بسم الله الرحمن الرحیم ط
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور م یں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا۔ اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسول الکریم تقریبا بارہ۱۲ سال کے مختصر عرصہ میں بائیسویں۲۲ جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتا ب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتا ب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتا ب الوکالۃ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المغاربہ کتاب لامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتا ب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب کتاب الشفعۃ کتاب القسمۃ کتاب المزارعہ کتاب الصید کتا ب الذبائح کتاب الاضحیہ اور کتاب الحظر والاباحۃ کے حصول اول پر مشتمل اکیس۲۱ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجمودی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور م یں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا۔ اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسول الکریم تقریبا بارہ۱۲ سال کے مختصر عرصہ میں بائیسویں۲۲ جلد آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتا ب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتا ب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتا ب الوکالۃ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المغاربہ کتاب لامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتا ب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب کتاب الشفعۃ کتاب القسمۃ کتاب المزارعہ کتاب الصید کتا ب الذبائح کتاب الاضحیہ اور کتاب الحظر والاباحۃ کے حصول اول پر مشتمل اکیس۲۱ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجمودی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ (جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء و مشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ ائندہ شائع ہونے والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائے عام طو پر فقہ وفتاوی رضویہ کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظر والاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پر ہوا لہذا اکیسویں جلد سے مسائل حظر واباحت کی اشاعت کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبداالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کو انتہا قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
یاد ررہے کہ فتاوی رضویہ قدیم جلد میں کتاب الحظروالاباحۃ کے عنوان پر مشتمل جلد جس کی مکتبہ رضا ایوان عرفان بیسلپور نے جلد دہم اور رضا اکیڈمی بمبئی نے جلد نہم کے شائع کیا ہے وہ غیر مرتب اور غیر مبوب ہے اس میں شامل بعض رسائل کی ابتداء وانتہا ممتاز نہیں کچھ رسائل بے نام شامل ہیں جبکہ بعض رسالوں کے مندرجات یکجا ہونے کی بجائے متفرق منتشر طو رپر مذکور ہیں اس جلد میں شامل دونوں حصوں کے عنوانات ومسائل ایك جیسے ہونے کے باوجود دونوں کی فہرست یکجا نہیں کی گئی۔ لہذا اس کی ترتیب وتبویب خاصا مشکل اور وقت طلب معاملہ تھا۔ راقم نے متوکلا علی اﷲ اس پر کام شروع کیا تو الله تعالی کے فضل وکرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نظر عنایت اور اعلحضرت علیہ الرحمۃ کے روحانی تسرف وکرامت کے صدقے میں توقع سے بھی کم وقت میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ الحمدﷲ علی ذلک۔
کتا ب الحظروالاباحۃ کی ترتیب میں ہم نے جن امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس۲۰ جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ (جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء و مشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ ائندہ شائع ہونے والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائے عام طو پر فقہ وفتاوی رضویہ کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظر والاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیۃ پر ہوا لہذا اکیسویں جلد سے مسائل حظر واباحت کی اشاعت کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبداالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کو انتہا قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
یاد ررہے کہ فتاوی رضویہ قدیم جلد میں کتاب الحظروالاباحۃ کے عنوان پر مشتمل جلد جس کی مکتبہ رضا ایوان عرفان بیسلپور نے جلد دہم اور رضا اکیڈمی بمبئی نے جلد نہم کے شائع کیا ہے وہ غیر مرتب اور غیر مبوب ہے اس میں شامل بعض رسائل کی ابتداء وانتہا ممتاز نہیں کچھ رسائل بے نام شامل ہیں جبکہ بعض رسالوں کے مندرجات یکجا ہونے کی بجائے متفرق منتشر طو رپر مذکور ہیں اس جلد میں شامل دونوں حصوں کے عنوانات ومسائل ایك جیسے ہونے کے باوجود دونوں کی فہرست یکجا نہیں کی گئی۔ لہذا اس کی ترتیب وتبویب خاصا مشکل اور وقت طلب معاملہ تھا۔ راقم نے متوکلا علی اﷲ اس پر کام شروع کیا تو الله تعالی کے فضل وکرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نظر عنایت اور اعلحضرت علیہ الرحمۃ کے روحانی تسرف وکرامت کے صدقے میں توقع سے بھی کم وقت میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ الحمدﷲ علی ذلک۔
کتا ب الحظروالاباحۃ کی ترتیب میں ہم نے جن امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱) حظرواباحت سے متعلق فتاوی رضویہ قدیم کے دونوں مطبوعہ حصوں کی (استفتاء میں مذکور) مسائل کے اعتبار سے یکجا بتویب کردی ہے۔
(ب) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق مسائل مذکور ہونے کی صورت میں ہر مسئلہ کو مستفتی کے نام سمیت متعلق باب کے تحت درج کیا ہے۔
(ج) فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل مسائل کو ان کے عنوانات کے مطاب متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د) رسائل کی ابتداء وانتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(ھ) بے نام رسائل کے ناموں کو ظاہر کیا ہے۔
(و) جن رسائل کے مندرجہات ومشمولات یکجا نہ تھے ان کو اکٹھا کردیا ہے۔
(ز) حظرواباحت سے متعلقہ بعض رسائل اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کو بھی مناسب جگہ پرشامل اشاعت کردیا ہے۔
(ح) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب سابق ترتیب سے مختلف ہوگئی لہذا پوری کتاب کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے تیار کرنا پڑی۔
(ط) جلد ہذا میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست مرتب کی گئی۔
(ی) اعلحضرت رحمۃ الله تعالی علیہ بعض مقامات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے تبحر علمی کے پیش نظر ایسے مسائل بھی زیر بحث لے آتے ہیں جو متعلقہ ابواب میں سے کسی کے تحت مندرج نہیں ہوسکتے ایسے مسائل کے لئے مفصل فہرست کے بعد ہم نے ضمنی مسائل کے عنوان سے الگ فہرست مرتب کی ہے۔
کتاب الحظروالاباحۃ کے مترجم
سوائے ان رسائل کے جن کو اب فتاوی نئے سرے سے شامل کیا گیا ہے پوری ''کتاب الحظروالاباحۃ'' کی عربی اور فارسی عبارات کا مکمل ترجمہ جامع منقول و معقول فاضل جلیل محقق شہیر مصنف کتب کثیرہ فخر المدرسین حضرت مولانا علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کیا ہے جو استاذ الاستاذہ حضرت علامہ مولانا محمد عبدالسبحان بن مولانا مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث (کھلا بٹ ہزارہ) کے صاحبزادے اور اساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد خلیل صاحب محدث ہزاروی کے نواسے ہیں آپ نے تمام درسیات اپنے والد گرامی سے پڑھیں فارغ التحصیل ہوتے ہی
(ب) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق مسائل مذکور ہونے کی صورت میں ہر مسئلہ کو مستفتی کے نام سمیت متعلق باب کے تحت درج کیا ہے۔
(ج) فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل مسائل کو ان کے عنوانات کے مطاب متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د) رسائل کی ابتداء وانتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(ھ) بے نام رسائل کے ناموں کو ظاہر کیا ہے۔
(و) جن رسائل کے مندرجہات ومشمولات یکجا نہ تھے ان کو اکٹھا کردیا ہے۔
(ز) حظرواباحت سے متعلقہ بعض رسائل اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کو بھی مناسب جگہ پرشامل اشاعت کردیا ہے۔
(ح) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب سابق ترتیب سے مختلف ہوگئی لہذا پوری کتاب کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے تیار کرنا پڑی۔
(ط) جلد ہذا میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست مرتب کی گئی۔
(ی) اعلحضرت رحمۃ الله تعالی علیہ بعض مقامات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے تبحر علمی کے پیش نظر ایسے مسائل بھی زیر بحث لے آتے ہیں جو متعلقہ ابواب میں سے کسی کے تحت مندرج نہیں ہوسکتے ایسے مسائل کے لئے مفصل فہرست کے بعد ہم نے ضمنی مسائل کے عنوان سے الگ فہرست مرتب کی ہے۔
کتاب الحظروالاباحۃ کے مترجم
سوائے ان رسائل کے جن کو اب فتاوی نئے سرے سے شامل کیا گیا ہے پوری ''کتاب الحظروالاباحۃ'' کی عربی اور فارسی عبارات کا مکمل ترجمہ جامع منقول و معقول فاضل جلیل محقق شہیر مصنف کتب کثیرہ فخر المدرسین حضرت مولانا علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کیا ہے جو استاذ الاستاذہ حضرت علامہ مولانا محمد عبدالسبحان بن مولانا مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث (کھلا بٹ ہزارہ) کے صاحبزادے اور اساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد خلیل صاحب محدث ہزاروی کے نواسے ہیں آپ نے تمام درسیات اپنے والد گرامی سے پڑھیں فارغ التحصیل ہوتے ہی
در س وتدریس سے وابستہ ہوگئے اور یہاں سالہا سال آپ نے اہلسنت کے معروف ادارے جامعہ رحمانیہ ہری پور میں بطور شیخ الحدیث تدریسی فرائض سرانجام دئے آپ کے آباء واجداد نے ڈنکے کی چوٹ پر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ سرا نجام دیا چنانچہ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی محمد عبدالسبحان صاحب اور برادر اکبر حضرت مولانا قاضی غلام محمود صاحب رحمۃالله تعالی علیہما کی متعدد درسی وغیر درسی تصانیف ارباب علم میں معروف ہیں۔ مناظرہ ورد بد مذہبیاں خصوصا رد وہابیہ میں ان بزرگوں کی خدمات کو اہل سنت وجماعت میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔
بائیسویں جلد
یہ جلد "کتاب الحظرولاباحۃ" کا دوسرا حصہ ہے جو ۲۴۱ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۶۹۲ صفحات پر مشتمل ہے اس جلد میں بنیادی طور پر جن پانچ ابواب سے متعلق مسائل کوزیر بحث لایا گیا ہے وہ یہ ہیں:
(۱) ظرواف وزیورات
(۲) لباس ووضع قطع
(۳) دیکھنا اور چھونا
(۴) سلام وتحیت وتعظیم سادات
(۵) داڑھی حلق وقصر ختنہ وحجامت
دیگر کئی ایك ابو اب سے مسائل کثیرہ پر ضمنا گفتگو واقع ہوئی لہذا راقم الحروف نے مسائل و رسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمینہ کی ایك فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لئے تیار کردی ہے نیز اس جلد میں شامل پانچ پر مستقل ابواب سے مسائل اگر کہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا مندرج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ باب کی مفصل فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکر کردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت ابہام پیدا نہ ہو۔
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل چھ رسائل بھی اسی جلد کی زینت ہیں:
(۱) الزبدۃ الزکیۃ فی تحریم سجود التحیۃ (۱۳۳۷ھ)
سجدہ تعظیمی کی حرمت کا مفصل بیان اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل وبراہین
بائیسویں جلد
یہ جلد "کتاب الحظرولاباحۃ" کا دوسرا حصہ ہے جو ۲۴۱ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۶۹۲ صفحات پر مشتمل ہے اس جلد میں بنیادی طور پر جن پانچ ابواب سے متعلق مسائل کوزیر بحث لایا گیا ہے وہ یہ ہیں:
(۱) ظرواف وزیورات
(۲) لباس ووضع قطع
(۳) دیکھنا اور چھونا
(۴) سلام وتحیت وتعظیم سادات
(۵) داڑھی حلق وقصر ختنہ وحجامت
دیگر کئی ایك ابو اب سے مسائل کثیرہ پر ضمنا گفتگو واقع ہوئی لہذا راقم الحروف نے مسائل و رسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمینہ کی ایك فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لئے تیار کردی ہے نیز اس جلد میں شامل پانچ پر مستقل ابواب سے مسائل اگر کہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا مندرج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ باب کی مفصل فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکر کردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت ابہام پیدا نہ ہو۔
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل چھ رسائل بھی اسی جلد کی زینت ہیں:
(۱) الزبدۃ الزکیۃ فی تحریم سجود التحیۃ (۱۳۳۷ھ)
سجدہ تعظیمی کی حرمت کا مفصل بیان اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل وبراہین
(۲) لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی (۱۳۱۵ھ)
داڑھی کے وجوب اس کی حد اور اس کو کتروانے یا منڈانے کی مذمت کا مدلل بیان
(۳) الطیب الوجیز فی امتعۃ الورث والا بریز (۱۳۰۹ھ)
مرد وعورت کون سی دھاتیں کس وزن تك استعمال کرسکتے ہیں نیز ان کا مدار جوتے اور ٹوپی کی حد جواز کا بیان
(۴) مروج اللنجاء لخروج النساء (۱۳۱۵ھ)
عورتوں کے شرم پردہ کے احکام۔
(۵) صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین (۱۳۰۶ھ)
اس بات کا ثبوت کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہونا چاہئے۔
(۶) ابرالمقال فی قبلۃ الاجلال (۱۳۰۸ھ)
بوسہ تعظیمی کے جواز کا بیان
ان میں سے مقدم الذکر دو۲ رسالے پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل تھے جبکہ چار رسائل اب شامل کے گئے ہیں۔
o
جمادی الاخری ۱۴۲۳ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
اگست ۲۰۰۲ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
داڑھی کے وجوب اس کی حد اور اس کو کتروانے یا منڈانے کی مذمت کا مدلل بیان
(۳) الطیب الوجیز فی امتعۃ الورث والا بریز (۱۳۰۹ھ)
مرد وعورت کون سی دھاتیں کس وزن تك استعمال کرسکتے ہیں نیز ان کا مدار جوتے اور ٹوپی کی حد جواز کا بیان
(۴) مروج اللنجاء لخروج النساء (۱۳۱۵ھ)
عورتوں کے شرم پردہ کے احکام۔
(۵) صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین (۱۳۰۶ھ)
اس بات کا ثبوت کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہونا چاہئے۔
(۶) ابرالمقال فی قبلۃ الاجلال (۱۳۰۸ھ)
بوسہ تعظیمی کے جواز کا بیان
ان میں سے مقدم الذکر دو۲ رسالے پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل تھے جبکہ چار رسائل اب شامل کے گئے ہیں۔
o
جمادی الاخری ۱۴۲۳ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
اگست ۲۰۰۲ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
بسم الله الرحمن الرحیم ط
ظروف و زیورات
انگوٹھی سونےچاندیتابنےپیتل اور لوہے وغیرہ کے استعمال سے متعلق مسائل
مسئلہ۱: از میرٹھ دروازہ کارخانہ داروغہ یادالہی صاحب مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا کرتوں اور صدریوں میں چاندی کے بوتام مع زنجیر لگاتے ہیں جائز ہے یانہیں ایك صاحب کہتے ہیں کہ مولوی رشید احمد صاحب کے شاگرد فارغ التحصیل کہتے تھے کہ حضرت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کرتے شریف میں قریب گریبان چاندی کا پتر لگایا ہے اس قیاس پر بوتام مع زنجیر لگانا جائز ہے۔بینو توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
چاندی کے صرف بوتام ٹاکنے میں حرج نہیں کہ کتب فقہ میں سونے گھنڈیوں کی اجازت مصرح۔
فی الدرالمختار عن التتارخانیہ عن السیر الکبر لا بأس بازرا رالدیباج والذھب ۔ درمختار میں تتارخانیہ کے حوالے سے سیر کبیر سے منقول ہے کہ ریشم اور سونے کی گھنڈی کے استعمال میں کچھ حرج نہیں۔ (ت)
ظروف و زیورات
انگوٹھی سونےچاندیتابنےپیتل اور لوہے وغیرہ کے استعمال سے متعلق مسائل
مسئلہ۱: از میرٹھ دروازہ کارخانہ داروغہ یادالہی صاحب مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا کرتوں اور صدریوں میں چاندی کے بوتام مع زنجیر لگاتے ہیں جائز ہے یانہیں ایك صاحب کہتے ہیں کہ مولوی رشید احمد صاحب کے شاگرد فارغ التحصیل کہتے تھے کہ حضرت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کرتے شریف میں قریب گریبان چاندی کا پتر لگایا ہے اس قیاس پر بوتام مع زنجیر لگانا جائز ہے۔بینو توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
چاندی کے صرف بوتام ٹاکنے میں حرج نہیں کہ کتب فقہ میں سونے گھنڈیوں کی اجازت مصرح۔
فی الدرالمختار عن التتارخانیہ عن السیر الکبر لا بأس بازرا رالدیباج والذھب ۔ درمختار میں تتارخانیہ کے حوالے سے سیر کبیر سے منقول ہے کہ ریشم اور سونے کی گھنڈی کے استعمال میں کچھ حرج نہیں۔ (ت)
اورگھنڈی اور بوتام ایك چیز ہے صرف صورت کا فرق ہےاور جب سونا جائز تو چاندی بدرجہ اولی جائزمگر یہ چاندی کی زنجیریں کہ بوتاموں کے ساتھ لگائی جاتی ہیں سخت محل نظر ہیںکلمات آئمہ سے جب تك ان کے جواز کی دلیل واضح کہ آفتاب روشن کی طرح ظاہر و جلی ہو نہ ملے حکم جواز دینا محض جرأت ہے کہ چاندی سونے کے استعمال میں اصل حرمت ہے۔ شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہاشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
اصل دراستعمال ذہب وفضہ حرمت ست ۔ سونے اور چاندی کے استعمال کرنے میں اصل حرمت ہے۔ (ت)
یعنی جب شرع مطہر نے حکم تحریر فرما کر ان کی اباحت اصلییہ کو نسخ کردیا تواب ان میں اصل حرمت ہوگئیکہ جب تك کسی خاص چیز کی رخصت شرع سے واضح وآشکار نہ ہو ہر گزا جازت نہ دی جائے گی بلکہ مطلق تحریم کے تحت میں دخل رہے گی ھذا وجہ۔
واقول ثانیا: ظاہر ہے کہ ان زنجیروں کے اس طرح لگانے سے تزین مقصو دہوتاہے۔بلکہ تزین ہی مقصود ہوتاہے اور ایسے ہی تزین کو تحلی کہتے ہیںاور علماء تصریح فرماتے ہیں مرد کو سوا انگوٹھی پیٹی اور تلوار کے سامان مثل پرتلے وغیرہ کے چاندی سے تحلی کسی طرح جائز نہیں تنویرالابصار میں فرماتے ہیں:
لایتحلی ای لایتزین درر ۔ چاندی کا کوئی زیور(سوائے مخصوص اشیاء کے)نہ پہنے یعنی اس سے زیب وزینت کا فائدہ نہ اٹھائے درر(ت)
جب یہ زنجیریں مستثنیات سے خارج ہیں تو لاجرم حکم نہی میں داخل ہیں۔
واقول ثالثا: اس طرح لگانا اگر حقیقۃ زنجیر پہننا نہیں تو پہننے سے مشابہ ہے اور محرمات میں شبہ مثل یقین ہے۔
فی ردالمحتار التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذلك لما علم ان الشبھۃ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین رملی ۔ ردالمحتار میں ہے کہ لٹکانے کے مشابہ ہے اس لئے حڑام ہے کیونکہ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ محرمات کے باب میں شبہہ یقین کا درجہ رکھتاہےرملی(ت)
اصل دراستعمال ذہب وفضہ حرمت ست ۔ سونے اور چاندی کے استعمال کرنے میں اصل حرمت ہے۔ (ت)
یعنی جب شرع مطہر نے حکم تحریر فرما کر ان کی اباحت اصلییہ کو نسخ کردیا تواب ان میں اصل حرمت ہوگئیکہ جب تك کسی خاص چیز کی رخصت شرع سے واضح وآشکار نہ ہو ہر گزا جازت نہ دی جائے گی بلکہ مطلق تحریم کے تحت میں دخل رہے گی ھذا وجہ۔
واقول ثانیا: ظاہر ہے کہ ان زنجیروں کے اس طرح لگانے سے تزین مقصو دہوتاہے۔بلکہ تزین ہی مقصود ہوتاہے اور ایسے ہی تزین کو تحلی کہتے ہیںاور علماء تصریح فرماتے ہیں مرد کو سوا انگوٹھی پیٹی اور تلوار کے سامان مثل پرتلے وغیرہ کے چاندی سے تحلی کسی طرح جائز نہیں تنویرالابصار میں فرماتے ہیں:
لایتحلی ای لایتزین درر ۔ چاندی کا کوئی زیور(سوائے مخصوص اشیاء کے)نہ پہنے یعنی اس سے زیب وزینت کا فائدہ نہ اٹھائے درر(ت)
جب یہ زنجیریں مستثنیات سے خارج ہیں تو لاجرم حکم نہی میں داخل ہیں۔
واقول ثالثا: اس طرح لگانا اگر حقیقۃ زنجیر پہننا نہیں تو پہننے سے مشابہ ہے اور محرمات میں شبہ مثل یقین ہے۔
فی ردالمحتار التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذلك لما علم ان الشبھۃ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین رملی ۔ ردالمحتار میں ہے کہ لٹکانے کے مشابہ ہے اس لئے حڑام ہے کیونکہ یہ معلوم ہو چکا ہے کہ محرمات کے باب میں شبہہ یقین کا درجہ رکھتاہےرملی(ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس فصل باب الخاتم ∞مکتبہ نوری رضویہ سکھر ۳ /۵۶€۲
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی اللباس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰،€ردالمحتار کتاب الحظر وا لاباحۃ فصل فی اللباس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
ردالمحتار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی اللباس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲€۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی اللباس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰،€ردالمحتار کتاب الحظر وا لاباحۃ فصل فی اللباس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
ردالمحتار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی اللباس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲€۵
انصاف کیجئے تو یہ اس مسئلہ کا گویا صریح جزئ ہےپھر علماء کی تشریح ریشم کے بارے میں ہے جس کا صرف لبس یعنی پہننا اوڑھنا اور جس امر میں ان کی مشابہت ہو ممنوع ہے باقی تمام طرق استعمال روا۔
فی شرح الملتقی للعلائی لاتکرہ الصلوۃ علی سجادۃ من الابریشم لان الحرام ھو اللبس اما الانتفاع بسائر الوجوہ فلیس بحرام کما فی صلوۃ الجواہر و اقرہ القھستانی وغیرہ اھ نقلہ العلامتان محشیا الدر ط و ش واقراہ۔ علامہ علائی کی شرح ملتقی میں ہے ریشمی مصلی پر نماز پڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ اس کا صرف پہننا حرام ہے۔لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے باقی تمام طریقے حرام نہیں جیسا کہ صلوۃ الجواہر میں مذکور ہے اس کو قہستانی وغیرہ نے برقرار رکھا ہے اھ اس کو دو علاموں یعنی علامہ شامی اور علامہ طحطاوی نے درمختار کےحواشی میں نقل کرتے ہوئے قائم رکھا ہے۔(ت)
پھر کیاگمان ہے اشیائے فضہ کے باب میں جن کا صور معدودہ کے سوا استعمال مطلقا نارواردالمحتارمیں ہے:
الذی کلہ فضۃ یحرم استعمالہ بای وجہ کان کما قدمناہ ولوبلامس بالجسد ولذا حرم ایقاد العود فی مجمرۃ الفضۃ والساعۃ وقدرۃ التنباك التی یوضع فیہا الماء وان کان لایمسہ بیدہ ولا بفمہ لانہ استعمال فیما صنعت لہ الخ۔ صرف چاندی کا استعمال خواہ کسی طریقے سے ہو اور خواہ جس کے ساتھ نہ ہو تب بھی حرام ہے۔لہذا چاندی کی انگیٹھی میں عود سلگاناگھڑی باندھناحقہ کا وہ حصہ چاندی کا بنانا جس میں پانی ڈالا جاتاہے یہ سب حرام ہیں اگر چہ وہ ہاتھ اور منہ سے مس بھی نہ ہونے پائیں کیونکہ اس مقصد کے لئے استعمال ہے جس کے لئے یہ بنائی گئی ہے۔الخ۔(ت)
اوریہ خیال کہ اگر یہاں چار انگل کے عرض تك کا کام ہوتاہے جائز ہوتا کہ تابع تھا اسی کی جگہ یہ زنجیریں ہیں انھیں بھی تابع ٹھہراکر مباح ماننا چاہئے۔محض خیال محال ہے کا اور زنجیروں میں فرق بدیہی ہے۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مذہب صیح میں مرد وکو ریشمیں کمربند نا رواہ ہےکہ وہ پاجامہ تابع نہیں بلکہ مستقل جدا گانہ چیز ہے۔درمختارمیں ہے:
تکرہ التکۃ منہ ای من الدیباج وھو الصحیح ۔ ریشمی کمر بند کا استعمال مکروہ ہے اوریہی صحیح ہے۔(ت)
فی شرح الملتقی للعلائی لاتکرہ الصلوۃ علی سجادۃ من الابریشم لان الحرام ھو اللبس اما الانتفاع بسائر الوجوہ فلیس بحرام کما فی صلوۃ الجواہر و اقرہ القھستانی وغیرہ اھ نقلہ العلامتان محشیا الدر ط و ش واقراہ۔ علامہ علائی کی شرح ملتقی میں ہے ریشمی مصلی پر نماز پڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ اس کا صرف پہننا حرام ہے۔لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے باقی تمام طریقے حرام نہیں جیسا کہ صلوۃ الجواہر میں مذکور ہے اس کو قہستانی وغیرہ نے برقرار رکھا ہے اھ اس کو دو علاموں یعنی علامہ شامی اور علامہ طحطاوی نے درمختار کےحواشی میں نقل کرتے ہوئے قائم رکھا ہے۔(ت)
پھر کیاگمان ہے اشیائے فضہ کے باب میں جن کا صور معدودہ کے سوا استعمال مطلقا نارواردالمحتارمیں ہے:
الذی کلہ فضۃ یحرم استعمالہ بای وجہ کان کما قدمناہ ولوبلامس بالجسد ولذا حرم ایقاد العود فی مجمرۃ الفضۃ والساعۃ وقدرۃ التنباك التی یوضع فیہا الماء وان کان لایمسہ بیدہ ولا بفمہ لانہ استعمال فیما صنعت لہ الخ۔ صرف چاندی کا استعمال خواہ کسی طریقے سے ہو اور خواہ جس کے ساتھ نہ ہو تب بھی حرام ہے۔لہذا چاندی کی انگیٹھی میں عود سلگاناگھڑی باندھناحقہ کا وہ حصہ چاندی کا بنانا جس میں پانی ڈالا جاتاہے یہ سب حرام ہیں اگر چہ وہ ہاتھ اور منہ سے مس بھی نہ ہونے پائیں کیونکہ اس مقصد کے لئے استعمال ہے جس کے لئے یہ بنائی گئی ہے۔الخ۔(ت)
اوریہ خیال کہ اگر یہاں چار انگل کے عرض تك کا کام ہوتاہے جائز ہوتا کہ تابع تھا اسی کی جگہ یہ زنجیریں ہیں انھیں بھی تابع ٹھہراکر مباح ماننا چاہئے۔محض خیال محال ہے کا اور زنجیروں میں فرق بدیہی ہے۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مذہب صیح میں مرد وکو ریشمیں کمربند نا رواہ ہےکہ وہ پاجامہ تابع نہیں بلکہ مستقل جدا گانہ چیز ہے۔درمختارمیں ہے:
تکرہ التکۃ منہ ای من الدیباج وھو الصحیح ۔ ریشمی کمر بند کا استعمال مکروہ ہے اوریہی صحیح ہے۔(ت)
حوالہ / References
الدرالمنتقی فی شرح اللمتقی علی ہامش مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتا ب الکراھیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۳۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء الت التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۱۸€
درمختار کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء الت التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۱۸€
درمختار کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:ھو الصحیح لانہا مستقلۃ (یہی صحیح ہے کیونکہ یہ ایك مستقل چیز ہے۔ت)جب کمر بند با انکہ پاجامہ کی غرض اس سے متعلق ہے بلکہ جس طرح اس کا لبس معروف ومعہود ہے وہ غرض بے اس کے تمام نہیں ہوتی مستقل قرار پایا تو یہ زنجیریں جن سے کپڑے کو کچھ علاقہ نہیںنہ ا س کی کوئی غرض ان سے متعلق کیونکر تابع ٹھہرسکتی ہے اور اگر بالغرض کام کی جگہ لگایا جانا پتر کو بھ کام کے حکم میں کردے تولازم کہ چاندی کے کنگن توڑےچنپا کلیجھومر وغیرہا زیور بھی جائز ہیں جبکہ وہ آستینوںگریبانٹوپی وغیرہا میں کاام کے قائم مام ٹانکے جائیں بلکہ واجب کہ وہ زنجیریں اور یہ سب گہنے سونے کے بھی حلال ہوں کہ تابع قلیل ذہب و فضہ دونوں سے رواردالمحتارمیں ہے:
ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع الخ۔ فرق نہ ہونے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بمقدار چار انگشت سونے کی تاروں سے بنا ہوا کپڑا مباح ہے الخ(ت)
غرض کوئی وجہ ان زنجیروں کے جواز کی نظر نہیں آئی اور جب تك کلمات ائمہ سے اجازت نہ ثابت ہو حکم ممانعت ہے لما بینا۔
رہی وہ حدیث کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قریب گریبان مبارك چاندی کا پتر لگایا فقیر کو کسی کتاب سے یا دنہیں۔نہ عادات بلاد اس کی مساعدت کریں کہ گریبانوں میں چاندی کے پتر لگائے جاتے ہوںہاں یہ بیشك حدیث میں آیا ہے کہ حضور پر نورر سید یوم النشور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جبہ پہنا جس کے گریبان اور آستینوں اور چاکوں پر ریشم کی خیاطت تھی۔
کما فی حدیث اسماء بنت الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہما اخرجہ الائمۃ احمد فی المسند والبخاری فی الادب المفرد ومسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن ۔ جیسا کہ سیدہ اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہما کی حدیث میں آیا ہے جس کو ائمہ کرام امام احمد نے مسند میں امام بخاری نے ادب المفرد میں امام مسلم نے صحیح میں اور امام ابوداؤد نے السنن میں اس کی تخریج فرمائی ہے۔(ت)
ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع الخ۔ فرق نہ ہونے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بمقدار چار انگشت سونے کی تاروں سے بنا ہوا کپڑا مباح ہے الخ(ت)
غرض کوئی وجہ ان زنجیروں کے جواز کی نظر نہیں آئی اور جب تك کلمات ائمہ سے اجازت نہ ثابت ہو حکم ممانعت ہے لما بینا۔
رہی وہ حدیث کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے قریب گریبان مبارك چاندی کا پتر لگایا فقیر کو کسی کتاب سے یا دنہیں۔نہ عادات بلاد اس کی مساعدت کریں کہ گریبانوں میں چاندی کے پتر لگائے جاتے ہوںہاں یہ بیشك حدیث میں آیا ہے کہ حضور پر نورر سید یوم النشور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے جبہ پہنا جس کے گریبان اور آستینوں اور چاکوں پر ریشم کی خیاطت تھی۔
کما فی حدیث اسماء بنت الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہما اخرجہ الائمۃ احمد فی المسند والبخاری فی الادب المفرد ومسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن ۔ جیسا کہ سیدہ اسماء بنت حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہما کی حدیث میں آیا ہے جس کو ائمہ کرام امام احمد نے مسند میں امام بخاری نے ادب المفرد میں امام مسلم نے صحیح میں اور امام ابوداؤد نے السنن میں اس کی تخریج فرمائی ہے۔(ت)
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۰،€سنن ابی داؤد کتاب اللباس والزینۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۵،€مسند احمد بن حنبل عن اسماء بنت الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۴۸۔۳۴۷€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۰،€سنن ابی داؤد کتاب اللباس والزینۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۵،€مسند احمد بن حنبل عن اسماء بنت الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۴۸۔۳۴۷€
اس کے جواز میں کسے کلام ہے خواہ رشم کا کام ہو یا گوٹ سنجاف جبکہ کوئی بوٹی یا ٹکڑہ چار انگل عرض سے زائد نہ ہو پتر کی حدیث کا پتا دینا ذمہ مدعی ہے کہ دیکھا جائے وہ کس مرتبہ کی حدیث ہے اور اس کا مطلب کا اور اس سے مدعی کو تمسك کہاں تك روا۔
سیدین علامتین طحطاوی وشامی حواشی درمیں فرماتے ہیں:
الوارد عن الشارع صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انہ لبس الجبۃ المکفوفۃ بحریر فلیس فیہ ذکر فضۃ و لا ذھب ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ شارع علیہ الصلوۃ ولسلام سے ثابت ہے کہ انھوں نے ایسا جبہ زیب تن فرمایا جس پر ریشم کا کام کیا ہوا تھا لیکن اس میں چاندی سونے کا ذکر نہیں۔الله تعالی پاك برتر اور خوب جاننے والا ہے۔اور اس شرف وعظمت والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور پختہ ہے(ت)
مسئلہ ۲:یہ زیور علی بند اور پری بند جو حامل ہذا کے ہمدست مرسل ہے اس کو تحریر فرمائیں کہ اس کا استعمال جائز ہے یانہیں بوجہ آوز نکلنے کے عورات کو اور اور مکان مسکونہ اگرچہ علیحدہ قطع رکھتاہے مگر آمدورفت ہم مستورات کی اور نیز ہمارے مکان ہی کے قطع جات ملصقہ میں غیر بھی رہتے ہیں۔والله عندہ حسن الجزاء۔
الجواب:
یہ زیور ہاتھ کاہے اور اس میں وغیرہا ایسی اشیاء بھی نہیں جن سے زیادہ آواز پید ہو اتنی آواز تو ہاتھ کی چوڑیوں سے نکلتی ہے جبکہ پھنسی ہوئی نہ ہوں اس کے پہننے میں کوئی حرج شرعی نہیں آمدورفت سے پاؤں کے گہنے بجتے ہیں نہ ہاتھ کے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳: مرسلہ از چاندہ ضلع بجنور محلہ پتیا پاڑہ مکان محمد حسین خاں زمیندار
چوڑیاں کانچ کی عورتوں کوجائز ہیں پہننا۔یا ناجائز ہیں
الجواب:
جائز ہیں لعدم المنع الشرعی(اس لئے کہ کوئی شرعی مانع نہیں۔ت)بلکہ شوہر کے لئے سنگار کی نیت سے مستحب وانما الاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار ارادو پر ہے۔ت)بلکہ
سیدین علامتین طحطاوی وشامی حواشی درمیں فرماتے ہیں:
الوارد عن الشارع صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انہ لبس الجبۃ المکفوفۃ بحریر فلیس فیہ ذکر فضۃ و لا ذھب ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ شارع علیہ الصلوۃ ولسلام سے ثابت ہے کہ انھوں نے ایسا جبہ زیب تن فرمایا جس پر ریشم کا کام کیا ہوا تھا لیکن اس میں چاندی سونے کا ذکر نہیں۔الله تعالی پاك برتر اور خوب جاننے والا ہے۔اور اس شرف وعظمت والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور پختہ ہے(ت)
مسئلہ ۲:یہ زیور علی بند اور پری بند جو حامل ہذا کے ہمدست مرسل ہے اس کو تحریر فرمائیں کہ اس کا استعمال جائز ہے یانہیں بوجہ آوز نکلنے کے عورات کو اور اور مکان مسکونہ اگرچہ علیحدہ قطع رکھتاہے مگر آمدورفت ہم مستورات کی اور نیز ہمارے مکان ہی کے قطع جات ملصقہ میں غیر بھی رہتے ہیں۔والله عندہ حسن الجزاء۔
الجواب:
یہ زیور ہاتھ کاہے اور اس میں وغیرہا ایسی اشیاء بھی نہیں جن سے زیادہ آواز پید ہو اتنی آواز تو ہاتھ کی چوڑیوں سے نکلتی ہے جبکہ پھنسی ہوئی نہ ہوں اس کے پہننے میں کوئی حرج شرعی نہیں آمدورفت سے پاؤں کے گہنے بجتے ہیں نہ ہاتھ کے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳: مرسلہ از چاندہ ضلع بجنور محلہ پتیا پاڑہ مکان محمد حسین خاں زمیندار
چوڑیاں کانچ کی عورتوں کوجائز ہیں پہننا۔یا ناجائز ہیں
الجواب:
جائز ہیں لعدم المنع الشرعی(اس لئے کہ کوئی شرعی مانع نہیں۔ت)بلکہ شوہر کے لئے سنگار کی نیت سے مستحب وانما الاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار ارادو پر ہے۔ت)بلکہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
شوہر یا ماں یا باپ کا حکم ہو تو واجب:
لحرمۃ العقوق ولوجوب طاعۃ الزوج فیما یرجع الی الزوجیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ والدین اور شوہر کی نافرمانی حرام ہے اور شوہر کی فرمانبرداری بسلسلہ حقوق زوجیت واجب ہے۔اور الله تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۴: از گولڑہ ضلع راولپنڈی مرسلہ مولوی عبدالرحمن صاحب ۹ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ
زر بالکسر جس کو ہندی م یں گھنڈی کہتے ہیں اور ابریشم وباکلا بتو سیم وزر سے بنائی جاتی ہے جیسا کہ اطراف بمبئی وغیرہ میں ساز صدریہ اور اطراف بخارا وغیرہ میں جبہ وچغہ کی گھنڈیاں ہوتی ہیں اور بوجہ تخلیط رشتہاوخیاطت ان کا تجزء ہو کر تحت تبعیت آجاتی ہے بخلاف بٹن مروجہ سیم وزر کہ بظاہر حکم تبعیت نہیں رکھتا ہے کیونکہ اس جگہ تبعیت بظاہر بافتگی ودوختگی وخلط سیم وزر مع غیر سیم وزر میں منحصر معلوم ہوتی ہے جیسے عبارات طحطاوی سے مستفاد ہوتاہے۔
قال فی المنتقی عن محمد لابأس ان تکون عروۃ القمیص وزرہ حریرا وھو کالعلم یکون فی الثوب ومعہ غیرہ فلا باس بہ وان کان وحدہ کراھتہ ۔
المنتقی میں امام محمد سے روایت ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کرتے کا گریبان اور اس کی گھنڈی(بٹن)ریشم کے ہوں اور وہ کپڑے میں نشان نقوش کی طرح ہو اگر اس کے ساتھ کچھ اور ہو تو کچھ حرج نہیںاور اگر اکیلا ہو تو پھر کراہت ہوگی۔(ت)
اور بٹن مروجہ ایشے مستقل صورت حلی سوراخ گریبان پیرا ہن میں معلق معلوم ہوتاہے پس اگر اس کو حلی کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو ولایتحلی الرجل بذھب وفضۃ مطلقا الابخاتم ومنطقہ وحلیۃ سیف منہا ای فضۃ اذا لم یرد بہ التزیین (کوئی شخص مطلقا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے مگر یہ کہ انگوٹھیکمر بند اور تلوار کا دستہ چاندی کا ہو یعنی یہ سب چیزیں چاندی کی جائز ہیں بشرطیکہ زیب وزینت اور نمائش کا ارادہ نہ ہوت)مانع اباحت ہے اور محض تعلیق کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو مضمون عبارت والظاھر فی وجہہ ان التعلیق یشبہ اللبس فحرام لذلك لما علم ان الشبھۃ فی باب المحرمات ملحقہ بالیقن شامی(اس کی وجہ میں ظاہر یہ ہے کہ لٹکانا دراصل پہننے کے مشابہ ہے
لحرمۃ العقوق ولوجوب طاعۃ الزوج فیما یرجع الی الزوجیۃ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ والدین اور شوہر کی نافرمانی حرام ہے اور شوہر کی فرمانبرداری بسلسلہ حقوق زوجیت واجب ہے۔اور الله تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۴: از گولڑہ ضلع راولپنڈی مرسلہ مولوی عبدالرحمن صاحب ۹ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ
زر بالکسر جس کو ہندی م یں گھنڈی کہتے ہیں اور ابریشم وباکلا بتو سیم وزر سے بنائی جاتی ہے جیسا کہ اطراف بمبئی وغیرہ میں ساز صدریہ اور اطراف بخارا وغیرہ میں جبہ وچغہ کی گھنڈیاں ہوتی ہیں اور بوجہ تخلیط رشتہاوخیاطت ان کا تجزء ہو کر تحت تبعیت آجاتی ہے بخلاف بٹن مروجہ سیم وزر کہ بظاہر حکم تبعیت نہیں رکھتا ہے کیونکہ اس جگہ تبعیت بظاہر بافتگی ودوختگی وخلط سیم وزر مع غیر سیم وزر میں منحصر معلوم ہوتی ہے جیسے عبارات طحطاوی سے مستفاد ہوتاہے۔
قال فی المنتقی عن محمد لابأس ان تکون عروۃ القمیص وزرہ حریرا وھو کالعلم یکون فی الثوب ومعہ غیرہ فلا باس بہ وان کان وحدہ کراھتہ ۔
المنتقی میں امام محمد سے روایت ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کرتے کا گریبان اور اس کی گھنڈی(بٹن)ریشم کے ہوں اور وہ کپڑے میں نشان نقوش کی طرح ہو اگر اس کے ساتھ کچھ اور ہو تو کچھ حرج نہیںاور اگر اکیلا ہو تو پھر کراہت ہوگی۔(ت)
اور بٹن مروجہ ایشے مستقل صورت حلی سوراخ گریبان پیرا ہن میں معلق معلوم ہوتاہے پس اگر اس کو حلی کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو ولایتحلی الرجل بذھب وفضۃ مطلقا الابخاتم ومنطقہ وحلیۃ سیف منہا ای فضۃ اذا لم یرد بہ التزیین (کوئی شخص مطلقا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے مگر یہ کہ انگوٹھیکمر بند اور تلوار کا دستہ چاندی کا ہو یعنی یہ سب چیزیں چاندی کی جائز ہیں بشرطیکہ زیب وزینت اور نمائش کا ارادہ نہ ہوت)مانع اباحت ہے اور محض تعلیق کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو مضمون عبارت والظاھر فی وجہہ ان التعلیق یشبہ اللبس فحرام لذلك لما علم ان الشبھۃ فی باب المحرمات ملحقہ بالیقن شامی(اس کی وجہ میں ظاہر یہ ہے کہ لٹکانا دراصل پہننے کے مشابہ ہے
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی اللبس دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۷۹۔۱۷۸€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ باب فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی اللبس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۵€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ باب فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی اللبس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۵€
لہذا اس وجہ سے حرام ہے۔کپڑے کے کنارے کے نقوش کی طرح ہے کیونکہ حرام کے باب میں شبہ یقین کے ساتھ وابستہ ہے۔ت)۔حرمت کی طرف لے جاتاہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ بٹن مروجہ محض تبر یعنی ٹکڑہ سیم وزر کرتے کے ساتھ معلق ہے نہ یافتہ نہ دوختہ نہ کسی اور چیز کا اس کے ساتھ خلط ہے پس اس کو تابع کہنے اورگھنڈی پر قیاس کرنے کی کیا دلیل ہےمہربانی فرماکر اطمینان بخش جواب مرحمت فرمائیں ونیز جس علت تعلیق سے زنجیر ناجائز ہے وہی علت بٹن میں موجود ہے پس کیا وجہ ہے کہ بٹن جائز ہو اور زنجیر بٹن ناجائزونیز اگر تابع کے یہ معنی ہیں کہ بٹن بدون کرتے کے مستعمل نہیں ہوتا ہے تو یہ بات ازار بند میں بھی موجود ہے حالانکہ ازار بند ریشمی وغیرہ مکروہ ہے۔والله اعلم۔ محمد عبدالرحمن بقلم خود
الجواب:
درمختار میں ہے:
لاباس بعروۃ القمیص وزرہ من الحریر لانہ تبع ۔ قمیص کا گریبان اور اس کے بٹن ریشمی ہوں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ تابع ہیں۔(ت)
سیر کبیر پھر تاتار خانیہ پھر شرح علائی ہے:
لاباس بازرا رالدیباج والذھب ۔ ریشم اور سونے کے بٹن میں کچھ حرج نہیں۔(ت)
ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے:
لاباس یلبس الثوب فی غیر الحرب اذ اکان ازرارہ دیباجا اوذھبا ۔ جنگ کے علاوہ اگر ایسا کپڑا پہنے کہ جس کے بٹن ریشمی یا سونے کے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یہاں چیز فوائد قابل لحاظ ہیں۔
اول:زر کے لئے کپڑے میں سلا ہونا ضرور نہیں بلکہ مخیط ومربوط مغروز ومرکوز سب کو عام ہے ولہذا ائمہ لغت میں اس کی تعریف میں صرف لفظ وضع اخذ کیا جس مں اصل تخصیص خیاطت نہیںقاموس میں ہے
خلاصہ یہ ہے کہ بٹن مروجہ محض تبر یعنی ٹکڑہ سیم وزر کرتے کے ساتھ معلق ہے نہ یافتہ نہ دوختہ نہ کسی اور چیز کا اس کے ساتھ خلط ہے پس اس کو تابع کہنے اورگھنڈی پر قیاس کرنے کی کیا دلیل ہےمہربانی فرماکر اطمینان بخش جواب مرحمت فرمائیں ونیز جس علت تعلیق سے زنجیر ناجائز ہے وہی علت بٹن میں موجود ہے پس کیا وجہ ہے کہ بٹن جائز ہو اور زنجیر بٹن ناجائزونیز اگر تابع کے یہ معنی ہیں کہ بٹن بدون کرتے کے مستعمل نہیں ہوتا ہے تو یہ بات ازار بند میں بھی موجود ہے حالانکہ ازار بند ریشمی وغیرہ مکروہ ہے۔والله اعلم۔ محمد عبدالرحمن بقلم خود
الجواب:
درمختار میں ہے:
لاباس بعروۃ القمیص وزرہ من الحریر لانہ تبع ۔ قمیص کا گریبان اور اس کے بٹن ریشمی ہوں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ تابع ہیں۔(ت)
سیر کبیر پھر تاتار خانیہ پھر شرح علائی ہے:
لاباس بازرا رالدیباج والذھب ۔ ریشم اور سونے کے بٹن میں کچھ حرج نہیں۔(ت)
ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے:
لاباس یلبس الثوب فی غیر الحرب اذ اکان ازرارہ دیباجا اوذھبا ۔ جنگ کے علاوہ اگر ایسا کپڑا پہنے کہ جس کے بٹن ریشمی یا سونے کے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یہاں چیز فوائد قابل لحاظ ہیں۔
اول:زر کے لئے کپڑے میں سلا ہونا ضرور نہیں بلکہ مخیط ومربوط مغروز ومرکوز سب کو عام ہے ولہذا ائمہ لغت میں اس کی تعریف میں صرف لفظ وضع اخذ کیا جس مں اصل تخصیص خیاطت نہیںقاموس میں ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳€۹
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کت خانہ پشاور ۵ /۳۳۲€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کت خانہ پشاور ۵ /۳۳۲€
الزر بالکسرالذی یوضع فی القمیص وبالفتح شدہ الازار ۔ "الزر"اگر حرکت زیر کے ساتھ ہو تو اس کو معنی ہے وہ چیز جو کرنے میں موضوع ہو یعنی رکھی جائے"اگریہ حرکت زبر کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے ازرار باندھنا۔(ت)
عمدۃ القاری شرح صحیح لبخاری میں ہے:
قال ابن سیدۃ الزر الذی یوضع فی القمیص والجمع ازرار و زرور و ازر القمیص جعل لہ زر او ازرہ شد علیہ ازرارہ وقال ابن الاعرابی زر القمیص اذا کان محلولا فشدہ وزرالرجل شد زرہ ۔ ابن سیدہ لغوی نے کہا کہ"زر"وہ چیز ہے جو کرتے میں لگائی جاتی ہے اس کی جمع ازرار اور زرور ہےازر القمیص اس وقت کہا جاتاہے جبکہ قمیص کے بٹن لگائے جائیں اور ازرہاس قت کہا جاتاہے جبکہ قمیص پر اس کے بٹن باندھے جائیںابن الاعرابی نے کہا جب قمیص کے بٹن کھلے ہوں پھر انھیں باندھے تو اس وقت زرالقمیص کہا جاتاہے اور زرالرجل کا مفھوم یہ ہے کہ اس نے بٹن باندھ دئے۔ (جبکہ وہ کھلے ہوں)۔(ت)
ملحہ جرمی کا بھی شعر بھی اس کا پتا دیتاہے:
کان زرور القبطریۃ علقت
علائقہا منہ بجذع مقوم
القبطریۃ ثیاب کتاب بیض والکنایۃ للممدوح و العلائق جمع علاقۃ بالکسر بند۔
فی القاموس وتاج العروس العلاقۃ بالکسر فی السوط ونحوہ کالسیف والقدح والمصحف والقوس وما اشبہ ذلك وعلاقۃ السوط گویا سلکی کپڑے لٹکادئے گئے اور ان کی بند شیں سیدھے تنے سے پیوستہ ہیں۔
القبطریۃ السی کے سفید کپڑے اور ممدوح کی طرف اشارہ ہے۔ "علائق"جمع ہے۔اس کا واحد"علاقہ"ہے حرکت زیر کے ساتھ ہے بمعنی بند ہے۔
چنانچہ القاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے "العلامۃ" بحر کت زیر کوڑا اور اس چیز جیسے تلوارپیالہ مصحفکمان اور اس کے مشابہ
عمدۃ القاری شرح صحیح لبخاری میں ہے:
قال ابن سیدۃ الزر الذی یوضع فی القمیص والجمع ازرار و زرور و ازر القمیص جعل لہ زر او ازرہ شد علیہ ازرارہ وقال ابن الاعرابی زر القمیص اذا کان محلولا فشدہ وزرالرجل شد زرہ ۔ ابن سیدہ لغوی نے کہا کہ"زر"وہ چیز ہے جو کرتے میں لگائی جاتی ہے اس کی جمع ازرار اور زرور ہےازر القمیص اس وقت کہا جاتاہے جبکہ قمیص کے بٹن لگائے جائیں اور ازرہاس قت کہا جاتاہے جبکہ قمیص پر اس کے بٹن باندھے جائیںابن الاعرابی نے کہا جب قمیص کے بٹن کھلے ہوں پھر انھیں باندھے تو اس وقت زرالقمیص کہا جاتاہے اور زرالرجل کا مفھوم یہ ہے کہ اس نے بٹن باندھ دئے۔ (جبکہ وہ کھلے ہوں)۔(ت)
ملحہ جرمی کا بھی شعر بھی اس کا پتا دیتاہے:
کان زرور القبطریۃ علقت
علائقہا منہ بجذع مقوم
القبطریۃ ثیاب کتاب بیض والکنایۃ للممدوح و العلائق جمع علاقۃ بالکسر بند۔
فی القاموس وتاج العروس العلاقۃ بالکسر فی السوط ونحوہ کالسیف والقدح والمصحف والقوس وما اشبہ ذلك وعلاقۃ السوط گویا سلکی کپڑے لٹکادئے گئے اور ان کی بند شیں سیدھے تنے سے پیوستہ ہیں۔
القبطریۃ السی کے سفید کپڑے اور ممدوح کی طرف اشارہ ہے۔ "علائق"جمع ہے۔اس کا واحد"علاقہ"ہے حرکت زیر کے ساتھ ہے بمعنی بند ہے۔
چنانچہ القاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے "العلامۃ" بحر کت زیر کوڑا اور اس چیز جیسے تلوارپیالہ مصحفکمان اور اس کے مشابہ
حوالہ / References
القاموس المحیط فصل الزاء من باب الراء مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۳۹€
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ وباب وجوب الصلٰوۃ فی الثیاب ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ∞دمشق ۴ /۵۴€
تاج العروس فصل الزاء من باب الراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۳۶€
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ وباب وجوب الصلٰوۃ فی الثیاب ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ ∞دمشق ۴ /۵۴€
تاج العروس فصل الزاء من باب الراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۳۶€
مافی مقبضہ من السیر اھ ثم قالا اعلق القوس جعل لہا علاقۃ وعلقھا علی الوتد وکذلك السوط المصحف والقدح ۔ اشیاء میں استعمال ہوتاہے"علاقۃ السوط"وہ تسمہ جو اس کے دستہ میں لگا ہو اھ پھر دونوں(صاحب قاموس اور مصنف تاج العروس)نے کہا اعلق القوس اس وقت کہا جاتاہے جب کمان کو بندھن لگا کر کسی کلی وغیرہ پر لٹکا دے اوریہی حال کوڑے مصحف اور پیالے کا ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ بحال خیاطت فی الثوب زر کو علاقہ سے کیا علاقہفتاوی ولوالجی پھر شلبی علی التبیین میں ہے:
لابا س بان یلبس المحرم الطیلسان و لایزرہ علیہ فان زرہ یوما فعلیہ دم لانہ صار منتفعا بہ انتفاع المخیط ۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ محرم(بحال احرام)بڑی چادر پہنے لیکن اسے گرہ نہ لگائے پھر اگر پورا دن اسے گرہ لگا رکھی تو اس دم(جانور ذبح کرنا)لازم ہوگا اس لئے کہ اس نے پہنے ہوئے کپڑے کی طرح اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔(ت)
منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط بیان محرمات احرام میں ہے:
(زر الطیلسان)ای ربطہ بالزر وعقدہ علی عنقہ ۔ بڑی چادر کو گرہ لگانا یعنی اسے گرہ لگاکر گردن پر باندھنا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے:
ان زرالطیلسان یوما لزمہ دم لحصول الاستمساك بالزر مع الاشتمال بالخیاطۃ ۔ اگربڑی چادر کو دن بھر گرہ لگائے تو اس صورت میں اس پر دم(جانور ذبح کرنا)لازم آئے گا اس لئے کہ بوجہ گرہ لگانے اس کا تھم جانا(رك جانا)حاصل ہوا باوجود یہ کہ سلائی پر بھی شامل ہے۔(ت)
درمختار میں ہے
ظاہر ہے کہ بحال خیاطت فی الثوب زر کو علاقہ سے کیا علاقہفتاوی ولوالجی پھر شلبی علی التبیین میں ہے:
لابا س بان یلبس المحرم الطیلسان و لایزرہ علیہ فان زرہ یوما فعلیہ دم لانہ صار منتفعا بہ انتفاع المخیط ۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ محرم(بحال احرام)بڑی چادر پہنے لیکن اسے گرہ نہ لگائے پھر اگر پورا دن اسے گرہ لگا رکھی تو اس دم(جانور ذبح کرنا)لازم ہوگا اس لئے کہ اس نے پہنے ہوئے کپڑے کی طرح اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔(ت)
منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط بیان محرمات احرام میں ہے:
(زر الطیلسان)ای ربطہ بالزر وعقدہ علی عنقہ ۔ بڑی چادر کو گرہ لگانا یعنی اسے گرہ لگاکر گردن پر باندھنا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے:
ان زرالطیلسان یوما لزمہ دم لحصول الاستمساك بالزر مع الاشتمال بالخیاطۃ ۔ اگربڑی چادر کو دن بھر گرہ لگائے تو اس صورت میں اس پر دم(جانور ذبح کرنا)لازم آئے گا اس لئے کہ بوجہ گرہ لگانے اس کا تھم جانا(رك جانا)حاصل ہوا باوجود یہ کہ سلائی پر بھی شامل ہے۔(ت)
درمختار میں ہے
حوالہ / References
تاج العروس فصل العین من باب القاف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۷ /۲۱€
تاج العروس فصل العین من باب القاف دارحیا ء التراث العربی بیروت ∞۷ /۲۲€
شلبی علی التبیین کتاب الحج باب لجنایات المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۲ /۵۴€
المسلك المتقسط شرح المنسك المتوسط فصل فی المحرمات الاحرام درالکتاب العربی بیروت ∞ص۸۱€
فتح القدیر کتاب الحج باب الجنایات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۴۴۳€
تاج العروس فصل العین من باب القاف دارحیا ء التراث العربی بیروت ∞۷ /۲۲€
شلبی علی التبیین کتاب الحج باب لجنایات المطبعۃ الکبری الامیریہ ∞بولاق مصر ۲ /۵۴€
المسلك المتقسط شرح المنسك المتوسط فصل فی المحرمات الاحرام درالکتاب العربی بیروت ∞ص۸۱€
فتح القدیر کتاب الحج باب الجنایات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۴۴۳€
یستحب لبس ازار ورداء فان زررہ اوخلله اوعقدہ اساء ولادم علیہ ۔ تہبند اور چار کا پہننا مستحب ہے پھر اگر اسے گرہ لگائے یا اسے کھولے یا اسے گرہ لگا کر باندھے تو اس نے برا کیا لیکن اس پر دم نہیں(یعنی جانورذبح کرنا لازم نہیں)۔(ت)
ظاہر ہے کہ طیلسان وچادر میں گھنڈیاں سلی نہیں ہوتی اور اطحام مذکورہ خیاطت پر موقوف نہیں بلکہ بلاخیاطت صورت ربط ہی زیادہ مقصود بالافادہ ہے کہ محرم کا مخیط سے احتراز تو معہودومشہور ار بجائے خود مذکور ہے ابوداؤد ونسائی وابن خزیمہ وابن حبان وحاکم سب اپنی صحاح میں اور امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
قال قلت یا رسول اﷲ انی رجل اصید افاصلی فی القمیص الواحد قال نعم وازررہ لوبشوکۃ ۔ (حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ نے بارگاہ سالت میں)عرض کی:میں ایك شکاری آدمی ہوں ایك کرنے میں نماز پڑھ سکتاہوںارشاد فرمایا:ہاں(پڑھ سکتے ہو)لیکن اسے باندھ لو اگرچہ کسی کانٹے ہی سے کیو ں نہ ہومطلب یہ کہ اسے جوڑکر نما زپڑھو۔(ت)
یہاں کانٹے کو بھی زر فرمایا
والاصل الحقیقۃ والعدول الی المجاز من دون ضرورۃ غیر مجاز حقیقت اصل ہے۔اور بغیر کسی ضرورت(حقیقت چھوڑ کر)مجاز کی طرف جانا جائز نہیں۔(ت)
تو بوتام یا بٹن نفس معنی زر میں داخل ہیں نہ کہ ان کا گھنڈی پر قیاس ہو۔
دوم:لفظ ذھب منسوج وحرج دونوں کو شاملبلکہ وہ حجر میں اصل حقیقت پر ہے اور کلابتوں پر اس کا اطلاق از قبیل تسمیۃ الکل باسم الجزء ہے کہ اس میں ریشم بھی ہوتاہے اور گھنڈیاں انھیں منسوجات سے خاص نہیں بلکہ امراء کے یہاں سونے چاندی اور لعل ویاقوت کی بھی ہوتی۔قال قائلھم(ان کے کسی کہنے والے نے کہا۔ت) :
ترانہ تکمہ لعل ست برقبائے حرر شدست قطرہ خون منت گریباں گیر
(ریشمی جبے پر تیرے لئے لعل وگوہر کی گھنڈیاں(بٹن)میرے خون کے ایك قطرہ
ظاہر ہے کہ طیلسان وچادر میں گھنڈیاں سلی نہیں ہوتی اور اطحام مذکورہ خیاطت پر موقوف نہیں بلکہ بلاخیاطت صورت ربط ہی زیادہ مقصود بالافادہ ہے کہ محرم کا مخیط سے احتراز تو معہودومشہور ار بجائے خود مذکور ہے ابوداؤد ونسائی وابن خزیمہ وابن حبان وحاکم سب اپنی صحاح میں اور امام اجل ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ سے راوی:
قال قلت یا رسول اﷲ انی رجل اصید افاصلی فی القمیص الواحد قال نعم وازررہ لوبشوکۃ ۔ (حضرت سلمہ بن اکوع رضی الله تعالی عنہ نے بارگاہ سالت میں)عرض کی:میں ایك شکاری آدمی ہوں ایك کرنے میں نماز پڑھ سکتاہوںارشاد فرمایا:ہاں(پڑھ سکتے ہو)لیکن اسے باندھ لو اگرچہ کسی کانٹے ہی سے کیو ں نہ ہومطلب یہ کہ اسے جوڑکر نما زپڑھو۔(ت)
یہاں کانٹے کو بھی زر فرمایا
والاصل الحقیقۃ والعدول الی المجاز من دون ضرورۃ غیر مجاز حقیقت اصل ہے۔اور بغیر کسی ضرورت(حقیقت چھوڑ کر)مجاز کی طرف جانا جائز نہیں۔(ت)
تو بوتام یا بٹن نفس معنی زر میں داخل ہیں نہ کہ ان کا گھنڈی پر قیاس ہو۔
دوم:لفظ ذھب منسوج وحرج دونوں کو شاملبلکہ وہ حجر میں اصل حقیقت پر ہے اور کلابتوں پر اس کا اطلاق از قبیل تسمیۃ الکل باسم الجزء ہے کہ اس میں ریشم بھی ہوتاہے اور گھنڈیاں انھیں منسوجات سے خاص نہیں بلکہ امراء کے یہاں سونے چاندی اور لعل ویاقوت کی بھی ہوتی۔قال قائلھم(ان کے کسی کہنے والے نے کہا۔ت) :
ترانہ تکمہ لعل ست برقبائے حرر شدست قطرہ خون منت گریباں گیر
(ریشمی جبے پر تیرے لئے لعل وگوہر کی گھنڈیاں(بٹن)میرے خون کے ایك قطرہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الحج فصل فی الاحرام ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۶۳€
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الرجل یصلی فی قمیص واحد ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۹۲،€شرح معانی لآثار کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ فی الثوب الواحد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۶۰€
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الرجل یصلی فی قمیص واحد ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۹۲،€شرح معانی لآثار کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ فی الثوب الواحد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۶۰€
نے تیرا گریبان پکڑ لیا۔ت)تکمہ فارسی میں زر کا ترجمہ ہے جسے عربی میں زیردجہجوزہ۔جویزہحبہ بھی کہتے ہیں۔اور وہ حلقہ جسے اردو میں تکمہ بولتے ہیںفارسی میں انگلہ اور عربی میں عروہ و وعلہ ہے تو سیرکبیر وذخیرہ وتاتارخانیہ ودرمختار و عالمگیریہ وغیرہا کے نصوص مذکورہ سونے کے بٹن کا خاص جزئیہ ہیںولاکلام لاحد بعد صرائح النصوص(صریح اور واضح نصوص کے بعد کسی کو کلام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ت)
سوم:یہیں سے کھل گیا کہ یہ بٹن بھی گھنڈیوں کی طرح تابع ہں کہ علماء نے مطلقا زر کو تابع بتایا اور زر انھیں میں شامل مگر تکثیر فوائد کے لئے معنی تابع پر بحث کریں اصلا کسی کتاب سے ثابت نہیں کہ تبعیت کےلئے دوختہ یا بافتہ یا نفس ذات تابع میں سیم وزر وابریشم کا کسی چیز مخلوط ہونا ضرور ہو۔ہاں تابع کی متبوع سے معیت چاہئے کہ نہ خود اجناس مختلفہ سے ترکبمتون مذہب میں تصریح ہے کہ انگوٹھی کے نگ میں سونے کے کیل جائز ہے اور شراح اس کی یہی تعلیل فرماتے ہیں کہ وہ تبع ہے حالانکہ وہ دوختہ بافتہ مخلوب کچھ نہیں۔ نیز تصریح ہے کہ جبہ وغیرہ میں ریشم کا ابرہ یا استرمرد کو ناجائز ہیں کہ دونوں مقصود ہیں اور اس کے اندر ر یشم کا حشو جائز کہ وہ تابع ہے حالانکہ یہ بھی نہ بافتہ ہے نہ مخلوط۔اس کے جمے ہرنے کہ دو تین ڈورے ڈالتے ہیں اوراگر نہ ڈالیں جب بھی یقینا حکم نہ بدلے گا کہ علماء نے حشویت پر مدار جواز رکھا ہے اور وہ بغیر ڈورے پڑے بھی حشو ہے تو دختہ بھی نہ ہواجامع صغیر محرر مزہب وہدایہ وکنز و وافی ووقایہ ونقایہ وغرر واصلاح وملتقی ودرر وغرہا میں ہے:
حل مسمار الذھب یجعل فی جحر الفص ۔ نگینے کے سوراخ میں سونے کی کیل لگانا جائز ہے۔(ت)
ہدایہ وتبیین الحقائق ومجمع الانہر وجامع الرموز وتکملہ والبحر وشرح نقایہ برجندی ودر وغیرہا میں ہے:
لابأس بمسما رالذھب یجعل فی جحر الفص ای فی ثقبۃ لانہ تابع کالعلم فی الثوب فلا یعد لابسالہ ۔ پتھر کے نگینے یعنی اس کے سوراخ میں سونے کی کیل لگانے میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ تابع ہے کپڑے کے نقش ونگار میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ تابع ہے کپڑے کے نقش ونگار کی طرح لہذا آدمی اسے پہننے والا شمار نہیں کیاجاتا(تاکہ ممانعت پیدا نہ ہو)۔(ت)
محیط امام شمس الائمہ سرخسی پھر عالمگیریہ پھر ردالمحتارمیں ہے:
لوجعل القز حشو اللقباء فلا باس بہ لانہ تبع ولو جعلت ظھارتہ اگر جبہ میں ریشم کی بھرتی ہو تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ تابع ہے ہاں اگر ابرہ یا استر
سوم:یہیں سے کھل گیا کہ یہ بٹن بھی گھنڈیوں کی طرح تابع ہں کہ علماء نے مطلقا زر کو تابع بتایا اور زر انھیں میں شامل مگر تکثیر فوائد کے لئے معنی تابع پر بحث کریں اصلا کسی کتاب سے ثابت نہیں کہ تبعیت کےلئے دوختہ یا بافتہ یا نفس ذات تابع میں سیم وزر وابریشم کا کسی چیز مخلوط ہونا ضرور ہو۔ہاں تابع کی متبوع سے معیت چاہئے کہ نہ خود اجناس مختلفہ سے ترکبمتون مذہب میں تصریح ہے کہ انگوٹھی کے نگ میں سونے کے کیل جائز ہے اور شراح اس کی یہی تعلیل فرماتے ہیں کہ وہ تبع ہے حالانکہ وہ دوختہ بافتہ مخلوب کچھ نہیں۔ نیز تصریح ہے کہ جبہ وغیرہ میں ریشم کا ابرہ یا استرمرد کو ناجائز ہیں کہ دونوں مقصود ہیں اور اس کے اندر ر یشم کا حشو جائز کہ وہ تابع ہے حالانکہ یہ بھی نہ بافتہ ہے نہ مخلوط۔اس کے جمے ہرنے کہ دو تین ڈورے ڈالتے ہیں اوراگر نہ ڈالیں جب بھی یقینا حکم نہ بدلے گا کہ علماء نے حشویت پر مدار جواز رکھا ہے اور وہ بغیر ڈورے پڑے بھی حشو ہے تو دختہ بھی نہ ہواجامع صغیر محرر مزہب وہدایہ وکنز و وافی ووقایہ ونقایہ وغرر واصلاح وملتقی ودرر وغرہا میں ہے:
حل مسمار الذھب یجعل فی جحر الفص ۔ نگینے کے سوراخ میں سونے کی کیل لگانا جائز ہے۔(ت)
ہدایہ وتبیین الحقائق ومجمع الانہر وجامع الرموز وتکملہ والبحر وشرح نقایہ برجندی ودر وغیرہا میں ہے:
لابأس بمسما رالذھب یجعل فی جحر الفص ای فی ثقبۃ لانہ تابع کالعلم فی الثوب فلا یعد لابسالہ ۔ پتھر کے نگینے یعنی اس کے سوراخ میں سونے کی کیل لگانے میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ تابع ہے کپڑے کے نقش ونگار میں کچھ حرج نہیں کیونکہ وہ تابع ہے کپڑے کے نقش ونگار کی طرح لہذا آدمی اسے پہننے والا شمار نہیں کیاجاتا(تاکہ ممانعت پیدا نہ ہو)۔(ت)
محیط امام شمس الائمہ سرخسی پھر عالمگیریہ پھر ردالمحتارمیں ہے:
لوجعل القز حشو اللقباء فلا باس بہ لانہ تبع ولو جعلت ظھارتہ اگر جبہ میں ریشم کی بھرتی ہو تو کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ تابع ہے ہاں اگر ابرہ یا استر
حوالہ / References
کنز الدقائق کتا ب الکراھیۃ ∞ص۳۶۸€
الہدایہ کتاب الحظروالاباحۃ ∞۴ /۴۵۵€
الہدایہ کتاب الحظروالاباحۃ ∞۴ /۴۵۵€
او بطانتہ فھو مکروہ لان کلیھما مقصود ۔ ریشمی ہو تومکروہ ہے کیوں اس لئے کہ وہ دونوں مقصو دہے۔(ت)
بزازیہ پھر ہندیہ میں ہے:
لاباس بلبس الجبۃ المحشوۃ من الخز ۔ جس جبے میں ریشم کی بھرتی ہو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
عبارۃ طحطاوی عن المنتقی عن محمد میں یہی تابع ومستقل کا تفرقہ بنایا گی اہے کہ یہ شے مستقل نہیں بلکہ دوسرے کے ساتھ ہے اور تنہا ہوتی تو ناروا ہوتی کہ تابع نہ رہتی خود مستقل ہوجاتی اس کے بعد فقیر نے مجمع الانہر میں اس معنی کی تصریح دیکھی روایت مذکورہ کا تتمہ یہ نقل کیا کہ امام محمد نے فرمایا:
لانہ اذا کان ھو غیرہ فاللبس لایکون مضافا الیہ بل یکون تبعا فی اللبس ۔ اس لئے کہ جب تابع غیر متبوع ہو تو پہننا ا س کی طرف منسوب نہ ہوگا بلکہ وہ پہننے میں(متبوع کے)تابع ہوگا۔(ت)
صاف روشن ہوگیا کہ غیر سے مراد وہی متبوع ہے نہ یہ کہ گھنڈی تکمےآنچلپلو میں ریشم دوسری چیز کے ساتھ مخلوط کرکے لگائیں جب تو جائز ہو اور غیر مخلوط اگر چہ چار انگلی سے زائد ہو ممنوع ٹھہرے یہ قطعا باطل ہے کہ تصریحات تمام کتب کے خلاف ہے بلاشبہہ خاص ریشمی کپڑے کے گوٹ سنجاف پلیٹ کنٹھا ترنج اور ان کے مانند اور توابع سب جائز ہیں جبکہ چار انگلی عرض سے زائد نہ ہو اوریہ وہم کسی عاقل کو نہ گزرے گا کہ کپڑا اگر چہ خالص ریشم کا ہو سینے میں ڈورا تو اس کے ساتھ ہوگا یہی معہ غیرہ ہوگیا حالانکہ یہی کیا ضرور کہ ریشم کی گوٹ وغیرہ سوت کے ڈورے سے سییں بلکہ ریشم سے سییںجیسا کہ اکثر یہی متعارف ہے جب بھی قطعا بشرط مذکور جائز ہے کیا کوئی اس قید کا پتا بلکہ اس کی ہوا کسی کتاب سے دے سکتا ہے کہ سوت سے سیو تو روا اور ریشم سے تونارواہر گز نہیں۔اور حشو کے ریشم کو تو کہئے اس کے ساتے ایك تاگے کی بھی حاجت نہیںکما عرفت(جیسا کہ تونے معلوم کرلیا۔ت)
چہارم:سونے چاندے خواہ کلابتوں کے بٹن یا آنچل پلو پر رو پہلے سنہرے کلابتوں یا کامدانی
بزازیہ پھر ہندیہ میں ہے:
لاباس بلبس الجبۃ المحشوۃ من الخز ۔ جس جبے میں ریشم کی بھرتی ہو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
عبارۃ طحطاوی عن المنتقی عن محمد میں یہی تابع ومستقل کا تفرقہ بنایا گی اہے کہ یہ شے مستقل نہیں بلکہ دوسرے کے ساتھ ہے اور تنہا ہوتی تو ناروا ہوتی کہ تابع نہ رہتی خود مستقل ہوجاتی اس کے بعد فقیر نے مجمع الانہر میں اس معنی کی تصریح دیکھی روایت مذکورہ کا تتمہ یہ نقل کیا کہ امام محمد نے فرمایا:
لانہ اذا کان ھو غیرہ فاللبس لایکون مضافا الیہ بل یکون تبعا فی اللبس ۔ اس لئے کہ جب تابع غیر متبوع ہو تو پہننا ا س کی طرف منسوب نہ ہوگا بلکہ وہ پہننے میں(متبوع کے)تابع ہوگا۔(ت)
صاف روشن ہوگیا کہ غیر سے مراد وہی متبوع ہے نہ یہ کہ گھنڈی تکمےآنچلپلو میں ریشم دوسری چیز کے ساتھ مخلوط کرکے لگائیں جب تو جائز ہو اور غیر مخلوط اگر چہ چار انگلی سے زائد ہو ممنوع ٹھہرے یہ قطعا باطل ہے کہ تصریحات تمام کتب کے خلاف ہے بلاشبہہ خاص ریشمی کپڑے کے گوٹ سنجاف پلیٹ کنٹھا ترنج اور ان کے مانند اور توابع سب جائز ہیں جبکہ چار انگلی عرض سے زائد نہ ہو اوریہ وہم کسی عاقل کو نہ گزرے گا کہ کپڑا اگر چہ خالص ریشم کا ہو سینے میں ڈورا تو اس کے ساتھ ہوگا یہی معہ غیرہ ہوگیا حالانکہ یہی کیا ضرور کہ ریشم کی گوٹ وغیرہ سوت کے ڈورے سے سییں بلکہ ریشم سے سییںجیسا کہ اکثر یہی متعارف ہے جب بھی قطعا بشرط مذکور جائز ہے کیا کوئی اس قید کا پتا بلکہ اس کی ہوا کسی کتاب سے دے سکتا ہے کہ سوت سے سیو تو روا اور ریشم سے تونارواہر گز نہیں۔اور حشو کے ریشم کو تو کہئے اس کے ساتے ایك تاگے کی بھی حاجت نہیںکما عرفت(جیسا کہ تونے معلوم کرلیا۔ت)
چہارم:سونے چاندے خواہ کلابتوں کے بٹن یا آنچل پلو پر رو پہلے سنہرے کلابتوں یا کامدانی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع فی اللبس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲،€ردالمحتار کتا ب الحظر والاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲€
مجمع الانہر کتا ب الکراھیۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۳۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲€
مجمع الانہر کتا ب الکراھیۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۳۴€
کا کام حلی سے مشابہ نہیں بلکہ خود حلی ہے۔درمختارمیں ہے:
المنسوج بذھب یحل اذ اکان ھذا المقدار اربع اصابع والا لا یحل للرجل ۔ سونے کے تاروں سے بنا ہوا کپڑا جائز ہے جبکہ اس کی مقدار چار انگلی ہو ورنہ مردوں کے لئے جائز نہیں(جبکہ زائد ہوں)(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الحلی کما فی القاموس مایتزین بہ ولا شك ان الثوب المنسوج بالذھب حلی ۔ جس شیئ سے زیب وزینت کی جائے وہ حلی(زیور)ہے جیسا کہ قاموس میں ہے اور اس میں کوئی شك وشبہہ نہں کہ جو کپڑا سونے کے تاروں سے بنا گیا وہ حلی(زیور)میں شمار ہے۔(ت)
مگر یہ حلیہ ہی شرع نے جائز فرمایا ہے جبکہ تابع قلیل ہو ولہذا ردالمحتارمیں اسے حلی بتا کر مسئلہ شرح کی تائید سے نقل فرمائی:
لاباس بالعلم المنسوج بالذھب للنساء فاما للرجال فقدر ار بع اصابع ومافوقہ یکرہ ۔ اگر سونے کے تاروں سے کپڑے پر نقش ونگار بنائے جائیں تو عورتوں کے لئے اس کے استعمال کرنے میں کچھ حرج نہیں لیکن مردوں کے استعمال کے لئے(شرط یہ ہے کہ)اس کی مقدار بقدر چار انگشت ہو اور اس سے زائد مکروہ ہے۔(ت)
عبارات متون لا یتحلی الرجل بذھب الخ(مرد کے لئے سونا پہننا جائز نہیں الخ۔ت)میں تحلی باشیائے مستقلہ کا ذکر ہے نہ کہ توابع کا ولہذا چاندی کی انگوٹھی پیٹی پر تلے مستقل ہی چیزوں کا استثناء فرمایا۔عام مراد ہوتاتو خود ان کی بالاتفاق تصریحات اباحت منسوج بالذھب قدر اربع اصابع وزر وعروہ ذہب وغیرہا کا صریح مناقض ہوتا۔
یہیں سے ظاہر ہواکہ سونے کے بٹن اور کلابتوں کی گھنڈیوں میں فرق ضائع ہے وہ اگر حلی ہیں تو یہ کیا نہیں اور لا یتحلی(جائز نہیں۔ت)استثناء میں ان کا ذکر نہیں تو ان کا بھی نہیںیوں ہوتا تو گھنڈیاں بھی ممنوع ہوجائیں۔
پنجم:قطع نظر اور تنقیحات مسئلہ تعلیق سے جب حقیقت لبس تابع قلیل میں معاف ہے۔تو
المنسوج بذھب یحل اذ اکان ھذا المقدار اربع اصابع والا لا یحل للرجل ۔ سونے کے تاروں سے بنا ہوا کپڑا جائز ہے جبکہ اس کی مقدار چار انگلی ہو ورنہ مردوں کے لئے جائز نہیں(جبکہ زائد ہوں)(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الحلی کما فی القاموس مایتزین بہ ولا شك ان الثوب المنسوج بالذھب حلی ۔ جس شیئ سے زیب وزینت کی جائے وہ حلی(زیور)ہے جیسا کہ قاموس میں ہے اور اس میں کوئی شك وشبہہ نہں کہ جو کپڑا سونے کے تاروں سے بنا گیا وہ حلی(زیور)میں شمار ہے۔(ت)
مگر یہ حلیہ ہی شرع نے جائز فرمایا ہے جبکہ تابع قلیل ہو ولہذا ردالمحتارمیں اسے حلی بتا کر مسئلہ شرح کی تائید سے نقل فرمائی:
لاباس بالعلم المنسوج بالذھب للنساء فاما للرجال فقدر ار بع اصابع ومافوقہ یکرہ ۔ اگر سونے کے تاروں سے کپڑے پر نقش ونگار بنائے جائیں تو عورتوں کے لئے اس کے استعمال کرنے میں کچھ حرج نہیں لیکن مردوں کے استعمال کے لئے(شرط یہ ہے کہ)اس کی مقدار بقدر چار انگشت ہو اور اس سے زائد مکروہ ہے۔(ت)
عبارات متون لا یتحلی الرجل بذھب الخ(مرد کے لئے سونا پہننا جائز نہیں الخ۔ت)میں تحلی باشیائے مستقلہ کا ذکر ہے نہ کہ توابع کا ولہذا چاندی کی انگوٹھی پیٹی پر تلے مستقل ہی چیزوں کا استثناء فرمایا۔عام مراد ہوتاتو خود ان کی بالاتفاق تصریحات اباحت منسوج بالذھب قدر اربع اصابع وزر وعروہ ذہب وغیرہا کا صریح مناقض ہوتا۔
یہیں سے ظاہر ہواکہ سونے کے بٹن اور کلابتوں کی گھنڈیوں میں فرق ضائع ہے وہ اگر حلی ہیں تو یہ کیا نہیں اور لا یتحلی(جائز نہیں۔ت)استثناء میں ان کا ذکر نہیں تو ان کا بھی نہیںیوں ہوتا تو گھنڈیاں بھی ممنوع ہوجائیں۔
پنجم:قطع نظر اور تنقیحات مسئلہ تعلیق سے جب حقیقت لبس تابع قلیل میں معاف ہے۔تو
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۴€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۴€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
شبہہ لبس کہ تعلیق میں ہے بدرجہ اولی ہدایہ وکافی وتبیین وغیرہا میں ہے:
وھذا لفظ الامام النسفی فی الکافی اجمعنا ان القلیل من الملبوس حلال وھو الاعلام فکذا القلیل من اللبس والااستعمال والجامع انہ انموذج لنعیم الآخرۃ ترغیبا فیما ھو فی الاخرۃ لامقصود ۔ الکافی میں امام نسفی کے یہ الفاظ آئے ہیں ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ تھوڑا ملبوس جائز ہے۔او روہ کپڑے کے نقش ونگار ہیں اور اسی طرح تھوڑا پہننا اور استعمال کرنا بھی(جائز ہے)اور (دونوں میں)جامع یہ ہے کہ یہ طریقہ تعلیم آخرت کے لئے نمونہ ہے تاکہ اموراخرت کی طرف رغبت پیدا ہو لہذا بالذات مقصود نہیں(جیسا کہ دلائل وشواہد سے معلوم ہوتا ہے۔)۔(ت)
ششم:ہمارا دعوی نہ تھا کہ ہر چیز جو دوسرے کے ساتھ استعمال میں آتی ہو مطلقا تابع ہے واقعات امام صدر شہید وفتاوی صغری وفتاوی ذخیرہ ومحیط وغایۃ البیان وبعض شروح جامع صغیر و شرح قدروری وفتاوی منصوریہ وشرح نقایہ برجندی ومجمع الانہر وغیرہا میں نص فرمایا اور منیۃ الفقہاء و جامع الرموز وتتارخانیہ وتکملہ طوری وغیرہا میں اسی پر جز م واعتماد کیا کما فصلناہ کل ذلك فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے ان سب باتوں کو(اپنے مشہور زمانہ)فتاوی رضویہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ت)یہاں وارد نہیں بلکہ تبعیت اس لئے کہ لبس اس کی طرف مضاف نہیں ہوتا۔ہدایہ وتبیین وبرجندی ودر کی عبارتیں گزریں لانہ تابع کالعلم فی الثوب فلا یعد لابسالہ (اس لے کہ وہ تابع ہے جیسا کہ کپڑے کے نقش ونگارپھر اسے پہننے والا شمار نہیں کیا جاتا۔ت) شرح ملتقی کی عبارت گزری :
اللبس لایکون مضافا الیہ بل یکون تبعا فی اللبس ۔ پہننا اس کی طرف منسوب نہیں بلکہ وہ پہننے میں تابع ہے۔ (ت)
طحطاوی میں ہے
وھذا لفظ الامام النسفی فی الکافی اجمعنا ان القلیل من الملبوس حلال وھو الاعلام فکذا القلیل من اللبس والااستعمال والجامع انہ انموذج لنعیم الآخرۃ ترغیبا فیما ھو فی الاخرۃ لامقصود ۔ الکافی میں امام نسفی کے یہ الفاظ آئے ہیں ہم نے اس پر اتفاق کیا کہ تھوڑا ملبوس جائز ہے۔او روہ کپڑے کے نقش ونگار ہیں اور اسی طرح تھوڑا پہننا اور استعمال کرنا بھی(جائز ہے)اور (دونوں میں)جامع یہ ہے کہ یہ طریقہ تعلیم آخرت کے لئے نمونہ ہے تاکہ اموراخرت کی طرف رغبت پیدا ہو لہذا بالذات مقصود نہیں(جیسا کہ دلائل وشواہد سے معلوم ہوتا ہے۔)۔(ت)
ششم:ہمارا دعوی نہ تھا کہ ہر چیز جو دوسرے کے ساتھ استعمال میں آتی ہو مطلقا تابع ہے واقعات امام صدر شہید وفتاوی صغری وفتاوی ذخیرہ ومحیط وغایۃ البیان وبعض شروح جامع صغیر و شرح قدروری وفتاوی منصوریہ وشرح نقایہ برجندی ومجمع الانہر وغیرہا میں نص فرمایا اور منیۃ الفقہاء و جامع الرموز وتتارخانیہ وتکملہ طوری وغیرہا میں اسی پر جز م واعتماد کیا کما فصلناہ کل ذلك فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے ان سب باتوں کو(اپنے مشہور زمانہ)فتاوی رضویہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ت)یہاں وارد نہیں بلکہ تبعیت اس لئے کہ لبس اس کی طرف مضاف نہیں ہوتا۔ہدایہ وتبیین وبرجندی ودر کی عبارتیں گزریں لانہ تابع کالعلم فی الثوب فلا یعد لابسالہ (اس لے کہ وہ تابع ہے جیسا کہ کپڑے کے نقش ونگارپھر اسے پہننے والا شمار نہیں کیا جاتا۔ت) شرح ملتقی کی عبارت گزری :
اللبس لایکون مضافا الیہ بل یکون تبعا فی اللبس ۔ پہننا اس کی طرف منسوب نہیں بلکہ وہ پہننے میں تابع ہے۔ (ت)
طحطاوی میں ہے
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتا ب الکراھیۃ فصل فی اللبس المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶ /۱۵۔۱۴،€الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۴€
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۵€
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ€ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۳۴€
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۵€
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ€ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۳۴€
وانما جاز منہ کان تبعا لان اللبس لایکون مضافا الیہ ۔ اورا س کا وہ حصہ جائز ہے جو تا بع ہواس لئے کہ پہننا اس کی طرف منسوب نہیں۔(ت)
ہفتم:زنجیروں کے لئے نہ زر کی طرح کوئی نص فقیر نے پایا نہ جواز پر کوئی صاف دلیل بلکہ وہ بظاہر مقصود بنفسہا ہیں۔نہ زر کی طرح کپڑے کیکوئی غرض ان سے متعلق نہ علم کی طرح ثوب میں مستہلك کہ تابع ثواب ٹھہریںنہ ان سے سنگار اور زینت کے سوا کوئی فائدہ مقصود اور وہ زیور زناں سے کمال مشابہ ہیں۔ان کی ہیئت وحالت بالکل سہاروں کی سی ہے کہ ایك طرف ان کے کنڈوں میں بالیاں پروکر ان کو دونوں جانب سے پیشانی کے بالوں میں لاکر کانٹا ڈال کر ملاد یتے ہیں وہ بھی ان زنجیروں کی طرح لڑیاں ہی ہیں بلکہ ان سے علاوہ تزین ایك فائدہ بھی مقصود ہوتاہے کہ بالیوں کا بوجھ کانوں پر نہ پڑے یہ انھیں اٹھا کر سہارا دئے رہیں اسی لئے ان کو"سہارے"کہتے ہیں۔اور ان زنجیروں کی لڑیاں سوا زینت کے کوئی فائدہ نہیں دیتیں تو بہ نسبت سہاروں کے ان کی لڑیاں جھومر کی لڑیوں سے اشبہ ہیں اور سہاروں کی طرح یہ بھی داخل ملبوس ہیں بلکہ ان کا صرف زینت کے لئے بالذات مقصود اور کپڑے کی اغراض سے محض بے تعلق ونامستہلك ہونا جھومر کی طرح انکے اور بھی زیادہ لبس مستقل کا مقتضی ہے اور ذہب وفضہ میں اصل حرمت ہے تو جب تك صریح دلیل سے جواز ثابت نہ ہو زنجیروں پر عدم جواز ہی کاحکم دیں گے ہدایہ میں ہے:
الاصل فیہ التحریم ۔ اصل اس کی حرمت ہے(یعنی سونےچاندی میں اصل یہ ہے کہ دونوں مردوں کے لئے حرام ہیں اور عورتوں کے لئے جواز ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
الفضۃ والذھب من جنس واحد والاصل الحرمۃ فیہما اھ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربیواﷲ تعالی اعلم۔ سوناچاندی ایك ہی جنس ہیں۔اور ان دونوں میں اصل حرمت ہے۔(یعنی بلحاظ اصل دونوں حرام ہیں)اور یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے)یہ میری تحقیق اور عندیہ ہے۔لیکن واقعی اور صحیح علم میرے رب کے پاس ہےکیونکہ الله تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
ہفتم:زنجیروں کے لئے نہ زر کی طرح کوئی نص فقیر نے پایا نہ جواز پر کوئی صاف دلیل بلکہ وہ بظاہر مقصود بنفسہا ہیں۔نہ زر کی طرح کپڑے کیکوئی غرض ان سے متعلق نہ علم کی طرح ثوب میں مستہلك کہ تابع ثواب ٹھہریںنہ ان سے سنگار اور زینت کے سوا کوئی فائدہ مقصود اور وہ زیور زناں سے کمال مشابہ ہیں۔ان کی ہیئت وحالت بالکل سہاروں کی سی ہے کہ ایك طرف ان کے کنڈوں میں بالیاں پروکر ان کو دونوں جانب سے پیشانی کے بالوں میں لاکر کانٹا ڈال کر ملاد یتے ہیں وہ بھی ان زنجیروں کی طرح لڑیاں ہی ہیں بلکہ ان سے علاوہ تزین ایك فائدہ بھی مقصود ہوتاہے کہ بالیوں کا بوجھ کانوں پر نہ پڑے یہ انھیں اٹھا کر سہارا دئے رہیں اسی لئے ان کو"سہارے"کہتے ہیں۔اور ان زنجیروں کی لڑیاں سوا زینت کے کوئی فائدہ نہیں دیتیں تو بہ نسبت سہاروں کے ان کی لڑیاں جھومر کی لڑیوں سے اشبہ ہیں اور سہاروں کی طرح یہ بھی داخل ملبوس ہیں بلکہ ان کا صرف زینت کے لئے بالذات مقصود اور کپڑے کی اغراض سے محض بے تعلق ونامستہلك ہونا جھومر کی طرح انکے اور بھی زیادہ لبس مستقل کا مقتضی ہے اور ذہب وفضہ میں اصل حرمت ہے تو جب تك صریح دلیل سے جواز ثابت نہ ہو زنجیروں پر عدم جواز ہی کاحکم دیں گے ہدایہ میں ہے:
الاصل فیہ التحریم ۔ اصل اس کی حرمت ہے(یعنی سونےچاندی میں اصل یہ ہے کہ دونوں مردوں کے لئے حرام ہیں اور عورتوں کے لئے جواز ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
الفضۃ والذھب من جنس واحد والاصل الحرمۃ فیہما اھ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربیواﷲ تعالی اعلم۔ سوناچاندی ایك ہی جنس ہیں۔اور ان دونوں میں اصل حرمت ہے۔(یعنی بلحاظ اصل دونوں حرام ہیں)اور یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے)یہ میری تحقیق اور عندیہ ہے۔لیکن واقعی اور صحیح علم میرے رب کے پاس ہےکیونکہ الله تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۸€
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۵€
تبیین الحقائق کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶/ ۱۶€
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۵€
تبیین الحقائق کتاب الکراھیۃ فصل فی اللبس المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ ∞بولاق مصر ۶/ ۱۶€
مسئلہ ۵: از پیلی بھیت کچہری کلکٹری مرسلہ جناب مولوی عرفان علی صاحب رضوی برکاتی بیسلپوری ۱۰ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کو زیور پہننا جائز ہے یا ناجائز برتقدیر اول کیا بجنے اور نہ بجنے والے ہر قسم کے زیوارات سونے اور چاندی کے بلا تخصیص جائز ہیں جائز وناجائز ہر دو صورتوں میں کتب فقہ کی دو ایك عبارتیں اورکم سے کم دو تین حدیثیں نقل فرمادیجئے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عورتوں کو سونے چاندی کا زیور پہننا جائز ہے۔
قال اﷲ تعالی "او من ینشؤا فی الحلیۃ"۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایاکیا وہ جو زیور میں پروان چڑھے۔(ت)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الذھب والحریر حل لاناث امتی وحرام علی ذکورھا رواہ ابوبکر بن ابی شیبہ عن زید بن ارقم والطبرانی فی الکبیر عنہ و عن واثلۃ رضی اﷲ تعالی عنہما سونااور ریشم میری امت کی عورتوں کو حلال اور مردوں پر حرام ہے۔(ابوبکر بن ابی شیبۃ حضرت زید بن ارقم سے اور طبرانی نے الکبیر میں ان سے اور حضرت واثلہ رضی الله تعالی عنہما سے اس کو راویت کیا ہے۔ت)
بلکہ عورت کا اپنے شوہر کے لئے گہنا پہننابناؤ سنگار کرنا باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے بعض صالحات کہ کود اور ان کے شوہر دونوں صاحب اولیاء کرام سے تھے ہر شب بعد نماز عشا پورا سنگار کرکے دلھن بن کر اپنے شوہر کے پاس آتیں اگر انھیں اپنی طرف حاجت پاتیں حاضر رہتیں ورنہ زیور ولباس اتار کر مصلی بچھاتیں اور نماز میں مشغول ہو جاتیں۔اور دلھن کو سجانا تو سنت قدیمہ اور بہت احادیث سے ثابت ہے بلکہ کنواری لڑکیوں کو زیور ولباس سے آراستہ رکھنا کہ انکی منگنیاں آتیں۔یہ بھی سنت ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کو زیور پہننا جائز ہے یا ناجائز برتقدیر اول کیا بجنے اور نہ بجنے والے ہر قسم کے زیوارات سونے اور چاندی کے بلا تخصیص جائز ہیں جائز وناجائز ہر دو صورتوں میں کتب فقہ کی دو ایك عبارتیں اورکم سے کم دو تین حدیثیں نقل فرمادیجئے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
عورتوں کو سونے چاندی کا زیور پہننا جائز ہے۔
قال اﷲ تعالی "او من ینشؤا فی الحلیۃ"۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایاکیا وہ جو زیور میں پروان چڑھے۔(ت)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الذھب والحریر حل لاناث امتی وحرام علی ذکورھا رواہ ابوبکر بن ابی شیبہ عن زید بن ارقم والطبرانی فی الکبیر عنہ و عن واثلۃ رضی اﷲ تعالی عنہما سونااور ریشم میری امت کی عورتوں کو حلال اور مردوں پر حرام ہے۔(ابوبکر بن ابی شیبۃ حضرت زید بن ارقم سے اور طبرانی نے الکبیر میں ان سے اور حضرت واثلہ رضی الله تعالی عنہما سے اس کو راویت کیا ہے۔ت)
بلکہ عورت کا اپنے شوہر کے لئے گہنا پہننابناؤ سنگار کرنا باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے بعض صالحات کہ کود اور ان کے شوہر دونوں صاحب اولیاء کرام سے تھے ہر شب بعد نماز عشا پورا سنگار کرکے دلھن بن کر اپنے شوہر کے پاس آتیں اگر انھیں اپنی طرف حاجت پاتیں حاضر رہتیں ورنہ زیور ولباس اتار کر مصلی بچھاتیں اور نماز میں مشغول ہو جاتیں۔اور دلھن کو سجانا تو سنت قدیمہ اور بہت احادیث سے ثابت ہے بلکہ کنواری لڑکیوں کو زیور ولباس سے آراستہ رکھنا کہ انکی منگنیاں آتیں۔یہ بھی سنت ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۳ /۱۸€
المعجم الکبیر للطبرانی ∞حدیث ۵۱۲۵€ مکتبۃ الفیضلیۃ بیروت ∞۵ /۲۱۱€
المعجم الکبیر للطبرانی ∞حدیث ۵۱۲۵€ مکتبۃ الفیضلیۃ بیروت ∞۵ /۲۱۱€
لوکان اسامۃ جاریۃ لکسوتہ وحلیتہ انفقہ رواہ احمد وابن ماجۃ عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔ اگر حضرت اسامہ لڑکی ہوتے تو میں انھیں زنانہ کپڑے اور زیور پہناتا یہاں تك کہ وہ انھیں استعمال کرتےچنانچہ مسند احمد اور محدث ابن ماجہ ام المومنین رضی الله تعالی عنہا سے سند حسن کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔(ت)
بلکہ عورتوں کا باوصف قدرت بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ مردوں سے تشبہ ہے۔حدیث میں ہے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکرہ تعطر النساء وتشبھھن بالرجال ۔ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم عورتوں کے تعطر(یعنی بے زیور رہنے)کو اور مردوں سے مشابہت بنانے والی عورتوں کو ناپسند فرماتے۔(ت)
(حدیث مذکور میں لفظ"تعطر"استعمال ہوا ہے جس کا معنی"خوشبو لگانا ہےمگر)مجمع البحار میں ہے:
قیل ارادتعطل النساء باللام وھی من لاحلی علیہا ولاخضاب واللام والراء یتعاقبان ۔ کہا گیاہے کہ لفظ مذکور سے"تعطل النساء"حرج لام کے ساتھ مراد ہے اور اس سے وہ عورتیں مراد ہیں جو نہ تو زیور پہنے ہوں نہ خضاب لگائے ہوں پس یہاں لام اور راء ایك دوسرے کی جگہ آتے ہیں۔(ت)
حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مولی علی کرم الله وجہہ سے فرمایا:
یاعلی مرنسائك لایصلین عطلا ۔رواہ ابن اثیر فی النھایۃ۔ اے علی! اپنے مخدرات کو حکم دو کہ بے گہنے نماز نہ پڑھیں۔ (امام ابن اثیر نے النہایہ میں اس کو روایت فرمایا۔ت)
بلکہ عورتوں کا باوصف قدرت بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ مردوں سے تشبہ ہے۔حدیث میں ہے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکرہ تعطر النساء وتشبھھن بالرجال ۔ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم عورتوں کے تعطر(یعنی بے زیور رہنے)کو اور مردوں سے مشابہت بنانے والی عورتوں کو ناپسند فرماتے۔(ت)
(حدیث مذکور میں لفظ"تعطر"استعمال ہوا ہے جس کا معنی"خوشبو لگانا ہےمگر)مجمع البحار میں ہے:
قیل ارادتعطل النساء باللام وھی من لاحلی علیہا ولاخضاب واللام والراء یتعاقبان ۔ کہا گیاہے کہ لفظ مذکور سے"تعطل النساء"حرج لام کے ساتھ مراد ہے اور اس سے وہ عورتیں مراد ہیں جو نہ تو زیور پہنے ہوں نہ خضاب لگائے ہوں پس یہاں لام اور راء ایك دوسرے کی جگہ آتے ہیں۔(ت)
حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مولی علی کرم الله وجہہ سے فرمایا:
یاعلی مرنسائك لایصلین عطلا ۔رواہ ابن اثیر فی النھایۃ۔ اے علی! اپنے مخدرات کو حکم دو کہ بے گہنے نماز نہ پڑھیں۔ (امام ابن اثیر نے النہایہ میں اس کو روایت فرمایا۔ت)
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ کتاب النکاح با ب الشفاعۃ فی التزویج ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۳،€مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۱۳۹€
نہایۃ لابن ابی اثیر باب العین مع الطاء تحف لفظ عطر"المکتبۃ الاسلامیہ ∞۳ /۲۵۶€
مجمع بحار الانوار باب العین مع الطاء تحت لفظ"عطر"مکتبہ دارالایمان ∞مدینہ منورہ ۳ /۶۲۱€
نہایۃ لابن اثیر باب العین مع الطاء تحت لفظ عطل المکتبۃ الاسلامیۃ ∞ریاض ۳ /۲۵۷€
نہایۃ لابن ابی اثیر باب العین مع الطاء تحف لفظ عطر"المکتبۃ الاسلامیہ ∞۳ /۲۵۶€
مجمع بحار الانوار باب العین مع الطاء تحت لفظ"عطر"مکتبہ دارالایمان ∞مدینہ منورہ ۳ /۶۲۱€
نہایۃ لابن اثیر باب العین مع الطاء تحت لفظ عطل المکتبۃ الاسلامیۃ ∞ریاض ۳ /۲۵۷€
ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالی عنہا عورت کا بے زیور نماز پڑھنا مکروہ جانتیں اور فرماتیں"کچھ نہ پائے تو ایك ڈوراہی گلے میں باندھ لے"مجمع بحار میں ہے:
عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہما کرھت ان تصلی المرأۃ عطلا ولو ان تعلق فی عنقہا خیطا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا عورتوں کے بغیر زیور نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتیں(اور فرمایا کرتیں اگر اور کچھ نہ ہو تو ایك ڈورا ہی گلے میں لٹکالے۔(ت)
بجنے والا زیورعورت کے لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں مثلا خالہماموںچچاپھوپھی کے بیٹوںجیٹھدیوربہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو نہ اس کے زیور کی جھنکار نامحرم تك پہنچےالله عزوجل فرماتاہے:
"و لا یبدین زینتہن الا لبعولتہن"الایۃ ۔ عورتیں اپنا سنگار شوہر یامحرم کے سوا کسی پر ظاہرنہ کریں۔
اور فرماتاہے:
" ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن " عورتیں پاؤں دھمك کر نہ رکھے کہ ان کا چھپا ہوا سنگار ظاہر ہو۔
فائدہ:یہ آیہ کریمہ جس طرح نامحرم کو گہنے کی آواز پہنچنا منع فرماتی ہے یونہی جب آواز نہ پہنچے اس کا پہننا عورتوں کے لئے جائز بتاتی ہیں کہ دھمك کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا نہ کہ پہننے کو بخلاف جہل وہابیہ کہ بجتا گہنا ہی حرام کہتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶ و ۷: از کاٹھیاواڑ مسئولہ مولوی خلیل الرحمن صاحب ۱۷ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)ایك شخص لوہے اور پیتل کا زیور بیچتاہے اور ہندومسلمان سب خرید تے ہیں اور ہر قوم کے ہاتھ
عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہما کرھت ان تصلی المرأۃ عطلا ولو ان تعلق فی عنقہا خیطا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا عورتوں کے بغیر زیور نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتیں(اور فرمایا کرتیں اگر اور کچھ نہ ہو تو ایك ڈورا ہی گلے میں لٹکالے۔(ت)
بجنے والا زیورعورت کے لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں مثلا خالہماموںچچاپھوپھی کے بیٹوںجیٹھدیوربہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو نہ اس کے زیور کی جھنکار نامحرم تك پہنچےالله عزوجل فرماتاہے:
"و لا یبدین زینتہن الا لبعولتہن"الایۃ ۔ عورتیں اپنا سنگار شوہر یامحرم کے سوا کسی پر ظاہرنہ کریں۔
اور فرماتاہے:
" ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن " عورتیں پاؤں دھمك کر نہ رکھے کہ ان کا چھپا ہوا سنگار ظاہر ہو۔
فائدہ:یہ آیہ کریمہ جس طرح نامحرم کو گہنے کی آواز پہنچنا منع فرماتی ہے یونہی جب آواز نہ پہنچے اس کا پہننا عورتوں کے لئے جائز بتاتی ہیں کہ دھمك کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا نہ کہ پہننے کو بخلاف جہل وہابیہ کہ بجتا گہنا ہی حرام کہتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶ و ۷: از کاٹھیاواڑ مسئولہ مولوی خلیل الرحمن صاحب ۱۷ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)ایك شخص لوہے اور پیتل کا زیور بیچتاہے اور ہندومسلمان سب خرید تے ہیں اور ہر قوم کے ہاتھ
حوالہ / References
مجمع بحار الانوار باب العین مع الطاء تحت لفظ عطل ∞مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۳ /۶۲۲€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۴ /۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۴ /۳۱€
وہ بیچتا ہے۔غرضکہ یہ وہ جانتا ہے کہ جب مسلمان خرید کریں گے تو اس کو پہنیں گے۔تو ایسی چیزوں کا فروخت کرنا مسلمان کے ہاتھ جائز ہے یانہیں
(۲)کانسہ جو بشکل پیتل ہوتاہے استعمال کرنا چاہئے یانہیں
الجواب:
(۱)مسلمان کے ہاتھ بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔
(۲)کانسہ کے برتن میں حرج نہیں اور اس کا زیور پہننا مکروہ ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸ و ۹: از گونڈل کاٹھیا واڑ مرسلہ عبدالستار اسمعیل صاحب یکم صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت ان مسائل میں:
(۱)سونے یا چاندکی کی گھڑی جیب میں رکھنے کی مرد استعمال کرسکتاہے یا نہیں۔نیز اس قسم کی گھڑی جیب میں پڑی ہے اور نماز ادا کرے تو جائز ہے یانہیں
(۲)وہ اشیاء جن پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہو جسے گلٹ کہتے ہیں مرد استعمال کرسکتا ہے یانہیں
الجواب:
(۱)سونے کی گھڑی جیب میں ہو تو نماز میں حرج نہیں کہ جیب میں رکھنا پہننا نہیں۔جیسے جیب میں اشرفیاں پڑی ہوںہاں سونے کی گھڑی چاندی کی گھڑی وقت دیکھناا مردو عورت سب کو حرام ہے کہ عورتوں کو پہننے کی اجازت ہے نہ کہ اورطرق استعمال کی۔
(۲)کرسکتاہے۔سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں۔ہاں اگر وہ شے فی نفسہ ممنوع ہو تودوسری بات ہے جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰: از مبارکپور محلہ مرحی محال متصل کنجڑا محال مرسلہ حافظ محمد جعفر صاحب پیش امام ۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول مقبول صلی الله تعالی علیہ وسلم تانبے پیتل کے برتن میں طعام تناول پانی نوش فرمایا کرتے یا کسی دوسری چیز کے برتن میں:
الجواب:
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے تابنےپیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔مٹی یا کاٹھ کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔والله تعالی اعلم
(۲)کانسہ جو بشکل پیتل ہوتاہے استعمال کرنا چاہئے یانہیں
الجواب:
(۱)مسلمان کے ہاتھ بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔
(۲)کانسہ کے برتن میں حرج نہیں اور اس کا زیور پہننا مکروہ ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸ و ۹: از گونڈل کاٹھیا واڑ مرسلہ عبدالستار اسمعیل صاحب یکم صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت ان مسائل میں:
(۱)سونے یا چاندکی کی گھڑی جیب میں رکھنے کی مرد استعمال کرسکتاہے یا نہیں۔نیز اس قسم کی گھڑی جیب میں پڑی ہے اور نماز ادا کرے تو جائز ہے یانہیں
(۲)وہ اشیاء جن پر سونے چاندی کا پانی چڑھا ہو جسے گلٹ کہتے ہیں مرد استعمال کرسکتا ہے یانہیں
الجواب:
(۱)سونے کی گھڑی جیب میں ہو تو نماز میں حرج نہیں کہ جیب میں رکھنا پہننا نہیں۔جیسے جیب میں اشرفیاں پڑی ہوںہاں سونے کی گھڑی چاندی کی گھڑی وقت دیکھناا مردو عورت سب کو حرام ہے کہ عورتوں کو پہننے کی اجازت ہے نہ کہ اورطرق استعمال کی۔
(۲)کرسکتاہے۔سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں۔ہاں اگر وہ شے فی نفسہ ممنوع ہو تودوسری بات ہے جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰: از مبارکپور محلہ مرحی محال متصل کنجڑا محال مرسلہ حافظ محمد جعفر صاحب پیش امام ۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسول مقبول صلی الله تعالی علیہ وسلم تانبے پیتل کے برتن میں طعام تناول پانی نوش فرمایا کرتے یا کسی دوسری چیز کے برتن میں:
الجواب:
حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے تابنےپیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔مٹی یا کاٹھ کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱ و ۱۲: سید صفرعلی صاحب ڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنگی موضع خود مئو
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)سونے یا چاندی یا پیتل یا جست یا تانبے یا لوہے کی منہنال نیچہ میں لگا کر حقہ پینا جائز ہے
(۲)یشب یا کسی دوسرے پتھر کی منہنال استعمال کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)سونے یا چاندی کی منہنال حرام ہے باقیوں میں حرج نہیں۔
(۲)یشب وغیرہ پتھروں کی منہنال جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳ و ۱۴: از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)لڑکیوں کو زیور کےلئے کان چھدوانے کا کوئی خاص حصہ مقرر ہے یا جس حصہ میں زیور پہننا چاہیں وہ حصہ چھدوا سکتی ہیں
(۲)عورتیں ناك کا پھول دہنی طرف پہنیں یا بائیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)کوئی خاص مقرر نہیں۔ہاں مشابہت کفا رسے بچنا ضرور ہے۔بعض طریقے خاص کفار کے یہاں ہیں جیسے یہاں انوٹ کہتے ہیں ان سے بچیں۔والله تعالی اعلم۔
(۲)اس میں کوئی تخصیص شرعی نہیں جدھر چاہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵ و ۱۶: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ شمس الدین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں حضور پر نور اعلیحضرت مجدد مأتہ حاضرہ مؤید ملت طاہر قبلہ مدظلہ العالی کہ:
(۱)چھلہ چاندی یا پیتل کا پہنناکیساہے اور اس کے پہنے سے نماز ہوگی یا نہیں
(۲)مسجد میں اما م کو بدن دبوانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)تانبہپیتلکانسہلوہا تو عورت کو بھی پہننا ممنوع ہے۔اور اس سے نماز ان کی بھی مکروہ ہے۔اور چاندی کا چھلا خاص لباس زنان ہے مردوں کو مکروہ۔اور مکروہ چیز پہن کر نمازبھی مکروہ۔مرد کو چاندی کی انگوٹھی ایك نگ کی ساڑھے چار ماشے سے کم وزن کی جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔ (۲)کوئی حرج نہیں۔والله تعالی اعلم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)سونے یا چاندی یا پیتل یا جست یا تانبے یا لوہے کی منہنال نیچہ میں لگا کر حقہ پینا جائز ہے
(۲)یشب یا کسی دوسرے پتھر کی منہنال استعمال کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)سونے یا چاندی کی منہنال حرام ہے باقیوں میں حرج نہیں۔
(۲)یشب وغیرہ پتھروں کی منہنال جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳ و ۱۴: از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)لڑکیوں کو زیور کےلئے کان چھدوانے کا کوئی خاص حصہ مقرر ہے یا جس حصہ میں زیور پہننا چاہیں وہ حصہ چھدوا سکتی ہیں
(۲)عورتیں ناك کا پھول دہنی طرف پہنیں یا بائیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)کوئی خاص مقرر نہیں۔ہاں مشابہت کفا رسے بچنا ضرور ہے۔بعض طریقے خاص کفار کے یہاں ہیں جیسے یہاں انوٹ کہتے ہیں ان سے بچیں۔والله تعالی اعلم۔
(۲)اس میں کوئی تخصیص شرعی نہیں جدھر چاہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵ و ۱۶: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ شمس الدین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں حضور پر نور اعلیحضرت مجدد مأتہ حاضرہ مؤید ملت طاہر قبلہ مدظلہ العالی کہ:
(۱)چھلہ چاندی یا پیتل کا پہنناکیساہے اور اس کے پہنے سے نماز ہوگی یا نہیں
(۲)مسجد میں اما م کو بدن دبوانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)تانبہپیتلکانسہلوہا تو عورت کو بھی پہننا ممنوع ہے۔اور اس سے نماز ان کی بھی مکروہ ہے۔اور چاندی کا چھلا خاص لباس زنان ہے مردوں کو مکروہ۔اور مکروہ چیز پہن کر نمازبھی مکروہ۔مرد کو چاندی کی انگوٹھی ایك نگ کی ساڑھے چار ماشے سے کم وزن کی جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔ (۲)کوئی حرج نہیں۔والله تعالی اعلم
رسالہ
الطیب الوجیز فی امتعۃ الورق والابریز ۱۳۰۹ھ
(سونے اور چاندی کی اشیاء کو استعمال کرنے کے بارے میں مزیدار مختصر کلام)
مسئلہ ۱۷: از اکولہ صوبہ برابر مرسلہ حافظ یقین الدین صاحب ۲۷ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گھنڈی تکمہ یا بند کے عوض انگوکھے کرتے ہیں چاندی سونے کے بوتام بے زنجیر لگانے جائز ہیں یا نہیں بعض صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ناجائز ہے اور سونے چاندی کا استعمال مرد کو مطلقا حرام ہے۔یہ قول صحیح ہے یا نہیں اگر غلط ہے تو چاندی سونے کی کیا کیا چزیں استعمال کرنی مرد کو جائز ہیں اور چاندی کی انگوٹھی میں کیا کیا شرطیں ہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
سونے چاندی کے بوتام بطور مذکور لگانے جائز ہیں جن کا جواز سیر کبیر وذخیرہ ومنتقی وتتارخانیہ ودرمختار وطحاوی وہندیہ وغیرہا کتب معتمدہ سے ثابت۔درمختارمیں ہے:
فی التتارخانیۃ عن السیر کبیر لاباس بازارالدیباج و الذھب ۔ تتارخانیہ میں سیر کبیر سے نقل کیا گیا ہے کہ ریشم اور سونے کی گھنڈیوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
الطیب الوجیز فی امتعۃ الورق والابریز ۱۳۰۹ھ
(سونے اور چاندی کی اشیاء کو استعمال کرنے کے بارے میں مزیدار مختصر کلام)
مسئلہ ۱۷: از اکولہ صوبہ برابر مرسلہ حافظ یقین الدین صاحب ۲۷ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گھنڈی تکمہ یا بند کے عوض انگوکھے کرتے ہیں چاندی سونے کے بوتام بے زنجیر لگانے جائز ہیں یا نہیں بعض صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ناجائز ہے اور سونے چاندی کا استعمال مرد کو مطلقا حرام ہے۔یہ قول صحیح ہے یا نہیں اگر غلط ہے تو چاندی سونے کی کیا کیا چزیں استعمال کرنی مرد کو جائز ہیں اور چاندی کی انگوٹھی میں کیا کیا شرطیں ہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
سونے چاندی کے بوتام بطور مذکور لگانے جائز ہیں جن کا جواز سیر کبیر وذخیرہ ومنتقی وتتارخانیہ ودرمختار وطحاوی وہندیہ وغیرہا کتب معتمدہ سے ثابت۔درمختارمیں ہے:
فی التتارخانیۃ عن السیر کبیر لاباس بازارالدیباج و الذھب ۔ تتارخانیہ میں سیر کبیر سے نقل کیا گیا ہے کہ ریشم اور سونے کی گھنڈیوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
عالمگیری میں ہے:
لاباس بلبس الثوب فی غیر الحرب اذ اکان اررارہ دیبااور ذھب کذا فی الذخیرۃ ۔ جنگ کے بغیر ایسا کپڑا پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں جس کی گھنڈیاں ریشم یا سونے کی ہوں۔اسی طرح ذخیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
اور سونے چاندی کا استعمال مرد کو مطلقا حرام ہو یہ صحیح نہیں۔شر ع مطہر نے جہاں بے شمار صورتوں کی ممانعت فرمائی ہے وہاں بہت سی صورتوں کی اجازت بھی دی ہے۔مثلا:
(۱)سونے کی گھنڈیاں کما سمعت انفا(جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔ت)
(۲)سونے کا تکمہ
فی الدرالمختار عن شرح الوھبانیۃ عن المنتقی لاباس بعروۃ القمیص وزرہ عن الحریر لانہ تبع الخ وستسمع فی اللبس ترخیص الحریر ترخیص النقدین بل سیأتیك نص المسئلۃ عن ردالمحتار۔ درمختار میں شرح وہبانیہ نے"المنتقی"سے نقل کیاہےکہ قمیص کا تکمہ اور اس کی گھنڈیاں ریشمی ہوں تو کوئی حرج نہیں کیونہ وہ تابع کی حیثیت رکھتی ہیں الخ۔عنقریب تم سنوگے کہ ریشم کے پہننے میں رخصت دینا سونے چاندی(نقدین)کے استعمال کرنے کی سی رخصت ہے۔عنقریب فتاوی شامی کے حوالے سے تمھارے پاس اس مسئلہ کی تصریح آئے گی۔(ت)
(۳)انگوٹھی کے نگ میں سونے کی کیل۔فی الدرحل مسمار الذھب فی حجر الفص (پتھر کے نگینے میں سونے کی کیل لگانا جائز ہے۔ت)
(۴)چاندی کی انگوٹھی کی انگشتری میں سونے کے دندانے۔
فی درالمحتار کا لاسنان المتخذۃ من الذھب علی حوالی خاتم الفضۃ فان الناس یجوز ونہ من غیر نکیر اوردالمحتار میں ہے کہ جیسے سونے کے دندانے چاند ی کی انگوٹھی کے آس پاس لگے ہوں تو جائز ہے کیونکہ لوگ بغیر کسی انکار کے اس کو جائز کہتے ہیں
لاباس بلبس الثوب فی غیر الحرب اذ اکان اررارہ دیبااور ذھب کذا فی الذخیرۃ ۔ جنگ کے بغیر ایسا کپڑا پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں جس کی گھنڈیاں ریشم یا سونے کی ہوں۔اسی طرح ذخیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
اور سونے چاندی کا استعمال مرد کو مطلقا حرام ہو یہ صحیح نہیں۔شر ع مطہر نے جہاں بے شمار صورتوں کی ممانعت فرمائی ہے وہاں بہت سی صورتوں کی اجازت بھی دی ہے۔مثلا:
(۱)سونے کی گھنڈیاں کما سمعت انفا(جیسا کہ ابھی بیان ہوا۔ت)
(۲)سونے کا تکمہ
فی الدرالمختار عن شرح الوھبانیۃ عن المنتقی لاباس بعروۃ القمیص وزرہ عن الحریر لانہ تبع الخ وستسمع فی اللبس ترخیص الحریر ترخیص النقدین بل سیأتیك نص المسئلۃ عن ردالمحتار۔ درمختار میں شرح وہبانیہ نے"المنتقی"سے نقل کیاہےکہ قمیص کا تکمہ اور اس کی گھنڈیاں ریشمی ہوں تو کوئی حرج نہیں کیونہ وہ تابع کی حیثیت رکھتی ہیں الخ۔عنقریب تم سنوگے کہ ریشم کے پہننے میں رخصت دینا سونے چاندی(نقدین)کے استعمال کرنے کی سی رخصت ہے۔عنقریب فتاوی شامی کے حوالے سے تمھارے پاس اس مسئلہ کی تصریح آئے گی۔(ت)
(۳)انگوٹھی کے نگ میں سونے کی کیل۔فی الدرحل مسمار الذھب فی حجر الفص (پتھر کے نگینے میں سونے کی کیل لگانا جائز ہے۔ت)
(۴)چاندی کی انگوٹھی کی انگشتری میں سونے کے دندانے۔
فی درالمحتار کا لاسنان المتخذۃ من الذھب علی حوالی خاتم الفضۃ فان الناس یجوز ونہ من غیر نکیر اوردالمحتار میں ہے کہ جیسے سونے کے دندانے چاند ی کی انگوٹھی کے آس پاس لگے ہوں تو جائز ہے کیونکہ لوگ بغیر کسی انکار کے اس کو جائز کہتے ہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع فی اللبس ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۵ /۲۳۲€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۹€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
ویلبسون تلك الخواتم ۔ اور اس قسم کی انگوٹھیاں پہنتے ہیں۔(ت)
(۵)کواڑوں یا صندوقچی یا قلمدان وغیرہا میں سونے کی گل میخیں بریخیں اور خودیہ چیزیں سونے چاندی کی ہوں تو عورتوں کو بھی ناجائز یہ بعینہ اس صورت کی نظریں ہیں کہ انگرکھا کرتا تاش بادلے کاحرام اور گھنڈی بوتام سونے کے روا کہ یہ قلیل وتابع ہیں۔
فی الہندیۃ لاباس بمسامیر ذھب و فضۃ ویکرہ الباب منہ ۔ ہندیہ میں ہے سونے یا چاندی کی کیلیں لگانے میں کوئی حرج نہیں البتہ سونے چاندی کا دروازہ بنانا مکروہ ہے۔(ت)
(۶)یوہیں چاندی سونے کے کام کے دو شا لے چادر کے آنچلوں۔عمامے کے پلوؤںانگرکھےکرتےصدریمزرائی وغیرہا کی آستینوںدامنوںچاکوںپردوںتولیوںجیبوں پر ہوں گریبان کا کنٹھاشانوں پشت کے پان ترنجٹوپی کا طرہمانگگوٹ پر کامجوتےکا کنٹھاگچھا۔کسی چیز میں کہیں کیسی ہی متفرق بوٹیاں یہ سب جائز ہیں بشرطیکہ ان میں کوئی تنہا چارانگل کےعرض سے زائد نہ ہو اگرچہ متفرق کام ملاکر دیکھے تو چار انگل سےبڑھ جائے اس کا کچھ ڈر نہیں کہ یہ بھی تابع قلیل ہے۔اور اگر کوئی بیل بوٹا تنہا چار انگل عرض سے زیادہ ہوتوناجائز کہ اگر چہ تابع ہے مگر قلیل نہیں اور کوئی مستقل چیز بالکل مغرق یا ایسے گھنے کام کی ہو کہ مغرق معلوم ہوتو بھی ناروا اگر چہ خود اس کی ہستی ایك ہی انگل عرض کی ہو کہ یہ اگر چہ قلیل ہے مگر تابع نہیں۔جیسے ریشم یا لچکے پٹھے کے تعویز یا ریشمی کمر بند یا جوتے کی اڈیوں پنجوں پر مغرق کا م یا ریشم یا سونے چاندی کے کام سے مغرق ٹوپیہاں ایك قول پر آنچل پلو مطلقا حلال ہیں خواہ کتنے ہی چوڑے ہوں اس میں کار چوبی دو شالے یا بنارسی عمامے والوں کے لئے بہت وسعت ہے مگر یہ زیادہ قوت اسی پہلے قول کو ہے کہ چار انگل سے زیادہ نہ ہو۔
فی الدرالمختار یحرم لبس الحریر علی الرجل الا قدر اربع اصابع کاعلام الثوب وظاھر المذہب عدم درمختار میں ہے کہ مرد کے لئے ریشم پہننا حرام ہے البتہ چار انگل کی مقدار ممنوع نہیں جیسے کپڑے پر نقوش وغیرہ بنالینا۔ اور ظاہر مذہب یہ ہے
(۵)کواڑوں یا صندوقچی یا قلمدان وغیرہا میں سونے کی گل میخیں بریخیں اور خودیہ چیزیں سونے چاندی کی ہوں تو عورتوں کو بھی ناجائز یہ بعینہ اس صورت کی نظریں ہیں کہ انگرکھا کرتا تاش بادلے کاحرام اور گھنڈی بوتام سونے کے روا کہ یہ قلیل وتابع ہیں۔
فی الہندیۃ لاباس بمسامیر ذھب و فضۃ ویکرہ الباب منہ ۔ ہندیہ میں ہے سونے یا چاندی کی کیلیں لگانے میں کوئی حرج نہیں البتہ سونے چاندی کا دروازہ بنانا مکروہ ہے۔(ت)
(۶)یوہیں چاندی سونے کے کام کے دو شا لے چادر کے آنچلوں۔عمامے کے پلوؤںانگرکھےکرتےصدریمزرائی وغیرہا کی آستینوںدامنوںچاکوںپردوںتولیوںجیبوں پر ہوں گریبان کا کنٹھاشانوں پشت کے پان ترنجٹوپی کا طرہمانگگوٹ پر کامجوتےکا کنٹھاگچھا۔کسی چیز میں کہیں کیسی ہی متفرق بوٹیاں یہ سب جائز ہیں بشرطیکہ ان میں کوئی تنہا چارانگل کےعرض سے زائد نہ ہو اگرچہ متفرق کام ملاکر دیکھے تو چار انگل سےبڑھ جائے اس کا کچھ ڈر نہیں کہ یہ بھی تابع قلیل ہے۔اور اگر کوئی بیل بوٹا تنہا چار انگل عرض سے زیادہ ہوتوناجائز کہ اگر چہ تابع ہے مگر قلیل نہیں اور کوئی مستقل چیز بالکل مغرق یا ایسے گھنے کام کی ہو کہ مغرق معلوم ہوتو بھی ناروا اگر چہ خود اس کی ہستی ایك ہی انگل عرض کی ہو کہ یہ اگر چہ قلیل ہے مگر تابع نہیں۔جیسے ریشم یا لچکے پٹھے کے تعویز یا ریشمی کمر بند یا جوتے کی اڈیوں پنجوں پر مغرق کا م یا ریشم یا سونے چاندی کے کام سے مغرق ٹوپیہاں ایك قول پر آنچل پلو مطلقا حلال ہیں خواہ کتنے ہی چوڑے ہوں اس میں کار چوبی دو شالے یا بنارسی عمامے والوں کے لئے بہت وسعت ہے مگر یہ زیادہ قوت اسی پہلے قول کو ہے کہ چار انگل سے زیادہ نہ ہو۔
فی الدرالمختار یحرم لبس الحریر علی الرجل الا قدر اربع اصابع کاعلام الثوب وظاھر المذہب عدم درمختار میں ہے کہ مرد کے لئے ریشم پہننا حرام ہے البتہ چار انگل کی مقدار ممنوع نہیں جیسے کپڑے پر نقوش وغیرہ بنالینا۔ اور ظاہر مذہب یہ ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۵ /۳۳۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۵ /۳۳۵€
ومثلہ لو رقع الثوب بقطعۃ دیباج وظاھر المذھب عدم جمع المتفرق ومقتضاہ حل الثوب المنقوش بالحریر تطریزا ونسجا اذا لم تبلغ کل واحدۃ من نقشۃ اربع اصابع وان زادت بالجمع مالم یرکلہ حریرا قال ط وھل حکم المتفرق من الذھب و الفضۃ کذالك یحرر ۔قال فی القنیۃ وکذا فی القلنسوۃ فی ظاھر المذھب یجوز قدر اربع اصابع وفی التبیین عن اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا انھا اخرجت جبۃ طیالسۃ علیہا لبنۃ شبر من دیباج کسوانی وفرجاھا مکفوفان بہ فقالت ھذہ جبۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یلبسھا وفی القاموس کف الثوب کفا خاط حاشیتہ و لبنۃ القمیض نبیقتہ فی الہندیۃ یکرہ ان یلبس الذکور قلنسوۃ من الحریر اوالذھب او الفضۃ اوالکرباس الذی خیط علیہ ابریسم کثیر اوشق من الذھب اوالفضۃ اکثر من قدر اربع اصابع اھ وبہ یعلم حکم العرقیۃ المسماۃ بالطافیۃ
طول میں زیادہ ہوں اوریہی حکم ہے اس کپڑے کا جس کو ریشمی پیوند لگایا گیا ہو اور ظاہر مذہب میں متفرق کو جمع کرنا نہیں اس کا تقاضایہ ہے کہ کپڑے پر ریشمی نقوش خواہ بنائے گئے ہوں یا بنے ہوئے ہوں جائز ہیں جبکہ اس کا کوئی نقش بھی چار انگلیوں کی مقدار تك نہ پہنچنے پائے اگر چہ جمع کرنے سے زیادہ ہوجائیں بشرطیکہ سارا ریشمی نہ ہو۔علامہ طحطاوی نے فرمایا متفرق سونے چاندی کا جوحکم پہنچا ہے وہ یوں ہی تحریر کیا جاتاہے۔قنیہ میں ہے اسی طرح ظاہر مذہب کے مطابق ٹوپی میں چار انگشت کے برابر کی مقدار جائز ہے۔تبیین میں سیدہ اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا کی روایت ہے کہ انھوں نے(زیادت کرانے کے لئے ایك طبالسی جبہ باہر نکالا کہ جس پر ایك بالشت کی مقدار کسروانی ریشم کا گریبان تھا اس کے دونوں اطراف ریشم سے مخطوط تھے پھر مائی صاحبہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جبہ مبارك ہے جو آپ زیب تن فرمایا کرتے تھےقاموس اللغات میں ہے(کف الثوب)اس وقت کہاجاتاہے کہ جب کسی چیز کا کنارہ مخطوط و فتاوی عالمگیر ی میں ہے کہ مردوں کو سونا چاندی ریشمی لباس پہننا یا ایسی سوتی ٹوپی پہننا جس پر بہت سے ریشم کی سلائی کی گئی ہو یا سونا چاندی چار انگلیوں کی مقدار سے زیادہ ہو تو یہ عمل مکروہ ہے(عبارت مکمل ہوگئی)اور اس سے عرفیہ جس کو طافیہ کہا جاتاہے کا حکم معلوم کیا جاسکتاہےجب
طول میں زیادہ ہوں اوریہی حکم ہے اس کپڑے کا جس کو ریشمی پیوند لگایا گیا ہو اور ظاہر مذہب میں متفرق کو جمع کرنا نہیں اس کا تقاضایہ ہے کہ کپڑے پر ریشمی نقوش خواہ بنائے گئے ہوں یا بنے ہوئے ہوں جائز ہیں جبکہ اس کا کوئی نقش بھی چار انگلیوں کی مقدار تك نہ پہنچنے پائے اگر چہ جمع کرنے سے زیادہ ہوجائیں بشرطیکہ سارا ریشمی نہ ہو۔علامہ طحطاوی نے فرمایا متفرق سونے چاندی کا جوحکم پہنچا ہے وہ یوں ہی تحریر کیا جاتاہے۔قنیہ میں ہے اسی طرح ظاہر مذہب کے مطابق ٹوپی میں چار انگشت کے برابر کی مقدار جائز ہے۔تبیین میں سیدہ اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا کی روایت ہے کہ انھوں نے(زیادت کرانے کے لئے ایك طبالسی جبہ باہر نکالا کہ جس پر ایك بالشت کی مقدار کسروانی ریشم کا گریبان تھا اس کے دونوں اطراف ریشم سے مخطوط تھے پھر مائی صاحبہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جبہ مبارك ہے جو آپ زیب تن فرمایا کرتے تھےقاموس اللغات میں ہے(کف الثوب)اس وقت کہاجاتاہے کہ جب کسی چیز کا کنارہ مخطوط و فتاوی عالمگیر ی میں ہے کہ مردوں کو سونا چاندی ریشمی لباس پہننا یا ایسی سوتی ٹوپی پہننا جس پر بہت سے ریشم کی سلائی کی گئی ہو یا سونا چاندی چار انگلیوں کی مقدار سے زیادہ ہو تو یہ عمل مکروہ ہے(عبارت مکمل ہوگئی)اور اس سے عرفیہ جس کو طافیہ کہا جاتاہے کا حکم معلوم کیا جاسکتاہےجب
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیرت ∞۵ /۲۲۴€
جمع المتفرق للتفرق ولو فی عمامۃ وکذا المنسوج بذھب یحل اذا کان اربع اصابع والا لایحل للرجل وفی السراج عن السیر الکبیر العلم حلال مطلقا صغیرا کان او کبیرا قال المصنف ھو مخالف لمامر من التقیید باربع اصابع وفیہ رخصۃ عظیمۃ لمن ابتلی بہ فی زماننا اھ ملخصا۔وفی ردالمحتار العلم عندنا یدخل فیہ السجاف وما یخیط علی اطراف الاکمام ومایجعل فی طوق الجبۃ وھو المسمی قبۃ وکذا العروۃ و الزر و مثلہ فیہا یظھر طرۃ الطربوش ای القلنسوۃ مالم تزد علی عرض اربع اصابع وما علی اکناف العباءۃ علی ظھرھا وما فی اطراف الشاش سواء کان تطریزا بالابرۃ اونسجا وما یرکب فی اطراف العمامۃ المسمی صجقا فجمیع ذلك لاباس بہ اذا کان عرض اربع اصابع وان زاد علی طولھا و کہ متفرق کو جمع نہ کیا جائے اگر چہ پگڑی میں ہواسی طرح سونے کی تاروں سے بنے ہوئے کپڑے کا استعمال جائز ہے جبکہ بمقدار چار انگشت ہوورنہ مرد کے لئے جائز نہیں۔سراج میں سیر کبیر کے حوالے سے منقول ہے نقوش علی الاطلاق جائز ہین خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔مصنف نے فرمایا کہ یہ چار انگلیوں کی قید کے مخالف ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔اس میں بڑی رخصت ہے اس شخص کے لئے جو ہمارے دورمیں اس میں مبتلا ہوگیا ہے(ملخص مکمل ہوا)فتاوی شامی میں ہمارے نزدیك نقوش میں نقش ونگار پردے کے بھی داخل ہیں اور وہ جس کی آستینوں پر سلائی کی گئی ہو اور جو کچھ طوق جبہ پر کام کیا گیا جس کو"قبہ"کہاجاتاہے اور اسی طرح تکمہ اور گھنڈیاور یہی حکم ظاہر ہوتاہے ٹوپی کے کناروں پر نقش ونگار کا جبکہ وہ چوڑائی میں چار انگشت کی مقدار سے زیادہ نہ ہوں۔ اور جو کچھ گڈری کے کناروں اور اس کے پشت پر ہو اور جو کچھ سنہری نقش دار لباس کے کناروں پر کام کیا ہوا ہوخواہ سوئی کے ساتھ بیل بوٹے بنائے گئے ہوںچاہے بنے ہوئے ہوں یا پگڑی کے کناروں میں جس کو"صجق"کہا جاتاہے جوڑے گئے ہوں ان سب میں حرج نہیں۔بشرطیکہ چوڑائی میں بمقدار چار انگلی ہوں اگرچہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۹۔۲۳۸€
فاذا کانت منقشۃ بالحریر وکان احد نقوشہا اکثر من اربع اصابع لاتحل و ان کان اقل تحل وان زاد مجموع نقوشہا علی اربع اصابعوفی الہندیۃ تکرہ عصابۃ المفتصد وان کانت اقل من اربع اصابع لان اصل بنفسہ کذا فی التمرتاشی اھ ط اھ ملتقطااقول: وما وقف علیہ ط وامر بتحریرہ فھو بحمد اﷲ تعالی محرر عندی لاشبھۃ فیہ و لقدرأیتنی کتبت علی ھامشی نسختی ردالمحتار عند قولہ وھل حکم المتفرقالخ۔مانصہاقول:معلوم ان الحریر و الذھب والفضۃ کلھا متساویۃ فی حرمۃ البس حیث حرم فالترخیص فی لبس الحریر ترخیص فیہما واﷲ تعالی اعلم اھ۔ثم رأیت العلامۃ الشامی ذکر بعد نحو ورقتین عین ماذکرتہ وﷲ الحمد حیث قال"قد استوی کل من الذھب والفضۃ والحریر فی الحرمۃ فترخیص اس پر یشمی نقوش ہوں اور اس کا کوئی ایك نقش چار انگلیوں کی مقدار سے زیادہ ہوں تو جائز نہیں اور اگر کم ہو تو جائز ہے اگرچہ اس کے مجموعی نقوش چار انگلیوں کی مقدار سے بڑھ جائیں۔فتاوی ہندیہ یعنی عالمگیری میں ہے پچھنے لگوانے والے کی پٹی اگر چارا نگلیوں کی مقدار سے کم ریشمی ہوں تب بھی اس کا استعمال مکروہ ہے(اس لئے کہ وہ تابع نہیں۔بلکہ خود بذتہاصل ہے یونہی تمر تاشی میں مذکور ہے(طحطاوی کی عبارت پوری ہوگئی)۔میں(مراد صاحب فتاوی)کہتاہوں کہ جس میں علامہ طحطاوی نے توقف کیا تھا اور اس کی تحریر کا حکم دیا تھا بحمداﷲ تعالی وہ میرے نزدیك محرر ہے جس میں کوئی شبہہ نہیں۔بیشك میں نے ردالمحتار کے اپنے نسخہ کے حاشیہ میں علامہ موصوف کے قول ھل حکم المتفرق الخ جس کی موصوف نے تصریح فرمائیلکھا ہے۔میں کہتاہوں یہ تو معلوم ہے کہ ریشم سونا اور چاندی پہننے کی حرمت برابر ہے۔ کیونکہ سب کا استعمال کرنا حرام ہے۔لہذا ریشم کی رخصت ان سب کی رخصت ہے۔اﷲ تعالی خوب جانتاہے پھر میں نے علامہ شامی کو دیکھا کہ انھوں نے دو اوراق کے بعد بالکل وہی کچھ ذکر کیا جو کچھ میں نے ذکر کیا تھا اﷲ تعالی ہی لائق حمدوثنا ہے۔چنانچہ انھوں نے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۶۔۲۲۵€
جدالممتار علی ردالمحتار
جدالممتار علی ردالمحتار
العلم و الکفاف من الحریر تر خیص لہما من غیرہ ایضا بدلالۃ المساواۃ ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع وکذا کتابۃ الثوب بذھب او فضۃ الخ۔فہذا تحریرہ وﷲ الحمد۔ فرمایا سوناچاندی اور ریشم یہ سب حرام ہونے میں مساوی اور برابر ہیں۔لہذا ریشمی نقش ونگار اور کفاف(کناروں کا مخطوط ہونا)کی رخصت دینا بعینہ سونے چاندی کی رخصت دینا ہے۔ کیونکہ دلالت حرمت میں یہ سب برابر ہیںپس اس بات کی تائید گزشتہ عدم تفریق سے ہوتی ہے کہ سونے چاندی کے تاروں سے بنا ہوا کپڑا بمقدار چار انگشت مباح ہے اور سونے چاندی کی کتابت (تحریر)کابھی یہی حکم ہے۔ الخ۔ لہذا یہ ان کی تحریر ہے۔ خدا ہی کے لئے حمد وستائش ہے۔(ت)
ان عبارات سے بھی یہ واضح ہوا کہ چاندی سونے کے کام بشرائط مذکورہ ہر طرح جائز ہیں خواہ اصل کپڑے کی بناوٹ میں ہوں یا بعد کی کلابتوں کا مدانی وغیرہ سے بنائے جائیں خواہ کوئی جدا چیز۔جیسے فیتوں۔لیسبیچکبانکڑی وغیرہا ٹانکی جائےہاں یہ لحاظ رکھنا چاہئے کہ عورتوں یا بدوضع آوارہ فاسقوں کی مشابہت نہ پیدا ہومثلا مرد کو چولی دامن میں گوٹا پٹھا ٹانکنا مکروہ ہوگا اگر چہ چارانگلی سے زیادہ نہ ہو کہ وضع خاص فساق بلکہ زنانوں کی ہے۔علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص فاسقانہ وضع کے کپڑے یا جوتے سلوائے(جیسے ہمارے زمانے میں نیچری وردی)تو ددرزی اور موچی کو ان کا سینا مکروہ ہے کہ یہ معصیت پر اعانت ہے اس سے ثابت ہوا کہ فاسقانہ تراش کے کپڑے یا جوتے پہننا گناہ ہے۔
فی فتاوی الامام قاضیخاں ان الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من ذی الفساق ویطعی لہ فی ذلك کثیرا جرلا یستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ امام قاضی خاں کے فتاوی میں ہے کہ موچی اور درزی اگر بدکار لوگوں کی وضع کے مطابق جوتے اور کپڑے تیار کرنے کی اجرت مانگے اور اسے اس کام پر بہت زیادہ اجرت دی جائے تو اس کے لئے یہ کام کرنا مستحب نہیں رہتا کیونکہ اس میں گناہ پر مدد کرنا پایا جاتاہے۔(ت)
(۷)وہ کپڑے پہننے جن پر سونے چاندی کے پانی سے لکھا ہوجائزہے۔
(۸)یوہی جائز الاستعمال برتنوں وغیرہ پر ان کا ملمع
ان عبارات سے بھی یہ واضح ہوا کہ چاندی سونے کے کام بشرائط مذکورہ ہر طرح جائز ہیں خواہ اصل کپڑے کی بناوٹ میں ہوں یا بعد کی کلابتوں کا مدانی وغیرہ سے بنائے جائیں خواہ کوئی جدا چیز۔جیسے فیتوں۔لیسبیچکبانکڑی وغیرہا ٹانکی جائےہاں یہ لحاظ رکھنا چاہئے کہ عورتوں یا بدوضع آوارہ فاسقوں کی مشابہت نہ پیدا ہومثلا مرد کو چولی دامن میں گوٹا پٹھا ٹانکنا مکروہ ہوگا اگر چہ چارانگلی سے زیادہ نہ ہو کہ وضع خاص فساق بلکہ زنانوں کی ہے۔علماء فرماتے ہیں اگر کوئی شخص فاسقانہ وضع کے کپڑے یا جوتے سلوائے(جیسے ہمارے زمانے میں نیچری وردی)تو ددرزی اور موچی کو ان کا سینا مکروہ ہے کہ یہ معصیت پر اعانت ہے اس سے ثابت ہوا کہ فاسقانہ تراش کے کپڑے یا جوتے پہننا گناہ ہے۔
فی فتاوی الامام قاضیخاں ان الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من ذی الفساق ویطعی لہ فی ذلك کثیرا جرلا یستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ امام قاضی خاں کے فتاوی میں ہے کہ موچی اور درزی اگر بدکار لوگوں کی وضع کے مطابق جوتے اور کپڑے تیار کرنے کی اجرت مانگے اور اسے اس کام پر بہت زیادہ اجرت دی جائے تو اس کے لئے یہ کام کرنا مستحب نہیں رہتا کیونکہ اس میں گناہ پر مدد کرنا پایا جاتاہے۔(ت)
(۷)وہ کپڑے پہننے جن پر سونے چاندی کے پانی سے لکھا ہوجائزہے۔
(۸)یوہی جائز الاستعمال برتنوں وغیرہ پر ان کا ملمع
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰€
فی الہندیۃ لایکرہ لبس ثیاب کتب علیہا بالفضۃ والذھب وکذلك استعمال کل مموہ لانہ اذا زوب لم یخلص منہ شیئ کذا فی الینا بیع اھ وفی الدرحل کتابۃ الثوب بذھب اوفضۃ والمطلی لاباس بہ بالاجماع اھ ملخصا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ایسے کپڑے پہننے مکروہ نہیں کہ جن پر سونے یا چاندی سے کتابت کی گئی ہو اور اسی طرح تمام ملمع کاری والے کپڑوں کے استعمال کا یہی حکم ہے کیونکہ جب اسے ڈھالا جائےتو اس سے کچھ برآمد نہیں ہوتا ینابیع میں یہی مذکور ہے۔درمختار میں ہے کہ کپڑے پرسونے چاندی کی کتابت جائز ہے اور ملمع کاری میں بالاجماع کوئی مضائقہ نہیں اھ ملتقطا(ت)
(۹)اسی طرح کسی چیزمیں چاندی سونے کے تار پتر جوٹے ہونا بشرطیکہ وہ شیئ جس عضو سے استعمال میں آتی ہے اس عضو کی جگہ سے جدا ہوں مثلا گلاس یا کٹورے میں وہاں منہ لگا کر پانی نہ پئیں۔تختپلنگکرسیکاٹھی میں موضع نشست پر نہ ہوں رکاب میں پاؤں ان پر نہ رہے لگامتلوارنیزہتیر کمانبندوق قلمآئینہ کے گھرمیں ہاتھ کی گرفت سے الگ ہوںدمچی پوزی میں چاندی سونے کے پھول جائز کہ وہ جسم لگنے کی جگہ نہیں۔چھڑی میں نیچے کی شام روا اوپر کی ناجائز کہ وہ ہاتھ رکھنے کی جگہ ہےحقہ میں چاندی سونے کی منہنال حرام کہ پینے میں اس سے منہ لگتاہے مگر دہن نے سے نیچے سر کی ہو کہ اسے منہ ہاتھ نہ لگایا جائے تو رواہ وعلی ہذا القیاس اشیائے کثیرہ جنھیں بعد علم قاعدہ فہیم آدمی سمجھ سکتاہے اسی قلیل سے تھیں کواڑوںصندوققلمدانانگوٹھی کے رنگ میں سونے کی کیلیں جن کا ذکر اوپر گزرا۔
فی الدرالمختار حل الشرب من اناء مفضض ای مزوق بالفضۃ والرکوب علی سرج مفضض والجلوس علی کرسی مفضض لکن یشترط ان یتقی موضع الفضۃ بفم وجلوس ونحوہ وکذا الاناء المضبب بذھب او درمختار میں ہے جس برتن پر چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو اس سے پانی پینا جائز ہے اور چاندی کی ملمع کاری والی زین پر سوار ہونا اور اسی نوع کی کرسی پر بیٹھنا بھی جائز ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ جہاں چاندی پیوستہ ہو وہاں منہ نہ لگایا جائے اور نہ اس جگہ بیٹھے اورنہ سوار ہواسی طرح سے
(۹)اسی طرح کسی چیزمیں چاندی سونے کے تار پتر جوٹے ہونا بشرطیکہ وہ شیئ جس عضو سے استعمال میں آتی ہے اس عضو کی جگہ سے جدا ہوں مثلا گلاس یا کٹورے میں وہاں منہ لگا کر پانی نہ پئیں۔تختپلنگکرسیکاٹھی میں موضع نشست پر نہ ہوں رکاب میں پاؤں ان پر نہ رہے لگامتلوارنیزہتیر کمانبندوق قلمآئینہ کے گھرمیں ہاتھ کی گرفت سے الگ ہوںدمچی پوزی میں چاندی سونے کے پھول جائز کہ وہ جسم لگنے کی جگہ نہیں۔چھڑی میں نیچے کی شام روا اوپر کی ناجائز کہ وہ ہاتھ رکھنے کی جگہ ہےحقہ میں چاندی سونے کی منہنال حرام کہ پینے میں اس سے منہ لگتاہے مگر دہن نے سے نیچے سر کی ہو کہ اسے منہ ہاتھ نہ لگایا جائے تو رواہ وعلی ہذا القیاس اشیائے کثیرہ جنھیں بعد علم قاعدہ فہیم آدمی سمجھ سکتاہے اسی قلیل سے تھیں کواڑوںصندوققلمدانانگوٹھی کے رنگ میں سونے کی کیلیں جن کا ذکر اوپر گزرا۔
فی الدرالمختار حل الشرب من اناء مفضض ای مزوق بالفضۃ والرکوب علی سرج مفضض والجلوس علی کرسی مفضض لکن یشترط ان یتقی موضع الفضۃ بفم وجلوس ونحوہ وکذا الاناء المضبب بذھب او درمختار میں ہے جس برتن پر چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو اس سے پانی پینا جائز ہے اور چاندی کی ملمع کاری والی زین پر سوار ہونا اور اسی نوع کی کرسی پر بیٹھنا بھی جائز ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ جہاں چاندی پیوستہ ہو وہاں منہ نہ لگایا جائے اور نہ اس جگہ بیٹھے اورنہ سوار ہواسی طرح سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۴€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۷€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۷€
فضۃ والکرسی المضبب بہما وحلیۃ مرأۃ و مصحف بہما کما لو جعلہ فی نصل سیف اوسکین اوقبضتہا او لجام او رکاب ولم یضع یدہ موضع الذھب والفضۃ اھ ملخصا وفی ردالمحتار قولہ مفضض وفی حکمہ المذھب قہستانی قولہ ای مزوق وفسرہ الشمنی بالمرصع بھا قال فی غرر الافکار یجتنب فی المصحف ونحوہ موضع الاخذ وفی السرج ونحوہ موضع الجلوس وفی الرکاب موضع الرجل و فی الاناء موضع الفم ونحوہ فی ایضاح الا صلاح ویجتنب فی النصل والقبضۃ واللجام موضع الید فالحاصل ان المراد الاتقاء بالعضو الذی یقصد الاستعمال بہ ففی الشرب لما کان المقصود الاستعمال بالفم اعتبر الاتقاء بہ دون الیدولا یخفی ان الکلام فی المفضض والا فالذی کلہ فضۃ یحرم استعمالہ بای وجہ کان ولو بلامس جس برتن سے سونا چاندی پیوستہ ہوں اور وہ کرسی جس پر یہ دونوں لگے ہوئے ہوں شیشہ اور مصحف جن پر سونے چاندی کا زیور لپٹا ہوتلوار یا چھری کی دھار یا ان دونوں کے دستے لگان یا رکاب پر سونا چاندی لگے ہوں لیکن بوقت استعمال ان سے ہاتھ مس نہ ہوں تویہ سب جائز ہیں۔ردالمحتار میں ہے مصنف کا قول ای مزوقعلامہ شمنی نے اس کی تشریح "المرصع"(یعنی اس پر چاندی کا جڑاؤ ہو)سے فرمائی یعنی وہ جس پر چاندی جڑی ہوئی ہوغرر الافکار میں فرمایا مصحف اور اس جیسی کسی چیز(جس پر ہاتھ رکھنے والی جگہ پر سونا چاندی پیوستہ ہو)تو اس کے پکڑنے میں پرہیز کرے اور سونے چاندی کو مس نہ کرے۔اسی طرح زین یا کرسی جس کے بیٹھنے کی جگہ پر سونا چاندی لگا ہو تو اس سے پرہیز کرے یعنی اس پر نہ بیٹھنے اور رکاب میں پاؤں والی جگہ سونا چاندی ہو ت پاؤں نہ رکھے۔ اوربرتن میں منہ لگانے کی جگہ سونا چاندی ہو تو منہ نہ لگائے یعنی استعمال نہ کرے۔اور اسی طرح ایضاح الاصلاح میں ہے تیر کے پھل۔تلوار کے دستے اور لگام کوبھی بایں وجہ ہاتھ نہ لگائے اور اس سے بچے۔حاصل کلامیہ ہوا کہ اس حصہ جسم اور عضو کو بچایا جائے جو کسی شے کے استعمال کرنے میں مقصود ہوتاہے۔چونکہ
حوالہ / References
درمختار کتا ب الحظرولاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶ و ۲۳۷€
بالجسد بخلاف القصب الذی یلف علی طرف قبضۃ النتن فانہ تزویق فھو من المفضض فیعتبر اتقاؤہ بالید والفم ولایشبہ ذلك مایکون کلہ فضۃ کما ھو صریح کلامھم وھو ظاھر قولہ المضبب ای مشدد بالضباب وھی الحدیدۃ العریضۃ التی یضبب بھا وضبب بالفضۃ شدبھا مغربقولہ وحلیۃ مرأۃ الذی فی المنح والہدایۃ وغیرھما حلقۃ بالقاف قال فی الکفایۃ والمراد بہا التی تکون حوالی المرأۃ لا ماتاخذ المراۃ بیدھا فانہ مکروہ اتفاقا اھ ملتقطا وفی الہندیۃ لاباس بالمضبب من السریر اذالم یقعد علی الذھب والفضۃ وکذا الثغر اھ ملخصا۔ پینے کے لئے منہ کا استعمال مقصود ہوتاہے لہذا اس کے بچاؤ کا اعتبار ہوگا نہ کہ ہاتھ کااور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کلام سونے اور چاندی کی ملمع کاری میں ہے ورنہ جو چیز تمام کی تمام چاندی کی ہو اس کا استعمال تو سرے سے حرام ہے خواہ استعمال ہاتھ سے ہو یا بغیر ہاتھ لگائے ہو بخلاف اس کا نے کے جو تمباکو کے کانے کے کنارے پر لپیٹ دیا جاتاہے کیونہ وہ"تزویق"ہے جو مفضض میں شامل ہے لہذا ہاتھ اور منہ سے اس کے بچاؤ کا اعتبار ہوگا اور یہ اس کے مشابہ نہیں جو تمام چاندی ہو جیسا کہ فقہائے کرام کا صریح کلام ہے اوریہی ظاہر ہے مصنف کا ارشاد المضبب یعنی ضباب کے ساتھ باندھاہوا۔اور ضباب وہ چوڑا لوہا ہوتاہے جس کے ساتھ کسی چیز کو باندھا جاتاہے"ضبب بالفضۃ"کے معنی ہیں چاندی کے ساتھ باندھا گیا(مغرب) قولہ حلیۃ المرأۃ منح الغفار اور ہدایہ وغیرہ میں یہ لفظ حلقۃ صرف قاف کے ساتھ ہے۔الکفایۃ میں فرمایا کہ اس سے شیشے کا آس پاس(یعنی چاروں اطراف)مراد ہیں نہ کہ وہ جگہ جس کو عورت اپنے ہاتھ سے پکڑتی ہے کیونکہ وہ تو بالاتفاق مکروہ ہے(ملحض مکمل ہوا)فتاوی ہندیہ میں ہے کہ سونے چاندی کے تاروں سے جڑا اور کسا ہوا تخت استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ سونے چاندی والی جگہ پر بیٹھنے سے پرہیز کرے۔(ت)
یہاں تك جن چیزوں کا جواز بیان ہوا یہ سب اور ان کے سوا بعض اور بھی چاندی سونے دونوں کی جائز ہیں۔اور بعض اشیاء وہ ہیں کہ سونے کی حرام اور چاندی کی جائز انھیں
یہاں تك جن چیزوں کا جواز بیان ہوا یہ سب اور ان کے سوا بعض اور بھی چاندی سونے دونوں کی جائز ہیں۔اور بعض اشیاء وہ ہیں کہ سونے کی حرام اور چاندی کی جائز انھیں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیرت ∞۷ /۲۱۸و ۲۱۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۴€
میں انگشتری ہے جس سے سائل نے سوال کیا۔شرعا چاندی کی ایك انگوٹھی ایك نگ کی کہ وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو پہننا جائز ہے اگر چہ بے حاجت مہر اس کا ترك افضل ہے۔اور مہر کی غرض سے خالی جواز نہیں بلکہ سنت ہے ہاں تکبر یا زنانہ پن کا سنگار یا اور کوئی غرض مذموم نیت میں ہو تو ایك انگوٹھی کیااس نیت سے اچھے کپڑے پہننے بھی جائز نہیں اس کی بات جدا ہے۔یہ قید ہر جگہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ سارا دارومدارنیت پر ہے۔
فی الدرالمختار یتحلی الرجل بخاتم فضۃ اذالم یرد بہ التزین ویحرم بغیرھا وترك التختم لغیر ذی حاجۃ افضل وکل مافعل تجبرا کرہ وما فعل لحاجۃ لا اھملتقطا وفی الہندیۃ لبس الثیاب الجمیلۃ مباح اذ الم یتکبر وتفسیرہ ان یکون معہا کما کان قبلھا کذا فی السراجیہ اھاقول:وبما فسرت التزین ظھر الجواب عما اورد العلامۃ الشامی علی استثنائہ انہ سیاتی ان ترك التختم لمن لایحتاج الی الختم افضل وظاھرہ انہ لایکرہ للزینۃ بلا تجبر اھ یعنی ان درمختار میں ہے کہ آدمی چاندی کی انگوٹھی پہن سکتاہے بشرطیکہ نیت زیب وزنیت کی نہ ہواور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی انگوٹھیاں پہننا حرام ہے۔جس کو پہنے کی ضرورت نہ ہو اس کے لئے انگوٹھی نہ پہننا زیادہ بہتر ہے اور جو کام تکبر کی وجہ سے کیا جائے مکروہ ہے اور جو کام کسی ضرورت کے تحت کیا جائے وہ مکروہ نہیں بلکہ جائز ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے کہ اچھا لباس پہننا مباح ہے جبکہ تکبرنہ کیا جائے اور تکبر نہ ہونے کی تشریح یا علامت یہ ہے کہ عمدہ لباس پہننے کے بعد بھی وہی حالت و کیفیت ہو جو پہلے تھی۔ یونہی سراجیہ میں بھی مذکور ہےمیں کہتاہوں کہ جو کچھ میں نے"تزئین"کی تشریح کی ہے اس کے استثناء تزئین پر علامہ شامی کے اشکال کا جواب واضح ہوگیا کہ عنقریب آئیگا کہ بغیر حاجت انگوٹھی نہ پہننا(ترك تختم)انگوٹھی پہننے سے بہتر ہے اس سے ظاہر ہے کہ زینت کے لئے پہننا مکروہ نہیں اھ یعنی اس مسئلہ سے معلوم ہوتاہے کہ بغیر حاجت انگوٹھی پہننے سے زیب وزینت کے علاوہ کوئی غرض نہیں ہوتی۔مجھے یاد ہے کہ میں نے
فی الدرالمختار یتحلی الرجل بخاتم فضۃ اذالم یرد بہ التزین ویحرم بغیرھا وترك التختم لغیر ذی حاجۃ افضل وکل مافعل تجبرا کرہ وما فعل لحاجۃ لا اھملتقطا وفی الہندیۃ لبس الثیاب الجمیلۃ مباح اذ الم یتکبر وتفسیرہ ان یکون معہا کما کان قبلھا کذا فی السراجیہ اھاقول:وبما فسرت التزین ظھر الجواب عما اورد العلامۃ الشامی علی استثنائہ انہ سیاتی ان ترك التختم لمن لایحتاج الی الختم افضل وظاھرہ انہ لایکرہ للزینۃ بلا تجبر اھ یعنی ان درمختار میں ہے کہ آدمی چاندی کی انگوٹھی پہن سکتاہے بشرطیکہ نیت زیب وزنیت کی نہ ہواور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی انگوٹھیاں پہننا حرام ہے۔جس کو پہنے کی ضرورت نہ ہو اس کے لئے انگوٹھی نہ پہننا زیادہ بہتر ہے اور جو کام تکبر کی وجہ سے کیا جائے مکروہ ہے اور جو کام کسی ضرورت کے تحت کیا جائے وہ مکروہ نہیں بلکہ جائز ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے کہ اچھا لباس پہننا مباح ہے جبکہ تکبرنہ کیا جائے اور تکبر نہ ہونے کی تشریح یا علامت یہ ہے کہ عمدہ لباس پہننے کے بعد بھی وہی حالت و کیفیت ہو جو پہلے تھی۔ یونہی سراجیہ میں بھی مذکور ہےمیں کہتاہوں کہ جو کچھ میں نے"تزئین"کی تشریح کی ہے اس کے استثناء تزئین پر علامہ شامی کے اشکال کا جواب واضح ہوگیا کہ عنقریب آئیگا کہ بغیر حاجت انگوٹھی نہ پہننا(ترك تختم)انگوٹھی پہننے سے بہتر ہے اس سے ظاہر ہے کہ زینت کے لئے پہننا مکروہ نہیں اھ یعنی اس مسئلہ سے معلوم ہوتاہے کہ بغیر حاجت انگوٹھی پہننے سے زیب وزینت کے علاوہ کوئی غرض نہیں ہوتی۔مجھے یاد ہے کہ میں نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۲€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی اللبس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۲€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی اللبس دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
المسئلۃ تفید الجواز من دون حاجۃ الختم وح لم یبق غرض الاالتزین ورأیتنی کتبت علی ہامشہ ما نصہ اقول:قد فرق وان مسئلۃ الاکتحال بین الزینۃ والجمال فہلا یراد بہ مثلہ بھا فیباح التجمل دون الترین اھ وحاصل مااشرت الیہ ان الزینۃ تطلق ویراد بہا مایعم الجمال وھو جائز بل مندوب الیہ بنیۃ حسنۃ فان اﷲ جمیل یحب الجمال وھو اثرادب النفس وسہا متھا وتطلق ویراد بہا ماینحو التخنث والتصنع مثل المرأۃ وھو مذموم ودلیل علی ضعف النفس ودناء تھا ویرشدك الی الاطلاقین قول علمائنا لایکرہ دھن شارب ولا کحل اذا لم یقصد الزینۃ وقولھم کما فی الفتح بالخضاب وردت السنۃ ولم یکن لقصد الزینۃ مع قولہ تعالی قل من حرم زینۃ اﷲ فلیکن اس کے حاشیہ پر لکھا جس کی عبارت یہ ہے اقول: میں کہتا ہوں اہل علم نے سرمہ کے مسئلے میں زینت اور جمال کے درمیان فرق کیا ہے پس یہی معنی ممانثل یہاں کیوں نہیں مرادلیا جاتا۔لہذا تجمل کے لئے یہ کام مباح ہو نہ کہ زیب و زینت کے لئے اھ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کبھی لفظ زینت بول کر اس سے وہ معنی مراد لیا جاتاہے جو لفظ جمال سے لیا جاتاہے اور وہ جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔بشرطیکہ نیت اچھی ہو کیونکہ اﷲ تعالی جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے یہ ادب نفس اور اس کے حصہ کا اثر ہے کبھی لفظ زینت کااطلاق کیا جاتاہے اور اس سے تخنث ہیجڑاپن) اور تصنع(بناوٹ و نمائش)کا مفہوم مراد ہوتاہے۔جیسا کہ یہ جذبہ عورتوں میں زیادہ پایاجاتاہے۔اور یہ مذموم ہے اور نفس کی کمزوریکمینگی اور گھٹیا پن کی علامت ہے۔پس علمائے کرام کی طرف سے ان الفاظ کے دونوں اطلاق کی وضاحت تمھاری راہنمائی کرے گی۔مونچھوں کو تیل لگانا اور سرمہ آنکھوں میں لگانا مکروہ نہیں جبکہ زینب وزینت
حوالہ / References
جدالممتار علی ردالمحتار
الدالمختار کتا ب الصوم باب مایفسد الصوم وما لایفسد الصوم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۲€
فتح القدیر کتا ب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۷۰€
القرآن الکریم ∞۷ /۳۲€
الدالمختار کتا ب الصوم باب مایفسد الصوم وما لایفسد الصوم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۲€
فتح القدیر کتا ب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۷۰€
القرآن الکریم ∞۷ /۳۲€
المراد ھناھو المعنی الثانی فلا ایراد ولاتخالف واﷲ تعالی الموفق ھذا فی ردالمحتار التختم سنۃ لمن یحتاج الیہ کما فی الاختیار وانما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیأۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان او اکثر حرم اھ ملخصا۔ مقصو د نہ ہوفتح القدیر میں ہے کہ خضاب لگانے کا ذکر حدیث میں وادرد ہو اہے جبکہ زینت کے ارادہ سے نہ ہو باوجود یہ کہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے"کس نے اﷲ تعالی کی زینت کو حرام ٹھہرایا ہے"اﷲ تعالی ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔ردالمحتار میں ہے کہ عورتوں کے لئے انگوٹھی پہننا سنت ہے انھیں اس کی ضرورت اور حتیاج ہوتی ہے جیسا کہ الاختیار میں ہے چاندی کی انگوٹھی مردوں کے لئے جائز ہے بشرطیکہ انگوٹھی مردانہ وضع کی ہو اور اس کے نگینے دو یا دو سے زیادہ ہوں تو اس کا استعمال ممنوع اور حرام ہے اھ ملخصا(ت)
(۱۰)یوہیں چاندی کی پیٹی (۱۱)کمر بند (۱۲)تلوار کا پرتلا جائز
فی الدرالمختار ولا یتحلی الرجل بذھب وفضۃ مطلقا الا بخاتم ومنطقۃ وحلیۃ سیف منھا ای الفضۃ اھوفی رد المحتار وحمائلہ من جملۃ حلیتہ شرنبلالیۃ اھ قلت ومثلہ للطحطاوی عن ابن السعود عن الشرنبلالی عن البزازیۃ وعنہا نقل فی الہندیۃ وقال فی الغرائب لاباس باستعمال منطقۃ حلقنا ھافضۃ ۔ درمختار میں ہے کوئی آدمی مطلقا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے بجز چاندی کی انگوٹھی کے یا کمر بند(پیٹی یا بیلٹ)اور تلوار کو دستہ بھی استعمال کرنا مذکورہ دھاتوں کے سے جائز ہے اھ۔ ردالمحتار(فتاوی شامی)میں ہے کہ تلوار کا پر تلا از قسم زیور ہے۔ شربنلالیہ۔قلت(میں کہتاہوں)یوں ہی طحطاوی میں مذکور ہے ابوالسعود بحوالہ شربنلالی اس نے فتاوی بزازیہ سے اس سے فتاوی ہندیہ میں نقل کیا گیا ہے کہ الغرائب میں فرمایا ایسے کمر بند(پیٹی یاا بیلٹ)کے استعمال کرنے کوئی حرج نہیں ہے
(۱۰)یوہیں چاندی کی پیٹی (۱۱)کمر بند (۱۲)تلوار کا پرتلا جائز
فی الدرالمختار ولا یتحلی الرجل بذھب وفضۃ مطلقا الا بخاتم ومنطقۃ وحلیۃ سیف منھا ای الفضۃ اھوفی رد المحتار وحمائلہ من جملۃ حلیتہ شرنبلالیۃ اھ قلت ومثلہ للطحطاوی عن ابن السعود عن الشرنبلالی عن البزازیۃ وعنہا نقل فی الہندیۃ وقال فی الغرائب لاباس باستعمال منطقۃ حلقنا ھافضۃ ۔ درمختار میں ہے کوئی آدمی مطلقا سونے اور چاندی کا زیور نہ پہنے بجز چاندی کی انگوٹھی کے یا کمر بند(پیٹی یا بیلٹ)اور تلوار کو دستہ بھی استعمال کرنا مذکورہ دھاتوں کے سے جائز ہے اھ۔ ردالمحتار(فتاوی شامی)میں ہے کہ تلوار کا پر تلا از قسم زیور ہے۔ شربنلالیہ۔قلت(میں کہتاہوں)یوں ہی طحطاوی میں مذکور ہے ابوالسعود بحوالہ شربنلالی اس نے فتاوی بزازیہ سے اس سے فتاوی ہندیہ میں نقل کیا گیا ہے کہ الغرائب میں فرمایا ایسے کمر بند(پیٹی یاا بیلٹ)کے استعمال کرنے کوئی حرج نہیں ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دراحیاء التراث لعربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴€۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲،€حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس درالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۸۰€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴€۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲،€حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس درالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۸۰€
(۱۳)ہلتے دانتوں میں چاندی کا تارباندھنا۔
(۱۴)افتادہ دانت کی جگہ چاندی کا دانت لگانا جائزاور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك سونے کے تار اور دانت بھی روا۔
فی الدرالمختار لایشد سنہ المتحرك بذھب بل بفضۃ وجوز ھما محمد اھ وفی ردالمحتار عن التاتارخانیۃ جدع اذ نہ او سقط سنہ فعند الامام یتخذ ذلك من الفضۃ فقط وعند محمد من الذھب ایضا اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے کہ ہلتے ہوئے دانت چاندی سے نہ کہ سونے کی تاروں سے مضبوط نہ کئے جائیں لیکن امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے دونوں سے جائز قرار د یاہے فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کان کٹ جائے یا دانت گر جائے تو امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ صرف چاندی کے بنا کر لگائے جائیں جبکہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك سونے کے لگانے بھی جائز ہیں اھ ملخصا۔(ت)
(۱۵)صاحبین رحمۃ اﷲ تعالی علیہما حالت جہاد میں سونے چاندی کے خودزرہدستانے بھی جائز رکھتے ہیں مگر امام رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك ناجائز۔
فی الدر المختار استثنی القہستانی وغیرہ استعمال البیضۃ والجوشن والساعدان منہما فی الحرب للضرورۃ اھ وفی خزانۃ المفتین لاباس بالجوشن و البیضۃ من الذھب و الفضۃ فی الحرب اھ وفی رد المحتار قال فی الذخیرۃ قالوا ھذا قولھما الخ۔ درمختار میں ہے قہستانی وغیرہ نے جنگی ضرورت کے پیش نظر سونے چاندی کا خودذرہاور دستانوں کا استعمال جائز قرار دیا ہے خزانۃ المفتین میں ہے جنگ میں سونے چاندی کی زرہ اور خود کے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور ردالمحتار میں ہے کہ ذخیرہ میں فرمایا گیا کہ لوگوں نے کہاں ہے کہ یہ قول امام صاحب کے دو۲(مایہ ناز)شاگردوں قاضی امام ابو یوسف اور امام محمد کا ہے الخ(ت)
(۱۴)افتادہ دانت کی جگہ چاندی کا دانت لگانا جائزاور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك سونے کے تار اور دانت بھی روا۔
فی الدرالمختار لایشد سنہ المتحرك بذھب بل بفضۃ وجوز ھما محمد اھ وفی ردالمحتار عن التاتارخانیۃ جدع اذ نہ او سقط سنہ فعند الامام یتخذ ذلك من الفضۃ فقط وعند محمد من الذھب ایضا اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے کہ ہلتے ہوئے دانت چاندی سے نہ کہ سونے کی تاروں سے مضبوط نہ کئے جائیں لیکن امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے دونوں سے جائز قرار د یاہے فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کان کٹ جائے یا دانت گر جائے تو امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ صرف چاندی کے بنا کر لگائے جائیں جبکہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك سونے کے لگانے بھی جائز ہیں اھ ملخصا۔(ت)
(۱۵)صاحبین رحمۃ اﷲ تعالی علیہما حالت جہاد میں سونے چاندی کے خودزرہدستانے بھی جائز رکھتے ہیں مگر امام رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك ناجائز۔
فی الدر المختار استثنی القہستانی وغیرہ استعمال البیضۃ والجوشن والساعدان منہما فی الحرب للضرورۃ اھ وفی خزانۃ المفتین لاباس بالجوشن و البیضۃ من الذھب و الفضۃ فی الحرب اھ وفی رد المحتار قال فی الذخیرۃ قالوا ھذا قولھما الخ۔ درمختار میں ہے قہستانی وغیرہ نے جنگی ضرورت کے پیش نظر سونے چاندی کا خودذرہاور دستانوں کا استعمال جائز قرار دیا ہے خزانۃ المفتین میں ہے جنگ میں سونے چاندی کی زرہ اور خود کے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور ردالمحتار میں ہے کہ ذخیرہ میں فرمایا گیا کہ لوگوں نے کہاں ہے کہ یہ قول امام صاحب کے دو۲(مایہ ناز)شاگردوں قاضی امام ابو یوسف اور امام محمد کا ہے الخ(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴۰€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۱۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۱۸€
اس تفصیل سے بحمدہ اﷲ تعالی نے اس تحریم مطلق کا بطلان بھی واضح ہوااور تمام اور مسئلہ کا جواب بھی لائح واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸: از مارہرہ مطہرہ مسئولہ ابوالقاسم حضرت سید اسمعیل صاحب دامت برکاتہم ۲۷ محرم ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاندی سونے کی گھڑیاں رکھنا یا سیم وزر کے چراغ میں بغرض بعض اعمال کے فتیلہ روشن کرنا جس سے روشنی لینا کہ مقصود متعارف چراغ ہے مردا نہیں ہوتا بلکہ قوت عمل وسرعت اثر وتنبیہ موکلات مقصو د ہوتی ہے۔جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ)
الجواب:
دونوں ممنوع ہیں علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختارمیں فرماتے ہیں:
قال العلامۃ الوافی المنھی عنہ استعمال الذھب و الفضۃ اذالاصل فی ھذا الباب قولہ علیہ الصلوۃ و السلام ھذان حرامان علی ذکور امتی حل لاناثھم و لما بین ان المراد من قولہ حل لاناثھم مایکون حلیا لھن بقی ماعداہ علی حرمتہ سواء استعمل بالذات او بالواسطۃ اھ واقرہ العلامۃ نوح و ایدہ باطلاق الاحادیث الواردۃ فی ھذا الباب اھ ابوا لسعود ومنہ تعلم حرمۃ استعمال ظروف فناجین القھوۃ و الساعات من الذھب والفضۃ اھ ملخصا۔ علامہ وافی نے فرمایا کہ سونے چاندی کا استعمال ممنوع ہے اس لئے کہ اصل اس باب میں حضور علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے: یعنی سوناچاندی دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں البتہ ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں اور جب یہ بیان کیا گیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد"حل لاناثھم" (ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ت)سے مراد وہ سونا چاندی ہے جو عورتوں کے لئے بطور زیور ہوتوپھر اس کے علاوہ باقی سونا چاندی خواہ بالذات استعمال کیا جائے یا بالواسطہاپنی حرمت پر رہے گا اھ علامہ نوح نے اسی کو برقرار رکھا اور مطلق حدیثوں سے اس کی تائید کی جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں۔ ابوسعود کی عبارت پوری ہوئی۔لہذا اس سے قہوہ کی پیالیوں اور سونے چاندی کی گھڑیوں کی حرمت معلوم ہوئی۔تلخیص پوری ہوگئی۔(ت)
مسئلہ ۱۸: از مارہرہ مطہرہ مسئولہ ابوالقاسم حضرت سید اسمعیل صاحب دامت برکاتہم ۲۷ محرم ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چاندی سونے کی گھڑیاں رکھنا یا سیم وزر کے چراغ میں بغرض بعض اعمال کے فتیلہ روشن کرنا جس سے روشنی لینا کہ مقصود متعارف چراغ ہے مردا نہیں ہوتا بلکہ قوت عمل وسرعت اثر وتنبیہ موکلات مقصو د ہوتی ہے۔جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ)
الجواب:
دونوں ممنوع ہیں علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختارمیں فرماتے ہیں:
قال العلامۃ الوافی المنھی عنہ استعمال الذھب و الفضۃ اذالاصل فی ھذا الباب قولہ علیہ الصلوۃ و السلام ھذان حرامان علی ذکور امتی حل لاناثھم و لما بین ان المراد من قولہ حل لاناثھم مایکون حلیا لھن بقی ماعداہ علی حرمتہ سواء استعمل بالذات او بالواسطۃ اھ واقرہ العلامۃ نوح و ایدہ باطلاق الاحادیث الواردۃ فی ھذا الباب اھ ابوا لسعود ومنہ تعلم حرمۃ استعمال ظروف فناجین القھوۃ و الساعات من الذھب والفضۃ اھ ملخصا۔ علامہ وافی نے فرمایا کہ سونے چاندی کا استعمال ممنوع ہے اس لئے کہ اصل اس باب میں حضور علیہ السلام کا یہ ارشاد ہے: یعنی سوناچاندی دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں البتہ ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں اور جب یہ بیان کیا گیا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد"حل لاناثھم" (ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ت)سے مراد وہ سونا چاندی ہے جو عورتوں کے لئے بطور زیور ہوتوپھر اس کے علاوہ باقی سونا چاندی خواہ بالذات استعمال کیا جائے یا بالواسطہاپنی حرمت پر رہے گا اھ علامہ نوح نے اسی کو برقرار رکھا اور مطلق حدیثوں سے اس کی تائید کی جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں۔ ابوسعود کی عبارت پوری ہوئی۔لہذا اس سے قہوہ کی پیالیوں اور سونے چاندی کی گھڑیوں کی حرمت معلوم ہوئی۔تلخیص پوری ہوگئی۔(ت)
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۲€
علامہ شامی ردالمحتار میں ان تصریحات علامہ طحطاوی کو ذکر کرکے فرماتے ہیں:وھو ظاھر (اور یہ ظاہر ہے۔ت)اسی میں ہے:
الذی کلۃ فضۃ یحرم استعمال بای وجہ کان کما قد مناہ ولو بلامس بالجسد ولذا حرم ایقاد العود فی مجمرۃ الفضۃ کما صرح بہ فی الخلاصۃ ومثلہ بالاولی ظروف فنجان القہوۃ والساعۃ وقدرۃ التنباك التی یوضع فیہا الماء وان کان لایمسھا بیدہ ولا بفمہ لان استعمال فیما صنعت لہ الخ۔ جو چیز مکمل چاندی ہے جس طریقے سے بھی اس کا استعمال کیا جائے حرام ہے۔جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا اگر چہ جس سے مس نہ ہویہی وجہ ہے کہ چاندی کی انگیٹھی میں"عود"جلانا حرام ہے جیسا کہ خلاصہ میں اس کی تصریح کی گئی اوریہ بطریق اولی اس کی طرح ہے کہ قہوے کی پیالیاں گھڑی اور حقہ کے زیریں حصہ کا استعمال جس میں پانی ڈالا جاتاہے اگر چہ اسے ہاتھ یا منہ سے مس نہ کرے اس لئے کہ جس مقصد کے لئے یہ چیزیں بنائی گئیں ان میں ان کا استعمال ہورہا ہے۔ الخ (ت)
اوریہ عذر کہ چراغ استصباح یعنی روشنی لینے کے لئے ہوتا ہے اوریہاں اس نیت سے مستعمل نہیں تو جوازچاہیے۔
لما فی الدرالمختار ان ھذا استعملت ابتداء فیما صنعت لہ بحسب متعارف الناس والا فلا کراھۃ ۔ اس دلیل سے کہ درمختار میں ہے کہ یہ حکم رتب ہے جب ابتداء جس مقصد کے لئے چیز بنائی گئی لوگوں کے تعارف کے مطابق اس میں استعمال کی جائے ورنہ کراہت نہ ہوگی۔(ت)
نامقبول ہے کہ اولا: عندالتحقیق مطلق استعمال ممنوع ہے اگر چہ خلاف متعارف ہے لا طلاق الا حادیث والادلۃ کما مر(اس لئے کہ اس باب میں احادیث اور دلائل بغیر کسی قید کے مطلق ہیں۔جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ت)کٹو را پانی پینے کے لئے بنتاہے اور رکابی کھانا کھانے کوپھر کوئی نہ کہے گا کہ چاندی سونے کے کٹورے میں کھانا کھانا یا اس کی رکابی میں پانی پینا جائز ہے۔علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں
الذی کلۃ فضۃ یحرم استعمال بای وجہ کان کما قد مناہ ولو بلامس بالجسد ولذا حرم ایقاد العود فی مجمرۃ الفضۃ کما صرح بہ فی الخلاصۃ ومثلہ بالاولی ظروف فنجان القہوۃ والساعۃ وقدرۃ التنباك التی یوضع فیہا الماء وان کان لایمسھا بیدہ ولا بفمہ لان استعمال فیما صنعت لہ الخ۔ جو چیز مکمل چاندی ہے جس طریقے سے بھی اس کا استعمال کیا جائے حرام ہے۔جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا اگر چہ جس سے مس نہ ہویہی وجہ ہے کہ چاندی کی انگیٹھی میں"عود"جلانا حرام ہے جیسا کہ خلاصہ میں اس کی تصریح کی گئی اوریہ بطریق اولی اس کی طرح ہے کہ قہوے کی پیالیاں گھڑی اور حقہ کے زیریں حصہ کا استعمال جس میں پانی ڈالا جاتاہے اگر چہ اسے ہاتھ یا منہ سے مس نہ کرے اس لئے کہ جس مقصد کے لئے یہ چیزیں بنائی گئیں ان میں ان کا استعمال ہورہا ہے۔ الخ (ت)
اوریہ عذر کہ چراغ استصباح یعنی روشنی لینے کے لئے ہوتا ہے اوریہاں اس نیت سے مستعمل نہیں تو جوازچاہیے۔
لما فی الدرالمختار ان ھذا استعملت ابتداء فیما صنعت لہ بحسب متعارف الناس والا فلا کراھۃ ۔ اس دلیل سے کہ درمختار میں ہے کہ یہ حکم رتب ہے جب ابتداء جس مقصد کے لئے چیز بنائی گئی لوگوں کے تعارف کے مطابق اس میں استعمال کی جائے ورنہ کراہت نہ ہوگی۔(ت)
نامقبول ہے کہ اولا: عندالتحقیق مطلق استعمال ممنوع ہے اگر چہ خلاف متعارف ہے لا طلاق الا حادیث والادلۃ کما مر(اس لئے کہ اس باب میں احادیث اور دلائل بغیر کسی قید کے مطلق ہیں۔جیسا کہ پہلے گزر چکا۔ت)کٹو را پانی پینے کے لئے بنتاہے اور رکابی کھانا کھانے کوپھر کوئی نہ کہے گا کہ چاندی سونے کے کٹورے میں کھانا کھانا یا اس کی رکابی میں پانی پینا جائز ہے۔علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۱۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۔۲۱۸€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۔۲۱۸€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶€
ماذکرہ فی الدرر من اناطۃ الحرمۃ بالاستعمال فیما صنعت لہ عرفا فیہ نظر فانہ یقتضی انہ لو شرب او اغتسل بانیۃ الدھن او الطعام انہ لایحرم مع ان ذلك استعمال بلاشبھۃ داخل تحت اطلاق المتون و الادلۃ الواردۃ فی ذلك الخ۔ جو کچھ درر میں بیان فرمایا کہ حرمت کا مدار عرفا اس کی بناوٹ کے مطابق استعمال کرنے پر ہے۔اس پر ایك اشکال ہے اس لئے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی پانی پئےیا غسل کرے تیل اور کھانے کے برتن میں توحرمت نہ ہوں حالانکہ یہ بلا شبہہ استعمال ان متون اور دلائل کے اطلاق کے نیچے داخل ہے جو اس سلسلہ میں وارد ہوئے ہیں الخ(ت)
ثانیا: استصباح چراغ خانہ سے مقصود ہوتاہے یہ چراغ اس غرض کے لئے بنتاہی نہیںاور جس غرض کے لئے بنتاہے اس میں استعمال قطعا متحقق تو استعمال فیما صنح لہ موجود ہے اورحکم تحریم سے مفر مفقود ہاں اگر سونے یا چاندی کی قلعی کرلیں تو کچھ حرج نہیں۔علامہ عینی فرماتے ہیں:
اما التمویہ الذی لایخلص فلا باس بہ بالاجماع لانہ مستھلك فلا عبرۃ ببقائہ لونا انتہی واﷲ تعالی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ رہی وہ ملمع سازی کہ جس کا چھٹکارا نہ ہو تو بالاجماع اس کے ہونے میں کچھ حرج نہیں اس لئے کہ وہ اصالتا ہلاك شدہ ہے لہذا اس کی رنگت کا باقی رہنا معتبر نہیں۔عبارت پوری ہوئی۔ اور اﷲ تعالی ٹھیك بات کو خوب جانتاہے اور اسی کی طرف جائے رجوع اور ٹھکانہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مردوں کو چاندی کا چھلا ہاتھ یا پاؤں میں پہننا کیسا ہے بینوا تروجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
حرام ہے
فقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الذھب والنضۃ انھما محرمان علی سونے چاندی کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:یہ دونوں میری امت کے مردوں
ثانیا: استصباح چراغ خانہ سے مقصود ہوتاہے یہ چراغ اس غرض کے لئے بنتاہی نہیںاور جس غرض کے لئے بنتاہے اس میں استعمال قطعا متحقق تو استعمال فیما صنح لہ موجود ہے اورحکم تحریم سے مفر مفقود ہاں اگر سونے یا چاندی کی قلعی کرلیں تو کچھ حرج نہیں۔علامہ عینی فرماتے ہیں:
اما التمویہ الذی لایخلص فلا باس بہ بالاجماع لانہ مستھلك فلا عبرۃ ببقائہ لونا انتہی واﷲ تعالی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ رہی وہ ملمع سازی کہ جس کا چھٹکارا نہ ہو تو بالاجماع اس کے ہونے میں کچھ حرج نہیں اس لئے کہ وہ اصالتا ہلاك شدہ ہے لہذا اس کی رنگت کا باقی رہنا معتبر نہیں۔عبارت پوری ہوئی۔ اور اﷲ تعالی ٹھیك بات کو خوب جانتاہے اور اسی کی طرف جائے رجوع اور ٹھکانہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مردوں کو چاندی کا چھلا ہاتھ یا پاؤں میں پہننا کیسا ہے بینوا تروجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
حرام ہے
فقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الذھب والنضۃ انھما محرمان علی سونے چاندی کے متعلق حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:یہ دونوں میری امت کے مردوں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۱۷€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الکراھیۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ∞۴ /۱۹۸€
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الکراھیۃ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ∞۴ /۱۹۸€
ذکور امتہ قلت ولایجوز القیاس علی خاتم الفضۃ لانہ لایختص بالنساء بخلاف مانحں فیہ فینھی عنہ الاتری الی مافی ردالمحتار عن شرح النقایۃ انما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیئۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان اواکثر حرم انتہی ولان الخاتم یکون للتزین وللختم اما ھذا فلاشیئ فیہ الاالتزین وقد قال فی الدرالمختار لایتحلی الرجل بفضۃ الا بخاتم اذا لم یرد بہ التزین اھ ملخصا۔وفی الکفایۃ قولہ الا بالخاتم ھذا اذا لم یرد بہ التزیین اھ انتہیواﷲ تعالی اعلم۔ پر حرام ہیں میں کہتاہوں اس کو چاندی کی انگوٹھی پرقیاس کرنا جائز نہیں(کہ یہ جائزہے تو وہ بھی جائز ہونا چاہئے)کیونکہ چاندی کی انگوٹھی عورتوں کے ساتھ مختص نہیں بخلاف اس کے جس کی ہم بحث کررہے ہیں(یعنی چاندی کا چھلا)کہ اس سے مردوں کو منع کیا جا ئے گا کیا تم اس کی طرف نہیں دیکھتے جو فتاوی شامی میں شرح نقایہ کے حوالے سے آیا ہے کہ چاندی کی انگوٹھی پہننا اگر مردانہ ہیئت کے مطابق ہو تو جائز ہے لیکن اگر اس کے دو یانگینے ہو تو حرام ہے اور اس لئے کہ انگوٹھی زیب وزینت اورمہر کے لئے ہوا کرتی ہے لیکن چھلے میں زیب وزینت کے علاوہ کوئی مقصدباقی نہیں رہتا حالانکہ درمختار میں فرمایا کہ مرد سرائے انگوٹھی کے چاندی کا کوئی زیور نہ پہنے اور اس سے بھی زیب وزینت مراد نہ ہوتلخیص پوری ہوگئیکفایہ میں ہے کہ مصنف کا یہ کہنا"الا بالخاتم" اس استشہاد کا جواز اس وقت ہے جبکہ انگوٹھی پہننے سے زیب وزینت کا ارادہ نہ ہوعبارت پوری ہوگئی اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد کو چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا ہےاور بے ضرورت مہر اس کا کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
مہر کے لئے چاندی کی انگوٹھی ایك مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم کی جسے مہر کی ضرورت
مسئلہ ۲۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد کو چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا ہےاور بے ضرورت مہر اس کا کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
مہر کے لئے چاندی کی انگوٹھی ایك مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم کی جسے مہر کی ضرورت
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۲€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الکراھیۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۴۵۷€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۰€
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الکراھیۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۴۵۷€
ہوتی ہو بے شبہہ مسنون اور سونے کی یاا یك مثقال سے زیادہ چاندی کی حراماور پورے مثقال بھر میں روایتیں مختلف۔اور حدیث سے صریح ممانعت ثابت تو اسی پر عمل چاہئے۔اور بے ضرور ت مہر ایسی انگشتری پہننا مکروہ تنزیہی بہتریہ کہ بچےاوریہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کی ہیئت انگشتری زنانہ سے جدا ہو ورنہ محض ناجائزجیسے ایك سے زیادہ نگ ہوتاہے کہ یہ صورت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
فی درالمحتار التختم سنۃ لمن یحتاج الیہ کما فی الاختیار قال القہستانی وفی الکرمانی نہی الحلوانی بعض تلامذتہ عنہ وقال اذا صرت قاضیا فتختم وفی البستان عن بعض التابعین لایختمالا ثلثۃ امیر او کاتب او احمق وظاہرہ انہ یکرہ لغیر ذ ی الحاجۃ لکن قول المصنف افضل کالہدایۃ وغیرہا بفید الجواز وعبر فی الدرر باولی وفی الاصلاح باحب فالنھی للتنزیہ الخ وفیہ قولہ ولایزیدہ علی مثقال قیل ولا یبلغ بہ المثقال ذخیرۃ اقول: ویؤیدہ نص الحدیث السابق من قولہ علیہ الصلوۃ والسلام ولاتتمہ فتاوی شامی میں ہے جس شخص کو مہر لگانے کی ضرورت ہو اسے انگوٹھی پہننا سنت ہے جیسا کہ"الاختیار"میں ہے قہستانی نے فرمایا کہ کرمانی میں ہے شمس الائمہ حلوانی نے اپنے بعض شاگردوں کو انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ جب تو قاضی بن جائے گا تو پھر مہر کی ضرورت کی وجہ سے انگوٹھی پہن لینابستان میں بعض تابعین سے مروی ہے کہ صرف تین آدمی انگوٹھی پہنتے ہیں:ایك امیردوسرا کاتب اور تیسرا بے وقوفاس کا بظاہر مفہوم یہ ہے کہ جو صاحب ضرورت نہ ہو اس کےلئے انگوٹھی پہننا مکروہ ہے لیکن مصنف کا قول ہدایہ وغیرہ کی طرح زیادہ عمدہ ہے۔جو جواز کا فائدہ دیتاہے چنانچہ درر میں لفظ"اولی"اور اصلاح میں لفظ "احب"سے تعبیر کی گئی یعنی نہ پہننا زیادہ پسندیدہ ہے۔ لہذا نہی تنزیہ کے لیے ہے الخ اور اسی میں ہے کہ مصنف کا قول "ولایزیدہ علی مثقال"یعنی مثقال سے زیادہ نہ ہواور یہ بھی کہا گیا کہ مثقال تك نہ پہنچے ذخیرہمیں کہتاہوں
فی درالمحتار التختم سنۃ لمن یحتاج الیہ کما فی الاختیار قال القہستانی وفی الکرمانی نہی الحلوانی بعض تلامذتہ عنہ وقال اذا صرت قاضیا فتختم وفی البستان عن بعض التابعین لایختمالا ثلثۃ امیر او کاتب او احمق وظاہرہ انہ یکرہ لغیر ذ ی الحاجۃ لکن قول المصنف افضل کالہدایۃ وغیرہا بفید الجواز وعبر فی الدرر باولی وفی الاصلاح باحب فالنھی للتنزیہ الخ وفیہ قولہ ولایزیدہ علی مثقال قیل ولا یبلغ بہ المثقال ذخیرۃ اقول: ویؤیدہ نص الحدیث السابق من قولہ علیہ الصلوۃ والسلام ولاتتمہ فتاوی شامی میں ہے جس شخص کو مہر لگانے کی ضرورت ہو اسے انگوٹھی پہننا سنت ہے جیسا کہ"الاختیار"میں ہے قہستانی نے فرمایا کہ کرمانی میں ہے شمس الائمہ حلوانی نے اپنے بعض شاگردوں کو انگوٹھی پہننے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ جب تو قاضی بن جائے گا تو پھر مہر کی ضرورت کی وجہ سے انگوٹھی پہن لینابستان میں بعض تابعین سے مروی ہے کہ صرف تین آدمی انگوٹھی پہنتے ہیں:ایك امیردوسرا کاتب اور تیسرا بے وقوفاس کا بظاہر مفہوم یہ ہے کہ جو صاحب ضرورت نہ ہو اس کےلئے انگوٹھی پہننا مکروہ ہے لیکن مصنف کا قول ہدایہ وغیرہ کی طرح زیادہ عمدہ ہے۔جو جواز کا فائدہ دیتاہے چنانچہ درر میں لفظ"اولی"اور اصلاح میں لفظ "احب"سے تعبیر کی گئی یعنی نہ پہننا زیادہ پسندیدہ ہے۔ لہذا نہی تنزیہ کے لیے ہے الخ اور اسی میں ہے کہ مصنف کا قول "ولایزیدہ علی مثقال"یعنی مثقال سے زیادہ نہ ہواور یہ بھی کہا گیا کہ مثقال تك نہ پہنچے ذخیرہمیں کہتاہوں
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
مثقالا انتہیوفی الہندیۃ عن المحیط ینبغی ان تکون فضۃ الخاتم المثقال ولایزاد علیہ وقیل لا یبلغ بہ المثقال وبہ ورود الاثر انتہی ۔وفی الخلاصہ انما یجوز التختم بالفضۃ اذا کان علی ھیئۃ ختم النساء بان کان لہ فصان اوثلثۃ یکرہ استعمالہ للرجال انتہی۔واﷲ تعالی اعلم۔ حدیث سابق کی تصریح اس کی تائید کرتی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ انگوٹھی پوری مثقال نہ ہو عبارت پوری ہوئی۔فتاوی ہندیہ محیط کے حوالے سے مذکور ہے مناسب یہ ہے کہ چاندی کی انگوٹھی صرف ایك مثقال ہو اس سے زیادہ نہ ہو اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ مثقال تك بھی نہ پہنچے چنانچہ اثر میں یہی وار دہوا ہے۔عبارت پوری ہوئی خلاصہ میں ہے چاندی کی انگوٹھی پہننا اس وقت جائز ہے جبکہ مردانہ انگوٹھیوں جیسی ہو لیکن اگر عورتوں کی انگوٹھیوں جیسی بنی ہو کہ اس میں دویاتین نگینے ہوں تو ایسی انگوٹھی کا مردوں کو استعمال کرنا مکروہ ہے عبارت پوری ہوئیاور اﷲ تعالی سب سے زیادہ جاننے والا ہے(ت)
مسئلہ ۲۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جھوٹے کام کا جوتا مردوزن کو پہننا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ جزئیہ کتب متداولہ میں فقیر غفرلہ اﷲ تعالی کی نظر سے نہ گزرا مگر بظاہر یہ ہے والعلم عنداﷲ(پورا علم اﷲ تعالی کے پاس ہے۔ت)کہ جھوٹے کا م کا جو تا مردوزن سب کے لئے مکروہ ہوناچاہئے۔
فن المنسوج کغیرہ ولا شك ان النعال عن انواع الملبوسات والنساء والرجل سواء فی کراھۃ لبس النحاس۔ اس لئے کہ بنی ہوئی چیز غیر بنی ہوئی کی طرح ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جوتا پہنی ہوئی چیزوں کی اقسام میں داخل ہے۔اور مرد عورتیں تانبے کے استعمال کے مکروہ ہونے میں برابر ہیں یعنی دونوں کے لئے مکروہ ہے۔(ت)
ہا سچے کام کا جوتا عورتوں کے لئے مطلقا جائز اور مردوں کے واسطے بشرطیکہ مغرق نہ ہو
مسئلہ ۲۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جھوٹے کام کا جوتا مردوزن کو پہننا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ جزئیہ کتب متداولہ میں فقیر غفرلہ اﷲ تعالی کی نظر سے نہ گزرا مگر بظاہر یہ ہے والعلم عنداﷲ(پورا علم اﷲ تعالی کے پاس ہے۔ت)کہ جھوٹے کا م کا جو تا مردوزن سب کے لئے مکروہ ہوناچاہئے۔
فن المنسوج کغیرہ ولا شك ان النعال عن انواع الملبوسات والنساء والرجل سواء فی کراھۃ لبس النحاس۔ اس لئے کہ بنی ہوئی چیز غیر بنی ہوئی کی طرح ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جوتا پہنی ہوئی چیزوں کی اقسام میں داخل ہے۔اور مرد عورتیں تانبے کے استعمال کے مکروہ ہونے میں برابر ہیں یعنی دونوں کے لئے مکروہ ہے۔(ت)
ہا سچے کام کا جوتا عورتوں کے لئے مطلقا جائز اور مردوں کے واسطے بشرطیکہ مغرق نہ ہو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب العاشرع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۳۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الرابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/۳۷۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب العاشرع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۳۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الرابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/۳۷۰€
نہ اس کی کوئی بوٹی چار انگل سےزیادہ کی ہو یعنی اگر متفرق کام کا ہے اور ہر بوٹی چار انگل یا کم کی تو کچھ مضائقہ نہیں اگر چہ جمع کرنے سے چار انگل سے زیادہ ہوجائےخلاصہ یہ ہے کہ جوتی اور ٹوپی کا ایك ہی حکم ہونا چاہئے۔
وفی الفتاوی الہندیۃ یکرہ ان یلبس الذکور قلنسوۃ من الحریر والذھب والفضۃ والکرباس الذی خیط علیہ ابریسم کثیر اوشیئ من الذھب اوالفضۃ اکثر من قدرا ربع اصابع انتھیقال العلامۃ الشامی وبہ یعلم حکم العرقیۃ المسماۃ بالطافیۃ فاذ کانت منقشۃ بالحریر وکان احد نقوشھا اکثر من اربع اصابع لاتحل وان کان اقل تحل وان زاد مجموع نقوشھا علی اربع اصابع بناء علی مامرمن ان ظاھر المذھب عدم جمع المتفرق انتہیوقد قال العلامۃ الشامی ایضا ان قد استوی کل من الذھب والفضۃ والحریر فی الحرمۃ فترخیص الحریر ترخیص غیرہ ایضا بدلائل المساواۃ ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع اھ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے مردوں کے لئے ریشم یا سونے یا چاندی کی ٹوپی پہننا مکروہ ہے اور اسی طرح وہ سوتی کہ جس پر زیادہ ترریشم کی سلائی کی گئی ہو _________ یا چار انگلیوں سے زیادہ سونا چاندی لگاہوا نتہی۔علامہ شامی نے فرمایا کہ ا سے پگڑی اور توپی کے نچلے کپڑے کا حکم معلوم کیا جاسکتاہے کہ جس کو "طافیہ"کہتے ہیں۔جب اس میں ریشمی نقوش ہوں اور اس کا کوئی ایك نقش چار انگشت سے زیادہ ہو تو اس کا استعمال جائز نہیں لیکن اگر اس سے کم ہو تو جائز ہے اگر چہ اس کے مجموعی نقوش چارانگلیوں سے زیادہ ہوجائیں۔یہ اس بناء پر ہے جیسا کہ گزر چکا کہ ظاہر مذھب میں متفرق کو جمع کرنا نہیں انتہی حالانکہ علامہ شامی نے یہ بھی فرمایا کہ سونا چاندی اور ریشم یہ سب حرمت میں برابر ہیں۔لہذا ریشم میں رخصت دوسری چیزوں کی رخصت کی طرح ہے دلالت مساوی ہونے کی وجہ سےاور گزشتہ کلام سے عدم فرق کی تائید ہوتی ہے کہ سونے کے تاروں سے بناہوا کپڑا چار انگلی تك مباح ہے اھ ملخصا۔
وفی الفتاوی الہندیۃ یکرہ ان یلبس الذکور قلنسوۃ من الحریر والذھب والفضۃ والکرباس الذی خیط علیہ ابریسم کثیر اوشیئ من الذھب اوالفضۃ اکثر من قدرا ربع اصابع انتھیقال العلامۃ الشامی وبہ یعلم حکم العرقیۃ المسماۃ بالطافیۃ فاذ کانت منقشۃ بالحریر وکان احد نقوشھا اکثر من اربع اصابع لاتحل وان کان اقل تحل وان زاد مجموع نقوشھا علی اربع اصابع بناء علی مامرمن ان ظاھر المذھب عدم جمع المتفرق انتہیوقد قال العلامۃ الشامی ایضا ان قد استوی کل من الذھب والفضۃ والحریر فی الحرمۃ فترخیص الحریر ترخیص غیرہ ایضا بدلائل المساواۃ ویؤید عدم الفرق مامر من اباحۃ الثوب المنسوج من ذھب اربعۃ اصابع اھ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے مردوں کے لئے ریشم یا سونے یا چاندی کی ٹوپی پہننا مکروہ ہے اور اسی طرح وہ سوتی کہ جس پر زیادہ ترریشم کی سلائی کی گئی ہو _________ یا چار انگلیوں سے زیادہ سونا چاندی لگاہوا نتہی۔علامہ شامی نے فرمایا کہ ا سے پگڑی اور توپی کے نچلے کپڑے کا حکم معلوم کیا جاسکتاہے کہ جس کو "طافیہ"کہتے ہیں۔جب اس میں ریشمی نقوش ہوں اور اس کا کوئی ایك نقش چار انگشت سے زیادہ ہو تو اس کا استعمال جائز نہیں لیکن اگر اس سے کم ہو تو جائز ہے اگر چہ اس کے مجموعی نقوش چارانگلیوں سے زیادہ ہوجائیں۔یہ اس بناء پر ہے جیسا کہ گزر چکا کہ ظاہر مذھب میں متفرق کو جمع کرنا نہیں انتہی حالانکہ علامہ شامی نے یہ بھی فرمایا کہ سونا چاندی اور ریشم یہ سب حرمت میں برابر ہیں۔لہذا ریشم میں رخصت دوسری چیزوں کی رخصت کی طرح ہے دلالت مساوی ہونے کی وجہ سےاور گزشتہ کلام سے عدم فرق کی تائید ہوتی ہے کہ سونے کے تاروں سے بناہوا کپڑا چار انگلی تك مباح ہے اھ ملخصا۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲€
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃفصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۵€
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃفصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃفصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۵€
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃفصل فی اللبس دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
ملخصا فافھم وتثبت اذبہ تحرر ماکان العلامۃ الطحطاوی متوقفافیہ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ لہذا سمجھئے اور ثابت رہئےا س سے وہ بھی تحریر ہوگیا جس میں علامہ طحطاوی نے توقف کیا تھا۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس کا علم جس کی بزرگی بڑی ہے زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۲: از کلتکہ دھر تلا نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام احمد قادر بیگ صاحب ۹/ ذی القعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سونےچاندیگلٹریشم کی چین گھڑی میں لگانا اور اسے لگاکر نماز پڑھنا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
سونے یا چاندی کے چین تومطلق منع ہے اگر چہ انگرکھے میں نہ لگائی جائے صرف کھونٹی میں لٹکائیں یا گھڑی کے بکس ہی میں گھڑی رکھیںاور جو چیز ممنوع ہے اس کے ساتھ نماز میں کراہت آئے گیاور گلٹ میں اگر چاندی زائد یا برابرہے تو اس کا حکم بھی چاندی کا ہے۔اور اگر تانبا غالب ہے تو اس میں اور ریشم کی چین میں میں جبکہ وہ انگر کھے میں نہ لگائی جائیں کوئی حرج نہیں۔رہا انگر کھے میں لگانا اگر یہ لگانا پہننے کے مشابہ ٹھہرے تو مکروہ ہوگا اور اس سے نما ز بھی مکروہ کہ پہننا تانبے اور ریشم کا ممنوع ہے اور جو ممنوع کے مشابہ ہے مکروہ ہے۔اور اگر پہننے کے مشابہ نہ ٹھہرے تو نہ اس میں حرج نہ نماز میں کراہتعلامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کا کلام اسی طرف ناظر کہ یہ پہننے سے مشابہ نہیں مگر فقیر کو اس میں تامل ہے اور وہ خود بھی اس پر جزم نہیں رکھتے اور اسے لکھ کر تامل کاحکم فرماتے ہیں توبہتر ہے اس سے احتراز ہی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳ و ۲۴: ا زکلکتہ دھر م تالہ نمبر ۶ مرسلہ جناب مرز اغلام قادر بیگ صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان دو مسئلوں میں:
(۱)ٹوپی جس پر ریشم یا کلابتوں کا کام ایسا ہو جس نے نصف سے زائد کپـڑا چھپا لیا ہواس کا پہننا جائز یا حرام اور جس کا تمام کپڑا چھپا لیا ہوا س کی نسبت کیاحکم ہے
(۲)ازار بند ریشم کا مرد کو جائز یا حرام اور اس کے پاجامہ میں ہونے سے نماز کا کیا حال
مسئلہ ۲۲: از کلتکہ دھر تلا نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام احمد قادر بیگ صاحب ۹/ ذی القعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سونےچاندیگلٹریشم کی چین گھڑی میں لگانا اور اسے لگاکر نماز پڑھنا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
سونے یا چاندی کے چین تومطلق منع ہے اگر چہ انگرکھے میں نہ لگائی جائے صرف کھونٹی میں لٹکائیں یا گھڑی کے بکس ہی میں گھڑی رکھیںاور جو چیز ممنوع ہے اس کے ساتھ نماز میں کراہت آئے گیاور گلٹ میں اگر چاندی زائد یا برابرہے تو اس کا حکم بھی چاندی کا ہے۔اور اگر تانبا غالب ہے تو اس میں اور ریشم کی چین میں میں جبکہ وہ انگر کھے میں نہ لگائی جائیں کوئی حرج نہیں۔رہا انگر کھے میں لگانا اگر یہ لگانا پہننے کے مشابہ ٹھہرے تو مکروہ ہوگا اور اس سے نما ز بھی مکروہ کہ پہننا تانبے اور ریشم کا ممنوع ہے اور جو ممنوع کے مشابہ ہے مکروہ ہے۔اور اگر پہننے کے مشابہ نہ ٹھہرے تو نہ اس میں حرج نہ نماز میں کراہتعلامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کا کلام اسی طرف ناظر کہ یہ پہننے سے مشابہ نہیں مگر فقیر کو اس میں تامل ہے اور وہ خود بھی اس پر جزم نہیں رکھتے اور اسے لکھ کر تامل کاحکم فرماتے ہیں توبہتر ہے اس سے احتراز ہی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳ و ۲۴: ا زکلکتہ دھر م تالہ نمبر ۶ مرسلہ جناب مرز اغلام قادر بیگ صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان دو مسئلوں میں:
(۱)ٹوپی جس پر ریشم یا کلابتوں کا کام ایسا ہو جس نے نصف سے زائد کپـڑا چھپا لیا ہواس کا پہننا جائز یا حرام اور جس کا تمام کپڑا چھپا لیا ہوا س کی نسبت کیاحکم ہے
(۲)ازار بند ریشم کا مرد کو جائز یا حرام اور اس کے پاجامہ میں ہونے سے نماز کا کیا حال
الجواب:
(۱)مغرق کہ تمام کپڑا کام میں چھپ گیا ہو یا ظاہر ہو تو خال خال کہ دور سے دیکھنے والے کو سب کام ہی نظرآئے مطلقا ناجائز ہے اگرچہ وہ ٹوپی عرض میں جارہی انگل یا اسسے بھی کم ہو یونہی اگر اس میں کوئی بیل بوٹا چارانگل عرض سے زائد ہو تو بھی ناجائز اگرچہ سارے کپڑے میں صرف یہی ایك بوٹی ہواور اگر یہ دونوں باتیں نہیں تو مطلقا جائز اگر چہ نصف سے زائد کپڑا کاام میں چھپا ہوا گرچہ متفرق بوٹیاں جمع کرنے سے چار انگل عرض سے زائدکو پہنچے۔
کل ذلك محقق فی فتاونا مستفادا من ردالمحتار وغیرہ من الاسفار۔واﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتار وغیرہ کتب معتبرہ سے استفادہ کرتے ہوئے اس تمام کی تحقیق ہمارے فتاوی میں کردی گئی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
(۲)مذھب صحیح پر ناجائز ہے کما فی العالمگیریۃ والطحطاویۃ وغیرہما(جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ اور طحطاوی وغیرہا میں ہے۔ت)
اور ناجائز کپڑا پہن کر نماز مکروہ تحریمی کہ اسے اتار کر پھر اعادہ کی جائے۔
کماھو معلوم من الفقۃ فی غیرما موضع نعم الجواز بمعنی الصحۃ حاصل وھو معنی مافی الہندیۃ عن التاتارخانیۃ عن جامع الفتاوی عن محمد بن سلمۃ من صلی مع تکۃ ابریسم جاز وھو مسیئ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ فقہ کے متعدد مقامات سے معلوم ہے ہاں جواز اگر صحت کے معنی میں ہو تو صحت حاصل ہے اور یہی معنی مراد ہے جو ہندیہ میں تاتارخانیہ سے بحوالہ جامع الفتاوی محمد بن سلمہ سے منقول ہے کہ جس نے ریشم کے ازاربند کے ساتھ نماز ادا کی جائزہے مگر وہ گنہگا رہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوہے یا تانبے کا چھلا یہ پہننا جائز ہے یانہیں اور بعض لوگ اس گمان سے پہنتے ہیں کہ ہمیں مہاسے وغیرہ کو مفید ہوتاہے انھیں بھی جائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
چاندی سونے کے سوا لوہےپیتلرانگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں چہ جائیکہ مردوں
(۱)مغرق کہ تمام کپڑا کام میں چھپ گیا ہو یا ظاہر ہو تو خال خال کہ دور سے دیکھنے والے کو سب کام ہی نظرآئے مطلقا ناجائز ہے اگرچہ وہ ٹوپی عرض میں جارہی انگل یا اسسے بھی کم ہو یونہی اگر اس میں کوئی بیل بوٹا چارانگل عرض سے زائد ہو تو بھی ناجائز اگرچہ سارے کپڑے میں صرف یہی ایك بوٹی ہواور اگر یہ دونوں باتیں نہیں تو مطلقا جائز اگر چہ نصف سے زائد کپڑا کاام میں چھپا ہوا گرچہ متفرق بوٹیاں جمع کرنے سے چار انگل عرض سے زائدکو پہنچے۔
کل ذلك محقق فی فتاونا مستفادا من ردالمحتار وغیرہ من الاسفار۔واﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتار وغیرہ کتب معتبرہ سے استفادہ کرتے ہوئے اس تمام کی تحقیق ہمارے فتاوی میں کردی گئی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
(۲)مذھب صحیح پر ناجائز ہے کما فی العالمگیریۃ والطحطاویۃ وغیرہما(جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ اور طحطاوی وغیرہا میں ہے۔ت)
اور ناجائز کپڑا پہن کر نماز مکروہ تحریمی کہ اسے اتار کر پھر اعادہ کی جائے۔
کماھو معلوم من الفقۃ فی غیرما موضع نعم الجواز بمعنی الصحۃ حاصل وھو معنی مافی الہندیۃ عن التاتارخانیۃ عن جامع الفتاوی عن محمد بن سلمۃ من صلی مع تکۃ ابریسم جاز وھو مسیئ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ فقہ کے متعدد مقامات سے معلوم ہے ہاں جواز اگر صحت کے معنی میں ہو تو صحت حاصل ہے اور یہی معنی مراد ہے جو ہندیہ میں تاتارخانیہ سے بحوالہ جامع الفتاوی محمد بن سلمہ سے منقول ہے کہ جس نے ریشم کے ازاربند کے ساتھ نماز ادا کی جائزہے مگر وہ گنہگا رہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوہے یا تانبے کا چھلا یہ پہننا جائز ہے یانہیں اور بعض لوگ اس گمان سے پہنتے ہیں کہ ہمیں مہاسے وغیرہ کو مفید ہوتاہے انھیں بھی جائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
چاندی سونے کے سوا لوہےپیتلرانگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں چہ جائیکہ مردوں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع فی اللبس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۲€
کے لئے اور عوام کا یہ احتراز خیال ممانعت شرع کو رفع نہیں کرسکتا کہ اگر ناجائز چیز کو دو کے لئے استعمال کرنا بھی ہو تو وہاں کہ اس کے سوا دوا نہ ملےاوریہ امر طبیب حاذق مسلمان غیر فاسق کے اخبار سے معلوم ہوا اور یہاں دونوں امر متحقق نہیں۔
فی الشامیۃ عن الجوھرۃ التختم بالحدید والصفر و النجاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء انتھی وفیھا عن غایۃ البیان التختم بالذھب والحدید و الصفر حرام الخ وفی الدرالمختار کل تدادی لا یجوز الابطاھر وجوزہ فی النھایۃ بمحرم اذا اخبرہ طیب مسلم ان فیہ شفاء ولم یجد مباحا یقوم مقامہ الخ واﷲ تعالی اعلم۔فقط۔ فتاوی شامی میں جو ہرہ کے حوالے سے مذکور ہے لوہے پیتلتابنےاور قلعی کی انگوٹھی مردوں اور عورتوں کو پہننا ممنوع ہے انتہیاس میں غایۃ البیان کے حوالے سے ہے سونے لوہے اور پیتل کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔درمختار میں ہے کہ کسی دوا کا استعمال کرنا جائز نہیں مگر جبکہ پاك ہونہایہ میں اس حرام دوا کے استعمال کرنے کا جائز قرار دیا ہے کہ جس کے متعلق کوئی مسلمان طبیب بتائے کہ اس میں شفا ہے اور کوئی ایسی مباح دوانہ پائے جو اس کے قائم مقام ہوسکے الخ۔ اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔فقط(ت)
_________________
رسالہ
الطیب الوجیز فی امتعۃ الورق والابریز
ختم شد
فی الشامیۃ عن الجوھرۃ التختم بالحدید والصفر و النجاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء انتھی وفیھا عن غایۃ البیان التختم بالذھب والحدید و الصفر حرام الخ وفی الدرالمختار کل تدادی لا یجوز الابطاھر وجوزہ فی النھایۃ بمحرم اذا اخبرہ طیب مسلم ان فیہ شفاء ولم یجد مباحا یقوم مقامہ الخ واﷲ تعالی اعلم۔فقط۔ فتاوی شامی میں جو ہرہ کے حوالے سے مذکور ہے لوہے پیتلتابنےاور قلعی کی انگوٹھی مردوں اور عورتوں کو پہننا ممنوع ہے انتہیاس میں غایۃ البیان کے حوالے سے ہے سونے لوہے اور پیتل کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔درمختار میں ہے کہ کسی دوا کا استعمال کرنا جائز نہیں مگر جبکہ پاك ہونہایہ میں اس حرام دوا کے استعمال کرنے کا جائز قرار دیا ہے کہ جس کے متعلق کوئی مسلمان طبیب بتائے کہ اس میں شفا ہے اور کوئی ایسی مباح دوانہ پائے جو اس کے قائم مقام ہوسکے الخ۔ اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔فقط(ت)
_________________
رسالہ
الطیب الوجیز فی امتعۃ الورق والابریز
ختم شد
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
درمختار کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۲۴۶€
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۹€
درمختار کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۲۴۶€
لباس ووضع وقطع
لحافتوشکعمامہٹوپیجوتےوضع وقطع اور رنگ وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۲۶: از کلکتہ دھرم تلہ نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ریشمی کپڑا مرد کو پہننا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نہ بلکہ حرام ہے۔حدیث میں اس پرسخت وعیدیں وارد۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتلبسوا الحریر فانہ من لیسہ فی الدنیا لم یلبسہ فی الاخرۃرواہ الشیخان عن الامیر المومنین عمر ریشم نہ پہنو کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا آخر میں نہ پہنے گا۔(اس کوبخاری ومسلم نے امیر المومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت
لحافتوشکعمامہٹوپیجوتےوضع وقطع اور رنگ وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۲۶: از کلکتہ دھرم تلہ نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ریشمی کپڑا مرد کو پہننا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نہ بلکہ حرام ہے۔حدیث میں اس پرسخت وعیدیں وارد۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتلبسوا الحریر فانہ من لیسہ فی الدنیا لم یلبسہ فی الاخرۃرواہ الشیخان عن الامیر المومنین عمر ریشم نہ پہنو کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا آخر میں نہ پہنے گا۔(اس کوبخاری ومسلم نے امیر المومنین حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس باب لبس الحریر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۷،€صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۱،€الترغیب والترھیب بحوالہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی ترھیب الرجال من لبسہم الحریر مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۹۶€
والنسائی وابن حبان والحاکم وصححہ عن ابی سعید الخدری والحاکم عن ابی ھریرۃ و ابن حبان عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ کیا ہےنسائیابن حبان اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی ہے اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور ابن حبان نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔(ت)
نسائی کی ایك روایت میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
من لبسہ فی الدنیا لم یدخل الجنۃ ۔رواہ عن الامیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو دنیا میں ریشم پہنے گا جنت میں نہ جائے گا(امام نسائی نے اس کو امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انما یلبس الحریر من لاخلاق لہ فی الاخرۃ رواہ الشیخان واللفظ للبخاری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ریشم وہ پہنے گا جس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں(اس کو شیخین(بخاری ومسلم)نے روایت کیا اور الفاظ امام بخاری رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہیں۔ت)
ایك حدیث میں ہے حضور والاصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من لبس ثوب حریر البسہ اﷲ عزوجل یوم القیمۃ ثوبا من النار۔رواہ احمد و الطبرانی عن جویریۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ جو ریشم پہنے گا اﷲ تعالی عزوجل اسے قیامت کے دن آگ کا کپڑا پہنائے گا(امام بخاری وطبرانی نے اس کو سیدہ جویریرہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت)
نسائی کی ایك روایت میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
من لبسہ فی الدنیا لم یدخل الجنۃ ۔رواہ عن الامیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو دنیا میں ریشم پہنے گا جنت میں نہ جائے گا(امام نسائی نے اس کو امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انما یلبس الحریر من لاخلاق لہ فی الاخرۃ رواہ الشیخان واللفظ للبخاری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ریشم وہ پہنے گا جس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں(اس کو شیخین(بخاری ومسلم)نے روایت کیا اور الفاظ امام بخاری رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہیں۔ت)
ایك حدیث میں ہے حضور والاصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من لبس ثوب حریر البسہ اﷲ عزوجل یوم القیمۃ ثوبا من النار۔رواہ احمد و الطبرانی عن جویریۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ جو ریشم پہنے گا اﷲ تعالی عزوجل اسے قیامت کے دن آگ کا کپڑا پہنائے گا(امام بخاری وطبرانی نے اس کو سیدہ جویریرہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت)
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ النسائی ترھیب الرجال من لبسہم الحریر الخ ∞حدیث ۲۰€ مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۱۰۰€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب لبس الحریر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۷،€صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۱€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث جویریۃ نبت الحرث المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۳۲۴،€المعجم الاوسط عن جویریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ∞حدیث ۱۷۰،۱۷۱€ المکتب الفیصلیۃ بیروت ∞۲۴ /۶۵€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب لبس الحریر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۷،€صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۱€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث جویریۃ نبت الحرث المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۳۲۴،€المعجم الاوسط عن جویریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ∞حدیث ۱۷۰،۱۷۱€ المکتب الفیصلیۃ بیروت ∞۲۴ /۶۵€
حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
من لبس ثوب حریر البسہ اﷲ تعالی یوما من نار لیس من ایامکم ولکن من ایام اﷲ تعالی الطوال رواہ الطبرانی وقال اﷲ تعالی " و ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون ﴿۴۷﴾ " ۔ جوریشم پہنے اﷲ تعالی اسے ایك دن کا مل آگ پہنائے گا وہ دن تمھارے دنوں میں سے نہیں بلکہ اﷲ تعالی کے ان لمبے دنوں سے یعنی ہزار برس کا ایك دن(اس کو امام طبرانی نے روایت کیا)جیسا کہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:بیشك تمھارے شمار کے مطابق ایك ہزار سال کے برابر ہے۔
سیدنا مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی حدیث میں ہے میں نےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھاکہ حضور نے اپنے دہنے ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا لیا پھر فرمایا:
ان ھذین حرام علی ذکور امتی۔رواہ ابوداؤد و النسائی۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بیشك یہ دونوں(ریشم اور سونا)میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔(ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷: از اٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹر ی اٹاوہ ۲ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی جواب ھذا السوال(اس سوال کے جواب میں آپ(رحمکم اﷲ تعالی)کا کیا ارشاد گرامی ہے۔ ت):پائجامے دو طرح کے فی زماننا اکثر مروج ومستعمل ہیں:اول: غرارہ دار فراخ پائچہ جس کااستعمال بیشتر بزرگان دین کرتے ہیں اور اکثر علماء وصلحاء واولیائے امت کے لباس میں داخل ہے۔
دوم: پائچہ عوام مومنین اور بعض خواص علماء خصوصا پچھان کی طرف کے باشندے استعمال کرتے ہیں ان دونوں میں سے کون باعتبار شرح شریف کے افضل واستر ہے اور کس کے استعمال کی بابت شرع سے صریح رخصت ہوسکتی ہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
من لبس ثوب حریر البسہ اﷲ تعالی یوما من نار لیس من ایامکم ولکن من ایام اﷲ تعالی الطوال رواہ الطبرانی وقال اﷲ تعالی " و ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون ﴿۴۷﴾ " ۔ جوریشم پہنے اﷲ تعالی اسے ایك دن کا مل آگ پہنائے گا وہ دن تمھارے دنوں میں سے نہیں بلکہ اﷲ تعالی کے ان لمبے دنوں سے یعنی ہزار برس کا ایك دن(اس کو امام طبرانی نے روایت کیا)جیسا کہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:بیشك تمھارے شمار کے مطابق ایك ہزار سال کے برابر ہے۔
سیدنا مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی حدیث میں ہے میں نےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھاکہ حضور نے اپنے دہنے ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا لیا پھر فرمایا:
ان ھذین حرام علی ذکور امتی۔رواہ ابوداؤد و النسائی۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بیشك یہ دونوں(ریشم اور سونا)میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔(ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷: از اٹاوہ مرسلہ مولوی وصی علی صاحب نائب ناظر کلکٹر ی اٹاوہ ۲ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی جواب ھذا السوال(اس سوال کے جواب میں آپ(رحمکم اﷲ تعالی)کا کیا ارشاد گرامی ہے۔ ت):پائجامے دو طرح کے فی زماننا اکثر مروج ومستعمل ہیں:اول: غرارہ دار فراخ پائچہ جس کااستعمال بیشتر بزرگان دین کرتے ہیں اور اکثر علماء وصلحاء واولیائے امت کے لباس میں داخل ہے۔
دوم: پائچہ عوام مومنین اور بعض خواص علماء خصوصا پچھان کی طرف کے باشندے استعمال کرتے ہیں ان دونوں میں سے کون باعتبار شرح شریف کے افضل واستر ہے اور کس کے استعمال کی بابت شرع سے صریح رخصت ہوسکتی ہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ حذیقہ موقوفاء ترھیب الرجاں من لبسہم الحریر الخ مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۹۹€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۴۷€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الحریر النساء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۵€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۴۷€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الحریر النساء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۵€
الجواب:
اصل سنت مستمرہ فعلیہ حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین ازار یعنی تہبند ہے۔اگر چہ ایك حدیث میں مروی ہواہے کہ ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضورپر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ سے عرض کیا۔حضورپاجامہ پہنتے ہیں۔فرمایا:
اجل فی السفر والحضر وفی اللیل والنھار فانی امرت بالتر فلم اجد شیئا استر منہ۔رواہ ابویعلی وابن حبان فی الضعفاء والطبرانی فی الاوسط والدار قطنی فی الافراد والعقیلی فی الضعفاء عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہاں سسفر وحضر میں شب و روز پہنتاہوں اس لئے کہ مجھے ستر کا حکم ہوا ہے میں نے اس سے زیادہ ساتر کسی شیئ کو نہ پایا (اس کو ابویعلی اور ابن حبان نے کتاب الضعفاء میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور امام طبرانی نے الاوسط میں اورامام دارقطنی نے الافرادمیں اور امام عقیلی نے کتاب الضعفاء میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
مگریہ حدیث بشدت ضعیف ہے۔
حتی ان اباالفرج اورد ہ علی عادتہ ف الموضوعات والصواب کما بینہ الامام السیوطیواقتصر علیہ الحافظ ابن حجر وغیرہ انہ ضعیف فقط۔تفرد بہ یوسف بن زیاد الواسطی واہ۔ یہاں تك کہ حافظ ابوالفرج ابن جوزی نے اپنی عادت کے مطابق اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔لیکن ٹھیك بات جیسا کہ امام سیوطی نے بیان فرمائی اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اسی پر اکتفاء کیا وہ یہ ہے کہ وہ صرف ضعیف ہے چنانچہ یوسف بن زیاد واسطی اسے روایت کرنے میں متفرد(یعنی تنہا)ہے اور وہ کمزور ہے۔(ت)
ہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اسے خریدنا بسند صحیح ثابت ہے۔
رواہ الائمۃ احمد والاربعۃ وابن حبان وصححہ عن سوید بن قیس ائمہ کرام مثلاامام احمد ودیگر چار ائمہ اور ابن حبان نے اس کو روایت کیا ہے اورسوید بن قیس کے حوالہ
اصل سنت مستمرہ فعلیہ حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین ازار یعنی تہبند ہے۔اگر چہ ایك حدیث میں مروی ہواہے کہ ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضورپر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ سے عرض کیا۔حضورپاجامہ پہنتے ہیں۔فرمایا:
اجل فی السفر والحضر وفی اللیل والنھار فانی امرت بالتر فلم اجد شیئا استر منہ۔رواہ ابویعلی وابن حبان فی الضعفاء والطبرانی فی الاوسط والدار قطنی فی الافراد والعقیلی فی الضعفاء عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہاں سسفر وحضر میں شب و روز پہنتاہوں اس لئے کہ مجھے ستر کا حکم ہوا ہے میں نے اس سے زیادہ ساتر کسی شیئ کو نہ پایا (اس کو ابویعلی اور ابن حبان نے کتاب الضعفاء میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور امام طبرانی نے الاوسط میں اورامام دارقطنی نے الافرادمیں اور امام عقیلی نے کتاب الضعفاء میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
مگریہ حدیث بشدت ضعیف ہے۔
حتی ان اباالفرج اورد ہ علی عادتہ ف الموضوعات والصواب کما بینہ الامام السیوطیواقتصر علیہ الحافظ ابن حجر وغیرہ انہ ضعیف فقط۔تفرد بہ یوسف بن زیاد الواسطی واہ۔ یہاں تك کہ حافظ ابوالفرج ابن جوزی نے اپنی عادت کے مطابق اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔لیکن ٹھیك بات جیسا کہ امام سیوطی نے بیان فرمائی اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اسی پر اکتفاء کیا وہ یہ ہے کہ وہ صرف ضعیف ہے چنانچہ یوسف بن زیاد واسطی اسے روایت کرنے میں متفرد(یعنی تنہا)ہے اور وہ کمزور ہے۔(ت)
ہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اسے خریدنا بسند صحیح ثابت ہے۔
رواہ الائمۃ احمد والاربعۃ وابن حبان وصححہ عن سوید بن قیس ائمہ کرام مثلاامام احمد ودیگر چار ائمہ اور ابن حبان نے اس کو روایت کیا ہے اورسوید بن قیس کے حوالہ
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ ابویعلٰی والمعجم الاوسط للطبرانی کتاب اللباس باب فی السراویل دارالکتب العربی بیروت ∞۵ /۱۲۲€
واحمد والنسائی فی القصۃ اخری عن مالك بن عمیرۃ الاسدی رضی اﷲ تعالی عنہما۔ سے اس کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔امام احمد اور امام نسائی نے ایك دوسرے قصے میں حضرت مالك بن عمیرہ اسدی کے حوالے سے روایت کی۔رضی اﷲ تعالی عنہما۔(ت)
اور ظاہر ہے یہی ہے کہ خریدنا پہننے ہی کے لئے ہوگا۔بہر حال اس میں شك نہیں کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم زمانہ اقدس میں باذن اقدس پاجامہ پہنتے کما فی الہدی والمواھب وشرح سفر السعادۃ وغیرھا(جیسا کہ الہدیالمواہب اور شرح سفر السعادۃ وغیرہ میں مذکورہے۔ت)امیر المومنین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ روز شہادت پاجامہ پہنے ہوئے تھے کما فی تہذیب الامام النووی وغیرہ(جیسا کہ تہذیب الاسماء امام نووی وغیرہ میں مذکور ہے۔ت)
ایك حدیث میں ہے کہ سید ناموسی علیہ الصلوۃ والسلام روز مکالمہ طور اون کا پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔
رواہ الترمذی واستقربہ والحاکم وصححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان علی موسی یوم کلمہ ربہ کساء صرف وکمہ صوف وجبۃ صوف وسواویل صوف وکانت نعلاہ من جلد حمار میت ۔ اس کو امام ترمذی نے روایت کرتے ہوئے برقرار رکھا اور حاکم نے روایت کرکے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کی تضحیح فرمائی۔حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے اﷲ تعالی نے کلام فرمایا تو اس دن وہ اون کی بنی ہوئی چادر اونی جبہ اونی ٹوپی اوراونی شلوار میں ملبوس تھے البتہ ان کے جوتے مردہ گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے۔(ت)
دوسری حدیث میں ہے کہ سب میں پہلے جس نے پاجامہ پہنا ابراھیم خلیل اﷲ صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ ہیں
رواہ ابونعیم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ ابو نعیم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ
اور ظاہر ہے یہی ہے کہ خریدنا پہننے ہی کے لئے ہوگا۔بہر حال اس میں شك نہیں کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم زمانہ اقدس میں باذن اقدس پاجامہ پہنتے کما فی الہدی والمواھب وشرح سفر السعادۃ وغیرھا(جیسا کہ الہدیالمواہب اور شرح سفر السعادۃ وغیرہ میں مذکورہے۔ت)امیر المومنین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ روز شہادت پاجامہ پہنے ہوئے تھے کما فی تہذیب الامام النووی وغیرہ(جیسا کہ تہذیب الاسماء امام نووی وغیرہ میں مذکور ہے۔ت)
ایك حدیث میں ہے کہ سید ناموسی علیہ الصلوۃ والسلام روز مکالمہ طور اون کا پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔
رواہ الترمذی واستقربہ والحاکم وصححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان علی موسی یوم کلمہ ربہ کساء صرف وکمہ صوف وجبۃ صوف وسواویل صوف وکانت نعلاہ من جلد حمار میت ۔ اس کو امام ترمذی نے روایت کرتے ہوئے برقرار رکھا اور حاکم نے روایت کرکے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کی تضحیح فرمائی۔حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے اﷲ تعالی نے کلام فرمایا تو اس دن وہ اون کی بنی ہوئی چادر اونی جبہ اونی ٹوپی اوراونی شلوار میں ملبوس تھے البتہ ان کے جوتے مردہ گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے۔(ت)
دوسری حدیث میں ہے کہ سب میں پہلے جس نے پاجامہ پہنا ابراھیم خلیل اﷲ صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ ہیں
رواہ ابونعیم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ ابو نعیم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب اللباس باب ماجاء فی البص الصوف ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۰۷۔۲۰۶€
تعالی علیہ وسلم اول من لبس السراویل ابراھیم الخلیل۔ تعالی علیہ وسلم کافرمان وارشاد ہے کہ سب سے پہلے جس نے شلوار پہنی وہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی امت سے پاجامہ پہننے والی عورتوں کے لئے دعا مغفرت کی اور مردوں کو تاکید فرمائی کہ خود بھی پہنیں اور اپنی عورتوں کو بھی پہنائیں کہ اس میں ستر زیادہ ہے۔
رواہ الترمذی والعقیلی والضعفاء وابن عدی و الدیلمی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بلفظ اللھم اغفر للمتسرولات من امتی یایھا الناس اتخذوا السراویلات فانھا من استر ثبابکم و حصنوا بھا نساء کم اذاخرجن وفی الحدیث قصۃ و فی اسانیدہ مقال رضبی یتقوی بتعدد طرقہ خلافہ الصنیع ابی الفرج۔ ترمذی نے اس کو روایت کیااور عقیلی نے کتاب الضعفاء میں ابن عدی اورویلمی نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اس لفظ کے ساتھ روایت کی:اے اللہ! میری امت سے پاجامہ پہننے والی عورتوں کو بخشش فرما۔اے لوگو پاجامہ (یعنی شلوار)پہنا کرو کیونکہ یہ تمھاری لباس ہیں سب سے زیادہ ستر پوش لباس ہے شلوار سے اپنی عورتوں کجو محفوظ کرو جب وہ باہر نکلیں۔اور حدیث میں ایك واقعہ مذکور ہے اس کی سندوں میں اشکال پایا جاتا ہے۔بسا اوقات متعدد سندوں اور طرق کی وجہ سے حدیث قوی ہوجاتی ہے لیکن اس میں علامہ ابوالفرج ابن جوزی کا اپنی کارکردگی کی وجہ سے اختلاف ہے۔(ت)
بالجملہ پاجامہ پہننا بلا شبہہ مستحب بلکہ سنت ہے
ان لم یکن فعلا فقولا والافلا اقل من الستنان تقریر اکماعلمت۔ اگر فعلی سنت نہ بھی ہو تو قولی سنت ضرور ہے اور اگر یہ بھی نہ ہو کم از کم آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تقریری سنت تو لامحالہ ہے۔جیساکہ تم نے جان بھی لیا۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی امت سے پاجامہ پہننے والی عورتوں کے لئے دعا مغفرت کی اور مردوں کو تاکید فرمائی کہ خود بھی پہنیں اور اپنی عورتوں کو بھی پہنائیں کہ اس میں ستر زیادہ ہے۔
رواہ الترمذی والعقیلی والضعفاء وابن عدی و الدیلمی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بلفظ اللھم اغفر للمتسرولات من امتی یایھا الناس اتخذوا السراویلات فانھا من استر ثبابکم و حصنوا بھا نساء کم اذاخرجن وفی الحدیث قصۃ و فی اسانیدہ مقال رضبی یتقوی بتعدد طرقہ خلافہ الصنیع ابی الفرج۔ ترمذی نے اس کو روایت کیااور عقیلی نے کتاب الضعفاء میں ابن عدی اورویلمی نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اس لفظ کے ساتھ روایت کی:اے اللہ! میری امت سے پاجامہ پہننے والی عورتوں کو بخشش فرما۔اے لوگو پاجامہ (یعنی شلوار)پہنا کرو کیونکہ یہ تمھاری لباس ہیں سب سے زیادہ ستر پوش لباس ہے شلوار سے اپنی عورتوں کجو محفوظ کرو جب وہ باہر نکلیں۔اور حدیث میں ایك واقعہ مذکور ہے اس کی سندوں میں اشکال پایا جاتا ہے۔بسا اوقات متعدد سندوں اور طرق کی وجہ سے حدیث قوی ہوجاتی ہے لیکن اس میں علامہ ابوالفرج ابن جوزی کا اپنی کارکردگی کی وجہ سے اختلاف ہے۔(ت)
بالجملہ پاجامہ پہننا بلا شبہہ مستحب بلکہ سنت ہے
ان لم یکن فعلا فقولا والافلا اقل من الستنان تقریر اکماعلمت۔ اگر فعلی سنت نہ بھی ہو تو قولی سنت ضرور ہے اور اگر یہ بھی نہ ہو کم از کم آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تقریری سنت تو لامحالہ ہے۔جیساکہ تم نے جان بھی لیا۔(ت)
حوالہ / References
تہذیب تاریخ ان عساکر ذکر ماکان من امرابراھیم علیہ السلام بعد ذٰلك داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۴۹،€الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث ۴۳€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۲۸€
کنزالعمال بحوالہ البزار ∞حدیث ۴۱۸۳۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۴۶۳،€الکامل لابن عدی ∞ترجمہ ابراہیم بن زکریا€ العلم الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۲۵۵،€الموضوعات لابن جوزی کتاب اللباس دارالفکر بیروت ∞۳ /۴۶€
کنزالعمال بحوالہ البزار ∞حدیث ۴۱۸۳۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۴۶۳،€الکامل لابن عدی ∞ترجمہ ابراہیم بن زکریا€ العلم الخ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۲۵۵،€الموضوعات لابن جوزی کتاب اللباس دارالفکر بیروت ∞۳ /۴۶€
لاجرم فتاوی عالمگیریہ میں فرمایا:
لیس السراویل سنۃ وھو من استر الثیاب للرجال والنساء کذا فی الغرائب ۔ پاجامہ(شلوار)سنت ہے اور یہ مردوں عورتوں دونوں اصناف کے لئے زیادہ سترپوش ہے یونہی الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
اور روایت میں کوئی تخصیص پائچہ فراخ وتنگ کی نظر سے نہ گزرییہ عادات قوم وبلد پر ہے مگر فراخ کے یہ معنی کہ عرض کے پائچے نہ غرارے دار جس میں کلیاں ڈال کر گھیر بڑھا یا جاتاہے۔یہ مردوں کے لئے بلاشبہ ناجائز ہے کہ ان بلاد میں کلیوں دار پائچےخاص لباس عورات ہیں اور عورتوں سے تشبیہ حرام مرد اگر پہنتے ہیں تو وہی زنانے یا نقال یا بدوضع فساقان لوگوں سے بھی مشابہت ممنوعکما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھما من معتمدات المذھب(جیساکہ فتاوی قاضیخاں وغیرہ مذھب کی معتبر کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ت)یونہی طول میں نہ ٹخنوں سے زائد ہوں کہ لٹکتے ہوئے پائچے اگر براہ تکبر ہوں تو حرام وگناہ کبیرہ ورنہ مردوں کے لئے مکروہ وخلاف اولی۔ہندیہ میں ہے :
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیہ کذا فی الغرائب ۔ مرد کا اپنے تہبند کو ٹخنوں کے نیچے تك لٹکانا اگر بربنائے تکبر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔اس طرح الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
یکرہ للرجل لبس السراویل المخرفجۃ و ھی التی تقع علی ظہر القدمین کذا فی الفتاوی العتابیۃ ۔ مردوں کے لئے ایسے پاجاموں کااستعمال مکروہ ہے جو المخرفجہ یعنی پاؤں کی پشت سے نیچے تك ہوںیونہی فتاوی عتابیہ میں بھی مذکور ہے۔(ت)
گھنٹوں کے قریب ہو جیساکہ آج کل جہال وہابیہ نے اختراع کیا ہے کہ فراخ پائچے جب اتنے چھوٹے ہوں گے توبیٹھنے لیٹنے میں ران کا کوئی حصہ کھل جانا مظنوں بلکہ مشاہد ہے۔شرح مطہر کی عادت کریمہ ہے کہ ایسی جگہ جب ایك مقدار کو فرض فرماتی ہے اس کی تکمیل وتوثیق کے لئے ایك حدمعتدل تك اس سے زیادت سنت بتاتی ہے عورتوں کا سارا پاؤں عورت تھا تو انھیں ایك بالشت ازار یاپائچے لٹکانے کا حکم عزیمت اوردو بالشت تك رخصت ہوئی کہ قدم ہی تك رکھتیں تو حرکات میں بعض حصہ ساق یا
لیس السراویل سنۃ وھو من استر الثیاب للرجال والنساء کذا فی الغرائب ۔ پاجامہ(شلوار)سنت ہے اور یہ مردوں عورتوں دونوں اصناف کے لئے زیادہ سترپوش ہے یونہی الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
اور روایت میں کوئی تخصیص پائچہ فراخ وتنگ کی نظر سے نہ گزرییہ عادات قوم وبلد پر ہے مگر فراخ کے یہ معنی کہ عرض کے پائچے نہ غرارے دار جس میں کلیاں ڈال کر گھیر بڑھا یا جاتاہے۔یہ مردوں کے لئے بلاشبہ ناجائز ہے کہ ان بلاد میں کلیوں دار پائچےخاص لباس عورات ہیں اور عورتوں سے تشبیہ حرام مرد اگر پہنتے ہیں تو وہی زنانے یا نقال یا بدوضع فساقان لوگوں سے بھی مشابہت ممنوعکما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھما من معتمدات المذھب(جیساکہ فتاوی قاضیخاں وغیرہ مذھب کی معتبر کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ت)یونہی طول میں نہ ٹخنوں سے زائد ہوں کہ لٹکتے ہوئے پائچے اگر براہ تکبر ہوں تو حرام وگناہ کبیرہ ورنہ مردوں کے لئے مکروہ وخلاف اولی۔ہندیہ میں ہے :
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیہ کذا فی الغرائب ۔ مرد کا اپنے تہبند کو ٹخنوں کے نیچے تك لٹکانا اگر بربنائے تکبر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔اس طرح الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
یکرہ للرجل لبس السراویل المخرفجۃ و ھی التی تقع علی ظہر القدمین کذا فی الفتاوی العتابیۃ ۔ مردوں کے لئے ایسے پاجاموں کااستعمال مکروہ ہے جو المخرفجہ یعنی پاؤں کی پشت سے نیچے تك ہوںیونہی فتاوی عتابیہ میں بھی مذکور ہے۔(ت)
گھنٹوں کے قریب ہو جیساکہ آج کل جہال وہابیہ نے اختراع کیا ہے کہ فراخ پائچے جب اتنے چھوٹے ہوں گے توبیٹھنے لیٹنے میں ران کا کوئی حصہ کھل جانا مظنوں بلکہ مشاہد ہے۔شرح مطہر کی عادت کریمہ ہے کہ ایسی جگہ جب ایك مقدار کو فرض فرماتی ہے اس کی تکمیل وتوثیق کے لئے ایك حدمعتدل تك اس سے زیادت سنت بتاتی ہے عورتوں کا سارا پاؤں عورت تھا تو انھیں ایك بالشت ازار یاپائچے لٹکانے کا حکم عزیمت اوردو بالشت تك رخصت ہوئی کہ قدم ہی تك رکھتیں تو حرکات میں بعض حصہ ساق یا
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
کعب کھل جاتا۔
روی النسائی وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کم تجر المرأۃ من ذیلھا قال شبرا قالت اذا ینکشف عنہا قال فزراع لایزید علیہ ۔ نسائیابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی ہے۔انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عورت اپنے دامن کو کتنی مقدا ر تك گھسیٹ سکتی ہے۔ اپ نے ارشادفرمایا کہ ایك بالشت تکعرض کی گئی کہ پھر تو اس کا پاؤں کھل جائے گاپھر آپ نے فرمایا کہ کہ پھر ایك ہاتھ تکاس سے زائد نہ ہو۔(ت)
یوہیں مردکاسترعورت کے گھٹنے کے نیچے تك ہے تو فراخ پائچہ جب وہیں تك ہوگا حرکات میں کوئی حصہ زانوں یا ران منکشف ہوجائے گا لہذا نیم ساق تك عزیمت اور کعبین تك رخصت ہوئی کہ تقریبا وہی ایك اور دو بالشت کا حساب ہے۔
فی المواھب وشرحہ للعلامۃ الزرقانی حاصل ماذکر فی ذلك الاحادیث ان للرجال حالین حال استجاب وھو ان یقتصر بالازار وغیرہ علی نصف الساق وحال جواز وھو الی الکعبین وکذلك النساء حالان حال استحباب وھو مایزید علی ماھو زائد للرجال بقدر ذراع الخ۔ مواہب اللدنیہ اور اس کی شرح جو علامہ زرقانی نے لکھی میں مذکو رہے کہ جو کچھ حدیثوں میں اس سلسلے میں ذکر کیاگیا اس کا خلاصہ اور حاصل یہ ہے کہ مردوں کے لئے دو حالتیں ہیں ایك حالت استحباب ہے اور وہ یہ ہے کہ ازار وغیرہ (تہبند) میں نصف پنڈلی تك اکتفا کرے دوسری حالت جواز ہے اور وہ یہ ہے کہ ٹخنوں تك ہواور یونہی عورتوں کے لئے بھی د وحالتیں ہیں ایك حالت جواز ہے اور وہ یہ ہے کہ جتنی مقدار مردوں کے ہاں زائد ہے اس بمقدار ایك ہاتھ اضافہ کرے۔الخ(ت)
یونہی تنگ پائچے بھی نہ چوڑی دار ہوں نہ ٹخنوں سے نیچےنہ خوب چست بدن سے سلے۔کہ
روی النسائی وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کم تجر المرأۃ من ذیلھا قال شبرا قالت اذا ینکشف عنہا قال فزراع لایزید علیہ ۔ نسائیابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی ہے۔انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عورت اپنے دامن کو کتنی مقدا ر تك گھسیٹ سکتی ہے۔ اپ نے ارشادفرمایا کہ ایك بالشت تکعرض کی گئی کہ پھر تو اس کا پاؤں کھل جائے گاپھر آپ نے فرمایا کہ کہ پھر ایك ہاتھ تکاس سے زائد نہ ہو۔(ت)
یوہیں مردکاسترعورت کے گھٹنے کے نیچے تك ہے تو فراخ پائچہ جب وہیں تك ہوگا حرکات میں کوئی حصہ زانوں یا ران منکشف ہوجائے گا لہذا نیم ساق تك عزیمت اور کعبین تك رخصت ہوئی کہ تقریبا وہی ایك اور دو بالشت کا حساب ہے۔
فی المواھب وشرحہ للعلامۃ الزرقانی حاصل ماذکر فی ذلك الاحادیث ان للرجال حالین حال استجاب وھو ان یقتصر بالازار وغیرہ علی نصف الساق وحال جواز وھو الی الکعبین وکذلك النساء حالان حال استحباب وھو مایزید علی ماھو زائد للرجال بقدر ذراع الخ۔ مواہب اللدنیہ اور اس کی شرح جو علامہ زرقانی نے لکھی میں مذکو رہے کہ جو کچھ حدیثوں میں اس سلسلے میں ذکر کیاگیا اس کا خلاصہ اور حاصل یہ ہے کہ مردوں کے لئے دو حالتیں ہیں ایك حالت استحباب ہے اور وہ یہ ہے کہ ازار وغیرہ (تہبند) میں نصف پنڈلی تك اکتفا کرے دوسری حالت جواز ہے اور وہ یہ ہے کہ ٹخنوں تك ہواور یونہی عورتوں کے لئے بھی د وحالتیں ہیں ایك حالت جواز ہے اور وہ یہ ہے کہ جتنی مقدار مردوں کے ہاں زائد ہے اس بمقدار ایك ہاتھ اضافہ کرے۔الخ(ت)
یونہی تنگ پائچے بھی نہ چوڑی دار ہوں نہ ٹخنوں سے نیچےنہ خوب چست بدن سے سلے۔کہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب اللباس ∞۲ /۲۰۶€ وسنن النسائی کتاب الرینۃ ذیول النساء ∞۲ /۲۹۸،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب ذیل المرأۃ کم یکون ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۴،€سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الذیل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۲€
المواھب اللدنیۃ النوع الثانی فی اللباس با ب الخلاصۃ فی طول الازار المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۴۳۱،€شرح الزرقانی علی المواھب النوع الثانی فی اللباس با ب الخلاصۃ فی طول الازار دارالمعرفۃ بیروت ∞۵ /۹€
المواھب اللدنیۃ النوع الثانی فی اللباس با ب الخلاصۃ فی طول الازار المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۴۳۱،€شرح الزرقانی علی المواھب النوع الثانی فی اللباس با ب الخلاصۃ فی طول الازار دارالمعرفۃ بیروت ∞۵ /۹€
یہ سب وضع فساق ہے۔اور ساتر عورت کا ایسا چست ہونا کہ عضو کا پورا انداز بتائے۔یہ بھی ایك طرح کی بے ستری ہے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی کہ نساء کا سیات عاریات ہوں گی کپڑے پہننے ننگیاںاس کی وجوہ تفسیر سے ایك وجہ یہ بھی ہے کہ کپڑے ایسے تنگ چست ہوں گے کہ بدن کی گولائی فربہی انداز اوپر سے بتائیں گے جیسے بعض لکھنؤ والیوں کی تنگ شلواریں چست کرتیاں۔ردالمحتارمیں ہے:
فی الذخیرۃ وغیرھا ان کان علی المراۃ ثیاب فلا باس ان یتامل جسدھا اذا لم تکن ثیابھا ملتزقۃ بھا بحیث نصف ماتحتہا وفی التتبیین قالوا ولا باس بالتأمل فی جسدھا وعلیہا ثیاب مالم یکن ثوب یبین حجمھا فلا ینظر الیہ حنیئذ لقولہ علیہ الصلوۃ واسلام من تامل خلف امرأۃ ورأی ثیابھا حتی تبین لہ حجم عظامھا لم یرح رائحۃ الجنۃ ولانہ متی کان یصف یکون ناظرا الی اعضائھا اھ ملخصا۔ ذخیرہ وغیرہ میں ہے کہ اگر عورت نے لباس پہن رکھا ہو تو اس کے جسم کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ لباس اس قدر تنگ اور چست نہ ہو کہ سب کچھ عیاں ہونے لگے۔ التبیین میں ہے کہ ائمہ کرام نے فرمایا جب عورت لباس پہنے ہو تو اس کی طرف دیکھنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ لباس ایسا تنگ اور چست نہ ہوجواس کے حجم کو ظاہر کرنے لگے (اگرایسی صورت حال ہو توپھر اس طرف نہ دیکھا جائے۔ مترجم)حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے عورت کو پیچھے سے دیکھا اوراس کے لباس پر نظر پڑی یہاں تك کہ اس کی ہڈیوں کا حجم واضح اور ظاہر ہوگیا تو ایسا شخص(جو غیر محرم کو بغور دیکھ کر لطف اندوز ہونے والا ہے)جنت کی خوشبو تك نہ پائیگا اور اس لئے کہ لباس سے انداز قدوقامت ظاہر ہو تو اس لباس کو دیکھنا مخفی اعضاء کو دیکھنے کے مترادف ہے۔اھ ملخصا(ت)
نہ بہت اونچے گھنٹوں کے قریب ہوں کہ تنگ پائچوں میں اگر چہ احتمال کشف نہیں مگر پاؤں کے لباس میں جو حد مسنون ہے اس سے تجاوز یہ افراط ہواشیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رسالہ آداب اللباس میں فرماتے ہیں:
ہمبرین قیاس سراویل کہ درعجم متعارفست اس پر"سراویل"کو قیاس کرنا چاہئے کہ جو دیار عجم
فی الذخیرۃ وغیرھا ان کان علی المراۃ ثیاب فلا باس ان یتامل جسدھا اذا لم تکن ثیابھا ملتزقۃ بھا بحیث نصف ماتحتہا وفی التتبیین قالوا ولا باس بالتأمل فی جسدھا وعلیہا ثیاب مالم یکن ثوب یبین حجمھا فلا ینظر الیہ حنیئذ لقولہ علیہ الصلوۃ واسلام من تامل خلف امرأۃ ورأی ثیابھا حتی تبین لہ حجم عظامھا لم یرح رائحۃ الجنۃ ولانہ متی کان یصف یکون ناظرا الی اعضائھا اھ ملخصا۔ ذخیرہ وغیرہ میں ہے کہ اگر عورت نے لباس پہن رکھا ہو تو اس کے جسم کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ لباس اس قدر تنگ اور چست نہ ہو کہ سب کچھ عیاں ہونے لگے۔ التبیین میں ہے کہ ائمہ کرام نے فرمایا جب عورت لباس پہنے ہو تو اس کی طرف دیکھنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ لباس ایسا تنگ اور چست نہ ہوجواس کے حجم کو ظاہر کرنے لگے (اگرایسی صورت حال ہو توپھر اس طرف نہ دیکھا جائے۔ مترجم)حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے عورت کو پیچھے سے دیکھا اوراس کے لباس پر نظر پڑی یہاں تك کہ اس کی ہڈیوں کا حجم واضح اور ظاہر ہوگیا تو ایسا شخص(جو غیر محرم کو بغور دیکھ کر لطف اندوز ہونے والا ہے)جنت کی خوشبو تك نہ پائیگا اور اس لئے کہ لباس سے انداز قدوقامت ظاہر ہو تو اس لباس کو دیکھنا مخفی اعضاء کو دیکھنے کے مترادف ہے۔اھ ملخصا(ت)
نہ بہت اونچے گھنٹوں کے قریب ہوں کہ تنگ پائچوں میں اگر چہ احتمال کشف نہیں مگر پاؤں کے لباس میں جو حد مسنون ہے اس سے تجاوز یہ افراط ہواشیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رسالہ آداب اللباس میں فرماتے ہیں:
ہمبرین قیاس سراویل کہ درعجم متعارفست اس پر"سراویل"کو قیاس کرنا چاہئے کہ جو دیار عجم
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۴€
وآں راشلواری گویند بمقدار ازاں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باشد واگرزیر شتالنگ باشد یا دوسہ چین واقع شود بدعت وگناہ است ۔ میں مشہور ہے جس کو شلوار کہتے ہیں پس یہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ازار مبارك کی مقدار کے مطابق ہو لیکن اگر ٹخنوں سے نیچے ہو یا دو تین شکن نیچے واقع ہو جائے تو بدعت اور گناہ ہے۔(ت)
یہ افراط بدعت وہابیہ ہند ہے تو ان سے تشبیہ مکروہ ہے۔غرض ڈھیلے پائچے جب ان قباحتوں اور تنگ ان شناعتوں سے پاك ہوں تو دونوں شرعا مرخص وپسند اور ادائے مستحب میں کافی وبسند ہیں ہاں غالب عادات علماء واولیاء میں وہی عرض کے پائچے دیکھے گئے اور انھیں کو اصل سنت فعلیہ یعنی تہبند سے زیادہ مشابہتکما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ٹخنوں سے نیچے پائچے رکھنا مردوں کو جائز ہے یا نہیں بینو اتوجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
پائچوں کا کعبین سے نیچا ہونا جسے عربی میں اسبال کہتے ہیں اگر راہ عجب وتکبر ہے تو قطعا ممنوع وحرام ہے اور اس پر وعید شدید وارد۔
اخرج الامام الھمام محمد بن اسمعیل البخاری فی صحیحہ قال حدثنا عبداﷲ بن یوسف قال اخبرنا مالك عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لاینظر اﷲ یوم القیمۃ امام ہمام محمد بن اسمعیل بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی صحیح میں تخریج فرمائی اور فرمایا ہم سے عبداﷲ ابن یوسف نے بیان کیا اس نے کہا کہ ہمیں حضرت امام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے بتایا انھوں نے ابوالزناد سے اس نے اعرج سے اس نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالی قیامت کے روز اس
یہ افراط بدعت وہابیہ ہند ہے تو ان سے تشبیہ مکروہ ہے۔غرض ڈھیلے پائچے جب ان قباحتوں اور تنگ ان شناعتوں سے پاك ہوں تو دونوں شرعا مرخص وپسند اور ادائے مستحب میں کافی وبسند ہیں ہاں غالب عادات علماء واولیاء میں وہی عرض کے پائچے دیکھے گئے اور انھیں کو اصل سنت فعلیہ یعنی تہبند سے زیادہ مشابہتکما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ٹخنوں سے نیچے پائچے رکھنا مردوں کو جائز ہے یا نہیں بینو اتوجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
پائچوں کا کعبین سے نیچا ہونا جسے عربی میں اسبال کہتے ہیں اگر راہ عجب وتکبر ہے تو قطعا ممنوع وحرام ہے اور اس پر وعید شدید وارد۔
اخرج الامام الھمام محمد بن اسمعیل البخاری فی صحیحہ قال حدثنا عبداﷲ بن یوسف قال اخبرنا مالك عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لاینظر اﷲ یوم القیمۃ امام ہمام محمد بن اسمعیل بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنی صحیح میں تخریج فرمائی اور فرمایا ہم سے عبداﷲ ابن یوسف نے بیان کیا اس نے کہا کہ ہمیں حضرت امام مالك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے بتایا انھوں نے ابوالزناد سے اس نے اعرج سے اس نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالی قیامت کے روز اس
حوالہ / References
آداب اللباس
الی من جواز ارہ بطرا قلت وبنحوہ روی ابوداؤد ابن ماجۃ من حدیث ابی سعیدن الخدری فی حدیث عبداﷲ بن عمرانہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من جر ثوبہ مخیلۃ لم ینظراﷲ الیہ یوم القیمۃ الحدیث واخرج الامام العلام مسلم بن الحجاج القشیری فی صحیحہ قال حدثنا یحیی بن یحیی قال قرأت علی مالك عن نافع وعبداﷲ بن دینار وزید بن اسلم کلھم یخبرہ عن ابن عمر ان رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قال لاینظر اﷲ الی من جرثوبہ خیلا ۔قلت وبمثلہ روی البخاری والنسائی والترمذی فی صحاحھم بالاسانید المختلفۃ والالفاظ المتقاربۃ۔ شخص پر نظر شفقت نہیں فرمائے گا جس نے از راہ تکبر اپنے تہبند کو زمین پر گھسیٹاقلت(میں کہتاہوں)یونہی ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث سے حضرت عبداﷲ ابن عمر کی حدیث میں روایت کیا۔انھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی تکبر سے ازار لٹکائے(یعنی زمین پر گھسیٹے)تو اﷲ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا الحدیث امام علام مسلم بن حجاج قشیری نے اپنی صحیح میں تخریج کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم سے یحیی بن یحیی نے بیان کی اس نے کہا میں نے حضرت امام مالك کے سامنے پڑھاامام مالك نے نافع عبداﷲ بن دینار اور زید بن اسلم سے روایت کیان سب نے حضرت عبداﷲ بن دینار اور زید بن اسلم سے روایت کیان سب نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے انھیں بتایاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ تعالی اس کی طرف نہیں دیکھئے گا(یعنی اس کی طرف نگاہ رحمت نہیں فرمائے گا)جو ازراہ تکبر اپنا کپڑا لٹکائےقلت(میں کہتاہوں)اس جیسی حدیث بخاری نسائی اور ترمذی نے اپنی اپنی کتابوں(صحاح)میں مختلف سندوں اور قریبی ویکساں الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس باب جرثوبہ من الخبلا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۱€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرثوبہ من الخیلا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۱،€سنن ا بی داؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی السبال الازار ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۸،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب من جرثوبہ من الخیلا ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲۶۳€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرثوبہ من الخیلا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۰،€صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم جر الثوب خیلاء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۴،€الجامع الترمذی کتاب اللباس باب ماجاء فی الکراھیۃ الازار ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۲۰۶€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرثوبہ من الخیلا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۱،€سنن ا بی داؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی السبال الازار ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۸،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب من جرثوبہ من الخیلا ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲۶۳€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرثوبہ من الخیلا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۰،€صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم جر الثوب خیلاء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۴،€الجامع الترمذی کتاب اللباس باب ماجاء فی الکراھیۃ الازار ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۲۰۶€
اور اگر بوجہ تکبر نہیں تو بحکم ظاہر احادیث مردوں کو بھی جائز ہے۔
لاباس بہ کما یرشك الیہ التقیید بالبطر والمخیلۃ۔ تو اس میں کچھ حرج نہیں جیساکہ اس کی طرف"البطر و المخیلۃ" (اترانا اور تکبر کرنا)کی قید لگا نا تمھاری راہنمائی کر رہا ہے۔(ت)
حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے عرض کیا۔یا رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) ! میری ازار ایك جانب سے لٹك جاتی ہے۔فرمایا:تو ان میں سے نہیں ہے جو ایسا براہ تکبر کرتاہو۔
اخرج البخاری فی صحیحہ قال حدثنا احمد بن یونس فذکر باسنادہ عن ابن عمر عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیمۃ فقال ابوبکر یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احد شقی ازاری یسترخی الا ان اتعاھد ذلك منہ فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لست ممن یصنعہ خیلاء قلت وبنحوہ روی ابوداؤد والنسائی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کی تخریج فرمائی۔فرمایا ہم سے احمد ابن یونس نے بیان کیا۔پھر اس کی اسناد سے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ حضور نے فرمایا:جس شخص نے ازاراہ تکبر کپڑا لٹکایا اور نیچے گھسیٹا تو اﷲ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا۔اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی۔یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ! میرا تہبند ایك طرف نیچے لٹك جاتاہے مگریہ کہ میں اس کی پوری حفاظت کرتا ہوں(یعنی حفاظت میں ذرا سی کوتاہی یا لاپروائی ہو جائے تو تہبند ایك طرف لٹك جاتاہے)آپ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو طرز تکبر سے ایسا کرتے ہیں(یعنی علت تکبر نہ ہونے کی وجہ سے تمھارے ازار کے لٹك جانے سے کوئی حرج نہیں قلت(میں کہتاہوں)اسی کی مثل ابوداؤد اور نسائی نے بھی روایت کی ہے۔(ت)
حدیث بخاری ونسائی میں کہ:
مااسفل الکعبین من الازار ففی النار ۔ ازار کا جو حصہ لٹك کا ٹخنوں سے نیچے ہوگیا وہ آگ میں ہوگا۔(ت)
لاباس بہ کما یرشك الیہ التقیید بالبطر والمخیلۃ۔ تو اس میں کچھ حرج نہیں جیساکہ اس کی طرف"البطر و المخیلۃ" (اترانا اور تکبر کرنا)کی قید لگا نا تمھاری راہنمائی کر رہا ہے۔(ت)
حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالی عنہ) نے عرض کیا۔یا رسول اﷲ (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) ! میری ازار ایك جانب سے لٹك جاتی ہے۔فرمایا:تو ان میں سے نہیں ہے جو ایسا براہ تکبر کرتاہو۔
اخرج البخاری فی صحیحہ قال حدثنا احمد بن یونس فذکر باسنادہ عن ابن عمر عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیمۃ فقال ابوبکر یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احد شقی ازاری یسترخی الا ان اتعاھد ذلك منہ فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لست ممن یصنعہ خیلاء قلت وبنحوہ روی ابوداؤد والنسائی۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کی تخریج فرمائی۔فرمایا ہم سے احمد ابن یونس نے بیان کیا۔پھر اس کی اسناد سے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ حضور نے فرمایا:جس شخص نے ازاراہ تکبر کپڑا لٹکایا اور نیچے گھسیٹا تو اﷲ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا۔اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی۔یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ! میرا تہبند ایك طرف نیچے لٹك جاتاہے مگریہ کہ میں اس کی پوری حفاظت کرتا ہوں(یعنی حفاظت میں ذرا سی کوتاہی یا لاپروائی ہو جائے تو تہبند ایك طرف لٹك جاتاہے)آپ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو طرز تکبر سے ایسا کرتے ہیں(یعنی علت تکبر نہ ہونے کی وجہ سے تمھارے ازار کے لٹك جانے سے کوئی حرج نہیں قلت(میں کہتاہوں)اسی کی مثل ابوداؤد اور نسائی نے بھی روایت کی ہے۔(ت)
حدیث بخاری ونسائی میں کہ:
مااسفل الکعبین من الازار ففی النار ۔ ازار کا جو حصہ لٹك کا ٹخنوں سے نیچے ہوگیا وہ آگ میں ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
الصحیح البخاری کتاب اللباس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶€۰
الصحیح البخاری کتاب اللباس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۱€
الصحیح البخاری کتاب اللباس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۱€
اور حدیث طویل مسلم وابوداؤد میں:
ثلثۃ لایکلمھم اﷲ یوم القیمۃ ولاینظر الیھم ولا یزکیہم ولھم عذاب الیم المسبل والمنان والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب ۔ تین شخص(یعنی تین قسم کے لوگ)ایسے ہیں کہ اﷲ تعالی نے قیامت کے دن نہ تو انھیں پاك کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناك عذاب ہوگا:(۱)ازارٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا(۲) احسان جتلانے والا(۳)جھوٹی قسم کھاکر اپنے اسباب کو رائج کرنیوالا(یعنی فروغ دینے والا ہے)(ت)
علی الاطلاق وارد ہوا کہ اس سے یہی صورت مراد ہے کہ بتکبر اسبال کرتا ہو ورنہ ہر گزیہ وعیدشدید اس پر وارد نہیں۔مگر علماء در صورت عدم تکبر حکم کراہت تنزیہی دیتے ہیں:
فی الفتاوی العالمگیری اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلا ءففیہ کراھۃ تنزیہ کذافی الغرائب ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے مر کا اپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اگر بوجہ تکبر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح غرائب میں ہے۔(ت)
بالجملہ اسبال اگر براہ عجب وتکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولینہ حرام مستحق وعیداور یہ بھی اسی صور ت میں ہے کہ پائچے جانب پاشنہ نیچے ہوںاور اگر اس طرف کعبین سے بلند ہیں گو پنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہر گز کچھ مضائقہ نہیں۔ اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ بلکہ خود حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
روی ابو داؤد فی سننہ قال حدثنا مسدد نایحیی عن محمد بن ابی یحیی حدثنی امام ابوداؤد نے اپنی کتاب سنن ابوداؤد میں روایت فرمائی ہے کہ ہم سے مسدد نے بیان کیا اس سے یحیی نے اس نے محمدبن ابی یحیی سے روایت
ثلثۃ لایکلمھم اﷲ یوم القیمۃ ولاینظر الیھم ولا یزکیہم ولھم عذاب الیم المسبل والمنان والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب ۔ تین شخص(یعنی تین قسم کے لوگ)ایسے ہیں کہ اﷲ تعالی نے قیامت کے دن نہ تو انھیں پاك کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناك عذاب ہوگا:(۱)ازارٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا(۲) احسان جتلانے والا(۳)جھوٹی قسم کھاکر اپنے اسباب کو رائج کرنیوالا(یعنی فروغ دینے والا ہے)(ت)
علی الاطلاق وارد ہوا کہ اس سے یہی صورت مراد ہے کہ بتکبر اسبال کرتا ہو ورنہ ہر گزیہ وعیدشدید اس پر وارد نہیں۔مگر علماء در صورت عدم تکبر حکم کراہت تنزیہی دیتے ہیں:
فی الفتاوی العالمگیری اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلا ءففیہ کراھۃ تنزیہ کذافی الغرائب ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے مر کا اپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اگر بوجہ تکبر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے اسی طرح غرائب میں ہے۔(ت)
بالجملہ اسبال اگر براہ عجب وتکبر ہے حرام ورنہ مکروہ اور خلاف اولینہ حرام مستحق وعیداور یہ بھی اسی صور ت میں ہے کہ پائچے جانب پاشنہ نیچے ہوںاور اگر اس طرف کعبین سے بلند ہیں گو پنجہ کی جانب پشت پا پر ہوں ہر گز کچھ مضائقہ نہیں۔ اس طرح کا لٹکانا حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ بلکہ خود حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
روی ابو داؤد فی سننہ قال حدثنا مسدد نایحیی عن محمد بن ابی یحیی حدثنی امام ابوداؤد نے اپنی کتاب سنن ابوداؤد میں روایت فرمائی ہے کہ ہم سے مسدد نے بیان کیا اس سے یحیی نے اس نے محمدبن ابی یحیی سے روایت
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷۱،€سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی اسبال الازار ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۹€
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
عکرمۃ انہ رای ابن عباس یاتزر فیضع حاشیۃ ازارہ من مقدمہ علی ظھر قدمہ ویرفعہ مؤخرہ قلت لم تاتزر ھذہ الازارۃ قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاتزرھا قلت ورجال الحدیث کلھم ثقات عدول ممن یروی عنہم البخاری کما لایخفی علی الفطن الماھر بالفن۔ کی ہے اس نے کہا مجھ سے عکرمہ تابعی نے بیان فرمایا اس نے ابن عباس کو دیکھا کہ جب ازار باندھتے تو اپنی ازار کی اگلی جانب کو اپنے قدم کی پشت پر رکھتے اور پچھلے حصہ کو اونچااور بلند رکھتے۔میں نے عرض کی آپ اس طرح تہبند کیوں باندھتے ہیں ارشاد فرمایا:میں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اسی طرح ازار باندھتے دیکھا ہے۔قلت(میں کہتا ہوں) حدیث کے تمام روای ثقہ(معتبر)اور عادل ہیں۔ان سے امام بخاری روایت کرتے ہیں۔جیسا کہ ذہین۔فہیم اور ماہر فن پر پوشیدہ نہیں۔(ت)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
ازیں جامعلوم شود کہ بلند واشتن ازر از جانب پس کافی ست در عدم اسبال اھ۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ازا ر کوپچھلی جانب یعنی ٹخنوں کی طرف سے اونچااور بلند رکھنا عدم اسبال(یعنی نہ لٹکانا)میں کافی ہے۔اھ(ت)
ہاں اس میں شبہہ نہیں کہ نصف ساق تك پائچوں کا ہونا بہتر وعزیمت ہے اکثر ازار پر انوار سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہیں تك ہوتی تھی۔
فی صحیح مسلم حدثنی ابوالطاھر قال انا ابن وہب قال اخبر نی عمر بن محمد عن عبداﷲ ارفع ازارك فرفعتہ ثم قل زد فزدت فازلت اتجرھا بعد فقال بعض القوم الی این صحیح مسلم شریف میں ہے:مجھ سے ابوطاہر نے بیان کیا اس نے کہا مجھے ابن وہب نے بتایااس نے کہا مجھے عمر بن محمد نے حضرت عبداﷲ کے حوالے سے بتایا(ان سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایاتھا)اپنا ازار اپر کیجئےمیں نے اوپر کیا۔پھر فرمایا مزید اوپر کیجئےپھر اس کے بعد
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
ازیں جامعلوم شود کہ بلند واشتن ازر از جانب پس کافی ست در عدم اسبال اھ۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ ازا ر کوپچھلی جانب یعنی ٹخنوں کی طرف سے اونچااور بلند رکھنا عدم اسبال(یعنی نہ لٹکانا)میں کافی ہے۔اھ(ت)
ہاں اس میں شبہہ نہیں کہ نصف ساق تك پائچوں کا ہونا بہتر وعزیمت ہے اکثر ازار پر انوار سیدالابرار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہیں تك ہوتی تھی۔
فی صحیح مسلم حدثنی ابوالطاھر قال انا ابن وہب قال اخبر نی عمر بن محمد عن عبداﷲ ارفع ازارك فرفعتہ ثم قل زد فزدت فازلت اتجرھا بعد فقال بعض القوم الی این صحیح مسلم شریف میں ہے:مجھ سے ابوطاہر نے بیان کیا اس نے کہا مجھے ابن وہب نے بتایااس نے کہا مجھے عمر بن محمد نے حضرت عبداﷲ کے حوالے سے بتایا(ان سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایاتھا)اپنا ازار اپر کیجئےمیں نے اوپر کیا۔پھر فرمایا مزید اوپر کیجئےپھر اس کے بعد
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی الکبر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱€۰
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس ∞فصل ۳ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان ۳ /۵۵۶€
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس ∞فصل ۳ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان ۳ /۵۵۶€
فقال انصاف الساقین وفی حدیث ابی سعیدن الخدری مما رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول ازارۃ المؤمن الی انصاف ساقیہ الحدیث۔ ہمیشہ میں اسے کھینچتا رہالپھر لوگوں نے پوچھا آپ کس حد تك اوپر کرتے رہے ارشاد فرمایا دو۲ پنڈلیوں کے نصف تک۔ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ)کی حدیث میں آیا ہے جو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت فرمائی۔راوی نے فرمایا میں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا کہ مسلمانوں کاتہبند دونوں پنڈلیوں کے نصف تك ہونا چاہئے۔الحدیث(ت)
امام نووی فرماتے ہیں:
فالمستحب نصف الساقین والجائز بلاکراھۃ ماتحتہ الی الکعبین فی الفتاوی العالمگیریۃ ینبغی ان یکون الازار فوق الکعبین الی نصف الساق واﷲ تعالی اعلم۔ مستحب ہے کہ ازار(تہبند)پنڈلیوں کے نصف تك ہو اور بغیر کراہت جائز ہے کہ نیچے ٹخنوں تك ہواورفتاوی عالمگیریہ میں ہے کہ مناسب ہے کہ ازار ٹخنوں سے اوپر نصف پنڈلی تك ہو اور اﷲ تعالی سب سے بڑاعالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۹ و ۳۰: ۲۱ شعبان ۱۳۳۳ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کرتہ شریف کتنا نیچا تھا۔اور گریبان مبارك سینہ اقدس پر تھا یا دائیں بائیں۔اور چاك مبارك کھلی تھی یا یادوختہاور بٹن لگے تھے یا گھنڈی۔اور کون سی رنگت کا مرغوب تھا
(۲)عمام شریف کے(کتنے)گز کا لانبا(لمبا)تھا اور وہ گز کتنا لانبا تھا بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
امام نووی فرماتے ہیں:
فالمستحب نصف الساقین والجائز بلاکراھۃ ماتحتہ الی الکعبین فی الفتاوی العالمگیریۃ ینبغی ان یکون الازار فوق الکعبین الی نصف الساق واﷲ تعالی اعلم۔ مستحب ہے کہ ازار(تہبند)پنڈلیوں کے نصف تك ہو اور بغیر کراہت جائز ہے کہ نیچے ٹخنوں تك ہواورفتاوی عالمگیریہ میں ہے کہ مناسب ہے کہ ازار ٹخنوں سے اوپر نصف پنڈلی تك ہو اور اﷲ تعالی سب سے بڑاعالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۹ و ۳۰: ۲۱ شعبان ۱۳۳۳ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کرتہ شریف کتنا نیچا تھا۔اور گریبان مبارك سینہ اقدس پر تھا یا دائیں بائیں۔اور چاك مبارك کھلی تھی یا یادوختہاور بٹن لگے تھے یا گھنڈی۔اور کون سی رنگت کا مرغوب تھا
(۲)عمام شریف کے(کتنے)گز کا لانبا(لمبا)تھا اور وہ گز کتنا لانبا تھا بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم جرالثوب خیلاء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۵€
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس موضع الازار این ھو ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۴€
شرح الصحیح المسلم للنوی کتاب اللباس باب تحریم جر الثواب الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس موضع الازار این ھو ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۴€
شرح الصحیح المسلم للنوی کتاب اللباس باب تحریم جر الثواب الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
الجواب:
(۱)قمیص مبارك نیم ساق تك تھا۔مواہب شریف میں ہے:
کان ذیل قمیصہ وردانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی انصاف الساقین ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قمیص مبار کا دامن اور چادر مبارك یعنی تہبند یہ دونوں آدھی پنڈلیوں تك ہواکرتے تھے۔(ت)
حاکم نے بتصحیح اورابوالشیخ نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبس قمیصا وکان فوق الکعبین ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك ایسا کرتہ زیب تن فرمایا جو ٹخنوں سے اوپر تك زرالمبا تھا(ت)۔
اور کم طول کابھی وارد ہے بیہقی نے شعب الایمان میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
کان لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قمیص من قطن قصیر الطول قصیرا لکم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ایك ایسا سوتی کرتہ تھا جس کا طول کم اور آستین مختصر تھی۔(ت)
گریبان مبارك سینہ اقدس پر تھا۔ اشعۃ اللمعات میں ہے:
جیب قمیص آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برسینہ مبارك وے بود چنانکہ احادیث بیسار برآں دلالت دارد وعلمائے حدیث تحقیق ایں نمودہ اند ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قمیص مبارك کا گریبان آپ کے سینہ مبارك پر تھا۔چنانچہ بہت سی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور محدثین حضرات نے اس کی تحقیق کی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
تحقیق آنست کہ گریبان پیرا ہن نبوی صلی اﷲ تعالی تحقیق یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارك کرتے کا گریبان آپ کے سینہ
(۱)قمیص مبارك نیم ساق تك تھا۔مواہب شریف میں ہے:
کان ذیل قمیصہ وردانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی انصاف الساقین ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قمیص مبار کا دامن اور چادر مبارك یعنی تہبند یہ دونوں آدھی پنڈلیوں تك ہواکرتے تھے۔(ت)
حاکم نے بتصحیح اورابوالشیخ نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبس قمیصا وکان فوق الکعبین ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك ایسا کرتہ زیب تن فرمایا جو ٹخنوں سے اوپر تك زرالمبا تھا(ت)۔
اور کم طول کابھی وارد ہے بیہقی نے شعب الایمان میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
کان لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قمیص من قطن قصیر الطول قصیرا لکم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ایك ایسا سوتی کرتہ تھا جس کا طول کم اور آستین مختصر تھی۔(ت)
گریبان مبارك سینہ اقدس پر تھا۔ اشعۃ اللمعات میں ہے:
جیب قمیص آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برسینہ مبارك وے بود چنانکہ احادیث بیسار برآں دلالت دارد وعلمائے حدیث تحقیق ایں نمودہ اند ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قمیص مبارك کا گریبان آپ کے سینہ مبارك پر تھا۔چنانچہ بہت سی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور محدثین حضرات نے اس کی تحقیق کی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
تحقیق آنست کہ گریبان پیرا ہن نبوی صلی اﷲ تعالی تحقیق یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارك کرتے کا گریبان آپ کے سینہ
حوالہ / References
المواہب اللدینہ المقصد الثالث النوع الثانی مکتب اسلامی بیروت ∞۲ /۴۲۸€
المستدرك للحاکم کتاب اللباس دارالفکر بیروت ∞۴ /۱۹۵€
شعب الایمان ∞حدیث ۶۱۶۸€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۵ /۱۵۴€
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴۴€
المستدرك للحاکم کتاب اللباس دارالفکر بیروت ∞۴ /۱۹۵€
شعب الایمان ∞حدیث ۶۱۶۸€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۵ /۱۵۴€
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴۴€
علیہ وسلم برسینہ بود مبارك پر تھا۔(ت)
دامن کے چاك کھلے ہونا ثابت ہے کہ ان پر ریشمی کپڑے کی گوٹ تھی اور گوٹ کھلے ہوئے چاکوں پر لگاتے ہیں۔صحیح مسلم و سنن ابی داؤد میں اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
انھا اخرجت جبۃ طیالسۃ کسروانیۃ لھا لبنۃ دیباج وفرجیھا مکفوفین بالدیباج ۔ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہا نے حضور علیہ الصلوۃ ولسلام کا ایك طیاسی کسروانی جبہ(لوگوں کو دکھانے کے لئے)باہر نکالا جس کے گریبان پر ریشمی کپڑے کی گوٹ لگی ہوئی تھی اور اس کی دونوں اطراف ریشم گھری ہوئی تھیں۔ (ت)
اس زمانہ میں گھنڈی تکمے ہوتے جن کو زر وعروہ کہتے بٹن ثابت نہیں۔نہ ان میں کوئی حرج ہے۔رنگ سبز وسرخ بھی ثابت ہے۔اور محبوب تر سفید۔حدیث میں ہے:
البسوالثیاب البیض فانھا اطھر واطیب وکفنوا فیھا موتاکم۔رواہ احمد والاربعۃ الاعن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سفید کپڑے پہنو کہ وہ زیادہ پاکیزہ اور خوب ہیں۔اور اپنے اموات کو سفید کفن دو۔(اما م احمد اور دیگر ائمہ اربعہ(ترمذی ابوداؤدنسائیابن ماجہ)نے حضرت سمرہ بن جند ب رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
(۲)عمامہ اقدس کے طول میں کچھ ثابت نہیں۔امام ابن الحاج مکی سات ہاتھ یا اس کے قریب کہتاہے۔اور حفظ فقیر میں کلمات علماء سے ہے کہ کم از کم پانچ ہاتھ ہو اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہاتھ۔اور شیخ عبدالحق کے رسالہ لباس میں اکتیس ہاتھ تك لکھا ہے۔اور ہے یہ کہ یہ امر عادت پر ہے جہاں علماء وعوام کی جیسی عادت ہو اور اس میں کوئی محذور شرعی نہ ہو اس قدر اختیار کریں۔
فقد نص العلماء ان الخروج عن العادۃ شہرۃ و مکروہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اہل علم نے تصریح کی ہے کہ معاشرے کی عادت سے باہر ہونا باعث شہرت اور مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
دامن کے چاك کھلے ہونا ثابت ہے کہ ان پر ریشمی کپڑے کی گوٹ تھی اور گوٹ کھلے ہوئے چاکوں پر لگاتے ہیں۔صحیح مسلم و سنن ابی داؤد میں اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
انھا اخرجت جبۃ طیالسۃ کسروانیۃ لھا لبنۃ دیباج وفرجیھا مکفوفین بالدیباج ۔ سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہا نے حضور علیہ الصلوۃ ولسلام کا ایك طیاسی کسروانی جبہ(لوگوں کو دکھانے کے لئے)باہر نکالا جس کے گریبان پر ریشمی کپڑے کی گوٹ لگی ہوئی تھی اور اس کی دونوں اطراف ریشم گھری ہوئی تھیں۔ (ت)
اس زمانہ میں گھنڈی تکمے ہوتے جن کو زر وعروہ کہتے بٹن ثابت نہیں۔نہ ان میں کوئی حرج ہے۔رنگ سبز وسرخ بھی ثابت ہے۔اور محبوب تر سفید۔حدیث میں ہے:
البسوالثیاب البیض فانھا اطھر واطیب وکفنوا فیھا موتاکم۔رواہ احمد والاربعۃ الاعن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سفید کپڑے پہنو کہ وہ زیادہ پاکیزہ اور خوب ہیں۔اور اپنے اموات کو سفید کفن دو۔(اما م احمد اور دیگر ائمہ اربعہ(ترمذی ابوداؤدنسائیابن ماجہ)نے حضرت سمرہ بن جند ب رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
(۲)عمامہ اقدس کے طول میں کچھ ثابت نہیں۔امام ابن الحاج مکی سات ہاتھ یا اس کے قریب کہتاہے۔اور حفظ فقیر میں کلمات علماء سے ہے کہ کم از کم پانچ ہاتھ ہو اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہاتھ۔اور شیخ عبدالحق کے رسالہ لباس میں اکتیس ہاتھ تك لکھا ہے۔اور ہے یہ کہ یہ امر عادت پر ہے جہاں علماء وعوام کی جیسی عادت ہو اور اس میں کوئی محذور شرعی نہ ہو اس قدر اختیار کریں۔
فقد نص العلماء ان الخروج عن العادۃ شہرۃ و مکروہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اہل علم نے تصریح کی ہے کہ معاشرے کی عادت سے باہر ہونا باعث شہرت اور مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴۴€
صحیح مسلم کتاب اللباس ∞۲ /۱۹۰€ وسنن ابی داؤد کتا ب اللباس ∞۲ /۲۰۵€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث سمرہ بن جندب المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۱۷€
الحدیقہ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع ∞نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۵۸۲€
صحیح مسلم کتاب اللباس ∞۲ /۱۹۰€ وسنن ابی داؤد کتا ب اللباس ∞۲ /۲۰۵€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث سمرہ بن جندب المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۱۷€
الحدیقہ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع ∞نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۵۸۲€
مسئلہ ۳۱: ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
علمائے شرع شریف اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ چوڑی دار پائجامہ پہننا کیسا ہے اور جو اشخاص بوتام لگا کر پہنتے ہیں پنڈلیوں کو چمٹا ہوا اور تعبیر کرتےہیں کہ یہ پائجامہ شرعی ہے۔یہ قول ان کا صحیح ہے یاغلط۔یعنی اسے شرعی پائجامہ کہنا۔بینو ا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
چوڑی دار پاجامہ پہننا منع ہے کہ وضع فاسقوں کی ہے۔ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی عنہ آداب اللباس میں فرماتے ہیں:
سراویل کہ در عجم متعارف است کہ اگر زیر شتالنگ باشد یا دوسہ چین واقع شود بدعت وگناہ است ۔ شلوار جو عجمی علاقوں میں مشہور ومعروف ہے اگر ٹخنوں سے نیچے ہو یا دو تین انچ(شکن)نیچے ہو تو بدعت اور گناہ ہے۔(ت)
یونہی بوتام لگا کر پنڈلیوں سے چمٹا ہوا بھی ثقہ لوگوں کی وضع نہیں۔آدمی کو بدوضع لوگوں کی وضع سے بھی بچنے کا حکم ہے یہاں تك کہ علماء درزی اور موچی کو فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فاسقوں کے وضع کے کپڑے یا جوتے سلوائے نہ سیے اگر چہ اس میں اجر کثیر ملتاہو۔فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلك کثیر الاجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ اگر موچی یادرزی سے جب فاسقوں کی وضع کے مطابق کوئی چیز بنوانے یا سلوانے کے لئے اجارہ دی جائے تو اس کام کے لئے اسے بہت اجرت دی جائے تو اس کے لئے یہ کام کرنا بہتر نہیں اس لئے کہ یہ گناہ کے سلسلے میں امداد ہے۔(ت)
تویہ پاجامہ بھی اس راہ سے شرعی نہ ہو اگر چہ ٹخنوں سے اونچا ہونے میں حد شرع سے متجاوز نہیںشرعی کہنا اگرصرف اسی حیثیت سے ہے تو وجہ صحت رکھتاہے۔اور اگر مطلقا مرضی وپسندیدہ شرعی مراد جیسا کہ ظاہر لفظ کا یہی مفاد تو صحیح نہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
علمائے شرع شریف اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ چوڑی دار پائجامہ پہننا کیسا ہے اور جو اشخاص بوتام لگا کر پہنتے ہیں پنڈلیوں کو چمٹا ہوا اور تعبیر کرتےہیں کہ یہ پائجامہ شرعی ہے۔یہ قول ان کا صحیح ہے یاغلط۔یعنی اسے شرعی پائجامہ کہنا۔بینو ا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
چوڑی دار پاجامہ پہننا منع ہے کہ وضع فاسقوں کی ہے۔ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی عنہ آداب اللباس میں فرماتے ہیں:
سراویل کہ در عجم متعارف است کہ اگر زیر شتالنگ باشد یا دوسہ چین واقع شود بدعت وگناہ است ۔ شلوار جو عجمی علاقوں میں مشہور ومعروف ہے اگر ٹخنوں سے نیچے ہو یا دو تین انچ(شکن)نیچے ہو تو بدعت اور گناہ ہے۔(ت)
یونہی بوتام لگا کر پنڈلیوں سے چمٹا ہوا بھی ثقہ لوگوں کی وضع نہیں۔آدمی کو بدوضع لوگوں کی وضع سے بھی بچنے کا حکم ہے یہاں تك کہ علماء درزی اور موچی کو فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فاسقوں کے وضع کے کپڑے یا جوتے سلوائے نہ سیے اگر چہ اس میں اجر کثیر ملتاہو۔فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلك کثیر الاجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔ اگر موچی یادرزی سے جب فاسقوں کی وضع کے مطابق کوئی چیز بنوانے یا سلوانے کے لئے اجارہ دی جائے تو اس کام کے لئے اسے بہت اجرت دی جائے تو اس کے لئے یہ کام کرنا بہتر نہیں اس لئے کہ یہ گناہ کے سلسلے میں امداد ہے۔(ت)
تویہ پاجامہ بھی اس راہ سے شرعی نہ ہو اگر چہ ٹخنوں سے اونچا ہونے میں حد شرع سے متجاوز نہیںشرعی کہنا اگرصرف اسی حیثیت سے ہے تو وجہ صحت رکھتاہے۔اور اگر مطلقا مرضی وپسندیدہ شرعی مراد جیسا کہ ظاہر لفظ کا یہی مفاد تو صحیح نہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
حوالہ / References
آداب اللباس
فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الحظروالاباحۃ ∞نولکشھور لکھنؤ ۴ /۷۸۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الحظروالاباحۃ ∞نولکشھور لکھنؤ ۴ /۷۸۰€
مسئلہ ۳۲: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ احمد خاں صاحب ۲ شوال ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایڑی والی جوتی یعنی مثل جوتی مردوں کے عورت پہن لے تو درست ہے یانہیں مردانی جو تی عورت نمازی کے واسطے پاؤں کو ناپاکی سے بچانے کے لئے بہت خوب ہے۔خیر جیساشریعت میں حکم ہے باسند بحوالہ کتاب ارشاد فرمائیں۔
الجواب:
ناجائز۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبہات من النساء بالرجال و المتشبہین من الرجال بالنساءرواہ الائمۃ احمد و البخاری وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ۔ اﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو مردوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے تشبہہ کریں۔(ائمہ کرام مثلا مام احمد بخاریابوداؤدترمذیابن ماجہ نے اس کو حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لعن اﷲ الرجل یلبس لبسۃ المراۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل۔رواہ ابوداؤد والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح ۔ اﷲ تعالی اس مرد پر لعنت کرے جو عورت جیسا لباس پہنے اور عورت پر بھی لعنت کرے جو مر دجیسا لباس پہنے۔ابوداؤد اور حاکم نے صحیح سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایڑی والی جوتی یعنی مثل جوتی مردوں کے عورت پہن لے تو درست ہے یانہیں مردانی جو تی عورت نمازی کے واسطے پاؤں کو ناپاکی سے بچانے کے لئے بہت خوب ہے۔خیر جیساشریعت میں حکم ہے باسند بحوالہ کتاب ارشاد فرمائیں۔
الجواب:
ناجائز۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبہات من النساء بالرجال و المتشبہین من الرجال بالنساءرواہ الائمۃ احمد و البخاری وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ۔ اﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو مردوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان مردوں پر جو عورتوں سے تشبہہ کریں۔(ائمہ کرام مثلا مام احمد بخاریابوداؤدترمذیابن ماجہ نے اس کو حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لعن اﷲ الرجل یلبس لبسۃ المراۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل۔رواہ ابوداؤد والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح ۔ اﷲ تعالی اس مرد پر لعنت کرے جو عورت جیسا لباس پہنے اور عورت پر بھی لعنت کرے جو مر دجیسا لباس پہنے۔ابوداؤد اور حاکم نے صحیح سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس باب المتشبہین بالنساء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۴،€سنن ابی داؤد باب فی لباس النساء ∞آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰،€جامع الترمذی ابوب الاستیذان والادب باب ماجاء فی المتشبہات ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۲،€سنن ابن ماجہ ابوب النکاح باب فی المخنثین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸،€مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۳۳€۹
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰€
درمختار میں ہے:
غزل الرجل علی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ ۔ عورت کے انداز سے مرد کا بال گوندنا مکروہ ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لما فیہ من التشبہ بالنساء ۔ اس لئے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
انما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیأۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان اواکثر حرم قہستانی ۔ فقہی اعتبار سے چاندی کی ایسی انگوٹھی پہننا جائز ہے جو مردوں کے لئے مروج ہو لیکن اگر اس میں دو یادو سے زائد نگینے ہوں تو ایسی انگوٹھی کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے۔قہستانی (ت)
بلکہ بحمداﷲ تعالی خاص اس جزئیہ میں حدیث حسن واردسنن ابوداؤد میں ہے:
حدثنا محمد بن سلیمان لوین وبعضہ قرأت علیہ عن سفیان عن ابن جزئیج عن ابن ابی ملیکۃ قال قیل لعائشۃ ان امرأۃ تلبس النعل فقالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والرجلۃ من النساء محمد بن سلیمان بن حبیب الاسدی بالتصغیر ثقۃ من العاشرۃ تقریب والبقیۃ ائمۃ جلۃ معروفون وقد کان (ہم سے محمد بن سلیمان لوین نے بیان کیا اس کا کچھ حصہ میں نے اس کے سامنے پڑھا اس نے سفیاناس نے ابن جریج اس نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی اور کہا۔ت)یعنی ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے عرض کی گئی ایك عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی مردانی عورتوں پر۔(محمد بن سلیمان بن حبیب اسد ی(یہ تصغیرکے ساتھ
غزل الرجل علی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ ۔ عورت کے انداز سے مرد کا بال گوندنا مکروہ ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لما فیہ من التشبہ بالنساء ۔ اس لئے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
انما یجوز التختم بالفضۃ لو علی ھیأۃ خاتم الرجال امالو لہ فصان اواکثر حرم قہستانی ۔ فقہی اعتبار سے چاندی کی ایسی انگوٹھی پہننا جائز ہے جو مردوں کے لئے مروج ہو لیکن اگر اس میں دو یادو سے زائد نگینے ہوں تو ایسی انگوٹھی کا استعمال مردوں کے لئے حرام ہے۔قہستانی (ت)
بلکہ بحمداﷲ تعالی خاص اس جزئیہ میں حدیث حسن واردسنن ابوداؤد میں ہے:
حدثنا محمد بن سلیمان لوین وبعضہ قرأت علیہ عن سفیان عن ابن جزئیج عن ابن ابی ملیکۃ قال قیل لعائشۃ ان امرأۃ تلبس النعل فقالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والرجلۃ من النساء محمد بن سلیمان بن حبیب الاسدی بالتصغیر ثقۃ من العاشرۃ تقریب والبقیۃ ائمۃ جلۃ معروفون وقد کان (ہم سے محمد بن سلیمان لوین نے بیان کیا اس کا کچھ حصہ میں نے اس کے سامنے پڑھا اس نے سفیاناس نے ابن جریج اس نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی اور کہا۔ت)یعنی ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے عرض کی گئی ایك عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی مردانی عورتوں پر۔(محمد بن سلیمان بن حبیب اسد ی(یہ تصغیرکے ساتھ
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳€
ردالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۷۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱€۰
تقریب التہذیب لابن حجر العسقلانی ∞ترجمہ ۵۹۴۴€ حرف المیم فصل س دارالکتب العلمیہ بیروت∞۲ /۸۲€
ردالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۷۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۳۱€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱€۰
تقریب التہذیب لابن حجر العسقلانی ∞ترجمہ ۵۹۴۴€ حرف المیم فصل س دارالکتب العلمیہ بیروت∞۲ /۸۲€
الحکم بالصحۃ لولا عنعنۃ ابن جریج لاجرم قال المناوی فی التیسیر والقاری فی المرقاۃ اسنادہ حسن۔ ہے)دسویں طبقہ کا معتبر راوی ہے۔تقریبباقی چند مشہور جلیل القدرائمہ ہیں۔حدیث پر صحت کا حکم ہوتا اگر ابن جریج کی روایت میں عنعنہ نہ ہوتا بیشك علام مناوی نے التیسیر میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ میں فرمایا کہ اس کی سند حسن ہے۔ (ت)
مرقاۃ میں ہے:
تلبس النعل ای التی تختص بالرجال واﷲ تعالی اعلم۔ تلبس النعل یعنی عورت اگر ایسا جوتا پہنتی ہے جو مردوں کے لئے مختص ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۳: کیا ہے حکم شرع شریف میں نسبت پہننے ٹوپی سچی یا جھوٹی سلمہ ستارہ یا ریشم کی۔
الجواب:
چارانگل سے زائد ناجائز اور اس کاا ستعمال ممنوع ہے۔اور متفرقا ریشم کا کام ہو خواہ سونے چاندی کا جمع نہ کیا جائے گا جب تك مثل مغرق کے نظرنہ آتاہو۔اور جھوٹے کام کا جزئیہ اس وقت نظرمیں حاضر نہیں اگر سونا چاندی غالب یا مساوی ہے تو اس کا حکم سونے چاندی ہی کے مثل ہے اور مغلوب ہے یاصرف تابنا تاہم ظاہرا کراہت سے خالی نہیں خصوصا ایسی حالت میں کہ نساء یا فساق کی وضع مخصوص ہو کہ اس صورت میں کراہت یقینی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴: ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رومال ریشمیں مرد کے واسطے استعمال کرنا یعنی ہاتھ میں یا کندھے پر رکھنا جائز ہے یا ناجائز یا مکروہ اگر مکروہ ہے تو مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاتھ میں لینا جیب میں رکھنااس سے منہ پوچھنا یہ سب جائز(اگر بہ نیت تکبر نہ ہو کہ اس نیت سے تو کوئی روا نہیں)اور کندھے پر ڈلنا مکروہ تحریمی۔اصل یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ
مرقاۃ میں ہے:
تلبس النعل ای التی تختص بالرجال واﷲ تعالی اعلم۔ تلبس النعل یعنی عورت اگر ایسا جوتا پہنتی ہے جو مردوں کے لئے مختص ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۳: کیا ہے حکم شرع شریف میں نسبت پہننے ٹوپی سچی یا جھوٹی سلمہ ستارہ یا ریشم کی۔
الجواب:
چارانگل سے زائد ناجائز اور اس کاا ستعمال ممنوع ہے۔اور متفرقا ریشم کا کام ہو خواہ سونے چاندی کا جمع نہ کیا جائے گا جب تك مثل مغرق کے نظرنہ آتاہو۔اور جھوٹے کام کا جزئیہ اس وقت نظرمیں حاضر نہیں اگر سونا چاندی غالب یا مساوی ہے تو اس کا حکم سونے چاندی ہی کے مثل ہے اور مغلوب ہے یاصرف تابنا تاہم ظاہرا کراہت سے خالی نہیں خصوصا ایسی حالت میں کہ نساء یا فساق کی وضع مخصوص ہو کہ اس صورت میں کراہت یقینی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴: ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رومال ریشمیں مرد کے واسطے استعمال کرنا یعنی ہاتھ میں یا کندھے پر رکھنا جائز ہے یا ناجائز یا مکروہ اگر مکروہ ہے تو مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاتھ میں لینا جیب میں رکھنااس سے منہ پوچھنا یہ سب جائز(اگر بہ نیت تکبر نہ ہو کہ اس نیت سے تو کوئی روا نہیں)اور کندھے پر ڈلنا مکروہ تحریمی۔اصل یہ ہے کہ ہمارے امام مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث لعن اﷲ الرجلہ من النساء مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲ /۲۹۲€
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الرجل ∞حدیث ۴۴۷۰€ المکتببۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۸ /۲۴۶€
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الرجل ∞حدیث ۴۴۷۰€ المکتببۃ الحبیبیہ ∞کوئٹہ ۸ /۲۴۶€
کے نزدیك ریشم کا پہننا ہی مرد کو ممنوع ہے نہ کہ باقی طرق استعمالاور رومال حسب معمول کندھے پرڈالنا ایك نوع لبس ہے۔ہاتھ یا جیب میں رکھنا پہننا نہیں۔ردالمحتارمیں ہے:
التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذلك لما علم ان الشبہۃ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین رملی والظاھر ان المراد بالکیس المعلق نحو کیس التمائم المسماۃ بالحمائلی فانہ یعلق بالعنق بخلاف کیس الدارھم اذا کان یضعہ فی جیبہ مثلا بدون تعلیق وفی الدراالمنتقی ولا تکرہ الصلوۃ علی سجادۃ فی الابریسم لان الحرام ھو اللبس اما الانتفاع بسائر الوجوہ فلیس بحرام کما فی صلوۃ الجواھر واقرہ القہستانی وغیرہ ۔ لٹکانا حرام شیئ کا پہننے کے مشابہ ہے اس لئے کہ یہ معلوم ہے کہ محرمات کے باب میں شبہہ یقین کے ساتھ لاحق ہوتا ہے۔رملی اور ظاہر یہ ہے کہ تھیلا سے مراد لٹکایا ہوا ہے جیسے تعویزات کا تھیلا کہ جس کو حمائلی کہاجاتاہے کیونکہ اس گلے میں لٹکایا جاتاہے بخلاف اس کے کہ دراہم کا تھیلا(بٹوہ)جبکہ اسے بغیر لٹکائے جیب میں رکھا جاتاہے۔در منتقی میں ہے کہ ریشمی مصلی(جائے نماز)پر نماز ادا کرنا مکروہ نہیں۔اس لئے کہ ریشم کا پہننا حرام ہے۔لیکن پہننے کے سوا اور طریقوں سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں جیسا کہ صلوۃ الجواہر میں مذکو رہے اور قہستانی وغیرہ نے اس کو برقرار کھا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وفی القنیۃ دلال یلقی ثوب الدیباج علی منکبیہ یجوز اذا لم یدخل یدیہ فی الکمین وقال عین الائمۃ الکرابیسی فیہ کلام بین المشائخ اھ ووجہ الاول ان القاء الثوب علی الکتفین نما قصد بہ الحمل دون الاستعمال فلم یشبہ اللبس المقصود للانتفاع تأمل ۔ قنیہ میں ہے کہ دلال نے ریشمی کپڑا بیچنے کے لئے کندھوں پر اٹھا تویہ جائز ہے جبکہ دونو ں ہاتھ آستینوں میں نہ ڈالے۔ عین الائمۃ کرابیسی نے فرمایا اس میں مشائخ کرام کی گفتگو ہے (یعنی اعتراض اور اختلاف ہے)اھ۔پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ کندھوں پر لٹکانے سے اٹھانا مقصود ہوتاہے۔نہ کہ پہننا لہذا یہ پہننے کے مشابہ نہیں جو انتفاع سے مقصود ہے۔غور کیجئے۔(ت)
التعلیق یشبہ اللبس فحرم لذلك لما علم ان الشبہۃ فی باب المحرمات ملحقۃ بالیقین رملی والظاھر ان المراد بالکیس المعلق نحو کیس التمائم المسماۃ بالحمائلی فانہ یعلق بالعنق بخلاف کیس الدارھم اذا کان یضعہ فی جیبہ مثلا بدون تعلیق وفی الدراالمنتقی ولا تکرہ الصلوۃ علی سجادۃ فی الابریسم لان الحرام ھو اللبس اما الانتفاع بسائر الوجوہ فلیس بحرام کما فی صلوۃ الجواھر واقرہ القہستانی وغیرہ ۔ لٹکانا حرام شیئ کا پہننے کے مشابہ ہے اس لئے کہ یہ معلوم ہے کہ محرمات کے باب میں شبہہ یقین کے ساتھ لاحق ہوتا ہے۔رملی اور ظاہر یہ ہے کہ تھیلا سے مراد لٹکایا ہوا ہے جیسے تعویزات کا تھیلا کہ جس کو حمائلی کہاجاتاہے کیونکہ اس گلے میں لٹکایا جاتاہے بخلاف اس کے کہ دراہم کا تھیلا(بٹوہ)جبکہ اسے بغیر لٹکائے جیب میں رکھا جاتاہے۔در منتقی میں ہے کہ ریشمی مصلی(جائے نماز)پر نماز ادا کرنا مکروہ نہیں۔اس لئے کہ ریشم کا پہننا حرام ہے۔لیکن پہننے کے سوا اور طریقوں سے فائدہ اٹھانا حرام نہیں جیسا کہ صلوۃ الجواہر میں مذکو رہے اور قہستانی وغیرہ نے اس کو برقرار کھا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وفی القنیۃ دلال یلقی ثوب الدیباج علی منکبیہ یجوز اذا لم یدخل یدیہ فی الکمین وقال عین الائمۃ الکرابیسی فیہ کلام بین المشائخ اھ ووجہ الاول ان القاء الثوب علی الکتفین نما قصد بہ الحمل دون الاستعمال فلم یشبہ اللبس المقصود للانتفاع تأمل ۔ قنیہ میں ہے کہ دلال نے ریشمی کپڑا بیچنے کے لئے کندھوں پر اٹھا تویہ جائز ہے جبکہ دونو ں ہاتھ آستینوں میں نہ ڈالے۔ عین الائمۃ کرابیسی نے فرمایا اس میں مشائخ کرام کی گفتگو ہے (یعنی اعتراض اور اختلاف ہے)اھ۔پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ کندھوں پر لٹکانے سے اٹھانا مقصود ہوتاہے۔نہ کہ پہننا لہذا یہ پہننے کے مشابہ نہیں جو انتفاع سے مقصود ہے۔غور کیجئے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۵€
ردالمحتار کتا ب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
ردالمحتار کتا ب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۶€
اسی میں ہے:
الحرام ھو اللبس دون الانتفاع اقول: ومفادہ جواز اتخاز خرقۃ الوضوء منہ بلا تکبر اذ لیس یلبس لاحقیقۃ ولا حکما بخلاف اللحاف والتکۃ وعصابۃ المفتصد تامل اھ ھذا ماظھرلی واﷲ تعالی اعلم۔ حرام صرف پہنناہے صرف فائدہ اٹھانا حرام نہیں میں کہتا ہوں اس کا مفاد(حاصل)یہ ہے کہ ریشمی رومال سے اعضائے وضو پونچھنا اگر بلا تکبرہو توجائز ہے اس لئے کہ یہ نہ حقیقتا پہننا ہے نہ حکما بخلاف لحافتکمہ اور فصد کی پٹی کے۔غورو فکر کیجئے اھ یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسلہ ۳۵:از ریاست کوچ بہار ملك بنگال مدرسہ محسنیہ راجشاہیہ مرسلہ مولوی خلیل اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ مذکورہ ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
مخدوم ومکرم من زاد مجدکم بعد از السلام علیکم ملتمس ہوں کہ مرسلا گرامی بنا بر طلب نمونہ پارچہ رینڈی پہنچ کر باعث سرفرازی ہوا حسب فرمائش عالی پارچہ مذکور کا کسی قدر نمونہ مرسل ہے میرا اپنا مسلك یہ ہے کہ پارچہ مذکورہ شرعا مباح الاستعمال ہے اور میں نے یہ مسلك بہت تحقیق اور بڑی جستجو اور قال اقول کے بعد اختیار کیا ہے۔حضرت مخدومنا وشیخنا ابوالحسنات مولانا محمد عبدالحی لکھنوی رحمہ اﷲ تعالی کے حضورمیں ایك بزرك کے ساتھ جواباحت استعمال کے قائل تھے میرا زبانی مباحثہ ہوا میں مدعی حرمت کاتھا آخر محاکمہ مولانائے مغفور سے انھیں کا مدعا صحیح ثابت ہوا یہاں ایك بنگالی مولوی صاحب نے آج کل اس کے حرام ہونے کا بہت بڑا زور وشور سے ایك فتوی لکھا ہے بلکہ زہر اگلا ہے کہ مباح کہنے والے کو یکبارگی کافر بنادیا ہے نعوذ باﷲ !
