بالاجماع باطل ہے وعلی التنزیل وہ دونوں قاعدے بھی مطلق ہیں وہاں بھی اختلاف واتحاد جہت سے فرق نہ فرمایا تویہ اطلاق اس اطلاق سے معارض ہے۔
ثالثا: کنزکی عبارت یہ ہے:
وذورحم وھو قریب لیس بذی سھم وعصبۃ(الی ان قال)وترتیبھم کترتیب العصبات والترجیح بقرب الدرجۃ ثم بکون الاصل وارثا وعند اختلاف جہۃ القرابۃ فلقرابۃ الاب ضعف قرابۃ الام ۔ ذورحم وہ قریبی رشتہ دارہے جوصاحب فرض اورعصبہ نہ ہو (یہاں تك کہ فرمایا)او ان کی ترتیب عصبات کی ترتیب کی طرح ہے اورترجیح قرب درجہ پھراصل کے وارث ہونے سے ہے جہت قرابت مختلف ہوئی توباپ کی قرابت کو ماں کی قرابت سے دوگناملے گا۔(ت)
حضرت علامہ شامی اس میں محل استدلال جملہ اخیرہ کااطلاق اوراسی بناء پر اسے متون وشروح کی طرف نسبت کیاجانابتاتے ہیں۔ ردالمحتارمیں بعد عبارت مذکورہ آنفا ہے:
وھو ظاھر اطلاق المتون والشروح حیث قالوا وعند اختلاف جھۃ القرابۃ فلقرابۃ الاب ضعف قرابۃ الام فلم یفرقوا بین ولد العصبۃ وغیرہ ۔ وہ متون وشروح کاظاہر اطلاق ہے جہاں مشائخ نے فرمایا کہ جہت مختلف ہوئی توباپ کی قرابت کوماں کی قرابت سے دوگنا ملے گا۔چنانچہ انہوں نے عصبہ کی اولاد اوراس کے غیرمیں کوئی فرق نہیں کیا۔(ت)
اقول:یہ جملہ دوقاعدہ ترجیح کے بعد مذکورہے وہ قواعد عامہ تھے کہ جمیع اصناف واحوال ذوی الارحام کوشامل تھے تویہ قطعا ان سے مقیدہے ورنہ اختلاف جہت کے وقت قرب درجہ سے بھی ترجیح نہ ہو اوروہ بالاجماع باطل ہے وعلی التنزیل وہ دونوں قاعدے بھی مطلق ہیں وہاں بھی اختلاف واتحاد جہت سے فرق نہ فرمایا تویہ اطلاق اس اطلاق سے معارض ہے۔
حوالہ / References
کنزالدقائق کتاب الفرائض ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۳€۷
ردالمحتار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۔۵۰۷€
ردالمحتار کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۔۵۰۷€
رابعا: مختصر امام اجل قدوری میں صاف فرمایا ذوی الارحام کے اقسام بیان کرکے حکم عام ارشاد فرماتے ہیں:
واذا استوی وارثان فی درجۃ واحدۃ فاولھم من ادلی بوارث واقربھم اولی من ابعدھم ۔ جب دو وارث ایك درجے میں برابرہوں تو وارث کے ذریعے میت کی طرف منسوب ہونے والا اولی ہوگا اورذوی الارحام میں سے اقرب کوابعد پرترجیح ہوگی۔(ت)
خامسا: اسی طرح متن تنویرمیں تمام اصناف ذکرکرکے فرمایا:
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث واذا اختلفت الاصول اعتبر محمد من الاصول وقسم علیھم اثلاثا الخ۔(ملتقطا) جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گااورجب اصول مختلف ہوں توامام محمدعلیہ الرحمہ اصول کا اعتبارکرتے ہوئے مال کے تین حصے بناکر ان پرتقسیم کرتے ہیں الخ(ملتقطا)۔(ت)
اس نے بھی صاف کردیاکہ بعداستواء درجہ تقدم ولدوارث کاحکم عام ہے اس کے بعد مسئلہ اختلاف جہت نہ لائے جس سے اشتباہ ہوبلکہ مسئلہ اختلاف اصول ذکورۃ وانوثۃ میں یہی نکتہ ہے کہ ان تینوں متون اعنی قدوری وکنزوتنویرنے یہاں قوت قرابت کی ترجیح ذکرنہ فرمائی کہ منظورافادہ قواعد عامہ ہے اور وہ عام نہ تھی بلکہ اتحاد(حیز)سے خاص ھکذا ینبغی ان یفھم کلام الکرام(بزرگوں کے کلام کویوں ہی سمجھناچاہئے۔ت)
اوریہیں سے ظاہرہواکہ واذا استووافی درجۃ(جب درجہ میں برابرہوں۔ت)کے بعد درمختارکا"واتحدت الجھۃ" (اور جہت متحد ہو۔ت)کی طرف خود ان کامیل برخلاف متن ہے۔
سادسا: ہدایہوقایہنقایہاصلاحغرر ان متون میں مسئلہ کاذکرنہیں۔
واذا استوی وارثان فی درجۃ واحدۃ فاولھم من ادلی بوارث واقربھم اولی من ابعدھم ۔ جب دو وارث ایك درجے میں برابرہوں تو وارث کے ذریعے میت کی طرف منسوب ہونے والا اولی ہوگا اورذوی الارحام میں سے اقرب کوابعد پرترجیح ہوگی۔(ت)
خامسا: اسی طرح متن تنویرمیں تمام اصناف ذکرکرکے فرمایا:
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث واذا اختلفت الاصول اعتبر محمد من الاصول وقسم علیھم اثلاثا الخ۔(ملتقطا) جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گااورجب اصول مختلف ہوں توامام محمدعلیہ الرحمہ اصول کا اعتبارکرتے ہوئے مال کے تین حصے بناکر ان پرتقسیم کرتے ہیں الخ(ملتقطا)۔(ت)
اس نے بھی صاف کردیاکہ بعداستواء درجہ تقدم ولدوارث کاحکم عام ہے اس کے بعد مسئلہ اختلاف جہت نہ لائے جس سے اشتباہ ہوبلکہ مسئلہ اختلاف اصول ذکورۃ وانوثۃ میں یہی نکتہ ہے کہ ان تینوں متون اعنی قدوری وکنزوتنویرنے یہاں قوت قرابت کی ترجیح ذکرنہ فرمائی کہ منظورافادہ قواعد عامہ ہے اور وہ عام نہ تھی بلکہ اتحاد(حیز)سے خاص ھکذا ینبغی ان یفھم کلام الکرام(بزرگوں کے کلام کویوں ہی سمجھناچاہئے۔ت)
اوریہیں سے ظاہرہواکہ واذا استووافی درجۃ(جب درجہ میں برابرہوں۔ت)کے بعد درمختارکا"واتحدت الجھۃ" (اور جہت متحد ہو۔ت)کی طرف خود ان کامیل برخلاف متن ہے۔
سادسا: ہدایہوقایہنقایہاصلاحغرر ان متون میں مسئلہ کاذکرنہیں۔
حوالہ / References
القدوری کتاب الفرائض باب توریث ذوی الارحام ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۳۱۸€
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
الدرالمختار کتاب الفرائض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۶۴€
قدوریکنزوتنویر کاحال معلوم ہوا سراجیہ اگرچہ ابتدائی کتاب ہے مگراصطلاح فقہ پرمتن نہیں اس کامرتبہ فتاوی یاغایت درجہ شروح کاہے جیسے منیہ واشباہ بھی ابتدائی کتب ہیں اورمرتبہ متون میں ہرگزنہیں بلکہ فتاوی میں کما بیناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے۔ت)متون وہ مختصرات ہیں کہ ائمہ حفظ مذہب کے لئے لکھتے ہیں جیسے مختصرات طحاوی وکرخی وقدوری اور سراجیہ میں بکثرت روایات نادرہ بلکہ بعض اقوال مشائخ کے ذکر تك تنزل ہےلاجرم علامہ سیدشریف نے نقل فرمایاکہ سراجیہ درحقیقت فرائض امام احمدعلاء الملت والدین سمرقندی کی شرح ہے۔
ان المصنف لما خرج من فرغانۃ الی بخارا وجد فیھا الفرائض المنسوبۃ الی القاضی الامام علاء الدین السمرقندی فی ورقتین فاستحسنھا واخذ فی تصنیف ھذاالکتاب شرحالھا ۔ مصنف علیہ الرحمہ جب فرغانہ سے بخاراگئے تووہاں قاضی امام علاء الدین السمرقندی کی طرف منسوب فرائض کودوورقوں میں پایاجو انہیں پسندآئے توان کی شرح کے طورپراس کتاب (سراجیہ)کولکھنا شروع کیا(ت)
تونہ رہی مگرایك ملتقیاس میں بیشك یہ قول مصرح ہے:
حیث قال یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم یکون الاصل وارثا عنداتحاد الجھۃ ۔ جہاں فرمایا کہ اتحاد جہت کے وقت وہ قرب درجہ پھر قوت قرابت پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں (ت)
تواسے مسئلہ متون ٹھہراکر قول ثانی پرترجیح دینی صحیح نہیں بلکہ اکثر متون قول ثانی ہی پرہیں۔سابعا: شروح ہدایہ کاحال معلوم ہوااورشروح کنز نے مسئلہ متن کومقرررکھا اوراس کا مفاد ظاہرہولیا وﷲ الحمد۔
قول دوم کو مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی وفتاوی امام تمرتاشی ومجمع الفتاوی وفتاوی خلاصہ میں ظاہرالروایۃ ومذہب کہا۔مواریث الملتقط للامام نصروتاتارخانیہ میں اسی پر مشی کی۔ضوء السراج میں ہے:علیہ الفتوی ۔جامع المضمرات میں ہے: ھو الصحیح ۔معراج الدرایہ میں ہے:ھو الاولی بالاخذ للفتوی (فتوی کے لئے اخذ
ان المصنف لما خرج من فرغانۃ الی بخارا وجد فیھا الفرائض المنسوبۃ الی القاضی الامام علاء الدین السمرقندی فی ورقتین فاستحسنھا واخذ فی تصنیف ھذاالکتاب شرحالھا ۔ مصنف علیہ الرحمہ جب فرغانہ سے بخاراگئے تووہاں قاضی امام علاء الدین السمرقندی کی طرف منسوب فرائض کودوورقوں میں پایاجو انہیں پسندآئے توان کی شرح کے طورپراس کتاب (سراجیہ)کولکھنا شروع کیا(ت)
تونہ رہی مگرایك ملتقیاس میں بیشك یہ قول مصرح ہے:
حیث قال یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم یکون الاصل وارثا عنداتحاد الجھۃ ۔ جہاں فرمایا کہ اتحاد جہت کے وقت وہ قرب درجہ پھر قوت قرابت پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں (ت)
تواسے مسئلہ متون ٹھہراکر قول ثانی پرترجیح دینی صحیح نہیں بلکہ اکثر متون قول ثانی ہی پرہیں۔سابعا: شروح ہدایہ کاحال معلوم ہوااورشروح کنز نے مسئلہ متن کومقرررکھا اوراس کا مفاد ظاہرہولیا وﷲ الحمد۔
قول دوم کو مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی وفتاوی امام تمرتاشی ومجمع الفتاوی وفتاوی خلاصہ میں ظاہرالروایۃ ومذہب کہا۔مواریث الملتقط للامام نصروتاتارخانیہ میں اسی پر مشی کی۔ضوء السراج میں ہے:علیہ الفتوی ۔جامع المضمرات میں ہے: ھو الصحیح ۔معراج الدرایہ میں ہے:ھو الاولی بالاخذ للفتوی (فتوی کے لئے اخذ
حوالہ / References
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب ذوی الارحام ∞مطبع علیمی لاہور ص۹۶€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل ذوالرحم قریب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞ص ۳۵۱€
الفتاوی الخیریۃ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۲۴۲€
الفتاوی الخیریۃ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۲۴۲€
العقودالدریۃ کتاب الفرائض ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۳۴۰€
ملتقی الابحر کتاب الفرائض فصل ذوالرحم قریب مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞ص ۳۵۱€
الفتاوی الخیریۃ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۲۴۲€
الفتاوی الخیریۃ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۲۴۲€
العقودالدریۃ کتاب الفرائض ∞ارگ بازار قندھارافغانستان ۲/ ۳۴۰€
کرنے کے زیادہ لائق یہ ہے۔ت)علامہ محقق خیرالدین رملی نے اسی پرفتوی دیا۔
اقول:بلکہ مبسوط امام سرخسی جلد ثلاثین ص۷ میں ہے:
اجمعنا انہ لوکان احدھما ولد عصبۃ اوصاحب فرض کان اولی من الاخر ۔ ہمارا اس پراجماع ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایك عصبہ یا صاحب فرض کی اولادہوتو وہ دوسرے سے اولی ہوگا(ت)
اسی کے صفحہ ۵ میں ہے:
من کان منھم ولد عصبۃ اوصاحب فرض فانہ یقدم علی من لیس بعصبۃ ولاصاحب فرض ۔ ان میں سے جوعصبہ یاصاحب فرض کی اولاد ہووہ مقدم ہوگا اس پرجوعصبہ یاصاحب فرض نہیں۔(ت)
اسی طرح علامہ سیدشریف نے زیرقول مصنف اولھم بالمیراث اقربھم (ان میں میراث کازیادہ حقداروہ ہے جومیت کے زیادہ قریب ہے۔ت)نقل فرمایا اورمقرررکھا۔
پھر مبسوط امام سرخسی کا فی امام حاکم شہید کی شرح حامل المتن ہے جس میں انہوں نے کتب ظاہرالروایہ کوجمع فرمایاہے اس میں انہوں نے صرف اسے ظاہر الروایۃ ہی نہ فرمایا بلکہ قول اول کے روایت نادرہ ہونے کی بھی تصریح فرمائی اسی طرح تکملۃ البحر للعلامۃ الطوری میں ہے نیزہندیہ میں اسے مقرررکھا۔مبسوط کی عبارت یہ ہے:
ان کان احدھما ولد عصبۃ اوولد صاحب فرض فعند اتحاد الجہۃ یقدم ولدالعصبۃ وصاحب الفرض و عند اختلاف الجھۃ لایقع الترجیح بھذا بل یعتبر المساواۃ فی الاتصال بالمیت اگردونوں میں سے ایك عصبہ یاصاحب فرض کی اولادہے تو اتحاد جہت کی صورت میں عصبہ اور صاحب فرض کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا۔اختلاف جہت کی صورت میں اس سے ترجیح نہیں ہوگی بلکہ میت سے تعلق میں مساوات کااعتبار کیاجائے گا اس کابیان یہ ہے کہ مثلا کوئی
اقول:بلکہ مبسوط امام سرخسی جلد ثلاثین ص۷ میں ہے:
اجمعنا انہ لوکان احدھما ولد عصبۃ اوصاحب فرض کان اولی من الاخر ۔ ہمارا اس پراجماع ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایك عصبہ یا صاحب فرض کی اولادہوتو وہ دوسرے سے اولی ہوگا(ت)
اسی کے صفحہ ۵ میں ہے:
من کان منھم ولد عصبۃ اوصاحب فرض فانہ یقدم علی من لیس بعصبۃ ولاصاحب فرض ۔ ان میں سے جوعصبہ یاصاحب فرض کی اولاد ہووہ مقدم ہوگا اس پرجوعصبہ یاصاحب فرض نہیں۔(ت)
اسی طرح علامہ سیدشریف نے زیرقول مصنف اولھم بالمیراث اقربھم (ان میں میراث کازیادہ حقداروہ ہے جومیت کے زیادہ قریب ہے۔ت)نقل فرمایا اورمقرررکھا۔
پھر مبسوط امام سرخسی کا فی امام حاکم شہید کی شرح حامل المتن ہے جس میں انہوں نے کتب ظاہرالروایہ کوجمع فرمایاہے اس میں انہوں نے صرف اسے ظاہر الروایۃ ہی نہ فرمایا بلکہ قول اول کے روایت نادرہ ہونے کی بھی تصریح فرمائی اسی طرح تکملۃ البحر للعلامۃ الطوری میں ہے نیزہندیہ میں اسے مقرررکھا۔مبسوط کی عبارت یہ ہے:
ان کان احدھما ولد عصبۃ اوولد صاحب فرض فعند اتحاد الجہۃ یقدم ولدالعصبۃ وصاحب الفرض و عند اختلاف الجھۃ لایقع الترجیح بھذا بل یعتبر المساواۃ فی الاتصال بالمیت اگردونوں میں سے ایك عصبہ یاصاحب فرض کی اولادہے تو اتحاد جہت کی صورت میں عصبہ اور صاحب فرض کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا۔اختلاف جہت کی صورت میں اس سے ترجیح نہیں ہوگی بلکہ میت سے تعلق میں مساوات کااعتبار کیاجائے گا اس کابیان یہ ہے کہ مثلا کوئی
حوالہ / References
الفتاوی الخیریۃ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۲۴۲€
مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۷€
مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۵€
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب ذوی الارحام فصل فی الصنف الاول ∞مطبع علیمی لاہور ص۱۰۰€
مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۷€
مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۵€
الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب ذوی الارحام فصل فی الصنف الاول ∞مطبع علیمی لاہور ص۱۰۰€
بیانہ فیما اذا ترك ابنۃ عم لاب وام اولاب وابنۃ عمۃ فالمال کلہ لابنۃ العم لانھا ولد عصبۃ ولوترك ابنۃ عم و ابنۃ خال اوخالۃ فلابنۃ العم الثلثان ولابنۃ الخال اوالخالۃ الثلث لان الجھۃ مختلفۃ ھنا فلا یترجح احدھما بکونہ ولد عصبۃ وھذا فی روایۃ ابن ابی عمران عن ابی یوسف فاما فی ظاھرالمذھب ولدالعصبۃ اولی سواء اختلفت الجھۃ اواتحدت لان ولدالعصبۃ اقرب اتصالابوارث المیت فکان اقرب اتصالا بالمیت فان قیل فعلی ھذا ینبغی ان العمۃ تکون احق بجمیع المال من الخالۃ لان العمۃ ولد العصبۃ وھو اب الابوالخالۃ لیست بولد عصبۃ ولا ولد صاحب فرض لانھا ولد اب الامقلنا لا کذلك فان الخالۃ ولدام الام وھی صاحبۃ فرض فمن ھذا الوجہ تتحقق المساواۃ بینھما فی الاتصال بوارث المیتالا ان اتصال الخالۃ بوارث وھی امفتستحق فریضۃ الام واتصال العمۃ بوارث وھو اب شخص حقیقی یاعلاتی چچاکی بیٹی اورپھوپھی کی بیٹی چھوڑکرفوت ہوا توتمام مال چچا کی بیٹی کوملے گا کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے۔اوراگرچچا کی بیٹی اورماموں یاخالہ کی بیٹی چھوڑکرفوت ہواتو چچا کی بیٹی کودوتہائی اورماموں یاخالہ کی بیٹی کوایك تہائی ملے گاکیونکہ یہاں جہت مختلف ہے۔دونوں میں سے ایك کوعصبہ کی اولادہونے کی وجہ سے ترجیح نہ ہوگی۔یہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ سے ابن ابی عمران کی روایت ہے۔لیکن ظاہر مذہب میں عصبہ کی اولاد اولی ہے چاہے جہت مختلف ہو یامتحدکیونکہ عصبہ کی اولاد کامیت کے وارث سے زیادہ قریبی تعلق ہے گویا میت سے اقرب ہے۔اگرکہاجائے اس بناء پر چاہئے کہ پھوپھی خالہ کی بنسبت تمام مال کی زیادہ حقدار ہو کیونکہ پھوپھی عصبہ یعنی دادا کی اولاد ہے جبکہ خالہ نہ توعصبہ کی اولاد ہے اورنہ ہی صاحب فرض کیکیونکہ وہ نانا کی اولاد ہے۔توہم کہیں گے کہ اس طرح نہیں کیونکہ خالہ نانی کی اولاد ہے اوروہ صاحب فرض ہے۔اس اعتبار سے پھوپھی اورخالہ میں میت کے وارث سے متصل ہونے میں مساوات پائی جائے گی مگرخالہ کاجس وارث کے ذریعے تعلق ہے وہ ماں (نانی)ہے لہذا
فتستحق نصیب الابفلھذا کان المال بینھما اثلاثا ۔ ماں کے حصے کی مستحق ہوگی اورپھوپھی کاجس وارث کے ذریعے تعلق ہے وہ باپ(دادا)ہے لہذا وہ باپ کے حصے کی مستحق ہوگی۔اسی لئے ان میں مال تین حصے بناکر تقسیم کیا جائے گا(دوحصے پھوپھی کے اورایك حصہ خالہ کا)۔(ت)
بعینہ یہی مضمون تمام وکمال تکملہ بحرمیں ہے اور ہندیہ میں لفظ اتصالا بالمیت تک۔اس میں امام جلیل نے دلیل قول اول سے جواب کابھی افادہ فرمادیا:
اقول:ولایقدح فی تحقق المساواۃ ان العمۃ اذا کانت لاب وام کانت ولد الوارث من کلا الجھتین و یستحیل ھذا فی الخالۃ لان ھذا قوۃ القرابۃ ولانظر الیھا عنداختلاف الحیز کما صرحوابہ قاطبۃ نعم رایتنی کتبت علی ھامش تکملۃ البحر مانصہ۔ اقول:لایتمشی اذاکانت الخالۃ اخت الام لاب اھ ای فانھا لاحظ لھا من ولدیۃ وارث اصلا۔لایقال نصوا انھا اقوی من الخالۃ لام فاذا مات عن خالۃ بالاب و اخری لام احرزت الاولی جمیع المال ولاشیئ للاخری والخالۃ لام لاتحجبھا العمۃ لاستوائھا معھا فی ولدیۃ الوارث فاذالم تحجب میں کہتاہوں مساوات کے ہوتے ہوئے یہ اعتراض نہیں ہو سکتاکیونکہ پھوپھی جبکہ حقیقی ہوتو وہ دونوں جہتوں سے وارث کی اولاد ہے اوریہ بات خالہ میں محال ہے(کیونکہ وہ صرف ایك جہت سے وارث کی اولاد ہے)اس لئے کہ یہ قرابت کی قوت ہے جس کااختلاف جہت کی صورت میں اعتبار نہیں ہوتا جیساکہ تمام مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ہاں مجھے یادپڑتاہے کہ میں نے تکملہ بحر کے حاشیہ پرلکھاہے کہ میں کہتاہوں یہ جواب اس وقت نہیں چلے گا جب خالہ ماں کی علاتی بہن ہو الخ کیونکہ وہ بالکل وارث کی اولادنہیں۔یوں نہ کہاجائے کہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہے کہ علاتی خالہ اخیافی خالہ سے اقوی ہے لہذا اگرکوئی شخص علاتی خالہ اخیافی خالہ چھوڑ کر مراتوسارا مال پہلی خالہ لے گی دوسری کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔پھوپھی اخیافی خالہ کو محروم نہیں کرسکتی کیونکہ وارث کی اولادہونے میں وہ اس کے ساتھ شریك ہے۔جب پھوپھی
بعینہ یہی مضمون تمام وکمال تکملہ بحرمیں ہے اور ہندیہ میں لفظ اتصالا بالمیت تک۔اس میں امام جلیل نے دلیل قول اول سے جواب کابھی افادہ فرمادیا:
اقول:ولایقدح فی تحقق المساواۃ ان العمۃ اذا کانت لاب وام کانت ولد الوارث من کلا الجھتین و یستحیل ھذا فی الخالۃ لان ھذا قوۃ القرابۃ ولانظر الیھا عنداختلاف الحیز کما صرحوابہ قاطبۃ نعم رایتنی کتبت علی ھامش تکملۃ البحر مانصہ۔ اقول:لایتمشی اذاکانت الخالۃ اخت الام لاب اھ ای فانھا لاحظ لھا من ولدیۃ وارث اصلا۔لایقال نصوا انھا اقوی من الخالۃ لام فاذا مات عن خالۃ بالاب و اخری لام احرزت الاولی جمیع المال ولاشیئ للاخری والخالۃ لام لاتحجبھا العمۃ لاستوائھا معھا فی ولدیۃ الوارث فاذالم تحجب میں کہتاہوں مساوات کے ہوتے ہوئے یہ اعتراض نہیں ہو سکتاکیونکہ پھوپھی جبکہ حقیقی ہوتو وہ دونوں جہتوں سے وارث کی اولاد ہے اوریہ بات خالہ میں محال ہے(کیونکہ وہ صرف ایك جہت سے وارث کی اولاد ہے)اس لئے کہ یہ قرابت کی قوت ہے جس کااختلاف جہت کی صورت میں اعتبار نہیں ہوتا جیساکہ تمام مشائخ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ہاں مجھے یادپڑتاہے کہ میں نے تکملہ بحر کے حاشیہ پرلکھاہے کہ میں کہتاہوں یہ جواب اس وقت نہیں چلے گا جب خالہ ماں کی علاتی بہن ہو الخ کیونکہ وہ بالکل وارث کی اولادنہیں۔یوں نہ کہاجائے کہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہے کہ علاتی خالہ اخیافی خالہ سے اقوی ہے لہذا اگرکوئی شخص علاتی خالہ اخیافی خالہ چھوڑ کر مراتوسارا مال پہلی خالہ لے گی دوسری کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔پھوپھی اخیافی خالہ کو محروم نہیں کرسکتی کیونکہ وارث کی اولادہونے میں وہ اس کے ساتھ شریك ہے۔جب پھوپھی
حوالہ / References
مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۲۱€
الاضعف وجب ان لاتحجب الاقوی لانی اقول انما قوتھا قوۃ قرابتھا فان الانتماء بالاب اقوی من الانتماء بالام وھذہ قوۃ لانظر الیھا عنداختلاف الجھۃ فتبقی ولدیۃ العمۃ للوارث قوۃ بلامعارض فیلزم ان تحجب الخالۃ لاب وھو باطل فعلم ان ولدیۃ الوارث ایضا لاتلاحظ فی الحیز المختلفۃ۔ اقول:وباﷲ التوفیق توریث الخالۃ مع العمۃ اثلاثا عند الفقہاء رضی اﷲ تعالی عنھم لاقامۃ العمۃ مقام العم والخالۃ مکان الام قال الامام شمس الائمۃ اعلم بان العمۃ بمنزلۃ العم عندنا والخالۃ بمنزلۃ الاموقال اھل التنزیل العمۃ بمنزلۃ الاب و الخالۃ بمنزلۃ الامقالوا اتفقت الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم علی ان للعمۃ الثلثان وللخالۃ الثلث اذا اجتمعتا ولاوجہ لذلك الا بان تجعل العمۃ کالاب باعتبار ان قرابتھا قرابۃ الاب اضعف کومحروم نہیں کرسکتی توضروری ہے کہ اقوی یعنی علاتی خالہ کوبھی محروم نہ کرے اس لئے کہ میں کہتاہوں پہلی خالہ کی قوت قوت قرابت ہے کیونکہ باپ کے ذریعے سے میت کی طرف منسوب ہوناماں کے ذریعے منسوب ہونے سے زیادہ قوی ہے لیکن اختلاف جہت کے وقت اس قوت کااعتبار نہیں۔لہذا پھوپھی کے اولاد وارث ہونے والی قوت کسی معارض کے بغیر باقی رہے گی۔اورلازم آئے گا کہ پھوپھی علاتی خالہ کومحروم کردےحالانکہ یہ غلط ہے۔معلوم ہواکہ جہت مختلف ہونے کی صورت میں وارث کی اولاد ہونے کابھی اعتبارنہیں۔میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں کہ فقہائے کرام کے نزدیك خالہ کوپھوپھی کی موجودگی میں اس لئے تہائی حصہ ملتاہے کہ پھوپھی کوچچاکے اور خالہ کو ماں کے قائمقام رکھاجاتاہےامام شمس الائمہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیك پھوپھیچچااورخالہ ماں کے مرتبہ میں ہے۔اہل تنزیل نے کہاکہ پھوپھی بمنزلہ باپ کے اور خالہ بمنزلہ ماں کے ہے۔مشائخ نے کہاکہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم اس پرمتفق ہیں کہ جب خالہ اورپھوپھی جمع ہوں تو پھوپھی کے لئے دوتہائی اورخالہ کے لئے ایك تہائی ہوگا۔اس کی وجہ سوائے اس کے کوئی نہیں ہوسکتی کہ پھوپھی کوباپ کے قائم مقام رکھاجائے اس اعتبارسے کہ اس کی قرابت باپ کی
والخالۃ کالام باعتبار ان قرابتھا قرابۃ الاموجہ قول علمائنا رحمھم اﷲ تعالی ان الاصل ان الانثی متی اقیمت مقام ذکرفانھا تقوم مقام ذکر فی درجتھا۔والذکر الذی فی درجۃ العمۃ العم و ھو الوارث فتجعل العمۃ بمنزلۃ العموالخالۃ لو اقمناھا مقام ذکرفی درجتھا وھو الخال لم ترث مع العمۃ فلھذہ الضرورۃ اقمناھا مقام الام فالعمۃ ترث الثلثین وللخالۃ الثلث بھذا الطریق بمنزلۃ مالو ترك اما وعما اھ(مختصرا)فاذاکان الامر علی ھذا سقط تقدم العمۃ لولدیۃ العصبۃ فانھا قداقیمت مقام العصبۃ فضلا عن الوالدیۃ ولم تحجب الخالۃ لاقامتھا مقام الام والام لاتحجب بالعم وفی ھذہ الحالات کلھن سواء قدرأینا ان مثل الاقامۃ تمنع الحجب بما ھو اقوی اسبابہ وھو قرب درجۃالاتری ان من قرابت کی وجہ سے ہے۔اورخالہ کوماں کے قائم مقام رکھا جائے اس اعتبارسے کہ اس کی قرابت ماں کی قرابت کی وجہ سے ہے۔ہمارے علماء کے قول کہ"خالہ ماں کی طرح ہے"کی وجہ یہ ہے کہ قاعدہ کی روسے عورت کو جب کسی مرد کے قائم مقام کیاجائے تو اپنے ہم مرتبہ مرد کے قائم مقام ہوگی۔ پھوپھی کاہم مرتبہ مرد چچا ہے جوکہ وارث ہے لہذا اسے چچا کے قائم مقام کیاجاتاہے اورخالہ کواگر اس کے ہم درجہ مرد یعنی ماموں کے قائم مقام کیاجائے تو وہ پھوپھی کے ساتھ وارث نہیں بن سکے گی۔اس ضرورت کے پیش نظرہم نے اسے ماں کے قائم مقام کیالہذا اس طرح پھوپھی کو دو تہائی اورخالہ کوایك تہائی ملے گا جیساکہ ماں اورچچا کوچھوڑ کر فوت ہونے کی صورت میں ہوتا(اختصار)جب معاملہ اس طرح ہے توپھوپھی کوعصبہ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ترجیح نہیں ہوگی کیونکہ اس کو عصبہ کی اولاد کے بجائے خود عصبہ کے قائم مقام قراردیاگیاہے پھوپھی خالہ کومحروم نہیں کرسکے گی کیونکہ خالہ کوماں کی جگہ رکھاگیاہے اورماں چچا سے محروم نہیں ہوتی۔ ان حالات میں تمام برابر ہیں۔تحقیق ہم نے دیکھاکہ قائم مقام قراردینے کی وجہ سے قرب درجہ جیساقوی ترین سبب بھی محروم نہیں کرسکتا۔کیاتونہیں دیکھتاکہ کوئی شخص اگر
حوالہ / References
مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث العمات والاخوال والخالات دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۱۸و۱۹€
خلف بنتا وبنات ابن فلھن السدس تکملۃ للثلثین لاقامتھن مقام بنت فلم یحجبھن بعد درجتھن عن درجۃ البنت وکذلك اذا مات عن بنتین وبنت ابن وبنت ابن ابن وابن ابن ابن لم یحجب بنت الابن وبنت ابن الابن لانھما اقیمتا فی درجۃ الذکر کی تتعصب بہ فھذا ھو السرفی وراثۃ الخالۃ لاب مع العمات واﷲ تعالی اعلم ثم اقول:لایذھبن عنك ان ھذہ الاقامۃ تقتصر علی الذوات ولاتتعدی الی الاولاد فاولاد الخالۃ لایجعلون کاولادالام الاتری ان ذکورھم لایساوون اناثھم بل للذکرمثل حظ الانثیین وھذا کولدیۃ العصبۃ لاتسری من الولد الی ولد الولد کما فی ردالمحتار وغیرہ عن سکب الانھر وغیرہ فا بنت العم لایقدم علی بنت ابن العمۃ او الخال اوالخالۃ فاحفظ۔ ایك بیٹی اورچندپوتیاں چھوڑ کرمرجائے تو دوتہائی کی تکمیل کے لئے پوتیوں کوچھٹا حصہ ملے گاکیونکہ انہیں بیٹی کے قائم مقام رکھاگیاہے لہذا بیٹی کے درجہ سے دوری انہیں محروم نہیں کرے گی۔اسی طرح اگرکوئی شخص دوبیٹیاںایك پوتی ایك پوتے کی بیٹی اورایك پوتے کابیٹاچھوڑکرمرگیا توپوتی اور پوتے کی بیٹی محروم نہ ہوں گی کیونکہ ان کو مرد کے درجے میں رکھاگیاہے تاکہ اس کے ذریعے وہ عصبہ بن جائیں۔علاتی خالہ کے پھوپھیوں کے ساتھ وارث بننے میں یہی راز ہےاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔میں پھرکہتاہوں تجھے ہرگزیہ نہ بھولے کہ قائم مقام قراردینا صرف ذوات تك محدودہے اولاد کی طرف یہ حکم متعدی نہیں ہوتا۔لہذا خالہ کی اولاد کو ماں کی اولاد کی طرح نہیں بنایا جائے گا۔کیاتونے نہیں دیکھاکہ خالہ کی اولاد میں مذکر ومؤنث آپس میں برابرنہیں بلکہ لڑکے کاحصہ دولڑکیوں کے حصے کے برابرہے۔یہ عصبہ کی ولدیت کی طرح ہے کہ اولاد سے اولاد کی اولاد کی طرف منتقل نہیں ہوتی جیساکہ ردالمحتار وغیرہ میں سکب الانہر وغیرہ سے منقول ہے۔چنانچہ چچاکانواسہپھوپھیماموں یاخالہ کی پوتی سے مقدم نہ ہوگا۔پس اس کویاد کرلے۔(ت)
بالجملہ قول دوم پرہی اکثر متون ہیں اور اسی کو اکثرنے ظاہرالروایۃ اورمذہب بتایا اور
بالجملہ قول دوم پرہی اکثر متون ہیں اور اسی کو اکثرنے ظاہرالروایۃ اورمذہب بتایا اور
تصحیحات صریحہ اسی کے لئے ہیںخصوصا آکد تصحیحات علیہ الفتویتواسی پراعتماد واجب ہے اور اس سے عدول ساقط وذاہب۔
درمختاروتصحیح علامہ قاسم میں ہے:
اما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ وصححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم واﷲ سبحانہ تعالی اعلم۔ ہم پران کی ترجیح وتصحیح کی اتباع ضروری ہے جیساکہ وہ اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ثانیہ:جبکہ یہاں اختلاف جہت کے وقت مذہب صحیح ومفتی بہ میں ولدیت وارث معتبرہےآیا قوت قرابت معتبرہوگی یا نہیں علامہ شامی نے نفی کومفاد اطلاق روایت بتایا اورخود اثبات کااستظہارکیاکہ قوت قرابت ولدیت وارث سے اقوی ہے جب یہ معتبرتو اس کااعتباربدرجہ اولی ہے۔عبارت عقودسائل فاضل کے پیش نظرہے فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے نسخہ عقود پر یہاں یہ حاشیہ لکھاتھا:
قولہ رحمہ اﷲ تعالی یلزم ان یرجح بقوہ القرابۃ ایضا لانھا اقوی اقول:قد اجمعوا فی الروایات الظاھرۃ ان لانظربقوۃ القرابۃ مع اختلاف الحیزفلاتقدم العمۃ الشقیقۃ علی الخالۃ لام ولاالخالۃ العینیۃ عل العمۃ الام۔وکون قوۃ القرابۃ اقوی من ولدیۃ الوارث فی حیز واحد لایوجب اعتبارھا مع اختلاف الحیز وھی ساقطۃ الاعتبار فیہ فجریان الاضعف فی محل لکونہ محل مصنف علیہ الرحمہ کاقول ہے کہ قوت قرابت سے بھی ترجیح دیناضروری ہے کیونکہ وہ(عصبہ کی اولاد ہونے سے)زیادہ قوی ہے۔میں کہتاہوں روایات ظاہرہ میں مشائخ اس پرمتفق ہیں کہ جہت مختلف ہونے کی صورت میں قوت قرابت کا اعتبارنہیں ہوتالہذاحقیقی پھوپھی کواخیافی خالہ پرترجیح نہیں ہوگی اورنہ حقیقی خالہ کو اخیافی پھوپھی پرترجیح ہوگی۔جہت واحدہ میں قوت قرابت کے ولدیت عصبہ سے زیادہ قوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ اختلاف جہت کے وقت بھی اس کااعتبار کیاجائے۔کیونکہ اس صورت میں قوت قرابت کا اعتبارساقط ہوتاہے۔چنانچہ اضعف کے برمحل معتبرہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہاں
درمختاروتصحیح علامہ قاسم میں ہے:
اما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ وصححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم واﷲ سبحانہ تعالی اعلم۔ ہم پران کی ترجیح وتصحیح کی اتباع ضروری ہے جیساکہ وہ اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ثانیہ:جبکہ یہاں اختلاف جہت کے وقت مذہب صحیح ومفتی بہ میں ولدیت وارث معتبرہےآیا قوت قرابت معتبرہوگی یا نہیں علامہ شامی نے نفی کومفاد اطلاق روایت بتایا اورخود اثبات کااستظہارکیاکہ قوت قرابت ولدیت وارث سے اقوی ہے جب یہ معتبرتو اس کااعتباربدرجہ اولی ہے۔عبارت عقودسائل فاضل کے پیش نظرہے فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے نسخہ عقود پر یہاں یہ حاشیہ لکھاتھا:
قولہ رحمہ اﷲ تعالی یلزم ان یرجح بقوہ القرابۃ ایضا لانھا اقوی اقول:قد اجمعوا فی الروایات الظاھرۃ ان لانظربقوۃ القرابۃ مع اختلاف الحیزفلاتقدم العمۃ الشقیقۃ علی الخالۃ لام ولاالخالۃ العینیۃ عل العمۃ الام۔وکون قوۃ القرابۃ اقوی من ولدیۃ الوارث فی حیز واحد لایوجب اعتبارھا مع اختلاف الحیز وھی ساقطۃ الاعتبار فیہ فجریان الاضعف فی محل لکونہ محل مصنف علیہ الرحمہ کاقول ہے کہ قوت قرابت سے بھی ترجیح دیناضروری ہے کیونکہ وہ(عصبہ کی اولاد ہونے سے)زیادہ قوی ہے۔میں کہتاہوں روایات ظاہرہ میں مشائخ اس پرمتفق ہیں کہ جہت مختلف ہونے کی صورت میں قوت قرابت کا اعتبارنہیں ہوتالہذاحقیقی پھوپھی کواخیافی خالہ پرترجیح نہیں ہوگی اورنہ حقیقی خالہ کو اخیافی پھوپھی پرترجیح ہوگی۔جہت واحدہ میں قوت قرابت کے ولدیت عصبہ سے زیادہ قوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ اختلاف جہت کے وقت بھی اس کااعتبار کیاجائے۔کیونکہ اس صورت میں قوت قرابت کا اعتبارساقط ہوتاہے۔چنانچہ اضعف کے برمحل معتبرہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہاں
حوالہ / References
الدرالمختار رسم المفتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵€
جریانہ لایستلزم جریان الاقوی فیہ مع انعدام المحلیۃ لہوالحق ان لامعنی لقوۃ القرابۃ فی حیز الاکون قریب ذاجھتین کالعینی او ذاجھۃ اقوی کالعلاتی مع الاخیافی وظاھر ان اجتماع الجھتین فی حیزلایلغی الحیز الآخر واذاکان نفس احد الحیزین اعنی الاب اقوی من الآخر اعنی الام ثم لم تورث قوتہ الغاء الحیز الآخر فکیف تورث قوۃ جھتہ الغاء الاخر وتعلیل قوۃ القرابۃ انما ھو فی الحیزالواحد لا تقدیم ذی حیز علی ذی حیز آخر لقوۃ القرابۃ فی حیزہ والایقدم الحیزالابوی مطلقا علی الامی وایضا لونظرالی قوۃ القرابۃ لعاد نقضا علی المقصود فان الاقوی غیرمعتبر مع اختلاف الحیز باجماع الروایات الظاھرۃ فکیف تعتبرون فیہ الاضعف و یؤول الامر الی الغاء کلا الترجیحین وھو خلاف ما قررتم انہ صحیح مفتی بہ وانما الجواب ماقدمت ان الاقوی لم یعتبر لعدم المحل اقوی بے محل بھی معتبرہو۔اورحق یہ ہے کہ ایك جہت میں قوت قرابت کامعنی فقط یہ ہے کہ ایك قریبی رشتہ دار دوجہتیں رکھتاہو جیسے سگا رشتہ داریاایك زیادہ قوی جہت رکھتاہو جیسے علاتی رشتہ دار اخیافی رشتہ دارکے ساتھ۔ظاہر ہے کہ ایك جانب میں دوجہتوں کااجتماع دوسری جانب کو محروم نہیں کرتا۔جب خود ایك حیز یعنی باپ جوکہ اقوی ہے دوسرے حیز یعنی ماں سے۔اس کے باوجود اس کی قوت دوسرے حیز کو محروم نہیں کرتی تواس کی جانب سے حاصل ہونے والی قوت دوسری جانب کو کیسے محروم کرسکے گی۔قوت قرابت فقط ایك جہت میں معتبرہے۔اس کی وجہ سے ایك جانب کو دوسری پر تقدیم حاصل نہ ہوگی ورنہ لازم آئے گا کہ باپ کی جانب کو مطلقا ماں کی جانب پر تقدیم حاصل ہونیز قوت قرابت کا اعتبارمقصود پربطور نقض لوٹے گا کیونکہ اختلاف جہت کے وقت تمام روایات ظاہرہ کے مطابق اقوی معتبرنہیں توتم اس میں اضعف کااعتبارکیسے کرتے ہو۔چنانچہ معاملہ دونوں ترجیحوں کو لغو قراردینے کی طرف لوٹ آئے گا اوریہ خود تمہاری تقریر کے خلاف ہے کہ وہ(ولد عصبہ سے ترجیح)صحیح اورمفتی بہ ہے۔اس کاجواب وہ ہے جو میں نے اس سے پہلے ذکر کیاکہ اقوی کااس لئے اعتبارنہیں ہے کہ اس کامحل نہیں۔
فلایلغی الآخر مع حصول المحلیۃ وذلك لان ولدیۃ العصبۃ تسقی من العصوبۃ والعصوبۃ تقضی علی غیرھا مطلقا وان کان من غیرحیزھا کالعدم یحجب الخال فکذا ولدیۃ العصبۃ وبھذا تنحل الشبھتان معا اعنی وجوب اعتبار الاقوی کما ذھب الیہ العلامۃ الشامی ووجوب اسقاط الاضعف لسقوط الاقوی کما قررنا فی الالزام واﷲ تعالی اعلم ولی الانعام۔ لہذا دوسری ترجیح برمحل ہونے کی وجہ سے لغو نہ ہوگی۔یہ اس لئے ہے کہ عصبہ کی اولاد کو عصوبت سے حصہ ملتاہے اور عصبہ کوغیرپر مطلقا ترجیح ہوتی ہے اگرچہ جہت مختلف ہو مثلا چچا(جوکہ عصبہ ہے)ماموں کومحروم کردے گا اسی طرح عصبہ کی اولاد بھی محروم کردیتی ہے۔اس تقریرسے دونوں شبہے مندفع ہوجاتے ہیں یعنی اقوی کے اعتبار کاوجوب جیساکہ علامہ شامی اس کی طرف گئے ہیں اوراقوی کے سقوط کی وجہ سے اضعف کوساقط کرنے کاوجوب جیساکہ ہم نے الزام کی تقریر میں بیان کیا۔اوراﷲ تعالی ہی انعام عطافرمانے والا ہے۔(ت)
اس حاشیہ نے بحمدہ تعالی کشف شبہہ کردیا اس وقت تك مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی رحمہ اﷲ تعالی فقیرکے پاس نہ تھی۔ اب اس کے مطالعہ نے واضح کردیا کہ وہ صرف اطلاق روایت سرخسی نہیں بلکہ خاص نص صریح ہے بحث علامہ شامی مصادم نص واقع ہوئی اوربحث فقیربحمداﷲ القدیر نص کے موافق آئی وﷲ الحمد۔
مبسوط شریف کانص ملخص یہ ہے:
فی ظاھر المذھب ولد العصبۃ اولی سواء اختلفت الجھۃ او اتحدتفان کان قوم من ھؤلاء من قبل الام من بنات الاخوال اوالخالات وقوم من قبل الاب من بنات الاعمام اوالعمات لامفالمال مقسوم بین الفریقین اثلاثاسواء من کل جانب ذوقرابتین ظاہرمذہب میں عصبہ کی اولاد اولی ہے چاہے جہت مختلف ہویا متحد۔اگران میں سے ایك جماعت ماں کی طرف سے ہو مثلا ماموں یاخالاؤں کی بیٹیاں اورایك جماعت باپ کی طرف سے ہومثلا اخیافی پھوپھیوں یااخیافی چچوں کی بیٹیاںتومال دونوں فریقوں میں تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا چاہے ہر جانب دوقرابتیں ہوں
اس حاشیہ نے بحمدہ تعالی کشف شبہہ کردیا اس وقت تك مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی رحمہ اﷲ تعالی فقیرکے پاس نہ تھی۔ اب اس کے مطالعہ نے واضح کردیا کہ وہ صرف اطلاق روایت سرخسی نہیں بلکہ خاص نص صریح ہے بحث علامہ شامی مصادم نص واقع ہوئی اوربحث فقیربحمداﷲ القدیر نص کے موافق آئی وﷲ الحمد۔
مبسوط شریف کانص ملخص یہ ہے:
فی ظاھر المذھب ولد العصبۃ اولی سواء اختلفت الجھۃ او اتحدتفان کان قوم من ھؤلاء من قبل الام من بنات الاخوال اوالخالات وقوم من قبل الاب من بنات الاعمام اوالعمات لامفالمال مقسوم بین الفریقین اثلاثاسواء من کل جانب ذوقرابتین ظاہرمذہب میں عصبہ کی اولاد اولی ہے چاہے جہت مختلف ہویا متحد۔اگران میں سے ایك جماعت ماں کی طرف سے ہو مثلا ماموں یاخالاؤں کی بیٹیاں اورایك جماعت باپ کی طرف سے ہومثلا اخیافی پھوپھیوں یااخیافی چچوں کی بیٹیاںتومال دونوں فریقوں میں تین حصے بناکر تقسیم کیاجائے گا چاہے ہر جانب دوقرابتیں ہوں
اومن احد الجانبین ذوقرابۃ واحدۃ ثم مااصاب کل فریق فیما بینھم یترجح جھۃ ذی القرابتین علی ذی قرابۃ واحدۃ ۔ یاایك جانب فقط ایك قرابت ہو۔پھرہرفریق کو جوملاہے وہ ان کے درمیان تقسیم کیاجائے گا درانحالیکہ دوقرابتوں والے کو ایك قرابت والے پرترجیح ہوگی۔(ت)
یہ نص صریح ہے وﷲ الحمد کہ اختلاف جہت کے وقت ولدیت وارث سے ترجیح ہے اورقوت قرابت سے نہیں تواولاد صنف رابع کاقانون صحیح ومعتمدیہ ہے۔
یقدم الاقرب مطلقا ثم ان اختلف الحیزفولد الوارث وان اتفق فالاقوی قرابۃ ثم ولدالوارث و بعد ھذہ الشرائط ان استحق الفریقان فلفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلثواﷲ تعالی اعلم۔ اقرب ہرحال میں مقدم ہوگا پھراگرجہت مختلف ہوتوعصبہ کی اولاد کواوراگرمتحدہوتوپہلے اقوی کوپھرعصبہ کی اولاد کوترجیح ہوگی۔ان شرائط کے بعد اگر دونوں فریق مستحق ہوں تو باپ کے فریق کودوتہائی اورماں کے فریق کو ایك تہائی ملے گا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
یہ نص صریح ہے وﷲ الحمد کہ اختلاف جہت کے وقت ولدیت وارث سے ترجیح ہے اورقوت قرابت سے نہیں تواولاد صنف رابع کاقانون صحیح ومعتمدیہ ہے۔
یقدم الاقرب مطلقا ثم ان اختلف الحیزفولد الوارث وان اتفق فالاقوی قرابۃ ثم ولدالوارث و بعد ھذہ الشرائط ان استحق الفریقان فلفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلثواﷲ تعالی اعلم۔ اقرب ہرحال میں مقدم ہوگا پھراگرجہت مختلف ہوتوعصبہ کی اولاد کواوراگرمتحدہوتوپہلے اقوی کوپھرعصبہ کی اولاد کوترجیح ہوگی۔ان شرائط کے بعد اگر دونوں فریق مستحق ہوں تو باپ کے فریق کودوتہائی اورماں کے فریق کو ایك تہائی ملے گا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
مبسوط امام السرخسی کتاب الفرائض فصل فی میراث اولاد العمات الخ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳۰/ ۲۱€
کتاب الشتی(حصہ اول)
(متفرق موضوعات)
تاریخ وتذکرہ وحکایات صالحین
مسئلہ ۲۰۵:ازتوپ خانہ بازار قدیم مسجد صوبہ دار مدرسہ فیض احمدی کانپور بروزچہارشنبہ بتاریخ ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ مولوی عبیداﷲ صاحب
یہ مسئلہ کس کتاب میں ہے کہ حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے سورہ بقرکے ختم فرمانے کے شکریہ میں دعوت فرمائی اورنسیم الریاض کے کس جلد کے کس صفحہ میں ہے کہ جوشخص مخلوق میں سے کسی کے علم کو حضرت سیدالسادات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی آلہ واصحابہ وبارك وسلم کے علم سے اشرف واوسع کہے گا
الجواب:
وہ عبارت نسیم الریاض کی جلد رابع ص۳۷۷ طابع قسطنطنیہ میں ہے:
من قال فلان اعلم منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقد عابہ ونقصہ(الی قولہ)فھو ساب ای کالساب و الحکم فیہ جس شخص نے کہا فلاں شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم والاہے اس نے آپ کو عیب لگایا اور تنقیص کی(مصنف کے اس قول تک)چنانچہ وہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کو گالی دینے والا ہے یعنی گالی دینے والے کی مثل ہے اس کاحکم گالی
(متفرق موضوعات)
تاریخ وتذکرہ وحکایات صالحین
مسئلہ ۲۰۵:ازتوپ خانہ بازار قدیم مسجد صوبہ دار مدرسہ فیض احمدی کانپور بروزچہارشنبہ بتاریخ ۱۷ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ مولوی عبیداﷲ صاحب
یہ مسئلہ کس کتاب میں ہے کہ حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے سورہ بقرکے ختم فرمانے کے شکریہ میں دعوت فرمائی اورنسیم الریاض کے کس جلد کے کس صفحہ میں ہے کہ جوشخص مخلوق میں سے کسی کے علم کو حضرت سیدالسادات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی آلہ واصحابہ وبارك وسلم کے علم سے اشرف واوسع کہے گا
الجواب:
وہ عبارت نسیم الریاض کی جلد رابع ص۳۷۷ طابع قسطنطنیہ میں ہے:
من قال فلان اعلم منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقد عابہ ونقصہ(الی قولہ)فھو ساب ای کالساب و الحکم فیہ جس شخص نے کہا فلاں شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم والاہے اس نے آپ کو عیب لگایا اور تنقیص کی(مصنف کے اس قول تک)چنانچہ وہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کو گالی دینے والا ہے یعنی گالی دینے والے کی مثل ہے اس کاحکم گالی
حکم الساب من غیر فرق بینھما ۔ دینے والے کی طرح ہے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔(ت)
خطیب نے رواۃ مالك میں عبداﷲ بن عمرفاروق علیہما الرضوان سے روایت کی:
قال تعلم عمر البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمھا نحر جزورا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کہاکہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے بارہ سال میں سورۃ بقرہ سیکھیجب مکمل کرلی تو(شکرانے کے طورپر)اونٹ ذبح فرمایا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۶۲۰۷: ازبمبئی مرسلہ مولوی محمدعثمان صاحب بوساطت ضیاء الاسلام پیلی بھیت ۱۸/رجب ۱۳۲۴ھ
(۱)شیطان کے انڈادینے کاثبوت۔
(۲)نمازخمسہ معراج میں نہیں فرض ہوئیں۔
الجواب:
(۱)مفسرین نے ذریت شیطان میں چنداقوال لکھے ہیںان میں سے ایك قول یہ بھی ہے کہ انڈے دیتاہے اس سے اس کی نسل پھیلتی ہے۔
(۲)یہ محض غلط ہےصحیحین وغیرہما کی احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ شب معراج ہی میں پانچوں نمازیں فرض ہوئیں۔
مسئلہ ۲۰۸: ازشہرکہنہ مرسلہ منشی قاضی عبدالحق صاحب ۳۰/ربیع الآخر۱۳۲۷ھ
بشرف ملاحظہ خدامان بارگاہ شریعت پناہصاحب حجۃ قاہرہمجددمائۃ حاضرہحامی ملتحضرت عالم اہلسنت مدظلہم الاقدس السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہکمترین عقیدت گزیں عبدالحق عرض پرداز ہے کہ اگر خادمان عالی کاحرج اوقات نہ ہوتو تفصیل اس امر کی فرمادی جائے کہ ہاروت وماروت جوچاہ بابل میں قیدہیں فرشتے ہیں یاجن یاانسان اگران کو فرشتہ ماناجائے تو عصمت فرشتوں کی کس دلیل سے ثابت کی جائے اوراگرجن وانس کہاجائے تودرازی عمر کے واسطے کیاحجت پیش کی جائے اور جلال الدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے جوتاریخ الخلفاء میں لکھاہے کہ آسمان میں ایك دروازہ پیداہوا
خطیب نے رواۃ مالك میں عبداﷲ بن عمرفاروق علیہما الرضوان سے روایت کی:
قال تعلم عمر البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمھا نحر جزورا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کہاکہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے بارہ سال میں سورۃ بقرہ سیکھیجب مکمل کرلی تو(شکرانے کے طورپر)اونٹ ذبح فرمایا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۶۲۰۷: ازبمبئی مرسلہ مولوی محمدعثمان صاحب بوساطت ضیاء الاسلام پیلی بھیت ۱۸/رجب ۱۳۲۴ھ
(۱)شیطان کے انڈادینے کاثبوت۔
(۲)نمازخمسہ معراج میں نہیں فرض ہوئیں۔
الجواب:
(۱)مفسرین نے ذریت شیطان میں چنداقوال لکھے ہیںان میں سے ایك قول یہ بھی ہے کہ انڈے دیتاہے اس سے اس کی نسل پھیلتی ہے۔
(۲)یہ محض غلط ہےصحیحین وغیرہما کی احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ شب معراج ہی میں پانچوں نمازیں فرض ہوئیں۔
مسئلہ ۲۰۸: ازشہرکہنہ مرسلہ منشی قاضی عبدالحق صاحب ۳۰/ربیع الآخر۱۳۲۷ھ
بشرف ملاحظہ خدامان بارگاہ شریعت پناہصاحب حجۃ قاہرہمجددمائۃ حاضرہحامی ملتحضرت عالم اہلسنت مدظلہم الاقدس السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہکمترین عقیدت گزیں عبدالحق عرض پرداز ہے کہ اگر خادمان عالی کاحرج اوقات نہ ہوتو تفصیل اس امر کی فرمادی جائے کہ ہاروت وماروت جوچاہ بابل میں قیدہیں فرشتے ہیں یاجن یاانسان اگران کو فرشتہ ماناجائے تو عصمت فرشتوں کی کس دلیل سے ثابت کی جائے اوراگرجن وانس کہاجائے تودرازی عمر کے واسطے کیاحجت پیش کی جائے اور جلال الدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے جوتاریخ الخلفاء میں لکھاہے کہ آسمان میں ایك دروازہ پیداہوا
حوالہ / References
نسیم ا لریاض القسم الرابع الباب الاول ∞مرکزاہلسنت برکات رضا ۴/ ۳۳۵€
الجامع لاحکام القرآن للقرطبی بحوالہ مالك باب کیفیۃ التعلم والفقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۰€
صحیح البخاری باب کیف فرضت الصلوٰۃ فی الاسراء ۱/۵۱ و صحیح مسلم باب الاسراء برسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم
الجامع لاحکام القرآن للقرطبی بحوالہ مالك باب کیفیۃ التعلم والفقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۰€
صحیح البخاری باب کیف فرضت الصلوٰۃ فی الاسراء ۱/۵۱ و صحیح مسلم باب الاسراء برسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم
اورایك فرشتہ طوق وزنجیر پہنے ہوئے وسط میں حاضرہوااورمنادی نے نداکی کہ اس فرشتہ نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کی یہ سزا ملیکہاں تك صحیح ہے چونکہ قدیم سے میرے تمام اسقام کاچارہ اسی آستانے سے ہوتارہاہے اس واسطے اس سمع خراشی کی جرأت پڑگئی۔والسلام
الجواب:
جناب من! وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پرسخت انکار شدید ہےجس کی تفصیل شفاء شریف اوراس کی شروح میں ہےیہاں تك کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:
ھذہ الاخبار من کتب الیھود وافتراأتھم ۔ یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اوران کی افتراؤں سے ہیں۔
ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمرمستبعدنہیں۔سیدناخضروسیدناالیاس وسیدناعیسی صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہم انس ہیں اورابلیس جن ہے۔
اورراجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ:
" انما نحن فتنۃ فلا تکفر " ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔
اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔
بہ قال اکثرالمفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف ۔ اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے(ت)
اوریہ روایت کہ تاریخ الخلفاء کی طرف نسبت کی قطعا باطل اوربے اصل محض ہےنہ اس وقت تاریخ الخلفاء میں اس کاہونا یاد فقیرمیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۹: مسئولہ ازمولوی نوراحمدکانپوری ملازم کارخانہ میل کاٹ واقع ریواں ۹محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
ماقولکم یاعلماء الملۃ السمحۃ البیضاء ومفاتی الشریعۃ الغراء فی ھذہ(اے ملت مقدسہ نورانیہ کے علماء کرام اورروشن شریعت کے مفتیان عظام آپ کاکیاارشاد ہے اس بارے میں کہ۔ت)مولوی غلام امام شہیدنے
الجواب:
جناب من! وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔قصہ ہاروت وماروت جس طرح عام میں شائع ہے ائمہ کرام کو اس پرسخت انکار شدید ہےجس کی تفصیل شفاء شریف اوراس کی شروح میں ہےیہاں تك کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:
ھذہ الاخبار من کتب الیھود وافتراأتھم ۔ یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اوران کی افتراؤں سے ہیں۔
ان کوجن یاانس ماناجائے جب بھی درازی عمرمستبعدنہیں۔سیدناخضروسیدناالیاس وسیدناعیسی صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہم انس ہیں اورابلیس جن ہے۔
اورراجح یہی ہے کہ ہاروت وماروت دوفرشتے ہیں جن کو رب عزوجل نے ابتلائے خلق کے لئے مقررفرمایاکہ جو سحرسیکھناچاہے اسے نصیحت کریں کہ:
" انما نحن فتنۃ فلا تکفر " ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔
اورجونہ مانے اپنے پاؤں جہنم میں جائے اسے تعلیم کریں تووہ طاعت میں ہیں نہ کہ معصیت میں۔
بہ قال اکثرالمفسرین علی ماعزاالیھم فی الشفاء الشریف ۔ اکثرمفسرین نے یہی کہاہے جیساکہ شفاشریف میں ان کی طرف منسوب ہے(ت)
اوریہ روایت کہ تاریخ الخلفاء کی طرف نسبت کی قطعا باطل اوربے اصل محض ہےنہ اس وقت تاریخ الخلفاء میں اس کاہونا یاد فقیرمیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۹: مسئولہ ازمولوی نوراحمدکانپوری ملازم کارخانہ میل کاٹ واقع ریواں ۹محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
ماقولکم یاعلماء الملۃ السمحۃ البیضاء ومفاتی الشریعۃ الغراء فی ھذہ(اے ملت مقدسہ نورانیہ کے علماء کرام اورروشن شریعت کے مفتیان عظام آپ کاکیاارشاد ہے اس بارے میں کہ۔ت)مولوی غلام امام شہیدنے
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ∞۲/ ۱۷۰€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۰۲€
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ∞۲/ ۱۷۱€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۰۲€
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی العقول فی عصمۃ الملائکۃ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ∞۲/ ۱۷۱€
ص ۵۹ سطر۱۱ میں لکھاہے کہ شب معراج میں حضرت غوث الاعظم شیخ محی الدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی روح پاك نے حاضر ہوکرگردن نیازصاحب لولاك کے قدم سراپا اعجاز کے نیچے رکھ دی اورخواجہ عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم گردن غوث اعظم پر قدم مبارك رکھ کربراق پرسوارہوئے اوراس روح پاك سے استفسارفرمایا کہ توکون ہے عرض کیاکہ میں آپ کے فرزندوں اورذریات طیبات سے ہوں اگرآج نعمت سے کچھ منزلت بخشے گا توآپ کے دین کوزندہ کروں گا۔فرمایاکہ تومحی الدین ہے اور جس طرح آج میراقدم تیری گردن پرہے اسی طرح کل تیراقدم تمام اولیاء کی گردن پرہوگا۔اوراس روایت کی دلیل یہ لکھی ہے کہ صاحب منازل اثناء عشریہ بھی تحفہ قادریہ سے لکھتے ہیں۔اسی کتاب کے ص۸ سطر۵ میں مرقوم ہے کہ خواجہ عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوش ہوکرسوارہونے لگے براق نے شوخی شروع کی۔جبرائیل امین علیہ السلام نے کہایہ کیابے حرمتی ہے تونہیں جانتاکہ تیراراکب کون ہےخلاصہ ہیجدہ ہزارعالم محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔براق نے کہا اے امین وحی الہی! تم اس وقت خفگی مت کرو مجھے رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جناب میں ایك التماس کرنی ہے۔فرمایابیان کرو۔عرض کیا آج میں دولت زیارت سے مشرف ہوںکل قیامت کے دن مجھ سے بہتربراق آپ کی سواری کے واسطے آئیں گے امیدوارہوں کہ حضور سوائے میرے اورکسی براق کوپسندنہ فرمائیں۔حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے التجا اس کی قبول فرمائی۔صاحب تحفۃ القادریہ لکھتے ہیں کہ وہ براق خوشی سے پھولانہ سمایا اوراتنابڑھا اوراونچا ہواکہ صاحب معراج کاہاتھ زین اور پاؤں رکاب تك نہ پہنچا۔
میرا استفساراس امرکا ہے کہ آیایہ روایت صحاح ستہ وغیرہ کتب احادیث میں وشفائے قاضی عیاض وغیرہ کتب معتبرہ فن سیر میں موجودہے یانہ بینواتوجروا ببیان کاف وشاف بالاسانید من المعتبرات المعتمدات بالبسط والتفصیل جزاکم اﷲ خیرالجزأ(قابل اعتبارواعتماد اسانیدکے ساتھ مکمل وضاحت وتفصیل کی روشنی میں تسلی بخش طورپربیان فرمائیں اجرپاؤ گے۔اﷲ تعالی تمہیں بہترین صلہ عطافرمائے۔ت)
الجواب:
کتب احادیث وسیر میں اس روایت کانشان نہیں۔رسالہ غلام امام شہید محض نامعتبر بلکہ صریح اباطیل وموضوعات پرمشتمل ہے۔منازل اثناعشریہ کوئی کتاب فقیرکی نظرسے نہ گزرینہ کہیں اس کاتذکرہ دیکھا۔تحفہ قادریہ شریف اعلی درجہ کی مستند کتاب ہےمیں اس کا مطالعہ بالاستیعاب سے بارہا مشرف ہواجونسخہ میرے پاس ہے یاجومیری نظرسے گزرا اس میں یہ روایت اصلا نہیں۔
میرا استفساراس امرکا ہے کہ آیایہ روایت صحاح ستہ وغیرہ کتب احادیث میں وشفائے قاضی عیاض وغیرہ کتب معتبرہ فن سیر میں موجودہے یانہ بینواتوجروا ببیان کاف وشاف بالاسانید من المعتبرات المعتمدات بالبسط والتفصیل جزاکم اﷲ خیرالجزأ(قابل اعتبارواعتماد اسانیدکے ساتھ مکمل وضاحت وتفصیل کی روشنی میں تسلی بخش طورپربیان فرمائیں اجرپاؤ گے۔اﷲ تعالی تمہیں بہترین صلہ عطافرمائے۔ت)
الجواب:
کتب احادیث وسیر میں اس روایت کانشان نہیں۔رسالہ غلام امام شہید محض نامعتبر بلکہ صریح اباطیل وموضوعات پرمشتمل ہے۔منازل اثناعشریہ کوئی کتاب فقیرکی نظرسے نہ گزرینہ کہیں اس کاتذکرہ دیکھا۔تحفہ قادریہ شریف اعلی درجہ کی مستند کتاب ہےمیں اس کا مطالعہ بالاستیعاب سے بارہا مشرف ہواجونسخہ میرے پاس ہے یاجومیری نظرسے گزرا اس میں یہ روایت اصلا نہیں۔
باایں ہمہ اس زمانے کے بعض مفتیان جہول یعنی دیوبندیان نامعقول اورمخطیان غفول نے جو اس کابطلان اس طرح ثابت کرنا چاہا ہے کہ سدرۃ المنتہی سے بالاعروج کیسااور اس میں معاذاﷲ حضوراقدس وانورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرحضور پر نورغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی بوئے تفضیل نکلتی ہےیہ محض تعصب وجہالت ہے جس کارد فقیرنے ایك مفصل فتوی میں سترہ سال ہوئے کہ کیاجبکہ ۱۶رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ کوکھٹورضلع سورت سے اس کاسوال آیاتھاہاں فاضل عبدالقادر قادری ابن شیخ محی اہلی نے کتاب تفریح الخاطر فی مناقب الشیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ میں یہ روایت لکھی ہے اور اسے جامع شریعت وحقیقت شیخ رشیدابن محمدجنیدی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی کتاب"حرزالعاشقین"سے نقل کیااورایسے امورکواتنی ہی سندبس ہے۔اس کابیان فقیرکے دوسرے فتوی میں ہے جس کاسوال ۱۷ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ کواوجین سے آیاتھا وباﷲ التوفیق(اورتوفیق اﷲ تعالی سے حاصل ہوتی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰: ازملك بنگال ضلع فریدپور موضع ٹپوراکاندے مرسلہ محمدشمس الدین صاحب
اعراب قرآنی کی ایجاد کس سنہ میں ہوئی اور اس کابانی کون ہے یہ بدعت حسنہ ہے یاسیئہ اگربدعت حسنہ ہے تو"کل بدعۃ ضلالۃ"(ہربدعت گمراہی ہے۔ت)کے کیا معنیبینواتوجروا۔
الجواب:
زمن عبدالمالك بن مروان میں اس کی درخواست سے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے شاگردرشید حضرت ابوالاسود دئلی نے یہ کارنیك کیابدعت حسنہ تھااورتمام ممالك عجم میں یقینا واجب کہ عام لوگ بے اس کے اس کی صحیح تلاوت نہیں کرسکتے۔بدعت ضلالت وہ ہے کہ رد ومزاحمت سنت کرےاوریہ تومؤید ومعین سنتبلکہ ذریعہ ادائے فرض ہے
فان اللحن حرام بلاخلاف کما فی العلمگیریۃ فترکہ فرض وھذا سبیلہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ لحن بلاخلاف حرام ہے جیساکہ عالمگیری میں ہے۔لہذا اس کاچھوڑنا فرض ہے اوریہ اس سے بچنے کاراستہ ہے۔
مسئلہ ۲۱۰: ازملك بنگال ضلع فریدپور موضع ٹپوراکاندے مرسلہ محمدشمس الدین صاحب
اعراب قرآنی کی ایجاد کس سنہ میں ہوئی اور اس کابانی کون ہے یہ بدعت حسنہ ہے یاسیئہ اگربدعت حسنہ ہے تو"کل بدعۃ ضلالۃ"(ہربدعت گمراہی ہے۔ت)کے کیا معنیبینواتوجروا۔
الجواب:
زمن عبدالمالك بن مروان میں اس کی درخواست سے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے شاگردرشید حضرت ابوالاسود دئلی نے یہ کارنیك کیابدعت حسنہ تھااورتمام ممالك عجم میں یقینا واجب کہ عام لوگ بے اس کے اس کی صحیح تلاوت نہیں کرسکتے۔بدعت ضلالت وہ ہے کہ رد ومزاحمت سنت کرےاوریہ تومؤید ومعین سنتبلکہ ذریعہ ادائے فرض ہے
فان اللحن حرام بلاخلاف کما فی العلمگیریۃ فترکہ فرض وھذا سبیلہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ لحن بلاخلاف حرام ہے جیساکہ عالمگیری میں ہے۔لہذا اس کاچھوڑنا فرض ہے اوریہ اس سے بچنے کاراستہ ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ھندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۷€
مسئلہ ۲۱۱: ازبھوپال مکان منشی سیدسعیداحمدصاحب متصل نورمحل مرسلہ سیداحمدعلی
مکرم ومعظم بعدآداب نیازکے گزارش ہے کہ اگربرائے مہربانی ان واقعات کے جن کی بناء پر حضرت منصور کے بارے میں فتوی دیاگیاتھامطلع فرمائیں توبہت ممنون ہوں۔اگرفتوی میں کسی آیت شریف کاحوالہ دیاگیاہو تواس کوبھی لکھ دیجئے گا۔اس تکلیف دہی کومعاف فرمائیے گا۔ایك معاملہ میں اس کی بہت ضرورت ہے۔
الجواب:
حضرت سیدی حسین بن منصورحلاج قدس سرہ جن کوعوام منصورکہتے ہیںمنصور ان کے والد کانام تھااوران کااسم گرامی حسین عــــــہ اکابر اہل حال سے تھےان کی ایك بہن ان سے بدرجہا مرتبہ ولایت ومعرفت میں زائدتھیںوہ آخرشب کوجنگل تشریف لے جاتیں اوریادالہی میں مصروف ہوتیں۔ایك دن ان کی آنکھ کھلی بہن کونہ پایاگھرمیں ہرجگہ تلاش کیاپتانہ چلاان کووسوسہ گزرادوسری شب میں قصدا سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہےوہ اپنے وقت پراٹھ کرچلیںیہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئےدیکھتے رہے آسمان سے سونے کی زنجیر یاقوت کاجام اترا اوران کے دہن مبارك کے برابرآلگاانہوں نے پیناشروع کیاان سے صبرنہ ہوسکاکہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے بے اختیارکہہ اٹھے کہ بہن تمہیں اﷲ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑدوانہوں نے ایك جرعہ چھوڑدیاانہوں نے پیااس کے پیتے ہی ہرجڑی بوٹی ہردرودیوارسے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کازیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے۔انہوں نے کہناشروع کیا"انا لاحق"بیشك میں سب سے زیادہ اس کازیادہ سزاوارہوں۔لوگوں کے سننے میں آیا"انا الحق"(میں حق ہوں۔ت)وہ دعوی خدائی سمجھےاور یہ کفرہے۔اور مسلمان ہوکر جو کفرکرے مرتدہے اورمرتد کی سزاقتل ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بدل دینہ فاقتلوہرواہ احمد والستۃ الامسلما عن جواپنادین بدل دے اسے قتل کرو۔اس حدیث کواصحاب ستہ میں سے مسلم کے علاوہ سب نے
عــــــہ:فی الاصل منصور
مکرم ومعظم بعدآداب نیازکے گزارش ہے کہ اگربرائے مہربانی ان واقعات کے جن کی بناء پر حضرت منصور کے بارے میں فتوی دیاگیاتھامطلع فرمائیں توبہت ممنون ہوں۔اگرفتوی میں کسی آیت شریف کاحوالہ دیاگیاہو تواس کوبھی لکھ دیجئے گا۔اس تکلیف دہی کومعاف فرمائیے گا۔ایك معاملہ میں اس کی بہت ضرورت ہے۔
الجواب:
حضرت سیدی حسین بن منصورحلاج قدس سرہ جن کوعوام منصورکہتے ہیںمنصور ان کے والد کانام تھااوران کااسم گرامی حسین عــــــہ اکابر اہل حال سے تھےان کی ایك بہن ان سے بدرجہا مرتبہ ولایت ومعرفت میں زائدتھیںوہ آخرشب کوجنگل تشریف لے جاتیں اوریادالہی میں مصروف ہوتیں۔ایك دن ان کی آنکھ کھلی بہن کونہ پایاگھرمیں ہرجگہ تلاش کیاپتانہ چلاان کووسوسہ گزرادوسری شب میں قصدا سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہےوہ اپنے وقت پراٹھ کرچلیںیہ آہستہ آہستہ پیچھے ہو لئےدیکھتے رہے آسمان سے سونے کی زنجیر یاقوت کاجام اترا اوران کے دہن مبارك کے برابرآلگاانہوں نے پیناشروع کیاان سے صبرنہ ہوسکاکہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے بے اختیارکہہ اٹھے کہ بہن تمہیں اﷲ کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑدوانہوں نے ایك جرعہ چھوڑدیاانہوں نے پیااس کے پیتے ہی ہرجڑی بوٹی ہردرودیوارسے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کازیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے۔انہوں نے کہناشروع کیا"انا لاحق"بیشك میں سب سے زیادہ اس کازیادہ سزاوارہوں۔لوگوں کے سننے میں آیا"انا الحق"(میں حق ہوں۔ت)وہ دعوی خدائی سمجھےاور یہ کفرہے۔اور مسلمان ہوکر جو کفرکرے مرتدہے اورمرتد کی سزاقتل ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بدل دینہ فاقتلوہرواہ احمد والستۃ الامسلما عن جواپنادین بدل دے اسے قتل کرو۔اس حدیث کواصحاب ستہ میں سے مسلم کے علاوہ سب نے
عــــــہ:فی الاصل منصور
حوالہ / References
جامع الترمذی ∞۱/ ۱۷۶€ وسنن ابی داؤد ∞۲/ ۲۴۲€ وسنن ابن ماجہ باب المرتدعن دینہ ∞ص۱۸۵،€مسنداحمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۱۷ و ۲۸۲ و ۲۸۳،€صحیح البخاری کتاب المغازی باب لایعذب بعذاب اﷲ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۳€
ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اورامام احمدنے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔واﷲسبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۲:ازبریلی بازار لال کرتی مرسلہ حاجی غلام نبی صاحب ساکن پاکپتن شریف معرفت حاجی ابوالحسن صاحب ۲۸رجب ۱۳۳۰ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمکیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضرت خواجہ خضر علیہ السلام اورحضرت الیاس علیہ السلام کاآپس میں کیارشتہ ہے اور ان دونوں کو اﷲتعالی نے کس کس کام پرمختارکیاہے اورکیاکیا مرتبہ دیاہے فقط
الجواب:
سیدنا الیاس علیہ السلام نبی مرسل ہیں
قال اﷲ تعالی "و ان الیاس لمن المرسلین ﴿۱۲۳﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بے شك الیاس(علیہ السلام)مرسلین میں سے ہیں۔(ت)
اورسیدنا خضرعلیہ السلام بھی جمہورکے نزدیك نبی ہیں اوران کوخاص طورسے علم غیب عطاہواہے
قال اﷲ تعالی " وعلمنہ من لدنا علما ﴿۶۵﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورہم نے اسے اپنا علم لدنی عطافرمایا۔ (ت)
یہ دونوں حضرات ان چارانبیاء میں ہیں جن کی وفات ابھی واقع ہی نہیں ہوئیدوآسمان پرزندہ اٹھالئے گئےسیدنا ادریس وسیدنا عیسی علیہما الصلوۃ والسلام۔اوریہ دونوں زمین پرتشریف فرماہیں دریاسیدنا خضرعلیہ السلام کے متعلق ہے اور خشکی سیدنا الیاس علیہ الصلوۃ والسلام کے۔دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیںبعدحج آب زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تك ان کے کھانے پینے کوکفایت کرتاہے۔دونوں صاحب اورتمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام آپس میں بھائی ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مسئلہ ۲۱۲:ازبریلی بازار لال کرتی مرسلہ حاجی غلام نبی صاحب ساکن پاکپتن شریف معرفت حاجی ابوالحسن صاحب ۲۸رجب ۱۳۳۰ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمکیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضرت خواجہ خضر علیہ السلام اورحضرت الیاس علیہ السلام کاآپس میں کیارشتہ ہے اور ان دونوں کو اﷲتعالی نے کس کس کام پرمختارکیاہے اورکیاکیا مرتبہ دیاہے فقط
الجواب:
سیدنا الیاس علیہ السلام نبی مرسل ہیں
قال اﷲ تعالی "و ان الیاس لمن المرسلین ﴿۱۲۳﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بے شك الیاس(علیہ السلام)مرسلین میں سے ہیں۔(ت)
اورسیدنا خضرعلیہ السلام بھی جمہورکے نزدیك نبی ہیں اوران کوخاص طورسے علم غیب عطاہواہے
قال اﷲ تعالی " وعلمنہ من لدنا علما ﴿۶۵﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورہم نے اسے اپنا علم لدنی عطافرمایا۔ (ت)
یہ دونوں حضرات ان چارانبیاء میں ہیں جن کی وفات ابھی واقع ہی نہیں ہوئیدوآسمان پرزندہ اٹھالئے گئےسیدنا ادریس وسیدنا عیسی علیہما الصلوۃ والسلام۔اوریہ دونوں زمین پرتشریف فرماہیں دریاسیدنا خضرعلیہ السلام کے متعلق ہے اور خشکی سیدنا الیاس علیہ الصلوۃ والسلام کے۔دونوں صاحبان حج کو ہرسال تشریف لاتے ہیںبعدحج آب زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تك ان کے کھانے پینے کوکفایت کرتاہے۔دونوں صاحب اورتمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام آپس میں بھائی ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۷/ ۱۲۳€
القرآن الکریم ∞۱۸/ ۶۵€
القرآن الکریم ∞۱۸/ ۶۵€
الانبیاء بنوعلات ۔ سارے نبی آپس میں بھائی ہیں۔(ت)
اس کے سوا ان دونوں صاحبوں کااورکوئی رشتہ معلوم نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۳: ۱۷/رجب ۱۳۳۲ھ
حائکہ کاپیشہ کون سے اولیاء وعلماء نے کیاہے مع حدیث حوالہ کتاب سے تحریرفرمائیے گا۔
الجواب:
بعض اولیاء وعلماء نے جس طرح بضرورت جوتاسینے کاپیشہ کیاہے جیسے امام خصاف۔یوں ہی بعض نے بضرورت کپڑابھی بناہے جیسے ابوالخیر نساج وعلامہ اسماعیل حائك مفتی دمشق وشام رحمہم اﷲ تعالیمگر اس سے یہ سمجھنا کہ وہ قوم کے جلاہے تھے جہالت ہے ویظھر الفرق بمطالعۃ رسالتنا ارائۃ الادب لفاضل النسب فــــــ (اور ہمارے رسالے"ارائۃ الادب لفاضل النسب کے مطالعہ سے فرق ظاہرہوجاتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۴:ازضلع سیالکوٹ تحصیل ڈسکہ ڈاکخانہ دبانوں مسئولہ محمدقاسم کھوکھر مدرس مدرسہ دبانوں روزدوشنبہ ۱۹/ صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
نسب نامہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کاصحیح تحریرفرماکرممنون فرمائیں۔
الجواب:
سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اولادسلاطین کیان سے ہیں اوران کامرتبہ اس سے اجل واعظم ہے کہ نسب سے انہیں فخر ہو۔ان کایہ شرف نہیں کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی اولاد ہیںان کایہ فضل ہے کہ وہ ہزارہا دینی بادشاہوں کے باپ ہیں۔ سیدنا امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
الفقہاء کلھم علی عیال تمام مجتہدین امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے
اس کے سوا ان دونوں صاحبوں کااورکوئی رشتہ معلوم نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۳: ۱۷/رجب ۱۳۳۲ھ
حائکہ کاپیشہ کون سے اولیاء وعلماء نے کیاہے مع حدیث حوالہ کتاب سے تحریرفرمائیے گا۔
الجواب:
بعض اولیاء وعلماء نے جس طرح بضرورت جوتاسینے کاپیشہ کیاہے جیسے امام خصاف۔یوں ہی بعض نے بضرورت کپڑابھی بناہے جیسے ابوالخیر نساج وعلامہ اسماعیل حائك مفتی دمشق وشام رحمہم اﷲ تعالیمگر اس سے یہ سمجھنا کہ وہ قوم کے جلاہے تھے جہالت ہے ویظھر الفرق بمطالعۃ رسالتنا ارائۃ الادب لفاضل النسب فــــــ (اور ہمارے رسالے"ارائۃ الادب لفاضل النسب کے مطالعہ سے فرق ظاہرہوجاتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۴:ازضلع سیالکوٹ تحصیل ڈسکہ ڈاکخانہ دبانوں مسئولہ محمدقاسم کھوکھر مدرس مدرسہ دبانوں روزدوشنبہ ۱۹/ صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
نسب نامہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کاصحیح تحریرفرماکرممنون فرمائیں۔
الجواب:
سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اولادسلاطین کیان سے ہیں اوران کامرتبہ اس سے اجل واعظم ہے کہ نسب سے انہیں فخر ہو۔ان کایہ شرف نہیں کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی اولاد ہیںان کایہ فضل ہے کہ وہ ہزارہا دینی بادشاہوں کے باپ ہیں۔ سیدنا امام شافعی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
الفقہاء کلھم علی عیال تمام مجتہدین امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے
حوالہ / References
مسنداحمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۳۱۹،۴۳۷،۴۶۳،۵۴۱،€صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالٰی واذکر فی الکتاب مریم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸۹،€صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضائل عیسٰی علیہ السلام ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶۴ و۲۶۵€
∞ف:رسالہ"€ارائۃ الادب لفاضل النسب∞"فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور،کی تئیسویں جلدکے صفحہ ۲۰۱ پرموجودہے€۔
∞ف:رسالہ"€ارائۃ الادب لفاضل النسب∞"فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور،کی تئیسویں جلدکے صفحہ ۲۰۱ پرموجودہے€۔
ابی حنیفۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بال بچوں کی طرح ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۵: مسئولہ حاجی کریم نورمحمد جنرل مرچنٹ اتواری چوك ناگپور بروزپنجشنبہ بتاریخ ۹صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
شہادت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کی نہرفرات پرہوئی یانہیں علمائے حنفیہ کااس پراتفاق ہے یانہیں
الجواب:
امام رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت ضرور برحق ہےنہ فقط حنفیہ بلکہ جملہ اہلسنت کااس پراجماع ہےاس کامنکر مبتدع گمراہ ہے۔
مسئلہ ۲۱۶: ازعلی گڑھ مرسلہ مولانا سیدسلیمان اشرف بہاری ۲۵صفر۱۳۳۸ھ
مولانا المعظم وبرادر محترم مولانا مصطفی رضاخاں صاحب ارفع اﷲ شانہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہکالج کاایك کام آگیا ہے جس میں ضرورت ہے چنداسماء ان علمائے کرام کے لکھے جانے کیجو سندھ کے تھے یاسندھ میں آئے کم ازکم پانچ نام ہونا چاہئے۔انساب سمعانی میں بعض اسماء ملے لیکن صرف ناماس کی خبرنہ ملی کہ انہوں نے کیاخدمت انجام دی۔طبقات حنفیہ کی فہرست میں کوئی نام نہ ملا۔آنجناب براہ کرم اعلی حضرت سے استفسارفرمائیں۔متقدمین یامتاخرین علماء اہلسنتمحدثین میں ہوں یافقہاء میں۔اگراس قدرفرصت نہ ہو تو صرف ان کتابوں کے نام لکھ بھیجئے جن میں تلاش کروں۔آپ کی خدمت میں نیازنامہ اس لئے لکھا کہ آپ کواعلیحضرت کی حضوری حاصل ہے۔فقیرکا سلام وقدمبوسی فرمادیجئے۔مستحق دعاہوں اوربڑا محتاج ہوں۔
الجواب:
(۱)مولانا رحمت اﷲ سندھی تلمیذ امام ابن ہمام مصنف منسك کبیرمنسك صغیرومنسك متوسط معروف بہ لباب المناسك جس کی شرح ملا علی قاری نے کی ہے المسلك المتقسط فی شرح المنسك المتوسط۔
(۲)مولانا محمدعابدسندھی مدنی محدث صاحب"حصرالشارد"۔
(۳)مولانا محمدحیات سندھی شارح کتاب الترغیب والترھیب۔
مسئلہ ۲۱۵: مسئولہ حاجی کریم نورمحمد جنرل مرچنٹ اتواری چوك ناگپور بروزپنجشنبہ بتاریخ ۹صفرالمظفر۱۳۳۴ھ
شہادت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کی نہرفرات پرہوئی یانہیں علمائے حنفیہ کااس پراتفاق ہے یانہیں
الجواب:
امام رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت ضرور برحق ہےنہ فقط حنفیہ بلکہ جملہ اہلسنت کااس پراجماع ہےاس کامنکر مبتدع گمراہ ہے۔
مسئلہ ۲۱۶: ازعلی گڑھ مرسلہ مولانا سیدسلیمان اشرف بہاری ۲۵صفر۱۳۳۸ھ
مولانا المعظم وبرادر محترم مولانا مصطفی رضاخاں صاحب ارفع اﷲ شانہمالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہکالج کاایك کام آگیا ہے جس میں ضرورت ہے چنداسماء ان علمائے کرام کے لکھے جانے کیجو سندھ کے تھے یاسندھ میں آئے کم ازکم پانچ نام ہونا چاہئے۔انساب سمعانی میں بعض اسماء ملے لیکن صرف ناماس کی خبرنہ ملی کہ انہوں نے کیاخدمت انجام دی۔طبقات حنفیہ کی فہرست میں کوئی نام نہ ملا۔آنجناب براہ کرم اعلی حضرت سے استفسارفرمائیں۔متقدمین یامتاخرین علماء اہلسنتمحدثین میں ہوں یافقہاء میں۔اگراس قدرفرصت نہ ہو تو صرف ان کتابوں کے نام لکھ بھیجئے جن میں تلاش کروں۔آپ کی خدمت میں نیازنامہ اس لئے لکھا کہ آپ کواعلیحضرت کی حضوری حاصل ہے۔فقیرکا سلام وقدمبوسی فرمادیجئے۔مستحق دعاہوں اوربڑا محتاج ہوں۔
الجواب:
(۱)مولانا رحمت اﷲ سندھی تلمیذ امام ابن ہمام مصنف منسك کبیرمنسك صغیرومنسك متوسط معروف بہ لباب المناسك جس کی شرح ملا علی قاری نے کی ہے المسلك المتقسط فی شرح المنسك المتوسط۔
(۲)مولانا محمدعابدسندھی مدنی محدث صاحب"حصرالشارد"۔
(۳)مولانا محمدحیات سندھی شارح کتاب الترغیب والترھیب۔
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل الثالث عشرفی ثناء الائمۃ علیہ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۴،تاریخ بغداد ترجمہ ۷۲۹۷ نعمان بن ثا بت€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۱۳/ ۳۴۶€
(۴)مولانا محمدہاشم سندھییہ بھی فقہ میں صاحب تصنیف ہیں۔
(۵)علامہ محمدابن الہادی سندھی محشی فتح القدیر وصحاح ستہ ومسندامام احمداستاذعلامہ محمدحیات سندھی متوفی ۱۱۳۸ھ
(۶)شیخ نظام الدین سندھی نزیل دمشق تلمیذجلیل ومحبوب حضرت قدوۃ العارفین سیدصبغۃ اﷲ بروحی
(۷)علامہ سندھی مصنف غایۃ التحقیق جن سے سیدعلامہ طحطاوی مصری نے حاشیہ درمختار باب الامامۃ میں استنادکیا۔
(۸)شیخ محمدحسین انصاری سندھی عم شیخ عابدسندھی محدثین ورجال اسانید حصرالشارد سے ہیں۔اس وقت یہی نام خیال میں ائے۔
(۵)علامہ محمدابن الہادی سندھی محشی فتح القدیر وصحاح ستہ ومسندامام احمداستاذعلامہ محمدحیات سندھی متوفی ۱۱۳۸ھ
(۶)شیخ نظام الدین سندھی نزیل دمشق تلمیذجلیل ومحبوب حضرت قدوۃ العارفین سیدصبغۃ اﷲ بروحی
(۷)علامہ سندھی مصنف غایۃ التحقیق جن سے سیدعلامہ طحطاوی مصری نے حاشیہ درمختار باب الامامۃ میں استنادکیا۔
(۸)شیخ محمدحسین انصاری سندھی عم شیخ عابدسندھی محدثین ورجال اسانید حصرالشارد سے ہیں۔اس وقت یہی نام خیال میں ائے۔
رسالہ
نطق الھلال بارخ ولادالحبیب والوصال
(حبیب خداصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تاریخ ولادت ووصال پرہلال کی گواہی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
فصل اول
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
مسئلہ ۲۱۷: اولی استقرار نطفہ زکیہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کس ماہ وتاریخ میں ہوا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بعض غرہ رجب کہتے ہیں رواہ الخطیب عن سیدنا سھل التستری قدس سرہ(اس کو خطیب نے سیدنا سہل تستری قدس سرہ سے روایت کیا۔ت)اوربعض دہم محرم
اخرج ابونعیم وابن عساکر عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدۃ قال حمل برسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی عاشوراء المحرم وولد اس کوابونعیم اورابن عساکر نے عمروبن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کااستقرار حمل دس محرم ہوا اورولادت
نطق الھلال بارخ ولادالحبیب والوصال
(حبیب خداصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تاریخ ولادت ووصال پرہلال کی گواہی)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
فصل اول
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
مسئلہ ۲۱۷: اولی استقرار نطفہ زکیہ سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کس ماہ وتاریخ میں ہوا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بعض غرہ رجب کہتے ہیں رواہ الخطیب عن سیدنا سھل التستری قدس سرہ(اس کو خطیب نے سیدنا سہل تستری قدس سرہ سے روایت کیا۔ت)اوربعض دہم محرم
اخرج ابونعیم وابن عساکر عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدۃ قال حمل برسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی عاشوراء المحرم وولد اس کوابونعیم اورابن عساکر نے عمروبن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کااستقرار حمل دس محرم ہوا اورولادت
یوم الاثنین لثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من رمضان اقول: فیہ مسیب بن شریك ضعیف جدا۔ باسعادت بروز پیردس رمضان المبارك کو ہوئی۔میں کہتا ہوں اس میں مسیب بن شریك ہے جوانتہائی ضعیف ہے۔ (ت)
اورصحیح یہ ہے کہ ماہ عــــــہ حج کی بارہویں تاریخ ھکذا صححہ فی المدارج کماسیأتی(مدارج میں اسی کی تصحیح فرمائی ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ت)اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کی مؤیدہے حدیث ابن سعدوابن عساکرکہ زن خثعمیہ نے حضرت عبداﷲ کو اپنی طرف بلایارمی جمارکا عذرفرمایابعد رمی حضرت آمنہ سے مقاربت کیاورحمل اقدس مستقرہواپھر خثعمیہ نے دیکھ کرکہاکیا ہمبستری کی فرمایا ہاںکہاکہ وہ نورکہ میں نے آپ کی پیشانی سے آسمان تك بلنددیکھاتھا نہ رہا آمنہ کو مژدہ دیجئے کہ ان کے حمل میں افضل اہل زمین ہے۔
قال ابن سعد انا وھب بن جریر ابن حازم ثنا ابی سمعت ابایزید المدینی قال نبئت ان عبداﷲ ابارسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم اتی امرأۃ من خثعم فرأت النور بین عینیہ نوراساطعا الی السماء فقالت ھل لك فی قال نعم حتی ارمی الجمرۃ الحدیث۔ ابن سعد نے کہا ہمیں وہب بن جریر بن حازم نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے میرے باپ نے بتایا کہ میں نے ابو یزید مدینی کوکہتے ہوئے سنامجھے خبردی گئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والد ماجد سیدنا حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ قبیلہ بنی خثعم کی ایك عورت کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایك نورآسمان تك بلند دیکھا اورکہاکہ کیا آپ کومجھ میں کوئی رغبت ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں یہاں تك کہ میں جمرات کو رمی کرلوں حدیث۔(ت)
ظاہرہے کہ رمی جمارنہیں ہوتی مگر حج میں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸:ثانیہ دن کیاتھا
الجواب:
کہاگیا روزدوشنبہ ذکرہ الزبیر بن بکار وبہ جزم
عــــــہ: اس کی تحقیق مسئلہ پنجم میں آتی ہے۔۱۲منہ
اورصحیح یہ ہے کہ ماہ عــــــہ حج کی بارہویں تاریخ ھکذا صححہ فی المدارج کماسیأتی(مدارج میں اسی کی تصحیح فرمائی ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا۔ت)اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کی مؤیدہے حدیث ابن سعدوابن عساکرکہ زن خثعمیہ نے حضرت عبداﷲ کو اپنی طرف بلایارمی جمارکا عذرفرمایابعد رمی حضرت آمنہ سے مقاربت کیاورحمل اقدس مستقرہواپھر خثعمیہ نے دیکھ کرکہاکیا ہمبستری کی فرمایا ہاںکہاکہ وہ نورکہ میں نے آپ کی پیشانی سے آسمان تك بلنددیکھاتھا نہ رہا آمنہ کو مژدہ دیجئے کہ ان کے حمل میں افضل اہل زمین ہے۔
قال ابن سعد انا وھب بن جریر ابن حازم ثنا ابی سمعت ابایزید المدینی قال نبئت ان عبداﷲ ابارسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم اتی امرأۃ من خثعم فرأت النور بین عینیہ نوراساطعا الی السماء فقالت ھل لك فی قال نعم حتی ارمی الجمرۃ الحدیث۔ ابن سعد نے کہا ہمیں وہب بن جریر بن حازم نے خبر دی انہوں نے کہا مجھے میرے باپ نے بتایا کہ میں نے ابو یزید مدینی کوکہتے ہوئے سنامجھے خبردی گئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والد ماجد سیدنا حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ قبیلہ بنی خثعم کی ایك عورت کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایك نورآسمان تك بلند دیکھا اورکہاکہ کیا آپ کومجھ میں کوئی رغبت ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں یہاں تك کہ میں جمرات کو رمی کرلوں حدیث۔(ت)
ظاہرہے کہ رمی جمارنہیں ہوتی مگر حج میں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸:ثانیہ دن کیاتھا
الجواب:
کہاگیا روزدوشنبہ ذکرہ الزبیر بن بکار وبہ جزم
عــــــہ: اس کی تحقیق مسئلہ پنجم میں آتی ہے۔۱۲منہ
حوالہ / References
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکرمولدالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹€
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکرطہارۃ مولدہ وطیب اصلہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۲۸€
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکرطہارۃ مولدہ وطیب اصلہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۲۸€
فی مجمع البحار (اس کو زبیرنے ذکرکیااور مجمع البحارمیں اسی پرجزم فرمایا۔ت)اوراصح یہ ہے کہ شب جمعہ تھیاسی لئے امام احمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل کہتے ہیں کہ یہ خیروبرکت وکرامت وسعادت جو اس میں اتری اس کے ہمسرنہ کبھی اتری نہ قیامت تك اترےوہاں " تنزل الملئکۃ و الروح فیہا " (اس میں فرشتے اورروح الامین اترتے ہیں۔ ت)یہاں مولائے ملائکہ وآقائے روح کانزول اجلال عظیم الفتوح ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔مدارج النبوۃ میں ہے:
استقرار نطفہ زکیہ درایام حج برقول اصح دراوسط ایام تشریق شب جمعہ بودوازیں جہت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ لیلۃ الجمعہ رافاضل تر ازلیلۃ القدر داشتہ الخ۔
واﷲ تعالی اعلم اصح قول کے مطابق نطفہ مطہرہ کااستقرارحج کے دنوں میں ایام تشریق کے درمیان جمعہ کی رات کوہوا۔اسی وجہ سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل سمجھتے ہیں الخ(ت)
مسئلہ ۲۱۹:ثالثہ مدت حمل شریف کس قدرتھی
الجواب:
دہ ۱۰ونہ۹ ہفت وشش۶ ماہ سب کچھ کہاگیا اورصحیح نو۹مہینے ہیں
فی شرح الزرقانی للمواھب اختلف فی مدۃ الحمل بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیل تسعۃ اشھر کاملۃ و بہ صدر مغلطائی قال فی الغرر وھو الصحیح الخ و اﷲ تعالی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ مواہب کی شرح زرقانی میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدت حمل میں اختلاف ہےچنانچہ کہاگیاکہ پورے نوماہ ہے۔مغلطائی نے اسی قول کومقدم کیا۔غررمیں فرمایا کہ یہی صحیح ہے الخاﷲ تعالی درست بات کوخوب جانتاہے اوراسی کی طرف لوٹناہے۔(ت)
استقرار نطفہ زکیہ درایام حج برقول اصح دراوسط ایام تشریق شب جمعہ بودوازیں جہت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ لیلۃ الجمعہ رافاضل تر ازلیلۃ القدر داشتہ الخ۔
واﷲ تعالی اعلم اصح قول کے مطابق نطفہ مطہرہ کااستقرارحج کے دنوں میں ایام تشریق کے درمیان جمعہ کی رات کوہوا۔اسی وجہ سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل سمجھتے ہیں الخ(ت)
مسئلہ ۲۱۹:ثالثہ مدت حمل شریف کس قدرتھی
الجواب:
دہ ۱۰ونہ۹ ہفت وشش۶ ماہ سب کچھ کہاگیا اورصحیح نو۹مہینے ہیں
فی شرح الزرقانی للمواھب اختلف فی مدۃ الحمل بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیل تسعۃ اشھر کاملۃ و بہ صدر مغلطائی قال فی الغرر وھو الصحیح الخ و اﷲ تعالی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ مواہب کی شرح زرقانی میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدت حمل میں اختلاف ہےچنانچہ کہاگیاکہ پورے نوماہ ہے۔مغلطائی نے اسی قول کومقدم کیا۔غررمیں فرمایا کہ یہی صحیح ہے الخاﷲ تعالی درست بات کوخوب جانتاہے اوراسی کی طرف لوٹناہے۔(ت)
حوالہ / References
مجمع بحارالانوار بیان نسبہ صلی اﷲ علیہ وسلم ∞مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ۵/ ۲۶€۵
القرآن الکریم ∞۹۷/ ۴€
مدارج النبوۃ باب اول نورمصطفی استقرار نطفہ زکیہ الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھرملتان ۲/ ۱۳€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکرتزوج عبداﷲ وآمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۶€
القرآن الکریم ∞۹۷/ ۴€
مدارج النبوۃ باب اول نورمصطفی استقرار نطفہ زکیہ الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھرملتان ۲/ ۱۳€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکرتزوج عبداﷲ وآمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۶€
مسئلہ ۲۲۰:رابعہ ولادت شریف کادن کیاہے
الجواب:
بالاتفاق دوشنبہ صرح بہ العلامۃ ابن حجر فی افضل القری(علامہ ابن حجرنے افضل القری میں اس کی تصریح فرمائی۔ ت) سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیرکے دن کو فرماتے ہیں:
ذلك یوم ولدت فیہرواہ مسلم عن ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میں اسی دن پیداہواہوں(اس کوامام مسلم نے ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۱: خامسہ کیامہینہ تھا
الجواب:
رجبصفرربیع الاولمحرمرمضان سب کچھ کہاگیا اورصحیح ومشہوروقول جمہور ربیع الاول ہےمدارج میں ہے:
مشہورآنست کہ درربیع الاول بود ۔ مشہور یہ ہے کہ ولادت مبارکہ ماہ ربیع الاول شریف میں ہوئی۔(ت)
شرح الہمزیہ میں ہے:
الاصح فی شھرربیع الاول ۔ اصح یہ ہے کہ ماہ ربیع الاول میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔(ت)
ربیع الاولمواہب میں ہے:وھوقول جمہورالعلماء (اوروہ جمہور علماء کاقول ہے۔ت)پھرکہا فی شھرربیع الاول علی الصحیح (صحیح قول کے مطابق ربیع الاول میں ہے۔ت)
الجواب:
بالاتفاق دوشنبہ صرح بہ العلامۃ ابن حجر فی افضل القری(علامہ ابن حجرنے افضل القری میں اس کی تصریح فرمائی۔ ت) سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیرکے دن کو فرماتے ہیں:
ذلك یوم ولدت فیہرواہ مسلم عن ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میں اسی دن پیداہواہوں(اس کوامام مسلم نے ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۱: خامسہ کیامہینہ تھا
الجواب:
رجبصفرربیع الاولمحرمرمضان سب کچھ کہاگیا اورصحیح ومشہوروقول جمہور ربیع الاول ہےمدارج میں ہے:
مشہورآنست کہ درربیع الاول بود ۔ مشہور یہ ہے کہ ولادت مبارکہ ماہ ربیع الاول شریف میں ہوئی۔(ت)
شرح الہمزیہ میں ہے:
الاصح فی شھرربیع الاول ۔ اصح یہ ہے کہ ماہ ربیع الاول میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی۔(ت)
ربیع الاولمواہب میں ہے:وھوقول جمہورالعلماء (اوروہ جمہور علماء کاقول ہے۔ت)پھرکہا فی شھرربیع الاول علی الصحیح (صحیح قول کے مطابق ربیع الاول میں ہے۔ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الصیام باب استحباب صیام ثلاثہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۶۸€
مدارج النبوۃ باب اول ولادت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۴€
الفتوحات الاحمدیۃبالمنح المحمدیۃ شرح الہمزیۃ قولہ لیلۃ المولد جمالیہ ∞قاہرہ ص۱۰€
المواہب اللدنیۃ المقصد الاول یوم الولادۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۴۰€
المواہب اللدنیۃ المقصد الاول شہرالولادۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۴۲€
مدارج النبوۃ باب اول ولادت آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۴€
الفتوحات الاحمدیۃبالمنح المحمدیۃ شرح الہمزیۃ قولہ لیلۃ المولد جمالیہ ∞قاہرہ ص۱۰€
المواہب اللدنیۃ المقصد الاول یوم الولادۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۴۰€
المواہب اللدنیۃ المقصد الاول شہرالولادۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۴۲€
شرح زرقانی میں ہے:
قال ابن کثیر ھو المشہور عند الجمہور ۔ ابن کثیرنے کہاجمہورکے نزدیك یہی مشہورہے(ت)
اسی میں ہے:وعلیہ العمل (اوراسی پرعمل ہے۔ت)علماء نے باآنکہ اقوال مذکرہ سے آگاہ تھے محرم ورمضان ورجب کی نفی فرمائیمواہب میں ہے:
لم یکن فی المحرم ولافی رجب ولافی رمضان ۔ ولادت مبارکہ نہ تومحرم میں ہوئی اورنہ ہی رجب میں اورنہ رمضان میں۔(ت)
شرح ام القری میں ہے:
لم یکن فی الاشھر الحرم اورمضان ۔ حرمت والے مہینوں یارمضان میں ولادت مبارکہ نہیں ہوئی(ت)
یہاں تك کہ علامہ ابن الجوزی وابن جزار نے اسی پراجماع نقل کیا۔نسیم الریاض میں تلقیح سے ہے:
اتفقوا علی انہ ولد یوم الاثنین فی شھر ربیع الاول ۔ اس پرعلماء متفق ہیں کہ آپ ماہ ربیع الاول میں پیرکے روز پیدا ہوئے۔(ت)
اسی طرح ان کی صفوہ میں ہےکما للزرقانی ثم عزاہ ایضا لابن الجزار(جیسا کہ زرقانی کاقول ہےپھر اس کو ابن جزار کی طرف منسوب کیا۔ت)پس اس کاانکار اگرترجیحات علماء واختیار جمہور کی ناواقفی سے ہوتو جہل ورنہ مرکب کہ اس سے بدتر فقیرکہتاہے مگراس تقدیرپراستقرار حمل ماہ ذی الحجہ میں صریح اشکال کہ دربارہ حمل چھ مہینے سے کمی عادۃ محالاورخود اوپر گزرا کہ مدت حمل شریف نہ ماہ ہونااصح الاقوالتویہ تینوں تصحیحیں کیونکر مطابق ہوں لکنی اقول:وباﷲ التوفیق(لیکن میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مہینے زمانہ جاہلیت میں معین نہ تھے اہل عرب ہمیشہ شہرحرم کی تقدیم
قال ابن کثیر ھو المشہور عند الجمہور ۔ ابن کثیرنے کہاجمہورکے نزدیك یہی مشہورہے(ت)
اسی میں ہے:وعلیہ العمل (اوراسی پرعمل ہے۔ت)علماء نے باآنکہ اقوال مذکرہ سے آگاہ تھے محرم ورمضان ورجب کی نفی فرمائیمواہب میں ہے:
لم یکن فی المحرم ولافی رجب ولافی رمضان ۔ ولادت مبارکہ نہ تومحرم میں ہوئی اورنہ ہی رجب میں اورنہ رمضان میں۔(ت)
شرح ام القری میں ہے:
لم یکن فی الاشھر الحرم اورمضان ۔ حرمت والے مہینوں یارمضان میں ولادت مبارکہ نہیں ہوئی(ت)
یہاں تك کہ علامہ ابن الجوزی وابن جزار نے اسی پراجماع نقل کیا۔نسیم الریاض میں تلقیح سے ہے:
اتفقوا علی انہ ولد یوم الاثنین فی شھر ربیع الاول ۔ اس پرعلماء متفق ہیں کہ آپ ماہ ربیع الاول میں پیرکے روز پیدا ہوئے۔(ت)
اسی طرح ان کی صفوہ میں ہےکما للزرقانی ثم عزاہ ایضا لابن الجزار(جیسا کہ زرقانی کاقول ہےپھر اس کو ابن جزار کی طرف منسوب کیا۔ت)پس اس کاانکار اگرترجیحات علماء واختیار جمہور کی ناواقفی سے ہوتو جہل ورنہ مرکب کہ اس سے بدتر فقیرکہتاہے مگراس تقدیرپراستقرار حمل ماہ ذی الحجہ میں صریح اشکال کہ دربارہ حمل چھ مہینے سے کمی عادۃ محالاورخود اوپر گزرا کہ مدت حمل شریف نہ ماہ ہونااصح الاقوالتویہ تینوں تصحیحیں کیونکر مطابق ہوں لکنی اقول:وباﷲ التوفیق(لیکن میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مہینے زمانہ جاہلیت میں معین نہ تھے اہل عرب ہمیشہ شہرحرم کی تقدیم
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳€۲
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
المواہب اللدنیہ المقصد الاول یوم ولادۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۴€۲
شرح ام القرٰی
نسیم الریاض فصل ومن ذٰلك ماظہر من الآیات عندمولدہ ∞مرکزاہل سنت برکات رضا ۳/ ۲۷۵€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
المواہب اللدنیہ المقصد الاول یوم ولادۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۴€۲
شرح ام القرٰی
نسیم الریاض فصل ومن ذٰلك ماظہر من الآیات عندمولدہ ∞مرکزاہل سنت برکات رضا ۳/ ۲۷۵€
تاخیر کرلیتے جس کے سبب ذی الحجہ ہرماہ میں دورہ کرجاتا
قال اﷲ تعالی" انما النسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما و یحرمونہ عاما لیواطـوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا ان کامہینے پیچھے ہٹنانہیں مگراورکفرمیں بڑھنااس سے کافر بہکائے جاتے ہیں۔ایك برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابرہوجائیں جواﷲ تعالی نے حرام فرمائی(ت)
یہاں تك کہ صدیق اکبرومولی علی کرم اﷲ وجھہما نے جوہجرت سے نویں سال حج کیا وہ مہینا واقع عــــــہ میں ذیقعدہ تھا سال دہم میں ذی الحجہ اپنے ٹھکانے سے آیاسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حج فرمایا اورارشاد کیا:
ان الزمان قد استدارکھیأتہ یوم خلق اﷲ السموت والارض الحدیث۔رواہ الشیخان ۔ یعنی زمانہ دورہ کرکے اسی حالت پرآگیا جس پر روزتخلیق زمین وآسمان تھا اس حدیث کو امام بخاری وامام مسلم نے روایت فرمایاہے۔ت)
عــــــہ:اس پراعتراض ہے کہ بروز عرفہ صدیق ومرتضی رضی اﷲ تعالی عنہما نے اعلان احکام الہیہ فرمایا جسے رب عزوجل نے "و اذن من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین ۬ ورسولہ " (اورمنادی پکاردیتاہے اﷲ اوراس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اﷲ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ت)فرمایا اگروہ ذی الحجہ نہ ہوتاایسانہ فرماتا۔اقول:وفیہ نظر بوجوہ فتامل منہ غفرلہ(میں کہتاہوں اس میں کئی وجوہ سے نظرہے پس غورکرو۔ت)
قال اﷲ تعالی" انما النسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما و یحرمونہ عاما لیواطـوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا ان کامہینے پیچھے ہٹنانہیں مگراورکفرمیں بڑھنااس سے کافر بہکائے جاتے ہیں۔ایك برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں کہ اس گنتی کے برابرہوجائیں جواﷲ تعالی نے حرام فرمائی(ت)
یہاں تك کہ صدیق اکبرومولی علی کرم اﷲ وجھہما نے جوہجرت سے نویں سال حج کیا وہ مہینا واقع عــــــہ میں ذیقعدہ تھا سال دہم میں ذی الحجہ اپنے ٹھکانے سے آیاسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حج فرمایا اورارشاد کیا:
ان الزمان قد استدارکھیأتہ یوم خلق اﷲ السموت والارض الحدیث۔رواہ الشیخان ۔ یعنی زمانہ دورہ کرکے اسی حالت پرآگیا جس پر روزتخلیق زمین وآسمان تھا اس حدیث کو امام بخاری وامام مسلم نے روایت فرمایاہے۔ت)
عــــــہ:اس پراعتراض ہے کہ بروز عرفہ صدیق ومرتضی رضی اﷲ تعالی عنہما نے اعلان احکام الہیہ فرمایا جسے رب عزوجل نے "و اذن من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین ۬ ورسولہ " (اورمنادی پکاردیتاہے اﷲ اوراس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اﷲ بیزار ہے مشرکوں سے اور اس کارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ت)فرمایا اگروہ ذی الحجہ نہ ہوتاایسانہ فرماتا۔اقول:وفیہ نظر بوجوہ فتامل منہ غفرلہ(میں کہتاہوں اس میں کئی وجوہ سے نظرہے پس غورکرو۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۳۷€
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ برأۃ باب قولہ ان عدۃ الشہور الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۷۲،€صحیح مسلم کتاب القسامۃ باب تغلیظ تحریم الدماء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰€
القرآن الکریم ∞۹/ ۳€
صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ برأۃ باب قولہ ان عدۃ الشہور الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۷۲،€صحیح مسلم کتاب القسامۃ باب تغلیظ تحریم الدماء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰€
القرآن الکریم ∞۹/ ۳€
اس دن سے نسی نسیا منسیا ہوا اوریہی دورہ دوازدہ ماہہ قیامت تك رہا توکچھ بعیدنہیں کہ اس ذی الحجہ سے ربیع الاول تك نومہینے ہوں شاید شیخ محقق اسی نکتہ کی طرف مشیرہیں کہ زمانہ استقرار مبارك کوایام حج سے تعبیر کیا نہ کہ ذی الحجہ سےاگر چہ اس وقت کے عرف میں اسے ذی الحجہ بھی کہناممکن تھا۔اقول:اب مسئلہ ثالثہ وخامسہ کی تصحیحوں پرمسئلہ اولی کاجواب ۱۲جمادی الآخرہ ہوگا مگرجاہلیت کادورنسیئی اگرمنتظم ماناجائے یعنی علی التوالی ایك ایك مہیناہٹاتے ہوں توسال استقرارحمل اقدس ذی الحجہ شعبان میں پڑتا ہے نہ کہ جمادی الآخرہ میں کہ ذی الحجہ حجۃ الوداع شریف جب عمراقدس حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تریسٹھواں سال تھا ذی الحجہ میں آیا تو۱۲۱۲کے اسقاط سے جب عمراقدس سے تیسراسال تھا ذی الحجہ میں ہوا اوردوسراسال ذی القعدہ اورپہلاسال شوالولادت شریفہ رمضان ااورسال استقرارحمل مبارك شعبان میں لیکن ان نامنتظموں کی کوئی بات منظم نہ تھی جب جیسی چاہتے کرلیتےلٹیرے لوگ جب لوٹ مارچاہتے اورمہینا ان کے حسابوں اشہرحرم سے ہوتااپنے سردار کے پاس آتے اورکہتے اس سال یہ مہینا حلال کردےوہ حلال کردیتااوردوسرے سال گنتی پوری کرنے کوحرام ٹھہرادیتا کمارواہ ابناء جریر والمنذر ومردویہ وابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما(جیساکہ اس کوجریرمنذرمردویہ اور ابو حاتم کے بیٹوں نے سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)تو اس سال جمادی الآخرہ میں ذی الحجہ ہوناکچھ بعید نہیں۔واﷲتعالی اعلم
فائدہ:سائل نے یہاں تاریخ سے سوال نہ کیا اس میں اقوال بہت مختلف ہیںدو۲آٹھ۸دس۱۰بارہ۱۲ سترہ۱۷ اٹھارہ۱۸ بائیس۲۲سات۷ قول ہیں مگراشہرواکثروماخوز ومعتبربارہویں ہے۔مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکان مولداقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب والمدارج(جیسا کہ مواہب لدنیہ اورمدارج النبوۃ میں ہے۔ت)اورخاص اس مکان جنت نشان میں اسی تاریخ مجلس میلاد مقدس ہوتی ہے۔ علامہ قسطلانی وفاضل زرقانی فرماتے ہیں:
المشھور انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولد یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الاول وھو قول محمد بن اسحاق امام المغازی وغیرہ ۔ مشہوریہ ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروزپیرکو پیداہوئےامام المغازی محمدبن اسحاق وغیرہ کایہی قول ہے۔(ت)
فائدہ:سائل نے یہاں تاریخ سے سوال نہ کیا اس میں اقوال بہت مختلف ہیںدو۲آٹھ۸دس۱۰بارہ۱۲ سترہ۱۷ اٹھارہ۱۸ بائیس۲۲سات۷ قول ہیں مگراشہرواکثروماخوز ومعتبربارہویں ہے۔مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکان مولداقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب والمدارج(جیسا کہ مواہب لدنیہ اورمدارج النبوۃ میں ہے۔ت)اورخاص اس مکان جنت نشان میں اسی تاریخ مجلس میلاد مقدس ہوتی ہے۔ علامہ قسطلانی وفاضل زرقانی فرماتے ہیں:
المشھور انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولد یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الاول وھو قول محمد بن اسحاق امام المغازی وغیرہ ۔ مشہوریہ ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروزپیرکو پیداہوئےامام المغازی محمدبن اسحاق وغیرہ کایہی قول ہے۔(ت)
حوالہ / References
الدرالمنثور تحت الآیۃ ∞۹/ ۳۷ ۴/ ۱۷۳€
المواھب اللدنیہ المقصدالاول ∞۱/ ۱۴۲€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکر تزوج عبداﷲ آمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
المواھب اللدنیہ المقصدالاول ∞۱/ ۱۴۲€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکر تزوج عبداﷲ آمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
شرح مواہب میں امام ابن کثیرسے ہے:
ھو المشھور عندالجمہور ۔ جمہورکے نزدیك یہی مشہورہے۔(ت)
اسی میں ہے: ھو الذی علیہ العمل (یہی وہ ہے جس پرعمل ہے۔ت) شرح الہمزیہ میں ہے:ھوالمشہور وعلیہ العمل (یہی مشہورہے اوراسی پرعمل ہے۔ت)اسی طرح مدارج وغیرہ میں تصریح کی۔
وان کان اکثر المحدثین والمؤرخین علی ثمان خلون وعلیہ اجمع اھل الزیجات واختارہ ابن حزم والحمیدی وروی عن ابن عباس وجبیربن مطعم رضی اﷲ تعالی عنھم وبالاول صدرمغلطائی و اعتمدہ الذھبی فی تہذیب التہذیب تبعا للمزی و حکم المشہور بقیل وصحح الدمیاطی عشراخلت اقول:وحاسبنا فوجد ناغرۃ المحرم الوسطیۃ عام ولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الخمیس فکانت غرۃ شھر الولادۃ الکریمۃ الوسطیۃ یوم الاحد والھلالیۃ یوم الاثنین فکان یوم الاثنین الثامن من الشھرولذا اجمع اگرچہ اکثرمحدثین ومورخین کانظریہ ہے کہ ولادت با سعادت آٹھ تاریخ کوہوئیاہل زیجات کا اسی پراجماع ہے۔ ابن حزم وحمیدی کایہی مختارہے اورابن عباس وجبیربن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھی مروی ہے۔مغلطائی نے قول اول سے آغاز فرمایا اورامام ذہبی نے مزی کی پیروی کرتے ہوئے تہذیب التہذیب میں اسی پراعتمادکیا اورقیل کے ساتھ مشہور کاحکم لگایا اوردمیاطی نے دس تاریخ کوصحیح قراردیا۔ اقول:(میں کہتاہوں)ہم نے حساب لگایاتو حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت اقدس والے سال محرم کاغرہ وسطیہ(آغاز)جمعرات کے روز پایا تو اس طرح ماہ ولادت کریمہ کاغرہ وسطیہ بروزاتوار اورغرہ ہلالیہ بروزپیر ہوا اس طرح پیرکے روز ماہ ولادت مبارکہ کی آٹھ تاریخ بنتی ہے۔یہ وجہ
ھو المشھور عندالجمہور ۔ جمہورکے نزدیك یہی مشہورہے۔(ت)
اسی میں ہے: ھو الذی علیہ العمل (یہی وہ ہے جس پرعمل ہے۔ت) شرح الہمزیہ میں ہے:ھوالمشہور وعلیہ العمل (یہی مشہورہے اوراسی پرعمل ہے۔ت)اسی طرح مدارج وغیرہ میں تصریح کی۔
وان کان اکثر المحدثین والمؤرخین علی ثمان خلون وعلیہ اجمع اھل الزیجات واختارہ ابن حزم والحمیدی وروی عن ابن عباس وجبیربن مطعم رضی اﷲ تعالی عنھم وبالاول صدرمغلطائی و اعتمدہ الذھبی فی تہذیب التہذیب تبعا للمزی و حکم المشہور بقیل وصحح الدمیاطی عشراخلت اقول:وحاسبنا فوجد ناغرۃ المحرم الوسطیۃ عام ولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الخمیس فکانت غرۃ شھر الولادۃ الکریمۃ الوسطیۃ یوم الاحد والھلالیۃ یوم الاثنین فکان یوم الاثنین الثامن من الشھرولذا اجمع اگرچہ اکثرمحدثین ومورخین کانظریہ ہے کہ ولادت با سعادت آٹھ تاریخ کوہوئیاہل زیجات کا اسی پراجماع ہے۔ ابن حزم وحمیدی کایہی مختارہے اورابن عباس وجبیربن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہم سے بھی مروی ہے۔مغلطائی نے قول اول سے آغاز فرمایا اورامام ذہبی نے مزی کی پیروی کرتے ہوئے تہذیب التہذیب میں اسی پراعتمادکیا اورقیل کے ساتھ مشہور کاحکم لگایا اوردمیاطی نے دس تاریخ کوصحیح قراردیا۔ اقول:(میں کہتاہوں)ہم نے حساب لگایاتو حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت اقدس والے سال محرم کاغرہ وسطیہ(آغاز)جمعرات کے روز پایا تو اس طرح ماہ ولادت کریمہ کاغرہ وسطیہ بروزاتوار اورغرہ ہلالیہ بروزپیر ہوا اس طرح پیرکے روز ماہ ولادت مبارکہ کی آٹھ تاریخ بنتی ہے۔یہ وجہ
حوالہ / References
شرح الزرقانی عل المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکرتزوّج عبداﷲ آمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
شرح الزرقانی عل المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکرتزوّج عبداﷲ آمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحمدیۃ شرح الہمزیۃ تحت قولہ لیلۃ المولد جمالیہ ∞قاھرہ ص۱۰€
شرح الزرقانی عل المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکرتزوّج عبداﷲ آمنہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۳۲€
الفتوحات الاحمدیۃ بالمنح المحمدیۃ شرح الہمزیۃ تحت قولہ لیلۃ المولد جمالیہ ∞قاھرہ ص۱۰€
علیہ اصحاب الزیج ومجرد ملاحظۃ الغرۃ الوسطیۃ یظھر استحالۃ سائر الاقوال ماخلاالطرفین والعلم بالحق عند مقلب الملوین۔ ہے کہ اہل زیجات کااس پراجماع ہے۔محض غرہ وسطیہ کو دیکھنے سے طرفین کے علاوہ تمام اقوال کامحال ہونا ظاہرہو جاتا ہے اورحق کاعلم شب وروز کوبدلنے والے کے پاس ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ تلقی امت بالقبول کے لئے شان عظیم ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفطر یوم یفطر الناس والاضحی یوم یضحی الناس رواہ الترمذی عن ام المؤمننین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صحیح۔ عیدالفطر اس دن ہے جس دن لوگ عیدکریں اورعیدالاضحی اس روزہے جس روزلوگ عید سمجھیں(اس کوامام ترمذی نے صحیح سندکے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہاسے روایت کیاہے۔(ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