مخفی باد کہ وجہ حرمت جامہ رینڈی درایۃ وروایۃ ہیچك وجہ برنمی آرد وآں ازقسم حریر منصوص الحرمۃ فی القرآن والحدیث نیست چہ عندالتعمیق والتفتیش بوضوع می پیوندد کہ ماہیت حریر و ثوب مسطور الصدریکے نبود بلکہ فرقے درمیان می باشد غذائے کرم آبریشم برگ تودست واضح رہے کہ رینڈی کپڑے کی حرمت کی کوئی وجہ عقلا نقلا دکھائی نہیں دیتی اور وہ ریشم کی اس قسم سے نہیں جس کی حرمت قرآن وحدیث میں صراحۃ موجود ہے کیونکہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ریشم اور مذکورہ کپڑے میں کوئی مماثلت نہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے۔اس لئے کہ ریشم کے کیڑے کی
الحرام ھو اللبس دون الانتفاع اقول: ومفادہ جواز اتخاز خرقۃ الوضوء منہ بلا تکبر اذ لیس یلبس لاحقیقۃ ولا حکما بخلاف اللحاف والتکۃ وعصابۃ المفتصد تامل اھ ھذا ماظھرلی واﷲ تعالی اعلم۔ حرام صرف پہنناہے صرف فائدہ اٹھانا حرام نہیں میں کہتا ہوں اس کا مفاد(حاصل)یہ ہے کہ ریشمی رومال سے اعضائے وضو پونچھنا اگر بلا تکبرہو توجائز ہے اس لئے کہ یہ نہ حقیقتا پہننا ہے نہ حکما بخلاف لحافتکمہ اور فصد کی پٹی کے۔غورو فکر کیجئے اھ یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسلہ ۳۵:از ریاست کوچ بہار ملك بنگال مدرسہ محسنیہ راجشاہیہ مرسلہ مولوی خلیل اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ مذکورہ ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
مخدوم ومکرم من زاد مجدکم بعد از السلام علیکم ملتمس ہوں کہ مرسلا گرامی بنا بر طلب نمونہ پارچہ رینڈی پہنچ کر باعث سرفرازی ہوا حسب فرمائش عالی پارچہ مذکور کا کسی قدر نمونہ مرسل ہے میرا اپنا مسلك یہ ہے کہ پارچہ مذکورہ شرعا مباح الاستعمال ہے اور میں نے یہ مسلك بہت تحقیق اور بڑی جستجو اور قال اقول کے بعد اختیار کیا ہے۔حضرت مخدومنا وشیخنا ابوالحسنات مولانا محمد عبدالحی لکھنوی رحمہ اﷲ تعالی کے حضورمیں ایك بزرك کے ساتھ جواباحت استعمال کے قائل تھے میرا زبانی مباحثہ ہوا میں مدعی حرمت کاتھا آخر محاکمہ مولانائے مغفور سے انھیں کا مدعا صحیح ثابت ہوا یہاں ایك بنگالی مولوی صاحب نے آج کل اس کے حرام ہونے کا بہت بڑا زور وشور سے ایك فتوی لکھا ہے بلکہ زہر اگلا ہے کہ مباح کہنے والے کو یکبارگی کافر بنادیا ہے نعوذ باﷲ !
مخفی باد کہ وجہ حرمت جامہ رینڈی درایۃ وروایۃ ہیچك وجہ برنمی آرد وآں ازقسم حریر منصوص الحرمۃ فی القرآن والحدیث نیست چہ عندالتعمیق والتفتیش بوضوع می پیوندد کہ ماہیت حریر و ثوب مسطور الصدریکے نبود بلکہ فرقے درمیان می باشد غذائے کرم آبریشم برگ تودست واضح رہے کہ رینڈی کپڑے کی حرمت کی کوئی وجہ عقلا نقلا دکھائی نہیں دیتی اور وہ ریشم کی اس قسم سے نہیں جس کی حرمت قرآن وحدیث میں صراحۃ موجود ہے کیونکہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ریشم اور مذکورہ کپڑے میں کوئی مماثلت نہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے۔اس لئے کہ ریشم کے کیڑے کی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۷€
کما قال النظام الگنجوی
کریمے کہ از تود واز برگ تود
زحلوا و زاربریشم آورد سود
تو وہماں تو ت است اہل راجشاہی کہ منبت ومخزن ابریشم ست زراعت توت مے کنند و کرم ابریشم رامی خورانند ومی پرور ندچنانچہ ایں ہمہ بچشم سردیدہ ام ومی بینم وغزائے کرم جامہ مذکور ورق بیدانجیرست کہ ہندی آں را رینڈی ست وعلاوہ برآں وجہ حرمت حریر تفاخر وتنعم وزینت و نفاست وتشبہ بالا کا سرہ والجبابرہ واخوت آن ست وایں ہمہ در حریر یافتہ شود نہ در رینڈی و علی فرض المحال اگر آں جامہ از قسم ابریشم ہم باشد پس وجہ عدم حرمت آں ایں خواہدبود کہ مراد از حریر منصوص حریر جید باشد نہ ردی بحکم ضابطہ اصول المطلق ینصرف نظرا الی فردہ الکامل ھذا ماخطر ببالی الکسیر واﷲ تعالی اعلم بحقائق الاشیاء نمقہ العبد المشتاق الی ربہ الجلیل ابواسمعیل محمد خلیل اﷲ المدرس الاول فی المدرسۃ المحسنیۃ الراجشاھیۃ تجاوز اﷲ عن ذنوبہ۔ خوراك توت کے پتے ہیں۔جیسا کہ مولنا نظامی گنجوی نے فرمایا:
"وہ ایسا سخی ہے کہ توت اور اس کے پتوں سے اس نے حلوے اور ریشم کا فائدہ عنایت کیا"
"تود"وہی درخت توت ہے جو رتیشم کی پیدا وار کا ذریعہ ہے چنانچہ راجشاہی کے باشندے توت کی باقاعدہ کا شت کرتے ہیں اور ریشم پیدا کرنے والے کیڑوں کو بطورخوراك کھلاتے ہیں اور ان کیڑوں کی پرورش کرتے ہیں یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دیکھ رہاں ہوں اور مذکورہ کپڑے کیڑے کی خوارك بیدانجیر ہے کہ ہندی میں اس کو رینڈی کہتے ہیں اس کے علاوہ ریشم کی وجہ حرمتتفاخرتنعمزیب وزینت نفاست اور اکاسرہ جبابرہ یعنی مکتبر اور سرکش لوگوں سے مشابہت ہے(کہ وہ نرم و نازك مالئل ونفیس ریشم کو برائے تکبرہ غرور اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھتے ہیں)اوریہ چیزیں توت کے اصل ریشے میں پائی جایت ہے نہ کہ رینڈی میں لیکن اگر بفرض محال وہ کپڑااز قسم ریشم ہی ہو تو پھر اس کے حرام نہ ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ ریشم جس کی حرمت منصوص ہےاس سے اعلی وعمدہ ریشم مراد ہے کہ ردی اور گھٹیا۔اور اہل صول کے قاعدہ کے مطابق جب مطلق بولا جائے تو اس سے اس کا"فرد کامل"مراد ہوگا۔پس یہ عدم حرمت کی چند وجوہات میرے شکستہ دل میں کھٹکتی تھیں جو بیان ہوئیں اﷲ تعالی حقائق اشیاء کو سب سے بہتر جاننے والا ہے۔اس کو رب جلیل کا شوق رکھنے والے بندے نے لکھا جو ابواسمعیل محمد خلیل اﷲ مدرس اول مدرسہ محسنیہ راجشاہیہ میں ہے اﷲ تعالی اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے۔(ت)
کریمے کہ از تود واز برگ تود
زحلوا و زاربریشم آورد سود
تو وہماں تو ت است اہل راجشاہی کہ منبت ومخزن ابریشم ست زراعت توت مے کنند و کرم ابریشم رامی خورانند ومی پرور ندچنانچہ ایں ہمہ بچشم سردیدہ ام ومی بینم وغزائے کرم جامہ مذکور ورق بیدانجیرست کہ ہندی آں را رینڈی ست وعلاوہ برآں وجہ حرمت حریر تفاخر وتنعم وزینت و نفاست وتشبہ بالا کا سرہ والجبابرہ واخوت آن ست وایں ہمہ در حریر یافتہ شود نہ در رینڈی و علی فرض المحال اگر آں جامہ از قسم ابریشم ہم باشد پس وجہ عدم حرمت آں ایں خواہدبود کہ مراد از حریر منصوص حریر جید باشد نہ ردی بحکم ضابطہ اصول المطلق ینصرف نظرا الی فردہ الکامل ھذا ماخطر ببالی الکسیر واﷲ تعالی اعلم بحقائق الاشیاء نمقہ العبد المشتاق الی ربہ الجلیل ابواسمعیل محمد خلیل اﷲ المدرس الاول فی المدرسۃ المحسنیۃ الراجشاھیۃ تجاوز اﷲ عن ذنوبہ۔ خوراك توت کے پتے ہیں۔جیسا کہ مولنا نظامی گنجوی نے فرمایا:
"وہ ایسا سخی ہے کہ توت اور اس کے پتوں سے اس نے حلوے اور ریشم کا فائدہ عنایت کیا"
"تود"وہی درخت توت ہے جو رتیشم کی پیدا وار کا ذریعہ ہے چنانچہ راجشاہی کے باشندے توت کی باقاعدہ کا شت کرتے ہیں اور ریشم پیدا کرنے والے کیڑوں کو بطورخوراك کھلاتے ہیں اور ان کیڑوں کی پرورش کرتے ہیں یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دیکھ رہاں ہوں اور مذکورہ کپڑے کیڑے کی خوارك بیدانجیر ہے کہ ہندی میں اس کو رینڈی کہتے ہیں اس کے علاوہ ریشم کی وجہ حرمتتفاخرتنعمزیب وزینت نفاست اور اکاسرہ جبابرہ یعنی مکتبر اور سرکش لوگوں سے مشابہت ہے(کہ وہ نرم و نازك مالئل ونفیس ریشم کو برائے تکبرہ غرور اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھتے ہیں)اوریہ چیزیں توت کے اصل ریشے میں پائی جایت ہے نہ کہ رینڈی میں لیکن اگر بفرض محال وہ کپڑااز قسم ریشم ہی ہو تو پھر اس کے حرام نہ ہونے کی وجہ یہ ہوگی کہ ریشم جس کی حرمت منصوص ہےاس سے اعلی وعمدہ ریشم مراد ہے کہ ردی اور گھٹیا۔اور اہل صول کے قاعدہ کے مطابق جب مطلق بولا جائے تو اس سے اس کا"فرد کامل"مراد ہوگا۔پس یہ عدم حرمت کی چند وجوہات میرے شکستہ دل میں کھٹکتی تھیں جو بیان ہوئیں اﷲ تعالی حقائق اشیاء کو سب سے بہتر جاننے والا ہے۔اس کو رب جلیل کا شوق رکھنے والے بندے نے لکھا جو ابواسمعیل محمد خلیل اﷲ مدرس اول مدرسہ محسنیہ راجشاہیہ میں ہے اﷲ تعالی اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے۔(ت)
باردوم: از حیدر آباد دکن محلہ سلطانپور مرسلہ سید عبدالرزاق صاحب وکیل ہائی کورٹ وسیکرٹری اسٹیٹ نواب فخر الملك بہادر وزیر جوڈیشل وپولیس ڈیپارٹمنٹ
بدیں عبارت بعالی خدمت عالی جناب مولوی احمد خاں صاحب قبلہ جو نمونہ کپڑے کا پیش ہے کہاجاتاہے یہ ٹسر ہے۔ٹسر اور ریشم کی تعریف ذیل میں ہے:
ریشم:ریشم کے کیڑے پرورش کئے جاتے ہیں جب ان کے انڈے بچے ہوکر بڑے ہوتے ہیں تو پانی میں ان کو جوش دیا جاتاہے جب وہ گھل جاتے ہیں تو ان سے تار نکالا جاتاہے وہی ریشم ہے۔
ٹسر:ٹسر کےکیڑے اس ملك میں بھی ہوتے ہیں جیسے بیر کے درخت کے کیڑے۔یہ مثل ریشم کے کیڑوں کے پرورش نہیں کئے جاتے بلکہ قدرتا ایك بونڈی میں پرورش پاتے ہیں۔جب وہ خود بخود ہونے کے بعد مرجاتے ہیں تو بونڈی سے تار نکال لئے جاتے ہیں وہی ٹسر ہے۔
ریشم کی چمك اور ملائمت ٹسر میں نہیں ہوتی۔اور چنیا سلك عورتوں کے لباس کے کام میں نہیں آتا۔اوریہ کپڑا مثل چھلواری کے متعدد باردھل سکتاہے اور چھلواری سے مضبوط ہوتاہے۔اکثر علماء ومشائخ اسے پہنتے ہیں۔مکہ مکرمہ ومدینہ طیبہ میں بھی علماء و خطباء کو پہنتے دیکھا گیااب یہ شبہہ پیدا ہورہا ہے کہ شرعا اس خاص کپڑے کا پہنا درست ہے یانہیں اور اس سے نمازجائز ہو سکتی ہے یا نہیں ہم نے حریردیبا خبز عھکے احکام صحیح بخاری ومسلم ومشکوۃ شریف وہدایہ وفتاوی عالمگیری وغیرہ میں تفصیل سے دیکھے لیکن یہ تشفی نہیں ہوئی کہ یہ خاص کپڑا مشروع ہے یانہیں لہذا صرف اس قدر دریافت کرنا منظور ہے کہ یہ کپڑا جو اس کے ساتھ پیش ہے مشروع ہے اور اس سے نماز جائز ہوجاتی ہے یانہیں کیونکہ آج کل اس کپڑے کا بہت رواج ہورہا ہے اس لئے مسلمانوں کو شك وشبہہ سے بچانے کے لئے اس خاص کپڑے کے جواز یا عدم جواز کا فتوی ضرور ہے۔
الجواب:
اللھم لك الحمدجو کپڑا فقیر نے دیکھا ہے او اس کے متعلق بیان سائل نظر سے گزرااس نے صورۃ وصفۃ حریر سے مشابہت نہ پائی۔یہ بہت خشن کثیفردیاکثر معمولی کپڑوں سے بھی گری حالت میں ہے اسے نعومتملاستنظافت ایراث تزینوتکبر وتفاخر سے کچھ علاقہ نہیں۔قیمت میں بھی سنا گیا ہےکہ بہت ارزاں ہے۔وہ کرم جس سے یہ پیدا ہوتا ہے مسموع ہوا کہ وہ دود القز کے علاوہ اورکیڑا ہے۔اس کی غذا ورق فرصاد یعنی برگ توت ہے۔اور اس کی ورق الخروع یعنی برگ بید انجیرجسے ہندی میں انڈی اور دیاربنگلہ میں رینڈی کہتے ہیں۔اسی مناسبت سے یہ کپڑا وہاں انھیں ناموں
بدیں عبارت بعالی خدمت عالی جناب مولوی احمد خاں صاحب قبلہ جو نمونہ کپڑے کا پیش ہے کہاجاتاہے یہ ٹسر ہے۔ٹسر اور ریشم کی تعریف ذیل میں ہے:
ریشم:ریشم کے کیڑے پرورش کئے جاتے ہیں جب ان کے انڈے بچے ہوکر بڑے ہوتے ہیں تو پانی میں ان کو جوش دیا جاتاہے جب وہ گھل جاتے ہیں تو ان سے تار نکالا جاتاہے وہی ریشم ہے۔
ٹسر:ٹسر کےکیڑے اس ملك میں بھی ہوتے ہیں جیسے بیر کے درخت کے کیڑے۔یہ مثل ریشم کے کیڑوں کے پرورش نہیں کئے جاتے بلکہ قدرتا ایك بونڈی میں پرورش پاتے ہیں۔جب وہ خود بخود ہونے کے بعد مرجاتے ہیں تو بونڈی سے تار نکال لئے جاتے ہیں وہی ٹسر ہے۔
ریشم کی چمك اور ملائمت ٹسر میں نہیں ہوتی۔اور چنیا سلك عورتوں کے لباس کے کام میں نہیں آتا۔اوریہ کپڑا مثل چھلواری کے متعدد باردھل سکتاہے اور چھلواری سے مضبوط ہوتاہے۔اکثر علماء ومشائخ اسے پہنتے ہیں۔مکہ مکرمہ ومدینہ طیبہ میں بھی علماء و خطباء کو پہنتے دیکھا گیااب یہ شبہہ پیدا ہورہا ہے کہ شرعا اس خاص کپڑے کا پہنا درست ہے یانہیں اور اس سے نمازجائز ہو سکتی ہے یا نہیں ہم نے حریردیبا خبز عھکے احکام صحیح بخاری ومسلم ومشکوۃ شریف وہدایہ وفتاوی عالمگیری وغیرہ میں تفصیل سے دیکھے لیکن یہ تشفی نہیں ہوئی کہ یہ خاص کپڑا مشروع ہے یانہیں لہذا صرف اس قدر دریافت کرنا منظور ہے کہ یہ کپڑا جو اس کے ساتھ پیش ہے مشروع ہے اور اس سے نماز جائز ہوجاتی ہے یانہیں کیونکہ آج کل اس کپڑے کا بہت رواج ہورہا ہے اس لئے مسلمانوں کو شك وشبہہ سے بچانے کے لئے اس خاص کپڑے کے جواز یا عدم جواز کا فتوی ضرور ہے۔
الجواب:
اللھم لك الحمدجو کپڑا فقیر نے دیکھا ہے او اس کے متعلق بیان سائل نظر سے گزرااس نے صورۃ وصفۃ حریر سے مشابہت نہ پائی۔یہ بہت خشن کثیفردیاکثر معمولی کپڑوں سے بھی گری حالت میں ہے اسے نعومتملاستنظافت ایراث تزینوتکبر وتفاخر سے کچھ علاقہ نہیں۔قیمت میں بھی سنا گیا ہےکہ بہت ارزاں ہے۔وہ کرم جس سے یہ پیدا ہوتا ہے مسموع ہوا کہ وہ دود القز کے علاوہ اورکیڑا ہے۔اس کی غذا ورق فرصاد یعنی برگ توت ہے۔اور اس کی ورق الخروع یعنی برگ بید انجیرجسے ہندی میں انڈی اور دیاربنگلہ میں رینڈی کہتے ہیں۔اسی مناسبت سے یہ کپڑا وہاں انھیں ناموں
سے مسمی ہےاصل اشیاء میں اباحت ہے۔جب تك شرع سے تحریم ثابت نہ ہو اس پر جرأت ممنوع و معصیت ہے۔
قال اﷲ تعالی " قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾"
وقال تعالی" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:ان لوگوں سے فرمادیں(یعنی دریافت کریں)کیااﷲ تعالی نے تمھیں ایسا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے یا تم ویسے ہی اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھ رہے ہو(ت)
ایك اور مقام پر اﷲ تعالی نے فرمایا کہ(لوگو!)تمھاری زبانیں جو کچھ جھوٹ بیان کرتی ہیں اس سلسلے میں یہ نہ کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھویقیناجو لوگ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (ت)
علامہ عبدالغنی نابلسی فرماتے ہیں:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ تعالی باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل ۔ اﷲ تعالی پر افتراء کرنے میں کوئی احتیاط نہیں کہ حرمت اور کراہت ثابت کرے اس لئے کہ ان دونوں کے لئے دلیل ضروری ہے بلکہ احتیاط اس کو مباح کہتے ہیں اس لئے کہ یہی اشیاء میں اصل ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
فی الہدایۃ من فصل الحداد ان الاباحۃ اصل انتھی ویظھر ھذا الاختلاف فی المسکوت عنہ ویتخرج علیھا ما اشکل حال فمنھا الحیوان المشکل امرہ ہدایہ کی فصل حداد میں ہے کہ اباحت اصل ہے انتہی اور جس چیز سے سکوت ہے(یعنی مسکوت عنہ)میں یہ اختلاف ظاہر ہوتاہے اباحت پر ان مسائل کی تخریج کی جاتی ہے۔جن کاحال معلوم کرنا مشکل ہو
قال اﷲ تعالی " قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾"
وقال تعالی" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:ان لوگوں سے فرمادیں(یعنی دریافت کریں)کیااﷲ تعالی نے تمھیں ایسا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے یا تم ویسے ہی اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھ رہے ہو(ت)
ایك اور مقام پر اﷲ تعالی نے فرمایا کہ(لوگو!)تمھاری زبانیں جو کچھ جھوٹ بیان کرتی ہیں اس سلسلے میں یہ نہ کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھویقیناجو لوگ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ (ت)
علامہ عبدالغنی نابلسی فرماتے ہیں:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ تعالی باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل ۔ اﷲ تعالی پر افتراء کرنے میں کوئی احتیاط نہیں کہ حرمت اور کراہت ثابت کرے اس لئے کہ ان دونوں کے لئے دلیل ضروری ہے بلکہ احتیاط اس کو مباح کہتے ہیں اس لئے کہ یہی اشیاء میں اصل ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
فی الہدایۃ من فصل الحداد ان الاباحۃ اصل انتھی ویظھر ھذا الاختلاف فی المسکوت عنہ ویتخرج علیھا ما اشکل حال فمنھا الحیوان المشکل امرہ ہدایہ کی فصل حداد میں ہے کہ اباحت اصل ہے انتہی اور جس چیز سے سکوت ہے(یعنی مسکوت عنہ)میں یہ اختلاف ظاہر ہوتاہے اباحت پر ان مسائل کی تخریج کی جاتی ہے۔جن کاحال معلوم کرنا مشکل ہو
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۰/ ۵۹€
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۱۶€
ردالمحتار بحوالہ الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/۲۹۶€
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۱۶€
ردالمحتار بحوالہ الصلح بین الاخوان فی اباحۃ شرب الدخان کتاب الاشربہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/۲۹۶€
والنبات المجھول وسمیتہ ۔ پس ان میں سے ایك تو وہ حیوان ہے جس کا معاملہ مشتبہ ہو اور دوسرے وہ نامعلوم جڑی بوٹیاں ہیں اور ان کا زہریلا ہوناہے۔ (ت)
غمز العیون میں ہے:
قولہ والنبات المجھول الخ یعلم منہ شرب الدخان ۔ مصنف کاا ندیشہ ہے والنبات المجھول الخ اس سے دھواں نوشی کا حکم معلوم ہوجاتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الذی یظھر ان ھذہ الدودۃ ان کانت غیر مائیۃ المولد وکان لھا دم سائل فھی نجسۃ ولا فطاھرۃ فلا یحکم نجاستھا قبل العلم بحقیققتھا ۔ وہ جو ظاہر ہوتاہے کہ اگر ان کیڑوں کی جائے پیدائش پائی نہیں اور ان میں بہنے والا خون ہے تو وہ ناپاك ہیں بصورت دیگر پاك ہیں لہذا ان کی حقیقت معلوم ہونے سے قبل ان پر نجاست کاحکم نہیں دیا جاسکتا۔(ت)
ادعائے تحریم کے لئے لازم ہے کہ شرع سے خاص اس کپڑے کی حرمت پر دلیل قائم ہو یا ثبوت کافی دیا جائے کہ شرعا حریر اس کپڑے کوکہتے ہیں کہ جو کیڑے کے لعاب سے بنایا جایا اگر چہ دودالقز کا غیر ہو اگر چہ اس میں کوئی وجہ تزئین وتفاخر وتشبہ بالجبابرۃ والاکاسرۃ کی نہ ہو و ودونھما خرط القتاد(اور ان دو کے بغیر صرف کانٹوں پر ہاتھ پھیرنا ہے یعنی سوائے تکلیف کچھ حاصل نہیں۔ت)یہ ایك مثال ہے جو کسی کام کے غیر حصول کے لئے بیان کی جاتی ہے۔مترجم)بالجملہ جب تك تحریم ثابت نہ ہو اباحت اصلیہ شرعیہ پر عمل سے کوئی مانع نہیں
قال اﷲ تعالی " خلق لکم ما فی الارض جمیعا ٭ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اﷲ وہی ہے جس نے تمھارے لئے وہ سب کچھ جو زمین میں ہے پیدا کیا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
غمز العیون میں ہے:
قولہ والنبات المجھول الخ یعلم منہ شرب الدخان ۔ مصنف کاا ندیشہ ہے والنبات المجھول الخ اس سے دھواں نوشی کا حکم معلوم ہوجاتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الذی یظھر ان ھذہ الدودۃ ان کانت غیر مائیۃ المولد وکان لھا دم سائل فھی نجسۃ ولا فطاھرۃ فلا یحکم نجاستھا قبل العلم بحقیققتھا ۔ وہ جو ظاہر ہوتاہے کہ اگر ان کیڑوں کی جائے پیدائش پائی نہیں اور ان میں بہنے والا خون ہے تو وہ ناپاك ہیں بصورت دیگر پاك ہیں لہذا ان کی حقیقت معلوم ہونے سے قبل ان پر نجاست کاحکم نہیں دیا جاسکتا۔(ت)
ادعائے تحریم کے لئے لازم ہے کہ شرع سے خاص اس کپڑے کی حرمت پر دلیل قائم ہو یا ثبوت کافی دیا جائے کہ شرعا حریر اس کپڑے کوکہتے ہیں کہ جو کیڑے کے لعاب سے بنایا جایا اگر چہ دودالقز کا غیر ہو اگر چہ اس میں کوئی وجہ تزئین وتفاخر وتشبہ بالجبابرۃ والاکاسرۃ کی نہ ہو و ودونھما خرط القتاد(اور ان دو کے بغیر صرف کانٹوں پر ہاتھ پھیرنا ہے یعنی سوائے تکلیف کچھ حاصل نہیں۔ت)یہ ایك مثال ہے جو کسی کام کے غیر حصول کے لئے بیان کی جاتی ہے۔مترجم)بالجملہ جب تك تحریم ثابت نہ ہو اباحت اصلیہ شرعیہ پر عمل سے کوئی مانع نہیں
قال اﷲ تعالی " خلق لکم ما فی الارض جمیعا ٭ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اﷲ وہی ہے جس نے تمھارے لئے وہ سب کچھ جو زمین میں ہے پیدا کیا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول قاعدہ ھل الاصل فی الاشیاء الاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۹۸۔۹۷€
غمز العیون الفن الاول قاعدہ ھل الاصل فی الاشیاء الاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۹۸€
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۰€
غمز العیون الفن الاول قاعدہ ھل الاصل فی الاشیاء الاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۹۸€
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۰€
مسئلہ ۳۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دستار کے شملہ کہاں تك رکھنا مسنون ہے۔اور کہاں تك رکھنا مباح اور کہاں تك رکھنا ممنوع وغیر مشروع حرام ہے۔اگر کسی شخص نے ڈیڑھ ہاتھ شملہ رکھادوسرے نے بولا ڈیڑھ ہاتھ شملہ رکھنا حرام ہے۔ایایہ کہنا بموجب شرع کے ہے یانہیں آیایہ قائل گنہگار ہوایانہیں بینو ا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
شملے کی اقل مقدار چار انگشت ہے اور زیادہ سے زیادہ ایك ہاتھ اور بعض نے نشتستگاہ تك رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے موضع جلوس تك پہنچےاور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریبا وہی ایك ہاتھ ہے۔حد سے زیادہ داخل اسراف ہے۔اور یہ نیت تکبر ہو تو حرامیونہی نشست گاہ سے بھی نیچا مثلا رانوں یا زانوں تك یہ سخت شنیع و ممنوع زاور بعض نے انسان بدوضع آوارہ رندوں کی وضع ہے۔ڈیڑھ ہاتھ کا شملہ اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو اسے حرام کہنا نہ چاہئے۔خصوصا اس حالت میں کہ بعض علماء نے موضع جلوس تك بھی اجازت دی مگر حرام کہنے والے کو گنہگار بھی نہ کہیں گے جبکہ اس نے حرام بمعنی عام یعنی ممنوع لیا ہو جو مکروہ تحریمی کو شامل ہے۔ اشعۃاللمعات شرح مشکوۃ میں ہے:
اقل مقدار عذ بہ چہار انگشت ست وتطویل آں متجاوز از نصف ظہر بدعت ست وداخل اسبال واسراف ممنوع واگر بطریق تکبر وخیلاء باشد حرام و الا مکروہ مخالف سنت ۔ پگڑی کے شملہ کی کم سے کم مقدار چارانگلیوں کے برابر ہے اور شملے کو اتنا لمبارکھنا کہ آدھی پشت سے بھی آگے چلا جائے بدعت ہے کپڑا لٹکانے میں اسراف ہے جو ممنوع ہے۔اور اگر تکبر اور تفاخر کے طو رپر ہو تو حرام ہے۔ورنہ مکروہ اور خلاف سنت ہے۔(ت)
دستوار اللباس میں ہے:
از فتاوی حجۃ وجامع آوردہ کہ الذنب ستۃ انواع للقاضی خمس وثلثون اصابع واللخطیب احدی وعشرون اصابع وللعالم سبع وعشرون اصابع وللمتعلم سبعۃ عشر اصبعا وللصوفی سبع اصابع وللعامی ار بع اصابع ۔ فتاوی حجۃ اور جامع میں نقل کی گیاہے کہ شملہ کی چھ اقسام ہیں: (۱)قاضی کے لئے ۳۵ انگشت کے بمقدار(۲)خطیب کے لئے بمقدار ۲۱ انگشت(۳)عالم کے لئے بمقدار ۲۷ انگشت(۴) متعلم کے لئے بمقدار ۱۷ انگشت(۵)صوفی کےلئے بمقدار ۷ انگشت(۶)عام آدمی کے لئے بمقدار ۴ انگشت۔(ت)
الجواب:
شملے کی اقل مقدار چار انگشت ہے اور زیادہ سے زیادہ ایك ہاتھ اور بعض نے نشتستگاہ تك رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے موضع جلوس تك پہنچےاور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریبا وہی ایك ہاتھ ہے۔حد سے زیادہ داخل اسراف ہے۔اور یہ نیت تکبر ہو تو حرامیونہی نشست گاہ سے بھی نیچا مثلا رانوں یا زانوں تك یہ سخت شنیع و ممنوع زاور بعض نے انسان بدوضع آوارہ رندوں کی وضع ہے۔ڈیڑھ ہاتھ کا شملہ اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو اسے حرام کہنا نہ چاہئے۔خصوصا اس حالت میں کہ بعض علماء نے موضع جلوس تك بھی اجازت دی مگر حرام کہنے والے کو گنہگار بھی نہ کہیں گے جبکہ اس نے حرام بمعنی عام یعنی ممنوع لیا ہو جو مکروہ تحریمی کو شامل ہے۔ اشعۃاللمعات شرح مشکوۃ میں ہے:
اقل مقدار عذ بہ چہار انگشت ست وتطویل آں متجاوز از نصف ظہر بدعت ست وداخل اسبال واسراف ممنوع واگر بطریق تکبر وخیلاء باشد حرام و الا مکروہ مخالف سنت ۔ پگڑی کے شملہ کی کم سے کم مقدار چارانگلیوں کے برابر ہے اور شملے کو اتنا لمبارکھنا کہ آدھی پشت سے بھی آگے چلا جائے بدعت ہے کپڑا لٹکانے میں اسراف ہے جو ممنوع ہے۔اور اگر تکبر اور تفاخر کے طو رپر ہو تو حرام ہے۔ورنہ مکروہ اور خلاف سنت ہے۔(ت)
دستوار اللباس میں ہے:
از فتاوی حجۃ وجامع آوردہ کہ الذنب ستۃ انواع للقاضی خمس وثلثون اصابع واللخطیب احدی وعشرون اصابع وللعالم سبع وعشرون اصابع وللمتعلم سبعۃ عشر اصبعا وللصوفی سبع اصابع وللعامی ار بع اصابع ۔ فتاوی حجۃ اور جامع میں نقل کی گیاہے کہ شملہ کی چھ اقسام ہیں: (۱)قاضی کے لئے ۳۵ انگشت کے بمقدار(۲)خطیب کے لئے بمقدار ۲۱ انگشت(۳)عالم کے لئے بمقدار ۲۷ انگشت(۴) متعلم کے لئے بمقدار ۱۷ انگشت(۵)صوفی کےلئے بمقدار ۷ انگشت(۶)عام آدمی کے لئے بمقدار ۴ انگشت۔(ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس فصل دوم مطبع نولکشور لکھنؤ ۳/ ۵۴۵
دستور اللباس
دستور اللباس
شرح شرعۃ الاسلام میں ہے:
قال فی خذانۃ الفتاوی والمستحب ارسال ذنب العمامۃ بین کتفیہ الی وسط الظھر ومنھم من قال الی موضع الجلوس ومنھم من قدر بالشبر ۔ خزانۃ الفتاوی میں فرمایا:پگڑی کا شملہ دو کندھوں کے درمیان نصف پشت تك لٹکانا مستحب(موجب ثواب)ہے۔اور بعض اہل علم نے فرمایا:سرین تك ہو جبکہ بعض نے اس کی مقدار صرف ایك بالشت بتائی ہے۔(ت)
عین العلم میں ہے:
یرسل الذیل بین الکتفین الی قدرالشبر اوموضع القعود اونصف الظھور وھو وسط مرضی والکل مروی ۔ شملہ دو کندھوں کے درمیان ایك بالشت کی مقدار لٹکائے (اور چھوڑے)یا سرین تك ہو یا نصف پشت تك ہو اور یہ متوسط اور پسندیدہ طریقہ ہے اوریہ سب کچھ مروی ہے۔ (ت)
شرح علامہ علی قاری میں ہے:
الاول اشھر واکثر واظھر والکل قدجمعتہ فی رسالۃ مستقلۃ اھ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ پہلا قول اکثر ور زیادہ مشہور ہے اور زیادہ ظاہر ہے اور ان سب اقوال کو میں نے ایك مستقل رسالہ میں جمع کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۷: مسئولہ مولوی حکیم امجد علی صاحب ۱۱ رجب المرجب ۱۳۳۰ھ
زعفران اور کسم اگر دوسرے رنگوں میں تھوڑے شامل کردئے جائیں تو جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر تھوڑے ملائے کہ مستہلك ہوگئے اور ان کا رنگ نہ آیا تو حرج نہیں۔
اذلا حکم للمستھلك ویشیر الیہ کلام التنویر کسرہ لبس جو چیز نیست ونابود ہوجائے تو اس کے لئے کوئی حکم نہیں۔ صاحب تنویر کا کلام اسی طرف
قال فی خذانۃ الفتاوی والمستحب ارسال ذنب العمامۃ بین کتفیہ الی وسط الظھر ومنھم من قال الی موضع الجلوس ومنھم من قدر بالشبر ۔ خزانۃ الفتاوی میں فرمایا:پگڑی کا شملہ دو کندھوں کے درمیان نصف پشت تك لٹکانا مستحب(موجب ثواب)ہے۔اور بعض اہل علم نے فرمایا:سرین تك ہو جبکہ بعض نے اس کی مقدار صرف ایك بالشت بتائی ہے۔(ت)
عین العلم میں ہے:
یرسل الذیل بین الکتفین الی قدرالشبر اوموضع القعود اونصف الظھور وھو وسط مرضی والکل مروی ۔ شملہ دو کندھوں کے درمیان ایك بالشت کی مقدار لٹکائے (اور چھوڑے)یا سرین تك ہو یا نصف پشت تك ہو اور یہ متوسط اور پسندیدہ طریقہ ہے اوریہ سب کچھ مروی ہے۔ (ت)
شرح علامہ علی قاری میں ہے:
الاول اشھر واکثر واظھر والکل قدجمعتہ فی رسالۃ مستقلۃ اھ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ پہلا قول اکثر ور زیادہ مشہور ہے اور زیادہ ظاہر ہے اور ان سب اقوال کو میں نے ایك مستقل رسالہ میں جمع کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۷: مسئولہ مولوی حکیم امجد علی صاحب ۱۱ رجب المرجب ۱۳۳۰ھ
زعفران اور کسم اگر دوسرے رنگوں میں تھوڑے شامل کردئے جائیں تو جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر تھوڑے ملائے کہ مستہلك ہوگئے اور ان کا رنگ نہ آیا تو حرج نہیں۔
اذلا حکم للمستھلك ویشیر الیہ کلام التنویر کسرہ لبس جو چیز نیست ونابود ہوجائے تو اس کے لئے کوئی حکم نہیں۔ صاحب تنویر کا کلام اسی طرف
حوالہ / References
شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن اللباس ∞مکتبہ الاسلامیہ کوئٹہ ص۴۔۲۸€۳
عین اعلم الباب السابع فی الاتباع فی المعیشۃ∞ مطبع امرت پریس لاہور ص۲۴€۸
شرح عین العلم لملا علی قاری(بین السطور) ∞مطبع امرت پریس لاہور ص۲۴۸€
عین اعلم الباب السابع فی الاتباع فی المعیشۃ∞ مطبع امرت پریس لاہور ص۲۴€۸
شرح عین العلم لملا علی قاری(بین السطور) ∞مطبع امرت پریس لاہور ص۲۴۸€
المعصفر والمزعفرالاحمر اوالاصفر للرجال ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اشارہ کرتاہے معصفر اور زعفرانی سرخ اورزرد رنگ مردوں کے لئے مکروہ ہے۔اور اﷲ سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۳۸:نیا کپڑا یا جوتا استعمال کرنے پرکیاپڑے اورکون سے روز استعمال کرے درزی کو کون سے روز سلنے کو دے
الجواب:
بسم اﷲ کہہ کر پہنے اور پہن کر پڑھے۔
الحمداﷲ الذی کسانی ھذا و رزقنیہ من غیر حول منی ولاقوۃ ۔ سب تعریف اور ستائش اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور میری قوت وطاقت(بچاؤ وتحفظ کے بغیر مجھے اس کے پہننے کی توفیق بخشی)(ت)
اور کپڑے کے استعمال یا درزی کو دینے کے لئے کوئی خصوصیت نہیںہاں منگل کے دن کپڑا قطع نہ کیاجائے۔مولا علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا:"جو کپڑا منگل کے روز قطع کیا جائے وہ جلے یا ڈوبے یا چوری ہوجائے"واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: از کالج علی گڑھ کمرہ نمبر ۶ مرسلہ عبدالمجید خاں یوسف نری سرسید کورٹ ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ
زید انگریزی ٹوپی یعنی ہیٹ کو استعمال نہیں کرتا ہے مگر پتلون پہنتاہے اور پتلون پر ترکی کوٹ پہنتاہے یہ لباس درست ہے یا نہیں
الجواب:
دربارہ لباس اصل کلی یہ ہے کہ جو لباس جس جگہ کفار یا مبتدعین یا فساق کی وضع ہے اپنے اختصاص و شعاریت کے مقدا رپر مکروہ یاحرام یا بعض صور میں کفر تك ہے۔حدیقہ ندیہ میں ہے:
لبس زی الافرنج کفر علی الصحیح ۔ افرنگیوں کا لباس صحیح قول کی بنا پر کفر ہے۔(ت)
ہیٹ اسی قسم میں ہے اور پتلون قسم اول میں اور دوسرے ملك میں کسی اسلامی قوم کی وضع ہوناکافی
مسئلہ ۳۸:نیا کپڑا یا جوتا استعمال کرنے پرکیاپڑے اورکون سے روز استعمال کرے درزی کو کون سے روز سلنے کو دے
الجواب:
بسم اﷲ کہہ کر پہنے اور پہن کر پڑھے۔
الحمداﷲ الذی کسانی ھذا و رزقنیہ من غیر حول منی ولاقوۃ ۔ سب تعریف اور ستائش اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جس نے مجھے یہ لباس پہنایا اور میری قوت وطاقت(بچاؤ وتحفظ کے بغیر مجھے اس کے پہننے کی توفیق بخشی)(ت)
اور کپڑے کے استعمال یا درزی کو دینے کے لئے کوئی خصوصیت نہیںہاں منگل کے دن کپڑا قطع نہ کیاجائے۔مولا علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا:"جو کپڑا منگل کے روز قطع کیا جائے وہ جلے یا ڈوبے یا چوری ہوجائے"واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: از کالج علی گڑھ کمرہ نمبر ۶ مرسلہ عبدالمجید خاں یوسف نری سرسید کورٹ ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ
زید انگریزی ٹوپی یعنی ہیٹ کو استعمال نہیں کرتا ہے مگر پتلون پہنتاہے اور پتلون پر ترکی کوٹ پہنتاہے یہ لباس درست ہے یا نہیں
الجواب:
دربارہ لباس اصل کلی یہ ہے کہ جو لباس جس جگہ کفار یا مبتدعین یا فساق کی وضع ہے اپنے اختصاص و شعاریت کے مقدا رپر مکروہ یاحرام یا بعض صور میں کفر تك ہے۔حدیقہ ندیہ میں ہے:
لبس زی الافرنج کفر علی الصحیح ۔ افرنگیوں کا لباس صحیح قول کی بنا پر کفر ہے۔(ت)
ہیٹ اسی قسم میں ہے اور پتلون قسم اول میں اور دوسرے ملك میں کسی اسلامی قوم کی وضع ہوناکافی
حوالہ / References
درمختار کتا ب الحظروالاباحۃ باب اللبس ∞مطبع مجتائی دہلی ۲ /۲۴۰€
عمل یوم واللیلۃ باب مایقول از ستجد ثوبا ∞حدیث ۲۷۱€ دائرۃ المعارف ∞عثمانیہ حیدر آباد دکن ص۷۴€
الحدیقہ الندیہ النوع الثامنن من الانواع الستین السخیریہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۳۰€
عمل یوم واللیلۃ باب مایقول از ستجد ثوبا ∞حدیث ۲۷۱€ دائرۃ المعارف ∞عثمانیہ حیدر آباد دکن ص۷۴€
الحدیقہ الندیہ النوع الثامنن من الانواع الستین السخیریہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۳۰€
نہیں جبکہ اس ملك میں کفار یا فساق کی وضع ہو فان کل بلدۃ وعوائدھا(کیونکہ ہر شہر اور اس کے رہنے وال۔ت)خصوصا اس حالت میں کہ ترك نے بھی یہ وضع بہت قریب زمانے سے اختیار کی اور وہ بھی نہ طوعا بلکہ جبراسلطان محمودخاں کے زمانہ میں سلطنت کی طرف سے اس پر مجبور کیا گیا اورنیگچری فوج نے اس پر مخالفت کی اور کشت وخون وقع ہوا بالآخر بمجبوری مانیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰: مسئولہ حافظ بنو علی صاحب از خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب متوسط ضلع ناگپور ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ خام رنگ مثلا سرخسبزنیلاپیلا ایسے رنگ کے کپڑے پہن کر نماز جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان فرماؤ او۳ر اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
عورت کو ہرقسم کا رنگ جائز ہے جب تك اس میں کوئی نجاست نہ ہواور مر د کے لئے دو رنگوں کا استثناء ہے۔معصفر ار مزعفر یعنی کسم اور کیسریہ دونوں مرد کو ناجائز ہیں اور خالص شوخ رنگ بھی اسے مناسب نہیں۔حدیث میں ہے:
ایاکم والحمرۃ فانھا من زی الشیطان ۔ سرخ رنگ سے بچو اس لئے کہ وہ شیطانی صورت اورہیئت ہے۔(ت)
باقی رنگ فی نفسہ جائز ہیں کچے ہوں یا پکے ہاں اگر کوئی کسی عارض کی وجہ ممانعت ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے جیسے ماتم کی وجہ سے سیاہ لباس پہنناحرام ہے۔کما فی الھندیۃ (جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے۔ت)بلکہ ماتم کے لئے کسی قسم کی تغیہیر وضع حام ہے کما فی المرقاۃ شرح المشکوۃ لعلی القاری(جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ شرح المشکوۃ میں ہے۔ت)ولہذا ایام محرم شریف میں سبز لباس جس طرح جاہلوں میں مروج ہے ناجائز وگناہ ہے۔اور اودا یا نیلا یا آبی یا سیاہ اور بدتر واخبث ہے۔کہ روافض کا شعار اور ان کی تشبہ ہے اس طرح ان ایام میں سرخ بھی ناصبی خبیث بہ نیت خوشی و شادی پہنتے ہیں یونہی ہولی کے دنوں میں چنریاں اور بسنت کے دنوں میں بسنتی کہ کفار ہنود کی رسم ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰: مسئولہ حافظ بنو علی صاحب از خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب متوسط ضلع ناگپور ۱۳ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ خام رنگ مثلا سرخسبزنیلاپیلا ایسے رنگ کے کپڑے پہن کر نماز جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان فرماؤ او۳ر اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
عورت کو ہرقسم کا رنگ جائز ہے جب تك اس میں کوئی نجاست نہ ہواور مر د کے لئے دو رنگوں کا استثناء ہے۔معصفر ار مزعفر یعنی کسم اور کیسریہ دونوں مرد کو ناجائز ہیں اور خالص شوخ رنگ بھی اسے مناسب نہیں۔حدیث میں ہے:
ایاکم والحمرۃ فانھا من زی الشیطان ۔ سرخ رنگ سے بچو اس لئے کہ وہ شیطانی صورت اورہیئت ہے۔(ت)
باقی رنگ فی نفسہ جائز ہیں کچے ہوں یا پکے ہاں اگر کوئی کسی عارض کی وجہ ممانعت ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے جیسے ماتم کی وجہ سے سیاہ لباس پہنناحرام ہے۔کما فی الھندیۃ (جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے۔ت)بلکہ ماتم کے لئے کسی قسم کی تغیہیر وضع حام ہے کما فی المرقاۃ شرح المشکوۃ لعلی القاری(جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ شرح المشکوۃ میں ہے۔ت)ولہذا ایام محرم شریف میں سبز لباس جس طرح جاہلوں میں مروج ہے ناجائز وگناہ ہے۔اور اودا یا نیلا یا آبی یا سیاہ اور بدتر واخبث ہے۔کہ روافض کا شعار اور ان کی تشبہ ہے اس طرح ان ایام میں سرخ بھی ناصبی خبیث بہ نیت خوشی و شادی پہنتے ہیں یونہی ہولی کے دنوں میں چنریاں اور بسنت کے دنوں میں بسنتی کہ کفار ہنود کی رسم ہے واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۱۷€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۸ /۱۴۸،€کنز العمال بحوالہ ابن جریر عثمان عن قتادہ ∞حدیث ۴۱۱۷۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۳۱۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکرھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکرھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۳۳€
مسئلہ ۴۱: زموضع میر پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ یوسف علی ۲۳ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ لباس مسنون کیا ہے اور روایت مشہورہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیشہ تہبند ہی استعمال فرمایا اور قمیص بلا بٹن یعنی گھنڈی دار پہنی ہیں تو بھی مسنون ہوا اور جب یہ مسنون ہوا تو اگر کوئی شخص پائجامہ پہنے یا قمیص یا بٹن پہنے یا چین لگائے یا کالر لگائے یہ سب خلاف سنت ہے۔تو کیا وہ مخالف سنت کہلا یا جائے گا اور مثلا آپ نے یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم نے نان جویں ہی تناول فرمائی ہیں او دعوت میں جیسی بھی تو کیا جو شخص اپنے مکان پر نان گند م کھائے اور نان جو نہ کھائے تو مخالفین سنت میں داخل ہوگا بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سنن زوائد ہیں بہ نیت اتباع اجر ہے ورنہ:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق " فرمادیجئے اﷲ تعالی کی زیب وزینت کس نے حرام ٹھہرائی جو اس نے بندوں کےلیے نکالی(یعنی ظاہر فرمائی)ا ور ستھری روزی(ت)
ہاں یہ ضرور ہے کہ کفار یا بدمذہوں یا فساق کی وضع نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲: از بریلی شہر کہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ حافظ رحیم اﷲ صاحب ۲۶ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عمامہ شریف کے گزر کا باندھا تھا جیسا کہ عرب شریف کے لوگ باندھتے ہیں۔یہاں کے لوگ باندھتے ہیں اور حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تہبند باندھا تھا کہ پائجامہ پہنا تھا۔اور حضور کے کرتہ شریف میں گھنڈی لگی تھی یا بٹن اور کرتہ شریف میں چاك کھلے تھے یا نہیں گھنڈی آپ کے کرتہ مبارك میں سامنے تھی یا ادھر ادھر
الجواب:
عمامہ میں سنت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو نہ چھ گز سے زیادہاور اس کی بندش گنبد نما ہو جس طرح فقیر باندھتا ہے۔ عرب شریف کے لوگ جیسا کہ اب باندھتے ہیں طریقہ سنت نہیں اسے اعتجار کہتے ہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ لباس مسنون کیا ہے اور روایت مشہورہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیشہ تہبند ہی استعمال فرمایا اور قمیص بلا بٹن یعنی گھنڈی دار پہنی ہیں تو بھی مسنون ہوا اور جب یہ مسنون ہوا تو اگر کوئی شخص پائجامہ پہنے یا قمیص یا بٹن پہنے یا چین لگائے یا کالر لگائے یہ سب خلاف سنت ہے۔تو کیا وہ مخالف سنت کہلا یا جائے گا اور مثلا آپ نے یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم نے نان جویں ہی تناول فرمائی ہیں او دعوت میں جیسی بھی تو کیا جو شخص اپنے مکان پر نان گند م کھائے اور نان جو نہ کھائے تو مخالفین سنت میں داخل ہوگا بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سنن زوائد ہیں بہ نیت اتباع اجر ہے ورنہ:
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق " فرمادیجئے اﷲ تعالی کی زیب وزینت کس نے حرام ٹھہرائی جو اس نے بندوں کےلیے نکالی(یعنی ظاہر فرمائی)ا ور ستھری روزی(ت)
ہاں یہ ضرور ہے کہ کفار یا بدمذہوں یا فساق کی وضع نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲: از بریلی شہر کہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ حافظ رحیم اﷲ صاحب ۲۶ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عمامہ شریف کے گزر کا باندھا تھا جیسا کہ عرب شریف کے لوگ باندھتے ہیں۔یہاں کے لوگ باندھتے ہیں اور حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تہبند باندھا تھا کہ پائجامہ پہنا تھا۔اور حضور کے کرتہ شریف میں گھنڈی لگی تھی یا بٹن اور کرتہ شریف میں چاك کھلے تھے یا نہیں گھنڈی آپ کے کرتہ مبارك میں سامنے تھی یا ادھر ادھر
الجواب:
عمامہ میں سنت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو نہ چھ گز سے زیادہاور اس کی بندش گنبد نما ہو جس طرح فقیر باندھتا ہے۔ عرب شریف کے لوگ جیسا کہ اب باندھتے ہیں طریقہ سنت نہیں اسے اعتجار کہتے ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷ /۳۲€
کہ بیچ میں سرکھلا ہے۔اوراعتجار کو علماء نے مکروہ لکھا ہے۔رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تہبند باندھا اور پاجامہ خریدنا اور پاجامہ پہننے کی تعریف فرمانا ثابت ہے پہننا ثابت نہیں۔کرتہ مبارك میں بٹن ثابت نہیں۔چاك دونوں طرف تھےصحیح مسلم شریف میں اسماءبنت ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہا کی حدیث میں ہے:
وفرجیھا مکفوفین بالدیباج ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کرتہ مبارك کے دونوں چاك ریشم سے سلے ہوئے تھے۔(ت)
گریبان مبارك سینہ اقدس پر تھا۔اشتعۃ اللمعات میں ہے:
جیب قمیص آں حضرت صلی ااﷲ تعالی علیہ وسلم برسینہ مبارك وی بود چنانکہ احادیث بسیار برآں دلالت دارد ۔ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کرتہ مبارك کا گریبان آپ کے مقدس سینے پر تھا جیسا کہ بہت سی حدیثیں(ارشاد ات صحابہ کرام)اس پر دلالت(اور راہنمائی کرتی ہیں۔ت)
اسی میں ہے:
تحقیق آنست کہ گریبان پیرا ہن نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برسینہ بود ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تحقیق یہ ہے کہ حضور اکرم صل اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کرتے مبارك کا گریبان سینہ اقدس پر تھا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۳: از برٹس گائناڈمرارا پترس حضال ویچ ایسٹ بنگ مسئولہ عبدالغفور بتاریخ ۲۴ صفر المظفر روز شنبہ ۱۳۳۴ھ
زردرنگ کپڑا مرد کو پہنا کیسا ہے خصوصا جو شخص اپنے کو عالم کہے اور پھر زرد کپڑا پہنتاہو۔
الجواب:
زعفران کا رنگا ہوا کپڑا مرد پر حرام ہے۔اور کسی طرح کازرد رنگ حرام نہیں۔ہاں اگر وہ کسی ایسی وضع مخصوص
وفرجیھا مکفوفین بالدیباج ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کرتہ مبارك کے دونوں چاك ریشم سے سلے ہوئے تھے۔(ت)
گریبان مبارك سینہ اقدس پر تھا۔اشتعۃ اللمعات میں ہے:
جیب قمیص آں حضرت صلی ااﷲ تعالی علیہ وسلم برسینہ مبارك وی بود چنانکہ احادیث بسیار برآں دلالت دارد ۔ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کرتہ مبارك کا گریبان آپ کے مقدس سینے پر تھا جیسا کہ بہت سی حدیثیں(ارشاد ات صحابہ کرام)اس پر دلالت(اور راہنمائی کرتی ہیں۔ت)
اسی میں ہے:
تحقیق آنست کہ گریبان پیرا ہن نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برسینہ بود ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تحقیق یہ ہے کہ حضور اکرم صل اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کرتے مبارك کا گریبان سینہ اقدس پر تھا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۳: از برٹس گائناڈمرارا پترس حضال ویچ ایسٹ بنگ مسئولہ عبدالغفور بتاریخ ۲۴ صفر المظفر روز شنبہ ۱۳۳۴ھ
زردرنگ کپڑا مرد کو پہنا کیسا ہے خصوصا جو شخص اپنے کو عالم کہے اور پھر زرد کپڑا پہنتاہو۔
الجواب:
زعفران کا رنگا ہوا کپڑا مرد پر حرام ہے۔اور کسی طرح کازرد رنگ حرام نہیں۔ہاں اگر وہ کسی ایسی وضع مخصوص
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال اناء الذھب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۰€
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴€۴
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴۴€
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴€۴
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۴۴€
پر ہے جس سے انگشت نمائی و شہرت ہو تو مطلقا مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۴: از گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل سنی حنفی قادری رضوی ۱۴ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
رومال خالص ریشمی کپڑے کا مرد استعمال کرسکتاہے یا نہیں
الجواب:
رومال سے مراد اگر ہاتھ میںلینے کا ہے تو کرسکتاہے اورگر اورڑنے کا ہے تو نہیں۔
مسئلہ ۴۵: از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب یکم صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تحمل اور کمخواب سوتی یا ریشمی کاستعمال مرد کے لئے جائز ہے یانہیں اس طرف اکثر مسلمان مخمل کی ٹوپی اور سدری وغیرہ پہنتے ہیں۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
کمخواب یا مخمل سوتی مرد کو جائز ہے اور ریشمی ناجائز واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۶ و ۴۷: مرسلہ مصاحب علی طالب علم ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
(۱)عورت نے اپنے خاوند کو اپنے ساتھ لٹاکراپنا لحاف ریشمی یا چادرریشمی خاوند کو بھی اڑھادی تو کیا یہ استعمال ریشمی کپڑے کا بہ تبع عورت کےمرد کو جائز ہے یانہیں
(۲)مرد کو مخمل پہننا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب
(۱)ناجائز ہے اور اوڑھنے میں تبیعت کے کوئی معنی نہیں۔دونوں مستقل ہیں۔اوریہ تبیعت کی کوئی صورت نہیں کہ ملك عورت کی ہے یا بناء اس کے لئے ہاں ریشمی توشك پرلیٹنا امام کے نزدیك جائز ہے۔
(۲)ریشمی مخمل ناجائز سوتی جائز۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۸: از بنارس محلہ پرکنڈہ مسئولہ مولانا مولوی عبدالحمید صاحب ۱۰ شعبان ۱۳۳۵ھ
عورات کو پائجامہ ٹخنا کھول کر پہننا چا ہئے یاڈھانك کر
الجواب:
عورات کے گٹے ستر عورت میں دخل ہیں غیرمحرم کو ان کا دیکھنا حرام ہے۔عورت کو حکم ہے کہ اس کے پائچے خوب نیچے ہوں کہ چلتے میں ساق یا گنے کھلنے کا احتمال نہ رہے۔ردالمحتارمیں ہے
مسئلہ ۴۴: از گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل سنی حنفی قادری رضوی ۱۴ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
رومال خالص ریشمی کپڑے کا مرد استعمال کرسکتاہے یا نہیں
الجواب:
رومال سے مراد اگر ہاتھ میںلینے کا ہے تو کرسکتاہے اورگر اورڑنے کا ہے تو نہیں۔
مسئلہ ۴۵: از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب یکم صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تحمل اور کمخواب سوتی یا ریشمی کاستعمال مرد کے لئے جائز ہے یانہیں اس طرف اکثر مسلمان مخمل کی ٹوپی اور سدری وغیرہ پہنتے ہیں۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
کمخواب یا مخمل سوتی مرد کو جائز ہے اور ریشمی ناجائز واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۶ و ۴۷: مرسلہ مصاحب علی طالب علم ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
(۱)عورت نے اپنے خاوند کو اپنے ساتھ لٹاکراپنا لحاف ریشمی یا چادرریشمی خاوند کو بھی اڑھادی تو کیا یہ استعمال ریشمی کپڑے کا بہ تبع عورت کےمرد کو جائز ہے یانہیں
(۲)مرد کو مخمل پہننا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب
(۱)ناجائز ہے اور اوڑھنے میں تبیعت کے کوئی معنی نہیں۔دونوں مستقل ہیں۔اوریہ تبیعت کی کوئی صورت نہیں کہ ملك عورت کی ہے یا بناء اس کے لئے ہاں ریشمی توشك پرلیٹنا امام کے نزدیك جائز ہے۔
(۲)ریشمی مخمل ناجائز سوتی جائز۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۸: از بنارس محلہ پرکنڈہ مسئولہ مولانا مولوی عبدالحمید صاحب ۱۰ شعبان ۱۳۳۵ھ
عورات کو پائجامہ ٹخنا کھول کر پہننا چا ہئے یاڈھانك کر
الجواب:
عورات کے گٹے ستر عورت میں دخل ہیں غیرمحرم کو ان کا دیکھنا حرام ہے۔عورت کو حکم ہے کہ اس کے پائچے خوب نیچے ہوں کہ چلتے میں ساق یا گنے کھلنے کا احتمال نہ رہے۔ردالمحتارمیں ہے
اعضاء عورۃ الحورۃ الساقان مع الکعبین والثدیان الخ۔ آزاد(شریف داری)عورت کا محل ستر(چھپانے کی جگہ) ٹخنوں سمیت دو پنڈلیاں اور دو چھاتیاں ہیں۔(ت)
مالك وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ ام المومنین ام سلمہ اور ترمذی ونسائی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
حدیث ام المومنین انھا قالت لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حین ذکر الازار فالمرأۃ یارسول اﷲ قال ترخی شبرا قالت اذن تنکشف عنا قال فذراع لاتزید علیہ واﷲ تعالی اعلم۔ یہ سیدہ ام سلمہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)کی حدیث ہے کہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ جبکہ سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تہبند کا ذکر فرمایا یا رسول اللہ! عورت کا کیا حکم ہے ارشاد فرمایا:وہ بالشت بھر(اپنا تہبند)لٹکائے رکھےعرض کی:پھر اس کا پاؤں برہنہ ہوگا۔ارشاد فرمایا: ایك ہاتھ چھوڑ دے(یعنی لٹکائے)لیکن اس سے زیادہ تو نہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۹: از موضع گھورٹی ڈاکخانہ کرشن گڑھ ضلع ندیاں مرسلہ نذیر احمد صاحب ۶ جمادی الاولی
لباس مسنون مرمردان وزنان چیست وخلافش مثلا شیروانی و چپکن واچکن وکوٹ انگریزی وفارسی وپاجامہ انگریزی و دھوتی وہ گزری وکلاہ ترکی و انگریزی وغیرہ از لباس مردان وبڈی ہندواں کہ طولش تاکمر وبدن دچسپاں بودو شامیز کہ پیراہن درازست زیر ساڑی دہ گزی می پوشدہ وساڑی دہ زراع وغیرہ از لباس زنان رواست مردوں اور عورتوں کے لئے کون سا لباس سنت ہے اور اس کے مخالف کون سا لباس ہے۔مثلا شیروانیچپگن اچکن کوٹ انگریزی اور فارسیپاجامہ انگریزیدس گز دھوتیترکی اور انگریزی ٹوپی وغیرہ جو مردوں کا لباس ہے اور ہندؤوں کی "ہڈی"کہ جس کی درازی کمرتك ہوتی ہے اور وہ جسم سے پیوستہ ہوا کرتی ہے۔اور"شامیز"
مالك وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ ام المومنین ام سلمہ اور ترمذی ونسائی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
حدیث ام المومنین انھا قالت لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حین ذکر الازار فالمرأۃ یارسول اﷲ قال ترخی شبرا قالت اذن تنکشف عنا قال فذراع لاتزید علیہ واﷲ تعالی اعلم۔ یہ سیدہ ام سلمہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)کی حدیث ہے کہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ جبکہ سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تہبند کا ذکر فرمایا یا رسول اللہ! عورت کا کیا حکم ہے ارشاد فرمایا:وہ بالشت بھر(اپنا تہبند)لٹکائے رکھےعرض کی:پھر اس کا پاؤں برہنہ ہوگا۔ارشاد فرمایا: ایك ہاتھ چھوڑ دے(یعنی لٹکائے)لیکن اس سے زیادہ تو نہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۹: از موضع گھورٹی ڈاکخانہ کرشن گڑھ ضلع ندیاں مرسلہ نذیر احمد صاحب ۶ جمادی الاولی
لباس مسنون مرمردان وزنان چیست وخلافش مثلا شیروانی و چپکن واچکن وکوٹ انگریزی وفارسی وپاجامہ انگریزی و دھوتی وہ گزری وکلاہ ترکی و انگریزی وغیرہ از لباس مردان وبڈی ہندواں کہ طولش تاکمر وبدن دچسپاں بودو شامیز کہ پیراہن درازست زیر ساڑی دہ گزی می پوشدہ وساڑی دہ زراع وغیرہ از لباس زنان رواست مردوں اور عورتوں کے لئے کون سا لباس سنت ہے اور اس کے مخالف کون سا لباس ہے۔مثلا شیروانیچپگن اچکن کوٹ انگریزی اور فارسیپاجامہ انگریزیدس گز دھوتیترکی اور انگریزی ٹوپی وغیرہ جو مردوں کا لباس ہے اور ہندؤوں کی "ہڈی"کہ جس کی درازی کمرتك ہوتی ہے اور وہ جسم سے پیوستہ ہوا کرتی ہے۔اور"شامیز"
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب شروط الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۷۴€
سنن ابی داوئد کتا ب اللباس باب فی الذیل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۲،€سنن النسائی کتاب الزینۃ باب ماجاء فی ذیول النساء ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۹۸،€جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی ذیول النساء ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۶،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب ذیل المرأۃ اکم یکون ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۴€
سنن ابی داوئد کتا ب اللباس باب فی الذیل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۲،€سنن النسائی کتاب الزینۃ باب ماجاء فی ذیول النساء ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۹۸،€جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی ذیول النساء ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۶،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب ذیل المرأۃ اکم یکون ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۴€
یانہ کہ لمباپیراہن ہے جو ساڑھی کے نیچے دس گز کا پہنتے ہیں۔اور ساڑھی کی مقدار دس ہاتھ وغیرہ ہوتی ہے۔یہ عورتوں کا لبا س ہے۔کیا یہ دونوں جائز ہیں یانہیں
الجواب:
کلیہ در لباس آنست کہ دردے رعایت سہ امرے باید کردیکے اصل اوحلال باشد ہمچو لباس ریشمیں یازری یا رنگین معصر و زعفران کہ مرد را مطلقا روانیست دوم رعایت ستر آنچہ کہ متعلق بستر است چنانچہ مرد رازیر جامہ و زنان آزاد را از سرتاپا ہمہ لباس پیش اجانب وانچہ پشت وشکم ازناف تا زیر زانوپوشد پیش محارم واگر تنہا پیش شوھر خودست حاجت ہیچ ستر ندارد الا حیاء۔وازفروع اینہم ست کہ لباس بموضع سترآنچناں چسپیدہ کہ ہیأت آن عضو رانماید کما ذکرہ فی ردالمحتار حققناہ فی ما علقناہ علیہ۔سوم لحاظ وضع کہ نہ زی کفار باشد نہ طرق وفساق وایں بردوگونہ است یکے آنکہ شعار مذہب ایشان با شد ہمچوں زنار ہنود وکلاہ مخصوص نصاری کہ ہیٹ نامند بس اینہا کفر بودواگر شعار مذہب نیست از خصوصیات قوم آنہا آنست ممنوع وناروا باشد حدیث صحیح من تشبہ بقوم فھو منھم قاعدہ کلیہ لباس پہننے میں یہ ہے کہ اس میں تین امور کی رعایت کرنی چاہئے ایك یہ کہ اصل میں اس کا استعمال کرنا جائز ہو مثلا جیسے ریشمی یا سنہری لباس۔یا سرخ یا زرد زعفرانی رنگ کا لباس کہ علی الاطلاق مرد کے لئے ا س کا استعمال جائز نہیں۔(دوسری بات)ستر کی رعایت ہو اس لباس میں کہ جس کا ستر سے تعلق ہے۔جیسے مرد کئے لئے زیر جامہ۔اور آزاد عورتیں سرے سے لے کر پاؤں تك غیر محرم (اجنبی)مردوں کے سامنے مکمل لباس پہنے ہوں۔البتہ محرم مردوں کے روبروپشت اور ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تك پردہ پوش ہوں۔ہاں اگر تنہا شوہر کے پاس ہو تو پھر اہتمام ستر کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر شرم وحیاء مانع ہو تو الگ بات ہے۔اور اس کے ذیلی پہلوؤں میں سے یہ بھی ہے کہ لباس محل ستر پر کچھ اس طرح چسپاں ہو کہ اس عضو کی ہئیت نہ دکھائی دے۔جیسا کہ فتاوی شامی میں ذکر فرمایا اور میں نے اس کے حواشی میں اس کی تحقیق کردی۔(تیسری بات)لباس کی وضع کالحاظ رکھا جائے کہ کافروں کی شکل و
الجواب:
کلیہ در لباس آنست کہ دردے رعایت سہ امرے باید کردیکے اصل اوحلال باشد ہمچو لباس ریشمیں یازری یا رنگین معصر و زعفران کہ مرد را مطلقا روانیست دوم رعایت ستر آنچہ کہ متعلق بستر است چنانچہ مرد رازیر جامہ و زنان آزاد را از سرتاپا ہمہ لباس پیش اجانب وانچہ پشت وشکم ازناف تا زیر زانوپوشد پیش محارم واگر تنہا پیش شوھر خودست حاجت ہیچ ستر ندارد الا حیاء۔وازفروع اینہم ست کہ لباس بموضع سترآنچناں چسپیدہ کہ ہیأت آن عضو رانماید کما ذکرہ فی ردالمحتار حققناہ فی ما علقناہ علیہ۔سوم لحاظ وضع کہ نہ زی کفار باشد نہ طرق وفساق وایں بردوگونہ است یکے آنکہ شعار مذہب ایشان با شد ہمچوں زنار ہنود وکلاہ مخصوص نصاری کہ ہیٹ نامند بس اینہا کفر بودواگر شعار مذہب نیست از خصوصیات قوم آنہا آنست ممنوع وناروا باشد حدیث صحیح من تشبہ بقوم فھو منھم قاعدہ کلیہ لباس پہننے میں یہ ہے کہ اس میں تین امور کی رعایت کرنی چاہئے ایك یہ کہ اصل میں اس کا استعمال کرنا جائز ہو مثلا جیسے ریشمی یا سنہری لباس۔یا سرخ یا زرد زعفرانی رنگ کا لباس کہ علی الاطلاق مرد کے لئے ا س کا استعمال جائز نہیں۔(دوسری بات)ستر کی رعایت ہو اس لباس میں کہ جس کا ستر سے تعلق ہے۔جیسے مرد کئے لئے زیر جامہ۔اور آزاد عورتیں سرے سے لے کر پاؤں تك غیر محرم (اجنبی)مردوں کے سامنے مکمل لباس پہنے ہوں۔البتہ محرم مردوں کے روبروپشت اور ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تك پردہ پوش ہوں۔ہاں اگر تنہا شوہر کے پاس ہو تو پھر اہتمام ستر کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر شرم وحیاء مانع ہو تو الگ بات ہے۔اور اس کے ذیلی پہلوؤں میں سے یہ بھی ہے کہ لباس محل ستر پر کچھ اس طرح چسپاں ہو کہ اس عضو کی ہئیت نہ دکھائی دے۔جیسا کہ فتاوی شامی میں ذکر فرمایا اور میں نے اس کے حواشی میں اس کی تحقیق کردی۔(تیسری بات)لباس کی وضع کالحاظ رکھا جائے کہ کافروں کی شکل و
حوالہ / References
سنن ابی داوؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳€
در صورت اولی محمول برظاھر خود ست دور ثانیہ بر زجر و تہدید ودر ثانیہ امر باختلاف ممالك ومرا سم مختلف شود مثلا دربنگالہ ساڑی عام ست مر زنان مسلمات و مشرکات راپس از باب تشبہ نباشد اچکن وچپکن وشیروانی از تراشہائے جدیدہ است وجدت درعادت ممنوع نیست تامشتمل بر ممنوع شرعی نباشد دررنگ ملبوس مرداں کہ انگرکھا نامند نوپیدا ست فامامنع شرعی باخود ندارد مگر آنگاہ کہ چاك پردہ اش جانب راست باشد کہ بوجہ مشابہت ہنود حرام ست کوٹ انگریزی ممنوع ست وکوٹ فارسی ندیدہ ام واگر خصوصیت بقوم کفرہ یافسقہ دارد نیز ممنوع ست ہمچناں زیر جامہ انگریزی کہ پتلون نامند اگر مانع سجود باشد خود کبیرہ مردود باشد ورنہ بوجہ مشابہت ممنوع بود لباس مسنون از ارست یعنی تہبند وایں دھوتی بدوجہ ممنوع ست یکے لباس ہنوددوم اسراف بے سودکہ بجائے دہ گز سہ چار گز کافی بودکلاہ تر کی ابتدائے اودرنیچریاں شد آناں رابہرہ از اسلام نیست اگر ہم چناں می مانددریں ممالك حکم جوازش نبودی کہ ایں جا ترکان نیند بید یناں باوعاوی اند مگر حالامشاہدہ است کہ در بسیارے از مسلمانان نیزایں تپ سرخ سرایت کردہ پس شعار نیچریت نماند اہل علم وتقوی را از واحتراز باید کہ تاحال وضع علماء صورت اورفاسقوں کے طرزو طریقے پر نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں:ایك یہ کہ ان کا مذہبی شعار ہو جیسے ہندوؤں کا زنار اور عیسائیوں کی خصوصی ٹوپی کہ"ہیٹ"کہتے ہیں۔پس ان کا استعمال کفر ہے۔اور اگر ان کے مذہب کا شعار تو نہیں لیکن ان کی قوم کا خصوصی لباس ہے تو اس صورت میں بھی اس کا استعمال ممنوع(ناجائز ہے)چنانچہ حدیث صحیح میں فرمایا:جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ اسی میں شمار ہے۔ پس پہلی دوسری صورت میں یہ اپنے ظاہر پر محول ہے لیکن دوسری صورت میں ڈانٹ ڈپٹ اور ڈراوے پر محمول ہے۔اور امرثانی میں اختلاف ممالك اورمراسم کی بناء پر مختلف ہوجاتاہے۔مثلا بنگلہ دیش میں ساڑھی ایك عام لباس ہے جو میں مسلم اور غیر مسلم دونوں قسم کی شامل ہیں(لہذا اس میں کسی ایك کی کوئی خصوصیت نہیں)لہذا اس اس حالت میں از قبیل تشبہ نہیں۔اچکنچپکن اور شیروانی یہ ایك جدید (نیا)لباس ہے۔اور عادۃ"جدت"ممنوع نہیں۔بشرطیکہ کسی ممنوع شرعی میں شامل نہ ہونیز شکل مردانہ لباس کہ جس کو"انگرکھا"کہتے ہیں یہ بھی ایك جدید پیدا وار ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ اپنے اندر ممانعت شرعی نہیں رکھتا۔مگر جبکہ اس کے پردے کا چاك دائیں طرف ہو تو پھر ہندؤوں کی مشابہت کی وجہ سے حرام ہے۔اورکوٹ انگریزی پہننا منع
وصلحاء شدہ است ہمچناں حال شیروانی کہ کہ اگر چہ عوام را ازہر دو ممانعت برآمد خواص را از واحتراز بایدوہڈی وشامیز معلوم نشد چیست بہمہ کلیہ کہ بالاگفتہ ایم رجوع باید کر د ا گر وضع مخصوص کفار یا فساق ست احتراز لازم ست و نکتہ دیگر یاد باید داشت کہ در ملك وشہر خود ہر چہ وضع مسلماناں باشد اور اترك گفتن ووضع دیگر کہ موجب شہرت و انگشت نمائی باشد اختیار کردن نیز مکروہ ست علماء فرمودہ اند الخروج عن عادۃ البلد شہرہ ومکروہ لباس مسنون مرزناں و مرداں راچادر وتہبند وجبہ وقمیص بود وسراویل یعنی زیر جامہ نیز کہ حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اگرچہ نپوشید پوشندگان را ستود وخریدن خود ثابت ست زنے در راہ می گزشت پایش لغزیش برفتاد سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم روئے ازاں سوگردانید حاضران عرضہ داشتند کہ او زیر جامہ دارد فرمود اللھم اغفر للتمسرولات الہی زنان زیر جامہ پوش رامغفرت کن مرداں رافرمودی کہ از ار تانیم ساق دارند کعبین راز نہار نپوشند زنان را یك وجب فروہشتن رخصت دارد عرضہ کردند اذا ینکشفن یا رسول اﷲ ایں گاہ درمشی وغیرہ احتمال انکشاف ست فرمود یك زراع وبیش ازیں نے نیزاز ہے۔اور کوٹ فارسی میں نے نہیں دیکھااگر کافروں یا فاسقوں سے کوئی خصوصیت رکھتاہو تو پھر اس کا استعمال بھی ناجائز ہے۔اور اسی طرح زیر جامہ انگریزی کہ جس کو "پتلون"کہتے ہیں اگر سجدہ کرنے میں رکاوٹ پیدا کرے تو پھر گناہ کبیرہ قابل رد ہے۔ورنہ(کمتر یہ ہے)کہ بوجہ مشابہت ممنوع ہے۔لباس مسنون ازاریعنی تہبند ہے۔اور دھوتی دو وجوہ کی بناء پر ممنوع قابل ترك ہے اور ایك اس لئے کہ ہندؤوں کا لباس ہے۔دوسری وجہ بےفائدہ اسراف(فضول خرچہ)ہے۔کیونکہ دس گز کی بجائے صرف چار گزہی کافی ہے۔ترکی ٹوپی کہ اس کی ابتداء نیچریوں سے ہوئی اور ان کا اسلام میں وئی حصہ نہیں۔اگر یہی حالت رہتی تو ان ممالك میں اس کا جواز نہ ہوتا کیونکہ یہاں کوئی ترکی نہیں۔صرف بے دین اس کے استعمال کی عادت رکھتے ہیں۔لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے(اوریہ مشاہدہ ہواہے)کہ بہت سے مسلمانوں میں بھی یہ سرخ بخار سرایت کر گیا ہے۔لہذا اب نیچریت کا شعار نہیں رہا پس اہل علم اور اصحاب تقوی کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے یہاں تك کہ علماء اور صلحاء کا معمول ہوجائے اسی طرح شیروانی کہ اگر چہ عوام کو دونوں سے ممانعت نہیں لیکن خاص لوگوں کو پرہیز کرنا چاہئے۔بڈی اور شامیز کے متعلق معلوم نہ ہوسکا کہ یہ دونوں
حوالہ / References
الحدیقہ الندیۃ شرح الطریقہ محمدیہ الصنف التاسع تمتۃ الاصناف الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۵۸۲€
کنز العمال بحوالہ البزار،عقد،عد،ق فی الادب وغیرہ ∞حدیث ۲۱۸۳۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۴۶۳€
سنن ابی داؤد ∞۲ /۲۱۲€ وسنن النسائی ∞۲ /۲۹۸€ و سنن ابن ماجہ ∞ص۲۶۴€ و جامع الترمذی ∞۱ /۲۰۶€
کنز العمال بحوالہ البزار،عقد،عد،ق فی الادب وغیرہ ∞حدیث ۲۱۸۳۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۴۶۳€
سنن ابی داؤد ∞۲ /۲۱۲€ وسنن النسائی ∞۲ /۲۹۸€ و سنن ابن ماجہ ∞ص۲۶۴€ و جامع الترمذی ∞۱ /۲۰۶€
لباس زنان خمار بودکہ باوسرمی پوشیدند ونطاق کہ برکمر بالائے ازرامی بستندواﷲ تعالی اعلم۔ کیا چیز ہیں۔لیکن اسی ضابطہ کلیہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے کہ جس کو ہم پہلے بیان کرچکے ہیںاگر کافروں یا فاسقوں کی وضع ہو تو پرہیز کرے۔
(یہاں)ایك اور نکتہ یادر رکھنا چاہئے کہ اپنے ملك اور شہر میں عام مسلمانوں کی جو وضع اور طرز وطریقہ ہو اسے چھوڑدینا اور دوسری وضع جوتشہیر اور انگشت نمائی کا سبب ہے اسے اختیار کرنا مکروہ ہے۔چنانچہ علماء کرام فرماتے ہیں اپنے شہر کی عادت اور طریقہ کار سے باہر ہوجانا وجہ شہرت اور مکروہ ہے۔ پس مردوں اور عورتوں کا مسنون لباس چادرتہبندجبہکرتہ ہے۔شلوار یعنی زیر جامہاگر چہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے نہیں پہنا لیکن پہننے والوں کی تعریف فرمائی اور آپ کا اسے خریدنا ثابت ہے۔ایك عورت راہ سے گزررہی تھی کہ اس کا پاؤں پھسلا اور گرگئی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس طرف سے اپنا منہ پھیر لیا چنانچہ حاضرین نے عرض کی کہ یہ عورت شلوار پہنے ہوئی تھی۔اپ نے یہ دعا مانگی:"اے اللہ! شلوار پہننے والی عورتوں کو بخش دے"اور مردوں کو حکم دیا کہ تہبند نصف پنڈلی تك رکھیں اور ٹخنوں کو کبھی نہ ڈھانپیںاور عورتوں کو "ازار"ایك بالشت چھوڑنے کا حکم فرمایا۔لوگوں نے عرض کی۔یا رسول اللہ(علیك الصلوۃ والسلام)پھر تو برہنہ ہوجائیں گی یعنی اے اﷲ کے رسول:پھر تو ان کے چلنے میں برہنگی کا امکان ہےارشاد فرمایا:اچھا ایك ہاتھ لٹکارکھیں لیکن اس سے زیادہ نہ ہو۔اور عورتوں کے لباس میں دوپٹہ(خمار)بھی ہے کہ ا س سے سرڈھانپتی ہیں اور تسمہ(نطاق)جو کرم پھر تہبند کے اوپر باندھتے ہیں واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۰: از اردہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵ شوال ۱۳۳۶ھ
ایسا لباس پہننا جس سے فرق کافر مسلمان کا نہ رہے شرعاکیا حکم رکھتاہے
الجواب:
حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جو کوئی کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔(ت)
بلکہ اس میں بہت صورتیں کفر ہیں۔جیسے زنار باندھنا۔ بلکہ شرح الدرر للعلامۃ عبدالغنی النابلسی بن اسمعیل رحمہما اﷲ تعالی میں ہے
(یہاں)ایك اور نکتہ یادر رکھنا چاہئے کہ اپنے ملك اور شہر میں عام مسلمانوں کی جو وضع اور طرز وطریقہ ہو اسے چھوڑدینا اور دوسری وضع جوتشہیر اور انگشت نمائی کا سبب ہے اسے اختیار کرنا مکروہ ہے۔چنانچہ علماء کرام فرماتے ہیں اپنے شہر کی عادت اور طریقہ کار سے باہر ہوجانا وجہ شہرت اور مکروہ ہے۔ پس مردوں اور عورتوں کا مسنون لباس چادرتہبندجبہکرتہ ہے۔شلوار یعنی زیر جامہاگر چہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسے نہیں پہنا لیکن پہننے والوں کی تعریف فرمائی اور آپ کا اسے خریدنا ثابت ہے۔ایك عورت راہ سے گزررہی تھی کہ اس کا پاؤں پھسلا اور گرگئی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس طرف سے اپنا منہ پھیر لیا چنانچہ حاضرین نے عرض کی کہ یہ عورت شلوار پہنے ہوئی تھی۔اپ نے یہ دعا مانگی:"اے اللہ! شلوار پہننے والی عورتوں کو بخش دے"اور مردوں کو حکم دیا کہ تہبند نصف پنڈلی تك رکھیں اور ٹخنوں کو کبھی نہ ڈھانپیںاور عورتوں کو "ازار"ایك بالشت چھوڑنے کا حکم فرمایا۔لوگوں نے عرض کی۔یا رسول اللہ(علیك الصلوۃ والسلام)پھر تو برہنہ ہوجائیں گی یعنی اے اﷲ کے رسول:پھر تو ان کے چلنے میں برہنگی کا امکان ہےارشاد فرمایا:اچھا ایك ہاتھ لٹکارکھیں لیکن اس سے زیادہ نہ ہو۔اور عورتوں کے لباس میں دوپٹہ(خمار)بھی ہے کہ ا س سے سرڈھانپتی ہیں اور تسمہ(نطاق)جو کرم پھر تہبند کے اوپر باندھتے ہیں واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۰: از اردہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵ شوال ۱۳۳۶ھ
ایسا لباس پہننا جس سے فرق کافر مسلمان کا نہ رہے شرعاکیا حکم رکھتاہے
الجواب:
حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جو کوئی کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔(ت)
بلکہ اس میں بہت صورتیں کفر ہیں۔جیسے زنار باندھنا۔ بلکہ شرح الدرر للعلامۃ عبدالغنی النابلسی بن اسمعیل رحمہما اﷲ تعالی میں ہے
حوالہ / References
سن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پر یس لاہور ۲ /۲۰۳€
لبس زی الافرج کفر علی الصحیح ۔ یعنی صحیح مذہب یہ ہے کہ فرنگیوں کی وضع پہننا کفر ہے۔(ت)
فتاوی خلاصہ میں ہے:
امرأۃ شدت علی وسطھا حبلا وقالت ھذا زنار تکفر ۔ کسی عورت نے اپنی کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ جنیو ہے کافرہ ہوگئی۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۱: از حبیب گنج ضلع علیگڑھ مرسلہ روح اﷲ منشی ریاست ۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ معمولی جاپانی اور ولایتی کپڑے سلك کے بنے ہوئے جس میں کچھ بے چمك اور کچھ مختلف چمکدار ہوتے ہیں کچھ نرم ہوتے کچھ نہیں ہوتے حریر میں داخل ہیں اور ان کاستعمال مردوزن کو ناجائز ہے یانہیں ان کا کیاحکم ہے
الجواب:
سلك کو بعض نے کہا کہ انگریزی میں ریشم کانام ہے۔اگر ایسا ہو بھی تو اعتبار حقیقت کا ہے نہ کہ مجرد نام کابربنائے تشبیہ بھی ہوتاہے جیسے ریگ ماہی مچھلی نہیں۔جرمن سلورچاندی نہیں۔جو کپڑے رام بانس یا کسی چھال وغیرہ چیز غیر ریشم کے ہوں اگرچہ صناعی سے ان کو کتنا ہی نرم اور چمکیلا کیا ہو مرد کو حلال ہیں اور اگر خالص ریشم کے ہوں یا بانار یشم ہو اگر چہ تاناکچھ ہو تو حرام ہے۔یہ امر ان کپڑوں کو دیکھ کر یا ان کا تارجلا کر واقفین سے تحقیق کرکے معلوم ہوسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۲: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ رحیم بخش صاحب بنگالی ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مخمل کا کپڑا مرد کے لئے پہننا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جس مخمل پر ریشم کا رواں پورا بچھا ہوا ہو تا ہے اس کا پہننا مرد کو جائز نہیں ورنہ جائز ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: از احمد آباد گجرات پانچ پیلی مرسلہ حکیم انور حسین صاحب صفدری ۴ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
علمائے کرام اہلسنت وجماعت ادام اﷲ فضلہم کا اس بات میں کیا ارشاد ہےکہ سرخ اور
فتاوی خلاصہ میں ہے:
امرأۃ شدت علی وسطھا حبلا وقالت ھذا زنار تکفر ۔ کسی عورت نے اپنی کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ جنیو ہے کافرہ ہوگئی۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۱: از حبیب گنج ضلع علیگڑھ مرسلہ روح اﷲ منشی ریاست ۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ معمولی جاپانی اور ولایتی کپڑے سلك کے بنے ہوئے جس میں کچھ بے چمك اور کچھ مختلف چمکدار ہوتے ہیں کچھ نرم ہوتے کچھ نہیں ہوتے حریر میں داخل ہیں اور ان کاستعمال مردوزن کو ناجائز ہے یانہیں ان کا کیاحکم ہے
الجواب:
سلك کو بعض نے کہا کہ انگریزی میں ریشم کانام ہے۔اگر ایسا ہو بھی تو اعتبار حقیقت کا ہے نہ کہ مجرد نام کابربنائے تشبیہ بھی ہوتاہے جیسے ریگ ماہی مچھلی نہیں۔جرمن سلورچاندی نہیں۔جو کپڑے رام بانس یا کسی چھال وغیرہ چیز غیر ریشم کے ہوں اگرچہ صناعی سے ان کو کتنا ہی نرم اور چمکیلا کیا ہو مرد کو حلال ہیں اور اگر خالص ریشم کے ہوں یا بانار یشم ہو اگر چہ تاناکچھ ہو تو حرام ہے۔یہ امر ان کپڑوں کو دیکھ کر یا ان کا تارجلا کر واقفین سے تحقیق کرکے معلوم ہوسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۲: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ رحیم بخش صاحب بنگالی ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مخمل کا کپڑا مرد کے لئے پہننا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جس مخمل پر ریشم کا رواں پورا بچھا ہوا ہو تا ہے اس کا پہننا مرد کو جائز نہیں ورنہ جائز ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: از احمد آباد گجرات پانچ پیلی مرسلہ حکیم انور حسین صاحب صفدری ۴ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
علمائے کرام اہلسنت وجماعت ادام اﷲ فضلہم کا اس بات میں کیا ارشاد ہےکہ سرخ اور
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ النوع التاسع مع انواع الستین السخریۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۳۰€
خلاصہ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الجنس السادس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۷€
خلاصہ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الجنس السادس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۷€
زرد(پیلا)رنگ کا کپڑا پہننا مرد کا جائز ہے یانہیں اور اس سے نماز درست ہے نہیں اگر پہننا مکروہ ہے تو اس میں کراہیت تنزیہی ہے یا تحریمی بعض احادیث سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سرخ جبہ زیب تن فرمانا ثابت اور زرد ملبوس رنگنا ظاہر۔مثلا:
عن جابر بن سمرۃ قال رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی لیلۃ مقمرۃ اضحیان فجعلت انظر الیہ والی القمر وعلیہ حلۃ حمراء فاذا ھو احسن عندی من القمر۔رواہ الدارمی والترمذی ۔ حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا:میں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو(ایك دفعہ) چاندنی روشن رات میں دیکھا تو پھر آپ کو اور چاند کو مسلسل دیکھنے لگا اور آپ اس وقت سرخ جبہ پہنے ہوئے تھے (پھر آخر میں نے یہ نتیجہ نکالا)کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرے نزدیك چاند سے زیادہ حسین ہیں(یعنی آسمانی چاند سے مدنی چاند کا حسن بڑھا ہوا ہے)اس کو دارمی اور ترمذی نے روایت کیا(ت)
[کسی نے کیا خوب فرمایا:
میں وہ شاعر نہیں جو چاند کہہ دوں ان کے چہرے کو
میں ان کے نقش پا پر چاند کو قربان کرتاہوں مترجم]
نیز:
عن جابر بن عبداﷲ قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یلبس بردۃ الاحمر فی العیدین والجمعۃ (مواہب)وعن یحیی بن عبداﷲ بن مالك قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصبغ بالورس و الزعفران ثیابہ حتی عمامتہ(ابوداؤد) ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے فرمایا:حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دونوں عیدوں اور روز جمعہ سرخ جوڑا پہنا کرتے تھے۔(مواھب اللدنیہ)اور حضرت یحیی بن عبداﷲ بن مالك سے روایت ہے فرمایا: حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسم اور زعفران(یعنی سرخ اور زردرنگ)سے اپنے کپڑے یہاں تك کہ اپنی دستار مبارك بھی رنگین
عن جابر بن سمرۃ قال رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی لیلۃ مقمرۃ اضحیان فجعلت انظر الیہ والی القمر وعلیہ حلۃ حمراء فاذا ھو احسن عندی من القمر۔رواہ الدارمی والترمذی ۔ حضرت جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا:میں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو(ایك دفعہ) چاندنی روشن رات میں دیکھا تو پھر آپ کو اور چاند کو مسلسل دیکھنے لگا اور آپ اس وقت سرخ جبہ پہنے ہوئے تھے (پھر آخر میں نے یہ نتیجہ نکالا)کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرے نزدیك چاند سے زیادہ حسین ہیں(یعنی آسمانی چاند سے مدنی چاند کا حسن بڑھا ہوا ہے)اس کو دارمی اور ترمذی نے روایت کیا(ت)
[کسی نے کیا خوب فرمایا:
میں وہ شاعر نہیں جو چاند کہہ دوں ان کے چہرے کو
میں ان کے نقش پا پر چاند کو قربان کرتاہوں مترجم]
نیز:
عن جابر بن عبداﷲ قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یلبس بردۃ الاحمر فی العیدین والجمعۃ (مواہب)وعن یحیی بن عبداﷲ بن مالك قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصبغ بالورس و الزعفران ثیابہ حتی عمامتہ(ابوداؤد) ۔ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے فرمایا:حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دونوں عیدوں اور روز جمعہ سرخ جوڑا پہنا کرتے تھے۔(مواھب اللدنیہ)اور حضرت یحیی بن عبداﷲ بن مالك سے روایت ہے فرمایا: حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کسم اور زعفران(یعنی سرخ اور زردرنگ)سے اپنے کپڑے یہاں تك کہ اپنی دستار مبارك بھی رنگین
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء فی الرخصۃ فی لبس الحمرۃ الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۴€
المواھب اللدنیہ النوع الثانی فی اللباس باب لبس الثواب الاحمر المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞۲ /۴۴۵€
المواھب اللدنیہ بحوالہ ابی داؤد النوع الثانی فی اللباس باب لبس الثواب الاحمر المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞۲ / ۴۴۵€
المواھب اللدنیہ النوع الثانی فی اللباس باب لبس الثواب الاحمر المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞۲ /۴۴۵€
المواھب اللدنیہ بحوالہ ابی داؤد النوع الثانی فی اللباس باب لبس الثواب الاحمر المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞۲ / ۴۴۵€
کرتے تھے(ابو داؤد نے اسے روایت کیاہے)۔(ت)
اور بعض احادیث سے اس کی نہی پیداوہو یدا۔مثلا۔
عن ابن عمرقال رأی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ثوبین معصفرین فقال ان ھذا لباس الکفار فلا تلبسھا(مسلم )ومعلوم ان ذلك یصبغ صباغا احمر(مواھب )وفی الصحیح انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہی عن التزعفر ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو) سے روایت ہے کہ فرمایا:آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے میرے جسم پر"کسم"کے رنگ سے رنگے ہوئے دو کپڑے ملاحظہ فرمائے تو ارشاد فرمایا:یہ کافروں کا لباس ہے لہذا اسے نہ پہنو (مسلم)اور یہ معلوم ہی ہے کہ وہ سرخ رنك سے رنگین کئے ہوئے تھے(مواہب لدنیہ)۔اور صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زعفرانی(زرد)رنگ سے رنگین کئے ہوئے کپڑوں سے منع فرمایا(یعنی اس رنگ سے رنگین کئے ہوئے کپڑے مت استعمال کرو)۔(ت)
معصفر ومزعفر کی کیا تشریح ہے موجودہ ولایتی پختہ وخام الوان بھی معصفر ومزعفر کے حکم میں داخل ہے یانہیں
الجواب:
کسم کا رنگا ہوا سرخ اور کیسر کارزرد جنھیں معصفر ومزعفر کہتے ہیں مرد کو پہننا ناجائز وممنوع ہے اور ان سے نماز مکروہ تحریمی۔اور ان کے سوا اور رنگ کا زرد بلا کراہت مباح خالص ہے۔خصوصا زرد جوتا مورث سرور وفرحت۔
قال سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما واستند بقولہ تعالی صفراء قاقع لونہا تسر النظرین ۔ چنانچہ زرد جوتے کے متعلق سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے ارشاد فرمایا اور اﷲ تعالی کے اس قول"اس گائے کا رنگ خالص زرد ہے جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے"سے استدلال فرمایا۔(ت)
اور بعض احادیث سے اس کی نہی پیداوہو یدا۔مثلا۔
عن ابن عمرقال رأی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی ثوبین معصفرین فقال ان ھذا لباس الکفار فلا تلبسھا(مسلم )ومعلوم ان ذلك یصبغ صباغا احمر(مواھب )وفی الصحیح انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہی عن التزعفر ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو) سے روایت ہے کہ فرمایا:آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے میرے جسم پر"کسم"کے رنگ سے رنگے ہوئے دو کپڑے ملاحظہ فرمائے تو ارشاد فرمایا:یہ کافروں کا لباس ہے لہذا اسے نہ پہنو (مسلم)اور یہ معلوم ہی ہے کہ وہ سرخ رنك سے رنگین کئے ہوئے تھے(مواہب لدنیہ)۔اور صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زعفرانی(زرد)رنگ سے رنگین کئے ہوئے کپڑوں سے منع فرمایا(یعنی اس رنگ سے رنگین کئے ہوئے کپڑے مت استعمال کرو)۔(ت)
معصفر ومزعفر کی کیا تشریح ہے موجودہ ولایتی پختہ وخام الوان بھی معصفر ومزعفر کے حکم میں داخل ہے یانہیں
الجواب:
کسم کا رنگا ہوا سرخ اور کیسر کارزرد جنھیں معصفر ومزعفر کہتے ہیں مرد کو پہننا ناجائز وممنوع ہے اور ان سے نماز مکروہ تحریمی۔اور ان کے سوا اور رنگ کا زرد بلا کراہت مباح خالص ہے۔خصوصا زرد جوتا مورث سرور وفرحت۔
قال سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما واستند بقولہ تعالی صفراء قاقع لونہا تسر النظرین ۔ چنانچہ زرد جوتے کے متعلق سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے ارشاد فرمایا اور اﷲ تعالی کے اس قول"اس گائے کا رنگ خالص زرد ہے جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے"سے استدلال فرمایا۔(ت)
حوالہ / References
المواھب اللدنیہ النوع الثانی اللباس باب لبس الثواب الاحمر الکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۴۴۴،€صحیح مسلم کتاب اللباس باب نہی عن لبس الرجل الثوب المعصفر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۳€
المواھب اللدنیہ النوع الثانی فی اللباس باب لبس الثوب الاحمر المکتب االاسلامی بیروت ∞۲ /۴۴۴€
صحیح مسلم کتاب اللباس باب نہی الرجل عن التزعفر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۸€
القرآن الکریم ∞۲ /۶۹€
المواھب اللدنیہ النوع الثانی فی اللباس باب لبس الثوب الاحمر المکتب االاسلامی بیروت ∞۲ /۴۴۴€
صحیح مسلم کتاب اللباس باب نہی الرجل عن التزعفر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۸€
القرآن الکریم ∞۲ /۶۹€
اور خالص سرخ غیر معصفر اضطراب اقوال ہے اور صحیح ومعتمد جواز بلکہ علامہ حسن شرنبلالی نے فرمایا:اس کا پہننا مستحب۔حق یہ کہ احادیث نہی سرخ معصفر کے بارے میں ہیں جیسے حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما مذکور سوال اور احادیث جواز سرخ غیر معصفر میں۔اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سرخ جوڑا پہننا بیان جواز کے لئے ہے۔ منتخب الفتاوی میں ہے:
قال صاحب الروضۃ یجوز للرجال والنساء لبس الثواب الاحمر والاخضر بلاکراھۃ ۔ مصنف روضہ نے فرمایا:مردوں اور عورتوں کے لئے سرخ اورسبز کپڑا پہننا بغیر کراہت جائز ہے۔(ت)
حاوی میں متعدد کتب سے نقل کیا :
یکرہ اللرجال لبس المعصفر والمزعفر و المورس والمحمرای الاحمر حریرا کان او غیرہ اذا کان فی صبغہ دم والافلا ۔ "معصر"(کسم کے رنگ سرخ کیا ہوا)اور"مزعفر"(زرد و زعفرانی رنگ)"مورس"(ورس سے رنگا ہوا)اور ویسے سرخ کپڑا خواہ ریشمی ہو یا نہ ہو جبکہ اس کے رنگ کرنے میں خون کی امیزش ہومردوں کے لئے ان سب کاا ستعمال کرنا مکروہ ہے۔لیکن اگر خون کی امیزش نہ ہو تو پھر کراہت نہیں۔(ت)
مجمع الفتاوی میں ہے:
لوصبغ بالشجر البقم لایکرہ ولو صبغ بقشر الجوز عسلیا لایکرہ اجماعا ۔ اگر کپڑا درخت"بقم"سے رنگ لیا تو اس کا ستعمال مکروہ نہیں۔ نیز اگر اخروٹ کے چھلکے سے شہد جیسی رنگ کرلی تو بالاتفاق مکروہ نہیں۔(ت)
تحفۃ الاکمل علامہ حنس شرنبلالی میں جواز کی نقول کثیرہ لکھ کر فرمایا:
وجدنا نص الامام الاعظم علی الجواز ودلیلا قاطعاعلی الاباحۃ وھو اطلاق الامر باخذ الزینۃ و وجدنا فی الصحیحین حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃ سے ہم نے جواز کی تصریح پائی اور اباحت پر ایك دلیل قاطعاور زیب و زینت اختیار کرنے کے بارے میں ایک"'مطلق امر"ہے(یعنی بغیر کسی قید اور پابند کر کےعلی وجہ الاطلاق
قال صاحب الروضۃ یجوز للرجال والنساء لبس الثواب الاحمر والاخضر بلاکراھۃ ۔ مصنف روضہ نے فرمایا:مردوں اور عورتوں کے لئے سرخ اورسبز کپڑا پہننا بغیر کراہت جائز ہے۔(ت)
حاوی میں متعدد کتب سے نقل کیا :
یکرہ اللرجال لبس المعصفر والمزعفر و المورس والمحمرای الاحمر حریرا کان او غیرہ اذا کان فی صبغہ دم والافلا ۔ "معصر"(کسم کے رنگ سرخ کیا ہوا)اور"مزعفر"(زرد و زعفرانی رنگ)"مورس"(ورس سے رنگا ہوا)اور ویسے سرخ کپڑا خواہ ریشمی ہو یا نہ ہو جبکہ اس کے رنگ کرنے میں خون کی امیزش ہومردوں کے لئے ان سب کاا ستعمال کرنا مکروہ ہے۔لیکن اگر خون کی امیزش نہ ہو تو پھر کراہت نہیں۔(ت)
مجمع الفتاوی میں ہے:
لوصبغ بالشجر البقم لایکرہ ولو صبغ بقشر الجوز عسلیا لایکرہ اجماعا ۔ اگر کپڑا درخت"بقم"سے رنگ لیا تو اس کا ستعمال مکروہ نہیں۔ نیز اگر اخروٹ کے چھلکے سے شہد جیسی رنگ کرلی تو بالاتفاق مکروہ نہیں۔(ت)
تحفۃ الاکمل علامہ حنس شرنبلالی میں جواز کی نقول کثیرہ لکھ کر فرمایا:
وجدنا نص الامام الاعظم علی الجواز ودلیلا قاطعاعلی الاباحۃ وھو اطلاق الامر باخذ الزینۃ و وجدنا فی الصحیحین حضرت امام اعظم علیہ الرحمۃ سے ہم نے جواز کی تصریح پائی اور اباحت پر ایك دلیل قاطعاور زیب و زینت اختیار کرنے کے بارے میں ایک"'مطلق امر"ہے(یعنی بغیر کسی قید اور پابند کر کےعلی وجہ الاطلاق
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ منتخب الفتاوی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
ردالمحتار بحوالہ الحاوی الزاھدی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
ردالمحتار بحوالہ مجمع الفتاوی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
ردالمحتار بحوالہ الحاوی الزاھدی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
ردالمحتار بحوالہ مجمع الفتاوی کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
علی اوجہ الاطلاق موجبہ وبہ تنتفی الحرمۃ والکراھۃ بل یثبت الاستحباب اقتداء بالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ زیبائش کاحکم دیا گیا)اوربخاری ومسلم میں ہم نے اس کا موجب(سبب)پالیا۔لہذا اس سے حرمت اور کراہت ختم(منتفی) ہوگئی۔بلکہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اقتداء(پیروی) کرتے ہوئے استحباب ثابت ہوگیا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
ھذاالنقول مع ماذکرہ عن المجتبی و القہستانی وشرح ابی المکارم تعارض القول بکراھۃ التحریم ان لم یدع التوفیق محمل التحریم علی المصبوغ بالنجس او نحو ذلک۔ یہ متعدد نقول بشمول ان اقوال جو المجتبی قہستانی اور شرح ابی المکارم میں مذکور ہیں کراہت تحریمی کے معارض اور متصادم ہیں جبکہ دونوں میں اس طرح موافقت اور مطابقت نہ پیدا کی جائے کہ قول بالحرمۃ کا مبنی اور محل یہ ہے کہ رنگ کرنے میں نجاست یا اس جیسی کسی ممنوع اورناپاك چیز کی ملاوٹ ہو اور اگر یہ نہ ہو پھر قول بالجواز ہے۔(یعنی دونوں قولوں میں درحقیقت کوئی تعارض نہیں)۔(ت)
باینہمہ انصاف یہ کہ شدت اختلاف کے باعث احتراز اولی اور اعتراض بے جا عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
قال الامام الغزالی فی الاحیاء فی شروط المنکر ان یکون کونہ منکرا معلوما بغیر اجتہاد فکل ما ہو فی محل الاجتہاد فلا حسبتہ فیہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حجۃ الاسلام امام غزالی نے"احیاء علوم الدین"میں ارشاد فرمایا:منکر کی شرائط میں یہ ہے کہ اس کا منکر ہونا بغیر اجتہاد معلوم ہو پھر جو محل اجتہاد میں ہو۔میں اس کو منکر گمان نہیں کرتا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۴: عین الیقین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طریقہ مسنونہ دستار باندھنے کا کیاہے دہنی طرف سے یا بائیں طرف سے اور کس طرف سے شروع کرنا کیسا ہے مع دلیل۔
ردالمحتار میں ہے:
ھذاالنقول مع ماذکرہ عن المجتبی و القہستانی وشرح ابی المکارم تعارض القول بکراھۃ التحریم ان لم یدع التوفیق محمل التحریم علی المصبوغ بالنجس او نحو ذلک۔ یہ متعدد نقول بشمول ان اقوال جو المجتبی قہستانی اور شرح ابی المکارم میں مذکور ہیں کراہت تحریمی کے معارض اور متصادم ہیں جبکہ دونوں میں اس طرح موافقت اور مطابقت نہ پیدا کی جائے کہ قول بالحرمۃ کا مبنی اور محل یہ ہے کہ رنگ کرنے میں نجاست یا اس جیسی کسی ممنوع اورناپاك چیز کی ملاوٹ ہو اور اگر یہ نہ ہو پھر قول بالجواز ہے۔(یعنی دونوں قولوں میں درحقیقت کوئی تعارض نہیں)۔(ت)
باینہمہ انصاف یہ کہ شدت اختلاف کے باعث احتراز اولی اور اعتراض بے جا عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
قال الامام الغزالی فی الاحیاء فی شروط المنکر ان یکون کونہ منکرا معلوما بغیر اجتہاد فکل ما ہو فی محل الاجتہاد فلا حسبتہ فیہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حجۃ الاسلام امام غزالی نے"احیاء علوم الدین"میں ارشاد فرمایا:منکر کی شرائط میں یہ ہے کہ اس کا منکر ہونا بغیر اجتہاد معلوم ہو پھر جو محل اجتہاد میں ہو۔میں اس کو منکر گمان نہیں کرتا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۴: عین الیقین طالب علم مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طریقہ مسنونہ دستار باندھنے کا کیاہے دہنی طرف سے یا بائیں طرف سے اور کس طرف سے شروع کرنا کیسا ہے مع دلیل۔
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ تحفۃ الاکمل کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
ردالمحتار بحوالہ تحفۃ الاکمل کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی الللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
الحدیقہ الندیۃ الباب الاول الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۱۵۷€
ردالمحتار بحوالہ تحفۃ الاکمل کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی الللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۲۸€
الحدیقہ الندیۃ الباب الاول الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۱۵۷€
الجواب:
حدیث میں ہے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یجب التیامن فی کل شیئ حتی فی تنعلہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہربات میں دہنی طرف سے ابتداء کو پسند فرماتے یہاں تك کہ جوتا پہننے میں۔
لہذا مناسب یہ ہے کہ عمامہ کا پہلا پیچ سر کی دہنی جانب جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: از مدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ مولوی محمد ثناء اﷲ صاحب طالب علم ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طریقہ مسنونہ دستار باندھنے کا کیا دہنے سے یا بائیں طرف سے۔اور کس طرف سے شروع کرنا چاہئے
الجواب:
دہنی جانب پہلا پیچ لے جائیں۔
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یحب التیامن فی کل شیئ حتی فی تنعلہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرکام میں دائیں طرف سے ابتداء کو پسند فرماتے تھے یہاں تك کہ جوتا پہننے میں بھی(ت)
مسئلہ ۵۶:از پبی ڈاکخانہ خاص ضلع پشاور مدرسہ قادریہ محمودیہ مسجد چھنگری مسئولہ مولنا مولوی حمداﷲ صاحب قادری محمودی ۱۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ بعض صوفیہ بے علم شملہ ثانیہ کو بدعت سیئہ کہتے ہیں۔فقیر کے تلمیذ مولوی اسرار محمد کا بیان ہے کہ یہ جو بعض لوگ جزء اخیر دستار کو بالائے دستار کشادہ رکھتے ہیں جائز ہے کہ دلیل امتناع موجود نہیں تو اصل اباحت پر باقی ہے۔یہ اصول فقہ کا مسلمہ مسئلہ ہے۔فقیر نے اپنے تلمیذ کی تائید کی۔اس بارے میں فیصلہ مفصلہ تحریر فرمائیں۔والسلام
الجواب:
حدیث سے میرے خیال میں ہے کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دو شملے چھوڑے ہیں۔
حدیث میں ہے:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یجب التیامن فی کل شیئ حتی فی تنعلہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہربات میں دہنی طرف سے ابتداء کو پسند فرماتے یہاں تك کہ جوتا پہننے میں۔
لہذا مناسب یہ ہے کہ عمامہ کا پہلا پیچ سر کی دہنی جانب جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: از مدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ مولوی محمد ثناء اﷲ صاحب طالب علم ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طریقہ مسنونہ دستار باندھنے کا کیا دہنے سے یا بائیں طرف سے۔اور کس طرف سے شروع کرنا چاہئے
الجواب:
دہنی جانب پہلا پیچ لے جائیں۔
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یحب التیامن فی کل شیئ حتی فی تنعلہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہرکام میں دائیں طرف سے ابتداء کو پسند فرماتے تھے یہاں تك کہ جوتا پہننے میں بھی(ت)
مسئلہ ۵۶:از پبی ڈاکخانہ خاص ضلع پشاور مدرسہ قادریہ محمودیہ مسجد چھنگری مسئولہ مولنا مولوی حمداﷲ صاحب قادری محمودی ۱۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ بعض صوفیہ بے علم شملہ ثانیہ کو بدعت سیئہ کہتے ہیں۔فقیر کے تلمیذ مولوی اسرار محمد کا بیان ہے کہ یہ جو بعض لوگ جزء اخیر دستار کو بالائے دستار کشادہ رکھتے ہیں جائز ہے کہ دلیل امتناع موجود نہیں تو اصل اباحت پر باقی ہے۔یہ اصول فقہ کا مسلمہ مسئلہ ہے۔فقیر نے اپنے تلمیذ کی تائید کی۔اس بارے میں فیصلہ مفصلہ تحریر فرمائیں۔والسلام
الجواب:
حدیث سے میرے خیال میں ہے کہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دو شملے چھوڑے ہیں۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب النہی عن الاستنجاء بالیمین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲،€اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الطہارۃ کیفیۃ الوضوء دارالفکر بیروت ∞۲ /۳۶۱،€مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۱۰۲€
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب النہی عن الاستنجاء بالیمین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲،€اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الطہارۃ کیفیۃ الوضوء دارالفکر بیروت ∞۲ /۳۶۱،€مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۱۰۲€
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب النہی عن الاستنجاء بالیمین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲،€اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الطہارۃ کیفیۃ الوضوء دارالفکر بیروت ∞۲ /۳۶۱،€مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ∞۶ /۱۰۲€
خیال ہے کہ معاذبن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کے سر پر دست اقدس سے عمامہ باندھا اور دو شملے چھوڑے۔اور عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ کے سر پر اپنے دست انور سے عمامہ باندھنا اور آگے پیچھے دو شملے چھوڑنا سنن ابی داؤد میں ہے۔تو یہ سنت ہوا نہ کہ معاذاﷲ بدعت سیئہ۔فقیر اسی سنت کے اتباع سے بارہا دو شملے رکھتاہے۔مگر شملہ ایك بالشت سے کم نہ ہونا چاہئے۔یہ جو بعض لوگ طرہ کے طو رپرچند انگل اونچا سر پر چھوڑتے ہیں اس کا ثبوت میری نظرمیں نہیں۔نہ کہیں ممانعت۔تو اباحت اصلیہ پر ہے۔مگر اس حالت میں کہ یہ کسی شہرمیں آوارہ وفساق لوگوں کی وضع ہو تو اس عارض کے سبب اس سے احتراز ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔والسلام
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب العمائم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۸€
دیکھنا اور چھونا
پردہحجابستر عورتزناءمشت زنیدیوثیخلوت اور بلوغ وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۵۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جیسا کہ مرد کے واسطے غیر عورت کو دیکھنا حرام ہے ویسا ہی عورت کو غیر مرد کی طرف نظر کرنا حرام ہے۔یا کچھ فرق ہےـ بینوا توجروا(بیان کرو اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
دونوں صوررتوں کا ایك حکم کچھ فرق نہیں۔
فان نظر کل الی عورتہ الاخر محرم قطعا وکذا الی غیر العورۃ ان لم یؤمن الشھوۃ ھو الصحیح فی الفصلین ودرمختار عن التاتارخانیہ عن المضمرات اما عند الا من فالمنع لخوف الافتنان لفساد الزمان وفیہ ایضا کیونکہ ہرایك کا دوسرے کی عورت(یعنی مقام ستر)کو دیکھنا قطعی حرام ہے اور اسی طرح غیر جائے ستر کو دیکھنا بھی حرام ہے جبکہ شہوت سے امن نہ ہودونوں صورتوں میں یہی صحیح ہے۔درمختار میں تاتارخانیہ سے بحوالہ الضمرات ہے اگر شہوت کا خطرہ نہ ہو تو پھر فتنہ کی وجہ سے ممانعت ہے۔اور یہ فساد زمانہ کی وجہ سے ہے۔
پردہحجابستر عورتزناءمشت زنیدیوثیخلوت اور بلوغ وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۵۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جیسا کہ مرد کے واسطے غیر عورت کو دیکھنا حرام ہے ویسا ہی عورت کو غیر مرد کی طرف نظر کرنا حرام ہے۔یا کچھ فرق ہےـ بینوا توجروا(بیان کرو اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
دونوں صوررتوں کا ایك حکم کچھ فرق نہیں۔
فان نظر کل الی عورتہ الاخر محرم قطعا وکذا الی غیر العورۃ ان لم یؤمن الشھوۃ ھو الصحیح فی الفصلین ودرمختار عن التاتارخانیہ عن المضمرات اما عند الا من فالمنع لخوف الافتنان لفساد الزمان وفیہ ایضا کیونکہ ہرایك کا دوسرے کی عورت(یعنی مقام ستر)کو دیکھنا قطعی حرام ہے اور اسی طرح غیر جائے ستر کو دیکھنا بھی حرام ہے جبکہ شہوت سے امن نہ ہودونوں صورتوں میں یہی صحیح ہے۔درمختار میں تاتارخانیہ سے بحوالہ الضمرات ہے اگر شہوت کا خطرہ نہ ہو تو پھر فتنہ کی وجہ سے ممانعت ہے۔اور یہ فساد زمانہ کی وجہ سے ہے۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر والمس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۲€
یتفق الفصلان فافھم واﷲ تعالی اعلم۔ اور اسی میں یہ بھی ہے کہ دونوں صورتیں برابرہیں لہذا اس کو سمجھ لیجئے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۸: ازگلگت چھاؤنی جوئنال مرسل سید محمد یوسف علی صاحب شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کہ زلخ لگانے کا اﷲ پاك کیا گناہ فرماتاہے بینوا توجروا (بیان فرمائےے اجر پائے۔ت)
الجواب:
یہ فعل ناپاك حرام وناجائز ہے اﷲ جل وعلا نے اس حاجت کے پورا کرنے کو صرف زوجہ و کنیز شرعی بتائی ہیں اور صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ:
" فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العادون ﴿۳۱﴾ " جو اس کے سو ااور کوئی طریقہ ڈھونڈھے تو ہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
حدیث میں ہے:ناکح الید ملعون جلق لگانے والے پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔ہاں اگر کوئی شخص جوان تیز خواہش ہو کہ نہ زوجہ رکھتاہو نہ شرعی کنیز اور جوش شہوت سخت مجبور کرے اوراس وقت کسی کام میں مشغول ہوجانے یا مردوں کے پاس جابیٹھنے سے بھی دل نہ بٹے غرض کسی طرح وہ جوش کم نہ ہو یہاں تك کہ یقین یاظن غالب ہوجائے کہ اس وقت اگر یہ فعل نہیں کرتا تو حرام میں گرفتار ہوجائے گا تو ایسی حالت میں زنا ولواطت سے بچنے کے لئے صرف بغرض تسکین شہوت نہ کہ بقصد تحصیل لذت و قضائے شہوت اگر یہ فعل واقع ہو تو امید کی جاتی ہےکہ اﷲ تعالی مواخذہ نہ فرمائے گا۔پھر اس کے ساتھ ہی واجب ہے کہ اگر قدرت رکھتا ہو فورا نکاح یا خریداری کنیز شرعی کی فکر کرے ورنہ سخت گنہگار ومستحق لعنت ہوگا۔یہ اجازت اس لئے نہ تھی کہ اس فعل ناپاك کی عادت ڈال لے اور بجائے طریقہ پسندیدہ خدا ورسول اسی پر قناعت کرے۔طریقہ محمدیہ میں ہے:
اما الاستمناء فحرام الا عند شروط ثلثۃ ان یکون عزب وبہ شبق وفرط شہوۃ(بحیث لو لم یفعل مشت زنی حرام ہے مگر تین شرائط کے ساتھ جواز کی گنجائش ہے: (۱)مجرد ہو اور غلبہ شہوت ہو(۲)شہوت اس قدر غالب ہو کہ بدکاری زناء
مسئلہ ۵۸: ازگلگت چھاؤنی جوئنال مرسل سید محمد یوسف علی صاحب شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کہ زلخ لگانے کا اﷲ پاك کیا گناہ فرماتاہے بینوا توجروا (بیان فرمائےے اجر پائے۔ت)
الجواب:
یہ فعل ناپاك حرام وناجائز ہے اﷲ جل وعلا نے اس حاجت کے پورا کرنے کو صرف زوجہ و کنیز شرعی بتائی ہیں اور صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ:
" فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ہم العادون ﴿۳۱﴾ " جو اس کے سو ااور کوئی طریقہ ڈھونڈھے تو ہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
حدیث میں ہے:ناکح الید ملعون جلق لگانے والے پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔ہاں اگر کوئی شخص جوان تیز خواہش ہو کہ نہ زوجہ رکھتاہو نہ شرعی کنیز اور جوش شہوت سخت مجبور کرے اوراس وقت کسی کام میں مشغول ہوجانے یا مردوں کے پاس جابیٹھنے سے بھی دل نہ بٹے غرض کسی طرح وہ جوش کم نہ ہو یہاں تك کہ یقین یاظن غالب ہوجائے کہ اس وقت اگر یہ فعل نہیں کرتا تو حرام میں گرفتار ہوجائے گا تو ایسی حالت میں زنا ولواطت سے بچنے کے لئے صرف بغرض تسکین شہوت نہ کہ بقصد تحصیل لذت و قضائے شہوت اگر یہ فعل واقع ہو تو امید کی جاتی ہےکہ اﷲ تعالی مواخذہ نہ فرمائے گا۔پھر اس کے ساتھ ہی واجب ہے کہ اگر قدرت رکھتا ہو فورا نکاح یا خریداری کنیز شرعی کی فکر کرے ورنہ سخت گنہگار ومستحق لعنت ہوگا۔یہ اجازت اس لئے نہ تھی کہ اس فعل ناپاك کی عادت ڈال لے اور بجائے طریقہ پسندیدہ خدا ورسول اسی پر قناعت کرے۔طریقہ محمدیہ میں ہے:
اما الاستمناء فحرام الا عند شروط ثلثۃ ان یکون عزب وبہ شبق وفرط شہوۃ(بحیث لو لم یفعل مشت زنی حرام ہے مگر تین شرائط کے ساتھ جواز کی گنجائش ہے: (۱)مجرد ہو اور غلبہ شہوت ہو(۲)شہوت اس قدر غالب ہو کہ بدکاری زناء
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷۰ /۳۱€
الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۹۱،€الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ ∞حدیث نمبر ۱۰۲۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۲۵۷€
الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۹۱،€الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ ∞حدیث نمبر ۱۰۲۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۲۵۷€
ذلك لحملتہ شدۃ الشہوۃ علی الزناء اواللواط والشرط الثالث ان یرید بہ تکسین الشہوۃ لاقضائھا اھ مزیدا من شرحھا الحدیقۃ الندیۃ۔ یالونڈے بازی وغیرہ کا اندیشہ ہو(۳)تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے محض تکسین شہوت مقصود ہو نہ کہ حصول لذت۔ طریقہ محمدیہ کی عبارت مکمل ہوگئی جس میں اس کی شرح حدیقہ ندیہ سے کچھ اضافہ بھی شامل ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
یکون(ای)واجبا عند التوقان ۔ غلبہ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قلت وکذا فیما یظھر لو کان لایمکنہ منع نفسہ عن النظر المحرم او عن الاستمناء بالکف فیجب التزوج وان لم یخف الوقوع فی الزناء واﷲ تعالی اعلم۔ میں کہتاہوں اور اسی طرح کچھ ظاہر ہوتاہے کہ اگر حالت ایسی ہوکہ یہ اپنے آپ کو نظر حرام اور مشت زنی سے نہ روك سکے تو شادی کرنا واجب ہے۔اگر چہ زناء میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اﷲ تعالی ہی بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۹: از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو شخص اپنا ستر غلیظ کھول کر خواہ مخواہ ہر شخص کے سامنے آئے وہ کیساہے بینوا توجروا۔
الجواب:
فاسقفاجر سخت تعزیر شدید کا مستحق ہے۔حدیث میں اس پر لعنت آئی کہ:
لعن اﷲ الناظر والمنظور الیہرواہ البیہقی فی شعب الایمان عن الحسن مرسلا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ۔ دیکھنے والا اور جس کی طرف دیکھا گیا دونوں ملعون ہیں(یعنی ان پر اﷲ تعالی نے لعنت فرمائی ہے۔)امام بیہقی نے اس کو شعب الایمان میں بغیر سند نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حضرت حسن کے حوالے سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
یکون(ای)واجبا عند التوقان ۔ غلبہ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قلت وکذا فیما یظھر لو کان لایمکنہ منع نفسہ عن النظر المحرم او عن الاستمناء بالکف فیجب التزوج وان لم یخف الوقوع فی الزناء واﷲ تعالی اعلم۔ میں کہتاہوں اور اسی طرح کچھ ظاہر ہوتاہے کہ اگر حالت ایسی ہوکہ یہ اپنے آپ کو نظر حرام اور مشت زنی سے نہ روك سکے تو شادی کرنا واجب ہے۔اگر چہ زناء میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اﷲ تعالی ہی بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۹: از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو شخص اپنا ستر غلیظ کھول کر خواہ مخواہ ہر شخص کے سامنے آئے وہ کیساہے بینوا توجروا۔
الجواب:
فاسقفاجر سخت تعزیر شدید کا مستحق ہے۔حدیث میں اس پر لعنت آئی کہ:
لعن اﷲ الناظر والمنظور الیہرواہ البیہقی فی شعب الایمان عن الحسن مرسلا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ۔ دیکھنے والا اور جس کی طرف دیکھا گیا دونوں ملعون ہیں(یعنی ان پر اﷲ تعالی نے لعنت فرمائی ہے۔)امام بیہقی نے اس کو شعب الایمان میں بغیر سند نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حضرت حسن کے حوالے سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
الطریقہ محمدیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ الاستمناء بالید ∞مکتبہ حنفِیہ کوئٹہ ۲/ ۲۵۵،€الحدیقہ الندیہ الصنف السابع من الاصناف التسعۃ الاستمناء بالید ∞مکتبہ حنفِیہ کوئٹہ ۲/ ۴۹€۱
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب النکاح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸€۵
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء لتراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶۰€
شعب الایمان للبیہقی ∞حدیث ۷۷۸۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶/ ۱۶۲€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب النکاح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸€۵
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء لتراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶۰€
شعب الایمان للبیہقی ∞حدیث ۷۷۸۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶/ ۱۶۲€
مسئلہ ۶۰: از مارہرہ مطہرہ مرسلہ حضرت میاں صاحب قبلہ دام ظلہم العالی ۳۰ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك فاحشہ مسلمہ سے پردہ جو آیا ہے وہ جس مصلحت سے معلوم ہے مگر ایسا موقع ہو کہ باہم فاحشہ اور غیر فاحشہ مسلمہ قرابت اخت عینی کی رکھتے ہوں تو وہ بھی اس حکم میں داخل ہے یا نہیں اور اگر کبھی کبھی بتقاضائے محبت خون اسے اپنے سے مل لینے دے تو کیا مرتکب کبیرہ ہوگی بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
قول علماء:
لاینبغی للمرأۃ الصالحۃ ان تنطر الیہ المرأۃ الفاجرۃ کما فی السراج الوہاج والہندیۃ و ردالمحتار ۔ یہ مناسب نہیں کہ نیك اور پارسا عورت کی طرف بدکار عورت دیکھےجیساکہ سراج وہاج فتاوی ہندیہ اور رد المحتار میں ہے۔(ت)
اور اسی طرح ارشاد الہی عزوجل:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تجھے شیطان(بری مجلس سے اٹھ کر چلے جانا)بھلادے تو یاد انے کے بعد ظالموں کے ساتھ(کم از کم مزید تو) نہ بیٹھو۔ (ت)
ہر صورت کو عام ہے اور مصلحت بھی عام بلکہ ایسی قرابت قریبہ میں برا اثر پڑنے کا زیادہ احتمال کہ اجنبیہ سے نہ اتنا میل ہوتاہے نہ اس کی طرف اتنا میل۔
والمھاجرۃ لامثال ھذا لایعد من القطع المنھی عنہ فقد صح مثلہ عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم فی اقل من ھذا منھم عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اس قسم کے چھوڑنے کو اس انقطاع میں شمار نہیں کیا جاتا کہ حدیث میں جس کی نہی وارد ہوئی ہے کیونکہ اس سے کم درجہ میں صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے اس نوع کی کاروائی بصحت ثابت ہے ان میں سے نہیں حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما بھی ہیں(ت)
ہاں یہ حکم احتیاطی ہے اگر نادرا کبھی کچھ دیر کو اسے مل لینے دے تو کبیرہ نہیں کما یدل علیہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك فاحشہ مسلمہ سے پردہ جو آیا ہے وہ جس مصلحت سے معلوم ہے مگر ایسا موقع ہو کہ باہم فاحشہ اور غیر فاحشہ مسلمہ قرابت اخت عینی کی رکھتے ہوں تو وہ بھی اس حکم میں داخل ہے یا نہیں اور اگر کبھی کبھی بتقاضائے محبت خون اسے اپنے سے مل لینے دے تو کیا مرتکب کبیرہ ہوگی بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
قول علماء:
لاینبغی للمرأۃ الصالحۃ ان تنطر الیہ المرأۃ الفاجرۃ کما فی السراج الوہاج والہندیۃ و ردالمحتار ۔ یہ مناسب نہیں کہ نیك اور پارسا عورت کی طرف بدکار عورت دیکھےجیساکہ سراج وہاج فتاوی ہندیہ اور رد المحتار میں ہے۔(ت)
اور اسی طرح ارشاد الہی عزوجل:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تجھے شیطان(بری مجلس سے اٹھ کر چلے جانا)بھلادے تو یاد انے کے بعد ظالموں کے ساتھ(کم از کم مزید تو) نہ بیٹھو۔ (ت)
ہر صورت کو عام ہے اور مصلحت بھی عام بلکہ ایسی قرابت قریبہ میں برا اثر پڑنے کا زیادہ احتمال کہ اجنبیہ سے نہ اتنا میل ہوتاہے نہ اس کی طرف اتنا میل۔
والمھاجرۃ لامثال ھذا لایعد من القطع المنھی عنہ فقد صح مثلہ عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم فی اقل من ھذا منھم عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اس قسم کے چھوڑنے کو اس انقطاع میں شمار نہیں کیا جاتا کہ حدیث میں جس کی نہی وارد ہوئی ہے کیونکہ اس سے کم درجہ میں صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے اس نوع کی کاروائی بصحت ثابت ہے ان میں سے نہیں حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما بھی ہیں(ت)
ہاں یہ حکم احتیاطی ہے اگر نادرا کبھی کچھ دیر کو اسے مل لینے دے تو کبیرہ نہیں کما یدل علیہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ بالنظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۳۸€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
قولھم لاینبغی(جیسا کہ اس پر ان کے قول"یہ مناسب نہیں"سے دلیل دی جاسکتی ہے)مگر احتیاط ضروری ہے جب دیکھے کہ اب کچھ بھی برا اثر پڑتا معلوم ہوتا ہے فورا نقطاع کلی کرے اور اس کی صحبت کو آگ جانےاور انصاف یہ ہے کہ برا اثر پڑتے معلوم نہیں ہوتا اور جب پڑجاتا ہے تو پھر احتیاط کی طرف ذہن جانا قدرے دشوار ہے لہذا امان و سلامت جدا رہنے ہی میں ہے وباﷲ التوفیق(اور اﷲ تعالی ہی کی مدد سے توفیق میسر آتی ہے۔ت)
مولانا قدس سرہ العزیز مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
تاتوانی دور شو از یار بد یار بد بد تر بود از ماربد
مار بد تنہا ہمیں برجان زند یار بد بر جان وایمان زند
(جب تك ممکن ہو برے یار(ساتھی)سے دور رہو کیونکہ برا ساتھی برے سانپ سے بھی زیادہ خطرناك اور نقصان دہ ہے اس لئے کہ خطرناك سانپ تو صرف جان یعنی جسم کو تکلیف یا نقصان پہنچاتا ہے جبکہ برا ساتھی جان اور ایمان دونوں کو برباد کردیتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: ا زجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت جوان یا بڑھیا کسی عالم شریعتواقف طریقت جامع شرائط سے بیعت کرے اور اپنے پیر سے فیض لے حجاب شرعی تو ہو یعنی کل بدن چھپا ہوا بلا چہرے کے مگر حجاب عرفی نہ ہو تو یہ بیعت کرنے اور اس طریق سے فیض لینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔
فی الدرالمختار تمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ ۔ درمختار میں ہے کہ جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کشائی سے روکا جائے۔(ت)
مولانا قدس سرہ العزیز مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
تاتوانی دور شو از یار بد یار بد بد تر بود از ماربد
مار بد تنہا ہمیں برجان زند یار بد بر جان وایمان زند
(جب تك ممکن ہو برے یار(ساتھی)سے دور رہو کیونکہ برا ساتھی برے سانپ سے بھی زیادہ خطرناك اور نقصان دہ ہے اس لئے کہ خطرناك سانپ تو صرف جان یعنی جسم کو تکلیف یا نقصان پہنچاتا ہے جبکہ برا ساتھی جان اور ایمان دونوں کو برباد کردیتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: ا زجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عورت جوان یا بڑھیا کسی عالم شریعتواقف طریقت جامع شرائط سے بیعت کرے اور اپنے پیر سے فیض لے حجاب شرعی تو ہو یعنی کل بدن چھپا ہوا بلا چہرے کے مگر حجاب عرفی نہ ہو تو یہ بیعت کرنے اور اس طریق سے فیض لینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے جوا ن عورت کو چہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے۔
فی الدرالمختار تمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ ۔ درمختار میں ہے کہ جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کشائی سے روکا جائے۔(ت)
حوالہ / References
∞ گلدستہ مثنوی بکھرے موتی نذیر سنز لاہور ص۹۴ و ۹€۵
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب شروط الصلوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۶€
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب شروط الصلوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۶€
اسی میں ہے:
اما فی زماننا فمنع من الشابۃ قہستانی ۔ لیکن ہمارے زمانے میں جوان لڑکی کو نقاب کشائی سے منع کیا گیا ہے۔قہستانی(ت)
اور بڑھیا کے لئے جس سے احتمال فتنہ نہ ہو مضائقہ نہیں۔
فیہ ایضا اما العجوز التی لاتشتھی فلا بأس بمصافحتہا ومس یدھا ان امن ۔ اسی کتاب میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایسی بوڑھی عورت جو نفسانی یعنی جنسی خواہش نہ رکھتی ہو اس سے مصافحہ کرنے اور اس کے ہاتھ کو مس کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اطمینان خاطر حاصل ہو۔(ت)
مگر ایسے خاندان کی نہ ہو جس کا یوں بھی سامنے آنا اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار یا خود اس کے واسطے وجہ انگشت نمائی ہو۔
فانا قدامرنا ان ننزل الناس منازلھم کما فی حدیث ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا وفی حدیث مرفوع ایاك وما یسوء الاذن ۔ اس لئے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوك کریں جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی حدیث میں آیا ہے اور ایك مرفوع حدیث میں ہے کہ اپنے آپ کو ان باتوں سے بچاؤ جو کانوں کو بری لگیں(ت)
خصوصا جبکہ اس کے سبب جانب اقربا سے احتمال ثوران فساد ہو فان الفتنۃ اکبر من القتل(کیونکہ فتنہ برپاکرنا قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۲: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی اپنے پیر ومرشد کے پیرچوم لے بطوربزرگی کے تو درست ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جائز ہے۔ابوداؤد وغیرہ کی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کحدیث وفد عبدالقیس
اما فی زماننا فمنع من الشابۃ قہستانی ۔ لیکن ہمارے زمانے میں جوان لڑکی کو نقاب کشائی سے منع کیا گیا ہے۔قہستانی(ت)
اور بڑھیا کے لئے جس سے احتمال فتنہ نہ ہو مضائقہ نہیں۔
فیہ ایضا اما العجوز التی لاتشتھی فلا بأس بمصافحتہا ومس یدھا ان امن ۔ اسی کتاب میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایسی بوڑھی عورت جو نفسانی یعنی جنسی خواہش نہ رکھتی ہو اس سے مصافحہ کرنے اور اس کے ہاتھ کو مس کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اطمینان خاطر حاصل ہو۔(ت)
مگر ایسے خاندان کی نہ ہو جس کا یوں بھی سامنے آنا اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار یا خود اس کے واسطے وجہ انگشت نمائی ہو۔
فانا قدامرنا ان ننزل الناس منازلھم کما فی حدیث ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا وفی حدیث مرفوع ایاك وما یسوء الاذن ۔ اس لئے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوك کریں جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی حدیث میں آیا ہے اور ایك مرفوع حدیث میں ہے کہ اپنے آپ کو ان باتوں سے بچاؤ جو کانوں کو بری لگیں(ت)
خصوصا جبکہ اس کے سبب جانب اقربا سے احتمال ثوران فساد ہو فان الفتنۃ اکبر من القتل(کیونکہ فتنہ برپاکرنا قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۲: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی اپنے پیر ومرشد کے پیرچوم لے بطوربزرگی کے تو درست ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جائز ہے۔ابوداؤد وغیرہ کی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کحدیث وفد عبدالقیس
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۲۔۲۴€۱
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۲۔۲۴۱€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تنزیل الناس منازلھم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹€
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۷۶€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب قبلۃ الرجل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۲۔۲۴۱€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تنزیل الناس منازلھم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹€
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۷۶€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب قبلۃ الرجل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳€
وغیرھم من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم (جیسا کہ وفد عبدالقیس وغیرہ کی حدیث میں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے مروی ہے۔ت)اس بارہ میں فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے مفصل کلام لکھا کہ ہمارے مجموعہ فتاوی میں منسلك ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۶۳: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نہایت نیك بخت ہے وہ چاہتی ہے کہ کسی بزرگ عالم شریعت اور واقف طریقت سے بیعت حاصل کرکے صفائی قلب اور صفائی باطن حاصل کروں مگر اس کا خاوند اس کارخیر سے بند کرتا ہے۔آیا اگر وہ عورت اپنے خاوند کی چوری کسی صالح بزرگ سے بیعت حاصل کرے تو درست ہے یانہیں ا ور بلا اطلاع اپنے خاوند کے تعلیم سلوك باطنیہ کی اپنے پیر سے جاکر لے تو درست ہے یانہیں بینواتوجروا یوم الحساب(بیان فرماؤ تاکہ بروز قیامت اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
عالم عامل عارف کامل کے ہاتھ پر شرف بیعت حاصل کرنے اور اس سے علم دین وراہ سلوك سیکھنے کے لئے شوہر کی اجازت درکا رنہیں۔نہ اس باب میں اس کی ممانعت کا لحاظ لازم جب کہ اس کے حقوق میں کسی خلل کا اندیشہ نہ ہو۔
فی کتاب الجھاد من البحر والنھر والدروغیرہا انما یلزمھا امرہ فیما یرجع الی النکاح وتوابعہ ۔ چنانچہ البحرالرائقالنہر الفائقالدروغیرہ اور ان کے علاوہ دیگر کتابوں کتاب الجہاد میں ہے کہ عورت پر مرد کی اطاعت ان معاملات میں ضروری ہے کہ جن کا مرجع نکاح اور اس کے متعلقات ہوں۔
ہاں امر غیر واجب عینی کے سیکھنے کو پیر کے گھر بے اذن شوہر جانے کی اجازت نہیں ہوسکتی بلکہ واجب کے لئے بھی جبکہ شوہر کے توسط سے سیکھ سکتی ہو۔
والمسألۃ دائرۃ فی الکتب سائرۃ وقد فصلنا ھا بتوفیق اﷲ تعالی فی کتاب النکاح من فتاونا۔ یہ مسئلہ کتب فقہ میں دائر یعنی گھومنے والا اور سائر یعنی چلنے والا ہے چنانچہ اﷲ تعالی کے توفیق دینے سے ہم نے اس کو اپنے فتاوی کی بحث نکاح میں تفصیل سے بیان کیاہے۔(ت)
مسئلہ ۶۳: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی شیخ احمد جان صاحب مرحوم مرسلہ محمد احمد صاحب ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت نہایت نیك بخت ہے وہ چاہتی ہے کہ کسی بزرگ عالم شریعت اور واقف طریقت سے بیعت حاصل کرکے صفائی قلب اور صفائی باطن حاصل کروں مگر اس کا خاوند اس کارخیر سے بند کرتا ہے۔آیا اگر وہ عورت اپنے خاوند کی چوری کسی صالح بزرگ سے بیعت حاصل کرے تو درست ہے یانہیں ا ور بلا اطلاع اپنے خاوند کے تعلیم سلوك باطنیہ کی اپنے پیر سے جاکر لے تو درست ہے یانہیں بینواتوجروا یوم الحساب(بیان فرماؤ تاکہ بروز قیامت اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
عالم عامل عارف کامل کے ہاتھ پر شرف بیعت حاصل کرنے اور اس سے علم دین وراہ سلوك سیکھنے کے لئے شوہر کی اجازت درکا رنہیں۔نہ اس باب میں اس کی ممانعت کا لحاظ لازم جب کہ اس کے حقوق میں کسی خلل کا اندیشہ نہ ہو۔
فی کتاب الجھاد من البحر والنھر والدروغیرہا انما یلزمھا امرہ فیما یرجع الی النکاح وتوابعہ ۔ چنانچہ البحرالرائقالنہر الفائقالدروغیرہ اور ان کے علاوہ دیگر کتابوں کتاب الجہاد میں ہے کہ عورت پر مرد کی اطاعت ان معاملات میں ضروری ہے کہ جن کا مرجع نکاح اور اس کے متعلقات ہوں۔
ہاں امر غیر واجب عینی کے سیکھنے کو پیر کے گھر بے اذن شوہر جانے کی اجازت نہیں ہوسکتی بلکہ واجب کے لئے بھی جبکہ شوہر کے توسط سے سیکھ سکتی ہو۔
والمسألۃ دائرۃ فی الکتب سائرۃ وقد فصلنا ھا بتوفیق اﷲ تعالی فی کتاب النکاح من فتاونا۔ یہ مسئلہ کتب فقہ میں دائر یعنی گھومنے والا اور سائر یعنی چلنے والا ہے چنانچہ اﷲ تعالی کے توفیق دینے سے ہم نے اس کو اپنے فتاوی کی بحث نکاح میں تفصیل سے بیان کیاہے۔(ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب قبلۃ الرجل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳€
الدرالمختار کتاب الجہاد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳۹€
الدرالمختار کتاب الجہاد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳۹€
بلکہ اجنبی مردوں کے پاس بے ضرورت شرعیہ باذن شوہر جانے کی اجازت نہیں۔
حتی لو اذن کانا عاصیین کما فی الخلاصۃ والاشباہ والدروغیرہا من الاسفار الغروان بغیت التفصیل فعلیك بفتاونا ومن لم یعرف ناس زمانہ فھو جاھل۔وﷲ تعالی اعلم۔ حتی کہ اگر شوہر بیوی کو بغیر ضرورت شرعی باہر جانے کی اجازت دے تو بصورت عمل میاں بیوی دونوں گنہگار ہوں گے جیسا کہ خلاصہالاشباہالدر اور دوسری بڑی کتابوں میں موجود ہے۔اگر تمھیں تفصیل مطلوب ہو تو ہمارے فتاوی سے رجو ع کریں۔او ر جو شخص اپنے زمانے کے لوگوں کی معرفت نہیں رکھتا وہ نرا جاہل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۴: از شہر کہنہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص غیر منکوحہ عورت بالغہ سے خدمت لے اور کوئی شے اس لحاظ سے کہ مجھے ملے اور میں دل خوش کروں اور پاؤں دباؤں اور آپس میں باتیں کروں اور ایك ہی مکان میں رہنا اور عورت مذکورہ غیر محرم ہو تویہ سب جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جو عورت حد شہوت کو نہ پہنچے یعنی ہنوز نو برس سے کم عمر کی ہے یا حد فتنہ سے نکل گئی یعنی ضعیفہ بڑھیا بد صورت کریہہ منظر ہے اس سے جائز خدمت یعنی اگر چہ خلوت میں بھی ہو حرام نہیں۔اور جو عورت اجنبیہ ان دونوں صورتوں سے جدا ہے وہ محل اندیشہ فتنہ ہے اس سے خلوت حرام ہے اور اگر بلا خلوت روٹی پکانے وغیرہ کے کام پر ہے تو مضائقہ نہیں۔باقی رہا پاؤں دبانا دبوانا اس سے تنہائی میں باتیں کرکے نفس کو خوش کرنا یہ خود صریح حرام اور شیطانی کام ہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔
مسئلہ ۶۵: ا ز ایوان کچہری فوجداری مجسٹریٹ مرسلہ بخش اﷲ خاں ۳ رمضان مبارك ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورات طوائف پیشہ خواہ بلا نکاح ایك کی پابند ہوں یا نہ ہوں ان سے اور ان کے ذکور سے اختلاط و اتحاد رکھنا اور شادی اور مجلسوں میں اپنے مکانات پر ان کو بطور برادرانہ بلانا اور اپنی عورتوں کو بے پردہ طوائفوں کے سامنے کرنا اور جو لوگ شامل وشریك ان طوائفوں کے رہتے ہیں ان کو بہ نیت ترقی اعزاز و افتخار ایك دسترخوان پر اور دیگر اہل اسلام کو بھی ان کے ساتھ کھلانا پلانا اور ایسے ذکور رواناث کے یہاں خود جاکر کھانا اور دوسروں کو طوائفوں کی دعوتوں میں
حتی لو اذن کانا عاصیین کما فی الخلاصۃ والاشباہ والدروغیرہا من الاسفار الغروان بغیت التفصیل فعلیك بفتاونا ومن لم یعرف ناس زمانہ فھو جاھل۔وﷲ تعالی اعلم۔ حتی کہ اگر شوہر بیوی کو بغیر ضرورت شرعی باہر جانے کی اجازت دے تو بصورت عمل میاں بیوی دونوں گنہگار ہوں گے جیسا کہ خلاصہالاشباہالدر اور دوسری بڑی کتابوں میں موجود ہے۔اگر تمھیں تفصیل مطلوب ہو تو ہمارے فتاوی سے رجو ع کریں۔او ر جو شخص اپنے زمانے کے لوگوں کی معرفت نہیں رکھتا وہ نرا جاہل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۴: از شہر کہنہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص غیر منکوحہ عورت بالغہ سے خدمت لے اور کوئی شے اس لحاظ سے کہ مجھے ملے اور میں دل خوش کروں اور پاؤں دباؤں اور آپس میں باتیں کروں اور ایك ہی مکان میں رہنا اور عورت مذکورہ غیر محرم ہو تویہ سب جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جو عورت حد شہوت کو نہ پہنچے یعنی ہنوز نو برس سے کم عمر کی ہے یا حد فتنہ سے نکل گئی یعنی ضعیفہ بڑھیا بد صورت کریہہ منظر ہے اس سے جائز خدمت یعنی اگر چہ خلوت میں بھی ہو حرام نہیں۔اور جو عورت اجنبیہ ان دونوں صورتوں سے جدا ہے وہ محل اندیشہ فتنہ ہے اس سے خلوت حرام ہے اور اگر بلا خلوت روٹی پکانے وغیرہ کے کام پر ہے تو مضائقہ نہیں۔باقی رہا پاؤں دبانا دبوانا اس سے تنہائی میں باتیں کرکے نفس کو خوش کرنا یہ خود صریح حرام اور شیطانی کام ہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔
مسئلہ ۶۵: ا ز ایوان کچہری فوجداری مجسٹریٹ مرسلہ بخش اﷲ خاں ۳ رمضان مبارك ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورات طوائف پیشہ خواہ بلا نکاح ایك کی پابند ہوں یا نہ ہوں ان سے اور ان کے ذکور سے اختلاط و اتحاد رکھنا اور شادی اور مجلسوں میں اپنے مکانات پر ان کو بطور برادرانہ بلانا اور اپنی عورتوں کو بے پردہ طوائفوں کے سامنے کرنا اور جو لوگ شامل وشریك ان طوائفوں کے رہتے ہیں ان کو بہ نیت ترقی اعزاز و افتخار ایك دسترخوان پر اور دیگر اہل اسلام کو بھی ان کے ساتھ کھلانا پلانا اور ایسے ذکور رواناث کے یہاں خود جاکر کھانا اور دوسروں کو طوائفوں کی دعوتوں میں
حوالہ / References
خلاصہ الفتاوٰی کتاب النکاح الفصل الخامس عشر ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۵۳€
لے جانا اور جو مسلمان ایسے برتاؤ کو اچھا نہ سمجھتا ہو اس کو برا کہنا بلکہ اس رواج کے قائم دائم اپنی کوشش کرنا یہ سب جائز ہے یاناجائز اور ایسے شخص کی امامت کا کیاحکم ہے اور موروثوں کو نابالغ بچوں کو فحش گیت گانے یا فحش کلام کرنے سے منع نہ کرنا کس درجہ کا گناہ ہے کتاب سے بیان فرماؤ رحمن سے ثواب پاؤگے۔
الجواب:
ایسی حرکات نہایت شنیع وناپاك اور ایسے اشخاص سراسر خطا کار وبیباك اور ایسے برتاؤ معاذاﷲ باعث عذاب وہلاك ہیںرنڈی اگر چہ بلا نکاح ایك کی پابند ہو علانیہ فاحشہ زانیہ اور اس کے مرد قلتبان و دیوث ہیںیہ سب کے سب ہر وقت اﷲ عزوجل کے غضب میں ہیں۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تفتح ابواب السماء نصف اللیل فینادی مناد ہل من داع فستجاب لہ ھل من سائل فیعطی ھل من مکروب فیفرج عنہ لا یبقی مسلم یدعواﷲ بدعوۃ الااستجاب اﷲ عزوجل لہ الازانیۃ تسعی بفرجھا او عشاررواہ احمد بسند مقارب والطبرانی فی الکبیر واللفظ لہ عن عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ادھی رات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور منادی ندا کرتا ہے کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کریں۔ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مشکلکشائی ہو۔اس وقت جو مسلمان اﷲ عزوجل سے کوئی دعا کرتا ہے مولی سبحانہ وتعالی قبول فرماتا ہے مگر زانیہ کہ اپنی فرج کی کمائی کھاتی ہے۔یا لوگوں سے بے جا محاصل تحصیلنے والا۔ (امام احمد نے اس کو سند مقارب کے ساتھ روایت کیا۔اور امام طبرانی نے"الکبیر"میں روایت کی اور الفاظ اسی کے ہیں حضرت عثمان بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمائی۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث و الرجلۃ من النساء ومدمن الخمر۔رواہ الطبرانی عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔ تین شخص کبھی جنت میں نہ جائیں گے دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شرابی(امام طبرانی نے اس کو حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما سے عمدہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)
الجواب:
ایسی حرکات نہایت شنیع وناپاك اور ایسے اشخاص سراسر خطا کار وبیباك اور ایسے برتاؤ معاذاﷲ باعث عذاب وہلاك ہیںرنڈی اگر چہ بلا نکاح ایك کی پابند ہو علانیہ فاحشہ زانیہ اور اس کے مرد قلتبان و دیوث ہیںیہ سب کے سب ہر وقت اﷲ عزوجل کے غضب میں ہیں۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تفتح ابواب السماء نصف اللیل فینادی مناد ہل من داع فستجاب لہ ھل من سائل فیعطی ھل من مکروب فیفرج عنہ لا یبقی مسلم یدعواﷲ بدعوۃ الااستجاب اﷲ عزوجل لہ الازانیۃ تسعی بفرجھا او عشاررواہ احمد بسند مقارب والطبرانی فی الکبیر واللفظ لہ عن عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ادھی رات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور منادی ندا کرتا ہے کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول فرمائی جائے۔ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کریں۔ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مشکلکشائی ہو۔اس وقت جو مسلمان اﷲ عزوجل سے کوئی دعا کرتا ہے مولی سبحانہ وتعالی قبول فرماتا ہے مگر زانیہ کہ اپنی فرج کی کمائی کھاتی ہے۔یا لوگوں سے بے جا محاصل تحصیلنے والا۔ (امام احمد نے اس کو سند مقارب کے ساتھ روایت کیا۔اور امام طبرانی نے"الکبیر"میں روایت کی اور الفاظ اسی کے ہیں حضرت عثمان بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمائی۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث و الرجلۃ من النساء ومدمن الخمر۔رواہ الطبرانی عن عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔ تین شخص کبھی جنت میں نہ جائیں گے دیوث اور مردانی وضع بنانے والی عورت اور شرابی(امام طبرانی نے اس کو حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما سے عمدہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ طب ∞حدیث ۳۳۵۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲/ ۱۰۵،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الزکوٰۃ باب فی العشار ین والعرفاء دارالکتاب بیروت ∞۳/ ۸۸€
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب النکاح باب فیمن یرضی لاہلہ بالخبث دارالکتاب بیروت ∞۴/ ۳۲۷€
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب النکاح باب فیمن یرضی لاہلہ بالخبث دارالکتاب بیروت ∞۴/ ۳۲۷€
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ و الدیوث و رجلۃ النساءرواہ الحاکم فی المستدرك و البیھقی فی الشعب بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کو آزار دینے والا اور دیوث اور مرد بننے والی عورت(حاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے شعب میں صحیح سند کے ساتھ اسے عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
یہ لوگ کہ ان بدکار عورتوں دیوث مردوں سے دوستی رکھتے ہیں روز قیامت انھیں کے ساتھ اٹھیں گے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایحب رجل قوما الاجعلہ اﷲ معہمرواہ النسائی عن امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوجس قوم سے محبت رکھے گا اﷲ تعالی اسے انھیں کے ساتھ کردے گا(اسے نسائی نے امیر المومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب قوما حشرہ اﷲ فی زمرتھم رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارہ عن ابی قرصافۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو جس قوم سے دوستی کرے گا اﷲ تعالی انھیں کے گروہ میں اٹھائے گا۔(طبرانی نے معجم کبیر میں اور ضیاء نے مختارہ میں حضرت ابوقرصافہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
المرء مع من احب۔رواہ الشیخان عن ابن مسعود عن انس رضی اﷲ تعالی آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہوگا(اس کو امام بخاری ومسلم نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ و الدیوث و رجلۃ النساءرواہ الحاکم فی المستدرك و البیھقی فی الشعب بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ کو آزار دینے والا اور دیوث اور مرد بننے والی عورت(حاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے شعب میں صحیح سند کے ساتھ اسے عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
یہ لوگ کہ ان بدکار عورتوں دیوث مردوں سے دوستی رکھتے ہیں روز قیامت انھیں کے ساتھ اٹھیں گے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایحب رجل قوما الاجعلہ اﷲ معہمرواہ النسائی عن امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوجس قوم سے محبت رکھے گا اﷲ تعالی اسے انھیں کے ساتھ کردے گا(اسے نسائی نے امیر المومنین حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب قوما حشرہ اﷲ فی زمرتھم رواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارہ عن ابی قرصافۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو جس قوم سے دوستی کرے گا اﷲ تعالی انھیں کے گروہ میں اٹھائے گا۔(طبرانی نے معجم کبیر میں اور ضیاء نے مختارہ میں حضرت ابوقرصافہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
المرء مع من احب۔رواہ الشیخان عن ابن مسعود عن انس رضی اﷲ تعالی آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہوگا(اس کو امام بخاری ومسلم نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتا ب الایمان دارالفکر بیروت ∞۱/ ۷۲،€شعب الایمان ∞حدیث ۱۰۷۹۹€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷/ ۴۱۲€
مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ ∞۶/ ۱۶۰،۱۴۵€ و کنز العمال ∞حدیث ۳۴۴۲۲ ۱۵/ ۸۶۰€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۲۵۱۹€ المکتبہ الفیصلیۃ ∞۳/ ۱۹€
صحیح البخاری کتاب الآداب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۱۱،€صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب المرء مع من احب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۲€
مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ ∞۶/ ۱۶۰،۱۴۵€ و کنز العمال ∞حدیث ۳۴۴۲۲ ۱۵/ ۸۶۰€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۲۵۱۹€ المکتبہ الفیصلیۃ ∞۳/ ۱۹€
صحیح البخاری کتاب الآداب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۱۱،€صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب المرء مع من احب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۲€
عنھماہو متواتر۔ تعالی عنہ تعالی عنہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا یہ حدیث متواتر ہے۔ت)
ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنےکھانے پینے کا حال بھی سن لیجئےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اول مادخل النقص علی بنی اسرائیل کان الرجل یلقی الرجل فیقول یاھذا اتق اﷲ ودع ماتصنع فانہ لایحل لك ثم یلقاہ من الغدوھو علی حالہ فلا یمنعہ ذلك ان یکون اکیلہ وشریبہ وقعیدہ فلما فعلوا ذلك ضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض ثم قال لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسی ابن مریم ذلك بما عصوا وکانوا یعتدونo کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون o الحدیث۔ رواہ ابوداؤد واللفظ لہ والترمذی وحسنہ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بنی اسرائیل میں پہلی خرابی جوآئی وہ یہ تھی کہ ان میں ایك شخص دوسرے سے ملتا اس سے کہتا اے شخص ! اﷲ سے ڈر اور اپنے کام سے باز آ کہ یہ حلا ل نہیں پھر دوسرے دن اس سے ملتا اور وہ اپنے اسی حال پر ہوتا تو یہ مردا س کو اس کے ساتھ کھانے پینے پاس بیٹھنے سے نہ روکتا جب انھوں نے یہ حرکت کی اﷲ تعالی نے ان کے دل باہم ایك دوسرے پر مارے کہ منع کرنے والوں کا حال بھی انھیں خطا والوں کے مثل ہوگیا۔پھر فرمایا بنی اسرائیل کے کافر لعنت کے گئے داؤد و عیسی بن مریم کی زبان پر۔یہ بدلہ ہے ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔وہ آپس میں ایك دوسرے کو برے کام سے نہ روکتے تھے۔البتہ یہ سخت بری حرکت تھی کہ وہ کرتے تھے۔ (امام ابوداؤد نے حدیث مذکور کو روایت کیا اور یہ الفاظ انھیں کے ہیں۔امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت)
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھ۔
ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنےکھانے پینے کا حال بھی سن لیجئےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اول مادخل النقص علی بنی اسرائیل کان الرجل یلقی الرجل فیقول یاھذا اتق اﷲ ودع ماتصنع فانہ لایحل لك ثم یلقاہ من الغدوھو علی حالہ فلا یمنعہ ذلك ان یکون اکیلہ وشریبہ وقعیدہ فلما فعلوا ذلك ضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض ثم قال لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسی ابن مریم ذلك بما عصوا وکانوا یعتدونo کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون o الحدیث۔ رواہ ابوداؤد واللفظ لہ والترمذی وحسنہ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بنی اسرائیل میں پہلی خرابی جوآئی وہ یہ تھی کہ ان میں ایك شخص دوسرے سے ملتا اس سے کہتا اے شخص ! اﷲ سے ڈر اور اپنے کام سے باز آ کہ یہ حلا ل نہیں پھر دوسرے دن اس سے ملتا اور وہ اپنے اسی حال پر ہوتا تو یہ مردا س کو اس کے ساتھ کھانے پینے پاس بیٹھنے سے نہ روکتا جب انھوں نے یہ حرکت کی اﷲ تعالی نے ان کے دل باہم ایك دوسرے پر مارے کہ منع کرنے والوں کا حال بھی انھیں خطا والوں کے مثل ہوگیا۔پھر فرمایا بنی اسرائیل کے کافر لعنت کے گئے داؤد و عیسی بن مریم کی زبان پر۔یہ بدلہ ہے ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔وہ آپس میں ایك دوسرے کو برے کام سے نہ روکتے تھے۔البتہ یہ سخت بری حرکت تھی کہ وہ کرتے تھے۔ (امام ابوداؤد نے حدیث مذکور کو روایت کیا اور یہ الفاظ انھیں کے ہیں۔امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت)
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھ۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ المائدۃ تحت آیۃ لعن الذین کفروا الخ ∞امین کمپنی کراچی ۲/ ۱۳۰،€سنن ابی داؤد کتاب الملاحم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۰€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
تفسیر احمدی میں ہے:
ھم المبتدع والفاسق والکافر والقعود مع کلھم ممتنع ۔ ظالم لوگ بدمذہب اور فاسق اور کافر ہیں ان سب کے پاس بیٹھنا منع ہے۔
مروی ہوا اﷲ عزوجل نے یو شع علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی بھیجی میں تیری بستی سے چالیس ہزار اچھے اور ساٹھ ہزار برے لوگ ہلاك کروں گا۔عرض کی الہی ! برے تو برے ہیں اچھے کیوں ہلاك ہوں گے۔فرمایا:
انھم لم یغضبوا بغضبی واکلوھم وشاربوھم رواہ ابن ابی الدنیا وابوالشیخ عن ابراھیم عن عمر الصنعانی۔ اس لئے کہ جن پر میرا غضب تھا انھوں نے ان پر غضب نہ کیا اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریك رہے(ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ نے ابراہیم سے انھوں نے عمر صنعانی سے اس کو روایت کیا۔(ت)
ایسے لوگ شرعا مستحق تذلیل واہانت ہیں اور نماز کی امامت ایك اعلی درجہ کی تعظیم وتکریم ہے۔شرع مطہر جس کی اہانت کاحکم دے اس کی تعظیم کیونکر رواہوگیولہذا علماء کرام فرماتے ہیں کہ فاسق اگر چہ سب موجود میں سے علم میں زائد ہو اسے امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی تعظیم ہو حالانکہ شرعا اس کی توہین واجب ہے۔مراقی الفلاح وفتح اﷲ المعین وطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:
اما الفاسق الاعلم فلا یقدم لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ امام کے طور پر کسی فاسق کو برائے امامت آگے کرنا جائز اور درست نہیں خواہ وہ بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور فاسق کی تعظیم نہیں بلکہ ازروئے شرع اس کی توہین ضروری ہوتی ہے۔(ت)
اپنی عورتوں کو رنڈیوں کے سامنے بے پردہ حجاب کرنے والے ان سے میل ملاقات کرانے والے یا سخت احمق مجنون بدعقل ہیں یا نرے بے حیا بے غیرت بے شرم۔عورت موم کی ناك بلکہ رال کی پڑیاں بلکہ بارود کی ڈبیا ہے آگ ایك ادنی سے لگاؤ میں بھق سے ہوجانے والی ہے عقل بھی ناقص اوردین بھی ناقص اور طینت میں کجی اور شہوت میں مرد سے سو حصہ بیشیاور صحبت بد کاا ثر مستقل مردوں کو بگاڑدیتا
ھم المبتدع والفاسق والکافر والقعود مع کلھم ممتنع ۔ ظالم لوگ بدمذہب اور فاسق اور کافر ہیں ان سب کے پاس بیٹھنا منع ہے۔
مروی ہوا اﷲ عزوجل نے یو شع علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی بھیجی میں تیری بستی سے چالیس ہزار اچھے اور ساٹھ ہزار برے لوگ ہلاك کروں گا۔عرض کی الہی ! برے تو برے ہیں اچھے کیوں ہلاك ہوں گے۔فرمایا:
انھم لم یغضبوا بغضبی واکلوھم وشاربوھم رواہ ابن ابی الدنیا وابوالشیخ عن ابراھیم عن عمر الصنعانی۔ اس لئے کہ جن پر میرا غضب تھا انھوں نے ان پر غضب نہ کیا اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریك رہے(ابن ابی الدنیا اور ابوالشیخ نے ابراہیم سے انھوں نے عمر صنعانی سے اس کو روایت کیا۔(ت)
ایسے لوگ شرعا مستحق تذلیل واہانت ہیں اور نماز کی امامت ایك اعلی درجہ کی تعظیم وتکریم ہے۔شرع مطہر جس کی اہانت کاحکم دے اس کی تعظیم کیونکر رواہوگیولہذا علماء کرام فرماتے ہیں کہ فاسق اگر چہ سب موجود میں سے علم میں زائد ہو اسے امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی تعظیم ہو حالانکہ شرعا اس کی توہین واجب ہے۔مراقی الفلاح وفتح اﷲ المعین وطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:
اما الفاسق الاعلم فلا یقدم لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ امام کے طور پر کسی فاسق کو برائے امامت آگے کرنا جائز اور درست نہیں خواہ وہ بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور فاسق کی تعظیم نہیں بلکہ ازروئے شرع اس کی توہین ضروری ہوتی ہے۔(ت)
اپنی عورتوں کو رنڈیوں کے سامنے بے پردہ حجاب کرنے والے ان سے میل ملاقات کرانے والے یا سخت احمق مجنون بدعقل ہیں یا نرے بے حیا بے غیرت بے شرم۔عورت موم کی ناك بلکہ رال کی پڑیاں بلکہ بارود کی ڈبیا ہے آگ ایك ادنی سے لگاؤ میں بھق سے ہوجانے والی ہے عقل بھی ناقص اوردین بھی ناقص اور طینت میں کجی اور شہوت میں مرد سے سو حصہ بیشیاور صحبت بد کاا ثر مستقل مردوں کو بگاڑدیتا
حوالہ / References
التفسیرات الاحمدیہ زیر آیت واماینیسنك الشیطن فلاتقعد ∞مطبعہ کریمیہ بمبئی ص۳۸۸€
فیض القدیر بحوالہ ابن ابی الدنیا تحت ∞حدیث ۲۱۳۶€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۹۹€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۴۳€
فیض القدیر بحوالہ ابن ابی الدنیا تحت ∞حدیث ۲۱۳۶€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۹۹€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتا ب الصلوٰۃ باب الامامۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۴۳€
ہے۔پھر ان نازك شیشوں کا کیا کہناجو خفیف ٹھیس سے پاش پاش ہوجائیں۔یہ سب مضمون یعنی عورات کا ناقصات العقل والدین اور کج طبع اورشہوت میں زائد اور نازك شیشیاں ہونا صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوئے ہیں۔اور صحبت بد کے اثر میں تو بکثرت احادیث صحیحہ وارد ہیں۔ازاں جملہ یہ حدیث جلیل کہ مشکوۃ حکمت نبوت کی نورانی قندیل ہے۔فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
مثل الجلیس الصالح والجلیس السوء کمثل صاحب المسك وکیر الحداد لایعد مك من صاحب المسك اما ان تشتریہ اوتجد ریحہ وکیر الحداد یحرق بیتك او ثوبك اوتجد منہ ریحاخبیثۃ وفی حدیث ان لم یصبك من سوادہ اصابك من دخانہرواہ البخاری عن ابی موسی الاشعری والمتاخر لابی داؤد والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اچھے مصاحب اور برے ہمنشین کی کہاوت ایسی ہے جیسے مشك والا اور لوہار کی بھٹی کہ مشك والا تیرے لئے نفع سے خالی نہیں یا تو تو اس سے خریدے گا کہ خود بھی مشك والا ہوجائے گا ورنہ خوشبو تو ضرور پائے گا۔اور لوہار کی بھٹی تیرا گھر پھونك دے گی یا کپڑے جلادے گی یا کچھ نہیں تو اتنا ہوگا کہ تجھے بد بو پہنچے۔ اگر تیرے کپڑے اس سے کالے نہ ہوئے تو دھواں تو ضرور پہنچے گا۔(امام بخاری نے اسے حضرت ابوموسی اشعری سے روایت کیا ہے اور پچھلی حدیث ابوداؤد ونسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے۔(ت)
فحش گیت شیطانی رسم اور کافروں کی ریت ہے۔شیطان ملعون بے حیا ہے اور اﷲ عزوجل کمال حیا والا۔بیحیائی کی بات سے حیا والا ناراض ہوگا اور وہ بے حیاؤں کا استاد انھیں اپنا مسخرہ بنائے گا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الجنۃ حرام علی کل فاحش ان ید خلھا اخرجہ ابن ابی الدنیا فی فضل الصمت و ابو نعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن عمرو جنت ہر فحش بکنے والے پر حرام ہے۔(محدث ابن ابی الدنیا نے فضل الصمت میں اور محدث ابو نعیم نے حلیہمیں حضرت عبداﷲ بن عمرو
مثل الجلیس الصالح والجلیس السوء کمثل صاحب المسك وکیر الحداد لایعد مك من صاحب المسك اما ان تشتریہ اوتجد ریحہ وکیر الحداد یحرق بیتك او ثوبك اوتجد منہ ریحاخبیثۃ وفی حدیث ان لم یصبك من سوادہ اصابك من دخانہرواہ البخاری عن ابی موسی الاشعری والمتاخر لابی داؤد والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اچھے مصاحب اور برے ہمنشین کی کہاوت ایسی ہے جیسے مشك والا اور لوہار کی بھٹی کہ مشك والا تیرے لئے نفع سے خالی نہیں یا تو تو اس سے خریدے گا کہ خود بھی مشك والا ہوجائے گا ورنہ خوشبو تو ضرور پائے گا۔اور لوہار کی بھٹی تیرا گھر پھونك دے گی یا کپڑے جلادے گی یا کچھ نہیں تو اتنا ہوگا کہ تجھے بد بو پہنچے۔ اگر تیرے کپڑے اس سے کالے نہ ہوئے تو دھواں تو ضرور پہنچے گا۔(امام بخاری نے اسے حضرت ابوموسی اشعری سے روایت کیا ہے اور پچھلی حدیث ابوداؤد ونسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے۔(ت)
فحش گیت شیطانی رسم اور کافروں کی ریت ہے۔شیطان ملعون بے حیا ہے اور اﷲ عزوجل کمال حیا والا۔بیحیائی کی بات سے حیا والا ناراض ہوگا اور وہ بے حیاؤں کا استاد انھیں اپنا مسخرہ بنائے گا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الجنۃ حرام علی کل فاحش ان ید خلھا اخرجہ ابن ابی الدنیا فی فضل الصمت و ابو نعیم فی الحلیۃ عن عبداﷲ بن عمرو جنت ہر فحش بکنے والے پر حرام ہے۔(محدث ابن ابی الدنیا نے فضل الصمت میں اور محدث ابو نعیم نے حلیہمیں حضرت عبداﷲ بن عمرو
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع باب فی العطار ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۸۲،€سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من یومران یجالس ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۸€
موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا ∞حدیث ۳۴۵€ موسسۃ الرسالہ المکتبہ الثقافیہ بیروت ∞۵/ ۲۰۶€
موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا ∞حدیث ۳۴۵€ موسسۃ الرسالہ المکتبہ الثقافیہ بیروت ∞۵/ ۲۰۶€
رضی اﷲ تعالی عنہما۔ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی۔ت)
یونہی بے ضرورت وحاجت شرعیہ لوگوں سے فحش کلامی بھی ناجائز وخلاف حیاء ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحیاء من الایمان والایمان فی الجنۃ والبذاء من الجفاء والجفاء فی الناررواہ الترمذی والحاکم و البیھقی فی الشعب عن عمران بن حصین رضی اﷲتعالی عنہم بسند صحیح۔ حیاء ایمان سے ہےاور ایمان جنت میں ہے اور فحش بکنا بے ادبی ہے اور بے ادبی دوزخ میں ہے۔(ترمذی اور حاکم نے اس کی روایت فرمائی اور امام بیہقی نے"شعب الایمان"میں سند صحیح کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی ﷲ تعالی عنہم سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الحیاء والعی شعبتان من الایمان والبذاء والبیان شعبتان من النفاق۔احمد و الترمذی وحسنہ الحاکم وصححہ عن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شرم اور کم سخنی ایمان کی دو شاخیں ہیں اور فحش بکنا اور زبان کا طرار ہونا نفاق کے دو۲ شعبے ہیں(امام احمد اور ترمذی نے اس کی روایت اور تحسین فرمائی اور حاکم نے بتصحیح اس کی روایت کی اور سب نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ماکان الفحش فی شیئ قط الاشانہ وماکان الحیاء فی شیئ قط الازانہ۔احمد والبخاری فحش جب کسی چیز میں دخل پائے گا اسے عیب دار کردے گا اور حیاء جب کسی چیز میں شامل
یونہی بے ضرورت وحاجت شرعیہ لوگوں سے فحش کلامی بھی ناجائز وخلاف حیاء ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحیاء من الایمان والایمان فی الجنۃ والبذاء من الجفاء والجفاء فی الناررواہ الترمذی والحاکم و البیھقی فی الشعب عن عمران بن حصین رضی اﷲتعالی عنہم بسند صحیح۔ حیاء ایمان سے ہےاور ایمان جنت میں ہے اور فحش بکنا بے ادبی ہے اور بے ادبی دوزخ میں ہے۔(ترمذی اور حاکم نے اس کی روایت فرمائی اور امام بیہقی نے"شعب الایمان"میں سند صحیح کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی ﷲ تعالی عنہم سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الحیاء والعی شعبتان من الایمان والبذاء والبیان شعبتان من النفاق۔احمد و الترمذی وحسنہ الحاکم وصححہ عن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شرم اور کم سخنی ایمان کی دو شاخیں ہیں اور فحش بکنا اور زبان کا طرار ہونا نفاق کے دو۲ شعبے ہیں(امام احمد اور ترمذی نے اس کی روایت اور تحسین فرمائی اور حاکم نے بتصحیح اس کی روایت کی اور سب نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ماکان الفحش فی شیئ قط الاشانہ وماکان الحیاء فی شیئ قط الازانہ۔احمد والبخاری فحش جب کسی چیز میں دخل پائے گا اسے عیب دار کردے گا اور حیاء جب کسی چیز میں شامل
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب البروالصلۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲،€المستدرك للحاکم کتاب الایمان دارالفکر بیروت ∞۱/ ۵۲€
جامع الترمذی کتاب البروالصلۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۳،€المستدرك للحاکم کتاب الایمان ∞۱/ ۵۲ €مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ باھلی∞ ۵/ ۲۶۹€
سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحیاء ∞ایچ ایم سعید کمپی کراچی ص ۳۱۸،€مسند احمد بن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۶۵€
جامع الترمذی کتاب البروالصلۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۳،€المستدرك للحاکم کتاب الایمان ∞۱/ ۵۲ €مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ باھلی∞ ۵/ ۲۶۹€
سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحیاء ∞ایچ ایم سعید کمپی کراچی ص ۳۱۸،€مسند احمد بن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۶۵€
فی الادب المفرد والترمذی وابن ماجۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ ہوگی اس کا سنگار کردے گی۔(امام احمد اور بخاری نے"الادب المفرد"میں ترمذی اور ابن ماجہ نے بسند حسن حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
البذاء شوم۔اخرجہ الطبرانی عن ابی الدردا رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ فحش بکنا منحوس ہے۔(طبرانی نے ابی درداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن اسے روایت کیا ہے۔ت)
یحیی بن خالد نے کہا:
اذارایت الرجل بذی اللسان وقاحا دل علی انہ مدخول فی نسبہحکاہ المناوی فی التیسیر ۔ جب تو کسی کو دیکھے کہ فحش بکنے والا بے حیاء ہے تو جان لے کہ اس کی اصل میں خطا ہے۔(مناوی نے تیسیر میں اس کی حکایت فرمائی۔ت)
بچپن سے جو عادت پڑتی ہے کم چھوٹتی ہے تو اپنے نابالغ بچوں کو ایسی ناپاکیوں سے نہ روکنا ان کے لئے معاذاﷲ جہنم کا سامان تیار کرنا اور خود سخت گناہ میں گرفتار ہونا ہے۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا و قودہا الناس و الحجارۃ علیہا ملئکۃ غلاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرہم و یفعلون ما یؤمرون ﴿۶﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! بچاؤ اپنی جانوں اور اپنے گھروالوں کو اس آگ سے جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت درشت خو فرشتے موکل ہیں کہ اﷲ کاحکم نہیں ٹالتے اور جو انھیں فرمایا جائے وہی کرتے ہیں۔
اﷲ عزوجل مسلمانوں کونیك عادتوں کی توفیق دے اور بری عادتوں بری باتوں سے پناہ بخشے آمین۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
البذاء شوم۔اخرجہ الطبرانی عن ابی الدردا رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ فحش بکنا منحوس ہے۔(طبرانی نے ابی درداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن اسے روایت کیا ہے۔ت)
یحیی بن خالد نے کہا:
اذارایت الرجل بذی اللسان وقاحا دل علی انہ مدخول فی نسبہحکاہ المناوی فی التیسیر ۔ جب تو کسی کو دیکھے کہ فحش بکنے والا بے حیاء ہے تو جان لے کہ اس کی اصل میں خطا ہے۔(مناوی نے تیسیر میں اس کی حکایت فرمائی۔ت)
بچپن سے جو عادت پڑتی ہے کم چھوٹتی ہے تو اپنے نابالغ بچوں کو ایسی ناپاکیوں سے نہ روکنا ان کے لئے معاذاﷲ جہنم کا سامان تیار کرنا اور خود سخت گناہ میں گرفتار ہونا ہے۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا و قودہا الناس و الحجارۃ علیہا ملئکۃ غلاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرہم و یفعلون ما یؤمرون ﴿۶﴾ " اﷲ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! بچاؤ اپنی جانوں اور اپنے گھروالوں کو اس آگ سے جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت درشت خو فرشتے موکل ہیں کہ اﷲ کاحکم نہیں ٹالتے اور جو انھیں فرمایا جائے وہی کرتے ہیں۔
اﷲ عزوجل مسلمانوں کونیك عادتوں کی توفیق دے اور بری عادتوں بری باتوں سے پناہ بخشے آمین۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
حوالہ / References
الجامع الصغیر برمز طب عن ابی الدرداء ∞حدیث ۳۱۹۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۱۹۱€
التیسیر شرح الجامع الصغیر برمز عن ابی الدرداء ∞تحت حدیث ۳۱۹۵€ مکتبہ الامام الشافعی الریاض ∞۱/ ۴۳۸€
القرآن الکریم ∞۶۶/ ۶€
التیسیر شرح الجامع الصغیر برمز عن ابی الدرداء ∞تحت حدیث ۳۱۹۵€ مکتبہ الامام الشافعی الریاض ∞۱/ ۴۳۸€
القرآن الکریم ∞۶۶/ ۶€
مسئلہ ۶۶:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کسی لڑکے کو اپنے ماں باپ اور بہنوں کے ایك مکان کی موجودگی میں اسی مکان کی کوٹھری میں کسی غیر عورت کے ساتھ زنا کاری اور ہم مجلس ہوناکیسا ہے یعنی ماں باپ کو اس کی حرکت کا متحمل ہونا چاہئے یا نہیںکیا کرنا چاہئے بینوا توجروا(بیان فرمائے اجروثواب پائے۔ت)
الجواب:
زناکاری یا اجنبیہ عورت سے خلوت جہاں ہو حرام ہے خصوصاباپ کے محل حضور میں دوسراکبیرہ سخت واشد اور اس میں شامل ہے یعنی باپ کے ساتھ گستاخی اس کو ایذا رسانیایسے شخص کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ"وہ اور دیوث جنت میں نہ جائیں گے"باپ کوایسی حرکت ناپاك کا تحمل کرنا ہرگز روا نہیں بلکہ جہاں تك حد قدرت ہو باز رکھے۔نہ باز رہے تو گھر سے دور کرے ورنہ اس کی آفت اس پر بھی آئے گی۔والعیاذباﷲ تعالی(خدا کی پناہ۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷ تا ۷۱: از شہر کہنہ ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱)زید اپنی زوجہ کو پردہ کرنے کی ہدایت کرتا ہےدیوربہنوئی وغیرہ سے پردہ جائز ہے یانہیں
(۲)زید کی زوجہ پردہ کرنے سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنے کنبہ میں ایسے قریب رشتہ کے پردہ کی ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ رسم بزرگوں سے جاری ہے میں ہر گز پردہ نہ کروں گی بدیں وجہ دیگر اشخاص کے گھر کی نسبت اور مثال دیتی ہے کہ یہ لوگ بھی اس طریقہ کے پابندنہیں ہیں میں کیونکر پابندی کروں۔
(۳)وہ ہی لوگ جن کو کہ ایسے قریب کے رشتہ کے پردہ سے انکار ہے در پردہ فتنہ وفساد ہیں بلکہ مسماۃ کو ترغیب بد دینے والے اورکہنے والے ہیں کہ ایسے نو ایجاد طریقوں سے اب یہ گھر برباد ہوگا۔ان شخصوں کا یہ خیال بد کیسا ہے اور ان کے واسطے کیاحکم ہے
(۴)وہ لوگ جوکہ رشتہ میں دیور وبہنوئی وغیرہ پردہ کرنے سے ناراض ہوتے ہیں بلکہ طعن کرتے ہیں کہ یہ خوب نیا رسم جاری ہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کسی لڑکے کو اپنے ماں باپ اور بہنوں کے ایك مکان کی موجودگی میں اسی مکان کی کوٹھری میں کسی غیر عورت کے ساتھ زنا کاری اور ہم مجلس ہوناکیسا ہے یعنی ماں باپ کو اس کی حرکت کا متحمل ہونا چاہئے یا نہیںکیا کرنا چاہئے بینوا توجروا(بیان فرمائے اجروثواب پائے۔ت)
الجواب:
زناکاری یا اجنبیہ عورت سے خلوت جہاں ہو حرام ہے خصوصاباپ کے محل حضور میں دوسراکبیرہ سخت واشد اور اس میں شامل ہے یعنی باپ کے ساتھ گستاخی اس کو ایذا رسانیایسے شخص کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا کہ"وہ اور دیوث جنت میں نہ جائیں گے"باپ کوایسی حرکت ناپاك کا تحمل کرنا ہرگز روا نہیں بلکہ جہاں تك حد قدرت ہو باز رکھے۔نہ باز رہے تو گھر سے دور کرے ورنہ اس کی آفت اس پر بھی آئے گی۔والعیاذباﷲ تعالی(خدا کی پناہ۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۷ تا ۷۱: از شہر کہنہ ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱)زید اپنی زوجہ کو پردہ کرنے کی ہدایت کرتا ہےدیوربہنوئی وغیرہ سے پردہ جائز ہے یانہیں
(۲)زید کی زوجہ پردہ کرنے سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنے کنبہ میں ایسے قریب رشتہ کے پردہ کی ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ رسم بزرگوں سے جاری ہے میں ہر گز پردہ نہ کروں گی بدیں وجہ دیگر اشخاص کے گھر کی نسبت اور مثال دیتی ہے کہ یہ لوگ بھی اس طریقہ کے پابندنہیں ہیں میں کیونکر پابندی کروں۔
(۳)وہ ہی لوگ جن کو کہ ایسے قریب کے رشتہ کے پردہ سے انکار ہے در پردہ فتنہ وفساد ہیں بلکہ مسماۃ کو ترغیب بد دینے والے اورکہنے والے ہیں کہ ایسے نو ایجاد طریقوں سے اب یہ گھر برباد ہوگا۔ان شخصوں کا یہ خیال بد کیسا ہے اور ان کے واسطے کیاحکم ہے
(۴)وہ لوگ جوکہ رشتہ میں دیور وبہنوئی وغیرہ پردہ کرنے سے ناراض ہوتے ہیں بلکہ طعن کرتے ہیں کہ یہ خوب نیا رسم جاری ہے۔
(۵)زوجہ زوج سے اسی سبب سے کہتی ہے کہ تم مجھ کو طلاق دے دو ورنہ میں پردہ ہر گز نہ کروں گی ان لوگوں سے تو اس زوجہ کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
جیٹھدیوربہنوئیپھپاخالوچچازادماموں زاد پھپی زادخالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں بلکہ ان کاضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃ میل نہیں کھا سکتی اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے۔ولہذا جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا ایك صحابی انصاری نے عرض کییا رسول اﷲ ! جیٹھ دیور کے لئے کیا حکم ہے فرمایا:
الحمو الموترواہ احمد والبخاری عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جیٹھ دیور تو موت ہیں۔امام احمد اور بخاری نے اسے عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
خصوصا جووضع لباس وطریقہ پوشش اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریك جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی حصہ کھلا ہو یوں تو خاص محارم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرام قطعی ہے اور اگر بفرض غلط گوئی عورت ایسی ہو بھی کہ ان امور کی پوری احتیاط رکھے کپڑے موٹے سر سے پاؤں تك پہنے رہے کہ منہ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں تلووں کے سواجسم کا کوئی بال کبھی نہ ظاہر ہو تو اس صورت میں جبکہ شوہر ان لوگوں کے سامنے آنے کو منع کرتا اور ناراض ہوتا ہے تو اب یوں سامنے آنا بھی حرام ہوگیا۔عورت اگر نہ مانے گی اﷲ قہار کے غضب میں گرفتار ہوگی جب تك شوہر ناراض رہے گا عورت کی کوئی نماز قبول نہ ہوگی اﷲ کے فرشتے عورت پر لعنت کریں گے اگر طلاق مانگے گی منافقہ ہوگی۔جو لوگ عورت کو بھڑکاتے شوہر سے بگاڑ پر ابھارتے ہیں وہ شیطان کے پیارے ہیں۔
حدیث ۱:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاتجاوز صلوتھم اذانھم العبد الابق حتی یرجع وامرأۃ باتت و زوجھا علیہا ساخط وامام قوم تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں اٹھتیآقا سے بھاگا ہوا غلام جب تك پلٹ کر نہ آئے۔اور عورت کہ سوائے اور اس کا شوہر اس سے
الجواب:
جیٹھدیوربہنوئیپھپاخالوچچازادماموں زاد پھپی زادخالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں بلکہ ان کاضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃ میل نہیں کھا سکتی اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے۔ولہذا جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا ایك صحابی انصاری نے عرض کییا رسول اﷲ ! جیٹھ دیور کے لئے کیا حکم ہے فرمایا:
الحمو الموترواہ احمد والبخاری عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جیٹھ دیور تو موت ہیں۔امام احمد اور بخاری نے اسے عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
خصوصا جووضع لباس وطریقہ پوشش اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریك جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی حصہ کھلا ہو یوں تو خاص محارم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرام قطعی ہے اور اگر بفرض غلط گوئی عورت ایسی ہو بھی کہ ان امور کی پوری احتیاط رکھے کپڑے موٹے سر سے پاؤں تك پہنے رہے کہ منہ کی ٹکلی اور ہتھیلیوں تلووں کے سواجسم کا کوئی بال کبھی نہ ظاہر ہو تو اس صورت میں جبکہ شوہر ان لوگوں کے سامنے آنے کو منع کرتا اور ناراض ہوتا ہے تو اب یوں سامنے آنا بھی حرام ہوگیا۔عورت اگر نہ مانے گی اﷲ قہار کے غضب میں گرفتار ہوگی جب تك شوہر ناراض رہے گا عورت کی کوئی نماز قبول نہ ہوگی اﷲ کے فرشتے عورت پر لعنت کریں گے اگر طلاق مانگے گی منافقہ ہوگی۔جو لوگ عورت کو بھڑکاتے شوہر سے بگاڑ پر ابھارتے ہیں وہ شیطان کے پیارے ہیں۔
حدیث ۱:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاتجاوز صلوتھم اذانھم العبد الابق حتی یرجع وامرأۃ باتت و زوجھا علیہا ساخط وامام قوم تین شخصوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں اٹھتیآقا سے بھاگا ہوا غلام جب تك پلٹ کر نہ آئے۔اور عورت کہ سوائے اور اس کا شوہر اس سے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النکاح باب لایخلون رجل بامرأۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۸۷،€مسند احمد بن حنبل عن عقبہ بن عامر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۴۹ و ۱۵۳،€جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی کراہیۃ الدخول علی المغیبات ∞امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۳۹€
وھم لہ کارھون۔رواہ الترمذی وحسنہ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ناراض ہو اور جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس کے عیب کے باعث اس کی امامت پر راضی نہ ہوں (امام ترمذی نے ا س کو حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے اس کی تحسین فرمائی۔ت)
حدیث ۲:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون وامرأۃ باتت وزوجھا علیہا ساخط واخوان متصارمانرواہ ابن ماجۃ ابن حبان بسند حسن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھراوپربلند نہیں ہوتی۔ایك وہی امام اورعورت کے سوائے اور شوہر ناراض ہے اور دو بھائی کہ آپس میں علاقہ محبت قطع کئے ہوں۔(ابن ماجہ اور ابن حبان نے بسند حسن اسے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایقبل اﷲ لھم صلوۃ ولاتصعدلھم الی السماء حسنۃ العبدالابق حتی یرجع الی موالیہ فیضع یدہ فی ایدیھم والمرأۃ الساخط علیھا حتی یرضی والسکران حتی یصحو رواہ الطبرانی فی الاوسط وابناء خزیمۃ وحبان فی صحیحھما عن جابر تین شخصوں کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی نہ کوئی نیکی آسمان کو چڑھےبھاگا ہوا غلام جب تك اپنے آقاؤں کی طرف پلٹ کر اپنے آپ کو ان کے قابو میں دے۔اور عورت جس سے اس کا خاوند ناراض ہو یہاں تك کہ راضی ہوجائے اور نشے والا جب تك ہوش میں آئے۔(طبرانی نے"الاوسط"میں ابن خزیمہ
حدیث ۲:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون وامرأۃ باتت وزوجھا علیہا ساخط واخوان متصارمانرواہ ابن ماجۃ ابن حبان بسند حسن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ تین آدمیوں کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھراوپربلند نہیں ہوتی۔ایك وہی امام اورعورت کے سوائے اور شوہر ناراض ہے اور دو بھائی کہ آپس میں علاقہ محبت قطع کئے ہوں۔(ابن ماجہ اور ابن حبان نے بسند حسن اسے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایقبل اﷲ لھم صلوۃ ولاتصعدلھم الی السماء حسنۃ العبدالابق حتی یرجع الی موالیہ فیضع یدہ فی ایدیھم والمرأۃ الساخط علیھا حتی یرضی والسکران حتی یصحو رواہ الطبرانی فی الاوسط وابناء خزیمۃ وحبان فی صحیحھما عن جابر تین شخصوں کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی نہ کوئی نیکی آسمان کو چڑھےبھاگا ہوا غلام جب تك اپنے آقاؤں کی طرف پلٹ کر اپنے آپ کو ان کے قابو میں دے۔اور عورت جس سے اس کا خاوند ناراض ہو یہاں تك کہ راضی ہوجائے اور نشے والا جب تك ہوش میں آئے۔(طبرانی نے"الاوسط"میں ابن خزیمہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الصلوٰۃ باب من ام قوما وہم لہ کارھون ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۴۷€
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوٰۃ باب من ام قوما وھم لہ کارھون∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۶۹،€الترغیب والترھیب بحوالہ ابن ماجہ وابن حبان الترھیب من امامۃ الرجل القوم لخ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۳۱۴€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۹۲۲۷€ عن جابر بن عبداﷲ مکتبہ المعارف الریاض ∞۱۰/ ۰۸،۱۰۷،صحیح ابن خزیمہ حدیث ۹۴۰€ المکتب الاسلامی ∞۲/ ۶۹€ و موارد الظمان ∞حدیث ۱۲۹۷ ص۳۱۵،€الترغیب والترھیب بحوالہ المعجم الاوسط وابن خزیمہ وابن حبان والترھیب من شرب الخمر ∞۳/ ۲۶۱€
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوٰۃ باب من ام قوما وھم لہ کارھون∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۶۹،€الترغیب والترھیب بحوالہ ابن ماجہ وابن حبان الترھیب من امامۃ الرجل القوم لخ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۳۱۴€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۹۲۲۷€ عن جابر بن عبداﷲ مکتبہ المعارف الریاض ∞۱۰/ ۰۸،۱۰۷،صحیح ابن خزیمہ حدیث ۹۴۰€ المکتب الاسلامی ∞۲/ ۶۹€ و موارد الظمان ∞حدیث ۱۲۹۷ ص۳۱۵،€الترغیب والترھیب بحوالہ المعجم الاوسط وابن خزیمہ وابن حبان والترھیب من شرب الخمر ∞۳/ ۲۶۱€
بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحاح میں اس کو حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
حدیث ۴:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاباتت المرأۃ ھاجرۃ فراش زوجھا لعنتھا الملئکۃ حتی تصبح۔رواہ البخاری ومسلم والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب عورت اپنے شوہر کا بچھونا چھوڑ کر سوئے تو صبح تك اس پر فرشتے لعنت کریں(اسے امام بخاریمسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المرأۃ اذا خرجت من بیتھاوزوجہا کارہ لذلك لعنہا کل ملك فی السماء وکل شیئ تمر علیہ غیر الجن و الانس حتی ترجع۔روہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو عورت اپنے گھر سے باہر جائے اور اس کے شوہر کو ناگوار ہو جب تك پلٹ کر نہ آئے آسمان میں ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے اور جن وآدمی کے سوا جس جس چیز پر گزرے سب اس پر لعنت کریں(طبرانی نے الاوسط میں ابن عمر رضی اﷲ تالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایما امرأۃ سألت زوجھا الطلاق من غیر بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔رواہ احمد و جو عورت بے ضرورت شرعی خاوند سے طلاق مانگے اس پر جنت کی بو حرام ہے۔(امام احمد
حدیث ۴:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاباتت المرأۃ ھاجرۃ فراش زوجھا لعنتھا الملئکۃ حتی تصبح۔رواہ البخاری ومسلم والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب عورت اپنے شوہر کا بچھونا چھوڑ کر سوئے تو صبح تك اس پر فرشتے لعنت کریں(اسے امام بخاریمسلم اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المرأۃ اذا خرجت من بیتھاوزوجہا کارہ لذلك لعنہا کل ملك فی السماء وکل شیئ تمر علیہ غیر الجن و الانس حتی ترجع۔روہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو عورت اپنے گھر سے باہر جائے اور اس کے شوہر کو ناگوار ہو جب تك پلٹ کر نہ آئے آسمان میں ہر فرشتہ اس پر لعنت کرے اور جن وآدمی کے سوا جس جس چیز پر گزرے سب اس پر لعنت کریں(طبرانی نے الاوسط میں ابن عمر رضی اﷲ تالی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایما امرأۃ سألت زوجھا الطلاق من غیر بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ۔رواہ احمد و جو عورت بے ضرورت شرعی خاوند سے طلاق مانگے اس پر جنت کی بو حرام ہے۔(امام احمد
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النکاح باب اذا باتت المرأۃ مہاجرۃ فراش زوجہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۸۲،€صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم امتناعہا من الفراش زوجہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶۴€
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۵۱۷€ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۱/ ۳۱۴€
سنن ابن ماجہ کتا ب الطلاق کراھیۃ الخلع للمرأۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۹،€مسند امام احمد عن ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۷۷،المستدرك للحاکم کتاب الطلاق کراہیۃ سوال الطلاق عن الزوج المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۰۰€
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۵۱۷€ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۱/ ۳۱۴€
سنن ابن ماجہ کتا ب الطلاق کراھیۃ الخلع للمرأۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۹،€مسند امام احمد عن ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۷۷،المستدرك للحاکم کتاب الطلاق کراہیۃ سوال الطلاق عن الزوج المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۰۰€
ابوداؤد والترمذی وحسنہ وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم وقال صحیح علی شرط البخاری ومسلم واقروہ عن ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ابوداؤد اور ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی۔ابن ماجہ ابن حبان اور حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر اسے صحیح قرار دیا۔ پھر ان سب نے اسے بر قرار رکھتے ہوئے حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المختلعات ھن المنافقات رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲتعالی عنہ۔ خاوندوں سے طلاق مول لینے والیاں وہی منافقہ ہیں۔(امام طبرانی نے معجم الکبیر میں بسند حسن اسے حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۸تا ۱۱:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خبب علی امرئ زوجتہ او مملوکہ فلیس منا رواہ احمد والبزار وابن حبان والحاکم وقال صحیح و اقروہ عن بریدۃ وابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ جو کسی شخص پر اس کی زوجہ یا اس کی باندی غلام کو بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔(امام احمدبزارابن حبان اور حاکم نے اسے روایت کیا اور کہا یہ حدیث صحیح ہے اور سب نے اسے برقرار رکھتے ہوئے حضرت بریدہ سے روایت کیا۔ ابوداؤد اورحاکم نے سند صحیح کے ساتھ اسے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔اور طبرانی نے اوسط میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
رہا اس پر طعن کرنااور نئی رسم بتانا یہ حکم خدا ورسول پر طعنہ ہے۔ان لوگوں کو اپنے ایمان کی فکر چاہئے اور حکم شرع کے مطابق اپنی ناجائز رسم کی سند پکڑنی اور جاہل بزرگوں کا حوالہ دینا یہ کافروں کی خصلت تھی ان سب پر توبہ فرض ہے۔اﷲ تعالی مسلمانوں کو نیك توفیق بخشے۔واﷲ تعالی اعلم
حدیث ۷:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المختلعات ھن المنافقات رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲتعالی عنہ۔ خاوندوں سے طلاق مول لینے والیاں وہی منافقہ ہیں۔(امام طبرانی نے معجم الکبیر میں بسند حسن اسے حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۸تا ۱۱:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خبب علی امرئ زوجتہ او مملوکہ فلیس منا رواہ احمد والبزار وابن حبان والحاکم وقال صحیح و اقروہ عن بریدۃ وابوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الاوسط عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ جو کسی شخص پر اس کی زوجہ یا اس کی باندی غلام کو بگاڑدے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔(امام احمدبزارابن حبان اور حاکم نے اسے روایت کیا اور کہا یہ حدیث صحیح ہے اور سب نے اسے برقرار رکھتے ہوئے حضرت بریدہ سے روایت کیا۔ ابوداؤد اورحاکم نے سند صحیح کے ساتھ اسے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔اور طبرانی نے اوسط میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
رہا اس پر طعن کرنااور نئی رسم بتانا یہ حکم خدا ورسول پر طعنہ ہے۔ان لوگوں کو اپنے ایمان کی فکر چاہئے اور حکم شرع کے مطابق اپنی ناجائز رسم کی سند پکڑنی اور جاہل بزرگوں کا حوالہ دینا یہ کافروں کی خصلت تھی ان سب پر توبہ فرض ہے۔اﷲ تعالی مسلمانوں کو نیك توفیق بخشے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۹۳۵€ عن عقبہ ابن عامر رضی اﷲ عنہ المکتبہ الفیصیلۃ بیروت ∞۱۷/ ۳۳۹€
مسند امام احمد عن بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۳۵۲،€الترغیب والترھیب بحوالہ احمد وبزار وابن حبان کتاب النکاح مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۸۲،€مورد الظمآن ∞حدیث ۱۳۱۸€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۲۰،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۸۳۴ ۵/ ۴۲۰€ وسنن ابی داؤد کتاب الادب ∞۲/ ۳۴۷€
مسند امام احمد عن بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۳۵۲،€الترغیب والترھیب بحوالہ احمد وبزار وابن حبان کتاب النکاح مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۸۲،€مورد الظمآن ∞حدیث ۱۳۱۸€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۲۰،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۸۳۴ ۵/ ۴۲۰€ وسنن ابی داؤد کتاب الادب ∞۲/ ۳۴۷€
رسالہ
مروج النجاء لخروج النساء ۱۳۱۶ھ
(عورتوں کے نکلنے کے بارے میں خلاصی کی چراگاہیں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۲ تا ۸۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)عورات کو اس مکاں میں جہاں محارم وغیرمحارم مرد اور عورتیں ہوں جانا جائز ہے یاناجائز
(۲)جس گھر میں نامحرم مرد وعورات ہیں وہاں عورت کو کسی تقریب یا شادی یاغمی میں برقعہ کے ساتھ جانا اور شریك ہونا جائز ہے یانہیں
(۳)جس مکان کا مالك نامحرم ہے لیکن اس جلسہ عورات میں نہیں ہے اور اس کا سامنا بھی نہیں ہوتا ہے مگر مالك مکان کی جورو اس عورت کی محرم ہے تو اس کو وہاں جانا جائز ہے یانہیں
(۴)ایسے گھر میں جس کے مالك تو نامحرم ہیں۔مگر اس گھر میں کوئی عورت بھی اس عورت کی محرم نہیں ہے تو اس عورت کو جانا جائز ہے یانہیں
(۵)ایسے گھر میں کہ جس کا مالك نامحرم ہے۔مگر وہاں ایك عورت اس عورت کی محرم ہے۔اور جو عورت محرم ہے وہ مالك مکان کی نامحرم ہے۔تو اس عورت کو جاناجائز ہے یانہیں
مروج النجاء لخروج النساء ۱۳۱۶ھ
(عورتوں کے نکلنے کے بارے میں خلاصی کی چراگاہیں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۲ تا ۸۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)عورات کو اس مکاں میں جہاں محارم وغیرمحارم مرد اور عورتیں ہوں جانا جائز ہے یاناجائز
(۲)جس گھر میں نامحرم مرد وعورات ہیں وہاں عورت کو کسی تقریب یا شادی یاغمی میں برقعہ کے ساتھ جانا اور شریك ہونا جائز ہے یانہیں
(۳)جس مکان کا مالك نامحرم ہے لیکن اس جلسہ عورات میں نہیں ہے اور اس کا سامنا بھی نہیں ہوتا ہے مگر مالك مکان کی جورو اس عورت کی محرم ہے تو اس کو وہاں جانا جائز ہے یانہیں
(۴)ایسے گھر میں جس کے مالك تو نامحرم ہیں۔مگر اس گھر میں کوئی عورت بھی اس عورت کی محرم نہیں ہے تو اس عورت کو جانا جائز ہے یانہیں
(۵)ایسے گھر میں کہ جس کا مالك نامحرم ہے۔مگر وہاں ایك عورت اس عورت کی محرم ہے۔اور جو عورت محرم ہے وہ مالك مکان کی نامحرم ہے۔تو اس عورت کو جاناجائز ہے یانہیں
(۶)ایسے گھر میں جہاں مالك تو نامحرم ہے مگر اس گھر میں عورات اس عورت کی محرم ہیں اور مالك جو نامحرم ہے وہ گھر میں جہاں جلسہ عورات ہے آتا نہیں ہے تو اس عورت کو جانا جائز ہے یانہیں
(۷)جس گھر کا مالك تو نامحرم ہے اور گھر میں آتا نہیں اور عورات بھی اس گھر کی نامحرم ہیں تو اس عورت کو جاناجائز ہے یانہیں
(۸)جس گھر کا مالك محرم ہے اور لوگ نامحرم ہیں تو جانا جائز ہے یاناجائز ہے
(۹)جس گھرمیں مالك نامحرم ہے مگر دوسرے شخص محرم ہیں حالانکہ سامنا نا محرموں سے نہیں ہوتا تو اس عورت کا جانا جائز ہے یاناجائز
(۱۰)جس گھر کے دو مالك ہیں ایك اس عورت کاخاوند اور دوسرا نامحرم ہے تو اس گھر میں جانا جائز ہے یا ناجائز۔
(۱۱)جس گھر میں عام محفل ہے جہاں مذکور الصدر سب اقسام موجود ہیں اور عورات پردہ نشین و غیر پردہ نشین دونوں قسم کی موجود ہیں اور مر د بھی محارم اور غیر محارم ہیں مگر یہ عورت نامحرم مرد سے چادر وغیرہ سے پردہ کئے ان عورتوں میں بیٹھ سکتی ہے تو ایسی حالت میں جانا جائز ہے یاناجائز ہے
(۱۲)جس گھر میں ایسی تقریب ہورہی ہے جس میں منہیات شرعیہ ہورہے ہیں اس میں کسی مرد یا عورت کو اس طرح سے جانا کہ وہ علیحدہ ایك گوشہ میں بیٹھے جہاں مواجہہ تو اس کی شرکت میں نہیں ہے مگر آواز وغیرہ آرہی ہے گو اس آواز وغیرہ ناجائز امور سے اسے حظ بھی نہیں ہے اور نہ متوجہ اس طرف ہے تو جانا جائز ہے یانہیں
(۱۳)جس گھر میں مالك وغیرہ نامحرم مگر اس عورت کے ساتھ محارم عورات بھی ہیں گو اس گھر کے لوگ ان عورات کے نامحرم ہیں تو اس کو جانا جائز ہے یانہیں
(۱۴)شقوق مذکور الصدر میں سے جو شقوق ناجائز ہیں ان میں سے کسی شق میں عورت کو شوہر کا اتباع جائز ہے یانہیں
(۱۵)مرد کو اپنی بی بی کو ایسی مجالس ومحافل میں شرکت سے منع کرنے اور نہ کرنے کا کیا حکم ہے اور عورت پر اتباع وعدم اتباع سے کس درجہ نافرمانی کا اطلاق اور کیا اثر ہوگا اور مرد کو شریك ہونے اور نہ ہونے کا کیا حکم ہے
(۷)جس گھر کا مالك تو نامحرم ہے اور گھر میں آتا نہیں اور عورات بھی اس گھر کی نامحرم ہیں تو اس عورت کو جاناجائز ہے یانہیں
(۸)جس گھر کا مالك محرم ہے اور لوگ نامحرم ہیں تو جانا جائز ہے یاناجائز ہے
(۹)جس گھرمیں مالك نامحرم ہے مگر دوسرے شخص محرم ہیں حالانکہ سامنا نا محرموں سے نہیں ہوتا تو اس عورت کا جانا جائز ہے یاناجائز
(۱۰)جس گھر کے دو مالك ہیں ایك اس عورت کاخاوند اور دوسرا نامحرم ہے تو اس گھر میں جانا جائز ہے یا ناجائز۔
(۱۱)جس گھر میں عام محفل ہے جہاں مذکور الصدر سب اقسام موجود ہیں اور عورات پردہ نشین و غیر پردہ نشین دونوں قسم کی موجود ہیں اور مر د بھی محارم اور غیر محارم ہیں مگر یہ عورت نامحرم مرد سے چادر وغیرہ سے پردہ کئے ان عورتوں میں بیٹھ سکتی ہے تو ایسی حالت میں جانا جائز ہے یاناجائز ہے
(۱۲)جس گھر میں ایسی تقریب ہورہی ہے جس میں منہیات شرعیہ ہورہے ہیں اس میں کسی مرد یا عورت کو اس طرح سے جانا کہ وہ علیحدہ ایك گوشہ میں بیٹھے جہاں مواجہہ تو اس کی شرکت میں نہیں ہے مگر آواز وغیرہ آرہی ہے گو اس آواز وغیرہ ناجائز امور سے اسے حظ بھی نہیں ہے اور نہ متوجہ اس طرف ہے تو جانا جائز ہے یانہیں
(۱۳)جس گھر میں مالك وغیرہ نامحرم مگر اس عورت کے ساتھ محارم عورات بھی ہیں گو اس گھر کے لوگ ان عورات کے نامحرم ہیں تو اس کو جانا جائز ہے یانہیں
(۱۴)شقوق مذکور الصدر میں سے جو شقوق ناجائز ہیں ان میں سے کسی شق میں عورت کو شوہر کا اتباع جائز ہے یانہیں
(۱۵)مرد کو اپنی بی بی کو ایسی مجالس ومحافل میں شرکت سے منع کرنے اور نہ کرنے کا کیا حکم ہے اور عورت پر اتباع وعدم اتباع سے کس درجہ نافرمانی کا اطلاق اور کیا اثر ہوگا اور مرد کو شریك ہونے اور نہ ہونے کا کیا حکم ہے
(۱۶)جس مکاں میں مجمع عورات محارم وغیر محارم کا ہو اور عورات محارم ونامحارم ایك طرف خاص پردہ میں باہم مجتمع ہوں اور مجمع مردوں کا بھی ہر قسم کے اسی مکاں میں عورات سے علیحدہ ہو لیکن آواز نامحرم مردوں کی عورات سنتی ہیں اورایسے مکان میں مجلس وعظ یا ذکر شریف نبوی علیہ الصلوۃ والسلام منعقد ہے تو ایسے جلسہ میں اپنے محارم کو بھیجنا یا نہ بھیجنا کیا حکم ہے اور نہ بھیجنے سے کیا محظور شرعی لازم ہوتا ہے اور انعقاد ایسی مجالس کا اپنے زنانہ مکانات میں کیساہے اور اس ذاکریا واعظ کو اپنے محارم یا غیر محارم کے ایسے مکان میں جانا چاہئے یا نہیں فقط بینوا توجروا عنداﷲ الوہاب(بیان کرو اﷲ وہاب سے اجر پاؤگے۔ت)مقصود سائل عورات محارم سے وہ قرابت دار ہیں جن کے مرد فرض کرنے سے نکاح جائز نہ ہو۔بینوا توجروا
الجواب:
صور جزئیہ کے عرض جواب سے پہلے چند اصول وفوائد ملحوظ خاطر عاطر رہیں کہ بعونہ عزمجدہ شقوق مذکورہ وغیر مزبورہ سب کا بیان مبین اور فہم حکم کے مؤید ومعین ہوں وباﷲ التوفیق۔
اول:اصل کلی یہ ہے کہ عورت کا اپنے محارم رجال خواہ نساء کے پاس ان کے یہاں عیادت یا تعزیت یا اور کسی مندوب یا مباح دینی یا دنیوی حاجت یا صرف ملنے کے لئے جانا مطلقا جائز ہے جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو مثلا بے ستری نہ ہومجمع فساق نہ ہو۔تقریب ممنوع شرعی نہ ہوناچ یا گانے کی محفل نہ ہوزنان فواحش وبیبیاك کی صحبت نہ ہوچوبے شریعت کے شیطانی گیت نہ ہوں۔سمدھنوں کی گالیاں سننا سنانا نہ ہونامحرم دولھا کو دیکھنا دکھانا نہ ہورتجگے وغیرہ میں ڈھول بجانا گا نا نہ ہو۔
دوم:اجانب کے یہاں جہاں کے مردوزن سب اس کے نامحرم ہوں شادی غمی زیارت عیادت ان کی کسی تقریب میں جانے کی اجازت نہیں اگر چہ شوہرکے اذن سےاگر اذن دے گا خود بھی گنہگار ہوگا سواچند صور مفصلہ ذیل کے۔اور ان میں بھی حتی الوسع تستر وتحرز اور فتنہ سے تحفظ فرض۔
سوم:کسی کے مکان سے مراد اس کا مکان سکونت ہے نہ مکان ملك مثلا اجنبی کے مکان میں بھائی کرایہ پر رہتا ہے جانا جائز بھائی کے مکان میں اجنبی عاریۃ ساکن ہے جانا ناجائز۔
چہارم:محارم میں مردوں سے مراد وہ ہیں جن سے بوجہ علاقہ عــــــہ جزئیت ہمیشہ ہمیشہ کو نکاح حرام کہ
عــــــہ: ارادالحد المتفق علیہ من ائمتنا واحترزبہ عن اللعان عندابی یوسف فانہ عندہ حرمۃ ابدیۃ۔
الجواب:
صور جزئیہ کے عرض جواب سے پہلے چند اصول وفوائد ملحوظ خاطر عاطر رہیں کہ بعونہ عزمجدہ شقوق مذکورہ وغیر مزبورہ سب کا بیان مبین اور فہم حکم کے مؤید ومعین ہوں وباﷲ التوفیق۔
اول:اصل کلی یہ ہے کہ عورت کا اپنے محارم رجال خواہ نساء کے پاس ان کے یہاں عیادت یا تعزیت یا اور کسی مندوب یا مباح دینی یا دنیوی حاجت یا صرف ملنے کے لئے جانا مطلقا جائز ہے جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہو مثلا بے ستری نہ ہومجمع فساق نہ ہو۔تقریب ممنوع شرعی نہ ہوناچ یا گانے کی محفل نہ ہوزنان فواحش وبیبیاك کی صحبت نہ ہوچوبے شریعت کے شیطانی گیت نہ ہوں۔سمدھنوں کی گالیاں سننا سنانا نہ ہونامحرم دولھا کو دیکھنا دکھانا نہ ہورتجگے وغیرہ میں ڈھول بجانا گا نا نہ ہو۔
دوم:اجانب کے یہاں جہاں کے مردوزن سب اس کے نامحرم ہوں شادی غمی زیارت عیادت ان کی کسی تقریب میں جانے کی اجازت نہیں اگر چہ شوہرکے اذن سےاگر اذن دے گا خود بھی گنہگار ہوگا سواچند صور مفصلہ ذیل کے۔اور ان میں بھی حتی الوسع تستر وتحرز اور فتنہ سے تحفظ فرض۔
سوم:کسی کے مکان سے مراد اس کا مکان سکونت ہے نہ مکان ملك مثلا اجنبی کے مکان میں بھائی کرایہ پر رہتا ہے جانا جائز بھائی کے مکان میں اجنبی عاریۃ ساکن ہے جانا ناجائز۔
چہارم:محارم میں مردوں سے مراد وہ ہیں جن سے بوجہ علاقہ عــــــہ جزئیت ہمیشہ ہمیشہ کو نکاح حرام کہ
عــــــہ: ارادالحد المتفق علیہ من ائمتنا واحترزبہ عن اللعان عندابی یوسف فانہ عندہ حرمۃ ابدیۃ۔
کسی صورت سے حلت نہیں ہوسکتی نہ بہنوئی یا پھوپھا یاخالو کہ بہن پھوپھی خالہ کے بعد ان سے نکاح ممکن علاقہ جزئیت رضاع ومصاہرت کو بھی عام مگر زنان جوان خصوصا حسینوں کو بلا ضرورت ان سے احتراز ہی چاہئے۔اور برعکس رواج عوام بیاہیوں کو کنواریوں سے زیادہ کہ ان میں نہ وہ حیا ہوتی ہےنہ اتنا خوفنہ اس قدر لحاظ اور نہ ان کا وہ رعبنہ عامہ محافظین کو اس درجہ ان کی نگہداشت اور ذوق چشیدہ کی رغبت انجان نادان سے کہیں زائدلیس الخبر کالمعاینۃ(خبر معائنہ کی طرح نہیں ہوتی۔ت)تو ان میں موانع ہلکے اور مقتضی بھاری اور صلاح وتقوی پر اعتماد سخت غلط کاریمرد خود اپنے نفس پر اعتماد نہیں کرسکتا اور کرے تو جھوٹا اذ لاحول ولاقوۃ الا باﷲ نہ کہ عورت جو عقل ودین میں اس سے آدھی اور رغبت نفسانی میں سو گنی۔ہر مرد کے ساتھ ایك شیطان اور ہر عورت کے ساتھ دو۔ایك آگے اور ایك پیچھےتقبل شیطان وتدبر شیطان
والعیاذ باﷲ العزیز الرحمن اللھم انی اسألك العفو والعافیۃ فی الدین والدنیا والاخرۃ لی وللمؤمنین وللمؤمنات جمیعاامین! اﷲ عزیز و رحمن بچائے۔یا اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں اپنے لئے اور تمام مومنین و مومنات کے لئے معافی وعافیت طلب کرتا ہوں آمین!(ت)
پنجم: محرم عورتوں سے وہ مراد کہ دونوں میں جسے مرد فرض کیجئے نکاح حرام ابدی ہو ایك جانب سے جریان کافی نہیں مثلا ساس بہو تو باہم نامحرم ہی ہیں کہ ان میں جسے مرد فرض کریں د وسرے سے بیگانہ ہے سوتیلی ماں بیٹیاں بھی آپس میں محرم نہیں کہ اگر بیٹی کو مرد فرض کرنے سے حرمت ابدیہ ہے کہ وہ اس کے باپ کی مدخولہ ہے مگر ماں کو مرد فرض کرنے سے محض بیگانگی کہ اب وہ اس کے باپ کی کوئی نہیں۔
ششم:رہے وہ مواضع جو محارم واجانب کسی کے مکان نہیں اگر وہاں تنہائی و خلوت ہے تو شوہر یامحرم کے ساتھ جانا ایساہی ہے جیسے اپنے مکان میں شوہر ومحارم کے ساتھ رہنا اور مکان قید وحفاظت ہے کہ ستروتحفظ پر اطمینان حاصل اوراندیشہائے فتنہ یکسر زائل۔تو یوں بھی حرج نہیں اس قید کے بعد استثناء یك روزہ راہ کی حاجت نہیں کہ بے معیت شوہر یا محرم عاقل بالغ قابل اعتمادحرام ہے اگر چہ محل خالی کی طرف۔وجہ یہ ہے کہ عورت کا تنہا مقام دور کو جانا اندیشہ فتنہ سے عاری نہیں تو وہی قید
والعیاذ باﷲ العزیز الرحمن اللھم انی اسألك العفو والعافیۃ فی الدین والدنیا والاخرۃ لی وللمؤمنین وللمؤمنات جمیعاامین! اﷲ عزیز و رحمن بچائے۔یا اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں اپنے لئے اور تمام مومنین و مومنات کے لئے معافی وعافیت طلب کرتا ہوں آمین!(ت)
پنجم: محرم عورتوں سے وہ مراد کہ دونوں میں جسے مرد فرض کیجئے نکاح حرام ابدی ہو ایك جانب سے جریان کافی نہیں مثلا ساس بہو تو باہم نامحرم ہی ہیں کہ ان میں جسے مرد فرض کریں د وسرے سے بیگانہ ہے سوتیلی ماں بیٹیاں بھی آپس میں محرم نہیں کہ اگر بیٹی کو مرد فرض کرنے سے حرمت ابدیہ ہے کہ وہ اس کے باپ کی مدخولہ ہے مگر ماں کو مرد فرض کرنے سے محض بیگانگی کہ اب وہ اس کے باپ کی کوئی نہیں۔
ششم:رہے وہ مواضع جو محارم واجانب کسی کے مکان نہیں اگر وہاں تنہائی و خلوت ہے تو شوہر یامحرم کے ساتھ جانا ایساہی ہے جیسے اپنے مکان میں شوہر ومحارم کے ساتھ رہنا اور مکان قید وحفاظت ہے کہ ستروتحفظ پر اطمینان حاصل اوراندیشہائے فتنہ یکسر زائل۔تو یوں بھی حرج نہیں اس قید کے بعد استثناء یك روزہ راہ کی حاجت نہیں کہ بے معیت شوہر یا محرم عاقل بالغ قابل اعتمادحرام ہے اگر چہ محل خالی کی طرف۔وجہ یہ ہے کہ عورت کا تنہا مقام دور کو جانا اندیشہ فتنہ سے عاری نہیں تو وہی قید
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النکاح باب ندب من رأی امراۃ فوقعت فی نفسہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۴۹€
اس کے اخراج کو کافیاور اگر مجمع محل جلوت ہے تو بے حاجت شرعی اجازت نہیں خصوصا جہاں فضولیات وبطالات وخطیئات وجہالت کا جلسہ ہو۔جیسے سیرو تماشےباجے تاشےندیوں کے پن گھٹناؤ چڑھانے کے جمگھٹبینظیرکے میلے پھول والوں کے جھمیلے۔نوچندی کی بلائیںمصنوعی کر بلائیں۔علم تعزیوں کے کاوےتخت جریدوں کے دھاوےحسین آباد کے جلوےعباسی درگاہ کے بلوےایسے مواقع مردوں کے جانے کے بھی نہیں۔نہ کہ یہ نازك شیشیاں جنھیں صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
رویدك انجشہ رفقا بالقواریر ۔ انجشہ! دیکھناشیشیوں کو آہستہ لے چل۔(ت)
اور محل حاجت میں جس کی صورتیں مذکور ہوں گی بشرط تستر وتحفظ وتحرز فتنہ اجازت یك روزہ راہ بلکہ نزد تحقیق مناط اس سے کم میں بھی محافظ مذکور کی حاجت۔
ہفتم:یہ اور وہ سب یعنی مکان غیروغیر مکان میں جانا بشرائط مذکورہ جائز ہونے کی نو۹ صورتیں ہیں:
(۱)قابلہ(۲)غاسلہ(۳)نازلہ(۴)مریضہ(۵)مضطرہ(۶)حاجہ (۷)مجاہدہ(۸)مسافرہ(۹)کاسبہ۔
قابلہ:یہ کہ کسی عورت کو درد زہ ہو یہ دائی ہے۔
غاسلہ:جب کوئی عورت مرے یہ نہلانے والی ہے۔ان دونوں صورتوں میں اگر شوہر دار ہے تو اذن شوہر ضرور جبکہ مہر معجل نہ ہو یا تھا تو پاچکی۔
نازلہ:جب اسے کسی مسئلہ کی ضرورت پیش آئے اور خود عالم کے یہاں جائے بغیر کام نہیں نکل سکتا۔
مریضہ:کہ طبیب کو بلا نہیں سکتی نبض کو دکھانے کی ضرورت ہے اسی طرح زچہ ومریضہ کا علاجا حمام کو جانا جبکہ وہاں کسی طرف سے کشف عورت اور بند مکان میں گرم پانی سے گھر میں نہانا کفایت نہ ہو۔
مضطرہ:کہ مکان میں آگ لگی یا گرا پڑتا ہے یا چور گھس آئے یادرندہ آتا ہے غرض ایسی کوئی حالت واقع ہوئی کہ حفظ دین یا ناموس یا جان کے لئے گھر چھوڑ کر کسی جائے امن وامان میں جائے بغیر چارہ نہیں اور عضو شق نفس اور مال اس کا شقیق ہے۔
حاجہ:ظاہر ہے اور زائرہ اس میں داخل کہ زیارت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی
رویدك انجشہ رفقا بالقواریر ۔ انجشہ! دیکھناشیشیوں کو آہستہ لے چل۔(ت)
اور محل حاجت میں جس کی صورتیں مذکور ہوں گی بشرط تستر وتحفظ وتحرز فتنہ اجازت یك روزہ راہ بلکہ نزد تحقیق مناط اس سے کم میں بھی محافظ مذکور کی حاجت۔
ہفتم:یہ اور وہ سب یعنی مکان غیروغیر مکان میں جانا بشرائط مذکورہ جائز ہونے کی نو۹ صورتیں ہیں:
(۱)قابلہ(۲)غاسلہ(۳)نازلہ(۴)مریضہ(۵)مضطرہ(۶)حاجہ (۷)مجاہدہ(۸)مسافرہ(۹)کاسبہ۔
قابلہ:یہ کہ کسی عورت کو درد زہ ہو یہ دائی ہے۔
غاسلہ:جب کوئی عورت مرے یہ نہلانے والی ہے۔ان دونوں صورتوں میں اگر شوہر دار ہے تو اذن شوہر ضرور جبکہ مہر معجل نہ ہو یا تھا تو پاچکی۔
نازلہ:جب اسے کسی مسئلہ کی ضرورت پیش آئے اور خود عالم کے یہاں جائے بغیر کام نہیں نکل سکتا۔
مریضہ:کہ طبیب کو بلا نہیں سکتی نبض کو دکھانے کی ضرورت ہے اسی طرح زچہ ومریضہ کا علاجا حمام کو جانا جبکہ وہاں کسی طرف سے کشف عورت اور بند مکان میں گرم پانی سے گھر میں نہانا کفایت نہ ہو۔
مضطرہ:کہ مکان میں آگ لگی یا گرا پڑتا ہے یا چور گھس آئے یادرندہ آتا ہے غرض ایسی کوئی حالت واقع ہوئی کہ حفظ دین یا ناموس یا جان کے لئے گھر چھوڑ کر کسی جائے امن وامان میں جائے بغیر چارہ نہیں اور عضو شق نفس اور مال اس کا شقیق ہے۔
حاجہ:ظاہر ہے اور زائرہ اس میں داخل کہ زیارت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
صحیح بخاری کتاب الادب باب المعاریض مندوحۃ عن الکذب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۱۷،€مسند احمد بن حنبل مروی از انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۲۲۷€
علیہ وسلم تتمہ حج بلکہ متممہ حج ہے۔
مجاھدہ:جب عیاذا باﷲ عیاذا باﷲ عیاذا باﷲ اسلام کو حاجت اور بحکم امام نفیر عام کی نوبت ہو فرض ہے کہ ہر غلام بے اذن مولی ہر پسر بے اذن والدین ہر پردہ نشین بے اذن شوہر جہاد کو نکلے جبکہ استطاعت جہاد وسلاح وزاد ہو۔
مسافرہ: جو عورت سفر جائز کو جائے مثلا والدین مدت سفر پر ہیں یا شوہر نے کہ دور نوکر ہے اپنے پاس بلایا اور محرم ساتھ ہے تو منزلوں پر سراوغیرہ میں اترنے سے چارہ نہیں۔
کاسبہ:عورت بے شوہر ہے یاشوہر بے جوہر کہ خبر گیری نہیں کرتا۔نہ اپنے پا س کچھ کہ دن کاٹےنہ اقارب کو توفیق یا استطاعتنہ بیت المال منتطم۔نہ گھر بیٹھے دستکاری پر قدرتنہ محارم کے یہاں ذریعہ خدمتنہ بحال بے شوہری کسی کو اس سے نکاح کی رغبت تو جائز ہے کہ بشرط تحفظ وتحرز اجانب کے یہاں جائز وسیلہ رزق پیدا کرے جس میں کسی مرد سے خلوت نہ ہو حتی الامکان وہاں ایسا کام لے جو اپنے گھر آکر کرلے جیسے سینا پیسناورنہ اس گھر میں نوکری کرلے جس میں صرف عورتیں ہوں یا نابالغ بچےورنہ جہاں کا مرد متقی پرہیز گار ہو اور ساٹھ ستر برس کی پیر زال بدشکل کریہہ النظر کو خلوت میں بھی مضائقہ نہیں۔
تنبیہ:ان کے سوا تین صورتیں اور بھی ہیں:شاہدہطالبہمطلوبہ۔
شاھدہ:وہ جس کے پاس کسی حق اﷲ مثل رؤیت ہلال رمضان وسماع طلاق وعتق وغیرہا میں شہادت ہو اور ثبوت اس کی گواہی وحاضری دارالقضا پر موقوف خواہ بشرط مذکور کسی حق العبد مثل عتق غلام و نکاح معاملات مالیہ کی گواہی اور مدعی اس سے طالب اور قاضی عادل اور قبول مامول اوردن کے دن گواہی دے کرواپس آسکے۔
طالبہ: جب اس کا کسی پر حق آتا ہو اور بے جائے دعوی نہیں ہوسکتا۔
مطلوبہ:جب اس پر کسی نے غلط دعوی کیا اور جواب دہی میں جانا ضرور۔
یہ صورتیں بھی علماء نے شمار فرمائیں۔مگر بحمداﷲ تعالی پردہ نشینوں کو ان کی حاجت نہیں کہ ان کی طرف سے وکالت مقبول اور حاکم شرع کا خود آکر نائب بھیج کر ان سے شہادت لینا معمول۔یہ بیان کافی وصافیبحمداﷲ تعالی تمام صور کو حاوی ووافیبعونہ تعالی اب جواب جزئیات ملاحظہ ہو۔
جواب سوال اول: وہ مکان محارم ہے یا مکان غیر یا غیر مکان اور وہاں جانے کی طرف حاجت شرعیہ داعی یا نہیں سب صور کا مفصل بیان مع شرائط ومستثنیات گزرا۔
مجاھدہ:جب عیاذا باﷲ عیاذا باﷲ عیاذا باﷲ اسلام کو حاجت اور بحکم امام نفیر عام کی نوبت ہو فرض ہے کہ ہر غلام بے اذن مولی ہر پسر بے اذن والدین ہر پردہ نشین بے اذن شوہر جہاد کو نکلے جبکہ استطاعت جہاد وسلاح وزاد ہو۔
مسافرہ: جو عورت سفر جائز کو جائے مثلا والدین مدت سفر پر ہیں یا شوہر نے کہ دور نوکر ہے اپنے پاس بلایا اور محرم ساتھ ہے تو منزلوں پر سراوغیرہ میں اترنے سے چارہ نہیں۔
کاسبہ:عورت بے شوہر ہے یاشوہر بے جوہر کہ خبر گیری نہیں کرتا۔نہ اپنے پا س کچھ کہ دن کاٹےنہ اقارب کو توفیق یا استطاعتنہ بیت المال منتطم۔نہ گھر بیٹھے دستکاری پر قدرتنہ محارم کے یہاں ذریعہ خدمتنہ بحال بے شوہری کسی کو اس سے نکاح کی رغبت تو جائز ہے کہ بشرط تحفظ وتحرز اجانب کے یہاں جائز وسیلہ رزق پیدا کرے جس میں کسی مرد سے خلوت نہ ہو حتی الامکان وہاں ایسا کام لے جو اپنے گھر آکر کرلے جیسے سینا پیسناورنہ اس گھر میں نوکری کرلے جس میں صرف عورتیں ہوں یا نابالغ بچےورنہ جہاں کا مرد متقی پرہیز گار ہو اور ساٹھ ستر برس کی پیر زال بدشکل کریہہ النظر کو خلوت میں بھی مضائقہ نہیں۔
تنبیہ:ان کے سوا تین صورتیں اور بھی ہیں:شاہدہطالبہمطلوبہ۔
شاھدہ:وہ جس کے پاس کسی حق اﷲ مثل رؤیت ہلال رمضان وسماع طلاق وعتق وغیرہا میں شہادت ہو اور ثبوت اس کی گواہی وحاضری دارالقضا پر موقوف خواہ بشرط مذکور کسی حق العبد مثل عتق غلام و نکاح معاملات مالیہ کی گواہی اور مدعی اس سے طالب اور قاضی عادل اور قبول مامول اوردن کے دن گواہی دے کرواپس آسکے۔
طالبہ: جب اس کا کسی پر حق آتا ہو اور بے جائے دعوی نہیں ہوسکتا۔
مطلوبہ:جب اس پر کسی نے غلط دعوی کیا اور جواب دہی میں جانا ضرور۔
یہ صورتیں بھی علماء نے شمار فرمائیں۔مگر بحمداﷲ تعالی پردہ نشینوں کو ان کی حاجت نہیں کہ ان کی طرف سے وکالت مقبول اور حاکم شرع کا خود آکر نائب بھیج کر ان سے شہادت لینا معمول۔یہ بیان کافی وصافیبحمداﷲ تعالی تمام صور کو حاوی ووافیبعونہ تعالی اب جواب جزئیات ملاحظہ ہو۔
جواب سوال اول: وہ مکان محارم ہے یا مکان غیر یا غیر مکان اور وہاں جانے کی طرف حاجت شرعیہ داعی یا نہیں سب صور کا مفصل بیان مع شرائط ومستثنیات گزرا۔
جواب سوال دوم:اگریہ مرا د کہ نامحرم بھی ہیں تو وہی سوال اول ہے اور اگر یہ مقصود کہ نامحرم ہی ہیں تو جواب ناجائز مگر بصور استثناء۔
جواب سوال سوم:زن محرم کے یہاں اس کی زیارت عیادت تعزیت کسی شرعی حاجت کے لئے جانا بشرائط مذکورہ اصل اول جائز مگر کتب معتمدہ مثل مجموع النوازل وخلاصۃ وفتح القدیر وبحرالرائق واشباہ وغمزالعیون وطریقہ محمدیہ ودرمختار وابوالسعود و شرنبلالیہ وہندیہ وغیرہ میں ظاہر کلمات ائمہ کرام شادیوں میں جانے سے مطلقا ممانعت ہے اگر چہ محارم کے یہاں علامہ احمد طحطاوی نے اسی پر جزم اور علامہ مصطفی رحمتی وعلامہ شامی نے اسی کا استظہار کیا اور یہی مقتضی ہے حدیث عبداﷲ بن عمرو وحدیث خولہ بنت الیمان وحدیث عبادہ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہم کا
فلتنظر نفس ما ذا تری(پس ہر جان کو غور کرنا چاہئے جو کچھ غور کرناہے۔ت)اوراگر شادیاں ان فواحش ومنکرات پر مشتمل ہوں جن کی طرف ہم نے اصل اول میں اشارہ کیا تو منع یقینی ہے اور شوہر دا ر کو تو شوہر بہر حال اس سے روك سکتا ہے جبکہ مہر معجل سے کچھ باقی نہ ہو۔
جواب سوال چہارم:نہ مگر باستثناء مذکور۔
جواب سوال پنجم: وہ مکان اگر اس زن محرم کا مسکن ہے تو اس کے پاس جانا تفصیل مذکور جواب سوم پر ہے ورنہ یوں کہ نامحرموں کے یہاں دو بہنیں جائیں کہ وہاں ہر ایك دوسرے کی محرم ہوگی اجازت نہیں کہ ممنوع وممنوع مل کر نا ممنوع نہ ہوں گے۔
جواب سوال ششم: اگر وہ مکان ان زنان محارم کا ہے تو جواب جواب سوم ہے کہ گزرا ورنہ جواب ہفتم کہ آتا ہے۔
جواب سوال ہفتم:اللھم انی اعوذبك من الفتن والآفات وعوار العورات(اے اللہ! فتنوںآفتوں اورعورتوں کے مکر سے تیری پناہ۔ت)یہ مسئلہ مکان اجانب میں زنان اجنبیہ کے پاس عورتوں کے جانے کا ہے علماء کرام نے مواضع استثناء ذکر کرکے فرمادیا:
و فیما عداذلك وان اذن کانا عاصیین منہ ۔ ان کے ماوراء میں اورا گر شوہر اذن دے تو وہ بھی گنہ گار۔
جواب سوال سوم:زن محرم کے یہاں اس کی زیارت عیادت تعزیت کسی شرعی حاجت کے لئے جانا بشرائط مذکورہ اصل اول جائز مگر کتب معتمدہ مثل مجموع النوازل وخلاصۃ وفتح القدیر وبحرالرائق واشباہ وغمزالعیون وطریقہ محمدیہ ودرمختار وابوالسعود و شرنبلالیہ وہندیہ وغیرہ میں ظاہر کلمات ائمہ کرام شادیوں میں جانے سے مطلقا ممانعت ہے اگر چہ محارم کے یہاں علامہ احمد طحطاوی نے اسی پر جزم اور علامہ مصطفی رحمتی وعلامہ شامی نے اسی کا استظہار کیا اور یہی مقتضی ہے حدیث عبداﷲ بن عمرو وحدیث خولہ بنت الیمان وحدیث عبادہ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہم کا
فلتنظر نفس ما ذا تری(پس ہر جان کو غور کرنا چاہئے جو کچھ غور کرناہے۔ت)اوراگر شادیاں ان فواحش ومنکرات پر مشتمل ہوں جن کی طرف ہم نے اصل اول میں اشارہ کیا تو منع یقینی ہے اور شوہر دا ر کو تو شوہر بہر حال اس سے روك سکتا ہے جبکہ مہر معجل سے کچھ باقی نہ ہو۔
جواب سوال چہارم:نہ مگر باستثناء مذکور۔
جواب سوال پنجم: وہ مکان اگر اس زن محرم کا مسکن ہے تو اس کے پاس جانا تفصیل مذکور جواب سوم پر ہے ورنہ یوں کہ نامحرموں کے یہاں دو بہنیں جائیں کہ وہاں ہر ایك دوسرے کی محرم ہوگی اجازت نہیں کہ ممنوع وممنوع مل کر نا ممنوع نہ ہوں گے۔
جواب سوال ششم: اگر وہ مکان ان زنان محارم کا ہے تو جواب جواب سوم ہے کہ گزرا ورنہ جواب ہفتم کہ آتا ہے۔
جواب سوال ہفتم:اللھم انی اعوذبك من الفتن والآفات وعوار العورات(اے اللہ! فتنوںآفتوں اورعورتوں کے مکر سے تیری پناہ۔ت)یہ مسئلہ مکان اجانب میں زنان اجنبیہ کے پاس عورتوں کے جانے کا ہے علماء کرام نے مواضع استثناء ذکر کرکے فرمادیا:
و فیما عداذلك وان اذن کانا عاصیین منہ ۔ ان کے ماوراء میں اورا گر شوہر اذن دے تو وہ بھی گنہ گار۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب النکاح الفصل الخامس عشر فی الحظرولاباحۃ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۵۳€
اس نفی کا عموم سب کو شامل پھر ان مواضع میں ماں کے پاس جانا بھی شمار فرمایا اور دیگر محارم کے پاس بھیاور اس کی مثال خانیہ وغیرہا میں خالہ وعمہ وخواہر سے دی نیز علماء نے قابلہ وغاسلہ کا استثناء کیا اور پر ظاہر کہ وہ نہ جائیں گی مگر عورات کے پاس اگر زنان اجنبیہ کے پاس جانا مواضع استثناء سے مخصوص نہ ہوتا تو استثناء میں مادر وخالہ وخواہر وعمہ وقابلہ وغاسلہ کے ذکر کے کوئی معنی نہ تھے احادیث ثلثہ مشارالیہا میں ارشاد ہوا عورتوں کے اجتماع میں خیر نہیں حدیثین اولین میں اس کی علت فرمائی کہ وہ جب اکٹھی ہوتی ہیں بیہودہ باتیں کرتی ہیں ۔حدیث ثالث میں فرمایا ان کے جمع ہونے کی مثال ایسی ہے جیسے صیقل کرنے لوہا تپایا جب آگ ہوگیا کوٹنا شروع کیا جس چیز پر اس کا پھول پڑا جلادی رواھن جمیعا الطبرانی فی الکبیر(جمیع احادیث کو طبرانی نے کبیر میں روایت کیا) عورتیں کہ بوجہ نقصان عقل ودین سنگدل اور امر حق سے کم منفعل ہیں ولذا لم یکمل منھن الا قلیل(عورتوں سے کوئی کام کامل نہ ہو مگر قلیل۔ت)لوہے سے تشبہ دی گئیں اور نار شہوات و خلاعات کہ ان میں رجال سے سو حصہ زائد مشتعل لوہار کی بھٹی اور ان کا مخلے بالطبع ہوکر اجتماع لوہے اور ہتھوڑے کی صحبت ا ب جو چنگاریاں اڑیں گی دینناموسحیاءغیرتجس پر پڑیں گی صاف پھونك دیں گیسلمی پار سا ہے ہاں پارسا ہے وبارك اللہ۔مگر جان برادر! کیا پارسائیں معصوم ہوتی ہیں کیا صحبت بد میں اثر نہیں جب قیموں سے جدا خود سر و آزاد ایك مکان میں جمع اور قمیوں کے آنے دیکھنے سے بھی اطمینان حاصل فانما خلقت من ضلع اعوج کج سے بنی کج ہی چلے گی آپ نادان ہے تو شدہ شدہ سیکھ کر رنگ بدلے گی جسے تشقیف زنان کی پرو ا نہیں یا حالات زماں سے آگاہ نہیں اول ظالم کا تو نام نہ لیجئے اورثانی صالح سے گزراش کیجئے ع
معذور دارمت کہ تواو را ندا ندیدہ
(مجھے معذور رکھ کر تونے اسے دیکھا نہیں۔ت)
معذور دارمت کہ تواو را ندا ندیدہ
(مجھے معذور رکھ کر تونے اسے دیکھا نہیں۔ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح باب النفقۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۹۴€
المعجم الکبیر مروی عن عبداﷲ بن عمر ∞حدیث ۱۳۲۲۸€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۲/ ۳۱۷€
المعجم الکبیر خولہ بنت الیمان ∞حدیث ۶۳۲€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۴/ ۲۴۶،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۱۲۶€ مکتبہ المعارف الریاض ∞۸/ ۶۴€
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتا ب الاذکار باب ماجاء فی مجالس الذکر دارالکتب بیروت ∞۱۰ /۷۷۔۷۸€
صحیح البخاری کتاب الانبیاء ∞۱/ ۴۶۹€ و کتاب النکاح ∞۱/ ۷۷۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،€صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الوصیۃ بالنساء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۵€
المعجم الکبیر مروی عن عبداﷲ بن عمر ∞حدیث ۱۳۲۲۸€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۲/ ۳۱۷€
المعجم الکبیر خولہ بنت الیمان ∞حدیث ۶۳۲€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۴/ ۲۴۶،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۱۲۶€ مکتبہ المعارف الریاض ∞۸/ ۶۴€
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتا ب الاذکار باب ماجاء فی مجالس الذکر دارالکتب بیروت ∞۱۰ /۷۷۔۷۸€
صحیح البخاری کتاب الانبیاء ∞۱/ ۴۶۹€ و کتاب النکاح ∞۱/ ۷۷۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،€صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الوصیۃ بالنساء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۵€
مجمع زنان کی شناعت وہ ہیں کہ لاینبغی ان تذکرفضلا ان تسطر(جن کا ذکر نامناسب ہے چہ جائیکہ لکھا جائے۔ت) جسے ان نازك شیشوں کو صدمے سے بچانا ہو تو راہ یہی ہے کہ شیشیاں شیشیاں بھی بے حاجت شرعیہ نہ ملنے پائیں کہ آپس میں مل کر بھی ٹھیس کھاجاتی ہیں حاجات شرعیہ وہی جو علمائے کرام نے استثناء فرمادیںغرض احادیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہلکا نہیں کہ اجتماع نساء میں خیر وصلاح نہیں آئندہ اختیار بدست مختار۔
جواب سوال ہشتم ونہم:ان دونوں سوالوں کا جواب بعد ملاحظہ اصل سوم وجوابات سابقہ ظاہر کہ بعد اسقاط اعتبار ملك ولحاظ سکونت یہ ان سے جدا کوئی صورت نہیں۔
جواب سوال دہم:ملك کا حال وہی ہے جو اوپر گزرااور شوہر کے پاس جانا مطلقا جائز جبکہ ستر حاصل اور تحفظ کامل اور ہر گونہ اندیشہ فتنہ زائل او ر موقع غیر موقع ممنوع وباطل ہو۔اور شوہر جس مکان میں رہے اگر چہ ملك مشترك بلکہ غیر کی ملك ہو اس کے پاس رہنے کی بھی بشرائط معلومہ مطلقا اجازت بلکہ جب نہ مہر معجل کا تقاضا نہ مکان مغصوب ہونے کے باعث دین یاجان کا ضررہو اور شوہر شرائط سکنائے واجبہ مذکورہ فقہ بجا لایا ہو تو واجب انھیں شرائط سے واضح ہوگا کہ مسکن میں اوروں کی شرکت سکونت کہاں تك تحمل کی جاسکتی ہے اتنا ضروری ہے کہ عورت کو ضرر دینا بنص قطعی قرآن عظیم حرام ہے۔اور شك نہیں کہ اجنبی مرد تو مرد ہیں سو تن کی شرکت بھی ضرررساںاور جہاں ساسننددیورانیجٹھانی سے ایذا ہو تو ان سے بھی جدا رکھنا حق زنان والتفصیل فی ردالمحتار۔
جواب سوال یازدہم:یہ تقریبا وہی سوال ہے محار م کے یہاں بشرائط جائزجواب سوم بھی ملحوظ رہے ورنہ خدا کے گھر یعنی مساجد سے بہتر عام محفل کہاں ہوگی۔اور ستر بھی کیسا کہ مردوں کی ادھر ایسی پیٹھ کہ منہ نہیں کرسکتے اور انھیں حکم کہ بعد سلام جب تك عورتیں نہ نکل جائیں نہ اٹھو مگر علماء نے اولا کچھ تخصیصیں کیں جب زمانہ فتن کا آیا مطلقا ناجائز فرمادیا۔
جواب سوال دوازدہم:اگر جانے میں اس حالت میں جانے سے انکار کروں تو انھیں منہیات کا چھوڑنا پڑے گا تو جب تك ترك نہ کریں جانا ناجائزاور جانے کہ میں جاؤں تو میرے سامنے منہیات نہ کرسکیں گے تو جانا واجب۔جبکہ خود اس جانے میں منکر کا ارتکاب نہ ہو۔اور اگرنہ یہ نہ وہ تو محل عاروطعن وبدگوئی وبدگمانی سے احتراز لازم۔خصوصا مقتدا کو۔ورنہ بشرائط معلومہ جبکہ حالت مذکورہ سوال ہو کہ اسے نہ حظ نہ توجہاگر چہ تحریم نہیں مگر حدیث ابن عمر
جواب سوال ہشتم ونہم:ان دونوں سوالوں کا جواب بعد ملاحظہ اصل سوم وجوابات سابقہ ظاہر کہ بعد اسقاط اعتبار ملك ولحاظ سکونت یہ ان سے جدا کوئی صورت نہیں۔
جواب سوال دہم:ملك کا حال وہی ہے جو اوپر گزرااور شوہر کے پاس جانا مطلقا جائز جبکہ ستر حاصل اور تحفظ کامل اور ہر گونہ اندیشہ فتنہ زائل او ر موقع غیر موقع ممنوع وباطل ہو۔اور شوہر جس مکان میں رہے اگر چہ ملك مشترك بلکہ غیر کی ملك ہو اس کے پاس رہنے کی بھی بشرائط معلومہ مطلقا اجازت بلکہ جب نہ مہر معجل کا تقاضا نہ مکان مغصوب ہونے کے باعث دین یاجان کا ضررہو اور شوہر شرائط سکنائے واجبہ مذکورہ فقہ بجا لایا ہو تو واجب انھیں شرائط سے واضح ہوگا کہ مسکن میں اوروں کی شرکت سکونت کہاں تك تحمل کی جاسکتی ہے اتنا ضروری ہے کہ عورت کو ضرر دینا بنص قطعی قرآن عظیم حرام ہے۔اور شك نہیں کہ اجنبی مرد تو مرد ہیں سو تن کی شرکت بھی ضرررساںاور جہاں ساسننددیورانیجٹھانی سے ایذا ہو تو ان سے بھی جدا رکھنا حق زنان والتفصیل فی ردالمحتار۔
جواب سوال یازدہم:یہ تقریبا وہی سوال ہے محار م کے یہاں بشرائط جائزجواب سوم بھی ملحوظ رہے ورنہ خدا کے گھر یعنی مساجد سے بہتر عام محفل کہاں ہوگی۔اور ستر بھی کیسا کہ مردوں کی ادھر ایسی پیٹھ کہ منہ نہیں کرسکتے اور انھیں حکم کہ بعد سلام جب تك عورتیں نہ نکل جائیں نہ اٹھو مگر علماء نے اولا کچھ تخصیصیں کیں جب زمانہ فتن کا آیا مطلقا ناجائز فرمادیا۔
جواب سوال دوازدہم:اگر جانے میں اس حالت میں جانے سے انکار کروں تو انھیں منہیات کا چھوڑنا پڑے گا تو جب تك ترك نہ کریں جانا ناجائزاور جانے کہ میں جاؤں تو میرے سامنے منہیات نہ کرسکیں گے تو جانا واجب۔جبکہ خود اس جانے میں منکر کا ارتکاب نہ ہو۔اور اگرنہ یہ نہ وہ تو محل عاروطعن وبدگوئی وبدگمانی سے احتراز لازم۔خصوصا مقتدا کو۔ورنہ بشرائط معلومہ جبکہ حالت مذکورہ سوال ہو کہ اسے نہ حظ نہ توجہاگر چہ تحریم نہیں مگر حدیث ابن عمر
رضی اﷲ تعالی عنہما کہ شہنا کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں دیں اور یہی فعل حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے نقل کیا اس سے احتراز کی طرف داعی خصوصا نازك دل عورتوں کے لئے حدیث انجشہ ابھی گزری اور صلاح پر اعتمادنری غلطی ع
بساکیں آفت از آواز خیزد
(بہت دفعہ آواز سے آفت آپڑتی ہے۔ت)
ع حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے۔
جواب سوال سیزدہم:جواب پنجم ملاحظہ ہوعورت کا عورت کے ساتھ ہونا زیادت عورت ہے نہ حفاظت کی صورت سونے پر سونا جتنا بڑھاتے جائے محافظ کی ضرورت ہوگی نہ کہ ایك توڑا دوسرے کی نگہداشت کرے۔
جواب سوال چہاردہم:گناہ میں کسی کا اتباع نہیں ہاں وہ صورتیں جہاں منع صرف حق شوہر کے لئے ہے جیسے مہر معجل نہ رکھنے والی کا ہفتے کے اندر والدین یا سال کے اندر دے کر محارم کے یہاں جانا وہاں شب باش ہونا یہ اجازت شوہر سے جائز ہوجائے گا۔ والا لا۔
جواب سوال پانزدہم: " الرجال قومون علی النساء" (مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔ت)مرد کو لازم کہ اپنی اہلیہ کو حتی المقدور مناہی سے روکے " یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا " (اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچاؤ۔عورت بحال نافرمانی دہری گناہگار ہوگی۔ایك گناہ شرعدوسرے گناہ نافرمانی شوہراس سے زیادہ اثر جو عوام میں مشتہر کہ بے اذن جائے تو نکاح سے جائے غلط اور باطل۔مگر جبکہ شوہر نے ایسے جانے پر طلاق بائن معلق کی ہومرد ہر مجلس خالی عن المنکرات میں شریك ہوسکتا ہے اور نہی عن المنکر کے لئے مجالس منکرہ میں بھی جانا ممکن جبکہ مشیر فتنہ نہ ہو " و الفتنۃ اکبر من القتل" (فتنہ قتل سے بڑا ہے۔ت)مگر تجسس واتباع عورات ودخول دار غیر بے اذن کی اجازت نہیں۔
جواب سوال شانزدہم:عورتوں کے لئے محرم عورت کے معنی اصل پنجم میں گزرے اور نہ بھیجنے
بساکیں آفت از آواز خیزد
(بہت دفعہ آواز سے آفت آپڑتی ہے۔ت)
ع حسن بلائے چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے۔
جواب سوال سیزدہم:جواب پنجم ملاحظہ ہوعورت کا عورت کے ساتھ ہونا زیادت عورت ہے نہ حفاظت کی صورت سونے پر سونا جتنا بڑھاتے جائے محافظ کی ضرورت ہوگی نہ کہ ایك توڑا دوسرے کی نگہداشت کرے۔
جواب سوال چہاردہم:گناہ میں کسی کا اتباع نہیں ہاں وہ صورتیں جہاں منع صرف حق شوہر کے لئے ہے جیسے مہر معجل نہ رکھنے والی کا ہفتے کے اندر والدین یا سال کے اندر دے کر محارم کے یہاں جانا وہاں شب باش ہونا یہ اجازت شوہر سے جائز ہوجائے گا۔ والا لا۔
جواب سوال پانزدہم: " الرجال قومون علی النساء" (مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔ت)مرد کو لازم کہ اپنی اہلیہ کو حتی المقدور مناہی سے روکے " یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا " (اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچاؤ۔عورت بحال نافرمانی دہری گناہگار ہوگی۔ایك گناہ شرعدوسرے گناہ نافرمانی شوہراس سے زیادہ اثر جو عوام میں مشتہر کہ بے اذن جائے تو نکاح سے جائے غلط اور باطل۔مگر جبکہ شوہر نے ایسے جانے پر طلاق بائن معلق کی ہومرد ہر مجلس خالی عن المنکرات میں شریك ہوسکتا ہے اور نہی عن المنکر کے لئے مجالس منکرہ میں بھی جانا ممکن جبکہ مشیر فتنہ نہ ہو " و الفتنۃ اکبر من القتل" (فتنہ قتل سے بڑا ہے۔ت)مگر تجسس واتباع عورات ودخول دار غیر بے اذن کی اجازت نہیں۔
جواب سوال شانزدہم:عورتوں کے لئے محرم عورت کے معنی اصل پنجم میں گزرے اور نہ بھیجنے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ / ۳۴€
القرآن الکریم ∞۶۶/ ۶€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۱۷€
القرآن الکریم ∞۶۶/ ۶€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۱۷€
میں اصلا محذور شرعی نہیں اگر چہ مجلس محارم زن کے یہاں ہو بلکہ اگر واعظ اکثر واعظان زمانہ کی طرح کہ جاہل وناعاقل وبیباك وناقابل ہوتے ہیں مبلغ علم کچھ اشعار خوانی یا بے سرو پاکہانی یا تفسیر مصنوع یا تحدیث موضوعنہ عقا ئد کا پاس نہ مسائل کا احتفاظ۔نہ خدا سے شرم نہ رسول کا لحاظغایت مقصود پسند عوام اور نہایت مراد جمع حطام۔یا ذاکر ایسے ہی ذاکرین غافلین مبطلین جاہلین سے کہ رسائل پڑھیں تو جہال مغرور کے اشعار گائیں تو شعراء بے شعور کے انبیاء کی توہین خدا پر اتہام اور نعت ومنقبت کا نام بدنامجب تو جانا بھی گناہ بھیجنا بھی حرام۔اور اپنے یہاں انعقاد مجمع اثام۔آج کل اکثرمواعظ ومجالس عوام کا یہی حال پر ملال۔فاناﷲ وانا الیہ راجعون۔اسی طرح اگر عادت نساء سے معلوم یا مظنون کہ بنام مجلس وعظ وذکر اقدس جائیں اور سنیں نہ سنائیں بلکہ عین وقت ذکر اپنی کچریاں پکائیں جیسا کہ غالب احوال زنان زمانتو بھی ممانعت ہی سبیل ہے کہ اب یہ جانا اگر چہ بنام خیر مگر مروجہ غیرہے ذکر وتذکیر کے وقت لغو ولفظ شرعا ممنوع وغلطاور اگر ان سب مفاسد سے خالی ہو اور وہ قلیل ونادر ہے تو محارم کے یہاں بشرائط معلومہ بھیجنے میں حرج نہیں اور غیر محارم یعنی مکان غیر یا غیر مکان میں بھیجنا اگر کسی طرح احتمال فتنہ یا منکر کا مظنہ یا وعظ وذکر سے پہلے پہنچ کر اپنی مجلس جمانا یا بعد ختم اسی مجمع زنان کا رنگ منانا ہو تو بھی نہ بھیجے کہ منکر ونامنکر اور بلحاظ تقریرجواب سوم و ہفتم یہ شرائط عام ترا ورا گر فرض کیجئے کہ واعظ وذاکر عالم سنی متدین ماہر اور عورتیں جاکرحسب آداب شرع بحضور قلب سمع میں مشغول رہیں اور حال مجلس وسابق ولاحق وذہاب وایاب بلکہ جملہ اوقات میں جمیع منکرات وشنائع مالوفہ وغیر مالوفہ معروفہ وغیر معروفہ سب سے تحفظ تام وتحرز تمام پر اطمینان کافی ووافی ہواور سبحان اﷲ کہاں تحرز اور کہاں اطمینان تو محارم کے یہاں بھیجنے میں اصلا حرج نہیں ہے نہ اجانب فھذا مما استخیر اﷲ تعالی فیہ(یہ وہ جس میں اﷲ تعالی سے خیر کی دعا ہے۔ت)وجیز کردری میں فرمایا:عورت کاوعظ سننے کو جانا لاباس بہ ہے ۔ جس کا حاصل کراہت تنزیہی۔امام فخر الاسلام نے فرمایا:وعظ کی طرف عورت کا خروج مطلقا مکرو ہ ہے۔جس کا اطلاق مفید کراہت تحریمیاور انصاف کیجئے تو عورت کا بستر کامل وحفظ شامل اپنے گھر کے پاس مسجد میں صلحاء محارم کے ساتھ تکبیر کے وقت جاکر نماز میں شریك ہونا اور سلام ہوتے ہی دو قدم رکھ کر گھر میں جانا ہر گز فتنہ کی گنجائشوں تو سیعوں کا ویساہی احتمال نہیں رکھتا جیسا کہ غیر محلہ غیر جگہ بے معیت محرم
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الفصل الثامن عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۱۵۷€
مکان اجانب واحاطہ مقبوضہ اباعد میں جاکر مجمع ناقصات العقل والدین کے ساتھ مخلے بالطبع ہونا پھر اسے علماء نے بلحاظ زمان مطلقا منع فرمادیا باآنکہ صحیح حدیثوں میں اس سے ممانعت کی ممانعت موجود اور حاضرین عیدین پر تو یہاں تك تاکید اکید کہ حیض والیاں بھی نکلیں۔اگر چادر نہ رکھتی ہوں دوسری اپنی چادروں میں شریك کرلیں۔مصلے سے الگ بیٹھیں خیر ودعاء مسلمین کی برکت لیں تو یہ صورت اولی بالمنع ہے شرع مطہر فقط فتنہ ہی سے منع نہیں فرماتی بلکہ کلیۃ اس کا سدباب کرتی اور حیلہ ووسیلہ شرك کے یکسر پر کترتی ہے غیر وں کے گھر جہاں نہ اپنا قابو نہ اپنا گزر حدیث میں تو اپنے مکانوں کی نسبت آیا لاتسکنوھن الغرف عورتوں کو بالاخانوں پر نہ رکھو۔یہ وہی طائر نگاہ کے پرکترتے ہیں شرع مطہر نہیں فرماتی کہ تم خاص لیلی وسلمی پر بدگمانی کرو یا خاص زید وعمر وکے مکانوں کو مظنہ فتنہ کہو یا خاص کسی جماعت زنان کو مجمع نا بایستنی بتاؤ مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتی ہے کہ ان من الخرز سوء الظن(بدگمانی میں حفاظت ہے۔ت)
نگہ دارد آں شوخ درکیسہ در کہ داند ہمہ خلق راکیسہ بر
(نگاہ رکھ اے ہوشیار آدمی جیب میں موتی والے۔کیونکہ جیب کترے ہر ایك کو جانتے ہیں۔ت)
صالح وطالح کسی کے منہ پر نہیں لکھا ہوتا ظاہر ہزار جگہ خصوصا اس زمن فتن میں باطن کے خلاف ہوتاہے۔اور مطابق بھی ہو تو صالحین وصالحات معصوم نہیں اور علم باطن و ادراك غیب کی طرف راہ کہاں اور سب سے در گزرے تو آج کل عامہ ناس خصوصا نساء میں بڑا ہنر آن ہوی جوڑلینا طوفان لگادینا ہے کاجل کی کوٹھڑی کے پاس ہی کیوں جائے کہ دھبا کھائیے۔لاجرم
سبیل یہی ہے کہ بالکل دربا ہی جلا دیا جائے ع
وہ سرہی ہم نہیں رکھتے جسے سودا ہو سامان کا
شرع مطہر حکیم ہے اور مؤمنین اور مومنات پر رؤف ورحیم۔اس کی عادت کریمہ ہے کہ ایسے مواضع احتیاط میں مابہ باس کے اندیشہ سے مالاباس بہ کہہ کر منع فرماتی ہے جب شراب حرام فرمائی اس صورت کے برتنوں میں نبیذ ڈالنی منع فرمادی جن میں شراب اٹھایا کرتے تھے کہ زید کہے بارہا ایسے مجامع ہوتے ہیں کبھی فتنہ نہ ہوا جان برادر علاج واقعہ کیابعد الوقوع چاہئے ماکل مرۃتسلم الجرۃ(مٹکا ہر مرتبہ سالم نہیں رہتا۔ت) ع
نگہ دارد آں شوخ درکیسہ در کہ داند ہمہ خلق راکیسہ بر
(نگاہ رکھ اے ہوشیار آدمی جیب میں موتی والے۔کیونکہ جیب کترے ہر ایك کو جانتے ہیں۔ت)
صالح وطالح کسی کے منہ پر نہیں لکھا ہوتا ظاہر ہزار جگہ خصوصا اس زمن فتن میں باطن کے خلاف ہوتاہے۔اور مطابق بھی ہو تو صالحین وصالحات معصوم نہیں اور علم باطن و ادراك غیب کی طرف راہ کہاں اور سب سے در گزرے تو آج کل عامہ ناس خصوصا نساء میں بڑا ہنر آن ہوی جوڑلینا طوفان لگادینا ہے کاجل کی کوٹھڑی کے پاس ہی کیوں جائے کہ دھبا کھائیے۔لاجرم
سبیل یہی ہے کہ بالکل دربا ہی جلا دیا جائے ع
وہ سرہی ہم نہیں رکھتے جسے سودا ہو سامان کا
شرع مطہر حکیم ہے اور مؤمنین اور مومنات پر رؤف ورحیم۔اس کی عادت کریمہ ہے کہ ایسے مواضع احتیاط میں مابہ باس کے اندیشہ سے مالاباس بہ کہہ کر منع فرماتی ہے جب شراب حرام فرمائی اس صورت کے برتنوں میں نبیذ ڈالنی منع فرمادی جن میں شراب اٹھایا کرتے تھے کہ زید کہے بارہا ایسے مجامع ہوتے ہیں کبھی فتنہ نہ ہوا جان برادر علاج واقعہ کیابعد الوقوع چاہئے ماکل مرۃتسلم الجرۃ(مٹکا ہر مرتبہ سالم نہیں رہتا۔ت) ع
حوالہ / References
∞ تاریخ بغداد ترجمہ یحیٰی بن زکریا نمبر ۷۵۲۰€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۱۴/ ۲۲۴€
ہر بار سبو زچاہ سالم نرسید
(بھرا مٹکا ہر بار کنویں سے سالم نہیں پہنچتا۔ت)
اکل وشرب وغیرہما کی صدہا صورتوں میں اطباء لکھتے ہیں یہ مضرہے اور لوگ ہزار بارکرتے ہیں طبیعت کی قوت ضد کی مقاومت تقدیر کی مساعدت کہ ضرر نہیں ہوتا اس سے اس کا بے غائلہ ہونا سمجھا جائےگا خدا پناہ دے بری گھڑی کہہ کرنہیں آتی اجنبیوں سے علماء کا ایجاب حجاب آخر اسی سد فتنہ کے لئے ہے پھر سوا چند توفیق رفیق بندوں کے چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹوں کنبے بھر کے رشتہ داروں کے سامنے ہونے کا کیسا رواج ہے اور اﷲ بچاتا ہے فتنہ نہیں ہوتا اس سے بدتر عام خدا ناترس ہندیوں کے وہ بدلحاظی کے لباس آدھے سر کے بال اور کلائیاں اور کچھ حصہ گلووشکم وساق کا کھلا رہنا تو کسی گنتی شمارہی میں نہیںاور زیادہ بانکپن ہو ا تو دوپٹہ شانوں پر ڈھلکا ہوا کریب یا جالی باریك یا خاص ململ کا جس سے سب بدن چمکے اور اس حالت کے ساتھ ان رشتہ داروں کے سامنے پھرنا بااینہمہ وہ رؤف ورحیم حفظ فرماتاہے فنتہ نہیں ہوتا ان اعضاء کا ستر کیا بعینہ واجب تھا حاشا بلکہ وہی وداعی وسد باب پھر اگر ہزار بار داعی نہ ہوئے تو کیا وہ حکم حکمت باطل ہوجائینگے شرع مطہر جب مظنہ پر حکم دائر فرماتی ہے اصل علت پر اصلا مدار نہیں رکھتی وہ چاہے کبھی نہ ہو نفس مظنہ پر حکم چلے گا فقیر کے پاس تویہ ہے اور جو اس سے بہتر جانتا ہو مجھے مطلع کرے بہرحال اس قدریقینی کہ بھیجنا محتمل اور نہ بھیجنا بالاجماع جائز وبے خلللہذا فقیر غفراﷲ تعالی لہ کے نزدیك اسی پر عمل رہا واعظ وذاکر وہ بشرطیکہ جس منکر پر اطلاع پائے حسب قدرت انکارو ہدایت کرے ہر مجلس میں جاسکتا ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتب عبدہ المذنب احمد رضا عفی عنہ بمحمدن المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسالہ مروج النجا لخروج النساءختم شد
مسئلہ ۸۸: از الموڑہ محلہ نقاری ٹولہ متصل تحصیل مرزا قاسم بیگ عنایت بیگ ۴ ذیقعدہ ۱۳۲۰ھ
جناب مولانا صاحب مخدوم ومطاع بندہ زاداﷲ اشفاقہم بعد از تسلیم مع التکریم مدعا یہ ہے کہ ایك لڑکی ہے اس نے اپنے نان ونفقہ کا دعوی کیا ہے۔اور اس لڑکی کو اس کے خاوند نے مارکر نکال دیا اس نے اپنے نان ونفقہ کا دعوی کیا ہے مگر اس میں یہ ہے کہ اس لڑکی کا دعوی کیا فوجداری میں صاحب مجسٹریٹ نے یہ حکم دیا کہ بڑے سول سرجن کا ملاحظہ کراؤ تو اس میں یہ ہے کہ اگر بڑا ڈاکٹر ملاحظہ کرے تو اس میں نکاح سے باہر ہوگی یانہ ہوگیدیکھنا بڑے ڈاکٹر کا جائز ہے یانہیں بینو ا توجروا
الجواب:
بڑا ڈاکٹر خواہ چھوٹامسلمان ہو خواہ غیر مذہب کا اپنا ہو یا خواہ پرایا۔باپ ہو یا خواہ بیٹا۔غرض
(بھرا مٹکا ہر بار کنویں سے سالم نہیں پہنچتا۔ت)
اکل وشرب وغیرہما کی صدہا صورتوں میں اطباء لکھتے ہیں یہ مضرہے اور لوگ ہزار بارکرتے ہیں طبیعت کی قوت ضد کی مقاومت تقدیر کی مساعدت کہ ضرر نہیں ہوتا اس سے اس کا بے غائلہ ہونا سمجھا جائےگا خدا پناہ دے بری گھڑی کہہ کرنہیں آتی اجنبیوں سے علماء کا ایجاب حجاب آخر اسی سد فتنہ کے لئے ہے پھر سوا چند توفیق رفیق بندوں کے چچا ماموں خالہ پھوپھی کے بیٹوں کنبے بھر کے رشتہ داروں کے سامنے ہونے کا کیسا رواج ہے اور اﷲ بچاتا ہے فتنہ نہیں ہوتا اس سے بدتر عام خدا ناترس ہندیوں کے وہ بدلحاظی کے لباس آدھے سر کے بال اور کلائیاں اور کچھ حصہ گلووشکم وساق کا کھلا رہنا تو کسی گنتی شمارہی میں نہیںاور زیادہ بانکپن ہو ا تو دوپٹہ شانوں پر ڈھلکا ہوا کریب یا جالی باریك یا خاص ململ کا جس سے سب بدن چمکے اور اس حالت کے ساتھ ان رشتہ داروں کے سامنے پھرنا بااینہمہ وہ رؤف ورحیم حفظ فرماتاہے فنتہ نہیں ہوتا ان اعضاء کا ستر کیا بعینہ واجب تھا حاشا بلکہ وہی وداعی وسد باب پھر اگر ہزار بار داعی نہ ہوئے تو کیا وہ حکم حکمت باطل ہوجائینگے شرع مطہر جب مظنہ پر حکم دائر فرماتی ہے اصل علت پر اصلا مدار نہیں رکھتی وہ چاہے کبھی نہ ہو نفس مظنہ پر حکم چلے گا فقیر کے پاس تویہ ہے اور جو اس سے بہتر جانتا ہو مجھے مطلع کرے بہرحال اس قدریقینی کہ بھیجنا محتمل اور نہ بھیجنا بالاجماع جائز وبے خلللہذا فقیر غفراﷲ تعالی لہ کے نزدیك اسی پر عمل رہا واعظ وذاکر وہ بشرطیکہ جس منکر پر اطلاع پائے حسب قدرت انکارو ہدایت کرے ہر مجلس میں جاسکتا ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتب عبدہ المذنب احمد رضا عفی عنہ بمحمدن المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسالہ مروج النجا لخروج النساءختم شد
مسئلہ ۸۸: از الموڑہ محلہ نقاری ٹولہ متصل تحصیل مرزا قاسم بیگ عنایت بیگ ۴ ذیقعدہ ۱۳۲۰ھ
جناب مولانا صاحب مخدوم ومطاع بندہ زاداﷲ اشفاقہم بعد از تسلیم مع التکریم مدعا یہ ہے کہ ایك لڑکی ہے اس نے اپنے نان ونفقہ کا دعوی کیا ہے۔اور اس لڑکی کو اس کے خاوند نے مارکر نکال دیا اس نے اپنے نان ونفقہ کا دعوی کیا ہے مگر اس میں یہ ہے کہ اس لڑکی کا دعوی کیا فوجداری میں صاحب مجسٹریٹ نے یہ حکم دیا کہ بڑے سول سرجن کا ملاحظہ کراؤ تو اس میں یہ ہے کہ اگر بڑا ڈاکٹر ملاحظہ کرے تو اس میں نکاح سے باہر ہوگی یانہ ہوگیدیکھنا بڑے ڈاکٹر کا جائز ہے یانہیں بینو ا توجروا
الجواب:
بڑا ڈاکٹر خواہ چھوٹامسلمان ہو خواہ غیر مذہب کا اپنا ہو یا خواہ پرایا۔باپ ہو یا خواہ بیٹا۔غرض
شوہر کے سوا کوئی مرد ہو اسے دکھانا حرام قطعی ہے سخت گناہ شدید ہے۔اول تو نان نفقہ کے دعوے میں عورت کا ستر عورت دکھانے کی ضرورت نہیںاگر ضرورت ہو بھی کہ مرد دعوی کرے یہ عورت مرد کے قابل نہیں تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ حاکم کسی مسلمان عورت کوحکم دے کہ وہ دیکھ کر بیان کرے مرد کو دکھانا مذہب اسلام کے بالکل خلاف ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹:مرسلہ محمد اکرم حسین از دوہری بوساطت مولانا حامد حسین صاحب رامپوری مدرس اول مدرسہ اہل سنت بریلی ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شوہر اپنی بی بی اور بی بی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے یا نہیں اور اس کا چھونا کیسا ہے یعنی مرد کو اپنی عورت کو اور عورت اپنے شوہر کو چھو سکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
زن وشو کا باہم ایك دوسرے کو حیات میں چھونا مطلقا جائز ہے حتی کہ فرج وذکر کو بلکہ بہ نیت صالحہ موجب ثواب واجر ہے کما نص علیہ سیدنا الامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ(جیسا کہ ہمارے سردار امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کی تصریح فرمائی۔ت)البتہ بحالت حیض ونفاس زیر ناف زن سے زیر زانو تك چھونا منع ہوتاہے علی قول الشیخین رضی اﷲ تعالی عنہما بہ یفتی(امام اعظم اور قاضی امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہما کے ارشاد کے مطابق یہ حکم ہے اور اس کے مطابق فتوی دیا جاتاہے۔ت)اسی طرح اور عوارض خاصہ مثل اعتکاف واحرام وغیرہا کے باعث ان عوارض تك ممانعت ہوجاتی ہے۔اور شوہر بعد وفات اپنی عورت کو دیکھ سکتا ہے مگر اس کے بدن کو چھو نے کی اجازت نہیں لا نقطاع النکاح بالموت(اس لئے کہ موت واقع ہوجانے سے نکاح منقطع ہوجاتا ہے۔ت)اور عورت جب تك عدت میں ہے شوہر مرد کا بدن چھوسکتی اسے غسل دے سکتی ہے جبکہ اس سے پہلے بائن نہ ہو چکی ہو۔
لبقاء النکاح فی حقہا بالعدۃ نص علی ذلك فی تنویر الابصار والدرالمختار وغیرہما من معتمدات الاسفار۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس لئے کہ عدت کی وجہ سے عورت کے حق میں اس کا نکاح باقی رہتا ہے چنانچہ تنویرا لابصار اور درمختار اور ان کے علاوہ دیگر متعدد بڑی کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۰: ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہ کون اشخاص ہیں کہ جن سے نکاح حرام اور
مسئلہ ۸۹:مرسلہ محمد اکرم حسین از دوہری بوساطت مولانا حامد حسین صاحب رامپوری مدرس اول مدرسہ اہل سنت بریلی ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شوہر اپنی بی بی اور بی بی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے یا نہیں اور اس کا چھونا کیسا ہے یعنی مرد کو اپنی عورت کو اور عورت اپنے شوہر کو چھو سکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
زن وشو کا باہم ایك دوسرے کو حیات میں چھونا مطلقا جائز ہے حتی کہ فرج وذکر کو بلکہ بہ نیت صالحہ موجب ثواب واجر ہے کما نص علیہ سیدنا الامام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ(جیسا کہ ہمارے سردار امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کی تصریح فرمائی۔ت)البتہ بحالت حیض ونفاس زیر ناف زن سے زیر زانو تك چھونا منع ہوتاہے علی قول الشیخین رضی اﷲ تعالی عنہما بہ یفتی(امام اعظم اور قاضی امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہما کے ارشاد کے مطابق یہ حکم ہے اور اس کے مطابق فتوی دیا جاتاہے۔ت)اسی طرح اور عوارض خاصہ مثل اعتکاف واحرام وغیرہا کے باعث ان عوارض تك ممانعت ہوجاتی ہے۔اور شوہر بعد وفات اپنی عورت کو دیکھ سکتا ہے مگر اس کے بدن کو چھو نے کی اجازت نہیں لا نقطاع النکاح بالموت(اس لئے کہ موت واقع ہوجانے سے نکاح منقطع ہوجاتا ہے۔ت)اور عورت جب تك عدت میں ہے شوہر مرد کا بدن چھوسکتی اسے غسل دے سکتی ہے جبکہ اس سے پہلے بائن نہ ہو چکی ہو۔
لبقاء النکاح فی حقہا بالعدۃ نص علی ذلك فی تنویر الابصار والدرالمختار وغیرہما من معتمدات الاسفار۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس لئے کہ عدت کی وجہ سے عورت کے حق میں اس کا نکاح باقی رہتا ہے چنانچہ تنویرا لابصار اور درمختار اور ان کے علاوہ دیگر متعدد بڑی کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۰: ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہ کون اشخاص ہیں کہ جن سے نکاح حرام اور
وہ کون کون ہے جن سے پردہ کرنا درست نہیں۔بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
پردہ صرف ان سے نادرست ہے جو بسبب نسب کے عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوں اور کبھی کسی حالت میں ان سے نکاح ناممکن ہو جیسے باپدادانانابھائیبھتیجابھانجاچچاماموںبیٹاپوتانواساان کے سواجن سے نکاح کبھی درست ہے اگر چہ فی الحال ناجائز ہو جیسے بہنوئی جب تك بہن زندہ ہے یا چاچاماموںخالہپھوپھی کے بیٹےیا جیٹھدیور ان سے پردہ واجب ہے اور جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کبھی حلال نہیں ہوسکتا مگر وجہ حرمت علاقہ نسب نہیں بلکہ علاقہ رضاعت ہے جیسے دودھ کے رشتے سے باپد ادانانابھائیبھتیجابھانجاچچاماموںبیٹاپوتانواسایا علاقہ صہر ہو جیسے خسرساسدامادبہوان سب سے نہ پردہ واجب نہ نادرست ہے کرنا نہ کرنا دونوں جائز اور بحالت جوانی یا احتمال فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب۔خصوصا دودھ کے رشتے میں کہ عوام کے خیال میں اس کی ہیبت بہت کم ہوتی ہے جن سے نکاح حرام ہے ان کی بعض مثالیں اوپر گزریں اورپوری تفصیل آٹھ دس ورق میں آئے گی کتب فقہ میں مفصل مسطور ہے جو خاص امرد رپیش ہو اسی سے سوال کافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۱: نامحرم عورتوں کو اندھے سے پردہ کرنا لازم ہے اس زمانہ میں یا نہیں اور مقتضی احتیاط کیا ہے
الجواب:
اندھے سے پردہ ویسا ہی ہے جیسا کہ آنکھ والے سے اور اس کا گھر میں جانا عورت کے پاس بیٹھنا ویسا ہی ہے جیسا آنکھ والے کا۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
افعمیا وان انتما الستما تبصرانہ واﷲ تعالی اعلم۔ کیا تم دونوں اندھی ہو کیا تم اسے دیکھ نہیں رہی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خلوت اجنبیہ کے ساتھ جائز اور زنان شوہر دار پر پردہ کرنا واجب ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
خلوت اجنبیہ کے ساتھ حرام ہے۔احادیث امیر المومنین عمر وعبداﷲ بن عمر و جابر بن سمرہ وعامر
الجواب:
پردہ صرف ان سے نادرست ہے جو بسبب نسب کے عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوں اور کبھی کسی حالت میں ان سے نکاح ناممکن ہو جیسے باپدادانانابھائیبھتیجابھانجاچچاماموںبیٹاپوتانواساان کے سواجن سے نکاح کبھی درست ہے اگر چہ فی الحال ناجائز ہو جیسے بہنوئی جب تك بہن زندہ ہے یا چاچاماموںخالہپھوپھی کے بیٹےیا جیٹھدیور ان سے پردہ واجب ہے اور جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کبھی حلال نہیں ہوسکتا مگر وجہ حرمت علاقہ نسب نہیں بلکہ علاقہ رضاعت ہے جیسے دودھ کے رشتے سے باپد ادانانابھائیبھتیجابھانجاچچاماموںبیٹاپوتانواسایا علاقہ صہر ہو جیسے خسرساسدامادبہوان سب سے نہ پردہ واجب نہ نادرست ہے کرنا نہ کرنا دونوں جائز اور بحالت جوانی یا احتمال فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب۔خصوصا دودھ کے رشتے میں کہ عوام کے خیال میں اس کی ہیبت بہت کم ہوتی ہے جن سے نکاح حرام ہے ان کی بعض مثالیں اوپر گزریں اورپوری تفصیل آٹھ دس ورق میں آئے گی کتب فقہ میں مفصل مسطور ہے جو خاص امرد رپیش ہو اسی سے سوال کافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۱: نامحرم عورتوں کو اندھے سے پردہ کرنا لازم ہے اس زمانہ میں یا نہیں اور مقتضی احتیاط کیا ہے
الجواب:
اندھے سے پردہ ویسا ہی ہے جیسا کہ آنکھ والے سے اور اس کا گھر میں جانا عورت کے پاس بیٹھنا ویسا ہی ہے جیسا آنکھ والے کا۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی ا ﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
افعمیا وان انتما الستما تبصرانہ واﷲ تعالی اعلم۔ کیا تم دونوں اندھی ہو کیا تم اسے دیکھ نہیں رہی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خلوت اجنبیہ کے ساتھ جائز اور زنان شوہر دار پر پردہ کرنا واجب ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
خلوت اجنبیہ کے ساتھ حرام ہے۔احادیث امیر المومنین عمر وعبداﷲ بن عمر و جابر بن سمرہ وعامر
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والادب باب ماجاء احتجاب النساء من الرجال ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۱€
بن ربیعہ رضی اﷲ تعالی عنہم میں مرفوعا وراد:
الالا یخلون رجل بامرأۃ الاکان ثالثھما الشیطان وفی الاشباہ وتحرم الخلوۃ بالاجنبیۃ ویکرہ الکلام معہا۔ سن لو یعنی آگاہ ہوجاؤ کہ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے پاس اکیلا نہیں بیٹھتا مگر حال یہ ہوتا ہے کہ تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتاہے۔(لہذا وہ لعین انھیں برائی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے)اور الاشباہ والنظائر(کتب فقہ میں ہے)کہ غیر محرم عورت کے ساتھ تنہا بیٹھنا(اور خلوت اختیار کرنا) شرعا حرام ہے اور اس سے باتیں کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔(ت)
اور زنان حرام کو بنص قرآن سترواجب اور جو ان عورتوں کو اس زمانہ میں حجاب لازم۔
فی الدرالمختار وینظر من الاجنبیۃ الی وجھھا فحل النظر مقید بعدم الشہوۃ والافحرام وھذا فی زمانہم اما فی زماننا فمنع من الشابۃ قہستانی وغیرہ انتھی ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے کسی اجنبی(غیر متعلقہ)عورت کو (مرد) دیکھ سکتا ہے لیکن اس دیکھنے کا جائز ہونا اس قید سے مقید ہے کہ دیکھنے والا بشہوت نہ دیکھے ورنہ عورت کی طرف دیکھنا حرام ہے اور یہ حکم بھی ان کے زمانے میں تھا(مرادیہ کہ زمانہ سابق میں تھا)لیکن اب ہمارے زمانے میں یہ حکم ہے کہ جوان عورت کو دیکھنا ممنوع ہے۔قہستانی وغیرہ میں یہی مذکور ہے انتہی ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۳: از محلہ شہر کہنہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ تفضل حسین صاحب
علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ جو شخص نامحرم عورتوں سے اپنی پیٹھ اور ہاتھ اور پیر وقت نہانے کے ملوائے اور وقت سونے کے اپنے پیر دبوائے اور ناچنے والی عورتوں کو یعنی طوائفوں کو مرید کرے اور نال ان لوگوں کا کھائے اور بعد مرید کرنے وہ طوائفیں جو کام کرتی تھیں وہی کام کرتی رہیں اس شخص کے ہاتھ پر بیعت جائز ہے یانہیں
الالا یخلون رجل بامرأۃ الاکان ثالثھما الشیطان وفی الاشباہ وتحرم الخلوۃ بالاجنبیۃ ویکرہ الکلام معہا۔ سن لو یعنی آگاہ ہوجاؤ کہ کوئی مرد کسی غیر محرم عورت کے پاس اکیلا نہیں بیٹھتا مگر حال یہ ہوتا ہے کہ تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتاہے۔(لہذا وہ لعین انھیں برائی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے)اور الاشباہ والنظائر(کتب فقہ میں ہے)کہ غیر محرم عورت کے ساتھ تنہا بیٹھنا(اور خلوت اختیار کرنا) شرعا حرام ہے اور اس سے باتیں کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔(ت)
اور زنان حرام کو بنص قرآن سترواجب اور جو ان عورتوں کو اس زمانہ میں حجاب لازم۔
فی الدرالمختار وینظر من الاجنبیۃ الی وجھھا فحل النظر مقید بعدم الشہوۃ والافحرام وھذا فی زمانہم اما فی زماننا فمنع من الشابۃ قہستانی وغیرہ انتھی ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے کسی اجنبی(غیر متعلقہ)عورت کو (مرد) دیکھ سکتا ہے لیکن اس دیکھنے کا جائز ہونا اس قید سے مقید ہے کہ دیکھنے والا بشہوت نہ دیکھے ورنہ عورت کی طرف دیکھنا حرام ہے اور یہ حکم بھی ان کے زمانے میں تھا(مرادیہ کہ زمانہ سابق میں تھا)لیکن اب ہمارے زمانے میں یہ حکم ہے کہ جوان عورت کو دیکھنا ممنوع ہے۔قہستانی وغیرہ میں یہی مذکور ہے انتہی ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۳: از محلہ شہر کہنہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ تفضل حسین صاحب
علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ جو شخص نامحرم عورتوں سے اپنی پیٹھ اور ہاتھ اور پیر وقت نہانے کے ملوائے اور وقت سونے کے اپنے پیر دبوائے اور ناچنے والی عورتوں کو یعنی طوائفوں کو مرید کرے اور نال ان لوگوں کا کھائے اور بعد مرید کرنے وہ طوائفیں جو کام کرتی تھیں وہی کام کرتی رہیں اس شخص کے ہاتھ پر بیعت جائز ہے یانہیں
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب الرضاع باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول علی المغیبات ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۴۰،€جامع الترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۹،€موارداالظمآن ∞حدیث ۲۳۸۲€ کتاب المناقب المطبعۃ السلفیہ ومکتبتہا ∞ص۵۶۸،€المستدرك للحاکم کتاب العلم خطبہ عمررضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۱۵۔۱۱۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الانثی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۷۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی النظروالمس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۲۔۲۴۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الانثی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۷۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب فی النظروالمس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۲۔۲۴۱€
الجواب:
نامحرم عورتوں سے ہاتھ اور پیٹھ اور پنڈلیاں ملوانا یا دبوانا اگر نہ تو تنہائی میں ہو نہ محل فتنہ ہو تو حرج نہیں ورنہ گناہ ہے اور رنڈیوں سے اگر توبہ لے کر مرید کرے اور انھیں ہدایت کرے اور وہ نہ مانیں تو انھیں دورکرے اور ان کاحرام مال کسی حال میں نہ لے تو جائز ہے۔ مگر آج کل جو یہ طریقہ رائج ہے کہ دنیا پرست پیر رنڈیوں کو بلا توبہ مرید کرلیتے ہیں اور انھیں توبہ کی ہدایت نہیں کرتے اور ان کے نہ ماننے پر بقدر مقدور ان پر سختی نہیں کرتے ان سے بیزاری وجدائی نہیں کرتے ان کا حرام مال کھاتے ہیں ایسے پیر ضرور سخت شدید فاسق ہیں جو ایسا ہو اس کے ہاتھ پر بیعت ناجائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۴: از سنھبل محلہ کوٹ ضلع مراد اباد مرسلہ حافظ اکرام صاحب ۲۷ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اپنی حقیقی ہمشیرہ کے شوہر سے عورت کو پردہ کرنا فرض ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
بہنوئی کاحکم شرع میں بالکل مثل حکم اجنبی ہے بلکہ اس سے بھی زائد کہ وہ جس بے تکلفی سے آمدورفت نشست وبرخاست کرسکتاہے غیر شخص کی اتنی ہمت نہیں ہوسکتی لہذا صحیح حدیث میں ہے:
قالوا یارسول اﷲ ارأیت الحمو قال الحمو الموت ۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اﷲ ! جیٹھ دیور اور ان کے مثل رشتہ داران شوہر کا کیا حکم ہے۔ فرمایایہ تو موت ہیں۔
خصوصا ہندوستان میں بہنوئی کہ باتباع رسوم کفار ہند سالی بہنوئی میں ہنسی ہواکرتی ہے۔یہ بہت جلد شیطان کا دروازہ کھولنے والی ہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۵: مسئولہ محمد حسین سوداگر لکھیم پور ضلع کھری اودھ بر دکان محمد ضامن علی سودا گر ۴ رجب المرجب ۱۳۳۳ھ
علماء دین اس مسئلہ میں کیا فتوی دیتےہیں کہ ایک شخص نے ایک طوائف سے تعلقات ناجائز کئے جس کو عرصہ آٹھ برس کا ہوگیا۔ زشروع زمانہ میں طوائف قسم کی رو سے پابند کی گئی مگر بعد کو عہد شکنی کیایک سال تک غیر پابندی کے ساتھ تعلقات رہے لیکن بعد کو پھر طوائف نے بہ کوشش خود پابندی اختیار کی۔ظاہرہ ہر چند کوشش کی لیکن اس وقت تک پابند ظاہر ہے۔اس درمیان میں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو اس
نامحرم عورتوں سے ہاتھ اور پیٹھ اور پنڈلیاں ملوانا یا دبوانا اگر نہ تو تنہائی میں ہو نہ محل فتنہ ہو تو حرج نہیں ورنہ گناہ ہے اور رنڈیوں سے اگر توبہ لے کر مرید کرے اور انھیں ہدایت کرے اور وہ نہ مانیں تو انھیں دورکرے اور ان کاحرام مال کسی حال میں نہ لے تو جائز ہے۔ مگر آج کل جو یہ طریقہ رائج ہے کہ دنیا پرست پیر رنڈیوں کو بلا توبہ مرید کرلیتے ہیں اور انھیں توبہ کی ہدایت نہیں کرتے اور ان کے نہ ماننے پر بقدر مقدور ان پر سختی نہیں کرتے ان سے بیزاری وجدائی نہیں کرتے ان کا حرام مال کھاتے ہیں ایسے پیر ضرور سخت شدید فاسق ہیں جو ایسا ہو اس کے ہاتھ پر بیعت ناجائز ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۴: از سنھبل محلہ کوٹ ضلع مراد اباد مرسلہ حافظ اکرام صاحب ۲۷ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اپنی حقیقی ہمشیرہ کے شوہر سے عورت کو پردہ کرنا فرض ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
بہنوئی کاحکم شرع میں بالکل مثل حکم اجنبی ہے بلکہ اس سے بھی زائد کہ وہ جس بے تکلفی سے آمدورفت نشست وبرخاست کرسکتاہے غیر شخص کی اتنی ہمت نہیں ہوسکتی لہذا صحیح حدیث میں ہے:
قالوا یارسول اﷲ ارأیت الحمو قال الحمو الموت ۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اﷲ ! جیٹھ دیور اور ان کے مثل رشتہ داران شوہر کا کیا حکم ہے۔ فرمایایہ تو موت ہیں۔
خصوصا ہندوستان میں بہنوئی کہ باتباع رسوم کفار ہند سالی بہنوئی میں ہنسی ہواکرتی ہے۔یہ بہت جلد شیطان کا دروازہ کھولنے والی ہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۵: مسئولہ محمد حسین سوداگر لکھیم پور ضلع کھری اودھ بر دکان محمد ضامن علی سودا گر ۴ رجب المرجب ۱۳۳۳ھ
علماء دین اس مسئلہ میں کیا فتوی دیتےہیں کہ ایک شخص نے ایک طوائف سے تعلقات ناجائز کئے جس کو عرصہ آٹھ برس کا ہوگیا۔ زشروع زمانہ میں طوائف قسم کی رو سے پابند کی گئی مگر بعد کو عہد شکنی کیایک سال تک غیر پابندی کے ساتھ تعلقات رہے لیکن بعد کو پھر طوائف نے بہ کوشش خود پابندی اختیار کی۔ظاہرہ ہر چند کوشش کی لیکن اس وقت تک پابند ظاہر ہے۔اس درمیان میں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو اس
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النکاح باب لایخلون رجل بامرأۃ الاذومحرم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۸۷،€جامع الترمذی ابواب الرضاع ∞۱/ ۱۳۹€ و مسند احمد بن حنبل عن عقبہ بن عامر ∞۴/ ۱۴۹ و ۱۵۳€
وقت تک بعمر گیارہ ماہ ہے وہ شخص اس ناجائز تعلق سے کنارہ کش ہونا چاہتاہے مگر احباب لوگ رائے دیتے ہیں کہ اگر لڑکی اپنی عمرکو پہنچ کر اپنے پیشہ میں رہی تو اس شخص کا نامہ اعمال خراب ہوگالہذا اس شخص کو یہ دریافت طلب ہے کہ دفعۃ وہ شخص تعلقات سے کنارہ کشی اختیار کرے تو شرع سے اس کے ذمہ گناہ عائد ہوگا یا نہیںاگر صریح گناہ ہے تو اس کی بریت کی کیا دلیل ہوسکتی ہے اس شخص کے بیوی اور بچے بھی موجود ہیں اس وجہ سے وہ نکاح سے بھی علیحدہ رہنا چاہتاہے اور وہ شخص عرصہ سات برس سے اسی طوائف کے مکان پر مقیم ہے کبھی گاہے گاہے مہینہ پندرہ روز کو بتلاش روزگار باہر بھی چلا جاتاہے طوائف اور اس کے دیگر عزیز و اقارب کا مکان ایک ہی ہے لیکن اس کی نشست وبرخاست کی سرحد علیحدہ ہے اس میں کسی کا گزر نہیں بے پردگی ضرور ہے بہر حال جو کچھ احکام شرعی ونیز علمائے دین کی رائے ہو بواپسی ڈاک دستخط ثبت فرما کر احقر کے نام روانہ فرمائیں تاکہ اس شخص کو اس سے نجات ملے اور وہ شخص اپنی حرکات ناشائستہ سے توبہ بھی کرتاہے۔فقط۔
الجواب:
اﷲ عزوجل ہدایت دےشخص مذکورہ پر فرض قطعی ہے کہ فورا فورا یا تو اس عورت سے نکاح کرلے یا ابھی ابھی اسے جدا کردے جو آن دیر میں گزرے گی استحقاق عذاب الہی اس پر برابر رہے گا اور بے اس کے اس کی توبہ ہرگز مقبول نہیں۔حدیث میں فرمایا کہ:
المستغفر من الذنب وہو مقیم علیہ کالمستھزئی بربہرواہ البیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جو گناہ پر قائم رہ کر توبہ کرے وہ اپنے رب جل جلالہ سے (معاذاللہ)تمسخر کرتاہے۔(امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عسا کر نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمائی۔ت)
اور وہ لڑکی شرعا اس کی لڑکی نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:للعاھر الحجر
الجواب:
اﷲ عزوجل ہدایت دےشخص مذکورہ پر فرض قطعی ہے کہ فورا فورا یا تو اس عورت سے نکاح کرلے یا ابھی ابھی اسے جدا کردے جو آن دیر میں گزرے گی استحقاق عذاب الہی اس پر برابر رہے گا اور بے اس کے اس کی توبہ ہرگز مقبول نہیں۔حدیث میں فرمایا کہ:
المستغفر من الذنب وہو مقیم علیہ کالمستھزئی بربہرواہ البیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ جو گناہ پر قائم رہ کر توبہ کرے وہ اپنے رب جل جلالہ سے (معاذاللہ)تمسخر کرتاہے۔(امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عسا کر نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمائی۔ت)
اور وہ لڑکی شرعا اس کی لڑکی نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:للعاھر الحجر
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۷۱۷۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵/ ۴۳۶€
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول الموصی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۳،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۳۹€
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول الموصی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۳،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۳۹€
(بچہ اس کا ہے جس کے بستر پرپیدا ہو)اور زانی کے لئے کنکروپتھر ہیں۔(یعنی اس سے نسب ثابت نہیں)اور جب یہ تو بہ کرے گاوہ اگر گناہ کرے گی اس کا وبال اس پر عائد نہ ہوگا۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائیگی(روز قیامت)۔ (ت)
ہاں اگر یہ گناہ سے بچ کر آئندہ کسی تدبیر سے لڑکی کو گناہ سے بچا سکے تو ضرورہے کہ ایساکرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: از مارواڑ موضع کنوٹوٹرہ علاقہ بھاؤنگر مسئولہ مولوی فضل امیر امام مسجد روزیک شنبہ بتاریخ ۱۲ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اگر مسجد کے اندر وعظ یا میلاد کی محفل ہوتی ہو توکیا عورتوں کو مسجد کے اندر باپردہ آنے کی اجازت ہے یا کہ نماز پڑھنا عورتوں کو مسجد کے اندر جائز یاکہ نہیں
الجواب:
عورتیں نماز مسجد سے ممنوع ہیں اور واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ وبیان صحیح ومطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور کوئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور ان کی نشست ہو تو حرج نہیں مگر مساجد کے جانے میں ان شرائط کا اجتماع خیال و تصور سے باہر شاید نہ ہوسکےومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل (جو کوئی اپنے زمانے والوں کو نہ پہچانے تو نادان(اور ناسمجھ)ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷:از بنارس چھاؤنی محلہ دبٹوری محال تھانہ سکرور رسیدہ مولوی عبدالوہاب بروز چہار شنبہ بتاریخ ۲۱ صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ
یہ کہ ایسے شخص کے سامنے جو ابھی جوان ہو اور وہ پیری مرید کرتا ہو تو عورتوں کو بلا پردہ جانا جائز ہے یانہیں اور جبکہ خود پیر صاحب خواہش سے مجبور کرکے بلاتے ہیں۔
الجواب:
بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائیگی(روز قیامت)۔ (ت)
ہاں اگر یہ گناہ سے بچ کر آئندہ کسی تدبیر سے لڑکی کو گناہ سے بچا سکے تو ضرورہے کہ ایساکرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶: از مارواڑ موضع کنوٹوٹرہ علاقہ بھاؤنگر مسئولہ مولوی فضل امیر امام مسجد روزیک شنبہ بتاریخ ۱۲ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اگر مسجد کے اندر وعظ یا میلاد کی محفل ہوتی ہو توکیا عورتوں کو مسجد کے اندر باپردہ آنے کی اجازت ہے یا کہ نماز پڑھنا عورتوں کو مسجد کے اندر جائز یاکہ نہیں
الجواب:
عورتیں نماز مسجد سے ممنوع ہیں اور واعظ یا میلاد خواں اگر عالم سنی صحیح العقیدہ ہو اور اس کا وعظ وبیان صحیح ومطابق شرع ہو اور جانے میں پوری احتیاط اور کامل پردہ ہو اور کوئی احتمال فتنہ نہ ہو اور مجلس رجال سے دور ان کی نشست ہو تو حرج نہیں مگر مساجد کے جانے میں ان شرائط کا اجتماع خیال و تصور سے باہر شاید نہ ہوسکےومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل (جو کوئی اپنے زمانے والوں کو نہ پہچانے تو نادان(اور ناسمجھ)ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷:از بنارس چھاؤنی محلہ دبٹوری محال تھانہ سکرور رسیدہ مولوی عبدالوہاب بروز چہار شنبہ بتاریخ ۲۱ صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ
یہ کہ ایسے شخص کے سامنے جو ابھی جوان ہو اور وہ پیری مرید کرتا ہو تو عورتوں کو بلا پردہ جانا جائز ہے یانہیں اور جبکہ خود پیر صاحب خواہش سے مجبور کرکے بلاتے ہیں۔
الجواب:
بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹€
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹€
حصہ یاگلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طورپو تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقا حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا عالم۔یا عامی جوان ہویا بوڑھااور اگر بدن موٹے اور ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہے نہ ایسے باریک کہ بدن یا بالوں کی رنگت چمکے۔نہ ایسے تنگ کہ بدن کی حالت دکھائیں اور جانا تنہائی میں نہ ہو او رپیر جوان نہ ہوغرض کوئی فنتہ نہ فی الحال ہونہ اس کا اندیشہ ہو تو علم دین امور راہ خدا سیکھنے کے لئے جانے اور بلا نے میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۸:ماہ صفر کے آخر چہار شنبہ کو عورتیں بطور سفر شہر سے باہر جائیں اور قبروں پر نیاز وغیرہ دلائیں جائز ہے یانہیں بینوا ز توجروا
الجواب:
ہر گز نہ ہو سخت فتنہ ہے۔اور چہار شنبہ محض بے اصل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹: مسئولہ مسلمانان جام جودھپور کاٹھیاواڑ معرفت شیخ عبدالستار صاحب پوربند کاٹھیاواڑ متصل قندیل ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
چند عورتیں ایک ساتھ ملک کر گھرمیں میلاد شریف پڑھتی ہیں اور آواز باہرتک سنائی دیتی ہے یونہی محرم کے مہینے میں کتاب شہادت وغیرہ بھی ایک ساتھ آواز ملا کر پڑھتی ہیں۔یہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
ناجائزہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اور عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ عبدالستار بن اسمعیل رضوی بروز شنبہ تاریخ ۱۷ رجب ۱۳۳۴ھ
بہو اپنے خسر کا پردہ کرے یا نہ کرے۔اسی طرح جیٹھ دیور کا کیا حکم ہے
الجواب:
جیٹھ اور دیور سے پردہ واجب ہے کہ وہ نامحرم ہیں اور خسر سے پردہ واجب نہیں جائز ہے۔اس کا ضابطہ کلیہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقا واجب۔اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرناواجب اگر کریگی گنہگار ہوگی اور محارم غیر نسبی مثل علاقہ مصاہرت ورضاعت ان سے پردہ کرنا اور نہ کرنادونوں جائز۔مصلحت وحالت پر لحاظ ہوگا۔اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے۔یہی حکم خسر اور بہو کا ہے۔اورجہاں معاذاﷲ فتنہ ہو پردہ واجب ہوجائے گا۔" واللہ یعلم المفسد
من المصلح" (اﷲ تعالی فسا د کرنے والے کو اصلاح کرنے والے سے جانتاہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱و۱۰۲: از فرخ آباد شمس الدین احمد ۱۸ شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
(۱)ایک شخص اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ کبھی تو ایک دالان میں تنہا رات کو سوتا ہے اور دروازہ دالان کا موٹی چکوں سے پردہ دار ہوتا ہے۔باہر سے اندر کاکچھ حال کسی کو نظر نہیں آتا اور چراغ وغیرہ بھی نہیں ہوتا۔سوتے وقت اندھیرا کرلیا جاتاہےاور کبھی کوٹھری کے اندر ایک شخص اور کوٹھری کے باہر دوسرا شخص اور تیسرا کوئی نہیں۔اس طرح سے سوتے ہیں۔اور کبھی تنہا ایک مکان میں۔
(۲)روزانہ کے برتاؤ بالکل ایسے ہیں جیسے میاں بی بی کے ان دونوں کے بہت قریبی لوگوں سے جو سنا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم کو مسائل شریعت معلوم نہیں ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ان دونوں نے آپس میں خفیہ نکاح کرلیا ہے۔یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اس مکان میں یا تو ہمیشہ رہتے
مسئلہ ۹۸:ماہ صفر کے آخر چہار شنبہ کو عورتیں بطور سفر شہر سے باہر جائیں اور قبروں پر نیاز وغیرہ دلائیں جائز ہے یانہیں بینوا ز توجروا
الجواب:
ہر گز نہ ہو سخت فتنہ ہے۔اور چہار شنبہ محض بے اصل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹: مسئولہ مسلمانان جام جودھپور کاٹھیاواڑ معرفت شیخ عبدالستار صاحب پوربند کاٹھیاواڑ متصل قندیل ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
چند عورتیں ایک ساتھ ملک کر گھرمیں میلاد شریف پڑھتی ہیں اور آواز باہرتک سنائی دیتی ہے یونہی محرم کے مہینے میں کتاب شہادت وغیرہ بھی ایک ساتھ آواز ملا کر پڑھتی ہیں۔یہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
ناجائزہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اور عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ عبدالستار بن اسمعیل رضوی بروز شنبہ تاریخ ۱۷ رجب ۱۳۳۴ھ
بہو اپنے خسر کا پردہ کرے یا نہ کرے۔اسی طرح جیٹھ دیور کا کیا حکم ہے
الجواب:
جیٹھ اور دیور سے پردہ واجب ہے کہ وہ نامحرم ہیں اور خسر سے پردہ واجب نہیں جائز ہے۔اس کا ضابطہ کلیہ ہے کہ نامحرموں سے پردہ مطلقا واجب۔اور محارم نسبی سے پردہ نہ کرناواجب اگر کریگی گنہگار ہوگی اور محارم غیر نسبی مثل علاقہ مصاہرت ورضاعت ان سے پردہ کرنا اور نہ کرنادونوں جائز۔مصلحت وحالت پر لحاظ ہوگا۔اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ مناسب ہے۔یہی حکم خسر اور بہو کا ہے۔اورجہاں معاذاﷲ فتنہ ہو پردہ واجب ہوجائے گا۔" واللہ یعلم المفسد
من المصلح" (اﷲ تعالی فسا د کرنے والے کو اصلاح کرنے والے سے جانتاہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱و۱۰۲: از فرخ آباد شمس الدین احمد ۱۸ شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
(۱)ایک شخص اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ کبھی تو ایک دالان میں تنہا رات کو سوتا ہے اور دروازہ دالان کا موٹی چکوں سے پردہ دار ہوتا ہے۔باہر سے اندر کاکچھ حال کسی کو نظر نہیں آتا اور چراغ وغیرہ بھی نہیں ہوتا۔سوتے وقت اندھیرا کرلیا جاتاہےاور کبھی کوٹھری کے اندر ایک شخص اور کوٹھری کے باہر دوسرا شخص اور تیسرا کوئی نہیں۔اس طرح سے سوتے ہیں۔اور کبھی تنہا ایک مکان میں۔
(۲)روزانہ کے برتاؤ بالکل ایسے ہیں جیسے میاں بی بی کے ان دونوں کے بہت قریبی لوگوں سے جو سنا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم کو مسائل شریعت معلوم نہیں ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ ان دونوں نے آپس میں خفیہ نکاح کرلیا ہے۔یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اس مکان میں یا تو ہمیشہ رہتے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۲۰€
ہیں یا کبھی جا کر دو چار روز رہتے ہیں اور حالات دیکھتے ہیں کیا ان دونوں شخصوں کا ایسا تخلیہ جائز ہے۔اور ان دونوں یا ایک کے کسی رشتہ دار کو جو چھوٹا ہو اس معاملہ سے منع کرنا چاہئے حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ ان دونوں کو اس بات سے منع کیا جائے گا تو بہت سخت مخالف اور رنجیدہ منع کرنے والے سے ہوں گے۔فقط۔
الجواب:
(۱)اس کی اجازت نہیں اگر چہ وہ اس پر حرام ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الشیطان یجری من الانسان مجری الدم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بیشک شیطان جسم انسانی میں اس کے خون کی طرح رواں دواں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)ایسے برتاؤ سے ان پر احتراز لازم ہے۔حدیث میں آیا ہے:
من کان یؤمن باﷲ و بالیوم الاخر فلا یقفن مواقف جو کوئیاﷲ تعالی اور یوم آخرت پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے
الجواب:
(۱)اس کی اجازت نہیں اگر چہ وہ اس پر حرام ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الشیطان یجری من الانسان مجری الدم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بیشک شیطان جسم انسانی میں اس کے خون کی طرح رواں دواں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)ایسے برتاؤ سے ان پر احتراز لازم ہے۔حدیث میں آیا ہے:
من کان یؤمن باﷲ و بالیوم الاخر فلا یقفن مواقف جو کوئیاﷲ تعالی اور یوم آخرت پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس وجنودہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶۴€
التھم ۔ کہ وہ مقامات تہمت میں نہ ٹھہرے(تاکہ بلا وجہ بدنام نہ ہو جائے)۔(ت)
علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ چاہئے۔یونہی حقیقی رضاعی بہن سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳: از بنارس محلہ پیر کنڈہ مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب ۷ شعبان ۱۳۳۵ھ
عورتوں کابیان میلاد شریف آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زنانی محفل میں بآواز بلند نثر ونظم پڑھنا اور نظم خوش آواز ولحن کے ساتھ پڑھنا اورمکان کے باہر سے ہمسایہ کے مردوں اور نامحرموں کا سننا تو ایسا پڑھنا جائز ہے یا ناجائزہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
عورت کا خوش الحانی سے بآواز پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے حرام ہے نوازل میں فقیہ ابواللیث میں ہے:
نغمۃ المرأۃ عورۃ ۔ عورت کا خوش آواز کرکے پڑھنا"عورۃ"یعنی محل ستر ہے۔(ت)
کافی امام ابوالبرکات نسفی میں ہے:
لاتلبی جھرا لا ن صوتھا عورۃ ۔ عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے اس لئے کہ اس کی آواز قابل ستر ہے۔(ت)
امام ابوالعباس قرطبی کی کتاب السماع پھر بحوالہ علامہ علی مقدسی امداد الفتاح علامہ شرنبلالی پھر ردالمحتار علامہ شامی میں ہے:
لانجیز لھن رفع اصواتھن ولا تمطیطھا ولا تلییناھا وتقطیعھا لما فی ذلک من استمالۃ الرجال الیھن و تحریک الشہوات منھمومن ھذا لم یجز عورتوں کو اپنی آواز یں بلند کرناانھیں لمبا اور دراز کرناان میں نرم لہجہ اختیار کرنا اور ان میں تقطیع کرنا(یعنی کاٹ کاٹ کر تحلیل عروض کے مطابق)اشعار کی طرح آواز یں نکالناہم ان سب کاموں
علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ جوان ساس کو داماد سے پردہ چاہئے۔یونہی حقیقی رضاعی بہن سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳: از بنارس محلہ پیر کنڈہ مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب ۷ شعبان ۱۳۳۵ھ
عورتوں کابیان میلاد شریف آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زنانی محفل میں بآواز بلند نثر ونظم پڑھنا اور نظم خوش آواز ولحن کے ساتھ پڑھنا اورمکان کے باہر سے ہمسایہ کے مردوں اور نامحرموں کا سننا تو ایسا پڑھنا جائز ہے یا ناجائزہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
عورت کا خوش الحانی سے بآواز پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے حرام ہے نوازل میں فقیہ ابواللیث میں ہے:
نغمۃ المرأۃ عورۃ ۔ عورت کا خوش آواز کرکے پڑھنا"عورۃ"یعنی محل ستر ہے۔(ت)
کافی امام ابوالبرکات نسفی میں ہے:
لاتلبی جھرا لا ن صوتھا عورۃ ۔ عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے اس لئے کہ اس کی آواز قابل ستر ہے۔(ت)
امام ابوالعباس قرطبی کی کتاب السماع پھر بحوالہ علامہ علی مقدسی امداد الفتاح علامہ شرنبلالی پھر ردالمحتار علامہ شامی میں ہے:
لانجیز لھن رفع اصواتھن ولا تمطیطھا ولا تلییناھا وتقطیعھا لما فی ذلک من استمالۃ الرجال الیھن و تحریک الشہوات منھمومن ھذا لم یجز عورتوں کو اپنی آواز یں بلند کرناانھیں لمبا اور دراز کرناان میں نرم لہجہ اختیار کرنا اور ان میں تقطیع کرنا(یعنی کاٹ کاٹ کر تحلیل عروض کے مطابق)اشعار کی طرح آواز یں نکالناہم ان سب کاموں
حوالہ / References
مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی باب ادراک الفریضہ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹€
ردالمحتار بحوالہ النوازل باب شروط الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۷۲€
ردالمحتار بحوالہ الکافی باب شروط الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۷۲€
ردالمحتار بحوالہ النوازل باب شروط الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۷۲€
ردالمحتار بحوالہ الکافی باب شروط الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۷۲€
ان تؤذن المرأۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کی عورتوں کو اجازت نہیں دیتے اس لئے کہ ان سب باتوں میں مردوں کا ان کی طرف مائل ہونا پایا جائے گا۔اور ان مردوں میں جذبات شہوانی کی تحریک پیدا ہوگی۔اس وجہ سے عورت کویہ اجازت نہیں کہ وہ اذان دے۔اور اﷲ سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۴: ازقصبہ باراں ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ قاضی امتیاز علی صاحب ۶ شوال ۱۳۳۵ھ
زانی اور دیوث سے کہاں تک احتراز کرنا چاہئے بینوا توجروا۔
الجواب:
زانی اور دیوث فاسق ہیں ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے میل جول سے احتراز چاہئے۔
قال اﷲ و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں کبھی شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالم گروہ کے پاس مت بیٹھو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۵و۱۰۶: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی مورخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان عظام مسائل مفصلہ ذیل میں کہ:
(۱)وہ شخص کتنے ہیں جن سے عورتوں کو پردہ نہ کرنا جائز ہے
(۲)کتنے شخص ایسے ہیں جن سے عورتوں کو گفتگو کرنا اوران کو اپنا آواز سنانا جائز ہے
الجواب:
(۱)تمام محارم مگر رضاعی محارم سے جوان عورت کو پردہ اولی ہے۔اور ممکن ہو تو محارم صہری سے بھی۔
(۲)تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہونہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷: از ڈاکخانہ چیگانگ محلہ میدنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمد عمر ۵/ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
یہاں کے مسلمان اپنی عورتوں کو پہاڑوں اور جنگلوں میں بھیجتے ہیں اور غیرمحرم آدمیوں سے کلام اور
مسئلہ ۱۰۴: ازقصبہ باراں ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ قاضی امتیاز علی صاحب ۶ شوال ۱۳۳۵ھ
زانی اور دیوث سے کہاں تک احتراز کرنا چاہئے بینوا توجروا۔
الجواب:
زانی اور دیوث فاسق ہیں ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے میل جول سے احتراز چاہئے۔
قال اﷲ و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں کبھی شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالم گروہ کے پاس مت بیٹھو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۵و۱۰۶: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی مورخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان عظام مسائل مفصلہ ذیل میں کہ:
(۱)وہ شخص کتنے ہیں جن سے عورتوں کو پردہ نہ کرنا جائز ہے
(۲)کتنے شخص ایسے ہیں جن سے عورتوں کو گفتگو کرنا اوران کو اپنا آواز سنانا جائز ہے
الجواب:
(۱)تمام محارم مگر رضاعی محارم سے جوان عورت کو پردہ اولی ہے۔اور ممکن ہو تو محارم صہری سے بھی۔
(۲)تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہونہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷: از ڈاکخانہ چیگانگ محلہ میدنگ ضلع اکیاب مرسلہ محمد عمر ۵/ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
یہاں کے مسلمان اپنی عورتوں کو پہاڑوں اور جنگلوں میں بھیجتے ہیں اور غیرمحرم آدمیوں سے کلام اور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب شروط الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۷۲€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
ہنسی مذاق کرتی ہیں بالکل ہی بے دریغ وبے پردہ ہے۔اگر ان لوگوں کو کوئی عالم وعظ ونصیحت کرے تو اس کو تمسخر واستہزاء کرتے ہیں اور طعن لعن کرتے ہیں حسب شریعت ان لوگوں پر کیا حکم ہے
الجواب:
یہ لوگ دیوث ہیں اور دیوث کو فرمایا کہ اس پر جنت حرام ہے۔دیوثی بھی فقط اس فعل تک ہے وہ جو سائل نے بیان کیا کہ احکام شریعت کے ساتھ تمسخر واستہزاء اور عالم پر طعن ولعن کرتے ہیں یہ تو صریح کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالی وہ ایمان سے نکل جاتے ہیں اور ان کی عورتیں نکاح سے۔
قال اﷲ تعالی " اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کیا تم لوگ اﷲ تعالی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہولہذا معذرت نہ کرو اور بہانے نہ بناؤ۔بلا شبہہ تم ایمان کے بعد کافر ہوگئے ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۸: از چتوڑ ضلع مراد آباد تحصیل مرسلہ اشرف علی خاں ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایک شخص مجلوق ہے وہ اپنے اس فعل سے نہیں مانتا ہر چند اس کو سمجھایا ہے آپ تحریر فرمائیں کہ اس کا کیاحشر ہوگا اور اس کو کیا دعا پڑھنا چاہئے جس سے اس کی عادت چھوٹے۔
الجواب:
وہ گنہگار ہے۔عاصی ہے۔اصرار کے سبب مرتکب کبیرہ ہے۔فاسق ہے۔حشر میں ایسوں کی ہتھیلیاں گابھن اٹھیں گی جس سے مجمع اعظم میں ان کی رسوائی ہوگی اگر توبہ نہ کریں اور اﷲ معاف فرماتا ہے جسے چاہے اور عذاب فرماتاہے جسے چاہے۔اسے چاہئے لاحول شریف کی کثرت کرے اور جب شیطان اس حرکت کی طرف بلائے فورادل سے متوجہ بخدا ہوکر لاحول پڑھے نماز پنجگانہ کی پابندی کرے نماز صبح کے بعد بلاناغہ سورۃ اخلاص شریف کا ورد رکھے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹ و ۱۱۰: از فیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)اگر پیر ضعیف نہیں ہے جوان ہے اور مستورات اپنی خوشی سے بے پردہ اس کی خدمت کریں ہاتھ پیر دابیں جائز ہے
(۲)اگر لڑکیاں جوان جن کی صرف ماں مرید ہے وہ لڑکیاں مع اپنی ماں کے پیر کے اور پیر کی اولاد کے سامنے
الجواب:
یہ لوگ دیوث ہیں اور دیوث کو فرمایا کہ اس پر جنت حرام ہے۔دیوثی بھی فقط اس فعل تک ہے وہ جو سائل نے بیان کیا کہ احکام شریعت کے ساتھ تمسخر واستہزاء اور عالم پر طعن ولعن کرتے ہیں یہ تو صریح کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالی وہ ایمان سے نکل جاتے ہیں اور ان کی عورتیں نکاح سے۔
قال اﷲ تعالی " اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کیا تم لوگ اﷲ تعالی اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہولہذا معذرت نہ کرو اور بہانے نہ بناؤ۔بلا شبہہ تم ایمان کے بعد کافر ہوگئے ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۸: از چتوڑ ضلع مراد آباد تحصیل مرسلہ اشرف علی خاں ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایک شخص مجلوق ہے وہ اپنے اس فعل سے نہیں مانتا ہر چند اس کو سمجھایا ہے آپ تحریر فرمائیں کہ اس کا کیاحشر ہوگا اور اس کو کیا دعا پڑھنا چاہئے جس سے اس کی عادت چھوٹے۔
الجواب:
وہ گنہگار ہے۔عاصی ہے۔اصرار کے سبب مرتکب کبیرہ ہے۔فاسق ہے۔حشر میں ایسوں کی ہتھیلیاں گابھن اٹھیں گی جس سے مجمع اعظم میں ان کی رسوائی ہوگی اگر توبہ نہ کریں اور اﷲ معاف فرماتا ہے جسے چاہے اور عذاب فرماتاہے جسے چاہے۔اسے چاہئے لاحول شریف کی کثرت کرے اور جب شیطان اس حرکت کی طرف بلائے فورادل سے متوجہ بخدا ہوکر لاحول پڑھے نماز پنجگانہ کی پابندی کرے نماز صبح کے بعد بلاناغہ سورۃ اخلاص شریف کا ورد رکھے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹ و ۱۱۰: از فیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)اگر پیر ضعیف نہیں ہے جوان ہے اور مستورات اپنی خوشی سے بے پردہ اس کی خدمت کریں ہاتھ پیر دابیں جائز ہے
(۲)اگر لڑکیاں جوان جن کی صرف ماں مرید ہے وہ لڑکیاں مع اپنی ماں کے پیر کے اور پیر کی اولاد کے سامنے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۶۵ و ۶۶€
آئیں شوہر یا رشتہ دار کی اجازت اس پر ہے وہ پیر اور وہ عورت اور رشتہ دار اور شوہر سب کو جائز ہے یاحرام ہے
الجواب:
(۱)اجنبی جوان عورت کو جوا ن مرد کے ہاتھ پاؤں چھونا جائز نہیں اگر چہ پیر ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)اگر سامنے آنا بے ستری سے ہے کہ کپڑے باریک ہیں جن سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بال یا گلے یا کلائیوں کا کوئی حصہ کھلا ہے تو سب کو حرام ہے۔اور ستر کامل کے ساتھ ہو اور خلوت نہ ہو اور احتمال فتنہ نہ ہو تو حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۱: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زر دوز مالک فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ:تخمینا ماہ سوا ماہ شادی سے قبل دولھا اور دولھن کو ابٹن ملا جاتا ہے اس کےلئے اپنے خویش واقارب برادری کی عورتیں بلائی جاتی ہیں دولھا خود بالغ ہو یانابالغ ان کو اکثر وہ عورتیں جن سے رشتہ مذاق کا ہوتا ہے وہی بدن وغیرہ سارے بدن میں ابٹن لگاتی ہیں اور اس کے بعد سب کو گڑ تقسیم کیا جاتاہے یہ اسراف ہے یانہیں
الجواب:
ابٹن ملنا جائزہے اور کسی خوشی پر گڑ کی تقسیم اسراف نہیں اور دولھا کی عمر نو دس سال کی ہو تو اجنبی عورتوں کا اس کے بدن میں ابٹن ملنا بھی گناہ وممنوع نہیں۔ہاں بالغ کے بدن میں نامحرم عورتوں کا ملنانا جائز ہے اور بدن کو ہاتھ تو ماں بھی نہیں لگاسکتی یہ حرام اور سخت حرام ہے۔اور عورت ومرد کے مذاق کا رشتہ شریعت نے کوئی نہیں رکھا یہ شیطانی وہندوانی رسم ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲:از باگ ضلع امچہرہ ریاست گوالیار مکان منشی اوصاف علی صاحب مرسلہ شیخ اشرف علی صاحب سب انسپکٹر ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
عورتیں باہم گلا ملا کرمولود شریف پڑھتی ہیں اور ان کی آوازیں غیر مرد باہر سنتے ہیں تو اب ان کا اس طریقہ سے مولود شریف پڑھنا ان کے حق میں باعث ثواب کا ہے یا کیا
الجوا ب:
عورتوں کا اس طرح پڑھنا کہ ان کی آواز نامحرم سنیں باعث ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے واﷲ تعالی اعلم
الجواب:
(۱)اجنبی جوان عورت کو جوا ن مرد کے ہاتھ پاؤں چھونا جائز نہیں اگر چہ پیر ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)اگر سامنے آنا بے ستری سے ہے کہ کپڑے باریک ہیں جن سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بال یا گلے یا کلائیوں کا کوئی حصہ کھلا ہے تو سب کو حرام ہے۔اور ستر کامل کے ساتھ ہو اور خلوت نہ ہو اور احتمال فتنہ نہ ہو تو حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۱: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زر دوز مالک فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ:تخمینا ماہ سوا ماہ شادی سے قبل دولھا اور دولھن کو ابٹن ملا جاتا ہے اس کےلئے اپنے خویش واقارب برادری کی عورتیں بلائی جاتی ہیں دولھا خود بالغ ہو یانابالغ ان کو اکثر وہ عورتیں جن سے رشتہ مذاق کا ہوتا ہے وہی بدن وغیرہ سارے بدن میں ابٹن لگاتی ہیں اور اس کے بعد سب کو گڑ تقسیم کیا جاتاہے یہ اسراف ہے یانہیں
الجواب:
ابٹن ملنا جائزہے اور کسی خوشی پر گڑ کی تقسیم اسراف نہیں اور دولھا کی عمر نو دس سال کی ہو تو اجنبی عورتوں کا اس کے بدن میں ابٹن ملنا بھی گناہ وممنوع نہیں۔ہاں بالغ کے بدن میں نامحرم عورتوں کا ملنانا جائز ہے اور بدن کو ہاتھ تو ماں بھی نہیں لگاسکتی یہ حرام اور سخت حرام ہے۔اور عورت ومرد کے مذاق کا رشتہ شریعت نے کوئی نہیں رکھا یہ شیطانی وہندوانی رسم ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲:از باگ ضلع امچہرہ ریاست گوالیار مکان منشی اوصاف علی صاحب مرسلہ شیخ اشرف علی صاحب سب انسپکٹر ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
عورتیں باہم گلا ملا کرمولود شریف پڑھتی ہیں اور ان کی آوازیں غیر مرد باہر سنتے ہیں تو اب ان کا اس طریقہ سے مولود شریف پڑھنا ان کے حق میں باعث ثواب کا ہے یا کیا
الجوا ب:
عورتوں کا اس طرح پڑھنا کہ ان کی آواز نامحرم سنیں باعث ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۳: مسئولہ تاج محمد صاحب محلہ مرزا واری از اوجین ملک مالوہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں بارہ کہ مسماۃ ہر دلعزیز طوائف بالغہ نے جلسہ عام سودوسوآدمی میں مسمی دلگداز خاں سے بخوشی خاطر نکاح کیا قاضی صاحب شریعت پناہ کے نائب حسب قاعدہ شہر تشریف لائے اور باقاعدہ نکاح پڑھایادو روز منکوحہ مذکورہ ناکح مذکور کے گھر رہی اور پھر چار کوس مقام پرکہ وہاں دلگداز خان کا قیام ہے وہ اسے لے گیا ادھر مسماۃ ہر دلعزیز کی نائکہ مسماۃ دلکش نے بصلاح وکیل دلاور خاں بنام دلگداز خاں فراری کا مقدمہ قائم کرکے ذریعہ پولیس دلگداز خاں کو پھنسا دیا اب دلاور خاں وکیل باوجود علم نکاح کے مسماۃ دلکش سے روپیہ محنتانہ معقول رقم کھا کر تدابیر اس قسم کی کررہے ہیں کہ مسماہ ہر دلعزیز دلگداز خاں سے علیحدہ کی جائے اورسپرد نائکہ ہوکر پیشہ حرام کاری کرے۔دوران تحقیقات میں مسماۃ ہر دلعزیز کو بھی ورغلادیا ہے کہ وہ اب یہ کہتی ہے کہ میں نے بخوشی خود نکاح نہیں کیا بلکہ مجھے نشہ پلا دیا تھا اور ہمچو قسم تعلیم گواہان وغیرہ جھوٹی کارروائی وکیل موصوف ونیز چند پیروکاران مسلمان منجانب مسماۃ دلکش بطمع زر وبعض بسلسلہ تعلقات ناجائز کررہے ہیں اگر ان کی کوشش سے ایسا ہوگیا کہ مسماۃ ہر دلعزیز کا نکاح ناجائز قرارپایا اور وہ سپرد اس نائکہ کے ہوگئی اور طوائف کاپیشہ کرنے لگی اور اس کے بطن سے حرام کاری کی لڑکی پیدا ہوئی اوراس کی اولاد در اولاد تا قیامت حرام کاری کرتی رہی تو اس کا مواخذہ بروز حشر کس سے ہوگا عنداﷲ جواب دیں فقط۔
الجواب:
ایسی بات پوچھنا فضول ہے کوئی چھپا ہوا مسئلہ ہوتا تو احتمال ہوتا کہ ان کو معلوم نہیں حکم بتادیا جاتا اور جو لوگ اﷲ ورسول کو پیٹھ دے کر دیدہ ودانستہ علانیہ ایسے کبائر عظیمہ کا ارتکاب کریں ان پر فتوی کاکیا اثر ہوگا جان رہے ہیں کہ اﷲ واحد قہار کا غضب اپنے سر لے رہے ہیں پھر فتوے سے کیا متاثر ہوسکتے ہیں۔ہاں مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں سے قطعا قطع تعلق کرلیں اور ان سے سلام کلام میل جول یک لحظہ چھوڑدیں ایسا نہ ہو کہ ان کی آگ میں یہ بھی جل جائیں۔
قال اﷲ تعالی و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔وقال تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھواور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اور ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں بارہ کہ مسماۃ ہر دلعزیز طوائف بالغہ نے جلسہ عام سودوسوآدمی میں مسمی دلگداز خاں سے بخوشی خاطر نکاح کیا قاضی صاحب شریعت پناہ کے نائب حسب قاعدہ شہر تشریف لائے اور باقاعدہ نکاح پڑھایادو روز منکوحہ مذکورہ ناکح مذکور کے گھر رہی اور پھر چار کوس مقام پرکہ وہاں دلگداز خان کا قیام ہے وہ اسے لے گیا ادھر مسماۃ ہر دلعزیز کی نائکہ مسماۃ دلکش نے بصلاح وکیل دلاور خاں بنام دلگداز خاں فراری کا مقدمہ قائم کرکے ذریعہ پولیس دلگداز خاں کو پھنسا دیا اب دلاور خاں وکیل باوجود علم نکاح کے مسماۃ دلکش سے روپیہ محنتانہ معقول رقم کھا کر تدابیر اس قسم کی کررہے ہیں کہ مسماہ ہر دلعزیز دلگداز خاں سے علیحدہ کی جائے اورسپرد نائکہ ہوکر پیشہ حرام کاری کرے۔دوران تحقیقات میں مسماۃ ہر دلعزیز کو بھی ورغلادیا ہے کہ وہ اب یہ کہتی ہے کہ میں نے بخوشی خود نکاح نہیں کیا بلکہ مجھے نشہ پلا دیا تھا اور ہمچو قسم تعلیم گواہان وغیرہ جھوٹی کارروائی وکیل موصوف ونیز چند پیروکاران مسلمان منجانب مسماۃ دلکش بطمع زر وبعض بسلسلہ تعلقات ناجائز کررہے ہیں اگر ان کی کوشش سے ایسا ہوگیا کہ مسماۃ ہر دلعزیز کا نکاح ناجائز قرارپایا اور وہ سپرد اس نائکہ کے ہوگئی اور طوائف کاپیشہ کرنے لگی اور اس کے بطن سے حرام کاری کی لڑکی پیدا ہوئی اوراس کی اولاد در اولاد تا قیامت حرام کاری کرتی رہی تو اس کا مواخذہ بروز حشر کس سے ہوگا عنداﷲ جواب دیں فقط۔
الجواب:
ایسی بات پوچھنا فضول ہے کوئی چھپا ہوا مسئلہ ہوتا تو احتمال ہوتا کہ ان کو معلوم نہیں حکم بتادیا جاتا اور جو لوگ اﷲ ورسول کو پیٹھ دے کر دیدہ ودانستہ علانیہ ایسے کبائر عظیمہ کا ارتکاب کریں ان پر فتوی کاکیا اثر ہوگا جان رہے ہیں کہ اﷲ واحد قہار کا غضب اپنے سر لے رہے ہیں پھر فتوے سے کیا متاثر ہوسکتے ہیں۔ہاں مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے لوگوں سے قطعا قطع تعلق کرلیں اور ان سے سلام کلام میل جول یک لحظہ چھوڑدیں ایسا نہ ہو کہ ان کی آگ میں یہ بھی جل جائیں۔
قال اﷲ تعالی و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔وقال تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھواور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اور ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
مسئلہ ۱۱۴: مرسلہ نظام خاں از ریوان محلہ گھر گھر ۲۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا کہتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک بہن ہے دوسری کے ساتھ وہ زنا کا مرتکب ہے۔اور لڑکی کا باپ اور دادا حرام کرنے والے کو رکھے ہوئے ہیں اور ہر قسم کی ان کی مدد کرتے ہیں اور یہ لوگ اس کے معاون پڑھے لکھے ہیں شریعت سے واقف ہیں مگر اس فعل سے باز نہیں رکھتے اگر یہ تاکید کریں یقینا یہ لوگ اپنے فعل ناشائستہ سے باز ر ہیں۔ایسی حالت میں یہ لوگ دائرہ اسلام سے باہر ہوئے یانہیں ان سے سلام کلامان کا چھوا کھاناان کے پیچھے نمازان کی بیمار پرسیان کے جنازے کی نمازان کو مٹی دینا شرعا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ اگر واقعی ہے اور اس میں بدگمانی کو دخل نہیں تو وہ مرد وعورت زانی وزانیہ ہیں۔اور وہ اس کے معاون اورشنیع کبیرہ پر راضی ہونے والےبندوبست نہ کرنے والے دیوث ہیں دیوث پر لعنت آئی ہے اسے امام بنانا ناجائز ہے۔اس سے سلام کلام ترک کردینا مناسب ہے مگر اتنی بات سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوئے۔نہ ان پرمرتدین کے احکام آسکیں جب تک معاذاﷲ اس کبیرہ کوحلال نہ جانیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۵: از شہر محلہ کنگھی ٹولہ مسئولہ نبی بخش ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر عورتیں منہار کو بلا کرپردہ میں سے ہاتھ نکال کر منہار کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چوڑیاں پہنتی ہیں یہ جائز ہے یانہیں اور بعض عورتیں اپنے مردوں کے سامنے منہار کے ہاتھ سے چوڑیاں پہنتی ہیں اور بعض شخص خود اپنے موجودگی میں بلا پردہ کے اپنی عورت کو چوڑیاں پہناتے ہیں۔یہ چوڑیاں غیر مرد کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر خواہ پردہ میں سے یا بلا پردہ کے جائز ہے یانہیں
الجواب:
حرام حرام حرام ہے۔ہاتھ دکھانا غیر مرد کوحرام ہے۔اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا حرام ہے۔جو مرداپنی عورتوں کے ساتھ اسے روا رکھتے ہیں دیوث ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۶: از شہر بریلی مسئولہ ننھے میاں صاحب ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عورت بسبب ناداری کے ایک معتبر جگہ پر ملازم ہے اور زید اور اس کی عورت شریف القوم ہے کپڑا اس طرح پر نہیں استعمال کیا جاتا کہ جس سے ستر کو
کیا کہتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک بہن ہے دوسری کے ساتھ وہ زنا کا مرتکب ہے۔اور لڑکی کا باپ اور دادا حرام کرنے والے کو رکھے ہوئے ہیں اور ہر قسم کی ان کی مدد کرتے ہیں اور یہ لوگ اس کے معاون پڑھے لکھے ہیں شریعت سے واقف ہیں مگر اس فعل سے باز نہیں رکھتے اگر یہ تاکید کریں یقینا یہ لوگ اپنے فعل ناشائستہ سے باز ر ہیں۔ایسی حالت میں یہ لوگ دائرہ اسلام سے باہر ہوئے یانہیں ان سے سلام کلامان کا چھوا کھاناان کے پیچھے نمازان کی بیمار پرسیان کے جنازے کی نمازان کو مٹی دینا شرعا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ اگر واقعی ہے اور اس میں بدگمانی کو دخل نہیں تو وہ مرد وعورت زانی وزانیہ ہیں۔اور وہ اس کے معاون اورشنیع کبیرہ پر راضی ہونے والےبندوبست نہ کرنے والے دیوث ہیں دیوث پر لعنت آئی ہے اسے امام بنانا ناجائز ہے۔اس سے سلام کلام ترک کردینا مناسب ہے مگر اتنی بات سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوئے۔نہ ان پرمرتدین کے احکام آسکیں جب تک معاذاﷲ اس کبیرہ کوحلال نہ جانیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۵: از شہر محلہ کنگھی ٹولہ مسئولہ نبی بخش ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر عورتیں منہار کو بلا کرپردہ میں سے ہاتھ نکال کر منہار کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر چوڑیاں پہنتی ہیں یہ جائز ہے یانہیں اور بعض عورتیں اپنے مردوں کے سامنے منہار کے ہاتھ سے چوڑیاں پہنتی ہیں اور بعض شخص خود اپنے موجودگی میں بلا پردہ کے اپنی عورت کو چوڑیاں پہناتے ہیں۔یہ چوڑیاں غیر مرد کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر خواہ پردہ میں سے یا بلا پردہ کے جائز ہے یانہیں
الجواب:
حرام حرام حرام ہے۔ہاتھ دکھانا غیر مرد کوحرام ہے۔اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینا حرام ہے۔جو مرداپنی عورتوں کے ساتھ اسے روا رکھتے ہیں دیوث ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۶: از شہر بریلی مسئولہ ننھے میاں صاحب ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی عورت بسبب ناداری کے ایک معتبر جگہ پر ملازم ہے اور زید اور اس کی عورت شریف القوم ہے کپڑا اس طرح پر نہیں استعمال کیا جاتا کہ جس سے ستر کو
نقصان پہنچےکچھ لوگ کہتے ہیں کہ نماز زید کے پیچھے نہیں پڑھنا چاہئے کہ اس کی عورت غیر محرم کے یہاں بے پردہ رہتی ہیں۔اگر زوجہ زید ملازمت نہ کرے تو صرف تنخواہ زید کافی بسراوقات کو نہیں ہوسکتی ہے۔
الجواب:
یہاں پانچ شرطیں ہیں:
(۱)کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔
(۲)کپڑے تنگ وچست نہ ہو جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔
(۳)بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہرنہ ہو۔
(۴)کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔
(۵)اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔
یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے توحرام پھر اگرزید اس پر راضی ہے یا بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو ضرور اس پر بھی الزام ورنہ نہیں۔
قال تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ (وزن)نہ اٹھائے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۷: از ناتھ دوارہ ریاست اودیپور ملک میواڑ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اے کار ساز قبلہ حاجات کارہا
آغاز کردہ ایم رسانی بانتہا
الحمدﷲ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ و السلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
اﷲ تعالی کے بابرکت نام سے شروعجو بے حد رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔(ت)
اے کارساز اور اے حاجتوں میں قبلہ(کی حیثیت رکھنے والے) ہم نے کاموں کی ابتداء تو کردی لیکن انتہا اور تکمیل پہنچا دینا تیراکام) ہے۔(ت)جملہ تعریف وستائش اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پرودگار ہے۔اور اچھا انجام ان خوش نصیب حضرات کے لئے ہے جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور درود وسلام اس کے برگزیدہ رسول محمد کریم پر ہو اور ان کی سب اولاد اور تمام ساتھیوں پر ہو۔(ت)
الجواب:
یہاں پانچ شرطیں ہیں:
(۱)کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔
(۲)کپڑے تنگ وچست نہ ہو جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔
(۳)بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہرنہ ہو۔
(۴)کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔
(۵)اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔
یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے توحرام پھر اگرزید اس پر راضی ہے یا بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو ضرور اس پر بھی الزام ورنہ نہیں۔
قال تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ (وزن)نہ اٹھائے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۷: از ناتھ دوارہ ریاست اودیپور ملک میواڑ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اے کار ساز قبلہ حاجات کارہا
آغاز کردہ ایم رسانی بانتہا
الحمدﷲ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ و السلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
اﷲ تعالی کے بابرکت نام سے شروعجو بے حد رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔(ت)
اے کارساز اور اے حاجتوں میں قبلہ(کی حیثیت رکھنے والے) ہم نے کاموں کی ابتداء تو کردی لیکن انتہا اور تکمیل پہنچا دینا تیراکام) ہے۔(ت)جملہ تعریف وستائش اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پرودگار ہے۔اور اچھا انجام ان خوش نصیب حضرات کے لئے ہے جو اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور درود وسلام اس کے برگزیدہ رسول محمد کریم پر ہو اور ان کی سب اولاد اور تمام ساتھیوں پر ہو۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵۳/ ۳۸€
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب جو کہ علم فقہ وحدیث سے واقف ہیں لوگوں کوپندووعظ بھی کیا کرتے ہیں مگر ان کی مستورات نہایت بدعت وشرک میں مبتلا ہوتی ہیں جس کا اظہار مندرجہ ذیل ہے کہ محرم شریف کی تاریخ ۱۳ کو مستورات کو جمع کرکے اور ان سے چندہ جمع کرواکر چند اشیاء بازار سے خود جا کر مع مستورات کے خرید کرکے لانا۱چاول خام و۲پھل و۳مٹھائیاںو۴نخودبریاں و۵پھولی جوار و۶عطر و۷اگر بتی وغیر ہم مہیا کرکے قبرستان میں مع مستورات مذکورہ کے لے جانا اور وہاں جاکر ایک سفید چادر کا زمین پر بچھانا اور کامل اشیاء مذکورہ بالا کو چادر کے چاروں کونہ اور وہاں حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اہلبیت وشہیدان کربلا کو اورحضرت بی بی فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی روح مطہر کو حاضر جان کر وہاں مع جملہ مستورات کے سینہ زنی و ماتم پرسی کروانا اور خود بھی بے پردگی کرنا بعدہ نہایت ادب وتعظیم کے ساتھ ان اشیاء مذکورہ بالا پر فاتحہ وغیرہ دے کر تقسیم کرنا اور اولاد ودیگر امور کے بارے میں دعا کرنا اور ان مستورات کے خاوندوں کا ان کوہدایت نہ کرنا اور ایسے شخص کے بارہ میں اﷲ ورسول کا کیا حکم ہے اور ایسے شخص کو شرع شریف میں کیا کہنا لازم آتاہے اور مسلمانوں کو ایسے آدمیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے۔براہ مہربانی جیسا حکم موافق شرع کے ہو وہ مع حدیث وفقہ وحوالہ وآیت کلام اﷲ وحدیث کے ارقام فرمادیں تاکہ مستورات خوف خدا کرکے باز آئیں اﷲ تعالی آپ کو اجر عظیم فرمائے گا۔
الجواب:
عورات کا قبرستان جانا ممنوع ہے۔اور سینہ زنی حرام ہے۔اوریہ طریقہ بدعت ہے اور بے پردگی فاحشہ ہے۔ایسا شخص مبتدع ہے۔مسلمانوں کو اس سے احتراز چاہئے۔
مسئلہ ۱۱۸: از شہر بالجتی کنواں ۲۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین جن کی بیویاں تعزیہ دیکھنے دروازہ پر جائیں یا نویں محرم الحرام کو تنہا یا دیگر عورات کے ہمراہ یا خورد سالہ بچے کے ہمراہ یا تمام شب تعزیہ دیکھیں اور خاوند محافظ گھر رہیں ان کا نکاح رہا ایسی بیویوں کی اولاد حلالی ہے یانہیں
الجواب:
عورتوں کا گھر سے نکلنا خصوصا تماشہ دیکھنے کو ناجائز ہے اور مردوں کا اسے روا رکھنا بے غیرتی ہے مگر ا س سے نکاح یا اولاد میں کوئی خلل نہیں آتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۹ و ۱۲۰: از موضع ضلع گوڑ گانوہ ڈاک خانہ ڈہنیہ مسئولہ محمد یسین خان ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل کے بارے میں
الجواب:
عورات کا قبرستان جانا ممنوع ہے۔اور سینہ زنی حرام ہے۔اوریہ طریقہ بدعت ہے اور بے پردگی فاحشہ ہے۔ایسا شخص مبتدع ہے۔مسلمانوں کو اس سے احتراز چاہئے۔
مسئلہ ۱۱۸: از شہر بالجتی کنواں ۲۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین جن کی بیویاں تعزیہ دیکھنے دروازہ پر جائیں یا نویں محرم الحرام کو تنہا یا دیگر عورات کے ہمراہ یا خورد سالہ بچے کے ہمراہ یا تمام شب تعزیہ دیکھیں اور خاوند محافظ گھر رہیں ان کا نکاح رہا ایسی بیویوں کی اولاد حلالی ہے یانہیں
الجواب:
عورتوں کا گھر سے نکلنا خصوصا تماشہ دیکھنے کو ناجائز ہے اور مردوں کا اسے روا رکھنا بے غیرتی ہے مگر ا س سے نکاح یا اولاد میں کوئی خلل نہیں آتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۹ و ۱۲۰: از موضع ضلع گوڑ گانوہ ڈاک خانہ ڈہنیہ مسئولہ محمد یسین خان ۱۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل کے بارے میں
(۱)پیر سے پردہ ہے یانہیں
(۲)ایک بزرگ عورتوں سے بغیر حجاب کے حلقہ کراتے ہیں اور حلقہ کے بیچ میں خود بزرگ صاحب بیٹھتے ہیں تو جہ ایسی دیتے ہیں کہ عورتیں بیہوش ہوجاتی ہیں اچھلتی کودتی ہیں اور اﷲ کی آوازمکان سے باہر دور دور سنائی دیتی ہے۔ان سے بیعت ہونا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)پیر سے پردہ واجب ہے جبکہ محرم نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)یہ صورت محض خلاف شرع وخلاف حیاء ہے۔ایسے پیر سے بیعت نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)ایک بزرگ عورتوں سے بغیر حجاب کے حلقہ کراتے ہیں اور حلقہ کے بیچ میں خود بزرگ صاحب بیٹھتے ہیں تو جہ ایسی دیتے ہیں کہ عورتیں بیہوش ہوجاتی ہیں اچھلتی کودتی ہیں اور اﷲ کی آوازمکان سے باہر دور دور سنائی دیتی ہے۔ان سے بیعت ہونا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)پیر سے پردہ واجب ہے جبکہ محرم نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)یہ صورت محض خلاف شرع وخلاف حیاء ہے۔ایسے پیر سے بیعت نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
سلام وتحیت وتعظیم سادات
مصافحہمعانقہبوسہ دست وپاوقبرطواف قبراور سجدہ تعظیمی وغیرہ
مسئلہ ۱۲۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید کہتاہے کہ معانقہ ہر وقت میں حرام اور مصافحہ کرنا مسنونعمرو کہتاہے کہ معانقہ کرنا وقت آمدورفت سفر اور یوم عید اور ہنگام خوشی اور خصوصا معانقہ کرنا ایك دلیل قوی بنا بر افزونی اخلاص ومحبت مابین اہل اسلام ہے۔جب زید معتقد اس امر کا ہے کہ معانقہ حرام اور مصافحہ مسنون زید مرتکب گناہ صغیرہ کا ہے یا گناہ کبیرہ کا پس جس شخص پر گناہ کبیر ہ عاید ہو ا یا صغیرہ تو اس پر توبہ جلسہ عام میں آئی یا نہیں بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائے۔ت)فقط۔
الجواب:
کپڑوں کے اوپر معانقہ جہاں خوف فنتہشہوت نہ ہو بلاریب مشروع ہے اس کے جواز پر تمام ائمہ مجتہدین کااجماع اور سفر وغیر سفر میں بشرائط مذکورہ مطلقا جائز۔تخصیص سفر کی حدیث وفقہ سے ثابت نہیں نہ کہ استغفراﷲ مطلقا حرام ہو ابوجعفر عقیلی حضرت تمیم داری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
مصافحہمعانقہبوسہ دست وپاوقبرطواف قبراور سجدہ تعظیمی وغیرہ
مسئلہ ۱۲۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید کہتاہے کہ معانقہ ہر وقت میں حرام اور مصافحہ کرنا مسنونعمرو کہتاہے کہ معانقہ کرنا وقت آمدورفت سفر اور یوم عید اور ہنگام خوشی اور خصوصا معانقہ کرنا ایك دلیل قوی بنا بر افزونی اخلاص ومحبت مابین اہل اسلام ہے۔جب زید معتقد اس امر کا ہے کہ معانقہ حرام اور مصافحہ مسنون زید مرتکب گناہ صغیرہ کا ہے یا گناہ کبیرہ کا پس جس شخص پر گناہ کبیر ہ عاید ہو ا یا صغیرہ تو اس پر توبہ جلسہ عام میں آئی یا نہیں بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائے۔ت)فقط۔
الجواب:
کپڑوں کے اوپر معانقہ جہاں خوف فنتہشہوت نہ ہو بلاریب مشروع ہے اس کے جواز پر تمام ائمہ مجتہدین کااجماع اور سفر وغیر سفر میں بشرائط مذکورہ مطلقا جائز۔تخصیص سفر کی حدیث وفقہ سے ثابت نہیں نہ کہ استغفراﷲ مطلقا حرام ہو ابوجعفر عقیلی حضرت تمیم داری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
قال سالت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن المعانقۃ فقال تحیۃ الامم وصالح ودھم وان اول من عانق خلیل اﷲ ابراھیم ۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے معانقہ کا مسئلہ دریافت کیا۔ارشاد فرمایا تحیت ہے امتوں کی اور اچھی دوستی ہے ان کیاور بیشك پہلے جس نے معانقہ کیا اﷲ تعالی کے خلیل ابراہیم ہیں علیہ الصلوۃ والسلام۔
اس حدیث میں صریح تائید ہے عمرو کے قول کی کہ معانقہ ایك دلیل قوی ہے۔افزونی محبت پر۔شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
امامعانقۃ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع است خصوصا نزد قدوم از سفر الخ۔ اگر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو گلے ملنا جائز ہے خصوصا جبکہ آدمی سفر سے آئے الخ۔(ت)
درمختار میں ہے:
وکرہ تحریما تقبل الرجل ومعانقتہ فی ازار واحد وقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی لاباس بالتقبیل و المعانقۃ فی ازار واحد ولو کان علیہ قمیص اوجبۃ جاز بلا کراھۃ بالاجماع وصححہ فی الہدایۃ وعلیہ المتون انتہی ملخصا۔ کسی مرد کو بوسہ دینا اور اس سے گلے ملنا ایك چادر میں مکروہ تحریمی ہے۔امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:ایك ازار میں بوسہ دینے او ر معانقہ کرنے میں حرج نہیں اوراگر وہ کرتہ پہنے ہو یا جبہ تو بغیر کسی کراہت کے بالاجماع جائز ہے ہدایہ میں اس کی تصحیح فرمائی اور اسی کے مطابق سارے متون ہیں انتہی ملخصا۔(ت)
اور ایسا ہی شیخ محقق نے کافی سے نقل کیا:
حیث قال وگفتہ اندکہ خلاف درجائیست کہ برہنہ تن باشند اما باقمیص وجبہ لاباس بہ است باجماع شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ لوگوں نے کہا ہے کہ معانقہ وغیرہ میں اس جگہ اختلاف ہے کہ جہاں ننگے ہوں
اس حدیث میں صریح تائید ہے عمرو کے قول کی کہ معانقہ ایك دلیل قوی ہے۔افزونی محبت پر۔شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
امامعانقۃ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع است خصوصا نزد قدوم از سفر الخ۔ اگر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو گلے ملنا جائز ہے خصوصا جبکہ آدمی سفر سے آئے الخ۔(ت)
درمختار میں ہے:
وکرہ تحریما تقبل الرجل ومعانقتہ فی ازار واحد وقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی لاباس بالتقبیل و المعانقۃ فی ازار واحد ولو کان علیہ قمیص اوجبۃ جاز بلا کراھۃ بالاجماع وصححہ فی الہدایۃ وعلیہ المتون انتہی ملخصا۔ کسی مرد کو بوسہ دینا اور اس سے گلے ملنا ایك چادر میں مکروہ تحریمی ہے۔امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:ایك ازار میں بوسہ دینے او ر معانقہ کرنے میں حرج نہیں اوراگر وہ کرتہ پہنے ہو یا جبہ تو بغیر کسی کراہت کے بالاجماع جائز ہے ہدایہ میں اس کی تصحیح فرمائی اور اسی کے مطابق سارے متون ہیں انتہی ملخصا۔(ت)
اور ایسا ہی شیخ محقق نے کافی سے نقل کیا:
حیث قال وگفتہ اندکہ خلاف درجائیست کہ برہنہ تن باشند اما باقمیص وجبہ لاباس بہ است باجماع شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ لوگوں نے کہا ہے کہ معانقہ وغیرہ میں اس جگہ اختلاف ہے کہ جہاں ننگے ہوں
حوالہ / References
الضعفاء الکبیر للعقیلی ∞حدیث ۱۴۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۱۵۵€
اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب المصافحۃ والمعانقۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب المصافحۃ والمعانقۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
وھو الصحیح کذافی الکافی ۔ لیکن اگر کرتہ یا جبہ پہنے ہوں تو پھر بالاجماع کوئی حرج نہیں اوریہی صحیح ہے یونہی کافی میں مذکور ہے۔(ت)
البتہ اگر دونوں ننگے بدن ہوں تو اس صورت کو بعض روایات میں مکروہ کہا ہے۔اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك یوں بھی کچھ حرج نہیں۔بیشك جہاں خوف فتنہ ہو مثلا عورت یا امرد خوبصورت سے معانقہ کرنا خصوصا جبکہ بنظر شہوت ہو تو اس صو رت کی کراہت وعدم جواز میں کسی کو کلام نہیں شرح وقایہ کی کتاب الکراہیۃ میں ہے:
وکرہ تقبیل الرجل و عناقہ فی ازارواحد وجازمع قمیص ومصافحۃ ش عطف علی الضمیر فی جاز ھذا عند ابی حنیفہ ومحمد رحمہما اﷲ تعالی وقال ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالی عنہ لاباس بھما فی ازار واحد و امامع القمیص فلا باس بالاجماع والخلاف فیما یکون للمحبۃ واما بالشھوۃ فلا شك فی الحرمۃ اجماعا انتہی۔ کسی مرد کو بوسہ دینا اور ایك چادر میں اس سے گلے ملنا مکروہ ہے البتہ کرتہ پہنے ہوں تو جائز ہے۔اور مصافحہ کرنا بھی جائز ہے۔(تشریح)"مصافحتہ"اس عبارت کا عطف "جاز" کی ضمیر پر ہے۔اور یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیك ہے لیکن امام ابویوسف نے فرمایا:اﷲ تعالی سب پررحم فرمائے بوسہ دینا اور معانقہ کرنا اگر ایك چادرمیں ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر قمیص پہنے ہو تو پھر بالاتفاق کچھ مضائقہ نہیں۔ او ر یہ اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ یہ کام پیار ومحبت کے انداز میں ہو لیکن اگر شہوت سے ہو تو پھر اجماعا حرمت میں کوئی شك نہیں انتہی(ت)
جن روایتوں میں معانقہ سے نفی آئی ہے ان میں جمعا بین الاحادیث یہی صورت مقصودامام ابومنصور ماتریدی رحمۃ ﷲ تعالی علیہ نے کہ اہل سنت کے پیشوا ہیں اس معنی کی تصریح فرمائی کماذکرہ الشیخ المحقق فی شرح المشکوۃ(جیسا کہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی نے شرح مشکوۃ میں بیان فرمایا۔ت)سو اس صورت میں مصافحہ بھی نادرست ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)احادیث کثیرہ میں وارد ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کرام سے بار ہا بحالت سفر اور بلا سفر معانقہ فرمایا اور اسے جائز رکھا۔صحیح ترمذی میں عائشہ صدیقہ
البتہ اگر دونوں ننگے بدن ہوں تو اس صورت کو بعض روایات میں مکروہ کہا ہے۔اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك یوں بھی کچھ حرج نہیں۔بیشك جہاں خوف فتنہ ہو مثلا عورت یا امرد خوبصورت سے معانقہ کرنا خصوصا جبکہ بنظر شہوت ہو تو اس صو رت کی کراہت وعدم جواز میں کسی کو کلام نہیں شرح وقایہ کی کتاب الکراہیۃ میں ہے:
وکرہ تقبیل الرجل و عناقہ فی ازارواحد وجازمع قمیص ومصافحۃ ش عطف علی الضمیر فی جاز ھذا عند ابی حنیفہ ومحمد رحمہما اﷲ تعالی وقال ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالی عنہ لاباس بھما فی ازار واحد و امامع القمیص فلا باس بالاجماع والخلاف فیما یکون للمحبۃ واما بالشھوۃ فلا شك فی الحرمۃ اجماعا انتہی۔ کسی مرد کو بوسہ دینا اور ایك چادر میں اس سے گلے ملنا مکروہ ہے البتہ کرتہ پہنے ہوں تو جائز ہے۔اور مصافحہ کرنا بھی جائز ہے۔(تشریح)"مصافحتہ"اس عبارت کا عطف "جاز" کی ضمیر پر ہے۔اور یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیك ہے لیکن امام ابویوسف نے فرمایا:اﷲ تعالی سب پررحم فرمائے بوسہ دینا اور معانقہ کرنا اگر ایك چادرمیں ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر قمیص پہنے ہو تو پھر بالاتفاق کچھ مضائقہ نہیں۔ او ر یہ اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ یہ کام پیار ومحبت کے انداز میں ہو لیکن اگر شہوت سے ہو تو پھر اجماعا حرمت میں کوئی شك نہیں انتہی(ت)
جن روایتوں میں معانقہ سے نفی آئی ہے ان میں جمعا بین الاحادیث یہی صورت مقصودامام ابومنصور ماتریدی رحمۃ ﷲ تعالی علیہ نے کہ اہل سنت کے پیشوا ہیں اس معنی کی تصریح فرمائی کماذکرہ الشیخ المحقق فی شرح المشکوۃ(جیسا کہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی نے شرح مشکوۃ میں بیان فرمایا۔ت)سو اس صورت میں مصافحہ بھی نادرست ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)احادیث کثیرہ میں وارد ہوا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کرام سے بار ہا بحالت سفر اور بلا سفر معانقہ فرمایا اور اسے جائز رکھا۔صحیح ترمذی میں عائشہ صدیقہ
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب المصافحۃ والمعانقۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲€۱
شرح الوقایہ کتاب الکراہیۃ مسئلۃ التقبیل والاعتناق ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴/ ۵۴ تا ۵۶€
شرح الوقایہ کتاب الکراہیۃ مسئلۃ التقبیل والاعتناق ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴/ ۵۴ تا ۵۶€
رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے جب زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالی عنہ مدینہ شریف آئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے معانقہ کیااور بوسہ دیا:
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت قدم زید بن حارثۃ المدینۃ و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بیتی فاتاہ فقرع الباب فقام الیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عریانا یجر ثوبہ واﷲ مارأیتہ عریانا قبلہ ولابعدہ فاعتنقہ وقبلہ ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:جب زید بن حارثہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے اس وقت حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرماتھے۔جب حضرت زید نے آکر دروازے پر دستك دی تو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام برہنہ ہی اٹھ کر اسی حالت میں ان سے ملنے تشریف لے گئے۔حالت یہ تھی کہ اس وقت اپنا کپڑا گھسیٹے جارہے تھے خدا کی قسم میں نے آپ کو اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی برہنہ نہیں دیکھاپھر آپ نے انھیں گلے لگالیا اور انھیں بوسہ دیا۔(ت)
سنن ابوداؤد اور بیہقی میں شعبی سے مروی ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ کو گلے لگایا اور بوسہ دیا
عن الشعبی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تلقی جعفر بن ابی طالب فالتزمہ وقبلہ بین عینیہ ۔ امام شعبی سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب سے ملے تو انھیں گلے لگایا اور دو آنکھوں کے درمیان انھیں بوسہ دیا۔(یعنی ان کی پیشانی چومی)۔(ت)
امام احمد وابوداؤد ونسائی وغیرہم بہیسہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی کہ ان کے والد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اذن لے کر قمیص مبارك کے اندر اپنا سر لے گئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گلے لگاکر بوسہ دینا شروع کیا اور عرض کی یا رسول اللہ! کیا چیز روکنا جائز نہیں فرمایا:پانی۔عن امرأۃ یقال لھا بہیسۃ عن ابیھا قالت استأذن ابی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت قدم زید بن حارثۃ المدینۃ و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بیتی فاتاہ فقرع الباب فقام الیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عریانا یجر ثوبہ واﷲ مارأیتہ عریانا قبلہ ولابعدہ فاعتنقہ وقبلہ ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:جب زید بن حارثہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے اس وقت حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرماتھے۔جب حضرت زید نے آکر دروازے پر دستك دی تو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام برہنہ ہی اٹھ کر اسی حالت میں ان سے ملنے تشریف لے گئے۔حالت یہ تھی کہ اس وقت اپنا کپڑا گھسیٹے جارہے تھے خدا کی قسم میں نے آپ کو اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی برہنہ نہیں دیکھاپھر آپ نے انھیں گلے لگالیا اور انھیں بوسہ دیا۔(ت)
سنن ابوداؤد اور بیہقی میں شعبی سے مروی ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ کو گلے لگایا اور بوسہ دیا
عن الشعبی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تلقی جعفر بن ابی طالب فالتزمہ وقبلہ بین عینیہ ۔ امام شعبی سے روایت ہے کہ جب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب سے ملے تو انھیں گلے لگایا اور دو آنکھوں کے درمیان انھیں بوسہ دیا۔(یعنی ان کی پیشانی چومی)۔(ت)
امام احمد وابوداؤد ونسائی وغیرہم بہیسہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی کہ ان کے والد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اذن لے کر قمیص مبارك کے اندر اپنا سر لے گئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گلے لگاکر بوسہ دینا شروع کیا اور عرض کی یا رسول اللہ! کیا چیز روکنا جائز نہیں فرمایا:پانی۔عن امرأۃ یقال لھا بہیسۃ عن ابیھا قالت استأذن ابی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب الاستیذان والادب باب ماجاء فی المعانقۃ والقبلۃ ∞امین کمپنی کراچی ۲/ ۹۸۔۹۷€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قبلۃ مابین العینین ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قبلۃ مابین العینین ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳€
وسلم فدخل بینہ وبین قمیصہ فجعل یقبل ویلتزم ثم قال یانبی اﷲ ماالشیئ الذی لایحل منعہ قال الماء الحدیث۔
امام ابوالقاسم سلیمن بن احمد طبرانی جناب ہالہ بن ابی ہالہ فرزند ارجمند حضرت ام المومنین خدیجہ الکبری رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویوہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئےحضور آرام فرماتے تھے۔ان کی آواز سن کر جاگے اور انھیں سینہ اقدس سے لگایا اور بغایت محبت فرمایا۔ہالہہالہہالہ!
عن ھالۃ بن ابی ھالۃ انہ دخل علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وہو راقد فاستیقظ فضم ھالۃ الی صدرہ وقال ھالۃ ھالۃ ھالۃ ۔
طبرانی معجم کبیر اور ابن شاہین کتاب السنۃ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایك بار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مع اپنے اصحاب کے ایك غدیر میں تشریف لے گئے۔پھر فرمایا ہر شخص اپنے اپنے یار کی طرف پیرے۔اور خود حضور ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف پیرگئے اور انھیں گلے لگاکر فرمایا یہ میرا یار ہے۔
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال دخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ غدیرا فقال لیسبح کل رجل الی صاحبہ فسبح کل رجل منہم الی صاحبہ حتی بقی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ فسبح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ حتی اعتنقہ ف فقال لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا ولکنہ صاحبی فــــــ ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ ایك مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے ساتھی ایك تالاب میں داخل ہوگئے۔پھر فرمایا:ہر آدمی اپنے ساتھی کی طرف تیرے۔پھر ہر شخص اپنے اپنے دوست کی طرف تیرنے لگایہاں تك کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور صدیق اکبر رہ گئے پھرآپ اپنے ساتھی ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ تیرنے لگے اور انھیں گلے لگایا اور فرمایا:اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرا دوست ہے۔(ت)
امام ابوالقاسم سلیمن بن احمد طبرانی جناب ہالہ بن ابی ہالہ فرزند ارجمند حضرت ام المومنین خدیجہ الکبری رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویوہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئےحضور آرام فرماتے تھے۔ان کی آواز سن کر جاگے اور انھیں سینہ اقدس سے لگایا اور بغایت محبت فرمایا۔ہالہہالہہالہ!
عن ھالۃ بن ابی ھالۃ انہ دخل علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وہو راقد فاستیقظ فضم ھالۃ الی صدرہ وقال ھالۃ ھالۃ ھالۃ ۔
طبرانی معجم کبیر اور ابن شاہین کتاب السنۃ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایك بار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مع اپنے اصحاب کے ایك غدیر میں تشریف لے گئے۔پھر فرمایا ہر شخص اپنے اپنے یار کی طرف پیرے۔اور خود حضور ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف پیرگئے اور انھیں گلے لگاکر فرمایا یہ میرا یار ہے۔
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال دخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ غدیرا فقال لیسبح کل رجل الی صاحبہ فسبح کل رجل منہم الی صاحبہ حتی بقی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ فسبح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہ حتی اعتنقہ ف فقال لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا ولکنہ صاحبی فــــــ ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ ایك مرتبہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے ساتھی ایك تالاب میں داخل ہوگئے۔پھر فرمایا:ہر آدمی اپنے ساتھی کی طرف تیرے۔پھر ہر شخص اپنے اپنے دوست کی طرف تیرنے لگایہاں تك کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور صدیق اکبر رہ گئے پھرآپ اپنے ساتھی ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ تیرنے لگے اور انھیں گلے لگایا اور فرمایا:اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرا دوست ہے۔(ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب مایجوز منعہ ∞آفتاب عالم پر یس لاہور ۱/ ۲۳۵€
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۳۸۰۶€ مکتبہ المعارف الریاض ∞۴/ ۴۷۶€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۱۶۷۶€ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ∞۱۱/ ۲۶۱
€فــــــ∞:خط کشیدہ الفاظ حدیث المعجم الکبیر کی حدیث ۱۱۹۳۸ میں ۱۱/ ۳۳۹ پر ملاحظہ ہوں€۔
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۳۸۰۶€ مکتبہ المعارف الریاض ∞۴/ ۴۷۶€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۱۶۷۶€ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ∞۱۱/ ۲۶۱
€فــــــ∞:خط کشیدہ الفاظ حدیث المعجم الکبیر کی حدیث ۱۱۹۳۸ میں ۱۱/ ۳۳۹ پر ملاحظہ ہوں€۔
ظاہر ہے کہ یہاں سفر سے آنا جانا بھی نہ تھا اور سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ ایك صحابی نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کرتہ اٹھانے کو عرض کیا:حضور نے اپنے بدن اقدس سے کرتہ اٹھادیاوہ حضور کو لپٹ گئے اور تہیگاہ اقدس پر بوسہ دیا اور حضور نے منع نہ فرمایا:
عن اسید بن حضیر رجل من الانصار قال بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاح بیننا یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی قال اصطبر قال ان علیك قمیصا ولیس علی قمیص فرفع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن قمیصہ فاحتضنہ وجعل یقبل کشحہ قال انما اردت ہذا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ حضرت اسید بن حضیر سے روایت ہے کہ جو ایك انصاری آدمی تھےوہ لوگوں سے باتیں کررہے تھےاور وہ ہمارے درمیان ایك مزاح کرنے والے آدمی تھے جو لوگوں کو ہنسایا کرتےحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك لکڑی سے ان کے پہلوں میں ٹھونك ماری تو وہ کہنے لگے میرے لئے صبر کیجئےآپ نے فرمایا:میں صبر کرتاہوںوہ کہنے لگے کہ آپ تو کرتہ پہنے ہوئے ہیں۔پھر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے جسم اقدس سے کپڑا اٹھایا تو وہ آپ کے جسم اقدس سے لپٹ گئے اورآپ کے پہلو مبارك کو بوسہ دینے لگے۔اور کہا کہ یا رسول اﷲ ! میں تویہی ارادہ رکھتاتھا۔(ت)
احمد یعلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں ایك بار حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہما دوڑتے ہوئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئےحضور نے اپنے بدن اقدس سے چپٹا لیا۔ عن یعلی قال ان جاء حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہما یستبقان الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضمھھا الیہ ۔
ابوداؤد اپنے سنن میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی ہیں جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ملتا حضور مجھ سے مصافحہ فرماتے ایك دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا میں گھر میں نہ تھاجب آیا خبر پائیحاضر ہواحضور نے مجھے اپنے بدن سے لپٹا لیا۔
عن اسید بن حضیر رجل من الانصار قال بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاح بیننا یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی قال اصطبر قال ان علیك قمیصا ولیس علی قمیص فرفع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن قمیصہ فاحتضنہ وجعل یقبل کشحہ قال انما اردت ہذا یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ حضرت اسید بن حضیر سے روایت ہے کہ جو ایك انصاری آدمی تھےوہ لوگوں سے باتیں کررہے تھےاور وہ ہمارے درمیان ایك مزاح کرنے والے آدمی تھے جو لوگوں کو ہنسایا کرتےحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك لکڑی سے ان کے پہلوں میں ٹھونك ماری تو وہ کہنے لگے میرے لئے صبر کیجئےآپ نے فرمایا:میں صبر کرتاہوںوہ کہنے لگے کہ آپ تو کرتہ پہنے ہوئے ہیں۔پھر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے جسم اقدس سے کپڑا اٹھایا تو وہ آپ کے جسم اقدس سے لپٹ گئے اورآپ کے پہلو مبارك کو بوسہ دینے لگے۔اور کہا کہ یا رسول اﷲ ! میں تویہی ارادہ رکھتاتھا۔(ت)
احمد یعلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں ایك بار حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہما دوڑتے ہوئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس آئےحضور نے اپنے بدن اقدس سے چپٹا لیا۔ عن یعلی قال ان جاء حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہما یستبقان الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضمھھا الیہ ۔
ابوداؤد اپنے سنن میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی ہیں جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ملتا حضور مجھ سے مصافحہ فرماتے ایك دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا میں گھر میں نہ تھاجب آیا خبر پائیحاضر ہواحضور نے مجھے اپنے بدن سے لپٹا لیا۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قبلۃ الجسد ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳€
مسند امام احمد بن حنبل عن یعلٰی بن مرۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۷۲€
مسند امام احمد بن حنبل عن یعلٰی بن مرۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۷۲€
عن ایوب بن بشیر عن رجل من عنزۃ انہ قال قلت لابی ذر ھل کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصافحکم اذا لقیتموہ قال مالقیتہ قط الاصافحنی وبعث الی ذات یوم ولم اکن فی اھلی فلما جئت اخبرت انہ ارسل الی فاتیتہ وھو علی سریرہ فالتزمنی فکانت تلك اجود واجود ۔ حضرت ایوب بن بشیر قبیلہ عنزہ میں سے ایك صاحب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں فرمایا میں نے حضرت ابوذر سے پوچھا:جب تم لوگ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کرتے تو کیا آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تم سے مصافحہ کرتے تھے انھوں نے جواب دیا کہ میری حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی مگر آپ نے مجھ سے مصافحہ کیاایك دن آپ نے مجھے آدمی بھیج کر بلایا مگر اس وقت میں گھر پر نہ تھا۔جب میں واپس آیا اور مجھے آپ کے یاد فرمانے کی اطلاع ہوئی تو حاضر خدمت ہوا اور اس وقت آپ ایك تخت پر جلوہ افروز تھے پھر آپ نے اسی حالت میں مجھے گلے لگایا۔یہ موقعہ بڑا اچھا اور بڑا شاندار تھا۔(ت)
مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی تفسیر فتح العزیز میں فرماتے ہیں:
حافظ خطیب بغدادی از جابررضی اﷲ تعالی عنہ روایت می کند کہ روزے نزدآں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر بودیم ارشاد فرمودند کہ حالاشخصے می آید کہ حق تعالی بعد ازیں کسے رابہتر از وپیدانہ کردہ است وشفاعت او را روز قیامت مثل شفاعت پیغمبران باشدجابر رضی اﷲ تعالی عنہ گوید مہلتے نگزشتہ بود کہ حضرت ابوبکررضی اﷲ تعالی عنہ تشریف آوردند۔پس آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برخاستند وبر پیشانی ایشاں بوسہ دادند ودرکنار گرفتہ ساعتے آنست حاصل کردند ۔ حافظ خطیب بغدادی حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایك دن حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ایك شخص آئے گا کہ اﷲ تعالی نے اس کے بعد اس سے بہتر کوئی نہیں پیدا فرمایا۔قیامت کے دن لوگوں کے حق میں اس کی شفاعت انبیاء کرام کی طرح ہوگی۔حضرت جابر(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)نے فرمایا کہ کچھ زیادہ دیر نہ گزری کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ تشریف لے آئے پھر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے (استقبال)کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ان سے بغلگیر
مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی تفسیر فتح العزیز میں فرماتے ہیں:
حافظ خطیب بغدادی از جابررضی اﷲ تعالی عنہ روایت می کند کہ روزے نزدآں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر بودیم ارشاد فرمودند کہ حالاشخصے می آید کہ حق تعالی بعد ازیں کسے رابہتر از وپیدانہ کردہ است وشفاعت او را روز قیامت مثل شفاعت پیغمبران باشدجابر رضی اﷲ تعالی عنہ گوید مہلتے نگزشتہ بود کہ حضرت ابوبکررضی اﷲ تعالی عنہ تشریف آوردند۔پس آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برخاستند وبر پیشانی ایشاں بوسہ دادند ودرکنار گرفتہ ساعتے آنست حاصل کردند ۔ حافظ خطیب بغدادی حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایك دن حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں حاضر تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ایك شخص آئے گا کہ اﷲ تعالی نے اس کے بعد اس سے بہتر کوئی نہیں پیدا فرمایا۔قیامت کے دن لوگوں کے حق میں اس کی شفاعت انبیاء کرام کی طرح ہوگی۔حضرت جابر(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)نے فرمایا کہ کچھ زیادہ دیر نہ گزری کہ حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ تشریف لے آئے پھر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے (استقبال)کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور ان سے بغلگیر
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المعانقۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۲€
∞ €فتح العزیز∞(تفسیر عزیزی) پارہ €عم سورۃ اللیل∞ مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص۰۷۔۳۰€۶
∞ €فتح العزیز∞(تفسیر عزیزی) پارہ €عم سورۃ اللیل∞ مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص۰۷۔۳۰€۶
ہوئے اور کچھ دیر تك ایك دوسرے سے مانوس ہوتے رہے۔(ت)
یہ سب صورتیں معانقہ بے سفر کی ہیں اور شیخ محقق ترجمہ مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
سیوطی درجمع الجوامع از معصب بن عبداﷲ آوردہ کہ چوں آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت عکرمہ رضی اﷲ تعالی عنہ ابن ابی جہل رادید بایستادہ و بجانب اورفت واعتناق کرد فرمود مرحبا بالراکب المھاجر علامہ سیوطی"جوامع الجوامع"میں حضرت مصعب بن عبد اﷲ سے روایت لائے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عکرمہ رضی اﷲ تعالی عنہ بن ابوجہل کو دیکھ تو اٹھ کھڑے ہوئے اور چند قدم چل کر اس کی طرف تشریف لے گئے پھر اسے گلے لگایا اور ارشاد فرمایا:خوش آمدید اے ہجرت کرنے والے سوار!(ت)
بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارداور فقہاء کا قول سن ہی چکے کہ بے خوف فتنہ کپڑوں کے اوپر معانقہ بالاجماع بلا کراہت جائز ہے تو قول زید کہ معانقہ کرنا ہر وقت میں حرام ہے محض غلط وباطل ہے۔اور شریعت مطہرہ پر کھلا افتراء وہ اپنے اس قول میں صحیح حدیثوں کو جھٹلاتا اور اجماع ائمہ کا خرق کرتاہے اگر سچا ہے تو حدیث وفقہ سے اپنا دعوی علی الاطلاق ثابت کردے ورنہ خدا ورسو ل پر بہتان کرنے کا اقرار کرےا ور جب معانقہ بشرائط مذکورہ بالا بلا تخصیص وقت وحال حدیث وفقہ سے مشروع ٹھہرا تو جس وقت وجس زمانہ میں کیا جائے گا مشروع ہی رہے گا اور مجرد خصوصیت وقت باعث حرمت نہ ہوجائیگی پس وہ معانقہ جو بعد نماز عید ہمارے زمانہ میں رائج ہے بشرائط مسطورہ بالا بلاشبہہ مشروع وجائز ہے اصل اس کی احادیث واجماع سے ثابت۔گو تخصیص اس وقت کی قرون ثلثہ میں نہ پائی جائے
کما صرح بمثل ذلك الامام العلامۃ النووی فی الاذکار والفاضل علاؤ الدین فی الدرالمختار وغیرھما فی غیرھما۔ جیسا کہ امام نووی نے"الاذکار"میں اور فاضل علاؤ الدین نے "در مختار"میں اور ان دونوں کے علاوہ باقی اہل علم نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی۔(ت)
اور جو گناہ علانیہ کیا ہو اس کی توبہ بھی علانیہ چاہئے اور پوشیدہ کی پوشیدہ۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب(اﷲ تعالی ٹھیك بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معانقہ بے حالت سفر بھی جائز ہے یانہیں اور زید کہ اسے قدوم مسافر کے ساتھ خاص اور اس کے غیر میں ناجائز بتاتا ہے۔قول اس کا شرعا
یہ سب صورتیں معانقہ بے سفر کی ہیں اور شیخ محقق ترجمہ مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
سیوطی درجمع الجوامع از معصب بن عبداﷲ آوردہ کہ چوں آں حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت عکرمہ رضی اﷲ تعالی عنہ ابن ابی جہل رادید بایستادہ و بجانب اورفت واعتناق کرد فرمود مرحبا بالراکب المھاجر علامہ سیوطی"جوامع الجوامع"میں حضرت مصعب بن عبد اﷲ سے روایت لائے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عکرمہ رضی اﷲ تعالی عنہ بن ابوجہل کو دیکھ تو اٹھ کھڑے ہوئے اور چند قدم چل کر اس کی طرف تشریف لے گئے پھر اسے گلے لگایا اور ارشاد فرمایا:خوش آمدید اے ہجرت کرنے والے سوار!(ت)
بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارداور فقہاء کا قول سن ہی چکے کہ بے خوف فتنہ کپڑوں کے اوپر معانقہ بالاجماع بلا کراہت جائز ہے تو قول زید کہ معانقہ کرنا ہر وقت میں حرام ہے محض غلط وباطل ہے۔اور شریعت مطہرہ پر کھلا افتراء وہ اپنے اس قول میں صحیح حدیثوں کو جھٹلاتا اور اجماع ائمہ کا خرق کرتاہے اگر سچا ہے تو حدیث وفقہ سے اپنا دعوی علی الاطلاق ثابت کردے ورنہ خدا ورسو ل پر بہتان کرنے کا اقرار کرےا ور جب معانقہ بشرائط مذکورہ بالا بلا تخصیص وقت وحال حدیث وفقہ سے مشروع ٹھہرا تو جس وقت وجس زمانہ میں کیا جائے گا مشروع ہی رہے گا اور مجرد خصوصیت وقت باعث حرمت نہ ہوجائیگی پس وہ معانقہ جو بعد نماز عید ہمارے زمانہ میں رائج ہے بشرائط مسطورہ بالا بلاشبہہ مشروع وجائز ہے اصل اس کی احادیث واجماع سے ثابت۔گو تخصیص اس وقت کی قرون ثلثہ میں نہ پائی جائے
کما صرح بمثل ذلك الامام العلامۃ النووی فی الاذکار والفاضل علاؤ الدین فی الدرالمختار وغیرھما فی غیرھما۔ جیسا کہ امام نووی نے"الاذکار"میں اور فاضل علاؤ الدین نے "در مختار"میں اور ان دونوں کے علاوہ باقی اہل علم نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی۔(ت)
اور جو گناہ علانیہ کیا ہو اس کی توبہ بھی علانیہ چاہئے اور پوشیدہ کی پوشیدہ۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب(اﷲ تعالی ٹھیك بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۲:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معانقہ بے حالت سفر بھی جائز ہے یانہیں اور زید کہ اسے قدوم مسافر کے ساتھ خاص اور اس کے غیر میں ناجائز بتاتا ہے۔قول اس کا شرعا
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب الادب باب المصافحۃ والمعانقۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۳€
کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطور بروکرامت واظہار محبت بے فساد نیت ومواد شہوت بالاجماع جائزجس کے جواز پر اعادیث کثیرہ وروایات شہیرہ ناطق۔اور تخصیص سفر کا دعوی محض بے دلیل۔احادیث نبویہ وتصریحات فقہیہ اس بارے میں بروجہ اطلاق وارد۔اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب۔اور بے مدرك شرعی تقیید اور تخصیص مردود وباطل ورنہ نصوص شرعیہ سے امان اٹھ جائے کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) ابن ابی الدنیا کتاب الاخوان اور دیلمی مسند الفردوس میں اور ابوجعفر اپنی کتاب میں حضرت تمیم داری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
واللفظ للعقیلی انہ قال سئلت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن المعانقۃ فقال تحیۃ الامم وصالح ودھم وان اول من عانق خلیل اﷲ ابراھیم ۔ (الفاظ محدث عقیلی کے ہیں کہ تمیم داری نے فرمایا)میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے معانقہ کو پوچھا۔ فرمایا: تحیت ہے امتوں کی اور اچھی دوستی ان کیاور بیشك پہلے معانقہ کرنے والے ابراہیم خلیل اﷲ ہیں علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔
خانیہ میں ہے:
ان کانت المعانقۃ من فوق قمیص اوجبۃ جاز عند کل اھ ملخصا ۔ گلے ملنا اگر قمیص یا جبہ پہن کر ہو تو سب کے نزدیك جائز ہے۔اھ ملخصا(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
اذا کان علیھما قمیص اوجبۃ جاز بالاجماع اھ مختصرا۔ اگردونوں نے قمیص یا جبہ پہن رکھا ہو تو بالاتفاق جائز ہے اھ مختصرا(ت)
ہدایہ میں ہے:
الجواب:
کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطور بروکرامت واظہار محبت بے فساد نیت ومواد شہوت بالاجماع جائزجس کے جواز پر اعادیث کثیرہ وروایات شہیرہ ناطق۔اور تخصیص سفر کا دعوی محض بے دلیل۔احادیث نبویہ وتصریحات فقہیہ اس بارے میں بروجہ اطلاق وارد۔اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب۔اور بے مدرك شرعی تقیید اور تخصیص مردود وباطل ورنہ نصوص شرعیہ سے امان اٹھ جائے کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) ابن ابی الدنیا کتاب الاخوان اور دیلمی مسند الفردوس میں اور ابوجعفر اپنی کتاب میں حضرت تمیم داری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
واللفظ للعقیلی انہ قال سئلت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن المعانقۃ فقال تحیۃ الامم وصالح ودھم وان اول من عانق خلیل اﷲ ابراھیم ۔ (الفاظ محدث عقیلی کے ہیں کہ تمیم داری نے فرمایا)میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے معانقہ کو پوچھا۔ فرمایا: تحیت ہے امتوں کی اور اچھی دوستی ان کیاور بیشك پہلے معانقہ کرنے والے ابراہیم خلیل اﷲ ہیں علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔
خانیہ میں ہے:
ان کانت المعانقۃ من فوق قمیص اوجبۃ جاز عند کل اھ ملخصا ۔ گلے ملنا اگر قمیص یا جبہ پہن کر ہو تو سب کے نزدیك جائز ہے۔اھ ملخصا(ت)
مجمع الانہر میں ہے:
اذا کان علیھما قمیص اوجبۃ جاز بالاجماع اھ مختصرا۔ اگردونوں نے قمیص یا جبہ پہن رکھا ہو تو بالاتفاق جائز ہے اھ مختصرا(ت)
ہدایہ میں ہے:
حوالہ / References
الضعفاء الکبیر ∞حدیث ۱۱۴۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۱۵۵€
فتاوٰی قاضیخاں کتا ب الحظروالاباحۃ باب فیما یکرہ من النظروالمس ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۳€
مجمع الانہر کتاب الکراہیۃ فصل فی بیان احکام النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۴۱€
فتاوٰی قاضیخاں کتا ب الحظروالاباحۃ باب فیما یکرہ من النظروالمس ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۳€
مجمع الانہر کتاب الکراہیۃ فصل فی بیان احکام النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۴۱€
قالوا الخلاف فی المعانقۃ فی ازار واحد وامااذا کان علیہ قمیص اوجبۃ فلا باس بھا بالاجماع وھو الصحیح ۔ فقہائے کرام نے فرمایا اختلاف اس معانقہ میں ہے جو صرف ایك چادر کے ساتھ ہو لیکن جب قمیص یا جبہ پہن رکھا ہو تو بالاتفاق گلے ملنے میں کوئی قباحت نہیں۔اور یہی صحیح ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لوکان علیہ قمیص اوجبۃ جاز بلا کراھۃ بالاجماع وصححہ فی الہدایۃ وعلیہ المتون ۔ اگر آدمی قمیص یا جبہ پہنے ہو پھر معانقہ کرنا بغیر کراہت بالاتفاق جائز ہے۔ہدایہ میں اس کو صحیح قرار دیا گیا اور متون فقہ اسی کے مطابق ہیں۔(ت)
شرح نقایہ میں ہے:
عناقہ اذ اکان معہ قمیص اوجبۃ اوغیر لم یکرہ بالاجماع وھوالصحیح اھ ملخصا۔ معانقہ کرنا بایں صورت کہ جبہ یاقمیص پہن رکھی ہو بالاتفاق مکروہ نہیں۔اور یہی صحیح ہے اھ ملتقطا (ت)
اسی طرح امام نسفی نے کافی پھر علامہ اسمعیل نابلسی نے حاشیہ درراور شیخ محقق نے لمعات میں تصریح فرمائی۔اور اسی پر فتاوی ہندیہ وحدیقہ ندیہ وشرح درر مولی خسرو وغیرہا میں جزم کیا اور یہی وقایہ ونقایہ وکنز واصلاح وغیرہا متون کا مفاد اور شروح ہدایہ وحواشی درمختار وغیرہا میں مقرران سب میں کلام مطلق ہے کہیں تخصیص سفر کی بو نہیں۔اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
اما معانقۃ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع است خصوصا نزد قدوم از سفر ۔ اگر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو معانقہ جائز ہے بالخصوص اس وقت جبکہ سفر سے واپسی ہو۔(ت)
یہ خصوصا بطلاں تخصیص پرنص صریح ہے رہیں احادیث نہی ان میں زید کے لئے حجت نہیں کہ ان سے اگر ثابت ہے تو نہی مطلقپھر اطلاق پر رکھئے تو حالت سفر بھی گئی حالانکہ اس میں ز ید بھی ہم سے موافق۔اور توفیق پر چلے توعلماء فرماتے ہیں وہاں معانقہ بروجہ شہوت مراداور پر ظاہر کہ ایسی صورت
درمختارمیں ہے:
لوکان علیہ قمیص اوجبۃ جاز بلا کراھۃ بالاجماع وصححہ فی الہدایۃ وعلیہ المتون ۔ اگر آدمی قمیص یا جبہ پہنے ہو پھر معانقہ کرنا بغیر کراہت بالاتفاق جائز ہے۔ہدایہ میں اس کو صحیح قرار دیا گیا اور متون فقہ اسی کے مطابق ہیں۔(ت)
شرح نقایہ میں ہے:
عناقہ اذ اکان معہ قمیص اوجبۃ اوغیر لم یکرہ بالاجماع وھوالصحیح اھ ملخصا۔ معانقہ کرنا بایں صورت کہ جبہ یاقمیص پہن رکھی ہو بالاتفاق مکروہ نہیں۔اور یہی صحیح ہے اھ ملتقطا (ت)
اسی طرح امام نسفی نے کافی پھر علامہ اسمعیل نابلسی نے حاشیہ درراور شیخ محقق نے لمعات میں تصریح فرمائی۔اور اسی پر فتاوی ہندیہ وحدیقہ ندیہ وشرح درر مولی خسرو وغیرہا میں جزم کیا اور یہی وقایہ ونقایہ وکنز واصلاح وغیرہا متون کا مفاد اور شروح ہدایہ وحواشی درمختار وغیرہا میں مقرران سب میں کلام مطلق ہے کہیں تخصیص سفر کی بو نہیں۔اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
اما معانقۃ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع است خصوصا نزد قدوم از سفر ۔ اگر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو معانقہ جائز ہے بالخصوص اس وقت جبکہ سفر سے واپسی ہو۔(ت)
یہ خصوصا بطلاں تخصیص پرنص صریح ہے رہیں احادیث نہی ان میں زید کے لئے حجت نہیں کہ ان سے اگر ثابت ہے تو نہی مطلقپھر اطلاق پر رکھئے تو حالت سفر بھی گئی حالانکہ اس میں ز ید بھی ہم سے موافق۔اور توفیق پر چلے توعلماء فرماتے ہیں وہاں معانقہ بروجہ شہوت مراداور پر ظاہر کہ ایسی صورت
حوالہ / References
الھدایۃ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی الاستبراء ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۶۶€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
شرح النقایۃ للبرجندی باب الکراھیۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۱۸۱€
اشعۃ اللمعات کتا ب الادب باب المصافحۃ والمعانقۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
شرح النقایۃ للبرجندی باب الکراھیۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۱۸۱€
اشعۃ اللمعات کتا ب الادب باب المصافحۃ والمعانقۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰€
میں تو بحالت سفر بھی بلکہ مصافحہ بھی ممنوع تابمعانقہ چہ رسدامام فخر الدین زیلعی تبیین الحقائق اور اکمل الدین بابرتی عنایہ اور شمس الدین قہستانی جامع الرموز اور آفندی شیخی زادہ شرح ملتقی الابحر اور شیخ محقق دہلوی شرح مشکوۃ اور امام حافظ الدین شرح وافی اور سید امین الدین آفندی حاشیہ شرح تنویر مولی عبدالغنی نابلسی شرح طریقہ محمدیہ میں اور ان کے سوا اور علماء ارشاد فرماتے ہیں:
وھذا لفظ الاکمل قال وفق الشیخ ابومنصور(یعنی الما تریدی امام اھل السنت و سید الحنفیۃ)بین الاحادیث فقال المکروہ من المعانقۃ ماکان علی وجد الشہوۃ عبر عنہ المصنف(یعنی امام برہان الدین الفرغانی)بقولہ فی ازار واحد فانہ سبب یفضی الیہا فاما علی وجہ البر والکرامۃ اذا کان علیہ قمیص اوجبۃ فلا باس بہ اھ ۔ یہ الفاظ امام اکمل الدین بابرتی کے ہیں انھوں نے فرمایا شیخ ابومنصور ماتریدی جو اہلسنت کے امام اور احناف کے پیشوا ہیں انھوں نے بظاہر باہم متعارض حدیثوں میں مطابقت اور موافقت کی روش اختیار کیچنانچہ فرمایاو ہ معانقہ مکروہ ہے جو شہوانی جذبات کے ساتھ ہو جس کی تعبیر مصنف یعنی امام برہان الدین فرغانی نے اپنے قول"فی ازار واحد"(صرف ایك چادر کے ساتھ)کی ہے کیونکہ یہ ایك ایسا سبب ہے جو شہوت رانی تك پہنچادیتاہے۔لیکن اگر معانقہ نیکی او ر اکرام کے جذبے کے ساتھ ہو اور قمیص یا جبہ پہن کر کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اھ(ت)
اور کیونکر رواہوگا کہ بحالت سفر کے معانقہ کو مطلقا ممنوع ٹھہرائے حالانکہ احادیث کثیرہ میں ثابت کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بارہا بے صورت مذکورہ بھی معانقہ فرمایا:
حدیث اول:بخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ بطریق عدیدہ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
وھذا لفظ مولف منہا دخل حدیث بعضہم فی بعض قال خرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجلس بفناء بیت فاطمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فقال ادعی الحسن بن یعنی ایك بار سید دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کو بلایا۔حضرت زہرا نے
وھذا لفظ الاکمل قال وفق الشیخ ابومنصور(یعنی الما تریدی امام اھل السنت و سید الحنفیۃ)بین الاحادیث فقال المکروہ من المعانقۃ ماکان علی وجد الشہوۃ عبر عنہ المصنف(یعنی امام برہان الدین الفرغانی)بقولہ فی ازار واحد فانہ سبب یفضی الیہا فاما علی وجہ البر والکرامۃ اذا کان علیہ قمیص اوجبۃ فلا باس بہ اھ ۔ یہ الفاظ امام اکمل الدین بابرتی کے ہیں انھوں نے فرمایا شیخ ابومنصور ماتریدی جو اہلسنت کے امام اور احناف کے پیشوا ہیں انھوں نے بظاہر باہم متعارض حدیثوں میں مطابقت اور موافقت کی روش اختیار کیچنانچہ فرمایاو ہ معانقہ مکروہ ہے جو شہوانی جذبات کے ساتھ ہو جس کی تعبیر مصنف یعنی امام برہان الدین فرغانی نے اپنے قول"فی ازار واحد"(صرف ایك چادر کے ساتھ)کی ہے کیونکہ یہ ایك ایسا سبب ہے جو شہوت رانی تك پہنچادیتاہے۔لیکن اگر معانقہ نیکی او ر اکرام کے جذبے کے ساتھ ہو اور قمیص یا جبہ پہن کر کیا جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اھ(ت)
اور کیونکر رواہوگا کہ بحالت سفر کے معانقہ کو مطلقا ممنوع ٹھہرائے حالانکہ احادیث کثیرہ میں ثابت کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بارہا بے صورت مذکورہ بھی معانقہ فرمایا:
حدیث اول:بخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ بطریق عدیدہ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
وھذا لفظ مولف منہا دخل حدیث بعضہم فی بعض قال خرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجلس بفناء بیت فاطمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فقال ادعی الحسن بن یعنی ایك بار سید دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سیدنا امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کو بلایا۔حضرت زہرا نے
حوالہ / References
الغنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتا ب الکراہیۃ فصل فی الاستبراء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/ ۴۸۵€
علی فحبستہ شیئا فظننت انھا تلبسہ سخابا او تغسلہ فجاء یشتد وفی عنقہ السخاب فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ ھکذا فقال الحسن بیدہ ھکذا حتی اعتنق کل واحد منہما صاحبہ فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللھم انی احبہ فاحببہ واحب من یحبہ ۔ بھیجنے میں کچھ دیر کی میں سمجھا انھیں ہار پہناتی ہوں گی یا نہلا رہی ہوں گی اتنے میں دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے گلے میں ہار پڑا تھا سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دست اقدس بڑھائے حضورکو دیکھ کر امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلا دئے یہاں تك کہ ایك دوسرے کو لپٹ گئے۔حضور نے گلے لگا کر دعا کی:الہی! میں اسے دوست رکھتاہوں تو اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے گا اسے دوست رکھ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حدیث دوم:صحیح بخاری میں امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاخذ بیدی فیقعدنی علی فخذہ ویقعد الحسن علی فخذہ الاخری ثم یضمھا ثم یقول اللھم ارحمہما فانی ارحمہما ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر ایك ران پر مجھے بٹھالیتے اور دوسری پر امام حسن کو پھر دونوں کو لپٹا لیتے۔پھر دعا فرماتے الہی!میں ان پر مہر کرتاہوں تو ان پر رحم فرما۔
حدیث سوم:اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے:
ضمنی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی صدرہ وقال اللھم علمہ الحکمۃ ۔ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مجھے سینے سے لپٹا لیا اور دعا فرمائی:الہی! اسے حکمت سکھا دے۔
حدیث دوم:صحیح بخاری میں امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاخذ بیدی فیقعدنی علی فخذہ ویقعد الحسن علی فخذہ الاخری ثم یضمھا ثم یقول اللھم ارحمہما فانی ارحمہما ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر ایك ران پر مجھے بٹھالیتے اور دوسری پر امام حسن کو پھر دونوں کو لپٹا لیتے۔پھر دعا فرماتے الہی!میں ان پر مہر کرتاہوں تو ان پر رحم فرما۔
حدیث سوم:اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے:
ضمنی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی صدرہ وقال اللھم علمہ الحکمۃ ۔ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مجھے سینے سے لپٹا لیا اور دعا فرمائی:الہی! اسے حکمت سکھا دے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس با ب السخاب للصبیان ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۴،€صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل الحسن والحسین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸۲€
صحیح البخاری کتاب الادب باب وضع الصبی علی الفخذ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۸€
صحیح البخاری کتا ب فضائل اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مناقب ابن عباس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۱€
صحیح البخاری کتاب الادب باب وضع الصبی علی الفخذ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۸€
صحیح البخاری کتا ب فضائل اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مناقب ابن عباس ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۱€
حدیث چہارم:امام احمد اپنی مسند میں یعلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
انہ جاء حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہ عنہما یستبقان الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضمھما الیہ ۔ ایك بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو لپٹا لیا
حدیث پنجم:جامع ترمذی میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث ہے:
سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای اھل بیتك احب الیك قال الحسن والحسین وکان یقول لفاطمۃ ادعی لی ابنی فیشمھما ویضمھما الیہ ۔ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہلبیت میں سے زیادہ پیارا کون ہے۔فرمایا:حسن وحسین۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا سے بلوا کر سینے سے لگاتے اور ان کی خوشبو سونگھتے صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم۔
حدیث ششم:امام ابوداؤد اپنی سنن حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالی تعالی عنہما سے راوی:
بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاح بیننا یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی فقال اصطبر قال ان علیك قمیصا ولیس علی قمیص فرفع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن قمیصہ فاحتضنہ وجعل یقبل کشحہ قال انما اس اثناء میں کہ وہ باتیں کررہے تھے اور ان کے مزاج میں مزاح تھا لوگوں کو ہنسارہے تھے کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لکڑی ان کے پہلوں میں چبھوئیانھوں نے عرض کی:مجھے بدلہ دیجئے۔فرمایا:لے۔عرض کی:حضور تو کرتا پہنے ہیں اور میں ننگا تھا۔حضور نے کرتا اٹھادیا انھوں نے حضور کو اپنے کنار میں
انہ جاء حسن وحسین رضی اﷲ تعالی عنہ عنہما یستبقان الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضمھما الیہ ۔ ایك بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو لپٹا لیا
حدیث پنجم:جامع ترمذی میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث ہے:
سئل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای اھل بیتك احب الیك قال الحسن والحسین وکان یقول لفاطمۃ ادعی لی ابنی فیشمھما ویضمھما الیہ ۔ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہلبیت میں سے زیادہ پیارا کون ہے۔فرمایا:حسن وحسین۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا سے بلوا کر سینے سے لگاتے اور ان کی خوشبو سونگھتے صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وبارك وسلم۔
حدیث ششم:امام ابوداؤد اپنی سنن حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالی تعالی عنہما سے راوی:
بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاح بیننا یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی فقال اصطبر قال ان علیك قمیصا ولیس علی قمیص فرفع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن قمیصہ فاحتضنہ وجعل یقبل کشحہ قال انما اس اثناء میں کہ وہ باتیں کررہے تھے اور ان کے مزاج میں مزاح تھا لوگوں کو ہنسارہے تھے کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لکڑی ان کے پہلوں میں چبھوئیانھوں نے عرض کی:مجھے بدلہ دیجئے۔فرمایا:لے۔عرض کی:حضور تو کرتا پہنے ہیں اور میں ننگا تھا۔حضور نے کرتا اٹھادیا انھوں نے حضور کو اپنے کنار میں
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن یعلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۱۷۲€
جامع الترمذی کتاب المناقب مناقب الحسن والحسین ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۸€
جامع الترمذی کتاب المناقب مناقب الحسن والحسین ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۸€
اردت ہذا یارسول اﷲ ۔ لیا اور تہیگاہ اقدس کو چومنا شروع کیا پھر عرض کی:یا رسول اللہ! میرایہی مقصود تھا۔ع دل عشاق حیلہ گرباشد(عاشقوں کا دل کوئی نہ کوئی حیلہ بہانہ تلاش کرلیتا ہے۔ت)صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی کل من احبہ وبارك وسلم۔
حدیث ہفتم:اسی میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے:
مالقیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قط الاصافحنی وبعث الی ذات یوم ولم اکن فی اھلی فلما جئت اخبرت انہ ارسل الی فاتیتہ وھو علی سریرہ فالتز منی فکانت تلك اجود و اجود ۔ میں جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا حضور ہمیشہ مصافحہ فرماتے۔ایك دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا۔میں گھر میں نہ تھا۔آیا تو خبر پائی حاضر ہوا۔حضور تخت پر جلوہ فرما تھے۔مجھے گلے سے لگایا تو یہ اور زیادہ جید و نفیس تر تھا۔
حدیث ہشتم:ابو یعلی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
قالت رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم التزم علیا وقبلہ و یقول بابی الوحید الشھید ۔ میں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا حضور نے مولا علی کو گلے لگایااور پیار کیااور فرماتے تھے میرا باپ نثار اس وحید شہید پر۔
حدیث نہم:طبرانی معجم کبیر اور ابن شاہین کتاب السنہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں:
دخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ غدیرا فقال لیسبح کل رجل الی صاحبہ فسبح کل رجل منھم الی صاحبہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایك تالاب میں تشریف لے گئے حضور نے ارشاد فرمایا:ہر شخص اپنے یار کی طرف پیرے۔سب نے ایسا ہی کیا یہاں تك کہ صرف
حدیث ہفتم:اسی میں حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے:
مالقیتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قط الاصافحنی وبعث الی ذات یوم ولم اکن فی اھلی فلما جئت اخبرت انہ ارسل الی فاتیتہ وھو علی سریرہ فالتز منی فکانت تلك اجود و اجود ۔ میں جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا حضور ہمیشہ مصافحہ فرماتے۔ایك دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا۔میں گھر میں نہ تھا۔آیا تو خبر پائی حاضر ہوا۔حضور تخت پر جلوہ فرما تھے۔مجھے گلے سے لگایا تو یہ اور زیادہ جید و نفیس تر تھا۔
حدیث ہشتم:ابو یعلی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
قالت رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم التزم علیا وقبلہ و یقول بابی الوحید الشھید ۔ میں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا حضور نے مولا علی کو گلے لگایااور پیار کیااور فرماتے تھے میرا باپ نثار اس وحید شہید پر۔
حدیث نہم:طبرانی معجم کبیر اور ابن شاہین کتاب السنہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں:
دخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ غدیرا فقال لیسبح کل رجل الی صاحبہ فسبح کل رجل منھم الی صاحبہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایك تالاب میں تشریف لے گئے حضور نے ارشاد فرمایا:ہر شخص اپنے یار کی طرف پیرے۔سب نے ایسا ہی کیا یہاں تك کہ صرف
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قبلۃ الجسد ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵€۳
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المعانقۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۲€
مسند ابویعلی ∞ترجمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۴۵۵۸€ موسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۴/ ۳۱۸€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی المعانقۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۲€
مسند ابویعلی ∞ترجمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۴۵۵۸€ موسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۴/ ۳۱۸€
حتی بقی رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابوبکر فسبح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی ابی بکر حتی اعتنقہ فقال لوکنت فــــــ متخذ اخلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا ولکنہ صاحبی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اورا بو بکر صدیق باقی رہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صدیق کی طرف پیر کر تشریف لے گئے اور انھیں گلے لگا کر فرمایا کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرکو بناتا لیکن وہ میرا یار ہے۔صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی صاحبہ وبارك وسلم۔
حدیث دہم:خطیب بغدادی حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال کنا عند النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یطلع علیکم رجل لم یخلق اﷲ بعدی احداھو خیر منہ ولا افضل۔ولہ شفاعۃ مثل شفاعۃ النبیین فما برحنا حتی طلع ابوبکر الصدیق فقام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقبلہ والتزمہ ۔ ہم خدمت اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر تھے ارشاد فرمایا اس وقت تم پر وہ شخص چمکے گا کہ اﷲ تعالی نے میرے بعد اس سے بہتر وبزرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اس کی شفاعت انبیاء کی مانند ہوگی ہم حاضر ہی تھے کہ ابوبکرنظر آئےسید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قیام کیا اور صدیق کو پیار کیا اور گلے لگایا۔
حدیث یازدہم:حافظ عمر بن محمد ملا اپنی سیرت میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واقفا مع علی بن ابی طالب اذ اقبل ابوبکر فصافحہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعانقہ وقبل فاہ قال علی اتقبل فا ابی بکر فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا ابا الحسن منزلۃ میں نے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کے ساتھ کھڑے دیکھااتنے میں ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ حاضر ہوئے۔حضو رپر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے مصافحہ فرمایا اور گلے لگایا اور ان کے دہن پر بوسہ دیا۔مولی علی
حدیث دہم:خطیب بغدادی حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال کنا عند النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یطلع علیکم رجل لم یخلق اﷲ بعدی احداھو خیر منہ ولا افضل۔ولہ شفاعۃ مثل شفاعۃ النبیین فما برحنا حتی طلع ابوبکر الصدیق فقام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقبلہ والتزمہ ۔ ہم خدمت اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حاضر تھے ارشاد فرمایا اس وقت تم پر وہ شخص چمکے گا کہ اﷲ تعالی نے میرے بعد اس سے بہتر وبزرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اس کی شفاعت انبیاء کی مانند ہوگی ہم حاضر ہی تھے کہ ابوبکرنظر آئےسید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قیام کیا اور صدیق کو پیار کیا اور گلے لگایا۔
حدیث یازدہم:حافظ عمر بن محمد ملا اپنی سیرت میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واقفا مع علی بن ابی طالب اذ اقبل ابوبکر فصافحہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعانقہ وقبل فاہ قال علی اتقبل فا ابی بکر فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا ابا الحسن منزلۃ میں نے حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کے ساتھ کھڑے دیکھااتنے میں ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ حاضر ہوئے۔حضو رپر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے مصافحہ فرمایا اور گلے لگایا اور ان کے دہن پر بوسہ دیا۔مولی علی
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۱۶۷۶ و ۱۱۹۳۸€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳/ ۲۶۱ و ۳۳۹€
∞ تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ترجمہ €محمد بن العباس ابوبکر القاص دارالکتاب العربی بیروت ∞۳/ ۱۲۴€
فــــــ :∞ خط کشیدہ الفاظ حدیث €المعجم الکبیر∞ کی حدیث ۱۱۱۹۳۸ میں ۱۱/ ۳۳۹ پر ملاحظہ ہوں€
∞ تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ترجمہ €محمد بن العباس ابوبکر القاص دارالکتاب العربی بیروت ∞۳/ ۱۲۴€
فــــــ :∞ خط کشیدہ الفاظ حدیث €المعجم الکبیر∞ کی حدیث ۱۱۱۹۳۸ میں ۱۱/ ۳۳۹ پر ملاحظہ ہوں€
ابوبکر عندی کمنزلتی عند ربی ۔ کرم اﷲ وجہہ نے عرض کی کیا حضور ابوبکر کا منہ چومتے ہیں فرمایا اے ابوالحسن! ابوبکر کا مرتبہ میرے یہاں ایسا ہے جیسا کہ میرا مرتبہ اپنے رب کے حضور۔
حدیث دوازدہم:ابن عبدربہ کتاب بہجۃ المجالس میں مختصرا اور ریاض نضرہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہماسے مطولا صدیق اکبر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا ابتدائے اسلام میں اظہار اسلام اور کفار سے ضرب وقتال فرمانا اور ان کے چہرہ مبارك پر ضرب شدید آنا اس سخت صدمہ میں بھی حضور اقدس سید المحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا خیال رہنا۔حضو رپر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالارقم میں تشریف فرماتھے اپنی ماں سے خدمت اقدس میں لے چلنے کی درخواست کرنا مفصلا مروی یہ حدیث بتمامہ ہماری کتاب مطلع القمر ین فی ابانۃ العمرین میں مذکوراس کے آخر میں ہے:
حتی اذاھدأت الرجل وسکن الناس خرجتابہ یتکیئ علیھما حتی ادخلتاہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالت فانکب علیہ فقبلہ وانکب علیہ المسلمون ورق لہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رقۃ شدیدۃ الحدیث ۔ یعنی جب پہچل موقوف ہوئی اور لوگ سو رہے ان کی والدہ ام الخیر اور حضرت فاروق اعظم کی بہن ام جمیل رضی اﷲ تعالی عنہما انھیں لے کر چلیں بوجہ ضعف دونوں پر تکیہ لگائے تھے یہاں تك کہ خدمت اقدس میں حاضر کیا دیکھتے ہی پروانہ وار شمع رسالت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر گر پڑے اور بوسہ دینے لگے اور صحابہ غایت محبت سے ان پر گرے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لئے رقت فرمائی الحدیث۔
حدیث سیزد ہم:حافظ ابوسعید شرف المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
صعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسم علی المنبر ثم قال این عثمان بن عفانفوثب وقال ھا انا ذا یارسول اﷲ فقال حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منبر پرتشریف فرما ہوئے پھر فرمایا:عثمان کہاں ہیں۔عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ بے تابانہ اٹھے اور عرض کی:حضور!
حدیث دوازدہم:ابن عبدربہ کتاب بہجۃ المجالس میں مختصرا اور ریاض نضرہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہماسے مطولا صدیق اکبر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کا ابتدائے اسلام میں اظہار اسلام اور کفار سے ضرب وقتال فرمانا اور ان کے چہرہ مبارك پر ضرب شدید آنا اس سخت صدمہ میں بھی حضور اقدس سید المحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا خیال رہنا۔حضو رپر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دارالارقم میں تشریف فرماتھے اپنی ماں سے خدمت اقدس میں لے چلنے کی درخواست کرنا مفصلا مروی یہ حدیث بتمامہ ہماری کتاب مطلع القمر ین فی ابانۃ العمرین میں مذکوراس کے آخر میں ہے:
حتی اذاھدأت الرجل وسکن الناس خرجتابہ یتکیئ علیھما حتی ادخلتاہ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قالت فانکب علیہ فقبلہ وانکب علیہ المسلمون ورق لہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رقۃ شدیدۃ الحدیث ۔ یعنی جب پہچل موقوف ہوئی اور لوگ سو رہے ان کی والدہ ام الخیر اور حضرت فاروق اعظم کی بہن ام جمیل رضی اﷲ تعالی عنہما انھیں لے کر چلیں بوجہ ضعف دونوں پر تکیہ لگائے تھے یہاں تك کہ خدمت اقدس میں حاضر کیا دیکھتے ہی پروانہ وار شمع رسالت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر گر پڑے اور بوسہ دینے لگے اور صحابہ غایت محبت سے ان پر گرے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کے لئے رقت فرمائی الحدیث۔
حدیث سیزد ہم:حافظ ابوسعید شرف المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
صعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسم علی المنبر ثم قال این عثمان بن عفانفوثب وقال ھا انا ذا یارسول اﷲ فقال حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منبر پرتشریف فرما ہوئے پھر فرمایا:عثمان کہاں ہیں۔عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ بے تابانہ اٹھے اور عرض کی:حضور!
حوالہ / References
∞ سیرت حافظ عمر بن محمد مل€ا
الریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ ∞چشتی کتب خانہ فیصل آباد ۱/ ۷۹€
الریاض النضرۃ فی مناقب العشرہ ∞چشتی کتب خانہ فیصل آباد ۱/ ۷۹€
ادن منی فدنا منہ فضمہ الی صدرہ و قبل بین عینیہ الحدیث۔ میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! فرمایا:پاس آؤ۔پاس حاضر ہوئے۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں سینے سے لگایا اور آنکھوں کے بیچ میں بوسہ دیا۔الحدیث۔
حدیث چہاردہم:حاکم صحیح مستدرك بافادۃ الصحیح اور ابویعلی اپنی مسند اور ابونعیم فضائل صحابہ میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمی بالماء المعین اور عمر بن محمد ملا سیرت میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال بینانحن مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی نفر من المھاجرین منہم ابوبکر وعمر وعثمان وعلی وطلحۃ والزبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعدبن ابی وقاص فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لینھض کل رجل الی کفؤہ فنھض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی عثمان فاعتنقہ وقال انت ولی فی الدنیا والاخرۃ ۔ ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھےحاضرین میں خلفاء اربعہ (ابوبکرعمرعثمانعلی)وطلحہ و عبدالرحمن بن عوف و سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہم تھے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائےاور خود حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف اٹھ کر تشریف لائے اور ان سے معانقہ کیا اور فرمایا:تو میرا دوست ہے دنیاوآخرت میں۔
حدیث پانزدہم:ابن عساکر تاریخ میں حضرت امام حسن مجتبی وہ اپنے والد ماجد حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجوھہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عانق عثمن بن عفان فقال قدعانقت اخی عثمان فمن کان لہ اخ فلیعا نقہ ۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے معانقہ کیااور فرمایا میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے معانقہ کرے۔
حدیث چہاردہم:حاکم صحیح مستدرك بافادۃ الصحیح اور ابویعلی اپنی مسند اور ابونعیم فضائل صحابہ میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمی بالماء المعین اور عمر بن محمد ملا سیرت میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال بینانحن مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی نفر من المھاجرین منہم ابوبکر وعمر وعثمان وعلی وطلحۃ والزبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعدبن ابی وقاص فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لینھض کل رجل الی کفؤہ فنھض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی عثمان فاعتنقہ وقال انت ولی فی الدنیا والاخرۃ ۔ ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمت اقدس حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھےحاضرین میں خلفاء اربعہ (ابوبکرعمرعثمانعلی)وطلحہ و عبدالرحمن بن عوف و سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہم تھے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائےاور خود حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف اٹھ کر تشریف لائے اور ان سے معانقہ کیا اور فرمایا:تو میرا دوست ہے دنیاوآخرت میں۔
حدیث پانزدہم:ابن عساکر تاریخ میں حضرت امام حسن مجتبی وہ اپنے والد ماجد حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجوھہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عانق عثمن بن عفان فقال قدعانقت اخی عثمان فمن کان لہ اخ فلیعا نقہ ۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے معانقہ کیااور فرمایا میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے معانقہ کرے۔
حوالہ / References
∞ €اشرف النبی∞(فارسی) باب بست ونہم مطبوعہ تہران ص۲۸۸ و ۲۹€۰
المستدرك باب فضائل عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارلفکر بیروت ∞۳/ ۹۷€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ∞حدیث ۳۶۲۴۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۳/ ۵۷€
المستدرك باب فضائل عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارلفکر بیروت ∞۳/ ۹۷€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ∞حدیث ۳۶۲۴۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۳/ ۵۷€
اس حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقا حکم بھی ارشاد ہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے:
حدیث شانزدہم:حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہراء سے فرمایا:عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے عرض کی کہ نامحرم شخص اسے نہ دیکھےحضور نے گلے سے لگالیا اور فرمایا:
ذریۃ بعضہا من بعض ۔
اوکما ورد صلی اﷲ تعالی علی الجیب والہ وبارك وسلم۔ یہ ایك دوسرے کی نسل ہے۔(ت)
جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے اﷲ تعالی کی رحمت وبرکت اور سلام ہو اس کے حبیب مکرم اور ان کی سب آل پر۔(ت)
بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارد۔اور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسدبلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنتاور سنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تا وقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحا نہی ثابت نہ ہو یہاں تك کہ خود امام مانعین مولوی اسمعیل دہلوی اپنے رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مقر کہ معانقہ روز عید گوبدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔
حیث قال ہمہ اوضاع از قران خوانی وفاتحہ خوانی وطعام خورانیدن سوائے کنند چاہ وامثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت است گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر انتہی۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ چنانچہ مولوی اسمعیل دہلوی نے کہا ہے۔قرآن خوانی فاتحہ خوانی اور کھانا کھلانے کے تمام طریقے بدعت ہیں سوائے کنواں کھدوانے اور اسی نوع کے دوسرے کامقربانی کرنے اور دعااستغفار کرنے کے۔گویہ بدعت حسنہ بالخصوص ہیں جیسے عید کے دن گلے ملنا اور نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مصافحہ کرنا انتہی اﷲ تعالی سب کچھ جانتاہے اور اس شان والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ پختہ ہے۔(ت)
حدیث شانزدہم:حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہراء سے فرمایا:عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے عرض کی کہ نامحرم شخص اسے نہ دیکھےحضور نے گلے سے لگالیا اور فرمایا:
ذریۃ بعضہا من بعض ۔
اوکما ورد صلی اﷲ تعالی علی الجیب والہ وبارك وسلم۔ یہ ایك دوسرے کی نسل ہے۔(ت)
جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے اﷲ تعالی کی رحمت وبرکت اور سلام ہو اس کے حبیب مکرم اور ان کی سب آل پر۔(ت)
بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارد۔اور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسدبلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنتاور سنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تا وقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحا نہی ثابت نہ ہو یہاں تك کہ خود امام مانعین مولوی اسمعیل دہلوی اپنے رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مقر کہ معانقہ روز عید گوبدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔
حیث قال ہمہ اوضاع از قران خوانی وفاتحہ خوانی وطعام خورانیدن سوائے کنند چاہ وامثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت است گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر انتہی۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ چنانچہ مولوی اسمعیل دہلوی نے کہا ہے۔قرآن خوانی فاتحہ خوانی اور کھانا کھلانے کے تمام طریقے بدعت ہیں سوائے کنواں کھدوانے اور اسی نوع کے دوسرے کامقربانی کرنے اور دعااستغفار کرنے کے۔گویہ بدعت حسنہ بالخصوص ہیں جیسے عید کے دن گلے ملنا اور نماز فجر اور نماز عصر کے بعد مصافحہ کرنا انتہی اﷲ تعالی سب کچھ جانتاہے اور اس شان والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ پختہ ہے۔(ت)
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب النکاح الباب الثالث دارالفکر بیروت ∞۵/ ۳۶€۲
زبدۃ النصائح∞(رسالہ نذور)€
زبدۃ النصائح∞(رسالہ نذور)€
رسالہ
صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ۱۳۰۶ھ
(دونوں ہتھیلیوں سے مصافحہ ہونے میں چاندی کی تختیاں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۲۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ جائز ہے یا نہیں اور آج کل جو غیر مقلد لوگ ایك ہی ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کو ناجائز و خلاف احادیث جانتے ہیں ان کایہ دعوی صحیح ہے یا غلط بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ)
الجواب:
الحمدﷲ اللھم لك الحمد یا باسط الیدین بالرحمۃ تنفق کیف تشاءتصافح حمدك بمز یدرفدك کما تعانق شکرك والعطاءصل وسلم وبارك علی من یداہ بحر النوالومتبعا الزلال وجنتا البلاءوعلی الہ وصحبہ و اھلہ وحزبہ ماتصافحت الایدی عنداللقاء واشھد ان لا الہ الا ﷲ وحدہ لاشریك لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الباسط کفیہ بالجود والصلۃ وعلی الہ وصحبہ اولی الود و الاخاء والفیض والسخاء فی العسر والرخاء الی تصافح الاحباب وتعانق الاخلاء۔امین الہ الحق امین۔
بیشکدونوں ہاتھ سے مصافحہ جائز ہے۔اکابر علماء نے اس کے مسنون ومندوب ہونے
صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ۱۳۰۶ھ
(دونوں ہتھیلیوں سے مصافحہ ہونے میں چاندی کی تختیاں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۲۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ جائز ہے یا نہیں اور آج کل جو غیر مقلد لوگ ایك ہی ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کو ناجائز و خلاف احادیث جانتے ہیں ان کایہ دعوی صحیح ہے یا غلط بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ)
الجواب:
الحمدﷲ اللھم لك الحمد یا باسط الیدین بالرحمۃ تنفق کیف تشاءتصافح حمدك بمز یدرفدك کما تعانق شکرك والعطاءصل وسلم وبارك علی من یداہ بحر النوالومتبعا الزلال وجنتا البلاءوعلی الہ وصحبہ و اھلہ وحزبہ ماتصافحت الایدی عنداللقاء واشھد ان لا الہ الا ﷲ وحدہ لاشریك لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الباسط کفیہ بالجود والصلۃ وعلی الہ وصحبہ اولی الود و الاخاء والفیض والسخاء فی العسر والرخاء الی تصافح الاحباب وتعانق الاخلاء۔امین الہ الحق امین۔
بیشکدونوں ہاتھ سے مصافحہ جائز ہے۔اکابر علماء نے اس کے مسنون ومندوب ہونے
کی تصریح فرمائی اور ہر گز ہر گز نام کو بھی کوئی حدیث اس سے ممانعت میں نہ آئی۔جائز شرعی کی ممانعت ومذمت پر اترنا شریعت مطہرہ پر افتراء کرنا ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
فقیر غفراﷲ تعالی لہ قبل اس کے کہ اس اجمال کی تفصیل کرےایك واقعہ طیبہ ورؤیائے صالحہ ذکر کرتا ہے۔ وﷲ الحمد والمنۃ ومنہ الفضل والنعمۃ۔
یہ مسئلہ فقیر غفرلہ المولی القدیر سے روز جمعہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ کو بعد نماز پوچھا گیا۔جواب زبانی بیان میں آیا اور از انجا کہ آج کل قدرے علالت اور بوجہ مشاغل درس قلت مہلت تھی قصد کیا کہ جمعہ آئندہ کی تعطیل ان شاء اﷲ تعالی تحریر جواب کی کفیل ہوگی۔اس اثناء میں سوال مذکور کا خیال بھی دل سے اتر گیا۔ناگاہ شب سہ شنبہ ۲۳ ماہ مسطور کہ سر بشمال و روبقبلہ میں سوتا اور بخت بیدار تھا۔خاص صبح کے وقت بحمداﷲ دیکھا کہ سمت مدینہ طیبہ سے امام علاممرشد الانامقاضی البلاد ومفتی العباد فقیہ النفسمقارب الاجتہادامام اجلابوالمحاسن فخر الملۃ والدین ابوالمفاخرحسن ابن امام بدرالدین منصور ابن امام شمس الدین محمود ابوالقاسم بن عبدالعزیز اوزجندی فرغانی معروف بہ امام قاضی خاں قدس اﷲ تعالی سرہفافاض علینا نورہ(جن کے فتاوی کے لئے شرقا غربا اعلی درجہ کا اعتبار اور اشتہار اور ان کا امام مجتہدفقیہ النفس اعظم عمائد سے ہونا آشکار) فقیر کے سرہانے تشریف لائےبلند بالا متوسط بدنسفید پوشاك زیب تنوسیع گھیر نیچے دامناور بزبان فارسی یہ دو جملے ارشاد فرمائے:
"مسند ایشاں حدیث انس است واو را مفہوم نیست" اس کی دلیل حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ والی حدیث ہے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں۔(ت)
لفظ یہی تھے یا اس کے قریبمعا جمال مبارك دیکھتے ہی قلب فقیر میں القاء ہوا کہ یہ امام قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالی ہیں۔اور کلام مقدس سنتے ہی دل میں آیا کہ اسی مسئلہ مصافحہ کی نسبت ارشاد ہے والحمدﷲ رب العالمین۔
فقیر غفرلہ اﷲ تعالی کو اس خواب مبارك کے ذکر سے مخالفین پر حجت لانا مقصودنہیں کہ وہ تو خواب کے اصلا قدر وقیمت نہیں رکھتے اگرچہ احادیث صحیحہ سے ثابت کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسے امر عظیم جانتے اور اس کے سننے پوچھنے بتانےبیان فرمانے میں نہایت درجے کا اہتمام فرماتے۔صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نماز صبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے:
فقیر غفراﷲ تعالی لہ قبل اس کے کہ اس اجمال کی تفصیل کرےایك واقعہ طیبہ ورؤیائے صالحہ ذکر کرتا ہے۔ وﷲ الحمد والمنۃ ومنہ الفضل والنعمۃ۔
یہ مسئلہ فقیر غفرلہ المولی القدیر سے روز جمعہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ کو بعد نماز پوچھا گیا۔جواب زبانی بیان میں آیا اور از انجا کہ آج کل قدرے علالت اور بوجہ مشاغل درس قلت مہلت تھی قصد کیا کہ جمعہ آئندہ کی تعطیل ان شاء اﷲ تعالی تحریر جواب کی کفیل ہوگی۔اس اثناء میں سوال مذکور کا خیال بھی دل سے اتر گیا۔ناگاہ شب سہ شنبہ ۲۳ ماہ مسطور کہ سر بشمال و روبقبلہ میں سوتا اور بخت بیدار تھا۔خاص صبح کے وقت بحمداﷲ دیکھا کہ سمت مدینہ طیبہ سے امام علاممرشد الانامقاضی البلاد ومفتی العباد فقیہ النفسمقارب الاجتہادامام اجلابوالمحاسن فخر الملۃ والدین ابوالمفاخرحسن ابن امام بدرالدین منصور ابن امام شمس الدین محمود ابوالقاسم بن عبدالعزیز اوزجندی فرغانی معروف بہ امام قاضی خاں قدس اﷲ تعالی سرہفافاض علینا نورہ(جن کے فتاوی کے لئے شرقا غربا اعلی درجہ کا اعتبار اور اشتہار اور ان کا امام مجتہدفقیہ النفس اعظم عمائد سے ہونا آشکار) فقیر کے سرہانے تشریف لائےبلند بالا متوسط بدنسفید پوشاك زیب تنوسیع گھیر نیچے دامناور بزبان فارسی یہ دو جملے ارشاد فرمائے:
"مسند ایشاں حدیث انس است واو را مفہوم نیست" اس کی دلیل حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ والی حدیث ہے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں۔(ت)
لفظ یہی تھے یا اس کے قریبمعا جمال مبارك دیکھتے ہی قلب فقیر میں القاء ہوا کہ یہ امام قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالی ہیں۔اور کلام مقدس سنتے ہی دل میں آیا کہ اسی مسئلہ مصافحہ کی نسبت ارشاد ہے والحمدﷲ رب العالمین۔
فقیر غفرلہ اﷲ تعالی کو اس خواب مبارك کے ذکر سے مخالفین پر حجت لانا مقصودنہیں کہ وہ تو خواب کے اصلا قدر وقیمت نہیں رکھتے اگرچہ احادیث صحیحہ سے ثابت کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسے امر عظیم جانتے اور اس کے سننے پوچھنے بتانےبیان فرمانے میں نہایت درجے کا اہتمام فرماتے۔صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نماز صبح پڑھ کر حاضرین سے دریافت فرماتے:
ھل رای احدن اللیلۃ رؤیا ۔ آج کے شب کسی نے کوئی خواب دیکھا
جس نے دیکھا ہوتا عرض کرتا۔حضور تعبیر فرماتے۔ احمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ وطبرانی وحکیم ترمذی وابن جریر وابن عبدالبر وابن النجار وغیرہم محدثین کبار کے یہاں احادیث انس وابوہریرہ وعبادہ بن صامت وابوسعید خدری و عبداﷲ بن عمر وعبداﷲ بن عمرو عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عباس وجابر بن عبداﷲ وعوف بن مالك و ابورزین عقیلی وعباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمان کی خواب نبوت کے ٹکڑوں میں سے ایك ٹکرا عــــــہ ہے"
صحیح بخاری میں ابوہریرہ اور صحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں عبداﷲ بن عباس او ر احمد وابنائے ماجہ وخزیمہ وحبان کے یہاں بسند صحیح ام کرز کعبیہ ___ اور مسند احمد میں ام المومنین صدیقہ ___ اور معجم کبیر طبرانی میں بسند صحیح حذیفہ بن اسید رضی اﷲ تعالی عنہم سے مروی وھذا لفظ الطبرانی(یہ الفاظ طبرانی کے ہیں۔ت)حضور لامع النور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات قیل وما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل اوتری لہ ۔ نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہ ہوگی مگر بشارتیںعرض کی گئی وہ بشارتیں کیا ہیں فرمایا:نیك آدمی کہ خواب خود دیکھے یا اس کے لئے دیکھی جائے۔
اسی طرح احادیث اس بارہ میں متوافر اور اس کا امر عظیم مہتم بالشان ہونا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
عــــــہ:حدیثیں اس بارے میں مختلف آئیں۔چو بیسواںپچیسواںچھبیسواںچالیسواںچوالیسواںپینتالیسواںچھیالیسواں پچاسواںسترھواںچھہترواں ٹکڑا سب وارد ہیں۔لہذا فقیر نے مطلق ایك ٹکرا کہاا ور اکثر احادیث صحیحہ میں چھیالیسواں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔۱۲ منہ
جس نے دیکھا ہوتا عرض کرتا۔حضور تعبیر فرماتے۔ احمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ وطبرانی وحکیم ترمذی وابن جریر وابن عبدالبر وابن النجار وغیرہم محدثین کبار کے یہاں احادیث انس وابوہریرہ وعبادہ بن صامت وابوسعید خدری و عبداﷲ بن عمر وعبداﷲ بن عمرو عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عباس وجابر بن عبداﷲ وعوف بن مالك و ابورزین عقیلی وعباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمان کی خواب نبوت کے ٹکڑوں میں سے ایك ٹکرا عــــــہ ہے"
صحیح بخاری میں ابوہریرہ اور صحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں عبداﷲ بن عباس او ر احمد وابنائے ماجہ وخزیمہ وحبان کے یہاں بسند صحیح ام کرز کعبیہ ___ اور مسند احمد میں ام المومنین صدیقہ ___ اور معجم کبیر طبرانی میں بسند صحیح حذیفہ بن اسید رضی اﷲ تعالی عنہم سے مروی وھذا لفظ الطبرانی(یہ الفاظ طبرانی کے ہیں۔ت)حضور لامع النور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات قیل وما المبشرات قال الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل اوتری لہ ۔ نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہ ہوگی مگر بشارتیںعرض کی گئی وہ بشارتیں کیا ہیں فرمایا:نیك آدمی کہ خواب خود دیکھے یا اس کے لئے دیکھی جائے۔
اسی طرح احادیث اس بارہ میں متوافر اور اس کا امر عظیم مہتم بالشان ہونا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
عــــــہ:حدیثیں اس بارے میں مختلف آئیں۔چو بیسواںپچیسواںچھبیسواںچالیسواںچوالیسواںپینتالیسواںچھیالیسواں پچاسواںسترھواںچھہترواں ٹکڑا سب وارد ہیں۔لہذا فقیر نے مطلق ایك ٹکرا کہاا ور اکثر احادیث صحیحہ میں چھیالیسواں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔۱۲ منہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الرؤیا ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۳،€صحیح البخاری کتاب التعبیر باب تعبیر الرؤیا بعد صلوٰۃ الصبح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۴۳،€سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرؤیا ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۸€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرؤیا ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۹،€صحیح البخاری کتاب التعبیر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۳۴ و ۱۰۳۵€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۰۵۱€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳/ ۱۷۹€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرؤیا ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۹،€صحیح البخاری کتاب التعبیر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۳۴ و ۱۰۳۵€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۰۵۱€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳/ ۱۷۹€
سے متواتر۔ان کی تفصیل موجب تطویل۔
اور احمد وبخاری وترمذی حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذااری احدکم الرؤیا یحبھا فانما ھی من اﷲ فلیحمد اﷲ علیھا ولیحدث بھا غیرہ ۔ جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے پیارا معلوم ہو تو وہ اﷲ تعالی کی طرف سے ہے چاہئے کہ اس پر اﷲ تعالی کی حمد بجا لائے اور لوگوں کے سامنے بیان کرے۔
فقیر بے نواکو اس سے زیادہ کیا پیارا ہوگا کہ ایك امام اجلرکن شریعتہادی ملت اس پر اپنا پر تو اجلال ڈالے۔اور محض اس کی امداد اور ارشاد کے لئے غریب خانہ پر بنفس نفیس کرم فرمائے اور بے سابقہ عرض و درخواست خود بکمال مہربانی مسئلہ دین ورد مخالفین تعلیم کرے۔کیا وہ غریب خستہ فقیر دل شکستہ اس سے امید نہ کرے گا کہ باوجود میرے ان عظیم وشدید گناہوں کے میرا رؤف ورحیم مولی عزوجل وعلا میرے ساتھ ایك نظر خاص رکھتا ہے اور مجھ سے ذلیل۔بے وقعتخواربے حیثیت کا افتاء بھی اس بارگاہ رحمت میں گنتی شمار کے قابل ٹھہرائے۔
فالحمدﷲ الذی بنعمتہ وجلالہ تتم الصالحات والصلوۃ والسلام علی کنز الفقراءحرز الضعفاء عظیم الرجاءعمیم العطیات وعلی الہ و صحبہ اجمعین ۔ و الحمدﷲ رب العالمین۔ تمامی تعریف ثابت ہے اس معبود حقیقی کے لئے جس کی نعمت وعظمت کے طفیل نیکیاں تمام و کمال کو پہنچیںاور درود وسلام نازل ہو اس ذات اقدس پر جو فقیروں کا خزانہکمزوروں کی پناہ گاہبڑی امید والے اور عام بخشش کرنے والے ہیں اور ان کے تمام آل واصحاب پر تمامی تعریف سارے جہاں کے پالنہار کے لئے ہے۔(ت)
معہذا یہ بھی سنت صحابہ سے ثابت کہ جو خواب ایسا دیکھا گیا جس میں ان کے قول کی تائید نکلی اس پر ارشاد ہوئے اور دیکھنے والے کی توقیر بڑھادیصحیحین میں ہے ابوحمزہ ضبعی نے تمتع حج میں خواب دیکھا
اور احمد وبخاری وترمذی حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذااری احدکم الرؤیا یحبھا فانما ھی من اﷲ فلیحمد اﷲ علیھا ولیحدث بھا غیرہ ۔ جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے پیارا معلوم ہو تو وہ اﷲ تعالی کی طرف سے ہے چاہئے کہ اس پر اﷲ تعالی کی حمد بجا لائے اور لوگوں کے سامنے بیان کرے۔
فقیر بے نواکو اس سے زیادہ کیا پیارا ہوگا کہ ایك امام اجلرکن شریعتہادی ملت اس پر اپنا پر تو اجلال ڈالے۔اور محض اس کی امداد اور ارشاد کے لئے غریب خانہ پر بنفس نفیس کرم فرمائے اور بے سابقہ عرض و درخواست خود بکمال مہربانی مسئلہ دین ورد مخالفین تعلیم کرے۔کیا وہ غریب خستہ فقیر دل شکستہ اس سے امید نہ کرے گا کہ باوجود میرے ان عظیم وشدید گناہوں کے میرا رؤف ورحیم مولی عزوجل وعلا میرے ساتھ ایك نظر خاص رکھتا ہے اور مجھ سے ذلیل۔بے وقعتخواربے حیثیت کا افتاء بھی اس بارگاہ رحمت میں گنتی شمار کے قابل ٹھہرائے۔
فالحمدﷲ الذی بنعمتہ وجلالہ تتم الصالحات والصلوۃ والسلام علی کنز الفقراءحرز الضعفاء عظیم الرجاءعمیم العطیات وعلی الہ و صحبہ اجمعین ۔ و الحمدﷲ رب العالمین۔ تمامی تعریف ثابت ہے اس معبود حقیقی کے لئے جس کی نعمت وعظمت کے طفیل نیکیاں تمام و کمال کو پہنچیںاور درود وسلام نازل ہو اس ذات اقدس پر جو فقیروں کا خزانہکمزوروں کی پناہ گاہبڑی امید والے اور عام بخشش کرنے والے ہیں اور ان کے تمام آل واصحاب پر تمامی تعریف سارے جہاں کے پالنہار کے لئے ہے۔(ت)
معہذا یہ بھی سنت صحابہ سے ثابت کہ جو خواب ایسا دیکھا گیا جس میں ان کے قول کی تائید نکلی اس پر ارشاد ہوئے اور دیکھنے والے کی توقیر بڑھادیصحیحین میں ہے ابوحمزہ ضبعی نے تمتع حج میں خواب دیکھا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التعبیر باب الرؤیا من اﷲ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۳۴،€مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۸€
صحیح البخاری کتاب المناسك باب التمتع الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۳€
صحیح البخاری کتاب المناسك باب التمتع الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۳€
جس سے مذہب ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی تائید ہوئیابن عباس نے ان کا وظیفہ مقرر کردیا اور اس روز سے انھیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھانا شروع کیا
ان وجوہ پر نظر تھی کہ فقیر نے یہ خواب ذکر کیخواب دیکھتے ہی آنکھ کھلینماز کاوقت تھاوضو میں مشغول ہوااثنائے وضو ہی میں خیال کیا تو یاد آیا کہ انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث جامع ترمذی میں مروی کہ سائل نے عرض کی:
افیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم ۔ یعنی یارسول اللہ! جب مسلمان مسلمان سے ملے تو اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے۔فرمایا ہاں۔
اس میں لفظ"یدہ"بصیغہ مفرد واقع ہوا لہذا ان صاحبوں کا محل استناد ٹھہرا۔
اب قبل اس کے کہ جواب امام علیہ الرحمۃ المنعام کی توضیح اور دیگر مباحث نفیسہ کی جو بحمداﷲ قلب فقیر پر فائض ہوئے تصریح کروںپہلے اس کا بیان کرنا ہے کہ امام ہمام قدس سرہ نے خاص حدیث انس کو کیوں ان کا مستند بنایا حالانکہ کلمہ ید بصیغہ مفرد اس کے سوا اور بھی کئی حدیثوں میں آیااس تحقیق کے ضمن میں ان شاء اﷲ تعالی ان حدیثوں سے بھی جواب کھل جائے گا۔
فاقول: وباﷲ التوفیق وہ احادیث مصافحہ جن میں لفظ ید بصیغہ مفرد واقع تین قسم ہیں:
قسم اول:احادیث فضائل جن میں مصافحہ کی ترغیب اور اس کی خوبیوں کا بیان ہے____مثلا:
حدیث حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہما جسے طبرانی نے معجم اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صالح روایت کیا۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان المؤمن اذالقی المؤمن فسلم علیہ واخذبیدہ فصافحہ تناثرت خطایا ھما کما تنا ثر ورق الشجر ۔ جب مسلمان سے مسلمان مل کر سلام کرتا اور ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے ان کے گناہ جھڑپڑتے ہیں جیسے پیڑوں کے پتے۔
ان وجوہ پر نظر تھی کہ فقیر نے یہ خواب ذکر کیخواب دیکھتے ہی آنکھ کھلینماز کاوقت تھاوضو میں مشغول ہوااثنائے وضو ہی میں خیال کیا تو یاد آیا کہ انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث جامع ترمذی میں مروی کہ سائل نے عرض کی:
افیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم ۔ یعنی یارسول اللہ! جب مسلمان مسلمان سے ملے تو اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے۔فرمایا ہاں۔
اس میں لفظ"یدہ"بصیغہ مفرد واقع ہوا لہذا ان صاحبوں کا محل استناد ٹھہرا۔
اب قبل اس کے کہ جواب امام علیہ الرحمۃ المنعام کی توضیح اور دیگر مباحث نفیسہ کی جو بحمداﷲ قلب فقیر پر فائض ہوئے تصریح کروںپہلے اس کا بیان کرنا ہے کہ امام ہمام قدس سرہ نے خاص حدیث انس کو کیوں ان کا مستند بنایا حالانکہ کلمہ ید بصیغہ مفرد اس کے سوا اور بھی کئی حدیثوں میں آیااس تحقیق کے ضمن میں ان شاء اﷲ تعالی ان حدیثوں سے بھی جواب کھل جائے گا۔
فاقول: وباﷲ التوفیق وہ احادیث مصافحہ جن میں لفظ ید بصیغہ مفرد واقع تین قسم ہیں:
قسم اول:احادیث فضائل جن میں مصافحہ کی ترغیب اور اس کی خوبیوں کا بیان ہے____مثلا:
حدیث حذیفہ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنہما جسے طبرانی نے معجم اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں بسند صالح روایت کیا۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان المؤمن اذالقی المؤمن فسلم علیہ واخذبیدہ فصافحہ تناثرت خطایا ھما کما تنا ثر ورق الشجر ۔ جب مسلمان سے مسلمان مل کر سلام کرتا اور ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرتا ہے ان کے گناہ جھڑپڑتے ہیں جیسے پیڑوں کے پتے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحہ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۲۴۷€ مکتبۃ المعارف ریاض ∞۱/ ۱۸۴،€شعب الایمان فصل فی المصافحہ ∞حدیث ۸۹۵۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶/ ۴۷۳€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۲۴۷€ مکتبۃ المعارف ریاض ∞۱/ ۱۸۴،€شعب الایمان فصل فی المصافحہ ∞حدیث ۸۹۵۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶/ ۴۷۳€
حدیث سلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ معجم کبیر طبرانی میں بسند حسن مروی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المسلم اذلقی اخاہ المسلم فاخذ بیدہ تحاتت عنھما ذنوبھما ۔ مسلمان جب اپنے بھائی سے مل کر اس کا ہاتھ پکڑتاہے ان کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔
حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ کہ امام احمد نے ایسی سند سے جس کے سب رجال سوا میمون بن موسی مرئی بصری صدوق مدلس کے ثقات عدول ہیں اور نیز ابویعلی وبزار نے روایت کی:
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال مامن مسلمین التقیا فاخذ احد ھما بید صاحبہ الا ما کان حقا علی اﷲ عزو جل ان یحضر دعا ئھما ولا یفرق بین ایدیھما حتی یغفر لھما ۔ جب دو مسلمان ملاقات کے وقت ایك دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اﷲ تعالی پر حق ہے کہ ان کی دعا قبول فرمائے اور ان کے ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں کہ ان کے گناہ بخش دے۔
حدیث براء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ کہ احمد نے مسند اور ضیاء نے مختارہ میں بسند صحیح روایت کی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ایما مسلمین التقیا فاخذ احد ہما بید صاحبہ و تصافحا وحمداﷲ جمیعا تفرقا لیس بینھما خطیئۃ ۔ جو دو مسلمان آپس میں مل کر ایك دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور مصافحہ کریں اور دونوں حمد الہی بجالائیں بیگناہ ہو کر جدا ہوں۔
نیز حدیث براء رضی اﷲ تعالی عنہ کہ بیہقی نے بطریق یزید بن براء تخریج کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایلقی مسلم مسلما فیر حب بہ ویاخذ جو مسلمان مسلمان سے مل کر مرحبا کہے اور ہاتھ
ان المسلم اذلقی اخاہ المسلم فاخذ بیدہ تحاتت عنھما ذنوبھما ۔ مسلمان جب اپنے بھائی سے مل کر اس کا ہاتھ پکڑتاہے ان کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔
حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ کہ امام احمد نے ایسی سند سے جس کے سب رجال سوا میمون بن موسی مرئی بصری صدوق مدلس کے ثقات عدول ہیں اور نیز ابویعلی وبزار نے روایت کی:
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال مامن مسلمین التقیا فاخذ احد ھما بید صاحبہ الا ما کان حقا علی اﷲ عزو جل ان یحضر دعا ئھما ولا یفرق بین ایدیھما حتی یغفر لھما ۔ جب دو مسلمان ملاقات کے وقت ایك دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اﷲ تعالی پر حق ہے کہ ان کی دعا قبول فرمائے اور ان کے ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں کہ ان کے گناہ بخش دے۔
حدیث براء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ کہ احمد نے مسند اور ضیاء نے مختارہ میں بسند صحیح روایت کی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ایما مسلمین التقیا فاخذ احد ہما بید صاحبہ و تصافحا وحمداﷲ جمیعا تفرقا لیس بینھما خطیئۃ ۔ جو دو مسلمان آپس میں مل کر ایك دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور مصافحہ کریں اور دونوں حمد الہی بجالائیں بیگناہ ہو کر جدا ہوں۔
نیز حدیث براء رضی اﷲ تعالی عنہ کہ بیہقی نے بطریق یزید بن براء تخریج کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایلقی مسلم مسلما فیر حب بہ ویاخذ جو مسلمان مسلمان سے مل کر مرحبا کہے اور ہاتھ
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۱۵۰€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۶/ ۲۵۶€
مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۴۲،€الترغیب والترھیب بحوالہ احمد والبزار وابی یعلٰی الترغیب فی المصافحہ ∞حدیث ۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۴۳۲€
مسند احمد بن حنبل عن براء بن عازب المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞۴/ ۲۹۳ و ۲۹۴€
مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۴۲،€الترغیب والترھیب بحوالہ احمد والبزار وابی یعلٰی الترغیب فی المصافحہ ∞حدیث ۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۴۳۲€
مسند احمد بن حنبل عن براء بن عازب المکتبۃ الاسلامی بیروت ∞۴/ ۲۹۳ و ۲۹۴€
بیدہ الاتناثرت الذنوب بینھما کما یتناثر ورق الشجر ۔ ملائے ان کے گناہ برگ درخت کی طرح جھڑ جائیں۔
اقول:اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ الفاظ وحدت ید میں ہیں تاہم ان دونوں حدیثوں میں منکرین کےلئے حجت نہیں۔ہر عاقل جانتاہے کہ مقام ترغیب وترھیب میں غالبا ادنی کو بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب اس قدر پر یہ ثواب یا عقاب ہے تو زائد میں کتنا ہوگا۔اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس سے زائد مندوب یا محذور نہیں۔ترھیب کی مثال تو یہ لیجئے۔
ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اعان علی قتل مومن بشطر کلمۃ لقی اﷲ مکتوبا بین عینیہ ایس من رحمۃ اﷲ ۔ جو کسی مسلمان کے قتل پر آدھی بات کہہ کر اعانت کرےاﷲ سے اس حالت پر ملے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو خدا کی رحمت سے ناامید۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ آدھی بات کہہ کر اعانت کرے تو مستحق عذاب اور ساری بات سے مدد کرے تونہیں
یہاں محل ترغیب ہے زیادہ مثالیں اسی کی سنئےمثلا اگر کوئی یوں کہے کہ جو شخص اﷲ تعالی کی راہ میں ایك پیسہ دے اﷲ تعالی اس پر رحمت فرمائے اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ دو پیسے دے گا تو رحمت نہ ہوگی۔
بخاریمسلمترمذینسائیابن ماجہابن خزیمہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور امام مالك مؤطا میں بطریق سعید بن یسار مرسلا اور طبرانی وابن حبان ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور معجم کبیر میں ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
وھذا حدیث ابن حبان فی صحیحہ عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان اﷲ یعنی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو ایك چھوہارا یا ایك نوالہ اﷲ کی راہ میں دے اﷲ تعالی اسے ایسا بڑھاتا
اقول:اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ الفاظ وحدت ید میں ہیں تاہم ان دونوں حدیثوں میں منکرین کےلئے حجت نہیں۔ہر عاقل جانتاہے کہ مقام ترغیب وترھیب میں غالبا ادنی کو بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب اس قدر پر یہ ثواب یا عقاب ہے تو زائد میں کتنا ہوگا۔اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس سے زائد مندوب یا محذور نہیں۔ترھیب کی مثال تو یہ لیجئے۔
ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اعان علی قتل مومن بشطر کلمۃ لقی اﷲ مکتوبا بین عینیہ ایس من رحمۃ اﷲ ۔ جو کسی مسلمان کے قتل پر آدھی بات کہہ کر اعانت کرےاﷲ سے اس حالت پر ملے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو خدا کی رحمت سے ناامید۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ آدھی بات کہہ کر اعانت کرے تو مستحق عذاب اور ساری بات سے مدد کرے تونہیں
یہاں محل ترغیب ہے زیادہ مثالیں اسی کی سنئےمثلا اگر کوئی یوں کہے کہ جو شخص اﷲ تعالی کی راہ میں ایك پیسہ دے اﷲ تعالی اس پر رحمت فرمائے اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ دو پیسے دے گا تو رحمت نہ ہوگی۔
بخاریمسلمترمذینسائیابن ماجہابن خزیمہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور امام مالك مؤطا میں بطریق سعید بن یسار مرسلا اور طبرانی وابن حبان ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور معجم کبیر میں ابوبرزہ اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
وھذا حدیث ابن حبان فی صحیحہ عن عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان اﷲ یعنی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو ایك چھوہارا یا ایك نوالہ اﷲ کی راہ میں دے اﷲ تعالی اسے ایسا بڑھاتا
حوالہ / References
شعب الایمان ∞حدیث ۸۹۵۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶/ ۴۷۵€
سنن ابن ماجہ ابواب الدیات باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلما ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱€
سنن ابن ماجہ ابواب الدیات باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلما ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱€
لیربی لاحد کم التمرۃ واللقمۃ کما یربی احد کم فلوہ اوفصیلہ حتی یکون مثل احد ۔ اور پالتا ہے جیسے آدمی اپنے بچھرے یا بوتے کو پرورش کرے یہاں تك کہ بڑھ کر کوہ احد کے برابر ہوجاتاہے۔
اور صحاح میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے لفظ یوں ہیں:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تصدق بعدل تمرۃ من کسب طیب ولا یقبل اﷲ الا الطیب فان اﷲ یتقبلھا بیمینہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جو ایك چھوہارے برابر پاك مال سے خیرات کرے اور اﷲ تعالی قبول نہیں کرتا مگر پاك کوتو رب عزوجل اسے اپنے داہنے دست قدرت سے قبول فرماتاہے۔
کوئی احمق سے احمق بھی ان حدیثوں سے یہ معنی نہ سمجھے گا کہ ایك چھوہارے یا ایك ہی نوالہ کی خصوصیت ہے ایك دے گا تو قبول بھی ہوگا اور ثواب بھی بڑھے گاجہاں دو یا زائد دے پھر نہ قبول کی توقع نہ ثواب کی ترقی____ نہیں نہیںبالیقین یہی معنی ہیں کہ ایك لقمہ یا ایك خرما بھی ان نیك جزاؤں کا باعث ہے۔یوں ہی ان احادیث کا یہ مضمون نہیں کہ ایك ہاتھ سے مصافحہ ہوگا تو وہ ثواب ملے گا دو ہاتھ سے کیا تو ناجائز ہوا یا اجر گیا۔بلکہ برتقدیر عــــــہ مذکور ان کا اسی قدر مفاد کہ ایك ہاتھ سے مصافحہ بھی اس جزائے نیك کے لئے کافی ہے۔
قسم دوم:وہ احادیث جن میں وقائع جزئیہ کی حکایت ہے یعنی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا فلاں صحابی نے فلاں شخص سے یوں مصافحہ فرمایا۔
حدیث حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کہ سنن ابی داؤد میں بروایت ام المومنین
عــــــہ:یعنی اس تقدیر پر کہ وہ الفاظ ارادہ وحدت ید میں فرض کرلئے جائیں۔
اور صحاح میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے لفظ یوں ہیں:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تصدق بعدل تمرۃ من کسب طیب ولا یقبل اﷲ الا الطیب فان اﷲ یتقبلھا بیمینہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جو ایك چھوہارے برابر پاك مال سے خیرات کرے اور اﷲ تعالی قبول نہیں کرتا مگر پاك کوتو رب عزوجل اسے اپنے داہنے دست قدرت سے قبول فرماتاہے۔
کوئی احمق سے احمق بھی ان حدیثوں سے یہ معنی نہ سمجھے گا کہ ایك چھوہارے یا ایك ہی نوالہ کی خصوصیت ہے ایك دے گا تو قبول بھی ہوگا اور ثواب بھی بڑھے گاجہاں دو یا زائد دے پھر نہ قبول کی توقع نہ ثواب کی ترقی____ نہیں نہیںبالیقین یہی معنی ہیں کہ ایك لقمہ یا ایك خرما بھی ان نیك جزاؤں کا باعث ہے۔یوں ہی ان احادیث کا یہ مضمون نہیں کہ ایك ہاتھ سے مصافحہ ہوگا تو وہ ثواب ملے گا دو ہاتھ سے کیا تو ناجائز ہوا یا اجر گیا۔بلکہ برتقدیر عــــــہ مذکور ان کا اسی قدر مفاد کہ ایك ہاتھ سے مصافحہ بھی اس جزائے نیك کے لئے کافی ہے۔
قسم دوم:وہ احادیث جن میں وقائع جزئیہ کی حکایت ہے یعنی حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا فلاں صحابی نے فلاں شخص سے یوں مصافحہ فرمایا۔
حدیث حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کہ سنن ابی داؤد میں بروایت ام المومنین
عــــــہ:یعنی اس تقدیر پر کہ وہ الفاظ ارادہ وحدت ید میں فرض کرلئے جائیں۔
حوالہ / References
موارد الظمان الی زوائد ابن حبان ∞حدیث ۸۱۹€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۲۰۹€
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقہ من کسب طیب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۹،€صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب بیان اسم الصدقہ یقع علی کل نوع من المعروف ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۶،€جامع الترمذی ابوب الزکوٰۃ باب ماجاء فی فضل الصدقۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۸۴€
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقہ من کسب طیب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۹،€صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب بیان اسم الصدقہ یقع علی کل نوع من المعروف ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۶،€جامع الترمذی ابوب الزکوٰۃ باب ماجاء فی فضل الصدقۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۸۴€
صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا مروی:
کانت اذا دخلت علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قام الیھا فاخذ بیدھا فتقبلھا و اجلسھا فی مجلسہ وکان اذا دخل علیہا قامت الیہ فاخذتہ بیدہ فتقبلتہ و اجلستہ فی مجلسھا ۔ جب حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا خدمت حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوتیں حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قیام فرماتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کے یہاں تشریف لے جاتے وہ حضور کے لئے قیام کرتیں اور دست اقدس لے کر بوسہ دیتیں اور حضور والا کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہما وبارك وسلم۔
حدیث معجم طبرانی کبیر:
عن ابی داؤد الا عمی قال لقینی البراء بن عازب فاخذ بیدی وصافحنی و ضحك فی وجھی فقال تدری لما اخذت بیدك قلت لا الا انی ظننت انك لم تفعلہ الالخیر۔فقال ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقینی ففعل بی ذلك ۔ الحدیث یعنی ابوداؤد اعمی نے کہا حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ مجھے ملے میرا ہاتھ پکڑا اور مصافحہ کیا اور میرے سامنے ہنسے پھر فرمایا:تو جانتا ہے میں نے کیوں تیرا ہاتھ پکڑ ا میں نے عرض کی:نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ آپ نے کچھ بہترہی کے لئے ایسا کیافرمایا:بیشك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجھ سے ملے تو حضور نے میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا۔
اقول:یہ بھی اصلا قابل استناد نہیں۔قطع نظر اس سے یہ حدیث طبرانی پایہ اعتبار سے ساقط ہے۔ابی داؤد اعمی رافضی سخت مجروح متروك ہے۔امام ابن معین نے اسے کاذب کہااور حدیث حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا میں ممکن کہ ہاتھ پکڑنا بوسہ دینے کے لئے ہو۔
کانت اذا دخلت علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قام الیھا فاخذ بیدھا فتقبلھا و اجلسھا فی مجلسہ وکان اذا دخل علیہا قامت الیہ فاخذتہ بیدہ فتقبلتہ و اجلستہ فی مجلسھا ۔ جب حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا خدمت حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوتیں حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قیام فرماتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کے یہاں تشریف لے جاتے وہ حضور کے لئے قیام کرتیں اور دست اقدس لے کر بوسہ دیتیں اور حضور والا کو اپنی جگہ بٹھاتیں۔صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہما وبارك وسلم۔
حدیث معجم طبرانی کبیر:
عن ابی داؤد الا عمی قال لقینی البراء بن عازب فاخذ بیدی وصافحنی و ضحك فی وجھی فقال تدری لما اخذت بیدك قلت لا الا انی ظننت انك لم تفعلہ الالخیر۔فقال ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لقینی ففعل بی ذلك ۔ الحدیث یعنی ابوداؤد اعمی نے کہا حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ مجھے ملے میرا ہاتھ پکڑا اور مصافحہ کیا اور میرے سامنے ہنسے پھر فرمایا:تو جانتا ہے میں نے کیوں تیرا ہاتھ پکڑ ا میں نے عرض کی:نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ آپ نے کچھ بہترہی کے لئے ایسا کیافرمایا:بیشك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مجھ سے ملے تو حضور نے میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا۔
اقول:یہ بھی اصلا قابل استناد نہیں۔قطع نظر اس سے یہ حدیث طبرانی پایہ اعتبار سے ساقط ہے۔ابی داؤد اعمی رافضی سخت مجروح متروك ہے۔امام ابن معین نے اسے کاذب کہااور حدیث حضرت زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا میں ممکن کہ ہاتھ پکڑنا بوسہ دینے کے لئے ہو۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی القیام ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۲۸€
الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی المصافحۃ ∞حدیث ۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۴۳۲،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب المصافحۃ الخ دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۳۷€
الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی الترغیب فی المصافحۃ ∞حدیث ۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۴۳۲،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی باب المصافحۃ الخ دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۳۷€
بہر حال ان میں نہیں مگر وقائع جزئیہ کی حکایت اور عقلا ونقلا مبرہن وثابت کہ وہ حکم عام کومفید نہیں ہزار جگہ ائمہ دین کو فرماتے سنئے گا۔
واقعۃ حال لاعموم لھا قضیۃ عین فلا تعم۔ واقعہ حال کے لئے عموم نہیں اور قضیہ معین عام نہیں ہوتا۔(ت)
خلاصہ یہ کہ ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوا یا ہمیشہ ایسا ہی ہونا چاہئے بلکہ صرف اتنا مستفاد کہ اس بار ایسا ہوا پھر کسی واقعے میں دو امروں سے ایك کا وقوع کبھی یوں ہوتا ہے کہ یہ جو واقع ہوا دوسرے سے افضل تھا بوجہ فضیلت اسے اختیار کیا کبھی یوں کہ دونوں مساوی تھےایك مساوی کرلیاکبھی یوں کہ وہ دوسرا ہی افضل تھا اوراس واقعے میں بیان جواز کے لئے یہ مفضول صادر ہوا۔کبھی یوں کہ اس پر کوئی ضرورت حائل تھی۔
الی غیر ذلك من الاحتمالات الکثیرۃ الشائعۃ التی لاتبقی للاستدلال علینا ولا اثرا۔ اس کے علاوہ بہت سے احتمالات مشہور ہیں جو ہمارے خلاف استدلال کی صلاحیت نہیں رکھتے۔(ت)
اسی لئے جو لوگ مفہوم مخالف کے قائل ہیں وہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ واقعہ جزئیہ میں نہ ہوورنہ بالاجماع ماعدا سے نفی کو مفید نہ ہوگا کما نص علیہ علماء الاصول(جیسا کہ علمائے اصول نے اس پر نص قائم کی ہے۔ت)
قسم سوم:وہ روایات جو خاص کیفیت مصافحہ میں وارد ہیں۔یہ البتہ قابل لحاظ ہیں کہ اگر کچھ بوئے استناد نکل سکتی ہے تو انھیں میں ہےیہ دو حدیثیں ہیں:
حدیث اول:جامع ترمذی میں ہے:
حدثنا احمد بن عبدۃ الضبی نا یحیی بن مسلم الطائفی عن سفین عن منصور عن خیثمۃ عن رجل عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من تمام التحیۃ الاخذ بالید ۔ احمد بن عبدۃ الضبی نے یحیی بن مسلم سے اس نے سفین سے انھوں نے منصور انھوں نے منصور انھوں نے خیثمہ انھوں نے ایك شخص کے حوالہ سے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث روایت کی کہ حضور نبی پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہاتھ پکڑنا کامل سلام میں سے ہے۔
واقعۃ حال لاعموم لھا قضیۃ عین فلا تعم۔ واقعہ حال کے لئے عموم نہیں اور قضیہ معین عام نہیں ہوتا۔(ت)
خلاصہ یہ کہ ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوا یا ہمیشہ ایسا ہی ہونا چاہئے بلکہ صرف اتنا مستفاد کہ اس بار ایسا ہوا پھر کسی واقعے میں دو امروں سے ایك کا وقوع کبھی یوں ہوتا ہے کہ یہ جو واقع ہوا دوسرے سے افضل تھا بوجہ فضیلت اسے اختیار کیا کبھی یوں کہ دونوں مساوی تھےایك مساوی کرلیاکبھی یوں کہ وہ دوسرا ہی افضل تھا اوراس واقعے میں بیان جواز کے لئے یہ مفضول صادر ہوا۔کبھی یوں کہ اس پر کوئی ضرورت حائل تھی۔
الی غیر ذلك من الاحتمالات الکثیرۃ الشائعۃ التی لاتبقی للاستدلال علینا ولا اثرا۔ اس کے علاوہ بہت سے احتمالات مشہور ہیں جو ہمارے خلاف استدلال کی صلاحیت نہیں رکھتے۔(ت)
اسی لئے جو لوگ مفہوم مخالف کے قائل ہیں وہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ واقعہ جزئیہ میں نہ ہوورنہ بالاجماع ماعدا سے نفی کو مفید نہ ہوگا کما نص علیہ علماء الاصول(جیسا کہ علمائے اصول نے اس پر نص قائم کی ہے۔ت)
قسم سوم:وہ روایات جو خاص کیفیت مصافحہ میں وارد ہیں۔یہ البتہ قابل لحاظ ہیں کہ اگر کچھ بوئے استناد نکل سکتی ہے تو انھیں میں ہےیہ دو حدیثیں ہیں:
حدیث اول:جامع ترمذی میں ہے:
حدثنا احمد بن عبدۃ الضبی نا یحیی بن مسلم الطائفی عن سفین عن منصور عن خیثمۃ عن رجل عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من تمام التحیۃ الاخذ بالید ۔ احمد بن عبدۃ الضبی نے یحیی بن مسلم سے اس نے سفین سے انھوں نے منصور انھوں نے منصور انھوں نے خیثمہ انھوں نے ایك شخص کے حوالہ سے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث روایت کی کہ حضور نبی پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ہاتھ پکڑنا کامل سلام میں سے ہے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
اقول: یہ حدیث بھی لائق احتجاج نہیں۔
اولا: اس کی سند ضعیف ہے۔جس میں عن خیثمۃ عن رجل۔ایك مجہول واقع۔
ثانیا: امام المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری نے یہ حدیث تسلیم نہ فرمائی اور اس کے غیر محفوظ ہونے کی تصریح کی۔یحیی بن مسلم طائفی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ جن پر اس حدیث کا مدارہے کما فی الترمذی جیسا کہ ترمذی میں ہے۔ت)علماء محدثین ان کا حافظہ برا بتاتے ہیں کما فی التقریب(جیسا کہ تقریب میں ہے۔ت)امام بخاری کہتے ہیں میرے نزدیك یہاں بھی ان کے حفظ نے غلطی کی۔انھوں نے سند مذکور سے حدیث:لا سمرالا لمصل اومسافر (رات کی گفتگو صرف نمازی یا مسافر کے لئے جائز ہے۔یعنی بعد نماز عشاء باتیں کرنا سمر کے معنی رات میں بات کرنا ہے۔ت)سنی بھی بھول کر اس کی جگہ یہ روایت کرگئے حالانکہ یہ تو صرف عبدالرحمن بن یزید یا اور کسی شخص کا قول ہے نقلہ الترمذی(اسے ترمذی نے نقل کیا۔ت)
ثالثا اقول:وباﷲ التوفیق اس سب سے درگزرئیے اور ذرا غور وتامل سے کام لیجئے۔تو یہ حدیث دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا پتا دیتی ہے کہ اس میں اخذ بالید بصیغہ مفرد کو تمامی تحیت کا ایك ٹکڑا رکھا ہے۔نہ یہ کہ صرف اسی پر تمامی وانتہا ہے۔تحیت کی ابتداء سلام اور مصافحہ تمام اور ایك ہاتھ ملانا اسی تمامی کا ایك ٹکڑا۔
لہذا جامع ترمذی میں حدیث ابوا امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ ان لفظوں سے آئی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
تمام تحیتکم بینکم المصافحۃ ۔ تمھارا آپس میں تمامی تحیت کا مصافحہ ہے۔
یہاں"من"تبعیضیہ نہ لایا گیا کہ صرف ایك ہاتھ کا ذکر نہ تھا جو ہنوز تمامی کا بقیہ باقی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث دوم:وہی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ جس کی طرف امام ہمام فقیہ الانام قاضی خاں قدس سرہ نے اشارہ فرمایا۔جامع ترمذی میں ہے:
اولا: اس کی سند ضعیف ہے۔جس میں عن خیثمۃ عن رجل۔ایك مجہول واقع۔
ثانیا: امام المحدثین محمد بن اسمعیل بخاری نے یہ حدیث تسلیم نہ فرمائی اور اس کے غیر محفوظ ہونے کی تصریح کی۔یحیی بن مسلم طائفی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ جن پر اس حدیث کا مدارہے کما فی الترمذی جیسا کہ ترمذی میں ہے۔ت)علماء محدثین ان کا حافظہ برا بتاتے ہیں کما فی التقریب(جیسا کہ تقریب میں ہے۔ت)امام بخاری کہتے ہیں میرے نزدیك یہاں بھی ان کے حفظ نے غلطی کی۔انھوں نے سند مذکور سے حدیث:لا سمرالا لمصل اومسافر (رات کی گفتگو صرف نمازی یا مسافر کے لئے جائز ہے۔یعنی بعد نماز عشاء باتیں کرنا سمر کے معنی رات میں بات کرنا ہے۔ت)سنی بھی بھول کر اس کی جگہ یہ روایت کرگئے حالانکہ یہ تو صرف عبدالرحمن بن یزید یا اور کسی شخص کا قول ہے نقلہ الترمذی(اسے ترمذی نے نقل کیا۔ت)
ثالثا اقول:وباﷲ التوفیق اس سب سے درگزرئیے اور ذرا غور وتامل سے کام لیجئے۔تو یہ حدیث دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کا پتا دیتی ہے کہ اس میں اخذ بالید بصیغہ مفرد کو تمامی تحیت کا ایك ٹکڑا رکھا ہے۔نہ یہ کہ صرف اسی پر تمامی وانتہا ہے۔تحیت کی ابتداء سلام اور مصافحہ تمام اور ایك ہاتھ ملانا اسی تمامی کا ایك ٹکڑا۔
لہذا جامع ترمذی میں حدیث ابوا امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ ان لفظوں سے آئی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
تمام تحیتکم بینکم المصافحۃ ۔ تمھارا آپس میں تمامی تحیت کا مصافحہ ہے۔
یہاں"من"تبعیضیہ نہ لایا گیا کہ صرف ایك ہاتھ کا ذکر نہ تھا جو ہنوز تمامی کا بقیہ باقی ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث دوم:وہی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ جس کی طرف امام ہمام فقیہ الانام قاضی خاں قدس سرہ نے اشارہ فرمایا۔جامع ترمذی میں ہے:
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹€۷
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
حدثنا سویدنا عبداﷲ ناحنظلۃ بن عبیداﷲ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رجل یا رسول اﷲ ا لرجل منا یلقی اخاہ او صدیقہ اینحنی لہ قال لاقال افلیتزمہ ویقبلہ قال لاقال فیاخذ بیدہ ویصافحہ قال نعم ۔ یعنی ایك شخص نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:یا رسول اللہ! ہم میں کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو کیا اس کے لئے جھکے فرمایا:نہیں۔عرض کی کیا اسے گلے لگائے اور پیار کرے فرمایا:نہیں۔عرض کی:اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے فرمایا:ہاں۔
اس حدیث کو ترمذی نے حسن بتایا بخلاف اول کہ خود ترمذی نے امام بخاری سے اس کی تضعیف نقل کردی تھی۔تو ثابت ہوگیا کہ حضرات مخالفین اگر سند لائیں گے تو اسی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ سےباقی خیریت___ لہذا مام ممدوح قدس سرہ نے اسی حدیث کی تخصیص فرمائی۔
اب بحمداﷲ تعالی جواب جناب امام ہمام قدس سرہ کی توضیح سنئے___ ظاہر ہے کہ افراد ید سے اس حدیث خواہ کسی حدیث میں اگر نفی یدین پر استدلال ہوگا تو لاجرم بطریق مفہوم مخالف ہوگا اور وہ محققین کے نزدیك حجت نہیں جس کی بحث کتب ا صول میں ختم ہوچکی۔
اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)
اولا: قرآن عزیز میں ہے:
" بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر﴿۲۶﴾ " تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے بیشك تو ہر چیز پر قدرت والا ہے۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ تیرے ایك ہی ہاتھ میں بھلائی ہے معاذاﷲ دوسرے میں نہیں۔
ثانیا: احمدبخاریمسلم اور ترمذی حضرت سیدنا سعد بن مالك بن سنان رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے۔
حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اس حدیث کو ترمذی نے حسن بتایا بخلاف اول کہ خود ترمذی نے امام بخاری سے اس کی تضعیف نقل کردی تھی۔تو ثابت ہوگیا کہ حضرات مخالفین اگر سند لائیں گے تو اسی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ سےباقی خیریت___ لہذا مام ممدوح قدس سرہ نے اسی حدیث کی تخصیص فرمائی۔
اب بحمداﷲ تعالی جواب جناب امام ہمام قدس سرہ کی توضیح سنئے___ ظاہر ہے کہ افراد ید سے اس حدیث خواہ کسی حدیث میں اگر نفی یدین پر استدلال ہوگا تو لاجرم بطریق مفہوم مخالف ہوگا اور وہ محققین کے نزدیك حجت نہیں جس کی بحث کتب ا صول میں ختم ہوچکی۔
اقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)
اولا: قرآن عزیز میں ہے:
" بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر﴿۲۶﴾ " تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے بیشك تو ہر چیز پر قدرت والا ہے۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ تیرے ایك ہی ہاتھ میں بھلائی ہے معاذاﷲ دوسرے میں نہیں۔
ثانیا: احمدبخاریمسلم اور ترمذی حضرت سیدنا سعد بن مالك بن سنان رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے۔
حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷€
القرآن الکریم ∞۳/ ۲۶€
القرآن الکریم ∞۳/ ۲۶€
ان اﷲ تعالی یقول لاھل الجنۃ یا اھل الجنۃ فیقولون لبیك یاربنا وسعدیك والخیر فی یدیك الحدیث ۔ بیشك اﷲ تعالی جنتیوں سے فرمائے گا:اے جنت والو۔عرض کریں گے۔لبیك اے رب ہمارے! ہم تیر ی خدمت میں حاضر ہیںتیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔
اسی طرح تفسیر مقام محمود میں حدیث حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کہ نسائی نے بسند صحیح اور حاکم نے بافادہ تصحیح اور طبرانی اور ابن مندہ نے روایت کی ___ یوں آئی:
یجمع اﷲ الناس فی صعید واحد فلا تکلم نفس فاول مدعو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیقول لبیك وسعدیك والخیر فی یدیك الحدیث۔ اﷲ تعالی روز قیامت لوگوں کو ایك میدان میں جمع میں فرمائے گا تو کوئی کلام نہ کرے گا سب سے پہلے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ندا ہوگیحضور عرض کریں گے:الہی! میں حاضر ہوں خدمتی ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔
ابن مندہ نے کہا:
حدیث مجمع علی صحۃ اسنادہ وثقۃ رجالہ ۔ اس حدیث کی صحت اسناد وعدالت روات پر اجماع ہے۔
یونہی حدیث بعث النار میں اﷲ تعالی کا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو ندا فرمانا ____ اور ان کا جواب میں لبیك وسعدیك و الخیر بیدك عرض کرنا مروی___ الی غیر ذلك من الاحادیث کیا یہ
اسی طرح تفسیر مقام محمود میں حدیث حذیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کہ نسائی نے بسند صحیح اور حاکم نے بافادہ تصحیح اور طبرانی اور ابن مندہ نے روایت کی ___ یوں آئی:
یجمع اﷲ الناس فی صعید واحد فلا تکلم نفس فاول مدعو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیقول لبیك وسعدیك والخیر فی یدیك الحدیث۔ اﷲ تعالی روز قیامت لوگوں کو ایك میدان میں جمع میں فرمائے گا تو کوئی کلام نہ کرے گا سب سے پہلے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ندا ہوگیحضور عرض کریں گے:الہی! میں حاضر ہوں خدمتی ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہے۔
ابن مندہ نے کہا:
حدیث مجمع علی صحۃ اسنادہ وثقۃ رجالہ ۔ اس حدیث کی صحت اسناد وعدالت روات پر اجماع ہے۔
یونہی حدیث بعث النار میں اﷲ تعالی کا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو ندا فرمانا ____ اور ان کا جواب میں لبیك وسعدیك و الخیر بیدك عرض کرنا مروی___ الی غیر ذلك من الاحادیث کیا یہ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التوحید کلا م الرب مع اہل الجنۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۱،€صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واھلہا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۷۸،€جامع الترمذی ابواب صفۃ الجنۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۷۹،€مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۸۸€
المطالب العالیۃ ∞حدیث ۴۶۴۵€ توزیع عباس احمد الباز(مکہ المکرمہ) ∞۴/ ۳۸۶،€المستدرك للحاکم کتاب التفسیر ذکر المقام المحمود دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۶۳،€مجمع الزوائد کتاب البعث باب منہ فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ∞۱۰/ ۳۷۷€
المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۶۴۲€
مسند ابی عوانۃ بیان انہ لایدخل الجنۃ الانفس مسلمۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۸۹€
المطالب العالیۃ ∞حدیث ۴۶۴۵€ توزیع عباس احمد الباز(مکہ المکرمہ) ∞۴/ ۳۸۶،€المستدرك للحاکم کتاب التفسیر ذکر المقام المحمود دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۶۳،€مجمع الزوائد کتاب البعث باب منہ فی الشفاعۃ دارالکتاب بیروت ∞۱۰/ ۳۷۷€
المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثالث المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۶۴۲€
مسند ابی عوانۃ بیان انہ لایدخل الجنۃ الانفس مسلمۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۸۹€
حدیثیں معاذاﷲ اس آیت کے مخالف ہیں
ثالثا: اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" قل ان الفضل بید اللہ " تو فرماؤ بے شك فضل اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ایك ہی ہاتھ میں فضل ہے
رابعا:فرماتاہے:بیدہ
" بل یداہ بیدہ ملکوت کل شیء" اسی کے ہاتھ میں ہے قدرت ہر چیز کی۔
کیا معاذاﷲ دوسرے ہاتھ میں مالکیت ومقدرت نہیں
خامسا: دیلمی کی حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یداﷲ مبسوطۃ ۔ اﷲ کا ہاتھ کشادہ ہے۔
کیا معاذاﷲ ا س کا یہ مفہوم کہ ایك ہی ہاتھ کشادہ ہے قال اﷲ تعالی:
" مبسوطتان ینفق کیف یشاء " بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں خرچ فرماتاہے جیسے چاہے۔
سادسا: حدیث میں ہے:
یداﷲ ملای ۔ اﷲ تعالی کا ہاتھ غنی ہے۔
کیا دوسرے ہاتھ سے غنا منفی ہے
سابعا: حدیث شریف میں ہے:
یداﷲ ھی العلیا ۔ اﷲ ہی کا ہاتھ اونچا ہے۔
کیا عیاذا باﷲ ایك ہی ہاتھ بلند وبالا ہے
ثالثا: اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" قل ان الفضل بید اللہ " تو فرماؤ بے شك فضل اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔
کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ایك ہی ہاتھ میں فضل ہے
رابعا:فرماتاہے:بیدہ
" بل یداہ بیدہ ملکوت کل شیء" اسی کے ہاتھ میں ہے قدرت ہر چیز کی۔
کیا معاذاﷲ دوسرے ہاتھ میں مالکیت ومقدرت نہیں
خامسا: دیلمی کی حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یداﷲ مبسوطۃ ۔ اﷲ کا ہاتھ کشادہ ہے۔
کیا معاذاﷲ ا س کا یہ مفہوم کہ ایك ہی ہاتھ کشادہ ہے قال اﷲ تعالی:
" مبسوطتان ینفق کیف یشاء " بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں خرچ فرماتاہے جیسے چاہے۔
سادسا: حدیث میں ہے:
یداﷲ ملای ۔ اﷲ تعالی کا ہاتھ غنی ہے۔
کیا دوسرے ہاتھ سے غنا منفی ہے
سابعا: حدیث شریف میں ہے:
یداﷲ ھی العلیا ۔ اﷲ ہی کا ہاتھ اونچا ہے۔
کیا عیاذا باﷲ ایك ہی ہاتھ بلند وبالا ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳/ ۷۳€
القرآن الکریم ∞۳۶/ ۸۳€
کنوز الحقائق من حدیث خیر الخلائق برمز"فر" ∞حدیث ۱۰۱۲۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۳۷۵€
القرآن الکریم ∞۵/ ۶۴€
صحیح البخاری کتاب التفسیر ∞سورہ ہود ۲/ ۶۷€ و کتاب التوحید ∞۲/ ۱۱۰۲€
مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۴۴۶ و ۳/ ۴۷۳ و ۴/ ۱۳۷€
القرآن الکریم ∞۳۶/ ۸۳€
کنوز الحقائق من حدیث خیر الخلائق برمز"فر" ∞حدیث ۱۰۱۲۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۳۷۵€
القرآن الکریم ∞۵/ ۶۴€
صحیح البخاری کتاب التفسیر ∞سورہ ہود ۲/ ۶۷€ و کتاب التوحید ∞۲/ ۱۱۰۲€
مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۴۴۶ و ۳/ ۴۷۳ و ۴/ ۱۳۷€
ثامنا: قال اﷲ تعالی:
" اذا اخرج یدہ لم یکد یرىہا " کافر ایسی اندھیری میں ہے کہ اپنا ہاتھ نکالے تو نظر نہ آئے۔
کیا اس کے یہ معنی کہ دونوں ہاتھ نکالے تو نظر آئیں گے۔
تاسعا: قال اﷲ تعالی:
" و خذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث " اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے کر مار اور قسم جھوٹی نہ کر۔
علماء فرماتے ہیں یہ حکم اب بھی باقی ہے یعنی اگر مثلا کسی نے غصے میں قسم کھائی کہ زید کو سو لکڑیاں ماروں گا۔اب غصہ فرو ہوا چاہتاہے کہ قسم بھی سچی ہو اور زید ضرب شدید سے بچے بھی تو جھاڑو وغیرہ کی سو شاخیں جمع کرکے اسی طرح زید کے بدن پر مارے کہ وہ سب جسم پر جدا جدا پہنچیں کیااگر دونوں ہاتھ میں جھاڑو لے کرماریں تو اس ارشاد کا خلاف ہوگا
عاشرا: قال تعالی:
" یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صغرون ﴿۲۹﴾ " جزیہ دیں ہاتھ سے ذلیل ہوکر۔
کیا اگر دونوں ہاتھ سے دیں تو تعمیل حکم نہ ہو۔
حادی عشر:بخاریابوداؤد اورنسائی حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہماا ور احمد ترمذی ونسائی وحاکم ابن حبان حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ ۔ مسلمان وہ ہے کہ مسلمان اس کے زبان اور ہاتھ سے امان میں رہیں۔
کیا اس کے یہ معنی کہ ایك ہاتھ سے امان میں ہوں اور دوسرے سے ایذا میں!
ثانی عشر: احمد وبخاری مقداد بن معد یکرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور
" اذا اخرج یدہ لم یکد یرىہا " کافر ایسی اندھیری میں ہے کہ اپنا ہاتھ نکالے تو نظر نہ آئے۔
کیا اس کے یہ معنی کہ دونوں ہاتھ نکالے تو نظر آئیں گے۔
تاسعا: قال اﷲ تعالی:
" و خذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث " اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے کر مار اور قسم جھوٹی نہ کر۔
علماء فرماتے ہیں یہ حکم اب بھی باقی ہے یعنی اگر مثلا کسی نے غصے میں قسم کھائی کہ زید کو سو لکڑیاں ماروں گا۔اب غصہ فرو ہوا چاہتاہے کہ قسم بھی سچی ہو اور زید ضرب شدید سے بچے بھی تو جھاڑو وغیرہ کی سو شاخیں جمع کرکے اسی طرح زید کے بدن پر مارے کہ وہ سب جسم پر جدا جدا پہنچیں کیااگر دونوں ہاتھ میں جھاڑو لے کرماریں تو اس ارشاد کا خلاف ہوگا
عاشرا: قال تعالی:
" یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صغرون ﴿۲۹﴾ " جزیہ دیں ہاتھ سے ذلیل ہوکر۔
کیا اگر دونوں ہاتھ سے دیں تو تعمیل حکم نہ ہو۔
حادی عشر:بخاریابوداؤد اورنسائی حضرت عبداﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالی عنہماا ور احمد ترمذی ونسائی وحاکم ابن حبان حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ ۔ مسلمان وہ ہے کہ مسلمان اس کے زبان اور ہاتھ سے امان میں رہیں۔
کیا اس کے یہ معنی کہ ایك ہاتھ سے امان میں ہوں اور دوسرے سے ایذا میں!
ثانی عشر: احمد وبخاری مقداد بن معد یکرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€۰
القرآن الکریم ∞۳۸/ ۴۴€
القرآن الکریم ∞۹/ ۲۹€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶،€جامع الترمذی ابواب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۸۷€
القرآن الکریم ∞۳۸/ ۴۴€
القرآن الکریم ∞۹/ ۲۹€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶،€جامع الترمذی ابواب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۸۷€
سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااکل احدطعاما قط خیرامن ان یاکل من عمل یدہ کسی نے کبھی کھانا اس سے بہتر نہ کھایا کہ اپنے ہاتھ کے کسب سے کھائے۔
اور احمد بسندصحیح اور طبرانی وحاکم حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالی عنہ اور نیزطبرانی حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اطیب الکسب عمل الرجل بیدہ ۔ سب سے بہتر کمائی آدمی کی اپنے ہاتھ کا کسب ہے ۔
کیا اگر دونوں ہاتھ کا کسب ہو تو وہ کھانا اس فضل سے باہر ہے!
ثم اقول:بلکہ بارہا لفظ ید بصیغہ مفرد لاتے ہیں اور دونوں ہاتھ مراد ہوتے ہیں:
(۱)یداﷲ مبسوطۃ(اﷲ تعالی جل مجدہ کا دست قدرت کشادہ ہے)
(۲)یداﷲ ملای(دست قدرت بھرا ہواہے)
(۳)یداﷲ ھی العلیا(دست قدرت ہی بلند وبرتر ہے)
(۴)المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (مسلمان وہ ہے جس کی زبان وہاتھ سے مسلمان محفوظ رہے)میں یہی معنی مراد ہیں۔
(۵)حدیث عمل یدیہ(اس کے دونوں ہاتھ کا کسب)بھی ایسے ہی موقع پر وارد کہ غالبا کسب انسان دونوں ہاتھ سے ہوتاہے اسی حدیث مقدام کی اسی صحیح بخاری میں دوسری روایت من عمل بیدہ ہے۔
(۶)اسی طرح حاکم وغیرہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے:
اللھم انی اسئلك من کل خیر خزائنہ الہی! میں تجھ سے مانگتاہوں ان سب
مااکل احدطعاما قط خیرامن ان یاکل من عمل یدہ کسی نے کبھی کھانا اس سے بہتر نہ کھایا کہ اپنے ہاتھ کے کسب سے کھائے۔
اور احمد بسندصحیح اور طبرانی وحاکم حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالی عنہ اور نیزطبرانی حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اطیب الکسب عمل الرجل بیدہ ۔ سب سے بہتر کمائی آدمی کی اپنے ہاتھ کا کسب ہے ۔
کیا اگر دونوں ہاتھ کا کسب ہو تو وہ کھانا اس فضل سے باہر ہے!