فطرکم یوم تفطرون واضحاکم یوم تضحون۔رواہ ابوداؤد والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح ورواہ الترمذی وحسنہ فزاد فی اولہ "الصوم یوم تصومون والفطر" الحدیث وارسلہ الشافعی فی مسندہ والبیھقی فی سننہ عن عطاء فزاد فی اخرہ "وعرفۃ یوم تعرفون " تمہاری عیدالفطر اس دن ہے جس دن تم عید الفطرکرو اور تمہاری عیدالاضحی اس دن ہے جس دن کوتم عید الاضحی سمجھو۔اس کو ابو داؤد اوربیہقی نے سنن میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ ترمذی نے اس کو روایت کرکے حسن قراردیااور اس کے شروع میں یہ بڑھایاکہ روزہ کادن وہی ہے جس کو تم سب روزے کا دن قراردو اور عید الفطرکادن وہ ہے(حدیث کے آخرتک)۔امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اپنی مسند میں اس کو بطور ارسال ذکرفرمایا۔
اور شك نہیں کہ تلقی امت بالقبول کے لئے شان عظیم ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الفطر یوم یفطر الناس والاضحی یوم یضحی الناس رواہ الترمذی عن ام المؤمننین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صحیح۔ عیدالفطر اس دن ہے جس دن لوگ عیدکریں اورعیدالاضحی اس روزہے جس روزلوگ عید سمجھیں(اس کوامام ترمذی نے صحیح سندکے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہاسے روایت کیاہے۔(ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
فطرکم یوم تفطرون واضحاکم یوم تضحون۔رواہ ابوداؤد والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح ورواہ الترمذی وحسنہ فزاد فی اولہ "الصوم یوم تصومون والفطر" الحدیث وارسلہ الشافعی فی مسندہ والبیھقی فی سننہ عن عطاء فزاد فی اخرہ "وعرفۃ یوم تعرفون " تمہاری عیدالفطر اس دن ہے جس دن تم عید الفطرکرو اور تمہاری عیدالاضحی اس دن ہے جس دن کوتم عید الاضحی سمجھو۔اس کو ابو داؤد اوربیہقی نے سنن میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ ترمذی نے اس کو روایت کرکے حسن قراردیااور اس کے شروع میں یہ بڑھایاکہ روزہ کادن وہی ہے جس کو تم سب روزے کا دن قراردو اور عید الفطرکادن وہ ہے(حدیث کے آخرتک)۔امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اپنی مسند میں اس کو بطور ارسال ذکرفرمایا۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الصوم باب ماجاء فی الفطر والاضحی متی یکون ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۹۹€
سنن ابی داؤد کتاب الصیام باب اذا اخطأ القوم الہلال ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۱۸€
جامع الترمذی ابواب الصیام باب ماجاء ان الفطر یوم تفطرون الخ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۸۸€
السنن الکبرٰی کتاب الحج باب خطأ الناس یوم عرفہ دارصادربیروت ∞۵/ ۱۷۶€
سنن ابی داؤد کتاب الصیام باب اذا اخطأ القوم الہلال ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۱۸€
جامع الترمذی ابواب الصیام باب ماجاء ان الفطر یوم تفطرون الخ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۸۸€
السنن الکبرٰی کتاب الحج باب خطأ الناس یوم عرفہ دارصادربیروت ∞۵/ ۱۷۶€
بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عطاء سے روایت کرتے ہوئے آخرمیں یہ اضافہ کیا کہ یوم عرفہ وہ ہے جس کو تم یوم عرفہ سمجھو۔(ت)
یعنی مسلمانوں کاروزعیدالفطروعیدالاضحی روزعرفہ سب اس دن ہے جس دن جمہورمسلمین خیال کریں اسے وان لم یصادف الواقع ونظیرہ قبلۃ التحری(اگرچہ وہ واقع کے مطابق نہ ہواس کی نظیرقبلہ تحری ہے۔ت)لاجرم عیدمیلاد والابھی کہ عیداکبرہے قول وعمل جمہورمسلمین ہی کے مطابق بہترہے فلاوفق العمل ماعلیہ العمل(بہترین ومناسب ترین عمل وہی ہے جس پرجمہورمسلمانوں کاعمل ہو۔ت)یہ ہے ان مسائل میں کلام مجملاورتفصیل کے لئے دوسرامحل۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجوع والمآب۔
مسئلہ ۲۲۲:سادسہ شمسی تاریخ کیاتھی
الجواب:
ولادت اقدس ہجرت مقدسہ سے تریپن ۵۳ برس پہلے ہےمرفوع ۶۰سال ۵نداکمرفوع ۷ سال مرکا۔۵لح۱ کہ ۱۸۷۸۱ یوم ہوئے یعنی اس سال کامحرم وسطے سال ہجرت کے محرم وسطے سے اتنے دن پہلے تھاسات پرتقسیم کئے سے کچھ نہ بچا اورابتدائے سال ہجری بحساب اوسط پنجشنبہ ہے توان ایام مذکورہ کاپچھلادن چارشنبہ تھا اورجبکہ یہ پورے ہفتے ہیں تو ان کاپہلادن پنجشنبہ تھااور جب اس سال کامدخل پنجشنبہ ہواتو اس ربیع الاول کامدخل یکشنبہ تودوشنبہ کونویں تھی یعنی یکم وسطے وہ ہلالی سے ایك دن پہلے ہوئی اب مابین التاریخین ہماری تحقیق میں اح ح لط ہے ۵ لح ۱۔نرھہ لح۔محرم وصفر نط۔ط ربیع الاول۔نرنامو۔۵۰۰۵ سال ھہ مح مط ررضر۷۰ سال رور۱ھہ مارچہ ال ك تاریخ مطلوب بستم اپریل ۵۷۱ء معرفت یوم ہماری جداول سے ۵۷۱۔۳۳۶ ۔۲۳۵۔۲۸باقی ۱۱پس جدول رمیں مقابل ۱۱دیکھامدخل ۵۷۱پنجشنبہ ہواورمدخل اپریل چارشنبہ پس بستم اپریل دوشنبہ وھوالمطلوب واﷲ تعالی اعلم۔
فصل دوم
مسئلہ ۲۲۳: ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وفات شریف حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تاریخ کیا ہے بینوا توجروا (بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
یعنی مسلمانوں کاروزعیدالفطروعیدالاضحی روزعرفہ سب اس دن ہے جس دن جمہورمسلمین خیال کریں اسے وان لم یصادف الواقع ونظیرہ قبلۃ التحری(اگرچہ وہ واقع کے مطابق نہ ہواس کی نظیرقبلہ تحری ہے۔ت)لاجرم عیدمیلاد والابھی کہ عیداکبرہے قول وعمل جمہورمسلمین ہی کے مطابق بہترہے فلاوفق العمل ماعلیہ العمل(بہترین ومناسب ترین عمل وہی ہے جس پرجمہورمسلمانوں کاعمل ہو۔ت)یہ ہے ان مسائل میں کلام مجملاورتفصیل کے لئے دوسرامحل۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجوع والمآب۔
مسئلہ ۲۲۲:سادسہ شمسی تاریخ کیاتھی
الجواب:
ولادت اقدس ہجرت مقدسہ سے تریپن ۵۳ برس پہلے ہےمرفوع ۶۰سال ۵نداکمرفوع ۷ سال مرکا۔۵لح۱ کہ ۱۸۷۸۱ یوم ہوئے یعنی اس سال کامحرم وسطے سال ہجرت کے محرم وسطے سے اتنے دن پہلے تھاسات پرتقسیم کئے سے کچھ نہ بچا اورابتدائے سال ہجری بحساب اوسط پنجشنبہ ہے توان ایام مذکورہ کاپچھلادن چارشنبہ تھا اورجبکہ یہ پورے ہفتے ہیں تو ان کاپہلادن پنجشنبہ تھااور جب اس سال کامدخل پنجشنبہ ہواتو اس ربیع الاول کامدخل یکشنبہ تودوشنبہ کونویں تھی یعنی یکم وسطے وہ ہلالی سے ایك دن پہلے ہوئی اب مابین التاریخین ہماری تحقیق میں اح ح لط ہے ۵ لح ۱۔نرھہ لح۔محرم وصفر نط۔ط ربیع الاول۔نرنامو۔۵۰۰۵ سال ھہ مح مط ررضر۷۰ سال رور۱ھہ مارچہ ال ك تاریخ مطلوب بستم اپریل ۵۷۱ء معرفت یوم ہماری جداول سے ۵۷۱۔۳۳۶ ۔۲۳۵۔۲۸باقی ۱۱پس جدول رمیں مقابل ۱۱دیکھامدخل ۵۷۱پنجشنبہ ہواورمدخل اپریل چارشنبہ پس بستم اپریل دوشنبہ وھوالمطلوب واﷲ تعالی اعلم۔
فصل دوم
مسئلہ ۲۲۳: ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وفات شریف حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تاریخ کیا ہے بینوا توجروا (بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قول مشہور ومعتمد جمہوردوازدہم ربیع الاول شریف ہےابن سعد نے طبقات میں بطریق عمربن علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہما امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کی:
قال مات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من ربیع الاول ۔ یعنی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات شریف روزدوشنبہ بارہویں تاریخ ربیع الاول شریف کوہوئی۔
شرح مواہب علامہ زرقانی آخرمقصد اول میں ہے:
الذی عند ابن اسحق والجمہور انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مات لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاول ۔ امام ابن اسحاق اورجمہورکے نزدیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاوصال اقدس ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوا۔(ت)
اسی میں آغاز مقصددہم میں ہے:
قول الجمہور انہ توفی ثانی عشر ربیع الاول ۔ جمہورکاقول یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے بارہ ربیع الاول کو وصال فرمایا۔(ت)
خمیس فی احوال انفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے:
توفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین نصف النھار لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول سنۃ احدی عشرۃ من الھجرۃ ضحی فی مثل الوقت الذی دخل فیہ المدینۃ ۔ نبی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاوصال مبارك بارہ ربیع الاول شریف ۱۱ھ بروزپیردوپہرکے وقت ہوا جس وقت آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے۔(ت)
قول مشہور ومعتمد جمہوردوازدہم ربیع الاول شریف ہےابن سعد نے طبقات میں بطریق عمربن علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہما امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کی:
قال مات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من ربیع الاول ۔ یعنی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات شریف روزدوشنبہ بارہویں تاریخ ربیع الاول شریف کوہوئی۔
شرح مواہب علامہ زرقانی آخرمقصد اول میں ہے:
الذی عند ابن اسحق والجمہور انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مات لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاول ۔ امام ابن اسحاق اورجمہورکے نزدیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاوصال اقدس ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوا۔(ت)
اسی میں آغاز مقصددہم میں ہے:
قول الجمہور انہ توفی ثانی عشر ربیع الاول ۔ جمہورکاقول یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے بارہ ربیع الاول کو وصال فرمایا۔(ت)
خمیس فی احوال انفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے:
توفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین نصف النھار لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول سنۃ احدی عشرۃ من الھجرۃ ضحی فی مثل الوقت الذی دخل فیہ المدینۃ ۔ نبی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاوصال مبارك بارہ ربیع الاول شریف ۱۱ھ بروزپیردوپہرکے وقت ہوا جس وقت آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے۔(ت)
حوالہ / References
الطبقات الکبرٰی ابن سعد ذکرکم مرض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ دارصادربیروت ∞۲/ ۲۷۲€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۱۰€
شرح العلامۃ الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصدالعاشرہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۸/ ۲۵۰€
تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس ذکروقت موتہ علیہ السلام موسسۃ شعبان بیروت ∞۲/ ۱۶۶€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۱۰€
شرح العلامۃ الزرقانی علی المواھب اللدنیہ المقصدالعاشرہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۸/ ۲۵۰€
تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس ذکروقت موتہ علیہ السلام موسسۃ شعبان بیروت ∞۲/ ۱۶۶€
اسی میں امام ابوحاتم رازی وامام رزین عبدری وکتاب الوفاء امام ابن جوزی سے ہے:
مرض فی صفر لعشربقین منہ وتوفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاثتنی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول یوم الاثنین ۔ حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیس صفرکوبیمارہوئے اور بارہ ربیع الاول پیرکے روز آپ کاوصال ہوا۔(ت)
کامل ابن اثیرجزری میں ہے:
کان موتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین لثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کاوصال بارہ ربیع الاول پیرکے روز ہوا۔(ت)
مجمع بحارالانوارمیں ہے:
وصل بالحق فی نصف نھارہ لاثنی عشر من ربیع الاول وقیل لمستھلہ وقیل للیلتین خلتا منہ والاول اکثر من الاخیرین ۔ آپ بارہ ربیع الاول کوواصل بہ حق ہوئےایك قول یکم ربیع الاول کوواصل بہ حق ہوئےایك قول دوربیع الاول کاہے مگر پہلاقول(۱۲ربیع الاول)آخری دونوں سے اکثرہے۔(ت)
اسعاف الراغبین فاضل محمدصبان میں ہے:
توفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بیت عائشۃ یوم الاثنین قبیل الزوال للیلتین مضتا من ربیع الاول وقیل لیلۃ مضت منہ وقیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت منہ وعلیہ الجمہور ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حجرہ مبارکہ میں دوربیع الاول شریف بروزپیرزوال سے تھوڑی دیرپہلے وصال فرمایا۔ایك قول میں یکم اورایك قول میں بارہ ربیع الاول ہے اورجمہوراسی قول پرہیں۔(ت)
مرض فی صفر لعشربقین منہ وتوفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاثتنی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول یوم الاثنین ۔ حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیس صفرکوبیمارہوئے اور بارہ ربیع الاول پیرکے روز آپ کاوصال ہوا۔(ت)
کامل ابن اثیرجزری میں ہے:
کان موتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یوم الاثنین لثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من ربیع الاول ۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کاوصال بارہ ربیع الاول پیرکے روز ہوا۔(ت)
مجمع بحارالانوارمیں ہے:
وصل بالحق فی نصف نھارہ لاثنی عشر من ربیع الاول وقیل لمستھلہ وقیل للیلتین خلتا منہ والاول اکثر من الاخیرین ۔ آپ بارہ ربیع الاول کوواصل بہ حق ہوئےایك قول یکم ربیع الاول کوواصل بہ حق ہوئےایك قول دوربیع الاول کاہے مگر پہلاقول(۱۲ربیع الاول)آخری دونوں سے اکثرہے۔(ت)
اسعاف الراغبین فاضل محمدصبان میں ہے:
توفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بیت عائشۃ یوم الاثنین قبیل الزوال للیلتین مضتا من ربیع الاول وقیل لیلۃ مضت منہ وقیل لاثنتی عشرۃ لیلۃ مضت منہ وعلیہ الجمہور ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حجرہ مبارکہ میں دوربیع الاول شریف بروزپیرزوال سے تھوڑی دیرپہلے وصال فرمایا۔ایك قول میں یکم اورایك قول میں بارہ ربیع الاول ہے اورجمہوراسی قول پرہیں۔(ت)
حوالہ / References
تاریخ الخمیس ابتداء مرضہ علیہ الصلوٰۃ والسلام مؤسسۃ شعبان بیروت ∞۲/ ۱۶۱€
الکامل فی التاریخ ابن اثیر ذکرمرض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارصادربیروت ∞۲/ ۳۲۳€
مجمع بحارالانوار فصل فی السیر من سیرنا المختصر فی سبب قدوم الحبشہ الخ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ∞۵/ ۲۹۴€
اسعاف الراغبین
الکامل فی التاریخ ابن اثیر ذکرمرض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارصادربیروت ∞۲/ ۳۲۳€
مجمع بحارالانوار فصل فی السیر من سیرنا المختصر فی سبب قدوم الحبشہ الخ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورہ ∞۵/ ۲۹۴€
اسعاف الراغبین
اورتحقیق یہ ہے کہ حقیقۃ بحسب رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرہویں تھی مدینہ طیبہ میں رؤیت نہ ہوئی لہذا ان کے حساب سے بارہویں ٹھہری وہی رواۃ نے اپنے حساب کی بناپر روایت کی اورمشہور ومقبول جمہورہوئییہ حاصل تحقیق امام بارزی وامام عماد الدین بن کثیروامام بدرالدین بن جماعہ وغیرھم اکابر محدثین ومحققین ہےاس کے سوادوقول ایك یکم ربیع الاول شریف ذکرہ موسی بن عقبۃ واللیث والخوارزمی وابن زیر (اس کوموسی بن عقبہلیثخوارزمی اورابن زیرنے ذکرکیا۔ت)دوسرادوم ربیع الاول شریف کہ دورافضیان کذاب ابو مخنف و کلبی کاقول ہے
ففی الزرقانی بعد عزوالاول الی من ذکرنا وعندابی مخنف والکلبی فی ثانیہ ۔ زرقانی میں یکم ربیع الاول کی نسبت ان حضرات کی طرف کرنے کے بعد جن کاہم نے ذکرکیاہے فرمایاکہ ابومخنف اور کلبی کے نزدیك دوربیع الاول کووصال ہوا۔(ت)
یہ دونوں اقوال محض باطل ونامعتبربلکہ سراسرمحال ونامتصورہیں
وان میل الی کل نظرالی الحساب لامن حیث ان روایتھا اثبت فی الباب وانما یقضی الحساب علی القولین بالبطلان والذھاب کما ستعرف بعون الملك الوھابووقع فی الکامل حکایۃ ثالث حیث قال بعد ما اعتمد قول الجمھور کما نقلنا وقیل مات نصف النھار یوم الاثنین للیلتین بقیتا من ربیع الاول اقول:وھو ان دونوں قولوں میں سے ہرایك کامیلان نظرحساب کی طرف ہےاس حیثیت سے نہیں کہ ان کی روایت اس باب میں اثبت ہےجبکہ حساب تو ان کے بطلان کاتقاضاکرتاہے جیساکہ عنقریب تواس کی مدد سے جان لے گا جو بہت عطافرمانے والابادشاہ ہے۔کامل میں ایك تیسری حکایت واقع ہوئی ہے جہاں صاحب کامل نے جمہور کامعتمدقول جیساکہ ہم نے ذکرکیاہے نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ایك قول کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اٹھائیس ربیع الاول
ففی الزرقانی بعد عزوالاول الی من ذکرنا وعندابی مخنف والکلبی فی ثانیہ ۔ زرقانی میں یکم ربیع الاول کی نسبت ان حضرات کی طرف کرنے کے بعد جن کاہم نے ذکرکیاہے فرمایاکہ ابومخنف اور کلبی کے نزدیك دوربیع الاول کووصال ہوا۔(ت)
یہ دونوں اقوال محض باطل ونامعتبربلکہ سراسرمحال ونامتصورہیں
وان میل الی کل نظرالی الحساب لامن حیث ان روایتھا اثبت فی الباب وانما یقضی الحساب علی القولین بالبطلان والذھاب کما ستعرف بعون الملك الوھابووقع فی الکامل حکایۃ ثالث حیث قال بعد ما اعتمد قول الجمھور کما نقلنا وقیل مات نصف النھار یوم الاثنین للیلتین بقیتا من ربیع الاول اقول:وھو ان دونوں قولوں میں سے ہرایك کامیلان نظرحساب کی طرف ہےاس حیثیت سے نہیں کہ ان کی روایت اس باب میں اثبت ہےجبکہ حساب تو ان کے بطلان کاتقاضاکرتاہے جیساکہ عنقریب تواس کی مدد سے جان لے گا جو بہت عطافرمانے والابادشاہ ہے۔کامل میں ایك تیسری حکایت واقع ہوئی ہے جہاں صاحب کامل نے جمہور کامعتمدقول جیساکہ ہم نے ذکرکیاہے نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ ایك قول کے مطابق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اٹھائیس ربیع الاول
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول آخر البعوث النبویۃ دارالمعرفۃبیروت ∞۳/ ۱۱۰€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول آخر البعوث النبویۃ دارالمعرفۃبیروت ∞۳/ ۱۱۰€
الکامل فی التاریخ ذکرمرض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دارصادربیروت ∞۲/ ۳۲۳€
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصدالاول آخر البعوث النبویۃ دارالمعرفۃبیروت ∞۳/ ۱۱۰€
الکامل فی التاریخ ذکرمرض رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم دارصادربیروت ∞۲/ ۳۲۳€
وھم وکانہ شبہ علیہ خلتا بقیتا فان الحفاظ انما یذکرون ھھنا سوی المشھور قولین لاغیر۔ بروزپیروصال فرمایا اقول:(میں کہتاہوں)یہ وہم ہے گویاکہ قائل کو خلتا کے بجائے بقیتا کااشتباہ ہواکیونکہ حفاظ نے یہاں پرقول مشہورکے علاوہ فقط دوہی قول ذکرکئے ہیں(ت)
تفصیل مقام وتوضیح مرام یہ ہے کہ وفات اقدس ماہ ربیع الاول روزدوشنبہ میں واقع ہوئیاس قدرثابت ومستحکم ویقینی ہے جس میں اصلا جائے نزاع نہیں۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری و مواہب لدنیہ وشرح زرقانی میں ہے:
(ثم ان وفاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی یوم الاثنین)کما ثبت فی الصحیح عن انس ورواہ ابن سعد باسانیدہ عن عائشۃ وعلی وسعد وعروۃ وابن المسیب وابن شھاب وغیرھم(من ربیع الاول بلا خلاف)کماقال ابن عبدالبربل کادیکون اجماعا ۔ الخ (پھرحضورعلیہ الصلوۃ والسلام کاوصال پیرکے روزہے) جیسا کہ صحیح میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ثابت ہے۔ اس کو ابن سعد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ سیدنا عائشہ صدیقہعلی مرتضیسعدعروہابن مسیب اورابن شہاب وغیرہ سے روایت کیاہے رضی اﷲ تعالی عنہم(ربیع الاول میں وصال مبارك کے ہونے میں کوئی اختلاف نہیں) جیسا کہ ابن عبدالبرنے کہابلکہ تقریبا اس پراجماع ہے الخ (ت)
ادھریہ بلاشبہ ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جوذی الحجہ تھا اس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالاجماع روزجمعہ ہے
وقد ثبت ذلك فی احادیث صحاح لامنازع لھا فلاحاجۃ بنا الی اطالۃ الکلام بسردھا۔ تحقیق یہ ایسی صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکاہے جن کاکوئی مزاحم نہیں لہذا ہمیں اس کی تفصیل میں طویل کلام کی کوئی ضرورت نہیں۔(ت)
اورجب ذی الحجہ ۱۰ھ کی ۲۹روزپنجشنبہ تھی توربیع الاول ۱۱ھ کی ۱۲کسی طرح روزدوشنبہ نہیں آتی کہ اگرذی الحجہمحرم صفر تینوں مہینے ۳۰ کے لئے جائیں توغرہ ربیع الاول روز
تفصیل مقام وتوضیح مرام یہ ہے کہ وفات اقدس ماہ ربیع الاول روزدوشنبہ میں واقع ہوئیاس قدرثابت ومستحکم ویقینی ہے جس میں اصلا جائے نزاع نہیں۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری و مواہب لدنیہ وشرح زرقانی میں ہے:
(ثم ان وفاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی یوم الاثنین)کما ثبت فی الصحیح عن انس ورواہ ابن سعد باسانیدہ عن عائشۃ وعلی وسعد وعروۃ وابن المسیب وابن شھاب وغیرھم(من ربیع الاول بلا خلاف)کماقال ابن عبدالبربل کادیکون اجماعا ۔ الخ (پھرحضورعلیہ الصلوۃ والسلام کاوصال پیرکے روزہے) جیسا کہ صحیح میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ثابت ہے۔ اس کو ابن سعد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ سیدنا عائشہ صدیقہعلی مرتضیسعدعروہابن مسیب اورابن شہاب وغیرہ سے روایت کیاہے رضی اﷲ تعالی عنہم(ربیع الاول میں وصال مبارك کے ہونے میں کوئی اختلاف نہیں) جیسا کہ ابن عبدالبرنے کہابلکہ تقریبا اس پراجماع ہے الخ (ت)
ادھریہ بلاشبہ ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جوذی الحجہ تھا اس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالاجماع روزجمعہ ہے
وقد ثبت ذلك فی احادیث صحاح لامنازع لھا فلاحاجۃ بنا الی اطالۃ الکلام بسردھا۔ تحقیق یہ ایسی صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکاہے جن کاکوئی مزاحم نہیں لہذا ہمیں اس کی تفصیل میں طویل کلام کی کوئی ضرورت نہیں۔(ت)
اورجب ذی الحجہ ۱۰ھ کی ۲۹روزپنجشنبہ تھی توربیع الاول ۱۱ھ کی ۱۲کسی طرح روزدوشنبہ نہیں آتی کہ اگرذی الحجہمحرم صفر تینوں مہینے ۳۰ کے لئے جائیں توغرہ ربیع الاول روز
حوالہ / References
المواہب اللدنیۃ آخرالبعوث النبویۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۶۴۹،€شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ آخرالبعوث النبویۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۱۱€
چارشنبہ ہوتاہے اورپیرکی چھٹی اورتیرہویںاوراگرتینوں ۲۹ کے لیں توغرہ روزیکشنبہ پڑتاہے اورپیرکی دوسری اورنویں اوراگران میں کوئی ساایك ناقص اورباقی دوکامل لیجئے توپہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے اورپیرکی ساتویں چودھویںاوراگرایك کامل دوناقص مانئے توپہلی پیرکی ہوتی ہے پھرپیرکی آٹھویں پندرھویںغرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتیاوران چارکے سواپانچویں کوئی صورت نہیںقول جمہور پریہ اشکال پہلے امام سہیلی کے خیال میں آیا اوراسے لاحل سمجھ کرانہوں نے قول یکم اور امام ابن حجرعسقلانی نے دوم کی طرف عدول فرمایا۔
فی المواہب بعد ذکرالقول المشھور(استشکلہ السھیلی وذلك انھم اتفقوا ان ذا الحجہ کان اولہ یوم الخمیس)للاجماع ان وقفۃ عرفۃ کانت الجمعۃ (فمھما فرضت الشھور الثلثۃ توام اونواقص اوبعضھا لم یصح)ان الثانی عشر من ربیع الاول یوم الاثنین (قال الحافظ ابن حجروھو ظاھر لمن تاملہ وقد جزم سلیمن التیمی احد الثقات بان ابتداء مرضہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یوم السبت الثانی و العشرین من صفر ومات یوم الاثنین للیلتین خلتا من ربیع الاول فعلی ھذا یکون صفر ناقصا ولایمکن ان یکون اول صفر السبت الا ان یکون ذوالحجہ والمحرم ناقصین فیلزم منہ نقص ثلثۃ مواہب لدنیہ میں قول مشہورکے ذکرکے بعد ہے۔سہیلی نے اس پراعتراض واردکیاہے وہ یہ ہے کہ علماء ذوالحجہ کے جمعرات کوشروع ہونے پرمتفق ہیں کیونکہ وقوف عرفہ بروزجمعہ ہونے پراجماع ہے۔تواب اگرتینوں مہینے(ذوالحجہمحرم صفر)کامل(تیس تیس دن کے)فرض کئے جائیں یا تینوں ناقص(انتیس انتیس دن کے)فرض کئے جائیں یابعض کامل اوربعض ناقص فرض کئے جائیں کسی صورت میں یہ صحیح نہ ہوگا کہ بارہ ربیع الاول شریف پیرکے دن ہو۔حافظ ابن حجر نے کہایہ اشکال اس شخص پرظاہرہے جوتامل کرے۔ سلیمان تیمی جوکہ ثقہ ہیں قطعی طورپرکہاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بیماری کاآغاز بائیس صفربروزہفتہ ہوااور آپ کا وصال دوربیع الاول شریف کوہوااس حساب سے ماہ صفر ناقص ہوگا اورجب تك ذوالحجہ اورمحرم ناقص نہ ہوں صفرکا آغاز ہفتہ کے روزہوناممکن نہیں۔اس طرح تین مسلسل مہینوں کاناقص ہونالازم آئے گا جوکہ مسلسل
فی المواہب بعد ذکرالقول المشھور(استشکلہ السھیلی وذلك انھم اتفقوا ان ذا الحجہ کان اولہ یوم الخمیس)للاجماع ان وقفۃ عرفۃ کانت الجمعۃ (فمھما فرضت الشھور الثلثۃ توام اونواقص اوبعضھا لم یصح)ان الثانی عشر من ربیع الاول یوم الاثنین (قال الحافظ ابن حجروھو ظاھر لمن تاملہ وقد جزم سلیمن التیمی احد الثقات بان ابتداء مرضہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یوم السبت الثانی و العشرین من صفر ومات یوم الاثنین للیلتین خلتا من ربیع الاول فعلی ھذا یکون صفر ناقصا ولایمکن ان یکون اول صفر السبت الا ان یکون ذوالحجہ والمحرم ناقصین فیلزم منہ نقص ثلثۃ مواہب لدنیہ میں قول مشہورکے ذکرکے بعد ہے۔سہیلی نے اس پراعتراض واردکیاہے وہ یہ ہے کہ علماء ذوالحجہ کے جمعرات کوشروع ہونے پرمتفق ہیں کیونکہ وقوف عرفہ بروزجمعہ ہونے پراجماع ہے۔تواب اگرتینوں مہینے(ذوالحجہمحرم صفر)کامل(تیس تیس دن کے)فرض کئے جائیں یا تینوں ناقص(انتیس انتیس دن کے)فرض کئے جائیں یابعض کامل اوربعض ناقص فرض کئے جائیں کسی صورت میں یہ صحیح نہ ہوگا کہ بارہ ربیع الاول شریف پیرکے دن ہو۔حافظ ابن حجر نے کہایہ اشکال اس شخص پرظاہرہے جوتامل کرے۔ سلیمان تیمی جوکہ ثقہ ہیں قطعی طورپرکہاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بیماری کاآغاز بائیس صفربروزہفتہ ہوااور آپ کا وصال دوربیع الاول شریف کوہوااس حساب سے ماہ صفر ناقص ہوگا اورجب تك ذوالحجہ اورمحرم ناقص نہ ہوں صفرکا آغاز ہفتہ کے روزہوناممکن نہیں۔اس طرح تین مسلسل مہینوں کاناقص ہونالازم آئے گا جوکہ مسلسل
اشھر متوالیۃ)وھی غایۃ مایتوالی قال الحافظ واما من قال مات اول یوم من ربیع الاول فیکون اثنان ناقصین وواحد کاملا ولذارجحہ السھیلی(والمعتمد ماقالہ ابو مخنف)الاخباری الشیعی قال فی المیزان وغیرہ کذاب تالف متروکوقد وافقہ ابن الکلبی (انہ توفی ثانی ربیع الاول وکان سبب غلط غیرہ انھم قالوا مات فی ثانی شھر ربیع الاول فغیرت فصارت ثانی عشر واستمرالوھم بذلك یتبع بعضھم بعضا من غیرتامل اھ)مختصرا۔مزیدا من الشرح اقول:و یظھر لمن تامل ھذا الکلام منشأ اختلاف نظر الامامین فی اللیل الی القولین فکان السھیلی نظر ان قول ابی مخنف لایتأتی الا ان تتوالی الاشھر الثلثۃ ذو الحجۃ ومحرم وصفر نواقص وھذا فی غایۃ الندرۃ ناقص ہونے کی آخری حد ہے۔حافظ نے فرمایا جس شخص نے کہاہے کہ آپ کاوصال یکم ربیع الاول کوہے تو اس حساب سے دومہینے ناقص اورایك کامل ہوگا۔اسی لئے سہیلی نے اس کوترجیح دی ہے۔اس باب میں ابومخنف مؤرخ شیعہ کا قول معتمدہے۔میزان وغیرہ میں ہے کہ وہ کذابتالف اور متروك ہے۔ابن کلبی نے اس کی موافقت کی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ۲ربیع الاول کوہوا۔ابومخنف کے غیر زکی غلطی کاسبب یہ ہے کہ علماء نے کہاحضورعلیہ الصلوۃ و السلام کاوصال شہر(ربیع الاول)کی ثانی(دو)کوہےاس میں تغیرکردیاگیا تویہ اس طرح ہوگیاکہ آپ کاوصال ربیع الاول کی ثانی عشر(بارہ۱۲)کو ہے(یعنی لفظ شھر کی بجائے لفظ عشر ہو گیا)پھریہ وہم چلتارہا اور اس میں بعض علماء بعض کی بلاتامل پیروی کرتے رہے اھ اختصار شرح میں کچھ اضافے کے ساتھ ۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس کلام میں تامل کرنے والے پر دونوں اماموں کے دوقولوں کی طرف میلان کے بارے میں نقطہ نظرکے اختلاف کامنشا ظاہرہوجاتاہےسہیلی نے دیکھاکہ ابو مخنف کاقول تب ہی متحقق ہوسکتاہے جب تینوں مہینے یعنی ذو الحجہمحرم اور صفر پے درپے ناقص ہوں اوریہ انتہائی نادرہے
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ آخرالبعوث النبویہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۴۹۔۶۴۸،€شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ آخرالبعوث النبویہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۱۰ و۱۱۱€
بخلاف القول الاول فان علیہ یکون شھرا کاملا و شھران ناقصین وھذا کثیر فترجح ذلك فی نظرہ مع انہ اشد ثبوت بالنسبۃ الی ذلك وکان الحافظ نظران علی القول الاول لایبقی للجمہور عذر فی الباب فالمیل الی مایکون فیہ ابداء عذرلھم کما ذکر من وقوع تصحیف شھر بعشر احسن او امتن۔ بخلاف قول اول کے کہ اس پرایك مہینہ کامل اور دوناقص ہوتے ہیں اوریہ کثیر الوقوع ہے۔چنانچہ سہیلی کی نظرمیں یہ راجح ہے باوجودیکہ یہ ثبوت میں اس کی بنسبت اقوی ہے جبکہ حافظ نے اس بات کوملحوظ رکھاکہ قول اول پرجمہورکے لئے اس باب میں کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔چنانچہ اس قول کی طرف میلان کرنا جس میں ان کے لئے عذر کااظہار ہوزیادہ بہتراورزیادہ قوی ہے جیساکہ لفظ شھر کے لفظ عشر کے ساتھ تبدیل ہوجانے کاذکرگزرچکاہے۔(ت)
مگرامام بدربن جماعہ نے قول جمہور کی یہ تاویل کی کہ اثنی عشر خلت سے بارہ دن گزرنا مرادہے نہ کہ صرف بارہ راتیں اورپرظاہرکہ بارہ۱۲ دن گزرنا تیرہویں ہی تاریخ پرصادق آئے گا اوردوشنبہ کی تیرہویں بے تکلف صحیح ہے جبکہ پہلے تینوں مہینے کامل ہوں کما علمتاورامام بارزی وامام ابن کثیرنے یوں توجیہ فرمائی کہ مکہ معظمہ میں ہلال ذی الحجہ کی رؤیت شام چارشنبہ کو ہوئی پنجشنبہ کاغرہ اورجمعہ کاعرفہ مگرمدینہ طیبہ میں رؤیت دوسرے دن ہوئی توذی الحجہ کی پہلی جمعہ کی ٹھہری اور تینوں مہینے ذی الحجہمحرمصفر تیس تیس کے ہوئے توغرہ ربیع الاول پنجشنبہ اوربارہویں دوشنبہ آئی ذکرھا الحافظ فی الفتح(اس کو حافظ نے فتح میں ذکرکیا۔ت)
اقول:مدینہ طیبہ مکہ معظمہ سے اگرچہ طول میں غربی اورعرض میں شمالی ہے
اما الثانی فظاھر معروف لکل من حج وزار واما الاول فثابت مثبت کالثانی فی الزیجات والاطالس من قدیم الاعصار۔ لیکن قول ثانی ہراس شخص کے لئے ظاہراور معروف ہے جوحج و زیارت کی سعادت سے بہرہ ورہواجبکہ قول اول قول ثانی کی طرح زمانہ قدیم سے زیجات واطلس میں ثابت ومثبت ہے۔(ت)
اوران دونوں اختلافوں کواختلاف رؤیت میں دخل بین ہے کہ اختلاف طول سے بعد نیرین کم وبیش ہوتاہے اوراختلاف عرض سے قمرکے ارتفاع مدار کے انتصاب اوربالائے افق
مگرامام بدربن جماعہ نے قول جمہور کی یہ تاویل کی کہ اثنی عشر خلت سے بارہ دن گزرنا مرادہے نہ کہ صرف بارہ راتیں اورپرظاہرکہ بارہ۱۲ دن گزرنا تیرہویں ہی تاریخ پرصادق آئے گا اوردوشنبہ کی تیرہویں بے تکلف صحیح ہے جبکہ پہلے تینوں مہینے کامل ہوں کما علمتاورامام بارزی وامام ابن کثیرنے یوں توجیہ فرمائی کہ مکہ معظمہ میں ہلال ذی الحجہ کی رؤیت شام چارشنبہ کو ہوئی پنجشنبہ کاغرہ اورجمعہ کاعرفہ مگرمدینہ طیبہ میں رؤیت دوسرے دن ہوئی توذی الحجہ کی پہلی جمعہ کی ٹھہری اور تینوں مہینے ذی الحجہمحرمصفر تیس تیس کے ہوئے توغرہ ربیع الاول پنجشنبہ اوربارہویں دوشنبہ آئی ذکرھا الحافظ فی الفتح(اس کو حافظ نے فتح میں ذکرکیا۔ت)
اقول:مدینہ طیبہ مکہ معظمہ سے اگرچہ طول میں غربی اورعرض میں شمالی ہے
اما الثانی فظاھر معروف لکل من حج وزار واما الاول فثابت مثبت کالثانی فی الزیجات والاطالس من قدیم الاعصار۔ لیکن قول ثانی ہراس شخص کے لئے ظاہراور معروف ہے جوحج و زیارت کی سعادت سے بہرہ ورہواجبکہ قول اول قول ثانی کی طرح زمانہ قدیم سے زیجات واطلس میں ثابت ومثبت ہے۔(ت)
اوران دونوں اختلافوں کواختلاف رؤیت میں دخل بین ہے کہ اختلاف طول سے بعد نیرین کم وبیش ہوتاہے اوراختلاف عرض سے قمرکے ارتفاع مدار کے انتصاب اوربالائے افق
اس کی بقا میں تفاوت پڑتاہے اورکثرت بعدو زیادت انتصاب مدار وارتفاع قمروطول مکث سب معین رویت ہیں اوران کی کمی مخل رؤیتمگربلدین کریمین کے طول وعرض میں چنداں تفاوت کثیر نہیں اورجوکچھ ہے یعنی طول میں دو۲ درجے اورعرض میں تین درجے وہ مانحن فیہ میں ہرگز یہ نہ چاہے گا کہ مکہ معظمہ میں تورؤیت ہو اورمدینہ طیبہ میں نہ ہوبلکہ اگرمقتضی ہوگا تواس کے عکس کاکہ مقام جس قدرغربی ترہو امکان رؤیت بیشترہوگا کہ دورہ معدل میں مواضع غربیہ پرنیرین کاگزرمواضع شرقیہ کے بعد ہوتاہے اورحرکت قمرتوالی بروج برغرب سے شرق کو ہے توجب موضع شرقی میں فصل قمرین حد رؤیت پرہو غربی میں اورزیادہ ہوگاکہ وہاں تك پہنچنے میں قمر نے قدرے اورحرکت شرق کوکی اورشمس سے اس کافاصلہ بڑھ گیا یوں ہی جب عرض مرئی قمرشمالی ہوجیساکہ یہاں تھاتوعرض بلد کاشمالی ترہونا موجب زیادت تعدیل الغروب زائدہوکر زیادت بعد معدل وطول مکث قمرہوگا مگرہے یہ کہ موانع رؤیت حدانضباط سے خارج ہیں تو دفع استحالہ وتوجیہ مقالہ کے لئے احتمال کافی اورقواعد پرنظرکیجئے توواقعی وہ دن مدینہ طیبہ میں رؤیت عادیہ کانہ تھا سلخ ذی القعدہ وسطیہ روزچارشنبہ کوغروب شرعی شمس کے وقت افق کریم مدینہ منورہ میں مؤامرہ رؤیت کے مقدمات یہ تھے۔
پرظاہرکہ جب بعد معدل وبعد سوادونوں دس درجے سے کم ہیں تویہ حالت حالت رؤیت نہیں قریب قریب اسی حالت کے مکہ معظمہ میں تھی مگرازانجاکہ وہ نودرجے یہ آٹھ درجے سے زائدہے رؤیت پرحکم استحالہ بھی نہ تھا حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی برکات بے نہایات کے حضوریہ کیا بات تھی کہ ایسے امکان غیرمتوقع کی حالت میں فضل وقفہ جمعہ ملنے کے لئے بحکم الہی مکہ معظمہ میں شام چارشنبہ کورؤیت واقع ہوگئی افق مدینہ طیبہ میں حسب عادت معہودہ نہ ہوئی پھر روز رؤیت ایام حمل ثور
پرظاہرکہ جب بعد معدل وبعد سوادونوں دس درجے سے کم ہیں تویہ حالت حالت رؤیت نہیں قریب قریب اسی حالت کے مکہ معظمہ میں تھی مگرازانجاکہ وہ نودرجے یہ آٹھ درجے سے زائدہے رؤیت پرحکم استحالہ بھی نہ تھا حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی برکات بے نہایات کے حضوریہ کیا بات تھی کہ ایسے امکان غیرمتوقع کی حالت میں فضل وقفہ جمعہ ملنے کے لئے بحکم الہی مکہ معظمہ میں شام چارشنبہ کورؤیت واقع ہوگئی افق مدینہ طیبہ میں حسب عادت معہودہ نہ ہوئی پھر روز رؤیت ایام حمل ثور
وجوزا خصوصا ان بلاد گرم سیرمیں گردوغبارہوناکوئی نامتوقع بات نہیں۔یہ تحقیق کلام علما ہے مگرامام عسقلانی نے ان توجیہوں پر قناعت نہ کیپہلی پرمخالفت محاورہ سے اعتراض فرمایاکہ اہل زبان جب یہ لفظ بولتے ہیں بارہ۱۲ راتیں ہی گزرنا مرادلیتے ہیںنہ بارہ دن کہ یہ تیرہویں پرصادق ہواوراول ودوم دونوں میں یہ استبعاد بتایاکہ چارمہینے متواتر تیس دن کے ہوئے جاتے ہیں۔
فی المواھب عن الفتح ھذا الجواب بعید من حیث انہ یلزم منہ توالی اربعۃ اشھر کوامل ۔ مواہب میں فتح سے منقول ہے کہ یہ جواب اس لئے بعیدہے کہ اس سے چارمہینوں کاپے درپے کامل ہونا لازم آتاہے۔(ت)
اقول:اگرندرت مقصود توالزام مفقود کہ دفع استحالہ کواحتمال کافیخود امام عسقلانی نے جوقول اختیارفرمایا اس پرتین مہینے متوالی ناقص آتے ہیں یہ کیانادرنہیںاوراگرامتناع مرادتو ظاہرالفساد تین سے زیادہ متواتر ۲۹کے مہینے نہیں ہوتے تیس کے چارتك آتے ہیں ہاں پانچ نہیں ہوتے۔تحفہ شاہیہ علامہ قطب الدین شیرازی وزیج الغ بیگی میں ہے:
واللفظ لہ "اہل شرع ماہ ہائے ایں تاریخ از رؤیت ہلال گیرند وآں ہرگزازسی روز زیادہ نباشد وازبست ونہ روزکمترنے وتاچہارماہ متوالی سی سی آید وزیادہ نے وتاسہ ماہ متوالی بست ونہ بست ونہ آید وزیادہ نے۔ اورلفط اس کے ہیں۔اہل شرع اس تاریخ کے مہینوں کوچاند کی رؤیت سے لیتے ہیں اوروہ ہرگزتیس دن سے زائد اورانتیس سے کم نہیں ہوتے اورچارماہ تك متواتر تیس تیس کے ہو سکتے ہیں زیادہ نہیںاورتین ماہ تك متواتر انتیس انتیس کے ہو سکتے ہیں زیادہ نہیں۔(ت)
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھرمیں کہتاہوں اوراﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)قول جمہور سے قول مہجور کی طرف عدول نامقبول ہونے کے لئے اسی قدربس تھاکہ اس کے لئے توجیہ وجیہ موجودہے نہ کہ جب وہ اقوال مہجور ودلائل قاطعہ سے باطل ہوں کہ اب توان کی طرف کوئی راہ نہیں۔اوپرواضح ہواکہ ان دونوں حضرات کامنشائے عدول تمسك بالحساب ہے کہ پیرکادن
فی المواھب عن الفتح ھذا الجواب بعید من حیث انہ یلزم منہ توالی اربعۃ اشھر کوامل ۔ مواہب میں فتح سے منقول ہے کہ یہ جواب اس لئے بعیدہے کہ اس سے چارمہینوں کاپے درپے کامل ہونا لازم آتاہے۔(ت)
اقول:اگرندرت مقصود توالزام مفقود کہ دفع استحالہ کواحتمال کافیخود امام عسقلانی نے جوقول اختیارفرمایا اس پرتین مہینے متوالی ناقص آتے ہیں یہ کیانادرنہیںاوراگرامتناع مرادتو ظاہرالفساد تین سے زیادہ متواتر ۲۹کے مہینے نہیں ہوتے تیس کے چارتك آتے ہیں ہاں پانچ نہیں ہوتے۔تحفہ شاہیہ علامہ قطب الدین شیرازی وزیج الغ بیگی میں ہے:
واللفظ لہ "اہل شرع ماہ ہائے ایں تاریخ از رؤیت ہلال گیرند وآں ہرگزازسی روز زیادہ نباشد وازبست ونہ روزکمترنے وتاچہارماہ متوالی سی سی آید وزیادہ نے وتاسہ ماہ متوالی بست ونہ بست ونہ آید وزیادہ نے۔ اورلفط اس کے ہیں۔اہل شرع اس تاریخ کے مہینوں کوچاند کی رؤیت سے لیتے ہیں اوروہ ہرگزتیس دن سے زائد اورانتیس سے کم نہیں ہوتے اورچارماہ تك متواتر تیس تیس کے ہو سکتے ہیں زیادہ نہیںاورتین ماہ تك متواتر انتیس انتیس کے ہو سکتے ہیں زیادہ نہیں۔(ت)
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھرمیں کہتاہوں اوراﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)قول جمہور سے قول مہجور کی طرف عدول نامقبول ہونے کے لئے اسی قدربس تھاکہ اس کے لئے توجیہ وجیہ موجودہے نہ کہ جب وہ اقوال مہجور ودلائل قاطعہ سے باطل ہوں کہ اب توان کی طرف کوئی راہ نہیں۔اوپرواضح ہواکہ ان دونوں حضرات کامنشائے عدول تمسك بالحساب ہے کہ پیرکادن
حوالہ / References
المواھب اللدنیۃ آخر البعوث النبویۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۶۴۹€
∞ زیج الغ بیگ€
∞ زیج الغ بیگ€
یقینی تھا اور وہ بارہویں پرمنطبق نہیں آتا پہلی دوسری پرآسکتاہے مگرحساب ہی شاہد عدل ہے کہ اس سال ربیع الاول شریف کی پہلی یادوسری پیرکوہونا باطل ومحال ہےفقیراس پر دوحجت قاطعہ رکھتاہے۔
دلیل اول:غرہ وسطیہ کہ علماء زیج بحساب اوسط لیتے ہیں نیرین کے اجتماع وسطی سے اخذ کرتے ہیں اوربداہۃ واضح کہ رؤیت ہلال اجتماع قمرین سے ایك مدت معتدبہا کے بعد واقع ہوتی ہے توغرہ ہلالیہ کبھی غرہ وسطیہ سے مقدم نہ آئے گا وانماغایتہ التساوی(اس کی غایت تومحض تساوی ہے)اوراجتماع ورؤیت میں کبھی اتنافصل بھی نہیں ہوتا کہ قمر ڈیڑھ دوبرج طے کرجائے لہذا تقدم وسطیہ کی نہایت ایك دودن ہے وبسکل ذلك ظاھر من لہ اشتغال بالفن(یہ سب ظاہرہے اس شخص کے لئے جوفن کے ساتھ مشغولیت رکھتاہے۔ت)اور آشنائے فن جانتاہے کہ ۱۱ھ ہجریہ میں ماہ مبارك ربیع الاول شریف کاغرہ وسطیہ روزسہ شنبہ تھاتوغرہ ہلالیہ یك شنبہ یادوشنبہ کیونکرمتصورکہ اگریہ سہ شنبہ متاخرہے توہلالیہ کاوسطیہ پرتقدم لازم آتاہے اور اگرمقدم ہے تو اجتماع سے چارپانچ روز تك رؤیت نہ ہونے کالزوم ہوتاہے اوردونوں باطل ہیں
وبعین الدلیل یستحیل ماتقدم عن سلیمن التیمی من کون غرۃ صفر یوم السبت فان غرتہ الوسطیۃ یوم الاثنین فکیف یمکن ان تتقدمھا الھلالیۃ بیو مین او تتاخر عنھا بخمسۃ ایام وبہ یظھر استحالۃ ما اعتمدہ الحافظ بوجہ اخر فان مبناہ انما کان علی ھذا کما علمت۔ اوراسی دلیل سے سلیمان تیمی کے اس قول کا محال ہونا ثابت ہوتاہے جوپہلے گزرچکایعنی ماہ صفر کاآغاز بروزہفتہ ہوااس لئے کہ جب اس کا غرہ وسطیہ بروزپیرہے توغرہ ہلالیہ کا اس پر دودن مقدم ہونا یا اس سے پانچ دن مؤخرہونا کیسے ممکن ہے اور اسی سے حافظ کے قول معتمد کامحال ہوناایك اوروجہ سے ظاہر ہوتاہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی اسی دلیل پرہے جیساکہ تو جان چکاہے۔(ت)
دلیل دوم:فقیرنے شام دوشنبہ ۲۹صفر وسطے ۱۱ھ کے لئے افق کریم مدینہ طیبہ میں نیرین کی تقویمات استخراج کیں اورحساب صحیح معتمد نے شہادت دی کہ اس وقت تك فصل قمرین حد رؤیت معتادہ پرنہ تھا آفتاب جوزاکے ۶ درجے سترہ دقیقے باون ثانیے پرتھا اورچاندکی تقویم مرئی جوزاکے پندرہ درجے ستائیس دقیقے اکتیس ثانیےفاصلہ صرف ۹ درجے ۹ دقیقے
دلیل اول:غرہ وسطیہ کہ علماء زیج بحساب اوسط لیتے ہیں نیرین کے اجتماع وسطی سے اخذ کرتے ہیں اوربداہۃ واضح کہ رؤیت ہلال اجتماع قمرین سے ایك مدت معتدبہا کے بعد واقع ہوتی ہے توغرہ ہلالیہ کبھی غرہ وسطیہ سے مقدم نہ آئے گا وانماغایتہ التساوی(اس کی غایت تومحض تساوی ہے)اوراجتماع ورؤیت میں کبھی اتنافصل بھی نہیں ہوتا کہ قمر ڈیڑھ دوبرج طے کرجائے لہذا تقدم وسطیہ کی نہایت ایك دودن ہے وبسکل ذلك ظاھر من لہ اشتغال بالفن(یہ سب ظاہرہے اس شخص کے لئے جوفن کے ساتھ مشغولیت رکھتاہے۔ت)اور آشنائے فن جانتاہے کہ ۱۱ھ ہجریہ میں ماہ مبارك ربیع الاول شریف کاغرہ وسطیہ روزسہ شنبہ تھاتوغرہ ہلالیہ یك شنبہ یادوشنبہ کیونکرمتصورکہ اگریہ سہ شنبہ متاخرہے توہلالیہ کاوسطیہ پرتقدم لازم آتاہے اور اگرمقدم ہے تو اجتماع سے چارپانچ روز تك رؤیت نہ ہونے کالزوم ہوتاہے اوردونوں باطل ہیں
وبعین الدلیل یستحیل ماتقدم عن سلیمن التیمی من کون غرۃ صفر یوم السبت فان غرتہ الوسطیۃ یوم الاثنین فکیف یمکن ان تتقدمھا الھلالیۃ بیو مین او تتاخر عنھا بخمسۃ ایام وبہ یظھر استحالۃ ما اعتمدہ الحافظ بوجہ اخر فان مبناہ انما کان علی ھذا کما علمت۔ اوراسی دلیل سے سلیمان تیمی کے اس قول کا محال ہونا ثابت ہوتاہے جوپہلے گزرچکایعنی ماہ صفر کاآغاز بروزہفتہ ہوااس لئے کہ جب اس کا غرہ وسطیہ بروزپیرہے توغرہ ہلالیہ کا اس پر دودن مقدم ہونا یا اس سے پانچ دن مؤخرہونا کیسے ممکن ہے اور اسی سے حافظ کے قول معتمد کامحال ہوناایك اوروجہ سے ظاہر ہوتاہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی اسی دلیل پرہے جیساکہ تو جان چکاہے۔(ت)
دلیل دوم:فقیرنے شام دوشنبہ ۲۹صفر وسطے ۱۱ھ کے لئے افق کریم مدینہ طیبہ میں نیرین کی تقویمات استخراج کیں اورحساب صحیح معتمد نے شہادت دی کہ اس وقت تك فصل قمرین حد رؤیت معتادہ پرنہ تھا آفتاب جوزاکے ۶ درجے سترہ دقیقے باون ثانیے پرتھا اورچاندکی تقویم مرئی جوزاکے پندرہ درجے ستائیس دقیقے اکتیس ثانیےفاصلہ صرف ۹ درجے ۹ دقیقے
۳۹ ثانیے تھااورحسب قول متعارف اہل عمل رؤیت کے لئے کم سے کم دس درجے سے زیادہ فاصلہ چاہئے۔حاشیہ شرح چغمینی للعلامہ البرجندی میں ہے:
المذکور فی الکتب المشہورۃ انہ ینبغی ان یکون البعد بین تقویمی النیرین اکثر من عشرۃ اجزاء وقیل ینبغی ان یکون مابین مغاربیھا عشرۃ اجزاء اواکثر حتی یکون القمرفوق الارض بعد غروب الشمس مقدار ثلثی ساعۃ اواکثر والمشھور فی ھذا الزمان بین اھل العمل انہ ینبغی ان یتحقق الشرطان حتی تمکن الرؤیۃ ویسمون البعد الاول بعد السواء والبعد الثانی بعد المعدل ۔ مشہورکتابوں میں مذکورہے کہ نیرین(شمس وقمر)کی تقویموں کے درمیان دس درجے سے زائد فاصلہ نہ چاہئے۔ اورکہاگیاہے کہ ان کی مغربوں کے درمیان دس درجے یااس سے زائد فاصل ہوناچاہئے یہاں تك کہ چاند غروب آفتاب کے بعد دوتہائی ساعت یا اس سے زائد مقدار پرزمین سے اوپرہو۔اور اس زمانہ میں اہل عمل کے درمیان مشہوریہ ہے کہ دونوں شرطیں متحقق ہونی چاہئیں تاکہ رؤیت ممکن ہو۔ بعد اول کانام بعد سواء اوربعد ثانی کانام بعد معدل رکھتے ہیں۔ (ت)
شرح زیج سلطانی میں ہے:
بایدکہ بعد معدل دہ درجہ باشد یازیادہ وبعد میان دوتقویم ایشاں ازدہ زیادہ باشد تا ہردوشرط وجودنگیرد ہلال مرئی نہ شود و متعارف دریں زمان ایں ست ۔ بعد معدل دس درجے یااس سے زائد ہوناچاہئے اوران کی دو تقویموں کے درمیان بعد دس سے زائد ہوگا۔جب تك دونوں شرطیں موجودنہ ہوں چانددکھائی نہیں دے گا۔اس زمانہ میں یہی متعارف ہے۔(ت)
المذکور فی الکتب المشہورۃ انہ ینبغی ان یکون البعد بین تقویمی النیرین اکثر من عشرۃ اجزاء وقیل ینبغی ان یکون مابین مغاربیھا عشرۃ اجزاء اواکثر حتی یکون القمرفوق الارض بعد غروب الشمس مقدار ثلثی ساعۃ اواکثر والمشھور فی ھذا الزمان بین اھل العمل انہ ینبغی ان یتحقق الشرطان حتی تمکن الرؤیۃ ویسمون البعد الاول بعد السواء والبعد الثانی بعد المعدل ۔ مشہورکتابوں میں مذکورہے کہ نیرین(شمس وقمر)کی تقویموں کے درمیان دس درجے سے زائد فاصلہ نہ چاہئے۔ اورکہاگیاہے کہ ان کی مغربوں کے درمیان دس درجے یااس سے زائد فاصل ہوناچاہئے یہاں تك کہ چاند غروب آفتاب کے بعد دوتہائی ساعت یا اس سے زائد مقدار پرزمین سے اوپرہو۔اور اس زمانہ میں اہل عمل کے درمیان مشہوریہ ہے کہ دونوں شرطیں متحقق ہونی چاہئیں تاکہ رؤیت ممکن ہو۔ بعد اول کانام بعد سواء اوربعد ثانی کانام بعد معدل رکھتے ہیں۔ (ت)
شرح زیج سلطانی میں ہے:
بایدکہ بعد معدل دہ درجہ باشد یازیادہ وبعد میان دوتقویم ایشاں ازدہ زیادہ باشد تا ہردوشرط وجودنگیرد ہلال مرئی نہ شود و متعارف دریں زمان ایں ست ۔ بعد معدل دس درجے یااس سے زائد ہوناچاہئے اوران کی دو تقویموں کے درمیان بعد دس سے زائد ہوگا۔جب تك دونوں شرطیں موجودنہ ہوں چانددکھائی نہیں دے گا۔اس زمانہ میں یہی متعارف ہے۔(ت)
حوالہ / References
حاشیۃ شرح چغمینی
شرح زیج سلطانی
شرح زیج سلطانی
جب شب سہ شنبہ تك نیرین کایہ حال تھا کہ وقوع رؤیت ہلال ایك مخفی غیرمتوقع احتمال تھا تواس سے دوایك رات پہلے کاوقوع بداہۃ محال تھا جب اس رات قمرصرف نودرجے آفتاب سے شرقی ہواتھا توشام یك شنبہ کوقطعا کئی درجے اس سے غربی تھا اور غروب شمس سے کوئی پاؤ گھنٹے پہلے ڈوبا اورشام شنبہ کوتوعصرکااعلی مستحب وقت تھا جب چاندحجلہ نشین مغرب ہوچکاپھررات کو رؤیت ہلال کیازمین چیرکر ہوئی۔غرض دلائل ساطعہ سے ثابت ہے کہ اس ماہ مبارك کی پہلی یادوسری دوشنبہ کی ہرگزنہ تھی اورروز وفات اقدس یقینا دوشنبہ ہے تووہ دونوں قول قطعا باطل ہیں اورحق وصواب وہی قول جمہوربمعنی مذکورہے یعنی واقع میں تیرہویں اوربوجہ مسطورتعبیرمیں بارہویں کہ بحساب شمسی نہم
start ki image nahi hai
start ki image nahi hai
جزیران ۹۴۳ رومی نوسوتینتالیس رومی اسکندررانی ہشتم عــــــہ جون ۶۳۲ چھ سوبتیس عیسوی تھی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۴:ازفیروزپور محلہ پیراں والا مسئولہ غیاث اﷲ شاہ دبیرانجمن تعلیم الدین والقرآن علی مذہب النعمان ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
مشہورہے کہ حضورپرنورشافع یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت بارہویں ربیع الاول کوہوئی ہے چنانچہ تواریخ حبیب الہ اورمولود برزنجی میں یہی لکھاہے اوراذاقۃ الآثام کے ص۱۰۱ پرلکھاہے کہ:
"مولینا رفیع الدین خاں مرادآبادی اپنے سفر کے حالات میں تحریرکرتے ہیں کہ بارہویں تاریخ ربیع الاول کوحرمین شریفین میں یہ محفل منعقد ہوتی ہے"
مگرزیدکہتاہے کہ دراصل پیدائش کی تاریخ ۹ربیع الاول ہے اورسال فیل کے حساب کرنے سے ۹تاریخ ربیع الاول کی آتی ہے اس لئے ۱۲ربیع الاول جو روزوفات ہے عیدمیلاد کرنی ممنوع ہے اورایك کتاب رحمۃ للعالمین ایك شخص نے پٹیالہ میں حال میں لکھی ہے اس میں بھی ۹تاریخ ولادت بحساب سال فیل تحریرکیاہے اورشبلی نعمانی نے بھی اپنی سوانح میں ایسادرج کیاہے تواب ان میں صحیح اورمعتبرکون سی تاریخ ہے اوراگردراصل ۹تاریخ ولادت توکیاعیدمیلاد ۹کوکی جایاکرے بینواتوجروا(بیان فرماؤ اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
شرع مطہرمیں مشہور بین الجمہور ہونے کے لئے وقعت عظیم ہے اورمشہور عندالجمہور ہی ۱۲ربیع الاول ہے اورعلم ہیأت و زیجات کے حساب سے روزولادت شریف ۸ربیع الاول ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)یہ جوشبلی وغیرہ نے ۹ربیع الاول لکھی کسی حساب سے صحیح نہیں۔تعامل مسلمین حرمین شریفین و
عــــــہ: یعنی اس وقت جوشمار رائج تھا اس کے حساب سے ۸جون اوراصلی حساب سے ۱۲ تھی زیج بہادر خانی سے بستم جون آتی ہے مگریہ اس کی غلطی ہے کہ ہم نے اپنے رسالہ "تحقیقات سال مسیحی میں واضح کیاہے ۱۲منہ غفرلہ۔
مسئلہ ۲۲۴:ازفیروزپور محلہ پیراں والا مسئولہ غیاث اﷲ شاہ دبیرانجمن تعلیم الدین والقرآن علی مذہب النعمان ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
مشہورہے کہ حضورپرنورشافع یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت بارہویں ربیع الاول کوہوئی ہے چنانچہ تواریخ حبیب الہ اورمولود برزنجی میں یہی لکھاہے اوراذاقۃ الآثام کے ص۱۰۱ پرلکھاہے کہ:
"مولینا رفیع الدین خاں مرادآبادی اپنے سفر کے حالات میں تحریرکرتے ہیں کہ بارہویں تاریخ ربیع الاول کوحرمین شریفین میں یہ محفل منعقد ہوتی ہے"
مگرزیدکہتاہے کہ دراصل پیدائش کی تاریخ ۹ربیع الاول ہے اورسال فیل کے حساب کرنے سے ۹تاریخ ربیع الاول کی آتی ہے اس لئے ۱۲ربیع الاول جو روزوفات ہے عیدمیلاد کرنی ممنوع ہے اورایك کتاب رحمۃ للعالمین ایك شخص نے پٹیالہ میں حال میں لکھی ہے اس میں بھی ۹تاریخ ولادت بحساب سال فیل تحریرکیاہے اورشبلی نعمانی نے بھی اپنی سوانح میں ایسادرج کیاہے تواب ان میں صحیح اورمعتبرکون سی تاریخ ہے اوراگردراصل ۹تاریخ ولادت توکیاعیدمیلاد ۹کوکی جایاکرے بینواتوجروا(بیان فرماؤ اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
شرع مطہرمیں مشہور بین الجمہور ہونے کے لئے وقعت عظیم ہے اورمشہور عندالجمہور ہی ۱۲ربیع الاول ہے اورعلم ہیأت و زیجات کے حساب سے روزولادت شریف ۸ربیع الاول ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)یہ جوشبلی وغیرہ نے ۹ربیع الاول لکھی کسی حساب سے صحیح نہیں۔تعامل مسلمین حرمین شریفین و
عــــــہ: یعنی اس وقت جوشمار رائج تھا اس کے حساب سے ۸جون اوراصلی حساب سے ۱۲ تھی زیج بہادر خانی سے بستم جون آتی ہے مگریہ اس کی غلطی ہے کہ ہم نے اپنے رسالہ "تحقیقات سال مسیحی میں واضح کیاہے ۱۲منہ غفرلہ۔
حوالہ / References
عقد الجوھرفی مولدالنبی الازھر جامعہ اسلامیہ لاہور ص۳۱
اذاقۃ الاثام
اذاقۃ الاثام
مصروشام بلاداسلام وہندوستان میں۱۲ ہی پرہے اس پرعمل کیاجائےاورروزولادت شریف اگرآٹھ یابفرض غلط نو یاکوئی تاریخ ہوجب بھی بارہ کوعیدمیلاد کرنے سے کون سی ممانعت ہے وہ وجہ کہ اس شخص نے بیان کی خودجہالت ہےاگرمشہور کااعتبارکرتاہے توولادت شریف اوروفات شریف دونوں کی تاریخ بارہ ہے ہمیں شریعت نے نعمت الہی کاچرچاکرنے اورغم پرصبرکرنے کاحکم دیالہذا اس تاریخ کوروزماتم وفات نہ کیا روزسرورولادت شریفہ کیا کما فی مجمع البحارالانوار(جیساکہ مجمع البحارالانوارمیں ہے۔ت)اوراگرہیأت وزیج کاحساب لیتاہے توتاریخ وفات شریف بھی بارہ نہیں بلکہ تیرہ ربیع الاول کماحققناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)بہرحال معترض کااعتراض بے معنی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۵: مرسلہ جناب قاضی ارشاد علی صاحب ازبیلپور ضلع پیلی بھیت ۱۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استن حنانہ یعنی وہ چوب خشك جس سے حضورپرنورعلیہ الصلوۃ والسلام تکیہ لگاکر وعظ فرمایاکرتے تھے اورجس کاقصہ مولانا روم رحمہ اﷲ تعالی نے مثنوی شریف میں تحریرفرمایاہےکیا اس کوحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دفن کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی
الجواب:
نمازجنازہ پڑھناغلط ہے اورمنبرشریف کے نیچے دفن کرنا ایك روایت میں آیاہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶:ازپورسہ پوسٹ آفس نیت پورضلع دیناج پور مرسلہ محمدحافظ علی صاحبام ام رجسترار پورسہ ۲۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
شخصے می گوید کہ سوائے قصہ ابن الصیاد رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم با دجال ملاقات کردہ بودند ودجال برصورت خودکہ بوقت خروج باشدہ بود وحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ ممانعت آنحضرت گوش نہ کردہ برآں دجال تلوار زدہ بودند اما بردجال نہ افتادہ برپیشانی مبارك حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اوفتادہ بودبنابرآں ازآں ایك شخص کہتاہے کہ ابن صیاد کے قصہ کے علاوہ رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دجال کے ساتھ ملاقات کی جبکہ دجال اپنی اصلی صورت پر تھاجیسا کہ خروج کے وقت وہ ہوگا۔ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ممانعت پرکان نہ دھرتے ہوئے دجال کو تلوار ماردی جو اس کونہ لگی بلکہ خود حضرت عمر
مسئلہ ۲۲۵: مرسلہ جناب قاضی ارشاد علی صاحب ازبیلپور ضلع پیلی بھیت ۱۵ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استن حنانہ یعنی وہ چوب خشك جس سے حضورپرنورعلیہ الصلوۃ والسلام تکیہ لگاکر وعظ فرمایاکرتے تھے اورجس کاقصہ مولانا روم رحمہ اﷲ تعالی نے مثنوی شریف میں تحریرفرمایاہےکیا اس کوحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دفن کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی
الجواب:
نمازجنازہ پڑھناغلط ہے اورمنبرشریف کے نیچے دفن کرنا ایك روایت میں آیاہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶:ازپورسہ پوسٹ آفس نیت پورضلع دیناج پور مرسلہ محمدحافظ علی صاحبام ام رجسترار پورسہ ۲۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
شخصے می گوید کہ سوائے قصہ ابن الصیاد رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم با دجال ملاقات کردہ بودند ودجال برصورت خودکہ بوقت خروج باشدہ بود وحضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ ممانعت آنحضرت گوش نہ کردہ برآں دجال تلوار زدہ بودند اما بردجال نہ افتادہ برپیشانی مبارك حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اوفتادہ بودبنابرآں ازآں ایك شخص کہتاہے کہ ابن صیاد کے قصہ کے علاوہ رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دجال کے ساتھ ملاقات کی جبکہ دجال اپنی اصلی صورت پر تھاجیسا کہ خروج کے وقت وہ ہوگا۔ حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ نے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ممانعت پرکان نہ دھرتے ہوئے دجال کو تلوار ماردی جو اس کونہ لگی بلکہ خود حضرت عمر
پیشانی مبارك بے انتہا خون جاری شدہ بودوہم برآں نشانے باقی ماندہ ایں روایتش صحیحہ است یاغلط رضی اﷲ تعالی عنہ کی مبارك پیشانی پرجالگی جس سے بہت زیادہ خون جاری ہوا اورپیشانی پرزخم کانشان باقی رہاکیایہ روایت صحیح ہے یاغلط
الجواب:
ایں کذب وافترائے محض ست ماناکہ ازمختلقات اہل رفض ست "قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ خالص جھوٹ اورافترأہے۔یقینا رافضیوں کی من گھڑت روایتوں میں سے ہے۔اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۷:ازشہر محلہ قلعہ مرسلہ حامد حسین خاں مؤرخہ ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
مخدومی مکرمی محتشمی دامت برکاتہ سلام علیکم۔جناب مہربانہ توجہ مبذول فرماکر تحریرفرمائیں کہ مفتیان ذیل کس مذہب وملت واعتقاد کے لوگ ہیں اور ان کے افعال واقوال کس درجہ تك قابل تسلیم ہیں خادم نوازی سے ممنون ہوں گا۔اوریہ ان کی کتب مندرجہ ذیل بطور استدلال ہیں کس پایہ کی سمجھی جاتی ہیں زیادہ والسلامعلامہ طبرانیصاحب عقدالفریدصاحب خلل ایام فی الخلفاء الاسلام۔
الجواب:
وعلیکم السلاممحمدبن جریرطبرانی دوگزرے ہیں:ایك مفسرمحدثسنیشافعی المذہبان کی تاریخ کبیر کمیاب ونادر الوجود ہے۔دوسرارافضی مصنف مطاعن صحابہ وایضاح المسترشد۔اکثرلوگوں کودھوکاہوتاہے اس کے اقوال کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیںپھرتاریخ کسی کی تصنیف ہو مدارعقیدہ نہیں ہوسکتیمورخ رطبیابسمسندمرسلمقطوع معضل سب کچھ بھردیتے ہیں۔ایك عقدالفرید تودر بارہ تقلیدعلامہ ابوالاخلاص حسن شرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی تالیف ہے یہ گیارہویں صدی کے ایك متاخر سنی عالم فقیہ حنفی ہیںفقہ حنفی میں نورالایضاح ومراقی الفلاح وامداد الفتاح وغیرہ بہت کتب و رسائل ان کی تصنیف ہیںعقد الفرید میں ان کی رائے نہ محققین کوقبول نہ خود ان کی معمول۔دوسرارسالہ اس نام کاشیخ عطاء الدین علی سمہودی کااس باب میں ہےتیسرا انسابچوتھا علم تجویدپانچواں کلامچھٹا اخلاق ہیں۔صاحب کشف الظنون نے اورذکرکئے جن کے نام اس کتاب میں
الجواب:
ایں کذب وافترائے محض ست ماناکہ ازمختلقات اہل رفض ست "قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ خالص جھوٹ اورافترأہے۔یقینا رافضیوں کی من گھڑت روایتوں میں سے ہے۔اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۷:ازشہر محلہ قلعہ مرسلہ حامد حسین خاں مؤرخہ ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
مخدومی مکرمی محتشمی دامت برکاتہ سلام علیکم۔جناب مہربانہ توجہ مبذول فرماکر تحریرفرمائیں کہ مفتیان ذیل کس مذہب وملت واعتقاد کے لوگ ہیں اور ان کے افعال واقوال کس درجہ تك قابل تسلیم ہیں خادم نوازی سے ممنون ہوں گا۔اوریہ ان کی کتب مندرجہ ذیل بطور استدلال ہیں کس پایہ کی سمجھی جاتی ہیں زیادہ والسلامعلامہ طبرانیصاحب عقدالفریدصاحب خلل ایام فی الخلفاء الاسلام۔
الجواب:
وعلیکم السلاممحمدبن جریرطبرانی دوگزرے ہیں:ایك مفسرمحدثسنیشافعی المذہبان کی تاریخ کبیر کمیاب ونادر الوجود ہے۔دوسرارافضی مصنف مطاعن صحابہ وایضاح المسترشد۔اکثرلوگوں کودھوکاہوتاہے اس کے اقوال کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیںپھرتاریخ کسی کی تصنیف ہو مدارعقیدہ نہیں ہوسکتیمورخ رطبیابسمسندمرسلمقطوع معضل سب کچھ بھردیتے ہیں۔ایك عقدالفرید تودر بارہ تقلیدعلامہ ابوالاخلاص حسن شرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی تالیف ہے یہ گیارہویں صدی کے ایك متاخر سنی عالم فقیہ حنفی ہیںفقہ حنفی میں نورالایضاح ومراقی الفلاح وامداد الفتاح وغیرہ بہت کتب و رسائل ان کی تصنیف ہیںعقد الفرید میں ان کی رائے نہ محققین کوقبول نہ خود ان کی معمول۔دوسرارسالہ اس نام کاشیخ عطاء الدین علی سمہودی کااس باب میں ہےتیسرا انسابچوتھا علم تجویدپانچواں کلامچھٹا اخلاق ہیں۔صاحب کشف الظنون نے اورذکرکئے جن کے نام اس کتاب میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۳۰
دیکھے جاتے ہیں وبس۔خلل ایام کسی کتاب کانام بھی سننے میں نہ آیانہ کشف الظنون میں کوئی کتاب اس نام کی لکھی شاید حال کے کسی شخص کی ہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۸: ازضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
بارہ امام جن کے نام عوام میں مشہورہیں ان میں باستثنائے جناب امام علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ حضرت امام حسن وحضرت امام حسین وحضرت امام مہدی کے کسی اورامام کی نسبت صحیح حدیثوں میں اشارۃ یاصراحۃ کوئی خبرآئی ہے امامت ان کی ولایت کے درجے پرمانناچاہئے ان کے عقائد واحکام واعمال وغیرہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایك کے مشابہ تھے یاسب سے الگ یہ خود مجتہدتھے یامقلد بعض اعمال وجفروغیرہ کی کتابوں میں ان کے اقوال ملتے ہیں یہ کہاں تك صحیح ہیں بعض کا یہ اعتراض ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ان کی روایتیں بہت کم لی گئی ہیں حالانکہ ان کاخاندانی علم تھا ان سے زیادہ دوسرے کوکہاں تك واقفیت ہوسکتی ہے اہلسنت کی کتابوں میں ان کے حالات کم لکھنے کی کیا وجہ ہے
الجواب:
امام باقررضی اﷲ تعالی عنہ کی بشارت بتصریح نام گرامی صحیح حدیث میں ہے جابربن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کاذکر فرمایاکہ ان سے ہماراسلام کہنا۔سیدنا امام محمدباقررضی اﷲ تعالی عنہ طلب علم کے لئے سیدناجابررضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان کی غایت تکریم کی اورکہا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یسلم علیک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آپ کوسلام فرماتے ہیںاور اخرج منکما الکثیر الطیب (اﷲ تعالی تم دونوں کوکثیرپاکیزہ اولاد عطافرمائے)میں ان سب حضرات کی بشارت ہے۔امامت اگربمعنی مقتدی فی الدین ہونے کے ہے توبلاشبہہ ان کے غلام اورغلاموں کے غلام مقتدی فی الدین ہیںاوراگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہرغو ث کے دووزیرہوتے ہیں عبدالملك و عبدالربانہیں امامین کہتے ہیںتوبلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے۔اوراگرامامت بمعنی خلافت عامہ مرادہے تووہ ان میں صرف امیرالمومنین مولی علی وسیدناامام حسن مجتبی کوملی اوراب سیدنا امام مہدی کوملے گی وبس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینباقی جومنصب امامت ولایت سے بڑھ کرہے
مسئلہ ۲۲۸: ازضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
بارہ امام جن کے نام عوام میں مشہورہیں ان میں باستثنائے جناب امام علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ حضرت امام حسن وحضرت امام حسین وحضرت امام مہدی کے کسی اورامام کی نسبت صحیح حدیثوں میں اشارۃ یاصراحۃ کوئی خبرآئی ہے امامت ان کی ولایت کے درجے پرمانناچاہئے ان کے عقائد واحکام واعمال وغیرہ ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایك کے مشابہ تھے یاسب سے الگ یہ خود مجتہدتھے یامقلد بعض اعمال وجفروغیرہ کی کتابوں میں ان کے اقوال ملتے ہیں یہ کہاں تك صحیح ہیں بعض کا یہ اعتراض ہے کہ صحاح کی کتابوں میں ان کی روایتیں بہت کم لی گئی ہیں حالانکہ ان کاخاندانی علم تھا ان سے زیادہ دوسرے کوکہاں تك واقفیت ہوسکتی ہے اہلسنت کی کتابوں میں ان کے حالات کم لکھنے کی کیا وجہ ہے
الجواب:
امام باقررضی اﷲ تعالی عنہ کی بشارت بتصریح نام گرامی صحیح حدیث میں ہے جابربن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کاذکر فرمایاکہ ان سے ہماراسلام کہنا۔سیدنا امام محمدباقررضی اﷲ تعالی عنہ طلب علم کے لئے سیدناجابررضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان کی غایت تکریم کی اورکہا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یسلم علیک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آپ کوسلام فرماتے ہیںاور اخرج منکما الکثیر الطیب (اﷲ تعالی تم دونوں کوکثیرپاکیزہ اولاد عطافرمائے)میں ان سب حضرات کی بشارت ہے۔امامت اگربمعنی مقتدی فی الدین ہونے کے ہے توبلاشبہہ ان کے غلام اورغلاموں کے غلام مقتدی فی الدین ہیںاوراگر اصطلاح مقامات ولایت مقصود ہے کہ ہرغو ث کے دووزیرہوتے ہیں عبدالملك و عبدالربانہیں امامین کہتے ہیںتوبلاشبہہ یہ سب حضرات خود غوث ہوئے۔اوراگرامامت بمعنی خلافت عامہ مرادہے تووہ ان میں صرف امیرالمومنین مولی علی وسیدناامام حسن مجتبی کوملی اوراب سیدنا امام مہدی کوملے گی وبس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینباقی جومنصب امامت ولایت سے بڑھ کرہے
حوالہ / References
تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۶۹۰۱ محمدبن علی بن حسین داراحیاء التراث العربی بیروت ۵۷/ ۲۱۵،۲۱۶
تنزیہ الشریعۃ باب فی مناقب السبطین وامہما وآل البیت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۴۱۱
تنزیہ الشریعۃ باب فی مناقب السبطین وامہما وآل البیت دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۴۱۱
وہ خاصہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہے جس کوفرمایا " انی جاعلک للناس اماما" (میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والاہوں۔ ت)وہ امامت کسی غیرنبی کے لئے نہیں مانی جاسکتی"اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " (حکم مانو اﷲ کا اورحکم مانورسول اﷲ کااوران کا جوتم میں حکومت والے ہیں۔ت)ہرغیرنبی کی امامت اولی الامرمنکم تك ہے جسے فرمایا: " وجعلنہم ائمۃ یہدون بامرنا" (اورہم نے انہیں امام کیاکہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں۔ت)مگر اطیعوا الرسول کے مرتبے تك نہیں ہوسکتی اس حد پرماننا جیسے روافض مانتے ہیں صریح ضلالت وبے دینی ہے۔امام جعفر صادق رضی اﷲ تعالی عنہ تك توبلاشبہہ یہ حضرات مجتہدین وائمہ مجتہدین تھےاورباقی حضرات بھی غالبا مجتہد ہوں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
یہ نظربظاہرہے ورنہ باطنی طورپر کوئی شك کامقام نہیں کہ یہ سب حضرات عین الشریعۃ الکبری تك واصل تھےجوبسند صحیح ثابت یاکسی فقہ معتمد کی نقل ہے اس کاثبوت ماناجائے گاورنہ مجاہیل یاعوام یاایسی کتاب کی نقل جورطب ویابس سب کی جامع ہوتی ہے کوئی ثبوت نہیں۔صحاح میں صدیق اکبروفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کی روایات بھی بہت کم ہیںرحمت الہی نے حصے تقسیم فرمادیئے ہیں کسی کوخدمت الفاظکسی کوخدمت معانیکسی کو تحصیل مقاصدکسی کوایصال الی المطلوبنہ ظاہری روایت کی کثرت وجہ افضلیت ہے نہ اس کی قلت وجہ مفضولیت۔صحیحین میں امام احمد سے صدہااحادیث ہیں اورامام اعظم وامام شافعی سے ایك بھی نہیںاورباقی صحاح میں اگران سے ہیں بھی توبہت شاذونادرحالانکہ امام احمدامام شافعی کے شاگردہیںاورامام شافعی امام اعظم کے شاگردوں کے شاگرد رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینبلکہ امام احمد کامنصب بھی بہت ارفع واعلی ہے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انہیں ربع اسلام کہا ہے۔ہزاروں محدثین جوفقیہ تك نہ تھے ان سے جتنی روایات صحاح میں ملیں گے صدیق وفاروق بلکہ خلفائے اربعہ سے اس کادسواں حصہ بھی نہ ملے گا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔یہ محض غلط وافتراء ہے کہ ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیںاہلسنت کی جتنی کتابیں بیان حالات اکابرمیں ہیں سب ان پاك مبارك محبوبان خدا کے ذکرسے گونج رہی ہیں اور
یہ نظربظاہرہے ورنہ باطنی طورپر کوئی شك کامقام نہیں کہ یہ سب حضرات عین الشریعۃ الکبری تك واصل تھےجوبسند صحیح ثابت یاکسی فقہ معتمد کی نقل ہے اس کاثبوت ماناجائے گاورنہ مجاہیل یاعوام یاایسی کتاب کی نقل جورطب ویابس سب کی جامع ہوتی ہے کوئی ثبوت نہیں۔صحاح میں صدیق اکبروفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کی روایات بھی بہت کم ہیںرحمت الہی نے حصے تقسیم فرمادیئے ہیں کسی کوخدمت الفاظکسی کوخدمت معانیکسی کو تحصیل مقاصدکسی کوایصال الی المطلوبنہ ظاہری روایت کی کثرت وجہ افضلیت ہے نہ اس کی قلت وجہ مفضولیت۔صحیحین میں امام احمد سے صدہااحادیث ہیں اورامام اعظم وامام شافعی سے ایك بھی نہیںاورباقی صحاح میں اگران سے ہیں بھی توبہت شاذونادرحالانکہ امام احمدامام شافعی کے شاگردہیںاورامام شافعی امام اعظم کے شاگردوں کے شاگرد رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعینبلکہ امام احمد کامنصب بھی بہت ارفع واعلی ہے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انہیں ربع اسلام کہا ہے۔ہزاروں محدثین جوفقیہ تك نہ تھے ان سے جتنی روایات صحاح میں ملیں گے صدیق وفاروق بلکہ خلفائے اربعہ سے اس کادسواں حصہ بھی نہ ملے گا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔یہ محض غلط وافتراء ہے کہ ان کے احوال اہلسنت کی کتابوں میں کم ہیںاہلسنت کی جتنی کتابیں بیان حالات اکابرمیں ہیں سب ان پاك مبارك محبوبان خدا کے ذکرسے گونج رہی ہیں اور
خود ان کے ذکرمیں مستقل کتابیں ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۹: ازگونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ سیٹھ عبدالستارصاحب قادری برکاتی رضوی ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
حضرت مولائے مسلمین امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ نجف اشرف میں قبرشریف کے اندر پردہ پوش ہیں یاآنجناب رضی اﷲ تعالی عنہ مدفون نہیں ہوئے اورنجف شریف میں آپ کی قبرشریف نہیں ہے برتقدیر ثانی حضور رضی اﷲ تعالی عنہ کی نیت سے نجف اشرف جاناکیساہے شیرخدا رضی اﷲ تعالی عنہ کہاں آرام فرماتے ہیں
الجواب:
روایات مختلف ہیںیہ بھی روایت آئی کہ نعش مبارك کومدینہ طیبہ لے جانے کی غرض سے ایك بغلہ پررکھ کرچلے اوروہ چھوٹا اورغائب ہوگیا اورمنع زیارت کے لئے عدم مزارکایقین چاہئے اورجواززیارت کے لئے ایك روایت واحتمال کافی ہے اوریہ لوگ اﷲ کے نورہیں انہیں جہاں سے پکاروگے فیض پہنچائیں گے۔حضرت بتول زہراصلی اﷲ تعالی علی ابیہا الکریم وعلیہا وعلی بعلہا وابنیہا وبارك وسلم کے مزاراطہر میں بھی دو۲ روایتیں ہیںبقیع شریف میں اورخاص جوارروضہ اقدس میں۔ایك صاحب دل نے مدینہ طیبہ کے ایك عالم سے کہامیں دونوں جگہ حاضرہوکر سلام عرض کرتاہوں انوارپاتاہوں۔فرمایا:یہ کریم ذاتیں جگہ کی پابندنہیں تمہاری توجہ چاہئے پھرنورباری ان کاکام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۰:ازضلع خاندیش پچھم بھاگ تعلقہ ڈاك خانہ لگرمنداسوستان کاٹھی مقام علاکوا مرسلہ محمداسمعیل ۱۲جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
حضرت پیران پیر دستگیر کے گیارہ نام کیاکیاہیں
الجواب:
حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے اسماء شریفہ یہ ہیں:سیدمحی الدین سلطانمحی الدین قطبمحی الدین خواجہمحی الدین مخدوممحی الدین ولیمحی الدین بادشاہمحی الدین شیخمحی الدین مولنامحی الدین غوثمحی الدین خلیلمحی الدین واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۹: ازگونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ سیٹھ عبدالستارصاحب قادری برکاتی رضوی ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
حضرت مولائے مسلمین امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ نجف اشرف میں قبرشریف کے اندر پردہ پوش ہیں یاآنجناب رضی اﷲ تعالی عنہ مدفون نہیں ہوئے اورنجف شریف میں آپ کی قبرشریف نہیں ہے برتقدیر ثانی حضور رضی اﷲ تعالی عنہ کی نیت سے نجف اشرف جاناکیساہے شیرخدا رضی اﷲ تعالی عنہ کہاں آرام فرماتے ہیں
الجواب:
روایات مختلف ہیںیہ بھی روایت آئی کہ نعش مبارك کومدینہ طیبہ لے جانے کی غرض سے ایك بغلہ پررکھ کرچلے اوروہ چھوٹا اورغائب ہوگیا اورمنع زیارت کے لئے عدم مزارکایقین چاہئے اورجواززیارت کے لئے ایك روایت واحتمال کافی ہے اوریہ لوگ اﷲ کے نورہیں انہیں جہاں سے پکاروگے فیض پہنچائیں گے۔حضرت بتول زہراصلی اﷲ تعالی علی ابیہا الکریم وعلیہا وعلی بعلہا وابنیہا وبارك وسلم کے مزاراطہر میں بھی دو۲ روایتیں ہیںبقیع شریف میں اورخاص جوارروضہ اقدس میں۔ایك صاحب دل نے مدینہ طیبہ کے ایك عالم سے کہامیں دونوں جگہ حاضرہوکر سلام عرض کرتاہوں انوارپاتاہوں۔فرمایا:یہ کریم ذاتیں جگہ کی پابندنہیں تمہاری توجہ چاہئے پھرنورباری ان کاکام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۰:ازضلع خاندیش پچھم بھاگ تعلقہ ڈاك خانہ لگرمنداسوستان کاٹھی مقام علاکوا مرسلہ محمداسمعیل ۱۲جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
حضرت پیران پیر دستگیر کے گیارہ نام کیاکیاہیں
الجواب:
حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے اسماء شریفہ یہ ہیں:سیدمحی الدین سلطانمحی الدین قطبمحی الدین خواجہمحی الدین مخدوممحی الدین ولیمحی الدین بادشاہمحی الدین شیخمحی الدین مولنامحی الدین غوثمحی الدین خلیلمحی الدین واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۱: ازمقام کاٹھیاواڑترسالی احمددادصاحب یکم جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
یہ روایت صحیح ہے کہ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ نے خواب دیکھاکہ "حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میرا مذہب ضعیف ہواجاتاہے لہذاتم میرے مذہب میں آجاؤ میرے مذہب میں آنے سے میرے مذہب کوتقویت ہوجائےگیاس لئے حضرت غوث پاك حنفی سے حنبلی ہوگئے۔
الجواب:
یہ روایت صحیح نہیںحضورہمیشہ سے حنبلی تھے اوربعد کو جب عین الشریعۃ الکبری تك پہنچ کرمنصب اجتہاد مطلق حاصل ہوا مذہب حنبل کوکمزورہوتاہوادیکھ کر اس کے مطابق فتوی دیا کہ حضورمحی الدین اوردین متین کے یہ چاروں ستون ہیں لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتادیکھا اس کی تقویت فرمائی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۲:ازحیدرآباد قریب ڈیوڑھی نواب نصرت جنگ بہادرمرسلہ سیدغلام فضل بیابانی قاضی درنگل یکم ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
حضرت سیداحمد کبیررفاعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے اولاد صلبی تھی یانہیں مولانا کی تحقیقات میں جوبات ثابت ہو اس سے بھی بحوالہ کتب حسن ایما ہو۔
الجواب:
حضرت سیداحمدکبیر رضی اﷲ تعالی عنہ کے اولاد صلبی نہ تھی حضرت کے بھانجے تھےوفیات الاعیان میں ہے:لم یکن لہ عقب (آپ کاکوئی بیٹا نہ تھا۔ت)قلائدالجواہرمیں ہے:
قال العلامۃ شمس الدین بن ناصر الدین الدمشقی سیدی الشیخ الکبیر محی الدین سلطان العارفین ابوالعباس احمد بن الرفاعی لم یبلغنا انہ اعقب کما جزم بہ غیرواحد من الائمۃ المرضیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم علامہ شمس الدین بن ناصرالدین دمشقی نے فرمایا کہ ہمیں یہ خبرنہیں پہنچی کہ ہمارے سردارشیخ کبیرمحی الدینسلطان العارفینابوالعباس احمدبن رفاعی علیہ الرحمہ نے کوئی اولاد چھوڑی ہوجیساکہ متعدد پسندیدہ ائمہ نے اس پرجزم فرمایا ہےاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے(ت)
یہ روایت صحیح ہے کہ حضرت قطب الاقطاب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ نے خواب دیکھاکہ "حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ میرا مذہب ضعیف ہواجاتاہے لہذاتم میرے مذہب میں آجاؤ میرے مذہب میں آنے سے میرے مذہب کوتقویت ہوجائےگیاس لئے حضرت غوث پاك حنفی سے حنبلی ہوگئے۔
الجواب:
یہ روایت صحیح نہیںحضورہمیشہ سے حنبلی تھے اوربعد کو جب عین الشریعۃ الکبری تك پہنچ کرمنصب اجتہاد مطلق حاصل ہوا مذہب حنبل کوکمزورہوتاہوادیکھ کر اس کے مطابق فتوی دیا کہ حضورمحی الدین اوردین متین کے یہ چاروں ستون ہیں لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتادیکھا اس کی تقویت فرمائی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۲:ازحیدرآباد قریب ڈیوڑھی نواب نصرت جنگ بہادرمرسلہ سیدغلام فضل بیابانی قاضی درنگل یکم ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
حضرت سیداحمد کبیررفاعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے اولاد صلبی تھی یانہیں مولانا کی تحقیقات میں جوبات ثابت ہو اس سے بھی بحوالہ کتب حسن ایما ہو۔
الجواب:
حضرت سیداحمدکبیر رضی اﷲ تعالی عنہ کے اولاد صلبی نہ تھی حضرت کے بھانجے تھےوفیات الاعیان میں ہے:لم یکن لہ عقب (آپ کاکوئی بیٹا نہ تھا۔ت)قلائدالجواہرمیں ہے:
قال العلامۃ شمس الدین بن ناصر الدین الدمشقی سیدی الشیخ الکبیر محی الدین سلطان العارفین ابوالعباس احمد بن الرفاعی لم یبلغنا انہ اعقب کما جزم بہ غیرواحد من الائمۃ المرضیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم علامہ شمس الدین بن ناصرالدین دمشقی نے فرمایا کہ ہمیں یہ خبرنہیں پہنچی کہ ہمارے سردارشیخ کبیرمحی الدینسلطان العارفینابوالعباس احمدبن رفاعی علیہ الرحمہ نے کوئی اولاد چھوڑی ہوجیساکہ متعدد پسندیدہ ائمہ نے اس پرجزم فرمایا ہےاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے(ت)
حوالہ / References
وفیات الاعیان ترجمہ ابوالعباس احمدبن علی المعروف بابن الرفاعی۲۰ دارالثقافۃ بیروت ۱/۱۷۲
قلائدالجواھر فی مناقب عبدالقادر
قلائدالجواھر فی مناقب عبدالقادر
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ غلام رسول ۱۱شوال محلہ بہاری پور
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے کہ امام حسین علیہ السلام کے واقعہ شہادت میں جتنی روایتیں ہیں سب کی سب ضعیف ہیں کیونکہ اس وقت تمام مخالفین موجودتھے وہ ہی راوی ہوں گے لہذاکوئی ثقہ نہ پایاگیا اورنیزاصحاب رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین موجودنہ تھے بالفرض مان لیاجائے کہ موجودتھے تواپنی اپنی جگہلہذا ان کوخبرملے توان مخالفین سے اس وجہ سے یہ بھی ضعیف ہوگی۔اوربکرکہتاہے کہ ایسے مواقع میں خبرصحیح ہوسکتی ہے۔زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ موجودتھے اور حرم محترم بھی موجودتھے اورموافقین تھے لہذا روایتیں صحیح ہوسکتی ہیں ان دونوں سے کون حق پرہےبینواتوجروا۔
الجواب:
بکرحق پرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ تا ۲۴۱: ازمیونڈی ڈاکخانہ شاہی پرگنہ اجاؤں ضلع بریلوی مرسلہ امیرعالم حسن صاحب ۱۶شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زیدکہتاہے کہ میں اولادسیدبدیع الدین صاحب عرف شاہ مدار کے ہوں اوران ہی سے ہمیں خلافت بھی ہے۔عمرونے اس پرجواب دیاکہ سید بدیع الدین صاحب نے نہ شادی کی نہ ان کی اولادہوئی پھرتم کہاں سے پیداہوئے اورتمہیں خلافت کس نے دی۔زیدنے اس پرجواب دیاکہ نہیں سیدبدیع الدین صاحب نے دوخلیفہ کئے ہم انہیں کی اولاد میں ہیں اورانہیں سے خلافت چل رہی ہے۔
(۲)زیدکہتاہے کہ ہم مدارصاحب کے بھتیجوں کی اولاد میں ہیں۔
(۳)زیدکہتاہے کہ سیدمدارصاحب نے ایك نقش لکھ کرایك عورت کودکھایا کہ جس کے دیکھنے سے وہ حاملہ ہو گئی اوراس سے جواولاد پیداہوئی ہم اس کی اولاد میں ہیں یہاں تك کہ ایك گاؤں اس کی اولاد سے آبادہے۔
(۴)زیدکامرید مع زیدیہ بات کہتاہے کہ جب ہماری خلافت ثابت نہیں تو آج تك کسی عالم نے کیوں نہیں منع کیا۔
(۵)یہ کہ اب علماء فرمائیں کہ سیدمدارصاحب نے کسی کوخلیفہ کیایانہیں یاشادی کی یانہیں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے کہ امام حسین علیہ السلام کے واقعہ شہادت میں جتنی روایتیں ہیں سب کی سب ضعیف ہیں کیونکہ اس وقت تمام مخالفین موجودتھے وہ ہی راوی ہوں گے لہذاکوئی ثقہ نہ پایاگیا اورنیزاصحاب رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین موجودنہ تھے بالفرض مان لیاجائے کہ موجودتھے تواپنی اپنی جگہلہذا ان کوخبرملے توان مخالفین سے اس وجہ سے یہ بھی ضعیف ہوگی۔اوربکرکہتاہے کہ ایسے مواقع میں خبرصحیح ہوسکتی ہے۔زین العابدین رضی اﷲ تعالی عنہ موجودتھے اور حرم محترم بھی موجودتھے اورموافقین تھے لہذا روایتیں صحیح ہوسکتی ہیں ان دونوں سے کون حق پرہےبینواتوجروا۔
الجواب:
بکرحق پرہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ تا ۲۴۱: ازمیونڈی ڈاکخانہ شاہی پرگنہ اجاؤں ضلع بریلوی مرسلہ امیرعالم حسن صاحب ۱۶شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زیدکہتاہے کہ میں اولادسیدبدیع الدین صاحب عرف شاہ مدار کے ہوں اوران ہی سے ہمیں خلافت بھی ہے۔عمرونے اس پرجواب دیاکہ سید بدیع الدین صاحب نے نہ شادی کی نہ ان کی اولادہوئی پھرتم کہاں سے پیداہوئے اورتمہیں خلافت کس نے دی۔زیدنے اس پرجواب دیاکہ نہیں سیدبدیع الدین صاحب نے دوخلیفہ کئے ہم انہیں کی اولاد میں ہیں اورانہیں سے خلافت چل رہی ہے۔
(۲)زیدکہتاہے کہ ہم مدارصاحب کے بھتیجوں کی اولاد میں ہیں۔
(۳)زیدکہتاہے کہ سیدمدارصاحب نے ایك نقش لکھ کرایك عورت کودکھایا کہ جس کے دیکھنے سے وہ حاملہ ہو گئی اوراس سے جواولاد پیداہوئی ہم اس کی اولاد میں ہیں یہاں تك کہ ایك گاؤں اس کی اولاد سے آبادہے۔
(۴)زیدکامرید مع زیدیہ بات کہتاہے کہ جب ہماری خلافت ثابت نہیں تو آج تك کسی عالم نے کیوں نہیں منع کیا۔
(۵)یہ کہ اب علماء فرمائیں کہ سیدمدارصاحب نے کسی کوخلیفہ کیایانہیں یاشادی کی یانہیں
یاکوئی بھتیجا ہمراہ آیاتھا یانہیںاوراگرکسی کوخلیفہ کیاتو اس کی اولاد ہوئی یانہیں اور وہ خلیفہ کہاں گئے اورکیاہوئے
(۶)سیدمدارصاحب کاوصال مکن پورہوایاکہیں اور اوروہ خلیفہ کہاں مدفون ہیں
(۷)یہ کہ وہ خلیفہ ہندوستان میں گئے یاعرب میں یاکہاں
(۸)یہ کہ وہ خلیفہ سیدمدارصاحب سے پہلے رحلت کرگئے یابعد کوبینواتوجروا۔
الجواب:
بے اصل وبے سروپاباتیں ہیں جن کاکہیں پتانہیںسبع سنابل شریف میں ہے:حضرت مدارصاحب قدس سرہ نے فرمایاہے: خلافت نہ کسے دادہ ام نخواہم داد میں نے خلافت نہ کسی کودی ہے نہ آگے دوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: ازموصل تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفورصاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
سورہ فاتحہ کاشان نزول کہیں نہیں ملتاشان نزول بیان فرمائیں۔
الجواب:
سورہ فاتحہ رحمت الہی ہےدعاوثناہے کہ رب عزوجل نے اپنے بندوں کوتعلیم فرمائیکسی خاص واقع کے لئے اس کانزول نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۳: حافظ نجم الدین صاحب نجم چترھائی نیب ۲۹صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیات:" انما امولکم و اولدکم فتنۃ "
"یایہا الذین امنوا لا تلہکم امولکم و لا اولدکم عن ذکر اللہ" کے مصداق کون لوگ ہیں اوران کاترجمہ کیاہے
الجواب:
یہ خطاب عام ہے خاص اشخاص اس سے مرادنہیںسب مسلمانوں سے فرمایاجاتاہے کہ
(۶)سیدمدارصاحب کاوصال مکن پورہوایاکہیں اور اوروہ خلیفہ کہاں مدفون ہیں
(۷)یہ کہ وہ خلیفہ ہندوستان میں گئے یاعرب میں یاکہاں
(۸)یہ کہ وہ خلیفہ سیدمدارصاحب سے پہلے رحلت کرگئے یابعد کوبینواتوجروا۔
الجواب:
بے اصل وبے سروپاباتیں ہیں جن کاکہیں پتانہیںسبع سنابل شریف میں ہے:حضرت مدارصاحب قدس سرہ نے فرمایاہے: خلافت نہ کسے دادہ ام نخواہم داد میں نے خلافت نہ کسی کودی ہے نہ آگے دوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: ازموصل تحصیل جامپور ضلع ڈیرہ غازی خاں مسئولہ عبدالغفورصاحب ۱۴ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
سورہ فاتحہ کاشان نزول کہیں نہیں ملتاشان نزول بیان فرمائیں۔
الجواب:
سورہ فاتحہ رحمت الہی ہےدعاوثناہے کہ رب عزوجل نے اپنے بندوں کوتعلیم فرمائیکسی خاص واقع کے لئے اس کانزول نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۳: حافظ نجم الدین صاحب نجم چترھائی نیب ۲۹صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیات:" انما امولکم و اولدکم فتنۃ "
"یایہا الذین امنوا لا تلہکم امولکم و لا اولدکم عن ذکر اللہ" کے مصداق کون لوگ ہیں اوران کاترجمہ کیاہے
الجواب:
یہ خطاب عام ہے خاص اشخاص اس سے مرادنہیںسب مسلمانوں سے فرمایاجاتاہے کہ
حوالہ / References
سبع سنابل مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۱
القرآن الکریم ۶۴ /۱۵
القرآن الکریم ۶۳ /۹
القرآن الکریم ۶۴ /۱۵
القرآن الکریم ۶۳ /۹
تمہارے مال واولاد آزمائش ہیں ایسانہ ہوکہ ان کے سبب یادالہی سے تم غافل ہوجاؤ اورجوایساکرے گا وہ نقصان پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴: ازشہرگیامحلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمداﷲ خاں ۸شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خضرعلیہ السلام مالك بری ہیں یابحری اورادریس علیہ السلام اب کہاں ہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
مالك بحروبرہرخشك وتراﷲ عزوجل ہے اوراس کی عطا سے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمحضورکی نیابت سے خضر علیہ السلام کے تصرفات خشکی ودریادونوں میں ہیں۔ادریس علیہ السلام آسمان پرہیںقال اﷲ تعالی "ورفعنہ مکانا علیا ﴿۵۷﴾" (اﷲ تعالی کافرمان ہے اورہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۵: ازشفاخانہ فریدپورڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتمبرپور مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جنید ایك بزرگ کامل تھے انہوں نے سفرکیاراستے میں ایك دریاپڑااس کوپارکرتے وقت ایك آدمی نے کہاکہ مجھ کوبھی دریاکے پارکردیجئےتب ان بزرگ کامل نے کہا "تم میرے پیچھے یاجنید یاجنیدکہتے چلو اور میں اﷲ اﷲ کہتاچلوں گا" درمیان میں وہ آدمی بھی اﷲ اﷲ کہنے لگا تب وہ ڈوبنے لگااس وقت ان بزرگ نے کہا کہ تو اﷲ اﷲ مت کہہ یاجنیدیاجنیدکہہتب اس آدمی نے یاجنیدیاجنیدکہاجب وہ نہیں ڈوبا۔یہ درست ہے یانہیں اوربزرگ کامل کے لئے کیاحکم ہے اورآدمی کے لئے کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ غلط ہے کہ سفرمیں دریا ملابلکہ دجلہ ہی کے پارجاناتھااوریہ بھی زیادہ ہے کہ میں اﷲ اﷲ کہتاچلوں گااوریہ محض افتراہے کہ انہوں نے فرمایا تواﷲ اﷲ مت کہہ۔یاجنیدکہنا خصوصا حیات دنیاوی میں خصوصا جبکہ پیش نظرموجودہیں اسے کون منع کر سکتاہے کہ آدمی کاحکم پوچھاجائے اورحضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے حکم پوچھنا کمال بے ادبی وگستاخی ودریدہ دہنی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴: ازشہرگیامحلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمداﷲ خاں ۸شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خضرعلیہ السلام مالك بری ہیں یابحری اورادریس علیہ السلام اب کہاں ہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
مالك بحروبرہرخشك وتراﷲ عزوجل ہے اوراس کی عطا سے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمحضورکی نیابت سے خضر علیہ السلام کے تصرفات خشکی ودریادونوں میں ہیں۔ادریس علیہ السلام آسمان پرہیںقال اﷲ تعالی "ورفعنہ مکانا علیا ﴿۵۷﴾" (اﷲ تعالی کافرمان ہے اورہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۵: ازشفاخانہ فریدپورڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتمبرپور مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ جنید ایك بزرگ کامل تھے انہوں نے سفرکیاراستے میں ایك دریاپڑااس کوپارکرتے وقت ایك آدمی نے کہاکہ مجھ کوبھی دریاکے پارکردیجئےتب ان بزرگ کامل نے کہا "تم میرے پیچھے یاجنید یاجنیدکہتے چلو اور میں اﷲ اﷲ کہتاچلوں گا" درمیان میں وہ آدمی بھی اﷲ اﷲ کہنے لگا تب وہ ڈوبنے لگااس وقت ان بزرگ نے کہا کہ تو اﷲ اﷲ مت کہہ یاجنیدیاجنیدکہہتب اس آدمی نے یاجنیدیاجنیدکہاجب وہ نہیں ڈوبا۔یہ درست ہے یانہیں اوربزرگ کامل کے لئے کیاحکم ہے اورآدمی کے لئے کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ غلط ہے کہ سفرمیں دریا ملابلکہ دجلہ ہی کے پارجاناتھااوریہ بھی زیادہ ہے کہ میں اﷲ اﷲ کہتاچلوں گااوریہ محض افتراہے کہ انہوں نے فرمایا تواﷲ اﷲ مت کہہ۔یاجنیدکہنا خصوصا حیات دنیاوی میں خصوصا جبکہ پیش نظرموجودہیں اسے کون منع کر سکتاہے کہ آدمی کاحکم پوچھاجائے اورحضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ کے لئے حکم پوچھنا کمال بے ادبی وگستاخی ودریدہ دہنی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۹ /۵۷
مسئلہ ۲۴۶: ازسہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سیدپرورش علی صاحب ۲۸شوال ۱۳۳۹ھ
بخدمت جناب فیض درجت خدام ذوی الاحتشام حضرت نعمان الزمان مولانا وبالفضل اولینا مولوی احمدرضاخاں صاحب دامت شموس افاداتہ بازغہ معروض باد۔معراج میں ایك قطار اونٹوں کی کہ ہرایك پردوصندوقہرصندوق میں انڈے بھرے ہر انڈے میں ایك عالم مثل اس عالم کےاس قطار کوحضرت جبرئیل علیہ السلام نے رواں ہی دیکھا ابتداء انتہانہیں دیکھیحضرت کی درخواست پرمنظورہوکر اجازت دی اورانڈا کھولاگیاحضرت ایك شہرکی ایك مسجدمیں تشریف لے گئے وہاں ایك واعظ حضرت خاتم النبیین کاذکرفرماتے تھے واعظ نے یہ بھی کہاکہ حضرت اس جہاں میں ایك بارتشریف لائیں گےسراٹھاکر دیکھا اورقدمبوسی کی۔اس سے معلوم ہواکہ عالم تو بے شمار مگرخاتم ایك ہی ہے۔یہ روایت کس کتاب میں ہے بینواتوجروا
الجواب:
روایت بعض کتب تصوف میں ہےحدیث میں اس کی کچھ اصل نہیںاورہوتو وہ عالم مثال کی تصویریں ہیں۔
قال اﷲ تعالی"و ان من شیء الا عندنا خزائنہ ۫ و ما ننزلہ الا بقدر معلوم ﴿۲۱﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورکوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوںہم اسے نہیں اتارتے مگرایك معلوم اندازے سے۔(ت)
مسئلہ ۲۴۷: ازوزیرآباد محلہ لکڑمنڈی ضلع گوجرانوالہ مسئولہ نظام الدین عثمانی ۱۲شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سیدعبدالقادرجیلانی رحمۃ اﷲ علیہ سیدنہیں اورنہ حسن مثنی کی اولادمیں ہیں۔مہربانی فرماکر کتب معتبرہ شیعہ وسنی سے نقل عبارت مع صفحہ ونام کتاب تحریرفرمائیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ یقینا قطعا اجل سادات کرام سے ہیںحضورکی سیادت متواترہےحضرت سیدی امام اوحد ابوالحسن لخمی قدس سرہ کی بہجۃ الاسرار شریف
بخدمت جناب فیض درجت خدام ذوی الاحتشام حضرت نعمان الزمان مولانا وبالفضل اولینا مولوی احمدرضاخاں صاحب دامت شموس افاداتہ بازغہ معروض باد۔معراج میں ایك قطار اونٹوں کی کہ ہرایك پردوصندوقہرصندوق میں انڈے بھرے ہر انڈے میں ایك عالم مثل اس عالم کےاس قطار کوحضرت جبرئیل علیہ السلام نے رواں ہی دیکھا ابتداء انتہانہیں دیکھیحضرت کی درخواست پرمنظورہوکر اجازت دی اورانڈا کھولاگیاحضرت ایك شہرکی ایك مسجدمیں تشریف لے گئے وہاں ایك واعظ حضرت خاتم النبیین کاذکرفرماتے تھے واعظ نے یہ بھی کہاکہ حضرت اس جہاں میں ایك بارتشریف لائیں گےسراٹھاکر دیکھا اورقدمبوسی کی۔اس سے معلوم ہواکہ عالم تو بے شمار مگرخاتم ایك ہی ہے۔یہ روایت کس کتاب میں ہے بینواتوجروا
الجواب:
روایت بعض کتب تصوف میں ہےحدیث میں اس کی کچھ اصل نہیںاورہوتو وہ عالم مثال کی تصویریں ہیں۔
قال اﷲ تعالی"و ان من شیء الا عندنا خزائنہ ۫ و ما ننزلہ الا بقدر معلوم ﴿۲۱﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورکوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوںہم اسے نہیں اتارتے مگرایك معلوم اندازے سے۔(ت)
مسئلہ ۲۴۷: ازوزیرآباد محلہ لکڑمنڈی ضلع گوجرانوالہ مسئولہ نظام الدین عثمانی ۱۲شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سیدعبدالقادرجیلانی رحمۃ اﷲ علیہ سیدنہیں اورنہ حسن مثنی کی اولادمیں ہیں۔مہربانی فرماکر کتب معتبرہ شیعہ وسنی سے نقل عبارت مع صفحہ ونام کتاب تحریرفرمائیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
سیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ یقینا قطعا اجل سادات کرام سے ہیںحضورکی سیادت متواترہےحضرت سیدی امام اوحد ابوالحسن لخمی قدس سرہ کی بہجۃ الاسرار شریف
اورامام جلیل عبداﷲ بن اسعد یافعی شافعی کی اسنی المفاخر وعلامہ علی قاری کی نزہۃ النواظر اورمولینا نورالدین جامی کی نفحات الانس اورشیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی کی زبدۃ الآثار وغیرہم اجلہ اکابر کی معتمدات اسفارملاحظہ ہوں۔فقیر بوجہ علالت تبدیل ہواکے لئے پہاڑ پرآیاہواہے ورنہ کتابوں کے حوالے اورصفحات کے نشان لکھتا۔رافضیوں کی کتابیں میرے کتب خانہ میں نہیںنہ مسلمانوں کو ان کی بات پرکان رکھناجائزمیں رسالہ ردالرفضہ میں کتب معتمدہ کثیرہ ودلائل قاطعہ منیرہ سے ثابت کرچکاہوں کہ روافض زمانہ سب کفارمرتدین ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دوررہو اورانہیں اپنے سے دورکرو کہیں وہ تمہیں بہکانہ دیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالدیں۔(ت)
رافضیوں کے یہاں تومعیارسیادت رفض ہےسنی کیسا ہو جلیل القدرسیدہو اسے ہرگزسیدنہ مانیں گے اورکوئی کیساہی رذیل ذلیل قوم کاآج رافضی ہوجائے کل سے میرصاحب ہے "و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پرپلٹاکھائیں گے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دوررہو اورانہیں اپنے سے دورکرو کہیں وہ تمہیں بہکانہ دیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالدیں۔(ت)
رافضیوں کے یہاں تومعیارسیادت رفض ہےسنی کیسا ہو جلیل القدرسیدہو اسے ہرگزسیدنہ مانیں گے اورکوئی کیساہی رذیل ذلیل قوم کاآج رافضی ہوجائے کل سے میرصاحب ہے "و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پرپلٹاکھائیں گے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
حوالہ / References
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
رسالہ
جمع القران وبم عزوہ لعثمان ۱۳۲۲ھ
(قرآن کوجمع کرنا اور اس کی نسبت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف کیوں کرتے ہیں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۲۴۸: ازشہرکہنہ بریلی ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امرمیں کہ قرآن شریف حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جمع کیا تھا یاان سے پہلے بھی کسی نے جمع کیا اوریہ جوسناجاتاہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے جمع کیااوران کاجمع کیا ہوا مدفون کردیاگیایہ سچ ہے یاغلطبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قرآن عظیم کی جمع وترتیب آیات وتکمیل وتفصیل سور زمانہ اقدس حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم میں بامرالہی حسب بیان جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم وارشاد وتعلیم حضورسیدالمرسلین واقع ہوئی تھیمگرقرآن عظیم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے
جمع القران وبم عزوہ لعثمان ۱۳۲۲ھ
(قرآن کوجمع کرنا اور اس کی نسبت حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کی طرف کیوں کرتے ہیں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۲۴۸: ازشہرکہنہ بریلی ۱۳ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امرمیں کہ قرآن شریف حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جمع کیا تھا یاان سے پہلے بھی کسی نے جمع کیا اوریہ جوسناجاتاہے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے جمع کیااوران کاجمع کیا ہوا مدفون کردیاگیایہ سچ ہے یاغلطبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قرآن عظیم کی جمع وترتیب آیات وتکمیل وتفصیل سور زمانہ اقدس حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ علیہ وسلم میں بامرالہی حسب بیان جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم وارشاد وتعلیم حضورسیدالمرسلین واقع ہوئی تھیمگرقرآن عظیم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے
سینوں اورمتفرق کاغذوںپتھرکی تختیوںبکریدنبے کی پوستوںشانوںپسلیوں وغیرہا میں تھا ایك جگہ ساراقرآن عظیم مجموع نہ تھا۔جب جنگ یمامہ میں کہ مسیلمہ کذاب ملعون مدعی نبوت سے زمانہ حضرت صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ میں ہوئی صدہا صحابہ کرام حفاظ قرآن نے شہادت پائیامیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے دل الہام منزل میں حق جل وعلانے القاءکیاکہ حضرت خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرہوکر گزارش کی کہ اس لڑائی میں بہت صحابہ جن کے سینوں میں قرآن عظیم تھا شہیدہوئے۔یونہی جہادوں میں حفاظ صحابہ شہیدہوتے گئے اورقرآن عظیم متفرق رہاتوبہت قرآن جاتے رہنے کااندیشہ ہے میری رائے میں حکم دیجئے کہ قرآن عظیم کی سب سورتیں یکجاکرلی جائیں۔خلیفہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی رائے پسندفرمائی اورحضرت زیدبن ثابت وغیرہ حفاظ صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کواس امرجلیل کاحکم دیاکہ بحمداﷲ تعالی ساراقرآن عظیم یکجاہوگیاہرسورت ایك جدا صحیفے میں تھیوہ صحیفے تاحیات صدیقی حضرت خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورا ن کے بعد حضرت امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم اوران کے بعد حضرت ام المومنین حفصہ بنت الفاروق زوجہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہم وسلم کے پاس رہے۔عرب میں ہرقوم و قبیلہ کی زبان بعض الفاظ کے تلفظ میں مختلف تھیمثلا حرف تعریف میں کوئی الف لام کہتاتھا کوئی الف میم کہ اسی لغت پر حدیث:
لیس من امبر الصیام فی امسفر ۔ سفرمیں روزہ رکھناکوئی نیکی نہیں ہے۔(ت)
واردہے علامات مضارع حروف "اتین" کوکوئی مفتوح پڑھاتاتھاکوئی مکسورمامشبہہ بلیس کی خبرکوکوئی منصوب کرتاکوئی مرفوعان و ان وغیرہما کے اسم کوکوئی نصب دیتاکوئی رفع پررکھتابعض قبائل ہرجگہ(ب)کو(م)بولتے(م)کو(ب)تاء رحمۃ ونحوہا کوئی حالت وقفی میں کوئی(ہ)کہتاکوئی(ت)منصوب منون پرکوئی الف سے وقف کرتاکوئی صرف سکون سےبعض مرفوع ومجرور پربھی واو ویا سے وقف کرتے۔بعض قومیں حروف مدہ حرکات موافقہ پرقناعت کرتیں اعوذ کو اعذتعالی کو تعال وغیر ذلك کہتیں۔اسی قسم کے بہت سے تفاوت لہجہ وطرزاداتھےقرآن عظیم خاص لغت قریش پراتراتھا کہ صاحب قرآن صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قریشی تھے
گلبن توکہ زگلزارقریشی گل کرد زان سبب آمدہ قرآن بزبان قرشی
لیس من امبر الصیام فی امسفر ۔ سفرمیں روزہ رکھناکوئی نیکی نہیں ہے۔(ت)
واردہے علامات مضارع حروف "اتین" کوکوئی مفتوح پڑھاتاتھاکوئی مکسورمامشبہہ بلیس کی خبرکوکوئی منصوب کرتاکوئی مرفوعان و ان وغیرہما کے اسم کوکوئی نصب دیتاکوئی رفع پررکھتابعض قبائل ہرجگہ(ب)کو(م)بولتے(م)کو(ب)تاء رحمۃ ونحوہا کوئی حالت وقفی میں کوئی(ہ)کہتاکوئی(ت)منصوب منون پرکوئی الف سے وقف کرتاکوئی صرف سکون سےبعض مرفوع ومجرور پربھی واو ویا سے وقف کرتے۔بعض قومیں حروف مدہ حرکات موافقہ پرقناعت کرتیں اعوذ کو اعذتعالی کو تعال وغیر ذلك کہتیں۔اسی قسم کے بہت سے تفاوت لہجہ وطرزاداتھےقرآن عظیم خاص لغت قریش پراتراتھا کہ صاحب قرآن صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قریشی تھے
گلبن توکہ زگلزارقریشی گل کرد زان سبب آمدہ قرآن بزبان قرشی
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب الصیام باب الصیام فی السفر ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۳۸۵
(آپ کاشجرہ گلاب چونکہ قریش کے باغ سے ظاہرہوااسی سبب سے قرآن مجید قریش کی لغت پرآیا۔ت)
زمانہ اقدس حضورپرنورصلوات اﷲ وسلامہ علیہ میں کہ قرآن عظیم نیانیا اتراتھا اورہرقوم وقبیلہ کواپنے مادری لہجہ قدیمی عادات کادفعۃ بدل دینا دشوارتھا آسانی فرمائی گئی تھی کہ ہرقوم عرب اپنے طرزولہجہ میں قرأت قرآن عظیم کرےزمانہ نبوت کے بعد شدہ شدہ اقوام مختلفہ سے بعض بعض لوگوں کے ذہن میں جم گیا جس لہجہ ولغت میں پڑھتے ہیں اس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے یہاں تك کہ زمانہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ میں بعض لوگوں کواس بات پرباہم جنگ وجدل وزدوکوب کی نوبت پہنچی یہ کہتاتھا قرآن اس لہجہ میں ہے وہ کہتاتھانہیں بلکہ اس دوسرے میں ہےہرایك اپنے لغت پردعوی کرتاتھا جب یہ خبرامیرالمومنین عثمان غنی کوپہنچی فرمایا ابھی سے تم میں یہ اختلاف پیداہواتوآئندہ کیاامیدہے۔لہذا حسب مشورہ امیر المومنین سیدنا علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ الکریم ودیگر اعیان صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم یہ اقرار پایاکہ اب ہرقوم کواس کے لب و لہجہ کی اجازت میں مصلحت نہ رہی بلکہ فتنہ اٹھتاہے لہذاتمام امت کو خاص لغت قریش پرجس میں قرآن عظیم نازل ہواہے جمع کردینا اورباقی لغات سے بازرکھنا چاہئےصحیفہائے خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ حضرت ام المومنین بنت الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کے پاس محفوظ ہیں منگاکر ان کی نقلیں لے کرتمام سورتیں ایك مصحف میں جمع کریں اوروہ مصاحف بلاداسلام میں بھیج دیں کہ سب اسی لہجہ کااتباع کریں اس کے خلاف اپنے اپنے طرزادا کے مطابق جوصحائف یامصاحف بعض لوگوں نے لکھے ہیں دفع فتنہ کے لئے تلف کردئیے جائیںاسی رائے صائب کی بناء پرامیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ نےحضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنھا سے کہلا بھیجا کہ صحیفہائے صدیقی بھیج دیجئےامیرالمومنین نے زیدبن ثابت و عبداﷲ بن زبیروسعیدبن عاص وعبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالی عنہم کونقلیں کرنے کاحکم دیاوہ نقلیں مکہ معظمہ وشام ویمن و بحرین وبصرہ وکوفہ کوبھیجی گئیں اورایك مدینہ طیبہ میں رہی اوراصل صحیفے جمع فرمودہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ جس سے یہ نقلیں ہوئی تھیں حضرت ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہاکوواپس دئیے ان کی نسبت معاذاﷲ دفن کرنے یاکسی طرح تلف کرادینے کابیان محض جھوٹ ہے وہ مبارك صحیفے خلافت عثمانی پھرخلافت مرتضوی پھرخلافت امام حسن پھرخلافت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم تك بعینہا محفوظ تھے یہاں تك کہ مروان نے لے کرچاك کردئیے۔ بالجملہ اصل جمع قرآن تو بحکم رب العزۃ