ثم اقول:بلکہ بارہا لفظ ید بصیغہ مفرد لاتے ہیں اور دونوں ہاتھ مراد ہوتے ہیں:
(۱)یداﷲ مبسوطۃ(اﷲ تعالی جل مجدہ کا دست قدرت کشادہ ہے)
(۲)یداﷲ ملای(دست قدرت بھرا ہواہے)
(۳)یداﷲ ھی العلیا(دست قدرت ہی بلند وبرتر ہے)
(۴)المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (مسلمان وہ ہے جس کی زبان وہاتھ سے مسلمان محفوظ رہے)میں یہی معنی مراد ہیں۔
(۵)حدیث عمل یدیہ(اس کے دونوں ہاتھ کا کسب)بھی ایسے ہی موقع پر وارد کہ غالبا کسب انسان دونوں ہاتھ سے ہوتاہے اسی حدیث مقدام کی اسی صحیح بخاری میں دوسری روایت من عمل بیدہ ہے۔
(۶)اسی طرح حاکم وغیرہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویحضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی دعا میں عرض کرتے:
اللھم انی اسئلك من کل خیر خزائنہ الہی! میں تجھ سے مانگتاہوں ان سب
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہ بیدہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۸،€مسند احمد بن حنبل عن مقدام بن معدیکرب المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲€
کنز العمال بحوالہ حم،طب،ك عن رافع بن خدیج ∞حدیث ۹۱۹۶€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۴/۴€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب جامع اوصاف الاسلام ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸€
کنز العمال بحوالہ حم،طب،ك عن رافع بن خدیج ∞حدیث ۹۱۹۶€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۴/۴€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب جامع اوصاف الاسلام ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸€
بیدك واعوذبك من کل شر خزائنہ بیدك ۔ بھلائیوں سے جن کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں اور تیری پناہ مانگتاہوں ان سب برائیوں سے جن کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں۔
یہ حدیث دونوں جگہ دونوں طورپر مروی ہوئی بیدك اور بیدیک۔
(۷)صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان داؤد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایاکل الا من عمل یدہ ۔ داؤد نبی علیہ الصلوۃ والسلام نہ کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کے عمل سے۔
اور یوہیں حدیث مقدام کے تتمہ میں احمد وبخاری نے روایت کیا:
ان نبی داؤد کان یاکل من عمل یدہ ۔ بے شك داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ہاتھ کے عمل سے ہی کھاتے تھے۔
سیدنا داؤد علیہ الصلوۃوالسلام کا عمل قرآن عظیم سے معلوم ہے کہ زر ہیں بنانا تھا اور وہ دوہی ہاتھ سے ہوتاہے۔
لہذا صحیح بخاری میں دونوں حدیثوں کی دوسری روایتیں بلفظ"یدہ"آئیں___ پس ثابت ہوا کہ بہت جگہ یدو یدین میں کچھ فرق نہیں کرتے۔اور بے تکلف تثنیہ کی جگہ مفرد لاتے ہیں اور ایك ہی امر میں کبھی تثنیہ کبھی مفرد بولتے ہیں پھر افراد کو نفی تثنیہ کی دلیل سمجھا کس قدر عقل سے بعید ہے۔
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھر میں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتا ہوں۔ت)میں موارد استعمال اور مواقع خاصہ سے استدلال کرتا ہوں وہ قاعدہ ہی کیوں نہ ذکر کروں جو خاص اسباب میں ائمہ عربیت نے وضع کیا اور ایسے الفاظ میں تثنیہ وافراد یکساں ہونے کا ہمیں عام ضابطہ دیا علامہ زین بن نجیم مصری قدس سرہ نے جہاں خطبہ اشباہ میں فرمایا:
اعملت بدنی اعمال الجد مابین میں اپنے بدن کو کوشش کے کام میں لایا جو
یہ حدیث دونوں جگہ دونوں طورپر مروی ہوئی بیدك اور بیدیک۔
(۷)صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان داؤد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایاکل الا من عمل یدہ ۔ داؤد نبی علیہ الصلوۃ والسلام نہ کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کے عمل سے۔
اور یوہیں حدیث مقدام کے تتمہ میں احمد وبخاری نے روایت کیا:
ان نبی داؤد کان یاکل من عمل یدہ ۔ بے شك داؤد علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ہاتھ کے عمل سے ہی کھاتے تھے۔
سیدنا داؤد علیہ الصلوۃوالسلام کا عمل قرآن عظیم سے معلوم ہے کہ زر ہیں بنانا تھا اور وہ دوہی ہاتھ سے ہوتاہے۔
لہذا صحیح بخاری میں دونوں حدیثوں کی دوسری روایتیں بلفظ"یدہ"آئیں___ پس ثابت ہوا کہ بہت جگہ یدو یدین میں کچھ فرق نہیں کرتے۔اور بے تکلف تثنیہ کی جگہ مفرد لاتے ہیں اور ایك ہی امر میں کبھی تثنیہ کبھی مفرد بولتے ہیں پھر افراد کو نفی تثنیہ کی دلیل سمجھا کس قدر عقل سے بعید ہے۔
ثم اقول:وباﷲ التوفیق(پھر میں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتا ہوں۔ت)میں موارد استعمال اور مواقع خاصہ سے استدلال کرتا ہوں وہ قاعدہ ہی کیوں نہ ذکر کروں جو خاص اسباب میں ائمہ عربیت نے وضع کیا اور ایسے الفاظ میں تثنیہ وافراد یکساں ہونے کا ہمیں عام ضابطہ دیا علامہ زین بن نجیم مصری قدس سرہ نے جہاں خطبہ اشباہ میں فرمایا:
اعملت بدنی اعمال الجد مابین میں اپنے بدن کو کوشش کے کام میں لایا جو
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب الدعاء دارالفکر بیروت ∞۱/ ۵۲۵€
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہٖ بیدہٖ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷€۸
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہٖ بیدہٖ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۸€
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہٖ بیدہٖ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷€۸
صحیح البخاری کتاب البیوع باب کسب الرجل وعملہٖ بیدہٖ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۸€
بصری ویدی وظنونی ۔ میری آنکھہاتھ اور گمان کے درمیان ہے۔
اس پر علامہ ادیب سید احمد حموی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:
اطلق الید واراد الیدین لانہ اذا کان الشیئان لا یفترقان من خلق اوغیرہ اجزأ من ذکرھما ذکر احد ھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیك و مثل العینین المنخرین عــــــہ والرجلین والخفین و النعلین تقول لبست خفی ترید خفیك کذا فی شرح الحماسۃ ۔ یعنی مصنف نے لفظ ید بولا اور مراد دونوں ہاتھ ہیں کہ دو چیزیں جب آپس میں جدا نہ ہوتی ہوں خواہ اصل پیدا ئش میں (جیسے ہاتھ۔پاؤںآنکھکان)یا اور طرح(جیسے موزے جوتےدستانے کہ جوڑا ہی مستعمل ہے)تو ان میں ایك کا ذکر دونوں کے ذکر کا کام دیتا ہے۔کہتے ہیں آنکھ میں سرمہ لگایا اور مراد دونوں آنکھوں میں لگاناہوتا ہے یوہیں نتھنےقدم موزےکفشتو کہتاہے میں نے موزہ پہنا اور مراد یہ کہ دونوں موزے پہنے۔اسی طرح شرح حماسہ میں ذکر کیا۔
میں کہتاہوں یہ محاورہ نہ فقط عرب بلکہ فارس۔ہند میں بھی بعینہا رائججیسا کہ مطالعہ اشعار سابقین ولاحقین سے واضح ولائحخیر یہ تو ایك خاص قاعدہ تھا۔علامہ ممدوح نے اس سے چند سطر اوپر اس سے عام تر تصریح فرمائی کہ:
استعمال المفرد موضع المثنی عربی شائع سائغ ۔ یعنی تثنیہ کی جگہ مفرد لانا اہل عرب میں مشہور ومقبول ہے۔
اور اس کی سند میں ابوذؤیب کا شعر پیش کیا
فالعین بعد ھم کان حداقھا سملت بشوك فھی عور تدمع
(ان ممدوحین کے بعد آنکھ گویا اس کی پتلیاں کاٹنے سے پھوڑدی گئی ہیں تو وہ اندھی ہوکر
عــــــہ: المنخرین الی اخرہ کذا فی نسختی الغمز والظاھر الرفع۔منہ منخزین میرے غمز کے نسخہ میں اسی طرح ہےظاہریہ ہے کہ مرفوع ہونا چاہئے۔(ت)
اس پر علامہ ادیب سید احمد حموی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:
اطلق الید واراد الیدین لانہ اذا کان الشیئان لا یفترقان من خلق اوغیرہ اجزأ من ذکرھما ذکر احد ھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیك و مثل العینین المنخرین عــــــہ والرجلین والخفین و النعلین تقول لبست خفی ترید خفیك کذا فی شرح الحماسۃ ۔ یعنی مصنف نے لفظ ید بولا اور مراد دونوں ہاتھ ہیں کہ دو چیزیں جب آپس میں جدا نہ ہوتی ہوں خواہ اصل پیدا ئش میں (جیسے ہاتھ۔پاؤںآنکھکان)یا اور طرح(جیسے موزے جوتےدستانے کہ جوڑا ہی مستعمل ہے)تو ان میں ایك کا ذکر دونوں کے ذکر کا کام دیتا ہے۔کہتے ہیں آنکھ میں سرمہ لگایا اور مراد دونوں آنکھوں میں لگاناہوتا ہے یوہیں نتھنےقدم موزےکفشتو کہتاہے میں نے موزہ پہنا اور مراد یہ کہ دونوں موزے پہنے۔اسی طرح شرح حماسہ میں ذکر کیا۔
میں کہتاہوں یہ محاورہ نہ فقط عرب بلکہ فارس۔ہند میں بھی بعینہا رائججیسا کہ مطالعہ اشعار سابقین ولاحقین سے واضح ولائحخیر یہ تو ایك خاص قاعدہ تھا۔علامہ ممدوح نے اس سے چند سطر اوپر اس سے عام تر تصریح فرمائی کہ:
استعمال المفرد موضع المثنی عربی شائع سائغ ۔ یعنی تثنیہ کی جگہ مفرد لانا اہل عرب میں مشہور ومقبول ہے۔
اور اس کی سند میں ابوذؤیب کا شعر پیش کیا
فالعین بعد ھم کان حداقھا سملت بشوك فھی عور تدمع
(ان ممدوحین کے بعد آنکھ گویا اس کی پتلیاں کاٹنے سے پھوڑدی گئی ہیں تو وہ اندھی ہوکر
عــــــہ: المنخرین الی اخرہ کذا فی نسختی الغمز والظاھر الرفع۔منہ منخزین میرے غمز کے نسخہ میں اسی طرح ہےظاہریہ ہے کہ مرفوع ہونا چاہئے۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۹€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱€۹
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۹€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۹€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱€۹
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۹€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۹€
آنسو بہارہی ہیں۔(ت)
دیکھواس نے ایك آنکھ کہا اور دونوں مراد لیں___لہذا حداق کو جمع لایا ورنہ ایك آنکھ میں چند حدقے نہیں ہوتےاب تو اوہام جاہلانہ کا کوئی محل ہی نہ رہا۔اور حدیث سے استناد کا بھرم کھل گیا۔والحمدﷲ رب العالمین۔
ثم اقول: وباﷲ التوفیق سب سے قطع نظر کیجئے اور بفرض غلط مان ہی لیجئے کہ لفظ"الید"کا مفہوم مخالف نفی یدین ہوتی ہے تاہم حدیث مذکور محل استناد منکرین یعنی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ میں اس مفہوم کی گنجائش نہیں کہ وہاں تو لفظ ید بصیغہ مفرد کلام امجد سید اوحد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے ہی نہیں۔سائل کے کلام میں ہے اس نے ایك ہاتھ سے مصافحہ کاحکم پوچھا:
فیاخذ بیدہ ویصافحہ۔ کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سوال کا جواب ارشاد فرمادیا کہ ہاں جائز ہے ۔
یہاں نہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ذکر ہے نہ اس سے سوالپھر اس کلام سے اس کی نسبت نفی نکالنا محض خیال محالدنیا بھر کے مفہوم مخالف ماننے والے بھی یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ کلام کسی سوال کے جواب میں نہ آیا ہو ورنہ بالاجماع نفی ماعدا مفہوم نہ ہوگی ____ صرح بہ ائمۃ الاصول(ائمہ اصول نے اس کی صراحت کردی ہے۔ت)___مثلا کوئی سائل سوال کرے صبح کی نماز میں قرأءت جہری ہے یا نہیں مجیب کہے ہاں۔اس سے کوئی عاقل یہ نہ سمجھے کہ ماورائے صبح میں جہر نہیں۔بلکہ جس قدر سے سوال تھا اسی قدر سے جواب دیا گیا۔یہ بحمداﷲ تعالی دوسرے معنی ہیں کلام امام قاضی خاں قدس سرہ کے کہ"او ر امفہوم نیست"یعنی اس حدیث میں مفہوم مخالف کا سرے سے محل ہی نہیں۔
وباﷲ التوفیق ثم اقول:(اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ پھر میں کہتاہوں۔ت)یہ اس وقت ہے کہ حدیث مذکور کو قابل احتجاج مان بھی لیں ورنہ اگر نقد وتنقیح پر آئے تو وہ ہر گز نہ صحیح نہ حسن بلکہ ضعیف منکر ہے مداراس کا حنظلہ بن عبداﷲ سدوسی پر ہے اور حنظلہ محدثین کے نزدیك ضعیف ہے۔امام یحیی بن سعید قطان نے کہا:ترکتہ عمدا کاان قد اختلط میں نے اسے عمدا متروك کیا صحیح الحواس نہ رہا تھا___ امام احمد نے فرمایا:ضعیف منکر الحدیث ہے یحدث باعاجیب تعجب خیز روایات لاتاہے___
دیکھواس نے ایك آنکھ کہا اور دونوں مراد لیں___لہذا حداق کو جمع لایا ورنہ ایك آنکھ میں چند حدقے نہیں ہوتےاب تو اوہام جاہلانہ کا کوئی محل ہی نہ رہا۔اور حدیث سے استناد کا بھرم کھل گیا۔والحمدﷲ رب العالمین۔
ثم اقول: وباﷲ التوفیق سب سے قطع نظر کیجئے اور بفرض غلط مان ہی لیجئے کہ لفظ"الید"کا مفہوم مخالف نفی یدین ہوتی ہے تاہم حدیث مذکور محل استناد منکرین یعنی حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ میں اس مفہوم کی گنجائش نہیں کہ وہاں تو لفظ ید بصیغہ مفرد کلام امجد سید اوحد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے ہی نہیں۔سائل کے کلام میں ہے اس نے ایك ہاتھ سے مصافحہ کاحکم پوچھا:
فیاخذ بیدہ ویصافحہ۔ کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کرے
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سوال کا جواب ارشاد فرمادیا کہ ہاں جائز ہے ۔
یہاں نہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ذکر ہے نہ اس سے سوالپھر اس کلام سے اس کی نسبت نفی نکالنا محض خیال محالدنیا بھر کے مفہوم مخالف ماننے والے بھی یہ شرط لگاتے ہیں کہ وہ کلام کسی سوال کے جواب میں نہ آیا ہو ورنہ بالاجماع نفی ماعدا مفہوم نہ ہوگی ____ صرح بہ ائمۃ الاصول(ائمہ اصول نے اس کی صراحت کردی ہے۔ت)___مثلا کوئی سائل سوال کرے صبح کی نماز میں قرأءت جہری ہے یا نہیں مجیب کہے ہاں۔اس سے کوئی عاقل یہ نہ سمجھے کہ ماورائے صبح میں جہر نہیں۔بلکہ جس قدر سے سوال تھا اسی قدر سے جواب دیا گیا۔یہ بحمداﷲ تعالی دوسرے معنی ہیں کلام امام قاضی خاں قدس سرہ کے کہ"او ر امفہوم نیست"یعنی اس حدیث میں مفہوم مخالف کا سرے سے محل ہی نہیں۔
وباﷲ التوفیق ثم اقول:(اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ پھر میں کہتاہوں۔ت)یہ اس وقت ہے کہ حدیث مذکور کو قابل احتجاج مان بھی لیں ورنہ اگر نقد وتنقیح پر آئے تو وہ ہر گز نہ صحیح نہ حسن بلکہ ضعیف منکر ہے مداراس کا حنظلہ بن عبداﷲ سدوسی پر ہے اور حنظلہ محدثین کے نزدیك ضعیف ہے۔امام یحیی بن سعید قطان نے کہا:ترکتہ عمدا کاان قد اختلط میں نے اسے عمدا متروك کیا صحیح الحواس نہ رہا تھا___ امام احمد نے فرمایا:ضعیف منکر الحدیث ہے یحدث باعاجیب تعجب خیز روایات لاتاہے___
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی کراچی ۲/ ۹۷€
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
امام یحیی بن معین نے کہا:لیس بشیئ تغیر فی اخر عمرہ کوئی چیز نہ تھا آخر عمر میں متغیر ہوگیا تھا___ امام نسائی نے کہا: ضعیف ایك بار فرمایا:لیس بقوی وہ قوی نہیں۔ذکر کل ذلك الذھبی فی المیزان(ہر ایك کو امام ذہبی نے میزان مین بیان کیا۔ت)یوہیں امام ابوحاتم نے کہا:قوی نہیں ___
فی المغنی للامام الذہبی حنظلۃ السدوسی صاحب انس ضعفہ سوقال ابوحاتم لیس بالقوی اما م ذہبی کی مغنی میں ہے کہ حنظلہ سدوسی حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے شاگرد کو اس نے ضعیف کہا ہے اور ابوحاتم نے کہا قوی نہیں ہے۔(ت)
لاجرم امام خاتم الحفاظ نے تقریب میں اس کے ضعف پر جزم فرمایا:
حیث قال حنظلۃ السدوسی ابوعبدالرحیم ضعیف ۔ جہاں انھوں نے فرمایا کہ حنظلہ سدوسی ابوعبدالرحیم ضعیف ہے۔(ت)
اگر کہئے کہ امام ترمذی نے جو اس حدیث کی تحسین کی___ اقول:ائمہ ناقدین نے امام ترمذی پر اس بارے میں انتفادات کئے ہیں اور وہ قریب قریب ان لوگوں میں ہیں جو تصحیح وتحسین میں تساہل رکھتے ____ امام عبدالعظیم منذری کتاب الترغیب میں فرماتے ہیں:
انتقد علیہ الحفاظ تصحیحہ لہ بل و تحسینہ ۔ حفاظ نے ان کی تصحیح پر بلکہ تحسین پر بھی تنقید کی ہے۔(ت)
ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں:
ولھذا لایعتمد العلماء علی تصحیح الترمذی ۔ اسی لئے ترمذی کی تصحیح پر علماء اعتماد نہیں کرتے۔(ت)
یہاں تك امام محدث ابوالخطاب ابن دحیہ نے جنھیں شاہ ولی اﷲ دہلوی نے قرۃ العینین
فی المغنی للامام الذہبی حنظلۃ السدوسی صاحب انس ضعفہ سوقال ابوحاتم لیس بالقوی اما م ذہبی کی مغنی میں ہے کہ حنظلہ سدوسی حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے شاگرد کو اس نے ضعیف کہا ہے اور ابوحاتم نے کہا قوی نہیں ہے۔(ت)
لاجرم امام خاتم الحفاظ نے تقریب میں اس کے ضعف پر جزم فرمایا:
حیث قال حنظلۃ السدوسی ابوعبدالرحیم ضعیف ۔ جہاں انھوں نے فرمایا کہ حنظلہ سدوسی ابوعبدالرحیم ضعیف ہے۔(ت)
اگر کہئے کہ امام ترمذی نے جو اس حدیث کی تحسین کی___ اقول:ائمہ ناقدین نے امام ترمذی پر اس بارے میں انتفادات کئے ہیں اور وہ قریب قریب ان لوگوں میں ہیں جو تصحیح وتحسین میں تساہل رکھتے ____ امام عبدالعظیم منذری کتاب الترغیب میں فرماتے ہیں:
انتقد علیہ الحفاظ تصحیحہ لہ بل و تحسینہ ۔ حفاظ نے ان کی تصحیح پر بلکہ تحسین پر بھی تنقید کی ہے۔(ت)
ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں:
ولھذا لایعتمد العلماء علی تصحیح الترمذی ۔ اسی لئے ترمذی کی تصحیح پر علماء اعتماد نہیں کرتے۔(ت)
یہاں تك امام محدث ابوالخطاب ابن دحیہ نے جنھیں شاہ ولی اﷲ دہلوی نے قرۃ العینین
حوالہ / References
میزان الاعتدلال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
میزان الاعتدلال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
المغنی فی الضعفاء للامام الذھبی
تقریب التہذیب ∞ترجمہ ۱۵۸۸€ حنطلۃ السدوسی دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۵۰€
الترغیب والترہیب کتاب الجمعہ حدیث۲۴ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۴۹۴€
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۶۹۴۳€ کثیربن عبداﷲ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۴۰۷€
میزان الاعتدلال ∞ترجمہ ۲۳۷۳€ حنظلۃ السدوسی دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۶۲۱€
المغنی فی الضعفاء للامام الذھبی
تقریب التہذیب ∞ترجمہ ۱۵۸۸€ حنطلۃ السدوسی دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۵۰€
الترغیب والترہیب کتاب الجمعہ حدیث۲۴ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۴۹۴€
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۶۹۴۳€ کثیربن عبداﷲ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۴۰۷€
فی تفضیل الشیخین میں الحافظ المحدث المتقن کہا۔تحسین ترمذی کی نسبت وہ کچھ تحریر فرمایا جو امام فخر الدین زیلعی نے"نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ"میں نقل فرماکر مقرر رکھا۔
حیث قال قال ابن دحیۃ فی العلم المشہور وکم حسن الترمذی فی کتابہ من احادیث موضوعۃ واسانید واھیۃ منھا ھذاالحدیث اھ یعنی حدیث عمرو بن عوف المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ فی عدد تکبیرات العیدین۔ جہاں انھوں نے فرمایا کہ ابن دحیہ نے"العلم الشہور"میں کہا ہے کہ ترمذی نے اپنی کتاب میں کتنی ہی موضوع احادیث اور کمزور سندوں کو حسن قرار دیا ہے انہی میں سے یہ حدیث ہے یعنی حدیث عمرو بن عوف المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ عیدین کی تکبیرات کی تعداد کے بیان میں۔(ت)
اور قاطع نزاع یہ ہے کہ خود اسی حدیث حنظلہ کو امام ائمہ المحدثین حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے تصریحا فرمادیا کہ منکر ہے___ امام ذہبی تہذیب میں لکھتے ہیں:
حنظلۃ بن عبداﷲ ویقال ابن عبیداﷲ و قیل ابن ابی صفیۃ السدوسی و امام مسجد بنی سدوس بالبصرہ ابوعبید الرحیم عن انس قال یحیی القطان ترکتہ کان قد اختلط وضعفہ احمد وقال یروی عن انس مناکیر منھا قلنا أینحنی بعضنا لبعض اھ ملخصا۔ حنظلہ بن عبداﷲ اور ابن عبیداﷲ اور ابن ابی صفیہ السدوس بھی ان کو کہا گیا ہے یہ بصرہ میں بنی سدوس کی مسجد کے امام ہیں کنیت ابوعبدالرحیم ہے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں یحیی بن قطان نے کہا میں نے ان کو متروك قرار دیا ہے کہ اختلاط ہوگیا تھا اور امام احمد نے ان کو ضعیف کہا ہے اور فرمایا یہ حضرت انس سے منکرات لاتے ہیں انہی میں سے ہے کہ ہم نے کہا کیا ہم آپس میں ایك دوسرے کے لئے جھکا کریں اھ ملخصا(ت)
امام ہمام مرجع ائمہ الحدیث کی تضعیف کے مقابل امام ترمذی کی تحسین کب مقبول ہوسکتی ہے۔
بالجملہ بحمدہ تعالی آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ منکرین کے ہاتھ میں اصلا کوئی حدیث نہیں جس میں ان کے قول کی بو بھی نکل سکے۔ثبوت ممانعت تو بڑی چیز ہے اورا گر یہ حدیثیں اور ان جیسی ہزار
حیث قال قال ابن دحیۃ فی العلم المشہور وکم حسن الترمذی فی کتابہ من احادیث موضوعۃ واسانید واھیۃ منھا ھذاالحدیث اھ یعنی حدیث عمرو بن عوف المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ فی عدد تکبیرات العیدین۔ جہاں انھوں نے فرمایا کہ ابن دحیہ نے"العلم الشہور"میں کہا ہے کہ ترمذی نے اپنی کتاب میں کتنی ہی موضوع احادیث اور کمزور سندوں کو حسن قرار دیا ہے انہی میں سے یہ حدیث ہے یعنی حدیث عمرو بن عوف المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ عیدین کی تکبیرات کی تعداد کے بیان میں۔(ت)
اور قاطع نزاع یہ ہے کہ خود اسی حدیث حنظلہ کو امام ائمہ المحدثین حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے تصریحا فرمادیا کہ منکر ہے___ امام ذہبی تہذیب میں لکھتے ہیں:
حنظلۃ بن عبداﷲ ویقال ابن عبیداﷲ و قیل ابن ابی صفیۃ السدوسی و امام مسجد بنی سدوس بالبصرہ ابوعبید الرحیم عن انس قال یحیی القطان ترکتہ کان قد اختلط وضعفہ احمد وقال یروی عن انس مناکیر منھا قلنا أینحنی بعضنا لبعض اھ ملخصا۔ حنظلہ بن عبداﷲ اور ابن عبیداﷲ اور ابن ابی صفیہ السدوس بھی ان کو کہا گیا ہے یہ بصرہ میں بنی سدوس کی مسجد کے امام ہیں کنیت ابوعبدالرحیم ہے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں یحیی بن قطان نے کہا میں نے ان کو متروك قرار دیا ہے کہ اختلاط ہوگیا تھا اور امام احمد نے ان کو ضعیف کہا ہے اور فرمایا یہ حضرت انس سے منکرات لاتے ہیں انہی میں سے ہے کہ ہم نے کہا کیا ہم آپس میں ایك دوسرے کے لئے جھکا کریں اھ ملخصا(ت)
امام ہمام مرجع ائمہ الحدیث کی تضعیف کے مقابل امام ترمذی کی تحسین کب مقبول ہوسکتی ہے۔
بالجملہ بحمدہ تعالی آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ منکرین کے ہاتھ میں اصلا کوئی حدیث نہیں جس میں ان کے قول کی بو بھی نکل سکے۔ثبوت ممانعت تو بڑی چیز ہے اورا گر یہ حدیثیں اور ان جیسی ہزار
حوالہ / References
قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین فصل سوم المکتبۃ السلفیہ ∞لاہور ص۳۰€۰
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ العیدین ∞مکتبہ نوریہ رضویہ لاہور ۲/ ۲۲۵€
تہذیب التہذیب للذہبی من اسمہ حنظلہ حنطلۃ بن عبداﷲ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدر آباد دکن ۲/ ۶۲€
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ العیدین ∞مکتبہ نوریہ رضویہ لاہور ۲/ ۲۲۵€
تہذیب التہذیب للذہبی من اسمہ حنظلہ حنطلۃ بن عبداﷲ دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدر آباد دکن ۲/ ۶۲€
اور ہوں اور وہ بالفرض سب صحاح وحسان ہوں تاہم تحقیقات بالانے روشن کردیا کہ اصلا مفید انکار نہ ہوں گی__ یہ کسی حدیث میں دکھائیں کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تالی علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے کو منع فرمایا یا ارشاد ہوا کہ ایك ہی ہاتھ سے مصافحہ کیا کرو۔بغیر اس کے ثبوت ممانعت کا دعوی محض ہوس پکانا ہے یاجنون خام۔والحمدﷲ ولی الانعام۔
اب رہا یہ کہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ثبوت کیا ہے۔
اقول:وباﷲ التوفیقاولا: صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:
علمنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکفی بین کفیہ التشھد الحدیث۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے کر مجھے التحیات تعلیم فرمائی۔
امام المحدثین امام بخاری نے اپنی جامع صحیح کی کتاب الاستیذان میں مصافحہ کے لئے جو باب وضع کیا اس میں سب سے پہلے اسی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کا نشان دیا۔پھر اس باب مصافحہ کے برابر دوسراباب وضع کیا باب الاخذ بالیدین یعنی یہ باب ہے دونوں ہاتھ میں ہاتھ لینے کا۔اس میں بھی وہی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ مسندا روایت کیاگر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ لینا مصافحہ نہ تھا تو اس حدیث کوباب المصافحہ سے کیا تعلق ہوتا۔صحیح بخاری کی اس تحریر پر دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت۔ہاں اگر حضرات منکرین جس طرح ائمہ فقہ کو نہیں مانتے اب امام بخاری کی نسبت کہہ دیں کہ وہ حدیث غلط سمجھتے تھے ہم ٹھیك سمجھتے ہیں۔تو وہ جانیں اور ان کا کام۔
معہذا مصافحہ دونوں جانب سے صفحات کف ملانا ہے اور یہ معنی اس صورت کفی بین کفیہ(میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے۔ت)میں ضرور متحققتو اس کے مصافحہ ہونے سے انکار پر کیا باعث رہا____ بعض جہلا ء کا کہنا کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف سے تو ایك ہی ہاتھ تھا۔یہ محض جہالت وادعائے بے ثبوت ہے۔دونوں طرف سے
اب رہا یہ کہ دو ہاتھ سے مصافحہ کا ثبوت کیا ہے۔
اقول:وباﷲ التوفیقاولا: صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:
علمنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکفی بین کفیہ التشھد الحدیث۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے کر مجھے التحیات تعلیم فرمائی۔
امام المحدثین امام بخاری نے اپنی جامع صحیح کی کتاب الاستیذان میں مصافحہ کے لئے جو باب وضع کیا اس میں سب سے پہلے اسی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کا نشان دیا۔پھر اس باب مصافحہ کے برابر دوسراباب وضع کیا باب الاخذ بالیدین یعنی یہ باب ہے دونوں ہاتھ میں ہاتھ لینے کا۔اس میں بھی وہی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ مسندا روایت کیاگر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ لینا مصافحہ نہ تھا تو اس حدیث کوباب المصافحہ سے کیا تعلق ہوتا۔صحیح بخاری کی اس تحریر پر دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت۔ہاں اگر حضرات منکرین جس طرح ائمہ فقہ کو نہیں مانتے اب امام بخاری کی نسبت کہہ دیں کہ وہ حدیث غلط سمجھتے تھے ہم ٹھیك سمجھتے ہیں۔تو وہ جانیں اور ان کا کام۔
معہذا مصافحہ دونوں جانب سے صفحات کف ملانا ہے اور یہ معنی اس صورت کفی بین کفیہ(میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں کے بیچ میں لے۔ت)میں ضرور متحققتو اس کے مصافحہ ہونے سے انکار پر کیا باعث رہا____ بعض جہلا ء کا کہنا کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف سے تو ایك ہی ہاتھ تھا۔یہ محض جہالت وادعائے بے ثبوت ہے۔دونوں طرف سے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب المصافحۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۲۶،€صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب التشہد فی الصلوٰۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۴€
دونوں ہاتھ ملائے جائیں توایك کا ایك ہی ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوگا نہ کہ دونوں___ وھذا ظاھر جدا (اوریہ بہت زیادہ ظاہرہے۔ت)اور جب حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف سے دونوں ہاتھ کا ثبوت ہوا تو ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف سے ثبوت نہ ہونا کیا زیر نظر رہا۔
ثانیا: اکابر علماء عامہ کتب مثل خزانۃ الفتاوی وفتاوی عالمگیریہ وفتاوی زاہدی ودرمختار ومنتقی شرح ملتقی ومنیۃ الفقہاء وشرح نقایہ ورسالہ علامہ شرنبلالی ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر و فتح اﷲ المعین للعلامۃ السید ابی المسعود الازہری وحاشیہ طحطاوی وحاشیہ شامی وغیرہا میں تصریح فرماتے ہیں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے سنت ہے۔ہندیہ میں ہے:
یجوز المصافحۃ والسنۃ فیہا ان یضع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب او غیرہ کذا فی خزانۃ الفتاوی ۔ مصافحہ جائز ہے۔سنت اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طور پر رکھے کہ درمیان میں کوئی کپڑا یا اورکوئی چیز حائل نہ ہوایسے ہی خزانۃ الفتاوی میں ہے۔(ت)
شرح تنویر پھر حواشی الکنز للسید میں ہے:
فی القنیۃ السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ ۔ قنیہ میں ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھ سے سنت ہے۔(ت)
شرح متن الحلبی للعلامۃ العلائی پھر ردالمحتار میں ہے:
السنۃ ان تکون بکلتا یدیہ ۔ سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرے۔(ت)
جامع الرموز میں ہے:
السنۃ فیہا ان تکون بکلتا یدیہ کما فی المنیۃ ۔ مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے کرے۔ جیسا کہ منیہ میں ہے۔(ت)
ثانیا: اکابر علماء عامہ کتب مثل خزانۃ الفتاوی وفتاوی عالمگیریہ وفتاوی زاہدی ودرمختار ومنتقی شرح ملتقی ومنیۃ الفقہاء وشرح نقایہ ورسالہ علامہ شرنبلالی ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر و فتح اﷲ المعین للعلامۃ السید ابی المسعود الازہری وحاشیہ طحطاوی وحاشیہ شامی وغیرہا میں تصریح فرماتے ہیں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے سنت ہے۔ہندیہ میں ہے:
یجوز المصافحۃ والسنۃ فیہا ان یضع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب او غیرہ کذا فی خزانۃ الفتاوی ۔ مصافحہ جائز ہے۔سنت اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طور پر رکھے کہ درمیان میں کوئی کپڑا یا اورکوئی چیز حائل نہ ہوایسے ہی خزانۃ الفتاوی میں ہے۔(ت)
شرح تنویر پھر حواشی الکنز للسید میں ہے:
فی القنیۃ السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ ۔ قنیہ میں ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھ سے سنت ہے۔(ت)
شرح متن الحلبی للعلامۃ العلائی پھر ردالمحتار میں ہے:
السنۃ ان تکون بکلتا یدیہ ۔ سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرے۔(ت)
جامع الرموز میں ہے:
السنۃ فیہا ان تکون بکلتا یدیہ کما فی المنیۃ ۔ مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے کرے۔ جیسا کہ منیہ میں ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶€۹
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۴€
جامع الرموز کتاب الکراھیۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۶€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۴€
جامع الرموز کتاب الکراھیۃ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۶€
شرح علامہ شیخی زادہ قاضی رومی میں ہے:
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کرے۔(ت)
شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہردو دست بود ۔ ملاقات کے وقت مصافحہ سنت ہے اور چاہئے کہ دونوں ہاتھوں سے ہو۔(ت)
مخالفین کا یہ دعوی ہے کہ فقہاء کی جو بات ہم اپنے زعم میں حدیث کے خلاف سمجھیں گے اسے نہ مانیں گے یہاں تك کہ ان کے ارشادات کو اصلا کسی حدیث کے مخالف نہیں بتاسکتے۔نہ ماننے کی وجہ کیا ہے مگریہ کہے کہ فقہ وفقہاء سے خاص عداوت ہے کہ اگرچہ ان کی بات میں ادعائے مخالف حدیث کی راہ نہ پائیں تاہم قابل تسلیم نہیں جانتے۔
ثالثا: صحیح بخاری شریف کے اسی باب مذکور میں ہے:
صافح حماد بن زید ابن المبارك بیدیہ ۔ امام حماد بن زید نے امام اجل عبداﷲ بن مبارك سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
تاریخ امام بخاری میں ہے:
حدثنی اصحابنا یحیی وغیرہ عن اسمعیل بن ابراھیم قال رأیت حماد بن زید وجاء ہ ابن المبارك بمکۃ فصافحہ بکلتا یدیہ ۔ یعنی مجھ سے میرے اصحاب یحیی ابوجعفر بیکندی وغیرہ اسمعیل بن ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا اور ابن المبارك ان کے پاس مکہ معظمہ میں آئے تھے تو انھوں نے ان سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
یہ امام اجل حماد بن زید ازدی بصری قدس سرہ اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں۔انس بن سیرین و ثابت بنانی وعاصم بن بہدلہ وعمرو بن دینار ومحمد بن واسع وغیرہم علمائے تابعین شاگردان حضرت انس
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ مصافحہ میں سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے کرے۔(ت)
شیخ محقق مولاناعبدالحق محدث دہلوی شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
مصافحہ سنت است نزد ملاقات وباید کہ بہردو دست بود ۔ ملاقات کے وقت مصافحہ سنت ہے اور چاہئے کہ دونوں ہاتھوں سے ہو۔(ت)
مخالفین کا یہ دعوی ہے کہ فقہاء کی جو بات ہم اپنے زعم میں حدیث کے خلاف سمجھیں گے اسے نہ مانیں گے یہاں تك کہ ان کے ارشادات کو اصلا کسی حدیث کے مخالف نہیں بتاسکتے۔نہ ماننے کی وجہ کیا ہے مگریہ کہے کہ فقہ وفقہاء سے خاص عداوت ہے کہ اگرچہ ان کی بات میں ادعائے مخالف حدیث کی راہ نہ پائیں تاہم قابل تسلیم نہیں جانتے۔
ثالثا: صحیح بخاری شریف کے اسی باب مذکور میں ہے:
صافح حماد بن زید ابن المبارك بیدیہ ۔ امام حماد بن زید نے امام اجل عبداﷲ بن مبارك سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
تاریخ امام بخاری میں ہے:
حدثنی اصحابنا یحیی وغیرہ عن اسمعیل بن ابراھیم قال رأیت حماد بن زید وجاء ہ ابن المبارك بمکۃ فصافحہ بکلتا یدیہ ۔ یعنی مجھ سے میرے اصحاب یحیی ابوجعفر بیکندی وغیرہ اسمعیل بن ابراہیم سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے کہا کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا اور ابن المبارك ان کے پاس مکہ معظمہ میں آئے تھے تو انھوں نے ان سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
یہ امام اجل حماد بن زید ازدی بصری قدس سرہ اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں۔انس بن سیرین و ثابت بنانی وعاصم بن بہدلہ وعمرو بن دینار ومحمد بن واسع وغیرہم علمائے تابعین شاگردان حضرت انس
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتا ب الکراہیۃ فصل فی احکام النظر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۴۱€
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الآداب باب المصافحہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰€
صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب الاخذ بالیدین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۲€۶
التاریخ البخاری باب اسمعیل ∞ترجمہ ۱۰۸۴€ دارالبازمکہ المکرمہ ∞۱/ ۳۴۳€
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الآداب باب المصافحہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۰€
صحیح البخاری کتاب الاستیذان باب الاخذ بالیدین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۲€۶
التاریخ البخاری باب اسمعیل ∞ترجمہ ۱۰۸۴€ دارالبازمکہ المکرمہ ∞۱/ ۳۴۳€
بن مالك وعبداﷲ بن عمر و عبداﷲ بن عباس وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم سے علم حاصل کیا۔اور اجلہ ائمہ محدثین و علمائے مجتہدین مثل امام سفیان ثوری وامام یحیی بن سعید قطان وامام عبدالرحمن بن مہدی وامام علی بن مدینی وغیرہم کہ امام بخاری وامام مسلم کے اساتذہ واساتذۃ الاساتذہ تھے اس جناب کے شاگرد ہوئے امام عبدالرحمن بن مہدی فرمایا کرتے:
ائمۃ الناس فی زمانھم اربعۃسفین بالکوفۃ ومالك بالحجاز و الاوز اعی بالشام وحماد بن زید بالبصرۃ مسلمانوں کے امام اپنے زمانے میں چار ہیں۔کوفہ میں سفیان۔ حجاز میں مالکشام میں اوزاعیبصرۃ میں حماد بن زید۔
اور یہ بھی فرماتے:
مارأیت اعلم من مالك وسفین وحماد بن زید ۔ میں نے مالك وسفیان وحماد بن زید سے زیادہ کوئی علم والا نہ دیکھا۔
اوریہ بھی فرماتےکہ:
مارأیت بالبصرۃ افقہ منہ ولم ار احدا اعلم بالسنۃ منہ ۔ میں نے بصرے میں ان سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہ دیکھا اور میں نے ان سے زیادہ حدیث جاننے والا کوئی نہ پایا۔
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
حماد بن زید من ائمۃ المسلمین ۔ حماد بن زید مسلمانوں کے اماموں میں سے ہے۔
اس جناب نے ماہ رمضان ۱۷۹ھ میں وفات پائیجس دن انتقال ہوا یزید بن زریع بصری کو خبر پہنچی فرمایا: الیوم مات سید المسلمین اج مسلمانوں کے سردار نے انتقال کیا رحمۃ اﷲ تعالی علیہ۔
ذکر کل ذلك الامام الذھبی فی تہذیب التھذیب۔ امام ذہبی نے ان میں سے ہر ایك کو تہذیب التہذیب میں ذکر فرمایا۔(ت)
اور دوسرے صاحب حضرت الانام علم الہدی شیخ الاسلام عبداﷲ بن مبارك مروزی کا تو ذکر ہی کیا ہے۔عالم میں کون سا قدرے لکھا پڑھا ہے جو اس جناب کی جلالت شان ورفعت مکان سے آگاہ نہیں۔وہ بھی اجلہ ائمہ تبع تابعین سادات محدثین کبرائے مجتہدین اور امام بخاری ومسلم کے استاذ الاساتذین اور ہمارے امام اعظم کے خاص شاگردان ومستفدین سے ہیں رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔
ائمۃ الناس فی زمانھم اربعۃسفین بالکوفۃ ومالك بالحجاز و الاوز اعی بالشام وحماد بن زید بالبصرۃ مسلمانوں کے امام اپنے زمانے میں چار ہیں۔کوفہ میں سفیان۔ حجاز میں مالکشام میں اوزاعیبصرۃ میں حماد بن زید۔
اور یہ بھی فرماتے:
مارأیت اعلم من مالك وسفین وحماد بن زید ۔ میں نے مالك وسفیان وحماد بن زید سے زیادہ کوئی علم والا نہ دیکھا۔
اوریہ بھی فرماتےکہ:
مارأیت بالبصرۃ افقہ منہ ولم ار احدا اعلم بالسنۃ منہ ۔ میں نے بصرے میں ان سے بڑھ کر کوئی فقیہ نہ دیکھا اور میں نے ان سے زیادہ حدیث جاننے والا کوئی نہ پایا۔
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
حماد بن زید من ائمۃ المسلمین ۔ حماد بن زید مسلمانوں کے اماموں میں سے ہے۔
اس جناب نے ماہ رمضان ۱۷۹ھ میں وفات پائیجس دن انتقال ہوا یزید بن زریع بصری کو خبر پہنچی فرمایا: الیوم مات سید المسلمین اج مسلمانوں کے سردار نے انتقال کیا رحمۃ اﷲ تعالی علیہ۔
ذکر کل ذلك الامام الذھبی فی تہذیب التھذیب۔ امام ذہبی نے ان میں سے ہر ایك کو تہذیب التہذیب میں ذکر فرمایا۔(ت)
اور دوسرے صاحب حضرت الانام علم الہدی شیخ الاسلام عبداﷲ بن مبارك مروزی کا تو ذکر ہی کیا ہے۔عالم میں کون سا قدرے لکھا پڑھا ہے جو اس جناب کی جلالت شان ورفعت مکان سے آگاہ نہیں۔وہ بھی اجلہ ائمہ تبع تابعین سادات محدثین کبرائے مجتہدین اور امام بخاری ومسلم کے استاذ الاساتذین اور ہمارے امام اعظم کے خاص شاگردان ومستفدین سے ہیں رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔
حوالہ / References
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
تہذیب التہذیب من اسمہ حماد بن زید دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۲/ ۱۰€
علمائے دین فرماتے ہیں تمام جہاں کی خوبیاں اﷲ تعالی نے ان میں جمع فرمادی تھیں قالہ فی التقریب (اسے تقریب میں بیان کیا گیا۔ت اور فرماتے ہیں جہاں عبداﷲ بن مبارك کاذکر ہوتا ہے وہاں رحمت الہی اترتی ہے ذکرہ الزرقانی وغیرہ(اسے زرقانی وغیرہ نے ذکر کیا۔ت)ان کا کچھ تذکرہ دیکھنا چاہو تو سردست شاہ عبدالعزیز صاحب کی بستان المحدثین ہی دیکھو۔
ہم نے بحمداﷲ خاص صحیح بخاری سے ایسے دو امام جلیل تبع تابعین سے دونوں ہاتھ کا مصافحہ ثابت کردیا۔مخالف بھی تو کہیں سے ممانعت ثابت کرے یا ایسے حضرات تبع تابعین پر بھی معاذاﷲ بدعت و مخالفت سنت کا گمان ہو گا یا اقرار کردیجئے گا کہ وہ بھی حدیث وسنت نہ جانتے تھےمحدث مجتہد جو کچھ ہیں بس آپ ہی تیرہ صدی کی چھٹن چند جاہلان ہندی وطن ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
رابعا: ان حضرات کا داب کلی ہے کہ جس امرپراپنی قاصر نظر ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل وبے ثبوت ہونے کاحکم لگادیتے اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بناء پر اسے ممنوع وناجائز ٹھہرادیتے ہیں۔پھر اس طوفان بے ضابطگی کا وہ جوش ہوتاہے کہ اس اپنے نہ پانے کے مقابل علماء ومشائخ کی تو کیا گنتی حضرات عالیہ ائمہ مجتہدین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کے ارشادات بھی پایہ اعتبار سے ساقط اور ان کے احکام کو بھی یونہی معاذاﷲ باطل وغیر ثابت بتاتے ہیں۔یہ وہ جہالت بے مزہ ہے جسے کوئی ادنی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا ان حضرات سے کوئی اتنا پوچھنے والا نہیں کہ"کے آمدی وکے پیرشدی"(کب آئے اور کب بوڑھے ہوئے۔ت)بڑے بڑے اکابر محدثین ایسی جگہ"لم ار ولم اجد" پر اختصار کرتے ہیں یعنی ہم نے نہ دیکھی ہمیں نہ ملینہ کہ تمھاری طرح عدم وجدان کہ عدم وجود کی دلیل ٹھہرادیں
صاحبو! لاکھوں حدیثیں اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلا تدوین میں بھی نہ آئیں۔امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں۔ اما م مسلم کو تین لاکھپھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں۔امام احمد کو دس لاکھ محفوظ تھیں مسند میں فقط تیس ہزار ہیں۔خود شیخین وغیرہما ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث صحاح کااستیعاب نہیں چاہتے۔اور اگر ادعائے استیعاب فرض کیجئے تولازم آئے کہ افراد بخاری امام مسلم اور افراد مسلمامام بخاری اور صحاح افراد سنن اربعہ دونوں اماموں کے نزدیك صحیح نہ ہوںاور اگر اس ادعا کو آگے بڑھائے تو یونہی صحیحین کی وہ متفق علیہ حدیثیں جنھیں امام نسائی نے مجتبی میں داخل نہ کیا ا ن کے نزدیك حلیہ صحت سے عاری ہوں وھو کما تری(یہ وہ چیز ہے جسے تم جانتے ہو۔ت)___ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
مامن اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اصحاب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں کسی نے
ہم نے بحمداﷲ خاص صحیح بخاری سے ایسے دو امام جلیل تبع تابعین سے دونوں ہاتھ کا مصافحہ ثابت کردیا۔مخالف بھی تو کہیں سے ممانعت ثابت کرے یا ایسے حضرات تبع تابعین پر بھی معاذاﷲ بدعت و مخالفت سنت کا گمان ہو گا یا اقرار کردیجئے گا کہ وہ بھی حدیث وسنت نہ جانتے تھےمحدث مجتہد جو کچھ ہیں بس آپ ہی تیرہ صدی کی چھٹن چند جاہلان ہندی وطن ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
رابعا: ان حضرات کا داب کلی ہے کہ جس امرپراپنی قاصر نظر ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل وبے ثبوت ہونے کاحکم لگادیتے اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بناء پر اسے ممنوع وناجائز ٹھہرادیتے ہیں۔پھر اس طوفان بے ضابطگی کا وہ جوش ہوتاہے کہ اس اپنے نہ پانے کے مقابل علماء ومشائخ کی تو کیا گنتی حضرات عالیہ ائمہ مجتہدین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کے ارشادات بھی پایہ اعتبار سے ساقط اور ان کے احکام کو بھی یونہی معاذاﷲ باطل وغیر ثابت بتاتے ہیں۔یہ وہ جہالت بے مزہ ہے جسے کوئی ادنی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا ان حضرات سے کوئی اتنا پوچھنے والا نہیں کہ"کے آمدی وکے پیرشدی"(کب آئے اور کب بوڑھے ہوئے۔ت)بڑے بڑے اکابر محدثین ایسی جگہ"لم ار ولم اجد" پر اختصار کرتے ہیں یعنی ہم نے نہ دیکھی ہمیں نہ ملینہ کہ تمھاری طرح عدم وجدان کہ عدم وجود کی دلیل ٹھہرادیں
صاحبو! لاکھوں حدیثیں اپنے سینوں میں لے گئے کہ اصلا تدوین میں بھی نہ آئیں۔امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں۔ اما م مسلم کو تین لاکھپھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں۔امام احمد کو دس لاکھ محفوظ تھیں مسند میں فقط تیس ہزار ہیں۔خود شیخین وغیرہما ائمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث صحاح کااستیعاب نہیں چاہتے۔اور اگر ادعائے استیعاب فرض کیجئے تولازم آئے کہ افراد بخاری امام مسلم اور افراد مسلمامام بخاری اور صحاح افراد سنن اربعہ دونوں اماموں کے نزدیك صحیح نہ ہوںاور اگر اس ادعا کو آگے بڑھائے تو یونہی صحیحین کی وہ متفق علیہ حدیثیں جنھیں امام نسائی نے مجتبی میں داخل نہ کیا ا ن کے نزدیك حلیہ صحت سے عاری ہوں وھو کما تری(یہ وہ چیز ہے جسے تم جانتے ہو۔ت)___ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
مامن اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اصحاب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں کسی نے
حوالہ / References
تقریب التہذیب ∞ترجمہ ۳۵۸۱ عبداﷲ بن مبارك ۱/ ۵۲۷€
بستان المحدثین کتا ب الزہد والرقاق ∞ص۱۴۹ تا ۱۵۹€
بستان المحدثین کتا ب الزہد والرقاق ∞ص۱۴۹ تا ۱۵۹€
احد اکثر حدیثا عنہ منی الاماکان من عبداﷲ بن عمرو فانہ کان یکتب ولااکتب ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مجھ سے زیادہ حدیثیں روایت نہ کیں سوا عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما کے کہ وہ لکھ لیا کرتے اور میں نہ لکھتا۔
دیکھو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ صاف فرماتے ہیں کہ عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان سے زیادہ احادیث روایت فرمائیں۔حالانکہ تصانیف محدثین میں ان کی حدیثیں ان کی احادیث سے بدرجہاکم ہیں۔عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے صرف سات سو حدیثیں پائی گئیں اور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے پانچ ہزار تین سو۔علامہ قسطلانی ارشادمیں ارشاد فرماتے ہیں:
یفھم منہ جزم ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بانہ لیس فی الصحابۃ اکثر حدیثا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منہ الا عبداﷲ بن عمرو ومع ان الموجود عن عبداﷲ بن عمرواقل من الموجود المروی عن ابی ھریرۃ باضعاف لانہ سکن مصر وکان الواردون الیھا قلیلا بخلاف ابی ھریرۃ فانہ استوطن المدینۃ وھی مقصد المسلمین من کل جھۃ وروی عنہ فیما قالہ المؤلف نحو من ثمان مائۃ رجل و روی عنہ من الحدیث خمسۃ الاف وثلاث مأۃ حدیث ووجد لعبداﷲ سبع مأۃ حدیث ۔ اس سے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا جزم ویقین سمجھ میں آتا ہے کہ صحابہ کرام میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کسی نے اتنی کثیر تعداد میں حدیثیں روایت نہیں کیں سوائے عبداﷲ بن عمرو کےمگر اس کے باجود عبد اﷲ بن عمرو کی مرویات ابوہریرہ سے کئی گنا کم ہیںاس کی وجہ یہ ہے کہ عبداﷲ بن عمرو مصر میں سکونت پذیر تھے اور احادیث کریمہ کی تلاش و جستجو کرنے والوں کا ورود وہاں بہت کم ہوتا تھا بخلاف حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے آپ کا تو مدینہ میں ہی قیام تھا جو ہرچہار جانب سے مسلمانوں کا مرجع تھا۔حضرت مولف علیہ الرحمہ کا کہنایہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنیوالے لگ بھگ آٹھ سو افراد تھےاور حضرت ابوہریرہ سے کل پانچ ہزار تین سو حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔اور حضرت عبداﷲ بن عمرو کی سات سو حدیث ملتی ہیں۔(ت)
دیکھو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ صاف فرماتے ہیں کہ عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان سے زیادہ احادیث روایت فرمائیں۔حالانکہ تصانیف محدثین میں ان کی حدیثیں ان کی احادیث سے بدرجہاکم ہیں۔عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے صرف سات سو حدیثیں پائی گئیں اور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے پانچ ہزار تین سو۔علامہ قسطلانی ارشادمیں ارشاد فرماتے ہیں:
یفھم منہ جزم ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بانہ لیس فی الصحابۃ اکثر حدیثا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منہ الا عبداﷲ بن عمرو ومع ان الموجود عن عبداﷲ بن عمرواقل من الموجود المروی عن ابی ھریرۃ باضعاف لانہ سکن مصر وکان الواردون الیھا قلیلا بخلاف ابی ھریرۃ فانہ استوطن المدینۃ وھی مقصد المسلمین من کل جھۃ وروی عنہ فیما قالہ المؤلف نحو من ثمان مائۃ رجل و روی عنہ من الحدیث خمسۃ الاف وثلاث مأۃ حدیث ووجد لعبداﷲ سبع مأۃ حدیث ۔ اس سے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا جزم ویقین سمجھ میں آتا ہے کہ صحابہ کرام میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کسی نے اتنی کثیر تعداد میں حدیثیں روایت نہیں کیں سوائے عبداﷲ بن عمرو کےمگر اس کے باجود عبد اﷲ بن عمرو کی مرویات ابوہریرہ سے کئی گنا کم ہیںاس کی وجہ یہ ہے کہ عبداﷲ بن عمرو مصر میں سکونت پذیر تھے اور احادیث کریمہ کی تلاش و جستجو کرنے والوں کا ورود وہاں بہت کم ہوتا تھا بخلاف حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے آپ کا تو مدینہ میں ہی قیام تھا جو ہرچہار جانب سے مسلمانوں کا مرجع تھا۔حضرت مولف علیہ الرحمہ کا کہنایہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرنیوالے لگ بھگ آٹھ سو افراد تھےاور حضرت ابوہریرہ سے کل پانچ ہزار تین سو حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔اور حضرت عبداﷲ بن عمرو کی سات سو حدیث ملتی ہیں۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب کنایۃ العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۲€
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب العلم باب کنایۃ العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۶)€
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب العلم باب کنایۃ العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۶)€
اب کہئے حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ کی وہ ہزاروں حدیثیں کیا ہوئیں۔اور کتب حدیث میں ا ن میں سے کتنی ہاتھ ائیں۔بس اسی پرقیاس کرلیجئے اور یہیں سے ظاہر کہ ائمہ اربعہ خصوصاامام الائمہ مالك الازمہ سراج الامہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب پر اگر ان کتب میں حدیثیں نہ ملیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے مذہب پر واقع میں حدیث نہیں بلکہ اگر بخاری ومسلم اور ان کے امثال تصریح بھی کردیں کہ فلاں مذہب امام ابوحنیفہ یا مام مالك پر کوئی حدیث نہیں تو بھی منصف ذی عقل کے نزدیك ان کے پاك مبارك مذہبوں میں ا صلا قادح نہیں ہوسکتا۔آخر بخاری ومسلم کا علم محیط نہ تھاکیا جو کچھ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور صحابہ نے امت مرحومہ تك پہنچایا اس سب کا علم بخاری ومسلم کو حاصل تھا۔خود اجلہ صحابہ کرام جو گاہ بگاہ سفر وحضر میں دائما بارگاہ عرش جاہ حضور رسالت پناہ علیہ وعلیہم صلوات اﷲ میں حاضر رہتے یہاں تك کہ حضرات خلفائے اربعہ وحضرت عبداﷲ بن مسعود وغیرھم رضی اﷲ تعالی عنہم بھی یہ دعوی نہیں کرسکتے تھےکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کل اقوال وافعال پر ہمیں اطلاع ہےکتب احادیث پر جسے نظر ہے وہ خوب جانتاہے کہ بعض باتیں ان حضرات پر بھی خفی رہیں"تا بد یگرے چہ رسد"(دوسروں تك کیا پہنچے۔ت)پھر بخاری ومسلم وغیرہما کیونکر علم کل کا دعوی کرسکتے ہیں۔اگر وہ نفی کریں بھی تو اس کا محصل صرف اپنے علم کی نفی ہوگا یعنی ہمیں نہیں معلوم پھر اس سے واقع میں حدیث نہ ہونا درکناریہ بھی لازم نہیں آ تا کہ ابوحنیفہ ومالك کو بھی اپنے مذہب پر حدیث نہ معلوم ہو ان کا زمانہ زمانہ اقدس سے قریب تر تھا اور اس وقت تك زمانہ خیر القرون تھا۔بوجہ قلت کذب و کثرت خیر سندیں نظیف اور وسائط کم تھےیہ ممکن کہ جو حدیثیں ابوحنیفہ ومالك کے پاس تھیں بخاری ومسلم کو نہ پہنچیںممکن کہ جو حدیثیں ان کے پاس بسند صحیح تھیں ان تك بذریعہ روایت ضعاف پہنچیں۔پھر کیونکر ان کا نہ جاننا ان کے نہ جاننے پر قاضی ہوسکتاہے۔امام اجل ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ(جنھیں محدثین اہل جرح وتعدیل بھی بآنکہ ان میں بہت کو حضرات حنفیہ کرام سے ایك تعنت ہے تصریحا صاحب حدیث منصف فی الحدیث واتبع القوم للحدیث لکھتے ہیں۔بلکہ اپنے زعم میں امام الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ سے بھی زیادہ محدث وکثیر الحدیث جانتے ہیں امام ذہبی شافعی نے اس جناب کو حفاظ حدیث میں شماراور کتاب تذکرۃ الحفاظ میں بعنوان الامام العلامۃ فقیہ العراقین ذکر کیا)یہ ارشاد فرماتے ہیں:بارہا ہوتا کہ امام ایك قول ارشاد فرماتے کہ میری نظر میں حدیث کے خلاف ہوتا میں جانب حدیث جھکتا۔بعد تحقیق معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام نے اس حدیث سے فرمایا ہے جو میرے خواب میں بھی نہ تھیامام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان میں فرماتے ہیں:
عن ابی یوسف ما رأیت احدا اعلم بتفسیر الحدیث ومواضع النکت التی فیہ من الفقۃ من ابی حنیفۃ وقال ایضا ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الارایت مذہبہ الذی ذہب الیہ انجی فی الاخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ہو ابصر بالحدیث الصحیح منی وقال کان اذا صمم علی قولہ درت علی مشائخ الکوفۃ ھل اجد فی تقویۃ قولہ حدیثا اواثرا فربما وجدت الحدیثین والثلاثۃ فاتیتہ بھا فمنہا مایقول فیہ ہذا غیر صحیح اوغیر معروف فاقول لہ وما علمك بذلك مع انہ یوافق قولك فیقول انا عالم بعلم اھل الکوفۃ ۔ حضرت ابویوسف سے روایت ہے کہ میں نے احادیث کی تشریح اور فقہ کی نکتہ آفرینی میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے زیادہ جانکار شخص نہیں دیکھا نیز انھوں نے فرمایا میں نے جب بھی کسی مسئلہ میں ان سے مخالفت کی پھر میں نے اس میں غور وخوض کیا تو مجھے یہی محسوس ہوا کہ آخرت میں نجات دینے والا وہی مذہب ہے جس کی طرف امام ابوحنیفہ گئے ہیں۔مجھ سے زیادہ حدیثوں پر ان کی نظر تھی۔نیز فرمایا جب وہ کسی بات پر اڑ جاتے ہیں تو میں کوفہ کے مشائخ کے پاس اس غرض سے حاضر ہوتا کہ اس قول کی تقویت میں مجھے کوئی حدیث یا اثر ملے تو بسااوقات مجھے دو تین حدیثیں مل جاتیںتو میں ان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتا۔اپ فرماتے اس میں یہ فلاں حدیث صحیح نہیں ہے یا غیر معروف ہے۔میں عرض کرتا حضور! یہ آپ کو کیسے معلوم ہو گیا حالانکہ یہ حدیثیں توآپ کے قول کی تائید میں ہیں۔تو فرماتے کوفہ والوں کے علم ہی سے تو مجھے علم ہوا ہے۔(ت)
خیر ایك درجہ تویہ ہوا۔
درجہ دوئم:اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ان میں سے فرمائے کتنی باقی ہیںصد ہا کتابیں کہ ائمہ دین نے تالیف فرمائیں محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے۔امام مالك کے زمانے میں اسی۸۰علماء نے مؤطا لکھیں پھر سوائے مؤطائے مالك ومؤطائے ابن وہب کے اور بھی کسی کا پتا باقی ہے۔امام مسلم کے زمانے کو ابوعبداﷲ حاکم نیشاپوری صاحب مستدرك کے زمانے سے ایسا کتنا فاصلہ تھا۔پھر بعض تصانیف مسلم کی نسبت امام ابن حجر نے حاکم سے نقل کیا کہ معدوم ہیں وعلی ھذہ القیاس صدہا بلکہ ہزارہا تصانیف ائمہ کا کوئی نشان نہیں دے سکتامگر اتنا کہ تذکروں تاریخوں میں نام لکھا رہ گیا۔
خیر ایك درجہ تویہ ہوا۔
درجہ دوئم:اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ان میں سے فرمائے کتنی باقی ہیںصد ہا کتابیں کہ ائمہ دین نے تالیف فرمائیں محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے۔امام مالك کے زمانے میں اسی۸۰علماء نے مؤطا لکھیں پھر سوائے مؤطائے مالك ومؤطائے ابن وہب کے اور بھی کسی کا پتا باقی ہے۔امام مسلم کے زمانے کو ابوعبداﷲ حاکم نیشاپوری صاحب مستدرك کے زمانے سے ایسا کتنا فاصلہ تھا۔پھر بعض تصانیف مسلم کی نسبت امام ابن حجر نے حاکم سے نقل کیا کہ معدوم ہیں وعلی ھذہ القیاس صدہا بلکہ ہزارہا تصانیف ائمہ کا کوئی نشان نہیں دے سکتامگر اتنا کہ تذکروں تاریخوں میں نام لکھا رہ گیا۔
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل الثلاثون فی سندہ فی الحدیث ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۳€
درجہ سوم:اس سے بھی گزرئے جو کتابیں باقی رہیں ان میں سے اس خراب آباد ہند میں کے پائی جاتی ہیں ذرا کوئی حضرت غیر مقلد صاحب اپنے یہاں کی کتب حدیث کی فہرست تو دکھائیں کہ معلوم ہوکہ کس پونجی پر یہ اونچا دعوی ہے۔
درجہ چہارم:اب سب کے بعد یہ فرمائیے کہ جو کتابیں ہندوستان میں ہیں ان پرحضرات مدعین کو کہاں تك نظر ہے اور ان کی احادیث کس قدر محفوظ ہیں۔
سبحان اﷲ! کیا صرف اتنا کافی ہے کہ جو مسئلہ پیش آیا اسے خاص اسی کے باب میں دو چار کتابوں میں جو اپنے پاس ہیں دیکھ بھال لیا اور اپنے زعم میں باطل میں کوئی حدیث نہ ملی تو بے ثبوت ہونے کا دعوی کردیا۔جان برادر! بارہا واقع ہوگا کہ اس مسئلہ کی حدیث انھیں کتابوں میں ملے گی اور آپ کی نظر اس پر نہ پہنچے گی کہ اول تو ہر مطلب کے لئے محدثین نے تراجم وابواب وضع نہ کئے اور جس کے لئے وضع کئے ان کی مثبت بہت حدیثیں ایسی ہوں گی جو بوجہ دوسری مناسبت کے دیگر ابواب میں لکھ ائے یا لکھیں گے اوریہاں بخیال تکرار ان کے اعادہ واثبات سے باز رہے۔اگر یوں نہ مانئے اور اپنی وسعت نظر واحاطہ علم کا دعوی ہی کیجئے تو حضرات بے امتحان نہیں سہی اپنے میں جس صاحب کوبڑا محدث جانئے معین کیجئےہم دس سوال کرتے ہیں کہ ان کی نسبت جو حکم احادیث میں واردہو ارشاد فرمائیں پھر دیکھئے ان شاء اﷲ تعالی کیسے غوطے کھاتے ہیں۔اﷲ عزوجل چاہے تو اکثر کاحکم نہ نکال سکیں گےاور رب تبارك وتعالی کو منظور ہے تو انھیں کتابوں میں ان کی احادیث نکل آئیں گیاس وقت معلوم ہوگا کہ دعوی اجتہاد کرنے والے کتنے پانی میں تھے۔وائے بے انصافی ان لیاقتوں پرائمہ مجتہدین سے ہمسری کا دعوی ہیہات ہیہات"چھوٹا منہ بڑی بات"آدمی کو کتنی بھاتی ہے مگر امتحان دیتے وقت مزاآتاہے۔ہاں ہاں یہ بات میں نے اس لئے نہیں کہی کہ سنئے اور اڑا جائےنہیں نہیں ضرور اپنے کسی اعلی محدث کا نام رکھئے اور ہم جو سوالات کریں ان کا جواب ان سے بذریعہ احادیث لکھوائیےہم بھی تو دیکھیں کس برتے پرتتا پانی! جان برادر! حصر رواۃ ممکن نہیںحصر رواۃ کیونکرممکن نہیں۔ ابراہیم بن بکر شیبانی کے ذکر میں امام ابن الجوزی نے کہا:
ابراھیم بن بکر فی الرواۃ ستۃ لااعلم فیھم ضعفا سوی ھذا ابراہیم بن بکر راویوں میں چھ ہیں۔میں ان میں سے کسی میں ضعف نہیں جانتا سوااس شیبانی کے۔
درجہ چہارم:اب سب کے بعد یہ فرمائیے کہ جو کتابیں ہندوستان میں ہیں ان پرحضرات مدعین کو کہاں تك نظر ہے اور ان کی احادیث کس قدر محفوظ ہیں۔
سبحان اﷲ! کیا صرف اتنا کافی ہے کہ جو مسئلہ پیش آیا اسے خاص اسی کے باب میں دو چار کتابوں میں جو اپنے پاس ہیں دیکھ بھال لیا اور اپنے زعم میں باطل میں کوئی حدیث نہ ملی تو بے ثبوت ہونے کا دعوی کردیا۔جان برادر! بارہا واقع ہوگا کہ اس مسئلہ کی حدیث انھیں کتابوں میں ملے گی اور آپ کی نظر اس پر نہ پہنچے گی کہ اول تو ہر مطلب کے لئے محدثین نے تراجم وابواب وضع نہ کئے اور جس کے لئے وضع کئے ان کی مثبت بہت حدیثیں ایسی ہوں گی جو بوجہ دوسری مناسبت کے دیگر ابواب میں لکھ ائے یا لکھیں گے اوریہاں بخیال تکرار ان کے اعادہ واثبات سے باز رہے۔اگر یوں نہ مانئے اور اپنی وسعت نظر واحاطہ علم کا دعوی ہی کیجئے تو حضرات بے امتحان نہیں سہی اپنے میں جس صاحب کوبڑا محدث جانئے معین کیجئےہم دس سوال کرتے ہیں کہ ان کی نسبت جو حکم احادیث میں واردہو ارشاد فرمائیں پھر دیکھئے ان شاء اﷲ تعالی کیسے غوطے کھاتے ہیں۔اﷲ عزوجل چاہے تو اکثر کاحکم نہ نکال سکیں گےاور رب تبارك وتعالی کو منظور ہے تو انھیں کتابوں میں ان کی احادیث نکل آئیں گیاس وقت معلوم ہوگا کہ دعوی اجتہاد کرنے والے کتنے پانی میں تھے۔وائے بے انصافی ان لیاقتوں پرائمہ مجتہدین سے ہمسری کا دعوی ہیہات ہیہات"چھوٹا منہ بڑی بات"آدمی کو کتنی بھاتی ہے مگر امتحان دیتے وقت مزاآتاہے۔ہاں ہاں یہ بات میں نے اس لئے نہیں کہی کہ سنئے اور اڑا جائےنہیں نہیں ضرور اپنے کسی اعلی محدث کا نام رکھئے اور ہم جو سوالات کریں ان کا جواب ان سے بذریعہ احادیث لکھوائیےہم بھی تو دیکھیں کس برتے پرتتا پانی! جان برادر! حصر رواۃ ممکن نہیںحصر رواۃ کیونکرممکن نہیں۔ ابراہیم بن بکر شیبانی کے ذکر میں امام ابن الجوزی نے کہا:
ابراھیم بن بکر فی الرواۃ ستۃ لااعلم فیھم ضعفا سوی ھذا ابراہیم بن بکر راویوں میں چھ ہیں۔میں ان میں سے کسی میں ضعف نہیں جانتا سوااس شیبانی کے۔
حوالہ / References
میزان الاعتدلال عن ابن الجوزی ∞ترجمہ ۵۶€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۴€
اس پر امام ذہبی جیسے جلیل القدر عمدۃ الفن امام الشان نے فرمایا:
لوسماھم لافادنا فما ذکر ابن ابی حاتم منھم احدا ۔ اگر ان سب کا تذکرہ فرمادیتے توہمیں فائدہ بخشتے کہ ابن ابی حاتم نے توان میں سے ایك کا بھی تذکرہ نہ کیا۔
امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام نے جن کی جلالت قدر آفتاب نیمر وز سے اظہر جب بعض احادیث کہ مشائخ کرام نے ذکر کیں نہ پائیں یوں فرمایا کہ:
لعل قصور نظرنا اخفاھا عنا۔ امید ہے کہ ہماری نظر کے قصور نے انھیں ہم سے چھپالیا۔
دیکھو علماء یوں فرماتے ہیں اور جاہلوں کے دعوے وہ طویل وعریض ہوتے ہیں۔
حدیث اختلاف امتی رحمۃ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ت)امام جلال شلدین سیوطی جیسے حافظ جلیل نے کتاب جامع صغیر میں ذکر فرمائی اور اس کا کوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی۔ان بعض علماء کے نام لکھ کر جنھوں نے بے سند اپنی کتابوں میں اسے ذکرکیا لکھ دیا کہ:
لعلہ خرج فی بعض کتب الحفاظ التی لم تصل الینا ۔ شاید وہ حافظان حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جو ہم تك نہ پہنچیں۔
یہ وہ امام ہیں کہ فن حدیث میں جن کے بعد ان کا نظیر نہ آیاجنھوں نے کتاب جمع الجوامع تالیف فرمائی اور اس کی نسبت فرمایا:
قصدت فیہ جمیع الاحادیث النبویۃ باسرھا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس میں تمام احادیث نبویہ جمع کردوں۔
اس پر بھی علماء نے فرمایا:
لوسماھم لافادنا فما ذکر ابن ابی حاتم منھم احدا ۔ اگر ان سب کا تذکرہ فرمادیتے توہمیں فائدہ بخشتے کہ ابن ابی حاتم نے توان میں سے ایك کا بھی تذکرہ نہ کیا۔
امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام نے جن کی جلالت قدر آفتاب نیمر وز سے اظہر جب بعض احادیث کہ مشائخ کرام نے ذکر کیں نہ پائیں یوں فرمایا کہ:
لعل قصور نظرنا اخفاھا عنا۔ امید ہے کہ ہماری نظر کے قصور نے انھیں ہم سے چھپالیا۔
دیکھو علماء یوں فرماتے ہیں اور جاہلوں کے دعوے وہ طویل وعریض ہوتے ہیں۔
حدیث اختلاف امتی رحمۃ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ت)امام جلال شلدین سیوطی جیسے حافظ جلیل نے کتاب جامع صغیر میں ذکر فرمائی اور اس کا کوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی۔ان بعض علماء کے نام لکھ کر جنھوں نے بے سند اپنی کتابوں میں اسے ذکرکیا لکھ دیا کہ:
لعلہ خرج فی بعض کتب الحفاظ التی لم تصل الینا ۔ شاید وہ حافظان حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جو ہم تك نہ پہنچیں۔
یہ وہ امام ہیں کہ فن حدیث میں جن کے بعد ان کا نظیر نہ آیاجنھوں نے کتاب جمع الجوامع تالیف فرمائی اور اس کی نسبت فرمایا:
قصدت فیہ جمیع الاحادیث النبویۃ باسرھا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس میں تمام احادیث نبویہ جمع کردوں۔
اس پر بھی علماء نے فرمایا:
حوالہ / References
میزان الاعتدال ∞ترجمہ ۵۶€ دارالمعرفہ بیروت ∞۱/ ۲۴€
الجامع الصغیر للسیوطی ∞حدیث ۲۸۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴€
الجامع الصغیر للسیوطی ∞حدیث ۲۸۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴€
الجامع الصغیر للسیوطی ∞خطبہ مؤلف€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۵€
الجامع الصغیر للسیوطی ∞حدیث ۲۸۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴€
الجامع الصغیر للسیوطی ∞حدیث ۲۸۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴€
الجامع الصغیر للسیوطی ∞خطبہ مؤلف€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۵€
ہذا بحسب ما اطلع علیہ المصنف لاباعتبار مافی نفس الامر قالہ المناوی۔ یہ وہ اپنے علم کے اعتبار سے کہتے ہیں نہ یہ کہ واقع میں جس قدر حدیثیں ہیں سب کو جمع کرنا۔(ت)
وہ اپنے نہ پانے پر یوں فرماتے ہیں کہ شاید یہ حدیث ان کتب ائمہ میں تخریج ہوئی جو ہمیں نہ ملیں۔او رپھر یہ دیکھئے ہوا بھی ایسا ہیعبارت مذکورہ بعد علامہ مناوی صاحب تیسیر شرح جامع صغیر نے لکھ دیا الامر کذلك یعنی واقع ایسا ہی ہے۔پھر اس کی تخریج بتائی کہ بیہقی نے مدخل اور دیلمی نے مسندالفردوس میں بروایت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما روایت کی۔اور اس حدیث کی سند پر نہ صرف امام سیوطی بلکہ اکثر ائمہ کو اطلاع نہ ہوئی امام خاتم الحفاظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
زعم کثیر من الائمۃ انہ لااصل لہ بہت سے اماموں نے یہی زعم کیا کہ اس کے لئے کوئی سند نہیں۔
پھر امام عسقلانی نے اس کی بعض تخریجیں ظاہرفرمائیں۔
حدیث الوضوء علی الوضوء نور علی نور(وضوء پر وضو کرنا نور علی نورہے۔ت)کی نسبت امام عبدالعظیم منذری نے کتاب الترغیب اور امام عراقی نے تخریج احادیث الاحیاء میں تصریح کردی کہ لم نقف علیہ ہمیں اس پر اطلاع نہیں۔حالانکہ وہ مسند امام رزین میں موجود۔تیسیر میں ہے:
حدیث الوضوء علی الوضوء نورعلی نور اخرجہ رزین ولم یطلع علیہ العراقی کالمنذری فقالا لم یقف علیہ ۔ وضو ء پر وضوء کرنا نور علی نورہے۔یہ وہ حدیث ہے جس کی تخریج حضرت رزین نے کی ہے اور منذری کی طرح امام عراقی اس پرمطلع نہیں ہیں تو انھوں نے کہاہم اس پر واقف نہیں ہیں(ت)
وہ اپنے نہ پانے پر یوں فرماتے ہیں کہ شاید یہ حدیث ان کتب ائمہ میں تخریج ہوئی جو ہمیں نہ ملیں۔او رپھر یہ دیکھئے ہوا بھی ایسا ہیعبارت مذکورہ بعد علامہ مناوی صاحب تیسیر شرح جامع صغیر نے لکھ دیا الامر کذلك یعنی واقع ایسا ہی ہے۔پھر اس کی تخریج بتائی کہ بیہقی نے مدخل اور دیلمی نے مسندالفردوس میں بروایت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما روایت کی۔اور اس حدیث کی سند پر نہ صرف امام سیوطی بلکہ اکثر ائمہ کو اطلاع نہ ہوئی امام خاتم الحفاظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
زعم کثیر من الائمۃ انہ لااصل لہ بہت سے اماموں نے یہی زعم کیا کہ اس کے لئے کوئی سند نہیں۔
پھر امام عسقلانی نے اس کی بعض تخریجیں ظاہرفرمائیں۔
حدیث الوضوء علی الوضوء نور علی نور(وضوء پر وضو کرنا نور علی نورہے۔ت)کی نسبت امام عبدالعظیم منذری نے کتاب الترغیب اور امام عراقی نے تخریج احادیث الاحیاء میں تصریح کردی کہ لم نقف علیہ ہمیں اس پر اطلاع نہیں۔حالانکہ وہ مسند امام رزین میں موجود۔تیسیر میں ہے:
حدیث الوضوء علی الوضوء نورعلی نور اخرجہ رزین ولم یطلع علیہ العراقی کالمنذری فقالا لم یقف علیہ ۔ وضو ء پر وضوء کرنا نور علی نورہے۔یہ وہ حدیث ہے جس کی تخریج حضرت رزین نے کی ہے اور منذری کی طرح امام عراقی اس پرمطلع نہیں ہیں تو انھوں نے کہاہم اس پر واقف نہیں ہیں(ت)
حوالہ / References
التسیر شرح الجامع الصغیر ∞خطبہ مؤلف مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ €۵
التسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اختلاف امتی الخ ∞مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۴€۹
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابن حجر کتاب العلم الباب الثانی دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۰۵€
الترغیب والترھیب الترغیب فی المحافظۃ علی الوضو، مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۶۳،€المغنی عن حمل الاسفار للعراقی مع احیاء العلوم کتاب الطہارۃ باب فضیلۃ الوضوء مطبعۃ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۱/ ۱۳۵€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من توضا علی طہر ∞مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۱/ ۱۲۔۴۱۱€
التسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اختلاف امتی الخ ∞مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۴€۹
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ ابن حجر کتاب العلم الباب الثانی دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۰۵€
الترغیب والترھیب الترغیب فی المحافظۃ علی الوضو، مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۱۶۳،€المغنی عن حمل الاسفار للعراقی مع احیاء العلوم کتاب الطہارۃ باب فضیلۃ الوضوء مطبعۃ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۱/ ۱۳۵€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من توضا علی طہر ∞مکتبۃ الامام شافعی ریاض ۱/ ۱۲۔۴۱۱€
اس سے عجیب تر سنئے۔
حدیث حضر ت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کہ انھوں نے رکوع میں دونوں ہاتھ ملا کر زانوں کے بیچ میں رکھے اور بعد نماز کے فرمایا:
ھکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ ایسا ہی کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
اس کی نسبت امام ابوعمر بن عبدالبر نے فرمایا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت صحیح نہیں۔محدثین کے نزدیك صرف اس قدر صحیح ہے کہ عبداﷲ بن مسعود نے ایسا کیا۔اور امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم رحمۃاﷲ تعالی علیہ سے تو کتاب الخلاصۃ میں سخت ہی تعجب خیز بات واقع ہوئی کہ فرمایا صحیح مسلم شریف میں بھی صرف اسی قدر ہے کہ ابن مسعود نے ایسا کیا اوریہ نہیں کہ ھکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حالانکہ بعینہ یہی الفاظ صحیح مسلم میں موجودامام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
فی صحیح مسلم عن علقمۃ والاسودا نھما دخلا علی عبداﷲ فقال أصلی من خلفکما قالا نعم فقام بینھما فجعل احدھما عن یمینہ والاخر عن شمالہ ثم رکعنا فوضعنا ایدینا علی رکبنا ثم طبق بین یدیہ ثم جعلھما بین فخذیہ فلما صلی قال ھکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابن عبدالبر لایصح رفعہ والصحیح عندھم الوقف علی ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔وقال النووی فی الخلاصۃ الثابت فی صحیح مسلم ان ابن مسعود فعل ذلك و لم یقل صحیح مسلم میں حضرت علقمہ اور اسود سے روایت ہے یہ دونوں حضرات عبداﷲ ابن مسعودکے پاس آئے کہا کیا دوسروں نے نماز پڑھ لی ہے۔دونوں نے عرض کی ہاں حضورپھر آپ دونوں کے بیچ میں کھڑے ہوگئے ایك کو داہنے طرف دوسرے کو بائیں طرف کرلیاپھر ہم سبھوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پررکھ لیا۔پھر دونوں ہاتھ کو ملایاپھر انھوں نے دونوں رانوں کے بیچ میں رکھ دیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے توآپ نے فرمایا:ایسے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کیاابن عبدالبر نے کہا:اس روایت کا حضور تك پہنچنا ثابت نہیں۔ان کے نزدیك صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث عبداﷲ ابن مسعود تك موقوف ہے۔امام نووی نے خلاصہ میں کہا کہ صحیح مسلم میں
حدیث حضر ت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کہ انھوں نے رکوع میں دونوں ہاتھ ملا کر زانوں کے بیچ میں رکھے اور بعد نماز کے فرمایا:
ھکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ ایسا ہی کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
اس کی نسبت امام ابوعمر بن عبدالبر نے فرمایا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت صحیح نہیں۔محدثین کے نزدیك صرف اس قدر صحیح ہے کہ عبداﷲ بن مسعود نے ایسا کیا۔اور امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم رحمۃاﷲ تعالی علیہ سے تو کتاب الخلاصۃ میں سخت ہی تعجب خیز بات واقع ہوئی کہ فرمایا صحیح مسلم شریف میں بھی صرف اسی قدر ہے کہ ابن مسعود نے ایسا کیا اوریہ نہیں کہ ھکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حالانکہ بعینہ یہی الفاظ صحیح مسلم میں موجودامام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
فی صحیح مسلم عن علقمۃ والاسودا نھما دخلا علی عبداﷲ فقال أصلی من خلفکما قالا نعم فقام بینھما فجعل احدھما عن یمینہ والاخر عن شمالہ ثم رکعنا فوضعنا ایدینا علی رکبنا ثم طبق بین یدیہ ثم جعلھما بین فخذیہ فلما صلی قال ھکذا فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ابن عبدالبر لایصح رفعہ والصحیح عندھم الوقف علی ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔وقال النووی فی الخلاصۃ الثابت فی صحیح مسلم ان ابن مسعود فعل ذلك و لم یقل صحیح مسلم میں حضرت علقمہ اور اسود سے روایت ہے یہ دونوں حضرات عبداﷲ ابن مسعودکے پاس آئے کہا کیا دوسروں نے نماز پڑھ لی ہے۔دونوں نے عرض کی ہاں حضورپھر آپ دونوں کے بیچ میں کھڑے ہوگئے ایك کو داہنے طرف دوسرے کو بائیں طرف کرلیاپھر ہم سبھوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پررکھ لیا۔پھر دونوں ہاتھ کو ملایاپھر انھوں نے دونوں رانوں کے بیچ میں رکھ دیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے توآپ نے فرمایا:ایسے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کیاابن عبدالبر نے کہا:اس روایت کا حضور تك پہنچنا ثابت نہیں۔ان کے نزدیك صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث عبداﷲ ابن مسعود تك موقوف ہے۔امام نووی نے خلاصہ میں کہا کہ صحیح مسلم میں
ہکذا کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یفعلہ قیل کانھما ذھلافان مسلما اخرجہ من ثلث طرق لم یرفعہ فی الاولین ورفعہ فی الثالثۃ وقال ہکذا فعل الخ ۔ یہ روایت ثابت ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود نے ایسا کیا۔انھوں نے یہ نہیں کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایسا کیا کرتے تھے۔یہ بھی کہا گیا کہ ان دونوں سے ذہول ہوگیا کیونکہ امام مسلم نے تین طریقوں سے اسے تخریج فرمایاپہلی دو روایتیں مرفوع نہیں البتہ تیسری روایت میں انھوں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے اور فرمایا اسی طرح کیا الخ(ت)
میں یہاں اگر اس کی نظیر یں جمع کرنے پر آؤں کہ خبر وحدیث میں مشہور ومتداول کتابوں یہاں تك خود صحاح ستہ سے اکابرمحدثین کو کیسے کیسے ذہول واقع ہوئےہیں تو کلام طویل ہوجائےبعض مثالیں اس کی فقیر نے اپنے رسالہ نور عینی فی الانتصار للامام العینی میں لکھیں یہاں مقصود اسی قدر کہ مدعی آنکھ کھول کر دیکھے کہ کس بضاعت پر کمال علم واحاطہ نظر کا دعوی ہے۔کیا ان ائمہ سے غفلت ہوئی اور تم معصوم ہو___ کیا نہیں ممکن کہ حدیث انھیں کتابوں میں ہواورتمھاری نظر سے غائب رہے__ مانا کہ ان کتابوں میں نہیں کیا سب کتابیں تمھارے پاس ہیں___ ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جو اور بندگان خدا کے پاس دیگر بلاد میں موجود ہیں ___ مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا اسی قدر کتابیں تصنیف ہوئی تھیں ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جومعدوم ہوگئیں مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا تمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں___ ممکن کہ ان احادیث میں ہو جو علماء اپنے سینوں میں لے گئے ___ پھر"ہلدی کی گرہ پر پنساری بننا کس نے مانا"اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھنا اور عدم علم کو علم بالعدم ٹھہرا لینا کیسی سخت سفاہت ہے۔خاص نظیر اس کی یہ ہے کہ کوئی شخص ایك چیز اپنی کوٹھری کی چار دیواری میں ڈھونڈھ کر بیٹھ رہے اور کہدے ہم تلاش کرچکے تمام جہاں میں کہیں نشان نہیں کیا اس بات پرعقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے!___ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
درجہ پنجم:الطف واہمان سب سے گزر ئیے بفرض ہزار در ہزار باطل تمام جہاں کی اگلی پچھلی سب کتب حدیث آپ کی الماری میں بھری ہیں اور ان سب کے آپ پورے حافظ ہیں آنکھیں بند کرکے ہر حدیث کا پتا دے سکتے ہیں پھرحافظ جی صاحب یہ تو طوطے کی طرح حق اﷲ تعالی پاك ذات اﷲ کی یاد ہوئی۔فہم حدیث کا منصب ارفع واعظم کدھر گیا۔لاکھ بار ہوگا کہ ایك مطلب کی حدیث انھیں
میں یہاں اگر اس کی نظیر یں جمع کرنے پر آؤں کہ خبر وحدیث میں مشہور ومتداول کتابوں یہاں تك خود صحاح ستہ سے اکابرمحدثین کو کیسے کیسے ذہول واقع ہوئےہیں تو کلام طویل ہوجائےبعض مثالیں اس کی فقیر نے اپنے رسالہ نور عینی فی الانتصار للامام العینی میں لکھیں یہاں مقصود اسی قدر کہ مدعی آنکھ کھول کر دیکھے کہ کس بضاعت پر کمال علم واحاطہ نظر کا دعوی ہے۔کیا ان ائمہ سے غفلت ہوئی اور تم معصوم ہو___ کیا نہیں ممکن کہ حدیث انھیں کتابوں میں ہواورتمھاری نظر سے غائب رہے__ مانا کہ ان کتابوں میں نہیں کیا سب کتابیں تمھارے پاس ہیں___ ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جو اور بندگان خدا کے پاس دیگر بلاد میں موجود ہیں ___ مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا اسی قدر کتابیں تصنیف ہوئی تھیں ممکن کہ ان کتابوں میں ہو جومعدوم ہوگئیں مانا کہ ان میں بھی نہیں پھر کیا تمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں___ ممکن کہ ان احادیث میں ہو جو علماء اپنے سینوں میں لے گئے ___ پھر"ہلدی کی گرہ پر پنساری بننا کس نے مانا"اپنے نہ پانے کو نہ ہونے کی دلیل سمجھنا اور عدم علم کو علم بالعدم ٹھہرا لینا کیسی سخت سفاہت ہے۔خاص نظیر اس کی یہ ہے کہ کوئی شخص ایك چیز اپنی کوٹھری کی چار دیواری میں ڈھونڈھ کر بیٹھ رہے اور کہدے ہم تلاش کرچکے تمام جہاں میں کہیں نشان نہیں کیا اس بات پرعقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے!___ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
درجہ پنجم:الطف واہمان سب سے گزر ئیے بفرض ہزار در ہزار باطل تمام جہاں کی اگلی پچھلی سب کتب حدیث آپ کی الماری میں بھری ہیں اور ان سب کے آپ پورے حافظ ہیں آنکھیں بند کرکے ہر حدیث کا پتا دے سکتے ہیں پھرحافظ جی صاحب یہ تو طوطے کی طرح حق اﷲ تعالی پاك ذات اﷲ کی یاد ہوئی۔فہم حدیث کا منصب ارفع واعظم کدھر گیا۔لاکھ بار ہوگا کہ ایك مطلب کی حدیث انھیں
حوالہ / References
فتح القدیر باب الصلوٰۃ باب الامامۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۹€
احادیث میں ہوں گی جو آپ کو برزبان یاد ہیں اور آپ کی خواب میں بھی خطرہ نہ گزرے گا کہ ا س سے وہ مطلب نکلتا ہے۔ اپ کیا اور آپ کے علم وفہم کی حقیقت کتنی۔اکابر اجلہ محدثین یہاں آکر زانوٹیك دیتے ہیں اور فقہائے کرام کا دامن پکڑتے ہیں۔حفظ حدیث فہم حدیث کو مستلزم ہوتا تو حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے کیا معنی تھے:
رب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ ورب حامل فقہ لیس بفقیہ رواہ الائمۃ الشافعی والاحمد والدارمی و ابوداؤد والترمذی وصححہ والضیاء فی المختارۃ والبیہقی فی المدخل عن زید بن ثابت والدارمی عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہما ونحوہ لاحمد و الترمذی وابن حبان عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بسند صحیح وللدارمی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ بہتیرے حاملان فقہ ان کے پاس فقہ لے جاتے ہیں جو ان سے زیادہ اس کی سمجھ رکھتے ہیں اور بہتیرے وہ کہ فقہ کے حامل و حافظ وراوی ہیں مگر خود اس کی سمجھ نہیں رکھتے۔اس کی روایت ائمہ شافعیاحمددارمیابوداؤد اور ترمذی نے کی اور اسے صحیح قراردیا۔اور ضیاء نے مختارہ میں اور بیہقی نے مدخل میں حضرت زید ابن ثابت سے اور دارمی نے حضرت جبیر ابن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی۔اور اسی طرح احمد و ترمذی اور ابن حبان نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند صحیح رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیاورحضرت دارمی کی روایت جو مروی ہے حضرت ابودرداء سے انھوں نے رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔(ت)
ذرا خدا کے لئے آئینہ لے کر اپنا منہ دیکھئے اور امام اجل سلیمن اعمش کا علم عزیز وفضل کبیر خیال کیجئے جو خود حضرت سیدنا انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے شاگردجلیل الشان اور اجلہ ائمہ تابعین اور تمام
رب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ ورب حامل فقہ لیس بفقیہ رواہ الائمۃ الشافعی والاحمد والدارمی و ابوداؤد والترمذی وصححہ والضیاء فی المختارۃ والبیہقی فی المدخل عن زید بن ثابت والدارمی عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہما ونحوہ لاحمد و الترمذی وابن حبان عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بسند صحیح وللدارمی عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ بہتیرے حاملان فقہ ان کے پاس فقہ لے جاتے ہیں جو ان سے زیادہ اس کی سمجھ رکھتے ہیں اور بہتیرے وہ کہ فقہ کے حامل و حافظ وراوی ہیں مگر خود اس کی سمجھ نہیں رکھتے۔اس کی روایت ائمہ شافعیاحمددارمیابوداؤد اور ترمذی نے کی اور اسے صحیح قراردیا۔اور ضیاء نے مختارہ میں اور بیہقی نے مدخل میں حضرت زید ابن ثابت سے اور دارمی نے حضرت جبیر ابن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی۔اور اسی طرح احمد و ترمذی اور ابن حبان نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند صحیح رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیاورحضرت دارمی کی روایت جو مروی ہے حضرت ابودرداء سے انھوں نے رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔(ت)
ذرا خدا کے لئے آئینہ لے کر اپنا منہ دیکھئے اور امام اجل سلیمن اعمش کا علم عزیز وفضل کبیر خیال کیجئے جو خود حضرت سیدنا انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے شاگردجلیل الشان اور اجلہ ائمہ تابعین اور تمام
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی البحث علی تبلیغ السماع ∞امین کمپنی کراچی ۲/ ۹۰،€سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فضل نشر العلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۹،مسند احمد بن حنبل ۲/ ۲۲۵ و ۳/ ۸۰ و ۸۲€ المکتب الاسلامی بیروت ،سنن الدارمی باب الاقتداء بالعلماء ∞حدیث ۲۳۴€ دارالمحاسن القاھرۃ ∞۱/ ۶۵€
ائمہ حدیث کے اساتذہ الاساتذہ سے ہیں۔امام ابن حجر مکی شافعی کتاب خیرات الحسان میں فرماتے ہیں کسی نے ان امام اعمش سے کچھ مسائل پوچھے ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالك الازمہ سراج الامہ سیدنا ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ(کہ اس زمانے میں انھیں اما م اعمش سے حدیث پڑھتے تھے)حاضر مجلس تھےامام اعمش نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم سے پوچھے امام نے فورا جواب دئے۔امام اعمش نے کہا یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کئےفرمایا:ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں۔اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرمائیں۔امام اعمش نے کہا:
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انك تعمل بہذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیاد لہ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین ۔ بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کوسنائیں آپ ایك گھڑی میں مجھے سنائے دیتے ہیں مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں۔اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ عطارہیں اور اے ابوحنیفہ! تم نے فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے۔والحمدللہ۔
یہ تو یہ خود ان سے بھی بدرجہا اجل واعظم ان کے استاد ا کرم واقدم امام عامر شعبی جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو پایاحضرت امیر المومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زید وابوھریرہ وانس بن مالك وعبداﷲ بن عمر وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن زبیر وعمران بن حصین وجریر بن عبداﷲ ومغیرہ بن شعبہ وعدی بن حاتم وامام حسن وامام حسین وغیرہم بکثرت اصحاب کرام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے استادہیں جن کا پایہ رفیع حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں بیس سال گزرے ہیں کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تك ایسی نہیں پہنچی جس کا علم مجھے اس سے زائد نہ ہوایسے امام والامقام با آں جلالت شان فرماتے:
انا لسنا بالفقہاء ولکنا سمعنا الحدیث فرویناہ الفقہاء من اذا علم عمل۔نقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ ۔ ہم لوگ فقیہ ومجتہد نہیں ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ہم نے تو حدیثیں سن کر فقہیوں کے آگےروایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہو کر کارروائی
حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انك تعمل بہذہ الاحادیث یا معشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیاد لہ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین ۔ بس کیجئے جو حدیثیں میں نے سو دن میں آپ کوسنائیں آپ ایك گھڑی میں مجھے سنائے دیتے ہیں مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں۔اے فقہ والو! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ عطارہیں اور اے ابوحنیفہ! تم نے فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے۔والحمدللہ۔
یہ تو یہ خود ان سے بھی بدرجہا اجل واعظم ان کے استاد ا کرم واقدم امام عامر شعبی جنھوں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو پایاحضرت امیر المومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زید وابوھریرہ وانس بن مالك وعبداﷲ بن عمر وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن زبیر وعمران بن حصین وجریر بن عبداﷲ ومغیرہ بن شعبہ وعدی بن حاتم وامام حسن وامام حسین وغیرہم بکثرت اصحاب کرام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے استادہیں جن کا پایہ رفیع حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں بیس سال گزرے ہیں کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تك ایسی نہیں پہنچی جس کا علم مجھے اس سے زائد نہ ہوایسے امام والامقام با آں جلالت شان فرماتے:
انا لسنا بالفقہاء ولکنا سمعنا الحدیث فرویناہ الفقہاء من اذا علم عمل۔نقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ ۔ ہم لوگ فقیہ ومجتہد نہیں ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ہم نے تو حدیثیں سن کر فقہیوں کے آگےروایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہو کر کارروائی
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل الثلاثون فی سندہ فی الحدیث ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴€۴
تذکرۃ الحفاظ ∞ترجمہ ۷۷ عامر بن شرحبیل€ الشعبی دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۱/ ۷۹€
تذکرۃ الحفاظ ∞ترجمہ ۷۷ عامر بن شرحبیل€ الشعبی دائرۃ المعارف النظامیہ ∞حیدرآباد دکن ۱/ ۷۹€
کریں گے(اسے ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں نقل کیاہے۔ت)
مگر آج کل کے نامشخص حضرات کو اپنی یاد وفہم اور اپنے دو حرفی نام علم پروہ اعتماد ہے جو ابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پر تھا کہ دو حرف رٹ کر ہر امام امت کے مقابل انا خیر منہ(میں اس سے بہترہوں۔ت)کی بینٹی گھمانے کے سوا کچھ نہیں جانتے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
خامسا: بالفرض مان ہی لیجئے کہ حدیث واقع میں مروی نہ ہوئی پھر کہاں عدم نقل اور کہاں نقل عدمیعنی اگر کسی فعل کا کرنا حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منقول نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور نے کیا ہی نہ ہواس کا حاصل اتناہوگا کہ حدیث میں اس فعل کا نہ ہونا آیا ان دونوں عبارتوں میں جو فرق ہے ذی عقل پر پوشیدہ نہیں۔امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
عدم النقل لاینفی الوجود ۔ کسی مسئلہ کا منقول نہ ہونا وجود کی نفی نہیں کرتا(ت)
شاہ ولی اﷲ دہلوی حجۃ اﷲ البالغہ میں اسی عدم نقل ونقل عدم میں تمیز نہ کرنے کو جہل وتعصب کے مفاسد سے کہتے ہیں:
حیث قال وجدت بعضہم لایمیز بین قولنا لیست الاشارۃ فی ظاھر المذھب وقولنا ظاھرا لمذہب انھا لیست و مفاسد الجھل والتعصب اکثر من ان تحصی ۔ میں نے بعض حضرات کو یہاں تك دیکھا کہ وہ ہمارے قول لیست الاشارۃ فی ظاھر المذھب(ظاہر مذہب میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں)اور ہمارے قول ظاھر المذھب انھا لیست(ظاہر مذہب اس کے برخلاف ہے)والے اصولی قول میں امتیاز ہی نہیں کرتے جہالت وتعصب کے مفاسد تو بیشمار ہیں۔(ت)
سادسا: یہ بھی سہی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور منع فرمانا اور باتممنوع وہ چیز ہے جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع کینہ کہ وہ چیز جو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیقرآن عظیم نے یوں فرمایا:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " رسول جوتمھیں دے لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
مگر آج کل کے نامشخص حضرات کو اپنی یاد وفہم اور اپنے دو حرفی نام علم پروہ اعتماد ہے جو ابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پر تھا کہ دو حرف رٹ کر ہر امام امت کے مقابل انا خیر منہ(میں اس سے بہترہوں۔ت)کی بینٹی گھمانے کے سوا کچھ نہیں جانتے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
خامسا: بالفرض مان ہی لیجئے کہ حدیث واقع میں مروی نہ ہوئی پھر کہاں عدم نقل اور کہاں نقل عدمیعنی اگر کسی فعل کا کرنا حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منقول نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور نے کیا ہی نہ ہواس کا حاصل اتناہوگا کہ حدیث میں اس فعل کا نہ ہونا آیا ان دونوں عبارتوں میں جو فرق ہے ذی عقل پر پوشیدہ نہیں۔امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
عدم النقل لاینفی الوجود ۔ کسی مسئلہ کا منقول نہ ہونا وجود کی نفی نہیں کرتا(ت)
شاہ ولی اﷲ دہلوی حجۃ اﷲ البالغہ میں اسی عدم نقل ونقل عدم میں تمیز نہ کرنے کو جہل وتعصب کے مفاسد سے کہتے ہیں:
حیث قال وجدت بعضہم لایمیز بین قولنا لیست الاشارۃ فی ظاھر المذھب وقولنا ظاھرا لمذہب انھا لیست و مفاسد الجھل والتعصب اکثر من ان تحصی ۔ میں نے بعض حضرات کو یہاں تك دیکھا کہ وہ ہمارے قول لیست الاشارۃ فی ظاھر المذھب(ظاہر مذہب میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں)اور ہمارے قول ظاھر المذھب انھا لیست(ظاہر مذہب اس کے برخلاف ہے)والے اصولی قول میں امتیاز ہی نہیں کرتے جہالت وتعصب کے مفاسد تو بیشمار ہیں۔(ت)
سادسا: یہ بھی سہی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس فعل کا نہ کرنا اور بات ہے اور منع فرمانا اور باتممنوع وہ چیز ہے جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع کینہ کہ وہ چیز جو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ کیقرآن عظیم نے یوں فرمایا:
" وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " رسول جوتمھیں دے لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الطہارۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۰€
حجۃاﷲ البالغہ الامور التی لابدمنہا فی الصلوٰۃ المکتبہ السلفیہ ∞لاہور ۲/ ۱۲€
القرآن الکریم ∞۵۹/ ۷€
حجۃاﷲ البالغہ الامور التی لابدمنہا فی الصلوٰۃ المکتبہ السلفیہ ∞لاہور ۲/ ۱۲€
القرآن الکریم ∞۵۹/ ۷€
یوں نہیں فرمایا ہے کہ: مافعل الرسول فخذوہ وما لم یفعل فانتھوا جو رسول نے کیا کرواور جونہ کیا اس سے باز رہو۔
امام محق علی الاطلاق فتح القدیر میں نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نفل کی نسبت یہ تحقیق فرما کر کہ نہ ان کا فعل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت نہ کسی صحابی سے ثابتارشاد فرماتے ہیں:
الثابت بعد ھذا ھو نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الا ان یدل دلیل اخر ۔ ان سب سے یہ ثابت ہوا کہ مستحب نہیں رہی کراہت وہ ثابت نہ ہوئیاس کے لئے دوسری دلیل چاہئے۔
اما م احمد محمد خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع ۔ فعل تو جواز کے لئے دلیل ہوتا ہے اور نہ کرنے سے منع کرنا نہیں سمجھا جاتا۔
شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں:
نہ کردن چیزے دیگر است ومنع فرمودن چیزے دیگر ۔ نہ کرنا اور چیز ہے اور منع کرنا اور چیز۔
پھر کیسی جہالت ہے کہ نہ کرنے کو منع کرنا ٹھہرا رکھاہے۔
سابعا:مصافحہ امو رمعامشرت سے ایك امر ہے جس سے مقصود شرع باہم مسلمانوں میں ازدیاد الفت اور ملتے وقت اظہار انس و محبت ہے حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تصافحوا یذھب الغل عن قلوبکم ۔اخرجہ ابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ اپس میں مصافحہ کرو تمھارے سینوں سے کینے نکل جائیں گے۔(ابن عدی نے حضرت عبداﷲ
امام محق علی الاطلاق فتح القدیر میں نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نفل کی نسبت یہ تحقیق فرما کر کہ نہ ان کا فعل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت نہ کسی صحابی سے ثابتارشاد فرماتے ہیں:
الثابت بعد ھذا ھو نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الا ان یدل دلیل اخر ۔ ان سب سے یہ ثابت ہوا کہ مستحب نہیں رہی کراہت وہ ثابت نہ ہوئیاس کے لئے دوسری دلیل چاہئے۔
اما م احمد محمد خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع ۔ فعل تو جواز کے لئے دلیل ہوتا ہے اور نہ کرنے سے منع کرنا نہیں سمجھا جاتا۔
شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے ہیں:
نہ کردن چیزے دیگر است ومنع فرمودن چیزے دیگر ۔ نہ کرنا اور چیز ہے اور منع کرنا اور چیز۔
پھر کیسی جہالت ہے کہ نہ کرنے کو منع کرنا ٹھہرا رکھاہے۔
سابعا:مصافحہ امو رمعامشرت سے ایك امر ہے جس سے مقصود شرع باہم مسلمانوں میں ازدیاد الفت اور ملتے وقت اظہار انس و محبت ہے حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تصافحوا یذھب الغل عن قلوبکم ۔اخرجہ ابن عدی عن ابن عمر رضی اﷲ اپس میں مصافحہ کرو تمھارے سینوں سے کینے نکل جائیں گے۔(ابن عدی نے حضرت عبداﷲ
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ باب النوافل ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸۹€
المواھب اللدنیہ
∞ تحفہ اثنا عشریہ باب دہم درمطا عن خلفائے ثلثہ الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۶€۹
الکامل لابن عدی ترجمہ محمد بن ابی زعیزعۃ الخ دارالفکر بیروت ∞۶/ ۲۲۱۱،€کنز العمال بحوالہ عد عن ابن عمر ∞حدیث ۲۵۳۴۴€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹/ ۱۳۰€، الترغیب والترھیب بحوالہ مالك عن عطاء الخراسانی الترغیب فی المصافحۃ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۴۳۴€
المواھب اللدنیہ
∞ تحفہ اثنا عشریہ باب دہم درمطا عن خلفائے ثلثہ الخ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۶€۹
الکامل لابن عدی ترجمہ محمد بن ابی زعیزعۃ الخ دارالفکر بیروت ∞۶/ ۲۲۱۱،€کنز العمال بحوالہ عد عن ابن عمر ∞حدیث ۲۵۳۴۴€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹/ ۱۳۰€، الترغیب والترھیب بحوالہ مالك عن عطاء الخراسانی الترغیب فی المصافحۃ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۴۳۴€
تعالی عنہما ونحوہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ اولہ تھادوا وتحابوا ونحوھذا اخرجہ مالك فی المؤطا بسند جید عن عطاء الخراسانی مرسلا۔ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تخریج کی ہے اور اس کی مثل ابن عساکر نے ابوہریرہ سے روایت کیا جس کی ا بتداء ان الفاظ سے ہے ہدیہ لینا دینا چاہئے تم آپس میں محبت کروگے اورا س کی مثل امام مالك نے مؤطا میں جید سند کے ساتھ مراسل طریقہ پر عطاء خراسانی سے روایت کی ہے۔(ت)
شاہ ولی اﷲ حجۃ اﷲ البالغہ میں لکھتے ہیں:
السرفی المصافحۃ وقولہ مرحبا بفلان ومعانقۃ القادم ونحوھا انھا زیادۃ المؤدۃ والتبشیش ورفع للوحشۃ والتدابر ۔ مصافحہ اور مرحبا فلان کواور آنے والے سے معانقہ جیسے امور میں محبت اور خوشی زیادہ ہوتی ہے اور ان سے وحشت اور اجنبیت ختم ہوتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
التحابب فی الناس خصلۃ یرضاھا اﷲ تعالی وافشاء السلام الۃ صالحۃ لانشاء المحبۃ وکذالك المصافحۃ و تقبیل الید ونحوذلك ۔ لوگوں میں محبت وہ خصلت ہے جو اﷲ تعالی کی رضا کا باعث ہے اور سلام کی عادت محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور یوں ہی مصافحہ اور دست بوسی وغیرہ بھی(ت)
اور بیشك یہ امور عرف وعادت قوم پر مبنی ہوتے ہیں جو امر جس طرح جس قوم میں رائج اور ان کے نزدیك الفت وموانست اور ا س کی زیادت پر دلیل ہو وہ عین مقصود شرع ہوگا جب تك بالخصوص اس میں کوئی نہی وارد نہ ہو وجہ یہ کہ اس کی کسی خصوصیت سے شرع مطہر کی کوئی خاص غرض متعلق نہیں۔اصل مقصود سے کام ہے جس ہیئت سے حاصل ہو۔آخر نہ دیکھا کہ انھیں امور میں جو وقت ملاقات بغرض مذکور مشروع ہوئے ایك مرحبا کہنا تھا کہ اس سے بھی خوشدلی اور اس شخص کے آنے پر فرحت ظاہر ہوتی ہے۔حدیث براء ابن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ سے گزرا کہ حضور صلی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
شاہ ولی اﷲ حجۃ اﷲ البالغہ میں لکھتے ہیں:
السرفی المصافحۃ وقولہ مرحبا بفلان ومعانقۃ القادم ونحوھا انھا زیادۃ المؤدۃ والتبشیش ورفع للوحشۃ والتدابر ۔ مصافحہ اور مرحبا فلان کواور آنے والے سے معانقہ جیسے امور میں محبت اور خوشی زیادہ ہوتی ہے اور ان سے وحشت اور اجنبیت ختم ہوتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
التحابب فی الناس خصلۃ یرضاھا اﷲ تعالی وافشاء السلام الۃ صالحۃ لانشاء المحبۃ وکذالك المصافحۃ و تقبیل الید ونحوذلك ۔ لوگوں میں محبت وہ خصلت ہے جو اﷲ تعالی کی رضا کا باعث ہے اور سلام کی عادت محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور یوں ہی مصافحہ اور دست بوسی وغیرہ بھی(ت)
اور بیشك یہ امور عرف وعادت قوم پر مبنی ہوتے ہیں جو امر جس طرح جس قوم میں رائج اور ان کے نزدیك الفت وموانست اور ا س کی زیادت پر دلیل ہو وہ عین مقصود شرع ہوگا جب تك بالخصوص اس میں کوئی نہی وارد نہ ہو وجہ یہ کہ اس کی کسی خصوصیت سے شرع مطہر کی کوئی خاص غرض متعلق نہیں۔اصل مقصود سے کام ہے جس ہیئت سے حاصل ہو۔آخر نہ دیکھا کہ انھیں امور میں جو وقت ملاقات بغرض مذکور مشروع ہوئے ایك مرحبا کہنا تھا کہ اس سے بھی خوشدلی اور اس شخص کے آنے پر فرحت ظاہر ہوتی ہے۔حدیث براء ابن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ سے گزرا کہ حضور صلی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حوالہ / References
مؤطا امام مالك باب ماجاء فی المہاجرۃ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ص۷۰۷،€کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ہریرۃ ∞حدیث ۱۵۰۵۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت∞ ۶/۱۱۰€
حجۃ اﷲ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ ∞لاہور ۲ /۱۹۸€
حجۃ اﷲ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ ∞لاہور ۲ /۱۹۷€
حجۃ اﷲ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ ∞لاہور ۲ /۱۹۸€
حجۃ اﷲ البالغۃ آداب الصحبۃ السرفی افشاء السلام الخ المکتبۃ السلفیہ ∞لاہور ۲ /۱۹۷€
لایلقی مسلم مسلما فیر حب بہ ویأخذ بیدہ الا تناثرت الذنوب بینھما ۔الحدیث۔ جو مسلمان مسلمان سے مل کر مرحبا کہے اور ہاتھ ملائے ان کے گناہ جھڑ جائیں۔
پھر بلاد عجمیہ میں اس کا رواج نہیںفارس میں اس کی جگہ خوش آمدی کہتے ہیں۔اور ہندوستان میں آئیے آئیے تشریف لائیےاورا س کی مثل کلمات ____ اب کوئی عاقل اسے مخالفت حدیث ومزاحمت سنت نہ جانے گارات دن دیکھا جاتا ہے کہ خود حضرات منکرین میں دوستوں کے ملتے وقت اسی قسم کے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔یہ کیوں نہیں بدعت وممنوع وخلاف سنت قرار پاتے۔تو وجہ کیا کہ اصل مقصود شرع وہی اظہار خوشدلی بغرض ازدیاد محبت ہے۔یہ مطلب عر ب میں لفظ مرحبا سے مفھوم ہوتا تھا۔یہاں ان لفظوں سے ادا کیا جاتاہے۔تو غرض شریعت کی ہر طرح حاصل ہے۔خود مصافحہ بھی شرع مطہر کا اپنا وضع فرمایا ہوا نہیں بلکہ اہل یمن آئے انھوں نے اپنے رسم ورواج کے مطابق مصافحہ کیاشرع نے اس رسم کو اپنے مقصود یعنی ایتلاف مسلمین کے موافق پاکر مقرر رکھا۔اگر رسم کسی اور طریقے سے ہوتی اور اسکی خصوصیت میں کوئی محذور شرعی نہ ہوتا تو شرع اسے مقرر رکھتی اور ایسے ہی وعدہائے ثواب اس پر فرماتی۔ہاں! وہ بات جس میں کسی طرح مقاصد شرع سے مخالفت ہوبے شك ناپسند ہوگی اگر چہ کسی قوم میں اس کی رسم پڑی ہو۔جیسے سلام کے عوض بلا ضرورت شرعیہ انگلی یا ہتھیلی کا اشارہ کہ بوجہ مشابہت یہود ونصارے اس سے ممانعت آئیحدیث ضعیف میں ہے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منامن تشبہ بغیرنالاتشبہوا بالیہود ولا بالنصاری فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وان تسلیم النصاری بالاکف رواہ الترمذی والطبرانی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال الترمذی ھذا حدیث اسنادہ ضعیف۔ ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے مشابہت پیدا کرے۔ یہودونصاری سے تشبہ نہ کرو کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلیوں سے ہے(اس کو ترمذی اور طبرانی نے عمرو بن شعیب سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے اپنے دادا سے روایت کیا۔ترمذی نے کہا اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر بلاد عجمیہ میں اس کا رواج نہیںفارس میں اس کی جگہ خوش آمدی کہتے ہیں۔اور ہندوستان میں آئیے آئیے تشریف لائیےاورا س کی مثل کلمات ____ اب کوئی عاقل اسے مخالفت حدیث ومزاحمت سنت نہ جانے گارات دن دیکھا جاتا ہے کہ خود حضرات منکرین میں دوستوں کے ملتے وقت اسی قسم کے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔یہ کیوں نہیں بدعت وممنوع وخلاف سنت قرار پاتے۔تو وجہ کیا کہ اصل مقصود شرع وہی اظہار خوشدلی بغرض ازدیاد محبت ہے۔یہ مطلب عر ب میں لفظ مرحبا سے مفھوم ہوتا تھا۔یہاں ان لفظوں سے ادا کیا جاتاہے۔تو غرض شریعت کی ہر طرح حاصل ہے۔خود مصافحہ بھی شرع مطہر کا اپنا وضع فرمایا ہوا نہیں بلکہ اہل یمن آئے انھوں نے اپنے رسم ورواج کے مطابق مصافحہ کیاشرع نے اس رسم کو اپنے مقصود یعنی ایتلاف مسلمین کے موافق پاکر مقرر رکھا۔اگر رسم کسی اور طریقے سے ہوتی اور اسکی خصوصیت میں کوئی محذور شرعی نہ ہوتا تو شرع اسے مقرر رکھتی اور ایسے ہی وعدہائے ثواب اس پر فرماتی۔ہاں! وہ بات جس میں کسی طرح مقاصد شرع سے مخالفت ہوبے شك ناپسند ہوگی اگر چہ کسی قوم میں اس کی رسم پڑی ہو۔جیسے سلام کے عوض بلا ضرورت شرعیہ انگلی یا ہتھیلی کا اشارہ کہ بوجہ مشابہت یہود ونصارے اس سے ممانعت آئیحدیث ضعیف میں ہے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منامن تشبہ بغیرنالاتشبہوا بالیہود ولا بالنصاری فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وان تسلیم النصاری بالاکف رواہ الترمذی والطبرانی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال الترمذی ھذا حدیث اسنادہ ضعیف۔ ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے مشابہت پیدا کرے۔ یہودونصاری سے تشبہ نہ کرو کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلیوں سے ہے(اس کو ترمذی اور طبرانی نے عمرو بن شعیب سے انھوں نے اپنے باپ سے انھوں نے اپنے دادا سے روایت کیا۔ترمذی نے کہا اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے۔
حوالہ / References
نصب الرایۃ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء ∞نوریہ رضویہ لاہور ۴ /۵۶۶،€شعب الایمان ∞حدیث ۸۹۵۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۶ /۴۷۵€
جامع الترمذی کتاب الاستیذان باب ماجاء فی فضل الذی بیدأ بالسلام ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴€
جامع الترمذی کتاب الاستیذان باب ماجاء فی فضل الذی بیدأ بالسلام ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴€
ثامنا: جو امر نوپیدا کہ کسی سنت ثابتہ کی ضد واقع اور اس کا فعل فعل سنت کا مزیل ورافع ہو وہ بیشك ممنوع ومذموم ہے جیسے السلام علیکم کی جگہ آج کل عوام ہند میں آداب مجرا کو رنشبندگی کا رواج ہے ____اگر غریب بندے بعض معززوں سے بطریق سنت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم السلام علیکم کہیں اپنے حق میں گویا گالی سمجھیںاس احداث نے ان سے سنت سلام اٹھادی۔یہ بیشك ذم وانکار کے لائق ہے بخلاف دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے کہ بالفرض اگر سنت میں ایك ہی ہاتھ کا رواج تھا تو دو ہاتھ سے مصافحہ سے وہ بھی ادا ہوئی اور اس کے ساتھ ایك اور امر زائد ہوا جو کسی طرح اس کے منافی نہ تھااس میں سنت ثابتہ کا اصلا رد ورفع نہیں پھر ممنوع ومذموم ٹھہرا نا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
انما البدع المذمومۃ ماتصادم السنن الثابتۃ ۔ بدعت مذمومہ وہی ہے جو سنن ثابتہ کا ردکرے۔
یہاں مصافحے کی نظیر تلبیہ حج ہے کہ صحاح ستہ میں بروایت حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسی قدر منقول:
لبیك اللھم لبیكلبیك لا شریك لك لبیكان الحمد والنعمۃ لك والملكلا شریك لك۔
پھر خود حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما با آں شدت اتباع سنت اس میں یہ لفظ بڑھایا کرتے:
لبیك وسعدیك والخیر بید یك والرغباء الیك والعمل۔
اوریہ زیادت امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ بھی فرماتے کما اخرجہ مسلم ۔
اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے لبیك عددالتراب زیادہ کیا اخرجہ اسحق بن راھویۃ فی مسندہ ۔
اور سید نا امام حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے لبیك ذا النعماء والفضل الحسن بڑھایا اخرجہ ابن سعد فی الطبقات
انما البدع المذمومۃ ماتصادم السنن الثابتۃ ۔ بدعت مذمومہ وہی ہے جو سنن ثابتہ کا ردکرے۔
یہاں مصافحے کی نظیر تلبیہ حج ہے کہ صحاح ستہ میں بروایت حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسی قدر منقول:
لبیك اللھم لبیكلبیك لا شریك لك لبیكان الحمد والنعمۃ لك والملكلا شریك لك۔
پھر خود حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہما با آں شدت اتباع سنت اس میں یہ لفظ بڑھایا کرتے:
لبیك وسعدیك والخیر بید یك والرغباء الیك والعمل۔
اوریہ زیادت امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ بھی فرماتے کما اخرجہ مسلم ۔
اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے لبیك عددالتراب زیادہ کیا اخرجہ اسحق بن راھویۃ فی مسندہ ۔
اور سید نا امام حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے لبیك ذا النعماء والفضل الحسن بڑھایا اخرجہ ابن سعد فی الطبقات
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۲/ ۳۰۵€
صحیح مسلم کتاب الحج باب التلبیۃ وصفتہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵€
نصب الرایۃ بحوالہ اسحق بن راہویہ کتاب الحج باب الاحرام ∞نوریہ رضویہ لاہور ۳ /۲۹€
نصب الرایۃ بحوالہ ابن سعد فی الطبقات کتاب الحج باب الاحرام ∞نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۳۰€
صحیح مسلم کتاب الحج باب التلبیۃ وصفتہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵€
نصب الرایۃ بحوالہ اسحق بن راہویہ کتاب الحج باب الاحرام ∞نوریہ رضویہ لاہور ۳ /۲۹€
نصب الرایۃ بحوالہ ابن سعد فی الطبقات کتاب الحج باب الاحرام ∞نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۳۰€
ہمارے علماء اس کی وجہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
ان المقصود الثناء واظہار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ۔قالہ الامام برھان الدین علی ابو الحسن الفرغانی قدس اﷲ تعالی سرہ الصمدانی فی الہدایۃ ثم الامام فخر الدین الزیلعی فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق وغیرھمافی غیرھما۔ تلبیہ سے مقصود اﷲ تعالی کی تعریف اور بندگی کا اظہار ہے تو اس پر اور کلمات بڑھانا ممنوع نہیں(اسے برہان الدین علی ابو الحسن فرغانی قد س سرہ الصمدانی نے ہدایہ میں پھر امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتابوں میں فرمایا۔(ت)
یونہی جبکہ مصافحے سے اظہار محبت وازدیاد الفت مقصود تو دوسرے ہاتھ کی زیادت کہ ہر گز اس کے منافی نہیں بلکہ بحسب عرف بلد مؤیدومؤکد ہے۔زنہار ممنوع نہیں ہوسکتی۔
تاسعا: دونوں ہاتھ سے مصافحہ مسلمانوں میں صدہا سال سے متوارثائمہ دین کی عبارتیں اوپر گزریں اور اس کا زمانہ تبع تابعین میں ہونا بھی معلوم ہولیا۔خود ائمہ تبع تابعین نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔تمام بلاد اسلام مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ سے ہندو سندھ تك علماء وعوام اہل اسلام دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور جو بات مسلمانوں میں متوارث ہو بے اصل نہیں ہو سکتی۔امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
انہ المتوارث ومثلہ لایطلب فیہ سند بخصوصہ ۔ وہ متوارث ہے اور ایسی چیز کے لئے کوئی خاص سند درکار نہیں ہوتی۔
محقق علائی دمشقی شرح تنویر میں فرماتے ہیں:
ان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۔ بے شك یہ امرمسلمانوں میں متوارث ہے تو ان کااتباع ضرور ہوا۔
ان المقصود الثناء واظہار العبودیۃ فلایمنع من الزیادۃ علیہ۔قالہ الامام برھان الدین علی ابو الحسن الفرغانی قدس اﷲ تعالی سرہ الصمدانی فی الہدایۃ ثم الامام فخر الدین الزیلعی فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق وغیرھمافی غیرھما۔ تلبیہ سے مقصود اﷲ تعالی کی تعریف اور بندگی کا اظہار ہے تو اس پر اور کلمات بڑھانا ممنوع نہیں(اسے برہان الدین علی ابو الحسن فرغانی قد س سرہ الصمدانی نے ہدایہ میں پھر امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں اور دیگر حضرات نے اپنی کتابوں میں فرمایا۔(ت)
یونہی جبکہ مصافحے سے اظہار محبت وازدیاد الفت مقصود تو دوسرے ہاتھ کی زیادت کہ ہر گز اس کے منافی نہیں بلکہ بحسب عرف بلد مؤیدومؤکد ہے۔زنہار ممنوع نہیں ہوسکتی۔
تاسعا: دونوں ہاتھ سے مصافحہ مسلمانوں میں صدہا سال سے متوارثائمہ دین کی عبارتیں اوپر گزریں اور اس کا زمانہ تبع تابعین میں ہونا بھی معلوم ہولیا۔خود ائمہ تبع تابعین نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔تمام بلاد اسلام مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ سے ہندو سندھ تك علماء وعوام اہل اسلام دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں اور جو بات مسلمانوں میں متوارث ہو بے اصل نہیں ہو سکتی۔امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں:
انہ المتوارث ومثلہ لایطلب فیہ سند بخصوصہ ۔ وہ متوارث ہے اور ایسی چیز کے لئے کوئی خاص سند درکار نہیں ہوتی۔
محقق علائی دمشقی شرح تنویر میں فرماتے ہیں:
ان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۔ بے شك یہ امرمسلمانوں میں متوارث ہے تو ان کااتباع ضرور ہوا۔
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الحج باب الاحرام المکتبۃ العربیہ ∞کراچی ۱ /۲۱۷،€تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۲ /۱۱€
فتح القدیر کتاب السرقہ فصل فی کیفیۃ القطع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۱۵۳€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷€
الہدایۃ کتاب الحج باب الاحرام المکتبۃ العربیہ ∞کراچی ۱ /۲۱۷،€تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۲ /۱۱€
فتح القدیر کتاب السرقہ فصل فی کیفیۃ القطع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۱۵۳€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷€
فتح القدیر کتاب السرقہ فصل فی کیفیۃ القطع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۱۵۳€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷€
الہدایۃ کتاب الحج باب الاحرام المکتبۃ العربیہ ∞کراچی ۱ /۲۱۷،€تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۲ /۱۱€
فتح القدیر کتاب السرقہ فصل فی کیفیۃ القطع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۱۵۳€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷€
عاشرا حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالقواالناس باخلاقھم اخرجہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۔ لوگوں سے وہ برتاؤ کرو جس کے وہ عادی ہورہے ہیں(اس کو حاکم نے روایت کیا اور اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔ت)
یہ حدیث عسکری نے کتاب الامثال میں یوں روایت کی:خالطوا الناس باخلاقھم ۔لوگوں کے ساتھ ان کی عادتوں سے میل کرو۔
ولہذا ائمہ دین ارشاد فرماتے ہیں لوگوں میں جو امررائج ہو جب تك اس سے صریح نہی ثابت نہ ہو ہر گز اس میں اختلاف نہ کیا جائے بلکہ انھیں کی عادات واخلاق کے ساتھ ان سے برتاؤ چاہئے۔ شریعت مطہرہ سنی مسلمانوں میں میل پسند فرماتی ہے اور ان کو بھڑ کانا۔نفرت دلانا۔اپنا مخالف بناناناجائز رکھتی ہے۔بے ضرورت تامہ لوگوں کی راہ سے الگ چلنا سخت احمق جاہل کا کام ہے۔امام حجۃ الاسلام قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
الموافقۃ فی ہذہ الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ وکل قوم رسم ولا بد من مخالطۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقا فیھا حسن العشرۃ والمجاملۃ وتطیب القلب بالمساعدۃ ۔ ان امور میں لوگوں سے موافقت صحبت ومعاشرت کی خوبی سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہرقوم کی ایك رسم ہوتی ہے اور بالضرورۃ لوگوں کے ساتھ ان کی عادات کا برتاؤ کرنا چاہئےجیسا کہ حدیث میں وارد ہوا خصوصاوہ عادتیں جن میں اچھا برتاؤ اور نیك سلوك اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہے۔
یہاں تك کہ فرمایا:
کذالك سائر انواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب واصطلح علیھا ایسے ہی مساعدت کی ساری قسمیں جبکہ اس سے دل خوش کرنا منظور ہو اور کچھ لوگوں نے وہ ردش
عاشرا حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالقواالناس باخلاقھم اخرجہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۔ لوگوں سے وہ برتاؤ کرو جس کے وہ عادی ہورہے ہیں(اس کو حاکم نے روایت کیا اور اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔ت)
یہ حدیث عسکری نے کتاب الامثال میں یوں روایت کی:خالطوا الناس باخلاقھم ۔لوگوں کے ساتھ ان کی عادتوں سے میل کرو۔
ولہذا ائمہ دین ارشاد فرماتے ہیں لوگوں میں جو امررائج ہو جب تك اس سے صریح نہی ثابت نہ ہو ہر گز اس میں اختلاف نہ کیا جائے بلکہ انھیں کی عادات واخلاق کے ساتھ ان سے برتاؤ چاہئے۔ شریعت مطہرہ سنی مسلمانوں میں میل پسند فرماتی ہے اور ان کو بھڑ کانا۔نفرت دلانا۔اپنا مخالف بناناناجائز رکھتی ہے۔بے ضرورت تامہ لوگوں کی راہ سے الگ چلنا سخت احمق جاہل کا کام ہے۔امام حجۃ الاسلام قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
الموافقۃ فی ہذہ الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ وکل قوم رسم ولا بد من مخالطۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقا فیھا حسن العشرۃ والمجاملۃ وتطیب القلب بالمساعدۃ ۔ ان امور میں لوگوں سے موافقت صحبت ومعاشرت کی خوبی سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہرقوم کی ایك رسم ہوتی ہے اور بالضرورۃ لوگوں کے ساتھ ان کی عادات کا برتاؤ کرنا چاہئےجیسا کہ حدیث میں وارد ہوا خصوصاوہ عادتیں جن میں اچھا برتاؤ اور نیك سلوك اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہے۔
یہاں تك کہ فرمایا:
کذالك سائر انواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب واصطلح علیھا ایسے ہی مساعدت کی ساری قسمیں جبکہ اس سے دل خوش کرنا منظور ہو اور کچھ لوگوں نے وہ ردش
خالقواالناس باخلاقھم اخرجہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۔ لوگوں سے وہ برتاؤ کرو جس کے وہ عادی ہورہے ہیں(اس کو حاکم نے روایت کیا اور اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔ت)
یہ حدیث عسکری نے کتاب الامثال میں یوں روایت کی:خالطوا الناس باخلاقھم ۔لوگوں کے ساتھ ان کی عادتوں سے میل کرو۔
ولہذا ائمہ دین ارشاد فرماتے ہیں لوگوں میں جو امررائج ہو جب تك اس سے صریح نہی ثابت نہ ہو ہر گز اس میں اختلاف نہ کیا جائے بلکہ انھیں کی عادات واخلاق کے ساتھ ان سے برتاؤ چاہئے۔ شریعت مطہرہ سنی مسلمانوں میں میل پسند فرماتی ہے اور ان کو بھڑ کانا۔نفرت دلانا۔اپنا مخالف بناناناجائز رکھتی ہے۔بے ضرورت تامہ لوگوں کی راہ سے الگ چلنا سخت احمق جاہل کا کام ہے۔امام حجۃ الاسلام قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
الموافقۃ فی ہذہ الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ وکل قوم رسم ولا بد من مخالطۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقا فیھا حسن العشرۃ والمجاملۃ وتطیب القلب بالمساعدۃ ۔ ان امور میں لوگوں سے موافقت صحبت ومعاشرت کی خوبی سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہرقوم کی ایك رسم ہوتی ہے اور بالضرورۃ لوگوں کے ساتھ ان کی عادات کا برتاؤ کرنا چاہئےجیسا کہ حدیث میں وارد ہوا خصوصاوہ عادتیں جن میں اچھا برتاؤ اور نیك سلوك اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہے۔
یہاں تك کہ فرمایا:
کذالك سائر انواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب واصطلح علیھا ایسے ہی مساعدت کی ساری قسمیں جبکہ اس سے دل خوش کرنا منظور ہو اور کچھ لوگوں نے وہ ردش
عاشرا حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالقواالناس باخلاقھم اخرجہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ۔ لوگوں سے وہ برتاؤ کرو جس کے وہ عادی ہورہے ہیں(اس کو حاکم نے روایت کیا اور اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا۔ت)
یہ حدیث عسکری نے کتاب الامثال میں یوں روایت کی:خالطوا الناس باخلاقھم ۔لوگوں کے ساتھ ان کی عادتوں سے میل کرو۔
ولہذا ائمہ دین ارشاد فرماتے ہیں لوگوں میں جو امررائج ہو جب تك اس سے صریح نہی ثابت نہ ہو ہر گز اس میں اختلاف نہ کیا جائے بلکہ انھیں کی عادات واخلاق کے ساتھ ان سے برتاؤ چاہئے۔ شریعت مطہرہ سنی مسلمانوں میں میل پسند فرماتی ہے اور ان کو بھڑ کانا۔نفرت دلانا۔اپنا مخالف بناناناجائز رکھتی ہے۔بے ضرورت تامہ لوگوں کی راہ سے الگ چلنا سخت احمق جاہل کا کام ہے۔امام حجۃ الاسلام قدس سرہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
الموافقۃ فی ہذہ الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ وکل قوم رسم ولا بد من مخالطۃ الناس باخلاقھم کما ورد فی الخبر لاسیما اذا کانت اخلاقا فیھا حسن العشرۃ والمجاملۃ وتطیب القلب بالمساعدۃ ۔ ان امور میں لوگوں سے موافقت صحبت ومعاشرت کی خوبی سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہرقوم کی ایك رسم ہوتی ہے اور بالضرورۃ لوگوں کے ساتھ ان کی عادات کا برتاؤ کرنا چاہئےجیسا کہ حدیث میں وارد ہوا خصوصاوہ عادتیں جن میں اچھا برتاؤ اور نیك سلوك اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہے۔
یہاں تك کہ فرمایا:
کذالك سائر انواع المساعدات اذا قصد بھا تطییب القلب واصطلح علیھا ایسے ہی مساعدت کی ساری قسمیں جبکہ اس سے دل خوش کرنا منظور ہو اور کچھ لوگوں نے وہ ردش
حوالہ / References
المغنی عن حمل الاسفار مع احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد مطبعہ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۲ /۳۰۵€
کنز العمال بحوالہ العسکری فی الامثال ∞حدیث ۵۲۳۰€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۳ /۱۹€
احیاء العلوم کتاب آداب السماع الوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۲ /۳۰۵€
کنز العمال بحوالہ العسکری فی الامثال ∞حدیث ۵۲۳۰€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۳ /۱۹€
احیاء العلوم کتاب آداب السماع الوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۲ /۳۰۵€
جماعۃ فلا باس بمساعدتھم علیھا بل الاحسن المساعدۃ الافیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل ۔ قرار دے لی ہو تو ان کے موافق ہو کر اس پر عمل کرنا کچھ مضائقہ نہیں رکھتا۔بلکہ موافقت کرنا ہی بہترہے۔مگر جس امر میں شرع سے ایسی نہی آگئی ہو جو قابل تاویل نہیں۔
عین العلم میں ہے:
الاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ عنہ و صارمعتادا بعد عصرھم حسنۃ وان کان بدعۃ ۔ جس امر میں شرع سے نہی نہ آئی اور صدر اول کے بعد معمول ہو اس میں موافقت کرکے لوگوں کو خوش کرنا اچھا ہے اگرچہ بدعت ہی سہی۔
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے رسالہ جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلوۃ فی النعال میں یہ مضمون یہت حدیثوں سے ثابت کیااور بیشك مقصود شرع کے یہی مطابق ہے مگر جن لوگوں کو مقاصد شریعت سے کچھ غرض نہیں اپنی ہوائے نفس کے تابع ہیں وہ خواہی نخواہی ذرا ذرا سی بات میں مسلمانوں سے الجھتے اور ان کی عادات و افعال کو جن پر شرع سے اصلا ممانعت ثابت نہیں کرسکتے ممنوع وناجائز قرار دیتے ہیں۔حاشا کہ ان کی غرض حمایت شرع ہو_____ حمایت شرع چاہئے تو جن امور کی تحریم وممانعت میں کوئی آیت وحدیث نہ آئی خواہ مخواہ بزور زبان انھیں گناہ ومذموم ٹھہرا کر شرع مطہر پر افتراء کیوں کرتے۔قال اﷲ تعالی:
و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھوبیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔(ت)
بلکہ صرف مقصود ان حضرات کا عوام مسلمین میں تفرقہ ڈالنا اور براہ تلبیس وتدلیس اپنے لئے ایك جدا روش نکالنا اور اس کے ذریعہ سے اپنی شہرت کے سامان جمع کرنا ہے کہ اگر وہی مسائل بیان کریں جو تمام علماء اسلام فرماتے ہیں تو ان جیسے اور ان سے بہتر ہزاروں لاکھوں ہیں۔یہ خاص کرکے کیوں کر گنے جائیں۔ہاں
عین العلم میں ہے:
الاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ عنہ و صارمعتادا بعد عصرھم حسنۃ وان کان بدعۃ ۔ جس امر میں شرع سے نہی نہ آئی اور صدر اول کے بعد معمول ہو اس میں موافقت کرکے لوگوں کو خوش کرنا اچھا ہے اگرچہ بدعت ہی سہی۔
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے رسالہ جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلوۃ فی النعال میں یہ مضمون یہت حدیثوں سے ثابت کیااور بیشك مقصود شرع کے یہی مطابق ہے مگر جن لوگوں کو مقاصد شریعت سے کچھ غرض نہیں اپنی ہوائے نفس کے تابع ہیں وہ خواہی نخواہی ذرا ذرا سی بات میں مسلمانوں سے الجھتے اور ان کی عادات و افعال کو جن پر شرع سے اصلا ممانعت ثابت نہیں کرسکتے ممنوع وناجائز قرار دیتے ہیں۔حاشا کہ ان کی غرض حمایت شرع ہو_____ حمایت شرع چاہئے تو جن امور کی تحریم وممانعت میں کوئی آیت وحدیث نہ آئی خواہ مخواہ بزور زبان انھیں گناہ ومذموم ٹھہرا کر شرع مطہر پر افتراء کیوں کرتے۔قال اﷲ تعالی:
و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ اورنہ کہو اسے جو تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھوبیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔(ت)
بلکہ صرف مقصود ان حضرات کا عوام مسلمین میں تفرقہ ڈالنا اور براہ تلبیس وتدلیس اپنے لئے ایك جدا روش نکالنا اور اس کے ذریعہ سے اپنی شہرت کے سامان جمع کرنا ہے کہ اگر وہی مسائل بیان کریں جو تمام علماء اسلام فرماتے ہیں تو ان جیسے اور ان سے بہتر ہزاروں لاکھوں ہیں۔یہ خاص کرکے کیوں کر گنے جائیں۔ہاں
حوالہ / References
احیاء العلوم کتا ب آداب السماع والوجد المقام الثالث من السماع مطبعۃ المشہد الحسینی ∞قاہرہ ۲ /۳۰۵€
عین العلم الباب التاسع فی الصمت الخ ∞مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶€
عین العلم الباب التاسع فی الصمت الخ ∞مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶€
جب یوں فتنہ ڈالیں اور نیا مذہب نکالیں گے تو آپ ہی نزدیك ودور معروف ومشہور ہوجائیں گے۔آخر نہ دیکھا کہ امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرمایا کہ امام اجل قاضی عیاض رحمۃاﷲ تعالی علیہ نے فرمایا:
خروجہ عن العادۃ شہرۃ ومکروہ ۔ یعنی جس جگہ جو طریقہ لوگوں میں ر ائج ہے اس کی مخالفت کرنا اپنے آپ کو مشہور بنانا شرعا مکروہ وناپسند ہے۔
اسی طرح مجمع بحار الانوار میں منقول:
ھو علی عادۃ البلدان فالخروج عنہا شہرۃ ومکروہ ۔ یہ علاقوں کی عادت پر ہے جس سے خروج نری شہرت اور ناپسندیدگی ہے۔(ت)
اسی کو مولانا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی شرح مشکوۃ میں ناقل کہ:
خروج از عادت واہل بلد موجب شہرت است ومکروہ است ۔ علاقہ والوں کی عادت سے خروج شہرت کے لیے ہوتا ہے اور یہ ناپسند بات ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لبس ثوب شہرۃ البسہ اﷲ یوم القیمۃ ثوب مذلۃ ثم یلھب فیہ النار۔رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرر ضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔ جو شہرت کالباس پہنے اﷲ تعالی اسے روز قیامت ذلت کاکپڑا پہنائے پھر اس میں آگ بھڑکادی جائے۔(اس کو ابوداؤد و ابن ماجہ نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
جب دوہاتھوں سے مصافحہ اب تمام مسلمانوں میں رائج اور تم کسی حدیث سے اس کی ممانعت ثابت نہیں کرسکتے تو بلا وجہ عادت مسلمین کا خلاف کرنا سوا اپنی شہرت چاہنے نکو بننے اور اس وعید شدید
خروجہ عن العادۃ شہرۃ ومکروہ ۔ یعنی جس جگہ جو طریقہ لوگوں میں ر ائج ہے اس کی مخالفت کرنا اپنے آپ کو مشہور بنانا شرعا مکروہ وناپسند ہے۔
اسی طرح مجمع بحار الانوار میں منقول:
ھو علی عادۃ البلدان فالخروج عنہا شہرۃ ومکروہ ۔ یہ علاقوں کی عادت پر ہے جس سے خروج نری شہرت اور ناپسندیدگی ہے۔(ت)
اسی کو مولانا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی شرح مشکوۃ میں ناقل کہ:
خروج از عادت واہل بلد موجب شہرت است ومکروہ است ۔ علاقہ والوں کی عادت سے خروج شہرت کے لیے ہوتا ہے اور یہ ناپسند بات ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لبس ثوب شہرۃ البسہ اﷲ یوم القیمۃ ثوب مذلۃ ثم یلھب فیہ النار۔رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرر ضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن۔ جو شہرت کالباس پہنے اﷲ تعالی اسے روز قیامت ذلت کاکپڑا پہنائے پھر اس میں آگ بھڑکادی جائے۔(اس کو ابوداؤد و ابن ماجہ نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
جب دوہاتھوں سے مصافحہ اب تمام مسلمانوں میں رائج اور تم کسی حدیث سے اس کی ممانعت ثابت نہیں کرسکتے تو بلا وجہ عادت مسلمین کا خلاف کرنا سوا اپنی شہرت چاہنے نکو بننے اور اس وعید شدید
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ الباب الثانی ا لصنف التاسع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۵۸€۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۲،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۶€
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۲،€سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۶€
کے مستحق ہونے کے اور کس غرض پر محمول ہوسکتاہے ____ اﷲ تعالی مسلمانوں کو توفیق رفیق عنایت فرمائے(آمین!)
یہ چند جملے ہیں کہ بطور اختصار برسبیل ارتجال زبان قلم سے سیرزدہوئے اور وہ مباحث نفیسہ واصول جلیلہ جن کی طرف ضمن کلام میں جابجا اشارہ ہوا اگر ان کی تحقیق تام وتنقیح تمام پر آئیں تو مبسوط کتابیں لکھنا چاہئے جسے بیان کافی وارشاد شافی پر اطلاع منظور ہو کتب علماء مثل اذاقۃ الاثام و اصول الرشاد وغیرہما تالیف طیبات امام المحققین سراج المدققین حضرت والد قدس سرہ الماجد کی طرف رجوع کرے۔امید کرتا ہوں کہ اس مسئلہ مصافحہ بالیدین میں یہ مباحث رائقہ وابحاث فائقہ خاص علم فقیر کا حصہ ہوں۔والحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین والہ وصحبہ اجمعین۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسالہ
"صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین"
ختم شد
مسئلہ ۱۲۴:از ضلع سورت اسٹیشن سائیں مقام کٹھور مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۴جمادی الاولی ۱۳۰۹ھ
فجر کی نماز کے بعد مصافحہ لیتے ہیں سو جائز ہے یانہیں ہر روز
الجواب:
جو لوگ بعد قیام جماعت یا شروع تکبیر آکر نماز میں شامل ہوئے کہ امام ودیگر مقتدین سے قبل نماز
یہ چند جملے ہیں کہ بطور اختصار برسبیل ارتجال زبان قلم سے سیرزدہوئے اور وہ مباحث نفیسہ واصول جلیلہ جن کی طرف ضمن کلام میں جابجا اشارہ ہوا اگر ان کی تحقیق تام وتنقیح تمام پر آئیں تو مبسوط کتابیں لکھنا چاہئے جسے بیان کافی وارشاد شافی پر اطلاع منظور ہو کتب علماء مثل اذاقۃ الاثام و اصول الرشاد وغیرہما تالیف طیبات امام المحققین سراج المدققین حضرت والد قدس سرہ الماجد کی طرف رجوع کرے۔امید کرتا ہوں کہ اس مسئلہ مصافحہ بالیدین میں یہ مباحث رائقہ وابحاث فائقہ خاص علم فقیر کا حصہ ہوں۔والحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین والہ وصحبہ اجمعین۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
رسالہ
"صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین"
ختم شد
مسئلہ ۱۲۴:از ضلع سورت اسٹیشن سائیں مقام کٹھور مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۴جمادی الاولی ۱۳۰۹ھ
فجر کی نماز کے بعد مصافحہ لیتے ہیں سو جائز ہے یانہیں ہر روز
الجواب:
جو لوگ بعد قیام جماعت یا شروع تکبیر آکر نماز میں شامل ہوئے کہ امام ودیگر مقتدین سے قبل نماز
ملاقات نہ کرنے پائے انھیں تو ان سے بعد سلام مصافحہ کرنا قطعا سنت۔
لانہا سنۃ لانھا عند ابتداء کل لقاء و ھذا ابتداء لقائھم ھذا۔ کہ ہر ملاقات پر مصافحہ کرنا سنت ہے(یعنی ملاقات کا آغاز مصافحہ کرنا مسنون ہے)۔(ت)
اور وہ جو بے لحاظ اس تخصیص کے مصافحہ بعد فجر وعصر یابعد عصر ومغرب مطلقا صدہا سال سے مسلمین میں معتادومرسوماس بارے میں اصح یہی ہے کہ جائز ومباح ہے۔
کما حققہ المولی المحقق سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ وذکرھھنا المولی الفاضل زینۃ عصرنا محب الرسول عبدالقادر القادری فی رسالتہ المناصحۃ فی تحقیق المصافحۃ تحقیقا جمیلا یتضح بہ الصواب توفیقا انیقا یندفع بہ الاضطراب۔ جیسا کہ ہمارے والد بزرگوار قدس سرہ الماجد نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائییہاں ہمارے دور کی ایک نفیس اور خوبصورت ہستی عاشق زار رسول والاتبار مولانا فاضل عبد القادر قادری نے اپنے رسالہ المناصحہ فی تحقیق مسائل المصافحۃ (یعنی باہم خیر خواہی کرناہاتھ ملانے کے احکام کی تحقیق بیان کرنے میں)تحقیق پیش فرمائی ہے اور خوبصورت موافقت پیدا کی ہے جس سے حقیقت واشگاف ہوتی ہے۔اور اضطراب دور ہوتا ہے۔(ت)
علامہ شہاب الدین مصری شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:الاصح انھا مباحۃ (زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مصافحہ کرنا مباح ہے۔ت)ہاں جہاں مداومت سے خوف ہو کہ جہال اس خصوصیت خاصہ کو واجب یا سنت بخصوصہا نہ سمجھنے لگیں وہاں اہل علم کو مناسب کہ ان اوقات میں کبھی کبھی ترک بھی کردیں۔ھذا ھو الانصاف فی امثال الباب واﷲ تعالی اعلم بالصواب(اس قسم کے باب میں یہی انصاف ہے۔اﷲ تعالی راہ صواب کو اچھی طرح جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۵: ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوقت سننے اسم پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے انگوٹھے چومنے ضرور ہیں یانہیں۔اگر ہیں تو کس کس موقع اور کون کون محل پر۔بینوا توجروا
لانہا سنۃ لانھا عند ابتداء کل لقاء و ھذا ابتداء لقائھم ھذا۔ کہ ہر ملاقات پر مصافحہ کرنا سنت ہے(یعنی ملاقات کا آغاز مصافحہ کرنا مسنون ہے)۔(ت)
اور وہ جو بے لحاظ اس تخصیص کے مصافحہ بعد فجر وعصر یابعد عصر ومغرب مطلقا صدہا سال سے مسلمین میں معتادومرسوماس بارے میں اصح یہی ہے کہ جائز ومباح ہے۔
کما حققہ المولی المحقق سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ وذکرھھنا المولی الفاضل زینۃ عصرنا محب الرسول عبدالقادر القادری فی رسالتہ المناصحۃ فی تحقیق المصافحۃ تحقیقا جمیلا یتضح بہ الصواب توفیقا انیقا یندفع بہ الاضطراب۔ جیسا کہ ہمارے والد بزرگوار قدس سرہ الماجد نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائییہاں ہمارے دور کی ایک نفیس اور خوبصورت ہستی عاشق زار رسول والاتبار مولانا فاضل عبد القادر قادری نے اپنے رسالہ المناصحہ فی تحقیق مسائل المصافحۃ (یعنی باہم خیر خواہی کرناہاتھ ملانے کے احکام کی تحقیق بیان کرنے میں)تحقیق پیش فرمائی ہے اور خوبصورت موافقت پیدا کی ہے جس سے حقیقت واشگاف ہوتی ہے۔اور اضطراب دور ہوتا ہے۔(ت)
علامہ شہاب الدین مصری شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:الاصح انھا مباحۃ (زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مصافحہ کرنا مباح ہے۔ت)ہاں جہاں مداومت سے خوف ہو کہ جہال اس خصوصیت خاصہ کو واجب یا سنت بخصوصہا نہ سمجھنے لگیں وہاں اہل علم کو مناسب کہ ان اوقات میں کبھی کبھی ترک بھی کردیں۔ھذا ھو الانصاف فی امثال الباب واﷲ تعالی اعلم بالصواب(اس قسم کے باب میں یہی انصاف ہے۔اﷲ تعالی راہ صواب کو اچھی طرح جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۵: ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوقت سننے اسم پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے انگوٹھے چومنے ضرور ہیں یانہیں۔اگر ہیں تو کس کس موقع اور کون کون محل پر۔بینوا توجروا
حوالہ / References
نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۳€
الجواب:
ضرور بمعنی فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ تو اصلا نہیں۔ہاں اذان سننے میں علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے۔اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین یعنی آنکھوں کو روشن کرنا انگوٹھے چومنے کے عمل سے میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئےنماز میں اس کی ممانعت تو ظاہراور استماع خطبہ و قرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہو کر تمام حرکات سے بازرہنا چاہئے۔پنچایت کے وقت جو آیہ کریمہ " ما کان محمد ابا احد من رجالکم" پر اس قدر کثرت سے انگوٹھے چومے جاتے ہیں گویا صدہا چڑیاں جمع ہوکر چہک رہی ہیں یہاں تک کہ دور والوں کو قرآن عظیم کے بعض الفاظ کریمہ بھی اس وقت اچھی طرح سننے میں نہیں آتے۔یہ فقیر کو سخت ناپسند وگراں گزرتا ہے صرف انگوٹھے لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھنے میں اس وقت کوئی حرج نہ بھی ہو تو بوسہ تعظیم میں آواز نکلنے کا خود حکم نہیں۔ جیسے بوسہ سنگ اسود وآستانہ کعبہ وقرآن عظیم ودست و پائے علمائے وصلحاء نہ کہ ایسی آوازیں کہ چڑیاں بسیرالے رہی ہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۲۶: از بلگرام شریف محلہ میدانپورہ مرسلہ سید ابراہیم صاحب ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جواب سلام کفار وہنادک کن الفاظ میں دیا جائے اور خود بھی ضرورت اور بے ضرورت ان کو سلام کرے تو کس طور سے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے نص علیہ فی الحدیث والفقہ(حدیث پاک اور فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت)اور ہندوستان میں وہ طرق تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحببابو صاحبمنشی صاحبیا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا وغیر ذلککافر اگر بے لفظ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں۔اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں جواب میں وعلیک ہے مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہواہے۔اور وہ کافر بھی اسے جواب سلام نہ سمجھے گا بلکہ اپنے ساتھ استہزاء
ضرور بمعنی فرض یا واجب یا سنت مؤکدہ تو اصلا نہیں۔ہاں اذان سننے میں علمائے فقہ نے مستحب رکھا ہے۔اور اس خاص موقع پر کچھ احادیث بھی وارد جو ایسی جگہ قابل تمسک ہیں کما حققناہ فی رسالتنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین یعنی آنکھوں کو روشن کرنا انگوٹھے چومنے کے عمل سے میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)مگر نماز میں یا خطبہ یا قرآن مجید سنتے وقت نہ چاہئےنماز میں اس کی ممانعت تو ظاہراور استماع خطبہ و قرآن کے وقت یوں کہ اس وقت ہمہ تن گوش ہو کر تمام حرکات سے بازرہنا چاہئے۔پنچایت کے وقت جو آیہ کریمہ " ما کان محمد ابا احد من رجالکم" پر اس قدر کثرت سے انگوٹھے چومے جاتے ہیں گویا صدہا چڑیاں جمع ہوکر چہک رہی ہیں یہاں تک کہ دور والوں کو قرآن عظیم کے بعض الفاظ کریمہ بھی اس وقت اچھی طرح سننے میں نہیں آتے۔یہ فقیر کو سخت ناپسند وگراں گزرتا ہے صرف انگوٹھے لبوں سے لگا کر آنکھوں پر رکھنے میں اس وقت کوئی حرج نہ بھی ہو تو بوسہ تعظیم میں آواز نکلنے کا خود حکم نہیں۔ جیسے بوسہ سنگ اسود وآستانہ کعبہ وقرآن عظیم ودست و پائے علمائے وصلحاء نہ کہ ایسی آوازیں کہ چڑیاں بسیرالے رہی ہیں۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۲۶: از بلگرام شریف محلہ میدانپورہ مرسلہ سید ابراہیم صاحب ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جواب سلام کفار وہنادک کن الفاظ میں دیا جائے اور خود بھی ضرورت اور بے ضرورت ان کو سلام کرے تو کس طور سے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
کافر کو بے ضرورت ابتداء بسلام ناجائز ہے نص علیہ فی الحدیث والفقہ(حدیث پاک اور فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت)اور ہندوستان میں وہ طرق تحیت جاری ہیں کہ بضرورت بھی انھیں سلام شرعی کرنے کی حاجت نہیں مثلا یہی کافی کہ لالہ صاحببابو صاحبمنشی صاحبیا بے سر جھکائے سر پر ہاتھ رکھ لینا وغیر ذلککافر اگر بے لفظ سلام سلام کرے تو ایسے ہی الفاظ رائجہ جواب میں بس ہیں۔اور بلفظ سلام ابتداء کرے تو علماء فرماتے ہیں جواب میں وعلیک ہے مگر یہ لفظ یہاں مخصوص باہل اسلام ٹھہرا ہواہے۔اور وہ کافر بھی اسے جواب سلام نہ سمجھے گا بلکہ اپنے ساتھ استہزاء
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۴۰€
خیال کرے گا تو جس لفظ سے مناسب جانے جواب دے لے اگرچہ سلام کے جواب میں سلام ہی کہہ کر۔
فقد نص محمد انہ ینوی فی الجواب السلام فافھم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بیشک امام محمدر حمۃ اﷲ تعالی علیہ نے تصریح فرمائی کہ جواب میں سلام کی نیت کی جائے۔اور اﷲ تعالی بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں بستم ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
چہ مے فرمایند علمائے راہ شریعت وطریقت و مفتیان مطاع حقیقت ومعرفت دریں مسئلہ کہ مرشدان چند مریدان خود راہدایت سخت بپابوسی بدہن کنانیدہ می بوسانند می گوینند کہ ایں درست ست وبرمزار بزرگان دین رحمۃ اﷲ تعالی علیھم اجمعین خم شدہ سلام نمایند وبرقبر بوسہ می دہند مانند روافض این فعل درشریعت وطریقت درست است یا اشد شرک وکفر بیان فرمایند بعبارت کتب کہ عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد۔ کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وطریقت و مفتیان راز داران معرفت وحقیقت اس مسئلہ میں کہ بعض شیوخ ومرشدین نے اپنے کچھ مریدین کو ہدایت وتاکید کررکھی ہے کہ وہ ان کے پاؤں کو بوسہ دیا کریں یعنی چوما کریں۔بزرگان دین رحمہم اﷲ تعالی کے مزارات پر جھک کر سلام کیا کریں اور ان کی قبور کو روافض کی طرح بوسہ دیا کریں بقول ان کے ایسا کرنا جائز ہے۔کیا واقعی شریعت وطریقت میں ایسا کرنے کی اجازت ہے اور یہ شرک وکفرنہیں ہے کتب اسلامی کے حوالے سے بیان فرمائیں تاکہ اﷲ تعالی کے ہاں ماجور ہوں اور لوگوں کے ہاں مشکور(ت)
الجواب:
بوسہ قبر بمذہب راجح ممنوع است فی شرح عین العلم لعلی قاری ولا یمس ای القبر ولا التابوت والجدار فورد النھی عن مثل ذلک بقبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فکیف بقبور سائر الانام و صحیح اور قابل ترجیح مذہب میں کسی بھی قبر کو بوسہ دینے یعنی چومنے کی اجازت نہیں بلکہ ممانعت ہے۔چنانچہ محدث ملا علی قاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی شرح عین العلم میں ہے کہ قبر تابوت اور دیوا رکو ہاتھ نہ لگایا جائے کیونکہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قبر اطہر کے بارے میں اس طرح کرنے سے روکا اور منع کیا گیا ہے پھر باقی
فقد نص محمد انہ ینوی فی الجواب السلام فافھم۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بیشک امام محمدر حمۃ اﷲ تعالی علیہ نے تصریح فرمائی کہ جواب میں سلام کی نیت کی جائے۔اور اﷲ تعالی بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں بستم ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
چہ مے فرمایند علمائے راہ شریعت وطریقت و مفتیان مطاع حقیقت ومعرفت دریں مسئلہ کہ مرشدان چند مریدان خود راہدایت سخت بپابوسی بدہن کنانیدہ می بوسانند می گوینند کہ ایں درست ست وبرمزار بزرگان دین رحمۃ اﷲ تعالی علیھم اجمعین خم شدہ سلام نمایند وبرقبر بوسہ می دہند مانند روافض این فعل درشریعت وطریقت درست است یا اشد شرک وکفر بیان فرمایند بعبارت کتب کہ عنداﷲ ماجور وعندالناس مشکور خواہند شد۔ کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وطریقت و مفتیان راز داران معرفت وحقیقت اس مسئلہ میں کہ بعض شیوخ ومرشدین نے اپنے کچھ مریدین کو ہدایت وتاکید کررکھی ہے کہ وہ ان کے پاؤں کو بوسہ دیا کریں یعنی چوما کریں۔بزرگان دین رحمہم اﷲ تعالی کے مزارات پر جھک کر سلام کیا کریں اور ان کی قبور کو روافض کی طرح بوسہ دیا کریں بقول ان کے ایسا کرنا جائز ہے۔کیا واقعی شریعت وطریقت میں ایسا کرنے کی اجازت ہے اور یہ شرک وکفرنہیں ہے کتب اسلامی کے حوالے سے بیان فرمائیں تاکہ اﷲ تعالی کے ہاں ماجور ہوں اور لوگوں کے ہاں مشکور(ت)
الجواب:
بوسہ قبر بمذہب راجح ممنوع است فی شرح عین العلم لعلی قاری ولا یمس ای القبر ولا التابوت والجدار فورد النھی عن مثل ذلک بقبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فکیف بقبور سائر الانام و صحیح اور قابل ترجیح مذہب میں کسی بھی قبر کو بوسہ دینے یعنی چومنے کی اجازت نہیں بلکہ ممانعت ہے۔چنانچہ محدث ملا علی قاری رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی شرح عین العلم میں ہے کہ قبر تابوت اور دیوا رکو ہاتھ نہ لگایا جائے کیونکہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قبر اطہر کے بارے میں اس طرح کرنے سے روکا اور منع کیا گیا ہے پھر باقی
لایقبل فانہ زیادۃ علی المس فھو اولی بالنھی ہمچناں خم شد سلام دادن فی حدیث انس رضی اﷲتعالی عنہ عند الترمذی قال اینحنی لہ قال لا اما چیزے ازینہا شرک وکفرنتواں بود این غلو وہابیہ ضالہ است ودست و پائے اولیائے وعلماء رابوسہ دادن زنہار ممنوع ھم نیست بلکہ ثابت ودرست ستوفد عبدالقیس رضی اﷲ تعالی عنہم چوں بخدمت اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم رسیدند واز دور نگاہ شان بر جمال جہاں آرائے حضور اقدس سید المحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افتاد بے تابانہ خود را ازپشت سوار یہا افگندند ودواں دواں بحضور رسیدہ بوسہ بردست وپائے اقدس دادند سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انکار نفرمودہ امام بخاری درادب مفرد لوگوں کی قبور کے ساتھ یہ معاملہ کیسے روا ہوسکتاہے اور قبر کو بوسہ نہ دیا جائے کیونکہ یہ تو ہاتھ لگانے سے کہیں بڑھ کر ہے لہذا اس کے لئے نہی بطریق اولی ہے۔اسی طرح جھک کر سلام کرنا منع ہے چنانچہ امام ترمذی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے یہ حدیث روایت کی ہےانھوں نے استفسارکیا کیا اسکے آگے جھک جائےارشاد فرمایا:نہیںمگر واضح رہے کہ ان میں سے کوئی کام بھی کفرو شرک نہیں ہو سکتا۔یہ گمراہ کرنے والے وہابیوں کا غلو ہے۔جہاں تک اولیاء کرام اور علمائے عظام کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینے کا تعلق ہے تویہ عمل ہر گز منع نہیں بلکہ جائز اور ثابت ہےچنانچہ وفد عبدالقیس رضی اﷲ تعالی عنہم کے حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچنے کے بارے میں یہ روایت مذکور ہے کہ جب دور سے ان کی نگاہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جمال جہاں پر پڑی تو وہ بے تاب ہوکر اپنی اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور دوڑ کر بارگاہ اقدس میں پہنچے اور اپ کے مبارک ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دیا اورحضو ر علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو منع نہیں فرمایا (جو بلا شبہ دلیل جواز ہے)امام بخاری الادب المفرد
حوالہ / References
شرح عین العلم لمنلا علی قاری البا ب الثامن ∞مطبع الاسلامیہ لاہور ص۱۶۷€
جامع الترمذی کتاب الاستیذان باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۷€
جامع الترمذی کتاب الاستیذان باب ماجاء فی المصافحۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۷€
وامام ا بوداؤد درسنن وبیہقی از زارع بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ روایت کنند فجعلنا نتبادر فنقبل یدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورجلہ ودرحدیث ست کہ زنے از شوئے خودش گلہ پیش حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی الہ آورد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود آیا تو اورادشمن می داری عرضہ داد بلی۔حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مر او را وشوھر او رافرمود سرہائے خود نزدیک کنید ہمچناں کردند سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیشانی زن بر پیشانی مرد نہادہ دعا کرد کہ خدا یا بامیاں ایناں الفت نہ ویکے رامحبوب دیگرے کن بازآں زن بخدمت انور رسید وبوسہ بردہن وپائے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چید سرور جہانیاں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سید کہ حالا تو و شوے توبرچہ حالا عرضہ میں امام ابوداؤد وسنن میں اور امام بیہقی یہ سب حضرت زارع بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ پھر ہم لوگ(خدمت اقدس میں پہنچنے کے لئے)جلدی کرنے لگے پھر ہم(وہاں پہنچ کر)حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک ہاتھ پاؤں کو چومنے لگے۔حدیث پاک میں ہے کہ ایک عورت نے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے شوہر کے خلاف شکایت کی۔حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس عورت سے دریافت فرمایا کہ تو اس کو (یعنی اپنے خاوند کو)پسند نہیں کرتی اس نے جواب ہاں میں دیایعنی مجھے شوہر پسند نہیں ہے۔اس کے بعد آپ نے اس سے اور اس کے شوہر سے فرمایا کہ تم دونوں اپنے اپنے سر میرے قریب کرو۔جب دونوں نے اپنے اپنے سر آپ کے بالکل قریب کردئیے تو آپ نے عورت کی پیشانی مرد کی پیشانی پر رکھی اور دعا فرمائی۔اے اللہ! ان دونوں کے درمیان الفت و محبت رکھ دے انھیں ایک دوسرے کا محبوب بنادے۔پھر اس عورت نے ایک دفعہ حاضر ہو کر آپ کے چہرہ انور اور آپ کے پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔سردار دوجہاں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اب اپنے شوہر کے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب قبلۃ الرجل الخ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۳،€السنن الکبرٰی کتا ب النکاح باب ماجاء فی قبلہ الجسد المعارف النعمانیہ ∞حیدرآباد دکن ۷ /۱۰۲،€الادب المفرد ∞باب ۴۴۵€ تقبیل الرجل المکتبہ الاثریہ ∞سانگلہ ہل ص۲۵۳€
داد کہ ہیچ نو وکہن وہیچ پسر نیز مر از وے محبوب تر نیست سید اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود من گواہی می دہم کہ من رسول خدا یمعمرر ضی اﷲ تعالی عنہ گفت ومن گواہی می دہم کہ تو رسول خدا فقیر گوید ومن فقیر یکے ازسگان کوئے شما گواہی می دہد کہ واﷲ العظیم تو رسول خدائے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی الک و صحبک وبارک وکرم۔ البیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما ان امرأۃ شکت زوجھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اتبغضیہ قالت نعم فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ادنیارؤسکما فوضع جبھتھا علی جبھۃ زوجھا ثم قال اللھم الف بینہما وحبب احد ھما الی صاحبہ ثم لقیتہ المرأۃ بعد ذلک فقبلت رجلیہ فقال کیف انت وزوجک قال ماطارف ولا تالد ولا ولد احب الی منہ فقال اشہد انی رسول اﷲ فقال عمروانا اشھد انک رسول اﷲ ۔ونیز بارے میں تمھاری کیا کیفیت ہے اس نے جوابا عرض کیا کوئی جوان کوئی بوڑھا اور کوئی لڑکا مجھے اس سے زیادہ محبوب نہیںآپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں گواہی دیتاہوں کہ میں اﷲ تعالی کا رسول ہوں۔اس پر حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:میں بھی گواہی دیتاہوں کہ آپ اﷲ تعالی کے رسول ہیں۔فقیر کہتاہے میں بندہ محتاج آپ کی گلی کے کتوں میں سے ایک کتا بھی گواہی دیتاہے کہ اﷲ العظیم کی قسم آپ اﷲ تعالی کے سچے رسول ہیں آپ پر آپ کی آل پر اور آپ کے ساتھیوں پر اﷲ تعالی کی رحمت وبرکت اور کرم فرمائےامام بیہقی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اپنے شوہر کے خلاف شکوہ کیا آپ نے فرمایا:کیا تو اس سے بغض رکھتی ہے اس نے جواب دیا۔جی ہاں۔اپ نے فرمایا:تم دونوں اپنے سر میرے قریب کرو۔ پھر اپ نے عورت کی پیشانی اس کی شوہر کی پیشانی پر رکھی اور فرمایا:اے اللہ! ان دونوں میں الفت پیدا کردے اور انھیں ایک دوسرے کا محبوب بنادے پھر اس کے بعد اس عورت کی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کے پاؤں مبارک چومےآپ نے اس سے
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی دعائہ لزوجین احد ھما یبغض الاٰخر بالالفہ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶ /۲۲۹€
درحدیث ست کہ مردے حاضر خدمت شدہ عرضہ داشت کہ یا رسو ل اللہ! مراچیزے بنما کہ باویقینم فزاید فرمود بسوئے ایں درخت رفتہ او را بخواں رفت گفت کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ترامیخواند درخت ہماندم آمد وبرسید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سلام گفت بازگرد بازگشت سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آن صحابی را پروانگی داد تابوسہ برسر مبارک وہر دو پائے اقدس زدالحاکم فی المستدرک وقال صحیح الاسناد ان رجلا اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ علمنی شیئا ازداد بہ یقینا فقال اذھب الی تلک الشجرۃ فادعھا فذہب الیھا فقال ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یدعوک فجاءت حتی سلمت علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم قال لھا ارجعی فرجعت قال ثم اذن لہ فقبل فرمایا:تمھارے شوہر کا کیا حال ہے تو اس نے کہا:اب مجھے اس سے زیادہ کوئی جوانبوڑھا اور بچہ محبوب نہیں۔آپ نے فرمایا:میں گواہی دیتاہوں کہ یقینا میں اﷲ تعالی کا رسول ہوں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میں بھی گواہی دیتاہوں کہ آپ بلا شبہ اﷲ تعالی کے رسول ہیں۔
حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:اے اﷲ تعالی کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤجس سے میرے یقین میں اضافہ ہو۔ارشاد فرمایا:اس درخت کے پاس جاؤاور اسے کہو کہ تمھیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلاتے ہیں:وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلارہے ہیں وہ درخت اسی وقت بار گاہ اقدس میں حاضر ہوگیا اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ واپس اپنی جگہ پرچلے جاؤ۔چنانچہ وہ درخت واپس چلا گیا۔اس صحابی نے آپ کے سرمبارک اور مبارک ومقدس پاؤں کو بوسہ دینے کی اجازت چاہی توآپ نے اجازت دے دیاور اس نے بوسہ دیا۔حاکم نے المستدرک میں روایت کی اور فرمایا اس کی سند صحیح ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس نے عرض کی اے
حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:اے اﷲ تعالی کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز دکھاؤجس سے میرے یقین میں اضافہ ہو۔ارشاد فرمایا:اس درخت کے پاس جاؤاور اسے کہو کہ تمھیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلاتے ہیں:وہ شخص اس درخت کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلارہے ہیں وہ درخت اسی وقت بار گاہ اقدس میں حاضر ہوگیا اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ واپس اپنی جگہ پرچلے جاؤ۔چنانچہ وہ درخت واپس چلا گیا۔اس صحابی نے آپ کے سرمبارک اور مبارک ومقدس پاؤں کو بوسہ دینے کی اجازت چاہی توآپ نے اجازت دے دیاور اس نے بوسہ دیا۔حاکم نے المستدرک میں روایت کی اور فرمایا اس کی سند صحیح ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس نے عرض کی اے
راسہ ورجلیہ وقال لوکنت امرااحدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا امام اجل سیدنا جعفر صادق وامام سفیان ثوری ومقاتل بن حیان وحماد بن سلمہ وغیرھم ائمہ مجتہدین پیش امام اعظم سیدنا اما م ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم آمدہ گفتند بمارسیدہ است کہ تو درمسائل قیاس بکثرت میکنی امام باایشاں مناظرہ کرد ومذہب خود پیش نمود وگفت کہ پیش از ہمہ عمل بقرآن عظیم میکنم باز بحدیث بازباجماع باز باقوال صحابہ وچوں دریں ہمہ نیابم آں گاہ براہ قیاس شتابم ایں مناظرہ درمسجد جامع کو فہ روز جمعہ از آغاز نہار تاوقت زوال جاری بود آخر ہا ہمہ ائمہ مذکورین برخاستند وبوسہ برسرو زانوئے امام اعظم دادند وگفتند تو سردار علمائے پیش از یں انچہ نادانستہ بحق تو گفتہ بودیم بما عفو کن امام گفت حق جل وعلا ماوشمار ہم را مغفرت کند الامام العارف الشعرانی قدس سرہ فی المیزان کان ابومطیع اﷲ تعالی کے رسول:مجھے کوئی ایسی چیز دکھائیں جس سے میرے یقین میں ترقی(زیادتی)ہوفرمایا اس درخت کے پاس جاؤ اور اسے میرے ہاں بلا لاؤ۔پھر وہ اس درخت کے پاس گیا اور اس سے کہا تجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلارہے ہیں چنانچہ وہ درخت بارگاہ نبوی میں حاضر ہوگیا اور اس نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیاپھر آپ نے اس سے ارشاد فرمایا کہ لوٹ جاؤوہ حسب ارشاد لوٹ گیا۔راوی فرماتے ہیں پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس شخص کو اجازت دی تو اس نے آپ کے سر مبارک اور دونوں پاؤں کو بوسہ دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کے آگے سجدہ کرنے کاحکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔امام کبیر سیدنا امام جعفر صادقامام سفیان ثوریمقاتل بن حیان اور حماد بن سلمہ اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ درجہ اجتہاد پر فائز ہونے والے امام اعظم سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں گئے اور امام صاحب سے فرمانے لگے کہ ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے آپ مسائل شرعی میں بہت زیادہ قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں۔اما م صاحب نے ان سے مناظرہ کیا اور وضاحت سے اپنا مذہب(نظریہ)پیش کیا اور فرمایا میں تو سب سے پہلے قرآن پر عمل کرتاہوں اس کے
حوالہ / References
المستدرک للحاکم کتاب البروالصلۃ باب حق الزوج علی الزوجۃ دارالفکر بیروت ∞۴ /۱۷۲€
یقول کنت یوما عندالامام ابی حنیفۃ فی جامع الکوفۃ فدخل علیہ سفین الثوری ومقائل بن حیان وحماد بن سلمۃ وجعفر الصادق وغیرہم من الفقہاء فکلموا الامام اباحنیفۃ وقالوا قد بلغنا انک تکثر من القیاس فی الدین وانانخاف علیک منہ فان اول من قاس ابلیس فناظر ھم الامام من بکرۃ نہار الجمعۃ الی الزوال وعرض علیہم مذہبہ وقال انی اقدم العمل بالکتاب ثم بالسنۃ ثم باقضیۃ الصحابۃ مقدما مااتفقوا علیہ علی مااختلفوا فیہ وحینئذ اقیس فقاموا کلھم وقبلوا یدیہ ورکبتہ وقالوا لہ انت سیدالعلماء فاعف عنافیما مضی منا من وقیعتنا فیک بغیر علم فقال غفر اﷲ لناولکم اجمعین انتھی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
بعد حدیث پھر اجماع امتپھر اقوال صحابہ کرام پرجب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ پاؤں تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوںیہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کرزوال کے وقت تک جاری رہا۔بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پربوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سرخیل ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔امام صاحب نے فرمایا:اﷲ تعالی بزر گ وبرتر مجھے اورآپ سب کو معاف کردے۔امام عارف عبدالوہاب شعرانی"المیزان" میں فرماتے ہیں حضرت ابومطیع فرمایا کرتے تھے کہ میں جامع مسجد کوفہ میں امام صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سفیان ثوریمقاتل بن حیان حماد بن سلمہامام جعفر صادق اور بعض دیگر فقہائے کرام تشریف لائے اور امام صاحب سے گفتگو کرنے لگے کہ ہمیں اطلاع پہنچی کہ آپ دین میں زیادہ ترقیاس سے کام لیتے ہیں لہذا ہم اس طرز عمل سے خوف محسوس کرتے ہیں کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ان کی یہ مناظرانہ گفتگو جمعہ کے روز فجر سے لے کر سورج ڈھلنے تک ہوتی رہی۔امام صاحب نے اپنا مذہب ومؤقف ان کے سامنے پیش کیا اور فرمایا:میں عمل کرنے میں کتاب اﷲ کو سب سے مقدم سمجھتاہوںپھر سنت کوپھر صحابہ کرام کے متفق فیصلوں کو ان کے اختلافی فیصلوں سے مقدم سمجھتاہوںاور جب قرآن حدیث اور اجماع صحابہ سے کسی مسئلہ میں براہ راست واضح ہدایت اور مثال نہ مل سکے تو پھر اس وقت قیاس کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈتاہوںیہ سننے کے بعد تمام علماء وفقہاء نے اٹھ کر امام صاحب کے ہاتھوں اور گھٹنوں کو
بعد حدیث پھر اجماع امتپھر اقوال صحابہ کرام پرجب ان سب میں کوئی مسئلہ نہ پاؤں تو پھر قیاس سے کام لیتا ہوںیہ مناظرہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ کے دن صبح سے لے کرزوال کے وقت تک جاری رہا۔بالآخر مذکورہ تمام امام اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے حضرت امام اعظم رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے سر اور زانوؤں پربوسہ دیا اور فرمایا کہ آپ علماء کرام کے سرخیل ہیں اور ہم اس سے پہلے بے خبری میں آپ کے متعلق جو سنی سنائی کہتے رہے وہ ہمیں معاف کردیں۔امام صاحب نے فرمایا:اﷲ تعالی بزر گ وبرتر مجھے اورآپ سب کو معاف کردے۔امام عارف عبدالوہاب شعرانی"المیزان" میں فرماتے ہیں حضرت ابومطیع فرمایا کرتے تھے کہ میں جامع مسجد کوفہ میں امام صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس سفیان ثوریمقاتل بن حیان حماد بن سلمہامام جعفر صادق اور بعض دیگر فقہائے کرام تشریف لائے اور امام صاحب سے گفتگو کرنے لگے کہ ہمیں اطلاع پہنچی کہ آپ دین میں زیادہ ترقیاس سے کام لیتے ہیں لہذا ہم اس طرز عمل سے خوف محسوس کرتے ہیں کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ شیطان تھا۔ان کی یہ مناظرانہ گفتگو جمعہ کے روز فجر سے لے کر سورج ڈھلنے تک ہوتی رہی۔امام صاحب نے اپنا مذہب ومؤقف ان کے سامنے پیش کیا اور فرمایا:میں عمل کرنے میں کتاب اﷲ کو سب سے مقدم سمجھتاہوںپھر سنت کوپھر صحابہ کرام کے متفق فیصلوں کو ان کے اختلافی فیصلوں سے مقدم سمجھتاہوںاور جب قرآن حدیث اور اجماع صحابہ سے کسی مسئلہ میں براہ راست واضح ہدایت اور مثال نہ مل سکے تو پھر اس وقت قیاس کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈتاہوںیہ سننے کے بعد تمام علماء وفقہاء نے اٹھ کر امام صاحب کے ہاتھوں اور گھٹنوں کو
حوالہ / References
میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فی بیان ضعف قول من نسب الامام اباحنیفہ الی انہ یقدم القیاس الخ مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۶۶ و ۶۵€
بوسہ دیا اور کہا آپ تو سید العلماء ہیں ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ ہم بلاوجہ بغیر کسی تحقیق کےآپ کے پیچھے پڑے رہے آپ ہماری کوتاہی اور خطا معاف فرمادیں آپ نے فرمایا:اﷲ تعالی ہمیں اور آپ سب کو معاف فرمائےاﷲ تعالی پاک برتر اور سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۲۸: ازسیتاپور منشی مشرف احمد صاحب سررشتہ دار کلکٹری سیتاپور ۲۹ صفر ۱۳۱۳ھ
عالی جناب مولانا صاحب مخدوم ومطاع نیاز کیشاں زاد مجدکم وافضالکم بعد بجا آوری تسلیم عرض یہ ہے کہ اﷲ تعالی اور جناب سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ"جب گھر میں داخل ہو تو سلام کرے"حدیث شریف میں ہے کہ باعث برکت ہے۔اگر گھر میں سوا اہلیہ کے نہ ہو تو زوجہ پر سلام علیک کرے یانہیں ایک صاحب اس بارہ میں حجت کرتے ہیں کہ ازواج مطہرات پر سلام علیک کرنا کہیں حدیث سے ثابت نہیں ہوا ہے حالانکہ سیاق اس امر پر وارد ہے کہ اہلیہ پر بھی سلام علیک کرنا چاہئے۔اس کا جواب ان آیات واحادیث سے جن میں گھر جانے کے وقت سلام کرنے کا حکم ہے اور جن سے حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سلام ازواج مطہرات سے کرنا ثابت ہو ارقام فرمائیں۔فقط۔
الجواب:
قال اﷲ" فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللہ مبرکۃ طیبۃ " ۔ (اﷲ عزوجل نے فرمایا)جب تم گھروں میں جاؤ تو سلام کرو اپنی جانوں پر ملتے وقت کی اچھی دعا اﷲ کی طرف سے برکت والی پاکیزہ۔
معالم التنزیل میں ہے:
ای یسلم بعضکم علی بعض ھذا فی دخول الرجل بیت نفسہ یسلم علی اھلہ ومن فی بیتہ وھو قول جابر وطاؤس والزھری وقتادہ والضحاک وعمرو بن دینار قال قتادہ اذا دخلت بیتک فسلم علی اھلک فھم احق من سلمت علیہ ۔ یعنی تمھارے بعض بعض کو(ایک دوسرے کو)سلام کیا کریں۔یہ اس وقت کے لئے ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں جائے تو گھر میں موجود اپنوں اور دیگر وہاں حاضرین کو سلام دے۔جابر طاؤسزہری قتادہضحاک اورعمرو بن دینار کا یہی قول ہے۔اور حضرت قتادہ نے فرمایا جب تم اپنے گھر میں جاؤ تو اپنے گھر والوں کو سلام پیش کیا کروجن کو تم سلام دیتے ہو ان سے زیادہ حق گھر والے رکھتے ہیں۔(ت)
مسئلہ ۱۲۸: ازسیتاپور منشی مشرف احمد صاحب سررشتہ دار کلکٹری سیتاپور ۲۹ صفر ۱۳۱۳ھ
عالی جناب مولانا صاحب مخدوم ومطاع نیاز کیشاں زاد مجدکم وافضالکم بعد بجا آوری تسلیم عرض یہ ہے کہ اﷲ تعالی اور جناب سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ"جب گھر میں داخل ہو تو سلام کرے"حدیث شریف میں ہے کہ باعث برکت ہے۔اگر گھر میں سوا اہلیہ کے نہ ہو تو زوجہ پر سلام علیک کرے یانہیں ایک صاحب اس بارہ میں حجت کرتے ہیں کہ ازواج مطہرات پر سلام علیک کرنا کہیں حدیث سے ثابت نہیں ہوا ہے حالانکہ سیاق اس امر پر وارد ہے کہ اہلیہ پر بھی سلام علیک کرنا چاہئے۔اس کا جواب ان آیات واحادیث سے جن میں گھر جانے کے وقت سلام کرنے کا حکم ہے اور جن سے حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سلام ازواج مطہرات سے کرنا ثابت ہو ارقام فرمائیں۔فقط۔
الجواب:
قال اﷲ" فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللہ مبرکۃ طیبۃ " ۔ (اﷲ عزوجل نے فرمایا)جب تم گھروں میں جاؤ تو سلام کرو اپنی جانوں پر ملتے وقت کی اچھی دعا اﷲ کی طرف سے برکت والی پاکیزہ۔
معالم التنزیل میں ہے:
ای یسلم بعضکم علی بعض ھذا فی دخول الرجل بیت نفسہ یسلم علی اھلہ ومن فی بیتہ وھو قول جابر وطاؤس والزھری وقتادہ والضحاک وعمرو بن دینار قال قتادہ اذا دخلت بیتک فسلم علی اھلک فھم احق من سلمت علیہ ۔ یعنی تمھارے بعض بعض کو(ایک دوسرے کو)سلام کیا کریں۔یہ اس وقت کے لئے ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں جائے تو گھر میں موجود اپنوں اور دیگر وہاں حاضرین کو سلام دے۔جابر طاؤسزہری قتادہضحاک اورعمرو بن دینار کا یہی قول ہے۔اور حضرت قتادہ نے فرمایا جب تم اپنے گھر میں جاؤ تو اپنے گھر والوں کو سلام پیش کیا کروجن کو تم سلام دیتے ہو ان سے زیادہ حق گھر والے رکھتے ہیں۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴ /۶۱€
معالم التنزیل علی ھامش تفسیر خازن ∞تحت آیۃ ۲۴/ ۶۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۵ /۹۱€
معالم التنزیل علی ھامش تفسیر خازن ∞تحت آیۃ ۲۴/ ۶۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۵ /۹۱€
حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:
یاابنی اذادخلت علی اھلک فسلم یکون برکۃ علیک وعلی اھل بیتکرواہ عنہ الترمذی وقال حسن غریب ۔ اے میرے بیٹے! جب تو اپنے اہل پر داخل ہو تو سلام کروہ برکت ہوگا تجھ پر اور تیرے اہل خانہ پر(امام ترمذی نے اس کو حضرت انس سے روایت کیا اور فرمایا حدیث حسن غریب ہے۔ت)
دوسری حدیث میں ہے حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ نے فرمایا:
اذا دخلتم بیوتکم فسلموا علی اھلھا فان الشیطان اذا سلم احدکم لم یدخل بیتہرواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب تم اپنے گھر وں میں جاؤ تو اہل خانہ پر سلام کرو کہ جب تم میں کوئی گھر میں جاتے سلام کرتا ہے تو شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا(خرائطی نے مکارم الاخلاق میں اس کو حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ت)
علامہ مجدد الدین فیروز آبادی صراط مستقیم میں فرماتے ہیں:
کان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا جاء الی البیت بلیل سلم سلاما یستمعہ المستیقظون ولاینتبہ منہ الراقدون ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب رات کو مکان میں تشریف فرما ہوتے ایسی آواز سے سلام فرماتے کہ جاگنے والے سن لیتے اور سوتے نہ جاگتے۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
سلام سنت ست نزد درآمدن درخانہ براہل خانہ ۔ گھر میں داخل ہونے پرگھرواہوں کو سلام کرناسنت ہے۔(ت)
یاابنی اذادخلت علی اھلک فسلم یکون برکۃ علیک وعلی اھل بیتکرواہ عنہ الترمذی وقال حسن غریب ۔ اے میرے بیٹے! جب تو اپنے اہل پر داخل ہو تو سلام کروہ برکت ہوگا تجھ پر اور تیرے اہل خانہ پر(امام ترمذی نے اس کو حضرت انس سے روایت کیا اور فرمایا حدیث حسن غریب ہے۔ت)
دوسری حدیث میں ہے حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ نے فرمایا:
اذا دخلتم بیوتکم فسلموا علی اھلھا فان الشیطان اذا سلم احدکم لم یدخل بیتہرواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب تم اپنے گھر وں میں جاؤ تو اہل خانہ پر سلام کرو کہ جب تم میں کوئی گھر میں جاتے سلام کرتا ہے تو شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا(خرائطی نے مکارم الاخلاق میں اس کو حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ت)
علامہ مجدد الدین فیروز آبادی صراط مستقیم میں فرماتے ہیں:
کان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا جاء الی البیت بلیل سلم سلاما یستمعہ المستیقظون ولاینتبہ منہ الراقدون ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب رات کو مکان میں تشریف فرما ہوتے ایسی آواز سے سلام فرماتے کہ جاگنے والے سن لیتے اور سوتے نہ جاگتے۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں:
سلام سنت ست نزد درآمدن درخانہ براہل خانہ ۔ گھر میں داخل ہونے پرگھرواہوں کو سلام کرناسنت ہے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب فی التسلیم اذا دخل بیتہ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۵€
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ خرائطی فی مکارم الاخلاق کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ الباب الثالث دارالفکر بیروت ∞۶ /۲۷۴€
شرح سفر السعادۃ(صراط مستقیم) فصل در اسلام وآداب ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۴۱€۰
شرح سفرالسعادۃ (صراط مستقیم) فصل در اسلام وآداب ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۴۱۰€
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ خرائطی فی مکارم الاخلاق کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ الباب الثالث دارالفکر بیروت ∞۶ /۲۷۴€
شرح سفر السعادۃ(صراط مستقیم) فصل در اسلام وآداب ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۴۱€۰
شرح سفرالسعادۃ (صراط مستقیم) فصل در اسلام وآداب ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص۴۱۰€
صحیح مسلم وسنن ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا دخل بیتہ بدا بالسواک ۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب کاشانہ اقدس میں تشریف فرما ہوتے پہلے مسواک فرماتے۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
لاجل السلام علی اھلہ فان السلام اسم تشریف فاستعمل السواک للاتیان بہ ۔ یہ مسواک اپنے اہل پاک پر سلام فرمانے کے لئے تھی کہ سلام معظم نام ہے تو اس کے ادا کو مسواک فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
عین العلم میں ہے:
یسلم عندالدخول فی بیتہ لئلا یدخل الشیطان معہ وھو مامور بہ اھ ملخصا۔ اس بات کاحکم دیا گیا ہے کہ جب اپنے گھر میں داخل ہوں تو گھروالوں کو سلام کریں تاکہ شیطان ان کے ساتھ داخل نہ ہو سکے اھ ملخصا(ت)
عالمگیری میں محیط سے ہے:
اذا دخل الرجل فی بیتہ یسلم علی اھل بیتہ ۔ جب آدمی اپنے گھر میں جائے تو اپنے گھر والوں کو سلام پیش کرے(ت)
صیر فیہ پھر تتارخانیہ پھر ہندیہ میں ہے:ویسلم فی کل دخلۃ (گھر میں ہر بار داخل ہوتے وقت سلام کیاجائے۔ت)
بالجملہ یہ سنت قرآن وحدیث سب سے ثابت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا دخل بیتہ بدا بالسواک ۔ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب کاشانہ اقدس میں تشریف فرما ہوتے پہلے مسواک فرماتے۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
لاجل السلام علی اھلہ فان السلام اسم تشریف فاستعمل السواک للاتیان بہ ۔ یہ مسواک اپنے اہل پاک پر سلام فرمانے کے لئے تھی کہ سلام معظم نام ہے تو اس کے ادا کو مسواک فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
عین العلم میں ہے:
یسلم عندالدخول فی بیتہ لئلا یدخل الشیطان معہ وھو مامور بہ اھ ملخصا۔ اس بات کاحکم دیا گیا ہے کہ جب اپنے گھر میں داخل ہوں تو گھروالوں کو سلام کریں تاکہ شیطان ان کے ساتھ داخل نہ ہو سکے اھ ملخصا(ت)
عالمگیری میں محیط سے ہے:
اذا دخل الرجل فی بیتہ یسلم علی اھل بیتہ ۔ جب آدمی اپنے گھر میں جائے تو اپنے گھر والوں کو سلام پیش کرے(ت)
صیر فیہ پھر تتارخانیہ پھر ہندیہ میں ہے:ویسلم فی کل دخلۃ (گھر میں ہر بار داخل ہوتے وقت سلام کیاجائے۔ت)
بالجملہ یہ سنت قرآن وحدیث سب سے ثابت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب السواک ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸،€سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب السواک ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۷،€سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث کان اذا دخل الخ ∞مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۲۴۸€
عین العلم الباب الثامن ∞مطبع السلامیہ لاہور ص۱۵۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲€۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۵€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث کان اذا دخل الخ ∞مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۲۴۸€
عین العلم الباب الثامن ∞مطبع السلامیہ لاہور ص۱۵۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲€۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۵€
مسئلہ ۱۲۹: از شہرمذکور
بواپسی ڈاک بعد بجا آوری تسلیم دست بستہ گزارش ہے فتوی عطیہ حضور ملاوہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ کسی حدیث میں خاص تصریح ہے کہ حضورسرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ازواج مطہرات پر سلام کیازیادہ بجز آں کیا عرض کروں۔خاکسار۔
الجواب:
صحیح مسلم شریف کتاب النکاحباب فضیلۃ اعتاق امتہ ثم یتزوجہا حدیث طویل انس رضی اﷲ تعالی عنہ نکاح ام المومنین صفیہ رضی اﷲ تعالی عنہا وام المومنین زینب رضی اﷲ تعالی عنہا میں ہے:
فجعل یمر علی نسائہ فیسلم علی کل واحدۃ منھن سلام علیک کیف انتم یا اھل البیت ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات پر گزرنا شروع فرماتے ان میں ہر ایک پر سلام فرماتے اور سلام علیکم کے بعد مزاج پرسی کرتے۔
دوسری روایت میں ہے:
فخرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واتبعتہ فجعل یتبع حجر نسائہ یسلم علیھن واﷲ تعالی اعلم۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور میں سایہ دار ہمراہ تھا ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور انھیں سلام فرماتے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۰:ازکٹرہ پرگنہ منورہ ضلع گیا مکان سید ابوصالح صاحب خاں بہادر مرسلہ مولوی کریم رضا خاں صاحب ۲۴ صفر ۱۳۱۴ھ
مصافحہ بعد نماز جمعہ وعیدین وصبح وعصر بعد وعظ کے اور یہ معانقہ بعد عیدین کے جائز ہے یا نہیں اور جو کوئی اس فعل کے کرنیوالے کو جہنمی اور مردود اور رافضی کہے اس کا کیاحکم ہے: بینواتوجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
مصافحہ ومعانقہ مذکورہ جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہوں جائز ہیں۔اور بہ نیت محمود مستحب ومندوب
بواپسی ڈاک بعد بجا آوری تسلیم دست بستہ گزارش ہے فتوی عطیہ حضور ملاوہ صاحب یہ چاہتے ہیں کہ کسی حدیث میں خاص تصریح ہے کہ حضورسرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ازواج مطہرات پر سلام کیازیادہ بجز آں کیا عرض کروں۔خاکسار۔
الجواب:
صحیح مسلم شریف کتاب النکاحباب فضیلۃ اعتاق امتہ ثم یتزوجہا حدیث طویل انس رضی اﷲ تعالی عنہ نکاح ام المومنین صفیہ رضی اﷲ تعالی عنہا وام المومنین زینب رضی اﷲ تعالی عنہا میں ہے:
فجعل یمر علی نسائہ فیسلم علی کل واحدۃ منھن سلام علیک کیف انتم یا اھل البیت ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات پر گزرنا شروع فرماتے ان میں ہر ایک پر سلام فرماتے اور سلام علیکم کے بعد مزاج پرسی کرتے۔
دوسری روایت میں ہے:
فخرج رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واتبعتہ فجعل یتبع حجر نسائہ یسلم علیھن واﷲ تعالی اعلم۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور میں سایہ دار ہمراہ تھا ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے جاتے اور انھیں سلام فرماتے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۰:ازکٹرہ پرگنہ منورہ ضلع گیا مکان سید ابوصالح صاحب خاں بہادر مرسلہ مولوی کریم رضا خاں صاحب ۲۴ صفر ۱۳۱۴ھ
مصافحہ بعد نماز جمعہ وعیدین وصبح وعصر بعد وعظ کے اور یہ معانقہ بعد عیدین کے جائز ہے یا نہیں اور جو کوئی اس فعل کے کرنیوالے کو جہنمی اور مردود اور رافضی کہے اس کا کیاحکم ہے: بینواتوجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
مصافحہ ومعانقہ مذکورہ جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہوں جائز ہیں۔اور بہ نیت محمود مستحب ومندوب
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب النکاح باب فضیلۃ اعتاقہٖ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۶۱ ۔۴۶€۰
صحیح مسلم کتاب النکاح باب فضیلۃ اعتاقہٖ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۱ ۔۴۶۰€
صحیح مسلم کتاب النکاح باب فضیلۃ اعتاقہٖ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۶۱ ۔۴۶۰€
اس فعل پر جہنمی ومردود ورافضی کا حکم لگانے والا خود ان الفاظ کا مستحق اور ضال ومضل وفاسق ہے۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سباب المسلم فسق ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔(ت)
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درروغرر میں ہے:
المصافحۃ سنۃ عقب الصلوات کلھا و عند کل لقی ولنا فیہا رسالۃ سمیتھا سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوۃ والسلام ۔ مصافحہ کرنا تمام نمازوں کے بعد اورہر ملاقات کے موقع پر سنت ہے۔اسی موضوع پر ہمارا ایک رسالہ ہے جس کا نام سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوۃ والسلام رکھا ہے۔ (یعنی درود وسلام پڑھنے کے بعدمصافحہ کرنے میں مسلمانوں کے لئے سعادت ہے)۔(ت)
حاشیۃ الکنز لعلامۃ السید الازہری میں ہے:
من المستحب(ای یوم العید)اظہار الفرح و البشاشۃ والتھنیۃ والمصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا ۔ عید کے دن خوشی فرحت اور مبارکباد کا اظہار کرنا اور باہم ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا مستحب ہے بلکہ ہر نماز کے بعد مصافحہ سنت ہے۔(ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ عقب الصلوۃ کلھا ؤ ۔ یوں ہی مصافحہ کی طلب کی جائے کیونکہ یہ ہر نماز کے بعد سنت ہے۔(ت)
شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی شرح مؤطا میں لکھتے ہیں:
قال النووی اعلم ان المصافحۃ مستحبۃ عند کل لقاء واما ما اعتادہ امام نووی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا یہ جان لیجئے کہ ہر میل ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب ہے لیکن
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سباب المسلم فسق ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔(ت)
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درروغرر میں ہے:
المصافحۃ سنۃ عقب الصلوات کلھا و عند کل لقی ولنا فیہا رسالۃ سمیتھا سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوۃ والسلام ۔ مصافحہ کرنا تمام نمازوں کے بعد اورہر ملاقات کے موقع پر سنت ہے۔اسی موضوع پر ہمارا ایک رسالہ ہے جس کا نام سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوۃ والسلام رکھا ہے۔ (یعنی درود وسلام پڑھنے کے بعدمصافحہ کرنے میں مسلمانوں کے لئے سعادت ہے)۔(ت)
حاشیۃ الکنز لعلامۃ السید الازہری میں ہے:
من المستحب(ای یوم العید)اظہار الفرح و البشاشۃ والتھنیۃ والمصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا ۔ عید کے دن خوشی فرحت اور مبارکباد کا اظہار کرنا اور باہم ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا مستحب ہے بلکہ ہر نماز کے بعد مصافحہ سنت ہے۔(ت)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ عقب الصلوۃ کلھا ؤ ۔ یوں ہی مصافحہ کی طلب کی جائے کیونکہ یہ ہر نماز کے بعد سنت ہے۔(ت)
شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی شرح مؤطا میں لکھتے ہیں:
قال النووی اعلم ان المصافحۃ مستحبۃ عند کل لقاء واما ما اعتادہ امام نووی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا یہ جان لیجئے کہ ہر میل ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب ہے لیکن
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الآداب باب ماینہی عن السباب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۹€۳
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ الدررالحکام باب الصلٰوۃ العیدین ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€۲
فتح المعین شرح الکنز لملامسکین باب الصلٰوۃ العیدین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲۵€
حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام العیدین ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۹€
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ الدررالحکام باب الصلٰوۃ العیدین ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴€۲
فتح المعین شرح الکنز لملامسکین باب الصلٰوۃ العیدین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲۵€
حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام العیدین ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۹€
الناس من المصافحۃ بعد صلوۃ الصبح و العصر فلا اصل لہ فی الشرع علی ہذا الوجہ ولکن لاباس بہ فان اصل المصافحۃ سنۃ و کونھم حافظوا علیہا فی بعض الاحوال لایخرج ذلک البعض من کونہ من المصافحۃ التی ورد الشرع باصلھا اقول: ھکذا ینبغی ان یقال فی المصافحۃ یوم العید ۔ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد عام لوگوں نے مصافحہ کرنے کی جوعادت بنالی ہے شریعت میں اس طریقے کی کوئی اصل نہیں مگر ایسا کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں اس لئے کہ اصل مصافحہ سنت ہے لیکن لوگوں کا بعض حالات میں اس کی محافظت کرنا اس بعض کو اس مصافحہ سے نہیں نکالتا کہ جس کی اصل شریعت میں وارد ہوئی ہے۔میں کہتاہوں کہ اسی طرح مناسب ہے کہ عید کے دن مصافحہ کرنے کو کہا جائے۔(ت)
خو د مولائے وہابیہ معلم ثانی نجدیہ منکرین زمانہ کے امام الائمہ میاں اسمعیل صاحب دہلوی اپنی تقریر ذبیحہ میں اصول وہابیت کو یوں ذبح فرماتے ہیں:
ہمہ اوضاع از قرآن خوانی وفاتحہ خوانی و طعام خورانیدن سوائے کندن چاہ و امثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت ست گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یاعصر۔ قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے تمام طریقے یوں ہی کھانا کھلانایہ سب کام بدعت ہیں گو کہ بدعت حسنہ ہیں جیسے عید کے دن بغلگیر ہونا اور نماز فجر یا عصر کے بعد مصافحہ کرنا(ہاں البتہ میت کے ایصال ثواب کے لئے)کنواں کھودنا اور اسی طرح کا کوئی اور عمل کرنا مثلا دعااستغفار اور قربانی کرنا یہ سب کام جائز ہیں۔(ت)
حضرات منکرین جوش پاسداری مذہب میں ائمہ وعلمائے سابقین کو جو چاہیں کہیں اور شاید بکمال جرأت شاہ ولی اﷲ صاحب سے بھی آنکھ پھرلیںمگر کیا اپنے بڑے پیشوا میاں اسمعیل صاحب کو بھی جہنمی مردود رافضی مان لیں گے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالی کی توفیق سے جو بلند مرتبہ اور ذی شان ہے۔ت)تفصیل اسی مسئلہ کی ہمارے رسالہ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید(گلے میں ہار عید کے دن بغلگیر ہونے کے جواز
خو د مولائے وہابیہ معلم ثانی نجدیہ منکرین زمانہ کے امام الائمہ میاں اسمعیل صاحب دہلوی اپنی تقریر ذبیحہ میں اصول وہابیت کو یوں ذبح فرماتے ہیں:
ہمہ اوضاع از قرآن خوانی وفاتحہ خوانی و طعام خورانیدن سوائے کندن چاہ و امثالہ دعا واستغفار واضحیہ بدعت ست گوبدعت حسنہ بالخصوص ست مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یاعصر۔ قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے تمام طریقے یوں ہی کھانا کھلانایہ سب کام بدعت ہیں گو کہ بدعت حسنہ ہیں جیسے عید کے دن بغلگیر ہونا اور نماز فجر یا عصر کے بعد مصافحہ کرنا(ہاں البتہ میت کے ایصال ثواب کے لئے)کنواں کھودنا اور اسی طرح کا کوئی اور عمل کرنا مثلا دعااستغفار اور قربانی کرنا یہ سب کام جائز ہیں۔(ت)
حضرات منکرین جوش پاسداری مذہب میں ائمہ وعلمائے سابقین کو جو چاہیں کہیں اور شاید بکمال جرأت شاہ ولی اﷲ صاحب سے بھی آنکھ پھرلیںمگر کیا اپنے بڑے پیشوا میاں اسمعیل صاحب کو بھی جہنمی مردود رافضی مان لیں گے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالی کی توفیق سے جو بلند مرتبہ اور ذی شان ہے۔ت)تفصیل اسی مسئلہ کی ہمارے رسالہ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید(گلے میں ہار عید کے دن بغلگیر ہونے کے جواز
حوالہ / References
مسوی مصفی شرح موطا امام مالک باب یستحب المصافحۃ ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۱€
زبدۃ االنصائح(رسالہ نذور)
زبدۃ االنصائح(رسالہ نذور)
میں۔ت)میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱:از کٹرہ پرگنہ منورہ ضلع گیامکان سید ابوصالح صاحب خان بہادرمرسلہ مولوی عبدالکریم خاں صاحب ۲۴ صفر ۱۳۱۴ھ
کسی عالم یا کسی دوسرے بزرگ کا ہاتھ چومنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاں جائز ہے بلکہ مستحب ومندوب ومسنون ومحبوب ہے جبکہ بہ نیت صالحہ محمودہ ہوامام بخاری ادب مفرد میں اور ابوداؤد و بیہقی زارع بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورجلہ ۔ پھر ہم جلدی کرنے لگے تاکہ ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ کر ان کے ہاتھ اور پاؤں چومیں(ت)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
لاباس بتقبیل ید الرجل العالم والمتورع علی سبیل التبرک درر ونقل المصنف عن الجامع انہ لا باس بتقبیل یدالحاکم المتدین و السلطان العادل وقیل سنۃ مجتبی ۔ کسی عالم اور پارسا شخص کے بطور تبرک ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں(درر)مصنف نے الجامع سے نقل فرمایا کہ دیندار حاکم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بھی بوسہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ سنت ہے(مجتبی)۔(ت)
رد المحتار میں ہے:
قولہ وقیل سنۃ ای تقبیل ید العادل والسلطان العادل قال الشرنبلالی وعلمت ان مفاد الاحادیث سنیتہ اوند بہ کما مصنف کا قول"کہا گیا کہ یہ سنت ہے"(یعنی عالم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بوسہ دینا)علامہ شرنبلالی نے فرمایا کہ حدیثوں کا مفاد سنیت یا استحباب ہے جیسا کہ علامہ عینی نے اس کی طرف
مسئلہ ۱۳۱:از کٹرہ پرگنہ منورہ ضلع گیامکان سید ابوصالح صاحب خان بہادرمرسلہ مولوی عبدالکریم خاں صاحب ۲۴ صفر ۱۳۱۴ھ
کسی عالم یا کسی دوسرے بزرگ کا ہاتھ چومنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاں جائز ہے بلکہ مستحب ومندوب ومسنون ومحبوب ہے جبکہ بہ نیت صالحہ محمودہ ہوامام بخاری ادب مفرد میں اور ابوداؤد و بیہقی زارع بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورجلہ ۔ پھر ہم جلدی کرنے لگے تاکہ ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ کر ان کے ہاتھ اور پاؤں چومیں(ت)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
لاباس بتقبیل ید الرجل العالم والمتورع علی سبیل التبرک درر ونقل المصنف عن الجامع انہ لا باس بتقبیل یدالحاکم المتدین و السلطان العادل وقیل سنۃ مجتبی ۔ کسی عالم اور پارسا شخص کے بطور تبرک ہاتھ چومنے میں کوئی حرج نہیں(درر)مصنف نے الجامع سے نقل فرمایا کہ دیندار حاکم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بھی بوسہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ سنت ہے(مجتبی)۔(ت)
رد المحتار میں ہے:
قولہ وقیل سنۃ ای تقبیل ید العادل والسلطان العادل قال الشرنبلالی وعلمت ان مفاد الاحادیث سنیتہ اوند بہ کما مصنف کا قول"کہا گیا کہ یہ سنت ہے"(یعنی عالم اور عادل بادشاہ کے ہاتھوں کو بوسہ دینا)علامہ شرنبلالی نے فرمایا کہ حدیثوں کا مفاد سنیت یا استحباب ہے جیسا کہ علامہ عینی نے اس کی طرف
حوالہ / References
الادب المفرد ∞باب ۴۴۵€ تقبیل الرجل ∞ص ۳۵۳€ والسنن الکبرٰی کتاب النکاح ∞۷ /۱۰۲،€سنن ابی داؤد کتاب الآداب باب قبلہ الرجل ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۵۳€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتائی دہلی ۲ /۲۴۴€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء ∞مطبع مجتائی دہلی ۲ /۲۴۴€
اشار الیہ العینی ۔ اشارہ کیاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قدم عن الخانیۃ والحقائق ان التقبیل علی سبیل البربلا شہوۃ جائز بالاجماع ۔ فتاوی قاضی خاں اور الحقائق کے حوالے سے پہلے بیان کیا گیا کہ نیکی کے انداز پربغیر شہوت بوسہ دینا بالاتفاق جائز ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
اما علی وجہ البر فجائز عند الکل خانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم بھلائی کے طریقے پر بوسہ دینا سب کے نزدیک جائز ہے۔ فتاوی قاضیخان اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۲: ۱۶ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کہ مصافحہ صبح کے وقت بعد نماز کرنا مسنون ہے یا نہیں اور اگر کسی نے بعد نماز صبح کے مصافحہ کیا تو وہ بدعت ہے یا سنتبینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب :
اگر نماز سے پیشتر آج ملاقات نہ ہوئی تھی بعد نماز ملے یہ مصافحہ خاص مسنون ہے لکونھا عند اول اللقاء(اس لئے کہ یہ مصافحہ پہلی ملاقات کے وقت ہواہے۔ت)اور اگر پہلے مل چکے تھے تو اب بعد نماز کے گویابعد غیبت ملاقات جدیدہ ہے مصافحہ مذہب اصح میں مباح ہے۔
کما حققہ فی المرقاۃ وقال فی نسیم الریاض انہ الاصح ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ جیسا کہ مرقات شرح مشکوۃ میں اس کی تحقیق فرمائی گئیاو ر نسیم الریاض میں فرمایا:یہی زیادہ صحیح ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
اسی میں ہے:
قدم عن الخانیۃ والحقائق ان التقبیل علی سبیل البربلا شہوۃ جائز بالاجماع ۔ فتاوی قاضی خاں اور الحقائق کے حوالے سے پہلے بیان کیا گیا کہ نیکی کے انداز پربغیر شہوت بوسہ دینا بالاتفاق جائز ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
اما علی وجہ البر فجائز عند الکل خانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم بھلائی کے طریقے پر بوسہ دینا سب کے نزدیک جائز ہے۔ فتاوی قاضیخان اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۲: ۱۶ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کہ مصافحہ صبح کے وقت بعد نماز کرنا مسنون ہے یا نہیں اور اگر کسی نے بعد نماز صبح کے مصافحہ کیا تو وہ بدعت ہے یا سنتبینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب :
اگر نماز سے پیشتر آج ملاقات نہ ہوئی تھی بعد نماز ملے یہ مصافحہ خاص مسنون ہے لکونھا عند اول اللقاء(اس لئے کہ یہ مصافحہ پہلی ملاقات کے وقت ہواہے۔ت)اور اگر پہلے مل چکے تھے تو اب بعد نماز کے گویابعد غیبت ملاقات جدیدہ ہے مصافحہ مذہب اصح میں مباح ہے۔
کما حققہ فی المرقاۃ وقال فی نسیم الریاض انہ الاصح ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ جیسا کہ مرقات شرح مشکوۃ میں اس کی تحقیق فرمائی گئیاو ر نسیم الریاض میں فرمایا:یہی زیادہ صحیح ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۴€
نسیم الریاض فی شرح الشفاء الباب الثامن فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۳€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ با ب الاستبراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۴€
نسیم الریاض فی شرح الشفاء الباب الثامن فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۳€
مسئلہ ۱۳۳: ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص ایک جگہ پر بیٹھے ہوں اور ایک شخص نے آکر کہا اسلام علیکم اس کے جواب میں انھوں نے جواب دیا:آداب عرض یا تسلیمات یا بندگی۔یا ان میں سے ایک شخص نے اپنا ہاتھ ماتھے تک اٹھایا اور منہ سے کچھ جواب نہ دیا۔پس کفایہ اشخاص مذکورہ اس صورت میں اٹھ گیا یانہیں اس صورت میں کیا حکم ہے
الجواب:
نہ۔اور سب گنہگار رہے۔جب تک ان میں سے کوئی وعلیکم السلاموعلیک یا اسلام علیکم نہ کہے کہ الفاظ مذکورہ بندگی آدابتسلیمات وغیرہا الفاظ سلام سے نہیں ہیں۔اور صرف ہاتھ اٹھادینا کوئی چیز نہں جب تک اس کے ساتھ کوئی لفظ سلام نہ ہو۔ردالمحتار میں ظہیریہ سے ہے:
لفظ السلام فی المواضع کلھا السلام علیکم اوسلام علیکم بالتنوین وبدون ھذین کما یقول الجھال لایکون سلاما اھاقول:فلا یکون جوابا لان جواب السلام لیس الا بالسلام اما وحدہ او بزیادۃ الرحمۃ والبرکات لقولہ تعالی
" و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا " ۔
ومعلوم ان مااخترعوامن الالفاظ اوالاجزاء بالایماء اما ان یکون تحیۃ اولا علی الثانی عدم براء ۃ الذمۃ ظاہر لان الماموربہ التحیۃ وعلی الاول لیس عین السلام وھو ظاھر ولا احسن منہ فان المخترع لا یمکن ان یکون احسن من الوارد فخرج عن کلاالوجہین و بقی الواجب الکفائی علی کل عین۔ سب مقامات پر لفظ سلام(بصورت)السلام علیکم(بغیر تنوین معرف بہ لام ذکر کرنا)یا دوسری صورت تنوین کے ساتھ ذکر کرنا ہے سلام علیکم ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت اختیار کرنا جائز نہیں جیسے جہلاء کا طریقہ ہے لہذا وہ سلام تصور نہیں ہوگا۔
اقول:(میں کہتاہوں)کہ اس کا مفھوم یہ ہے کہ وہ سلام کا جواب نہ ہوگا کیونکہ لفظ سلام کاجواب اسی لفظ سے ہوسکتاہے یا صرف یہی لفظ جواب میں کہا جائے یا اس کے ساتھ رحمت اور برکات کا اضافہ کیا جائے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ جب تمھیں سلام کیا جائے توتم اس سے بہتر جواب دو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم وہی لوٹا دو(یعنی اگر کوئی شخص تمھیں اسلام علیکم کہے تو اسے اضافی الفاظ کے ساتھ یوں جواب دو
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص ایک جگہ پر بیٹھے ہوں اور ایک شخص نے آکر کہا اسلام علیکم اس کے جواب میں انھوں نے جواب دیا:آداب عرض یا تسلیمات یا بندگی۔یا ان میں سے ایک شخص نے اپنا ہاتھ ماتھے تک اٹھایا اور منہ سے کچھ جواب نہ دیا۔پس کفایہ اشخاص مذکورہ اس صورت میں اٹھ گیا یانہیں اس صورت میں کیا حکم ہے
الجواب:
نہ۔اور سب گنہگار رہے۔جب تک ان میں سے کوئی وعلیکم السلاموعلیک یا اسلام علیکم نہ کہے کہ الفاظ مذکورہ بندگی آدابتسلیمات وغیرہا الفاظ سلام سے نہیں ہیں۔اور صرف ہاتھ اٹھادینا کوئی چیز نہں جب تک اس کے ساتھ کوئی لفظ سلام نہ ہو۔ردالمحتار میں ظہیریہ سے ہے:
لفظ السلام فی المواضع کلھا السلام علیکم اوسلام علیکم بالتنوین وبدون ھذین کما یقول الجھال لایکون سلاما اھاقول:فلا یکون جوابا لان جواب السلام لیس الا بالسلام اما وحدہ او بزیادۃ الرحمۃ والبرکات لقولہ تعالی
" و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا " ۔
ومعلوم ان مااخترعوامن الالفاظ اوالاجزاء بالایماء اما ان یکون تحیۃ اولا علی الثانی عدم براء ۃ الذمۃ ظاہر لان الماموربہ التحیۃ وعلی الاول لیس عین السلام وھو ظاھر ولا احسن منہ فان المخترع لا یمکن ان یکون احسن من الوارد فخرج عن کلاالوجہین و بقی الواجب الکفائی علی کل عین۔ سب مقامات پر لفظ سلام(بصورت)السلام علیکم(بغیر تنوین معرف بہ لام ذکر کرنا)یا دوسری صورت تنوین کے ساتھ ذکر کرنا ہے سلام علیکم ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت اختیار کرنا جائز نہیں جیسے جہلاء کا طریقہ ہے لہذا وہ سلام تصور نہیں ہوگا۔
اقول:(میں کہتاہوں)کہ اس کا مفھوم یہ ہے کہ وہ سلام کا جواب نہ ہوگا کیونکہ لفظ سلام کاجواب اسی لفظ سے ہوسکتاہے یا صرف یہی لفظ جواب میں کہا جائے یا اس کے ساتھ رحمت اور برکات کا اضافہ کیا جائے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ جب تمھیں سلام کیا جائے توتم اس سے بہتر جواب دو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کم از کم وہی لوٹا دو(یعنی اگر کوئی شخص تمھیں اسلام علیکم کہے تو اسے اضافی الفاظ کے ساتھ یوں جواب دو
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۶۷€
القرآن الکریم ∞۴ /۸۶€
القرآن الکریم ∞۴ /۸۶€
وعلیکم السلام ورحمۃاﷲ وبرکاتہ۔اور اگریہ نہ ہوسکے تو پھر اتنا ہی جوابا کہہ دو علیکم السلام)اسی سے معلوم ہوا کہ سلام کا جواب فقط سلام ہی سے ہوسکتا ہے اوریہ معلوم ہی ہےکہ لوگوں نے جو الفاظ یاطریقے سلام کے لئے اشارہ وغیرہ کی صورت میں از خود گھڑلئے ہیں ان کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ وہ تحیہ ہویعنی سلام تصور ہو اور دوسرے یہ کہ وہ تحیہ یعنی سلام نہ ہو۔بصورت ثانی ذمہ داری پوری نہ ہونا(عدم براءت ذمہ)ظاہر ہے کیونکہ جس بات کاحکم دیا گیا(مامور بہ)وہ تحیہ یعنی سلام ہے اور پہلی صورت میں نہ تو وہ بعینہ سلام ہے جیسا کہ ظاہر ہے اور نہ اس سے بہتر(احسن)۔اس لئے کہ خود ساختہ اور بناوٹی چیز منقول اور وارد شدہ سے کسی طرح اچھی قرار نہیں دی جاسکتی۔پس دونوں صورتوں میں سلام کا جواب نہ ہوا۔لہذا واجب کفایہ بذمہ ہر فرد باقی رہا اور ادا نہ ہوا۔(ت)مرقاۃ شریف میں ہے:
قد صح بالاحادیث المتواترۃ معنی ان السلام باللفظ سنۃ وجوابہ واجب کذلک ۔ جو احادیث تواتر معنی کے درجے تک پہنچی ہوئی ہیں ان سے بصحت ثابت ہے کہ سلام دینا اس کے الفاظ کے ساتھ سنت ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسی لفظ سے واجب ہے۔(ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من تشبہ بغیرنا لاتشبہوا بالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیہود الاشارۃ بالاصابع و تسلیم النصاری الاشارۃ بالکفرواہ الترمذی عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما وقال اسنادہ ضعیف قال العلامۃ القاری لعل وجہہ انہ من عمرو بن شیعب عن ابیہ عن جدہ وقد تقدم الخلاف فیہ وان المعتمد ان سندہ حسن ہمارے گروہ سے نہیں جو ہمارے غیروں کی شکل بنےنہ یہود سے مشابہت پیدا کر نہ نصاری سے کہ یہود کا سلام انگلی سے اشارہ کرنا ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلی سے اشارہ(امام ترمذی نے اس کو حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔ ملا علی قاری نے فرمایا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت مذکورہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند کے ساتھ
قد صح بالاحادیث المتواترۃ معنی ان السلام باللفظ سنۃ وجوابہ واجب کذلک ۔ جو احادیث تواتر معنی کے درجے تک پہنچی ہوئی ہیں ان سے بصحت ثابت ہے کہ سلام دینا اس کے الفاظ کے ساتھ سنت ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسی لفظ سے واجب ہے۔(ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من تشبہ بغیرنا لاتشبہوا بالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیہود الاشارۃ بالاصابع و تسلیم النصاری الاشارۃ بالکفرواہ الترمذی عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما وقال اسنادہ ضعیف قال العلامۃ القاری لعل وجہہ انہ من عمرو بن شیعب عن ابیہ عن جدہ وقد تقدم الخلاف فیہ وان المعتمد ان سندہ حسن ہمارے گروہ سے نہیں جو ہمارے غیروں کی شکل بنےنہ یہود سے مشابہت پیدا کر نہ نصاری سے کہ یہود کا سلام انگلی سے اشارہ کرنا ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلی سے اشارہ(امام ترمذی نے اس کو حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا ہے اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔ ملا علی قاری نے فرمایا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت مذکورہ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند کے ساتھ
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ المصابیح کتا ب الاداب الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸ /۴۳۱€
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب ماجاء فی فضل الذی یبدأ الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴€
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب ماجاء فی فضل الذی یبدأ الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴€
لاسیما وقد اسندہ السیوطی فی الجامع الصغیر الی ابن عمرو فارتفع النزاع وزال الاشکال اھاقول: رحم اﷲ مولانا القاری انما حالہ الامام السیوطی علی ت یعنی الترمذی ففیم یرتفع النزاع ویزول الاشکال ثم لیس تضعیف الترمذی لما ظن فان الجمھور ومنھم الترمذی علی الاحتجاج بعمروبن شعیب وبروایتہ عن عن ابیہ عن جدہ بل الوجہ انہ من روایۃ ابن لھیعۃ اذیقول الترمذیحدثنا قتبیۃ نا ابن لھیعۃ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فذکرہ قال الترمذی ہذا حدیث اسنادہ ضعیف وروی ابن المبارک ھذا الحدیث عن ابن لھیعۃ فلم یرفعہ اھ وقد قال فی کتاب النکاح باب مذکور ہے اور اس میں پہلے اختلاف گزر چکا ہے۔لیکن معتمد یہ ہے کہ اس کی سند حسن ہے خصوصاجبکہ امام سیوطی نے جامع صغیر میں اس کو ابن عمرو کی طرف منسوب اور حوالے کیا ہے۔لہذا نزاع ختم اور اشکال زائل ہوگیا۔اھ
اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالی ملا علی پر رحم فرمائے کہ امام سیوطی نے تو اسے"ت"یعنی ترمذی کے حوالے کیا ہے پھر نزاع کیسے ختم اور اشکال کیسے زائل ہوسکتا ہے پھر امام ترمذی کا ضعیف کہنا بھی ملا علی قاری کے خیال اور زعم کے مطابق نہیں اس لئے کہ جمہور نے(جن میں امام ترمذی بھی شامل ہیں) عمرو بن شعیب بروایتہ عن ابیہ عن جدہ سے روایت کرنے سے استدلال کیا ہے(لہذا یہ وجہ ضعف نہیں ہوسکتی)بلکہ وجہ ضعف یہ ہے کہ حدیث مذکور ابن لہیعہ کی روایت ہے اس لئے کہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا (اس نے کہا)ہم سے ابن لہیمہ نے بیان کیاا س نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پوری حدیث ذکر فرمائی (اس کے متعلق)امام ترمذی نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔اور حضرت عبداﷲ بن مبارک نے حدیث ابن لہیعہ سے غیر مرفوع روایت فرمائی اھ۔اور امام ترمذی نے
اقول:(میں کہتاہوں)اﷲ تعالی ملا علی پر رحم فرمائے کہ امام سیوطی نے تو اسے"ت"یعنی ترمذی کے حوالے کیا ہے پھر نزاع کیسے ختم اور اشکال کیسے زائل ہوسکتا ہے پھر امام ترمذی کا ضعیف کہنا بھی ملا علی قاری کے خیال اور زعم کے مطابق نہیں اس لئے کہ جمہور نے(جن میں امام ترمذی بھی شامل ہیں) عمرو بن شعیب بروایتہ عن ابیہ عن جدہ سے روایت کرنے سے استدلال کیا ہے(لہذا یہ وجہ ضعف نہیں ہوسکتی)بلکہ وجہ ضعف یہ ہے کہ حدیث مذکور ابن لہیعہ کی روایت ہے اس لئے کہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا (اس نے کہا)ہم سے ابن لہیمہ نے بیان کیاا س نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر پوری حدیث ذکر فرمائی (اس کے متعلق)امام ترمذی نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔اور حضرت عبداﷲ بن مبارک نے حدیث ابن لہیعہ سے غیر مرفوع روایت فرمائی اھ۔اور امام ترمذی نے
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الادب الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۴۳۱€
جامع الترمذی ابواب الاستیذان با ب ماجاء فی فصل الذی یبدأ بالسلام ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴€
جامع الترمذی ابواب الاستیذان با ب ماجاء فی فصل الذی یبدأ بالسلام ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۹۴€
ماجاء فی من یتزوج المرأۃ ثم یطلقھا قبل ان یدخل بھا رواہ بعین السند ثم قال ھذا حدیث لایصح ابن لہیعۃ یضعف فی الحدیث اھ مختصرا۔وکذا ضعفہ فی غیر ہذا المحل فالیہ یشیرھنا نعم الاظھر عندی ان حدیث ابن لھیعۃ لاینزل عن الحسن وقد صرح المناوی فی التیسیر ان حدیثہ حسن ۔ کتاب النکاح میں یہ باب ذکر فرمایا کہ جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور پھر ہمبستری سے پہلے ہی اسے طلاق دے دے(توکیاحکم ہے امام ترمذی نے بالکل بعینہ اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں(کیونکہ اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی ہے جسے حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیا جاتاہے اھ مختصرا۔یونہی اس مقام کے علاوہ بھی امام ترمذی نے اس کی تضعیف کی ہے لہذا امام ترمذی یہاں اسی طرف اشارہ فرماتے ہیں(یعنی ابن الہیعہ کے ضعف کی طرف)ہاں البتہ میرے نزدیک زیادہ ظاہر یہ ہے کہ ابن لہیعہ کی روایت درجہ حسن سے کم نہیں چنانچہ علامہ مناوی نے"التسیر"میں تصریح فرمائی کہ اس کی حدیث حسن ہے۔(ت)
ہاں لفظ سلام کے ساتھ ہاتھ کا اشارہ بھی ہو تو مضائقہ نہیں۔
اخرج الترمذی قال حدثنا سوید نا عبداﷲ بن المبارک نا عبدالحمید بن بھرام انہ سمع شہر بن حوشب یقول سمعت اسماء بنت یزید تحدث ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امام ترمذی نے تخریج کیا اور فرمایا ہم سے سوید نے بیان کیا ہے۔ان سے عبداﷲ بن مبارک نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالحمید بن بہرام نے بیان کیا کہ اس نے شہر بن حوشب کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے اسماء دختر یزید سے سنا کہ وہ بیان کرتی تھیں کہ ایک دن مسجدمیں رسول اﷲ
ہاں لفظ سلام کے ساتھ ہاتھ کا اشارہ بھی ہو تو مضائقہ نہیں۔
اخرج الترمذی قال حدثنا سوید نا عبداﷲ بن المبارک نا عبدالحمید بن بھرام انہ سمع شہر بن حوشب یقول سمعت اسماء بنت یزید تحدث ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امام ترمذی نے تخریج کیا اور فرمایا ہم سے سوید نے بیان کیا ہے۔ان سے عبداﷲ بن مبارک نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں ہم سے عبدالحمید بن بہرام نے بیان کیا کہ اس نے شہر بن حوشب کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے اسماء دختر یزید سے سنا کہ وہ بیان کرتی تھیں کہ ایک دن مسجدمیں رسول اﷲ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی من یتزوج الخ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۳€۳
التیسیر للامام المناوی تحت حرف للام ∞مکتبہ الامام الشافعی الریاض ۲ /۳۲۹€
التیسیر للامام المناوی تحت حرف للام ∞مکتبہ الامام الشافعی الریاض ۲ /۳۲۹€
مرفی المسجد یوما وعصبۃ من النساء قعود فالوی بیدہ ھذا حدیث حسن الخ۔قال الامام النووی وھو محمول علی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جمع بین اللفظ والاشارۃ ویدل علی ھذا ان اباداؤد روی ھذا الحدیث وقال فی روایتہ فسلم علینا اھقال العلامۃ القاری بعد نقلہ قلت علی تقدیر عدم تلفظہ علیہ الصلوۃ والسلام بالسلام لامحذور فیہ لانہ ماشرع السلام علی من مرعلی جماعۃ من النسوان وان مامرعنہ علیہ الصلوۃ والسلام مما تقدم علی السلام المصرح فھو من خصوصیاتہ علیہ الصلوۃ والسلام فلہ ان یسلم ولا یسلم وان یشیر و لایشیر علی انہ قد یراد بالاشارۃ مجرد التواضع من غیر قصد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا گزر ہوا جبکہ کچھ عورتوں کی ایک جماعت وہاں موجود تھی آپ نے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرمایا۔یہ حدیث حسن ہے الخ۔امام نووی نے فرمایا یہ اس بات پر محمول سمجھا جائے گا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ نے لفظ سلام اور اشارہ دونوں کو بیک وقت جمع کرکے استعمال کیا(یعنی زبان مبارک سے انھیں سلام کہا اور ہاتھ مبارک سے انھیں متوجہ کرنے کے لئے اشارہ فرمایا جوجائز اور درست اقدام ہے۔مترجم)اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امام ابوداؤد نے اس حدیث کی روایت میں فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اھ۔حضر ت ملا علی قاری نے اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا میں کہتاہوں اس تقدیر پر کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زبان مبارک سے لفظ سلام نہ بولا ہو تو پھر کوئی شرعی محذور(خلاف ورزی)نہیں کیونکہ جو کوئی عورتوں کے گروہ کے پاس سے گزرے اس کے لئے انھیں سلام کرنا مشروع نہیں۔اور اگر آپ نے زبان مبارک سے مستورات کی جماعت کوسلام کیاہو جیسا کہ گزشتہ حدیث میں سلام کرنے کی تصریح موجود ہے تو پھر اس کا جواب یہ ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی دیگر خصوصیات کی طرح یہ بھی آپ کی خصوصیت ہو
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الاستیذان باب ماجاء فی التسلیم علی النساء ∞امین کمپنی دہلی ۲/۹۴€
السلام الخ
اقول:مبنی کلہ علی انہ لم یرد السلام ولایظھر فرق بین ماذکر اولا ومازاد فی العلاوۃ سوی انہ ذکر فیہا للاشارۃ محملاوھو التواضع وھذہ شاھدۃ الواقعۃ سیدتنا اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا شاھدۃ بانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سلم فان لم یحمل علی التلفظ لزم ان تکون نفس الاشارۃ تسلیما وھو معلوم الانتفاء من الشرع فوجب الحمل علی الجمع تأمل لعل لکلامہ محملا لست احصلہ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ لہذا آپ کی مرضی پرمنحصر ہے کہ مستورات کے گروہ کو سلام کریں یا نہ کریں۔اشارہ فرمائیں یا نہ فرمائیں۔(گویا آپ کی ذات پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔مترجم)علاوہ یہ کہ کبھی اشارہ سے بغیر قصد سلا م کے صرف تواضع مرادہوتی ہے الخ ۔
اقول:(میں کہتاہوں)اس سب کی بنیاد اس پر ہے کہ آپ نے ارادہ سلام نہ فرمایا ہو۔لہذا پہلے مذکورہ کلام اور اس کے علاوہ اضافی کلام میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اس دوسری توجیہ میں اشارہ کا محل تواضع بیان کردیا گیا۔اور اس واقعہ کی عینی گواہ سیدہ اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا ہیں جو چشم دید واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عورتوں کو سلام کیا(لہذا اس کا محمل تلفظ ہے۔مترجم)اوراگر اس کوتلفظ پر حمل نہ کیا جائے توپھر نفس اشارہ کا سلام ہونا لازم آئے گا اور شریعت میں اس کی نفی معلوم ہی ہے۔پھر لامحالہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے طریقہ مذکورہ کو سلام اوراشارہ دونوں کے جمع پر حمل کرنا واجب(ضروری)ہوا۔یہاں اچھی طرح غور وفکر کرلیجئے شاید ان کے کلام کا کوئی اور قابل قدر محمل بھی ہوجو میں نہیں حاصل کرسکااور اﷲ تعالی پاک۔برتر سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بالالتزام بعد صلوۃ فجر مصافحہ کرنا مسنون ہے یا مستحب یاعبث یا مکروہ بینوا ﷲ توجروا عنداللہ(اﷲ تعالی کےلئے بیان فرماؤ تاکہ اس کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
مباح ہے۔فی نسیم الریاض الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب(نسیم الریاض میں ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایسی بدعت ہے جو مباح ہے۔اور اﷲ تعالی
اقول:مبنی کلہ علی انہ لم یرد السلام ولایظھر فرق بین ماذکر اولا ومازاد فی العلاوۃ سوی انہ ذکر فیہا للاشارۃ محملاوھو التواضع وھذہ شاھدۃ الواقعۃ سیدتنا اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا شاھدۃ بانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سلم فان لم یحمل علی التلفظ لزم ان تکون نفس الاشارۃ تسلیما وھو معلوم الانتفاء من الشرع فوجب الحمل علی الجمع تأمل لعل لکلامہ محملا لست احصلہ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ لہذا آپ کی مرضی پرمنحصر ہے کہ مستورات کے گروہ کو سلام کریں یا نہ کریں۔اشارہ فرمائیں یا نہ فرمائیں۔(گویا آپ کی ذات پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔مترجم)علاوہ یہ کہ کبھی اشارہ سے بغیر قصد سلا م کے صرف تواضع مرادہوتی ہے الخ ۔
اقول:(میں کہتاہوں)اس سب کی بنیاد اس پر ہے کہ آپ نے ارادہ سلام نہ فرمایا ہو۔لہذا پہلے مذکورہ کلام اور اس کے علاوہ اضافی کلام میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اس دوسری توجیہ میں اشارہ کا محل تواضع بیان کردیا گیا۔اور اس واقعہ کی عینی گواہ سیدہ اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا ہیں جو چشم دید واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عورتوں کو سلام کیا(لہذا اس کا محمل تلفظ ہے۔مترجم)اوراگر اس کوتلفظ پر حمل نہ کیا جائے توپھر نفس اشارہ کا سلام ہونا لازم آئے گا اور شریعت میں اس کی نفی معلوم ہی ہے۔پھر لامحالہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے طریقہ مذکورہ کو سلام اوراشارہ دونوں کے جمع پر حمل کرنا واجب(ضروری)ہوا۔یہاں اچھی طرح غور وفکر کرلیجئے شاید ان کے کلام کا کوئی اور قابل قدر محمل بھی ہوجو میں نہیں حاصل کرسکااور اﷲ تعالی پاک۔برتر سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بالالتزام بعد صلوۃ فجر مصافحہ کرنا مسنون ہے یا مستحب یاعبث یا مکروہ بینوا ﷲ توجروا عنداللہ(اﷲ تعالی کےلئے بیان فرماؤ تاکہ اس کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
مباح ہے۔فی نسیم الریاض الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب(نسیم الریاض میں ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایسی بدعت ہے جو مباح ہے۔اور اﷲ تعالی
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الآدب الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۴۳۱€
نسیم الریاض فی شرح الشفاء الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞۲/ ۱۳€
نسیم الریاض فی شرح الشفاء الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞۲/ ۱۳€
ہی اچھی طرح راہ صواب کا عالم ہے۔ت)
مسئلہ ۱۳۵ تا ۱۳۹: مرسلہ عبدالمجید خاں ضلع ہگلی ڈاکخانہ ریشٹراسرکاری
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں بعد مصافحہ زید نے بکر کا ہاتھ چومہ آنکھوں سے لگایا جائز ہے یانہیں
(۲)مرید اپنے پیر کا ہاتھ بعد مصافحہ چومنا ایک ضروری امر اپنے لئے سمجھے جائز ہے یانہیں
(۳)پیر کو اپنے مرید سے اپنا ہاتھ چوموانا چاہئے یانہیں
(۴)ہاتھ چومنا کسی کا بزرگ سمجھ کر جائز ہے یاناجائز
(۵)ہاتھ چومنا سنت ہے یا فعل بزرگان دین یا فعل تابعین یا فعل صحابہ کرام جواب ازروئےفقہ و حدیث نہ رسوم شیوخ پابند طریق۔
الجواب:
بزرگان دین مثل پیر مہتدی وعالم سنی کے ہاتھ چومنا جائز بلکہ مستحب بلکہ سنت ہے ہاں کسی دنیادار کا ہاتھ دنیا کےلئے چومنا منع ہے۔درمختارمیں ہے:
لاباس بتقبیل یدالعالم والمتورع علی سبیل التبرک ۔ کچھ حرج نہیں کہ کسی عالم اور زاہد کے ہاتھوں کو حصول برکت کے لئے بوسہ دیا جائے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الشرنبلالی وعلمت ان مفاد الاحادیث سنیتہ او ند بہ کما اشارالیہ العینی ۔ علامہ شرنبلالی نے فرمایا:تو نے یہ سمجھ لیا کہ حدیثوں کا مفاد (اس کام کا)سنت یا مستحب ہونا ہے جیسا کہ علامہ عینی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
فی المحیط ان التعظیم اسلامہ واکرامہ جاز وان لنیل الدنیا کرہ ۔ محیط میں ہے اس کی تعظیم اورعزت افزائی کی خاطر(ایسا کرنا) جائز ہے لیکن حصول دنیا کے لئے(ایسا کام کرنا)مکروہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۵ تا ۱۳۹: مرسلہ عبدالمجید خاں ضلع ہگلی ڈاکخانہ ریشٹراسرکاری
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں بعد مصافحہ زید نے بکر کا ہاتھ چومہ آنکھوں سے لگایا جائز ہے یانہیں
(۲)مرید اپنے پیر کا ہاتھ بعد مصافحہ چومنا ایک ضروری امر اپنے لئے سمجھے جائز ہے یانہیں
(۳)پیر کو اپنے مرید سے اپنا ہاتھ چوموانا چاہئے یانہیں
(۴)ہاتھ چومنا کسی کا بزرگ سمجھ کر جائز ہے یاناجائز
(۵)ہاتھ چومنا سنت ہے یا فعل بزرگان دین یا فعل تابعین یا فعل صحابہ کرام جواب ازروئےفقہ و حدیث نہ رسوم شیوخ پابند طریق۔
الجواب:
بزرگان دین مثل پیر مہتدی وعالم سنی کے ہاتھ چومنا جائز بلکہ مستحب بلکہ سنت ہے ہاں کسی دنیادار کا ہاتھ دنیا کےلئے چومنا منع ہے۔درمختارمیں ہے:
لاباس بتقبیل یدالعالم والمتورع علی سبیل التبرک ۔ کچھ حرج نہیں کہ کسی عالم اور زاہد کے ہاتھوں کو حصول برکت کے لئے بوسہ دیا جائے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الشرنبلالی وعلمت ان مفاد الاحادیث سنیتہ او ند بہ کما اشارالیہ العینی ۔ علامہ شرنبلالی نے فرمایا:تو نے یہ سمجھ لیا کہ حدیثوں کا مفاد (اس کام کا)سنت یا مستحب ہونا ہے جیسا کہ علامہ عینی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
فی المحیط ان التعظیم اسلامہ واکرامہ جاز وان لنیل الدنیا کرہ ۔ محیط میں ہے اس کی تعظیم اورعزت افزائی کی خاطر(ایسا کرنا) جائز ہے لیکن حصول دنیا کے لئے(ایسا کام کرنا)مکروہ ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵€
مگر ہاتھ چومنا بایں معنی ضروری نہیں کہ فرض یا واجب ہے۔ہاں رسم وعرف مسلمین میں اس کی دست بوسی شائع ہو تو اسکا ایک فعل مسنون یا مستحب ہے۔احتراز کرکے مسلمانوں کی عادت کا خلاف کرنا اور وحشت دلانا یہ جائز نہیں حدیقہ ندیہ وغیرہا میں ہے:
خروجہ عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۔ لوگوں کی مقرر عادت سے باہر ہونا(اور اس کا خلاف کرنا) ایک گونہ شہرت(نمائش)اورمکروہ ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولا تنفروا ۔ خوشخبری سناؤاور(لوگوں کو)نفرت نہ دلاؤ۔(ت)
اور پیر کا اپنے مریدوں سے ہاتھ چوموانا بایں معنی کہ وہ چومنا چاہیں تویہ منع نہیں کرتا بلکہ ہاتھ بڑھادیتاہے کوئی حرج نہیں رکھتا بلکہ اگر قدم چومنا چاہیں اور یہ منع نہ کرے جب بھی جائزہے۔درمختارمیں ہے:
طلب من عالم اوزاھد ان یدفع الیہ قدمہ ویمکنہ من قدمہ لیقبلہ اجابہ و قیل لا ۔ کسی عالم یا کسی زاہد(پرہیز گار)سے کسی نیاز مند نے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے پاؤں اس کے حوالے کردے اور ان پر اسے تسلط اور قابو پانے کا اختیار دے تاکہ وہ انھیں بوسہ دے تو عالم اور زاہد اس کی درخواست قبول فرمائے(یعنی پاؤں چومنے کی اجازت دے)اور(ایک ضعیف روایت میں)کہا گیا کہ ایسا کرنے کی اجازت نہ دے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لما اخرجہ الحاکم ان رجلااتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاذن لہ فقبل رجلیہ ۔ اس لئے محدث حاکم نے اس روایت کی تخریج فرمائی کہ ایک صاحب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے (انھوں نے آپ کے پاؤں چومنے کی درخواست کی)تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں اجازت دی تو انھوں نے آپ کے قدم چومے واﷲ تعالی اعلم۔
خروجہ عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۔ لوگوں کی مقرر عادت سے باہر ہونا(اور اس کا خلاف کرنا) ایک گونہ شہرت(نمائش)اورمکروہ ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولا تنفروا ۔ خوشخبری سناؤاور(لوگوں کو)نفرت نہ دلاؤ۔(ت)
اور پیر کا اپنے مریدوں سے ہاتھ چوموانا بایں معنی کہ وہ چومنا چاہیں تویہ منع نہیں کرتا بلکہ ہاتھ بڑھادیتاہے کوئی حرج نہیں رکھتا بلکہ اگر قدم چومنا چاہیں اور یہ منع نہ کرے جب بھی جائزہے۔درمختارمیں ہے:
طلب من عالم اوزاھد ان یدفع الیہ قدمہ ویمکنہ من قدمہ لیقبلہ اجابہ و قیل لا ۔ کسی عالم یا کسی زاہد(پرہیز گار)سے کسی نیاز مند نے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے پاؤں اس کے حوالے کردے اور ان پر اسے تسلط اور قابو پانے کا اختیار دے تاکہ وہ انھیں بوسہ دے تو عالم اور زاہد اس کی درخواست قبول فرمائے(یعنی پاؤں چومنے کی اجازت دے)اور(ایک ضعیف روایت میں)کہا گیا کہ ایسا کرنے کی اجازت نہ دے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لما اخرجہ الحاکم ان رجلااتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاذن لہ فقبل رجلیہ ۔ اس لئے محدث حاکم نے اس روایت کی تخریج فرمائی کہ ایک صاحب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے (انھوں نے آپ کے پاؤں چومنے کی درخواست کی)تو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں اجازت دی تو انھوں نے آپ کے قدم چومے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ محمدیہ الصنف التاسع تتمۃ الاصناف التسعۃ ∞نوریہ رضویہ ۲/ ۵۸۲€
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم بالموعظۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۵€
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم بالموعظۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۵€
رسالہ
ابرالمقال فی استحسان قبلۃ الاجلال ۱۳۰۸ھ
(بوسہ تعظیمی کے مستحسن ہونے میں درست ترین کلام)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۴۰:از سورت کٹھور مسجد پرب مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب از علیگڑھ مدرسہ مولانا مولوی محمد لطیف اﷲ صاحب مرسلہ مولوی سندی صاحب طرفہ ایں کہ از ہردوجابوقت واحد سوال آمد(طرفہ یہ کہ ایك ہی وقت دونوں جگہوں سے سوال ایا۔ت)۱۳ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ شہر موریس میں قبلہ رخ کی دیوار کے ساتھ محراب کے متصل بیت اﷲ شریف کے غلاف کا ٹکڑا دوگز لمبا او رسوا گز چوڑا لٹکا ہوا ہے اور وہاں کے باشندے میمن وغیرہ سب سوداگر خاص وعام بعد پنچگانہ اس ٹکڑے کو بوسہ دیتے ہیں اور بعد نماز جمعہ کے تو بوجہ کثرت نمازیوں کے بوسہ دینے میں بہت ہی ہجوم کرتے ہیں۔کوئی چاربوسے دیتا ہے کوئی زیادہ کوئی کمجیسا کسی کا موقع لگاویسا ہی اس نے کیااور کوئی ہجوم اور کثرت کی وجہ سے محروم بھی رہ جاتاہے۔اور اس امر میں اس کو معظم چیز سمجھا کر کمال کوشش کرتے ہیں۔کسی قدر جاننے والے لوگ تو تعظیم کا بوسہ دیتے ہیں۔او ر عوام کا حال معلوم نہیں کہ وہ کیا سمجھ کر بوسہ دیتے ہیں
ابرالمقال فی استحسان قبلۃ الاجلال ۱۳۰۸ھ
(بوسہ تعظیمی کے مستحسن ہونے میں درست ترین کلام)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۱۴۰:از سورت کٹھور مسجد پرب مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب از علیگڑھ مدرسہ مولانا مولوی محمد لطیف اﷲ صاحب مرسلہ مولوی سندی صاحب طرفہ ایں کہ از ہردوجابوقت واحد سوال آمد(طرفہ یہ کہ ایك ہی وقت دونوں جگہوں سے سوال ایا۔ت)۱۳ ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ شہر موریس میں قبلہ رخ کی دیوار کے ساتھ محراب کے متصل بیت اﷲ شریف کے غلاف کا ٹکڑا دوگز لمبا او رسوا گز چوڑا لٹکا ہوا ہے اور وہاں کے باشندے میمن وغیرہ سب سوداگر خاص وعام بعد پنچگانہ اس ٹکڑے کو بوسہ دیتے ہیں اور بعد نماز جمعہ کے تو بوجہ کثرت نمازیوں کے بوسہ دینے میں بہت ہی ہجوم کرتے ہیں۔کوئی چاربوسے دیتا ہے کوئی زیادہ کوئی کمجیسا کسی کا موقع لگاویسا ہی اس نے کیااور کوئی ہجوم اور کثرت کی وجہ سے محروم بھی رہ جاتاہے۔اور اس امر میں اس کو معظم چیز سمجھا کر کمال کوشش کرتے ہیں۔کسی قدر جاننے والے لوگ تو تعظیم کا بوسہ دیتے ہیں۔او ر عوام کا حال معلوم نہیں کہ وہ کیا سمجھ کر بوسہ دیتے ہیں
لیکن ایك دوسرے کی دیکھا دیکھی اس میں بہت مبالغہ کرتے ہیں۔آیا یہ امر شرعا موجب ثواب ہے یا کسی امر خارجی کی وجہ سے مستوجب عذاب ہے بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہونصلی علی رسولہ الکریم ط
بوسہ تعظیم شرعا وعرفا انحاء تعظیم سے ہے اسی قبیل سے ہے بوسہ آستانہ کعبہ وبوسہ مصحف و بوسہ نان وبوسہ دست وپائے علماء واولیاء۔
وکل ذلك مصرح بہ فی الکتب کالدرالمختار من معتمدات الاسفار۔ درمختار جیسی دیگر معتمد کتب میں اس تمام کی تصریح کی گئی ہے۔(ت)
خودا حادیث کثیرہ میں صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کادست وپائے اقدس حضور پر نور سید یوم المنشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومہر نبوت کو بوسہ دینا وارد۔
کما فصلنا بعضہ فی کتابنا البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ۔ جیسا کہ ہم نے بعض کو اپنے کتاب البارقۃ الشارقۃ علی المار المشارقۃ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔(ت)
اور مانحن فیہ سے اقرب واوفق حدیث عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما ہے کہ انھوں نے منبر انور سرور اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے موضع جلوس اقدس کو مس کرکے اپنے چہرے سے لگایا رواہ ابن سعد فی طبقاتہ (ابن سعد نے اپنی طبقات میں اسے روایت کیا۔ت)اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم سے مروی کہ رمانا اعطر کو جو مزار اقدس وازہر پر ہے یعنی اس کے بازو پر جوگول شکل کا ایك کنگرہ سابنا دیتے اسے دہنے ہاتھ سے مس کرکے دعا مانگا کرتےامام قاضی عیاض رتعت روحہ فی الریاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
قال نافع کان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یسلم علی القبور اتیہ مائۃ مرۃ واکثر یجیئ الی القبر فیقول السلام علی النبیالسلام علی ابی بکر ثم ینصرف ورئی (بمعنی ابصر) واضعا یدہ علی مقعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت نافع رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما جب حجرہ پا ك کی قبروں پر سلام کرنے حاضر ہو کر سو سے زائد مرتبہ کہتے"حضور علیہ الصلوہ والسلام پر سلام حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ پر سلام"پھر پلٹتے ہوئے منبر شریف پر
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہونصلی علی رسولہ الکریم ط
بوسہ تعظیم شرعا وعرفا انحاء تعظیم سے ہے اسی قبیل سے ہے بوسہ آستانہ کعبہ وبوسہ مصحف و بوسہ نان وبوسہ دست وپائے علماء واولیاء۔
وکل ذلك مصرح بہ فی الکتب کالدرالمختار من معتمدات الاسفار۔ درمختار جیسی دیگر معتمد کتب میں اس تمام کی تصریح کی گئی ہے۔(ت)
خودا حادیث کثیرہ میں صحابہ رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کادست وپائے اقدس حضور پر نور سید یوم المنشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومہر نبوت کو بوسہ دینا وارد۔
کما فصلنا بعضہ فی کتابنا البارقۃ الشارقۃ علی المارقۃ المشارقۃ۔ جیسا کہ ہم نے بعض کو اپنے کتاب البارقۃ الشارقۃ علی المار المشارقۃ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔(ت)
اور مانحن فیہ سے اقرب واوفق حدیث عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما ہے کہ انھوں نے منبر انور سرور اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے موضع جلوس اقدس کو مس کرکے اپنے چہرے سے لگایا رواہ ابن سعد فی طبقاتہ (ابن سعد نے اپنی طبقات میں اسے روایت کیا۔ت)اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم سے مروی کہ رمانا اعطر کو جو مزار اقدس وازہر پر ہے یعنی اس کے بازو پر جوگول شکل کا ایك کنگرہ سابنا دیتے اسے دہنے ہاتھ سے مس کرکے دعا مانگا کرتےامام قاضی عیاض رتعت روحہ فی الریاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
قال نافع کان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یسلم علی القبور اتیہ مائۃ مرۃ واکثر یجیئ الی القبر فیقول السلام علی النبیالسلام علی ابی بکر ثم ینصرف ورئی (بمعنی ابصر) واضعا یدہ علی مقعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت نافع رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما جب حجرہ پا ك کی قبروں پر سلام کرنے حاضر ہو کر سو سے زائد مرتبہ کہتے"حضور علیہ الصلوہ والسلام پر سلام حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ پر سلام"پھر پلٹتے ہوئے منبر شریف پر
حوالہ / References
الدرالمختار کتا ب الحظروا ولاباحۃ فصل فی الاستبراء وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۵€
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر منبر رسول اﷲ صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت ∞۱/ ۲۵۴€
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر منبر رسول اﷲ صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت ∞۱/ ۲۵۴€
من المنبر ثم وضعہا علی وجہہ وعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا اخلا المسجد حسوا رمانۃ المنبر التی تلی القبر بیامنہم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹھنے کی جگہ کو ہاتھ سے مس کرکے اپنے چہرے پر لگاتے۔ابن قسیط اور عتبی سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم جب مسجد نبوی سے نکلتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے داہنے ہاتھ سے مس کرتے اور پھرقبلہ رو ہوکر دعا کرتے(ت)
غرض شرعا وعرفا معلوم ومعروف کہ جس چیز کو معظم شرعی سے شرف حاصل ہو اس کا وہ شرف بعد انتہائے مماست بھی باقی رہتا ہے اور اس کی تعظیم اس کی معظم کی انحائے تعظیم سے گنی جاتی ہے اور معاذاﷲ اس کی توہین اس معظم کی توہین تاج سلطان کو مثلا زمین پر ڈالنا صرف اسی وقت اہانت سلطان نہ ہوگا جبکہ وہ اس کے سر پر رکھا ہی بلکہ جدا ہونے کی حالت میں بھی ہر عاقل کے نزدیك یہی حکم ہے یونہی تعظیم۔شفاء شریف میں ہے:
من اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ واکرام مشاھدہ وامکنتہ من مکۃ المدینۃ ومعاھدہ ومالمسہ علیہ الصلوۃ والسلام او عرف بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم میں سے یہ ہے کہ آپ کے تمام اسباب تمام مشاہد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آپ کے تمام مکاناتمتعلقہ اشیاء اور جن چیزوں کو آپ نے مس فرمایا یا جو آپ سے معروف ہیں کی تعظیم وتکریم بجالانا ہے۔ (ت)
اور بیشك تعظیممنسوب بلحاظ نسبت تعظیم منسوب الیہ ہے۔اور بیشك کعبہ شعائر اﷲ سے ہے توتعظیم غلاف تعظیم کعبہ وتعظیم شعائر اﷲ شرعا مطلوب۔
غرض شرعا وعرفا معلوم ومعروف کہ جس چیز کو معظم شرعی سے شرف حاصل ہو اس کا وہ شرف بعد انتہائے مماست بھی باقی رہتا ہے اور اس کی تعظیم اس کی معظم کی انحائے تعظیم سے گنی جاتی ہے اور معاذاﷲ اس کی توہین اس معظم کی توہین تاج سلطان کو مثلا زمین پر ڈالنا صرف اسی وقت اہانت سلطان نہ ہوگا جبکہ وہ اس کے سر پر رکھا ہی بلکہ جدا ہونے کی حالت میں بھی ہر عاقل کے نزدیك یہی حکم ہے یونہی تعظیم۔شفاء شریف میں ہے:
من اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ واکرام مشاھدہ وامکنتہ من مکۃ المدینۃ ومعاھدہ ومالمسہ علیہ الصلوۃ والسلام او عرف بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم میں سے یہ ہے کہ آپ کے تمام اسباب تمام مشاہد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آپ کے تمام مکاناتمتعلقہ اشیاء اور جن چیزوں کو آپ نے مس فرمایا یا جو آپ سے معروف ہیں کی تعظیم وتکریم بجالانا ہے۔ (ت)
اور بیشك تعظیممنسوب بلحاظ نسبت تعظیم منسوب الیہ ہے۔اور بیشك کعبہ شعائر اﷲ سے ہے توتعظیم غلاف تعظیم کعبہ وتعظیم شعائر اﷲ شرعا مطلوب۔
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی حکم زیارۃ قبر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلکم عبدالتواب ∞اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۷۰€
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فعلك ومن اعظامہ واکبارہ الخ ∞عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴€
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فعلك ومن اعظامہ واکبارہ الخ ∞عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴€
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾ " اور جو شعائر اﷲ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقوی ہے۔(ت)
بلکہ نظر ایمان سے مس ولمس کی بھی تخصیص نہیں جس شے کو معظم شرعی سے کسی طرح نسبت سے واجب التعظیم ومورث محبت ہے ولہذابلدۃ طیبہ مدینہ طیبہ سکینہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کے درودیوار کو مس کرنا اور بوسہ دینا اہل حب وولاکا دستور اور کلمات ائمہ وعلماء میں مسطوراگر چہ ان عمارات کا زمانہ اقدس میں وجود ہی نہ ہو شرف مس سے تشرف درکنار وﷲ در من قال(اﷲ تعالی کے لئے خوبی جس نے کہا)
آمر علی الدیار دیار لیل اقبل ذالجدار وذواالجدارا
وصاحب الدیار شغفن قلبی ولکن حب من سکن الدیارا
(میں دیار لیلی سے گزرتے ہوئے دیواروں اور دیواروں کو بوسہ دے رہا تھا اور میرے دل میں اس دیار والی رچی بسی ہے لیکن اس دیار کے باسیوں سے محبت ہے۔ت)
شفاء شریف میں ہے:
وجدیرلمواطن اشتملت تربتھا علی جسد سید البشر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدارس ومشاھد وموافقت ان تعظم عرصاتھا وتنستسم نفحاتھا و تقبل ربوعھا وجد راتھا اھ ملخصا۔ جن مقامات کی مٹی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسد پاك کو لگی ہے ان راستوںمشاہد اور مواقف کے میدانوں کی تعطیمفضاؤں کی تکریمٹیلوں اور دیواروں کو بوسہ دینا مناسب ہے۔اھ ملخصا۔(ت)
پھر ارشاد فرماتے ہیں:
یادار خیر المرسلین ومن بہ ھدی الانام وخص بالایات
عندی لاجلك لوعۃ وصبابۃ وتشوق متوقد الجمرات
بلکہ نظر ایمان سے مس ولمس کی بھی تخصیص نہیں جس شے کو معظم شرعی سے کسی طرح نسبت سے واجب التعظیم ومورث محبت ہے ولہذابلدۃ طیبہ مدینہ طیبہ سکینہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کے درودیوار کو مس کرنا اور بوسہ دینا اہل حب وولاکا دستور اور کلمات ائمہ وعلماء میں مسطوراگر چہ ان عمارات کا زمانہ اقدس میں وجود ہی نہ ہو شرف مس سے تشرف درکنار وﷲ در من قال(اﷲ تعالی کے لئے خوبی جس نے کہا)
آمر علی الدیار دیار لیل اقبل ذالجدار وذواالجدارا
وصاحب الدیار شغفن قلبی ولکن حب من سکن الدیارا
(میں دیار لیلی سے گزرتے ہوئے دیواروں اور دیواروں کو بوسہ دے رہا تھا اور میرے دل میں اس دیار والی رچی بسی ہے لیکن اس دیار کے باسیوں سے محبت ہے۔ت)
شفاء شریف میں ہے:
وجدیرلمواطن اشتملت تربتھا علی جسد سید البشر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مدارس ومشاھد وموافقت ان تعظم عرصاتھا وتنستسم نفحاتھا و تقبل ربوعھا وجد راتھا اھ ملخصا۔ جن مقامات کی مٹی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جسد پاك کو لگی ہے ان راستوںمشاہد اور مواقف کے میدانوں کی تعطیمفضاؤں کی تکریمٹیلوں اور دیواروں کو بوسہ دینا مناسب ہے۔اھ ملخصا۔(ت)
پھر ارشاد فرماتے ہیں:
یادار خیر المرسلین ومن بہ ھدی الانام وخص بالایات
عندی لاجلك لوعۃ وصبابۃ وتشوق متوقد الجمرات
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۲/ ۳۲€
شفاء السقام الباب الرابع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۷۳،€جواہرالبحار ومنہم امام المقری فمن جواہر فرح المتحال فی مدح النعال النبویہ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۷۷،€نسیم الریاض فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۴۳۴€
الشفاء بتعریف المصطفٰی فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ ∞عبدالتوب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۵ و ۴۶€
شفاء السقام الباب الرابع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۷۳،€جواہرالبحار ومنہم امام المقری فمن جواہر فرح المتحال فی مدح النعال النبویہ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۷۷،€نسیم الریاض فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۴۳۴€
الشفاء بتعریف المصطفٰی فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ ∞عبدالتوب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۵ و ۴۶€
وعلی عہد ان ملأت محاجری من تلکم الجدرات والعرصات
لاعفرن مصون شیبی بینھا من کثرۃ التقبیل والرشفات
(خیر المرسلمین جہاں کے ہادی اور معجزات والے کی رہائش گاہ میرے ہاں اپ کی وجہ سے دردعشق اور اظہار جس سے کنکریاں جل رہی ہیں جس وقت میں ان دیواروں اور میدانوں کی زیارت سے اپنی نگاہوں کو سیراب کروں تو بوسے اور چوسنے کی کثرت سے اپنی سفیدریش کو ضرور مٹی سے ملوث کروں گا۔ت)
اس سے بھی ارفع واعلی واضح وجلی یہ ہے کہ طبقۃ فطبقۃ شرقا وغربا عجما عربا علمائے دین و ائمہ معتمدین نعل مطہر وروضہ معطر حضور سید البشر علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتےکتابوں میں تحریر فرماتے آئے اور انھیں بوسہ دینے والی انکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے۔علامہ ابوالیمن ابن عساکر شیخ ابواسحق ابراہیم بن محمد بن خلف سلمی وغیرہما علماء نے اس باب میں مستقل تالیفیں کیں اور علامہ احمد مقری کی فتح المتعال فی مدح خیر النعال اس مسئلہ میں اجمع وانفع تصانیف ہے۔جزاھم وبھم جزاء حسنا ورزقھم ببرکہ خیر النعال امنا وسکنا امین(اﷲ تعالی ان کو جزاء حسن اور اس بہتر نعال شریف کی برکت سے امن وسکون عطا فرمائے آمین۔ت)
۱محدث علامہ فقیہ ابوالربیع سلیمن بن سالم کلاعی رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
یاناظر اتمثال نعل نبیہ قبل مثل النعل لامتکبرا
(اے اپنے بنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نقشہ نعل مبارك دیکھنے والے! اس نقشہ کو بوسہ دے بے تکبر کے)
۲قاضی شمس الدین صیف اﷲ رشیدی فرماتے ہیں:
لمن قدمس شکل نعال طہ جزیل الخیر فی یوم الحسان
وفی الدنیا یکون بخیر عیش وعز فی النھاء بلا ارتیاب
فبادروا لثم الاثار منھا بقصدالفوز فی یوم حسان
لاعفرن مصون شیبی بینھا من کثرۃ التقبیل والرشفات
(خیر المرسلمین جہاں کے ہادی اور معجزات والے کی رہائش گاہ میرے ہاں اپ کی وجہ سے دردعشق اور اظہار جس سے کنکریاں جل رہی ہیں جس وقت میں ان دیواروں اور میدانوں کی زیارت سے اپنی نگاہوں کو سیراب کروں تو بوسے اور چوسنے کی کثرت سے اپنی سفیدریش کو ضرور مٹی سے ملوث کروں گا۔ت)
اس سے بھی ارفع واعلی واضح وجلی یہ ہے کہ طبقۃ فطبقۃ شرقا وغربا عجما عربا علمائے دین و ائمہ معتمدین نعل مطہر وروضہ معطر حضور سید البشر علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتےکتابوں میں تحریر فرماتے آئے اور انھیں بوسہ دینے والی انکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے۔علامہ ابوالیمن ابن عساکر شیخ ابواسحق ابراہیم بن محمد بن خلف سلمی وغیرہما علماء نے اس باب میں مستقل تالیفیں کیں اور علامہ احمد مقری کی فتح المتعال فی مدح خیر النعال اس مسئلہ میں اجمع وانفع تصانیف ہے۔جزاھم وبھم جزاء حسنا ورزقھم ببرکہ خیر النعال امنا وسکنا امین(اﷲ تعالی ان کو جزاء حسن اور اس بہتر نعال شریف کی برکت سے امن وسکون عطا فرمائے آمین۔ت)
۱محدث علامہ فقیہ ابوالربیع سلیمن بن سالم کلاعی رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
یاناظر اتمثال نعل نبیہ قبل مثل النعل لامتکبرا
(اے اپنے بنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نقشہ نعل مبارك دیکھنے والے! اس نقشہ کو بوسہ دے بے تکبر کے)
۲قاضی شمس الدین صیف اﷲ رشیدی فرماتے ہیں:
لمن قدمس شکل نعال طہ جزیل الخیر فی یوم الحسان
وفی الدنیا یکون بخیر عیش وعز فی النھاء بلا ارتیاب
فبادروا لثم الاثار منھا بقصدالفوز فی یوم حسان
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ ∞عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۴۶€
جواھر البحار ومنہم الامام احمد المقری الخ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۶۳€
جواھر البحار ومنہم الامام احمد المقری الخ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۶۳€
نقش نعل طہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مس کرنے والے کو قیامت میں خیر کثیر ملے گی اور دنیا میں یقینا نہایت اچھے عیش وعزت وسرور میں رہے گا تو روز قیامت مراد ملنے کی نیت سے جلد اس اثر کریم کو بوسہ دے)
۳شیخ فتح اﷲ بیلونی حلبی معاصر علامہ مقری نعل مقد سے عرض کرتے ہیں
فی مثلك یانعال اعلی النجبا اسرار بیمنھا شھدنا العجبا
من مرع خدہ بہ مبتھلا قدقام لہ ببعض ماقدوجب
(اے سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نعل مبارک! تیرے نقشہ میں وہ اسرار ہیں جن کی عجیب برکتیں ہم نے مشاہدہ کیں جو اظہار عجز ونیاز کے ساتھ اپنا رخسار اس پر رگڑے وہ بعض حق اس نقشہ مقدسہ کے جوا اس پر واجب ہیں ادا کرے)
وہی فرماتے ہیں:
مثال نعل بوطی المصطفی سعدا فامد الی لثمہ بالذل منك یدا
واجعلہ منك علی العینین معترفا بحق توقیرہ بالقلب معتقدا
وقبلہ واعلن بالصلاۃ علی خیرالانام وکرر ذاك مجتھدا
(یہ نقشہ اس نعل مبارك کا جو مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم سے ہمایوں ہوئے تو اس کے بوسہ دینے کو تذلل کے ساتھ ہاتھ بڑھا اور زبان سے اس کے وجوب وتوقیر کا اقرار اور دل سے اعتقاد کرتا ہوا اسے آنکھوں پر رکھ اور بوسہ دے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر باعلان درود بھیج اور کوشش کے ساتھ اسے بار بار بجالا)
۴سید محمد موسی حسینی مالکی معاصر علامہ ممدوح فرماتے ہیں:
مثال نعال المصطفی اشر ف الوری بہ مورد لاتبغی عنہ مصدرا
فقبلہ لثماوامسح الوجہ موقنا بنیت صدق تلق ماکنت مضما
(مصطفی ا شرف الخلق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نقشہ نعل اقدس میں وہ مقام حضور ہے
۳شیخ فتح اﷲ بیلونی حلبی معاصر علامہ مقری نعل مقد سے عرض کرتے ہیں
فی مثلك یانعال اعلی النجبا اسرار بیمنھا شھدنا العجبا
من مرع خدہ بہ مبتھلا قدقام لہ ببعض ماقدوجب
(اے سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نعل مبارک! تیرے نقشہ میں وہ اسرار ہیں جن کی عجیب برکتیں ہم نے مشاہدہ کیں جو اظہار عجز ونیاز کے ساتھ اپنا رخسار اس پر رگڑے وہ بعض حق اس نقشہ مقدسہ کے جوا اس پر واجب ہیں ادا کرے)
وہی فرماتے ہیں:
مثال نعل بوطی المصطفی سعدا فامد الی لثمہ بالذل منك یدا
واجعلہ منك علی العینین معترفا بحق توقیرہ بالقلب معتقدا
وقبلہ واعلن بالصلاۃ علی خیرالانام وکرر ذاك مجتھدا
(یہ نقشہ اس نعل مبارك کا جو مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم سے ہمایوں ہوئے تو اس کے بوسہ دینے کو تذلل کے ساتھ ہاتھ بڑھا اور زبان سے اس کے وجوب وتوقیر کا اقرار اور دل سے اعتقاد کرتا ہوا اسے آنکھوں پر رکھ اور بوسہ دے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر باعلان درود بھیج اور کوشش کے ساتھ اسے بار بار بجالا)
۴سید محمد موسی حسینی مالکی معاصر علامہ ممدوح فرماتے ہیں:
مثال نعال المصطفی اشر ف الوری بہ مورد لاتبغی عنہ مصدرا
فقبلہ لثماوامسح الوجہ موقنا بنیت صدق تلق ماکنت مضما
(مصطفی ا شرف الخلق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نقشہ نعل اقدس میں وہ مقام حضور ہے
جس سے تو نے رجوع نہ چاہے تو اسے یقین او رسچی نیت کے ساتھ چہرہ سے لگا دل کی مراد پائے گا)
۵محمد بن سبتی فرماتے ہیں:
فمی قبلتھا مثل نعل کریمۃ بتقبیلھا یشفی سقام من اسمہ استشفی
اے میرے منہ اسے بوسہ دے یہ نعل کریم کا نقشہ ہے اس کے بوسہ سے شفا طلب کر مرض دور ہوتاہے)
۶علامہ احمد بن مقری تلمسائی صاحب فتح المتعال میں فرماتے ہیں:
اکرم بتمثال حکی نعل من فاق الوری بالشرف الباذخ
طوبی لمن قبلہ منباء یلثمہ عن حبہ الراسخ
(کس قدر معزز ہے ان کی نعل مقدس کا نقشہ جو اپنے شرف عظیم میں تمام عالم سے بالا ہیں خوشی ہو اسے جو اسے بوسہ دے اپنی راسخ محبت ظاہر کرتاہوا)
۷علامہ ابوالیمن ابن عساکر فرماتے ہیں:
الثم ثری الاثر الکریم فحبذا ان غزت منہ بلثم ذا التمثال
نعل مبارك کی خاك پر بوسہ دے کر اس کے نقشے ہی کا بوسہ دینا تجھے نصیب ہو تو کیا خوب بات ہے)
۸علامہ ابوالحکم مالك بن عبدالرحمن بن علی مغربی جنھیں علامہ عبدالباقی زرقانی نے شرح مواہب شریف میں احدالفضلاء المغاربۃ(فضلائے مغرب میں سے ایک۔ت)کہا۔اپنی مدحیہ میں فرماتے ہیں:
مثل نعل من احب ھویتہ فھا انا فی یوم ولیلی الثمہ
(میں اپنے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعلین مبارك دوست رکھتااور رات دن
۵محمد بن سبتی فرماتے ہیں:
فمی قبلتھا مثل نعل کریمۃ بتقبیلھا یشفی سقام من اسمہ استشفی
اے میرے منہ اسے بوسہ دے یہ نعل کریم کا نقشہ ہے اس کے بوسہ سے شفا طلب کر مرض دور ہوتاہے)
۶علامہ احمد بن مقری تلمسائی صاحب فتح المتعال میں فرماتے ہیں:
اکرم بتمثال حکی نعل من فاق الوری بالشرف الباذخ
طوبی لمن قبلہ منباء یلثمہ عن حبہ الراسخ
(کس قدر معزز ہے ان کی نعل مقدس کا نقشہ جو اپنے شرف عظیم میں تمام عالم سے بالا ہیں خوشی ہو اسے جو اسے بوسہ دے اپنی راسخ محبت ظاہر کرتاہوا)
۷علامہ ابوالیمن ابن عساکر فرماتے ہیں:
الثم ثری الاثر الکریم فحبذا ان غزت منہ بلثم ذا التمثال
نعل مبارك کی خاك پر بوسہ دے کر اس کے نقشے ہی کا بوسہ دینا تجھے نصیب ہو تو کیا خوب بات ہے)
۸علامہ ابوالحکم مالك بن عبدالرحمن بن علی مغربی جنھیں علامہ عبدالباقی زرقانی نے شرح مواہب شریف میں احدالفضلاء المغاربۃ(فضلائے مغرب میں سے ایک۔ت)کہا۔اپنی مدحیہ میں فرماتے ہیں:
مثل نعل من احب ھویتہ فھا انا فی یوم ولیلی الثمہ
(میں اپنے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعلین مبارك دوست رکھتااور رات دن
حوالہ / References
فتح المتعال
شرح الزرقانی علی المواھب نعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞مصر ۵/ ۵۷€
شرح الزرقانی علی المواھب نعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞مصر ۵/ ۵۷€
اسے بوسہ دیتاہوں)
۹امام ابوبکر احمد ابن امام ابومحمد بن حسین انصاری قرطبی فرماتے ہیں:
ونعل خضعنا ھیبۃ لبھائھا وانا متی نخضع لھا ابدا نعلو
فضعھا علی اعلی المفارق انھا حقیقتھا تاج وصورتہا نعل
(اس نعل مبارك کے جلال انور سے ہم نے اس کے لئے خضوع کیا اور جب تك ہم اس کے حضور جھکیں گے بلند رہیں گے تو اسے بالائے سر رکھ کہ حقیقت میں تاج اور صورت پر نعل ہے)
۱۰شرح مواہب میں ان امام کا ترجمہ عظیمہ جلیلہ مذکور اور ان کا فقیہ محدث وماہر و ضابط ومتین الدین و صادق الودع وبے نظیر ہونا مسطور ا مام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری نے مواہب اللدنیہ ومنح محمدیہ میں ان امام کے یہ اشعار ذکر نقشہ نعل اقدس میں انشاد کئے اور مدحیہ علامہ ابوالحکم مغربی کما احسنھا (کیا ہی اچھا ہے۔ت)اور نظم ۱۱علامہ ابن عساکر سے ﷲ درہ (اﷲ اکیلے اس کی بھلائی ہے)فرمایا۔
۱۲علامہ زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
الثم التراب الذی حصل لہ النداوۃ من اثر النعل الکریمۃ ان امکن ذلك والا فقبل مثالھا ۔ اگر ہوسکے تو و اس خاك کو بسہ دے جسے نعل مبارك کے اثر سے نم حاصل ہوئے ورنہ اس کے نقشہ ہی کو بوسہ دے۔
علامہ تاج الدین فاکہانی نے فجر منیر میں ایك باب نقشہ قبور لامعۃ النور کا لکھا اور فرمایا:
من فوائد ذلك ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیزر مثالھا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل یعنی اس نقشہ کے لکھنے میں ایك فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ عالیہ کی زیارت نہ ملی وہ اس کی زیارت کرلے اور شوق سے اسے بوسہ دے
۹امام ابوبکر احمد ابن امام ابومحمد بن حسین انصاری قرطبی فرماتے ہیں:
ونعل خضعنا ھیبۃ لبھائھا وانا متی نخضع لھا ابدا نعلو
فضعھا علی اعلی المفارق انھا حقیقتھا تاج وصورتہا نعل
(اس نعل مبارك کے جلال انور سے ہم نے اس کے لئے خضوع کیا اور جب تك ہم اس کے حضور جھکیں گے بلند رہیں گے تو اسے بالائے سر رکھ کہ حقیقت میں تاج اور صورت پر نعل ہے)
۱۰شرح مواہب میں ان امام کا ترجمہ عظیمہ جلیلہ مذکور اور ان کا فقیہ محدث وماہر و ضابط ومتین الدین و صادق الودع وبے نظیر ہونا مسطور ا مام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری نے مواہب اللدنیہ ومنح محمدیہ میں ان امام کے یہ اشعار ذکر نقشہ نعل اقدس میں انشاد کئے اور مدحیہ علامہ ابوالحکم مغربی کما احسنھا (کیا ہی اچھا ہے۔ت)اور نظم ۱۱علامہ ابن عساکر سے ﷲ درہ (اﷲ اکیلے اس کی بھلائی ہے)فرمایا۔
۱۲علامہ زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
الثم التراب الذی حصل لہ النداوۃ من اثر النعل الکریمۃ ان امکن ذلك والا فقبل مثالھا ۔ اگر ہوسکے تو و اس خاك کو بسہ دے جسے نعل مبارك کے اثر سے نم حاصل ہوئے ورنہ اس کے نقشہ ہی کو بوسہ دے۔
علامہ تاج الدین فاکہانی نے فجر منیر میں ایك باب نقشہ قبور لامعۃ النور کا لکھا اور فرمایا:
من فوائد ذلك ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیزر مثالھا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل یعنی اس نقشہ کے لکھنے میں ایك فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ عالیہ کی زیارت نہ ملی وہ اس کی زیارت کرلے اور شوق سے اسے بوسہ دے
حوالہ / References
المواھب اللدنیۃ بحوالہ القرطبی لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۴۷۰€
المواہب الللدنیہ بحوالہ القرطبی لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۴۶۸€
المواہب الللدنیہ بحوالہ القرطبی لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۴۶۷€
شرح الزرقانی علی المواہب ذکر نعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ∞۵/ ۴۸€
المواہب الللدنیہ بحوالہ القرطبی لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۴۶۸€
المواہب الللدنیہ بحوالہ القرطبی لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۴۶۷€
شرح الزرقانی علی المواہب ذکر نعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ∞۵/ ۴۸€
کما قدناب مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینھا فی المنافع والخواص بشھادۃ التجربۃ الصحیحۃ ولذا جعلوالہ من الاکرام ولااحترام مایجعلون للمنوب عنہ الخ۔ کہ یہ مثال اس اصل کے قائم مقام ہے جیسے نعل مقد س کا نقشہ منافع وخواص میں یقینا یہ اس کا قائم مقام ہوا جس پر تجربہ صحیحہ گواہ ہے ولہذا علمائے دین نے نقشہ اعزاز واحترام وہی رکھا ہے جو اصل کا رکھتے ہیں الخ۔
۱۳سیدی علامہ محمد بن سلیمن جزولی قدس سرہصاحب دلائل الخیرات نے بھی علامہ مذکور کی پیروی کی اور دلائل شریف میں نقشہ روضہ مبارك کا لکھا اور خود اس کی شرح کبیر میں فرمایا:
انما ذکرتھا تابعا للشیخ تاج الدین الفاکھانی فانہ عقد فی کتابہ"الفجر المنیر"بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ وقال ومن فوائد ذلک الخ۔ میں نے شیخ تاج الدین فاکہانی کی اتباع میں اس کو ذکر کیا انھوں نے اپنی کتاب الفجر المنیر میں قبور مقدسہ کا باب قائم کیا اور فرمایا اس کے فوائد سے یہ ہے الخ (ت)
۱۴اسی طرح علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی نے مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں فرمایا:
حیث قال اعقب المؤلف رحمہ اﷲتعالی ورضی عنہ ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ و القبور المقدسۃ وموافقافی ذلك وتابعا للشیخ تاج الدین فاکھانی فانہ عقد فی کتابہ الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذلك ان یزور المثال من لم جہاں انھوں نے فرمایا مؤلف رحمہ اﷲ تعالی نے اسماء کے عنوان کے بعد روضہ مبارك اور قبور مقدسہ کے بیان کے لئے باب قائم فرمایا شیخ تاج الدین فاکہانی کی موافقت کرتے ہوئے کیونکہ انھوں نے اپنی کتاب"الفجر المنیر" میں قبور مقدسہ کے بیان کے لئے عنوان قائم فرمایا اور اس کے فوائد میں یہ بھی ہے کہ جس کا اصل روضہ پاك
۱۳سیدی علامہ محمد بن سلیمن جزولی قدس سرہصاحب دلائل الخیرات نے بھی علامہ مذکور کی پیروی کی اور دلائل شریف میں نقشہ روضہ مبارك کا لکھا اور خود اس کی شرح کبیر میں فرمایا:
انما ذکرتھا تابعا للشیخ تاج الدین الفاکھانی فانہ عقد فی کتابہ"الفجر المنیر"بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ وقال ومن فوائد ذلک الخ۔ میں نے شیخ تاج الدین فاکہانی کی اتباع میں اس کو ذکر کیا انھوں نے اپنی کتاب الفجر المنیر میں قبور مقدسہ کا باب قائم کیا اور فرمایا اس کے فوائد سے یہ ہے الخ (ت)
۱۴اسی طرح علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی نے مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں فرمایا:
حیث قال اعقب المؤلف رحمہ اﷲتعالی ورضی عنہ ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ و القبور المقدسۃ وموافقافی ذلك وتابعا للشیخ تاج الدین فاکھانی فانہ عقد فی کتابہ الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذلك ان یزور المثال من لم جہاں انھوں نے فرمایا مؤلف رحمہ اﷲ تعالی نے اسماء کے عنوان کے بعد روضہ مبارك اور قبور مقدسہ کے بیان کے لئے باب قائم فرمایا شیخ تاج الدین فاکہانی کی موافقت کرتے ہوئے کیونکہ انھوں نے اپنی کتاب"الفجر المنیر" میں قبور مقدسہ کے بیان کے لئے عنوان قائم فرمایا اور اس کے فوائد میں یہ بھی ہے کہ جس کا اصل روضہ پاك
حوالہ / References
الفجر المنیر
شرح دلائل الخیرات للجزولی
شرح دلائل الخیرات للجزولی
یتمکن من زیارۃ الروضۃ ویشاھدہ مشتاقا ویلثمہ ویزداد فیہ حبا و قد استنابوا مثال النعل عن النعل وجعلوا لہ من الاکراہ والاحترام ماللمنوب عنہ وذکر وا لہ خواصا و برکات وقد جربت الخ۔ کی زیارت نصیب نہ ہو تو وہ نقش نعل کی زیارت کرے اور بوسہ دے اور خوب محبت کا مظاہر ہ کرے علماء نے نعل کے نقشہ کو نعل کے قائم مقام قرار دے کر اس کے لئے وہی اکرام واحترام اقرار دیا جو اصل نعل شریف کے لئے ہے اور انھوں نے اس کے خواص وبرکات ذکر کئے جن کا تجربہ ہوچکا ہے۔(ت)
دیکھو علمائے کرام کے یہ ارشادات نقشوں کے باب میں ہیں جو خود عین منتسب بھی نہیں بلکہ اس کی مثال وتصویر ہیں تو غلاف کعبہ معظم شرعی یعنی کعبہ معظمہ سے خاص نسبت مس رکھتا ہے اس کی نسبت بہ نیت تعظیم وتبرك ان افعال کے جواز میں شك وشبہہ کیا ہے
قال القتضی فی العموم موجود والمانع فی الخصوص مفقود وذلك کاف فی حصول المقصود والحمد ﷲ العلی الودود عموم کا تقاضا ہے جبکہ خاص کے لئے کوئی مانع نہیں ہے مقصد کے حصول کے لئے یہ کافی ہے۔اﷲ تعالی بلند وذات کے لئے حمد ہے۔(ت)
رہا لوگوں کا اس پر ہجوم کرنا یہ بھی آج کی بات نہیں قدیم سے آثار متبرکہ پر اہل محبت وایمان یونہی ہجوم کرتے آئے۔صحیح بخاری شریف وغیرہ کتب حدیث میں ہے جب عروہ بن مسعود ثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ سال حدیبیہ قریش کی طرف سے خدمت اقدس حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ میں حاضر ہوئے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو دیکھا۔
انہ لایتوضا الا ابتدروا وضوءہ و کادوایقتلوان علیہ ولا یبصق بصاقا ولایتنخم نخامۃ الا تلقوھا باکفھم فدلکوابھا یعنی حب حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وضو فرماتے ہیں حضور کے آب وضو پر بیتابانہ دوڑتے ہیں قریب ہے کہ آپس میں کٹ مریں اور جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
دیکھو علمائے کرام کے یہ ارشادات نقشوں کے باب میں ہیں جو خود عین منتسب بھی نہیں بلکہ اس کی مثال وتصویر ہیں تو غلاف کعبہ معظم شرعی یعنی کعبہ معظمہ سے خاص نسبت مس رکھتا ہے اس کی نسبت بہ نیت تعظیم وتبرك ان افعال کے جواز میں شك وشبہہ کیا ہے
قال القتضی فی العموم موجود والمانع فی الخصوص مفقود وذلك کاف فی حصول المقصود والحمد ﷲ العلی الودود عموم کا تقاضا ہے جبکہ خاص کے لئے کوئی مانع نہیں ہے مقصد کے حصول کے لئے یہ کافی ہے۔اﷲ تعالی بلند وذات کے لئے حمد ہے۔(ت)
رہا لوگوں کا اس پر ہجوم کرنا یہ بھی آج کی بات نہیں قدیم سے آثار متبرکہ پر اہل محبت وایمان یونہی ہجوم کرتے آئے۔صحیح بخاری شریف وغیرہ کتب حدیث میں ہے جب عروہ بن مسعود ثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ سال حدیبیہ قریش کی طرف سے خدمت اقدس حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ میں حاضر ہوئے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو دیکھا۔
انہ لایتوضا الا ابتدروا وضوءہ و کادوایقتلوان علیہ ولا یبصق بصاقا ولایتنخم نخامۃ الا تلقوھا باکفھم فدلکوابھا یعنی حب حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وضو فرماتے ہیں حضور کے آب وضو پر بیتابانہ دوڑتے ہیں قریب ہے کہ آپس میں کٹ مریں اور جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
مطالعات المسراقات ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۴۴€
وجوھھم واجسادھم الحدیث لعاب دہن مبارك ڈالتے یا کھکھارتے ہیں اسے ہاتھوں میں لیتے اور اپنے چہروں اور بدنوں پر ملتے ہیں۔
کادوایقتلون علیہ کی حالت کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے خود حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مواجہہ عالیہ میں ثابت کادوایکونون علیہ لبدا سے کہ یہاں سوال میں مذکور جہا زائد ہے یونہی بوسہ سنگ اسود پر ہجوم وتزاحم قدیم سے ہے بالجملہ اس نفس فعل کا جواز یقینی اور جب نیت تبرك وتعطیم شعائر اﷲ ہے تو قطعا مندوب اور شرعا مطلوب مگر پنجگانہ نماز کے بعد علی الدوام اس کی زیارت وتقبیل کاالتزام اور جمعہ کے دن عام عوام کے بیقیدانہ ہجوم واژدحام میں اگر اندیشہ بعضم فاسد دینیہ ہو تو اس تقیید والتزام واطلاق اژدحام سے بچنا چاہئے اور خود ہروقت پیش نظر معلق رہنا باعث اسقاط حرمت ہوتاہے ولہذا حرمین طیبین کی مجاورت ممنوع ہوئیامیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ بعد حج تمام قوافل پر درہ لئے دروہ فرماتے اور ارشاد کرتے اے اہل یمن یمین کوجاؤ۔اے اہل شام! شام کا راستہ لو۔اے اہل عراق! عراق کو کوچ کرو کہ اس سے تمھارے رب کے بیت کی ہیبت تمھاری نگاہوں میں زیادہ رہے گی"راہ اسلم وطریق اقوم یہ ہے کہ اسے کسی صندوقچہ میں ادب وحرمت کے ساتھ رکھیں اور احیانا خواہ مہینے میں کچھ دن قرار دے کر بروجہ اجلال حسن واعظام مستحسن اس کی زیارت مسلمین کو کرادیا کریں جس طرح سلطان اشرف عادل نے شہر دمشق الشام کے مدرسہ اشرفیہ میں خاص درس حدیث کے لئے ایك مکان مسمی بدارالحدیث بنایا اور اس پر جائداد کثیر وقف فرمائی اور اس کی جانب قبلہ مسجد بنائی اور محراب مسجد سے شرق کی طرف ایك مکان نعل مقدس حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے تعمیر کیا اور اس کے دروازے پرمسی کواڑ رز سے ملمع کرکے لگائے کہ بالکل سونے کے معلوم ہوتے تھے۔اور نعل مبارك کو آبنوس کے صندوق میں بادب رکھا اور بیش بہا پردوں سے مزین کیایہ دروازہ ہر دوشنبہ وپنچشنبہ کو کھولا جاتا اور لوگ فیض زیارت سر اپا طہارت سے برکات حاصل کرتے۔کما ذکر العلامۃ المقری فی فتح المتعال وغیرہ وغیرہ(جیسا کہ علامہ مقری نے فتح المتعال میں اور ان کے علاوہ دیگر علماء نے دیگر کتابوں میں ذکرکیاہے)یہ مدرسہ ودارالحدیث مذکور ہمیشہ مجمع ائمہ وعلمار ہے امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم اس میں مدرس تھے پھر امام
کادوایقتلون علیہ کی حالت کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے خود حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مواجہہ عالیہ میں ثابت کادوایکونون علیہ لبدا سے کہ یہاں سوال میں مذکور جہا زائد ہے یونہی بوسہ سنگ اسود پر ہجوم وتزاحم قدیم سے ہے بالجملہ اس نفس فعل کا جواز یقینی اور جب نیت تبرك وتعطیم شعائر اﷲ ہے تو قطعا مندوب اور شرعا مطلوب مگر پنجگانہ نماز کے بعد علی الدوام اس کی زیارت وتقبیل کاالتزام اور جمعہ کے دن عام عوام کے بیقیدانہ ہجوم واژدحام میں اگر اندیشہ بعضم فاسد دینیہ ہو تو اس تقیید والتزام واطلاق اژدحام سے بچنا چاہئے اور خود ہروقت پیش نظر معلق رہنا باعث اسقاط حرمت ہوتاہے ولہذا حرمین طیبین کی مجاورت ممنوع ہوئیامیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ بعد حج تمام قوافل پر درہ لئے دروہ فرماتے اور ارشاد کرتے اے اہل یمن یمین کوجاؤ۔اے اہل شام! شام کا راستہ لو۔اے اہل عراق! عراق کو کوچ کرو کہ اس سے تمھارے رب کے بیت کی ہیبت تمھاری نگاہوں میں زیادہ رہے گی"راہ اسلم وطریق اقوم یہ ہے کہ اسے کسی صندوقچہ میں ادب وحرمت کے ساتھ رکھیں اور احیانا خواہ مہینے میں کچھ دن قرار دے کر بروجہ اجلال حسن واعظام مستحسن اس کی زیارت مسلمین کو کرادیا کریں جس طرح سلطان اشرف عادل نے شہر دمشق الشام کے مدرسہ اشرفیہ میں خاص درس حدیث کے لئے ایك مکان مسمی بدارالحدیث بنایا اور اس پر جائداد کثیر وقف فرمائی اور اس کی جانب قبلہ مسجد بنائی اور محراب مسجد سے شرق کی طرف ایك مکان نعل مقدس حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے تعمیر کیا اور اس کے دروازے پرمسی کواڑ رز سے ملمع کرکے لگائے کہ بالکل سونے کے معلوم ہوتے تھے۔اور نعل مبارك کو آبنوس کے صندوق میں بادب رکھا اور بیش بہا پردوں سے مزین کیایہ دروازہ ہر دوشنبہ وپنچشنبہ کو کھولا جاتا اور لوگ فیض زیارت سر اپا طہارت سے برکات حاصل کرتے۔کما ذکر العلامۃ المقری فی فتح المتعال وغیرہ وغیرہ(جیسا کہ علامہ مقری نے فتح المتعال میں اور ان کے علاوہ دیگر علماء نے دیگر کتابوں میں ذکرکیاہے)یہ مدرسہ ودارالحدیث مذکور ہمیشہ مجمع ائمہ وعلمار ہے امام اجل ابوزکریا نووی شارح صحیح مسلم اس میں مدرس تھے پھر امام
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشرط فی الجہاد الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۹،€الشفاء الشریف حقوق المصطفٰی فصل فی عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ الخ عبدالتواب ∞اکیڈمی ملتان ۲/ ۳۱€
خاتم المجتہدین ابوالحسن تقی الدین علی بن عبدالکافی سبکی صاحب شفاء السقام ان کے جانشین ہوئے یونہی اکابر علماء درس فرمایاکئے۔سلطان موصوف کے اس فعل محمود پر کسی امام سے انکار وماثور نہ ہوا بلکہ امید کی جاتی ہے کہ خود وہ اکابر اس کی زیارت میں شریك ہوتے اور فیض وبرکت حاصل کرتے ہوںمحدث علامہ حافظ برہان الدین حلبی رحمہ اﷲ تعالی نور النبراس میں فرماتے ہیں قال شیخنا الامام المحدث امین المالکی:
وفی دارالحدیث لطیف معنی وفیھا متنہی اربی وسؤلی
احادیث الرسول علی تتلی وتقبیلی لاثار الرسول
(یعنی ہمارے استاذ امام محدث امین الدین مالکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں مدسہ دارالحدیث میں ایك لطیف مقصدہے اور اس میں میرامقصد اورمطلوب بروجہ کامل حاصل ہے حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ پر پڑھی جاتی ہے اور حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آثار شریفہ کا بوسہ مجھے نصیب ہوتاہے)
غرض طریقہ زیارت تو یہ رکھیں پھر جسے یہ ادب وحرمت بے دقت وزحمت شرف بوس مل سکے فبہا ورنہ صرف نظر پر قناعت کرے بوسہ سنگ اسود کہ سنت مؤکدہ ہے۔جب اپنی یاغیر کی اذیت کا باعث ہو ترك کیا جاتا ہے تو اس بوسہ کا توپھر دوسرا درجہ ہے۔
ھذا ھوالطریق اسلم والحاکم الوسط القوم الاقوم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ یہ سلامتی کا طریقہ ہے اور درمیانہ حکم مضبوط و قوی ہے اور اﷲ تعالی زیادہ علم والا ہے اس کا علم اتم واحکم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴۱:اکثر مخلوق خداکا یہ طریقہ ہے کہ وقت اذان اور وقت فاتحہ خوانی یعنی پنچایت پڑھنے کے وقت انگوتھے چومتے ہیں اور علماء بھی درست بتلاتے ہیں اور حدیث شریف سے ثابت کرتے ہیں آیا یہ قول درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اذان میں وقت استمال نام پاك صاحب لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انگوٹھی کے ناخن چومناانکھوں پر رکھنا کسی حدیث صحیح مرفوع سے ثابت نہیں یہ جو کچھ اس میں روایت کہا جاتا ہے
وفی دارالحدیث لطیف معنی وفیھا متنہی اربی وسؤلی
احادیث الرسول علی تتلی وتقبیلی لاثار الرسول
(یعنی ہمارے استاذ امام محدث امین الدین مالکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں مدسہ دارالحدیث میں ایك لطیف مقصدہے اور اس میں میرامقصد اورمطلوب بروجہ کامل حاصل ہے حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ پر پڑھی جاتی ہے اور حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آثار شریفہ کا بوسہ مجھے نصیب ہوتاہے)
غرض طریقہ زیارت تو یہ رکھیں پھر جسے یہ ادب وحرمت بے دقت وزحمت شرف بوس مل سکے فبہا ورنہ صرف نظر پر قناعت کرے بوسہ سنگ اسود کہ سنت مؤکدہ ہے۔جب اپنی یاغیر کی اذیت کا باعث ہو ترك کیا جاتا ہے تو اس بوسہ کا توپھر دوسرا درجہ ہے۔
ھذا ھوالطریق اسلم والحاکم الوسط القوم الاقوم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ یہ سلامتی کا طریقہ ہے اور درمیانہ حکم مضبوط و قوی ہے اور اﷲ تعالی زیادہ علم والا ہے اس کا علم اتم واحکم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۴۱:اکثر مخلوق خداکا یہ طریقہ ہے کہ وقت اذان اور وقت فاتحہ خوانی یعنی پنچایت پڑھنے کے وقت انگوتھے چومتے ہیں اور علماء بھی درست بتلاتے ہیں اور حدیث شریف سے ثابت کرتے ہیں آیا یہ قول درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اذان میں وقت استمال نام پاك صاحب لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انگوٹھی کے ناخن چومناانکھوں پر رکھنا کسی حدیث صحیح مرفوع سے ثابت نہیں یہ جو کچھ اس میں روایت کہا جاتا ہے
حوالہ / References
∞ €نورالنبراس∞ حافظ برہان الدین حلب€ی
کلام سے خالی پس جو اس کے لئے ایسا ثبوت مانے یا اسے مسنون ومؤکد جانے یا نفس ترك کوباعث زجر وملامت کہے وہ بیشك غلطی پر ہے۔ہاں بعض احادیث ضعیفہ مجروحہ میں تقبیل وارد۔
اخرجہ الدیلمی مسند الفردوس و اوردہ الامام السخاوی فی المقاصد الحسنہ والعلامۃ خیر الدین الرملی فی حواشی البحرالرائق وذکرہ العلامۃ الجراحی فاطال وبداللتیا والتی قال لم یصح فی المرفوع من ھذا شیئ کما اثرہ المحقق الشامی فی رد المختار اس کو دیلمی نے مسند الفردوس میں امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں خیر الدین رملی نے بحرالرائق کے حاشیہ میں اور علامہ جراحی نے طویل بیان فرمایا اور بحث کے بعد فرمایا اس بارے میں مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے جیسا کہ محقق علی شامی نے ردالمحتار میں نقل فرمایا ہے(ت)
اور بعض کتب فقہ م یں مثل جامع الرموز شرح نقایہ وفتاوی صوفیہ وکنزالعباد وشامی حاشیہ درمختار کے کہ اکثر ان میں مستندات علماء طائفہ اسمعیلیہ سے ہیں وضع ابہامین کو مستحب بھی لکھ دیا۔فاضل قہستانی شرح مختصر وقایہ میں لکھتے ہیں:
واعلم انہ یستجب ان یقال عند سماع الاولی من الشہادۃ الثانیۃ صلی اﷲ تعالی علیك یا رسول اﷲ وعند سماع الثانیۃ منہا قرۃ عینی بك یا رسول اﷲ ثم یقال اللھم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ضفری الابھامین علی الیعینین فانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکون قائد الہ الی الجنۃ کما فی کنز العباد انتہی جان لو بیشك اذان کی پہلی شہادت کے سننے پر صلی اﷲ تعالی علیك یا رسول اﷲ اور دوسری شہادت کے سننے پر قرۃ عینی بك یا رسول اﷲ کہنا مستحب ہے۔پھر اپنے انگوٹھو ں کے ناخن چھوم کر اپنی آنکھوں پر رکھے اورکہے اللھم متعنی بالسمع والبصر تو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایسا کرنے والے کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے جیسا کہ کنز العباد میں ہے انتہی(ت)
ردالمحتار حاشیہ درمختار میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں:
اخرجہ الدیلمی مسند الفردوس و اوردہ الامام السخاوی فی المقاصد الحسنہ والعلامۃ خیر الدین الرملی فی حواشی البحرالرائق وذکرہ العلامۃ الجراحی فاطال وبداللتیا والتی قال لم یصح فی المرفوع من ھذا شیئ کما اثرہ المحقق الشامی فی رد المختار اس کو دیلمی نے مسند الفردوس میں امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں خیر الدین رملی نے بحرالرائق کے حاشیہ میں اور علامہ جراحی نے طویل بیان فرمایا اور بحث کے بعد فرمایا اس بارے میں مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے جیسا کہ محقق علی شامی نے ردالمحتار میں نقل فرمایا ہے(ت)
اور بعض کتب فقہ م یں مثل جامع الرموز شرح نقایہ وفتاوی صوفیہ وکنزالعباد وشامی حاشیہ درمختار کے کہ اکثر ان میں مستندات علماء طائفہ اسمعیلیہ سے ہیں وضع ابہامین کو مستحب بھی لکھ دیا۔فاضل قہستانی شرح مختصر وقایہ میں لکھتے ہیں:
واعلم انہ یستجب ان یقال عند سماع الاولی من الشہادۃ الثانیۃ صلی اﷲ تعالی علیك یا رسول اﷲ وعند سماع الثانیۃ منہا قرۃ عینی بك یا رسول اﷲ ثم یقال اللھم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ضفری الابھامین علی الیعینین فانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکون قائد الہ الی الجنۃ کما فی کنز العباد انتہی جان لو بیشك اذان کی پہلی شہادت کے سننے پر صلی اﷲ تعالی علیك یا رسول اﷲ اور دوسری شہادت کے سننے پر قرۃ عینی بك یا رسول اﷲ کہنا مستحب ہے۔پھر اپنے انگوٹھو ں کے ناخن چھوم کر اپنی آنکھوں پر رکھے اورکہے اللھم متعنی بالسمع والبصر تو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایسا کرنے والے کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے جیسا کہ کنز العباد میں ہے انتہی(ت)
ردالمحتار حاشیہ درمختار میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں:
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ ∞حدیث ۱۰۲۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۳۸۴€
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الاذان دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۶۷€
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فضل الاذان ∞مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۱۲۵€
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الاذان دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۶۷€
جامع الرموز کتاب الصلٰوۃ فضل الاذان ∞مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/ ۱۲۵€
ونحوہ فی الفتاوی الصوفیۃ الخ ایسے ہی فتاوی صوفیہ میں ہے الخ(ت)
پس حق اس میں اس قدر کہ جو کوئی بامید زیادت روشنائی بصر مثلا از قبیل اعمال مشائخ جان کر یا بتوقع فضل ان کتب پر لحاظ اور ترغیب وارد پرنظر رکھ کر بے اعتقاد سنیت وفعل وصحت حدیث وشناعت ترك اسے عمل میں لائے اس پر بہ نظر اپنے نفس فعل واعتاد سنیت کے خیر کچھ مواخذہ بھی نہیں کہ فعل پر حدیث صحیح نہ ہونا اس فعل سے نہی ومنع کہ مستلز نہیں کما صرح بہ الفاضل علی القاری فی شرح الاربعین و ھذا ظاھر جدا(جیساکہ فاضل علی قاری نے شرح الاربعین میں اس کی وضاحت کی اوعر یہ خوب طاہر ہے۔ت)اور صیغہ اعمال میں تصرف استخراج مشائخ کو ہمیشہ گنجائش ہے جیسا کہ تصانیف شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی سے ظاہر اور خود یہ نفس حکم تجویز استخراج بھی ان کے کلام میں مصرح ہوا مع میں لکھتے ہیں:
اجہتاد رادراختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطبانسخہائے قرابا دین فقیر رامعلوم شدہ است کہ دروقت طلوع صبح صادق باسفار مقابل صبح نشستن وچشم را بآں نور دختن ویار نورا گفتن تاھزار بار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد الخ۔ جاری اعمال میں اجتہاد سے اختراع کا راستہ کشادہ ہے جیسا کہ طبیب حضرات کے ہاں قرابادین کے نسخوں میں ہے اس فقیر کو معلوم ہےکہ از صبح صادق تا روشنی بیٹھنا اور منہ مشرق کی طرف کرنا اور آنکھوں کو صبح کے نور پر لگانا اور یانور ہزار بارتك پڑھنے سے قوت ملکیہ حاصل ہوتی ہے(ت)
اور اسی میں ہے:
چند نواع از کرامت از ہیچ ولی الاماشاء اﷲ منفك نمی شود از انجملہ منامات صادقہ کشف و اشراف بر خواطر واز انجملہ ظہور تاثیر ودردعائے او ورقی واعمال تصریفیہ او تاعاملے بقیض او منتفع شوند الخ چند کرامتیں ایسی ہیں جو کسی ولی سے جدا نہیں ہوپاتیں جن میں ایك سچی خوابیں اور دلوں کی خواہشوں پر اطلاع اور انہی میں سے دعاؤں کی تاثیر اور دم وغیرہ جاری اعمال اس سے عامل کو فیض حاصل ہوتاہے الخ (ت)
پس حق اس میں اس قدر کہ جو کوئی بامید زیادت روشنائی بصر مثلا از قبیل اعمال مشائخ جان کر یا بتوقع فضل ان کتب پر لحاظ اور ترغیب وارد پرنظر رکھ کر بے اعتقاد سنیت وفعل وصحت حدیث وشناعت ترك اسے عمل میں لائے اس پر بہ نظر اپنے نفس فعل واعتاد سنیت کے خیر کچھ مواخذہ بھی نہیں کہ فعل پر حدیث صحیح نہ ہونا اس فعل سے نہی ومنع کہ مستلز نہیں کما صرح بہ الفاضل علی القاری فی شرح الاربعین و ھذا ظاھر جدا(جیساکہ فاضل علی قاری نے شرح الاربعین میں اس کی وضاحت کی اوعر یہ خوب طاہر ہے۔ت)اور صیغہ اعمال میں تصرف استخراج مشائخ کو ہمیشہ گنجائش ہے جیسا کہ تصانیف شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی سے ظاہر اور خود یہ نفس حکم تجویز استخراج بھی ان کے کلام میں مصرح ہوا مع میں لکھتے ہیں:
اجہتاد رادراختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطبانسخہائے قرابا دین فقیر رامعلوم شدہ است کہ دروقت طلوع صبح صادق باسفار مقابل صبح نشستن وچشم را بآں نور دختن ویار نورا گفتن تاھزار بار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد الخ۔ جاری اعمال میں اجتہاد سے اختراع کا راستہ کشادہ ہے جیسا کہ طبیب حضرات کے ہاں قرابادین کے نسخوں میں ہے اس فقیر کو معلوم ہےکہ از صبح صادق تا روشنی بیٹھنا اور منہ مشرق کی طرف کرنا اور آنکھوں کو صبح کے نور پر لگانا اور یانور ہزار بارتك پڑھنے سے قوت ملکیہ حاصل ہوتی ہے(ت)
اور اسی میں ہے:
چند نواع از کرامت از ہیچ ولی الاماشاء اﷲ منفك نمی شود از انجملہ منامات صادقہ کشف و اشراف بر خواطر واز انجملہ ظہور تاثیر ودردعائے او ورقی واعمال تصریفیہ او تاعاملے بقیض او منتفع شوند الخ چند کرامتیں ایسی ہیں جو کسی ولی سے جدا نہیں ہوپاتیں جن میں ایك سچی خوابیں اور دلوں کی خواہشوں پر اطلاع اور انہی میں سے دعاؤں کی تاثیر اور دم وغیرہ جاری اعمال اس سے عامل کو فیض حاصل ہوتاہے الخ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الاذان داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۶۷€
ہوامع لشاہ ولی اللہ
ہوامع لشاہ ولی اللہ
ہوامع لشاہ ولی اللہ
ہوامع لشاہ ولی اللہ
البتہ اسمعیلیہ کا حکم لزومی والتزامی کہ یہ فعل اور اس کے امثال محض حرام وسخت بدیدینی ومثل شرك مخل اصل ایمان اور زنا وقتل ومومن سے بد ترجس کے صغری یعنی فعل ابتداع پر اسمعیلیہ کو خود اقرار اور کبری تصریحات وتفویۃ الایمان سے آشکاراگرچہ علمائے اسمیعلیہ بنظر مصلحت اس سے تنزل کیا کریں محض باطل ومردود ومخذول ومطرود ہے۔
وعلیہم اثباتہ بالبرھان ولنا رد علیھم باوضع بیان ان شاء اﷲ الرحمن المستعان۔ اور ان پر شرك اور حرام کو ثابت کرنا لازم ہے اور ہمیں ان کا رد کرنا واضح دلائل سے ان شاء اﷲ لازم ہے۔(ت)
اور پنجائت کے وقت اس فعل کا ذکر کسی کتاب میں نہ دیکھا گیا اور فقیر کے نزدیك یہاں پر بنائے مذہب ارجح واصح غالبا ترك زیادہ انسب والیق ہونا چاہئے۔والعلم بالحق عن الملك العلام الجلیل۔
مسئلہ ۱۴۲: از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمدیعقوب علی خان از مکان میر خادم علی اسسٹنٹ ۳ ربیع ا الثانی ۱۳۰۷ھ
چہ میفرمایند علمائے شریعت محمدی وفضلائے طریقہ احمدی دریں مسئلہ کہ مس ابہامین ونہادن علی العینین دروقت اذان موذن وغیرہ فعل وطریقہ انیقہ مستحب صحابہ کرام وسنت خیر البشر آدم علیہ السلام ست او ر اعلمائے ظواہر غیر مقلدین بہ سبب حقارت واستخاف و اہانت وحرام گویند مرتد وکافر می شوند یا نہ بیان فرمایند بسند کتاب اجر یابند روز حساب رحمۃ اﷲ علیکم اجمعین۔ کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وفضلائے طریقت اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی اذان کے وقت اپنی آنکھوں پر انگوٹھے چوم کر لگانا یہ فعل و طریقہ صحابہ کرام اور سنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اس عمل کو غیر مقلدین فرقہ کے لوگ حقارت کے طورپر حرام کہتے ہیں کیا وہ کافر اور مرتد ہوں گے یانہیں کتاب کے حوالہ سے بیان فرمائیں اﷲ تعالی اجر عطا فرمائے قیامت کے روز۔تم پر اﷲ کی رحمتیں ہوں۔(ت)
الجواب:
قال سیدنا اﷲ صلی اﷲ تعالی سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
وعلیہم اثباتہ بالبرھان ولنا رد علیھم باوضع بیان ان شاء اﷲ الرحمن المستعان۔ اور ان پر شرك اور حرام کو ثابت کرنا لازم ہے اور ہمیں ان کا رد کرنا واضح دلائل سے ان شاء اﷲ لازم ہے۔(ت)
اور پنجائت کے وقت اس فعل کا ذکر کسی کتاب میں نہ دیکھا گیا اور فقیر کے نزدیك یہاں پر بنائے مذہب ارجح واصح غالبا ترك زیادہ انسب والیق ہونا چاہئے۔والعلم بالحق عن الملك العلام الجلیل۔
مسئلہ ۱۴۲: از اوجین علاقہ گوالیار مرسلہ محمدیعقوب علی خان از مکان میر خادم علی اسسٹنٹ ۳ ربیع ا الثانی ۱۳۰۷ھ
چہ میفرمایند علمائے شریعت محمدی وفضلائے طریقہ احمدی دریں مسئلہ کہ مس ابہامین ونہادن علی العینین دروقت اذان موذن وغیرہ فعل وطریقہ انیقہ مستحب صحابہ کرام وسنت خیر البشر آدم علیہ السلام ست او ر اعلمائے ظواہر غیر مقلدین بہ سبب حقارت واستخاف و اہانت وحرام گویند مرتد وکافر می شوند یا نہ بیان فرمایند بسند کتاب اجر یابند روز حساب رحمۃ اﷲ علیکم اجمعین۔ کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وفضلائے طریقت اس مسئلہ میں کہ مؤذن کی اذان کے وقت اپنی آنکھوں پر انگوٹھے چوم کر لگانا یہ فعل و طریقہ صحابہ کرام اور سنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اس عمل کو غیر مقلدین فرقہ کے لوگ حقارت کے طورپر حرام کہتے ہیں کیا وہ کافر اور مرتد ہوں گے یانہیں کتاب کے حوالہ سے بیان فرمائیں اﷲ تعالی اجر عطا فرمائے قیامت کے روز۔تم پر اﷲ کی رحمتیں ہوں۔(ت)
الجواب:
قال سیدنا اﷲ صلی اﷲ تعالی سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
علیہ وسلم من رأی منکم منکر ا فلیغرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان ہر کہ از شماامر نا روابیند باید کہ بدست خویش تغیرش دہد واگر نہ تواند پس بزبان واگر نتواند پس بدل وآں ضعیف ترین الایمان ست رواہ الائمۃ احمد والستۃ الاالبخاری عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ ونیز در حدیث آمد النصح لکل مسلم دین آنست کہ ہر مسلمان راخیر خواہی کنند اصلہ عند احمد والشیخین و ابی داؤد والنسائی عن تمیم الداری والترمذی و النسائی ابی ھریرۃ واحمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔پس بیش از جواب امرے ضروری ومہم تر باید شنید خیر البشر وخیرالناس وافضل الخلق واکرم البریہ جناب سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول رب العلمین ست صلی اﷲ تعالی علیہ علیہم فرمایا: تم میں سے جب کوئی برائی دیکھے تو ہاتھ سے اسے روکے اور اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے منع کرے اوراگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو دل سے برا جانےاور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔اس کو ائمہ سنۃ میں سے بخاری کے علاوہ سب نے اور امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔نیز حدیث میں ہے ہر مسلمان کی خیرخواہی دین ہےاس کو امام احمدشیخینابوداؤد اور نسائی نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے پس جواب سے قبل ایك ضروری بات اور اھم امر سن لینا چاہئے کہ افضل الخلق اور اکرم الناس اور خیرا لبشر اور اکرم البریۃ جناب سیدالمرسلین خاتم النبیین محمد رسول رب العالمین ہیں آپ پر اور آپ کی آل واصحاب سب پر دورد وسلام ہو
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱،مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۴۹ و ۵۲
مسند احمد بن حنبل حدیث جریر بن عبداﷲ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۶۶۔۳۶۵،صحیح البخاری کتا ب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳،صحیح مسلم کتا ب الایمان باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۵۔۵۴
مسند احمد بن حنبل حدیث جریر بن عبداﷲ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۶۶۔۳۶۵،صحیح البخاری کتا ب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الدین النصیحۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳،صحیح مسلم کتا ب الایمان باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۵۔۵۴
وعلی الہ وصحبہ اجمعین کافہ مسلمین بریں معنی اجماع دارند فقیر غفرلہ اﷲ المولی القدیر در تفضیل مطلق حضور افضل برحق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رسالہ مبسوط گرد آوردہ ام مسمی بہ "قلائد نحور الحور من فرائد بحورالنور"ملقب بنام تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین۱۳۰۵ھ"صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجمعین آنجا بہ دہ آیت وصد حدیث نقش حق برکرسی تحقیق نشاندہ ام کہ ہیچ یکے از انبیائے مرسلین وخلق اﷲ اجمعین بکمال رفیع وجلال منیع حضور سید العالمین اکرم الاولین والآخر ین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نمیر سدماناکہ قلم سائل طغیان کردد بجائے ابوالبشر خیر البشر سرزد او ارادہ الخیریۃ الجزئیۃ من جھۃ الابوۃ متاؤلا لبعض مایذکر فی الباب والاول اسلم بل ھو المفرع ان سائد الواقع وﷲ بذات الصدور اعلم حق آنست کہ ہمچو عبارت احتراز واجب ولازم وفرض متحتم ست واﷲ الھادیاکنوں بجواب مسئلہ پروازیم آرے دریں باب از خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر و یحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمام مسلمانوں کا اس معنی پر اجماع ہے۔فقیر غفرلہ اﷲ المولی القدیر(مصنف علیہ الرحمۃ)نے حضور افضل برحق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی فضیلت مطلقہ پر مبسوط رسالہ مسمی بہ "قلائد نحورا لحور من فوائد بحور النور"ملقب بنام "تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین ۱۳۰۵ھ"صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجمعین لکھا ہے۔اس میں دس آیات کریمہ اور سو حدیث شریف سے حق کو اجا کر گیا ہے کہ کوئی حدیث شریف سے حق کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کوئی بھی انبیاء ومرسلین اور تمام مخلوق میں سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مرتبہ کمال بلند وبالاکو نہ پہنچاہوسکتا ہے کہ سائل کا قلم پھسل گیا ہو ابوالبشر کی جگہ آدم علیہ السلام کی خیر البشر لکھنا سرزد ہوگیا ہو یا سائل نے تاویل سے کام لے کر ابوت والی جزوی فضیلت کی بناء پر آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو خیر البشر کہہ دیا ہو۔جیسا کہ بعض مقامات پر ایسی تاویل سے کام لیا جاتاہے لیکن پہلااحتمال اگر واقع میں ایسا ہو تو اس میں احتیاط ہے اﷲ تعالی دلوں کا حال بہتر جانتا ہے حق یہی ہے کہ ایسی عبارت سے پرہیز لازم بلکہ اہم فرض ہے۔اﷲ تعالی ہدایت کا مالك ہے۔اب سوال کے جواب کی طرف متوجہ ہوتاہوںیہ درست ہے کہ اس مسئلہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پھول حضرت
امام حسن مجتبی وحضرت سیدنا ابوالعباس خضر علیہ الصلوۃ والسلام وغیرہم حدیثہا اور کتب علماء مرویست کہ امام شمس الدین سخاوی درمقاصد حسنہ بتفصیل برخے از انہاپرداخت ومحط کلام محدثین کرام محققین اعلام کہ در صحیح و تضعیف وجرح وتوثیق راتساہل وتشدید سپردہ اند آنست کہ دریں باب حدیثے از حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بدرجہ صحت فائز نشدہ درمقاصد فرمود لا یصح فی المرفوع من کل ھذا شیئ درمضوعات کبیر ست مایروی فی ھذا فلا یصح رفعہ البتہ در ردالمحتار علامہ اسمعیل جراحی نقل فرماید لم یصح فی المرفوع من ھذا شیئ ۔وبرخادم حدیث مخفی نیست کہ دراصطلاح محدثین نفی صحت نفی حسن ہم نمی کند تابہ نفی صلاح وتماسك و صلاح تمسك یادعوی وضع چہ رسدقال القاری فی الموضوعات قال ابوالفتح الازدی لایصح فی العقل حدیث قالہ ابوجعفر العقیلی امام حسن مجتبی اور حضرت سیدنا ابوالعباس خضر علیہ الصلوۃ و السلام وغیرھم سے علماء کی کتب میں مرویات موجود ہیں جبکہ امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔روایات کی تصحیح وتضعیف اور جرح وتوثیق میں سختی اور نرمی سے کام لینے والے محدثین ومحققین کے کلام کا ماحاصل یہ ہے کہ اس مسئلہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی مرفوع حدیث درجہ صحت کو نہ پہنچیمقاصد حسنہ میں فرمایا اس مسئلہ کے متعلق کوئی حدیث مرفوع صحت کو نہیں پہنچی۔موضوعات کبیر میں ہے اس مسئلہ میں مرویات کا مرفوع ہونا یقینا صحیح نہیں ہے۔ردالمحتار میں علامہ اسمعیل جراحی سے منقول ہے کہ اس میں کوئی مرفوع روایت صحیح نہیں ہے۔کسی بھی خادم حدیث پر مخفی نہیں ہے۔کہ محدثین کی اصطلاح میں کسی حدیث کی صحت کا منتفی ہونا اس کے حسن کے انتفاء کو مستلزم نہیں کہ اس سے استدلال کی نفی لازم آئے چہ جائیکہ وہاں حدیث کے موضوع ہونے کا دعوی کیا جائےملا علی قاری نے موضوعات میں فرمایا کہ ابوالفتح الازدی نے فرمایا ہے کہ عقل کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں۔یہ بات ابوجعفر عقیلی
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۱۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۸۵
اسرار المرفوعۃ حدیث ۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۱۰
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الاذان دارحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۶۷
اسرار المرفوعۃ حدیث ۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۱۰
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الاذان دارحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۶۷
وابو حاتم بن حبان انتہی و لایلزم من عدم الصحۃ وجود الوضع کما لایخفی اھ ملخصا۔امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہفرمود قول من قال فی حدیث انہ لم یصح ان سلم لم یقدح لان الحجۃ لایتوقف علی الصحۃ بل الحسن کاف ۔ باز درفضائل اعمال حدیث ضعیفہ باجماع ائمہ مقبول ست نص علیہ غیر واحد من الحفاظ منھم الامام النووی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ۔باز چوں نیك درنگری کلمات مذکورہ علمائے محدثین ظاہر ست درآنکہ نفی صحت ہمیں باحادیث مرفوعہ مخصوص ست وایں جاخود درآثار موقوفہ کفایتے ست کافیہ وحجتے وافیہلاجرم علامہ علی قاری مکی رحمہ اﷲ تعالی درکتاب مذکور بعد قول مسطور لایصح رفعۃ البتۃ میفرد ماید قلت و اذا ثبت رفعہ الی الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام اور ابوحاتم بن حبان نے فرمائی ہے اھ اور اس عدم صحت سے حدیث کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا جیسا کہ واضح ہے اھ ملخصا۔محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین محمد بن الہمام نے فرمایا کسی حدیث کے متعلق عدم صحت کا قول اگر تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس سے حدیث کی حجیت ختم نہ ہوگی کیونکہ حجیت محض صحت پر موقوف نہیں بلکہ حدیث کا حسن ہونا بھی حجیت کے لئے کافی ہے۔نیز اعمال کے فضائل میں ضعیف احادیث بھی اجماع ائمہ کے مطابق مقبول ہے۔یہ بات کئی ائمہ وحفاظ حدیث سے منصوصہ ان میں امام نووی رحمۃ اﷲ تعالی بھی شامل ہیں اور پھر یہ کہ اس مسئلہ میں علمائے حدیث کے الفاظ کو غور سے دیکھا جائے تو انھوں نے یہاں صرف مرفوع حدیث کی صحت کی نفی فرمائی ہے جبکہ موقوف روایات یہاں حجت کے لئے کافی ہیںچنانچہ ملا علی قاری نے اپنے قول مذکور"یہ روایت بطور مرفوع صحیح نہیں ہے"کے بعد لکھا ہے قلت(میں کہتاہوں کہ)جب اس روایت کا رفع حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ تك ثابت ہے تو اس پر عمل کے لئے یہ کافی دلیل ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام
حوالہ / References
الاسرار المرفوعۃ تحت حدیث ۱۲۲۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۱۸
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الموضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸
الاسرار المرفوعۃ تحت حدیث ۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۱۰
فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الموضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸
الاسرار المرفوعۃ تحت حدیث ۸۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۱۰
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین یعنی چوں اسناد ایں فعل بجانب جناب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ بہ پایہ ثبوت رسید درعمل بسند ست زیرا کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمودہ لازم باد برشماسنت من وسنت خلفائے راشدین من رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین درکنزا لعباد وشرح نقایہ علامہ شمس ہروی وفتاوی صوفیہ وردالمحتار حاشیہ درمختار وغیرہا اسفار کہ ایں ہمہ از مستندات کبرے مانعین ست باستحباب ایں عمل تصریح رفت سیدی خاتمۃ المحققین امین الدین محمد عابدین شامی قدس سرہ السامی فرماید یستحب ان یقال عند سماع الاولی من الشہادۃ الثانیۃ صلی اﷲ علیك یا رسول اﷲ وعند الثانیۃ منھا قرۃ عینی بك یار سول اﷲ ثم یقول اللھم متعنی بالسمع والبصر بعد وضع ظفری الابھا مین علی العینین فانہ علیہ الصلوۃ والسلام یکون قائدا لہ الی الجنۃ کما فی کنز العباد اھ قہستانی ونحوہ فی الفتاوی الصوفیۃ الخ باز اگر بالفرض ہیچ نبودی تا از قبیل اعمال علماء و مشائخ ہست رحمہ اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے فرمایا:تم پرمیری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت پر عمل لازم ہے یعنی چونکہ اس فعل کی اسناد جناب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ تك پائیہ ثبوت کو پہنچتی ہیں اس لئے عمل کے لئے سند ہے کیونکہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ"تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالی عنہ کی سنت پر عمل لازم ہے"کنز العباد شرح نقایہعلامہ شمس ہرویفتاوی صوفیہرد المحتار حاشیہ درمختار وغیرہا کتب جومانعین حضرات کے بڑوں کی مستند کتابیں ہیں یہ تمام اس عمل کے استحباب پر متفق ہیں سید محمد عابدین شامی قدس سرہنے فرمایا:اذان میں پہلی بار شہادت سن کر صلی اﷲ علیك یا رسول اﷲ اور دوسری بار سن کر قرۃ عینی بك یا رسول اﷲ کہہ کر آنکھوں پر انگوٹھے رکھ کر کہے اے اللہ! مجھے سمع وبصر سے فائدہ عطا فرما(اس عمل کی برکت سے) حضور علیہ اصلوۃ والسلام اس کے لئے جنت لے جانے میں قیادت فرمائیں گےجیسا کہ کنز العباد میں ہے اھ قہستانی فتاوی صوفیہ میں اسی طرح کی عبارت ہے الخ۔پھر بالفرض اگر کوئی روایت بھی نہ ہو تو کم ازکم علماء ومشائخ رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین کے اعمال اور وظائف میں
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتا ب السنۃ باب فی لزوم السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۷۹
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ والسلام باب الاذن داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۶۷
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ والسلام باب الاذن داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۶۷
کہ بغرض زیادت روشنائی بصریحا آوردہ وبحسن نیت وصدق طویت ببرکت او فائدہ حاصل کردہ اندا امام سخاوی رحمہ اﷲ تعالی از جمعی کثیر از علماء وصلحاء نقلش نمودعلامہ طاہر فتنی علیہ رحمۃ الغنی درمجمع بحار الانوار فرمودہ روی تجربۃ ذلك عن کثیرین ودرہمچوں مقام زنہار بورود تصریح درقرآن وحدیث حاجت نیست علماء راسلفاء وخلفاء اجماع عملی وسکوتی قائم ست کہ درامثال امور بہر جلب سرور سلب شرور گوناگو اعمال و اوفاق واذکار اوراد وادعیہ ونقوش ورقی وتعاویز برآرند وخود خوانند ونویسند وبکار برند وبہ دیگراں تعلیم کنند واجازت دہند وبریں معنی از ہیچ معتمدی انکار نشوند و درمواہب اللدنیہ ومنح فعتمدی انکار نشوندو درمواہب للدنیہ ومنح محمدیہ امام قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری و مدارج النبوۃ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہما چیزہا ازیں باب مذکور ستواینك علامہ ابن الحاج مکی مالکی صاحب کتاب المدخل کہ تشدیدے بلیغ وارد درانکار بدع و موادث اوخویشتن در ہمیں کتاب اعمال جدیدہ بہر غرض عدیدہ ذکر کردہ واز سیدی عارف باﷲ ابومحمد مرجانی یہ شامل ہے کہ وہ انکھوں کی بینائی میں اضافہ کے لئے یہ وظیفہ کرتے چلے آئے ہیں اور اپنی حسن نیت اور صدق عزم سے اس وظیفہ سے فائدہ حاصل کرتے ہیں امام سخاوی رحمہ اﷲ تعالی نے کثیر علماء وصلحاء کی جماعت سے نقل فرمایا ہے۔ علامہ طاہر فتنی علیہ الرحمۃ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں کثیر بزرگوں سے اس کا مجرب ہونا مروی ہے۔ایسے مقام میں قرآن وحدیث کی تصریح کی کوئی حاجت نہیں علماء کرام کا سلفا خلفا اجماع عملی اور سکوتی چلا آرہا ہے کہ خوشی کے حصول شر کے دفعیہ کے لئے گونا گو اعمال اذکا ر اوراددعائیںتعویذ ونقوش کرتے خود لکھتے اور پڑھتے اور دورسروں کو تلیم دیتے اور اجازتیں دیتے چلے آرہے ہیں ان امور میں کسی بھی معتمد علیہ شخصیت کا انکار ثابت نہیں۔مواہب اللدنیہ و منح امام محمدیہ امام قسطلانی شارح بخاری اور مدارج النبوت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہما میں ایسے بہت سے امور مذکور ہیںعلامہ ابن الحاج مکی مالکی رحمہ اﷲ تعالی جو کہ بدعات کے رد میں شدت فرماتے ہیں نے اپنی کتاب المدخل میں متعدد واغراض کے لئے جدید اعمال ذکر فرمائے ہیں اور انھوں نے اپنے اساتذہ ومشائخ مثلا عارف باﷲ ابومحمد مرجانی
حوالہ / References
مجمع بحار الانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الاسن الخ مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۵/ ۲۳۴
وغیرہ مشائخ واساتذہ خود آورد کہ ہر گز چیزے از آنہا ازحضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ بلکہ از صحابہ وتابعین ہم روئے ثبوت ندیدہ است بلکہ چیز ہابینی کہ خود دارمختراعا ایں علماء باشد ہم ازیں باب ست عمل جدی یعنی مرض چیچك کہ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی در تفسیر سورۃ بقرۃ ذکر نمود وخود از قول الجمیل وغیرہ تصانیف شاہ ولی اﷲ دہلوی چہ پرسی کہ از انجا ازیں قبیل تو دہ مخترعات ومحدثات تواں یافتہ شاہ صاحب مذکور درہوامع شرح حزب البحر سپید گفت کہ"اجتہاد را در اختراع اعمال تصریفیہ راکشادہ ست مانند استخراج اطباء نسخہائے قرابادیں را ایں فقیر معلوم شد است کہ در وقت طلوع رامعلوم شدہ است کہ دروقت طلوع صبح صادق باسفار مقابل صبح نشستن وچشم رابآن نور دوختن و"یانور"راگفتن تاہزار بار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد الخبالجملہ درجواز ایں فعل اصلا مجال مقال ومحل شبہ واحتمال نیست وہیچ ولیلی از دالائل شرع مرمنع وتحرمیش دلالت ندارد وفقیر غفراﷲ تعالی دریں مسئلہ رسالہ حافلہ وغیرہ سے یہ اعمال ذکر فرمائے ہیں اور خود فرمایا کہ یہ جدید وظائف واعمال حضور علیہ الصلوۃ والسلام بلکہ صحابہ کرام و تابعین تك سے ہر گز ثابت نہیں بلکہ آپ کو معلوم ہے کہ تمام اعمال ان علماء کے ایجاد کردہ ہیں۔انہی امور میں سے چیچك کے لئے ایك عمل تفسیر عزیزی میں حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اﷲ تعالی نے سورۃ بقرہ میں ذکر فرمایا اس معاملہ میں شاہ ولی اﷲ تعالی محدث دہلوی کی کتاب قول الجمیل وغیرہ تصانیف کا کیا کہنا ان میں جگہ جگہ اس قسم کے جدید ایجاد کردہ اعمال کاذ کر موجود ہے۔حضرت شاہ صاحب نے ہوامع شرح حزب البحر میں فرمایا کہ"اعمال تصریفیہ میں اجتہاد کو اختراع اعمال میں کافی دخل ہے جسطرح کہ اتباع حضرات قرابا دین کے نسخوں میں استخراج کرتے ہیں چنانچہ اس فقیر(شاہ ولی اﷲ صاحب)کو معلوم ہے کہ صبح صادق کے طلوع کے وقت مطلع کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھنا اور اپنی آنکھوں کو صبح کی روشنی کے سامنے کھلا رکھنا اور ہزا ربار "یانور"کا ورد کرنا ملکی قوت میں اضافہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے الخ۔خلاصہ یہ کہ اس تقبیل ابہامین کے عمل کے جواز میں کسی اعتراض یا شبہہ کی گنجائش نہیں ہےاور اس کے منع پرکوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔اس فقیر(مصنف علیہ الرحمۃ)کا
حوالہ / References
ہوامع شاہ ولی اللہ
کافلہ مسمی بنام تاریخی منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین تصنیف کردہ ام وآنجا بحول اﷲ تعالی کلام را باقصی مراتب نقد وتحقیق رسانیدہ ہر کرا ہوائے اطلاع برقول فیصل وفصل مفصل درسرشت گو خویش ببادبسوئے آن رسالہ مراجعت اینجا جواب سائل راہمیں قدر پسند ست کہ چیزے کہ حرمتیں از شرع مطہر ثابت نیست ہرکہ حرامش گوید افترا برشرع مطہر میکنند وافتراء برخدا ورسول وآسان کارے ست والعیاذباﷲ سبحانہ وتعالیقال ربنا تبارك قدس" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ " ایناں کہ اصول کا سدہ وفروع فاسدہ دردین اختراع کردہ صدہا مباحات شرعیہ بلکہ مستحبات قطعیہ بلکہ سنن ثابتہ رابدعت شنیعہ وحرام شدید بلکہ مخل اصل ایمان وشرك صریح وواجب العقاب وقطعی الوعید میگویند قطعا برخدا ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ سلم دروغ می بند ند و درمغاك ہلاك فقد باء باحد ھما
" و من اظلم ممن افتری علی اللہ اس مسئلہ میں ایك مستقل جامع رسالہ مسمی بہ اسم تاریخ "منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین"تصنیف کردہ ہے جس میں اﷲ تعالی کی مدد سے کلام کو انتہائی مرتبہ تك پہنچانے میں تحقیق وتنقیح سے کام لیا ہےجس کو اس معاملہ میں قول فیصل پر اطلاع کاشوق ہو تو وہ اس رسالہ میں قول فیصل پراطلاع کا شوق ہو تو وہ اس رسالہ کی طرف رجوع کرےیہاں سائل کے لئے جواب میں اتنا ہی کافی ہیے۔کہ جس چیز کی حرمت شرعا ثابت نہیں اس کو حرام کہنا شریعت پر افتراء ہے اور اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کیا آسان کام ہے واﷲ تعالی اعلم۔اﷲ تعالی نے فرمایا:"اﷲ تعالی پر افتراء کرتے ہوئے اپنی زبانوں سے جھوٹ مت بتاؤ کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے جو لوگ اﷲ تعالی پر افتراء کرتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے"ان لوگوں نے دین میں من گھڑت اصول اور فاسد مسائل کا اختراع کرکے صدہا شرعی مباہات بلکہ مستحبات کو بلکہ سنن ثابتہ کو بدعت سیئہ اور حرام بلکہ اصل ایمان کے لئے مخل اور صریح شرك اور واجب العقاب والوعید قرار دیا ہے یہ اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں اور ہلاکت کا راستہ اپناتے ہیں اورمتعد آیات وعید کا مصداق بنتے ہیں۔ان لوگوں کا یہ
" و من اظلم ممن افتری علی اللہ اس مسئلہ میں ایك مستقل جامع رسالہ مسمی بہ اسم تاریخ "منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین"تصنیف کردہ ہے جس میں اﷲ تعالی کی مدد سے کلام کو انتہائی مرتبہ تك پہنچانے میں تحقیق وتنقیح سے کام لیا ہےجس کو اس معاملہ میں قول فیصل پر اطلاع کاشوق ہو تو وہ اس رسالہ میں قول فیصل پراطلاع کا شوق ہو تو وہ اس رسالہ کی طرف رجوع کرےیہاں سائل کے لئے جواب میں اتنا ہی کافی ہیے۔کہ جس چیز کی حرمت شرعا ثابت نہیں اس کو حرام کہنا شریعت پر افتراء ہے اور اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کیا آسان کام ہے واﷲ تعالی اعلم۔اﷲ تعالی نے فرمایا:"اﷲ تعالی پر افتراء کرتے ہوئے اپنی زبانوں سے جھوٹ مت بتاؤ کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے جو لوگ اﷲ تعالی پر افتراء کرتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے"ان لوگوں نے دین میں من گھڑت اصول اور فاسد مسائل کا اختراع کرکے صدہا شرعی مباہات بلکہ مستحبات کو بلکہ سنن ثابتہ کو بدعت سیئہ اور حرام بلکہ اصل ایمان کے لئے مخل اور صریح شرك اور واجب العقاب والوعید قرار دیا ہے یہ اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں اور ہلاکت کا راستہ اپناتے ہیں اورمتعد آیات وعید کا مصداق بنتے ہیں۔ان لوگوں کا یہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۱۱۶
صحیح البخاری کتاب الادب باب من کفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷
صحیح البخاری کتاب الادب باب من کفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷
کذبا " وغیرہ ذلك من المھالك می افتند وایں معنی ایشاں بجہت رانہ ہمیں برفسق وارتکاب کبیرہ مقتصرہ دارد بلکہ بجہت عقد قلب واتخاذمذہب بفسق عقیدہ وضلالت بعیدہ وبدعت طریدہ کشد وآنہمہ احکام خلل اصل ایمان و وجوب عذاب وقطیعت عقاب بحکم حدیث انا عند ظن عندی بی ۔وقاعدہ عقلی ونقلی اقرار مرد آزار مردہم بروئے ایشاں برگردد وحکم تیر بازگشت پیدا کنند اماہیات کفر چیزے عظیم ست وزنہار آدمی رابربیارداز دائرہ اسلام مگر انکار امرے کہ درآوردہ بودش اقرارش ورود فعل اینکار از حضرت ابوالبشر یادیگر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہنوز بپایہ صحت نرسید است پس کجاتواتر پس گجابودنش از ضروریات دین وخود انکار واستحقاق ایشاں مبنی برآنست کہ ثابت ندانند نہ آنکہ ثابت کہ گویند وراہ اہانت پویند پس تکفر رازنہار مساعی نیست وخود از عظم خطایائے۔ایں بیبا کان زبان بتکفیر مسلماناں کشادن وبکمترین چیزے حکم شرك و کفر سردادن ست وھم عمل ان کو نہ صرف فسق وگناہ کبیرہ میں مبتلا کرتا ہے بلکہ ان کے دل عقیدہ اور مذہب کی بنا پر فسق عقیدہ۔ضلالت وگمراہی شدیدہ سے بڑھ کر ان کے اصل ایمان میں خلل اور عذاب کی قطعیت کی طرف ان کو ڈالتا ہے۔"میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں"حدیث کے حکم کی وجہ سے کہ جیسا کہ عقیدہ ویسا نتیجہ پائیں گے۔اور عقلی ونقلی قاعدہ ہے۔کہ اپنے اقرار پر آدمی پھنس جاتا ہے تاہم کسی پر کفر کا حکم بہت بڑا معاملہ ہے۔ دائرہ اسلام سے کسی شخص کو خارج نہیں کرتا مگر اسلام میں داخل کرنے والے امر کا انکار جبکہ بتقبیل کا عمل حضرت آدم علیہ السلام یا دیگر انبیاء علیہم السلام سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا چہ جائیکہ درجہ تواتر کو پہنچے اور ضروریات دین کے درجہ میں ہوجائے ان لوگوں کا اس عمل سے انکار صرف اس بات پر مبنی ہے کہ یہ عمل ثابت نہیں نہ کہ ثابت مان کر ازراہ اہانت انکار کرتے ہیں لہذا اس بناء پر ان کو کافر کہنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ اس بناء پر کافر کہنا کی کوئی وجہ نہیں بلکہ اس بناء پر کافر کہنا خودخطرنکاك معاملہ ہے۔ یہ بدبخت لوگ ہیں جو مسلمانوں کو اپنی زبانوں سے کفر میں مبتلا کرتے ہیں اور معمولی معمولی باتوں پر ان کو مشرك اور کافر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۲۱
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی ویحذرکم اﷲ نفسہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۰۱،صحیح مسلم کتاب التوبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۵۴
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی ویحذرکم اﷲ نفسہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۰۱،صحیح مسلم کتاب التوبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۵۴
لؤلون عنہ یوم الجزاء وعلیہم لخروج عن عہدتہ فی دارالقضاء حذر باید کہ خصلت شنیعہ وشنعت قطعیہ ایں مبتدعان بخود سرایت نکند وباﷲ العصمۃ ارے اگر بظواہر احادیث صحیحہ مثل باءبھا بعدھما وحار علیہ وکفر بتکفیرہ کہ زا عاظم ائمہ محدثین مثل امام مالك و احمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد وترمذی وابن حبان درصحاح ومسانید و سنن وخود شان از حضرات عبداﷲ بن عمرو وابوھریرہ وابوذر وابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہم روایت نمودند نظر کردہ آید خاصہ کہ ایں جہولان رابزعم خودشان ہم بعمل بر ظواہر احادیث جمعہ ونام ست یابفتوائے امام فقیہ ابوبکر اعمش وسائر ائمہ بلخ وبسیاری از ائمہ بخارا کہ مکفر مسلم را مطلقا کافر گویند عمل نمودہ شود بلکہ ہم بر مذہب مصحح ومعتمد ومختار للفتوی کہ اگر تکفیر مسلم نہ بروجہ شتم بلکہ بطور اعتقاد وجزم ست کافر گردد و در درمختار ست بہ یفتی کہتے ہیں یہ قامت کے روز جوابدہ ہوں گے اور ان کو فیصلہ کے وقت اس الزام کا جواب دینا ہوگابہت احتیاط کرنی ضروری ہے تاکہ ان لوگوں کی خصلت قبیحہ اور قطعیہ بدبختی کاارتکاب لازم نہ آئےہاں کافر ومشرك کہنے کی بناء پر کفر دونوں میں کسی کی ایك پر ضرور عائد ہوتا ہے اور ہلاك کرتا ہے اور کسی کی بلاوجہ تکفیر پرکفر کا حکم لازم ہوتا ہے۔احمدبخاریمسلم ابودواؤدترمذیاور ابن حبابن نے صحاح مسانیدسنن میں حضرت عبداﷲ بن عمرابوہریرہ ابوذر اور ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت فرمائی ہیںیہ جاہل لوگ جو کہ ظاہر حدیث پر عمل بزعم خواہش لازم کہلاتے ہیں اور اہل حدیث کہلاتے ہیں ان کوغور کرنا چاہئےکہ ان روایات کا مصداق ہیں یانہیں اور کیا امام فقیہ ابوبکر اعمش اور تمام ائمہ بلخ اور بہت سے ائمہ بخارا کا فتوی ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر سے ا نسان مطلقا کافرہوجاتاہے پر عمل لازم آتا ہے بلکہ معتمد اور صحیح مذہب پر فتوی ہےکہ کسی مسلمان کو بطور اعتقاد جازم کافر قرار دینے سے انسان کافر ہوجاتاہے اور درمختار میں ہے اسی پر فتوی ہے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱،صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۷
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۷
ودر شرح نقایہ قہستانی انہ المختار ۔ودرذخیرہ واحکام و جواہرا خلاطی وفصول عمادی وشرح درر وغرر وشرح نقایہ برجندی وشرح وہبانیہ علامہ ابن الشحنہ ونہر الفائق وحدیقہ ندیہ وفتاوی ہندیہ وردالمحتار وغیرہا انہ المختار للفتوی بالقطع والیقین بریں طائفہ مکفرہ مسلمین حکم کفر واتداد بلاریب لازم ست چنانکہ من فقیر در رسالہ مسمی بنان تاریخ النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید۱۳۰۵ھ مفصل گفتہ ام امابحمداﷲ تعالی مارا ہنوز احتیاط درکاراست واز کفارایں اہل اکفار اجتناب وانکار کمابینتہ ایضا فیھا وفی غیر ھا من تصانیفی وفتاوی واﷲ الھادی انہ مولائی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اور شرح نقایہ قہستانی میں"انہ المختار"ذخیرہ احکام جواہر الاخلاطی فصول عمادی۔شرح دررغررشرح نقایہ برجندی شرح وہبانیہعلامہ ابن الشحنہنہر الفائقحدیقہ ندیہ فتاوی ہندیہ اور ردالمحتار وغیرہا کتب میں انہ المختار للفتوی بالقطع والیقین فرمایا ہے تومسلمانوں کو کافر کہنے والے اس طائفہ پر ان فتاوی پر ان فتاوی کی روشنی میں کفر وارتداد کاحکم بلا شك وشبہہ لازم آتاہےجیسا کہ اس فقیر(مصنف علیہ الرحمۃ)نے اپنے رسالہ مبارکہ مسمی باسم التاریخ"النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید"میں مفصل بحث ذکر کی ہے تاہم ہمیں بحمدہ تعالی ابھی احتیاط لازم اور ضروری ہے اور ان کا فر بتانے والوں کو کافر کہنے سے اجتناب کریں گے جیسا کہ میں نے اسی رسالہ میں اور دیگر تصانیف میں بیان کیاہے۔اﷲ تعالی ہدایت دینے والا اور وہی میرا مولی ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۳: ازبہار شریف محلہ شیخانہ متصل عیدگاہ مرسلہ محمد یسین ومحمد حسین طالبان علم ۹ شوال ۱۳۱۶ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ بزرگوں کی قبر پر جانے کے وقت دروازے کی چوکھٹ چومنا اور پھر باوجود تعظیم اس پر پیر رکھ کے اندر جانا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اصل کلی یہ ہے کہ تعظیم ہر منتسب بارگاہ کبریا علی الخصوص محبوبان خدا انحائے تعظیم حضرت
مسئلہ ۱۴۳: ازبہار شریف محلہ شیخانہ متصل عیدگاہ مرسلہ محمد یسین ومحمد حسین طالبان علم ۹ شوال ۱۳۱۶ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ بزرگوں کی قبر پر جانے کے وقت دروازے کی چوکھٹ چومنا اور پھر باوجود تعظیم اس پر پیر رکھ کے اندر جانا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اصل کلی یہ ہے کہ تعظیم ہر منتسب بارگاہ کبریا علی الخصوص محبوبان خدا انحائے تعظیم حضرت
حوالہ / References
جامع الرموز کتاب الحدود فصل فی القذف مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۴/ ۵۳۵
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۸۳
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۸۳
عزت جل وعلا ہے۔قال اﷲ تعالی:
" ومن یعظم حرمت اللہ فہو خیر لہ عند ربہ " جو اﷲ تعالی کی حرمتوں کی تعظیم کرے تووہ بہتر ہے اس کے لئے اس کے پروردگار کے یہاں۔
وقال تعالی:
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾" جو اﷲ کے شعاروں کی تعظیم کرے وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القران غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السطان المقسط ۔رواہ ابوداؤد عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ یعنی بوڑھے مسلمان اور عالم باعمل اور حاکم عادل کی تعظیمیں اﷲ تعالی کی تعظیم سے ہیں۔(اسے ابوداؤد نے ابوموسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
اور علمائے کرام قدیما وحدیثافقہا وحدیثا تصریحات فرماتے ہیں کہ حرمۃالمسلم حیا ومیتا سواء مسلمانو زندہ ومردہ کی حرمت یکساں ہےولہذا علماء نے وصیت فرمائی کہ قبر سے اتنا ہی قریب ہوجتنا زندگی دنیامیں صاحب قبر سے قریب ہوسکتا ہے اس سے زیادہ آگے نہ جائےعالمگیریہ میں ہے:
فی التہذیب یستحب زیارۃ القبور وکیفیۃ الزیارۃ کزیارۃ ذلك المیت فی حیاتہ من القرب والبعد کذا فی خزانہ الفتاوی ۔ تہذیب میں ہے زیارت قبورمستحب ہے۔زیارت کی کیفیت یہ ہے کہ جتنا قرب وبعد میت کی زندگی میں اس کی زیارت کے لئے ہوتا تھا بعد مرگ بھی اتناہی ہوخزانہ الفتاوی میں یونہی ہے۔(ت)
" ومن یعظم حرمت اللہ فہو خیر لہ عند ربہ " جو اﷲ تعالی کی حرمتوں کی تعظیم کرے تووہ بہتر ہے اس کے لئے اس کے پروردگار کے یہاں۔
وقال تعالی:
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾" جو اﷲ کے شعاروں کی تعظیم کرے وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القران غیر الغالی فیہ والجافی عنہ واکرام ذی السطان المقسط ۔رواہ ابوداؤد عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ یعنی بوڑھے مسلمان اور عالم باعمل اور حاکم عادل کی تعظیمیں اﷲ تعالی کی تعظیم سے ہیں۔(اسے ابوداؤد نے ابوموسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
اور علمائے کرام قدیما وحدیثافقہا وحدیثا تصریحات فرماتے ہیں کہ حرمۃالمسلم حیا ومیتا سواء مسلمانو زندہ ومردہ کی حرمت یکساں ہےولہذا علماء نے وصیت فرمائی کہ قبر سے اتنا ہی قریب ہوجتنا زندگی دنیامیں صاحب قبر سے قریب ہوسکتا ہے اس سے زیادہ آگے نہ جائےعالمگیریہ میں ہے:
فی التہذیب یستحب زیارۃ القبور وکیفیۃ الزیارۃ کزیارۃ ذلك المیت فی حیاتہ من القرب والبعد کذا فی خزانہ الفتاوی ۔ تہذیب میں ہے زیارت قبورمستحب ہے۔زیارت کی کیفیت یہ ہے کہ جتنا قرب وبعد میت کی زندگی میں اس کی زیارت کے لئے ہوتا تھا بعد مرگ بھی اتناہی ہوخزانہ الفتاوی میں یونہی ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۰
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۰
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۰
اور شك نہیں کہ تعظیم وتوہین کا مدار عرف وعادت پر ہے کما حققہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ فی اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد(جیسا کہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ نے"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد" میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)تو جس کی تعظیم شرعا مطلوب ہے وہاں جو جو افعال وطرق حسب عرف وعادت قوم کئے جاتے ہیں اسی مطلوب شرعی کی تحت میں داخل ہوں گے جب تك کسی خاص فعل سے نہی شرعی نہ ثابت ہوجیسے سجدہ یا قبر کی طرف نماز کہ یہ شرعا ممنوع ہیں۔و لہذا امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر پھر علامہ ابن سندھی نے لباب میں اور ان کے سوا اور علمائے کرام نے زیارت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرمایا:
کلمہ کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۔ جو کچھ تعظیم واجلال میں زیادہ داخل ہوں خوب ہے۔
ابن حجر مکی نے جوہر منظم میں فرمایا:
تعظیم النبی صلی تعالی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نور اﷲ ابصارھم ۔
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ " نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ان جمیع اقسام تعظیم کے ساتھ جس میں حضرت عزت سے الوہیت ہیں شریك کرنا لازم نہ آئے امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیك جن کی آنکھیں اﷲ تعالی نے روشن کی ہیں یعنی جنھیں نور ایمان بخشا ہے۔
اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں۔(ت)
جب یہ اصل کلی معلوم ہو ہوگئی حکم صو ر مسئلہ منکشف ہوگیا آستانہ بوسی پر یہ اعتراض کہ اول چومیں گے پھر پاؤں رکھ کر جائیں گے محض نادانی ہے کعبہ معظمہ ومسجد حرام شریف میں بھی یہی صورت ہے اور ضرورت ایك دوسرے کے منافی نہیں۔منسك متوسط میں ہے:
ثم یأتی الملتزم ویأتی الباب ویقبل العتبۃ طواف کرنیوالا ملتزم پر آئے اور دروازے پر
کلمہ کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۔ جو کچھ تعظیم واجلال میں زیادہ داخل ہوں خوب ہے۔
ابن حجر مکی نے جوہر منظم میں فرمایا:
تعظیم النبی صلی تعالی علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیہا مشارکۃ اﷲ تعالی فی الالوھیۃ امر مستحسن عند من نور اﷲ ابصارھم ۔
" و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ " نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ان جمیع اقسام تعظیم کے ساتھ جس میں حضرت عزت سے الوہیت ہیں شریك کرنا لازم نہ آئے امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیك جن کی آنکھیں اﷲ تعالی نے روشن کی ہیں یعنی جنھیں نور ایمان بخشا ہے۔
اور جسے اﷲ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں۔(ت)
جب یہ اصل کلی معلوم ہو ہوگئی حکم صو ر مسئلہ منکشف ہوگیا آستانہ بوسی پر یہ اعتراض کہ اول چومیں گے پھر پاؤں رکھ کر جائیں گے محض نادانی ہے کعبہ معظمہ ومسجد حرام شریف میں بھی یہی صورت ہے اور ضرورت ایك دوسرے کے منافی نہیں۔منسك متوسط میں ہے:
ثم یأتی الملتزم ویأتی الباب ویقبل العتبۃ طواف کرنیوالا ملتزم پر آئے اور دروازے پر
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الحج مسائل منشورۃ المقصد الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۹۴،لباب المناسك مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین فصل ولوتوجہ الی الزیادۃ دارالکتب العربی بیروت ص۳۳۶
الجواہر النظم الفصل الاول المکتبۃ القادریۃ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۲
القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
الجواہر النظم الفصل الاول المکتبۃ القادریۃ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۲
القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
ویدعو ود خل البیت الخ۔ آکر چوکھٹ کو بوسہ دے اور دعا کرکے اندر داخل ہو الخ(ت)
مسلك متقسط میں ہے:
ان یدخل المسجد من باب السلام حافیا وزاد فی کنز العباد ویقبل عتبتہ (ملخصا) مسجد حرام میں باب السلام سے ننگے پاؤں داخل ہوکنز العباد میں یہ لفظ زائد ہے اور بوسہ دے چوکھٹ کوملخصا(ت)
اور شك نہیں کہ آستانہ بوسی عرفا انحائے تعظیم سے ہے اور شرعا اس سے منع ثابت نہیں تو حکم جوا زچاہئےاقول: وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مگریہاں ایك دقیقہ انیقہ اور ہے جس پر اطلاع نہیں ہوتی مگر بتوفیق حضرت عزت عزجلالہ شرع مطہرہ کا قاعدہ عظیمہ وجلیلہ معروفہ ومشہورہ ہے کہ"الامور بمقاصد ھا"(امور میں مقاصد کا اعتبار ہے۔ت) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات وانکا لکل امری مانوی ۔ اعمال نیات کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔(ت)
انحنا یعنی جھکنے او رپیٹھ دوہری کرنے سے کسی کی تعظیم شرعا مکروہ ہے اور جب بقدر رکوع یا اس سے زائد ہو تو کراہت سخت واشد ہے۔حدیث میں ہے:
قال رجل یارسول اﷲ الرجل منا یلقی اخاہ اوصدیقہ اینحنی لہ قال لا الحدیثرواہ الترمذی وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ایك صحابی نے عرض کی یا رسول اﷲ! ہم اپنے کسی بھائی یا دوست کو ملتے ہیں تو کیا ملاقات میں اس کے لئے جھکا جائے تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں۔الحدیثاس کو ترمذی نے اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
مسلك متقسط میں ہے:
ان یدخل المسجد من باب السلام حافیا وزاد فی کنز العباد ویقبل عتبتہ (ملخصا) مسجد حرام میں باب السلام سے ننگے پاؤں داخل ہوکنز العباد میں یہ لفظ زائد ہے اور بوسہ دے چوکھٹ کوملخصا(ت)
اور شك نہیں کہ آستانہ بوسی عرفا انحائے تعظیم سے ہے اور شرعا اس سے منع ثابت نہیں تو حکم جوا زچاہئےاقول: وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)مگریہاں ایك دقیقہ انیقہ اور ہے جس پر اطلاع نہیں ہوتی مگر بتوفیق حضرت عزت عزجلالہ شرع مطہرہ کا قاعدہ عظیمہ وجلیلہ معروفہ ومشہورہ ہے کہ"الامور بمقاصد ھا"(امور میں مقاصد کا اعتبار ہے۔ت) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات وانکا لکل امری مانوی ۔ اعمال نیات کے ساتھ ہیں اور ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔(ت)
انحنا یعنی جھکنے او رپیٹھ دوہری کرنے سے کسی کی تعظیم شرعا مکروہ ہے اور جب بقدر رکوع یا اس سے زائد ہو تو کراہت سخت واشد ہے۔حدیث میں ہے:
قال رجل یارسول اﷲ الرجل منا یلقی اخاہ اوصدیقہ اینحنی لہ قال لا الحدیثرواہ الترمذی وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ایك صحابی نے عرض کی یا رسول اﷲ! ہم اپنے کسی بھائی یا دوست کو ملتے ہیں تو کیا ملاقات میں اس کے لئے جھکا جائے تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں۔الحدیثاس کو ترمذی نے اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
المنسك المتوسط مع ارشاد الساری فصل فی صفۃ طواف الوداع دارالکتب العربی بیروت ص۱۷۰
المسلك المتقسط فصل یستحب ان یدخل المسجد من باب السلام الخ دارالکتب العربی بیروت ص۷۸
صحیح البخاری کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء علی الجالس فی الطریق امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷
المسلك المتقسط فصل یستحب ان یدخل المسجد من باب السلام الخ دارالکتب العربی بیروت ص۷۸
صحیح البخاری کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء علی الجالس فی الطریق امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷
عالمگیری میں ہے:
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواھر الاخلاطیویکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ وردالنھی کذا فی التمرتاشیتجوز الخدمۃ لغیرہ اﷲ تعالی بالقیام واخذ الیدین و الانحناء و لایجوز السجود الا ﷲ تعالی کذا فی الغرائب انتہی قلت وکان محمل ھذا علی ما اذا لم یبلغ الرکوع فیکرہ تنزیھا وھو یجامع الجواز کما نصوا علیہ واﷲ تعالی اعلم۔ سلطان وغیرہ کے لئے جھکنا مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل مجوس کے فعل کے مشابہ ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔اور سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے اس پر نہی وار دہے۔جیسا کہ تمرتاشی میں ہے۔غیر اﷲ کی تعظیم کے لئے قیاممصافحہاور جھکنا جائز ہے ہاں سجدہ سوائے اﷲ تعالی کے کسی کےلئے جائز نہیں ہے۔یوں غرائب میں ہے اھ میں کہتاہوں اس قیام کا محمل وہ قیام ہے جو رکوع کی حدتك نہ ہو کیونکہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔یہ کراہت جواز کوجامع ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مگر محل ممانعت یہی ہےکہ نفس انحاء ہے مقصود اصل غرض تعظیم ہو۔
کما ھو مفاد قولہ اینحنی لہوفحوی قولھم عندا لتحیۃویعطیہ الحصر فی قولھم بہ وردالنھی۔ جیسا کہ سائل کے قول"کیا اس کے لئے جھکے"اور فقہاء کے قول "عندالتحیۃ"سے مفاد اور ان کے قول"بہ ورد النھی" نے اس کا حصر دیا ہے۔(ت)
اور اگر مقصود کوئی اور فعل ہے اور انحناء خود مقصود نہیں بلکہ اس فعل کا محض وسیلہ وذریعہ ہے تو ہر گز ممانعت نہیں وھو اظھر من ان یظھر(یہ ظاہر سے اظھر ہے۔ت)عالم دین یا سلطان عادل کی خدمت کے لئے اس کا گھوڑا باندھنا یا کھول کر حاضر لانا یا بچھونا کرنایا وضو کراناپاؤں دھلانا یا اس کا جوتا اٹھانا یا مجلس سے اٹھتے وقت اس کی جوتیاں سیدھی کرنایہ سب افعال تعظیم وتکریم ہی ہیں اور ان کے لئے جھکنا ضرور مگر انحناء زنہار ممنوع نہیں کہ مقصود ان افعال سے تعظیم ہے نہ جھکنے سےیہاں تك کہ اگر بے جھکے یہ افعال ممکن ہو جھکنا نہ ہوگا۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بستر مبارك بچھاناوضو کراناحضور جب مجلس میں تشریف رکھیں نعلین اقدس اٹھاکر اپنے پاس
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواھر الاخلاطیویکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ وردالنھی کذا فی التمرتاشیتجوز الخدمۃ لغیرہ اﷲ تعالی بالقیام واخذ الیدین و الانحناء و لایجوز السجود الا ﷲ تعالی کذا فی الغرائب انتہی قلت وکان محمل ھذا علی ما اذا لم یبلغ الرکوع فیکرہ تنزیھا وھو یجامع الجواز کما نصوا علیہ واﷲ تعالی اعلم۔ سلطان وغیرہ کے لئے جھکنا مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل مجوس کے فعل کے مشابہ ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔اور سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے اس پر نہی وار دہے۔جیسا کہ تمرتاشی میں ہے۔غیر اﷲ کی تعظیم کے لئے قیاممصافحہاور جھکنا جائز ہے ہاں سجدہ سوائے اﷲ تعالی کے کسی کےلئے جائز نہیں ہے۔یوں غرائب میں ہے اھ میں کہتاہوں اس قیام کا محمل وہ قیام ہے جو رکوع کی حدتك نہ ہو کیونکہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔یہ کراہت جواز کوجامع ہے جیسا کہ فقہاء نے اس پر نص فرمائی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مگر محل ممانعت یہی ہےکہ نفس انحاء ہے مقصود اصل غرض تعظیم ہو۔
کما ھو مفاد قولہ اینحنی لہوفحوی قولھم عندا لتحیۃویعطیہ الحصر فی قولھم بہ وردالنھی۔ جیسا کہ سائل کے قول"کیا اس کے لئے جھکے"اور فقہاء کے قول "عندالتحیۃ"سے مفاد اور ان کے قول"بہ ورد النھی" نے اس کا حصر دیا ہے۔(ت)
اور اگر مقصود کوئی اور فعل ہے اور انحناء خود مقصود نہیں بلکہ اس فعل کا محض وسیلہ وذریعہ ہے تو ہر گز ممانعت نہیں وھو اظھر من ان یظھر(یہ ظاہر سے اظھر ہے۔ت)عالم دین یا سلطان عادل کی خدمت کے لئے اس کا گھوڑا باندھنا یا کھول کر حاضر لانا یا بچھونا کرنایا وضو کراناپاؤں دھلانا یا اس کا جوتا اٹھانا یا مجلس سے اٹھتے وقت اس کی جوتیاں سیدھی کرنایہ سب افعال تعظیم وتکریم ہی ہیں اور ان کے لئے جھکنا ضرور مگر انحناء زنہار ممنوع نہیں کہ مقصود ان افعال سے تعظیم ہے نہ جھکنے سےیہاں تك کہ اگر بے جھکے یہ افعال ممکن ہو جھکنا نہ ہوگا۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بستر مبارك بچھاناوضو کراناحضور جب مجلس میں تشریف رکھیں نعلین اقدس اٹھاکر اپنے پاس
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
رکھنا جب تشریف لے چلے حاضر لاکر سامنے رکھنایہ دونوں جہان کی عزتیں مبارکمعزز خدمتیں بارگاہ رسالت ہے۔حضرت سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کو سپرد تھیبخاری شریف میں حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
اولیس عندکم ابن ام عبد صاحب النعلین والوسادۃ والمطھرۃ ۔ کیا تمھارے ہاں نعلین اور بسترطہارت والے ابن ام عبد (عبداﷲ بن مسعود)موجود نہیں۔(ت)
مرقاۃ میں ہے:
قال القاضی یرید بہ انہ کان یخدم الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویلازمہ فی الحالات کلھا فیصاحبہ فی المجالس ویأخذ نعلہ ویضعھا اذا جلس وحین نھض ویکون معہ فی الخلوات فیسوی مضجعہ ویضع وسادتہ اذا ارادان ینام ویھی لہ طہورہ ویحمل معہ المطھرۃ اذا قام الی الوضوع ۔اھ قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا:مراد یہ ہےکہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود حضور کی خدمت میں تمام وقت حاضر رہتے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلسوں میں ساتھ رہ کر آپ کے نعل مبارك اٹھاتے اور رکھتے جب تشریف فرما ہوتے اور مجلس سے اٹھتے اور تخلیہ میں آپ کے ساتھ رہتے آپ کے بستر مبارك کو درست بچھاتے اور تکیہ رکھتے جب آپ نے آرام فرمانا ہوتا اور طہارت کا انتظام کرتے اور آپ کے ہمراہ لوٹا لے جاتے جب آپ قضائے حاجت کے لئے باہر تشریف لے جاتے(ت)
اور سب سے اظہر وازہر وہ حدیثیں ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم مبارك چومنا وارد فقیر نے یہ حدیثیں اپنے فتاوی میں جمع کردی ہیںاز انجملہ حدیث وفد عبدالقیس کہ امام بخاری نے ادب مفرد اور ابوداؤد نے سنن میں حضرت زارع بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورجلہ ۔ ہم ایك دوسرے سے بڑھ کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے(ت)
ظاہر ہے کہ پاؤں چومنے کے لئے تو زمین تك جھکنا ہوگا مگر سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
اولیس عندکم ابن ام عبد صاحب النعلین والوسادۃ والمطھرۃ ۔ کیا تمھارے ہاں نعلین اور بسترطہارت والے ابن ام عبد (عبداﷲ بن مسعود)موجود نہیں۔(ت)
مرقاۃ میں ہے:
قال القاضی یرید بہ انہ کان یخدم الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویلازمہ فی الحالات کلھا فیصاحبہ فی المجالس ویأخذ نعلہ ویضعھا اذا جلس وحین نھض ویکون معہ فی الخلوات فیسوی مضجعہ ویضع وسادتہ اذا ارادان ینام ویھی لہ طہورہ ویحمل معہ المطھرۃ اذا قام الی الوضوع ۔اھ قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا:مراد یہ ہےکہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود حضور کی خدمت میں تمام وقت حاضر رہتے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلسوں میں ساتھ رہ کر آپ کے نعل مبارك اٹھاتے اور رکھتے جب تشریف فرما ہوتے اور مجلس سے اٹھتے اور تخلیہ میں آپ کے ساتھ رہتے آپ کے بستر مبارك کو درست بچھاتے اور تکیہ رکھتے جب آپ نے آرام فرمانا ہوتا اور طہارت کا انتظام کرتے اور آپ کے ہمراہ لوٹا لے جاتے جب آپ قضائے حاجت کے لئے باہر تشریف لے جاتے(ت)
اور سب سے اظہر وازہر وہ حدیثیں ہیں جن میں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کا حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قدم مبارك چومنا وارد فقیر نے یہ حدیثیں اپنے فتاوی میں جمع کردی ہیںاز انجملہ حدیث وفد عبدالقیس کہ امام بخاری نے ادب مفرد اور ابوداؤد نے سنن میں حضرت زارع بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
فجعلنا نتبادر فنقبل ید رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورجلہ ۔ ہم ایك دوسرے سے بڑھ کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے(ت)
ظاہر ہے کہ پاؤں چومنے کے لئے تو زمین تك جھکنا ہوگا مگر سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب مناقب عمار وحذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۹
مرقاۃ المفاتیح کتاب المناقب باب جامع المناقب الفصل الاول تحت حدیث ۶۲۰۰ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱۰/ ۵۷۰
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب قبلۃ الرجل آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳،الادب المفرد باب تقبیل الرجل مطبع اثریہ سانگلہ ہل ص۳۵۳
مرقاۃ المفاتیح کتاب المناقب باب جامع المناقب الفصل الاول تحت حدیث ۶۲۰۰ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱۰/ ۵۷۰
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب قبلۃ الرجل آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۳،الادب المفرد باب تقبیل الرجل مطبع اثریہ سانگلہ ہل ص۳۵۳
جائز رکھا کہ مقصود بوسہ قدم سے تعظیم ہے نہ کہ نفس انحناءیہی سر نفیس ہے کہ علماء کرام نے تحیت ومجرا کےلئے زمین بوسی کو حرام بتایا کہ اس میں جھکنے ہی سے تعظیم کی جاتی ہے یہاں تك کہ زمین کو منہ لگادیا۔عالمگیریہ میں ہے:
من سجد للسطان علی وجہ التحیۃ او قبل الارض بین یدیہ لایکفر ولکن یاثم لارتکابہ الکبیرۃ وھو المختار کذا فی جواہر الاخلاطی وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضیاثم کذا فی التاتارخانیہوتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال و الفاعل والراضی اثمان کذا فی الغرائب انتہی باختصار جس نے سلطان کی سلامی کے لئے سجدہ کیا یا زمین کو بسہ دیا کافر نہ ہوگالیکن کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی بناء پر گنہگار ضرور ہوگا پس یہی مختار ہےجیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔اور جامع صغیر میں ہے عظیم(سلطان)کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔جبکہ یہ کام کرنے ولا او ر اس پر خوش ہونے والا گنہگار ہوگایوں تاتارخانیہ میں ہے اور علماء اور زاہد لوگوں کے سامنے زمین کو بوسہ دینا جہالت ہے۔ایسا کرنے والے اور اس پر خوش ہونے والے سب گنہگار ہوں گے جیسا کہ غرائب میں ہے انتہی باختصار(ت)
اور علماء کبار بے تکیرہ وانکار زمین مدینہ طیبہ کو بوسہ دینے اور اس کی خاك پرمنہ اور رخسار ملنے کی قسمیں کھاتے ہیں اور ممکن ہو تو وہاں آنکھوں اور سر سے چلنے کی تمنائیں فرماتے ہیں اور اسی کو واجب بلکہ پوردے واجب سے بھی کم بتاتے ہیں کہ یہاں تعظیم بالانحناء مقصود نہیں بلکہ براہ محبت بطور تبرك اس زمین پاك کو بوسہ دینا اس کی خاك سے چہرہ نورانی کرنا بن پڑے تو پاؤں رکھنے سے اس عظمت والے مقام کو بچانا اما م اجل قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
وجدیرلمواطن اشتملت تربتھا علی جسد الشریف ومواقف سید المرسلین و متبوأ خاتم النبیین واول ارض مس یعنی لائق ہے ان موضع کو جن کی زمین جسم پاك سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر مشتمل ہے۔سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قیام گاہیں
من سجد للسطان علی وجہ التحیۃ او قبل الارض بین یدیہ لایکفر ولکن یاثم لارتکابہ الکبیرۃ وھو المختار کذا فی جواہر الاخلاطی وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضیاثم کذا فی التاتارخانیہوتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال و الفاعل والراضی اثمان کذا فی الغرائب انتہی باختصار جس نے سلطان کی سلامی کے لئے سجدہ کیا یا زمین کو بسہ دیا کافر نہ ہوگالیکن کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی بناء پر گنہگار ضرور ہوگا پس یہی مختار ہےجیسا کہ جواہر الاخلاطی میں ہے۔اور جامع صغیر میں ہے عظیم(سلطان)کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔جبکہ یہ کام کرنے ولا او ر اس پر خوش ہونے والا گنہگار ہوگایوں تاتارخانیہ میں ہے اور علماء اور زاہد لوگوں کے سامنے زمین کو بوسہ دینا جہالت ہے۔ایسا کرنے والے اور اس پر خوش ہونے والے سب گنہگار ہوں گے جیسا کہ غرائب میں ہے انتہی باختصار(ت)
اور علماء کبار بے تکیرہ وانکار زمین مدینہ طیبہ کو بوسہ دینے اور اس کی خاك پرمنہ اور رخسار ملنے کی قسمیں کھاتے ہیں اور ممکن ہو تو وہاں آنکھوں اور سر سے چلنے کی تمنائیں فرماتے ہیں اور اسی کو واجب بلکہ پوردے واجب سے بھی کم بتاتے ہیں کہ یہاں تعظیم بالانحناء مقصود نہیں بلکہ براہ محبت بطور تبرك اس زمین پاك کو بوسہ دینا اس کی خاك سے چہرہ نورانی کرنا بن پڑے تو پاؤں رکھنے سے اس عظمت والے مقام کو بچانا اما م اجل قاضی عیاض رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
وجدیرلمواطن اشتملت تربتھا علی جسد الشریف ومواقف سید المرسلین و متبوأ خاتم النبیین واول ارض مس یعنی لائق ہے ان موضع کو جن کی زمین جسم پاك سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر مشتمل ہے۔سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قیام گاہیں
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۹۔۳۶۸
جلد المصطفی ترابھا ان تعظم عرصاتھا وتتنسم نفحاتھا وتتقبل ربوعھا و جدارتھا
وعلی عھد ان ملات محاجری
من تلکم الجدرات والعرصات
لاعفرن مصون شیبی بینھما
من کثرۃ التقبیل والرشفات
اھ مختصرا۔ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جائے قرار اور پہلی وہ زمین جس کی مٹی نے جسم پاك مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مس کیا گیا کہ اس کے میدانوں کی تعظیم کی جائے اور اس کی مہکتی ہوئی خوشبوئیں سونگھی جائیں اور منزلیں اور دیواریں چومی جائیں۔اور مجھ پر عہد ہے کہ اپنی آنکھوں کے گوشے ان دیواروں اور میدانوں سے بھروں گاخدا کی قسم میں اپنی سفید داڑھی کہ گرد وغبار سے بچائی جاتی ہے ان میدانوں میں کثرت بوسہ بازی سے ضرور خاك الودہ کروں گا اھ مختصرا۔
علامہ سندھی تلمیذ امام ابن الہمام نے لباب المناسك میں فرمایا:
اذا وقع بصرہ علی طیبۃ المطیبۃ واشجارھا العطرۃ دعا بخیرالدارین وصلی وسلم علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والاحسن ان ینزل عن راحلتہ بقربھاویمشی باکیا حافیا ان اطاق تواضعا ﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکلما کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا بل لو مشی ھناك علی احداقہ و بذل المجھود من تذﷲ وتواضعہ کان بعض الواجب بل لم یف بمعشار عشرہ ۔اللھم صلی وسلم وبارك علیہ و یعنی جب مدینہ طیبہ او اس کے مہکتے ہوئے درختوں پر نظر پڑے دونوں جہان کی بھلائی مانگےاور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صلوۃ سلام عرض کرے اور بہتر یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے قریب سواری سے اترے اور ہوسکے تو روتا ہوبرہنہ پاچلے اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے واسطے تواضع کے لئے اور جو کچھ ادب و تعظیم میں زیادہ دخل رکھے خوب ہے بلکہ وہاں آنکھوں کے بل چلے اور تذلل وفروتنی میں پوری کوشش خرچ کردے تو واجب کا ایك حصہ ہو بلکہ سوواں۱۰۰ بھی ادا نہ ہو۔یا اللہ! صلوۃ وسلام اور برکت ہوآپ صلی اﷲ
وعلی عھد ان ملات محاجری
من تلکم الجدرات والعرصات
لاعفرن مصون شیبی بینھما
من کثرۃ التقبیل والرشفات
اھ مختصرا۔ خاتم النبیین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جائے قرار اور پہلی وہ زمین جس کی مٹی نے جسم پاك مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مس کیا گیا کہ اس کے میدانوں کی تعظیم کی جائے اور اس کی مہکتی ہوئی خوشبوئیں سونگھی جائیں اور منزلیں اور دیواریں چومی جائیں۔اور مجھ پر عہد ہے کہ اپنی آنکھوں کے گوشے ان دیواروں اور میدانوں سے بھروں گاخدا کی قسم میں اپنی سفید داڑھی کہ گرد وغبار سے بچائی جاتی ہے ان میدانوں میں کثرت بوسہ بازی سے ضرور خاك الودہ کروں گا اھ مختصرا۔
علامہ سندھی تلمیذ امام ابن الہمام نے لباب المناسك میں فرمایا:
اذا وقع بصرہ علی طیبۃ المطیبۃ واشجارھا العطرۃ دعا بخیرالدارین وصلی وسلم علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والاحسن ان ینزل عن راحلتہ بقربھاویمشی باکیا حافیا ان اطاق تواضعا ﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکلما کان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا بل لو مشی ھناك علی احداقہ و بذل المجھود من تذﷲ وتواضعہ کان بعض الواجب بل لم یف بمعشار عشرہ ۔اللھم صلی وسلم وبارك علیہ و یعنی جب مدینہ طیبہ او اس کے مہکتے ہوئے درختوں پر نظر پڑے دونوں جہان کی بھلائی مانگےاور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے صلوۃ سلام عرض کرے اور بہتر یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے قریب سواری سے اترے اور ہوسکے تو روتا ہوبرہنہ پاچلے اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے واسطے تواضع کے لئے اور جو کچھ ادب و تعظیم میں زیادہ دخل رکھے خوب ہے بلکہ وہاں آنکھوں کے بل چلے اور تذلل وفروتنی میں پوری کوشش خرچ کردے تو واجب کا ایك حصہ ہو بلکہ سوواں۱۰۰ بھی ادا نہ ہو۔یا اللہ! صلوۃ وسلام اور برکت ہوآپ صلی اﷲ
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامۃ واکباررہ الخ عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۴۶۔۴۵
لباب المناسك مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین فصل ولو توجہ الی الزیارۃ دارالکتاب بیروت ص۳۶۔۳۳۵
لباب المناسك مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین فصل ولو توجہ الی الزیارۃ دارالکتاب بیروت ص۳۶۔۳۳۵
علی الہ وصحبہ کما ینبغی لاداء حقہ العظیم امین۔ علیہ وسلم اورآپ کی آل واصحاب پر کما حقہ۔آمین۔
امام احمد قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری مواہب شریف میں امام حافظ الحدیث فقیہ علامہ ابوعبداﷲ محمد بن رشید سے نقل فرماتے ہیں :سفر مدینہ طیبہ میں میرے رفیق ابوعبداﷲ وزیر ابن القاسم بن الحکم ساتھ تھے ان کی آنکھیں دکھتی تھیں جب میقات مدینہ طیبہ پرآئے ہم سواریوں سے اتر لئےپیادہ چلتے ہیں انھیں آثار شفا نظر آئےفورا حسب حال ارشاد کیا:
وبالتراب منہا اذا کحلنا جفوننا شفینا فلا بأ سا نخاف ولا کربا
نسح سجال الدمع فی عرصاتہ ونلثم من حب لواطئہ الترابا
جب اس کی خاك کا ہم نے سر مہ لگایا شفاء پائی تو اب کسی شدت وتکلیف کا اندیشہ نہیں ہم انسوؤں کے ڈول اس کے میدانوں میں بہاتے ہیں اور اس زمین پر چلنے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت میں خاك کو چومتے ہیں۔
پھر خود اپنے حال میں فرماتے ہیں جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے اور سب اہل قافلہ پیادہ ہوئے میں نے کہا:
اتیتك زائرا ووددت انی جعلت سواد عینی امتطیہ
ومالی لا اسیر علی المآتی الی قبر رسول اﷲ فیہ
میں زیارت کے لئے حضور میں حاضر ہوا اور تمنا تھی کہ اپنے آنکھ کی پتلی پر اس راہ میں چلوں اور کیوں نہ چلوں آنکھوں کے بل اس مزار پاك کی طرف جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرمائیں۔
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اﷲ تعالی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سلام
امام احمد قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری مواہب شریف میں امام حافظ الحدیث فقیہ علامہ ابوعبداﷲ محمد بن رشید سے نقل فرماتے ہیں :سفر مدینہ طیبہ میں میرے رفیق ابوعبداﷲ وزیر ابن القاسم بن الحکم ساتھ تھے ان کی آنکھیں دکھتی تھیں جب میقات مدینہ طیبہ پرآئے ہم سواریوں سے اتر لئےپیادہ چلتے ہیں انھیں آثار شفا نظر آئےفورا حسب حال ارشاد کیا:
وبالتراب منہا اذا کحلنا جفوننا شفینا فلا بأ سا نخاف ولا کربا
نسح سجال الدمع فی عرصاتہ ونلثم من حب لواطئہ الترابا
جب اس کی خاك کا ہم نے سر مہ لگایا شفاء پائی تو اب کسی شدت وتکلیف کا اندیشہ نہیں ہم انسوؤں کے ڈول اس کے میدانوں میں بہاتے ہیں اور اس زمین پر چلنے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت میں خاك کو چومتے ہیں۔
پھر خود اپنے حال میں فرماتے ہیں جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے اور سب اہل قافلہ پیادہ ہوئے میں نے کہا:
اتیتك زائرا ووددت انی جعلت سواد عینی امتطیہ
ومالی لا اسیر علی المآتی الی قبر رسول اﷲ فیہ
میں زیارت کے لئے حضور میں حاضر ہوا اور تمنا تھی کہ اپنے آنکھ کی پتلی پر اس راہ میں چلوں اور کیوں نہ چلوں آنکھوں کے بل اس مزار پاك کی طرف جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ فرمائیں۔
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اﷲ تعالی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سلام
حوالہ / References
المواھب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثانی(اشواق) المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۵۷۶
المواہب اللدینہ المقصد العاشر الفصل الثانی(اشواق) المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۵۷۷
المواہب اللدینہ المقصد العاشر الفصل الثانی(اشواق) المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۵۷۷
فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:
فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا
تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت
فامدد یدیك لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۔ عرض کربھیجتےجب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
"میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھیاور اب باری بدن کی ہے۔کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارك عطا ہو کہ میرے لب ا س بسے ہرا پائیں۔کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔
علامہ احمد بن مقری فتح المتعال میں فرماتے ہیں جب امام اجل علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی سبکی ملك شام میں بعد وفات امام اجل ابو زکریا مدرسہ جلیلہ اشرفیہ میں دارالحدیث کےدرس دینے پر مقرر ہوئے فرمایا:
وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لھا اصبو واوی
لعلی ان امس بحر وجھی مکانا مسہ قدم النواوی
"دارالحدیث میں ایك معنی لطیف ہے میں اس کے بستروں کی طرف میل کرتااور قرار پکڑتاہوں شاید میرا چہرا لگ جائے اس جگہ پر جہاں امام نوری کے قدم چھوگئے ہوں۔
خلاصہ امر یہ قرار پایا کہ اگر آستانہ بلند ہو کہ بے جھکے بوسہ دے سکے تو بلا شبہ اجازت ہے۔اور اگر پست خصوصا زمین دوز ہو تو اگر ولی زندہ یا مزار سامنے ہے اس کے مجرے کی نیت سے جھك کر بوسہ دیا تو ناجائز ہے۔اور اگر محض بنظر تبرك وحب اپنے ہی نفس انحنا سے تعظیم مقصود نہ ہو تو کچھ حرج نہیںھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(یوں تحقیق چاہئے اﷲ تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)پھر بھی عالم متقدا اور اسی طرح پیر اور اس شخص کو جس کے کچھ اتباع ہوں کہ اس کے افعال کا اتباع کریں اسے مناسب ہے کہ اپنے عوام متبعین کے سامنے نہ کرے مبادا وہ فرق نیت پر آگاہ نہ ہوں اور اس کے فعل کو سند جان کر بے محل بجالائیںایسی حالت میں صرف اس
فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا
تقبل الارض عنی فھی نائبتی
وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت
فامدد یدیك لکی تحظی بھا شفتی
فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۔ عرض کربھیجتےجب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:
"میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھیاور اب باری بدن کی ہے۔کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارك عطا ہو کہ میرے لب ا س بسے ہرا پائیں۔کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔
علامہ احمد بن مقری فتح المتعال میں فرماتے ہیں جب امام اجل علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی سبکی ملك شام میں بعد وفات امام اجل ابو زکریا مدرسہ جلیلہ اشرفیہ میں دارالحدیث کےدرس دینے پر مقرر ہوئے فرمایا:
وفی دارالحدیث لطیف معنی الی بسط لھا اصبو واوی
لعلی ان امس بحر وجھی مکانا مسہ قدم النواوی
"دارالحدیث میں ایك معنی لطیف ہے میں اس کے بستروں کی طرف میل کرتااور قرار پکڑتاہوں شاید میرا چہرا لگ جائے اس جگہ پر جہاں امام نوری کے قدم چھوگئے ہوں۔
خلاصہ امر یہ قرار پایا کہ اگر آستانہ بلند ہو کہ بے جھکے بوسہ دے سکے تو بلا شبہ اجازت ہے۔اور اگر پست خصوصا زمین دوز ہو تو اگر ولی زندہ یا مزار سامنے ہے اس کے مجرے کی نیت سے جھك کر بوسہ دیا تو ناجائز ہے۔اور اگر محض بنظر تبرك وحب اپنے ہی نفس انحنا سے تعظیم مقصود نہ ہو تو کچھ حرج نہیںھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق(یوں تحقیق چاہئے اﷲ تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت)پھر بھی عالم متقدا اور اسی طرح پیر اور اس شخص کو جس کے کچھ اتباع ہوں کہ اس کے افعال کا اتباع کریں اسے مناسب ہے کہ اپنے عوام متبعین کے سامنے نہ کرے مبادا وہ فرق نیت پر آگاہ نہ ہوں اور اس کے فعل کو سند جان کر بے محل بجالائیںایسی حالت میں صرف اس
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۴۲
فتح المتعال
فتح المتعال
قدر کافی ہے کہ آستانہ کو ہاتھ لگا کر اپنی آنکھوں اور منہ پھیرلے جس طرح عبداﷲ بن عمر غیرہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم منبر انور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھےشفاء شریف میں ہے:
روی ابن عمرو اضعایدہ علی مقعبد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنبر ثم وضعھا علی وجہوعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا خلا المسجد حسوا امانۃ المنبر التی تلی القبر بمیامنھم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۔ مروی ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما منبر پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بیھٹنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر اپنے چہرے پر ہاتھ کو رکھتے۔ابن قسیط او رعتبی سے مروی ہے۔کہ صحابہ کرام جب مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے دائیں ہاتھ سے مس کرتے اور پھر قبلہ رو ہوکر دعا کرتے۔(ت)
یہ دونوں حدیثیں امام ابن سعد نے کاب الطبقات میں روایت کیں کما فی مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء(جیسا کہ مناہل الصفا فی احادیث الشفا میں ہے۔ت) علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
وھذا یدل علی جوز التبرك بالانبیاء والصالھین واثارھم ومایتعلق بھم مالم یؤد الی فتنۃ اوفساد عقیدۃ و علی ھذا یحمل ماروی عن ابن عمر عــــــہ رضی اﷲ تعالی عنہ من انہ قطع الشجرۃ التی واقعت تحتھا البیعۃ لئلا یفتتن بھا الناس لقرب عھدھم یہ واقعہ اس بات پر دال ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صلحاء اور ان کے آثار اور متعلقات سے تبرك حاصل کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ اور عقیدے کے فسا د کا احتمال نہ ہو اسی معنی پر محمول ہے جو عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ دیا تاکہ نو مسلم لوگ
عــــــہ: کما ھو فی نسختی النسیم وصوابہ عن عمر ۱۲ منہ۔
قدر کافی ہے کہ آستانہ کو ہاتھ لگا کر اپنی آنکھوں اور منہ پھیرلے جس طرح عبداﷲ بن عمر غیرہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم منبر انور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھےشفاء شریف میں ہے:
روی ابن عمرو اضعایدہ علی مقعبد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنبر ثم وضعھا علی وجہوعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا خلا المسجد حسوا امانۃ المنبر التی تلی القبر بمیامنھم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۔ مروی ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما منبر پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بیھٹنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر اپنے چہرے پر ہاتھ کو رکھتے۔ابن قسیط او رعتبی سے مروی ہے۔کہ صحابہ کرام جب مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے دائیں ہاتھ سے مس کرتے اور پھر قبلہ رو ہوکر دعا کرتے۔(ت)
یہ دونوں حدیثیں امام ابن سعد نے کاب الطبقات میں روایت کیں کما فی مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء(جیسا کہ مناہل الصفا فی احادیث الشفا میں ہے۔ت) علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
وھذا یدل علی جوز التبرك بالانبیاء والصالھین واثارھم ومایتعلق بھم مالم یؤد الی فتنۃ اوفساد عقیدۃ و علی ھذا یحمل ماروی عن ابن عمر عــــــہ رضی اﷲ تعالی عنہ من انہ قطع الشجرۃ التی واقعت تحتھا البیعۃ لئلا یفتتن بھا الناس لقرب عھدھم یہ واقعہ اس بات پر دال ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صلحاء اور ان کے آثار اور متعلقات سے تبرك حاصل کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ اور عقیدے کے فسا د کا احتمال نہ ہو اسی معنی پر محمول ہے جو عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ دیا تاکہ نو مسلم لوگ
عــــــہ: کما ھو فی نسختی النسیم وصوابہ عن عمر ۱۲ منہ۔
روی ابن عمرو اضعایدہ علی مقعبد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنبر ثم وضعھا علی وجہوعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا خلا المسجد حسوا امانۃ المنبر التی تلی القبر بمیامنھم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۔ مروی ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما منبر پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بیھٹنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر اپنے چہرے پر ہاتھ کو رکھتے۔ابن قسیط او رعتبی سے مروی ہے۔کہ صحابہ کرام جب مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے دائیں ہاتھ سے مس کرتے اور پھر قبلہ رو ہوکر دعا کرتے۔(ت)
یہ دونوں حدیثیں امام ابن سعد نے کاب الطبقات میں روایت کیں کما فی مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء(جیسا کہ مناہل الصفا فی احادیث الشفا میں ہے۔ت) علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
وھذا یدل علی جوز التبرك بالانبیاء والصالھین واثارھم ومایتعلق بھم مالم یؤد الی فتنۃ اوفساد عقیدۃ و علی ھذا یحمل ماروی عن ابن عمر عــــــہ رضی اﷲ تعالی عنہ من انہ قطع الشجرۃ التی واقعت تحتھا البیعۃ لئلا یفتتن بھا الناس لقرب عھدھم یہ واقعہ اس بات پر دال ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صلحاء اور ان کے آثار اور متعلقات سے تبرك حاصل کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ اور عقیدے کے فسا د کا احتمال نہ ہو اسی معنی پر محمول ہے جو عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ دیا تاکہ نو مسلم لوگ
عــــــہ: کما ھو فی نسختی النسیم وصوابہ عن عمر ۱۲ منہ۔
قدر کافی ہے کہ آستانہ کو ہاتھ لگا کر اپنی آنکھوں اور منہ پھیرلے جس طرح عبداﷲ بن عمر غیرہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم منبر انور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ کیا کرتے تھےشفاء شریف میں ہے:
روی ابن عمرو اضعایدہ علی مقعبد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنبر ثم وضعھا علی وجہوعن ابن قسیط والعتبی کان اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا خلا المسجد حسوا امانۃ المنبر التی تلی القبر بمیامنھم ثم استقبلوا القبلۃ یدعون ۔ مروی ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما منبر پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بیھٹنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر اپنے چہرے پر ہاتھ کو رکھتے۔ابن قسیط او رعتبی سے مروی ہے۔کہ صحابہ کرام جب مسجد نبوی میں داخل ہوتے تو قبر انور کے کناروں کو اپنے دائیں ہاتھ سے مس کرتے اور پھر قبلہ رو ہوکر دعا کرتے۔(ت)
یہ دونوں حدیثیں امام ابن سعد نے کاب الطبقات میں روایت کیں کما فی مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء(جیسا کہ مناہل الصفا فی احادیث الشفا میں ہے۔ت) علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
وھذا یدل علی جوز التبرك بالانبیاء والصالھین واثارھم ومایتعلق بھم مالم یؤد الی فتنۃ اوفساد عقیدۃ و علی ھذا یحمل ماروی عن ابن عمر عــــــہ رضی اﷲ تعالی عنہ من انہ قطع الشجرۃ التی واقعت تحتھا البیعۃ لئلا یفتتن بھا الناس لقرب عھدھم یہ واقعہ اس بات پر دال ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صلحاء اور ان کے آثار اور متعلقات سے تبرك حاصل کرنا جائز ہے جبکہ فتنہ اور عقیدے کے فسا د کا احتمال نہ ہو اسی معنی پر محمول ہے جو عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آپ نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ دیا تاکہ نو مسلم لوگ
عــــــہ: کما ھو فی نسختی النسیم وصوابہ عن عمر ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فی حکم زیارۃ قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۲/ ۷۰
بالجاھلیۃ فلامنافاۃ بینھما ولاعبرۃ بمن انکر مثلہ من جھلۃ عصر نا وفی معناہ انشدوا
امر علی الدیار لیلی
اقبل ذاالجدار وذاالجدارا
وصاحب الدیار شغفن قلبی
ولکن حب من سکن الدیارا
واﷲ تعالی اعلم۔ اس درخت کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں تو تبرك کے جواز اور درخت کٹوانے میں منافات نہیں ہے اور ہمارے زمانے کے جاہلوں کا جو ایسے امور کا انکار کرتے ہیں کوئی اعتبار نہیں اہل محبت آثار کے متعلق شعر کہتے ہیں:
میں خاص دیار پر جو لیلی کا دیا رہے گزرتاہوںمیں اس کی دیوار اور اس دیوار کو بوسہ دیتاہوںدیار والے میرے دل میں گھر کر چکے ہیں لیکن دیار میں رہنے والوں سے محبت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
رسالہ
"ابرالمقال فی استحسان قبلۃ الاجلال"
ختم شد
امر علی الدیار لیلی
اقبل ذاالجدار وذاالجدارا
وصاحب الدیار شغفن قلبی
ولکن حب من سکن الدیارا
واﷲ تعالی اعلم۔ اس درخت کی وجہ سے فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں تو تبرك کے جواز اور درخت کٹوانے میں منافات نہیں ہے اور ہمارے زمانے کے جاہلوں کا جو ایسے امور کا انکار کرتے ہیں کوئی اعتبار نہیں اہل محبت آثار کے متعلق شعر کہتے ہیں:
میں خاص دیار پر جو لیلی کا دیا رہے گزرتاہوںمیں اس کی دیوار اور اس دیوار کو بوسہ دیتاہوںدیار والے میرے دل میں گھر کر چکے ہیں لیکن دیار میں رہنے والوں سے محبت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
رسالہ
"ابرالمقال فی استحسان قبلۃ الاجلال"
ختم شد
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالفکر بیروت ۳/ ۴۳۴
مسئلہ ۱۴۴:مرسلہ محمد صدیق بیگ صاحب مراد آباد ازبریلی
کافر کو سلام کرنا چاہئے یانہیں
الجواب:
حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب واﷲ یرجع الیہ ماب(اور اﷲ تعالی ٹھیك بات کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اور اﷲ تعالی ہی ہر چیز کا مرجع اور ٹھکانا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۴۵: ازنجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب احمد حسین صاحب ۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
سلام کے متعلق جملہ مسائل کیا ہیں
الجواب:
سلام کے متعلق بہت مسائل ہیں جو خاص بات دریافت کرنی ہو کیجئے۔غالبا آپ کی مراد یہ ہوگی کہ کس کس کو سلام کرنا منع ہے۔ہاں بدمذہب کو سلام کرنا حرام ہے۔فاسق کو سلام کرنا ناجائزہے۔جو برہنہ ہو یا استنجا کررہا ہو اسے سلام نہ کرے۔جو کھانا کھار ہا ہو اسے سلام نہ کرے۔جو اذان یا تلاوت یا کسی ذکر میں مشغول ہو اسے سلام نہ کرے۔کافریا مبتدع یا فاسق کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت پیش آئے تولفظ سلام نہ کہے بلکہ ہاتھ اٹھانے یا کوئی لفظ کہ نہ سلام ہو نہ تعظیم کہنے پر قناعت کرے یا مجبور ہو تو آداب کہے یعنی آمیرے پاؤں دابیاآداب شریعت کہ تو نے اپنے فسق سے ترك کردئے ہیں۔بجالا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۶: از گورکھپور کااحاطہ مسئولہ حافظ رسول بخش صاحب ۲۱ محرام الحرام ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص طالب یا مرید یا عام مسلمان فرط ارادت وجوش محبت سے بنابر حصول برکت تعظیما تکریما کسی بزرگ عالم یا صوفی کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دے آنکھوں سے لگائے تو آیا یہ جائز ہے یاناجائز سلف سے یہ طریقہ
کافر کو سلام کرنا چاہئے یانہیں
الجواب:
حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب واﷲ یرجع الیہ ماب(اور اﷲ تعالی ٹھیك بات کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اور اﷲ تعالی ہی ہر چیز کا مرجع اور ٹھکانا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۴۵: ازنجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب احمد حسین صاحب ۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
سلام کے متعلق جملہ مسائل کیا ہیں
الجواب:
سلام کے متعلق بہت مسائل ہیں جو خاص بات دریافت کرنی ہو کیجئے۔غالبا آپ کی مراد یہ ہوگی کہ کس کس کو سلام کرنا منع ہے۔ہاں بدمذہب کو سلام کرنا حرام ہے۔فاسق کو سلام کرنا ناجائزہے۔جو برہنہ ہو یا استنجا کررہا ہو اسے سلام نہ کرے۔جو کھانا کھار ہا ہو اسے سلام نہ کرے۔جو اذان یا تلاوت یا کسی ذکر میں مشغول ہو اسے سلام نہ کرے۔کافریا مبتدع یا فاسق کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت پیش آئے تولفظ سلام نہ کہے بلکہ ہاتھ اٹھانے یا کوئی لفظ کہ نہ سلام ہو نہ تعظیم کہنے پر قناعت کرے یا مجبور ہو تو آداب کہے یعنی آمیرے پاؤں دابیاآداب شریعت کہ تو نے اپنے فسق سے ترك کردئے ہیں۔بجالا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۶: از گورکھپور کااحاطہ مسئولہ حافظ رسول بخش صاحب ۲۱ محرام الحرام ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص طالب یا مرید یا عام مسلمان فرط ارادت وجوش محبت سے بنابر حصول برکت تعظیما تکریما کسی بزرگ عالم یا صوفی کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دے آنکھوں سے لگائے تو آیا یہ جائز ہے یاناجائز سلف سے یہ طریقہ
جاری وساری رہا اور محمود سمجھا گیا ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اولیاء وعلماء ومعظمان دین کے ہاتھ پاؤں چومنا مستحب ہے بلکہ مسنون ہے۔صحابہ کرام بلکہ خود زمانہ رسالت سے رائج ہیں جس پر بکثرت حدیثیں ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷ و ۱۴۸: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)قرآن شریف پڑھنے کے وقت سلام کرنا یا لینا کیسا ہے
(۲)کن شخصوں کی تعظیم کے لئے تلاوت قرآن مجید کی موقوف کرسکتاہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)قرآن شریف پڑھنے والے پر سلام کرنا ناجا ئز ہے اور اسے اختیار ہے کہ جواب نہ دےاور قرآن پڑھنے والے کو دوسرے پر سلام کرنے کی اجازت ہے جبکہ وہ معظیم دینی ہو یا اسے سلام نہ کرنے میں اندیشہ مضرت ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)قرآن شریف پڑھنے میں کسی کی تعظیم کوقیام جائز نہیں مگر باپ یا علم دین کا استاذ یا پیر ومرشد یا عالم دین یا بادشاہ اسلام یا بمجبوری اس کے لئے کہ اگر قیام نہ کرے تو اس سے ضرر پہنچنے کا ظن غالب ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹: مسئولہ محمود حسن صاحب از بمبئی پوسٹ بائی کھلا ۲۰ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے اندر نماز سے تمام فارغ ہونے کے بعد مصافحہ کے سوا پاؤں پڑنا جائز ہے یانہیں بحوالہ کتب معتبرہ والہ مع ثبت دو تین علماء ومہر رقم فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
پاؤں پڑنا بایں معنی کہ پاؤں پر سر رکھنا ممنوع ہے۔اور پاؤں کو بوسہ دینا اگر کسی معظم دینی کی تعظیم دینے کے لئے ہو تو جائز بلکہ سنت ہے احادیث کثیرہ اس پر ناطق ہیں۔کمابیناھا فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے ان سب مسائل کو اپنے فتاوی میں بیان فرمایا ہے۔ت)اور اگر کسی مالدار کی دنیوی تعظیم کے لئے ہو تو مطلقا ناجائز ہے۔
فی الملتقط والھندیۃ والدر وغیرھا فتاوی ملتقطفتاوی عالمگیریدرمختار اور
الجواب:
اولیاء وعلماء ومعظمان دین کے ہاتھ پاؤں چومنا مستحب ہے بلکہ مسنون ہے۔صحابہ کرام بلکہ خود زمانہ رسالت سے رائج ہیں جس پر بکثرت حدیثیں ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷ و ۱۴۸: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)قرآن شریف پڑھنے کے وقت سلام کرنا یا لینا کیسا ہے
(۲)کن شخصوں کی تعظیم کے لئے تلاوت قرآن مجید کی موقوف کرسکتاہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)قرآن شریف پڑھنے والے پر سلام کرنا ناجا ئز ہے اور اسے اختیار ہے کہ جواب نہ دےاور قرآن پڑھنے والے کو دوسرے پر سلام کرنے کی اجازت ہے جبکہ وہ معظیم دینی ہو یا اسے سلام نہ کرنے میں اندیشہ مضرت ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)قرآن شریف پڑھنے میں کسی کی تعظیم کوقیام جائز نہیں مگر باپ یا علم دین کا استاذ یا پیر ومرشد یا عالم دین یا بادشاہ اسلام یا بمجبوری اس کے لئے کہ اگر قیام نہ کرے تو اس سے ضرر پہنچنے کا ظن غالب ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹: مسئولہ محمود حسن صاحب از بمبئی پوسٹ بائی کھلا ۲۰ صفر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے اندر نماز سے تمام فارغ ہونے کے بعد مصافحہ کے سوا پاؤں پڑنا جائز ہے یانہیں بحوالہ کتب معتبرہ والہ مع ثبت دو تین علماء ومہر رقم فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
پاؤں پڑنا بایں معنی کہ پاؤں پر سر رکھنا ممنوع ہے۔اور پاؤں کو بوسہ دینا اگر کسی معظم دینی کی تعظیم دینے کے لئے ہو تو جائز بلکہ سنت ہے احادیث کثیرہ اس پر ناطق ہیں۔کمابیناھا فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے ان سب مسائل کو اپنے فتاوی میں بیان فرمایا ہے۔ت)اور اگر کسی مالدار کی دنیوی تعظیم کے لئے ہو تو مطلقا ناجائز ہے۔
فی الملتقط والھندیۃ والدر وغیرھا فتاوی ملتقطفتاوی عالمگیریدرمختار اور
التواضع لغیر اﷲ تعالی حرام ۔ ان کے علاوہ باقی کتب فقہ میں بھی ہے کہ اﷲ تعالی کے سوا کسی کی تواضع کرنا حرام۔(ت)
مگر جبکہ صحیح مجبوری شرعی ہو کہ اس کے ترك میں ضرر پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اپنے بچاؤ کےلئے اجازت ہوگی فان الضرورات تبیح المحظورات(انسانی ضرورتیں ممنوع کاموں کو مباح کردیتی ہیں۔ت)مگر قلب میں اس کی کراہت رکھنا لازم ہے فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف لایمان(اگر کسی گناہ کے کام کو ہاتھ سے نہ روك سکے تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰: مسئولہ افتخار الزاہدین صاحب از بمبئی عقب مارکیٹ پولیس کمشنر صاحب آفس ۱۱ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے متین اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو جوکہ آپس میں عزیز داری رکھتے ہیں اتفاقا زید ایك راستہ عمرو دوسرے راستہ سے جارہے تھے ایك جا پر دونوں صاحبوں کی ملاقات ہوگئی زید نے بدیدن عمرو فورا السلام علیکم کہا بجواب اس کے کہ عمرو وعلیکم السلام کہے جواب دیا کہ تم بہت جھونٹے آدمی ہو تمھارا سلام لینا درست نہیں جواب سلام علیکم نہیں دیا یعنی وعلیکم السلام نہیں کہاکیا عمرو اﷲ پاك اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برحق کے نزدیك گنہگار ہوا یا نہیں اگر ہوا تو کیا صدقہ یا کیا معذرت خدا اور رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے چاہئے کہ اس کا دفعیہ ہوجائے بینوا توجروا۔
الجواب:
زید اگر شرعا ان الفاظ اور اس طریقہ عمل کا مستحق نہ تھاجو عمرو نے کہے اور برتا تو عمرو ضرور گنہگار اور حق اﷲ و حق العبد دونوں میں گرفتار ہواحق اﷲ تو یہ کہ اس کے حکم کا خلاف کیااس کا ارشاد ہے:
" و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا " (لوگو!)جب تمھیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دیا کرو یا وہی الفاظ لوٹادیا کرو۔(ت)
مگر جبکہ صحیح مجبوری شرعی ہو کہ اس کے ترك میں ضرر پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہو تو اپنے بچاؤ کےلئے اجازت ہوگی فان الضرورات تبیح المحظورات(انسانی ضرورتیں ممنوع کاموں کو مباح کردیتی ہیں۔ت)مگر قلب میں اس کی کراہت رکھنا لازم ہے فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف لایمان(اگر کسی گناہ کے کام کو ہاتھ سے نہ روك سکے تو دل سے اسے برا سمجھے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰: مسئولہ افتخار الزاہدین صاحب از بمبئی عقب مارکیٹ پولیس کمشنر صاحب آفس ۱۱ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے متین اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو جوکہ آپس میں عزیز داری رکھتے ہیں اتفاقا زید ایك راستہ عمرو دوسرے راستہ سے جارہے تھے ایك جا پر دونوں صاحبوں کی ملاقات ہوگئی زید نے بدیدن عمرو فورا السلام علیکم کہا بجواب اس کے کہ عمرو وعلیکم السلام کہے جواب دیا کہ تم بہت جھونٹے آدمی ہو تمھارا سلام لینا درست نہیں جواب سلام علیکم نہیں دیا یعنی وعلیکم السلام نہیں کہاکیا عمرو اﷲ پاك اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برحق کے نزدیك گنہگار ہوا یا نہیں اگر ہوا تو کیا صدقہ یا کیا معذرت خدا اور رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے چاہئے کہ اس کا دفعیہ ہوجائے بینوا توجروا۔
الجواب:
زید اگر شرعا ان الفاظ اور اس طریقہ عمل کا مستحق نہ تھاجو عمرو نے کہے اور برتا تو عمرو ضرور گنہگار اور حق اﷲ و حق العبد دونوں میں گرفتار ہواحق اﷲ تو یہ کہ اس کے حکم کا خلاف کیااس کا ارشاد ہے:
" و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا " (لوگو!)جب تمھیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دیا کرو یا وہی الفاظ لوٹادیا کرو۔(ت)
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۶۸
ا لقرآن الکریم ۴/ ۸۶
ا لقرآن الکریم ۴/ ۸۶
اور دوسرا اس سے اشدحق اﷲ تعالی یہ کہ شریعت مطہرہ پر افتراء کیا کہ تیرا سلام دینا درست نہیں او ر حق العبد یہ کہ بلاوجہ شرعی زید نے مسلم کو ایذا دیاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔(اس کو طبرانی نے کبیر میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
اس پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات شنیعہ سے رب العزۃ کے حضور توبہ کرے اور زید سے اپنے قصور کی معافی چاہے۔اور اگر واقع میں زید اس کا مستحق تھا مثلا وہابی یا رافضی یا غیر مقلد یا قادیانی یا نیچری یا چکڑالوی تو عمرو پر کچھ الزام نہیں اس نے بہت اچھا کیااور ایسا ہی چاہئےعبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما کی خدمت میں کسی نے ایك شخص کاسلام پہنچایا فرمایا:
لاتقرأہ منی السلام فانی سمعت انہ احدث ۔
فاذا کان ھذا فی مبتدع فکیف بالکفار کالاولئك الفجار عجل اﷲ بھم النار والعیاذ باﷲ العزیز الغفار۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اسے میرا سلام نہ کہنا کہ میں نے سنا ہے اس نے بدمذہبی نکالی ہے۔(ت)
جب ایك بدعتی کا یہ حکم ہے کہ تو پھر کافروں کا کیا حکم ہوگا ان فاجروں بدکاروں کی طرح کہ اﷲ تعالی جلدی انھیں آگ میں پہنچائے۔اﷲ تعالی سب سے بڑا زیادہ غالب اور بہت بڑے بخشنے والے کی پناہ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۱: از بنارس محلہ کچی باغ مرسلہ مولوی خلیل الرحمن ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوسہ دینا قبر اولیاء کرام اور طواف کرنا گرد قبر کے اور سجدہ کرنا تعظیما از روئے شرع شریف موافق مذہب حنفی جائز ہے یانہیں بینوا بالکتاب وتوجروا یوم الحساب(کتاب کے حوالے سے بیان فرماؤ اور روز حساب(روز قیامت)اجرو ثواب پاؤ۔ت)
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ کو ایذا دی۔(اس کو طبرانی نے کبیر میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
اس پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات شنیعہ سے رب العزۃ کے حضور توبہ کرے اور زید سے اپنے قصور کی معافی چاہے۔اور اگر واقع میں زید اس کا مستحق تھا مثلا وہابی یا رافضی یا غیر مقلد یا قادیانی یا نیچری یا چکڑالوی تو عمرو پر کچھ الزام نہیں اس نے بہت اچھا کیااور ایسا ہی چاہئےعبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما کی خدمت میں کسی نے ایك شخص کاسلام پہنچایا فرمایا:
لاتقرأہ منی السلام فانی سمعت انہ احدث ۔
فاذا کان ھذا فی مبتدع فکیف بالکفار کالاولئك الفجار عجل اﷲ بھم النار والعیاذ باﷲ العزیز الغفار۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اسے میرا سلام نہ کہنا کہ میں نے سنا ہے اس نے بدمذہبی نکالی ہے۔(ت)
جب ایك بدعتی کا یہ حکم ہے کہ تو پھر کافروں کا کیا حکم ہوگا ان فاجروں بدکاروں کی طرح کہ اﷲ تعالی جلدی انھیں آگ میں پہنچائے۔اﷲ تعالی سب سے بڑا زیادہ غالب اور بہت بڑے بخشنے والے کی پناہ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۱: از بنارس محلہ کچی باغ مرسلہ مولوی خلیل الرحمن ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بوسہ دینا قبر اولیاء کرام اور طواف کرنا گرد قبر کے اور سجدہ کرنا تعظیما از روئے شرع شریف موافق مذہب حنفی جائز ہے یانہیں بینوا بالکتاب وتوجروا یوم الحساب(کتاب کے حوالے سے بیان فرماؤ اور روز حساب(روز قیامت)اجرو ثواب پاؤ۔ت)
حوالہ / References
کنزا لعمال بحوالہ طب عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۴۳۷۰۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۱۰،المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبہ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳
جامع الترمذی ابواب القدر باب ماجاء فی الرضاء بالقضاء امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۸
جامع الترمذی ابواب القدر باب ماجاء فی الرضاء بالقضاء امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۸
الجواب:
بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے۔اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے۔اور بوسہ قبر میں علماء کو اختلاف ہے۔اور احوط منع ہے۔خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہویہی ادب ہے پھر تقبیل کیونکر متصور ہے یہ وہ ہے جس کا فتوی عوام کودیاجاتاہے۔اور تحقیق کا مقام دوسرا ہے۔
لکل مقام مقال ولکل مقال رجال ولکل رجال مجال ولکل مجال مال نسأل اﷲ حسن مال وعندہ علم بحقیقۃ کل حال۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہر جگہ کے لئے ایك مناسب گفتگو ہے اور ہر گفتگو کے لائق کچھ خاص مرد ہیں اور ہر مرد کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔اور ہر گنجائش کے لئے ایك انجام ہے لہذا ہم اﷲ تعالی سے اچھا انجام چاہتے ہیں کیونکہ اسی کے پاس ہر حال کا حقیقی علم ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۲: از بنارس محلہ پتر کنڈا مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب پانی پتی ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرھم اﷲ تعالی وابقاہم الی یوم الجزاء(اﷲ تعالی انھیں زیادہ کرے اور روزقیامت تك انھیں باقی رکھے۔ت)اس میں کیا فرماتے ہیں کہ زید سے خالد نے سوال کیا کہ کسی مقبول بارگاہ رب العزت جل جلالہ کی قبر شریف کے طواف کوبعض علماء حرام بلکہ شرك کہتے ہیں اور بعض جائز فرماتے ہیں پس ان میں صحیح قول کس کا ہے۔زید نے جواب دیاکہ اس زمانہ میں جو لوگ اپنے کو حنفی کہتے ہیں ان میں تین فرقے ہیں:
(۱)اسحاقیہشاہ اسحاق کا پیرو۔
(۲)اسمعیلیہمولوی اسمعیل دہلوی کا متبع۔
(۳)سنی حنفیحضرت مولانا فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ اور حضر ت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی دام ظلہ کا مطیع۔
پس(۱)اور(۲)کے نزدیك بالاتفاق غیر کعبہ شریف کا طواف مثل سجدہ تحیہ کے ہے لیکن اس کے حکم میں دونوں میں اختلاف ہے پہلے فرقہ کے نزدیك حرام ہے۔اور دوسرے کے نزدیك شرك چنانچہ مائۃ مسائل اور مسائل اربعین اور تقویۃ الایمان دیکھنے والے پر یہ بات ظاہر ہے۔حالانکہ بغیر دلیل قطعی کے یہ حرام اور شرك کہنا خود انھیں کے گھرمیں آگ لگانا ہے کہ ان کے بزرگوار شاہ ولی اﷲ کو مرتکب حرام اور مشرك بنانا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب انتباہ میں اس کے کرنے کاحکم کیا اور (۳)فرقے
بلاشبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے۔اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے۔اور بوسہ قبر میں علماء کو اختلاف ہے۔اور احوط منع ہے۔خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہویہی ادب ہے پھر تقبیل کیونکر متصور ہے یہ وہ ہے جس کا فتوی عوام کودیاجاتاہے۔اور تحقیق کا مقام دوسرا ہے۔
لکل مقام مقال ولکل مقال رجال ولکل رجال مجال ولکل مجال مال نسأل اﷲ حسن مال وعندہ علم بحقیقۃ کل حال۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہر جگہ کے لئے ایك مناسب گفتگو ہے اور ہر گفتگو کے لائق کچھ خاص مرد ہیں اور ہر مرد کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔اور ہر گنجائش کے لئے ایك انجام ہے لہذا ہم اﷲ تعالی سے اچھا انجام چاہتے ہیں کیونکہ اسی کے پاس ہر حال کا حقیقی علم ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۲: از بنارس محلہ پتر کنڈا مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب پانی پتی ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرھم اﷲ تعالی وابقاہم الی یوم الجزاء(اﷲ تعالی انھیں زیادہ کرے اور روزقیامت تك انھیں باقی رکھے۔ت)اس میں کیا فرماتے ہیں کہ زید سے خالد نے سوال کیا کہ کسی مقبول بارگاہ رب العزت جل جلالہ کی قبر شریف کے طواف کوبعض علماء حرام بلکہ شرك کہتے ہیں اور بعض جائز فرماتے ہیں پس ان میں صحیح قول کس کا ہے۔زید نے جواب دیاکہ اس زمانہ میں جو لوگ اپنے کو حنفی کہتے ہیں ان میں تین فرقے ہیں:
(۱)اسحاقیہشاہ اسحاق کا پیرو۔
(۲)اسمعیلیہمولوی اسمعیل دہلوی کا متبع۔
(۳)سنی حنفیحضرت مولانا فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ اور حضر ت مولانا احمد رضاخاں صاحب بریلوی دام ظلہ کا مطیع۔
پس(۱)اور(۲)کے نزدیك بالاتفاق غیر کعبہ شریف کا طواف مثل سجدہ تحیہ کے ہے لیکن اس کے حکم میں دونوں میں اختلاف ہے پہلے فرقہ کے نزدیك حرام ہے۔اور دوسرے کے نزدیك شرك چنانچہ مائۃ مسائل اور مسائل اربعین اور تقویۃ الایمان دیکھنے والے پر یہ بات ظاہر ہے۔حالانکہ بغیر دلیل قطعی کے یہ حرام اور شرك کہنا خود انھیں کے گھرمیں آگ لگانا ہے کہ ان کے بزرگوار شاہ ولی اﷲ کو مرتکب حرام اور مشرك بنانا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب انتباہ میں اس کے کرنے کاحکم کیا اور (۳)فرقے
اعنی سنی حنفی کے نزدیك مطلقا مثل تعریف اعنی نقل وقوف عرفات کے ہے۔چنانچہ محقق بدایونی حضرت مولانا فضل رسول صاحب تغمدہ اﷲ تعالی بغفرانہ واسکنہ بحبوحۃ جنانہ(اﷲ تعالی انھیں اپنی بخشش سے ڈھانپ دے اور وسط جنت میں انھیں بسائے۔ت)بوارق محمدیہ میں فرماتے ہیں:
وحق آنست کہ طواف درحکم سجدہ تحیۃ نیست مثل تعریف است متقارب بتقبیل اھ بلفظ الشریف۔ حق یہ ہے کہ طواف سجدہ تعظیمی کے حکم میں نہیں بلکہ)وہ تعریف فـــــ کی طرح(مانند)بوسہ دینے کے قریب ہے یعنی اس کا حکم ا س کے قریب ہے شریف الفاظ مکمل ہوگئے۔(ت)
اور تعریف کے باب میں علامہ حلبی نے تو شرح منیہ میں مطلقا لیس بشیئ مندوب ولا مکروہ (اس میں کوئی کام مستحب اور مکروہ نہیں۔ت)فرماکر آخر بحث میں عطا خراسانی علیہ الرحمۃ کا قول۔
ان استطعت ان تخلو بنفسك عشیۃ عرفۃ فافعل ۔ اگر تو یوم عرفہ پچھلے پہر اپنے آپ کو خلوت گزیں بناسکتا ہے تو بنا ڈال۔(ت)
دال برندب نقل کرکےاسی کو معتمد بتایا۔چنانچہ فرمایا:
وھذا ھو المعتمد واﷲ تعالی سبحنہ اعلم۔ اوریہی قابل اعتما دہے۔اور اﷲ پاك اور برتر سب سے اچھا جانتاہے۔(ت)
لیکن قول باقلانی علیہ الرحمۃ:
لواجتمعوا لشرف ذلك الیوم لسماع الوعظ بلا وقوف و کشف راس جاز بلاکراھۃ اگر لوگ اس دن(یعنی روز عرفہ(۹ ذوالحجہ)اس کی شرافت وبزرگی اور وعظ ونصیحت سننے کےلئے کسی جگہ جمع ہوجائیں بشرطیکہ
وحق آنست کہ طواف درحکم سجدہ تحیۃ نیست مثل تعریف است متقارب بتقبیل اھ بلفظ الشریف۔ حق یہ ہے کہ طواف سجدہ تعظیمی کے حکم میں نہیں بلکہ)وہ تعریف فـــــ کی طرح(مانند)بوسہ دینے کے قریب ہے یعنی اس کا حکم ا س کے قریب ہے شریف الفاظ مکمل ہوگئے۔(ت)
اور تعریف کے باب میں علامہ حلبی نے تو شرح منیہ میں مطلقا لیس بشیئ مندوب ولا مکروہ (اس میں کوئی کام مستحب اور مکروہ نہیں۔ت)فرماکر آخر بحث میں عطا خراسانی علیہ الرحمۃ کا قول۔
ان استطعت ان تخلو بنفسك عشیۃ عرفۃ فافعل ۔ اگر تو یوم عرفہ پچھلے پہر اپنے آپ کو خلوت گزیں بناسکتا ہے تو بنا ڈال۔(ت)
دال برندب نقل کرکےاسی کو معتمد بتایا۔چنانچہ فرمایا:
وھذا ھو المعتمد واﷲ تعالی سبحنہ اعلم۔ اوریہی قابل اعتما دہے۔اور اﷲ پاك اور برتر سب سے اچھا جانتاہے۔(ت)
لیکن قول باقلانی علیہ الرحمۃ:
لواجتمعوا لشرف ذلك الیوم لسماع الوعظ بلا وقوف و کشف راس جاز بلاکراھۃ اگر لوگ اس دن(یعنی روز عرفہ(۹ ذوالحجہ)اس کی شرافت وبزرگی اور وعظ ونصیحت سننے کےلئے کسی جگہ جمع ہوجائیں بشرطیکہ
حوالہ / References
البوارق المحمدیہ باب اول در عقائد نجدیہ مطبع سویل ملیٹری اپرفنج ص۴۶
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی سہیلی اکیڈمی لاہور ص۵۷۳
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی سہیلی اکیڈمی لاہور ص۵۷۴
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی سہیلی اکیڈمی لاہور ص۵۷۴
فـــــ:ذوالحجہ کی ۹ تاریخ کو اہل عرفات کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اجتماعی صورت میں کسی جگہ کھڑا ہونے کوائمہ فقہ"تعریف"کانام دیتے ہیں۔مترجم،
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی سہیلی اکیڈمی لاہور ص۵۷۳
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی سہیلی اکیڈمی لاہور ص۵۷۴
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فروع خروج الی المصلی سہیلی اکیڈمی لاہور ص۵۷۴
فـــــ:ذوالحجہ کی ۹ تاریخ کو اہل عرفات کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اجتماعی صورت میں کسی جگہ کھڑا ہونے کوائمہ فقہ"تعریف"کانام دیتے ہیں۔مترجم،
اتفاقا ۔ وقوف عرفات کی نیت اور سرننگانہ ہو بالاتفاق بغیر کراہت جائز ہے۔(ت)
سے جس کا حاصل علامہ شامی نے:
ان المکروہ ھوالخروج مع الوقوف و کشف الراس بلا سبب موجب کاستسقاء امامجردا لاجتماع فیہ علی طاعۃ بدون ذلك فلایکرہ ۔ مکروہ یہ ہے کہ وقوف اہل عرفات کے ساتھ تشبہ اور بغیر کسی وجہ سرننگا کرکے نکلے جیسے استسقاء یعنی بارش کی دعا مانگتے وقت سر برہنہ ہوتے ہیں۔یا کچھ نہ ہو بلکہ صرف طاعت و فرمانبرداری کے لئے اجتماع ہو تو مکروہ نہیں۔(ت)
فرمایامعلوم ہوتاہے کہ تعریف کی دو صورتیں ہیں:
(۱)وہ جو کہ اہل عرفہ کی نیت اور صورت اعنی اور کشف رؤس کے ساتھ ہو۔
(۲)وہ جو کہ ایسی نہ ہو بلکہ کسی اورہی غرض مثل اس روز کے شرف اور وعظ کے سماع کے لئے اور بغیروقوف اور کشف رؤس کے ہو۔
اور پہلی بقول صحیح مکروہ تحریمی اور دوسری بالاتفاق بلا کراہت جائز۔پس طواف کی بھی دو صورتیں ہوں گی۔
(۱)وہ جو کہ طائفین بیت اﷲ عزوجل کی نیت اور صورت کے ساتھ ہو۔
(۲)وہ جو کہ ایسی نہ ہو بلکہ اور صورت اور کسی اور ہی غرض مثلا محض افاضہ کے لئے جیسے علی مافی صحیح البخاری حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خرما کے ڈھیر کا طواف فرمایا یا محض استفاضہ کے لئے جیسے کسی ولی کے مزار شریف کا طواف یا محض کسی اور ایسی ہی غرض سے ہو جیسے علی مافی الشفاء للقاضی عیاض علیہ الرحمہ کا حلاق کے سرمبارك کو حلق کرنے کے وقت کسی موئے مبارك کے زمین پر گرنے نہ دینے کی غرض سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا طواف کرنا ۔
سے جس کا حاصل علامہ شامی نے:
ان المکروہ ھوالخروج مع الوقوف و کشف الراس بلا سبب موجب کاستسقاء امامجردا لاجتماع فیہ علی طاعۃ بدون ذلك فلایکرہ ۔ مکروہ یہ ہے کہ وقوف اہل عرفات کے ساتھ تشبہ اور بغیر کسی وجہ سرننگا کرکے نکلے جیسے استسقاء یعنی بارش کی دعا مانگتے وقت سر برہنہ ہوتے ہیں۔یا کچھ نہ ہو بلکہ صرف طاعت و فرمانبرداری کے لئے اجتماع ہو تو مکروہ نہیں۔(ت)
فرمایامعلوم ہوتاہے کہ تعریف کی دو صورتیں ہیں:
(۱)وہ جو کہ اہل عرفہ کی نیت اور صورت اعنی اور کشف رؤس کے ساتھ ہو۔
(۲)وہ جو کہ ایسی نہ ہو بلکہ کسی اورہی غرض مثل اس روز کے شرف اور وعظ کے سماع کے لئے اور بغیروقوف اور کشف رؤس کے ہو۔
اور پہلی بقول صحیح مکروہ تحریمی اور دوسری بالاتفاق بلا کراہت جائز۔پس طواف کی بھی دو صورتیں ہوں گی۔
(۱)وہ جو کہ طائفین بیت اﷲ عزوجل کی نیت اور صورت کے ساتھ ہو۔
(۲)وہ جو کہ ایسی نہ ہو بلکہ اور صورت اور کسی اور ہی غرض مثلا محض افاضہ کے لئے جیسے علی مافی صحیح البخاری حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خرما کے ڈھیر کا طواف فرمایا یا محض استفاضہ کے لئے جیسے کسی ولی کے مزار شریف کا طواف یا محض کسی اور ایسی ہی غرض سے ہو جیسے علی مافی الشفاء للقاضی عیاض علیہ الرحمہ کا حلاق کے سرمبارك کو حلق کرنے کے وقت کسی موئے مبارك کے زمین پر گرنے نہ دینے کی غرض سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا طواف کرنا ۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب العیدین مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۶
ردالمحتار کتا ب الصلوٰۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۶۲
صحیح البخاری کتاب المغازی باب قولہ تعالٰی اذھمت طائفتان منکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۰
الشفاء بتعریف حقو ق المصطفٰی فصل عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۳۳
ردالمحتار کتا ب الصلوٰۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۶۲
صحیح البخاری کتاب المغازی باب قولہ تعالٰی اذھمت طائفتان منکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۰
الشفاء بتعریف حقو ق المصطفٰی فصل عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۳۳
اوریہ ظاہر ہے کہ بعض اعمال کی صورت ایك ہوتی ہے لیکن نیت کے اختلاف سے حکم مختلف ہوجاتا ہے جیسے سجدہ تحیت اور سجدہ عبادت کہ صورت دونوں کی ایك ہے مگر حکم مختلف کہ پہلا حرام موجب فسق اور دوسرا شرك پس پہلی صورت تو ہم سنی حنفیوں کے نزدیك بھی بالاتفاق ناجائز ہے۔اور صاحب بحر اورنہر وغیرہما کا عدم جواز کا قول اسی صورت پر محمول ہے اور دوسری صورت میں اختلاف ہے بعض غیر حسن فرماتے ہیں اوربعضے مستحسن کہتے ہیں۔فاضل بدایونی علیہ الرحمۃ بوارق محمدیہ ہی میں فرماتے ہیں:
وکراہت ایں اشیاء مختلف فیہ بین الفقہاء وہمچو امور باعث نکیرو نفریں برمرتکبین ہم نمی تواند شد چہ جائے تکفیر چراکہ بسیارے از اکابر تصریح بجواز آں کردہ اند گو نزد جماعتے رجحان بجانب عدم استحسان است وفقیر ہم بہمیں مسلك سالك است اھ۔ ان چیزوں کی کراہت عندالفقہاء"مختلف فیہ"ہے۔یعنی ایك اختلافی چیز ہے۔اور اس قسم کے امور موجب انکاراور ارتکاب کرنے والوں پر طعن و تشنیع بھی نہیں ہوسکتےچہ جائیکہ ان کی تکفیر کی جائےکیوں اس لئے کہ بہت سے اکابر نے اس کے جائزہونے کی تصریح کی ہے۔گو ایك گروہ کا عدم استحسان کی طرف رجحان اورمیلان ہے۔اور یہ فقیر بھی اسی مسلك کے مطابق گامزن ہے۔اھ(ت)
مگر مماثلث تعریف قول باستحسان کی صحت کی مقتضی ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور علاوہ اس کے یہ ہے کہ محبت اور عظمت کی بھری ہوئی آنکھیں وہ دیکھا کرتی ہیں جو ان سے خالی آنکھیں نہیں دیکھتیں اور ان آنکھوں والوں کے واسطے وہ جائز ہوتا ہے۔جو ان آنکھوں والوں کے واسطے نہیں ہوتا کیا اس کونہیں دیکھا جاتا کہ علی مافی الشفاء حضرت امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس حضور کا اسم شریف لیا جاتا تو ان کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ جھك جاتے۔آپ کے جلساء کو یہ بات ناگوار گزرتیایك روز عرض کیا کہ یہ آپ کیا کرتے ہیں۔فرمایا:
لو رأیتم لما انکرتم علی ماترون ۔ اگر تم لوگ وہ کچھ دیکھتے جو میں دیکھتاہوں تو پھر تم اس کا رروائی پر انکار نہ کرتے جو مجھ سے دیکھتے ہو(ت)
اور حضرت ابومحذورہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی پیشانی پر کچھ بال تھے اتنے بڑے بڑے کہ جب وہ ان کو بیٹھ کر کھول دیتے تھے تو زمین تك پہنچ جاتے تھےان سے کہا گیا:ان کو منڈا کیوں نہیں دیتے
وکراہت ایں اشیاء مختلف فیہ بین الفقہاء وہمچو امور باعث نکیرو نفریں برمرتکبین ہم نمی تواند شد چہ جائے تکفیر چراکہ بسیارے از اکابر تصریح بجواز آں کردہ اند گو نزد جماعتے رجحان بجانب عدم استحسان است وفقیر ہم بہمیں مسلك سالك است اھ۔ ان چیزوں کی کراہت عندالفقہاء"مختلف فیہ"ہے۔یعنی ایك اختلافی چیز ہے۔اور اس قسم کے امور موجب انکاراور ارتکاب کرنے والوں پر طعن و تشنیع بھی نہیں ہوسکتےچہ جائیکہ ان کی تکفیر کی جائےکیوں اس لئے کہ بہت سے اکابر نے اس کے جائزہونے کی تصریح کی ہے۔گو ایك گروہ کا عدم استحسان کی طرف رجحان اورمیلان ہے۔اور یہ فقیر بھی اسی مسلك کے مطابق گامزن ہے۔اھ(ت)
مگر مماثلث تعریف قول باستحسان کی صحت کی مقتضی ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور علاوہ اس کے یہ ہے کہ محبت اور عظمت کی بھری ہوئی آنکھیں وہ دیکھا کرتی ہیں جو ان سے خالی آنکھیں نہیں دیکھتیں اور ان آنکھوں والوں کے واسطے وہ جائز ہوتا ہے۔جو ان آنکھوں والوں کے واسطے نہیں ہوتا کیا اس کونہیں دیکھا جاتا کہ علی مافی الشفاء حضرت امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس حضور کا اسم شریف لیا جاتا تو ان کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ جھك جاتے۔آپ کے جلساء کو یہ بات ناگوار گزرتیایك روز عرض کیا کہ یہ آپ کیا کرتے ہیں۔فرمایا:
لو رأیتم لما انکرتم علی ماترون ۔ اگر تم لوگ وہ کچھ دیکھتے جو میں دیکھتاہوں تو پھر تم اس کا رروائی پر انکار نہ کرتے جو مجھ سے دیکھتے ہو(ت)
اور حضرت ابومحذورہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی پیشانی پر کچھ بال تھے اتنے بڑے بڑے کہ جب وہ ان کو بیٹھ کر کھول دیتے تھے تو زمین تك پہنچ جاتے تھےان سے کہا گیا:ان کو منڈا کیوں نہیں دیتے
حوالہ / References
البوارق المحمدیہ باب اول درعقابہ نجدیہ مطبع سویل ملٹری اپر فنج ص۴۶
کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۳۶
کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۳۶
فرمایا:
لم اکن بالذی احلقہا وقد مسھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ ۔ میں وہ نہیں ہوں جوان بالوں کو مونڈ ڈالوں کہ جن کو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مبارك ہاتھ لگے ہیں۔(ت)
حالانکہ انحناء اورقزع کا حکم اہل علم پر ظاہر ہے اور حضرت کا بس بن ربیعہ کی صورت سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کے مشابہ تھی پس حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو خبر ہوئی آپ نے ان کو بلایا پس جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوئے توحضرت امیر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے تخت سے اتر کر ان سے ملاقات کی اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ایك گاؤں مرغاب نام ان کو دیا یہ سب حضور کی صورت مبارك کے مشابہ ہونے کی وجہ سے کیا
باادب باعظمت انسان دیگر اند بے ادب ہم خشك مغزاں دیگر اند
(باادب عظمت وشرف والے انسان اور ہیں۔اور بے ادب خشك مغز رکھنے والے(انسان)اور ہیں۔ت)
پس زید کا یہ جواب صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(میں کہتاہوں اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے تحقیق کی بلند یوں تك پہنچنا۔ت)طواف لغۃ وعرفا وشرعا پھیرے کرنے کو کہتے ہیں عام ازیں کہ دو چیزوں کے درمیان آمد ورفت ہو جس میں ایك پھیرے کے مبدا ومنتہی متغائر ہوں گے یا ایك ہی چیز کے گرد جس میں دائرہ کی طرح مبداء ومنتہی ایك ہوگادونوں صورتوں کو لغت وعرف عرب نے طواف کہا اور دونوں کو شرع مطہر نے طواف ماناصورت اولی صفا ومروہ کے درمیان سعی۔
قال اﷲ تعالی "فلا جناح علیہ ان یطوف بہما" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اس شخص پرکوئی گناہ نہیں جو صفا و مروہ کے درمیان چکر لگائے۔(ت)
اور صورت ثانیہ کعبہ معظمہ کے گرد پھرنا۔
لم اکن بالذی احلقہا وقد مسھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیدہ ۔ میں وہ نہیں ہوں جوان بالوں کو مونڈ ڈالوں کہ جن کو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مبارك ہاتھ لگے ہیں۔(ت)
حالانکہ انحناء اورقزع کا حکم اہل علم پر ظاہر ہے اور حضرت کا بس بن ربیعہ کی صورت سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کے مشابہ تھی پس حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو خبر ہوئی آپ نے ان کو بلایا پس جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوئے توحضرت امیر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے تخت سے اتر کر ان سے ملاقات کی اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ایك گاؤں مرغاب نام ان کو دیا یہ سب حضور کی صورت مبارك کے مشابہ ہونے کی وجہ سے کیا
باادب باعظمت انسان دیگر اند بے ادب ہم خشك مغزاں دیگر اند
(باادب عظمت وشرف والے انسان اور ہیں۔اور بے ادب خشك مغز رکھنے والے(انسان)اور ہیں۔ت)
پس زید کا یہ جواب صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(میں کہتاہوں اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے تحقیق کی بلند یوں تك پہنچنا۔ت)طواف لغۃ وعرفا وشرعا پھیرے کرنے کو کہتے ہیں عام ازیں کہ دو چیزوں کے درمیان آمد ورفت ہو جس میں ایك پھیرے کے مبدا ومنتہی متغائر ہوں گے یا ایك ہی چیز کے گرد جس میں دائرہ کی طرح مبداء ومنتہی ایك ہوگادونوں صورتوں کو لغت وعرف عرب نے طواف کہا اور دونوں کو شرع مطہر نے طواف ماناصورت اولی صفا ومروہ کے درمیان سعی۔
قال اﷲ تعالی "فلا جناح علیہ ان یطوف بہما" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اس شخص پرکوئی گناہ نہیں جو صفا و مروہ کے درمیان چکر لگائے۔(ت)
اور صورت ثانیہ کعبہ معظمہ کے گرد پھرنا۔
حوالہ / References
کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہ وتوقیرہ وبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃالشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۴۸
القرآن الکریم ۲ /۱۵۸
القرآن الکریم ۲ /۱۵۸
قال اﷲ تعالی " ولیطوفوا بالبیت العتیق ﴿۲۹﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لوگوں کو چاہئے کہ اس کے قدیم (آزاد)گھر کا طواف کریں۔(ت)
حقیقت طواف اس قدرہے۔نیت وغایت کا اختلاف حقیقت کی تغییر نہیں کرتا کہ نیت وغایت رکن شے نہیں۔آخر نہ دیکھا کہ ائمہ کرام نے نیت کو شرط نماز قرار دیا نہ کہ رکن نمازاور غایت کا خروج تو غایت ظہور میں ہے۔غرض پھیرے کرناجہاں اور جس طرح اور جس نیت اور جس غرض سے ہو طواف ہی ہے۔پھر فعل اختیاری کوتصور بروجہ ما وتصدیق بفائدۃما سے چارہ نہیں مگر فعل کبھی غایت اصلیہ تك آپ مؤدی ہوتا ہے کبھی دوسرے فعل مؤدی الی الغایۃ کا وسیلہ اول کو مقصود لذاتہ کہتے ہیں جیسے نماز اور دوم کو وسیلہ ومقصودلغیرہ جیسے وضوطواف میں یہ دونوں صورتیں ہیں مثلا گلگشت یعنی تفریح نفس وشم وروائح طیبہ و چستی بدن وتنسم ہو اکے لئے چمن کی روشوں میں ٹہلنا پھرنا خواہ وہ خطوط مستقیم پر ہو یا مثلا کسی حوض کے گردمستدیریہاں طواف مقصود لذاتہ ہے یا مثلا کسی شیئ کی تقسیم کو حلقہ یاصفوں پہ دورہ کرنا یہاں مقصود لغیرہ ہے۔پھر طواف کی غایت مقصودہ تعظیم ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس کے غیر کے لئے بھی ہوتا ہے جیسے امثلہ مذکورہ بلکہ توہین بلکہ تعذیب کے لئے جیسے ڈرل کہ یہاں آمدوشد کہ طواف ہے مقصود لذاتہ ہے اور نا ر سے حمیمحمیم سے نار کی طرف کفار کے پھیرے کہ یہ طواف مقصود لغیرہ ہے اور دونوں تعذیب کے لئے ہیں۔
قال اﷲ تعالی " یطوفون بینہا و بین حمیم ان ﴿۴۴﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:وہ دوزخی اس کے یعنی آگ اور گرم اور ابلتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔(ت)
لاجرم طواف چار۴ قسم ہے:
قسم اول:نہ طواف مقصود لذاتہ ہو نہ اس سے غرض وغایت نفس تعظیم بلکہ طواف کسی اورفعل کا وسیلہ ہوا ور اس فعل سے کوئی اور حاجت مقصود جیسے سائلوں کا دروازوں پر گشتصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم ہمیشہ کاشانہ نبوت کا ایسا طواف فرمایا کرتےابوداؤد وابن ماجہ ودارمی ایاس بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حقیقت طواف اس قدرہے۔نیت وغایت کا اختلاف حقیقت کی تغییر نہیں کرتا کہ نیت وغایت رکن شے نہیں۔آخر نہ دیکھا کہ ائمہ کرام نے نیت کو شرط نماز قرار دیا نہ کہ رکن نمازاور غایت کا خروج تو غایت ظہور میں ہے۔غرض پھیرے کرناجہاں اور جس طرح اور جس نیت اور جس غرض سے ہو طواف ہی ہے۔پھر فعل اختیاری کوتصور بروجہ ما وتصدیق بفائدۃما سے چارہ نہیں مگر فعل کبھی غایت اصلیہ تك آپ مؤدی ہوتا ہے کبھی دوسرے فعل مؤدی الی الغایۃ کا وسیلہ اول کو مقصود لذاتہ کہتے ہیں جیسے نماز اور دوم کو وسیلہ ومقصودلغیرہ جیسے وضوطواف میں یہ دونوں صورتیں ہیں مثلا گلگشت یعنی تفریح نفس وشم وروائح طیبہ و چستی بدن وتنسم ہو اکے لئے چمن کی روشوں میں ٹہلنا پھرنا خواہ وہ خطوط مستقیم پر ہو یا مثلا کسی حوض کے گردمستدیریہاں طواف مقصود لذاتہ ہے یا مثلا کسی شیئ کی تقسیم کو حلقہ یاصفوں پہ دورہ کرنا یہاں مقصود لغیرہ ہے۔پھر طواف کی غایت مقصودہ تعظیم ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس کے غیر کے لئے بھی ہوتا ہے جیسے امثلہ مذکورہ بلکہ توہین بلکہ تعذیب کے لئے جیسے ڈرل کہ یہاں آمدوشد کہ طواف ہے مقصود لذاتہ ہے اور نا ر سے حمیمحمیم سے نار کی طرف کفار کے پھیرے کہ یہ طواف مقصود لغیرہ ہے اور دونوں تعذیب کے لئے ہیں۔
قال اﷲ تعالی " یطوفون بینہا و بین حمیم ان ﴿۴۴﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:وہ دوزخی اس کے یعنی آگ اور گرم اور ابلتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔(ت)
لاجرم طواف چار۴ قسم ہے:
قسم اول:نہ طواف مقصود لذاتہ ہو نہ اس سے غرض وغایت نفس تعظیم بلکہ طواف کسی اورفعل کا وسیلہ ہوا ور اس فعل سے کوئی اور حاجت مقصود جیسے سائلوں کا دروازوں پر گشتصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم ہمیشہ کاشانہ نبوت کا ایسا طواف فرمایا کرتےابوداؤد وابن ماجہ ودارمی ایاس بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد طاف بال محمد نساء کثیر یشکون ازواجھن لیس اولئك بخیارکم ۔ آج کی رات بہت سی عورتوں نے ہماری بارگاہ اقدس کا طواف کیا کہ اپنے شوہروں کی شکایت کرتی تھیں وہ تم میں کے بہترلوگ نہیں جو عورتوں کو ایذا دیتے ہیں۔
اور صحیح حدیث میں بلی کے نسبت فرمایا:
انھا من الطوافین علیکم والطوافات ۔ بیشك وہ ان نرومادہ میں ہے جو بکثرت تم پر طواف کرنے والے ہیں۔
قسم دوم:طواف مقصود لذاتہ ہو اور غایت غیر تعظیمصحیح بخاری شریف میں جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے میرے والد عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ بہت قرض اور تھوڑے خرمے چھوڑ کر شہید ہوئے میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی حضور کو معلوم ہے کہ میرے باپ احد میں شہید ہوئے اور بہت قرض چھوڑ گئے ہیں میں چاہتاہوں کہ حضور قدم رنجہ فرمائیں کہ قرضخواہ حضور کودیکھیں یعنی شاید حضور کے خیال سے اپنے مطالبہ میں کمی کردیںارشاد فرمایا:جاؤ ہر قسم کے چھوہاروں کے الگ الگ ڈھیر لگاؤپھر تشریف فرماہوئے۔قرض خواہوں نے حضور کو دیکھا مجھ سے نہایت سخت تقاضے کرنے لگے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہ کیا تھا یعنی ان کے خیال کے برعکس ہواحضور کے تشریف لے جانے سے قرض خواہ اپنا پلہ بھاری سمجھے کہ حضور ضرور ہمارا پوراحق دلادینگے۔جب حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ حال ملاحظہ فرمایا فطاف حول اعظمھا بید را ثلث مرات ثم جلس علیہ حضور نے ان میں سب میں بڑے ڈھیر کے گرد تین بار طواف فرمایا اور اس پر تشریف رکھی پھر ناپ کر انھیں دینا شروع فرمایا حتی ادی اﷲ عن والدی امانتہ وسلم اﷲ البیادر کلھا یہاں تك کہ اﷲ تعالی نے میرے باپ کا سب قرض ادا کردیا اور سب ڈھیر سلامت بچ رہے۔
اسی قسم میں ہے عسس کاگرد شہر گشت کرنا ولہذا عسس کو عرب میں طائف کہتے ہیں۔مفردات راغب میں ہے:
اور صحیح حدیث میں بلی کے نسبت فرمایا:
انھا من الطوافین علیکم والطوافات ۔ بیشك وہ ان نرومادہ میں ہے جو بکثرت تم پر طواف کرنے والے ہیں۔
قسم دوم:طواف مقصود لذاتہ ہو اور غایت غیر تعظیمصحیح بخاری شریف میں جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے میرے والد عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ بہت قرض اور تھوڑے خرمے چھوڑ کر شہید ہوئے میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی حضور کو معلوم ہے کہ میرے باپ احد میں شہید ہوئے اور بہت قرض چھوڑ گئے ہیں میں چاہتاہوں کہ حضور قدم رنجہ فرمائیں کہ قرضخواہ حضور کودیکھیں یعنی شاید حضور کے خیال سے اپنے مطالبہ میں کمی کردیںارشاد فرمایا:جاؤ ہر قسم کے چھوہاروں کے الگ الگ ڈھیر لگاؤپھر تشریف فرماہوئے۔قرض خواہوں نے حضور کو دیکھا مجھ سے نہایت سخت تقاضے کرنے لگے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہ کیا تھا یعنی ان کے خیال کے برعکس ہواحضور کے تشریف لے جانے سے قرض خواہ اپنا پلہ بھاری سمجھے کہ حضور ضرور ہمارا پوراحق دلادینگے۔جب حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ حال ملاحظہ فرمایا فطاف حول اعظمھا بید را ثلث مرات ثم جلس علیہ حضور نے ان میں سب میں بڑے ڈھیر کے گرد تین بار طواف فرمایا اور اس پر تشریف رکھی پھر ناپ کر انھیں دینا شروع فرمایا حتی ادی اﷲ عن والدی امانتہ وسلم اﷲ البیادر کلھا یہاں تك کہ اﷲ تعالی نے میرے باپ کا سب قرض ادا کردیا اور سب ڈھیر سلامت بچ رہے۔
اسی قسم میں ہے عسس کاگرد شہر گشت کرنا ولہذا عسس کو عرب میں طائف کہتے ہیں۔مفردات راغب میں ہے:
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی ضرب النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۹۲،سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب القسمۃ بین النساء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۴
جامع الترمذی کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی سؤر الہرۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۴
صحیح البخاری کتا ب المغازی باب قولہ تعالٰی اذ ھمت طائفتان منکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۰
جامع الترمذی کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی سؤر الہرۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۴
صحیح البخاری کتا ب المغازی باب قولہ تعالٰی اذ ھمت طائفتان منکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۰
منہ الطائف لمن یدروحول البیوت حافظا ۔ اس سے(یعنی لفظ طواف سے)لفظ"طائف"ماخوذ ہے۔اور "طائف وہ ہے جو لوگوں کے گھروں کے آس پاس برائے حفاظت چکر لگاتاہے۔(ت)
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت میں مدینہ کا طواف فرمایا کرتےابن عساکر تاریخ میں اسلم مولی امیر المومنین عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ طاف لیلۃ فاذا ھو بامرأۃ فی جوف دارلھا وحولھا صبیان یبکون۔ الحدیث۔یعنی امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ ایك رات مدینہ طیبہ کا طواف کررہے تھے دیکھاکہ ایك بی بی اپنے گھر میں بیٹھی ہیں اور ان کے بچے ان کے گرد رو رہے ہیں اور چولھے پر ایك دیگچی چڑھی ہے۔امیر المومنین قریب گئے اور فرمایا اے اﷲ کی لونڈی !یہ بچے کیوں رو رہے ہیں انھوں نے عرض کی:یہ بھوکے روتے ہیں۔فرمایا:تو اس دیگچی میں کیا ہے میں نے ان کے بہلانے کو پانی بھر کر چڑھادی ہے کہ وہ سمجھیں اس میں کچھ پك رہا ہے۔اور انتظار میں سوجائیں۔امیر المؤمنین فورا واپس آئے اور ایك بڑی بوری میں آٹا اور گھی اور چربی اور چھوہارے اور کپڑے اور روپے منہ تك بھرے پھر اپنے غلام اسلم سے فرمایا:یہ میری پیٹھ پر لاد دو۔اسلم کہتے ہیں میں نے عرض کی:یا امیر المومنین! میں اٹھاکر لے چلوں گا۔فرمایا:اے اسلم! بلکہ میں اٹھا ؤں گا کہ اس کا سوال تو آخرت میں مجھ سے ہونا ہے پھر اپنی پشت مبارك پر اٹھا کر ان بی بی کے گھر تك لے گئے پھر دیگچی میں آٹا اور چربی اور چھوہارے چڑھا کر اپنے دست مبارك سے پکاتے رہے پھر پکا کر انھیں کھلایا کہ سب کا پیٹ بھر گیا۔پھر باہر صحن میں نکل کر ان بچوں کے سامنے ایسے بیٹھے جیسے جانور بیٹھتا ہے اور میں ہیبت کے سبب بات نہ کرسکا امیر المومنین یوں ہی بیٹھے رہے یہاں تك کہ بچے اس نئی نشست کو دیکھ کر امیر المومنین کے ساتھ کھیلنے اور ہنسنے لگے۔اب امیرالمومنین واپس تشریف لائے اور فرمایا:اسلم ! تم نے جانا کہ میں ان کے ساتھ یوں کیوں بیٹھامیں نے عرض کی:نہ۔ فرمایا:میں نے انھیں روتے دیکھا تھا تو مجھے پسند نہ آیا کہ میں انھیں چھوڑ کر چلا جاؤں جب تك انھیں ہنسا نہ لوں جب وہ ہنس لئے تو میرا دل شاد ہوا۔ واخرجہ ایضا الدینوری فی المجالسۃ واحمد بن ابراھیم بن شاذان البزار فی مشیختہ(نیز دینوری نے المجالسۃ میں اور
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت میں مدینہ کا طواف فرمایا کرتےابن عساکر تاریخ میں اسلم مولی امیر المومنین عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ طاف لیلۃ فاذا ھو بامرأۃ فی جوف دارلھا وحولھا صبیان یبکون۔ الحدیث۔یعنی امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ ایك رات مدینہ طیبہ کا طواف کررہے تھے دیکھاکہ ایك بی بی اپنے گھر میں بیٹھی ہیں اور ان کے بچے ان کے گرد رو رہے ہیں اور چولھے پر ایك دیگچی چڑھی ہے۔امیر المومنین قریب گئے اور فرمایا اے اﷲ کی لونڈی !یہ بچے کیوں رو رہے ہیں انھوں نے عرض کی:یہ بھوکے روتے ہیں۔فرمایا:تو اس دیگچی میں کیا ہے میں نے ان کے بہلانے کو پانی بھر کر چڑھادی ہے کہ وہ سمجھیں اس میں کچھ پك رہا ہے۔اور انتظار میں سوجائیں۔امیر المؤمنین فورا واپس آئے اور ایك بڑی بوری میں آٹا اور گھی اور چربی اور چھوہارے اور کپڑے اور روپے منہ تك بھرے پھر اپنے غلام اسلم سے فرمایا:یہ میری پیٹھ پر لاد دو۔اسلم کہتے ہیں میں نے عرض کی:یا امیر المومنین! میں اٹھاکر لے چلوں گا۔فرمایا:اے اسلم! بلکہ میں اٹھا ؤں گا کہ اس کا سوال تو آخرت میں مجھ سے ہونا ہے پھر اپنی پشت مبارك پر اٹھا کر ان بی بی کے گھر تك لے گئے پھر دیگچی میں آٹا اور چربی اور چھوہارے چڑھا کر اپنے دست مبارك سے پکاتے رہے پھر پکا کر انھیں کھلایا کہ سب کا پیٹ بھر گیا۔پھر باہر صحن میں نکل کر ان بچوں کے سامنے ایسے بیٹھے جیسے جانور بیٹھتا ہے اور میں ہیبت کے سبب بات نہ کرسکا امیر المومنین یوں ہی بیٹھے رہے یہاں تك کہ بچے اس نئی نشست کو دیکھ کر امیر المومنین کے ساتھ کھیلنے اور ہنسنے لگے۔اب امیرالمومنین واپس تشریف لائے اور فرمایا:اسلم ! تم نے جانا کہ میں ان کے ساتھ یوں کیوں بیٹھامیں نے عرض کی:نہ۔ فرمایا:میں نے انھیں روتے دیکھا تھا تو مجھے پسند نہ آیا کہ میں انھیں چھوڑ کر چلا جاؤں جب تك انھیں ہنسا نہ لوں جب وہ ہنس لئے تو میرا دل شاد ہوا۔ واخرجہ ایضا الدینوری فی المجالسۃ واحمد بن ابراھیم بن شاذان البزار فی مشیختہ(نیز دینوری نے المجالسۃ میں اور
حوالہ / References
المفردات فی غرائب القران باب الطاء مع الواو کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۱۴
کنز العمال برمز"کر"ابن عساکر وبحوالہ الدینور وابن شاذان حدیث ۳۵۹۷۸ موسستہ الرسالہ بیروت ۲/ ۴۹۔۶۴۸،الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ذکر شفقتہ علی رعیتہ رضی اﷲ تعالٰی چشتی کتب خانہ فیصل آباد ۲/ ۳۸۵
کنز العمال برمز"کر"ابن عساکر وبحوالہ الدینور وابن شاذان حدیث ۳۵۹۷۸ موسستہ الرسالہ بیروت ۲/ ۴۹۔۶۴۸،الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ذکر شفقتہ علی رعیتہ رضی اﷲ تعالٰی چشتی کتب خانہ فیصل آباد ۲/ ۳۸۵
احمد بن ابراہیم بن ساذان البزار نے مشیخۃ میں اس کی تخریج فرمائی۔ت)امام محب الدین طبری ریاض النضرہ پھر شاہ ولی اﷲ ازالۃ الخفا میں مناقب امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ میں لکھتے ہیں:ا نہ کان یطوف لیلۃ فی المدینۃ فمسع امراۃ تقول یعنی امیر المومنین رضی اﷲ تعالی عنہ ایك رات مدینہ طیبہ میں طواف کررہے تھے کہ ایك بی بی کو یوں کہتے سنا فذکر الحدیث (پھر پوری حدیث ذکر فرمائی۔ت)
قسم سوم:طواف وسیلہ مقصو ہو اور غرض وغایت تعظیم جیسے نوکر چاکر غلاموں کا اپنے مخدوم وآقا پر طواف اس کے کام خدمت کو اس کے گھرد پھرنا۔
قال اﷲ تعالی " طوفون علیکم بعضکم علی بعض" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)تمھارے نوکر غلام تمھارے گرد بکثرت طواف کرنیوالے ہیں تین وقت ترك حجاب کے سوا ہر وقت اذن لینے میں انھیں حرج ہوگا۔
اور اہل جنت کے حق میں فرماتاہے:
"یطوف علیہم ولدن مخلدون ﴿۱۷﴾" ہمیشہ رہنے والے لڑکے ان کے گرد طواف کریں گے۔
اور فرماتاہے:
"یطاف علیہم بکاس من معینۭ ﴿۴۵﴾" ان پر طواف کیا جائے گا پیالوں میں وہ پانی لے کر جو آنکھوں کے سامنے بہتاہے۔
اور فرماتاہے:
" و یطاف علیہم بانیۃ من فضۃ و اکواب" چاندی کے برتن اور کوزے لے کر ان پر طواف کیا جائے گا۔
اس میں وہ صورت بھی آتی ہے کہ طواف غیر کعبہ کا ہوا اور غرض وغایت عبادت الہیصحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قسم سوم:طواف وسیلہ مقصو ہو اور غرض وغایت تعظیم جیسے نوکر چاکر غلاموں کا اپنے مخدوم وآقا پر طواف اس کے کام خدمت کو اس کے گھرد پھرنا۔
قال اﷲ تعالی " طوفون علیکم بعضکم علی بعض" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)تمھارے نوکر غلام تمھارے گرد بکثرت طواف کرنیوالے ہیں تین وقت ترك حجاب کے سوا ہر وقت اذن لینے میں انھیں حرج ہوگا۔
اور اہل جنت کے حق میں فرماتاہے:
"یطوف علیہم ولدن مخلدون ﴿۱۷﴾" ہمیشہ رہنے والے لڑکے ان کے گرد طواف کریں گے۔
اور فرماتاہے:
"یطاف علیہم بکاس من معینۭ ﴿۴۵﴾" ان پر طواف کیا جائے گا پیالوں میں وہ پانی لے کر جو آنکھوں کے سامنے بہتاہے۔
اور فرماتاہے:
" و یطاف علیہم بانیۃ من فضۃ و اکواب" چاندی کے برتن اور کوزے لے کر ان پر طواف کیا جائے گا۔
اس میں وہ صورت بھی آتی ہے کہ طواف غیر کعبہ کا ہوا اور غرض وغایت عبادت الہیصحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ذکر شفقتہ علی رعیتہ چشتی کتب خانہ فیصل آباد ص۳۹۲،ازالۃ الخفاء حکایات گشت حضرت عمر فاروق رٰضی اﷲ تعالٰی عنہ سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۷۷
القرآن الکریم ۲۴ /۵۸
القرآن الکریم ۵۶ /۱۷
القرآن الکریم ۳۷ /۴۵
القرآن الکریم ۷۶ /۱۵
القرآن الکریم ۲۴ /۵۸
القرآن الکریم ۵۶ /۱۷
القرآن الکریم ۳۷ /۴۵
القرآن الکریم ۷۶ /۱۵
قال سلیمان لاطوفن اللیلۃ علی تسعین امرأۃ وفی روایۃ بمائۃ امرأۃ کلھن تاتی بفارس یجاھد فی سبیل اﷲ فطاف علیھن الحدیث۔ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا قسم ہے آج کی رات میں نوے اور ایك روایت میں سو عورتوں پر طواف کروں گا کہ ہر ایك سے ایك سوار پیدا ہوگا جو اﷲ تعالی کی راہ میں جہاد کرے۔ پھر انھوں نے ان کا طواف کیا۔
صحیح مسلم شریف میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یطوف علی النساء بغسل واحد ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك ہی غسل سے اپنی ازواج مطہرات پر طواف کرتے۔
اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
لیس لنا عبادۃ شرعت من عھد ادم الی الان ثم تستمر فی الجنۃ الا النکاح والایمان ۔ ہمارے لئے کوئی عبادت ایسی نہیں کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے اب تك مشروع ہے پھر ہمیشہ ہمیشہ جنت میں مشروع رہے گی مگر ایمان یعنی یاد خدااور نکاح یعنی جماع زوجہ۔
قسم چہارم:طواف بھی مقصود لذاتہ ہو اور غرض وغایت بھی تعظیم یعنی نہ طواف کسی اور فعل کے لئے وسیلہ ہو نہ اس سے سوائے تعظیم کچھ مقصود بلکہ نفس طواف سے محض تعظیم مقصود ہو۔اسی کا نام طواف تعظیمی ہے جیسے طواف کعبہ یا طواف صفا ومروہ۔پھر اوضاع بدن کہ عبادت میں مقرر کئے گئے ہیں تین نوع ہیں۔
ایك وہ کہ تعظیم میں منحصر ہے۔
اور دوسرے وہ کہ وسیلۃ ومقصودا دونوں طرح پائے جاتے ہیں اور ان کی غایت تعظیم میں منحصر نہیں مگر بحال قصد تعظیم نوع اول سے قریب ہیں جیسے رکوع تك انحنا کہ بلا تعظیم بھی ہوتا ہے۔بلکہ بقصد توہین بھی جیسے کسی کے مارنے کےلئے اینٹ وغیرہ اٹھانے کو جھکنااور تعظیم کے لئے بھی ہوتا ہے۔
صحیح مسلم شریف میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یطوف علی النساء بغسل واحد ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك ہی غسل سے اپنی ازواج مطہرات پر طواف کرتے۔
اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
لیس لنا عبادۃ شرعت من عھد ادم الی الان ثم تستمر فی الجنۃ الا النکاح والایمان ۔ ہمارے لئے کوئی عبادت ایسی نہیں کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے اب تك مشروع ہے پھر ہمیشہ ہمیشہ جنت میں مشروع رہے گی مگر ایمان یعنی یاد خدااور نکاح یعنی جماع زوجہ۔
قسم چہارم:طواف بھی مقصود لذاتہ ہو اور غرض وغایت بھی تعظیم یعنی نہ طواف کسی اور فعل کے لئے وسیلہ ہو نہ اس سے سوائے تعظیم کچھ مقصود بلکہ نفس طواف سے محض تعظیم مقصود ہو۔اسی کا نام طواف تعظیمی ہے جیسے طواف کعبہ یا طواف صفا ومروہ۔پھر اوضاع بدن کہ عبادت میں مقرر کئے گئے ہیں تین نوع ہیں۔
ایك وہ کہ تعظیم میں منحصر ہے۔
اور دوسرے وہ کہ وسیلۃ ومقصودا دونوں طرح پائے جاتے ہیں اور ان کی غایت تعظیم میں منحصر نہیں مگر بحال قصد تعظیم نوع اول سے قریب ہیں جیسے رکوع تك انحنا کہ بلا تعظیم بھی ہوتا ہے۔بلکہ بقصد توہین بھی جیسے کسی کے مارنے کےلئے اینٹ وغیرہ اٹھانے کو جھکنااور تعظیم کے لئے بھی ہوتا ہے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجہاد ۱/ ۳۹۵ کتا ب النکاح ۲/ ۷۸۸ و کتا ب الایمان والنذور ۲/ ۹۸۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاستثناء فی الیمین وغیرھا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۹
صحیح مسلم کتاب الحیض باب جواز نوم الجنب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۴
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۵
صحیح مسلم کتاب الحیض باب جواز نوم الجنب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۴
درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۵
مگر نہ خود مقصود بلکہ وسیلہ جیسے علماء وصلحاء کی قدمبوسی وغیرہ خدمات کو جھکنا اور بذاتہ مقصود بھی ہوتاہے جیسے سلام کرنے میں رکوع تك جھکنا۔
تیسرے وہ کہ نوع اول سے بعید ہیں جیسے قیام یا قعود یا رکوع سے کم جھکناظاہر ہے کہ ان میں بھی نوع دوم کی طرح قصد و توسل وغایت مختلفہ کی سب صورتیں پائی جاتی ہیں۔
انواع ثلثہ میں حکم عام تو یہ ہے کہ اگر بہ نیت عبادت غیر ہے تو کچھ بھی ہو مطلقاشرك وکفر ہے۔اور بے نیت عبادت ہر گز شرك وکفر نہیں اگر چہ سجدہ ہی ہو جب تك کہ وہ فعل بخصوصہ شعار کفر نہ ہوگیا ہوجیسے بت یاآفتاب کو سجدہ۔والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)اور جب عبادت غیر کی نیت سے نہ ہو تو ان میں فرق احکام یہ ہے کہ نوع اول غیر خدا کے لئے مطلقا ناجائزاور نوع دوم اس وقت ممنوع ہے جبکہ مقصودا اسی کو بہ نیت تعظیم بجالایا جائےاور نوع سوم مطلقا جائزہے اگرچہ اس سے تعظیم مقصو دہو۔ اختیار شرح مختار وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں حاضر ی روضہ اقدس کی نسبت فرماتے ہیں:یقف کما یقف فی الصلوۃ حضور کے روضہ انور میں نماز کی طرح کھڑا ہومنسك متوسط ومسلك متقسط میں ہے:
(ثم توجہ)ای بقلب والقالب مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف خاضعا خاشعا مع الذلۃ و الانکسار والہیبۃ والافتقار واضعار یمینہ علی شمالہ ای تأدبادفی حال اجلالہ ۔ یعنی پھر نہایت ادب کی رعایت کے ساتھ روضہ اقدس کی طرف دل اور بدن دونوں سے منہ کرکے چہرہ انور کے مقابل خضوع وخشوع و ذلت وانکسارا ور حضوری کی ہیبت اور حضور کی طرف محتاجی کے ساتھ سیدھا ہاتھ بائیں پر حضور کے ادب وتعظیم کےلئے باندھے ہوئے کھڑا ہو۔
صحیح حدیث میں ہے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم حضور کے سامنے ایسے بیٹھتے کان علی رؤسہم الطیر گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں یعنی بے حس وحرکت کہ پرندے لکڑی سمجھ کر سر پر آبیٹھیں۔
تیسرے وہ کہ نوع اول سے بعید ہیں جیسے قیام یا قعود یا رکوع سے کم جھکناظاہر ہے کہ ان میں بھی نوع دوم کی طرح قصد و توسل وغایت مختلفہ کی سب صورتیں پائی جاتی ہیں۔
انواع ثلثہ میں حکم عام تو یہ ہے کہ اگر بہ نیت عبادت غیر ہے تو کچھ بھی ہو مطلقاشرك وکفر ہے۔اور بے نیت عبادت ہر گز شرك وکفر نہیں اگر چہ سجدہ ہی ہو جب تك کہ وہ فعل بخصوصہ شعار کفر نہ ہوگیا ہوجیسے بت یاآفتاب کو سجدہ۔والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)اور جب عبادت غیر کی نیت سے نہ ہو تو ان میں فرق احکام یہ ہے کہ نوع اول غیر خدا کے لئے مطلقا ناجائزاور نوع دوم اس وقت ممنوع ہے جبکہ مقصودا اسی کو بہ نیت تعظیم بجالایا جائےاور نوع سوم مطلقا جائزہے اگرچہ اس سے تعظیم مقصو دہو۔ اختیار شرح مختار وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں حاضر ی روضہ اقدس کی نسبت فرماتے ہیں:یقف کما یقف فی الصلوۃ حضور کے روضہ انور میں نماز کی طرح کھڑا ہومنسك متوسط ومسلك متقسط میں ہے:
(ثم توجہ)ای بقلب والقالب مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف خاضعا خاشعا مع الذلۃ و الانکسار والہیبۃ والافتقار واضعار یمینہ علی شمالہ ای تأدبادفی حال اجلالہ ۔ یعنی پھر نہایت ادب کی رعایت کے ساتھ روضہ اقدس کی طرف دل اور بدن دونوں سے منہ کرکے چہرہ انور کے مقابل خضوع وخشوع و ذلت وانکسارا ور حضوری کی ہیبت اور حضور کی طرف محتاجی کے ساتھ سیدھا ہاتھ بائیں پر حضور کے ادب وتعظیم کےلئے باندھے ہوئے کھڑا ہو۔
صحیح حدیث میں ہے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم حضور کے سامنے ایسے بیٹھتے کان علی رؤسہم الطیر گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں یعنی بے حس وحرکت کہ پرندے لکڑی سمجھ کر سر پر آبیٹھیں۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحج خاتمہ فی زیارۃ قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۶۵
المسلك المتقسط فی المنسلك المتوسط مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۳۳۷
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب فضل النفقۃ فی سبیل اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۹۸
المسلك المتقسط فی المنسلك المتوسط مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۳۳۷
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب فضل النفقۃ فی سبیل اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۹۸
شفاء شریف میں ہے:
کان مالك اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتغیر لونہ وینحنی حتی یصعب ذلك علی جلسائہ ۔ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے سامنے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکر پاك آتا ان کا رنگ بدل جاتا اور جھك جاتے یہاں تك کہ حاضران مجلس کو ان کی وہ حالت دشوار گزرتی۔
حدیقہ ندیہ میں ہے:
الانحناء البالغ حدالرکوع لایفعل لاحد کالمسجود و لاباس بما نقص من حدالرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام ۔ یعنی رکوع کی حد تك جھکنا کسی غیر خدا کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ اور دینی عزت والوں کے لئے رکوع سے کم جھکنے میں حرج نہیں۔
جب یہ امور سب معلوم ہولئے تو منجملہ اوضاع تعظیمیہ کہ رب عزوجل نے اپنی عبادت کے لئے مقرر فرمائے دونوں قسم کا طواف بھی ہے مستقیم جیسے صفا ومروہ میں خواہ مستدیر جیسے گر د کعبہ دونوں عبادت ہیں اور دونوں کو قرآن عظیم میں طواف فرمایا۔تو ان میں فرق بے معنی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طواف ان انواع ثلثہ سے کس نوع میں ہے۔ہر عاقل کے نزدیك بدیہیات سے ہے کہ وہ مثل سجود نوع اول سے نہیں ورنہ سجدہ غیر کی طرح مطلقا حرام ہوتا حالانکہ اس کی تین قسم اول کا جواز و وقوع ہم قرآن عظیم وحدیث کریم وخود فعل حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت کرآئے نہ ہر گز وہ مثل قیام نوع سوم سے ہے ورنہ ہر شخص و مکان معظم کا طواف تعظیمی جائز ہوتا بلکہ وہ مثل رکوع نوع متوسط سے ہے کہ اگر نفس طواف سے تعظیم مقصود ہو تو غیر خدا کے لئے ناجائز بلکہ غیر کعبہ وصفا ومروہ کا طواف اگرچہ خالصا اﷲ عزوجل ہی کی تعظیم کو کیا جائے ممنوع وبدعت ہے کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی اور امر تعبدی میں قیاس تك جائز نہیں۔نہ کہ احداث کہ تشریع جدید ہے۔منسك متوسط میں ہے:
ولایمس عند الزیارۃ الجدار ولایلتصق بہ ولا یطوف ولایقبل الارض فانہ زیارت روضہ اقدس کے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائے اورنہ ان سے چمٹے اورنہ ان کے آس پاس طواف کرے(یعنی چکر لگائے)اور نہ جھکے
کان مالك اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتغیر لونہ وینحنی حتی یصعب ذلك علی جلسائہ ۔ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے سامنے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکر پاك آتا ان کا رنگ بدل جاتا اور جھك جاتے یہاں تك کہ حاضران مجلس کو ان کی وہ حالت دشوار گزرتی۔
حدیقہ ندیہ میں ہے:
الانحناء البالغ حدالرکوع لایفعل لاحد کالمسجود و لاباس بما نقص من حدالرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام ۔ یعنی رکوع کی حد تك جھکنا کسی غیر خدا کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ اور دینی عزت والوں کے لئے رکوع سے کم جھکنے میں حرج نہیں۔
جب یہ امور سب معلوم ہولئے تو منجملہ اوضاع تعظیمیہ کہ رب عزوجل نے اپنی عبادت کے لئے مقرر فرمائے دونوں قسم کا طواف بھی ہے مستقیم جیسے صفا ومروہ میں خواہ مستدیر جیسے گر د کعبہ دونوں عبادت ہیں اور دونوں کو قرآن عظیم میں طواف فرمایا۔تو ان میں فرق بے معنی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طواف ان انواع ثلثہ سے کس نوع میں ہے۔ہر عاقل کے نزدیك بدیہیات سے ہے کہ وہ مثل سجود نوع اول سے نہیں ورنہ سجدہ غیر کی طرح مطلقا حرام ہوتا حالانکہ اس کی تین قسم اول کا جواز و وقوع ہم قرآن عظیم وحدیث کریم وخود فعل حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت کرآئے نہ ہر گز وہ مثل قیام نوع سوم سے ہے ورنہ ہر شخص و مکان معظم کا طواف تعظیمی جائز ہوتا بلکہ وہ مثل رکوع نوع متوسط سے ہے کہ اگر نفس طواف سے تعظیم مقصود ہو تو غیر خدا کے لئے ناجائز بلکہ غیر کعبہ وصفا ومروہ کا طواف اگرچہ خالصا اﷲ عزوجل ہی کی تعظیم کو کیا جائے ممنوع وبدعت ہے کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی اور امر تعبدی میں قیاس تك جائز نہیں۔نہ کہ احداث کہ تشریع جدید ہے۔منسك متوسط میں ہے:
ولایمس عند الزیارۃ الجدار ولایلتصق بہ ولا یطوف ولایقبل الارض فانہ زیارت روضہ اقدس کے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائے اورنہ ان سے چمٹے اورنہ ان کے آس پاس طواف کرے(یعنی چکر لگائے)اور نہ جھکے
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی عادۃ الصحابہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۳
الحدیقہ الندیہ الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
الحدیقہ الندیہ الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
بدعۃ ۔ اور نہ زمین چومےکیونکہ یہ کام بدعت ہے۔(ت)
مسلك متقسط میں ہے:
لایطوف ای لاید ورحول البقعۃ الشریفۃ لان الطواف من مختصات الکعبۃ المنیفۃ فیحرم حول قبور الانبیاء و الاولیاء ۔ اور متبرك مقام کا طواف نہ کرے یعنی اس کے گر داگرد نہ گھومےاس لئے کہ طواف کرنا کعبہ معظمہ کی خصوصیات سے ہے۔لہذا انبیاء کرام اور اولیائے عظام کی قبروں کے آس پاس گھومنا(طواف کرنا)حرام ہے۔(ت)
اوراگر غرض وغایت تعظیم نہ ہو اگر چہ طواف مقصد لذاتہ ہو جیسے قسم دوم میں۔یا طواف مقصود لذاتہ نہ ہو اگرچہ غرض تعظیم ہو جیسے قسم سوم میںتو بلاشبہ جائز ہے۔اور اگر دونوں سے خالی طواف ہو جیسے قسم اول میں تو یہ بدرجہ اولی۔یہ بحمداﷲ تحقیق ناصح ہے۔جس سے حق متجاوز نہیں۔وﷲ الحمد طواف قبر بھی اس کلیہ سے باہر نہیں ہوسکتا اگر دونوں باتیں جمع ہیں یعنی طواف خود مقصودبالذات ہے اور اس سے تعظیم ہی مرادہے تو بلاشبہہ حرام ہے۔اوراگرطواف کسی اور فعل کا وسیلہ ہے مگر مکان مزار کے گرد قلعی کرنا یا فانوس کہ اس کے اطراف میں نصب ہیں ان کی روشنی کے لئے دورہ کرنا یا مساکین کہ گرد مزار بیٹھے ہیں ان پر کچھ تقسیم کے لئے پھیرا کرنایہ بلاشبہہ جائزہے۔یونہی اگر طواف مقصود بالذات ہو مگر اس سے غرض وغایت تعظیم مزار نہ ہو بلکہ مثلا محض تبرك و استفادہ ہو تو اس کے منع پر بھی شرع سے کوئی دلیل نہیں۔مزار انور حضور سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر تو ثابت ہے کہ روزانہ صبح کو ستر ہزارفرشتے نازل ہوتے ہیں اور مزار اطہر کے گر د حلقہ باندھے صلوۃ وسلام عرض کرتے شام کو وہ بدل دئے جاتے ہیں اور سترہزار اور آتے ہیں کہ صبح تك ماہ رسالت پر ہالہ ہو کر عرض صلوۃ وسلام کرتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است(ہر پھول کا ایك نیا رنگ اور جدا گانہ خوشبو ہے۔ت)محبوبان خداکے مقام متفاوت ہوتے ہیں اور افاضہ برکات میں ان کے احوال مختلف اور مفیض مستفیض میں کچھ نسبت خفیہ ہوتی ہے جو اسے معلوم نہیں کہ ان میں کس کے ساتھ حاصل ہے لہذا یہ دریوزہ گر محتاج روضہ اطہر کے گرد دورہ کرتا ہے اس امید پر کہ ان بندگان معصومین پر فردا فردا گزرے اور ان میں سے جس کسی کی نظر اس پر پڑ جائے اس کا کام بنادےعلامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الملۃ والحق والدین سہروردی قدسنا اﷲ الکریم ایام منی
مسلك متقسط میں ہے:
لایطوف ای لاید ورحول البقعۃ الشریفۃ لان الطواف من مختصات الکعبۃ المنیفۃ فیحرم حول قبور الانبیاء و الاولیاء ۔ اور متبرك مقام کا طواف نہ کرے یعنی اس کے گر داگرد نہ گھومےاس لئے کہ طواف کرنا کعبہ معظمہ کی خصوصیات سے ہے۔لہذا انبیاء کرام اور اولیائے عظام کی قبروں کے آس پاس گھومنا(طواف کرنا)حرام ہے۔(ت)
اوراگر غرض وغایت تعظیم نہ ہو اگر چہ طواف مقصد لذاتہ ہو جیسے قسم دوم میں۔یا طواف مقصود لذاتہ نہ ہو اگرچہ غرض تعظیم ہو جیسے قسم سوم میںتو بلاشبہ جائز ہے۔اور اگر دونوں سے خالی طواف ہو جیسے قسم اول میں تو یہ بدرجہ اولی۔یہ بحمداﷲ تحقیق ناصح ہے۔جس سے حق متجاوز نہیں۔وﷲ الحمد طواف قبر بھی اس کلیہ سے باہر نہیں ہوسکتا اگر دونوں باتیں جمع ہیں یعنی طواف خود مقصودبالذات ہے اور اس سے تعظیم ہی مرادہے تو بلاشبہہ حرام ہے۔اوراگرطواف کسی اور فعل کا وسیلہ ہے مگر مکان مزار کے گرد قلعی کرنا یا فانوس کہ اس کے اطراف میں نصب ہیں ان کی روشنی کے لئے دورہ کرنا یا مساکین کہ گرد مزار بیٹھے ہیں ان پر کچھ تقسیم کے لئے پھیرا کرنایہ بلاشبہہ جائزہے۔یونہی اگر طواف مقصود بالذات ہو مگر اس سے غرض وغایت تعظیم مزار نہ ہو بلکہ مثلا محض تبرك و استفادہ ہو تو اس کے منع پر بھی شرع سے کوئی دلیل نہیں۔مزار انور حضور سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر تو ثابت ہے کہ روزانہ صبح کو ستر ہزارفرشتے نازل ہوتے ہیں اور مزار اطہر کے گر د حلقہ باندھے صلوۃ وسلام عرض کرتے شام کو وہ بدل دئے جاتے ہیں اور سترہزار اور آتے ہیں کہ صبح تك ماہ رسالت پر ہالہ ہو کر عرض صلوۃ وسلام کرتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است(ہر پھول کا ایك نیا رنگ اور جدا گانہ خوشبو ہے۔ت)محبوبان خداکے مقام متفاوت ہوتے ہیں اور افاضہ برکات میں ان کے احوال مختلف اور مفیض مستفیض میں کچھ نسبت خفیہ ہوتی ہے جو اسے معلوم نہیں کہ ان میں کس کے ساتھ حاصل ہے لہذا یہ دریوزہ گر محتاج روضہ اطہر کے گرد دورہ کرتا ہے اس امید پر کہ ان بندگان معصومین پر فردا فردا گزرے اور ان میں سے جس کسی کی نظر اس پر پڑ جائے اس کا کام بنادےعلامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الملۃ والحق والدین سہروردی قدسنا اﷲ الکریم ایام منی
حوالہ / References
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتب العربی بیروت ص۳۴۲
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتب العربی بیروت ص۳۴۲
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتب العربی بیروت ص۳۴۲
میں مسجد خیف شریف میں صفوں پر دروہ فرماتے ہیں۔کسی نے وجہ پوچھیفرمایا:
ان ﷲ عبادا اذا نظروا الی احد ا کسبوہ سعادۃ الابد ۔ اﷲ کے کچھ بندے ہیں کہ جب ان کی نگاہ کسی پر پڑجاتی ہے اسے ہمیشہ کی سعادت عطا فرماتی ہے میں اس نگاہ کی تلاش میں دورہ کرتاہوں۔
تویہ تعرض نفحات رحمۃ اﷲ ہوا جس کا خود حدیث میں حکم ہے۔اولیائے کرام وارثان سرکار رسالت ہیں ممکن کہ ملائکہ انکے مزارات کے گرد بھی ہوں اور ایسے امور میں علم درکارنہیں۔تعرض نفحات کی شان ہی یہ ہے کہ شاید و لعل پر ہو۔معہذا مزارات اولیائے کرام ہر جانب سے ممر اقدام صلحائے عظام ہوتے ہیںسیدنا عیسی علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم سے عرض کی گئی کہ حضور ایك جگہ قیام کیوں نہیں فرماتےشہروں شہروں جنگلوں جنگلوں دورے کیوں فرماتے ہیں فرمایا:"اس امید پر کہ کسی بندہ خدا کے نشان قدم پر قدم پڑ جائے تو میری نجات ہوجائے"جب نبی اﷲ ورسول اﷲ کہ خمسہ اولوالعزم میں ہیں کہ صلوات اﷲ وسلام علیہمان کا یہ ارشاد تو اضع ہے تو ہم سخت محتاج ہیں علاوہ بریں یہاں تك نکتہ دقیقہ اور ہے۔ " وما یلقىہا الا ذو حظ عظیم ﴿۳۵﴾ " (اس کو بڑی قسمت اور مقتدر والے ہی پاسکتے ہیں۔ت) شریعت مطہرہ نے انسان کے سر سے پاؤں تك جمیع جہات میں جدا جدا احکام رکھے ہیںچہرہ پر جو احکام ہیں پاؤں پر نہیں۔دہنے ہاتھ پر جو احکام ہیں پاؤں پر نہیں۔وعلی ہذا القیاس اور احکام مختلفہ کے ثواب بھی مختلف رنگ کے ہیں۔یونہی سر سے پاوں تك جملہ جوارح میں معاصی جدا جدا ہیں۔او رہر معصیت ایك جدا گانہ رنگ کا مرض ہے۔اور ہر مرض کا علاج اس کی ضد سے ہے۔تویہ مریض معاصی اس سرا پا مجموعہ برکات کے گرد دورہ کرتاہے کہ اس کے ہر عضو وہر جہت کی رنگ برنگ برکات سے فیض اور اپنے ہر عضو وہر جہت کا مرض دور کرےامام مبرد کامل میں پھر امام علامہ عارف باﷲ کمال الدین دمیری پھر سیدی علامہ محمد بن عبداﷲ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
مماکفربہ الفقھاء الحجاج انہ رأی الناس یطفون حول حجرتہ صلی اﷲ تعالی علیہ یعنی حجاج نے مسلمانوں کو دیکھ کر روضہ انور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا طواف کررہے ہیں اس طواف سے اس نے ایك
ان ﷲ عبادا اذا نظروا الی احد ا کسبوہ سعادۃ الابد ۔ اﷲ کے کچھ بندے ہیں کہ جب ان کی نگاہ کسی پر پڑجاتی ہے اسے ہمیشہ کی سعادت عطا فرماتی ہے میں اس نگاہ کی تلاش میں دورہ کرتاہوں۔
تویہ تعرض نفحات رحمۃ اﷲ ہوا جس کا خود حدیث میں حکم ہے۔اولیائے کرام وارثان سرکار رسالت ہیں ممکن کہ ملائکہ انکے مزارات کے گرد بھی ہوں اور ایسے امور میں علم درکارنہیں۔تعرض نفحات کی شان ہی یہ ہے کہ شاید و لعل پر ہو۔معہذا مزارات اولیائے کرام ہر جانب سے ممر اقدام صلحائے عظام ہوتے ہیںسیدنا عیسی علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم سے عرض کی گئی کہ حضور ایك جگہ قیام کیوں نہیں فرماتےشہروں شہروں جنگلوں جنگلوں دورے کیوں فرماتے ہیں فرمایا:"اس امید پر کہ کسی بندہ خدا کے نشان قدم پر قدم پڑ جائے تو میری نجات ہوجائے"جب نبی اﷲ ورسول اﷲ کہ خمسہ اولوالعزم میں ہیں کہ صلوات اﷲ وسلام علیہمان کا یہ ارشاد تو اضع ہے تو ہم سخت محتاج ہیں علاوہ بریں یہاں تك نکتہ دقیقہ اور ہے۔ " وما یلقىہا الا ذو حظ عظیم ﴿۳۵﴾ " (اس کو بڑی قسمت اور مقتدر والے ہی پاسکتے ہیں۔ت) شریعت مطہرہ نے انسان کے سر سے پاؤں تك جمیع جہات میں جدا جدا احکام رکھے ہیںچہرہ پر جو احکام ہیں پاؤں پر نہیں۔دہنے ہاتھ پر جو احکام ہیں پاؤں پر نہیں۔وعلی ہذا القیاس اور احکام مختلفہ کے ثواب بھی مختلف رنگ کے ہیں۔یونہی سر سے پاوں تك جملہ جوارح میں معاصی جدا جدا ہیں۔او رہر معصیت ایك جدا گانہ رنگ کا مرض ہے۔اور ہر مرض کا علاج اس کی ضد سے ہے۔تویہ مریض معاصی اس سرا پا مجموعہ برکات کے گرد دورہ کرتاہے کہ اس کے ہر عضو وہر جہت کی رنگ برنگ برکات سے فیض اور اپنے ہر عضو وہر جہت کا مرض دور کرےامام مبرد کامل میں پھر امام علامہ عارف باﷲ کمال الدین دمیری پھر سیدی علامہ محمد بن عبداﷲ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
مماکفربہ الفقھاء الحجاج انہ رأی الناس یطفون حول حجرتہ صلی اﷲ تعالی علیہ یعنی حجاج نے مسلمانوں کو دیکھ کر روضہ انور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا طواف کررہے ہیں اس طواف سے اس نے ایك
وسلم فقال انما یطوفون باعواد ورمۃ ۔ نہایت ملعون لفظ کہا جس پر فقہاء کرام نے اس کی تکفیر کی۔
وہ زمانہ بکثرت صحابہ کرام کی رونق افروز کا تھا خصوصا مدینہ طیبہ میں تویہ طواف کرنے والے حضرات اگر صحابہ کرام نہ تھے لااقل تابعین تھے۔عارف باﷲ حضرت مولوی قدس اﷲ سرہ المعنوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
(۱) سوئے مکہ شیخ امت بایزید از برائے حج وعمرہ می روید
(۲) دید پیرے باقدے ہمچوں ہلال بود در وے فرد گفتاری رجال۔
(۳) بایزید او راچو ازاقطاب یافت مسکنت بنمود ودرخدمت شتافت
(۴) گفت عزم تو کجا اے بایزید رخت غربت راکجا خواہی کشید
(۵) گفت قصہ کعبہ دارم ازولہ گفت بین باخود چہ داری زادرہ
(۶) گفت دارم از درم نقرہ ویست نك بہ بستد سخت برگوشہ رویست
(۷) گفت طوفے کن بہ گردم ہفت بار دین نکوترا ز طواف حج شمار
(۸)حق آں حقے کہ جانت دیدہ است کہ مرا بربیت خود بگزیدہ است
(۹)کعبہ ہرچندے کہ خانہ براوست خلقت من نیز خانہ سراوست
(۱۰)تابکرد آں خانہ رادروے نہ رفت واندریں خانہ بجزآں حی نرفت
(۱۱) چوں مراد دیدی خدا رادیدہ گرد کعبہ صدق برگردیدہ
(۱۲)خدمت من طاعت حمد خدا ست تانہ پنداری کہ حق از من جدا ست
(۱۳) چشم نیکوں بازکن درمن نگر تابہ بینی نور حق اندر بشر
(۱۴)کعبہ را یکبار بیتے گفت یار گفت یاعبدی مراہفتادبار
(۱۵)بایزید اکعبہ را دریافتی صدبہاء وعزیز وصدفریافتی
(۱۶) بایزید آں نکتہاراہوش داشت ہمچو زریں حلقہ اش درگوش داشت
(۱۷) آمدا زوے بایزید اندر مزید منتہی درمنتہی آخر رسید
وہ زمانہ بکثرت صحابہ کرام کی رونق افروز کا تھا خصوصا مدینہ طیبہ میں تویہ طواف کرنے والے حضرات اگر صحابہ کرام نہ تھے لااقل تابعین تھے۔عارف باﷲ حضرت مولوی قدس اﷲ سرہ المعنوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
(۱) سوئے مکہ شیخ امت بایزید از برائے حج وعمرہ می روید
(۲) دید پیرے باقدے ہمچوں ہلال بود در وے فرد گفتاری رجال۔
(۳) بایزید او راچو ازاقطاب یافت مسکنت بنمود ودرخدمت شتافت
(۴) گفت عزم تو کجا اے بایزید رخت غربت راکجا خواہی کشید
(۵) گفت قصہ کعبہ دارم ازولہ گفت بین باخود چہ داری زادرہ
(۶) گفت دارم از درم نقرہ ویست نك بہ بستد سخت برگوشہ رویست
(۷) گفت طوفے کن بہ گردم ہفت بار دین نکوترا ز طواف حج شمار
(۸)حق آں حقے کہ جانت دیدہ است کہ مرا بربیت خود بگزیدہ است
(۹)کعبہ ہرچندے کہ خانہ براوست خلقت من نیز خانہ سراوست
(۱۰)تابکرد آں خانہ رادروے نہ رفت واندریں خانہ بجزآں حی نرفت
(۱۱) چوں مراد دیدی خدا رادیدہ گرد کعبہ صدق برگردیدہ
(۱۲)خدمت من طاعت حمد خدا ست تانہ پنداری کہ حق از من جدا ست
(۱۳) چشم نیکوں بازکن درمن نگر تابہ بینی نور حق اندر بشر
(۱۴)کعبہ را یکبار بیتے گفت یار گفت یاعبدی مراہفتادبار
(۱۵)بایزید اکعبہ را دریافتی صدبہاء وعزیز وصدفریافتی
(۱۶) بایزید آں نکتہاراہوش داشت ہمچو زریں حلقہ اش درگوش داشت
(۱۷) آمدا زوے بایزید اندر مزید منتہی درمنتہی آخر رسید
حوالہ / References
الشرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ
مثنوی معنوی دفتر دوم باب رفتن بایزید بسطامی بہ کعبہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۵۴۔۵۵
مثنوی معنوی دفتر دوم باب رفتن بایزید بسطامی بہ کعبہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/۵۴۔۵۵
(ترجمہ اشعار:
(۱)لوگوں کے پیشوا حضرت بایزید بسطامی رحمہ اﷲ تعالی مکہ معظمہ کی جانب حج اور عمرہ کے ارادے سے تیز چلے۔
(۲)(راہ میں)نئے چاند کی طرح ایك کبڑا بزرگ دیکھا اس میں شان وشوکت(دبدبہ)اور مردوں جیسی گفتگو پائی۔
(۳)جب حضرت بایزید نے اسے اقطاب زمانہ میں سے پایا تو عجز وانکساری کا اظہار کرکے اس کی خدمت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔
(۴)اس نے فرمایا:اے بایزید! کہاں جانے کا ارادہ ہے تو نے کہاں جانے کے لئے سامان سفراختیار کیا ہے۔
(۵)حضرت بایزید نے انھیں جواب دیا کہ آج بڑے شوق سے کعبہ شریف کی طرف جانے کا ارادہ کیا ہے۔پھر فرمایا وہاں تو اپنے ساتھ کیا زادراہ رکھتاہے۔
(۶)عرض کی:میں چاندی کے دو سودرھم اپنے پاس رکھتا ہوںمیں نے اپنی چادرکے ایك کونے میں انھیں مضبوط باندھ رکھا ہے۔
(۷)انھوں نے فرمایا:تو سات مرتبہ میرے گردا گرد طواف کر(یعنی چکر لگا)اور پھر طواف حج سے اسے زیادہ بہتر شمار کر۔
(۸)درحقیقت وہ حق ہے جو تیری جان نے دیکھا ہے کہ اس نے مجھے اپنے گھر پرفضیلت اور فوقیت بخشی ہے۔
(۹)اس میں کوئی شك وشبہہ نہیں کہ کعبہ شریف اس کی بھلائیوں کا گھر(مرکز)ہے لیکن میری تخلیق تو اس کے اندرون خانہ سے ہوئی ہے۔
(۱۰)جب وہ گھر بنایا تو اس کا چکرنہ لگایااور اس گھر میں بغیر اس زندہ جاوید کے کوئی دوسرا نہیں آیا۔
(۱۱)جب تو نے مجھے دیکھا تو اﷲ تعالی کو دیکھاگویا تو نے سچائی کے کعبہ کے آس پاس پھیرے لگائے۔
(۱۲)میری خدمت کرنا دراصل اﷲ تعالی کی اطاعت اور تعریف ہے۔لہذا یہ نہ سمجھنا کہ حق مجھ سے جدا ہے۔
(۱)لوگوں کے پیشوا حضرت بایزید بسطامی رحمہ اﷲ تعالی مکہ معظمہ کی جانب حج اور عمرہ کے ارادے سے تیز چلے۔
(۲)(راہ میں)نئے چاند کی طرح ایك کبڑا بزرگ دیکھا اس میں شان وشوکت(دبدبہ)اور مردوں جیسی گفتگو پائی۔
(۳)جب حضرت بایزید نے اسے اقطاب زمانہ میں سے پایا تو عجز وانکساری کا اظہار کرکے اس کی خدمت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔
(۴)اس نے فرمایا:اے بایزید! کہاں جانے کا ارادہ ہے تو نے کہاں جانے کے لئے سامان سفراختیار کیا ہے۔
(۵)حضرت بایزید نے انھیں جواب دیا کہ آج بڑے شوق سے کعبہ شریف کی طرف جانے کا ارادہ کیا ہے۔پھر فرمایا وہاں تو اپنے ساتھ کیا زادراہ رکھتاہے۔
(۶)عرض کی:میں چاندی کے دو سودرھم اپنے پاس رکھتا ہوںمیں نے اپنی چادرکے ایك کونے میں انھیں مضبوط باندھ رکھا ہے۔
(۷)انھوں نے فرمایا:تو سات مرتبہ میرے گردا گرد طواف کر(یعنی چکر لگا)اور پھر طواف حج سے اسے زیادہ بہتر شمار کر۔
(۸)درحقیقت وہ حق ہے جو تیری جان نے دیکھا ہے کہ اس نے مجھے اپنے گھر پرفضیلت اور فوقیت بخشی ہے۔
(۹)اس میں کوئی شك وشبہہ نہیں کہ کعبہ شریف اس کی بھلائیوں کا گھر(مرکز)ہے لیکن میری تخلیق تو اس کے اندرون خانہ سے ہوئی ہے۔
(۱۰)جب وہ گھر بنایا تو اس کا چکرنہ لگایااور اس گھر میں بغیر اس زندہ جاوید کے کوئی دوسرا نہیں آیا۔
(۱۱)جب تو نے مجھے دیکھا تو اﷲ تعالی کو دیکھاگویا تو نے سچائی کے کعبہ کے آس پاس پھیرے لگائے۔
(۱۲)میری خدمت کرنا دراصل اﷲ تعالی کی اطاعت اور تعریف ہے۔لہذا یہ نہ سمجھنا کہ حق مجھ سے جدا ہے۔
(۱۳)اچھی طرح آنکھ کھول کر مجھے دیکھ تا کہ تو انسانی لباس میں نورحق دیکھے۔
(۱۴)کعبہ شریف کو ایك دفعہ یار نے اپنا گھر فرمایا لیکن اس نے ستر مرتبہ مجھے"اے میرے بندے"کہہ کر بلایا۔
(۱۵)اے بایزید! اگر تو نے کعبہ شریف کو پالیا تو یوں سمجھ لیجئے کہ تو نے سیکڑوں عزت و شوکت اور مرتبے کو پالیا۔
(۱۶)جب وہ باریك باتیں حضرت بایزید کے عقل وہوش میں بیٹھ گئیں تو گویاانھوں نے سنہری بالی اپنے کان میں ڈال لی۔
(۱۷)ان کی زیارت سے حضرت بایزید میں معرفت کااضافہ ہوگیا اورسلوك میں انتہائی طالب اپنے مدعا کی انتہا کوپہنچ گیا)
جناب شاہ ولی اﷲ صاحب انتباہ میں فی سلاسل اولیاء اﷲ میں فرماتے ہیں اپنا خلف ناخلف اسمعیل دہلوی کی جان پر قہر کی بجلیاں توڑنے کو فرماتے ہیں:
چوں بمقبرہ در آید دوگانہ بروح آں بزرگوار ادا کند بعدہ قبلہ راپشت دادہ بنشیند بعد قل گوید پس فاتحہ بخواندبعدہ ہفت کرت طواف کند وآغاز از راست بکند بعدہ طرف پایان رخسارہ نہد وبیاید نزدیك روئے میت بہ نشیند وبگوید یارب بست ویك بار بعد طرف آسماں بگوید یاروح و دردل ضرب کندیا روح الروح مادام کہ انشراح یابدایں ذکر بکند ان شاء اﷲ تعالی کشف قبور وکشف ارواح حاصل آید ۔ پھر جب مقبرہ کے پاس آئے تودو رکعت نوافل اس بزرگ کی روح اقدس کے ایصال ثواب کے لئے ادا کرے۔اور کعبہ شریف کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ جائےپھر سورۃ اخلاص پڑھے پھر فاتحہ پڑھے پھر سات چکر(طواف)بزرگ کے مزار کے گرداگرد لگائےدائیں طرف سے شروع کرےپھر بائیں طرف اپنارخسار رکھے اور میت کے منہ کے نزدیك ہو کر پھر منہ کے نزدیك ہو کر بیٹھے پھر اکیس مرتبہ یارب کا ورد کر ے پھر آسمان کی طرف منہ کرکے"یاروح"پڑھے اور اپنے دل پر "یاروح الروح"کی ضرب لگائے جب تك انشراح نہ ہو یہ ذکر کرتا رہے ان شاء اﷲ تعالی کشف قبور اور کشف ارواح یہ دونوں حاصل ہوجائیں گے۔(ت)
تحفۃ الموحدین شاہ صاحب کی کتاب نہیں بہت قریب زمانہ میں کسی وہابی صاحب نے شاہ صاحب
(۱۴)کعبہ شریف کو ایك دفعہ یار نے اپنا گھر فرمایا لیکن اس نے ستر مرتبہ مجھے"اے میرے بندے"کہہ کر بلایا۔
(۱۵)اے بایزید! اگر تو نے کعبہ شریف کو پالیا تو یوں سمجھ لیجئے کہ تو نے سیکڑوں عزت و شوکت اور مرتبے کو پالیا۔
(۱۶)جب وہ باریك باتیں حضرت بایزید کے عقل وہوش میں بیٹھ گئیں تو گویاانھوں نے سنہری بالی اپنے کان میں ڈال لی۔
(۱۷)ان کی زیارت سے حضرت بایزید میں معرفت کااضافہ ہوگیا اورسلوك میں انتہائی طالب اپنے مدعا کی انتہا کوپہنچ گیا)
جناب شاہ ولی اﷲ صاحب انتباہ میں فی سلاسل اولیاء اﷲ میں فرماتے ہیں اپنا خلف ناخلف اسمعیل دہلوی کی جان پر قہر کی بجلیاں توڑنے کو فرماتے ہیں:
چوں بمقبرہ در آید دوگانہ بروح آں بزرگوار ادا کند بعدہ قبلہ راپشت دادہ بنشیند بعد قل گوید پس فاتحہ بخواندبعدہ ہفت کرت طواف کند وآغاز از راست بکند بعدہ طرف پایان رخسارہ نہد وبیاید نزدیك روئے میت بہ نشیند وبگوید یارب بست ویك بار بعد طرف آسماں بگوید یاروح و دردل ضرب کندیا روح الروح مادام کہ انشراح یابدایں ذکر بکند ان شاء اﷲ تعالی کشف قبور وکشف ارواح حاصل آید ۔ پھر جب مقبرہ کے پاس آئے تودو رکعت نوافل اس بزرگ کی روح اقدس کے ایصال ثواب کے لئے ادا کرے۔اور کعبہ شریف کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ جائےپھر سورۃ اخلاص پڑھے پھر فاتحہ پڑھے پھر سات چکر(طواف)بزرگ کے مزار کے گرداگرد لگائےدائیں طرف سے شروع کرےپھر بائیں طرف اپنارخسار رکھے اور میت کے منہ کے نزدیك ہو کر پھر منہ کے نزدیك ہو کر بیٹھے پھر اکیس مرتبہ یارب کا ورد کر ے پھر آسمان کی طرف منہ کرکے"یاروح"پڑھے اور اپنے دل پر "یاروح الروح"کی ضرب لگائے جب تك انشراح نہ ہو یہ ذکر کرتا رہے ان شاء اﷲ تعالی کشف قبور اور کشف ارواح یہ دونوں حاصل ہوجائیں گے۔(ت)
تحفۃ الموحدین شاہ صاحب کی کتاب نہیں بہت قریب زمانہ میں کسی وہابی صاحب نے شاہ صاحب
حوالہ / References
الانتباہ فی سلاسل الاولیاء ذکر برائے کشف قبور آرمی برقی پریس دہلی ص ۱۰۰۔۹۹
کی تصانیف مشہورہ کے رد کو کچھ الٹی سیدھی تکیں جوڑکر وہابیوں کے ادعائی نام موحد کی طرف اسے نسبت کرکے تحفۃ الموحدین نام رکھا اور بکمال بے ایمانی شاہ صاحب کی طرف منسوب کردیابے حیا گمراہ لوگ ایسی اکثر کر چکے ہیں جس کا بیان شاہ عبدالعزیز صاحب وغیرہ کی تحفہ اثناعشرہ وغیرہ میں ہے۔کہ ابھی قریب زمانہ میں بمبئی میں ایك عربی کتاب بنام عقائد امام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہ چھپی ہے۔اس میں بھی یہی کارروائی ہے کم کوئی شیطانی عقیدہ چھوڑ ا ہوگا جسے اس امام الاسلام سیف السنہ کی طرف نسبت نہ کیا ہو "و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (بہت جلد ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)بالجملہ اگر طواف مقصود بالذات نہیں جب تو جواز ظاہر ہے اور اگر مقصود بالذات ہے تو صرف فرق نیات ہے اگر بہ نیت تعظیم قبر ہے تو بلا شبہہ حرام ہے اور تبرك و استفاضہ وغیرہما نیات محمودہ سے ہے تو فی نفسہ اس میں حرج نہیں اور یہ ٹھہرا لینا کہ اس میں مسلمان کی نیت طواف سے تعظیم قبر ہے قلب پر حکم ہے اور یہ غیب کا ادعا اور محض حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ "وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اس کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمھیں علم نہیں یقینا کانآنکھ اور دل ان سب سے پوچھا جائے گا۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:کیا تو نے اس کے دل کو چیر کر دیکھا کہ تجھے معلوم ہوجاتا۔(ت)
یہ بدگمانی ہے اور مسلمان پر بدگمانی حرام۔
قال اﷲ تعالی یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:)اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں۔اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)بدگمانی سے بچو کیونکہ گمان کرنا سب سے جھوٹی بات ہے۔(ت)
" (بہت جلد ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)بالجملہ اگر طواف مقصود بالذات نہیں جب تو جواز ظاہر ہے اور اگر مقصود بالذات ہے تو صرف فرق نیات ہے اگر بہ نیت تعظیم قبر ہے تو بلا شبہہ حرام ہے اور تبرك و استفاضہ وغیرہما نیات محمودہ سے ہے تو فی نفسہ اس میں حرج نہیں اور یہ ٹھہرا لینا کہ اس میں مسلمان کی نیت طواف سے تعظیم قبر ہے قلب پر حکم ہے اور یہ غیب کا ادعا اور محض حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ "وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور اس کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمھیں علم نہیں یقینا کانآنکھ اور دل ان سب سے پوچھا جائے گا۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:کیا تو نے اس کے دل کو چیر کر دیکھا کہ تجھے معلوم ہوجاتا۔(ت)
یہ بدگمانی ہے اور مسلمان پر بدگمانی حرام۔
قال اﷲ تعالی یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:)اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں۔اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)بدگمانی سے بچو کیونکہ گمان کرنا سب سے جھوٹی بات ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۷ /۳۶
سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد باب علی مایقاتل المشرکون آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۵۵
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول عزوجل من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴
القرآن الکریم ۱۷ /۳۶
سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد باب علی مایقاتل المشرکون آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۵۵
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول عزوجل من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴
ائمہ دین فرماتے ہیں:
الظن الخبیث انما ینشؤ عن قلب الخبیث ۔ خبیث گمان خبیث دل ہی سے پیدا ہوتا ہے۔(ت)
مگر حضرات وہابیہ سے کیا شکایت کہ وہ حضرت مولوی اور حضرت سید العارفین بایزید بسطامی او ر ان غوث گرامی سب کو جیسا دل میں جانتے ہیں معلوم وہ تو ان تابعین پر بھی حکم شرك ہی لگائیں گے جنھوں نے روضہ انور کا طواف کیامگر شاہ ولی اﷲ صاحب کا معاملہ ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ ع
پتھر کے تلے دبا ہے دامن
شاہ صاحب یہاں محض سکوت نہیں کررہے ہیں بلکہ مریدین ومستفیدین کو تعلیم فرمارہے ہیں اور اگر اسے بھی اوڑھ لیجئے کہ اس وقت شاہ صاحب کو تعلیم حرام ہی کا کچھ ذوق تھا تو ذرا تقویۃ الایمان کی گولی بچاتے ہوئے کہ نرا حرام ہی نہیں بلکہ شرك سکھارہے ہیں اور اس پر بڑی بشاشت سے فرمارہے ہیں کہ یوں کرو تو ان شاء اﷲ تعالی یہ حاصل ہوجائے گاعاقل تو جانتا ہے کہ کسی مکروہ وناگوار بات پر بھی ایسا نہیں کہا جاتا نہ کہ شرك وکفردھر م سے کہنا اگر دھرم رکھاتے ہو کہ کیا شاہ صاحب یہ لکھ سکتے تھے کہ اے مریدو عزیزو! روز صبح کو مندر میں جاکر سات دفعہ مہا دیوجی ڈنڈوت کرو توان شاء اﷲ تعالی تین تلوك کھل جائیں گے۔تقویۃ الایمان کے حکم پر شاہ صاحب کے اس کلام اور اس قول کے حکم میں کیا فرق ہوسکتا ہے۔ہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز ونیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی تو عوام کے لئے اس میں ہر گزخیر نہیں اور خواص میں سے جو ایسا کرنا چاہے ہر گز عوام کے سامنے نہ کرے۔ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے وارد(ہر بات کا وقت ہے اور ہر نکتے کا محل ہے۔ت)یہ بحمداﷲ تعالی تحقیق حکم ہے اور احتراز واحتیاط ہر طرح اسلم ہے۔وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔(اور اﷲ تعالی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ت)
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: مسئولہ سید محمد میاں ۱۷ شوال المکرم۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا صاحب معظم مکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از تسلیم مع التعظیم والتکریم معروض کل جو فتوی جناب سے لایا تھا اس کے متعلق بعض امور دریافت طلب رہے:
(۱)جناب فرماتے ہیں کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی ہے۔امر تعبدی سے یہاں کیا مرا دہے اور پھر اس تعظیم سے امر تعبدی ہونے کا کیا ثبوت ہے۔
الظن الخبیث انما ینشؤ عن قلب الخبیث ۔ خبیث گمان خبیث دل ہی سے پیدا ہوتا ہے۔(ت)
مگر حضرات وہابیہ سے کیا شکایت کہ وہ حضرت مولوی اور حضرت سید العارفین بایزید بسطامی او ر ان غوث گرامی سب کو جیسا دل میں جانتے ہیں معلوم وہ تو ان تابعین پر بھی حکم شرك ہی لگائیں گے جنھوں نے روضہ انور کا طواف کیامگر شاہ ولی اﷲ صاحب کا معاملہ ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ ع
پتھر کے تلے دبا ہے دامن
شاہ صاحب یہاں محض سکوت نہیں کررہے ہیں بلکہ مریدین ومستفیدین کو تعلیم فرمارہے ہیں اور اگر اسے بھی اوڑھ لیجئے کہ اس وقت شاہ صاحب کو تعلیم حرام ہی کا کچھ ذوق تھا تو ذرا تقویۃ الایمان کی گولی بچاتے ہوئے کہ نرا حرام ہی نہیں بلکہ شرك سکھارہے ہیں اور اس پر بڑی بشاشت سے فرمارہے ہیں کہ یوں کرو تو ان شاء اﷲ تعالی یہ حاصل ہوجائے گاعاقل تو جانتا ہے کہ کسی مکروہ وناگوار بات پر بھی ایسا نہیں کہا جاتا نہ کہ شرك وکفردھر م سے کہنا اگر دھرم رکھاتے ہو کہ کیا شاہ صاحب یہ لکھ سکتے تھے کہ اے مریدو عزیزو! روز صبح کو مندر میں جاکر سات دفعہ مہا دیوجی ڈنڈوت کرو توان شاء اﷲ تعالی تین تلوك کھل جائیں گے۔تقویۃ الایمان کے حکم پر شاہ صاحب کے اس کلام اور اس قول کے حکم میں کیا فرق ہوسکتا ہے۔ہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز ونیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی تو عوام کے لئے اس میں ہر گزخیر نہیں اور خواص میں سے جو ایسا کرنا چاہے ہر گز عوام کے سامنے نہ کرے۔ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے وارد(ہر بات کا وقت ہے اور ہر نکتے کا محل ہے۔ت)یہ بحمداﷲ تعالی تحقیق حکم ہے اور احتراز واحتیاط ہر طرح اسلم ہے۔وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔(اور اﷲ تعالی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ت)
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: مسئولہ سید محمد میاں ۱۷ شوال المکرم۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا صاحب معظم مکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از تسلیم مع التعظیم والتکریم معروض کل جو فتوی جناب سے لایا تھا اس کے متعلق بعض امور دریافت طلب رہے:
(۱)جناب فرماتے ہیں کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی ہے۔امر تعبدی سے یہاں کیا مرا دہے اور پھر اس تعظیم سے امر تعبدی ہونے کا کیا ثبوت ہے۔
حوالہ / References
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
(۲)تعظیم سے مراد مطلق تعظیم ہے تو تعظیم قبر کے تعبدی ہونے کا ثبوت درکار ہے اور تعظیم الہی مراد ہے تو اس کے تعبدی ہونے سے تعظیم قبر کے لئے طواف کیسے ممنوع وبدعت ٹھہرے گا۔امید کہ جواب باصواب سے ممتاز فرمائیں۔والتسلیم مع التکریم زیادہ ادب۔
الجواب:
حضرت والا! آداب۔میرے اس بیان میں دو دعوے ہیں:ایك یہ کہ طواف تعظیمی غیر خدا کے لئے حرام ہے۔دوسرے یہ کہ حضرت عزت کے لئے بھی اگر کعبہ معظمہ وصفا ومروہ کے سواکوئی اور طواف مقرر کیا تو ناجائز ہے۔اول کا ثبوت عبارات منسك ومسلك میں اور دوم کا یہ بیان کہ تعظیم الہی کا بطواف امکنہ امر تعبدی غیر معقول المعنی ہے جس کی تصریح ائمہ نے فرمائی ہے کہ افعال حج تعبدی ہیں۔امید کرتاہوں کہ اس گزراش سے دونوں سوالوں کا حل ہوگیا۔فقط۔
مسئلہ ۱۵۵: مسئولہ محمد میاں قادری از مارہرہ ۲۰ شوال ۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا المعظم المکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از سلام مسنونہ معروض دربارہ مسئلہ طواف تعظیمی قبر میں بعض اہل لاہور کہتے ہیں کہ جب تعظیم قبر ایك امر جائز کم از کم ہے تو وہ ہیئت اور صورت کے لحاظ سے اپنے اطلاق پر رہنا چاہئے جب تك کہ شرع سے کسی خاص میں کوئی تقیید نہ آئے اور صورت طواف میں بھی مسلك ومنسك کے مصنفین کے منع کرنے کو وہ کافی نہیں سمجھتے اس کی کفایت یا اور کافی سند مذہب کی زیادت کی ضرورت ہے جناب ارشاد فرمائیں۔فقیر محمد میاں قادری
الجواب:
حضرت والاتسلیمیا کتاب نامعتمد ہو یا اسے معتمد ترکتب میں اس کا خلاف مصرح ہو ورنہ کتب امام محمد یا مسندات کے سوا تمام متون وشروح وفتاوی ردی ہوجائیں گے۔منسك ومسلك ضرور کتب معتمدہ ہیں اور ان کے مصنفین اپنا اجتہاد نہیں لکھتےبلکہ مذہب کتب مذہب میں اس کا خلاف کس کس نے کیااور نہیں تو وجہ رد کیا ہے۔فقط۔
مسئلہ ۱۵۶: مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب از بنارس محلہ پترا کنڈہ تالاب ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرھم اﷲ تعالی وابقاھم الی یوم الجزاء(اﷲ تعالی انھیں زیادہ کرے اورقیامت کے دن تك انھیں باقی رکھے۔ت)اس میں کیا فرماتے ہیں کہ خالد نے زید سے سوال کیا کہ کسی ولی کی قبر شیریف کو بوسہ دینا جائز ہے یانہیں زید نے جواب دیا اس میں علماء کااختلاف ہے۔بعضے ناجائز فرماتے ہیں بعضے جائز کہتے ہیں لیکن جواز ان کا قولا وفعلا بہت سے اکابر سے منقول ہے ___
الجواب:
حضرت والا! آداب۔میرے اس بیان میں دو دعوے ہیں:ایك یہ کہ طواف تعظیمی غیر خدا کے لئے حرام ہے۔دوسرے یہ کہ حضرت عزت کے لئے بھی اگر کعبہ معظمہ وصفا ومروہ کے سواکوئی اور طواف مقرر کیا تو ناجائز ہے۔اول کا ثبوت عبارات منسك ومسلك میں اور دوم کا یہ بیان کہ تعظیم الہی کا بطواف امکنہ امر تعبدی غیر معقول المعنی ہے جس کی تصریح ائمہ نے فرمائی ہے کہ افعال حج تعبدی ہیں۔امید کرتاہوں کہ اس گزراش سے دونوں سوالوں کا حل ہوگیا۔فقط۔
مسئلہ ۱۵۵: مسئولہ محمد میاں قادری از مارہرہ ۲۰ شوال ۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا المعظم المکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از سلام مسنونہ معروض دربارہ مسئلہ طواف تعظیمی قبر میں بعض اہل لاہور کہتے ہیں کہ جب تعظیم قبر ایك امر جائز کم از کم ہے تو وہ ہیئت اور صورت کے لحاظ سے اپنے اطلاق پر رہنا چاہئے جب تك کہ شرع سے کسی خاص میں کوئی تقیید نہ آئے اور صورت طواف میں بھی مسلك ومنسك کے مصنفین کے منع کرنے کو وہ کافی نہیں سمجھتے اس کی کفایت یا اور کافی سند مذہب کی زیادت کی ضرورت ہے جناب ارشاد فرمائیں۔فقیر محمد میاں قادری
الجواب:
حضرت والاتسلیمیا کتاب نامعتمد ہو یا اسے معتمد ترکتب میں اس کا خلاف مصرح ہو ورنہ کتب امام محمد یا مسندات کے سوا تمام متون وشروح وفتاوی ردی ہوجائیں گے۔منسك ومسلك ضرور کتب معتمدہ ہیں اور ان کے مصنفین اپنا اجتہاد نہیں لکھتےبلکہ مذہب کتب مذہب میں اس کا خلاف کس کس نے کیااور نہیں تو وجہ رد کیا ہے۔فقط۔
مسئلہ ۱۵۶: مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب از بنارس محلہ پترا کنڈہ تالاب ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء کثرھم اﷲ تعالی وابقاھم الی یوم الجزاء(اﷲ تعالی انھیں زیادہ کرے اورقیامت کے دن تك انھیں باقی رکھے۔ت)اس میں کیا فرماتے ہیں کہ خالد نے زید سے سوال کیا کہ کسی ولی کی قبر شیریف کو بوسہ دینا جائز ہے یانہیں زید نے جواب دیا اس میں علماء کااختلاف ہے۔بعضے ناجائز فرماتے ہیں بعضے جائز کہتے ہیں لیکن جواز ان کا قولا وفعلا بہت سے اکابر سے منقول ہے ___
مطالب المومنین میں ہے کہ بسند جید واردہے۔کہ حضرت بلال رضی اﷲ تعالی عنہ جب شام سے مزار اقدس کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے تو روتے تھے اور اپنے چہرہ مبارك کو لٹاتے اعنی مزار قدس سے ملتے تھے۔اور مسند امام احمدبن حنبل علیہ الرحمۃ میں ہے کہ ایك روز مروان نے ایك شخص کو مزار اقدس پر منہ رکھے ہوئے دیکھا تو کہا کہ اے شخصتو جانتا ہے کہ کیا کرتاہے۔ تو پھر نزدیك آکر دیکھا تو ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ تھے۔
خلاصۃ الوفا میں ہے کہ حضرت امام بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص تبرکا منبر شریف کو بوسہ دے اور ہاتھ لگائے مزار اقدس کے ساتھ بھی ثواب کی امید پر ایسا ہی کرے تو فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لابأس بتقبیل قبر والدیہ ۔ اپنے والدین کے قبر کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت)
اور عینی شرح بخاری میں ہے:
ان تقبیل الاماکن الشریفۃ علی قصد التبرك وکذلك تقبیل ایدی الصالحین وارجلھم فھو حسن محمود باعتبار القصد و النیۃ ۔ شریف مقامات کو چومنا بشرطیکہ تبرك کے ارادے سے ہو اور اسی طرح نیك لوگوں کے ہاتھ پاؤں چومنا اچھا اور قابل تعریف کام ہے بشرطیکہ اچھے ارادے اور نیت سے ہو۔(ت)
اور شاہ عبدالعزیز صاحب کا اپنے باپ دادا کی قبروں کو بوسہ دینا بوارق محمدیہ میں منقول ہے۔
باقی رہا عدم جوا ز سو بعضے اس کی علت اس کا عادت نصاری سے ہونا بتاتے ہیں اور بعضے اس کا مسنون ہونا فرماتے ہیںسو پہلی بات میں تویہ ہے کہ یہ مسئلہ شرعی ہے جب ہمارے اور غیر کے درمیان کسی امر میں کچھ فرق ہوگیا تو حکم تشبہ باطل ہوتا ہے۔تنہا عاشورے کے روز نیز روزشنبہ کے روزے کا مکروہ ہونا اور نویں یا گیارھویں اور جمعہ یا یکشنبہ کا ملادینے سے بلاکراہت جائز ہونا اسی طرح اہل مصیبت کے لوگوں کی تعزیت کے لئے آنے کی غرض سے گھرکے دروازے پر بیٹھنے کا مکروہ ہونااور گھر کے اندر بیٹھنے کا بلاکراہت
خلاصۃ الوفا میں ہے کہ حضرت امام بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص تبرکا منبر شریف کو بوسہ دے اور ہاتھ لگائے مزار اقدس کے ساتھ بھی ثواب کی امید پر ایسا ہی کرے تو فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لابأس بتقبیل قبر والدیہ ۔ اپنے والدین کے قبر کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت)
اور عینی شرح بخاری میں ہے:
ان تقبیل الاماکن الشریفۃ علی قصد التبرك وکذلك تقبیل ایدی الصالحین وارجلھم فھو حسن محمود باعتبار القصد و النیۃ ۔ شریف مقامات کو چومنا بشرطیکہ تبرك کے ارادے سے ہو اور اسی طرح نیك لوگوں کے ہاتھ پاؤں چومنا اچھا اور قابل تعریف کام ہے بشرطیکہ اچھے ارادے اور نیت سے ہو۔(ت)
اور شاہ عبدالعزیز صاحب کا اپنے باپ دادا کی قبروں کو بوسہ دینا بوارق محمدیہ میں منقول ہے۔
باقی رہا عدم جوا ز سو بعضے اس کی علت اس کا عادت نصاری سے ہونا بتاتے ہیں اور بعضے اس کا مسنون ہونا فرماتے ہیںسو پہلی بات میں تویہ ہے کہ یہ مسئلہ شرعی ہے جب ہمارے اور غیر کے درمیان کسی امر میں کچھ فرق ہوگیا تو حکم تشبہ باطل ہوتا ہے۔تنہا عاشورے کے روز نیز روزشنبہ کے روزے کا مکروہ ہونا اور نویں یا گیارھویں اور جمعہ یا یکشنبہ کا ملادینے سے بلاکراہت جائز ہونا اسی طرح اہل مصیبت کے لوگوں کی تعزیت کے لئے آنے کی غرض سے گھرکے دروازے پر بیٹھنے کا مکروہ ہونااور گھر کے اندر بیٹھنے کا بلاکراہت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱
عمدہ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الحج باب ماذکر فی الحجر الاسود ادارہ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۹/ ۲۴۱
عمدہ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الحج باب ماذکر فی الحجر الاسود ادارہ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۹/ ۲۴۱
جائز ہوناکتب فقہ میں مصرح ہے پس کسی ولی کے مزار شریف کو صرف بوسہ دے کے چلاآنا بعجلت مذکورہ مکروہ ہوگا اور جب سلام بھی عرض کیا اور بوسہ بھی دیا اورآنکھوں سے بھی لگایا اور فاتحہ بھی پڑھی تو بلاکراہت جائز ہوگااور دوسری بات میں یہ کہ کسی امر کے غیر مسنون ہونے کو اس کا حرام یا مکروہ ہونا لازم نہیں۔دیکھئے مثلا نماز کی نیت کے ساتھ تلفظ باجود یکہ علی ماقال الشرنبلالی فی حاشیۃ علی الدررالغرر ورنہ حضور سے نہ صحابہ کرام سے نہ تابعین سے نہ ائمہ اربعہ سے کسی سے منقول نہیں مگر فقہاء اس کو مستحب فرماتے ہیں پس زید کا یہ جواب صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
فی الواقع بوسہ قبر میں علماء کا اختلاف ہے۔اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایك امر ہے دو چیزوں داعی و مانع کے درمیان دائرداعی محبت ہے اور مانع ادبتو جسے غلبہ محبت ہو اس سے مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے ثابت ہے اور عوام کے لئے منع ہی احوط ہے۔ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزار کابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھرتقبیل کی کیا سبیل۔عالم مدینہ علامہ سید نور الدین سمہودی قدس اﷲ سرہ خلاصۃ الوفا شریف میں جدار مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:
وکتاب العلل والسؤالات لعبداﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم ویتبرك بمسہ ویقبلہ ویفعل بالقبر مثل ذلك رجاء ثواب اﷲ تعالی فقال لابأس بہ ۔
یعنی احمد بن حنبل کے صاحبزادے فرماتے ہیں میں نے باپ سے پوچھا کوئی شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے منبر کو چھوئے اور بوسہ دے اور ثواب الہی کی امید پر ایسا ہی قبر شریف کے ساتھ کرے۔فرمایا:اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
امام اجل تقی الملۃ والدین علی ابن عبدالکافی سبکی قد س سرہ الملکی شفاء السقام پھر سید نور الدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی نباتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبداﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایك صاحب کو دیکھا مزار اعطر سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے لپٹے ہؤے ہیں قبر شریف پر اپنا منہ رکھے ہیں مروان نے ان کی گردن پکڑ کر کہا جانتے ہویہ تم کیا کررہے ہیں انھوں نے اس کی طرف منہ کیا اور فرمایا:نعم اتی لم ات الحجر انما جئت رسول اﷲ صلی اﷲ
الجواب:
فی الواقع بوسہ قبر میں علماء کا اختلاف ہے۔اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایك امر ہے دو چیزوں داعی و مانع کے درمیان دائرداعی محبت ہے اور مانع ادبتو جسے غلبہ محبت ہو اس سے مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے ثابت ہے اور عوام کے لئے منع ہی احوط ہے۔ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزار کابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھرتقبیل کی کیا سبیل۔عالم مدینہ علامہ سید نور الدین سمہودی قدس اﷲ سرہ خلاصۃ الوفا شریف میں جدار مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:
وکتاب العلل والسؤالات لعبداﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم ویتبرك بمسہ ویقبلہ ویفعل بالقبر مثل ذلك رجاء ثواب اﷲ تعالی فقال لابأس بہ ۔
یعنی احمد بن حنبل کے صاحبزادے فرماتے ہیں میں نے باپ سے پوچھا کوئی شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے منبر کو چھوئے اور بوسہ دے اور ثواب الہی کی امید پر ایسا ہی قبر شریف کے ساتھ کرے۔فرمایا:اس میں کوئی حرج نہیں۔(ت)
امام اجل تقی الملۃ والدین علی ابن عبدالکافی سبکی قد س سرہ الملکی شفاء السقام پھر سید نور الدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی نباتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبداﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایك صاحب کو دیکھا مزار اعطر سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے لپٹے ہؤے ہیں قبر شریف پر اپنا منہ رکھے ہیں مروان نے ان کی گردن پکڑ کر کہا جانتے ہویہ تم کیا کررہے ہیں انھوں نے اس کی طرف منہ کیا اور فرمایا:نعم اتی لم ات الحجر انما جئت رسول اﷲ صلی اﷲ
حوالہ / References
وفاء الوفاء الفصل الرابع باب مایلزم الزائر من الادب الخ داراحیا التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۴
تعالی علیہ وسلم ہاں میں پتھر کے پاس نہ آیا میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہوا ہوں میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ لاتبکوا علی الدین اذا ولید اھلہ ولکن ابکوا علی الدین اذا ولیہ غیر اھلہ ۔دین پر نہ روجب اس کا والی اس کا اہل ہو ہاں دین پر رو جب نااہل اس کا والی ہو۔سید قدس سرہ فرماتے ہیں:رواہ احمد بسند حسن امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔نیز فرماتے ہیں:
روی ابن عساکر بسند جید عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ ان بلالارای فی منامہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو یقول لہ ماھذہ الجفوۃ یا بلال اما ان لك ان تزورنی فانتبہ حزینا خائفا فرکب راحلتہ وقصد المدینۃ فاتی قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجعل یبکی عندہ ویمرغ وجھہ علیہ ۔ یعنی ابن عساکر نے بسند صحیح ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ بلال رضی اﷲ تعالی عنہ شام کو چلے گئے تھے ایك رات خواب میں دیکھا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان سے فرماتے ہیں یہ کیا جفا ہے کیا وہ وقت نہ آیا کہ تو ہماری زیارت کو حاضر ہوبلال رضی اﷲ تعالی عنہ غمگین اور ڈرتے ہوئے جاگے اور بقصد زیارت اقدس سوار ہوئےمزار پر انوار پر حاضر ہو کر رونا شروع کیا اوراپنا منہ قبر شریف پر ملتے تھے۔
امام حافظ عبدالغنی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
لیس الاعتماد فی السفر للزیارۃ علی مجرد منامہ بل علی فعلہ ذلك والصحابۃ متوفرون ولم تخف علیہم القصۃ ۔ یعنی زیارت اقدس کے لئے شدالرحال کرنے میں ہم فقط خواب پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس پر کہ بلال رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ کیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم بکثرت موجود تھے اور انھیں معلوم ہوا کسی نے اس پر انکار نہ فرمایا۔
عالم مدینہ فرماتے ہیں:
روی ابن عساکر بسند جید عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ ان بلالارای فی منامہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو یقول لہ ماھذہ الجفوۃ یا بلال اما ان لك ان تزورنی فانتبہ حزینا خائفا فرکب راحلتہ وقصد المدینۃ فاتی قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجعل یبکی عندہ ویمرغ وجھہ علیہ ۔ یعنی ابن عساکر نے بسند صحیح ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ بلال رضی اﷲ تعالی عنہ شام کو چلے گئے تھے ایك رات خواب میں دیکھا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان سے فرماتے ہیں یہ کیا جفا ہے کیا وہ وقت نہ آیا کہ تو ہماری زیارت کو حاضر ہوبلال رضی اﷲ تعالی عنہ غمگین اور ڈرتے ہوئے جاگے اور بقصد زیارت اقدس سوار ہوئےمزار پر انوار پر حاضر ہو کر رونا شروع کیا اوراپنا منہ قبر شریف پر ملتے تھے۔
امام حافظ عبدالغنی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
لیس الاعتماد فی السفر للزیارۃ علی مجرد منامہ بل علی فعلہ ذلك والصحابۃ متوفرون ولم تخف علیہم القصۃ ۔ یعنی زیارت اقدس کے لئے شدالرحال کرنے میں ہم فقط خواب پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس پر کہ بلال رضی اﷲ تعالی عنہ نے یہ کیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم بکثرت موجود تھے اور انھیں معلوم ہوا کسی نے اس پر انکار نہ فرمایا۔
عالم مدینہ فرماتے ہیں:
حوالہ / References
شفاء السقام ابواب السابع الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۵۲،وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۹
وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۶
وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۷
وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۶
وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۷
ذکر الخطیب بن حملۃ ان بلا لارضی اﷲ تعالی عنہ وضع خدیہ علی القبر الشریف وان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کان یضع یدہ الیمین علیہ ثم قال ولا شك ان الاستغراق فی المحبۃ یحمل علی الاذن فی ذلك والقصد بہ التعظیم والناس تختلف مراتبھم کمافی الحیوۃ فمنھم من لایملك نفسہ بل یبادر الیہ ومنھم من فیہ اناۃ فیتاخر اھ ملخصا۔ونقل عن ابن الصیف والمحب الطبری جواز تقبیل قبور الصالحین وعن اسمعیل التیمی قال کان ابن المنکدر یصیبہ الصمات فکان یقوم فیضع خدہ علی قبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعوتب فی ذلك فقال استشفیت بقبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی خطیب بن حملہ نے ذکر کیا کہ بلال رضی اﷲ تعالی عنہ نے قبر انور پر اپنے دونوں رخسارے رکھے اور ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اپنا داہنا ہاتھ اس پر رکھتے پھر کہا شك نہیں کہ محبت میں استغراق اس میں اذن پر باعث ہوتاہے اور اس سے مقصود تعظیم ہے اور لوگوں کے مرتبے مختلف ہیں جیسے زندگی میں تو کوئی بے اختیارانہ اس کی طرف سبقت کرتا ہے اور کسی میں تحمل ہے وہ پیچھے رہتاہے۔اور ابن الصیف اور امام محب الطبری سے نقل کیا کہ مزارات اولیاء کوبوسہ دینا جائز ہے۔اور اسمعیل تیمی سے نقل کیا کہ ابن المنکدر تابعی کو ایك مرض لاحق ہوتا کہ کلام دشوار ہوجاتا تو وہ کھڑے ہوتے اور اپنا رخسارہ قبر انور سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر رکھتے کسی نے اس پر اعتراض کیافرمایا:میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مزار اقدس سے شفا حاصل کرتاہوں
علامہ شیخ عبدالقادر فاکہی مکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب مستطاب حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل میں فرماتے ہیں:
تمریغ الوجہ والخد واللحیۃ بتراب الحضرۃ الشریفۃ واعتابھا فی زمن الخلوۃ المأمومن فیھا توھم عامی محـذوراشرعیا بسببہ امر محبوب حسن لطلابھا وامرلابأس بہ فیما یظھر لکن لمن کان لہ فی ذلك قصد صالح یعنی خلوت میں جہاں اس کا اندیشہ نہ ہو کہ کسی جاہل کا وہم اس کے سبب کسی ناجائز شرعی کی طرف جائیگا ایسے وقت بارگاہ اقدس کی مٹی اور آستانے پر اپنا منہ اور رخسارہ اور داڑھی رگڑنا مستحب ومستحسن ہے جس میں کوئی حرج معلوم نہیں مگر اس کے لئے جس کی نیت اچھی ہو اور افراط شوق اور غلبہ محبت
علامہ شیخ عبدالقادر فاکہی مکی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کتاب مستطاب حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل میں فرماتے ہیں:
تمریغ الوجہ والخد واللحیۃ بتراب الحضرۃ الشریفۃ واعتابھا فی زمن الخلوۃ المأمومن فیھا توھم عامی محـذوراشرعیا بسببہ امر محبوب حسن لطلابھا وامرلابأس بہ فیما یظھر لکن لمن کان لہ فی ذلك قصد صالح یعنی خلوت میں جہاں اس کا اندیشہ نہ ہو کہ کسی جاہل کا وہم اس کے سبب کسی ناجائز شرعی کی طرف جائیگا ایسے وقت بارگاہ اقدس کی مٹی اور آستانے پر اپنا منہ اور رخسارہ اور داڑھی رگڑنا مستحب ومستحسن ہے جس میں کوئی حرج معلوم نہیں مگر اس کے لئے جس کی نیت اچھی ہو اور افراط شوق اور غلبہ محبت
حوالہ / References
وفاء الوفاء الفصل الرابع باب مایلزم الزائر من الادب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۵
وفاء الوفاء الفصل الرابع باب ما یلزم الزائر من الادب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۶
وفاء الوفاء الفصل الرابع باب ما یلزم الزائر من الادب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۶
وحملہ علیہ فرط الشوق والحب الطافح ۔ اسے اس پر باعث ہو۔
پھر فرماتے ہیں:
الاانی اتحفك بامر یلوح لك منہ المعنی بان الشیخ الامام السبکی وضع خد وجہہ علی بساط دارالحدیث التی مسھا القدم النووی یسأل برکۃ قدمہ وینوہ بمزید عظمۃ کما اشار الی ذلك بقولہ و فی دارالحدیث لطیف معنی* الی بسط لہ اصبو واوی* لعلی ان انال بحر وجھی *مکان مسہ قدم النواوی *وبان شیخنا تاج العارفین امام السنۃ خاتم المجتہدین کان یمرغ وجہہ ولحیتہ علی عتبۃ البیت الحرام بحجر اسمعیل ۔ یعنی علاوہ بریں میں تجھے یہاں ا یك ایسا تحفہ دیتا ہوں جس سے معنی تجھ پرظاہر ہوجائیں وہ یہ کہ امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی دارالحدیث کے اس بچھونے پر جس پر امام نووی قدس سرہ العزیز قدم رکھتے تھے ان کے قدم کی برکت لینے اور ان کی زیادت تعظیم کے شہرہ دینے کو اپنا چہرہ اس پر ملا کرتے تھے جیسا کہ خود فرماتے ہیں کہ دارالحدیث میں ایك لطیف معنی ہے جس کے ظاہر کرنے کا مجھے عشق ہے کہ شاید میرا چہرہ پہنچ جائے اس جگہ پر جس کو قدم نووی نے چھوا تھا اور ہمارے شیخ تاج العارفین امام سنت خاتمہ المجتہدین آستانہ بیت الحرام میں حطیم شریف پر جہاں سیدنا اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا مزار کریم ہے اپنا چہرہ اور داڑھی ملا کرتے تھے۔
بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب ہو جبکہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم اور اجلہ ائمہ رحمہم اﷲ تعالی سے ثابت ہے تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں اگر چہ ہمارے نزدیك عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
المسألۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ و النھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع جب کسی مسئلے کی ہمارے مذہب کے اقوال میں سے کسی قول پر یا کسی دوسرے مذہب پر تخریج ممکن ہو تو ایسا مسئلہ قابل انکارنہیں ہوتا کہ جس کا انکار واجب ہو اور اس سے منع کیا جائے قابل انکار
پھر فرماتے ہیں:
الاانی اتحفك بامر یلوح لك منہ المعنی بان الشیخ الامام السبکی وضع خد وجہہ علی بساط دارالحدیث التی مسھا القدم النووی یسأل برکۃ قدمہ وینوہ بمزید عظمۃ کما اشار الی ذلك بقولہ و فی دارالحدیث لطیف معنی* الی بسط لہ اصبو واوی* لعلی ان انال بحر وجھی *مکان مسہ قدم النواوی *وبان شیخنا تاج العارفین امام السنۃ خاتم المجتہدین کان یمرغ وجہہ ولحیتہ علی عتبۃ البیت الحرام بحجر اسمعیل ۔ یعنی علاوہ بریں میں تجھے یہاں ا یك ایسا تحفہ دیتا ہوں جس سے معنی تجھ پرظاہر ہوجائیں وہ یہ کہ امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی دارالحدیث کے اس بچھونے پر جس پر امام نووی قدس سرہ العزیز قدم رکھتے تھے ان کے قدم کی برکت لینے اور ان کی زیادت تعظیم کے شہرہ دینے کو اپنا چہرہ اس پر ملا کرتے تھے جیسا کہ خود فرماتے ہیں کہ دارالحدیث میں ایك لطیف معنی ہے جس کے ظاہر کرنے کا مجھے عشق ہے کہ شاید میرا چہرہ پہنچ جائے اس جگہ پر جس کو قدم نووی نے چھوا تھا اور ہمارے شیخ تاج العارفین امام سنت خاتمہ المجتہدین آستانہ بیت الحرام میں حطیم شریف پر جہاں سیدنا اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا مزار کریم ہے اپنا چہرہ اور داڑھی ملا کرتے تھے۔
بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب ہو جبکہ اکابر صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم اور اجلہ ائمہ رحمہم اﷲ تعالی سے ثابت ہے تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں اگر چہ ہمارے نزدیك عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
المسألۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذھب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ و النھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع جب کسی مسئلے کی ہمارے مذہب کے اقوال میں سے کسی قول پر یا کسی دوسرے مذہب پر تخریج ممکن ہو تو ایسا مسئلہ قابل انکارنہیں ہوتا کہ جس کا انکار واجب ہو اور اس سے منع کیا جائے قابل انکار
حوالہ / References
حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل
علی حرمتہ والنھی عنہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ وہ مسئلہ ہوتاہے کہ جس کی حرمت پر اہل عالم کا اتفاق ہو او ر اس سے منع کیا گیا ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۷: مرسلہ جناب محمد زاہد بحش صاحب از ملك بنگالہ ڈاکخانہ ڈام اکانڈہ موضع فرید پور ضلع میمن سنگھ ۴ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
ایك پیر مرید کرتا ہے اس طریقہ پر کہ اول نےڈھول اور طنبورہ اور مردنگ اور سارنگی اور ستار اور بیلا اور تالی بجانا اور گیت گانا اور ناچنا شروع کرتاہے تو پھر بے ہوش ہوتا ہے۔اور گانا اور بجانا ایسی زورسے کرتاہے کہ ایك میل سے سنا جاتاہے۔اور اس پیرکے نزدیك جب سب مرید آتے ہیں اول سجدہ کرتے ہیں یا کہ قدم چومتے ہیں تو اس شرط میں اس ملك کے عالم منع کرتے ہیں اور وہ پیر یہ جواب دیتے ہیں کہ سجدہ کرنا قرآن میں جائز ہے پیرکو۔سورہ یوسف کی اس آیت میں
" ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا " ۔اور حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو اوپر کرکے تخت پربٹھایا اور وہ سب اس کے لئے سجدہ میں گرگئے۔ت)اورع وہ پیر یا کہ وہ مرید امامت کریں تو ان کے پیچھے اقتداء کرنے سے نماز درست ہوگی یا نہیں
الجواب:
مزامیر ناجائز ہیں اور سجدہ غیر خدا کو حرام قطعی ہے۔اور قرآن عظیم کی طرف اس کے جواز کی نسبت کرنا افتراء ہے۔قرآن عظیم نے اگلی شریعت والوں کا واقعہ ذکر فرمایا ہے ان کی شریعت میں سجدہ تحیت حلال تھا ہماری شریعت نے حرام فرمادیا تو اب اس سے سند لانا ایسا ہے جیسے کوئی شراب کو حلال بتائے کہ اگلی شریعتوں میں جہاں تك نشہ نہ دے حلال تھی بلکہ شریعت سیدنا ادم علیہ الصلوۃ والسلام میں سگی بہن سے نکاح جائز تھا اب اس کی سند لاکر جو حلال بتائے کافر ہوجائے گاایسے پیر اور ایسے مریدوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ ہے اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے۔اور انھیں امام بنانا ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۶۳: ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے دوسرے سے السلام علیکم کہا دوسرے نے بھی جواب میں السلام علیکم ہی کہا دیگر یہ کہ سلام کے جواب میں آداب بندگیتسلیمات وغیرہ وغیرہ کہے ایسی صورت میں اول السلام علیکم کہنے والا خاموش رہے یا کیا کہے اور جواب سلام کا
مسئلہ ۱۵۷: مرسلہ جناب محمد زاہد بحش صاحب از ملك بنگالہ ڈاکخانہ ڈام اکانڈہ موضع فرید پور ضلع میمن سنگھ ۴ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
ایك پیر مرید کرتا ہے اس طریقہ پر کہ اول نےڈھول اور طنبورہ اور مردنگ اور سارنگی اور ستار اور بیلا اور تالی بجانا اور گیت گانا اور ناچنا شروع کرتاہے تو پھر بے ہوش ہوتا ہے۔اور گانا اور بجانا ایسی زورسے کرتاہے کہ ایك میل سے سنا جاتاہے۔اور اس پیرکے نزدیك جب سب مرید آتے ہیں اول سجدہ کرتے ہیں یا کہ قدم چومتے ہیں تو اس شرط میں اس ملك کے عالم منع کرتے ہیں اور وہ پیر یہ جواب دیتے ہیں کہ سجدہ کرنا قرآن میں جائز ہے پیرکو۔سورہ یوسف کی اس آیت میں
" ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا " ۔اور حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو اوپر کرکے تخت پربٹھایا اور وہ سب اس کے لئے سجدہ میں گرگئے۔ت)اورع وہ پیر یا کہ وہ مرید امامت کریں تو ان کے پیچھے اقتداء کرنے سے نماز درست ہوگی یا نہیں
الجواب:
مزامیر ناجائز ہیں اور سجدہ غیر خدا کو حرام قطعی ہے۔اور قرآن عظیم کی طرف اس کے جواز کی نسبت کرنا افتراء ہے۔قرآن عظیم نے اگلی شریعت والوں کا واقعہ ذکر فرمایا ہے ان کی شریعت میں سجدہ تحیت حلال تھا ہماری شریعت نے حرام فرمادیا تو اب اس سے سند لانا ایسا ہے جیسے کوئی شراب کو حلال بتائے کہ اگلی شریعتوں میں جہاں تك نشہ نہ دے حلال تھی بلکہ شریعت سیدنا ادم علیہ الصلوۃ والسلام میں سگی بہن سے نکاح جائز تھا اب اس کی سند لاکر جو حلال بتائے کافر ہوجائے گاایسے پیر اور ایسے مریدوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ ہے اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے۔اور انھیں امام بنانا ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۶۳: ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے دوسرے سے السلام علیکم کہا دوسرے نے بھی جواب میں السلام علیکم ہی کہا دیگر یہ کہ سلام کے جواب میں آداب بندگیتسلیمات وغیرہ وغیرہ کہے ایسی صورت میں اول السلام علیکم کہنے والا خاموش رہے یا کیا کہے اور جواب سلام کا
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ النوع الثالث والثلاثون المکتبہ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲/ ۳۰۹
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۰
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۰
مسنون طریقہ سے جس نے نہیں دیا ہے وہ کس خطا کا مرتکب ہوا
(۲)دوسرے یہ کہ بہتر اور آسان طریقہ سلام اور اس کے جواب کا کیا ہے کس قدر الفاظ کہنا چاہئے
(۳)تیسرے یہ کہ ایك مقام پر چند یا ایك شخص بیٹھا ہو اور کوئی شخص آئے اور بعد سلام علیکم کرنے کے اور کوئی بات چیت کرکے فورا چلا جائے قیام نہ کرے ایسی صورت میں مذکور کو جاتے وقت پھر السلام علیکم کہنا چاہئے یانہیں
(۴)چوتھے یہ کہ ان لوگوں کو جو دوسرے دن یا روز مرہ بلکہ کبھی ایك دن میں چند بار بھی ملنے کا اتفاق پڑتا ہو ان کو بعد سلام اور جواب سلام کے اگر چہ دوسر اشخص اپنے کام ضروری میں مصروف ہو مگر مصافحہ کرنا بھی امر ضروری ہے۔دیگر یہ کہ مصافحہ کون کون سے موقعوں پر کرنا ضروری ہے اور مصافحہ فرض ہے یا واجب یا سنت
(۵)پانچویں یہ کہ اگر کوئی مسلمان اگر چہ وہ خود گنہگار ہو اور اپنے آپ کو گنہ گار جانتا بھی ہو لیکن اپنے بھائی مسلمانوں کی حالت خلاف طریقہ اور برتاؤ کو دیکھ کر اورباوجود نصیحت اور ہدایت کرسکنے کے اور نہ کرے تو اس مسلمان مذکور کی بابت کیا حکم ہے دیگر یہ کہ اگر شخص مذکور کسی وجہ خاص یعنی دوسرے کی خفگی وغیرہ کے باعث کچھ نہ کہے مگر خود غمگین ہو اور افسوس کرے اور اس کے حق میں دعائے خیر کرے تو شخص مذکور کچھ اجر پانے کا مستحق ہے یانہیں
(۶)چھٹی یہ کہ منافقانہ طریقے سے ملنا اور سلام کرنا کیسا ہے چاہئے یانہیں
الجواب:
(۱)السلام علیکم کے جواب میں السلام علیکم کہنے سے جواب ادا ہوجا ئے گا اگر چہ سنت یہ ہے کہ وعلیکم السلام کہےآدابتسلیمات بندگی کہنا ایك مہمل بات ہے اورخلاف سنت ہےاس کا جواب کچھ ضرورنہیںوہاں مصلحت پر نظر کرے۔اگر صورت یہ ہے کہ اس کا جواب نہ دینے سے وہ متنبہ ہوگا اور آئندہ خلاف سنت سے باز رہے گا تو کچھ جواب نہ دےاور اگر وہ دنیا کے اعتبار سے بڑا شخص ہے اور اسے جواب نہ دینے میں ضرر و ایذاکااندیشہ ہے تو ویسا ہی کوئی مہمل جواب دے دے۔اسی طرح اگر اسے جواب نہ دینے سے کینہ پیدا ہوگا یااپنی ناواقفی کے باعث اس کی دل شکنی ہوگی جب بھی جواب دینا اولی ہے اور سلام جب مسنون طریقہ سے کیا گیا ہو اور سلام کرنے والا سنی مسلمان صحیح العقیدہ ہو تو جواب دینا واجب ہے اور اس کا ترك گناہ مگر اجنبی جوان عورت اگر سلام کرے تو دل میں جواب دینا چاہئے واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)دوسرے یہ کہ بہتر اور آسان طریقہ سلام اور اس کے جواب کا کیا ہے کس قدر الفاظ کہنا چاہئے
(۳)تیسرے یہ کہ ایك مقام پر چند یا ایك شخص بیٹھا ہو اور کوئی شخص آئے اور بعد سلام علیکم کرنے کے اور کوئی بات چیت کرکے فورا چلا جائے قیام نہ کرے ایسی صورت میں مذکور کو جاتے وقت پھر السلام علیکم کہنا چاہئے یانہیں
(۴)چوتھے یہ کہ ان لوگوں کو جو دوسرے دن یا روز مرہ بلکہ کبھی ایك دن میں چند بار بھی ملنے کا اتفاق پڑتا ہو ان کو بعد سلام اور جواب سلام کے اگر چہ دوسر اشخص اپنے کام ضروری میں مصروف ہو مگر مصافحہ کرنا بھی امر ضروری ہے۔دیگر یہ کہ مصافحہ کون کون سے موقعوں پر کرنا ضروری ہے اور مصافحہ فرض ہے یا واجب یا سنت
(۵)پانچویں یہ کہ اگر کوئی مسلمان اگر چہ وہ خود گنہگار ہو اور اپنے آپ کو گنہ گار جانتا بھی ہو لیکن اپنے بھائی مسلمانوں کی حالت خلاف طریقہ اور برتاؤ کو دیکھ کر اورباوجود نصیحت اور ہدایت کرسکنے کے اور نہ کرے تو اس مسلمان مذکور کی بابت کیا حکم ہے دیگر یہ کہ اگر شخص مذکور کسی وجہ خاص یعنی دوسرے کی خفگی وغیرہ کے باعث کچھ نہ کہے مگر خود غمگین ہو اور افسوس کرے اور اس کے حق میں دعائے خیر کرے تو شخص مذکور کچھ اجر پانے کا مستحق ہے یانہیں
(۶)چھٹی یہ کہ منافقانہ طریقے سے ملنا اور سلام کرنا کیسا ہے چاہئے یانہیں
الجواب:
(۱)السلام علیکم کے جواب میں السلام علیکم کہنے سے جواب ادا ہوجا ئے گا اگر چہ سنت یہ ہے کہ وعلیکم السلام کہےآدابتسلیمات بندگی کہنا ایك مہمل بات ہے اورخلاف سنت ہےاس کا جواب کچھ ضرورنہیںوہاں مصلحت پر نظر کرے۔اگر صورت یہ ہے کہ اس کا جواب نہ دینے سے وہ متنبہ ہوگا اور آئندہ خلاف سنت سے باز رہے گا تو کچھ جواب نہ دےاور اگر وہ دنیا کے اعتبار سے بڑا شخص ہے اور اسے جواب نہ دینے میں ضرر و ایذاکااندیشہ ہے تو ویسا ہی کوئی مہمل جواب دے دے۔اسی طرح اگر اسے جواب نہ دینے سے کینہ پیدا ہوگا یااپنی ناواقفی کے باعث اس کی دل شکنی ہوگی جب بھی جواب دینا اولی ہے اور سلام جب مسنون طریقہ سے کیا گیا ہو اور سلام کرنے والا سنی مسلمان صحیح العقیدہ ہو تو جواب دینا واجب ہے اور اس کا ترك گناہ مگر اجنبی جوان عورت اگر سلام کرے تو دل میں جواب دینا چاہئے واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کم از کم السلام علیکم اوراس سے بہتر ورحمۃ اﷲ ملانا اور سب سے بہتر وبرکاتہ شامل کرنا اور اس پر زیادت نہیں۔پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔اس نے السلام علیکم کہا تویہ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ کہے۔اورا گر اس نے السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہا تو یہ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کہے اوراگر اس نے وبرکاتہ تك کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زیادت نہیں۔
(۳)جاتے وقت پھر کہے لیست الاولی باحق من الاخرۃ(پہلا جواب دوسرے سے زیادہ بہتر نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)مصافحہ سنت ہے اور اس کا وقت ابتدائے ملاقات ہے خواہ ابتدائے حقیقی ہو جیسے جو شخص ابھی آیا یا حکمی جیسے کوئی بد مذہب آیا اور بیٹھا اور گفتگو کرتا رہا اور ہدایت پائی اور سنی ہوا تو جتنے حاضرین اہلسنت ہیں ان سب کو اس سے مصافحہ چاہئے جیسا کہ امیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے اس کا حکم دیا۔نماز کے بعد بھی مصافحہ اسی ابتدائے حکمی میں داخل ہے کہ نمازی نماز میں دوسرے عالم میں ہوتا ہے ولہذا جو خارج نماز آیت سجدہ کی تلاوت کرے اس کے سننے سے نماز ی پر سجدہ واجب نہیں۔ اورنمازی تلاوت کرے تو جو نماز سے باہر ہے اس پر واجب نہیں۔اس لئے شریعت مطہرہ میں ختم نماز میں ایکدوسرے پر سلام رکھا۔دن میں اگر کئی بار ملتا ہو تو ہر بار مصافحہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)احکام الہی بجالانا اور گناہ سے خود بچنا ہر شخص پر فرض ہے اور دوسرے کو اتباع شرع کا حکم دینا اور گناہ سے بقدر قدرت منع کرنا ہر اہل پر فرض ہے آپ گناہ کرنے کے سبب دوسرے کو نہ منع کرنا دوسرا گناہ ہے ہاں اگر منع کرنے کے سبب فتنہ وفساد وحشت ونفرت کاظن غالب ہو تو سکوت کی اجازت ہے اور اس کے ساتھ دل میں غمگین ہونا اور مسلمان بھائی کے لئے دعا کرنا یہ ایمان کی علامت ہے اس پر ثواب پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۶)بلاضرورت ومجبوری شرعی حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴ تا ۱۶۸: از اٹاوہ ادریا مسئولہ حیات اﷲ بروز پنجشنبہ بتاریخ ۹ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں:
(۱)آیا عورت مومنہ کو مومنہ سے السلام علیکم کہنا اور اس کا جواب وعلیکم السلام کہنا جائز ہے
(۳)جاتے وقت پھر کہے لیست الاولی باحق من الاخرۃ(پہلا جواب دوسرے سے زیادہ بہتر نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)مصافحہ سنت ہے اور اس کا وقت ابتدائے ملاقات ہے خواہ ابتدائے حقیقی ہو جیسے جو شخص ابھی آیا یا حکمی جیسے کوئی بد مذہب آیا اور بیٹھا اور گفتگو کرتا رہا اور ہدایت پائی اور سنی ہوا تو جتنے حاضرین اہلسنت ہیں ان سب کو اس سے مصافحہ چاہئے جیسا کہ امیر المومنین مولاعلی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے اس کا حکم دیا۔نماز کے بعد بھی مصافحہ اسی ابتدائے حکمی میں داخل ہے کہ نمازی نماز میں دوسرے عالم میں ہوتا ہے ولہذا جو خارج نماز آیت سجدہ کی تلاوت کرے اس کے سننے سے نماز ی پر سجدہ واجب نہیں۔ اورنمازی تلاوت کرے تو جو نماز سے باہر ہے اس پر واجب نہیں۔اس لئے شریعت مطہرہ میں ختم نماز میں ایکدوسرے پر سلام رکھا۔دن میں اگر کئی بار ملتا ہو تو ہر بار مصافحہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)احکام الہی بجالانا اور گناہ سے خود بچنا ہر شخص پر فرض ہے اور دوسرے کو اتباع شرع کا حکم دینا اور گناہ سے بقدر قدرت منع کرنا ہر اہل پر فرض ہے آپ گناہ کرنے کے سبب دوسرے کو نہ منع کرنا دوسرا گناہ ہے ہاں اگر منع کرنے کے سبب فتنہ وفساد وحشت ونفرت کاظن غالب ہو تو سکوت کی اجازت ہے اور اس کے ساتھ دل میں غمگین ہونا اور مسلمان بھائی کے لئے دعا کرنا یہ ایمان کی علامت ہے اس پر ثواب پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۶)بلاضرورت ومجبوری شرعی حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴ تا ۱۶۸: از اٹاوہ ادریا مسئولہ حیات اﷲ بروز پنجشنبہ بتاریخ ۹ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں:
(۱)آیا عورت مومنہ کو مومنہ سے السلام علیکم کہنا اور اس کا جواب وعلیکم السلام کہنا جائز ہے
(۲)عورت مومنہ کا اپنے باپ بھائی دادا سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا جائز ہے
(۳)لڑکے اور بھائی کو اپنی ماں اور بہن سے السلام علیکم کہنا جائز ہے اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے
(۴)عورت کو خاوند سے اور خاوند کو عورت سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے
(۵)عورتوں کو اگر السلام علیکم کہنادرست نہیں تو اور کون الفاظ بروئے شرع آپس میں ملتے وقت کہنا چاہئے فقط۔
الجواب:
ان سب صورتوں میں السلام علیکم اور جواب وعلیکم السلام کہنا بلا شبہہ جائز ہے زمانہ اقدس میں بھی رواج تھا۔بیبیوں سے بھی السلام علیکم فرمایا ہے مگریہاں ایك دقیقہ واجب اللحاظ ہے جو سنت مؤکدہ نہ ہو یا اس کا ایك طریقہ متعین نہ ہو اور بعض طرق عوام میں ایسے اوپری ہوگئے ہوں کہ اس کے بجالانے سے سنت پر ہنسیں گے تو وہاں اس غیر مؤکدہ اورمؤکدہ کے اس طریقہ خاصہ کا ترك ہی مصلحت ہوتاہے کہ ایك استحباب کے لئے لوگوں کا دین کیوں فاسد ہو سنت پر ہنسنا معاذ اﷲ کفر تك لے جاتا ہے اور مسلمانوں کو کفر سے بچانا فرض ہے مسئلہ خفاض نساء میں علماء نے اس دقیقہ کی تصریح کی ہے نیز شملہ عمامہ میں فرمایا کہ جہاں جہاں اس پر ہنستے ہیں اور دم سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائےباہم عورتوں کا یا عورتوں سے السلام علیکم کی حالت قریب قریب ایسی ہی ہے اور اسے اچنبا جانیں گے اور اس پر ہنسنے کا احتمال ہے اور لفظ سلام اس کا قائم مقام قالوا سلاما قال سلام تو اس پر اکتفا مناسب۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹:از مقام کیلا کھیڑا تحصیل باز پور ضلع نینی تال مسئولہ عبدالمجید خاں مدرسہ زنانہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
احوال اینست کہ بابت مصافحہ کے کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے نہیں کرنا چاہئے اور کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے کرنا چاہئے لہذا اپ سے معروض ہوں کہ کون سا قول صحیح تر ہے۔اور طریقہ بھی صاف الفاظوں میں تحریر فرمائیں تاکہ مخالف زیر ہو۔
الجواب:
نمازوں کے بعد مصافحہ صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔نسیم الریاض میں ہے:
(۳)لڑکے اور بھائی کو اپنی ماں اور بہن سے السلام علیکم کہنا جائز ہے اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے
(۴)عورت کو خاوند سے اور خاوند کو عورت سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے
(۵)عورتوں کو اگر السلام علیکم کہنادرست نہیں تو اور کون الفاظ بروئے شرع آپس میں ملتے وقت کہنا چاہئے فقط۔
الجواب:
ان سب صورتوں میں السلام علیکم اور جواب وعلیکم السلام کہنا بلا شبہہ جائز ہے زمانہ اقدس میں بھی رواج تھا۔بیبیوں سے بھی السلام علیکم فرمایا ہے مگریہاں ایك دقیقہ واجب اللحاظ ہے جو سنت مؤکدہ نہ ہو یا اس کا ایك طریقہ متعین نہ ہو اور بعض طرق عوام میں ایسے اوپری ہوگئے ہوں کہ اس کے بجالانے سے سنت پر ہنسیں گے تو وہاں اس غیر مؤکدہ اورمؤکدہ کے اس طریقہ خاصہ کا ترك ہی مصلحت ہوتاہے کہ ایك استحباب کے لئے لوگوں کا دین کیوں فاسد ہو سنت پر ہنسنا معاذ اﷲ کفر تك لے جاتا ہے اور مسلمانوں کو کفر سے بچانا فرض ہے مسئلہ خفاض نساء میں علماء نے اس دقیقہ کی تصریح کی ہے نیز شملہ عمامہ میں فرمایا کہ جہاں جہاں اس پر ہنستے ہیں اور دم سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائےباہم عورتوں کا یا عورتوں سے السلام علیکم کی حالت قریب قریب ایسی ہی ہے اور اسے اچنبا جانیں گے اور اس پر ہنسنے کا احتمال ہے اور لفظ سلام اس کا قائم مقام قالوا سلاما قال سلام تو اس پر اکتفا مناسب۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹:از مقام کیلا کھیڑا تحصیل باز پور ضلع نینی تال مسئولہ عبدالمجید خاں مدرسہ زنانہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
احوال اینست کہ بابت مصافحہ کے کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے نہیں کرنا چاہئے اور کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے کرنا چاہئے لہذا اپ سے معروض ہوں کہ کون سا قول صحیح تر ہے۔اور طریقہ بھی صاف الفاظوں میں تحریر فرمائیں تاکہ مخالف زیر ہو۔
الجواب:
نمازوں کے بعد مصافحہ صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔نسیم الریاض میں ہے:
الاصح انھا بدعہ مباحۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ صحیح یہ ہے کہ یہ بدعت مباحہ ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۰ تا ۱۷۱: ازموضع سیوہارہ ضلع بجنور محلہ مولویاں مسئولہ حفظ الرحمن روز شنبہ بتاریخ ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)زید اپنے پیر کی تصویر کو نہایت احترام سے رکھتا ہے بوسہ دیتا ہے سجدہ تحیت کرتا ہے لہذا تصویر کو بوسہ دینا تصویر کو سجدہ تحیت کرنا کیسا ہے۔ہر ایك کا حکم علیحدہ علیحدہ نص صریح یا حدیث صحیح یا قول امام سے بحوالہ کتب تحریر فرمادیں۔اور زید ثبوت سجدہ تحیت میں کتاب انوار العیون فی اسرار المکنون مصنفہ شیخ عبدالقدوس کی یہ عبارت پیش کرتاہے:
مریدان حضرت شیخ العالم قدس سرہ پیش حضرت شیخ العالم سر پیش می آوردندوسجدہ پیش می رفتند ومی نشستند وامر وز ہماں سنت مریداں حضرت شیخ العالم جاری کہ پیش قبر حضرت شیخ العالم و پیش صاحب سجادہ سر برز مین می نہندوسجدہ می کنند ۔ حضرت شیخ العالم قدس سرہ(یعنی شیخ عبدالقدوس گنگوہی)کے مرید سرآگے کرکے ان کے روبرو سجدہ کرتے اور پھر بیٹھتے ہیں۔آج حضرت شیخ العالم کے مریدوں میں وہی طریقہ جاری وساری ہے۔کہ حضرت موصوف کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں اور پھر ان کے سجادہ نشین کے آگے زمین پر سر رکھ کر انھیں سجدہ کرتے ہیں۔(ت)
اس قول کے متعلق کیاحکم ہے اور زید یہ بھی کہتاہے کہ سجدہ تحیت کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ درمختار میں ہے:
وکذا مایفعلون من تقبیل الارض بین یدی العلماء العظماء فحرام والفاعل والراضی بہ اثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن وھل یکفران علی وجہ العبادۃ والتعظیم اور اسی طرح جو کچھ جہلا اور نادان کیا کرتے ہیں کہ بڑے بڑے عظیم علماء کے آگے زمین کو بوسہ دیتے(تو یاد رکھو کہ)یہ فعل حرام ہے لہذا کرنے والا اور اس سے خوش ہونے والا (دونوں)گنہگار ہیں اس لئے کہ یہ کام بت کی عبادت سے مشابہت رکھتاہے۔
مسئلہ ۱۷۰ تا ۱۷۱: ازموضع سیوہارہ ضلع بجنور محلہ مولویاں مسئولہ حفظ الرحمن روز شنبہ بتاریخ ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)زید اپنے پیر کی تصویر کو نہایت احترام سے رکھتا ہے بوسہ دیتا ہے سجدہ تحیت کرتا ہے لہذا تصویر کو بوسہ دینا تصویر کو سجدہ تحیت کرنا کیسا ہے۔ہر ایك کا حکم علیحدہ علیحدہ نص صریح یا حدیث صحیح یا قول امام سے بحوالہ کتب تحریر فرمادیں۔اور زید ثبوت سجدہ تحیت میں کتاب انوار العیون فی اسرار المکنون مصنفہ شیخ عبدالقدوس کی یہ عبارت پیش کرتاہے:
مریدان حضرت شیخ العالم قدس سرہ پیش حضرت شیخ العالم سر پیش می آوردندوسجدہ پیش می رفتند ومی نشستند وامر وز ہماں سنت مریداں حضرت شیخ العالم جاری کہ پیش قبر حضرت شیخ العالم و پیش صاحب سجادہ سر برز مین می نہندوسجدہ می کنند ۔ حضرت شیخ العالم قدس سرہ(یعنی شیخ عبدالقدوس گنگوہی)کے مرید سرآگے کرکے ان کے روبرو سجدہ کرتے اور پھر بیٹھتے ہیں۔آج حضرت شیخ العالم کے مریدوں میں وہی طریقہ جاری وساری ہے۔کہ حضرت موصوف کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں اور پھر ان کے سجادہ نشین کے آگے زمین پر سر رکھ کر انھیں سجدہ کرتے ہیں۔(ت)
اس قول کے متعلق کیاحکم ہے اور زید یہ بھی کہتاہے کہ سجدہ تحیت کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ درمختار میں ہے:
وکذا مایفعلون من تقبیل الارض بین یدی العلماء العظماء فحرام والفاعل والراضی بہ اثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن وھل یکفران علی وجہ العبادۃ والتعظیم اور اسی طرح جو کچھ جہلا اور نادان کیا کرتے ہیں کہ بڑے بڑے عظیم علماء کے آگے زمین کو بوسہ دیتے(تو یاد رکھو کہ)یہ فعل حرام ہے لہذا کرنے والا اور اس سے خوش ہونے والا (دونوں)گنہگار ہیں اس لئے کہ یہ کام بت کی عبادت سے مشابہت رکھتاہے۔
حوالہ / References
نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۳
انوار العیون فی اسرار المکنون
انوار العیون فی اسرار المکنون
کفر وان علی وجہ التحیۃ لاوصار اثمامرتکبا للکبیرۃ وفی الشامی قال الزیلعی وذکر الصدر الشھید انہ لا یکفربھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے والا کافر ہوجائے گا یانہیں اگر اس نے یہ کام بطور عبادت کیا اور اس کی تعظیم کی تو بلا شبہہ کافر ہوگیا۔اور اگر تعظیم و بزرگی کی خاطر ایسا کیا تو کافرنہ ہوا لیکن پھر بھی گنہگارگناہ کبیرہ بجالانے والا ہوا۔اور فتاوی شامی میں ہے کہ علامہ زیلعی نے فرمایا امام صدرشہید نے ذکر فرمایا کہ اس طرح سجدہ کرنے سے وہ کافر نہ ہوگا کیونکہ اس سے اس کی مراد صرف تعظیم ہے۔(ت)
یعنی زیلعی وصدرشہید سجدہ تحیت کرنے والے کو کافر نہیں کہتے۔
(۲)سجدہ عبادت سجدہ تعظیمسجدہ تحیتسجدہ شکرتقبیل ارض ان سب کی تعریف وفرق تحریرفرمادیں نیز ان میں کون مخصوص ہے زندہ بزرگوں کے لئے اور کون ہے قبور وتصاویر کے لئے مع حوالہ کتاب۔
الجواب:
(۱)غیر کو سجدہ بلا شبہہ حرام ہے پھر اگر بروجہ عبادت ہو تو یقینا اجماعا کفر ہے اور بروجہ تحیت ہو تو کفر میں اختلاف ہے اس کے حرام ہونے میں اختلاف نہیں اور حق یہی ہے کہ بے نیت عبادت حرام ہے کبیرہ ہے مگر کفر نہیں زیلعی کی عبارت کا صاف یہی مطلب ہے نفی کفر کرتے ہیں نہ کہ نفی حرمتاحادیث صحیح اس بارے میں بکثرت وارد اور کتب ہرچہار مذہب اس کی تحریم پر متفق۔بعض ملفوظات کہ بعض اولیاء کرام کی طرف بلا سند صحیح متصل منسوب ہوں ایسے مسئلہ جلیہ واضحہ متفق علیہا کے مقابل ہر گز قابل استناد نہیں۔اور بالخصوص سجدہ قبر کے بارہ میں وہ حدیث موجود ہے۔
ارأیت لومررت بقبری اکنت تسجد لہ قال فلا تفعل ۔ بھلا دیکھئے اگرمیری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اس کو سجدہ کرو گے عرض کی:نہیں۔(ت)
اور تصویر کو سجدہ تو کھلا پھاٹك بت پرستی کا ہے۔دنیا میں بت پرستی کا آغاز تصاویر کو جانب قبلہ صرف نصب کرنے سے ہوا کما فی صحیح البخاری وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما(جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے۔ت)نہ کہ سجدہ
یعنی زیلعی وصدرشہید سجدہ تحیت کرنے والے کو کافر نہیں کہتے۔
(۲)سجدہ عبادت سجدہ تعظیمسجدہ تحیتسجدہ شکرتقبیل ارض ان سب کی تعریف وفرق تحریرفرمادیں نیز ان میں کون مخصوص ہے زندہ بزرگوں کے لئے اور کون ہے قبور وتصاویر کے لئے مع حوالہ کتاب۔
الجواب:
(۱)غیر کو سجدہ بلا شبہہ حرام ہے پھر اگر بروجہ عبادت ہو تو یقینا اجماعا کفر ہے اور بروجہ تحیت ہو تو کفر میں اختلاف ہے اس کے حرام ہونے میں اختلاف نہیں اور حق یہی ہے کہ بے نیت عبادت حرام ہے کبیرہ ہے مگر کفر نہیں زیلعی کی عبارت کا صاف یہی مطلب ہے نفی کفر کرتے ہیں نہ کہ نفی حرمتاحادیث صحیح اس بارے میں بکثرت وارد اور کتب ہرچہار مذہب اس کی تحریم پر متفق۔بعض ملفوظات کہ بعض اولیاء کرام کی طرف بلا سند صحیح متصل منسوب ہوں ایسے مسئلہ جلیہ واضحہ متفق علیہا کے مقابل ہر گز قابل استناد نہیں۔اور بالخصوص سجدہ قبر کے بارہ میں وہ حدیث موجود ہے۔
ارأیت لومررت بقبری اکنت تسجد لہ قال فلا تفعل ۔ بھلا دیکھئے اگرمیری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اس کو سجدہ کرو گے عرض کی:نہیں۔(ت)
اور تصویر کو سجدہ تو کھلا پھاٹك بت پرستی کا ہے۔دنیا میں بت پرستی کا آغاز تصاویر کو جانب قبلہ صرف نصب کرنے سے ہوا کما فی صحیح البخاری وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما(جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہے۔ت)نہ کہ سجدہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۹۱
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۹۱
کہ جانب قبلہ نصب سے ہزار ہا درجہ بدتر اور کفر سے ایساہی قریب ہے جیسے آنکھ کی سپیدی سے سیاہی۔تصویر کی تعظیم مطلقا حرام ہے بلکہ غیر محل اہانت میں اس کا رکھنا ہی حرام ومانع دخول ملائکہ رحمت ہے۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ ۔ فرشتے اس گھرمیں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔(ت)
یہ سب وساوس ابلیس ہیں۔مسلمان اگر اس کے ہاتھوں میں نرم ہوا اور وہ اسے ہلاك کردے گا جلد کھچے اور اس عدومبین سے جدا ہوکر شریعت مطہر ہ کی باگ تھام لے " واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾ " (اور اﷲ تعالی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھائے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)سجدہ کسی قسم کا شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ میں غیر خدا کے لئے مطلقا جائز نہیں اور احکام منسوخہ سے استناد جہل وخرط انقیاد ورنہ سگی بہن سے نکاح بھی جائز ہو اپنا رب حقیقی و مالك بالذات جان کر اس کے حضور غایت تذلل کے لئے زمین پر پیشانی رکھنا سجدہ عبادت ہے اور معبود نہ جان کر صرف اس کی عظمت کے لئے روبخاك ہونا سجدہ تعظیم ہے اور وقت لقا باہمی موانست کے لئے سجدہ تحیت اور ہر شناسی نعمت کے اظہارکو سجدہ شکر اول وآخر مولی عزوجل کے لیے ہیں۔پہلا فرض اور پچھلا مستحب۔اور دوم سوم کہ غیر خدا کے لئے ہوں حرام ہیں کفر نہیں۔یونہی چہارم بھیاور پہلا کفر قطعی۔اور غیر خدا کے لئے تقبیل ارض بھی حرام ہے اور جو کرے اور جس کے لئے کی جائے اور وہ راضی ہو دونوں مرتکب کبیرہ اور بہ نیت عبادت ہو تو یہ بھی کفر کہ عبادت غیر کی نیت خود ہی کفر ہے اگرچہ اس کے ساتھ کوئی فعل نہ ہو۔ہندیہ میں ہے:
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی اثمان کذا فی التاتارخانیۃ و تقبیل جامع صغیر میں ہے کسی بڑے کے آگے زمین بوسی حرام ہے۔ اور ایسا کرنے والا اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہ گار ہیں تاتارخانیہ میں اسی طرح مذکور ہے۔اہل علم اور
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ ۔ فرشتے اس گھرمیں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔(ت)
یہ سب وساوس ابلیس ہیں۔مسلمان اگر اس کے ہاتھوں میں نرم ہوا اور وہ اسے ہلاك کردے گا جلد کھچے اور اس عدومبین سے جدا ہوکر شریعت مطہر ہ کی باگ تھام لے " واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾ " (اور اﷲ تعالی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھائے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)سجدہ کسی قسم کا شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ میں غیر خدا کے لئے مطلقا جائز نہیں اور احکام منسوخہ سے استناد جہل وخرط انقیاد ورنہ سگی بہن سے نکاح بھی جائز ہو اپنا رب حقیقی و مالك بالذات جان کر اس کے حضور غایت تذلل کے لئے زمین پر پیشانی رکھنا سجدہ عبادت ہے اور معبود نہ جان کر صرف اس کی عظمت کے لئے روبخاك ہونا سجدہ تعظیم ہے اور وقت لقا باہمی موانست کے لئے سجدہ تحیت اور ہر شناسی نعمت کے اظہارکو سجدہ شکر اول وآخر مولی عزوجل کے لیے ہیں۔پہلا فرض اور پچھلا مستحب۔اور دوم سوم کہ غیر خدا کے لئے ہوں حرام ہیں کفر نہیں۔یونہی چہارم بھیاور پہلا کفر قطعی۔اور غیر خدا کے لئے تقبیل ارض بھی حرام ہے اور جو کرے اور جس کے لئے کی جائے اور وہ راضی ہو دونوں مرتکب کبیرہ اور بہ نیت عبادت ہو تو یہ بھی کفر کہ عبادت غیر کی نیت خود ہی کفر ہے اگرچہ اس کے ساتھ کوئی فعل نہ ہو۔ہندیہ میں ہے:
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی اثمان کذا فی التاتارخانیۃ و تقبیل جامع صغیر میں ہے کسی بڑے کے آگے زمین بوسی حرام ہے۔ اور ایسا کرنے والا اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہ گار ہیں تاتارخانیہ میں اسی طرح مذکور ہے۔اہل علم اور
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احد کم امین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۸،جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء ان الملئکۃ لاتدخل الخ امین کمپنی کراچی ۲/ ۱۰۳
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال و الفاعل والراضی اثمان کذا فی الغرائب ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جامع صغیر میں ہے کسی بڑے کے آگے زمین بوسی حرام ہے۔ اور ایسا کرنے والا اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہ گار ہیں تاتارخانیہ میں اسی طرح مذکور ہے۔اہل علم اور زاہدوں کے آگے زمین چومنا جاہلوں(ناواقف لوگوں)کا طریقہ ہے۔ لہذا ایسا کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا(دونوں) گنہگار ہیں فتاوی الغرائب میں یہی مذکورہے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۷۲: از ضلع گیا پردہ چك ڈاکخانہ شمشیر نگر مسئولہ ابوالبرکات بروز شنبہ بتاریخ ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز عید وبقر عید مصافحہ و معانقہ کرنا انحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہے یا کہ نہیں حدیث مع حوالہ کتب تحریر ہو اور ان اوقات میں مصافحہ کرنا کتب حنفیہ سے ثابت ہے کہ نہیں فقط۔
الجواب:
احادیث صحیحہ سے مصافحہ کی سنیت ثابت ہے اور خصوصیت وقت اسے ناجائز نہ کردے گی۔حدیث میں ہے:
صوم یوم السبت لالك ولا علیك ۔ صرف سنیچر کے دن روزہ رکھنا نہ تو تیرے لئے مفیدہے نہ مضر۔(ت)
شاہ ولی اﷲ دہلوی نے مسوی شرح مؤطا میں جواز مصافحہ بعد نماز عید کی اور نسیم الریاض میں مصافحہ بعد صلوۃ کی نسبت ہے:
مسئلہ ۱۷۲: از ضلع گیا پردہ چك ڈاکخانہ شمشیر نگر مسئولہ ابوالبرکات بروز شنبہ بتاریخ ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز عید وبقر عید مصافحہ و معانقہ کرنا انحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثابت ہے یا کہ نہیں حدیث مع حوالہ کتب تحریر ہو اور ان اوقات میں مصافحہ کرنا کتب حنفیہ سے ثابت ہے کہ نہیں فقط۔
الجواب:
احادیث صحیحہ سے مصافحہ کی سنیت ثابت ہے اور خصوصیت وقت اسے ناجائز نہ کردے گی۔حدیث میں ہے:
صوم یوم السبت لالك ولا علیك ۔ صرف سنیچر کے دن روزہ رکھنا نہ تو تیرے لئے مفیدہے نہ مضر۔(ت)
شاہ ولی اﷲ دہلوی نے مسوی شرح مؤطا میں جواز مصافحہ بعد نماز عید کی اور نسیم الریاض میں مصافحہ بعد صلوۃ کی نسبت ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نوانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ رضی اﷲ عنہا دارالفکر بیروت ۶/ ۳۶۸
مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ رضی اﷲ عنہا دارالفکر بیروت ۶/ ۳۶۸
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ(بعد از نماز)ایك مباح(جائز) بدعت ہے۔(ت)
عین العلم میں ہے:
الاصرار بما لم ینہ عنہ حسن ۔ اس کام پر اصراروتکرار کرنا کہ جس سے منع نہ کیا گیا ہو اچھا کام ہے۔(ت)
حدیث میں ہے:
خالقوا الناس باخلاقھم ۔ لوگوں سے اخلاق رکھو ان کے اخلا ق کی وجہ سے۔(ت)
ایسے مباحات کہ عوام میں رائج ہوں وہ مواقف مسلمین کے باعث مباح نہیں بلکہ مستحب ہوجاتے ہیں اور اس میں مخالفت مکروہ ہے۔اور یہ وہی کرے گا جو اپنی شہرت اورنکو بننا چاہتا ہے۔ شرح صحیح مسلم شریف ومجمع البحار وغیرہما میں ہے:
الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۔ لوگوں کی عادات سے نکلنا(قدم باہر رکھنا)باعث شہرت اور مکروہ ہے۔وھو تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷۳:نماز کے وقت مسجد میں تمام نمازی کسی شخص کے آنے پر تعظیما کھڑے ہونا اور مثل سجدے کے قدموں پر سر رکھ کر بوسہ دینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
عالم دین اور سلطان اسلام اورعلم دین میں اپنا استاذ ان کی تعظیم مسجد میں بھی کی جائے گی اور مجالس خیر میں بھی کی جائے گی اور مجالس خیر میں بھی اور تلاوت قرآن عظیم میں بھی عالم دین کے قدموں پر بوسہ دینا سنت ہے اور قدموں پر سر رکھنا جہالت ہے۔واﷲ تعالی اعلم
عین العلم میں ہے:
الاصرار بما لم ینہ عنہ حسن ۔ اس کام پر اصراروتکرار کرنا کہ جس سے منع نہ کیا گیا ہو اچھا کام ہے۔(ت)
حدیث میں ہے:
خالقوا الناس باخلاقھم ۔ لوگوں سے اخلاق رکھو ان کے اخلا ق کی وجہ سے۔(ت)
ایسے مباحات کہ عوام میں رائج ہوں وہ مواقف مسلمین کے باعث مباح نہیں بلکہ مستحب ہوجاتے ہیں اور اس میں مخالفت مکروہ ہے۔اور یہ وہی کرے گا جو اپنی شہرت اورنکو بننا چاہتا ہے۔ شرح صحیح مسلم شریف ومجمع البحار وغیرہما میں ہے:
الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۔ لوگوں کی عادات سے نکلنا(قدم باہر رکھنا)باعث شہرت اور مکروہ ہے۔وھو تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷۳:نماز کے وقت مسجد میں تمام نمازی کسی شخص کے آنے پر تعظیما کھڑے ہونا اور مثل سجدے کے قدموں پر سر رکھ کر بوسہ دینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
عالم دین اور سلطان اسلام اورعلم دین میں اپنا استاذ ان کی تعظیم مسجد میں بھی کی جائے گی اور مجالس خیر میں بھی کی جائے گی اور مجالس خیر میں بھی اور تلاوت قرآن عظیم میں بھی عالم دین کے قدموں پر بوسہ دینا سنت ہے اور قدموں پر سر رکھنا جہالت ہے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العربی بیروت ۲/ ۱۳
عین العلم البا ب التاسع فی الصمت وآفات اللسان مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الفائدۃ الثانیۃ الخ دارالفکر بیروت ۶/ ۳۵۴
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع تتمۃ الاصناف مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۱۲
عین العلم البا ب التاسع فی الصمت وآفات اللسان مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الفائدۃ الثانیۃ الخ دارالفکر بیروت ۶/ ۳۵۴
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع تتمۃ الاصناف مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۱۲
مسئلہ ۱۷۴: از پوپوری جتارن مارقوار مسئولہ حبیب اﷲ بروز سہ شنبہ ۲ رجب ۱۳۳۴ھ
مصافحہ کرتے وقت درود شریف پڑھنا چاہئے یادعا پڑھنا چاہئے
الجواب:
درود اور دعا دونوں ہوں اور صرف درود کافی ہے۔کہ الحمدﷲ کے بعد ہر دعا سے افضل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵: مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل از شہر گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ مورخہ ۹ شعبان یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
سلام کرنا اشارہ کے ساتھ یعنی وقت سلام مسنون ہاتھ پیشانی تك لے جانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بلاضرورت فقط اشارہ پر قناعت بدعت اور یہود ونصاری کی سنت ہے اور سلام مسنون کے ساتھ محل حاجت عرفیہ میں اشارہ بھی ہو توحرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۶: از کلکتہ ڈاك خانہ ہٹ تلا بڑاصاحب کا ہاٹ محمد غلام فرہاد بروز چہارشنبہ ۱۳ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
مکرمی ومعظمی جناب مولانا شاہ عبدالمصطفی احمد رضاخاں صاحب بعدآداب وتسلیم معروض آنکہ ہم لوگ احاطہ بنگال ضلع فرید پور تھانہ پالنگ موضع لاکرتلہ میں سب لوگ اہلسنت وجماعت کے ہیں مگر ان میں سے بعض لو گ ایسے حنفی کہلاتے ہیں مگر عقیدہ وہابیت کا ہے یعنی دیوبند کا۔چونکہ وہ لوگ دیوبند کا کیفیت سے اچھی طرح واقف نہیں اور ہمارے بنگال کا ہادی جو نپور کے مولانا کرامت علی صاحب کی اولاد ہیں وہ لوگ بھی دیوبند کے عقیدہ پر چلتے ہیں یعنی قیام وفاتحہ وثانی جماعت وغیرہ کو ناجائز کرتے ہیں لہذا ہم لوگ نے حضور کی کتاب کوکبۃ الشھابیۃ اور چند پرچہ کلکتہ منشی لعل خان صاحب سے منگا کر دکھلایا کہ تم لوگوں کا عقیدہ اہلسنت وجماعت کے خلاف ہے بہر حال ہم لوگ سے اختلاف کرتارہا مگر اس وقت مسئلہ قدمبوسی اور سجدہ تحیہ میں ہم لوگوں کو بہت مجبورکیاہم لوگ قادریہ شریف میں سلسلہ بھاگل پور کے مریدان اسلام آباد احاطہ بنگال کے مولانا شاہ محمد عبدالحی صاحب سے دست بیعت کیا ہوں انھوں نے سجدہ تحیہ کو جائز رکھتے ہیں اور دیوبندی خلاف ہیں اب ہم لوگوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایسے آدمی سے دریافت کرنا چاہئے جو کہ متوسط سنت وجماعت کے ہیں۔لہذا ہم لوگ حضور کو بمقابلہ مقتدا اسلام اور حامی سنت وجماعت کا جانتا ہوں اب یہاں سے دو فتوی دیا جاتا ہے کہ ہم لوگ سجدہ تحیۃ کو جائز رکھتا ہوں اور مقتدا دیوبندی کفر اور حرام ناجائز کہتے ہیں۔خیر گزارش ضروری یہ ہے کہ حضور اگر جائز کرتے ہیں تو بہت خوب اور اگر ناجائز کریں
مصافحہ کرتے وقت درود شریف پڑھنا چاہئے یادعا پڑھنا چاہئے
الجواب:
درود اور دعا دونوں ہوں اور صرف درود کافی ہے۔کہ الحمدﷲ کے بعد ہر دعا سے افضل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵: مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل از شہر گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ مورخہ ۹ شعبان یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
سلام کرنا اشارہ کے ساتھ یعنی وقت سلام مسنون ہاتھ پیشانی تك لے جانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بلاضرورت فقط اشارہ پر قناعت بدعت اور یہود ونصاری کی سنت ہے اور سلام مسنون کے ساتھ محل حاجت عرفیہ میں اشارہ بھی ہو توحرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۶: از کلکتہ ڈاك خانہ ہٹ تلا بڑاصاحب کا ہاٹ محمد غلام فرہاد بروز چہارشنبہ ۱۳ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
مکرمی ومعظمی جناب مولانا شاہ عبدالمصطفی احمد رضاخاں صاحب بعدآداب وتسلیم معروض آنکہ ہم لوگ احاطہ بنگال ضلع فرید پور تھانہ پالنگ موضع لاکرتلہ میں سب لوگ اہلسنت وجماعت کے ہیں مگر ان میں سے بعض لو گ ایسے حنفی کہلاتے ہیں مگر عقیدہ وہابیت کا ہے یعنی دیوبند کا۔چونکہ وہ لوگ دیوبند کا کیفیت سے اچھی طرح واقف نہیں اور ہمارے بنگال کا ہادی جو نپور کے مولانا کرامت علی صاحب کی اولاد ہیں وہ لوگ بھی دیوبند کے عقیدہ پر چلتے ہیں یعنی قیام وفاتحہ وثانی جماعت وغیرہ کو ناجائز کرتے ہیں لہذا ہم لوگ نے حضور کی کتاب کوکبۃ الشھابیۃ اور چند پرچہ کلکتہ منشی لعل خان صاحب سے منگا کر دکھلایا کہ تم لوگوں کا عقیدہ اہلسنت وجماعت کے خلاف ہے بہر حال ہم لوگ سے اختلاف کرتارہا مگر اس وقت مسئلہ قدمبوسی اور سجدہ تحیہ میں ہم لوگوں کو بہت مجبورکیاہم لوگ قادریہ شریف میں سلسلہ بھاگل پور کے مریدان اسلام آباد احاطہ بنگال کے مولانا شاہ محمد عبدالحی صاحب سے دست بیعت کیا ہوں انھوں نے سجدہ تحیہ کو جائز رکھتے ہیں اور دیوبندی خلاف ہیں اب ہم لوگوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایسے آدمی سے دریافت کرنا چاہئے جو کہ متوسط سنت وجماعت کے ہیں۔لہذا ہم لوگ حضور کو بمقابلہ مقتدا اسلام اور حامی سنت وجماعت کا جانتا ہوں اب یہاں سے دو فتوی دیا جاتا ہے کہ ہم لوگ سجدہ تحیۃ کو جائز رکھتا ہوں اور مقتدا دیوبندی کفر اور حرام ناجائز کہتے ہیں۔خیر گزارش ضروری یہ ہے کہ حضور اگر جائز کرتے ہیں تو بہت خوب اور اگر ناجائز کریں
بسر تسلیم مان لیتاہوں مگر امید کرتاہوں کہ جواب اس طرح ہونا چاہئے کہ فتوی دیوبندی ہم پر غالب نہ ہوجائےوالسلام۔
الجواب:
بزرگان دین کی قدمبوسی بلا شبہ جائز بلکہ سنت ہے۔بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پائے مبارك چومے اور حضور نے منع نہ فرمایا۔رہا سجدہ تحیتاگلی شریعتوں میں جائز تھا۔ملائکہ نے بحکم الہی حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔حضرت سیدنا یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی زوجہ مقدسہ اور ان کے گیارہ صاحبزادوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام جو حضرت سیدنا مریم(علیہما السلام)کے شکم مبارك میں تھے اور سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام ان کی بہن کے شکم مقدس میں جب حضرت مریم اپنی بہن کے پاس تشریف لائیں ان کی بہن عرض کرتی ہیں:
انی اری مافی بطنی یسجد لما فی بطنك ۔ میں دیکھتی ہوں کہ وہ جو میرے پیٹ میں ہے اس کے لئے سجدہ کرتاہے جو تمھارے پیٹ میں ہے۔
وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی کہ اس کو شرك کہتے اﷲ کے رسولوں اور فرشتوں کو شرك کا مرتکب اور اﷲ عزوجل کو معاذاﷲ شرك کاحکم دینے والا ٹھہراتے ہیں
قال اﷲ تعالی:
" ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا " ۔
وقال اﷲ تعالی" و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس " ۔ حضرت یوسف(علیہ السلام)نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا اور وہ سب(والدین وبردران)حضرت یوسف کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گر گئے(ت)
اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہہ دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو تو سوائے شیطان کے سب نے سجدہ کیا۔(ت)
دیوبندیہ خود مرتدین ہیں ان کو مسائل اسلامی میں دخل دینے کا کیا حق۔علمائے حرمین شریفین نے
الجواب:
بزرگان دین کی قدمبوسی بلا شبہ جائز بلکہ سنت ہے۔بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پائے مبارك چومے اور حضور نے منع نہ فرمایا۔رہا سجدہ تحیتاگلی شریعتوں میں جائز تھا۔ملائکہ نے بحکم الہی حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔حضرت سیدنا یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی زوجہ مقدسہ اور ان کے گیارہ صاحبزادوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام جو حضرت سیدنا مریم(علیہما السلام)کے شکم مبارك میں تھے اور سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام ان کی بہن کے شکم مقدس میں جب حضرت مریم اپنی بہن کے پاس تشریف لائیں ان کی بہن عرض کرتی ہیں:
انی اری مافی بطنی یسجد لما فی بطنك ۔ میں دیکھتی ہوں کہ وہ جو میرے پیٹ میں ہے اس کے لئے سجدہ کرتاہے جو تمھارے پیٹ میں ہے۔
وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی کہ اس کو شرك کہتے اﷲ کے رسولوں اور فرشتوں کو شرك کا مرتکب اور اﷲ عزوجل کو معاذاﷲ شرك کاحکم دینے والا ٹھہراتے ہیں
قال اﷲ تعالی:
" ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا " ۔
وقال اﷲ تعالی" و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس " ۔ حضرت یوسف(علیہ السلام)نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا اور وہ سب(والدین وبردران)حضرت یوسف کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گر گئے(ت)
اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہہ دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو تو سوائے شیطان کے سب نے سجدہ کیا۔(ت)
دیوبندیہ خود مرتدین ہیں ان کو مسائل اسلامی میں دخل دینے کا کیا حق۔علمائے حرمین شریفین نے
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ان اﷲ یبشرك بیحیٰی الخ المطبعۃ البہیمۃ مصر الجزء الرابع ص۳۸،روح المعانی تحت آیۃ ان اﷲ یبشرك بیحیٰی مصدقا بکلمۃ الخ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر الجزء الثالث ص۱۳۰
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۰
القرآن الکریم ۲ /۳۴
القرآن الکریم ۱۲ /۱۰۰
القرآن الکریم ۲ /۳۴
ان کے پیشواؤں کو نام بنام لکھا ہے کہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر جوان کے عقائد پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے خود کافر۔ہاں ہماری شریعت مطہرہ نے غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت حرام کیا ہے اس سے بچنا فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۷: مرسلہ حکمت یارخاں ساکن بریلی محدث شاہ اباد ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بمبئی اور اس کے اطراف و جوانب میں قدیم سے یہ طریقہ جاری ہے کہ ہر جماعت پنجگانہ کے بعد نماز او ردعا خیر سے فارغ ہو کر مصلیان مسجد باہم مصافحہ کرکے رخصت ہوتے ہیں آج کل موضع کرلا میں ایك مولوی صاحب اس کو بدعت قبیحہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کسی قول وفعل سے یہ ثابت نہیں اس لئے ہر گز ایسا نہ کرنا چاہئےدوسرے ایك صاحب کا قول ہے کہ مسلمان خانہ خدا میں پنجگانہ نماز ادا کرنے کے بعد باہم مصافحہ کرکے محبت واتفاق و اتحاد کا ثبوت دیتے ہیں یہ نہایت مستحسن طریقہ ہے اگر بدعت قبیحہ ہوتا تو علمائے دین ضرور اس سے منع فرماتے حالانکہ آج تك کسی سنی عالم نے اس سے ممانعت نہیں کی۔پس اس کے لئے قول فیصل بدلائل قوی تحریر فرمائیں کہ رفع نزاع ہو۔بینوا توجروا۔بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
صحیح یہ ہے کہ وہ جائز اور بہ نیت حسنہ مستحب ومستحسن ہے۔اور جہاں کے مسلمانوں میں اس کی عادت ہے وہاں انکار سے مسلمانوں میں فتنہ وتفرقہ پیدا کرنا جہالت اور بربنائے اصول وہابیت ہو جیسا کہ آج کل اکثر یہی ہے تو صریح ضلالت والعیاذ باللہ۔نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایك جائز بدعت ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
وقولھم انہ بدعۃ ای مباحۃ ان کا یہ فرمانا کہ مصافحہ کرنا بدعت ہے یعنی جائز اور
مسئلہ ۱۷۷: مرسلہ حکمت یارخاں ساکن بریلی محدث شاہ اباد ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بمبئی اور اس کے اطراف و جوانب میں قدیم سے یہ طریقہ جاری ہے کہ ہر جماعت پنجگانہ کے بعد نماز او ردعا خیر سے فارغ ہو کر مصلیان مسجد باہم مصافحہ کرکے رخصت ہوتے ہیں آج کل موضع کرلا میں ایك مولوی صاحب اس کو بدعت قبیحہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے کسی قول وفعل سے یہ ثابت نہیں اس لئے ہر گز ایسا نہ کرنا چاہئےدوسرے ایك صاحب کا قول ہے کہ مسلمان خانہ خدا میں پنجگانہ نماز ادا کرنے کے بعد باہم مصافحہ کرکے محبت واتفاق و اتحاد کا ثبوت دیتے ہیں یہ نہایت مستحسن طریقہ ہے اگر بدعت قبیحہ ہوتا تو علمائے دین ضرور اس سے منع فرماتے حالانکہ آج تك کسی سنی عالم نے اس سے ممانعت نہیں کی۔پس اس کے لئے قول فیصل بدلائل قوی تحریر فرمائیں کہ رفع نزاع ہو۔بینوا توجروا۔بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
صحیح یہ ہے کہ وہ جائز اور بہ نیت حسنہ مستحب ومستحسن ہے۔اور جہاں کے مسلمانوں میں اس کی عادت ہے وہاں انکار سے مسلمانوں میں فتنہ وتفرقہ پیدا کرنا جہالت اور بربنائے اصول وہابیت ہو جیسا کہ آج کل اکثر یہی ہے تو صریح ضلالت والعیاذ باللہ۔نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایك جائز بدعت ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
وقولھم انہ بدعۃ ای مباحۃ ان کا یہ فرمانا کہ مصافحہ کرنا بدعت ہے یعنی جائز اور
حوالہ / References
حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین مطبع اہلسنت وجماعت بریلی ص۹۴
نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۳
نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۳
حسنۃ کما افادہ النووی فی اذکارہ وغیرہ فی غیرہ ۔ اچھی بدعت ہے جیسا کہ امام نووی نے کتاب الاذکار میں اور دوسرے ائمہ کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر فرمایا ہے۔(ت)
اور تفصیل مرام وازلہ اوہام ہمارے رسالہ وشاح الجید میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸:موضع کٹیا ڈاك خانہ سکندر پور ضلع فیض آباد مرسلہ محمد ناظر خاں صاحب زمیندار مؤرخہ ۲۴ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
بوسہ قبر جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔بکثرت اکابر جواز و منع دونوں طرف ہیں اور عوام کے لئے زیادہ احتیاط منع میں ہے۔خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام پر کہ ان کے اتنا قریب جانا ادب کے خلاف ہے۔کم از کم چارہاتھ فاصلے سے کھڑا ہو کما فی العالمگیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)توبوسہ کیسے دے سکتا ہے۔وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۹: از ڈاکخانہ دھامونکے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم قریشی مدرس مدرسہ مورخہ ۲۷ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
ایك مسلم کو کون کون سے مواقع اور کون کون سے اشخاص پر پہلے السلام علیکم کہنا واجب ہے وکذالك کیا کوئی مواقع واشخاص ایسے بھی ہیں جبکہ تحیات کا جواب دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
الجواب:
ابتدا بہ سلام مسلمان سنی صالح پر سنت ہے اور اعلی درجہ کی قربت ہے مگر واجب کبھی نہیں سوا اس صورت کے کہ سلام نہ کرنے میں اس کی طرف سے ضرر کا اندیشہ صحیح ہو جن صورتوں میں سلام مکروہ ہے جیسے مصلی یا تالی یا ذاکر یا مستنجی یا آکل پر ان لوگوں کو اختیار ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰ تا ۱۸۳: از کلکتہ امر تلا لین ۲۶ گدی دیوان رحمت اﷲ مرسلہ حاجی پیر محمد ۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)جو لوگ سیدوں کو کلمات بے ادبانہ کہا کرتے ہیں اور ان کے مراتب کو خیا ل نہیں کرتے بلکہ کلمہ تحقیر آمیز کہہ بیٹھتے ہیں ان کا کیاحکم ہے
اور تفصیل مرام وازلہ اوہام ہمارے رسالہ وشاح الجید میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸:موضع کٹیا ڈاك خانہ سکندر پور ضلع فیض آباد مرسلہ محمد ناظر خاں صاحب زمیندار مؤرخہ ۲۴ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
بوسہ قبر جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔بکثرت اکابر جواز و منع دونوں طرف ہیں اور عوام کے لئے زیادہ احتیاط منع میں ہے۔خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام پر کہ ان کے اتنا قریب جانا ادب کے خلاف ہے۔کم از کم چارہاتھ فاصلے سے کھڑا ہو کما فی العالمگیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)توبوسہ کیسے دے سکتا ہے۔وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۹: از ڈاکخانہ دھامونکے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم قریشی مدرس مدرسہ مورخہ ۲۷ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
ایك مسلم کو کون کون سے مواقع اور کون کون سے اشخاص پر پہلے السلام علیکم کہنا واجب ہے وکذالك کیا کوئی مواقع واشخاص ایسے بھی ہیں جبکہ تحیات کا جواب دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
الجواب:
ابتدا بہ سلام مسلمان سنی صالح پر سنت ہے اور اعلی درجہ کی قربت ہے مگر واجب کبھی نہیں سوا اس صورت کے کہ سلام نہ کرنے میں اس کی طرف سے ضرر کا اندیشہ صحیح ہو جن صورتوں میں سلام مکروہ ہے جیسے مصلی یا تالی یا ذاکر یا مستنجی یا آکل پر ان لوگوں کو اختیار ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰ تا ۱۸۳: از کلکتہ امر تلا لین ۲۶ گدی دیوان رحمت اﷲ مرسلہ حاجی پیر محمد ۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)جو لوگ سیدوں کو کلمات بے ادبانہ کہا کرتے ہیں اور ان کے مراتب کو خیا ل نہیں کرتے بلکہ کلمہ تحقیر آمیز کہہ بیٹھتے ہیں ان کا کیاحکم ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴
(۲)حضور سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دربارہ محبت واطاعت آل کے لئے کچھ ارشاد فرمایا ہے یانہیں
(۳)اور جو لوگ سیدوں سے محبت رکھتے ہیں ان کے لئے یوم محشر میں آسانی ہوگی یانہیں
(۴)ایك جلسہ میں دو مولوی صاحبان تشریف رکھتے ہیں ایك ان میں سے سید ہیں تو مسلمان کسے صدر بتائیں
الجواب:
(۱)سادات کرام کی تعظیم فرض ہے۔اور ان کی توہین حرام بلکہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا جو کسی عالم کو مولویا یاکسی کو میروا بروجہ تحقیر کہے کافر ہے۔مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ سادات کرام اور علماء کی تحقیر کفر ہے جس نے عالم کی تصغیر کر کے عویلم یا علوی کو علیوی تحقیر کی نیت سے کہا تو کفر کیا۔(ت)
بیہقی امیرا لمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے اور ابوالشیخ و دیلمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یعرف حتی عترتی والانصار والعرب فھو لاحدی ثلاث اما منافقا واما لزنیۃ واما لغیر طھور ۔ ھذا لفظ البیھقی من حدیث زید بن جبیر عن داؤد بن الحصین عن ابن ابی رافع عن ابیہ عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظ غیرہ امامنا فق واما ولد زنیۃ واما امرء حملت بہ امہ فی غیر طہر ۔ جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں۔یا تومنافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔(یہ بیہقی کے الفاظ زیدبن جبیر نے اپنے والد کے حوالہ سے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کئے دوسروں کے الفاظ یوں ہیں۔ یا منافقولدزنا یا اس کی ماں نے ناپاکی کی حالت میں اس کا حمل لیا۔ت)
(۳)اور جو لوگ سیدوں سے محبت رکھتے ہیں ان کے لئے یوم محشر میں آسانی ہوگی یانہیں
(۴)ایك جلسہ میں دو مولوی صاحبان تشریف رکھتے ہیں ایك ان میں سے سید ہیں تو مسلمان کسے صدر بتائیں
الجواب:
(۱)سادات کرام کی تعظیم فرض ہے۔اور ان کی توہین حرام بلکہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا جو کسی عالم کو مولویا یاکسی کو میروا بروجہ تحقیر کہے کافر ہے۔مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ سادات کرام اور علماء کی تحقیر کفر ہے جس نے عالم کی تصغیر کر کے عویلم یا علوی کو علیوی تحقیر کی نیت سے کہا تو کفر کیا۔(ت)
بیہقی امیرا لمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے اور ابوالشیخ و دیلمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یعرف حتی عترتی والانصار والعرب فھو لاحدی ثلاث اما منافقا واما لزنیۃ واما لغیر طھور ۔ ھذا لفظ البیھقی من حدیث زید بن جبیر عن داؤد بن الحصین عن ابن ابی رافع عن ابیہ عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظ غیرہ امامنا فق واما ولد زنیۃ واما امرء حملت بہ امہ فی غیر طہر ۔ جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں۔یا تومنافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔(یہ بیہقی کے الفاظ زیدبن جبیر نے اپنے والد کے حوالہ سے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کئے دوسروں کے الفاظ یوں ہیں۔ یا منافقولدزنا یا اس کی ماں نے ناپاکی کی حالت میں اس کا حمل لیا۔ت)
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد ثم ان الفاظ الکفر الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۹۵
شعب الایمان حدیث ۱۶۱۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۲
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۵۹۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۶۲۶
شعب الایمان حدیث ۱۶۱۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۳۲
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۵۹۵۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۶۲۶
بلکہ علماء وانصار وعرب سے تو وہ مراد ہیں جو گمراہ بددین نہ ہوں اور سادات کرام کی تعظیم ہمیشہ جب تك ان کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچے کہ اس کے بعدوہ سیدہی نہیں نسب منقطع ہے۔
قال اﷲ تعالی " انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(اے نوح(علیہ السلام)! وہ تیرا بیٹا (کنعان) تیرے گھروالوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں۔(ت)
جیسے نیچریقادیانیوہابی غیر مقلددیوبندی اگر چہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرضاور روافض کے یہاں تو سیادت بہت آسان ہے کسی قوم کا رافضی ہوجائےدودن بعد میر صاحب ہوجائے گاان کا بھی وہی حال ہے۔کہ ان فرقوں کی طرح تبرائیان زمانہ بھی عموما مرتدین ہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
(۲)محبت آل اطہار کے بارے میں متواتر حدیثیں بلکہ قرآن عطیم کی آیت کریمہ ہے۔
" قل لا اسـلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی" ۔ (ان سے)فرمادیجئے(لوگو!)اس دعوت حق پر میں تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر رشتہ کی الفت ومحبت(ت)
ان کی محبت بحمداﷲ تعالی مسلمان کا دین ہے۔اور اس سے محروم ناصبی خارجی جہنمی ہے والعیاذ باﷲ تعالیمگر محبت صادقہ نہ روافض کی سی محبت کاذبہ جنھیں ائمہ اطہار فرما یاکرتے تھے خدا کی قسم تمھاری محبت ہم پر عار ہوگی۔اطاعت عامہ اﷲ و رسول کی پھر علمائے دین کی ہے"
قال اﷲ تعالی " اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ تعالی کا حکم مانواور رسول کا حکم مانو اور تم میں سے جو صاحب امر ہیں(یعنی امراء وخلفاء)۔ (ت)
اصل اطاعت اﷲ و رسول کی ہے اور علمائے دین ان کے احکام سے آگاہ۔پھر اگر عالم سید بھی ہو تو نور علی نورامور مباحہ میں جہاں تك نہ شرعی حرج ہو نہ کوئی ضرر سید غیر عالم کے بھی احکام کی اطاعت کرے کہ اس میں اس کی خوشنودی ہے اور سادات کرام کی خوشی میں کہ حد شرع کے اندر ہو حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا ہے اور حضور کی رضا اﷲ عزوجل کی رضا۔
قال اﷲ تعالی " انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(اے نوح(علیہ السلام)! وہ تیرا بیٹا (کنعان) تیرے گھروالوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں۔(ت)
جیسے نیچریقادیانیوہابی غیر مقلددیوبندی اگر چہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرضاور روافض کے یہاں تو سیادت بہت آسان ہے کسی قوم کا رافضی ہوجائےدودن بعد میر صاحب ہوجائے گاان کا بھی وہی حال ہے۔کہ ان فرقوں کی طرح تبرائیان زمانہ بھی عموما مرتدین ہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
(۲)محبت آل اطہار کے بارے میں متواتر حدیثیں بلکہ قرآن عطیم کی آیت کریمہ ہے۔
" قل لا اسـلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی" ۔ (ان سے)فرمادیجئے(لوگو!)اس دعوت حق پر میں تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر رشتہ کی الفت ومحبت(ت)
ان کی محبت بحمداﷲ تعالی مسلمان کا دین ہے۔اور اس سے محروم ناصبی خارجی جہنمی ہے والعیاذ باﷲ تعالیمگر محبت صادقہ نہ روافض کی سی محبت کاذبہ جنھیں ائمہ اطہار فرما یاکرتے تھے خدا کی قسم تمھاری محبت ہم پر عار ہوگی۔اطاعت عامہ اﷲ و رسول کی پھر علمائے دین کی ہے"
قال اﷲ تعالی " اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ تعالی کا حکم مانواور رسول کا حکم مانو اور تم میں سے جو صاحب امر ہیں(یعنی امراء وخلفاء)۔ (ت)
اصل اطاعت اﷲ و رسول کی ہے اور علمائے دین ان کے احکام سے آگاہ۔پھر اگر عالم سید بھی ہو تو نور علی نورامور مباحہ میں جہاں تك نہ شرعی حرج ہو نہ کوئی ضرر سید غیر عالم کے بھی احکام کی اطاعت کرے کہ اس میں اس کی خوشنودی ہے اور سادات کرام کی خوشی میں کہ حد شرع کے اندر ہو حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا ہے اور حضور کی رضا اﷲ عزوجل کی رضا۔
(۳)ہاں سچے محبان اہلبیت کرام کے لئے روز قیامت نعمتیں برکتیں راحتیں ہیں۔طبرانی کی حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الزموامودتنا اھل البیت فانہ من لقی اﷲ وھو یودنا دخل الجنۃ بشفاعتنا والذی نفسی بیدہ لاینفع عبدا عملہ الا بمعرفۃ حقنا ۔ ہم اہلبیت کی محبت لازم پکڑوکہ جو اﷲ سے ہماری دوستی کے ساتھ ملے گا وہ ہماری شفاعت سے جنت میں جائے گا۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کسی بندے کو اس کا عمل نفع نہ دے گا جب تك ہمارا حق نہ پہچانے۔
(۴)اگر دونوں عالم دین سنی صحیح العقیدہ اور جس کام کےلئے صدارت مطلوب ہے اس کے اہل ہوں تو سید کوترجیح ہے ورنہ ان میں جو عالم یا علم میں زائد یا سنی ہو اور دونوں علم دین میں مساوی ہوں تو جو اس کام کا زیادہ اہل ہو۔
الاتری ان الاحق بالامامۃ الاعلم وما عد شرف النسب الابعد وجودہ وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ۔ رواہ البخاری ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ امامت کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو سب سے بڑا عالم ہو اور شرافت نسب کا شمار نہیں کیا جاتا مگر اس کے پائے جانے کے بعداور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب کوئی کام کسی نا اہل کے حوالے کیا جائے تو قیامت آنے کا انتظار کیجئے۔اسے بخاری نے روایت کیا۔اور اﷲ تعالی سب کچھ بخوبی جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۴: از ضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك شخص سید ہے لیکن اس کے اعمال واخلاق خراب ہیں اور باعث ننگ وعارہیں تو اس سید سے اس کے اعمال کی وجہ سے تنفر رکھنا نسبی حیثیت سے اس کی تکریم کرنا جائز ہے یانہیں اس سید کے مقابل کوئی غیر مثل شیخمغلپٹھان وغیرہ وغیرہ کا آدمی نیك اعمال ہوں تو اس کو سید پر بحیثیت اعمال کے ترجیح
الزموامودتنا اھل البیت فانہ من لقی اﷲ وھو یودنا دخل الجنۃ بشفاعتنا والذی نفسی بیدہ لاینفع عبدا عملہ الا بمعرفۃ حقنا ۔ ہم اہلبیت کی محبت لازم پکڑوکہ جو اﷲ سے ہماری دوستی کے ساتھ ملے گا وہ ہماری شفاعت سے جنت میں جائے گا۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کسی بندے کو اس کا عمل نفع نہ دے گا جب تك ہمارا حق نہ پہچانے۔
(۴)اگر دونوں عالم دین سنی صحیح العقیدہ اور جس کام کےلئے صدارت مطلوب ہے اس کے اہل ہوں تو سید کوترجیح ہے ورنہ ان میں جو عالم یا علم میں زائد یا سنی ہو اور دونوں علم دین میں مساوی ہوں تو جو اس کام کا زیادہ اہل ہو۔
الاتری ان الاحق بالامامۃ الاعلم وما عد شرف النسب الابعد وجودہ وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ۔ رواہ البخاری ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ امامت کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو سب سے بڑا عالم ہو اور شرافت نسب کا شمار نہیں کیا جاتا مگر اس کے پائے جانے کے بعداور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب کوئی کام کسی نا اہل کے حوالے کیا جائے تو قیامت آنے کا انتظار کیجئے۔اسے بخاری نے روایت کیا۔اور اﷲ تعالی سب کچھ بخوبی جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۴: از ضلع سیتاپور محلہ قضیارہ مرسلہ الیاس حسین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك شخص سید ہے لیکن اس کے اعمال واخلاق خراب ہیں اور باعث ننگ وعارہیں تو اس سید سے اس کے اعمال کی وجہ سے تنفر رکھنا نسبی حیثیت سے اس کی تکریم کرنا جائز ہے یانہیں اس سید کے مقابل کوئی غیر مثل شیخمغلپٹھان وغیرہ وغیرہ کا آدمی نیك اعمال ہوں تو اس کو سید پر بحیثیت اعمال کے ترجیح
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۲۲۵۱ مکتبہ المعارف ریاض ۳/ ۱۲۲
صحیح البخاری کتا ب العلم باب من سئل علما الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴
صحیح البخاری کتا ب العلم باب من سئل علما الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴
ہوسکتی ہے کہ نہیں شرع شریف میں ایسی حالت میں اعمال کو ترجیح ہے کہ نسب کو بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے اگر چہ اس کے اعمال کیسے ہوں ان اعمال کے سبب اس سے تنفرنہ کیا جائے نفس اعمال سے تنفر ہو بلکہ اس کے مذہب میں بھی قلیل فرق ہو کہ حدکفر تك نہ پہنے جیسے تفضیل تو اس حالت میں بھی اس کی تعظیم سیادت نہ جائے گی ہاں اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تك پہنچے جیسے رافضی وہابی قادیانی نیچری وغیرہم تو اب اس کی تعظیم حرام ہے کہ جو وجہ تعظیم تھی یعنی سیادت وہی نہ رہی۔
قال اﷲ تعالی " انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے نوح(علیہ السلام)وہ یعنی تیرا بیٹا تیرے خاندان اور گھرانے والوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں۔(ت)
شریعت نے تقوی کو فضیلت دی ہے " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (اﷲ تعالی کے نزدیك تم میں سے سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ت)مگر یہ فضل ذاتی ہے فضل نسب منتہائے نسب کی افضلیت پر ہے سادات کرام کی انتہائے نسب حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ہے۔اس فضل انتساب کی تعظیم ہر متقی پر فرض ہے کہ وہ اس کی تعظیم نہیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵:از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ عبدالودود صاحب بنگال قادری برکاتی رضوی طالب علم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
سجدہ کے قسم پر ہے اور کون ساکس لئے خاص ہے اور باقی کیسے ہیں
الجواب:
سجدہ دو۲ قسم ہے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت۔سجدہ عبادت غیر خدا کے لئے کفر ہے اور سجدہ تحیت غیر خدا کے لئے حرام مگر کفر و شرك نہیں۔کہ اگلی شریعتوں میں جائز تھا اور کفر وشرك کبھی جائز نہیں ہوسکتا واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے اگر چہ اس کے اعمال کیسے ہوں ان اعمال کے سبب اس سے تنفرنہ کیا جائے نفس اعمال سے تنفر ہو بلکہ اس کے مذہب میں بھی قلیل فرق ہو کہ حدکفر تك نہ پہنے جیسے تفضیل تو اس حالت میں بھی اس کی تعظیم سیادت نہ جائے گی ہاں اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تك پہنچے جیسے رافضی وہابی قادیانی نیچری وغیرہم تو اب اس کی تعظیم حرام ہے کہ جو وجہ تعظیم تھی یعنی سیادت وہی نہ رہی۔
قال اﷲ تعالی " انہ لیس من اہلک انہ عمل غیر صلح ۫٭" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے نوح(علیہ السلام)وہ یعنی تیرا بیٹا تیرے خاندان اور گھرانے والوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں۔(ت)
شریعت نے تقوی کو فضیلت دی ہے " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (اﷲ تعالی کے نزدیك تم میں سے سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ت)مگر یہ فضل ذاتی ہے فضل نسب منتہائے نسب کی افضلیت پر ہے سادات کرام کی انتہائے نسب حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ہے۔اس فضل انتساب کی تعظیم ہر متقی پر فرض ہے کہ وہ اس کی تعظیم نہیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵:از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ عبدالودود صاحب بنگال قادری برکاتی رضوی طالب علم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
سجدہ کے قسم پر ہے اور کون ساکس لئے خاص ہے اور باقی کیسے ہیں
الجواب:
سجدہ دو۲ قسم ہے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت۔سجدہ عبادت غیر خدا کے لئے کفر ہے اور سجدہ تحیت غیر خدا کے لئے حرام مگر کفر و شرك نہیں۔کہ اگلی شریعتوں میں جائز تھا اور کفر وشرك کبھی جائز نہیں ہوسکتا واﷲ تعالی اعلم۔
الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ ۱۳۳۷ھ
(سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے کے بارے میں پاکیزہ مکھن)
مسئلہ ۱۸۶:باراول از بنارس پھاٹك شیخ سلیم مدرسہ ابراہیمیہ مرسلہ مولوی حافظ عبدالسمیع صاحب ۹ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ قال زید سجدہ تعظیم وتحیت مرشد طریقت کے لئے اب بھی جائز ہے اور استدلال کرتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کے مسجود ملائکہ ہونے سے ونیز واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام سےاور کہتا ہے " فالقی السحرۃ سجدین ﴿۴۶﴾" ۔ساحروں نے حضرت موسی علیہ السلام کو سجدہ کیا۔قال عمرو سجدہ تحیت ادیان ماضیہ میں جائز تھا ہماری شریعت غراء محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں وہ حکم منسوخ ہوا۔جیسا کہ تفسیر جلالینمدارکخازنروح البیانجامع البیان تفسیر کبیرفتح العزیز وغیرہم میں مصرح ہے۔اور ساحروں کو عرفان حق حاصل ہوا اور انھوں نے معبود حقیقی کو سجدہ کیا۔جیسا کہ " قالوا امنا برب العلمین ﴿۴۷﴾ رب موسی و ہرون ﴿۴۸﴾ " (جادو گر کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر
(سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے کے بارے میں پاکیزہ مکھن)
مسئلہ ۱۸۶:باراول از بنارس پھاٹك شیخ سلیم مدرسہ ابراہیمیہ مرسلہ مولوی حافظ عبدالسمیع صاحب ۹ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ قال زید سجدہ تعظیم وتحیت مرشد طریقت کے لئے اب بھی جائز ہے اور استدلال کرتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کے مسجود ملائکہ ہونے سے ونیز واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام سےاور کہتا ہے " فالقی السحرۃ سجدین ﴿۴۶﴾" ۔ساحروں نے حضرت موسی علیہ السلام کو سجدہ کیا۔قال عمرو سجدہ تحیت ادیان ماضیہ میں جائز تھا ہماری شریعت غراء محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں وہ حکم منسوخ ہوا۔جیسا کہ تفسیر جلالینمدارکخازنروح البیانجامع البیان تفسیر کبیرفتح العزیز وغیرہم میں مصرح ہے۔اور ساحروں کو عرفان حق حاصل ہوا اور انھوں نے معبود حقیقی کو سجدہ کیا۔جیسا کہ " قالوا امنا برب العلمین ﴿۴۷﴾ رب موسی و ہرون ﴿۴۸﴾ " (جادو گر کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر
ایمان لے آئے جو حضرت موسی اور حضرت ہارون کا پروگارہے۔ت)اس پر دال ہے نہ کہ حضرت موسی علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ قال زید آیات اخبار وقصص ناسخ ومنسوخ نہیں ہوتا کما فی نور الانوار(جیسا کہ نورا لانوار میں ہے۔ت)لہذا اباحت اس کی باقی ہے۔قال عمرو علمائے مفسرین نے اس حکم کا منسوخ ہونا مصرح بیان فرمایا۔قال زید مفسرین کی مجرد رائے ہم پر حجت نہیں تاوقتیکہ کوئی آیت اس کی ناسخ یا ممانعت میں نہ وارد ہو۔قال عمرو آیات قرآنی اس کی ممانعت میں نص صریح ہیں مثلا:
" یایہا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم" پس اﷲ تعالی کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔(ت)
پس معلوم ہوا سجدہ عبادت ہے پس عبادت غیر خداکی شرك ہے نیز
"فاسجدوا للہ و اعبدوا ﴿۶۲﴾" پس اﷲ کے لیے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
اور:
"و اسجدوا للہ الذی خلقہن ان کنتم ایاہ تعبدون ﴿۳۷﴾ " اﷲ تعالی کےلئے سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا۔اگر تم خاص اسی کی عبادت اور بندگی کرتے ہو۔(ت)
میں لام واسطے تخصیص کے ہے اورایاہ بھی تخصیص کے لئے آتا ہے۔لہذا سجدہ مخصوص ذات باری تعالی کے لئے ہے اور غیر کے لئے شرك وحرام وکفر۔
قال زید ان آیتوں میں سجدہ عبادت کی تخصیص ہے نہ سجدہ تحیت کی۔لہذا وہ جائز ہے۔
قال عمرو "لا تسجدوا للشمس و لا للقمر" (نہ سورج کو سجدہ کرو اورنہ چاند کو۔ت)سے غیر اﷲ کے لئے سجدہ ممنوع ہونا ثابت ہے اگر چہ سجدہ تحیت ہو اور فقہاء ومتکلین نے اس کو حرام وکفر فرمایا ہے۔
کما فی شرح فقہ اکبر"ملا علی"انجاح الحاجۃ جیسا کہ شرح فقہ اکبر ملا علی قاریانجاح الحاجۃ
" یایہا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم" پس اﷲ تعالی کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔(ت)
پس معلوم ہوا سجدہ عبادت ہے پس عبادت غیر خداکی شرك ہے نیز
"فاسجدوا للہ و اعبدوا ﴿۶۲﴾" پس اﷲ کے لیے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
اور:
"و اسجدوا للہ الذی خلقہن ان کنتم ایاہ تعبدون ﴿۳۷﴾ " اﷲ تعالی کےلئے سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا۔اگر تم خاص اسی کی عبادت اور بندگی کرتے ہو۔(ت)
میں لام واسطے تخصیص کے ہے اورایاہ بھی تخصیص کے لئے آتا ہے۔لہذا سجدہ مخصوص ذات باری تعالی کے لئے ہے اور غیر کے لئے شرك وحرام وکفر۔
قال زید ان آیتوں میں سجدہ عبادت کی تخصیص ہے نہ سجدہ تحیت کی۔لہذا وہ جائز ہے۔
قال عمرو "لا تسجدوا للشمس و لا للقمر" (نہ سورج کو سجدہ کرو اورنہ چاند کو۔ت)سے غیر اﷲ کے لئے سجدہ ممنوع ہونا ثابت ہے اگر چہ سجدہ تحیت ہو اور فقہاء ومتکلین نے اس کو حرام وکفر فرمایا ہے۔
کما فی شرح فقہ اکبر"ملا علی"انجاح الحاجۃ جیسا کہ شرح فقہ اکبر ملا علی قاریانجاح الحاجۃ
حوالہ / References
القران الکریم ۲۲/ ۷۷
القرآن الکریم ۵۳ /۶۲
القرآن الکریم ۴۱ /۳۷
القرآن الکریم ۴۱ /۳۷
القرآن الکریم ۵۳ /۶۲
القرآن الکریم ۴۱ /۳۷
القرآن الکریم ۴۱ /۳۷
حلبی شرح المنیۃ مالا بد منہعالمگیری۔ شرح سنن ابن ماجہحلبی کبیر وصغری شرح منیۃ المصلی اور مالابد منہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی اور عالمگیری میں ہے۔(ت)
نیز احادیث صحیحہ اس کی مخالفت میں بکثرت وارد ہیں۔قال زید آیت میں یہ کہا ہے لا تسجدوا للانسان(کسی انسان کو سجدہ نہ کرو۔ت)حدیثوں میں جواز ہے عکرمہ بن ابوجہل مشرف باسلام ہوئے اور انھوں نے حضرت کو سجدہ کیا آپ نے منع نہ فرمایا کما فی مدارج النبوۃ وروضۃ الاحباب(جیسا کہ مدارج النبوۃ اور روضہ الاحباب میں ہے۔ت)ایك صحابی نے حضرت کی پیشانی پر سجدہ کیا تو حضرت نے فرمایا تو نے اپنا خواب سچا کیا۔پس ثابت ہوا کہ سجدہ جائزکما فی مشکوۃ(جیسا کہ مشکوۃ میں ہے۔ت)قال عمرو عکرمہ کی روایت سے سجدہ مراد لینا اہل علم پر مخفی نہیں کہ کس قدر سادہ لوح ہے کیونکہ منقول ہے۔
فطأطأ رأسہ من الحیاءکما فی سیرۃ الحلبی وسیرۃ النبویۃ۔ پس اس نے شرم وحیاء کی وجہ سے اپنا سر جھکا دیا جیسا کہ سیرت حلبیہ اور سیرت نبویہ میں ہے۔(ت)
اور مدارج النبوۃ میں ہے۔
انگاہ از غایت شرمندگی سر درپیش افگند ۔ اس وقت غایت شرم وندامت کی وجہ سے اس نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا۔(ت)
حدیث مشکوۃ سے معلوم ہوا کہ پیشانی انور مسجود علیہ تھی نہ مسجود لہلہذا وہ مفید مدعی نہیں۔جس چیز پر سجدہ کیا وہ مسجود لہ قرار نہیں پاتیفتدبر(پس خوب غوروفکر کیجئے۔ت)فالعجب کل العجب(انتہائی حیرت اور تعجب کی بات ہے۔ت)ونیز حدیث قیس ومعاذ بن جبل میں سجدہ تحیت کی نفی صریح وارد ہے۔لاتفعلوا مشکوۃ ابن ماجہ (ایسا مت کرو۔مشکوۃ وابن ماجہ۔ ت) نیز دیگر احادیث جو پرچہ صوفی نمبر۱۲۴ جلد ۲۱ ماہ رجب ۳۷ھ میں شائع ہوچکی ہے ملاحظہ ہو۔ قال زید یہ سب حدیثیں خبر احاد ہیں۔یہ نفی پر حجت ہوسکتیں ونیزآیاتقرآنی سے اباحت ثابت ہے اگر چہ مور خاص ہے مگر حکم عام ہے۔قال عمرو آیات قرآن واحادیث نبوی وتصریحات فقہاء ومتکلمین سے حرمت وکفر
نیز احادیث صحیحہ اس کی مخالفت میں بکثرت وارد ہیں۔قال زید آیت میں یہ کہا ہے لا تسجدوا للانسان(کسی انسان کو سجدہ نہ کرو۔ت)حدیثوں میں جواز ہے عکرمہ بن ابوجہل مشرف باسلام ہوئے اور انھوں نے حضرت کو سجدہ کیا آپ نے منع نہ فرمایا کما فی مدارج النبوۃ وروضۃ الاحباب(جیسا کہ مدارج النبوۃ اور روضہ الاحباب میں ہے۔ت)ایك صحابی نے حضرت کی پیشانی پر سجدہ کیا تو حضرت نے فرمایا تو نے اپنا خواب سچا کیا۔پس ثابت ہوا کہ سجدہ جائزکما فی مشکوۃ(جیسا کہ مشکوۃ میں ہے۔ت)قال عمرو عکرمہ کی روایت سے سجدہ مراد لینا اہل علم پر مخفی نہیں کہ کس قدر سادہ لوح ہے کیونکہ منقول ہے۔
فطأطأ رأسہ من الحیاءکما فی سیرۃ الحلبی وسیرۃ النبویۃ۔ پس اس نے شرم وحیاء کی وجہ سے اپنا سر جھکا دیا جیسا کہ سیرت حلبیہ اور سیرت نبویہ میں ہے۔(ت)
اور مدارج النبوۃ میں ہے۔
انگاہ از غایت شرمندگی سر درپیش افگند ۔ اس وقت غایت شرم وندامت کی وجہ سے اس نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا۔(ت)
حدیث مشکوۃ سے معلوم ہوا کہ پیشانی انور مسجود علیہ تھی نہ مسجود لہلہذا وہ مفید مدعی نہیں۔جس چیز پر سجدہ کیا وہ مسجود لہ قرار نہیں پاتیفتدبر(پس خوب غوروفکر کیجئے۔ت)فالعجب کل العجب(انتہائی حیرت اور تعجب کی بات ہے۔ت)ونیز حدیث قیس ومعاذ بن جبل میں سجدہ تحیت کی نفی صریح وارد ہے۔لاتفعلوا مشکوۃ ابن ماجہ (ایسا مت کرو۔مشکوۃ وابن ماجہ۔ ت) نیز دیگر احادیث جو پرچہ صوفی نمبر۱۲۴ جلد ۲۱ ماہ رجب ۳۷ھ میں شائع ہوچکی ہے ملاحظہ ہو۔ قال زید یہ سب حدیثیں خبر احاد ہیں۔یہ نفی پر حجت ہوسکتیں ونیزآیاتقرآنی سے اباحت ثابت ہے اگر چہ مور خاص ہے مگر حکم عام ہے۔قال عمرو آیات قرآن واحادیث نبوی وتصریحات فقہاء ومتکلمین سے حرمت وکفر
حوالہ / References
مدارج النبوۃ ذکر عکرمہ بن ابی جہل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۹۹
مشکوٰۃ والمصابیح کتاب النکاح الفصل الثالث مطبع مجتبائی دہلی ص۲۸۲،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
مشکوٰۃ والمصابیح کتاب النکاح الفصل الثالث مطبع مجتبائی دہلی ص۲۸۲،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
ہونا ثابت ہے اس کی اباحت پر حالت اختیاری میں کوئی روایت ضعیف بھی وارد نہیں لہذا دعوی بلا دلیل ہے وہ مقبول نہیں۔ پس مفتیان دین بیان فرمائیں کہ قول حق وصواب کس کا ہے۔
" فای الفریقین احق بالامن ان کنتم تعلمون ﴿۸۱﴾و لم یلبسوا ایمنہم بظلم اولئک لہم الامن وہم مہتدون ﴿۸۲﴾"
بینوا توجروا پھر دو گروہوںمیں سے امن کے زیادہ لائق کون ہے اگر تم علم رکھتے ہو(تو بتاؤ)انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی امیزش نہ کی ان ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ پانے والے ہیں۔ بیان فرماؤ اجرپاؤ۔(ت)
باردوم: از میرٹھ خیر نگر دروازہ مرسلہ مظہر الاسلام صاحب نبیرہ نواب ممتاز علی خان ۲۹ شوال ۱۳۳۷ھ
مجدد مائتہ حاضرہ حضرت مولانا بالفضل اولنا جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت برکاتہم سلام وآداب کے بعد گزارش خدمت کہ ۲۸ جون ۲۹ رمضان المبارك کو رسالہ نظام المشائخ خدمت والا میں روانہ کرکے استدعا کی گئی تھی کہ براہ کرام سجدہ تحیت کے جواز وعدم جواز کی بابت شرع شریف کے مطابق اپنی قیمتی رائے سے خادم کو مطلع فرمایا جائے تاکہ یہ بے بضاعت جناب کے احسان وکرم کی وجہ سے اس عظیم شام مسئلہ میں تشفی واطمینان حاصل کرسکے چند روز ہوئے کہ جناب کہ معرکۃ الآرا تصنیف جو کہ تقویۃ الایمان کے روہ ابطال میں تحریر خادم کی نظر سے گزری اس کے صفحہ ۴۳ پر سجدہ تحیت کے جواز میں جو عبارت مزین ہے وہ حسب ذیل ہے:
"و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس " "ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا " اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کہ وہ سب سجدہ میں گرے سوائے ابلیس کے۔
یوسف نے اپنے ماں باپ کو تکت پر بلند کیا اور وہ سب یوسف کے لئے سجدے میں گر ے۔
یہ خاك بدہن گستاخ اﷲ تعالی ملائکہ آدم ویعقوب ویوسف علیہم الصلوۃ والسلام سب کا شرك ہوا۔اﷲ تعالی نے حکم دیا ملائکہ نے سجدہ کیا آدم راضی ہوئے یعقوب ساجدیوسف رضامند"
" فای الفریقین احق بالامن ان کنتم تعلمون ﴿۸۱﴾و لم یلبسوا ایمنہم بظلم اولئک لہم الامن وہم مہتدون ﴿۸۲﴾"
بینوا توجروا پھر دو گروہوںمیں سے امن کے زیادہ لائق کون ہے اگر تم علم رکھتے ہو(تو بتاؤ)انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی امیزش نہ کی ان ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ پانے والے ہیں۔ بیان فرماؤ اجرپاؤ۔(ت)
باردوم: از میرٹھ خیر نگر دروازہ مرسلہ مظہر الاسلام صاحب نبیرہ نواب ممتاز علی خان ۲۹ شوال ۱۳۳۷ھ
مجدد مائتہ حاضرہ حضرت مولانا بالفضل اولنا جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت برکاتہم سلام وآداب کے بعد گزارش خدمت کہ ۲۸ جون ۲۹ رمضان المبارك کو رسالہ نظام المشائخ خدمت والا میں روانہ کرکے استدعا کی گئی تھی کہ براہ کرام سجدہ تحیت کے جواز وعدم جواز کی بابت شرع شریف کے مطابق اپنی قیمتی رائے سے خادم کو مطلع فرمایا جائے تاکہ یہ بے بضاعت جناب کے احسان وکرم کی وجہ سے اس عظیم شام مسئلہ میں تشفی واطمینان حاصل کرسکے چند روز ہوئے کہ جناب کہ معرکۃ الآرا تصنیف جو کہ تقویۃ الایمان کے روہ ابطال میں تحریر خادم کی نظر سے گزری اس کے صفحہ ۴۳ پر سجدہ تحیت کے جواز میں جو عبارت مزین ہے وہ حسب ذیل ہے:
"و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس " "ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا " اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کہ وہ سب سجدہ میں گرے سوائے ابلیس کے۔
یوسف نے اپنے ماں باپ کو تکت پر بلند کیا اور وہ سب یوسف کے لئے سجدے میں گر ے۔
یہ خاك بدہن گستاخ اﷲ تعالی ملائکہ آدم ویعقوب ویوسف علیہم الصلوۃ والسلام سب کا شرك ہوا۔اﷲ تعالی نے حکم دیا ملائکہ نے سجدہ کیا آدم راضی ہوئے یعقوب ساجدیوسف رضامند"
پھرجناب والا تحریر فرماتے ہیں:"اور یہاں نسخ کا جھگڑا پیش کرنا ہے محض جہالت۔شرك کسی شریعت میں حلال نہیں ہوسکتا کبھی ممکن نہیں کہ اﷲ تعالی شرك کا حکم دے اگر چہ اسے پھر کبھی منسوخ بھی فرمادے"
اگر جناب براہ کرام اپنی محققانہ رائے سے اس ناچیز کو مطلع فرمائیں گے تو یہ درحقیقت ایك بہت بڑی اسلامی خدمت متصور ہوگی۔جناب کی مذکورہ بالاتحریر کے صریح معنی تو یہی سمجھ میں آئے کہ سجدہ تحیت جائز ہے والسلام مع الکرام۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اللھم لك الحمد یا من خشعت لہ القلوب وخضعت لہ الاعناق وسجدت لہ الجباہ * وحرم السجود فی ھذا الدین المحمود * والشرع المسعود * لمن سواہ * صل وسلم وبارك علی اکرم من سجد لك لیلا ونھارا * وحرم السجود لغیرك تحریماجھارا*وعلی الہ وصحبہ الفائزین بخیرہ*الذین لم یشن اﷲ وجوھھم بالخرور بغیرہ *نورنا اﷲ بانوارھم * ووفقنا الاتباع اثارھم * امین۔ اے اللہ! تعریف وتوصیف تیرے لئے ہے۔اے وہ ذات کہ جس کے لئے دل عاجز ہوگئے۔(یعنی ان میں فروتنی پیدا ہوگئی)اور اس کے لئے گردنیں جھك گئیں اور پیشانیاں سجدہ ریزہوگئیں۔اور اس اچھے دین اور باسعادت شریعت میں اس کے سوا کسی غیر کو سجدہ حرام ہوگیا۔اے اللہ! درود وسلام اور برکت نازل فرما اس مقد س ہستی پر جو ان لوگوں میں سب سے بڑے کریم ہیں۔جنھوں نے رات دن تجھے سجدہ کیا۔اور تیرے سوا کسی دوسرے کو واضح طورپرسجدہ کرنا حرام فرمایا۔ اور ان کی آل اور ساتھیوں پر(نیز درود وسلام اور برکات نازل ہو)جو اس کی بھلائی میں کامیاب ہوگئے۔وہ ایسے ہیں کہ کسی غیر کے آگے گرنے سے۔اﷲ تعالی نے ان کے چہروں کو عیبناك نہیں کیا۔اﷲ تعالی ہمیں ان کے انوار سے روشن فرمائے اور ہمیں ان کے نشانات قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! ہماری یہ دعا قبول فرمالیجئے!(ت)
مسلمان اے مسلمان! اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزت جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔اس کے غیر کو سجدہ عبادت یقینا اجماعا شرك مہین و کفر مبین اور سجدہ تحیت حرام وگناہ کبیرہ بالیقین اور اس کے کفرہونے میں اختلاف علمائے دین
اگر جناب براہ کرام اپنی محققانہ رائے سے اس ناچیز کو مطلع فرمائیں گے تو یہ درحقیقت ایك بہت بڑی اسلامی خدمت متصور ہوگی۔جناب کی مذکورہ بالاتحریر کے صریح معنی تو یہی سمجھ میں آئے کہ سجدہ تحیت جائز ہے والسلام مع الکرام۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اللھم لك الحمد یا من خشعت لہ القلوب وخضعت لہ الاعناق وسجدت لہ الجباہ * وحرم السجود فی ھذا الدین المحمود * والشرع المسعود * لمن سواہ * صل وسلم وبارك علی اکرم من سجد لك لیلا ونھارا * وحرم السجود لغیرك تحریماجھارا*وعلی الہ وصحبہ الفائزین بخیرہ*الذین لم یشن اﷲ وجوھھم بالخرور بغیرہ *نورنا اﷲ بانوارھم * ووفقنا الاتباع اثارھم * امین۔ اے اللہ! تعریف وتوصیف تیرے لئے ہے۔اے وہ ذات کہ جس کے لئے دل عاجز ہوگئے۔(یعنی ان میں فروتنی پیدا ہوگئی)اور اس کے لئے گردنیں جھك گئیں اور پیشانیاں سجدہ ریزہوگئیں۔اور اس اچھے دین اور باسعادت شریعت میں اس کے سوا کسی غیر کو سجدہ حرام ہوگیا۔اے اللہ! درود وسلام اور برکت نازل فرما اس مقد س ہستی پر جو ان لوگوں میں سب سے بڑے کریم ہیں۔جنھوں نے رات دن تجھے سجدہ کیا۔اور تیرے سوا کسی دوسرے کو واضح طورپرسجدہ کرنا حرام فرمایا۔ اور ان کی آل اور ساتھیوں پر(نیز درود وسلام اور برکات نازل ہو)جو اس کی بھلائی میں کامیاب ہوگئے۔وہ ایسے ہیں کہ کسی غیر کے آگے گرنے سے۔اﷲ تعالی نے ان کے چہروں کو عیبناك نہیں کیا۔اﷲ تعالی ہمیں ان کے انوار سے روشن فرمائے اور ہمیں ان کے نشانات قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! ہماری یہ دعا قبول فرمالیجئے!(ت)
مسلمان اے مسلمان! اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزت جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔اس کے غیر کو سجدہ عبادت یقینا اجماعا شرك مہین و کفر مبین اور سجدہ تحیت حرام وگناہ کبیرہ بالیقین اور اس کے کفرہونے میں اختلاف علمائے دین
ایك جماعت فقہاء سے تکفیر منقول اور عندالتحقیق وہ کفر صوری پرمحمول۔کما سیأتی بتوفیق المولی سبحنہ وتعالی (جیساکہ اﷲ تعالی پاك وبرتر کے توفیق دینے سے عنقریب یہ مسئلہ آئے گا۔ت)ہاں مثل صنم وصلیب وشمس وقمر کے لئے سجدے پر مطلقا کفارکما فی شرح المواقف وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ شرح مواقف وغیرہ بڑی کتابوں میں مذکورہے۔ ت)ان کے سوا مثل پیرومزار کے لئے ہر گز ہر گز نہ جائز ومباح جیسا کہ زید کا ادعائے باطل نہ شرك حقیقی نا مغفور جیسا کہ وہابیہ کا زعم عاطل۔بلکہ حرام ہے۔اور کبیرہ وفحشاء۔"فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء" (اﷲ تعالی جس کو چاہے معاف کر دیتاہے اور جس کو چاہے سزاد یتاہے۔ت) ابطال شرك کے لئے تو وہی واقعہ حضرت آدم او رمشہور جمہور پر حضرت یوسف بھی علیہما الصلوۃ والسلام دلیل کافی ہے۔محال ہے کہ مولی کہ ملائکہ وانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کوئی کسی مخلوق کو اپنا شریك کرنے کا حکم دے اگر چہ پھر اس منسوخ بھی فرمائے اور محال ہے کہ ملائکہ وانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام میں سے کوئی کسی کو ایك آن کے لئے شریك خدابنائے یا اسے رواٹھہرائےکوکبۃالشہابیۃ میں اسی کا بیان اور زعم وہابی کا ابطال بین البرہان۔اس کا صرف اتنا مفاد و ومقصود کہ وہابی کا شرك باطل و مردودوہابی نے اس پر شرك نامغفور کا حکم لگا کر آدم ویعقوب ویوسف وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام سب کو معاذاﷲ مشرك بنادیا۔اور رب عزوجل کو(خاك بدہن گستاخی)شرك کاحکم دینے اور جائز رکھنے والا ٹھہرا دیا۔یہ ضرور حق اور افادہ جواز سے اجنبی مطلق کیا جو کچھ شرك نہ ہو سب جائز و رواہے۔یوں تو زناء وقتل وشر ب وخمر واکل خنزیر سب کچھ حلال ٹھہرتاہے کہ یہ باتیں بھی شرك نہیں تو معاذاﷲ سب جائز ہوئی اور جہل صریح وضلال مبین۔والعیاذ باﷲ رب العالمین(اور اﷲ تعالی کی پناہ جو سارے جہانوں کا پروردگا ہے۔ت)اور ابطال اباحت کو احادیث متواترہ اور ائمہ دین کے نصوص وافرہ مسئلہ شرعیہ حدیث وفقہ سے لیا جائے گا اور ان میں اس کی تحریم متواتر اس کے ممنوع وناجائز وگناہ کبیرہ ہونے کی تصریحات متظافرپرچہ نظام المشائخ دہلی رجب ۱۳۳۷ھ کا اس سوال کے ساتھا آیا اس میں متعلق سجدہ تحریر بے تحریر نے ایك ایسے نام سے انتساب پایا جس کی طرف اس کی نسبت نے عجب تعجب دلایا۔اس تحریر میں اول تاآخر جہالتیں سفاہتیں عبارات و مطالب میں طرفہ خیانتیںشرح مطہر پر شدیدجرأتیں حتی کہ خود نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سخت حملہ ہائے بے باك حضور ورب حضور پر افتراہائے ناپاک۔پھر صحابہ وائمہ وفقہاء واولیاء کا کیا ذکر ان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۴۸
کی رفیع شان میں کمال زبان درازوں کی کیا فکر یہاں تك کہ ان کو نہ صرف جاہل ضدی سنگدل بتایا بلکہ بھر منہ شقی ملعون شیطان راندہ درگاہ ٹھہرایا۔وسیجزی اﷲ الفاسقین کذلك یجزی الظالمین(عنقریب اﷲ تعالی نافرمانوں کو سزادے گا اور اسی طرح ظالموں کو بدلہ دے گا۔ت)یہ سب بھی اینہم پر علم تھے کہ اور ضلال کیا کم تھے جب مذہب نہیں کچھ عجب نہیں مگر سخت آفت یہ کہ عبارتیں کی عبارتیں جی سے گھڑیں اور صاف بے دھڑك مشہور کتابوں کی طرف نسبت کردیں تو وہ بھی اس جسارت کی شان سے کہ جلد وصفحہ وباب کے نشان سے مذہبی حالت کچھ سہی۔جسے ادنی حیاوانسانیت کے دائرے میں رہنا پسند ہو کیونکر ان کا مرتکب ہوسکے اگر نہ رسالہ خبیثہ سیف النقی کی طرح پابند اثر دیوبند ہو نہ کہ ایك مشہور شخص جو پیش خویش صوفی وشیخ بننے کا خواہشمند ہو بہر حال مسلمانوں کو اس کے فریبوں سے بچانا لازم اشد جسے ہم نے بکر سے تعبیر کیا ہے کسے باشد مذکور سوال زید کے جنتے مگر ہیں سب مشتے از خروارہ بکر ہیں لہذا خبر گیری اسی کی کافی آئی وکل الصید فی جوف الفراء (ہر شکار فراء کے پیٹ میں ہے۔ت)ایسی تحریرات اگرچہ قطعا نا قابل التفات بعد اشاعت فاحشہ اس کا انسداد امر مہم۔
اب یہ مبارك جواب بتوفیق الوھاب چھ۶ فصل پر منقسم:
فصل ۱: قرآن کریم سے سجدہ تحیت کی تحریمیہ اس کار دہے جو بکر نے صفحہ ۸ پر کہا:"کوئی آیت سجدہ انسان کے خلاف قرآن میں کہیں بھی نہیں"
فصل ۲:چالیس حدیثوں سے سجدہ تحیت کی تحریم:یہ اس کا رد ہے جو بکر نے ایك ضعیف حدیث دکھا کر صفحہ ۹پر کہا:"اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیں سوائے اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں"اﷲ اکبر۔متواترہ حدیثوں کے مقابل یہ ڈھٹائی۔
فصل ۳:ایك سو دس نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کی تحریم۔یہ اس کا رد ہے جو بکر نے صفحہ ۲۳ پر کہا:"سوائے چند جاہل ضدی لوگوں کے کوئی سجدہ تعظیم کے خلاف نہ تھا"صفحہ ۲۴:"اس سے انکار کرنے والے شیطان کی طرح راندہ درگاہ ہوں گے"صفحہ ۱۰: سجدہ تعظیمی کا انکار موجب لعنت و پھٹکار"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (بہت جلدی ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
اب یہ مبارك جواب بتوفیق الوھاب چھ۶ فصل پر منقسم:
فصل ۱: قرآن کریم سے سجدہ تحیت کی تحریمیہ اس کار دہے جو بکر نے صفحہ ۸ پر کہا:"کوئی آیت سجدہ انسان کے خلاف قرآن میں کہیں بھی نہیں"
فصل ۲:چالیس حدیثوں سے سجدہ تحیت کی تحریم:یہ اس کا رد ہے جو بکر نے ایك ضعیف حدیث دکھا کر صفحہ ۹پر کہا:"اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیں سوائے اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں"اﷲ اکبر۔متواترہ حدیثوں کے مقابل یہ ڈھٹائی۔
فصل ۳:ایك سو دس نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کی تحریم۔یہ اس کا رد ہے جو بکر نے صفحہ ۲۳ پر کہا:"سوائے چند جاہل ضدی لوگوں کے کوئی سجدہ تعظیم کے خلاف نہ تھا"صفحہ ۲۴:"اس سے انکار کرنے والے شیطان کی طرح راندہ درگاہ ہوں گے"صفحہ ۱۰: سجدہ تعظیمی کا انکار موجب لعنت و پھٹکار"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (بہت جلدی ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ الدیلمی حدیث ۴۴۱۳۸ ۱۶/ ۱۲۱ و تاج العروس فصل الفاء من باب الہمزۃ ۱/ ۹۶
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
فصل ۴:خود بکر کی سندوں اوراسی کے مستندوں اور اسی کے منہ سے قرآن مجید واحادیث متواترہ واجماع علماء واجماع اولیاء سے سجدہ تحیت حرام ہونے کا ثبوت یہ کاہے کارد ہے اسے بکر سے پوچھئے۔
فصل ۵:اس ذراسی تحریر میں بکر کے افتراء اختراعکذبخیانتجہالتسفاہتکا اظہار
فصل ۶: سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی بحث اور اس سے استدلال مجوز کا قاہر ابطال۔
وباﷲ التوفیق والوصول الی التحقیق والحمدﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا والہ وصحبہ اجمعین۔آمین! اور اﷲ تعالی ہی سے کرم سے حصول توفیق ہے۔اور تحقیق تك رسائی ہوسکتی ہے۔ہر تعریف اﷲ تعالی ہی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ہمارے آقا اور مولی اور ان عذاب کی سب ال اور تمام ساتھیوں پر اﷲ تعالی کی رحمت نازل ہو اے اللہ! ہمار ی دعا قبول فرمالیجئے۔(ت)
فصل اول: قرآن کریم سے سجدہ تحیت کی تحریم
قال ربنا تبارك وتعالی"ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون﴿۸۰﴾ " ۔ (ہمارے رب تبارك وتعالی نے فرمایا)نبی کو یہ نہیں پہنچتا کہ تمھیں حکم فرمائے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو رب ٹھہرالو کیا نبی تمھیں کفر کا حکم دے بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو۔
عبد بن حمید اپنی مسند میں سیدنا ا مام حسن بصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ فرمایا:
بلغنی ان رجلا قال یارسول اﷲ نسلم علیك لما یسلم بعضنا علی بعض افلا نسجدلك قال لاولکن اکرموا نبیکم واعرفوا الحق لاھلہ مجھے حدیث پہنچی کہ ایك صحابی نے عرض کی یارسواﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہم حضور کو بھی ایسا ہی سلام کرتے ہیں جیسا کہ آپس میں کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریںفرمایا نہ بلکہ اپنے نبی کی تعظیم کرو اور سجدہ خاص حق خدا کا ہے۔
فصل ۵:اس ذراسی تحریر میں بکر کے افتراء اختراعکذبخیانتجہالتسفاہتکا اظہار
فصل ۶: سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی بحث اور اس سے استدلال مجوز کا قاہر ابطال۔
وباﷲ التوفیق والوصول الی التحقیق والحمدﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا والہ وصحبہ اجمعین۔آمین! اور اﷲ تعالی ہی سے کرم سے حصول توفیق ہے۔اور تحقیق تك رسائی ہوسکتی ہے۔ہر تعریف اﷲ تعالی ہی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ہمارے آقا اور مولی اور ان عذاب کی سب ال اور تمام ساتھیوں پر اﷲ تعالی کی رحمت نازل ہو اے اللہ! ہمار ی دعا قبول فرمالیجئے۔(ت)
فصل اول: قرآن کریم سے سجدہ تحیت کی تحریم
قال ربنا تبارك وتعالی"ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون﴿۸۰﴾ " ۔ (ہمارے رب تبارك وتعالی نے فرمایا)نبی کو یہ نہیں پہنچتا کہ تمھیں حکم فرمائے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو رب ٹھہرالو کیا نبی تمھیں کفر کا حکم دے بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو۔
عبد بن حمید اپنی مسند میں سیدنا ا مام حسن بصری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ فرمایا:
بلغنی ان رجلا قال یارسول اﷲ نسلم علیك لما یسلم بعضنا علی بعض افلا نسجدلك قال لاولکن اکرموا نبیکم واعرفوا الحق لاھلہ مجھے حدیث پہنچی کہ ایك صحابی نے عرض کی یارسواﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہم حضور کو بھی ایسا ہی سلام کرتے ہیں جیسا کہ آپس میں کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریںفرمایا نہ بلکہ اپنے نبی کی تعظیم کرو اور سجدہ خاص حق خدا کا ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۸۰
فانہ لا ینبغی ان یسجدوا لاحد من دون تعالی فانزل اﷲ تعالی ماکان لبشر الی قول بعد اذا نتم مسلمون o اسے اسی کے لئے رکھو اس لئے کہ اﷲ کے سوا کسی کو سجدہ سزا وار نہیں اس پر اﷲ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔
اکلیل فی استباط التزیل میں اس آیت کے نیچے یہی حدیث اختصار ذکر کے فرمایا:ففیہ تحریم المسجود لغیر اﷲ تعالی (اس میں غیر خدا کے لئے حرمت سجدہ کا بیان ہے۔ت)
تو اس آیہ کریمہ نے غیر خدا کو سجدہ حرام فرمایا:آیت کی ایك شان نزول یہ بھی ہے کہ نصاری نے کہا ہمیں عیسی نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کو خدا مانیں اس پر اتریامام خاتم الحفاظ نے جلالین میں دونوں سبب یکساں بیان کئے:
نزل لما قال نصاری نجران ان عیسی امر ھم ان یتخذوا ربا اولما طلب بعض المسلمین السجود لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ آیت مذکورہ اس وقت نازل ہوئی جب بحران کے عیسائیوں نے کہا کہ حضرت عیسی السلام نے انھیں حکم دیا کہ وہ حضرت عیسی کو رب بنالیںیا اس کانزول اس وقت ہوا جب بعض مسلمانوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے انھیں سجدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔(ت)
اس نے ظاہر کردیا کہ دونوں سبب قوی ہیں کہ خطبہ میں وعدہ ہے کہ تفسیر میں وہی قول لائیں گے جو سب سے صحیح تر ہو اور بیضاوی ومدارك وابوسعود وکشاف وتفسیر کبیر میں وشہاب وجمل وغیرہم عامہ مفسرین نے اسی سبب اول کو ترجیح دی ہے کہ مسلمانوں نے حضور کو سجدے کی درخواست کی اس پر اتری خود آخرآیت میں فرمایا گیاتمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کہ تم مسلمان ہو تو ضرور مسلمان مخاطب ہیں جو خواہان سجدہ ہوئے تھے نہ کہ نصاری۔مدارك شریف وکشاف میں ہے:
بعد اذانتم مسلمون یدل علی ان المخاطبین کانوا مسلمین وھم الذین استأذنوہ ان آیت کے الفاظ"بعد اذا انتم مسلمون"اس بات پردلالت کرتےہیں کہ آیت کریمہ کے مخاطب مسلمان تھے
اکلیل فی استباط التزیل میں اس آیت کے نیچے یہی حدیث اختصار ذکر کے فرمایا:ففیہ تحریم المسجود لغیر اﷲ تعالی (اس میں غیر خدا کے لئے حرمت سجدہ کا بیان ہے۔ت)
تو اس آیہ کریمہ نے غیر خدا کو سجدہ حرام فرمایا:آیت کی ایك شان نزول یہ بھی ہے کہ نصاری نے کہا ہمیں عیسی نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کو خدا مانیں اس پر اتریامام خاتم الحفاظ نے جلالین میں دونوں سبب یکساں بیان کئے:
نزل لما قال نصاری نجران ان عیسی امر ھم ان یتخذوا ربا اولما طلب بعض المسلمین السجود لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ آیت مذکورہ اس وقت نازل ہوئی جب بحران کے عیسائیوں نے کہا کہ حضرت عیسی السلام نے انھیں حکم دیا کہ وہ حضرت عیسی کو رب بنالیںیا اس کانزول اس وقت ہوا جب بعض مسلمانوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے انھیں سجدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔(ت)
اس نے ظاہر کردیا کہ دونوں سبب قوی ہیں کہ خطبہ میں وعدہ ہے کہ تفسیر میں وہی قول لائیں گے جو سب سے صحیح تر ہو اور بیضاوی ومدارك وابوسعود وکشاف وتفسیر کبیر میں وشہاب وجمل وغیرہم عامہ مفسرین نے اسی سبب اول کو ترجیح دی ہے کہ مسلمانوں نے حضور کو سجدے کی درخواست کی اس پر اتری خود آخرآیت میں فرمایا گیاتمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کہ تم مسلمان ہو تو ضرور مسلمان مخاطب ہیں جو خواہان سجدہ ہوئے تھے نہ کہ نصاری۔مدارك شریف وکشاف میں ہے:
بعد اذانتم مسلمون یدل علی ان المخاطبین کانوا مسلمین وھم الذین استأذنوہ ان آیت کے الفاظ"بعد اذا انتم مسلمون"اس بات پردلالت کرتےہیں کہ آیت کریمہ کے مخاطب مسلمان تھے
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید الحسن تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۲/ ۴۷
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۵۴
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۳/ ۸۰ اصح المطابع دہلی ۱/ ۲۴۰
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۵۴
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۳/ ۸۰ اصح المطابع دہلی ۱/ ۲۴۰
یسجدو ا لہ ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے انھیں سجدہ کرنے کی اجازت مانگی۔(ت)
بیضاوی وارشاد العقل میں ہے:
دلیل ان الخطاب للمسلمین وھم المستأذنون لان یسجد وا لہ ۔ آیت میں یہ دلیل ہے کہ اس میں خطاب مسلمانوں کو ہے۔ اوریہ وہی لوگ ہیں کہ جنھوں نے حضور پاك سے انھیں سجدہ کرنے کی اجازت مانگی۔(ت)
کبیر میں قول کشاف نقل کرکے مقرر کھا فتوحات میں ہے:
یقرب ھذا الاحتمال فی اخر الایۃ بعد اذ انتم مسلمون ۔ ایت کریمہ کے آخر میں"بعد اذ انتم مسلمون" کے الفاظ اس احتمال کے قریبی ہونے کو چاہتے ہیں۔(ت)
عنایۃ القاضی میں ہے:
ھذا الفاصلۃ رجیح القول بانھا نزلت فی المسلمین القائلین افلا نسجدلك ۔ یہ فاصلہ اس قول کی ترجیح ہے کہ آیت اﷲ مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی کہ جو حضور پاك سے عرض کررہے تھے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں(ت)
تفسیرنیشاپوری میں بھی اس کی تقویت کی اقول وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں)خطاب نصاری پر انتم مسلمون میں مجاز کی ضرورت ہے کہ نصاری نجران مسلمان کب تھے تو معنی عــــــہ یہ لینے ہونگے ایامرکم آباءکم الاولین بالکفر بعد ان کانوا مسلمین۔کیا عیسی تمھارے اگلے
عــــــہ: اقول:وتاویلی ھذا اصح و اقول:میری یہ تاویل بیضاوی کے حاشیہ میں(باقی اگلے صفحہ پر)
بیضاوی وارشاد العقل میں ہے:
دلیل ان الخطاب للمسلمین وھم المستأذنون لان یسجد وا لہ ۔ آیت میں یہ دلیل ہے کہ اس میں خطاب مسلمانوں کو ہے۔ اوریہ وہی لوگ ہیں کہ جنھوں نے حضور پاك سے انھیں سجدہ کرنے کی اجازت مانگی۔(ت)
کبیر میں قول کشاف نقل کرکے مقرر کھا فتوحات میں ہے:
یقرب ھذا الاحتمال فی اخر الایۃ بعد اذ انتم مسلمون ۔ ایت کریمہ کے آخر میں"بعد اذ انتم مسلمون" کے الفاظ اس احتمال کے قریبی ہونے کو چاہتے ہیں۔(ت)
عنایۃ القاضی میں ہے:
ھذا الفاصلۃ رجیح القول بانھا نزلت فی المسلمین القائلین افلا نسجدلك ۔ یہ فاصلہ اس قول کی ترجیح ہے کہ آیت اﷲ مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی کہ جو حضور پاك سے عرض کررہے تھے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں(ت)
تفسیرنیشاپوری میں بھی اس کی تقویت کی اقول وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں)خطاب نصاری پر انتم مسلمون میں مجاز کی ضرورت ہے کہ نصاری نجران مسلمان کب تھے تو معنی عــــــہ یہ لینے ہونگے ایامرکم آباءکم الاولین بالکفر بعد ان کانوا مسلمین۔کیا عیسی تمھارے اگلے
عــــــہ: اقول:وتاویلی ھذا اصح و اقول:میری یہ تاویل بیضاوی کے حاشیہ میں(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
مدارك التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰۔ ۱/ ۱۶۶ وتفسیر کشاف تحت ۳/ ۸۰ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۴۴۰
انوار التزیل(تفسیر بیضاوی) النصف الاول ص۶۶ وارشادالعقل السلیم تحت آیۃ ۳/ ۸۰ الجزء الثانی ص۵۳
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۳/ ۸۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر الجئز الثامن ص۱۲۱
الفتوحات الالٰہیہ تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۹۱
عنایۃ القاضی علی انوازل التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ دارصادر بیروت ۳/ ۴۱
انوار التزیل(تفسیر بیضاوی) النصف الاول ص۶۶ وارشادالعقل السلیم تحت آیۃ ۳/ ۸۰ الجزء الثانی ص۵۳
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۳/ ۸۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر الجئز الثامن ص۱۲۱
الفتوحات الالٰہیہ تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۹۱
عنایۃ القاضی علی انوازل التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ دارصادر بیروت ۳/ ۴۱
باپ داداؤں کو جو ان کے زمانے میں دین حق پر تھے کفر کاحکم کرتے بعد اس کے کہ وہ ایمان لاچکے تھے اور خطاب مسلمین پر کفر حل تاویل کی حاجت ہے کہ مسلمان نے ہر گز سجدہ عبادت نہ چاہا۔
اولا: یہ صحابہ سے معقول تھا روز اول سے تو حید کا آفتاب عالم آشکار فرمادیا تھا موافق مخالف نزدیك کادورہر شخص جانتا تھا ہرگھر میں چر چا تھا کہ یہ ایك اﷲ کی عبادت بلاتے اور شرك کے برابر کسی شیئ کو دشمن نہیں رکھتے تو کسی صحابی سے عبادات نبی کی درخواست اور وہ بھی خود نبی سے کیونکہ متصور تھی خصوصا سجدہ کی درخواست کرنے والے کون تھےاجلہ صحابہ معاذ بن جنبل وقیس بن سعد وسلمان فارسی حتی کہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہم جیسا کہ فصل احادیث میں آتاہے۔
ثانیا: حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جواب میں یہی فرمایا کہ ایسا نہ کرویہ نہ فرمایا کہ تم عبادت غیر کی درخواست کرکے کافر ہوگئے تمھاری عورتیں نکاح سے نکل گئیں تو بہ کرو دوبارہ اسلام لاؤپھر عورتیں راضی ہوں تو ان سے نکاح کرو۔
ثالثا: سب سے زائد یہ کہ مولی تعالی بھی تو خود اسی آیت میں ان کو مسلمان بتارہاہے کہ تم تو مسلمان ہوکیا تمھیں کفر کاحکم دیں۔ لہذا امام محمد بن حافظ الدین وجیز میں فرماتے ہیں:
قول تعالی مخاطبا الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم ایأمرکم بالکفر بعد اذا انتم مسلموننزلت حین استأذنوا فی اﷲ عزوجل نے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے فرمایا کیا نبی تمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو یہ آیت اس وقت اتری جب صحابہ نے رسول اﷲ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اظھر من تاویل الشھاب فی حاشیۃ البیضاوی اذ قال وان جاز ان یقال للنصاری انامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون ای منقادون و مستعدون لقبول الدین الحق ارخاء للعنان واستدراجا اھ ففیہ مالایخفی علی نبیہ ۱۲ منہ۔ شہاب کی اس تاویل سے اصح واظہر ہے جو انھوں نے فرمایا کہ نصاری کو یہ کہنا کیا ہم تمھیں کفر کا حکم کرتے جب تم مسلمان ہو چکے اگر جائز ہے تو اس معنی میں کہ مطیع ہوچکے ہو اور دین حق کو قبول کرنے میں رغبت پیدا کرچکے ہو یہ بطور ارضاء عنان و استدراج ہے اھ تو اس تاویل میں اعتراض ہے جو سمجھدا ر پر مخفی نہیں ہے۔ ۱۲ منہ(ت)
اولا: یہ صحابہ سے معقول تھا روز اول سے تو حید کا آفتاب عالم آشکار فرمادیا تھا موافق مخالف نزدیك کادورہر شخص جانتا تھا ہرگھر میں چر چا تھا کہ یہ ایك اﷲ کی عبادت بلاتے اور شرك کے برابر کسی شیئ کو دشمن نہیں رکھتے تو کسی صحابی سے عبادات نبی کی درخواست اور وہ بھی خود نبی سے کیونکہ متصور تھی خصوصا سجدہ کی درخواست کرنے والے کون تھےاجلہ صحابہ معاذ بن جنبل وقیس بن سعد وسلمان فارسی حتی کہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہم جیسا کہ فصل احادیث میں آتاہے۔
ثانیا: حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جواب میں یہی فرمایا کہ ایسا نہ کرویہ نہ فرمایا کہ تم عبادت غیر کی درخواست کرکے کافر ہوگئے تمھاری عورتیں نکاح سے نکل گئیں تو بہ کرو دوبارہ اسلام لاؤپھر عورتیں راضی ہوں تو ان سے نکاح کرو۔
ثالثا: سب سے زائد یہ کہ مولی تعالی بھی تو خود اسی آیت میں ان کو مسلمان بتارہاہے کہ تم تو مسلمان ہوکیا تمھیں کفر کاحکم دیں۔ لہذا امام محمد بن حافظ الدین وجیز میں فرماتے ہیں:
قول تعالی مخاطبا الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم ایأمرکم بالکفر بعد اذا انتم مسلموننزلت حین استأذنوا فی اﷲ عزوجل نے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے فرمایا کیا نبی تمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو یہ آیت اس وقت اتری جب صحابہ نے رسول اﷲ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اظھر من تاویل الشھاب فی حاشیۃ البیضاوی اذ قال وان جاز ان یقال للنصاری انامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون ای منقادون و مستعدون لقبول الدین الحق ارخاء للعنان واستدراجا اھ ففیہ مالایخفی علی نبیہ ۱۲ منہ۔ شہاب کی اس تاویل سے اصح واظہر ہے جو انھوں نے فرمایا کہ نصاری کو یہ کہنا کیا ہم تمھیں کفر کا حکم کرتے جب تم مسلمان ہو چکے اگر جائز ہے تو اس معنی میں کہ مطیع ہوچکے ہو اور دین حق کو قبول کرنے میں رغبت پیدا کرچکے ہو یہ بطور ارضاء عنان و استدراج ہے اھ تو اس تاویل میں اعتراض ہے جو سمجھدا ر پر مخفی نہیں ہے۔ ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
عنایۃ القاضی علی انوار التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ دارصادر بیروت ۳/ ۴۱
السجود لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولایخفی ان الاستئذان لسجود التحیۃ بدلالۃ بعد اذ انتم مسلمونومع اعتقاد جواز سجدۃ العبادۃ لایکون مسلما فکیف یطلق علیہم بعد اذ انتم مسلمون ۔ صلی اﷲ تعالی علیہ ولسم کو سجدہ کرنے کی اجازت چاہی اور ظاہر ہے کہ انھوں نے سجدہ تحیت کی درخواست کی تھی اس دلیل سے کہ فرماتا ہے کہ بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو اور سجدہ عبادت جائز مان کر مسلمان نہیں رہتا تویہ کیونکر فرمایا جاتا کہ بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)بعدہ یہی دلیل روشن کررہی ہے کہ کفر سے کفر حقیقی مراد نہیں کہ کفر حقیقی کی درخواست کرکے بھی مسلمان نہیں رہتا پھر کیونکر فرمایا جاتاکہ بعداس کے کہ تم مسلمان ہو
وقد کان استدل بہ البعض القائلون بان سجدۃ التحیۃ کفر مطلقاوذکرہ فی الوجیز دلیلالھم فانقلب الدلیل علی المدعی وثبت انھا لیست یکفر کما علیہ الجمھور والمحققون فاحفظ وتثبت وﷲ الحمد۔ بعض لوگوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جو سجدہ تعظیمی کے علی الاطلاق کفر کے قائل ہیںوجیز میں ان کی دلیل ذکر فرمائی۔پھر دلیل دعوی پر پلٹ آئی تو یہ ثابت ہوگیا کہ سجدہ تعظیمی کفر نہیں جیسا کہ جمہور اور اہل تحقیق کا یہ مؤقف ہے۔ لہذا اس کو یادرکھو اور اﷲ تعالی ہی کے لئے حمدہے۔(ت)
لاجرم کفر سے مراد کفر دون کفر ہوگا جو محاورات شارح میں شائع ہے خصوصا سجدہ کہ نہایت مشابہ پرستش غیر ہے فصل دوم میں زمین بوسی کی نسبت کافی شرح وافی وکفایہ شرح ہدایہ وتبیین شرح کنز ودرمختار ومجمع الانہر وفتح اﷲ المعین وجواہر اخلاطی وغیرہا سے آئے گا لانہ یشبہ عبادۃ الوثن بت پرستی کے مشابہ ہےتو سجدہ تو مشابہ تر کفر ہوگااس کی صورت بعینہا صورت کفر بلا ادنی تفاوت ہے تو کفر صوری ضرور ہے جیسا کہ فصل دوم میں خلاصہ ومحیط ومنح الروض ونصاب الاحتساب وغیرہا سے آتا ہے ان ھذا کفر صورۃ سجدہ صورت کفر ہے۔
وھو احدمنازع ھذا الاطلاق فی اہل علم کے کلام میں جو اطلاق ہے اس میں یہ
اقول:(میں کہتاہوں)بعدہ یہی دلیل روشن کررہی ہے کہ کفر سے کفر حقیقی مراد نہیں کہ کفر حقیقی کی درخواست کرکے بھی مسلمان نہیں رہتا پھر کیونکر فرمایا جاتاکہ بعداس کے کہ تم مسلمان ہو
وقد کان استدل بہ البعض القائلون بان سجدۃ التحیۃ کفر مطلقاوذکرہ فی الوجیز دلیلالھم فانقلب الدلیل علی المدعی وثبت انھا لیست یکفر کما علیہ الجمھور والمحققون فاحفظ وتثبت وﷲ الحمد۔ بعض لوگوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جو سجدہ تعظیمی کے علی الاطلاق کفر کے قائل ہیںوجیز میں ان کی دلیل ذکر فرمائی۔پھر دلیل دعوی پر پلٹ آئی تو یہ ثابت ہوگیا کہ سجدہ تعظیمی کفر نہیں جیسا کہ جمہور اور اہل تحقیق کا یہ مؤقف ہے۔ لہذا اس کو یادرکھو اور اﷲ تعالی ہی کے لئے حمدہے۔(ت)
لاجرم کفر سے مراد کفر دون کفر ہوگا جو محاورات شارح میں شائع ہے خصوصا سجدہ کہ نہایت مشابہ پرستش غیر ہے فصل دوم میں زمین بوسی کی نسبت کافی شرح وافی وکفایہ شرح ہدایہ وتبیین شرح کنز ودرمختار ومجمع الانہر وفتح اﷲ المعین وجواہر اخلاطی وغیرہا سے آئے گا لانہ یشبہ عبادۃ الوثن بت پرستی کے مشابہ ہےتو سجدہ تو مشابہ تر کفر ہوگااس کی صورت بعینہا صورت کفر بلا ادنی تفاوت ہے تو کفر صوری ضرور ہے جیسا کہ فصل دوم میں خلاصہ ومحیط ومنح الروض ونصاب الاحتساب وغیرہا سے آتا ہے ان ھذا کفر صورۃ سجدہ صورت کفر ہے۔
وھو احدمنازع ھذا الاطلاق فی اہل علم کے کلام میں جو اطلاق ہے اس میں یہ
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الفاظ تکون اسلاما اوکفرا الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۴۳
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفر المصطفی البابی مصر ص۱۹۳
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفر المصطفی البابی مصر ص۱۹۳
کلامھم کما سیأتی بعونہ عزوجل۔ ایك تنازع کی جگہ ہے جیسا کہ اﷲ تعالی عزت والے اوربڑی شان والے کی مدد سے عنقریب آئے گا(ت)
بہر حال آیۃ کریمہ میں ایك طریقہ تجوز ہے لہذا امام خاتم الحفاظ نے دونوں شان نزول برابر رکھیں اور شك نہیں کہ ایك ایك آیت کے لئے کئی کئی شان نزول ہوتے ہیں اور قرآن کریم اپنے جمیع وجوہ پر حجت ہے کما فی التفسیر الکبیر وشرح المواھب للزرقانی وغیرھما (جیسا کہ تفسیر کبیر اور شارح مواہب اللزرقانی وغیرہما میں ہے۔ت)تو قرآن عظیم نے ثابت فرمایا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے کہ مشابہ کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالی صحابہ کرام نے حضور کو سجدہ تحیت کی اجازت چاہی اس پر ارشاد ہوا کیا تمھیں کفر کا حکم دیںمعلوم ہوا کہ سجدہ تحیت ایسی قبیح چیز ایسا سخت حرام ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا:جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے سجدہ تحیت کا یہ حکم ہے پھر اوروں کا کیا ذکر۔واﷲ الھادی۔
فصل دوم: چالیس حدیثوں سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
حدیث میں چہل حدیث کی بہت فضیلت آتی ہے۔ائمہ وصلحاء نے رنگ رنگ کی چہل حدیثیں لکھی ہیں ہم بتوفیقہ تعالی یہاں غیر خدا کو سجدہ حرام ہونے کی چہل حدیث لکھتے ہیں یہ حدیثیں دو۲ نوع:
نوع اول:سجدہ غیر کی مطلقا ممانعت۔
حدیث عــــــہ اول۱:جامع ترمذی وصحیح ابن حبان وصحیح مستدرك ومسند بزار وسنن بیہقی میں ابوہریرہ
عــــــہ: رأیتہ فی جامع الترمذی وغرہ فی الدرالمنثور تحت قولہ عزوجل الرجال قوامون علی النساء للبزار والحاکم والبیھقی وفی نکاح والترغیب وذیل الجامع الصغیر لابن حبان اقتصر فی ھذا علی مرفوعہ مشیا من الکتاب علی موضوعہ و وقع فی کنز العمال رمزن للنسائی وھو تصحیف ت للترمذی ۱۲ منہ۔ میں نےیہ حدیث جامع ترمذی میں دیکھی ہے اور اس کو درمنثور نے آیۃ کریمہ"الرجال قوامون علی النساء"کی تفسیر میں بزار حاکم اور بیہقی کی طرف منسوب کیا ہے اور ترغیب کے باب نکاح اور جامع صغیر کے ذیل میں اس کو ابن حبان کی طرف منسوب کیا اور اس میں صرف مرفوع حصہ پر اقتصار کیا ہے اپنی کتاب کے موضوع کے مطابق اور کنزا العمال میں رمز ن نسائی واقع ہے حالانکہ یہ رمز ت کی جگہ ن کو ذکر کردیا گیا ہے یعنی ترمذی کے بجائے غلطی سے نسائی کا رمز کردیا ہے۔۱۲ منہ(ت)
بہر حال آیۃ کریمہ میں ایك طریقہ تجوز ہے لہذا امام خاتم الحفاظ نے دونوں شان نزول برابر رکھیں اور شك نہیں کہ ایك ایك آیت کے لئے کئی کئی شان نزول ہوتے ہیں اور قرآن کریم اپنے جمیع وجوہ پر حجت ہے کما فی التفسیر الکبیر وشرح المواھب للزرقانی وغیرھما (جیسا کہ تفسیر کبیر اور شارح مواہب اللزرقانی وغیرہما میں ہے۔ت)تو قرآن عظیم نے ثابت فرمایا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے کہ مشابہ کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالی صحابہ کرام نے حضور کو سجدہ تحیت کی اجازت چاہی اس پر ارشاد ہوا کیا تمھیں کفر کا حکم دیںمعلوم ہوا کہ سجدہ تحیت ایسی قبیح چیز ایسا سخت حرام ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا:جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے سجدہ تحیت کا یہ حکم ہے پھر اوروں کا کیا ذکر۔واﷲ الھادی۔
فصل دوم: چالیس حدیثوں سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
حدیث میں چہل حدیث کی بہت فضیلت آتی ہے۔ائمہ وصلحاء نے رنگ رنگ کی چہل حدیثیں لکھی ہیں ہم بتوفیقہ تعالی یہاں غیر خدا کو سجدہ حرام ہونے کی چہل حدیث لکھتے ہیں یہ حدیثیں دو۲ نوع:
نوع اول:سجدہ غیر کی مطلقا ممانعت۔
حدیث عــــــہ اول۱:جامع ترمذی وصحیح ابن حبان وصحیح مستدرك ومسند بزار وسنن بیہقی میں ابوہریرہ
عــــــہ: رأیتہ فی جامع الترمذی وغرہ فی الدرالمنثور تحت قولہ عزوجل الرجال قوامون علی النساء للبزار والحاکم والبیھقی وفی نکاح والترغیب وذیل الجامع الصغیر لابن حبان اقتصر فی ھذا علی مرفوعہ مشیا من الکتاب علی موضوعہ و وقع فی کنز العمال رمزن للنسائی وھو تصحیف ت للترمذی ۱۲ منہ۔ میں نےیہ حدیث جامع ترمذی میں دیکھی ہے اور اس کو درمنثور نے آیۃ کریمہ"الرجال قوامون علی النساء"کی تفسیر میں بزار حاکم اور بیہقی کی طرف منسوب کیا ہے اور ترغیب کے باب نکاح اور جامع صغیر کے ذیل میں اس کو ابن حبان کی طرف منسوب کیا اور اس میں صرف مرفوع حصہ پر اقتصار کیا ہے اپنی کتاب کے موضوع کے مطابق اور کنزا العمال میں رمز ن نسائی واقع ہے حالانکہ یہ رمز ت کی جگہ ن کو ذکر کردیا گیا ہے یعنی ترمذی کے بجائے غلطی سے نسائی کا رمز کردیا ہے۔۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
الدرالمنثور تحت آیۃ الرجال قوامون الخ ۲ /۱۵۲
اترغیب والترھیب حدیث ۱۹ ۳/ ۵۴
کنزالعمال حدیث ۴۴۷۹۴ ۱۶/ ۳۳۶
کنزالعمال حدیث ۴۴۷۷۳ ۱۶/ ۳۳۲
اترغیب والترھیب حدیث ۱۹ ۳/ ۵۴
کنزالعمال حدیث ۴۴۷۹۴ ۱۶/ ۳۳۶
کنزالعمال حدیث ۴۴۷۷۳ ۱۶/ ۳۳۲
رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
قال جاءت امرأۃ الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقالت یارسول اﷲ اخبر نی ماحق الزوج علی الزوجۃ قال لوکان ینبغی لبشر ان یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا اذا دخل علیہالما فضلہ اﷲ علیھا ھذا لفظ البزار والحاکم والبیھقی وعندالترمذی المرفوع منہ بلفظ لوکنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ ایك عورت نے بار گاہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ میں حاضر ہوکر عرض کی یا رسول اﷲ شوہر کا عورت پر کیا حق ہے۔ فرمایا اگر کسی بشر کو لائق ہوتا کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے تومیں عورت کو فرماتا کہ جب شوہرگھر میں آئے اسے سجدہ کرے اس فضیلت کے سبب جو اﷲ نے اسے اس پر رکھی ہے یہ الفاظ بزرحاکم اور بیہقی کے ہیں۔امام ترمذی کے ہاں مرفوع الفاظ یہ ہیں کہ اگر کسی کو کسی کے لئے سجدہ کاحکم فرماتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے۔(ت)
حدیث عــــــہ دوم۲:بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
قال دخل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حائطا فجاء بعیر فسجد لہ فقالوا ھذہ بہیمۃ لاتعقل سجدت لك ونحن نعقل فنحن ان نسجد لك فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبشران یسجد بشرلو صلح لامرت المرأۃ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم ایك باغ میں تشریف لے گئے ایك اونٹ نے حاضر ہوکر حضور کو سجدہ کیا صحابہ نے عرض کی یہ بے عقل چوپایہ ہے اس نے حضور کو سجدہ کیا ہم تو عقل رکھتے ہیں ہمیں زیادہ لائق ہے کہ حضور کوسجدہ کریں۔فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
عــــــہ: شروح الشفاء الخفاجی والقاری و مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء للامام خاتم الحافظ ۱۲ منہ۔ شفاء شریف کی شروح خفاجی اور قاری کی اور مناہل الصفا تخریج احادیث الشفاء امام خاتم الحفظ کی۔۱۲ منہ(ت)
قال جاءت امرأۃ الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقالت یارسول اﷲ اخبر نی ماحق الزوج علی الزوجۃ قال لوکان ینبغی لبشر ان یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا اذا دخل علیہالما فضلہ اﷲ علیھا ھذا لفظ البزار والحاکم والبیھقی وعندالترمذی المرفوع منہ بلفظ لوکنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ ایك عورت نے بار گاہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ میں حاضر ہوکر عرض کی یا رسول اﷲ شوہر کا عورت پر کیا حق ہے۔ فرمایا اگر کسی بشر کو لائق ہوتا کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے تومیں عورت کو فرماتا کہ جب شوہرگھر میں آئے اسے سجدہ کرے اس فضیلت کے سبب جو اﷲ نے اسے اس پر رکھی ہے یہ الفاظ بزرحاکم اور بیہقی کے ہیں۔امام ترمذی کے ہاں مرفوع الفاظ یہ ہیں کہ اگر کسی کو کسی کے لئے سجدہ کاحکم فرماتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے۔(ت)
حدیث عــــــہ دوم۲:بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
قال دخل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حائطا فجاء بعیر فسجد لہ فقالوا ھذہ بہیمۃ لاتعقل سجدت لك ونحن نعقل فنحن ان نسجد لك فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لبشران یسجد بشرلو صلح لامرت المرأۃ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم ایك باغ میں تشریف لے گئے ایك اونٹ نے حاضر ہوکر حضور کو سجدہ کیا صحابہ نے عرض کی یہ بے عقل چوپایہ ہے اس نے حضور کو سجدہ کیا ہم تو عقل رکھتے ہیں ہمیں زیادہ لائق ہے کہ حضور کوسجدہ کریں۔فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
عــــــہ: شروح الشفاء الخفاجی والقاری و مناھل الصفا فی تخریج احادیث الشفاء للامام خاتم الحافظ ۱۲ منہ۔ شفاء شریف کی شروح خفاجی اور قاری کی اور مناہل الصفا تخریج احادیث الشفاء امام خاتم الحفظ کی۔۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
کشف الاستار عن زوائد البزار حدیث ۱۴۶۶ باب حق الزوج علی زوجتہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۷۸،المستدرك للحاکم کتا ب النکاح ۲/ ۱۸۹ و الترغیب والترھیب بحوالہ البزار والحاکم ۳/ ۵۴
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۸
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۸
ان تسجد لزوجھا لما لہ من الحق علیھا ۔ آدمی کو لائق نہیں کہ آدمی کو سجدہ کرے ایسا مناسب ہوتا تو میں عورت کو فرماتا کہ شوہر کو سجدہ کرے اس حق کے سبب جو اس کا اس پر ہے۔
امام جلال الدین سیوطی نے مناہل الصفا میں فرمایا:اس حدیث کی سند حسن ہے۔
حدیث عــــــہ سوم۳:احمد ونسائی وبزار وابونعیم انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال کان اھل بیت من الانصار لھم جمل یسنون علیہ وانہ استصعب علیھم(فذکر القصۃ الی قولہ) فلما نظر الجمل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خر ساجدا بین یدیہ فقال لہ اصحابہ یار سول اﷲ ھذہ بہیمۃ لاتعقل تسجد لك ونحن نعقل فنحن احق ان یعنی انصار میں ایك گھر کا آبکشی کا اونٹ بگڑ گیا کسی کو پاس نہ آنے دیتا کھیتی اور کھجوریں پیاسی ہوئیں۔سرکار میں شکایت عرض کی صحابہ سے ارشاد ہوا چلو باغ میں تشریف فرما ہوں۔اونٹ اس کنارے پر تھا۔حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف چلے۔انصارنے عرض کی یا رسول اللہ! وہ بورا نے(باؤلے)کتے کی طرح ہوگیا ہے مبادا حملہ کرے۔فرمایا ہمیں اس کا اندیشہ نہیں۔ اونٹ حضور کو دیکھ کر
عــــــہ: عزاہ لاحمد فی الدرالمنثور ولہ للنسائی فی المواھب وفی الترغیب البزار قال المنذری رواہ النسائی مختصرا اھ ورأیتہ لابی نعیم فی دلائل النبوۃ ووقع فی کنزالعمال رمز ت للترمذی وھو تصحیف ن للنسائی عکس ماسبق علقہ الترمذی عن کثیرین تحت حدیث ابی ھریرۃ الاول منھم الانس رضی اﷲ تعال عنہم ۱۲ منہ غفرلہ۔ درمنثور میں احمد اور مواہب میں حمد اورنسائی کی طرف منسوب ہے اور ترغیب میں بزار کا اضافہ ہے۔امام منذری نے کہا۔اور اس کونسائی نے مختصرا روایت کیا ہے اھ اور میں نے ابونعیم کی دلائل النبوۃ میں دیکھا کہ اور کزشتہ غلطی کے برعکس یہاں غلطی ہے اس کو ترمذی نے ابوہریرہ کی حدیث کے تحت حضرات سے بطور تعلیق روایت کیاہے ان حضرات میں پہلے حضرت انس رضی اﷲ عنہم ہیں۔۱۲ منہ(ت)
امام جلال الدین سیوطی نے مناہل الصفا میں فرمایا:اس حدیث کی سند حسن ہے۔
حدیث عــــــہ سوم۳:احمد ونسائی وبزار وابونعیم انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال کان اھل بیت من الانصار لھم جمل یسنون علیہ وانہ استصعب علیھم(فذکر القصۃ الی قولہ) فلما نظر الجمل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خر ساجدا بین یدیہ فقال لہ اصحابہ یار سول اﷲ ھذہ بہیمۃ لاتعقل تسجد لك ونحن نعقل فنحن احق ان یعنی انصار میں ایك گھر کا آبکشی کا اونٹ بگڑ گیا کسی کو پاس نہ آنے دیتا کھیتی اور کھجوریں پیاسی ہوئیں۔سرکار میں شکایت عرض کی صحابہ سے ارشاد ہوا چلو باغ میں تشریف فرما ہوں۔اونٹ اس کنارے پر تھا۔حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف چلے۔انصارنے عرض کی یا رسول اللہ! وہ بورا نے(باؤلے)کتے کی طرح ہوگیا ہے مبادا حملہ کرے۔فرمایا ہمیں اس کا اندیشہ نہیں۔ اونٹ حضور کو دیکھ کر
عــــــہ: عزاہ لاحمد فی الدرالمنثور ولہ للنسائی فی المواھب وفی الترغیب البزار قال المنذری رواہ النسائی مختصرا اھ ورأیتہ لابی نعیم فی دلائل النبوۃ ووقع فی کنزالعمال رمز ت للترمذی وھو تصحیف ن للنسائی عکس ماسبق علقہ الترمذی عن کثیرین تحت حدیث ابی ھریرۃ الاول منھم الانس رضی اﷲ تعال عنہم ۱۲ منہ غفرلہ۔ درمنثور میں احمد اور مواہب میں حمد اورنسائی کی طرف منسوب ہے اور ترغیب میں بزار کا اضافہ ہے۔امام منذری نے کہا۔اور اس کونسائی نے مختصرا روایت کیا ہے اھ اور میں نے ابونعیم کی دلائل النبوۃ میں دیکھا کہ اور کزشتہ غلطی کے برعکس یہاں غلطی ہے اس کو ترمذی نے ابوہریرہ کی حدیث کے تحت حضرات سے بطور تعلیق روایت کیاہے ان حضرات میں پہلے حضرت انس رضی اﷲ عنہم ہیں۔۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ احمدوالبزار باب فی معجزاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الخ دارالکتب بیروت ۹/ ۷۱۴،نسیم الریاض فصل فی الآیات فی ضروب الحیوانات ۳ /۸۰،۸۱ و شرح الشفاء لملاعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض۳/ ۸۰
الدرالمنثور ۲/ ۱۵۴
المواھب اللدنیہ معجزات کلام الحیوانات ۲/ ۵۴۹
الترغیب والترھیب حدیث ۲۰ ۳/ ۵۵
کنزالعمال حدیث ۴۴۷۷۷ ۱۶/ ۳۳۳
الدرالمنثور ۲/ ۱۵۴
المواھب اللدنیہ معجزات کلام الحیوانات ۲/ ۵۴۹
الترغیب والترھیب حدیث ۲۰ ۳/ ۵۵
کنزالعمال حدیث ۴۴۷۷۷ ۱۶/ ۳۳۳
نسجد لك قال لایصلح لبشران یسجد لبشرولو صلح ان یسجد بشر لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا من عظم حقہ علیھا وعند النسائی مختصرا۔ چلا اور قریب آکر حضور کے لئے سجدہ میں گرا حضور نے اس کے ماتھے کے بال پکڑ کر کام میں دے دیا وہ بکری کی طرح ہو گیا(آگے وہی ہے کہ)صحابہ نے عرض کی ہم تو ذی عقل ہیں ہم زیادہ مستحق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں۔فرمایا آدمی کو لائق نہیں کہ کسی بشر کو سجدہ کرے ورنہ میں عورت کو مرد کے سجدے کاحکم فرماتا۔
امام منذری نے کہا اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے راوی مشاہیر ثقہ۔
حدیث عــــــہ چہارم۴:امام احمد وبزار وابونعیم انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال دخل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حائطا الانصار ومعہ ابوبکر وعمر فی رجال من الانصار وفی الحائط غنم فسجدن لہ فقال ابوبکر یا رسول اﷲ کنا نحن احق بالسجود لك من ھذہ الغنم قال انہ لاینبغی فی امتی ان یسجد احد لاحد ولو کان ینبغی ان یسجد احد لاحد حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انصار کے ایك باغ میں تشریف فرما ہوئے صدیق وفاروق اور کچھ انصار رضی اﷲ تعالی عنہ ہمرارکاب تھے باغ میں بکریاں تھیں انھوں نے حضور کو سجدہ کیا صدیق نے عرض کی یا رسول اﷲ ! ان بکریوں سے ہم زیادہ حقدار ہیں اس کے کہ حضور کو سجدہ کریںتو فرمایا بیشك میری امت میں نہ چاہئے کہ کوئی کسی کو سجدہ کرے۔
عــــــہ: عزاہ فی المواھب لابی محمد عبداﷲ بن حامد الفقیہ فی کتاب دلائل النبوۃ لہ فقال الزرقانی مابعد المصنف التجوز فقد رواہ احمد والبزار وکذلك عزاہ لھما الامام السیوطی فی مناھل الصفا فی تخریج حدیث الشفاء وررأیتہ ابی نعیم فی دلائل النبوۃ والیہ عزا فی الخصائص ۱۲ منہ۔ مواہب میں اس کو ابو محمد بن عبداﷲ بن حامد فقیہ کی کتاب دلائل النبوۃ کی طرف منسوب کیا ہے تو زرقانی نے کہا مصنف کا مجازا ذکر ہے۔تو اس کو احمد اور بزار نے روایت کیا اوریونہی امام سیوطی نے مناھل الصفا میں ان دونوں کی طرف منسوب کیا اور میں نے اس کو ابونعیم کی دلائل النبوۃمیں دیکھا ہے اور امام السیوطی نے خصائص میں اس کی طرف منسوب کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
امام منذری نے کہا اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے راوی مشاہیر ثقہ۔
حدیث عــــــہ چہارم۴:امام احمد وبزار وابونعیم انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال دخل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حائطا الانصار ومعہ ابوبکر وعمر فی رجال من الانصار وفی الحائط غنم فسجدن لہ فقال ابوبکر یا رسول اﷲ کنا نحن احق بالسجود لك من ھذہ الغنم قال انہ لاینبغی فی امتی ان یسجد احد لاحد ولو کان ینبغی ان یسجد احد لاحد حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انصار کے ایك باغ میں تشریف فرما ہوئے صدیق وفاروق اور کچھ انصار رضی اﷲ تعالی عنہ ہمرارکاب تھے باغ میں بکریاں تھیں انھوں نے حضور کو سجدہ کیا صدیق نے عرض کی یا رسول اﷲ ! ان بکریوں سے ہم زیادہ حقدار ہیں اس کے کہ حضور کو سجدہ کریںتو فرمایا بیشك میری امت میں نہ چاہئے کہ کوئی کسی کو سجدہ کرے۔
عــــــہ: عزاہ فی المواھب لابی محمد عبداﷲ بن حامد الفقیہ فی کتاب دلائل النبوۃ لہ فقال الزرقانی مابعد المصنف التجوز فقد رواہ احمد والبزار وکذلك عزاہ لھما الامام السیوطی فی مناھل الصفا فی تخریج حدیث الشفاء وررأیتہ ابی نعیم فی دلائل النبوۃ والیہ عزا فی الخصائص ۱۲ منہ۔ مواہب میں اس کو ابو محمد بن عبداﷲ بن حامد فقیہ کی کتاب دلائل النبوۃ کی طرف منسوب کیا ہے تو زرقانی نے کہا مصنف کا مجازا ذکر ہے۔تو اس کو احمد اور بزار نے روایت کیا اوریونہی امام سیوطی نے مناھل الصفا میں ان دونوں کی طرف منسوب کیا اور میں نے اس کو ابونعیم کی دلائل النبوۃمیں دیکھا ہے اور امام السیوطی نے خصائص میں اس کی طرف منسوب کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References
دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی والعشرون الجزء الثانی عالم الکتب بیروت ص۱۳۷،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۹۔۵۸
المواہب اللدنیہ ۲/ ۵۵۱
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ۵/ ۱۴۳
الخصائص الکبرٰی ۲/ ۲۶۵
المواہب اللدنیہ ۲/ ۵۵۱
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ۵/ ۱۴۳
الخصائص الکبرٰی ۲/ ۲۶۵
لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ اور ایسا مناسب ہوتا تومیں عورت کو شوہر کو سجدے کا حکم فرماتا۔
ملا علی قاری نے شرح الشفاء امام قاضی عیاض میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے علامہ خفاجی نے نسیم الریاض میں کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث پنجم۵:بیہقی وابونعیم دلائل النبوۃ میں عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
بینما نحن قعود مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا تاہ ات فقال یا رسول اﷲناضح آل فلاں قدابق علیھم فنھض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(فذکر القصۃ وفیہ سجود البعیر لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)قال فقال اصحابہ یا رسول اﷲ بہیمۃ من البھائم تسجد لك لتعظیم حقك فنحن احق ان نسجد لك قال لا لوکنت آمرا احدا من امتی ان یسجد بعضھم لبعض لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن ۔ ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھے کسی نے آکر عرض کی فلاں گھر کا شتر آبکش بے قابو ہوگیا حضور اٹھے اور ہم ہمراہ رکاب اٹھے ہم نے عرض کی حضور! اس کے پاس نہ جائیں۔حضور تشریف لے گئے اونٹ کی نظر جمال انور پر پڑنا اور اس کا سجدے میں گرنا صحابہ نے عرض کی:یا رسول اللہ! ایك چوپایہ تو حضور کی تعظیم حق کے لئے حضور کو سجدہ کرے ہم زیادہ اس کے لائق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریںفرمایا:نہیں اگر میں اپنی امت میں ایك دوسرے کو سجدہ کا حکم دیتا تو عورتوں کو فرماتا کہ شوہروں کو سجدہ کریں۔
حدیث ششم۶:احمد مسند اور حاکم مستدرك اور طبرانی معجم کبیر اور بیہقی ابونعیم دلائل النبوۃ اور بغوی شرح سنہ میں یعلی بن مرۃ ثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال خرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك روز حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
ملا علی قاری نے شرح الشفاء امام قاضی عیاض میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے علامہ خفاجی نے نسیم الریاض میں کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث پنجم۵:بیہقی وابونعیم دلائل النبوۃ میں عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
بینما نحن قعود مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا تاہ ات فقال یا رسول اﷲناضح آل فلاں قدابق علیھم فنھض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(فذکر القصۃ وفیہ سجود البعیر لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)قال فقال اصحابہ یا رسول اﷲ بہیمۃ من البھائم تسجد لك لتعظیم حقك فنحن احق ان نسجد لك قال لا لوکنت آمرا احدا من امتی ان یسجد بعضھم لبعض لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن ۔ ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھے کسی نے آکر عرض کی فلاں گھر کا شتر آبکش بے قابو ہوگیا حضور اٹھے اور ہم ہمراہ رکاب اٹھے ہم نے عرض کی حضور! اس کے پاس نہ جائیں۔حضور تشریف لے گئے اونٹ کی نظر جمال انور پر پڑنا اور اس کا سجدے میں گرنا صحابہ نے عرض کی:یا رسول اللہ! ایك چوپایہ تو حضور کی تعظیم حق کے لئے حضور کو سجدہ کرے ہم زیادہ اس کے لائق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریںفرمایا:نہیں اگر میں اپنی امت میں ایك دوسرے کو سجدہ کا حکم دیتا تو عورتوں کو فرماتا کہ شوہروں کو سجدہ کریں۔
حدیث ششم۶:احمد مسند اور حاکم مستدرك اور طبرانی معجم کبیر اور بیہقی ابونعیم دلائل النبوۃ اور بغوی شرح سنہ میں یعلی بن مرۃ ثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال خرج النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك روز حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
نسیم الریاض فصل فی الآیات فی ضروب الحیوانات مرکز اہلسنت برکات رضا عجزات للہند ۳/ ۸۰،دلائل النبوۃلابی نعیم الفصل الثامن والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۵
دلائل النبوۃلابی نعیم الفصل الثامن والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۷
دلائل النبوۃلابی نعیم الفصل الثامن والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۷
یوما فجاء بعیر یرغو حتی سجد لہ فقال المسلمون نحن احق ان نسجد للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لوکنت امرا احدا ان یسجد لغیر اﷲ تعالی لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ باہر تشریف لئے جاتے تھے ایك اونٹ بولتا ہوا آیا قریب آکر حضور کو سجدہ کیا۔مسلمانوں نے کہا ہمیں توزیادہ لائق ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کریں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں کسی کو غیر خدا کے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو فرماتا کہ شوھر کو سجدہ کرے۔
جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہتاہے۔یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے چالیس برس اپنے آقا کی خدمت کی جب بوڑھا ہوا انھوں نے اس کا چارہ کم اور کام زیادہ کرد یا اب کہ ان کے یہاں شادی ہے چھری لی کہ حلال کریں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کے مالکوں سے فرمابھیجا کہ اونٹ یہ شکایت کرتا ہے۔انھوں نے عرض کی:یا رسول اللہ! واﷲ وہ سچ کہتاہے۔فرمایا میں تو چاہتاہوں کہ تم اسے میری خاطر چھوڑدوانھوں نے چھوڑ دیا۔مطالع المسرات میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
حدیث ہفتم۷: مسند امام احمد میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان فی نفر من المھاجرین والانصار فجاء بعیر فسجد لہ فقال اصحابہ یا رسول اﷲ تسجد لك البھائم والشجر فنحن احق ان نسجد لك فقال اعبدوا ربکم و اکرموا اخاکم ولوکنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك جماعت مہاجرین وانصارمیں تشریف فرماتھے کہ ایك اونٹ نے آکر حضور کو سجدہ کیا صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲ چوپائے اور درخت حضور کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم تو زیادہ مستحق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں۔فرمایا:اﷲ کی عبادت کرو اور ہماری تعظیم۔اگر میں کسی کو کسی کے سجدے کا حکم کرتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔
اس حدیث کا صرف اخیر ٹکڑا کہ"اگر میں کسی کو سجدہ کاحکم کرتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا"سنن ابن ماجہ میں بھی ہے اور اسی قدر ترغیب میں ابن حبان اور درمنثور میں ابوبکر بن ابی شیبہ کی طرف نسبت کیا۔
جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہتاہے۔یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے چالیس برس اپنے آقا کی خدمت کی جب بوڑھا ہوا انھوں نے اس کا چارہ کم اور کام زیادہ کرد یا اب کہ ان کے یہاں شادی ہے چھری لی کہ حلال کریں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کے مالکوں سے فرمابھیجا کہ اونٹ یہ شکایت کرتا ہے۔انھوں نے عرض کی:یا رسول اللہ! واﷲ وہ سچ کہتاہے۔فرمایا میں تو چاہتاہوں کہ تم اسے میری خاطر چھوڑدوانھوں نے چھوڑ دیا۔مطالع المسرات میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
حدیث ہفتم۷: مسند امام احمد میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان فی نفر من المھاجرین والانصار فجاء بعیر فسجد لہ فقال اصحابہ یا رسول اﷲ تسجد لك البھائم والشجر فنحن احق ان نسجد لك فقال اعبدوا ربکم و اکرموا اخاکم ولوکنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك جماعت مہاجرین وانصارمیں تشریف فرماتھے کہ ایك اونٹ نے آکر حضور کو سجدہ کیا صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲ چوپائے اور درخت حضور کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم تو زیادہ مستحق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں۔فرمایا:اﷲ کی عبادت کرو اور ہماری تعظیم۔اگر میں کسی کو کسی کے سجدے کا حکم کرتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔
اس حدیث کا صرف اخیر ٹکڑا کہ"اگر میں کسی کو سجدہ کاحکم کرتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا"سنن ابن ماجہ میں بھی ہے اور اسی قدر ترغیب میں ابن حبان اور درمنثور میں ابوبکر بن ابی شیبہ کی طرف نسبت کیا۔
حوالہ / References
مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۴۱،دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۶
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۷۶
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۷۶
حدیث ہشتم: ابونعیم دلائل میں ثعلبہ بن ابی مالك رضی اﷲ عنہ سے راوی:
قال اشتری انسان من بنی سلمۃ جملا ینضح علیہ فادخلہ فی مربد فجرد کیما یحمل فلم یقدر احد ان یدخل علیہ الاتخبطہ فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکر لہ ذلك فقال افتحوا عنہ فقالوا انا نخشی علیك یا رسول اﷲ فقال افتحوا منہ فقتحوا فلما راہ الجمل خر ساجدا فسبح القوم وقالوا یارسول اﷲ کنا احق بالسجود من ھذہ البھیمۃ قال لوینبغی شیئ من الخلق ان یسجد لشیئ دون اﷲ ینبغی للمرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ بنی سلمہ میں کسی نے ایك اونٹ آبکشی کو خرید کر سار میں کردیا جب اسے لادنا چاہا جو پاس جاتا اس پر حملہ کرتا۔حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ افروز ہوئے۔سرکار میں یہ حال معروض ہوا ارشاد ہوا دروازہ کھولوکھول دیا۔اونٹ کی نگال جمال انور پر پڑنی تھی کہ حضور کے لئے سجدہ میں جاگرا۔ حاضرین میں سبحان اﷲ سبحان اﷲ کاشور پڑگیا۔پھر عرض کی:یا رسول اللہ!ہم تو اس چوپائے سے زیادہ سجدہ کرنے کے سزا وار ہیں۔فرمایا:اگر مخلوق میں کسی کو کسی غیر خدا کے لئے سجدہ مناسب ہوتا تو عورت کو چاہئے تھا کہ شوہر کوسجدہ کرے۔
حدیث نہم۹:ابونعیم غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فرأینا عنہ عجبا من ذلك انا مضینا فنزلنا فجاء رجل فقال یا نبی اﷲ انہ کان لی حائط فیہ عیشی وعیش عیالی ولی فیہ ناضحان فاغتلما علی فمنعانی نفسھما وحائطی وما فیہ ولایقدر احد ان یدنو منھما فنھض نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہم ایك سفر میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رکاب انور میں تھے ہم نے ایك عجیب بات دیکھی ہم ایك منزل میں اترے وہاں ایك شخص نے حاضر ہوکر عرض کی:یا نبی اﷲ! میرا ایك باغ ہے کہ میری اور میرے عیال کی وہی وجہ معاش ہے اس میں میرے دوشتر آبکش تھے دونوں مست ہوگئے ہیں نہ اپنے پاس آنے دیں نہ باغ میں قدم رکھنے دیں کسی کی طاقت نہیں کہ قریب جائےحضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مع صحابہ کرام آٹھ کر
قال اشتری انسان من بنی سلمۃ جملا ینضح علیہ فادخلہ فی مربد فجرد کیما یحمل فلم یقدر احد ان یدخل علیہ الاتخبطہ فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکر لہ ذلك فقال افتحوا عنہ فقالوا انا نخشی علیك یا رسول اﷲ فقال افتحوا منہ فقتحوا فلما راہ الجمل خر ساجدا فسبح القوم وقالوا یارسول اﷲ کنا احق بالسجود من ھذہ البھیمۃ قال لوینبغی شیئ من الخلق ان یسجد لشیئ دون اﷲ ینبغی للمرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ بنی سلمہ میں کسی نے ایك اونٹ آبکشی کو خرید کر سار میں کردیا جب اسے لادنا چاہا جو پاس جاتا اس پر حملہ کرتا۔حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جلوہ افروز ہوئے۔سرکار میں یہ حال معروض ہوا ارشاد ہوا دروازہ کھولوکھول دیا۔اونٹ کی نگال جمال انور پر پڑنی تھی کہ حضور کے لئے سجدہ میں جاگرا۔ حاضرین میں سبحان اﷲ سبحان اﷲ کاشور پڑگیا۔پھر عرض کی:یا رسول اللہ!ہم تو اس چوپائے سے زیادہ سجدہ کرنے کے سزا وار ہیں۔فرمایا:اگر مخلوق میں کسی کو کسی غیر خدا کے لئے سجدہ مناسب ہوتا تو عورت کو چاہئے تھا کہ شوہر کوسجدہ کرے۔
حدیث نہم۹:ابونعیم غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فرأینا عنہ عجبا من ذلك انا مضینا فنزلنا فجاء رجل فقال یا نبی اﷲ انہ کان لی حائط فیہ عیشی وعیش عیالی ولی فیہ ناضحان فاغتلما علی فمنعانی نفسھما وحائطی وما فیہ ولایقدر احد ان یدنو منھما فنھض نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہم ایك سفر میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رکاب انور میں تھے ہم نے ایك عجیب بات دیکھی ہم ایك منزل میں اترے وہاں ایك شخص نے حاضر ہوکر عرض کی:یا نبی اﷲ! میرا ایك باغ ہے کہ میری اور میرے عیال کی وہی وجہ معاش ہے اس میں میرے دوشتر آبکش تھے دونوں مست ہوگئے ہیں نہ اپنے پاس آنے دیں نہ باغ میں قدم رکھنے دیں کسی کی طاقت نہیں کہ قریب جائےحضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مع صحابہ کرام آٹھ کر
حوالہ / References
دلائل النبوۃ الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۶
باصحابہ حتی اتی الحائط فقال لصاحبہ افتح فقال یانبی اﷲ امرھما اعظم من ذلك قال افتح فلما حرك الباب قبلا لھما جلبۃ کحفیف الریح فلما انفرج الباب ونظرا الی نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برکا ثم سجدا فاخذ نبی اﷲ بروسھما ثم دفعہما الی صحابھما فقال استعملھما واحسن علفھما فقال القوم یانبی اﷲ تسجدلك البھائم فبلاء اﷲ عندنا بك احسن حین ھدانا اﷲ من الضلالۃ واستنقذنا بك من المھالك افلا تأذن لنا فی السجود لك فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان السجود لیس لی الاللحی الذی لایموت ولو انی امراحدا من ھذہ الامۃ بالسجود لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ اس کے باغ کو گئےفرمایا کھول دےعرض کی یا نبی اللہ! ان کا معاملہ اس سے سخت تر ہے۔فرمایا کھولدروازے کو جنبش ہونی تھی کہ دونوں شور کرتے ہوا کی طرح جھپٹےدروازہ کھلا اور انھوں نے جب حضور ازقدس صلی اﷲ تعالی علیہو سلم کو دیکھاتو فورا سجدے میں گر پڑے۔حضور نے ان کے سر پکڑ کر مالك کے سپرد کردئے اور فرمایا ان سے کام لے اور چارہ بخوبی دے۔حاضرین نے عرض کی یانبی اللہ! چوپائے حضور کو سجدہ کرتے ہیں تو حضور کے سبب ہم پر اﷲ کی نعمت تو بہتر ہےاﷲ نے گمراہی سے ہم کو راہ دکھائی اور حضورکے ہاتھوں پر ہمیں دنیا و آخرت کے مہلکوں سے نجات دی کیا حضور ہم کو اجازت نہ دیں گے کہ ہم حضور کو سجدہ کریں۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا سجدہ میرے لئے نہیں وہ تو اسی زندہ کے لئے ہے جو کبھی نہ مرے گا امت میں کسی کو سجدہ کاحکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔
حدیث دہم۱۰: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان رجلا من الانصار کان لہ فحلان فاغتلما فادخلھا حائطا فسد علیھما الباب ثم جاء الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاراد ان یدعولہ والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ اس میں بھی حدیث ہشتم کی طرح دو اونٹوں کا مست ہونا ہے وہ سفر کا قصہ تھا اس میں یہ ہے کہ ان کے مالك انصاری دعا کرانے آئے کہ اﷲ تعالی ان اونٹوں کو مسخر فرمادے اور حضور تشریف لے گئے دروازہ کھلوایا
حدیث دہم۱۰: طبرانی کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان رجلا من الانصار کان لہ فحلان فاغتلما فادخلھا حائطا فسد علیھما الباب ثم جاء الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاراد ان یدعولہ والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ اس میں بھی حدیث ہشتم کی طرح دو اونٹوں کا مست ہونا ہے وہ سفر کا قصہ تھا اس میں یہ ہے کہ ان کے مالك انصاری دعا کرانے آئے کہ اﷲ تعالی ان اونٹوں کو مسخر فرمادے اور حضور تشریف لے گئے دروازہ کھلوایا
حوالہ / References
دلائل النبوۃ الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۳۷۔۱۳۶
وسلم قاعدومعہ نفر من الانصار(فساق الحدیث وفیہ)فقال افتح ففتح الباب فاذا احدا الفحلین قریب من الباب فلما رأی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سجدلہ فشد رأسہ وامکنہ منہ ثم مشی الی اقصی الحائط الی الفحل الاخر فلما رأہ وقع لہ ساجدا فشد رأسہ وامکنہ منہ وقال اذھب فانھما لا یعصیانك وفیہ قول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا آمر احدا ان یسجد لاحد ولا آمرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ ایك دروازے کے قریب تھا دیکھتے ہی سجدے میں گرا حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے باندھ کر حوالہ مالك کیا پھر منتہائے باغ پر تشریف لے گئے دوسرا وہاں ملا اس نے بھی سجدہ کیا اسے بھی باندھ کر حوالہ کیا اور درخواست سجدہ پر ارشاد ہوا میں کسی کو کسی کے سجدہ کے لئے نہیں فرماتا ایسا فرمانا ہوتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا حکم کرتا۔
تغایر سیاق دلیل ہے کہ یہ جدا وقعہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث یازدہم۱۱:عبد بن حمید وابوبکر بن ابی شیبہ ودارمی واحمد وبزار وبیہقی جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
وھذا لفظ الدارمی فی حدیث طویل مشتمل علی معجزات قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فی سفر(فذکر معجز تین الی ان قال)ثم سرنا و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیننا کانما علی رؤسنا الطیر تظلنا فاذا جمل نادحتی اذا کان بین سما طین خر ساجدا(ثم ساق الحدیث الی ان قال)قال المسلمون "میں ایك سفر میں ہمراہ رکاب والا تھا قضائے حاجت کے لئے پردے کی ضرورت تھی دوپیڑ چارگز کے فاصلے سے تھے مجھ سے فرمایا:اے جابر اس پیڑ سے کہہ دے کہ دوسرے سے مل جا۔فورا مل گئے۔بعد فراغ اپنی اپنی جگہ چلے گئے پھرسوار ہوا راہ میں ایك عورت اپنا بچہ لئے ملی۔عرض کی:یا رسول اﷲ !اسے ہر روز تین دفعہ شیطان دبا تا ہے حضور نے اس سے بچہ لےکر تین بار فرمایا:دور ہو اے خدا کے دشمن! میں
تغایر سیاق دلیل ہے کہ یہ جدا وقعہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث یازدہم۱۱:عبد بن حمید وابوبکر بن ابی شیبہ ودارمی واحمد وبزار وبیہقی جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
وھذا لفظ الدارمی فی حدیث طویل مشتمل علی معجزات قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فی سفر(فذکر معجز تین الی ان قال)ثم سرنا و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیننا کانما علی رؤسنا الطیر تظلنا فاذا جمل نادحتی اذا کان بین سما طین خر ساجدا(ثم ساق الحدیث الی ان قال)قال المسلمون "میں ایك سفر میں ہمراہ رکاب والا تھا قضائے حاجت کے لئے پردے کی ضرورت تھی دوپیڑ چارگز کے فاصلے سے تھے مجھ سے فرمایا:اے جابر اس پیڑ سے کہہ دے کہ دوسرے سے مل جا۔فورا مل گئے۔بعد فراغ اپنی اپنی جگہ چلے گئے پھرسوار ہوا راہ میں ایك عورت اپنا بچہ لئے ملی۔عرض کی:یا رسول اﷲ !اسے ہر روز تین دفعہ شیطان دبا تا ہے حضور نے اس سے بچہ لےکر تین بار فرمایا:دور ہو اے خدا کے دشمن! میں
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۱۲۰۰۳ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۵۷۔۳۵۶
عند ذلك یا رسول اﷲ نحن احق بالسجود لك من البھائم قال لاینبغی لشیئ ان یسجد لشیئ ولو کان ذلك کان النساء لازواجھن ۔ اﷲ کا رسول ہوں پھر بچہ اس کی ماں کو دے دیا۔جب ہم پلٹتے ہوئے اسی منزل میں پہنچے وہی بی بی اپنا بچہ اور دو دنبے لئے حاضر ہوئی عرض کی یا رسول اﷲ میر ا ہدیہ قبول فرمائیں قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا کہ جب سے بچے کے خلل نہ ہوا۔حضور نے فرمایا ایك دنبہ لے لو ایك پھیر دو۔پھر ہم چلے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں تھے گویا ہمارے سروں پر پرندے سایہ کئے ہیں ناگاہ ایك اونٹ چھوٹا ہوا آیا جب دونوں قطاروں کے بیچ میں ہوا سجدہ کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اس کا مالك حاضر ہو کچھ انصاری جوان حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! یہ ہمارا ہے فرمایا اس کا کیا قصہ ہے۔ عرض کی بیس برس سے ہم نے اس پر آبکشی نہ کی یہ فربہ چربی دار ہے اب چاہاکہ اسے حلال کرکے بانٹ لیں یہ ہم سے چھوٹ آیا۔فرمایا یہ ہمارے ہاتھ فروخت کردو۔عرض کی بلکہ یا رسول اللہ! وہ حضور کی نذر ہے۔ فرمایا اگر میرا ہے تو اس کے مرتے دم تك اس کے ساتھ اچھا سلوك کرویہ دیکھ کر مسلمان نے عرض کی:یا رسول اللہ! چوپاؤں سے زیادہ ہمیں لائق ہے کہ حضور کو سجدہ کریںفرمایا:کسی کو کسی کا سجدہ مناسب نہیں ورنہ عورتیں شوہر کو کرتیں"۔
امام جلیل سیوطی نے مناہل میں فرمایا:اس حدیث کی سند صحیح ہے۔امام قسطلانی نے مواہب شریف اور علامہ فاسی نے مطالع میں فرمایا :جید ہے۔زرقانی نے کہا:اس کے سب راوی ثقہ ہے۔
حدیث دوازدہم۱۲:بزار مسند اور حاکم مستدرك اور ابونعیم دلائل اور امام فقیہ ابواللیث تنبیہ الغافلین میں باسانید خودہا بریدہ بن الحصیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
امام جلیل سیوطی نے مناہل میں فرمایا:اس حدیث کی سند صحیح ہے۔امام قسطلانی نے مواہب شریف اور علامہ فاسی نے مطالع میں فرمایا :جید ہے۔زرقانی نے کہا:اس کے سب راوی ثقہ ہے۔
حدیث دوازدہم۱۲:بزار مسند اور حاکم مستدرك اور ابونعیم دلائل اور امام فقیہ ابواللیث تنبیہ الغافلین میں باسانید خودہا بریدہ بن الحصیب رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
حوالہ / References
سنن الدارمی باب مااکرم اﷲ بہ نبیہ من ایمان الشجر بہ والبہائم والجن دارالمحاسن للطباعۃ القاہرہ ص۱۸۔۱۹
واللفظ لابی نعیم تعالی جاء اعرابی الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد اسلمت فأرنی شیئا ازددبہ یقینا فقال ماالذی ترید قال ادع تلك الشجرۃ ان تاتیك قال اذھب فادعھا فاتاھا الاعرابی فقال اجیبی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فمالت علی جانب من جوانبھا فقطعت عروقہا ثم مالت علی الجانب الاخر فقطعت عروقہا حتی اتت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقالت السلام علیك یا رسول اﷲ فقال الاعرابی حسبی حسبی فقال لھا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارجعی فرجعت فجلست علی عروقہا وفروعھا فقال الاعرابی ائذن لی یا رسول اﷲ ان اقبل راسك ورجلیك ففعل ثم قال ائذن لی ان اسجد لك قال لا یسجد احد لاحد ولو امرت احدا ان یسجد لاحد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا لعظم حقہ علیھا ولفظ الفقیہ قال اتأذن لی ان اسجد لك قال لاتسجد لی ولا یسجد احد لاحد من الخلق ولوکنت امرا احدا بذلك لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا تعظیما لحقہ ۔ ایك اعرابی نے حضور سید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی یا رسول اﷲ ! میں اسلام لایاہوں مجھے ایسی چیز دکھائے کہ میرا یقین بڑھے۔فرمایا:کیا چاہتاہے۔عرض کی:حضور ! اس درخت کو بلائیں کہ حضور میں حضور فرمایا:جا بلا۔وہ اعرابی درخت کے پاس گئے اور کہا تجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں۔وہ فورا ایك طرف کو اتنا جھکا کہ ادھر کے ریشے ٹوٹ گئے پھر ادھر اتنا جھکا کہ ادھر کے ریشے ٹوٹ گئے پھر چلا اور حضور انور میں حاضر ہوکر صاف زبان سے کہا سلام حضو پر اے اﷲ کے رسول۔اعرابی نے کہا:مجھے کافی مجھے کافی۔رسول اﷲ صلی الہ تعالی علیہ وسلم نے درخت سے فرمایا:پلٹ جافورا واپس ہوا اور انھیں ریشوں پر مع شاخوں کے بدستور جم گیا۔اعرابی نے عرض کی :یا رسول اﷲ ! مجھے اجازت عطا ہو کہ سر اقدس اور دونوں پائے مبارك کو بوسہ دوں حضور نے اجاز ت دی۔پھر عرض کی اجازت عطا ہو کو حضور کو سجدہ کرو۔فرمایا:مجھے سجدہ نہ کرنا مخلوق میں کوئی کسی کے لئے سجدہ نہ کریں میں کسی کے لیے اس کا حکم کرتا تو عورت کو حکم کرتا کہ حق شوہر کی تعظیم کے لئے اسے سجدہ کرے۔حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث سیزدہم۱۳:امام احمد وابن ماجد وابن حبان وبیہقی عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
واللفظ لابن ماجۃ قال لما قدم معاذ من جب معاز بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ شام سے آئے تو رسول اللہ
حدیث سیزدہم۱۳:امام احمد وابن ماجد وابن حبان وبیہقی عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
واللفظ لابن ماجۃ قال لما قدم معاذ من جب معاز بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ شام سے آئے تو رسول اللہ
حوالہ / References
دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثالث والعشرون عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۸
تنبیہ الغافلین باب حق الزوج علی زوجتہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۴۰۶
تنبیہ الغافلین باب حق الزوج علی زوجتہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۴۰۶
الشام سجدللنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ماھذا یا معاذقال اتیت الشام فوافقتھم یسجدون لاساقفتھم وبطارفتھم فوددت فی نفسی ان نفعل ذلك بك فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلا تفعلوا فانی لوکنت امرا احدا ان یسجد لغیر اﷲ تعالی لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کیا۔حضور نے فرمایا:معاذ! یہ کیاعرض کی:میں ملك شام کو گیا وہاں نصاری کو دیکھا کہ اپنے پادریوں اورسرداروں کو سجدہ کرتے ہیں تو میرا دل چاہا کہ ہم حضور کو سجدہ کریںفرمایا:نہ کرو۔میں اگر سجدہ غیر خدا کا حکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔
اقول:(میں کہتاہوں)یہ حدیث حسن ہے اس کی سند میں کوئی ضعیف نہیں۔ابن حبان نے اس کو صحیح روایت کیا اور منذری نے اس کے صالح ہونے کا اشارہ کیا۔
حدیث چہاردہم۱۴:حاکم صحیح مستدرك میں معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
انہ اتی الشام فرای النصاری یسجدون لاساقفتھم و رھبانھم ورای الیھود یسجدون لاحبارھم و ربانیھم فقال لای شیئ تفعلون ھذا قالو اھذا تحیۃ لانبیاء قلت فنحن احق ان نصنع بنبینا فقال نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھم کذبوا علی انبیاء ھم کما حرفوا کتابھم لو امرت احدا ان یسجد لا حد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا من عظم حقہ علیھا ۔ وہ شام کو گئے دیکھا نصاری نے اپنے پادریوں اور فقیروں کو سجدہ کرتے ہیں اور یہود اپنے عالموں اور عابدوں کوان سے پوچھا یہ کیوں کرتے ہو بولے یہ انبیا کی تحیت ہے۔معاذا فرماتے ہیں میں نے کہا تو ہمیں زیادہ سزا وار ہے کہ ہم اپنے نبی کو کریں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:وہ اپنے انبیاء پر بہتان کرتے ہیں جیسے انھوں نے اپنی کتاب بدل دی ہے کسی کو کسی کے سجدہ کاحکم فرماتا تو شوہر کے عظیم حق کے سبب عورت کو۔
اقول:(میں کہتاہوں)یہ حدیث حسن ہے اس کی سند میں کوئی ضعیف نہیں۔ابن حبان نے اس کو صحیح روایت کیا اور منذری نے اس کے صالح ہونے کا اشارہ کیا۔
حدیث چہاردہم۱۴:حاکم صحیح مستدرك میں معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
انہ اتی الشام فرای النصاری یسجدون لاساقفتھم و رھبانھم ورای الیھود یسجدون لاحبارھم و ربانیھم فقال لای شیئ تفعلون ھذا قالو اھذا تحیۃ لانبیاء قلت فنحن احق ان نصنع بنبینا فقال نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھم کذبوا علی انبیاء ھم کما حرفوا کتابھم لو امرت احدا ان یسجد لا حد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا من عظم حقہ علیھا ۔ وہ شام کو گئے دیکھا نصاری نے اپنے پادریوں اور فقیروں کو سجدہ کرتے ہیں اور یہود اپنے عالموں اور عابدوں کوان سے پوچھا یہ کیوں کرتے ہو بولے یہ انبیا کی تحیت ہے۔معاذا فرماتے ہیں میں نے کہا تو ہمیں زیادہ سزا وار ہے کہ ہم اپنے نبی کو کریں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:وہ اپنے انبیاء پر بہتان کرتے ہیں جیسے انھوں نے اپنی کتاب بدل دی ہے کسی کو کسی کے سجدہ کاحکم فرماتا تو شوہر کے عظیم حق کے سبب عورت کو۔
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
الدرالمنثور بحوالہ حاکم عن معاذ بن جبل تحت آیۃ ۴/ ۳۴ مکتبہ آیۃ العظمٰی قم ایران ۲/ ۱۵۴،مجمع الزوائد عن معاذ بن رضی اﷲ تعالٰی عنہ کتاب النکاح حق الزوج علی المرأۃ دارالکتاب بیروت ۴/ ۱۰۔۳۰۹
الدرالمنثور بحوالہ حاکم عن معاذ بن جبل تحت آیۃ ۴/ ۳۴ مکتبہ آیۃ العظمٰی قم ایران ۲/ ۱۵۴،مجمع الزوائد عن معاذ بن رضی اﷲ تعالٰی عنہ کتاب النکاح حق الزوج علی المرأۃ دارالکتاب بیروت ۴/ ۱۰۔۳۰۹
حاکم نے کہا:یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث پانزدہم۱۵:امام احمد مسند اورابوبکر بن ابی شیبہ مصنف اور طبرانی کبیر میں معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
انہ لما رجع من الیمن قال یارسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجد لك قال لو کنت امرا بشرا یسجد بشرا لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ وہ جب یمن سے واپس آئے عرض کی یار سول اﷲ میں نے یمن میں لوگوں کو دیکھا ایك دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں تو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریںفرمایا:اگر میں کسی بشرکے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔
اقول:(میں کہتاہوں)یہ حدیث صحیح ہے اس کے سب راوی رجال بخاری ومسلم ہیں اور جب دونوں حدیثیں صحیح ہیں لاجرم دو واقعے ہیں ا ول بارشام میں یہود ونصاری کو دیکھ کر آئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کیا جس پر ممانعت فرمائی دوبارہ اہل یمن کو دیکھ کر آئے اب اپنے مولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کے کمال شوق میں یا تو پہلا واقعہ ذہن سے اتر گیا یا اس میں بوجہ مخالفت یہود ونصاری کہ آخر میں عمل نبوی اسی پر تھا نہی ارشاد کو محتمل سمجھااور بسبب احتمال نہی حتمی اس بار پہلے کی طرح سجدہ کیا نہیں حرف اذن چاہا اور ممانعت فرمائی گئی واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث شانزدہم۱۶: ابوداؤد سنن اور طبرانی کبیر میں اور حاکم وبیہقی نے قیس بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال اتیت الحیرۃ قرأیتھم یسجدون لمر زبان لھم فقلت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احق ان یسجد لہقال فاتیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت انی اتیت الحیرۃ فرأیتھم میں شہر حیرہ میں(کہ قریب کوفہ ہے)گیا وہاں کے لوگوں کو دیکھا اپنے شہر یار کو سجدہ کرتے ہیں میں نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زیادہ مستحق سجدہ ہیں۔خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ حال وخیال عرض کیا:فرمایا بھلا اگر تمہارے
حدیث پانزدہم۱۵:امام احمد مسند اورابوبکر بن ابی شیبہ مصنف اور طبرانی کبیر میں معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
انہ لما رجع من الیمن قال یارسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجد لك قال لو کنت امرا بشرا یسجد بشرا لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ وہ جب یمن سے واپس آئے عرض کی یار سول اﷲ میں نے یمن میں لوگوں کو دیکھا ایك دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں تو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریںفرمایا:اگر میں کسی بشرکے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔
اقول:(میں کہتاہوں)یہ حدیث صحیح ہے اس کے سب راوی رجال بخاری ومسلم ہیں اور جب دونوں حدیثیں صحیح ہیں لاجرم دو واقعے ہیں ا ول بارشام میں یہود ونصاری کو دیکھ کر آئے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کیا جس پر ممانعت فرمائی دوبارہ اہل یمن کو دیکھ کر آئے اب اپنے مولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کے کمال شوق میں یا تو پہلا واقعہ ذہن سے اتر گیا یا اس میں بوجہ مخالفت یہود ونصاری کہ آخر میں عمل نبوی اسی پر تھا نہی ارشاد کو محتمل سمجھااور بسبب احتمال نہی حتمی اس بار پہلے کی طرح سجدہ کیا نہیں حرف اذن چاہا اور ممانعت فرمائی گئی واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث شانزدہم۱۶: ابوداؤد سنن اور طبرانی کبیر میں اور حاکم وبیہقی نے قیس بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال اتیت الحیرۃ قرأیتھم یسجدون لمر زبان لھم فقلت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احق ان یسجد لہقال فاتیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت انی اتیت الحیرۃ فرأیتھم میں شہر حیرہ میں(کہ قریب کوفہ ہے)گیا وہاں کے لوگوں کو دیکھا اپنے شہر یار کو سجدہ کرتے ہیں میں نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زیادہ مستحق سجدہ ہیں۔خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ حال وخیال عرض کیا:فرمایا بھلا اگر تمہارے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۸۔۲۲۷،الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ واحمد تحت آیۃ ۴/ ۳۴ مکتبہ آیۃ اﷲ المظمی قم ایران ۲/ ۱۵۳،المعجم الکبیر حدیث ۳۷۳ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ص۱۷۴،۱۷۵
یسجدون لمرزبان لھم فانت یارسول اﷲ احق ان نسجد لك قال ارأیت لو مررت بقبری اکنت تسجد لہ قلت لا قال فلا تفعلوا لوکنت امرا احد ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یجسدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من الحق ۔ مزار کو پر گزرو تو کیا مزار کو سجدہ کروگے۔میں نے عرض کی:نہ۔فرمایا:تو نہ کرو۔میں کسی کو کسی کے سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو شوہروں کے سجدے کاحکم فرماتا اس حق کے سبب جو اﷲ تعالی نے ان کاان پر رکھا ہے۔ اور ابوداؤد نے سکوتا اس حدیث کو حسن بتایا اور حاکم نے تصریحا کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے تلخیص میں اسے مقرر کھا۔کما فی الاتخاف(جیسا کہ اتحاف میں ہے۔ت)
حدیث ہفدہم۱۷ تا حدیث بست ویکم۲۱: طبرانی معجم کبیر اور ضیاء صحیح مختارہ میں زید بن ارقم سے موصولااور امام ترمذی جامع میں سراقہ بن مالك بن جعشم وطلق بن علی وام المومنین ام سلمہ وعبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے تعلیقا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لوکنت امرا احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ اگر مجھے کسی کو کسی کے لئے سجدے کا حکم ہوتا تو عورت کو فرماتا کو شوہر کو سجدہ کرے۔
حدیث بست ودوم۲۲:عبد بن حمید امام حسن بصری سے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرنے کا اذن مانگنے پر وہ آیت اتری کہ کیا تمھیں کفر کا حکم دیں ۔یہ حدیث فصل اول میں گزری۔
تذئیل اول: مدارك شریف میں سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ سے ہے انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرنا چاہا حضور نے فرمایا:
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الا ﷲ کسی مخلوق کو جائز نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے
حدیث ہفدہم۱۷ تا حدیث بست ویکم۲۱: طبرانی معجم کبیر اور ضیاء صحیح مختارہ میں زید بن ارقم سے موصولااور امام ترمذی جامع میں سراقہ بن مالك بن جعشم وطلق بن علی وام المومنین ام سلمہ وعبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے تعلیقا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لوکنت امرا احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ اگر مجھے کسی کو کسی کے لئے سجدے کا حکم ہوتا تو عورت کو فرماتا کو شوہر کو سجدہ کرے۔
حدیث بست ودوم۲۲:عبد بن حمید امام حسن بصری سے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرنے کا اذن مانگنے پر وہ آیت اتری کہ کیا تمھیں کفر کا حکم دیں ۔یہ حدیث فصل اول میں گزری۔
تذئیل اول: مدارك شریف میں سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ سے ہے انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرنا چاہا حضور نے فرمایا:
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الا ﷲ کسی مخلوق کو جائز نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۹۱،المستدرك للحاکم کتاب النکاح دارالفکر بیروت ۲/ ۱۸۷،السنن الکبرٰی کتاب القسم والنشوز باب ماجاء فی عظم حق الزوج علی المرأۃدار صادر بیروت ۷/ ۲۹۱
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۸،المعجم الکبیر عن زید بن ارقم حدیث ۵۱۱۶ و ۵۱۱۷ ۵/ ۰۹۔۹۰۸ وکنز العمال حدیث ۴۴۷۹۹ ۱۶/ ۳۳۷
الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن تحت آیۃ ۳/ ۸۰ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۲/ ۴۷
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۸،المعجم الکبیر عن زید بن ارقم حدیث ۵۱۱۶ و ۵۱۱۷ ۵/ ۰۹۔۹۰۸ وکنز العمال حدیث ۴۴۷۹۹ ۱۶/ ۳۳۷
الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن تحت آیۃ ۳/ ۸۰ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۲/ ۴۷
تعالی ۔ ماسوائے اﷲ تعالی کے۔(ت)
تذئیل دوم: تفسیر کبیر میں بروایت امام سفین ثوری سماك بن ہانی سے ہے:
قال دخل الجاثلیق علی علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ فارادان یسجد لہ فقال لہ علی اسجد ﷲ ولا تسجدلی ۔ امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ وجہہ کی بارگاہ میں سلطنت نصاری کو سفیر حاضر ہوگاحضرت کو سجدہ کرنا چاہافرمایا:مجھے سجدہ نہ کرو اﷲ عزوجل کو سجدہ کرو۔
حدیث بست وسوم۲۳:جامع ترمذی میں بطریق الامام عبداﷲ بن المبارك عن حنظلہ بن عبیداﷲ اور سنن ابن ماجہ میں بطریق جریر بن حازم عن حنظلہ بن عبدالرحمن الدوسی اور شرح معانی الآثار امام طحاوی میں بطریق حماد بن سلمہ و حماد بن زید ویزید بن زریح وابی ہلال کلہم عن حنظلۃ الدوسی انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
قال قال رجل یا رسول اﷲ الرجل منا یلقی اخاہ اوصدیقہ اینحنی لہ قال لا ۔ ایك شخص نے عرض کی:یا رسول اللہ! ہم میں کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے لئے جھکے۔فرمایا:نہ۔
امام طحاوی کے لفظ یہ ہیں:
انھم قالوا یارسول اﷲ اینحنی بعضنا لبعض اذا التقینا قال لا ۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! کیا ملتے وقت ہم ایك دوسرے کے لئے جھکے فرمایا:نہ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔
نوع دوم :قبر کی طرف سجدہ کی ممانعت حدیث بست وچہارم ۲۴: امام احمد وامام مسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وامام طحاوی ابو مرثد غنوی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تذئیل دوم: تفسیر کبیر میں بروایت امام سفین ثوری سماك بن ہانی سے ہے:
قال دخل الجاثلیق علی علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ فارادان یسجد لہ فقال لہ علی اسجد ﷲ ولا تسجدلی ۔ امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ وجہہ کی بارگاہ میں سلطنت نصاری کو سفیر حاضر ہوگاحضرت کو سجدہ کرنا چاہافرمایا:مجھے سجدہ نہ کرو اﷲ عزوجل کو سجدہ کرو۔
حدیث بست وسوم۲۳:جامع ترمذی میں بطریق الامام عبداﷲ بن المبارك عن حنظلہ بن عبیداﷲ اور سنن ابن ماجہ میں بطریق جریر بن حازم عن حنظلہ بن عبدالرحمن الدوسی اور شرح معانی الآثار امام طحاوی میں بطریق حماد بن سلمہ و حماد بن زید ویزید بن زریح وابی ہلال کلہم عن حنظلۃ الدوسی انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
قال قال رجل یا رسول اﷲ الرجل منا یلقی اخاہ اوصدیقہ اینحنی لہ قال لا ۔ ایك شخص نے عرض کی:یا رسول اللہ! ہم میں کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے لئے جھکے۔فرمایا:نہ۔
امام طحاوی کے لفظ یہ ہیں:
انھم قالوا یارسول اﷲ اینحنی بعضنا لبعض اذا التقینا قال لا ۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! کیا ملتے وقت ہم ایك دوسرے کے لئے جھکے فرمایا:نہ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔
نوع دوم :قبر کی طرف سجدہ کی ممانعت حدیث بست وچہارم ۲۴: امام احمد وامام مسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وامام طحاوی ابو مرثد غنوی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) تحت آیۃ ۲/ ۳۴ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۴۲
مفاتیح الغیب تحت آیۃ ۲/ ۳۴ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲/ ۲۱۳
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷،سنن ابن ماجہ باب المصافحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۱
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب المعانقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۹۹
مفاتیح الغیب تحت آیۃ ۲/ ۳۴ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲/ ۲۱۳
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷،سنن ابن ماجہ باب المصافحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۱
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب المعانقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۹۹
لا تصلوا الی القبور ولاتجلسوا علیھا ۔ قبروں کی طرف نماز نہ پڑھونہ ان پر بیٹھو۔
حدیث بست وپنجم۲۵: طبرانی معجم کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتصلوا الی قبروا ولا تصلوا علی قبر ۔ نہ قبر کی طرف نماز پڑھو نہ قبر پر نماز پڑھو۔تیسیر میں ہے اس حدیث کی سند حسن ہے
حدیث بست وششم: صحیح ابن حبان میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الصلوۃ الی القبور ۔ قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
علامہ مناوی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
حدیث بست وہفتم۲۷: ابوالفرج کتاب العلل میں بطریق رشد بن کریب عن ابیہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الا لایصلین احد الی احد ولا الی قبر ۔
فیہ جبارۃ عن مندل رضی رشدین خبردار! ہرگز نہ کوئی کسی آدمی کی طرف نماز میں منہ کرے نہ کسی قبر کی طرف
حدیث وبست وہشتم۲۸:امام بخاری اپنی صحیح میں تعیلقا اور امام احمد وعبدرالرزاق وا بوبکر بن ابی شیبہ ووکیع بن الجراح وابونعیم استاد امام بخاری وابن منیع سند انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
رأنی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وانا اصلی الی قبر فقال القبر امامك مجھے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا فرمایا تمھارے
حدیث بست وپنجم۲۵: طبرانی معجم کبیر میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتصلوا الی قبروا ولا تصلوا علی قبر ۔ نہ قبر کی طرف نماز پڑھو نہ قبر پر نماز پڑھو۔تیسیر میں ہے اس حدیث کی سند حسن ہے
حدیث بست وششم: صحیح ابن حبان میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من الصلوۃ الی القبور ۔ قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
علامہ مناوی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
حدیث بست وہفتم۲۷: ابوالفرج کتاب العلل میں بطریق رشد بن کریب عن ابیہ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الا لایصلین احد الی احد ولا الی قبر ۔
فیہ جبارۃ عن مندل رضی رشدین خبردار! ہرگز نہ کوئی کسی آدمی کی طرف نماز میں منہ کرے نہ کسی قبر کی طرف
حدیث وبست وہشتم۲۸:امام بخاری اپنی صحیح میں تعیلقا اور امام احمد وعبدرالرزاق وا بوبکر بن ابی شیبہ ووکیع بن الجراح وابونعیم استاد امام بخاری وابن منیع سند انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
رأنی عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وانا اصلی الی قبر فقال القبر امامك مجھے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا فرمایا تمھارے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الجنائز ۱/ ۳۱۲ و سنن ابی داؤد کتاب الجنائز ۲/ ۱۰۴،جامع الترمذی ابوا ب الجنائز ۱/ ۱۲۵ وشرح معانی الآثار کتاب الجنائز ۱/ ۳۴۶
المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۲۰۵۱ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۳۷۶
کنز العمال بحوالہ حب عن انس حدیث ۱۹۱۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۳۴۴
العلل المتناھیۃ لابی الفرج حدیث فی الصلٰوۃ الی النائم والمتحدث دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۴۳۴
المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۲۰۵۱ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۳۷۶
کنز العمال بحوالہ حب عن انس حدیث ۱۹۱۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۳۴۴
العلل المتناھیۃ لابی الفرج حدیث فی الصلٰوۃ الی النائم والمتحدث دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۴۳۴
فنھانی وفی روایۃ للوکیع قال لی القبر لاتصل الیہ وفی روایۃ الفضل بن دکین فناداہ عمر القبر القبر فتقدم و صلی وجاز القبر۔ آگے قبر ہے قبر سے بچو قبر سےبچو اس کی طرف نماز نہ پڑھو۔ (اور فضل بن دکین کی روایت میں ہے کہ عمر نے پکارا قبر قبر۔ت)یہ نماز ہی میں قدم بڑھائے کر آگے ہوگئے
حدیث بست ونہم۲۹: احمدوبخاریمسلمنسائی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی لم یقم منہ لعن اﷲ الیھود والنصاری اتخذواقبور انبیائھم مساجد قالت ولولا ذلك لابرز قبرۃ غیرانہ خشی ان یتخذ مسجدا وفی روایۃ لھم عنھا عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اولئك شرار الخلق عند اﷲ عزوجل یوم القیمۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی وفات اقدس کے مرض میں فرمایا:یہود ونصاری پر اﷲ کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو محل سجدہ بنالیا اور فرمایا ایسا کرنے والے اﷲ عزوجل کے نزدیك روز قیامت بد ترین خلق ہیں۔ام المومنین نے فرمایا:یہ نہ ہوتا تو مزار اطہر کھول دیا جاتا مگر اندیشہ ہو ا کہ کہیں سجدہ نہ ہونے لگے لہذا احاطہ مخفی رکھا گیا۔
حدیث سیم۳۰:اجلہ ائمہ مالك ومحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد ونسائی وابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حدیث بست ونہم۲۹: احمدوبخاریمسلمنسائی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی لم یقم منہ لعن اﷲ الیھود والنصاری اتخذواقبور انبیائھم مساجد قالت ولولا ذلك لابرز قبرۃ غیرانہ خشی ان یتخذ مسجدا وفی روایۃ لھم عنھا عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اولئك شرار الخلق عند اﷲ عزوجل یوم القیمۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی وفات اقدس کے مرض میں فرمایا:یہود ونصاری پر اﷲ کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو محل سجدہ بنالیا اور فرمایا ایسا کرنے والے اﷲ عزوجل کے نزدیك روز قیامت بد ترین خلق ہیں۔ام المومنین نے فرمایا:یہ نہ ہوتا تو مزار اطہر کھول دیا جاتا مگر اندیشہ ہو ا کہ کہیں سجدہ نہ ہونے لگے لہذا احاطہ مخفی رکھا گیا۔
حدیث سیم۳۰:اجلہ ائمہ مالك ومحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد ونسائی وابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ عب،ش وابن منبع عن انس حدیث ۲۲۵۱۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۸/ ۱۹۳
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۷۷،صحیح البخاری باب ماجاء فی قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر وعمر موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۸۶،صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۳۹،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱،مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۱۲۱ و ۲۵۵
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب ھل ینیش قبور مشرکی الجاھلیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۱،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۷۷،صحیح البخاری باب ماجاء فی قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر وعمر موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۸۶،صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۳۹،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱،مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۱۲۱ و ۲۵۵
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب ھل ینیش قبور مشرکی الجاھلیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۱،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱
قاتل اﷲ الیھود والنصاری اتحذوا قبور انبیائھم مساجد ۔ یہود ونصاری کو اﷲ مارے انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدے کا مقام کرلیا۔
حدیث سی ویکم۳۱: مسلم اپنی صحیح اور عبدالرزاق مصنف اور دارمی سنن میں ام المومنین وعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قالا لما نزلت برسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طفق یطرح خمیصۃ لہ علی وجہہ فاذا اغتم کشفھا عن وجہہ فقال وھو کذلك لعنۃ اﷲ علی الیھود و النصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد یحذر مثل ماصنعوا ۔ نزع روح اقدس کے وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چادر روئے اقدس پرڈال لیتے جب ناگوار ہوئی مٹہ کھول دیتے۔اسی حالت میں فرمایا:یہود ونصاری پر اﷲ کی لعنت انھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مساجد کرلیںڈراتے تھے کہ ہمارے مزار پر انوار کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
حدیث سی ودوم۳۲: بزارمسند میں امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی:
قال لی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی مرضہ الذی مات فیہ ائذن للناس علی فاذنت للناس علیہ فقال لعن اﷲ قو ما اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ثم اغمی علیہ فلما افاق قال یا علی ائذن للناس فاذنت لھم فقال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وفات انور کے مرض میں مجھ سے فرمایا:لوگوں کو ہمارے حضور حاضر ہونے دو۔ میں نے اذن دیا۔جب لوگ حاضر ہوئے توحضور نے فرمایا: اﷲ کی لعنت ہو ہر اس قوم پر جس نے اپنے انبیاء کی قبریں جائے سجدہ ٹھہرالیںپھر حضور پر غشی طاری
حدیث سی ویکم۳۱: مسلم اپنی صحیح اور عبدالرزاق مصنف اور دارمی سنن میں ام المومنین وعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قالا لما نزلت برسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم طفق یطرح خمیصۃ لہ علی وجہہ فاذا اغتم کشفھا عن وجہہ فقال وھو کذلك لعنۃ اﷲ علی الیھود و النصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد یحذر مثل ماصنعوا ۔ نزع روح اقدس کے وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم چادر روئے اقدس پرڈال لیتے جب ناگوار ہوئی مٹہ کھول دیتے۔اسی حالت میں فرمایا:یہود ونصاری پر اﷲ کی لعنت انھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مساجد کرلیںڈراتے تھے کہ ہمارے مزار پر انوار کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
حدیث سی ودوم۳۲: بزارمسند میں امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی:
قال لی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی مرضہ الذی مات فیہ ائذن للناس علی فاذنت للناس علیہ فقال لعن اﷲ قو ما اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ثم اغمی علیہ فلما افاق قال یا علی ائذن للناس فاذنت لھم فقال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وفات انور کے مرض میں مجھ سے فرمایا:لوگوں کو ہمارے حضور حاضر ہونے دو۔ میں نے اذن دیا۔جب لوگ حاضر ہوئے توحضور نے فرمایا: اﷲ کی لعنت ہو ہر اس قوم پر جس نے اپنے انبیاء کی قبریں جائے سجدہ ٹھہرالیںپھر حضور پر غشی طاری
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ ۱/ ۶۲ و صحیح مسلم کتاب المساجد ۱/ ۲۰۱ وسنن ابی داؤد باب النباء علی القبر ۳/ ۱۰۴
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۲،صحیح مسلم کتا بالمساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱،المصنف عبدالرزاق حدیث ۱۵۸۸ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۰۶،کنز العمال بحوالہ عب عن عائشہ وابن عباس حدیث ۲۲۵۱۸ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۸/ ۱۹۴،سنن الدارمی حدیث ۱۴۱۰ دارالمحاسن للطباعۃ ۱/ ۲۶۷
صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۲،صحیح مسلم کتا بالمساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱،المصنف عبدالرزاق حدیث ۱۵۸۸ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۰۶،کنز العمال بحوالہ عب عن عائشہ وابن عباس حدیث ۲۲۵۱۸ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۸/ ۱۹۴،سنن الدارمی حدیث ۱۴۱۰ دارالمحاسن للطباعۃ ۱/ ۲۶۷
اﷲ قوما اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ثلثا فی مرض موتہ ۔ ہوگئی جب افاقہ ہوا فرمایا:اے علی! لوگوں کو اذن دو۔میں نے اذن دیا فرمایا:اﷲ کی لعنت ہوتی ہے اس قوم پر جس نے اپنے ابنیاء کی قبریں جائے سجدہ کرلیں۔تین بار ایسا ہوا۔
حدیث سی وسوم۳۳:ابوداؤد طیانسی وامام احمد مسند اور طبرانی کبیر میں بسند جید اور ابونعیم معرفۃ الصحابۃ اور ضیاء صحیح مختارہ میں اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی مات فیہ ادخلوا علی اصحابی فدخلوا علیہ وھو متقنع ببرد معافری فکشف القناع ثم قال لعن اﷲ الیھود النصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مرض وفات شریف میں فرمایا:میرے اصحاب کو میرے حضور لاؤ۔حاضر ہوئےحضور نے رخ انور سے کپڑا ہٹا کر فرمایا:یہود ونصاری پر اﷲ کی لعنت انھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں محل سجدہ قرار دے لیں
حدیث سی وچہارم۳۴: امام احمدو طبرانی بسند جید عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان من شرار الناس من تدرکھم الساعۃ و ھم احیاء ومن یتخذ القبور مساجد ۔ بیشك سب لوگوں سے بدتروں میں وہ ہیں جن کے جیتے جی قیامت قائم ہوگی اور وہ کہ قبروں کو جائے سجدہ ٹھہراتے ہیں۔
حدیث سی وپنجم۳۵:عبدالرزاق مصنف میں مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شرار الناس من یتخذ القبور مساجد ۔ بدترلوگوں میں ہیں وہ کہ قبروں کو محل سجود قراردیں۔
حدیث سی وششم۳۶ وسی وہفتم۳۷: صحیح مسلم میں جندب اور معجم طبرانی میں کعب بن مالك رضی اﷲ عنہ سے ہے:
قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قبل ان یموت بخمس وھو یقول الا ان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد الا فلا تتخذوا القبور میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات پاك سے پانچ روز پہلے حضور کو فرماتے سنا خبردار! تم سے اگلے اپنے انبیاء اولیاء کی قبروں کو محل سجدہ گاہ قرار دیتے تھے خبردار۔تم ایسا
حدیث سی وسوم۳۳:ابوداؤد طیانسی وامام احمد مسند اور طبرانی کبیر میں بسند جید اور ابونعیم معرفۃ الصحابۃ اور ضیاء صحیح مختارہ میں اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی مات فیہ ادخلوا علی اصحابی فدخلوا علیہ وھو متقنع ببرد معافری فکشف القناع ثم قال لعن اﷲ الیھود النصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مرض وفات شریف میں فرمایا:میرے اصحاب کو میرے حضور لاؤ۔حاضر ہوئےحضور نے رخ انور سے کپڑا ہٹا کر فرمایا:یہود ونصاری پر اﷲ کی لعنت انھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں محل سجدہ قرار دے لیں
حدیث سی وچہارم۳۴: امام احمدو طبرانی بسند جید عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان من شرار الناس من تدرکھم الساعۃ و ھم احیاء ومن یتخذ القبور مساجد ۔ بیشك سب لوگوں سے بدتروں میں وہ ہیں جن کے جیتے جی قیامت قائم ہوگی اور وہ کہ قبروں کو جائے سجدہ ٹھہراتے ہیں۔
حدیث سی وپنجم۳۵:عبدالرزاق مصنف میں مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شرار الناس من یتخذ القبور مساجد ۔ بدترلوگوں میں ہیں وہ کہ قبروں کو محل سجود قراردیں۔
حدیث سی وششم۳۶ وسی وہفتم۳۷: صحیح مسلم میں جندب اور معجم طبرانی میں کعب بن مالك رضی اﷲ عنہ سے ہے:
قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قبل ان یموت بخمس وھو یقول الا ان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد الا فلا تتخذوا القبور میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات پاك سے پانچ روز پہلے حضور کو فرماتے سنا خبردار! تم سے اگلے اپنے انبیاء اولیاء کی قبروں کو محل سجدہ گاہ قرار دیتے تھے خبردار۔تم ایسا
حوالہ / References
کشف الاستار حدیث۴۳۶ ۱/ ۳۱۹،و ۲۲۰
کنز العمال حدیث ۲۲۵۲۳ ۸/ ۱۹۵
مسند احمد بن حنبل ۱/ ۴۰۵ و ۴۳۵ والمعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۱۳ ۱۰/ ۲۳۳
المصنف لعبد الرزاق ۱/ ۴۰۵
کنز العمال حدیث ۲۲۵۲۳ ۸/ ۱۹۵
مسند احمد بن حنبل ۱/ ۴۰۵ و ۴۳۵ والمعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۱۳ ۱۰/ ۲۳۳
المصنف لعبد الرزاق ۱/ ۴۰۵
مساجد انی انھاکم عن ذلك ۔ نہ کرنا ضرور تمھیں اس سے منع فرماتا ہوں۔
تنبیہ: شرح منتقی میں حدیث جندب پر کہا اس کے مانند مضمون طبرانی نے بسند جید زید بن ثابت اوربزار نے مسند میں ابوعبیدہ بن الجراح وابن عدی نے کامل میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا:اس کے ثبوت پر تین حدیثیں اور ہوں گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث سی وہشتم۳۸:عقیلی بطریق سہل بن ابی صالح عن ابیہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا فرمائی:
اللھم لاتجعل قبری وثنا لعن اﷲ قوما اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۔ الہی:میرے مزار کریم کوبت نہ ہونے دینا اﷲ کی لعنت ان پر جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مسجد کرلیں۔
حدیث سی ونہم: امام مالك مؤطا میں عطا بن یسار سے مرسلا اور بزار مسند میں ابوبطریق عطا بن یسار ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے موصولا راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اشد غضب اﷲ تعالی علی قوم اتخذوا قبور انبیائھم مساجدا ۔ اﷲ کا غضب اس قوم پر ہوا جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محل سجدہ ٹھہرایا۔
حدیث چہلم:عبدالرزاق مصنف میں عمرو بن دینار سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
کانت بنواسرائیل اتخذواقبور انبیائھم مساجد فلعنھم اﷲ تعالی بنی اسرائیل نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محل سجدہ کرلیا تو اﷲ عزوجل نے ان پر لعنت فرمائی۔والعیاذ باللہ۔
افادہ:علامہ قاضی بیضاوی پھر علامہ طیبی شرح مشکوۃ پھر علامہ قاری مرقاۃ میں لکھتے ہیں:
کانت الیھود والنصاری یسجدون القبور انبیاھم و یجعلونھا قبلۃ ویتوجھون فی الصلوۃ نحوھا فقد اتخذوھا اوثانا فلذلك لعنھم ومنع المسلمین عن مثل ذلك ۔ یہود ونصاری اپنے ابنیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے مزاروں کو سجدہ کرتے اور انھیں قبلہ بنا کر نماز میں ان کی طرف منہ کرتے تو انھوں نے ان کو بت بنالیالہذانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا۔
تنبیہ: شرح منتقی میں حدیث جندب پر کہا اس کے مانند مضمون طبرانی نے بسند جید زید بن ثابت اوربزار نے مسند میں ابوعبیدہ بن الجراح وابن عدی نے کامل میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا:اس کے ثبوت پر تین حدیثیں اور ہوں گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث سی وہشتم۳۸:عقیلی بطریق سہل بن ابی صالح عن ابیہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا فرمائی:
اللھم لاتجعل قبری وثنا لعن اﷲ قوما اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۔ الہی:میرے مزار کریم کوبت نہ ہونے دینا اﷲ کی لعنت ان پر جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مسجد کرلیں۔
حدیث سی ونہم: امام مالك مؤطا میں عطا بن یسار سے مرسلا اور بزار مسند میں ابوبطریق عطا بن یسار ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے موصولا راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اشد غضب اﷲ تعالی علی قوم اتخذوا قبور انبیائھم مساجدا ۔ اﷲ کا غضب اس قوم پر ہوا جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محل سجدہ ٹھہرایا۔
حدیث چہلم:عبدالرزاق مصنف میں عمرو بن دینار سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
کانت بنواسرائیل اتخذواقبور انبیائھم مساجد فلعنھم اﷲ تعالی بنی اسرائیل نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محل سجدہ کرلیا تو اﷲ عزوجل نے ان پر لعنت فرمائی۔والعیاذ باللہ۔
افادہ:علامہ قاضی بیضاوی پھر علامہ طیبی شرح مشکوۃ پھر علامہ قاری مرقاۃ میں لکھتے ہیں:
کانت الیھود والنصاری یسجدون القبور انبیاھم و یجعلونھا قبلۃ ویتوجھون فی الصلوۃ نحوھا فقد اتخذوھا اوثانا فلذلك لعنھم ومنع المسلمین عن مثل ذلك ۔ یہود ونصاری اپنے ابنیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے مزاروں کو سجدہ کرتے اور انھیں قبلہ بنا کر نماز میں ان کی طرف منہ کرتے تو انھوں نے ان کو بت بنالیالہذانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا۔
حوالہ / References
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۱ والمعجم الکبیر حدیث ۸۹ ۱۹/ ۴۱
الشفاء فصل فی حکم زیارۃ قبر ۲/ ۷۵
مؤطا امام مالك باب جامع الصلٰوۃ ص ۱۵۹ و کشف الاستار حدیث ۴۴۰ ۱/ ۲۲۰
المصنف لعبد الرزاق حدیث ۱۵۹۱ ۱/ ۴۰۶
مرقاۃ المفاتیح حدیث ۷۱۲ ۲/ ۴۱۶
الشفاء فصل فی حکم زیارۃ قبر ۲/ ۷۵
مؤطا امام مالك باب جامع الصلٰوۃ ص ۱۵۹ و کشف الاستار حدیث ۴۴۰ ۱/ ۲۲۰
المصنف لعبد الرزاق حدیث ۱۵۹۱ ۱/ ۴۰۶
مرقاۃ المفاتیح حدیث ۷۱۲ ۲/ ۴۱۶
مجمع بحار الانوار میں ہے:
کانوا یجعلونھا قبلۃ یسجدون الیھا فی الصلوۃ کالوثن ۔ مزارات انبیاء کوقبلہ ٹھہرا کر نماز میں ان کی طرف سجدہ کرتے تھے جیسے بت۔
تیسیر نیز سراج منیر شروح جامع صغیر میں ہے:اتخذوھاجھۃ قبلتھم مراد حدیث یہ ہے کہ انھوں نے مزارات کو سمت سجدہ بنالیا۔زواجر امام ابن حجر مکی میں ہے:
اتخاذالقبور مسجدا معناہ الصلوۃ علیہ او الیہ ۔ قبروں کا محل سجدہ بنالینے کے یہ معنی ہیں کہ ان پر یا ان کی طرف نماز پڑھی جائے۔
علامہ تورپشی نے شرح مصابیح میں دونوں صورتیں لکھیں:
احدھما کانوا یسجدون بقبور الانبیاء تعظیما لھم وقصد العبادۃ۔ثانیھا التوجہ الی قبورھم فی الصلوۃ ایك یہ کہ بقصد عبادت قبور انبیاء کو سجدہ کرتےدوسرے یہ کہ ان کی طرف سجدہ کرتے۔
پھر فرمایا:وکلاالطریقین غیر مرضیۃ۔دونوں صورتیں ناپسند ہیں۔
شیخ محقق لمعات میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں وفی شرح الشیخ ایضا مثلہ (شیخ کی شرح میں بھی ایسا ہے۔ت)
شرح امام ابن الحجر مکی م یں بھی یوں ہیں ہے تو ظاہر کہ سجدہ اور قبر کی طرف سجدہ دونوں حرام ہے۔اور ان احادیث کے تحت میں داخل ہیںاور دونوں کو وہ سخت وعیدیں شامل۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بلکہ صورت دوم اظہر وارجح یہود سے عبادت غیر خدا معروف نہیں۔ولہذا علماء نے فرمایا کہ یہودیت سے نصرانیت بد تر ہے کہ نصاری کا خلاف توحید ہے۔اور یہود کا صرف رسالت میں۔
کانوا یجعلونھا قبلۃ یسجدون الیھا فی الصلوۃ کالوثن ۔ مزارات انبیاء کوقبلہ ٹھہرا کر نماز میں ان کی طرف سجدہ کرتے تھے جیسے بت۔
تیسیر نیز سراج منیر شروح جامع صغیر میں ہے:اتخذوھاجھۃ قبلتھم مراد حدیث یہ ہے کہ انھوں نے مزارات کو سمت سجدہ بنالیا۔زواجر امام ابن حجر مکی میں ہے:
اتخاذالقبور مسجدا معناہ الصلوۃ علیہ او الیہ ۔ قبروں کا محل سجدہ بنالینے کے یہ معنی ہیں کہ ان پر یا ان کی طرف نماز پڑھی جائے۔
علامہ تورپشی نے شرح مصابیح میں دونوں صورتیں لکھیں:
احدھما کانوا یسجدون بقبور الانبیاء تعظیما لھم وقصد العبادۃ۔ثانیھا التوجہ الی قبورھم فی الصلوۃ ایك یہ کہ بقصد عبادت قبور انبیاء کو سجدہ کرتےدوسرے یہ کہ ان کی طرف سجدہ کرتے۔
پھر فرمایا:وکلاالطریقین غیر مرضیۃ۔دونوں صورتیں ناپسند ہیں۔
شیخ محقق لمعات میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں وفی شرح الشیخ ایضا مثلہ (شیخ کی شرح میں بھی ایسا ہے۔ت)
شرح امام ابن الحجر مکی م یں بھی یوں ہیں ہے تو ظاہر کہ سجدہ اور قبر کی طرف سجدہ دونوں حرام ہے۔اور ان احادیث کے تحت میں داخل ہیںاور دونوں کو وہ سخت وعیدیں شامل۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بلکہ صورت دوم اظہر وارجح یہود سے عبادت غیر خدا معروف نہیں۔ولہذا علماء نے فرمایا کہ یہودیت سے نصرانیت بد تر ہے کہ نصاری کا خلاف توحید ہے۔اور یہود کا صرف رسالت میں۔
حوالہ / References
مجمع بحار الانوار تحت لفظ"قبر"مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ۴/۱۹۶
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث فاتل اﷲ الیھود الخ مکتہ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۱۸۱
الزواجر کتاب الصلٰوۃ اتخاذ القبور مساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح عن التورپشی باب المساجد الخ مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳/ ۵۲
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح عن التورپشی باب المساجد الخ مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳/ ۵۲
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث فاتل اﷲ الیھود الخ مکتہ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۱۸۱
الزواجر کتاب الصلٰوۃ اتخاذ القبور مساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح عن التورپشی باب المساجد الخ مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳/ ۵۲
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح عن التورپشی باب المساجد الخ مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳/ ۵۲
درمختار میں ہے:
النصرانی شرمن الیھودی فی الدارین ۔ عیسائییہودیوں سے دونوں جہانوں میں بد ترہیں۔(ت)
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے:
لان نزاع النصاری فی الالیھات ونزاع الیھود فی النبوات ۔ اس لئے کہ عیسائیوں کا(ہم سے اختلاف)الہیات یعنی توحید میں ہے جبکہ یہودیوں کا اختلاف رسالت میں ہے۔(ت)
لاجرم محرر مذہب سید نا امام محمد نے مؤطامیں صورت دوم کے داخل وعید ومشمول حدیث ہونے کی طرف صاف ارشاد فرمایا:باب وضع کیا:
باب القبر یتخذ مسجد ا اویصلی الیہ ۔ "باب"قبر کو سجدہ گاہ بنایا جائے یا اس کے طرف منہ کرکے نماز پڑھی جائے۔(ت)
اور اس میں یہی حدیث ابوہریرہ لائے۔
قاتل اﷲ الیھود اتخذ واقبور انبیائھم مساجد ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی یہودیوں کو مارے کہ انھوں نے اپنے انبیائے کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
فصل سوم: ڈیڑھ سو۱۵۰ نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کے حرام ہونے کا ثبوت
اور وہ بھی دو۲ نوع ہیں:
نوع اول:تین قسم:
قسم اول:نفس سجدہ کا حکم کہ غیر خدا کے لئے مطلقا حرام ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)تحریم متفق علیہ ہے اور اسی قدر ہمارا مقصوداور تکفیرمیں
النصرانی شرمن الیھودی فی الدارین ۔ عیسائییہودیوں سے دونوں جہانوں میں بد ترہیں۔(ت)
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے:
لان نزاع النصاری فی الالیھات ونزاع الیھود فی النبوات ۔ اس لئے کہ عیسائیوں کا(ہم سے اختلاف)الہیات یعنی توحید میں ہے جبکہ یہودیوں کا اختلاف رسالت میں ہے۔(ت)
لاجرم محرر مذہب سید نا امام محمد نے مؤطامیں صورت دوم کے داخل وعید ومشمول حدیث ہونے کی طرف صاف ارشاد فرمایا:باب وضع کیا:
باب القبر یتخذ مسجد ا اویصلی الیہ ۔ "باب"قبر کو سجدہ گاہ بنایا جائے یا اس کے طرف منہ کرکے نماز پڑھی جائے۔(ت)
اور اس میں یہی حدیث ابوہریرہ لائے۔
قاتل اﷲ الیھود اتخذ واقبور انبیائھم مساجد ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی یہودیوں کو مارے کہ انھوں نے اپنے انبیائے کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنایا ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
فصل سوم: ڈیڑھ سو۱۵۰ نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کے حرام ہونے کا ثبوت
اور وہ بھی دو۲ نوع ہیں:
نوع اول:تین قسم:
قسم اول:نفس سجدہ کا حکم کہ غیر خدا کے لئے مطلقا حرام ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)تحریم متفق علیہ ہے اور اسی قدر ہمارا مقصوداور تکفیرمیں
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۰
ردالمحتار کتاب النکاح باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۹۵
مؤطا للامام محمد باب القبر یتخذ مسجدا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۷۲
مؤطا للامام محمد باب القبر یتخذ مسجدا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۷۲
ردالمحتار کتاب النکاح باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۹۵
مؤطا للامام محمد باب القبر یتخذ مسجدا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۷۲
مؤطا للامام محمد باب القبر یتخذ مسجدا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۷۲
عبارات چھ طور پر آئیں گی:(۱)غیر خدا کے لئے سجدہ کفر ہے۔اس کا ظاہر الاطلاق ہے۔
(۲)غیر خدا کو سجدہ مطلقا کفر ہے اس میں تصریح اطلاق ہے۔
(۳)بحال اکراہ کفر نہیں ورنہ کفر یہ قید اولین میں بھی ضروری ہے۔
(۴)غیر کی نیت سے کفر اور اﷲ عزوجل کے لئے نیت ہو یا کچھ نیت نہ ہو تو کفر نہیں
(۵)بہ نیت عبادت کفراور بہ نیت تحیت کفر نہیںاور کچھ نیت نہ ہو جب بھی کفر۔
(۶)غیر کی طرف اصلا کفر نہیں جب تك نیت عبادت نہ ہواور یہی صحیح ومعتمد ہےوحق و معتقد ہے اور باقی کفر صوری وغیرہ سے مؤول وباﷲ التوفیق۔
نص ۱:تبیین الحقائق امام فخر الدین زیلعی جلد اول ص ۲۰۲(۲)غنیہ المستملی محقق ابراہیم حلبی ص ۲۶۶(۳)فتح اﷲ العین العلامۃ السید ابی السعود الازہری جلد اول ص ۲۹۰:
التواضع نھایۃ تو جد فی السجود ولہذ الوسجدلغیر اﷲ تعالی یکفر ۔ تواضع کاختم سجدہ پر ہے اس نے غیر خدا کو سجدہ کفر ہے۔
(۴)نصا ب الاحتساب قلمی باب ۴۹(۵)کفایۃ شعبی سے:
اذا سجد لغیر اﷲ تعالی یکفر لان وضع الجہۃ علی الارض لایجوز الاﷲ تعالی ۔ غیر خدا کو سجدہ کرے تو کافر ہے کہ زمین پر پیشانی رکھنا دوسرے کے لئے جائز نہیں۔
نص ۶:مسبوط الامام جلیل شمس الائمہ سرخسی(۷)اس سے جامع الرموز ص۵۳۵:
من سجد لغیر اﷲ تعالی علی وجہہ التعظیم کفر ۔ غیر خدا کو سجدہ تعظیمی کرنے والا کافر ہے۔
نص ۸:منح الروض الازہر فی شرح الفقہ الاکبر ص ۲۳۴:
اقول: وضع الجبین اقبح من وضع الخد میں کہتاہوں زمین پر ماتھا رکھنا رخسارہ رکھنے سے
(۲)غیر خدا کو سجدہ مطلقا کفر ہے اس میں تصریح اطلاق ہے۔
(۳)بحال اکراہ کفر نہیں ورنہ کفر یہ قید اولین میں بھی ضروری ہے۔
(۴)غیر کی نیت سے کفر اور اﷲ عزوجل کے لئے نیت ہو یا کچھ نیت نہ ہو تو کفر نہیں
(۵)بہ نیت عبادت کفراور بہ نیت تحیت کفر نہیںاور کچھ نیت نہ ہو جب بھی کفر۔
(۶)غیر کی طرف اصلا کفر نہیں جب تك نیت عبادت نہ ہواور یہی صحیح ومعتمد ہےوحق و معتقد ہے اور باقی کفر صوری وغیرہ سے مؤول وباﷲ التوفیق۔
نص ۱:تبیین الحقائق امام فخر الدین زیلعی جلد اول ص ۲۰۲(۲)غنیہ المستملی محقق ابراہیم حلبی ص ۲۶۶(۳)فتح اﷲ العین العلامۃ السید ابی السعود الازہری جلد اول ص ۲۹۰:
التواضع نھایۃ تو جد فی السجود ولہذ الوسجدلغیر اﷲ تعالی یکفر ۔ تواضع کاختم سجدہ پر ہے اس نے غیر خدا کو سجدہ کفر ہے۔
(۴)نصا ب الاحتساب قلمی باب ۴۹(۵)کفایۃ شعبی سے:
اذا سجد لغیر اﷲ تعالی یکفر لان وضع الجہۃ علی الارض لایجوز الاﷲ تعالی ۔ غیر خدا کو سجدہ کرے تو کافر ہے کہ زمین پر پیشانی رکھنا دوسرے کے لئے جائز نہیں۔
نص ۶:مسبوط الامام جلیل شمس الائمہ سرخسی(۷)اس سے جامع الرموز ص۵۳۵:
من سجد لغیر اﷲ تعالی علی وجہہ التعظیم کفر ۔ غیر خدا کو سجدہ تعظیمی کرنے والا کافر ہے۔
نص ۸:منح الروض الازہر فی شرح الفقہ الاکبر ص ۲۳۴:
اقول: وضع الجبین اقبح من وضع الخد میں کہتاہوں زمین پر ماتھا رکھنا رخسارہ رکھنے سے
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب صلٰوۃ المریض ۱/ ۲۰۲ وغنیۃ المستملی الثانی القیام سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۶۶،فتح المعین باب صلٰوۃ المریض کراچی ۱/ ۲۹۰
فتاوٰی نور الھدٰی بحوالہ المبسوط کتاب الکراھیۃ فصل فیما یصیر بہ المسلم کافر امکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص ۴۳۹
جامع الرموز کتا ب الکراھیۃ مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۵
فتاوٰی نور الھدٰی بحوالہ المبسوط کتاب الکراھیۃ فصل فیما یصیر بہ المسلم کافر امکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص ۴۳۹
جامع الرموز کتا ب الکراھیۃ مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۵
فینبغی ان لایکفر الایوضع الجبین دون غیرہ لان ھذہ سجدۃ مختصتہ ﷲ تعالی ۔ اقول:اولا ان کان علی وجہ العبادۃ کفر ولو لو یزد علی تقبیل ارض او انحناء بل بمجرد النیۃ والافلا کفر فی المعتمد وھو الحق المعتقد وثانیا الجبین احد جانبی الجبھۃ و ھما جبینان وانما السجود وضع الجبھۃ فلیتنبہ۔ بھی بد تر ہے تو چاہئے کہ اس میں کفر نہ ہو اور میں کہ یہ سجدہ ہے کہ اﷲ عزوجل کے لئے خاص ہے۔ اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)اولا اگر زمین پر بطور عبادت پیشانی رکھے تو کافر ہوجائے گا اگر چہ زمین چومنے یا صرف جھکنے بلکہ صر ف نیت کرنے پر اکتفاء کیا(اور اس سے مزید کچھ نہ کہا)تو قابل اعتماد کیا مذہب میں کفر نہیں لہذا یہی حق قابل اعتقاد ہے۔ثانیا جبین"پیشانی کی ایك جانب اور طرف ہے۔اور پیشانی میں دو جبین ہیں۔اور سجدہ زمین پر پیشانی رکھنے کا نام ہے۔لہذا اس سے آگاہ ہونا چاہئے۔(ت)
نص ۹:شرح نقایہ علامہ قہستانی ص ۳۳۵(۱۰)مجمع الانہر ملتقی الابحرجلد ۴ ص ۲۲۰۔دونوں فتاوی ظہریہ سے(۱۱)ردالمحتار علامہ شامی جلد ۵ ص ۴۷۸ جامع الرموز سے:
یکفر بالسجدۃ مطلقا ۔ غیر خدا کو سجدے سے مطلقا کافر ہوجائے گا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)امام عینی کے اختصار اور علی قاری کی نقل سے ظہیریہ میں یہ حکم جزمی نہیں بلکہ بعض کی طرف نسبت ہے کہ بعض نے مطلقا کافر کہا کماسیأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)مجمع الانہر وشامی دونوں کے مستند نقل علامہ قہستانی ہیں اور شك نہیں کہ امام عینی ان سے اوثق ہیں لہذا ہم نے یہاں ظہیریہ کو نہ گنا۔
نص ۱۲:غایۃ البیان علامہ اتقانی قلمی کتاب الکراھیۃ قبیل فصل من البیع:
اما السجود لغیر اﷲ فہو کافر اذا کان من غیر اکراہ ۔ غیر خدا کو بلا اکراہ سجدہ کفر ہے۔
نص ۹:شرح نقایہ علامہ قہستانی ص ۳۳۵(۱۰)مجمع الانہر ملتقی الابحرجلد ۴ ص ۲۲۰۔دونوں فتاوی ظہریہ سے(۱۱)ردالمحتار علامہ شامی جلد ۵ ص ۴۷۸ جامع الرموز سے:
یکفر بالسجدۃ مطلقا ۔ غیر خدا کو سجدے سے مطلقا کافر ہوجائے گا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)امام عینی کے اختصار اور علی قاری کی نقل سے ظہیریہ میں یہ حکم جزمی نہیں بلکہ بعض کی طرف نسبت ہے کہ بعض نے مطلقا کافر کہا کماسیأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)مجمع الانہر وشامی دونوں کے مستند نقل علامہ قہستانی ہیں اور شك نہیں کہ امام عینی ان سے اوثق ہیں لہذا ہم نے یہاں ظہیریہ کو نہ گنا۔
نص ۱۲:غایۃ البیان علامہ اتقانی قلمی کتاب الکراھیۃ قبیل فصل من البیع:
اما السجود لغیر اﷲ فہو کافر اذا کان من غیر اکراہ ۔ غیر خدا کو بلا اکراہ سجدہ کفر ہے۔
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ بیروت ۲/ ۵۴۲ وجامع الرموز کتاب الراھیۃ ایران ۳/ ۳۱۵،ردالمحتار کتاب الحطروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
غایۃ البیان کتاب الکراھیۃ قبیل نص من البیع(قلمی)
مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ بیروت ۲/ ۵۴۲ وجامع الرموز کتاب الراھیۃ ایران ۳/ ۳۱۵،ردالمحتار کتاب الحطروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
غایۃ البیان کتاب الکراھیۃ قبیل نص من البیع(قلمی)
نص ۱۳:منح الروض ص۲۳۵:
اذا سجد بغیر الاکراہ یکفر عندھم بلاخلاف ۔ اگر بلاکراہ سجد ہ کیا تو باتفا علماء کافر ہوجائے گا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)دعوی اتفاق بےمحل ہے اولا: بلکہ صحیح ومختارہ وہی تفصیل نیت عبادت وتحیت ہے جن پر نصوص کثیرہ مطلقہ عنقریب آتے ہیں:
ثانیا: اجلہ اکابر نے خاص صورت عدم اکراہ میں بھی سجدہ تحیت کفر نہ ہونے کی تصریحیں فرمائیں۔فتاوی کبری میں پھر خزانۃ المفتین قلمی کتاب الکراھیۃ نیز واقعات امام صدر شہید پھر خود یہی غایۃ البیان مذکور میں مسئلہ اکراہ لکھ کر فرمایا:
فھذا دلیل علی ان السجود نبیۃ التحیۃ اذا کان خائفا لایکون کفرا فعلی ھذا القیاس من سجدہ عن السلاطین علی وجہ التحیۃ لایصیر کافرا ۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ سجدہ تعظیمی جبکہ خائف(اور خطر محسوس کرے)تو کفرنہ ہوگا۔لہذا اسی پریہ مسئلہ قیاس کیا گیا ہے کہ جو بادشاہوں کو سجدہ تعظیمی کرے تو کافر نہ ہوگا۔
جامع الفصولین جلد دوم میں بعدمسئلہ اکراہ ہے:
فہذا تؤید مامران من سجد للسطان تکریما لا یکفر ۔ یہ مسئلہ گزشتہ کلام کی تائید کرتاہے کہ جس نے کسی بادشاہ کو بطور تعظیم سجدہ کیا تو(اس کاروائی سے)وہ کافر نہ ہوگا۔(ت)
ثالثا: خود علی قاری کی عبارت آتی ہے کہ روضہ انور کے سجدے کو صرف حرام کہا نہ کہ کفر
رابعا: بلکہ نص۲۷ میں وہی کہیں گے کہ بعض علماء نے تکفیر کی اور ظاہر تر عدم تکفیر ہے۔پھر اتفاق درکنار وہ قول راجح بھی نہیں ضعیف ومرجوح ہے۔
نص۱۴:امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۵۵:
علم من کلاھم ان السجود بین یدی کلام علماء سے معلوم ہوا کہ غیر کو سجدہ کبھی کفرہے
اذا سجد بغیر الاکراہ یکفر عندھم بلاخلاف ۔ اگر بلاکراہ سجد ہ کیا تو باتفا علماء کافر ہوجائے گا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)دعوی اتفاق بےمحل ہے اولا: بلکہ صحیح ومختارہ وہی تفصیل نیت عبادت وتحیت ہے جن پر نصوص کثیرہ مطلقہ عنقریب آتے ہیں:
ثانیا: اجلہ اکابر نے خاص صورت عدم اکراہ میں بھی سجدہ تحیت کفر نہ ہونے کی تصریحیں فرمائیں۔فتاوی کبری میں پھر خزانۃ المفتین قلمی کتاب الکراھیۃ نیز واقعات امام صدر شہید پھر خود یہی غایۃ البیان مذکور میں مسئلہ اکراہ لکھ کر فرمایا:
فھذا دلیل علی ان السجود نبیۃ التحیۃ اذا کان خائفا لایکون کفرا فعلی ھذا القیاس من سجدہ عن السلاطین علی وجہ التحیۃ لایصیر کافرا ۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ سجدہ تعظیمی جبکہ خائف(اور خطر محسوس کرے)تو کفرنہ ہوگا۔لہذا اسی پریہ مسئلہ قیاس کیا گیا ہے کہ جو بادشاہوں کو سجدہ تعظیمی کرے تو کافر نہ ہوگا۔
جامع الفصولین جلد دوم میں بعدمسئلہ اکراہ ہے:
فہذا تؤید مامران من سجد للسطان تکریما لا یکفر ۔ یہ مسئلہ گزشتہ کلام کی تائید کرتاہے کہ جس نے کسی بادشاہ کو بطور تعظیم سجدہ کیا تو(اس کاروائی سے)وہ کافر نہ ہوگا۔(ت)
ثالثا: خود علی قاری کی عبارت آتی ہے کہ روضہ انور کے سجدے کو صرف حرام کہا نہ کہ کفر
رابعا: بلکہ نص۲۷ میں وہی کہیں گے کہ بعض علماء نے تکفیر کی اور ظاہر تر عدم تکفیر ہے۔پھر اتفاق درکنار وہ قول راجح بھی نہیں ضعیف ومرجوح ہے۔
نص۱۴:امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۵۵:
علم من کلاھم ان السجود بین یدی کلام علماء سے معلوم ہوا کہ غیر کو سجدہ کبھی کفرہے
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
خزانۃ الفتاوٰی کتا ب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۳
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴
خزانۃ الفتاوٰی کتا ب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۳
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴
الغیر منہ ماھو کفرومنہ ماھو حرام غیر کفر فالکفر ان یقصد السجود المخلوق و الحرام ان یقصدہ ﷲ تعالی معظما بہ ذلك للمخلوق من غیر ان یقصدہ بہ اولایکون لہ قصد ۔ اور کبھی صر ف حرام۔کفر تو یہ ہے کہ مخلوق کے لئے سجدہ کا قصد کرے اور حرام یہ کہ سجدہ اﷲ تعالی کے لئے کرے اور مخلوق کی طرف کرنے سے اس کی تعظیم یا یہ کہ اصلا کچھ نہ ہو۔
نص ۱۵:جواہر الاخلاطی کتاب الاستحسان(۱۶)پھر ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸۳۶۹(۱۷)نصاب الاحتساب باب ۴۹(۱۸)یہ سب امام اجل فقیہ ابوجعفر ہندوانی سے:
وھذا لفظ النصاب وھو اتم من قبل الارض بین ایدی السلطان اوالامیرا اوسجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ وان کان سجد بنیۃ العبادۃ للسطان اولم تحضرہ النیۃ فقد کفر ۔ جس نے بادشاہ یاسردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت تھا تو کافر تو نہ ہوا مگر گنہگار مرتکب کبیرہ ہوااور اگر پرستش بادشاہ کی نیت کی یا عبادت وتحیت کوئی نیت اس وقت نہ تھی تو بیشك کافر ہوگیا۔
نص ۱۹:فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی(۲۰)اس کا مختصر للامام عینی(۲۱)اس سے غمز العیون والبصائر ص ۳۱(۲۲)فتاوی خلاصہ قلمی قبیل کتاب الھبۃ(۲۳)اس سے منح الروض ص ۲۳۵:
وھذا الفظ الامام العینی قال بعضھم یکفر مطلقا و قال اکثرھم ھو علی وجوہ ان اراد بہ العبادہ یکفر و ان ارادبہ التحیۃ لایکفر و یحرم علیہ ذلك وان لم تکن لہ ارادۃ کفر عند اکثر اھل العلم ۔ غیر خدا کو سجدے سے بعض نے کہا مطلقا کافر ہےاور اکثر نے اس میں کئی صورتیں ہیں اگر اس کی عبادت چاہی تو کافر ہے اور تحیت کی نیت کی تو کفر نہیں حرام ہے اور اگر کچھ نیت نہ تھی تو اکثر ائمہ کے نزدیك کافرہے۔
خلاصہ کے لفظ یہ ہیں:
نص ۱۵:جواہر الاخلاطی کتاب الاستحسان(۱۶)پھر ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸۳۶۹(۱۷)نصاب الاحتساب باب ۴۹(۱۸)یہ سب امام اجل فقیہ ابوجعفر ہندوانی سے:
وھذا لفظ النصاب وھو اتم من قبل الارض بین ایدی السلطان اوالامیرا اوسجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ وان کان سجد بنیۃ العبادۃ للسطان اولم تحضرہ النیۃ فقد کفر ۔ جس نے بادشاہ یاسردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت تھا تو کافر تو نہ ہوا مگر گنہگار مرتکب کبیرہ ہوااور اگر پرستش بادشاہ کی نیت کی یا عبادت وتحیت کوئی نیت اس وقت نہ تھی تو بیشك کافر ہوگیا۔
نص ۱۹:فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی(۲۰)اس کا مختصر للامام عینی(۲۱)اس سے غمز العیون والبصائر ص ۳۱(۲۲)فتاوی خلاصہ قلمی قبیل کتاب الھبۃ(۲۳)اس سے منح الروض ص ۲۳۵:
وھذا الفظ الامام العینی قال بعضھم یکفر مطلقا و قال اکثرھم ھو علی وجوہ ان اراد بہ العبادہ یکفر و ان ارادبہ التحیۃ لایکفر و یحرم علیہ ذلك وان لم تکن لہ ارادۃ کفر عند اکثر اھل العلم ۔ غیر خدا کو سجدے سے بعض نے کہا مطلقا کافر ہےاور اکثر نے اس میں کئی صورتیں ہیں اگر اس کی عبادت چاہی تو کافر ہے اور تحیت کی نیت کی تو کفر نہیں حرام ہے اور اگر کچھ نیت نہ تھی تو اکثر ائمہ کے نزدیك کافرہے۔
خلاصہ کے لفظ یہ ہیں:
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام مع سبیل النجاۃ مکتبۃ الحقیقۃ دارالشفقت استانبول ترکی ص۳۸۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ کراچی ۵/ ۶۹۔۳۶۸
غمز العیون البصائر بحوالہ العینی فی مختصر الفتاوٰی الظہیریۃ الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ کراچی ۵/ ۶۹۔۳۶۸
غمز العیون البصائر بحوالہ العینی فی مختصر الفتاوٰی الظہیریۃ الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۵
اماالسجدۃ لہؤلاء الجبابرۃ فھی کبیرۃ ھل یکفر قال بعضھم یکفر مطلقا وقال بعضہم(وفی نسخۃ الطبع اکثر ھم)المسالۃ علی التفصیل ان اراد بھا العبادۃ یکفر وان ارادبھا التحیۃ لایکفر قال وھذا موافق لما قال وھذا موافق لما فی سیر الفتاوی والاصل ۔ رہا ان سلاطین کو سجدہ وہ گناہ کبیرہ ہے۔اور کافر بھی ہوگا یا نہیں بعض نے کہا مطلقا کافر ہوجائے گا اور اکثر نے فرمایا مسئلہ میں تفصیل ہے اگر عبادت چاہی کافر ہوجائے گا اور تحیت تو نہیں۔ اور یہی اس مسئلہ کے موافق ہے جو فتاوی کی کتاب السیر اور امام محمد ررضی اﷲ تعالی عنہ کی کتاب مبسوط میں ہے۔
علی قاری نے اسے یوں نقل بالمعنی کیا:
فی الخلاصۃ من سجد لھم ان ارادبہ التعظیم ای کتعظیم اﷲ سبحانہ کفروا ان ارادبہ التحیۃ اختار بعض العلماء انہ لایکفر اقولوھذا ھو الاظھر وفی الظھیریۃ قال بعضھم یکفر مطلقا ۔
اقول:لیس فی الخلاصۃ لفظ التعظیم بل العبادۃ فلا حاجۃ الی ایرادہ ثم تفسیرہ بما یرجع الی العبادۃ الا ان یکون فی نسخۃ لفظ التعظیم کما ان فیھا بعضہم مکان اکثر ھم کنسخۃ القلم واﷲ تعالی اعلم۔ خلاصہ میں ہے جس نے انھیں سجدہ کیا اگر تعظیم کا قصد تھا یعنی مثل تعظیم الہی تو کافر ہوگیا اور تحیت کا ارادہ نہ تھا تو بعض علماء نے اختیار فرمایا کہ کافر نہ ہوگامیں کہتاہوں یہی ظاہر تر ہے۔اورفتاوی ظہیریہ میں ہے کہ بعض نے کہا مطلقا کافر ہوجائے گا۔
اقول:(میں کہتاہوں کہ خلاصۃ میں لفظ"التعظیم"نہیں بلکہ لفظ"عبادت"مذکو رہے لہذا اس کے لانے کی کچھ ضرورت نہیں پھر اس کی ایسے کلام سے تشریح کرنا کہ عبادت کی طرف راجح ہے مگر یہ کہ اس کے ایك نسخہ میں لفظ"تعظیم"موجود ہو جیسا کہ اس کے ایک"نسخہ"میں اکثر ھم کی جگہ بعضھم جیسا کہ قلمی نسخہ میں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
نص ۲۴:امام اجل صدرشہید شرح جامع صغیر میں(۲۵)ان سے امام سمعانی خزانۃ المفتین قلمی
علی قاری نے اسے یوں نقل بالمعنی کیا:
فی الخلاصۃ من سجد لھم ان ارادبہ التعظیم ای کتعظیم اﷲ سبحانہ کفروا ان ارادبہ التحیۃ اختار بعض العلماء انہ لایکفر اقولوھذا ھو الاظھر وفی الظھیریۃ قال بعضھم یکفر مطلقا ۔
اقول:لیس فی الخلاصۃ لفظ التعظیم بل العبادۃ فلا حاجۃ الی ایرادہ ثم تفسیرہ بما یرجع الی العبادۃ الا ان یکون فی نسخۃ لفظ التعظیم کما ان فیھا بعضہم مکان اکثر ھم کنسخۃ القلم واﷲ تعالی اعلم۔ خلاصہ میں ہے جس نے انھیں سجدہ کیا اگر تعظیم کا قصد تھا یعنی مثل تعظیم الہی تو کافر ہوگیا اور تحیت کا ارادہ نہ تھا تو بعض علماء نے اختیار فرمایا کہ کافر نہ ہوگامیں کہتاہوں یہی ظاہر تر ہے۔اورفتاوی ظہیریہ میں ہے کہ بعض نے کہا مطلقا کافر ہوجائے گا۔
اقول:(میں کہتاہوں کہ خلاصۃ میں لفظ"التعظیم"نہیں بلکہ لفظ"عبادت"مذکو رہے لہذا اس کے لانے کی کچھ ضرورت نہیں پھر اس کی ایسے کلام سے تشریح کرنا کہ عبادت کی طرف راجح ہے مگر یہ کہ اس کے ایك نسخہ میں لفظ"تعظیم"موجود ہو جیسا کہ اس کے ایک"نسخہ"میں اکثر ھم کی جگہ بعضھم جیسا کہ قلمی نسخہ میں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
نص ۲۴:امام اجل صدرشہید شرح جامع صغیر میں(۲۵)ان سے امام سمعانی خزانۃ المفتین قلمی
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی الجنس الحادی عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۹
منح الروض الازھر الشرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
منح الروض الازھر الشرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
کتاب الکراھیۃ میں(۲۶)جواہر الاخلاطی قلمی کتاب الاستحسان(۲۷)اس سے عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۸(۲۸)جامع الفصولین جلد ۲ س ۳۱۴(۲۹)برمز من مجمع النوازل(۳۰)مرموزجز یعنی وجیز المحیط سے(۳۱)جامع الرموز ص ۵۳۵(۳۲)جامع الفصولین ص۱۱(۳۴)مجمع الانہر جلد ۲ ص ۵۲۰اور یہ لفظ امام صدر شہید کے ہیں:
من قبل الارض بین یدی السلطان او امیر او سجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن ارتکب الکبیرۃ ۔ جس نے بادشاہ کو کسی سردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت ہوکافر نہ ہوگا ہاں مرتکب کبیر ہوا۔
جامع الرموز وغیرہ کے لفظ یہ ہیں:لایجوز فانہ کبیرۃ زمین بوسی وسجدہ تحیت ناجائز وکبیرہ ہیں۔جواہر وہندیہ میں یوں ہے:
لایکفر ولکن یاثم بارتکابہ الکبیرۃ ھو المختار ۔ یعنی مذہب مختار میں زمین بوسی سجدہ تحیت سے کافر نہ ہوگا مگر مجرم ہوگا کہ اس نے کبیرہ کیا۔
جامع الفصولین کے لفظ دوم یہ ہیں:
اثم لو سجدہ علی وجہ التحیۃ لارتکاب ماحرم ۔ سجدہ تحیت سے گنہگار ہوگا کہ اس نے حرام کا ارتکاب کیا۔
مجمع الانہر کے لفظ یہ ہیں:
من سجد لہ علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ ۔ سجدہ تحیت سے کافر تو نہ ہوگا ہاں گنہگار مرتکب کبیرہ ہوگا۔
من قبل الارض بین یدی السلطان او امیر او سجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن ارتکب الکبیرۃ ۔ جس نے بادشاہ کو کسی سردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت ہوکافر نہ ہوگا ہاں مرتکب کبیر ہوا۔
جامع الرموز وغیرہ کے لفظ یہ ہیں:لایجوز فانہ کبیرۃ زمین بوسی وسجدہ تحیت ناجائز وکبیرہ ہیں۔جواہر وہندیہ میں یوں ہے:
لایکفر ولکن یاثم بارتکابہ الکبیرۃ ھو المختار ۔ یعنی مذہب مختار میں زمین بوسی سجدہ تحیت سے کافر نہ ہوگا مگر مجرم ہوگا کہ اس نے کبیرہ کیا۔
جامع الفصولین کے لفظ دوم یہ ہیں:
اثم لو سجدہ علی وجہ التحیۃ لارتکاب ماحرم ۔ سجدہ تحیت سے گنہگار ہوگا کہ اس نے حرام کا ارتکاب کیا۔
مجمع الانہر کے لفظ یہ ہیں:
من سجد لہ علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ ۔ سجدہ تحیت سے کافر تو نہ ہوگا ہاں گنہگار مرتکب کبیرہ ہوگا۔
حوالہ / References
خزانۃالمفتین کتاب الکراھیۃقلمی ۲/ ۲۱۳ و جامع المفصولین الفصل الثامن والثلاثون ۲/ ۳۱۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۵
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ جواہر الاخلاطی کتا ب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون ۵/ ۳۶۸
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴
مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ فصل فی بیان احکام النظرہ ونحوہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۲
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۵
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ جواہر الاخلاطی کتا ب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون ۵/ ۳۶۸
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴
مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ فصل فی بیان احکام النظرہ ونحوہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۲
نص ۳۵:درمختار کتاب الحظر قبیل فصل البیع(۳۶)مجمع الانہر محل مذکور:
وھل یکفر ان علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفروان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ ۔ اس سے کافر بھی ہوگا یانہیں اگر بروجہ عبادت و تعظیم کرے کافرہے۔اور بروجہ تحیت تو کافر نہیں مجرم ومرتکب کبیرہ ہے۔
(۳۷)علامہ ابن عابدین جلد ۵ ص ۳۸۷ کلام مذکور درپر:
تلفیق القولین قال الزیلعی وذکر الصدر الشھید انہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالی علی وجہ التعظیم کفر ۔ یعنی یہاں دو قول تھے:ایك یہ کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے امام شمس الائمہ سرخسی کا یہی قول ہے دوسرا یہ کہ سجدہ تحیت کفر نہیں۔امام صدر شہید کا یہی مختار ہے شارح نے دونوں کا ایك ایك حصہ لے کر یہ تفصیل کی کہ تعظیم مقصود ہو تو کفر اور تحیت تونہیں۔
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)امام صدر شہید صرف نفی کفر فرماتے ہیں:سجدہ تحیت کے گناہ کبیرہ ہونے کی خود انھوں نے تصریح فرمائی کہ نص ۲۰ میں گزری اور تعظیم سے کبھی مطلق مراد لیتے ہیں بایں معنی تحیت بھی تعظیم ہے خصوصا تحیت عظماء نص ۴۵ میں امام فقیہ النفس اور نص ۵۱ میں سیدی عبدالغنی قدس سرہسے آتا ہے کہ تحیت وتعظیم کو ایك صورت رکھا اور عبادت کے مقابل لیا اور کبھی خاص تعظیم مثل تعظیم الہی مراد لیتے ہیں جیسا کہ نص ۲۳ میں منح الروض سے گزرا اس وقت وہ مساوی عبادت ہے اس کی نظیر قسم دوم میں خود صاحب درمختار کی در منتقی سے آتی ہے کہ تعظیم کو تحیت کے مقابل لیا قول شمس الائمہ میں یہی مراد ہے تو یہ تلفیق نہیں تو فیق ہے دونوں مرادوں کی تحقیق ہے اور اﷲ عزوجل ولی توفیق ہے۔
نص ۳۸:کتا ب الاصل اللامام محمد(۳۹)فتاوی کتاب السیر(۴۰)ان دونوں سے فتاوی خلاصہ فتاوی قلمی آخر کتاب الفاظ الکفر(۴۱)فتاوی غیاثیہ ۱۰۷(۴۲)محیط(۴۳)اس سے شرح فقہ اکبر ص ۳۵(۴۴)نصاب الاحتساب باب ۴۹(۴۵)وجیز امام کردری جلد ۶ص ۳۴۳
وھل یکفر ان علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفروان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ ۔ اس سے کافر بھی ہوگا یانہیں اگر بروجہ عبادت و تعظیم کرے کافرہے۔اور بروجہ تحیت تو کافر نہیں مجرم ومرتکب کبیرہ ہے۔
(۳۷)علامہ ابن عابدین جلد ۵ ص ۳۸۷ کلام مذکور درپر:
تلفیق القولین قال الزیلعی وذکر الصدر الشھید انہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالی علی وجہ التعظیم کفر ۔ یعنی یہاں دو قول تھے:ایك یہ کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے امام شمس الائمہ سرخسی کا یہی قول ہے دوسرا یہ کہ سجدہ تحیت کفر نہیں۔امام صدر شہید کا یہی مختار ہے شارح نے دونوں کا ایك ایك حصہ لے کر یہ تفصیل کی کہ تعظیم مقصود ہو تو کفر اور تحیت تونہیں۔
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)امام صدر شہید صرف نفی کفر فرماتے ہیں:سجدہ تحیت کے گناہ کبیرہ ہونے کی خود انھوں نے تصریح فرمائی کہ نص ۲۰ میں گزری اور تعظیم سے کبھی مطلق مراد لیتے ہیں بایں معنی تحیت بھی تعظیم ہے خصوصا تحیت عظماء نص ۴۵ میں امام فقیہ النفس اور نص ۵۱ میں سیدی عبدالغنی قدس سرہسے آتا ہے کہ تحیت وتعظیم کو ایك صورت رکھا اور عبادت کے مقابل لیا اور کبھی خاص تعظیم مثل تعظیم الہی مراد لیتے ہیں جیسا کہ نص ۲۳ میں منح الروض سے گزرا اس وقت وہ مساوی عبادت ہے اس کی نظیر قسم دوم میں خود صاحب درمختار کی در منتقی سے آتی ہے کہ تعظیم کو تحیت کے مقابل لیا قول شمس الائمہ میں یہی مراد ہے تو یہ تلفیق نہیں تو فیق ہے دونوں مرادوں کی تحقیق ہے اور اﷲ عزوجل ولی توفیق ہے۔
نص ۳۸:کتا ب الاصل اللامام محمد(۳۹)فتاوی کتاب السیر(۴۰)ان دونوں سے فتاوی خلاصہ فتاوی قلمی آخر کتاب الفاظ الکفر(۴۱)فتاوی غیاثیہ ۱۰۷(۴۲)محیط(۴۳)اس سے شرح فقہ اکبر ص ۳۵(۴۴)نصاب الاحتساب باب ۴۹(۴۵)وجیز امام کردری جلد ۶ص ۳۴۳
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بروت ص۲۴۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بروت ص۲۴۶
(۴۶)اختیار شرح مختار(۴۷)اس سے علامہ شیخی زادہ شارح ملتقی جلد ۲ ص ۵۲۰:
اذا قال اھل الحرب لمسلم اسجد للملك والا قتلناك فالا فضل ان لایسجد لان ھذا کفر صورۃ والافضل ان لایأتی بما ھو کفر صورۃ وان کان فی حالۃ الاکراہ ۔ جب حربی کافر کسی مسلمان سے کہیں بادشاہ کو سجدہ کر ورنہ ہم تجھےقتل کردیں گے توافضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرےکہ یہ صورۃ کفر ہے اور صورۃ کفر سے بچنا بہتر اگر چہ حالت اکراہ ہو۔
نص ۴۸:فتاوی امام قاضی خان جلد ۴ ص ۳۷۸(۴۹)اس سے فتاوی ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸(۵۰)نیز اشباہ والنظائر قلمی فن اول قاعدہ ثانیہ (۵۱)اس سے حدیقہ ندیہ امام عارف باﷲ نابلسی جلد اول ص ۳۸۱(۵۲)خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ (۵۳) فتاوی کبری سے(۵۴)واقعات امام ناطفی (۵۵)اس سے عیون المسائل (۵۶)اس سے واقعات امام صدر شہید باب العین للعیون برمز وللواقعات (۵۷)اس سے غایۃ البیان انزاری قلمی کتاب الکراھیۃ محل مذکور (۵۸)واقعات ناطفی سے جامع الفصولین جلد دوم ص ۳۱۴ :
لو قال للمسلم اسجد للملك والاقتلناك قالوا ان امروہ بذلك للعبادۃ فالافضل لہ ان لا یسجد کمن اکرہ علی ان یکفر کان الصبر افضل وان امروہ بالسجود للتحیۃ والتعظیم کالعبادۃ فالافضل لہ ان یسجد ۔ اگر کافر نے مسلمان سے کہا بادشاہ کو سجدہ کر ورنہ تجھے قتل کر دیں گےعلماء نے فرمایا اگرکافر اس سے سجدہ عبادت کو کہہ رہا ہے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرے جیسے کفر پر اکراہ میں صبر افضل ہےاور اگر سجدہ تحیت کو کہہ رہا ہے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ کرکے جان بچائے۔
اقول:(میں کہتاہوں)ان دس عبارات نے روشن کیا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بدتر ہے ان میں یہ حکم ہے کہ اگر قتل بلکہ قطع عضو بلکہ ضرب شدید ہی کی تخویف سے ان کے کھانے پینے پر اکراہ کیا جائے تو کھانا پینا فرض ہے ورنہ گنہگار ہوگا علمگیریہ میں ہے:
اذا اخذ رجلا وقال لا قتلنك او اگر کسی نے کسی شخص کو پکڑا اور کہا اس سور کا
اذا قال اھل الحرب لمسلم اسجد للملك والا قتلناك فالا فضل ان لایسجد لان ھذا کفر صورۃ والافضل ان لایأتی بما ھو کفر صورۃ وان کان فی حالۃ الاکراہ ۔ جب حربی کافر کسی مسلمان سے کہیں بادشاہ کو سجدہ کر ورنہ ہم تجھےقتل کردیں گے توافضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرےکہ یہ صورۃ کفر ہے اور صورۃ کفر سے بچنا بہتر اگر چہ حالت اکراہ ہو۔
نص ۴۸:فتاوی امام قاضی خان جلد ۴ ص ۳۷۸(۴۹)اس سے فتاوی ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸(۵۰)نیز اشباہ والنظائر قلمی فن اول قاعدہ ثانیہ (۵۱)اس سے حدیقہ ندیہ امام عارف باﷲ نابلسی جلد اول ص ۳۸۱(۵۲)خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ (۵۳) فتاوی کبری سے(۵۴)واقعات امام ناطفی (۵۵)اس سے عیون المسائل (۵۶)اس سے واقعات امام صدر شہید باب العین للعیون برمز وللواقعات (۵۷)اس سے غایۃ البیان انزاری قلمی کتاب الکراھیۃ محل مذکور (۵۸)واقعات ناطفی سے جامع الفصولین جلد دوم ص ۳۱۴ :
لو قال للمسلم اسجد للملك والاقتلناك قالوا ان امروہ بذلك للعبادۃ فالافضل لہ ان لا یسجد کمن اکرہ علی ان یکفر کان الصبر افضل وان امروہ بالسجود للتحیۃ والتعظیم کالعبادۃ فالافضل لہ ان یسجد ۔ اگر کافر نے مسلمان سے کہا بادشاہ کو سجدہ کر ورنہ تجھے قتل کر دیں گےعلماء نے فرمایا اگرکافر اس سے سجدہ عبادت کو کہہ رہا ہے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرے جیسے کفر پر اکراہ میں صبر افضل ہےاور اگر سجدہ تحیت کو کہہ رہا ہے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ کرکے جان بچائے۔
اقول:(میں کہتاہوں)ان دس عبارات نے روشن کیا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بدتر ہے ان میں یہ حکم ہے کہ اگر قتل بلکہ قطع عضو بلکہ ضرب شدید ہی کی تخویف سے ان کے کھانے پینے پر اکراہ کیا جائے تو کھانا پینا فرض ہے ورنہ گنہگار ہوگا علمگیریہ میں ہے:
اذا اخذ رجلا وقال لا قتلنك او اگر کسی نے کسی شخص کو پکڑا اور کہا اس سور کا
حوالہ / References
منح الروض الاززہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ المحیط فصل فی صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
لتاکلن لحم ھذا الخنزیر یفترض علیہ التناول ۔ گوشت کھائے ورنہ میں تجھے قتل کردوں گا۔تو اس پر گوشت کھانا(اپنی جان کے تحفظ کے لئے)فرض ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
اکرہ علی اکل لحم خنزیر بقتل اوقطع عضوا وضرب مربح فرض فان صبر فقتل اثم ۔ اگر کسی کو قتل کی دھمکی یا قطع اندام یا ضرب شدید سے ڈراتے ہوئے سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا(تو ایسی حالت میں)اس پر سور کا گوشت کھالینا(اپنی جان کے تحفظ کے لئے)فرض ہے(پھر اگر اس نے نہ کھایا)اور مصیبت پر صبر کیا اورقتل کردیا گیا تو گنہگار ہوگا۔
لیکن یہاں اگر قتل سے بھی اکراہ ہو تو سجدہ تحیت کرلینا صرف افضل کہا فرض کیسا واجب بھی نہ کیا یعنی جائز یہ بھی کہ قتل ہوجائے اور سجدہ تحیت نہ کرے اگر چہ جان بچالینا بہتر ہے تو ظاہر ہوا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بھی بدتر ہے والعیاذ باﷲ تعالیاور ہوا ہی چاہئے کہ اکل خنزیر میں عبادات غیر خدا کی مشابہت نہیں نہ اسے بلا استحلال کسی نے کفر کہا بخلاف سجدہ تحیت کہ ایك جماعت علماء سے اس پر حکم تکفیر آیاا ور اس کا دوسرے کے لئے کرنا واحد قہار عزوجلالہ کے حق پر دست اندازی ہے۔آدمی دین وانصاف رکھتا ہو تویہی عبارات اس کی ہدایت کو بس ہے۔ولایزید الظالمین الا خسارا (اور ظالموں کے سوائے گھاٹے کے کچھ نہ بڑھائے گا۔ت)
نص ۵۹:عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹(۶۰)فتاوی غرائب سے:
لایجوز السجود الا اﷲ تعالی ۔ سجدہ غیر خدا کے لئے جائز نہیں۔
نص ۶۱:اکلیل امام جلیل خاتم الحفاظ سے فصل اول میں گزرا:فیہ تحریم السجود لغیر اﷲ تعالی
درمختار میں ہے:
اکرہ علی اکل لحم خنزیر بقتل اوقطع عضوا وضرب مربح فرض فان صبر فقتل اثم ۔ اگر کسی کو قتل کی دھمکی یا قطع اندام یا ضرب شدید سے ڈراتے ہوئے سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا(تو ایسی حالت میں)اس پر سور کا گوشت کھالینا(اپنی جان کے تحفظ کے لئے)فرض ہے(پھر اگر اس نے نہ کھایا)اور مصیبت پر صبر کیا اورقتل کردیا گیا تو گنہگار ہوگا۔
لیکن یہاں اگر قتل سے بھی اکراہ ہو تو سجدہ تحیت کرلینا صرف افضل کہا فرض کیسا واجب بھی نہ کیا یعنی جائز یہ بھی کہ قتل ہوجائے اور سجدہ تحیت نہ کرے اگر چہ جان بچالینا بہتر ہے تو ظاہر ہوا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بھی بدتر ہے والعیاذ باﷲ تعالیاور ہوا ہی چاہئے کہ اکل خنزیر میں عبادات غیر خدا کی مشابہت نہیں نہ اسے بلا استحلال کسی نے کفر کہا بخلاف سجدہ تحیت کہ ایك جماعت علماء سے اس پر حکم تکفیر آیاا ور اس کا دوسرے کے لئے کرنا واحد قہار عزوجلالہ کے حق پر دست اندازی ہے۔آدمی دین وانصاف رکھتا ہو تویہی عبارات اس کی ہدایت کو بس ہے۔ولایزید الظالمین الا خسارا (اور ظالموں کے سوائے گھاٹے کے کچھ نہ بڑھائے گا۔ت)
نص ۵۹:عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹(۶۰)فتاوی غرائب سے:
لایجوز السجود الا اﷲ تعالی ۔ سجدہ غیر خدا کے لئے جائز نہیں۔
نص ۶۱:اکلیل امام جلیل خاتم الحفاظ سے فصل اول میں گزرا:فیہ تحریم السجود لغیر اﷲ تعالی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۸
درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۶
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی غرائب کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۵۴
درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۶
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی غرائب کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۵۴
اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر خدا کے لئے سجدہ حرام ہے۔
نص ۶۲:نصاب الاحتساباب ۴۹(۶۳)ایك تابعی جلیل سے کہ اکابر تابعین طبقہ اولی خلافت فاروقی کے مجاہدین سے تھے:
ان السجود فی دین محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحل الا ﷲ تعالی ۔ بیشك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دین میں اﷲ عزوجل کے سوا سجدہ کسی کے لئے حلال نہیں
نص ۶۴:طریقہ محمدیہ قلمی نوع سیزدہم آفات قلب میں تذلل کو حرام بتاکر فرمایا:
ومنہ السجود والرکوع والانحناء للکبراء عنہ الملاقاۃ والسلام وردہ ۔ اسی حرام فروتنی سے ہے بزرگوں کے ملتے اور انھیں سلام کرتے یا جواب دیتے وقت انھیں سجدہ یا ان کے لئے رکوع کرنا یا اقرب رکوع تك جھکنا۔
نص ۶۵:منح الروض ص ۲۲۷:
السجد حرام لغیرہ سبحانہ تعالی ۔ غیر خدا کو سجدہ حرام۔
نص ۶۶:روضہ امام جل ابوزکریا نووی۔
نص ۶۷:پھرا مام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۱۳:
مایفعلہ کثیرون من الجھلۃ الظالمین من السجود بین یدی المشائخ فان ذلك حرام قطعا بکل حال سواء کان للقبلۃ اولغیرھا وسواء قصد السجود ﷲ تعالی اوغفل وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر عافانا اﷲ تعالی من ذلك ۔ وہ جو بہت ظالم جاہل پیروں کو سجدہ کرتے ہیں یہ ہر حال میں حرام قطعی ہے چاہے قبلہ کی جانب ہو یا اور طرف اور چاہے خدا کو سجدہ کی نیت کرے یا اس نیت سے غافل ہو پھر اس کی بعض صورتیں تو مقتضی کفر ہیں اﷲ تعالی ہمیں اس سے پناہ دے۔
نص ۶۸:اعلام ص ۵۵:
نص ۶۲:نصاب الاحتساباب ۴۹(۶۳)ایك تابعی جلیل سے کہ اکابر تابعین طبقہ اولی خلافت فاروقی کے مجاہدین سے تھے:
ان السجود فی دین محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحل الا ﷲ تعالی ۔ بیشك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دین میں اﷲ عزوجل کے سوا سجدہ کسی کے لئے حلال نہیں
نص ۶۴:طریقہ محمدیہ قلمی نوع سیزدہم آفات قلب میں تذلل کو حرام بتاکر فرمایا:
ومنہ السجود والرکوع والانحناء للکبراء عنہ الملاقاۃ والسلام وردہ ۔ اسی حرام فروتنی سے ہے بزرگوں کے ملتے اور انھیں سلام کرتے یا جواب دیتے وقت انھیں سجدہ یا ان کے لئے رکوع کرنا یا اقرب رکوع تك جھکنا۔
نص ۶۵:منح الروض ص ۲۲۷:
السجد حرام لغیرہ سبحانہ تعالی ۔ غیر خدا کو سجدہ حرام۔
نص ۶۶:روضہ امام جل ابوزکریا نووی۔
نص ۶۷:پھرا مام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۱۳:
مایفعلہ کثیرون من الجھلۃ الظالمین من السجود بین یدی المشائخ فان ذلك حرام قطعا بکل حال سواء کان للقبلۃ اولغیرھا وسواء قصد السجود ﷲ تعالی اوغفل وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر عافانا اﷲ تعالی من ذلك ۔ وہ جو بہت ظالم جاہل پیروں کو سجدہ کرتے ہیں یہ ہر حال میں حرام قطعی ہے چاہے قبلہ کی جانب ہو یا اور طرف اور چاہے خدا کو سجدہ کی نیت کرے یا اس نیت سے غافل ہو پھر اس کی بعض صورتیں تو مقتضی کفر ہیں اﷲ تعالی ہمیں اس سے پناہ دے۔
نص ۶۸:اعلام ص ۵۵:
حوالہ / References
نصاب الاحتساب
الطریقہ المحمدیہ التذلیل اللمخلوق ھوالثالث عشر من آفات القلب مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۲۳۸
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا کنایۃ المصطفٰی البابی حلبی مصر ص۱۸۷
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ الحقیقیہ دارالشفقت استانبوال ترکی ص۳۴۹
الطریقہ المحمدیہ التذلیل اللمخلوق ھوالثالث عشر من آفات القلب مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۲۳۸
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا کنایۃ المصطفٰی البابی حلبی مصر ص۱۸۷
اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ الحقیقیہ دارالشفقت استانبوال ترکی ص۳۴۹
قد صرحوا بان سجود جھلۃ الصوفیۃ بین یدی مشایخھم حرام وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر ۔ بیشك آئمہ نے تصریح فرمائی کہ پیروں کو سجدہ کہ جاہل صوفی کرتے ہیں حرام اور اس کی بعض صورتیں حکم کفر لگاتی ہے۔
نص ۶۹:غایۃ البیان قلمی شرح ہدایۃ العلامۃ الاتفاقی محل مذکور بحث سجدہ میں:
ومایفعلہ بعضالجھال من الصوفیۃ بین یدی شیخھم فحرم محض اقبح البدع فینھون عن ذالك لامحالۃ سجدہ کہ بعض جاہل صوفی اپنے پیر کےآگے کرتے ہیں نرا حرام اور سب سے بدتر بدعت ہے وہ جبرا اس سے باز رکھیں جائیں۔
نص ۷۰:وجیز امام حفظ الدین محمد بن محمد کردری جلد ۶ ص ۳۴۳:
وبھذا علم ان مایفعلہ الجھلۃ لطواغیتھم ویسمونہ پایکاہ کفر عند بعض المشائخ وکبیرۃ عندالکل فلوا عتقدھامباحۃ یشخہ فھو کافر وان امرہ شیخہ بہ ورضی بہ مستحسنالہ فالشیخ النجدی ایضا کافر ان کان اسلم فی عمرہ ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ سجدہ کہ جہال اپنے سرکش پیروں کو کرتے اور اسے پائگاہ کہتے ہیں بعض مشائخ کے نزدیك کفر ہے اور گناہ کبیرہ تو بالاجماع ہے پس اگرا اسے اپنے پیر کے لئے جائز جانے تو کافر ہے اور اگر اس کے پیرنے اسے سجدہ کا حکم کیا اور اسے پسند کرکے اس پر راضی ہوا تو وہ شیخ نجدی خود بھی کافر ہوا اگر کبھی مسلمان تھا بھی۔
اقول:(میں کہتاہوں)یعنی ایسے متکبر خدا فراموش خود پسند اپنے لئے سجدے کے خوہشمند غالبا شرع سے آزاد بے قید وبند ہوتے ہیں یوں تو آپ ہی کافر ہیں اور اگر کبھی ایسے نہ بھی تھے تو حرام قطعی یقینی اجماعی کو اچھا جان کو اب ہوئے والعیاذ باﷲ تعالی۔
الحمد ﷲ یہ نفس سجدہ تحیت کے حکم میں ستر نص ہیں کہ سجدہ اﷲ واحد قہار ہی کے لئے ہے اور اس کے غیر کے لئے مطلقا کسی نیت سے ہو حرام حرام حرام کبیرہ کبیرہ کبیرہ۔والحمدﷲ حمد اکثیر او صلی اﷲ تعالی وسلم علی سیدنا ومولنا وآلہ وصحبہ تعزیر وتعزیرا امین !
نص ۶۹:غایۃ البیان قلمی شرح ہدایۃ العلامۃ الاتفاقی محل مذکور بحث سجدہ میں:
ومایفعلہ بعضالجھال من الصوفیۃ بین یدی شیخھم فحرم محض اقبح البدع فینھون عن ذالك لامحالۃ سجدہ کہ بعض جاہل صوفی اپنے پیر کےآگے کرتے ہیں نرا حرام اور سب سے بدتر بدعت ہے وہ جبرا اس سے باز رکھیں جائیں۔
نص ۷۰:وجیز امام حفظ الدین محمد بن محمد کردری جلد ۶ ص ۳۴۳:
وبھذا علم ان مایفعلہ الجھلۃ لطواغیتھم ویسمونہ پایکاہ کفر عند بعض المشائخ وکبیرۃ عندالکل فلوا عتقدھامباحۃ یشخہ فھو کافر وان امرہ شیخہ بہ ورضی بہ مستحسنالہ فالشیخ النجدی ایضا کافر ان کان اسلم فی عمرہ ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ سجدہ کہ جہال اپنے سرکش پیروں کو کرتے اور اسے پائگاہ کہتے ہیں بعض مشائخ کے نزدیك کفر ہے اور گناہ کبیرہ تو بالاجماع ہے پس اگرا اسے اپنے پیر کے لئے جائز جانے تو کافر ہے اور اگر اس کے پیرنے اسے سجدہ کا حکم کیا اور اسے پسند کرکے اس پر راضی ہوا تو وہ شیخ نجدی خود بھی کافر ہوا اگر کبھی مسلمان تھا بھی۔
اقول:(میں کہتاہوں)یعنی ایسے متکبر خدا فراموش خود پسند اپنے لئے سجدے کے خوہشمند غالبا شرع سے آزاد بے قید وبند ہوتے ہیں یوں تو آپ ہی کافر ہیں اور اگر کبھی ایسے نہ بھی تھے تو حرام قطعی یقینی اجماعی کو اچھا جان کو اب ہوئے والعیاذ باﷲ تعالی۔
الحمد ﷲ یہ نفس سجدہ تحیت کے حکم میں ستر نص ہیں کہ سجدہ اﷲ واحد قہار ہی کے لئے ہے اور اس کے غیر کے لئے مطلقا کسی نیت سے ہو حرام حرام حرام کبیرہ کبیرہ کبیرہ۔والحمدﷲ حمد اکثیر او صلی اﷲ تعالی وسلم علی سیدنا ومولنا وآلہ وصحبہ تعزیر وتعزیرا امین !