زمانہ اقدس حضورپرنورصلوات اﷲ وسلامہ علیہ میں کہ قرآن عظیم نیانیا اتراتھا اورہرقوم وقبیلہ کواپنے مادری لہجہ قدیمی عادات کادفعۃ بدل دینا دشوارتھا آسانی فرمائی گئی تھی کہ ہرقوم عرب اپنے طرزولہجہ میں قرأت قرآن عظیم کرےزمانہ نبوت کے بعد شدہ شدہ اقوام مختلفہ سے بعض بعض لوگوں کے ذہن میں جم گیا جس لہجہ ولغت میں پڑھتے ہیں اس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے یہاں تك کہ زمانہ امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ میں بعض لوگوں کواس بات پرباہم جنگ وجدل وزدوکوب کی نوبت پہنچی یہ کہتاتھا قرآن اس لہجہ میں ہے وہ کہتاتھانہیں بلکہ اس دوسرے میں ہےہرایك اپنے لغت پردعوی کرتاتھا جب یہ خبرامیرالمومنین عثمان غنی کوپہنچی فرمایا ابھی سے تم میں یہ اختلاف پیداہواتوآئندہ کیاامیدہے۔لہذا حسب مشورہ امیر المومنین سیدنا علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ الکریم ودیگر اعیان صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم یہ اقرار پایاکہ اب ہرقوم کواس کے لب و لہجہ کی اجازت میں مصلحت نہ رہی بلکہ فتنہ اٹھتاہے لہذاتمام امت کو خاص لغت قریش پرجس میں قرآن عظیم نازل ہواہے جمع کردینا اورباقی لغات سے بازرکھنا چاہئےصحیفہائے خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ حضرت ام المومنین بنت الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کے پاس محفوظ ہیں منگاکر ان کی نقلیں لے کرتمام سورتیں ایك مصحف میں جمع کریں اوروہ مصاحف بلاداسلام میں بھیج دیں کہ سب اسی لہجہ کااتباع کریں اس کے خلاف اپنے اپنے طرزادا کے مطابق جوصحائف یامصاحف بعض لوگوں نے لکھے ہیں دفع فتنہ کے لئے تلف کردئیے جائیںاسی رائے صائب کی بناء پرامیرالمومنین رضی اﷲ تعالی عنہ نےحضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنھا سے کہلا بھیجا کہ صحیفہائے صدیقی بھیج دیجئےامیرالمومنین نے زیدبن ثابت و عبداﷲ بن زبیروسعیدبن عاص وعبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالی عنہم کونقلیں کرنے کاحکم دیاوہ نقلیں مکہ معظمہ وشام ویمن و بحرین وبصرہ وکوفہ کوبھیجی گئیں اورایك مدینہ طیبہ میں رہی اوراصل صحیفے جمع فرمودہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ جس سے یہ نقلیں ہوئی تھیں حضرت ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہاکوواپس دئیے ان کی نسبت معاذاﷲ دفن کرنے یاکسی طرح تلف کرادینے کابیان محض جھوٹ ہے وہ مبارك صحیفے خلافت عثمانی پھرخلافت مرتضوی پھرخلافت امام حسن پھرخلافت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم تك بعینہا محفوظ تھے یہاں تك کہ مروان نے لے کرچاك کردئیے۔ بالجملہ اصل جمع قرآن تو بحکم رب العزۃ
حسب ارشاد حضور پرنور سید الاسیاد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہو لیا تھا سب سور کا یکجا کرنا باقی تھا امیرالمومنین صدیق اکبر نے بمشورہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنھما کیا پھر اسی جمع فرمودہ صدیقی کی نقلوں سے مصاحف بنا کر امیر المومنین عثمان غنی نے بمشورہ امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنھما بلاد اسلام میں شائع کئے اور تمام امت کو اصل لہجہ قریش پر مجتمع ہونےکی ہدایت فرمائی اسی وجہ سے وہ جناب جامع القرآن کہلائے ورنہ حقیقۃ جامع القرآن رب العزۃ تعالی شانہ ہےکما قال عز من قائل:
"ان علینا جمعہ و قرانہ ﴿۱۷﴾"۔ بےشك اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔(ت)
اوربنظر ظاہر حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ایك جگہ اجتماع کے لحاظ سے سب میں پہلے جامع القرآن حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہحاکم مستدرك میں بشرط بخاری ومسلم حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نؤلف القران من الرقاع یعنی ہم زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں قرآن پارچوں میں جمع کرتے تھے۔
امام جلال الدین سیوطی اتقان شریف میں فرماتے ہیں:
قد کان القران کتب کلہ فی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکن غیر مجموع فی موضع واحد ولا مرتب السور ۔ سارا قرآن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عہد اقدس میں لکھا گیا تھا لیکن وہ ایك جگہ جمع نہیں تھا اور سورتیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔(ت)
صحیح بخاری شریف میں انھیں سے مروی:
قال ارسل الی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمر بن الخطاب حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت ابوبکرصدیق
"ان علینا جمعہ و قرانہ ﴿۱۷﴾"۔ بےشك اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔(ت)
اوربنظر ظاہر حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ایك جگہ اجتماع کے لحاظ سے سب میں پہلے جامع القرآن حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہحاکم مستدرك میں بشرط بخاری ومسلم حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نؤلف القران من الرقاع یعنی ہم زمانہ اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں قرآن پارچوں میں جمع کرتے تھے۔
امام جلال الدین سیوطی اتقان شریف میں فرماتے ہیں:
قد کان القران کتب کلہ فی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکن غیر مجموع فی موضع واحد ولا مرتب السور ۔ سارا قرآن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عہد اقدس میں لکھا گیا تھا لیکن وہ ایك جگہ جمع نہیں تھا اور سورتیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔(ت)
صحیح بخاری شریف میں انھیں سے مروی:
قال ارسل الی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمر بن الخطاب حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت ابوبکرصدیق
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۵ /۱۷
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر جمع القرآن لم یکن مرۃ واحدۃ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۲۹
الاتقان النوع الثامن عشرفی جمعہ و ترتیبہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۷
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر جمع القرآن لم یکن مرۃ واحدۃ دارالفکر بیروت ۲/ ۲۲۹
الاتقان النوع الثامن عشرفی جمعہ و ترتیبہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۷
عندہ فقال ابوبکر ان عمر افانی فقال ان القتل قداستحر یوم الیمامۃ بقراء القران وانی اخشی ان یستحر القتل بقراء بالمواطن فیذھب کثیر من القران وانی اری ان تامر بجمع القران قال زید قال ابوبکر انك رجل شاب عاقل لا نتھمك وقد کنت تکتب الوحی لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فتتبع القران فاجمعہ فتتبعت القران اجمعہ من العسب واللخاف وصدور الرجالفکانت الصحف عند ابی بکر حتی توفاہ اﷲ ثم عند عمر حیاتہ ثم عند حفصۃ بنت عمر ھذا مختصرا۔ رضی اﷲ تعالی عنہ نے مجھے بلوایامیں حاضر ہو ا تو دیکھا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بھی وہاں موجودتھےابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میرے پاس حضرت عمر آئے ہیں اور کہاہے کہ جنگ یمامہ میں بہت سےقراء قرآن شہیدہوئے ہیںمجھے خوف ہے کہ اگرجنگوں میں قراء کثرت سے سے شہیدہوتےرہے توقرآن مجید کابہت سا حصہ ضائع ہوجائے گا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کاحکم دیںحضرت زید نے کہاحضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے مجھے فرمایا تم ایك نوجوان عقلمند مرد ہو ہم آپ کو کسی معاملے میں تہمت نہیں لگاتے اور آپ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وحی لکھاکرتے تھے پس قرآن مجید تلاش کرو اور اس کوجمع کردوچنانچہ میں نے قرآن مجید کو ڈھونڈا اور اس کو کھجور کے پٹھوںپتھرکی سلوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرتا تھاوہ صحیفے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی وفات تك ان کے پاس رہے پھر حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کےپاس رہے آپ کے وصال کے بعد سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اﷲ تعالی عنھا کے پاس موجود رہے(اختصار)۔(ت)
اس حدیث طویل کاخلاصہ وہی ہے کہ بعد جنگ یمامہ فاروق نے صدیق کو جمع قرآن کا مشورہ اور صدیق نے زید بن ثابت کو اس کا حکم دیا کہ متفرق پرچوں سے سب سورتیں یکجا ہو کر صدیق پھر عمر فاروق پھر ام المومنین کے پاس رہیں رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین۔امیر المومنین سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
اعظم الناس فی المصاحف اجرا ابوبکر مصاحف میں سب سے زیادہ ثوا ب ابوبکر کا
اس حدیث طویل کاخلاصہ وہی ہے کہ بعد جنگ یمامہ فاروق نے صدیق کو جمع قرآن کا مشورہ اور صدیق نے زید بن ثابت کو اس کا حکم دیا کہ متفرق پرچوں سے سب سورتیں یکجا ہو کر صدیق پھر عمر فاروق پھر ام المومنین کے پاس رہیں رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین۔امیر المومنین سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
اعظم الناس فی المصاحف اجرا ابوبکر مصاحف میں سب سے زیادہ ثوا ب ابوبکر کا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۶،۷۴۵
رحمۃ اﷲ علی ابی بکرھو اول من جمع کتاب اﷲرواہ ابن ابی داؤد المصاحف بسند حسن عن عبد خیر قال سمعت علیا یقول فذکرہ۔ ہے اﷲ ابوبکرپررحمت کرے سب سے پہلے انہیں نے قرآن جمع کیا۔(اس کو ابن ابی داؤد نے مصاحف میں سندحسن کے ساتھ عبدخیرسے روایت کیاانہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو فرماتے سناپھروہی حدیث ذکرکی۔ت)
امام اجل عارف باﷲ محاسبی رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب فہم السنن میں فرماتے ہیں:
کتابۃ القران لیست بمحدثۃ فانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یأمر بکتابتہ ولکنہ کان مفرقا فی الرقاع والاکتاف والعسب فانما امرالصدیق بنسخھا من مکان الی مکان مجتمعا وکان ذلك بمنزلۃ اوراق وجدت فی بیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیھا القران منتشر فجمعھا جامع وربطھا بخیط حتی لایضیع منھا شیئ۔نقلہ فی الاتقان ۔ یعنی قرآن کالکھنا کوئی نیاکام نہیں یہ توزمانہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بحکم اقدس ہوچکاتھا مگرمتفرق تھا پارچوںشانے کی ہڈیوں اورکھجور کے پٹھوں پرلکھاہواتھا صدیق نے یکجا کردیاتو گویا کہ یہ ایساہوا کہ قرآن کے اوراق جو حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کاشانہ مبارك میں منتشرتھے وہ جمع کرنے والے نے ایك ڈورے میں باندھ دئیے تاکہ اس میں سے کوئی شے ضائع نہ ہو۔(اس کواتقان میں نقل کیا۔ت)
صحیح بخاری شریف میں ہے:
حدثنا موسی ثناابراھیم ثنابن شھاب ان انس بن مالك حدثہ ان حذیفۃ بن الیمان قدم علی عثمن وکان یغازی اھل الشام فی فتح ارمینیۃ ہمیں موسی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں ابراہیم نے انہوں نے کہا ہمیں ابن شہاب نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالی عنہ
امام اجل عارف باﷲ محاسبی رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب فہم السنن میں فرماتے ہیں:
کتابۃ القران لیست بمحدثۃ فانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یأمر بکتابتہ ولکنہ کان مفرقا فی الرقاع والاکتاف والعسب فانما امرالصدیق بنسخھا من مکان الی مکان مجتمعا وکان ذلك بمنزلۃ اوراق وجدت فی بیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیھا القران منتشر فجمعھا جامع وربطھا بخیط حتی لایضیع منھا شیئ۔نقلہ فی الاتقان ۔ یعنی قرآن کالکھنا کوئی نیاکام نہیں یہ توزمانہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں بحکم اقدس ہوچکاتھا مگرمتفرق تھا پارچوںشانے کی ہڈیوں اورکھجور کے پٹھوں پرلکھاہواتھا صدیق نے یکجا کردیاتو گویا کہ یہ ایساہوا کہ قرآن کے اوراق جو حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کاشانہ مبارك میں منتشرتھے وہ جمع کرنے والے نے ایك ڈورے میں باندھ دئیے تاکہ اس میں سے کوئی شے ضائع نہ ہو۔(اس کواتقان میں نقل کیا۔ت)
صحیح بخاری شریف میں ہے:
حدثنا موسی ثناابراھیم ثنابن شھاب ان انس بن مالك حدثہ ان حذیفۃ بن الیمان قدم علی عثمن وکان یغازی اھل الشام فی فتح ارمینیۃ ہمیں موسی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں ابراہیم نے انہوں نے کہا ہمیں ابن شہاب نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References
الاتقان بحوالہ ابن ابی داؤد فی المصاحف النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۷
الاتقان بحوالہ الحارث المحاسبی فی کتاب فہم السنن النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۸
الاتقان بحوالہ الحارث المحاسبی فی کتاب فہم السنن النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۸
واذربیجان مع اھل العراق فافزع حذیفۃ اختلافھم فی القرأۃ فقال حذیفۃ لعثمان یاامیر المؤمنین ادرك ھذہ الامۃ قبل ان یختلفوا فی الکتاب اختلاف الیھود والنصاری فارسل عثمن الی حفصۃ رضی اﷲ تعالی عنھا ان ارسلی الینا بالصحف ننسخھا فی المصاحف ثم نردھا الیك فارسلت بھا حفصۃ الی عثمن فامر زید بن ثابت وعبداﷲ بن زبیربن وسعید بن العاص وعبد الرحمن بن الحارث بن ھشام فنسخوھا فی المصاحف و قال عثمن للرھط القرشیین الثلثۃ اذا اختلفتم انتم وزید بن ثابت فی شیئ من القران فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانھم ففعلوا حتی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف رد عثمن الصحف الی حفصۃ و ارسل الی کل افق بمصحف مما نسخوا وامر بماسواہ من القران فی کل صحیفۃ او مصحف ان یحرق ۔ سیدنا حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ اہل شام اوراہل عراق کوآرمینیہ اورآذربیجان کے ساتھ جنگ کرنے اور ان کوفتح کرنے کے لئے لشکرتیار کررہے تھے حذیفہ کو اہل شام اوراہل عراق کے قرآن پڑھنے کے اختلاف نے گھبراہٹ میں ڈال دیاتو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہا اے امیرالمومنین! اس امت کو یہود ونصاری کی طرح کتاب اﷲ میں اختلاف کرنے سے روکیںحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے کسی کو ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس بھیجاکہ وہ صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم ان کومصحف میں لکھ کرپھر آپ کو واپس کردیں گے۔ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہانے صحیفے امیرالمومنین کے پاس بھیج دئیے توانہوں نے زیدبن ثابتعبداﷲ بن زبیرسعیدبن عاص اور عبد الرحمن بن حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالی عنہم کوحکم دیا انہوں نے اس کو مصاحف میں لکھ دیا۔حضرت عثمان غنی
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۶
رضی اﷲ تعالی عنہ نے تینوں قریشیوں کوحکم دیا کہ جب تمہارا اور زیدبن ثابت کاقرآن مجید کے کسی کلمے میں اختلاف ہوجائے تو اس کو لغت قریش کے مطابق لکھو کیونکہ قرآن مجید صرف لغت قریش پرنازل ہوا۔انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے حکم کی تعمیل کی حتی کہ جب انہوں نے صحیفوں کومصاحف میں لکھ دیا توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے وہ صحیفے ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہا کوواپس بھیج دئیےاور ملك کے ہرکونے میں ایك مصحف بھیج دیا جوانہوں نے لکھاتھا اورحکم دیااس کے سواجوقرآن کسی صحیفہ یامصحف میں ہے اس کوجلادیاجائے۔(ت)
دیکھو یہ حدیث صحیح بخاری صاف گواہ عدل ہے کہ امیرالمومنین عثمان غنی نے اختلاف لہجہ ولغات سن کر صحیفہائے صدیقی حضرت حفصہ سے منگائے اورانہیں کی نقلوں سے مصحف بناکر بلاداسلام میں بھیجے اور وہ صحیفے بعد نقل حضرت ام المومنین کوواپس دئیے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ابن اشتہ کتاب المصاحف میں راوی:
اختلفوا فی القراءۃ علی عھد عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ حتی اقتتل الغلمان والمعلمون فبلغ ذلك عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فقال عندی تکذبون بہ وتلحنون فیہفمن نأی عنی کان اشد تکذیبا واکثر لحنا یا اصحاب محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجتمعوا فاکتبوا للناس اماما فاجتمعوا فکتبوا الحدیث رواہ من طریق ایوب عن ابی قلابۃ قال حدثنی رجل من بنی عامر یقال لہ انس بن مالک فذکرہ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے عہد میں لوگوں میں قرآن مجید کے اندراس قدر اختلاف پڑگیا جس کی وجہ سے پڑھنے والے بچوں اورپڑھانے والے اساتذہ میں لڑائی ہونے لگیحضرت عثمان غنی رضی اﷲتعالی عنہ کوخبرپہنچی توانہوں نے فرمایا کہ تم میرے سامنے قرآن کو جھٹلاتے اوراس میں غلطی کرتے ہو توجومجھ سے دورہیں وہ اس سے بھی زیادہ جھٹلاتے اورغلطی کرتے ہوں گےاے اصحاب محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم! جمع ہوجاؤ اورلوگوں کے لئے ایك امام(قرآن) لکھو۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے جمع ہوکر قرآن لکھا۔اس حدیث کوابن اشتہ نے ایوب کے طریق پر ابوقلابہ سے روایت کیااس نے کہا مجھ سے بنی عامر کے ایك مرد نے بیان کیاجس کوانس بن مالك کہاجاتاہےپھروہی حدیث مذکورذکرکی۔(ت)
سیدنا مولاعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
دیکھو یہ حدیث صحیح بخاری صاف گواہ عدل ہے کہ امیرالمومنین عثمان غنی نے اختلاف لہجہ ولغات سن کر صحیفہائے صدیقی حضرت حفصہ سے منگائے اورانہیں کی نقلوں سے مصحف بناکر بلاداسلام میں بھیجے اور وہ صحیفے بعد نقل حضرت ام المومنین کوواپس دئیے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ابن اشتہ کتاب المصاحف میں راوی:
اختلفوا فی القراءۃ علی عھد عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ حتی اقتتل الغلمان والمعلمون فبلغ ذلك عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فقال عندی تکذبون بہ وتلحنون فیہفمن نأی عنی کان اشد تکذیبا واکثر لحنا یا اصحاب محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجتمعوا فاکتبوا للناس اماما فاجتمعوا فکتبوا الحدیث رواہ من طریق ایوب عن ابی قلابۃ قال حدثنی رجل من بنی عامر یقال لہ انس بن مالک فذکرہ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے عہد میں لوگوں میں قرآن مجید کے اندراس قدر اختلاف پڑگیا جس کی وجہ سے پڑھنے والے بچوں اورپڑھانے والے اساتذہ میں لڑائی ہونے لگیحضرت عثمان غنی رضی اﷲتعالی عنہ کوخبرپہنچی توانہوں نے فرمایا کہ تم میرے سامنے قرآن کو جھٹلاتے اوراس میں غلطی کرتے ہو توجومجھ سے دورہیں وہ اس سے بھی زیادہ جھٹلاتے اورغلطی کرتے ہوں گےاے اصحاب محمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم! جمع ہوجاؤ اورلوگوں کے لئے ایك امام(قرآن) لکھو۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے جمع ہوکر قرآن لکھا۔اس حدیث کوابن اشتہ نے ایوب کے طریق پر ابوقلابہ سے روایت کیااس نے کہا مجھ سے بنی عامر کے ایك مرد نے بیان کیاجس کوانس بن مالك کہاجاتاہےپھروہی حدیث مذکورذکرکی۔(ت)
سیدنا مولاعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
الاتقان بحوالہ ابن اشتہ النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۹
لاتقولوا فی عثمن الاخیرا فواﷲ مافعل فی المصاحف الامن ملأمنا قال ماتقولون فی ھذہ القراءۃ فقد بلغنی ان بعضھم یقول ان قراءتی خیرمن قرائتك وھذا یکادیکون کفرا قلنا فما تریقال اری ان یجمع الناس علی مصحف واحد فلاتکون فرقۃ ولااختلاف قلنا نعم مارأیت ۔رواہ ابوبکر بن ابی داؤد بسند صحیح عن سوید بن غفلۃ قال قال علی رضی اﷲ تعالی فذکرہ۔ یعنی عثمان کے حق میں سوائے کلمہ خیرکے کچھ نہ کہو خداکی قسم معاملہ مصاحف میں انہوں نے جوکچھ کیاہم سب کے مشورہ و اتفاق سے کیاانہوں نے ہم سے کہاکہ تم ان مختلف لہجوں میں کیا کہتے ہو مجھے خبرپہنچی ہے کہ کچھ لوگ اوروں سے کہتے ہیں میری قرأت تیری قرأت سے اچھی ہے اور یہ بات کفرکے قریب تك پہنچی ہوئی ہےہم نے کہا بھلاآپ کی کیارائے ہےفرمایامیری رائے یہ ہے کہ سب لوگوں کوایك مصحف پر جمع کردیں کہ پھرباہم نزاع واختلاف نہ ہوہم سب نے کہا آپ کی رائے بہت خوب ہے(اس کو ابوبکربن ابوداؤدنے سندصحیح کے ساتھ سویدبن غفلہ سے ذکرکیاکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایاپھرحدیث مذکورذکرکی۔ت)
اتقان میں ہے:
قال ابن التین وغیرہ الفرق بین جمع ابی بکر وجمع عثمن ان جمع ابی بکر کان لخشیۃ ان یذھب من القران شیئ بذھاب حملتہ لانہ لم یکن مجموعا فی موضع واحد فجمعہ فی صحائف مرتبا لایات سورہ علی ماوقفھم علیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وجمع عثمن ابن تین وغیرہ نے کہاکہ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ اور عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے قرآن جمع کرنے میں فرق یہ ہے کہ ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ کاجمع کرنا اس خوف سے تھاکہ قراء قرآن کی شہادت کے سبب سے قرآن کاکچھ ضائع نہ ہو جائے کیونکہ قرآن مجیدیکجانہ تھاچنانچہ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے قرآن مجید کوصحیفوں میں اس طرح جمع کردیاکہ ہر ایك سورت کی آیتیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بیان کے مطابق مرتب
اتقان میں ہے:
قال ابن التین وغیرہ الفرق بین جمع ابی بکر وجمع عثمن ان جمع ابی بکر کان لخشیۃ ان یذھب من القران شیئ بذھاب حملتہ لانہ لم یکن مجموعا فی موضع واحد فجمعہ فی صحائف مرتبا لایات سورہ علی ماوقفھم علیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وجمع عثمن ابن تین وغیرہ نے کہاکہ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ اور عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے قرآن جمع کرنے میں فرق یہ ہے کہ ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ کاجمع کرنا اس خوف سے تھاکہ قراء قرآن کی شہادت کے سبب سے قرآن کاکچھ ضائع نہ ہو جائے کیونکہ قرآن مجیدیکجانہ تھاچنانچہ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے قرآن مجید کوصحیفوں میں اس طرح جمع کردیاکہ ہر ایك سورت کی آیتیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بیان کے مطابق مرتب
حوالہ / References
الاتقان بحوالہ ابن اشۃ النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۹
کان لما کثرالاختلاف فی وجوہ القرأۃ حتی قرؤوہ بلغاتھم علی اتساع اللغات فادی ذلك بعضھم الی تخطئۃ بعض فخشی من تفاقم الامر فی ذلك فنسخ تلك الصحف فی مصحف واحد مرتبا لسورہ واقتصر من سائر اللغات علی لغۃ قریش محتجابانہ نزل بلغتھموان کان قدوسع فی قرأتہ بلغۃ غیرھم رفعا للحرج والمشقۃ فی ابتداء الامر فرأی ان الحاجۃ الی ذلك قد انتھت فاقتصر علی لغۃ واحدۃ ۔ کرکے درج فرمادیں۔حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس وقت قرآن مجید جمع فرمایا جب قرأت کی وجوہ میں بکثرت اختلاف واقع ہوا۔جبکہ عربوں نے وسیع لغات کی بناء پر اپنی اپنی زبانوں میں الگ الگ قرأت میں قرآن پڑھناشروع کردیا اورایك زبان والے دوسری زبان والوں کی قرأت کوغلط قرار دینے لگے توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کولوگوں کے درمیان معاملہ سے حد سے بڑھ جانے کاخوف محسوس ہوا اس لئے آپ نے تمام صحیفوں کوایك مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کردیا اورتمام لغات کوچھوڑکر صرف لغت قریش پراکتفاء کیا۔اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ قرآن مجید لغت قریش پرنازل ہوا اگرچہ حرج اورمشقت سے بچنے کے لئے شروع شروع غیرقریش کی لغات میں پڑھنے کی بھی اجازت تھیحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے سمجھا کہ اب اس کی حاجت نہیں رہی۔لہذاآپ نے ایك ہی لغت پرانحصار فرمایا۔(ت)
امام بدرالدین عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
کان ھذا سببا لجمع عثمن القران فی المصحفو الفرق بینہ وبین الصحف ان الصحف ھی الاوراق المحررۃ التی جمع فیھا القران فی عھد ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ وکانت سورا مفرقۃ کل سورۃ مرتبۃ بایاتھا علی حدۃلکن یہ تھا سبب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے مصحف میں قرآن جمع کرنے کا۔صحیفوں اورمصحف میں فرق یہ ہے کہ صحیفے وہ اوراق ہیں جن میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کے عہد مبارك میں قرآن مجید لکھاگیا تھا اس میں سورتیں الگ الگ تھیںہرسورت اپنی آیات کے ساتھ الگ مرتب تھی لیکن بعض کوبعض کے بعد
امام بدرالدین عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
کان ھذا سببا لجمع عثمن القران فی المصحفو الفرق بینہ وبین الصحف ان الصحف ھی الاوراق المحررۃ التی جمع فیھا القران فی عھد ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ وکانت سورا مفرقۃ کل سورۃ مرتبۃ بایاتھا علی حدۃلکن یہ تھا سبب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے مصحف میں قرآن جمع کرنے کا۔صحیفوں اورمصحف میں فرق یہ ہے کہ صحیفے وہ اوراق ہیں جن میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کے عہد مبارك میں قرآن مجید لکھاگیا تھا اس میں سورتیں الگ الگ تھیںہرسورت اپنی آیات کے ساتھ الگ مرتب تھی لیکن بعض کوبعض کے بعد
حوالہ / References
الاتقان النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۶۰۔۵۹
لم یرتب بعضھا اثربعض فلما نسخت و رتب بعضھا اثربعض صارت مصحفاولم یکن مصحفا الا فی عھد عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بالترتیب نہیں رکھاگیاتھاجب ان کو اس طرح لکھاگیا بعض سورتوں کوبعض کے بعد بالترتیب رکھاگیا تومصحف بن گیا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ کے عہدسے پہلے مصحف نہ تھا۔(ت)
عمدۃ القاری واتقان شریف میں ابوبکر بن ابی داؤد سے منقول:
قال سمعت اباحاتم السجستانی یقول کتب سبعۃ مصاحف فارسل الی مکۃ و الی الشام والی الیمن والی البحرین و الی البصرۃ والی الکوفۃ وحبس بالمدینۃ واحد ۔ اس نے کہامیں نے ابوحاتم سجستانی کوکہتے سناکہ حضرت عثمان نے سات مصحف تحریرفرمائے۔ایك مکہ مکرمہایك شام ایك یمنایك بحرینایك بصرہ اورایك کوفہ میں بھیج دیا جبکہ ایك مدینہ منورہ میں رکھ لیا۔(ت)
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
(حتی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف ردعثمن الصحف الی حفصۃ)فکانت عندھا حتی توفیت فاخذھا مروان حین کان امیرا علی المدینۃ من قبل معویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فامربھا فشققت وقال انما فعلت ھذا لانی خشیت ان طال بالناس زمان ان یرتاب فیھا مرتاب رواہ ابن ابی داؤد وغیرہ۔ یہاں تك کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں رکھ لئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہا کوواپس بھیج دئیےوہ وصال تك حضرت حفصہ کے پاس رہےپھرمروان امیرمعاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کاامیربنا تو اس نے ان کولے کر پھاڑدینے کا حکم دیا اورکہاکہ میں نے یہ اس لئے کیاہے کہ زیادہ عرصہ گزرجانے پرکوئی شك کرنے والا اس میں شك نہ کرے۔اس کو ابن ابی داؤد وغیرہ نے روایت کیاہے۔(ت)
عمدۃ القاری واتقان شریف میں ابوبکر بن ابی داؤد سے منقول:
قال سمعت اباحاتم السجستانی یقول کتب سبعۃ مصاحف فارسل الی مکۃ و الی الشام والی الیمن والی البحرین و الی البصرۃ والی الکوفۃ وحبس بالمدینۃ واحد ۔ اس نے کہامیں نے ابوحاتم سجستانی کوکہتے سناکہ حضرت عثمان نے سات مصحف تحریرفرمائے۔ایك مکہ مکرمہایك شام ایك یمنایك بحرینایك بصرہ اورایك کوفہ میں بھیج دیا جبکہ ایك مدینہ منورہ میں رکھ لیا۔(ت)
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
(حتی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف ردعثمن الصحف الی حفصۃ)فکانت عندھا حتی توفیت فاخذھا مروان حین کان امیرا علی المدینۃ من قبل معویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فامربھا فشققت وقال انما فعلت ھذا لانی خشیت ان طال بالناس زمان ان یرتاب فیھا مرتاب رواہ ابن ابی داؤد وغیرہ۔ یہاں تك کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں رکھ لئے تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہا کوواپس بھیج دئیےوہ وصال تك حضرت حفصہ کے پاس رہےپھرمروان امیرمعاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کاامیربنا تو اس نے ان کولے کر پھاڑدینے کا حکم دیا اورکہاکہ میں نے یہ اس لئے کیاہے کہ زیادہ عرصہ گزرجانے پرکوئی شك کرنے والا اس میں شك نہ کرے۔اس کو ابن ابی داؤد وغیرہ نے روایت کیاہے۔(ت)
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ۲۰/ ۱۸
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ۲۰/ ۱۸
ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن دارالکتا ب العربی بیروت ۷/ ۴۴۹
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ۲۰/ ۱۸
ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن دارالکتا ب العربی بیروت ۷/ ۴۴۹
اسی میں ہے:
کان التالیف فی الزمن النبوی والجمع فی المصحف فی زمن الصدیق والنسخ فی المصاحف فی زمن عثمن وقدکان القران کلہ مکتوبا فی عھدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکنہ غیر مجموع فی موضع واحد ولا مرتب السور ۔انتہی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ قرآن مجید کی تالیف عہدنبوی میں ہوئی۔صحیفوں میں جمع زمانہ صدیقی میں ہوا اورمصاحف میں اس کی کتابت زمانہ عثمانی میں ہوئی۔بے شك سارا قرآن مجیدنبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھاہواتھا لیکن وہ سارا یکجا لکھاہوانہیں تھا اورنہ ہی سورتیں ترتیب وارلکھی ہوئی تھیں۔(ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹: ازپٹنہ عظیم آباد ۲۲ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کوجامع قرآن مجید کس روسے کہتے ہیں اس کاجواب کتب احادیث وتواریخ سے تحریرفرمائیں۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قرآن عظیم کاجامع حقیقی اﷲ تعالی ہےقال جل وعلا:
"ان علینا جمعہ و قرانہ ﴿۱۷﴾" بے شك ہمارے ذمے ہے قرآن کاجمع کرنا اورپڑھنا۔
پھرجمع عزوجل کے مظہراول واتم واکمل حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوئے۔آیات قرآنیہ اسی ترتیب جمیل پرکہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے مطابق ترتیب لوح محفوظ حسب تبلیغ جبریل وتعلیم جلیل صاحب تنزیل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زمانہ اقدس میں اپنی اپنی سورتوں میں جمع ہولیںقرآن عظیم ۲۳برس میں حسب حاجت عبادت متفرق آیتیں ہوکر اتراکسی سورت کی کچھ آیات اترتیں پھر دوسری سورت کی آیتیں آتیں پھرسورت اولی کی نازل ہوتیںحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہربارارشاد فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت کی ہیں فلاں آیت کے بعد فلاں کے پہلے رکھی جائیں
کان التالیف فی الزمن النبوی والجمع فی المصحف فی زمن الصدیق والنسخ فی المصاحف فی زمن عثمن وقدکان القران کلہ مکتوبا فی عھدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکنہ غیر مجموع فی موضع واحد ولا مرتب السور ۔انتہی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ قرآن مجید کی تالیف عہدنبوی میں ہوئی۔صحیفوں میں جمع زمانہ صدیقی میں ہوا اورمصاحف میں اس کی کتابت زمانہ عثمانی میں ہوئی۔بے شك سارا قرآن مجیدنبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھاہواتھا لیکن وہ سارا یکجا لکھاہوانہیں تھا اورنہ ہی سورتیں ترتیب وارلکھی ہوئی تھیں۔(ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹: ازپٹنہ عظیم آباد ۲۲ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کوجامع قرآن مجید کس روسے کہتے ہیں اس کاجواب کتب احادیث وتواریخ سے تحریرفرمائیں۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قرآن عظیم کاجامع حقیقی اﷲ تعالی ہےقال جل وعلا:
"ان علینا جمعہ و قرانہ ﴿۱۷﴾" بے شك ہمارے ذمے ہے قرآن کاجمع کرنا اورپڑھنا۔
پھرجمع عزوجل کے مظہراول واتم واکمل حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوئے۔آیات قرآنیہ اسی ترتیب جمیل پرکہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے مطابق ترتیب لوح محفوظ حسب تبلیغ جبریل وتعلیم جلیل صاحب تنزیل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زمانہ اقدس میں اپنی اپنی سورتوں میں جمع ہولیںقرآن عظیم ۲۳برس میں حسب حاجت عبادت متفرق آیتیں ہوکر اتراکسی سورت کی کچھ آیات اترتیں پھر دوسری سورت کی آیتیں آتیں پھرسورت اولی کی نازل ہوتیںحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہربارارشاد فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت کی ہیں فلاں آیت کے بعد فلاں کے پہلے رکھی جائیں
حوالہ / References
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن دارالکتاب العربی بیروت ۷/ ۴۴۶
القرآن الکریم ۷۵ /۱۷
القرآن الکریم ۷۵ /۱۷
اسی طرح سورہ قرآنیہ منتظم ہوتیںاور حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پھر حضورسے سن کر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم اسی ترتیب پر اسے نمازوں تلاوتوں میں پڑھتےقرآن عظیم صرف ایك واحد لغت قریش پرنازل ہواعرب میں مختلف قبائل اوران کے لہجے باہم حرکات وسکنات وبعض اجزائے کلمات میں مختلف تھےعلامات مضارع کوقریش مفتوح رکھتے دیگربعض قبائل ا ت ن کو مکسور کرکے نعبد نستعین کہتےلغت قریش میں 'تابوت' آخرمیں تائے قرشت سے تھا دوسروں کے لغت میں 'تابوۃ' ہائے ہوز سے۔اسی قسم کے بالائی اختیارات بکثرت تھے جن سے معنی کلام بلکہ جوہرنظم کوبھی کوئی ضررنہ پہنچتااورمادری لہجہ زبانوں پرچڑھاہوادفعۃ بدل دینا سخت دشوار۔لہذا حضورپرنور رحمت مہدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب سے عرض کرکے دیگر قبائل والوں کے لئے ان کے لہجوں کی رخصت لے لی تھیجبریل امین علیہ التحیۃ والتسلیم ہررمضان مبارك میں جس قدر قرآن عظیم اب تك اترچکاہوتا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ اس کا دور کرتے جو سنت سنیہ اب تك بحمداﷲ تعالی حفاظ اہلسنت میں باقی ہے اورباقی رہے گی حتی یاتی امراﷲ وھم علی ذلک(یہاں تك کہ اﷲ تعالی کا امر آجائے گا اور وہ اس پرقائم ہوں گے۔ت)سال اخیرمیں حامل وحی علیہ الصلوۃ والسلام نے دوبارہ صرف اصل لغت قریش پر جس میں قرآن مجید نازل ہواتھا حضورپرنور صلی اﷲ تعالی علہ وسلم کے ساتھ دورکیا اور اس تکرار سے اشارہ ہواکہ وہ رخصت منسوخ اور اب صرف اسی لغت پر جس میں اصل نزول ہے استقرار امرہوا۔سور اگرچہ زمانہ اقدس میں مرتب ہوچکی تھیں مگریکجا مجتمع نہ تھیں متفرق پرچوںبکری کے شانوں وغیرہا میں متفرق جگہ تھیں سو ان مبارك سینوں کے جن میں سارا قرآن عظیم محفوظ تھا حال یہی تھا یہاں تك کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نظرعوام سے احتجاب فرمایاخلافت خلیفہ بر حق صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ میں جنگ یمامہ واقع ہوئی جس میں بکثرت صحابہ کرام حافظان قرآن شہید ہوئےحافظ حقیقی جامع ازلی جل جلالہ نے اپناوعدہ صادقہ"و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ " (اوربیشك ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ت) پورافرمانے کو پہلے یہ کریم داعیہ قلب کریم حضرت موافق الرائے بالوحی والکتاب سیدنا امیرالمومنین عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ میں ڈالا حضرت فاروق نے بارگاہ صدیقی میں عرض کی کہ جنگ یمامہ میں بہت حفاظ شہید ہوئے اورمیں ڈرتاہوں کہ یوں ہی قرآن متفرق پرچوں میں رہا اور حفاظ شہادت پاگئے تو بہت ساقرآن مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتارہے گا میری رائے ہے کہ حضرت جمع قرآن کاحکم فرمائیںصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کو ابتداء اس میں تامل ہوا کہ جو فعل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۵ /۹
حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا ہم کیونکرکریں۔فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کیاکہ اگرچہ حضورپر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا مگرو اﷲ وہ کام خیرکا ہے بالآخر رائے صدیق بھی موافق ہوئی اورزیدبن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ کوبلاکرفرمان خلافت نسبت جمع کتاب اﷲ صادرہوازیدرضی اﷲ تعالی عنہ کوبھی وہی شبہہ پیش کہ کیونکرکیجئے گا وہ کام جو حضورسیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے نہ کیا۔صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ نے وہ جواب دیاکہ اگرچہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا مگرواﷲ وہ کام خیرکاہےیہاں تك کہ صدیق وفاروق وزیدبن ثابت و جملہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے اجماع سے یہ مسئلہ طے ہوااورقرآن عظیم متفرق مواضع سے جمع کرلیاگیااوروہابیہ کایہ شبہہ جس پرآدھی وہابیت کادارومدارہے کہ جو فعل حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا دوسراکیا ان سے زیادہ مصالح دین جانتاہے کہ اسے کرے گا باجماع صحابہ مردودقرارپایاوالحمدﷲ رب العالمینسورقرآنیہ اگرچہ متفرق مواقع سے ایك مجموعہ میں مجتمع ہوگئی تھیں اور وہ مجموعہ صدیق پھرفاروق پھر ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے پاس تھا مگر ہنوزتین کام باقی تھے:
(۱)ان مجموع صحیفوں کاایك مصحف واحد میں نقل ہونا
(۲)اس مصحف کے نسخے معظم بلاداسلام مملکت اسلامیہ کے عظیم عظیم قسمتوں میں تقسیم ہونا۔
(۳)رخصت سابقہ کی بناپرجوبعض اختلافات لہجہ کے آثار کتابت قرآن عظیم میں متفرق لوگوں کے پاس تھے اور وہ قرآن عظیم کے حقیقی اصل منزل من اﷲ ثابت مستقرغیرمنسوخ لہجے سے جداتھے دفع فتنہ کے لئے ان کامحو ہونا۔
یہ تینوں کام حفظ حافظ حقیقی جامع ازلی جلالہ نے اپنے تیسرے بندے امیرالمومنین جامع القرآن ذی النورین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے لیا اورقرآن عظیم کاجمع کرنا حسب وعدہ الہیہ تام وکامل ہوااس لئے اس جناب کوجامع القرآن کہتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۱)ان مجموع صحیفوں کاایك مصحف واحد میں نقل ہونا
(۲)اس مصحف کے نسخے معظم بلاداسلام مملکت اسلامیہ کے عظیم عظیم قسمتوں میں تقسیم ہونا۔
(۳)رخصت سابقہ کی بناپرجوبعض اختلافات لہجہ کے آثار کتابت قرآن عظیم میں متفرق لوگوں کے پاس تھے اور وہ قرآن عظیم کے حقیقی اصل منزل من اﷲ ثابت مستقرغیرمنسوخ لہجے سے جداتھے دفع فتنہ کے لئے ان کامحو ہونا۔
یہ تینوں کام حفظ حافظ حقیقی جامع ازلی جلالہ نے اپنے تیسرے بندے امیرالمومنین جامع القرآن ذی النورین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے لیا اورقرآن عظیم کاجمع کرنا حسب وعدہ الہیہ تام وکامل ہوااس لئے اس جناب کوجامع القرآن کہتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
فوائدتفسیریہ وعلوم قرآن
مسئلہ ۲۵۰: ازمدرسہ منظراسلام ۲۶/جمادی الاولی ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شان نزول اس آیت شریفہ کا:
"ومنہم من عہد اللہ لئن اتىنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصلحین ﴿۷۵﴾" ۔الآیۃ اوران میں سے کوئی وہ ہیں جنہوں نے اﷲ سے عہد کیاتھا کہ اگرہمیں اپنے فضل سے دے گا توہم ضرورخیرات کریں گے اورہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے(ت)
حدیث ثعلبہ ابن حاطب ہے یااورکوئی حدیث حدیث ثعلبہ کی صحیح یاحسن یاضعیف یاموضوع یہ ثعلبہ ابن حاطب بدری ہے یااورکوئی
الجواب:
بدری حضرت سیدنا ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبیدانصاری ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ۔اور یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اوس سے تھا۔اوربعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا۔مگروہ بدری خودزمانہ اقدس حضورپرنورصلی اﷲ علیہ وسلم میں جنگ احد میں شہیدہوئے۔اوریہ منافق زمانہ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ میں مرا۔جب اس نے زکوۃ دینے سے انکارکیا اور آیہ کریمہ اس کی مذمت میں اتری۔حضورپرنور صلی اﷲ
مسئلہ ۲۵۰: ازمدرسہ منظراسلام ۲۶/جمادی الاولی ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شان نزول اس آیت شریفہ کا:
"ومنہم من عہد اللہ لئن اتىنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصلحین ﴿۷۵﴾" ۔الآیۃ اوران میں سے کوئی وہ ہیں جنہوں نے اﷲ سے عہد کیاتھا کہ اگرہمیں اپنے فضل سے دے گا توہم ضرورخیرات کریں گے اورہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے(ت)
حدیث ثعلبہ ابن حاطب ہے یااورکوئی حدیث حدیث ثعلبہ کی صحیح یاحسن یاضعیف یاموضوع یہ ثعلبہ ابن حاطب بدری ہے یااورکوئی
الجواب:
بدری حضرت سیدنا ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبیدانصاری ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ۔اور یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اوس سے تھا۔اوربعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا۔مگروہ بدری خودزمانہ اقدس حضورپرنورصلی اﷲ علیہ وسلم میں جنگ احد میں شہیدہوئے۔اوریہ منافق زمانہ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ میں مرا۔جب اس نے زکوۃ دینے سے انکارکیا اور آیہ کریمہ اس کی مذمت میں اتری۔حضورپرنور صلی اﷲ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۷۵
تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں زکوۃ لے کرحاضرہوا حضورنے قبول نہ فرمائی۔پھرصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت میں لایا انہوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تیری زکوۃ قبول نہ فرمائی اورمیں قبول کرلوںہرگز نہ ہوگا۔پھرخلافت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں حاضرلایافرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابوبکر قبول نہ فرمائیں اورمیں لے لوں یہ کبھی نہ ہوگا۔پھرخلافت عثمن ذی النورین غنی رضی اﷲ عنہ میں لایافرمایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصدیق وفاروق نے قبول نہ فرمائی میں بھی نہ لوں گا۔آخر انہیں کی خلافت میں مرگیا۔اﷲ عزوجل اہل بدررضی اﷲ تعالی عنہم کی نسبت فرماچکا:
اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم ۔ جوچاہوکرو میں تمہیں بخش چکا۔
اوراس منافق کے باب میں فرماتاہے:
"فاعقبہم نفاقا فی قلوبہم الی یوم یلقونہ " اس کے پیچھے اﷲ نے ان کے دلوں میں نفاق پیداکیا کہ مرتے دم تك نہ جائے گا۔
حاشاﷲ نوروظلمت کیونکر جمع ہوسکتے ہیں۔امام حافظ الشان اصابہ میں فرماتے ہیں:
ثعلبۃ بن حاطب بن عمرو الانصاری ذکرہ موسی بن عقبۃ وابن اسحق فی البدریین وکذا ذکرہ ابن الکلبی وزادانہ قتل باحد ۔ ثعلبہ بن حاطب بن عمروانصاری کوموسی بن عقبہ اورابن اسحاق نے اہل بدرمیں ذکرکیا۔اسی طرح ابن کلبی نے ذکر کیا اوریہ اضافہ کیاکہ وہ احدمیں شہیدہوئے۔(ت)
تفسیرامام ابن جریرمیں ہے:
حدثنی محمد ابن سعد حدثنی مجھ سے محمدبن سعد نے بیان کیاانہوں نے کہا
اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم ۔ جوچاہوکرو میں تمہیں بخش چکا۔
اوراس منافق کے باب میں فرماتاہے:
"فاعقبہم نفاقا فی قلوبہم الی یوم یلقونہ " اس کے پیچھے اﷲ نے ان کے دلوں میں نفاق پیداکیا کہ مرتے دم تك نہ جائے گا۔
حاشاﷲ نوروظلمت کیونکر جمع ہوسکتے ہیں۔امام حافظ الشان اصابہ میں فرماتے ہیں:
ثعلبۃ بن حاطب بن عمرو الانصاری ذکرہ موسی بن عقبۃ وابن اسحق فی البدریین وکذا ذکرہ ابن الکلبی وزادانہ قتل باحد ۔ ثعلبہ بن حاطب بن عمروانصاری کوموسی بن عقبہ اورابن اسحاق نے اہل بدرمیں ذکرکیا۔اسی طرح ابن کلبی نے ذکر کیا اوریہ اضافہ کیاکہ وہ احدمیں شہیدہوئے۔(ت)
تفسیرامام ابن جریرمیں ہے:
حدثنی محمد ابن سعد حدثنی مجھ سے محمدبن سعد نے بیان کیاانہوں نے کہا
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۳۷۹۵۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۴/ ۶۹
القرآن الکریم ۹ /۷۷
الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ترجمہ ۹۲۷ دارصادربیروت ۱/ ۱۹۸
القرآن الکریم ۹ /۷۷
الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ترجمہ ۹۲۷ دارصادربیروت ۱/ ۱۹۸
ابی حدثنی عمی حدثنی ابی عن ابیہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما ان رجلا یقال لہ ثعلبۃ ابن ابی حاطب اخلف ماوعدہ فقص اﷲ تعالی شانہ فی القران ومنھم عاھداﷲ الی قولہ یکذبون ۔ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیااس نے کہامجھ سے میرے چچانے بیان کیااس نے کہا مجھ سے میرے باپ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا انہوں نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیاایك شخص کوثعلبہ بن ابی حاطب کہاجاتاہے جس نے اﷲ تعالی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کی اﷲ تعالی نے اس کے حال کو قرآن مجید میں بیان فرمایایعنی "ومنھم من عھداﷲ" سے "یکذبون" تک۔ (ت)
تفسیرمعالم میں ہے:
قال الحسن ومجاھد نزلت فی ثعلبۃ بن ابی حاطب الخ۔ امام حسن اورمجاہد نے کہایہ آیت ثعلبہ بن ابی حاطب کے بارے میں نازل ہوئی الخ(ت)
تفسیرابن جریروثعلبی وغیرہم میں حضت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
فانزل اﷲ تعالی فیہ ومنھم من عاھداﷲ الخ وعند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل من اقارب ثعلبۃ فسمع ذلك فخرج حتی اتاہ فقال ویحك یاثعلبۃ قد انزل اﷲ فیك کذا وکذا فخرج ثعلبۃ حتی اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تواﷲ تعالی نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی "اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اﷲ سے عہد کیاتھا" الخ اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس ثعلبہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایك شخص موجودتھا جس نے اس آیت کو سنا تووہ وہاں سے نکلا اورثعلبہ کے پاس آکے کہااے ثعلبہ! تیرے لئے ہلاکت ہو اﷲ تعالی نے تیرے بارے میں ایسا ایساحکم نازل فرمایاہے۔توثعلبہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس
تفسیرمعالم میں ہے:
قال الحسن ومجاھد نزلت فی ثعلبۃ بن ابی حاطب الخ۔ امام حسن اورمجاہد نے کہایہ آیت ثعلبہ بن ابی حاطب کے بارے میں نازل ہوئی الخ(ت)
تفسیرابن جریروثعلبی وغیرہم میں حضت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
فانزل اﷲ تعالی فیہ ومنھم من عاھداﷲ الخ وعند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل من اقارب ثعلبۃ فسمع ذلك فخرج حتی اتاہ فقال ویحك یاثعلبۃ قد انزل اﷲ فیك کذا وکذا فخرج ثعلبۃ حتی اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تواﷲ تعالی نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی "اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اﷲ سے عہد کیاتھا" الخ اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس ثعلبہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایك شخص موجودتھا جس نے اس آیت کو سنا تووہ وہاں سے نکلا اورثعلبہ کے پاس آکے کہااے ثعلبہ! تیرے لئے ہلاکت ہو اﷲ تعالی نے تیرے بارے میں ایسا ایساحکم نازل فرمایاہے۔توثعلبہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۹/ ۷۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۲۱۳
معالم التنزیل(تفسیر البغوی تحت آیۃ ۹/ ۷۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۴
معالم التنزیل(تفسیر البغوی تحت آیۃ ۹/ ۷۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۴
فسألہ ان یقبل منہ صدقتہ فقال ان اﷲ منعنی ان اقبل منك صدقتکثم اتی ابابکر حین استخلف فقال اقبل صدقتی فقال ابوبکر لم یقبلھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وانا اقبلھا فلما ولی عمراتاہ فقال یاامیرالمؤمنین اقبل صدقتی فقال لم یقبلھارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولاابو بکر وانا لااقبلھا ثم ولی عثمان فاتاہ فسألہ فقال لم یقبلھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولاابو بکر ولاعمررضوان اﷲ تعالی علیھما وانا لااقبلھا منك فلم یقبلھا منہ وھلك ثعلبۃ فی خلافۃ عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ اھ مختصرا۔ حاضرہوااوردرخواست کی کہ اس کاصدقہ قبول کیاجائے تونبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالی نے مجھے منع فرمادیا ہے کہ میں تیرا صدقہ قبول کروں۔پھر جب ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ خلیفہ بنے توثعلبہ نے ان کے پاس آکرکہا میراصدقہ قبول کرلیں۔ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا اورمیں قبول کرلوں جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ امیرالمومنین بنے توثعلبہ نے آکر کہااے امیرالمومنین! میراصدقہ قبول فرمالیں تو آپ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا اورنہ ہی ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسے قبول فرمایا اورمیں بھی اس کوقبول نہیں کرتا۔پھرجب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ امیرالمومنین بنے تواس نے آکر صدقہ قبول کرنے کی درخواست پیش کی آپ نے فرمایا اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا اور نہ ہی ابوبکروعمررضی اﷲ تعالی عنہما نے قبول فرمایا تومیں بھی اسے قبول نہیں کرتا ہوں۔چنانچہ آپ نے قبول نہیں فرمایا اورآپ ہی کی خلافت میں ثعلبہ مرگیااھ اختصار(ت)
یہ سب اس حدیث ثعلبہ کی تسلیم پرہےورنہ وہ سرے سے ثابت الصحت نہیں۔امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں فرمایا:
ان صح الخبر ولااظنہ یصح ۔ اگریہ خبرصحیح ہو اورمیں اس کو صحیح گمان نہیں کرتا(ت)
یہ سب اس حدیث ثعلبہ کی تسلیم پرہےورنہ وہ سرے سے ثابت الصحت نہیں۔امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں فرمایا:
ان صح الخبر ولااظنہ یصح ۔ اگریہ خبرصحیح ہو اورمیں اس کو صحیح گمان نہیں کرتا(ت)
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۹/ ۷۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۲۱۴
الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ترجمہ ۹۲۸ دارصادربیروت ۱/ ۱۹۸
الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ترجمہ ۹۲۸ دارصادربیروت ۱/ ۱۹۸
اقول:یہ حدیث ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ جس میں بجائے ابن ابی حاطبابن حاطب کہا۔ابن جریر وبغوی وثعلبی وابن السکن وابن شاہین وباوردی سب کے یہاں بطریق معاذابن رفافہ عن علی بن یزید عن القاسم عن ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ ہےاورعلی بن یزید میں کلام معلوم ہے۔حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا:ضعیف ۔امام دارقطنی نے فرمایا:متروک امام بخاری نے فرمایا:منکرالحدیث ۔اورفرمایا:
کل من اقول:فیہ منکرالحدیث لاتحل الروایۃ عنہ و اﷲ تعالی اعلم۔ جسے میں منکرالحدیث کہوں اس سے روایت حلال نہیں۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۱:(سوال مذکورنہیں)۲۸صفر۱۳۳۸ھ
الجواب:
(بجواب مسئلہ مولوی حکیم غلام محی الدین صاحب لاہوری)
فقیر کی رائے قاصریہ ہے کہ مولاناشاہ عبدالقادرصاحب کاترجمہ پیش نظررکھاجائے اور اس میں چارتبدیلیں محفوظ رہیں:
(۱)وہ الفاظ کہ متروك یانامانوس ہوگئےفصیح وسلیس ورائج الفاظ سے بدل دئیے جائیں۔
(۲)مطلب اصح جس کے مطالعہ کوجلالین کہ اصح الاقوال پراقتصار کاجن کوالتزام ہے سردست بس ہےہاتھ سے نہ جائے۔
(۳)اصل معنی لفظ اورمحاورات عرفیہ دونوں کے لحاظ سے ہرمقام پراس کے کمال پاس رہےمثلا "غیر المغضوب علیہم" کا یہ ترجمہ کہ جن پرغصہ ہوایاتونے غصہ کیافقیرکوسخت ناگوارہے۔غصہ کے اصل معنی اچھوکے ہیں یعنی کھانے کاگلے میں پھنسناجیسے "و طعاما ذا غصۃ" فرمایا۔
کل من اقول:فیہ منکرالحدیث لاتحل الروایۃ عنہ و اﷲ تعالی اعلم۔ جسے میں منکرالحدیث کہوں اس سے روایت حلال نہیں۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۱:(سوال مذکورنہیں)۲۸صفر۱۳۳۸ھ
الجواب:
(بجواب مسئلہ مولوی حکیم غلام محی الدین صاحب لاہوری)
فقیر کی رائے قاصریہ ہے کہ مولاناشاہ عبدالقادرصاحب کاترجمہ پیش نظررکھاجائے اور اس میں چارتبدیلیں محفوظ رہیں:
(۱)وہ الفاظ کہ متروك یانامانوس ہوگئےفصیح وسلیس ورائج الفاظ سے بدل دئیے جائیں۔
(۲)مطلب اصح جس کے مطالعہ کوجلالین کہ اصح الاقوال پراقتصار کاجن کوالتزام ہے سردست بس ہےہاتھ سے نہ جائے۔
(۳)اصل معنی لفظ اورمحاورات عرفیہ دونوں کے لحاظ سے ہرمقام پراس کے کمال پاس رہےمثلا "غیر المغضوب علیہم" کا یہ ترجمہ کہ جن پرغصہ ہوایاتونے غصہ کیافقیرکوسخت ناگوارہے۔غصہ کے اصل معنی اچھوکے ہیں یعنی کھانے کاگلے میں پھنسناجیسے "و طعاما ذا غصۃ" فرمایا۔
حوالہ / References
تقریب التہـذیب ترجمہ علی بن یزید ۴۸۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۷۰
میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱
میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱
میزان الاعتدال ترجمہ ابان بن حبلہ ۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱/
القرآن الکریم ۱ /۷
القرآن الکریم ۷۳ /۱۳
میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱
میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱
میزان الاعتدال ترجمہ ابان بن حبلہ ۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱/
القرآن الکریم ۱ /۷
القرآن الکریم ۷۳ /۱۳
اس سے استعارہ کرکے ایسے غضب پر اس کااطلاق ہوتاہے جسے آدمی کسی خوف یالحاظ سے ظاہرنہ کرسکےگویادل کاجوش گلے میں پھنس کررہ گیا۔عوام کہ دقائق کلام سے آگاہ نہیںفرق نہ کریں۔مگراصل حقیقت یہی ہے کہ علماء پر اس کالحاظ لازم ہے۔ترجمہ یوں ہوا:"نہ ان کی جن پرتونے غضب فرمایایاجن پرتیراغضب ہےیاجن پرغضب ہوایاجوغضب میں ہیں" خیال کرنے سے ان کے ترجمہ میں اس کی بہت سی نظائر معلوم ہوسکتی ہیں۔
(۴)سب سے اہم واعظم واقدم والزم مراعات ومتشابہات کہ ان میں ہمارے ائمہ کرام سے دومذہب ہیں:
اول ہم نصوص پرایمان لائےنہ تاویل کریں نہ اپنی رائے کودخل دیں"امنا بہ کل من عند ربنا" (ہم اس پرایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)معنی ہمیں معلوم ہی نہیںان سے اگر قولہ تعالی ثم "ثم استوی الی السماء" کا ترجمہ کرائیے تو وہ فرمائیں گے:"پھراستواء فرمایا آسمان کی طرف" اگرپوچھئے استوی کے کیامعنیتو لاندری(ہم نہیں جانتے۔ت)سے جواب ملے گا۔
دوم تاویل کہ متاخرین نے تفہیم جہال کے لئے اختیارکیاکہ کسی خوبصورت معنی کی طرف پھیردیں جس کاظاہرشان عزت پر محال نہ ہو۔اورطرف تجویز وتجارب میں لفظ کریم سے قرب بھی رکھتاہو۔ان سے اگرآیہ کریمہ مذکورہ کاترجمہ کرائیے تووہ کہیں گے:"پھرآسمان کی طرف قصدفرمایا" مگریہ کہ تفویض چھوڑیں اور تاویل بھی نہ کریں بلکہ معنی محال وظاہرکاصریح ادا کرنے والا لفظ قائم کردیں جیسے کریمہ مذکورہ کاترجمہ "پھرچڑھ گیاآسمان کو" کہ چڑھنا اوراترنا شان عزت پرمحال قطعی اور جہال کے لئے معاذاﷲ موہم بلکہ مصرح بہ جمسانیت ہے۔یہ ہمارے ائمہ متقدمین کادین نہ متاخرین کامسلک۔اس سے احتراز فرض قطعی ہے۔فقیرنے جہاں تك دیکھا ترجمہ منسوبہ بحضرت قدسی منزلت سیدنامصلح الدین سعدی قدس سرہ العزیز اس عیب مشابہ سے پاك ومنزہ ہےان میں اس سے مدد لی جائےوباﷲ التوفیق۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
(۴)سب سے اہم واعظم واقدم والزم مراعات ومتشابہات کہ ان میں ہمارے ائمہ کرام سے دومذہب ہیں:
اول ہم نصوص پرایمان لائےنہ تاویل کریں نہ اپنی رائے کودخل دیں"امنا بہ کل من عند ربنا" (ہم اس پرایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)معنی ہمیں معلوم ہی نہیںان سے اگر قولہ تعالی ثم "ثم استوی الی السماء" کا ترجمہ کرائیے تو وہ فرمائیں گے:"پھراستواء فرمایا آسمان کی طرف" اگرپوچھئے استوی کے کیامعنیتو لاندری(ہم نہیں جانتے۔ت)سے جواب ملے گا۔
دوم تاویل کہ متاخرین نے تفہیم جہال کے لئے اختیارکیاکہ کسی خوبصورت معنی کی طرف پھیردیں جس کاظاہرشان عزت پر محال نہ ہو۔اورطرف تجویز وتجارب میں لفظ کریم سے قرب بھی رکھتاہو۔ان سے اگرآیہ کریمہ مذکورہ کاترجمہ کرائیے تووہ کہیں گے:"پھرآسمان کی طرف قصدفرمایا" مگریہ کہ تفویض چھوڑیں اور تاویل بھی نہ کریں بلکہ معنی محال وظاہرکاصریح ادا کرنے والا لفظ قائم کردیں جیسے کریمہ مذکورہ کاترجمہ "پھرچڑھ گیاآسمان کو" کہ چڑھنا اوراترنا شان عزت پرمحال قطعی اور جہال کے لئے معاذاﷲ موہم بلکہ مصرح بہ جمسانیت ہے۔یہ ہمارے ائمہ متقدمین کادین نہ متاخرین کامسلک۔اس سے احتراز فرض قطعی ہے۔فقیرنے جہاں تك دیکھا ترجمہ منسوبہ بحضرت قدسی منزلت سیدنامصلح الدین سعدی قدس سرہ العزیز اس عیب مشابہ سے پاك ومنزہ ہےان میں اس سے مدد لی جائےوباﷲ التوفیق۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲: مسئولہ جناب محمدیعقوب صاحب بریلی ۵ربیع الاول ۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب اﷲ عزوجل نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کوسجدہ کرنے کاحکم ملائکہ کودیا اور ابلیس نے سجدہ نہ کیااس پرارشاد ہوا: "استکبرت ام کنت من العالین ﴿۷۵﴾ " کیاتونے تکبرکیاکیاتوعالین سے تھا۔یہ عالین کون لوگ ہیں بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
عالی بمعنی متکبر ہے
قال اﷲ تعالی:" ثم ارسلنا موسی و اخاہ ہرون ۬ بایتنا و سلطن مبین ﴿۴۵﴾ الی فرعون و ملائہ فاستکبروا وکانوا قوما عالین ﴿۴۶﴾ " ۔ پھرہم نے موسی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور روشن حجت کے ساتھ فرعون اور اس کے جتھے کی طرف بھیجا تو انہوں نے تکبرکیااوروہ تھے ہی متکبرلوگ۔
تومعنی آیت یہ ہوئے کہ رب عزوجل نے شیطان لعین سے فرمایا کہ تونے جوآدم کوسجدہ نہ کیایہ ایك تکبرتھا کہ اس وقت تجھے پیداہوایاتوقدیم سے متکبرہی تھا۔تفسیرابن جریرمیں ہے:
یقول تعالی لابلیس تعظمت عن السجود لادم فترکت السجود لہ استکبارا علیہولم تکن من المتکبرین العالین قبل ذلک"ام کنت من العالین" یقول ام کنت کذلك من قبل ذاعلو وتکبر علی ربک ۔ اﷲ تعالی نے ابلیس سے فرمایاتونے حضرت آدم کے سجدہ سے اپنے کوبڑاسمجھا اوران پر بڑائی ظاہرکرتے تونے سجدہ ترك کیا دراصل تومتکبرین میں سے نہ تھایایہ کہ پہلے ہی سے اپنے رب پرعلو وتکبر ظاہرکرنے والاتھا۔
یایہ کہ تکبر خاص تجھی میں پیداہوایاتیری قوم ہی متکبرہے۔ معالم میں ہے:
"ام کنت من العالین" المتکبرین یقول استکبرت بنفسك ام کنت من القوم الذین یاتو عالین متکبرین میں سے تھا۔فرماتاہے کہ تونے خود ہی تکبرکیایا تومتکبرین کے گروہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب اﷲ عزوجل نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کوسجدہ کرنے کاحکم ملائکہ کودیا اور ابلیس نے سجدہ نہ کیااس پرارشاد ہوا: "استکبرت ام کنت من العالین ﴿۷۵﴾ " کیاتونے تکبرکیاکیاتوعالین سے تھا۔یہ عالین کون لوگ ہیں بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
عالی بمعنی متکبر ہے
قال اﷲ تعالی:" ثم ارسلنا موسی و اخاہ ہرون ۬ بایتنا و سلطن مبین ﴿۴۵﴾ الی فرعون و ملائہ فاستکبروا وکانوا قوما عالین ﴿۴۶﴾ " ۔ پھرہم نے موسی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور روشن حجت کے ساتھ فرعون اور اس کے جتھے کی طرف بھیجا تو انہوں نے تکبرکیااوروہ تھے ہی متکبرلوگ۔
تومعنی آیت یہ ہوئے کہ رب عزوجل نے شیطان لعین سے فرمایا کہ تونے جوآدم کوسجدہ نہ کیایہ ایك تکبرتھا کہ اس وقت تجھے پیداہوایاتوقدیم سے متکبرہی تھا۔تفسیرابن جریرمیں ہے:
یقول تعالی لابلیس تعظمت عن السجود لادم فترکت السجود لہ استکبارا علیہولم تکن من المتکبرین العالین قبل ذلک"ام کنت من العالین" یقول ام کنت کذلك من قبل ذاعلو وتکبر علی ربک ۔ اﷲ تعالی نے ابلیس سے فرمایاتونے حضرت آدم کے سجدہ سے اپنے کوبڑاسمجھا اوران پر بڑائی ظاہرکرتے تونے سجدہ ترك کیا دراصل تومتکبرین میں سے نہ تھایایہ کہ پہلے ہی سے اپنے رب پرعلو وتکبر ظاہرکرنے والاتھا۔
یایہ کہ تکبر خاص تجھی میں پیداہوایاتیری قوم ہی متکبرہے۔ معالم میں ہے:
"ام کنت من العالین" المتکبرین یقول استکبرت بنفسك ام کنت من القوم الذین یاتو عالین متکبرین میں سے تھا۔فرماتاہے کہ تونے خود ہی تکبرکیایا تومتکبرین کے گروہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۸ /۷۵
القرآن الکریم ۲۳ /۴۵ و ۴۶
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۳۸/ ۷۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۳/۲۱۷
القرآن الکریم ۲۳ /۴۵ و ۴۶
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ۳۸/ ۷۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲۳/۲۱۷
یتکبرون فتکبرت عن السجود لکونك منھم ۔ میں سے تھا سجدہ سے تکبرکیا۔(ت)
یاعالین کوبمعنی بلند ورفیع المرتبت لیںاورمعنی یہ ہوں کہ تونے جوسجدہ نہ کیایہ تیراتکبرتھا کہ واقع میں تجھے آدم پربڑائی نہیں اوربراہ غرور آپ کوبڑاٹھہرایایاواقع ہی تجھے اس پر فضیلت۔بیضاوی میں ہے:
"استکبرت ام کنت من العالین" تکبرت من غیر استحقاق اوکنت ممن علا واستحق التفوق ۔ تونے تکبرکیایاعالین میں سے تھا۔مطلب یہ کہ بے استحقاق کے توغرور میں مبتلا ہوایاان میں سے تھا جن کو بلندی اور تفوق حاصل ہے۔
اوریہ معنی نہیں کہ ملائکہ میں کوئی گروہ عالین ہے کہ وہ حکم سجود سے مستثنی تھا وان وقع فی کلام سیدنا الشیخ الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ(اگرچہ ہمارے سردار شیخ اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے کلام میں واقع ہواہے۔ت)رب عزوجل نے متعدد تاکیدوں سے مؤکد فرمایا۔"فسجد الملئکۃ کلہم اجمعون ﴿۷۳﴾" تمامجمیعسب ملائکہ نے سجدہ کیا۔فاللام للاستغراق واکدت بکل واکد باجمعون (لام استغراق کے لئے ہے پھر لفظ کل اور اجمعون کے ساتھ تاکید لائی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۳ تا ۲۵۵: ازملك بنگال ضلع فریدپور موضع پٹوراکاندے مرسلہ محمدشمس الدین صاحب
(۱)بعدولادت حضرت عیسی علیہ السلام حضرت مریم بنت عمران باکرہ تھیں یانہیں
(۲)قرآن مجیدمیں ناسخ کی آیتیں کتنی ہیں اورمنسوخ کتنی
(۳)آنحضرت اور حضرت عیسی علیہما الصلوۃ والسلام کے درمیان کوئی اوررسول تھے یانہیں
الجواب:
(۱)سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم کی ولادت کے بعد بھی حضرت بتول طیبہ طاہرہ سیدتنا مریم بکر تھیںبکرہی رہیںاوربکرہی اٹھیں گیاوربکر ہی جنت النعیم میں داخل ہوں گی یہاں تك کہ حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کے
یاعالین کوبمعنی بلند ورفیع المرتبت لیںاورمعنی یہ ہوں کہ تونے جوسجدہ نہ کیایہ تیراتکبرتھا کہ واقع میں تجھے آدم پربڑائی نہیں اوربراہ غرور آپ کوبڑاٹھہرایایاواقع ہی تجھے اس پر فضیلت۔بیضاوی میں ہے:
"استکبرت ام کنت من العالین" تکبرت من غیر استحقاق اوکنت ممن علا واستحق التفوق ۔ تونے تکبرکیایاعالین میں سے تھا۔مطلب یہ کہ بے استحقاق کے توغرور میں مبتلا ہوایاان میں سے تھا جن کو بلندی اور تفوق حاصل ہے۔
اوریہ معنی نہیں کہ ملائکہ میں کوئی گروہ عالین ہے کہ وہ حکم سجود سے مستثنی تھا وان وقع فی کلام سیدنا الشیخ الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ(اگرچہ ہمارے سردار شیخ اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے کلام میں واقع ہواہے۔ت)رب عزوجل نے متعدد تاکیدوں سے مؤکد فرمایا۔"فسجد الملئکۃ کلہم اجمعون ﴿۷۳﴾" تمامجمیعسب ملائکہ نے سجدہ کیا۔فاللام للاستغراق واکدت بکل واکد باجمعون (لام استغراق کے لئے ہے پھر لفظ کل اور اجمعون کے ساتھ تاکید لائی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۳ تا ۲۵۵: ازملك بنگال ضلع فریدپور موضع پٹوراکاندے مرسلہ محمدشمس الدین صاحب
(۱)بعدولادت حضرت عیسی علیہ السلام حضرت مریم بنت عمران باکرہ تھیں یانہیں
(۲)قرآن مجیدمیں ناسخ کی آیتیں کتنی ہیں اورمنسوخ کتنی
(۳)آنحضرت اور حضرت عیسی علیہما الصلوۃ والسلام کے درمیان کوئی اوررسول تھے یانہیں
الجواب:
(۱)سیدنا عیسی کلمۃ اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم کی ولادت کے بعد بھی حضرت بتول طیبہ طاہرہ سیدتنا مریم بکر تھیںبکرہی رہیںاوربکرہی اٹھیں گیاوربکر ہی جنت النعیم میں داخل ہوں گی یہاں تك کہ حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کے
حوالہ / References
معالم التنزیل(تفسیرالبغوی) تحت آیۃ ۳۸/۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۶۰
انوارالتنزیل(تفسیرالبیضاوی) تحت آیۃ ۳۸/۷۵ دارالفکربیروت ۵/ ۵۵
القرآن الکریم ۳۸ /۷۳
انوارالتنزیل(تفسیرالبیضاوی) تحت آیۃ ۳۸/۷۵ دارالفکربیروت ۵/ ۵۵
القرآن الکریم ۳۸ /۷۳
نکاح اقدس سے مشرف ہوں گی۔ان کی شان کریم:
"و لم یمسسنی بشر و لم اک بغیا ﴿۲۰﴾" نہ مجھے کسی نے ہاتھ لگایا اورنہ میں بدکارہوں۔
ظاہرہے کہ بعد ولادت بھی صادق ہےاوریہی معنی بکریت ہےرہابکارت بمعنی پردہ عروق کازوالاولا اس ولادت معجزہ میں ہونا کیاضرور اور اس کاکہاں ثبوت۔جوبے باپ کے پیداکرسکتاہے بے زوال بکارت ولادت دینے پربھی قادرہے۔بکرکے لئے بھی منفذہوتا ہے جس سے خون آتا ہےاوربالفرض اس کازوال ہوبھی تووہ منافی بکریت نہیں۔بہت ابکارکا یہ پردہ کسی صدمہ یاخون حیض کی حدت وغیرہ سے جاتارہتاہےمگروہ بکرسے ثیبنارسیدہ سے شوہردیدہ نہیں ہوجاتیں بلکہ حقیقۃ بھی بکرہوتی ہیںاورحکم شرع میں بھی بکرہی رہتی ہیں۔ان کانکاح ابکار کی طرح ہوتاہے اور وہ ابکارکے لئے وصیت میں داخل ہوتی ہیں۔
تنویرالابصار میں ہے:
من زالت بکارتھا بوثبۃ اودرورحیض اوجراحۃ اوکبر بکرحقیقۃ ۔ جس کاپردہ بکارت کودنےحیض آنے یا زخم یازیادتی عمری کی وجہ سے زائل ہوا وہ عورت حقیقۃ باکرہ ہے۔
فتاوی ظہیریہ اور ردالمحتارمیں ہے:
البکراسم لامرأۃ لم تجامع بنکاح ولاغیرہ ۔ باکرہ اس عورت کوکہتے ہیں جس سے بہ نکاح یابلانکاح صحبت نہ کی گئی ہو۔
بحروشامی میں ہے:
حاصل کلامھم ان الزائل فی ھذاالمسائل العذرۃ ای الجلدۃ التی علی المحل لاالبکارۃ فکانت بکرا حقیقۃ وحکما ولذا تدخل فی الوصیۃ لابکار ان کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ ان مسائل میں عذرۃ زائل ہوئی ہے یعنی وہ جھلی جوشرمگاہ میں ہوتی ہےتوعورت ان صورتوں میں حقیقۃ اورحکما ہرطرح باکرہ ہوتی ہے۔اس لئے اگرکسی نے بنی فلاں کی باکرہ عورتوں کے لئے
"و لم یمسسنی بشر و لم اک بغیا ﴿۲۰﴾" نہ مجھے کسی نے ہاتھ لگایا اورنہ میں بدکارہوں۔
ظاہرہے کہ بعد ولادت بھی صادق ہےاوریہی معنی بکریت ہےرہابکارت بمعنی پردہ عروق کازوالاولا اس ولادت معجزہ میں ہونا کیاضرور اور اس کاکہاں ثبوت۔جوبے باپ کے پیداکرسکتاہے بے زوال بکارت ولادت دینے پربھی قادرہے۔بکرکے لئے بھی منفذہوتا ہے جس سے خون آتا ہےاوربالفرض اس کازوال ہوبھی تووہ منافی بکریت نہیں۔بہت ابکارکا یہ پردہ کسی صدمہ یاخون حیض کی حدت وغیرہ سے جاتارہتاہےمگروہ بکرسے ثیبنارسیدہ سے شوہردیدہ نہیں ہوجاتیں بلکہ حقیقۃ بھی بکرہوتی ہیںاورحکم شرع میں بھی بکرہی رہتی ہیں۔ان کانکاح ابکار کی طرح ہوتاہے اور وہ ابکارکے لئے وصیت میں داخل ہوتی ہیں۔
تنویرالابصار میں ہے:
من زالت بکارتھا بوثبۃ اودرورحیض اوجراحۃ اوکبر بکرحقیقۃ ۔ جس کاپردہ بکارت کودنےحیض آنے یا زخم یازیادتی عمری کی وجہ سے زائل ہوا وہ عورت حقیقۃ باکرہ ہے۔
فتاوی ظہیریہ اور ردالمحتارمیں ہے:
البکراسم لامرأۃ لم تجامع بنکاح ولاغیرہ ۔ باکرہ اس عورت کوکہتے ہیں جس سے بہ نکاح یابلانکاح صحبت نہ کی گئی ہو۔
بحروشامی میں ہے:
حاصل کلامھم ان الزائل فی ھذاالمسائل العذرۃ ای الجلدۃ التی علی المحل لاالبکارۃ فکانت بکرا حقیقۃ وحکما ولذا تدخل فی الوصیۃ لابکار ان کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ ان مسائل میں عذرۃ زائل ہوئی ہے یعنی وہ جھلی جوشرمگاہ میں ہوتی ہےتوعورت ان صورتوں میں حقیقۃ اورحکما ہرطرح باکرہ ہوتی ہے۔اس لئے اگرکسی نے بنی فلاں کی باکرہ عورتوں کے لئے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۹ /۲۰
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۲
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۰۲
الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۲
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۰۲
بنی فلان ۔واﷲ تعالی اعلم وصیت کی تویہ بھی ان میں داخل ہوگی(ت)
(۲)اس میں اختلاف کثیرہ ہیں۔حازمی کی کتاب الناسخ والمنسوخ اوراتقان وغیرہ میں مفصل بیان ہے اوراختلاف کابڑا منشاء اختلاف اصطلاح بھی ہے کمالایخفی علی من سیرونظروتامل وتدبر(جیساکہ اس شخص پرپوشیدہ نہیں جوگھوما پھرادیکھا اور غوروفکرکیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
(۳)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اولی الناس بعیسی بن مریم فی الدنیا والاخرۃ لیس بینی وبینہ نبی۔رواہ احمد والشیخان وابو داؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دنیاوآخرت میں سب سے زیادہ عیسی ابن مریم کاولی میں ہوںمجھ میں اوران میں کوئی نبی نہیں(اس کوامام احمد بخاریمسلم اور ابوداؤد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا دعوۃ ابراھیم وکان اخر من بشر بی عیسی بن مریم۔رواہ الطیالسی وابن عساکر وغیرھما عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ حدیث صحیحین اصح ماورد فی البابفلایعارضہ مایذکر من حدیث خالد بن سنان وغیرہ۔ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعاہوں اور سب میں پچھلے میری بشارت دینے والے عیسی علیہم الصلوۃ والسلام تھے(اس کو طیالسی اورابن عساکر وغیرہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔صحیحین کی حدیث اس باب میں صحیح ترین ہےلہذا خالد بن سنان وغیرہ کی روایت سے مذکور حدیث اس کامعارضہ نہیں کرسکتی۔ت)
(۲)اس میں اختلاف کثیرہ ہیں۔حازمی کی کتاب الناسخ والمنسوخ اوراتقان وغیرہ میں مفصل بیان ہے اوراختلاف کابڑا منشاء اختلاف اصطلاح بھی ہے کمالایخفی علی من سیرونظروتامل وتدبر(جیساکہ اس شخص پرپوشیدہ نہیں جوگھوما پھرادیکھا اور غوروفکرکیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
(۳)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اولی الناس بعیسی بن مریم فی الدنیا والاخرۃ لیس بینی وبینہ نبی۔رواہ احمد والشیخان وابو داؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دنیاوآخرت میں سب سے زیادہ عیسی ابن مریم کاولی میں ہوںمجھ میں اوران میں کوئی نبی نہیں(اس کوامام احمد بخاریمسلم اور ابوداؤد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا دعوۃ ابراھیم وکان اخر من بشر بی عیسی بن مریم۔رواہ الطیالسی وابن عساکر وغیرھما عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ حدیث صحیحین اصح ماورد فی البابفلایعارضہ مایذکر من حدیث خالد بن سنان وغیرہ۔ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعاہوں اور سب میں پچھلے میری بشارت دینے والے عیسی علیہم الصلوۃ والسلام تھے(اس کو طیالسی اورابن عساکر وغیرہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔صحیحین کی حدیث اس باب میں صحیح ترین ہےلہذا خالد بن سنان وغیرہ کی روایت سے مذکور حدیث اس کامعارضہ نہیں کرسکتی۔ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۰۲
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالٰی واذکر فی الکتاب مریم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸۹،۴۹۰،صحیح مسلم کتاب الفضائل ۲/ ۲۶۴ و ۲۶۵ وسنن ابی داؤد ۲/ ۲۸۶،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۹
کنزالعمال حدیث ۳۱۸۸۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۰۵
صحیح البخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالٰی واذکر فی الکتاب مریم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸۹،۴۹۰،صحیح مسلم کتاب الفضائل ۲/ ۲۶۴ و ۲۶۵ وسنن ابی داؤد ۲/ ۲۸۶،مسنداحمدبن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۹
کنزالعمال حدیث ۳۱۸۸۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۰۵
معہذا انبیاء علیہم السلام میں احتیاط یہ ہے کہ:
امنا بانبیاء اﷲ جمیعا لانفرق بین احد من رسلہ۔ ہم تمام انبیاء پرایمان لائے ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے۔
کہ بعض پرایمان لائیں اورمعاذاﷲ بعض پر نہیںجیساکہ یہودونصاری خذلہم اﷲ تعالی نے کیا۔اوربالیقین کسی کونبی ماننے کے لئے تواترشرط ہےیہاں احاد کافی نہیں لما تقرران الاحاد لاتفید الاعتماد فی مثل الاعتقاد واﷲ الھادی الی سبیل الرشاد(کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اخبار احاد اعتقادیات جیسے امورمیں اعتماد کافائدہ نہیں دیتیں اوراﷲ تعالی ہی راہ ہدایت عطا فرمانے والاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۶: مسئولہ سید شرف حسین صاحب ہیڈمحررسلطان پورضلع سہارن پور ۲۸محرم ۱۳۳۲ھ
مطلع فرمائیے کہ "اولی الامر منکم " (اوران کاحکم مانوجوتم میں حکومت والے ہیں۔ت)کی بابت رشیداحمدصاحب "علماء وفقہاء" تجویزفرماتے ہیں اوربعض علماء نے "بادشاہ اسلام" مرادلیاہے۔لہذا آپ اپنی رائے بابت "اولی الامر"کے تجویز فرمائیے کہ کون ہیں جن کی اطاعت قرین اطاعت جناب رسول مقبول صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ہے اورنیز یہ بھی تحریر فرمائیے کہ جس نے امام وقت کونہ پہچانا اس کی موت جاہلیت پرہوگیاس کاکیامطلب ہے اوریہ بھی تحریرفرمائیے کہ جس وقت یزید ملعون تخت نشین تھا آیا وہ بھی" اولی الامر منکم " میں شامل ہے یانہیںاگرنہیں ہے تواس وقت کون "اولی الامر" تھا۔مفصل ومشرح "اولی الامر" کے معنی اس وقت سے اس وقت تك کے تحریرفرمائیے۔
الجواب:
"اولی الامر"میں اصح القول یہی ہے کہ اس سے مراد علمائے دین ہیں کما نص علیہ الزرقانی وغیرہ(جیساکہ ا س پرزرقانی وغیرہ نے نص فرمائی ہے۔ت)نہ کہ سلاطین جن کے بہت احکام خلاف شرع ہوتے ہیں۔یزیدپلید کے وقت میں بکثرت صحابہ کرام وتابعین اعلام تھے وہی "اولی الامر" تھے نہ کہ یزیدعلیہ مایستحقہ۔ہررسالت کے زمانہ میں وہ رسول اوراس کی کتاب امام ہوتی ہے قال تعالی " کتب موسی اماما و رحمۃ " (اﷲ تعالی نے فرمایا:موسی علیہ السلام کی
امنا بانبیاء اﷲ جمیعا لانفرق بین احد من رسلہ۔ ہم تمام انبیاء پرایمان لائے ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے۔
کہ بعض پرایمان لائیں اورمعاذاﷲ بعض پر نہیںجیساکہ یہودونصاری خذلہم اﷲ تعالی نے کیا۔اوربالیقین کسی کونبی ماننے کے لئے تواترشرط ہےیہاں احاد کافی نہیں لما تقرران الاحاد لاتفید الاعتماد فی مثل الاعتقاد واﷲ الھادی الی سبیل الرشاد(کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اخبار احاد اعتقادیات جیسے امورمیں اعتماد کافائدہ نہیں دیتیں اوراﷲ تعالی ہی راہ ہدایت عطا فرمانے والاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۶: مسئولہ سید شرف حسین صاحب ہیڈمحررسلطان پورضلع سہارن پور ۲۸محرم ۱۳۳۲ھ
مطلع فرمائیے کہ "اولی الامر منکم " (اوران کاحکم مانوجوتم میں حکومت والے ہیں۔ت)کی بابت رشیداحمدصاحب "علماء وفقہاء" تجویزفرماتے ہیں اوربعض علماء نے "بادشاہ اسلام" مرادلیاہے۔لہذا آپ اپنی رائے بابت "اولی الامر"کے تجویز فرمائیے کہ کون ہیں جن کی اطاعت قرین اطاعت جناب رسول مقبول صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ہے اورنیز یہ بھی تحریر فرمائیے کہ جس نے امام وقت کونہ پہچانا اس کی موت جاہلیت پرہوگیاس کاکیامطلب ہے اوریہ بھی تحریرفرمائیے کہ جس وقت یزید ملعون تخت نشین تھا آیا وہ بھی" اولی الامر منکم " میں شامل ہے یانہیںاگرنہیں ہے تواس وقت کون "اولی الامر" تھا۔مفصل ومشرح "اولی الامر" کے معنی اس وقت سے اس وقت تك کے تحریرفرمائیے۔
الجواب:
"اولی الامر"میں اصح القول یہی ہے کہ اس سے مراد علمائے دین ہیں کما نص علیہ الزرقانی وغیرہ(جیساکہ ا س پرزرقانی وغیرہ نے نص فرمائی ہے۔ت)نہ کہ سلاطین جن کے بہت احکام خلاف شرع ہوتے ہیں۔یزیدپلید کے وقت میں بکثرت صحابہ کرام وتابعین اعلام تھے وہی "اولی الامر" تھے نہ کہ یزیدعلیہ مایستحقہ۔ہررسالت کے زمانہ میں وہ رسول اوراس کی کتاب امام ہوتی ہے قال تعالی " کتب موسی اماما و رحمۃ " (اﷲ تعالی نے فرمایا:موسی علیہ السلام کی
کتاب پیشوا اورمہربانی ہے۔ت)زمانہ ختمیت میں آخر دہرتك قرآن عظیم وحضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امام ہیں جس نے انہیں نہ پہچانا ظاہرکہ وہ جاہلیت کی موت مرا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۷: مسئولہ جناب حافظ سیدعبدالجلیل صاحب مارہروی ۱۲جمادی الآخرہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خطبہ میں ہے لایکلف اﷲ نفسا الا دون وسعھا۔یہ پڑھناکیساہے اور یہاں دون کامحل کیاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
آیہ کریمہ بدون "دون" ہےخطبہ میں اگرچہ نہ وہ آیت ہوناضرورنہ قرآن عظیم سے اقتباس محذورمگرزیادت موہومہ خلاف مراد محذور۔
دون زبان عرب میں دس معنی پرمشتمل ہے:
(۱)غیر" ائفکا الہۃ دون اللہ تریدون ﴿۸۶﴾" ای غیرہ ۔
(۲)تحت " و منا دون ذلک " ۔
(۳)فوقفھی اذن من الاضداد کما افادہ المجد ۔
(۴)اقللیس فیمادون خمس اواق صدقۃ ۔ غیرکیابہتان سے اﷲ تعالی کے سوا اورخدا چاہتے ہو یعنی اس کا غیر۔(ت)
تحتاورہم میں سے کچھ اس سے کمترہیں۔(ت)
فوقتو اس صورت میں یہ اضداد کے قبیلہ سے ہوگا جیساکہ مجد نے اس کاافادہ فرمایاہے۔(ت)
اقلپانچ اوقیہ سے کم میں زکوۃ نہیں ہے(ت)
(۵و۶)وراء وامامیعنی اس پار یا اس پار
کیف الوصول الی سعاد و"دونھا" قلل الجبال ودونھن حتوف وراء وامامسعاد تك کیسے پہنچاجاسکتاہے حالانکہ اس کے سامنے بلندچوٹیوں والے پہاڑ ہیں اور ان کے پیچھے موتی ہیں۔
مسئلہ ۲۵۷: مسئولہ جناب حافظ سیدعبدالجلیل صاحب مارہروی ۱۲جمادی الآخرہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خطبہ میں ہے لایکلف اﷲ نفسا الا دون وسعھا۔یہ پڑھناکیساہے اور یہاں دون کامحل کیاہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
آیہ کریمہ بدون "دون" ہےخطبہ میں اگرچہ نہ وہ آیت ہوناضرورنہ قرآن عظیم سے اقتباس محذورمگرزیادت موہومہ خلاف مراد محذور۔
دون زبان عرب میں دس معنی پرمشتمل ہے:
(۱)غیر" ائفکا الہۃ دون اللہ تریدون ﴿۸۶﴾" ای غیرہ ۔
(۲)تحت " و منا دون ذلک " ۔
(۳)فوقفھی اذن من الاضداد کما افادہ المجد ۔
(۴)اقللیس فیمادون خمس اواق صدقۃ ۔ غیرکیابہتان سے اﷲ تعالی کے سوا اورخدا چاہتے ہو یعنی اس کا غیر۔(ت)
تحتاورہم میں سے کچھ اس سے کمترہیں۔(ت)
فوقتو اس صورت میں یہ اضداد کے قبیلہ سے ہوگا جیساکہ مجد نے اس کاافادہ فرمایاہے۔(ت)
اقلپانچ اوقیہ سے کم میں زکوۃ نہیں ہے(ت)
(۵و۶)وراء وامامیعنی اس پار یا اس پار
کیف الوصول الی سعاد و"دونھا" قلل الجبال ودونھن حتوف وراء وامامسعاد تك کیسے پہنچاجاسکتاہے حالانکہ اس کے سامنے بلندچوٹیوں والے پہاڑ ہیں اور ان کے پیچھے موتی ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۷ /۸۶
جلالین تحت الآیۃ ۳۷/ ۸۶ اصح المطابع ص۳۷۶
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفظ "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
القرآن الکریم ۷۲ /۱۱
القاموس المحیط باب النون فصل الدال تحت لفظ "دون" مصطفی البابی مصر ۴/ ۲۲۵
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۱۸۹ و ۱۹۴ وصحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۱۵
ابجدالعلوم علم التعابی فی الحروب ۲/ ۱۶۵
جلالین تحت الآیۃ ۳۷/ ۸۶ اصح المطابع ص۳۷۶
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفظ "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
القرآن الکریم ۷۲ /۱۱
القاموس المحیط باب النون فصل الدال تحت لفظ "دون" مصطفی البابی مصر ۴/ ۲۲۵
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۱۸۹ و ۱۹۴ وصحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۱۵
ابجدالعلوم علم التعابی فی الحروب ۲/ ۱۶۵
وفی الحدیث من قتل دون اھلہ فھو شھید ای امامھم فی حفظھم والدفاع عنھم۔وفی الحدیث لیس دونہ تعالی منتھی ای وراہ۔و قدجمعھا قولہ فی الخمر ع: تریك القذی من دونھا وھی دونہ ۔ اورحدیث میں ہے جواپنے اہل وعیال کے سامنے قتل کیاگیاوہ شہیدہے یعنی ان کے سامنے ان کادفاع کرتے ہوئے۔ اور حدیث میں ہے اﷲ تعالی سے آگے کوئی منتہی نہیں۔(ت)
اورشراب سے متعلق شاعرکے قول نے ان معانی کوجمع کردیا ہےیہ شراب تجھے دکھاتی ہے کہ تنکا اس کے آگے ہے اور وہ اس کے پیچھے ہے۔(ت)
(۷)حقیرع:
ویقنع بالدون من کان دونا۔ حقیرحقیرچیز پرقناعت کرلیتاہے وہ جو حقیرہوتاہے۔(ت)
(۸)شریف
حکاہ بعض النحاۃ وقال المجد علیہ ضد ۔ شریفبعض نحویوں نے اس کو حکایت کیاہےاورمجدنے کہاکہ یہ پہلے معنی کی ضدہے(ت)
(۹)نزدیك تربچیزے بہ نسبت مضاف الیہ۔مضاف الیہ کی بہ نسبت زیاہ قریب چیز۔
" و وجد من دونہم امراتین تذودان " ۔
(۱۰)مقارب مضاف الیہ مکانا مکانۃ۔ اور اس نے ان مردوں کے قریب دوعورتوں کودیکھا جواپنے جانور روك رہی ہیں۔(ت)
مضاف الیہ کے قریب مکان۔
اورشراب سے متعلق شاعرکے قول نے ان معانی کوجمع کردیا ہےیہ شراب تجھے دکھاتی ہے کہ تنکا اس کے آگے ہے اور وہ اس کے پیچھے ہے۔(ت)
(۷)حقیرع:
ویقنع بالدون من کان دونا۔ حقیرحقیرچیز پرقناعت کرلیتاہے وہ جو حقیرہوتاہے۔(ت)
(۸)شریف
حکاہ بعض النحاۃ وقال المجد علیہ ضد ۔ شریفبعض نحویوں نے اس کو حکایت کیاہےاورمجدنے کہاکہ یہ پہلے معنی کی ضدہے(ت)
(۹)نزدیك تربچیزے بہ نسبت مضاف الیہ۔مضاف الیہ کی بہ نسبت زیاہ قریب چیز۔
" و وجد من دونہم امراتین تذودان " ۔
(۱۰)مقارب مضاف الیہ مکانا مکانۃ۔ اور اس نے ان مردوں کے قریب دوعورتوں کودیکھا جواپنے جانور روك رہی ہیں۔(ت)
مضاف الیہ کے قریب مکان۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الدیات باب ماجاء فیمن قتل دون مالہ فہو شہید الخ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۷۰
مجمع بحارالانوار باب الدال مع الواو تحت لفظ "دون" مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۲/ ۲۱۶
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفط "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفط "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفط "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۵
القرآن الکریم ۲۸ /۲۳
مجمع بحارالانوار باب الدال مع الواو تحت لفظ "دون" مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۲/ ۲۱۶
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفط "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفط "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفط "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۵
القرآن الکریم ۲۸ /۲۳
ھذا دونك ای قریب۔ یہ تیرے قریب ہے۔(ت)
ظاہرہے کہ معنی ۷ و۸ کوتویہاں سے تعلق ہی نہیں۔اورباقی معانی سب مخالف قرآن ہیں۔قرآن عظیم یہ حصر فرماتایہ چاہتاہے کہ اﷲ عزوجل کسی کوتکلیف نہیں دیتا مگربقدرقدرت ووسعت وطاقت۔اوریہاں یہ حصرہوگا کہ اﷲ سبحانہ کسی کوتکلیف نہیں دیتا مگراس کی طاقت کے سوایاطاقت سے نیچےیاطاقت کے اوپریاطاقت سے کمیاطاقت سے اس پاریاطاقت سے اس پار۔اوریہی نیچے اورکم اور اس پار کاحاصل۔دومعنی اخیر میں نکلے گا کہ ان پانچوں معنی میں منتہی تك نہ پہنچنا ملحوظ ہے۔صحاح و صراح ومجمع البحاروغیرہامیں ہے:معناہ تقصیر عن الغایۃ (اس کامعنی ہے کہ غایت تك نہ پہنچنا۔ت)توان پانچوں کاحصر صریح مخالف قرآن ہے اور ان دویعنی اوپر اوراس پار کاشدید مناقض۔اورسوا توصراحۃ نقیض معنی قرآن ہے۔وبعد التیاوالتی تاویلات دورازکارکوگنجائش دی جائے توایہام معانی باطلہ نقد وقت ہے اور اسی قدر منع کے لئے بس ہے۔
فی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفار مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔ ردالمحتاروغیرہ معتمد کتابوں میں ہے کہ محض معنی محال کا ایہام ممانعت کے لئے کافی ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
__________________
ظاہرہے کہ معنی ۷ و۸ کوتویہاں سے تعلق ہی نہیں۔اورباقی معانی سب مخالف قرآن ہیں۔قرآن عظیم یہ حصر فرماتایہ چاہتاہے کہ اﷲ عزوجل کسی کوتکلیف نہیں دیتا مگربقدرقدرت ووسعت وطاقت۔اوریہاں یہ حصرہوگا کہ اﷲ سبحانہ کسی کوتکلیف نہیں دیتا مگراس کی طاقت کے سوایاطاقت سے نیچےیاطاقت کے اوپریاطاقت سے کمیاطاقت سے اس پاریاطاقت سے اس پار۔اوریہی نیچے اورکم اور اس پار کاحاصل۔دومعنی اخیر میں نکلے گا کہ ان پانچوں معنی میں منتہی تك نہ پہنچنا ملحوظ ہے۔صحاح و صراح ومجمع البحاروغیرہامیں ہے:معناہ تقصیر عن الغایۃ (اس کامعنی ہے کہ غایت تك نہ پہنچنا۔ت)توان پانچوں کاحصر صریح مخالف قرآن ہے اور ان دویعنی اوپر اوراس پار کاشدید مناقض۔اورسوا توصراحۃ نقیض معنی قرآن ہے۔وبعد التیاوالتی تاویلات دورازکارکوگنجائش دی جائے توایہام معانی باطلہ نقد وقت ہے اور اسی قدر منع کے لئے بس ہے۔
فی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفار مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔ ردالمحتاروغیرہ معتمد کتابوں میں ہے کہ محض معنی محال کا ایہام ممانعت کے لئے کافی ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
__________________
حوالہ / References
تاج العروس باب النون فصل الدال تحت لفظ "دون" داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۲۰۳
مجمع البحار تحت لفظ دون۲/ ۲۱۶ و الصحاح تحت لفظ دون ۵/ ۱۱۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳
مجمع البحار تحت لفظ دون۲/ ۲۱۶ و الصحاح تحت لفظ دون ۵/ ۱۱۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳
رسالہ
الصمصام علی مشکك فی ایۃ علوم الارحام ۱۳۱۵ھ
(کاٹنے والی تلوار اس شخص کی گردن پرجوعلوم ارحام سے تعلق رکھنے والی آیتوں میں شك ڈالنے والاہے)
مسئلہ ۲۵۸:ازعظیم آباد پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ مولانا مولوی قاضی محمدعبدالوحیدصاحب حنفی فردوسی نہم جمادی الاولی ۱۳۱۵ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
استفتاء
حضرت اقدس قبلہ وکعبہ مدظلہ دست بستہ تسلیماس کے بعد التجاہے ایك ضروری مسئلہ جلد اندرہفتہ مدلل ومکمل عقلی ونقلی طورپرلکھ کرایك مسلمان کی جان بلکہ ایمان کی حفاظت کیجئےعنداﷲ ماجورہوں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ اﷲ پاك قرآن میں فرماتا ہے کہ پیٹ کاحال کوئی نہیں جانتا کہ بچہ ذکورسے ہے یااناث سےحالانکہ ایك آلہ نکلاہے جس سے سب حال معلوم ہوجاتاہے اورپتاملتاہے۔
کمترین خادمان
عبدالوحید حنفی الفردوسی منتظم تحفہ عفا اﷲ تعالی عنہ
الصمصام علی مشکك فی ایۃ علوم الارحام ۱۳۱۵ھ
(کاٹنے والی تلوار اس شخص کی گردن پرجوعلوم ارحام سے تعلق رکھنے والی آیتوں میں شك ڈالنے والاہے)
مسئلہ ۲۵۸:ازعظیم آباد پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ مولانا مولوی قاضی محمدعبدالوحیدصاحب حنفی فردوسی نہم جمادی الاولی ۱۳۱۵ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
استفتاء
حضرت اقدس قبلہ وکعبہ مدظلہ دست بستہ تسلیماس کے بعد التجاہے ایك ضروری مسئلہ جلد اندرہفتہ مدلل ومکمل عقلی ونقلی طورپرلکھ کرایك مسلمان کی جان بلکہ ایمان کی حفاظت کیجئےعنداﷲ ماجورہوں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ اﷲ پاك قرآن میں فرماتا ہے کہ پیٹ کاحال کوئی نہیں جانتا کہ بچہ ذکورسے ہے یااناث سےحالانکہ ایك آلہ نکلاہے جس سے سب حال معلوم ہوجاتاہے اورپتاملتاہے۔
کمترین خادمان
عبدالوحید حنفی الفردوسی منتظم تحفہ عفا اﷲ تعالی عنہ
فتوی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی لایخفی علیہ شیئ فی الارض ولافی السماء ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء و الصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاءالآتی بکتاب مبین فیہ رحمۃ و شفاء وماحظ الکفرین منہ الانقمۃ وشقاء وعلی الہ وصحبہ البررۃ الاتقیاءالزین ھم فی بطون امھاتھم سعداء ماجن جنین فی ظلمت ثلث بین غشاء وغطاءامین! تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جس پرزمین وآسمان کی کوئی چیزپوشیدہ نہیں۔وہ وہی ہے جو تمہاری صورت بناتاہے ماں کے پیٹ میں جیسے چاہےاوردرودوسلام ہوخاتم الانبیاء پرجوروشن کتاب لے کر تشریف لانے والے ہیںجس میں رحمت وشفاء ہےکافروں کااس سے سوائے انتقام اوربدبختی کے کچھ نہیںاورآپ کے آل واصحاب پرجونیك اورمتقی ہیں اوروہ ماؤں کے پیٹوں میں سعادتمند ہوئےجبکہ جنین تین تاریکیوں میں پردے اوراندھیرے کے درمیان پوشیدہ رہے۔ آمین!(ت)
مولینا حامی سنت ماحی بدعت اکرکم اﷲ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔اﷲ تعالی جل وعلاسورہ آل عمران شریف میں ارشاد فرماتاہے:
" ان اللہ لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء﴿۵﴾ ہو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ہو العزیز الحکیم﴿۶﴾ " بیشك اﷲ پرکوئی چیزچھپی نہیں زمین میں اورنہ آسمان میں وہی ہے جوتمہارا نقشہ بناتاہے ماں کے پیٹ میں جیساچاہے کوئی سچامعبود نہیں مگروہی زبردست حکمت والا۔
سورہ رعدشریف میں فرماتاہے:
" اللہ یعلم ما تحمل کل انثی اﷲ جانتاہے جوکچھ پیٹ میں رکھتی ہے ہرمادہ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی لایخفی علیہ شیئ فی الارض ولافی السماء ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء و الصلوۃ والسلام علی خاتم الانبیاءالآتی بکتاب مبین فیہ رحمۃ و شفاء وماحظ الکفرین منہ الانقمۃ وشقاء وعلی الہ وصحبہ البررۃ الاتقیاءالزین ھم فی بطون امھاتھم سعداء ماجن جنین فی ظلمت ثلث بین غشاء وغطاءامین! تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جس پرزمین وآسمان کی کوئی چیزپوشیدہ نہیں۔وہ وہی ہے جو تمہاری صورت بناتاہے ماں کے پیٹ میں جیسے چاہےاوردرودوسلام ہوخاتم الانبیاء پرجوروشن کتاب لے کر تشریف لانے والے ہیںجس میں رحمت وشفاء ہےکافروں کااس سے سوائے انتقام اوربدبختی کے کچھ نہیںاورآپ کے آل واصحاب پرجونیك اورمتقی ہیں اوروہ ماؤں کے پیٹوں میں سعادتمند ہوئےجبکہ جنین تین تاریکیوں میں پردے اوراندھیرے کے درمیان پوشیدہ رہے۔ آمین!(ت)
مولینا حامی سنت ماحی بدعت اکرکم اﷲ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔اﷲ تعالی جل وعلاسورہ آل عمران شریف میں ارشاد فرماتاہے:
" ان اللہ لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء﴿۵﴾ ہو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ہو العزیز الحکیم﴿۶﴾ " بیشك اﷲ پرکوئی چیزچھپی نہیں زمین میں اورنہ آسمان میں وہی ہے جوتمہارا نقشہ بناتاہے ماں کے پیٹ میں جیساچاہے کوئی سچامعبود نہیں مگروہی زبردست حکمت والا۔
سورہ رعدشریف میں فرماتاہے:
" اللہ یعلم ما تحمل کل انثی اﷲ جانتاہے جوکچھ پیٹ میں رکھتی ہے ہرمادہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۵ و۶
وما تغیض الارحام وما تزداد وکل شیء عندہ بمقدار﴿۸﴾ علم الغیب والشہدۃ الکبیر المتعال ﴿۹﴾" اورجتنے سمٹتے ہیں پیٹ اور جتنے پھیلتے یاجوکچھ گھٹتے ہیں اورجو کچھ بڑھتے اورہرچیز اس کے یہاں ایك اندازے سے ہے جاننے والا نہاں وعیاں کاسب سے بڑا بلندی والا۔
سورہ حج شریف میں فرماتاہے:
" و نقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی" اورہم ٹھہرائے رکھتے ہیں مادہ کے پیٹ میں جوکچھ چاہیں ایك مقرروعدے تک۔
سورہ لقمان شریف میں فرماتاہے:
" ان اللہ عندہ علم الساعۃ و ینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر ﴿۳۴﴾" بیشك اﷲ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اتارتاہے مینہ اور جانتاہے جوکچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اورکوئی جی نہیں جانتا کہ کل کیاکرے گا اور کسی کواپنی خبرنہیں کہ کہاں مرے گا بیشك اﷲ ہی جاننے والاخبردار۔
اورسورہ ملئکہ شریف میں فرماتاہے:
" واللہ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازوجا وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر ﴿۱۱﴾
" اﷲ نے بنایا تمہیں مٹی سے پھرمنی سے پھرکیاتمہیں جوڑے جوڑے اورنہیں گابھن ہوتی کوئی مادہ اورنہ جنے مگر اس کے علم سے اور نہ کوئی عمروالاعمردیاجائے اورنہ گھٹایاجائے اس کی عمر سے مگر یہ سب لکھاہے ایك نوشتہ میں بیشك یہ سب اﷲ کوآسان ہے۔
سورہ حم السجدہ شریف میں فرماتاہے:
" الیہ یرد علم الساعۃ اﷲ ہی کی طرف پھراجاتا ہے علم قیامت کا
سورہ حج شریف میں فرماتاہے:
" و نقر فی الارحام ما نشاء الی اجل مسمی" اورہم ٹھہرائے رکھتے ہیں مادہ کے پیٹ میں جوکچھ چاہیں ایك مقرروعدے تک۔
سورہ لقمان شریف میں فرماتاہے:
" ان اللہ عندہ علم الساعۃ و ینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر ﴿۳۴﴾" بیشك اﷲ ہی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اتارتاہے مینہ اور جانتاہے جوکچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اورکوئی جی نہیں جانتا کہ کل کیاکرے گا اور کسی کواپنی خبرنہیں کہ کہاں مرے گا بیشك اﷲ ہی جاننے والاخبردار۔
اورسورہ ملئکہ شریف میں فرماتاہے:
" واللہ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازوجا وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الا فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر ﴿۱۱﴾
" اﷲ نے بنایا تمہیں مٹی سے پھرمنی سے پھرکیاتمہیں جوڑے جوڑے اورنہیں گابھن ہوتی کوئی مادہ اورنہ جنے مگر اس کے علم سے اور نہ کوئی عمروالاعمردیاجائے اورنہ گھٹایاجائے اس کی عمر سے مگر یہ سب لکھاہے ایك نوشتہ میں بیشك یہ سب اﷲ کوآسان ہے۔
سورہ حم السجدہ شریف میں فرماتاہے:
" الیہ یرد علم الساعۃ اﷲ ہی کی طرف پھراجاتا ہے علم قیامت کا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۳ /۸ و ۹
القرآن الکریم ۲۲ /۵
القرآن الکریم ۳۱ /۳۴
القرآن الکریم ۳۵ /۱۱
القرآن الکریم ۲۲ /۵
القرآن الکریم ۳۱ /۳۴
القرآن الکریم ۳۵ /۱۱
"وما تخرج من ثمرت من اکمامہا و ما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ" اورنہیں نکلتاکوئی پھل اپنے غلاف سے اورنہ پیٹ رہے کسی مادہ کواورنہ جنے مگر اس کی آگاہی سے۔
اورسورہ والنجم شریف میں فرماتاہے:
"ہو اعلم بکم اذ انشاکم من الارض و اذ انتم اجنۃ فی بطون امہتکم فلا تزکوا انفسکم ہو اعلم بمن اتقی ﴿۳۲﴾" اﷲ خوب جانتاہے تمیں جب اس نے بنایا تم کو زمین سے اور جب تم چھپے ہوئے تھے ماں کے پیٹ میں۔توآپ اپنی جان کو ستھرانہ کہواسے خوب خبرہے کون پرہیزگارہوا۔
آیات کریمہ میں مولی سبحنہ وتعالی اپنے بے پایان علوم کے بیشمار اقسام سے ایك سہل قسم کابہت اجمالی ذکر فرماتاہے کہ ہرمادہ کے پیٹ میں جوکچھ ہے سب کا ساراحال ۱پیٹ رہتے وقت اور ۲اس سے پہلے اور۳پیداہوتے اور۴پیٹ میں رہتے اور۵جوکچھ اس پرگزرا اور۶گزرنے والاہے۷جتنی عمرپائے گا ۸جوکچھ کام کرے گا ۹جب تك پیٹ میں رہے گا۱۰اس کااندرونی بیرونی ایك ایك عضو ایك ایك پر زہ جوصورت دیاگیاجودیاجائے گا ۱۱ہرہررونگٹاجومقدارمساحت وزن پائے گا۱۲بچے کی لاغریفربہیغذاحرکت خفیفہ زائدہ انبساطانقباض اورزیادت وقلت خونطمث وحصول فضلات وہوا و رطوبات وغیرہا کے باعث آن آن پرپیٹ جو سمٹتے پھیلتے ہیں غرض ذرہ ذرہ سب اسے معلوم ہے ان میں کہیں نہ تخصیص ذکورت وانوثت کاذکرنہ مطلق علم کی نفی وحصرتویہ مہمل و مختل اعتراض پادرہوا کہ بعض پادریان پادربندہوا کی تازہ گھڑت ہے اس کااصل منشا معنی آیات میں بے فہمی محض یا حسب عادت دیدہ ودانستہ کلام الہی پرافتراء وتہمت ہے۔قرآن عظیم نے کس جگہ فرمایاہے کہ کوئی کبھی کسی مادہ کے حمل کو کسی طرح تدبیرسے اتنامعلوم نہیں کرسکتا کہ نرہے یامادہ۔اگرکہیں ایسافرمایاہوتو نشان دو۔اورجب نہیں توبعض وقت بعض اناث کے بعض حمل کابعض حال بعض تدابیر سے بعض اشخاص نے بعض جہل طویل وعجز مدید بعض آلات بیجان کا فقیرومحتاج ہوکراس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایك ذرہ علم وقدرت سے(کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چند روز کے لئے پائے
اورسورہ والنجم شریف میں فرماتاہے:
"ہو اعلم بکم اذ انشاکم من الارض و اذ انتم اجنۃ فی بطون امہتکم فلا تزکوا انفسکم ہو اعلم بمن اتقی ﴿۳۲﴾" اﷲ خوب جانتاہے تمیں جب اس نے بنایا تم کو زمین سے اور جب تم چھپے ہوئے تھے ماں کے پیٹ میں۔توآپ اپنی جان کو ستھرانہ کہواسے خوب خبرہے کون پرہیزگارہوا۔
آیات کریمہ میں مولی سبحنہ وتعالی اپنے بے پایان علوم کے بیشمار اقسام سے ایك سہل قسم کابہت اجمالی ذکر فرماتاہے کہ ہرمادہ کے پیٹ میں جوکچھ ہے سب کا ساراحال ۱پیٹ رہتے وقت اور ۲اس سے پہلے اور۳پیداہوتے اور۴پیٹ میں رہتے اور۵جوکچھ اس پرگزرا اور۶گزرنے والاہے۷جتنی عمرپائے گا ۸جوکچھ کام کرے گا ۹جب تك پیٹ میں رہے گا۱۰اس کااندرونی بیرونی ایك ایك عضو ایك ایك پر زہ جوصورت دیاگیاجودیاجائے گا ۱۱ہرہررونگٹاجومقدارمساحت وزن پائے گا۱۲بچے کی لاغریفربہیغذاحرکت خفیفہ زائدہ انبساطانقباض اورزیادت وقلت خونطمث وحصول فضلات وہوا و رطوبات وغیرہا کے باعث آن آن پرپیٹ جو سمٹتے پھیلتے ہیں غرض ذرہ ذرہ سب اسے معلوم ہے ان میں کہیں نہ تخصیص ذکورت وانوثت کاذکرنہ مطلق علم کی نفی وحصرتویہ مہمل و مختل اعتراض پادرہوا کہ بعض پادریان پادربندہوا کی تازہ گھڑت ہے اس کااصل منشا معنی آیات میں بے فہمی محض یا حسب عادت دیدہ ودانستہ کلام الہی پرافتراء وتہمت ہے۔قرآن عظیم نے کس جگہ فرمایاہے کہ کوئی کبھی کسی مادہ کے حمل کو کسی طرح تدبیرسے اتنامعلوم نہیں کرسکتا کہ نرہے یامادہ۔اگرکہیں ایسافرمایاہوتو نشان دو۔اورجب نہیں توبعض وقت بعض اناث کے بعض حمل کابعض حال بعض تدابیر سے بعض اشخاص نے بعض جہل طویل وعجز مدید بعض آلات بیجان کا فقیرومحتاج ہوکراس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایك ذرہ علم وقدرت سے(کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چند روز کے لئے پائے
اورا ب بھی اسی کے قبضہ واقتدار میں ہیں کہ بے اس کے کچھ کام نہ دیں)اگرصحراسے ذرہ سمندرسے قطرہ معلوم کرلیاتو یہ آیات کریمہ کے کس حرف کاخلاف ہواوہ خود فرماتاہے:
"یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشاء" اﷲ جانتاہے جوان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اوروہ نہیں پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔
تمام جہان میں روزاول سے ابدالآباد تك جس نے جوکچھ جانایاجانے گا سب اسی الا بماشاء کے استثناء میں داخل ہے جس کے لاکھوں کروڑوں سربفلك کشیدہ پہاڑوں سے ایك نہایت قلیل وذلیل وبے مقدار ذرہ یہ آلہ بھی ہےایساہی اعتراض کرناہوتو بے گنتی گزشتہ وآئندہ باتوں کاجوعلم ہم کو ہے اسی سے کیوں نہ اعتراض کرے جوصیغہ یعلم مافی الارحام میں ہے کہ اﷲ جانتاہے جوکچھ مادہ کے پیٹ میں ہے بعینہ وہی صیغہ " یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم " میں ہے کہ اﷲ جانتاہے جوکچھ گزرا اورجوکچھ ان کے پیچھے ہے۔جب ان بے شمار علوم تاریخی وآسمانی ملنے میں کسی عاقل منصف کے نزدیك اس آیت کاکچھ خلاف نہ ہوا نہ تیرہ سوبرس سے آج تك کسی پادری صاحب کوان علوم کے باعث اس آیہ کریمہ پرلب کشائی کاجنون اچھلاتواب ایك ذرا سی آلیانکال کر اس آیت کاکیابگاڑ متصورہوسکتاہےہاں عقل نہ ہو توبندہ مجبورہے یاانصاف نہ ملے تو انکھیارابھی کور ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھرمیں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ سے ہے۔ت)مفصلا حق واضح کو واضح ترکروں۔اصل یہ ہے کہ کسی علم کی حضرت عزت عزوجل سے تخصیص اوراس کی ذات پاك میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقا نفی چندوجہ پرہے:
اول: علم کاذاتی ہونا کہ بذات خود بے عطائے غیرہو۔
دوم: علم کاغنا کہ کسی آلہ جارحہ وتدبیر وفکرونظر والتفات وانفعال کااصلا محتاج نہ ہو۔
سوم: علم کا سرمدی ہوناکہ ازلا ابدا ہو۔
چہارم: علم کاوجوب کہ کبھی کسی طرح اس کاسلب ممکن نہ ہو۔
پنجم: علم کااثبات واستمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر وتبدل فرق تفاوت کاامکان نہ ہو۔
"یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشاء" اﷲ جانتاہے جوان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اوروہ نہیں پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔
تمام جہان میں روزاول سے ابدالآباد تك جس نے جوکچھ جانایاجانے گا سب اسی الا بماشاء کے استثناء میں داخل ہے جس کے لاکھوں کروڑوں سربفلك کشیدہ پہاڑوں سے ایك نہایت قلیل وذلیل وبے مقدار ذرہ یہ آلہ بھی ہےایساہی اعتراض کرناہوتو بے گنتی گزشتہ وآئندہ باتوں کاجوعلم ہم کو ہے اسی سے کیوں نہ اعتراض کرے جوصیغہ یعلم مافی الارحام میں ہے کہ اﷲ جانتاہے جوکچھ مادہ کے پیٹ میں ہے بعینہ وہی صیغہ " یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم " میں ہے کہ اﷲ جانتاہے جوکچھ گزرا اورجوکچھ ان کے پیچھے ہے۔جب ان بے شمار علوم تاریخی وآسمانی ملنے میں کسی عاقل منصف کے نزدیك اس آیت کاکچھ خلاف نہ ہوا نہ تیرہ سوبرس سے آج تك کسی پادری صاحب کوان علوم کے باعث اس آیہ کریمہ پرلب کشائی کاجنون اچھلاتواب ایك ذرا سی آلیانکال کر اس آیت کاکیابگاڑ متصورہوسکتاہےہاں عقل نہ ہو توبندہ مجبورہے یاانصاف نہ ملے تو انکھیارابھی کور ہے ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھرمیں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ سے ہے۔ت)مفصلا حق واضح کو واضح ترکروں۔اصل یہ ہے کہ کسی علم کی حضرت عزت عزوجل سے تخصیص اوراس کی ذات پاك میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقا نفی چندوجہ پرہے:
اول: علم کاذاتی ہونا کہ بذات خود بے عطائے غیرہو۔
دوم: علم کاغنا کہ کسی آلہ جارحہ وتدبیر وفکرونظر والتفات وانفعال کااصلا محتاج نہ ہو۔
سوم: علم کا سرمدی ہوناکہ ازلا ابدا ہو۔
چہارم: علم کاوجوب کہ کبھی کسی طرح اس کاسلب ممکن نہ ہو۔
پنجم: علم کااثبات واستمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر وتبدل فرق تفاوت کاامکان نہ ہو۔
ششم: علم کااقصی غایات کمالات پرہونا کہ معلوم کی ذات ذاتیات اعراض احوال لازمہ مفارقہ ذاتیہ اضافیہ ماضیہ آیۃ موجودہ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پرمخفی نہ ہوسکے۔
ان چھ وجہ پرمطلق علم حضرت احدیت جل وعلا سے خاص اوراس کے غیر سے قطعا مطلقا منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کاایساعلم جوان چھ وجوہ سے ایك وجہ بھی رکھتاہو حاصل ہونا ممکن نہیں جوکسی غیرالہی کے لئے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایك ذرے کاایساعلم ثابت کرے یقینا اجماعا کافرمشرك ہے۔ان تمام وجوہ کی طرف آیات کریمہ میں باطلاق کلمہ یعلم اشارہ فرمایاکہ یہاں علم کومطلق رکھااور مطلق فردکامل کی طرف منصرف اورعلم کامل بلکہ علم حقیقی حق الحقیقہ وہی ہے جوان وجوہ ستہ کاجامع ہو اسی لحاظ پرہے وہ جو قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
" یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا " جس دن اﷲ عزوجل رسولوں کوجمع کرکے فرمائے گا تمہیں کیاجواب ملاعرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔
کفارکے پاس ان محبوبان خداصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہم کاتشریف لاناہدایت فرمانا ان ملاعنہ کاتکذیب وانکار واصرارو استکبار وبیہودہ گفتار سے پیش آنا کسے نہیں معلوم مگرحضرات انبیاء عرض کریں گے لاعلم لنا ہمیں اصلا علم نہیںلانفی جنس کا ہے سلب مطلق فرمائیں گے یعنی وہی علم کامل کہ بحقیقت حقیقہ علم اسی کانام ہے اصلا اس کاکوئی فرد ہمیں حاصل نہیںحق حقیقت تو یہ ہے جب اس سے تجاوز کرکے حقیقت عرفیہ یعنی مطلق دانستن کی طرف چلئے خواہ بالذات ہو یابغیر ہو غنی ہو یامحتاج سرمدی ہو یاحادث ابدی ہو یافانی واجب ہو یاممکن ثابت ہویامتغیر تام ہو یاناقص بالکنہ ہو یابالوجہ بایں معنی مطلق علم کہ ایك آدھ چیزکے جاننے سے بھی صادق زنہار مختص بحضرت عزت عزت عظمتہ نہیںنہ معاذاﷲ قرآن عظیم نے ہرگز کہیں اس کادعوی کیابلکہ جس طرح معنی اول کاغیرکے لئے اثبات کفرہے اس معنے کی غیرسے نفی مطلق بھی کفرہے کہ یہ خود صدہا نصوص قرآن عظیم بلکہ تمام قرآن عظیم بلکہ تمام ملل وشرائع وعقل ونقل وحس سب کی تکذیب ہوگی قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں کے لئے بے شمار علوم عظیمہ عطافرمائے اوران کے عطاسے منت رکھی۔
ان چھ وجہ پرمطلق علم حضرت احدیت جل وعلا سے خاص اوراس کے غیر سے قطعا مطلقا منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کاایساعلم جوان چھ وجوہ سے ایك وجہ بھی رکھتاہو حاصل ہونا ممکن نہیں جوکسی غیرالہی کے لئے عقول مفارقہ ہوں خواہ نفوس ناطقہ ایك ذرے کاایساعلم ثابت کرے یقینا اجماعا کافرمشرك ہے۔ان تمام وجوہ کی طرف آیات کریمہ میں باطلاق کلمہ یعلم اشارہ فرمایاکہ یہاں علم کومطلق رکھااور مطلق فردکامل کی طرف منصرف اورعلم کامل بلکہ علم حقیقی حق الحقیقہ وہی ہے جوان وجوہ ستہ کاجامع ہو اسی لحاظ پرہے وہ جو قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
" یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا " جس دن اﷲ عزوجل رسولوں کوجمع کرکے فرمائے گا تمہیں کیاجواب ملاعرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔
کفارکے پاس ان محبوبان خداصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہم کاتشریف لاناہدایت فرمانا ان ملاعنہ کاتکذیب وانکار واصرارو استکبار وبیہودہ گفتار سے پیش آنا کسے نہیں معلوم مگرحضرات انبیاء عرض کریں گے لاعلم لنا ہمیں اصلا علم نہیںلانفی جنس کا ہے سلب مطلق فرمائیں گے یعنی وہی علم کامل کہ بحقیقت حقیقہ علم اسی کانام ہے اصلا اس کاکوئی فرد ہمیں حاصل نہیںحق حقیقت تو یہ ہے جب اس سے تجاوز کرکے حقیقت عرفیہ یعنی مطلق دانستن کی طرف چلئے خواہ بالذات ہو یابغیر ہو غنی ہو یامحتاج سرمدی ہو یاحادث ابدی ہو یافانی واجب ہو یاممکن ثابت ہویامتغیر تام ہو یاناقص بالکنہ ہو یابالوجہ بایں معنی مطلق علم کہ ایك آدھ چیزکے جاننے سے بھی صادق زنہار مختص بحضرت عزت عزت عظمتہ نہیںنہ معاذاﷲ قرآن عظیم نے ہرگز کہیں اس کادعوی کیابلکہ جس طرح معنی اول کاغیرکے لئے اثبات کفرہے اس معنے کی غیرسے نفی مطلق بھی کفرہے کہ یہ خود صدہا نصوص قرآن عظیم بلکہ تمام قرآن عظیم بلکہ تمام ملل وشرائع وعقل ونقل وحس سب کی تکذیب ہوگی قرآن عظیم نے اپنے محبوبوں کے لئے بے شمار علوم عظیمہ عطافرمائے اوران کے عطاسے منت رکھی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۱۰۹
o قال تعالی " علمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما﴿۱۱۳﴾"
o " و بشروہ بغلم علیم ﴿۲۸﴾"۔
o " و انہ لذو علم لما علمنہ"۔
o " وعلم ادم الاسماء کلہا"۔
o " واذکر عبدنا ابرہیم و اسحق و یعقوب اولی الایدی و الابصر ﴿۴۵﴾"
o یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجت " (اﷲ تعالی نے فرمایا)اورسکھادیا اﷲ نے تجھے اے نبی! جوتجھے معلوم نہ تھا اور اﷲ کافضل تجھ پر بہت بڑا ہے۔
اورفرشتوں نے ابراہیم کو مژدہ دیا علم والے لڑکے کا۔
اوربیشك یعقوب علم والاہے ہمارے علم عطافرمانے سے۔
سکھادئیے آدم کو سب نام۔
اوریاد کرہمارے بندوں ابراہیم واسحق ویعقوب قدرت والوں اورعلم والوں کو۔
بلند کرے گا اﷲ تعالی تمہارے ایمان والوں کو اوران کو جنہیں علم عطاہوا درجوں میں۔
بلکہ عام بشرکوفرماتاہے:
الرحمن ﴿۱﴾ علم القران ﴿۲﴾ خلق الانسن ﴿۳﴾ علمہ البیان ﴿۴﴾ " علم الانسان ما لم یعلم ﴿۵﴾"
" واللہ اخرجکم من بطون امہتکم لا تعلمون شیـا و جعل لکم السمع والابصر والافـدۃ لعلکم تشکرون ﴿۷۸﴾" رحمان نے سکھایا قرآنبنایا آدمیاسے بتایابیان۔
سکھایاآدمی کوجونہ جانتاتھا۔
اﷲ نے نکالا تمہیں ماں کے پیٹ سے نرے ناداں اوردئیے تمہیں کان اورآنکھیں اور دل شاید تم حق مانو۔
o " و بشروہ بغلم علیم ﴿۲۸﴾"۔
o " و انہ لذو علم لما علمنہ"۔
o " وعلم ادم الاسماء کلہا"۔
o " واذکر عبدنا ابرہیم و اسحق و یعقوب اولی الایدی و الابصر ﴿۴۵﴾"
o یرفع اللہ الذین امنوا منکم و الذین اوتوا العلم درجت " (اﷲ تعالی نے فرمایا)اورسکھادیا اﷲ نے تجھے اے نبی! جوتجھے معلوم نہ تھا اور اﷲ کافضل تجھ پر بہت بڑا ہے۔
اورفرشتوں نے ابراہیم کو مژدہ دیا علم والے لڑکے کا۔
اوربیشك یعقوب علم والاہے ہمارے علم عطافرمانے سے۔
سکھادئیے آدم کو سب نام۔
اوریاد کرہمارے بندوں ابراہیم واسحق ویعقوب قدرت والوں اورعلم والوں کو۔
بلند کرے گا اﷲ تعالی تمہارے ایمان والوں کو اوران کو جنہیں علم عطاہوا درجوں میں۔
بلکہ عام بشرکوفرماتاہے:
الرحمن ﴿۱﴾ علم القران ﴿۲﴾ خلق الانسن ﴿۳﴾ علمہ البیان ﴿۴﴾ " علم الانسان ما لم یعلم ﴿۵﴾"
" واللہ اخرجکم من بطون امہتکم لا تعلمون شیـا و جعل لکم السمع والابصر والافـدۃ لعلکم تشکرون ﴿۷۸﴾" رحمان نے سکھایا قرآنبنایا آدمیاسے بتایابیان۔
سکھایاآدمی کوجونہ جانتاتھا۔
اﷲ نے نکالا تمہیں ماں کے پیٹ سے نرے ناداں اوردئیے تمہیں کان اورآنکھیں اور دل شاید تم حق مانو۔
بلکہ عام ترفرماتاہے:
" الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض والطیر صفت کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ واللہ علیم بما یفعلون ﴿۴۱﴾" کیاتونے نہ دیکھا کہ اﷲ کی پاکی بولتے ہیں جو آسمان وزمین میں ہیں اور پرندے پراباندھے سب نے جان لی ہے اپنی اپنی نمازو تسبیحاوراﷲ کوخوب خبرہے جووہ کرتے ہیں۔
توکوئی اندھے سے اندھا بھی کسی آیت کایہ مطلب نہیں کہہ سکتا کہ بایں معنی مطلق علم کو غیرسے نفی فرمایاہے ہاں اس معنی پر علم مطلق غیر سے ضرور مسلوباوریہ وجہ ہفتم حصروتخصیص کی ہے یعنی تمام موجودات وممکنات ومفہومات وذوات وصفات ونصب واضافات وواقعیات و موہومات غرض ہرشیئ ومفہوم کو علم کاعام وتام ومحیط ومستغرق ہوناکہ غیرمتناہی معلومات کے غیرمتناہی سلاسل اورہرسلسلے کے ہرفردسے غیرمتناہی علوم متعلق اوریہ سب نامتناہی نامتناہی نامتناہی علوم معا حاصل ہوں جن کے احاطے سے کوئی فرد اصلا خارج نہ ہو جسے فرماتاہے:
" و ان اللہ قد احاط بکل شیء علما﴿۱۲﴾" بیشك اﷲ کا علم ہرچیز کومحیط ہوا۔
اورفرماتاہے:
" علم الغیب لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت و لا فی الارض و لا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین ٭﴿۳﴾" جاننے والا ہرچھپی چیزکا اس سے چھپی نہیں کوئی ذرہ بھر چیز آسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اورنہ بڑی مگر سب ایك روشن کتاب میں ہے۔
ایساعلم بھی غیر کے لئے محال اوردوسرے کے واسطے اس کااثبات کفروضلال کما بیناہ فی رسالتنا "مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید"(جیساکہ ہم نے اس کو اپنے رسالہ "مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید" میں بیان کر دیا ہے۔ت)مانحن فیہ میں مولاسبحانہ وتعالی نے اس وجہ ہفتم کی طرف اشارہ فرمایا کل انثی میں کلمہ کل اور ماتحمل من انثی
" الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض والطیر صفت کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ واللہ علیم بما یفعلون ﴿۴۱﴾" کیاتونے نہ دیکھا کہ اﷲ کی پاکی بولتے ہیں جو آسمان وزمین میں ہیں اور پرندے پراباندھے سب نے جان لی ہے اپنی اپنی نمازو تسبیحاوراﷲ کوخوب خبرہے جووہ کرتے ہیں۔
توکوئی اندھے سے اندھا بھی کسی آیت کایہ مطلب نہیں کہہ سکتا کہ بایں معنی مطلق علم کو غیرسے نفی فرمایاہے ہاں اس معنی پر علم مطلق غیر سے ضرور مسلوباوریہ وجہ ہفتم حصروتخصیص کی ہے یعنی تمام موجودات وممکنات ومفہومات وذوات وصفات ونصب واضافات وواقعیات و موہومات غرض ہرشیئ ومفہوم کو علم کاعام وتام ومحیط ومستغرق ہوناکہ غیرمتناہی معلومات کے غیرمتناہی سلاسل اورہرسلسلے کے ہرفردسے غیرمتناہی علوم متعلق اوریہ سب نامتناہی نامتناہی نامتناہی علوم معا حاصل ہوں جن کے احاطے سے کوئی فرد اصلا خارج نہ ہو جسے فرماتاہے:
" و ان اللہ قد احاط بکل شیء علما﴿۱۲﴾" بیشك اﷲ کا علم ہرچیز کومحیط ہوا۔
اورفرماتاہے:
" علم الغیب لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت و لا فی الارض و لا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین ٭﴿۳﴾" جاننے والا ہرچھپی چیزکا اس سے چھپی نہیں کوئی ذرہ بھر چیز آسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اورنہ بڑی مگر سب ایك روشن کتاب میں ہے۔
ایساعلم بھی غیر کے لئے محال اوردوسرے کے واسطے اس کااثبات کفروضلال کما بیناہ فی رسالتنا "مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید"(جیساکہ ہم نے اس کو اپنے رسالہ "مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید" میں بیان کر دیا ہے۔ت)مانحن فیہ میں مولاسبحانہ وتعالی نے اس وجہ ہفتم کی طرف اشارہ فرمایا کل انثی میں کلمہ کل اور ماتحمل من انثی
میں نکرہ منفیہ پھرتاکید بہ من اور مافی الارحام عموم ما اورلام استغراق سےوعلی ھذالقیاس۔اب آلہ محدثہ کی طرف چلئے فقیر اس پرمطلع نہ ہوانہ کسی سے اس کا کچھ حال سناظاہرایسی صورت میسرنہیں کہ جنین رحم میں بحال " فی ظلمت ثلث " تین اندھیریوں میں رہے اوربذریعہ آلہ مشہود ہوجائے اس کاجسم بالتفصیل آنکھوں سے نظرآئے کہ بعد علوق فم رحم سخت منضم ہو جاتاہے جس میں میل سرمہ بدقت جائے اوراس جائے تنگ وتارمیں جنین محبوس ہوتاہے وہ بھی یوں نہیں بلکہ خود اس پرتین غلاف اورچڑھے ہوتے ہیں اورایك غشائے رفیق ملاقی جسم مبین جس میں اس کا فضلہ عرق جمع ہوتاہے اس پرایك اورحجاب اس سے کثیف ترمسمی بہ غشائے لفافی جس میں فضلہ بول مجتمع رہتاہے اس پرایك اورغلاف اکثف کہ سب کو محیط ہے جسے شیمہ کہتے ہیںایسی حالتوں میں بدن نظرآنے کاکیامحل ہےتوظاہرا آلے کامحصل صرف بعض علامات وامارات ممیزہ منجملہ خواص خارجیہ کابتاناہوگا جن سے ذکورت وانوثت کاقیاس ہوسکےجیسے رحم کی تجویف ایمن یاایسرمیں حمل کاہونا یا اوربعض تجربیات کہ تازہ حاصل کئے گئے ہوںاگراسی قدرہے جب توکوئی نئی بات نہیں پہلے بھی مجربین قیاسات فارقہ رکھتے تھے جیسے دہنی یا بائیں طرف جنین کی بیشتر جنبشیا حاملہ کی پستان راست یا چپ کے حجم میں اقرایشیاسرہائے پستان میں سرخی یا ادواہٹ آنا یارنگ روئے زن پرشادابی یاتیرگی چھانایاحرکات زن میں خفت یاثقل پانایا قارورے میں اکثر اوقات حمرت یابیاض غالب رہنییاعورت کے خلاف عادت بعض اطعمہ جیدہ یاردیہ کی رغبت ہونییاپشم کبود میں زرادند مدقوق بعسل سرشتہ کاصبح علی اریق حمول اور ظہرتك مثل صائم رہ کرمزہ دہن کاامتحان کہ شیریں ہوایاتلخالی غیرذلك مما یعرفہ اھل الفن ولکل شروط یراعیھا البصیر فیصیب الظن(اس کے علاوہ جس کو اہل فن جانتاہے اورعقلمند تمام شرائط کوملحوظ رکھتاہے توگمان درست ہوتاہے۔ت)
اورعجائب صنع الہی جلت حکمتہ سے یہ بھی محتمل کہ کچھ ایسی تدابیر القافرمائی ہوں جن سے جنین مشاہدہ ہی ہوجاتاہو مثلابذریعہ قواسر پانچوں حجابوں عــــــہ میں بقدر حاجت کچھ توسیع وتفریح دے کر
عــــــہ:ہرسہ غشاہائے مذکورہ وفوق انہا زیروبالا دوطبقہ زہدان برہمدگرغلاف است۱۲ تین مذکورہ پردے اوران پراوپرنیچے دوطبقے زہد کے ایك دوسرے پر غلاف ہیں۔۱۲(ت)
اورعجائب صنع الہی جلت حکمتہ سے یہ بھی محتمل کہ کچھ ایسی تدابیر القافرمائی ہوں جن سے جنین مشاہدہ ہی ہوجاتاہو مثلابذریعہ قواسر پانچوں حجابوں عــــــہ میں بقدر حاجت کچھ توسیع وتفریح دے کر
عــــــہ:ہرسہ غشاہائے مذکورہ وفوق انہا زیروبالا دوطبقہ زہدان برہمدگرغلاف است۱۲ تین مذکورہ پردے اوران پراوپرنیچے دوطبقے زہد کے ایك دوسرے پر غلاف ہیں۔۱۲(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۶
روشنی پہنچاکر کچھ شیشے ایسی اوضاع پرلگائیں کہ باہم تادیہ عکوس کرتے ہوئے زجاج عقرب پر عکس لے آئیں یازجاجات متخالفۃ الملاایسی وضعیں پائیں کہ اشعہ بصریہ کو حسب قاعدہ معروضہ علم مناظر الغطاف دیتے ہوئے جنین تك لے جائیں جس طرح آفتاب کاکنارہ کہ ہنوزافق سے دوراورمقابلہ نظرسے محجوب ومستورہوتاہے بوجہ اختلاف ملاوغلظت عالم نسیم ہمیں محاذات بصرسے پہلے ہی نظرآجاتا اورطلوع مرئی کہ وہی ملحوظ فی الشرع ہے پیشترہوتاہے یوں ہی جانب غروب بعد زوال محاذات ووقوع حجاب میں کچھ دیرتك دکھائی دیتااورغروب مرئی معتبر فی الشرع غروب حقیقی کے بعد ہوتاہے ولہذا فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے جب کبھی موامرات زیجیہ سے محاسبہ کیا اوراسے مشاہدہ بصری سے ملایا ہے ہمیشہ نہارعرفی کونہارنجومی پراس سے بھی زائدپایاہے جوطرفین طلوع وغروب میں تفاوت افقین حسی وحقیقی بحسب ارتفاع قامت معتدلہ انسانی وتفاضل نیم قطر فاصل میان حاجت و مرکز کامقتضی ہے نیز اسی لئے فقیرکامشاہدہ ہے کہ قرص شمس تمام وکمال بالائے افق مشہورہونے پر بھی ظلمت شب مطلع ومغرب میں نظرآتی ہے حالانکہ مخروط ظلی وشمس میں ہرگز نیم دورسے کم فصل نہیں اوراختلاف منظرآفتاب غایت قلت میں ہے کہ مقدارعسرقطرتك بھی نہیں پہنچتا۔خیرکچھ بھی ہوہم یہی صورت فرض کرتے ہیں کہ مجردکسی امارت خارجہ کی بناپر قیاس ہی نہیں بلکہ بذریعہ آلہ اعضائے جنیں باچناں وچنیں حجابات وکمیں مشہود ہوجاتے ہیں بہرحال آخرتمام منشاومبنائے اعتراض مہمل صرف اس قدرکہ جوعلم قرآن عظیم نے مولی سبحنہ وتعالی کے لئے خاص ماناتھا ہمیں اس آلے سے حاصل ہوجاتاہے حالانکہ لاواﷲ"کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾" کیابڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتاہے وہ تونہیں کہتے مگرجھوٹ۔ہم پوچھتے ہیں اس آلے سے تم کو اتناہی علم دیاجووجہ ہشتم عام وشامل میں ہے جس کا باری عزوجل سے خاص جاننا محال اورخودبحکم قرآن عظیم کفروضلال تھا جب تواعتراض کتنامالیخولیااورکس درجہ کاجنون ہے کہ سرے سے مبنی ہی باطل وملعون ہے اس قسم علم یعنی دانستن کواگرچہ کیساہی ہو حضرت عزت عزت عظمتہ سے قرآن عظیم نے کب خاص ماناتھا اس قسم کے کروڑوں علم عام انسان بلکہ حیوانات کوروزملتے رہتے ہیں اورقرآن عظیم خود غیرخدا کے لئے انہیں ثابت فرماتاہے ایك اس کے ملنے میں کیانئی شاخ نکلی کہ آیت الہی کاخلاف ہوگیا یہ بھی اس "علم الانسان ما لم یعلم ﴿۵﴾ " (انسان کو سکھایاجووہ نہیں جانتاتھا)
کے ناپیدکنارصحراؤں سے ایك ذلیل ذرہ ہے کہ اﷲ تعالی نے سکھایا آدمی کو جو اسے معلوم نہ تھا دیکھو ابھی تمہیں آیت سناچکا ہوں کہ اﷲ نے تمہیں نکالا ماں کے پیٹ سے نرے جاہل کہ کچھ نہ جانتے تھے پھرتمہیں عقل وہوش وچشم وگوش دئیے کہ اس کاحق مانو تم نے اچھا حق ماناکہ اسی کی برابری کرنے لگے اوراگریہ مقصود کہ اس سے تمہیں ان سات وجوہ مخصوصہ بحضرت باری عزوجل سے کسی وجہ کاعلم مل گیا تو یہ اس سے بھی لاکھوں درجہ بدترجنون ہے۔کیایہ علم تمہاراذاتی ہے عطائے الہی سے نہیں اہل کتاب کہلاتے ہو شاید ایساخدائی دعوی تونہ کرو۔ابھی چندروزہوئے تم اس آلے سے جاہل تھے اﷲ عزوجل نے تمہیں تمہاری بساط کے لائق عقل دی ریاضی سکھائی دنیاکمانے کی راہ بتائی تمہارے ذہن میں اس کا طریقہ ڈالا آنکھیں ہاتھ جوارح دئیے جن کے ذریعہ سے کام کرسکو جس چیزکاکوئی آلہ بناؤ اورجس چیز پراسے استعمال میں لاؤ انہیں تمہارے لئے مسخر کیااسباب مہیاکرکے تمہارے دل میں اس کاخیال ڈالاپھر تمہارے جوارح کو کام کی طرف مصروف فرمایا پھر محض اپنی قدرت کاملہ سے بنادیا اوراس کابننا تمہارے ہاتھوں پرظاہرہواتم سمجھے ہم نے اپنی قدرت اپنے علم سے بنالیا اندھے ہمیشہ ایساہی سمجھا کرتے ہیں جوظاہری سبب کے غلام اورحلقہ بگوش اورمسبب وخالق وعالم وقادر حقیقی سے غافل وبیہوش ہیں " کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ﴿۳۵﴾" (اﷲتعالی یونہی مہرکردیتاہے متکبرسرکش کے سارے دل پر۔ت)جیسے قارون ملعون جسے اﷲ عزوجل نے بے شمارخزانے دئیے دنیابھرکی نعمتیں بخشیں جب اس سے کہاگیا "احسن کما احسن اللہ الیک" بھلائی کرجیسے اﷲ نے تیرے ساتھ بھلائی کی تو کافرکیابکتا ہے "انما اوتیتہ علی علم عندی " یہ تومجھے ایك علم سے ملاہے جو مجھے آتا ہے۔پھر بدلا دیکھا کس مرنے کا چکھا:
"فخسفنا بہ و بدارہ الارض فما کان لہ من فئۃ ینصرونہ من دون اللہ ٭ و ما کان من المنتصرین ﴿۸۱﴾" دھنسادیاہم نے اسے اور اس کے گھر کوزمین میں پھرنہ ہوئے اس کے کچھ یارکہ اسے بچالیتے اﷲ کی گرفت سے اورنہ وہ مدد لاسکا۔
اور اس علم کاغنی نہ ہونا خودبدیہی کہ ایك بے جان آلے کی بودگی پرہے جب تك آلہ نہ تھا توڈاکٹرصاحب
"فخسفنا بہ و بدارہ الارض فما کان لہ من فئۃ ینصرونہ من دون اللہ ٭ و ما کان من المنتصرین ﴿۸۱﴾" دھنسادیاہم نے اسے اور اس کے گھر کوزمین میں پھرنہ ہوئے اس کے کچھ یارکہ اسے بچالیتے اﷲ کی گرفت سے اورنہ وہ مدد لاسکا۔
اور اس علم کاغنی نہ ہونا خودبدیہی کہ ایك بے جان آلے کی بودگی پرہے جب تك آلہ نہ تھا توڈاکٹرصاحب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۰ /۳۵
القرآن الکریم ۲۸ /۷۷
القرآن الکریم ۲۸ /۷۸
القرآن الکریم ۲۸ /۸۱
القرآن الکریم ۲۸ /۷۷
القرآن الکریم ۲۸ /۷۸
القرآن الکریم ۲۸ /۸۱
کچھ نہ کہہ سکتے تھے کہ میم صاحب کے پیٹ میں مس میڈیم ہے یاباوالوگ ازلی ابدی واجب کیسے کہہ سکتے ہوجب تم خود ہی حادث فانی باطل ہو ازلی بڑی چیزہے ایام حمل ہی مدتوں اپنے جہل وعجزکااقرارکرناپڑے گا جب تك نطفہ صورت نہ پکڑے پانی کی بوند یاخون بستہ یاگوشت کاٹکڑا رہے ڈاکٹرصاحب کی ڈاکٹری کچھ نہیں چل سکتی کہ نرنظرآتا ہے یامادہ۔کیاتمہارا علم ثابت ونا قابل نقصان وزیادت ہے استغفراﷲ قبل مشاہدہ کی حالت کومشاہدہ اجمالی مشاہدہ اجمالی کو نظرتفصیلی نظرتفصیلی بالائی کو نظربعد تصریح عملی سے ملاؤ۔حالت التفات وذہول کافرق دیکھو پھرطریان نسیان توسرے سے ارتفاع ہے۔کیاتمہارا علم کامل ہے حاش ﷲ اضافات بتانے کی کیاقدرت کہ وہ غیرمتناہی ہیں مثلا اس کے بدن کاکوئی ذرہ لے لیجئے اور اس کی ماں کے بدن اور تمام اجسام عالم میں جتنے نقطے فرض کئے جاسکتے ہیں اس کے بدن کے ہرذرے کا اس ہرنقطہ ارضی وسماوی وشرقی وغربی وجنوبی و شمالی ونزدیك ودوروموجود وحال وماضی واستقبال سے بعد بتاؤ یہ لاتعدولاتحصی خطوط جوہرنقطہ جسم جنین سے تمام نقاط عالم تك نکل کر بے حدوبے شمار زاویے بناتے آئے ہرزاویے کی مقداربولو نہ سہی یہی بتادو کتنے خطوط پیداہوں گے نہ سہی یہی کہہ دو کہ تمام اجسام جہان میں کتنے نقطے نکلیں گے نہ سہی اتناہی کہو کہ صرف جنین کے بدن میں کس قدر نقاط مانے جائیں گے اور جب یہ ادنی علم جوعلوم الہیہ متعلقہ بجنین کے کروڑہاکروڑحصوں سے ایك حصہ بھی نہیں ایك جنین میں بھی اس قلیل کے اقل القلیل حصے کاجواب نہیں دے سکتے اگرچہ دنیابھر کے ڈاکٹروپادری اکٹھے ہوجاؤ توباقی علوم کی کیاگنتی ہے حالانکہ واﷲ العظیم یہ تمام علوم تمام نسبتیں تمام خطوط تمام نقاط تمام زاویے تمام مقادیرگزشتہ وموجودہ وآئندہ تمام جن وبشر وحیوانات کے تمام حملوں میں رب العزت آن واحد میں معا تفصیلا ازلا ابدا جانتا ہے اور یہ اس کے بحار علوم سے ایك قطرہ بلکہ بے شمار یم سے ادنی نم ہے اوریہ سب کاسب مع ایسے ایسے ہزارہاعلوم کے جن کی اجناس کلیہ تك بھی وہم بشری نہ پہنچ سکے شمارافراد درکنار سب انہیں دو کلموں کے سرخ میں داخل ہیں کہ یعلم مافی الارحام جانتاہے جوکچھ پیٹ میں ہے۔تمہاری تنگ نظری کوتاہ فہمی دولفظ دیکھ کر ایسے سستے سمجھ لئے کہ ایك آلے کی ناچیزوبے حقیقت ہستی پرعلم ارحام کے مدعی بن بیٹھے ہاں نصب و اضافات کوجانے دوکہ نامتناہی معدود ومحدود ہی اشیاء بتاؤ اوروہ بھی کسی ایك جنین کی نسبت اوروہ بھی خاص اپنے گھر کے کہ آدمی کوگھرکاحال خوب معلوم ہوتاہے اپنا اوراپنی جوروکاواقعہ توخود اسی پرگزرا اس کے سامنے ہی گزرا اوراوپر سے مدددینے کو آلہ موجودکوئی پادری صاحب آلہ لگاکر بولیں کہ جس وقت ان کی میم صاحب کوپیٹ رہانطفہ کتنے وزن کا گراتھا اس میں کتنے حیوان منوی تھے
گرتے وقت رحم کے کس حصہ پرپڑا رحم میں کتنی دیربعد کون سی خمل ونقرہ میں مستقرہوا جب سے اب تك کتناخون حیض اس کے کام آیا یہ اصل نطفہ کس کس غذا کے کس کس کے جز اورکتنے وزن کافضلہ تھا وہ کہاں کی مٹی سے پیداہوئی تھی کھانے کے کتنی دیربعد اس نے صورت نطفیہ اخذ کی تھی جب سے اب تك ایك ایك منٹ کے فاصلہ پر اس کی وزن ومساحت وہیأت میں کیا کیا اورکتنا کتناتغیر ہوا حوادث مذکورہ بالا کے باعث جب سے اب تك میم صاحبہ کی رحم شریف کئی بار اورکتنی کتنی دیر کو اور کس کس قدر سمٹی پھیلی بچہ کتنی دفعہ اور کس کس قدر اورکدھر کدھر کوپھرپھرایا ہرجنبش پروضع اعضا میں کیاکیا تغیرہوا یہی سب احوال اب سے پیدا ہونے تك کس کس طرح گزریں گے منٹ منٹ پروضع ووزن ومساحت ومکان وحرکت وسکون و غذا واحوال جنین ورحم میں کیاکیا تغیرات ہوں گے باوالوگ رحم شریف میں کب تك بسیں گے کس گھنٹے منٹ سکنڈر تھڈپر برآمدہوں گے پہلے کون ساعضو آگے بڑھائیں گے اس وقت کتنے فربہ کتنے درازہوں گے دروازہ برآمد کی وسعت کس مقدار مخصوص تك چاہیں گے آسانی گزرکوکتنی رطوبت کی پچکاریاں ساتھ لائیں گے آپ کئی بارزورلگائیں گے میم صاحبہ سے کتنے کرائیں گے کون سی چیخ پر باہرآئیں گے برآمدبھی ہوں گے یاکچے ہی گرجائیں گے جی بچے توکیا عمرپائیں گے کہاں کہاں بسیں گے کیاکیاکھائیں گے کس کس مشن میں لونڈے پڑھائیں گے الی غیر ذلك مما لایعدولایحصی(اس کے علاوہ جن کی گنتی اور شمارنہیں کیاجاسکتا۔ت)
واﷲ کہ تمام عالم کی تمام ماضی وموجود ومستقبل حملوں رحموں کے ایك ایك ذرہ احوال مذکورہ وغیرمذکورہ گزشتہ وموجودہ و آئندہ کو رب العزت عزوجل کاعلم ازلا ابدا معا تفصیلا محیط ہے اوریہ سب انہیں دوپاك کلمہ یعلم ما فی الارحام(جانتاہے جوکچھ پیٹوں میں ہے۔ت)کی شرح میں داخل۔تم اپنے ہی گھر کے ایك ہی پیٹ کے مختصراحوال کے کروڑوں حصوں سے ایك حصہ کا بھی ہزارواں حصہ نہیں بتاسکتے اورعالم ارحام بننے کے مدعی نہ سہی ماضیہ وآتیۃ کوبھی جانے دو صرف موجودہ ہی لو اورحالات میں بھی فقط موجودہ ہی پرقناعت کرو۔کیاانہیں کوتمہارا علم عام ہے سبحان اﷲ اولا ان کابھی علم بالفعل کہاں تمام عالم میں جتنے حمل اس وقت موجود ہیں سب کی گنتی توکوئی بتاہی نہیں سکتا سب کے حال پر اطلاع کجا۔ثانیا اچھاعلم بالفعل سے بھی گزر وصرف بذریعہ آلہ امکان علم ہی پرقناعت کروکہ گوہمیں کچھ معلوم نہیں مگرجوپاس آئے اورقدرت ملے توآلہ لگاکرجان سکتے ہیں اگرچہ صاف ظاہرکہ یہ علم نہ ہوا کھلاجہل واقرارجہل ہوا تاہم موجود حملوں میں آدمی کے حمل اورہرگونہ جانورطیرووحش وسباع و بہائم وہوام سب کے سب گابھ داخل ذرا کوئی پادری صاحب آلہ آپ لگاکر یاکسی ڈاکٹرصاحب سے
واﷲ کہ تمام عالم کی تمام ماضی وموجود ومستقبل حملوں رحموں کے ایك ایك ذرہ احوال مذکورہ وغیرمذکورہ گزشتہ وموجودہ و آئندہ کو رب العزت عزوجل کاعلم ازلا ابدا معا تفصیلا محیط ہے اوریہ سب انہیں دوپاك کلمہ یعلم ما فی الارحام(جانتاہے جوکچھ پیٹوں میں ہے۔ت)کی شرح میں داخل۔تم اپنے ہی گھر کے ایك ہی پیٹ کے مختصراحوال کے کروڑوں حصوں سے ایك حصہ کا بھی ہزارواں حصہ نہیں بتاسکتے اورعالم ارحام بننے کے مدعی نہ سہی ماضیہ وآتیۃ کوبھی جانے دو صرف موجودہ ہی لو اورحالات میں بھی فقط موجودہ ہی پرقناعت کرو۔کیاانہیں کوتمہارا علم عام ہے سبحان اﷲ اولا ان کابھی علم بالفعل کہاں تمام عالم میں جتنے حمل اس وقت موجود ہیں سب کی گنتی توکوئی بتاہی نہیں سکتا سب کے حال پر اطلاع کجا۔ثانیا اچھاعلم بالفعل سے بھی گزر وصرف بذریعہ آلہ امکان علم ہی پرقناعت کروکہ گوہمیں کچھ معلوم نہیں مگرجوپاس آئے اورقدرت ملے توآلہ لگاکرجان سکتے ہیں اگرچہ صاف ظاہرکہ یہ علم نہ ہوا کھلاجہل واقرارجہل ہوا تاہم موجود حملوں میں آدمی کے حمل اورہرگونہ جانورطیرووحش وسباع و بہائم وہوام سب کے سب گابھ داخل ذرا کوئی پادری صاحب آلہ آپ لگاکر یاکسی ڈاکٹرصاحب سے
لگواکر بتائیں توکہ چیونٹی کے پیٹ میں کے انڈے ہیں ان میں کتنی چیونٹیاں کتنے چیونٹے ہیں۔ایك چیونٹی کیا خفاش کے سب پرند اورنیزمچھلیاں سانپ گرگٹ گوہ ناکا سقنقور وغیرہالاکھوں جانور کے انڈے دیتے ہیں پادری صاحب کی حکمت سب جگہ بیکار ہے کیا یہ یعلم مافی الارحام میں داخل نہ تھے۔ثالثا اوراتروں فقط بچے ہی والوں پرقناعت سہی کیا ان سب کے پیٹ آلے کے قابل ہیں۔رابعا خامسا تاعاشرا وغیرہ اس سے بھی درگزروں فقط قابل آلہ فقط انسان بلکہ فقط امریکا یاانگلستان بلکہ فقط پادریان بلکہ فقط پادری فلاں بلکہ ان کے گھرکابھی فقط ایك ہی پیٹ بلکہ وہ بھی فقط اسی وقت جب بچہ خوب بن لیا اوراپنی نہایت تصویر کوپہنچ چکا اور وہ بھی فقط اتنی ہی دیرکے لئے جبکہ میم صاحبہ کے پیٹ میں آلہ لگاہواہے کلام کروں اب لو لاکھوں عموم کے دریاسمٹ کر صرف بالشت بھرکی ایك ہی گھڑیاکی تلاش رہ گئی کیوں پادری صاحب کیاآپ کے مافی الرحم میں صرف بچہ کاآلہ تناسل داخل ہے کہ نرمادہ بتایا اور یعلم ما فی الارحام صادق آیا اس کے اعضائے اندرونی کیارحم میں نہیں جنین کے دل ودماغ گردے شش سپرز مثانے تلخے امعامعدے رگ پٹھے عظم عضلے ایك ایك پرزے کاوزن مقدار مساحت طول عرض عمق فربہی لاغری کے اختلافات غرض سب حالات صحیح صحیح محقق مفصل نہ فقط شرابی کی زق زق یااندھے کی اٹکل بیان کرو۔اچھاجانے دو اندرونی اعضائے آلہ وآلہ پرست سب کورے کورہیں بیرونی ہی سطح کاحصہ سہی۔بولومیس میڈم جو پیٹ میں جلوہ آراہیں ان کے سرپرکتنے بال ہیں ہربال کاطول کس قدر عرض کتنا عمق کس قدر وزن کتنا جلد میں مسام کتنے ہیں ہرسوراخ کے ابعادثلثہ کیاکیاہیں ان میں کتنے باہم ایك دوسرے سے ۱۳/ ۹ کی نسبت رکھتے ہیں ہرایك باقی سے کتنا متفاوت ہے بغل اورسینے اور ران اورپیراوردونوں لب بالا چاروں لب زیرین وغیرہا جوڑوں وصلوں میں ہرایك کازاویہ کس حدونہایت تك پھیل سکتاہے۔کئی درجے دقیقے ثانیے عاشرے وغیرہا تك پہنچتاہے دس تجاویف عــــــہ ظاہرہ میں طبعا
عــــــہ:پنج درنصف بالاصماخین ومنخرین ودہن وپنج درنصف زیریں ثقبہ درقلہ جبل الزہرہ کہ سترہ وناف تامندوسہ دردامان از انہا دو در ابرۃ الزہرہ کہ بطرد نوف خوانندہ یکے پائینش کہ مہبل گویند کہ وپنجم فرجہ پسین ۱۲۔ پانچ اوپروالے نصف میں دوکانوں کے اندر دوناك کے اندر اور ایك منہ۔اسی طرح پانچ نیچے والے نصف میں جبل الزہرہ کے بالائی حصہ میں سوراخ جسے سرہ اورناف کہاجاتاہے اور تین اس کے دامان میں ہیں جن میں سے دوابرہ زہرہ میں جن کانام بطر اور نوف ہے اورنیچے کی طرف جسے مہبل کہتے ہیں اورپانچواں سوراخ پیچھے کی طرف۔۱۲۔(ت)
عــــــہ:پنج درنصف بالاصماخین ومنخرین ودہن وپنج درنصف زیریں ثقبہ درقلہ جبل الزہرہ کہ سترہ وناف تامندوسہ دردامان از انہا دو در ابرۃ الزہرہ کہ بطرد نوف خوانندہ یکے پائینش کہ مہبل گویند کہ وپنجم فرجہ پسین ۱۲۔ پانچ اوپروالے نصف میں دوکانوں کے اندر دوناك کے اندر اور ایك منہ۔اسی طرح پانچ نیچے والے نصف میں جبل الزہرہ کے بالائی حصہ میں سوراخ جسے سرہ اورناف کہاجاتاہے اور تین اس کے دامان میں ہیں جن میں سے دوابرہ زہرہ میں جن کانام بطر اور نوف ہے اورنیچے کی طرف جسے مہبل کہتے ہیں اورپانچواں سوراخ پیچھے کی طرف۔۱۲۔(ت)
وقسرا کہاں تك پھیلنے کی قابلیت ہے کہ اس سے ذرہ بھرقسرزائد واقع ہو توقطعا خارق ہو اور اس حد تك یقینا تحمل کے قابل ولائق ہو تجاویف حاصلہ وتجاویف صالحہ میں ہرجگہ کتناتفرقہ ہے۔الی غیر ذلك من الاحوال الزاھرۃ فی السطوح الظاھرۃ (اس کے علاوہ روشن احوال ظاہرسطحوں میں۔ت)یہ تمام تفاصیل تو یعلم ما فی الارحام کے لاکھوں سمندروں سے ایك خفیف قطرہ بھی نہیں اسی کوبتادو۔
"فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودہا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین﴿۲۴﴾" پھراگرنہ بتاؤ اورہرگز نہ بتاسکو گے توڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن ہیں آدمی اورپہاڑ تیاررکھی ہے کافروں کے لئے۔
بالجملہ اس اعتراض کی ایك بہت ناقص نظیریہ ہوسکتی ہے کہ بادشاہ تمام روئے زمین اپنی مدح کرے میں ہوں مالك خزائن عامرہ میں ہوں صاحب اموال متکاثرہ میرے لئے ہیں بلاد وقری کے محصول پہاڑوں کے حاصل صحراؤں کی کانیں دریاؤں کے محاصل یہ سن کر ایك بے ادب گستاخ فقیر قلاش گدیہ گر بے معاش لنجھا بولا اندھا ہیولے چوتڑوں کے بل گھسٹتا بادشاہ ہی کے کسی گاؤں میں بادشاہ ہی کی رعیت سے ہاتھ پاؤں جوڑکربادشاہ ہی کے دئیے ہوئے مال سے ایك پھوٹی کوڑی مانگ لائے اورسربازار تالیاں بجائے کہ لیجئے بادشاہ تواپنے ہی آپ کومالك خزائن واموال ومحاصل معادن وبحار وجبال بتاتاتھا یہ دیکھو مدتوں مصیبت جھیل کر پاپڑبیل کرہم نے بھی ایك کانی کوڑی پائی ہے کیوں ہم بھی مالك خزائن ومحاصل بحارہوئے یا نہیں مسلمانوں نہ فقط مسلمانوں ہرقوم کے عاقلوں کیا اس اندھے کاہلکاسالقب مجنون نہ ہوگا کیا اس سے نہ کہاجائے گاکہ اوبے عقل اندھے کیابادشاہ نے کہیں یہ فرمایاتھا کہ ہمارے خزانہائے عامرہ کے سواممکن نہیں کسی کے پاس کوئی پھوٹی کوڑی نکل سکے اگرچہ ہماری عطا کی ہوئی ہو حاش ﷲ سلطان نے توجابجاصاف فرمادیاہے کہ ہم نے اپنی رعایاکوبہت اموال کثیرہ عطایائے عزیزہ انعام فرمائے ہیں اورہمیشہ فرمائیں گے ہاں اصل مالك ہمارے سوا کوئی نہیں نہ ہمارے برابر کسی کاخزانہ ہو اومجنون اندھے! کیایہ بھیك کی کوڑی لاکر تواس کا ذاتی مالك بے عطائے سلطان ہوگیا یااس پھوٹی کوڑی سے تیرامال خزائن شاہی کے برابرہولیا
"فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودہا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین﴿۲۴﴾" پھراگرنہ بتاؤ اورہرگز نہ بتاسکو گے توڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن ہیں آدمی اورپہاڑ تیاررکھی ہے کافروں کے لئے۔
بالجملہ اس اعتراض کی ایك بہت ناقص نظیریہ ہوسکتی ہے کہ بادشاہ تمام روئے زمین اپنی مدح کرے میں ہوں مالك خزائن عامرہ میں ہوں صاحب اموال متکاثرہ میرے لئے ہیں بلاد وقری کے محصول پہاڑوں کے حاصل صحراؤں کی کانیں دریاؤں کے محاصل یہ سن کر ایك بے ادب گستاخ فقیر قلاش گدیہ گر بے معاش لنجھا بولا اندھا ہیولے چوتڑوں کے بل گھسٹتا بادشاہ ہی کے کسی گاؤں میں بادشاہ ہی کی رعیت سے ہاتھ پاؤں جوڑکربادشاہ ہی کے دئیے ہوئے مال سے ایك پھوٹی کوڑی مانگ لائے اورسربازار تالیاں بجائے کہ لیجئے بادشاہ تواپنے ہی آپ کومالك خزائن واموال ومحاصل معادن وبحار وجبال بتاتاتھا یہ دیکھو مدتوں مصیبت جھیل کر پاپڑبیل کرہم نے بھی ایك کانی کوڑی پائی ہے کیوں ہم بھی مالك خزائن ومحاصل بحارہوئے یا نہیں مسلمانوں نہ فقط مسلمانوں ہرقوم کے عاقلوں کیا اس اندھے کاہلکاسالقب مجنون نہ ہوگا کیا اس سے نہ کہاجائے گاکہ اوبے عقل اندھے کیابادشاہ نے کہیں یہ فرمایاتھا کہ ہمارے خزانہائے عامرہ کے سواممکن نہیں کسی کے پاس کوئی پھوٹی کوڑی نکل سکے اگرچہ ہماری عطا کی ہوئی ہو حاش ﷲ سلطان نے توجابجاصاف فرمادیاہے کہ ہم نے اپنی رعایاکوبہت اموال کثیرہ عطایائے عزیزہ انعام فرمائے ہیں اورہمیشہ فرمائیں گے ہاں اصل مالك ہمارے سوا کوئی نہیں نہ ہمارے برابر کسی کاخزانہ ہو اومجنون اندھے! کیایہ بھیك کی کوڑی لاکر تواس کا ذاتی مالك بے عطائے سلطان ہوگیا یااس پھوٹی کوڑی سے تیرامال خزائن شاہی کے برابرہولیا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۴
اور جب کچھ نہیں تو کس ملعون بناء پرفرمان شاہی کی تکذیب کرتااورقہرجبار قہار سے نہیں ڈرتاہے۔ہاں ہاں یہ پادری معترض اس اندھے سے بھی بہت بدترحالت میں ہے اندھافقیر اوروہ بادشاہ کبیردونوں ان باتوں میں کانٹے کی تول برابرہیں کہ دونوں مالك بالذات نہیں دونوں مالك حقیقی نہیں دونوں کی ملك مجازی حادث دونوں کی ملك فانی زائل دونوں حقیقت میں نرے محتاج دونوں بے شمار خزانوں کے مجازا بھی مالك نہیں پھراس کوڑی کواس کے خزائن سے ایك نسبت ضرورکہ دونوں محدود اورہرمتناہی کودوسری متناہی سے کچھ نسبت ضروردے سکتے ہیں اگرچہ نسبت نما میں ہزارصفرلگا بخلاف علم حقیقی خالق و علم اسمی مخلوق جن میں اصلا کوئی تناسب ہی نہیں وہ ذاتی یہ عطائی وہ غنی یہ محتاج وہ ازلی یہ حادث وہ ابدی یہ فانی وہ واجب یہ ممکن وہ ثابت یہ متغیر وہ کامل یہ ناقص وہ محیط یہ قاصر وہ ازلا ابدا نامتناہی درنامتناہی درنامتناہی یہ ہمیشہ ہروقت معدودو محدود پھرمتناہی کونامتناہی سے کوئی نسبت بتاہی نہیں سکتے کہ یہ اس کافلاں حصہ ہے بھلا اس اندھے کو توہرعاقل مجنون کہتاان اندھوں کوکیاکہاجائے یہ تومجنون سے بھی کئی لاکھ درجے بدترہوئے اوراندھے پن میں بھی اس سے کہیں بڑھ کر اس کی آنکھیں توباقی ہیں اگرچہ بے نورہیں یہاں آنکھوں کانشان تك نہیں ہاں ہاں کون سی آنکھیں یہ دوچتلی کوڑیاں نہیں جو خرو خوك سب کے منہ پرلگی ہوتی ہیں بلکہ ھیئے کی جنہیں قرآن عظیم میں فرماتاہے:
"فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" توہے یوں کہ ان کافروں کی آنکھیں اندھی نہیں وہ دل اندھے ہیں جوسینوں میں ہیں۔
والعیاذباﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔خیرکسی کافرسے کیاشکایت مجھے تو ان ناسمجھ مسلمانوں سے تعجب آتاہے جومہمل وبے معنے شکوك واہیہ سن کرمتحیرہوتے ہیں سبحان اﷲ اﷲ اﷲاﷲ کہاں اﷲ رب السموت والارض عالم الغیب والشہادہ سبحنہ وتعالی اورکہاں کوئی بے تمیز بونگاہیولی ہبنقہ ناپاك ناشتہ کھڑے ہوکر موتنے والا ع
ببیں کہ ازکہ بریدی وباکہ پیوستی
(دیکھا کہ تونے کس سے قطع تعلق کیا اورکس کے ساتھ منسلك ہواہے۔ت)
خداراانصاف وہ عقل کے دشمن دین کے رہزن جنم کے کودن کہ ایك اورتین میں فرق نہ جانیں ایك خدا کے تین مانیں پھر ان تینوں کوایك ہی جانیں بے مثل بے کفو کے لئے جوروبتائیں بیٹا ٹھہرائیں اس کی
"فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" توہے یوں کہ ان کافروں کی آنکھیں اندھی نہیں وہ دل اندھے ہیں جوسینوں میں ہیں۔
والعیاذباﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔خیرکسی کافرسے کیاشکایت مجھے تو ان ناسمجھ مسلمانوں سے تعجب آتاہے جومہمل وبے معنے شکوك واہیہ سن کرمتحیرہوتے ہیں سبحان اﷲ اﷲ اﷲاﷲ کہاں اﷲ رب السموت والارض عالم الغیب والشہادہ سبحنہ وتعالی اورکہاں کوئی بے تمیز بونگاہیولی ہبنقہ ناپاك ناشتہ کھڑے ہوکر موتنے والا ع
ببیں کہ ازکہ بریدی وباکہ پیوستی
(دیکھا کہ تونے کس سے قطع تعلق کیا اورکس کے ساتھ منسلك ہواہے۔ت)
خداراانصاف وہ عقل کے دشمن دین کے رہزن جنم کے کودن کہ ایك اورتین میں فرق نہ جانیں ایك خدا کے تین مانیں پھر ان تینوں کوایك ہی جانیں بے مثل بے کفو کے لئے جوروبتائیں بیٹا ٹھہرائیں اس کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
پاك باندی ستھری کنواری پاکیزہ بتول مریم پرایك بڑھئی کی جوروہونے کی تہمت لگائیں پھرخاوند کی حیات خاوند کی موجودگی میں بی بی کے جوبچہ ہو اسے دوسرے کاگائیں خداکابیٹا ٹھہراکر ادھر کافروں کے ہاتھ سے سولی دلوائیں ادھرآپ اس کے خون کے پیاسے لوٹیوں کے بھوکے روٹی کواس کاگوشت بناکردردر چبائیں شراب ناپاك کو اس پاك معصوم کاخون ٹھہراکر غٹ غٹ چڑھائیں دنیا یوں گزری ادھر موت کے بعد کفارکو اسے بھینٹ کابکرابناکرجہنم بھجوائیں لعنتی کہیں ملعون بنائیں اے سبحان اﷲ اچھا خداجسے سولی دی جائے عجب خدا جسے دوزخ جلائے۔طرفہ خدا جس پرلعنت آئے جوبکرا بناکربھینٹ دیاجائے اے سبحان اﷲ باپ کی خدائی اوربیٹے کوسولی باپ خدا بیٹا کس کھیت کی مولی باپ کی جہنم کوبیٹے ہی سے لاگ سرکشوں کوچھٹی بے گناہ پرآگ امتی ناجی رسول ملعون معبودپرلعنت بندے مامون۔تف تف وہ بندے جواپنے ہی خدا کاخون چکھیں اسی کے گوشت پردانت رکھیں اف اف وہ گندے جوانبیاء ورسل پروہ الزام لگائیں کہ بھنگی چماربھی جن سے گھن کھائیں سخت فحش بیہودہ کلام گھڑیں اورکلام الہی ٹھہراکر پڑھیں زہ زہ بندگی خہ خہ بندگی خہ خہ تعظیم پہ پہ تہـذیب قہ قہ تعلیم(مثال کے لئے دیکھو بائبل پرانا عہدنامہ یسعیاہ نبی کی کتاب باب ۲۳ ورس عــــــہ۱ ۱۵ تا۱۸)خداکامعاذاﷲ زناکی خرچی کومقدس ٹھہرانا اوراپنے مقربوں کے لئے اسے چن رکھاکہ کھائیں اورمستائیں۔ایضا کتاب پیدائیش باب ۱۹ ورس عــــــہ۲ ۳۰تا ۳۸ سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام کامعاذاﷲ اپنی دختروں سے
عــــــہ۱: وہ عبارت یہ ہے(۱۵)اس دن ایساہوگا کہ صورکسی بادشاہ ایام کے مطابق ستربرس تك فراموش ہوجائیں گیاورستربرس کے پیچھے صورکوچھنال کے مانندگیت گانے کی نوبت ہوگی۔(۱۶)اوچھنال جوکہ فراموش ہوگئی ہے بربط اٹھالے اورشہرمیں پھراکر تارکوخوب چھیڑ اوربہت سی غزلیں گا تاکہ تجھے یاد کریں(۱۷)کیونکہ ستربرس کے بعد ایساہوگا کہ خداوند صورکی خبرلینے آئے گا اورپھروہ خرچی کے لئے جائے گی اورروئے زمین کی ساری مملکتوں سے زناکرے گی(۱۸)لیکن اس کی تجارت اوراس کی خرچی خداوند کے لئے مقدس ہوگی اس کامال ذخیرہ نہ کیاجائے گا اوررکھ چھوڑاجائے گا بلکہ اس کی تجارت کاحاصل ان کے لئے ہوگا جو خداوند کے حضوررہتے ہیں کہ کھا کے سیرہوں اور نفیس پوشاك پہنیں۔
عــــــہ۲:(۳۰)اپنی دونوں بیٹیوں سمیت پہاڑ پرجارہا(۳۱)پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا(۳۲)آؤہم باپ کومے پلائیں اوراس سے ہم بسترہوں(۳۳)پہلوٹھی اندرگئی اوراپنے باپ سے ہم بسترہوئی۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
عــــــہ۱: وہ عبارت یہ ہے(۱۵)اس دن ایساہوگا کہ صورکسی بادشاہ ایام کے مطابق ستربرس تك فراموش ہوجائیں گیاورستربرس کے پیچھے صورکوچھنال کے مانندگیت گانے کی نوبت ہوگی۔(۱۶)اوچھنال جوکہ فراموش ہوگئی ہے بربط اٹھالے اورشہرمیں پھراکر تارکوخوب چھیڑ اوربہت سی غزلیں گا تاکہ تجھے یاد کریں(۱۷)کیونکہ ستربرس کے بعد ایساہوگا کہ خداوند صورکی خبرلینے آئے گا اورپھروہ خرچی کے لئے جائے گی اورروئے زمین کی ساری مملکتوں سے زناکرے گی(۱۸)لیکن اس کی تجارت اوراس کی خرچی خداوند کے لئے مقدس ہوگی اس کامال ذخیرہ نہ کیاجائے گا اوررکھ چھوڑاجائے گا بلکہ اس کی تجارت کاحاصل ان کے لئے ہوگا جو خداوند کے حضوررہتے ہیں کہ کھا کے سیرہوں اور نفیس پوشاك پہنیں۔
عــــــہ۲:(۳۰)اپنی دونوں بیٹیوں سمیت پہاڑ پرجارہا(۳۱)پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا(۳۲)آؤہم باپ کومے پلائیں اوراس سے ہم بسترہوں(۳۳)پہلوٹھی اندرگئی اوراپنے باپ سے ہم بسترہوئی۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
زناکرنا بیٹیوں کاباپ سے حاملہ ہوکر بیٹے جننا۔ ایضا کتاب دوم اشمویل نبی باب ۱۱ ورس عــــــہ۱ ۲ تا ۵ سیدناداؤدعلیہ الصلوۃ والسلام کااپنے ہمسائے کی خوبصورت جوروکوننگی نہاتے دیکھ کر بلانا اورمعاذاﷲ اس سے زنا کرکے پیٹ رکھاناایضا کتاب حزقیل نبی باب ۲۳ ورس عــــــہ۲ یکم تا ۲۱معاذاﷲ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
(۳۴)دوسرے روز پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہادیکھ کل رات میں اپنے باپ سے ہمبسترہوئی آؤ آج رات بھی اس کو مے پلائیں اورتوبھی جاکے اس سے ہم بسترہو(۳۵)سو اس رات چھوٹی اس سے ہمبسترہوئی(۳۶)سولڑکی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں (۳۷)اوربڑی ایك بیٹاجنی اس کانام موآب رکھا وہ موآبیوں کاجو اب تك ہیں باپ ہو(۳۸)اورچھوٹی بھی ایك بیٹا جنی اس کانام بنی عمی رکھا وہ بنی عمون کاجو اب تك ہیں باپ ہو اھ مختصرا ۱۲۔
عــــــہ۱:(۲)ایك دن شام کو داؤد چھت پر ٹہلنے لگا وہاں سے اس نے ایك عورت کو دیکھا جونہارہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی(۳)تب داؤد نے اس عورت کاحال دریافت کرنے آدمی بھیجے انہوں نے کہا حتی اوریاہ کی جورو(۴)داؤد نے لوگ بھیج کے اس عورت کوبلالیا اور اس سے ہمبسترہوا وہ اپنے گھرچلی گئی(۵)اوروہ عورت حاملہ ہوگئی سو اس نے داؤد کے پاس خبربھیجی کہ میں حاملہ ہوں اھ مختصرا۔
عــــــہ۲:(۱)خداوند کاکلام مجھے پہنچا اس نے کہا(۲)اے آدم زاد! دوعورتیں تھیں جو ایك ہی ماں کے پیٹ سے پیداہوئیں(۳)انہوں نے مصرمیں زناکاری کی وے اپنی جوانی میں یارباز ہوئیں وہاں ان کی چھاتیاں ملی گئیں ان کی بکرکے پستان چھوئے گئے(۴)ان میں بڑی کانام اہولہ اوراس کی بہن اہولیہ اوروے میری جورواں ہوئیں(۵)اہولیہ جن دنوں میں میری تھی چھنالاکرنے لگی اوراسوریوں پرعاشق ہوگئی(۶)وے سرلشکر اورحاکمان تھے دلپسند جوان ارغوانی پوشاک(۷)اس نے ان سب کے ساتھ چھنالہ کیا(۸)اس نے ہرگز اس زنا کاری کوجواس نے مصر میں کی تھی نہ چھوڑا کیونکہ انہوں نے اس کی بکرپستانوں کوملاتھا اوراپنی زنا اس پر انڈیلی تھی(۹)اس لئے میں نے اس کے یاروں کے ہاتھ میں ہاں اسوریوں کے ہاتھ میں جن پروہ مرتی تھی کردیا(۱۰)انہوں نے اس کو بے سترکیا(۱۱)اس کی بہن اہولیہ نے یہ سب کچھ دیکھا پروہ شہوت پرستی میں اس سے (باقی برصفحہ ائندہ)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
(۳۴)دوسرے روز پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہادیکھ کل رات میں اپنے باپ سے ہمبسترہوئی آؤ آج رات بھی اس کو مے پلائیں اورتوبھی جاکے اس سے ہم بسترہو(۳۵)سو اس رات چھوٹی اس سے ہمبسترہوئی(۳۶)سولڑکی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں (۳۷)اوربڑی ایك بیٹاجنی اس کانام موآب رکھا وہ موآبیوں کاجو اب تك ہیں باپ ہو(۳۸)اورچھوٹی بھی ایك بیٹا جنی اس کانام بنی عمی رکھا وہ بنی عمون کاجو اب تك ہیں باپ ہو اھ مختصرا ۱۲۔
عــــــہ۱:(۲)ایك دن شام کو داؤد چھت پر ٹہلنے لگا وہاں سے اس نے ایك عورت کو دیکھا جونہارہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی(۳)تب داؤد نے اس عورت کاحال دریافت کرنے آدمی بھیجے انہوں نے کہا حتی اوریاہ کی جورو(۴)داؤد نے لوگ بھیج کے اس عورت کوبلالیا اور اس سے ہمبسترہوا وہ اپنے گھرچلی گئی(۵)اوروہ عورت حاملہ ہوگئی سو اس نے داؤد کے پاس خبربھیجی کہ میں حاملہ ہوں اھ مختصرا۔
عــــــہ۲:(۱)خداوند کاکلام مجھے پہنچا اس نے کہا(۲)اے آدم زاد! دوعورتیں تھیں جو ایك ہی ماں کے پیٹ سے پیداہوئیں(۳)انہوں نے مصرمیں زناکاری کی وے اپنی جوانی میں یارباز ہوئیں وہاں ان کی چھاتیاں ملی گئیں ان کی بکرکے پستان چھوئے گئے(۴)ان میں بڑی کانام اہولہ اوراس کی بہن اہولیہ اوروے میری جورواں ہوئیں(۵)اہولیہ جن دنوں میں میری تھی چھنالاکرنے لگی اوراسوریوں پرعاشق ہوگئی(۶)وے سرلشکر اورحاکمان تھے دلپسند جوان ارغوانی پوشاک(۷)اس نے ان سب کے ساتھ چھنالہ کیا(۸)اس نے ہرگز اس زنا کاری کوجواس نے مصر میں کی تھی نہ چھوڑا کیونکہ انہوں نے اس کی بکرپستانوں کوملاتھا اوراپنی زنا اس پر انڈیلی تھی(۹)اس لئے میں نے اس کے یاروں کے ہاتھ میں ہاں اسوریوں کے ہاتھ میں جن پروہ مرتی تھی کردیا(۱۰)انہوں نے اس کو بے سترکیا(۱۱)اس کی بہن اہولیہ نے یہ سب کچھ دیکھا پروہ شہوت پرستی میں اس سے (باقی برصفحہ ائندہ)
خدا کی دوجورؤں کاقصہ اورسخت شرمناك الفاظ میں ان کی بے حد زناکاریوں سے شہوت رانیوں کاتذکرہ نیاعہدنامہ پوریس رسول کاخط کلیٹوں کوباب ۳ ورس ۱۳ انصاری کے یسوع مسیح مصنوع کا ملعون ہونا الی غیرذلك ممالایعدولایحصی۔
" قل امنا باللہ وما انزل علینا وما انزل علی ابرہیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسی وعیسی والنبیون من ربہم۪ لا نفرق بین ہم ایمان لائے اﷲ پر اور اس پر جوہماری طرف اترا اورجو اتاراگیا ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اوران کی اولاد پر اور جوعطا کئے گئے موسی وعیسی اورجوعطاکئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پرایمان
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بدترہوئی اس نے اپنی بہن کی زناکاری سے زیادہ زناکاری کی(۱۲)وہ بنی اسورجواس کے ہمسایہ تھے جوبھڑکیلی پوشاك پہنتے اورگھوڑوں پرچڑھتے اوردل پسندجوان تھے عاشق ہوئی(۱۳)اورمیں نے دیکھاکہ وہ بھی ناپاك ہوگئی(۱۴)بلکہ اس نے زناکاری زیادہ کی کیونکہ جب اس نے دیوارپرمردوں کی صورتیں دیکھیں کسدیوں کی تصویریں شنکرف سے کھچی تھیں(۱۵)کمروں پرٹپکے کسے سروں پر اچھی رنگین پگڑیاں(۱۶)تب دیکھتے ہی وہ ان پر مرنے لگی اورقاصدوں کوان کے پاس بھیجا(۱۷)سوبابل کے بیٹے اس پاس آکے عشق کے بسترپرچڑھے اور انہوں نے اس سے زناکرکے اسے آلودہ کیا اورجب وہ ان سے ناپاك ہوئی تو اس کاجی ان سے بھرگیا(۱۸)تب اس کی زناکاری علانیہ ہوئی اور اس کی برہنگی بے سترہوئی تب جیسامیراجی اس کی بہن سے ہٹ گیاتھا ویسامیرادل اس سے بھی ہٹا(۱۹)تسپر بھی اس نے اپنی جوانی کے دنوں کویادکرکے جب وہ مصر کی زمین میں چھنالاکرتی تھی زناکاری پرزناکاری کی(۲۰)سووہ پھر اپنے ان یاروں پرمرنے لگی جن کابدن گدھوں کاسابدن اورجن کاانزال گھوڑوں کاساانزال تھا(۲۱)اس طرح تونے اپنی جوانی کی شہوت پرستی کہ جس وقت مصری تیری جوانی کے پستانوں کے سبب تیری چھاتیاں ملتے تھے یاددلائی اھ ملخصا۔
عــــــہ۲: مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایاکہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا کیونکہ لکھا ہے جوکوئی کاٹھ پر لٹکا دیا گیا سولعنتی ہے ۱۲۔
" قل امنا باللہ وما انزل علینا وما انزل علی ابرہیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسی وعیسی والنبیون من ربہم۪ لا نفرق بین ہم ایمان لائے اﷲ پر اور اس پر جوہماری طرف اترا اورجو اتاراگیا ابراہیم واسمعیل واسحق ویعقوب اوران کی اولاد پر اور جوعطا کئے گئے موسی وعیسی اورجوعطاکئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پرایمان
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بدترہوئی اس نے اپنی بہن کی زناکاری سے زیادہ زناکاری کی(۱۲)وہ بنی اسورجواس کے ہمسایہ تھے جوبھڑکیلی پوشاك پہنتے اورگھوڑوں پرچڑھتے اوردل پسندجوان تھے عاشق ہوئی(۱۳)اورمیں نے دیکھاکہ وہ بھی ناپاك ہوگئی(۱۴)بلکہ اس نے زناکاری زیادہ کی کیونکہ جب اس نے دیوارپرمردوں کی صورتیں دیکھیں کسدیوں کی تصویریں شنکرف سے کھچی تھیں(۱۵)کمروں پرٹپکے کسے سروں پر اچھی رنگین پگڑیاں(۱۶)تب دیکھتے ہی وہ ان پر مرنے لگی اورقاصدوں کوان کے پاس بھیجا(۱۷)سوبابل کے بیٹے اس پاس آکے عشق کے بسترپرچڑھے اور انہوں نے اس سے زناکرکے اسے آلودہ کیا اورجب وہ ان سے ناپاك ہوئی تو اس کاجی ان سے بھرگیا(۱۸)تب اس کی زناکاری علانیہ ہوئی اور اس کی برہنگی بے سترہوئی تب جیسامیراجی اس کی بہن سے ہٹ گیاتھا ویسامیرادل اس سے بھی ہٹا(۱۹)تسپر بھی اس نے اپنی جوانی کے دنوں کویادکرکے جب وہ مصر کی زمین میں چھنالاکرتی تھی زناکاری پرزناکاری کی(۲۰)سووہ پھر اپنے ان یاروں پرمرنے لگی جن کابدن گدھوں کاسابدن اورجن کاانزال گھوڑوں کاساانزال تھا(۲۱)اس طرح تونے اپنی جوانی کی شہوت پرستی کہ جس وقت مصری تیری جوانی کے پستانوں کے سبب تیری چھاتیاں ملتے تھے یاددلائی اھ ملخصا۔
عــــــہ۲: مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایاکہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا کیونکہ لکھا ہے جوکوئی کاٹھ پر لٹکا دیا گیا سولعنتی ہے ۱۲۔
احد منہم۫ ونحن لہ مسلمون﴿۸۴﴾"
"الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونہا عوجا وہم بالاخرۃ ہم کفرون ﴿۱۹﴾"
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾ " فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ٭ ثم یقولون ہذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لہم مما کتبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون﴿۷۹﴾" میں فرق نہیں کرتے اورہم اﷲ کے حضور گردن رکھے ہیں۔ (ت)
ارے ظالموں پرخدا کی لعنت جو اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکرہیں۔(ت)
وہ جو اﷲ پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلا نہ ہوگا۔(ت)
توخرابی ہے ان کے لئے جوکتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس ہے کہ ان کے عوض تھوڑے دام حاصل کریں تو خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اورخرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے۔(ت)
اﷲ اﷲ یہ قوم یہ قوم یہ سراسر لوم یہ لوگ یہ لوگ جنہیں عقل سے لاگ جنہیں جنون کا روگ یہ اس قابل ہوئے کہ خداپر اعتراض کریں اورمسلمان ان کی لغویات پرکان دھریں انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اوراسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اورنہیں ہے گناہ سے بچنے کی طاقت اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگراﷲ تعالی کی توفیق سے جوبلندی وعظمت والاہے۔ت)یہ پہلی اپنی ساختہ بائبل توسنبھالیں قاہراعتراض باہرایراد اس پرسے اٹھالیں انگریزی میں ایك مثل کیاخوب ہے کہ شیش محل کے رہنے والا پتھر پھینکنے کی ابتداکرے یعنی رب جبارقہار کے محکم قلعوں کوتمہاری کنکریوں سے کیاضرر پہنچ سکتاہے مگرادھر سے ایك پتھر بھی آیاتو حجارۃ من سجیل(کنکرکاپتھر۔ت) کاسماں کعصف ماکول(کھائی ہوئی کھیتی۔ت)
"الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾ الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونہا عوجا وہم بالاخرۃ ہم کفرون ﴿۱۹﴾"
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾ " فویل للذین یکتبون الکتب بایدیہم ٭ ثم یقولون ہذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لہم مما کتبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون﴿۷۹﴾" میں فرق نہیں کرتے اورہم اﷲ کے حضور گردن رکھے ہیں۔ (ت)
ارے ظالموں پرخدا کی لعنت جو اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکرہیں۔(ت)
وہ جو اﷲ پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلا نہ ہوگا۔(ت)
توخرابی ہے ان کے لئے جوکتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس ہے کہ ان کے عوض تھوڑے دام حاصل کریں تو خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اورخرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے۔(ت)
اﷲ اﷲ یہ قوم یہ قوم یہ سراسر لوم یہ لوگ یہ لوگ جنہیں عقل سے لاگ جنہیں جنون کا روگ یہ اس قابل ہوئے کہ خداپر اعتراض کریں اورمسلمان ان کی لغویات پرکان دھریں انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم (بیشك ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اوراسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اورنہیں ہے گناہ سے بچنے کی طاقت اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگراﷲ تعالی کی توفیق سے جوبلندی وعظمت والاہے۔ت)یہ پہلی اپنی ساختہ بائبل توسنبھالیں قاہراعتراض باہرایراد اس پرسے اٹھالیں انگریزی میں ایك مثل کیاخوب ہے کہ شیش محل کے رہنے والا پتھر پھینکنے کی ابتداکرے یعنی رب جبارقہار کے محکم قلعوں کوتمہاری کنکریوں سے کیاضرر پہنچ سکتاہے مگرادھر سے ایك پتھر بھی آیاتو حجارۃ من سجیل(کنکرکاپتھر۔ت) کاسماں کعصف ماکول(کھائی ہوئی کھیتی۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۳۶
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸و۱۹
القرآن الکریم ۱۰ /۶۹
القرآن الکریم ۲ /۷۹
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸و۱۹
القرآن الکریم ۱۰ /۶۹
القرآن الکریم ۲ /۷۹
کامزہ چکھادے گا۔
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" واخر دعوینا ان الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین۔ اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پرپلٹا کھائیں گے۔ اور ہماری دعاکاخاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہااﷲ ہے جو رب ہے سارے جہانوں کا۔اور درودوسلام ہوآخری نبی پر جو ہمارے آقاومولامحمدمصطفی ہیں اور آپ کے تمام آل واصحاب پر۔آمین!(ت)
کتبہ
عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن
المصطفی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
____________________
رسالہ
الصمصام علی مشکك فی ایۃ علوم الارحام
ختم ہوا
____________
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" واخر دعوینا ان الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین۔ اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پرپلٹا کھائیں گے۔ اور ہماری دعاکاخاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہااﷲ ہے جو رب ہے سارے جہانوں کا۔اور درودوسلام ہوآخری نبی پر جو ہمارے آقاومولامحمدمصطفی ہیں اور آپ کے تمام آل واصحاب پر۔آمین!(ت)
کتبہ
عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن
المصطفی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
____________________
رسالہ
الصمصام علی مشکك فی ایۃ علوم الارحام
ختم ہوا
____________
مسئلہ ۲۵۹: ازملك بنگال ضلع فریدپور موضع پٹورا کاندے مرسلہ شمس الدین صاحب
قرآن پاك میں "ثم لا یموت فیہا و لا یحیی ﴿۱۳﴾" (نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے۔ت)اہل نار کی حالت لکھی ہے حالانکہ انسان کوحیات یاممات کاہونا ضروری ہے پس بعد اثبات وجود کے ارتفاع نقیضین کیونکر جائزہوسکتاہے
الجواب:
قرآن عظیم محاورہ عرب پراتراہے
قال اﷲ تعالی"فو رب السماء و الارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون ﴿۲۳﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:توآسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشك یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جوتم بولتے ہو۔(ت)
اورعرب بلکہ تمام عرب وعجم کامحاورہ ہے کہ ایسی کرب شدید ومصیبت مدید کی زندگی کویوں ہی کہتے ہیں کہ نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں لاحیی فیرجی ولامیت فیرثی(نہ زندہ ہے کہ امیدرکھی جائے اورنہ مردہ ہے کہ مرثیہ کہا جائے۔ت)اس کابیان دوسری آیت کریمہ میں ہے کہ:
"یاتیہ الموت من کل مکان وما ہو بمیت " اسے ہرطرف سے موت آئے گی اورمرے گانہیں۔
یاتیہ الموت من کل مکان یہ"لایحیی"اور ماھو بمیت یہ"لایموت فیھا"ہوا اورموت وحیات نقیضین نہیں کہ انسان نہ موت ہے نہ حیات بلکہ ان میں تقابل تضادہے اگرموت وجودی ہے اورعدم ومبلکہ اگرعدمی۔
والاول ھو الصحیح عندی الظاھر قولہ تعالی "خلق الموت و الحیوۃ" والحدیث اوراول ہی میرے نزدیك صحیح ہے اﷲ تعالی کے ظاہرفرمان کی وجہ سے کہ اس نے موت اور
قرآن پاك میں "ثم لا یموت فیہا و لا یحیی ﴿۱۳﴾" (نہ اس میں جئیں گے اور نہ مریں گے۔ت)اہل نار کی حالت لکھی ہے حالانکہ انسان کوحیات یاممات کاہونا ضروری ہے پس بعد اثبات وجود کے ارتفاع نقیضین کیونکر جائزہوسکتاہے
الجواب:
قرآن عظیم محاورہ عرب پراتراہے
قال اﷲ تعالی"فو رب السماء و الارض انہ لحق مثل ما انکم تنطقون ﴿۲۳﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:توآسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشك یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جوتم بولتے ہو۔(ت)
اورعرب بلکہ تمام عرب وعجم کامحاورہ ہے کہ ایسی کرب شدید ومصیبت مدید کی زندگی کویوں ہی کہتے ہیں کہ نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں لاحیی فیرجی ولامیت فیرثی(نہ زندہ ہے کہ امیدرکھی جائے اورنہ مردہ ہے کہ مرثیہ کہا جائے۔ت)اس کابیان دوسری آیت کریمہ میں ہے کہ:
"یاتیہ الموت من کل مکان وما ہو بمیت " اسے ہرطرف سے موت آئے گی اورمرے گانہیں۔
یاتیہ الموت من کل مکان یہ"لایحیی"اور ماھو بمیت یہ"لایموت فیھا"ہوا اورموت وحیات نقیضین نہیں کہ انسان نہ موت ہے نہ حیات بلکہ ان میں تقابل تضادہے اگرموت وجودی ہے اورعدم ومبلکہ اگرعدمی۔
والاول ھو الصحیح عندی الظاھر قولہ تعالی "خلق الموت و الحیوۃ" والحدیث اوراول ہی میرے نزدیك صحیح ہے اﷲ تعالی کے ظاہرفرمان کی وجہ سے کہ اس نے موت اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۷۴ و۸۷/ ۱۳
القرآن الکریم ۵۱ /۲۳
القرآن الکریم ۱۴ /۱۷
القرآن الکریم ۶۷ /۲
القرآن الکریم ۵۱ /۲۳
القرآن الکریم ۱۴ /۱۷
القرآن الکریم ۶۷ /۲
ذبح الکبش یوم القیمۃ واﷲ تعالی اعلم۔ حیات کوپیداکیا اورقیامت کے دن مینڈھے کوذبح کرنے والی حدیث کی وجہ سے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۶۰:ازمیرٹھ چماردروازہ لنگڑی مسجد مکان جناب قاری مولوی محمداسحاق صاحب مسئولہ محمدیعقوب صاحب ۳شعبان ۱۳۳۱ھ
آیت "فلما اخذتہم الرجفۃ" (جب ان کورجفہ نے پکڑا۔ت)میں ایك شخص رجفہ کے معنی"کڑکڑانے"کے کہتاہے اورایك شخص کہتاہے کڑکڑانے کے معنی نہیں ہیں بلکہ رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں جلالین شریف میں اوردیگرتفاسیر میں اورلغت کی کتابوں میں رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں کڑکڑانے کے نہیں ہوسکتے۔۔وہ شخص پہلایہ کہتاہے کہ درایت اس کوچاہتی ہے کہ رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہوں اوریہی ہیں کیونکہ ان کاکڑکڑانا عذاب کاسبب ہواتھا اس واسطے رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہیں۔اب عرض یہ ہے کہ پہلے کاقول صحیح ہے جورجفہ کے معنی کڑکڑانے کے کرتاہے یاثانی کاجواب کہ معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے اور پہلاشخص من فسر برائہ (جس نے اپنی رائے سے تفسیرکی۔ت)کامصداق ہوسکتاہے یانہیں اوررجفہ کے معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے اہلسنت وجماعت کے موافق جائزہے یانہیں
الجواب:
رجفہ کے معنی یہ کڑکڑانا محض باطل وبے اصل ہے جس پرنہ لغت شاہدنہ تفسیر تویہ ضرور تفسیربالرائے ہے اور اس کاحصرکرنا کہ یہی ہیں حضرت عزت پرافتراء اوراس کااستدلال کہ وہ سبب استدلال آیت میں دوسری تحویل اورلفظ کوحقیقت سے مجاز کی طرف تبدیل ہے کہ اخذعذاب حقیقت ہے اور سبب کی طرف اسناد مجاز یابحذف مضاف تقدیر وبال کی جائے بہرحال محض بلا وجہ بلکہ بلامجال وحی عدول بہ مجاز ہے کہ باطل ونامجازہے۔اسی قصہ میں دوسری
مسئلہ۲۶۰:ازمیرٹھ چماردروازہ لنگڑی مسجد مکان جناب قاری مولوی محمداسحاق صاحب مسئولہ محمدیعقوب صاحب ۳شعبان ۱۳۳۱ھ
آیت "فلما اخذتہم الرجفۃ" (جب ان کورجفہ نے پکڑا۔ت)میں ایك شخص رجفہ کے معنی"کڑکڑانے"کے کہتاہے اورایك شخص کہتاہے کڑکڑانے کے معنی نہیں ہیں بلکہ رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں جلالین شریف میں اوردیگرتفاسیر میں اورلغت کی کتابوں میں رجفہ کے معنی زلزلہ کے ہیں کڑکڑانے کے نہیں ہوسکتے۔۔وہ شخص پہلایہ کہتاہے کہ درایت اس کوچاہتی ہے کہ رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہوں اوریہی ہیں کیونکہ ان کاکڑکڑانا عذاب کاسبب ہواتھا اس واسطے رجفہ کے معنی کڑکڑانے کے ہیں۔اب عرض یہ ہے کہ پہلے کاقول صحیح ہے جورجفہ کے معنی کڑکڑانے کے کرتاہے یاثانی کاجواب کہ معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے اور پہلاشخص من فسر برائہ (جس نے اپنی رائے سے تفسیرکی۔ت)کامصداق ہوسکتاہے یانہیں اوررجفہ کے معنی زلزلہ کے کہتاہے صحیح ہے اہلسنت وجماعت کے موافق جائزہے یانہیں
الجواب:
رجفہ کے معنی یہ کڑکڑانا محض باطل وبے اصل ہے جس پرنہ لغت شاہدنہ تفسیر تویہ ضرور تفسیربالرائے ہے اور اس کاحصرکرنا کہ یہی ہیں حضرت عزت پرافتراء اوراس کااستدلال کہ وہ سبب استدلال آیت میں دوسری تحویل اورلفظ کوحقیقت سے مجاز کی طرف تبدیل ہے کہ اخذعذاب حقیقت ہے اور سبب کی طرف اسناد مجاز یابحذف مضاف تقدیر وبال کی جائے بہرحال محض بلا وجہ بلکہ بلامجال وحی عدول بہ مجاز ہے کہ باطل ونامجازہے۔اسی قصہ میں دوسری
حوالہ / References
روح البیان تحت الآیۃ وفدیناہ بذبح عظیم ۲۳/ ۴۷۷ ومرقاۃ المفاتیح تحت الحدیث ۵۵۹۱، ۹/ ۵۵۵
القرآن الکریم ۷ /۱۵۵
جامع الترمذی ابواب التفسیر باب ماجاء فی الذی یفسرالقرآن برأیہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹،احیاء العلوم کتاب آداب تلاوۃ القرآن الباب الرابع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۲۸۹
القرآن الکریم ۷ /۱۵۵
جامع الترمذی ابواب التفسیر باب ماجاء فی الذی یفسرالقرآن برأیہ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹،احیاء العلوم کتاب آداب تلاوۃ القرآن الباب الرابع مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۲۸۹
جگہ"فاخذتکم الصعقۃ" (توتم کو صاعقہ نے پکڑا۔ت)فرمایا صاعقہ کے معنی میں بھی اسی دلیل سے یہی کڑکڑانا ہوگا بلکہ جہاں جہاں قرآن عظیم نے اقوال کفارپرنار یاحمیم یاغساق وغیرہا کاذکرفرمایاہے ان سب کے معنی میں یہی کڑکڑانا آئے گا کہ یہی اس عذاب کاسبب ہوا ایسی بات علم تو علم عقل سے بعیدہے۔وھوسبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۱:ازاحمد آباد گجرات دکن محلہ جمالپور مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۱۵/رجب ۱۳۳۶ھ
اخرج محمد بن جریر الطبری عن محمد بن ابراھیم قال کان النبی یأتی قبور الشھداء علی رأس کل حول فیقول سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار وابوبکر وعمر وعثمن۔ محمدبن جریرطبری نے محمدبن ابراہیم سے تخریج کی کہ نبی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہداء کی قبروں پرتشریف لاتے اوریوں فرماتے:سلامتی ہوتم پر تمہارے صبرکا بدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔اسی طرح ابو بکر عمراورعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم بھی کرتے تھے۔ (ت)
یہ روایت تفسیرابن جریر میں اور تفسیردرمنثور میں اور تفسیرکبیرمیں کس آیت کی تفسیر میں ہے
الجواب:
درمنثور جلد۴صفحہ۵۸:
اخرج ابن المنذر وابن مردویہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یأتی احد اکل عام فاذا تفوہ الشعب سلم علی قبور الشھداء فقال سلم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار ابن منذر اورابن مردویہ رضی اﷲ تعالی عنہما نے سیدنا حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال احد میں تشریف لاتے تھے۔جب گھاٹی کی فراخی میں داخل ہوتے تو قبورشہداء پرسلام کہتے ہوئے یوں فرماتے:سلامتی ہو تم پرتمہارے صبرکابدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔
مسئلہ ۲۶۱:ازاحمد آباد گجرات دکن محلہ جمالپور مرسلہ مولوی عبدالرحیم صاحب ۱۵/رجب ۱۳۳۶ھ
اخرج محمد بن جریر الطبری عن محمد بن ابراھیم قال کان النبی یأتی قبور الشھداء علی رأس کل حول فیقول سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار وابوبکر وعمر وعثمن۔ محمدبن جریرطبری نے محمدبن ابراہیم سے تخریج کی کہ نبی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہداء کی قبروں پرتشریف لاتے اوریوں فرماتے:سلامتی ہوتم پر تمہارے صبرکا بدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔اسی طرح ابو بکر عمراورعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم بھی کرتے تھے۔ (ت)
یہ روایت تفسیرابن جریر میں اور تفسیردرمنثور میں اور تفسیرکبیرمیں کس آیت کی تفسیر میں ہے
الجواب:
درمنثور جلد۴صفحہ۵۸:
اخرج ابن المنذر وابن مردویہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یأتی احد اکل عام فاذا تفوہ الشعب سلم علی قبور الشھداء فقال سلم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار ابن منذر اورابن مردویہ رضی اﷲ تعالی عنہما نے سیدنا حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال احد میں تشریف لاتے تھے۔جب گھاٹی کی فراخی میں داخل ہوتے تو قبورشہداء پرسلام کہتے ہوئے یوں فرماتے:سلامتی ہو تم پرتمہارے صبرکابدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۵۵
وابوبکر وعمروعثمن رضی اﷲ تعالی عنھم۔ سیدنا ابوبکر حضرت عمر اورحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
ابن جریر جلد۱۳ص۸۴:
حدثنی المثنی ثنا سوید قال اخبرنا ابن المبارك عن ابراھیم بن محمد عن سھیل بن ابی صالح عن محمدبن ابراھیم قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یأتی قبور الشھداء علی رأس کل حول فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار وابو بکر وعمروعثمن رضی اﷲ تعالی عنھم۔ مجھے مثنی نے بحوالہ سوید حدیث بیان کی۔سویدنے کہاہمیں ابن المبارك نے خبردی انہوں نے ابراہیم بن محمد سے انہوں نے سہیل بن ابوصالح سے انہوں نے محمدبن ابراہیم سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہداء کی قبروں پرتشریف لاتے اور یوں فرماتے:تم پرسلامتی ہوتمہارے صبرکابدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔ابوبکر عمراورعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
تفسیرکبیرجلد۵ص۲۹۵:
عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یأتی قبور الشھداء رأس کل حول فیقول السلام علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الداروالخلفاء الاربعۃ ھکذا کانوا یفعلون رضی اﷲ تعالی عنھم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پر شہیدوں کی قبروں پرتشریف لاتے اوریوں فرماتے: سلامتی ہوتم پر تمہارے صبرکابدلہ توآخرت کاگھر کیاہی خوب ملا۔ خلفاء اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
تفسیرنیشاپوری جلد۱۳ص۹۲:
وروی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی انورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے
ابن جریر جلد۱۳ص۸۴:
حدثنی المثنی ثنا سوید قال اخبرنا ابن المبارك عن ابراھیم بن محمد عن سھیل بن ابی صالح عن محمدبن ابراھیم قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یأتی قبور الشھداء علی رأس کل حول فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار وابو بکر وعمروعثمن رضی اﷲ تعالی عنھم۔ مجھے مثنی نے بحوالہ سوید حدیث بیان کی۔سویدنے کہاہمیں ابن المبارك نے خبردی انہوں نے ابراہیم بن محمد سے انہوں نے سہیل بن ابوصالح سے انہوں نے محمدبن ابراہیم سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پرشہداء کی قبروں پرتشریف لاتے اور یوں فرماتے:تم پرسلامتی ہوتمہارے صبرکابدلہ توپچھلا گھرکیاہی خوب ملا۔ابوبکر عمراورعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
تفسیرکبیرجلد۵ص۲۹۵:
عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یأتی قبور الشھداء رأس کل حول فیقول السلام علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الداروالخلفاء الاربعۃ ھکذا کانوا یفعلون رضی اﷲ تعالی عنھم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے اختتام پر شہیدوں کی قبروں پرتشریف لاتے اوریوں فرماتے: سلامتی ہوتم پر تمہارے صبرکابدلہ توآخرت کاگھر کیاہی خوب ملا۔ خلفاء اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم بھی ایساہی کرتے تھے۔(ت)
تفسیرنیشاپوری جلد۱۳ص۹۲:
وروی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی انورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرسال کے
حوالہ / References
الدرالمنثور تحت آیت ۱۳/ ۲۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۶۸۔۵۶۷
جامع البیان(تفسیرابن جریر) تحت آیت ۱۳/ ۲۴ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۱۳/ ۸۴
مفاتیح الغیب(التفسیرالکبیر) تحت آیت ۱۳/ ۲۴ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۱۹/ ۴۵
جامع البیان(تفسیرابن جریر) تحت آیت ۱۳/ ۲۴ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۱۳/ ۸۴
مفاتیح الغیب(التفسیرالکبیر) تحت آیت ۱۳/ ۲۴ المطبعۃ المیمنۃ مصر ۱۹/ ۴۵
انہ کان یأتی قبورالشھداء علی رأس کل حول فیقول سلم علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار ۔فقط اختتام پرشہیدوں کی قبروں پرتشریف لاتے اور یوں فرماتے: سلامتی ہوتم پرتمہارے صبر کا بدلہ توپچھلا گھر کیاہی خوب ملا۔(ت)
مسئلہ ۲۶۲: ازشاہجہان پور بازارسبزی منڈی مرسلہ محمدامین تاجر ۹جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تقسیم قرآن شریف برائے فیض پیرائے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ تیس پارہ پرہے کوئی پارہ سورت سے شروع ہوااور کوئی رکوع سے اورکوئی درمیان رکوع سے اورکوئی پارہ بڑاہے کوئی چھوٹا اس کے واسطے کوئی قاعدہ ہے جس کی رعایت ہرپارہ میں ہے یابلارعایت قاعدہ کلیہ مقرر کردی ہے الحمدکوپارہ اول سے علیحدہ رکھاہے اور ربما سے ایك آیت چھوڑدی شروع سورت سے اس کا سراورجوکچھ اوراس میں مرعی ہے حضورہی بیان فرماسکتے ہیں اورہم جہلا کی تسکین حضورپرنورہی کے قلم سے ہوسکتی ہے۔
الجواب:
پاروں پرتقسیم امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے نہ کی نہ کسی صحابی نہ کسی تابعی نے۔معلوم نہیں اس کی ابتدا کس نے کی یہ بہت حادث ہے ظاہرایسامعلوم ہوتاہے کہ جس شخص نے اس کی ابتداء کی اس نے اپنے پاس کے مصحف شریف کو تیس حصوں پرکہ باعتبارعدداوراق مساوی تھے تقسیم کرلیا اوریہ تقسیم ان ان مواقع پرآکے واقع ہوئی اوریہی ان بلاد میں رائج ہوگئیسب جگہ اس پراتفاق بھی نہیں بلکہ شام وغیرہ کی تقسیم اس سے کچھ مختلف ہے۔بہرحال یہ کچھ ضروری بات نہیں نہ اس کے ماننے میں حرج۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۳: ازبارکپور محلہ مرغی محال متصل کنجڑا م حال مرسلہ حافظ محمد جعفر پیش امام ۱۰/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلام مجید بااعراب خداوندکریم کی طرف سے رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر نازل ہوا کرتاتھا یااعراب بعد رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے درست کیاگیا
الجواب:
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرقرآن عظیم کی عبارت کریمہ نازل ہوئی عبارت میں
مسئلہ ۲۶۲: ازشاہجہان پور بازارسبزی منڈی مرسلہ محمدامین تاجر ۹جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تقسیم قرآن شریف برائے فیض پیرائے حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ تیس پارہ پرہے کوئی پارہ سورت سے شروع ہوااور کوئی رکوع سے اورکوئی درمیان رکوع سے اورکوئی پارہ بڑاہے کوئی چھوٹا اس کے واسطے کوئی قاعدہ ہے جس کی رعایت ہرپارہ میں ہے یابلارعایت قاعدہ کلیہ مقرر کردی ہے الحمدکوپارہ اول سے علیحدہ رکھاہے اور ربما سے ایك آیت چھوڑدی شروع سورت سے اس کا سراورجوکچھ اوراس میں مرعی ہے حضورہی بیان فرماسکتے ہیں اورہم جہلا کی تسکین حضورپرنورہی کے قلم سے ہوسکتی ہے۔
الجواب:
پاروں پرتقسیم امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے نہ کی نہ کسی صحابی نہ کسی تابعی نے۔معلوم نہیں اس کی ابتدا کس نے کی یہ بہت حادث ہے ظاہرایسامعلوم ہوتاہے کہ جس شخص نے اس کی ابتداء کی اس نے اپنے پاس کے مصحف شریف کو تیس حصوں پرکہ باعتبارعدداوراق مساوی تھے تقسیم کرلیا اوریہ تقسیم ان ان مواقع پرآکے واقع ہوئی اوریہی ان بلاد میں رائج ہوگئیسب جگہ اس پراتفاق بھی نہیں بلکہ شام وغیرہ کی تقسیم اس سے کچھ مختلف ہے۔بہرحال یہ کچھ ضروری بات نہیں نہ اس کے ماننے میں حرج۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۳: ازبارکپور محلہ مرغی محال متصل کنجڑا م حال مرسلہ حافظ محمد جعفر پیش امام ۱۰/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلام مجید بااعراب خداوندکریم کی طرف سے رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر نازل ہوا کرتاتھا یااعراب بعد رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے درست کیاگیا
الجواب:
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرقرآن عظیم کی عبارت کریمہ نازل ہوئی عبارت میں
حوالہ / References
غرائب القرآن تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴ مصطفی البابی مصر ۱۳/ ۸۳
اعراب نہیں لگائے جاتے حضورکے حکم سے صحابہ کرام مثل امیرالمومنین عثمن غنی وحضرت زیدبن ثابت وامیرمعاویہ وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم اسے لکھتے ان کی تحریر میں بھی اعراب نہ تھے یہ تابعین کے زمانے سے رائج ہوئے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۴: ازموضع پاکڑی ضلع گوڑگانوہ ڈاکخانہ ڈہنیہ مسئولہ محمدیسین خاں ۱۰/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ تفسیرقادری معتبرہے یاغیرمعتبر
الجواب:
یہ اردوکتاب ہے میں نے نہیں دیکھی۔واﷲ تعالی اعلم
__________________
مسئلہ ۲۶۴: ازموضع پاکڑی ضلع گوڑگانوہ ڈاکخانہ ڈہنیہ مسئولہ محمدیسین خاں ۱۰/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ تفسیرقادری معتبرہے یاغیرمعتبر
الجواب:
یہ اردوکتاب ہے میں نے نہیں دیکھی۔واﷲ تعالی اعلم
__________________
محافل ومجالس
(میلادوگیارہویں شریف وغیرہ)
رسالہ
اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ ۱۲۹۹ھ
(نبی تہامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے قیام تعظیمی پراعتراض کرنے والے پرقیامت قائم کرنا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۲۶۵: ازریاست مصطفی آباد عرف رامپور بضمن سوالات کثیرہ ۱۲۹۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجلس میلاد میں قیام وقت ذکر ولادت حضورخیرالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام کیا ہے بعض لوگ اس قیام سے انکار بحث رکھتے اوراسے بدیں وجہ کہ
(میلادوگیارہویں شریف وغیرہ)
رسالہ
اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ ۱۲۹۹ھ
(نبی تہامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے قیام تعظیمی پراعتراض کرنے والے پرقیامت قائم کرنا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۲۶۵: ازریاست مصطفی آباد عرف رامپور بضمن سوالات کثیرہ ۱۲۹۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجلس میلاد میں قیام وقت ذکر ولادت حضورخیرالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام کیا ہے بعض لوگ اس قیام سے انکار بحث رکھتے اوراسے بدیں وجہ کہ
یہاں دومقام واجب الاعلام ہیں:
اولا: اس مقام مبارك پر اپنے طورپر کتب وفتاوائے علماء قدست اسرارھم سے حکم بیان کرنا جس سے بعونہ موافقین کے لئے ایضاح حق واضاحت باطل ہو اورمنصب فتوی اپنے حق کو واصل ہو۔
ثانیا: اس مغالطہ کاجواب دینا جو بالفاظ متقاربہ تمام اکابرواصاغرمانعین میں رائج کہ یہ فعل قرون ثلثہ میں نہ تھا توبدعت وضلالت ہوا۔اس میں کچھ خوبی ہوتی تو وہ وہی کرتے اس فعل اوراس کے مثال امورنزاعیہ میں حضرات منکرین کی غایت سعی اسی قدرہے جس کی بناپراہلسنت وسواداعظم ملت وہزاران ائمہ شریعت وطریقت کومعاذاﷲ بدعتی گمراہ ٹھہراتے ہیں اورمطلقا خوف خدا وترس روزجزادل میں نہیں لاتے۔مقام افتاء اگرچہ استیعاب مناظرہ کی جانہیں مگرایسی جگہ ترك کلی بھی چنداں زیبانہیں لہذافقیر مقام دوم میں چنداجمالی جملے حاضرکرے گا جن کے مبانی دیکھئے حرفے چند اورمعانی سمجھئے توبس جامع و بلند۔وباﷲ التوفیق فی کل حین وعلیہ التوکل وبہ نستعین والحمد ﷲ رب العلمین۔
مقام اول:اﷲ عزوجل نے شریعت غرا بیضا زہرا عامہ تامہ کاملہ شاملہ اتاردی اوربحمدہ تعالی ہمارے لئے ہمارادین کامل فرما دیا اور اس کے کرم نے اپنے حبیب اکرم حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے صدقہ میں اپنی نعمت ہم پرتمام فرما دی۔قال اﷲ تعالی:
"الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلم دینا "
والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی من بہ انعم علینا فی الدنیا والدین وبہ ینعم ان شاء اﷲ تعالی فی الاخرۃ الی ابد الابدین۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارادین کامل کردیا اورتم پراپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسندفرمایا۔ (ت)
تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے اوردرودنازل ہو اس ذات پر جس کے صدقے اﷲتعالی نے دین ودنیا کی نعمتیں ہمیں عطافرمائیں۔اوران کے طفیل ان شاء اﷲ ابدالآباد تك آخرت کی نعمتیں بھی ہمیں عطا ہوں گی۔(ت)
اولا: اس مقام مبارك پر اپنے طورپر کتب وفتاوائے علماء قدست اسرارھم سے حکم بیان کرنا جس سے بعونہ موافقین کے لئے ایضاح حق واضاحت باطل ہو اورمنصب فتوی اپنے حق کو واصل ہو۔
ثانیا: اس مغالطہ کاجواب دینا جو بالفاظ متقاربہ تمام اکابرواصاغرمانعین میں رائج کہ یہ فعل قرون ثلثہ میں نہ تھا توبدعت وضلالت ہوا۔اس میں کچھ خوبی ہوتی تو وہ وہی کرتے اس فعل اوراس کے مثال امورنزاعیہ میں حضرات منکرین کی غایت سعی اسی قدرہے جس کی بناپراہلسنت وسواداعظم ملت وہزاران ائمہ شریعت وطریقت کومعاذاﷲ بدعتی گمراہ ٹھہراتے ہیں اورمطلقا خوف خدا وترس روزجزادل میں نہیں لاتے۔مقام افتاء اگرچہ استیعاب مناظرہ کی جانہیں مگرایسی جگہ ترك کلی بھی چنداں زیبانہیں لہذافقیر مقام دوم میں چنداجمالی جملے حاضرکرے گا جن کے مبانی دیکھئے حرفے چند اورمعانی سمجھئے توبس جامع و بلند۔وباﷲ التوفیق فی کل حین وعلیہ التوکل وبہ نستعین والحمد ﷲ رب العلمین۔
مقام اول:اﷲ عزوجل نے شریعت غرا بیضا زہرا عامہ تامہ کاملہ شاملہ اتاردی اوربحمدہ تعالی ہمارے لئے ہمارادین کامل فرما دیا اور اس کے کرم نے اپنے حبیب اکرم حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے صدقہ میں اپنی نعمت ہم پرتمام فرما دی۔قال اﷲ تعالی:
"الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلم دینا "
والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی من بہ انعم علینا فی الدنیا والدین وبہ ینعم ان شاء اﷲ تعالی فی الاخرۃ الی ابد الابدین۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارادین کامل کردیا اورتم پراپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسندفرمایا۔ (ت)
تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے اوردرودنازل ہو اس ذات پر جس کے صدقے اﷲتعالی نے دین ودنیا کی نعمتیں ہمیں عطافرمائیں۔اوران کے طفیل ان شاء اﷲ ابدالآباد تك آخرت کی نعمتیں بھی ہمیں عطا ہوں گی۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۳
الحمدﷲ ہماری شریعت مطہرہ کاکوئی حکم قرآن عظیم سے باہرنہیں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:حسبنا کتاب اﷲ ۔(ہمیں قرآن عظیم بس ہے)
مگرقرآنعــــــہ عظیم کاپوراسمجھنا اورہرجزئیہ کاصریح اس سے نکال لیناعام کونامقدور ہے اس لئے قرآن کریم نے دومبارك قانون ہمیں عطافرمائے:اول:
"وما اتىکم الرسول فخذوہ " جوکچھ رسول تمہیں دیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)لوصیغہ امرکاہے اورامروجوب کے لئے ہے توپہلی قسم واجبات شرعیہ ہوئی اورباز رہو نہی ہے اور نہی منع فرمانا ہے یہ دوسری قسم ممنوعات شرعیہ ہوئی۔حاصل یہ کہ اگرچہ قرآن مجید میں سب کچھ ہے:
"و نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء" اے محبوب ہم نے تم پریہ کتاب اتاری جس میں ہرشیئ ہرچیز ہرموجود کاروشن بیان ہے۔
مگرامت اسے بے نبی کے سمجھائے نہیں سمجھ سکتی ولہذا فرمایا:
"و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم" اے محبوب ہم نے تم پریہ قرآن مجید اتاراکہ تم لوگوں کے لئے بیان فرمادو جوکچھ ان کی طرف اتراہے۔
یعنی اے محبوب! تم پرتو قرآن حمید نے ہرچیزروشن فرمادی اس میں جس قدر امت کے بتانے کو ہے وہ تم ان پر روشن فرمادو لہذا آیۃ کریمہ اولی میں نزلنا علیك فرمایا جوخاص حضور کی نسبت ہے اور آیۃ کریمہ ثانیہ میں مانزل الیھم فرمایا جو نسبت بہ امت ہے۔دوم:
"فسـلوا اہل الذکر علم والوں سے پوچھو جوتمہیں
عــــــہ:قرآن امام حدیث ہے حدیث امام مجتہدین مجتہدین امام علما علماء امام عوام الناس۔اس سلسلہ کاتوڑنا گمراہ کاکام۔
مگرقرآنعــــــہ عظیم کاپوراسمجھنا اورہرجزئیہ کاصریح اس سے نکال لیناعام کونامقدور ہے اس لئے قرآن کریم نے دومبارك قانون ہمیں عطافرمائے:اول:
"وما اتىکم الرسول فخذوہ " جوکچھ رسول تمہیں دیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)لوصیغہ امرکاہے اورامروجوب کے لئے ہے توپہلی قسم واجبات شرعیہ ہوئی اورباز رہو نہی ہے اور نہی منع فرمانا ہے یہ دوسری قسم ممنوعات شرعیہ ہوئی۔حاصل یہ کہ اگرچہ قرآن مجید میں سب کچھ ہے:
"و نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء" اے محبوب ہم نے تم پریہ کتاب اتاری جس میں ہرشیئ ہرچیز ہرموجود کاروشن بیان ہے۔
مگرامت اسے بے نبی کے سمجھائے نہیں سمجھ سکتی ولہذا فرمایا:
"و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیہم" اے محبوب ہم نے تم پریہ قرآن مجید اتاراکہ تم لوگوں کے لئے بیان فرمادو جوکچھ ان کی طرف اتراہے۔
یعنی اے محبوب! تم پرتو قرآن حمید نے ہرچیزروشن فرمادی اس میں جس قدر امت کے بتانے کو ہے وہ تم ان پر روشن فرمادو لہذا آیۃ کریمہ اولی میں نزلنا علیك فرمایا جوخاص حضور کی نسبت ہے اور آیۃ کریمہ ثانیہ میں مانزل الیھم فرمایا جو نسبت بہ امت ہے۔دوم:
"فسـلوا اہل الذکر علم والوں سے پوچھو جوتمہیں
عــــــہ:قرآن امام حدیث ہے حدیث امام مجتہدین مجتہدین امام علما علماء امام عوام الناس۔اس سلسلہ کاتوڑنا گمراہ کاکام۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب کتابۃ العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۲
القرآن الکریم ۵۹ /۷
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
القرآن الکریم ۱۶ /۴۴
القرآن الکریم ۵۹ /۷
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
القرآن الکریم ۱۶ /۴۴
ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾" عــــــہ نہ معلوم ہو۔
مصنف نے یہاں معالم التنزیل کے حاشیہ پرتحریرفرمایا:
اقول: ھذا من محاسن نظم القران العظیم امر الناس ان یسئلوا اھل العلم بالقران العظیم وارشد العلماء ان لایعتمدواعلی اذھانھم فی فھم القران بل یرجعوا الی مابین لھم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فردالناس الی العلماء والعلماء الی الحدیث و الحدیث الی القران وان الی ربك المنتھی فکما ان المجتھدین لوترکوا الحدیث ورجعوا الی القران فضلواکذلك العامۃ لوترکواالمجتھدین ورجعوا الی الحدیث فضلوا ولھذا قال الامام سفین بن عیینۃ احد ائمۃ الحدیث قریب زمن الامام الاعظم و الامام المالك رضی اﷲ تعالی عنھم الحدیث مضلۃ الاالفقھاء نقلہ عنھم الامام ابن الحاج مکی فی مدخل۔ میں کہتاہوں کہ یہ عبارت قرآن عظیم کی خوبیوں سے ہے لوگوں کوحکم دیا کہ علماء سے پوچھو جوقرآن مجید کا علم رکھتے اور علماء کوہدایت فرمائی کہ قرآن کے سمجھنے میں اپنے ذہن پر اعتماد نہ کریں بلکہ جوکچھ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بیان فرمایااس کی طرف رجوع لائیں تولوگوں کوعلماء کی طرف پھیرا اور علماء کوحدیث کی طرف اورحدیث کو قرآن کی طرف اوربیشك تیرے رب ہی کی طرف انتہاء ہے توجس طرح مجتہدین اگرحدیث چھوڑدیتے اورقرآن کی طرف رجوع کرتے بہك جاتے یونہی غیرمجتہد اگرمجتہدین کوچھوڑکر حدیث کی طرف رجوع لائیں توضرور گمراہ ہوجائیں اسی لئے امام سفیان بن عیینہ نے کہاکہ امام اعظم وامام مالك کے زمانہ کے قریب حدیث کے اماموں سے تھے فرمایا کہ حدیث بہت گمراہ کردینے والی ہے مگر فقہاء کو اسے امام ابن حاج مکی نے مدخل میں نقل فرمایا ۱۲مصحح غفرلہ(ت)
عــــــہ: اس آیہ کریمہ کے متصل ہی کریمہ ثانیہ ہے: "بالبینت والزبر و انزلنا الیک الذکر" الایۃ۔ روشن دلیلیں اورکتابیں لے کر اوراے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری۔(ت)
مصنف نے یہاں معالم التنزیل کے حاشیہ پرتحریرفرمایا:
اقول: ھذا من محاسن نظم القران العظیم امر الناس ان یسئلوا اھل العلم بالقران العظیم وارشد العلماء ان لایعتمدواعلی اذھانھم فی فھم القران بل یرجعوا الی مابین لھم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فردالناس الی العلماء والعلماء الی الحدیث و الحدیث الی القران وان الی ربك المنتھی فکما ان المجتھدین لوترکوا الحدیث ورجعوا الی القران فضلواکذلك العامۃ لوترکواالمجتھدین ورجعوا الی الحدیث فضلوا ولھذا قال الامام سفین بن عیینۃ احد ائمۃ الحدیث قریب زمن الامام الاعظم و الامام المالك رضی اﷲ تعالی عنھم الحدیث مضلۃ الاالفقھاء نقلہ عنھم الامام ابن الحاج مکی فی مدخل۔ میں کہتاہوں کہ یہ عبارت قرآن عظیم کی خوبیوں سے ہے لوگوں کوحکم دیا کہ علماء سے پوچھو جوقرآن مجید کا علم رکھتے اور علماء کوہدایت فرمائی کہ قرآن کے سمجھنے میں اپنے ذہن پر اعتماد نہ کریں بلکہ جوکچھ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بیان فرمایااس کی طرف رجوع لائیں تولوگوں کوعلماء کی طرف پھیرا اور علماء کوحدیث کی طرف اورحدیث کو قرآن کی طرف اوربیشك تیرے رب ہی کی طرف انتہاء ہے توجس طرح مجتہدین اگرحدیث چھوڑدیتے اورقرآن کی طرف رجوع کرتے بہك جاتے یونہی غیرمجتہد اگرمجتہدین کوچھوڑکر حدیث کی طرف رجوع لائیں توضرور گمراہ ہوجائیں اسی لئے امام سفیان بن عیینہ نے کہاکہ امام اعظم وامام مالك کے زمانہ کے قریب حدیث کے اماموں سے تھے فرمایا کہ حدیث بہت گمراہ کردینے والی ہے مگر فقہاء کو اسے امام ابن حاج مکی نے مدخل میں نقل فرمایا ۱۲مصحح غفرلہ(ت)
عــــــہ: اس آیہ کریمہ کے متصل ہی کریمہ ثانیہ ہے: "بالبینت والزبر و انزلنا الیک الذکر" الایۃ۔ روشن دلیلیں اورکتابیں لے کر اوراے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۴۳
القرآن الکریم ۱۶ /۴۴
تعلیقات المصنف علٰی معالم التنزیل تحت الآیۃ ۱۶/ ۴۳،۴۴
القرآن الکریم ۱۶ /۴۴
تعلیقات المصنف علٰی معالم التنزیل تحت الآیۃ ۱۶/ ۴۳،۴۴
حوادث غیرمتناہی ہیں احادیث میں ہرجزئیہ کے لئے نام بنام تصریح احکام اگر فرمائی بھی جاتی ان کا حفظ وضبط نامقدور ہوتا پھرمدارج عالیہ مجتہدان امت کے لئے ان کے اجتہاد پررکھے گئے وہ نہ ملتے نیز اختلافات ائمہ کی رحمت ووسعت نصیب نہ ہوتی۔ لہذا حدیث نے بھی جزئیات معدودہ سے کلیات حاویہ مسائل نامحدودہ کی طرف استعارہ فرمایا اس کی تفصیل وتفریع وتاصیل مجتہدین کرام نے فرمائی اور احاطہ فــــــ تصریح نامتناہی کے تعذرنے یہاں بھی حاجت ایضاح مشکل وتفصیل مجمل وتقیید مرسل باقی رکھی جو قرنا فقرنا طبقۃ فطبقۃ مشائخ کرام وعلمائے اعلام کرتے چلے آئے ہرزمانہ کے حوادث تازہ احکام اس زمانے کے علماء کرام حاملان فقہ و حامیان اسلام نے بیان فرمائے اوریہ سب اپنی اصل ہی کی طرف راجع ہوئے اورہوتے رہیں گے حتی یاتی امر اﷲ وھم علی ذلک(یہاں تك کہ اﷲ تعالی اپناامرلے آئے اور وہ لوگ اسی حال پرہوں۔ت)درمختارمیں ہے:
ولایخلوا الوجود عمن یمیز ھذا حقیقۃ لاظنا وعلی من لم یمیزان یرجع لمن یمیز لبرائۃ ذمتہ ۔ زمانہ ان لوگوں سے خالی نہ ہوگا جویقینی طورپرنہ محض گمان سے اس کی تمیزرکھیں اورجسے اس کی تمیزنہ ہو اس پرواجب ہے کہ تمیز والے کی طرف رجوع کرے کہ بری الذمہ ہو۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
جزم بذلك اخذ امما رواہ البخاری من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق حتی یاتی امراﷲ قولہ وعلی من لم یمیز عبر بعلی المفیدۃ للوجوب للامربہ فی قولہ تعالی فاسئلوا اھل الذکر شارح علامہ نے اس پرجز فرمایا اس حدیث سے لےکرجوصحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہمیشہ میری امت کا ایك گروہ غلبہ کے ساتھ حق پررہے گا یہاں تك کہ حکم الہی آئے اورجسے اس کی تمیز نہ ہو اس پر علماء کی طرف رجوع لانے کو اس لئے
ولایخلوا الوجود عمن یمیز ھذا حقیقۃ لاظنا وعلی من لم یمیزان یرجع لمن یمیز لبرائۃ ذمتہ ۔ زمانہ ان لوگوں سے خالی نہ ہوگا جویقینی طورپرنہ محض گمان سے اس کی تمیزرکھیں اورجسے اس کی تمیزنہ ہو اس پرواجب ہے کہ تمیز والے کی طرف رجوع کرے کہ بری الذمہ ہو۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
جزم بذلك اخذ امما رواہ البخاری من قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق حتی یاتی امراﷲ قولہ وعلی من لم یمیز عبر بعلی المفیدۃ للوجوب للامربہ فی قولہ تعالی فاسئلوا اھل الذکر شارح علامہ نے اس پرجز فرمایا اس حدیث سے لےکرجوصحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہمیشہ میری امت کا ایك گروہ غلبہ کے ساتھ حق پررہے گا یہاں تك کہ حکم الہی آئے اورجسے اس کی تمیز نہ ہو اس پر علماء کی طرف رجوع لانے کو اس لئے
حوالہ / References
الدرالمختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵
ف:حوادث کاپیداہوتے رہنا اوران کے احکام کا۔اورایك یہ کہ جوہربات پرکہے صحابہ تابعین کی سندلاؤ۔یاامام ابوحنیفہ کا قول دکھاؤ، وہ مجنون ہے یاگمراہ۔
ف:حوادث کاپیداہوتے رہنا اوران کے احکام کا۔اورایك یہ کہ جوہربات پرکہے صحابہ تابعین کی سندلاؤ۔یاامام ابوحنیفہ کا قول دکھاؤ، وہ مجنون ہے یاگمراہ۔
ان کنتم لاتعلمون۔ واجب کہا کہ قرآن عظیم میں اس کا حکم فرمایا ہے کہ علماء سے پوچھو اگرتمہیں نہ معلوم ہو۔
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں:
مافصل عالم مااجمل فی کلام من قبلہ من الادوار الا للنور المتصل من الشارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فالمنۃ فی ذلك حقیقۃ لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الذی ھو صاحب الشرع لانہ ھوالذی اعطی العلماء تلك المادۃ التی فصلوا بھاما اجمل فی کلامہ کما ان المنۃ بعدہ لکل دورعلی من تحتہ فلوقدر ان اھل دور تعدوا من فوقھم الی الدورالذی قبلہ لانقطعت وصلتھم بالشارع ولم یھتدوا لایضاح مشکل ولا تفصیل مجمل وتامل یااخی لولاان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصل بشریعتہ مااجمل فی القران لبقی القران علی اجمالہ کما ان الائمۃ المجتھدین لولم یفصلوا ما اجمل فی السنۃ لبقیت السنۃ علی اجمالھا وھکذا الی عصرناھذا فلو لاان حقیقۃ الاجمال جس کسی عالم نے اپنے سے پہلے زمانے کے کسی کلام کے اجمال کی تفصیل کی ہے وہ اسی نور سے ہے جوصاحب شریعت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسےملا تو حقیقت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہی کاتمام امت پراحسان ہے انہوں نے علماء کویہ استعداد عطافرمائی جس سے انہوں نے مجمل کلام کی تفصیل کی۔یونہی ہرطبقہ ائمہ کااپنے بعد والوں پراحسان ہے اگرفرض کیاجائے کہ کوئی طبقہ اپنے اگلے پیشواؤں کوچھوڑکر ان سے اوپر والوں کی طرف تجاوز کرجائے توشارع علیہ الصلوۃ والسلام سے جوسلسلہ ان تك ملاہواہے وہ کٹ جائے گا اوریہ کسی مشکل کی توضیح مجمل کی تفسیرپرقادرنہ ہوں گے۔برادرم! غورکر اگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی شریعت سے مجملات قرآن عظیم کی تفصیل نہ فرماتے قرآن عظیم یونہی مجمل رہ جاتا۔اسی طرح ائمہ مجتہدین اگر مجملات حدیث کی تفصیل نہ فرماتے حدیث یونہی مجمل رہ جاتی اسی طرح ہمارے زمانے تک تواگریہ نہیں کہ حقیقت اجمال سب میں سرایت کئے ہوئے ہے تونہ متون کی شرح
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں:
مافصل عالم مااجمل فی کلام من قبلہ من الادوار الا للنور المتصل من الشارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فالمنۃ فی ذلك حقیقۃ لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الذی ھو صاحب الشرع لانہ ھوالذی اعطی العلماء تلك المادۃ التی فصلوا بھاما اجمل فی کلامہ کما ان المنۃ بعدہ لکل دورعلی من تحتہ فلوقدر ان اھل دور تعدوا من فوقھم الی الدورالذی قبلہ لانقطعت وصلتھم بالشارع ولم یھتدوا لایضاح مشکل ولا تفصیل مجمل وتامل یااخی لولاان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصل بشریعتہ مااجمل فی القران لبقی القران علی اجمالہ کما ان الائمۃ المجتھدین لولم یفصلوا ما اجمل فی السنۃ لبقیت السنۃ علی اجمالھا وھکذا الی عصرناھذا فلو لاان حقیقۃ الاجمال جس کسی عالم نے اپنے سے پہلے زمانے کے کسی کلام کے اجمال کی تفصیل کی ہے وہ اسی نور سے ہے جوصاحب شریعت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسےملا تو حقیقت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہی کاتمام امت پراحسان ہے انہوں نے علماء کویہ استعداد عطافرمائی جس سے انہوں نے مجمل کلام کی تفصیل کی۔یونہی ہرطبقہ ائمہ کااپنے بعد والوں پراحسان ہے اگرفرض کیاجائے کہ کوئی طبقہ اپنے اگلے پیشواؤں کوچھوڑکر ان سے اوپر والوں کی طرف تجاوز کرجائے توشارع علیہ الصلوۃ والسلام سے جوسلسلہ ان تك ملاہواہے وہ کٹ جائے گا اوریہ کسی مشکل کی توضیح مجمل کی تفسیرپرقادرنہ ہوں گے۔برادرم! غورکر اگررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی شریعت سے مجملات قرآن عظیم کی تفصیل نہ فرماتے قرآن عظیم یونہی مجمل رہ جاتا۔اسی طرح ائمہ مجتہدین اگر مجملات حدیث کی تفصیل نہ فرماتے حدیث یونہی مجمل رہ جاتی اسی طرح ہمارے زمانے تک تواگریہ نہیں کہ حقیقت اجمال سب میں سرایت کئے ہوئے ہے تونہ متون کی شرح
حوالہ / References
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۳
ساریۃ فی العالم کلہ ماشرحت الکتب ولاترجمت من لسان الی لسان ولاوضع العلماء علی الشروح حواشی کالشروح للشروح۔ لکھی جاتی نہ ترجمے ہوتے نہ علماء شرحوں کی شرح(حواشی) لکھتے۔
اب یہیں دیکھئے کہ کتب ظاہرالروایۃ ونوادرائمہ تھیں پھرکتب نوازل وواقعات تصنیف فرمائی گئیں پھرمتون وشروح وحواشی وفتاوی وقتا فوقتا تصنیف ہوتے رہے اورہرآئندہ طبقہ نے گزشتہ پراضافہ کئے اورمقبول ہوتے رہے کہ سب اسی اجمال قرآن وسنت کی تفصیل ہے۔نصاب الاحتساب وفتاوی عالمگیری زمانہ سلطان عالمگیراناراﷲ تعالی برہانہ کی تصنیف ہیں ان میں بہت ان جزئیات کی تصریح ملے گی جو کتب سابقہ میں نہیں کہ وہ جب تك واقع ہی نہ ہوئے تھے اورکتب نوازل وواقعات کاتوموضوع ہی حوادث جدیدہ کے احکام بیان فرماناہے اگرکوئی شخص ان کی نسبت کہے کہ صحابہ تابعین سے اس کی تصریح دکھاؤ یاخاص امام اعظم وصاحبین کانص لاؤ تو وہ احمق مجنون یاگمراہ مفتون پھرعالمگیری کے بھی بہت بعد اب قریب زمانہ کی کتابیں فتاوی اسعدیہ وفتاوی حامدیہ و طحطاوی علی مراقی الفلاح وعقودالدریہ وردالمحتار ورسائل شامی وغیرہا کتب معتمدہ ہیں کہ تمام حنفی دنیامیں ان پراعتماد ہورہاہے دو اول کے سوایہ سب تیرہویں صدی کی تصنیف ہیں مانعین بھی ان سے سندیں لاتے ہیں ان میں صدہاوہ بیان ملیں گے جوپہلے نہ تھے اورمانعین کے یہاں توفتاوی شاہ عبدالعزیز صاحب بلکہ مائۃ مسائل واربعین تك پراعتماد ہورہاہے کیامائۃ مسائل واربعین کے سب جزئیات کی تصریح صحابہ وتابعین وائمہ تو بہت بالاہیں عالمگیری وردالمحتار تك کہیں دکھاسکتے ہیں اب ان کے بعد بھی ریل تار برقی نوٹ منی آرڈر فوٹوگراف وغیرہ وغیرہ ایجادہوئے اگرکوئی شخص کہے کہ صحابہ تابعین یاامام ابوحنیفہ یایہ نہ سہی ہدایہ یادرمختاریایہ بھی نہ سہی عالمگیری وطحطاوی وردالمحتار یایہ سب جانے دوشاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے فتاوے میں دکھاؤ تواسے مجنون سے بہتر اورکیالفظ کہاجاسکتاہے ہاں اس ہٹ دھرمی کی بات جداہے کہ اپنے آپ توتیرہویں صدی کی اربعین تك معتبرجانیں اوردوسروں سے ہرجزئیہ پرخاص صحابہ وتابعین کی سندمانگیں۔خطبہ عــــــہ میں ذکرعمین شریفین حادث ہے مگرجب سے حادث ہے علماء نے اس کے مندوب ہونے کی تصریح فرمائی
عــــــہ: ان کابیان کہ حادث ہوکرمستحب ٹھہریں۔
اب یہیں دیکھئے کہ کتب ظاہرالروایۃ ونوادرائمہ تھیں پھرکتب نوازل وواقعات تصنیف فرمائی گئیں پھرمتون وشروح وحواشی وفتاوی وقتا فوقتا تصنیف ہوتے رہے اورہرآئندہ طبقہ نے گزشتہ پراضافہ کئے اورمقبول ہوتے رہے کہ سب اسی اجمال قرآن وسنت کی تفصیل ہے۔نصاب الاحتساب وفتاوی عالمگیری زمانہ سلطان عالمگیراناراﷲ تعالی برہانہ کی تصنیف ہیں ان میں بہت ان جزئیات کی تصریح ملے گی جو کتب سابقہ میں نہیں کہ وہ جب تك واقع ہی نہ ہوئے تھے اورکتب نوازل وواقعات کاتوموضوع ہی حوادث جدیدہ کے احکام بیان فرماناہے اگرکوئی شخص ان کی نسبت کہے کہ صحابہ تابعین سے اس کی تصریح دکھاؤ یاخاص امام اعظم وصاحبین کانص لاؤ تو وہ احمق مجنون یاگمراہ مفتون پھرعالمگیری کے بھی بہت بعد اب قریب زمانہ کی کتابیں فتاوی اسعدیہ وفتاوی حامدیہ و طحطاوی علی مراقی الفلاح وعقودالدریہ وردالمحتار ورسائل شامی وغیرہا کتب معتمدہ ہیں کہ تمام حنفی دنیامیں ان پراعتماد ہورہاہے دو اول کے سوایہ سب تیرہویں صدی کی تصنیف ہیں مانعین بھی ان سے سندیں لاتے ہیں ان میں صدہاوہ بیان ملیں گے جوپہلے نہ تھے اورمانعین کے یہاں توفتاوی شاہ عبدالعزیز صاحب بلکہ مائۃ مسائل واربعین تك پراعتماد ہورہاہے کیامائۃ مسائل واربعین کے سب جزئیات کی تصریح صحابہ وتابعین وائمہ تو بہت بالاہیں عالمگیری وردالمحتار تك کہیں دکھاسکتے ہیں اب ان کے بعد بھی ریل تار برقی نوٹ منی آرڈر فوٹوگراف وغیرہ وغیرہ ایجادہوئے اگرکوئی شخص کہے کہ صحابہ تابعین یاامام ابوحنیفہ یایہ نہ سہی ہدایہ یادرمختاریایہ بھی نہ سہی عالمگیری وطحطاوی وردالمحتار یایہ سب جانے دوشاہ عبدالعزیز صاحب ہی کے فتاوے میں دکھاؤ تواسے مجنون سے بہتر اورکیالفظ کہاجاسکتاہے ہاں اس ہٹ دھرمی کی بات جداہے کہ اپنے آپ توتیرہویں صدی کی اربعین تك معتبرجانیں اوردوسروں سے ہرجزئیہ پرخاص صحابہ وتابعین کی سندمانگیں۔خطبہ عــــــہ میں ذکرعمین شریفین حادث ہے مگرجب سے حادث ہے علماء نے اس کے مندوب ہونے کی تصریح فرمائی
عــــــہ: ان کابیان کہ حادث ہوکرمستحب ٹھہریں۔
حوالہ / References
میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل وممایدلك علی صحۃ ارتباط جمیع اقوام علماء الشریعۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۷
درمختارمیں ہے:
یندب ذکر الخلفاء الراشدین و العمین۔ خطبہ میں چاروں خلفاء کرام اوردونوں عم کریم سیدالانام علیہ الصلوۃ والسلام کاذکرفرمانا مستحب ہے۔
اورحضرت شیخ مجددالف ثانی صاحب نے توایك خطیب پراپنے مکتوبات میں اس لئے کہ اس نے ایك خطبہ میں خلفاء کرام کا ذکرنہ کیاتھا سخت نکیرفرمائی اور اسے خبیث تك لکھا۔اذان کے بعد حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرصلاۃ وسلام عرض کرنا جس طرح حرمین طیبین میں رائج ہے۔درمختارمیں فرمایا:
التسلیم بعدالاذان حدث فی ربیع الاخر سنۃ سبع مائۃ واحدی وثمانین فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعد عشر سنین حدث فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بدعۃ حسنۃ۔ اذان کے بعد صلوۃ بھیجنا ربیع الآخر ۷۸۱ھ کی عشاء شب دوشنبہ میں حادث ہواپھر اذان جمعہ کے بعد بھی صلوۃ کہی گئی پھر دس برس بعد مغرب کے سواسب اذانوں کے بعدپھرمغرب میں بھی دوبارکہنی شروع ہوئی اوریہ ان نوپیدا باتوں سے ہے جو شرعا مستحب ہیں۔
کتب میں اس کے صدہا نظائرملیں گے اسی وقت کے علماء معتمدین سے ان کے جزئیہ کی تصریح مل سکتی ہے مجلس میلاد مبارك و قیام کوجاری ہوئے بھی صدہاسال ہوئے مگر صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کے کلام میں ان کے نام کی تصریح مانگنی اسی جنون پر مبنی ہوگئی ان پرانہیں علماء کرام کی تصریحات سے استناد ہوگا جن کے زمانہ میں ان کاوجودتھا جیسے مجلس مبارك کے لئے امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی وامام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی وامام خطیب احمدقسطلانی وغیرہم اکابررحمہم اﷲ تعالی جن کے نام وکلام کی تصریح باربارکردی گئی۔یونہی مسئلہ قیام میں ان علماء کرام کی سندلی جائے جن کاذکرشریف آیا ہے وباﷲ التوفیق بحمداﷲ تعالی موافقین اہل حق وانصاف ودین کے لئے یہ کافی ہوگا۔رہامخالفین کا نہ ماننا ان کی پروا کیا۔وہ اورہی کسے مانتے ہیں کہ ان علماء کرام کومانیں ان کے غیرمقلدین توعلانیہ امام اعظم وجملہ ائمہ دین پرمنہ آتے اوراپنے مہمل افہام واوہام کے آگے ان کے اجتہادات عالیہ کو باطل بتاتے اوران کے ماننے والوں کومعاذاﷲ مشرگ گمراہ بتاتے ہیں جو ان میں بظاہر نام تقلید