حوالہ / References
اعلام بقواطع الاسلام مع سب النجاہ مکتبہ الحقیقۃ دارالشفقت استانبول ترکی ص۳۸۸
البنایۃ فی شرح الھدایۃ کتاب الکراھیۃ گصل فی الستبراء وغیرہ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ۴/ ۲۵۶
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الفاظ تکون اسلاما الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۴۳ و ۳۴۴
البنایۃ فی شرح الھدایۃ کتاب الکراھیۃ گصل فی الستبراء وغیرہ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ۴/ ۲۵۶
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الفاظ تکون اسلاما الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۴۳ و ۳۴۴
قسم دوم:سجدہ تو سجدہ زمین بوسی حرام ہے۔اس پر پندرہ نص قسم اول میں تھے ۱۵ تا ۲۸ و ۲۴ تا ۳۴ و ۳۵ تا ۳۶ کہ دونوں اصالۃ دربارہ تقبیل ارض ہیں ۲۶ اور سنئے کہ مجموع ۴۱ نص ہوں۔
نص ۷۱:جامع صغیر امام کبیر(۷۲)اس سے فتاوی تاتارخانیہ(۷۳)اس سے عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹(۷۴)کافی شرح وافی قلمی ہردو تصنیف امام جلیل ابوالبرکات نسفی صاحب کنز(۷۵)غایہ البیان علامہ انزاری قلمی شرح ہدایہ ہر دو درکتاب الکراھیۃ قبیل فصل فی البیع(۷۶)کفایۃ امام جلال الدین کرمانی شرح ہدایہ جلد ۴ ص ۴۳(۷۷)تبیین الحقائق امام زیلعی شرح کنز جلد ۶ ص ۲۵(۷۸)تنویر الابصار امام شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی(۷۹)درمختار علامہ مدقق علاؤ الدین دمشقی کتاب الحظر محل مذکور(۸۰)مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد ۲ ص ۵۲۰(۸۱)فتح المعین علی الکنز جلد ۳ ص ۴۰۲(۸۲)جواہر الاخلاطی قلمی کتاب الاستحسان(۸۳)تکملۃ للعلامۃ الطوری جلد ۸ ص ۲۲۶(۸۴)شرح الکنزر للملامسکین محل مذکور(۸۵)فتاوی غرائب(۸۶)اس سے فتاوی ہندیہ صفحہ مذکورہ۔ ان سولہ نصوص جلیلہ میں ہے:
مایفعلونہ من تقبیل الارض بین یدی العلماء والعظماء فحرام والفاعل والراضی بہ آثمان ۔ عالموں اور بزرگون کے سامنے چومنا حرام ہے اور چومنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہ گار۔
کافی وکفایہ وغایۃ وتبیین ودرو مجمع وابوالسعود وجواہرنے زائد کیا۔لانہ یشبہ عبادۃ الوثن اس لئے کہ وہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔
طوری کے لفظ یہ ہیں لانہ اشبہ بعبدۃ الاوثان ۔ایسا کرنے والا بت پرستوں سے نہایت مشابہ ہے۔
نص ۸۷:علامہ سید احمد مصری طحطاوی جلد ۴ ص زیر قول مذکور در:
یشبہ عبادۃ الوثن لانہ فیہ صورۃ السجود لغیر اﷲ تعالی ۔ زمین بوسی اس لئے بت پرستی کے مشابہ ہے کہ اس میں غیر خدا کو سجدہ کی صورت ہے۔
نص ۷۱:جامع صغیر امام کبیر(۷۲)اس سے فتاوی تاتارخانیہ(۷۳)اس سے عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹(۷۴)کافی شرح وافی قلمی ہردو تصنیف امام جلیل ابوالبرکات نسفی صاحب کنز(۷۵)غایہ البیان علامہ انزاری قلمی شرح ہدایہ ہر دو درکتاب الکراھیۃ قبیل فصل فی البیع(۷۶)کفایۃ امام جلال الدین کرمانی شرح ہدایہ جلد ۴ ص ۴۳(۷۷)تبیین الحقائق امام زیلعی شرح کنز جلد ۶ ص ۲۵(۷۸)تنویر الابصار امام شیخ الاسلام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی(۷۹)درمختار علامہ مدقق علاؤ الدین دمشقی کتاب الحظر محل مذکور(۸۰)مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد ۲ ص ۵۲۰(۸۱)فتح المعین علی الکنز جلد ۳ ص ۴۰۲(۸۲)جواہر الاخلاطی قلمی کتاب الاستحسان(۸۳)تکملۃ للعلامۃ الطوری جلد ۸ ص ۲۲۶(۸۴)شرح الکنزر للملامسکین محل مذکور(۸۵)فتاوی غرائب(۸۶)اس سے فتاوی ہندیہ صفحہ مذکورہ۔ ان سولہ نصوص جلیلہ میں ہے:
مایفعلونہ من تقبیل الارض بین یدی العلماء والعظماء فحرام والفاعل والراضی بہ آثمان ۔ عالموں اور بزرگون کے سامنے چومنا حرام ہے اور چومنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہ گار۔
کافی وکفایہ وغایۃ وتبیین ودرو مجمع وابوالسعود وجواہرنے زائد کیا۔لانہ یشبہ عبادۃ الوثن اس لئے کہ وہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔
طوری کے لفظ یہ ہیں لانہ اشبہ بعبدۃ الاوثان ۔ایسا کرنے والا بت پرستوں سے نہایت مشابہ ہے۔
نص ۸۷:علامہ سید احمد مصری طحطاوی جلد ۴ ص زیر قول مذکور در:
یشبہ عبادۃ الوثن لانہ فیہ صورۃ السجود لغیر اﷲ تعالی ۔ زمین بوسی اس لئے بت پرستی کے مشابہ ہے کہ اس میں غیر خدا کو سجدہ کی صورت ہے۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
تکلمہ البحرالرائق کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء وغیرہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۱۹۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الکراھیۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۹۲
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
تکلمہ البحرالرائق کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء وغیرہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۱۹۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الکراھیۃ دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۹۲
اقول:(میں کہتاہوں)زمین بوسی حقیقۃ سجدہ نہیں کہ سجدہ میں پیشانی رکھنی ضروری ہے جب یہ اس وجہ سے حرام مشابہ ہے پرستی ہوئی کہ صورۃ قریب سجدہ ہے تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مشابہ تام ہوگا۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
نص ۸۸:غنیہ ذوی الاحکام للعلامۃ الشرنبلالی جلد اول ص ۳۱۸(۸۹)متن مواہب الرحمن سے:
یحرم تقبیل الارض بین یدی العالم للتحیۃ عالم کے سامنے تحیت کی نیت سے زمین بوسی حرام ہے۔
نص ۹۰:خادمی علی الدرر ص ۱۵۵:
تقبیل الارض والانخناء لیس بجائزیل محرم ۔ زمین چومنا اور جھکنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
نص ۹۱:ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹(۹۲)درمنتقی شرح ملتقی سے اقسام بوسہ میں:
حرام لارض تحۃ وکفر لھا تعظیما ۔ زمین بوسی بطور تحیت حرام اور بروجہ تعظیم کفر ہے۔
نص ۳۹:فتاوی ظہیریہ(۹۴)مختصر امام عینی(۹۵)اس سے غمز العیون ص ۳۱(۹۶)شرح فقہ اکبر ص ۳۳۵:
اما تقبیل الارض فہو قریب من السجود الا ان وضع الجبین اوالخد علی الارض افحش واقبح من تقبیل الارض ۔ زمین چومنا سجدے کے قریب ہے اور حین یا رخسارہ زمین پر رکھنا اس سے بھی زیادہ فحش وقبیح ہے۔
قسم سوم: زمین بوسی بالائے طاق رکوع کے قریب تك جھکنا منع ہے اس پر ۶۴۹ دو نص اور پر گزرئےتیس۳۰ اور سنئے۔
نص ۸۸:غنیہ ذوی الاحکام للعلامۃ الشرنبلالی جلد اول ص ۳۱۸(۸۹)متن مواہب الرحمن سے:
یحرم تقبیل الارض بین یدی العالم للتحیۃ عالم کے سامنے تحیت کی نیت سے زمین بوسی حرام ہے۔
نص ۹۰:خادمی علی الدرر ص ۱۵۵:
تقبیل الارض والانخناء لیس بجائزیل محرم ۔ زمین چومنا اور جھکنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
نص ۹۱:ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹(۹۲)درمنتقی شرح ملتقی سے اقسام بوسہ میں:
حرام لارض تحۃ وکفر لھا تعظیما ۔ زمین بوسی بطور تحیت حرام اور بروجہ تعظیم کفر ہے۔
نص ۳۹:فتاوی ظہیریہ(۹۴)مختصر امام عینی(۹۵)اس سے غمز العیون ص ۳۱(۹۶)شرح فقہ اکبر ص ۳۳۵:
اما تقبیل الارض فہو قریب من السجود الا ان وضع الجبین اوالخد علی الارض افحش واقبح من تقبیل الارض ۔ زمین چومنا سجدے کے قریب ہے اور حین یا رخسارہ زمین پر رکھنا اس سے بھی زیادہ فحش وقبیح ہے۔
قسم سوم: زمین بوسی بالائے طاق رکوع کے قریب تك جھکنا منع ہے اس پر ۶۴۹ دو نص اور پر گزرئےتیس۳۰ اور سنئے۔
حوالہ / References
غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ الدرر والغرر کتاب الکراھیۃ فصل من ملك آمۃ بشراء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۶۸
حاشیہ الخادمی علی الدرر شرح الغرر کتاب الکراھیۃ فصل قولہ مشربۃ عن محرمہا مطبوعہ عثمانیہ ص۱۵۵
الدرا لمنتقی فی شرح الملتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ فصل فی بیان احکام داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۲
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفٰی البابی مصر ص۱۹۳
حاشیہ الخادمی علی الدرر شرح الغرر کتاب الکراھیۃ فصل قولہ مشربۃ عن محرمہا مطبوعہ عثمانیہ ص۱۵۵
الدرا لمنتقی فی شرح الملتقی علی ہامش مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ فصل فی بیان احکام داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۲
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفٰی البابی مصر ص۱۹۳
نص ۹۷:زاہدی(۹۸)اس سے جامع الرموز ص ۵۳۵(۹۹)اس سے ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۸(۱۰۰)نیز شیخی زادہ علی الملتقی جلد ۲ ص ۵۲۰:
الانخناء فی السلام الی قریب الرکوع کالسجود ۔ سلام میں رکوع کے قریب تك جھکنا بھی مثل سجدہ ہے۔
نص ۱۰۱: شرعۃ الاسلام(۱۰۲)اس کی شرح مفاتیح الجنان ص ۳۱۲:
(لایقبلہ ولا ینحنی لہ)لکونھا مکروھین ۔ نہ بوسہ دے نہ جھکے کہ دونوں مکروہ ہیں۔
نص ۱۰۳:احیاء العلوم جلد ۲ ص ۱۲۴(۱۰۴)اتحاف السادہ جلد ۶ص۲۸۱:
(الانحناء عند السلام منھی عنہ)وھو عن فعل الاعاجم ۔ سلام کے وقت جھکنا منع فرمایا گیا اور وہ مجوسی کا فعل ہے۔
(۱۰۵)عین اعلم قلمی باب ثامن(۱۰۶)شرح علی قاری جلد اول ص ۲۷۴(۱۰۷)ذخیرہ سے(۱۰۸)نیز محیط سے:
(لاینحنی)لان الانحناء یکرہ للسلاطین وغیرھم ولانہ صنیع اھل الکتاب ۔ سلام میں نہ جکھے کہ بادشاہ ہو یا کوئی کسی کے لئے جھکنے کی اجازت نہیں اور ایك وجہ ممانعت یہ ہے کہ وہ یہود ونصاری کا فعل ہے۔
نص ۱۰۹ :حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ جلد اول ص ۳۸۱:
معلوم ان من لقی احد امن الاکابر فحنی لہ رأسہ او ظھرہ ولوبالغ فی ذلك فمرادہ التحیۃ والتعظیم دون العبادۃ فلا یکفربھذا الصنیع معلوم ہے کہ جو اکابر میں کسی سے ملتے وقت اس کے لئے سر یاپیٹھ جھکائے اگر چہ اس میں مبالغہ کرے اس کا ارادہ تحیت و تعظیم ہی کا ہوتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کا تو اس فعل سے کافرنہ ہوجائیگا۔
الانخناء فی السلام الی قریب الرکوع کالسجود ۔ سلام میں رکوع کے قریب تك جھکنا بھی مثل سجدہ ہے۔
نص ۱۰۱: شرعۃ الاسلام(۱۰۲)اس کی شرح مفاتیح الجنان ص ۳۱۲:
(لایقبلہ ولا ینحنی لہ)لکونھا مکروھین ۔ نہ بوسہ دے نہ جھکے کہ دونوں مکروہ ہیں۔
نص ۱۰۳:احیاء العلوم جلد ۲ ص ۱۲۴(۱۰۴)اتحاف السادہ جلد ۶ص۲۸۱:
(الانحناء عند السلام منھی عنہ)وھو عن فعل الاعاجم ۔ سلام کے وقت جھکنا منع فرمایا گیا اور وہ مجوسی کا فعل ہے۔
(۱۰۵)عین اعلم قلمی باب ثامن(۱۰۶)شرح علی قاری جلد اول ص ۲۷۴(۱۰۷)ذخیرہ سے(۱۰۸)نیز محیط سے:
(لاینحنی)لان الانحناء یکرہ للسلاطین وغیرھم ولانہ صنیع اھل الکتاب ۔ سلام میں نہ جکھے کہ بادشاہ ہو یا کوئی کسی کے لئے جھکنے کی اجازت نہیں اور ایك وجہ ممانعت یہ ہے کہ وہ یہود ونصاری کا فعل ہے۔
نص ۱۰۹ :حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ جلد اول ص ۳۸۱:
معلوم ان من لقی احد امن الاکابر فحنی لہ رأسہ او ظھرہ ولوبالغ فی ذلك فمرادہ التحیۃ والتعظیم دون العبادۃ فلا یکفربھذا الصنیع معلوم ہے کہ جو اکابر میں کسی سے ملتے وقت اس کے لئے سر یاپیٹھ جھکائے اگر چہ اس میں مبالغہ کرے اس کا ارادہ تحیت و تعظیم ہی کا ہوتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کا تو اس فعل سے کافرنہ ہوجائیگا۔
حوالہ / References
جامع الرموز کتا ب الکراھیۃ ۳/ ۳۱۵ ومجمع الانہر ۲/ ۵۴۲
شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن المشی وآدابہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۳۱۲
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ الباب الثالث دارالفکر بیروت ۶/ ۲۸۱
شرح عین العلم لملا علی قاری بحوالہ المحیط والذخیرۃ الباب الثامن امرت پریس لاہور ص۲۱۳
شرح شرعۃ الاسلام فصل فی سنن المشی وآدابہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۳۱۲
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ الباب الثالث دارالفکر بیروت ۶/ ۲۸۱
شرح عین العلم لملا علی قاری بحوالہ المحیط والذخیرۃ الباب الثامن امرت پریس لاہور ص۲۱۳
وحال المسلم مشعر بذلك علی کل حال واما العبادۃ فلا یقصدھا الا کافر اصل فی الغالب ولکن التملق الموصل الی ھذا المقدار من التذلل مذموم ولہذا جعلہ المصنف رحمہ اﷲ تعالی من التذلل الحرام ولم یجعلہ کفرا ۔ بہر حال خود مسلمان کا حال اس نیت کو بتارہا ہے عبادت کا ارادہ تو غالبا وہی کرے گا جو سرے سے کافر ہو۔ہان اتنی چاپلوسی جو اس حد کے ذلیل بننے تك پہنچادے بد ہے اسی لئے جھکنے کو مصنف رحمہ اﷲ تعالی نے حرام کہا کفر نہ ٹھہرایا۔
نص ۱۱۰:امام اجل عزالدین بن عبدالسلام(۱۱۱)ان سے امام ابن حجر مکی فتاوی کبری میں جلد ۴ ص ۲۴۷(۱۱۲)ان سے امام عارف نابلسی حدیقہ ص ۳۸۱میں:
الانحناء البالغ الی حد الرکوع لایفعلہ احد لا حد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام ۔
اقول: ھذا ھوا الجمع بین النصوص المتوافرۃ المتظافرۃ علی المنع وبین مافی الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالی بالقیام واخذ الیدین والانحناء اھ و قد اشاروا الیہ فی النصوص الاربعۃ التی صدرنا بھا فتلك سبعۃ وباﷲ التوفیق۔ حد کروع تك کوئی کسی کے لئے نہ جھکے جیسے سجدہ اور اس قدر سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکے۔
اقول:(میں کہتاہوں)یہی جمع کرنا ہے(یعنی دونوں قولوں میں مواخذہ اور مطابقت پیدا کرنا)درمیان ان نصوص کثیرہ جو باہم ایك دوسرے کی مؤید ہیں اور اس قول کے درمیان جو فتاوی عالمگیری میں فتاوی غرائب سے منقول ہے کہ کسی مخلوق(یعنی غیر خدا)کی قیام مصافحہ کرنے اور جھکنے سے خدمت کرنا جائز ہے اھ بیشك انھوں(ائمہ کرام)نے اس کی طرف ان چار نصوص میں اشارہ فرمایا جن کو ہم پہلے لائے ہیں پس سات ہوگئیں اور اﷲ تعالی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔(ت)
نص ۱۱۳:واقعات امام ناطقی(۱۱۴)ملتقط امام ناصر الدین(۱۱۵)ان دونوں نصاب الاحتساب اول وآخر باب ۴۹(۱۱۶)جواھرا لاخلاطی کتاب الاستحسان(۱۱۷)اس سے عالمگیری جلد ۵
نص ۱۱۰:امام اجل عزالدین بن عبدالسلام(۱۱۱)ان سے امام ابن حجر مکی فتاوی کبری میں جلد ۴ ص ۲۴۷(۱۱۲)ان سے امام عارف نابلسی حدیقہ ص ۳۸۱میں:
الانحناء البالغ الی حد الرکوع لایفعلہ احد لا حد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام ۔
اقول: ھذا ھوا الجمع بین النصوص المتوافرۃ المتظافرۃ علی المنع وبین مافی الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالی بالقیام واخذ الیدین والانحناء اھ و قد اشاروا الیہ فی النصوص الاربعۃ التی صدرنا بھا فتلك سبعۃ وباﷲ التوفیق۔ حد کروع تك کوئی کسی کے لئے نہ جھکے جیسے سجدہ اور اس قدر سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکے۔
اقول:(میں کہتاہوں)یہی جمع کرنا ہے(یعنی دونوں قولوں میں مواخذہ اور مطابقت پیدا کرنا)درمیان ان نصوص کثیرہ جو باہم ایك دوسرے کی مؤید ہیں اور اس قول کے درمیان جو فتاوی عالمگیری میں فتاوی غرائب سے منقول ہے کہ کسی مخلوق(یعنی غیر خدا)کی قیام مصافحہ کرنے اور جھکنے سے خدمت کرنا جائز ہے اھ بیشك انھوں(ائمہ کرام)نے اس کی طرف ان چار نصوص میں اشارہ فرمایا جن کو ہم پہلے لائے ہیں پس سات ہوگئیں اور اﷲ تعالی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔(ت)
نص ۱۱۳:واقعات امام ناطقی(۱۱۴)ملتقط امام ناصر الدین(۱۱۵)ان دونوں نصاب الاحتساب اول وآخر باب ۴۹(۱۱۶)جواھرا لاخلاطی کتاب الاستحسان(۱۱۷)اس سے عالمگیری جلد ۵
حوالہ / References
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ والخلق الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ بحوالہ ابن حجر فی فتاوٰی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب کانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ بحوالہ ابن حجر فی فتاوٰی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب کانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
ص ۳۶۹:
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس ۔ بادشاہ ہو کوئیاس کے لئے جھکنا منع ہے کہ یہ مجوس کے فعل سے مشابہ ہے۔
نص۱۱۸:مجمع الانہر جلد ۲ ص ۵۲۱(۱۱۹)قصول عمادی ہے:
یکرہ الانحناء لانہ یشبہ فعل المجوسی ۔ جھکنا منع ہے کہ مجوسی کے فعل سے مشابہ ہے۔
نص ۱۲۰:مواہب الرحمن(۱۲۱)اس سے شرنبلالیہ جلد اول ص ۳۱۸(۱۲۲)محیط(۱۲۳)اس سے جامع الرموز ص ۵۳۵(۱۲۴) اس سے ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۸:
یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ ۔ بادشاہ ہو خواہ کوئی اس کے لئے جھکنا منع ہے۔
نص۱۲۵:فتاوی کبری للامام الہیتمی:الانحناء بالظھر یکرہ پیٹھ جھکانا مکروہ ہے۔
نص۱۲۶:عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹(۱۲۷)فتاوی امام تمرتاشی سے :
یکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ ورد النھی ۔ سلام کرتے جھکنا منع ہے حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی ہے۔
نوع دوم: متلق مزارات یہ بھی تین قسم :
قسم اول: مزارات کو سجدہ یا ان کے سامنے زمین چومنا حرام اورحد رکوع تك جھکنا ممنوع۔
نص ۱۲۸: منسك متوسط علامہ رحمۃ اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام(۱۲۹)مسلك متقسط شرح ملاعلی قاری ص ۲۹۳:
(لایمس عند زیارۃ الجدار)ولایقبلہ(ولا یلتصق بہ ولایطوف ولاینحنی زیارت روضہ انور سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(رزقنا اﷲ العود المیھاد بقبولہ)
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس ۔ بادشاہ ہو کوئیاس کے لئے جھکنا منع ہے کہ یہ مجوس کے فعل سے مشابہ ہے۔
نص۱۱۸:مجمع الانہر جلد ۲ ص ۵۲۱(۱۱۹)قصول عمادی ہے:
یکرہ الانحناء لانہ یشبہ فعل المجوسی ۔ جھکنا منع ہے کہ مجوسی کے فعل سے مشابہ ہے۔
نص ۱۲۰:مواہب الرحمن(۱۲۱)اس سے شرنبلالیہ جلد اول ص ۳۱۸(۱۲۲)محیط(۱۲۳)اس سے جامع الرموز ص ۵۳۵(۱۲۴) اس سے ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۸:
یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ ۔ بادشاہ ہو خواہ کوئی اس کے لئے جھکنا منع ہے۔
نص۱۲۵:فتاوی کبری للامام الہیتمی:الانحناء بالظھر یکرہ پیٹھ جھکانا مکروہ ہے۔
نص۱۲۶:عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹(۱۲۷)فتاوی امام تمرتاشی سے :
یکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ ورد النھی ۔ سلام کرتے جھکنا منع ہے حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی ہے۔
نوع دوم: متلق مزارات یہ بھی تین قسم :
قسم اول: مزارات کو سجدہ یا ان کے سامنے زمین چومنا حرام اورحد رکوع تك جھکنا ممنوع۔
نص ۱۲۸: منسك متوسط علامہ رحمۃ اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام(۱۲۹)مسلك متقسط شرح ملاعلی قاری ص ۲۹۳:
(لایمس عند زیارۃ الجدار)ولایقبلہ(ولا یلتصق بہ ولایطوف ولاینحنی زیارت روضہ انور سید اطہر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(رزقنا اﷲ العود المیھاد بقبولہ)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
مجمع الانھر بحوالہ فصول عمادی کتاب الکراھیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۴۲
ردالمحتار بحوالہ المحیط کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
الفتاوٰی الکبرٰی لابن حجر مکی باب السیر دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۴۷
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ التمرتاشی کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
مجمع الانھر بحوالہ فصول عمادی کتاب الکراھیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۴۲
ردالمحتار بحوالہ المحیط کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
الفتاوٰی الکبرٰی لابن حجر مکی باب السیر دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۴۷
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ التمرتاشی کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
ولا یقبل الارض فانہ)ای کل واحد(بدعۃ)غیر مستحسنہ ۔ (ہمیں اﷲ تعالی دوبارہ روضہ اطہر کی زیارت نصیب فرمائے بشرطیکہ قبولیت ہو)کے وقت نہ دیوار کریم کو ہاتھ لگائےنہ چومےنہ اس سے چمٹےنہ طواف کرے نہ جھکے نہ زمین چومے کہ یہ سب بدعت قبیحہ ہیں۔
اقول:(میں کہتاہوں)بوسہ میں اختلاف ہے اور چھونا چمٹنا اس کے مثل اور احوط منع اور علت خلاف ادب ہونا۔
لاماقالہ القاری فی القبلۃ انہ من خواص بعض ارکان القبلۃ کیف وقد نصوا علی استحسان تقبیل المصحف وایدی العلماء ارجلھم والخبز۔ وہ بات نہیں جو ملا علی قاری سے بوسہ دینے کے بارے میں صادر ہوئی کہ وہ بعض ارکان قبلہ کے خواص میں سے ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے اس لئے کہ ائمہ کرام نے مصحف شریف اور علمائے کرام کے ہاتھ پاؤں چومنے کے مستحسن ہونے کی تصریح فرمائی۔نیز روٹی کو بوسہ دینے کی صراحت فرمائی۔(ت)
اور جھکنے سے مرادبدستور تاحد رکوعاور طواف سے یہ کہ نفس طواف بغرض تعظیم مقصود ہو کما حققناہ فی فتاوی بما لا مزید علیہ (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بڑی تفصیل سے اس کی تحقیق کردی کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت)
نص ۱۳۰: شرح لباب صفحہ مذکورہ:
اما السجدۃ فلا شك انھا حرام فلا یغتر الزائر بمایری من فعل الجاھلین بل یتبع العلماء العالمین ۔ رہا مزار انور کو مسجد ہ وہ تو حرام قطعی ہے تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکا نہ کھائے بلکہ علمائے باعمل کی پیروی کرے۔
نص ۱۳۱:زواجر عن اقراب الکبائر جلد اول ص ۱۱۰:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتتخذوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ
اقول:(میں کہتاہوں)بوسہ میں اختلاف ہے اور چھونا چمٹنا اس کے مثل اور احوط منع اور علت خلاف ادب ہونا۔
لاماقالہ القاری فی القبلۃ انہ من خواص بعض ارکان القبلۃ کیف وقد نصوا علی استحسان تقبیل المصحف وایدی العلماء ارجلھم والخبز۔ وہ بات نہیں جو ملا علی قاری سے بوسہ دینے کے بارے میں صادر ہوئی کہ وہ بعض ارکان قبلہ کے خواص میں سے ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے اس لئے کہ ائمہ کرام نے مصحف شریف اور علمائے کرام کے ہاتھ پاؤں چومنے کے مستحسن ہونے کی تصریح فرمائی۔نیز روٹی کو بوسہ دینے کی صراحت فرمائی۔(ت)
اور جھکنے سے مرادبدستور تاحد رکوعاور طواف سے یہ کہ نفس طواف بغرض تعظیم مقصود ہو کما حققناہ فی فتاوی بما لا مزید علیہ (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بڑی تفصیل سے اس کی تحقیق کردی کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت)
نص ۱۳۰: شرح لباب صفحہ مذکورہ:
اما السجدۃ فلا شك انھا حرام فلا یغتر الزائر بمایری من فعل الجاھلین بل یتبع العلماء العالمین ۔ رہا مزار انور کو مسجد ہ وہ تو حرام قطعی ہے تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکا نہ کھائے بلکہ علمائے باعمل کی پیروی کرے۔
نص ۱۳۱:زواجر عن اقراب الکبائر جلد اول ص ۱۱۰:
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتتخذوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ
حوالہ / References
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری فصل والیغتتم ایام مقامہ الخ دارالکتب بیروت ص۳۴۲
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری فصل والیغتتم ایام مقامہ الخ دارالکتب بیروت ص۳۴۲
المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری فصل والیغتتم ایام مقامہ الخ دارالکتب بیروت ص۳۴۲
قبری وثنا یعبدی بعدی ای لاتعظموہ تعظیم غیر کم لاوثانھم بالسجود لہ اونحوہ فان ذلك کبیرۃ بل کفر بشرطہ ۔ میرے مزار اقدس کو پرستش کا بت نہ بنانا اس سے یہ مراد ہے کہ اس کی تعظیم سجدے یا اس کے مثل سے نہ کرنا جیسے تمھارے اغیار اپنے بتوں کے لئے کرتے ہیں کہ سجدہ ضرور کبیرہ ہے بلکہ نیت عبادت ہو تو کفر۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
قسم دوم: مزار کو سجدہ درکنار کسی قبر کے سامنے اﷲ عزوجل کو سجدہ جائز نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف ہو۔
نص ۱۳۲:طحطاوی الدر جلد اول ص ۱۸۳:
قولہ مقبرۃ لان فیہ التوجہ الی القبر غالباا الصلوۃ الیہ مکروھۃ ۔ مقبرے میں نماز مکروہ ہے کہ اس مین غالبا کسی قبر کو منہ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے
نص ۱۳۳:حلیہ امام ابن امیر الحاج قلمی اواخر مایکرہ فی الصلوۃ(۱۳۴)ردالمحتار جلدا ول ص۳۹۴:
المقبرۃ اذا کان فیہا موضع اعد للصلوۃ ولیس فیہ قبرولا تجاسۃ وقبلۃ الی قبر فالصلوۃ مکروھۃ ۔ قبرستان میں جب کوئی جگہ نما زکے لئے تیار کی گئی ہو اور وہاں نہ قبر ہو نہ نجاست مگر اس کا قبلہ قبر کی طرف ہو جب بھی نماز مکروہ ہے۔
نص ۱۳۵:مجتبی شرح قدوری(۱۳۶)بحرالرائق جلد دوم ص ۲۰۹(۱۳۷)فتح اﷲ المعین جلد اول ص ۳۶۲:
یکرہ ان یطاء القبراو یجلس اوینام علیہ اویصلی علیہ اوالیہ ۔ مکروہ ہے کہ قبر کو پامال کرے یا اس پر بیٹھے یا اس پر چڑھ کر سوئے یا اس پر یا اس کی طرف نماز پڑھے۔(ت)
(۱۳۸)حلیہ آخر کتاب(۱۳۹)شامی ص ۹۳۵:
قسم دوم: مزار کو سجدہ درکنار کسی قبر کے سامنے اﷲ عزوجل کو سجدہ جائز نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف ہو۔
نص ۱۳۲:طحطاوی الدر جلد اول ص ۱۸۳:
قولہ مقبرۃ لان فیہ التوجہ الی القبر غالباا الصلوۃ الیہ مکروھۃ ۔ مقبرے میں نماز مکروہ ہے کہ اس مین غالبا کسی قبر کو منہ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے
نص ۱۳۳:حلیہ امام ابن امیر الحاج قلمی اواخر مایکرہ فی الصلوۃ(۱۳۴)ردالمحتار جلدا ول ص۳۹۴:
المقبرۃ اذا کان فیہا موضع اعد للصلوۃ ولیس فیہ قبرولا تجاسۃ وقبلۃ الی قبر فالصلوۃ مکروھۃ ۔ قبرستان میں جب کوئی جگہ نما زکے لئے تیار کی گئی ہو اور وہاں نہ قبر ہو نہ نجاست مگر اس کا قبلہ قبر کی طرف ہو جب بھی نماز مکروہ ہے۔
نص ۱۳۵:مجتبی شرح قدوری(۱۳۶)بحرالرائق جلد دوم ص ۲۰۹(۱۳۷)فتح اﷲ المعین جلد اول ص ۳۶۲:
یکرہ ان یطاء القبراو یجلس اوینام علیہ اویصلی علیہ اوالیہ ۔ مکروہ ہے کہ قبر کو پامال کرے یا اس پر بیٹھے یا اس پر چڑھ کر سوئے یا اس پر یا اس کی طرف نماز پڑھے۔(ت)
(۱۳۸)حلیہ آخر کتاب(۱۳۹)شامی ص ۹۳۵:
حوالہ / References
الزواجر عن اقتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب اتخاذ القبو ر المساجد الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃبیروت ۱/ ۱۸۳
ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴
فتح المعین باب الجنائز ۹/ ۳۶۲ وبحرالرائق بحوالہ المجتبٰی کتاب الجنائز ۲/ ۱۹۴
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃبیروت ۱/ ۱۸۳
ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴
فتح المعین باب الجنائز ۹/ ۳۶۲ وبحرالرائق بحوالہ المجتبٰی کتاب الجنائز ۲/ ۱۹۴
تکرہ الصلوۃ علیہ والیہ لورود النھی عن ذلك ۔ قبر پر اورقبر کی طرف نماز منع ہے کہ رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی۔
نص ۱۴۰: تبیین الحقائق امام زیلعی جلد اول ص ۲۴۶:
یکرہ ان ینبغی علی القبر اویقعد علیہ او یصلی الیہ نھی علیہ الصلوۃ والسلام عن اتخاذ القبور مساجد ۔ قبر کے اوپر کوئی چنائی قائم کرنا یا قبر پر بیٹھنا یا اس کی طرف نماز میں منہ کرنا سب منع ہے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نےقبروں کو محل سجدہ قرار دینے سے منع فرمایا۔
نص ۱۴۱:زواجر جلد اول ص ۱۱۷:
من ثم قال اصحابنا تحرم الصلوۃ الی قبور الانبیاء والاولیاء تبکا و اعظاما ۔ اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے مزار ت شریفہ کی طرف نماز حرام ہے اگر چہ صرف تبرك وتعظیم کی نیت ہو۔
نص ۱۴۲:ایضا ص ۱۱۶:(۱۴۳)بعض ائمہ نے گناہان کبیرہ متعلقہ بقبور میں فرمایا والصلوۃ الیھا قبر کے سامنے نماز پڑھنا گناہ کبیرہ ہے۔
نص ۱۴۴:ارشاد الساری امام احمد قسطلانی(۱۴۵)تحقیق امام الفرج سے:
یحرم ان یصلی متوجھا الی قبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ حرام ہے کہ مزا ر انور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منہ کرکے نمازپڑھے۔
اقول:(میں کہتاہوں)رکوع سجود والی نماز میں قبر سامنے ہونے کی کراہت اس کی نماز
نص ۱۴۰: تبیین الحقائق امام زیلعی جلد اول ص ۲۴۶:
یکرہ ان ینبغی علی القبر اویقعد علیہ او یصلی الیہ نھی علیہ الصلوۃ والسلام عن اتخاذ القبور مساجد ۔ قبر کے اوپر کوئی چنائی قائم کرنا یا قبر پر بیٹھنا یا اس کی طرف نماز میں منہ کرنا سب منع ہے رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نےقبروں کو محل سجدہ قرار دینے سے منع فرمایا۔
نص ۱۴۱:زواجر جلد اول ص ۱۱۷:
من ثم قال اصحابنا تحرم الصلوۃ الی قبور الانبیاء والاولیاء تبکا و اعظاما ۔ اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے مزار ت شریفہ کی طرف نماز حرام ہے اگر چہ صرف تبرك وتعظیم کی نیت ہو۔
نص ۱۴۲:ایضا ص ۱۱۶:(۱۴۳)بعض ائمہ نے گناہان کبیرہ متعلقہ بقبور میں فرمایا والصلوۃ الیھا قبر کے سامنے نماز پڑھنا گناہ کبیرہ ہے۔
نص ۱۴۴:ارشاد الساری امام احمد قسطلانی(۱۴۵)تحقیق امام الفرج سے:
یحرم ان یصلی متوجھا الی قبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ حرام ہے کہ مزا ر انور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منہ کرکے نمازپڑھے۔
اقول:(میں کہتاہوں)رکوع سجود والی نماز میں قبر سامنے ہونے کی کراہت اس کی نماز
حوالہ / References
ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶
تبیین الحقائق باب الجنائز فصل السلطان احق فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۲۴۶
الزواجر عن اقتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب التخاذ قبور المساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
الزواجر عن قتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب التخاذ قبور المساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب حل تنبش قبور الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۴۳۰
تبیین الحقائق باب الجنائز فصل السلطان احق فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۲۴۶
الزواجر عن اقتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب التخاذ قبور المساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
الزواجر عن قتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب التخاذ قبور المساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب حل تنبش قبور الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۴۳۰
ہونے کے سبب نہیں نماز تو جنازہ بھی ہے اور اس میں میت کا سامنے ہونا شرط اور نماز ہی نہ ہوگی اور بغیر نماز دفن کردیا تو جب تك ظن سلامت ہے قبر پر نماز پڑھنا خود حکم شریعت ہے تو قطعا یہ کراہت نماز کے سبب نہیں بلکہ رکوع وسجود کے باعث اور یقینا معلوم کہ نماز کا رکوع وسجود اﷲ عزوجل ہی کے لئے ہے اور مصلی یقینا استقبال قبلہ ہی کی نیت کرتاہے نہ کہ توجہ الی القبر کی۔ باینہمہ صرف قبر کا سامنے ہونا اﷲ تعالی کے لئے سجدہ کو ممنوع کرتاہے تو خود قبر کو سجدہ کرنا یا اسے سجدہ میں قبلہ توجہ بنانا کسی درجہ سخت اشد ممنوع وحرام ہوگاانصاف شرط ہے اوراس قسم کے نصوص اور نوع دوم کیاحادیث کی باقی تقریر وتقریب آئندہ آئی ہے وباﷲ التوفیق۔
قسم سوم:نماز تو نماز قبر کی طرف مسجد کاقبلہ ہونا منع ہے اگر چہ نمازی کا سامنا نہ ہو مثلا امام کے سامنے کوئی ستون یا انگلی برابر دل کی آدھ گز اونچی لکڑی ہو کہ جماعت کا سامنا نہ رہا۔پھر بھی مسجد کے قبلے میں قبر کی ممانعت ہے جب تك بیچ میں دیوار حائل نہ ہو۔
نص ۱۴۶:محرر مذہب امام محمد کی کتاب الاصل(۱۴۶)ان سے محیط(۱۴۸)ان سے ہندیہ جلد ۵:
اکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الحمام و القبر ۔ میں مکروہ رکھتاہوں اسے کہ مسجد کا قبلہ حمام یا قبلہ کی طرف ہو۔
نص ۱۴۹: غنیہ شرح منیہ ص۳۶۶:
یکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی الحمام او قبرلانہ فیہ ترك تعظیم المسجد ۔ مکروہ ہے کہ مسجد کا قبلہ حمام یا قبر کی طرف ہو کہ اس میں مسجد کی بے تعظیمی ہے۔
نص ۱۵۰:خلاصہ جلد اول ص ۵۶:
یکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی حمام او قبر اذا لم یکن بین المصلی وبین ھذا المواضع حائل مکروہ ہے کہ مسجد کاقبلہ حمام یا قبر کی طرف ہو جبکہ محل نماز اور ان مواضع میں دیوار کی مثل کوئی حائل نہ ہو ہاں بیچ میں دیوار ہو تو
قسم سوم:نماز تو نماز قبر کی طرف مسجد کاقبلہ ہونا منع ہے اگر چہ نمازی کا سامنا نہ ہو مثلا امام کے سامنے کوئی ستون یا انگلی برابر دل کی آدھ گز اونچی لکڑی ہو کہ جماعت کا سامنا نہ رہا۔پھر بھی مسجد کے قبلے میں قبر کی ممانعت ہے جب تك بیچ میں دیوار حائل نہ ہو۔
نص ۱۴۶:محرر مذہب امام محمد کی کتاب الاصل(۱۴۶)ان سے محیط(۱۴۸)ان سے ہندیہ جلد ۵:
اکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الحمام و القبر ۔ میں مکروہ رکھتاہوں اسے کہ مسجد کا قبلہ حمام یا قبلہ کی طرف ہو۔
نص ۱۴۹: غنیہ شرح منیہ ص۳۶۶:
یکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی الحمام او قبرلانہ فیہ ترك تعظیم المسجد ۔ مکروہ ہے کہ مسجد کا قبلہ حمام یا قبر کی طرف ہو کہ اس میں مسجد کی بے تعظیمی ہے۔
نص ۱۵۰:خلاصہ جلد اول ص ۵۶:
یکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی حمام او قبر اذا لم یکن بین المصلی وبین ھذا المواضع حائل مکروہ ہے کہ مسجد کاقبلہ حمام یا قبر کی طرف ہو جبکہ محل نماز اور ان مواضع میں دیوار کی مثل کوئی حائل نہ ہو ہاں بیچ میں دیوار ہو تو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیۃ الصلٰوۃ فروع فی الخلاصۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۶۶
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیۃ الصلٰوۃ فروع فی الخلاصۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۶۶
کالحائط وان کان حائط لایکرہ ۔ مکروہ نہیں۔
اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں)یہاں دو مسئلے ہیں:
ایك یہ کہ قبر کے سامنے ممنوع ہے۔یہ حکم عام ہے مسجد میں ہو خواہ مکان میں خواہ صحرا میںاور اس کا علاج سترہ ہے۔کہ انگلی کا دل(موٹائی)اور آدھ گزطول رکھتا ہویا صحرا میں مصلی خاشع کے موضع نظر سے دور ہونا کما فی جامع المضمرات ثم جامع الرموز ثم ردالمحتار و الطحطاوی علی مراقی الفلاح(جیسا کہ جامع المضمراتجامع الرموزفتاوی شامی اور طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے۔ت)اور امام کا سترہ ساری جماعت کو کافی ہے تمام کتب میں اس کی تصریح ہے۔گنگوہی نے کہ عداوت اولیائے کرام سے اپنے فتاوی حصہ اول ص ۳۰ میں یہ حکم لگایا کہ"قبرستان میں سب کے واسطے امام اور مقتدی کے سترہ کا حاجت ہے سترہ امام کا مقتدی کو کافی ہونا مرور حیوان اور انسان میں کافی ہے قبور کا حضور مشابہ بشرك وبت پرستی ہے اس میں کفایت نہیں ہر ہرنمازی کے سامنے پردہ واجب ہے" یہ شرع مطہر پر افتراء اور دل سے شریعت گھڑنا ہے۔
دوسرا یہ کہ مسجد کا قبلہ جانب قبر نہ ہویہ حکم مسجد سے خاص ہے یہاں تك کہ گھر میں جو جگہ نماز کے لئے مقرر کرلیں جسے مسجد البیت کہتے ہیں اس کے قبلہ میں حمام یا بیت الخلا ہو تو کچھ حرج نہیں نہ قبر میں مضائقہکمانص علیہ فی المحیط الھندیۃ و غیرھا(جیسا کہ محیطفتاوی علمگیری اور ان دو کے علاوہ یہ حکم تعظیم مسجد کے لئے ہے کما افادہ المحقق ابراھیم الحلبی(جیسا کہ محقق ابراہیم حلبی نے اس کا افادہ پیش کیا ہے۔ت)اور وہ جگہ حقیقۃ مسجد نہیں یہاں تك کہ اس میں جنب کو جانا بلکہ جماع بھی جائز ہے۔ذخیرہ وحلیہ وغیرہما میں ہے:
لیس لمساجد البیوت حکم المساجد الا تری انہ یدخلہ الجنب من غیر کراھۃ ویأتی فیہ اھلہ ویبیع و یشتری گھروں کی مساجد کا حقیقی مساجد جیسا حکم نہیںکیا تم نہیں دیکھتے کہ مساجد بیوت میں بغیر کراہت جنبی(ناپاک)داخل ہوسکتا ہے۔اور وہاں
اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں)یہاں دو مسئلے ہیں:
ایك یہ کہ قبر کے سامنے ممنوع ہے۔یہ حکم عام ہے مسجد میں ہو خواہ مکان میں خواہ صحرا میںاور اس کا علاج سترہ ہے۔کہ انگلی کا دل(موٹائی)اور آدھ گزطول رکھتا ہویا صحرا میں مصلی خاشع کے موضع نظر سے دور ہونا کما فی جامع المضمرات ثم جامع الرموز ثم ردالمحتار و الطحطاوی علی مراقی الفلاح(جیسا کہ جامع المضمراتجامع الرموزفتاوی شامی اور طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے۔ت)اور امام کا سترہ ساری جماعت کو کافی ہے تمام کتب میں اس کی تصریح ہے۔گنگوہی نے کہ عداوت اولیائے کرام سے اپنے فتاوی حصہ اول ص ۳۰ میں یہ حکم لگایا کہ"قبرستان میں سب کے واسطے امام اور مقتدی کے سترہ کا حاجت ہے سترہ امام کا مقتدی کو کافی ہونا مرور حیوان اور انسان میں کافی ہے قبور کا حضور مشابہ بشرك وبت پرستی ہے اس میں کفایت نہیں ہر ہرنمازی کے سامنے پردہ واجب ہے" یہ شرع مطہر پر افتراء اور دل سے شریعت گھڑنا ہے۔
دوسرا یہ کہ مسجد کا قبلہ جانب قبر نہ ہویہ حکم مسجد سے خاص ہے یہاں تك کہ گھر میں جو جگہ نماز کے لئے مقرر کرلیں جسے مسجد البیت کہتے ہیں اس کے قبلہ میں حمام یا بیت الخلا ہو تو کچھ حرج نہیں نہ قبر میں مضائقہکمانص علیہ فی المحیط الھندیۃ و غیرھا(جیسا کہ محیطفتاوی علمگیری اور ان دو کے علاوہ یہ حکم تعظیم مسجد کے لئے ہے کما افادہ المحقق ابراھیم الحلبی(جیسا کہ محقق ابراہیم حلبی نے اس کا افادہ پیش کیا ہے۔ت)اور وہ جگہ حقیقۃ مسجد نہیں یہاں تك کہ اس میں جنب کو جانا بلکہ جماع بھی جائز ہے۔ذخیرہ وحلیہ وغیرہما میں ہے:
لیس لمساجد البیوت حکم المساجد الا تری انہ یدخلہ الجنب من غیر کراھۃ ویأتی فیہ اھلہ ویبیع و یشتری گھروں کی مساجد کا حقیقی مساجد جیسا حکم نہیںکیا تم نہیں دیکھتے کہ مساجد بیوت میں بغیر کراہت جنبی(ناپاک)داخل ہوسکتا ہے۔اور وہاں
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبہ کوئتہ ۱/ ۶۰
فتاوٰی رشیدیہ باب قضاء الفوائت محمدسعید اینڈ سنز مسافرخانہ کراچی ص۲۸۸
فتاوٰی رشیدیہ باب قضاء الفوائت محمدسعید اینڈ سنز مسافرخانہ کراچی ص۲۸۸
من غیر کراھۃ ۔ وہ اپنی منکوحہ سے ہمبستری بھی کرسکتا ہے پھر اس میں بلا کراہت خرید وفروخت بھی ہوسکتی ہے۔(ت)
مسجد حقیقی میں یہ کراہت نہ بعد قلیل سے زائل ہو نہ اس سترہ سے بلکہ دیوار درکار۔
کما سمعت فظھر الجواب وﷲ الحمد عما اوردالمحقق الحلبی فی الحلیۃ اذ قال لقائل ان یقول لا یلزم من مفارقۃ مساجد البیوت لمساجد الجماعات فی الاحکام المذکورہ عدم کراھۃ الاستقبال المذکور فی الصلوۃ فی البیوت بلاحائل بینہ وبین ذلك بل ینبغی ان یکون ھذا مما یساوی فیہ الصلوۃ فی البیوت و الصلوۃ فی مساجد الجماعات فلیتأمل اھ وتقریر الجواب ظاہھر مماقررنا فالتفرقۃ التی ذکر فی المحیط وغیرہ غیر قائمۃ و التسوبۃ التی یریدھا المحقق حاصلۃ والحمدﷲ وعلی حبیبہ والہ الصلوۃ الکاملۃ امین۔ اﷲ تعالی ہی کے لئے ستائش وخوبی ہے لہذا اس اشکال کا جواب بالکل ظاہر اور واضح ہوگیا کہ جس کو محقق حلبی نے الحلیۃ مں ذکر فرمایا کہ کسی کہنے والے کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ یوں کہے کہ احکام مذکورہ میں مساجد بیوت(گھروں کی مسجدیں) اور مساجد جماعات(وہ مساجد جو نماز باجماعت کے لئے تعمیر ہوئیں)میں فرق بیان کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اگر لوگ گھروں کی مساجد میں آڑ اور پردہ کے بغیر نماز پڑھیں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے میں کراہت نہ ہو(بلکہ اس صورت میں ضرور کراہۃ ہونی چاہئے)بلکہ مناسب اور موزوں یہ ہے کہ اس حکم میں مسجد بیت اور مسجد جماعات دونوں برابر یا مساوی ہوںاس کو سوچنا چاہئے اھ۔جو کچھ ہم نے ثابت کیا اس سے تقریر جواب ظاہر ہوگئی۔لہذا وہ تفرقہ جو محیط وغیرہ میں ذکر کیا وہ قائم نہیں۔اور وہ"تسویہ"جو محقق موصوف چاہتے ہیں وہ حاصل ہے۔جملہ انواع تعریف اﷲ تعالی کے لئے ثابت ہیں۔اور اﷲ تعالی کے محبوب کریم اور ان کی تمام آل پر کامل رحمتیں نازل ہوںآمین۔(ت)
ہم اس مختصر بیان کو چار فصل کرتے ہیں:
فصل اول:صحابہ وائمہ واولیاء وکتب پر بکرکے افترا خود اس کے مستندات اوراجماع وفقہ و
مسجد حقیقی میں یہ کراہت نہ بعد قلیل سے زائل ہو نہ اس سترہ سے بلکہ دیوار درکار۔
کما سمعت فظھر الجواب وﷲ الحمد عما اوردالمحقق الحلبی فی الحلیۃ اذ قال لقائل ان یقول لا یلزم من مفارقۃ مساجد البیوت لمساجد الجماعات فی الاحکام المذکورہ عدم کراھۃ الاستقبال المذکور فی الصلوۃ فی البیوت بلاحائل بینہ وبین ذلك بل ینبغی ان یکون ھذا مما یساوی فیہ الصلوۃ فی البیوت و الصلوۃ فی مساجد الجماعات فلیتأمل اھ وتقریر الجواب ظاہھر مماقررنا فالتفرقۃ التی ذکر فی المحیط وغیرہ غیر قائمۃ و التسوبۃ التی یریدھا المحقق حاصلۃ والحمدﷲ وعلی حبیبہ والہ الصلوۃ الکاملۃ امین۔ اﷲ تعالی ہی کے لئے ستائش وخوبی ہے لہذا اس اشکال کا جواب بالکل ظاہر اور واضح ہوگیا کہ جس کو محقق حلبی نے الحلیۃ مں ذکر فرمایا کہ کسی کہنے والے کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ یوں کہے کہ احکام مذکورہ میں مساجد بیوت(گھروں کی مسجدیں) اور مساجد جماعات(وہ مساجد جو نماز باجماعت کے لئے تعمیر ہوئیں)میں فرق بیان کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اگر لوگ گھروں کی مساجد میں آڑ اور پردہ کے بغیر نماز پڑھیں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے میں کراہت نہ ہو(بلکہ اس صورت میں ضرور کراہۃ ہونی چاہئے)بلکہ مناسب اور موزوں یہ ہے کہ اس حکم میں مسجد بیت اور مسجد جماعات دونوں برابر یا مساوی ہوںاس کو سوچنا چاہئے اھ۔جو کچھ ہم نے ثابت کیا اس سے تقریر جواب ظاہر ہوگئی۔لہذا وہ تفرقہ جو محیط وغیرہ میں ذکر کیا وہ قائم نہیں۔اور وہ"تسویہ"جو محقق موصوف چاہتے ہیں وہ حاصل ہے۔جملہ انواع تعریف اﷲ تعالی کے لئے ثابت ہیں۔اور اﷲ تعالی کے محبوب کریم اور ان کی تمام آل پر کامل رحمتیں نازل ہوںآمین۔(ت)
ہم اس مختصر بیان کو چار فصل کرتے ہیں:
فصل اول:صحابہ وائمہ واولیاء وکتب پر بکرکے افترا خود اس کے مستندات اوراجماع وفقہ و
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
جماہیر اولیاء سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت۔
فصل دوم:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بکر کے افترائحدیثوں سے تحریم سجدہ کا ثبوت۔
فصل سوم: اﷲ عزوجل پر بکر کے افترائخود اس کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ کا ثبوت
فصل چہارم:سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی بحث اور دلائل قاہرہ سے بطلان استدلال مجوزین کاثبوت۔
وباﷲ التوفیق والوصول الی ذری التحقیق(اور اﷲ تعالی ہی کی مدد سے حصول توفیق ہے اور تحقیق کی چوٹی تك رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ت)ہر فصل میں اس کے متعلق بکر کے اور کمالات کثیرہ کابھی اظہار ہوگا کہ مسلمان دھوکے سے بچیں وباﷲ الھادی(اور اﷲ تعالی ہی سیدھی راہ دکھانے ولا ہے۔ت)
فصل اول: صحابہ وائمہ اولیاء وکتب پر بکر کے فتراء خود اس کے مستندات اور اجماع وفقہ
و جماہیر اولیائے سے تحریم سجدہ تحیۃکا ثبوت
(۱)بکر نے ص ۱۳ میں عالمگیریہ کی جلد خامس باب ۲۸ صفحہ ۳۷۸ کی طرف نسبت کیا:
قال الامام ابومنصور اذا قبل احد بین یدی احد الارض اوانحنی لہ اوطأطأ لہ راسہ فلا باس بہ لانہ یرید تعظیمہ لاعبادتہ۔ امام ابومنصور نے فرمایا:اگر کوئی شخص کسی کے آگے زمین چومے یا اس کے لئے جھکے یا اپنا سر جھکا ئے تو اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے وہ اس کی تعظیم کاارادہ رکھتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کرنے کا(ت)
یہ محض افتراء ہے عالمگیری میں اصلا اس عبارت کا نشان نہیں نری خود ساختہ ہے کیا امردین میں اغوا عوام کے لئے ایسی حرکات کسی مسلمان کہلانے والے کو زیبا ہیں۔
(۲)جلد خامس(۳)باب ۲۸(۴)ص ۳۷۸ یہ تین شدید جرأتیں ہیں کذب صریح اور اتنی جسارت وشوخ دچشمی سے کہ پوری تعیین مقام بھی کردیجائے(۵)اسی عالمگیری کی اسی جلد خامس کتاب الکراھیۃ ۲۸ ص ۳۶۸ میں ہے:
فصل دوم:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بکر کے افترائحدیثوں سے تحریم سجدہ کا ثبوت۔
فصل سوم: اﷲ عزوجل پر بکر کے افترائخود اس کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ کا ثبوت
فصل چہارم:سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی بحث اور دلائل قاہرہ سے بطلان استدلال مجوزین کاثبوت۔
وباﷲ التوفیق والوصول الی ذری التحقیق(اور اﷲ تعالی ہی کی مدد سے حصول توفیق ہے اور تحقیق کی چوٹی تك رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ت)ہر فصل میں اس کے متعلق بکر کے اور کمالات کثیرہ کابھی اظہار ہوگا کہ مسلمان دھوکے سے بچیں وباﷲ الھادی(اور اﷲ تعالی ہی سیدھی راہ دکھانے ولا ہے۔ت)
فصل اول: صحابہ وائمہ اولیاء وکتب پر بکر کے فتراء خود اس کے مستندات اور اجماع وفقہ
و جماہیر اولیائے سے تحریم سجدہ تحیۃکا ثبوت
(۱)بکر نے ص ۱۳ میں عالمگیریہ کی جلد خامس باب ۲۸ صفحہ ۳۷۸ کی طرف نسبت کیا:
قال الامام ابومنصور اذا قبل احد بین یدی احد الارض اوانحنی لہ اوطأطأ لہ راسہ فلا باس بہ لانہ یرید تعظیمہ لاعبادتہ۔ امام ابومنصور نے فرمایا:اگر کوئی شخص کسی کے آگے زمین چومے یا اس کے لئے جھکے یا اپنا سر جھکا ئے تو اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے وہ اس کی تعظیم کاارادہ رکھتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کرنے کا(ت)
یہ محض افتراء ہے عالمگیری میں اصلا اس عبارت کا نشان نہیں نری خود ساختہ ہے کیا امردین میں اغوا عوام کے لئے ایسی حرکات کسی مسلمان کہلانے والے کو زیبا ہیں۔
(۲)جلد خامس(۳)باب ۲۸(۴)ص ۳۷۸ یہ تین شدید جرأتیں ہیں کذب صریح اور اتنی جسارت وشوخ دچشمی سے کہ پوری تعیین مقام بھی کردیجائے(۵)اسی عالمگیری کی اسی جلد خامس کتاب الکراھیۃ ۲۸ ص ۳۶۸ میں ہے:
من سجد للسلطان علی وجہ التحیۃ اوقبل الارض بین یدیہ لایکفر ولکن یأثم لارتکاب الکبیرۃ ھو المختار کذا فی جواہر الاخلاطی ۔ یعنی جواہر الاخلاطی ہے بادشاہ کے لئے سجدہ تحیت یا اس کے سامنے زمین چومنے سے مذہب مختار میں کافر تو نہ ہوگا ہاں گنہگار ہوگا کہ اس نے کبیرہ کاارتکاب کیا۔اسے چھوڑاایك خیانت۔
(۶)اسی میں وہیں ص ۳۶۹ میں ہے:
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی آثمان کذا فی التتارخانیۃ ۔ یعنی جامع الصغیر پھر تاتارخانیہ میں ہے بڑے کے آگے زمین چومنا حرام ہے اور چومنے والا اوروہ کہ اس پر راضی ہو بیشك دونوں مجرم ہیں۔
دو۲ خیانت۔(۷)اسی میں اس کے متصل ہے:
وتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال والفاعل والراضی آثمان کذا فی الغرائب ۔ یعنی غرائب علماء ومشائخ کے سامنے زمین بوسی جاہلوں کا کام ہے اور فاعل وراضی دونوں گنہگار۔
تین خیانت۔ (۸)اسی کے متصل ہے:
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواھر الاخلاطی ۔ یعنی جواھر اخلاطی میں ہے بادشاہ خواہ کسی کے لئے جھکنا مکروہ ہے کہ فعل مجوس کے مانند ہے۔
چارخیانت۔اقول:(میں کہتاہوں)یہاں جھکنے سے بقدر رکوع جھکنا مقصود ہے جس طرح رسم مجوس و
(۶)اسی میں وہیں ص ۳۶۹ میں ہے:
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی آثمان کذا فی التتارخانیۃ ۔ یعنی جامع الصغیر پھر تاتارخانیہ میں ہے بڑے کے آگے زمین چومنا حرام ہے اور چومنے والا اوروہ کہ اس پر راضی ہو بیشك دونوں مجرم ہیں۔
دو۲ خیانت۔(۷)اسی میں اس کے متصل ہے:
وتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال والفاعل والراضی آثمان کذا فی الغرائب ۔ یعنی غرائب علماء ومشائخ کے سامنے زمین بوسی جاہلوں کا کام ہے اور فاعل وراضی دونوں گنہگار۔
تین خیانت۔ (۸)اسی کے متصل ہے:
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواھر الاخلاطی ۔ یعنی جواھر اخلاطی میں ہے بادشاہ خواہ کسی کے لئے جھکنا مکروہ ہے کہ فعل مجوس کے مانند ہے۔
چارخیانت۔اقول:(میں کہتاہوں)یہاں جھکنے سے بقدر رکوع جھکنا مقصود ہے جس طرح رسم مجوس و
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
ہنود ہے۔(۹)اسی کے متصل ہے:
ویکرہ الانحناء عند التحیۃ وبہ ورد النھی کذا فی التمرتاشی ۔ یعنی فتاوی امام تمرتاشی میں ہے سلام کرتے وقت جھکنا مکروہ ہے حدیث میں اس سے ممانعت آئی۔
پانچ خیانت(۱۰)اسی کے متصل ہے:
تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالی بالقیام و اخذا لیدین و الانحناء ولایجوز السجود الااﷲ تعالی کذا فی الغرائب ۔ یعنی فتاوی غرائب میں ہے قیامت اور مصافحے اور جھکنے سے غیر خدا کی خدمت جائز ہے اور سجدہ جائز نہیں مگر اﷲ تعالی کے لئے۔
چھ خیانت اقول:(میں کہتاہوں)یہاں خفیف جھکنا مراد ہے کہ حد رکوع عــــــہ تك نہ پہنچے۔حدیقہ ندیہ امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بانلسی میں ہے:
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام ۔ یعنی حد رکوع تك جھکنا غیر خدا کے لئے جائز نہیں جیسے سجدہ اور حد رکوع سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکیں۔
عالمگیری میں اگر کچھ نہ ہوتا تو دل سے عبارت گھڑ کر اس کے سر باندھنی تہمت تھی نہ کہ اس میں یہ قاہر عبارات اپنے خلاف موجود ہوں اور اسی جلد اسی باب میں ہوں پھر وہ شدید جرأت ہزار افتراء کا ایك افتراء ہے۔
(۱۱)پھر کہا ص ۱۳ اس کے بعد اسی کتاب میں لکھا ہے۔
وقد تبین بذلك ان وضع الجباہ بین یدی المشائخ جائز بلاریب۔ بیشك اس سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ مشائخ کرام کے روبرو زمین پر اپنی پیشانیاں رکھ دینا بلا شك وشبہہ جائز ہے۔
عــــــہ:بہ تقیید زاھدی وردالمحتار نمبر ۲۶ میں آتی ہے ۱۲ منہ ۔
ویکرہ الانحناء عند التحیۃ وبہ ورد النھی کذا فی التمرتاشی ۔ یعنی فتاوی امام تمرتاشی میں ہے سلام کرتے وقت جھکنا مکروہ ہے حدیث میں اس سے ممانعت آئی۔
پانچ خیانت(۱۰)اسی کے متصل ہے:
تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالی بالقیام و اخذا لیدین و الانحناء ولایجوز السجود الااﷲ تعالی کذا فی الغرائب ۔ یعنی فتاوی غرائب میں ہے قیامت اور مصافحے اور جھکنے سے غیر خدا کی خدمت جائز ہے اور سجدہ جائز نہیں مگر اﷲ تعالی کے لئے۔
چھ خیانت اقول:(میں کہتاہوں)یہاں خفیف جھکنا مراد ہے کہ حد رکوع عــــــہ تك نہ پہنچے۔حدیقہ ندیہ امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی بانلسی میں ہے:
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام ۔ یعنی حد رکوع تك جھکنا غیر خدا کے لئے جائز نہیں جیسے سجدہ اور حد رکوع سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکیں۔
عالمگیری میں اگر کچھ نہ ہوتا تو دل سے عبارت گھڑ کر اس کے سر باندھنی تہمت تھی نہ کہ اس میں یہ قاہر عبارات اپنے خلاف موجود ہوں اور اسی جلد اسی باب میں ہوں پھر وہ شدید جرأت ہزار افتراء کا ایك افتراء ہے۔
(۱۱)پھر کہا ص ۱۳ اس کے بعد اسی کتاب میں لکھا ہے۔
وقد تبین بذلك ان وضع الجباہ بین یدی المشائخ جائز بلاریب۔ بیشك اس سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ مشائخ کرام کے روبرو زمین پر اپنی پیشانیاں رکھ دینا بلا شك وشبہہ جائز ہے۔
عــــــہ:بہ تقیید زاھدی وردالمحتار نمبر ۲۶ میں آتی ہے ۱۲ منہ ۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۶۹
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۶۹
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ محمدیہ الخلق الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراھیۃ البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۶۹
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ محمدیہ الخلق الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۴۷
اور ایك عبارت ۳ سطر کی گھڑلییہ بھی نراکذب ہے۔
(۱۲)اسی طرح سو۱۰۰ افتراء کا ایك ہے۔(۱۳)صفحہ ۱۳ میں جامع صغیر کی طرف نسبت کیا:
لاباس بوضع الخدین بین یدی المشائخ۔ مشائخ کے سامنے رخساروں کے رگنے میں حرج نہیں۔(ت)
یہ بھی خالص دروغ۔
(۱۴)ویساہی سو افتراء کے برابر ہے جامع صغیر کی عبارت ابھی گزری کہ زمین چومنا حرام ہے نہ کہ زمین پر رخسارے رکھنا۔
(۱۵)اسی صفحہ میں فتاوی عزیز یہ کہ نسبت ادعا کیا "اس م یں بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پرزوردیا ہے"یہ بھی صریح ہٹ دھرمی ہے۔فتاوی عزیزیہ میں بعد ذکر شبہات یہ جواب قاطع دیاکہ اجماع قطعی ست برتحریم سجدہ یعنی غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی قائم ہے۔
(۱۶)تویہ بھی سو۱۰۰ افتراء کے مثل ہوا۔
(۱۷)یہیں یہی مضمون فتاوی سراجیہ کی نسبت کیایہ بھی خالص جھوٹ ہے سراجیہ بہت شرح وبسط درکنار کا نشان تك نہیں۔
(۱۸)یہی ادعا شرح مشکوۃ شیخ محقق کی نسبت کیایہ بھی محض بہتان اسی میں تویہ ہے سجدہ برائے زندہ باید کرد کہ ہر گز نمیر د و ملك اوزائل نگردد (سجدہ اس زندے(خدا)کے لئے کرنا چاہئے جو کبھی مرتا نہیں اور اس کی بادشاہی کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ت)
(۱۹)صفحہ ۱۳ میں عالمگیری سے نقل کیا:
وان اموہ بالسجود اللتحیۃ والتعظیم لالعبادۃ فلا فضل لہ ان یسجد۔ اگر کفار نے کسی کو سجدہ تحیۃ اور تعظیمی کرنے کا نہ کہ سجدہ عبادت کرنے کاتو افضل یہ ہے کہ وہ سجدہ کرے اھ(ت)
اور اس کی یہ سرخی دی"تعظیمی سجدہ کرنا افضل ہے"یعنی وہی سجدہ جس کی بحث ہے کہ بحالت اختیار زید
(۱۲)اسی طرح سو۱۰۰ افتراء کا ایك ہے۔(۱۳)صفحہ ۱۳ میں جامع صغیر کی طرف نسبت کیا:
لاباس بوضع الخدین بین یدی المشائخ۔ مشائخ کے سامنے رخساروں کے رگنے میں حرج نہیں۔(ت)
یہ بھی خالص دروغ۔
(۱۴)ویساہی سو افتراء کے برابر ہے جامع صغیر کی عبارت ابھی گزری کہ زمین چومنا حرام ہے نہ کہ زمین پر رخسارے رکھنا۔
(۱۵)اسی صفحہ میں فتاوی عزیز یہ کہ نسبت ادعا کیا "اس م یں بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پرزوردیا ہے"یہ بھی صریح ہٹ دھرمی ہے۔فتاوی عزیزیہ میں بعد ذکر شبہات یہ جواب قاطع دیاکہ اجماع قطعی ست برتحریم سجدہ یعنی غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی قائم ہے۔
(۱۶)تویہ بھی سو۱۰۰ افتراء کے مثل ہوا۔
(۱۷)یہیں یہی مضمون فتاوی سراجیہ کی نسبت کیایہ بھی خالص جھوٹ ہے سراجیہ بہت شرح وبسط درکنار کا نشان تك نہیں۔
(۱۸)یہی ادعا شرح مشکوۃ شیخ محقق کی نسبت کیایہ بھی محض بہتان اسی میں تویہ ہے سجدہ برائے زندہ باید کرد کہ ہر گز نمیر د و ملك اوزائل نگردد (سجدہ اس زندے(خدا)کے لئے کرنا چاہئے جو کبھی مرتا نہیں اور اس کی بادشاہی کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ت)
(۱۹)صفحہ ۱۳ میں عالمگیری سے نقل کیا:
وان اموہ بالسجود اللتحیۃ والتعظیم لالعبادۃ فلا فضل لہ ان یسجد۔ اگر کفار نے کسی کو سجدہ تحیۃ اور تعظیمی کرنے کا نہ کہ سجدہ عبادت کرنے کاتو افضل یہ ہے کہ وہ سجدہ کرے اھ(ت)
اور اس کی یہ سرخی دی"تعظیمی سجدہ کرنا افضل ہے"یعنی وہی سجدہ جس کی بحث ہے کہ بحالت اختیار زید
حوالہ / References
فتاوٰی عزیزیہ سجدہ تحیۃ مطبع مجتبائی دہلی اول ص ۱۰۷
اشعۃ اللمعات
اشعۃ اللمعات
عمرو کو سجدہ تحیت کرنااسے عالمگیری میں افضل لکھا۔یہ بھاری خیانت ہے۔عالمگیری کی عبارت یہ ہے:
ولوقال اھل الحرب للمسلم اسجد للملك والاقتلناك قالوا ان امروہبذلك العبادۃ فالافضل لہ ان لایسجد کمن اکرہ علی ان یکفر کان الصبر افضل ۔ یعنی اگر حربی کفار مسلمان سے کہیں کہ بادشاہ کو سجدہ کرورنہ ہم تمھیں قتل کردیں گےیہ جبرا اگر انھوں نے سجدہ عبادت پر کیا تو افضل یہ ہے کہ نہ کرے۔اور جان دے دے جیسے کفر پر اکراہ میں صبر افضل ہے اور اگر یہ جبرسجدہ تحیت پر کیا تو افضل یہ ہے کہ کرلے اور جان بچالے۔
اس کے بعد وہ عبادت ہے وان امرہ بالسجود للتحیۃ (اگر داراحرب والے اسے سجدہ تحیت کرنیکا حکم دیں۔ت)
اول سے وہ اری عبارت اڑادی کہ عوام نہ جانیں کہ کلمات حالت اکراہ میں ہے جہاں یہ جانتا ہو کہ نہ کرے توقتل کیا جائے گا۔ایسی جگہ جان بچالینے کو افضل کہا ہے۔
(۲۰)غالبا ایسا حوالہ دینے والا سوئر اور شراب بھی بحالت اختیار حلال کرلے گا کہ آخر بحالت اضطرار ان کی اباحت تو خود قرآن عظیم میں ہے:
(۲۱)یہاں تك تو خیانت ہی تھی اب کمال سفاہت وخودکشی ملاحظہ ہو اس عبارت سے استناد کیا جو اس کے زعم میں باطل کی پوری قائل ہے سجدہ تحیت پر قتل سے اکراہ ہو اس وقت سجدہ کرلینا صرف افضل کہا۔معلوم ہوا کہ جائز یہ بھی ہے کہ نہ کرے اور قتل ہوجائےتو ظاہر ہوا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے جس سے بچنے کو جان دے دینااور قتل ہوجانا روا ہے تو سئر کھانے سے بھی سخت تر حرام ہوا کہ مضطر یا مکرہ اگر اسے بقدر ضرورت نہ کھائے اور مرجائے یا مارا جائے گنہگار مرے کمانصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ بالاتفاق ان سب نے اس کی تصریح فرمائی۔ت) عالمگیری میں ہے:
السلطان اذا اخذ رجلا وقال الاقتلنك او لتأکل لحم ھذا الخنزیر یفترض علیہ التناول فان لم یتناول حتی قتل کان آثما ۔ اگر بادشاہ نے کسی شخص کو گرفتار کیا اور کہا کہ اس سور کا گوشت کھائے ورنہ میں تمھیں قتل کردوں گا تو اس پر کھانا فرض ہے اگر اس نے نہ کھایا یہاں تك کہ وہ قتل کردیا گیا تو وہ گناہگا ر ہوگا۔ (ت)
ولوقال اھل الحرب للمسلم اسجد للملك والاقتلناك قالوا ان امروہبذلك العبادۃ فالافضل لہ ان لایسجد کمن اکرہ علی ان یکفر کان الصبر افضل ۔ یعنی اگر حربی کفار مسلمان سے کہیں کہ بادشاہ کو سجدہ کرورنہ ہم تمھیں قتل کردیں گےیہ جبرا اگر انھوں نے سجدہ عبادت پر کیا تو افضل یہ ہے کہ نہ کرے۔اور جان دے دے جیسے کفر پر اکراہ میں صبر افضل ہے اور اگر یہ جبرسجدہ تحیت پر کیا تو افضل یہ ہے کہ کرلے اور جان بچالے۔
اس کے بعد وہ عبادت ہے وان امرہ بالسجود للتحیۃ (اگر داراحرب والے اسے سجدہ تحیت کرنیکا حکم دیں۔ت)
اول سے وہ اری عبارت اڑادی کہ عوام نہ جانیں کہ کلمات حالت اکراہ میں ہے جہاں یہ جانتا ہو کہ نہ کرے توقتل کیا جائے گا۔ایسی جگہ جان بچالینے کو افضل کہا ہے۔
(۲۰)غالبا ایسا حوالہ دینے والا سوئر اور شراب بھی بحالت اختیار حلال کرلے گا کہ آخر بحالت اضطرار ان کی اباحت تو خود قرآن عظیم میں ہے:
(۲۱)یہاں تك تو خیانت ہی تھی اب کمال سفاہت وخودکشی ملاحظہ ہو اس عبارت سے استناد کیا جو اس کے زعم میں باطل کی پوری قائل ہے سجدہ تحیت پر قتل سے اکراہ ہو اس وقت سجدہ کرلینا صرف افضل کہا۔معلوم ہوا کہ جائز یہ بھی ہے کہ نہ کرے اور قتل ہوجائےتو ظاہر ہوا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے جس سے بچنے کو جان دے دینااور قتل ہوجانا روا ہے تو سئر کھانے سے بھی سخت تر حرام ہوا کہ مضطر یا مکرہ اگر اسے بقدر ضرورت نہ کھائے اور مرجائے یا مارا جائے گنہگار مرے کمانصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ بالاتفاق ان سب نے اس کی تصریح فرمائی۔ت) عالمگیری میں ہے:
السلطان اذا اخذ رجلا وقال الاقتلنك او لتأکل لحم ھذا الخنزیر یفترض علیہ التناول فان لم یتناول حتی قتل کان آثما ۔ اگر بادشاہ نے کسی شخص کو گرفتار کیا اور کہا کہ اس سور کا گوشت کھائے ورنہ میں تمھیں قتل کردوں گا تو اس پر کھانا فرض ہے اگر اس نے نہ کھایا یہاں تك کہ وہ قتل کردیا گیا تو وہ گناہگا ر ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ولعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ولعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۸
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ولعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاکراہ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۸
درمختار میں ہے:
اکرہ علی اکل لحم خنزیر بقتل اوقطع عضو اوضرب مبرح فرض فان صبر فقتل اثم قتل یا قطع اندام یا ضرب شدید کی دھمکی دے کر سورکے گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا تو اس پر کھانا فرض ہے۔(پھر اگر اس نے نہ کھایا)اور صبر کیا تو گناہگار ہوگا۔(ت)
اکل خنزیر میں اگر اتنا ہی اکراہ ہوکہ نہ کھایا تو اگلی کاٹی جائے تو کھانا فرضنہ کھائے گنہ گاراور غیر خدا کو سجدہ تحیت میں اگر قتل سے اکراہ ہوجب بھی سجدہ ضرور نہیں اور جان دے دینی جائز اگر چہ بہتر حفظ جان تھا۔
کتنافرق عظیم ہوا اور ہونا یہ تھا کہ اکل خنزیر میں عبادت غیر کی مشابہت نہیں بخلاف سجدہ تو اس کا دوسرے کے لئے کرنا واھد قہار جلہ وعلا کے خاص حق پرست درازی ہے۔آدمی انصاف ودین رکھتا ہو تو صرف یہی نمبر اس کی ہدیت کو بس ہے ولایزید الظلمین الا خسارا(ظالموں کو سوائے نقصان اور گھاٹے کے کچھ نہیں بڑھاتا۔ت)
(۲۲)پھر کہا"اس قسم کا مضمون فتاوی قاضی خاں میں بھی ہے"اس قسم کا مضمون نہیں بلکہ وہ عبادت ہی فتاوی قاضی خاں کی ہے عالمگیری نے اسی سے نقل کی ہے تو اس کا حوالہ بھی وہی سخت فریب دہی ہے۔
(۲۳)نہیں نہیں نری فریب دہی نہیں بلکہ خودکشی اور اپنے منہ اپنے زعم باطل کی پوری بیخکنی بکر مذکور نے اسی تحریر ص۱۲ میں کہا"ہدایہ"ردالمختارفتاوی قاضی خان نہایت معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے "اسی فتاوی قاضی خاں سے ایك ہی صفحے بعد خود وہ عبارت پیش کی جس نے ثابت کردیا کہ سجدہ تحیت اکل خنزیر سے بھی بد تر حرام ہے۔عرب تو علی اھلھا کہتے تھے یہاں علی نفسہا تجی براقش۔
(۲۴)یہ تو فتاوی قاضی خاں کا فیصلہ تھا بکر کی دوسری مسلم کتاب ممدوح کتاب منقح کتاب ردالمحتار کی سنئے درمختار میں فرمایا:
مایفعلونہ من تقبل الارض بین یدی العلماء و العظماء فحرام علماء وبزرگان کے سامنے زمین بوسی جو لوگ کرتے ہیں حرام ہے اور کرنے والا اور اس پر
اکرہ علی اکل لحم خنزیر بقتل اوقطع عضو اوضرب مبرح فرض فان صبر فقتل اثم قتل یا قطع اندام یا ضرب شدید کی دھمکی دے کر سورکے گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا تو اس پر کھانا فرض ہے۔(پھر اگر اس نے نہ کھایا)اور صبر کیا تو گناہگار ہوگا۔(ت)
اکل خنزیر میں اگر اتنا ہی اکراہ ہوکہ نہ کھایا تو اگلی کاٹی جائے تو کھانا فرضنہ کھائے گنہ گاراور غیر خدا کو سجدہ تحیت میں اگر قتل سے اکراہ ہوجب بھی سجدہ ضرور نہیں اور جان دے دینی جائز اگر چہ بہتر حفظ جان تھا۔
کتنافرق عظیم ہوا اور ہونا یہ تھا کہ اکل خنزیر میں عبادت غیر کی مشابہت نہیں بخلاف سجدہ تو اس کا دوسرے کے لئے کرنا واھد قہار جلہ وعلا کے خاص حق پرست درازی ہے۔آدمی انصاف ودین رکھتا ہو تو صرف یہی نمبر اس کی ہدیت کو بس ہے ولایزید الظلمین الا خسارا(ظالموں کو سوائے نقصان اور گھاٹے کے کچھ نہیں بڑھاتا۔ت)
(۲۲)پھر کہا"اس قسم کا مضمون فتاوی قاضی خاں میں بھی ہے"اس قسم کا مضمون نہیں بلکہ وہ عبادت ہی فتاوی قاضی خاں کی ہے عالمگیری نے اسی سے نقل کی ہے تو اس کا حوالہ بھی وہی سخت فریب دہی ہے۔
(۲۳)نہیں نہیں نری فریب دہی نہیں بلکہ خودکشی اور اپنے منہ اپنے زعم باطل کی پوری بیخکنی بکر مذکور نے اسی تحریر ص۱۲ میں کہا"ہدایہ"ردالمختارفتاوی قاضی خان نہایت معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے "اسی فتاوی قاضی خاں سے ایك ہی صفحے بعد خود وہ عبارت پیش کی جس نے ثابت کردیا کہ سجدہ تحیت اکل خنزیر سے بھی بد تر حرام ہے۔عرب تو علی اھلھا کہتے تھے یہاں علی نفسہا تجی براقش۔
(۲۴)یہ تو فتاوی قاضی خاں کا فیصلہ تھا بکر کی دوسری مسلم کتاب ممدوح کتاب منقح کتاب ردالمحتار کی سنئے درمختار میں فرمایا:
مایفعلونہ من تقبل الارض بین یدی العلماء و العظماء فحرام علماء وبزرگان کے سامنے زمین بوسی جو لوگ کرتے ہیں حرام ہے اور کرنے والا اور اس پر
حوالہ / References
درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۶
والفاعل والرضی بہ آثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن راضی ہونے والا دونوں گنہگار ہیں اس لئے کہ وہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔
ایسی عمدہ پر تحقیق کتاب ردالمحتار نے اسے مقرر رکھا۔
(۲۵)پھر درمختار میں فرمایا:
وھل یکفران علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفر وان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ یعنی آیازمیں بوسی سے کافر ہوگا یا نہیں اگر بطور عبادت وتعظیم ہے کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیت ہے کافر نہ ہوگا ہاں مجرم ومرتکب کبیرہ ہوگا۔
اسی پر اسی نہایت معتمد کتاب ردالمحتار نے فرمایا:
تلفیق لقولین قال الزیلعی وذکر الصدور الشھیدانہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالی علی وجہ التعظیم کفر اھ قال القہستانی وفی الظھیرۃ یکفر بالسجدۃ مطلقا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں دو قول تھےایك پر کہ سجدہ سے مطلقا کافر ہوجائے گا یہی فتاوی ظہیریہ میں ہے اور پھر امام شمس الائمہ سرخسی بھی سجدہ تعظیمی کو مطلقا کفر فرماتے ہیں دوسرا یہ کہ مرکتب کبیرہ ہوگا مگبر کفر نہیں۔ امام صدر شہید نے اسی کو اختیار فرمایا اس لئے کہ اس سے تحیت مقصود ہوتی ہے نہ کہ عبادت
شارح نے ان دونوں قولوں کو یوں فرمایا کہ کافر کہنے والوں کی مراد وہ ہے کہ بروجہ عبادت ہواور صرف گناہ کبیرہ کہنے والوں کی مراد ہو ہے کہ محض بروجہ تحیت ہو۔کہئے اس اعلی معتمد کتاب نے بھی دو ہی قول بتائے کفریا گناہ کبیرہجوز کا بھی کہیں پتا دیا۔
(۲۶)پھر اسی پر تحقیق کتاب نے اوررجسٹری کیاس کے متصل فرمایا:
وفی الزاھدی الایماء فی السلام الی قریب یعنی مجتبی میں ہے کہ سلام میں رکوع کے قریب
ایسی عمدہ پر تحقیق کتاب ردالمحتار نے اسے مقرر رکھا۔
(۲۵)پھر درمختار میں فرمایا:
وھل یکفران علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفر وان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ یعنی آیازمیں بوسی سے کافر ہوگا یا نہیں اگر بطور عبادت وتعظیم ہے کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیت ہے کافر نہ ہوگا ہاں مجرم ومرتکب کبیرہ ہوگا۔
اسی پر اسی نہایت معتمد کتاب ردالمحتار نے فرمایا:
تلفیق لقولین قال الزیلعی وذکر الصدور الشھیدانہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالی علی وجہ التعظیم کفر اھ قال القہستانی وفی الظھیرۃ یکفر بالسجدۃ مطلقا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں دو قول تھےایك پر کہ سجدہ سے مطلقا کافر ہوجائے گا یہی فتاوی ظہیریہ میں ہے اور پھر امام شمس الائمہ سرخسی بھی سجدہ تعظیمی کو مطلقا کفر فرماتے ہیں دوسرا یہ کہ مرکتب کبیرہ ہوگا مگبر کفر نہیں۔ امام صدر شہید نے اسی کو اختیار فرمایا اس لئے کہ اس سے تحیت مقصود ہوتی ہے نہ کہ عبادت
شارح نے ان دونوں قولوں کو یوں فرمایا کہ کافر کہنے والوں کی مراد وہ ہے کہ بروجہ عبادت ہواور صرف گناہ کبیرہ کہنے والوں کی مراد ہو ہے کہ محض بروجہ تحیت ہو۔کہئے اس اعلی معتمد کتاب نے بھی دو ہی قول بتائے کفریا گناہ کبیرہجوز کا بھی کہیں پتا دیا۔
(۲۶)پھر اسی پر تحقیق کتاب نے اوررجسٹری کیاس کے متصل فرمایا:
وفی الزاھدی الایماء فی السلام الی قریب یعنی مجتبی میں ہے کہ سلام میں رکوع کے قریب
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶
الرکوع کالسجود فی المحیط انہ یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ تك جھکنا بھی سجدے کے مثل ہے اور محیط میں فرمایا کہ بادشاہ وغیرہ کسی کے لئے جھکنا ہو منع ہے۔
(۲۷)ہنوز بس نہیںچند سطریں بعد اقسام بوسہ میں فرمایا:
حرام للارض تحیۃ وکفر لہا تعظیما زمین بوسی بطور تحیت حرام ہے اور بطور تعظیم کفر۔
افسوس کہ خود بکر معتمد کتابیں زعم بکر کو کیسا کیسا باطل کررہی ہے واﷲ الحمد اورآگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے فصل چہارم آنے دیجئے۔
(۲۸)ص ۲۳"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کوکیا جاتاہے"یہ جھوٹ لاکھوں جھوٹ کا ایك جھوٹاور عامہ اولیائے کرام پر تہمت ہے جس کا رد خود اسی کی مستند سے عنقریب آتا ہے۔
(۲۹ تا ۴۵)صفہ ۲۳"ہر خاندان ہر سلسلہ کے بزرگوں کو تعظیمی سجدہ کرنے کا ثبوت کتابنوں میں ہے"حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ پر افتراءحضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی پر افتراء حضرت بہاؤ الحق والدین نقشبندی پر افتراء حضرت شیخ عبدالواحد بن زید پر افتراءحضرت خواجہ فضیل بن عیاض پر افتراءحضرت ابراہیم بن ادھم پر افتراءحضرت ہبیرہ بصری پر افتراءحضرت سید الطائفۃ جنید پر افتراءحضرت حبیب عجمی پر افتراءحضرت عمشاد دینوری پر افتراءحضرت بایزید بسطامی پر افتراءحضرت معروف کرخی پر افتراءحضرت سری سقطی پر افتراءسلطان ابوالحق کاذرونی پر افتراءحضرت نجم الدین کبری پر افتراءحضرت سری سقطی پرافتراءسلطان ابواسحق گاذرونی پر افتراءحضرت نجم الدین کبری پر افتراءحضرت علاؤ الدین طوسی پر افتراءحضرت ضیاء الدین عبدلاقاہر پر افتراءیہ حضرات سلسلوں اور خانوادوں کے سردار ہیں ثبوت دے ان کو کب سجدہ ہو ا اور انھوں نے جائز رکھایہ افتراء بھی ہزاروں افتراؤں کا ایك ہے۔
(۴۶ تا ۴۸)ان سے بھی بدرجہا سخت سے سخت بیباکی یہ کہ"حضرت علی وصحابہ کبار سے لے کر تمام بڑے بڑے علماء مشائخ اولیاء سے سجدہ تعظیمی ثابت ہے"ص ۲۳۔یہ مولی علی پر افتراء صحابہ کبارپر افتراءتمام ائمہ کرام پر افتراءیہ تین افترالاکھوں افتراؤں کا مجموعہ ہیں۔بکر سچا ہے تو مولی علی یا کسی
(۲۷)ہنوز بس نہیںچند سطریں بعد اقسام بوسہ میں فرمایا:
حرام للارض تحیۃ وکفر لہا تعظیما زمین بوسی بطور تحیت حرام ہے اور بطور تعظیم کفر۔
افسوس کہ خود بکر معتمد کتابیں زعم بکر کو کیسا کیسا باطل کررہی ہے واﷲ الحمد اورآگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے فصل چہارم آنے دیجئے۔
(۲۸)ص ۲۳"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کوکیا جاتاہے"یہ جھوٹ لاکھوں جھوٹ کا ایك جھوٹاور عامہ اولیائے کرام پر تہمت ہے جس کا رد خود اسی کی مستند سے عنقریب آتا ہے۔
(۲۹ تا ۴۵)صفہ ۲۳"ہر خاندان ہر سلسلہ کے بزرگوں کو تعظیمی سجدہ کرنے کا ثبوت کتابنوں میں ہے"حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ پر افتراءحضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی پر افتراء حضرت بہاؤ الحق والدین نقشبندی پر افتراء حضرت شیخ عبدالواحد بن زید پر افتراءحضرت خواجہ فضیل بن عیاض پر افتراءحضرت ابراہیم بن ادھم پر افتراءحضرت ہبیرہ بصری پر افتراءحضرت سید الطائفۃ جنید پر افتراءحضرت حبیب عجمی پر افتراءحضرت عمشاد دینوری پر افتراءحضرت بایزید بسطامی پر افتراءحضرت معروف کرخی پر افتراءحضرت سری سقطی پر افتراءسلطان ابوالحق کاذرونی پر افتراءحضرت نجم الدین کبری پر افتراءحضرت سری سقطی پرافتراءسلطان ابواسحق گاذرونی پر افتراءحضرت نجم الدین کبری پر افتراءحضرت علاؤ الدین طوسی پر افتراءحضرت ضیاء الدین عبدلاقاہر پر افتراءیہ حضرات سلسلوں اور خانوادوں کے سردار ہیں ثبوت دے ان کو کب سجدہ ہو ا اور انھوں نے جائز رکھایہ افتراء بھی ہزاروں افتراؤں کا ایك ہے۔
(۴۶ تا ۴۸)ان سے بھی بدرجہا سخت سے سخت بیباکی یہ کہ"حضرت علی وصحابہ کبار سے لے کر تمام بڑے بڑے علماء مشائخ اولیاء سے سجدہ تعظیمی ثابت ہے"ص ۲۳۔یہ مولی علی پر افتراء صحابہ کبارپر افتراءتمام ائمہ کرام پر افتراءیہ تین افترالاکھوں افتراؤں کا مجموعہ ہیں۔بکر سچا ہے تو مولی علی یا کسی
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶
صحابی یا کسی امام تابعی یا امام اعظمامام شافعیامام مالکامام احمدامام ابویوسفامام محمدامام بخاریامام مسلم یا ان کے یا ان کے کسی ایك شاگرد سے ثبوت صحیح دکھائےکہ انھوں نے کسی غیر خدا کو سجدہ کیا یا اسے جائز بتایا ورنہ قرآن مجید میں جو کچھ کاذبین پر ہے اس سے ڈرے اور جلد سے جلد توبہ کرےکذب فی الدنیا سے فی الدین سخت تر ہے۔اور بحکم حدیث لعنتہ ملائکۃ السماء والارض (اس پر آسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ت)کا استحقاق ہے اور زید وعمرو پر افتراء سے صحابہ وائمہ پر افتراء خبیث تر ہے اور قرآن کریم میں"انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" (جھوٹ وہی لوگ تراشتے(اور باندھتے ہیں)جو درحقیقت ایمان نہیں رکھتے۔ت)کا احقاق ہے والعیاذ باﷲ تعالی ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی الاعلی(اﷲ تعالی کی پناہ گناہوں سے بچنا اور حصول نیکی کی طاقت سوائے اﷲ تعالی بلندوبالا کی توفیق دئے بغیر کسی میں نہیں۔ت)
(۴۹)آگے افتراء واختراع کی اور بھی پوری تند چڑھی کہ"ان سب کا اجماع مسئلہ سجدہ تعظیمی میں ثابت ہے اور کوئی شخص انکار کی مجال نہیں رکھتا تو پس عــــــہ اگر سجدہ تعظیمی گمراہی بھی ہے تو اجماع امت سے گمراہی اس کی جاتی رہی"ص ۲۳ انا اﷲ وانا الیہ رجعون(یقینا ہم اﷲ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)سچ فرمایا حدیث مجید نے:
حبك الشیئ یعمی ویصم کسی چیز کی محبت اندھا وبہرا کردیتی ہے۔(ت)
تعصب آدمی کو اندھا بہر کردیتا ہے۔سچ فرمایا رب العزت عزجلالہ نے:
"فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾ " آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
سجدہ غیر پر امت کرشن کافر کاضر ور اجماع ہے جس پنڈت سے چاہوں پوچھ لو جس مند ر میں چاہو دیکھ لو لیکن امت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم اس ملعون تہمت سے بری ہے۔"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (عنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گےت)
عــــــہ: تو بھی دو پس ہی رہے فصاحتف کہا چھوڑی یوں کہا ہوتا فتوپس کہ تینوں زبانیں جمع ہوجاتیں ۱۲ منہ۔
(۴۹)آگے افتراء واختراع کی اور بھی پوری تند چڑھی کہ"ان سب کا اجماع مسئلہ سجدہ تعظیمی میں ثابت ہے اور کوئی شخص انکار کی مجال نہیں رکھتا تو پس عــــــہ اگر سجدہ تعظیمی گمراہی بھی ہے تو اجماع امت سے گمراہی اس کی جاتی رہی"ص ۲۳ انا اﷲ وانا الیہ رجعون(یقینا ہم اﷲ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)سچ فرمایا حدیث مجید نے:
حبك الشیئ یعمی ویصم کسی چیز کی محبت اندھا وبہرا کردیتی ہے۔(ت)
تعصب آدمی کو اندھا بہر کردیتا ہے۔سچ فرمایا رب العزت عزجلالہ نے:
"فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾ " آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
سجدہ غیر پر امت کرشن کافر کاضر ور اجماع ہے جس پنڈت سے چاہوں پوچھ لو جس مند ر میں چاہو دیکھ لو لیکن امت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وسلم اس ملعون تہمت سے بری ہے۔"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (عنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گےت)
عــــــہ: تو بھی دو پس ہی رہے فصاحتف کہا چھوڑی یوں کہا ہوتا فتوپس کہ تینوں زبانیں جمع ہوجاتیں ۱۲ منہ۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن علی حدیث ۱۹۰۱۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
مسند احمد بن حنبل باقی حدیث ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
مسند احمد بن حنبل باقی حدیث ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴
القرآن الکریم ۲۲ /۴۶
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
بلکہ ابھی بکر کے مستند فتاوی عزیز سے سن چکے کہ غیر کے لئے سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے۔
(۵۰)طرفہ یہ کہ"گمراہی بھی ہے تو اجماع سے جاتی رہی"یعنی امت گمراہی پر اجماع تو کرلیتی ہے لیکن اس اجماع سے گمراہی کی کا یاپلٹ ہوکر ہدایت ہوجاتی ہے۔انا ﷲ واناالیہ رجعون زہے گمراہی وجنون " لا یعقلون شیـا ولا یہتدون﴿۱۷۰﴾ " (نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں اور نہ راہ پاتے ہیں۔ت)
(۵۱)صفحہ ۲۰ پر لطائف اشرفی کی عبارت نقل کی اور اس کی ابتداء سے یہ عبارت چھوڑدی:
اما وضع جبھہ بین یدی الشیوخ بعضے از مشائخ رواداشتہ اما اکثر مشایخ اعراض کردہ اند واصحاب خود را ازاں امتناع ساختہ کہ سجدہ تحیت در امت پیشین بودحال منسوخ ست ۔ مشایخ کرام کے سامنے پیشانی زمین پر رکھنا بعض نے اس روایت کو جائز فرمایا اکثر مشائخ نے اس کا انکار کیا ہے اور اس سے اظہار نفرت فرمایا)اور اپنے اصحاب کو اس سے منع فرمایا کہ سجدہ تحیت پہلی امتوں میں جائز تھا لیکن اس امت میں منسوخ ہے۔(ت)
یہ کتنی بھاری خیانت ہے اس کلام لطائف میں بہت لطائف تھے۔
اولا: سجدہ تحیت کی منسوخی جس کا بکر کو انکار ہے۔
ثانیا: بکرکے ادعائے کاذب اجماع کا رد کہ اکثر اولیاء انکار سجدہ پر ہیں۔
ثالثا: بلکہ ممانعت سجدہ پراجماع کا ثبوت کہ بکر نے خود اپنے ادعائے کاذب اجماع کی یونہی مرہم پٹی کی ہے کہ"اکثر اجماع ہے وللاکثر حکم الکل اکثر واسطے کال کا حکم ہے"ص ۲۴۔اسی کی مستند لطائف سے ثابت ہوا کہ اکثر مشائخ کرام ممانعت سجدہ پر ہیں اوعر اکثر کے واسطے کا حکم ہے تو تحریم سجدہ پر اجماع اولیائے کرام ثابت ہوا اور اجماع علماء خود ظاہر اور بکر کی دوسری مستند فتاوی عزیزیہ میں مصرح تو غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت ہونے پر اولیاء وعلماء کا اجماع ہوا تو یہ بکر خود اپنی مستند وں سے اجامع کا منکر اور علمائے کرام و اولیائے عظام سب کا مخالف ہے وکفی بہ خسرانا مبینا(اوریہی کھلا گھاٹا کافی ہے۔ت)۔
رابعا: بکر کے اس کذب صریح وافترائے قبیح کا رد کہ"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتا تھا"ص ۲۳ وہ فرماتے ہیں جمہور اولیائے منع فرماتے تھے یہ کہتا ہے سب اولیاروا رکھتے تھے ع
ببین تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(دیکھو تو سہی راستے کافرق کہ کہاں سے کہاں تك ہے۔ت)
(۵۰)طرفہ یہ کہ"گمراہی بھی ہے تو اجماع سے جاتی رہی"یعنی امت گمراہی پر اجماع تو کرلیتی ہے لیکن اس اجماع سے گمراہی کی کا یاپلٹ ہوکر ہدایت ہوجاتی ہے۔انا ﷲ واناالیہ رجعون زہے گمراہی وجنون " لا یعقلون شیـا ولا یہتدون﴿۱۷۰﴾ " (نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں اور نہ راہ پاتے ہیں۔ت)
(۵۱)صفحہ ۲۰ پر لطائف اشرفی کی عبارت نقل کی اور اس کی ابتداء سے یہ عبارت چھوڑدی:
اما وضع جبھہ بین یدی الشیوخ بعضے از مشائخ رواداشتہ اما اکثر مشایخ اعراض کردہ اند واصحاب خود را ازاں امتناع ساختہ کہ سجدہ تحیت در امت پیشین بودحال منسوخ ست ۔ مشایخ کرام کے سامنے پیشانی زمین پر رکھنا بعض نے اس روایت کو جائز فرمایا اکثر مشائخ نے اس کا انکار کیا ہے اور اس سے اظہار نفرت فرمایا)اور اپنے اصحاب کو اس سے منع فرمایا کہ سجدہ تحیت پہلی امتوں میں جائز تھا لیکن اس امت میں منسوخ ہے۔(ت)
یہ کتنی بھاری خیانت ہے اس کلام لطائف میں بہت لطائف تھے۔
اولا: سجدہ تحیت کی منسوخی جس کا بکر کو انکار ہے۔
ثانیا: بکرکے ادعائے کاذب اجماع کا رد کہ اکثر اولیاء انکار سجدہ پر ہیں۔
ثالثا: بلکہ ممانعت سجدہ پراجماع کا ثبوت کہ بکر نے خود اپنے ادعائے کاذب اجماع کی یونہی مرہم پٹی کی ہے کہ"اکثر اجماع ہے وللاکثر حکم الکل اکثر واسطے کال کا حکم ہے"ص ۲۴۔اسی کی مستند لطائف سے ثابت ہوا کہ اکثر مشائخ کرام ممانعت سجدہ پر ہیں اوعر اکثر کے واسطے کا حکم ہے تو تحریم سجدہ پر اجماع اولیائے کرام ثابت ہوا اور اجماع علماء خود ظاہر اور بکر کی دوسری مستند فتاوی عزیزیہ میں مصرح تو غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت ہونے پر اولیاء وعلماء کا اجماع ہوا تو یہ بکر خود اپنی مستند وں سے اجامع کا منکر اور علمائے کرام و اولیائے عظام سب کا مخالف ہے وکفی بہ خسرانا مبینا(اوریہی کھلا گھاٹا کافی ہے۔ت)۔
رابعا: بکر کے اس کذب صریح وافترائے قبیح کا رد کہ"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتا تھا"ص ۲۳ وہ فرماتے ہیں جمہور اولیائے منع فرماتے تھے یہ کہتا ہے سب اولیاروا رکھتے تھے ع
ببین تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(دیکھو تو سہی راستے کافرق کہ کہاں سے کہاں تك ہے۔ت)
خامسا: الحمدﷲ فوائد الفواد وغیرہ کی سند کا خودہی جواب دے لیا جب جمہور اولیا ء کا ممانعت پر ہیں اور اکثر کے لئے حکم کل تو اجماع اولیاء تحریم پر ہوا اجماع کے مقابل کوئی قول سند نہیں ہوسکتا خود بکر نے کہا"اجماع ثابت ہے کوئی شخص انکار کی مجال نہیں رکھتا"ص ۲۳۔
عبارت لطائف میں تین لطائف اور بھی ہیں آیندہ کااتنظار کیجئےلطائف کے اس کلام میں بکر پر یہ قاہر رد تھے کہ تمام کاروائی دریا برد تھی لہذا دو ٹکڑا صاف کتر لیا دین میں ایسی دغا بازی کیا شان اسلام ہے۔
(۵۲)ص ۲۳ میں دلیل العارفین فوائد السالکین تحفۃ العاشقین کا نام لیا اور عبارت نقل نہ کی جہاں بحوالہ صفحہ عبارت نقل کی وہاں تو وہ صریح کذب جری کی راہ لی یہاں کیا اعتبار ہے اور اگر ان میں وہ مضمون ہو اور بکر نے خیانت بھی نہ کی ہو تو اولا اسی کاثبوت درکار کہ یہ کتابیں حضرات منسوخ الیہم رضی اﷲ تعالی عنہم کی ہیں بہت کتابیں محض جھوٹ نسبت کرکے چھاپ دی ہیں جس کا ذکر آخر فضل سوم میں آتا ہے۔
(۵۳)ثانیا: اگربیان ثقات سے ثابت ہو کہ ان حضرات کی کوئی کتاب اس نام سے تھی تو بلاشبہ یہ مشہور متداول نہیں بلکہ کتب غریبہ پر اعتماد جائز نہیں۔علامہ سید احمد حموی غمز العیون و البصائر شرح الاشباہ والنظائر میں محقق بحر صاحب بحرالرائق سے ناقل:لایجوز النقل من الکتب الغریبۃ التی لم تشتھر ۔ غیر مشہور کتابوں سے نقل جائز نہیںفتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہا میں ہے:
لووجد بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الی محمد ولا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی عصرنا فی دیارنا ولم تتداول نعم اذا وجد النقل عن النوادر مثلا فی کتاب مشہور معروف کالہدایۃ والمبسوط کان ذلك تعویلا علی ذلك الکتاب ۔ اگر ہمارے زمانے میں نوادر میں نوادر کا کوئی نسخہ پایا جائے تو اس میں جو کچھ ہے اسے ابویوسف یا محمد کی طرف نسبت کرنا حرام ہے اسی لئے کہ وہ کتاب ہمارے زمانے میں یہاں مشہور ومتداول نہیں ہاں نوادر سے اگر مثلا ہدایہ یا مبسوط کسی مشہور معروف کتاب میں نقل ہو تو اس نقل کا ماننا اس مشہور کتاب کے اعتماد پر ہوگا۔
اپنے زمانے میں غیر مشہور کی قید سے افادہ فرمایا کہ پہلے اگر مشہور بھی تھی تو اب معتبر نہیں نہ کہ
عبارت لطائف میں تین لطائف اور بھی ہیں آیندہ کااتنظار کیجئےلطائف کے اس کلام میں بکر پر یہ قاہر رد تھے کہ تمام کاروائی دریا برد تھی لہذا دو ٹکڑا صاف کتر لیا دین میں ایسی دغا بازی کیا شان اسلام ہے۔
(۵۲)ص ۲۳ میں دلیل العارفین فوائد السالکین تحفۃ العاشقین کا نام لیا اور عبارت نقل نہ کی جہاں بحوالہ صفحہ عبارت نقل کی وہاں تو وہ صریح کذب جری کی راہ لی یہاں کیا اعتبار ہے اور اگر ان میں وہ مضمون ہو اور بکر نے خیانت بھی نہ کی ہو تو اولا اسی کاثبوت درکار کہ یہ کتابیں حضرات منسوخ الیہم رضی اﷲ تعالی عنہم کی ہیں بہت کتابیں محض جھوٹ نسبت کرکے چھاپ دی ہیں جس کا ذکر آخر فضل سوم میں آتا ہے۔
(۵۳)ثانیا: اگربیان ثقات سے ثابت ہو کہ ان حضرات کی کوئی کتاب اس نام سے تھی تو بلاشبہ یہ مشہور متداول نہیں بلکہ کتب غریبہ پر اعتماد جائز نہیں۔علامہ سید احمد حموی غمز العیون و البصائر شرح الاشباہ والنظائر میں محقق بحر صاحب بحرالرائق سے ناقل:لایجوز النقل من الکتب الغریبۃ التی لم تشتھر ۔ غیر مشہور کتابوں سے نقل جائز نہیںفتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہا میں ہے:
لووجد بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الی محمد ولا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی عصرنا فی دیارنا ولم تتداول نعم اذا وجد النقل عن النوادر مثلا فی کتاب مشہور معروف کالہدایۃ والمبسوط کان ذلك تعویلا علی ذلك الکتاب ۔ اگر ہمارے زمانے میں نوادر میں نوادر کا کوئی نسخہ پایا جائے تو اس میں جو کچھ ہے اسے ابویوسف یا محمد کی طرف نسبت کرنا حرام ہے اسی لئے کہ وہ کتاب ہمارے زمانے میں یہاں مشہور ومتداول نہیں ہاں نوادر سے اگر مثلا ہدایہ یا مبسوط کسی مشہور معروف کتاب میں نقل ہو تو اس نقل کا ماننا اس مشہور کتاب کے اعتماد پر ہوگا۔
اپنے زمانے میں غیر مشہور کی قید سے افادہ فرمایا کہ پہلے اگر مشہور بھی تھی تو اب معتبر نہیں نہ کہ
حوالہ / References
غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن الکریم ۱ /۱۶
فتح القدیر کتاب ادب القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۰
فتح القدیر کتاب ادب القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۰
وہ رسالہ کہ کبھی مشہور نہ تھےنہ ہیں۔کسی الماری سے کوئی نسخہ نقل ہو کر چھپ جانا اسے کتاب مشہور نہ کردے گا۔
(۵۴)ثالث تمام مدارج طے ہونے کے بعد یہی جواب کافی ووافی کہ جمہور اولیاء وجمیع ائمہ منع پر ہیں تو اجماع ہوا اور اجماع کے خلاف اقوال شان مستند نہیں ہوسکتے۔
(۵۵)یہی عبارت مباحث معدن المعانی میں ہیں۔
(۵۶)جب بکر کی جرأتیں یہاں تك ہیں تو اس تحریف کی کیا شکایت کہ لطائف میں دربارہ سجدہ ملائکہ ملتقط سے نقل ہوا:
کان السجدۃ لھاطر فان طرف التحیۃ و طرف العبادۃ فالتحیۃ کانت لادم والعبادۃ ﷲ تعالی ۔ یعنی اس سجدے کی دو طرفیں تھیں۔طرف تحیت وطرف عبادتان میں تحیت تو حضرت آدم علیہ الصلوۃ واسلام کے لئے تھی اور عبادت اﷲ عزوجل کے لئے۔
اسے یوں بنالیا ص ۲۲ کہ سجدہ کی دوقسمیں ہیں:ایك سجدہ تحیتایك سجدہ عبادتپس سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے اور سجدہ عبادت خدا تعالی کے لئے"شاید دہلی کے شاعر نے بکر ہی سے کہا تھا کہ
عیار ہو بیباك ہو جو آج ہو تم ہو بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
(۵۷)ایسا ہی جل عبارت کا کشاف سے کھیلا اس کی اصل عبارت یہ ہے:
فان قلت کیف جاز لھم ان یسجد والغیر اﷲ قلت کانت السجدۃ عندھم جاریۃ مجری التحیۃ والتکرمۃ کالقیام و المصافحۃ وتقبیل الید ونحوھا مما جرت علیہ عادۃ الناس من افعال شہرت فی التعظیم والتوقیر ۔ یعنی اگر تو کہے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے بیٹوں کو غیر خدا کے لئے سجدہ کیسے جائز ہوگیا تو میں کہوں گا ان کے یہاں سجدہ تحیت کا رواج تھا جیسے قیام(مصافحہ ودست بوسی وغیرہ افعال تعظیم وتوقیر جن کا لوگوں میں رواج ہے۔
اسے یہ بنالیا کہ ص ۱۳"سجدہ تعظیمی قرن اول سے جاری ہے"اول تو رواج حال میں سجدہ کا نام
(۵۴)ثالث تمام مدارج طے ہونے کے بعد یہی جواب کافی ووافی کہ جمہور اولیاء وجمیع ائمہ منع پر ہیں تو اجماع ہوا اور اجماع کے خلاف اقوال شان مستند نہیں ہوسکتے۔
(۵۵)یہی عبارت مباحث معدن المعانی میں ہیں۔
(۵۶)جب بکر کی جرأتیں یہاں تك ہیں تو اس تحریف کی کیا شکایت کہ لطائف میں دربارہ سجدہ ملائکہ ملتقط سے نقل ہوا:
کان السجدۃ لھاطر فان طرف التحیۃ و طرف العبادۃ فالتحیۃ کانت لادم والعبادۃ ﷲ تعالی ۔ یعنی اس سجدے کی دو طرفیں تھیں۔طرف تحیت وطرف عبادتان میں تحیت تو حضرت آدم علیہ الصلوۃ واسلام کے لئے تھی اور عبادت اﷲ عزوجل کے لئے۔
اسے یوں بنالیا ص ۲۲ کہ سجدہ کی دوقسمیں ہیں:ایك سجدہ تحیتایك سجدہ عبادتپس سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے اور سجدہ عبادت خدا تعالی کے لئے"شاید دہلی کے شاعر نے بکر ہی سے کہا تھا کہ
عیار ہو بیباك ہو جو آج ہو تم ہو بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
(۵۷)ایسا ہی جل عبارت کا کشاف سے کھیلا اس کی اصل عبارت یہ ہے:
فان قلت کیف جاز لھم ان یسجد والغیر اﷲ قلت کانت السجدۃ عندھم جاریۃ مجری التحیۃ والتکرمۃ کالقیام و المصافحۃ وتقبیل الید ونحوھا مما جرت علیہ عادۃ الناس من افعال شہرت فی التعظیم والتوقیر ۔ یعنی اگر تو کہے یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے بیٹوں کو غیر خدا کے لئے سجدہ کیسے جائز ہوگیا تو میں کہوں گا ان کے یہاں سجدہ تحیت کا رواج تھا جیسے قیام(مصافحہ ودست بوسی وغیرہ افعال تعظیم وتوقیر جن کا لوگوں میں رواج ہے۔
اسے یہ بنالیا کہ ص ۱۳"سجدہ تعظیمی قرن اول سے جاری ہے"اول تو رواج حال میں سجدہ کا نام
حوالہ / References
لطائف اشرفی فی طوائف صوفی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص ۲۹
الکشاف(تفسیر الزرمخشری) تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ انتشارات آفتاب تہران ۲ /۳۴۴
الکشاف(تفسیر الزرمخشری) تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ انتشارات آفتاب تہران ۲ /۳۴۴
کہاں تھا قیام ومصافحہ ودست بوسی کا ذکر تھا جس کا صاف یہ مطلب کہ جیسے اب یہ افعال تحیت ہیں یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں سجدہ تحیت تھا۔پھر جرت علیہ عادۃ الناس"سے اتنا ثابت کہ زمخشری کے زمانے میں ان کا رواج ہے قرن اول کایہاں کون ساحرف تھانہ قرن اول میں قیام ودست بوسی عادت ناس تھیوقوع خاص وعادت ناس میں جو فرق نہ کرے جوہل ہے تو یہ کشاف پر دہورا افترا ہے۔
(۵۸)بکر اس کی عبارت میں بھی قطعو بریدسے نہ چوکاوہ جو اس نے سوال قیام کیا تھا کہ اگر تو کہے انھیں غیر خدا کے لئے سجدہ جائز ہوگیا صاف اڑادیا جس سے کھلتا تھا کہ ہماری شریعت میں ناجائز ہے جس پر سوال ناشیئ ہوااگر ہماری شریعت میں بھی جائز ہوتا تو سوال کا کیا منشا تھا۔
(۵۹)اسی طرح کشاف میں عبادت وتحیت کا فرق بتا کر کہا:
یجوز ان یختلف الاحوال والاوقات فیہ ۔ اس میں احوال واوفات کا اختلاف ہوسکتاہے۔
یعنی جب جائز تھا اب حرامیہ کسے کہاسجدہ تحیت کو یا سجدہ عبادت کوکیا وہ بھی کسی زمانے میں غیر خدا کے لئے جائز وھوسکتا ہے۔یہ ہے کل جمع کشاف کا کلام جس پر وہ صریح تہمت رکھدی کہ"بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پر زور دیا ہے" ص ۱۴۔
غرض اومفتری نتواں برآمد کہ اواز خود سخن می آفریند
(جھوٹ کہنے والے سے یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات کو گھڑ لیتا ہے۔ت)
(۶۰)شاہ عبدالعزیز صاحب کو قول افتراء کے ساتھ فعلی افترا سے بھی نہ چھوڑا کہ"وہ خود والدین و اولیاء اﷲ کے مزارات پر سجدہ تعظیمی ادا کرتے تھے"ص ۱۴۔اﷲ عزوجل فرماتاہے: " ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
(۶۱)یہ وہی شاہ عبدالعزیز صاحب ہیں جن کے فتوی سے سن چکے کہ سجدہ تحیت باجماع قطعی حرام ہے یہ وہی شاہ صاحب ہیں جو تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
درامتہائے سابقہ جائز بود چنانچہ درقصہ پہلی امتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھاجیسا کہ
(۵۸)بکر اس کی عبارت میں بھی قطعو بریدسے نہ چوکاوہ جو اس نے سوال قیام کیا تھا کہ اگر تو کہے انھیں غیر خدا کے لئے سجدہ جائز ہوگیا صاف اڑادیا جس سے کھلتا تھا کہ ہماری شریعت میں ناجائز ہے جس پر سوال ناشیئ ہوااگر ہماری شریعت میں بھی جائز ہوتا تو سوال کا کیا منشا تھا۔
(۵۹)اسی طرح کشاف میں عبادت وتحیت کا فرق بتا کر کہا:
یجوز ان یختلف الاحوال والاوقات فیہ ۔ اس میں احوال واوفات کا اختلاف ہوسکتاہے۔
یعنی جب جائز تھا اب حرامیہ کسے کہاسجدہ تحیت کو یا سجدہ عبادت کوکیا وہ بھی کسی زمانے میں غیر خدا کے لئے جائز وھوسکتا ہے۔یہ ہے کل جمع کشاف کا کلام جس پر وہ صریح تہمت رکھدی کہ"بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پر زور دیا ہے" ص ۱۴۔
غرض اومفتری نتواں برآمد کہ اواز خود سخن می آفریند
(جھوٹ کہنے والے سے یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات کو گھڑ لیتا ہے۔ت)
(۶۰)شاہ عبدالعزیز صاحب کو قول افتراء کے ساتھ فعلی افترا سے بھی نہ چھوڑا کہ"وہ خود والدین و اولیاء اﷲ کے مزارات پر سجدہ تعظیمی ادا کرتے تھے"ص ۱۴۔اﷲ عزوجل فرماتاہے: " ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
(۶۱)یہ وہی شاہ عبدالعزیز صاحب ہیں جن کے فتوی سے سن چکے کہ سجدہ تحیت باجماع قطعی حرام ہے یہ وہی شاہ صاحب ہیں جو تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
درامتہائے سابقہ جائز بود چنانچہ درقصہ پہلی امتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھاجیسا کہ
حوالہ / References
الکشاف عن حقائق التنزیل تحت آیۃ ۲ /۳۴ انتشارات آفتاب تہران ۱ /۲۷۳
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
حضرت یوسف واخوان ایشان واقع شدہ کہ"وخروالہ سجدا درشریعت ماایں طریق ہم فیما بین مخلوقات حرام ست بدلیل احادیث متواترہ کہ دیں باب وارد شدہ ۔ حضرت ابویوسف کے بھائیوں کے واقعہ میں مذکور کہ انھوں نے یوسف کو سجدہ کیا۔لیکن ہماری شریعت میں یہ طریقہ بھی لوگوں کا آپس میں اختیار کرنا حرام ہے ان متواترحدیثوں کی وجہ سے جو اس باب میں وارد ہوتیں۔(ت)تو یہ افتراء بھی سو افتراء ہے۔
(۶۲)جس کی یہ قاہر تصریحیں ہوں اس کے ایك محاورہ کے لفظ مسجود خلائق کو معنی حقیقی شرع پر حمل کرنا اوراس سے اس کے نزدیك جواز نکالنا صریح ہٹ دھرمی ہے یوں تو شاہ صاحبسے بدرجہاں اعلم واعظم حضرت شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی مدارج شریف میں ہے رب عزوجل نے حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت فرمایا:
تسمیہ کردم او را بحمد واحد محمود وگردانیدم او را عابدو معبود ۔ میں نے ان کا نام محمداحمد اور محمود رکھااور میں نے ان کو عابد اور معبود بنایا(یعنی خدا کی عبادت کرنے والا اور لوگوں کا محبوب اور مخدوم)(ت)
اب یہاں بھی کہنا کہ حضرت محدث دہلوی"معبود"کا لفظ کسی بندے کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے ص ۱۶سجدہ تحیت بالائے طاق عبادت مخلوق بھی جائز کرلینا اور یہ"کسی خدا"بھی عجیب لفظ ہے۔معلوم نہیں بکر کے نزدیك کتنے خدا ہیں شاید کرشن مت کے چھپن کروڑلئے ہوں۔
(۶۳)بکر نے جو مضمون فوائد الفواد سے نقل کیا بعینہ یہی مضمون سیرا لاولیاء میں حضرت سلطان الاولیا رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
دریں حال کہ اوپیش مابود وحید الدین قریشی درآمد وسر بر زمین نہاد۔شیخ سعدی خویش گوید
ہرجا کہ روئے زندہ دلے برزمین تست
ہر جا کہ دست غمزدہ دردعائے تست اسی حال میں جب وہ میرے سامنے تھا وحید الدین قریشی آیا اور اس سرزمین پر رکھا۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کیا خوب فرماتے ہیں:
"جس جگہ چہر تازہ ہو تو وہ تیری زمین پر بچھا ہے
(۶۲)جس کی یہ قاہر تصریحیں ہوں اس کے ایك محاورہ کے لفظ مسجود خلائق کو معنی حقیقی شرع پر حمل کرنا اوراس سے اس کے نزدیك جواز نکالنا صریح ہٹ دھرمی ہے یوں تو شاہ صاحبسے بدرجہاں اعلم واعظم حضرت شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کی مدارج شریف میں ہے رب عزوجل نے حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت فرمایا:
تسمیہ کردم او را بحمد واحد محمود وگردانیدم او را عابدو معبود ۔ میں نے ان کا نام محمداحمد اور محمود رکھااور میں نے ان کو عابد اور معبود بنایا(یعنی خدا کی عبادت کرنے والا اور لوگوں کا محبوب اور مخدوم)(ت)
اب یہاں بھی کہنا کہ حضرت محدث دہلوی"معبود"کا لفظ کسی بندے کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے ص ۱۶سجدہ تحیت بالائے طاق عبادت مخلوق بھی جائز کرلینا اور یہ"کسی خدا"بھی عجیب لفظ ہے۔معلوم نہیں بکر کے نزدیك کتنے خدا ہیں شاید کرشن مت کے چھپن کروڑلئے ہوں۔
(۶۳)بکر نے جو مضمون فوائد الفواد سے نقل کیا بعینہ یہی مضمون سیرا لاولیاء میں حضرت سلطان الاولیا رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
دریں حال کہ اوپیش مابود وحید الدین قریشی درآمد وسر بر زمین نہاد۔شیخ سعدی خویش گوید
ہرجا کہ روئے زندہ دلے برزمین تست
ہر جا کہ دست غمزدہ دردعائے تست اسی حال میں جب وہ میرے سامنے تھا وحید الدین قریشی آیا اور اس سرزمین پر رکھا۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کیا خوب فرماتے ہیں:
"جس جگہ چہر تازہ ہو تو وہ تیری زمین پر بچھا ہے
حوالہ / References
فتح العزیز(تفسیر عزیزی) تحت آیۃ ۲/۳۴ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۷۷
مدارج النبوۃ
مدارج النبوۃ
بزرگے دیگر گوید
شعاع روز بہی تابد از جبین کسے
کہ درپستش تو برنہد بخاك جبین اور جس جگہ غمزدہ ہو تو ہاتھ تجھ سے دعا کے لیے ہیں"۔
"ایك دوسرے بزرگ فرماتے ہیں:
"ابد تك روشن شعاع کسی کی پیشانی سے پھوٹتی ہیں کہ تیری پرستش کے لئے وہ پیشانی زمین پر رکھ دیتاہے"(ت)
یہاں تو نہ نرا مسجود بلکہ پرستش موجوداب کہہ دینا کہ حضرت سلطان الاولیا رضی اﷲ تعالی عنہ معاذاﷲ غیر خدا کے لئے سجدہ عبادت روا جانتے تھے جیسے یہاں پرستش بمعنی عبادت نہیں بلکہ خدمت یونہی وہاں مسجود بمعنی مخدوم ومطاعیہ خود مشہور معنی ہیں اور عام محاورہ میں مستعمل ہے۔مگر عناد کا کیا علاج۔
(۶۴)بکر کو ہر قسم اختراع میں کمال ہے لغت میں بھی اجتھاد ہے لفظ کے معنی بھی دل سے تراش لیے جاتے ہیں عالمگیری پر افتراء نمبر اول میں یہ لفظ گھڑے"اوطأ طأ راسہ فلا باس"جس کا صاف ترجمہ یہ تھا"یا سرخم کیا تو حرج نہیں"اسے یہ بنالیا ص ۱۳"یااپنے سر کو زمین پر رگڑے تو کچھ مضائقہ نہیں"بکر سے پوچھئے طأطأۃ کا ترجمہ"زمین پر رگڑنا"کہاں کی زبان ہے۔مقام حیرت ہے جب اصل عبارت ہی اپنی ساختہ پر داختہ تھی جس کاعالمگیری میں تھل نہ بیڑا تو سرے سے اوسجدلہ کیوں نہ گھڑلیا اس کی کیا ضرورت آڑے آئی کہ لفظ طأطأ رکھ کر ترجمہ بھی جھوٹا کرے مگر یہ کہ اختراع میں اپنی مہارت دکھانی کہ عبارت بھی دل سے تراشیں پھر اس جھوٹ کا ترجمہ جھوٹ درجھوٹ گھڑیں "ظلمت بعضہا فوق بعض" (اتنے زیادہ اندھیرے ہیں کہ وہ ایك دوسرے پر چھائے ہوئے ہیں۔ت)
(۶۵)سیر الاولیاء میں تھا:مرید زمین بوسید اس کا ترجمہ یہ تراشہ گیا"مرید زمین پر سر بسجود ہوگیا"۔اگر ترجمہ کتاب پر یہ حسب عادت بکری افتراء ہے تو ظاہر ورنہ فحوائے حدیث صحیح مسلم"فھو احد الکاذبین"تو وہ ایك جھوٹا ہے۔ت)نقد وقت ہے لطائف میں تھا بعضے اصحاب روایت شرعی ہم آوردہ آند "جس کا ترجمہ بکر نے یہ کیا"بعض اصحاب شرعی کی روایت بھی لاتے ہیں"کہ استمرار پر دلالت کرے حالانکہ اس کا حاصل صرف اس قدر کہ کوئی صاحب اس پر روایت شرعی بھی لائے۔
شعاع روز بہی تابد از جبین کسے
کہ درپستش تو برنہد بخاك جبین اور جس جگہ غمزدہ ہو تو ہاتھ تجھ سے دعا کے لیے ہیں"۔
"ایك دوسرے بزرگ فرماتے ہیں:
"ابد تك روشن شعاع کسی کی پیشانی سے پھوٹتی ہیں کہ تیری پرستش کے لئے وہ پیشانی زمین پر رکھ دیتاہے"(ت)
یہاں تو نہ نرا مسجود بلکہ پرستش موجوداب کہہ دینا کہ حضرت سلطان الاولیا رضی اﷲ تعالی عنہ معاذاﷲ غیر خدا کے لئے سجدہ عبادت روا جانتے تھے جیسے یہاں پرستش بمعنی عبادت نہیں بلکہ خدمت یونہی وہاں مسجود بمعنی مخدوم ومطاعیہ خود مشہور معنی ہیں اور عام محاورہ میں مستعمل ہے۔مگر عناد کا کیا علاج۔
(۶۴)بکر کو ہر قسم اختراع میں کمال ہے لغت میں بھی اجتھاد ہے لفظ کے معنی بھی دل سے تراش لیے جاتے ہیں عالمگیری پر افتراء نمبر اول میں یہ لفظ گھڑے"اوطأ طأ راسہ فلا باس"جس کا صاف ترجمہ یہ تھا"یا سرخم کیا تو حرج نہیں"اسے یہ بنالیا ص ۱۳"یااپنے سر کو زمین پر رگڑے تو کچھ مضائقہ نہیں"بکر سے پوچھئے طأطأۃ کا ترجمہ"زمین پر رگڑنا"کہاں کی زبان ہے۔مقام حیرت ہے جب اصل عبارت ہی اپنی ساختہ پر داختہ تھی جس کاعالمگیری میں تھل نہ بیڑا تو سرے سے اوسجدلہ کیوں نہ گھڑلیا اس کی کیا ضرورت آڑے آئی کہ لفظ طأطأ رکھ کر ترجمہ بھی جھوٹا کرے مگر یہ کہ اختراع میں اپنی مہارت دکھانی کہ عبارت بھی دل سے تراشیں پھر اس جھوٹ کا ترجمہ جھوٹ درجھوٹ گھڑیں "ظلمت بعضہا فوق بعض" (اتنے زیادہ اندھیرے ہیں کہ وہ ایك دوسرے پر چھائے ہوئے ہیں۔ت)
(۶۵)سیر الاولیاء میں تھا:مرید زمین بوسید اس کا ترجمہ یہ تراشہ گیا"مرید زمین پر سر بسجود ہوگیا"۔اگر ترجمہ کتاب پر یہ حسب عادت بکری افتراء ہے تو ظاہر ورنہ فحوائے حدیث صحیح مسلم"فھو احد الکاذبین"تو وہ ایك جھوٹا ہے۔ت)نقد وقت ہے لطائف میں تھا بعضے اصحاب روایت شرعی ہم آوردہ آند "جس کا ترجمہ بکر نے یہ کیا"بعض اصحاب شرعی کی روایت بھی لاتے ہیں"کہ استمرار پر دلالت کرے حالانکہ اس کا حاصل صرف اس قدر کہ کوئی صاحب اس پر روایت شرعی بھی لائے۔
حوالہ / References
سید الاولیاء باب ششم نکتہ درمیان اعتقاد مرید الخ مؤسسۃ اتنشارات اسلامی لاہور ص۳۵۰
القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
سیر الاولیاء باب ششم مؤسسۃ انتشارات اسلامی بیروت ص۳۵۰
لطائف اشرفی فی بیان طوائف صوفی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص۲۹
القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
سیر الاولیاء باب ششم مؤسسۃ انتشارات اسلامی بیروت ص۳۵۰
لطائف اشرفی فی بیان طوائف صوفی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص۲۹
جس سے ظاہر کہ مصنف لطائف نے نہ وہ روایت آپ دیکھی نہ اس پر ایسا اعتماد کہ جزما فرماتے کہ یہاں روایت شرعی بھی ہے بلکہ ایك شخص مجہول کا حوالہ دیا یہ سند نہیں ہوسکتا کہ ارشاد حضرت قدوۃ الکبراء تو درکنار قول صاحب لطائف بھی نہیں نہ ناقل معلوم بلکہ مجہول الاسم والمسمی۔
(۶۶تا۶۹)اس ناقل مجہول کی نقل کی حالت یہاں سے کھلتی ہے کہ اس نے ایك مضمون میں نقل کیاکہ نبی وپیر وبادشاہ و والدین ومولی کو سجدہ تحیت جائز ہے اور بے دھڑك کہہ دیا یہ سب بیان فتاوی قاضیخان اور صغیر خانی اور تیسیر اور سراجی اور خانی اورکافی میں ہےفتاوی قاضی خان اور افتراء صغیر خانی پر افتراءسراجی پر افتراء"ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " (لوگو! اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ت)
(۷۰)جہالت کی یہ حالت کہ فتاوی قاضی خان کو جدا گنا اور خانی کو جداحلانکہ یہ وہی ہے۔
(۷۱)تیسیر جسے بکر نے ص۱۴ پر فتاوی تیسیر کہا ہمارے مذہب کا کوئی فتاوی اس نام کا نہیں اس ناقل اور اب اس کے متبع بکر پر لازم کہ بتائے یہ کیا کتاب کس کی تصنیف اور اس میں یہ مضمون کہاں ہے۔
(۷۲)ملتقط کے معنی میں جو تحریف کی نمبر۳۲میں گزری اسی سلسلہ میں لکھاص۲۲ حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے"سجدہ تحیت مثل سلام کے ہے اور کچھ نہیں حرج نہیں اگر پیر وں کے سامنے رخسارے رکھے جائیں"یہ اگرمقولہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما شامل کی ا تو ابن عباس پر افتراء ہے ورنہ ملتقط پر۔
(۷۳)اگر ابن عباس نے گزشتہ امتوں میں سجدہ تحیت کو بجائے سلام کہا تو ہمیں کیا مضراور مخالف کو کیا مفید اور اگر یہ مطلب کہ ابن عباس اب سجدہ تحیت کومثل سلام کہتے ہیں تو قطعا ان پر افتراء۔رہا یہ کہ پھر صاحب لطائف نے ایسی افتراء بھری نقل کو درج کتاب کیوں کیاجب انھوں نے فرمادیا کہ بعض یہ روایت لائے وہ بری الذمہ ہوگئے جیسے بہت محدثین احادیث باطلہ موضوعہ روایت کرتے ارو جانتے کہ جب ہم نے سند لکھ دی ہم پر الزام نہ رہا علاوہ بریں مولنا ملك العلماء بحر العلوم فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
العدول من غیرالائمۃ لایبالوں عمن اخذوا و رووا الاتری الشیخ علاء الدولۃ السمنانی کیف اعتمد علی الرتن الھندی و ای رجل یعنی اماموں کے سوا اور ثقہ عادل حضرات اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے لیتے کس سے روایت کرتے ہیں حضرت شیخ علاء الدولۃ سمنانی قدس سرہ کو نہ دیکھا کیونکر رتن ہندی پر اعتماد فرمالیا حضرت
(۶۶تا۶۹)اس ناقل مجہول کی نقل کی حالت یہاں سے کھلتی ہے کہ اس نے ایك مضمون میں نقل کیاکہ نبی وپیر وبادشاہ و والدین ومولی کو سجدہ تحیت جائز ہے اور بے دھڑك کہہ دیا یہ سب بیان فتاوی قاضیخان اور صغیر خانی اور تیسیر اور سراجی اور خانی اورکافی میں ہےفتاوی قاضی خان اور افتراء صغیر خانی پر افتراءسراجی پر افتراء"ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " (لوگو! اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ت)
(۷۰)جہالت کی یہ حالت کہ فتاوی قاضی خان کو جدا گنا اور خانی کو جداحلانکہ یہ وہی ہے۔
(۷۱)تیسیر جسے بکر نے ص۱۴ پر فتاوی تیسیر کہا ہمارے مذہب کا کوئی فتاوی اس نام کا نہیں اس ناقل اور اب اس کے متبع بکر پر لازم کہ بتائے یہ کیا کتاب کس کی تصنیف اور اس میں یہ مضمون کہاں ہے۔
(۷۲)ملتقط کے معنی میں جو تحریف کی نمبر۳۲میں گزری اسی سلسلہ میں لکھاص۲۲ حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے"سجدہ تحیت مثل سلام کے ہے اور کچھ نہیں حرج نہیں اگر پیر وں کے سامنے رخسارے رکھے جائیں"یہ اگرمقولہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما شامل کی ا تو ابن عباس پر افتراء ہے ورنہ ملتقط پر۔
(۷۳)اگر ابن عباس نے گزشتہ امتوں میں سجدہ تحیت کو بجائے سلام کہا تو ہمیں کیا مضراور مخالف کو کیا مفید اور اگر یہ مطلب کہ ابن عباس اب سجدہ تحیت کومثل سلام کہتے ہیں تو قطعا ان پر افتراء۔رہا یہ کہ پھر صاحب لطائف نے ایسی افتراء بھری نقل کو درج کتاب کیوں کیاجب انھوں نے فرمادیا کہ بعض یہ روایت لائے وہ بری الذمہ ہوگئے جیسے بہت محدثین احادیث باطلہ موضوعہ روایت کرتے ارو جانتے کہ جب ہم نے سند لکھ دی ہم پر الزام نہ رہا علاوہ بریں مولنا ملك العلماء بحر العلوم فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
العدول من غیرالائمۃ لایبالوں عمن اخذوا و رووا الاتری الشیخ علاء الدولۃ السمنانی کیف اعتمد علی الرتن الھندی و ای رجل یعنی اماموں کے سوا اور ثقہ عادل حضرات اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے لیتے کس سے روایت کرتے ہیں حضرت شیخ علاء الدولۃ سمنانی قدس سرہ کو نہ دیکھا کیونکر رتن ہندی پر اعتماد فرمالیا حضرت
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
یکون مثلہ فی العدالۃ ۔ ممدوح کے برابر کون عادل ہوگا۔
(۷۴)ص۱۴ پر جہاں چند حوالوں میں بے نقل عبارت صرف نام گنائے ہیں جن میں خاص کر معارف وسراجیہ وعزیزیہ وشرح مشکوۃ کے حوالے یقینا جھوٹ ہونا اوپر واضح ہوچکا اور فتاوی تیسیر کوئی فتاوی ہی نہیں انھیں میں چھٹا نام معین الدین واعظ کی تفسیر سورہ یوسف کا ہے بکر جب اس قدر شدید الاجتراء کثیر الافتراء ہے تو اس حوالے پر کیا اعتماداور ہو تو تصریحات ائمہ و ارشادات حدیث کے مقابل ایك واعظ کی بات سے کیا استنادیہ حقیقت ہے بکر کی سندوں کیولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بلندمرتبہ اور عظیم شان والے اﷲ تعالی کی توفیق دینے کے سوا کسی میں نہیں۔ت)
فصل دوم: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بکر کے افتراء
اور حدیث سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
(۷۵)بھلا یہاں تك تو لغت وفقہ و ائمہ وصحابہ رضی اﷲ تعالی عنھم ہی پر افتراء تھے مگر بکر کی بڑھتی ہمت کیا صبر کرے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بھی افتراء سے باز نہ آئی ص۹ پر کہا:خود آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کلامی لاینسخ کلام اللہ میرا کلام خدا کے کلام کو منسوخ نہیں کرسکتایہ حدیث ابن عدی ودار قطنی نے بطریق محمد بن داؤد القنطری عن جبرون بن واقد الافریقی روایت کی ابن عدی نےکامل اور ابن جوزی نے علل میں کہا یہ حدیث منکر ہےذہبی نےمیزان میں کہا جبرون متہم ہے اس نے قلت حیا سے یہ حدیث روایت کی ترجمہقنطری میں کہا یہ حدیث باطل ہےترجمہ افریقی میں کہا یہ حدیث موضوع ہےامام حجر نے لسان المیزان میں دونوں جگہ ان کے یہ کلام مقرر رکھےبعد وضوح امر ایك منکرباطلموضوع حدیث متہم بالکذب کی روایت کو کہنا کہ حضور نے فرمایا ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کی جرأت ہے۔
(۷۶)بکر مدعی حنفیت حنفیت سے جدا چلامذہب حنفی میں بیشك آیت حدیث سے منسوخ ہوسکتی ہے کما ھو مصرح فی کتب اصولھم قاطبۃ(جیسا کہ اصول کی عام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت)احکام میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام اﷲ عزوجل ہی کا کلام ہے تو کلام خدا کلام خدا ہی سے منسوخ ہوا۔
(۷۴)ص۱۴ پر جہاں چند حوالوں میں بے نقل عبارت صرف نام گنائے ہیں جن میں خاص کر معارف وسراجیہ وعزیزیہ وشرح مشکوۃ کے حوالے یقینا جھوٹ ہونا اوپر واضح ہوچکا اور فتاوی تیسیر کوئی فتاوی ہی نہیں انھیں میں چھٹا نام معین الدین واعظ کی تفسیر سورہ یوسف کا ہے بکر جب اس قدر شدید الاجتراء کثیر الافتراء ہے تو اس حوالے پر کیا اعتماداور ہو تو تصریحات ائمہ و ارشادات حدیث کے مقابل ایك واعظ کی بات سے کیا استنادیہ حقیقت ہے بکر کی سندوں کیولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بلندمرتبہ اور عظیم شان والے اﷲ تعالی کی توفیق دینے کے سوا کسی میں نہیں۔ت)
فصل دوم: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بکر کے افتراء
اور حدیث سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
(۷۵)بھلا یہاں تك تو لغت وفقہ و ائمہ وصحابہ رضی اﷲ تعالی عنھم ہی پر افتراء تھے مگر بکر کی بڑھتی ہمت کیا صبر کرے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بھی افتراء سے باز نہ آئی ص۹ پر کہا:خود آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کلامی لاینسخ کلام اللہ میرا کلام خدا کے کلام کو منسوخ نہیں کرسکتایہ حدیث ابن عدی ودار قطنی نے بطریق محمد بن داؤد القنطری عن جبرون بن واقد الافریقی روایت کی ابن عدی نےکامل اور ابن جوزی نے علل میں کہا یہ حدیث منکر ہےذہبی نےمیزان میں کہا جبرون متہم ہے اس نے قلت حیا سے یہ حدیث روایت کی ترجمہقنطری میں کہا یہ حدیث باطل ہےترجمہ افریقی میں کہا یہ حدیث موضوع ہےامام حجر نے لسان المیزان میں دونوں جگہ ان کے یہ کلام مقرر رکھےبعد وضوح امر ایك منکرباطلموضوع حدیث متہم بالکذب کی روایت کو کہنا کہ حضور نے فرمایا ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کی جرأت ہے۔
(۷۶)بکر مدعی حنفیت حنفیت سے جدا چلامذہب حنفی میں بیشك آیت حدیث سے منسوخ ہوسکتی ہے کما ھو مصرح فی کتب اصولھم قاطبۃ(جیسا کہ اصول کی عام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت)احکام میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کلام اﷲ عزوجل ہی کا کلام ہے تو کلام خدا کلام خدا ہی سے منسوخ ہوا۔
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی الاصل الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۱۷۵
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد الافریقی دارالفکر بیروت ۲/ ۶۰۲
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ جبرون بن واقد الافریقی دارالفکر بیروت ۲/ ۶۰۲
قال اﷲ تعالی" وما ینطق عن الہوی ﴿۳﴾ ان ہو الا وحی یوحی ﴿۴﴾ " (اﷲ تعالی نے فرمایا)یہ نبی اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے وہ تو نہیں مگر وحی کہ بھیجی گئی۔
(۷۷)صفحہ ۱۵ پرسرخی دی:"آنحضرت نے خود سجدے کی اجازت دی"یعنی غیر خدا کو سجدہ تحیت کی جس کی بحث ہے یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر منہ بھر کر شدیدا فتراء ہے "ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون " ایسے جھوٹ افتراء وہی کرتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔
لاالہ الا اﷲ بلکہ حضور نے اسے حرام فرمایا۔
(۷۸)اس سرخی کے نیچے کہا:مشکوۃ میں ابن خزیمہ بن ثابت سےہے کہ انھوں نے خواب میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیشانی پر اپنے اپ کو سجدہ کرتے دیکھا انھوں نے یہ خواب حضرت سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا تیرا خواب سچاہے آپ فورا لیٹ گئے اور ابن خزیمہ کو اپنی پیشانی پر سجدہ کرنےکی اجازت دی"مسلمانو! اس ظلم عظیم کو دیکھو کہاں پیشانی پر سجدہ کہاں خود حضور کوسجدہشاید بکر جانماز یازمین پر سجدہ کرتے یہ سمجھتا ہوگا کہ وہ اس کپڑے یا زمین کے ٹکڑے کو سجدہ کررہا ہے۔
(۷۹)بے علمی کی یہ حالت کہ مشکوۃ شریف میں تھا:
عن ابن خزیمہ بن ثابت عن عمہ ابی خزیمۃ انہ رأی فیما یری النائم ۔ یعنی ابن خزیمہ بن ثابت اپنے چچا ابوخزیمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے خواب دیکھا۔
وہ خواب راوی خواب کی طرف نسبت کردیا کہ:ابن خزیمہ بن ثابت نے خواب دیکھا"اور اس جہالت کے صدقے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایك افترا دانستہ کردیا کہ"ابن خزیمہ کو اپنی پیشانی پر سجدہ کی اجازت دی"
(۸۰)ایسی ہی بےعلمی اور اس کے سبب نادانستہ افترا یہ ہےکہ حدیث میں تھا:
(۷۷)صفحہ ۱۵ پرسرخی دی:"آنحضرت نے خود سجدے کی اجازت دی"یعنی غیر خدا کو سجدہ تحیت کی جس کی بحث ہے یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر منہ بھر کر شدیدا فتراء ہے "ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ " اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون " ایسے جھوٹ افتراء وہی کرتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔
لاالہ الا اﷲ بلکہ حضور نے اسے حرام فرمایا۔
(۷۸)اس سرخی کے نیچے کہا:مشکوۃ میں ابن خزیمہ بن ثابت سےہے کہ انھوں نے خواب میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیشانی پر اپنے اپ کو سجدہ کرتے دیکھا انھوں نے یہ خواب حضرت سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا تیرا خواب سچاہے آپ فورا لیٹ گئے اور ابن خزیمہ کو اپنی پیشانی پر سجدہ کرنےکی اجازت دی"مسلمانو! اس ظلم عظیم کو دیکھو کہاں پیشانی پر سجدہ کہاں خود حضور کوسجدہشاید بکر جانماز یازمین پر سجدہ کرتے یہ سمجھتا ہوگا کہ وہ اس کپڑے یا زمین کے ٹکڑے کو سجدہ کررہا ہے۔
(۷۹)بے علمی کی یہ حالت کہ مشکوۃ شریف میں تھا:
عن ابن خزیمہ بن ثابت عن عمہ ابی خزیمۃ انہ رأی فیما یری النائم ۔ یعنی ابن خزیمہ بن ثابت اپنے چچا ابوخزیمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے خواب دیکھا۔
وہ خواب راوی خواب کی طرف نسبت کردیا کہ:ابن خزیمہ بن ثابت نے خواب دیکھا"اور اس جہالت کے صدقے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایك افترا دانستہ کردیا کہ"ابن خزیمہ کو اپنی پیشانی پر سجدہ کی اجازت دی"
(۸۰)ایسی ہی بےعلمی اور اس کے سبب نادانستہ افترا یہ ہےکہ حدیث میں تھا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۳ /۳
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الرؤیا الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۳۹۶
القرآن الکریم ۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الرؤیا الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۳۹۶
فاضطجع لہ وقال صدق رؤیاك ۔ حضور نے پہلوئے مبارك پر آرام کرکے ابوخزیمہ سے فرمایا اپنا خواب سچ کرلو۔
مرقاۃ میں ہے:
(صدق رؤیاک)امرمن التصدیق ای اعمل بمقتضاھا ۔ اپنے خواب کی تصدیق کردیجئےیعنی لفظ صدق یہ تصدیق کا امر ہے یعنی اس کے مقتضا کے مطابق عمل کیجئے۔(ت)
عربی سمجھ میں نہ آئے تو شیخ محقق کا فارسی ترجمہ سنئے:
گفت آنحضرت صدق رؤیاك راست گردان خواب خود راکہ دیدہ وسجدہ کن برجبہۃ من ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:اپنے خواب کی تصدیق کرو جو تم نے دیکھا ہے لہذا میری پیشانی پر سجدہ کیجئے۔(ت)سے یہ بنالیا کہ"آپ نے فرمایا:تیرا خواب سچا ہے"
(۸۱)ممانعت سجدہ غیر اﷲ کے بارے میں حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما کہ مسند امام احمد میں ہے نقل کی جس میں ایك اونٹ کا حاضر ہو کر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرنا اور اس پر صحابہ کی خواہش کہ انھیں بھی اجازت سجدہ ملے اور حضور کا اجازت نہ دینا ہے ۔اور خود کہا ص ۹"اس میں کچھ شك نہیں کہ یہ حدیث صاف صاف سجدہ غیر اﷲ کی مخالفت کرتی ہے اور کوئی گنجائش رسول خدا کے صریح الفاظ کے خلاف عذر کرنے کی باقی نہیں رہتی پھر جو تحریف کلام الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رگ اچھلی ان صاف صاف تصریح الفاظ نبوی کی یوں تبدیل وتغییر کی"ص ۹"حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اگر سجدہ غیر اﷲ جائز ہو تا تو میں بیوں کو شوہر کے سجدہ کا امر کرتا اور امر سے وجوب ہوتا ہے لہذا حضور کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ تعظیمی وجوب کے حد میں جائز ہوتا تو میں عورت پر مرد کا سجدہ واجب کرتا یعنی سجدہ تعظیمی واجب نہیں بلکہ مباح ہے"یہ"یعنی"رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صریح افتراء ہے حدیث کے کون سے حرف میں ہے کہ"بلکہ مباح ہے"جب حسب اقرار بکر شرط میں صرف ذکر جواز
مرقاۃ میں ہے:
(صدق رؤیاک)امرمن التصدیق ای اعمل بمقتضاھا ۔ اپنے خواب کی تصدیق کردیجئےیعنی لفظ صدق یہ تصدیق کا امر ہے یعنی اس کے مقتضا کے مطابق عمل کیجئے۔(ت)
عربی سمجھ میں نہ آئے تو شیخ محقق کا فارسی ترجمہ سنئے:
گفت آنحضرت صدق رؤیاك راست گردان خواب خود راکہ دیدہ وسجدہ کن برجبہۃ من ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:اپنے خواب کی تصدیق کرو جو تم نے دیکھا ہے لہذا میری پیشانی پر سجدہ کیجئے۔(ت)سے یہ بنالیا کہ"آپ نے فرمایا:تیرا خواب سچا ہے"
(۸۱)ممانعت سجدہ غیر اﷲ کے بارے میں حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما کہ مسند امام احمد میں ہے نقل کی جس میں ایك اونٹ کا حاضر ہو کر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرنا اور اس پر صحابہ کی خواہش کہ انھیں بھی اجازت سجدہ ملے اور حضور کا اجازت نہ دینا ہے ۔اور خود کہا ص ۹"اس میں کچھ شك نہیں کہ یہ حدیث صاف صاف سجدہ غیر اﷲ کی مخالفت کرتی ہے اور کوئی گنجائش رسول خدا کے صریح الفاظ کے خلاف عذر کرنے کی باقی نہیں رہتی پھر جو تحریف کلام الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رگ اچھلی ان صاف صاف تصریح الفاظ نبوی کی یوں تبدیل وتغییر کی"ص ۹"حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اگر سجدہ غیر اﷲ جائز ہو تا تو میں بیوں کو شوہر کے سجدہ کا امر کرتا اور امر سے وجوب ہوتا ہے لہذا حضور کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ تعظیمی وجوب کے حد میں جائز ہوتا تو میں عورت پر مرد کا سجدہ واجب کرتا یعنی سجدہ تعظیمی واجب نہیں بلکہ مباح ہے"یہ"یعنی"رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر صریح افتراء ہے حدیث کے کون سے حرف میں ہے کہ"بلکہ مباح ہے"جب حسب اقرار بکر شرط میں صرف ذکر جواز
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الرؤیا الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۳۹۶
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الرؤیا الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ۸ /۴۰۶
اشعۃ اللمعات کتاب الرؤیا الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ ۳ /۶۵۲
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۷۶
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الرؤیا الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ۸ /۴۰۶
اشعۃ اللمعات کتاب الرؤیا الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ ۳ /۶۵۲
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۷۶
ہے کہ"اگر سجدہ غیر اﷲ جائز ہوتا"اور جزا میں وہ ا مرہے کہ یقینا منتفی یعنی عورت کو سجدہ کاحکم ہونا اور انتفائے جزا اتنفائے شرط ہے تو حدیث کا صاف مفاد سجدہ کاعدم جواز ہوایعنی جائز ہوتا تو عورت کو حکم ہوتا لیکن عورت کو حکم نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ سجدہ جائز نہیں ذکر امر جزا میں ہے کہ"عورت پر سجدہ واجب کرتا"جزا کا وجوب شرط میں کیسے داخل ہوگیا جواز پر ایجاب کا ترتیب بعید نہیں کہ واجب نہ ہوسکے گا مگر وہ جو جوازرکھتا ہو تو حاصل یہ کہ کوئی اگر سجدہ غیر میں جواز کی گنجائش ہوتی تو میں عورت پر مرد کے لئے واجب کردیتا لیکن وہ جائز نہیں ہوسکتا لہذا عورت کو اس کا حکم نہ دیا۔
(۸۲)طرفہ جہالت جبکہ عورت پر وجوب امر سے ہوتا تو قبل امر وجوب نہ ہونا چاہئے تھا۔نہ یہ کہ سجدہ غیر خدا واجب ہوتا تو میں عورت پر حکم سے واجب کردیتا۔
(۸۳)صحابہ نے اجازت ہی تو طلب کی تھی نہ کہ ایجاب تو نفی وجوب سے اس کا کیا جواب۔
(۸۴)بکر نے تتمہ حدیث نقل کیا ص ۸:ولکن لاینبغی لبشران یسجد لغیر اﷲ۔اور خود اس کا ترجمہ کیا"لیکن آدمی کو زیبا نہیں کہ سوا خدا کے کسی کو سجدہ کرے"پھر اس کا یہ مطلب گھڑتا کہ واجب نہیں مباح ہے کیسی کھلی تحریف ہے۔
(۸۵)حدیث قیس بن سعدر ضی اﷲ تعالی عنہما کہ سنن ابی داؤد شریف میں ہے جنھوں نے شہر حیرہ میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے حاکم کو سجدہ کرتے ہیں واپس آکر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حضور کو سجدہ کی اجازت مانگیارشاد ہوا:
لاتفعلوا لوکنت آمر احد ان یسجد لاحد لامرت النساء وان یسجدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من حق ۔ نہ کرو اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتا تو ضرور عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس حق کے سبب جو شوہروں کا ان پر ہے۔
یہاں صریح صیغہ نفی موجود ہے لاتفعلوا سجدہ نہ کرو۔اب بکر سے کہو اپنی اصول دانی لے کر چلے۔ص ۹"شارح علیہ السلام کسی بات کا حکم امر کے صیغہ سے دیں تو وہ کام واجب ہوتاہے"یونہی شارع علیہ الصلوۃ والسلام کسی بات سے بصیغہ نہی منع فرمائیں تو وہ کام حرام ہوتا ہے۔ثابت ہوا کہ سجدہ غیر حرام ہے اور حدیث کا وہ مطلب گھڑنا کہ"واجب نہیں بلکہ مباح ہے"محض افترائےناکام۔
(۸۲)طرفہ جہالت جبکہ عورت پر وجوب امر سے ہوتا تو قبل امر وجوب نہ ہونا چاہئے تھا۔نہ یہ کہ سجدہ غیر خدا واجب ہوتا تو میں عورت پر حکم سے واجب کردیتا۔
(۸۳)صحابہ نے اجازت ہی تو طلب کی تھی نہ کہ ایجاب تو نفی وجوب سے اس کا کیا جواب۔
(۸۴)بکر نے تتمہ حدیث نقل کیا ص ۸:ولکن لاینبغی لبشران یسجد لغیر اﷲ۔اور خود اس کا ترجمہ کیا"لیکن آدمی کو زیبا نہیں کہ سوا خدا کے کسی کو سجدہ کرے"پھر اس کا یہ مطلب گھڑتا کہ واجب نہیں مباح ہے کیسی کھلی تحریف ہے۔
(۸۵)حدیث قیس بن سعدر ضی اﷲ تعالی عنہما کہ سنن ابی داؤد شریف میں ہے جنھوں نے شہر حیرہ میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے حاکم کو سجدہ کرتے ہیں واپس آکر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حضور کو سجدہ کی اجازت مانگیارشاد ہوا:
لاتفعلوا لوکنت آمر احد ان یسجد لاحد لامرت النساء وان یسجدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من حق ۔ نہ کرو اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتا تو ضرور عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس حق کے سبب جو شوہروں کا ان پر ہے۔
یہاں صریح صیغہ نفی موجود ہے لاتفعلوا سجدہ نہ کرو۔اب بکر سے کہو اپنی اصول دانی لے کر چلے۔ص ۹"شارح علیہ السلام کسی بات کا حکم امر کے صیغہ سے دیں تو وہ کام واجب ہوتاہے"یونہی شارع علیہ الصلوۃ والسلام کسی بات سے بصیغہ نہی منع فرمائیں تو وہ کام حرام ہوتا ہے۔ثابت ہوا کہ سجدہ غیر حرام ہے اور حدیث کا وہ مطلب گھڑنا کہ"واجب نہیں بلکہ مباح ہے"محض افترائےناکام۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۱
(۸۶)بکر ہے ہوشیار حدیث ام المومنین صدیقہ نقل کی جس میں صریح صیغہ نہی تھا اور عوام کو دھودکا دینے کو لکھ دیا ص ۹" اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیںسوا اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے۔اول تو سند کا حدیث میں حصہ جھوٹ ہم نے بکر ہی کی مسلم سندوں سے ثابت کردیا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام حرام حرامسوئر کھانے سے بھی بدتر حرام۔
(۸۷)پھر حدیث کا اس ایك میں حصہ سفید جھوٹوہ حدیث صدیقہ شاید بکر نے مشکوۃ سے لی ہو کہ بکر کی اس تك رسائی ص ۱۵ سے نمبر ۴۲ میں ہوچکی ہے مشکوۃ کے اسی باب اسی فصل میں اس سے دو حدیث اوپر حدیث قیس رضی اﷲ تعالی عنہ موجود تھی جس میں صریح ممانعت موجوداس نے چھپالیا اور کہہ دیا۔اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں"۔
(۸۸)نیز وہیں مشکوۃ میں تیسیری حدیث معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کا پتا دیا تھا اسے بھی اڑا دیا اور کہہ دیا کہ"اورکوئی ثبوت نہیں"دین میں یہ چالاکیاں مسلمان کہلا کر نازیبا ہیں۔حدیث معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ مسند امام احمد میں بسند رجال صحیح بخاری وصحیح مسلم یوں ہے۔
حدثنا وکیع ثنا الاعمش عن ابی ظبیان عن معاذ بن جبل انہ لما رجع من الیمن قال یا رسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجدلك قال لوکنت آمرابشرا یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ (ہم سے وکیع نے بیان کیا کہ اعمش نے ابی ظبیان سے انھوں نے معاذ بن جبل سے روایت کیا)یعنی جب معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ یمن سے واپس آئے عر ض کی:یا رسول اللہ! میں نے یمن میں کچھ لوگوں کو دیکھا آپس میں ایك دوسرے کو سجدہ کرتے ہیںتو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کرے فرمایا:میں اگر آدمی کو آدمی کے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتوا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
(۸۹)اپنے ہی پاؤں پر تیشہ زنییہ کہ حدیث ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہما کے تتمۃ میں وہ الفاظ بڑھادئے:
لاینبغی بشر ان یسجد لغیر اﷲ۔ کسی انسان کے لئے لائق نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے سوا کسی اور کو سجدہ کرے۔
(۸۷)پھر حدیث کا اس ایك میں حصہ سفید جھوٹوہ حدیث صدیقہ شاید بکر نے مشکوۃ سے لی ہو کہ بکر کی اس تك رسائی ص ۱۵ سے نمبر ۴۲ میں ہوچکی ہے مشکوۃ کے اسی باب اسی فصل میں اس سے دو حدیث اوپر حدیث قیس رضی اﷲ تعالی عنہ موجود تھی جس میں صریح ممانعت موجوداس نے چھپالیا اور کہہ دیا۔اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں"۔
(۸۸)نیز وہیں مشکوۃ میں تیسیری حدیث معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کا پتا دیا تھا اسے بھی اڑا دیا اور کہہ دیا کہ"اورکوئی ثبوت نہیں"دین میں یہ چالاکیاں مسلمان کہلا کر نازیبا ہیں۔حدیث معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ مسند امام احمد میں بسند رجال صحیح بخاری وصحیح مسلم یوں ہے۔
حدثنا وکیع ثنا الاعمش عن ابی ظبیان عن معاذ بن جبل انہ لما رجع من الیمن قال یا رسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجدلك قال لوکنت آمرابشرا یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۔ (ہم سے وکیع نے بیان کیا کہ اعمش نے ابی ظبیان سے انھوں نے معاذ بن جبل سے روایت کیا)یعنی جب معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ یمن سے واپس آئے عر ض کی:یا رسول اللہ! میں نے یمن میں کچھ لوگوں کو دیکھا آپس میں ایك دوسرے کو سجدہ کرتے ہیںتو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کرے فرمایا:میں اگر آدمی کو آدمی کے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتوا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
(۸۹)اپنے ہی پاؤں پر تیشہ زنییہ کہ حدیث ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہما کے تتمۃ میں وہ الفاظ بڑھادئے:
لاینبغی بشر ان یسجد لغیر اﷲ۔ کسی انسان کے لئے لائق نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے سوا کسی اور کو سجدہ کرے۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۲۸۔۲۲۷
اس کی مبلغ علم مشکوۃ میں یہ حدیث ام المومنین کا تتمۃ نہیں بلکہ چوتھی حدیث سلیمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہ ہے کہ انھوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدہ کرناچاہا حضور نے فرمایا:
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الاﷲ تعالی۔اوردہ الامام النسفی فی الدارك ۔ کسی مخلوق کو سزاوار نہیں کہ اﷲ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (امام نسفی اس کو مدارك میں لائے ہیں۔ت)
یہ چار واقعہ جدا جدا ہیں حدیث صدیقہ میں اونٹ کا سجدہ دیکھ کر صحابہ نے اجازت چاہی
قیس رضی اﷲ تعالی عنہ نے حیرہ متصل کوفہ میں معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ نے یمن میں سجدہ حکام دیکھ کر اجازت مانگی اور ہر بارایك ہی جواب ارشاد ہوا کسی بار اجازت نہ ہوئی۔
سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے خود سجدہ ہی کرنا چاہا منع فرمایا۔
ان تینوں حدیثوں میں ایك فائدہ اور ہے جس کے لئے بکر نے ان کو چھپایا کہ عنقریب ظاہر ہوگا ان شاء اﷲ تعالی۔
(۹۰)حدیث صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا پر بکر کا ظلم اشد واخبث حد سے گزرگیا۔صفحہ ۹ پر کہا"سب سے بڑی بات تو یہ معلوم ہوتی ہےکہ حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کرکے جواب دیاتھا جبھی تو فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کااحترام واکرام بجالاؤ آپ کے ذہن میں سجدہ تعظیمی ہوتا تو عبادت رب کا حوالہ نہ دیتے اور احترام وتعظیم کو عبادت سے الگ کرکے ظاہر نہ فرماتے اس وقت توآپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا
انا ﷲ ونا الیہ راجعونo " کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾ " ۔ (یقینا ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور(بلا شبہہ اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)کیا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے وہ تو نرا جھوٹ بك رہے ہیں۔
مسلمانو! محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جن پر قرآن کریم میں اترا:
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الاﷲ تعالی۔اوردہ الامام النسفی فی الدارك ۔ کسی مخلوق کو سزاوار نہیں کہ اﷲ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (امام نسفی اس کو مدارك میں لائے ہیں۔ت)
یہ چار واقعہ جدا جدا ہیں حدیث صدیقہ میں اونٹ کا سجدہ دیکھ کر صحابہ نے اجازت چاہی
قیس رضی اﷲ تعالی عنہ نے حیرہ متصل کوفہ میں معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ نے یمن میں سجدہ حکام دیکھ کر اجازت مانگی اور ہر بارایك ہی جواب ارشاد ہوا کسی بار اجازت نہ ہوئی۔
سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ نے خود سجدہ ہی کرنا چاہا منع فرمایا۔
ان تینوں حدیثوں میں ایك فائدہ اور ہے جس کے لئے بکر نے ان کو چھپایا کہ عنقریب ظاہر ہوگا ان شاء اﷲ تعالی۔
(۹۰)حدیث صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا پر بکر کا ظلم اشد واخبث حد سے گزرگیا۔صفحہ ۹ پر کہا"سب سے بڑی بات تو یہ معلوم ہوتی ہےکہ حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کرکے جواب دیاتھا جبھی تو فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کااحترام واکرام بجالاؤ آپ کے ذہن میں سجدہ تعظیمی ہوتا تو عبادت رب کا حوالہ نہ دیتے اور احترام وتعظیم کو عبادت سے الگ کرکے ظاہر نہ فرماتے اس وقت توآپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا
انا ﷲ ونا الیہ راجعونo " کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾ " ۔ (یقینا ہم اﷲ تعالی کے لئے ہیں اور(بلا شبہہ اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں)کیا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے وہ تو نرا جھوٹ بك رہے ہیں۔
مسلمانو! محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جن پر قرآن کریم میں اترا:
حوالہ / References
مدارك التزیل (تفسیر النسفی)تحت آیۃ ۲ /۳۴ دارالکتب العربی بیروت ۱ /۴۲
القرآن الکریم ۱۸ /۵
القرآن الکریم ۱۸ /۵
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم " اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔
وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو خود فرماتے :
ایاك والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ گمان سے دور رہ کہ گمان سے بڑھ کر کوئی جھوٹ بات نہیں الحدیث۔
وہ اور اپنے صحابہ کرام حاضران بارگاہ پر یہ بد گمانی کہ یہ میری عبادت چاہتے ہیں مجھے دوسرا خدا بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون o(ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)کلا واﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تو یہ گمان نہ ہوا نہ اس درخواست سے کسی عاقل کو تعظیم وتکریم کے سوا کوئی گمان عبادت گزرتا مگر بکر نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر یہ خبیث بدگمانی کرکے اپنے لئے استحقاق جہنم کرلیا اگر توبہ نہ کرے۔
(۹۱)یہی نہیں بلکہ اس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور سخت تر الزام ہے حضور نے یہ سمجھا کہ صحابہ میری عبادت کیا چاہتے ہیں اس پر نہ غضب فرمایا نہ انکار نہ صحابہ کو تو بہ کی ہدایت نہ تجدید اسلام ونکاح کا حکم اس کا ذکر تك نہ کیا یہ ہلکی سی بات فرماکر چپ ہورہے کہ میں اس کا حکم کرتا تو عورت کو معاذاﷲ وہ گمان فرمایا ہوتا تو اسی قدر فرماتے یایہ کہ ارے تم عبادت غیر چاہ کر مرتدہوگئے ارے تو بہ کرو اسلام لاؤ اپنی عورتوں سے پھر نکاح کرو۔ایك باد یہ نشین ناواقف کے منہ سے اتنی بات نکلی تھی کہ ہم حضور کو اﷲ تعالی کے یہاں شفیع لاتے ہیں اور اﷲ تعالی کو حضور کے پاس۔اس پر وہ غضب شدید فرمایا کہ دردویوار تجلی شان جلال سے بھر گئے دیر تك سبحن اﷲ سبحن اﷲ سبحن اﷲ فرماتے رہے پھر اس اعرابی سے فرمایا: اجعلتنی ﷲ ندا کیا تو نے مجھے اﷲ کا ہمسر ٹھہرایاویحك اتدری مااﷲ افسوس تجھ پر ارے تو جانتاہے کہ اﷲ کیا ہے۔پھر اس واحد قہار کی عظمت بیان فرمائی رواہ ابوداؤد ۔یہاں مخلص صحابہ حاضران بارگاہ علیہم الرضوان
وہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو خود فرماتے :
ایاك والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ گمان سے دور رہ کہ گمان سے بڑھ کر کوئی جھوٹ بات نہیں الحدیث۔
وہ اور اپنے صحابہ کرام حاضران بارگاہ پر یہ بد گمانی کہ یہ میری عبادت چاہتے ہیں مجھے دوسرا خدا بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون o(ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)کلا واﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تو یہ گمان نہ ہوا نہ اس درخواست سے کسی عاقل کو تعظیم وتکریم کے سوا کوئی گمان عبادت گزرتا مگر بکر نے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر یہ خبیث بدگمانی کرکے اپنے لئے استحقاق جہنم کرلیا اگر توبہ نہ کرے۔
(۹۱)یہی نہیں بلکہ اس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور سخت تر الزام ہے حضور نے یہ سمجھا کہ صحابہ میری عبادت کیا چاہتے ہیں اس پر نہ غضب فرمایا نہ انکار نہ صحابہ کو تو بہ کی ہدایت نہ تجدید اسلام ونکاح کا حکم اس کا ذکر تك نہ کیا یہ ہلکی سی بات فرماکر چپ ہورہے کہ میں اس کا حکم کرتا تو عورت کو معاذاﷲ وہ گمان فرمایا ہوتا تو اسی قدر فرماتے یایہ کہ ارے تم عبادت غیر چاہ کر مرتدہوگئے ارے تو بہ کرو اسلام لاؤ اپنی عورتوں سے پھر نکاح کرو۔ایك باد یہ نشین ناواقف کے منہ سے اتنی بات نکلی تھی کہ ہم حضور کو اﷲ تعالی کے یہاں شفیع لاتے ہیں اور اﷲ تعالی کو حضور کے پاس۔اس پر وہ غضب شدید فرمایا کہ دردویوار تجلی شان جلال سے بھر گئے دیر تك سبحن اﷲ سبحن اﷲ سبحن اﷲ فرماتے رہے پھر اس اعرابی سے فرمایا: اجعلتنی ﷲ ندا کیا تو نے مجھے اﷲ کا ہمسر ٹھہرایاویحك اتدری مااﷲ افسوس تجھ پر ارے تو جانتاہے کہ اﷲ کیا ہے۔پھر اس واحد قہار کی عظمت بیان فرمائی رواہ ابوداؤد ۔یہاں مخلص صحابہ حاضران بارگاہ علیہم الرضوان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الادب باب قولہ تعالٰی یا یھاالذین اٰمنوا اجتنبوا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۹۶
سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الجہمیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۴
صحیح البخاری کتاب الادب باب قولہ تعالٰی یا یھاالذین اٰمنوا اجتنبوا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۹۶
سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الجہمیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹۴
سے معاذاﷲ دوسرا خدا بنانے غیر خدا کی پوجا کرنے کی خواہش سمجھتے اور ساکت رہتے ہیں کیا یہ ممکن ہےکلا واﷲ کیا یہ شان رسالت ہے حاشا للہجو رسول کو کفر وارتداد پر سکوت کرنے والا ٹھہرائے وہ خود کفر وارتداد کے گھاٹ تك پہینچ گیا کہ نبی کی ایسی شدید تو ہین کی " ہم للکفر یومئذ اقرب منہم للایمن " (وہ اس دن ایمان کی بہ نسبت کفرکے زیادہ قریب تھے۔ت)بکر نے تو یہ سمجھا کہ میں نے حدیث صدیقہ کی مدافعت میں اپنا زرو علم وقلم دکھایا اور نہ جانا کہ اس کے جہل و بیبا کانہ قول نے اسے کہاں تك پہنچایاسچ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے:
ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ لایری بھا بأسا یھوی بھا سبعین خریفا فی النار ۔ بیشك آدمی ایك بات کہتاہے جس میں کچھ برائی نہیں سمجھتا اس کے سبب ستر بس کی راہ جہنم میں اتر جاتاہے۔
اور فرمایا:
ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ من سخط اﷲ مایظن ان تبلغ مابلغت فیکتب اﷲ علیہ بہا سخطہ الی یوم القیمۃ ۔ بیشك آدمی ایك بات ناراضی خدا کی کہتا ہے اس کے گمان میں نہیں ہوتا کہ کہاں تك پہنچیاس کے سبب اﷲ اس پر قیامت تك اپنا غضب لکھ دیتا ہے۔والعیاز باﷲ تعالی۔
اﷲ عزوجل کی طرف شکر ہے اس پر فتن زمانے سے کہ جسے الٹے سیدھے دو حرج ارود کے لکھنے آگئے وہ مصنف ومحقق ومجہتدین بیٹھا اور دین متین میں اپنی ناقص عقل فاسد رائے سے دخل دینے لگا قرآن وحدیث وعقاید وارشادات ائمہ سب کا مخالف ہوکر پہنچاجہاں پہنچا۔
ویتوب اﷲ علی من تاب ومن یتول اور اﷲ توبہ فرماتاہے جو کوئی توبہ کرے۔اور
ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ لایری بھا بأسا یھوی بھا سبعین خریفا فی النار ۔ بیشك آدمی ایك بات کہتاہے جس میں کچھ برائی نہیں سمجھتا اس کے سبب ستر بس کی راہ جہنم میں اتر جاتاہے۔
اور فرمایا:
ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ من سخط اﷲ مایظن ان تبلغ مابلغت فیکتب اﷲ علیہ بہا سخطہ الی یوم القیمۃ ۔ بیشك آدمی ایك بات ناراضی خدا کی کہتا ہے اس کے گمان میں نہیں ہوتا کہ کہاں تك پہنچیاس کے سبب اﷲ اس پر قیامت تك اپنا غضب لکھ دیتا ہے۔والعیاز باﷲ تعالی۔
اﷲ عزوجل کی طرف شکر ہے اس پر فتن زمانے سے کہ جسے الٹے سیدھے دو حرج ارود کے لکھنے آگئے وہ مصنف ومحقق ومجہتدین بیٹھا اور دین متین میں اپنی ناقص عقل فاسد رائے سے دخل دینے لگا قرآن وحدیث وعقاید وارشادات ائمہ سب کا مخالف ہوکر پہنچاجہاں پہنچا۔
ویتوب اﷲ علی من تاب ومن یتول اور اﷲ توبہ فرماتاہے جو کوئی توبہ کرے۔اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۶۷
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحك الناس امین کمپنی دہلی ۲ /۵۵،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۳۶،۲۹۷،سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۴
مسند احمد بن حنبل حدیث بلال ابن حارث المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۶۹،المعجم الکبیر حدیث۱۱۲۹ مکتبہ فیصلیۃ بیروت ۱ /۳۶۷
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحك الناس امین کمپنی دہلی ۲ /۵۵،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۳۶،۲۹۷،سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۴
مسند احمد بن حنبل حدیث بلال ابن حارث المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۶۹،المعجم الکبیر حدیث۱۱۲۹ مکتبہ فیصلیۃ بیروت ۱ /۳۶۷
فان اﷲ ھوالغفور الحمید۔ جو کوئی پھر جائے تو بیشك اﷲ تعالی بخشے والا تعریف والاہے۔ (ت)
(۹۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اونٹ کا سجدہ کرنا کیا حضور کو معبود وخدا بنا کر تھاحاش ﷲ۔معجم کبیر طبرانی میں یعلی بن مرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن شیئ الایعلم انی رسول اﷲ الا کفرۃ الجن والانس ۔ ہر چیز مجھے اﷲ کا رسول جانتی ہے سوائے کافر جن اور آدمیوں کے
یوہیں حیرہ ویمن میں لوگوں کا زمینداروں کو سجدہ کرنا قطعا سجدہ تحیت ہی تھا نہ کہ سجدہ عبادتانھیں سجدوں کی بناپر صحابہ نے حضور کو سجدے کی اجازت مانگی تھی جس سے کسی عاقل کا بھی وہم معبود والہ بنانے کی طرف نہیں جاسکتا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایسی باطل سمجھ کا الزام کسی دریدہ دہنی ہے۔
(۹۳)غنیمت ہے کہ سجدہ غیر کی سخت شناعت خود بکر کے منہ ثابت ہوئیصحابہ وہ صحابہ جن کے کانوں میں ہر وقت لا الہ الا اﷲ کے نغمے گونج رہے تھے جنھیں بات بات میں توحید کا سبق دیا جاتا جن کے دلوں میں اﷲ کی وحدانیت پر ایمان پہاڑوں زیادہ گراں ومتمکن تھا۔قرآن عظیم بار بار جن کے ایمان کی گواہی دے چکا تھا دوسرے کو سجدہ تحیت ایسی سخت چیز ہے کہ اس کا فعل نہیں صرف اس کی خواہش سنتے ہی ان کے یہ تمام فضائل جلیلہ اور ان کے ایمان وتوحید کی قوت سب حضور کے ذہن اقدس سے اتر گئے اور یہی خیال گیا کہ یہ مجھے خدا بنانا چاہتے ہیں تو ایسا ناپاك فعل دوسروں کو کیونکر حلال ہوسکتاہے۔
(۹۴)بیشك سجدہ افعال عبادت سے ہے۔سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں سوائے نیت کوئی فرق نہیںسجدہ تو سجدہ زمین بوسی کی نسبت درمختار سے گزرا کہ یشبہ عبادۃ الوثن بت پرستی کے مشابہ ہے۔اور بکر کی مسلم کامل التحقیق ردالمحتار نے اسے مسلم رکھااور اخلاص عبادت یہ ہے کہ عبادت غیر کی مشابہت سے بھی بچےلہذا حضور نے ذکر عبادت فرمایا کہ افعال عبادت صرف اپنے رب کے لئے
(۹۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اونٹ کا سجدہ کرنا کیا حضور کو معبود وخدا بنا کر تھاحاش ﷲ۔معجم کبیر طبرانی میں یعلی بن مرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامن شیئ الایعلم انی رسول اﷲ الا کفرۃ الجن والانس ۔ ہر چیز مجھے اﷲ کا رسول جانتی ہے سوائے کافر جن اور آدمیوں کے
یوہیں حیرہ ویمن میں لوگوں کا زمینداروں کو سجدہ کرنا قطعا سجدہ تحیت ہی تھا نہ کہ سجدہ عبادتانھیں سجدوں کی بناپر صحابہ نے حضور کو سجدے کی اجازت مانگی تھی جس سے کسی عاقل کا بھی وہم معبود والہ بنانے کی طرف نہیں جاسکتا محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایسی باطل سمجھ کا الزام کسی دریدہ دہنی ہے۔
(۹۳)غنیمت ہے کہ سجدہ غیر کی سخت شناعت خود بکر کے منہ ثابت ہوئیصحابہ وہ صحابہ جن کے کانوں میں ہر وقت لا الہ الا اﷲ کے نغمے گونج رہے تھے جنھیں بات بات میں توحید کا سبق دیا جاتا جن کے دلوں میں اﷲ کی وحدانیت پر ایمان پہاڑوں زیادہ گراں ومتمکن تھا۔قرآن عظیم بار بار جن کے ایمان کی گواہی دے چکا تھا دوسرے کو سجدہ تحیت ایسی سخت چیز ہے کہ اس کا فعل نہیں صرف اس کی خواہش سنتے ہی ان کے یہ تمام فضائل جلیلہ اور ان کے ایمان وتوحید کی قوت سب حضور کے ذہن اقدس سے اتر گئے اور یہی خیال گیا کہ یہ مجھے خدا بنانا چاہتے ہیں تو ایسا ناپاك فعل دوسروں کو کیونکر حلال ہوسکتاہے۔
(۹۴)بیشك سجدہ افعال عبادت سے ہے۔سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں سوائے نیت کوئی فرق نہیںسجدہ تو سجدہ زمین بوسی کی نسبت درمختار سے گزرا کہ یشبہ عبادۃ الوثن بت پرستی کے مشابہ ہے۔اور بکر کی مسلم کامل التحقیق ردالمحتار نے اسے مسلم رکھااور اخلاص عبادت یہ ہے کہ عبادت غیر کی مشابہت سے بھی بچےلہذا حضور نے ذکر عبادت فرمایا کہ افعال عبادت صرف اپنے رب کے لئے
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۶۷۲ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۲ /۲۶۲
درمختار کتاب الحظروالاباحہ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۵
درمختار کتاب الحظروالاباحہ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۵
کرو اسے اس ناپاك محمل پرڈھالنا جس سے وہ تین الزام شدید شان رسالت پر عائد کئے سخت خلاف دین ہے۔
(۹۵)خود بکر نے اسی سجدہ تحیت کو کہا ہے ص ۱۱"سجدہ ایك ایسی چیز تھی جس میں سجدہ عبادت شریك تھا اور خدا کی عظمت کے انتہائی طریقہ میں خوا مخواہ آدم کا شریك ہوتا تھا اس سے ثابت ہوتاہے کہ خدا کی خود مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی ہونی چاہئے جو خود میری ہے اس واسطے آدم کی عزت ایسے طریقے سے کرائی جو خدا کے سوا کسی کو زیبانہ تھا تاکہ سند ہوجائے کہ آدم خلافت کے بعد مجازی حیثت سے آخری تعظیم کا مستحق ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے ایسی چیز سے ممانعت کے لئے" اعبدوا ربکم" (اپنے رب کی عبادت کرو۔ت)فرمانا کیا مستبعدتھا۔
(۹۶)حدیث قیس وحدیث معاذ وحدیث سلمان رضی اﷲ تعالی عنہم میں تو"اعبدوا"نہیں ہے یہاں تو"لا تفعلوا اورلا یینبغی"ہے یہاں کس ذریعہ اس بدگمانی پر ڈھالے گا اسی لئے ان کو چھپایا اور کہہ دیا تھا کہ اور کوئی ثبوت نہیں۔
(۹۷)بکر نے چاند سورج بلکہ بت کو سجدہ اور مہادیو کی ڈنڈوت حلال کرلی جیسے یہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عبادت کا ذکر فرمایا اور اس سے بکر نے یہ ٹھہرا لیا کہ صرف سجدہ عبادت کو منع کیا ہے یونہی آیہ کریمہ
" لا تسجدوا للشمس و لا للقمر" (لوگو! سورج اور چاند کوسجدہ نہ کرو۔ت)جس میں سجدہ شمس وقمر سے ممانعت اور سجدہ الہی کا حکم ہے اس کا ترجمہ یہ ہے " ان کنتم ایاہ تعبدون ﴿۳۷﴾" اگر تم اسے پوچتے ہو۔یہاں بھی اﷲ عزوجل نے عبادت کا ذکر فرمایا ہے تو یہاں بھی چاند سورج کو صرف سجدہ کی ممانعت ہوئیاب بت پرستی یا بھوت کسی بلا کو سجدہ تحیت کی ممانعت پر قرآن کریم میں کوئی آیت نہ رہیکیا بکر کوئی آیت دکھا سکتاہےہر گز نہیںاب بکر اپنی لفاظیاں یاد کرے اور"انسانی"کی قید سے ہاتھ اٹھا کر یوں کہے جو اس نے ص۷ پر کہا ہے قرآن میں کسی سجدہ تعظیم کی ممانعت نہیں ایسی کوئی آیت نہیں جہاں کسی سجدہ کی تعظیم کی ممانعت کی گئی ہواس سے ثابت ہوتا ہے کہ تعظیمی سجدہ کے خلاف قرآن خاموش رہنا چاہتاہے یعنی وہ مسلمانوں سے
(۹۵)خود بکر نے اسی سجدہ تحیت کو کہا ہے ص ۱۱"سجدہ ایك ایسی چیز تھی جس میں سجدہ عبادت شریك تھا اور خدا کی عظمت کے انتہائی طریقہ میں خوا مخواہ آدم کا شریك ہوتا تھا اس سے ثابت ہوتاہے کہ خدا کی خود مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی ہونی چاہئے جو خود میری ہے اس واسطے آدم کی عزت ایسے طریقے سے کرائی جو خدا کے سوا کسی کو زیبانہ تھا تاکہ سند ہوجائے کہ آدم خلافت کے بعد مجازی حیثت سے آخری تعظیم کا مستحق ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے ایسی چیز سے ممانعت کے لئے" اعبدوا ربکم" (اپنے رب کی عبادت کرو۔ت)فرمانا کیا مستبعدتھا۔
(۹۶)حدیث قیس وحدیث معاذ وحدیث سلمان رضی اﷲ تعالی عنہم میں تو"اعبدوا"نہیں ہے یہاں تو"لا تفعلوا اورلا یینبغی"ہے یہاں کس ذریعہ اس بدگمانی پر ڈھالے گا اسی لئے ان کو چھپایا اور کہہ دیا تھا کہ اور کوئی ثبوت نہیں۔
(۹۷)بکر نے چاند سورج بلکہ بت کو سجدہ اور مہادیو کی ڈنڈوت حلال کرلی جیسے یہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عبادت کا ذکر فرمایا اور اس سے بکر نے یہ ٹھہرا لیا کہ صرف سجدہ عبادت کو منع کیا ہے یونہی آیہ کریمہ
" لا تسجدوا للشمس و لا للقمر" (لوگو! سورج اور چاند کوسجدہ نہ کرو۔ت)جس میں سجدہ شمس وقمر سے ممانعت اور سجدہ الہی کا حکم ہے اس کا ترجمہ یہ ہے " ان کنتم ایاہ تعبدون ﴿۳۷﴾" اگر تم اسے پوچتے ہو۔یہاں بھی اﷲ عزوجل نے عبادت کا ذکر فرمایا ہے تو یہاں بھی چاند سورج کو صرف سجدہ کی ممانعت ہوئیاب بت پرستی یا بھوت کسی بلا کو سجدہ تحیت کی ممانعت پر قرآن کریم میں کوئی آیت نہ رہیکیا بکر کوئی آیت دکھا سکتاہےہر گز نہیںاب بکر اپنی لفاظیاں یاد کرے اور"انسانی"کی قید سے ہاتھ اٹھا کر یوں کہے جو اس نے ص۷ پر کہا ہے قرآن میں کسی سجدہ تعظیم کی ممانعت نہیں ایسی کوئی آیت نہیں جہاں کسی سجدہ کی تعظیم کی ممانعت کی گئی ہواس سے ثابت ہوتا ہے کہ تعظیمی سجدہ کے خلاف قرآن خاموش رہنا چاہتاہے یعنی وہ مسلمانوں سے
نہ یہ کہتاہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرو نہ یہ کہتاہے کہ تم پر سجدہ تعظیمی حرام کیا گیا ہے تم کسی غیر خدا کو سجدہ نہ کرنا"یہ"کسی"کا لفظ یاد رکھنے کے قابل ہےاس کے بعد ص ۸ کا نتیجہ دیکھئے"پس جب قرآن نے ایسا کوئی صاف حکم نہیں دیا تو سجدہ تعظیمی کا حرام ہونا یا ناجائز ثابت نہیں ہوسکتا"دیکھئے کیسی کھلم کھلا بت کی سجدے تعظیم اور بے نیت عبادت مہادیو کی ڈنڈوت حلال کی ہے۔کیوں نہ ہو جن کا کرشن نبی ہو ان کا دین آپ ہی ایسا ہو۔
(۹۸)چاند سورج کو جسدہ کی ممانعت جو قرآن کریم نے فرمائی اس پر بکر کا یہ عذر ص ۷ و ۸ کہ"اس آیت میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے۔اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے سورج چاند اور چیز ہے انسان خلیفۃ اﷲ دوسری چیز ہے"
اولا: عجب پادر ہوا ہے اس کے طور پر آیت میں تو چاند سورج کو سجدہ عبادت کی ممانعت ہے کہ فرمایا: " ان کنتم ایاہ تعبدون ﴿۳۷﴾" (اگر تم خاص اس کی عبادت کرتے ہو۔ت)سجدہ عبادت میں خلیفہ وغیر خلیفہ کا کیا فرق۔
ثانیا: سجدہ آدم علیہم الصلوۃ والسلام سے استناد کی خود بیخکنی کرلی اس آیت میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے(یعنی ملائکہ نے سجدہ کیا)اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے(کہ انسان دوسرے کو سجدہ کرے)فرشتہ اور چیز ہے۔انسان خلیفۃ اﷲ دوسری چیز ہے۔ غیر خلیفہ نے خلیفہ کو سجدہ کیا اس سے خود خلیفہ کا سجدہ کرنا کیسے جائز کرلیا علی نفسہا تجی براقش
(۹۹)قرآن کریم میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ سوجھنی قرآن عظیم سے غلفت پر مبنیکیا قرآن مجید نے نہ فرمایا:
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول " حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا۔
کیا قرآن عزیز نے نہ فرمایا:
" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جس نے رسول کی اطاعت کی بیشك اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
کیاقرآن حکیم نے نہ فرمایا:
(۹۸)چاند سورج کو جسدہ کی ممانعت جو قرآن کریم نے فرمائی اس پر بکر کا یہ عذر ص ۷ و ۸ کہ"اس آیت میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے۔اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے سورج چاند اور چیز ہے انسان خلیفۃ اﷲ دوسری چیز ہے"
اولا: عجب پادر ہوا ہے اس کے طور پر آیت میں تو چاند سورج کو سجدہ عبادت کی ممانعت ہے کہ فرمایا: " ان کنتم ایاہ تعبدون ﴿۳۷﴾" (اگر تم خاص اس کی عبادت کرتے ہو۔ت)سجدہ عبادت میں خلیفہ وغیر خلیفہ کا کیا فرق۔
ثانیا: سجدہ آدم علیہم الصلوۃ والسلام سے استناد کی خود بیخکنی کرلی اس آیت میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے(یعنی ملائکہ نے سجدہ کیا)اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے(کہ انسان دوسرے کو سجدہ کرے)فرشتہ اور چیز ہے۔انسان خلیفۃ اﷲ دوسری چیز ہے۔ غیر خلیفہ نے خلیفہ کو سجدہ کیا اس سے خود خلیفہ کا سجدہ کرنا کیسے جائز کرلیا علی نفسہا تجی براقش
(۹۹)قرآن کریم میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ سوجھنی قرآن عظیم سے غلفت پر مبنیکیا قرآن مجید نے نہ فرمایا:
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول " حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا۔
کیا قرآن عزیز نے نہ فرمایا:
" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جس نے رسول کی اطاعت کی بیشك اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
کیاقرآن حکیم نے نہ فرمایا:
" و من یعص اللہ و رسولہ فان لہ نار جہنم " جونافرمانی کرے اﷲ اور اس کے رسول کی بیشك اس کے لئے جہنم کی آگ ہے۔
کیاقرآن حمید نے نہ فرمایا:
وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا و اتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب ﴿۷﴾ " رسول جو تمھیں عطا فرمائیں وہ لو اورجس سے منع فرمائیں باز رہو اور اﷲ تعالی سے ڈرو بیشك اﷲ کا عذاب سخت ہے۔
کیا قرآن جلیل نے نہ فرمایا:
"فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾
" اے محبوبتمھارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك تمھیں حاکم نہ بنائیں اپنے آپس کے اختلاف میں پھر جو تم فیصلہ فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہ پائیںاور خوب اچھی طرح مان لیں۔
کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس نزاع کا فیصلہ نہ فرمادیا کہ لاتفعلوا سجدہ تحیت نہ کرو۔تو قطعا قرآن عظیم ہی سجدہ تحیت سے منع فرمارہا ہے اور جو اس فیصلہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نہ مانے اس کا حکم جو ارشاد ہوا اﷲ تعالی مسلمان کو اس سے پناہ دے۔
(۱۰۰)قرآن مجید میں تصریح نہ پانے پر بکر کا وہ حکم ص ۸ جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا وہ شدید بدمذہبی ہے جس کی خبر عالم ماکان ومایکون صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پہلے ہی دی ہے۔
الا انی اوتیت القران ومثلہ معہ الایوشك رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا سنتے ہو مجھے قرآن عطا ہوا اور اس کے ساتھ اس کا مثلخبردار نزدیك ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر پڑا کہے یہی قرآن لئے رہو۔
کیاقرآن حمید نے نہ فرمایا:
وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا و اتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب ﴿۷﴾ " رسول جو تمھیں عطا فرمائیں وہ لو اورجس سے منع فرمائیں باز رہو اور اﷲ تعالی سے ڈرو بیشك اﷲ کا عذاب سخت ہے۔
کیا قرآن جلیل نے نہ فرمایا:
"فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾
" اے محبوبتمھارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تك تمھیں حاکم نہ بنائیں اپنے آپس کے اختلاف میں پھر جو تم فیصلہ فرماؤ اپنے دلوں میں اس سے تنگی نہ پائیںاور خوب اچھی طرح مان لیں۔
کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس نزاع کا فیصلہ نہ فرمادیا کہ لاتفعلوا سجدہ تحیت نہ کرو۔تو قطعا قرآن عظیم ہی سجدہ تحیت سے منع فرمارہا ہے اور جو اس فیصلہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نہ مانے اس کا حکم جو ارشاد ہوا اﷲ تعالی مسلمان کو اس سے پناہ دے۔
(۱۰۰)قرآن مجید میں تصریح نہ پانے پر بکر کا وہ حکم ص ۸ جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا وہ شدید بدمذہبی ہے جس کی خبر عالم ماکان ومایکون صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پہلے ہی دی ہے۔
الا انی اوتیت القران ومثلہ معہ الایوشك رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا سنتے ہو مجھے قرآن عطا ہوا اور اس کے ساتھ اس کا مثلخبردار نزدیك ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تخت پر پڑا کہے یہی قرآن لئے رہو۔
القران فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجد تم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ الا لایحل لکم الحمار الاھلی والاکل ذی ناب من السباع الحدیث اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور اس میں جو حرام پاؤ اسے حرام مانو حالانکہ جو چیز رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حرام کی وہی اسی کی مثل ہے جو اﷲ نے حرام فرمائی سن لو پالتو گدھا تمھارے لئے حلال نہیں۔نہ کوئی کیلے والا درندہ الحدیث۔(ت)
سجدہ تحیت بھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حرام فرمایا تو وہ حرام ہے اگر چہ قرآم کریم میں اس کی حرمت کی تصریح عوام کو نہ سوجھے۔
(۱۰۱ و ۱۰۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دو۲ مثالیں ارشاد فرمائیں پالتو گدھا اور کیلے والا درندہ ان کی حرمت قرآن میں مصرح نہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں حرام فرمایا۔بکر کیوں ماننے لگا وہ یہی کہے گا ص ۸ کہ"جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو حرام یاناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا"تو بکر نے گدھا اور کتا حلال کرلیا۔
(۱۰۳ تا ۱۱۰)انھیں پر بس نہیں قرآن میں لحم خنزیر کا ذکر ہے گردے کلیجی کھال اور جھڑی تلی ہڈی کا نام کہاں ہے بلکہ سری پائے بھی عرفا لحم میں نہیں تو بکر نے سوئر کے اجزا بھی حلال مانے کہ"جب قرآن نے صاف حکم نہ دیا ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا"
(۱۱۱ تا ۱۱۳)غرض صاف حکم قرآن دلیل کا حصر کرکے بکر نے سنت اجماعقیاس تین اصول شرع کو رد کرکے چکڑالوی مذہب لیا۔
فصل سوم: اﷲ عزوجل پر بکر کے افتراء اور خود اسی کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
(۱۱۴)سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء اگر چہ اﷲ عزوجل پر افتراء ہے مگر بکر تو صریح خاص کا طالب ہے قرآن میں تصریح نہ ہو تو حدیث نہیں سنتا لہذا بالخصوص رب العزت پر بھی جرآتیں کیں ص ۹۵ میں اس کی عبارت دیکھ چکے خود مانا کہ سجدہ تحیت سے خدا کی عظمت کے انتہائی طریقے میں آدم کا شرك ہوتا تھا"پھر اسی کو اﷲ کی مرضی ٹھہرایا کہ"خدا کی مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی چاہئے جو خود میری ہے"یہ اﷲ پر
سجدہ تحیت بھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حرام فرمایا تو وہ حرام ہے اگر چہ قرآم کریم میں اس کی حرمت کی تصریح عوام کو نہ سوجھے۔
(۱۰۱ و ۱۰۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دو۲ مثالیں ارشاد فرمائیں پالتو گدھا اور کیلے والا درندہ ان کی حرمت قرآن میں مصرح نہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں حرام فرمایا۔بکر کیوں ماننے لگا وہ یہی کہے گا ص ۸ کہ"جب قرآن نے کوئی صاف حکم نہ دیا تو حرام یاناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا"تو بکر نے گدھا اور کتا حلال کرلیا۔
(۱۰۳ تا ۱۱۰)انھیں پر بس نہیں قرآن میں لحم خنزیر کا ذکر ہے گردے کلیجی کھال اور جھڑی تلی ہڈی کا نام کہاں ہے بلکہ سری پائے بھی عرفا لحم میں نہیں تو بکر نے سوئر کے اجزا بھی حلال مانے کہ"جب قرآن نے صاف حکم نہ دیا ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوسکتا"
(۱۱۱ تا ۱۱۳)غرض صاف حکم قرآن دلیل کا حصر کرکے بکر نے سنت اجماعقیاس تین اصول شرع کو رد کرکے چکڑالوی مذہب لیا۔
فصل سوم: اﷲ عزوجل پر بکر کے افتراء اور خود اسی کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
(۱۱۴)سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء اگر چہ اﷲ عزوجل پر افتراء ہے مگر بکر تو صریح خاص کا طالب ہے قرآن میں تصریح نہ ہو تو حدیث نہیں سنتا لہذا بالخصوص رب العزت پر بھی جرآتیں کیں ص ۹۵ میں اس کی عبارت دیکھ چکے خود مانا کہ سجدہ تحیت سے خدا کی عظمت کے انتہائی طریقے میں آدم کا شرك ہوتا تھا"پھر اسی کو اﷲ کی مرضی ٹھہرایا کہ"خدا کی مرضی تھی کہ میری خلافت کی تعظیم وہی چاہئے جو خود میری ہے"یہ اﷲ پر
حوالہ / References
مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۲۹
افتراء ہے اور کھلا شرك اس کے ذمہ باندھنا ایسے ہی افتراؤں کو کفر فرمایا:
"انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" ایسے افتراء وہی کرتے ہیں جو مسلمان نہیں
(۱۱۵)ص ۶ پر کہا"خدا نے اپنے عبادت کے سجدے کے لئے کعبہ کو سمت قراردیا ہے اس میں ایك بڑا فلسفہ پرشیدہ ہے وہ یہ کہ خدا سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم امتیاز قام کرنا چاہتا تھا تاکہ مسلمان جان جائیں کہ سمت کعبہ کا سجدہ عبادت ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقرر سمت کے سجدے جائز ہیں۔سمت کعبہ مقررہونے سے پہلے خدا نے فرمایا تھا:
"فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے۔
یعنی جس سمت سجدہ کروخدا ہی کوہی ہوگا مگر بعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی اس کی وجہ یہی تھی کہ خدا سجدہ عبادت وسجدہ تعظیم میں فرق کرنا چاہتاتھا جو اس سمت نے کردیا"یہ اﷲ عزوجل پر دوسرا افتراء ہے۔بکر جلد بتائے کہ سمت کعبہ مقرر فرمانے کی یہ وجہ اﷲ عزوجل یا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہا بتائی ہے " " ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ (کیا تم اﷲ تعالی کے متعلق وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ت)اﷲ ورسول کی طرف بے ثبوت بات نسبت کرنی بھی افتراء ہے" " ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ (اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔ت)نہ کہ غلط بات جس کی غلطی ابھی ظاہر ہوتی ہے۔
(۱۱۶)کریمہ "فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" (تم جدھر منہ کرو اسی طرف اﷲ تعالی کا جلوہ ہے۔ت)حسب حدیث جامع الترمذی شریف قبلہ تحری میں ہے اس کا یہ مطلب ٹھہرانا کہ اس آیت کے نزول تك سمت قبلہ مقرر نہ تھی اﷲ عزوجل نے اختیار دیا تھا جدھر چاہو نماز پڑھو۔یہ اﷲ تعالی پر تیسرا افتراءہے۔تقرر قبلہ روز اول سے ہے۔
" ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا" سب سے پہلا گھر جولوگوں کے لئے(زمین پر)تعمیر کیا گیا وہ ہے جو مکہ مکرمہ میں بابرکت شان سے موجود ہے۔(ت)
(۱۱۷)بفرض باطل امتیاز سجدہ عبادت وسجدہ تحیت ہی کے لئے وضع قبلہ ہوتی تویوں کہ وہ سجدہ جو
"انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون" ایسے افتراء وہی کرتے ہیں جو مسلمان نہیں
(۱۱۵)ص ۶ پر کہا"خدا نے اپنے عبادت کے سجدے کے لئے کعبہ کو سمت قراردیا ہے اس میں ایك بڑا فلسفہ پرشیدہ ہے وہ یہ کہ خدا سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم امتیاز قام کرنا چاہتا تھا تاکہ مسلمان جان جائیں کہ سمت کعبہ کا سجدہ عبادت ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقرر سمت کے سجدے جائز ہیں۔سمت کعبہ مقررہونے سے پہلے خدا نے فرمایا تھا:
"فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے۔
یعنی جس سمت سجدہ کروخدا ہی کوہی ہوگا مگر بعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی اس کی وجہ یہی تھی کہ خدا سجدہ عبادت وسجدہ تعظیم میں فرق کرنا چاہتاتھا جو اس سمت نے کردیا"یہ اﷲ عزوجل پر دوسرا افتراء ہے۔بکر جلد بتائے کہ سمت کعبہ مقرر فرمانے کی یہ وجہ اﷲ عزوجل یا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہا بتائی ہے " " ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون﴿۸۰﴾ (کیا تم اﷲ تعالی کے متعلق وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔ت)اﷲ ورسول کی طرف بے ثبوت بات نسبت کرنی بھی افتراء ہے" " ہاتوا برہنکم ان کنتم صدقین﴿۱۱۱﴾ (اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔ت)نہ کہ غلط بات جس کی غلطی ابھی ظاہر ہوتی ہے۔
(۱۱۶)کریمہ "فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" (تم جدھر منہ کرو اسی طرف اﷲ تعالی کا جلوہ ہے۔ت)حسب حدیث جامع الترمذی شریف قبلہ تحری میں ہے اس کا یہ مطلب ٹھہرانا کہ اس آیت کے نزول تك سمت قبلہ مقرر نہ تھی اﷲ عزوجل نے اختیار دیا تھا جدھر چاہو نماز پڑھو۔یہ اﷲ تعالی پر تیسرا افتراءہے۔تقرر قبلہ روز اول سے ہے۔
" ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا" سب سے پہلا گھر جولوگوں کے لئے(زمین پر)تعمیر کیا گیا وہ ہے جو مکہ مکرمہ میں بابرکت شان سے موجود ہے۔(ت)
(۱۱۷)بفرض باطل امتیاز سجدہ عبادت وسجدہ تحیت ہی کے لئے وضع قبلہ ہوتی تویوں کہ وہ سجدہ جو
دوسرے کو کفر ہے اس سجدہ سے ممتاز ہوجائے جو صرف حرام ہے اﷲ عزوجل کا جواز سجدہ تحیت کے لئے یہ امتیاز رکھنا اﷲ عزوجل پر چوتھا افتراہے۔
(۱۱۸)سجدہ تحیت وسجدہ عبادت کا امتیاز اﷲ عزوجل اور خود ساجد کے نزدیك نیت سے ہے ساجد اور اس کا رب جانتاہے کہ یہ سجدہ کس نیت سے ہے ساجد کو ممتاز قطعی کے امتیاز کی حاجت اور اگر یہ امتیاز ناظر کے لیے رکھا ہے تو جب کہ سجدہ تحیت کے لئے کوئی سمت مقررنہیں سمت کعبہ بھی ہوگا پھردونوں سجدوں کا خلط ہوگیا اور امتیاز نہ رہا ناظر اس وقت نہیں کہہ سکتا کہ یہ سجدہ عبادت ہے یا سجدہ تحیت بالجملہ یہ امتیاز ساجد کے لئے رکھا تو لغو وفضول اور ناظر کے لئے تو ناقص ومدخولاﷲ عزوجل ان دونوں سے پاك ومنزہ ہے۔اوراگر امتیاز محض ذہنی ہے کہ جس میں تقید سمت ملحوظ ہو سجدہ عبادت ہے۔ورنہ سجدہ تحیت۔تو کام پھر نیت کی طرف عود کرگیا ناظر کو اس سے کیا فائدہ اور ساجد کو اس کی کیا حاجتامتیاز نیت ان میں بالذات تھا یہ بالعرض کس لئے بہر حال اﷲ عزوجل کی طرف اس کی نسبت اﷲ پر سخت جرأت۔
(۱۱۹)نوافل میں بیرون شہر سواری پر اور نوافل وفرائض میں ہنگام تحری اور اس مریض کو بوجہ مرض اور اس ہارب کو کہ بخوف دشمن استقبال پر قادر نہ ہو سمت کعبہ مقرر نہیں اور یہ سب سجدہ عبادت ہیں تو امتیاز باطل۔
(۱۲۰)بکر ہی کی مستند عبارات عالمگیری وفتاوی قاضیخان گرزا کہ اگر کفار بادشاہ کے لئے سجدہ عبادت پر اکراہ کریں صبر افضل ہے ظاہر ہے کہ کفار تعیین سمت کعبہ نہ چاہیں گے بلکہ جدھر بادشاہ ہو تویہ بے تقرر سمت کیونکہ سجدہ عبادت ہوگیا ولکن الجھلۃ یفترون(لیکن نادان لوگ جھوٹ گھڑتے ہیں۔ت)
(۱۲۱)طرفہ یہ کہ امتیاز خدا نے ایسا خفیہ مقرر کیا کہ اس کے رسول کو بھی خبر نہ ہوئی بالا بالا بکر کو چھپی پاتی بھیج دی صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدے کی اجازت حضور سے مانگی وہ کب تعیین سمت سے تھی اگر اجازت ملتی تو جدھر حضور جلوہ افروز ہوتے اسی طرف سجدہ کیا جاتا اور زعم بکر میں خدا سجدہ عبادت کا وہ امتیاز مقرر کرچکا تھا کہ یہ پابندی سمت ہو تو اس درخواست سے کسی طرح سجدہ عبادت مفہوم نہ ہوسکتا تھا لیکن بکر کہتا ہے ص ۹"حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کیا اس وقت آپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا۔اب دو حال سے خالی نہیںیا تو بکر کے نزدیك خدا نے ایسا بیہودہ بے معنی امتیاز مقرر کیا جس سے رسول تك کو تمیز
(۱۱۸)سجدہ تحیت وسجدہ عبادت کا امتیاز اﷲ عزوجل اور خود ساجد کے نزدیك نیت سے ہے ساجد اور اس کا رب جانتاہے کہ یہ سجدہ کس نیت سے ہے ساجد کو ممتاز قطعی کے امتیاز کی حاجت اور اگر یہ امتیاز ناظر کے لیے رکھا ہے تو جب کہ سجدہ تحیت کے لئے کوئی سمت مقررنہیں سمت کعبہ بھی ہوگا پھردونوں سجدوں کا خلط ہوگیا اور امتیاز نہ رہا ناظر اس وقت نہیں کہہ سکتا کہ یہ سجدہ عبادت ہے یا سجدہ تحیت بالجملہ یہ امتیاز ساجد کے لئے رکھا تو لغو وفضول اور ناظر کے لئے تو ناقص ومدخولاﷲ عزوجل ان دونوں سے پاك ومنزہ ہے۔اوراگر امتیاز محض ذہنی ہے کہ جس میں تقید سمت ملحوظ ہو سجدہ عبادت ہے۔ورنہ سجدہ تحیت۔تو کام پھر نیت کی طرف عود کرگیا ناظر کو اس سے کیا فائدہ اور ساجد کو اس کی کیا حاجتامتیاز نیت ان میں بالذات تھا یہ بالعرض کس لئے بہر حال اﷲ عزوجل کی طرف اس کی نسبت اﷲ پر سخت جرأت۔
(۱۱۹)نوافل میں بیرون شہر سواری پر اور نوافل وفرائض میں ہنگام تحری اور اس مریض کو بوجہ مرض اور اس ہارب کو کہ بخوف دشمن استقبال پر قادر نہ ہو سمت کعبہ مقرر نہیں اور یہ سب سجدہ عبادت ہیں تو امتیاز باطل۔
(۱۲۰)بکر ہی کی مستند عبارات عالمگیری وفتاوی قاضیخان گرزا کہ اگر کفار بادشاہ کے لئے سجدہ عبادت پر اکراہ کریں صبر افضل ہے ظاہر ہے کہ کفار تعیین سمت کعبہ نہ چاہیں گے بلکہ جدھر بادشاہ ہو تویہ بے تقرر سمت کیونکہ سجدہ عبادت ہوگیا ولکن الجھلۃ یفترون(لیکن نادان لوگ جھوٹ گھڑتے ہیں۔ت)
(۱۲۱)طرفہ یہ کہ امتیاز خدا نے ایسا خفیہ مقرر کیا کہ اس کے رسول کو بھی خبر نہ ہوئی بالا بالا بکر کو چھپی پاتی بھیج دی صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو سجدے کی اجازت حضور سے مانگی وہ کب تعیین سمت سے تھی اگر اجازت ملتی تو جدھر حضور جلوہ افروز ہوتے اسی طرف سجدہ کیا جاتا اور زعم بکر میں خدا سجدہ عبادت کا وہ امتیاز مقرر کرچکا تھا کہ یہ پابندی سمت ہو تو اس درخواست سے کسی طرح سجدہ عبادت مفہوم نہ ہوسکتا تھا لیکن بکر کہتا ہے ص ۹"حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کیا اس وقت آپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا۔اب دو حال سے خالی نہیںیا تو بکر کے نزدیك خدا نے ایسا بیہودہ بے معنی امتیاز مقرر کیا جس سے رسول تك کو تمیز
نہ ہوئی توامتیاز کیا خاك ہوایا زعم بکر میں معاذاﷲ رسول اﷲ کی عقل اتنی موٹی بکر کی مت سے بھی گئی گزری کہ خدا کے واضح امتیاز کے بعد بھی تمیز نہ ہوئی اور دونوں کفر صریح ہیں ہم نہ کہتے تھے کہ جاہل کو مصنف ہی بننا سخت آفت کاسامنا ہے نہ کہ محقق نہ کہ مجتہد نہ کہ شارع کہ تصنیف توتیار ہوجاتی ہے اور ایمان رخصتلاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہ سے بچاؤ اور نیکی کی قوت بجز اﷲ تعالی بلندمرتبہ بڑی شان والے کے کرم کے بغیر کسی میں نہیں۔ت)
(۱۲۲)جب یہ ٹھہری کہ ص ۶"سمت کعبہ کا سجدہ عبادت کا سجدہ ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقررسمت کے سجدے جائز ہیں"تو بلا شبہہ مندروں میں جو سجدے کئے جاتے ہیں غیر مقرر سمت کے ہیں تو بکر نے دوبارہ بتوں اور لنگ جلہری کو سجدے جائز قراردئے کیونکہ یہی کرشن مت ہے۔
(۱۲۳)جبکہ تقرر سمت سے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں امتیاز ہوا نزول" فثم وجہ اللہ "تك امتیاز نہ تھا تو قطعا اس وقت سجدہ تحیت حرام تھا کہ غیر خدا کے لئے وہ فعل جسے عبادت سے کچھ فرق نہ ہو حلال نہیں ہوسکتا اور جب سجدہ تحیت اس وقت حرام تھا تو غیر ملت آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام میں اگر اس کی حلت بھی تھی یقینا منسوخ ہوگئی اور اب اس ناسخ کا ناسخ کوئی ہے نہیں تو یقینا سجدہ تحیت حرام ہے اور تاقیامت حرام رہے گا اچھی تقریر سنائی کہ اپنی ساری چنائی آپ ہی ڈھائی۔
(۱۲۴)ص ۱۰"خدا نے فرمایا ہے: " فلیعبدوا رب ہذا البیت ﴿۳﴾" عبادت کریں اس گھر کے پالنے والے کی۔اس صورت میں رب ھذا البیت کالفظ ہے اور قاعدہ عرب کے بموجب رب کا لفظ ذی روح پر آتاہے اور کعبہ زی روح نہیں پتھر کا مکان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس بیت سے مراد قلب آدم ہے"یہ اﷲ سبحانہ پر پانچواں افتراء بھی ہے اور قرآن کی تفسیر بالرائے بھی اور بتصریح کتب عقائد الحاد بھی کہ معنی ظاہر باطل کرکے باطنیہ کی طرح باطنی گھڑےمتن عقائد امام اجل نسفی رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھر ھاوا العدول عنھا الی معان یدعیھا اھل الباطن الحاد ۔ نصوص اپنے ظاہر پر حمل کئے جاتے ہیںلہذا ظاہر معانی سے ہٹ کر اپنے معانی تراش لینا کہ جن کا اہل باطن دعوی کرتے ہیں سراسر بے دینی ہے۔(ت)
(۱۲۲)جب یہ ٹھہری کہ ص ۶"سمت کعبہ کا سجدہ عبادت کا سجدہ ہے جو غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقررسمت کے سجدے جائز ہیں"تو بلا شبہہ مندروں میں جو سجدے کئے جاتے ہیں غیر مقرر سمت کے ہیں تو بکر نے دوبارہ بتوں اور لنگ جلہری کو سجدے جائز قراردئے کیونکہ یہی کرشن مت ہے۔
(۱۲۳)جبکہ تقرر سمت سے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت میں امتیاز ہوا نزول" فثم وجہ اللہ "تك امتیاز نہ تھا تو قطعا اس وقت سجدہ تحیت حرام تھا کہ غیر خدا کے لئے وہ فعل جسے عبادت سے کچھ فرق نہ ہو حلال نہیں ہوسکتا اور جب سجدہ تحیت اس وقت حرام تھا تو غیر ملت آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام میں اگر اس کی حلت بھی تھی یقینا منسوخ ہوگئی اور اب اس ناسخ کا ناسخ کوئی ہے نہیں تو یقینا سجدہ تحیت حرام ہے اور تاقیامت حرام رہے گا اچھی تقریر سنائی کہ اپنی ساری چنائی آپ ہی ڈھائی۔
(۱۲۴)ص ۱۰"خدا نے فرمایا ہے: " فلیعبدوا رب ہذا البیت ﴿۳﴾" عبادت کریں اس گھر کے پالنے والے کی۔اس صورت میں رب ھذا البیت کالفظ ہے اور قاعدہ عرب کے بموجب رب کا لفظ ذی روح پر آتاہے اور کعبہ زی روح نہیں پتھر کا مکان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس بیت سے مراد قلب آدم ہے"یہ اﷲ سبحانہ پر پانچواں افتراء بھی ہے اور قرآن کی تفسیر بالرائے بھی اور بتصریح کتب عقائد الحاد بھی کہ معنی ظاہر باطل کرکے باطنیہ کی طرح باطنی گھڑےمتن عقائد امام اجل نسفی رضی اﷲ تعالی عنہ میں ہے:
النصوص تحمل علی ظواھر ھاوا العدول عنھا الی معان یدعیھا اھل الباطن الحاد ۔ نصوص اپنے ظاہر پر حمل کئے جاتے ہیںلہذا ظاہر معانی سے ہٹ کر اپنے معانی تراش لینا کہ جن کا اہل باطن دعوی کرتے ہیں سراسر بے دینی ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰۶ /۳
مجموع المتون فی مختلف الفنون متن العقائد النسفیہ فی التوحید الشؤن الدینیۃ دولۃ قطر ص۶۱۸
مجموع المتون فی مختلف الفنون متن العقائد النسفیہ فی التوحید الشؤن الدینیۃ دولۃ قطر ص۶۱۸
(۱۲۵)عرب پر بھی افتراء رب المال ورب الدار نہ سنئےحدیث میں ہے:کلاورب الکعبۃ (ہر گز نہیںرب کعبہ کی قسم۔ ت)" رب المشرقین و رب المغربین ﴿۱۷﴾ " (دو مشرق اور دو مغرب کے رب کی قسم۔ت)
اور فرماتاہے: فلا اقسم برب المشرق و المغرب " " (متعدد ومشرق اور متعدد مغرب کے مالك کی میں قسم کھاتاہوں۔ت)
اورفرماتاہے:" و انہ ہو رب الشعری ﴿۴۹﴾ " (بیشك وہ شعری ستارے کا رب ہے۔ت)
اور فرماتاہے:" رب السموت و الارض " (وہ آسمان وزمین کا مالك ہے۔ت)
اور فرماتاہے:" سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون ﴿۱۸۰﴾ " (تمھارا رب عزت والا رب ہر عیب سے پاك ہے۔ت)
کیا افق کا وہ حصہ جس سے تحویل سرطان کا آفتاب نکلتاہے اور وہ جس سے تحویل جدی کا اور وہ حصے جن میں یہ ڈوبتے ہیں اور وہ جن سے ہر روز کا آفتاب نکلتا ہے اوروہ جن میں ڈوبتا ہے اور شعری ستارہ اور وہ آسمان وزمین وعزت یہ سب ذی روح ہیں۔اس سے بڑھ کر جھوٹا کون جسے قرآن جھٹلائے۔
(۱۲۶)یہ عیاری دیکھئے کہ ذی روح پر جمانے کے لئے ترجمہ کیا"اس گھر کے پانے والے"اور نہ جانا کہ گھر کے ساتھ پالنے کا لفظ چسپاں ہی نہیں جب تك گھر سے مجازا اس کے ساکن مراد نہ لیں۔یہ بھی کلام الہی میں معنی تحریف ہے۔
(۱۲۷)مسلمان دیکھیں ہم نے حدیث سے ثابت کردیا کہ سجدہ تحیت حرام ہے خود بکر کی مسلم ونہایت معتمد کتب فقہ سے ثابت کردیاکہ سجدہ تحیت سوئر کھانے سے بھی بدتر حرام ہے۔اس کے مستند
اور فرماتاہے: فلا اقسم برب المشرق و المغرب " " (متعدد ومشرق اور متعدد مغرب کے مالك کی میں قسم کھاتاہوں۔ت)
اورفرماتاہے:" و انہ ہو رب الشعری ﴿۴۹﴾ " (بیشك وہ شعری ستارے کا رب ہے۔ت)
اور فرماتاہے:" رب السموت و الارض " (وہ آسمان وزمین کا مالك ہے۔ت)
اور فرماتاہے:" سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون ﴿۱۸۰﴾ " (تمھارا رب عزت والا رب ہر عیب سے پاك ہے۔ت)
کیا افق کا وہ حصہ جس سے تحویل سرطان کا آفتاب نکلتاہے اور وہ جس سے تحویل جدی کا اور وہ حصے جن میں یہ ڈوبتے ہیں اور وہ جن سے ہر روز کا آفتاب نکلتا ہے اوروہ جن میں ڈوبتا ہے اور شعری ستارہ اور وہ آسمان وزمین وعزت یہ سب ذی روح ہیں۔اس سے بڑھ کر جھوٹا کون جسے قرآن جھٹلائے۔
(۱۲۶)یہ عیاری دیکھئے کہ ذی روح پر جمانے کے لئے ترجمہ کیا"اس گھر کے پانے والے"اور نہ جانا کہ گھر کے ساتھ پالنے کا لفظ چسپاں ہی نہیں جب تك گھر سے مجازا اس کے ساکن مراد نہ لیں۔یہ بھی کلام الہی میں معنی تحریف ہے۔
(۱۲۷)مسلمان دیکھیں ہم نے حدیث سے ثابت کردیا کہ سجدہ تحیت حرام ہے خود بکر کی مسلم ونہایت معتمد کتب فقہ سے ثابت کردیاکہ سجدہ تحیت سوئر کھانے سے بھی بدتر حرام ہے۔اس کے مستند
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۵۱۵۴ درالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۲۹۴
القرآن الکریم ۵۵ /۱۷
القرآن الکریم ۷۰ /۴۰
القرآن الکریم ۵۳ /۴۹
القرآن الکریم ۳۷ /۵
القرآن الکریم ۳۷ /۱۸۰
القرآن الکریم ۵۵ /۱۷
القرآن الکریم ۷۰ /۴۰
القرآن الکریم ۵۳ /۴۹
القرآن الکریم ۳۷ /۵
القرآن الکریم ۳۷ /۱۸۰
کی تصریح نے دکھادیا کہ اس کے حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے۔اسی کے منہ قرآن عظیم نے ثابت کردیا کہ حرام ہے۔اسی کی مستند لطائف کی تصریح دکھادی کہ جمہور اولیاء اس کی ممانعت پر ہیںاب بکر کی ناپاك بدزبانیاں دیکھئے ص ۱۰"تعظیمی کاانکار موجب لعنت وپھٹکار ہے"ص ۲۳"سوائے چند جاہل وضدی لوگوں کے کوئی شخص اس سجدہ تعظیمی کے خلاف نہ تھا"ص ۲۴" اس میں مخالفانہ کلام کرنا شقاوت وسنگدلی ہے"ص ۲۴"اس سے انکار کرنیوالے شیطان کی طرح راندہ درگاہ ہونگے"اب کہئیے اس کی یہ لعنت وشقاوت وشیطنت کس کس پر ہوئی قرآن پرحدیث پرفقہ پراجماع پرائمہ پراولیاء پرالحمداﷲ کہ یہ سب تو اس تو اس سے پاك ومنزہ ہیں لیکن وہ تمام خباثتیں اپنے قابل ہی پر پلٹیں۔
" " وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" ظالموں کی یہی سزا ہے۔اب ظالم جان لیں گے کہ اب کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے(ت)
چھٹا فائدہ تھا عبارت لطائف کا کہ بکر ائمہ کرام وفقہائے عظام وعلمائے اعلام بلکہ جمہور حضرات اولیائے فخام کوبھی شیطان ملعونشقیسنگدلرانددرگاہجاہلضدی کہتاہے مگر قرآن عظیم سے نہ سنا " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" (خبردارظالموں پر اﷲ کی لعنت ہو۔ت)
(۱۲۸)ہم نے دکھادیا کہ بکر نے ائمہ پر افتراء کئے کتابوں پر چٹے جوڑےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر تہمتیں باندھیںواحد قہار پر بہتان اٹھائے جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلمقرآن عظیم تو ایسوں ہی پر لعنت کرتا ہے ہاں کرشن مت جدا ہے۔
(۱۲۹)اپنی ان ناپاکیوں کے ہوتے ہوئے اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتا اور قرآن وحدیث وفقہ واجماع وائمہ اولیائپر ایك اور ملعون تہمت گھڑتاہے ص ۱۹"جو لوگ سجدہ تعظیمی کو منع کرتے ہیں وہ حضرت محبوب الہی اور ان کے پیران عظام کو جاہل وفاسق بنانا چاہتے ہیں"
لا الہ الا اﷲ" کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾" اﷲ تعالی کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔وہ تو نہیں کہتے مگر نرا جھوٹ۔(ت)
" " وذلک جزؤا الظلمین ﴿۲۹﴾
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" ظالموں کی یہی سزا ہے۔اب ظالم جان لیں گے کہ اب کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے(ت)
چھٹا فائدہ تھا عبارت لطائف کا کہ بکر ائمہ کرام وفقہائے عظام وعلمائے اعلام بلکہ جمہور حضرات اولیائے فخام کوبھی شیطان ملعونشقیسنگدلرانددرگاہجاہلضدی کہتاہے مگر قرآن عظیم سے نہ سنا " الا لعنۃ اللہ علی الظلمین ﴿۱۸﴾" (خبردارظالموں پر اﷲ کی لعنت ہو۔ت)
(۱۲۸)ہم نے دکھادیا کہ بکر نے ائمہ پر افتراء کئے کتابوں پر چٹے جوڑےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر تہمتیں باندھیںواحد قہار پر بہتان اٹھائے جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلمقرآن عظیم تو ایسوں ہی پر لعنت کرتا ہے ہاں کرشن مت جدا ہے۔
(۱۲۹)اپنی ان ناپاکیوں کے ہوتے ہوئے اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتا اور قرآن وحدیث وفقہ واجماع وائمہ اولیائپر ایك اور ملعون تہمت گھڑتاہے ص ۱۹"جو لوگ سجدہ تعظیمی کو منع کرتے ہیں وہ حضرت محبوب الہی اور ان کے پیران عظام کو جاہل وفاسق بنانا چاہتے ہیں"
لا الہ الا اﷲ" کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾" اﷲ تعالی کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔وہ تو نہیں کہتے مگر نرا جھوٹ۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۹ و ۵۹ /۱۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۱۸ /۵
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۱۱ /۱۸
القرآن الکریم ۱۸ /۵
ہر عاقل مسلمان جانتاہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصہ انبیاء ہے نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صاد ر ہواہو کل ماخوز من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم (ہر آدمی کی اس کے کہنے سے گرفت ہوگیاور اس پر وہ قول لوٹا دیا جائے گا سوائے اس قبرو الےکے کہ ان پر اﷲ تعالی کی رحمت اور سلام ہو(یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اقدس)۔ت) اتباع جمہور کا ہوگا علیکم بالسواد الاعظم (لوگو! بڑی جماعت کو اختیار کرو۔ت) اور قول شاز ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہوگا نہ کہ معاذاﷲ صاحب قول پر تصحیح قدوری ودرمختار اور بکر کی مسلم نہایت معتمد محقق منقح کتاب ردالمحتار میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۔ قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا۔
اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا کم از کم فاسق ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاﷲ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوی دے وہ ضرور جاہل وفاسق ہے۔تو حضرت سیدنا محبوب الہی اور ان کے پیران عظام رضی اﷲ تعالی عنہم محبوبان خدا ہیں اور جواز سجدہ تحیت کہ جمہور اولیاء واجماع فتوی وفقہ وحدیث وقرآن کے خلاف ہے مرجوح ومجہور اور ایسے قول کی سند سے یہ جو اس پر فتوی دے رہا ہے جاہل وفاسق ضرورجاہل وفاسق کی کیا گنتی جبکہ وہ جمہ ائمہ وجمہور اولیاء کو شقیملعونشیطانراندہ درگاہ کہہ کر خوداہ ایسا ہوچکا " سیعلمون غدا من الکذاب الاشر ﴿۲۶﴾" (عنقریب وہ کل جان جائیں گے کہ کون بڑا جھوٹا اور لاف زن ہے۔ت)
تنبیہ:فقیر کا رسالہ عــــــہ مقالہ العرفاء باعزاز شرع وعلماء۱۳۲۷ھ ملاحظہ ہواکابر اولیاء کے عظام رضی اﷲ تعالی عنہم کے ارشادات کثیرہ سے ثابت کیا ہے کہ شریعت مطہرہ سب پر حجت ہے۔اور
عــــــہ:رسالہ ہذا فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور کی جلد ۲۱ ص ۵۲۱ پر مرقوم ہے۔
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للاجماع ۔ قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا۔
اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا کم از کم فاسق ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاﷲ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوی دے وہ ضرور جاہل وفاسق ہے۔تو حضرت سیدنا محبوب الہی اور ان کے پیران عظام رضی اﷲ تعالی عنہم محبوبان خدا ہیں اور جواز سجدہ تحیت کہ جمہور اولیاء واجماع فتوی وفقہ وحدیث وقرآن کے خلاف ہے مرجوح ومجہور اور ایسے قول کی سند سے یہ جو اس پر فتوی دے رہا ہے جاہل وفاسق ضرورجاہل وفاسق کی کیا گنتی جبکہ وہ جمہ ائمہ وجمہور اولیاء کو شقیملعونشیطانراندہ درگاہ کہہ کر خوداہ ایسا ہوچکا " سیعلمون غدا من الکذاب الاشر ﴿۲۶﴾" (عنقریب وہ کل جان جائیں گے کہ کون بڑا جھوٹا اور لاف زن ہے۔ت)
تنبیہ:فقیر کا رسالہ عــــــہ مقالہ العرفاء باعزاز شرع وعلماء۱۳۲۷ھ ملاحظہ ہواکابر اولیاء کے عظام رضی اﷲ تعالی عنہم کے ارشادات کثیرہ سے ثابت کیا ہے کہ شریعت مطہرہ سب پر حجت ہے۔اور
عــــــہ:رسالہ ہذا فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور کی جلد ۲۱ ص ۵۲۱ پر مرقوم ہے۔
حوالہ / References
الیواقیت والجواہر المبحث التاسع والاربعون داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۷۸
سنن ابن ماجہ ابوالفتن باب السواد الاعظم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۲
ردالمحتار کتاب الطلاق باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۲ و ۶۱۴
القرآن الکریم ۵۴ /۲۶
سنن ابن ماجہ ابوالفتن باب السواد الاعظم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۲
ردالمحتار کتاب الطلاق باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۲ و ۶۱۴
القرآن الکریم ۵۴ /۲۶
شریعت مطہرہ پر کوئی چیز حجت نہیںحضرات اولیاء جن کی ولایت ثابت ومحقق ہے ان سے جو قول یا فعل یا حال ایسا منقول ہو کہ بظاہر خلاف شرع مطہر ہو۔
اولا: اگر وہ سند صحیح واجب الاعتماد سے ثابت نہیں ناقل پر مردود ہے اور دامن اولیاء اس سے پاك بلکہ اولیاء تو اولیاء حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہنے احیاء شریف میں تصریح فرمائی کہ کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت جائز نہیں جب تك ثبوت کامل نہ ہو۔
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا فان ذلك ثبت متواترافلا یجوز ان یرمی مسلم بفسق وکفر من غیر تحقیق ۔ بغیر تحقیق کئے کسی مسلمان کی کبیرہ گناہ کی طرف نسبت کرنا جائز نہیںلیکن ہاں یہ جائز ہے کہ کہا جائے کہ ابن ملجم نے جناب علی(کرم اﷲ وجہہ)کو شہید کیا اس لئے کہ یہ تواتر سے ثابت ہے لہذا کسی مسلمان کو فسق اور کفر کی تحقیق کئے بغیر تہمت لگانا جائز نہیں۔(ت)
اوریہ تواتر نہیں کہ کوئی نسخہ کسی کی طرف منسوب کسی الماری میں ملا چھاپے نے اسے چھاپ کر شائع کردیا کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی مجہول ناشنا ختہ بازار میں کوئی بات منہ سے نکالے اور اسے ہزار آدمی سنیں اور نقل کریںناقل ہزار نہیں لاکھ سہی منتہائے سند تو ایك فردمجہول ہے تو تواتر درکنار صحت ہی نہیںآج کل حضرات اولیائے کرام کے نام سے بہت کتابیں نظم ونثر ایسی شائع ہورہی ہیں ع
پس بہرا دستے نباید داد دست
(لہذا ہر ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینا نہ چاہئے۔ت)
یہ چال بعض علماء کے ساتھ بھی چلی گئی ہے۔ایك کتاب عقائد امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام سے چھپی جس سے وہ ایسے ہی بری ہے جیسا اس کا مفتری حیاودیانت سےشاہ ولی اﷲ صاحب کی مشہور کتابوں میں وہابی کشش دفتر دیکھ کر کسی وہابی نے ان کے نام سے ایك کتاب گھڑی اور چھاپی گئی ہے۔
ثانیا: اگر بہ ثبوت معتمد ثابت ہو اور گنجائش تاویل رکھتا ہے تاویل واجب اور مخالفت
اولا: اگر وہ سند صحیح واجب الاعتماد سے ثابت نہیں ناقل پر مردود ہے اور دامن اولیاء اس سے پاك بلکہ اولیاء تو اولیاء حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہنے احیاء شریف میں تصریح فرمائی کہ کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت جائز نہیں جب تك ثبوت کامل نہ ہو۔
لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا فان ذلك ثبت متواترافلا یجوز ان یرمی مسلم بفسق وکفر من غیر تحقیق ۔ بغیر تحقیق کئے کسی مسلمان کی کبیرہ گناہ کی طرف نسبت کرنا جائز نہیںلیکن ہاں یہ جائز ہے کہ کہا جائے کہ ابن ملجم نے جناب علی(کرم اﷲ وجہہ)کو شہید کیا اس لئے کہ یہ تواتر سے ثابت ہے لہذا کسی مسلمان کو فسق اور کفر کی تحقیق کئے بغیر تہمت لگانا جائز نہیں۔(ت)
اوریہ تواتر نہیں کہ کوئی نسخہ کسی کی طرف منسوب کسی الماری میں ملا چھاپے نے اسے چھاپ کر شائع کردیا کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی مجہول ناشنا ختہ بازار میں کوئی بات منہ سے نکالے اور اسے ہزار آدمی سنیں اور نقل کریںناقل ہزار نہیں لاکھ سہی منتہائے سند تو ایك فردمجہول ہے تو تواتر درکنار صحت ہی نہیںآج کل حضرات اولیائے کرام کے نام سے بہت کتابیں نظم ونثر ایسی شائع ہورہی ہیں ع
پس بہرا دستے نباید داد دست
(لہذا ہر ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینا نہ چاہئے۔ت)
یہ چال بعض علماء کے ساتھ بھی چلی گئی ہے۔ایك کتاب عقائد امام احمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام سے چھپی جس سے وہ ایسے ہی بری ہے جیسا اس کا مفتری حیاودیانت سےشاہ ولی اﷲ صاحب کی مشہور کتابوں میں وہابی کشش دفتر دیکھ کر کسی وہابی نے ان کے نام سے ایك کتاب گھڑی اور چھاپی گئی ہے۔
ثانیا: اگر بہ ثبوت معتمد ثابت ہو اور گنجائش تاویل رکھتا ہے تاویل واجب اور مخالفت
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ اللعن مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرۃ ۳ /۱۲۵
مندفع۔اولیاء کی شان توارفع ہر مسلمان سنی کے کلام میں تاحد امکان تاویل لازم امام علامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قد س سرہ القدسی حدیقۃ ندیہ میں فرماتے ہیں:
قال الامام النووی رضی اﷲ تعالی عنہ فی ادب العلم والتعلم من مقدمۃ شرح المھذب یجب علی الطالب ان یحمل اخوانہ علی المحامل الحنسۃ فی کلام یفھم منہ نقص الی سبعین محملا ثم قال۔لایعجز عن ذلك الاکل قلیل التوفیق ۔ امام نووی رضی اﷲ تعالی عنہ نے شرح مہذب کے مقدمہ "آداب العلم والمتعلم"میں ارشاد فرمایا"طالب پر واجب ہے کہ اپنے بھائیوں کے کلام کو اچھے محمل پر حمل کرے کسی ایسے کلام میں کہ جس میں نقص سمجھا جائے لہذا اس کے لئے ستر تك محمل تلاش کرے۔پھر ارشاد فرمایا کہ اس سے عاجز نہیں ہوتا۔مگر ہر ایسا شخص کہ جس کو کم توفیق عنایت کی گئی۔ (ت)
ثالثا:اگر تاویل ناممکن مگر محتمل ہو کہ وہ کلام ان کے مناسب رفیعہ ولایت وامامت تك پہنچنے سے پہلے کا ہے تو اسی پر حمل کریں گے اور نہ اس سے استناد جائز نہ ان پر اعتراضامام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہمیزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں:
یحتمل ان من خطأ غیر من الائمۃ انما وقع ذلك منہ قبل بلوغہ مقام الکشف کما یقع فیہ کثیر ممن ینقل کلام الائمۃ من غیر ذوق فلا یفرق بین ماقالہ العالم ایام بدایتہ وتوسطہ ولابینہ ماقالہ یام نہایتہ ۔ جن لوگوں نے ائمہ کرام کو(ان کے بعض نظریات کی وجہ سے)انھیں خطا کا ر ٹھہرایا ہے احتمال ہے کہ یہ ان سے(درجہ عالیہ)مقام کشف تك ان کی رسائی سے پہلے صادر ہوئے ہوں جیسا کہ بہت سے بے ذوق حضرات جب ائمہ کرام کا کلام نقل کرتے ہیں تو وہ اس خطا میں پڑجاتے ہیں لہذا عالم نے ابتدائی اور درمیانی دور اور آخری ایام میں جو کچھ فرمایا ہے یہ لوگ ان دونوں میں فرق نہیں کرسکتے(ت)
رابعا: یہ بھی ناممکن ہو تو جن کی ولایت وامامت ثابت ومتحقق ہے ان کے ایسے فعل کو افعال خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے قبیل سے ٹھہرائیں گے اور ایسے کلام کو متشابہات سے کہ ان پر
قال الامام النووی رضی اﷲ تعالی عنہ فی ادب العلم والتعلم من مقدمۃ شرح المھذب یجب علی الطالب ان یحمل اخوانہ علی المحامل الحنسۃ فی کلام یفھم منہ نقص الی سبعین محملا ثم قال۔لایعجز عن ذلك الاکل قلیل التوفیق ۔ امام نووی رضی اﷲ تعالی عنہ نے شرح مہذب کے مقدمہ "آداب العلم والمتعلم"میں ارشاد فرمایا"طالب پر واجب ہے کہ اپنے بھائیوں کے کلام کو اچھے محمل پر حمل کرے کسی ایسے کلام میں کہ جس میں نقص سمجھا جائے لہذا اس کے لئے ستر تك محمل تلاش کرے۔پھر ارشاد فرمایا کہ اس سے عاجز نہیں ہوتا۔مگر ہر ایسا شخص کہ جس کو کم توفیق عنایت کی گئی۔ (ت)
ثالثا:اگر تاویل ناممکن مگر محتمل ہو کہ وہ کلام ان کے مناسب رفیعہ ولایت وامامت تك پہنچنے سے پہلے کا ہے تو اسی پر حمل کریں گے اور نہ اس سے استناد جائز نہ ان پر اعتراضامام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہمیزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں:
یحتمل ان من خطأ غیر من الائمۃ انما وقع ذلك منہ قبل بلوغہ مقام الکشف کما یقع فیہ کثیر ممن ینقل کلام الائمۃ من غیر ذوق فلا یفرق بین ماقالہ العالم ایام بدایتہ وتوسطہ ولابینہ ماقالہ یام نہایتہ ۔ جن لوگوں نے ائمہ کرام کو(ان کے بعض نظریات کی وجہ سے)انھیں خطا کا ر ٹھہرایا ہے احتمال ہے کہ یہ ان سے(درجہ عالیہ)مقام کشف تك ان کی رسائی سے پہلے صادر ہوئے ہوں جیسا کہ بہت سے بے ذوق حضرات جب ائمہ کرام کا کلام نقل کرتے ہیں تو وہ اس خطا میں پڑجاتے ہیں لہذا عالم نے ابتدائی اور درمیانی دور اور آخری ایام میں جو کچھ فرمایا ہے یہ لوگ ان دونوں میں فرق نہیں کرسکتے(ت)
رابعا: یہ بھی ناممکن ہو تو جن کی ولایت وامامت ثابت ومتحقق ہے ان کے ایسے فعل کو افعال خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے قبیل سے ٹھہرائیں گے اور ایسے کلام کو متشابہات سے کہ ان پر
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الفصل الثانی النوع الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۷۹
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان تقریر قولہ من قال الخ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۳
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان تقریر قولہ من قال الخ مصطفی البابی مصر ۱ /۳۳
طعن کریں نہ اس سے بحث اور گمراہ ہے وہ کہ متشابہات کااتباع کرے۔
قال اﷲ تعالی "فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشبہ منہ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:وہ لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ اﷲ تعالی کے متشابہ کلام کی پیروی کرتے ہیں۔(ت)
متشابہات جس طرح اﷲ ورسول کے کلام میں یونہی ان کے اکابر کے کلام میں ہوتے ہیں کما افادہ اما الطریقۃ لسان الحقیقۃ سیدی محی الملۃ والدین ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ(جیسا کہ طریقت کے امامحقیقت کی زبانمیرے آقادین ملت کو زندگی بخشنے والے شیخ ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ نے افادہ فرمایا۔ت)یہ ہے بحمداﷲ سلامت اور اﷲ عزوجل کے ہاتھ ہدایتواﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم والحمداﷲ رب العالمین(اور اﷲ تعالی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے اور سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے۔جوتمام جہانوں کا پروردگارہے۔ت)
فصل چہارم: آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی بحث اور دلائل قاہرہ سے بطلان استدلال مجوزین کا ثبوت
مجوزین کے ہاتھ میں لے دے کر جو کچھ سند ہے یہی ہے اور اسے یوں رنگتے ہیں کہ قرآن عظیم سے ثابت ہوا کہ یہ شریعت آدم علیہ الصلوۃ والسلام ویوسف کا حکم تھا اور شرائع سابقہ قطعا حجت ہیں جب تك اﷲ ورسول انکار نہ فرمائیں اور یہاں انکار نہیں تو قرآن عظیم سے قطعا جواز ہے اور یہ حکم تاقیامت باقی ہے کہ اول تو یہ خبر ہے اور خبر منسوخ نہیں ہوسکتی اور ہو تو قطعی کاناسخ قطعی چاہئے وہ یہاں مفقود اور حدیث احادنا مسموع ومردودیہ ہے وہ جسے بکر نے طویل تقریرات پریسان میں بیان کیا نصف ص ۱۱ سے اخیر ص ۱۲ تك اور ص ۹ میں ۵ سطریں ص ۲۴ میں ۹ سطریں نیز ص ۴ و ۵ میں ۱۲ سطریں اسی کی تکمیل ہیں غرض ڈیڑھ ورق سے زائد میں یہی ہے بلکہ اس انضباط سے ہے بھی نہیں جو ہم نے ان دو سطروں میں کردیا مگر یہ حقیقۃ نسج العنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اس میں ایك فقرہ بھی صحیح نہیں جیسا کہ بعونہ تعالی ابھی مشاہدہ ہوگا۔
قال اﷲ تعالی "فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشبہ منہ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:وہ لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ اﷲ تعالی کے متشابہ کلام کی پیروی کرتے ہیں۔(ت)
متشابہات جس طرح اﷲ ورسول کے کلام میں یونہی ان کے اکابر کے کلام میں ہوتے ہیں کما افادہ اما الطریقۃ لسان الحقیقۃ سیدی محی الملۃ والدین ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ(جیسا کہ طریقت کے امامحقیقت کی زبانمیرے آقادین ملت کو زندگی بخشنے والے شیخ ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ نے افادہ فرمایا۔ت)یہ ہے بحمداﷲ سلامت اور اﷲ عزوجل کے ہاتھ ہدایتواﷲ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم والحمداﷲ رب العالمین(اور اﷲ تعالی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے اور سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے۔جوتمام جہانوں کا پروردگارہے۔ت)
فصل چہارم: آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی بحث اور دلائل قاہرہ سے بطلان استدلال مجوزین کا ثبوت
مجوزین کے ہاتھ میں لے دے کر جو کچھ سند ہے یہی ہے اور اسے یوں رنگتے ہیں کہ قرآن عظیم سے ثابت ہوا کہ یہ شریعت آدم علیہ الصلوۃ والسلام ویوسف کا حکم تھا اور شرائع سابقہ قطعا حجت ہیں جب تك اﷲ ورسول انکار نہ فرمائیں اور یہاں انکار نہیں تو قرآن عظیم سے قطعا جواز ہے اور یہ حکم تاقیامت باقی ہے کہ اول تو یہ خبر ہے اور خبر منسوخ نہیں ہوسکتی اور ہو تو قطعی کاناسخ قطعی چاہئے وہ یہاں مفقود اور حدیث احادنا مسموع ومردودیہ ہے وہ جسے بکر نے طویل تقریرات پریسان میں بیان کیا نصف ص ۱۱ سے اخیر ص ۱۲ تك اور ص ۹ میں ۵ سطریں ص ۲۴ میں ۹ سطریں نیز ص ۴ و ۵ میں ۱۲ سطریں اسی کی تکمیل ہیں غرض ڈیڑھ ورق سے زائد میں یہی ہے بلکہ اس انضباط سے ہے بھی نہیں جو ہم نے ان دو سطروں میں کردیا مگر یہ حقیقۃ نسج العنکبوت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اس میں ایك فقرہ بھی صحیح نہیں جیسا کہ بعونہ تعالی ابھی مشاہدہ ہوگا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۷
(۱۳۰)اگر دین وعقل وادب ائمہ نصیب ہو اگر آدمی ائینہ میں اپنا منہ دیکھے اگر چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کو شناخت جانےاگر ہلدی کی گرہ پر پنساری نہ بننے تو اتنا ہی دیکھنا بس تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں ائمہ دین وجماہیر اولیائے کاملین رضی اﷲ تعالی عنہم سے مخفی نہ تھیں حجت شرائع سابقہ ونسخ وفرق قطعی و ظنی کے مسائل یقینا ان کے پیش نظر تھے آخر انھوں نے سجدہ تحیت کی تحریم وممانعت کچھ دیکھ بھال ہی کررکھی ہوگی یا ایسے پیش یا افتادہ اعتراضوں کی ان میں کسی کو سوجھ نہ ہوئی کیا وہ سب کے سب تم سے بھی علم وفہم عقل ودین میں گئے گزرے تھے۔
(۱۳۱)جانے دو ردالمحتار وفتاوی قاضی خاں پر تمھارا ایمان ہے کہ ص ۱۲"نہایت مشہور معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے"ہم نے انھیں کتابوں سے دکھادیا کہ سجدہ تحیت کم از کم حرام وگناہ کبیرہ ہے اور سوئر کھانے سے بھی بدترقرآن مجید میں سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی آیتیں انھیں نہ سوجھیں تو خاك غور واحقاق کیایہ بھی جانے دواسی غور واتحقاق والی رد المحتار سے اس تمام بے سروپا تقریر کا خاص رد لوردالمحتار کی جلد پنجم کتاب الحظروالاباحۃ میں قبیل فصل فی البیع ہے:
اختلفوا فی سجود الملئکۃ قبل کان ﷲ تعالی والتوجہ الی آدم للتشریف کاستقبال الکعبۃ وقیل بل لادم علی وجہ التحیۃ والاکرام ثم نسخ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لوامرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا تاترخانیۃ قال فی تبیین المحارم والصحیح الثانی ولم یکن عبادۃ لہ بل تحیۃ واکراما ولذا امتنع عنہ ابلیس وکان جائزا فیما مضی کما فی قصۃ یوسف قال ابومنصور الماتریدی وفیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ ۔ یعنی سجدہ ملائکہ میں علماء کو اختلاف ہو ا بعض نے کہاسجدہ اﷲ تعالی کے لئے تھا اور آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے اعزاز کے لئے منہ ان کی طرف تھا جیسے کعبہ کو منہ کرنے میں ہے اور بعض نے کہا بلکہ سجدہ ہی آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تحیت وتکریم کے طور پر تھا پھر اس حدیث سے منسوخ ہوگیا کہ اگر میں کسی کوسجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے یہ تاتارخانیہ میں ہےاور تبیین المحارم میں فرمایا صحیح قول دوم ہے اور یہ ان کی عبادت نہ تھا بلکہ تحیت وتکریمولہذا ابلیس اس سے باز رہا اور سجدہ تحیت اگلی شریعتوں میں جائز تھا جیسا کہ قصہ یوسف علیہ الصلوۃ ولسلام میں ہے۔امام اجل علم الہدی امام اہلسنت
(۱۳۱)جانے دو ردالمحتار وفتاوی قاضی خاں پر تمھارا ایمان ہے کہ ص ۱۲"نہایت مشہور معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے"ہم نے انھیں کتابوں سے دکھادیا کہ سجدہ تحیت کم از کم حرام وگناہ کبیرہ ہے اور سوئر کھانے سے بھی بدترقرآن مجید میں سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام کی آیتیں انھیں نہ سوجھیں تو خاك غور واحقاق کیایہ بھی جانے دواسی غور واتحقاق والی رد المحتار سے اس تمام بے سروپا تقریر کا خاص رد لوردالمحتار کی جلد پنجم کتاب الحظروالاباحۃ میں قبیل فصل فی البیع ہے:
اختلفوا فی سجود الملئکۃ قبل کان ﷲ تعالی والتوجہ الی آدم للتشریف کاستقبال الکعبۃ وقیل بل لادم علی وجہ التحیۃ والاکرام ثم نسخ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لوامرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا تاترخانیۃ قال فی تبیین المحارم والصحیح الثانی ولم یکن عبادۃ لہ بل تحیۃ واکراما ولذا امتنع عنہ ابلیس وکان جائزا فیما مضی کما فی قصۃ یوسف قال ابومنصور الماتریدی وفیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ ۔ یعنی سجدہ ملائکہ میں علماء کو اختلاف ہو ا بعض نے کہاسجدہ اﷲ تعالی کے لئے تھا اور آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے اعزاز کے لئے منہ ان کی طرف تھا جیسے کعبہ کو منہ کرنے میں ہے اور بعض نے کہا بلکہ سجدہ ہی آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو تحیت وتکریم کے طور پر تھا پھر اس حدیث سے منسوخ ہوگیا کہ اگر میں کسی کوسجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے یہ تاتارخانیہ میں ہےاور تبیین المحارم میں فرمایا صحیح قول دوم ہے اور یہ ان کی عبادت نہ تھا بلکہ تحیت وتکریمولہذا ابلیس اس سے باز رہا اور سجدہ تحیت اگلی شریعتوں میں جائز تھا جیسا کہ قصہ یوسف علیہ الصلوۃ ولسلام میں ہے۔امام اجل علم الہدی امام اہلسنت
حوالہ / References
ردالمحتار باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶
سیدنا ابومنصور ماتریدی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا اس پر دلیل ہے کہ حکم قرآن حدیث سے منسوخ ہوجاتاہے انتہی۔
ﷲ انصافاس پر غور واحقاق قرآن والی مشہور کتاب نے آپ کا کوئی فقرہ کسی فقرے کا کوئی تسمہ لگا رکھا وﷲ الحمد۔
(۱۳۲)اگر بکر ربقہ تقلید گردن سے نکال کر خود محقق بن کر یہ استدلال کرے تو استغفراللہکیا امکان ہےکہ ایك حرف چل سکے۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)اولا سرے سے اس کا آدم یا یوسف یا کسی نبی علیہم الصلوۃوالسلام کی شریعت ہونے ہی کا ثبوت دے اور ہر گز نہ دے سکے گا۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی آفرینش سے پہلے رب عزوجل نے یہ حکم ملائکہ کو دیا تھا۔
" فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین ﴿۲۹﴾ " جب میں اسے ٹھیك بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونك دوں اس وقت تم اس کے لئے سجدہ میں گرنا۔
تو اس وقت نہ کوئی نبی تشریف لایا تھا نہ کوئی شریعت اتریملائکہ وبشر کے احکام جداہیں جو حکم فرشتوں کو دیا گیا وہ شریعت میں من قبلنا(جو انبیاء ہم سے پہلے گزرےان کی شریعت۔ت)نہیںقصہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے اتنا ثابت کہ شریعت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ تھی کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام فعل ممنوع نہیں کرتےممانعت نہ ہونا دونوں طرح ہوتاہے یا تو ان کی شریعت میں اس کے جوازکا حکم ہویہ اباحت شرعیہ ہوگی کہ حکم شرعی ہے یا ان کی شریعت میں اس کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو فعل جب تك شرع منع نہ فرمائے مباح ہے یہ اباحت اصلیہ ہوگی کہ حکم شرعی نہیں بلکہ عدم حکم ہے۔ اور جب دونوں صورتیں محتمل تو ہر گز ثابت نہیں کہ شریعت یعقوبیہ میں اس کی نسبت کوئی حکم تھا تو شریعت میں من قبلنا ہونا کب ثابتبحمدہ تعالی شبہ کا اصل معنی ہی ساقط۔
(۱۳۳)ثانیا: قرآن عظیم سے سجدہ مبحوث عنہا(جو زیر بحث ہے۔ت)کا جواز قطعا
ﷲ انصافاس پر غور واحقاق قرآن والی مشہور کتاب نے آپ کا کوئی فقرہ کسی فقرے کا کوئی تسمہ لگا رکھا وﷲ الحمد۔
(۱۳۲)اگر بکر ربقہ تقلید گردن سے نکال کر خود محقق بن کر یہ استدلال کرے تو استغفراللہکیا امکان ہےکہ ایك حرف چل سکے۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ۔ت)اولا سرے سے اس کا آدم یا یوسف یا کسی نبی علیہم الصلوۃوالسلام کی شریعت ہونے ہی کا ثبوت دے اور ہر گز نہ دے سکے گا۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی آفرینش سے پہلے رب عزوجل نے یہ حکم ملائکہ کو دیا تھا۔
" فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین ﴿۲۹﴾ " جب میں اسے ٹھیك بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونك دوں اس وقت تم اس کے لئے سجدہ میں گرنا۔
تو اس وقت نہ کوئی نبی تشریف لایا تھا نہ کوئی شریعت اتریملائکہ وبشر کے احکام جداہیں جو حکم فرشتوں کو دیا گیا وہ شریعت میں من قبلنا(جو انبیاء ہم سے پہلے گزرےان کی شریعت۔ت)نہیںقصہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے اتنا ثابت کہ شریعت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام میں سجدہ تحیت کی ممانعت نہ تھی کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام فعل ممنوع نہیں کرتےممانعت نہ ہونا دونوں طرح ہوتاہے یا تو ان کی شریعت میں اس کے جوازکا حکم ہویہ اباحت شرعیہ ہوگی کہ حکم شرعی ہے یا ان کی شریعت میں اس کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو فعل جب تك شرع منع نہ فرمائے مباح ہے یہ اباحت اصلیہ ہوگی کہ حکم شرعی نہیں بلکہ عدم حکم ہے۔ اور جب دونوں صورتیں محتمل تو ہر گز ثابت نہیں کہ شریعت یعقوبیہ میں اس کی نسبت کوئی حکم تھا تو شریعت میں من قبلنا ہونا کب ثابتبحمدہ تعالی شبہ کا اصل معنی ہی ساقط۔
(۱۳۳)ثانیا: قرآن عظیم سے سجدہ مبحوث عنہا(جو زیر بحث ہے۔ت)کا جواز قطعا
حوالہ / References
القرآن ۱۵ /۲۹ و ۳۸ /۷۲
ثابت ہونابوجوہ باطل:
وجہ اول:علماء کو اختلاف ہے کہ یہ سجدہ زمین پر سررکھنا تھا یا صرف جھکناسرخم کرناابوالشیخ کتاب العظمہ میں امام محمد بن عبادبن جعفر مخرومی سے راوی:
قال کان سجود الملئکۃ لادم ایماء ۔ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی ملائکہ کا سجدہ اشارہ تھا۔
ابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ امام عبدالملك بن عبدالعزیز بن جریح سے تفسیر قولہ تعالی " وخروا لہ سجدا " (اﷲ تعالی کے ارشاد خروالہ سجدا یعنی حضرت یوسف کے والدین اور ان کے برادر حضرت یوسف کےلئے سجدے میں گر گئے۔ت)میں راوی:
قال بلغنا ان ابویہ واخوتہ سجدوا یوسف ایماء برؤسھم کھیئۃ الاعاجم وکانت تلك تحیتھم کما یصنع ذلك ناس الیوم ۔ ہمیں حدیث پہنچی کہ یوسف علیہ الصلوۃ واسلام کو ان کے ماں باپ بھائیوں کا سجدہ سرے اشارہ کرنا تھا جیسے اہل عجم کے یہاں یہ ان کی تحیت تھی جس طرح اب بھی کچھ لوگ کرتے ہیں کہ سلام میں سرجھکاتے ہیں۔
امام فخر الدین رازی وغیرہ نے محاورات وغیرہ نے عرب سے اس معنی سجدہ کا اثبات کیاامام بغوی نے معالم التزیل اور امام خازن نے لباب میں اسی کو اختیار فرمایا اور قول اول کو ضعیف کہا سجدہ ملائکہ میں فرماتے ہیں:
لم یکن فیہ وضع الوجہ علی الارض انما کان انحناء فلما جاء الاسلام ابطل ذلك بالسلام ۔ یعنی وہ زمین پر منہ رکھنا نہ تھا صرف جھکنا تھا جب اسلام آیا اسے بھی سلام مقرر کرکے باطل فرمادیا۔
سجدہ یوسف میں فرماتے ہیں:
لم یرد بالسجود وضع الجباہ علی الارض و یعنی سجدے سے زمین پر پیشانی رکھنامراد نہیں
وجہ اول:علماء کو اختلاف ہے کہ یہ سجدہ زمین پر سررکھنا تھا یا صرف جھکناسرخم کرناابوالشیخ کتاب العظمہ میں امام محمد بن عبادبن جعفر مخرومی سے راوی:
قال کان سجود الملئکۃ لادم ایماء ۔ آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی ملائکہ کا سجدہ اشارہ تھا۔
ابن جریر وابن المنذر وابوالشیخ امام عبدالملك بن عبدالعزیز بن جریح سے تفسیر قولہ تعالی " وخروا لہ سجدا " (اﷲ تعالی کے ارشاد خروالہ سجدا یعنی حضرت یوسف کے والدین اور ان کے برادر حضرت یوسف کےلئے سجدے میں گر گئے۔ت)میں راوی:
قال بلغنا ان ابویہ واخوتہ سجدوا یوسف ایماء برؤسھم کھیئۃ الاعاجم وکانت تلك تحیتھم کما یصنع ذلك ناس الیوم ۔ ہمیں حدیث پہنچی کہ یوسف علیہ الصلوۃ واسلام کو ان کے ماں باپ بھائیوں کا سجدہ سرے اشارہ کرنا تھا جیسے اہل عجم کے یہاں یہ ان کی تحیت تھی جس طرح اب بھی کچھ لوگ کرتے ہیں کہ سلام میں سرجھکاتے ہیں۔
امام فخر الدین رازی وغیرہ نے محاورات وغیرہ نے عرب سے اس معنی سجدہ کا اثبات کیاامام بغوی نے معالم التزیل اور امام خازن نے لباب میں اسی کو اختیار فرمایا اور قول اول کو ضعیف کہا سجدہ ملائکہ میں فرماتے ہیں:
لم یکن فیہ وضع الوجہ علی الارض انما کان انحناء فلما جاء الاسلام ابطل ذلك بالسلام ۔ یعنی وہ زمین پر منہ رکھنا نہ تھا صرف جھکنا تھا جب اسلام آیا اسے بھی سلام مقرر کرکے باطل فرمادیا۔
سجدہ یوسف میں فرماتے ہیں:
لم یرد بالسجود وضع الجباہ علی الارض و یعنی سجدے سے زمین پر پیشانی رکھنامراد نہیں
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ ابی الشیخ فی العظمۃ عن محمد بن عباد تحت آیۃ ۲/ ۳۴ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۱ /۴۸
الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن المنذر وابی الشیخ عن ابن جریج آیۃ ۱۲/ ۱۰۰ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۴ /۳۸
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۲ /۳۴ مصطفٰی البابی مصر ۱ /۴۸
الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن المنذر وابی الشیخ عن ابن جریج آیۃ ۱۲/ ۱۰۰ مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۴ /۳۸
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۲ /۳۴ مصطفٰی البابی مصر ۱ /۴۸
انما ھا الانحناء والتواضع وقیل وضعوا الجباہ علی الارض علی طریق التحیۃ والتعظیم وکان جائزا فی الامم السابقۃ فنسخ فی ھذا الشریعۃ ۔ وہ تو صرف جھکنا اور تواضع کرنا تھا اوربعض نے کہا بطور تحیت وتعظیم پیشانی ہی زمین پررکھی اور اگلی امتوں میں جائز تھا۔اس شریعت میں منسوخ ہوگیا۔
بیعنہ یونہ خازن میں ہے دونوں امام جلال الدین نے تفسیر جلالین میں اسی پر اقتصار فرمایا۔جلال سیوطی سجدہ آدم میں فرماتے ہیں:
اذ قلنا للملئکۃ اسجد وا لادم سجود تحیۃ بالانحناء ۔ یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے(بطور حکم)فرمادیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرویعنی سجدہ سے بطور تحیت صرف جھکنا مراد ہے۔(ت)
سورہ یوسف میں فرماتے ہیں:
خروالہ سجدا سجود انحناء لاوضع جبھۃ وکان تحیتھم فی ذلك الزمان ۔ وہ سب حضرت یوسف(علیہ الصلوۃ والسلام)کے لئے سجدہ میں گر گئے یعنی ان کے سامنے جھك گئے نہ کہ پیشانی زمین پر رکھی اور یہ کاروائی اس زمانے میں ان کی تحیت یعنی تعظیم تھی۔(ت)
جلال محلی سورہ کہف میں فرماتے ہیں:
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم سجود انحناء لاوضع جبھۃ اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا حضرت آدم کو سجدہ کرو یعنی ان کے سامنے جھك جاؤ نہ کہ زمین پر پیشانی رکھو۔(ت)
اور یہ دونوں حضرات اصح الاقوال لیتے ہیں۔ خطبہ جلالین میں ہے:
ھذا تکملۃ ؤتفسیر القران الکریم الذی الفہ الامام جلال الدین المحلی علی یہ قرآن کریم کی تفسیر کا تکملہ ہے جس کو جلال الدین محلی نے تالیف کیا اس کی طرز پر سب سے
بیعنہ یونہ خازن میں ہے دونوں امام جلال الدین نے تفسیر جلالین میں اسی پر اقتصار فرمایا۔جلال سیوطی سجدہ آدم میں فرماتے ہیں:
اذ قلنا للملئکۃ اسجد وا لادم سجود تحیۃ بالانحناء ۔ یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے(بطور حکم)فرمادیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرویعنی سجدہ سے بطور تحیت صرف جھکنا مراد ہے۔(ت)
سورہ یوسف میں فرماتے ہیں:
خروالہ سجدا سجود انحناء لاوضع جبھۃ وکان تحیتھم فی ذلك الزمان ۔ وہ سب حضرت یوسف(علیہ الصلوۃ والسلام)کے لئے سجدہ میں گر گئے یعنی ان کے سامنے جھك گئے نہ کہ پیشانی زمین پر رکھی اور یہ کاروائی اس زمانے میں ان کی تحیت یعنی تعظیم تھی۔(ت)
جلال محلی سورہ کہف میں فرماتے ہیں:
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم سجود انحناء لاوضع جبھۃ اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا حضرت آدم کو سجدہ کرو یعنی ان کے سامنے جھك جاؤ نہ کہ زمین پر پیشانی رکھو۔(ت)
اور یہ دونوں حضرات اصح الاقوال لیتے ہیں۔ خطبہ جلالین میں ہے:
ھذا تکملۃ ؤتفسیر القران الکریم الذی الفہ الامام جلال الدین المحلی علی یہ قرآن کریم کی تفسیر کا تکملہ ہے جس کو جلال الدین محلی نے تالیف کیا اس کی طرز پر سب سے
حوالہ / References
معالم التزیل علی ھامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ مصطفی البابی مصر ۳ /۳۱۷
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۲ /۳۴ اصح المطابع دہلی نصف اول ص ۸
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ اصح المطابع دہلی نصف اول ص ۱۹۸
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۱۸ /۵۰ اصح المطابع دہلی نصف ثانی ص۲۴۷
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۲ /۳۴ اصح المطابع دہلی نصف اول ص ۸
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ اصح المطابع دہلی نصف اول ص ۱۹۸
تفسیر جلالین تحت آیۃ ۱۸ /۵۰ اصح المطابع دہلی نصف ثانی ص۲۴۷
نمطہ من الاعتماد علی ارجح الاقول ۔ زیادہ راجح قول پر اعتماد کرتے ہوئے۔(ت)
تو ان چاروں اکابر کے نزدیك راجح قول دوم ہے کہ محض جھکنا تھا نہ کہ سجدہ معروفہبعض گروہ دیگر کے نزدیك قول اول راجح ہے وبہ اقول لقعوا وخروا(اور میں یہی کہتاہوں(ترجیح قول اول)اس لئے کہ قرآن مجید میں الفاظ"قعوا"اور"خروا"ہیں یعنی اس کے لئے سجدہ میں پڑ جاؤ اور اس کے لئے وہ سجدہ میں گرگئے۔بہر حال خود اختلاف نافی قطیعت ہے نہ کہ ترجیح بھی مختلف۔
(۱۳۴)بکر ص ۵ پر اس سے بچاؤ کے لئے زعم کہ سجدے کی صورت سوائے موجودہ شکل کے اور کوئی نہیں ہے۔اور بعض غیرمسلم اقوام میں جو سجدہ کی تعریف ہے وہ اسلامی سجدہ نہیں بلکہ رکوع کے مشابہ ہے"سخت جہالت ہے کیا امام اجل محمد بن تابعی تلمیذ ام المومنین صدیقہ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن عمر وابوہریرہ وجابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم وامام جلیل احد التابعین ابن جریح تلمیذ امام ہمام جعفر صادق واستاد الاستاذ امام شافعی رحمہم اﷲ تعالی اور امام محی السنۃ بغوی وامام فخر الدین رازی وامام خازن وامام جلال الدین المحلی وامام جلال الدین سیوطی وغیرہم اکابر معاذاﷲ غیر مسلم اقوام سے ہیں یا اصطلاحات کفار سے قرآن عظیم کی تفسیر کرتے ہیں۔
(۱۳۵)سجدہ تلاوت کہ نماز میں واجب ہو فورا بشکل رکوع بھی ادا ہوجاتاہے یونہی رکوع نماز میں اس سجدہ کی نیت کرنے سے جبکہ چار آیت کا فصل دے کرنہ ہواور ایك روایت میں بیرون نماز بھی اس سجدہ میں رکوع کافی ہے۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(تودی)برکوع وسجود)غیر رکوع الصلوۃ و سجودھا (فی الصلوۃ لھا)ای للتلاوۃ و تودی(برکوع صلوۃ علی الفور ۔ جو سجدہ تلاوت کو نماز میں تلاوت کی وجہ سے واجب ہو وہ نماز کے رکوعسجدہ کے علاوہ الگ رکوع اور سجدہ سے ادا کیا جاسکتاہے لیکن اگر نماز میں ایك دویا تین آیتیں پڑھنے سے فورا رکوع کیا تو سجدہ تلاوت اس سے بھی ادا ہوجائے گا بشرطیکہ رکوع میں اسے ادا کرنے کی نیت کرے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وروی فی غیر الظاھر ان الرکوع ینوب عنہا غیر ظاہر روایت میں مروی ہے کہ رکوع بیرون نماز
تو ان چاروں اکابر کے نزدیك راجح قول دوم ہے کہ محض جھکنا تھا نہ کہ سجدہ معروفہبعض گروہ دیگر کے نزدیك قول اول راجح ہے وبہ اقول لقعوا وخروا(اور میں یہی کہتاہوں(ترجیح قول اول)اس لئے کہ قرآن مجید میں الفاظ"قعوا"اور"خروا"ہیں یعنی اس کے لئے سجدہ میں پڑ جاؤ اور اس کے لئے وہ سجدہ میں گرگئے۔بہر حال خود اختلاف نافی قطیعت ہے نہ کہ ترجیح بھی مختلف۔
(۱۳۴)بکر ص ۵ پر اس سے بچاؤ کے لئے زعم کہ سجدے کی صورت سوائے موجودہ شکل کے اور کوئی نہیں ہے۔اور بعض غیرمسلم اقوام میں جو سجدہ کی تعریف ہے وہ اسلامی سجدہ نہیں بلکہ رکوع کے مشابہ ہے"سخت جہالت ہے کیا امام اجل محمد بن تابعی تلمیذ ام المومنین صدیقہ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن عمر وابوہریرہ وجابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہم وامام جلیل احد التابعین ابن جریح تلمیذ امام ہمام جعفر صادق واستاد الاستاذ امام شافعی رحمہم اﷲ تعالی اور امام محی السنۃ بغوی وامام فخر الدین رازی وامام خازن وامام جلال الدین المحلی وامام جلال الدین سیوطی وغیرہم اکابر معاذاﷲ غیر مسلم اقوام سے ہیں یا اصطلاحات کفار سے قرآن عظیم کی تفسیر کرتے ہیں۔
(۱۳۵)سجدہ تلاوت کہ نماز میں واجب ہو فورا بشکل رکوع بھی ادا ہوجاتاہے یونہی رکوع نماز میں اس سجدہ کی نیت کرنے سے جبکہ چار آیت کا فصل دے کرنہ ہواور ایك روایت میں بیرون نماز بھی اس سجدہ میں رکوع کافی ہے۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(تودی)برکوع وسجود)غیر رکوع الصلوۃ و سجودھا (فی الصلوۃ لھا)ای للتلاوۃ و تودی(برکوع صلوۃ علی الفور ۔ جو سجدہ تلاوت کو نماز میں تلاوت کی وجہ سے واجب ہو وہ نماز کے رکوعسجدہ کے علاوہ الگ رکوع اور سجدہ سے ادا کیا جاسکتاہے لیکن اگر نماز میں ایك دویا تین آیتیں پڑھنے سے فورا رکوع کیا تو سجدہ تلاوت اس سے بھی ادا ہوجائے گا بشرطیکہ رکوع میں اسے ادا کرنے کی نیت کرے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وروی فی غیر الظاھر ان الرکوع ینوب عنہا غیر ظاہر روایت میں مروی ہے کہ رکوع بیرون نماز
حوالہ / References
تفسیر جلالین خطبۃ الکتاب اصح المطابع دہلی ص۴
الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۵
الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۵
خارج الصلوۃ ایضا ۔ سجدہ تلاوت کے قائم مقام ہوجاتاہے۔(ت)
جہالت سے شرعی احکام کو غیر اسلامی کردیا۔
(۱۳۶)وجہ دوم: اگر یہ سجدہ مشہور تھا تو ائمہ کو اس میں اختلاف ہے کہ سجدہ آدم ویوسف کو تھا یا سجدہ اﷲ عزوجل کو اور آدم و یوسف قبلہابن عساکر وابوابراہیم مزنی سے راوی:
انہ سئل عن سجود الملئکۃ لآدم فقال ان اﷲ جعل آدم کالکعبۃ ۔ یعنی ان سے سجدہ ملائکہ کے بارے میں استفسار ہوافرمایا اﷲ عزوجل نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو کعبہ کی طرح کردیا تھا۔
معالم وخازن وغیرھما میں ہے:
وقیل معنی قولہ اسجدوا لادم ای الی آدم فکان آدم قبلۃ والسجود ﷲ تعالی کما جعلت الکعبۃ قبلۃ للصلوۃ والصلوۃ ﷲ تعالی ۔ یعنی بعض نے کہا معنی آیت یہ ہیں کہ آدم کی طرف سجدہ کرو تو آدم قبلہ تھے اور سجدہ اﷲ تعالی کو۔جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے اور نماز اﷲ تعالی کے لئے۔
نیز سورہ یوسف میں ہے:
وروی عن ابن عباس معناہ خروالہ عزوجل۔سجدا بین یدی یوسف والاول اصح ۔ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے معنی یہ ہیں کہ اﷲ تعالی کے لئے یوسف کے سامنے سجدہ میں گرےاور اول زیادہ صحیح ہے۔
امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس قول دوم کی تحسین کی۔
حیث قال الوجہ الثانی انھم جعلوا یوسف کالقبلۃ وسجدوا ﷲ شکرا لنعمۃ وجدانہ وھذا جیسا کہ امام رازی نے فرمایا یا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ انھوں نے حضرت یوسف کو قبلہ کی طرح ٹھہرایا تھا(یعنی ان کی طرف سجدہ کیا)لیکن
جہالت سے شرعی احکام کو غیر اسلامی کردیا۔
(۱۳۶)وجہ دوم: اگر یہ سجدہ مشہور تھا تو ائمہ کو اس میں اختلاف ہے کہ سجدہ آدم ویوسف کو تھا یا سجدہ اﷲ عزوجل کو اور آدم و یوسف قبلہابن عساکر وابوابراہیم مزنی سے راوی:
انہ سئل عن سجود الملئکۃ لآدم فقال ان اﷲ جعل آدم کالکعبۃ ۔ یعنی ان سے سجدہ ملائکہ کے بارے میں استفسار ہوافرمایا اﷲ عزوجل نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو کعبہ کی طرح کردیا تھا۔
معالم وخازن وغیرھما میں ہے:
وقیل معنی قولہ اسجدوا لادم ای الی آدم فکان آدم قبلۃ والسجود ﷲ تعالی کما جعلت الکعبۃ قبلۃ للصلوۃ والصلوۃ ﷲ تعالی ۔ یعنی بعض نے کہا معنی آیت یہ ہیں کہ آدم کی طرف سجدہ کرو تو آدم قبلہ تھے اور سجدہ اﷲ تعالی کو۔جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے اور نماز اﷲ تعالی کے لئے۔
نیز سورہ یوسف میں ہے:
وروی عن ابن عباس معناہ خروالہ عزوجل۔سجدا بین یدی یوسف والاول اصح ۔ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے معنی یہ ہیں کہ اﷲ تعالی کے لئے یوسف کے سامنے سجدہ میں گرےاور اول زیادہ صحیح ہے۔
امام رازی نے تفسیر کبیر میں اس قول دوم کی تحسین کی۔
حیث قال الوجہ الثانی انھم جعلوا یوسف کالقبلۃ وسجدوا ﷲ شکرا لنعمۃ وجدانہ وھذا جیسا کہ امام رازی نے فرمایا یا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ انھوں نے حضرت یوسف کو قبلہ کی طرح ٹھہرایا تھا(یعنی ان کی طرف سجدہ کیا)لیکن
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۸
الدرالمنثور بحوالہ ابن عساکر تحت آیۃ واذقلنا للملائکۃ اسجدوالآدم الخ قم ایران ۱ /۱۵۰
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۲/ ۳۴ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۸
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ مصطفی البابی مصر ۳ /۳۱۷
الدرالمنثور بحوالہ ابن عساکر تحت آیۃ واذقلنا للملائکۃ اسجدوالآدم الخ قم ایران ۱ /۱۵۰
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۲/ ۳۴ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۸
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ مصطفی البابی مصر ۳ /۳۱۷
التاویل حسن فانہ یقال صلیت للکعبۃ کما یقال صلیت الی الکعبۃ قال حسان ع
الیس اول من صلی لقلبتکم ۔ سجدہ اﷲ تعالی کےلئے کیا تھا حضرت یوسف کو پالینے کی نعمت کا شکراداکرتے ہوئے۔اور یہ توجیہ اچھی ہے کیونکہ صلیت للکعبۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ صلیت الی الکعبۃ کہا جاتاہے یعنی دونوں میں کوئی فرق نہیں یعنی میں نے کعبہ کی طرف نماز پڑھی)
اور حضرت حسان نے فرمایا ع کیا وہ پہلا شخص نہیں جس نے تمھارے قبلہ کے لئے یعنی اس کی طرف نماز پڑھی۔ (ت)
اورظاہر ہے کہ اس تقدیر پر محل نزاع سے خارج ہے نزاع اس میں ہے کہ غیر خدا کو سجدہ تعظیمی کیاجائے ص ۴ پر تحریر بکر کا سرنامہ:"پیروں اور مزاروں کو تعظیمی سجدہ"ص ۵"عبادت کے سجدے اور تعظیم کے سجدے میں بہت فرق ہیں عبادت کا سجدہ غیر خدا کو کرنے کی ممانعت فرمائی"ص ۶"عبادت کا سجدہ غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقر ر سمت کے جائز ہیں"ص ۷"تعظیمی سجدے کے خلاف قرآن خاموش ہے نہ یہ کہتاہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرو نہ یہ کہ غیر خدا کو سجدہ نہ کرنا"ص ۷ و ۸"وہ آیت کہ سجدہ نہ کرو سورج اور چاند کو اس میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے"ص ۸"صحابہ نے عرض کیایا رسول اللہ! آپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں"ص ۱۱ خدا کی مرضی تھی کہ کلافت کی تعظیم وہی ہو جو میریاس واسطے آدم کو سجدہ کرایا"ص ۱۵"مسجود خلائق کسی بندہ کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے"ص ۱۶"ہر حاضر ہونے والا آپ کو سجدہ تعظیمی کرتا تھا"ص۱۷ سیرالاولیاء سے:
درامم ماضیہ رعیت مربادشاہ راوامت مرپیغمبر راسجدہ می کردند ۔ پہلی امتوں میں رعیت بادشاہ کو امت پیغمبر کو سجدہ کرتی تھی۔
لطائف سے:
القوم للنبی والمرید للشیخ والرعیۃ للملك والولد للوالدین والعبد للمولی ۔ قومپغمبر کومریدپیرکورعیتبادشاہ کوبیٹا والدین کواور غلام آقا کو سجدہ کیاکرتے تھے(ت)
الیس اول من صلی لقلبتکم ۔ سجدہ اﷲ تعالی کےلئے کیا تھا حضرت یوسف کو پالینے کی نعمت کا شکراداکرتے ہوئے۔اور یہ توجیہ اچھی ہے کیونکہ صلیت للکعبۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ صلیت الی الکعبۃ کہا جاتاہے یعنی دونوں میں کوئی فرق نہیں یعنی میں نے کعبہ کی طرف نماز پڑھی)
اور حضرت حسان نے فرمایا ع کیا وہ پہلا شخص نہیں جس نے تمھارے قبلہ کے لئے یعنی اس کی طرف نماز پڑھی۔ (ت)
اورظاہر ہے کہ اس تقدیر پر محل نزاع سے خارج ہے نزاع اس میں ہے کہ غیر خدا کو سجدہ تعظیمی کیاجائے ص ۴ پر تحریر بکر کا سرنامہ:"پیروں اور مزاروں کو تعظیمی سجدہ"ص ۵"عبادت کے سجدے اور تعظیم کے سجدے میں بہت فرق ہیں عبادت کا سجدہ غیر خدا کو کرنے کی ممانعت فرمائی"ص ۶"عبادت کا سجدہ غیر خدا کو جائز نہیں اور غیر مقر ر سمت کے جائز ہیں"ص ۷"تعظیمی سجدے کے خلاف قرآن خاموش ہے نہ یہ کہتاہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرو نہ یہ کہ غیر خدا کو سجدہ نہ کرنا"ص ۷ و ۸"وہ آیت کہ سجدہ نہ کرو سورج اور چاند کو اس میں غیر انسان کے سجدہ کا ذکر ہے اور گفتگو سجدہ انسانی میں ہے"ص ۸"صحابہ نے عرض کیایا رسول اللہ! آپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں"ص ۱۱ خدا کی مرضی تھی کہ کلافت کی تعظیم وہی ہو جو میریاس واسطے آدم کو سجدہ کرایا"ص ۱۵"مسجود خلائق کسی بندہ کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے"ص ۱۶"ہر حاضر ہونے والا آپ کو سجدہ تعظیمی کرتا تھا"ص۱۷ سیرالاولیاء سے:
درامم ماضیہ رعیت مربادشاہ راوامت مرپیغمبر راسجدہ می کردند ۔ پہلی امتوں میں رعیت بادشاہ کو امت پیغمبر کو سجدہ کرتی تھی۔
لطائف سے:
القوم للنبی والمرید للشیخ والرعیۃ للملك والولد للوالدین والعبد للمولی ۔ قومپغمبر کومریدپیرکورعیتبادشاہ کوبیٹا والدین کواور غلام آقا کو سجدہ کیاکرتے تھے(ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ۱۲ /۱۰۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸ /۲۱۲
سیرالاولیاء باب ششم مؤسستہ انتشارات اسلامی لاہور ص۳۵۱
لطائف اشرفی فی بیان طوائف موتی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص ۹
سیرالاولیاء باب ششم مؤسستہ انتشارات اسلامی لاہور ص۳۵۱
لطائف اشرفی فی بیان طوائف موتی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص ۹
صفحہ ۲۱:
سجد الرجل للسلطان ولغیرہ یرید بہ التحیۃ لایکفر ۔ کسی شخص نے بادشاہ یا کسی اور کو سجدہ کیا کہ جس سے اس کی تعظیم مراد تھی تو وہ(اس کام سے کافرنہ ہوگا۔
صفحہ ۲۲"سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے سجدہ عبادت خدا کے لئے"ایضاسجدہ تحیت نبی کے لئےپیر کے لئےبادشاہ کے لئے والدین کے لئےآقا کے لئےایضا"بادشاہ کو سجدہ کیا یا اور کسی کو اور تعظیم کی نیت ہوئی تو کافر نہیں"ص ۲۳"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتاتھا"ایضا"بزرگوں کو تعظیمی سجدہ"ص ۲۴"مزاروں کو سجدہ"غرض اول تا آخر تحریر بکر شاہد اور خود ہر شخص آگاہ غیر خدا کو سجدہ کرنے میں کلام ہے نہ کہ غیر کی طرفکعبہ کی طرف ہر مسلمان سجدہ کرتا ہے اور کعبہ کو سجدہ کرے تو کافر۔
(۱۳۷)بکر نے بعلت عادت خودکشی کہ اوھوفی الخصام غیر مبین o(وہ کھل کر واضح طور پر جھگڑا لو نہیں۔ت)ص ۱۰ پر "سجدہ کی مجازی وحقیقی سمت"کی سرخی دے کر اپنی اگلی پچھلی ساری کاروائی خاك میں ملائی نافع ومضر میں بے تمیزی اس پر لائی کہ وہی قول مان لیا جس پر سجدہ آدم کو سجدہ نزاعی سے کچھ تعلق نہ رہا اور اسی کو اپنے مزعوم سجدہ کا مطلب قرار دیا تصریح کردی کہ"درحقیقت آدم کا سجدہ نہ تھا بلکہ وہ خدا کی جانب سجدہ تھا آدم محض ایك سمت تھے جیسا کعبہ ہمارے سجدوں کی سمت ہے تو کیا پتھروں کا بناہوا کعبہ تو سمت سجدہ ہوسکتا ہے اور آدم کا وجود جو خلیفہ اﷲ اور انوار الہی کا زندہ خزانہ ہے سجدہ کی سمت نہیں ہوسکتا بالکل عیاں ہے کہ کعبہ کی طرح آدم بھی سجدہ تعظیمی کی سمت مجازی ہے"چلے فراغت شہ سارا دفتر گاؤں خورد(سارا دفتر گائے کے کھالیا۔ت)جس شخص کویہ تمیزنہ ہو کہ اس کے سرمیں کیا ہے اور منہ سے کیا نکلتاہے یہ ادراك نہ ہوکہ وہ اپنا گھر بناتایا یکسر ڈھارہا ہے اس کا مدارك علیہ میں دخل دینا عجب تماشا ہے۔
(۱۳۸)وہ جو ص ۲۱ پر بحوالہ لطائف مرصاد سے نقل اور ص ۲۲ پر اس کا ترجمہ کیا کہ"مشائخ کے سامنے جو سجدہ کیاجاتاہے یہ سجدہ نہیں بلکہ تعظیم ہے اپنے معبود کے نور کی جو مشائخ میں جلوہ فگن ہوتا ہے"یہ بھی وہی سارے گھر کا ستیاناس لگالینا ہے۔یہ عبارت لطائف کا ساتواں فائدہ ہے مشائخ
سجد الرجل للسلطان ولغیرہ یرید بہ التحیۃ لایکفر ۔ کسی شخص نے بادشاہ یا کسی اور کو سجدہ کیا کہ جس سے اس کی تعظیم مراد تھی تو وہ(اس کام سے کافرنہ ہوگا۔
صفحہ ۲۲"سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے سجدہ عبادت خدا کے لئے"ایضاسجدہ تحیت نبی کے لئےپیر کے لئےبادشاہ کے لئے والدین کے لئےآقا کے لئےایضا"بادشاہ کو سجدہ کیا یا اور کسی کو اور تعظیم کی نیت ہوئی تو کافر نہیں"ص ۲۳"سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتاتھا"ایضا"بزرگوں کو تعظیمی سجدہ"ص ۲۴"مزاروں کو سجدہ"غرض اول تا آخر تحریر بکر شاہد اور خود ہر شخص آگاہ غیر خدا کو سجدہ کرنے میں کلام ہے نہ کہ غیر کی طرفکعبہ کی طرف ہر مسلمان سجدہ کرتا ہے اور کعبہ کو سجدہ کرے تو کافر۔
(۱۳۷)بکر نے بعلت عادت خودکشی کہ اوھوفی الخصام غیر مبین o(وہ کھل کر واضح طور پر جھگڑا لو نہیں۔ت)ص ۱۰ پر "سجدہ کی مجازی وحقیقی سمت"کی سرخی دے کر اپنی اگلی پچھلی ساری کاروائی خاك میں ملائی نافع ومضر میں بے تمیزی اس پر لائی کہ وہی قول مان لیا جس پر سجدہ آدم کو سجدہ نزاعی سے کچھ تعلق نہ رہا اور اسی کو اپنے مزعوم سجدہ کا مطلب قرار دیا تصریح کردی کہ"درحقیقت آدم کا سجدہ نہ تھا بلکہ وہ خدا کی جانب سجدہ تھا آدم محض ایك سمت تھے جیسا کعبہ ہمارے سجدوں کی سمت ہے تو کیا پتھروں کا بناہوا کعبہ تو سمت سجدہ ہوسکتا ہے اور آدم کا وجود جو خلیفہ اﷲ اور انوار الہی کا زندہ خزانہ ہے سجدہ کی سمت نہیں ہوسکتا بالکل عیاں ہے کہ کعبہ کی طرح آدم بھی سجدہ تعظیمی کی سمت مجازی ہے"چلے فراغت شہ سارا دفتر گاؤں خورد(سارا دفتر گائے کے کھالیا۔ت)جس شخص کویہ تمیزنہ ہو کہ اس کے سرمیں کیا ہے اور منہ سے کیا نکلتاہے یہ ادراك نہ ہوکہ وہ اپنا گھر بناتایا یکسر ڈھارہا ہے اس کا مدارك علیہ میں دخل دینا عجب تماشا ہے۔
(۱۳۸)وہ جو ص ۲۱ پر بحوالہ لطائف مرصاد سے نقل اور ص ۲۲ پر اس کا ترجمہ کیا کہ"مشائخ کے سامنے جو سجدہ کیاجاتاہے یہ سجدہ نہیں بلکہ تعظیم ہے اپنے معبود کے نور کی جو مشائخ میں جلوہ فگن ہوتا ہے"یہ بھی وہی سارے گھر کا ستیاناس لگالینا ہے۔یہ عبارت لطائف کا ساتواں فائدہ ہے مشائخ
حوالہ / References
لطائف اشرفی فی بیا ن طوائف صوفی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنعانی کراچی حصہ دوم ص۲۹
کو سجدہ کہ مشائخ کے سامنے سجدہ رہ گیا اب کسے روئیں گے۔وہ چھتیس۳۶ جگہ لام اور را اور کو جو نمبر ۱۳۴ میں گزرے۔
(۱۳۹)مگریہ بھی وقتی بول ہے کہ منہ سے نکل گیا۔ہر گز یہ بکر کے دل کی نہیں کہ مشائخ کو سجدہ تحیت نہ ہو صرف اس کے سامنے ہو۔نہ ہر گز یہ اس کے فاعلوں کی نیت ہوتی ہے بلکہ یقینا مشائخ ومزارات ہی کو سجدہ کرتے اور اسی کا قصد رکھتے اور اسی پر لڑتے جھگڑتے ہیں تو بکر پر" یقولون بافوہہم ما لیس فی قلوبہم " (وہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں۔ت) صادق ع
منہ سے کہتے ہیں جو دل میں نہیں
(۱۴۰)جب یہ ٹھہری کہ سجدہ مشائخ کو نہیں وہ صرف سمت ہیں اور سجدہ اﷲ تعالی عزوجل کوتواب سجدہ عبادت وتحیت کا تعدد وباطلکیا اﷲ کو کبھی سجدہ معبود سمجھ کر ہوگا وہ سجدہ عبادت ہے اور کبھی بغیر معبود سمجھے وہ سجدہ تحیت ہے حاشا اسے ہر سجدہ معبود ہی جان کر ہوگا تو صرف سجدہ عبادت رہ گیا سجدہ تحیت خود ہی باطل ہوا اور صفحہ ۵۶۷ وغیرہا کی ساری لفاظیاں باطل ولغو ہوگئیں۔
(۱۴۱)لغو ہی نہیں بلکہ مراد بکر پر پانی پھر گئیں۔جب ہر سجدہ سجدہ عبادت ہے اور اسے اقرار ہے کہ سجدہ عبادت کے لئے اﷲ تعالی نے کعبہ کو سمت ٹھہرایا ہے تو مشائخ یا مزارات کو اس کی سمت بنانا اﷲ عزوجل سے صریح مخالفت وحرام ہے۔
(۱۴۲)اب شرائع سابقہ اور نسخ اور قطعی وظنی کا سب جھگڑا خود ہی چکا دیا اﷲ عزوجل قرآن عظیم میں فرماچکا:
" حیث ما کنتم فولوا وجوہکم شطرہ" تم جہاں کہیں ہو کعبہ ہی کو منہ کرو۔
تو جس طرح اس آیت سے بیت المقدس کا قبلہ منسوخ ہوگیا اور جو اس طرف نماز کا قصد کرے مستحق جہنم ہے یونہی آدم و یوسف علیہما الصلوۃ والسلام کے یہاں جو معظمین دین کو سمت بنانا تھا وہ بھی بعینہ اسی آیت سے منسوخ ہوگیا اور مشائخ ومزارات کو سمت بنانے والا حکم الہی کا مخالف ومستحق نار ہواجیسے کوئی بہن سے نکاح کرے اس سند سے کہ شریعت آدم علیہ الصلوۃ والسلام میں جائز تھا۔واقعی علی نفسہا تجی براقش۔
(۱۳۹)مگریہ بھی وقتی بول ہے کہ منہ سے نکل گیا۔ہر گز یہ بکر کے دل کی نہیں کہ مشائخ کو سجدہ تحیت نہ ہو صرف اس کے سامنے ہو۔نہ ہر گز یہ اس کے فاعلوں کی نیت ہوتی ہے بلکہ یقینا مشائخ ومزارات ہی کو سجدہ کرتے اور اسی کا قصد رکھتے اور اسی پر لڑتے جھگڑتے ہیں تو بکر پر" یقولون بافوہہم ما لیس فی قلوبہم " (وہ اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہتے ہیں جوان کے دلوں میں نہیں۔ت) صادق ع
منہ سے کہتے ہیں جو دل میں نہیں
(۱۴۰)جب یہ ٹھہری کہ سجدہ مشائخ کو نہیں وہ صرف سمت ہیں اور سجدہ اﷲ تعالی عزوجل کوتواب سجدہ عبادت وتحیت کا تعدد وباطلکیا اﷲ کو کبھی سجدہ معبود سمجھ کر ہوگا وہ سجدہ عبادت ہے اور کبھی بغیر معبود سمجھے وہ سجدہ تحیت ہے حاشا اسے ہر سجدہ معبود ہی جان کر ہوگا تو صرف سجدہ عبادت رہ گیا سجدہ تحیت خود ہی باطل ہوا اور صفحہ ۵۶۷ وغیرہا کی ساری لفاظیاں باطل ولغو ہوگئیں۔
(۱۴۱)لغو ہی نہیں بلکہ مراد بکر پر پانی پھر گئیں۔جب ہر سجدہ سجدہ عبادت ہے اور اسے اقرار ہے کہ سجدہ عبادت کے لئے اﷲ تعالی نے کعبہ کو سمت ٹھہرایا ہے تو مشائخ یا مزارات کو اس کی سمت بنانا اﷲ عزوجل سے صریح مخالفت وحرام ہے۔
(۱۴۲)اب شرائع سابقہ اور نسخ اور قطعی وظنی کا سب جھگڑا خود ہی چکا دیا اﷲ عزوجل قرآن عظیم میں فرماچکا:
" حیث ما کنتم فولوا وجوہکم شطرہ" تم جہاں کہیں ہو کعبہ ہی کو منہ کرو۔
تو جس طرح اس آیت سے بیت المقدس کا قبلہ منسوخ ہوگیا اور جو اس طرف نماز کا قصد کرے مستحق جہنم ہے یونہی آدم و یوسف علیہما الصلوۃ والسلام کے یہاں جو معظمین دین کو سمت بنانا تھا وہ بھی بعینہ اسی آیت سے منسوخ ہوگیا اور مشائخ ومزارات کو سمت بنانے والا حکم الہی کا مخالف ومستحق نار ہواجیسے کوئی بہن سے نکاح کرے اس سند سے کہ شریعت آدم علیہ الصلوۃ والسلام میں جائز تھا۔واقعی علی نفسہا تجی براقش۔
(۱۴۳)اب وہ بیہودہ قیاس کہ"کیا پتھروں کا بناہوا کعبہ الخ"خود ہی مرردود ہوگیا نص قطعی کے مقابل قیاس کار ابلیس ہے کہ:
" انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین ﴿۱۲﴾ " میں اس(آدم)سے بہترہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے(آدم کو)کیچڑ سے پیدا کیا۔(ت)
(۱۴۴)اور وہ قیاس میں کتنا اوندھاپھتروں کا بناہوا بے جان کعبہ تو اعلی سجدے سجدہ عبادت کی سمت حقیقی ہو اور خلیفہ اﷲ زندہ خزانہ انوار الہی ادنی سجدے سجدہ تحیت کی بھی سمت حقیقی نہ بن سکے صرف مجازی ہویہ قیاس صحیح ہوتا تو عکس ہوتا۔
(۱۴۵)جب سجدہ مشائخ کی طرف ہے تو سمت حقیقۃ متحقق موجود مشاہد کو مجازی ماننا کن آنکھوں کا کام ہے۔
(۱۴۶)جو آنکھیں مشاہدات کو مجازی مانیں ان سے اس کی کیا شکایت کہ کعبہ ان پتھروں سے بنے ہوئے مکان کا نام نہیں ورنہ پہاڑوں اور کنویں میں نماز باطل ہو ہاں کرشن مت میں کعبہ کی حقیقت اتنی ہی ہوگی کہ پتھر کا گھر جیسے مندر کی موتیں
(۱۴۷)اس بیہودہ قرارداد و بیمعنی قیاس کلام حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالی عنہ کا رد کردیا ہ۔عبارت سیر الاولیاء کہ بکر نے ص ۱۹ پر جس کا حوالہ دیا قصہ سیاح کے بعداس کی ابتداء یوں ہے:
بعد فرمود معہذا درپیش من روئے برزمین می آورند من کارہ ام۔ اس کے بعد فرمایا اس کے باوجود لوگ میرے سامنے اپنے چہرے زمین پر رکھ دیتے ہیں۔لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔(ت)
جب یہ سجدہ اﷲ ہی کو ہے خدا کے سجدے کو برا سمجھنا کیا معنیاپنے سمت بنے کو براجاننا کس لئے کیا"پتھروں کا کعبہ سمت سجدہ ہوسکتا ہے۔اور خلیفۃ اﷲ اور انوار الہی کا زندہ خزانہ نہیں ہوسکتااگر وہ اپنے آپ کو کزانہ انور الہی نجانتے تھے تو منع کیوں نہیں فرماتے تھےیہ کیا حجت ہوئی کہ ص ۱۹"اپنے شیخ کے ہاں ایسا دیکھا ہے"شیخ تو خزانہ انوار الہی تھے یہاں منع کرنے کو معاذاﷲ وہاں کی تجہیل و
" انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین ﴿۱۲﴾ " میں اس(آدم)سے بہترہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے(آدم کو)کیچڑ سے پیدا کیا۔(ت)
(۱۴۴)اور وہ قیاس میں کتنا اوندھاپھتروں کا بناہوا بے جان کعبہ تو اعلی سجدے سجدہ عبادت کی سمت حقیقی ہو اور خلیفہ اﷲ زندہ خزانہ انوار الہی ادنی سجدے سجدہ تحیت کی بھی سمت حقیقی نہ بن سکے صرف مجازی ہویہ قیاس صحیح ہوتا تو عکس ہوتا۔
(۱۴۵)جب سجدہ مشائخ کی طرف ہے تو سمت حقیقۃ متحقق موجود مشاہد کو مجازی ماننا کن آنکھوں کا کام ہے۔
(۱۴۶)جو آنکھیں مشاہدات کو مجازی مانیں ان سے اس کی کیا شکایت کہ کعبہ ان پتھروں سے بنے ہوئے مکان کا نام نہیں ورنہ پہاڑوں اور کنویں میں نماز باطل ہو ہاں کرشن مت میں کعبہ کی حقیقت اتنی ہی ہوگی کہ پتھر کا گھر جیسے مندر کی موتیں
(۱۴۷)اس بیہودہ قرارداد و بیمعنی قیاس کلام حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالی عنہ کا رد کردیا ہ۔عبارت سیر الاولیاء کہ بکر نے ص ۱۹ پر جس کا حوالہ دیا قصہ سیاح کے بعداس کی ابتداء یوں ہے:
بعد فرمود معہذا درپیش من روئے برزمین می آورند من کارہ ام۔ اس کے بعد فرمایا اس کے باوجود لوگ میرے سامنے اپنے چہرے زمین پر رکھ دیتے ہیں۔لیکن میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔(ت)
جب یہ سجدہ اﷲ ہی کو ہے خدا کے سجدے کو برا سمجھنا کیا معنیاپنے سمت بنے کو براجاننا کس لئے کیا"پتھروں کا کعبہ سمت سجدہ ہوسکتا ہے۔اور خلیفۃ اﷲ اور انوار الہی کا زندہ خزانہ نہیں ہوسکتااگر وہ اپنے آپ کو کزانہ انور الہی نجانتے تھے تو منع کیوں نہیں فرماتے تھےیہ کیا حجت ہوئی کہ ص ۱۹"اپنے شیخ کے ہاں ایسا دیکھا ہے"شیخ تو خزانہ انوار الہی تھے یہاں منع کرنے کو معاذاﷲ وہاں کی تجہیل و
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۲ و ۳۸ /۷۶
تفسیق سے کیا علاقہ۔
(۱۴۸)صدر کلام سے حضرت محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہ کا سجدہ تحیت سے کارہ ہونا اڑادیا۔یہ خیانت کی فہرست میں اضافہ ہے۔
(۱۴۹)یہی رد عبارت لطائف کا کرلیا خود ص ۲۱ حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے عالم کے سوال اور حضرت کے ارشاد کا ترجمہ کیا"ایك مولوی صاحب نے مخدوم سے سوال کیا یہ سجدہ نامشروع ہے مخدوم نے فرمایا میں نے بار ہا منع کیا اور اس حرکت سے روکا ہے یہ باز نہیں آتے۔اﷲ کو سجدے سے روکنا اور بار بار منع کرنا اور بکر صاحب کا ترجمہ میں اسے حرکت کہنا کیا معنی!
(۱۵۰)عالم نے کہا یہ سجدہ نا مشروع ہے حضرت مخدوم نے اس پرانکار نہ فرمایا بلکہ اور تائید فرمائی کہ میں نے تو بارہا منع کیا ہے معلوم ہوا کہ حضرت مخدوم بھی اسی پر سجدہ کو نامشروع جانتے تھے ورنہ حق سے سکوت درکنار باطل کی تائید نہ فرماتے۔یہ عبارت لطائف کا اٹھواں فائدہ ہواوجہ دوم میں یہ ۱۴ نمبر اس وجہ پر زائد تھا مکر اصل مبحث کے کمال مؤید کہ بکر کے ہاتھوں "یخربون بیوتہم بایدیہم"آشکار ہوا اپنے ہاتھوں اپنا گھرویران کرتے ہیں۔رہا وبایدی المؤمنین اور مسلمانوں کے ہاتھوں یہ اوپر کے گزشتہ وآئندہ کے کثیر نمبروں سے آشکار "فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾ " (پھر نصیحت اور پند پذیر ہو ا ے نگاہیں رکھنے والو!۔ت)
(۱۵۱)وجہ سوم:ایت سورہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام میں ایك وجہ نفیس اورہے جس سے سمت بنانا بھی برقرار نہیں رہتاابن عبا بن ابی رباح استاذ سیدنا اما م اعظم ابوحنیفہ حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا معنی آیت یہ ہے کہ یوسف کے پانے پر اﷲ تعالی کے لئے سجدہ شکر کیاامام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں میرے نزدیك آیت کے یہی معنی متعین ہیں یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کا یوسف علیہ الصلوہ والسلام کو سجدہ کرنا از بس بعید ہے اور یوسف علیہ الصلوہ والسلام کا اسے روا رکھنا ان کے دین وعقل سے مستبعد کہ باپ اور بوڑھے اور نبی اﷲ اور علم دین وردرجات نبوت میں ان سے زیادہ اور وہ الٹا انھیں سجدہ کریںتفسیر کبیر کی عبارت یہ ہیں:
وھو قول ابن عباس فی روایۃ پہلی بات اور وہ عبدالہ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما
(۱۴۸)صدر کلام سے حضرت محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہ کا سجدہ تحیت سے کارہ ہونا اڑادیا۔یہ خیانت کی فہرست میں اضافہ ہے۔
(۱۴۹)یہی رد عبارت لطائف کا کرلیا خود ص ۲۱ حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر رضی اﷲ تعالی عنہ سے عالم کے سوال اور حضرت کے ارشاد کا ترجمہ کیا"ایك مولوی صاحب نے مخدوم سے سوال کیا یہ سجدہ نامشروع ہے مخدوم نے فرمایا میں نے بار ہا منع کیا اور اس حرکت سے روکا ہے یہ باز نہیں آتے۔اﷲ کو سجدے سے روکنا اور بار بار منع کرنا اور بکر صاحب کا ترجمہ میں اسے حرکت کہنا کیا معنی!