یندب ذکر الخلفاء الراشدین و العمین۔ خطبہ میں چاروں خلفاء کرام اوردونوں عم کریم سیدالانام علیہ الصلوۃ والسلام کاذکرفرمانا مستحب ہے۔
اورحضرت شیخ مجددالف ثانی صاحب نے توایك خطیب پراپنے مکتوبات میں اس لئے کہ اس نے ایك خطبہ میں خلفاء کرام کا ذکرنہ کیاتھا سخت نکیرفرمائی اور اسے خبیث تك لکھا۔اذان کے بعد حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرصلاۃ وسلام عرض کرنا جس طرح حرمین طیبین میں رائج ہے۔درمختارمیں فرمایا:
التسلیم بعدالاذان حدث فی ربیع الاخر سنۃ سبع مائۃ واحدی وثمانین فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعد عشر سنین حدث فی الکل الاالمغرب ثم فیھا مرتین وھو بدعۃ حسنۃ۔ اذان کے بعد صلوۃ بھیجنا ربیع الآخر ۷۸۱ھ کی عشاء شب دوشنبہ میں حادث ہواپھر اذان جمعہ کے بعد بھی صلوۃ کہی گئی پھر دس برس بعد مغرب کے سواسب اذانوں کے بعدپھرمغرب میں بھی دوبارکہنی شروع ہوئی اوریہ ان نوپیدا باتوں سے ہے جو شرعا مستحب ہیں۔
کتب میں اس کے صدہا نظائرملیں گے اسی وقت کے علماء معتمدین سے ان کے جزئیہ کی تصریح مل سکتی ہے مجلس میلاد مبارك و قیام کوجاری ہوئے بھی صدہاسال ہوئے مگر صحابہ وتابعین وائمہ مجتہدین کے کلام میں ان کے نام کی تصریح مانگنی اسی جنون پر مبنی ہوگئی ان پرانہیں علماء کرام کی تصریحات سے استناد ہوگا جن کے زمانہ میں ان کاوجودتھا جیسے مجلس مبارك کے لئے امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی وامام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی وامام خطیب احمدقسطلانی وغیرہم اکابررحمہم اﷲ تعالی جن کے نام وکلام کی تصریح باربارکردی گئی۔یونہی مسئلہ قیام میں ان علماء کرام کی سندلی جائے جن کاذکرشریف آیا ہے وباﷲ التوفیق بحمداﷲ تعالی موافقین اہل حق وانصاف ودین کے لئے یہ کافی ہوگا۔رہامخالفین کا نہ ماننا ان کی پروا کیا۔وہ اورہی کسے مانتے ہیں کہ ان علماء کرام کومانیں ان کے غیرمقلدین توعلانیہ امام اعظم وجملہ ائمہ دین پرمنہ آتے اوراپنے مہمل افہام واوہام کے آگے ان کے اجتہادات عالیہ کو باطل بتاتے اوران کے ماننے والوں کومعاذاﷲ مشرگ گمراہ بتاتے ہیں جو ان میں بظاہر نام تقلید
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۱
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۴
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۴
لیتے ہیں وہ بھی غیرمقلدین کی طرح اپنے اہوائے باطلہ کے سامنے قرآن وحدیث کی توسنتے نہیں پھرائمہ کی کیاگنتی ان کے منہ سے تقلیدامام اوران سب کے منہ سے قرآن وحدیث کانام محض برائے تسکین عوام ہے کہ کھلامنکرنہ جانیں ورنہ حالت وہ ہے جوان کے مذہبی قرآن تفویۃ الایمان سے ظاہر جوکہے"اﷲ ورسول نے غنی کردیا"وہ مشرک حالانکہ خود قرآن عظیم فرماتاہے:
"اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ " اﷲ ورسول نے انہیں دولتمندکردیااپنے فضل سے۔
محمدبخش احمدبخش نام رکھنا شرك حالانکہ خود قرآن حمیدفرماتاہے کہ جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم جب حضرت سیدتنا مریم کے پاس آئے کیاکہا یہ کہ:
" انما انا رسول ربک ٭ لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾" میں تمہارے رب کارسول ہوں اس لئے کہ میں تم کو ستھرا بیٹا دوں۔
صرف محمدبخش نام شرك ہوا حالانکہ وہ معنی عطامیں متعین بھی نہیں بخش بہروحصہ کو کہتے ہیں توجبریل کہ صریح لفظوں میں اپنابیٹا دیناکہہ رہے ہیں دین اسمعیلی میں کیسے مشرك نہ ہوں گے اورقرآن عظیم کہ اس شرك وہابیت کوذکرفرما کرمقرر رکھتاہے کیوں نہ اسے شرك پسند کتاب ٹھہرائیں گے۔اس کی مثالیں بہت ہیں کہ وہابیہ کے شرك سے نہ ائمہ محفوظ نہ صحابہ نہ انبیاء نہ جبریل نہ خودرب العلمین جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علی الحبیب وعلیہم وسلم۔یہ بحث فقیرکے اور رسائل عــــــہ میں مفصل ملے گی یہاں تواتناکہناکافی ہے کہ مخالفین کی نہ ماننے کی پروا کیاہے انہوں نے اورکسے ماناہے کہ علماء ہی کومانیں گے لہذا اس مقام اول میں روئے سخن موافقین اہل حق ویقین کی طرف کریں واﷲالموفق والمعین وبہ نستعین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد و آلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین آمین۔مولی عزوجل توفیق دے تویہاں منصف غیرمتعصب کے لئے اسی قدرکافی کہ یہ فعل مبارك اعنی قیام وقت ذکرولادت حضورخیرالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام صدہاسال سے بلاددارالاسلام میں رائج و معمول اوراکابر ائمہ وعلماء میں مقررومقبول شرع میں اس سے منع مفقود اوربے منع شرع
عــــــہ:خصوصا کتاب مستطاب"اکمال الطامہ علی شرك سوی بالامورالعامہ"مصحح ۱۲۔
"اغنہم اللہ ورسولہ من فضلہ " اﷲ ورسول نے انہیں دولتمندکردیااپنے فضل سے۔
محمدبخش احمدبخش نام رکھنا شرك حالانکہ خود قرآن حمیدفرماتاہے کہ جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم جب حضرت سیدتنا مریم کے پاس آئے کیاکہا یہ کہ:
" انما انا رسول ربک ٭ لاہب لک غلما زکیا ﴿۱۹﴾" میں تمہارے رب کارسول ہوں اس لئے کہ میں تم کو ستھرا بیٹا دوں۔
صرف محمدبخش نام شرك ہوا حالانکہ وہ معنی عطامیں متعین بھی نہیں بخش بہروحصہ کو کہتے ہیں توجبریل کہ صریح لفظوں میں اپنابیٹا دیناکہہ رہے ہیں دین اسمعیلی میں کیسے مشرك نہ ہوں گے اورقرآن عظیم کہ اس شرك وہابیت کوذکرفرما کرمقرر رکھتاہے کیوں نہ اسے شرك پسند کتاب ٹھہرائیں گے۔اس کی مثالیں بہت ہیں کہ وہابیہ کے شرك سے نہ ائمہ محفوظ نہ صحابہ نہ انبیاء نہ جبریل نہ خودرب العلمین جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علی الحبیب وعلیہم وسلم۔یہ بحث فقیرکے اور رسائل عــــــہ میں مفصل ملے گی یہاں تواتناکہناکافی ہے کہ مخالفین کی نہ ماننے کی پروا کیاہے انہوں نے اورکسے ماناہے کہ علماء ہی کومانیں گے لہذا اس مقام اول میں روئے سخن موافقین اہل حق ویقین کی طرف کریں واﷲالموفق والمعین وبہ نستعین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد و آلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین آمین۔مولی عزوجل توفیق دے تویہاں منصف غیرمتعصب کے لئے اسی قدرکافی کہ یہ فعل مبارك اعنی قیام وقت ذکرولادت حضورخیرالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام صدہاسال سے بلاددارالاسلام میں رائج و معمول اوراکابر ائمہ وعلماء میں مقررومقبول شرع میں اس سے منع مفقود اوربے منع شرع
عــــــہ:خصوصا کتاب مستطاب"اکمال الطامہ علی شرك سوی بالامورالعامہ"مصحح ۱۲۔
ان الحکم الاﷲ وانما الحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفاعنہ ۔ حکم نہیں ہے مگراﷲ تعالی کے لئے۔اورحرام وہ ہے جس کو اﷲ تعالی نے حرام کیا اور جس پرسکوت فرمایا وہ معاف شدہ چیزوں میں سے ہے(ت)
علی الخصوص حرمین طیبین مکہ معظمہ ومدینہ منورہ صلی اﷲ تعالی علی منورھما وبارک وسلم کہ مبدء ومرجع دین وایمان ہیں وہاں کے اکابرعلماء ومفتیان مذاہب اربعہ مدتہا مدت سے اس فعل کے فاعل وعامل وقائل وقابل ہیں ائمہ معتمدین نے اسے حرام نہ فرمایا بلکہ بلاشبہہ مستحب ومستحسن ٹھہرایا۔ علامہعــــــہ جلیل الشان علی بن برہان الدین حلبی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے سیرت مبارکہ انسان العیون میں تصریح فرمائی کہ یہ قیام بدعت حسنہ ہے۔اورارشاد فرماتے ہیں:
قد وجدالقیام عند ذکر اسمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من عالم الامۃ ومقتدی دینا وورعا تقی الدین سبکی رحمۃ اﷲ تعالی وتابعہ علی ذلک مشائخ الاسلام فی عصرہ فقد حکی بعضھم ان الامام السبکی اجتمع عندہ جمع کثیر من علماء عصرہ فانشد فیہ قول الصرصری بیشک وقت ذکرنام پاک سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام قیام کرنا امام تقی الملۃ والدین سبکی رحمہ اﷲ تعالی سے پایاگیا جوامت مرحومہ کے عالم اوردین وتقوی میں اماموں کے امام ہیں اور اس قیام پران کے معاصرین ائمہ کرام مشائخ الاسلام نے ان کی متابعت کی بعض علماء یعنی انہیں امام اجل کے صاحبزادے امام شیخ الاسلام ابونصرعبدالوہاب ابن ابی الحسن تقی الملۃ والدین سبکی نے طبقات کبری میں نقل فرمایا کہ امام سبکی کے حضورایک جماعت
عــــــہ: کتب علماء سے قیام کاثبوت۔
علی الخصوص حرمین طیبین مکہ معظمہ ومدینہ منورہ صلی اﷲ تعالی علی منورھما وبارک وسلم کہ مبدء ومرجع دین وایمان ہیں وہاں کے اکابرعلماء ومفتیان مذاہب اربعہ مدتہا مدت سے اس فعل کے فاعل وعامل وقائل وقابل ہیں ائمہ معتمدین نے اسے حرام نہ فرمایا بلکہ بلاشبہہ مستحب ومستحسن ٹھہرایا۔ علامہعــــــہ جلیل الشان علی بن برہان الدین حلبی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے سیرت مبارکہ انسان العیون میں تصریح فرمائی کہ یہ قیام بدعت حسنہ ہے۔اورارشاد فرماتے ہیں:
قد وجدالقیام عند ذکر اسمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من عالم الامۃ ومقتدی دینا وورعا تقی الدین سبکی رحمۃ اﷲ تعالی وتابعہ علی ذلک مشائخ الاسلام فی عصرہ فقد حکی بعضھم ان الامام السبکی اجتمع عندہ جمع کثیر من علماء عصرہ فانشد فیہ قول الصرصری بیشک وقت ذکرنام پاک سیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام قیام کرنا امام تقی الملۃ والدین سبکی رحمہ اﷲ تعالی سے پایاگیا جوامت مرحومہ کے عالم اوردین وتقوی میں اماموں کے امام ہیں اور اس قیام پران کے معاصرین ائمہ کرام مشائخ الاسلام نے ان کی متابعت کی بعض علماء یعنی انہیں امام اجل کے صاحبزادے امام شیخ الاسلام ابونصرعبدالوہاب ابن ابی الحسن تقی الملۃ والدین سبکی نے طبقات کبری میں نقل فرمایا کہ امام سبکی کے حضورایک جماعت
عــــــہ: کتب علماء سے قیام کاثبوت۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۴۰
جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۶،سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب اکل الجبن والسمن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۹،المستدرک للحاکم کتاب الاطعمہ دارالفکر بیروت ۴/ ۱۱۵
جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۶،سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب اکل الجبن والسمن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۹،المستدرک للحاکم کتاب الاطعمہ دارالفکر بیروت ۴/ ۱۱۵
مدحہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
قلیل لمدح المصطفی الخط بالذھب
علی ورق من خط احسن من کتب
وان تنھض الاشراف عند سماعہ
قیاما صفوفا اوجثیا علی الرکب
فعند ذلك قام الامام السبکی
وجمیع من فی المجلس فحصل
انس کبیر بذلك المجلس ویکفی مثل ذلك فی الاقتداء۔ کثیر اس زمانہ کے علماء کی مجتمع ہوئی۔اس مجلس میں کسی نے امام صرصری کے یہ اشعار نعت حضور سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں پڑھے جن کاخلاصہ یہ ہے کہ مدح مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے یہ بھی تھوڑاہے کہ سب سے اچھا خوشنویس ہواس کے ہاتھ سے چاندی کے پترپرسونے کے پانی سے لکھی جائے اورجولوگ شرف دینی رکھتے ہیں وہ ان کی نعت سن کر صف باندھ کرسروقد یا گھٹنوں کے بل کھڑے ہوجائیں ان اشعار کے سنتے ہی حضرت امام سبکی وجملہ علمائے کرام حاضرین مجلس مبارك نے قیام فرمایا اوراس کی وجہ سے اس مجلس میں نہایت انس حاصل ہوا۔علامہ جلیل حلبی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں اس قدر پیروی کے لئے کفایت کرتاہے انتہی(ت)
اقول:یہ امام صرصری صاحب قصیدہ نعتیہ وہ ہیں جنہیں علامہ محمدبن علی شامی مستند مانعین نے سبیل الہدی والرشاد میں اپنے زمانے کاحسان اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کامحب صادق فرمایا اور امام اجل حضرت امام الائمہ تقی الملۃ والدین سبکی قدس سرہ الشریف کی جلالت شان ورفعت مکان تو آفتاب نیمروز سے زیادہ روشن ہے یہاں تك کہ مانعین کے پیشوا مولوی نذیر حسین دہلوی اپنے ایك مہری فتوے میں ان کابالاجماع امام جلیل ومجتہد کبیرہونا تسلیم کرتے ہیں اور اس زمانے کے اعیان علماء ومشائخ اسلام کاان کے ساتھ اس پرموافقت فرمانا بحمداﷲ تعالی متبعین سلف صالحین کے لئے ایك کافی سندہے آخرنہ دیکھاکہ علامہ حلبی نے ارشاد فرمایا اسی قدراقتداء کے لئے بس ہے عالم کامل عارف باﷲ سیدسند مولینا سیدجعفربرزنجی قدس سرہ العزیز جن کارسالہ عقدالجوہر فی مولدالنبی الازہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حرمین محترمین ودیگر بلاددارالاسلام میں رائج ہے اور مستند مانعین مولانا رفیع الدین نے تاریخ الحرمین میں اس رسالے اوران مصنف جلیل القدر کی نہایت مدح وثنا لکھی ہے اپنے اسی رسالے مبارکہ میں فرماتے ہیں:
قلیل لمدح المصطفی الخط بالذھب
علی ورق من خط احسن من کتب
وان تنھض الاشراف عند سماعہ
قیاما صفوفا اوجثیا علی الرکب
فعند ذلك قام الامام السبکی
وجمیع من فی المجلس فحصل
انس کبیر بذلك المجلس ویکفی مثل ذلك فی الاقتداء۔ کثیر اس زمانہ کے علماء کی مجتمع ہوئی۔اس مجلس میں کسی نے امام صرصری کے یہ اشعار نعت حضور سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں پڑھے جن کاخلاصہ یہ ہے کہ مدح مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے یہ بھی تھوڑاہے کہ سب سے اچھا خوشنویس ہواس کے ہاتھ سے چاندی کے پترپرسونے کے پانی سے لکھی جائے اورجولوگ شرف دینی رکھتے ہیں وہ ان کی نعت سن کر صف باندھ کرسروقد یا گھٹنوں کے بل کھڑے ہوجائیں ان اشعار کے سنتے ہی حضرت امام سبکی وجملہ علمائے کرام حاضرین مجلس مبارك نے قیام فرمایا اوراس کی وجہ سے اس مجلس میں نہایت انس حاصل ہوا۔علامہ جلیل حلبی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں اس قدر پیروی کے لئے کفایت کرتاہے انتہی(ت)
اقول:یہ امام صرصری صاحب قصیدہ نعتیہ وہ ہیں جنہیں علامہ محمدبن علی شامی مستند مانعین نے سبیل الہدی والرشاد میں اپنے زمانے کاحسان اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کامحب صادق فرمایا اور امام اجل حضرت امام الائمہ تقی الملۃ والدین سبکی قدس سرہ الشریف کی جلالت شان ورفعت مکان تو آفتاب نیمروز سے زیادہ روشن ہے یہاں تك کہ مانعین کے پیشوا مولوی نذیر حسین دہلوی اپنے ایك مہری فتوے میں ان کابالاجماع امام جلیل ومجتہد کبیرہونا تسلیم کرتے ہیں اور اس زمانے کے اعیان علماء ومشائخ اسلام کاان کے ساتھ اس پرموافقت فرمانا بحمداﷲ تعالی متبعین سلف صالحین کے لئے ایك کافی سندہے آخرنہ دیکھاکہ علامہ حلبی نے ارشاد فرمایا اسی قدراقتداء کے لئے بس ہے عالم کامل عارف باﷲ سیدسند مولینا سیدجعفربرزنجی قدس سرہ العزیز جن کارسالہ عقدالجوہر فی مولدالنبی الازہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حرمین محترمین ودیگر بلاددارالاسلام میں رائج ہے اور مستند مانعین مولانا رفیع الدین نے تاریخ الحرمین میں اس رسالے اوران مصنف جلیل القدر کی نہایت مدح وثنا لکھی ہے اپنے اسی رسالے مبارکہ میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References
انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمد داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۸۴
قد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذوروایۃ ودرایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ۔ بیشك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ذکرولادت کے وقت قیام کرنا ان اماموں نے مستحسن سمجھا ہے جوصاحب روایۃ و درایۃ تھے توشادمانی اس کے لئے جس کی نہایت مرادومقصود نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔
فاضل اجل سیدی جعفر بن زین العابدین علوی مدنی نے اس کی شرح الکوکب الازہر علی عقد الجوہر میں اس مضمون پرتقریرفرمائی۔فقیہ محدث مولانا بن حسن دمیاطی اپنے رسالہ اثبات قیام میں فرماتے ہیں:
القیام عند ذکر ولادۃ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر لاشك فی استحبابہ واستحسانہ و ندبہ یحصل لفاعلہ من الثواب الاوفرو الخیر الاکبر لانہ تعظیم ای تعظیم للنبی الکریم ذی الخلق العظیم الذی اخرجنا اﷲ بہ من ظلمات الکفر الی الایمان وخلصنا اﷲ بہ من نار الجھل الی جنات المعارف والایقان فتعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیہ مسارعۃ الی رضاء رب العلمین واظھار اقوی شعائرالدین ومن یعظم شعائراﷲ فانھا من تقوی القلوب ومن یعظم حرمات اﷲ فھو خیرلہ عند ربہ۔ قرأت مولد شریف میں ذکرولادت شریف سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت حضورصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی تعظیم کوقیام کرنا بیشك مستحب ومستحسن ہے جس کے فاعل کوثواب کثیروفضل کبیر حاصل ہوگاکہ وہ تعظیم ہے اورکیسی ہے تعظیم ان نبی کریم صاحب خلق عظیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی جن کی برکت سے اﷲ سبحانہ وتعالی ہمیں ظلمات کفرسے نورایمان کی طرف لایا اوران کے سبب ہمیں دوزخ جہل سے بچاکر بہشت معرفت ویقین میں داخل فرمایا توحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں خوشنودی رب العالمین کی طرف دوڑنا ہے اورقوی ترین شعائردین کاآشکارہونا اور جوتعظیم کرے شعائرخدا کی تووہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے اورجوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہترہے۔
فاضل اجل سیدی جعفر بن زین العابدین علوی مدنی نے اس کی شرح الکوکب الازہر علی عقد الجوہر میں اس مضمون پرتقریرفرمائی۔فقیہ محدث مولانا بن حسن دمیاطی اپنے رسالہ اثبات قیام میں فرماتے ہیں:
القیام عند ذکر ولادۃ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر لاشك فی استحبابہ واستحسانہ و ندبہ یحصل لفاعلہ من الثواب الاوفرو الخیر الاکبر لانہ تعظیم ای تعظیم للنبی الکریم ذی الخلق العظیم الذی اخرجنا اﷲ بہ من ظلمات الکفر الی الایمان وخلصنا اﷲ بہ من نار الجھل الی جنات المعارف والایقان فتعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیہ مسارعۃ الی رضاء رب العلمین واظھار اقوی شعائرالدین ومن یعظم شعائراﷲ فانھا من تقوی القلوب ومن یعظم حرمات اﷲ فھو خیرلہ عند ربہ۔ قرأت مولد شریف میں ذکرولادت شریف سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت حضورصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کی تعظیم کوقیام کرنا بیشك مستحب ومستحسن ہے جس کے فاعل کوثواب کثیروفضل کبیر حاصل ہوگاکہ وہ تعظیم ہے اورکیسی ہے تعظیم ان نبی کریم صاحب خلق عظیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی جن کی برکت سے اﷲ سبحانہ وتعالی ہمیں ظلمات کفرسے نورایمان کی طرف لایا اوران کے سبب ہمیں دوزخ جہل سے بچاکر بہشت معرفت ویقین میں داخل فرمایا توحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں خوشنودی رب العالمین کی طرف دوڑنا ہے اورقوی ترین شعائردین کاآشکارہونا اور جوتعظیم کرے شعائرخدا کی تووہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے اورجوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بہترہے۔
حوالہ / References
عقدالجوھر فی مولدالنبی الازھر(مترجم بالاردویۃ) جامعۃ الاسلامیہ لاہور ص۲۵و۲۶
اثبات القیام
اثبات القیام
پھربعد نقل دلائل فرمایا:
فاستفید من مجموع ماذکرنا استحباب القیام لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند ذکرولادتہ لما فی ذلك من التعظیم لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایقال القیام عندذکرولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدعۃ لانا نقول لیس کل بدعۃ مذمومۃ کما اجاب بذلك الامام المحقق المولی ابوذرعۃ العراقی حین سئل عن فعل المولد أمستحب اومکروہ وھل ورد فیہ شیئ اوفعل بہ من یقتدی بہ فاجاب بقولہ الولیمۃ واطعام الطعام مستحب کل وقت فکیف اذا انضم الی ذلك السرور بظھورنورالنبوۃ فی ھذالشھر الشریف ولانعلم ذلك عن السلف ولایلزم من کونہ بدعۃ مکروھۃ فکم من بدعۃ مستحبۃ بل واجبۃ اذا لم تنضم بذلك مفسد واﷲ الموفق ۔ یعنی ان سب دلائل سے ثابت ہواکہ ذکر ولادت شریف کے وقت قیام مستحب ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہے کوئی یہ نہ کہے کہ قیام توبدعت ہے ا س لئے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہربدعت بری نہیں ہوتی جیساکہ یہی جواب دیا امام محقق مولی ابوذرعہ عراقی نے جب ان سے میلاد کوپوچھاتھا کہ مستحب ہے یامکروہ اوراس میں کچھ واردہواہے یاکسی پیشوا نے کی ہے توجواب میں فرمایا ولیمہ اور کھانا کھلانا ہروقت مستحب ہے پھر اس صورت میں کیاپوچھنا جب اس کے ساتھ اس ماہ مبارکہ میں ظہور نبوت کی خوشی مل جائے اورہمیں یہ امرسلف سے معلوم نہیں نہ بدعت ہونے سے کراہت لازم کہ بہتیری بدعتیں مستحب بلکہ واجب ہوتی ہیں جب ان کے ساتھ کوئی خرابی مضموم نہ ہو اوراﷲ تعالی توفیق دینے والاہے۔
پھرارشاد ہوا:
قداجتمعت الامۃ المحمدیۃ من اھل السنۃ و الجماعۃ علی استحسان بیشك امت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ سے اہلسنت وجماعت کا اجماع واتفاق ہے کہ یہ قیام
فاستفید من مجموع ماذکرنا استحباب القیام لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند ذکرولادتہ لما فی ذلك من التعظیم لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایقال القیام عندذکرولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدعۃ لانا نقول لیس کل بدعۃ مذمومۃ کما اجاب بذلك الامام المحقق المولی ابوذرعۃ العراقی حین سئل عن فعل المولد أمستحب اومکروہ وھل ورد فیہ شیئ اوفعل بہ من یقتدی بہ فاجاب بقولہ الولیمۃ واطعام الطعام مستحب کل وقت فکیف اذا انضم الی ذلك السرور بظھورنورالنبوۃ فی ھذالشھر الشریف ولانعلم ذلك عن السلف ولایلزم من کونہ بدعۃ مکروھۃ فکم من بدعۃ مستحبۃ بل واجبۃ اذا لم تنضم بذلك مفسد واﷲ الموفق ۔ یعنی ان سب دلائل سے ثابت ہواکہ ذکر ولادت شریف کے وقت قیام مستحب ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہے کوئی یہ نہ کہے کہ قیام توبدعت ہے ا س لئے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہربدعت بری نہیں ہوتی جیساکہ یہی جواب دیا امام محقق مولی ابوذرعہ عراقی نے جب ان سے میلاد کوپوچھاتھا کہ مستحب ہے یامکروہ اوراس میں کچھ واردہواہے یاکسی پیشوا نے کی ہے توجواب میں فرمایا ولیمہ اور کھانا کھلانا ہروقت مستحب ہے پھر اس صورت میں کیاپوچھنا جب اس کے ساتھ اس ماہ مبارکہ میں ظہور نبوت کی خوشی مل جائے اورہمیں یہ امرسلف سے معلوم نہیں نہ بدعت ہونے سے کراہت لازم کہ بہتیری بدعتیں مستحب بلکہ واجب ہوتی ہیں جب ان کے ساتھ کوئی خرابی مضموم نہ ہو اوراﷲ تعالی توفیق دینے والاہے۔
پھرارشاد ہوا:
قداجتمعت الامۃ المحمدیۃ من اھل السنۃ و الجماعۃ علی استحسان بیشك امت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ سے اہلسنت وجماعت کا اجماع واتفاق ہے کہ یہ قیام
حوالہ / References
اثبات القیام
القیام المذکور وقدقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتجتمع امتی علی الضلالۃ۔ مستحسن ہے اوربیشك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:میری امت گمراہی پرجمع نہیں ہوتی۔
امام علامہ مدالقی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
جرت عادۃ القوم بقیام الناس اذا انتھی المداح الی ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھی بدعۃ مستحبۃ لما فیہ من اظھار السرور التعظیم الخ نقلہ المولی الدمیاطی۔ یعنی عادت قوم کی جاری ہے کہ جب مدح خواں ذکرمیلاد حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچتاہے تولوگ کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ بدعت مستحبہ ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش پرخوشی اورحضور کی تعظیم کااظہارہے الخ(مولینا دمیاطی نے اس کو نقل فرمایا۔ت)
علامہ ابوزید رسالہ میلادمیں لکھتے ہیں:
استحسن القیام عند ذکر الولادۃ۔ ذکرولادت کے وقت قیام مستحسن ہے۔
خاتمۃ المحدثین زین الحرم عن الکرم مولانا سیداحمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی اپنی کتاب مستطاب الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ میں فرماتے ہیں:
من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفرح بلیلۃ ولادتہ وقرأۃ المولد والقیام عند ذکرولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واطعام الطعام وغیرذلك مما یعتاد الناس فعلہ من انواع البرفان ذلك یعنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم سے حضور کی شب ولادت کی خوشی کرنا اورمولدشریف پڑھنا اورذکرولادت اقدس کے وقت کھڑاہونااورمجلس شریف میں حاضرین کوکھانادینا اوران کے سوااورنیکی کی باتیں کہ مسلمانوں میں رائج ہیں کہ یہ سب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی
امام علامہ مدالقی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:
جرت عادۃ القوم بقیام الناس اذا انتھی المداح الی ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھی بدعۃ مستحبۃ لما فیہ من اظھار السرور التعظیم الخ نقلہ المولی الدمیاطی۔ یعنی عادت قوم کی جاری ہے کہ جب مدح خواں ذکرمیلاد حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچتاہے تولوگ کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ بدعت مستحبہ ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش پرخوشی اورحضور کی تعظیم کااظہارہے الخ(مولینا دمیاطی نے اس کو نقل فرمایا۔ت)
علامہ ابوزید رسالہ میلادمیں لکھتے ہیں:
استحسن القیام عند ذکر الولادۃ۔ ذکرولادت کے وقت قیام مستحسن ہے۔
خاتمۃ المحدثین زین الحرم عن الکرم مولانا سیداحمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی اپنی کتاب مستطاب الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ میں فرماتے ہیں:
من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفرح بلیلۃ ولادتہ وقرأۃ المولد والقیام عند ذکرولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واطعام الطعام وغیرذلك مما یعتاد الناس فعلہ من انواع البرفان ذلك یعنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم سے حضور کی شب ولادت کی خوشی کرنا اورمولدشریف پڑھنا اورذکرولادت اقدس کے وقت کھڑاہونااورمجلس شریف میں حاضرین کوکھانادینا اوران کے سوااورنیکی کی باتیں کہ مسلمانوں میں رائج ہیں کہ یہ سب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی
حوالہ / References
اثبات القیام
اثبات القیام
رسالۃ المیلاد للعلامہ ابی زید
اثبات القیام
رسالۃ المیلاد للعلامہ ابی زید
کلہ من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد افردت مسئلۃ المولد ومایتعلق بھابالتالیف واعتنی بذلك کثیرمن العلماء فالفوافی ذلك مصنفات مشحونۃ بالادلۃ والبراھین فلاحاجۃ لنا الی الاطالۃ بذلک۔ تعظیم سے ہیں اوریہ مسئلہ مجلس میلاد اوراس کے متعلقات کا ایساہے جس میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں اوربکثرت علماء دین نے اس کا اہتمام فرمایا اوردلائل وبراہین سے بھری ہوئی کتابیں اس میں تالیف فرمائیں تو ہمیں اس مسئلہ میں تطویل کلام کی حاجت نہیں۔
شیخ مشائخنا خاتمۃ المحققین امام العلماء سیدالمدرسین مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیہ سیدنا برکتنا علامہ جمال بن عبداﷲ بن عمرمکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
القیام عندذکر مولدہ الاعطر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استحسنہ جمع من السلف فھو بدعۃ حسنۃ۔ ذکرمولد اعطرحضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام کو ایك جماعت سلف نے مستحسن کہاتو وہ بدعۃ حسنہ ہے۔
پھرعلامہ انباری کی مواردالظمآن سے نقل فرماتے ہیں:
قام الامام السبکی وجمیع من بالمجلس وکفی بمثل ذلك فی الاقتداء اھ ملخصا۔ امام سبکی اورتمام حاضرین مجلس نے قیام کیا اوراس قدراقتداء کے لئے بس ہے۔
مولانا جمال عمرقدس سرہ کے اس فتوی پرموافقت فرمائی مولاناصدیق بن عبدالرحمن کمال مدرس مسجد حرام اورحضرت علامۃ الوری علم الہدی مولانا وشیخنا وبرکتنا السید السند احمدوزین دحلان شافعی اورمولینا محمدبن محمدکتبی مکی اورمولینا حسین بن ابراہیم مکی مالکی مفتی مالکیہ وغیرھم اکابرعلمانے نفعنا اﷲ تعالی بعلومہم آمین۔یہی مولانا حسین دوسری جگہ فرماتے ہیں:
استحسنہ کثیر من العلماء وھو حسن اسے بہت علماء نے مستحسن رکھا اوروہ حسن ہے
شیخ مشائخنا خاتمۃ المحققین امام العلماء سیدالمدرسین مفتی الحنفیۃ بمکۃ المحمیہ سیدنا برکتنا علامہ جمال بن عبداﷲ بن عمرمکی اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
القیام عندذکر مولدہ الاعطر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استحسنہ جمع من السلف فھو بدعۃ حسنۃ۔ ذکرمولد اعطرحضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام کو ایك جماعت سلف نے مستحسن کہاتو وہ بدعۃ حسنہ ہے۔
پھرعلامہ انباری کی مواردالظمآن سے نقل فرماتے ہیں:
قام الامام السبکی وجمیع من بالمجلس وکفی بمثل ذلك فی الاقتداء اھ ملخصا۔ امام سبکی اورتمام حاضرین مجلس نے قیام کیا اوراس قدراقتداء کے لئے بس ہے۔
مولانا جمال عمرقدس سرہ کے اس فتوی پرموافقت فرمائی مولاناصدیق بن عبدالرحمن کمال مدرس مسجد حرام اورحضرت علامۃ الوری علم الہدی مولانا وشیخنا وبرکتنا السید السند احمدوزین دحلان شافعی اورمولینا محمدبن محمدکتبی مکی اورمولینا حسین بن ابراہیم مکی مالکی مفتی مالکیہ وغیرھم اکابرعلمانے نفعنا اﷲ تعالی بعلومہم آمین۔یہی مولانا حسین دوسری جگہ فرماتے ہیں:
استحسنہ کثیر من العلماء وھو حسن اسے بہت علماء نے مستحسن رکھا اوروہ حسن ہے
حوالہ / References
الدررالسنیہ فی الرد علی الوہابیہ دارالشفقۃ استانبول ترکیا ص۱۸
فتاوٰی جمال بن عمر المکی
فتاوٰی جمال بن عمر المکی
فتاوٰی جمال بن عمر المکی
فتاوٰی جمال بن عمر المکی
لما یجب علینا تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ کہ ہم پرنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم واجب ہے۔
مولینا محمدبن یحیی حنبلی مفتی حنابلہ فرماتے ہیں:
نعم یجب القیام عند ذکر ولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذ یحضرروحانیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعند ذلك یجب التعظیم والقیام ۔
قولہ رحمہ اﷲ تعالی یجب القیام الخ اقول: اراد التاکد فی محل الادب کقول القائل لحبیبہ حقك واجب علی وھو من المحاورات الشائعۃ بینھم کمالا یخفی علی من تتبع کلماتھم واما حضور روحانیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعلی مافصل ونقح ابی و مولائی مقدام العلماء الکرام فی کتابہ اذاقۃ الاثام و اﷲ تعالی اعلم۔ ہاں ذکرولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام ضرور ہے کہ روح اقدس حضورمعلی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تواس وقت تعظیم وقیام ضرورہوا۔
مولانا علیہ الرحمہ کاقول کہ قیام واجب ہے الخ میں کہتاہوں اس سے مولانا موصوف نے محل ادب میں تاکیدکاارادہ فرمایا ہے جیسے کوئی اپنے دوست کوکہے کہ تیراحق مجھ پرواجب ہے یہ عربوں میں مشہورمحاورات میں سے ہے جیساکہ ان کے کلام کے تتبع کرنے والے پرمخفی نہیں رہاحضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روحانیت کاجلوہ گرہونا تو اس کی تفصیل وتنقیح علماء کے پیشوا میرے آقا ووالدگرامی نے اپنی کتا ب اذاقۃ الآثام میں کردی ہے واﷲ تعالی اعلم
مولینا عبداﷲ بن محمد مفتی حنفیہ فرماتے ہیں:استحسنہ کثیرون (اسے بہت علماء نے مستحسن رکھاہے)
مولینا محمدبن یحیی حنبلی مفتی حنابلہ فرماتے ہیں:
نعم یجب القیام عند ذکر ولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذ یحضرروحانیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعند ذلك یجب التعظیم والقیام ۔
قولہ رحمہ اﷲ تعالی یجب القیام الخ اقول: اراد التاکد فی محل الادب کقول القائل لحبیبہ حقك واجب علی وھو من المحاورات الشائعۃ بینھم کمالا یخفی علی من تتبع کلماتھم واما حضور روحانیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعلی مافصل ونقح ابی و مولائی مقدام العلماء الکرام فی کتابہ اذاقۃ الاثام و اﷲ تعالی اعلم۔ ہاں ذکرولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام ضرور ہے کہ روح اقدس حضورمعلی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرما ہوتی ہے تواس وقت تعظیم وقیام ضرورہوا۔
مولانا علیہ الرحمہ کاقول کہ قیام واجب ہے الخ میں کہتاہوں اس سے مولانا موصوف نے محل ادب میں تاکیدکاارادہ فرمایا ہے جیسے کوئی اپنے دوست کوکہے کہ تیراحق مجھ پرواجب ہے یہ عربوں میں مشہورمحاورات میں سے ہے جیساکہ ان کے کلام کے تتبع کرنے والے پرمخفی نہیں رہاحضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روحانیت کاجلوہ گرہونا تو اس کی تفصیل وتنقیح علماء کے پیشوا میرے آقا ووالدگرامی نے اپنی کتا ب اذاقۃ الآثام میں کردی ہے واﷲ تعالی اعلم
مولینا عبداﷲ بن محمد مفتی حنفیہ فرماتے ہیں:استحسنہ کثیرون (اسے بہت علماء نے مستحسن رکھاہے)
شیخ مشائخنا مولانا الامام الاجل الفقیہ المحدث سراج العلماء عبداﷲ سراج مکی مفتی حنفیہ فرماتے ہیں:
توارثہ الائمۃ الاعلام واقرہ الائمۃ والحکام من غیر نکیر منکرو ردراد ولھذا کان حسنا ومن یستحق التعظیم غیرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویکفی اثر عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنھما ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن ۔ یہ قیام مشہوربرابراماموں میں متوارث چلاآتاہے اوراسے ائمہ وحکام نے برابررکھااورکسی نے ردوانکارنہ کیا لہذا یہ مستحب ٹھہرا اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا اورکون مستحق تعظیم ہے اورسیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث کافی ہے کہ جس چیزکو اہل اسلام نیك سمجھیں وہ اﷲ تعالی کے نزدیك بھی نیك ہے۔
اسی طرح مفتی عمربن ابی بکر شافعی نے اس کے استحباب واستحسان پرتصریح فرمائی۔
فتوائے علمائے حرمین محترمین جس پرمفتی مکہ معظمہ مولینا محمدبن حسین کتبی حنفی اور رئیس العلماء شیخ المدرسین مولاناجمال حنفی اورمفتی مالکیہ مولانا حسین بن ابراہیم مکی اورسیدالمحققین مولانا احمدبن زین شافعی اورمدرس مسجدنبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مولانا محمدبن محمد غرب شافعی اورمولاناعبدالکریم بن عبدالحکیم حنفی مدنی اورفقیہ جلیل مولانا عبدالجبار حنبلی بصری نزیل مدینہ منورہ اورمولانا ابراہیم بن محمدخیار حسینی شافعی مدنی کی مہریں ہیں اوراصل فتوی مزین بخطوط ومواہیر علماء ممدوحین فقیر نے بچشم خود دیکھا اور مدتوں فقیرکے پاس رہاجس میں اکثر مسائل متنازع فیہا پربحث فرمائی ہے اوردلائل باہرہ مذہب وہابیت کو سراسرباطل ومردودٹھہرایاہے اس میں دربارہ قیام مذکورہے:
واما قیام اھل الاسلام عند ذکر ولادتہ علیہ الصلوۃ والسلام فی ذلك المحفل اشاعۃ للتعظیم واظھار یعنی ذکرولادت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت اس محفل میں اہل اسلام کا اشاعت تعظیم واظہاراحترام کے لئے قیام کرنا
توارثہ الائمۃ الاعلام واقرہ الائمۃ والحکام من غیر نکیر منکرو ردراد ولھذا کان حسنا ومن یستحق التعظیم غیرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویکفی اثر عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنھما ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن ۔ یہ قیام مشہوربرابراماموں میں متوارث چلاآتاہے اوراسے ائمہ وحکام نے برابررکھااورکسی نے ردوانکارنہ کیا لہذا یہ مستحب ٹھہرا اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سوا اورکون مستحق تعظیم ہے اورسیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث کافی ہے کہ جس چیزکو اہل اسلام نیك سمجھیں وہ اﷲ تعالی کے نزدیك بھی نیك ہے۔
اسی طرح مفتی عمربن ابی بکر شافعی نے اس کے استحباب واستحسان پرتصریح فرمائی۔
فتوائے علمائے حرمین محترمین جس پرمفتی مکہ معظمہ مولینا محمدبن حسین کتبی حنفی اور رئیس العلماء شیخ المدرسین مولاناجمال حنفی اورمفتی مالکیہ مولانا حسین بن ابراہیم مکی اورسیدالمحققین مولانا احمدبن زین شافعی اورمدرس مسجدنبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مولانا محمدبن محمد غرب شافعی اورمولاناعبدالکریم بن عبدالحکیم حنفی مدنی اورفقیہ جلیل مولانا عبدالجبار حنبلی بصری نزیل مدینہ منورہ اورمولانا ابراہیم بن محمدخیار حسینی شافعی مدنی کی مہریں ہیں اوراصل فتوی مزین بخطوط ومواہیر علماء ممدوحین فقیر نے بچشم خود دیکھا اور مدتوں فقیرکے پاس رہاجس میں اکثر مسائل متنازع فیہا پربحث فرمائی ہے اوردلائل باہرہ مذہب وہابیت کو سراسرباطل ومردودٹھہرایاہے اس میں دربارہ قیام مذکورہے:
واما قیام اھل الاسلام عند ذکر ولادتہ علیہ الصلوۃ والسلام فی ذلك المحفل اشاعۃ للتعظیم واظھار یعنی ذکرولادت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت اس محفل میں اہل اسلام کا اشاعت تعظیم واظہاراحترام کے لئے قیام کرنا
الاحترام فقد صرح فی انسان العیون المشھور بالسیرۃ الحلبیۃ باستحسانہ کذلك وقال العلامۃ البرزنجی فی رسالۃ المولد قداستحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذو درایۃ وروایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ انتھی بلفظہ اما الحکم بحرمۃ ذلك التعظیم ومما نعتہ بدلیل عدم ذکرہ بالخصوص فی السنۃ فھو فاسدعندجمہورالمحققین قال فی عین العلم والاسراربالمساعدۃ فیمالم ینہ عنہ وصار معتادابعد عصرھم حسنۃ وان کان بدعۃ الخ اقول: والدلیل علی ھذا ماروی ابن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ مرفوعا وموقوفا ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن وقولہ علیہ الصلوۃ والسلام خالقوا الناس باخلاقھم رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین وقال الامام حجۃ الاسلام فی بتصریح انسان العیون مشہوربہ سیرت حلبیہ مستحسن ہے۔اور علامہ برزنجی رسالہ مولد میں فرماتے ہیں قیام وقت ذکرمولد شریف ائمہ ذودرایت وروایت کے نزدیك مستحب ہے توخوشی ہواسے جس کی غایت مرادومرام تعظیم حضورسید الانام علیہ الصلوۃ والسلام ہے انتہی اور اس تعظیم کو بدیں وجہ کہ اس خصوصیت کے ساتھ حدیث میں مذکورنہیں حرام و ممنوع کہناجمہور محققین کے نزدیك فاسد ہے۔عین العلم میں فرماتے ہیں جس چیز سے شروع میں نہی نہ آئی اوربعدزمانہ سلف کے لوگوں میں جاری ہوئی اس میں موافقت کرکے مسلمانوں کادل خوش کرنابہترہے اگرچہ وہ چیز بدعت ہی ہو الخ میں کہتاہوں اس پردلیل وہ حدیث ہے جوحضرت عبداﷲ بن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد اورخود ان کے قول سے مروی ہوئی کہ اہل اسلام جس چیز کو نیك جانیں وہ خدا کے نزدیك بھی نیك ہے۔ اور وہ حدیث کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے ان کی عادتوں کے مطابق برتاؤ کرو۔ حاکم نے اسے روایت کیااورکہاکہ بخاری ومسلم کی شرط پرصحیح ہے اور
حوالہ / References
عقدالجوھر فی مولدالنبی الازھر للبرزنجی(مترجم بالاردویۃ)جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۵و۲۶
عین العلم الباب التاسع فی الصمت واٰفات اللسان امرت پریس لاہور ص۴۱۲
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکربیروت ۳/ ۷۸
اتحاف السادۃ المتقین، بحوالہ الحاکم، کتاب السماع والوجد الباب الثانی المقام الثالث دارالفکر بیروت ۶/ ۵۷۲
عین العلم الباب التاسع فی الصمت واٰفات اللسان امرت پریس لاہور ص۴۱۲
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکربیروت ۳/ ۷۸
اتحاف السادۃ المتقین، بحوالہ الحاکم، کتاب السماع والوجد الباب الثانی المقام الثالث دارالفکر بیروت ۶/ ۵۷۲
الاحیاء الادب الخامس موافقۃ القوم فی القیام اذا قام واحد منھم فی وجد صادق غیرریاء اوتکلف اوقام باختیار من غیر وجد فلابد من الموافقۃ فذلك من ادب الصحبۃ ولکل قوم رسم ولابد من مخالقۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقا فیھا حسن العشرۃ و تطییب القلب و قول القائل ان ذلك بدعۃ لم یکن فی الصحابۃ فلیس کل مایحکم باباحتہ منقولا عن الصحابۃ و انما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ ماثورۃ ولم ینقل النھی عن شیئ من ھذا وکذلك سائرانواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب و اصطلح علیھا جماعۃ فالاحسن المساعدۃ الافیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل انتھی کلام الامام حجۃ الاسلام باختصار المرام۔ امام حجۃ الاسلام غزالی رحمہ اﷲ تعالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:"پانچواں ادب قوم کی موافقت کرناہے قیام میں جب کوئی ان میں سے سچے وجد میں بے نمائش وتکلف یابلاوجد اپنے اختیار سے کھڑاہوتوضرور ہے کہ سب حاضرین اس کی موافقت کریں اور کھڑھے ہو جائیں کہ یہ آداب صحبت سے ہے اور ہرقوم کی ایك رسم ہوتی ہے اورلوگوں سے ان کی عادتوں کے موافق برتاؤکرنا لازم ہے جیساکہ حدیث میں واردہوااورخصوصا جب ان عادتوں میں اچھابرتاؤ اوردلوں کی خوشنودی ہواورکہنے والے کایہ کہنا کہ یہ بدعت ہے صحابہ سے ثابت نہیں تو یہ کب ہے کہ جس چیزکے جوازکاحکم دیاجائے وہ صحابہ سے منقول ہو بری تو وہ بدعت ہے جوکسی سنت مامور بہاکاکاٹ کرے اوران باتوں سے نہی کہیں نہ آئی اورایسے ہی سب مساعدتیں جب ان کے دل خوش کرنامقصود ہو اورایك جماعت نے اس پراتفاق کرلیا ہوتوبہتریہی ہے کہ ان کی موافقت کی جائے مگران باتوں میں جن سے ایسی صریح نہی وارد ہوئی کہ لائق تاویل بھی نہیں"۔یہاں تك امام حجۃ الاسلام غزالی کاارشادتھا کہ باختصار منقول ہوا انتہی۔
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب السمع والوجد الباب الثانی المقام الثالث مطبعۃ المشہد الحسینی قاھرہ ۲/ ۳۰۵
آخرروضۃ النعیم میں جوفتوائے علماء کرام مطبوع ہوئے ان میں فتوائے ۸ حضرات علماء مدینہ منورہ میں بعد اثبات حسن وخوبی محفل میلاد شریف مذکور:
والحاصل ان مایصنع من الولائم فی المولد الشریف وقرائتہ بحضرۃ المسلمین وانفاق المبرات والقیام عند ذکرولادۃ الرسول الامین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورش ماء الورد والقاء البخوروتزیین المکان وقرأۃ شیئ من القران والصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واظھار الفرح والسرور فلاشبھۃ فی انہ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ وفضیلۃ شریفۃ مستحسنۃ اذلیس کل بدعۃ حراما بل قدتکون واجبۃ کنصب الادلۃ للرد علی الفرق الضالۃ وتعلم النحو وسائر العلوم المعینیۃ علی فھم الکتاب و السنۃ کما ینبغی و مندوبۃ کبناء الربط و المدارس و مباحۃ کالتوسع فی الماکل والمشارب اللذیذۃ و الثیاب کما فی شرح المناوی علی جامع الصغیر عن تھذیب النووی فلاینکرھا الامبتدع لااستماع لقولہ بل علی حاکم الاسلام ان یعزرہ واﷲ تعالی اعلم۔ یعنی خلاصہ مقصودیہ ہے کہ میلادشریف میں ولیمے کرنااور حال ولادت مسلمانوں کوسنانا اورخیرات ومبرات بجالانا اور ذکرولادت رسول امین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام کرنا اورگلاب چھڑکنا اورخوشبوئیں سلگانا اورمکان آراستہ کرنا اورکچھ قرآن پڑھنا اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درودبھیجنااورفرحت وسرور کا ظاہرکرنابیشك بدعت حسنہ مستحبہ فضیلت اورشریفہ مستحسنہ ہے کہ ہربدعت حرام نہیں ہوتی بلکہ کبھی واجب ہوتی ہے جیسے گمراہ فرقوں کے رد کے لئے دلائل قائم کرنا اورنحووغیرہ وہ علوم سیکھنا جن کی مدد سے قرآن وحدیث بخوبی سمجھ میں آسکیں اورکبھی مستحب ہوتی ہے جیسے سرائیں اورمدرسے بنانا کبھی مباح جیسے لذیذکھانے پینے اورکپڑوں میں وسعت کرنا جیساکہ علامہ مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب امام علامہ نووی سے نقل کیاتوان امور کاانکاروہی کرے گا جوبدعتی ہوگا اس کی بات سننا نہ چاہئے بلکہ حاکم اسلام پرواجب ہے کہ اسے سزادے واﷲ تعالی اعلم۔
والحاصل ان مایصنع من الولائم فی المولد الشریف وقرائتہ بحضرۃ المسلمین وانفاق المبرات والقیام عند ذکرولادۃ الرسول الامین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورش ماء الورد والقاء البخوروتزیین المکان وقرأۃ شیئ من القران والصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واظھار الفرح والسرور فلاشبھۃ فی انہ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ وفضیلۃ شریفۃ مستحسنۃ اذلیس کل بدعۃ حراما بل قدتکون واجبۃ کنصب الادلۃ للرد علی الفرق الضالۃ وتعلم النحو وسائر العلوم المعینیۃ علی فھم الکتاب و السنۃ کما ینبغی و مندوبۃ کبناء الربط و المدارس و مباحۃ کالتوسع فی الماکل والمشارب اللذیذۃ و الثیاب کما فی شرح المناوی علی جامع الصغیر عن تھذیب النووی فلاینکرھا الامبتدع لااستماع لقولہ بل علی حاکم الاسلام ان یعزرہ واﷲ تعالی اعلم۔ یعنی خلاصہ مقصودیہ ہے کہ میلادشریف میں ولیمے کرنااور حال ولادت مسلمانوں کوسنانا اورخیرات ومبرات بجالانا اور ذکرولادت رسول امین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام کرنا اورگلاب چھڑکنا اورخوشبوئیں سلگانا اورمکان آراستہ کرنا اورکچھ قرآن پڑھنا اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درودبھیجنااورفرحت وسرور کا ظاہرکرنابیشك بدعت حسنہ مستحبہ فضیلت اورشریفہ مستحسنہ ہے کہ ہربدعت حرام نہیں ہوتی بلکہ کبھی واجب ہوتی ہے جیسے گمراہ فرقوں کے رد کے لئے دلائل قائم کرنا اورنحووغیرہ وہ علوم سیکھنا جن کی مدد سے قرآن وحدیث بخوبی سمجھ میں آسکیں اورکبھی مستحب ہوتی ہے جیسے سرائیں اورمدرسے بنانا کبھی مباح جیسے لذیذکھانے پینے اورکپڑوں میں وسعت کرنا جیساکہ علامہ مناوی نے شرح جامع صغیر میں تہذیب امام علامہ نووی سے نقل کیاتوان امور کاانکاروہی کرے گا جوبدعتی ہوگا اس کی بات سننا نہ چاہئے بلکہ حاکم اسلام پرواجب ہے کہ اسے سزادے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
روضۃ النعیم
اس فتوی پرمولینا عبدالجبار وابراہیم بن خیار وغیرہما تیس۳۰ علماء کی مہریں ہیں اورفتوائے علمائے مکہ معظمہ میں میلادوقیام کااستحباب علمائے سلف سے نقل کرکے فرماتے ہیں:
فالمنکر لھذا مبتدع بدعۃ سیئۃ مذمومۃ لانکارہ علی شیئ حسن عند اﷲ والمسلمین کماجاء فی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن والمراد من المسلمین ھھنا الذین کملواالاسلام کالعلماء العالمین وعلماء العرب والمصروالشام والروم والاندلس کلھم رواہ حسنا من زمان السلف الی الان فصارالاجماع والامرالذی ثبت بہ اجماع الامۃ فھو حق لیس بضلال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تجتمع امتی علی الضلالۃ فعلی حاکم الشرع تعزیر المنکر۔واﷲ تعالی اعلم۔ پس مجلس وقیام کامنکربدعتی ہے اوراس منکر کی بدعت سیئہ و مذمومہ کہ اس نے ایسی چیزپر انکارکیاجوخدااوراہل اسلام کے نزدیك نیك تھی جیساکہ حدیث ابن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ میں آیاہے کہ جس چیز کومسلمان نیك اعتقاد کریں وہ خدا کے نزدیك نیك ہے اور یہاں مسلمانوں سے کامل مسلمان مراد ہیں جیسے علمائے باعمل اوراس مجلس وقیام کوعرب و مصروشام وروم واندلس کے تمام علمائے سلف نے آج تك مستحسن جاناتواجماع ہوگیا اورجو امراجماع امت سے ثابت ہو وہ حق ہے گمراہی نہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:میری امت گمراہی پراجتماع نہیں کرتی۔پس حاکم شرع پر لازم ہے کہ منکر کو سزادے۔واﷲ تعالی اعلم انتہی۔
اس فتوی پرحضرت سیدالعلماء احمددحلان مفتی شافعیہ وجناب مستطاب شیخنا وبرکتنا سراج الفضلا مولانا عبدالرحمن سراج مفتی حنفیہ ومولانا حسن مفتی حنابلہ ومولانا محمدشرقی مفتی مالکیہ وغیرہم پینتالیس۴۵ علماء کی مہریں ہیں اورفتوائے علماء جدہ عــــــہ میں مجیب اول مولاناناصربن علی بن احمد مجلس میلاد اوراس میں قیام وتعین یوم وتزئین مکان واستعمال خوشبو وقرأت قرآن واظہار سرور و اطعام طعام کی نسبت فرماتے ہیں:
بھذہ الصورۃ المجموعۃ من جس مجلس میں یہ سب باتیں کی جائیں وہ شرعا
عــــــہ:فتاوی ۱۰ ازعلمائے جدہ
فالمنکر لھذا مبتدع بدعۃ سیئۃ مذمومۃ لانکارہ علی شیئ حسن عند اﷲ والمسلمین کماجاء فی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن والمراد من المسلمین ھھنا الذین کملواالاسلام کالعلماء العالمین وعلماء العرب والمصروالشام والروم والاندلس کلھم رواہ حسنا من زمان السلف الی الان فصارالاجماع والامرالذی ثبت بہ اجماع الامۃ فھو حق لیس بضلال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تجتمع امتی علی الضلالۃ فعلی حاکم الشرع تعزیر المنکر۔واﷲ تعالی اعلم۔ پس مجلس وقیام کامنکربدعتی ہے اوراس منکر کی بدعت سیئہ و مذمومہ کہ اس نے ایسی چیزپر انکارکیاجوخدااوراہل اسلام کے نزدیك نیك تھی جیساکہ حدیث ابن مسعودرضی اﷲ تعالی عنہ میں آیاہے کہ جس چیز کومسلمان نیك اعتقاد کریں وہ خدا کے نزدیك نیك ہے اور یہاں مسلمانوں سے کامل مسلمان مراد ہیں جیسے علمائے باعمل اوراس مجلس وقیام کوعرب و مصروشام وروم واندلس کے تمام علمائے سلف نے آج تك مستحسن جاناتواجماع ہوگیا اورجو امراجماع امت سے ثابت ہو وہ حق ہے گمراہی نہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:میری امت گمراہی پراجتماع نہیں کرتی۔پس حاکم شرع پر لازم ہے کہ منکر کو سزادے۔واﷲ تعالی اعلم انتہی۔
اس فتوی پرحضرت سیدالعلماء احمددحلان مفتی شافعیہ وجناب مستطاب شیخنا وبرکتنا سراج الفضلا مولانا عبدالرحمن سراج مفتی حنفیہ ومولانا حسن مفتی حنابلہ ومولانا محمدشرقی مفتی مالکیہ وغیرہم پینتالیس۴۵ علماء کی مہریں ہیں اورفتوائے علماء جدہ عــــــہ میں مجیب اول مولاناناصربن علی بن احمد مجلس میلاد اوراس میں قیام وتعین یوم وتزئین مکان واستعمال خوشبو وقرأت قرآن واظہار سرور و اطعام طعام کی نسبت فرماتے ہیں:
بھذہ الصورۃ المجموعۃ من جس مجلس میں یہ سب باتیں کی جائیں وہ شرعا
عــــــہ:فتاوی ۱۰ ازعلمائے جدہ
حوالہ / References
روضۃ النعیم
الاشیاء المذکورۃ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ شرعا لا ینکرھا الامن فی قلبہ شعبۃ من شعب النفاق و البغض لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکیف یسوغ لہ ذلك مع قولہ تعالی ومن یعظم شعائر اﷲ فانھا من تقوی القلوب ۔ بدعت حسنہ ہے جس کاانکارنہ کرے گا مگروہ جس کے دل میں نفاق کی شاخوں سے ایك شاخ اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عداوت ہے اوریہ انکار اسے کیونکر رواہوگا حالانکہ حق تعالی فرماتاہے جوخداکے شعائروں کی تعظیم کرے تو وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں عــــــہ۱ ۔
مولانا عباس بن جعفربن صدیق فرماتے ہیں:
مااجاب بہ الشیخ العلامۃ فھو الصواب لایخالفہ الا اھل النفاق ومافی السوال فھو حسن کیف وقد قصد بذلك تعظیم المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاحرمنا اﷲ تعالی من زیارۃ فی الدنیا ولامن شفاعۃ فی الاخری ومن انکر من ذلك فھو محروم منھما۔ شیخ علامہ ناصربن احمد بن علی نے جوجواب دیاوہی حق ہے اس کے خلاف نہ کریں گے مگرمنافقین اور جوکچھ سوال میں مذکورہے سب حسن ہے اورکیوں نہ حسن ہو کہ اس سے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہوتی ہے اﷲ تعالی ہمیں محروم نہ کرے ان کی زیارت سے دنیامیں اورنہ ان کی شفاعت سے آخرت میں اورجو اس سے انکارکرے گا وہ ان دونوں سے محروم ہے۔ عــــــہ۲
مولانا احمدفتاح لکھتے ہیں:
اعلم ان ذکر ولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماوقع من المعجزات والحضور لسماعہ جان توکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولایت ومعجزات کاذکراور اس کے سننے کوحاضرہونا بیشك سنت ہے مگریہ ہیئت مجموعی جس میں
عــــــہ۱:فتوی ۹ علماء مکہ معظمہ ومفتیان مذاہب اربعہ۔
عــــــہ۲:منکرزیارت وشفاعت سے محروم ہے۔
مولانا عباس بن جعفربن صدیق فرماتے ہیں:
مااجاب بہ الشیخ العلامۃ فھو الصواب لایخالفہ الا اھل النفاق ومافی السوال فھو حسن کیف وقد قصد بذلك تعظیم المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاحرمنا اﷲ تعالی من زیارۃ فی الدنیا ولامن شفاعۃ فی الاخری ومن انکر من ذلك فھو محروم منھما۔ شیخ علامہ ناصربن احمد بن علی نے جوجواب دیاوہی حق ہے اس کے خلاف نہ کریں گے مگرمنافقین اور جوکچھ سوال میں مذکورہے سب حسن ہے اورکیوں نہ حسن ہو کہ اس سے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہوتی ہے اﷲ تعالی ہمیں محروم نہ کرے ان کی زیارت سے دنیامیں اورنہ ان کی شفاعت سے آخرت میں اورجو اس سے انکارکرے گا وہ ان دونوں سے محروم ہے۔ عــــــہ۲
مولانا احمدفتاح لکھتے ہیں:
اعلم ان ذکر ولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماوقع من المعجزات والحضور لسماعہ جان توکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولایت ومعجزات کاذکراور اس کے سننے کوحاضرہونا بیشك سنت ہے مگریہ ہیئت مجموعی جس میں
عــــــہ۱:فتوی ۹ علماء مکہ معظمہ ومفتیان مذاہب اربعہ۔
عــــــہ۲:منکرزیارت وشفاعت سے محروم ہے۔
سنۃ بلاشك وریب لکن من ھذہ الصورۃ المجموعۃ من الاشیاء المذکورۃ کما ھو المعمول فی الحرمین الشریفین وجمیع دیارالعرب بدعۃ حسنۃ مستحبۃ یثاب فاعلھا ویعاقب منکرومانعھا ۔ قیام وغیرہ اشیائے مذکورہ ہوتی ہیں جیساکہ حرمین شریفین اورتمام دیارعرب کامعمول ہے اوریہ بدعت حسنہ مستحبہ ہے جس کے کرنے والے کو ثواب اورمنکرومانع پرعذاب۔
مولانا محمدبن سلیمان لکھتے ہیں:
نعم اصل ذکرالمولد الشریف وسماعہ سنۃ وبھذہ الکیفیۃ المجموعۃ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ وفضیلۃ عظیمۃ مقبولۃ عنداﷲ تعالی کما جاء فی اثر عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن والمسلمون من زمان السلف الی الان من اھل العلم والعرفان کلھم رواہ حسنا بلا نقصان فلاینکر ولایمنع من ذلك الامانع الخیرو الاحسان وذلك عمل الشیطن۔ ہاں اصل ذکرمولدشریف اوراس کاسننا سنت ہے اوراس کیفیت مجموعی کے ساتھ جس میں قیام وغیرہ ہوتاہے بدعت حسنہ مستحبہ اوربڑی فضیلت پسندیدہ خداہے کہ حدیث عبد اﷲ بن مسعود میں وارد"جسے مسلمان نیك سمجھیں وہ خدا کے نزدیك نیك ہے"اورمسلمان سلف سے آج تك علماء اولیاء سب اسے مستحسن بلانقصان سمجھتے آئے تو اس سے منع و انکارنہ کرے گا مگروہ کہ خیراوربھلائی سے روکنے والاہوگا اور یہ کام شیطان کاہے۔
مولانا احمدجلیس لکھتے ہیں:
الحمدﷲ وکفی والصلوۃ علی المصطفی نعم ذکرولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومعجزۃ وحلیۃ والحضور خداکوحمد ہے اوروہ کافی ہے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درود۔ہاں ولادت ومعجزات وحلیہ شریفہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکرکرنا اور
مولانا محمدبن سلیمان لکھتے ہیں:
نعم اصل ذکرالمولد الشریف وسماعہ سنۃ وبھذہ الکیفیۃ المجموعۃ بدعۃ حسنۃ مستحبۃ وفضیلۃ عظیمۃ مقبولۃ عنداﷲ تعالی کما جاء فی اثر عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن والمسلمون من زمان السلف الی الان من اھل العلم والعرفان کلھم رواہ حسنا بلا نقصان فلاینکر ولایمنع من ذلك الامانع الخیرو الاحسان وذلك عمل الشیطن۔ ہاں اصل ذکرمولدشریف اوراس کاسننا سنت ہے اوراس کیفیت مجموعی کے ساتھ جس میں قیام وغیرہ ہوتاہے بدعت حسنہ مستحبہ اوربڑی فضیلت پسندیدہ خداہے کہ حدیث عبد اﷲ بن مسعود میں وارد"جسے مسلمان نیك سمجھیں وہ خدا کے نزدیك نیك ہے"اورمسلمان سلف سے آج تك علماء اولیاء سب اسے مستحسن بلانقصان سمجھتے آئے تو اس سے منع و انکارنہ کرے گا مگروہ کہ خیراوربھلائی سے روکنے والاہوگا اور یہ کام شیطان کاہے۔
مولانا احمدجلیس لکھتے ہیں:
الحمدﷲ وکفی والصلوۃ علی المصطفی نعم ذکرولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومعجزۃ وحلیۃ والحضور خداکوحمد ہے اوروہ کافی ہے مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درود۔ہاں ولادت ومعجزات وحلیہ شریفہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکرکرنا اور
لسماعہ وتزیین المکان ورش ماء الورد والبخور بالعود تعین الیوم والقیام عند ذکرولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واطعام الطعام وتقسیم التمرو قرائۃ شیئ من القران کلھا مستحبۃ بلاشك وریب واﷲ تعالی اعلم بالغیب۔ اس کے سننے کوحاضرہونا اورمکان سجانا اورگلاب چھڑکنا اور اگربتی سلگانا اوردن مقررکرنااورذکرولادت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت قیام کرنا اورکھاناکھلانا اورخرمے بانٹنا اورقرآن مجید کی چندآیتیں پڑھنا بلاشك وشبہہ مستحب ہے۔ واﷲ تعالی اعلم بالغیب۔
مولانا محمدصالح لکھتے ہیں:
امۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من العرب والمصر و الشام والروم والاندلس وجمیع بلاد الاسلام مجتمع علی استحبابہ واستحسانہ ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت عرب ومصروشام وروس وروم واندلس وتمام بلاداسلام اس کے استحباب واستحسان پراجماع واتفاق کئے ہوئے ہے۔
اوراسی طرح احمدبن عثمان واحمد بن عجلان ومحمد صدقہ وعبدالرحیم بن محمد زبیدی نے لکھااورتصدیق کیاتھا فتاوائے علمائے جدہ میں مولانا یحیی بن اکرم فرماتے ہیں:
الف فی ذلك العلماء وحثوا علی فعلہ فقالوا لاینکرھا الامبتدع فعلی حاکم الشریعۃ ان یعزرہ۔ علماء نے اس بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں اوراس کے فعل پررغبت دی اورفرمایا اس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی توحاکم شرع پراس کی تعزیرلازم۔
مولانا علی شامی فرماتے ہیں:
لاینکرھذا الا من طبع اﷲ علی قلبہ وقد نص علماء السنۃ علی اس کاانکارنہ کرے گا مگروہ جس کے دل پر خدانے مہرکردی اوربیشك علمائے اہلسنت نے
مولانا محمدصالح لکھتے ہیں:
امۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من العرب والمصر و الشام والروم والاندلس وجمیع بلاد الاسلام مجتمع علی استحبابہ واستحسانہ ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت عرب ومصروشام وروس وروم واندلس وتمام بلاداسلام اس کے استحباب واستحسان پراجماع واتفاق کئے ہوئے ہے۔
اوراسی طرح احمدبن عثمان واحمد بن عجلان ومحمد صدقہ وعبدالرحیم بن محمد زبیدی نے لکھااورتصدیق کیاتھا فتاوائے علمائے جدہ میں مولانا یحیی بن اکرم فرماتے ہیں:
الف فی ذلك العلماء وحثوا علی فعلہ فقالوا لاینکرھا الامبتدع فعلی حاکم الشریعۃ ان یعزرہ۔ علماء نے اس بارے میں کتابیں تالیف فرمائیں اوراس کے فعل پررغبت دی اورفرمایا اس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی توحاکم شرع پراس کی تعزیرلازم۔
مولانا علی شامی فرماتے ہیں:
لاینکرھذا الا من طبع اﷲ علی قلبہ وقد نص علماء السنۃ علی اس کاانکارنہ کرے گا مگروہ جس کے دل پر خدانے مہرکردی اوربیشك علمائے اہلسنت نے
ان ھذا من المستحسن المثاب علیہ ورد واردالحسن علی منکرہ الخ۔ صریح فرمائی کہ یہ مستحسن و کارثواب ہے منکرکاخوب رد فرمایا۔
مولانا علی بن عبداﷲ لکھتے ہیں:
لایشك فیہ الا مبتدع یلیق بہ التعزیر ۔ اس میں شك وہی کرے گا جوبدعتی قابل سزاہوگا۔ عــــــہ۱
مولانا علی طحان لکھتے ہیں:
قرائۃ المولد الشریف والقیام فیہ مستحب ومن انکر ذلك فھو جحودلایعرف مراتب الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ مولدشریف پڑھنا اوراس میں قیام کرنا مستحب ہے اورمنکر ہٹ دھرم ہے جسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قدر معلوم نہیں۔ عــــــہ۲
مولانا محمدبن داؤد بن عبدالرحمن لکھتے ہیں:
مستحب یثاب فاعلہ ولاینکرہ الا متبدع۔ مستحب کرنے والاثواب پائے گا اورمنکربدعتی ہوگا۔
مولانا محمدبن عبداﷲ لکھتے ہیں:
قرائۃ المولد الشریف والقیام عند ذکرولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکل شیئ فی السوال حسن بتعظیم المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن یستحق التعظیم غیرہ۔ مولدشریف پڑھنا اورذکرولادت نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے وقت قیام کرنا اورجتنی باتیں سوال میں مذکورہیں یہ سب تعظیم مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے حسن ہیں اورحضورکے سواتعظیم کامستحق کون ہے۔
مولانا احمدبن خلیل لکھتے ہیں:
ھوالصواب اللائق بتعظیم المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعلی حاکم الشریعۃ یہی حق ہے اورتعظیم مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مناسب۔پس حاکم شریعۃ مطہرہ پرلازم
عــــــہ۱: منکرواجب التعزیرہے۔ عــــــہ۲ منکرکورسالت کی قدرنہیں۔
مولانا علی بن عبداﷲ لکھتے ہیں:
لایشك فیہ الا مبتدع یلیق بہ التعزیر ۔ اس میں شك وہی کرے گا جوبدعتی قابل سزاہوگا۔ عــــــہ۱
مولانا علی طحان لکھتے ہیں:
قرائۃ المولد الشریف والقیام فیہ مستحب ومن انکر ذلك فھو جحودلایعرف مراتب الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ مولدشریف پڑھنا اوراس میں قیام کرنا مستحب ہے اورمنکر ہٹ دھرم ہے جسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قدر معلوم نہیں۔ عــــــہ۲
مولانا محمدبن داؤد بن عبدالرحمن لکھتے ہیں:
مستحب یثاب فاعلہ ولاینکرہ الا متبدع۔ مستحب کرنے والاثواب پائے گا اورمنکربدعتی ہوگا۔
مولانا محمدبن عبداﷲ لکھتے ہیں:
قرائۃ المولد الشریف والقیام عند ذکرولادۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکل شیئ فی السوال حسن بتعظیم المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن یستحق التعظیم غیرہ۔ مولدشریف پڑھنا اورذکرولادت نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے وقت قیام کرنا اورجتنی باتیں سوال میں مذکورہیں یہ سب تعظیم مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے حسن ہیں اورحضورکے سواتعظیم کامستحق کون ہے۔
مولانا احمدبن خلیل لکھتے ہیں:
ھوالصواب اللائق بتعظیم المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعلی حاکم الشریعۃ یہی حق ہے اورتعظیم مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مناسب۔پس حاکم شریعۃ مطہرہ پرلازم
عــــــہ۱: منکرواجب التعزیرہے۔ عــــــہ۲ منکرکورسالت کی قدرنہیں۔
المطھرۃ زجر من انکر وتعزیرہ ۔ کہ منکرکوجھڑکے اورسزادے۔ عــــــہ۱
مولانا عبدالرحمن بن علوی حضرمی لکھتے ہیں:
استحسنو القیام تعظیمالہ اذاجاء ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وماصار تعظیمالہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فوجب علینا اداؤہ والقیام بہ ولاینکر ما ذکرنا الامبتدع مخالف عن طریق اھل السنۃ و الجماعۃ لااستماع واصغاع لکلامہ وعلی حاکم الاسلام تعزیرہ۔ علماء نے فتوی وقت ذکرولادت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضورکی تعظیم کے لئے قیام مستحسن سمجھا اوجوچیز حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ٹھہری تواس کااداکرنا اور بجالانا ہم پرواجب ہوگیا اوراس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی مخالف طریقہ اہلسنت وجماعت جس کی بات نہ سننے کے قابل نہ توجہ کے لائق اورحاکم اسلام پر اس عــــــہ۲ کی تعزیرواجب ہے۔
بالجملہ سردست اس قدرکتب فتاوی وافعال واقوال علماء ائمہ سے اس قیام مبارك کے استحسان واستحباب کی سند صریح حاضر ہے جس میں سو۱۰۰ سے زائدائمہ وعلماء کی تحقیق وتصدیق روشن وظاہر اوررسالہ غایۃ المرام میں علمائے ہند کے فتوے چھپے ہیں پچاس۵۰ سے زیادہ مہرودستخط ہیں اب منصف انصاف کرے آیا اس قدرعلماء ۱ مکہ معظمہ و۲مدینہ منورہ و۳جدہ ۴وحدیدہ و۵روم و ۶شام و۷مصرو ۸دمیاط و۹یمن و۱۰ زبیدو۱۱بصرہ و۱۲حضرموت و۱۳حلب و۱۴حبش و۱۵برزنج و۱۶برع و۱۷کرد و۱۸داغستان و۱۹اندلس و۲۰ہند کااتفاق قابل قبول ارباب عقول نہ ہوگا یامعاذاﷲ یہ عمائد شریعت صدہاسال سے آج تك سب کے سب مبتدع وبدمذہب اورایك بدعت ضلالت کے مستحب و مستحسن ماننے والے ٹھہریں گے تعصب نہ کیجئے توہم ایك تدبیربتائیں ذرا اپنے دل کو خیالات ایں وآں سے رہائی دیجئے اور آنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے کہ گویایہ سیکڑوں اکابرسب کے سب ایك وقت میں زندہ موجودہیں اور اپنے اپنے مراتب عالیہ کے ساتھ ایك مکان عالیشان میں جمع ہوئے ہیں اوران کے حضور مسئلہ قیام پیش ہوا ہے اوران سب عمائدنے ایك زبان ہوکربلندآوازسے فرمایاہے بیشك مستحب ہے وہ کون ہے جواسے براکہتاہے ذراہمارے سامنے آئے اس وقت ان کی
عــــــہ۱:منکرواجب التعزیرہے۔ عــــــہ۲:منکرواجب التعزیرہے۔
مولانا عبدالرحمن بن علوی حضرمی لکھتے ہیں:
استحسنو القیام تعظیمالہ اذاجاء ذکرمولدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وماصار تعظیمالہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فوجب علینا اداؤہ والقیام بہ ولاینکر ما ذکرنا الامبتدع مخالف عن طریق اھل السنۃ و الجماعۃ لااستماع واصغاع لکلامہ وعلی حاکم الاسلام تعزیرہ۔ علماء نے فتوی وقت ذکرولادت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضورکی تعظیم کے لئے قیام مستحسن سمجھا اوجوچیز حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ٹھہری تواس کااداکرنا اور بجالانا ہم پرواجب ہوگیا اوراس کاانکارنہ کرے گا مگربدعتی مخالف طریقہ اہلسنت وجماعت جس کی بات نہ سننے کے قابل نہ توجہ کے لائق اورحاکم اسلام پر اس عــــــہ۲ کی تعزیرواجب ہے۔
بالجملہ سردست اس قدرکتب فتاوی وافعال واقوال علماء ائمہ سے اس قیام مبارك کے استحسان واستحباب کی سند صریح حاضر ہے جس میں سو۱۰۰ سے زائدائمہ وعلماء کی تحقیق وتصدیق روشن وظاہر اوررسالہ غایۃ المرام میں علمائے ہند کے فتوے چھپے ہیں پچاس۵۰ سے زیادہ مہرودستخط ہیں اب منصف انصاف کرے آیا اس قدرعلماء ۱ مکہ معظمہ و۲مدینہ منورہ و۳جدہ ۴وحدیدہ و۵روم و ۶شام و۷مصرو ۸دمیاط و۹یمن و۱۰ زبیدو۱۱بصرہ و۱۲حضرموت و۱۳حلب و۱۴حبش و۱۵برزنج و۱۶برع و۱۷کرد و۱۸داغستان و۱۹اندلس و۲۰ہند کااتفاق قابل قبول ارباب عقول نہ ہوگا یامعاذاﷲ یہ عمائد شریعت صدہاسال سے آج تك سب کے سب مبتدع وبدمذہب اورایك بدعت ضلالت کے مستحب و مستحسن ماننے والے ٹھہریں گے تعصب نہ کیجئے توہم ایك تدبیربتائیں ذرا اپنے دل کو خیالات ایں وآں سے رہائی دیجئے اور آنکھیں بند کرکے گردن جھکاکریوں دل میں مراقبہ کیجئے کہ گویایہ سیکڑوں اکابرسب کے سب ایك وقت میں زندہ موجودہیں اور اپنے اپنے مراتب عالیہ کے ساتھ ایك مکان عالیشان میں جمع ہوئے ہیں اوران کے حضور مسئلہ قیام پیش ہوا ہے اوران سب عمائدنے ایك زبان ہوکربلندآوازسے فرمایاہے بیشك مستحب ہے وہ کون ہے جواسے براکہتاہے ذراہمارے سامنے آئے اس وقت ان کی
عــــــہ۱:منکرواجب التعزیرہے۔ عــــــہ۲:منکرواجب التعزیرہے۔
شوکت وجبروت کوخیال کیجئے اورمشتے چندمانعین ہندوستان میں ایك ایك کامنہ چراغ لے کر دیکھئے کہ ان میں سے کوئی بھی اس عالی شان مجمع میں جاکر ان کے حضور اپنی زبان کھول سکتاہے اوریوں تو:
چوں شیراں برفتند ازمرغزار زندروبہ لنگ لاف شکار
(جب جنگلات اورسبزہ زار سے شیر چلے جائیں تولنگڑی لومڑی بھی شکار کی ڈینگیں مارنے لگتی ہے۔ت)
جسے چاہئے کہہ دیجئے کہ وہ کیاتھا ہم ان کی کب مانتے ہیں ان کاقول کیاحجت ہوسکتاہے یہ بھی نہ سہی بالفرض اگران سب اکابر سے بیان مسئلہ میں غلطی وخطاہوجائے تونقل وروایت میں تو معاذاﷲ کذب وافتراء نہ کریں گے اب اوپر کی عبارتیں دیکھئے کہ کتنے علمائے اہلسنت وجماعت وعلمائے بلاددارالاسلام کااس فعل کے استحباب واستحسان پراجماع نقل کیاہے کیا اجماع اہلسنت بھی پایہ قبول سے ساقط اورہنوزدلیل وسند کی حاجت باقی ہے اچھایہ بھی جانے دو اورچندہندیوں کاخلاف کہ وہ بھی جب یہاں کسی طرح کادینی بندوبست ونظام نہ رہا اورہرایك کو جومنہ پرآئے بك دینے کااختیار ملاوقت وموقع پاکربہك اٹھے ہیں قادح اجماع جانو تاہم ہماری طرف سواداعظم میں توشك نہیں اورحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتبعوا السوادالاعظم فانہ من شذ شذ فی النار۔ بڑے گروہ کی پیروی کرو کہ جواکیلارہااکیلادوزخ میں گیا۔
اورفرماتے ہیں:
انما یاکل الذئب القاصیۃ۔ بھیڑیا اسی بکری کوکھاتاہے جوگلہ سے دورہوتی ہے۔
انصاف کیجئے توحضرت امام اجل محقق اعظم سیدنا تقی الملۃ والدین سبکی اوراس وقت کے اکابرعلماء واعیان قضاۃ ومشائخ اسلام کا قیام ہی مسلمانوں کے لئے حجت کافیہ تھا
چوں شیراں برفتند ازمرغزار زندروبہ لنگ لاف شکار
(جب جنگلات اورسبزہ زار سے شیر چلے جائیں تولنگڑی لومڑی بھی شکار کی ڈینگیں مارنے لگتی ہے۔ت)
جسے چاہئے کہہ دیجئے کہ وہ کیاتھا ہم ان کی کب مانتے ہیں ان کاقول کیاحجت ہوسکتاہے یہ بھی نہ سہی بالفرض اگران سب اکابر سے بیان مسئلہ میں غلطی وخطاہوجائے تونقل وروایت میں تو معاذاﷲ کذب وافتراء نہ کریں گے اب اوپر کی عبارتیں دیکھئے کہ کتنے علمائے اہلسنت وجماعت وعلمائے بلاددارالاسلام کااس فعل کے استحباب واستحسان پراجماع نقل کیاہے کیا اجماع اہلسنت بھی پایہ قبول سے ساقط اورہنوزدلیل وسند کی حاجت باقی ہے اچھایہ بھی جانے دو اورچندہندیوں کاخلاف کہ وہ بھی جب یہاں کسی طرح کادینی بندوبست ونظام نہ رہا اورہرایك کو جومنہ پرآئے بك دینے کااختیار ملاوقت وموقع پاکربہك اٹھے ہیں قادح اجماع جانو تاہم ہماری طرف سواداعظم میں توشك نہیں اورحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتبعوا السوادالاعظم فانہ من شذ شذ فی النار۔ بڑے گروہ کی پیروی کرو کہ جواکیلارہااکیلادوزخ میں گیا۔
اورفرماتے ہیں:
انما یاکل الذئب القاصیۃ۔ بھیڑیا اسی بکری کوکھاتاہے جوگلہ سے دورہوتی ہے۔
انصاف کیجئے توحضرت امام اجل محقق اعظم سیدنا تقی الملۃ والدین سبکی اوراس وقت کے اکابرعلماء واعیان قضاۃ ومشائخ اسلام کا قیام ہی مسلمانوں کے لئے حجت کافیہ تھا
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب العلم دارالفکر بیروت ۱/ ۱۶۔۱۱۵
السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب فرض الجماعۃ فی غیرالجمعہ علی الکفایۃ دارصادربیروت ۳/ ۵۴
السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب فرض الجماعۃ فی غیرالجمعہ علی الکفایۃ دارصادربیروت ۳/ ۵۴
جس کے بعد اورسند کی احتیاج نہ تھی جیساکہ علامہ جلیل علی بن برہان حلبی وعلامہ انباری وغیرہما علماء نے تصریح فرمائی نہ کہ ان ائمہ کے بعد یہ قیام تمام بلاددارالاسلام کے خواص وعوام میں صدہاسال سے شائع وذائع ہے اورہزارہاعلماء واولیاء اس پراتفاق واجماع فرمائیں جب بھی آپ صاحبوں کے نزدیك لائق تسلیم نہ ہو صدحیف ہزارافسوس کہ قرنہاقرن سے علمائے امت محمدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سب معاذاﷲ بدعتی وگمراہ وخطاکارٹھہریں اورسچے پکے سنی بنیں تویہ چندہندی جنہیں اس ملك میں احکام اسلام جاری نہ ہونے نے ڈھیلی باگ کردی "انا للہ و انا الیہ رجعون﴿۱۵۶﴾" (ہم اﷲ کے مال ہیں اورہمیں اسی کی طرف پھرناہے۔ت)
فــــــ۱ یہ مجمل تحقیق استحباب قیام پرصرف ایك دلیل کی اس کے سوا دلائل متکاثرہ وحجج باہرہ وبراہین قاہرہ قرآن وحدیث واصول وقواعد شرع سے اس پرقائم ہیں جن کی تفصیل وتوضیح اورشبہات مانعین کی تذلیل وتفضیح پرطرزبدیع ونہج نجیح حضرت حجۃ الاسلام بقیۃ السلف تاج العلماء راس الکملاسیدی ومولائی خدمت والد ماجد حضرت مولانا محمدنقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی قدس اﷲ تعالی سرہ الزکی نے رسالہ مستطابہ اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام میں بمالامزید علیہ بیان فرمائی جسے تحقیق عدیل وتدقیق بے مثیل دیکھنے کی تمناہو اسے مژدہ دیجئے کہ اس پاك مبارك رسالہ کے مائدہ فائدہ سے زلہ رباہو رہایہ کہ قیام ذکرولادت شریف کے وقت کیوں ہے اس کی وجہ نہایت روشن اولا صدہاسال سے علماء کرام وبلاددارالاسلام میں یونہی معمول ثانیا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ ذکرپاك صاحب لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم مثل ذات اقدس کے ہے اورصورتعظیم سے ایك صورت قیام بھی ہے اوریہ صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اور ذکرولادت شریف حضورسیدالعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عالم دنیامیں تشریف آوری کاذکر ہے تویہ تعظیم اسی ذکر کے ساتھ مناسب ہوئی واﷲ تعالی اعلم۔
لطیفہ نظیفہ: ہمارے فــــــ۲ فرقہ اہلسنت وجماعت پررحمت الہیہ کی تمامی سے ہے کہ اس مسئلہ
فــــــ۱ یہ مجمل تحقیق استحباب قیام پرصرف ایك دلیل کی اس کے سوا دلائل متکاثرہ وحجج باہرہ وبراہین قاہرہ قرآن وحدیث واصول وقواعد شرع سے اس پرقائم ہیں جن کی تفصیل وتوضیح اورشبہات مانعین کی تذلیل وتفضیح پرطرزبدیع ونہج نجیح حضرت حجۃ الاسلام بقیۃ السلف تاج العلماء راس الکملاسیدی ومولائی خدمت والد ماجد حضرت مولانا محمدنقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی قدس اﷲ تعالی سرہ الزکی نے رسالہ مستطابہ اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام میں بمالامزید علیہ بیان فرمائی جسے تحقیق عدیل وتدقیق بے مثیل دیکھنے کی تمناہو اسے مژدہ دیجئے کہ اس پاك مبارك رسالہ کے مائدہ فائدہ سے زلہ رباہو رہایہ کہ قیام ذکرولادت شریف کے وقت کیوں ہے اس کی وجہ نہایت روشن اولا صدہاسال سے علماء کرام وبلاددارالاسلام میں یونہی معمول ثانیا ائمہ دین تصریح فرماتے ہیں کہ ذکرپاك صاحب لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم مثل ذات اقدس کے ہے اورصورتعظیم سے ایك صورت قیام بھی ہے اوریہ صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اور ذکرولادت شریف حضورسیدالعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عالم دنیامیں تشریف آوری کاذکر ہے تویہ تعظیم اسی ذکر کے ساتھ مناسب ہوئی واﷲ تعالی اعلم۔
لطیفہ نظیفہ: ہمارے فــــــ۲ فرقہ اہلسنت وجماعت پررحمت الہیہ کی تمامی سے ہے کہ اس مسئلہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۵۶
ف۱:تحقیقی ذکرولادت شریفہ
ف۲:ایك بڑے وہابی میاں نذرحسین دہلوی کاکلام اوراس سے ڈنکے کی چوٹ ثبوت قیام۔
ف۱:تحقیقی ذکرولادت شریفہ
ف۲:ایك بڑے وہابی میاں نذرحسین دہلوی کاکلام اوراس سے ڈنکے کی چوٹ ثبوت قیام۔
میں بہت منکرین کواپنے گھربھی جائے دست وپا زدن باقی نہیں وہ بزورزبان قیام کو بدعت وناجائز کہے جاتے ہیں مگران کے امام تومولی ومرشد وآقامجتہد الطائفہ میاں نذیرحسین صاحب دہلوی کہ آج وہابیہ ہندوستان کے سروسرداراوران کے یہاں لقب شیخ الکل فی الکل کے سزاوار ہیں جن کی نسبت وہابیہ ہند کی ناك طائفہ بھرکے بڑے متکلم بیباك کشورتوہب کے افسرفوجی میاں بشیرالدین صاحب قنوجی نے اپنے رسالہ ممانعت مجلس وقیام مسمی بہ غایۃ الکلام میں لکھا:
زبدۃ المحققین وعمدۃ المحدثین ومولاناسیدنذیرحسین شاہجہاں آبادی ازاولیائے عصرواکابرعلمائے این زمان ست الی آخرا لہذیان۔ محققین میں افضل اورمحدثین کے معتمد مولاناسیدنذیرحسین شاہجہاں آبادی اس زمانے کے اولیاء واکابرعلماء میں سے ہیں۔ خرافات کے آخر تک۔(ت)
یہ حضرت من حیث لایشعر جوازواستحباب قیام تسلیم فرماچکے امام اجل عالم الامہ کاشف الغمہ سیدنا تقی الملۃ والدین سبکی اوران کے حضارمجلس کانعت وذکر حضور اصطفاعلیہ افضل التحیۃ والثناء سن کرقیام فرمانا توہم اوپرثابت کرآئے اور اس سے ملامجتہد دہلوی بھی انکارنہیں کرسکتے کہ خود اسی مسئلہ میں ان کے مستند علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے بھی سبل الہدی والرشاد میں یہ حکایت نقل فرمائی اب سنئے کہ مجتہد بہادر اپنے ایك دستخطی مہری مصدقہ فتوی میں کہ فقیر کے پاس اصلی موجودہے کیاکچھ تسلیم فرماتے ہیں ان امام ہمام کی نسبت لکھاہے:تقی الدین سبکی کے اجتہادپرعلماء کااجماع ہے۔امام علامہ مجتہد ابن حجرمکی ان کی تعریف میں لکھتے ہیں:
الامام المجمع علی جلالتہ واجتہادہ ۔ وہ امام جن کی جلالت واجتہاد پراجماع ہے۔(ت)
یہاں سے صاف ثابت ہواکہ امام تقی الدین کامجتہدہونا ان تیرہ صدی کے مجتہد کومقبول ہے اور اسی فتوے میں ہے جب ایك امام صحیح الاجتہاد نے ایك کام توکیاضرور ہے کہ اس کااجتہاد اس کی طرف مؤدی ہواوراجتہاد بیشك حجت شرعیہ ہے۔اب کیاکلام رہاکہ اس قیام کے جواز پرحجت شرعیہ قائم اورسنئے اسی فتوی میں ہے جیسے ائمہ اربعہ کاقول ضلالت نہیں ہوسکتا ایسے ہی کسی مجتہد کامذہب بدعت
زبدۃ المحققین وعمدۃ المحدثین ومولاناسیدنذیرحسین شاہجہاں آبادی ازاولیائے عصرواکابرعلمائے این زمان ست الی آخرا لہذیان۔ محققین میں افضل اورمحدثین کے معتمد مولاناسیدنذیرحسین شاہجہاں آبادی اس زمانے کے اولیاء واکابرعلماء میں سے ہیں۔ خرافات کے آخر تک۔(ت)
یہ حضرت من حیث لایشعر جوازواستحباب قیام تسلیم فرماچکے امام اجل عالم الامہ کاشف الغمہ سیدنا تقی الملۃ والدین سبکی اوران کے حضارمجلس کانعت وذکر حضور اصطفاعلیہ افضل التحیۃ والثناء سن کرقیام فرمانا توہم اوپرثابت کرآئے اور اس سے ملامجتہد دہلوی بھی انکارنہیں کرسکتے کہ خود اسی مسئلہ میں ان کے مستند علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے بھی سبل الہدی والرشاد میں یہ حکایت نقل فرمائی اب سنئے کہ مجتہد بہادر اپنے ایك دستخطی مہری مصدقہ فتوی میں کہ فقیر کے پاس اصلی موجودہے کیاکچھ تسلیم فرماتے ہیں ان امام ہمام کی نسبت لکھاہے:تقی الدین سبکی کے اجتہادپرعلماء کااجماع ہے۔امام علامہ مجتہد ابن حجرمکی ان کی تعریف میں لکھتے ہیں:
الامام المجمع علی جلالتہ واجتہادہ ۔ وہ امام جن کی جلالت واجتہاد پراجماع ہے۔(ت)
یہاں سے صاف ثابت ہواکہ امام تقی الدین کامجتہدہونا ان تیرہ صدی کے مجتہد کومقبول ہے اور اسی فتوے میں ہے جب ایك امام صحیح الاجتہاد نے ایك کام توکیاضرور ہے کہ اس کااجتہاد اس کی طرف مؤدی ہواوراجتہاد بیشك حجت شرعیہ ہے۔اب کیاکلام رہاکہ اس قیام کے جواز پرحجت شرعیہ قائم اورسنئے اسی فتوی میں ہے جیسے ائمہ اربعہ کاقول ضلالت نہیں ہوسکتا ایسے ہی کسی مجتہد کامذہب بدعت
حوالہ / References
غایۃ الکلام بشیرالدین القنوجی
فتاوٰی حدیثیہ مطلب فیماجری من ابن تیمیہ الخ مطبع جمالیہ مصر ص۸۵
فتاوٰی حدیثیہ مطلب فیماجری من ابن تیمیہ الخ مطبع جمالیہ مصر ص۸۵
نہیں ٹھہرسکتا جوایساکہے وہ خبیث خودبدعتی احبارورہبان پرست ہے کہ مجتہدچاہے اگلاہو یاپچھلاوہ تومظہرحکم خداہے نہ مثبت۔اب تومانناپڑے گا کہ جوشخص قیام کوبدعت وضلالت کہے وہ خود خبیث بدعتی احبارورہبان پرست ہے۔اورسنئے تمام لطائف جوایسی جگہ اس خبط پرناز کرتاتھا کہ یہ قیام حادث ہے اورحدیث میں محدثات کی مذمت وارد۔مجتہد صاحب نے یہ دروازہ بھی بندکردیا کہ اسی فتوے میں ہے خدانے مجتہدوں کواس لئے بنایاہے کہ جوواقعہ تازہ پیداہو اس کاحکم بیان کریں تواس کا اماموں پرطعنہ بعینہ قرآن وحدیث پرطعن ہے اورایسی جگہ حدیث من احدث الخ پڑھنااول توجھوٹ دوسرے کتنابے محل الخ اس مقام کازیادہ احقاق وکمال اوردلائل مانعین کا ازہاق وابطال فقیرغفراﷲ تعالی لہ کے رسالہ الصارم الالھی علی عمائد المشرب الواھی پر محمول کہ ر دفتوائے مولوی نذیرحسین دہلوی میں زیر قصدتالیف ہے وہاں ان شاء اﷲ العزیز فیض الہی نئے طور سے بندہ اذل ارذل کے لئے کارفرمائے عنایت ہوگا جوکچھ لکھاجائے گا محض اقرار واعتراف عمائد فرقہ سے مثبت ہوگا واﷲ الموفق والمعین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(اﷲ تعالی ہی توفیق دینے والااورمدد کرنے والاہے۔بلندی وعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرنہ توگناہ سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
مقام دوم:اس مقام کی شرح وتفصیل مفضی نہایت اطناب وتطویل کہ اگراس کاایك حصہ بیان میں آئے تو کتاب مستقل ہوجائے معہذا ہمارے علمائے عرب وعجم بحمداﷲ اس سے فارغ ہوچکے کوئی دقیقہ احقاق حق وابطال کا اٹھانہ رکھاعلی الخصوص حضرت حامی سنن وماحی الفتن حجۃ اﷲ فی الارضین معجزۃ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت سیدی خدمت والدم روح اﷲ روحہ و نور ضریحہ نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں وہ تحقیقات بدیعہ وتدقیقات منیعہ ارشاد فرمائیں جن کے بعد ان شاء اﷲ تعالی حق کے لیے نہیں مگر غایت انجلاء بیان باطل کو نصیب نہیں مگر بے موت بے امان والحمد ﷲ رب العالمین لہذا فقیریہاں چنداجمالی نکتوں پربرسبیل اشارہ وایماء اکتفاکرتا ہے اگر اسی قدرچشم انصاف میں پسندآیا فبہا ورنہ ان شاء اﷲ تعالی فقیر تفصیل وتکمیل کے لئے حاضر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(اورنہیں ہے طاقت گناہ سے بچنے کی اورنہ ہی نیکی کرنے کی مگربلندی عظمت اور قدرت والے معبود کی توفیق سے۔ت)
نکتہ ۱ فــــــ:اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس چیزکی ممانعت شرع مطہرہ سے ثابت اور اس کی
ف:نکتہ۱:اصل اشیاء میں اباحت ہے۔
مقام دوم:اس مقام کی شرح وتفصیل مفضی نہایت اطناب وتطویل کہ اگراس کاایك حصہ بیان میں آئے تو کتاب مستقل ہوجائے معہذا ہمارے علمائے عرب وعجم بحمداﷲ اس سے فارغ ہوچکے کوئی دقیقہ احقاق حق وابطال کا اٹھانہ رکھاعلی الخصوص حضرت حامی سنن وماحی الفتن حجۃ اﷲ فی الارضین معجزۃ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت سیدی خدمت والدم روح اﷲ روحہ و نور ضریحہ نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں وہ تحقیقات بدیعہ وتدقیقات منیعہ ارشاد فرمائیں جن کے بعد ان شاء اﷲ تعالی حق کے لیے نہیں مگر غایت انجلاء بیان باطل کو نصیب نہیں مگر بے موت بے امان والحمد ﷲ رب العالمین لہذا فقیریہاں چنداجمالی نکتوں پربرسبیل اشارہ وایماء اکتفاکرتا ہے اگر اسی قدرچشم انصاف میں پسندآیا فبہا ورنہ ان شاء اﷲ تعالی فقیر تفصیل وتکمیل کے لئے حاضر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(اورنہیں ہے طاقت گناہ سے بچنے کی اورنہ ہی نیکی کرنے کی مگربلندی عظمت اور قدرت والے معبود کی توفیق سے۔ت)
نکتہ ۱ فــــــ:اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس چیزکی ممانعت شرع مطہرہ سے ثابت اور اس کی
ف:نکتہ۱:اصل اشیاء میں اباحت ہے۔
برائی پردلیل شرعی ناطق صرف وہی ممنوع ومذموم ہےباقی سب چیزیں جائزومباح رہیں گیخاص ان کاذکر جوازقرآن و حدیث میں منصوص ہویا ان کاکچھ ذکرنہ آیا ہوتو جو شخص جس فعل کوناجائزوحرام یامکروہ کہے اس پرواجب کہ اپنے دعوے پر دلیل قائم کرے اورجائزومباح کہنے والوں کوہرگزدلیل کی حاجت نہیں کہ ممانعت پرکوئی دلیل شرعی نہ ہونایہی جواز کی دلیل کافی ہے۔جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ ومستدرك حاکم میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفاعنہ۔ حلال وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حلال کیا اورحرام وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حرام فرمادیااور جس کاکچھ ذکرنہ فرمایا وہ اﷲ کی طرف سے معاف ہے یعنی اس کے فعل پر کچھ مواخذہ نہیں۔
مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
فیہ ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ۔ اس حدیث سے ثابت ہواکہ اصل سب چیزوں میں مباح ہوناہے۔
شیخ شرح میں فرماتے ہیں:
وایں دلیل ست برآنکہ اصل دراشیاء اباحت است۔ یہ دلیل ہے اس بات پرکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔(ت)
نصرکتاب الحجۃ میں امیرالمومنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال اﷲ عزوجل خلقکم وھو اعلم بضعفکم فبعث الیکم رسولا من انفسکم وانزل علیکم کتابا وحدلکم بیشك اﷲ عزوجل نے تمہیں پیداکیا اور وہ تمہاری ناتوانی جانتا تھا توتم میں تمہیں میں سے ایك رسول بھیجا اورتم پرایك کتاب اتاری اور اس
الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مما عفاعنہ۔ حلال وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حلال کیا اورحرام وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حرام فرمادیااور جس کاکچھ ذکرنہ فرمایا وہ اﷲ کی طرف سے معاف ہے یعنی اس کے فعل پر کچھ مواخذہ نہیں۔
مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
فیہ ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ۔ اس حدیث سے ثابت ہواکہ اصل سب چیزوں میں مباح ہوناہے۔
شیخ شرح میں فرماتے ہیں:
وایں دلیل ست برآنکہ اصل دراشیاء اباحت است۔ یہ دلیل ہے اس بات پرکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔(ت)
نصرکتاب الحجۃ میں امیرالمومنین عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال اﷲ عزوجل خلقکم وھو اعلم بضعفکم فبعث الیکم رسولا من انفسکم وانزل علیکم کتابا وحدلکم بیشك اﷲ عزوجل نے تمہیں پیداکیا اور وہ تمہاری ناتوانی جانتا تھا توتم میں تمہیں میں سے ایك رسول بھیجا اورتم پرایك کتاب اتاری اور اس
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۶،سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب اکل الجبن والسمن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۹،المستدرك للحاکم کتاب الاطعمہ دارالفکربیروت ۴/ ۱۱۵
مرقاۃ المفاتیح کتاب الاطعمہ تحت حدیث ۴۲۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۵۷
اشعۃ اللمعات کتاب الاطعمہ الفصل الثانی تحت حدیث ۴۲۲۸ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۰۶
مرقاۃ المفاتیح کتاب الاطعمہ تحت حدیث ۴۲۲۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۵۷
اشعۃ اللمعات کتاب الاطعمہ الفصل الثانی تحت حدیث ۴۲۲۸ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۰۶
فیہ حدودا امرکم ان لاتعتدوھا وفرض فرائض امرکم ان تتبعوھا وحرم حرمات نھاکم ان تنتھوھا وترك اشیاء لم یدعھا نسیئا فلاتکلفوھا و انما ترکھا رحمۃ لکم۔ میں تمہارے لئے کچھ حدیں باندھیں اورتمہیں حکم دیا کہ ان سے آگے نہ بڑھو اورکچھ فرض کئے اورتمہیں حکم کیاکہ ان کی پیروی کرواورکچھ چیزیں حرام فرمائیں اورتمہیں ان کی بے حرمتی سے منع فرمایا اورکچھ چیزیں اس نے چھوڑدیں کہ بھول کر نہ چھوڑیں ان میں تکلف نہ کرو اور اس نے تم پر رحمت ہی کے لئے انہیں چھوڑاہے۔
امام عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی فرماتے ہیں:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل۔ یہ کچھ احتیاط نہیں ہے کہ کسی چیزکوحرام یا مکروہ کہہ کرخدا پر افتراء کردوکہ حرمت وکراہت کے لئے دلیل درکارہے بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ اباحت مانی جائے کہ اصل وہی ہے۔
مولاناعلی قاری رسالہ اقتداء بالمخالف میں فرماتے ہیں:
من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ھوالصحۃ واما القول بالفساد اوالکراھۃ فیحتاج الی حجۃ من الکتاب والسنۃ اواجماع الامۃ۔ یقینی بات ہے کہ اصل ہرمسئلہ میں صحت ہے اورفساد یا کراہت ماننایہ محتاج اس کاہے کہ قرآن یاحدیث یااجماع امت سے اس پردلیل قائم کی جائے۔
اوراس کے لئے بہت آیات وحدیث سے یہ مطلب ثابت اوراکابر ائمہ سلف وخلف کے کلام میں اس کی تصریح موجود یہاں تك کہ میاں نذیرحسین دہلوی کے فتوائے مصدقہ مہری دستخطی میں ہے"اومدہوش بے عقل خدااوررسول کاجائزنہ کہنااور بات ہے اورناجائز کہنااوربات۔یہ بتاؤ کہ تم جوناجائز کہتے ہو خدااوررسول نے ناجائز کہاں کہاہے۔ "الخ اھ ملخصا۔
امام عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی فرماتے ہیں:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل۔ یہ کچھ احتیاط نہیں ہے کہ کسی چیزکوحرام یا مکروہ کہہ کرخدا پر افتراء کردوکہ حرمت وکراہت کے لئے دلیل درکارہے بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ اباحت مانی جائے کہ اصل وہی ہے۔
مولاناعلی قاری رسالہ اقتداء بالمخالف میں فرماتے ہیں:
من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ھوالصحۃ واما القول بالفساد اوالکراھۃ فیحتاج الی حجۃ من الکتاب والسنۃ اواجماع الامۃ۔ یقینی بات ہے کہ اصل ہرمسئلہ میں صحت ہے اورفساد یا کراہت ماننایہ محتاج اس کاہے کہ قرآن یاحدیث یااجماع امت سے اس پردلیل قائم کی جائے۔
اوراس کے لئے بہت آیات وحدیث سے یہ مطلب ثابت اوراکابر ائمہ سلف وخلف کے کلام میں اس کی تصریح موجود یہاں تك کہ میاں نذیرحسین دہلوی کے فتوائے مصدقہ مہری دستخطی میں ہے"اومدہوش بے عقل خدااوررسول کاجائزنہ کہنااور بات ہے اورناجائز کہنااوربات۔یہ بتاؤ کہ تم جوناجائز کہتے ہو خدااوررسول نے ناجائز کہاں کہاہے۔ "الخ اھ ملخصا۔
حوالہ / References
کتاب الحجۃ
ردالمحتار بحوالہ الصلح بین الاخوان کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۹۶
رسالہ الاقتداء بالمخالف
فتاوٰی نذیرحسین دہلوی
ردالمحتار بحوالہ الصلح بین الاخوان کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۹۶
رسالہ الاقتداء بالمخالف
فتاوٰی نذیرحسین دہلوی
پس مجلس میلادوقیام وغیرہا بہت امورمتنازع فیہا کے جوازپر ہمیں کوئی دلیل قائم کرنے کی حاجت نہیں شرع سے ممانعت نہ ثابت ہوناہی ہمارے لئے دلیل ہے توہم سے سندمانگنا سخت نادانی اوربحکم مجتہد بہادرعقل وہوش سے جدائی ہے ہاں تم جوناجائز وممنوع کہتے ہوتم ثبوت دوکہ خداورسول نے ان چیزوں کوکہاں ناجائزکہاہے اورثبوت نہ دوان شاء اﷲ تعالی ہرگزنہ دے سکو گے تواقرارکروکہ تم نے شرع مطہر پرافتراء کیا
"ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾ " بیشك جولوگ اﷲ تعالی پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلانہ ہوگا۔(ت)
سبحان اﷲ الٹا سندکامطالبہ ہم سے۔
نکتہ۲ فــــــ:عموم واطلاق سے استدلال زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے آج تك علماء میں شائع وذائع یعنی جب ایك بات کوشرع نے محمود فرمایا توجہاں اورجس وقت اور جس طرح وہ بات واقع ہوگی ہمیشہ محمودرہے گی تاوقتیکہ کسی صورت خاصہ کی ممانعت خاص شرع سے نہ آجائے مثلا مطلق ذکرالہی کی خوبی قرآن وحدیث سے ثابت توجب کبھی کہیں کسی طورپرخدا کی یاد کی جائے گی بہترہی ہوگی ہرہرخصوصیت کاثبوت شرع سے ضرورنہیں مگرپاخانہ میں بیٹھ کرزبان سے یادالہی کرناممنوع کہ اس خاص صورت کی برائی شرع سے ثابت غرض جس مطلق کی خوبی معلوم اس کی خاص خاص صورتوں کی جداجداخوبی ثابت کرنا ضرورنہیں کہ آخروہ صورتیں اسی مطلق کی توہیں جس کی بھلائی ثابت ہوچکی بلکہ کسی خصوصیت کی برائی ماننایہ محتاج دلیل ہے۔ مسلم الثبوت میں ہے:
شاع وذاع احتجاجھم سلفا وخلفا بالعمومات من غیر نکیر۔ متقدمین ومتاخرین کاعمومات سے استدلال کرنا بغیرکسی انکار کے معروف اوررائج ہے(ت)
اسی میں ہے:
العمل بالمطلق یقتضی الاطلاق۔ مطلق پرعمل کرنا اطلاق کاتقاضاکرتاہے(ت)
"ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾ " بیشك جولوگ اﷲ تعالی پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلانہ ہوگا۔(ت)
سبحان اﷲ الٹا سندکامطالبہ ہم سے۔
نکتہ۲ فــــــ:عموم واطلاق سے استدلال زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے آج تك علماء میں شائع وذائع یعنی جب ایك بات کوشرع نے محمود فرمایا توجہاں اورجس وقت اور جس طرح وہ بات واقع ہوگی ہمیشہ محمودرہے گی تاوقتیکہ کسی صورت خاصہ کی ممانعت خاص شرع سے نہ آجائے مثلا مطلق ذکرالہی کی خوبی قرآن وحدیث سے ثابت توجب کبھی کہیں کسی طورپرخدا کی یاد کی جائے گی بہترہی ہوگی ہرہرخصوصیت کاثبوت شرع سے ضرورنہیں مگرپاخانہ میں بیٹھ کرزبان سے یادالہی کرناممنوع کہ اس خاص صورت کی برائی شرع سے ثابت غرض جس مطلق کی خوبی معلوم اس کی خاص خاص صورتوں کی جداجداخوبی ثابت کرنا ضرورنہیں کہ آخروہ صورتیں اسی مطلق کی توہیں جس کی بھلائی ثابت ہوچکی بلکہ کسی خصوصیت کی برائی ماننایہ محتاج دلیل ہے۔ مسلم الثبوت میں ہے:
شاع وذاع احتجاجھم سلفا وخلفا بالعمومات من غیر نکیر۔ متقدمین ومتاخرین کاعمومات سے استدلال کرنا بغیرکسی انکار کے معروف اوررائج ہے(ت)
اسی میں ہے:
العمل بالمطلق یقتضی الاطلاق۔ مطلق پرعمل کرنا اطلاق کاتقاضاکرتاہے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
مسلم الثبوت الفصل الخامس مسئلۃ للعموم صیغ مطبع انصاری دہلی ص۷۳
مسلم الثبوت فصل المطلق مادل علی فرد منتشر مطبع انصاری دہلی ۱۱۹
ف:نکتہ۲:مطلق حکم اس کی تمام خصوصیتوں میں جاری رہتاہے۔
مسلم الثبوت الفصل الخامس مسئلۃ للعموم صیغ مطبع انصاری دہلی ص۷۳
مسلم الثبوت فصل المطلق مادل علی فرد منتشر مطبع انصاری دہلی ۱۱۹
ف:نکتہ۲:مطلق حکم اس کی تمام خصوصیتوں میں جاری رہتاہے۔
تحریرالاصول علامہ ابن الہمام اوراس کی شرح میں ہے:
العمل بہ ان یجری فی کل ماصدق علیہ المطلق۔ اس پرعمل کرنایہ ہے کہ وہ ہر اس چیزمیں جاری ہو جس پر مطلق صادق آتاہے(ت)
یہاں تك کہ خود فتوائے مصدقہ نذیریہ میں ہے:"جب عام ومطلق چھوڑا تویقینا اپنے عموم واطلاق پررہے گا عموم واطلاق سے استدلال برابرزمانہ صحابہ کرام سے آج تك بلانکیر رائج ہے۔" اب سنئے ذکرالہی کی خوبی شرع سے مطلقا ثابت
قال اﷲ تعالی "اذکروا اللہ ذکرا کثیرا ﴿۴۱﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:)خداکویادکرو بہت یاد کرنا۔
اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء فــــــ واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی یادمیں خداکی یادہے کہ ان کی یادہے تواسی لئے کہ وہ اﷲ کے نبی ہیں یہ اﷲ کے ولی ہیں معہذا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یادمجالس ومحافل میں یونہی ہوتی ہے کہ حضرت حق تبارك وتعالی نے انہیں یہ مراتب بخشے یہ کمال عطافرمائے اب چاہے اسے نعت سمجھ لویعنی ہمارے آقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایسے جنہیں حق سبحانہ وتعالی نے ایسے درجے دئیے اس وقت یہ کلام کریمہ "ورفع بعضہم درجت" (اور کوئی وہ ہے جس کو سب پردرجوں بلند کیا۔ت)کی قبیل سے ہوگا چاہے حمدسمجھ لویعنی ہمارامالك ایساہے جس نے اپنے محبوب کویہ رتبے بخشے اس وقت یہ کلام کریمہ " سبحن الذی اسری بعبدہ" (پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کوراتوں رات لے گیا۔ ت) و آیۃ کریمہ "ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی" (وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت کے ساتھ بھیجا۔ت) کے طورپر ہوجائے گا۔ حق سبحانہ وتعالی اپنے
العمل بہ ان یجری فی کل ماصدق علیہ المطلق۔ اس پرعمل کرنایہ ہے کہ وہ ہر اس چیزمیں جاری ہو جس پر مطلق صادق آتاہے(ت)
یہاں تك کہ خود فتوائے مصدقہ نذیریہ میں ہے:"جب عام ومطلق چھوڑا تویقینا اپنے عموم واطلاق پررہے گا عموم واطلاق سے استدلال برابرزمانہ صحابہ کرام سے آج تك بلانکیر رائج ہے۔" اب سنئے ذکرالہی کی خوبی شرع سے مطلقا ثابت
قال اﷲ تعالی "اذکروا اللہ ذکرا کثیرا ﴿۴۱﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:)خداکویادکرو بہت یاد کرنا۔
اورنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء فــــــ واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی یادمیں خداکی یادہے کہ ان کی یادہے تواسی لئے کہ وہ اﷲ کے نبی ہیں یہ اﷲ کے ولی ہیں معہذا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یادمجالس ومحافل میں یونہی ہوتی ہے کہ حضرت حق تبارك وتعالی نے انہیں یہ مراتب بخشے یہ کمال عطافرمائے اب چاہے اسے نعت سمجھ لویعنی ہمارے آقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایسے جنہیں حق سبحانہ وتعالی نے ایسے درجے دئیے اس وقت یہ کلام کریمہ "ورفع بعضہم درجت" (اور کوئی وہ ہے جس کو سب پردرجوں بلند کیا۔ت)کی قبیل سے ہوگا چاہے حمدسمجھ لویعنی ہمارامالك ایساہے جس نے اپنے محبوب کویہ رتبے بخشے اس وقت یہ کلام کریمہ " سبحن الذی اسری بعبدہ" (پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کوراتوں رات لے گیا۔ ت) و آیۃ کریمہ "ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی" (وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت کے ساتھ بھیجا۔ت) کے طورپر ہوجائے گا۔ حق سبحانہ وتعالی اپنے
حوالہ / References
فتاوٰی نذیرحسین دہلوی
القرآن الکریم ۳۳ /۴۱
القرآن الکریم ۲ /۲۵۳
القرآن الکریم ۱۷ /۱
القرآن الکریم ۹ /۳۳
ف:نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکربعینہٖ اﷲ تعالٰی کاذکرہے۔
القرآن الکریم ۳۳ /۴۱
القرآن الکریم ۲ /۲۵۳
القرآن الکریم ۱۷ /۱
القرآن الکریم ۹ /۳۳
ف:نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاذکربعینہٖ اﷲ تعالٰی کاذکرہے۔
نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے فرماتاہے: "و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾" (اوربلندکیا ہم نے تمہارے لئے تمہاراذکر۔)امام علامہ قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی شفاشریف میں اس آیۃ کریمہ کی تفسیر سیدی ابن عطاقدس سرہ العزیز سے یوں نقل فرماتے ہیں:
جعلتك ذکرامن ذکری فمن ذکرك ذکرنی۔ یعنی حق تعالی اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایك یادکیاتوجوتمہارا ذکر کرے اس نے میراذکرکیا۔
بالجملہ کوئی مسلمان اس میں شك نہیں کرسکتاکہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یادبعینہ خدا کی یادہے پس بحکم اطلاق جس جس طریقہ سے ان کی یاد کی جائے گی حسن ومحمود ہی رہے گی اورمجلس میلاد وصلوۃ بعداذان وغیرہما کسی خاص طریقے کے لئے ثبوت مطلق کے سوا کسی نئے ثبوت کی ہرگزحاجت نہ ہوگی ہاں جوکوئی ان طرق کوممنوع کہے وہ ان کی خاص ممانعت ثابت کرے اسی طرح نعمت الہی کے بیان واظہارکاہمیں مطلقا حکم دیاگیا
قال اﷲ تعالی "و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾
" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا:)اپنے رب کی نعمت خوب بیان کرو۔
اورولادت اقدس حضورصاحب لولاك صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم تمام نعمتوں کی اصل ہے تو اس کے خوب بیان واظہار کانص قطعی قرآن سے ہمیں حکم ہو اوربیان واظہارمجمع میں بخوبی ہوگا توضرورچاہئے کہ جس قدرہوسکے لوگ جمع کئے جائیں اورانہیں ذکرولادت باسعادت سنایاجائے اسی کانام مجلس میلادہے علی ہذالقیاس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمان کا ایمان ہے اور اس کی خوبی قرآن عظیم سے مطلقا ثابت قال اﷲ تعالی:
"انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " اے نبی! ہم نے تمہیں بھیجاگواہ اورخوشخبری دینے والا اورڈر سنانے والاتاکہ اے لوگو! تم خدااوررسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم کرو۔
جعلتك ذکرامن ذکری فمن ذکرك ذکرنی۔ یعنی حق تعالی اپنے حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایك یادکیاتوجوتمہارا ذکر کرے اس نے میراذکرکیا۔
بالجملہ کوئی مسلمان اس میں شك نہیں کرسکتاکہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یادبعینہ خدا کی یادہے پس بحکم اطلاق جس جس طریقہ سے ان کی یاد کی جائے گی حسن ومحمود ہی رہے گی اورمجلس میلاد وصلوۃ بعداذان وغیرہما کسی خاص طریقے کے لئے ثبوت مطلق کے سوا کسی نئے ثبوت کی ہرگزحاجت نہ ہوگی ہاں جوکوئی ان طرق کوممنوع کہے وہ ان کی خاص ممانعت ثابت کرے اسی طرح نعمت الہی کے بیان واظہارکاہمیں مطلقا حکم دیاگیا
قال اﷲ تعالی "و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾
" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا:)اپنے رب کی نعمت خوب بیان کرو۔
اورولادت اقدس حضورصاحب لولاك صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم تمام نعمتوں کی اصل ہے تو اس کے خوب بیان واظہار کانص قطعی قرآن سے ہمیں حکم ہو اوربیان واظہارمجمع میں بخوبی ہوگا توضرورچاہئے کہ جس قدرہوسکے لوگ جمع کئے جائیں اورانہیں ذکرولادت باسعادت سنایاجائے اسی کانام مجلس میلادہے علی ہذالقیاس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمان کا ایمان ہے اور اس کی خوبی قرآن عظیم سے مطلقا ثابت قال اﷲ تعالی:
"انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " اے نبی! ہم نے تمہیں بھیجاگواہ اورخوشخبری دینے والا اورڈر سنانے والاتاکہ اے لوگو! تم خدااوررسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم کرو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹۴ /۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الاول الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۱/ ۱۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
القرآن الکریم ۴۸ /۸و۹
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الاول الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۱/ ۱۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
القرآن الکریم ۴۸ /۸و۹
وقال تعالی" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾" قال "ومن یعظم حرمت اللہ فہو خیر لہ عند ربہ "۔ (اﷲتعالی نے فرمایا)جوخدا کے شعاروں کی تعظیم کرے تو وہ بیشك دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
(اﷲ تعالی نے فرمایا)جوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تویہ بہترہے اس کے لئے اس کے رب کے یہاں۔
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقے سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اورخاص خاص طریقوں کے لئے ثبوت جداگانہ درکارنہ ہوگا۔ہاں اگر کسی خاص طریقہ کی برائی بالتخصیص شرع سے ثابت ہوجائے گی تو وہ بیشك ممنوع ہوگا جیسے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوسجدہ کرنا یاجانوروں کوذبح کرتے وقت بجائے تکبیر حضورکانام لینا اسی لئے علامہ ابن حجرمکی جوہرمنظم میں فرماتے ہیں:
تعظیم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم ۔ یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جن میں اﷲ تعالی کے ساتھ الوہیت میں شریك کرنا نہ ہو ہرطرح امرمستحسن ہے ان کے نزدیك جن کی آنکھوں کو اﷲ نے نوربخشاہے۔
پس یہ قیام فــــــ۱ کہ وقت ذکرولادت شریفہ اہل اسلام محض بنظرتعظیم واکرام حضورسیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام بجا لاتے ہیں بیشك حسن ومحمود ٹھہرے گا تاوقتیکہ مانعین خاص اس صورت کی برائی کاقرآن وحدیث سے ثبوت نہ دیں وانی لھم ذلک(اوریہ ان کے لئے کہاں سے ہوگا۔ت)
تنبیہ:یہاں سے ثابت ہواکہ تابعین وتبع تابعین تودرکنار خودقرآن عظیم سے مجلس وقیام کی خوبی ثابت ہے۔الحمدﷲ رب العلمین۔
نکتہ ۳ فــــــ۲:ہم پوچھتے ہیں تمہارے نزدیك کسی فعل کے لئے رخصت یاممانعت ماننا اس پرموقوف
(اﷲ تعالی نے فرمایا)جوتعظیم کرے خدا کی حرمتوں کی تویہ بہترہے اس کے لئے اس کے رب کے یہاں۔
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقے سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اورخاص خاص طریقوں کے لئے ثبوت جداگانہ درکارنہ ہوگا۔ہاں اگر کسی خاص طریقہ کی برائی بالتخصیص شرع سے ثابت ہوجائے گی تو وہ بیشك ممنوع ہوگا جیسے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوسجدہ کرنا یاجانوروں کوذبح کرتے وقت بجائے تکبیر حضورکانام لینا اسی لئے علامہ ابن حجرمکی جوہرمنظم میں فرماتے ہیں:
تعظیم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم ۔ یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جن میں اﷲ تعالی کے ساتھ الوہیت میں شریك کرنا نہ ہو ہرطرح امرمستحسن ہے ان کے نزدیك جن کی آنکھوں کو اﷲ نے نوربخشاہے۔
پس یہ قیام فــــــ۱ کہ وقت ذکرولادت شریفہ اہل اسلام محض بنظرتعظیم واکرام حضورسیدالانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام بجا لاتے ہیں بیشك حسن ومحمود ٹھہرے گا تاوقتیکہ مانعین خاص اس صورت کی برائی کاقرآن وحدیث سے ثبوت نہ دیں وانی لھم ذلک(اوریہ ان کے لئے کہاں سے ہوگا۔ت)
تنبیہ:یہاں سے ثابت ہواکہ تابعین وتبع تابعین تودرکنار خودقرآن عظیم سے مجلس وقیام کی خوبی ثابت ہے۔الحمدﷲ رب العلمین۔
نکتہ ۳ فــــــ۲:ہم پوچھتے ہیں تمہارے نزدیك کسی فعل کے لئے رخصت یاممانعت ماننا اس پرموقوف
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۲۲ /۳۰
الجوہرالمنظم مقدمہ فی آداب السفر الفصل الاول المکتبۃ القادریۃ فی الجامعۃ النظامیہ لاہور ص۱۲
ف۱:نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کانفیس طریقہ۔
ف۲:نکتہ۳:منکروں کی عجیب ہٹ دھرمی۔
القرآن الکریم ۲۲ /۳۰
الجوہرالمنظم مقدمہ فی آداب السفر الفصل الاول المکتبۃ القادریۃ فی الجامعۃ النظامیہ لاہور ص۱۲
ف۱:نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم کانفیس طریقہ۔
ف۲:نکتہ۳:منکروں کی عجیب ہٹ دھرمی۔
کہ قرآن وحدیث میں اس کانام لے کر جائزکہایامنع کیا ہو یااس کی کچھ حاجت نہیں بلکہ کسی عام یامطلق مامور بہ یاعام یامطلق منہی عنہ کے تحت میں داخل ہوناکفایت کرتاہے برتقدیراول تم پرفرض ہواکہ بالخصوص مجلس وقیام مجلس کے نام کے ساتھ قرآن وحدیث سے حکم ممانعت دکھاؤبرتقدیر ثانی کیاوجہ کہ ہم سے خصوصیت کاثبوت مانگتے ہو اوربآنکہ یہ افعال اطلاقات ذکرو تحدیث وتعظیم وتوقیر کے تحت میں داخل ہیں جائزنہیں مانتے۔
نکتہ۴ فــــــ:حضرات مانعین کاتمام طائفہ اس مرض میں گرفتارکہ قرون وزمان کوحاکم شرعی بنایاہے جونئی بات کہ قرآن و حدیث میں بایں ہیئت کذائی کہیں اس کاذکرنہیں جب فلاں زمانے میں ہوتو کچھ بری نہیں اورفلاں زمانے میں ہوتو ضلالت و گمراہی حالانکہ شرعا وعقلا کسی طرح زمانہ کواحکام شرع یاکسی فعل کی تحسین وتقبیح پرقابونہیں نیك بات کسی وقت میں ہو نیك ہے اوربراکام کسی زمانے میں ہوبراہے آخربلوائے مصروواقعہ کربلا وحادثہ حرہ وبدعات خوارج وشناعات روافض و خباثات نواصب وخرافات معتزلہ وغیرہاامورشنیعہ زمانہ صحابہ وتابعین میں حادث ہوئے مگرمعاذاﷲ اس وجہ سے وہ نیك نہیں ٹھہرسکتے اوربنائے مدارس وتصنیف کتب وتدوین علوم ورد مبتدعین وتعلیم نحووصرف وطریق اذکار وصوراشغال اولیائے سلاسل قدست اسرارہم وغیرہا امورحسنہ ان کے بعد شائع ہوئے مگرعیاذا باﷲ اس وجہ سے بدعت نہیں قرارپاسکتے اس کامدار نفس فعل کے حسن وقبح پرہے جس کام کی خوبی صراحۃ یااشارۃ قرآن وحدیث سے ثابت وہ بیشك حسن ہوگاچاہے کہیں و اقع ہو اورجس کام کی برائی تصریحا یاتلویحا واردوہ بیشك قبیح ٹھہرے گا خواہ کسی وقت میں حادث ہو جمہورمحققین ائمہ وعلمانے اس قاعدے کی تصریح فرمائی اگرچہ منکرین براہ سینہ زوری نہ مانیں۔امام ولی الدین ابوذرعہ عراقی کاقول پہلے گزراکہ"کسی چیز کا نوپیداہوناموجب کراہت نہیں کہ بہتیری بدعتیں مستحب بلکہ واجب ہوتی ہیں جبکہ ان کے ساتھ کوئی مفسدہ شرعیہ نہ ہو "۔ اسی طرح امام علامہ مرشد ملت حکیم امت سیدنا ومولانا حجۃ الحق والاسلام محمدغزالی رضی اﷲ تعالی عنہ کاارشاد بھی اوپر مذکور کہ "صحابہ سے منقول نہ ہونا باعث ممانعت نہیں بری تو وہ بدعت ہے جوکسی سنت ماموربہاکارد کرے "اورکیمیائے سعادت میں ارشادفرماتے ہیں:
نکتہ۴ فــــــ:حضرات مانعین کاتمام طائفہ اس مرض میں گرفتارکہ قرون وزمان کوحاکم شرعی بنایاہے جونئی بات کہ قرآن و حدیث میں بایں ہیئت کذائی کہیں اس کاذکرنہیں جب فلاں زمانے میں ہوتو کچھ بری نہیں اورفلاں زمانے میں ہوتو ضلالت و گمراہی حالانکہ شرعا وعقلا کسی طرح زمانہ کواحکام شرع یاکسی فعل کی تحسین وتقبیح پرقابونہیں نیك بات کسی وقت میں ہو نیك ہے اوربراکام کسی زمانے میں ہوبراہے آخربلوائے مصروواقعہ کربلا وحادثہ حرہ وبدعات خوارج وشناعات روافض و خباثات نواصب وخرافات معتزلہ وغیرہاامورشنیعہ زمانہ صحابہ وتابعین میں حادث ہوئے مگرمعاذاﷲ اس وجہ سے وہ نیك نہیں ٹھہرسکتے اوربنائے مدارس وتصنیف کتب وتدوین علوم ورد مبتدعین وتعلیم نحووصرف وطریق اذکار وصوراشغال اولیائے سلاسل قدست اسرارہم وغیرہا امورحسنہ ان کے بعد شائع ہوئے مگرعیاذا باﷲ اس وجہ سے بدعت نہیں قرارپاسکتے اس کامدار نفس فعل کے حسن وقبح پرہے جس کام کی خوبی صراحۃ یااشارۃ قرآن وحدیث سے ثابت وہ بیشك حسن ہوگاچاہے کہیں و اقع ہو اورجس کام کی برائی تصریحا یاتلویحا واردوہ بیشك قبیح ٹھہرے گا خواہ کسی وقت میں حادث ہو جمہورمحققین ائمہ وعلمانے اس قاعدے کی تصریح فرمائی اگرچہ منکرین براہ سینہ زوری نہ مانیں۔امام ولی الدین ابوذرعہ عراقی کاقول پہلے گزراکہ"کسی چیز کا نوپیداہوناموجب کراہت نہیں کہ بہتیری بدعتیں مستحب بلکہ واجب ہوتی ہیں جبکہ ان کے ساتھ کوئی مفسدہ شرعیہ نہ ہو "۔ اسی طرح امام علامہ مرشد ملت حکیم امت سیدنا ومولانا حجۃ الحق والاسلام محمدغزالی رضی اﷲ تعالی عنہ کاارشاد بھی اوپر مذکور کہ "صحابہ سے منقول نہ ہونا باعث ممانعت نہیں بری تو وہ بدعت ہے جوکسی سنت ماموربہاکارد کرے "اورکیمیائے سعادت میں ارشادفرماتے ہیں:
حوالہ / References
اثبات القیام
احیاء العلوم کتاب السماع والوجد الباب الثانی المقام الثالث مطبع المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۳۰۵
ف:نکتہ۴:منکرین کی حماقت کہ انہوں نے زمانہ کو حکم بنایاہے۔
احیاء العلوم کتاب السماع والوجد الباب الثانی المقام الثالث مطبع المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۳۰۵
ف:نکتہ۴:منکرین کی حماقت کہ انہوں نے زمانہ کو حکم بنایاہے۔
ایں ہمہ گرچہ بدعت ست وازصحابہ وتابعین نقل نہ کردہ اند لیکن نہ ہرچہ بدعت بودنہ شاید کہ بسیاری بدعت نیکوباشد پس بدعت مذموم آں بود کہ برمخالفت سنت بود ۔ یہ سب اموراگرچہ نوپیدہیں اورصحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالی عنہم سے منقول نہیں ہیں مگرایسابھی نہیں ہرنئی بات نا جائزہوکیونکہ بہت ساری نئی باتیں اچھی ہیں چنانچہ مذموم بدعت وہ ہوگی جوسنت رسول کے مخالف ہو۔(ت)
امام بیہقی وغیرہ علماء حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
المحدثات من الامور ضربان احدھما احدث مما یخالف کتابا اوسنۃ اواثرا اواجماعا فھذہ البدعۃ ضالۃ والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فیہ لواحد من ھذہ وھی غیر مذمومۃ۔ نوپیداباتیں دوقسم کی ہیں ایك وہ ہیں کہ قرآن یااحادیث یا آثار اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ توبدعت وگمراہی ہے دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اوراس میں ان چیزوں کاخلاف نہ ہو تووہ بری نہیں۔
امام علامہ ابن حجرعسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
والبدعۃ ان کانت مماتندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی مستقبحۃ الافھی من قسم المباح۔ بدعت اگرکسی ایسی چیزکے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی بات ہے اوراگرکسی ایسی چیزکے نیچے داخل ہو جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تووہ بری ہے اور جو دونوں میں سے کسی کے نیچے داخل نہ ہو تووہ قسم مباح سے ہے۔
اسی طرح صدہااکابرنے تصریح فرمائی۔اب مجلس وقیام وغیرہما امورمتنازع فیہا کی نسبت تمہارایہ کہناکہ زمانہ صحابہ وتابعین میں نہ تھے لہذاممنوع ہیں محض باطل ہوگیا ہاں اس وقت ممنوع ہوسکتے ہیں جب تم کافی ثبوت دوکہ خاص ان افعال میں شرعا کوئی برائی ہے ورنہ اگر
امام بیہقی وغیرہ علماء حضرت امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
المحدثات من الامور ضربان احدھما احدث مما یخالف کتابا اوسنۃ اواثرا اواجماعا فھذہ البدعۃ ضالۃ والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فیہ لواحد من ھذہ وھی غیر مذمومۃ۔ نوپیداباتیں دوقسم کی ہیں ایك وہ ہیں کہ قرآن یااحادیث یا آثار اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ توبدعت وگمراہی ہے دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اوراس میں ان چیزوں کاخلاف نہ ہو تووہ بری نہیں۔
امام علامہ ابن حجرعسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
والبدعۃ ان کانت مماتندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی مستقبحۃ الافھی من قسم المباح۔ بدعت اگرکسی ایسی چیزکے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی بات ہے اوراگرکسی ایسی چیزکے نیچے داخل ہو جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تووہ بری ہے اور جو دونوں میں سے کسی کے نیچے داخل نہ ہو تووہ قسم مباح سے ہے۔
اسی طرح صدہااکابرنے تصریح فرمائی۔اب مجلس وقیام وغیرہما امورمتنازع فیہا کی نسبت تمہارایہ کہناکہ زمانہ صحابہ وتابعین میں نہ تھے لہذاممنوع ہیں محض باطل ہوگیا ہاں اس وقت ممنوع ہوسکتے ہیں جب تم کافی ثبوت دوکہ خاص ان افعال میں شرعا کوئی برائی ہے ورنہ اگر
حوالہ / References
کیمیائے سعادت رکن دوم اصل ہشتم باب دوم انتشارات گنجینہ ایران ص۸۹۔۳۸۸
القول المفید للشوکانی باب ابطال التقلید ۱/ ۷۸
فتح الباری کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان مصطفی البابی مصر ۵/ ۵۷۔۱۵۶
القول المفید للشوکانی باب ابطال التقلید ۱/ ۷۸
فتح الباری کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان مصطفی البابی مصر ۵/ ۵۷۔۱۵۶
کسی مستحسن کے نیچے داخل ہیں تو محمود اوربالفرض کسی کے نیچے داخل نہ ہوئے تومباح ہوکرمحمودٹھہریں گے کہ جو مباح بہ نیت نیك کیاجائے شرعا محمودہوتاہے کما فی البحرالرائق وغیرہ(جیساکہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے۔ت)کیوں کیسے کھلے طورپر ثابت ہواکہ ان افعال کی سند زمانہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے مانگنا کس قدرنادانی وجہالت تھا والحمدﷲ(اورسب تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں۔ت)
نکتہ ۵ فــــــ:بڑی مستند ان حضرات کی حدیث:
خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ۔ سب سے بہترمیرازمانہ ہے پھراس کے بعد والوں کاپھران کے بعد والوں کا۔(ت)ہے۔
اس میں بحمداﷲ ان کے مطلب کی بوبھی نہیں حدیث میں توصرف اس قدرارشادہواکہ میرازمانہ سب سے بہتر ہے پھر دوسرا پھرتیسرا اس کے بعدجھوٹ اورخیانت اورتن پروری اور خواہی نخواہی گواہی دینے کاشوق لوگوں میں شائع ہوجائے گا اس سے یہ کب ثابت ہواکہ ان زمانوں کے بعد جوکچھ حادث ہوگا اگرچہ کسی اصل شرعی یاعام مطلق ماموربہ کے تحت میں داخل ہو شنیع ومذموم ٹھہرے گا جو اس کے ثبوت کادعوی رکھتاہو بیان کرے کہ حدیث کے کون سے لفظ کایہ مطلب ہے۔اے عزیز! یہ توبالبداہۃ باطل کہ زمانہ صحابہ وتابعین میں شرمطلقا نہ تھانہ ان کے بعد خیرمطلقا رہی ہاں اس قدرمیں شك نہیں کہ سلف میں اکثرلوگ خداترس متقی پرہیزگار تھے بعد کو فتنے فسادپھیلتے گئے پھریہ کن میں یہ انہیں لوگوں میں جو علم و محبت اکابرسے بہرہ نہیں رکھتے ورنہ علمائے دین ہرطبقہ اورہرزمانہ میں منبع ومجمع خیررہے ہیں مگر ہوایہ کہ ان زمانوں میں علم بکثرت تھاکم لوگ جاہل رہتے تھے اورجوجاہل تھے وہ علماء کے فرمانبردار اس لئے شروفساد کوکم دخل ملتاکہ دین متین دامن علم سے وابستہ ہے اس کے بعد علم کم ہوتاگیا جہل نے فروغ پایا جاہلوں نے سرکشی وخودسری اختیارکی لاجرم فتنوں نے سراٹھایا اب یہ یہیں نہ دیکھ لیجئے کہ صدہاسال سے علمائے دین مجلس وقیام کو مستحب ومستحسن کہتے چلے آتے ہیں تم لوگ ان کاحکم نہیں مانتے انہیں سرتابیوں نے اس زمانے کوزمانہ شربنادیا۔تویہ جس قدر مذمتیں ہیں اس زمانہ مابعدکے جہال کی طرف راجع
نکتہ ۵ فــــــ:بڑی مستند ان حضرات کی حدیث:
خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ۔ سب سے بہترمیرازمانہ ہے پھراس کے بعد والوں کاپھران کے بعد والوں کا۔(ت)ہے۔
اس میں بحمداﷲ ان کے مطلب کی بوبھی نہیں حدیث میں توصرف اس قدرارشادہواکہ میرازمانہ سب سے بہتر ہے پھر دوسرا پھرتیسرا اس کے بعدجھوٹ اورخیانت اورتن پروری اور خواہی نخواہی گواہی دینے کاشوق لوگوں میں شائع ہوجائے گا اس سے یہ کب ثابت ہواکہ ان زمانوں کے بعد جوکچھ حادث ہوگا اگرچہ کسی اصل شرعی یاعام مطلق ماموربہ کے تحت میں داخل ہو شنیع ومذموم ٹھہرے گا جو اس کے ثبوت کادعوی رکھتاہو بیان کرے کہ حدیث کے کون سے لفظ کایہ مطلب ہے۔اے عزیز! یہ توبالبداہۃ باطل کہ زمانہ صحابہ وتابعین میں شرمطلقا نہ تھانہ ان کے بعد خیرمطلقا رہی ہاں اس قدرمیں شك نہیں کہ سلف میں اکثرلوگ خداترس متقی پرہیزگار تھے بعد کو فتنے فسادپھیلتے گئے پھریہ کن میں یہ انہیں لوگوں میں جو علم و محبت اکابرسے بہرہ نہیں رکھتے ورنہ علمائے دین ہرطبقہ اورہرزمانہ میں منبع ومجمع خیررہے ہیں مگر ہوایہ کہ ان زمانوں میں علم بکثرت تھاکم لوگ جاہل رہتے تھے اورجوجاہل تھے وہ علماء کے فرمانبردار اس لئے شروفساد کوکم دخل ملتاکہ دین متین دامن علم سے وابستہ ہے اس کے بعد علم کم ہوتاگیا جہل نے فروغ پایا جاہلوں نے سرکشی وخودسری اختیارکی لاجرم فتنوں نے سراٹھایا اب یہ یہیں نہ دیکھ لیجئے کہ صدہاسال سے علمائے دین مجلس وقیام کو مستحب ومستحسن کہتے چلے آتے ہیں تم لوگ ان کاحکم نہیں مانتے انہیں سرتابیوں نے اس زمانے کوزمانہ شربنادیا۔تویہ جس قدر مذمتیں ہیں اس زمانہ مابعدکے جہال کی طرف راجع
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الشہادات امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۴
ف:نکتہ۵:حدیث خیرالقرون قرنی کامطلب
ف:نکتہ۵:حدیث خیرالقرون قرنی کامطلب
ہیں ان سے کون استدلال کرتاہے نہ ہماراعقیدہ کہ جس زمانہ کے جاہل جوبات چاہیں اپنی طرف سے نکال لیں وہ مطلقا محمودہوجائے گی۔کلام علماء میں ہے کہ جس امرکویہ اکابرامت مستحب ومستحسن جانیں وہ بے شك مستحب ومستحسن ہے چاہے کبھی واقع ہوکہ علمائے دین کسی وقت میں مصدر ومظہرشرنہیں ہوتے والحمدﷲ رب العلمین(اورسب تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)
نکتہ ۶ فــــــ:اگرکسی زمانے کی تعریف اوراس کے مابعد کانقصان احادیث میں مذکورہونا اسی کومستلزم ہوکہ اس زمانہ کے محدثات خیرٹھہریں اورمابعد کے شرتو اکثرصحابہ وتابعین سے بھی ہاتھ اٹھارکھئے۔
اخرج الحاکم وصححہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال بعثنی بنو المصطلق الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقالوا سل لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی من ندفع صدقاتنا بعدک فقال الی ابی بکرقال فان حدث بابی بکر حدث فالی من فقال الی عمر قالوا فان حدث بعمر حدث فقال الی عثمان قالوا فان حدث بعثمن حدث فقال ان حدث بعثمان حدث فتبالکم الدھر تبا اھ ملخصا۔
و اخرج ابونعیم فی الحلیۃ والطبرانی عن سھل بن ابی حثمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث طویل قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا اتی علی ابی بکر اجلہ وعمر اجلہ وعثمن اجلہ فان امام حاکم نے تخریج وتصحیح فرمائی کہ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی مصطلق نے حضورسرور دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا کہ حضورسے پوچھوں حضورکے بعد ہم اپنے اموال کی زکوۃ کسے دیں فرمایا ابوبکرکو عرض کی اگرابوبکر کوکوئی حادثہ پیش آئےفرمایا عمر کو۔عرض کی اگرعمر کوکوئی حادثہ پیش آئے فرمایا عثمان کو۔عرض کی اگرعثمان کوکوئی حادثہ منہ دکھائے فرمایااگر عثمان کابھی واقعہ ہوتو فرمایاخرابی ہوتمہارے لئے ہمیشہ پھر خرابی ہے اھ ملخصا۔
(ابونعیم نے حلیہ میں اورطبرانی نے سہل بن ابی حثمہ رضی اﷲتعالی عنہ سے ایك طویل حدیث میں تخریج فرمائی۔ت) حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب انتقال کریں ابوبکروعمروعثمان تواگرتجھ سے ہوسکے کہ مرجائے
نکتہ ۶ فــــــ:اگرکسی زمانے کی تعریف اوراس کے مابعد کانقصان احادیث میں مذکورہونا اسی کومستلزم ہوکہ اس زمانہ کے محدثات خیرٹھہریں اورمابعد کے شرتو اکثرصحابہ وتابعین سے بھی ہاتھ اٹھارکھئے۔
اخرج الحاکم وصححہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال بعثنی بنو المصطلق الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقالوا سل لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی من ندفع صدقاتنا بعدک فقال الی ابی بکرقال فان حدث بابی بکر حدث فالی من فقال الی عمر قالوا فان حدث بعمر حدث فقال الی عثمان قالوا فان حدث بعثمن حدث فقال ان حدث بعثمان حدث فتبالکم الدھر تبا اھ ملخصا۔
و اخرج ابونعیم فی الحلیۃ والطبرانی عن سھل بن ابی حثمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فی حدیث طویل قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا اتی علی ابی بکر اجلہ وعمر اجلہ وعثمن اجلہ فان امام حاکم نے تخریج وتصحیح فرمائی کہ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی مصطلق نے حضورسرور دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجا کہ حضورسے پوچھوں حضورکے بعد ہم اپنے اموال کی زکوۃ کسے دیں فرمایا ابوبکرکو عرض کی اگرابوبکر کوکوئی حادثہ پیش آئےفرمایا عمر کو۔عرض کی اگرعمر کوکوئی حادثہ پیش آئے فرمایا عثمان کو۔عرض کی اگرعثمان کوکوئی حادثہ منہ دکھائے فرمایااگر عثمان کابھی واقعہ ہوتو فرمایاخرابی ہوتمہارے لئے ہمیشہ پھر خرابی ہے اھ ملخصا۔
(ابونعیم نے حلیہ میں اورطبرانی نے سہل بن ابی حثمہ رضی اﷲتعالی عنہ سے ایك طویل حدیث میں تخریج فرمائی۔ت) حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب انتقال کریں ابوبکروعمروعثمان تواگرتجھ سے ہوسکے کہ مرجائے
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ امرالنبی صلی اﷲ علیہ وسلم لابی بکربامامۃ الناس فی الصلوٰۃ دارالفکربیروت ۳/ ۷۷
ف:نکتہ ۶:حدیث خیرالقرون کی دوسری طرح سے بحث۔
ف:نکتہ ۶:حدیث خیرالقرون کی دوسری طرح سے بحث۔
استطعت ان تموت فمت ۔
اخرج الطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویحك اذامات عمر فان استطعت ان تموت فمت ۔ حسنہ الامام جلال الدین وفی الحدیث قصۃ۔ تومرجانا۔
(طبرانی نے کبیرمیں عصمہ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج فرمائیفرمایا:)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پرافسوس جب عمرمرجائیں تواگرمرسکے تو مرجانا۔(امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے اس کو حسن قراردیااوراس حدیث میں ایك قصہ ہے۔ت)
اب تمہارے طورپرچاہئے کہ زمانہ پاك حضرات خلفائے ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم بلکہ صرف زمانہ شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما تك خیررہےپھر جوکچھ حادث ہو اگرچہ عین خلافت حقہ راشدہ سیدنا ومولینا امیرالمومنین علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ میں وہ معاذاﷲ سب شروقبیح ومذموم وبدعت ضلالت قرارپائےخداایسی بری سمجھ سے اپنی پناہ میں رکھےاورمزہ یہ ہے کہ ان احادیث کے مقابل حدیث خیرالقرون بھی نہیں لاسکتے کہ تمہارے امام اکبر مولوی اسمعیل دہلوی صاحب کے دادا اور دادا استاد اورپردادا پیرشاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی انہیں احادیث اوران کے امثال پرنظر کرکے حدیث خیرالقرون کے معنی ہی کچھ اوربتاگئے ہیںدیکھئے ازالۃ الخفامیں کیاکچھ فرمایاہےحدیث خیرالقرون ذکرکرکے لکھتے ہیں:
بنائے ایں استدلال برتوجیہ صحیحی ست کہ اکثراحادیث شاہدآنست کہ قرن اول اززمانہ ہجرت آنحضرت ست صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تازمانہ وفات وی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقرن ثانی از ابتدائے خلافت حضرت صدیق تاوفات حضرت فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما وقرن ثالث قرن حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی اس استدلال کی بنیاد ایك صحیح توجیہ پرہے جس پراکثراحادیث شاہدہیں وہ یہ ہے کہ قرن اول حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہجرت کے زمانے سے آپ کی وفات کے زمانے تك ہےاورقرن ثانی حضرت صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ کی ابتدائے خلافت سے وفات فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ تك ہےاورقرن ثالث سیدنا
اخرج الطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویحك اذامات عمر فان استطعت ان تموت فمت ۔ حسنہ الامام جلال الدین وفی الحدیث قصۃ۔ تومرجانا۔
(طبرانی نے کبیرمیں عصمہ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج فرمائیفرمایا:)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پرافسوس جب عمرمرجائیں تواگرمرسکے تو مرجانا۔(امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے اس کو حسن قراردیااوراس حدیث میں ایك قصہ ہے۔ت)
اب تمہارے طورپرچاہئے کہ زمانہ پاك حضرات خلفائے ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم بلکہ صرف زمانہ شیخین رضی اﷲ تعالی عنہما تك خیررہےپھر جوکچھ حادث ہو اگرچہ عین خلافت حقہ راشدہ سیدنا ومولینا امیرالمومنین علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ میں وہ معاذاﷲ سب شروقبیح ومذموم وبدعت ضلالت قرارپائےخداایسی بری سمجھ سے اپنی پناہ میں رکھےاورمزہ یہ ہے کہ ان احادیث کے مقابل حدیث خیرالقرون بھی نہیں لاسکتے کہ تمہارے امام اکبر مولوی اسمعیل دہلوی صاحب کے دادا اور دادا استاد اورپردادا پیرشاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی انہیں احادیث اوران کے امثال پرنظر کرکے حدیث خیرالقرون کے معنی ہی کچھ اوربتاگئے ہیںدیکھئے ازالۃ الخفامیں کیاکچھ فرمایاہےحدیث خیرالقرون ذکرکرکے لکھتے ہیں:
بنائے ایں استدلال برتوجیہ صحیحی ست کہ اکثراحادیث شاہدآنست کہ قرن اول اززمانہ ہجرت آنحضرت ست صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تازمانہ وفات وی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقرن ثانی از ابتدائے خلافت حضرت صدیق تاوفات حضرت فاروق رضی اﷲ تعالی عنہما وقرن ثالث قرن حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی اس استدلال کی بنیاد ایك صحیح توجیہ پرہے جس پراکثراحادیث شاہدہیں وہ یہ ہے کہ قرن اول حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہجرت کے زمانے سے آپ کی وفات کے زمانے تك ہےاورقرن ثانی حضرت صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ کی ابتدائے خلافت سے وفات فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ تك ہےاورقرن ثالث سیدنا
حوالہ / References
ازالۃ الخفا بحوالہ سہل بن ابی حثمہ فصل پنجم مقصداول سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۲۴
المعجم الکبیر حدیث ۴۷۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۷/ ۱۸۱
المعجم الکبیر حدیث ۴۷۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۷/ ۱۸۱
عنہ و ہرقرنے قریب بہ دوازدہ سال بودہ است قرن درلغت قوم متقارنین فی السن بعد ازاں قومے راکہ درریاست وخلافت مقترن باشد قرن گفتہ شد چوں خلیفہ دیگر باشند ووزرائے حضوردیگر وامرائے امصار دیگر ورؤسائے جیوش دیگر وسپاہان دیگر وحربیان دیگروذمیان دیگرتفاوت قرون بہم می رسد ۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کازمانہ خلافت ہے اورہر قرن تقریبا بارہ سال کاہے۔قرن لغت میں اس قوم کوکہتے ہیں جوعمر میں قریب قریب ہوںپھر اس کااطلاق اس قوم پر ہونے لگاجو ریاست وخلافت میں مقترن ہو۔جب خلیفہ دوسرا ہواس کے وزراء وامراءسپہ سالارفوجحربی اورذمی دوسرے ہوں توقرن بدل جاتاہے۔(ت)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
قرن اول زمان آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بوداز ہجرت تاوفات وقرن ثانی زمان شیخین وقرن ثالث زمان ذی النورین بعدازاں اختلافہا پدیدآمد وفتنہا ظاہر گردیدند ۔ قرن اول سرکاردوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہجرت سے وصال تك کا زمانہ ہے اور قرن ثانی شیخین یعنی صدیق وعمر رضی اﷲ تعالی عنہما کازمانہ ہے اورقرن ثالث سیدنا عثمان ذو النورین رضی اﷲ تعالی عنہ کازمانہ ہے اس کے بعد اختلافات نمودارہوئے اورفتنے ظاہرہوئے۔(ت)
بالجملہ اس قدرمیں توشك نہیں کہ یہ معنی بھی حدیث میں صاف محتمل اوربعداحتمال کے تمہارا استدلال یقینا ساقط۔والحمد ﷲ رب العالمین۔
نکتہ ۷فــــــ:اگرکسی زمانہ کی تعریف حدیث میں آنااسی کاموجب ہوکہ اس کے محدثات خیرقرار پائیں توبسم اﷲ وہ حدیث ملاحظہ ہوکہ امام ترمذی نے بسندحسن حضرت انس اور امام احمدنے حضرت عماربن یاسراورابن حبان نے اپنی صحیح میں عماربن یاسر وسلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی اورمحقق دہلوی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں بنظرکثرت طرق اس کی صحت پرحکم دیاکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل امتی مثل المطرلایدری میری امت کی کہاوت ایسی ہے جیسے مینہ کہ
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
قرن اول زمان آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بوداز ہجرت تاوفات وقرن ثانی زمان شیخین وقرن ثالث زمان ذی النورین بعدازاں اختلافہا پدیدآمد وفتنہا ظاہر گردیدند ۔ قرن اول سرکاردوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہجرت سے وصال تك کا زمانہ ہے اور قرن ثانی شیخین یعنی صدیق وعمر رضی اﷲ تعالی عنہما کازمانہ ہے اورقرن ثالث سیدنا عثمان ذو النورین رضی اﷲ تعالی عنہ کازمانہ ہے اس کے بعد اختلافات نمودارہوئے اورفتنے ظاہرہوئے۔(ت)
بالجملہ اس قدرمیں توشك نہیں کہ یہ معنی بھی حدیث میں صاف محتمل اوربعداحتمال کے تمہارا استدلال یقینا ساقط۔والحمد ﷲ رب العالمین۔
نکتہ ۷فــــــ:اگرکسی زمانہ کی تعریف حدیث میں آنااسی کاموجب ہوکہ اس کے محدثات خیرقرار پائیں توبسم اﷲ وہ حدیث ملاحظہ ہوکہ امام ترمذی نے بسندحسن حضرت انس اور امام احمدنے حضرت عماربن یاسراورابن حبان نے اپنی صحیح میں عماربن یاسر وسلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کی اورمحقق دہلوی نے اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں بنظرکثرت طرق اس کی صحت پرحکم دیاکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل امتی مثل المطرلایدری میری امت کی کہاوت ایسی ہے جیسے مینہ کہ
حوالہ / References
ازالۃ الخفاء فصل چہارم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۷۵
ازالۃ الخفاء فصل چہارم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۲۱
ف:نکتہ۷:حدیث قرن کاتیسراجواب۔
ازالۃ الخفاء فصل چہارم سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۲۱
ف:نکتہ۷:حدیث قرن کاتیسراجواب۔
اولہ خیر ام اخرہ۔ نہیں کہہ سکتے کہ اس کااگلا بہترہے یاپچھلا۔
شیخ محقق شرح میں لکھتے ہیں:
کنایہ است ازبودن ہمہ امت خیرچنانکہ مطرہمہ خیرونافع ست۔ یہ تمام امت کے خیرہونے کی طرف اشارہ جیساکہ بارش تمام کی تمام خیراورفائدہ مند ہوتی ہے۔(ت)
امام مسلم اپنی صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راوی:
لاتزال طائفۃ من امتی قائمۃ بامراﷲ لایضرھم من خذلھم اوخالفھم حتی یاتی امراﷲ وھم ظاھرون علی الناس۔ میری امت کاایك گروہ ہمیشہ خداکے حکم پر قائم رہے گا انہیں نقصان نہ پہنچائے گا جو انہیں چھوڑے گا یاان کاخلاف کرے گا یہاں تك کہ خداکاوعدہ آئے گا اس حال میں کہ وہ لوگوں پر غالب ہوں گے۔
شاہ ولی اﷲ ازالۃ الخفاء میں لکھتے ہیں:
گماں مبرکہ درزمان شرورہمہ کس شریربوندہ اند وعنایت ہائے الہی درتہذیب نفوس بیکارافتاد بلکہ اینجا اسرار عجیب ست ع
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیزبگو
نفی حکمت مکن ازبہردل عامی چند
درہرزمانہ طائفہ رامہبط انواروبرکات ساختہ اند۔ یہ گمان مت کرکہ برے زمانے کے سب لوگ برے ہوتے ہیں اورعنایات الہی ان کی تہذیب نفوس میں بیکار ثابت ہوتی ہے بلکہ اس جگہ عجیب رازہیں۔
شراب کے تمام عیوب توتم نے بیان کردئیے کچھ اس کی خوبی بھی بیان کرو۔
عامی کادل رکھنے کے لئے حکمت کابالکل انکارنہ کرو۔
قدرت ہرزمانے میں بندگان خداکے ایك گروہ کو انوارو برکات کامرکز بناتی ہے۔(ت)
شیخ محقق شرح میں لکھتے ہیں:
کنایہ است ازبودن ہمہ امت خیرچنانکہ مطرہمہ خیرونافع ست۔ یہ تمام امت کے خیرہونے کی طرف اشارہ جیساکہ بارش تمام کی تمام خیراورفائدہ مند ہوتی ہے۔(ت)
امام مسلم اپنی صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راوی:
لاتزال طائفۃ من امتی قائمۃ بامراﷲ لایضرھم من خذلھم اوخالفھم حتی یاتی امراﷲ وھم ظاھرون علی الناس۔ میری امت کاایك گروہ ہمیشہ خداکے حکم پر قائم رہے گا انہیں نقصان نہ پہنچائے گا جو انہیں چھوڑے گا یاان کاخلاف کرے گا یہاں تك کہ خداکاوعدہ آئے گا اس حال میں کہ وہ لوگوں پر غالب ہوں گے۔
شاہ ولی اﷲ ازالۃ الخفاء میں لکھتے ہیں:
گماں مبرکہ درزمان شرورہمہ کس شریربوندہ اند وعنایت ہائے الہی درتہذیب نفوس بیکارافتاد بلکہ اینجا اسرار عجیب ست ع
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیزبگو
نفی حکمت مکن ازبہردل عامی چند
درہرزمانہ طائفہ رامہبط انواروبرکات ساختہ اند۔ یہ گمان مت کرکہ برے زمانے کے سب لوگ برے ہوتے ہیں اورعنایات الہی ان کی تہذیب نفوس میں بیکار ثابت ہوتی ہے بلکہ اس جگہ عجیب رازہیں۔
شراب کے تمام عیوب توتم نے بیان کردئیے کچھ اس کی خوبی بھی بیان کرو۔
عامی کادل رکھنے کے لئے حکمت کابالکل انکارنہ کرو۔
قدرت ہرزمانے میں بندگان خداکے ایك گروہ کو انوارو برکات کامرکز بناتی ہے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الامثال ۲/ ۱۱۰ ومسنداحمدبن حنبل عن انس بیروت ۳/ ۱۴۳
اشعۃ اللمعات کتاب المناقب والفضائل باب ثواب ھذہ الامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۷۵۳
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۴۳
ازالۃ الخفاء فصل پنجم تنبیہات تتمہ مقصد بالا سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۴۵
اشعۃ اللمعات کتاب المناقب والفضائل باب ثواب ھذہ الامۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۷۵۳
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۴۳
ازالۃ الخفاء فصل پنجم تنبیہات تتمہ مقصد بالا سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۱۴۵
کہئے اب کدھر گئی ان قرون کی تخصیصاورکیوں نہ خیرٹھہریں گے وہ امورجوعلماء وعرفائے مابعد میں بلحاظ اصول عموم واطلاق شائع ہوئےوالحمدﷲ۔
نکتہ ۸ فــــــ:صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کے محاورات ومکالمات دیکھئے تو وہ خود صاف صاف ارشادفرمارہے ہیں کہ کچھ ہمارے زمانے میں ہونے پرمدارخیریت نہیںدیکھئے بہت نئی باتیں کہ زمانہ پاك حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں نہ تھیں ان کے زمانہ میں پیداہوئیں اور وہ انہیں براکہتے اورنہایت تشددوانکارفرماتے اوربہت تازہ باتیں حادث ہوئیں کہ ان کو بدعت ومحدثات مان کرخود کرتے اورلوگوں کواجازت دیتے اورخیروحسن بتاتے۔
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ تراویح کی نسبت ارشادفرماتے ہیں:
نعمت البدعۃ ھذہ۔ کیااچھی بدعت ہے یہ۔
سیدنا عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نمازچاشت کی نسبت فرماتے ہیں:
انھما بدعۃ ونعمت البدعۃ وانھا لمن احسن ما احدث الناس ۔ بے شك وہ بدعت ہے اورکیاہی عمدہ بدعت ہے اوربیشك وہ ان بہترچیزوں میں سے ہے جولوگوں نے نئی نکالیں۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
احدثتم قیام رمضان فدومواعلیہ ولاتترکوہ۔ تم لوگوں نے قیام رمضان نیانکالاتواب جونکالاہے توہمیشہ کئے جاؤ اوراسے کبھی نہ چھوڑنا۔
دیکھو یہاں توصحابہ نے ان افعال کوبدعت کہہ کر حسن کہااورانہیں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نے مسجدمیں ایك شخص کو تثویب کہتے سن کر اپنے غلام سے فرمایا:
اخرج بنا من عند ھذاالمبتدع۔ نکل چل ہمارے ساتھ اس بدعتی کے پاس سے۔
نکتہ ۸ فــــــ:صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کے محاورات ومکالمات دیکھئے تو وہ خود صاف صاف ارشادفرمارہے ہیں کہ کچھ ہمارے زمانے میں ہونے پرمدارخیریت نہیںدیکھئے بہت نئی باتیں کہ زمانہ پاك حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں نہ تھیں ان کے زمانہ میں پیداہوئیں اور وہ انہیں براکہتے اورنہایت تشددوانکارفرماتے اوربہت تازہ باتیں حادث ہوئیں کہ ان کو بدعت ومحدثات مان کرخود کرتے اورلوگوں کواجازت دیتے اورخیروحسن بتاتے۔
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ تراویح کی نسبت ارشادفرماتے ہیں:
نعمت البدعۃ ھذہ۔ کیااچھی بدعت ہے یہ۔
سیدنا عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نمازچاشت کی نسبت فرماتے ہیں:
انھما بدعۃ ونعمت البدعۃ وانھا لمن احسن ما احدث الناس ۔ بے شك وہ بدعت ہے اورکیاہی عمدہ بدعت ہے اوربیشك وہ ان بہترچیزوں میں سے ہے جولوگوں نے نئی نکالیں۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
احدثتم قیام رمضان فدومواعلیہ ولاتترکوہ۔ تم لوگوں نے قیام رمضان نیانکالاتواب جونکالاہے توہمیشہ کئے جاؤ اوراسے کبھی نہ چھوڑنا۔
دیکھو یہاں توصحابہ نے ان افعال کوبدعت کہہ کر حسن کہااورانہیں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما نے مسجدمیں ایك شخص کو تثویب کہتے سن کر اپنے غلام سے فرمایا:
اخرج بنا من عند ھذاالمبتدع۔ نکل چل ہمارے ساتھ اس بدعتی کے پاس سے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الصوم فصل من قام رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۹
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۵۶۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲/ ۴۲۴
المعجم الاوسط حدیث ۷۴۴۶ ۸/۲۱۸ و الدرالمنثور تحت الآیۃ ۵۷/ ۲۷ ۸/ ۶۴
المصنف لعبدالرزاق باب التثویب فی الاذان والاقامۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۷۵
ف:نکتہ۸:حدیث قرن کاچوتھا جواب۔
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۵۶۳ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲/ ۴۲۴
المعجم الاوسط حدیث ۷۴۴۶ ۸/۲۱۸ و الدرالمنثور تحت الآیۃ ۵۷/ ۲۷ ۸/ ۶۴
المصنف لعبدالرزاق باب التثویب فی الاذان والاقامۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۷۵
ف:نکتہ۸:حدیث قرن کاچوتھا جواب۔
سیدناعبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادے کونمازمیں بسم اﷲ بآوازپڑھتے سنافرمایا:
ای بنی محدث ایاك والحدث۔ اے میرے بیٹے! یہ نوپیدابات ہےبچ نئی باتوں سے۔
یہ فعل بھی اس زمانہ میں واقع ہوئے تھے انہیں بدعت سیئہ مذمومہ ٹھہرایاتو معلوم ہواکہ ان کے نزدیك بھی اپنے زمانہ میں ہونے نہ ہونے پرمدارنہ تھا بلکہ نفس فعل کودیکھتے اگر اس میں کوئی محذورشرعی نہ ہوتا اجازت دیتے ورنہ منع فرماتے اوریہی طریقہ بعینہ زمانہ تابعین وتبع تابعین میں رائج رہاہے۔اپنے زمانہ کی بعض نوپیداچیزوں کومنع کرتے بعض کوجائزرکھتے اوراس منع واجازت کے لئے آخر کوئی معیارتھااوروہ نہ تھامگرنفس فعل کی بھلائی برائیتوباتفاق صحابہ وتابعین وتبع تابعین قاعدہ شرعیہ وہ قرارپایا کہ حسن حسن ہے اگرچہ نیاہو اورقبیح قبیح ہے اگرچہ پراناہوپھران کے بعد یہ اصل کیوں کربدل سکتی ہےہماری شرع بحمداﷲ ابدی ہےجوقاعدے اس کے پہلے تھے قیامت تك رہیں گےمعاذاﷲ زیدوعمروکاقانون توہے ہی نہیں کہ تیسرے سال بدل جائے۔
نکتہ۹ فــــــ:یہ اعتراض کہ پیشوائے دین نے تویہ فعل کیاہی نہیں ہم کیونکر کریں زمانہ صحابہ میں پیش ہوکر رد ہوچکا اوربفرمان جلیل حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ وسیدنا فاروق اعظم وغیرہما صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم قرارپاچکاکہ بات فی نفسہ اچھی ہوناچاہئے اگرچہ پیشوائے دین نے نہ کی ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ قال ارسل الی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمرابن الخطاب عندہ حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جنگ یمامہ میں بہت صحابہ حاملان قرآن شہیدہوئے توصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے مجھے بلوایامیں حاضرہوا
ای بنی محدث ایاك والحدث۔ اے میرے بیٹے! یہ نوپیدابات ہےبچ نئی باتوں سے۔
یہ فعل بھی اس زمانہ میں واقع ہوئے تھے انہیں بدعت سیئہ مذمومہ ٹھہرایاتو معلوم ہواکہ ان کے نزدیك بھی اپنے زمانہ میں ہونے نہ ہونے پرمدارنہ تھا بلکہ نفس فعل کودیکھتے اگر اس میں کوئی محذورشرعی نہ ہوتا اجازت دیتے ورنہ منع فرماتے اوریہی طریقہ بعینہ زمانہ تابعین وتبع تابعین میں رائج رہاہے۔اپنے زمانہ کی بعض نوپیداچیزوں کومنع کرتے بعض کوجائزرکھتے اوراس منع واجازت کے لئے آخر کوئی معیارتھااوروہ نہ تھامگرنفس فعل کی بھلائی برائیتوباتفاق صحابہ وتابعین وتبع تابعین قاعدہ شرعیہ وہ قرارپایا کہ حسن حسن ہے اگرچہ نیاہو اورقبیح قبیح ہے اگرچہ پراناہوپھران کے بعد یہ اصل کیوں کربدل سکتی ہےہماری شرع بحمداﷲ ابدی ہےجوقاعدے اس کے پہلے تھے قیامت تك رہیں گےمعاذاﷲ زیدوعمروکاقانون توہے ہی نہیں کہ تیسرے سال بدل جائے۔
نکتہ۹ فــــــ:یہ اعتراض کہ پیشوائے دین نے تویہ فعل کیاہی نہیں ہم کیونکر کریں زمانہ صحابہ میں پیش ہوکر رد ہوچکا اوربفرمان جلیل حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ وسیدنا فاروق اعظم وغیرہما صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم قرارپاچکاکہ بات فی نفسہ اچھی ہوناچاہئے اگرچہ پیشوائے دین نے نہ کی ہو۔
صحیح بخاری شریف میں ہے:
عن زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ قال ارسل الی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمرابن الخطاب عندہ حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جنگ یمامہ میں بہت صحابہ حاملان قرآن شہیدہوئے توصدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے مجھے بلوایامیں حاضرہوا
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی ترك الجہر امین کمپنی دہلی ۱/ ۳۳
ف:نکتہ ۹:حدیث قرون کاپانچواں جواب اور اس کارَد کہ پیشواؤں نے نہ کیا تم کیسے کرتے ہو اورزمانہ صدیق میں وہابیت پرصحابہ کبارکااتفاق۔
ف:نکتہ ۹:حدیث قرون کاپانچواں جواب اور اس کارَد کہ پیشواؤں نے نہ کیا تم کیسے کرتے ہو اورزمانہ صدیق میں وہابیت پرصحابہ کبارکااتفاق۔
قال ابوبکر ان عمر اتانی فقال ان القتل قداستحر یوم الیمامۃ بقراء القران وانی اخشی ان استحر القتل بالقراء بالمواطن فیذھب کثیر من القران وانی اری ان تامر بجمع القران قلت لعمر کیف تفعل شیئا لم یفعلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال عمرھذا واﷲ خیرفلم یزل عمریراجعنی حتی شرح اﷲ صدری لذلك ورأیت فی ذلك الذی رأی عمر قال زید قال ابوبکر انك رجل شاب عاقل لانتھمك وقد کنت تکتب الوحی لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فتتبع القران واجمعہ فواﷲ لو کلفونی نقل جبل من الجبال ماکان اثقل علی مما امرنی بہ من جمع القران قال قلت لابی بکرکیف توفرمایا حضرت عمررضی اﷲ تعالی عنہ میرے پاس آئے ہیں اورانہوں نے کہاہے کہ یمامہ میں بہت حفاظ قرآن شہید ہوئے اورمیں ڈرتاہوں کہ اگرحاملان قرآن تیزی سے شہید ہوتے گئے توقرآن کاایك بڑا حصہ ختم ہوجائے گا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کے جمع کرنے اورایك جگہ لکھنے کاحکم دیںصدیق اکبر نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تو یہ کام کیاہی نہیں تم کیونکر کروگے۔ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایااگرچہ حضوراقدس سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیامگرخداکی قسم کام توخیر ہے۔صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں پھر عمررضی اﷲ تعالی عنہ مجھ سے اس معاملہ میں بحث کرتے رہے یہاں تك کہ خداتعالی نے میراسینہ اس امرکے لئے کھول دیا اور میری رائے عمررضی اﷲ تعالی عنہ کی رائے سے موافق ہو گئی۔زیدبن ثابت نے کہاابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا نوجوان مردعاقل ہو ہم تمہیں متہم بھی نہیں کرتے ہیں کیونکہ تم جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وحی لکھاکرتے تھے پس قرآن تلاش کرو اور اس کوجمع کرواﷲ کی قسم! اگرمجھے کسی پہاڑ کواٹھانے کی تکلیف دیتے توقرآن جمع کرنے سے جس کاانہوں نے مجھے حکم دیاتھا زیادہ بھاری نہ ہوتامیں نے کہاوہ کام تم کیسے کرو گے جو
تفعلون شیئا لم یفعلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ھو واﷲ خیر فلم یزل ابوبکر یراجعنی حتی شرح اﷲ صدری للذی شرح لہ صدرابی بکر وعمر فتبعت القران و اجمعہ الحدیث۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا اﷲ کی قسم یہ اچھاکام ہےابوبکرصدیق میرے ساتھ بحث کرتے رہے حتی کہ اﷲ نے اس کے لئے میراسینہ کھول دیا جس کے لئے ابوبکرصدیق اورعمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما کاسینہ کھولاتھا پھرمیں نے قرآن تلاش کرنا اورجمع کرناشروع کیا۔الحدیث۔
دیکھو زیدبن ثابت نے صدیق اکبراورصدیق اکبر نے فاروق اعظم پراعتراض کیاتوان حضرات نے یہ جواب نہ دیاکہ یہ نئی بات نکالنے کی اجازت نہ ہونا توپچھلے زمانہ میں ہوگا ہم صحابہ ہیں ہمارازمانہ خیرالقرون سے ہےبلکہ یہی جواب دیاکہ اگر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کام نہ کیا پروہ کام تواپنی ذات میں بھلائی کاہے پس کیونکر ممنوع ہوسکتاہے۔اور اسی پرصحابہ کرام کی رائے متفق ہوئی اور قرآن عظیم باتفاق حضرات صحابہ جمع ہوا۔اب غضب کی بات ہے ان حضرات کو سودااچھلے اورجوبات کہ صحابہ کرام میں طے ہوچکی پھراکھیڑیں۔
نکتہ ۱۰ فــــــ:جواعتراض ہم پرکرتے ہیں کہ تم کیاصحابہ تابعین اورتبع تابعین سے محبت وتعظیم میں زیادہ ہوکہ جوکچھ انہوں نے نہ کیا تم کرتے ہوئےلطف یہ ہے کہ بعینہ وہی اعتراض اگرقابل تقسیم ہوتوتبع تابعین پرباعتبار تابعین اورتابعین پرباعتبارصحابہ اورصحابہ پرباعتباررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واردمثلا جس فعل کوحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وتابعین کسی نے نہ کیااورتبع تابعین کے زمانہ میں پیداہوا توتم اسے بدعت نہیں کہتےہم کہتے ہیں اس کام میں بھلائی ہوتی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وتابعین ہی کرتے تبع تابعین کیااس سے زیادہ دین کااہتمام رکھتے ہیں جوانہوں نے نہ کیایہ کریں گے اسی طرح تابعین کے زمانہ میں جوکچھ پیداہو اس پروارد ہوگا کہ بہترہوتاتورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ کیوں نہ کرتے تابعین کچھ ان سے بڑھ کرٹھہرے علی ہذالقیاس جونئی باتیں صحابہ نے کیں انہیں بھی تمہاری طرح کہاجائے گا
دیکھو زیدبن ثابت نے صدیق اکبراورصدیق اکبر نے فاروق اعظم پراعتراض کیاتوان حضرات نے یہ جواب نہ دیاکہ یہ نئی بات نکالنے کی اجازت نہ ہونا توپچھلے زمانہ میں ہوگا ہم صحابہ ہیں ہمارازمانہ خیرالقرون سے ہےبلکہ یہی جواب دیاکہ اگر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کام نہ کیا پروہ کام تواپنی ذات میں بھلائی کاہے پس کیونکر ممنوع ہوسکتاہے۔اور اسی پرصحابہ کرام کی رائے متفق ہوئی اور قرآن عظیم باتفاق حضرات صحابہ جمع ہوا۔اب غضب کی بات ہے ان حضرات کو سودااچھلے اورجوبات کہ صحابہ کرام میں طے ہوچکی پھراکھیڑیں۔
نکتہ ۱۰ فــــــ:جواعتراض ہم پرکرتے ہیں کہ تم کیاصحابہ تابعین اورتبع تابعین سے محبت وتعظیم میں زیادہ ہوکہ جوکچھ انہوں نے نہ کیا تم کرتے ہوئےلطف یہ ہے کہ بعینہ وہی اعتراض اگرقابل تقسیم ہوتوتبع تابعین پرباعتبار تابعین اورتابعین پرباعتبارصحابہ اورصحابہ پرباعتباررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واردمثلا جس فعل کوحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وتابعین کسی نے نہ کیااورتبع تابعین کے زمانہ میں پیداہوا توتم اسے بدعت نہیں کہتےہم کہتے ہیں اس کام میں بھلائی ہوتی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ وتابعین ہی کرتے تبع تابعین کیااس سے زیادہ دین کااہتمام رکھتے ہیں جوانہوں نے نہ کیایہ کریں گے اسی طرح تابعین کے زمانہ میں جوکچھ پیداہو اس پروارد ہوگا کہ بہترہوتاتورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ کیوں نہ کرتے تابعین کچھ ان سے بڑھ کرٹھہرے علی ہذالقیاس جونئی باتیں صحابہ نے کیں انہیں بھی تمہاری طرح کہاجائے گا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۵
ف:نکتہ ۱۰:اس کارَد کہ تم کیا اگلوں سے محبت وغیرہ میں زیادہ ہو۔
ف:نکتہ ۱۰:اس کارَد کہ تم کیا اگلوں سے محبت وغیرہ میں زیادہ ہو۔
بزہد وورع کوش وصدق وصفا ولیکن میفزائے برمصطفی
(زہدتقویسچائی اورصفائی میں کوشش کرلیکن مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرمت بڑھا۔ت)
کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کومعاذاﷲ ان کی خوبی نہ معلوم ہوئی یاصحابہ کو افعال خیر کی طرف زیادہ توجہ تھی۔ غرض یہ بات ان مدہوشوں نے ایسی کہی جس کی بناء پر عیاذا اﷲ عیاذا باﷲ تمام صحابہ وتابعین بھی بدعتی ٹھہرے جاتے ہیں مگر اصل وہی ہے کہ نہ کرنا اوربات ہے اورمنع کرنااورچیز۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اگرایك کام نہ کیا اوراس کومنع بھی نہ فرمایا تو صحابہ کوکون مانع ہے کہ اسے نہ کریں اورصحابہ نہ کریں توتابعین کوکون عائقوہ نہ کریں توتبع پرالزام نہیںوہ نہ کریں توہم پرمضائقہ نہیں۔بس اتنا ہوناچاہئے کہ شرع کے نزدیك وہ کام برانہ ہو۔عجب لطف ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورصحابہ وتابعین کاقطعا نہ کرناتوحجت نہ ہوااورتبع کو باوجود ان سب کے نہ کرنے کے اجازت ملی مگر تبع میں وہ خوبی ہے کہ جب وہ بھی نہ کریں توا ب پچھلوں کے لئے راستہ بندہوگیا اس بے عقلی کی کچھ بھی حد ہے اس سے تواپنے یہاں کے ایك بڑے امام نواب صدیق حسن خاں شوہر ریاست بھوپال ہی کامذہب اختیار کرلو توبہت اعتراضوں سے بچو کہ انہوں نے بے دھڑك فرمایا"جوکچھ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا سب بدعت وگمراہی ہے"۔اب چاہے صحابہ کریں خواہ تابعین کوئی ہوبدعتی ہے یہاں تك کہ بوجہ ترویج تراویح امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کومعاذاﷲ گمراہ ٹھہرایا اوراعدائے دین کے پیرومرشدعبداﷲ بن سبا کی روح مقبوح کوبہت خوش کیاانا ﷲ وانا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)
مجلس وقیام کاانکارکرتے کرتے کہاں تك نوبت پہنچی اﷲ تعالی اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔آمین!
نکتہ ۱۱ فــــــ:امام علامہ احمدبن محمد قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع ۔ کرنے سے توجوازسمجھاجاتاہے اورنہ کرنے سے ممانعت نہیں سمجھی جاتی ہے۔
(زہدتقویسچائی اورصفائی میں کوشش کرلیکن مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرمت بڑھا۔ت)
کیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کومعاذاﷲ ان کی خوبی نہ معلوم ہوئی یاصحابہ کو افعال خیر کی طرف زیادہ توجہ تھی۔ غرض یہ بات ان مدہوشوں نے ایسی کہی جس کی بناء پر عیاذا اﷲ عیاذا باﷲ تمام صحابہ وتابعین بھی بدعتی ٹھہرے جاتے ہیں مگر اصل وہی ہے کہ نہ کرنا اوربات ہے اورمنع کرنااورچیز۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اگرایك کام نہ کیا اوراس کومنع بھی نہ فرمایا تو صحابہ کوکون مانع ہے کہ اسے نہ کریں اورصحابہ نہ کریں توتابعین کوکون عائقوہ نہ کریں توتبع پرالزام نہیںوہ نہ کریں توہم پرمضائقہ نہیں۔بس اتنا ہوناچاہئے کہ شرع کے نزدیك وہ کام برانہ ہو۔عجب لطف ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورصحابہ وتابعین کاقطعا نہ کرناتوحجت نہ ہوااورتبع کو باوجود ان سب کے نہ کرنے کے اجازت ملی مگر تبع میں وہ خوبی ہے کہ جب وہ بھی نہ کریں توا ب پچھلوں کے لئے راستہ بندہوگیا اس بے عقلی کی کچھ بھی حد ہے اس سے تواپنے یہاں کے ایك بڑے امام نواب صدیق حسن خاں شوہر ریاست بھوپال ہی کامذہب اختیار کرلو توبہت اعتراضوں سے بچو کہ انہوں نے بے دھڑك فرمایا"جوکچھ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیا سب بدعت وگمراہی ہے"۔اب چاہے صحابہ کریں خواہ تابعین کوئی ہوبدعتی ہے یہاں تك کہ بوجہ ترویج تراویح امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کومعاذاﷲ گمراہ ٹھہرایا اوراعدائے دین کے پیرومرشدعبداﷲ بن سبا کی روح مقبوح کوبہت خوش کیاانا ﷲ وانا الیہ راجعون(بے شك ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)
مجلس وقیام کاانکارکرتے کرتے کہاں تك نوبت پہنچی اﷲ تعالی اپنے غضب سے محفوظ رکھے۔آمین!
نکتہ ۱۱ فــــــ:امام علامہ احمدبن محمد قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع ۔ کرنے سے توجوازسمجھاجاتاہے اورنہ کرنے سے ممانعت نہیں سمجھی جاتی ہے۔
حوالہ / References
المواھب اللدنیہ
ف:نکتہ۱۱:نہ کرنا اورہے اورمنع کرنااور۔
ف:نکتہ۱۱:نہ کرنا اورہے اورمنع کرنااور۔
شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں فرماتے ہیں:
نہ کردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگر اھ ملخصا۔ نہ کرنا اورچیزہے اورمنع کرنا اورچیزہے اھ ملخصا۔(ت)
تمہاری جہالت کہ تم نے کسی فعل کے نہ کرنے کواس فعل سے ممانعت سمجھ رکھاہے۔
نکتہ ۱۲ فــــــ:سخن شناس نہ دلبراخطا اینجاست
حقیقت الامریہ ہے کہ صحابہ وتابعین کواعلاء کلمۃ اﷲ وحفظ بیضاء اسلام ونشردین متین وقتل قہرکافرین واصلاح بلادوعباد واطفائے آتش فسادواشاعت فرائض وحدودالہیہ واصلاح ذات البین ومحافظت اصول ایمان وحفظ روایت حدیث وغیرہا امورکلیہ مہمہ سے فرصت نہ تھی لہذایہ امرجزئیہ مستحبہ توکیامعنی بلکہ تاسیس قواعد واصول وتفریع جزئیات وفروع وتصنیف وتدوین علوم ونظم دلائل حق وردشبہات اہل بدعت وغیرہا امورعظیمہ کی طرف بھی توجہ کامل نہ فرماسکے۔جب بفضل اﷲ تعالی ان کے زوربازونے دین الہی کی بنیاد مستحکم کردی اورمشارق ومغارب میں ملت حنفیہ کی جڑجم گئی۔اس وقت ائمہ وعلمائے مابعد نے تخت وبخت سازگار پاکر بیخ وبن جمانے والوں کی ہمت بلند کے قدم اورباغبان حقیقی کے فضل پرتکیہ کرکے اہم فالاہم کاموں میں مشغول ہوئے اب توبے خلش صرصرواندیشہ سموم اورہی آبیاریاں ہونے لگیں۔فکرصائب نے زمین تدقیق میں نہریں کھو دیں۔ذہن رواں نے زلال تحقیقی کی ندیاں بہائیں۔علماء واولیاء کی آنکھیں ان پاك مبارك نونہالوں کے لئے تھالے بنیں ہواخواہان دین وملت کی نسیم انفاس متبرکہ نے عطرباریاں فرمائیں یہاں تك کہ یہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاباغ ہرابھرا پھلاپھولا لہلہایااوراس کے بھینے پھولوں سہانے پتوں نے چشم وکام ودماغ پرعجب ناز سے احسان فرمایاالحمدﷲ رب العالمین اب اگرکوئی جاہل اعتراض کرے یہ کنچھیاں جواب پھوٹیں جب کہاں تھیںیہ پتیاں جواب نکلیں پہلے کیوں نہاں تھیں یہ پتلی پتلی ڈالیاں جواب جھومتی ہیں نوپیدا ہیں یہ ننھی ننھی کلیاں جواب مہکتی ہیں تازہ جلوہ نماہیں اگران میں کوئی خوبی پاتے تواگلے کیوں چھوڑجاتے تواس کی حماقت پر اس الہی باغ کا ایك ایك پھول قہقہہ لگائے گا کہاوجاہل! اگلوں کوجڑ جمانے کی فکرتھی وہ فرصت پاتے تو یہ سب کچھ کردکھاتے آخر اس سفاہت کانتیجہ یہی نکلے گا کہ وہ نادان اس باغ کے پھل پھول سے
نہ کردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگر اھ ملخصا۔ نہ کرنا اورچیزہے اورمنع کرنا اورچیزہے اھ ملخصا۔(ت)
تمہاری جہالت کہ تم نے کسی فعل کے نہ کرنے کواس فعل سے ممانعت سمجھ رکھاہے۔
نکتہ ۱۲ فــــــ:سخن شناس نہ دلبراخطا اینجاست
حقیقت الامریہ ہے کہ صحابہ وتابعین کواعلاء کلمۃ اﷲ وحفظ بیضاء اسلام ونشردین متین وقتل قہرکافرین واصلاح بلادوعباد واطفائے آتش فسادواشاعت فرائض وحدودالہیہ واصلاح ذات البین ومحافظت اصول ایمان وحفظ روایت حدیث وغیرہا امورکلیہ مہمہ سے فرصت نہ تھی لہذایہ امرجزئیہ مستحبہ توکیامعنی بلکہ تاسیس قواعد واصول وتفریع جزئیات وفروع وتصنیف وتدوین علوم ونظم دلائل حق وردشبہات اہل بدعت وغیرہا امورعظیمہ کی طرف بھی توجہ کامل نہ فرماسکے۔جب بفضل اﷲ تعالی ان کے زوربازونے دین الہی کی بنیاد مستحکم کردی اورمشارق ومغارب میں ملت حنفیہ کی جڑجم گئی۔اس وقت ائمہ وعلمائے مابعد نے تخت وبخت سازگار پاکر بیخ وبن جمانے والوں کی ہمت بلند کے قدم اورباغبان حقیقی کے فضل پرتکیہ کرکے اہم فالاہم کاموں میں مشغول ہوئے اب توبے خلش صرصرواندیشہ سموم اورہی آبیاریاں ہونے لگیں۔فکرصائب نے زمین تدقیق میں نہریں کھو دیں۔ذہن رواں نے زلال تحقیقی کی ندیاں بہائیں۔علماء واولیاء کی آنکھیں ان پاك مبارك نونہالوں کے لئے تھالے بنیں ہواخواہان دین وملت کی نسیم انفاس متبرکہ نے عطرباریاں فرمائیں یہاں تك کہ یہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاباغ ہرابھرا پھلاپھولا لہلہایااوراس کے بھینے پھولوں سہانے پتوں نے چشم وکام ودماغ پرعجب ناز سے احسان فرمایاالحمدﷲ رب العالمین اب اگرکوئی جاہل اعتراض کرے یہ کنچھیاں جواب پھوٹیں جب کہاں تھیںیہ پتیاں جواب نکلیں پہلے کیوں نہاں تھیں یہ پتلی پتلی ڈالیاں جواب جھومتی ہیں نوپیدا ہیں یہ ننھی ننھی کلیاں جواب مہکتی ہیں تازہ جلوہ نماہیں اگران میں کوئی خوبی پاتے تواگلے کیوں چھوڑجاتے تواس کی حماقت پر اس الہی باغ کا ایك ایك پھول قہقہہ لگائے گا کہاوجاہل! اگلوں کوجڑ جمانے کی فکرتھی وہ فرصت پاتے تو یہ سب کچھ کردکھاتے آخر اس سفاہت کانتیجہ یہی نکلے گا کہ وہ نادان اس باغ کے پھل پھول سے
حوالہ / References
تحفہ اثناعشریہ باب دہم درمطاعن خلفائے ثلٰثہ طعن ہفتم سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۶۹
ف:نکتہ ۱۲ اصل بات اوراگلے لوگوں میں نہ ہونے کی وجہ۔
ف:نکتہ ۱۲ اصل بات اوراگلے لوگوں میں نہ ہونے کی وجہ۔
محروم رہے گا۔بھلاغورکرنے کی بات ہے ایك حکیم فرزانہ کے گھرآگ لگی اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھولے بھالے اندرمکان کے گھرگئے اورلاکھوں روپوں کامال واسباب بھی تھا اس دانشمند نے مال کی طرف مطلق خیال نہ کیا اپنی جان پرکھیل کر بچوں کوسلامت نکال لیایہ واقعہ چندبے خرد بھی دیکھ رہے تھے اتفاقا ان کے یہاں بھی آگ لگی یہاں نرامال ہی مال تھا۔کھڑے ہوئے دیکھتے رہے اورسارامال خاکسترہوگیا۔کسی نے اعتراض کیاتوبولے تم احمق ہو ہم اس حکیم دانشور کی آنکھیں دیکھے ہوئے ہیں اس کے گھر آگ لگی تھی تواس نے مال کب نکالاتھا جو ہم نکالتے مگربیوقوف اتنا نہ سمجھے کہ اس اولوالعزم حکیم کوبچوں کے بچانے سے فرصت کہاں تھی کہ مال نکالتا نہ یہ کہ اس نے مال نکالنا براجان کرچھوڑاتھا۔اﷲ تعالی کسی کو اوندھی سمجھ نہ دے۔آمین!
نکتہ ۱۳ فــــــ:ہم نے ماناکہ جوکچھ قرون ثلثہ میں نہ تھا سب منع ہے۔اب ذرا حضرات مانعین اپنی خبرلیں۔یہ مدرسے جاری کرنا اورلوگوں سے چندہ لینا اورطلباء کے لئے مطبع نولکشور سے فیصدی دس روپیہ کمیشن لے کرکتابیں منگانااوربہ تخصیص روزجمعہ بعد نمازجمعہ وعظ کاالتزام کرناجہاں وعظ کہنے جائیں نذرانہ لینادعوتیں اڑانامناظروں کے لئے جلسے اورپنچ مقررکرنامخالفین کی رد میں کتابیں لکھوانا چھپواناواعظوں کاشہربشہر گشت لگاناصحاح کے دودوورق پڑھ کرمحدثی کی سندلینا اور ان کے سواہزاروں باتیں کہ اکابر واصاغر طائفہ میں بلانکیر رائج ہیں قرون ثلثہ میں کب تھی اوران پیشوایان فرقہ جدیدہ کاتوذکرہی کیاہے جو دو دو روپے نذرانہ لے کر مسئلوں پر مہرثبت کریںمدعی مدعا علیہ دونوں کے ہاتھ میں حضرت کافتویحج کوجائیں توکمشنر دہلی وبمبئی کی چٹھیاں ضرور ہوںشاید یہ تین باتیں قرون ثلثہ میں تھیں یاتمہارے لئے پروانہ معافی آگیا ہے کہ جوچاہو کروتم پرکچھ مواخذہ نہیں یایہ نکتہ چینیاں انہی باتوں میں ہیں جنہیں تعظیم ومحبت حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے علاقہ ہوباقی سب حلال وشیرمادرولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی الاکبر۔
نکتہ۱۴(ف):واجب الحفظ۔افسوس! کیاالٹازمانہ ہے اورامورتعظیم وادب میں سلف صالحین سے آج تك برابرائمہ دین کایہی داب رہاکہ ورودوعدم ورودخصوصیات پرنظرنہ کی بلکہ صریحا
ف۱:نکتہ ۱۳ مسئلہ قرون کاچھٹا جواب وہابیہ کی ہٹ دھرمی۔
ف۲:نکتہ ۱۴ تعظیم محبوبان خدامیں قاعدہ یہ ہے کہ جس قدرچاہو نئے طریقے نکالو سب حسن ہیں جب تك کسی خاص طریقے کی شرع میں ممانعت نہ ہو۔
نکتہ ۱۳ فــــــ:ہم نے ماناکہ جوکچھ قرون ثلثہ میں نہ تھا سب منع ہے۔اب ذرا حضرات مانعین اپنی خبرلیں۔یہ مدرسے جاری کرنا اورلوگوں سے چندہ لینا اورطلباء کے لئے مطبع نولکشور سے فیصدی دس روپیہ کمیشن لے کرکتابیں منگانااوربہ تخصیص روزجمعہ بعد نمازجمعہ وعظ کاالتزام کرناجہاں وعظ کہنے جائیں نذرانہ لینادعوتیں اڑانامناظروں کے لئے جلسے اورپنچ مقررکرنامخالفین کی رد میں کتابیں لکھوانا چھپواناواعظوں کاشہربشہر گشت لگاناصحاح کے دودوورق پڑھ کرمحدثی کی سندلینا اور ان کے سواہزاروں باتیں کہ اکابر واصاغر طائفہ میں بلانکیر رائج ہیں قرون ثلثہ میں کب تھی اوران پیشوایان فرقہ جدیدہ کاتوذکرہی کیاہے جو دو دو روپے نذرانہ لے کر مسئلوں پر مہرثبت کریںمدعی مدعا علیہ دونوں کے ہاتھ میں حضرت کافتویحج کوجائیں توکمشنر دہلی وبمبئی کی چٹھیاں ضرور ہوںشاید یہ تین باتیں قرون ثلثہ میں تھیں یاتمہارے لئے پروانہ معافی آگیا ہے کہ جوچاہو کروتم پرکچھ مواخذہ نہیں یایہ نکتہ چینیاں انہی باتوں میں ہیں جنہیں تعظیم ومحبت حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے علاقہ ہوباقی سب حلال وشیرمادرولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی الاکبر۔
نکتہ۱۴(ف):واجب الحفظ۔افسوس! کیاالٹازمانہ ہے اورامورتعظیم وادب میں سلف صالحین سے آج تك برابرائمہ دین کایہی داب رہاکہ ورودوعدم ورودخصوصیات پرنظرنہ کی بلکہ صریحا
ف۱:نکتہ ۱۳ مسئلہ قرون کاچھٹا جواب وہابیہ کی ہٹ دھرمی۔
ف۲:نکتہ ۱۴ تعظیم محبوبان خدامیں قاعدہ یہ ہے کہ جس قدرچاہو نئے طریقے نکالو سب حسن ہیں جب تك کسی خاص طریقے کی شرع میں ممانعت نہ ہو۔
قاعدہ کلیہ بنایا:
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا۔کما صرح بہ الامام المحقق علی الاطلاق فقیہ النفس سیدی کمال الملۃ والدین محمد فی فتح القدیر وتلمیذہ الشیخ رحمہ اﷲ السندی فی المنسك المتوسط واقرہ الفاضل القاری فی المسلك المتقسط واثرہ فی العالمگیریۃ وغیرھا۔ جس بات کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ادب وتعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ بہترہے(جیساکہ اماممحقق علی الاطلاقفقیہ النفسمیرے آقاکمال الملۃ والدین محمدنے فتح القدیرمیں تصریح فرمائی اوران کے شاگرد شیخ سندی علیہ الرحمۃ نے منسك المتوسط میں وضاحت فرمائی اور فاضل قاری علیہ الرحمۃ نے اس کوبرقراررکھا اورعالمگیریہ وغیرہ میں اس کوترجیح دی ہے۔ت)
اورامام ابن حجر کاقول گزراکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہرطرح بہترہے جب تك کہ الوہیت اﷲ میں شریك نہ ہواسی لئے سلفاء وخلفاء جس مسلمان نے کسی نئے طریقے سے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاادب کیا اس ایجاد کو علماء نے اس کے مدائح میں شمار کیانہ یہ کہ معاذاﷲ بدعتی گمراہ ٹھہرایا یہ بلاانہی مدعیان دین وادب میں پھیلی کہ ہربات پرپوچھتے ہیں فلاں نے کب کیں فلاں نے کب کیں حالانکہ خود ہزاروں باتیں کرتے ہیں جوفلاں نے کیں نہ فلاں نے کیں مگریہ بھی طرفہ کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گھٹانے مٹانے کے لئے ایك حیلہ نکال کرزبان سے کہتے جائیں ع
بعدازخدابزرگ توئی قصہ مختصر
(قصہ مختصریہ کہ اﷲ تعالی کے بعد سے زیادہ بزرگی والے آپ ہیں۔ت)
اوربلطائف الحیل جہاں تك بن پڑے اورمحبت وتعظیم میں کلام کرتے جائیں آخران کا امام اکبر تفویۃ الایمان میں تصریح کرچکاکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعریف ایسے کروجیسے آپس میں ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس میں سے کمی کرویہ ایمان ہے یہ دین ہے اوردعوی ہےلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
خیربات بڑھتی ہے مطلب پرآئیے۔ہاں تواگر میں ان امور کااستیعاب کروں جو دربارہ آداب وتعظیم حادث ہوتے گئے اور اس احداث کوعلماء نے موجد کے مدائح سے گناتوایك دفترطویل ہوتاہےلہذاچونکہ مثالوں پراقتصار کررہاہوں:
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا۔کما صرح بہ الامام المحقق علی الاطلاق فقیہ النفس سیدی کمال الملۃ والدین محمد فی فتح القدیر وتلمیذہ الشیخ رحمہ اﷲ السندی فی المنسك المتوسط واقرہ الفاضل القاری فی المسلك المتقسط واثرہ فی العالمگیریۃ وغیرھا۔ جس بات کو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ادب وتعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ بہترہے(جیساکہ اماممحقق علی الاطلاقفقیہ النفسمیرے آقاکمال الملۃ والدین محمدنے فتح القدیرمیں تصریح فرمائی اوران کے شاگرد شیخ سندی علیہ الرحمۃ نے منسك المتوسط میں وضاحت فرمائی اور فاضل قاری علیہ الرحمۃ نے اس کوبرقراررکھا اورعالمگیریہ وغیرہ میں اس کوترجیح دی ہے۔ت)
اورامام ابن حجر کاقول گزراکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہرطرح بہترہے جب تك کہ الوہیت اﷲ میں شریك نہ ہواسی لئے سلفاء وخلفاء جس مسلمان نے کسی نئے طریقے سے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاادب کیا اس ایجاد کو علماء نے اس کے مدائح میں شمار کیانہ یہ کہ معاذاﷲ بدعتی گمراہ ٹھہرایا یہ بلاانہی مدعیان دین وادب میں پھیلی کہ ہربات پرپوچھتے ہیں فلاں نے کب کیں فلاں نے کب کیں حالانکہ خود ہزاروں باتیں کرتے ہیں جوفلاں نے کیں نہ فلاں نے کیں مگریہ بھی طرفہ کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گھٹانے مٹانے کے لئے ایك حیلہ نکال کرزبان سے کہتے جائیں ع
بعدازخدابزرگ توئی قصہ مختصر
(قصہ مختصریہ کہ اﷲ تعالی کے بعد سے زیادہ بزرگی والے آپ ہیں۔ت)
اوربلطائف الحیل جہاں تك بن پڑے اورمحبت وتعظیم میں کلام کرتے جائیں آخران کا امام اکبر تفویۃ الایمان میں تصریح کرچکاکہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعریف ایسے کروجیسے آپس میں ایك دوسرے کی کرتے ہو بلکہ اس میں سے کمی کرویہ ایمان ہے یہ دین ہے اوردعوی ہےلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم
خیربات بڑھتی ہے مطلب پرآئیے۔ہاں تواگر میں ان امور کااستیعاب کروں جو دربارہ آداب وتعظیم حادث ہوتے گئے اور اس احداث کوعلماء نے موجد کے مدائح سے گناتوایك دفترطویل ہوتاہےلہذاچونکہ مثالوں پراقتصار کررہاہوں:
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۹۴
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۲
تقویۃ الایمان الفصل الخامس مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۴۲
مثال۱:سیدنا امام مالك صاحب المذہب عالم المدینہ رضی اﷲ تعالی عنہ بآنکہ مثل سیدنا عبداﷲ بن عمرو وعبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالی عنہ اتباع سلف وصحابہ کرام کااحداث میں نہایت ہی اہتمام رکھتے تھے۔اس پران کے ایمان ومحبت کاتقاضا ہواکہ ادب وحدیث خوانی میں وہ باتیں علماء کے نزدیك امام مالك کے فضائل جلیلہ سے ٹھہرا اوران کی غایت ادب ومحبت پردلیل قرارپایا۔امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شفاء شریف میں لکھتے ہیں:
قال مطرف کان اذا اتی الناس مالکا خرجت الیھم الجاریۃ فتقول لھم یقول لکم الشیخ تریدون الحدیث اوالمسائل فان قالوا المسائل خرج الیھم وان قالوا الحدیث دخل مغتسلہ واغتسل وتطیب ولبس ثیابا جددا ولبس ساجہ وتعمم وضع علی رأسہ ردائہ وتلقی لہ منصۃ فیخرج ویجلس علیھا وعلیہ الخشوع لایزال یبخربالعود حتی یفرغ من حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال غیرہ ولم یکن یجلس علی تلك المنصۃ الا اذا حدث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابن اویس فقیل الملك فی ذلك فقال احب وان اعظم حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولااحدث بہ الا علی طھارۃ متمکنا ۔ مطرف نے کہا جب لوگ مالك بن انس کے پاس علم حاصل کرنے آتے ایك کنیزآکرپوچھتی شیخ تم سے فرماتے ہیں تم حدیث سیکھنے آئے ہویافقہ ومسائل اگرانہوں نے جواب دیا فقہ ومسائلجب توآپ تشریف لاتے اوراگرکہا کہ حدیث توپہلے غسل فرماتے خوشبولگاتے نئے کپڑے پہنتے طیلسان اوڑھتے اورعمامہ باندھتے چادرسرمبارك پررکھتے ان کے لئے ایك تخت مثل تخت عروس بچھایاجاتا اس وقت باہرتشریف لاتے اوربنہایت خشوع اس پرجلوس فرماتے اور جب تك حدیث بیان کرتے تھے اگربتی سلگاتے اوراس تخت پراسی وقت بیٹھتے تھے جب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا ہوتی۔حضرت سے اس کاسبب پوچھافرمایا میں دوست رکھتاہوں کہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کروں اورمیں حدیث بیان نہیں کرتا جب تك وضوکرکے خوب سکون ووقار کے ساتھ نہ بیٹھوں۔
قال مطرف کان اذا اتی الناس مالکا خرجت الیھم الجاریۃ فتقول لھم یقول لکم الشیخ تریدون الحدیث اوالمسائل فان قالوا المسائل خرج الیھم وان قالوا الحدیث دخل مغتسلہ واغتسل وتطیب ولبس ثیابا جددا ولبس ساجہ وتعمم وضع علی رأسہ ردائہ وتلقی لہ منصۃ فیخرج ویجلس علیھا وعلیہ الخشوع لایزال یبخربالعود حتی یفرغ من حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال غیرہ ولم یکن یجلس علی تلك المنصۃ الا اذا حدث عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابن اویس فقیل الملك فی ذلك فقال احب وان اعظم حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولااحدث بہ الا علی طھارۃ متمکنا ۔ مطرف نے کہا جب لوگ مالك بن انس کے پاس علم حاصل کرنے آتے ایك کنیزآکرپوچھتی شیخ تم سے فرماتے ہیں تم حدیث سیکھنے آئے ہویافقہ ومسائل اگرانہوں نے جواب دیا فقہ ومسائلجب توآپ تشریف لاتے اوراگرکہا کہ حدیث توپہلے غسل فرماتے خوشبولگاتے نئے کپڑے پہنتے طیلسان اوڑھتے اورعمامہ باندھتے چادرسرمبارك پررکھتے ان کے لئے ایك تخت مثل تخت عروس بچھایاجاتا اس وقت باہرتشریف لاتے اوربنہایت خشوع اس پرجلوس فرماتے اور جب تك حدیث بیان کرتے تھے اگربتی سلگاتے اوراس تخت پراسی وقت بیٹھتے تھے جب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا ہوتی۔حضرت سے اس کاسبب پوچھافرمایا میں دوست رکھتاہوں کہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کروں اورمیں حدیث بیان نہیں کرتا جب تك وضوکرکے خوب سکون ووقار کے ساتھ نہ بیٹھوں۔
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الثانی الباب الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۳۸،۳۹
مثال۲:اسی میں ہے:
کان مالك رضی اﷲ تعالی عنہ لایرکب بالمدینۃ دابۃ وکان یقول استحی من اﷲ تعالی ان اطأتربۃ فیھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بحافردابۃ ۔ امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ مدینہ طیبہ میں سواری پرسوارنہ ہوتے اورفرماتے تھے مجھے شرم آتی ہے خدائے تعالی سے کہ جس زمین میں حضور سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرماہوں اسے جانور کے سم سے روندوں۔
مثال ۳:اسی میں ہے:
قد حکی ابوعبدالرحمن السلمی عن احمد بن فضلویۃ الزاھد وکان من الغزاۃ الرماۃ ان عقال ما مسست القوس بیدی الاعلی طھارۃ منذ بلغنی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخذ القوس بیدہ۔ امام ابوعبدالرحمن سلمی احمدبن فضلویہ زاہدغازی تیراندازسے نقل کرتے ہیں کہ میں نے کبھی کمان بے وضو ہاتھ سے نہ چھوئی جب سے سناکہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کمان دست اقدس میں لی ہے۔
مثال۴:امام ابن حاج مالکی کہ مستندین مانعین سے ہیں اوراحداث کی ممانعت میں نہایت تصلب رکھتے ہیں مدخل میں فرماتے ہیں:
وتقدمت حکایۃ بعضھم انہ جاوربمکۃ اربعین سنۃ ولم یبل فی الحرم ولم یضطجع فمثل ھذا تستحب لہ المجاورۃ اویؤمر بھا۔ بعض صالحین چالیس برس مکہ معظمہ کے مجاور رہے اورکبھی حرم میں پیشاب نہ کیا اور نہ لیٹے۔ابن الحاج کہتے ہیں ایسے شخص کومجاورت مستحب یایوں کہئے کہ اسے مجاورت کاحکم دیاجائے گا۔
مثال۵:اسی میں ہے:
کان مالك رضی اﷲ تعالی عنہ لایرکب بالمدینۃ دابۃ وکان یقول استحی من اﷲ تعالی ان اطأتربۃ فیھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بحافردابۃ ۔ امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ مدینہ طیبہ میں سواری پرسوارنہ ہوتے اورفرماتے تھے مجھے شرم آتی ہے خدائے تعالی سے کہ جس زمین میں حضور سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرماہوں اسے جانور کے سم سے روندوں۔
مثال ۳:اسی میں ہے:
قد حکی ابوعبدالرحمن السلمی عن احمد بن فضلویۃ الزاھد وکان من الغزاۃ الرماۃ ان عقال ما مسست القوس بیدی الاعلی طھارۃ منذ بلغنی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخذ القوس بیدہ۔ امام ابوعبدالرحمن سلمی احمدبن فضلویہ زاہدغازی تیراندازسے نقل کرتے ہیں کہ میں نے کبھی کمان بے وضو ہاتھ سے نہ چھوئی جب سے سناکہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کمان دست اقدس میں لی ہے۔
مثال۴:امام ابن حاج مالکی کہ مستندین مانعین سے ہیں اوراحداث کی ممانعت میں نہایت تصلب رکھتے ہیں مدخل میں فرماتے ہیں:
وتقدمت حکایۃ بعضھم انہ جاوربمکۃ اربعین سنۃ ولم یبل فی الحرم ولم یضطجع فمثل ھذا تستحب لہ المجاورۃ اویؤمر بھا۔ بعض صالحین چالیس برس مکہ معظمہ کے مجاور رہے اورکبھی حرم میں پیشاب نہ کیا اور نہ لیٹے۔ابن الحاج کہتے ہیں ایسے شخص کومجاورت مستحب یایوں کہئے کہ اسے مجاورت کاحکم دیاجائے گا۔
مثال۵:اسی میں ہے:
حوالہ / References
الشفاء القسم الثانی الباب الثالث فصل ومن توقیرہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۴۸
الشفاء القسم الثانی الباب الثالث فصل ومن توقیرہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۴۸
المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتورالحاج فی حجہ الخ دارالکتب العربی بیروت ۴/ ۲۵۳
الشفاء القسم الثانی الباب الثالث فصل ومن توقیرہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲/ ۴۸
المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتورالحاج فی حجہ الخ دارالکتب العربی بیروت ۴/ ۲۵۳
وقدجاء بعضھم الی زیارتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلم یدخل المدینۃ بل زار من خارجہا ادبا منہ رحمہ اﷲ تعالی مع نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقیل لہ الاتدخل فقال امثلی یدخل بلاد سید الکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لااجد نفسی تقدر علی ذلك اوکماقال ۔ یعنی بعض صالحین زیارت نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے حاضرہوئے توشہرمیں نہ گئے بلکہ باہرسے زیارت کرلیاوریہ ادب تھا اس مرحوم کا اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھاس پرکسی نے کہا اندرنہیں چلتےکہاکیامجھ سا داخل ہوسیدالکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شہرمیں میں اپنے میں اتنی قدرت نہیں پاتا ہوں۔
مثال۶:اسی میں ہے:
قال لی سید ابومحمد رحمہ اﷲ تعالی لما ان دخل مسجدالمدینۃ ماجلست فی المسجد الالجلوس فی الصلوۃ وکلاما ھذامعناہ ومازلت واقفا ھناك حتی دخل الرکب۔ یعنی مجھ سے میرے سردارابومحمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا میں جب مسجد مدینہ طیبہ میں داخل ہوا جب تك رہا مسجد شریف میں قعدہ نمازکے سوانہ بیٹھا اوربرابر حضورمیں کھڑارہاجب تك قافلہ نے کوچ کیا۔
مثال۷:اس کے متصل انہیں امام سے نقل کرتے ہیں:
ولم اخرج الی بقیع ولاغیرہ ولم ازر غیرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکان قدخطر لی ان اخرج الی بقیع الغرقد فقلت الی این اذھبھذاباب اﷲ تعالی المفتوح للسائلین والطالبین والمنکسرین و المضطرین والفقراء والمساکین و میں حضوری چھوڑکر نہ بقیع کوگیانہ کہیں اورگیا نہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سواکسی کی زیارت کیاورایك دفعہ میرے دل میں آیا تھاکہ زیارت بقیع کوجاؤں پھرمیں نے کہاکہاں جاؤں گایہ ہے اﷲ کادروازہ کھلاہواسائلوں اور مانگنے والوں اوردل شکستہ اوربے چاروں اورمسکینوں کے لئے اور وہاں
مثال۶:اسی میں ہے:
قال لی سید ابومحمد رحمہ اﷲ تعالی لما ان دخل مسجدالمدینۃ ماجلست فی المسجد الالجلوس فی الصلوۃ وکلاما ھذامعناہ ومازلت واقفا ھناك حتی دخل الرکب۔ یعنی مجھ سے میرے سردارابومحمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا میں جب مسجد مدینہ طیبہ میں داخل ہوا جب تك رہا مسجد شریف میں قعدہ نمازکے سوانہ بیٹھا اوربرابر حضورمیں کھڑارہاجب تك قافلہ نے کوچ کیا۔
مثال۷:اس کے متصل انہیں امام سے نقل کرتے ہیں:
ولم اخرج الی بقیع ولاغیرہ ولم ازر غیرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکان قدخطر لی ان اخرج الی بقیع الغرقد فقلت الی این اذھبھذاباب اﷲ تعالی المفتوح للسائلین والطالبین والمنکسرین و المضطرین والفقراء والمساکین و میں حضوری چھوڑکر نہ بقیع کوگیانہ کہیں اورگیا نہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سواکسی کی زیارت کیاورایك دفعہ میرے دل میں آیا تھاکہ زیارت بقیع کوجاؤں پھرمیں نے کہاکہاں جاؤں گایہ ہے اﷲ کادروازہ کھلاہواسائلوں اور مانگنے والوں اوردل شکستہ اوربے چاروں اورمسکینوں کے لئے اور وہاں
حوالہ / References
المدخل فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالاولین والآخرین دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۴
المدخل فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالاولین والآخرین دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۹
المدخل فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالاولین والآخرین دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۹
لیس ثم من یقصد مثلہ فمن عمل علی ھذا ظفر ونجح بالمامول والمطلوب اوکماقال ۔ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علی وسلم کے سواکون ہے جس کا قصدکیاجائےفرماتے ہیں پس جوکوئی اس پرعمل کرے گا ظفرپائے گا اورمرادومطلب ہاتھ آئے گا۔
اب فقیر سرکارقادریہ غفراﷲ تعالی لہ بھی اس فتوے کوانہیں مبارك لفظوں پرختم کرتاہے کہ جوکوئی اس پرعمل کرے گا ظفرپائے گا اورمراد ومطلب ہاتھ آئے گا ان شاء اﷲ تعالی۔اوراپنے رب کریم تباك وتعالی کے فضل سے امیدرکھتاہے کہ یہ فتوی نہ صرف قیام ہی میں بیان کافی وبرہان شافی ہو بلکہ بحول اﷲ تعالی اکثرمسائل نزاعیہ میں قول فیصل پر مشعل ہدایت ہو جائےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی خیرخلقہ وسراج افقہ سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعینامینامینامین!
نقل عبارات ومواہیر فضلائے بدایوں وعلمائے رامپور وغیرہم
ذلك الجواب العجاب ھوالصواب لاریب فیہ ولاارتیاب فللہ درالمجیب المثاب حیث اتی بالتحقیق الحق فیما اجاب۔
الحمدﷲ مااجاب بہ مولینا المحقق واستاذنا المدقق دام فضلہ ومدظلہ فھو الحق فلافریہ وخلاف باطل بلامریہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
images nhai hain
اب فقیر سرکارقادریہ غفراﷲ تعالی لہ بھی اس فتوے کوانہیں مبارك لفظوں پرختم کرتاہے کہ جوکوئی اس پرعمل کرے گا ظفرپائے گا اورمراد ومطلب ہاتھ آئے گا ان شاء اﷲ تعالی۔اوراپنے رب کریم تباك وتعالی کے فضل سے امیدرکھتاہے کہ یہ فتوی نہ صرف قیام ہی میں بیان کافی وبرہان شافی ہو بلکہ بحول اﷲ تعالی اکثرمسائل نزاعیہ میں قول فیصل پر مشعل ہدایت ہو جائےولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی خیرخلقہ وسراج افقہ سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعینامینامینامین!
نقل عبارات ومواہیر فضلائے بدایوں وعلمائے رامپور وغیرہم
ذلك الجواب العجاب ھوالصواب لاریب فیہ ولاارتیاب فللہ درالمجیب المثاب حیث اتی بالتحقیق الحق فیما اجاب۔
الحمدﷲ مااجاب بہ مولینا المحقق واستاذنا المدقق دام فضلہ ومدظلہ فھو الحق فلافریہ وخلاف باطل بلامریہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
images nhai hain
حوالہ / References
المدخل فصل فی الکلام علٰی زیارۃ سیدالاولین والآخرین دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۹
فللہ درالمجیب المثاب حیث افاد واطاب واجاد واباد اھل الجحود المستحقین للعقاب۔
المجیب مصیب ویثاب والجواب صحیح وصواب۔ حررہ الفقیر الحقیر المظفر مطیع رسول اﷲ القادر المدعو بمحمد عبدالمقتدر العثمانی القادری الحنفی غفراﷲ تعالی بجاہ نبیہ الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔
اصاب من اجاب حررہ الفقیر عبدالقادر انصاری
الجواب صواب
قداصاب من اجاب
صح الجواب بلاارتیاب
نعم الجواب وجد التحقیق للتصدیق والصواب ولعمری النھار لعروۃ وثقی لطالب الرشدوتستغنی بھا عما سوی کیف لاومن لہ ادنی بصیرۃ وروی فانہ یریھا احدی من تفاریق العصار یھتدی بھا الی صراط مستقیم و طریق السوی ومن جعل اﷲ لہ نور عین بصیرۃ یکحل الانصاف والتقی فانہ لاحمد رضا الفاضل المجیب الذی بذل جھدہ للحق وسعی وجمع الادلۃ واوفی واتی بتحقیق مرضی واستقصی حتی صار بمقابلۃ اھل الضلال ومصداقا للقول الدائرالمثل السائر لکل فرعون موسی وکذلك یحق اﷲ الحق ویقذفہ علی الباطل فیہ معہ فاذاھو زاھق واھوی ومن کان فی ھذہ الوریقۃ اعمی فھو
المجیب مصیب ویثاب والجواب صحیح وصواب۔ حررہ الفقیر الحقیر المظفر مطیع رسول اﷲ القادر المدعو بمحمد عبدالمقتدر العثمانی القادری الحنفی غفراﷲ تعالی بجاہ نبیہ الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔
اصاب من اجاب حررہ الفقیر عبدالقادر انصاری
الجواب صواب
قداصاب من اجاب
صح الجواب بلاارتیاب
نعم الجواب وجد التحقیق للتصدیق والصواب ولعمری النھار لعروۃ وثقی لطالب الرشدوتستغنی بھا عما سوی کیف لاومن لہ ادنی بصیرۃ وروی فانہ یریھا احدی من تفاریق العصار یھتدی بھا الی صراط مستقیم و طریق السوی ومن جعل اﷲ لہ نور عین بصیرۃ یکحل الانصاف والتقی فانہ لاحمد رضا الفاضل المجیب الذی بذل جھدہ للحق وسعی وجمع الادلۃ واوفی واتی بتحقیق مرضی واستقصی حتی صار بمقابلۃ اھل الضلال ومصداقا للقول الدائرالمثل السائر لکل فرعون موسی وکذلك یحق اﷲ الحق ویقذفہ علی الباطل فیہ معہ فاذاھو زاھق واھوی ومن کان فی ھذہ الوریقۃ اعمی فھو
فی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا وربکم اعلم۔العبدمحمد سلامت اﷲ
___________________
رسالہ
اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تہامۃ
ختم ہوا۔
______________
images
___________________
رسالہ
اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تہامۃ
ختم ہوا۔
______________
images
مسئلہ ۲۶۶:ازباکپور مرغی محال مسجد حافظ محمدجعفرصاحب مرسلہ پیش امام صاحب ۱۰/رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیام مولود شریف فرض ہے یاواجب ہے یاسنت عمروکہتاہے کہ قیام مولودشریف ہاتھ باندھ کرہوناچاہئے اورزیدکہتاہے کہ ہاتھ چھوڑ کرہوناچاہئے توبتلائیے کہ کس کی بات سچ ہے
الجواب:
ہاتھ باندھ کرکھڑے ہونابہترہے جیساحاضری روضہ انور کے وقت حکم ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یقف کمایقف فی الصلوۃ۔ ایسے کھڑا ہوجیسے نمازمیں کھڑاہوتاہے(ت)
اسی طرح لباب وشرح لباب واختیار شرح مختار وغیرہا کتب معتبرہ میں ہے۔قیام مجلس مبارك مستحب ہے اورمجلس کھڑی ہو توسنتاورترك میں فتنہیاالزام وہابیت ہوتوواجب کمافی ردالمحتار فی قیام الناس بعضھم لبعض (جیساکہ رد المحتار میں بعض لوگوں کے بعض کی خاطر کھڑے ہونے کے بارے میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: ازحسیب والہ ضلع بجنور تحصیل دہانپور مرسلہ منظور ۱۱شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل جومیلاد مروج ہے مع زیب وزینت واہتماماس کے متعلق شرع شریف میں کیاحکم ہے
الجواب:
مسلمانوں کو جمع کرکے ولادت اقدس وفضائل علیہ حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سناناولادت اقدس کی خوشی کرنی اس میں حاضرین کوکھانا یاشیرینی تقسیم کرنی بلاشبہہ جائزومستحب ہےاورجائززینت فی نفسہ جائزاوربہ نیت فرحت ولادت شریفہ وتعظیم ذکرانور قطعا مستحب۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" (اوراپنے رب کی نعمت کاخوب چرچاکرو۔ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیام مولود شریف فرض ہے یاواجب ہے یاسنت عمروکہتاہے کہ قیام مولودشریف ہاتھ باندھ کرہوناچاہئے اورزیدکہتاہے کہ ہاتھ چھوڑ کرہوناچاہئے توبتلائیے کہ کس کی بات سچ ہے
الجواب:
ہاتھ باندھ کرکھڑے ہونابہترہے جیساحاضری روضہ انور کے وقت حکم ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یقف کمایقف فی الصلوۃ۔ ایسے کھڑا ہوجیسے نمازمیں کھڑاہوتاہے(ت)
اسی طرح لباب وشرح لباب واختیار شرح مختار وغیرہا کتب معتبرہ میں ہے۔قیام مجلس مبارك مستحب ہے اورمجلس کھڑی ہو توسنتاورترك میں فتنہیاالزام وہابیت ہوتوواجب کمافی ردالمحتار فی قیام الناس بعضھم لبعض (جیساکہ رد المحتار میں بعض لوگوں کے بعض کی خاطر کھڑے ہونے کے بارے میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: ازحسیب والہ ضلع بجنور تحصیل دہانپور مرسلہ منظور ۱۱شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل جومیلاد مروج ہے مع زیب وزینت واہتماماس کے متعلق شرع شریف میں کیاحکم ہے
الجواب:
مسلمانوں کو جمع کرکے ولادت اقدس وفضائل علیہ حضورسرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سناناولادت اقدس کی خوشی کرنی اس میں حاضرین کوکھانا یاشیرینی تقسیم کرنی بلاشبہہ جائزومستحب ہےاورجائززینت فی نفسہ جائزاوربہ نیت فرحت ولادت شریفہ وتعظیم ذکرانور قطعا مستحب۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" (اوراپنے رب کی نعمت کاخوب چرچاکرو۔ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب المناسك مطلب زیارۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۶۵
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ قبیل فی البیع وآخر فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶،۲۷۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ قبیل فی البیع وآخر فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶،۲۷۵
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
اورفرماتاہے: "وذکرہم بایىم اللہ " (اورانہیں اﷲ کے دن یاد دلاؤ۔ت)اورفرماتاہے:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " ۔ تم فرماؤ اﷲ ہی کے فضل اوراس کی رحمتاوراسی پرچاہئے کہ خوشی کریں۔(ت)
اورفرماتاہے:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق "۔ واﷲ تعالی اعلم۔ تم فرماؤ کس نے حرام کی اﷲ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاك رزق۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
_________________
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " ۔ تم فرماؤ اﷲ ہی کے فضل اوراس کی رحمتاوراسی پرچاہئے کہ خوشی کریں۔(ت)
اورفرماتاہے:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق "۔ واﷲ تعالی اعلم۔ تم فرماؤ کس نے حرام کی اﷲ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاك رزق۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
_________________
تصوف وطریقت وآداب بیعت وپیری ومریدی
مسئلہ ۲۶۸:(سوال مفقودہے)
الجواب:
"نہ وہ باتیں"خیال میں ہیں نہ یہی یادکہ میں نے کیابتائے تھے مگر اس وقت جونظرکی اب بھی بہ نگاہ اولیں تین ہی مطلب ذہن میں آئے۔عجب نہیں کہ یہ وہی مطالب ہوں جو اس وقت فکرمیں آئے تھے یاغیرہوں۔
شاعر"ارباب تمکین"سے نہیں جوایك حال پرمستقیم ومستقررہے بلکہ"اصحاب تلوین"میں سے ہے جن پرواردات مختلفہ مقتضی قضایائے مختلفہ واردہوتے ہیں وہ اپنے ان احوال گوناگوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔
"میخواہم"(میں خواہش کرتاہوں۔ت)توظاہر ہے کہ عشق میں"اہل بدایت"کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کے پابندہوتے ہیں اور ان کی خواہش یہی کہ حبیب کودیکھیں اوررقیب کونہ دیکھیں۔
اور"نمی خواہم"(میں خواہش نہیں کرتا۔ت)تین مقامات مختلفہ سے ناشیئ ہے جن میں ایك دوسرے سے اعلی ہیں۔
مسئلہ ۲۶۸:(سوال مفقودہے)
الجواب:
"نہ وہ باتیں"خیال میں ہیں نہ یہی یادکہ میں نے کیابتائے تھے مگر اس وقت جونظرکی اب بھی بہ نگاہ اولیں تین ہی مطلب ذہن میں آئے۔عجب نہیں کہ یہ وہی مطالب ہوں جو اس وقت فکرمیں آئے تھے یاغیرہوں۔
شاعر"ارباب تمکین"سے نہیں جوایك حال پرمستقیم ومستقررہے بلکہ"اصحاب تلوین"میں سے ہے جن پرواردات مختلفہ مقتضی قضایائے مختلفہ واردہوتے ہیں وہ اپنے ان احوال گوناگوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔
"میخواہم"(میں خواہش کرتاہوں۔ت)توظاہر ہے کہ عشق میں"اہل بدایت"کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کے پابندہوتے ہیں اور ان کی خواہش یہی کہ حبیب کودیکھیں اوررقیب کونہ دیکھیں۔
اور"نمی خواہم"(میں خواہش نہیں کرتا۔ت)تین مقامات مختلفہ سے ناشیئ ہے جن میں ایك دوسرے سے اعلی ہیں۔
مقام اول:ادنی مقام"جوشش عشق ورشك ہے"یعنی دل کی خواہش تویہی ہے کہ حبیب بے خلش رقیب جلوہ گرہومگر"حبیب ورقیب"شدت مصاحبت سے متلازم ہیں کہ ایك کادیکھنا دوسرے کے دیکھنے اورایك کانہ دیکھنا دوسرے کے نہ دیکھنے کومستلزم ہے۔ نظربراں جب رشك جوش کرتاہےحبیب کو دیکھنانہیں چاہتاکہ اس کی رویت بے رویت رقیب نہ ہوگی۔اوررویت رقیب ہرگزمنظورنہیںاورجب عشق جوش زن ہوتاہےرقیب کودیکھنانہیں چاہتاکہ اس کانہ دیکھنا حبیب کے نہ دیکھنے کومستلزم ہوگا۔اوردیدارحبیب سے محرومی گوارانہیں۔
مقام دوم:اوسط"مقام فنائے ارادہ درارادہ محبوب"یعنی خواہش دل تو وہی کہ حبیب بے رقیب متجلی ہومگرحبیب کاارادہ اس کاعکس ہے وہ چاہتاہے کہ میں اسے نہ دیکھوں اوررقیب کودیکھوں کہ غیظ پاؤں اورمرادنہ پاؤں۔جب فنائے ارادہ فی ارادۃ الحبیب کامقام واردہوتاہے میں اپنی اس خواہش دلی سے درگزرکرتاہوں
میل من سوئے وصال وقصداوسوئے فراق ترك کام خود گرفتم تابرآید کام دوست
(میری رغبت وصال کی طرف اوراس کاارادہ فراق کاہےمیں نے اپنامقصد ترك کردیاتاکہ دوست کامقصد پوراہوجائے۔ت)
فراق ووصل چہ خواہی رضائے دوست طلب کہ حیف باشد ازوغیراوتمنائے
فراق ووصل کیاچاہتاہے دوست کی رضامندی طلب کرکیونکہ اس سے اس کے غیر کی تمناکرناافسوسناك ہوگا۔ت)
مقام سوم:"اعلی مقام فناء فی المحبوب"کہ خود اپنی ذات ہی باقی نہ رہے غیرواضافات ونسبت وتعلقات کہاں سے آئیں۔رقیب کاغیرہونا ظاہراوررویت حبیب کاتصور بھی تصورغیرہے کہ رؤیت تین چیزوں کوچاہتی ہے:رائیمرئیاوروہ تعلق کہ ان دونوں میں ہوتاہےبلکہ حبیب کوجاننابھی بے تصورنفس ممکن نہیں کہ حبیب وہ جس سے محبت ہو۔اورمحبت کوہردوحاشیہ محب ومحبوب واضافت بینہما سے چارہ نہیں۔جب میں ہمہ تن فناء فی المحبوب ہوں تورقیبحبیب و رویت وعدم رویت کو کون سمجھےاورارادہ وخواست کدھرسے آئے۔لاجرم اس وقت ان میں سے کچھ خواہش نہیں رہتی۔
اللھم ارزقنا ھذاالمقام فی رضاك وصل وسلم و بارك علی مصطفاک اے اﷲ! ہمیں اپنی رضامیں یہ مقام عطافرما۔اوراپنے منتخب محبوباس کی آلاصحاب
مقام دوم:اوسط"مقام فنائے ارادہ درارادہ محبوب"یعنی خواہش دل تو وہی کہ حبیب بے رقیب متجلی ہومگرحبیب کاارادہ اس کاعکس ہے وہ چاہتاہے کہ میں اسے نہ دیکھوں اوررقیب کودیکھوں کہ غیظ پاؤں اورمرادنہ پاؤں۔جب فنائے ارادہ فی ارادۃ الحبیب کامقام واردہوتاہے میں اپنی اس خواہش دلی سے درگزرکرتاہوں
میل من سوئے وصال وقصداوسوئے فراق ترك کام خود گرفتم تابرآید کام دوست
(میری رغبت وصال کی طرف اوراس کاارادہ فراق کاہےمیں نے اپنامقصد ترك کردیاتاکہ دوست کامقصد پوراہوجائے۔ت)
فراق ووصل چہ خواہی رضائے دوست طلب کہ حیف باشد ازوغیراوتمنائے
فراق ووصل کیاچاہتاہے دوست کی رضامندی طلب کرکیونکہ اس سے اس کے غیر کی تمناکرناافسوسناك ہوگا۔ت)
مقام سوم:"اعلی مقام فناء فی المحبوب"کہ خود اپنی ذات ہی باقی نہ رہے غیرواضافات ونسبت وتعلقات کہاں سے آئیں۔رقیب کاغیرہونا ظاہراوررویت حبیب کاتصور بھی تصورغیرہے کہ رؤیت تین چیزوں کوچاہتی ہے:رائیمرئیاوروہ تعلق کہ ان دونوں میں ہوتاہےبلکہ حبیب کوجاننابھی بے تصورنفس ممکن نہیں کہ حبیب وہ جس سے محبت ہو۔اورمحبت کوہردوحاشیہ محب ومحبوب واضافت بینہما سے چارہ نہیں۔جب میں ہمہ تن فناء فی المحبوب ہوں تورقیبحبیب و رویت وعدم رویت کو کون سمجھےاورارادہ وخواست کدھرسے آئے۔لاجرم اس وقت ان میں سے کچھ خواہش نہیں رہتی۔
اللھم ارزقنا ھذاالمقام فی رضاك وصل وسلم و بارك علی مصطفاک اے اﷲ! ہمیں اپنی رضامیں یہ مقام عطافرما۔اوراپنے منتخب محبوباس کی آلاصحاب
والہ واولیائہ وکل من والاک۔امین واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ اوراپنے ہرمحب پردرودوسلام وبرکت نازل فرماآمین۔اﷲ تعالی خوب جانتاہے اوراس کاعلم اتم واحکم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۹: ازتریا ضلع بریلی مسئولہ امدادحسین صاحب ۹محرم الحرام ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدارصاحب کاسلسلہ بیعت کرنے کاہے یانہیں تھایاتوڑدیاکیاان کے خاندان میں بیعت ہونارواہے یانہیں کل وجہ تسمیہ اس سلسلہ کی تحریرفرمائیے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ الشریف اکابراولیائے عظام سے ہیںمگر ولی ہونے کو یہ ضرورنہیں کہ اس سے سلسلہ بیعت بھی جاری ہو۔ہزاروں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم میں صرف چندصاحبوں سے سلسلہ بیعت ہےباقی کسی صحابی سے نہیں۔پھر ان کی ولایت کو کس کی ولایت پہنچ سکتی ہے۔اس خاندان کاجوسلسلہ اکابرمیں چلاآیاہے وہ محض تبرك کے لئے ہے۔جیسے حدیث شریف کاسلسلہباقی افاضہ کااجراء اس سے نہ ہواجیساکہ حضرت سیدنامیرعبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی نے سبع سنابل شریف میں فرمایا:توجسے بیعت صحیحہ سلاسل نافذہ منفقہ میں ہو وہ اپنے مشائخ سے تبرکا اس سلسلہ کی بھی سندلے لے توحرج نہیںاوراسی پراکتفاءاورخصوصا اہل فسق جواکثر اس سلسلہ کاغلط نام بدنام کرنے والے ہیں ان سے رجوعیہ باطل اورممنوع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۰۲۷۱: محمدجعفر خاں الملقب بہ عارف ابوالحسینی قادری محلہ چودھری بدایوں ۱۹صفر ۱۳۲۸ھ
اس مسئلہ میں علمائے دین وطریقت کیاارشاد فرماتے ہیں کہ مثلا زید نے خاندان قادریہ میں بیعت کی اورچندروز کے بعد پیر نے خلافت بھی مرحمت فرمائیپھربعد چندروز کے جامہ طریقت بھی پہنایا یعنی فقیربنایامگر اس کے بزرگ خاندان مداریہ سے بیعت کرتے چلے آئے ہیں اورنیز زیدکاباپ سرگروہ بھی تھا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زید کوخاندان مداریہ کاطالب ہونا ضروری ہے۔دریافت طلب یہ ہے کہ زیدکو اپنے بزرگوں کے خاندان کے طالب ہونے کی ضرورت ہے یانہیں
دوم طالب اورمرید میں کیافرق ہے:
الجواب:
اولان سے طالب ہونا ہرگز کچھ ضرورنہیںبلکہ جب افضل السلاسل سلسلہ علیہعالیہ
مسئلہ ۲۶۹: ازتریا ضلع بریلی مسئولہ امدادحسین صاحب ۹محرم الحرام ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مدارصاحب کاسلسلہ بیعت کرنے کاہے یانہیں تھایاتوڑدیاکیاان کے خاندان میں بیعت ہونارواہے یانہیں کل وجہ تسمیہ اس سلسلہ کی تحریرفرمائیے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ الشریف اکابراولیائے عظام سے ہیںمگر ولی ہونے کو یہ ضرورنہیں کہ اس سے سلسلہ بیعت بھی جاری ہو۔ہزاروں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم میں صرف چندصاحبوں سے سلسلہ بیعت ہےباقی کسی صحابی سے نہیں۔پھر ان کی ولایت کو کس کی ولایت پہنچ سکتی ہے۔اس خاندان کاجوسلسلہ اکابرمیں چلاآیاہے وہ محض تبرك کے لئے ہے۔جیسے حدیث شریف کاسلسلہباقی افاضہ کااجراء اس سے نہ ہواجیساکہ حضرت سیدنامیرعبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی نے سبع سنابل شریف میں فرمایا:توجسے بیعت صحیحہ سلاسل نافذہ منفقہ میں ہو وہ اپنے مشائخ سے تبرکا اس سلسلہ کی بھی سندلے لے توحرج نہیںاوراسی پراکتفاءاورخصوصا اہل فسق جواکثر اس سلسلہ کاغلط نام بدنام کرنے والے ہیں ان سے رجوعیہ باطل اورممنوع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۰۲۷۱: محمدجعفر خاں الملقب بہ عارف ابوالحسینی قادری محلہ چودھری بدایوں ۱۹صفر ۱۳۲۸ھ
اس مسئلہ میں علمائے دین وطریقت کیاارشاد فرماتے ہیں کہ مثلا زید نے خاندان قادریہ میں بیعت کی اورچندروز کے بعد پیر نے خلافت بھی مرحمت فرمائیپھربعد چندروز کے جامہ طریقت بھی پہنایا یعنی فقیربنایامگر اس کے بزرگ خاندان مداریہ سے بیعت کرتے چلے آئے ہیں اورنیز زیدکاباپ سرگروہ بھی تھا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زید کوخاندان مداریہ کاطالب ہونا ضروری ہے۔دریافت طلب یہ ہے کہ زیدکو اپنے بزرگوں کے خاندان کے طالب ہونے کی ضرورت ہے یانہیں
دوم طالب اورمرید میں کیافرق ہے:
الجواب:
اولان سے طالب ہونا ہرگز کچھ ضرورنہیںبلکہ جب افضل السلاسل سلسلہ علیہعالیہ
صحیحہمتصلہقادریہطیبہ میں شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پرفخربیعت نصیب ہوچکاہے تو اسے دوسری طرف اصلا توجہ وپریشان نظر ہی نہ چاہئے۔
دوم:مریدغلام ہےاورطالب وہ کہ غیبت شیخ میں بضرورت یا باوجودشیخ کسی مصلحت سےجسے شیخ جانتاہے یامریدشیخ غیرشیخ سے استفادہ کرے۔اسے جوکچھ اس سے حاصل ہووہ بھی فیض شیخ ہی جانےورنہ دودر کبھی فلاح نہیں پاتا۔اولیائے کرام فرماتے ہیں:
لایفلح مریدبین شیخین۔ جومریددوپیروں کے درمیان ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔(ت)
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشکسون و رجلا سلما لرجل ہل یستویان مثلا الحمد للہ بل اکثرہم لا یعلمون ﴿۲۹﴾" ۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی ایك مثال بیان فرماتاہےایك غلام میں کئی بدخو آقاشریك ہوں اورایك نرے ایك مولی کا۔کیاان دونوں کا حال ایك ساہے۔سب خوبیاں اﷲ کوہیں بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت کاسوال کرتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۲: ازکیمپ صدربازار بریلی مسئولہ امام علی شاہ صاحب ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ
بخدمت شریف جناب مخدوم ومکرم بندہ مولوی صاحب مدظلہ العالیالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔بعدادائے آداب و تسلیمات کے عرض رساہوںگزارش یہ ہے کہ ایك جگہ ایساجھگڑا آپڑا ہواہے وہ یہ ہے کہ خاندان غوثیہ والے ایك صاحب یعنی خاندان محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کے صاحب نے مداریہ خاندان والوں سے کہاکہ ہماراخاندان بڑاہےتم لوگ ہمارے یہاں بیعت ہو۔انہوں نے کہایعنی مداریہ والوں نے جواب دیاکہ ہماراخاندان تمہارے خاندان سے اچھانہیں ہے اوراچھابھی ہے توخدا کے یہاں خاندان نہ پوچھاجائے گا بلکہ عمل پوچھاجائے گا۔خاندان غوثیہ والوں نے ثبوت پیش کیاکہ حضرت غوث پاك کے بارے میں جناب رسول مقبول صلی اﷲ
دوم:مریدغلام ہےاورطالب وہ کہ غیبت شیخ میں بضرورت یا باوجودشیخ کسی مصلحت سےجسے شیخ جانتاہے یامریدشیخ غیرشیخ سے استفادہ کرے۔اسے جوکچھ اس سے حاصل ہووہ بھی فیض شیخ ہی جانےورنہ دودر کبھی فلاح نہیں پاتا۔اولیائے کرام فرماتے ہیں:
لایفلح مریدبین شیخین۔ جومریددوپیروں کے درمیان ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔(ت)
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشکسون و رجلا سلما لرجل ہل یستویان مثلا الحمد للہ بل اکثرہم لا یعلمون ﴿۲۹﴾" ۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی ایك مثال بیان فرماتاہےایك غلام میں کئی بدخو آقاشریك ہوں اورایك نرے ایك مولی کا۔کیاان دونوں کا حال ایك ساہے۔سب خوبیاں اﷲ کوہیں بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت کاسوال کرتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۲: ازکیمپ صدربازار بریلی مسئولہ امام علی شاہ صاحب ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ
بخدمت شریف جناب مخدوم ومکرم بندہ مولوی صاحب مدظلہ العالیالسلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔بعدادائے آداب و تسلیمات کے عرض رساہوںگزارش یہ ہے کہ ایك جگہ ایساجھگڑا آپڑا ہواہے وہ یہ ہے کہ خاندان غوثیہ والے ایك صاحب یعنی خاندان محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کے صاحب نے مداریہ خاندان والوں سے کہاکہ ہماراخاندان بڑاہےتم لوگ ہمارے یہاں بیعت ہو۔انہوں نے کہایعنی مداریہ والوں نے جواب دیاکہ ہماراخاندان تمہارے خاندان سے اچھانہیں ہے اوراچھابھی ہے توخدا کے یہاں خاندان نہ پوچھاجائے گا بلکہ عمل پوچھاجائے گا۔خاندان غوثیہ والوں نے ثبوت پیش کیاکہ حضرت غوث پاك کے بارے میں جناب رسول مقبول صلی اﷲ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۲۹
علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میراقدم تیری گردن پراورتیرا قدم کل اولیاء اﷲ کی گردن پر ہوگا۔مداریوں نے دریافت کیاکہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی گردن پربھی اورحضرات حسنین علیہما السلام خواجہ حسن کی گردن پربھی رحمۃ اﷲ علیہ وحضرت خواجہ حبیب عجمی اورمدارصاحب کی گردن پرتھایانہیں خاندان غوثیہ والوں نے جواب دیاکہ مدارصاحب کی گردن پرقدم تھا۔ اورجوصاحبان پہلے گزرچکے ہیں ان پرنہیں خاندان مداریہ والوں نے جواب دیا:ہماراخانوادہ طیفوریہ دوئم اورتمہارا خانوادہ طوسیہ ہفتم ہےہمارے خاندان سے تمہاراخاندان بعد میں ہوا۔اورمداریہ کہتے ہیں کہ مدارکارتبہ غوث سے اعلی ہے۔جناب کو تکلیف دے کرعرض ہے کہ مدارکے کیامعنی ہیں اورجو درجہ مداریہ ہے اس کی کیاتشریح ہے اوران دونوں خاندان والے صاحبان میں کون حق پرہیں اورکون سے نہیں سوآپ کے اورکوئی عالم صاحب اس مرحلہ کوطے نہیں کرسکتے بلکہ یہاں تك نوبت ہوگئی ہردوجانب سے آمادہ فساد پرہوجائیں توعجب نہیں۔ماشاء اﷲ آپ عالم باعمل ہیں اورجملہ خاندان عالیہ سے سندیافتہ ہیں۔اہل علم میں فساد ہونا موجب سبکی کاہے۔اوردونوں خاندان والے جناب کے قول کوصادق ہونے پرمضبوط ہیں اورکہتے ہیں کہ جومولوی صاحب فرمائیں گے وہ ہم دونوں صاحبان کومنظورہے۔اﷲ پاك جناب کوہم سیہ کاروں پرہمیشہ ہمیشہ سلامت اورقائم رکھے۔حضورکے ہونے سے جملہ صاحبان اہل آلام کوہرطرح کی تقویت حاصل ہے۔زیادہ حد ادب!
الجواب:
عوام کوایسے امورمیں بحث کرناسخت مضرت کاباعث ہوتاہے۔مبادا کسی طرف گستاخی ہوجائے توعیاذا باﷲ سخت تباہی و بربادیبلکہ اس کی شامت سے زوال ایمان کااندیشہ ہےحضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس اﷲ سرہ العزیز ضروراکابر اولیاء سے ہیں مگر اس میں شك نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کامرتبہ بہت اعلی وافضل ہے۔غوث اپنے دور میں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔اورہمارے حضورامام حسن عسکری رضی اﷲ تعالی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ کی تشریف آوری تك تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء اﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاك ہے۔امام ابوالحسن علی بن یوسف بن حمریر لخمی بن شطنوفی قدس سرہ العزیز نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں بسند مسلسل دواکابر اولیاء اﷲ معاصرین حضورغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ حضرت سیدی احمد ابن ابی بکرحریمی وحضرت ابوعمروعثمان ابن صریفینی قدس اﷲ اسرارہما سے دوحدیثیں روایت فرمائیں۔
الجواب:
عوام کوایسے امورمیں بحث کرناسخت مضرت کاباعث ہوتاہے۔مبادا کسی طرف گستاخی ہوجائے توعیاذا باﷲ سخت تباہی و بربادیبلکہ اس کی شامت سے زوال ایمان کااندیشہ ہےحضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس اﷲ سرہ العزیز ضروراکابر اولیاء سے ہیں مگر اس میں شك نہیں کہ حضورپرنور سیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کامرتبہ بہت اعلی وافضل ہے۔غوث اپنے دور میں تمام اولیائے عالم کاسردارہوتاہے۔اورہمارے حضورامام حسن عسکری رضی اﷲ تعالی عنہ کے بعد سے سیدنا امام مہدی رضی اﷲ تعالی عنہ کی تشریف آوری تك تمام عالم کے غوث اورسب غوثوں کے غوث اور سب اولیاء اﷲ کے سردارہیں اور ان سب کی گردن پران کاقدم پاك ہے۔امام ابوالحسن علی بن یوسف بن حمریر لخمی بن شطنوفی قدس سرہ العزیز نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں بسند مسلسل دواکابر اولیاء اﷲ معاصرین حضورغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ حضرت سیدی احمد ابن ابی بکرحریمی وحضرت ابوعمروعثمان ابن صریفینی قدس اﷲ اسرارہما سے دوحدیثیں روایت فرمائیں۔
پہلی کی سندیہ ہے:اخبرنا ابوالمعالی صالح ابن احمد بن علی البغدادی المالکی سنۃ احدی وسبعین وستمائۃ قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن البغدادی المعروف بالخفاف قال اخبرنا شیخنا الشیخ ابوالسعود احمدبن ابی بکرن الحریمی بہ سنۃ ثمانین وخمسامئۃ۔ اوردوسری سندیہ ہے:اخبرنا ابوالمعالی قال اخبرنا شیخ ابومحمد عبداللطیف البغدادی المعروف الصریفینی ۔اور ان دونوں حدیثوں کامتن یہ ہے کہ دونوں حضرات کرام نے فرمایا:
واﷲ مااظھر اﷲ تعالی ولایظھر الی الوجود مثل الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی خدا کی قسم اﷲ تعالی نے حضورسیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے مانندنہ کوئی ولی عالم میں ظاہرکیانہ ظاہرکرے۔
نیزامام ممدوح کتاب موصوف میں حضرت سیدی ابومحمدبن عبدبصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کوفرماتے سنا:
مااوصل اﷲ تعالی ولیا الی مقام الاوکان الشیخ عبد القادر اعلاہ ولاسقی اﷲ حبیبا کاسا من حبہ الاوکان الشیخ عبدالقادر اھناہولاوھب اﷲ لمقرب حالا الا وکان الشیخ عبدالقادر اجلہوقد اودعہ اﷲ تعالی سرا من اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء ومااتخذ اﷲ ولیا کان اویکون الا وھو متادب یعنی اﷲ تعالی نے جس ولی کوکسی مقام تك پہنچایا شیخ عبد القادر کامقام اس سے اعلی ہےاور جس پیارے کو اپنی محبت کاجام پلایاشیخ عبدالقادر کے لئے اس سے بڑھ کرخوشگوار جام ہے اور جس مقرب کوکوئی حال عطافرمایا شیخ عبدالقادر کا حال اس سے اعظم ہے۔اﷲ تعالی نے اپنے اسرار سے وہ راز ان میں رکھاہے جس کے سبب ان کوجمہور اولیاء پرسبقت ہے۔ اوراﷲ تعالی کے جتنے ولی ہوگئے یاہوں گے قیامت تك سب شیخ عبدالقادر کا
واﷲ مااظھر اﷲ تعالی ولایظھر الی الوجود مثل الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی خدا کی قسم اﷲ تعالی نے حضورسیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے مانندنہ کوئی ولی عالم میں ظاہرکیانہ ظاہرکرے۔
نیزامام ممدوح کتاب موصوف میں حضرت سیدی ابومحمدبن عبدبصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدنا خضرعلیہ السلام کوفرماتے سنا:
مااوصل اﷲ تعالی ولیا الی مقام الاوکان الشیخ عبد القادر اعلاہ ولاسقی اﷲ حبیبا کاسا من حبہ الاوکان الشیخ عبدالقادر اھناہولاوھب اﷲ لمقرب حالا الا وکان الشیخ عبدالقادر اجلہوقد اودعہ اﷲ تعالی سرا من اسرارہ سبق بہ جمہور الاولیاء ومااتخذ اﷲ ولیا کان اویکون الا وھو متادب یعنی اﷲ تعالی نے جس ولی کوکسی مقام تك پہنچایا شیخ عبد القادر کامقام اس سے اعلی ہےاور جس پیارے کو اپنی محبت کاجام پلایاشیخ عبدالقادر کے لئے اس سے بڑھ کرخوشگوار جام ہے اور جس مقرب کوکوئی حال عطافرمایا شیخ عبدالقادر کا حال اس سے اعظم ہے۔اﷲ تعالی نے اپنے اسرار سے وہ راز ان میں رکھاہے جس کے سبب ان کوجمہور اولیاء پرسبقت ہے۔ اوراﷲ تعالی کے جتنے ولی ہوگئے یاہوں گے قیامت تك سب شیخ عبدالقادر کا
حوالہ / References
بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
بہجۃ الاسرار ذکرفصول من کلام بشیئ من عجائب احوالہ الخ مصطفی البابی مصر ص۲۵
معہ الی یوم القیمۃ۔ ادب کریں گے۔
یہ شہادتیں ہیں حضرت خضراور حضرات اولیاء کرام کیعلیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام
بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم کہ ہواہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا
جوولی قبل تھے یابعد ہوئے یاہوں گے سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا
واﷲ تعالی اعلم علمہ احکم۔
مسئلہ ۲۷۳: ازکانپور محلہ پرانی سبزی منڈی کی مسجد متصل چوك مرسلہ عبدالرشید ۸شعبان ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی درویش کہتاہے کہ پیرکی شکل پرمتشکل ہوکرخداوند تعالی مریدسے ملاقات کرتاہے اوردلیل کتاب"انتباہ"شاہ ولی اﷲ صاحب کی لاتاہے۔مضمون کتاب ہذا یہ ہے کہ:
حضرت سلطان الموحدین وبرہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضیخاں صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنین می فرمودن کہ صورت مرشد کہ ظاہرا دیدہ می شود مشاہدہ حق سبحانہ وتعالی است بے پردہ آب وگل کہ ان اﷲ خلق ادم علی صورۃ الرحمن ومن رانی فقدرأی الحق
گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں
ذات حق راآشکارا اندروخنداں ببیں
اکثرعلماء دریں عبارت مذبورا مخالف ہستندبادلیل معتبرہ عندالشرع شریفہ ہرچہ حق باشد۔بینواتوجروا۔ حضرات گرامی مرتبتموحدوں کے بادشاہعاشقوں کی برہانمتکلمین کی حجتشیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضی خاںصاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیزیوں فرماتے ہیں کہ مرشد کی صورت جوظاہری طورپردیکھی جاتی ہے وہ حق سبحانہ وتعالی کامشاہدہ ہے۔آب وگل کے پردہ کے بغیرکیونکہ اﷲ تعالی نے آدم کو رحمن کی صورت پرپیدافرمایا ہے جس نے مجھے دیکھا بیشك اس نے حق کودیکھا۔"اگرتو تجلی ذات کا خواستگار ہے توانسان کی صورت دیکھ۔ذات حق کو اس میں واضح طورپر ہنستاہوا دیکھ"۔اکثرعلمائے کرام عبارت مذکورہ کے مخالف ہیںجوکچھ حق ہے معتبردلیل شرعی کے ساتھ بیان فرمائیںاجردئیے جاؤگے۔(ت)
یہ شہادتیں ہیں حضرت خضراور حضرات اولیاء کرام کیعلیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام
بقسم کہتے ہیں شاہان صریفین وحریم کہ ہواہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا
جوولی قبل تھے یابعد ہوئے یاہوں گے سب ادب رکھتے ہیں دل میں مرے آقا تیرا
واﷲ تعالی اعلم علمہ احکم۔
مسئلہ ۲۷۳: ازکانپور محلہ پرانی سبزی منڈی کی مسجد متصل چوك مرسلہ عبدالرشید ۸شعبان ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی درویش کہتاہے کہ پیرکی شکل پرمتشکل ہوکرخداوند تعالی مریدسے ملاقات کرتاہے اوردلیل کتاب"انتباہ"شاہ ولی اﷲ صاحب کی لاتاہے۔مضمون کتاب ہذا یہ ہے کہ:
حضرت سلطان الموحدین وبرہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضیخاں صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنین می فرمودن کہ صورت مرشد کہ ظاہرا دیدہ می شود مشاہدہ حق سبحانہ وتعالی است بے پردہ آب وگل کہ ان اﷲ خلق ادم علی صورۃ الرحمن ومن رانی فقدرأی الحق
گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں
ذات حق راآشکارا اندروخنداں ببیں
اکثرعلماء دریں عبارت مذبورا مخالف ہستندبادلیل معتبرہ عندالشرع شریفہ ہرچہ حق باشد۔بینواتوجروا۔ حضرات گرامی مرتبتموحدوں کے بادشاہعاشقوں کی برہانمتکلمین کی حجتشیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضی خاںصاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیزیوں فرماتے ہیں کہ مرشد کی صورت جوظاہری طورپردیکھی جاتی ہے وہ حق سبحانہ وتعالی کامشاہدہ ہے۔آب وگل کے پردہ کے بغیرکیونکہ اﷲ تعالی نے آدم کو رحمن کی صورت پرپیدافرمایا ہے جس نے مجھے دیکھا بیشك اس نے حق کودیکھا۔"اگرتو تجلی ذات کا خواستگار ہے توانسان کی صورت دیکھ۔ذات حق کو اس میں واضح طورپر ہنستاہوا دیکھ"۔اکثرعلمائے کرام عبارت مذکورہ کے مخالف ہیںجوکچھ حق ہے معتبردلیل شرعی کے ساتھ بیان فرمائیںاجردئیے جاؤگے۔(ت)
حوالہ / References
بہجۃ الاسرار ذکرابومحمد القاسم بن عبدالبصری مصطفی البابی مصر ص۱۷۳
حدائق بخشش وصل سوم درحسن مفاخرت ازسرکار قادریت رضی اﷲ عنہ مطبوعہ آرام باغ کراچی حصہ اول ص۶
انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ آرمی برقی پریس دہلی ص۹۲ و۹۳
حدائق بخشش وصل سوم درحسن مفاخرت ازسرکار قادریت رضی اﷲ عنہ مطبوعہ آرام باغ کراچی حصہ اول ص۶
انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ آرمی برقی پریس دہلی ص۹۲ و۹۳
الجواب:
قول مذکور گستاخی اوردریددہنی ہےاورعبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمیعبارت کامطلب یہ ہے کہ لم یقضہ عــــــہ و قضیضہمظاہرومجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
فی الافاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔ آفاق میں اورخودتم میں نشانیاں ہیں توکیاتم دیکھتے نہیںمیں کسی شیئ کونہیں دیکھتا مگر اس کے ساتھ میں اﷲ کودیکھتا ہوں۔(ت)
مظہراول واعظم واجل واتم واکمل کہ مظہر ذات ہے ذات اقدس حضورانورسیدالکائنات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات ہے باقی تمام عالم حسب استعداد اس پرتواصلی کا پرتو درپرتو بواسطہ ووسائط ہے۔شیخ جس میں حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانوربصفت ہدایت وارشاد وتربیت متجلی ہے اور عالم ملکوت عالم ملك سے ازکی واصطفی واجلی وابہی واحلی ہےتو اس سے مشاہدہ ایك زیادہ صاف ومجلی آئینہ سے مشاہدہ ہے ورنہ متجلی شکل وتشکل سے منزہ ومتعالی ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴: ازمقام موضع سرنیا ں ضلع بریلی بتاریخ ۱۸شوال ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سائل دریافت کرتاہے پیرومرشد کاکیاحق ہے مرید کے روپیہ واسباب میں کتنا مرشد کو دے اورکتنا مریداپنے خرچ میں لائے۔وہ بات تحریرفرمائی جائے جس سبب سے پیرکے حق سے چھوٹےتاکہ قیامت میں مواخذہ نہ ہواوراگرپیرومرشد کی عدولی کرےاورجیساکہ مریدکو حکم ہوا اس پرعمل نہ کرےایسے مرید کے لئے کیاحکم ہے اورقیامت میں مواخذہ ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
پیرواجبی پیرہوچاروں شرائط کاجامع ہووہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانائب ہے۔اس کے حقوق حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حقوق کے پرتوہیں جس سے پورے طورپر
عــــــہ:کل کاکل(المنجد) عبدالمنان اعظمی۔
قول مذکور گستاخی اوردریددہنی ہےاورعبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمیعبارت کامطلب یہ ہے کہ لم یقضہ عــــــہ و قضیضہمظاہرومجالی حضرت خالق عزوجل جلالہ ہے۔
فی الافاق وانفسکم افلاتبصرونo مارأیت شیئا الاورأیت اﷲ فیہ۔ آفاق میں اورخودتم میں نشانیاں ہیں توکیاتم دیکھتے نہیںمیں کسی شیئ کونہیں دیکھتا مگر اس کے ساتھ میں اﷲ کودیکھتا ہوں۔(ت)
مظہراول واعظم واجل واتم واکمل کہ مظہر ذات ہے ذات اقدس حضورانورسیدالکائنات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات ہے باقی تمام عالم حسب استعداد اس پرتواصلی کا پرتو درپرتو بواسطہ ووسائط ہے۔شیخ جس میں حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانوربصفت ہدایت وارشاد وتربیت متجلی ہے اور عالم ملکوت عالم ملك سے ازکی واصطفی واجلی وابہی واحلی ہےتو اس سے مشاہدہ ایك زیادہ صاف ومجلی آئینہ سے مشاہدہ ہے ورنہ متجلی شکل وتشکل سے منزہ ومتعالی ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴: ازمقام موضع سرنیا ں ضلع بریلی بتاریخ ۱۸شوال ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سائل دریافت کرتاہے پیرومرشد کاکیاحق ہے مرید کے روپیہ واسباب میں کتنا مرشد کو دے اورکتنا مریداپنے خرچ میں لائے۔وہ بات تحریرفرمائی جائے جس سبب سے پیرکے حق سے چھوٹےتاکہ قیامت میں مواخذہ نہ ہواوراگرپیرومرشد کی عدولی کرےاورجیساکہ مریدکو حکم ہوا اس پرعمل نہ کرےایسے مرید کے لئے کیاحکم ہے اورقیامت میں مواخذہ ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
پیرواجبی پیرہوچاروں شرائط کاجامع ہووہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانائب ہے۔اس کے حقوق حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حقوق کے پرتوہیں جس سے پورے طورپر
عــــــہ:کل کاکل(المنجد) عبدالمنان اعظمی۔
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ الاستخفاف بالشریعۃ کفر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۱۳
عہدہ برا ہونا محال ہےمگراتنافرض ولازم ہے کہ اپنی حدقدرت تك ان کے اداکرنے میں عمربھر ساعی رہے۔پیرکی جوتقصیر رہے گی اﷲ ورسول معاف فرماتے ہیں پیرصادق کہ ان کانائب ہے یہ بھی معاف کرے گاکہ یہ تو ان کی رحمت کے ساتھ ہے۔ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ مرشد کے حق باپ کے حق سے زائد ہیں۔اورفرمایا ہے کہ باپ مٹی کے جسم کاباپ ہے اور پیرروح کاباپ ہےاورفرمایاہے کہ کوئی کام اس کے خلاف مرضی کرنا مریدکوجائزنہیں۔اس کے سامنے ہنسنامنع ہےاس کی غیبت میں اس کے بیٹھنے کی جگہ بیٹھنامنع ہےاس کی اولاد کی تعظیم فرض ہے اگرچہ بے جاحال پرہوںاس کے کپڑوں کی تعظیم فرض ہےاس کے بچھونے کی تعظیم فرض ہےاس کی چوکھٹ کی تعظیم فرض ہےاس سے اپنا کوئی حال چھپانے کی اجازت نہیں زاپنے جان ومال کو اسی کاسمجھے۔
پیرکونہ چاہئے کہ بلاضرورت شرعی مریدوں کومالی تکلیف دےانہیں جائزنہیں کہ اگر اسے حاجت میں دیکھیں تو اس سے اپنامال دریغ رکھیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس کی ملك اوربندہ بے دام سمجھےاس کے احکام کوجہاں تك بلاتاویل صریح خلاف حکم خدانہ ہوں حکم خداورسول جانے۔وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم(اورتوفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے اور اﷲ خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۷۵: ازموضع نیشٹھ ضلع امرتسر ڈاك خانہ خاص متصل اسٹیشن اٹاری
مسئولہ سید رشید الدین صاحب عرف سیدمحمدعبدالرشید بریلوی ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صاحب ارشاد مرفوع الاجازت شیخ کااپنی زوجہ کوبیعت کرناجائز ہے یانہیں اورجوشخص کہے کہ اپنی منکوحہ کوبیعت کرناجائزنہیںبلکہ حرام بتاتاہےکیونکہ زوجہ بیٹی بن جاتی ہے اورنکاح نہیں رہتا بلکہ فسخ ہوجاتاہے اورنیزیہ دلیل بھی بیان کرتاہے کہ یہ فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ اورنہ کسی نے خلفائے راشدین میں سے ایساکیا اورنہ کسی سلف صالحین میں سے اپنی زوجہ کو بیعت کیا ہے۔پس یہ قول اس شخص کاصحیح ہے یاغلط ومردود بینوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب اﷲ سے بیان کرو۔حساب والے دن اجر پاؤ گے۔ت)
پیرکونہ چاہئے کہ بلاضرورت شرعی مریدوں کومالی تکلیف دےانہیں جائزنہیں کہ اگر اسے حاجت میں دیکھیں تو اس سے اپنامال دریغ رکھیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس کی ملك اوربندہ بے دام سمجھےاس کے احکام کوجہاں تك بلاتاویل صریح خلاف حکم خدانہ ہوں حکم خداورسول جانے۔وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم(اورتوفیق اﷲ تعالی ہی کی طرف سے ہے اور اﷲ خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۷۵: ازموضع نیشٹھ ضلع امرتسر ڈاك خانہ خاص متصل اسٹیشن اٹاری
مسئولہ سید رشید الدین صاحب عرف سیدمحمدعبدالرشید بریلوی ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صاحب ارشاد مرفوع الاجازت شیخ کااپنی زوجہ کوبیعت کرناجائز ہے یانہیں اورجوشخص کہے کہ اپنی منکوحہ کوبیعت کرناجائزنہیںبلکہ حرام بتاتاہےکیونکہ زوجہ بیٹی بن جاتی ہے اورنکاح نہیں رہتا بلکہ فسخ ہوجاتاہے اورنیزیہ دلیل بھی بیان کرتاہے کہ یہ فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ اورنہ کسی نے خلفائے راشدین میں سے ایساکیا اورنہ کسی سلف صالحین میں سے اپنی زوجہ کو بیعت کیا ہے۔پس یہ قول اس شخص کاصحیح ہے یاغلط ومردود بینوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب اﷲ سے بیان کرو۔حساب والے دن اجر پاؤ گے۔ت)
الجواب:
زوجہ کومریدکرنا جائزہےتمام امت انبیائے کرام علیہم الصلوہ والسلام کی مریدہی ہوتی ہے پھروہ انہیں میں سے تزوج فرماتے ہیں۔مریدحقیقۃ اولادنہیں ہوتاوہ ایك دینی علاقہ ہے جو صرف پیربلکہ استاذعلم دین کوبھی شاگرد پرحاصل ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں تمہیں تعلیم دیتاہوں۔(ت)
اورزوجہ کومسائل دینی تعلیم کرنے کازوج کوحکم ہے۔
قال تعالی "قوا انفسکم واہلیکم نارا" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ خود اپنی ذاتوں کواور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
مسئلہ ۲۷۶: مسئولہ محمدتقی صاحب از راندیر ضلع خاندیس شرقی برمکان قاضی صاحب ۲جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
کرامت اورفیض میں کچھ فرق ہے یانہیں
الجواب:
کرامت خرق عادت ہے کہ ولی سے صادرہواورفیض وبرکات اورنورانیت کادوسرے پرالقافرمانا ہے۔یہ القاء اگربرخلاف عادت ہو توفیض بھی ہے اورکرامت بھی۔جیسے حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك نصرانی کے گھرتشریف لے جاکر اسے سوتے سے جگاکر کلمہ پڑھنے کاحکم دیا اس نے فورا پڑھ لیا۔فرمایا:فلاں جگہ کاقطب مرگیا ہے ہم نے تجھے قطب کیا۔نیزایك بارایك نصرانی کوکلمہ پڑھاکراسی وقت ابدال میں سے کردیا۔اوراگرموافق عادت تربیت وریاضات ومجاہدات سے ہوتوفیض ہےکرامت نہیں۔اوراگرخلاف عادت غیرالقائے مذکورہو جیسے حضوررضی اﷲ تعالی عنہ نے بارہارمردے کوزندہزندہ کو مردہ فرمادیا۔توکرامت ہے فیض نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
زوجہ کومریدکرنا جائزہےتمام امت انبیائے کرام علیہم الصلوہ والسلام کی مریدہی ہوتی ہے پھروہ انہیں میں سے تزوج فرماتے ہیں۔مریدحقیقۃ اولادنہیں ہوتاوہ ایك دینی علاقہ ہے جو صرف پیربلکہ استاذعلم دین کوبھی شاگرد پرحاصل ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں تمہیں تعلیم دیتاہوں۔(ت)
اورزوجہ کومسائل دینی تعلیم کرنے کازوج کوحکم ہے۔
قال تعالی "قوا انفسکم واہلیکم نارا" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ خود اپنی ذاتوں کواور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
مسئلہ ۲۷۶: مسئولہ محمدتقی صاحب از راندیر ضلع خاندیس شرقی برمکان قاضی صاحب ۲جمادی الاولی ۱۳۳۳ھ
کرامت اورفیض میں کچھ فرق ہے یانہیں
الجواب:
کرامت خرق عادت ہے کہ ولی سے صادرہواورفیض وبرکات اورنورانیت کادوسرے پرالقافرمانا ہے۔یہ القاء اگربرخلاف عادت ہو توفیض بھی ہے اورکرامت بھی۔جیسے حضورسیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك نصرانی کے گھرتشریف لے جاکر اسے سوتے سے جگاکر کلمہ پڑھنے کاحکم دیا اس نے فورا پڑھ لیا۔فرمایا:فلاں جگہ کاقطب مرگیا ہے ہم نے تجھے قطب کیا۔نیزایك بارایك نصرانی کوکلمہ پڑھاکراسی وقت ابدال میں سے کردیا۔اوراگرموافق عادت تربیت وریاضات ومجاہدات سے ہوتوفیض ہےکرامت نہیں۔اوراگرخلاف عادت غیرالقائے مذکورہو جیسے حضوررضی اﷲ تعالی عنہ نے بارہارمردے کوزندہزندہ کو مردہ فرمادیا۔توکرامت ہے فیض نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب کراہیۃ استقبال القبلہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳
القرآن الکریم ۶۶ /۶
القرآن الکریم ۶۶ /۶
مسئلہ ۲۷۷: ازکوہ شملہ لکڑبازار کوٹھی دورلی مرسلہ عبدالرحیم خاں ۱۸/ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ
مخدوم ومکرم اعلی حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب زادمجدہسلام مسنون نیازمندانہ کے بعد عرض خدمت ہے زید کہتاہے بیعت غائبانہ کوئی شیئ نہیںاورزیدجناب والا کامعتقد ہے۔لہذا بیعت غائبانہ جس حدیث شریف سے ثابت ہو جناب والا تحریرفرماکر اورمہرسے مزین فرماکر مشکورفرمائیں تاکہ زید کی تسلی کردی جائے۔اوروہ اگرحاضری سے معذورہے تو آنحضرت سے غائبانہ بیعت کاشرف حاصل کرے۔اس کاجواب اس پتہ پر روانہ فرمائیے۔کوہ شملہ بمعرفت امام جامع مسجد عبدالرحیم کوملے۔
الجواب:
" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم " ۔ وہ جوتم سے بیعت کرتے ہیں تووہ اﷲ سے بیعت کرتے ہیں اﷲ کاہاتھ ان کے ہاتھ پرہے۔
اورفرماتاہے:
" لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ"
بے شك اﷲ راضی ہوامسلمانوں سے جب وہ تم سے بیعت کرتے ہیں درخت کے نیچے۔
صحیح بخاری شریف میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے جب یہ بیعت ہوئی ہے امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ غائب تھےبیعت حدیبیہ میں ہوئی اوروہ مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کوفرمایا یہ عثمان کاہاتھ ہےپھراسے اپنے دوسرے دست مبارك پرمارکر ان کی طرف سے بیعت فرمائی اورفرمایا یہ عثمان کی بیعت ہےلفظ حدیث یہ ہیں:واما تغییبہ عن بیعت الرضوان فانہ لوکان احد اعز ببطن مکۃ من عثمان بن عفان لبعثہ مکانہ فبعث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عثمان وکانت بیعت الرضوان بعد ماذھب عثمان الی مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ الیمنی ھذہ یدعثمان فضرب بھا علی یدہ وقال ھذہ
مخدوم ومکرم اعلی حضرت مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب زادمجدہسلام مسنون نیازمندانہ کے بعد عرض خدمت ہے زید کہتاہے بیعت غائبانہ کوئی شیئ نہیںاورزیدجناب والا کامعتقد ہے۔لہذا بیعت غائبانہ جس حدیث شریف سے ثابت ہو جناب والا تحریرفرماکر اورمہرسے مزین فرماکر مشکورفرمائیں تاکہ زید کی تسلی کردی جائے۔اوروہ اگرحاضری سے معذورہے تو آنحضرت سے غائبانہ بیعت کاشرف حاصل کرے۔اس کاجواب اس پتہ پر روانہ فرمائیے۔کوہ شملہ بمعرفت امام جامع مسجد عبدالرحیم کوملے۔
الجواب:
" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم " ۔ وہ جوتم سے بیعت کرتے ہیں تووہ اﷲ سے بیعت کرتے ہیں اﷲ کاہاتھ ان کے ہاتھ پرہے۔
اورفرماتاہے:
" لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ"
بے شك اﷲ راضی ہوامسلمانوں سے جب وہ تم سے بیعت کرتے ہیں درخت کے نیچے۔
صحیح بخاری شریف میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے جب یہ بیعت ہوئی ہے امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ غائب تھےبیعت حدیبیہ میں ہوئی اوروہ مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کوفرمایا یہ عثمان کاہاتھ ہےپھراسے اپنے دوسرے دست مبارك پرمارکر ان کی طرف سے بیعت فرمائی اورفرمایا یہ عثمان کی بیعت ہےلفظ حدیث یہ ہیں:واما تغییبہ عن بیعت الرضوان فانہ لوکان احد اعز ببطن مکۃ من عثمان بن عفان لبعثہ مکانہ فبعث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عثمان وکانت بیعت الرضوان بعد ماذھب عثمان الی مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ الیمنی ھذہ یدعثمان فضرب بھا علی یدہ وقال ھذہ
لعثمان۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸۲۷۹: ازموضع لچھمی پورڈاکخانہ سگرام پورتحصیل بسولی ضلع بدایوں مسئولہ احمدحسین محرر روزدوشنبہ ۱۵ذوالحجہ ۱۳۳۳ھ
جناب فیض مآبفیض بخشفیاض زماںمولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب دام افضالہبعد سلام علیك دست بستہ کے عرض خدمت میں یہ ہے کہ:
(۱)جیسااورخاندانوں میں سلسلہ پیری مریدی جاری ہے اسی طرح سے جناب حضرت"شاہ مدار"صاحب کاہے یانہیں
(۲)خدام زیارت مکنپوری اپنے تین خاندان خلفاء وجدی"شاہ مدار"صاحب سے بتلاتے ہیں۔لہذا ان سے بیعت ہوناجائزہے یانہیں کیونکہ فی زمانہ چارہی خاندان کی بیعت سنی اور خاندان کی نہیں سنیاورنیزیہ بھی کہتے ہیں کہ مرید حضرت شاہ مدارصاحب مریدحضرت محبوب سبحانی قطب ربانی غوث الاعظم سے زیادہ ہیںیہ امرتصدیق طلب ہےلہذا تصدیعہ وہ کہ براہ غرباء پروری اوربندہ نوازی حکم سے اطلاع بخشی جائے۔
الجواب:
حضورسیدناغوث الاعظم علیہ الرضوان سیدالاولیاء ہیںحضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ السریر کوان سے افضل کہناجہل وطغیان وافتراء وبہتان ہے۔بیعت کے لئے لازم ہے کہ پیرچارشرطوں کاجامع ہو:
(۱)سنی صحیح العقیدہ
(۲)صاحب سلسلہ
(۳)غیرفاسق معلن
(۴)اتناعلم دین رکھنے والاکہ اپنی ضروریات کاحکم کتاب سے نکال سکے۔
جہان ان شرطوں میں سے کوئی شرط کم ہے بیعت جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۰: ازبنارس چھاؤنی محلہ ڈیٹوری تھانہ سکرور مسئولہ عبدالوہاب سہ شنبہ ۲۰/صفر۱۳۳۲ھ
کسی کوجبرا مریدکرنااورنابالغوں کوبغیر ان کے والدین کی اجازت کے دست بیع کرناجائز
مسئلہ ۲۷۸۲۷۹: ازموضع لچھمی پورڈاکخانہ سگرام پورتحصیل بسولی ضلع بدایوں مسئولہ احمدحسین محرر روزدوشنبہ ۱۵ذوالحجہ ۱۳۳۳ھ
جناب فیض مآبفیض بخشفیاض زماںمولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب دام افضالہبعد سلام علیك دست بستہ کے عرض خدمت میں یہ ہے کہ:
(۱)جیسااورخاندانوں میں سلسلہ پیری مریدی جاری ہے اسی طرح سے جناب حضرت"شاہ مدار"صاحب کاہے یانہیں
(۲)خدام زیارت مکنپوری اپنے تین خاندان خلفاء وجدی"شاہ مدار"صاحب سے بتلاتے ہیں۔لہذا ان سے بیعت ہوناجائزہے یانہیں کیونکہ فی زمانہ چارہی خاندان کی بیعت سنی اور خاندان کی نہیں سنیاورنیزیہ بھی کہتے ہیں کہ مرید حضرت شاہ مدارصاحب مریدحضرت محبوب سبحانی قطب ربانی غوث الاعظم سے زیادہ ہیںیہ امرتصدیق طلب ہےلہذا تصدیعہ وہ کہ براہ غرباء پروری اوربندہ نوازی حکم سے اطلاع بخشی جائے۔
الجواب:
حضورسیدناغوث الاعظم علیہ الرضوان سیدالاولیاء ہیںحضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ السریر کوان سے افضل کہناجہل وطغیان وافتراء وبہتان ہے۔بیعت کے لئے لازم ہے کہ پیرچارشرطوں کاجامع ہو:
(۱)سنی صحیح العقیدہ
(۲)صاحب سلسلہ
(۳)غیرفاسق معلن
(۴)اتناعلم دین رکھنے والاکہ اپنی ضروریات کاحکم کتاب سے نکال سکے۔
جہان ان شرطوں میں سے کوئی شرط کم ہے بیعت جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۰: ازبنارس چھاؤنی محلہ ڈیٹوری تھانہ سکرور مسئولہ عبدالوہاب سہ شنبہ ۲۰/صفر۱۳۳۲ھ
کسی کوجبرا مریدکرنااورنابالغوں کوبغیر ان کے والدین کی اجازت کے دست بیع کرناجائز
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المغازی باب قول اﷲ تعالٰی ان الذین تولوامنکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۲
ہے کہ نہیں فقط
الجواب:
مرید اورجبردونوں متبائن ہیں جمع نہیں ہوسکتے۔مریدی اپنے دل کی ارادت سے ہے نہ کہ دوسرے کے جبرسے۔ایساجبروہ کرتے ہیں جنہیں مریدوں سے کچھ تحصیل کرناہوتاہے یاکثرت مریدین سے اپنی شہرت۔نابالغ اگرناسمجھ ہے توبے اجازت ولی اسے مریدکرنے کے کوئی معنی نہیں۔ہاں تعلیق ارادت ممکن ہے جس کاقبول اس کے عقل وبلوغ پرموقوف رہے گا۔اگر کسی میں رشد کے آثار پائے اورگمان کرے کہ اس کے زمانہ عقل تك شاید اپنی عمروفانہ کرے اور اسے شیخ کی حاجت ہو۔اورزمانہ کی حالت یہ ہے کہ
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہردستے نہ باید داددست
(بہت سے شیطان انسانی شکلوں میں ہیں لہذا ہرکسی کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیناچاہئے۔ت)
ولہذا اسے اپناکرلےاوروہ زمانہ عقل تك پہنچ کر اسے قبول کرلے توبیعت کی تکمیل ہوجائے گی اوراگر عاقل ہے اور اس کی رغبت دیکھے تو مریدکرسکتاہےاجازت والدین کی حاجت نہیں ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۱ و ۲۸۲: ازکلکتہ بڑابازار سوناپٹی کنیش بھگت کاکڑہ ۲۶جمادی الاولی ۱۳۴۰ھ
(۱)ایك شخص ایك آدمی سے مریدہےپہلے وہ کچھ نہیں جانتاتھا اورعلم بھی کچھ نہیں جانتاتھا اب اﷲ تعالی نے اس کوکچھ علم بخشا تووہ دیکھتاہے کہ جوپیرہماراہے وہ ہم سے بھی بدتر ہے افعال میں اور صرف اردو قرآن شریف کے سواکچھ نہیں جانتا ہے۔ اورقرآن شریف بھی دیکھ کرپڑھتاہے اورکچھ نہیں جانتا۔اورکھانا کپڑا بھی مانگ کے چلاتاہے اوررات دنیا کے کاموں میں مشغول رہتاہے۔اب وہ شخص جومریدہواہے اس کاسوال ہے کہ میں دوسرے سے پھر مریدہوجاؤں تواچھا۔توآپ کی کیا رائے ہے اور جس شخص سے پہلے مریدہے وہ خاندانی سیدہے۔اور اس خط کے شامل شجرہ بھی ان کاجاتاہے۔
(۲)ایك شخص گویاکلکتہ میں ہے اور اس کے دل میں ہے کہ میں مرید ہوجاؤں تواچھا۔مگروہ جس سے مرید ہوناچاہتاہے وہ دوسرے ملك میں ہےپھر وہ کس طرح سے مرید ہوسکتاہے
الجواب:
(۱)حسب تصریح ائمہ کرام پیرمیں چارشرطیں لازم ہیں:
الجواب:
مرید اورجبردونوں متبائن ہیں جمع نہیں ہوسکتے۔مریدی اپنے دل کی ارادت سے ہے نہ کہ دوسرے کے جبرسے۔ایساجبروہ کرتے ہیں جنہیں مریدوں سے کچھ تحصیل کرناہوتاہے یاکثرت مریدین سے اپنی شہرت۔نابالغ اگرناسمجھ ہے توبے اجازت ولی اسے مریدکرنے کے کوئی معنی نہیں۔ہاں تعلیق ارادت ممکن ہے جس کاقبول اس کے عقل وبلوغ پرموقوف رہے گا۔اگر کسی میں رشد کے آثار پائے اورگمان کرے کہ اس کے زمانہ عقل تك شاید اپنی عمروفانہ کرے اور اسے شیخ کی حاجت ہو۔اورزمانہ کی حالت یہ ہے کہ
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہردستے نہ باید داددست
(بہت سے شیطان انسانی شکلوں میں ہیں لہذا ہرکسی کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیناچاہئے۔ت)
ولہذا اسے اپناکرلےاوروہ زمانہ عقل تك پہنچ کر اسے قبول کرلے توبیعت کی تکمیل ہوجائے گی اوراگر عاقل ہے اور اس کی رغبت دیکھے تو مریدکرسکتاہےاجازت والدین کی حاجت نہیں ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۱ و ۲۸۲: ازکلکتہ بڑابازار سوناپٹی کنیش بھگت کاکڑہ ۲۶جمادی الاولی ۱۳۴۰ھ
(۱)ایك شخص ایك آدمی سے مریدہےپہلے وہ کچھ نہیں جانتاتھا اورعلم بھی کچھ نہیں جانتاتھا اب اﷲ تعالی نے اس کوکچھ علم بخشا تووہ دیکھتاہے کہ جوپیرہماراہے وہ ہم سے بھی بدتر ہے افعال میں اور صرف اردو قرآن شریف کے سواکچھ نہیں جانتا ہے۔ اورقرآن شریف بھی دیکھ کرپڑھتاہے اورکچھ نہیں جانتا۔اورکھانا کپڑا بھی مانگ کے چلاتاہے اوررات دنیا کے کاموں میں مشغول رہتاہے۔اب وہ شخص جومریدہواہے اس کاسوال ہے کہ میں دوسرے سے پھر مریدہوجاؤں تواچھا۔توآپ کی کیا رائے ہے اور جس شخص سے پہلے مریدہے وہ خاندانی سیدہے۔اور اس خط کے شامل شجرہ بھی ان کاجاتاہے۔
(۲)ایك شخص گویاکلکتہ میں ہے اور اس کے دل میں ہے کہ میں مرید ہوجاؤں تواچھا۔مگروہ جس سے مرید ہوناچاہتاہے وہ دوسرے ملك میں ہےپھر وہ کس طرح سے مرید ہوسکتاہے
الجواب:
(۱)حسب تصریح ائمہ کرام پیرمیں چارشرطیں لازم ہیں:
حوالہ / References
مثنوی معنوی دفتراول ص۱۲ وگلدسۃ مثنوی معارف نعمانیہ لاہور ص۶۰
اول:سنی صحیح العقیدہ۔
دوم:علم دین بقدرکافی رکھتاہو۔
سوم:کوئی فسق علانیہ نہ کرتاہو۔
چہارم:اس کاسلسلہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك صحیح اتصال سے ملاہو۔
اگرکسی شخص میں ان چاروں میں سے کوئی شرط کم ہے اورناواقفی سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا بعدکوظاہرہواکہ وہ بدمذہب یاجاہل یافاسق یامنقطع السلسلہ ہے تووہ بیعت صحیح نہیںاسے دوسری جگہ مریدہوناچاہئے جہاں یہ چاروں شرطیں جمع ہوں۔
(۲)بیعت بذریعہ خط وکتابت بھی ممکن ہےیہ اسے درخواست لکھے وہ قبول کرے اوراپنے قبول کی اس درخواست دہندہ کواطلاع دے اور اس کے نام کاشجرہ بھی بھیج دےمریدہوگیاکہ اصل ارادت فعل قلب ہے۔والقلم احد اللسانینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(قلم دوزبانوں میں سے ایك زبان ہے۔اوراﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۳: مسئولہ مولانا سیددیدارعلی صاحب الوری اواخر شعبان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ ایسے شخص کے جوفتوی دے ایساکہ جوکوئی خاندان عالیہ قادریہ کواور خاندانوں سے افضل واعلی نہ جانے اورباوجود افضلیت کے پھر دوسرے خاندانوں میں بیعت حاصل کرے وہ ضال اورمضل اورذریت شیطان لعین میں سے ہے۔ایساکہنے والایہ فتوی دینے والا کیساہےبینواتوجروا۔
الجواب:
بلاشبہہ خاندان اقدس قادری تمام خاندانوں سے افضل ہے کہ حضورپرنورسیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ افضل الاولیاء وامام العرفاء وسیدالافراد وقطب ارشاد ہیں۔مگرحاشاﷲ کہ دیگرسلاسل حقہ راشدہ باطل ہوں یاان میں بیعت ناجائزوحرام ہو۔ اس کی نظیربعینہ مذاہب اربعہ اہل حق ہیں۔ہمارے نزدیك مذہب مہذب حنفی افضل المذاہب واضح المذاہب واولہا بالحق ہے مگرحاشا کہ متبعان مذہب ثلثہ باقیہ عیاذاباﷲ ضال ومضل ہیں۔ایساکہنا خودصریح باطل وغلوہے۔والعیاذباﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم(اﷲ تعالی کی پناہ۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
دوم:علم دین بقدرکافی رکھتاہو۔
سوم:کوئی فسق علانیہ نہ کرتاہو۔
چہارم:اس کاسلسلہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك صحیح اتصال سے ملاہو۔
اگرکسی شخص میں ان چاروں میں سے کوئی شرط کم ہے اورناواقفی سے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا بعدکوظاہرہواکہ وہ بدمذہب یاجاہل یافاسق یامنقطع السلسلہ ہے تووہ بیعت صحیح نہیںاسے دوسری جگہ مریدہوناچاہئے جہاں یہ چاروں شرطیں جمع ہوں۔
(۲)بیعت بذریعہ خط وکتابت بھی ممکن ہےیہ اسے درخواست لکھے وہ قبول کرے اوراپنے قبول کی اس درخواست دہندہ کواطلاع دے اور اس کے نام کاشجرہ بھی بھیج دےمریدہوگیاکہ اصل ارادت فعل قلب ہے۔والقلم احد اللسانینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(قلم دوزبانوں میں سے ایك زبان ہے۔اوراﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۳: مسئولہ مولانا سیددیدارعلی صاحب الوری اواخر شعبان ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دربارہ ایسے شخص کے جوفتوی دے ایساکہ جوکوئی خاندان عالیہ قادریہ کواور خاندانوں سے افضل واعلی نہ جانے اورباوجود افضلیت کے پھر دوسرے خاندانوں میں بیعت حاصل کرے وہ ضال اورمضل اورذریت شیطان لعین میں سے ہے۔ایساکہنے والایہ فتوی دینے والا کیساہےبینواتوجروا۔
الجواب:
بلاشبہہ خاندان اقدس قادری تمام خاندانوں سے افضل ہے کہ حضورپرنورسیدناغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ افضل الاولیاء وامام العرفاء وسیدالافراد وقطب ارشاد ہیں۔مگرحاشاﷲ کہ دیگرسلاسل حقہ راشدہ باطل ہوں یاان میں بیعت ناجائزوحرام ہو۔ اس کی نظیربعینہ مذاہب اربعہ اہل حق ہیں۔ہمارے نزدیك مذہب مہذب حنفی افضل المذاہب واضح المذاہب واولہا بالحق ہے مگرحاشا کہ متبعان مذہب ثلثہ باقیہ عیاذاباﷲ ضال ومضل ہیں۔ایساکہنا خودصریح باطل وغلوہے۔والعیاذباﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم(اﷲ تعالی کی پناہ۔اوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۴: ازکانپور مرسلہ مولوی آصف علی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوپتہ یادرخت بوجہ غفلت تسبیح گرجاتاہے یاجانور ذبح کردیاجاتاہے توپھربعداز سزائے غفلت اس کاتسبیح میں مشغول ہوناثابت ہے یانہیں
الجواب:
رب عزوجل فرماتاہے:
" تسبح لہ السموت السبع و الارض و من فیہن و ان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم " ۔ اس کی تسبیح کرتے ہیں آسمان اورزمین اورجوکوئی ان میں ہے اورکوئی چیز ایسی نہیں جواس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگرتم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
یہ کلیہ عامہ جمیع اشیائے عالم کوشامل ہےذی روح ہویابے روح۔اجسام محضہ جن کے ساتھ کوئی روح نباتی بھی متعلق نہیں کہ دائم التسبیح ہیں کہ"ان من شیئ"کے دائرے سے خارج نہیں۔مگر ان کی تسبیح بے منصب ولایت نامسموع نہ مفہوم۔اور وہ اجسام جن سے روح انسی یاملکی یاجنی یا حیوانی یانباتی متعلق ہے ان کی دوتسبیحیں ہیں:ایك تسبیح جسمکہ ا س روح متعلق کے اختیارمیں نہیں وہ اسی"ان من شیئ"کے عموم میں اس کی اپنی ذاتی تسبیح ہے۔دوسری تسبیح روحیہ ارادی اختیاری ہے اور برزخ میں ہرمسلمان کومسموع ومفہوم۔اس تسبیح ارادی میں غفلت کی سزاحیوان ونبات کوقتل وقطع سے دی جاتی ہے۔اوراس کے بعد جب جانور مرجائے یانبات خشك ہوجائے منقطع ہوجاتی ہے ولہذا ائمہ دین نے فرمایاکہ ترگھاس مقابر سے نہ اکھیڑیں فانہ مادام رطبا یسبح ﷲ فیؤنس المیت کہ جب تك وہ ترہے اﷲ تعالی کی تسبیح کرتی ہے تومیت کادل بہلتاہے۔مگرقتل و قطع وموت ویبس کے بعد بھی وہ تسبیح کہ نفس جسم کی تھی جب تك اس کاایك جزو لایتجزی باقی رہے گا منقطع نہ ہوگی کہ " و ان من شیء الا یسبح بحمدہ" (اورکوئی چیزنہیں جواسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے۔ت)اسے روح سے تعلق نہ تھاکہ تعلق روح نہ رہنے سے منقطع ہو۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوپتہ یادرخت بوجہ غفلت تسبیح گرجاتاہے یاجانور ذبح کردیاجاتاہے توپھربعداز سزائے غفلت اس کاتسبیح میں مشغول ہوناثابت ہے یانہیں
الجواب:
رب عزوجل فرماتاہے:
" تسبح لہ السموت السبع و الارض و من فیہن و ان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم " ۔ اس کی تسبیح کرتے ہیں آسمان اورزمین اورجوکوئی ان میں ہے اورکوئی چیز ایسی نہیں جواس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگرتم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
یہ کلیہ عامہ جمیع اشیائے عالم کوشامل ہےذی روح ہویابے روح۔اجسام محضہ جن کے ساتھ کوئی روح نباتی بھی متعلق نہیں کہ دائم التسبیح ہیں کہ"ان من شیئ"کے دائرے سے خارج نہیں۔مگر ان کی تسبیح بے منصب ولایت نامسموع نہ مفہوم۔اور وہ اجسام جن سے روح انسی یاملکی یاجنی یا حیوانی یانباتی متعلق ہے ان کی دوتسبیحیں ہیں:ایك تسبیح جسمکہ ا س روح متعلق کے اختیارمیں نہیں وہ اسی"ان من شیئ"کے عموم میں اس کی اپنی ذاتی تسبیح ہے۔دوسری تسبیح روحیہ ارادی اختیاری ہے اور برزخ میں ہرمسلمان کومسموع ومفہوم۔اس تسبیح ارادی میں غفلت کی سزاحیوان ونبات کوقتل وقطع سے دی جاتی ہے۔اوراس کے بعد جب جانور مرجائے یانبات خشك ہوجائے منقطع ہوجاتی ہے ولہذا ائمہ دین نے فرمایاکہ ترگھاس مقابر سے نہ اکھیڑیں فانہ مادام رطبا یسبح ﷲ فیؤنس المیت کہ جب تك وہ ترہے اﷲ تعالی کی تسبیح کرتی ہے تومیت کادل بہلتاہے۔مگرقتل و قطع وموت ویبس کے بعد بھی وہ تسبیح کہ نفس جسم کی تھی جب تك اس کاایك جزو لایتجزی باقی رہے گا منقطع نہ ہوگی کہ " و ان من شیء الا یسبح بحمدہ" (اورکوئی چیزنہیں جواسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی نہ بولے۔ت)اسے روح سے تعلق نہ تھاکہ تعلق روح نہ رہنے سے منقطع ہو۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۴۴
ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنائز مطلب فی وضع الجدید ونحوالآس علی القبور داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶
القرآن الکریم ۱۷ /۴۴
ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنائز مطلب فی وضع الجدید ونحوالآس علی القبور داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶
القرآن الکریم ۱۷ /۴۴
مسئلہ ۲۸۵: مرسلہ عبدالستاربن اسمعیل شہرگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ یکشنبہ ۹شعبان ۱۳۳۵ھ
مریدہونا واجب ہے یاسنت نیزمریدکیوں ہواکرتے ہیں مرشد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیاکیافوائدحاصل ہوتے ہیں
الجواب الملفوظ
مریدہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اتصال مسلسل۔تفسیرعزیزی دیکھو آیہ کریمہ:
" صرط الذین انعمت علیہم۬۬" راستہ ان کاجن پرتونے انعام کیا۔(ت)
میں اس کی طرف ہدایت ہےیہاں تك فرمایاگیا:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطن۔ جس کاکوئی پیرنہیں اس کاپیرشیطان ہے۔(ت)
صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگرانتساب باقی رہا تونظروالے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظرنہیں وہ نزع میں قبر میں حشرمیں اس کے فوائد دیکھیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۶: مسئولہ عبدالعزیز انصاری ازاٹاوہ شنبہ ۲۹شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وعرفائے اہل یقین اس مسئلہ میں کہ زیدشیخ وقت نے اپنے بیٹے عمرو کوامورفقرمیں اپنا خلیفہ نہیں کیا اورنہ اجازت مرید کرنے کی دیعمرونے بعد وفات اپنے والد زیدکے بوجہ نہ پانے خرقہ فقرواجازت کے ان کے ایك خلیفہ نصیر سے اجازت خلافت حاصل کی تھی مگرجب کسی کو مریدکیا تواپنے باپ زیدکے نام سے کیااپنے پیر اجازت کانام شجرہ لکھنا نہیں معمول رکھا۔یہ طریقہ عمروکامطا بق کتب اہل طریقت وطریقہ مشائخ عظام جائزہوایانہیں پھرعمرو نے اپنے بیٹے خالد کو اپنے حین حیات خرقہ دیا جس کوخالدنے کچھ عرصہ کے بعد یہ کہہ کرواپس کیاکہ میں نہیں لوں گااورنہ کبھی خالد نے عمروکی زندگی بھرتجدید اجازت وخلافت کی بابت کچھ تذکرہ کیاالبتہ عمرو نے اپنے مرض وصال میں قریب انتقال اپنی تسبیح وکتب وظائف وغیرہ ایك دوسرے شخص بکرکوجواس کااہل تھامع اجازت و خلافت دے دی اوراپنے مریدین کوبھی اسی کے سپردکیا مگر اپنے بیٹے خالد کوبوجہ اس کے نااہل ہونے وخرقہ واپس کرنے کے کچھ نہیں دیالیکن بعد وفات عمرو کے خالد نے خودبخود اس کے خرقہ کو
مریدہونا واجب ہے یاسنت نیزمریدکیوں ہواکرتے ہیں مرشد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیاکیافوائدحاصل ہوتے ہیں
الجواب الملفوظ
مریدہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اتصال مسلسل۔تفسیرعزیزی دیکھو آیہ کریمہ:
" صرط الذین انعمت علیہم۬۬" راستہ ان کاجن پرتونے انعام کیا۔(ت)
میں اس کی طرف ہدایت ہےیہاں تك فرمایاگیا:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطن۔ جس کاکوئی پیرنہیں اس کاپیرشیطان ہے۔(ت)
صحت عقیدت کے ساتھ سلسلہ صحیح متصلہ میں اگرانتساب باقی رہا تونظروالے تو اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں جنہیں نظرنہیں وہ نزع میں قبر میں حشرمیں اس کے فوائد دیکھیں گے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۶: مسئولہ عبدالعزیز انصاری ازاٹاوہ شنبہ ۲۹شعبان ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وعرفائے اہل یقین اس مسئلہ میں کہ زیدشیخ وقت نے اپنے بیٹے عمرو کوامورفقرمیں اپنا خلیفہ نہیں کیا اورنہ اجازت مرید کرنے کی دیعمرونے بعد وفات اپنے والد زیدکے بوجہ نہ پانے خرقہ فقرواجازت کے ان کے ایك خلیفہ نصیر سے اجازت خلافت حاصل کی تھی مگرجب کسی کو مریدکیا تواپنے باپ زیدکے نام سے کیااپنے پیر اجازت کانام شجرہ لکھنا نہیں معمول رکھا۔یہ طریقہ عمروکامطا بق کتب اہل طریقت وطریقہ مشائخ عظام جائزہوایانہیں پھرعمرو نے اپنے بیٹے خالد کو اپنے حین حیات خرقہ دیا جس کوخالدنے کچھ عرصہ کے بعد یہ کہہ کرواپس کیاکہ میں نہیں لوں گااورنہ کبھی خالد نے عمروکی زندگی بھرتجدید اجازت وخلافت کی بابت کچھ تذکرہ کیاالبتہ عمرو نے اپنے مرض وصال میں قریب انتقال اپنی تسبیح وکتب وظائف وغیرہ ایك دوسرے شخص بکرکوجواس کااہل تھامع اجازت و خلافت دے دی اوراپنے مریدین کوبھی اسی کے سپردکیا مگر اپنے بیٹے خالد کوبوجہ اس کے نااہل ہونے وخرقہ واپس کرنے کے کچھ نہیں دیالیکن بعد وفات عمرو کے خالد نے خودبخود اس کے خرقہ کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱ /۷
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ الحسینی ص۷۸ والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ الحسینی ص۷۸ والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱
پہن کراپنے والد کے نام سے مریدکرنا شروع کردیااور اسی پرعامل رہے۔یہ عمل خالد کابلحاظ کتب معتبرہ اہل تصوف درست تھایانہیں جیساکہ اس کامعمول تھاموافق کتب مع اہل طریقت جواب ہوناچاہئے۔خالدنے اپنے بیٹے نذیرکواپنی زندگی میں اپنا خرقہ دیا(جوبمطابق تحریربالاناجائزہوناچاہئے تھا)اب نذیراپنے مریدین کواپنے باپ خالد اورداداعمرو کے نام سے مریدکرنے کامعمول رکھتاہے اورشجرہ میں بھی انہیں دونوں کانام لکھاجاتاہے حالانکہ دونوں غیرمجازتھےآیا یہ طریقہ نذیرکاجائزہے یانا جائز جبکہ عمرو کوخلافت واجازت اپنے باپ زیدسے نہ تھی توعمرو وخالد ونذیران سب کایہ فعل وعمل بروئے طریقت ناروا ہونا چاہئے یانہیں امید کہ کتب معتبرہ سے تحقیق فرماکران تینوں امورکاجواب مفصل عنایت ہو۔اﷲ تعالی آپ کوجزائے خیر دے۔
الجواب المکتوب
صورت مستفسرہ میں خالد ونذیردونوں محض باطل پرہیں اوران کے ہاتھ پربیعت ناجائزاورنادانستہ کی ہوتواس سے رجوع واجب۔حضرت قدسی منزلت سیدنا میرعبدالواحدصاحب بلگرامی قدس سرہ السامی کتاب مستطاب سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
اے برادر! ازپیری ومریدی رسمے واسمے بیش نماندہ است وآں رسم واسم نیزمبنی بچند شرائط می داں کہ بے آں شرائط اصلا پیری ومریدی درست نیست۔امانخست ازشرائط پیری یکے۱ آنست کہ پیرمسلك صحیح داشتہ باشددوم۲ ازشرائط پیری آنست کہ پیردرادائے حق شریعت قاصرومتہاون نباشد۔ سوم۳ ازشرائط پیری آنست کہ پیرراعقائد درست بودموافق مذہب سنت وجماعت پس ایں رسمے کہ ازپیری ومریدی ماندہ است بے ایں سہ شرائط اصلا درست نیست وایں ہرسہ شرائط رابیان مختصر واضح کنم اما شرط اول کہ مسلك صحیح است مریدصادق راتفحص اے بھائی! پیری ومریدی کی محض رسم اورنام باقی رہا گیاہے اس سے زائد کچھ نہیںاس نام اوررسم کوبھی چندشرائط پرمبنی سمجھ کر ان شرائط کے بغیرپیری ومریدی بالکل درست نہیں۔ پیری کی اولیں شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ پیرکامسلك صحیح ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ پیر حقوق شرع کی ادائیگی میں کوتاہی اورسستی کرنے والا نہ ہو۔تیسری شرط یہ ہے کہ پیر کاعقیدہ صحیح اور مذہب اہل سنت وجماعت کے مطابق ہو۔ چنانچہ یہ رسمی پیری ومریدی ان تین شرائط کے بغیر ہرگز درست نہیں۔ان تینوں شرطوں کی مختصر بیان کے ساتھ وضاحت کرتاہوں۔پہلی شرط کہ پیرکامسلك صحیح ہو۔سچے مریدکوصحیح سلسلہ کی چھان بین کرنی چاہئے
الجواب المکتوب
صورت مستفسرہ میں خالد ونذیردونوں محض باطل پرہیں اوران کے ہاتھ پربیعت ناجائزاورنادانستہ کی ہوتواس سے رجوع واجب۔حضرت قدسی منزلت سیدنا میرعبدالواحدصاحب بلگرامی قدس سرہ السامی کتاب مستطاب سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
اے برادر! ازپیری ومریدی رسمے واسمے بیش نماندہ است وآں رسم واسم نیزمبنی بچند شرائط می داں کہ بے آں شرائط اصلا پیری ومریدی درست نیست۔امانخست ازشرائط پیری یکے۱ آنست کہ پیرمسلك صحیح داشتہ باشددوم۲ ازشرائط پیری آنست کہ پیردرادائے حق شریعت قاصرومتہاون نباشد۔ سوم۳ ازشرائط پیری آنست کہ پیرراعقائد درست بودموافق مذہب سنت وجماعت پس ایں رسمے کہ ازپیری ومریدی ماندہ است بے ایں سہ شرائط اصلا درست نیست وایں ہرسہ شرائط رابیان مختصر واضح کنم اما شرط اول کہ مسلك صحیح است مریدصادق راتفحص اے بھائی! پیری ومریدی کی محض رسم اورنام باقی رہا گیاہے اس سے زائد کچھ نہیںاس نام اوررسم کوبھی چندشرائط پرمبنی سمجھ کر ان شرائط کے بغیرپیری ومریدی بالکل درست نہیں۔ پیری کی اولیں شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ پیرکامسلك صحیح ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ پیر حقوق شرع کی ادائیگی میں کوتاہی اورسستی کرنے والا نہ ہو۔تیسری شرط یہ ہے کہ پیر کاعقیدہ صحیح اور مذہب اہل سنت وجماعت کے مطابق ہو۔ چنانچہ یہ رسمی پیری ومریدی ان تین شرائط کے بغیر ہرگز درست نہیں۔ان تینوں شرطوں کی مختصر بیان کے ساتھ وضاحت کرتاہوں۔پہلی شرط کہ پیرکامسلك صحیح ہو۔سچے مریدکوصحیح سلسلہ کی چھان بین کرنی چاہئے
سلسلہ درست بایدکرد دراکثر جاہا خلط وخبط گشتہ است نوعے ازاں آنست درویشے کہ درحالت حیات بسبب غفلت ویابہ سبب دیگر فرزند خودرا خلافت نمی دہد ومردماں راوصیت ہم نمی کند کہ بعدازمن باید کہ خرقہ من فرزند مرابپوشانید واو رابجائے من بنشانند فامامردماں آں مقام روزسوم خرقہ پدر پسررامی پوشانند واورابجائے پدرمے نشانند ازصحت وغیر صحت ایں کارنمی دانند خلقے بہ بیعت اواسیری گرددوادبے رخصت واجازت پدرپیرمی شودہمہ ضلالت درضلالت است چہ اگرچہ خرقہ متروکہ پدربسبب ارث ملك پسرشدولیکن شرط صحت بیعت رخصت و اجازت پدراست نہ مجرد خرقہ پدر مؤلف راست قطعہ
اے پسر شرط صحت بیعت
درطریقت اجازت سلف است
بدغل سکہ بہرہ مزن
کاں رہ کاسداں ناخلف است
نوع دیگرانست اولیاء اسلاف کہ قطب وغوث بودند فرزندان ایشاں بے صحت اسناد وبے رخصت واجازت بمجرد نسبت فرزندی خلقے رامریدمی کنندوخلق می دانند کہ مابخانوادہ فلاں قطب وغوث پیوند درست کردیم وانابت اکثرجگہ اس میں خلط ملط ہوجاتاہے۔اس کی ایك قسم یہ ہے کہ کوئی درویش اپنی زندگی میں غفلت یاکسی اوروجہ سے اپنے بیٹے کوخلافت نہیں دیتا اورلوگوں کووصیت بھی نہیں کرتا کہ میرے بعد میراخرقہ میرے بیٹے کوپہنانا اوراس کو میری گدی پربٹھانا۔لیکن اس علاقے کے لوگ وصال کے تیسرے روز اس کے بیٹے کوخرقہ پہناکر باپ کی گدی پربٹھادیتے ہیں اوراس کام کے صحیح یاغلط ہونے کاانہیں کوئی علم نہیں۔لوگ اس کی بیعت کے پابند ہوجاتے ہیں اوروہ باپ کی اجازت ورخصت کے بغیرپیربن جاتاہے۔یہ سب گمراہی درگمراہی ہےاس لئے کہ اگرچہ باپ کاخرقہ متروکہ بطورمیراث بیٹے کی ملکیت ہوتاہے مگرصحت بیعت کی شرط باپ کی رخصت واجازت ہے نہ کہ محض باپ کے خرقہ کاحاصل ہوجاناقطعہ:
"اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرط طریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے"۔
دوسری قسم یہ ہے اولیائے اسلاف جوکہ غوث وقطب تھے ان کے بیٹے صحیح سند اوران کی رخصت واجازت کے بغیر محض بزرگوں سے نسبت فرزندی رکھنے کی وجہ سے لوگوں کومرید بناتے ہیں
اے پسر شرط صحت بیعت
درطریقت اجازت سلف است
بدغل سکہ بہرہ مزن
کاں رہ کاسداں ناخلف است
نوع دیگرانست اولیاء اسلاف کہ قطب وغوث بودند فرزندان ایشاں بے صحت اسناد وبے رخصت واجازت بمجرد نسبت فرزندی خلقے رامریدمی کنندوخلق می دانند کہ مابخانوادہ فلاں قطب وغوث پیوند درست کردیم وانابت اکثرجگہ اس میں خلط ملط ہوجاتاہے۔اس کی ایك قسم یہ ہے کہ کوئی درویش اپنی زندگی میں غفلت یاکسی اوروجہ سے اپنے بیٹے کوخلافت نہیں دیتا اورلوگوں کووصیت بھی نہیں کرتا کہ میرے بعد میراخرقہ میرے بیٹے کوپہنانا اوراس کو میری گدی پربٹھانا۔لیکن اس علاقے کے لوگ وصال کے تیسرے روز اس کے بیٹے کوخرقہ پہناکر باپ کی گدی پربٹھادیتے ہیں اوراس کام کے صحیح یاغلط ہونے کاانہیں کوئی علم نہیں۔لوگ اس کی بیعت کے پابند ہوجاتے ہیں اوروہ باپ کی اجازت ورخصت کے بغیرپیربن جاتاہے۔یہ سب گمراہی درگمراہی ہےاس لئے کہ اگرچہ باپ کاخرقہ متروکہ بطورمیراث بیٹے کی ملکیت ہوتاہے مگرصحت بیعت کی شرط باپ کی رخصت واجازت ہے نہ کہ محض باپ کے خرقہ کاحاصل ہوجاناقطعہ:
"اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرط طریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے"۔
دوسری قسم یہ ہے اولیائے اسلاف جوکہ غوث وقطب تھے ان کے بیٹے صحیح سند اوران کی رخصت واجازت کے بغیر محض بزرگوں سے نسبت فرزندی رکھنے کی وجہ سے لوگوں کومرید بناتے ہیں
آوردیم سربسرگمراہی است۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے فلاں غوث اورقطب کے خانوادہ کے ساتھ تعلق قائم کرلیاہے اوران کی طرف رجوع کرلیا ہے۔یہ مکمل طورپرگمراہی ہے۔(ت)
حضرت سیدنا سیدشاہ حمزہ قدس سرہ الکریم نے فص الکلمات شریف میں خلافت کی سات قسمیں بعض مقبول بعض مردودبیان فرمائیں ازانجملہ اقسام مردودہ میں فرمایا:
شیخ ازیں عالم نقل کردوکسے راخلیفہ نگرفت قوم وقبیلہ وارثے یامریدے رابخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیك مشائخ روانیست وایں نوع خلافت راافترائی گویند۔ شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کواپناخلیفہ نہیں بنایا۔قوم اورقبیلہ نے کسی وارث یامرید کو اس کی خلافت کے لئے تجویزکردیامشائخ کے نزدیك یہ خلافت درست نہیں۔ خلافت کی اس قسم کوخلافت افترائی کہاجاتاہے(ت)
رہاعمرو اگرچہ نصیرکی جانب سے ماذون ہوکر اس کی خلافت ضرورصحیح اوراسے مرید کرنے کی اجازت ہوگیمگرمحل نظریہ ہے کہ اس نے اپنے والد زیدکے ہاتھ پربیعت بھی کی تھی یامرید بھی نصیر ہی کاہےصورت ثانیہ بہت سخت ہےاوراصل الزامات کاورود اولی میں بھی نقدوقت ہےشجرہ کہ مریدین کو دیاجاتاہے اس میں اتصال سلسلہ اجازت ہی متعارفاوریہی اس سے مفہوم ہے تو اس میں تدلیس ہوئی تلبیس ہوئی پیراجازت کی نعمت کاکفران ہوا مریدین کوفریب دیناہوا بلاواسطے جانب پدر سے اپنے مجاز وماذون ہونے کااظہارہوااوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المتشبع بمالم یعط کلابس ثوبی زور۔رواہ الشیخان عن اسماء ومسلم عن الصدیقۃ بنتی نعمت نایافتہ کااظہار کرنے والا اسی طرح ہے جوسرسے پاؤں تك جھوٹ کاجامہ پہنے ہوئے ہے(اسے امام بخاری وامام مسلم نے اسماء
حضرت سیدنا سیدشاہ حمزہ قدس سرہ الکریم نے فص الکلمات شریف میں خلافت کی سات قسمیں بعض مقبول بعض مردودبیان فرمائیں ازانجملہ اقسام مردودہ میں فرمایا:
شیخ ازیں عالم نقل کردوکسے راخلیفہ نگرفت قوم وقبیلہ وارثے یامریدے رابخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیك مشائخ روانیست وایں نوع خلافت راافترائی گویند۔ شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کواپناخلیفہ نہیں بنایا۔قوم اورقبیلہ نے کسی وارث یامرید کو اس کی خلافت کے لئے تجویزکردیامشائخ کے نزدیك یہ خلافت درست نہیں۔ خلافت کی اس قسم کوخلافت افترائی کہاجاتاہے(ت)
رہاعمرو اگرچہ نصیرکی جانب سے ماذون ہوکر اس کی خلافت ضرورصحیح اوراسے مرید کرنے کی اجازت ہوگیمگرمحل نظریہ ہے کہ اس نے اپنے والد زیدکے ہاتھ پربیعت بھی کی تھی یامرید بھی نصیر ہی کاہےصورت ثانیہ بہت سخت ہےاوراصل الزامات کاورود اولی میں بھی نقدوقت ہےشجرہ کہ مریدین کو دیاجاتاہے اس میں اتصال سلسلہ اجازت ہی متعارفاوریہی اس سے مفہوم ہے تو اس میں تدلیس ہوئی تلبیس ہوئی پیراجازت کی نعمت کاکفران ہوا مریدین کوفریب دیناہوا بلاواسطے جانب پدر سے اپنے مجاز وماذون ہونے کااظہارہوااوررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المتشبع بمالم یعط کلابس ثوبی زور۔رواہ الشیخان عن اسماء ومسلم عن الصدیقۃ بنتی نعمت نایافتہ کااظہار کرنے والا اسی طرح ہے جوسرسے پاؤں تك جھوٹ کاجامہ پہنے ہوئے ہے(اسے امام بخاری وامام مسلم نے اسماء
حوالہ / References
سبع سنابل سنبلہ دوم دربیان پیری ومریدی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴۰،۳۹
فص الکلمات
صحیح البخاری کتاب النکاح باب المتشبع بمالم ینل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۸۵،صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب النہی عن التزویر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۶
فص الکلمات
صحیح البخاری کتاب النکاح باب المتشبع بمالم ینل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۸۵،صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب النہی عن التزویر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۶
الصدیق رضی اﷲ تعالی عنھم۔ بنت صدیق رضی اﷲ تعالی عنہم سے اورامام مسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبرسے روایت کیارضی اﷲ تعالی عنہم۔ت)
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب "۔ وہ جوایسی بات سے اپنی تعریف چاہتے ہیں جو انہوں نے نہ کی ہرگز انہیں عذاب سے چھٹکارے کی جگہ خیال نہ کرنا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من غشنا فلیس منا۔ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ و اﷲ تعالی اعلم۔ دھوکا دینے والاہمارے گروہ سے نہیں۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیںاوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۸۷: ازفرخ آباد شمس الدین احمد شنبہ ۱۸شوال ۱۳۳۴ھ
جس حالت میں کہ پیرکامل میسرنہ ہوتوطالب خداکوکیاکرناچاہئے فقط
الجواب:
درودشریف کی کثرت کرے یہاں تك کہ درودکے رنگ میں رنگ جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸: مرسلہ عبدالکریم شہرکانپور محلہ بنگام گنج ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی مسلمان طریقہ معرفت میں کسی کامریدنہ ہوتو کیاحشرمیں اس کا پیرشیطان ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
ایك حدیث روایت کی جاتی ہے:
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب "۔ وہ جوایسی بات سے اپنی تعریف چاہتے ہیں جو انہوں نے نہ کی ہرگز انہیں عذاب سے چھٹکارے کی جگہ خیال نہ کرنا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من غشنا فلیس منا۔ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ و اﷲ تعالی اعلم۔ دھوکا دینے والاہمارے گروہ سے نہیں۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیںاوراﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۸۷: ازفرخ آباد شمس الدین احمد شنبہ ۱۸شوال ۱۳۳۴ھ
جس حالت میں کہ پیرکامل میسرنہ ہوتوطالب خداکوکیاکرناچاہئے فقط
الجواب:
درودشریف کی کثرت کرے یہاں تك کہ درودکے رنگ میں رنگ جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸: مرسلہ عبدالکریم شہرکانپور محلہ بنگام گنج ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی مسلمان طریقہ معرفت میں کسی کامریدنہ ہوتو کیاحشرمیں اس کا پیرشیطان ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
ایك حدیث روایت کی جاتی ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۸۸
صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی من غشا فلیس منّا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
صحیح مسلم کتاب الایمان باب قول النبی من غشا فلیس منّا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطن۔ جس کاکوئی پیرنہیں شیطان اس کاپیرہے۔
اس کے پورے مصداق وہ لوگ ہیں کہ مشائخ کرام کے قائل ہی نہیںجیسے روافض ووہابیہ وغیرمقلدین۔اورشرف وبرکت اتصال بمحبوب ذوالجلال علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت سنت متوارثہ مسلمین ہےاور اس میں بے شمار منافع وبرکت دین ودنیاوآخرت ہیں بلکہ وہ " وابتغوا الیہ الوسیلۃ" (اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ت)کے طرق جلیلہ سے ہے۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹ و ۲۹۰: مقام گڈہوا ضلع پلامون مرسلہ حکیم محمدعبدالحق صاحب
(۱)جوشخص کسی پیرسے مریدہوا ہو اورقبل اس کے کہ وہ طریقت کی تعلیم پورے طورسے پائے اس کے پیرنے انتقال کیاتو بعد مرجانے اول پیرکے وہ شخص کسی دوسرے عالم سے جو علم قرآن وحدیث وفقہ میں کامل وسندیافتہ ہو اورپیرکامل سے اس کو اجازت مرید کرنے کی اورخلافت حاصل ہو مریدہوسکتاہے یانہیں اورمریدہونا اس کاشرعا ازروئے شریعت جائزودرست ہوگا یانہیں
(۲)پیرہونے کے لئے سیداورآل رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوناضرور ہے دوسری قوم کاعالم وطریقت سے واقف و پیر سے اجازت وخلافت پایاہوا پیرہونے اورمریدکرنے کے قابل نہیں ہوسکتاہے یاکیا تحقیق اس مسئلہ کی ہے مع سند جواب درکار ہے۔بینواایھا العلماء الکرام جزاکم اﷲ یوم القیام(اے علماء کرام! بیان فرمائیے اﷲ تعالی روزقیامت آپ کوجزا دے۔ت)
الجواب:
(۱)جائزہےاس پرشرع سے کوئی ممانعت نہیں جبکہ وہ عالم چاروں شرائط پیری کاجامع ہواگرایك شرط بھی کم ہے تو اس سے بیعت جائزنہیں۔سب سے اہم واعظم شرط مذہب کاسنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علماء حرمین شریفین ہونا۔
دوسری شرط فقہ کااتنا علم کہ اپنی حاجت کے سب مسائل جانتاہو اورحاجت جدید
اس کے پورے مصداق وہ لوگ ہیں کہ مشائخ کرام کے قائل ہی نہیںجیسے روافض ووہابیہ وغیرمقلدین۔اورشرف وبرکت اتصال بمحبوب ذوالجلال علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت سنت متوارثہ مسلمین ہےاور اس میں بے شمار منافع وبرکت دین ودنیاوآخرت ہیں بلکہ وہ " وابتغوا الیہ الوسیلۃ" (اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ت)کے طرق جلیلہ سے ہے۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹ و ۲۹۰: مقام گڈہوا ضلع پلامون مرسلہ حکیم محمدعبدالحق صاحب
(۱)جوشخص کسی پیرسے مریدہوا ہو اورقبل اس کے کہ وہ طریقت کی تعلیم پورے طورسے پائے اس کے پیرنے انتقال کیاتو بعد مرجانے اول پیرکے وہ شخص کسی دوسرے عالم سے جو علم قرآن وحدیث وفقہ میں کامل وسندیافتہ ہو اورپیرکامل سے اس کو اجازت مرید کرنے کی اورخلافت حاصل ہو مریدہوسکتاہے یانہیں اورمریدہونا اس کاشرعا ازروئے شریعت جائزودرست ہوگا یانہیں
(۲)پیرہونے کے لئے سیداورآل رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوناضرور ہے دوسری قوم کاعالم وطریقت سے واقف و پیر سے اجازت وخلافت پایاہوا پیرہونے اورمریدکرنے کے قابل نہیں ہوسکتاہے یاکیا تحقیق اس مسئلہ کی ہے مع سند جواب درکار ہے۔بینواایھا العلماء الکرام جزاکم اﷲ یوم القیام(اے علماء کرام! بیان فرمائیے اﷲ تعالی روزقیامت آپ کوجزا دے۔ت)
الجواب:
(۱)جائزہےاس پرشرع سے کوئی ممانعت نہیں جبکہ وہ عالم چاروں شرائط پیری کاجامع ہواگرایك شرط بھی کم ہے تو اس سے بیعت جائزنہیں۔سب سے اہم واعظم شرط مذہب کاسنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علماء حرمین شریفین ہونا۔
دوسری شرط فقہ کااتنا علم کہ اپنی حاجت کے سب مسائل جانتاہو اورحاجت جدید
حوالہ / References
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المشہد الحسینی ص۷۸ والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱
القرآن الکریم ۵ /۳۵
القرآن الکریم ۵ /۳۵
پیش آئے تواس کاحکم کتاب سے نکال سکے۔بغیر اس کے اورفنون کاکتناہی بڑا عالم ہو عالم نہیں۔
تیسری شرط اس کاسلسلہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك صحیح ومتصل ہو۔
چوتھی شرط علانیہ کسی کبیرہ کامرتکب یاکسی صغیرہ پرمصرنہ ہو۔
ان شرائط کے ساتھ اس سے ارادت کرسکتاہےمگریہ ارادت ارادت استفاضہ ہوگی نہ کہ ارادت استعاضہیعنی پیرکوچھوڑکر اس کے عوض پیربنانا کہ جوایساکرے گا دونوں طرف سے محروم رہے گا بشرطیکہ اس کاپہلاپیران چاروں شرائط کاجامع تھااوراگراس میں وہ شرطیں نہ تھیں تووہ پیربنانے کے قابل ہی نہ تھا آپ ہی کسی دوسرے جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت چاہئے۔
(۲)یہ محض باطل ہےپیرہونے کے لئے وہی چارشرطیں درکارہیںسادات کرام سے ہونا کچھ ضرورنہیںہاں ان شرطوں کے ساتھ سیدبھی ہوتو نور علی نور۔باقی اسے شرط ضروری ٹھہرانا تمام سلاسل طریقت کاباطل کرناہے۔سلسلہ عالیہ قادریہ سلسلۃ الذہب میں سیدنا امام علی رضا اورحضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کے درمیان جتنے حضرات ہیں کوئی سادات کرام سے نہیں اورسلسلہ عالیہ چشتیہ میں تو امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے بعد ہی سے امام حسن بصری ہیں کہ نہ سیدنہ قریشی نہ عربیاورسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کاخاص آغاز ہی حضورسیدناصدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےاسی طرح دیگرسلاسل رضوان اﷲ تعالی علی مشائخہا اجمعین۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۱: ازایلٹا کاٹھیاواڑ مرسلہ سیدقاسم علی قادری مورخہ ۴/ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
مخدومی ومطاعی بندہ قبلہ مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب مدظلہ۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔میں قادریہ خاندان میں مریدتھا مگرچونکہ اب حضرات نقشبند کے بزرگ سرہند شریف سے یہاں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ خاندان نقشبند میں اب بیعت ہوتے جاتے ہیں اور سلسلہ عالیہ قادریہ روزبروزگھٹتاچلاہے۔مجھے بھی لوگوں نے مجبورکیاہے کہ میں بھی بیعت اس خاندان میں کروں۔مجھے مکتوبات امام ربانی الف ثانی کی اردوتینوں جلدیں دی گئی ہیں ان کوپڑھ کر میں ان کا خلاصہ آپ سے طلب کرتاہوں کہ اس خاندان میں بیعت ہوناچاہئے یانہیں اورمکتوبات اوردیگرکتب خاندان نقشبندیہ پراہل سنت والجماعت کااتفاق ہے یانہیں
الجواب:
ہمارے نزدیك خاندان عالیشان قادری سب خاندانوں سے اعلی وافضل ہے اور
تیسری شرط اس کاسلسلہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك صحیح ومتصل ہو۔
چوتھی شرط علانیہ کسی کبیرہ کامرتکب یاکسی صغیرہ پرمصرنہ ہو۔
ان شرائط کے ساتھ اس سے ارادت کرسکتاہےمگریہ ارادت ارادت استفاضہ ہوگی نہ کہ ارادت استعاضہیعنی پیرکوچھوڑکر اس کے عوض پیربنانا کہ جوایساکرے گا دونوں طرف سے محروم رہے گا بشرطیکہ اس کاپہلاپیران چاروں شرائط کاجامع تھااوراگراس میں وہ شرطیں نہ تھیں تووہ پیربنانے کے قابل ہی نہ تھا آپ ہی کسی دوسرے جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت چاہئے۔
(۲)یہ محض باطل ہےپیرہونے کے لئے وہی چارشرطیں درکارہیںسادات کرام سے ہونا کچھ ضرورنہیںہاں ان شرطوں کے ساتھ سیدبھی ہوتو نور علی نور۔باقی اسے شرط ضروری ٹھہرانا تمام سلاسل طریقت کاباطل کرناہے۔سلسلہ عالیہ قادریہ سلسلۃ الذہب میں سیدنا امام علی رضا اورحضورسیدناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کے درمیان جتنے حضرات ہیں کوئی سادات کرام سے نہیں اورسلسلہ عالیہ چشتیہ میں تو امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کے بعد ہی سے امام حسن بصری ہیں کہ نہ سیدنہ قریشی نہ عربیاورسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کاخاص آغاز ہی حضورسیدناصدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےاسی طرح دیگرسلاسل رضوان اﷲ تعالی علی مشائخہا اجمعین۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۱: ازایلٹا کاٹھیاواڑ مرسلہ سیدقاسم علی قادری مورخہ ۴/ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
مخدومی ومطاعی بندہ قبلہ مولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب مدظلہ۔السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔میں قادریہ خاندان میں مریدتھا مگرچونکہ اب حضرات نقشبند کے بزرگ سرہند شریف سے یہاں آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ خاندان نقشبند میں اب بیعت ہوتے جاتے ہیں اور سلسلہ عالیہ قادریہ روزبروزگھٹتاچلاہے۔مجھے بھی لوگوں نے مجبورکیاہے کہ میں بھی بیعت اس خاندان میں کروں۔مجھے مکتوبات امام ربانی الف ثانی کی اردوتینوں جلدیں دی گئی ہیں ان کوپڑھ کر میں ان کا خلاصہ آپ سے طلب کرتاہوں کہ اس خاندان میں بیعت ہوناچاہئے یانہیں اورمکتوبات اوردیگرکتب خاندان نقشبندیہ پراہل سنت والجماعت کااتفاق ہے یانہیں
الجواب:
ہمارے نزدیك خاندان عالیشان قادری سب خاندانوں سے اعلی وافضل ہے اور
تبدیل شیخ بلاضرورت شرعیہ جائزنہیں۔حدیث میں ارشادہوا:
من رزق فی شیئ فلیلزمہ ۔ جسے کسی شے میں رزق دیاجائے تو وہ اس کولازم پکڑے۔(ت)
مکتوبات مثل اورکتب مشائخ کے ہے اورتفصیل عقائداہلسنت وبیان مسائل نفیسہ فقہ وکلام کے سبب بہت کتب پرمزیت ہے البتہ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ وغیرہ ائمہ دین کاارشاد کل ماخوذ من قولہ الخ(ہرایك اپنے قول سے پکڑاجاتاہے الخ۔ ت)سوائے قرآن عظیم سب کتب کوشامل ہے نہ اس سے ہدایہدرمختارمستثنینہ فتوحات ومکتوبات وملفوظات۔اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل فتاوی فقیرمیں ہے۔
مسئلہ ۲۹۲: ازشہررجمنٹ اکاکور۶۳ چھاؤنی مسئولہ محمدحسین سہارنپوری ۲۰/ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
بکرآقاکے کہنے سے ایك شخص کامریدہوگیااورنہ بکر واقف تمام مریدہونے کی شرطوں سےصرف آقا کے حکم سے مریدہوگیا۔اب بکرملازم بھی نہیں رہا ہےاب بکرکاخیال ہے کہ میں مریدصادق ہوں یامریدین سے خارج ہوںکیونکہ پیر کی طرف دل رجوع نہیں کرتا میں چاہتاہوں کوئی پیراورکروں۔
الجواب:
اگرپیرسنی صحیح العقیدہ عالم ہے اور اس کاسلسلہ متصل ہے اورفاسق نہیں تو اس سے دل رجوع نہ ہوناشیطانی وسوسہ ہے توبہ کرے اوراس کے ساتھ اپنا اعتقاد درست کرےاوراگر پیرمیں ان چاروں باتوں سے کوئی بات کم ہے تو وہ پیرنہیںکوئی اور پیر کہ ان چاروں باتوں کاجامع ہو اس کے ہاتھ پربیعت کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۳ و ۲۹۴: موضع رجب پور ڈاك خانہ تحصیل امروہہ ضلع مرادآباد حاجی شبیرعلی ۵جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
(۱)کچھ پیروں نے آج کل پیرامریدی جاری کی ہے کہ جس وقت بچہ پیداہو اس کو گولیاں دی جاتی ہیں وہ گولیاں چھٹی کے دن گھول کر بچہ کے ہونٹوں سے لگادینے سے بیعت ہوگیا۔یہ پیرامریدی
من رزق فی شیئ فلیلزمہ ۔ جسے کسی شے میں رزق دیاجائے تو وہ اس کولازم پکڑے۔(ت)
مکتوبات مثل اورکتب مشائخ کے ہے اورتفصیل عقائداہلسنت وبیان مسائل نفیسہ فقہ وکلام کے سبب بہت کتب پرمزیت ہے البتہ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ وغیرہ ائمہ دین کاارشاد کل ماخوذ من قولہ الخ(ہرایك اپنے قول سے پکڑاجاتاہے الخ۔ ت)سوائے قرآن عظیم سب کتب کوشامل ہے نہ اس سے ہدایہدرمختارمستثنینہ فتوحات ومکتوبات وملفوظات۔اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل فتاوی فقیرمیں ہے۔
مسئلہ ۲۹۲: ازشہررجمنٹ اکاکور۶۳ چھاؤنی مسئولہ محمدحسین سہارنپوری ۲۰/ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
بکرآقاکے کہنے سے ایك شخص کامریدہوگیااورنہ بکر واقف تمام مریدہونے کی شرطوں سےصرف آقا کے حکم سے مریدہوگیا۔اب بکرملازم بھی نہیں رہا ہےاب بکرکاخیال ہے کہ میں مریدصادق ہوں یامریدین سے خارج ہوںکیونکہ پیر کی طرف دل رجوع نہیں کرتا میں چاہتاہوں کوئی پیراورکروں۔
الجواب:
اگرپیرسنی صحیح العقیدہ عالم ہے اور اس کاسلسلہ متصل ہے اورفاسق نہیں تو اس سے دل رجوع نہ ہوناشیطانی وسوسہ ہے توبہ کرے اوراس کے ساتھ اپنا اعتقاد درست کرےاوراگر پیرمیں ان چاروں باتوں سے کوئی بات کم ہے تو وہ پیرنہیںکوئی اور پیر کہ ان چاروں باتوں کاجامع ہو اس کے ہاتھ پربیعت کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۳ و ۲۹۴: موضع رجب پور ڈاك خانہ تحصیل امروہہ ضلع مرادآباد حاجی شبیرعلی ۵جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
(۱)کچھ پیروں نے آج کل پیرامریدی جاری کی ہے کہ جس وقت بچہ پیداہو اس کو گولیاں دی جاتی ہیں وہ گولیاں چھٹی کے دن گھول کر بچہ کے ہونٹوں سے لگادینے سے بیعت ہوگیا۔یہ پیرامریدی
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۱۲۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۸۹
الیواقیت والجواھر بحوالہ الامام مالك المبحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۷۸
الیواقیت والجواھر بحوالہ الامام مالك المبحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۷۸
جائزہے یاناجائز جوکچھ حضورحکم صادرفرمائیں عمل کیاجائے۔
(۲)مکنپور کے جوحضرت شاہ بدیع الدین شاہ صاحب جن کاکہ نام دیہات میں مدارصاحب کہتے ہیں سناجاتاہے بزرگوں سے کہ ان کے گھرانے میں پیرامریدی نادرست ہےعلاوہ اس کے سناگیاہے کہ کوئی خلیفہ آپ نے نہیں کیاہےاوریہ بھی سناہے کہ دوخادم آپ کی خدمت میں رہاکرتے تھے کہ جن کانام یہ ہےایك کانام احسندوسرے کانام جمن جتی۔لہذا احسن ندی ہوکر بہہ گیا اورجمن جتی اورکسی سے بیعت ہوگئےلہذا جومکن پور کے پیرجی لوگ ہیں اور یہ پیرامریدی آپ کے نام سے کرتے ہیں یہ پیرامریدی جائزہے یاناجائز جوکچھ حکم حضور صادرفرمائیں عمل کیاجائے۔
الجواب:
(۱)ایك دن کابچہ بھی اپنے والی کی اجازت سے مریدہوسکتاہےاورگولیاں بے اصل ہیںواﷲ تعالی اعلم
(۲)بہہ جانا وغیرہ بے اصل ہے مگراس فرقہ کے لوگ بے شرع اکثرہیںاوربے شرع کسی فرقے کاہو اس کے ہاتھ پربیعت ناجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۵ و ۲۹۶: ازگلمائزڈاك خانہ ماہی ضلع فریدپورمرسلہ عبدالرحمن صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)زیدطریقہ نقشبندیہ متبرکہ میں بیعت ہوااور اپنے شیخ سے مقامات پوراکیا مگربعض مقام میں قدرے شبہہ رہتی ہے اور خلافت واجازت نہ ملتی ہےشیخ صاحب کاانتقال ہوگیااب زید کے لئے اس شبہہ کودورکرنے اور اجازت وخلافت حاصل کرنے کے واسطے دوسرے مرشدپکڑنا جائزہے یااپنے شیخ سے جوحاصل ہوئی اسی پراکتفا کرناچاہئے اگراسی پراکتفاء کرنے کی کوشش کی توترقی وفیض یاب ہوسکتاہے اورشبہہ باقی ماندہ دورکرسکتاہے یانہیں اگردوسرے مرشدپکڑنا جائزہے تو اسے نقشبندیہ طریقہ کاہوناضروری ہے یادیگر چہارطریقہ میں سے جو ہوکافی ووافی ہوں گے پھراسی نقشبندیہ طریقہ کی جومشائخ زیدکو فی الحال میسرہوتے ہیں اگروہ زیدکے شیخ سے کمالیت واشغال میں کم درجہ کے ہیں ان کومرشد بنائے یاجومشائخ زیدکو مسافت بعیدہ وغیرہ وغیرملکی ہونے کے میسرنہیں ہوتے ہیں حالانکہ
(۲)مکنپور کے جوحضرت شاہ بدیع الدین شاہ صاحب جن کاکہ نام دیہات میں مدارصاحب کہتے ہیں سناجاتاہے بزرگوں سے کہ ان کے گھرانے میں پیرامریدی نادرست ہےعلاوہ اس کے سناگیاہے کہ کوئی خلیفہ آپ نے نہیں کیاہےاوریہ بھی سناہے کہ دوخادم آپ کی خدمت میں رہاکرتے تھے کہ جن کانام یہ ہےایك کانام احسندوسرے کانام جمن جتی۔لہذا احسن ندی ہوکر بہہ گیا اورجمن جتی اورکسی سے بیعت ہوگئےلہذا جومکن پور کے پیرجی لوگ ہیں اور یہ پیرامریدی آپ کے نام سے کرتے ہیں یہ پیرامریدی جائزہے یاناجائز جوکچھ حکم حضور صادرفرمائیں عمل کیاجائے۔
الجواب:
(۱)ایك دن کابچہ بھی اپنے والی کی اجازت سے مریدہوسکتاہےاورگولیاں بے اصل ہیںواﷲ تعالی اعلم
(۲)بہہ جانا وغیرہ بے اصل ہے مگراس فرقہ کے لوگ بے شرع اکثرہیںاوربے شرع کسی فرقے کاہو اس کے ہاتھ پربیعت ناجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۵ و ۲۹۶: ازگلمائزڈاك خانہ ماہی ضلع فریدپورمرسلہ عبدالرحمن صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)زیدطریقہ نقشبندیہ متبرکہ میں بیعت ہوااور اپنے شیخ سے مقامات پوراکیا مگربعض مقام میں قدرے شبہہ رہتی ہے اور خلافت واجازت نہ ملتی ہےشیخ صاحب کاانتقال ہوگیااب زید کے لئے اس شبہہ کودورکرنے اور اجازت وخلافت حاصل کرنے کے واسطے دوسرے مرشدپکڑنا جائزہے یااپنے شیخ سے جوحاصل ہوئی اسی پراکتفا کرناچاہئے اگراسی پراکتفاء کرنے کی کوشش کی توترقی وفیض یاب ہوسکتاہے اورشبہہ باقی ماندہ دورکرسکتاہے یانہیں اگردوسرے مرشدپکڑنا جائزہے تو اسے نقشبندیہ طریقہ کاہوناضروری ہے یادیگر چہارطریقہ میں سے جو ہوکافی ووافی ہوں گے پھراسی نقشبندیہ طریقہ کی جومشائخ زیدکو فی الحال میسرہوتے ہیں اگروہ زیدکے شیخ سے کمالیت واشغال میں کم درجہ کے ہیں ان کومرشد بنائے یاجومشائخ زیدکو مسافت بعیدہ وغیرہ وغیرملکی ہونے کے میسرنہیں ہوتے ہیں حالانکہ
وہ سب زیدکے شیخ سے بڑھ کرہے یابرابرہے تواب زید کوفی الحال میسرہوتے ہیں ان سے پوراکرے یاجوغیرمیسرہیں ان کی توقع وامیدپررہے
(۲)قادری کوئی شخص دوسرے قادری سے یانقشبنددوسرے نقشبندی سے یاقادری نقشبندی سے یانقشبندی قادری علی ہذالبواقی خواہ علی الوفاق ہوئے یاعلی الخلاف بیعت ہونے کو چاہے توازسرنوبیعت ہوناچاہئے یانہیں اوریہ بیعت جدیدہ کہلائے گی یاکیا اورشیخ اول ہی بدستوررہیں گے یادونوں اورمریدکن کاکہلائے گا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
جوشخص کسی شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت ہوچکاہوتودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ چاہئے۔اکابرطریقت فرماتے ہیں:
لایفلح مرید بین شیخین۔ جومرید دوپیروں کے درمیان مشترك ہووہ کامیاب نہیں ہوتا(ت)
خصوصا جبکہ اس سے کشودکاربھی ہوچکاہوحدیث میں ارشادہوا:
من رزق فی شیئ فلیلزمہ۔ جسے اﷲ تعالی کسی شیئ میں رزق دے وہ اس کولازم پکڑے۔(ت)
دوسرے جامع شرائط سے طلب فیض میں حرج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلہ صریحہ کاہواوراس سے جو فیض حاصل ہواسے بھی اپنے شیخ ہی کافیض جانے
کما فی سبع سنابل مبارکۃ عن سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جیساکہ سبع سنابل شریف میں سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے۔(ت)
شیخ جب نہ رہا اوراس کاسلوك ناقص ہو اس کی تکمیل بطورخودنہ کرے کہ یہ راہ تنہا
(۲)قادری کوئی شخص دوسرے قادری سے یانقشبنددوسرے نقشبندی سے یاقادری نقشبندی سے یانقشبندی قادری علی ہذالبواقی خواہ علی الوفاق ہوئے یاعلی الخلاف بیعت ہونے کو چاہے توازسرنوبیعت ہوناچاہئے یانہیں اوریہ بیعت جدیدہ کہلائے گی یاکیا اورشیخ اول ہی بدستوررہیں گے یادونوں اورمریدکن کاکہلائے گا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
جوشخص کسی شیخ جامع شرائط کے ہاتھ پربیعت ہوچکاہوتودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ چاہئے۔اکابرطریقت فرماتے ہیں:
لایفلح مرید بین شیخین۔ جومرید دوپیروں کے درمیان مشترك ہووہ کامیاب نہیں ہوتا(ت)
خصوصا جبکہ اس سے کشودکاربھی ہوچکاہوحدیث میں ارشادہوا:
من رزق فی شیئ فلیلزمہ۔ جسے اﷲ تعالی کسی شیئ میں رزق دے وہ اس کولازم پکڑے۔(ت)
دوسرے جامع شرائط سے طلب فیض میں حرج نہیں اگرچہ وہ کسی سلسلہ صریحہ کاہواوراس سے جو فیض حاصل ہواسے بھی اپنے شیخ ہی کافیض جانے
کما فی سبع سنابل مبارکۃ عن سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جیساکہ سبع سنابل شریف میں سلطان الاولیاء امام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے۔(ت)
شیخ جب نہ رہا اوراس کاسلوك ناقص ہو اس کی تکمیل بطورخودنہ کرے کہ یہ راہ تنہا
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۱۲۴۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۸۹
چلنے کی نہیں
کما افادہ الامام القشیری فی رسالۃ المبارکۃ والامام السھروردی فی العوارف الشریفۃ وبیناہ فی فتاوی افریقۃ۔ جیساکہ امام قشیری علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ مبارکہ اورامام سہروردی علیہ الرحمۃ نے عوارف شریفہ میں اس کاافادہ فرمایا ہے۔اورہم نے اس کو فتاوی افریقہ میں بیان کیاہے۔(ت)
بلکہ کسی لائق تکمیل سے استمداد کرے اس میں حتی الامکان لحاظ قرب رکھے اپنے شیخ کے خلفاء میں سے کوئی اس قابل ہوتووہ اولی ہے ورنہ اپنے سلسلے سے اقرب فالاقرب اورنہ ملے توجوملے یہ اس لئے کہ اختلاف راہ اطالت عمل کرنے اوراپنے زمانے میں اپنے حق میں اپنے شیخ صحیح المشیخہ سے کسی کو افضل جانناسوء ادب ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۷: ازبانس بریلی محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ صاحب اشرفی جیلانی سجادہ نشین فتحپور ۱۴رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ایھا العلماء الراسخون رحمکم اﷲ تعالی فی ھذہ المسئلۃ(اے علماء راسخین! اس مسئلہ کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے۔ت)کہ جس مریدکو اپنے شیخ سے تعلیم طرق صوفیہ مراتب اذکار واشغال وغیرہ نہ معلوم ہوئے اور وہ شیخ انتقال فرما گئے یابوجوہات معقولہ ان سے تعلیم محال۔پس اس مرید کوشیخ ثانی سے تجدید بیعت توبہ کرکے طالب ہونا اولی ہے یا کہ اسی حال پربے تعلیم رہنامناسباورخلفائے راشدین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کی بیعت ہرخلافت کے وقت کس لئے صادرہوئی۔
الجواب:
دوسرے شیخ سے طالب ہومگر اپنی ارادت شیخ اول ہی سے رکھے اور اس سے جوفیض حاصل ہووہ اپنے ہی کی عطا جانے۔اولیائے کرام فرماتے ہیں ایك شخص کے دوباپ نہیں ہوسکتےایك عورت کے دوشوہر نہیں ہوسکتےایك مرید کے دوشیخ نہیں ہو سکتے۔خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہم کے دست اقدس پربیعتیں ان کوامام ماننے اوران کی اطاعت کرنے کی تھیں جیسے ہر جدید بادشاہ کے ہاتھ پرکی جاتی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
کما افادہ الامام القشیری فی رسالۃ المبارکۃ والامام السھروردی فی العوارف الشریفۃ وبیناہ فی فتاوی افریقۃ۔ جیساکہ امام قشیری علیہ الرحمۃ نے اپنے رسالہ مبارکہ اورامام سہروردی علیہ الرحمۃ نے عوارف شریفہ میں اس کاافادہ فرمایا ہے۔اورہم نے اس کو فتاوی افریقہ میں بیان کیاہے۔(ت)
بلکہ کسی لائق تکمیل سے استمداد کرے اس میں حتی الامکان لحاظ قرب رکھے اپنے شیخ کے خلفاء میں سے کوئی اس قابل ہوتووہ اولی ہے ورنہ اپنے سلسلے سے اقرب فالاقرب اورنہ ملے توجوملے یہ اس لئے کہ اختلاف راہ اطالت عمل کرنے اوراپنے زمانے میں اپنے حق میں اپنے شیخ صحیح المشیخہ سے کسی کو افضل جانناسوء ادب ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۷: ازبانس بریلی محلہ قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ صاحب اشرفی جیلانی سجادہ نشین فتحپور ۱۴رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ایھا العلماء الراسخون رحمکم اﷲ تعالی فی ھذہ المسئلۃ(اے علماء راسخین! اس مسئلہ کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے۔ت)کہ جس مریدکو اپنے شیخ سے تعلیم طرق صوفیہ مراتب اذکار واشغال وغیرہ نہ معلوم ہوئے اور وہ شیخ انتقال فرما گئے یابوجوہات معقولہ ان سے تعلیم محال۔پس اس مرید کوشیخ ثانی سے تجدید بیعت توبہ کرکے طالب ہونا اولی ہے یا کہ اسی حال پربے تعلیم رہنامناسباورخلفائے راشدین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کی بیعت ہرخلافت کے وقت کس لئے صادرہوئی۔
الجواب:
دوسرے شیخ سے طالب ہومگر اپنی ارادت شیخ اول ہی سے رکھے اور اس سے جوفیض حاصل ہووہ اپنے ہی کی عطا جانے۔اولیائے کرام فرماتے ہیں ایك شخص کے دوباپ نہیں ہوسکتےایك عورت کے دوشوہر نہیں ہوسکتےایك مرید کے دوشیخ نہیں ہو سکتے۔خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہم کے دست اقدس پربیعتیں ان کوامام ماننے اوران کی اطاعت کرنے کی تھیں جیسے ہر جدید بادشاہ کے ہاتھ پرکی جاتی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۸: ازریاست رامپور محلہ گھیرزبیرخاں مرسلہ مرزامحمدفاروق بیگ صاحب ۱۰/شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
حقوق پیربغرض تصحیح وترمیم:
(۱)یہ اعتقادکرے کہ میرامطلب اسی مرشد سے حاصل ہوگا اوراگردوسری طرف توجہ کرے گا تومرشد کے فیوض وبرکات سے محروم رہے گا۔
(۲)ہرطرح مرشد کامطیع ہو اورجان ومال سے اس کی خدمت کرے کیونکہ بغیر محبت پیرکے کچھ نہیں ہوتا اورمحبت کی پہچان یہی ہے۔
(۳)مرشدجوکچھ کہے اس کوفورا بجالائے اوربغیراجازت اس کے فعل کی اقتدانہ کرے کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے حال ومقام کے مناسب ایك کام کرتاہے کہ مرید کواس کاکرنازہرقاتل ہے۔
(۴)جوورد وطیفہ مرشد تعلیم کرے اس کوپڑھے اورتمام وظیفے چھوڑدے خواہ اس نے اپنی طرف سے پڑھنا شروع کیا ہو یاکسی دوسرے نے بتایاہو۔
(۵)مرشد کی موجودگی میں ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ رہناچاہئے یہاں تك کہ سوائے فرض وسنت کے نمازنفل اورکوئی وظیفہ ا س کی اجازت کے بغیرنہ پڑھے۔
(۶)حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑاہوکہ اس کاسایہ مرشد کے سایہ پریا اس کے کپڑے پرپڑے۔
(۷)اس کے مصلے پرپیر نہ رکھے۔
(۸)اس کی طہارت یاوضو کی جگہ طہارت یاوضونہ کرے۔
(۹)مرشد کے برتنوں کواستعمال میں نہ لائے۔
(۱۰)اس کے سامنے نہ کھاناکھائے نہ پانی پیئے اورنہ وضوکرےہاں اجازت کے بعد مضائقہ نہیں۔
(۱۱)اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرےبلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔
(۱۲)جس جگہ مرشدبیٹھتاہو اس طرف پیرنہ پھیلائے اگرچہ سامنے نہ ہو۔
(۱۳)اوراس طرف تھوکے بھی نہیں۔
(۱۴)جوکچھ مرشد کہے اورکرے اس پراعتراض نہ کرے کیونکہ جوکچھ وہ کرتاہے اورکہتاہے اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو حضرت موسی وخضرعلیہماالسلام کاقصہ یادکرے۔
(۱۵)اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔
حقوق پیربغرض تصحیح وترمیم:
(۱)یہ اعتقادکرے کہ میرامطلب اسی مرشد سے حاصل ہوگا اوراگردوسری طرف توجہ کرے گا تومرشد کے فیوض وبرکات سے محروم رہے گا۔
(۲)ہرطرح مرشد کامطیع ہو اورجان ومال سے اس کی خدمت کرے کیونکہ بغیر محبت پیرکے کچھ نہیں ہوتا اورمحبت کی پہچان یہی ہے۔
(۳)مرشدجوکچھ کہے اس کوفورا بجالائے اوربغیراجازت اس کے فعل کی اقتدانہ کرے کیونکہ بعض اوقات وہ اپنے حال ومقام کے مناسب ایك کام کرتاہے کہ مرید کواس کاکرنازہرقاتل ہے۔
(۴)جوورد وطیفہ مرشد تعلیم کرے اس کوپڑھے اورتمام وظیفے چھوڑدے خواہ اس نے اپنی طرف سے پڑھنا شروع کیا ہو یاکسی دوسرے نے بتایاہو۔
(۵)مرشد کی موجودگی میں ہمہ تن اسی کی طرف متوجہ رہناچاہئے یہاں تك کہ سوائے فرض وسنت کے نمازنفل اورکوئی وظیفہ ا س کی اجازت کے بغیرنہ پڑھے۔
(۶)حتی الامکان ایسی جگہ نہ کھڑاہوکہ اس کاسایہ مرشد کے سایہ پریا اس کے کپڑے پرپڑے۔
(۷)اس کے مصلے پرپیر نہ رکھے۔
(۸)اس کی طہارت یاوضو کی جگہ طہارت یاوضونہ کرے۔
(۹)مرشد کے برتنوں کواستعمال میں نہ لائے۔
(۱۰)اس کے سامنے نہ کھاناکھائے نہ پانی پیئے اورنہ وضوکرےہاں اجازت کے بعد مضائقہ نہیں۔
(۱۱)اس کے روبرو کسی سے بات نہ کرےبلکہ کسی کی طرف متوجہ بھی نہ ہو۔
(۱۲)جس جگہ مرشدبیٹھتاہو اس طرف پیرنہ پھیلائے اگرچہ سامنے نہ ہو۔
(۱۳)اوراس طرف تھوکے بھی نہیں۔
(۱۴)جوکچھ مرشد کہے اورکرے اس پراعتراض نہ کرے کیونکہ جوکچھ وہ کرتاہے اورکہتاہے اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو حضرت موسی وخضرعلیہماالسلام کاقصہ یادکرے۔
(۱۵)اپنے مرشد سے کرامت کی خواہش نہ کرے۔
(۱۶)اگرکوئی شبہہ دل میں گزرے توفورا عرض کرے اوراگروہ شبہہ حل نہ ہوتا تواپنے فہم کانقصان سمجھے اوراگراس کاکچھ جواب نہ دے توجان لے کہ میں اس کے جواب کے لائق نہ تھا۔
(۱۷)خواب میں جوکچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اوراگراس کی تعبیر ذہن میں آئے تو اسے بھی عرض کردے۔
(۱۸)بے ضرورت اوربے اذن مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔
(۱۹)مرشد کی آوازپراپنی آوازبلندنہ کرے اوربآوازاس سے بات نہ کرے اوربقدرضرورت مختصرکلام کرے اورنہایت توجہ سے جواب کامنتظررہے۔
(۲۰)اورمرشد کے کلام کودوسرے سے اس قدربیان کرے جس قدرلوگ سمجھ سکیں اورجس بات کویہ سمجھے کہ لوگ نہ سمجھیں گے تواسے بیان نہ کرے۔
(۲۱)اورمرشد کے کلام کورد نہ کرے اگرچہ حق مریدہی کی جانب ہو بلکہ اعتقادکرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب سے بہترہے۔
(۲۲)اورکسی دوسرے کاسلام وپیام شیخ سے نہ کہے۔
(۲۳)جوکچھ اس کاحال ہوبرایابھلا اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا مرشد کے کشف پراعتماد کرکے سکوت نہ کرے۔
(۲۴)اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو اگرکچھ پڑھنا ہوتو اس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔
(۲۵)جوکچھ فیض باطنی اسے پہنچے اسے مرشد کاطفیل سمجھے اگرچہ خواب میں یامراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا ہے تب بھی یہ جانے کہ مرشد کاکوئی لطیفہ اس بزرگ کی صورت میں ظاہرہواہے(کذافی ارشاد رحمانی)قال العارف الرومی (عارف رومی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ت):
چوں گرفتی پیربین تسلیم شو ہمچوموسی زیرحکم خضررو
صبرکن برکار خضراے بے نفاق تانگوید خضر روہذافراق
جب تونے پیربنالیا توخبردار اب سرتسلیم خم کرلےموسی علیہ السلام کی طرح
(۱۷)خواب میں جوکچھ دیکھے وہ مرشد سے عرض کرے اوراگراس کی تعبیر ذہن میں آئے تو اسے بھی عرض کردے۔
(۱۸)بے ضرورت اوربے اذن مرشد سے علیحدہ نہ ہو۔
(۱۹)مرشد کی آوازپراپنی آوازبلندنہ کرے اوربآوازاس سے بات نہ کرے اوربقدرضرورت مختصرکلام کرے اورنہایت توجہ سے جواب کامنتظررہے۔
(۲۰)اورمرشد کے کلام کودوسرے سے اس قدربیان کرے جس قدرلوگ سمجھ سکیں اورجس بات کویہ سمجھے کہ لوگ نہ سمجھیں گے تواسے بیان نہ کرے۔
(۲۱)اورمرشد کے کلام کورد نہ کرے اگرچہ حق مریدہی کی جانب ہو بلکہ اعتقادکرے کہ شیخ کی خطا میرے صواب سے بہترہے۔
(۲۲)اورکسی دوسرے کاسلام وپیام شیخ سے نہ کہے۔
(۲۳)جوکچھ اس کاحال ہوبرایابھلا اسے مرشد سے عرض کرے کیونکہ مرشد طبیب قلبی ہے اطلاع کے بعد اس کی اصلاح کرے گا مرشد کے کشف پراعتماد کرکے سکوت نہ کرے۔
(۲۴)اس کے پاس بیٹھ کر وظیفہ میں مشغول نہ ہو اگرکچھ پڑھنا ہوتو اس کی نظر سے پوشیدہ بیٹھ کر پڑھے۔
(۲۵)جوکچھ فیض باطنی اسے پہنچے اسے مرشد کاطفیل سمجھے اگرچہ خواب میں یامراقبہ میں دیکھے کہ دوسرے بزرگ سے پہنچا ہے تب بھی یہ جانے کہ مرشد کاکوئی لطیفہ اس بزرگ کی صورت میں ظاہرہواہے(کذافی ارشاد رحمانی)قال العارف الرومی (عارف رومی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ت):
چوں گرفتی پیربین تسلیم شو ہمچوموسی زیرحکم خضررو
صبرکن برکار خضراے بے نفاق تانگوید خضر روہذافراق
جب تونے پیربنالیا توخبردار اب سرتسلیم خم کرلےموسی علیہ السلام کی طرح
حوالہ / References
مثنوی معنوی وصیت کردن بررسول خدامرعلی مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۱/ ۳۱۱
خضرعلیہ السلام کے حکم کے ماتحت چل اے نفاق سے پاك شخص حضرت خضرعلیہ السلام کے کام پرصبرکرتاکہ خضرعلیہ السلام یہ نہ فرما دیں کہ جایہ جدائی ہے۔ت)
قال العطار(شیخ عطارعلیہ الرحمۃ نے فرمایا۔ت):
(۱) گرہواے ایں سفرداری دلا دامن رہبربگیروپس بیا
(۲) درارادت باش صادق اے مرید تابیانی گنج عرفاں راکلید
(۳) دامن رہبربگیراے راہ جو ہرچہ داری کن نثارراہ او
(۴) گرروی صدسال درراہ طلب راہبرنبودچہ حاصل زان تعب
(۵) بے رفیقے ہرکہ شد درراہ عشق عمربگذشت ونشدآگاہی عشق
(۶) پیرخودراحکم مطلق شناس تابراہ فقرگردی حق شناس
(۷)ہرچہ فرماید مطیع امرباش طوطیائے دیدہ کن ازخاك پاش
(۸)آنچہ میگوید سخن توگوش باش تانگویدا وبگوخاموش باش
(۱) اے دل! اگرتواس سفرکی خواہش رکھتاہے توکسی راہنما کادامن پکڑپھرآ۔
(۲) اے مرید! ارادت میں صادق ہوتاکہ تومعرفت کے خزانے کی چابی پائے۔
(۳) اے راہ طریقت کے متلاشی! کسی راہنما کادامن پکڑجوکچھ تورکھتاہے اس کی راہ میں قربان کردے۔
(۴) اگرتوطلب کی راہ میں سوسال چلتارہےراہنما اگرنہیں ہے تو اس مشقت کاکیافائدہ ہے!
(۵) کسی رفیق کے بغیرجوکوئی عشق کے راستے پرچلا اس کی عمرگزرگئی اوروہ عشق سے آگاہ نہ ہوا۔
(۶) اپنے پیرکوحاکم مطلق سمجھتاکہ فقیری کی راہ میں تو حق کوپہچاننے والاہوجائے۔
(۷) جوکچھ پیرفرمائے اس کے حکم کی اطاعت کرنے والا ہوجااس کی خاك پاکوآنکھوں کاسرمہ بنا۔
(۸) پیرجوبات کرے توہمہ تن گوش ہوجاجب تك وہ نہ کہے کہ بولوتوچپ رہ۔ت)
قال العطار(شیخ عطارعلیہ الرحمۃ نے فرمایا۔ت):
(۱) گرہواے ایں سفرداری دلا دامن رہبربگیروپس بیا
(۲) درارادت باش صادق اے مرید تابیانی گنج عرفاں راکلید
(۳) دامن رہبربگیراے راہ جو ہرچہ داری کن نثارراہ او
(۴) گرروی صدسال درراہ طلب راہبرنبودچہ حاصل زان تعب
(۵) بے رفیقے ہرکہ شد درراہ عشق عمربگذشت ونشدآگاہی عشق
(۶) پیرخودراحکم مطلق شناس تابراہ فقرگردی حق شناس
(۷)ہرچہ فرماید مطیع امرباش طوطیائے دیدہ کن ازخاك پاش
(۸)آنچہ میگوید سخن توگوش باش تانگویدا وبگوخاموش باش
(۱) اے دل! اگرتواس سفرکی خواہش رکھتاہے توکسی راہنما کادامن پکڑپھرآ۔
(۲) اے مرید! ارادت میں صادق ہوتاکہ تومعرفت کے خزانے کی چابی پائے۔
(۳) اے راہ طریقت کے متلاشی! کسی راہنما کادامن پکڑجوکچھ تورکھتاہے اس کی راہ میں قربان کردے۔
(۴) اگرتوطلب کی راہ میں سوسال چلتارہےراہنما اگرنہیں ہے تو اس مشقت کاکیافائدہ ہے!
(۵) کسی رفیق کے بغیرجوکوئی عشق کے راستے پرچلا اس کی عمرگزرگئی اوروہ عشق سے آگاہ نہ ہوا۔
(۶) اپنے پیرکوحاکم مطلق سمجھتاکہ فقیری کی راہ میں تو حق کوپہچاننے والاہوجائے۔
(۷) جوکچھ پیرفرمائے اس کے حکم کی اطاعت کرنے والا ہوجااس کی خاك پاکوآنکھوں کاسرمہ بنا۔
(۸) پیرجوبات کرے توہمہ تن گوش ہوجاجب تك وہ نہ کہے کہ بولوتوچپ رہ۔ت)
حوالہ / References
الجواب:
یہ تمام حقوق صحیح ہیں،ان میں بعض قرآن عظیم اوربعض احادیث شریفہ اوربعض کلمات علماء اوربعض ارشادات اولیاء سے ثابت ہیں اور اس پرخود واضح ہیں جومعنی بیعت سمجھاہواہے،اکابرنے اس سے بھی زیادہ آداب لکھے ہیں،اتنوں پرعمل نہ کریں گے مگربڑی توفیق والے،اورنمبر۱۷سے شیطانی خواب پریشان مہمل مستثنٰی ہے کہ اسے بیان کرنے کوحدیث میں منع فرمایا ہے۔اورنمبر ۲۲عوام مریدین کے لئے ہے جن کو بارگاہ شیخ میں بھی منصب عرض معروض دیگران حاصل نہ ہوایسوں سے اگر کوئی عرض سلام کے لئے کہے عذرکردے کہ میں حضورشیخ میں دوسرے کی بات عرض کرنے کے ابھی قابل نہیں۔ €&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
مسئلہ ۲۹۹ و ۳۰۰: ازشہرکہنہ بریلی قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ اشرفی الجیلانی کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)بیعت ہونے میں والدین یاشوہر وغیرہ کی اجازت شرط ہے یانہیں؟
(۲)اپنامرشد انتقال کرگیاہو یاموجودہو مگربوجوہات معقولہ واقعہ اس سے تعلیم محال ہوتوبغرض تعلیم طریقہ کرام دوسرے شیخ سے طالب ہونااولٰی ہے یابے علم رہنابہتر؟
الجواب:
(۱)جوپیرسنی صحیح العقیدہ عالم غیرفاسق ہو اور اس کاسلسلہ آخرتك متصل ہواس کے ہاتھ پر بیعت کے لئے والدین خواہ شوہر کسی کی اجازت کی حاجت نہیں۔
(۲)جہل سے طلب اولٰی ہے مگرپیرصحیح سے انحراف جائزنہیں،جوفیض ملے اسے شیخ ہی کی عطاجانے۔€&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
مسئلہ ۳۰۱ تا ۳۰۴: ازشہرغازی پور مرسلہ علی بخش محرررجسٹری ۱۴شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کسی بزرگ سے بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے یانہیں؟
(۲)اگرکسی شخص کو کسی بزرگ سے عقیدت ہو اوربوجہ دوری وہ شخص اس بزرگ کی خدمت میں حاضرنہ ہوسکے تو وہ شخص اس بزرگ سے کیسے مریدہوسکتاہے یاہوہی نہیں سکتا کسی طرح پر؟
(۳)ایك وظیفہ ایساارشاد فرمائیے اوراجازت دیجئے جس میں صرف محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پڑھناہوچاہے بطرق شغل قادریہ یاچشتیہ وغیرہایاکسی اورطریقہ پرہو۔
یہ تمام حقوق صحیح ہیں،ان میں بعض قرآن عظیم اوربعض احادیث شریفہ اوربعض کلمات علماء اوربعض ارشادات اولیاء سے ثابت ہیں اور اس پرخود واضح ہیں جومعنی بیعت سمجھاہواہے،اکابرنے اس سے بھی زیادہ آداب لکھے ہیں،اتنوں پرعمل نہ کریں گے مگربڑی توفیق والے،اورنمبر۱۷سے شیطانی خواب پریشان مہمل مستثنٰی ہے کہ اسے بیان کرنے کوحدیث میں منع فرمایا ہے۔اورنمبر ۲۲عوام مریدین کے لئے ہے جن کو بارگاہ شیخ میں بھی منصب عرض معروض دیگران حاصل نہ ہوایسوں سے اگر کوئی عرض سلام کے لئے کہے عذرکردے کہ میں حضورشیخ میں دوسرے کی بات عرض کرنے کے ابھی قابل نہیں۔ €&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
مسئلہ ۲۹۹ و ۳۰۰: ازشہرکہنہ بریلی قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ اشرفی الجیلانی کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)بیعت ہونے میں والدین یاشوہر وغیرہ کی اجازت شرط ہے یانہیں؟
(۲)اپنامرشد انتقال کرگیاہو یاموجودہو مگربوجوہات معقولہ واقعہ اس سے تعلیم محال ہوتوبغرض تعلیم طریقہ کرام دوسرے شیخ سے طالب ہونااولٰی ہے یابے علم رہنابہتر؟
الجواب:
(۱)جوپیرسنی صحیح العقیدہ عالم غیرفاسق ہو اور اس کاسلسلہ آخرتك متصل ہواس کے ہاتھ پر بیعت کے لئے والدین خواہ شوہر کسی کی اجازت کی حاجت نہیں۔
(۲)جہل سے طلب اولٰی ہے مگرپیرصحیح سے انحراف جائزنہیں،جوفیض ملے اسے شیخ ہی کی عطاجانے۔€&واﷲ تعالٰی اعلم€∞
مسئلہ ۳۰۱ تا ۳۰۴: ازشہرغازی پور مرسلہ علی بخش محرررجسٹری ۱۴شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کسی بزرگ سے بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے یانہیں؟
(۲)اگرکسی شخص کو کسی بزرگ سے عقیدت ہو اوربوجہ دوری وہ شخص اس بزرگ کی خدمت میں حاضرنہ ہوسکے تو وہ شخص اس بزرگ سے کیسے مریدہوسکتاہے یاہوہی نہیں سکتا کسی طرح پر؟
(۳)ایك وظیفہ ایساارشاد فرمائیے اوراجازت دیجئے جس میں صرف محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پڑھناہوچاہے بطرق شغل قادریہ یاچشتیہ وغیرہایاکسی اورطریقہ پرہو۔
(۴)ایك مختصردرودشریف ایساتحریرفرمائیے اور اس کی اجازت دیجئے کہ جوغیرمنقوط ہویعنی جس میں کسی حرف پرنقطہ نہ ہو۔
الجواب:
(۱)بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے۔
(۲)بذریعہ قاصدیاخط مریدہوسکتاہے۔
(۳)وظیفہ کے لئے پوراکلمہ طیبہ مناسب ترہے مگراس کے ساتھ درودشریف لاناضرورہے یعنی یوں وردکرے لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور صرف جز ثانی مع درودکابھی وردکرسکتاہے مگرمبتدی یاطالب کہ محتاج تصفیہ ہے اسے صرف جزء اول کاذکروشغل بتاتے ہیں کہ اس میں حرارت ہے اوردوسراجز کریم ٹھنڈالطیف اورتزکیہ گرمی پہنچانے کامحتاجہاں جب جز اول سے حرارت حد سے متجاوز ہوتوتعدیل کے لئے بتاتے ہیں کہ مثلا ہرسوبار لاالہ الا اﷲ کے بعد ایك بار محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہہ لے کہ تسکین پائے۔
(۴)اس کی حاجت کیاہےوہ صیغہ مثلا یہ ہوسکتاہے اللھم صل وسلم لرسولك محمد والہاس میں لام بمعنی علی ہے آپ اس کاورد کریں اجازت ہے۔
مسئلہ ۳۰۵ تا ۳۰۷: ازعلی گڑھ محلہ دویکاپڑاؤ مرسلہ محمدنصیرالدین صاحب مورخہ ۲۲ذوالحجہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زیدکہتاہے کہ بیعت کرنایعنی جوآج کل عرف میں پیری مریدی سے مشہورہے سنت نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں اس کا ثبوت نہیں ہے۔اورعمروکہتاہے کہ سنت ہے۔
(۲)زیدمذکور باوجود مسجدمیں بروقت جماعت حاضرہونے کے بلاوجہ شرعی جماعت سے علیحدہ نماز پڑھتاہے محض اسی بنیادپرکہ مسئلہ اول میں عمرو کے ساتھ اتفاق نہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں۔
(۳)زیدمذکور اپنے پیش امام سے جوکہ استادبھی ہیں سلام وکلام سے پرہیزکرتاہے اوربجائے احسان ماننے کے غیروں سے کہتا ہے وہ کیاجانے ہم سے مقابلہ کرالواس کی وجہ بھی مذکورہے ان سب صورتوں میں شرعا کیاحکم ہے بینوابحوالۃ الکتاب و توجرواعنداﷲ بحرالثواب(بحوالہ کتاب بیان فرمائیے اﷲ تعالی کے بحرثواب سے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
(۱)بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے۔
(۲)بذریعہ قاصدیاخط مریدہوسکتاہے۔
(۳)وظیفہ کے لئے پوراکلمہ طیبہ مناسب ترہے مگراس کے ساتھ درودشریف لاناضرورہے یعنی یوں وردکرے لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور صرف جز ثانی مع درودکابھی وردکرسکتاہے مگرمبتدی یاطالب کہ محتاج تصفیہ ہے اسے صرف جزء اول کاذکروشغل بتاتے ہیں کہ اس میں حرارت ہے اوردوسراجز کریم ٹھنڈالطیف اورتزکیہ گرمی پہنچانے کامحتاجہاں جب جز اول سے حرارت حد سے متجاوز ہوتوتعدیل کے لئے بتاتے ہیں کہ مثلا ہرسوبار لاالہ الا اﷲ کے بعد ایك بار محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہہ لے کہ تسکین پائے۔
(۴)اس کی حاجت کیاہےوہ صیغہ مثلا یہ ہوسکتاہے اللھم صل وسلم لرسولك محمد والہاس میں لام بمعنی علی ہے آپ اس کاورد کریں اجازت ہے۔
مسئلہ ۳۰۵ تا ۳۰۷: ازعلی گڑھ محلہ دویکاپڑاؤ مرسلہ محمدنصیرالدین صاحب مورخہ ۲۲ذوالحجہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زیدکہتاہے کہ بیعت کرنایعنی جوآج کل عرف میں پیری مریدی سے مشہورہے سنت نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں اس کا ثبوت نہیں ہے۔اورعمروکہتاہے کہ سنت ہے۔
(۲)زیدمذکور باوجود مسجدمیں بروقت جماعت حاضرہونے کے بلاوجہ شرعی جماعت سے علیحدہ نماز پڑھتاہے محض اسی بنیادپرکہ مسئلہ اول میں عمرو کے ساتھ اتفاق نہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں۔
(۳)زیدمذکور اپنے پیش امام سے جوکہ استادبھی ہیں سلام وکلام سے پرہیزکرتاہے اوربجائے احسان ماننے کے غیروں سے کہتا ہے وہ کیاجانے ہم سے مقابلہ کرالواس کی وجہ بھی مذکورہے ان سب صورتوں میں شرعا کیاحکم ہے بینوابحوالۃ الکتاب و توجرواعنداﷲ بحرالثواب(بحوالہ کتاب بیان فرمائیے اﷲ تعالی کے بحرثواب سے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
بیعت بیشك سنت محبوبہ ہےامام اجل شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمررضی اﷲ تعالی عنہ کی عوارف شریف سے شاہ ولی اﷲ دہلوی کی قول الجمیل تك اس کی تصریح اورائمہ واکابر کااس پرعمل ہےاور رب العزت عزوجل فرماتاہے:
" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ " بیشك وہ جوتمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تواﷲ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔(ت)
اورفرماتاہے:
" ید اللہ فوق ایدیہم " ان کے ہاتھوں پراﷲ کاہاتھ ہے۔(ت)
اورفرماتاہے:
" لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ" بے شك اﷲ تعالی راضی ہواایمان والوں سے جب وہ اس پیڑکے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔(ت)
اوربیعت کوخاص بجہادسمجھنا جہالت ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا النبی اذا جاءک المؤمنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیـا و لا یسرقن ولا یزنین و لا یقتلن اولدہن و لا یاتین ببہتن یفترینہ بین ایدیہن و ارجلہن و لا یعصینک فی معروف فبایعہن و استغفر لہن اللہ ان اللہ غفور رحیم ﴿۱۲﴾" اے نبی! جب تمہارے حضورمسلمان عورتیں حاضرہوں اس پربیعت کرنے کو اﷲ کاکچھ شریك نہ ٹھہرائیں گی اورنہ چوری کریں گی اورنہ بدکاری اورنہ اپنی اولاد کوقتل کریں گی اورنہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اورپاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اورکسی نیك بات میں تمہاری نا فرمانی نہیں کریں گی توان سے بیعت لو اوراﷲ سے ان کی مغفرت چاہوبیشك اﷲ بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
بیعت بیشك سنت محبوبہ ہےامام اجل شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمررضی اﷲ تعالی عنہ کی عوارف شریف سے شاہ ولی اﷲ دہلوی کی قول الجمیل تك اس کی تصریح اورائمہ واکابر کااس پرعمل ہےاور رب العزت عزوجل فرماتاہے:
" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ " بیشك وہ جوتمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تواﷲ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔(ت)
اورفرماتاہے:
" ید اللہ فوق ایدیہم " ان کے ہاتھوں پراﷲ کاہاتھ ہے۔(ت)
اورفرماتاہے:
" لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ" بے شك اﷲ تعالی راضی ہواایمان والوں سے جب وہ اس پیڑکے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔(ت)
اوربیعت کوخاص بجہادسمجھنا جہالت ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا النبی اذا جاءک المؤمنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیـا و لا یسرقن ولا یزنین و لا یقتلن اولدہن و لا یاتین ببہتن یفترینہ بین ایدیہن و ارجلہن و لا یعصینک فی معروف فبایعہن و استغفر لہن اللہ ان اللہ غفور رحیم ﴿۱۲﴾" اے نبی! جب تمہارے حضورمسلمان عورتیں حاضرہوں اس پربیعت کرنے کو اﷲ کاکچھ شریك نہ ٹھہرائیں گی اورنہ چوری کریں گی اورنہ بدکاری اورنہ اپنی اولاد کوقتل کریں گی اورنہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اورپاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں اورکسی نیك بات میں تمہاری نا فرمانی نہیں کریں گی توان سے بیعت لو اوراﷲ سے ان کی مغفرت چاہوبیشك اﷲ بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۸ /۱۰
القرآن الکریم ۴۸ /۱۰
القرآن الکریم ۴۸ /۱۸
القرآن الکریم ۶۰ /۱۲
القرآن الکریم ۴۸ /۱۰
القرآن الکریم ۴۸ /۱۸
القرآن الکریم ۶۰ /۱۲
زیدبوجہ ترك جماعت فاسق فاجرمردودالشہادۃ مستوجب عذا ب نارہے۔زیدبلاوجہ شرعی اپنے باطل خیال کے باعث مسلمان سے ترك سلام وکلام کرکے دوسرے جرم کامرتکب ہوااورجبکہ امام اس کااستادبھی ہے توعاق بھی ہوااوراس پر ان حرکات شنیعہ سے توبہ فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۸: ازضلع چاندہ ممالك متوسط نزول سرورآفس مسئولہ رحیم بخش خاں محمد شہزادخاں ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کمترین ایك مولوی وحیدصاحب نامی کے ہاتھ پربیعت ہواتھا دس بارہ برس تك برابرخدمت کرتارہا جہاں تك ہوسکتااپنی برادری کے لوگوں کوبھی آپ کی بیعت میں داخل کرایاجب مولوی صاحب کارسوخ ہماری برادری میں اچھی طرح اثرپذیرہوگیاتو مولوی صاحب لگے ہماری برائی کرنےجب مجھے اس کی خبرہوئی توحاضرخدمت ہوکرعرض کیاکہ خاکسارخادم قدیم سے کچھ قصورہواہے توحضورمجھ کوسزادیتے عام لوگوں میں بلاسبب رسواکرناکیامصلحت ہےاس پرجھوٹی قسم کھاگئے کہ ہم نے کچھ کسی سے نہ کہااتفاق سے وہ لوگ بھی موجودتھے اس وقت مولوی صاحب بہت نادم ہوئےمیں خاموش ہوگیاوقت گذشت کیاکیونکہ ہرطرح سے اپنی برائی ہوتی تھی اگرچہ مولوی صاحب کی ہی غلطی کیوں نہ ہو۔
دوسرے آپ نے ایك شادی بھی اس بستی کی ایك ایسی عورت سے کرلی جومریدبھی نہیں اورجس کاشوہرمفقودالخبرہو گیا ہے اس سے تمام بستی کے لوگ بدگمان وبدعقیدہ ہوگئے یہاں تك کہ نمازبھی ان کے پیچھے نہ پڑھتے تھےتابعدارنے اپناپیربنالیاتھا اس لئے بہت ہی کوشش وبستی کے لوگوں کی خوشامد کرکے فساد کورفع دفع کرایا مگرچندروزکے بعد آپ نے اپنی منکوحہ صاحب کوعلانیہ مسجدمیں بلاپردہ آنے پرکچھ روك ٹوك نہ کیا یہاں تك کہ مسجد کے پابندنمازی لوگوں نے بھی کہامگرجواب یہ ملاکہ لونڈی ہے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔لوگوں نے کہا ہماری پٹھان برادری کی لڑکی ہے لونڈی کیسے ہوسکتی ہے۔غرضیکہ بہت شر پیداہوگیا۔نہ بی بی صاحبہ پردہ میں رہتی ہیں نہ مولوی صاحب تنبیہ کرسکتے ہیں۔ایسی حالت میں تین بچے بھی ہوگئے مگر حالت ہنوز روزاول ہے اب یہ ہوگیاہے کہ نئے نئے لچے لفنگے روزمریدہوتے ہیں۔غریب پابندصوم وصلاۃ کے قدیم خدمت گزار مردودعلانیہ بنائے جاتے ہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارامردودکیاہوا خداورسول اورپیروں کامردودہے ہماری بی بی امہات المومنین ہیں مریدوں کے لئے۔ہرروزنئے نئے جھگڑے فساد برپاہوتے رہتے ہیں۔
مسئلہ ۳۰۸: ازضلع چاندہ ممالك متوسط نزول سرورآفس مسئولہ رحیم بخش خاں محمد شہزادخاں ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کمترین ایك مولوی وحیدصاحب نامی کے ہاتھ پربیعت ہواتھا دس بارہ برس تك برابرخدمت کرتارہا جہاں تك ہوسکتااپنی برادری کے لوگوں کوبھی آپ کی بیعت میں داخل کرایاجب مولوی صاحب کارسوخ ہماری برادری میں اچھی طرح اثرپذیرہوگیاتو مولوی صاحب لگے ہماری برائی کرنےجب مجھے اس کی خبرہوئی توحاضرخدمت ہوکرعرض کیاکہ خاکسارخادم قدیم سے کچھ قصورہواہے توحضورمجھ کوسزادیتے عام لوگوں میں بلاسبب رسواکرناکیامصلحت ہےاس پرجھوٹی قسم کھاگئے کہ ہم نے کچھ کسی سے نہ کہااتفاق سے وہ لوگ بھی موجودتھے اس وقت مولوی صاحب بہت نادم ہوئےمیں خاموش ہوگیاوقت گذشت کیاکیونکہ ہرطرح سے اپنی برائی ہوتی تھی اگرچہ مولوی صاحب کی ہی غلطی کیوں نہ ہو۔
دوسرے آپ نے ایك شادی بھی اس بستی کی ایك ایسی عورت سے کرلی جومریدبھی نہیں اورجس کاشوہرمفقودالخبرہو گیا ہے اس سے تمام بستی کے لوگ بدگمان وبدعقیدہ ہوگئے یہاں تك کہ نمازبھی ان کے پیچھے نہ پڑھتے تھےتابعدارنے اپناپیربنالیاتھا اس لئے بہت ہی کوشش وبستی کے لوگوں کی خوشامد کرکے فساد کورفع دفع کرایا مگرچندروزکے بعد آپ نے اپنی منکوحہ صاحب کوعلانیہ مسجدمیں بلاپردہ آنے پرکچھ روك ٹوك نہ کیا یہاں تك کہ مسجد کے پابندنمازی لوگوں نے بھی کہامگرجواب یہ ملاکہ لونڈی ہے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔لوگوں نے کہا ہماری پٹھان برادری کی لڑکی ہے لونڈی کیسے ہوسکتی ہے۔غرضیکہ بہت شر پیداہوگیا۔نہ بی بی صاحبہ پردہ میں رہتی ہیں نہ مولوی صاحب تنبیہ کرسکتے ہیں۔ایسی حالت میں تین بچے بھی ہوگئے مگر حالت ہنوز روزاول ہے اب یہ ہوگیاہے کہ نئے نئے لچے لفنگے روزمریدہوتے ہیں۔غریب پابندصوم وصلاۃ کے قدیم خدمت گزار مردودعلانیہ بنائے جاتے ہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارامردودکیاہوا خداورسول اورپیروں کامردودہے ہماری بی بی امہات المومنین ہیں مریدوں کے لئے۔ہرروزنئے نئے جھگڑے فساد برپاہوتے رہتے ہیں۔
آج ایك مرید کومقبول بنایا کل دوسرے کومردودکیایہ سب باتیں توظاہرہیںعلاوہ اس کے ایسے حالات ہیں جن کااظہار کرنا زبان گوارانہیں کرتی۔یہ خاکسار عجیب پریشانی میں ہے۔خداکے واسطے رسول کے واسطے اوراپنے طریقت کے بزرگوں کے واسطے مجھے کوئی راہ نجات کی بتائیںیہ کہ ایسی حالت میں کسی دوسرے صاحب شریعت وطریقت کے ہاتھ پربیعت کرسکتاہوں یا نہیں اورایسے شخص کی بیعت فسخ ہے یانہیں
الجواب:
پیرمیں چارشرطیں لازم ہیں:
اول: سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علماء حرمین شریفین ہو۔
دوسرے: اتناعلم رکھتاہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے۔
تیسرے: فاسق معلن نہ ہو۔
چوتھے: اس کاسلسلہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك متصل ہو۔
جس میں یہ چاروں شرطیں جمع ہیں اس کے ہاتھ پربیعت جائزہے اورایسے پیرکے افعال واقوال پراعتراض سخت حرام اورموجب محرومی برکات دارین ہےاس کی جوبات اپنے ذہن میں خلاف معلوم ہو واجب ہے کہ اچھی تاویل کرے اورتاویل میں سمجھ نہ آئے تویہ سمجھے کہ اس کاکوئی عمدہ منشاہوگا جومیری سمجھ میں نہ آیااب آپ اپنے پیرکودیکھئے ان چارشرطوں میں سے اگرکسی شرط کی کمی ہے توبیعت ناجائزہوئیآپ کوچاہئے کہ کسی پیرجامع شرائط پربیعت کریںکمی شرط کی ایك صورت یہ ہے کہ وہ اس کی منکوحہ باریك کپڑے پہنے جن سے بدن یابال چمکتے ہوںیابالوں یاگلے یاکلائی یاپنڈلی کاکوئی حصہ ظاہرہو یاکپڑے اتنے چست ہوں کہ بدن کی ہیأت بتاتے ہوں اوروہ یوں علانیہ مجمع مرداں میں آتی ہے اور شوہر جائزرکھے تو دیوث فاسق معلن ہے قابل پیری نہیںاوراگرایسانہیں اورچاروں شرطیں جمع ہیں تواس پراعتراض جائزنہیں اوراس کی بیعت سے روگردانی منع ہے وہ قسم جواس نے کھائی اس میں تاویل یہ سمجھے کہ ہم نے خود کسی سے کچھ نہ کہا بلکہ ہم سے کہلوایاگیا اس طرح حضرت سیدتنا کلثوم بنت حضرت خاتون جنت رضی اﷲ تعالی عنہما نے اپنے شوہرسیدناعمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے جنازے پرجو فضائل ان کے بیان کئے ان کے والد امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالی وجہہ الکریم نے فرمایا:واﷲ ماقالت ولکن قولت خدا کی قسم یہ
الجواب:
پیرمیں چارشرطیں لازم ہیں:
اول: سنی صحیح العقیدہ مطابق عقائد علماء حرمین شریفین ہو۔
دوسرے: اتناعلم رکھتاہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے۔
تیسرے: فاسق معلن نہ ہو۔
چوتھے: اس کاسلسلہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك متصل ہو۔
جس میں یہ چاروں شرطیں جمع ہیں اس کے ہاتھ پربیعت جائزہے اورایسے پیرکے افعال واقوال پراعتراض سخت حرام اورموجب محرومی برکات دارین ہےاس کی جوبات اپنے ذہن میں خلاف معلوم ہو واجب ہے کہ اچھی تاویل کرے اورتاویل میں سمجھ نہ آئے تویہ سمجھے کہ اس کاکوئی عمدہ منشاہوگا جومیری سمجھ میں نہ آیااب آپ اپنے پیرکودیکھئے ان چارشرطوں میں سے اگرکسی شرط کی کمی ہے توبیعت ناجائزہوئیآپ کوچاہئے کہ کسی پیرجامع شرائط پربیعت کریںکمی شرط کی ایك صورت یہ ہے کہ وہ اس کی منکوحہ باریك کپڑے پہنے جن سے بدن یابال چمکتے ہوںیابالوں یاگلے یاکلائی یاپنڈلی کاکوئی حصہ ظاہرہو یاکپڑے اتنے چست ہوں کہ بدن کی ہیأت بتاتے ہوں اوروہ یوں علانیہ مجمع مرداں میں آتی ہے اور شوہر جائزرکھے تو دیوث فاسق معلن ہے قابل پیری نہیںاوراگرایسانہیں اورچاروں شرطیں جمع ہیں تواس پراعتراض جائزنہیں اوراس کی بیعت سے روگردانی منع ہے وہ قسم جواس نے کھائی اس میں تاویل یہ سمجھے کہ ہم نے خود کسی سے کچھ نہ کہا بلکہ ہم سے کہلوایاگیا اس طرح حضرت سیدتنا کلثوم بنت حضرت خاتون جنت رضی اﷲ تعالی عنہما نے اپنے شوہرسیدناعمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے جنازے پرجو فضائل ان کے بیان کئے ان کے والد امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالی وجہہ الکریم نے فرمایا:واﷲ ماقالت ولکن قولت خدا کی قسم یہ
حوالہ / References
تاریخ الامم والملوك للطبری من ندب عمرورثاہ رضی اﷲ عنہ دارالقلم بیروت ۵/ ۲۸
انہوں نے نہ کہے بلکہ ان سے کہلوائے گئےاوراس کاکہناکہ مریدوں کے لئے میری بیوی امہات المومنین ہیں اگرچہ سخت معیوب وناشائستہ ہے مگرنہ اس قابل کہ چاروں شرطیں ہوتے ہوئے اس کی بیعت فسخ کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۰۹: ازشہرمحلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۱۸صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت بغیراجازت شوہرکے مریدہوسکتی ہے یانہیں اگربغیراجازت ہوگئی تو کیاحکم ہے
الجواب:
ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱۰: ازکھنڈیا ضلع ریاست رامپور مسئولہ عزیزاحمد ۲جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چندلوگ سنبھل مکن پورکے اس طرح بیعت کرتے ہیں کہ پیالہ پلاتے ہیں اوربندگان خدا کوکسی قسم کی تعلیم نہیں کرتے یہی لوگ موضع کھنڈیاعلاقہ ریاست رامپورمیں جمع ہوئے اوربیان کیاکہ طریقہ بیعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہی ہے۔ایك صاحب خاندان قادریہ کے وہاں موجودتھے انہوں نے کہاکہ چارطریق سے بیعت شرعا جائزہے ایك بذریعہ خواب کے دوسرے قبرسے تیسرے پیالہ پلاکرچوتھے اس شخص سے جوصاحب اجازت نہ ہو۔ان دونوں بیانوں میں کون ساصحیح ہےبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
اس شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافتراء کیاکہ حضورکاطریقہ بیعت پیالہ پلاناتھا حاش ﷲ بلکہ ہاتھ پرہاتھ مارنااوریہی طریقہ آج تك مشائخ میں ہے پیالہ پلانا بھنگڑوں بیقیدوں کے یہاں ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم "
۔ اے نبی ! یہ جوتم سے بیعت کررہے ہیں یہ تو اﷲ سے بیعت کرتے ہیں یہ تمہارا ہاتھ ان کے ہاتھوں پرنہیں اﷲ کادست قدرت ان کے ہاتھوں پرہے۔
معلوم ہواکہ طریقہ بیعت ہاتھ پرہاتھ رکھناتھانہ کہ پیالہ پلاناتھا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۰۹: ازشہرمحلہ سوداگراں مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۱۸صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت بغیراجازت شوہرکے مریدہوسکتی ہے یانہیں اگربغیراجازت ہوگئی تو کیاحکم ہے
الجواب:
ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱۰: ازکھنڈیا ضلع ریاست رامپور مسئولہ عزیزاحمد ۲جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چندلوگ سنبھل مکن پورکے اس طرح بیعت کرتے ہیں کہ پیالہ پلاتے ہیں اوربندگان خدا کوکسی قسم کی تعلیم نہیں کرتے یہی لوگ موضع کھنڈیاعلاقہ ریاست رامپورمیں جمع ہوئے اوربیان کیاکہ طریقہ بیعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہی ہے۔ایك صاحب خاندان قادریہ کے وہاں موجودتھے انہوں نے کہاکہ چارطریق سے بیعت شرعا جائزہے ایك بذریعہ خواب کے دوسرے قبرسے تیسرے پیالہ پلاکرچوتھے اس شخص سے جوصاحب اجازت نہ ہو۔ان دونوں بیانوں میں کون ساصحیح ہےبینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
اس شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرافتراء کیاکہ حضورکاطریقہ بیعت پیالہ پلاناتھا حاش ﷲ بلکہ ہاتھ پرہاتھ مارنااوریہی طریقہ آج تك مشائخ میں ہے پیالہ پلانا بھنگڑوں بیقیدوں کے یہاں ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم "
۔ اے نبی ! یہ جوتم سے بیعت کررہے ہیں یہ تو اﷲ سے بیعت کرتے ہیں یہ تمہارا ہاتھ ان کے ہاتھوں پرنہیں اﷲ کادست قدرت ان کے ہاتھوں پرہے۔
معلوم ہواکہ طریقہ بیعت ہاتھ پرہاتھ رکھناتھانہ کہ پیالہ پلاناتھا۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۸ /۱۰
مسئلہ۳۱۱: ازمدرسہ منظرالاسلام بریلی مسئولہ محمدثناء اﷲ طالب علم ۲۸جمادی الآخر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدعلم دین حاصل کررہاہے اس کاارادہ یہ ہے کہ جب میں فارغ التحصیل ہوجاؤں گا تومیں جہاں جہاں بزرگ لوگ ہیں وہاں جاکر ان سے ملاقات کروں گا اور جس سے دل گواہی دے گا اس ہی سے مریدہوجاؤں گا۔علم کے حاصل کرنے کے زمانہ میں چندلوگ اہل وطن اورغیروطن ایك بزرگ کے مریدہوئے اورزیدسے بھی اصرارکیا کہ تم بھی مریدہوجاؤبعداصرار کے زیدبھی مریدہوگیاآیا شرعا مریدہوایانہیں
الجواب:
اگران کے اصرار کے بعد اس کے دل میں عقیدت آگئی اوربالقصدمریدہوا مریدہوگیااورصرف ان کے اصرار کے سبب بے دلی سے بیعت کی مریدنہ ہواکہ ارادت قلب سے ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱۲: ازلاہور مسجدبیگم شاہی ٹولی مولوی احمددین صاحب ۹رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے چجرہ خوانی دام تزویرہے اوراس پر بہارستان مولاناجامی سے یہ عبارت نقل کرتاہے:
ازحضرت سیدبہاؤالدین صاحب نقشبندرحمۃ اﷲ علیہ پرسید ندکہ حضرت شجرہ شماچیستفرمودند کہ کسے ازشجرہ خوانی بجائے نرسدپس خدائے عزوجل رابیگانگی می شناسیم وبہمہ انبیاء واولیاء ایمان آریم ومقیدسلسلہ نیستیم۔ حضرت سیدبہاؤالدین نقشبند علیہ الرحمہ سے لوگوں نے پوچھاکہ اے حضرت ! آپ کاشجرہ کیاہے فرمایا شجرہ پڑھنے سے کوئی کسی مقام تك نہیں پہنچاپس ہم اﷲ عزوجل کو وحدہ لاشریك مانتے ہیں اورتمام انبیاء اولیاء پر ایمان لاتے ہیں کسی سلسلہ کے مقیدنہیں ہیں۔(ت)
یہ قول صحیح ہے یاغلط بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
یہ قول محض باطل ہے اوراس میں ہزارہااولیائے کرام پرحملہ ہے اوربہارستان سے جوعبارت نقل کیساختہ ہےاس میں شجرہ خوانی یاشجرہ کالفظ کہیں نہیں اور"پس خدائے عزوجل"سے اخیرتك ساری عبارت اپنی طرف سے بڑھائی ہوئی ہے بہارستان میں نہیں۔شجرہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك بندے کے اتصال کی سندہے جس طرح حدیث کی اسنادیںامام عبداﷲ بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کہ اولیاء وعلماء ومحدثین وفقہاء سب کے امام ہیں
کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدعلم دین حاصل کررہاہے اس کاارادہ یہ ہے کہ جب میں فارغ التحصیل ہوجاؤں گا تومیں جہاں جہاں بزرگ لوگ ہیں وہاں جاکر ان سے ملاقات کروں گا اور جس سے دل گواہی دے گا اس ہی سے مریدہوجاؤں گا۔علم کے حاصل کرنے کے زمانہ میں چندلوگ اہل وطن اورغیروطن ایك بزرگ کے مریدہوئے اورزیدسے بھی اصرارکیا کہ تم بھی مریدہوجاؤبعداصرار کے زیدبھی مریدہوگیاآیا شرعا مریدہوایانہیں
الجواب:
اگران کے اصرار کے بعد اس کے دل میں عقیدت آگئی اوربالقصدمریدہوا مریدہوگیااورصرف ان کے اصرار کے سبب بے دلی سے بیعت کی مریدنہ ہواکہ ارادت قلب سے ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱۲: ازلاہور مسجدبیگم شاہی ٹولی مولوی احمددین صاحب ۹رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکہتاہے چجرہ خوانی دام تزویرہے اوراس پر بہارستان مولاناجامی سے یہ عبارت نقل کرتاہے:
ازحضرت سیدبہاؤالدین صاحب نقشبندرحمۃ اﷲ علیہ پرسید ندکہ حضرت شجرہ شماچیستفرمودند کہ کسے ازشجرہ خوانی بجائے نرسدپس خدائے عزوجل رابیگانگی می شناسیم وبہمہ انبیاء واولیاء ایمان آریم ومقیدسلسلہ نیستیم۔ حضرت سیدبہاؤالدین نقشبند علیہ الرحمہ سے لوگوں نے پوچھاکہ اے حضرت ! آپ کاشجرہ کیاہے فرمایا شجرہ پڑھنے سے کوئی کسی مقام تك نہیں پہنچاپس ہم اﷲ عزوجل کو وحدہ لاشریك مانتے ہیں اورتمام انبیاء اولیاء پر ایمان لاتے ہیں کسی سلسلہ کے مقیدنہیں ہیں۔(ت)
یہ قول صحیح ہے یاغلط بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
یہ قول محض باطل ہے اوراس میں ہزارہااولیائے کرام پرحملہ ہے اوربہارستان سے جوعبارت نقل کیساختہ ہےاس میں شجرہ خوانی یاشجرہ کالفظ کہیں نہیں اور"پس خدائے عزوجل"سے اخیرتك ساری عبارت اپنی طرف سے بڑھائی ہوئی ہے بہارستان میں نہیں۔شجرہ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك بندے کے اتصال کی سندہے جس طرح حدیث کی اسنادیںامام عبداﷲ بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کہ اولیاء وعلماء ومحدثین وفقہاء سب کے امام ہیں
فرماتے ہیں:
لولاالاسناد لقال فی الدین من شاء ماشاء۔ اگراسناد نہ ہوتا توجس کاجودل چاہتادین میں کہہ دیتا۔(ت)
شجرہ خوانی سے متعدد فوائد ہیں:اول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك اپنے اتصال کی سند کاحفظ۔
دوم صالحین کاذکرکہ موجب نزول رحمت ہے۔
سوم نام بنام اپنے آقایان نعمت کو ایصال ثواب کہ ان کی بارگاہ سے موجب نظرعنایت ہے۔
چہارم جب یہ اوقات سلامت میں ان کانام لیوارہے گا وہ اوقات مصیبت میں اس کے دستگیرہوں گے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعرف الی اﷲ فی الرخاء یعرفك فی الشدۃ۔رواہ ابو القاسم بن بشران فی امالیہ عن ابی ھریرۃ وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم بسند حسن۔ واﷲ تعالی اعلم۔ توخوشحالی میں اﷲ تعالی کوپہچان وہ مصیبت میں تجھ پر نظرکرم فرمائے گا۔اس کو ابوالقاسم بن بشران نے امالی میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اوراسی کے غیرنے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۳: ازآنولہ محلہ کٹرہ پختہ کوچہ بنگلہ ضلع بریلی مسئولہ عبدالصمد ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
علمائے شریعت وہادیان طریقت کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زیدکی مختلف حالتیں ہوئیںکبھی فسق وفجورکی طرف مائل رہتاتھا اورکبھی عبادت الہی میں مستغرق ہوجاتاتھاآخرمیں وہ کئی پیروں سے بیعت ہوکرمختلف قسم کی ریاضتیں اوربہت سی عبادتیں کیں اورچلے کئےاب وہ ولایت کامدعی ہے اورکہتاہے میں قطب ارشاد ہوںاب وہ فسق وفجورکی طرف مائل ہونے کی یہ وجہ بتاتاہے کہ پہلے میں اس لئے کرتاتھاکہ لوگ مجھ پربدگمان رہیں اورمیری ولایت ظاہرنہ ہو اوراب چونکہ خدائے تعالی نے حکم دیاہے اس لئے اپنی ولایت ظاہرکرتاہوں۔اورلوگوں سے بیعت بھی
لولاالاسناد لقال فی الدین من شاء ماشاء۔ اگراسناد نہ ہوتا توجس کاجودل چاہتادین میں کہہ دیتا۔(ت)
شجرہ خوانی سے متعدد فوائد ہیں:اول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك اپنے اتصال کی سند کاحفظ۔
دوم صالحین کاذکرکہ موجب نزول رحمت ہے۔
سوم نام بنام اپنے آقایان نعمت کو ایصال ثواب کہ ان کی بارگاہ سے موجب نظرعنایت ہے۔
چہارم جب یہ اوقات سلامت میں ان کانام لیوارہے گا وہ اوقات مصیبت میں اس کے دستگیرہوں گے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعرف الی اﷲ فی الرخاء یعرفك فی الشدۃ۔رواہ ابو القاسم بن بشران فی امالیہ عن ابی ھریرۃ وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم بسند حسن۔ واﷲ تعالی اعلم۔ توخوشحالی میں اﷲ تعالی کوپہچان وہ مصیبت میں تجھ پر نظرکرم فرمائے گا۔اس کو ابوالقاسم بن بشران نے امالی میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اوراسی کے غیرنے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۳: ازآنولہ محلہ کٹرہ پختہ کوچہ بنگلہ ضلع بریلی مسئولہ عبدالصمد ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
علمائے شریعت وہادیان طریقت کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زیدکی مختلف حالتیں ہوئیںکبھی فسق وفجورکی طرف مائل رہتاتھا اورکبھی عبادت الہی میں مستغرق ہوجاتاتھاآخرمیں وہ کئی پیروں سے بیعت ہوکرمختلف قسم کی ریاضتیں اوربہت سی عبادتیں کیں اورچلے کئےاب وہ ولایت کامدعی ہے اورکہتاہے میں قطب ارشاد ہوںاب وہ فسق وفجورکی طرف مائل ہونے کی یہ وجہ بتاتاہے کہ پہلے میں اس لئے کرتاتھاکہ لوگ مجھ پربدگمان رہیں اورمیری ولایت ظاہرنہ ہو اوراب چونکہ خدائے تعالی نے حکم دیاہے اس لئے اپنی ولایت ظاہرکرتاہوں۔اورلوگوں سے بیعت بھی
حوالہ / References
صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲
کنزالعمال حدیث ۳۲۲۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۷۹
کنزالعمال حدیث ۳۲۲۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۷۹
لیتاہے حالانکہ اس کو کسی ظاہری پیرسے اجازت نہیں ملی ہے لیکن وہ کہتاہے کہ خداکی طرف سے بذریعہ الہام مجھے اجازت ملی ہے اوراب کسی بندہ کی طرف رجوع کرنامیرے لئے ناجائزہےاس کے آثاریہ ہیں کہ اس کی توجہ میں بڑازبردست اثرہے اس سے بیعت کرنے کے تھوڑے دنوں بعد لطیفہ قلب روشن ہوکرذکرجاری ہوجاتاہے اس کامجلس پربھی اثرہوجاتاہے اوراس سے بیعت کرنے پربہت سے گمراہ آدمی پابندصوم وصلوۃ ہوجاتے ہیں اوران نغ دل میں عشق الہی بھرجاتاہے اوردیوانہ وارپھرتے ہیں اس کی سری نماز میں بہت شوروغل ہوتاہے اورکبھی جذبہ آتاہے رقص بھی کرتے ہیںکیامذکورہ بالاصفات کے ساتھ موصوف شخص سے جوکسی ظاہری پیر سے اجازت یافتہ نہ ہو بیعت کرنا اوراسے بیعت لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسے شخص کو بیعت لیناجائزنہیں اور اوراس کے ہاتھ پربیعت ناجائز
اے پسرشرط صحت بیعت درطریقت اجازت سلف ست
بدغل سکہ نہ بہرہ مزن کان رہ کاسدان ناخلف ست
(اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرططریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے۔ت)
حضرت سیدی بایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ ودیگر اکابرکرام قدست اسرارہم فرماتے ہیں:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطان۔ بے پیرے کاپیرشیطان ہوتاہے۔
یہ جوظاہری ذوق وشوق لوگوں میں دیکھاجاتاہے قابل اعتبارنہیں شیطان کی طرف سے بھی ہوتاہے اوراس پرواضح دلیل نماز میں شوروغل مچانااوررقص کرنایہ نہیں مگر شیطان کی طرف سے کہ نمازفاسد کرےصحابہ کرام واکابراولیاء عظام سے ایسا کبھی منقول نہ ہواان سے زیادہ تاثیروبرکت کس کی ہوسکتی ہے مگرصادقین سے برکت ہوتی ہے اورکاذبین سے حرکت۔قال اﷲ تعالی " و لا تبطلوا اعملکم ﴿۳۳﴾" اپنے عمل باطل نہ کرو۔وقال تعالی " وقوموا للہ قنتین﴿۲۳۸﴾" اﷲ کے حضور
الجواب:
ایسے شخص کو بیعت لیناجائزنہیں اور اوراس کے ہاتھ پربیعت ناجائز
اے پسرشرط صحت بیعت درطریقت اجازت سلف ست
بدغل سکہ نہ بہرہ مزن کان رہ کاسدان ناخلف ست
(اے بیٹے! بیعت کے صحیح ہونے کی شرططریقت میں اسلاف کی اجازت ہے۔فریب کے ساتھ مٹی کے برتن پرمہرمت لگاکہ یہ طریقہ کھوٹے نااہلوں کاہے۔ت)
حضرت سیدی بایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ ودیگر اکابرکرام قدست اسرارہم فرماتے ہیں:
من لاشیخ لہ فشیخہ الشیطان۔ بے پیرے کاپیرشیطان ہوتاہے۔
یہ جوظاہری ذوق وشوق لوگوں میں دیکھاجاتاہے قابل اعتبارنہیں شیطان کی طرف سے بھی ہوتاہے اوراس پرواضح دلیل نماز میں شوروغل مچانااوررقص کرنایہ نہیں مگر شیطان کی طرف سے کہ نمازفاسد کرےصحابہ کرام واکابراولیاء عظام سے ایسا کبھی منقول نہ ہواان سے زیادہ تاثیروبرکت کس کی ہوسکتی ہے مگرصادقین سے برکت ہوتی ہے اورکاذبین سے حرکت۔قال اﷲ تعالی " و لا تبطلوا اعملکم ﴿۳۳﴾" اپنے عمل باطل نہ کرو۔وقال تعالی " وقوموا للہ قنتین﴿۲۳۸﴾" اﷲ کے حضور
حوالہ / References
سبع سنابل سنبلہ دوم دربیان پیری ومریدی مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۰
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المتشہد الحسینی ص۷۸ والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱
القرآن الکریم ۴۷ /۳۳
القرآن الکریم ۸ /۲۳۸
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المتشہد الحسینی ص۷۸ والرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین ص۱۸۱
القرآن الکریم ۴۷ /۳۳
القرآن الکریم ۸ /۲۳۸
ادب سے کھڑے رہو۔اس کااقرارکرناکہ فسق وفجورکرتاتھا اوراس کاعذر بیان کرناکہ اخفاء ولایت کے لئے تھاعذربدترازگناہ ہے۔حضرات ملامتیہ قدست اسرارہم کی ریس کرتاہےوہ کبھی مستحب بھی ترك نہیں کرتے معاذاﷲ فسق وفجورکیامعنی
اوگمان بردہ کہ من کردم چو اوفرق راکہ بیندآں استیزہ جو
(اس نے گمان کیاکہ میں نے بھی اس کی مثل کیاوہ جنگجوفرق کو کب دیکھتاہے۔ت)
شیطان کے دھوکے اس سے بہت زیادہ سخت ہوتے ہیںحضرت سیدی ابوالحسن جوسقی خلیفہ حضرت سیدی علی بن ہیتی فیض یافتہ بارگاہ سرکارغوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے ایك مریدکواعتکاف میں بٹھایاایك شب حجرہ سے زارزاررونے کی آواز آئیدروازہ پرتشریف لے گئےحال پوچھاعرض کی شب قدرمیرے پیش نظرہے آفاق نورسے روشن ہیں درودیوار حجرو شجرسجدے میں گرے ہیں میں سجدہ کرناچاہتاہوں سینے میں ایك لوہے کی سلاخ ہے کہ جھکنے نہیں دیتی اس پرروتاہوں۔ فرمایا:اے فرزند! یہ لوہے کی سلاخ وہ سرہے جومیں نے تیرے سینے میں القاکیاہے وہ تجھے جھکنے نہیں دیتا یہ شب قدرنہیں شیطان کاشعبدہ ہے۔یہ فرماکردونوں دست مبارك پھیلائے اورآہستہ آہستہ انہیں قریب لاتے گئے جتناہاتھ سمٹتے وہ نورتاریکی سے مبدل ہوتاتھا جب دونوں ہاتھ مل گئے واویلااورفریاد کی آوازآئی۔فرمایا:اب تومیرے مریدوں کواغوانہ کرے گا۔یہ فرماکر چھوڑدیا۔وہ جھوٹاکرشمہ سب باطل ہوگیا۔اس کے دھوکے اس سے بھی سخت ہیںوالعیاذباﷲ تعالی۔اوراس کاوہ کلمہ کہ "اب کسی بندہ کی طرف رجوع میرے لئے ناجائزہے"اگراپنے ظاہرعموم پررکھاجائے توصریح کلمہ کفرہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی بندے ہیں اوران سے کسی وقت بے نیازی کسی نبی مرسل کوبھی نہیں ہوسکتی نہ کہ این وآن۔
والعیاذباﷲ تعالی من وساوس الشیطان ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیمo واﷲ تعالی اعلم۔ شیطان کے وسوسوں سے اﷲ تعالی کی پناہبلندی وعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرکوئی طاقت وقوت نہیںاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۱۴: ازمدرسہ منظراسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری ۳شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدخاندان قادریہ میں ایك بزرگ سے بیعت ہوا
اوگمان بردہ کہ من کردم چو اوفرق راکہ بیندآں استیزہ جو
(اس نے گمان کیاکہ میں نے بھی اس کی مثل کیاوہ جنگجوفرق کو کب دیکھتاہے۔ت)
شیطان کے دھوکے اس سے بہت زیادہ سخت ہوتے ہیںحضرت سیدی ابوالحسن جوسقی خلیفہ حضرت سیدی علی بن ہیتی فیض یافتہ بارگاہ سرکارغوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے ایك مریدکواعتکاف میں بٹھایاایك شب حجرہ سے زارزاررونے کی آواز آئیدروازہ پرتشریف لے گئےحال پوچھاعرض کی شب قدرمیرے پیش نظرہے آفاق نورسے روشن ہیں درودیوار حجرو شجرسجدے میں گرے ہیں میں سجدہ کرناچاہتاہوں سینے میں ایك لوہے کی سلاخ ہے کہ جھکنے نہیں دیتی اس پرروتاہوں۔ فرمایا:اے فرزند! یہ لوہے کی سلاخ وہ سرہے جومیں نے تیرے سینے میں القاکیاہے وہ تجھے جھکنے نہیں دیتا یہ شب قدرنہیں شیطان کاشعبدہ ہے۔یہ فرماکردونوں دست مبارك پھیلائے اورآہستہ آہستہ انہیں قریب لاتے گئے جتناہاتھ سمٹتے وہ نورتاریکی سے مبدل ہوتاتھا جب دونوں ہاتھ مل گئے واویلااورفریاد کی آوازآئی۔فرمایا:اب تومیرے مریدوں کواغوانہ کرے گا۔یہ فرماکر چھوڑدیا۔وہ جھوٹاکرشمہ سب باطل ہوگیا۔اس کے دھوکے اس سے بھی سخت ہیںوالعیاذباﷲ تعالی۔اوراس کاوہ کلمہ کہ "اب کسی بندہ کی طرف رجوع میرے لئے ناجائزہے"اگراپنے ظاہرعموم پررکھاجائے توصریح کلمہ کفرہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی بندے ہیں اوران سے کسی وقت بے نیازی کسی نبی مرسل کوبھی نہیں ہوسکتی نہ کہ این وآن۔
والعیاذباﷲ تعالی من وساوس الشیطان ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیمo واﷲ تعالی اعلم۔ شیطان کے وسوسوں سے اﷲ تعالی کی پناہبلندی وعظمت والے معبود کی توفیق کے بغیرکوئی طاقت وقوت نہیںاوراﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۱۴: ازمدرسہ منظراسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری ۳شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدخاندان قادریہ میں ایك بزرگ سے بیعت ہوا
لیکن ان بزرگ صحاحب نے کچھ نصیحت احکام شرعیہ کی نہ کی اورچندہی روز کے بعد ان کاانتقال ہوگیا اب زیدخاندان قادریہ میں کسی دوسرے بزرگ سے بیعت حاصل کرسکتاہے یا نہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
اگروہ پیرجامع شرائط بیعت تھے یعنی عالمسنیصحیح العقیدہمتصل السلسلہغیرفاسقتودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ کرے فیض لے سکتاہے۔اوران چار شرطوں میں سے کوئی شرط کم تھی تواس کے ہاتھ پربیعت جائزہی نہ تھیدوسرے سے بیعت کرے جوان شرائط کاجامع ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اگروہ پیرجامع شرائط بیعت تھے یعنی عالمسنیصحیح العقیدہمتصل السلسلہغیرفاسقتودوسرے کے ہاتھ پربیعت نہ کرے فیض لے سکتاہے۔اوران چار شرطوں میں سے کوئی شرط کم تھی تواس کے ہاتھ پربیعت جائزہی نہ تھیدوسرے سے بیعت کرے جوان شرائط کاجامع ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
رسالہ
کشف حقائق واسرارودقائق ۱۳۰۸ھ
(ظاہرکرناحقیقتوںرازوں اورباریك باتوں کو)
مسئلہ ۳۱۵: ازبڑودہ باڑہ نواب صاحب مرسلہ حضرت نواب سیدنورالحسن خاں بہادر ۲۵شعبان ۱۳۰۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدالمرسلین محمد والہ وصحبہ واولیاء امتہ وعلماء ملتہ وعلینا معھم اجمعین۔
امابعد
ایں پاسخ اشعار وقت اشعار تصوف اشعار حسب الارشاد لازم الانقیاد حضرت عظیم الدرجہ جناب صاحب والامناقب نواب سیدنورالدین حسین خاں بہادررئیس اعظم بڑودہ ادام اﷲ تعالی اقبالہم وضاعف اجلالہم۔بزبان عام اردوومطالب سہل الحصول مطابق عقائد یہ جواب ہے تصوف سے متعلق کچھ بلندپایہ اشعارکا۔ان کے ارشاد کے مطابق جس کی فرمانبرداری لازم ہے یعنی بلند وعظیم درجات ومناقب کے مالك محترم جناب سیدنور الدین حسین خان بہادررئیس اعظم بڑودہاﷲ تعالی ان کی خوش بختی کوہمیشہ رکھے اوران کی بزرگی کودگناکردےعام اردو زبان میں کہ مطالب آسانی سے حاصل ہوںجومطابق ہے
کشف حقائق واسرارودقائق ۱۳۰۸ھ
(ظاہرکرناحقیقتوںرازوں اورباریك باتوں کو)
مسئلہ ۳۱۵: ازبڑودہ باڑہ نواب صاحب مرسلہ حضرت نواب سیدنورالحسن خاں بہادر ۲۵شعبان ۱۳۰۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدالمرسلین محمد والہ وصحبہ واولیاء امتہ وعلماء ملتہ وعلینا معھم اجمعین۔
امابعد
ایں پاسخ اشعار وقت اشعار تصوف اشعار حسب الارشاد لازم الانقیاد حضرت عظیم الدرجہ جناب صاحب والامناقب نواب سیدنورالدین حسین خاں بہادررئیس اعظم بڑودہ ادام اﷲ تعالی اقبالہم وضاعف اجلالہم۔بزبان عام اردوومطالب سہل الحصول مطابق عقائد یہ جواب ہے تصوف سے متعلق کچھ بلندپایہ اشعارکا۔ان کے ارشاد کے مطابق جس کی فرمانبرداری لازم ہے یعنی بلند وعظیم درجات ومناقب کے مالك محترم جناب سیدنور الدین حسین خان بہادررئیس اعظم بڑودہاﷲ تعالی ان کی خوش بختی کوہمیشہ رکھے اوران کی بزرگی کودگناکردےعام اردو زبان میں کہ مطالب آسانی سے حاصل ہوںجومطابق ہے
اہل حق ومدارك افہام وعقول بتاریخ بست وپنجم شعبان المعظم روزجاں افروز دوشنبہ ۱۳۰۸ھ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ دربانس بریلی ملك ہند بخامہ خام نگار فقیرذلیل ذرہ بے مقدار عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی برکاتی آل رسولی غفراﷲ لہ وحقق املہ باوصف قلت بضاعت وجہل صناعت بامدادنورباطن حضورلامع النورسلالۃ الواصلین نقاوۃ الکاملین بحرطریقت بدرحقیقت حضرت سیدناومولانا وشیخنا حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمدنوری الملقب بمیاں صاحب قبلہ مارہری ادام اﷲ فیضہم المعنوی والصوری درساعت واحدہ ریخہ ع
گرقبول افتدزہے عزوشرف اہل حق کے عقائد اورموافق ہے عقول وافہام کے۔یہ جواب بانس بریلی ہندوستان میں بروزپیر۲۵شعبان المعظم ۱۳۰۸ھ کو اس فقیر حقیرذرہ بے مقدار عبدالمصطفی احمدرضامحمدی سنی برکاتیآل رسولی(اﷲ اس کی مغفرت فرمائے اوراس کی امیدبرآری فرمائے)کے قلم سے پونجی کی قلت اورفن میں عدم مہارت کے باوجود صرف ایك گھنٹے میں معرض تحریرمیں آیا۔یہ ان کے نورباطن کی مدد سے ہواجو روشن نور والےواصلین کے خلاصہکاملین میں عمدہطریقت کے سمندراورحقیقت کے چاند ہیں یعنی ہمارے سردارہمارے آقاہمارے شیخ حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمدنوری ملقب بہ میاں صاحب قبلہ مارہرویاﷲ تعالی ان کے معنوی اور صوری فیض کوہمیشہ رکھے۔
اگرقبول ہوجائے توکیاہی عزت اور شرف ہے(ت)
شعراول: سب پیر اورمشائخ میراسوال بولو صورت جلال کیاہے اورکیاجمال بولو
الجواب:اﷲ جل وعلارحیم بھی ہے اورقہاربھی ہے رحمت شان جمال ہے اورقہرشان جلال۔دوستوں کوانواع نعمت سے نوازنا ان کے لئے بہشت اوراس کی خوبیاں آراستہ فرمانا انہیں اپنی رضا ودیدارسے بہرہ مندی بخشنا تجلی شان جمال ہے۔دشمنوں کو اقسام عذاب کی سزادینا ان کے لئے دوزخ اور اس کی سختیاں مہیافرمانا انہیں اپنے غضب وحجاب میں مبتلاکرناتجلی شان جلال ہے۔پھردنیامیں جوکچھ نعمت ونقمت وراحت وآفت ہے انہیں دونوں شانوں کی تجلی سے ہے۔کبھی یہ شانیں ایك دوسرے کے لباس میں جلوہ گرہوتی ہیں۔مثلا دنیامیں اپنے محبوبوں کے لئے بلابھیجنا کہ:
اشدالناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل۔ تمام لوگوں سے بڑھ کر تکلیفیں نبیوں پرآئیں پھر ان سے کم درجہ والوں پرپھران سے کم درجہ والوں پر۔(ت)
گرقبول افتدزہے عزوشرف اہل حق کے عقائد اورموافق ہے عقول وافہام کے۔یہ جواب بانس بریلی ہندوستان میں بروزپیر۲۵شعبان المعظم ۱۳۰۸ھ کو اس فقیر حقیرذرہ بے مقدار عبدالمصطفی احمدرضامحمدی سنی برکاتیآل رسولی(اﷲ اس کی مغفرت فرمائے اوراس کی امیدبرآری فرمائے)کے قلم سے پونجی کی قلت اورفن میں عدم مہارت کے باوجود صرف ایك گھنٹے میں معرض تحریرمیں آیا۔یہ ان کے نورباطن کی مدد سے ہواجو روشن نور والےواصلین کے خلاصہکاملین میں عمدہطریقت کے سمندراورحقیقت کے چاند ہیں یعنی ہمارے سردارہمارے آقاہمارے شیخ حضرت سیدشاہ ابوالحسین احمدنوری ملقب بہ میاں صاحب قبلہ مارہرویاﷲ تعالی ان کے معنوی اور صوری فیض کوہمیشہ رکھے۔
اگرقبول ہوجائے توکیاہی عزت اور شرف ہے(ت)
شعراول: سب پیر اورمشائخ میراسوال بولو صورت جلال کیاہے اورکیاجمال بولو
الجواب:اﷲ جل وعلارحیم بھی ہے اورقہاربھی ہے رحمت شان جمال ہے اورقہرشان جلال۔دوستوں کوانواع نعمت سے نوازنا ان کے لئے بہشت اوراس کی خوبیاں آراستہ فرمانا انہیں اپنی رضا ودیدارسے بہرہ مندی بخشنا تجلی شان جمال ہے۔دشمنوں کو اقسام عذاب کی سزادینا ان کے لئے دوزخ اور اس کی سختیاں مہیافرمانا انہیں اپنے غضب وحجاب میں مبتلاکرناتجلی شان جلال ہے۔پھردنیامیں جوکچھ نعمت ونقمت وراحت وآفت ہے انہیں دونوں شانوں کی تجلی سے ہے۔کبھی یہ شانیں ایك دوسرے کے لباس میں جلوہ گرہوتی ہیں۔مثلا دنیامیں اپنے محبوبوں کے لئے بلابھیجنا کہ:
اشدالناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل۔ تمام لوگوں سے بڑھ کر تکلیفیں نبیوں پرآئیں پھر ان سے کم درجہ والوں پرپھران سے کم درجہ والوں پر۔(ت)
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۶۷۸۰ و ۶۷۸۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۳۲۸ و۳۲۹
بظاہرشان جلال ہے اورحقیقۃ شان جمال کہ اس کے باعث وہ اﷲ تعالی کی بڑی بڑی نعمتیں پاتے ہیںقال اﷲ تعالی:
" لا تحسبوہ شرا لکم بل ہو خیر لکم "۔ اسے اپنے لئے برانہ جانوبلکہ وہ تمہارے حق میں بہترہے۔
کفارکوکثرت مال وغیرہ دنیاکی راحتیں دینا بظاہرشان جمال ہے اوردرحقیقت شان جلال ہے کہ اس کے سبب وہ اپنی غفلت وگمراہی کے نشے میں پڑے رہتے ہیں اورہدایت کی توفیق نہیں پاتے۔ قال اﷲ تعالی:
" ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لہم خیر لانفسہم انما نملی لہم لیزدادوا اثما ولہم عذاب مہین ﴿۱۷۸﴾ " ۔ کافرکاخیال کہ یہ ڈھیل جوہم انہیں دے رہے ہیں کچھ ان کے لئے بھلی ہے یہ ڈھیل توہم اس لئے دیتے ہیں کہ وہ اورگناہ میں پڑیں اور ان کے لئے ذلت کی مارہے۔
تجلی وجمال کے آثار سے لطف ونرمی وراحت وسکون ونشاط وانبساط ہے جب یہ قلب عارف پرواقع ہوتی ہے دل خودبخود ایساکھل جاتاہے جیسے ٹھنڈی نسیم سے تازی کلیاں یابہار کے مینہ سے درختوں کی کنچھیاںاورتجلی جلال کے آثارسے قہروگرمی وخوف و تعب جب اس کاورودہوتاہے قلب بے اختیارمرجھاجاتاہے بلکہ بدن گھلنے لگتاہے بلکہ اگرطاقت سے زیادہ واقع ہوتی ہے فنا کر دیتی ہے۔انہیں دونوں تجلیوں کااثرتھا کہ ایك روز وعظ میں برسرمنبرحضورپرنورسیدناغوث اعظم قطب عالم رضی اﷲ تعالی عنہ کودیکھاگیاکہ حضورکاجسم اقدس سمٹ کرایك چڑیاکے برابرہوگیااوراسی وقت یہ بھی مشاہدہ ہواکہ تن مبارك پھیل کرایك برج کی مثل ہوگیااوردیکھاگیاکہ حضور(رضی اﷲتعالی عنہ)منبرسے گرنے لگے یہاں تك کہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دست اقدس کے سہارے روك لیایہ وہ عظیم تجلی تھی جس کاتحمل بے قوت نبوت ناممکن تھالہذاحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قوت مصطفویہ سے مددفرماکر اس کاتحمل کرادیااسی شان جلال کااثرہے جوحضور پرنورسیدناغوث اعظم صلی اﷲتعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وسلم کے ایك مرید پرحضورکے پیچھے نمازمیں واقع ہوئی کہ سجدہ میں
" لا تحسبوہ شرا لکم بل ہو خیر لکم "۔ اسے اپنے لئے برانہ جانوبلکہ وہ تمہارے حق میں بہترہے۔
کفارکوکثرت مال وغیرہ دنیاکی راحتیں دینا بظاہرشان جمال ہے اوردرحقیقت شان جلال ہے کہ اس کے سبب وہ اپنی غفلت وگمراہی کے نشے میں پڑے رہتے ہیں اورہدایت کی توفیق نہیں پاتے۔ قال اﷲ تعالی:
" ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لہم خیر لانفسہم انما نملی لہم لیزدادوا اثما ولہم عذاب مہین ﴿۱۷۸﴾ " ۔ کافرکاخیال کہ یہ ڈھیل جوہم انہیں دے رہے ہیں کچھ ان کے لئے بھلی ہے یہ ڈھیل توہم اس لئے دیتے ہیں کہ وہ اورگناہ میں پڑیں اور ان کے لئے ذلت کی مارہے۔
تجلی وجمال کے آثار سے لطف ونرمی وراحت وسکون ونشاط وانبساط ہے جب یہ قلب عارف پرواقع ہوتی ہے دل خودبخود ایساکھل جاتاہے جیسے ٹھنڈی نسیم سے تازی کلیاں یابہار کے مینہ سے درختوں کی کنچھیاںاورتجلی جلال کے آثارسے قہروگرمی وخوف و تعب جب اس کاورودہوتاہے قلب بے اختیارمرجھاجاتاہے بلکہ بدن گھلنے لگتاہے بلکہ اگرطاقت سے زیادہ واقع ہوتی ہے فنا کر دیتی ہے۔انہیں دونوں تجلیوں کااثرتھا کہ ایك روز وعظ میں برسرمنبرحضورپرنورسیدناغوث اعظم قطب عالم رضی اﷲ تعالی عنہ کودیکھاگیاکہ حضورکاجسم اقدس سمٹ کرایك چڑیاکے برابرہوگیااوراسی وقت یہ بھی مشاہدہ ہواکہ تن مبارك پھیل کرایك برج کی مثل ہوگیااوردیکھاگیاکہ حضور(رضی اﷲتعالی عنہ)منبرسے گرنے لگے یہاں تك کہ حضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دست اقدس کے سہارے روك لیایہ وہ عظیم تجلی تھی جس کاتحمل بے قوت نبوت ناممکن تھالہذاحضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قوت مصطفویہ سے مددفرماکر اس کاتحمل کرادیااسی شان جلال کااثرہے جوحضور پرنورسیدناغوث اعظم صلی اﷲتعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وسلم کے ایك مرید پرحضورکے پیچھے نمازمیں واقع ہوئی کہ سجدہ میں
جاتے ہی جسم گھلنے لگاگوشت پوستاستخواں سب فناہوگیا صرف ایك قطرہ آب باقی رہا۔حضرت غوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ نے بعد نمازروئی کے پارہ میں اٹھاکر دفن کردیا اورفرمایا سبحان اﷲ ایك تجلی میں ساعت قیامت ہے یہ آسمان وزمین اورجوکچھ ان کے درمیان ہے سب کوفناکردے گی اسی لئے باری عزوجل اس دن یوں ارشاد فرمائے گا: " لمن الملک الیوم " کل تك سب کہتے تھے یہ ملك میری ہے یہ ملك میراہے آج بتاؤ کس کی بادشاہی ہے۔پھرخودہی فرمائے گا " للہ الوحد القہار ﴿۱۶﴾" ایك اﷲ قہروالے کی۔اس وقت باسم قہاراپناوصف بیان فرمائے گا کہ وہ تجلی شان قہرکی ہوگیوحسبنااﷲ۔
شعردوم: خاکی بدن مقیدکیونکر جمال حق کا مطلق کی شان کیا ہے اس کی مثال بولو
الجواب:اس کی ایك ظاہری مثال یوں سمجھنی چاہئے کہ جیسے آفتاب کانوراپنی ذات میں ایك ہےنہ اس میں صورتوں کااختلاف ہے نہ قوت وضعف کافرق ہےنہ جداجدارنگ ہیںنہ متعدد نام ہیںوہی نورواحد پہلی شب کے چاندپرپڑا اوریہاں یہ صورت پیدا کی کہ اس کانام ہلال ہواپھر ہرروزنئی صورت اورزیادہ ترقی وقوت ہوتی رہیشب چہاردہم اسی نورسے بدرکی صورت پیدا ہوئیپھراس میں ضعف آتاگیا یہاں تك کہ فناہوگیا۔وہی نورواحد آئینہ مصفاپرپڑے توکیسی جھلك دیتاہے کہ نگاہ خیرہ وحیران اوردیواروں پرعکس نمایاں ہوااورصفائی آئینہ میں کمی ہے تونورمیں کمی اورزمین پرپڑنے میں وہ بات کوسوں نہیں کولوں وغیرہ سیاہ بے تابش چیزوں میں ایك ظہورکے سوا اورکچھ اثرنہیں ہوتاوہی ایك نورہے کہ جب قریب افق جانب شرق سے طولانی شکل پرچمکتاہے اس کاصبح اول نام رکھتے ہیں پھرجب پھیلتاہے وہی صبح صادق ہوتی ہے پھرجب سرخی لاتاہے وہی شفق ہے جب دن نکل آتاہے وہی دھوپ ہے یونہی بعد غروب اس کے ظہور کے تفاوت ہیں تودیکھوایك آفتاب کی تجلی اوراتنے اختلاف اورہر حالت کے اعتبارسے اس کے جدانام ہیں اور جدا اوصافباایں ہمہ وہ نوراپنی ذات میں ایك ہےاس میں کوئی تغیر نہیںنہ وہ صبح اول کے وقت طویل ہوگیاتھا نہ صبح ثانی کے وقت چوڑانہ شفق کے وقت اس نے لباس سرخ پہنانہ دن نکلتے زردیاسفیدنہ ہلال پرچمکتے وقت کمان ہوگیاتھا نہ بدرپرپڑتے بشکل دائرہنہ آئینہ پرچمکتے وقت قوت پائی تھی نہ زمین پرآتے ہوئے ضعف
شعردوم: خاکی بدن مقیدکیونکر جمال حق کا مطلق کی شان کیا ہے اس کی مثال بولو
الجواب:اس کی ایك ظاہری مثال یوں سمجھنی چاہئے کہ جیسے آفتاب کانوراپنی ذات میں ایك ہےنہ اس میں صورتوں کااختلاف ہے نہ قوت وضعف کافرق ہےنہ جداجدارنگ ہیںنہ متعدد نام ہیںوہی نورواحد پہلی شب کے چاندپرپڑا اوریہاں یہ صورت پیدا کی کہ اس کانام ہلال ہواپھر ہرروزنئی صورت اورزیادہ ترقی وقوت ہوتی رہیشب چہاردہم اسی نورسے بدرکی صورت پیدا ہوئیپھراس میں ضعف آتاگیا یہاں تك کہ فناہوگیا۔وہی نورواحد آئینہ مصفاپرپڑے توکیسی جھلك دیتاہے کہ نگاہ خیرہ وحیران اوردیواروں پرعکس نمایاں ہوااورصفائی آئینہ میں کمی ہے تونورمیں کمی اورزمین پرپڑنے میں وہ بات کوسوں نہیں کولوں وغیرہ سیاہ بے تابش چیزوں میں ایك ظہورکے سوا اورکچھ اثرنہیں ہوتاوہی ایك نورہے کہ جب قریب افق جانب شرق سے طولانی شکل پرچمکتاہے اس کاصبح اول نام رکھتے ہیں پھرجب پھیلتاہے وہی صبح صادق ہوتی ہے پھرجب سرخی لاتاہے وہی شفق ہے جب دن نکل آتاہے وہی دھوپ ہے یونہی بعد غروب اس کے ظہور کے تفاوت ہیں تودیکھوایك آفتاب کی تجلی اوراتنے اختلاف اورہر حالت کے اعتبارسے اس کے جدانام ہیں اور جدا اوصافباایں ہمہ وہ نوراپنی ذات میں ایك ہےاس میں کوئی تغیر نہیںنہ وہ صبح اول کے وقت طویل ہوگیاتھا نہ صبح ثانی کے وقت چوڑانہ شفق کے وقت اس نے لباس سرخ پہنانہ دن نکلتے زردیاسفیدنہ ہلال پرچمکتے وقت کمان ہوگیاتھا نہ بدرپرپڑتے بشکل دائرہنہ آئینہ پرچمکتے وقت قوت پائی تھی نہ زمین پرآتے ہوئے ضعف
مگریہ سب اختلاف تغیرمظاہرمیں ہیں جن کے باعث اس شے واحد کی اتنی تعبیریں اور اس قدرحالتیں ہوگئیں۔پس یہ مثال نورمطلق ذات باری عزوجل کی سمجھناچاہئے کہ واحد حقیقی ہے تغیر واختلاف کواصلا اس کے سراپردہ عزت کے گردبار نہیں پرمظاہر کے تعدد سے یہ مختلف صورتیں بے شمارنام بے حساب آثارپیداہیں جنہیں ہم عالم نام رکھتے ہیں یہ ظاہری تفہیم کے لئے ایك بہت ناقص وناکارہ وناتمام مثال ہے " و للہ المثل الاعلی " (اوران کی شان سب سے بلند ہے۔ت)اس سے زائد بیان سے باہر اورمرتبہ عقل سے وراء ہے۔تاکرابخشند وبکہ روزی دارند(یہاں تك کہ کس کوبخشیں گے اور کس کو روزی دیں گے۔ت)
شعرسوم: مخفی میں کیونکہ تھا وہ سری میں کس طرح تھا
پھرروح کیوں ہوا ہے دل کاخصال بولو
الجواب:وہ نورپاك اپنی ذات میں نہایت ظہور پرظاہرہے اور اپنے بے نہایت ظہور کے سبب باطن کہ نورجس قدرتابندہ تر ہوگانظراس پرکام کم کرے گیجب نوراحدیت کی تابش غیرمحدودہے چشم جسم وچشم عقل دونوں وہاں نابیناہیں تو وہ اپنے کمال ظہورکے سبب کمال خفاوبطون میں ہے پھراپنے مظاہروتجلیات میں تو اس کاظہور ذی عقل پرظاہرہے اوراسی نورکے متعدد پرتووں نے روح وقلب وغیرہ وغیرہ بے حساب نام پائے ہیں جس طرح ہم ابھی مثال میں واضح کرآئے قلب وروح کی معرفت بے معرفت الہی نہیں ہوتی۔
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ من عرف نفسہ کل لسانہ۔ جس نے اپنے نفس کوپہچانا اس نے اپنے رب کوپہچانا جس نے اپنے نفس کوپہچان لیا اس کی زبان بند ہوگئی۔(ت)
ناواقفوں سے فقط اتناارشادہوا:
" قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا ﴿۸۵﴾" ۔ توفرماروح میرے رب کے امر سے ایك چیزہے اورتمہیں علم نہ ملامگرتھوڑا۔
شعرسوم: مخفی میں کیونکہ تھا وہ سری میں کس طرح تھا
پھرروح کیوں ہوا ہے دل کاخصال بولو
الجواب:وہ نورپاك اپنی ذات میں نہایت ظہور پرظاہرہے اور اپنے بے نہایت ظہور کے سبب باطن کہ نورجس قدرتابندہ تر ہوگانظراس پرکام کم کرے گیجب نوراحدیت کی تابش غیرمحدودہے چشم جسم وچشم عقل دونوں وہاں نابیناہیں تو وہ اپنے کمال ظہورکے سبب کمال خفاوبطون میں ہے پھراپنے مظاہروتجلیات میں تو اس کاظہور ذی عقل پرظاہرہے اوراسی نورکے متعدد پرتووں نے روح وقلب وغیرہ وغیرہ بے حساب نام پائے ہیں جس طرح ہم ابھی مثال میں واضح کرآئے قلب وروح کی معرفت بے معرفت الہی نہیں ہوتی۔
من عرف نفسہ فقد عرف ربہ من عرف نفسہ کل لسانہ۔ جس نے اپنے نفس کوپہچانا اس نے اپنے رب کوپہچانا جس نے اپنے نفس کوپہچان لیا اس کی زبان بند ہوگئی۔(ت)
ناواقفوں سے فقط اتناارشادہوا:
" قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا ﴿۸۵﴾" ۔ توفرماروح میرے رب کے امر سے ایك چیزہے اورتمہیں علم نہ ملامگرتھوڑا۔
حوالہ / References
القرآن ۱۶/ ۶۰
کشف الخفاء حدیث ۲۵۳۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۴
کشف الخفاء حدیث ۲۵۳۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۴
القرآن الکریم ۱۷ /۸۵
کشف الخفاء حدیث ۲۵۳۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۴
کشف الخفاء حدیث ۲۵۳۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۴
القرآن الکریم ۱۷ /۸۵
عالم دوہیں:عالم امروعالم خلق
" الا لہ الخلق والامر تبرک اللہ رب العلمین ﴿۵۴﴾" سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیداکرنا اورحکم دینا بڑی برکت والاہے رب سارے جہان کا۔(ت)
عالم خلق وہ چیزیں جومادہ سے پیداہوتی ہیں جیسے انسانحیواننباتاتجماداتزمین وآسمان وغیرہاکہ نطفہ وتخم وعناصر سے بنے عالم امروہ جوصرف امرکن سے بنااس کے لئے کوئی مادہ نہیں جیسے ملائکہ وارواح وعرش ولوح وقلم وجنت وناروغیرہ۔ تو فرمایا روح عالم امرسے ایك چیزہےعقل کاحصہ اسی قدرہےآگے اس کی ماہیت اکابراہل باطن جانتے ہیںسبحان اﷲ! آدمی خود اسی روح کانام ہے اوریہ اپنے ہی نفس کے جاننے میں اس قدرناکام
تنت زندہ بجاں جان نہانی توازجاں زندہ وجاں رانہ دانی
(تیرابدن مخفی جان کی وجہ سے زندہ ہےتوجان کے سبب زندہ ہےاورجان کونہیں جانتاہے۔ت)
اورسروخفی وروح وقلب لطائف حضرات نقشبندیہ قدست اسرارہم سے ہیں جن میں تجلیات حق کے رنگارنگ ذوق کاادراك کارعیاں ہے نہ کاربیان ع
ذوق ایں مے نہ شناسی بخداتانہ چشی
اﷲ کی قسم تواس شراب کامزہ نہیں پہچان سکتا جب تك اسے چکھ نہ لے۔ت)
شعرچہارم:
اربع عناصراب یوں نکلے کہوکہاں سے
مرتاسوکون اس میں کس کو وصال بولو
الجواب:نوراحدیت کے پرتوسے نورمحمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بنااور اس کے پرتوسے تمام عالم ظاہرہوااول پانی پیداہوا پھر اس میں دھواں اٹھااس سے آسمان بناپھرپانی کاایك حصہ منجمد ہوکرزمین ہوگیا اسے خالق عزوجل نے پھیلاکر سات پرت کر دیا پھر اسی طرح آسمان کے سات طبقے کئےیونہی پانی سے آگ بنیممکن ہے کہ پانی کسی قسم کی حرارت پاکرہواہوا ہواورہوا گرم ہوکرآگیاجس طرح مولی سبحانہ وتعالی نے چاہاغرض پانی مادہ تمام مخلوق کاہے۔امام احمد وابن حبان وحاکم کی
" الا لہ الخلق والامر تبرک اللہ رب العلمین ﴿۵۴﴾" سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیداکرنا اورحکم دینا بڑی برکت والاہے رب سارے جہان کا۔(ت)
عالم خلق وہ چیزیں جومادہ سے پیداہوتی ہیں جیسے انسانحیواننباتاتجماداتزمین وآسمان وغیرہاکہ نطفہ وتخم وعناصر سے بنے عالم امروہ جوصرف امرکن سے بنااس کے لئے کوئی مادہ نہیں جیسے ملائکہ وارواح وعرش ولوح وقلم وجنت وناروغیرہ۔ تو فرمایا روح عالم امرسے ایك چیزہےعقل کاحصہ اسی قدرہےآگے اس کی ماہیت اکابراہل باطن جانتے ہیںسبحان اﷲ! آدمی خود اسی روح کانام ہے اوریہ اپنے ہی نفس کے جاننے میں اس قدرناکام
تنت زندہ بجاں جان نہانی توازجاں زندہ وجاں رانہ دانی
(تیرابدن مخفی جان کی وجہ سے زندہ ہےتوجان کے سبب زندہ ہےاورجان کونہیں جانتاہے۔ت)
اورسروخفی وروح وقلب لطائف حضرات نقشبندیہ قدست اسرارہم سے ہیں جن میں تجلیات حق کے رنگارنگ ذوق کاادراك کارعیاں ہے نہ کاربیان ع
ذوق ایں مے نہ شناسی بخداتانہ چشی
اﷲ کی قسم تواس شراب کامزہ نہیں پہچان سکتا جب تك اسے چکھ نہ لے۔ت)
شعرچہارم:
اربع عناصراب یوں نکلے کہوکہاں سے
مرتاسوکون اس میں کس کو وصال بولو
الجواب:نوراحدیت کے پرتوسے نورمحمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بنااور اس کے پرتوسے تمام عالم ظاہرہوااول پانی پیداہوا پھر اس میں دھواں اٹھااس سے آسمان بناپھرپانی کاایك حصہ منجمد ہوکرزمین ہوگیا اسے خالق عزوجل نے پھیلاکر سات پرت کر دیا پھر اسی طرح آسمان کے سات طبقے کئےیونہی پانی سے آگ بنیممکن ہے کہ پانی کسی قسم کی حرارت پاکرہواہوا ہواورہوا گرم ہوکرآگیاجس طرح مولی سبحانہ وتعالی نے چاہاغرض پانی مادہ تمام مخلوق کاہے۔امام احمد وابن حبان وحاکم کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۵۴
حدیث میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:کل شیئ خلق من الماء ہر چیزپانی سے بنی ہے۔موت بدن کے لئے ہے جس کے معنی روح کااس سے جداہوجانا۔روح پہلے نہ تھی جب بنی توپھراس کے لئے فنا نہیںیہی مذہب اہلسنت کاہے۔ولہذا بعد مرگ سمع وبصرعلم وفہم وغیرہ تمام افعال کہ حقیقۃ روح کے تھے برقراررہتے ہیں بلکہ اورزیادہ ترقی پاتے ہیںجن کی مثال یوں سمجھئے کہ ایك پرندقفس میں محبوس ہے اس کی پرافشانی اسی پنجرے کے لائق ہوگی جب اسے نکال دیجئے تو اس کی پروازیں دیکھئے۔فقیرنے اپنی کتاب"حیات الاموات فی بیان سماع الاموات"میں اس مسئلہ کوبحمداﷲ تعالی نہایت شرح وبسط سے ثابت کیاہے یہ روح اپنے معدن اصلی سے غریب الوطن ہوکرقفس بدن میں بحکم الہی ایك مدت معین تك محبوس ہے جب وقت آئے گا اپنی اصل کی طرف رجوع کرے گی " ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ ﴿۲۸﴾" (اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہویوں کہ تواس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ت) اس کانام وصال ہے۔ت)
شعرپنجم:
اول ہے روح علوی دوسری کانام سفلی
ایك روح دوصفت کیوں پکڑاکمال بولو
الجواب:اس شعرکے دومعنے ہیں:ایك یہ روح مجرد ہے یعنی جسم اورجسم کی سب آلائشوں سے پاك ومنزہیہ صفت اس کی علوی ہےپھروہی روح اس جسم پرعاشق اوراس سے متعلق اورحیات دنیوی میں اس کی عادی کام اس جسم کے آلات پرموقوف یہ صفت اس کی سفلی ہے مگر اس بلندی سے اس تنزل میں آنے کے بعد ہی وہ اپنے کمالات کوپہنچتی ہے " قلنا اہبطوا منہا جمیعا " (ہم نے فرمایا تم جنت سے اترجاؤ۔ت)آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے باعث ہزاراں برکات وخیرات ہوا۔
دوسرے یہ کہ انسان میں صفت ملکوتی وصفت بہیمی وصفت شیطانی سب جمع ہیںاگرصفت ملکوتی پرعمل کرے ملك سے بہترہو اوراگردوسری صفت کی طرف گرے بہائم سے بدترہو۔
شعرپنجم:
اول ہے روح علوی دوسری کانام سفلی
ایك روح دوصفت کیوں پکڑاکمال بولو
الجواب:اس شعرکے دومعنے ہیں:ایك یہ روح مجرد ہے یعنی جسم اورجسم کی سب آلائشوں سے پاك ومنزہیہ صفت اس کی علوی ہےپھروہی روح اس جسم پرعاشق اوراس سے متعلق اورحیات دنیوی میں اس کی عادی کام اس جسم کے آلات پرموقوف یہ صفت اس کی سفلی ہے مگر اس بلندی سے اس تنزل میں آنے کے بعد ہی وہ اپنے کمالات کوپہنچتی ہے " قلنا اہبطوا منہا جمیعا " (ہم نے فرمایا تم جنت سے اترجاؤ۔ت)آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے باعث ہزاراں برکات وخیرات ہوا۔
دوسرے یہ کہ انسان میں صفت ملکوتی وصفت بہیمی وصفت شیطانی سب جمع ہیںاگرصفت ملکوتی پرعمل کرے ملك سے بہترہو اوراگردوسری صفت کی طرف گرے بہائم سے بدترہو۔
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۱۵۲۱۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۵۶
القرآن الکریم ۸۹ /۲۷ و ۲۸
القرآن الکریم ۲ /۳۸
القرآن الکریم ۸۹ /۲۷ و ۲۸
القرآن الکریم ۲ /۳۸
حدیث میں آیاہے:
قال اﷲ تعالی عبدی المومن احب الی من بعض ملئکتی اﷲ تعالی فرماتاہے میرابندہ مومن مجھے اپنے بعض ملائکہ سے زیادہ پیاراہے۔
اورکفار کے حق میں فرمایا:
" اولئک کالانعم بل ہم اضل " وہ چوپایوں کی مانندہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے۔
اوراس کاکمال انہیں دوصفت کے اجتماع سے کہ جب وہ باوجودموانع کہ صفت بہیمی اسے شہوات کی طرف بلاتی ہے اورصفت شیطانی خیرات سے روکتی ہے پھر ان کاکہنا نہ مانے اوراپنے رب کی عبادت وطاعت میں مصروف ہوتواس کی بندگی نے وہ کمال پایا جوعبادت ملائکہ کوحاصل نہیں کہ ملائکہ بے مانع وبے مزاحم مصروف عبادت ہیں اوریہ ہزارجالوں میں پھنساہواان سب سے بچ کر بندگی بجالاتاہے
فرشتہ گربہ بیند جوھر تو
دگررہ سجدہ آرد بردرتو
(فرشتہ اگرتیرے جوہرکودیکھ لے توپھرتیرے درپرسجدہ کرے۔ت)
شعرششم:
دکھتاہے جوکہ خاکی آنکھوں سے سب فناہے
دکھتاہے کس نظرسے وہ جگ اجال بولو
الجواب: ظاہرہے یہ آنکھیں فانی ہیں اورفانی باقی کونہیں دیکھ سکتالہذادنیا میں دیدارالہی سواحضرت سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کسی نبی مقرب کوبھی نصیب نہ ہوا ہاں چشم روح باقی ہے ہم ابھی ذکرکرآئے کہ روح کے لئے تواولیاءنظردل سے اس جمال جہاں آرا کامشاہدہ کرتے ہیں اورروزحشروہ آنکھیں ملیں گی جنہیں پھرکبھی موت وفنانہیں تواس دن چشم جسم سے بھی مسلمان دیدارالہی تبارك وتعالی سے مشرف ہوں گے۔اللھم ارزقنا امین!
قال اﷲ تعالی عبدی المومن احب الی من بعض ملئکتی اﷲ تعالی فرماتاہے میرابندہ مومن مجھے اپنے بعض ملائکہ سے زیادہ پیاراہے۔
اورکفار کے حق میں فرمایا:
" اولئک کالانعم بل ہم اضل " وہ چوپایوں کی مانندہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے۔
اوراس کاکمال انہیں دوصفت کے اجتماع سے کہ جب وہ باوجودموانع کہ صفت بہیمی اسے شہوات کی طرف بلاتی ہے اورصفت شیطانی خیرات سے روکتی ہے پھر ان کاکہنا نہ مانے اوراپنے رب کی عبادت وطاعت میں مصروف ہوتواس کی بندگی نے وہ کمال پایا جوعبادت ملائکہ کوحاصل نہیں کہ ملائکہ بے مانع وبے مزاحم مصروف عبادت ہیں اوریہ ہزارجالوں میں پھنساہواان سب سے بچ کر بندگی بجالاتاہے
فرشتہ گربہ بیند جوھر تو
دگررہ سجدہ آرد بردرتو
(فرشتہ اگرتیرے جوہرکودیکھ لے توپھرتیرے درپرسجدہ کرے۔ت)
شعرششم:
دکھتاہے جوکہ خاکی آنکھوں سے سب فناہے
دکھتاہے کس نظرسے وہ جگ اجال بولو
الجواب: ظاہرہے یہ آنکھیں فانی ہیں اورفانی باقی کونہیں دیکھ سکتالہذادنیا میں دیدارالہی سواحضرت سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کسی نبی مقرب کوبھی نصیب نہ ہوا ہاں چشم روح باقی ہے ہم ابھی ذکرکرآئے کہ روح کے لئے تواولیاءنظردل سے اس جمال جہاں آرا کامشاہدہ کرتے ہیں اورروزحشروہ آنکھیں ملیں گی جنہیں پھرکبھی موت وفنانہیں تواس دن چشم جسم سے بھی مسلمان دیدارالہی تبارك وتعالی سے مشرف ہوں گے۔اللھم ارزقنا امین!
شعرہفتم:
ہرچیزذات حق سے معمورہے ولیکن
ملتاہے کس محل میں ابروہلال بولو
الجواب:اس کاجواب وہ ہے کہ سیدنااسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہواانہوں نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی:الہی! میں تجھے کہاں تلاش کروں فرمایا:عندالمنکسرۃ قلوبھم لاجلی ان کے پاس جن کے دل میرے لئے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ایك شخص حضرت سیدنابایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضرہوادیکھاپنجوں کے بل گھٹنے ٹیکے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون رواں ہےعرض کی حضرت! یہ کیاحال ہے فرمایا:میں ایك قدم میں یہاں سے عرش تك گیاعرش کودیکھا کہ رب عزوجل کی طلب میں پیاسے بھیڑیے کی طرح منہ کھولے ہوئے ہے بانگے برعرش زدم کہ ایں چہ ماجراست ہمیں نشان دیتے ہیں الرحمن علی العرش استوی(رحمن نے عرش پراپنی شان کے مطابق استوا فرمایا۔ت)میں رحمن کی تلاش میں تجھ تك آیا تیرا یہ حال پایاعرش نے جواب دیا:مجھے ارشاد کرتے ہیں کہ اے عرش! اگر ہمیں ڈھونڈنا چاہے توبایزیدکے دل میں تلاش کر۔
شعرہشتم:
سب جسم ہے محمدموجودذات حق ہے
اسلام اورکفرکا پردہ سنبھال بولو
الجواب:حدیثوں سے ثابت ہے کہ اﷲ عزوجل نے تمام عالم نورحضرت سیدالعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پیداکیا تواصل ہرچیز کی نورسراپاحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے پس مرتبہ ایجادمیں بس وہی وہ ہیں۔فقیرغفراﷲ تعالی نے اپنے قصیدہ نونیہ نعتیہ میں بحمداﷲ تعالی اس نفیس مضمون میں بہت ابیات رائقہ لکھے ہیںھھنا قولی
خالق کل الوری ربك لاغیرہ نورك کل الوری غیرك لملیسلن
(کل کائنات کاخالق تیرارب ہے نہ کہ اس کاغیرتیرانورہی کل کائنات ہے اورتیرے سوالملیسلن ہے۔ت)
ای لم یوجد ولیس موجودا ولن یوجدابدا(یعنی کہیں نہیں پایاگیانہ موجود ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ت)اورمرتبہ وجود میں صرف حق عزوجل ہے کہ ہستی حقیقۃ اسی کی ذات پاك سے خاص ہے وحدت وجود کے جس قدرمعنے عقل میں آسکتے ہیں یہی ہیں کہ وجودواحد
ہرچیزذات حق سے معمورہے ولیکن
ملتاہے کس محل میں ابروہلال بولو
الجواب:اس کاجواب وہ ہے کہ سیدنااسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہواانہوں نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی:الہی! میں تجھے کہاں تلاش کروں فرمایا:عندالمنکسرۃ قلوبھم لاجلی ان کے پاس جن کے دل میرے لئے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ایك شخص حضرت سیدنابایزیدبسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضرہوادیکھاپنجوں کے بل گھٹنے ٹیکے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جگہ خون رواں ہےعرض کی حضرت! یہ کیاحال ہے فرمایا:میں ایك قدم میں یہاں سے عرش تك گیاعرش کودیکھا کہ رب عزوجل کی طلب میں پیاسے بھیڑیے کی طرح منہ کھولے ہوئے ہے بانگے برعرش زدم کہ ایں چہ ماجراست ہمیں نشان دیتے ہیں الرحمن علی العرش استوی(رحمن نے عرش پراپنی شان کے مطابق استوا فرمایا۔ت)میں رحمن کی تلاش میں تجھ تك آیا تیرا یہ حال پایاعرش نے جواب دیا:مجھے ارشاد کرتے ہیں کہ اے عرش! اگر ہمیں ڈھونڈنا چاہے توبایزیدکے دل میں تلاش کر۔
شعرہشتم:
سب جسم ہے محمدموجودذات حق ہے
اسلام اورکفرکا پردہ سنبھال بولو
الجواب:حدیثوں سے ثابت ہے کہ اﷲ عزوجل نے تمام عالم نورحضرت سیدالعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پیداکیا تواصل ہرچیز کی نورسراپاحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے پس مرتبہ ایجادمیں بس وہی وہ ہیں۔فقیرغفراﷲ تعالی نے اپنے قصیدہ نونیہ نعتیہ میں بحمداﷲ تعالی اس نفیس مضمون میں بہت ابیات رائقہ لکھے ہیںھھنا قولی
خالق کل الوری ربك لاغیرہ نورك کل الوری غیرك لملیسلن
(کل کائنات کاخالق تیرارب ہے نہ کہ اس کاغیرتیرانورہی کل کائنات ہے اورتیرے سوالملیسلن ہے۔ت)
ای لم یوجد ولیس موجودا ولن یوجدابدا(یعنی کہیں نہیں پایاگیانہ موجود ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ت)اورمرتبہ وجود میں صرف حق عزوجل ہے کہ ہستی حقیقۃ اسی کی ذات پاك سے خاص ہے وحدت وجود کے جس قدرمعنے عقل میں آسکتے ہیں یہی ہیں کہ وجودواحد
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ الباب الثالث دارالفکربیروت ۶/ ۲۹۰
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ذکربایزیدبسطامی رحمہ اﷲ مطبع اسلامیہ لاہور ص۱۰۰
بساتین الغفران منظومہ نونیۃ فی مدح سیدالانبیاء رضادارالاشاعت لاہور ص۲۲۳
تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ذکربایزیدبسطامی رحمہ اﷲ مطبع اسلامیہ لاہور ص۱۰۰
بساتین الغفران منظومہ نونیۃ فی مدح سیدالانبیاء رضادارالاشاعت لاہور ص۲۲۳
موجود واحد باقی سب مظاہرہیں کہ اپنی حدذات میں اصلا وجودہستی سے بہرہ نہیں رکھتے " کل شیء ہالک الا وجہہ " (ہرچیزفانی ہے سوا اس کی ذات کے۔ت)اورحاشا یہ معنی ہرگزنہیں کہ من وتو زیدوعمرو ہرشے خداہےیہ اہل اتحاد کاقول ہے جو ایك فرقہ کافروں کا ہے اورپہلی بات اہل توحید کا مذہب جواہل اسلام وایمان حقیقی ہیں۔یہی کفرواسلام کاپردہ سنبھالناہے۔
شعرنہم:
نکتہ نہیں علم کاقرآن میں سمایا
معنی علم کے نکتہ کے اب محال بولو
الجواب:علم کانکتہ وہ باریك بات سمجھ میں نہ آئی یہاں اس سے مراد ذات پاك باری عزوجل ہے کہ ہرگز اس کی کنہ نہ فہم تصور میں آسکے نہ بیان وکلام میں سماسکے ادراك اس کامحال اورخوض اس میں ضلالوالعیاذباﷲ ذی الجلالقرآن اﷲ عزوجل کاکلام اوراس کی صفت ہے۔صفت ذات میں ہوتی ہے ذات صفت میں نہیں آسکتی
کس نہ دانست کہ منزل گہ آں یارکجاست ایں قدرہست کہ بانگ جرسے می آید
(کسی کومعلوم نہیں کہ اس دوست کی منزل گاہ کہاں ہےبس اتناجانتاہے کہ کسی گھنٹی کی آوازآتی ہے۔ت)
ھذا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وسلم۔امین!
___________
رسالہ
کشف حقائق واسرار ودقائق
ختم ہوا
شعرنہم:
نکتہ نہیں علم کاقرآن میں سمایا
معنی علم کے نکتہ کے اب محال بولو
الجواب:علم کانکتہ وہ باریك بات سمجھ میں نہ آئی یہاں اس سے مراد ذات پاك باری عزوجل ہے کہ ہرگز اس کی کنہ نہ فہم تصور میں آسکے نہ بیان وکلام میں سماسکے ادراك اس کامحال اورخوض اس میں ضلالوالعیاذباﷲ ذی الجلالقرآن اﷲ عزوجل کاکلام اوراس کی صفت ہے۔صفت ذات میں ہوتی ہے ذات صفت میں نہیں آسکتی
کس نہ دانست کہ منزل گہ آں یارکجاست ایں قدرہست کہ بانگ جرسے می آید
(کسی کومعلوم نہیں کہ اس دوست کی منزل گاہ کہاں ہےبس اتناجانتاہے کہ کسی گھنٹی کی آوازآتی ہے۔ت)
ھذا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ وسلم۔امین!
___________
رسالہ
کشف حقائق واسرار ودقائق
ختم ہوا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
اوراد و وظائف و عملیات
مسئلہ ۳۱۶: ازصاحب گنج گیا مسئولہ چراغ علی صاحب ۲۵ربیع الاول شریف
سوال یہ ہے:"السلام علیکم یاخواجہ عبدالکریم جانب مشرقالسلام علیك یاخواجہ عبدالرحیم جانب شمالالسلام علیك یاخواجہ عبدالرشیدجانب جنوبالسلام علیك یاخواجہ عبدالجلیل"۔جانب مغرب بعدہ یہ پڑھنا:
اللھم انت قدیم ازلی تنزیل العلل ولم تزل ولاتزال ارحمنی برحمتك یاارحم الراحمیناللھم اغفرلامۃ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلماللھم ارحم امۃ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم۔
بعدہ پڑھنا درودشریف کابعدد طاق جائزہے یانہیں اس کوامام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ نے احیاء العلوم میں بھی لکھاہے اور نیز کیمیائے سعادت میں ہے۔
الجواب:
دعائے مذکورجائزہے اوراس میں بہت برکات ہیں۔یہ چاروں حضرات جہات اربعہ میں اوتاداربعہ ہیں۔یہ اسمائے طیبہ ان کے اشخاص کے نہیں بلکہ عہدہ کے ہیں۔جس طرح ہرغوث کانام عبداﷲ اور اس کے دونوں وزیروں کے نام عبدالملك اور عبد الرب ہیں۔جو اس عہدہ پرمقرر ہوگاظاہرمیں کچھ نام رکھتاہویاباطن میں اس کایہ نام رکھاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱۶: ازصاحب گنج گیا مسئولہ چراغ علی صاحب ۲۵ربیع الاول شریف
سوال یہ ہے:"السلام علیکم یاخواجہ عبدالکریم جانب مشرقالسلام علیك یاخواجہ عبدالرحیم جانب شمالالسلام علیك یاخواجہ عبدالرشیدجانب جنوبالسلام علیك یاخواجہ عبدالجلیل"۔جانب مغرب بعدہ یہ پڑھنا:
اللھم انت قدیم ازلی تنزیل العلل ولم تزل ولاتزال ارحمنی برحمتك یاارحم الراحمیناللھم اغفرلامۃ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلماللھم ارحم امۃ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم۔
بعدہ پڑھنا درودشریف کابعدد طاق جائزہے یانہیں اس کوامام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ نے احیاء العلوم میں بھی لکھاہے اور نیز کیمیائے سعادت میں ہے۔
الجواب:
دعائے مذکورجائزہے اوراس میں بہت برکات ہیں۔یہ چاروں حضرات جہات اربعہ میں اوتاداربعہ ہیں۔یہ اسمائے طیبہ ان کے اشخاص کے نہیں بلکہ عہدہ کے ہیں۔جس طرح ہرغوث کانام عبداﷲ اور اس کے دونوں وزیروں کے نام عبدالملك اور عبد الرب ہیں۔جو اس عہدہ پرمقرر ہوگاظاہرمیں کچھ نام رکھتاہویاباطن میں اس کایہ نام رکھاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۱۷: ازسہسوان محلہ مستولی ٹولہ مرسلہ پرورش علی صاحب
نسیان کامجرب علاج کیاہے
الجواب:
دفع نسیان کو ۱۷بار سورہ الم نشرح ہرشب سوتے وقت پڑھ کر سینہ پر دم کرنااورصبح ۱۷ بارپانی پردم کرکے قدرے پینااورچینی کی رکابی پریہ حروف ا ھ ظ م ف ش ذ لکھ کر پلانانافع ہے۔اورچالیس روزسفیدچینی پرمشك وزعفران وگلاب سے لکھ کر آب تازہ سے محوکرکے پئیں۔تسمیہ اس کے بعد فسھل یاالھی کل صعب * بحرمۃ سیدالابرار سھل* یامحی الدین اجبیا جبرائیل بحق یابدوح۔والسلام۔
مسئلہ ۳۱۸: ازمقام سوروں ضلع ایٹہ۔اﷲ دیا وچندومنہار روزدوشنبہ ۱۳صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ
رہنمائے دین متینمرشد راہ یقین بندہ دام فیضہ۔بعداظہار لوازم کے یہ عاصی پرمعاصی بندہ خاکسار حضورکی خدمت میں عرض کرتاہےآج کل مجھ کو اتنی فرصت نہیں ملتی کہ حضورکی خدمت میں حاضرہوں۔اورحضورمجھ کوذکرقلبی بتلادیجئے آپ حضور لکھ دیں فورا خدمت میں حاضرہوں۔اورحضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کااسم شریف کیاہےوہ مجھ کو تحریرکرئیے گا۔اورایك حافظ آئے تھے"سرائے ترین"سوداگرکنگھی والےوہ مجھ کوایك حاضرات بتلاگئے ہیںحضوراجازت دیں توعمل میں لاؤں۔سورہ رحمن کے دوسرے رکوع میں ہے:یامعشرالجنحضور اس کاجواب بہت جلد دیجئے گا اورخان حمیدالدین شاہ صاحب مجھ کوایك عمل ہمزاد تجربہ کادے گئے ہیں وہ اب تك بغیراجازت حضورکے نہیں کیا۔
الجواب:
حاضرات جن سے جنوں کوبلانا اوران سے صحبت وملاقات مقصودہو محمودنہیں۔حضرت شیخ اکبر قدس سرہ فرماتے ہیں:"کم سے کم وہ ضررکہ جن کی ملاقات سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبرہوجاتاہے"۔یہ کتنابڑا ضررہے جسے قرآن عظیم میں فرمایا: "کیامتکبروں کاٹھکانہ جہنم نہیں"۔
ذکرکے طریقے کثیرہیںتلاوت قرآن وکلمہ طیبہ اوردرودشریف کی کثرت رکھئے۔اورجواذکار بطریقہ اشغال ہیں وہ بالمشافہ سیکھنے سے خوب آتے ہیں۔سیدناموسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کااسم شریف یوحانذ ہے۔وھوتعالی اعلم۔
نسیان کامجرب علاج کیاہے
الجواب:
دفع نسیان کو ۱۷بار سورہ الم نشرح ہرشب سوتے وقت پڑھ کر سینہ پر دم کرنااورصبح ۱۷ بارپانی پردم کرکے قدرے پینااورچینی کی رکابی پریہ حروف ا ھ ظ م ف ش ذ لکھ کر پلانانافع ہے۔اورچالیس روزسفیدچینی پرمشك وزعفران وگلاب سے لکھ کر آب تازہ سے محوکرکے پئیں۔تسمیہ اس کے بعد فسھل یاالھی کل صعب * بحرمۃ سیدالابرار سھل* یامحی الدین اجبیا جبرائیل بحق یابدوح۔والسلام۔
مسئلہ ۳۱۸: ازمقام سوروں ضلع ایٹہ۔اﷲ دیا وچندومنہار روزدوشنبہ ۱۳صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ
رہنمائے دین متینمرشد راہ یقین بندہ دام فیضہ۔بعداظہار لوازم کے یہ عاصی پرمعاصی بندہ خاکسار حضورکی خدمت میں عرض کرتاہےآج کل مجھ کو اتنی فرصت نہیں ملتی کہ حضورکی خدمت میں حاضرہوں۔اورحضورمجھ کوذکرقلبی بتلادیجئے آپ حضور لکھ دیں فورا خدمت میں حاضرہوں۔اورحضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کااسم شریف کیاہےوہ مجھ کو تحریرکرئیے گا۔اورایك حافظ آئے تھے"سرائے ترین"سوداگرکنگھی والےوہ مجھ کوایك حاضرات بتلاگئے ہیںحضوراجازت دیں توعمل میں لاؤں۔سورہ رحمن کے دوسرے رکوع میں ہے:یامعشرالجنحضور اس کاجواب بہت جلد دیجئے گا اورخان حمیدالدین شاہ صاحب مجھ کوایك عمل ہمزاد تجربہ کادے گئے ہیں وہ اب تك بغیراجازت حضورکے نہیں کیا۔
الجواب:
حاضرات جن سے جنوں کوبلانا اوران سے صحبت وملاقات مقصودہو محمودنہیں۔حضرت شیخ اکبر قدس سرہ فرماتے ہیں:"کم سے کم وہ ضررکہ جن کی ملاقات سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبرہوجاتاہے"۔یہ کتنابڑا ضررہے جسے قرآن عظیم میں فرمایا: "کیامتکبروں کاٹھکانہ جہنم نہیں"۔
ذکرکے طریقے کثیرہیںتلاوت قرآن وکلمہ طیبہ اوردرودشریف کی کثرت رکھئے۔اورجواذکار بطریقہ اشغال ہیں وہ بالمشافہ سیکھنے سے خوب آتے ہیں۔سیدناموسی علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کااسم شریف یوحانذ ہے۔وھوتعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
مسئلہ۳۱۹:(سوال مذکورنہیں)
اجازت نامہ اورادووظائف واعمال
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
فقیرغفرلہ المولی القدیر نے جملہ نقوش وتعویذات خاندانی جوفقیرکو اپنے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم یاحضرت جناب سید شاہ ابوالحسین احمدنوری میاں صاحب قبلہ مارہری قدس سرہ العزیز یاارشادات ائمہ کرام واولیائے عظام وعلمائے اعلام سابقین رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سے پہنچے یافقیرنے بفضلہ تعالی مجازوماذون ہوکر خودایجادکئے یاآئندہ ایجادکروں ان سب کی اجازت عامہ تامہ صحیحہ نجیحہ اپنے خواہر زادہ برخوردارحکیم علی احمدخاں سلمہ کودی۔مولی تعالی اپنے کرم سے برکت فرمائے شرط یہ ہے کہ کسی کام خلاف شرع کے لئے نہ خود استعمال کریں نہ کسی ایسے کودیں یابتائیں جوکوئی کام خلاف شرع چاہتاہو۔
۱ جس طرح عورتیں اکثرتسخیرشوہرچاہتی ہیں کہ شوہر ہمارے کہنے میں ہوجائے جوہم کہیں وہی کرےیہ حرام ہے۔حدیث میں اسے شرك فرمایا اﷲعزوجل نے شوہرکوحاکم بنایانہ کہ محکوم۔۲یایہ چاہتی ہیں کہ اپنی ماں بہن سے جداہوجائے یا۳ان کو کچھ نہ دے ہمیں کودےیہ سب مردودخواہشیں ہیں۔۴مقدمات فوجداری میں مسلمانوں کونقوش حفاظت دئیے جائیں۔ ۵دیوانی و مال کے مقدمات میں جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ حق پرہے نہ دیں کہ ظالم کی اعانت حرام ہے۔۶حب وتسخیرعورت کے لئے نقش وعمل کسی کونہ دیاجائے اس میں اکثر مقاصدفاسد بھی ہوتے ہیں اگرفی الواقع نکاح ہی کاطالب ہو جب بھی صریح اندیشہ معصیت ہے کہ اجنبی کی محبت دل عورت میں پیداہونا سم قاتل ہے ممکن کہ نکاح میں تعویق ہو یااولیائے زن نہ مانیں اور محبت طرفین سے پیداہوچکی تواس کانتیجہ براہو۔۷یونہی اگرتسخیر زن نہ چاہے بلکہ اولیائے زن کی تسخیرکہ وہ اس سے نکاح کر دیں اوریہ ان کاکفونہ ہو یعنی ایساکم ہوکہ اس سے اس کانکاح اولیائے زن کے لئے باعث مطعونی یامعصیت شرعی ہوجب بھی ہرگزنہ دیں کہ یہ مسلمانوں کی مضرت رسانی ہے بلکہ ۸بہتریہ ہے کہ اس مقصد کے لئے مطلقا دیاہی نہ جائے نکاح خصوصا ہندوستان میں عمربھرکاساتھ ہوتا ہے اورانجام کاعلم اﷲ عزوجل کو۔ممکن کہ یہ رشتہ طرفین میں کسی کے لئے شرہوتو شرکا سبب بنانہ چاہئےیہاں ایسوں کوہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی ہے کہ استخارہ شرعی کریں اوردعا کہ
اجازت نامہ اورادووظائف واعمال
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
فقیرغفرلہ المولی القدیر نے جملہ نقوش وتعویذات خاندانی جوفقیرکو اپنے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم یاحضرت جناب سید شاہ ابوالحسین احمدنوری میاں صاحب قبلہ مارہری قدس سرہ العزیز یاارشادات ائمہ کرام واولیائے عظام وعلمائے اعلام سابقین رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سے پہنچے یافقیرنے بفضلہ تعالی مجازوماذون ہوکر خودایجادکئے یاآئندہ ایجادکروں ان سب کی اجازت عامہ تامہ صحیحہ نجیحہ اپنے خواہر زادہ برخوردارحکیم علی احمدخاں سلمہ کودی۔مولی تعالی اپنے کرم سے برکت فرمائے شرط یہ ہے کہ کسی کام خلاف شرع کے لئے نہ خود استعمال کریں نہ کسی ایسے کودیں یابتائیں جوکوئی کام خلاف شرع چاہتاہو۔
۱ جس طرح عورتیں اکثرتسخیرشوہرچاہتی ہیں کہ شوہر ہمارے کہنے میں ہوجائے جوہم کہیں وہی کرےیہ حرام ہے۔حدیث میں اسے شرك فرمایا اﷲعزوجل نے شوہرکوحاکم بنایانہ کہ محکوم۔۲یایہ چاہتی ہیں کہ اپنی ماں بہن سے جداہوجائے یا۳ان کو کچھ نہ دے ہمیں کودےیہ سب مردودخواہشیں ہیں۔۴مقدمات فوجداری میں مسلمانوں کونقوش حفاظت دئیے جائیں۔ ۵دیوانی و مال کے مقدمات میں جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ حق پرہے نہ دیں کہ ظالم کی اعانت حرام ہے۔۶حب وتسخیرعورت کے لئے نقش وعمل کسی کونہ دیاجائے اس میں اکثر مقاصدفاسد بھی ہوتے ہیں اگرفی الواقع نکاح ہی کاطالب ہو جب بھی صریح اندیشہ معصیت ہے کہ اجنبی کی محبت دل عورت میں پیداہونا سم قاتل ہے ممکن کہ نکاح میں تعویق ہو یااولیائے زن نہ مانیں اور محبت طرفین سے پیداہوچکی تواس کانتیجہ براہو۔۷یونہی اگرتسخیر زن نہ چاہے بلکہ اولیائے زن کی تسخیرکہ وہ اس سے نکاح کر دیں اوریہ ان کاکفونہ ہو یعنی ایساکم ہوکہ اس سے اس کانکاح اولیائے زن کے لئے باعث مطعونی یامعصیت شرعی ہوجب بھی ہرگزنہ دیں کہ یہ مسلمانوں کی مضرت رسانی ہے بلکہ ۸بہتریہ ہے کہ اس مقصد کے لئے مطلقا دیاہی نہ جائے نکاح خصوصا ہندوستان میں عمربھرکاساتھ ہوتا ہے اورانجام کاعلم اﷲ عزوجل کو۔ممکن کہ یہ رشتہ طرفین میں کسی کے لئے شرہوتو شرکا سبب بنانہ چاہئےیہاں ایسوں کوہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی ہے کہ استخارہ شرعی کریں اوردعا کہ
اﷲ عزوجل وہ کرے جوبہترہو۔۹نہ خود کسی مسلمان کی ضرررسانی کاکوئی عمل کیاجائے نہ کسی کوبتایاجائے اگرچہ وہ اپنی کتنی ہی مظلومی اورا س کاظالم وموذی ہونا ظاہرکرےہاں اگرثبوت شرعی سے ثابت ہوجائے کہ وہ عام طورپر موذی وظالم ہے تواس کے لئے اسی قدر ضرر کی خواہش رواہے جس قدرکا شرعا اسے استحقاق ہے اس سے زیادہ حرام ہے اوراس کاصحیح معیارپراندازہ خصوصا اپنے معاملہ میں بہت دشوارہوتاہے لہذا ہمیشہ یہاں سپرہی ہاتھ میں رکھی تلوار کام میں نہ لائی گئیاسی پرعمل رہے۔۱۰مسلمانوں کو لوجہ اﷲ تعویذات واعمال دئیے جائیں دنیوی نفع کی طمع نہ ہو جیساآج تك بحمداﷲ تعالی یہاں کادستورہے۔۱۱ کفارکو اگر نقوش دئیے جائیں تومضمرانہیں مظہرکی اجازت نہیں اوروہ بھی اس امرمیں ہوجس سے کسی مسلمان کانقصان نہ ہو اوران سے معاوضہ لینے میں مضائقہ نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے ثابت ہے۔جوکافرخصوصا مرتدجیسے قادیانی نیچریوہابیرافضیچکڑالویغیرمقلد مسلمان کوایذادیاکرتاہواگرچہ رسائل کی تحریریامذہبی تقریرسے اس پرسے دفع بلا خواہ رفع مرض کابھی نقش نہ دیاجائےاورایسانہ ہواوراس کام میں کسی مسلمان کاذاتی نقصان بھی نہ ہو جب بھی مرتدوں کامبتلائے بلاہی رہنا بھلا۔اوراگردیں توضروربمعاوضہ کہ اس میں دینی نفع توتھاہی نہیں دنیوی بھی نہ ہو توآخرکس لئے۔یہ بارہ۱۲ بارتیں بطور نمونہ ہیںغرض ہرطرح مصلحت شرعیہ ملحوظ رہے اﷲ عزوجل توفیق دے۔آمین!
مسئلہ ۳۲۰: ازکیلاسپور ضلع سہارنپور مرسلہ عبداﷲصاحب امام مسجدمنہاران ۸محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
میں سورہ واقعۃ کی زکوۃ اداکرناچاہتاہوں جس کاطریقہ یوں لکھاہے کہ شروع چاند میں جوپہلی جمعرات کے دن بعدنماز مغرباول آخردرودشریف کے بعد چھ مرتبہ سورہ مذکورہ کی تلاوت کرے اورپھر دوسرے روزپانچ بارپڑھے اسی طرح دوسری جمعرات آنے تك پانچ بارپڑھتارہے دوسری جمعرات کوسورہ شریف پانچ بارپڑھ کرمع دروودشریف کے اس ہفتہ کی تلاوت خداکی نذرکر۔اس کے بعد فورا پھر مع درودشریف چھ بارسورہ شریف کی تلاوت کرے اوربعدہ روزمرہ بدستور تیسری جمعرات آنے تك پانچ بارپڑھے اس ہفتہ کاثواب حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوبخشے۔اورپھرفورا ازسرنو شروع کرے اور ترکیب بالاجمعرات تك کرے اس ہفتہ کاثواب جمیع ارواح مومنین کوہدیہعمل تمام ہو۔لہذا حضورباجازت اس عمل کی مجھے دیں اس میں جوکچھ غلطی ہوتواصلاح فرمادیںاورایك شخص نے مجھ سے سوال کیاہے کہ سورہ یسین میں اﷲ تعالی
مسئلہ ۳۲۰: ازکیلاسپور ضلع سہارنپور مرسلہ عبداﷲصاحب امام مسجدمنہاران ۸محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
میں سورہ واقعۃ کی زکوۃ اداکرناچاہتاہوں جس کاطریقہ یوں لکھاہے کہ شروع چاند میں جوپہلی جمعرات کے دن بعدنماز مغرباول آخردرودشریف کے بعد چھ مرتبہ سورہ مذکورہ کی تلاوت کرے اورپھر دوسرے روزپانچ بارپڑھے اسی طرح دوسری جمعرات آنے تك پانچ بارپڑھتارہے دوسری جمعرات کوسورہ شریف پانچ بارپڑھ کرمع دروودشریف کے اس ہفتہ کی تلاوت خداکی نذرکر۔اس کے بعد فورا پھر مع درودشریف چھ بارسورہ شریف کی تلاوت کرے اوربعدہ روزمرہ بدستور تیسری جمعرات آنے تك پانچ بارپڑھے اس ہفتہ کاثواب حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کوبخشے۔اورپھرفورا ازسرنو شروع کرے اور ترکیب بالاجمعرات تك کرے اس ہفتہ کاثواب جمیع ارواح مومنین کوہدیہعمل تمام ہو۔لہذا حضورباجازت اس عمل کی مجھے دیں اس میں جوکچھ غلطی ہوتواصلاح فرمادیںاورایك شخص نے مجھ سے سوال کیاہے کہ سورہ یسین میں اﷲ تعالی
کے اسماء میں سے ایك اسم رکھاگیاہے اور وہ اسم سورہ یسین کے وسط میں ہے اس کے پانچ کلمے اور سولہ حرف ہیں چارحرف منقوطہ ہیں اوردوحرفوں پراوپرنقطے ہیں اوردوحرفوں کے نیچے ہیں لہذا میں نے بہت تلاش کیالیکن مجھے پتہ نہ چلاامیدکہ آپ اس مشکل کوحل کریں۔
الجواب:
کسی عمل کاثواب مولی تعالی کی نذرکرنا محض جہالت ہے وہ غنی مطلق ہے اورحضوراقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام خواہ اورنبی یاولی کوثواب بخشنا کہنابے ادبی ہے بخشنابڑے کی طرف سے چھوٹے کوہوتاہے بلکہ نذر کرنایاہدیہ کرناکہےپہلے ہفتہ کی تلاوت کاثواب نذرحضوراقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کرےدوسرے کی تلاوت کاثواب نذرباقی انبیاء واولیاءتیسرے کاثواب ہدیہ ارواح جملہ مومنین ومومنات کرےاس طرح کیجئے میں نے آپ کواجازت دیوہ سورہ مبارکہ کی ایك پوری آیت ہے کارڈ میں آیت نہیں لکھی جاسکتی اس کااول س ل م اورآخر ر ح ی م۔اس سائل نے ۱۶حرف یوں بتائے کہ سلام میں چار حرف سمجھے یہ غلط ہے مصحف کریم میں یہ لفظ بے الف ہے توپندرہ ہی حرف ہیں اس میں چار حرف منقوط ہیں ق ن ب یمگرنون کے اوپرنقطہ کہنانہ چاہئے کہ وہ جوف میں ہے فقط۔
مسئلہ ۳۲۱: ازچوہرکوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادربخش صاحب ۱۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
یکے ملامیگویدکہ دردعا گنج العرش ودردعاعکاشہ وغیرہ ادعیات عربی وفارسی ودرنورنامہ ہندی کہ درآن ذکرتولدآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالتفصیل است ثواب چنداں نوشتہ است کہ چہل شہیدوحج وغیرہ امورات ثواب حاصل آیدکہ بخواندآں ملامیگویدہرچہ ثواب نوشتہ است آں حاصل نباشد و غلط نوشتند برائے فروختگی کتاب نوشتہ وہیچ اصل نیست آیا گفتہ ملابموجب شرع شریف است یامخالف اگرثواب ہمچناں ست کہ نوشتہ است براہ مہربانی ایك ملاکہتا ہے کہ دعاء گنج العرش اوردعاء عکاشہ وغیرہ عربی وفارسی دعاؤں پراوراسی طرح نورنامہ ہندی جومیلاد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے تفصیلی ذکرپر مشتمل ہےکو پڑھنے پرثواب اس قدرلکھاہے کہ چالیس شہیدوں اورحج وغیرہ نیك امورکے برابر ثواب حاصل ہوتاہے۔ ملامذکور کہتاہے یہ ثواب جولکھاہواہے حاصل نہیں ہوتا یہ غلط لکھاہوا ہے صرف کتابیں فروخت کرنے کے لئے لکھاگیاہے جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔کیاملا کاقول شرع شریف کے مطابق ہے یامخالف اگرثواب
الجواب:
کسی عمل کاثواب مولی تعالی کی نذرکرنا محض جہالت ہے وہ غنی مطلق ہے اورحضوراقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام خواہ اورنبی یاولی کوثواب بخشنا کہنابے ادبی ہے بخشنابڑے کی طرف سے چھوٹے کوہوتاہے بلکہ نذر کرنایاہدیہ کرناکہےپہلے ہفتہ کی تلاوت کاثواب نذرحضوراقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کرےدوسرے کی تلاوت کاثواب نذرباقی انبیاء واولیاءتیسرے کاثواب ہدیہ ارواح جملہ مومنین ومومنات کرےاس طرح کیجئے میں نے آپ کواجازت دیوہ سورہ مبارکہ کی ایك پوری آیت ہے کارڈ میں آیت نہیں لکھی جاسکتی اس کااول س ل م اورآخر ر ح ی م۔اس سائل نے ۱۶حرف یوں بتائے کہ سلام میں چار حرف سمجھے یہ غلط ہے مصحف کریم میں یہ لفظ بے الف ہے توپندرہ ہی حرف ہیں اس میں چار حرف منقوط ہیں ق ن ب یمگرنون کے اوپرنقطہ کہنانہ چاہئے کہ وہ جوف میں ہے فقط۔
مسئلہ ۳۲۱: ازچوہرکوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادربخش صاحب ۱۴ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
یکے ملامیگویدکہ دردعا گنج العرش ودردعاعکاشہ وغیرہ ادعیات عربی وفارسی ودرنورنامہ ہندی کہ درآن ذکرتولدآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالتفصیل است ثواب چنداں نوشتہ است کہ چہل شہیدوحج وغیرہ امورات ثواب حاصل آیدکہ بخواندآں ملامیگویدہرچہ ثواب نوشتہ است آں حاصل نباشد و غلط نوشتند برائے فروختگی کتاب نوشتہ وہیچ اصل نیست آیا گفتہ ملابموجب شرع شریف است یامخالف اگرثواب ہمچناں ست کہ نوشتہ است براہ مہربانی ایك ملاکہتا ہے کہ دعاء گنج العرش اوردعاء عکاشہ وغیرہ عربی وفارسی دعاؤں پراوراسی طرح نورنامہ ہندی جومیلاد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے تفصیلی ذکرپر مشتمل ہےکو پڑھنے پرثواب اس قدرلکھاہے کہ چالیس شہیدوں اورحج وغیرہ نیك امورکے برابر ثواب حاصل ہوتاہے۔ ملامذکور کہتاہے یہ ثواب جولکھاہواہے حاصل نہیں ہوتا یہ غلط لکھاہوا ہے صرف کتابیں فروخت کرنے کے لئے لکھاگیاہے جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔کیاملا کاقول شرع شریف کے مطابق ہے یامخالف اگرثواب
سندوحوالہ کتاب کہ درذکر تولد آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چنداں ثواب ست تحریرفرمایند بلاحیثیت۔ ایساہی جیساکہ لکھاہواہے توبراہ مہربانی سنداورحوالہ کتاب کے ساتھ تحریرفرمائیں کہ میلادمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکرکرنے پراس قدرثواب ہے(ت)
الجواب:
رسالہ منظومہ ہندیہ کہ بنام نورنامہ مشہوراست روایتش بے اصل است خواندنش روانیست چہ جائے ثواب وبرادعیہ درمطابع انچہ روایتہائے اسنادی نویسند اکثربے اصل است وثواب بدست رب الاربابیکبار سبحان اﷲ میزان راپر میکند و لاالہ الااﷲ پسترازعرش نمی ایستدیك کلمہ ازینہا اگرمقبول شود جزائے اوجزجنت نیست وثواب اﷲ اطیب واکثر۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہندی زبان میں لکھاہوارسالہ جونورنامہ کے نام سے مشہورہےاس کی روایت بے اصل ہے اس کوپڑھنا جائزنہیں ہےاس لئے کہ اس میں ثواب کی جگہ پر اوردعاؤں پر مطبعوں میں جواسنادی روایتیں لکھتے ہیں وہ اکثر بے اصل ہیں۔اورثواب تواﷲ تعالی کے دست قدرت میں ہےایك مرتبہ سبحان اﷲ کہنا نیکیوں کے ترازو کوبھردیتاہے اور لاالہ الا اﷲ کہنا عرش سے نیچے نہیں رکتاان میں سے اگرایك کلمہ بھی قبول ہوجائے تواس کاثواب جنت کے ماسوانہیں ہوتا اور اﷲ تعالی کاعطاکردہ ثواب بہت پاکیزہ اوربہت زیادہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام اہلسنت وجماعت مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب لکھنوی رضوی متعلم مدرسہ ۱۳جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ماقولکم یاحماۃ السنۃ السنیۃ البیضاء ویامحاۃ البدعۃ القبیحۃ الظلماء نصرکم اﷲ تعالی بتائیدات الرحمانیۃ وایدکم بالنصر السبحانیۃ فی ھذہ المسئلۃ ان اشرفعلی التھانوی الذی تفوہ بالکفر الجلی فی کتابہ حفظ الایمان اﷲکے نام سے شروع جوبہت مہربان رحمت والاہےآپ کا کیاارشاد ہے اے روشن چمکدار سنتوں کے حامیواوراے تاریك قبیح بدعت کومٹانے والو! اس مسئلہ میں کہ اشرفعلی تھانوی جس نے اپنی کتاب حفظ الایمان میں کفرصریح کاقول کیاہے۔اوراﷲ کی قسم وہ کتاب(دراصل)حبط الایمان(ایمان کی بربادی)ہے۔اس میں تھانوی نے
الجواب:
رسالہ منظومہ ہندیہ کہ بنام نورنامہ مشہوراست روایتش بے اصل است خواندنش روانیست چہ جائے ثواب وبرادعیہ درمطابع انچہ روایتہائے اسنادی نویسند اکثربے اصل است وثواب بدست رب الاربابیکبار سبحان اﷲ میزان راپر میکند و لاالہ الااﷲ پسترازعرش نمی ایستدیك کلمہ ازینہا اگرمقبول شود جزائے اوجزجنت نیست وثواب اﷲ اطیب واکثر۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہندی زبان میں لکھاہوارسالہ جونورنامہ کے نام سے مشہورہےاس کی روایت بے اصل ہے اس کوپڑھنا جائزنہیں ہےاس لئے کہ اس میں ثواب کی جگہ پر اوردعاؤں پر مطبعوں میں جواسنادی روایتیں لکھتے ہیں وہ اکثر بے اصل ہیں۔اورثواب تواﷲ تعالی کے دست قدرت میں ہےایك مرتبہ سبحان اﷲ کہنا نیکیوں کے ترازو کوبھردیتاہے اور لاالہ الا اﷲ کہنا عرش سے نیچے نہیں رکتاان میں سے اگرایك کلمہ بھی قبول ہوجائے تواس کاثواب جنت کے ماسوانہیں ہوتا اور اﷲ تعالی کاعطاکردہ ثواب بہت پاکیزہ اوربہت زیادہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲: ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام اہلسنت وجماعت مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب لکھنوی رضوی متعلم مدرسہ ۱۳جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ماقولکم یاحماۃ السنۃ السنیۃ البیضاء ویامحاۃ البدعۃ القبیحۃ الظلماء نصرکم اﷲ تعالی بتائیدات الرحمانیۃ وایدکم بالنصر السبحانیۃ فی ھذہ المسئلۃ ان اشرفعلی التھانوی الذی تفوہ بالکفر الجلی فی کتابہ حفظ الایمان اﷲکے نام سے شروع جوبہت مہربان رحمت والاہےآپ کا کیاارشاد ہے اے روشن چمکدار سنتوں کے حامیواوراے تاریك قبیح بدعت کومٹانے والو! اس مسئلہ میں کہ اشرفعلی تھانوی جس نے اپنی کتاب حفظ الایمان میں کفرصریح کاقول کیاہے۔اوراﷲ کی قسم وہ کتاب(دراصل)حبط الایمان(ایمان کی بربادی)ہے۔اس میں تھانوی نے
وماھو واﷲ الاحبط الایمان قد کتب عملا للامساك فی ص۱۰۹ فی کتابہ المسمی باثارتبیانی الجزء الثالث من اعمال قرآنی المطبوع فی برقی پریس الواقع فی دھلی ۱۳۳۵ھ فقال ماترجمتہ عمل اخر للامساکیکتب علی ورقۃ الکرم ویعلق علی الفخذ الایسر بابجد ھو زحطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ وقیل یا ارض ابلعی مائك ویسماء اقلعی وغیض الماء وقضی الامر کلما اوقدواناراللحرب اطفأھا اﷲ امسك ایھا الماء النازل من صلب فلان بن فلانۃ بلا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ھل فیہ تعریض القران العظیم للاھانۃ وللانجاس والتوھین والتلویث بالارجاس وقولہ ھذا ھل فیہ کفر ام ضلال ام لیس فیہ شیئ من ھذہ الاحوال۔ بینوابالتفصیل توجروا عند الملك الجلیل۔ اپنی کتاب آثارتبیانی جزء ثالث ازاعمال قرآنی کے حوالے سے امساك کے لئے ایك عمل لکھاہے جس کاعنوان یہ ہے ایك اور عمل واسطے امساك کے۔انگور کے پتے پرلکھ کر بائیں ران پر باندھے ابجدہوزحطیکلمنسعفص قرشتثخذ ضظغ۔ اورحکم فرمایا گیاکہ اے زمین! اپناپانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جااورپانی خشك کردیاگیا اورکام تمام ہوا۔ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اﷲ اسے بجھادیتا ہے۔ اے فلان بن فلانہ کی پشت سے نازل ہونے والے پانی رك جا بسبب"لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم" کے۔ کیا اس میں قرآن عظیم کی توہین اور اسے گندگی میں ملوث کرنے کی پیشکش ہے اورحفظ الایمان میں اس کاقول مذکور کفرہے یاگمراہی یاان میں سے کچھ نہیں۔تفصیل کے ساتھ بیان کروجلالت والے بادشاہ کے پاس اجردئیے جاؤگے۔(ت)
الجواب:
الامام الاجل سیدی محمدالبوصیری قدس سرہ قال فی قصیدتہ الکریمۃ الھمزیۃ ام القری فی حق ابی جھل میرے آقا امام اجل محمدبوصیری قدس سرہ نے اپنے قصیدہ کریمہ ہمزیہ"ام القری فی مدح خیرالوری"میں ابوجہل لعین کے بارے میں فرمایا:
الجواب:
الامام الاجل سیدی محمدالبوصیری قدس سرہ قال فی قصیدتہ الکریمۃ الھمزیۃ ام القری فی حق ابی جھل میرے آقا امام اجل محمدبوصیری قدس سرہ نے اپنے قصیدہ کریمہ ہمزیہ"ام القری فی مدح خیرالوری"میں ابوجہل لعین کے بارے میں فرمایا:
حوالہ / References
اعمال قرآنی حصہ سوم دارالاشاعت کراچی ص۱۱۶ و ۱۱۷
اللعین ع
ماعلی مثلہ یعد الخطاء واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ "اس جیسے کی خطائیں شمارنہیں کی جاسکتیں"۔اوراﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۲۳ و ۳۲۴: ازشہرکہنہ ۱۶رجب ۱۳۳۵ھ بارہ دری مسئولہ مصطفی علی خاں
(۱)کسی شخص کاغصہ بڑھ جائے تواس کے لئے آپ کوئی تعویذدیں اورکچھ پڑھنے کوبتائیں۔
(۲)ماں باپ میں یابہن بھائی ہویامیاں بیوی ہومحبت اوراتفاق پیداہو پڑھنے کوبتائیں یاکوئی تعویذدیجئے۔
الجواب:
(۱)دفع غضب کے لئے لاحول شریف کی کثرت کرے اور جس وقت غصہ آئے دل کی طرف متوجہ ہوکرتین بارلاحول پڑھے تین گھونٹ ٹھنڈاپانی پی لےکھڑاہے توبیٹھ جائےبیٹھاہے تو لیٹ جائےلیٹاہوتواٹھے نہیں۔
(۲)سب گھروالوں میں اتفاق کے لئے بعدنمازجمعہ لاہوری نمك پر ایك ہزارایك۱۰۰۱ باریا ودود پڑھیںاول آخر دس۱۰ دس۱۰ بار درودشریفاورا س وقت سے اس نمك کابرتن زمین پرنہ رکھیںوہ نمك سات۷ دن گھر کی ہانڈی میں ڈالیںسب کھائیںمولی تعالی سب میں اتفاق پیداکرے گا۔ہرجمعہ کوسات دن کے لئے پڑھ لیاکریں۔
مسئلہ ۳۲۵: ازمدرسہ منظرالاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری ۳شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کودینی یادنیوی بات یادنہ رہتی ہو وہ کیاپڑھے بینواتوجروا۔
الجواب:
سپیدچینی کی تشتری پرلکھے بسم اﷲ الرحمن الرحیم ا ھ ط م ف ش ذ اور ا سے ذراسے پانی سے دھوکر اس پر ۹۹۸ باراورنہ ہوسکے تو ۴۰۰ یا۱۰۰ ہی بار یاحفیظ پڑھ کر دم کرے اوروہ پانی پی لے۔روزایساہی کرےاور
ماعلی مثلہ یعد الخطاء واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ "اس جیسے کی خطائیں شمارنہیں کی جاسکتیں"۔اوراﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۲۳ و ۳۲۴: ازشہرکہنہ ۱۶رجب ۱۳۳۵ھ بارہ دری مسئولہ مصطفی علی خاں
(۱)کسی شخص کاغصہ بڑھ جائے تواس کے لئے آپ کوئی تعویذدیں اورکچھ پڑھنے کوبتائیں۔
(۲)ماں باپ میں یابہن بھائی ہویامیاں بیوی ہومحبت اوراتفاق پیداہو پڑھنے کوبتائیں یاکوئی تعویذدیجئے۔
الجواب:
(۱)دفع غضب کے لئے لاحول شریف کی کثرت کرے اور جس وقت غصہ آئے دل کی طرف متوجہ ہوکرتین بارلاحول پڑھے تین گھونٹ ٹھنڈاپانی پی لےکھڑاہے توبیٹھ جائےبیٹھاہے تو لیٹ جائےلیٹاہوتواٹھے نہیں۔
(۲)سب گھروالوں میں اتفاق کے لئے بعدنمازجمعہ لاہوری نمك پر ایك ہزارایك۱۰۰۱ باریا ودود پڑھیںاول آخر دس۱۰ دس۱۰ بار درودشریفاورا س وقت سے اس نمك کابرتن زمین پرنہ رکھیںوہ نمك سات۷ دن گھر کی ہانڈی میں ڈالیںسب کھائیںمولی تعالی سب میں اتفاق پیداکرے گا۔ہرجمعہ کوسات دن کے لئے پڑھ لیاکریں۔
مسئلہ ۳۲۵: ازمدرسہ منظرالاسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداﷲ بہاری ۳شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کودینی یادنیوی بات یادنہ رہتی ہو وہ کیاپڑھے بینواتوجروا۔
الجواب:
سپیدچینی کی تشتری پرلکھے بسم اﷲ الرحمن الرحیم ا ھ ط م ف ش ذ اور ا سے ذراسے پانی سے دھوکر اس پر ۹۹۸ باراورنہ ہوسکے تو ۴۰۰ یا۱۰۰ ہی بار یاحفیظ پڑھ کر دم کرے اوروہ پانی پی لے۔روزایساہی کرےاور
حوالہ / References
ام القرٰی فی مدح خیرالورٰی الفصل السادس حزب القادریۃ لاہور ص۱۶
سوتے وقت ۱۷بار سورہ الم نشرح شریف پڑھ کر سینے پردم کرلیاکرے اورکلنگ ذبح کرکے ذبح کی گرمی میں اس کامغز نکال کر ۴۰بار اس پر یاحفیظ دم کرکے کھالے۔واﷲ تعالی اعلم
___________________
نوٹ
۲۶ویں جلد کتاب الفرائض سے شروع ہوکر کتاب الشتی
کے حصہ اول پراختتام پذیرہوئیان شاء اﷲ العزیز
۲۷ویں جلد کتاب الشتی حصہ دوم سے شروع ہوگی۔
____________________________________
___________________
نوٹ
۲۶ویں جلد کتاب الفرائض سے شروع ہوکر کتاب الشتی
کے حصہ اول پراختتام پذیرہوئیان شاء اﷲ العزیز
۲۷ویں جلد کتاب الشتی حصہ دوم سے شروع ہوگی۔
____________________________________
قرون ثلثہ میں نہ تھا بدعت سیئہ وحرام سمجھتے اور کہتے ہیں ہمیں صحابہ وتعابعین کی سندچاہئے ورنہ ہم نہیں مانتے۔ان کے اقوال کا حل کیاہے بینواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
الحمدﷲ الذی باذنہ تقوم السماء والصلوۃ والسلام علی من قامت بہ ارکان الشریعۃ الغراء سیدنا و مولانا محمد الذی قامت فی مولدہ ملئکۃ العلیا وعلی الہ وصحبہ القائمین بآداب تعظیمہ فی الصبح و المساء واشھد ان لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ و ان محمدا عبدہ ورسولہ قیم الانبیاء صلوات اﷲ و سلامہ علیہ وعلیھم ماقامت تسبیح القیام اشجار الغبراء وسجدت للحی القیوم نجوم الخضراء امین! قال القائم ببعض الضراعۃ الی صاحب المقام المحمود والشفاعۃ عبدالمصطفی احمدرضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ لہ واقامہ مقام السلف الکرام البررۃ الکلمۃ امین۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جس کے حکم سے آسمان قائم ہے۔درودوسلام ہو اس ذات پر جس کے ذریعے روشن شریعت کے ارکان قائم ہیں وہ ہمارے آقا محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں جن کے میلاد کے وقت عالی مرتبت ملائکہ نے قیام کیا اور آپ کی آل واصحاب پر جوصبح وشام آپ کے لئے آداب تعظیم کی بجاآوری میں قائم رہے میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلاہے اس کاکوئی شریك نہیں اورمحمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں وہ انبیاء کرام کے متولی و نگران ہیں آپ پراورتمام انبیاء پردرودوسلام ہو جب تك غبار آلود درخت تسبیح کے ساتھ قائم رہیں اورجب تك آسمان کے ستارے بارگاہ حی وقیوم میں سجدے کرتے رہیں آمین! مقام محمود اورشفاعت کے مالك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عاجزانہ قیام کرتے ہوئے کہتاہے عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی اﷲ تعالی اس کی مغفرت فرمائے اوراسے سلف صالحین کاقائم مقام بنائے۔آمین۔ (ت)
اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت فرما۔ت)
الجواب:
الحمدﷲ الذی باذنہ تقوم السماء والصلوۃ والسلام علی من قامت بہ ارکان الشریعۃ الغراء سیدنا و مولانا محمد الذی قامت فی مولدہ ملئکۃ العلیا وعلی الہ وصحبہ القائمین بآداب تعظیمہ فی الصبح و المساء واشھد ان لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ و ان محمدا عبدہ ورسولہ قیم الانبیاء صلوات اﷲ و سلامہ علیہ وعلیھم ماقامت تسبیح القیام اشجار الغبراء وسجدت للحی القیوم نجوم الخضراء امین! قال القائم ببعض الضراعۃ الی صاحب المقام المحمود والشفاعۃ عبدالمصطفی احمدرضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ لہ واقامہ مقام السلف الکرام البررۃ الکلمۃ امین۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جس کے حکم سے آسمان قائم ہے۔درودوسلام ہو اس ذات پر جس کے ذریعے روشن شریعت کے ارکان قائم ہیں وہ ہمارے آقا محمدمصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں جن کے میلاد کے وقت عالی مرتبت ملائکہ نے قیام کیا اور آپ کی آل واصحاب پر جوصبح وشام آپ کے لئے آداب تعظیم کی بجاآوری میں قائم رہے میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلاہے اس کاکوئی شریك نہیں اورمحمدصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں وہ انبیاء کرام کے متولی و نگران ہیں آپ پراورتمام انبیاء پردرودوسلام ہو جب تك غبار آلود درخت تسبیح کے ساتھ قائم رہیں اورجب تك آسمان کے ستارے بارگاہ حی وقیوم میں سجدے کرتے رہیں آمین! مقام محمود اورشفاعت کے مالك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عاجزانہ قیام کرتے ہوئے کہتاہے عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی اﷲ تعالی اس کی مغفرت فرمائے اوراسے سلف صالحین کاقائم مقام بنائے۔آمین۔ (ت)
اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت فرما۔ت)
الجواب:
یہ تمام حقوق صحیح ہیںان میں بعض قرآن عظیم اوربعض احادیث شریفہ اوربعض کلمات علماء اوربعض ارشادات اولیاء سے ثابت ہیں اور اس پرخود واضح ہیں جومعنی بیعت سمجھاہواہےاکابرنے اس سے بھی زیادہ آداب لکھے ہیںاتنوں پرعمل نہ کریں گے مگربڑی توفیق والےاورنمبر۱۷سے شیطانی خواب پریشان مہمل مستثنی ہے کہ اسے بیان کرنے کوحدیث میں منع فرمایا ہے۔اورنمبر ۲۲عوام مریدین کے لئے ہے جن کو بارگاہ شیخ میں بھی منصب عرض معروض دیگران حاصل نہ ہوایسوں سے اگر کوئی عرض سلام کے لئے کہے عذرکردے کہ میں حضورشیخ میں دوسرے کی بات عرض کرنے کے ابھی قابل نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۹ و ۳۰۰: ازشہرکہنہ بریلی قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ اشرفی الجیلانی کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)بیعت ہونے میں والدین یاشوہر وغیرہ کی اجازت شرط ہے یانہیں
(۲)اپنامرشد انتقال کرگیاہو یاموجودہو مگربوجوہات معقولہ واقعہ اس سے تعلیم محال ہوتوبغرض تعلیم طریقہ کرام دوسرے شیخ سے طالب ہونااولی ہے یابے علم رہنابہتر
الجواب:
(۱)جوپیرسنی صحیح العقیدہ عالم غیرفاسق ہو اور اس کاسلسلہ آخرتك متصل ہواس کے ہاتھ پر بیعت کے لئے والدین خواہ شوہر کسی کی اجازت کی حاجت نہیں۔
(۲)جہل سے طلب اولی ہے مگرپیرصحیح سے انحراف جائزنہیںجوفیض ملے اسے شیخ ہی کی عطاجانے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۰۱ تا ۳۰۴: ازشہرغازی پور مرسلہ علی بخش محرررجسٹری ۱۴شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کسی بزرگ سے بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے یانہیں
(۲)اگرکسی شخص کو کسی بزرگ سے عقیدت ہو اوربوجہ دوری وہ شخص اس بزرگ کی خدمت میں حاضرنہ ہوسکے تو وہ شخص اس بزرگ سے کیسے مریدہوسکتاہے یاہوہی نہیں سکتا کسی طرح پر
(۳)ایك وظیفہ ایساارشاد فرمائیے اوراجازت دیجئے جس میں صرف محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پڑھناہوچاہے بطرق شغل قادریہ یاچشتیہ وغیرہایاکسی اورطریقہ پرہو۔
یہ تمام حقوق صحیح ہیںان میں بعض قرآن عظیم اوربعض احادیث شریفہ اوربعض کلمات علماء اوربعض ارشادات اولیاء سے ثابت ہیں اور اس پرخود واضح ہیں جومعنی بیعت سمجھاہواہےاکابرنے اس سے بھی زیادہ آداب لکھے ہیںاتنوں پرعمل نہ کریں گے مگربڑی توفیق والےاورنمبر۱۷سے شیطانی خواب پریشان مہمل مستثنی ہے کہ اسے بیان کرنے کوحدیث میں منع فرمایا ہے۔اورنمبر ۲۲عوام مریدین کے لئے ہے جن کو بارگاہ شیخ میں بھی منصب عرض معروض دیگران حاصل نہ ہوایسوں سے اگر کوئی عرض سلام کے لئے کہے عذرکردے کہ میں حضورشیخ میں دوسرے کی بات عرض کرنے کے ابھی قابل نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۹۹ و ۳۰۰: ازشہرکہنہ بریلی قاضی ٹولہ مرسلہ حکیم حاجی سیدمحمدنوراﷲ شاہ اشرفی الجیلانی کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)بیعت ہونے میں والدین یاشوہر وغیرہ کی اجازت شرط ہے یانہیں
(۲)اپنامرشد انتقال کرگیاہو یاموجودہو مگربوجوہات معقولہ واقعہ اس سے تعلیم محال ہوتوبغرض تعلیم طریقہ کرام دوسرے شیخ سے طالب ہونااولی ہے یابے علم رہنابہتر
الجواب:
(۱)جوپیرسنی صحیح العقیدہ عالم غیرفاسق ہو اور اس کاسلسلہ آخرتك متصل ہواس کے ہاتھ پر بیعت کے لئے والدین خواہ شوہر کسی کی اجازت کی حاجت نہیں۔
(۲)جہل سے طلب اولی ہے مگرپیرصحیح سے انحراف جائزنہیںجوفیض ملے اسے شیخ ہی کی عطاجانے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۰۱ تا ۳۰۴: ازشہرغازی پور مرسلہ علی بخش محرررجسٹری ۱۴شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)کسی بزرگ سے بذریعہ خط بیعت ہوسکتی ہے یانہیں
(۲)اگرکسی شخص کو کسی بزرگ سے عقیدت ہو اوربوجہ دوری وہ شخص اس بزرگ کی خدمت میں حاضرنہ ہوسکے تو وہ شخص اس بزرگ سے کیسے مریدہوسکتاہے یاہوہی نہیں سکتا کسی طرح پر
(۳)ایك وظیفہ ایساارشاد فرمائیے اوراجازت دیجئے جس میں صرف محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پڑھناہوچاہے بطرق شغل قادریہ یاچشتیہ وغیرہایاکسی اورطریقہ پرہو۔