(۱۵۰)عالم نے کہا یہ سجدہ نا مشروع ہے حضرت مخدوم نے اس پرانکار نہ فرمایا بلکہ اور تائید فرمائی کہ میں نے تو بارہا منع کیا ہے معلوم ہوا کہ حضرت مخدوم بھی اسی پر سجدہ کو نامشروع جانتے تھے ورنہ حق سے سکوت درکنار باطل کی تائید نہ فرماتے۔یہ عبارت لطائف کا اٹھواں فائدہ ہواوجہ دوم میں یہ ۱۴ نمبر اس وجہ پر زائد تھا مکر اصل مبحث کے کمال مؤید کہ بکر کے ہاتھوں "یخربون بیوتہم بایدیہم"آشکار ہوا اپنے ہاتھوں اپنا گھرویران کرتے ہیں۔رہا وبایدی المؤمنین اور مسلمانوں کے ہاتھوں یہ اوپر کے گزشتہ وآئندہ کے کثیر نمبروں سے آشکار "فاعتبروا یاولی الابصر ﴿۲﴾ " (پھر نصیحت اور پند پذیر ہو ا ے نگاہیں رکھنے والو!۔ت)
(۱۵۱)وجہ سوم:ایت سورہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام میں ایك وجہ نفیس اورہے جس سے سمت بنانا بھی برقرار نہیں رہتاابن عبا بن ابی رباح استاذ سیدنا اما م اعظم ابوحنیفہ حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا معنی آیت یہ ہے کہ یوسف کے پانے پر اﷲ تعالی کے لئے سجدہ شکر کیاامام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں میرے نزدیك آیت کے یہی معنی متعین ہیں یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کا یوسف علیہ الصلوہ والسلام کو سجدہ کرنا از بس بعید ہے اور یوسف علیہ الصلوہ والسلام کا اسے روا رکھنا ان کے دین وعقل سے مستبعد کہ باپ اور بوڑھے اور نبی اﷲ اور علم دین وردرجات نبوت میں ان سے زیادہ اور وہ الٹا انھیں سجدہ کریںتفسیر کبیر کی عبارت یہ ہیں:
وھو قول ابن عباس فی روایۃ پہلی بات اور وہ عبدالہ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۲
عطاء ان المراد بھذہ الایۃ انھم خروالہ ای لا جل وجد انہ سجد ﷲ تعالی و حاصل الکلام ان ذلك السجود کان سجود الشکر فالمسجود لہ ھو اﷲ تعالی الا ان ذلك السجود انما کان لاجلہوعندی ان ھذالتاویل متعین لانہ لایستبعد من عقل یوسف و ودینہ ان یرضی بان یسجد لہ ابوہ مع سابقتہ فی حقوق الابوۃ و الشیخوخۃ والعلم والدین وکمال النبوۃ ۔ کا ارشا دہے بروایت عطا بن ابی رباح رضی اﷲ تعالی عنہم کے اس ایۃ خروا لہ سجدا سے مراد یہ ے کہ وہ سب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پالینے کی نعمت پر اﷲ تعالی کے لئے سجدہ ریز ہوئے۔لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ سجدہ تو اﷲ تعالی کے شکر ادا کرنے کا سجدہ تھا لہذا اس میں"مسجودلہ"(وہ جس کے لئے سجدہ کیا جائے"اﷲ تعالی ہے۔البتہ وہ سجدہ حضرت یوسف کی وجہ سے تھا یعنی ان کو پالینے کی خوشی میں اﷲ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے لئے سجدہ بجالایا گیا اور میرے (یعنی امام فخر الدین رازی کے) نزدیك یہی تاویل و توجیہ متعین ہے۔کیوں اس لئے کہ حضرت یوسف کی ذہانت او رکمال عقل اور صاحب دین ہونے کی وجہ سے یہ بعید ہے کہ وہ اس بات پر راض ہوجائیں کہ ان کے بوڑھے باپ جو حقوق ابوت(پدری حقوق)مقام نبوتبڑھاپے علم اور دین اور ان تمام اوصاف میں)ان سے درجہ اولویت اور سبقت رکھتے ہوںان کے آگے سجدہ کریں۔(ت)
پھر فرمایا:
الوجہ الخامس لعل التحیۃ فی ذلك الوقت ھوا لمسجود وھذا فی غایۃ البعد لان المبانعۃ فی التعظیم کانت الیق بیوسف منھا یعقوب علیھما الصلوۃ و السلام فلو کان الامر کما قلتم لکان من الواجب ان یسجد یوسف یعقوب علیہما الصلوۃ والسلام ۔ پانچویں وجہ:اس دورمیںشائد تعظیم کے لئے سجدہ ہوا کرتا تھا(اور جو کچھ مروی ہوا)یہ عقل ہے انتہائی بعید ہے کیونکہ تعظیم میں مبالغۃ اختیار کرنا حضرت یوسف کے زیادہ لائق اور مناسب تھا کہ وہ اپنے والدبزرگوار حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے کرتےلہذا اگر معاملہ اب ایسا ہے جیسا کہ تم نے کہا تو پھر حضرت یوسف کے لئے واجب تھا کہ وہ اپنے والد گرامی حضرت یعقوب علیہما الصلوۃ والسلام کو سجدہ کرتے۔(ت)
پھر فرمایا:
الوجہ الخامس لعل التحیۃ فی ذلك الوقت ھوا لمسجود وھذا فی غایۃ البعد لان المبانعۃ فی التعظیم کانت الیق بیوسف منھا یعقوب علیھما الصلوۃ و السلام فلو کان الامر کما قلتم لکان من الواجب ان یسجد یوسف یعقوب علیہما الصلوۃ والسلام ۔ پانچویں وجہ:اس دورمیںشائد تعظیم کے لئے سجدہ ہوا کرتا تھا(اور جو کچھ مروی ہوا)یہ عقل ہے انتہائی بعید ہے کیونکہ تعظیم میں مبالغۃ اختیار کرنا حضرت یوسف کے زیادہ لائق اور مناسب تھا کہ وہ اپنے والدبزرگوار حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے کرتےلہذا اگر معاملہ اب ایسا ہے جیسا کہ تم نے کہا تو پھر حضرت یوسف کے لئے واجب تھا کہ وہ اپنے والد گرامی حضرت یعقوب علیہما الصلوۃ والسلام کو سجدہ کرتے۔(ت)
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸ /۲۱۲
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸ /۲۱۳
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸ /۲۱۳
(۱۵۲)وجہ چہارم:سب جانے دو وہ انھیں کو سجدہ معروفہ سہی اور وہ ان کی شریعتوں کا حکم ہی سہی تو شرائع سابقہ کا ہم پر حجت ہونا ہی قطعی نہیں ائمہ اہلسنت کا مختلف فیہ ظنی مسئلہ ہے بعض کے نزدیك وہ اصلا حجت نہیںنہ ان پر عمل جائز جب تك ہماری شرع سے کوئی دلیل قائم نہ ہو اور یہی مذہب اکثر متکلمین اور ایك گروہ حنفیہ وشافعیہ کا ہے۔اور اسی پرامام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی اور امام فخرالدین رازی ویوسف آمدی ہیں۔بعض کے نزدیك حجت ہیں جب تك نسخ پر دلیل قائم نہ ہواکثر حنفیہ اسی پر ہیں اصول امام فخر الاسلام میں ہے:
قال بعض العلماء یلزمنا شرائع من قبلنا حتی یقوم الدلیل علی النسخ و قال بعضھم لایلزمنا حتی یقوم الدلیل ۔ بعض علماء کرام نے فرمایا شرائع(اور ادیان)جو ہم سے پہلے ہلوئے ان کے مطابق عمل کرنا ہمارے لئے لازم(اور ضروری) ہے جب تك کوئی دلیل ان کے نسخ پر قائم نہ ہو بعض نے فرمایا وہ لہم پر لازم نہ ہوں یہاں تك کوئی دلیل (جواز عمل) قائم ہو(ت)
شرح امام عبدالعزیز بخاری میں ہے:
ذھب اکثر المتکلمین وطائفۃ من اصحابنا واصحاب الشافعی الی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یکن متعبدا بشرائع من قبلنا وان شریعۃ کل نبی تنتہی بوفاتہ علی ماذکرصاحب المیزان اویبعث نبی آخر علی ماذکر شمس الائمۃ ویتجد دللثانی شریعۃ اخری فعلی ھذالایجوز العمل بھا الابما قام الدلیل علی بقائہ وقال بعضھم یلزمنا فیما لم یثبت انتساخہ ۔ اکثر اہل کلام اور ہمارے اصحاب میں سے ایك گروہ اور اصحاب امام شافعی اس نظریہ کی طرف گئے ہیں کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شرائع سابقہ پر عامل نہ تھے کیونکہ ہر نبی کی شریعت اس کی وفات پر منتہی ہوجاتی ہے جیسا کہ صاحب المیزان نے ذکر فرمایا(یہاں تك کہ)کوئی دوسرا نبی مبعوث ہوتا ہے پھر اس دوسرے نبی کے لئے تجدید شریعت ہوتی ہے جیسا کہ شمس الائمہ نے بیان فرمایالہذا شرائع سابقہ پر عمل کرنا جائز نہیں مگر جبکہ اس کے بقاپر کوئی دلیل قائم نہ ہواور بعض نے فرمایا
قال بعض العلماء یلزمنا شرائع من قبلنا حتی یقوم الدلیل علی النسخ و قال بعضھم لایلزمنا حتی یقوم الدلیل ۔ بعض علماء کرام نے فرمایا شرائع(اور ادیان)جو ہم سے پہلے ہلوئے ان کے مطابق عمل کرنا ہمارے لئے لازم(اور ضروری) ہے جب تك کوئی دلیل ان کے نسخ پر قائم نہ ہو بعض نے فرمایا وہ لہم پر لازم نہ ہوں یہاں تك کوئی دلیل (جواز عمل) قائم ہو(ت)
شرح امام عبدالعزیز بخاری میں ہے:
ذھب اکثر المتکلمین وطائفۃ من اصحابنا واصحاب الشافعی الی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یکن متعبدا بشرائع من قبلنا وان شریعۃ کل نبی تنتہی بوفاتہ علی ماذکرصاحب المیزان اویبعث نبی آخر علی ماذکر شمس الائمۃ ویتجد دللثانی شریعۃ اخری فعلی ھذالایجوز العمل بھا الابما قام الدلیل علی بقائہ وقال بعضھم یلزمنا فیما لم یثبت انتساخہ ۔ اکثر اہل کلام اور ہمارے اصحاب میں سے ایك گروہ اور اصحاب امام شافعی اس نظریہ کی طرف گئے ہیں کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شرائع سابقہ پر عامل نہ تھے کیونکہ ہر نبی کی شریعت اس کی وفات پر منتہی ہوجاتی ہے جیسا کہ صاحب المیزان نے ذکر فرمایا(یہاں تك کہ)کوئی دوسرا نبی مبعوث ہوتا ہے پھر اس دوسرے نبی کے لئے تجدید شریعت ہوتی ہے جیسا کہ شمس الائمہ نے بیان فرمایالہذا شرائع سابقہ پر عمل کرنا جائز نہیں مگر جبکہ اس کے بقاپر کوئی دلیل قائم نہ ہواور بعض نے فرمایا
حوالہ / References
اصول البزدوی باب شرائع من قبلہا قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۳۲
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب شرائع من قبلہا دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۲۱۲
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب شرائع من قبلہا دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۲۱۲
ہمیں ایسے احکام پر عمل کرنا لازم ہے جن کا نسخ ثابت نہ ہو(ت)مسلم الثبوت میں ہے:
وعن الاکثرین المنع وعلیہ القاضی و الرازی والآمدی ۔ اکثر اہل علم سے اس پر عمل کرنے کی ممانعت منقول ہے۔ چنانچہ قاضیرازی اور علامہ آمدی کی یہی رائے ہے۔(ت)
(۱۵۳)وجہ پنجم:وہ کوئی حکم عام نہیں وہ واقعہ حال ہیں اور باتفاق عقل ونقل واقعہ حال کے لئے عموم نہیں ہوتا اب جواس سے ایك عام استنباط کرنا چاہیں تو وہ نہ ہوگا مگر یوں کہ علت جامعہ نکال کر مسکوت عنہ کو منصوص پر قیاس کریں تو نص نہ رہا کہ قطعی ہو بلکہ قیاس کہ ظنی ہے۔
(۱۵۴)ثالثا: حجت ماننے والے بھی اس حالت میں حجت مانتے ہیں کہ ہماری شرع نے اس پر انکار نہ فرمایا ہو اور یہاں انکار ثابت ہے کہ فرمایا:لاتفعلوا نہ کرو۔لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الا ﷲ تعالی کسی مخلوق کو غیر خدا کا سجدہ لائق نہیںبالفرض اگر یہاں ظنیت ہو تو وہاں ظنیت درظنیت کتنی ظنیتیں ہیں طنی کے انکار کو ظنی بس ہے اور انکار خاص اس بیان کے ساتھ ہونا کچھ ضرور نہیں ورنہ بکثرت استحالہ لازم آئیں گے" وخلق منہا زوجہا" (اسی جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ت) سے اصل وفرع مثلا باپ بیٹی کا نکاح جائز ہوجائے گاوبث منہما رجالا کثیرا ونساء " (اور ان دونوں(آدم وحوا)سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔ت)سے بہن بھائی کا"فساہم فکان من المدحضین ﴿۱۴۱﴾" (پھر وہ قرعہ اندازی میں شریك ہوئے پھر وہ دریا میں) دھکیلے ہوئے لوگوں میں سے ہوگئے۔ت)سے محض بربنائے قرعہ کسی مسلمان کو سمندر میں
وعن الاکثرین المنع وعلیہ القاضی و الرازی والآمدی ۔ اکثر اہل علم سے اس پر عمل کرنے کی ممانعت منقول ہے۔ چنانچہ قاضیرازی اور علامہ آمدی کی یہی رائے ہے۔(ت)
(۱۵۳)وجہ پنجم:وہ کوئی حکم عام نہیں وہ واقعہ حال ہیں اور باتفاق عقل ونقل واقعہ حال کے لئے عموم نہیں ہوتا اب جواس سے ایك عام استنباط کرنا چاہیں تو وہ نہ ہوگا مگر یوں کہ علت جامعہ نکال کر مسکوت عنہ کو منصوص پر قیاس کریں تو نص نہ رہا کہ قطعی ہو بلکہ قیاس کہ ظنی ہے۔
(۱۵۴)ثالثا: حجت ماننے والے بھی اس حالت میں حجت مانتے ہیں کہ ہماری شرع نے اس پر انکار نہ فرمایا ہو اور یہاں انکار ثابت ہے کہ فرمایا:لاتفعلوا نہ کرو۔لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الا ﷲ تعالی کسی مخلوق کو غیر خدا کا سجدہ لائق نہیںبالفرض اگر یہاں ظنیت ہو تو وہاں ظنیت درظنیت کتنی ظنیتیں ہیں طنی کے انکار کو ظنی بس ہے اور انکار خاص اس بیان کے ساتھ ہونا کچھ ضرور نہیں ورنہ بکثرت استحالہ لازم آئیں گے" وخلق منہا زوجہا" (اسی جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ت) سے اصل وفرع مثلا باپ بیٹی کا نکاح جائز ہوجائے گاوبث منہما رجالا کثیرا ونساء " (اور ان دونوں(آدم وحوا)سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔ت)سے بہن بھائی کا"فساہم فکان من المدحضین ﴿۱۴۱﴾" (پھر وہ قرعہ اندازی میں شریك ہوئے پھر وہ دریا میں) دھکیلے ہوئے لوگوں میں سے ہوگئے۔ت)سے محض بربنائے قرعہ کسی مسلمان کو سمندر میں
حوالہ / References
مسلم الثبوت فصل فی افعالہ الجبلیۃ الاباحۃ مسئلہ نحن والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم متعبدون الخ مطبع انصاری دہلی ص ۲۰۷
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴،سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۱
مدارك التزیل(تفسیر النسفی) تحت آیۃ ۲/ ۳۴ دارالکتا ب العربی بیروت ۱ /۴۲
القرآن الکریم ۴ /۱
القرآن الکریم ۴ /۱
القرآن الکریم ۳۷ /۱۴۱
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴،سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۱
مدارك التزیل(تفسیر النسفی) تحت آیۃ ۲/ ۳۴ دارالکتا ب العربی بیروت ۱ /۴۲
القرآن الکریم ۴ /۱
القرآن الکریم ۴ /۱
القرآن الکریم ۳۷ /۱۴۱
پھینکنا "فبراہ اللہ مما قالوا " (پھر اﷲ تعالی نے بزرگوں کے غلط کہنے سے اسے بری کردیا۔ت)سے برملا برہنہ نکلنا "وکشفت عن ساقیہا " (پھر اس عورت(ملکہ سبا)نے اپنی دونو پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا۔ت)سے حرہ اجنبیہ کی ساقین دیکھنا مجمع کو دکھانا "یعملون لہ ما یشاء من محریب و تمثیل " (وہ(سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام)جو کچھ چاہتے جنات ان کے لیے بنادیتے یعنی پختہ عمارتیں اور مجسمے۔ت)سے زید وعمرو کے بت بنانا "فطفق مسحابالسوق والاعناق ﴿۳۳﴾" (پھر وہ(سلیمان علیہ السلام)ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگے۔ت)سے اپنے نسیان کے بدلے گھوڑے کا قتل الی غیر ذلک(اس کے علاوہ اور بہت سی آیت ہیں۔ت)۔
(۱۵۵)بکر نے حسب عادت یہاں بھی تین کتابوں پر افتراء کئے ہدایہ میں امام محمد کا ایك فرق اصطلاح بیان کیا کہ:
المروی عن محمد نصا ان کل مکروہ حرام الا انہ لمالم یجد فیہ نصا قاطعا لم یطلق علیہ لفظ الحرام ۔ یعنی امام محمد کی تصریح ہے کہ ہر مکروہ حرام ہے مگر جہاں وہ نص قطعی نہیں پاتے وہاں لفظ حرام نہیں کہتے۔
اس کا ترجمہ یہ بیان کیا ص ۱۱"جس میں کوئی نص قطعی نہ پائی جائے اس پر حرام کا اطلاق نہیں ہوسکتا"وہ صاف صاف تو فرمارہے ہیں کہ ہر مکروہ حرام ہے اور پھر حرام کا اطلاق نہیں ہوسکتایہ ھدایہ پر افتراء ہے۔
(۱۵۶)ابتدائے عبادت سے وہ الفاظ کہ امام کی تصریح ہے کہ ہر مکروہ حرام ہے صاف کترلئے کہ چال نہ کھلےیہ خیانت ہے۔
(۱۵۷)ص ۱۱ ردالمحتار کی عبارت نقل کی:
شرع من قبلنا حجۃ لنا اذاقصہ اﷲ تعالی او رسولہ من غیر انکار ولم یظھر جو حضرات ہم سے پہلے ہوئےان کی شریعت(اور دین) ہمارے لئے دلیل ہے جبکہ اﷲ تعالی
(۱۵۵)بکر نے حسب عادت یہاں بھی تین کتابوں پر افتراء کئے ہدایہ میں امام محمد کا ایك فرق اصطلاح بیان کیا کہ:
المروی عن محمد نصا ان کل مکروہ حرام الا انہ لمالم یجد فیہ نصا قاطعا لم یطلق علیہ لفظ الحرام ۔ یعنی امام محمد کی تصریح ہے کہ ہر مکروہ حرام ہے مگر جہاں وہ نص قطعی نہیں پاتے وہاں لفظ حرام نہیں کہتے۔
اس کا ترجمہ یہ بیان کیا ص ۱۱"جس میں کوئی نص قطعی نہ پائی جائے اس پر حرام کا اطلاق نہیں ہوسکتا"وہ صاف صاف تو فرمارہے ہیں کہ ہر مکروہ حرام ہے اور پھر حرام کا اطلاق نہیں ہوسکتایہ ھدایہ پر افتراء ہے۔
(۱۵۶)ابتدائے عبادت سے وہ الفاظ کہ امام کی تصریح ہے کہ ہر مکروہ حرام ہے صاف کترلئے کہ چال نہ کھلےیہ خیانت ہے۔
(۱۵۷)ص ۱۱ ردالمحتار کی عبارت نقل کی:
شرع من قبلنا حجۃ لنا اذاقصہ اﷲ تعالی او رسولہ من غیر انکار ولم یظھر جو حضرات ہم سے پہلے ہوئےان کی شریعت(اور دین) ہمارے لئے دلیل ہے جبکہ اﷲ تعالی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۶۹
القرآن الکریم ۲۷ /۴۴
القرآن الکریم ۳۴ /۲۳
القرآن الکریم ۳۸ /۳۳
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۰
القرآن الکریم ۲۷ /۴۴
القرآن الکریم ۳۴ /۲۳
القرآن الکریم ۳۸ /۳۳
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۰
نسخہ ففائد نزول الایۃ تقریر الحکم الثابت ۔ اور اس کا رسول گرامی بغیر انکار کئےاسے بیان فرمائیں اور اس کا نسخ ظاہر اور ثابت نہو۔پھر نزول آیت کا فائدہ حکم ثابت کو برقرار رکھتا ہے۔(ت)
اور ص ۱۲ پر اس کا ترجمہ کیا نفیس ہوتاہے:"تو نزول آیت کا فائدہ حکم ثبوت کو پہنچے گا"زہے بیعلمی۔
(۱۵۸)ص ۱۲ پر قاضی خان کی عبارت الاصل فی الاشیاء الاباحۃ (اشیاء میں اصل ان کا مباح ہونا ہے۔ت)کا یہ ترجمہ کیا تمام اشیاء میں اصلیت مباح ہوتاہے۔زہے منشی گری۔
(۱۵۹تا ۱۶۱)خیر یہ تو معمولی کمالات بکری ہیںکہنایہ ہے کہ ہدایہ و ردالمحتار وقاضی خان کی عبارتیں تو یہ نقل کیں اور ص ۱۲ پر نتیجہ یہ دیا"یہ کتابیں صاف صاف کہتی ہیں کہ سابقہ شریعت کی بات کے خلاف کوئی نص قطعی موجود نہ ہو تو اس کے مباح ہونے میں کسی دلیل کی حاجت نہیں"ہدایہ و قاضی خاں کی عبارتوں میں تو شریعت سابقہ کا نام تك نہ تھاردالمحتار میں ذکر تھا نص قطعی کا ذکر تك نہ تھایہ تینوں کتابوں پر تین افتراء ہوئے
(۱۶۲)رابعا اگر قطعیت درکار ہو تو نمبر۶۱ میں تفسیر عزیزی سے گزراکہ سجدہ تحیت حرام ہونے میں متواتر حدیثیں ہیں۔
(۱۶۳)اگر وایۃ متواتر نہ بھی ہو قبولا متواتر ہے کہ تمام ائمہ اسے مانے ہوئے ہیں تو اس سے قطعی کانسخ روا ہے جیسے حدیث لاوصیۃ لوارث (کسی وارث کے لئے وصیت نہیں۔ت)جس سے وصیت والدین واقربین کو منصوص قرآن بھی منسوخ کہی گئیامام اجل بخاری کشف الاسرار میں فرماتے ہیں:
ھذا الحدیث فی قوۃ المتواتر اذ المتواتر نوعان متواتر من حیث الروایۃ ومتواتر من حیث ظھور العمل بہ من غیرنکیر یہ حدیث متواتر کے زمرہ میں ہے۔اس لئے کہ متواتر کی دو۲ قسمیں ہیں:(۱)متواتر بلحاظ روایت(۲)اس حقیقت سے متواتر کہ بغیر انکار اس پر ظہور عمل ہے(خلاصہ)(i)متواتر
اور ص ۱۲ پر اس کا ترجمہ کیا نفیس ہوتاہے:"تو نزول آیت کا فائدہ حکم ثبوت کو پہنچے گا"زہے بیعلمی۔
(۱۵۸)ص ۱۲ پر قاضی خان کی عبارت الاصل فی الاشیاء الاباحۃ (اشیاء میں اصل ان کا مباح ہونا ہے۔ت)کا یہ ترجمہ کیا تمام اشیاء میں اصلیت مباح ہوتاہے۔زہے منشی گری۔
(۱۵۹تا ۱۶۱)خیر یہ تو معمولی کمالات بکری ہیںکہنایہ ہے کہ ہدایہ و ردالمحتار وقاضی خان کی عبارتیں تو یہ نقل کیں اور ص ۱۲ پر نتیجہ یہ دیا"یہ کتابیں صاف صاف کہتی ہیں کہ سابقہ شریعت کی بات کے خلاف کوئی نص قطعی موجود نہ ہو تو اس کے مباح ہونے میں کسی دلیل کی حاجت نہیں"ہدایہ و قاضی خاں کی عبارتوں میں تو شریعت سابقہ کا نام تك نہ تھاردالمحتار میں ذکر تھا نص قطعی کا ذکر تك نہ تھایہ تینوں کتابوں پر تین افتراء ہوئے
(۱۶۲)رابعا اگر قطعیت درکار ہو تو نمبر۶۱ میں تفسیر عزیزی سے گزراکہ سجدہ تحیت حرام ہونے میں متواتر حدیثیں ہیں۔
(۱۶۳)اگر وایۃ متواتر نہ بھی ہو قبولا متواتر ہے کہ تمام ائمہ اسے مانے ہوئے ہیں تو اس سے قطعی کانسخ روا ہے جیسے حدیث لاوصیۃ لوارث (کسی وارث کے لئے وصیت نہیں۔ت)جس سے وصیت والدین واقربین کو منصوص قرآن بھی منسوخ کہی گئیامام اجل بخاری کشف الاسرار میں فرماتے ہیں:
ھذا الحدیث فی قوۃ المتواتر اذ المتواتر نوعان متواتر من حیث الروایۃ ومتواتر من حیث ظھور العمل بہ من غیرنکیر یہ حدیث متواتر کے زمرہ میں ہے۔اس لئے کہ متواتر کی دو۲ قسمیں ہیں:(۱)متواتر بلحاظ روایت(۲)اس حقیقت سے متواتر کہ بغیر انکار اس پر ظہور عمل ہے(خلاصہ)(i)متواتر
حوالہ / References
ردالمحتار
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸
سنن ابی داؤد کتاب الوصایا باب ماجاء فی الوصیۃ للوارث آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۴۰
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸
سنن ابی داؤد کتاب الوصایا باب ماجاء فی الوصیۃ للوارث آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۴۰
فان ظھورہ یغنی الناس عن روایتہ وھو بھذہ المثابۃ فان العمل ظھربہ مع القبول من ائمۃ الفتوی بلا تنازع فیجوز النسخ بہ ۔ روایتی(ii)متواتر عملیکیونکہ اس کا ظہور لوگوں کو اس کی روایت کرنے سے بے نیاز کردیتا ہے۔اور وہ اس درجہ میں ہے کیونکہ ا س پر عمل کرنا بالکل ظاہر اور واضح ہوگیااور اس کے باوجود ائمہ فتوی نے اسے بغیر کسی نزاع کے قبول اور تسلیم کیا ہے۔لہذا اس کے ساتھ نسخ جائز ہے۔(ت)
(۱۶۴)نہ سہی تو خود بکر کے مستند فتاوی عزیز سے نمبر ۱۵ میں گزرا کہ سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے اجماع اگر چہ ناسخ ومنسوخ نہ ہو دلیل نسخ یقینا ہے کہ:
لاتجتمع امتی علی الضلالۃ ۔ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی۔(ت)
کشف میں ہے:
الاجماع لاینعقد البتۃ بخلاف الکتاب والسنۃ فلا یتصوران یکون ناسخا لھما ولووجد الاجماع بخلافہا لکان ذلك بناء علی نص آخر ثبت عندھم انہ ناسخ للکتاب والسنۃ ۔ یقینا اجماع کتاب وسنت کے خلاف کبھی منعقد نہیں ہوتالہذا یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اجماع کتاب وسنت کے لئے ناسخ ہوگاپھر اگر اجماع ان دونوں کے خلاف پایا جائے تویہ کسی ایسی دوسری نص کی بناء پر ہوگا جو ائمہ کرام کے نزدیك کتاب وسنت کی ناسخ ہوگی۔(ت)
مسلم وفواتح میں ہے:
الاجماع دلیل علی الناسخ کعمل الصحابی خلاف النص المفسر ۔ اجماع ناسخ پر دلیل ہے جیسے کسی صحابی کا اپنی نص مفسر کے خلاف عمل کرنا۔(ت)
(۱۶۵)خبر منسوخ نہونے کا مسئلہ یہاں پیش کرنا سخت جہالت ہے۔خبر یہ تھی کہ ملائکہ ویعقوب
(۱۶۴)نہ سہی تو خود بکر کے مستند فتاوی عزیز سے نمبر ۱۵ میں گزرا کہ سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے اجماع اگر چہ ناسخ ومنسوخ نہ ہو دلیل نسخ یقینا ہے کہ:
لاتجتمع امتی علی الضلالۃ ۔ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی۔(ت)
کشف میں ہے:
الاجماع لاینعقد البتۃ بخلاف الکتاب والسنۃ فلا یتصوران یکون ناسخا لھما ولووجد الاجماع بخلافہا لکان ذلك بناء علی نص آخر ثبت عندھم انہ ناسخ للکتاب والسنۃ ۔ یقینا اجماع کتاب وسنت کے خلاف کبھی منعقد نہیں ہوتالہذا یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اجماع کتاب وسنت کے لئے ناسخ ہوگاپھر اگر اجماع ان دونوں کے خلاف پایا جائے تویہ کسی ایسی دوسری نص کی بناء پر ہوگا جو ائمہ کرام کے نزدیك کتاب وسنت کی ناسخ ہوگی۔(ت)
مسلم وفواتح میں ہے:
الاجماع دلیل علی الناسخ کعمل الصحابی خلاف النص المفسر ۔ اجماع ناسخ پر دلیل ہے جیسے کسی صحابی کا اپنی نص مفسر کے خلاف عمل کرنا۔(ت)
(۱۶۵)خبر منسوخ نہونے کا مسئلہ یہاں پیش کرنا سخت جہالت ہے۔خبر یہ تھی کہ ملائکہ ویعقوب
حوالہ / References
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب تقسیم الناسخ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۱۷۸
سنن ابن ماجہ ابواب الفتن باب السواد الاعظم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۲
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب تقسیم الناسخ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۱۷۶
فواتح الرحموت بذیل المستصفی باب فی النسخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۸۱
سنن ابن ماجہ ابواب الفتن باب السواد الاعظم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۲
کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب تقسیم الناسخ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۱۷۶
فواتح الرحموت بذیل المستصفی باب فی النسخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۸۱
علیہم الصلوۃ والسلام نے سجدہ کیا۔اسے کون منسوخ مانتا ہے کیا واقع غیر واقع ہوسکتا ہے اس خبر سے یہ حکم مستنبط کرتے ہوئے کہ سجدہ تحیت غیر خدا کو جائز ہے یہ حکم اگر تھا تو منسوخ ہوامسلم وفواتح میں ہے:
ھھنا امران الاخبار بتعلق الامر بالخاطبین والامر المتعلق بھم الموجب ولم ینتسخ الخبرلان وقوع الامرواقع ولم یرتفع وانما نسخ الامر المخبر عنہ وھو لیس خبرا فماھو خبر لم ینتسخ وما انتسخ لیس بخبر ۔ یہاں دو امر ہیں:ایك یکہ کہ خبر"امر بالمخاطبین"سے متعلق ہے۔دوسری یہ کہ جوامر ان سے متعلق ہے وہ موجب ہے۔لہذا خبر میں نسخ نہیں اس لئے کہ وقوع امر واقع ہے کہ جس میں ارتفاع ممکن نہ ہوالبتہ امر مخبر عنہ میں نسخ واقع ہوا ہے۔اور وہ خبر نہیںلہذا جو خبر ہے وہ منسوخ نہیں اور جو منسوخ ہے وہ خبر نہیں۔(ت)
(۱۶۶)بکر نے اپنے افتراءات علی اﷲ تعالی میں زعم کیا تھا ص ۶"کہ خدا نے قرآن میں فرمایا تھا "فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے یعنی جس طرف سجدہ کرو خدا ہی کو ہوگابعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی یہ آیت بھی جملہ خبر یہ تھی کس طرح منسوخ ہوگئی۔
(۱۶۷ تا ۱۷۲)اب باپ بیٹی۔بہن بھائی کے نکاح اور دیگر امور مذکورہ نمبر ۱۵۴ کی حرمت کی کوئی راہ نہ رہی کہ وہ تمام آیات اخبار ہی تھیں اور"اخبار منسوخ نہیں ہوتے"
(۱۷۳)بلکہ یہ سب زائد حاجت ہے ہم ثابت کرچکے کہ اس سجدہ تحیت کا جواز نص کا حکم نہیںہوگا تو قیاس سے قیاس مجتہدین پر ختم ہوگیا۔
(۱۷۴)قیاس بھی سہی تو سجدہ غایت تعظیم ہے۔خود بکر نے ص ۵ پر کہا"تعطیم کا اظہار ا س سے زیادہ انسان اور کسی صورت سے نہیں کرسکتا"ص ۱۱ آخری تعظیم ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے"اور غایت تعظیم کے لئے نہایت عظمت درکارکم درجہ معظم کے لئے انتہا درجہ کی تعظیم ظلم صریح ہے اور اعلی معظمین کے حق میں دست اندازی ع
گرفرق مراتب نکنی زندیقی
(اگر تم مراتب کافرق ملحوظ نہ رکھوگے تو نری بے دینی ہوگی۔ت)
ھھنا امران الاخبار بتعلق الامر بالخاطبین والامر المتعلق بھم الموجب ولم ینتسخ الخبرلان وقوع الامرواقع ولم یرتفع وانما نسخ الامر المخبر عنہ وھو لیس خبرا فماھو خبر لم ینتسخ وما انتسخ لیس بخبر ۔ یہاں دو امر ہیں:ایك یکہ کہ خبر"امر بالمخاطبین"سے متعلق ہے۔دوسری یہ کہ جوامر ان سے متعلق ہے وہ موجب ہے۔لہذا خبر میں نسخ نہیں اس لئے کہ وقوع امر واقع ہے کہ جس میں ارتفاع ممکن نہ ہوالبتہ امر مخبر عنہ میں نسخ واقع ہوا ہے۔اور وہ خبر نہیںلہذا جو خبر ہے وہ منسوخ نہیں اور جو منسوخ ہے وہ خبر نہیں۔(ت)
(۱۶۶)بکر نے اپنے افتراءات علی اﷲ تعالی میں زعم کیا تھا ص ۶"کہ خدا نے قرآن میں فرمایا تھا "فاینما تولوا فثم وجہ اللہ" تم جدھر متوجہ ہو خدا اسی طرف ہے یعنی جس طرف سجدہ کرو خدا ہی کو ہوگابعد میں سمت کعبہ مقرر ہوگئی یہ آیت بھی جملہ خبر یہ تھی کس طرح منسوخ ہوگئی۔
(۱۶۷ تا ۱۷۲)اب باپ بیٹی۔بہن بھائی کے نکاح اور دیگر امور مذکورہ نمبر ۱۵۴ کی حرمت کی کوئی راہ نہ رہی کہ وہ تمام آیات اخبار ہی تھیں اور"اخبار منسوخ نہیں ہوتے"
(۱۷۳)بلکہ یہ سب زائد حاجت ہے ہم ثابت کرچکے کہ اس سجدہ تحیت کا جواز نص کا حکم نہیںہوگا تو قیاس سے قیاس مجتہدین پر ختم ہوگیا۔
(۱۷۴)قیاس بھی سہی تو سجدہ غایت تعظیم ہے۔خود بکر نے ص ۵ پر کہا"تعطیم کا اظہار ا س سے زیادہ انسان اور کسی صورت سے نہیں کرسکتا"ص ۱۱ آخری تعظیم ہے جو حقیقت میں عبادت کی آخری شان ہے"اور غایت تعظیم کے لئے نہایت عظمت درکارکم درجہ معظم کے لئے انتہا درجہ کی تعظیم ظلم صریح ہے اور اعلی معظمین کے حق میں دست اندازی ع
گرفرق مراتب نکنی زندیقی
(اگر تم مراتب کافرق ملحوظ نہ رکھوگے تو نری بے دینی ہوگی۔ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفٰی باب فی النسخ جاز نسخ ایقاع الخبر اتفاقا منشورات الشریف قم ایران ۲ /۷۶
القرآن الکریم ۲ /۱۱۵
القرآن الکریم ۲ /۱۱۵
مخلوق میں نہایت عظمت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کےلئے ہے آدم ویوسف علیہما الصلوۃ والسلام دونوں نبی تھے تو غیر انبیاء مشائخ ومزارات کو ان پر قیاس کرکے ان کے لئے سجدہ تعظیمی بتانا ظلم شدید ہے اور انبیاء کا حق تلف کرنا۔
(۱۷۵)یہ سب اسے شریعت سابقہ مان کرہے۔ہم بیان کرچکے کہ سرے سے اسی کا ثبوت نہیں اب نہ حکم ثابت نہ نسخ کی حاجت سجدہ آدم کا حکم بشر کونہ تھا ملائکہ کے لئے اب بھی ہو تو ہمیں کیاسجدہ یوسف بربنائے اباحت اصلیہ ہونا ممکن اوراباحت اصلیہ کارفع نسخ نہیںمسلم الثبوت میں ہے:
رفع مباح الاصل لیس بنسخ ۔ اصل اباحت کا اٹھ جانا نسخ نہیں۔(ت)
اس طرح کشف الاسرار میں ہے تو ارشاد حدیث لاتفعلوا (ایسا نہ کرو۔ت)واجب القبول اور سجدہ تحیت کا حرام ہونا ہی حکم خدا ورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
______________________
رسالہ"
الزبدۃ الزکیۃ تحریم سجود التحیۃ"
ختم شد
(۱۷۵)یہ سب اسے شریعت سابقہ مان کرہے۔ہم بیان کرچکے کہ سرے سے اسی کا ثبوت نہیں اب نہ حکم ثابت نہ نسخ کی حاجت سجدہ آدم کا حکم بشر کونہ تھا ملائکہ کے لئے اب بھی ہو تو ہمیں کیاسجدہ یوسف بربنائے اباحت اصلیہ ہونا ممکن اوراباحت اصلیہ کارفع نسخ نہیںمسلم الثبوت میں ہے:
رفع مباح الاصل لیس بنسخ ۔ اصل اباحت کا اٹھ جانا نسخ نہیں۔(ت)
اس طرح کشف الاسرار میں ہے تو ارشاد حدیث لاتفعلوا (ایسا نہ کرو۔ت)واجب القبول اور سجدہ تحیت کا حرام ہونا ہی حکم خدا ورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
______________________
رسالہ"
الزبدۃ الزکیۃ تحریم سجود التحیۃ"
ختم شد
حوالہ / References
مسلم الثبوت باب فی النسخ مسئلہ اجمع اھل الشرائع علی جواز عقلا مطبع انصاری دہلی ص۱۶۳
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۱،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۹۱،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
الزبدۃ الزکیۃ کے بعض صفحات پر مصنف علیہ الرحمۃ کے عربی حواشی جو کہ خالص فنی اور علمی ہیں اور عام قاری سے غیر متعلق ہیں لہذا ان کا ترجمہ نہ کیا گیا۔ان عربی حواشی کوہر صفحہ اور حدیث ونص کے حوالے سے مرتب کرکے رسالہ کے اخیر میں شامل کیا گیا ہے۔
ص ۴۴۱:حدیث ۵۶
ا۔رأیتہ فی دلائل ابی نعیم وعزاہ الفاسی فی مطالع المسرات للبیھقی ۱۲ منہ۔
۲۔عزاہ فی الخصائص للطبرانی وأبی ورأیتہ لہ وزاد فی آخرہ"فترکوہ"وعزاہ فی مطلع المسرات لاحمد والحاکم والبیھقی والبغوی ۱۲ منہ
ص ۴۴۴حدیث ۱۰
۱۔ذکرہ مستند افی الجامع الکبیر وقصہ الزرقانی ۱۲ منہ۔
ص ۴۴۵حدیث ۱۱
۱۔عزاہ خاتم حفاظ فی الدرالمنثور لابن ابی شیبۃ وفی الجامع الکبیر لعبد بن حمید وفی مناھل الصفاء للبقیۃ ۱۲ منہ۔
ص ۴۴۶حدیث ۱۲
۱۔رأیتہ لابی نعیم وتلفقیہ وعزاہ فی الدرالمنثور والجامع الصغیر للحاکموشیخنا السید احمد دحلا نفی السیرۃ النبویۃ للبزار ۱۲ منہ۔
ص۴۴۷حدیث ۱۳۔
۱۔رأیتہ فی ابن ماجۃ ورد فی الترغیب ابن حبانوعزاہ فی الجامع الکبیر لاحمد وفی اتحاف السادۃ للبیھقی ۱۲ منہ
ص ۴۴۸حدیث ۱۳ میں اقوال کے تحت و حدیث ۱۴
۱۔قال ابن ماجۃ حدثنا حماد بن زید عن أیوب عن القاسم الشیبانی عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما۔
القاسم:ھو من رجال مسلم والنسائی ھو وأزھر صدوقان وحماد وأیوب تفتان جلیلان لایسأل عن مثلھما ۱۲ منہ
۲۔خاتم الحفاظ فی الدرالمنثور ۱۲ منہ ۔
ص ۴۴۱:حدیث ۵۶
ا۔رأیتہ فی دلائل ابی نعیم وعزاہ الفاسی فی مطالع المسرات للبیھقی ۱۲ منہ۔
۲۔عزاہ فی الخصائص للطبرانی وأبی ورأیتہ لہ وزاد فی آخرہ"فترکوہ"وعزاہ فی مطلع المسرات لاحمد والحاکم والبیھقی والبغوی ۱۲ منہ
ص ۴۴۴حدیث ۱۰
۱۔ذکرہ مستند افی الجامع الکبیر وقصہ الزرقانی ۱۲ منہ۔
ص ۴۴۵حدیث ۱۱
۱۔عزاہ خاتم حفاظ فی الدرالمنثور لابن ابی شیبۃ وفی الجامع الکبیر لعبد بن حمید وفی مناھل الصفاء للبقیۃ ۱۲ منہ۔
ص ۴۴۶حدیث ۱۲
۱۔رأیتہ لابی نعیم وتلفقیہ وعزاہ فی الدرالمنثور والجامع الصغیر للحاکموشیخنا السید احمد دحلا نفی السیرۃ النبویۃ للبزار ۱۲ منہ۔
ص۴۴۷حدیث ۱۳۔
۱۔رأیتہ فی ابن ماجۃ ورد فی الترغیب ابن حبانوعزاہ فی الجامع الکبیر لاحمد وفی اتحاف السادۃ للبیھقی ۱۲ منہ
ص ۴۴۸حدیث ۱۳ میں اقوال کے تحت و حدیث ۱۴
۱۔قال ابن ماجۃ حدثنا حماد بن زید عن أیوب عن القاسم الشیبانی عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالی عنہما۔
القاسم:ھو من رجال مسلم والنسائی ھو وأزھر صدوقان وحماد وأیوب تفتان جلیلان لایسأل عن مثلھما ۱۲ منہ
۲۔خاتم الحفاظ فی الدرالمنثور ۱۲ منہ ۔
ص ۴۴۹۔حدیث ۱۵ میں اقول کے تحت وحدیث ۱۶
۱۔رأیتہ فی المسند عزاہ مرفوعۃ فی الدرالمنثور لہ ولأبی بکروفی الجامع الکبیر للطبرانی فی الکبیر ۱۲ منہ
۲۔اذ قال الامام احمد حدثنا وکیعثنا الآعمش عن ابی ظبیان عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لما رجع من الیمن۔۔۔۔۔الحدیث ۱۲ منہ
۳۔رأیتہ فی ابی داؤد لہ عزاہ فی الترغیب وللبقیۃ فی اتحاف السادۃ ۱۲ منہ
ص ۴۵۰حدیث ۱۷ تا ۲۱
۱۔جمع الجوامع ۱۲ منہ
۲۔بسند حدیث ابی ھریرۃ الاول ثم قال وفی الباب عن معاذ بن جبل وسراقۃ بن مالك بن جعشم وعائشۃ وابن عباس وعبداﷲ بن ابی اوفی وطلق بن علی وام سلمۃ وأنس وابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ اھ ۱۲ منہ۔
ص ۴۵۵حدیث ۳۶۳۷ وحدیث ۳۸
۱۔رأیتہ فی صحیح مسلم وانما عزاہ فی جمع الجوامع لابن سعد فی الطبقات وتبعہ فی الزواجر وزاد حدیث الطبرانی عن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ۔
۲۔ذکرہ کالموصول الآتی بعدہ الزرقانی علی المؤطا ۱۲ منہ
ص ۴۶۶۔نصوص ۳۸ تا ۴۷
۱۔ھھنا تنبیھات لابد منہا فاقول اولا وقع فی نسختی الوجیز"ضرورۃ"مکان"صورۃ"اذ قال الافضل ان لا یسجد لانہ کفرفلا یاتی بما ھو کفر ضرورۃ کما قلنا فی الاکراہ علی اجراء کلمۃ الکفر اھ وھذا تصحیف"صورۃ"بشھادۃ اصلہ الخلاصۃ وسائر الکتب وان لم یکن فمتعلق بلایأتی"لا ناظر الی"کفر"وکیف بکون اذا بالاکراہ کفرا ضرورۃبل المعنیلایاتی لاضطرارہ بما ھو کفرفیکون قولہ ضرورۃ مکان قولھم وان کان فی حالۃ الاکراہ۔
۱۔رأیتہ فی المسند عزاہ مرفوعۃ فی الدرالمنثور لہ ولأبی بکروفی الجامع الکبیر للطبرانی فی الکبیر ۱۲ منہ
۲۔اذ قال الامام احمد حدثنا وکیعثنا الآعمش عن ابی ظبیان عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لما رجع من الیمن۔۔۔۔۔الحدیث ۱۲ منہ
۳۔رأیتہ فی ابی داؤد لہ عزاہ فی الترغیب وللبقیۃ فی اتحاف السادۃ ۱۲ منہ
ص ۴۵۰حدیث ۱۷ تا ۲۱
۱۔جمع الجوامع ۱۲ منہ
۲۔بسند حدیث ابی ھریرۃ الاول ثم قال وفی الباب عن معاذ بن جبل وسراقۃ بن مالك بن جعشم وعائشۃ وابن عباس وعبداﷲ بن ابی اوفی وطلق بن علی وام سلمۃ وأنس وابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم حدیث ابی ھریرۃ حدیث حسن غریب من ھذا الوجہ اھ ۱۲ منہ۔
ص ۴۵۵حدیث ۳۶۳۷ وحدیث ۳۸
۱۔رأیتہ فی صحیح مسلم وانما عزاہ فی جمع الجوامع لابن سعد فی الطبقات وتبعہ فی الزواجر وزاد حدیث الطبرانی عن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ۔
۲۔ذکرہ کالموصول الآتی بعدہ الزرقانی علی المؤطا ۱۲ منہ
ص ۴۶۶۔نصوص ۳۸ تا ۴۷
۱۔ھھنا تنبیھات لابد منہا فاقول اولا وقع فی نسختی الوجیز"ضرورۃ"مکان"صورۃ"اذ قال الافضل ان لا یسجد لانہ کفرفلا یاتی بما ھو کفر ضرورۃ کما قلنا فی الاکراہ علی اجراء کلمۃ الکفر اھ وھذا تصحیف"صورۃ"بشھادۃ اصلہ الخلاصۃ وسائر الکتب وان لم یکن فمتعلق بلایأتی"لا ناظر الی"کفر"وکیف بکون اذا بالاکراہ کفرا ضرورۃبل المعنیلایاتی لاضطرارہ بما ھو کفرفیکون قولہ ضرورۃ مکان قولھم وان کان فی حالۃ الاکراہ۔
وثانیاالثلاۃ الآخیرون ترکوا لفظ صورۃ کالوجیز علی تلك النسخۃ وھو ان ترك صورۃ معنیمعنی ضرورۃ لما علمت ان لاکفر حقیفۃ بالاکراہ ومن الدلیل علیہ قولہ بجمع الانھر عن الاختیارمتصلا بہولو سجد عندالسلطان علی وجہ التحیۃ لایصیر کافرا اھوقول الوجیز فی مسألۃ متصلا بہکفر عند بعض المشائخ اھ ۔
وثالثاھھنا سقط شدید فی نسخۃ الخلاصۃ المطبوعۃ اذ کتب بعد قولہ المار فی نمرۃ ۱۹ وان اراد بہ التحیۃ لایکفرقولہ و الافضل ان لایأتی بما ھو کفر صورۃ اھ فیتوھم الجاھل ان السجدۃ لیست الا خلاف الاصل وکیف سقیم ھذا مع صدر کلامہھی کبیرۃ والعبادۃ الصحیحۃ التامۃ ما نقلنا ثمہذکر تلك المسألۃ المستشھد بھا المذکورۃ فی سیر الفتاوی والاصل فقال اذا قیل لمسلم اسجدللملك والا قتلناك فالافضل ان لا یسجد لانہ کفروالافضل ان لایاتی بما ھو کفر صورۃ۔۔۔۔۔اھ فسقط کل ھذا من نسخۃ الطبع من قولہ قال وھذاموافق الی قولہ والافضل فلیعلم۔
ورابعا:عزالمسألۃ فی الغیاثیۃ ونصاب الاحتساب ومنح الروض عن المحیط الی واقعات الناطفیوفیہ اختصاربل اقتصاروذلك لان الناطفی ذکر کمثل مایأتی فی نمرۃ ۴۵ الی ۵۵ صورتین حکم فی احداھما بان الافضل ان لایسجد لاتہ کفر صورۃ وفی الاخری وھی ما اذکر ھو علی سجدۃ التحیۃ بان الافضل ان یسجد والنقلۃ الثلاثۃ حذفوا الصورۃ الاخریفعم الحکم باطلاقہ الصورتین وانما عبارۃ الناطفی کما فی غایۃ البیان عن واقعات الامام الصدر الشھید عن المسائل عن واقعات الناطفیھکذا اذا قیل لمسلم اسجد للملك والا قتلناك فالافضل ان لایسجد لانہ کفر و الافضل ان لایاتی بما کفر صورۃ وان کان فی حالۃ الاکراہوان کان السجود سجود التحیۃ فالا فضل ان یسجد لانہ لیس بکفرفھذا دلیل علی ان السجود بنیۃ التحیۃ اذا کان خائفا لایکون کفرافعلی ھذا القیاس لا یصیر من سجد عند السلطان علی وجہ التحیۃ کافر ا اھ قال الاتقانی الی ھنا لفظ الواقعات۔۔۔اھ۔
وثالثاھھنا سقط شدید فی نسخۃ الخلاصۃ المطبوعۃ اذ کتب بعد قولہ المار فی نمرۃ ۱۹ وان اراد بہ التحیۃ لایکفرقولہ و الافضل ان لایأتی بما ھو کفر صورۃ اھ فیتوھم الجاھل ان السجدۃ لیست الا خلاف الاصل وکیف سقیم ھذا مع صدر کلامہھی کبیرۃ والعبادۃ الصحیحۃ التامۃ ما نقلنا ثمہذکر تلك المسألۃ المستشھد بھا المذکورۃ فی سیر الفتاوی والاصل فقال اذا قیل لمسلم اسجدللملك والا قتلناك فالافضل ان لا یسجد لانہ کفروالافضل ان لایاتی بما ھو کفر صورۃ۔۔۔۔۔اھ فسقط کل ھذا من نسخۃ الطبع من قولہ قال وھذاموافق الی قولہ والافضل فلیعلم۔
ورابعا:عزالمسألۃ فی الغیاثیۃ ونصاب الاحتساب ومنح الروض عن المحیط الی واقعات الناطفیوفیہ اختصاربل اقتصاروذلك لان الناطفی ذکر کمثل مایأتی فی نمرۃ ۴۵ الی ۵۵ صورتین حکم فی احداھما بان الافضل ان لایسجد لاتہ کفر صورۃ وفی الاخری وھی ما اذکر ھو علی سجدۃ التحیۃ بان الافضل ان یسجد والنقلۃ الثلاثۃ حذفوا الصورۃ الاخریفعم الحکم باطلاقہ الصورتین وانما عبارۃ الناطفی کما فی غایۃ البیان عن واقعات الامام الصدر الشھید عن المسائل عن واقعات الناطفیھکذا اذا قیل لمسلم اسجد للملك والا قتلناك فالافضل ان لایسجد لانہ کفر و الافضل ان لایاتی بما کفر صورۃ وان کان فی حالۃ الاکراہوان کان السجود سجود التحیۃ فالا فضل ان یسجد لانہ لیس بکفرفھذا دلیل علی ان السجود بنیۃ التحیۃ اذا کان خائفا لایکون کفرافعلی ھذا القیاس لا یصیر من سجد عند السلطان علی وجہ التحیۃ کافر ا اھ قال الاتقانی الی ھنا لفظ الواقعات۔۔۔اھ۔
اقول:فعلی ھذا التفصیل تخصیص کونہ کفرا صورۃ اذا الم یأمرہ بسجود التحیۃ ای بل امرہ بسجود العبادۃ خاصۃ۔
واطلقوا کماھو مفاد اطلاق الواقعات الصورۃ المقابلۃ لسجود التحیۃ مستند الی نزع دقیق وھو ان السجود ظاھرا لعبادۃفاذا اطلقوا کان الظاھر طلب الکفر فکیف اذا رضوا علی العبادۃفان فعل کان آتیا بما ھو کفر صورۃ اذ لاحقیقۃ مع الاکراہ مادام قلبہ مطمئنا بالایمان فالافضل ان یصبر واذا صرحوا بطلب سجود التحیۃ ولیس بکفر لم یکن الاکراہ علی الکفر فان فعل لم یات بالکفر معنی ولا صورۃ فالافضل حفظ المھجۃ واما علی طریقۃ ھؤلاء الذین ترکوا الصورۃ الاخیرۃومثلھم نص الاصل وغیرہ السبعۃ الباقین۔
فاقول:ومنزوعان الاول ان السجدۃ کفر مطلقا لکن لاکفر حقیقۃ مع الاکراہ فانہ صورۃ کفرفالافضل ان یأتی بما مطلقاوالثانی ان لاکفر الا سجود العبادۃ ومعلوم ان المکرہ المطمئن قبلہ بالایمان لاینویھا۔فلا یکون کفرا حقیقۃ غیر ان السجدۃ کیف کانت ولو بنیۃ التحیۃ او بدون نیۃ انما تقع علی صورۃ کفر اذلا فرق فی الصورۃ ھھنا وبین سجود العبادۃفالافضل ان لایأتی بھا مطلقا والی ھذا النزع الثانی ذھب الامام صاحب الخلاصۃ ثم البزازی اذ جعلا ھذا المسألۃ فی اصل الفتاوی مؤیدہالان سجود التحیۃ لیس بکفرھکذا ینبغی ان یفھم کلمات العلماء الکرام والحمدﷲ ولی الانعام ۱۲ منہ۔
ص ۴۷۲نص ۱۰۰فصل اول
۱۔لفظہ فی القہستانی یکرہ الانحناء ای قریب الرکوع کالسجود اھ
اقول:لیس فی القہستانی"لفظۃ یکرہ"انمانصہ مااسمعنك ثم تاویلہ انہ تشبہ الانحناء بالسجود کما قالالمنقول عنہ انہ کالسجود لا فی الحکمفیکون غلطا فی الحوالۃ۔ومخالفا لماقدمہ نفسہ قبل ھذا بثلاثۃ اسطران من سجد علی وجہ یصیر آثما مرتکبا للکبیرۃ۔۔۔۔اھ فلیتنبہ ۱۲ منہ۔
واطلقوا کماھو مفاد اطلاق الواقعات الصورۃ المقابلۃ لسجود التحیۃ مستند الی نزع دقیق وھو ان السجود ظاھرا لعبادۃفاذا اطلقوا کان الظاھر طلب الکفر فکیف اذا رضوا علی العبادۃفان فعل کان آتیا بما ھو کفر صورۃ اذ لاحقیقۃ مع الاکراہ مادام قلبہ مطمئنا بالایمان فالافضل ان یصبر واذا صرحوا بطلب سجود التحیۃ ولیس بکفر لم یکن الاکراہ علی الکفر فان فعل لم یات بالکفر معنی ولا صورۃ فالافضل حفظ المھجۃ واما علی طریقۃ ھؤلاء الذین ترکوا الصورۃ الاخیرۃومثلھم نص الاصل وغیرہ السبعۃ الباقین۔
فاقول:ومنزوعان الاول ان السجدۃ کفر مطلقا لکن لاکفر حقیقۃ مع الاکراہ فانہ صورۃ کفرفالافضل ان یأتی بما مطلقاوالثانی ان لاکفر الا سجود العبادۃ ومعلوم ان المکرہ المطمئن قبلہ بالایمان لاینویھا۔فلا یکون کفرا حقیقۃ غیر ان السجدۃ کیف کانت ولو بنیۃ التحیۃ او بدون نیۃ انما تقع علی صورۃ کفر اذلا فرق فی الصورۃ ھھنا وبین سجود العبادۃفالافضل ان لایأتی بھا مطلقا والی ھذا النزع الثانی ذھب الامام صاحب الخلاصۃ ثم البزازی اذ جعلا ھذا المسألۃ فی اصل الفتاوی مؤیدہالان سجود التحیۃ لیس بکفرھکذا ینبغی ان یفھم کلمات العلماء الکرام والحمدﷲ ولی الانعام ۱۲ منہ۔
ص ۴۷۲نص ۱۰۰فصل اول
۱۔لفظہ فی القہستانی یکرہ الانحناء ای قریب الرکوع کالسجود اھ
اقول:لیس فی القہستانی"لفظۃ یکرہ"انمانصہ مااسمعنك ثم تاویلہ انہ تشبہ الانحناء بالسجود کما قالالمنقول عنہ انہ کالسجود لا فی الحکمفیکون غلطا فی الحوالۃ۔ومخالفا لماقدمہ نفسہ قبل ھذا بثلاثۃ اسطران من سجد علی وجہ یصیر آثما مرتکبا للکبیرۃ۔۔۔۔اھ فلیتنبہ ۱۲ منہ۔
ص ۴۷۴نص ۱۱۹ فصل اول
۱۔وقع بعدہ فی الجمع مانصہ وفی القھستانی یکرہ عندالطبرانی لاعند ابی یوسف۔۔۔۔۔اھ۔
کتبت علیہ اقولرحم اﷲ الشارحوقع منہ سبق نظرانما نص القہستانیوفی المحیط انہ بکر الانحناء للسلطان وغیرہ انتھت المسئلۃ الی ھھنا[ثم شرع فی مسئلۃ المتن وعناقہ فی ازار واحد فشرحہ بقولہ [و] یکرہ عند الطرفین لاعند ابی یوسف [عناقہ] الخ وقد قدر المشارح نفسہ ومتنہ قبل ھذا باسطر اذاقالا [ یکرہ ان ازار بلا قمیص عند الطرفین [ و عند ابی یوسف لایکرہ] اھ فسبحان من لایزل ولا ینسی ۱۲ منہ]
ص ۵۰۴نص ۹۱ فصل دوم
۱۹۔بکر اگر مصنف سیف النقی جیسا ہے تو رجوع ناممکن"یمرقون من الدین کما یمرق الھم من الرمیۃ ثم لایعودون"اور اگر وہی صاحب ہیں جن کے نام سے یہ تحریر شائع ہوئی تو وہ صوفی بننا چاہتے ہیں اور صوفی فورا رجوع الی الحق کرتا ہے۔کہ وہ نفس کابندہ نہیں ہوتا۔ عجب نہیں کہ بنگاہ انصاف اس رسالہ کو دیکھ کر اپنے قول سے توبہ اور سجدہ غیر کی تحریم شائع کریں۔واﷲ الھادی ۱۲ منہ
__________________
۱۔وقع بعدہ فی الجمع مانصہ وفی القھستانی یکرہ عندالطبرانی لاعند ابی یوسف۔۔۔۔۔اھ۔
کتبت علیہ اقولرحم اﷲ الشارحوقع منہ سبق نظرانما نص القہستانیوفی المحیط انہ بکر الانحناء للسلطان وغیرہ انتھت المسئلۃ الی ھھنا[ثم شرع فی مسئلۃ المتن وعناقہ فی ازار واحد فشرحہ بقولہ [و] یکرہ عند الطرفین لاعند ابی یوسف [عناقہ] الخ وقد قدر المشارح نفسہ ومتنہ قبل ھذا باسطر اذاقالا [ یکرہ ان ازار بلا قمیص عند الطرفین [ و عند ابی یوسف لایکرہ] اھ فسبحان من لایزل ولا ینسی ۱۲ منہ]
ص ۵۰۴نص ۹۱ فصل دوم
۱۹۔بکر اگر مصنف سیف النقی جیسا ہے تو رجوع ناممکن"یمرقون من الدین کما یمرق الھم من الرمیۃ ثم لایعودون"اور اگر وہی صاحب ہیں جن کے نام سے یہ تحریر شائع ہوئی تو وہ صوفی بننا چاہتے ہیں اور صوفی فورا رجوع الی الحق کرتا ہے۔کہ وہ نفس کابندہ نہیں ہوتا۔ عجب نہیں کہ بنگاہ انصاف اس رسالہ کو دیکھ کر اپنے قول سے توبہ اور سجدہ غیر کی تحریم شائع کریں۔واﷲ الھادی ۱۲ منہ
__________________
مسئلہ ۱۸۷:از مرآد آباد مدرسہ اہلسنت باز ار دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود صاحب بنگالی قادری برکاتی رضوی طالبعلم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ایك شخص کو اس کے مریدین سجدہ کرتے ہیں اس سے دریافت کیا گیا کہ آپ مریدین کو سجدہ سے منع نہیں کرتے۔انھوں نے جواب دیا کہ میں مریدون کو منع بھی نہیں کرتا اور حکم بھی نہیں کرتا۔ان کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ شخص بہت خطا پر ہے۔اس پر فرض ہے کہ مریدوں کو منع کرے۔اور مریدوں پرفرض ہے کہ اس فعل حرام سے بازآئیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸:از پوسٹ آفس سراج گنج ضلع پاپنہ مرسلہ مولوی محمد عبدالقادر صاحب مدرس اول مدرسہ جونپوری ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
فریق اول مولوی محمد سالم جونپوری فریق دوم مولوی عبدالباری نواکھالوی
بتاریخ ۳۰ دسمبر ۱۹۱۷ء تھانہ قاضی پور مضافات سراج گنج پاپنہ فریق اول وثانی کا بموجودگی مجسٹریٹ وافسرپولیس سب ڈویژن سراج گنج مباحثہ ہوا جس میں میں منصف مانا گیا تھا فریق اول کا یہ بیان ہے کہ سجدہ تحیت انحناء ووضع الجبہہ کے طورپر اور مثل رکوع کے ہر طرح سے کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور غناء و رقص اور وجد اور تالیاں بجانا اور زور سے چلانا اور شور کرنا اور تواجد یعنی اپنے کو زبردستی وجد میں لانا جلسہ میں عوام کو مجتمع کرکے چنانچہ صوفیائے زمانہ حال کیا کرتے ہیں جس میں لوگوں کو اور بچے بوڑھے اور مریضوں کو ایذا پہنچے اور ان کی نیند میں خلل ہو بالکل ناجائز ہے اس دعوی کے دلائل اس فریق نے ذیل میں پیش کئے:
(اول)شرائع سابقہ میں سجدہ تحیت جائز تھا اور ہماری شریعت میں منسوخ ہوگیا بدلیل آیۃ قرآنی:
"ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون﴿۸۰﴾ " اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور انبیاء کرام کو رب بنالو اس کے بعد کہ تم مسلمان ہوگئے ہو۔(ت)
یہ آیت خاص سجدہ تحیت کے بارے میں ناز ل ہوئی ہے کما اخرج عبدالرزاق فی تفسیرہ(جیسا کہ
ایك شخص کو اس کے مریدین سجدہ کرتے ہیں اس سے دریافت کیا گیا کہ آپ مریدین کو سجدہ سے منع نہیں کرتے۔انھوں نے جواب دیا کہ میں مریدون کو منع بھی نہیں کرتا اور حکم بھی نہیں کرتا۔ان کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ شخص بہت خطا پر ہے۔اس پر فرض ہے کہ مریدوں کو منع کرے۔اور مریدوں پرفرض ہے کہ اس فعل حرام سے بازآئیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸:از پوسٹ آفس سراج گنج ضلع پاپنہ مرسلہ مولوی محمد عبدالقادر صاحب مدرس اول مدرسہ جونپوری ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
فریق اول مولوی محمد سالم جونپوری فریق دوم مولوی عبدالباری نواکھالوی
بتاریخ ۳۰ دسمبر ۱۹۱۷ء تھانہ قاضی پور مضافات سراج گنج پاپنہ فریق اول وثانی کا بموجودگی مجسٹریٹ وافسرپولیس سب ڈویژن سراج گنج مباحثہ ہوا جس میں میں منصف مانا گیا تھا فریق اول کا یہ بیان ہے کہ سجدہ تحیت انحناء ووضع الجبہہ کے طورپر اور مثل رکوع کے ہر طرح سے کرنا حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور غناء و رقص اور وجد اور تالیاں بجانا اور زور سے چلانا اور شور کرنا اور تواجد یعنی اپنے کو زبردستی وجد میں لانا جلسہ میں عوام کو مجتمع کرکے چنانچہ صوفیائے زمانہ حال کیا کرتے ہیں جس میں لوگوں کو اور بچے بوڑھے اور مریضوں کو ایذا پہنچے اور ان کی نیند میں خلل ہو بالکل ناجائز ہے اس دعوی کے دلائل اس فریق نے ذیل میں پیش کئے:
(اول)شرائع سابقہ میں سجدہ تحیت جائز تھا اور ہماری شریعت میں منسوخ ہوگیا بدلیل آیۃ قرآنی:
"ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون﴿۸۰﴾ " اور نہ تمھیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور انبیاء کرام کو رب بنالو اس کے بعد کہ تم مسلمان ہوگئے ہو۔(ت)
یہ آیت خاص سجدہ تحیت کے بارے میں ناز ل ہوئی ہے کما اخرج عبدالرزاق فی تفسیرہ(جیسا کہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۸۰
عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اس کی تخریج فرمائی۔ت)ایسا ہی تفسیر بیضاوی وتفسیر کبیر وابوالسعود و تفسیر مدارك میں ہے۔
(دوسری)حدیث لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا (اگر سجدہ کسی کے لئے جائز ہوتگا تو میں عورت(بیوی)کو حکم دیتا کہ شوہر کے لئے سجدہ کرے۔ت)کی ہے کیونکہ سجدہ تحیت کی ممانعت کی حدیث متواتر ہے جیسا کہ تفسیر عزیز وفتاوی بزازیہ میں ہے۔اور ردالمحتار میں ہے:فیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ (اس میں یہ دلیل ہے کہ کتاب اللہ(یعنی کسی آیت قرآنی)کا نسخ حدیث پاك سے جائز اور درست ہے۔ت)
(سوم)یہ کہ ہم مقلد ہیں ہم پر اﷲ صاحب کی تقلید واجب ہے اور تمام فقہاء وائمہ نے سجدہ تحیت وغنا و رقص کو حرام لکھا ہے اور اس پر امت کا اجماع بھی ہوگیا ہے اور دیگر دلائل اس پر فریق اقول کے کتب ذیل میں ہیں نظم الدر ومؤلفہ مولانا عبدالحق مہاجر مکیمکتوب امام ربانی فتاوی شاہ عبدالعزیز صاحب مرحومفتاوی قاضی خاںعالمگیریکفایہ وعینی شرح ہدیا۔شامیاشعۃ اللمعاتترمذیعینی شرح بخاریتفسیر کبیرجلالینخازنبیضاویسراج المنیرکشافابوالسعوداحمدیتفسیر محی الدین ابن عربی وغیرہا اور فریق ثانی کایہ دعوی ہے کہ تعظیم کے واسطے سجدہ تحیت کرنا ور اس میں گرنا اور جھکنا جائز ومباح ہے بشریکہ نمازکی ہیت پر نہ ہو اور نہ پیشانی زمین پر لگائے اور باطہارت نہ ہو اور ہر طرح سے جائز ہے بلکہ بشرطیکہ اس میں ہجو مسلم وہجو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کلمات کفریا وصف شراب ومزنیہ امرونہرہے اور اس میں ترغیب الی العبادۃ اور ایقاظ عن الغفلۃ ہوا ور سامع صدق دل اور صدق نیت سے سنے اور قوال بھی برعایت شرائط مذکورہ گائے اور اضطراری حالت میں رقص ووجد وتواجد یعنی بہ تکلف اپنے کو وجد میں لانا سچی نیت سے محمود ہے ورنہ مذموم ہے اور غلبہ اضطرار میں تالیاں بجانا بھی جائز ہے جواز سجدہ تحیت میں اس فریق کے یہ دلائل ہیں:
(اول)آیت:" و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا"الخ (اور یادکرو جب ہم نے(بطور حکم)فرشتوں سے فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو ت سب نے(سوائے شیطان)انھیں سجدہ کیا الخ۔ت)
(دوسری)حدیث لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا (اگر سجدہ کسی کے لئے جائز ہوتگا تو میں عورت(بیوی)کو حکم دیتا کہ شوہر کے لئے سجدہ کرے۔ت)کی ہے کیونکہ سجدہ تحیت کی ممانعت کی حدیث متواتر ہے جیسا کہ تفسیر عزیز وفتاوی بزازیہ میں ہے۔اور ردالمحتار میں ہے:فیہ دلیل علی نسخ الکتاب بالسنۃ (اس میں یہ دلیل ہے کہ کتاب اللہ(یعنی کسی آیت قرآنی)کا نسخ حدیث پاك سے جائز اور درست ہے۔ت)
(سوم)یہ کہ ہم مقلد ہیں ہم پر اﷲ صاحب کی تقلید واجب ہے اور تمام فقہاء وائمہ نے سجدہ تحیت وغنا و رقص کو حرام لکھا ہے اور اس پر امت کا اجماع بھی ہوگیا ہے اور دیگر دلائل اس پر فریق اقول کے کتب ذیل میں ہیں نظم الدر ومؤلفہ مولانا عبدالحق مہاجر مکیمکتوب امام ربانی فتاوی شاہ عبدالعزیز صاحب مرحومفتاوی قاضی خاںعالمگیریکفایہ وعینی شرح ہدیا۔شامیاشعۃ اللمعاتترمذیعینی شرح بخاریتفسیر کبیرجلالینخازنبیضاویسراج المنیرکشافابوالسعوداحمدیتفسیر محی الدین ابن عربی وغیرہا اور فریق ثانی کایہ دعوی ہے کہ تعظیم کے واسطے سجدہ تحیت کرنا ور اس میں گرنا اور جھکنا جائز ومباح ہے بشریکہ نمازکی ہیت پر نہ ہو اور نہ پیشانی زمین پر لگائے اور باطہارت نہ ہو اور ہر طرح سے جائز ہے بلکہ بشرطیکہ اس میں ہجو مسلم وہجو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا کلمات کفریا وصف شراب ومزنیہ امرونہرہے اور اس میں ترغیب الی العبادۃ اور ایقاظ عن الغفلۃ ہوا ور سامع صدق دل اور صدق نیت سے سنے اور قوال بھی برعایت شرائط مذکورہ گائے اور اضطراری حالت میں رقص ووجد وتواجد یعنی بہ تکلف اپنے کو وجد میں لانا سچی نیت سے محمود ہے ورنہ مذموم ہے اور غلبہ اضطرار میں تالیاں بجانا بھی جائز ہے جواز سجدہ تحیت میں اس فریق کے یہ دلائل ہیں:
(اول)آیت:" و اذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا"الخ (اور یادکرو جب ہم نے(بطور حکم)فرشتوں سے فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو ت سب نے(سوائے شیطان)انھیں سجدہ کیا الخ۔ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱ /۱۳۸،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶
القرآن الکریم ۲ /۳۴
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۶
القرآن الکریم ۲ /۳۴
(دوم)الاصل فی الاشیاء الاباحۃ (تمام اشیاء میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں۔(بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو)
(سوم)شرائع من قبلنا حجۃ لنا مالم یظھر لنا ناسخ فی شرعنا (ہم سے پہلی شریعتوں ہمارے لئے دلیل جب تك ہماری شریعت میں ان کا کوئی ناسخ ظاہر نہ ہو۔ت)
(چہارم)حدیث رؤیا ابن خزیمہ اور ان کا رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیشانی مبارك پر سجدہ کرنا اور دیگر دلائل کتب ذیل ہے:تفسیر کبیرابن مسعودتفسیر بیضاویواحمدی وحسینی وکشاف و مدارك وعزیزی وتفسیر کلائی عبدالکریم گجراتی جس کا ذکر فتاوی عزیزی میں ہے اور عالمگیری قاضی خانمسلم الثبوت وتنقیح تلویح وغیرہامیں چونکہ اس میں منصف اور ثالث قرار دیا گیا تھا لہذا دونوں فریق کے دلائل میں بلارعایت میں نے غور کیا بیشك ملائکہ نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو اور یعقوب علیہ السلام اوران کے بیٹوں نے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو بقول راجح سجدہ تحیت ہی کیا تھا اس وقت سجدہ تحیت جائز تھا اب منسوخ ہوگیا اور بجائے سجدہ تحیت کے اﷲ تعالی نے ہم کو سلام عطا فرمایا ہے جیسا کہ فرماتاہے۔
" فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللہ مبرکۃ طیبۃ " الخ۔ جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو(وہاں)اپنے لوگوں کو سلامتی کی دعا دیاکرو وہ دعا جو اﷲ تعالی کی طرف بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے الخ(یعنی گھروالوں کو سلام کیا کرو)۔ت)
معلوم ہوا کہ اس امت کی تحیت سلام ہے اور اس کی مؤید آیت " " و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا (جب تمھیں لفظ دعا سے سلام کیا جائے تو اس سے عمدہ الفاظ سے سلام کرو یا کم از کم وہی الفاظ لوٹا دو۔ت)بھی ہے اس آیت سے تحیت کا جواب دینا فرض ہوا پس اگر تحیت سے یہاں سجدہ تحیت مراد ہو تو سامع کو بھی سجدہ تحیت جوابا کرنا فرض ہوگا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں اورآیت "ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا " الخ(اور وہ تمھیں ہر گز یہ حکم نہ دے گا کہ فرشتوں اور
(سوم)شرائع من قبلنا حجۃ لنا مالم یظھر لنا ناسخ فی شرعنا (ہم سے پہلی شریعتوں ہمارے لئے دلیل جب تك ہماری شریعت میں ان کا کوئی ناسخ ظاہر نہ ہو۔ت)
(چہارم)حدیث رؤیا ابن خزیمہ اور ان کا رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیشانی مبارك پر سجدہ کرنا اور دیگر دلائل کتب ذیل ہے:تفسیر کبیرابن مسعودتفسیر بیضاویواحمدی وحسینی وکشاف و مدارك وعزیزی وتفسیر کلائی عبدالکریم گجراتی جس کا ذکر فتاوی عزیزی میں ہے اور عالمگیری قاضی خانمسلم الثبوت وتنقیح تلویح وغیرہامیں چونکہ اس میں منصف اور ثالث قرار دیا گیا تھا لہذا دونوں فریق کے دلائل میں بلارعایت میں نے غور کیا بیشك ملائکہ نے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو اور یعقوب علیہ السلام اوران کے بیٹوں نے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو بقول راجح سجدہ تحیت ہی کیا تھا اس وقت سجدہ تحیت جائز تھا اب منسوخ ہوگیا اور بجائے سجدہ تحیت کے اﷲ تعالی نے ہم کو سلام عطا فرمایا ہے جیسا کہ فرماتاہے۔
" فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عند اللہ مبرکۃ طیبۃ " الخ۔ جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو(وہاں)اپنے لوگوں کو سلامتی کی دعا دیاکرو وہ دعا جو اﷲ تعالی کی طرف بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے الخ(یعنی گھروالوں کو سلام کیا کرو)۔ت)
معلوم ہوا کہ اس امت کی تحیت سلام ہے اور اس کی مؤید آیت " " و اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منہا او ردوہا (جب تمھیں لفظ دعا سے سلام کیا جائے تو اس سے عمدہ الفاظ سے سلام کرو یا کم از کم وہی الفاظ لوٹا دو۔ت)بھی ہے اس آیت سے تحیت کا جواب دینا فرض ہوا پس اگر تحیت سے یہاں سجدہ تحیت مراد ہو تو سامع کو بھی سجدہ تحیت جوابا کرنا فرض ہوگا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں اورآیت "ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبین اربابا " الخ(اور وہ تمھیں ہر گز یہ حکم نہ دے گا کہ فرشتوں اور
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثالثۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۸۷
اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۳۲،مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ نحن والنبی علیہ السلام متعبدون شرائع من قبلنا مطبع انصاری دہلی ص۲۰۷
القرآن الکریم ۲۴ /۶۱
القرآن الکریم ۴ /۷۶
القرآن الکریم ۳ /۸۰
اصول البزدوی باب شرائع من قبلنا قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۳۲،مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ نحن والنبی علیہ السلام متعبدون شرائع من قبلنا مطبع انصاری دہلی ص۲۰۷
القرآن الکریم ۲۴ /۶۱
القرآن الکریم ۴ /۷۶
القرآن الکریم ۳ /۸۰
نبیوں کو"رب"بنالو الخ۔ت) کی ذیل میں مفسرین جیسے تفیسر کبیرتفسیر ابوالسعودتفسیر کشاف ومدارك وغیرہم لکھتے ہیں کہ یہ آیت سجدہ تحیت کی ممانعت میں نازل ہوئی ہے۔
کمااخرج عبدالرزاق فی تفسیرہ واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن ابن جریج و عن الحسن قال بلغنی ان رجلا قال یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نسلم علیك کما یسلم بعضنا علی بعض افلا نسجدلك قال لاولکن اکرموا نبیکم واعرفوا الحق لاھلہ فانہ لاینبغی ان یسجد لاحد من دون اﷲ فانزل اﷲ تعالی ماکان لبشر الخ واخرج عبد بن حمید عن الحسن مثلہ۔ جیسا کہ عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اس کی تخریج کیاور ابن جریر اور ابن حاتم نے ابن جریج اور خواجہ حسن بصری سے تخریج کیفرمایا مجھے یہ اطلاع پہنچی کہ ایك شخص نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی:یا رسول اللہ(علیك الصلوۃ و السلام)ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جس طرح ہم ایك دوسرے کو سلام کرتے ہیں کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ارشاد فرمایا:نہیںہاں البتہ اپنے نبی کی عزت وتوقیر کرو۔اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچانو کیونکر کسی کے لئے یہ زیبا اور لائق نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرےتو پھر اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ماکان لبشر الخ۔اورعبد بن حمید نے حضرت حسن سے اسی طرح تخریج فرمائی۔(ت)
علاوہ ازیں تمام کتب احادیث اور کتب فقہ میں اس کی ممانعت بھری پڑی ہے کما لایخفی علی اھل العلم(جیسا کہ اہل علم پر پوشیدہ نہیں۔ت)اور غنا ووجد تواجد ورقص وتالیا بجانا گوان میں بعض امور جیسے غنا ووجد بعض صوفیہ نے رکیك اور کمزور دلائل سے جواز ثابت کیا ہے مگر وہ بالکل لاشیئ ہے کیونکہ صوفیہ کے اقوال وافعال شریعت ومذہب میں حجت نہیں ہوسکتے ولنعم ماقال شاہ ولی اﷲ رحمہ اﷲ تعالی(حضرت شاہ ولی اﷲ رحمہ اﷲ تعالی کیا خوب فرمایا۔ت)
وجود صوفیہ راغنیمت داں وقول وفعل ایشاں وقعتی ندارد۔ صوفیائے کرام کے وجود کو غنیمت جانئے لیکن ان کا قول اور فعل(کتاب وسنت کے مقابلہ میں)اپنے اندر کوئی قدر وقعت نہیں رکھتا(لہذا جحت اور دلیل وہی ہے جو اﷲ تعالی اور اس کا رسول فرمائیں۔ت)
کمااخرج عبدالرزاق فی تفسیرہ واخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن ابن جریج و عن الحسن قال بلغنی ان رجلا قال یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نسلم علیك کما یسلم بعضنا علی بعض افلا نسجدلك قال لاولکن اکرموا نبیکم واعرفوا الحق لاھلہ فانہ لاینبغی ان یسجد لاحد من دون اﷲ فانزل اﷲ تعالی ماکان لبشر الخ واخرج عبد بن حمید عن الحسن مثلہ۔ جیسا کہ عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں اس کی تخریج کیاور ابن جریر اور ابن حاتم نے ابن جریج اور خواجہ حسن بصری سے تخریج کیفرمایا مجھے یہ اطلاع پہنچی کہ ایك شخص نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی:یا رسول اللہ(علیك الصلوۃ و السلام)ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جس طرح ہم ایك دوسرے کو سلام کرتے ہیں کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں ارشاد فرمایا:نہیںہاں البتہ اپنے نبی کی عزت وتوقیر کرو۔اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچانو کیونکر کسی کے لئے یہ زیبا اور لائق نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرےتو پھر اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ماکان لبشر الخ۔اورعبد بن حمید نے حضرت حسن سے اسی طرح تخریج فرمائی۔(ت)
علاوہ ازیں تمام کتب احادیث اور کتب فقہ میں اس کی ممانعت بھری پڑی ہے کما لایخفی علی اھل العلم(جیسا کہ اہل علم پر پوشیدہ نہیں۔ت)اور غنا ووجد تواجد ورقص وتالیا بجانا گوان میں بعض امور جیسے غنا ووجد بعض صوفیہ نے رکیك اور کمزور دلائل سے جواز ثابت کیا ہے مگر وہ بالکل لاشیئ ہے کیونکہ صوفیہ کے اقوال وافعال شریعت ومذہب میں حجت نہیں ہوسکتے ولنعم ماقال شاہ ولی اﷲ رحمہ اﷲ تعالی(حضرت شاہ ولی اﷲ رحمہ اﷲ تعالی کیا خوب فرمایا۔ت)
وجود صوفیہ راغنیمت داں وقول وفعل ایشاں وقعتی ندارد۔ صوفیائے کرام کے وجود کو غنیمت جانئے لیکن ان کا قول اور فعل(کتاب وسنت کے مقابلہ میں)اپنے اندر کوئی قدر وقعت نہیں رکھتا(لہذا جحت اور دلیل وہی ہے جو اﷲ تعالی اور اس کا رسول فرمائیں۔ت)
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن تحت آیۃ ۳ /۷۹ قم ایران ۲ /۴۴،مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) ۸ /۱۱۷، الکشاف ۱ /۴۴۰،مدارك التنزیل ۱/ ۱۶۶
اور تفسیر احمدی وعوارف وغیرہ میں لکھا ہے کہ جنید رحمہ اﷲ تعالی اخر عمر میں غنا سے توبہ کرلی تھی۔قرآن مجید میں اﷲ پاك فرماتاہے:
"و استفزز من استطعت منہم بصوتک" اور ان میں سے جس پر تو قابو پاسکتا ہے اسے اپنی آواز کے ذریعے(راہ حق سے)پھسلا دے۔(ت)
تفسیر احمدی میں ہے:
ذکر فی الفتاوی العمادیۃ والعوارف قال مجاھد انھا تدل علی حرمۃ التغنی وذلك لان قولہ استفزز خطاب لابلیس علیہ اللعنۃ ومعناہ حرك من استطعت من بنی آدم بصوتك وھو صوت التغنی والمزامیر ۔ فتاوی عمادیہ اور عوارف میں ذکر کیا گیا کہ امام مجاہد نے فرمایا:آیۃ مذکورہ گانا بجانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔اور یہ اس لئے کہ اﷲ تعالی کا ارشاد:"استفزز"ابلیس علیہ اللعنۃ کو خطاب ہے اور اس کا مفھوم یہ ہے اولاد آدم میں سے جس پر تو طاقت پائے(اور اس پر تیرا بس چلے)اسے اپنی آواز سے حرکت میں لااور وہ گانے اور اس کے ساز کی آواز ہے۔(ت)
اور تفسیر احمدی میں تحت آیت "و من الناس من یشتری لہو الحدیث" (اور لوگوں میں کوئی وہ ہے جو کھیل کود کی باتوں کا خریدار اور متلاشی رہتاہے۔ت)میں ہے:
انھا نزلت فی نضربن الحارث اشتری کتب الاعاجم وکان یحدث بھا قریشا وقیل کان یشتری الفتیات المغنیات الخ وانما قلنا تدل علی حرمۃ الغناء لان اﷲ تعالی قد ذم من یشتغل بھوالحدیث واوعدہ بعذاب مھین و (ملاجیون رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا)آیۃ مذکورہ بالانضربن حارث کے حق میں نازل ہوئی کہ جس نے اہل عجم کی کتابیں خریدیں اور قریش کو پڑھ کر سناتا او یہ بھی کہا گیا کہ وہ گانے والی لونڈیاں خریدا کرتا تھا اور یہ جو ہم نے کہا کہ آیۃ مذکورہ گانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ اﷲ تعالی نے ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی جو
"و استفزز من استطعت منہم بصوتک" اور ان میں سے جس پر تو قابو پاسکتا ہے اسے اپنی آواز کے ذریعے(راہ حق سے)پھسلا دے۔(ت)
تفسیر احمدی میں ہے:
ذکر فی الفتاوی العمادیۃ والعوارف قال مجاھد انھا تدل علی حرمۃ التغنی وذلك لان قولہ استفزز خطاب لابلیس علیہ اللعنۃ ومعناہ حرك من استطعت من بنی آدم بصوتك وھو صوت التغنی والمزامیر ۔ فتاوی عمادیہ اور عوارف میں ذکر کیا گیا کہ امام مجاہد نے فرمایا:آیۃ مذکورہ گانا بجانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔اور یہ اس لئے کہ اﷲ تعالی کا ارشاد:"استفزز"ابلیس علیہ اللعنۃ کو خطاب ہے اور اس کا مفھوم یہ ہے اولاد آدم میں سے جس پر تو طاقت پائے(اور اس پر تیرا بس چلے)اسے اپنی آواز سے حرکت میں لااور وہ گانے اور اس کے ساز کی آواز ہے۔(ت)
اور تفسیر احمدی میں تحت آیت "و من الناس من یشتری لہو الحدیث" (اور لوگوں میں کوئی وہ ہے جو کھیل کود کی باتوں کا خریدار اور متلاشی رہتاہے۔ت)میں ہے:
انھا نزلت فی نضربن الحارث اشتری کتب الاعاجم وکان یحدث بھا قریشا وقیل کان یشتری الفتیات المغنیات الخ وانما قلنا تدل علی حرمۃ الغناء لان اﷲ تعالی قد ذم من یشتغل بھوالحدیث واوعدہ بعذاب مھین و (ملاجیون رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا)آیۃ مذکورہ بالانضربن حارث کے حق میں نازل ہوئی کہ جس نے اہل عجم کی کتابیں خریدیں اور قریش کو پڑھ کر سناتا او یہ بھی کہا گیا کہ وہ گانے والی لونڈیاں خریدا کرتا تھا اور یہ جو ہم نے کہا کہ آیۃ مذکورہ گانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ اﷲ تعالی نے ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی جو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۶۴
التفسیرات احمدیہ تحت آیۃ ۳۱ /۶ المطبعۃ الکریمیۃ دہلی ص۶۰۰
ا لقرآن الکریم ۳۱ / ۶
التفسیرات احمدیہ تحت آیۃ ۳۱ /۶ المطبعۃ الکریمیۃ دہلی ص۶۰۰
ا لقرآن الکریم ۳۱ / ۶
لھو الحدیث وان کان ظاھرہ عاما فی کل مایلھی عما یعنی الا انہ ذکر فی الفتاوی العمادیۃ وکذا فی العوارف وغیرہ ان ابن عباس وابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما کانا یحلفان اناقد سمعنا عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان المراد بہ التغنی و یوافقہ الروایۃ الثانیۃ من النزول فیکون دلیلا علی حرمتہ اھ وقال الطبری واجمع علماء الامصار علی کراھۃ الغناء والمنع منہ وانما فارق الجماعۃ۔ کھیل کی باتوں میں شغل رکھتے ہیں اور انھیں تو ہین آمیز عذاب سے ڈرایااور کھیل کی باتیں اگر چہ بظاہر عام ہیں جوہر اس چیز کو شامل ہیں جو انسان کو فائدہ بخش کام سے غافل کردے لیکن فتاوی عمادیہ اور اسی طرح"عوارف"وغیرہ میں مذکور ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما دونوں قسم کھا کر کہتے تھے کہ ہم نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اس سے گانابجانا مراد ہے اور شان نزول کی دوسری روایت اس کی موافت کرتی ہے لہذا یہ حرمت غنا پر دلیل ہے اھ۔اور امام طبرینے فرمایا:تمام شہروں کے علماء کرام کا گانے کی کراہت (ناپسندیدگی)اور ممانعت پر اجماع اور اتفاق ہے۔(ت)
ابراہیم بن سعد وعبداﷲ عنبری جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس عمرو بن قرۃ ایا اور اس نے غناء فاحشہ کی رخصت چاہی حضرت نے جازت نہ دی علاوہ بریں تمام فقہائے اور صوفیائے کرام نے غناو رقص وغیرہ سے منع فرمایا ہے۔مضمرات میں ہے:
من اباح الغناء یکون فاسقا ۔ جو گانے بجانے کو مباح قرار دے تو وہ فاسق ہے۔(ت)
اور شیخ شہاب الدین سہروری عوارف میں فرماتے ہیں:
سماع الغناء من الذنوب الخ۔ گانا سننا گناہ ہے۔الخ(ت)
اور چونکہ غنا ورقص وغیرہ خصوصا اس زمانہ فتنہ وفساد میں جیسا کہ صوفی لوگ مجلس قائم کرکے کرتے ہیں عوام وجہال
ابراہیم بن سعد وعبداﷲ عنبری جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس عمرو بن قرۃ ایا اور اس نے غناء فاحشہ کی رخصت چاہی حضرت نے جازت نہ دی علاوہ بریں تمام فقہائے اور صوفیائے کرام نے غناو رقص وغیرہ سے منع فرمایا ہے۔مضمرات میں ہے:
من اباح الغناء یکون فاسقا ۔ جو گانے بجانے کو مباح قرار دے تو وہ فاسق ہے۔(ت)
اور شیخ شہاب الدین سہروری عوارف میں فرماتے ہیں:
سماع الغناء من الذنوب الخ۔ گانا سننا گناہ ہے۔الخ(ت)
اور چونکہ غنا ورقص وغیرہ خصوصا اس زمانہ فتنہ وفساد میں جیسا کہ صوفی لوگ مجلس قائم کرکے کرتے ہیں عوام وجہال
حوالہ / References
التفسیرات احمدیہ تحت آیۃ ۳۱/ ۶ المطبعۃ الکریمۃ دہلی ص۵۹۹۔۶۰۰
فتاوٰی جامع الفوائد بحوالہ المضمرات کتاب الکراھیۃ فصل فی الغناء مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۲۸
عوارف المعارف الباب الثالث والعشرون مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۱۱۴
فتاوٰی جامع الفوائد بحوالہ المضمرات کتاب الکراھیۃ فصل فی الغناء مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۲۸
عوارف المعارف الباب الثالث والعشرون مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۱۱۴
کے لئے سخت مضرت رساں وگمراہی ہے پھر اگر وجد یارقص میں ستر عورت کھل جائے تو حاضرین جلسہ بجائے نیکی حاصل کرنے کے گنہگار ہوجائیں گے۔
یہ کل وجوہات بالا کی طرف نظر کرکے میری یہی رائے ہے کہ سجدہ وتحیت ورقص وغناووجد وتواجد بالکل حرام وناجائز ہے۔پھر جیسا کہ آج کل کے صوفی گندم نما جو فروش جلسوں میں یا چند آدمی مل کر کرتے ہیں بالکل ناجائز ہے اور مرتکب ان امور مذکور کا گنہگار ہے۔اور جب ان کی حرمت کتاب وسنت وفقہ اواجماع امت سے ثابت ہے تو اس کے مستحل پر کفر کا خوف ہے کیونکہ ابونصر دبوسی قاضی ظہیر الدین خوارزمی سے روایت کرتے ہیں:
من سمع الغناء من المغنی اورای فعلا من الحرام فحسن ذلك باعتقاد اوبغیر اعتقاد یصیر مرتدا فی الحال بناء علی انہ ابطل فلایکون الشریعۃ ومن ابطل حکم الشریعۃ فلا یکون مؤمنا عند کل مجتہد ولایقبل اﷲ تعالی طاعۃ واحبط اﷲ کل حسنائہ الخ کما فی حاشیۃ جامع الفوائد۔ جس نے کسی گویے سے گانا سنا یا کوئی حرام فعل دیکھا اور اعتقاد یا بے اعتقاد اس کو اچھا سمجھا(اور اس کی تحسین کی)تو وہ فورا مرتد ہوجائے گا اس بناء پر کہ اس نے شرعی حکم کو باطل کیااورع جو شریعت کے حکم کو باطل کردے وہ کسی مجتہد کے نزدیك مومن نہیں ہوسکتااور اﷲ تعالی اس کی کوئی طاعت قبول نہیں فرماتا اور اﷲ تعالی اس کی ساری نیکیاں ضائر کردیتا ہے الخ۔جیسا کہ حاشیہ جامع الفوائد میں مذکور ہے۔(ت)
بناء علیہ میرے نزدیك فریق اول کا قول نہایت صحیح اور موافق قرآن وحدیث وفقہ مذہب اہلسنت وصوفیائے کرام ہے اور فریق ثانی کا قول قرآن وحدیث وفقہ جمہور صوفیہ کے بالکل خلاف ہے اور غیر صحیح یہ لوگ سخت غلطی اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ان کو ایسے امو رکے ارتکاب سے اجتناب وتوبہ کرنی چاہئے اور وہ دوسروں کو ایسے فعل ناجائز سے حتی الامکان روکیں۔وما علینا الا البلاغ۔
محمد عبدالقادر عفی عنہ مدرس اول مدرسہ منیر سراج گنج ضلع پاپنہ بنگال
الجواب:
بلاشبہ ہماری شریعت مطہرہ میں غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت حرام فرمایاتمام کتب اس کی تحریم سے مالامال ہیں۔شرائع من قبلنا اس وقت تك حجت ہیں کہ ہماری شریعت ممانعت نہ فرمائے اور منع کے
یہ کل وجوہات بالا کی طرف نظر کرکے میری یہی رائے ہے کہ سجدہ وتحیت ورقص وغناووجد وتواجد بالکل حرام وناجائز ہے۔پھر جیسا کہ آج کل کے صوفی گندم نما جو فروش جلسوں میں یا چند آدمی مل کر کرتے ہیں بالکل ناجائز ہے اور مرتکب ان امور مذکور کا گنہگار ہے۔اور جب ان کی حرمت کتاب وسنت وفقہ اواجماع امت سے ثابت ہے تو اس کے مستحل پر کفر کا خوف ہے کیونکہ ابونصر دبوسی قاضی ظہیر الدین خوارزمی سے روایت کرتے ہیں:
من سمع الغناء من المغنی اورای فعلا من الحرام فحسن ذلك باعتقاد اوبغیر اعتقاد یصیر مرتدا فی الحال بناء علی انہ ابطل فلایکون الشریعۃ ومن ابطل حکم الشریعۃ فلا یکون مؤمنا عند کل مجتہد ولایقبل اﷲ تعالی طاعۃ واحبط اﷲ کل حسنائہ الخ کما فی حاشیۃ جامع الفوائد۔ جس نے کسی گویے سے گانا سنا یا کوئی حرام فعل دیکھا اور اعتقاد یا بے اعتقاد اس کو اچھا سمجھا(اور اس کی تحسین کی)تو وہ فورا مرتد ہوجائے گا اس بناء پر کہ اس نے شرعی حکم کو باطل کیااورع جو شریعت کے حکم کو باطل کردے وہ کسی مجتہد کے نزدیك مومن نہیں ہوسکتااور اﷲ تعالی اس کی کوئی طاعت قبول نہیں فرماتا اور اﷲ تعالی اس کی ساری نیکیاں ضائر کردیتا ہے الخ۔جیسا کہ حاشیہ جامع الفوائد میں مذکور ہے۔(ت)
بناء علیہ میرے نزدیك فریق اول کا قول نہایت صحیح اور موافق قرآن وحدیث وفقہ مذہب اہلسنت وصوفیائے کرام ہے اور فریق ثانی کا قول قرآن وحدیث وفقہ جمہور صوفیہ کے بالکل خلاف ہے اور غیر صحیح یہ لوگ سخت غلطی اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ان کو ایسے امو رکے ارتکاب سے اجتناب وتوبہ کرنی چاہئے اور وہ دوسروں کو ایسے فعل ناجائز سے حتی الامکان روکیں۔وما علینا الا البلاغ۔
محمد عبدالقادر عفی عنہ مدرس اول مدرسہ منیر سراج گنج ضلع پاپنہ بنگال
الجواب:
بلاشبہ ہماری شریعت مطہرہ میں غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت حرام فرمایاتمام کتب اس کی تحریم سے مالامال ہیں۔شرائع من قبلنا اس وقت تك حجت ہیں کہ ہماری شریعت ممانعت نہ فرمائے اور منع کے
حوالہ / References
حاشیہ فتاوٰی جامع الفوائد کتاب الکراھیۃ فصل فی الغناء مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۲۸
بعداباحت سابقہ سے استدلال نہیں ہوسکتا۔جیسے شراب وغیرہاصل اشیاء میں ضرور اباحت ہے مگر بعد ممنوع شرع اباحت نہیں رہ سکتی۔
قال اﷲ تعالی"وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " ۔ اﷲ تعالی جو کچھ تمھیں رسول گرامی عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں رسول منع فرمائیں اس سے باز رہو۔(ت)
ان صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ کا پیشانی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سجدہ کرنا حضور کو سجدہ تحیت نہ تھا بلکہ اﷲ عزوجل کو سجدہ عبادت اور پیشانی اقدس اس وقت مسجد تھی یعنی موضع سجودانھوں نے اسی طرح خواب دیکھا تھا اس کی تصدیق کے لئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی کہ پیشانی انور پر سر رکھ کر اﷲ عزوجل کو سجدہ کرلیں۔فریق ثانے نے سجدہ تحیت کو جائز کہا ہے جب پیشانی زمین کو لگائیںہیئت نماز پر نہ ہوپیشانی زمین پر نہ لگےباطہارت نہ ہو یہ صریح تناقص ہے جب پیشانی زمین کو نہ لگی سجدہ ہی نہ ہوگا اور باطھارت نی ہونے کی قید عجیب ہے معظمان دینی کو وہ کون سی تعظیم ہے جس میں محدث ہونا شرط ہے شاید مقصود یہ ہو کہ سجدہ نماز کی طرح طہارت اس میں ضروری نجانیںطرفہ یہ کہ قدمبوسی میں بھی شرط لگائی حالانکہ معظمان دینی کی قدمبوسی بلا شبہ بحال طہارت بھی جائز ہے بلکہ یہی مستحب ہے کہ اس میں تعظیم زائد ہےفتح القدیر میں فرمایا:
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۔ جس چیز کا ادب اور تعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ اچھی ہے۔(ت)
قدمبوسی سنت سے ثابت اور اس میں احادیث کثیرہ واردکما بینا فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ت)انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے۔مقصود ووسیلہاگر خود نفس انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا قدمبوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے۔دوسری قسم کہ نفس انحناء سے تعظیم مقصود ہو یہ اگر رکوع تك ہے ناجائز وگناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں۔امام عبدالعغنی نابلسی قدس سرہ
قال اﷲ تعالی"وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " ۔ اﷲ تعالی جو کچھ تمھیں رسول گرامی عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں رسول منع فرمائیں اس سے باز رہو۔(ت)
ان صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ کا پیشانی اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سجدہ کرنا حضور کو سجدہ تحیت نہ تھا بلکہ اﷲ عزوجل کو سجدہ عبادت اور پیشانی اقدس اس وقت مسجد تھی یعنی موضع سجودانھوں نے اسی طرح خواب دیکھا تھا اس کی تصدیق کے لئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی کہ پیشانی انور پر سر رکھ کر اﷲ عزوجل کو سجدہ کرلیں۔فریق ثانے نے سجدہ تحیت کو جائز کہا ہے جب پیشانی زمین کو لگائیںہیئت نماز پر نہ ہوپیشانی زمین پر نہ لگےباطہارت نہ ہو یہ صریح تناقص ہے جب پیشانی زمین کو نہ لگی سجدہ ہی نہ ہوگا اور باطھارت نی ہونے کی قید عجیب ہے معظمان دینی کو وہ کون سی تعظیم ہے جس میں محدث ہونا شرط ہے شاید مقصود یہ ہو کہ سجدہ نماز کی طرح طہارت اس میں ضروری نجانیںطرفہ یہ کہ قدمبوسی میں بھی شرط لگائی حالانکہ معظمان دینی کی قدمبوسی بلا شبہ بحال طہارت بھی جائز ہے بلکہ یہی مستحب ہے کہ اس میں تعظیم زائد ہےفتح القدیر میں فرمایا:
کل ماکان ادخل فی الادب والاجلال کان حسنا ۔ جس چیز کا ادب اور تعظیم میں زیادہ دخل ہو وہ اچھی ہے۔(ت)
قدمبوسی سنت سے ثابت اور اس میں احادیث کثیرہ واردکما بینا فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ت)انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے۔مقصود ووسیلہاگر خود نفس انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا قدمبوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے۔دوسری قسم کہ نفس انحناء سے تعظیم مقصود ہو یہ اگر رکوع تك ہے ناجائز وگناہ ہے اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں۔امام عبدالعغنی نابلسی قدس سرہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۹ /۷
فتح القدیر باب الھدی مسائل منشورۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۹۴
فتح القدیر باب الھدی مسائل منشورۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۹۴
القدسی حدیقہ ندیہ شرح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولاباس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام ۔ رکوع کی حد تك جھکنا کسی کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ(یعنی یہ دونوں مخلوق کے لئے روا نہیں)او اگر رکوع کی حد سے کم جھکاؤ ہو تو پھر معزز اہل اسلام کے لئے ایسا کرنےکا کچھ حرج نہیں(ت)
وجد کو حرام کہنا عجیب بات ہے وہ حالت اضطراری ہے جس پر حکم ہوہی نہیں سکتا نہ کہ تحریم نہ کہ بالاجماع نہ کہ تحلیل پر خوف کفریہ احکام اصلا درجہ صحت نہیں رکھتے۔واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل(اﷲ تعالی حق بیان فرماتاہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ت)یوہیں تصفیق اگر اضطراری جیساکہ فریق ثا نی نے ایك بار مطلق کہہ کے دوبارہ اس کو مقید کیا تو بلاشبہ اسے بھی زیر حکم لانا جائز وحرام ٹھہرانا اسی طرح باطل ہے کہ مورد احکام افعال اختیاریہ ہیں نہ کہ اضطراریہہاں اگر بالاختیارنہ ہو تو ضرور مکروہ ہے کہ نساء وفساق سے مشابہت ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التسبیح للرجال والتصفیق للنساء ۔ مرد"سبحان اللہ"کہیں اور عورتیں تالی بجائیں(امام کونماز میں آگاہ کرنے کے لئے)۔(ت)
حضرت سیدنا محبوب الہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہ اپنی مجلس مبارك سماع کے حاضرین کو فرماتے کہ:
کف دست بر پشت دست زنندکف دست برکف دست نہ زنند کہ مشابہہ لہونگر دد ۔ ایك ہاتھ کی ہتھیلی دوسر ہاتھ کی پشت پر ماریں لہذا ہتھیلی کو ہتھیلی پر نہ ماریں تاکہ کھیل کے مشابہ نہ ہو۔(ت)
رقص میں بھی دو۲ صورتیں ہیں اگر بیخودانہ ہے تو سلطانگیر وخراج ازخراب(اس لئے کہ بادشاہ کسی غیر آباد اور ویران زمین میں کسی سے ٹیکس نہیں لیتا۔ت)وہ کسی طرح زیر حکم نہیں آسکتااور اگر بالاختیار ہے تو
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولاباس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام ۔ رکوع کی حد تك جھکنا کسی کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ(یعنی یہ دونوں مخلوق کے لئے روا نہیں)او اگر رکوع کی حد سے کم جھکاؤ ہو تو پھر معزز اہل اسلام کے لئے ایسا کرنےکا کچھ حرج نہیں(ت)
وجد کو حرام کہنا عجیب بات ہے وہ حالت اضطراری ہے جس پر حکم ہوہی نہیں سکتا نہ کہ تحریم نہ کہ بالاجماع نہ کہ تحلیل پر خوف کفریہ احکام اصلا درجہ صحت نہیں رکھتے۔واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل(اﷲ تعالی حق بیان فرماتاہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ت)یوہیں تصفیق اگر اضطراری جیساکہ فریق ثا نی نے ایك بار مطلق کہہ کے دوبارہ اس کو مقید کیا تو بلاشبہ اسے بھی زیر حکم لانا جائز وحرام ٹھہرانا اسی طرح باطل ہے کہ مورد احکام افعال اختیاریہ ہیں نہ کہ اضطراریہہاں اگر بالاختیارنہ ہو تو ضرور مکروہ ہے کہ نساء وفساق سے مشابہت ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
التسبیح للرجال والتصفیق للنساء ۔ مرد"سبحان اللہ"کہیں اور عورتیں تالی بجائیں(امام کونماز میں آگاہ کرنے کے لئے)۔(ت)
حضرت سیدنا محبوب الہی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہ اپنی مجلس مبارك سماع کے حاضرین کو فرماتے کہ:
کف دست بر پشت دست زنندکف دست برکف دست نہ زنند کہ مشابہہ لہونگر دد ۔ ایك ہاتھ کی ہتھیلی دوسر ہاتھ کی پشت پر ماریں لہذا ہتھیلی کو ہتھیلی پر نہ ماریں تاکہ کھیل کے مشابہ نہ ہو۔(ت)
رقص میں بھی دو۲ صورتیں ہیں اگر بیخودانہ ہے تو سلطانگیر وخراج ازخراب(اس لئے کہ بادشاہ کسی غیر آباد اور ویران زمین میں کسی سے ٹیکس نہیں لیتا۔ت)وہ کسی طرح زیر حکم نہیں آسکتااور اگر بالاختیار ہے تو
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ المبحث الاول المکتب النوریۃ الرضویہ ۱/ ۵۴۷
صحیح البخاری کتاب التہجد باب التصفیق للنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۰،صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب تسبیح الرجل وتصفیق المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰
فوائدالفوائد
صحیح البخاری کتاب التہجد باب التصفیق للنساء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۰،صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب تسبیح الرجل وتصفیق المرأۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰
فوائدالفوائد
پھر اس کی دو۲ صورتیں ہیں اگر تثنی وتکسر کے ساتھ ہے تو بلاشبہہ ناجائز ہے۔تکسر لچکاتثنی توڑا یہ رقص فواحش میں ہوتے ہیں اور ان سے تشبہ حرام۔اور اگر ان سے خالی ہے تو اہل بیعت کو مجلس عالم ومحضر عوام میں اس سے احتراز ہی چاہئےکہ ان کی نگاہوں میں ہلکاہونے کا باعث ہے۔اور اگر جلسہ خاص صالحین و سالکین کا ہو تو داخل تواجد ہے۔تواجد یعنی اہل وجد کی صورت بننااگر معاذاﷲ بطور ریا ہے تو اس کی حرمت میں شبہ نہیں کہ ریا کے لئے تو نماز بھی حرام ہے۔اور اگرنیت صالحہ ہے تو ہر گز کوئی وجہ ممانعت نہیںیہاں نیت صالحہ دو ہوسکتی ہیں ایك عام یعنی تشبہ بصلحائے کرام
ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا ان التشبہ بالکرام فلاح
(اگر تم ان کی مثل نہیں ہو تو پھر ان سے مشابہت اختیار کرو کیونکہ شرفاء اور معزز لوگوں سے تشبہ کا میابی کا ذریعہ ہے۔ت)
حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جو کسی قوم سے تشبہ کرے گا وہ انھیں میں سے ہے۔
دوسری حدیث میں ہے:
ان لم تبکوا فتباکوا ۔ رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بناؤ۔
دوسری نیت طالبان راہ کے لئے وجد کی صورت بنائے کہ حقیقت حاصل ہوجائے نیت صادقہ کے ساتھ بتکلف بننا بھی رفتہ رفتہ حصول حقیقت کی طرف منجر ہوجاتاہے۔امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
التواجد المتکلف فمنہ مذموم یقصد بہ الریاء ومنہ محمود وھو التوسل الی استدعاء الاحوال الشریفۃ و اکتسابھا واجتلابھا بالحیلۃ فان للکسب مدخلا فی جلب الاحوال الشریفۃ ولذلك تکلف سے"وجد"طلب طاری کرنا اسکی ایك قسم ہے تو مذموم ہے کہ جس میں دکھاوے(ریا)کا ارادہ کیا جائے اور اس کی ایك قسم محمود(اچھی)ہے کہ جس کو شریفانہ حالات کے چاہنے ان کے اکتساب اور حصول کا حیلہ سازی سے ذریعہ بنایا جائے کیونکہ انسانی کسب کو شریفانہ حالات کے حصول میں ایك
ان لم تکونوا مثلھم فتشبھوا ان التشبہ بالکرام فلاح
(اگر تم ان کی مثل نہیں ہو تو پھر ان سے مشابہت اختیار کرو کیونکہ شرفاء اور معزز لوگوں سے تشبہ کا میابی کا ذریعہ ہے۔ت)
حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جو کسی قوم سے تشبہ کرے گا وہ انھیں میں سے ہے۔
دوسری حدیث میں ہے:
ان لم تبکوا فتباکوا ۔ رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بناؤ۔
دوسری نیت طالبان راہ کے لئے وجد کی صورت بنائے کہ حقیقت حاصل ہوجائے نیت صادقہ کے ساتھ بتکلف بننا بھی رفتہ رفتہ حصول حقیقت کی طرف منجر ہوجاتاہے۔امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
التواجد المتکلف فمنہ مذموم یقصد بہ الریاء ومنہ محمود وھو التوسل الی استدعاء الاحوال الشریفۃ و اکتسابھا واجتلابھا بالحیلۃ فان للکسب مدخلا فی جلب الاحوال الشریفۃ ولذلك تکلف سے"وجد"طلب طاری کرنا اسکی ایك قسم ہے تو مذموم ہے کہ جس میں دکھاوے(ریا)کا ارادہ کیا جائے اور اس کی ایك قسم محمود(اچھی)ہے کہ جس کو شریفانہ حالات کے چاہنے ان کے اکتساب اور حصول کا حیلہ سازی سے ذریعہ بنایا جائے کیونکہ انسانی کسب کو شریفانہ حالات کے حصول میں ایك
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لیس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوٰت باب فی حسن الصوت بالقرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوٰت باب فی حسن الصوت بالقرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶
امررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من لم یحضرہ البکاء فی قراء ۃ القران ان یتباکی ویتحازن ۔ طرح دخل ہوتاہے اسی لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تلاوت قرآن کے وقت جس شخص کو رونانہ آئے اسے حکم دیا کہ وہ رونے اور غمگین ہونے کی صورت بنائے۔(ت)
سیدی عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہالقدسی ندیہ میں فرماتے ہیں:
لاشك ان التواجد وھو تکلف الوجد واظھارہ من غیر ان یکون لہ وجد حقیقۃ فیہ تشبہ باھل الوجد الحقیقی وھو جائز بل مطلوب شرعا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ اس میں کوئی شك نہیں کہ"تواجد"بناوٹ اور تکلف سے وجد لانا اور اس کا اظہار کرنا ہے بغیر اس کے کہ اسے حقیقی طو رپر حالت وجد ہوپس اس میں جو حقیقۃ اہل وجد ہیں ان سے تشبہ ہے۔اور یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ شرعا مطلوب ہے(کیا تمھیں معلوم نہیں کہ)آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی قوسم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
فتاوی علامہ خیر رملی استاذ صاحب درمختار علیہما رحمۃ الغفار میں ہے:
اماالرقص ففیہ للفقہاء کلام منھم من منعہ ومنھم من لم یمنع حیث وجد لذۃ الشھوۃ وغلب علیہ الوجد واستدلوا بما وقع لجعفر بن ابی طالب لما قال لہ علیہ الصلوۃ والسلام اشبھت خلقی وخلقی فی لفظ جعفر اشبہ الناس بی خلقا وخلقا فحجل ای مشی علی رجل واحدۃ رہا رقص(ناچ)تو اس میں فقہائے کرام کا کلام(اختلاف)ہے پس بعض ائمہ نے تو اس سے منع فرمایا لیکن بعض نے اس سے منع نہیں فرمایا۔جہاں شہوۃ کی لذت پائے اور اس پر وجہ غالب ہو تو(جائز ہے)اور انھوں نے اس واقعہ سے استدلال کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جب حضرت بن ابی طالب سے ارشاد فرمایا:تم صورت وسیرت میں میرے مشابہ ہو۔ اور ایك روایت میں یہ الفاظ آئیں ہیں:جعفر
سیدی عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہالقدسی ندیہ میں فرماتے ہیں:
لاشك ان التواجد وھو تکلف الوجد واظھارہ من غیر ان یکون لہ وجد حقیقۃ فیہ تشبہ باھل الوجد الحقیقی وھو جائز بل مطلوب شرعا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ اس میں کوئی شك نہیں کہ"تواجد"بناوٹ اور تکلف سے وجد لانا اور اس کا اظہار کرنا ہے بغیر اس کے کہ اسے حقیقی طو رپر حالت وجد ہوپس اس میں جو حقیقۃ اہل وجد ہیں ان سے تشبہ ہے۔اور یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ شرعا مطلوب ہے(کیا تمھیں معلوم نہیں کہ)آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی قوسم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
فتاوی علامہ خیر رملی استاذ صاحب درمختار علیہما رحمۃ الغفار میں ہے:
اماالرقص ففیہ للفقہاء کلام منھم من منعہ ومنھم من لم یمنع حیث وجد لذۃ الشھوۃ وغلب علیہ الوجد واستدلوا بما وقع لجعفر بن ابی طالب لما قال لہ علیہ الصلوۃ والسلام اشبھت خلقی وخلقی فی لفظ جعفر اشبہ الناس بی خلقا وخلقا فحجل ای مشی علی رجل واحدۃ رہا رقص(ناچ)تو اس میں فقہائے کرام کا کلام(اختلاف)ہے پس بعض ائمہ نے تو اس سے منع فرمایا لیکن بعض نے اس سے منع نہیں فرمایا۔جہاں شہوۃ کی لذت پائے اور اس پر وجہ غالب ہو تو(جائز ہے)اور انھوں نے اس واقعہ سے استدلال کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جب حضرت بن ابی طالب سے ارشاد فرمایا:تم صورت وسیرت میں میرے مشابہ ہو۔ اور ایك روایت میں یہ الفاظ آئیں ہیں:جعفر
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب آدب السماع والوجد الباب الثانی المقام الثانی المشہد الحسینی قاہرہ ۲/ ۹۶۔۲۹۵
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع تتمہ الاصناف التسعۃ المکتبہ نوریہ رضویہ ۲/ ۵۲۵
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع تتمہ الاصناف التسعۃ المکتبہ نوریہ رضویہ ۲/ ۵۲۵
وفی روایۃ رقص من لذۃ ھذا الخطاب ولم ینکر علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رقصہ وجعل ذلك اصلا لجواز رقص الصوفیۃ عند مایجدونہ من لذۃ المواجید فی مجالس الذکر والسماع وفی التتارخانیۃ مایدل علی جوازہ للمغلوب الذی حرکاتہ کحرکات المرتعش وبھذا افتی البلقینی وبرھان الدین الا بناسی وبمثلہ اجاب بعض ائمۃ الحنفیہ والمالکیۃ وکل ذلك اذاخصلت النیۃ وکانوا صادقین فی الوجد مغلوبین فی القیام والحرکۃ عند شدۃ الھمام والشیئ قدیتصف تارۃ بالحلال وتارۃ بالحرام باختلاف القصد والمرام وبتقریر جمیع ماقالوہ یطول الکلام ۔ سب لوگوں سے صورت وسیرت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہے(یہ سن کر)حضرت جعفر ایك پاؤں پر چلے یعنی رقص کیا۔اور ایك دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت جعفر اس خطاب کی لذت اور سرور سے ناچنے لگےاس کے باوجود حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے رقص کرنے پر انکار نہیں فرمایا۔پس اس کو صوفیائے کرام نے رقص کرنے کے جواز پر دلیل ٹھہرایا گیا ہے جبکہ مجالس ذکر اور سماع میں صوفیائے کرام وجد کی لذت محسوس کریں۔ فتاوی تتارخانیہ میں کچھ ایسا کلام ہے جو اس کے جواز پر دلالت کرتاہے ان مغلوب الحال لوگوں کے لئے کہ جن کی حرکات رعشہ والے مریض کی حرکات جیسی ہوں(رعشہ ایك مرض ہے جس میں غیر اختیاری طور پر ہاتھ کانپتے رہتے ہیں) چنانچہ علامہ عینی اور برہان الدین ابناسی نے یہی فتوی دیا ہے اور بعض حنفی اور مالکی ائمہ کرام نے اسی کے مطابق فتوی دیا ہے۔یہ سب کچھ جائز ہے بشرطیکہ ایسا کرنے والوں کی نیت خالص ہو اور حالت وجد میں سچے ہوں اور قیام وحرکت شدت حیرت اور وارفتگی کی وجہ سے مغلوب ہوں(اور نیم دیوانہ ہو)اور حقیقت یہ ہے کہ ایك ہی چیز ارادے اور مقصد کے اعتبار سے کبھی حلال اور کبھی حرام سے متصف ہوسکتی ہے اور جو کچھ(اس باب میں)اہل علم نے ارشاد فرمایا اس سب کی تقریر باعث طول کلام ہے۔(ت)
نہایہ ابن اثیرہ مجمع البحار میں ہے:
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لزید انت مولینا فحجل حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت زید سے ارشاد فرمایا:تم ہمارے"مولی"ہو۔
نہایہ ابن اثیرہ مجمع البحار میں ہے:
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لزید انت مولینا فحجل حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت زید سے ارشاد فرمایا:تم ہمارے"مولی"ہو۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۸۲
الحجل ان یرفع رجلا ویقفز علی الاخری من الفرح زادف النھایۃ وقد یکون بالرجلین الاانہ قفز ۔ تو حضرت زید خوشی اور مسرتسے ناچنے لگے اس طور پر کہ ایك پاؤں اٹھاتے اور دوسرے پا ناچتے اور نہایہ(ابن اثیر) میں اتنا زیادہ ہے کبھی یہ دوپاؤں سے ہوتاہے مگر یہ وہ کودے۔ (ت)
چلانا بھی اگر بے اختیاری سے ہو تو مثل وجد کسی طرح زید حکم نہیں آسکتااور اگر ریا سے ہے تو نماز بھی حرام ہے۔اور اگر کوئی نیت فاسدہ نہیں مگر وہاں کسی مریض یانائم کو تکلیف یا نمازی یاذاکر یا مشتغل علم کی تشویش ہو تو ممنوع ہے امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی حدیث میں ہے وقت نماز میں حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے تلاوت کرنے والوں کو جہر قرآن سے منع فرمایا اور اگر تمام مفاسد سے پاك ہو تو کوئی حرج نہیں۔
علامہ ابن عابدین شامی منہوات شفاء العلیل میں نورا لعین فی اصلاح جامع الفصولین علامہ ابن کمال وزیرکا فتوی نقل فرماتے ہیں:
مافی التواجد ان حققت من حرج
ولا التمایل ان اخلصت من بأس
فقمت تسعی علی رجل وحق لمن
دعاوہ لاہ ان یسعی علی الرأس
الرخصۃ فیما ذکر من الاوضاع عند الذکر والسماع للعارفین الصارفین اوفاتھم الی احسن الاعمال السالکین المالکین لضبط انفسھم عن قبائح الاحوال فھم لا یستمعون الامن الالہ ولایشتاقون اﷲ ان ذکروہ ناحوا وان وجدوہ صاحوا اذا وجد علیہم الوجد فمنھم من طرقتہ طوارق الھیبۃ وجد کی صورت اختیار کرنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ محقق اور ثابت ہوجائےجھومنے اور لڑکھڑانے میں بھی کچھ مضائقہ نہیں بشرطیکہ خالص ہواگر تو ایك پاؤں پر دوڑے اورناچ کرے تو یہ اس کے لئے حق ہے کہ جس کو اپنا مولی بلائے کہ وہ اپنے سر کے بل دوڑ لگائے۔اور جن اوضاع (انواع اقسام)میں یہ ذکر کیا گیا کہ ذکر اور سماع کے وقت ان کی اجازت(رخصت)سے وہ ان خداشناس لوگوں کے لئے ہے جو اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کرتے ہیں اور راہ خدا وندی پر چلنے والے ہیں مذموم حالات سے اپنے نفس کو قابورکھنے کی دسترس رکھتے ہیں(یعنی بری حرکات سے انھیں روك سکتے ہیں)پھر وہ
چلانا بھی اگر بے اختیاری سے ہو تو مثل وجد کسی طرح زید حکم نہیں آسکتااور اگر ریا سے ہے تو نماز بھی حرام ہے۔اور اگر کوئی نیت فاسدہ نہیں مگر وہاں کسی مریض یانائم کو تکلیف یا نمازی یاذاکر یا مشتغل علم کی تشویش ہو تو ممنوع ہے امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ کی حدیث میں ہے وقت نماز میں حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے تلاوت کرنے والوں کو جہر قرآن سے منع فرمایا اور اگر تمام مفاسد سے پاك ہو تو کوئی حرج نہیں۔
علامہ ابن عابدین شامی منہوات شفاء العلیل میں نورا لعین فی اصلاح جامع الفصولین علامہ ابن کمال وزیرکا فتوی نقل فرماتے ہیں:
مافی التواجد ان حققت من حرج
ولا التمایل ان اخلصت من بأس
فقمت تسعی علی رجل وحق لمن
دعاوہ لاہ ان یسعی علی الرأس
الرخصۃ فیما ذکر من الاوضاع عند الذکر والسماع للعارفین الصارفین اوفاتھم الی احسن الاعمال السالکین المالکین لضبط انفسھم عن قبائح الاحوال فھم لا یستمعون الامن الالہ ولایشتاقون اﷲ ان ذکروہ ناحوا وان وجدوہ صاحوا اذا وجد علیہم الوجد فمنھم من طرقتہ طوارق الھیبۃ وجد کی صورت اختیار کرنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ محقق اور ثابت ہوجائےجھومنے اور لڑکھڑانے میں بھی کچھ مضائقہ نہیں بشرطیکہ خالص ہواگر تو ایك پاؤں پر دوڑے اورناچ کرے تو یہ اس کے لئے حق ہے کہ جس کو اپنا مولی بلائے کہ وہ اپنے سر کے بل دوڑ لگائے۔اور جن اوضاع (انواع اقسام)میں یہ ذکر کیا گیا کہ ذکر اور سماع کے وقت ان کی اجازت(رخصت)سے وہ ان خداشناس لوگوں کے لئے ہے جو اپنے اوقات کو اچھے کاموں میں صرف کرتے ہیں اور راہ خدا وندی پر چلنے والے ہیں مذموم حالات سے اپنے نفس کو قابورکھنے کی دسترس رکھتے ہیں(یعنی بری حرکات سے انھیں روك سکتے ہیں)پھر وہ
حوالہ / References
النہایۃ لابن لاثیر باب الحاء مع الجیم تحت لفط"حجل" المکتبۃ الاسلامیۃ ۱/ ۳۴۶
فخروذاب ومنھم برقت لہ بوارق اللطف فتحرك وطاب ھذا ماعن لی فی الجواب واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔ اﷲ تعالی کے سواکچھ نہیں سنتےاور وہ صرف اس کااشتیاق رکھتے ہیں اگر اس کا ذکر کریں تو یہ اہ وزاری کرتے ہیں اوراگر اسے پائیں تو چیخیں چلائیں جبکہ ان پر وجد طاری ہوجائے پھر ان میں کوئی وہ ہے کہ جس کو مصائب ہیبت دستك دیں تو وہ گر کر پگھل جائےاور کوئی وہ ہے کہ جس کے لیے لطف وکرم کی بجلیاں چمکیں تو وہ متحرك ہوکر خوش وخرم ہوجائے اس جواب میں مجھ پر یہی کچھ ظاہر ہوااور راہ صواب کو سب سے زیادہ اﷲ تعالی ہی جانتاہے۔ (ت)
غنا اگر منکرات شرعیہ پر مشتمل ہو مثلا مزامیر کو حرام ہیں یا عورت کا گانا کہ باعث ہیجان فتنہ ہے یونہی محل فتنہ ارمرد کا گانایا جوکچھ گایا جائے اس کا امور مخالف شرع پر مشتمل ہونا یا ایسے امور پر خیالات کا سدہ وشہوات فاسدہ کے باعث ہوں خصوصا مجمع عوام میں بلا شبہ ممنوع ہے اور تمام مفاسد سے خالی ہو تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں کما حققناہ فی اجل التحبیر(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ اجل التحبیر میں اس کی تحقیق کردی۔ت)
غنا کا غالب اطلاق انھیں مہیجات شہوات باطلہ پر آتاہے کما نبہ علیہ فی ارشاد الساری(جیسا کہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس پر آگاہ کیا گیا ہے۔ت)احادیث واقوال مذمت اسی پر محمول ہیں ورنہ اذکار حسنہ اصوات حسنہ والحانات حسنہ سننے کی کوئی ممناعت نہیں بلکہ اس میں احادیث وارداور اب وہ لہو نہیں نہ وہ شیطانی آواز ہے تو آیہ کریمہ
" و استفزز من استطعت منہم بصوتک " (اس میں سے جس پر تو قابو پائے(اور تیرا بس چلے)انھیں اپنی آواز سے پھسلا دے۔ ت)اس پر صادق نہیں حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جو آخر عمر شریف سماع سننا ترك فرمایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اب کوئی گانے ولااہل نہ ملتا تھا۔عوارف شریف میں ہے:
قیل ان الجنید ترك السماع فقیل لہ کنت تستمع فقال مع من قیل لہ تسمع لنفسك فقال ممن لانھم کانوا لا یسمعون الامن اھل کہا گیا کہ حضرت جنید بغدادی(رحمۃ اﷲ علیہ)نے سماع چھوڑدیا تھا ان سے عرض کی گئی آپ سماع پر کاربند تھے(پھر کیوں ترك کردیا)آپ نے ارشاد فرمایا:کن لوگوں کے ساتھ ہوکر سنتا
غنا اگر منکرات شرعیہ پر مشتمل ہو مثلا مزامیر کو حرام ہیں یا عورت کا گانا کہ باعث ہیجان فتنہ ہے یونہی محل فتنہ ارمرد کا گانایا جوکچھ گایا جائے اس کا امور مخالف شرع پر مشتمل ہونا یا ایسے امور پر خیالات کا سدہ وشہوات فاسدہ کے باعث ہوں خصوصا مجمع عوام میں بلا شبہ ممنوع ہے اور تمام مفاسد سے خالی ہو تو اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں کما حققناہ فی اجل التحبیر(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ اجل التحبیر میں اس کی تحقیق کردی۔ت)
غنا کا غالب اطلاق انھیں مہیجات شہوات باطلہ پر آتاہے کما نبہ علیہ فی ارشاد الساری(جیسا کہ ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں اس پر آگاہ کیا گیا ہے۔ت)احادیث واقوال مذمت اسی پر محمول ہیں ورنہ اذکار حسنہ اصوات حسنہ والحانات حسنہ سننے کی کوئی ممناعت نہیں بلکہ اس میں احادیث وارداور اب وہ لہو نہیں نہ وہ شیطانی آواز ہے تو آیہ کریمہ
" و استفزز من استطعت منہم بصوتک " (اس میں سے جس پر تو قابو پائے(اور تیرا بس چلے)انھیں اپنی آواز سے پھسلا دے۔ ت)اس پر صادق نہیں حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جو آخر عمر شریف سماع سننا ترك فرمایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اب کوئی گانے ولااہل نہ ملتا تھا۔عوارف شریف میں ہے:
قیل ان الجنید ترك السماع فقیل لہ کنت تستمع فقال مع من قیل لہ تسمع لنفسك فقال ممن لانھم کانوا لا یسمعون الامن اھل کہا گیا کہ حضرت جنید بغدادی(رحمۃ اﷲ علیہ)نے سماع چھوڑدیا تھا ان سے عرض کی گئی آپ سماع پر کاربند تھے(پھر کیوں ترك کردیا)آپ نے ارشاد فرمایا:کن لوگوں کے ساتھ ہوکر سنتا
حوالہ / References
رسائل ابن عابدین رسالہ شفاء العلیل وبل الغلیل الخ سہیل اکیڈیمی لاہور ۱/ ۱۷۲
القرآن الکریم ۱۷ /۶۴
القرآن الکریم ۱۷ /۶۴
مع اھل فلما فقد الاخوان ترك ۔ تھا(مراد یہ کہ وہ اہل تھے)پھر ان سے کہا گیا اپنی ذات کے لئے سنا کریں۔فرمایا:کس سے سنوںکیونکہ وہ سماع صرف اہل اسے اور اہل کی معیت میں ہوکر سنا کرتے تھےپھر جب ایسے احباب نایاب اور ناپید ہوگئے تو سماع چھوڑدیا۔(ت)
حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہنے عوارف شریف میں پہلے ایك باب قبول وپسند سماع میں تحریر فرمایا اور اس میں بہت احادیث وارشادات ذکر فرمائے۔اور فرماما:
وقد ذکر الشیخ ابو طالب المکی رحمہ اﷲ تعالی ما یدل علی تجویزہ ونقل عن کثیر من السلف صحابی وتابعی وغیرھم وقول الشیخ ابی طالب المکی یعتبر لو فورعلمہ وکمال حالہ وعلمہ باحوال السلف ومکان ورعہ وتقواہ وتحریر الاصواب والاول و قال فی السماع حلال وحرام وشبہ فمن سمعہ بنفس مشاھدۃ شھوۃ وھوی فھو حرام ومن سمعہ بمعقولہ علی صفۃ مباح من جاریۃ اوزوجۃ کان شبھۃ لدخول اللھو فیہ و من سمعہ بقلب یشاھد معانی تدل علی الدلیل ویشدہ طرقات الجلیل فھو مباح وھذا قول الشیخ ابی الطالب المکی وھو الصحیح ۔ بیشك شیخ ابوطالب مکی رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے کچھ ایسے دلائل وشواہد بیان فرمائے جو سماع کے جواز پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے اسلافصحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے علاوہ دوسرے اکابرین سے نقل فرمایااور شیخ ابوطالب مکی علیہ الرحمۃ کاقول معتبر اور مستند ہے۔کیوں اس لئے کہ وہ کثیر علم سے معمور ہیںحال میں صاحب کمالہیں۔اور اسلاف کے حلات کو بخوبی جانتے ہیں۔ اور تقوی ودورع میں ان کا ایك خاص مقام ہے۔اور زیادہ صواب اور زیادہ بہترامورمیں گہری سوچ اور فکر کامل رکھتے ہیں۔چنانچہ ارشاد فرمایا:سماع میں حلالحرام اور شبہ کی اقسام ہیںلہذا جس نے نفس مشاہدہ شہوت اور خواہش کے پیش نظر سماع سنا تویہ حرام ہے۔اور جس نے معقولیت کے پیش نظر مباح طریقے سے لونڈی یا اہلیہ سے استفادہ سماع کیا تو اس صورت میں شبہہ پیدا ہوگیا کیونکہ اس میں کھیل داخل ہوگیا۔اور جس شخص نے ایسے نفیس دل کے ساتھ سماع سنا جو ایسے معانی کا مشاہدہ کررہا تھا جو دلیل کی راہنمائی کرتے ہیں۔
حضرت شیخ الشیوخ قدس سرہنے عوارف شریف میں پہلے ایك باب قبول وپسند سماع میں تحریر فرمایا اور اس میں بہت احادیث وارشادات ذکر فرمائے۔اور فرماما:
وقد ذکر الشیخ ابو طالب المکی رحمہ اﷲ تعالی ما یدل علی تجویزہ ونقل عن کثیر من السلف صحابی وتابعی وغیرھم وقول الشیخ ابی طالب المکی یعتبر لو فورعلمہ وکمال حالہ وعلمہ باحوال السلف ومکان ورعہ وتقواہ وتحریر الاصواب والاول و قال فی السماع حلال وحرام وشبہ فمن سمعہ بنفس مشاھدۃ شھوۃ وھوی فھو حرام ومن سمعہ بمعقولہ علی صفۃ مباح من جاریۃ اوزوجۃ کان شبھۃ لدخول اللھو فیہ و من سمعہ بقلب یشاھد معانی تدل علی الدلیل ویشدہ طرقات الجلیل فھو مباح وھذا قول الشیخ ابی الطالب المکی وھو الصحیح ۔ بیشك شیخ ابوطالب مکی رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے کچھ ایسے دلائل وشواہد بیان فرمائے جو سماع کے جواز پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے اسلافصحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے علاوہ دوسرے اکابرین سے نقل فرمایااور شیخ ابوطالب مکی علیہ الرحمۃ کاقول معتبر اور مستند ہے۔کیوں اس لئے کہ وہ کثیر علم سے معمور ہیںحال میں صاحب کمالہیں۔اور اسلاف کے حلات کو بخوبی جانتے ہیں۔ اور تقوی ودورع میں ان کا ایك خاص مقام ہے۔اور زیادہ صواب اور زیادہ بہترامورمیں گہری سوچ اور فکر کامل رکھتے ہیں۔چنانچہ ارشاد فرمایا:سماع میں حلالحرام اور شبہ کی اقسام ہیںلہذا جس نے نفس مشاہدہ شہوت اور خواہش کے پیش نظر سماع سنا تویہ حرام ہے۔اور جس نے معقولیت کے پیش نظر مباح طریقے سے لونڈی یا اہلیہ سے استفادہ سماع کیا تو اس صورت میں شبہہ پیدا ہوگیا کیونکہ اس میں کھیل داخل ہوگیا۔اور جس شخص نے ایسے نفیس دل کے ساتھ سماع سنا جو ایسے معانی کا مشاہدہ کررہا تھا جو دلیل کی راہنمائی کرتے ہیں۔
حوالہ / References
عوارف المعارف الباب الثالث والعشرون مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ص۱۱۴
عوارف المعارف الباب الثانی والعشرون مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ص ۱۰۹
عوارف المعارف الباب الثانی والعشرون مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ص ۱۰۹
اور اس کے لئے رب جلیل کے راستے گواہ ہوں۔لہذا یہ سماع مباح ہے۔شیخ ابوطالب مکی کا یہ ارشاد ہے اور یہی صحیح ہے۔(ت)
تو وہ کیونکر مطلقا غنا کو ذنوب سے شمار فرماسکتے ہیں اس کے بعد انھوں نے دوسرا باب انکار سماع میں وضع فرمایا اور یہاں اس سماع پر کلام فرمایا شہوات نفسانیہ پر مشتمل اس میں یہ قول تحریر فرمایا ہے عبارت ملخصا یہ ہے:
وقد ذکر ناوجہ صحۃ السماع ومایلیق منہ باھل الصدق وحیث کثرت الفتنۃ وزالت العصمۃ وتصدی للحرص علیہ اقوام فسدت احوالھم واکثرو الاجماع للسماع وربما یتخذ للاجتماع طعام تطلب النفوس الاجتماع لذلك لارغبۃ للقلوب فی السماع کما کان من سیر الصادقین فیصیر السماع معلولا ترکن الیہ النفوس للشہوات واستحلاء لمواطن اللھووالغفلات وتکون الرغبۃ فی الاجتماع طلبا لتناول الشہوۃ و استرواحا لاولی الطرب واللہو والعشرۃ ولایخفی ان ھذا الاجتماع مردود عند اھل الصدق الی ان قال و سماع الغنا من الذنوب ۔ بلا شبہہ صحت سماع کی وجہ ہم نے بیان کردی اور وہ کوائف بھی ذکر فرمادئے جوارباب صدق وصفا کے لائق اور موزوں ہیںجہاں فتنہ بکثرت پھیل جائے عصمت زائل اور ختم ہو جائے اور کچھ لوگ بربنائے حرص اس کے درپے ہوں جن کے حالات بگڑے ہوئے اور خراب ہوں اور وہ سماع کے لئے زیادہ تراجتماعات کا پروگرام بنائیں اور کبھی اجتماع کو بارونق اور مؤثر بنانے کے لئے دکھانے کااہتمام کیا جائے کہ لوگ صرف کھانے کے شوق میں ایسے اجتماع کو تلاش کریں اس لئے نہیں کہ دلوں کو سماع کی طرف رغبت اورچاہت ہے کہ جیسے سچے عاشقوں کی سیرت ہوا کرتی ہے۔لہذا سماع(اصل غرض و غایت کا)بظاہر سبب بن گیا کہ نفوس اس کی طرف طلب شہوات کے لئے مائل ہوگئے اور اس لئے کہ انھیں مقامات لہو(کھیل وتفریح)اور انواع غفلت کی مٹھاس دستیاب ہو جائے۔لہذا مجالس سماع کی طرف رغبت محض طلب شہرت کے لئے ہوگی۔اور اس لئے کہ عیش وعشرت اورکھیل تماشوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو حسب منشاء آرام وراحت حاصل ہوجائے اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ایسا اجتماع اہل صدق کے نزدیك مردو دہے یہاں تك کہ یہ فرمایا کہ گانا سننا گناہوں میں شمار ہے۔(ت)
تو وہ کیونکر مطلقا غنا کو ذنوب سے شمار فرماسکتے ہیں اس کے بعد انھوں نے دوسرا باب انکار سماع میں وضع فرمایا اور یہاں اس سماع پر کلام فرمایا شہوات نفسانیہ پر مشتمل اس میں یہ قول تحریر فرمایا ہے عبارت ملخصا یہ ہے:
وقد ذکر ناوجہ صحۃ السماع ومایلیق منہ باھل الصدق وحیث کثرت الفتنۃ وزالت العصمۃ وتصدی للحرص علیہ اقوام فسدت احوالھم واکثرو الاجماع للسماع وربما یتخذ للاجتماع طعام تطلب النفوس الاجتماع لذلك لارغبۃ للقلوب فی السماع کما کان من سیر الصادقین فیصیر السماع معلولا ترکن الیہ النفوس للشہوات واستحلاء لمواطن اللھووالغفلات وتکون الرغبۃ فی الاجتماع طلبا لتناول الشہوۃ و استرواحا لاولی الطرب واللہو والعشرۃ ولایخفی ان ھذا الاجتماع مردود عند اھل الصدق الی ان قال و سماع الغنا من الذنوب ۔ بلا شبہہ صحت سماع کی وجہ ہم نے بیان کردی اور وہ کوائف بھی ذکر فرمادئے جوارباب صدق وصفا کے لائق اور موزوں ہیںجہاں فتنہ بکثرت پھیل جائے عصمت زائل اور ختم ہو جائے اور کچھ لوگ بربنائے حرص اس کے درپے ہوں جن کے حالات بگڑے ہوئے اور خراب ہوں اور وہ سماع کے لئے زیادہ تراجتماعات کا پروگرام بنائیں اور کبھی اجتماع کو بارونق اور مؤثر بنانے کے لئے دکھانے کااہتمام کیا جائے کہ لوگ صرف کھانے کے شوق میں ایسے اجتماع کو تلاش کریں اس لئے نہیں کہ دلوں کو سماع کی طرف رغبت اورچاہت ہے کہ جیسے سچے عاشقوں کی سیرت ہوا کرتی ہے۔لہذا سماع(اصل غرض و غایت کا)بظاہر سبب بن گیا کہ نفوس اس کی طرف طلب شہوات کے لئے مائل ہوگئے اور اس لئے کہ انھیں مقامات لہو(کھیل وتفریح)اور انواع غفلت کی مٹھاس دستیاب ہو جائے۔لہذا مجالس سماع کی طرف رغبت محض طلب شہرت کے لئے ہوگی۔اور اس لئے کہ عیش وعشرت اورکھیل تماشوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو حسب منشاء آرام وراحت حاصل ہوجائے اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ایسا اجتماع اہل صدق کے نزدیك مردو دہے یہاں تك کہ یہ فرمایا کہ گانا سننا گناہوں میں شمار ہے۔(ت)
حوالہ / References
عوارف المعارف الباب الثالث والعشرون مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۱۱۴
صوفیہ کرام کی نسبت یہ کہنا کہ ان کا قول وفعل معاذاﷲ کچھ وقعت نہیں رکھتا بہت سخت بات ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" واتبع سبیل من اناب الی " جومیری جھکے ان کی راہ کی پیروی کر۔
صوفیہ کرام سے زیادہ اﷲ کی طرف جھکنے والا کون ہوگافتاوی عالمگیری میں ہے:
انما یتمسك بافعال اھل الدین ۔ دینداروں کے افعال سے سندلائی جاتی ہے۔
صوفیہ کرام سے بڑھ کر اور کون دیندار ہے۔حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہکی عارف سے سندلائی جائزنہ ہونا چاہئے کہ وہ بھی صوفی تھے یونہی حضرت سیدالطائفہ جنید رضی اﷲ تعالی عنہ کے ترك سے جس کا قول وفعل حجت نہیں اس کا ترك کیا حجت ہوسکتا ہے کہ ترك بھی فعل ہی ٹھہر کر قابل تمسك ہوتاہے نہ کہ بمعنی عدم کہ نہ متعدور نہ اس میں اتباع منقول کما نص علیہ فی غمزالعیون والبصائر(جیسا کہ غمزالعیون والبصائر میں اس پر نص ہے۔ت)اور شاہ ولی اﷲ صاحب کب اپنے آپ کو صوفیہ سے خارج کرسکتے ہیں تو ان کا قول وفعل سب سے بڑھ کر بے وقعت ہوناچاہئے محل ادب میں ایسا ارسال لسان خصوصا پیش عوام غنا کے مفاسد سے سخت تر مفسدہ ہے اس کا جواز تو مختلف فیہ ہے اس کا عدم جواز متفق علیہ ہے بالجملہ فریق ثانی کے اکثر احکام صحیح ہیں اس کی بڑی فاحش غلطی سجدہ تحیت کی تحلیل ہے صحیح یہی ہے کہ سجدہ تحیت حرام ہے یہی مسئلہ ان سب میں بڑا ہے عندالتحقیق یہ بھی اس حدتك نہیں کہ قائل خلاف پر اندیشہ کفر ہو۔
کیف وقد بہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق و الدین رضی اﷲ تعالی عنہ واستدل بانہ کان واجبا للامر ثم نسخ الوجوب فبقی الندب۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اور اس بات پر استدلال کیاکہ سجدہ صیغہ امر کی وجہ سے پہلے واجب تھا پھر وجوب منسوخ ہوگیا تو استحباب باقی رہ گیا۔(ت)
اسی تحریم میں ہماری سند تصریح فقہائے کرام ہے اور اسی قدر ہمیں بس ہے ہم مقلد ہیں دلیل مجتہد کے پاس ہے آیات سے اس پر استدلال کسی طرح تام نہیںکریمہ " و اذا حییتم بتحیۃ " ۔(جب تمھیں سلام
" واتبع سبیل من اناب الی " جومیری جھکے ان کی راہ کی پیروی کر۔
صوفیہ کرام سے زیادہ اﷲ کی طرف جھکنے والا کون ہوگافتاوی عالمگیری میں ہے:
انما یتمسك بافعال اھل الدین ۔ دینداروں کے افعال سے سندلائی جاتی ہے۔
صوفیہ کرام سے بڑھ کر اور کون دیندار ہے۔حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہکی عارف سے سندلائی جائزنہ ہونا چاہئے کہ وہ بھی صوفی تھے یونہی حضرت سیدالطائفہ جنید رضی اﷲ تعالی عنہ کے ترك سے جس کا قول وفعل حجت نہیں اس کا ترك کیا حجت ہوسکتا ہے کہ ترك بھی فعل ہی ٹھہر کر قابل تمسك ہوتاہے نہ کہ بمعنی عدم کہ نہ متعدور نہ اس میں اتباع منقول کما نص علیہ فی غمزالعیون والبصائر(جیسا کہ غمزالعیون والبصائر میں اس پر نص ہے۔ت)اور شاہ ولی اﷲ صاحب کب اپنے آپ کو صوفیہ سے خارج کرسکتے ہیں تو ان کا قول وفعل سب سے بڑھ کر بے وقعت ہوناچاہئے محل ادب میں ایسا ارسال لسان خصوصا پیش عوام غنا کے مفاسد سے سخت تر مفسدہ ہے اس کا جواز تو مختلف فیہ ہے اس کا عدم جواز متفق علیہ ہے بالجملہ فریق ثانی کے اکثر احکام صحیح ہیں اس کی بڑی فاحش غلطی سجدہ تحیت کی تحلیل ہے صحیح یہی ہے کہ سجدہ تحیت حرام ہے یہی مسئلہ ان سب میں بڑا ہے عندالتحقیق یہ بھی اس حدتك نہیں کہ قائل خلاف پر اندیشہ کفر ہو۔
کیف وقد بہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق و الدین رضی اﷲ تعالی عنہ واستدل بانہ کان واجبا للامر ثم نسخ الوجوب فبقی الندب۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ سلطان الاولیاء سیدنا نظام الحق والدین رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا اور اس بات پر استدلال کیاکہ سجدہ صیغہ امر کی وجہ سے پہلے واجب تھا پھر وجوب منسوخ ہوگیا تو استحباب باقی رہ گیا۔(ت)
اسی تحریم میں ہماری سند تصریح فقہائے کرام ہے اور اسی قدر ہمیں بس ہے ہم مقلد ہیں دلیل مجتہد کے پاس ہے آیات سے اس پر استدلال کسی طرح تام نہیںکریمہ " و اذا حییتم بتحیۃ " ۔(جب تمھیں سلام
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۱ /۱۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲
القرآن الکریم ۴ /۸۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲
القرآن الکریم ۴ /۸۶
کیا جائے۔ت)میں سلام مراد ہے نہ کہ ہر تحیت تحیتیں کثیر ہیں۔سلاممصافحہمعانقہقلیل انحناء دست بوسیقدمبوسی قیامانحنا تاحد رکوعسجدہ تحیت سلام سے سجود تك سب تحیت ہی ہیں اور اخیرین کے سواسب جائز بلکہ انحناء کے سوا سب حدیث وسنت سے ثابت ہے۔کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ اگر بیٹا چومے تو باپ پر بھی فرض ہے کہ اس کے قدم چومے کیونکہ اس نے تحیت کا معاوضہ فرض ہے یہ محض باطل ہے۔ولہذا کتابوں میں وجوب جواب صرف سلام کے لئے فرمایا ہے۔کریمہ "ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون﴿۸۰﴾" (کیا وہ تمھیں کفر کرنے کاحکم دے گا جبکہ تم مسلمان ہوچکے ہو۔ت)خود شاہد عدل ہے کہ وہ دربارہ سجدہ عبادت ہے سجدہ تحیت کو کون کفر کہہ سکتا ہے کفر ہوتا تو اگلی شریعتوں میں کیونکر جائزہوسکتا کیا کوئی شریعت جواز کفر بھی لاسکتی ہے کفر ہوتا تو رب عزوجل ملائکہ کو اس کا حکم کیونکہ فرماتا کیا رب عزوجل کبھی کفر کا بھی حکم فرماتاہے تو سجدہ تحیت قطعا کفر نہیں اور یہ آیت فرمارہی کہ اس چیز کاذکر ہے جو قطعا کفر ہے تو اگر دربارہ سجود نازل ہے تو یقینا دربارہ سجدہ عبادت ہی نازل ہے۔کبیرہ وابوالسعود وکشاف ومدارك جن کا حوالہ دیا گیا ان میں کہیں اس کی تصریح نہیں کہہ یہ سجدہ تحیت کے بارے میں اتری۔یہاں تفسیر ماثور دو۲ ہیں:
ایك امام ائمہ المفسرین ترجمان القرآن سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے جسے ابن ابی حاتم وابن جریر وابن المنذر اور بہیقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا کہ ابورافع قرظی یہودی اور سمی رئیس نصرانی نجراتی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کیا حضور یہ چاہتے ہیں کہ ہم حضور کی عبادت کریں جیسے نصاری نے عیسی کو پوجافرمایا معاذاﷲ غیر خدا کی عبادت نہیں ہوسکتینہ مجھے اس کا حکم ہوا نہ میں اس لئے بھیجا گیا اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(یا جیسا کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)
دوسری۲ تفسیر کہ حسن بصری سے مرسلا ہے وقد قال المحدثون ان مراسیل الحسن عندھم شبہ الریح(جبکہ محدثین حضرات نے ارشاد فرمایا حضرت حسن کی مرسل حدیثیں ان کے نزدیك ہوا کے مشابہ ہیں یعنی درجہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ت) ایك شخص نے عرض کی ہم حضور کو ایسے ہی سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایك دوسرے کو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں۔اس پر انکار فرمایا اور یہ آیت اتری۔
تفسیر اول کہ ہر طرح اصح واقوی ہے اس پر تو مطلع صاف ہے یہودی ونصرانی نے عبادت ہی کو پوچھا تھا جس پر یہ جواب ارشاد ہوا اور اسی تفسیر پر رب عزوجل کا روئے سخن اپنے مسلمان بندوں کی طرف
ایك امام ائمہ المفسرین ترجمان القرآن سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے جسے ابن ابی حاتم وابن جریر وابن المنذر اور بہیقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا کہ ابورافع قرظی یہودی اور سمی رئیس نصرانی نجراتی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں عرض کیا حضور یہ چاہتے ہیں کہ ہم حضور کی عبادت کریں جیسے نصاری نے عیسی کو پوجافرمایا معاذاﷲ غیر خدا کی عبادت نہیں ہوسکتینہ مجھے اس کا حکم ہوا نہ میں اس لئے بھیجا گیا اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(یا جیسا کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)
دوسری۲ تفسیر کہ حسن بصری سے مرسلا ہے وقد قال المحدثون ان مراسیل الحسن عندھم شبہ الریح(جبکہ محدثین حضرات نے ارشاد فرمایا حضرت حسن کی مرسل حدیثیں ان کے نزدیك ہوا کے مشابہ ہیں یعنی درجہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ت) ایك شخص نے عرض کی ہم حضور کو ایسے ہی سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایك دوسرے کو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں۔اس پر انکار فرمایا اور یہ آیت اتری۔
تفسیر اول کہ ہر طرح اصح واقوی ہے اس پر تو مطلع صاف ہے یہودی ونصرانی نے عبادت ہی کو پوچھا تھا جس پر یہ جواب ارشاد ہوا اور اسی تفسیر پر رب عزوجل کا روئے سخن اپنے مسلمان بندوں کی طرف
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۸۰
الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الدلائل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ ۲/ ۴۱
الدرلمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن مکتبہ آیۃ اﷲ الاعظمی قم ایران ۲/ ۴۶ و ۴۷
الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الدلائل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ ۲/ ۴۱
الدرلمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن مکتبہ آیۃ اﷲ الاعظمی قم ایران ۲/ ۴۶ و ۴۷
رکھنا خبیث سائلوں کی تفسیر اور ان کے حال کی تقبیح ہے کہ یہ حمیر قابل جواب نہیںاے میرے مسلمان بندو! تم خیال کرو کہ یہ اگر ایسا چاہتے تو تم سے فرماتے کہ تم اپنے غلامان فرمانبردارپھر کیا ایسا ہوسکتا تھا کہ تمھیں اسلام کے بعدکفر کاحکم دیتےمعاذاللہاور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ بوجہ خطاب یہ گمان کہ سائل مسلمان تھے جیسا کہ اس معتزلی کی کشاف میں گزرا اور بعض بعد والوں نے اتباع کیا باطل ہے۔اور اس کی تفسیر صحیح کے خلاف جو سلطان المفسرین صحابی وابن عم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمائیدوم مرسل موقطوع اگر ثابت ہوجائے تو اس میں رجلا ہے یعنی ایك شخص نے عرض کی ضرر یہ کوئی اعرابی بادیہ نشیں کفر کا حکم دیں گے اور ایسے بعض اشخاص سے ایسے سوال کا اصدور مستبعد نہیں بلکہ ہو نا ہی چاہئے تھا۔رب عزوجل فرماتاہے: "لترکبن طبقا عن طبق ﴿۱۹﴾" (ضرور تم زینہ بہ زینہ(بتدریج)چڑھتے جاؤ گے۔ت)سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگلوں میں کوئی ایسا ہو گزرا ہو جس نے علانیہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہو تو ضرور تم میں بھی کوئی ایسا ہوگا " لترکبن طبقا عن طبق ﴿۱۹﴾" سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کے متعدد اصحاب نے سوال کیا " اجعل لنا الـہا کما لہم الـہۃ " (اے موسی! ہمیں بھی ایك خدا بنادے جیسے ان کے بہت سے خداہیں فرمایا بل انتم قوم تجہلون ﴿۵۵﴾ بلکہ تم نرے جاہل ہو۔تویہاں بھی اگر کسی بادیہ نشین نومسلم جاہل ناواقف نے اپنی نادانی سے ایسی درخواست کی کیا بعید ہے اور اسی قرب عہد کے سبب ہدایت فرمادی گئی تکفیر نہ ہوئی جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے تجھلون(تم نرے نادان لوگ ہو۔ت)فرمایا نہ کہ تکفرون(تم کفر کررہے ہو۔ت)جس طرح ایك جوان حاضر خدمت اقدس ہوا اورآکر بے دھڑك عرض کی یا رسول اللہ! میرے لئے زنا حلال کردیجئے۔نبی سے براہ راست یہ درخواست کس حد کس حد تك پہنچتی ہے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے اس کو قتل کرنا چاہا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا اور اسے قریب بلایا یہاں تك کہ اس کے زانو زانوئے اقدس سے مل گئے پھر فرمایا:کیا تو پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص تیری ماں سے زنا کرے عرض کی:نہ۔فرمایا:تیری بہن سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۸۴ /۱۹
القرآن الکریم ۸۴ /۱۹
القرآن الکریم ۷ /۱۳۸
القرآن الکریم ۲۷ /۵۵
القرآن الکریم ۸۴ /۱۹
القرآن الکریم ۷ /۱۳۸
القرآن الکریم ۲۷ /۵۵
عرض کی:نہ فرمایا:تیر بیٹی سے عرض کینہ۔فرمایا:تیری پھوپی سے عرض کی:نہ۔فرمایا:تیری خالہ سے عرض کی: نہ۔ فرمایا:تو جس سے زنا کرے گا وہ بھی تو کسی کی ماں بہن بیٹی پھوپھی خالہ ہوگیجب اپنے لئے پسند نہیں کرتا اوروں کے لئے کیوں پسند کرتاہے۔پھر دست اقدس اس کے سینہ پر ملا اور دعا کی:الہی! اس کے دل سے زنا کی محبت نکال دے۔وہ صاحب فرماتے ہیں اس وقت سے زنا سے زیادہ کوئی چیز مجھے دشمن نہ تھی۔پھر صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا کہ اس وقت اگر تم اسے قتل کردیتے تو جہنم میں جاتا میری تمھاری مثل ایسی ہے جیسے کسی کا ناقہ بھاگ گیا لوگ اسے پکڑنے کو اسے کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ بھڑکتا اور زیادہ بھاگتا ہے اس کے مالك نے کہا تم رہنے دو تمھیں اس کی ترکیب نہیں آتی پھر گھاس کا ایك مٹھا ہاتھ میں لیا اور اسے دکھایا اور چمکارتا ہوا اس کے پاس گیا یہاں تك کہ بٹھا کر اس پر سوا ر ہوگیا۔اوکما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(یا جیسا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: از قادر گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کسی شیئ متبرك کو تعظیما چومنے یا تعظیما اپنے پیروومرشد اور استاد والدین اور پیر زادہ اور سادات کرام اور علمائے عظام کے ہاتھ اور پاؤں چومنے اور ان لوگوں کو دیکھ کر تعظیما اٹھنے سے کفر وشرکت لازم آتاہے یا یہ امر جائز ومستحسن ہے اور احادیث شریفہ وفقہ سے ثابت ہے یانہیں یایہ کہ لوگوں نے ان کو بدعۃ مثل اور بدرسموں کے ایجاد کیاہے
الجواب:
اشیاء معظمہ کو تعظیما بوسہ دینا جائز ہے جبکہ کسی حرج شرعی پرمشتمل نہ ہو۔
وقد ثبت عن ابی ایوب الانصاری کما فی مسند الامام احمد وعن عبداﷲ بن عمر کما فی الشفاء للامام قاضی عیاض رضی اﷲ تعالی عنہم۔ چنانچہ حضرت ابوایوب انصاری سے یہ ثابت ہے جیسا کہ مسند امام احمد میں مذکور ہے اور حضرت عبداﷲ بن عمر سے مروی ہے جیسا کہ"الشفاء"قاضی عیاض میں موجود ہے۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔(ت)
اور معظمان دینی کے ہاتھ پاؤں چومنا بھی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے یونہی انھیں دیکھ کر قیام مگر ہاتھ باندھے
مسئلہ ۱۸۹: از قادر گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کسی شیئ متبرك کو تعظیما چومنے یا تعظیما اپنے پیروومرشد اور استاد والدین اور پیر زادہ اور سادات کرام اور علمائے عظام کے ہاتھ اور پاؤں چومنے اور ان لوگوں کو دیکھ کر تعظیما اٹھنے سے کفر وشرکت لازم آتاہے یا یہ امر جائز ومستحسن ہے اور احادیث شریفہ وفقہ سے ثابت ہے یانہیں یایہ کہ لوگوں نے ان کو بدعۃ مثل اور بدرسموں کے ایجاد کیاہے
الجواب:
اشیاء معظمہ کو تعظیما بوسہ دینا جائز ہے جبکہ کسی حرج شرعی پرمشتمل نہ ہو۔
وقد ثبت عن ابی ایوب الانصاری کما فی مسند الامام احمد وعن عبداﷲ بن عمر کما فی الشفاء للامام قاضی عیاض رضی اﷲ تعالی عنہم۔ چنانچہ حضرت ابوایوب انصاری سے یہ ثابت ہے جیسا کہ مسند امام احمد میں مذکور ہے اور حضرت عبداﷲ بن عمر سے مروی ہے جیسا کہ"الشفاء"قاضی عیاض میں موجود ہے۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔(ت)
اور معظمان دینی کے ہاتھ پاؤں چومنا بھی احادیث کثیرہ سے ثابت ہے یونہی انھیں دیکھ کر قیام مگر ہاتھ باندھے
کھڑے رہنا نہ چاہئے اوراگر کوئی معظم اس کی خواہش کرے اس کی یہ خواہش حرام ہے۔ حدیث میں ہے:
من سرہ ان یتمثل لہ الرجال قیاما فلیتبوأ مقعدہ من النار ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جو کوئی اس بات سے خوش اورع مسرور ہو کہ لوگ اس کے لئے کھڑے رہیں تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالینا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۰: از ڈاکخانہ راموچکماء کول ضلع چٹگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ مفیض الرحمن صاحب ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
قرآن مجید کو بعد تلاوت ماتھے پر رکھنا بہ نیت تعظیم کیساہے
الجواب:
مصحف شریف کو تعظیما سراور آنکھوں اور سینے سے لگانا اور بوسہ دینا جائز ومستحب ہے کہ وہ اعظم شعائر سے ہے اور تعظیم شعائر تقوی القلوب سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: از کوٹلی لوہاران مغربی ضلع سیالکوٹ مرسلہ ابوالیاس محمد امام الدین
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کے ساتھ السلام علیکم کا کیا حکم ہے کہنا چاہئے یا نہ اگر کہنا چاہئے تو بوڑھی جوان کا فرق ہے یانہیں اور اپنے بیگانے کی تمیز ہوگی یانہیں اور عورتیں آپس میں کن الفاظ سے سلام کیا کریں اور مرد عورتوں سے کن الفاظ سے کہا کریں
الجواب:
محارم وازواج پر سلام مطلقا ہے اور اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے بوڑھیوں کو کیا جائے بلکہ جوانیں اگر سلام نہ کریں تو جواب دل میں دیا جائے انھیں نہ سنائے حالانکہ جواب دینا واجب ہے اور لفظ سلام کا مرد وعورت کا باہم اور ایك دوسرے کے ساتھ مطلقا السلام علیکم ہے اور سلام بھی کافی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: از رام پور مسئولہ محمد سعید
بعد نماز فجر اورعصر مصلحین باہم مصافحہ بالخصوص اور ضروری جان کر کرنا عندالحنفیہ سنت ہے یا مستحب یا مکروہ
من سرہ ان یتمثل لہ الرجال قیاما فلیتبوأ مقعدہ من النار ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جو کوئی اس بات سے خوش اورع مسرور ہو کہ لوگ اس کے لئے کھڑے رہیں تو اس کو اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالینا چاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۰: از ڈاکخانہ راموچکماء کول ضلع چٹگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ مفیض الرحمن صاحب ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
قرآن مجید کو بعد تلاوت ماتھے پر رکھنا بہ نیت تعظیم کیساہے
الجواب:
مصحف شریف کو تعظیما سراور آنکھوں اور سینے سے لگانا اور بوسہ دینا جائز ومستحب ہے کہ وہ اعظم شعائر سے ہے اور تعظیم شعائر تقوی القلوب سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: از کوٹلی لوہاران مغربی ضلع سیالکوٹ مرسلہ ابوالیاس محمد امام الدین
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورتوں کے ساتھ السلام علیکم کا کیا حکم ہے کہنا چاہئے یا نہ اگر کہنا چاہئے تو بوڑھی جوان کا فرق ہے یانہیں اور اپنے بیگانے کی تمیز ہوگی یانہیں اور عورتیں آپس میں کن الفاظ سے سلام کیا کریں اور مرد عورتوں سے کن الفاظ سے کہا کریں
الجواب:
محارم وازواج پر سلام مطلقا ہے اور اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے بوڑھیوں کو کیا جائے بلکہ جوانیں اگر سلام نہ کریں تو جواب دل میں دیا جائے انھیں نہ سنائے حالانکہ جواب دینا واجب ہے اور لفظ سلام کا مرد وعورت کا باہم اور ایك دوسرے کے ساتھ مطلقا السلام علیکم ہے اور سلام بھی کافی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: از رام پور مسئولہ محمد سعید
بعد نماز فجر اورعصر مصلحین باہم مصافحہ بالخصوص اور ضروری جان کر کرنا عندالحنفیہ سنت ہے یا مستحب یا مکروہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی کراھیۃ قیام الرجل للرجل امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰
الجواب:
فجروعصر کے بعد مصافحہ جائز ہے۔اصل میں سنت ہے اور تخصیص مباحکما ذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح المؤطا والامام النووی فی الاذکار وغیرھما(جیسا کہ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی نے شرح مؤطا میں اور امام نووی نے اذکار میں اور ان دوکے علاوہ باقیوں نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان فرمایا ہے۔ت)اور ضروری عرفی جاننے میں حرج نہیں اور ضروری شرعی خود نفس مصافحہ بھی نہیں حالانکہ سنت ہے نہ اسے کوئی غرض وہ واجب شرعی کہتاہےنسیم الریاض میں ہے:
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایك جائز بدعت ہے۔(ت)
تمام تفصیل ہمارے رسالہ وشاح الجید فـــــــ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۳: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی رمضان علی صاحب بنگالی ۱۵صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ لوگ ایك مسجد میں سنتیں پڑھ رہے ہیں کچھ لوگ تسبیح وتہلیل کررہے ہیں اور کچھ تلاوت کلام اﷲ شریف کررہے ہیں اور کچھ لوگ یونہی بیٹھے ہوئے ہیں تو ایسی حالت میں انھیں سلام کرناجائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر کچھ لو گ خالی بیٹھے ہوں ان کو سلام کرسکتا ہے اور جو لوگ نماز یا تلاوت یا ذکر میں ہیں ان کو سلام کرنا مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: ازنصیر آباد ضلع اجمیر شریف میں محلہ دودہان مرسلہ جناب شیخ محمد عمر صاحب ۲۱ رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے پیر کو سجدہ تعظیمی کیا کرتا ہے اور جب اس کو منع کیا جاتاہے کہ تعظیمی سجدہ سوائے خدا کے کسی کو درست نہیں خواہ پیغمبر ہو یا پیرتو زید مذکور پیر کو سجدہ تعظیمی کرنے کی نفی میں قرآن مجید واحادیث نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثبوت طلب کرتا ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ تعظیمی سجدہ جو اپنے پیر یا استاد کوکیا جاتاہے ازروئے شرع شریف جائز ہے یا حرام اور پیر کو تعظیمی سجدہ کرنے والا مومن ہے یا مشرک۔ فقط۔بینوا توجروا۔
فجروعصر کے بعد مصافحہ جائز ہے۔اصل میں سنت ہے اور تخصیص مباحکما ذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدھلوی فی شرح المؤطا والامام النووی فی الاذکار وغیرھما(جیسا کہ حضرت شاہ ولی اﷲ دہلوی نے شرح مؤطا میں اور امام نووی نے اذکار میں اور ان دوکے علاوہ باقیوں نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان فرمایا ہے۔ت)اور ضروری عرفی جاننے میں حرج نہیں اور ضروری شرعی خود نفس مصافحہ بھی نہیں حالانکہ سنت ہے نہ اسے کوئی غرض وہ واجب شرعی کہتاہےنسیم الریاض میں ہے:
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایك جائز بدعت ہے۔(ت)
تمام تفصیل ہمارے رسالہ وشاح الجید فـــــــ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۳: از شہر بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی رمضان علی صاحب بنگالی ۱۵صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ لوگ ایك مسجد میں سنتیں پڑھ رہے ہیں کچھ لوگ تسبیح وتہلیل کررہے ہیں اور کچھ تلاوت کلام اﷲ شریف کررہے ہیں اور کچھ لوگ یونہی بیٹھے ہوئے ہیں تو ایسی حالت میں انھیں سلام کرناجائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر کچھ لو گ خالی بیٹھے ہوں ان کو سلام کرسکتا ہے اور جو لوگ نماز یا تلاوت یا ذکر میں ہیں ان کو سلام کرنا مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: ازنصیر آباد ضلع اجمیر شریف میں محلہ دودہان مرسلہ جناب شیخ محمد عمر صاحب ۲۱ رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے پیر کو سجدہ تعظیمی کیا کرتا ہے اور جب اس کو منع کیا جاتاہے کہ تعظیمی سجدہ سوائے خدا کے کسی کو درست نہیں خواہ پیغمبر ہو یا پیرتو زید مذکور پیر کو سجدہ تعظیمی کرنے کی نفی میں قرآن مجید واحادیث نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ثبوت طلب کرتا ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ تعظیمی سجدہ جو اپنے پیر یا استاد کوکیا جاتاہے ازروئے شرع شریف جائز ہے یا حرام اور پیر کو تعظیمی سجدہ کرنے والا مومن ہے یا مشرک۔ فقط۔بینوا توجروا۔
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی دارلکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۱۳
فـــــــ: رسالہ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید فتاوٰی رضویہ جلد ہشتم مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں مرقوم ہے۔
فـــــــ: رسالہ وشاح الجید فی تحلیل معانقۃ العید فتاوٰی رضویہ جلد ہشتم مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور میں مرقوم ہے۔
الجواب:
غیر خدا کو سجدہ عبادت شرك ہے سجدہ تعظیمی شرك نہیں مگر حرام ہے گناہ کبیرہ ہے متواتر حدیثیں اور متواتر نصوص فقہیہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحریم پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نصوص فقہیہ کی گنتی نہیں فتاوی عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حرمت پر اجماع امت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۵: از امؤپور میواڑ راجپوتانہ مہارانا اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۱۲ رمضان ۱۳۳۸ھ
دس آدمی جاہل بیٹھے ہوئے ہوں اور عالم مولوی ان کے پاس آئے تو وہ سلام کریں یا یہ انھیںپہلے کون کرے
الجواب:
آنے والے کو پہلے سلام کرنا چاہئےاو رانکا جاہل ہونا ابتداء السلام کے مانع نہیں جبکہ فاسق نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۶:از دہلی مدرسہ نعمانیہ محلہ بلی ماراں مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مہتمم ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین والدین واستادوعلماء کے ہاتھ پاؤں چومنا زید حرام کہتاہے۔
جواب:از مولوی عماد الدین صاحب سنھبلی مدرس اول مدرسہ نعمانیہ
بالاتفاق جائز ودرست ہے منصف کے لئے اس قدر کافی ہے معاند منکر کا علاج نہیں۔
قاضی خانعالمگیریعینی شرح ہدایہدرمختارردالمحتارابن ماجہمشکوۃ شریفبوداؤداشعۃ اللمعات سے اس کا جواز بلکہ امر ممدوح ہونا ثابت ہوگیا۔لہذا بدتر ازبول زید پر کید کا قول باطل ہوا کہ وہ اپنے گھر سے نئی شریعت گھڑتا ہے الخ
تصدیقات کثیرہ: دہلی واجمیر شریف ولاہور والہ ابادوغیرہا
تحریر کفایت اﷲ مدرسہ امینیہ:
کسی بزرگ مثلا والد یا پیر یا عالم کے ہاتھ پاؤں چومنا فی حد ذاتہ مباح ہے اور اس کی اباحت احادیث و روایات فقہیہ سے ثابت ہے جیسا کہ جوابات مذکورہ بالا میں علماء کرام نے مفصل ومدلل بیان فرمادیا ہے البتہ ذرا یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ بہت سے عوام بحیلہ پابوسی پیروں کو سجدہ کرنے لگتے ہیں اور سجدے کی تاویل میں پابوسی کے جواز کو حیلہ بنالیتے ہیں تو اگر کسی ایسی خاص صورت میں کوئی عالم کسی خاص شخص کو پابوسی سے منع کردے تو درحقیقت وہ ممانعت پابوسی کی نہیں بلکہ سجدے کی ہوگی اور صحیح ہوگی اور عوام سے
غیر خدا کو سجدہ عبادت شرك ہے سجدہ تعظیمی شرك نہیں مگر حرام ہے گناہ کبیرہ ہے متواتر حدیثیں اور متواتر نصوص فقہیہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحریم پر چالیس حدیثیں روایت کیں اور نصوص فقہیہ کی گنتی نہیں فتاوی عزیزیہ میں ہے کہ اس کی حرمت پر اجماع امت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۵: از امؤپور میواڑ راجپوتانہ مہارانا اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۱۲ رمضان ۱۳۳۸ھ
دس آدمی جاہل بیٹھے ہوئے ہوں اور عالم مولوی ان کے پاس آئے تو وہ سلام کریں یا یہ انھیںپہلے کون کرے
الجواب:
آنے والے کو پہلے سلام کرنا چاہئےاو رانکا جاہل ہونا ابتداء السلام کے مانع نہیں جبکہ فاسق نہ ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۶:از دہلی مدرسہ نعمانیہ محلہ بلی ماراں مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مہتمم ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین والدین واستادوعلماء کے ہاتھ پاؤں چومنا زید حرام کہتاہے۔
جواب:از مولوی عماد الدین صاحب سنھبلی مدرس اول مدرسہ نعمانیہ
بالاتفاق جائز ودرست ہے منصف کے لئے اس قدر کافی ہے معاند منکر کا علاج نہیں۔
قاضی خانعالمگیریعینی شرح ہدایہدرمختارردالمحتارابن ماجہمشکوۃ شریفبوداؤداشعۃ اللمعات سے اس کا جواز بلکہ امر ممدوح ہونا ثابت ہوگیا۔لہذا بدتر ازبول زید پر کید کا قول باطل ہوا کہ وہ اپنے گھر سے نئی شریعت گھڑتا ہے الخ
تصدیقات کثیرہ: دہلی واجمیر شریف ولاہور والہ ابادوغیرہا
تحریر کفایت اﷲ مدرسہ امینیہ:
کسی بزرگ مثلا والد یا پیر یا عالم کے ہاتھ پاؤں چومنا فی حد ذاتہ مباح ہے اور اس کی اباحت احادیث و روایات فقہیہ سے ثابت ہے جیسا کہ جوابات مذکورہ بالا میں علماء کرام نے مفصل ومدلل بیان فرمادیا ہے البتہ ذرا یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ بہت سے عوام بحیلہ پابوسی پیروں کو سجدہ کرنے لگتے ہیں اور سجدے کی تاویل میں پابوسی کے جواز کو حیلہ بنالیتے ہیں تو اگر کسی ایسی خاص صورت میں کوئی عالم کسی خاص شخص کو پابوسی سے منع کردے تو درحقیقت وہ ممانعت پابوسی کی نہیں بلکہ سجدے کی ہوگی اور صحیح ہوگی اور عوام سے
اس بارے میں اس قدر غلو کرلینا مستبعد نہیں۔واﷲ تعالی اعلممحمد کفایت اﷲ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی
الجواب(تحریردارالافتاء)
مولنا مولوی عمادالدین صاحب سلمہ کا جواب بہت صحیح ہےوالدین کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے۔اور علماء وصلحاء ورثہ سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والثناء کی دست بوسی وقدمبوسی سنت مستحبہ ہے۔
کما فصلناہ فی فتاونا بما لامزید علیہ واکثرنا من الاحادیث الناصبۃ بہ والداعیۃ الیہ وفی ماذکر المجیب کفایۃ واﷲ ولی الہدایۃ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس مسئلے کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا اور اس بارے میں ہم بکثرت ایسی حدیثیں لائے جواس مسئلہ پر قائم اور باعث تھیں۔اور جو کچھ فاضل مجیب نے(سوال مذکور کے)جواب میں ذکر فرمایا وہ راہنمائی کے لئے کافی ہے۔اور اﷲ تعالی ہی ہدایت دینے کا مالك اور ذمہ دار ہے۔(ت)
اور اس میں انکار کی شق وہی نکالتے ہیں جو تعظیم محبوبات ومقبولان خدا سے منکر ہیں قدمبوسی کو سجدہ سے کیا تعلق۔قدم بوسی سربرپانہادن(پاؤں سر پر رکھنا۔ت)اور سجدہ پیشانی بر زمین نہادن(پیشانی زمین پر رکھنا۔ت)ہےمسلمان پر بدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم " ۔وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔
وقال سیدی زروق رضی اﷲ تعالی عنہ الظن الخبیث انماینشؤ من القلب الخبیث ۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہواس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے(ت)
(سیدی زروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا)گمان خبیث خبیث ہی دل میں پیدا ہوتاہے۔
والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)
الجواب(تحریردارالافتاء)
مولنا مولوی عمادالدین صاحب سلمہ کا جواب بہت صحیح ہےوالدین کے ہاتھ پاؤں چومنا جائز ہے۔اور علماء وصلحاء ورثہ سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والثناء کی دست بوسی وقدمبوسی سنت مستحبہ ہے۔
کما فصلناہ فی فتاونا بما لامزید علیہ واکثرنا من الاحادیث الناصبۃ بہ والداعیۃ الیہ وفی ماذکر المجیب کفایۃ واﷲ ولی الہدایۃ جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس مسئلے کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا اور اس بارے میں ہم بکثرت ایسی حدیثیں لائے جواس مسئلہ پر قائم اور باعث تھیں۔اور جو کچھ فاضل مجیب نے(سوال مذکور کے)جواب میں ذکر فرمایا وہ راہنمائی کے لئے کافی ہے۔اور اﷲ تعالی ہی ہدایت دینے کا مالك اور ذمہ دار ہے۔(ت)
اور اس میں انکار کی شق وہی نکالتے ہیں جو تعظیم محبوبات ومقبولان خدا سے منکر ہیں قدمبوسی کو سجدہ سے کیا تعلق۔قدم بوسی سربرپانہادن(پاؤں سر پر رکھنا۔ت)اور سجدہ پیشانی بر زمین نہادن(پیشانی زمین پر رکھنا۔ت)ہےمسلمان پر بدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم " ۔وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔
وقال سیدی زروق رضی اﷲ تعالی عنہ الظن الخبیث انماینشؤ من القلب الخبیث ۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہواس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے(ت)
(سیدی زروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا)گمان خبیث خبیث ہی دل میں پیدا ہوتاہے۔
والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ یوسی بہا اودین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ یوسی بہا اودین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
ہاں اگر کوئی سجدہ کرے تو اسے منع کرنا فرض ہے یہ دوسری بات ہے قدمبوسی کو سجدہ سمجھ کر منع کرنا وہی گمان خبیث ہے اور براہ توارضع اگر دست بوسی کو بھی منع کرے تو وہ اس سے منع نہیں بلکہ اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھنا ہے
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اعمال کا دارومدار انسانی ارادو ں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۹۷: از بذلہ بارٹہ ڈاکخانہ خاص تحصیل وضلع ہوشیار پور محمد عطاء الہی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ عمر نے اپنے شیخ طریقت کا دست بوسی وپابوسی سے استقبال کیا۔ زید نے جو کہ اپنے آپ کو ایك عالم شخص تصور کرتاہے فی البدیہہ کہاکہ عمر اس فعل کے ارتکاب سے مشرك ہوگیا اور اس کا نکاح بھی باطل ہوگیا شریعت عزا کا اس مسئلہ میں کیا فیصلہ ہے۔اگر زید کا عمر کو مشرك کہنا جائز نہیں تو زید کس عتاب کا مرتکب ہے
الجواب:
علمائے دین ومشائخ صالحین کی دست بوسی وقدمبوسی سنت ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)زید نے کہ اس بناء پر بلاوجہ مسلمان کو کافر اور اس کے نکاح کوساقط بتایا وہ بحکم احادیث فقہ خود اس حکم کا قابل ہے از سر نور کلمہ اسلام پڑھے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے بشرطیکہ وہابی نہ ہوا اور جو وہابی ہے وہ خود مرتد ہے نہ وہ توبہ کرے نہ اس کی توبہ ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ثم لا یعودون ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضور اکرم صلی تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتاہے پھر وہ دین کی طرف نہ لوٹیں گے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اعمال کا دارومدار انسانی ارادو ں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۹۷: از بذلہ بارٹہ ڈاکخانہ خاص تحصیل وضلع ہوشیار پور محمد عطاء الہی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ عمر نے اپنے شیخ طریقت کا دست بوسی وپابوسی سے استقبال کیا۔ زید نے جو کہ اپنے آپ کو ایك عالم شخص تصور کرتاہے فی البدیہہ کہاکہ عمر اس فعل کے ارتکاب سے مشرك ہوگیا اور اس کا نکاح بھی باطل ہوگیا شریعت عزا کا اس مسئلہ میں کیا فیصلہ ہے۔اگر زید کا عمر کو مشرك کہنا جائز نہیں تو زید کس عتاب کا مرتکب ہے
الجواب:
علمائے دین ومشائخ صالحین کی دست بوسی وقدمبوسی سنت ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)زید نے کہ اس بناء پر بلاوجہ مسلمان کو کافر اور اس کے نکاح کوساقط بتایا وہ بحکم احادیث فقہ خود اس حکم کا قابل ہے از سر نور کلمہ اسلام پڑھے اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرے بشرطیکہ وہابی نہ ہوا اور جو وہابی ہے وہ خود مرتد ہے نہ وہ توبہ کرے نہ اس کی توبہ ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ ثم لا یعودون ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضور اکرم صلی تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتاہے پھر وہ دین کی طرف نہ لوٹیں گے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
حوالہ / References
الصحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲
المستدرك للحاکم کتاب قتال اھل البغی باب صفات الخوارج الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۱۴۷
المستدرك للحاکم کتاب قتال اھل البغی باب صفات الخوارج الخ دارالفکر بیروت ۲/ ۱۴۷
مسئلہ ۱۹۸: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سید کے لڑکے سے جب شاگر ہو یا ملازم ہو دینی یا دنیاوی خدمت لینا اور اس کو مارنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ذلیل خدمت اس سے لینا جائز نہیں۔نہ ایسی خدمت پر اسے ملازم رکھنا جائز۔اور جس خدمت میں ذلت نہیں اس پر ملازم رکھ سکتاہے۔بحال شاگرد بھی جہاں تك عرف اورمعروف ہو شرعا جائز ہے لے سکتا ہے اور اسے مارنے سے مطلق احتراز کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کوئی لڑکا ایسا ہے کہ ماں اس کی شیخ ہے اوربا پ سید اور وہ لڑکا خدمت کرنے کے لئے اپنے کو چھپاکے شیخ کہتا ہے کہ استاد یا آقا کی خدمت کریں اور اش کھائیں ہرچند منع کیا جاتاہے لیکن وہ نہیں مانتا ایسی حالت میں کیا کیا جائے اس سے خدمت لی جائے اوراس کوجھوٹا دیا جائے یانہیں
الجواب:
جب معلوم ہے کہ وہ سید کا بیٹا ہے اگر چہ ماں شیخ یا کوئی قوم ہے تو اس کا جواب مسئلہ ماقبل میں گزرا اس کا انکار کچھ معتبر نہیں۔باقی رہا مسلمان کا جھوٹا وہ کھانا کوئی ذلت نہیں۔حدیث میں اسے شفا فرمایا وہ مانگے تو اسے اسی نیت سے دیا جائے نہ کہ بہ نیت اوش۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰: از شہر بالجتی کنواں ۲۵ محرم ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین جو شخص السلام علیکم کے جواب میں سلامت یا سلاملیکم یا سلامالکم یا ولیکم کہے اور اس کو السلام علیکم وعلیکم السلام بتایاجائے لیکن وہ غلط کو صحیح جانے یا صحیح کی صحت میں سعی نہ کرے تو اس کو السلام علیك کرنا یا جواب دینا چاہئے یانہ چاہئے
الجواب:
سنی مسلمان غیر فاسق معلن کو ابتداء سلام کرےوہ اگر جواب خلاف سنت دے سمجھائےورنہ اس پر الزام نہیں۔نہ اس کے سبب سنت سلام ترك کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سید کے لڑکے سے جب شاگر ہو یا ملازم ہو دینی یا دنیاوی خدمت لینا اور اس کو مارنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ذلیل خدمت اس سے لینا جائز نہیں۔نہ ایسی خدمت پر اسے ملازم رکھنا جائز۔اور جس خدمت میں ذلت نہیں اس پر ملازم رکھ سکتاہے۔بحال شاگرد بھی جہاں تك عرف اورمعروف ہو شرعا جائز ہے لے سکتا ہے اور اسے مارنے سے مطلق احتراز کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کوئی لڑکا ایسا ہے کہ ماں اس کی شیخ ہے اوربا پ سید اور وہ لڑکا خدمت کرنے کے لئے اپنے کو چھپاکے شیخ کہتا ہے کہ استاد یا آقا کی خدمت کریں اور اش کھائیں ہرچند منع کیا جاتاہے لیکن وہ نہیں مانتا ایسی حالت میں کیا کیا جائے اس سے خدمت لی جائے اوراس کوجھوٹا دیا جائے یانہیں
الجواب:
جب معلوم ہے کہ وہ سید کا بیٹا ہے اگر چہ ماں شیخ یا کوئی قوم ہے تو اس کا جواب مسئلہ ماقبل میں گزرا اس کا انکار کچھ معتبر نہیں۔باقی رہا مسلمان کا جھوٹا وہ کھانا کوئی ذلت نہیں۔حدیث میں اسے شفا فرمایا وہ مانگے تو اسے اسی نیت سے دیا جائے نہ کہ بہ نیت اوش۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰: از شہر بالجتی کنواں ۲۵ محرم ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین جو شخص السلام علیکم کے جواب میں سلامت یا سلاملیکم یا سلامالکم یا ولیکم کہے اور اس کو السلام علیکم وعلیکم السلام بتایاجائے لیکن وہ غلط کو صحیح جانے یا صحیح کی صحت میں سعی نہ کرے تو اس کو السلام علیك کرنا یا جواب دینا چاہئے یانہ چاہئے
الجواب:
سنی مسلمان غیر فاسق معلن کو ابتداء سلام کرےوہ اگر جواب خلاف سنت دے سمجھائےورنہ اس پر الزام نہیں۔نہ اس کے سبب سنت سلام ترك کی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱: مولوی عبداﷲ صاحب بہادری مدرس مدرسہ منظر الاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وجووظیفہتلاوت قرآن مجید میں کوئی شخص سلام علیك کرے اس کا جواب دے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
وضو میں جواب دے۔اور وظیفہ وتلاوت میں جواب نہ دینے کا اختیار رکھتاہے۔کہ اس حال میں اس پر سلام مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم
_________________
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وجووظیفہتلاوت قرآن مجید میں کوئی شخص سلام علیك کرے اس کا جواب دے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
وضو میں جواب دے۔اور وظیفہ وتلاوت میں جواب نہ دینے کا اختیار رکھتاہے۔کہ اس حال میں اس پر سلام مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم
_________________
داڑھی وحلق وقصر وختنہ وحجامت
داڑھیمونچھسروغیرہ کے بالوںختنہ اور ناخن وغیرہ سے متعلق مسائل
مسئلہ۲۰۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ داڑھی کترانا اور منڈانا اور چڑھانا جائز ہے یانہیں درصورت ثانی مرتکب کا یہ عذر کہ اگر داڑھی مطابق شرع اور باطن خراب اور برا ہو اس سے بہتر ہے کہ داڑھی خلاف شریعت اور باطن آراستہ ہو صحیح اوردافع الزام ہے یانہیں اورا گر اس کے ساتھ داڑھی چھوڑنے اورنیچی رکھنے کی تحقیر کرے اور جو ایسا کرتے ہوں ان سے باستہزا پیش آئے اور انھیں تشبیہات وتمثیلات شنیعہ سے یاد کرے تو اس صورت میں کیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب اور حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعار۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی
داڑھیمونچھسروغیرہ کے بالوںختنہ اور ناخن وغیرہ سے متعلق مسائل
مسئلہ۲۰۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ داڑھی کترانا اور منڈانا اور چڑھانا جائز ہے یانہیں درصورت ثانی مرتکب کا یہ عذر کہ اگر داڑھی مطابق شرع اور باطن خراب اور برا ہو اس سے بہتر ہے کہ داڑھی خلاف شریعت اور باطن آراستہ ہو صحیح اوردافع الزام ہے یانہیں اورا گر اس کے ساتھ داڑھی چھوڑنے اورنیچی رکھنے کی تحقیر کرے اور جو ایسا کرتے ہوں ان سے باستہزا پیش آئے اور انھیں تشبیہات وتمثیلات شنیعہ سے یاد کرے تو اس صورت میں کیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب اور حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعار۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی
الحدیثرواہ مسلم ۔ حد شرع تك چھوڑدینا(اس کو مسلم نے روایت کیا۔ت)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی شرح میں فرماتے ہیں:
حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوك دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند ۔ داڑھی منڈانا حرام ہےیہ افرنگیوںہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں۔اور داڑھی بمقدار ایك مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایك جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔(ت)
اور حضور(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ارشاد فرماتے ہیں:
خالفوا المشرکین واوفواللحی واعفوا الشوارب۔رواہ الشیخان فی صحیحھما۔ مشرکین سے مخالفت کرو داڑھیاں پوری اور مونچھیں کم کردو(اس کو بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ت)
اور بعض احادیث میں وارد مونچھیں کم کراؤ اور داڑھیاں چھوڑدو اور مجوسی کی سی شکل نہ بناؤسنت سنیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ترك اور مشرکین ومجوس کی رسم اختیار کرنا مسلمان کامل کاکام نہیںعلاوہ بریں اس میں تغییر خلقت خدا بطریق ممنوع ہے اور وہ بنص قرآن اثرا ضلال شیطان اور بحکم حدیث رسالت پناہی موجب لعنت الہی ہے:
قال اﷲ عزاسمہ حاکیا عن ابلیس " لاضلنہم ولامنینہم اﷲ تعالی معزز نام والے نے شیطان کی حکایت بیان کرتے ہوئے ارشا د فرمایا ہے:میں(یعنی
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالی شرح میں فرماتے ہیں:
حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوك دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند ۔ داڑھی منڈانا حرام ہےیہ افرنگیوںہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں۔اور داڑھی بمقدار ایك مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایك جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔(ت)
اور حضور(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ارشاد فرماتے ہیں:
خالفوا المشرکین واوفواللحی واعفوا الشوارب۔رواہ الشیخان فی صحیحھما۔ مشرکین سے مخالفت کرو داڑھیاں پوری اور مونچھیں کم کردو(اس کو بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ت)
اور بعض احادیث میں وارد مونچھیں کم کراؤ اور داڑھیاں چھوڑدو اور مجوسی کی سی شکل نہ بناؤسنت سنیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ترك اور مشرکین ومجوس کی رسم اختیار کرنا مسلمان کامل کاکام نہیںعلاوہ بریں اس میں تغییر خلقت خدا بطریق ممنوع ہے اور وہ بنص قرآن اثرا ضلال شیطان اور بحکم حدیث رسالت پناہی موجب لعنت الہی ہے:
قال اﷲ عزاسمہ حاکیا عن ابلیس " لاضلنہم ولامنینہم اﷲ تعالی معزز نام والے نے شیطان کی حکایت بیان کرتے ہوئے ارشا د فرمایا ہے:میں(یعنی
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ باب السواك الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵،صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ باب السواك الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵،صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
" ولامرنہم فلیبتکن اذان الانعم ولامرنہم فلیغیرن خلق اللہ " وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعن اﷲ الواشمات والمتوشمات والمتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲ متفق علیہ ۔ شیطان)لوگوں کو ضرور گمراہ کروں گا اور انھیں امیدوں اور آرزوؤں کے سبزباغ دکھاؤں گا اور(بذریعہ وسوسہ اندازی) حکم دوں گا کہ جانوروں کے کان کاٹ ڈالیں اور انھیں کہوں گا کہ اﷲ تعالی کی خلقت(یعنی بناوٹ)میں تبدیلی کریں۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اﷲ تعالی خال گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پرلعنت کرےبال اکھاڑنے والی عورتوں پر خوبصورتی کے لئے دانتوں میں (مصنوعی)فاصلہ بنانے والیوں پر اور بناوٹ خداوندی میں ردو بدل کرنے والی عورتوں پر لعنت ہو۔اس کو بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے۔(ت)
اسی طرح داڑھی غیر جہاد میں چڑھانا ناجائز وممنوع۔ایسے شخصوں کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں کو خبر دے دو کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان سے بیزارہیں رواہ الترمذی اورپر ظاہر کہ داڑھی کتروانا یامنڈانا چڑھانے سے سخت تر ہے کہ اس میں فقط تغییر صفت سنت ہے اور ان میں تغییر یا اعدام اصل معہذا اگر تو بہ نصیب ہو تو یہ سریع الزوال اور ان کا ازالہ نہ ہوگا مگر بعد ایك زمانہ کے جب چڑھانے کی نسبت ایسی وعید شدید وارد اور حضور اس کے مرتکب سے اپنی بیزاری ظاہر فرمائیں تو کترنے اور منڈانے سے کس قدر ناراض وبیزار ہوں گے اور العیاذ باﷲ اس حبیب مرتجی ورسول مجتبی صلی اﷲ تعالی وسلم کی ناراضی پر دنیا وآخرت میں جو ثمرات بد مرتب ہیں دل مومن ان سے خوب واقف ہے باقی عذر مذکور فی السوال وہ ہر گز قابل اعتبار نہیں بلکہ قائل کی سفاہت وضلالت پر دال ہے اس میں شك نہیں کہ اصلاح باطن آرائش ظاہر سے اہم ترمگر اس کے ساتھ افساد ظاہر وارتکاب محرمات و ممنوعات کی کس نے اجازت دی کیا تعمیل حکم شرع واتباع سنت شارع کہ داڑھی بڑھانے اور نیچی رکھنے میں پائی جاتی ہے آراستگی باطن میں کچھ خلل انداز ہے بلکہ وہ اپنے اس دعوے ہی میں جھوٹا ہے کہ باطن میرا آراستہ ہے اگر چہ داڑھی خلاف شرع ہو کہ اگر فی الواقع باطن اس کا زیور اصلاح سے مزین اور بحکم خدا ورسول منقاد ہوتا تو اتباع سنت چھوڑ کر شعار کفر وشرك وبدعت کی پیروی پسند نہ کرتا اور حکم شرع سن کر سر جھکاتا اپنے فعل شنیع پر مصر نہ ہوتا اور ایسے بیہودہ عذروں کو سپرنہ بناتا استغفراﷲ ایسے اعذار باردہ موجب تحلیل
اسی طرح داڑھی غیر جہاد میں چڑھانا ناجائز وممنوع۔ایسے شخصوں کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لوگوں کو خبر دے دو کہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان سے بیزارہیں رواہ الترمذی اورپر ظاہر کہ داڑھی کتروانا یامنڈانا چڑھانے سے سخت تر ہے کہ اس میں فقط تغییر صفت سنت ہے اور ان میں تغییر یا اعدام اصل معہذا اگر تو بہ نصیب ہو تو یہ سریع الزوال اور ان کا ازالہ نہ ہوگا مگر بعد ایك زمانہ کے جب چڑھانے کی نسبت ایسی وعید شدید وارد اور حضور اس کے مرتکب سے اپنی بیزاری ظاہر فرمائیں تو کترنے اور منڈانے سے کس قدر ناراض وبیزار ہوں گے اور العیاذ باﷲ اس حبیب مرتجی ورسول مجتبی صلی اﷲ تعالی وسلم کی ناراضی پر دنیا وآخرت میں جو ثمرات بد مرتب ہیں دل مومن ان سے خوب واقف ہے باقی عذر مذکور فی السوال وہ ہر گز قابل اعتبار نہیں بلکہ قائل کی سفاہت وضلالت پر دال ہے اس میں شك نہیں کہ اصلاح باطن آرائش ظاہر سے اہم ترمگر اس کے ساتھ افساد ظاہر وارتکاب محرمات و ممنوعات کی کس نے اجازت دی کیا تعمیل حکم شرع واتباع سنت شارع کہ داڑھی بڑھانے اور نیچی رکھنے میں پائی جاتی ہے آراستگی باطن میں کچھ خلل انداز ہے بلکہ وہ اپنے اس دعوے ہی میں جھوٹا ہے کہ باطن میرا آراستہ ہے اگر چہ داڑھی خلاف شرع ہو کہ اگر فی الواقع باطن اس کا زیور اصلاح سے مزین اور بحکم خدا ورسول منقاد ہوتا تو اتباع سنت چھوڑ کر شعار کفر وشرك وبدعت کی پیروی پسند نہ کرتا اور حکم شرع سن کر سر جھکاتا اپنے فعل شنیع پر مصر نہ ہوتا اور ایسے بیہودہ عذروں کو سپرنہ بناتا استغفراﷲ ایسے اعذار باردہ موجب تحلیل
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹
صحیح البخاری کتا ب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۹،صحیح مسلم کتا ب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۵
صحیح البخاری کتا ب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۹،صحیح مسلم کتا ب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۵
محرمات نہیں ہوسکتے نہ ان سے وبال میں کچھ کمی ہو بلکہ موجب زیادت نکال ہیں کہ جب ارتکاب ممنوع کے ساتھ ندامت واعتراف بجرم لاحق ہو تو وہ باعث تخفیف عذاب اور عزم مع الترك موجب محو گناہ ہوجاتی ہے اور جب حکم شرع کے سامنے گردن نہ جھکائیں بلکہ باصرار پیش آئیں اور ایسے جھوٹے بہانوں کا دامن پکڑیں تو شامت اس کی ایك سےہزار ہوجاتی ہے اور اگر داڑھی چھوڑنے یانیچی رکھنے کی تحقیر اور ان لوگوں سے کہ ایسا کرتے ہیں استہزاء اور انھیں تشبہیات وتمثیلا ت قبیحہ سے یاد کرے گا تو قطعا کا فرہے کہ یہ سنن سے ہے اور اس کی سنیت قطعی الثبوتایسی سنت کی توہین وتحقیر اور اس کے اتباع پر استہزاء بالاجماع کفر کما ھومصرح فی الکتب الفقہیۃ والکلامیۃ(جیسا کہ فقہ اور علم کلام کی کتابوں میں صراحۃ یہ مذکور ہے۔ت) عورت اس کی نکاح سے نکل جائے گی اور بعد اس کے جو بچے ہوں گے اولاد حرام ہوں گے اہل اسلام کو اس سے معاملہ کفار برتنا لازم۔بعد مرگ اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں اور مقابرمسلمین میں دفن نہ کریں بلکہ جہاں تك ممکن اس جنازہ ناپاك کی تذلیل کریں کہ اس نے ایسے عزت والے پیغمبر افضل المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت کو ذلیل سمجھا العیاذ باللہ واﷲ نسئل حسن الخواتیم والعلم بالحق عند ربی ان ربی خبیر علیم(اﷲ تعالی کی پناہ۔ہم اﷲ تعالی سے خاتمہ بالخیر کا سوال کرتے ہیں اور حق کا علم میرے پروردگار ہی کے پاس ہے۔بلاشبہہ میرا پروردگار(ہر چیز سے)پوری طرح خبردار اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ت)
مسئلہ ۲۰۳: مسئولہ محمد حسین شاگرد رشید احمد گنگوہی ۲۵ شوال ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بدھ کے دن ناخن کتروانا چاہئے یا نہیں اگر نہ چاہئے تو اس کی وجہ کیا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نہ چاہئےحدیث میں اس سے نہی آئی کہ معاذاﷲ مورث برص ہوتاہے۔بعض علماء رحمہم اﷲ تعالی نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے بربنائے حدیث منع کیافرمایا صحیح نہ ہوئیفورا برص ہوگئیشب کو زیارت جمال بے مثال حضور پر نور محبوب ذی الجلال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مشرف ہوئے شافی کافی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی حضور والا صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نہی فرمائی ہے۔عرض کی حدیث میرے نزدیك صحت کو نہ پہنچیارشادہوا تمھیں اتنا کافی تھا کہ یہ حدیث ہمارے نام پاك سے تمھارے کان تك پہنچییہ فرماکر حضور مبرئ الاکمہ والابرص ومحی الموتی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(حضور اندھوں کوڑھیوں
مسئلہ ۲۰۳: مسئولہ محمد حسین شاگرد رشید احمد گنگوہی ۲۵ شوال ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بدھ کے دن ناخن کتروانا چاہئے یا نہیں اگر نہ چاہئے تو اس کی وجہ کیا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نہ چاہئےحدیث میں اس سے نہی آئی کہ معاذاﷲ مورث برص ہوتاہے۔بعض علماء رحمہم اﷲ تعالی نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے بربنائے حدیث منع کیافرمایا صحیح نہ ہوئیفورا برص ہوگئیشب کو زیارت جمال بے مثال حضور پر نور محبوب ذی الجلال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مشرف ہوئے شافی کافی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی حضور والا صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نہی فرمائی ہے۔عرض کی حدیث میرے نزدیك صحت کو نہ پہنچیارشادہوا تمھیں اتنا کافی تھا کہ یہ حدیث ہمارے نام پاك سے تمھارے کان تك پہنچییہ فرماکر حضور مبرئ الاکمہ والابرص ومحی الموتی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(حضور اندھوں کوڑھیوں
اور مردوں کو صحت وحیات بخشے والی ہستی پر اﷲ تعالی کی رحمت اور سلام ہو۔ت)نے اپنا دست اقدس کہ پناہ دوجہاں ودستگیر بیکساں ہے ان کے بدن پر لگایا فورا اچھے ہوگئے اور اسی وقت سے تو بہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر ایسی مخالفت نہ کروں گا
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی رحمہ اﷲ تعالی علیہ نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ ورد النھی عنہ فی یوم الاربعاء وانہ یورث البرص و حکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ مااصابہ فقال لہ الم تسمع نھی عنہ فقال لم یصح عندی فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکفیك انہ سمع ثم مسح بیدہ الشریفۃ فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع اھ۔ ناخن کاٹنے سنت ہیں لیکن بدھ کے دن ایساکرنے سے حدیث میں ممانعت وارد ہوئی کیونکہ اس سے مرض برص(جسم پر سفید داغ پیداہوتا ہے۔بعض اہل علم کی حکایت ہے کہ انھوں نے بدھ کے روز ناخن کٹوائے انھیں اس سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے فرمایا یہ حدیث ثابت نہیںانھیں فورا مرض برص لاحق ہوگیا پھر انھیں خواب میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوں نے آپ سے مرض برص کی شکایت کی آپ نے ان سے فرمایا کیا تم نے بدھ کے روز ناخن کٹوانے کی ممانعت نہیں سنی تھی انھوں نے جوابا عرض کیا کہ ہمارے نزدیك وہ حدیث پایہ صحت کو نہیں پہنچی تھی۔ زاس پر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمھارے لئے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ حدیث سن لی تھی۔ازاں بعد آپ نے اپنا دست اقدس ان کے جسم پر پھیرا تو فورا مرض زائل ہوگیا۔اس کے بعد عالم موصوف نے اسی وقت سماع کردہ حدیث کی مخالفت سے توبہ کی اھ(ت)
یہ بعض علماء امام علامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس سرہ العزیز تھے علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
ورد فی بعض الاثار النھی عن قص بدھ کے روز ناخن کترنے سے بعض آثار میں نہی
علامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی رحمہ اﷲ تعالی علیہ نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ ورد النھی عنہ فی یوم الاربعاء وانہ یورث البرص و حکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ مااصابہ فقال لہ الم تسمع نھی عنہ فقال لم یصح عندی فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یکفیك انہ سمع ثم مسح بیدہ الشریفۃ فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع اھ۔ ناخن کاٹنے سنت ہیں لیکن بدھ کے دن ایساکرنے سے حدیث میں ممانعت وارد ہوئی کیونکہ اس سے مرض برص(جسم پر سفید داغ پیداہوتا ہے۔بعض اہل علم کی حکایت ہے کہ انھوں نے بدھ کے روز ناخن کٹوائے انھیں اس سے منع کیا گیا لیکن انھوں نے فرمایا یہ حدیث ثابت نہیںانھیں فورا مرض برص لاحق ہوگیا پھر انھیں خواب میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوں نے آپ سے مرض برص کی شکایت کی آپ نے ان سے فرمایا کیا تم نے بدھ کے روز ناخن کٹوانے کی ممانعت نہیں سنی تھی انھوں نے جوابا عرض کیا کہ ہمارے نزدیك وہ حدیث پایہ صحت کو نہیں پہنچی تھی۔ زاس پر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمھارے لئے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے تھا کہ حدیث سن لی تھی۔ازاں بعد آپ نے اپنا دست اقدس ان کے جسم پر پھیرا تو فورا مرض زائل ہوگیا۔اس کے بعد عالم موصوف نے اسی وقت سماع کردہ حدیث کی مخالفت سے توبہ کی اھ(ت)
یہ بعض علماء امام علامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس سرہ العزیز تھے علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
ورد فی بعض الاثار النھی عن قص بدھ کے روز ناخن کترنے سے بعض آثار میں نہی
حوالہ / References
نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض فصل وامانظافۃ جسمہ دارالفکر بیروت ۱/ ۳۴۴
الاظفار یوم الاربعاء فانہ یورث البرص وعن ابن الحاج صاحب المدخل انہ ھم بقص اظفارہ یوم الاربعاء فتذکر ذلك فترك ثم رای ان قص الاظفار سنۃ حاضرۃ ولم یصح عندہ النھی فقصھا فلحقہ ای اصابہ البرص فرای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی النوم فقال الم تسمع نھی عن ذلك فقال یا رسول اﷲ لم یصح عندی ذلك فقال یکفیك ان تسمع ثم مسح صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی بدنہ فزال البرص جمیعا قال ابن الحاج رحمہ اﷲ تعالی فجددت مع اﷲ توبۃ الی لا اخالف ماسمعت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابدا ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب فقط۔ وارد ہوئی ہے کیونکہ یہ عمل باعث مرض برص ہے ابن الحاج صاحب مدخل سے مروی ہے کہ انھوں نے بدھ کے دن اسی نہی کے پیش نظر ناخن نہ کاٹے پھر خیال آیا کہ ناخن کاٹنے کا عمل توسنت ہے اور نہی والی روایت صحیح نہیں چنانچہ اسی خیال کے ساتھ ناخن کاٹ ڈالے اور انھیں مرض برص لاحق ہوگیا پھرخواب میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئیآپ نے فرمایا کیا تم نے ممانعت نہیں سنی تھی انھوں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم! میرے نزدیك یہ حدیث صحیح نہ تھی۔آپ نے ارشاد فرمایا تمھارے لئے میرے نام کی نسبت سے سننا ہی کافی تھا(یعنی کافی ہونا چاہئے تھا)پھر آپ نے ان کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو مرض برص سے شفا ہوگئی اور مرض مکمل طو رپر زائل ہو گیا۔ابن الحاج رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں پھر میں نے اﷲ تعالی کے حضور نئے سرے سے توبہ کی کہ اب میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت اور حوالے سے جو کچھ بھی سنوں گا اس کی مخالفت کبھی نہیں کروں گا۔اﷲ تعالی پاك وبلند وبالا ہے اور راہ صواب کو خوب جانتاہے۔فقط۔(ت)
مسئلہ ۲۰۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱سرکے بال جو تالو پر سے کھلوادئے جاتے ہیں آیا درست ہے ان کا منڈوانا یانہیں
۲دو سرے یہ کہ سر کے بال کتروانا اور ایك انگشت کے قریب رکھنا یا کہ اگلی جانب کے کچھ بڑے اور پیچھے کی جانب سے چھوٹے کرتے ہوںجو حکم شرع مطہر کا اس بارے میں ہو بیان فرمائیں۔
مسئلہ ۲۰۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۱سرکے بال جو تالو پر سے کھلوادئے جاتے ہیں آیا درست ہے ان کا منڈوانا یانہیں
۲دو سرے یہ کہ سر کے بال کتروانا اور ایك انگشت کے قریب رکھنا یا کہ اگلی جانب کے کچھ بڑے اور پیچھے کی جانب سے چھوٹے کرتے ہوںجو حکم شرع مطہر کا اس بارے میں ہو بیان فرمائیں۔
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۲
اﷲ تعالی اجر دے گا فقط۔
الجواب:
تالو کے بال منڈانا جس طرح یہاں کے لوگوں عادت ہے بشرطیکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں جسے پان بنوانا کہتے ہیں جائز ہے مگر اولی نہیں۔ہاں متفرق مواضع سے قطعے قطعے منڈوانا جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں بیچ سرمنڈوادیا آس پاس کے بال چھوڑدئے اور کنپٹیوں پر ببریاں رکھیں آس پاس منڈوادئے اور گدی پر ایك قطعہ بالوں کا چھوڑا دہنے بائیں حلق کئے اسے عربی میں قزع کہتے ہیں اور وہ ممنوع ہے بالوں کی نسبت شرع مطہر میں صرف دو۲ طریقے آئے ہیں:
ایك یہ کہ سارے سر پررکھیں اور مانگ نکالیں۔یہ خاص سنت حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہے۔حج وحجامت یعنی پچھنوں کی ضرورت کے سوا حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حلق شعر ثابت نہیں۔حضو ر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اس مدت میں صرف تین بار یعنی سال حدیبیہ وعمرۃ القضاء وحجۃ الوداع میں حلق فرمایا علی مانقلہ علی القاری فی جمع الوسائل عن بعض شراح المصابیح(جیسا کہ ملاعلی قاری نے مصابیح کے بعض شارحین سے جمع الوسائل میں نقص کیا ہے۔ت)
دوسرے یہ کہ سارا سرمنڈائیں یہ حضرت سیدنا مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی عادت تھی وہ جناب بخوف جنابت کہ مبادا نہانے میں کوئی بال پانی بہنے سے باقی نہ رہ جائے حلق فرمایا کرتے ان کے سوا جتنے طریقے ہیں سب خلاف سنت اور یہ نئی نئی تراشیں ایك ایك انگل کے بال رکھنا جب اس سے بڑھیں کتروادینا یا آگے سے بڑے پیچھے سے کترے ہوئے یا وسط تالو سے پیشانی تك کھلوادینا یا گدی کے بال منڈانا یا پیشانی سے گدی تك سڑك نکالنا یامنڈے سرخواہ بالوں کی حالت میں یعنی چوڑی قلمیں بڑھا کر رخساروں پر جھکانا یا داڑھی میں ملادینایہ باتیں مخالف سنت وخلاف وضع صلحائے مسلمین ہونے کے علاوہ ان میں اکثر اقوام کفار کی ایجاد ہیں جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچناچا ہئے۔ردالمحتارمیں ہے:
فی الروضۃ للزندویسی ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق او امام زندویسی کی روضہ میں ہے کہ سنت یہ ہے کہ سر کے بال رکھے جائیں اوران میں مانگ
الجواب:
تالو کے بال منڈانا جس طرح یہاں کے لوگوں عادت ہے بشرطیکہ پیشانی کے بال باقی رکھے جائیں جسے پان بنوانا کہتے ہیں جائز ہے مگر اولی نہیں۔ہاں متفرق مواضع سے قطعے قطعے منڈوانا جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں بیچ سرمنڈوادیا آس پاس کے بال چھوڑدئے اور کنپٹیوں پر ببریاں رکھیں آس پاس منڈوادئے اور گدی پر ایك قطعہ بالوں کا چھوڑا دہنے بائیں حلق کئے اسے عربی میں قزع کہتے ہیں اور وہ ممنوع ہے بالوں کی نسبت شرع مطہر میں صرف دو۲ طریقے آئے ہیں:
ایك یہ کہ سارے سر پررکھیں اور مانگ نکالیں۔یہ خاص سنت حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ہے۔حج وحجامت یعنی پچھنوں کی ضرورت کے سوا حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حلق شعر ثابت نہیں۔حضو ر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دس سال مدینہ میں قیام فرمایا اس مدت میں صرف تین بار یعنی سال حدیبیہ وعمرۃ القضاء وحجۃ الوداع میں حلق فرمایا علی مانقلہ علی القاری فی جمع الوسائل عن بعض شراح المصابیح(جیسا کہ ملاعلی قاری نے مصابیح کے بعض شارحین سے جمع الوسائل میں نقص کیا ہے۔ت)
دوسرے یہ کہ سارا سرمنڈائیں یہ حضرت سیدنا مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی عادت تھی وہ جناب بخوف جنابت کہ مبادا نہانے میں کوئی بال پانی بہنے سے باقی نہ رہ جائے حلق فرمایا کرتے ان کے سوا جتنے طریقے ہیں سب خلاف سنت اور یہ نئی نئی تراشیں ایك ایك انگل کے بال رکھنا جب اس سے بڑھیں کتروادینا یا آگے سے بڑے پیچھے سے کترے ہوئے یا وسط تالو سے پیشانی تك کھلوادینا یا گدی کے بال منڈانا یا پیشانی سے گدی تك سڑك نکالنا یامنڈے سرخواہ بالوں کی حالت میں یعنی چوڑی قلمیں بڑھا کر رخساروں پر جھکانا یا داڑھی میں ملادینایہ باتیں مخالف سنت وخلاف وضع صلحائے مسلمین ہونے کے علاوہ ان میں اکثر اقوام کفار کی ایجاد ہیں جن کی مشابہت سے مسلمانوں کو بچناچا ہئے۔ردالمحتارمیں ہے:
فی الروضۃ للزندویسی ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق او امام زندویسی کی روضہ میں ہے کہ سنت یہ ہے کہ سر کے بال رکھے جائیں اوران میں مانگ
حوالہ / References
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی شعر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۸۲
الحلق وذکر الطحاوی ان الحلق سنۃ و نسب ذلك الی العلماء الثلثۃ و فی الذخیرۃ ولا باس ان یحلق وسط راسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ وان فتلہ فذلك مکروہ لانہ یصیر مشبھا ببعض الکفرۃ و المجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولکن لایحلقون وسط الراس بل یجزون التاصیۃ تاتر خانیہ ۔ نکالی جائے یا بال منڈوادئے جائیں اور سر بالکل صاف کرادیا جائےامام طحطاوی نے بیان فرمایا ہے کہ سر منڈوانا سنت ہے اور یہ بات ائمہ ثلثہ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔اور ذخیرہ میں یوں مذکور ہے اس میں کوئی حرج نہیں کہ سر کے درمیانی حصہ کو مونڈ ڈالا جائے اور بالوں کو بغیر بٹنے کے کھلا چھوڑدیا جائے اور اگر انھیں کھلا نہ چھوڑے اور بٹنے والا عمل کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ اس طرح کرنے سے بعض کافروں اور آتش پرستوں سے مشابہت ہو جاتی ہے البتہ وہ سر کے درمیانی حصے کو مونڈتے نہیں بلکہ پیشانی والے بالوں کو کاٹ ڈالتے ہیں تاترخانیہ(ت)
عالمگیری میں ہے:
یکرہ القزع وھو ان یحلق البعض فیترك البعض قطعا مقدار ثلثۃ اصابع کذا فی الغرائب ۔ "قزع"مکروہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ سرکے بعض بال مونڈ ڈالے جائیں اور بعض بال بمقدار تین انگشت چھوڑ دئے جائیں اسی طرح الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
مجمع البحار میں ہے:
منہ ح نھی عن القزع ھو ان یحلق راس الصبی ویترك منہ مواضع متفرقۃ تشبیھا بقزع السحاب ط اجمعوا علی کراھتہ اذ اکان فی مواضع متفرقۃ الا ان یکون لمداوۃ لانہ من عادۃ الکفرۃ لقباحتہ صورۃ ۔ منہ حقزع سے منع کیا گیا ہے اور اس کی صورت یہ ہے بچوں کے سروں کے کچھ بال مونڈ ڈالے جائیں اور کچھ بال بادلوں کی ٹکڑیوں کی مانند چھوڑ دیے جائیںائمہ کرام اس کی کراہت پر متفق ہیں جبکہ مختلف جگہوں سے اس طرح کیا جائے البتہ برائے علاج ایسا کرنا مستثنی ہے۔ممانعت اس وجہ سے ہے کہ یہ کافروں کا معمول ہے اور صورۃ اس کی قباحت کی وجہ سے۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
یکرہ القزع وھو ان یحلق البعض فیترك البعض قطعا مقدار ثلثۃ اصابع کذا فی الغرائب ۔ "قزع"مکروہ ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ سرکے بعض بال مونڈ ڈالے جائیں اور بعض بال بمقدار تین انگشت چھوڑ دئے جائیں اسی طرح الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
مجمع البحار میں ہے:
منہ ح نھی عن القزع ھو ان یحلق راس الصبی ویترك منہ مواضع متفرقۃ تشبیھا بقزع السحاب ط اجمعوا علی کراھتہ اذ اکان فی مواضع متفرقۃ الا ان یکون لمداوۃ لانہ من عادۃ الکفرۃ لقباحتہ صورۃ ۔ منہ حقزع سے منع کیا گیا ہے اور اس کی صورت یہ ہے بچوں کے سروں کے کچھ بال مونڈ ڈالے جائیں اور کچھ بال بادلوں کی ٹکڑیوں کی مانند چھوڑ دیے جائیںائمہ کرام اس کی کراہت پر متفق ہیں جبکہ مختلف جگہوں سے اس طرح کیا جائے البتہ برائے علاج ایسا کرنا مستثنی ہے۔ممانعت اس وجہ سے ہے کہ یہ کافروں کا معمول ہے اور صورۃ اس کی قباحت کی وجہ سے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
مجمع بحار الانوار باب القاف مع الرای مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴/ ۲۷۱
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
مجمع بحار الانوار باب القاف مع الرای مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴/ ۲۷۱
اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث صحیحین:
عن نافع عن ابن عمر قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن القزع قیل لنافع ما القزع قال یحلق بعض رأس الصبی ویترك البعض۔ بحوالہ حضرت نافع حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ السلام نے سنا کہ آپ نے قزع سے منع فرمایا حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا قزع یہ ہے کہ بچہ کے سر کے کچھ بال مونڈدیئے جائیں اور کچھ رہنے دیئے جائیں۔(ت)
تحریر فرمایا:
گفتہ اند قزع حلق راس است از مواضع متفرقہ آں واگر چہ ظاہر عبارت کہ در تفسیر وے واقع شدہ مطلق است ولیکن شراح ہمہ تصریح کردہ اند بایں قید ودر روایت فقہیہ نیز ہمچنیں آمدہ است ۔ کہتے ہیں کہ"قزع"سر کے بالوں کو مختلف مقامات سے مونڈ ڈالنا ہوتاہے اگر چہ بظاہر وہ عبارت جو تفسیر"قزع"میں واقع ہوئی ہے وہ مطلق ہے لیکن تمام شارحین نے اس قید کا صراحتا ذکر کیا ہے(قید یہ ہے کہ سر کے مختلف حصے مونڈ دیئے جائیں)اور فقہی روایات میں بھی یونہی آیا ہے۔(ت)
شرح شمائل شریف میں ہے:
لم یروتقصیر الشعر منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الامرۃ واحدۃ الخ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے با ل کترنے صرف ایك ہی مرتبہ مروی ہیں۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
عن ابی حنیفہ رحمہ اﷲ تعالی یکرہ ان یحلق قفاہ الا عند الحجامۃکذا فی امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہے مگر پچھنے لگوانے کی صور ت میں جائز ہیں۔یونہی الینابیع
عن نافع عن ابن عمر قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی عن القزع قیل لنافع ما القزع قال یحلق بعض رأس الصبی ویترك البعض۔ بحوالہ حضرت نافع حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ السلام نے سنا کہ آپ نے قزع سے منع فرمایا حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا قزع یہ ہے کہ بچہ کے سر کے کچھ بال مونڈدیئے جائیں اور کچھ رہنے دیئے جائیں۔(ت)
تحریر فرمایا:
گفتہ اند قزع حلق راس است از مواضع متفرقہ آں واگر چہ ظاہر عبارت کہ در تفسیر وے واقع شدہ مطلق است ولیکن شراح ہمہ تصریح کردہ اند بایں قید ودر روایت فقہیہ نیز ہمچنیں آمدہ است ۔ کہتے ہیں کہ"قزع"سر کے بالوں کو مختلف مقامات سے مونڈ ڈالنا ہوتاہے اگر چہ بظاہر وہ عبارت جو تفسیر"قزع"میں واقع ہوئی ہے وہ مطلق ہے لیکن تمام شارحین نے اس قید کا صراحتا ذکر کیا ہے(قید یہ ہے کہ سر کے مختلف حصے مونڈ دیئے جائیں)اور فقہی روایات میں بھی یونہی آیا ہے۔(ت)
شرح شمائل شریف میں ہے:
لم یروتقصیر الشعر منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الامرۃ واحدۃ الخ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے با ل کترنے صرف ایك ہی مرتبہ مروی ہیں۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
عن ابی حنیفہ رحمہ اﷲ تعالی یکرہ ان یحلق قفاہ الا عند الحجامۃکذا فی امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہے مگر پچھنے لگوانے کی صور ت میں جائز ہیں۔یونہی الینابیع
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۱
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی شعررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۸۱
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی شعررسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۸۱
الینابیع ۔ میں مذکو رہے۔(ت)
عین العلم میں ہے:
یکرہ الزیادۃ فی العارضین بارسال الصدع المتجاوزۃ عن عظمھا اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔ رخساروں پر بالو ں کو بڑھانا کنپٹیوں کے بال چھوڑتے ہوئے جوان کی ہڈیوں سے متجاوز ہوں مکروہ ہے اھ ملخصا۔اﷲ تعالی خوب جانتا ہے اور اس بڑی شان والے کا علم سب سے زیادہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۸:
الحمدﷲ الذی انبت الشعر علی رؤسنا یزید فی الخلق مایشاء والصلوۃ والسلام علی بھجۃ نفوسنا والہ وصحبہ الی یوم الخیراء۔ سب تعریف اس خدا ئے بزرگ وبرتر کے لئے ہے جس نے ہمارے سروں پر بال اگائے اور وہ جو چاہے خلق میں اضافہ کرتاہے اور درود وسلام ہو اس محبوب ذات پر جو ہماری جانوں کی رونق ہے اور ان کی اولاد اور ساتھوں پر حسرتوں والے دن یعنی قیامت تك درود وسلام ہو۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)ریش ایك مشت سے زیادہ رکھنا سنت ہے یامکروہ
(۲)اور فخر عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ریش مبارك اپنی کو کبھی زیادہ ایك مشت سے ترشوایا ہے یانہیں
(۳)اور دیگر سوال یہ ہے کہ زید کہتاہے کہ سید الموجودات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ریش مبارك ایك مشت سے زیادہ کبھی نہ ہوئی یعنی پیدائشی آپ کی ایك ہی مشت تھی۔
(۴)اور حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کی زیادہ ایك مشت سے تھی یا ایك ہی مشت بینوا توجروا(بیان کروا اور اجر پاؤ۔ت)
عین العلم میں ہے:
یکرہ الزیادۃ فی العارضین بارسال الصدع المتجاوزۃ عن عظمھا اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔ رخساروں پر بالو ں کو بڑھانا کنپٹیوں کے بال چھوڑتے ہوئے جوان کی ہڈیوں سے متجاوز ہوں مکروہ ہے اھ ملخصا۔اﷲ تعالی خوب جانتا ہے اور اس بڑی شان والے کا علم سب سے زیادہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۰۵ تا ۲۰۸:
الحمدﷲ الذی انبت الشعر علی رؤسنا یزید فی الخلق مایشاء والصلوۃ والسلام علی بھجۃ نفوسنا والہ وصحبہ الی یوم الخیراء۔ سب تعریف اس خدا ئے بزرگ وبرتر کے لئے ہے جس نے ہمارے سروں پر بال اگائے اور وہ جو چاہے خلق میں اضافہ کرتاہے اور درود وسلام ہو اس محبوب ذات پر جو ہماری جانوں کی رونق ہے اور ان کی اولاد اور ساتھوں پر حسرتوں والے دن یعنی قیامت تك درود وسلام ہو۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)ریش ایك مشت سے زیادہ رکھنا سنت ہے یامکروہ
(۲)اور فخر عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ریش مبارك اپنی کو کبھی زیادہ ایك مشت سے ترشوایا ہے یانہیں
(۳)اور دیگر سوال یہ ہے کہ زید کہتاہے کہ سید الموجودات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ریش مبارك ایك مشت سے زیادہ کبھی نہ ہوئی یعنی پیدائشی آپ کی ایك ہی مشت تھی۔
(۴)اور حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کی زیادہ ایك مشت سے تھی یا ایك ہی مشت بینوا توجروا(بیان کروا اور اجر پاؤ۔ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
عین العلم الباب السابع مطبع اسلامیہ لاہور ص۱۳۵
عین العلم الباب السابع مطبع اسلامیہ لاہور ص۱۳۵
الجواب:
جواب سوال اول:ریش ایك مشت یعنی چار انگلی تك رکھنا واجب ہے اس سے کمی ناجائز۔شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوك دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند ۔ داڑھی بمقدار ایك مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے حالانکہ وہ واجب ہے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
الاخذ منھا وھی دون ذلك کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال ۔ داڑھی تراشنا یا کترنا کہ وہ مشت کی مقدار سے کم ہوجائے ناجائز ہے جیسا کہ بعض مغربیت زدہ لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں۔(ت)
غرض لحیہ سے کچھ لینا بھی اسی حالت سے مشروط ہے جبکہ طول میں حد شرع تك پہنچ جائے۔
فی الھندیہ من الملتقط لاباس اذا طالت لحیتہ طولا وعرضا لکنہ مقید بما اذا زاد علی القبضۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں بحوالہ"الملتقط"منقول ہے کہ جب داڑھی طول اور عرض میں بڑھ جائے تو ایك مشت مقدار سے زائد کاٹ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت)
اور پر ظاہر کہ مقدار ٹھوڑی کے نیچے سے لی جائے گی یعنی چھوٹے ہوئے بال اس قدر ہوں وہ جو بعض بیباك جہال لب زیریں کے نیچے سے ہاتھ رکھ کر چار انگل ناپتے ہیں کہ ٹھوڑی سے نیچے ایك ہی انگل رہے یہ محض جہالت اور شرع مطہر میں بیباکی ہے غرض اس قدر میں تو علمائے سنت کا اتفاق ہے۔اس سے زائد اگر طول فاحش حد اعتدال سے خارج بے موقع بدنما ہو تو بلا شبہہ خلاف سنت مکروہ کہ
جواب سوال اول:ریش ایك مشت یعنی چار انگلی تك رکھنا واجب ہے اس سے کمی ناجائز۔شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
گذاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآنکہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوك دین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آن بسنت ست چنانچہ نماز عید راسنت گفتہ اند ۔ داڑھی بمقدار ایك مشت رکھنا واجب ہے اور جو اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ اس معنی میں ہے کہ یہ دین میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جاری کردہ طریقہ ہے یا اس وجہ سے کہ اس کا ثبوت سنت نبوی سے ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہاجاتا ہے حالانکہ وہ واجب ہے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
الاخذ منھا وھی دون ذلك کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال ۔ داڑھی تراشنا یا کترنا کہ وہ مشت کی مقدار سے کم ہوجائے ناجائز ہے جیسا کہ بعض مغربیت زدہ لوگ اور ہیجڑے کرتے ہیں۔(ت)
غرض لحیہ سے کچھ لینا بھی اسی حالت سے مشروط ہے جبکہ طول میں حد شرع تك پہنچ جائے۔
فی الھندیہ من الملتقط لاباس اذا طالت لحیتہ طولا وعرضا لکنہ مقید بما اذا زاد علی القبضۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں بحوالہ"الملتقط"منقول ہے کہ جب داڑھی طول اور عرض میں بڑھ جائے تو ایك مشت مقدار سے زائد کاٹ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(ت)
اور پر ظاہر کہ مقدار ٹھوڑی کے نیچے سے لی جائے گی یعنی چھوٹے ہوئے بال اس قدر ہوں وہ جو بعض بیباك جہال لب زیریں کے نیچے سے ہاتھ رکھ کر چار انگل ناپتے ہیں کہ ٹھوڑی سے نیچے ایك ہی انگل رہے یہ محض جہالت اور شرع مطہر میں بیباکی ہے غرض اس قدر میں تو علمائے سنت کا اتفاق ہے۔اس سے زائد اگر طول فاحش حد اعتدال سے خارج بے موقع بدنما ہو تو بلا شبہہ خلاف سنت مکروہ کہ
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
فتح القدیر باب الصیام باب مایوجب القضاۃ والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۷۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
فتح القدیر باب الصیام باب مایوجب القضاۃ والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۷۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
صورت بد نما بنانا اپنے منہ پر دروازہ طعن مسخر یہ کھولنا مسلمانوں کو استہزاء وغیبت کی آفت میں ڈالنا ہر گز مرضی شرع مطہر نہیںنہ معاذا ﷲ زنہار کہ ریش اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عیاذا باﷲ کبھی حد بدنمائی تك پہنچی سنت ہونا اس کامعقول نہیں۔
وان ذھب بعض العلماء من غیر اصحابنا الی اعفاء اللحی جملۃ واحدۃ وکراھۃ اخذ شیئ منھا مطلقا وھو الذی اختارہ الامام الاجل النووی والعجب من ابن ملك حیث تابعہ علی ذلك مستدرکا بہ علی قول نفسہ ان الاخذ من اطراف اللحیۃ طولھا وعرضھا للتناسب حسن کما نقل عنہ المولی علی القاری فی کتاب الطھارۃ من المرقاۃ والعجب انہ ایضا سکت علیہ ھھنا مع انہ خلاف ماعلیہ ائمتنا الکرام کما تری۔ اگر چہ ہمارے اصحاب علم کے سوا کچھ دوسرے علماء کا خیال ہے کہ داڑھی کو یك لخت مجموعی طو ر پر بڑھنے دیا جائے اور محدود نہ کیا جائے وہ داڑھی کو تراشنے کے حق میں مطلقا نہیں اور وہ تراشنے کو مکروہ خیال کرتے ہیں جلیل القدر امام نووی نے اسی چیز کو پسند کیا ہے لیکن ابن ملك پر تعجب ہے کہ اس نے اس مسئلہ میں امام نووی کی متابعت کرتے ہوئے اپنے قول پر استدراك کیا کہ داڑھی کی اطراف طول وعرض سے تناسب قائم رکھنے کے لئے کچھ تراش خراش کرنامستحسن یعنی اچھا ہے جیسا کہ اس سے محدث ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ کی بحث طہارت میں نقل کیا ہے اور ان پر بھی تعجب ہے کہ وہ یہاں خاموش رہے حالانکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر ہمارے ائمہ کرام قائم ہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔(ت)
ولہذا حدیث میں آیا حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من سعادۃ المرء خفۃ لحیتہ ۔اخرجہ الطبرانی فی الکبیر وابن عدی فی الکامل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ آدمی کی سعادت سے ہے داڑھی کا ہلکا ہونا یعنی یہ کہ بیحد دراز نہ ہو۔(امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی۔ت)
وان ذھب بعض العلماء من غیر اصحابنا الی اعفاء اللحی جملۃ واحدۃ وکراھۃ اخذ شیئ منھا مطلقا وھو الذی اختارہ الامام الاجل النووی والعجب من ابن ملك حیث تابعہ علی ذلك مستدرکا بہ علی قول نفسہ ان الاخذ من اطراف اللحیۃ طولھا وعرضھا للتناسب حسن کما نقل عنہ المولی علی القاری فی کتاب الطھارۃ من المرقاۃ والعجب انہ ایضا سکت علیہ ھھنا مع انہ خلاف ماعلیہ ائمتنا الکرام کما تری۔ اگر چہ ہمارے اصحاب علم کے سوا کچھ دوسرے علماء کا خیال ہے کہ داڑھی کو یك لخت مجموعی طو ر پر بڑھنے دیا جائے اور محدود نہ کیا جائے وہ داڑھی کو تراشنے کے حق میں مطلقا نہیں اور وہ تراشنے کو مکروہ خیال کرتے ہیں جلیل القدر امام نووی نے اسی چیز کو پسند کیا ہے لیکن ابن ملك پر تعجب ہے کہ اس نے اس مسئلہ میں امام نووی کی متابعت کرتے ہوئے اپنے قول پر استدراك کیا کہ داڑھی کی اطراف طول وعرض سے تناسب قائم رکھنے کے لئے کچھ تراش خراش کرنامستحسن یعنی اچھا ہے جیسا کہ اس سے محدث ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ کی بحث طہارت میں نقل کیا ہے اور ان پر بھی تعجب ہے کہ وہ یہاں خاموش رہے حالانکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر ہمارے ائمہ کرام قائم ہیں جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔(ت)
ولہذا حدیث میں آیا حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من سعادۃ المرء خفۃ لحیتہ ۔اخرجہ الطبرانی فی الکبیر وابن عدی فی الکامل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ آدمی کی سعادت سے ہے داڑھی کا ہلکا ہونا یعنی یہ کہ بیحد دراز نہ ہو۔(امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی۔ت)
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب السواك الفصل الاول المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ ۲/ ۹۱
المعجم الکبیر حدیث ۱۲۸۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲/ ۲۱۱،الکامل لابن عدی ترجمہ یوسف بن فرق بن لمازۃ قاضی الاھواز دارالفکر بیروت ۷/ ۲۶۲۴،۲۶۲۵
المعجم الکبیر حدیث ۱۲۸۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲/ ۲۱۱،الکامل لابن عدی ترجمہ یوسف بن فرق بن لمازۃ قاضی الاھواز دارالفکر بیروت ۷/ ۲۶۲۴،۲۶۲۵
علامہ خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
المراد من ذلك عدم طولھا جدا لما ورد فی ذمہ ۔ یقینا اس سے مراد غیر طویل ہے کیونکہ اس کی مذمت میں حدیث واردہوئی ہے۔(ت)
امام حجۃ الاسلام غزالی احیاء العلوم پھر مولانا علی قاری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
قد اختلفوا فیما طال من اللحیۃ فقیل ان قبض الرجل علی لحیتہ واخذ ماتحت القبضۃ فلا باس بہ و قد فعلہ ابن عمر و جماعۃ من التابعین واستحسنہ الشعبی و ابن سیرین وکرھہ الحسن وقتادۃ ومن تبعھما وقالواترکھا عافیۃ احب لقولہ علیہ الصلوۃ و السلام اعفوا اللحی لکن الظاھر ھوالقول الاول فان الطول المفرط یشوہ الخلقۃ ویطلق السنۃ المغتابین بالنسبۃ الیہ فلا باس للاحتراز عنہ علی ہذہ النیۃ قال النخعی عجبت لرجل عاقل طویل اللحیۃ کیف لایاخذ من لحیتہ فیجعلھا بین لحیتین ای طویل و قصیر فان التوسط من کل شیئ احسن ومنہ قیل خیر الامور اوسطھا ومن ثم قیل کلما طالت اللحیۃ نقص العقل ۔ بے شك داڑھی کے دراز حصہ میں(یعنی اس کی درازی کے بارے میں)اہل علم نے اختلاف کیا ہے پس یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی مشت بھر داڑھی کو پکڑ کر مشت سے زائدبالوں کو کاٹ ڈالے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور حضرات تابعین کے ایك گروہ نے اس طرح کیا تھا اور امام شعبی اور محمد بن سیرین نے اس کو اچھا سمجھا البتہ حضرت حسن بصری اور امام قتادہ اور ان کے ہمنوا لوگوں نے اس کو مکروہ کہا اور انھوں نے فرمایا کہ اسے بڑھتے ہوئے چھوڑ دینا زیادہ مناسب اور پسندیدہ بات ہےحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ داڑھیاں بڑھاؤلیکن ظاہر وہی پہلی بات ہے کیونکہ فحش درازی صورت کوبد نمابنادے گی اور اس کی نسبت (لوگوں کی)زبانیں درازہوجائیں گی پھر اس نیت سے اس سے بچنے میں کوئی حرج نہیں پھر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اگر کوئی عقلمند آدمی لمبی داڑھی والا ہو یعنی اس کی داڑھی زیادہ لمبی ہونے لگے تو وہ کیونکر داڑھی نہ تراشے گاپھروہ لمبی اور چھوٹی دوقسم کی داڑھیوں کے
المراد من ذلك عدم طولھا جدا لما ورد فی ذمہ ۔ یقینا اس سے مراد غیر طویل ہے کیونکہ اس کی مذمت میں حدیث واردہوئی ہے۔(ت)
امام حجۃ الاسلام غزالی احیاء العلوم پھر مولانا علی قاری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
قد اختلفوا فیما طال من اللحیۃ فقیل ان قبض الرجل علی لحیتہ واخذ ماتحت القبضۃ فلا باس بہ و قد فعلہ ابن عمر و جماعۃ من التابعین واستحسنہ الشعبی و ابن سیرین وکرھہ الحسن وقتادۃ ومن تبعھما وقالواترکھا عافیۃ احب لقولہ علیہ الصلوۃ و السلام اعفوا اللحی لکن الظاھر ھوالقول الاول فان الطول المفرط یشوہ الخلقۃ ویطلق السنۃ المغتابین بالنسبۃ الیہ فلا باس للاحتراز عنہ علی ہذہ النیۃ قال النخعی عجبت لرجل عاقل طویل اللحیۃ کیف لایاخذ من لحیتہ فیجعلھا بین لحیتین ای طویل و قصیر فان التوسط من کل شیئ احسن ومنہ قیل خیر الامور اوسطھا ومن ثم قیل کلما طالت اللحیۃ نقص العقل ۔ بے شك داڑھی کے دراز حصہ میں(یعنی اس کی درازی کے بارے میں)اہل علم نے اختلاف کیا ہے پس یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی مشت بھر داڑھی کو پکڑ کر مشت سے زائدبالوں کو کاٹ ڈالے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما اور حضرات تابعین کے ایك گروہ نے اس طرح کیا تھا اور امام شعبی اور محمد بن سیرین نے اس کو اچھا سمجھا البتہ حضرت حسن بصری اور امام قتادہ اور ان کے ہمنوا لوگوں نے اس کو مکروہ کہا اور انھوں نے فرمایا کہ اسے بڑھتے ہوئے چھوڑ دینا زیادہ مناسب اور پسندیدہ بات ہےحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ داڑھیاں بڑھاؤلیکن ظاہر وہی پہلی بات ہے کیونکہ فحش درازی صورت کوبد نمابنادے گی اور اس کی نسبت (لوگوں کی)زبانیں درازہوجائیں گی پھر اس نیت سے اس سے بچنے میں کوئی حرج نہیں پھر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اگر کوئی عقلمند آدمی لمبی داڑھی والا ہو یعنی اس کی داڑھی زیادہ لمبی ہونے لگے تو وہ کیونکر داڑھی نہ تراشے گاپھروہ لمبی اور چھوٹی دوقسم کی داڑھیوں کے
حوالہ / References
نسیم الریاض الباب لثانی فصل الثالث ادارۃ تالیف اشرفیہ ملتان ۱/ ۳۳۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳
درمیان کردے گا اس لئے کہ ہر چیزمیں میانہ روی اچھی ہوتی ہے اسی لئے فرمایا گیا کہ بہترین کام درمیانہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ بھی کہا گیا کہ جب بھی داڑھی لمبی ہو تو عقل کم ہوگی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اشتھر ان طول اللحیۃ دلیل علی خفۃ العقل ۔ مشہور ہے کہ لمبی داڑھی بے وقوف ہونے کی علامت ہے۔(ت)
اور اگر حد سے زائد نہ ہو تو بعض ائمہ سلف رضی اﷲ تعالی عنہم سے منقول امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی ریش مبارك کما نص علیہ الامام ابن حجر فی الاصابۃ وکذالك نقل الفاضل ابن عبداﷲ الشافعی نزیل المدینۃ الطیبۃ فی کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء عن الامام البغوی(جیسا کہ امام ابن حجر نے"اصابہ"میں تصریح فرمائی ہے اور اسی طرح امام بغوی کے حوالے سے فاضل بن عبداﷲ شافعی جو مدینہ طیبہ کے باسی ہیں نے اپنی کتاب"الاکتفاء"فی فضل الاربعۃ الخلفاء"میں نقل کیا ہے۔ت)امام موفق الدین ابن قدامہ حنبلی قدس سرہ الشریف فرماتے ہیں:
کان شیخنا شیخ الاسلام محی الدین ابو محمد عبد القادر الجیلی نحیف البدن ربع القامۃ عریض الصدر عریض اللحیۃ طویلھا الخ۔اخرجہ الامام الثقۃ الفقیہ امام القراء سیدی ابوالحسن نور الدین علی الشطنوفی فی قدس سرہ فی بھجۃ الاسرار ۔ ہمارے مرشد حضور شیخ الاسلام محی الدین ابو محمد عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کا بدن مبارك دبلا تھا اور قامت شریف میانہسینہ مقدس چوڑاریش منور پہن ودراز الخ۔ (مستند امامعلم فقہ کے ماہرقاریوں کے پیشوا سیدی ابوالحسن نورالدین علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں اس کی تخریج فرمائی ہے۔(ت)
شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالی علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
عادت سلف دریں باب مختلف بود آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پرمی کرد سینہ اورا اسلاف کی عادت اس بارے میں مختلف تھی چنانچہ منقول ہے کہ امیر المومنین حضر ت علی رضی اﷲ عنہ
ردالمحتار میں ہے:
اشتھر ان طول اللحیۃ دلیل علی خفۃ العقل ۔ مشہور ہے کہ لمبی داڑھی بے وقوف ہونے کی علامت ہے۔(ت)
اور اگر حد سے زائد نہ ہو تو بعض ائمہ سلف رضی اﷲ تعالی عنہم سے منقول امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی ریش مبارك کما نص علیہ الامام ابن حجر فی الاصابۃ وکذالك نقل الفاضل ابن عبداﷲ الشافعی نزیل المدینۃ الطیبۃ فی کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء عن الامام البغوی(جیسا کہ امام ابن حجر نے"اصابہ"میں تصریح فرمائی ہے اور اسی طرح امام بغوی کے حوالے سے فاضل بن عبداﷲ شافعی جو مدینہ طیبہ کے باسی ہیں نے اپنی کتاب"الاکتفاء"فی فضل الاربعۃ الخلفاء"میں نقل کیا ہے۔ت)امام موفق الدین ابن قدامہ حنبلی قدس سرہ الشریف فرماتے ہیں:
کان شیخنا شیخ الاسلام محی الدین ابو محمد عبد القادر الجیلی نحیف البدن ربع القامۃ عریض الصدر عریض اللحیۃ طویلھا الخ۔اخرجہ الامام الثقۃ الفقیہ امام القراء سیدی ابوالحسن نور الدین علی الشطنوفی فی قدس سرہ فی بھجۃ الاسرار ۔ ہمارے مرشد حضور شیخ الاسلام محی الدین ابو محمد عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کا بدن مبارك دبلا تھا اور قامت شریف میانہسینہ مقدس چوڑاریش منور پہن ودراز الخ۔ (مستند امامعلم فقہ کے ماہرقاریوں کے پیشوا سیدی ابوالحسن نورالدین علی شطنوفی قدس سرہ نے بہجۃ الاسرار میں اس کی تخریج فرمائی ہے۔(ت)
شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالی علیہ مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
عادت سلف دریں باب مختلف بود آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پرمی کرد سینہ اورا اسلاف کی عادت اس بارے میں مختلف تھی چنانچہ منقول ہے کہ امیر المومنین حضر ت علی رضی اﷲ عنہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
بہجۃ الاسرار نسبہ وصفتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مصطفی البابی مصر ص۹۰
بہجۃ الاسرار نسبہ وصفتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مصطفی البابی مصر ص۹۰
وہمچنیں عمر وعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین و نوشتہ اند کان الشیخ محی الدین رضی اﷲ تعالی عنہ طویل اللحیۃ وعریضھا ۔ کی داڑھی ان کے سینے کو بھردیتی تھی اس طرح حضرت فاروق اعظم اور حضرت عثمان رضی اﷲ تعالی عنہماکی مبارك داڑھیاں تھیںاور لکھتے ہیں کہ شیخ محی الدین سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ لمبی داڑھی اور چوڑی داڑھی والے تھے۔(ت)
شاید انھیں آثار کی بنا پر شیخ محقق نے شرح مشکوۃ میں فرمایا:
مشہور قدر یك مشت ست چنانکہ کمتر ازیں نباید و اگر زیادہ براں بگزارد نیز جائز ست بشرطیکہ از حد اعتدال نگزرد ۔ مشہورمقدار ایك مشت ہے پس اس مقدار سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر اس سے زیادہ چھوڑدے تو بھی جائز ہے بشرطیکہ اعتدال برتا جائے۔(ت)
اور مدارج میں ایك قول یہ نقل فرمایا کہ علماء ومشائخ کو ایك مشت سے زیادہ رکھنا بھی درست ہے
حیث قال مشہور در مذہب حنفی چہار انگشت و ظاہر آنست کہ مراد آں باشد کہ کم ازیں نمی باید و لیکن در روایت آمدہ است کہ واجب ست قطع زیادہ برآں وگفتہ اند کہ اگر علماء ومشائخ زیادہ براں بگزارند نیز درست ست ۔ جیسا کہ فرمایا مذہب حنفی میں مشہور یہ ہے کہ مقدار داڑھی چار انگشت ہو اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے کم نہیں ہونی چاہئے لیکن حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس سے زائد کو قطع کرنا واجب ہے اور فرماتے ہیں اگر علماء اور مشائخ اس سے زائد رکھیں تو بھی جائز ہے۔(ت)
مگر سیدنا عبداﷲ بن عمر و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم اپنی ریش مبارك مٹھی میں لے کر جس قدر زیادہ ہوتی کم فرما دیتے۔ بلکہ یہ کم فرمانا خود حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ سے ماثور امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:
اخبرنا ابوحنیفہ عن الھیثم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی ہم سے امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا ان سے ابوالہیثم نے ان سے حضرت عبداﷲ ابن عمر
شاید انھیں آثار کی بنا پر شیخ محقق نے شرح مشکوۃ میں فرمایا:
مشہور قدر یك مشت ست چنانکہ کمتر ازیں نباید و اگر زیادہ براں بگزارد نیز جائز ست بشرطیکہ از حد اعتدال نگزرد ۔ مشہورمقدار ایك مشت ہے پس اس مقدار سے کم نہیں ہونی چاہئے اور اگر اس سے زیادہ چھوڑدے تو بھی جائز ہے بشرطیکہ اعتدال برتا جائے۔(ت)
اور مدارج میں ایك قول یہ نقل فرمایا کہ علماء ومشائخ کو ایك مشت سے زیادہ رکھنا بھی درست ہے
حیث قال مشہور در مذہب حنفی چہار انگشت و ظاہر آنست کہ مراد آں باشد کہ کم ازیں نمی باید و لیکن در روایت آمدہ است کہ واجب ست قطع زیادہ برآں وگفتہ اند کہ اگر علماء ومشائخ زیادہ براں بگزارند نیز درست ست ۔ جیسا کہ فرمایا مذہب حنفی میں مشہور یہ ہے کہ مقدار داڑھی چار انگشت ہو اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے کم نہیں ہونی چاہئے لیکن حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس سے زائد کو قطع کرنا واجب ہے اور فرماتے ہیں اگر علماء اور مشائخ اس سے زائد رکھیں تو بھی جائز ہے۔(ت)
مگر سیدنا عبداﷲ بن عمر و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم اپنی ریش مبارك مٹھی میں لے کر جس قدر زیادہ ہوتی کم فرما دیتے۔ بلکہ یہ کم فرمانا خود حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ سے ماثور امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:
اخبرنا ابوحنیفہ عن الھیثم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی ہم سے امام ابوحنیفہ نے ارشاد فرمایا ان سے ابوالہیثم نے ان سے حضرت عبداﷲ ابن عمر
حوالہ / References
مدارج النبوت باب اول بیان لحیۃ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ باب السواك فصل اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
اشعۃ اللمعات کتاب الطہارۃ باب السواك فصل اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
عنھما انہ کان یقبض علی لحیتہ ثم یقص ماتحت القبضہ ۔ رضی اﷲ تعالی عنہما نے کہ حضرت عبداﷲ اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑ کر زائد حصہ کو کترڈالتے تھے۔(ت)
ابوداؤد ونسائی مروان بن سالم سے راوی:
رأیت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یقبض علی لحیتہ فیقطع مازاد علی الکف ۔ میں نے عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کو دیکھا کہ اپنی داڑھی مٹھی میں لے کر زائد بالوں کو کاٹ ڈالا کرتے تھے۔(ت)
مصنف ابوبکر بن ابی شیبہ میں ہے:
کان ابوھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ یقبض علی لحیتہ ثم یأخذ مافضل عن القبضہ ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کو کتر ڈالتے تھے۔(ت)
فتح القدیر میں ان آثار کو نقل کرکے فرمایا:
انہ روی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ باوجود اس کے کہ یہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راویت کی گئی۔(ت)
ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے اسی کو اختیار فرمایا اور عامہ کتب مذہب میں تصریح فرمائی کہ داڑھی میں سنت یہی ہے کہ جب ایك مشت سے زائد ہو کم کردی جائے بلکہ بعض اکابر نے اسے واجب فرمایا اگر چہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں وجوب سے مراد ثبوت ہے نہ کہ وجوب مصطلحامام محمد رحمہ اﷲ تعالی بعد روایت حدیث مذکور فرماتے ہیں:
بہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ ۔ ہم اسی کو لیتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ (ت)
ابوداؤد ونسائی مروان بن سالم سے راوی:
رأیت ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یقبض علی لحیتہ فیقطع مازاد علی الکف ۔ میں نے عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کو دیکھا کہ اپنی داڑھی مٹھی میں لے کر زائد بالوں کو کاٹ ڈالا کرتے تھے۔(ت)
مصنف ابوبکر بن ابی شیبہ میں ہے:
کان ابوھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ یقبض علی لحیتہ ثم یأخذ مافضل عن القبضہ ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر مٹھی سے زائد حصہ کو کتر ڈالتے تھے۔(ت)
فتح القدیر میں ان آثار کو نقل کرکے فرمایا:
انہ روی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ باوجود اس کے کہ یہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راویت کی گئی۔(ت)
ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے اسی کو اختیار فرمایا اور عامہ کتب مذہب میں تصریح فرمائی کہ داڑھی میں سنت یہی ہے کہ جب ایك مشت سے زائد ہو کم کردی جائے بلکہ بعض اکابر نے اسے واجب فرمایا اگر چہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں وجوب سے مراد ثبوت ہے نہ کہ وجوب مصطلحامام محمد رحمہ اﷲ تعالی بعد روایت حدیث مذکور فرماتے ہیں:
بہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ ۔ ہم اسی کو لیتے ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ (ت)
حوالہ / References
کتاب الآثار باب خف الشعر من الوجہ روایۃ ۹۰۰ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۹۸
سنن ابی داؤد کتاب الصوم باب القول عند الافطار آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۲۱
المصنف ابن ابی شیبہ کتاب الحظروالاباحۃ باب ماقالوا من الاخذمن اللحیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۷۴
فتح القدیر کتاب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۷۰
کتاب الآثار باب خف الشعر من الوجہ روایۃ ۹۰۰ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۹۸
سنن ابی داؤد کتاب الصوم باب القول عند الافطار آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۲۱
المصنف ابن ابی شیبہ کتاب الحظروالاباحۃ باب ماقالوا من الاخذمن اللحیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۷۴
فتح القدیر کتاب الصوم باب مایوجب القضاء والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۷۰
کتاب الآثار باب خف الشعر من الوجہ روایۃ ۹۰۰ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۹۸
نہایۃ سے منقول:
بہ اخذ ابوحنیفۃ وابویوسف ومحمد کذا ذکرا بوالیسر فی جامعہ الصغیر۔ اسی کو حضرت امام ابوحنیفہقاضی ابویوسفاورامام محمد نے اختیار کیا ہے۔اسی طرح ابوالیسر نے اس کو جامع صغیر میں ذکر کیا ہے۔(ت)
مرقاۃ باب الترجل میں ہے:
مقدار قبضہ علی ماھوا لسنۃ والاعتدال المتعارف ۔ مقدار مشت ہی سنت ہے اور مشہور مبنی برمیانہ روی ہے اور یہی راہ اعتدال ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
صرح فی النہایۃ بوجوب قطع مازاد علی القبضۃ بالضم ومقتضاہ الاثم بترکہ الاان یحمل الوجوب علی الثبوت نہایہ میں تصریح کی گئی ہے کہ داڑھی کے جو بال مقدار مشت سے زیادہ ہوں انھیں کترڈالنا واجب ہے(القبضہ میں"ق" حرکت پیش کے ساتھ ہے)اس کا مقتضی یہ ہے کہ اس کا ترك یعنی ایسا نہ کرنا گناہ ہے مگر یہ کہ یہاں وجوب سے ثبوت مرادلیا جائے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ صرح فی النھایۃ ومثلہ فی المعراج وقد نقلہ عنہا فی الفتح و اقرہ قال فی النھر وسمعت من بعض اعزاء الموالی ان قول النھایۃ یحب بالحاء المھملۃ ولا باس بہ اھ قال الشیخ اسمعیل مصنف کا قول"صرح فی النھایۃ"اور یونہی معراج الدرایہ میں بھی ہےاور محقق ابن الہمام نے اسی نہایہ سے نقل کرکے اس کو برقرار رکھا ہےالنہر میں فرمایا میں نے(بعض موالی کی نسبت کرنے سے)سنا ہے کہ النہایۃ کا یحب کہنا صرف حابے نقطہ کے ساتھ ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اھ شیخ اسمعیل نے
بہ اخذ ابوحنیفۃ وابویوسف ومحمد کذا ذکرا بوالیسر فی جامعہ الصغیر۔ اسی کو حضرت امام ابوحنیفہقاضی ابویوسفاورامام محمد نے اختیار کیا ہے۔اسی طرح ابوالیسر نے اس کو جامع صغیر میں ذکر کیا ہے۔(ت)
مرقاۃ باب الترجل میں ہے:
مقدار قبضہ علی ماھوا لسنۃ والاعتدال المتعارف ۔ مقدار مشت ہی سنت ہے اور مشہور مبنی برمیانہ روی ہے اور یہی راہ اعتدال ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
صرح فی النہایۃ بوجوب قطع مازاد علی القبضۃ بالضم ومقتضاہ الاثم بترکہ الاان یحمل الوجوب علی الثبوت نہایہ میں تصریح کی گئی ہے کہ داڑھی کے جو بال مقدار مشت سے زیادہ ہوں انھیں کترڈالنا واجب ہے(القبضہ میں"ق" حرکت پیش کے ساتھ ہے)اس کا مقتضی یہ ہے کہ اس کا ترك یعنی ایسا نہ کرنا گناہ ہے مگر یہ کہ یہاں وجوب سے ثبوت مرادلیا جائے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ صرح فی النھایۃ ومثلہ فی المعراج وقد نقلہ عنہا فی الفتح و اقرہ قال فی النھر وسمعت من بعض اعزاء الموالی ان قول النھایۃ یحب بالحاء المھملۃ ولا باس بہ اھ قال الشیخ اسمعیل مصنف کا قول"صرح فی النھایۃ"اور یونہی معراج الدرایہ میں بھی ہےاور محقق ابن الہمام نے اسی نہایہ سے نقل کرکے اس کو برقرار رکھا ہےالنہر میں فرمایا میں نے(بعض موالی کی نسبت کرنے سے)سنا ہے کہ النہایۃ کا یحب کہنا صرف حابے نقطہ کے ساتھ ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اھ شیخ اسمعیل نے
حوالہ / References
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتا ب الصوم باب مایوجب القضاء الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۶۹
مرقات المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۱
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
مرقات المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۱۱
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
ولکنہ خلاف الظاھر واستعمالھم فی مثلہ یستحب قولہ الا ان یحمل یؤیدہ ان مااستدل صاحب النھایۃ لایدل علی الوجوب لما صرح بہ فی البحر وغیرہ ان کان یفعل لایقتضی التکرار والدوام ولذا حذف الزیلعی لفظ یجب وقال ومازاد یقص۔وفی شرح الشیخ اسمعیل لا باس بان یقبض علی لحیتہ فاذا زاد علی قبضہ شیئ جنرہ کما فی المنیۃ وھی سنۃ کما فی المبتغی ۔ فرمایا لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے کیونکہ لوگ اس قسم پر لفظ یستحب استعمال کرتے ہیں مصنف کے قول"الاان یحمل"سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ صاحب نہایہ نے جو استدلال کیا ہے وہ وجوب پر دلالت نہیں کرتاچنانچہ البحرالرائق وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تھے تو یہ تکرار اور دوام نہیں چاہتا اس لئے علامہ زیلعی نے اس کلمہ یجب کو حذف کردیا اور فرمایا جو کوئی مشت سے زیادہ ہو اسے کتروائے اور شیخ اسمعیل کی شرح میں ہے کہ اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ آدمی اپنی داڑھی مٹھی میں پکڑے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوں انھیں کتر دے۔جیسا کہ المنیہ میں ہے اور یہ سنت ہے جیسا کہ المبتغی میں ہے۔(ت)
مرقاۃ میں قول نہایہ نقل کرکے فرمایا:
قولہ یحب بمعنی ینبغی اوالمراد بہ انہ سنۃ مؤکدۃ قریبۃ الی الوجوب والا فلا یصح علی اطلاقہ ۔ صاحب نہایہ کا یحب کہنا ینبغی کے معنی میں ہے یعنی مناسب ہے یا اس سے ایسی سنت مؤکدہ مر اد ہے جو وجوب کے قریب ہے ورنہ یہ علی الاطلاق صحیح نہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ھو ان یقبض الرجل لحیتہ فمازاد منہا علی قبضۃ قطعہ کذا ذکر محمد فی کتاب الآثار عن مرد اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں لے کر زائد حصہ کو کاٹ دےامام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے کتا ب الآثار میں امام صاحب کے حوالہ سے یہی ذکر فرمایا ہے
مرقاۃ میں قول نہایہ نقل کرکے فرمایا:
قولہ یحب بمعنی ینبغی اوالمراد بہ انہ سنۃ مؤکدۃ قریبۃ الی الوجوب والا فلا یصح علی اطلاقہ ۔ صاحب نہایہ کا یحب کہنا ینبغی کے معنی میں ہے یعنی مناسب ہے یا اس سے ایسی سنت مؤکدہ مر اد ہے جو وجوب کے قریب ہے ورنہ یہ علی الاطلاق صحیح نہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ھو ان یقبض الرجل لحیتہ فمازاد منہا علی قبضۃ قطعہ کذا ذکر محمد فی کتاب الآثار عن مرد اپنی داڑھی کو اپنی مٹھی میں لے کر زائد حصہ کو کاٹ دےامام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے کتا ب الآثار میں امام صاحب کے حوالہ سے یہی ذکر فرمایا ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۱۳
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجیل المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجیل المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳
الامام قال وبہ ناخذ محیط اھ ط ۔ اور مزید فرمایا ہم اسی مؤقف کے قائل ہیں محیط اھ ط(ت)
ہندیہ میں محیط امام سرخسی سے ہے:
القص سنۃ فیہا وھو ان یقبض الی آخر مامر ۔
داڑھی کے زائد حصہ کو کتردینا سنت ہے اور وہ یہ ہے کہ بقدر ایك مشت داڑھی چھوڑ کر باقی زائد کو کتر ڈالے(ت)
اختیار شرح مختار سے منقول ہے۔
التقصیر فیھا سنۃ وھو ان یقبض الخ۔ ایك مٹھی بھر داڑھی سے زائد بالوں کا کتردینا سنت ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کو مٹھی بھر میں پکڑ کر زائد حصہ کتر ڈالا جائے الخ(ت)
اسی طرح اور کتب مذہب میں ہے تو ہمارے علما کے نزدیك ایك مشت سے زائد کی سنت ہر گز ثابت نہیں بلکہ وہ زائد کے تراشنے کو سنت فرماتے ہیں۔تو اس کا زیادہ بڑھانا خلاف سنت مکروہ تنزیہی ہوگا۔لاجرم مولانا علی قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل ترمذی شریف میں فرمایا:
ان کان الطول الزائد بان تکون زیادۃ علی القبضۃ فغیر ممدوح شرعا ۔ اگر داڑھی زیادہ لمبی ہو یعنی ایك مشت سے زائد ہو تو ایسا ہو ناشریعت میں قابل تعریف اور مستحسن نہیں۔(ت)
رہاشیخ محقق کا اسے جائز فرمانا وہ کچھ اس کے منافی نہیں کہ خلاف اولی بھی ناجائزنہیںبالجملہ ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالی کا حاصل مسلك یہ ہے کہ ایك مشت تك بڑھانا واجب اور اس سے زائد رکھنا خلاف افضل ہے اور اس کا ترشوانا سنت ہاں تھوڑی زیادت جو خط سے خط تك ہو جاتی ہے اس خلاف اولی سے بالضرورۃ مستثنی ہونا چاہئے ورنہ کس چیز کا تراشنا سنت ہوگا۔ھذا ما ظھرلی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(یہ تحقیق مجھ پر ظاہر ہوئی۔اور اﷲ تعالی پاك بلند وبالا اور بڑاہے۔ت)
ہندیہ میں محیط امام سرخسی سے ہے:
القص سنۃ فیہا وھو ان یقبض الی آخر مامر ۔
داڑھی کے زائد حصہ کو کتردینا سنت ہے اور وہ یہ ہے کہ بقدر ایك مشت داڑھی چھوڑ کر باقی زائد کو کتر ڈالے(ت)
اختیار شرح مختار سے منقول ہے۔
التقصیر فیھا سنۃ وھو ان یقبض الخ۔ ایك مٹھی بھر داڑھی سے زائد بالوں کا کتردینا سنت ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کو مٹھی بھر میں پکڑ کر زائد حصہ کتر ڈالا جائے الخ(ت)
اسی طرح اور کتب مذہب میں ہے تو ہمارے علما کے نزدیك ایك مشت سے زائد کی سنت ہر گز ثابت نہیں بلکہ وہ زائد کے تراشنے کو سنت فرماتے ہیں۔تو اس کا زیادہ بڑھانا خلاف سنت مکروہ تنزیہی ہوگا۔لاجرم مولانا علی قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل ترمذی شریف میں فرمایا:
ان کان الطول الزائد بان تکون زیادۃ علی القبضۃ فغیر ممدوح شرعا ۔ اگر داڑھی زیادہ لمبی ہو یعنی ایك مشت سے زائد ہو تو ایسا ہو ناشریعت میں قابل تعریف اور مستحسن نہیں۔(ت)
رہاشیخ محقق کا اسے جائز فرمانا وہ کچھ اس کے منافی نہیں کہ خلاف اولی بھی ناجائزنہیںبالجملہ ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالی کا حاصل مسلك یہ ہے کہ ایك مشت تك بڑھانا واجب اور اس سے زائد رکھنا خلاف افضل ہے اور اس کا ترشوانا سنت ہاں تھوڑی زیادت جو خط سے خط تك ہو جاتی ہے اس خلاف اولی سے بالضرورۃ مستثنی ہونا چاہئے ورنہ کس چیز کا تراشنا سنت ہوگا۔ھذا ما ظھرلی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(یہ تحقیق مجھ پر ظاہر ہوئی۔اور اﷲ تعالی پاك بلند وبالا اور بڑاہے۔ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
فتاوی ہندیہ کتاب الحظروالاباحۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
الاختیار لتعلیل المختار کتاب الکراہیۃ فصل فی آداب ینبغی للمؤمن دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۷
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی خلق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۷
فتاوی ہندیہ کتاب الحظروالاباحۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
الاختیار لتعلیل المختار کتاب الکراہیۃ فصل فی آداب ینبغی للمؤمن دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۱۶۷
جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی خلق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۳۷
جواب سوال دوم:جامع الترمذی شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا ۔ یعنی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی ریش مبارك کے بال عرض وطول سے لیتے تھے۔
علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریش اقدس ایك مشت سے تجاوز فرماتی۔بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی کما نقل عن التنویر والمفاتیح والغرائب(جیسا کہ تنویرمفاتیح اور غرائب سے نقل کیا گیا ہے۔ت)مرقاۃ شریف میں ہے:
قید الحدیث فی شرح الشرعۃ بقولہ اذا زاد علی قدرا القبضۃ وجعلہ فی التنویر من نفس الحدیث وزاد فی الشرعۃ وکان یفعل ذلك فی الخمیس والجمعۃ ولایترکہ مدۃ طویلۃ ۔ حدیث میں قید"الشرعۃ"کی شرح میں اس قول سے مذکور ہے جب آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك کے بال قدر مشت سے زائد ہوجاتے تو آپ زائد بالوں کو کتروادیتے تھےاور"تنویر"میں قید مذکور کو نفس حدیث قرار دیا گیاہے۔اور"الشرعۃ"میں اتنا اضافہ ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بروز جمعہ یا جمعرات کوایسا کرتے تھے اور زیادہ عرصہ نہیں چھوڑتے تھے۔(ت)
ہمارے علماء کے اقوال گزرے کہ قبضہ سے زیادہ کا تراشنا سنت ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ا ور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ت)
جواب سوال سوم:یہ امر محض بے اصل ہے۔حدیث مذکور ترمذی اس کا صریح رد ہے کہ اگرقبضہ سے کبھی زائد نہ ہوتی تو عرض وطول سے لینا کیونکر متصورتھا۔مدارج النبوۃ میں ہے:
درلحیۃ شریف در طول قدرے معین در کتب بنظر نمی آید ودر وظائف النبی گفتہ کہ لحیہ آن حضرت صلی تعالی علیہ وسلم حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك کی کسی معین مقدار پر درازی کا ذکر مشہور کتابوں میں سے کسی ایك میں بھی نظر سے نہیں گزرا البتہ
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یاخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا ۔ یعنی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنی ریش مبارك کے بال عرض وطول سے لیتے تھے۔
علماء فرماتے ہیں یہ اس وقت ہوتا تھا جب ریش اقدس ایك مشت سے تجاوز فرماتی۔بلکہ بعض نے یہ قید نفس حدیث میں ذکر کی کما نقل عن التنویر والمفاتیح والغرائب(جیسا کہ تنویرمفاتیح اور غرائب سے نقل کیا گیا ہے۔ت)مرقاۃ شریف میں ہے:
قید الحدیث فی شرح الشرعۃ بقولہ اذا زاد علی قدرا القبضۃ وجعلہ فی التنویر من نفس الحدیث وزاد فی الشرعۃ وکان یفعل ذلك فی الخمیس والجمعۃ ولایترکہ مدۃ طویلۃ ۔ حدیث میں قید"الشرعۃ"کی شرح میں اس قول سے مذکور ہے جب آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك کے بال قدر مشت سے زائد ہوجاتے تو آپ زائد بالوں کو کتروادیتے تھےاور"تنویر"میں قید مذکور کو نفس حدیث قرار دیا گیاہے۔اور"الشرعۃ"میں اتنا اضافہ ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بروز جمعہ یا جمعرات کوایسا کرتے تھے اور زیادہ عرصہ نہیں چھوڑتے تھے۔(ت)
ہمارے علماء کے اقوال گزرے کہ قبضہ سے زیادہ کا تراشنا سنت ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ا ور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ت)
جواب سوال سوم:یہ امر محض بے اصل ہے۔حدیث مذکور ترمذی اس کا صریح رد ہے کہ اگرقبضہ سے کبھی زائد نہ ہوتی تو عرض وطول سے لینا کیونکر متصورتھا۔مدارج النبوۃ میں ہے:
درلحیۃ شریف در طول قدرے معین در کتب بنظر نمی آید ودر وظائف النبی گفتہ کہ لحیہ آن حضرت صلی تعالی علیہ وسلم حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك کی کسی معین مقدار پر درازی کا ذکر مشہور کتابوں میں سے کسی ایك میں بھی نظر سے نہیں گزرا البتہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی الاخذ من اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۳
چہار انگشت بود طبعا یعنی ہمیں مقدار بود از روئے خلقت ودراز وکم نمی شد بریں یافتہ نمی شود ۔ وظائف النبی میں کہا گیا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ریش مبارك چار انگشت کے بقدر تھی یعنی قدرتی طور پر ہی مٹھی بھر تھی۔اور گھٹتی بڑھتی نہ تھی پس اس کا حوالہ نہیں پایا گیا۔(ت)
ہاں ظاہر کلمات مذکورہ علمایہ ہے کہ ریش انور مقدار قبضہ پر رہتی تھی جب زیادہ ہوتی کم فرمادیتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور شفا شریف میں امام قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی علیہ کا ارشاد کث اللحیۃ تملؤ صدرہ (حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك گنجان تھی جو سینہ مبارك پر چھائی ہوتی تھی۔ت)اس کے منافی نہیں جبکہ صدر سے نحر یعنی اعلائے صدر مراد ہو۔نسیم الریاض میں زیر قول مذکور متن ہے:
مثلہ قولھم قد ملأت نحرہ ونحر الصدر اعلاہ او موضع القلادۃ منہ فمراد المصنف رحمہ اﷲ تعالی اعلی الصدر والا لطالت وقد ثبت قصرھا الخ فاحفظہ فانہ مھم واﷲ تعالی اعلم۔ اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے ملأت نحرہ یعنی اس سے ان کا نحر بھر جاتا تھا اور سینے کا نحر اس کا بالائی حصہ ہوتا ہے یا سینے کی جگہ ہے لہذا مصنف رحمۃ اﷲ علیہ کی مراد سینے کا اوپر والاحصہ ہے ورنہ آپ کی مقدس داڑھی کہ طویل ماننا پڑے گا جو خلاف واقعہ ہے اور اس کا کترنا بھی ثابت ہے الخلہذا یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہئے اس لئے کہ یہ ضروری ہےاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
جواب سوال چہارم:ریش مبارك امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی نسبت مدارج سے گزرا:پر می کرد سینہ اورا (ان کے سینے کو بھردیتی تھی۔ت)مگر اس میں وہی احتمال قائم کہ سینہ سے مراد سینہ کا بالائی حصہ متصل گلو ہوتو ایك مشت سے زیادت پر دلیل نہ ہوگی۔
ہاں ظاہر کلمات مذکورہ علمایہ ہے کہ ریش انور مقدار قبضہ پر رہتی تھی جب زیادہ ہوتی کم فرمادیتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماور شفا شریف میں امام قاضی عیاض رحمہ اﷲ تعالی علیہ کا ارشاد کث اللحیۃ تملؤ صدرہ (حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی داڑھی مبارك گنجان تھی جو سینہ مبارك پر چھائی ہوتی تھی۔ت)اس کے منافی نہیں جبکہ صدر سے نحر یعنی اعلائے صدر مراد ہو۔نسیم الریاض میں زیر قول مذکور متن ہے:
مثلہ قولھم قد ملأت نحرہ ونحر الصدر اعلاہ او موضع القلادۃ منہ فمراد المصنف رحمہ اﷲ تعالی اعلی الصدر والا لطالت وقد ثبت قصرھا الخ فاحفظہ فانہ مھم واﷲ تعالی اعلم۔ اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے ملأت نحرہ یعنی اس سے ان کا نحر بھر جاتا تھا اور سینے کا نحر اس کا بالائی حصہ ہوتا ہے یا سینے کی جگہ ہے لہذا مصنف رحمۃ اﷲ علیہ کی مراد سینے کا اوپر والاحصہ ہے ورنہ آپ کی مقدس داڑھی کہ طویل ماننا پڑے گا جو خلاف واقعہ ہے اور اس کا کترنا بھی ثابت ہے الخلہذا یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہئے اس لئے کہ یہ ضروری ہےاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
جواب سوال چہارم:ریش مبارك امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کی نسبت مدارج سے گزرا:پر می کرد سینہ اورا (ان کے سینے کو بھردیتی تھی۔ت)مگر اس میں وہی احتمال قائم کہ سینہ سے مراد سینہ کا بالائی حصہ متصل گلو ہوتو ایك مشت سے زیادت پر دلیل نہ ہوگی۔
حوالہ / References
مدارج النبوۃ باب اول بیان لحیہ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۴
الشفاء بتعریف المصطفٰی الباب الثانی فصل الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافۃ ۱/ ۵۰
نسیم الریاض الباب الثانی مبحث شمائلۃ الشریفۃ ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان ۱/ ۳۳۱
مدارج النبوۃ باب اول بیان لحیہ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
الشفاء بتعریف المصطفٰی الباب الثانی فصل الثالث المطبعۃ الشرکۃ الصحافۃ ۱/ ۵۰
نسیم الریاض الباب الثانی مبحث شمائلۃ الشریفۃ ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان ۱/ ۳۳۱
مدارج النبوۃ باب اول بیان لحیہ شریف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
ہاں تہذیب الاسماء امام نووی سے اتنا منقول کانت کثۃ طویلۃ حضرت مولی کی ریش مبارك گھنی دراز تھی اس سے ظاہر قبضہ پر دلالت ہے کہ قبضہ تو اصل مقدار لحیہ شرعیہ ہے جس سے کمی جائز نہیں تو اتنی مقدار سے جب تك زائد نہ ہو طویل نہ کہیں گے۔ولہذا علامہ خفاجی نے ریش اطہر انور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کے تابسینہ ہونے کے انکار کی یہی وجہ لکھی کہ ایسا ہوتا تو ریش اقدس طویل ہوتی حالانکہ اس کا قصیر ہونا ثابت ہوا ہے اس تقدیر پر ریش مبارك امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ میں وہ لفظ کہ پرمی کرد سینہ اورا(ان کے یسنے کو بھردیتی تھی۔ت)اپنے معنی ظاہر پر محمول رہنا چاہئے اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ کی توفیق سے کے ساتھ کہتاہوں۔ت)حضرات حسنین رضی اﷲ تعالی عنہما کا یہ قول شاید بخیال جہاد ہو کہ بسیاری مو چشم عدو میں مورث زیادت ہیبت ہے ولہذا مجاہدین کو لبیں بڑھانے کی اجازت ہوئی حالانکہ اوروں کو بالاتفاق مکروہ۔
کما علی ذلك حمل ما عن بعض الصحابۃ الکرام کامیرا لمومنین عثمن الغنی و سیدنا الامام الحسن المجتبی رضی اﷲ تعالی عنہما من الاختضاب بالسواد مع صحۃ الحدیث بتحریم لغیر اھل الجھاد۔ جیسا کہ اسی پر محمول کیا گیا جو بعض صحابہ کرام سے ثابت ہوا ہے جیسے امیر المومنین سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ اور سیدنا حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ بالوں کو سیاہ خضاب لگایا کرتے تھے حالانکہ غیر مجاہدین کے لئے حدیث صحیح سے اس کی حرمت ثابت ہے۔(ت)
بنظر اطلاق ارشاد اقدس اعفوا اللحی (داڑھیاں بڑھاؤ۔ت)ان کا اجتہاد اس طرف مودی ہوا کما ذھب الیہ الحسن البصری وغیرہ (جیسا کہ حسن بصری وغیرہ اس طرف گئے ہیں۔ت)تویہ آثار ہمیں اس امر سے عدول پرباعث نہیں ہوسکتے جو ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك سنت ثابت ہو اور حقیقت امریہ کہ ہم پر اتباع مذہب لازم۔دلائل میں نظر ائمہ مجتہدین فرماچکے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور اﷲ تعالی پاك وبرتر ہے اور خوب جانتاہے اور اس عظمت وشان والے کا علم کامل اور پختہ ہے۔ت)
کما علی ذلك حمل ما عن بعض الصحابۃ الکرام کامیرا لمومنین عثمن الغنی و سیدنا الامام الحسن المجتبی رضی اﷲ تعالی عنہما من الاختضاب بالسواد مع صحۃ الحدیث بتحریم لغیر اھل الجھاد۔ جیسا کہ اسی پر محمول کیا گیا جو بعض صحابہ کرام سے ثابت ہوا ہے جیسے امیر المومنین سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ اور سیدنا حسن مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ بالوں کو سیاہ خضاب لگایا کرتے تھے حالانکہ غیر مجاہدین کے لئے حدیث صحیح سے اس کی حرمت ثابت ہے۔(ت)
بنظر اطلاق ارشاد اقدس اعفوا اللحی (داڑھیاں بڑھاؤ۔ت)ان کا اجتہاد اس طرف مودی ہوا کما ذھب الیہ الحسن البصری وغیرہ (جیسا کہ حسن بصری وغیرہ اس طرف گئے ہیں۔ت)تویہ آثار ہمیں اس امر سے عدول پرباعث نہیں ہوسکتے جو ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك سنت ثابت ہو اور حقیقت امریہ کہ ہم پر اتباع مذہب لازم۔دلائل میں نظر ائمہ مجتہدین فرماچکے واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور اﷲ تعالی پاك وبرتر ہے اور خوب جانتاہے اور اس عظمت وشان والے کا علم کامل اور پختہ ہے۔ت)
حوالہ / References
تہذیب الاسماء واللغات ترجمہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ ۴۲۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۴۸
صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
مسئلہ ۲۰۹: از گلگٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد علی صاحب شعبان ۱۳۱۲ھ
جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم وسلامت۔بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ براہ مہربانی اس کا جواب بہت جلد مرحمت فرمائے گا کیونکہ اس جگہ پر خط عرصہ سے پہنچتا ہے بوجہ برف کے جواب کے واسطے عرصہ دو ماہ کا ہونا چاہئے۔بندہ کو اس وقت سوا آپ کے اور کوئی یاد نہیں آیا امیدوار ہوں کہ اکثر یہاں کے لوگ ناواقف ہیں اس سوال کا جواب دیجئے گا۔فقط۔
جو شخص کہ قریب تیس برس کی عمر میں اسلام قبول کرے اس کی سنت کرانا جائز ہے یانا جائز فقط زیادہ تسلیم۔بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر ختنہ کی طاقت رکھتا ہو تو ضرور کیا جائے۔حدیث میں ہے کہ ایك صاحب خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الق عنك شعر الکفر ثم اختتن۔رواہ الامام احمد وابوداؤد عن عثیم بن کلیب الحضر می الجھنی عن ابیہ عن جدہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ زمانہ کفر کے بال اتار پھر اپنا ختنہ کر(اس کو امام احمد اور امام ابوداؤد نے عثیم بن کلیب حضرمی جہنی سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کی ہے۔ت)
ہاں ا گر خود کر سکتا ہو توآپ اپنے ہاتھ سے کرلے یا کوئی عورت جو اس کام کو کرسکتی ہو ممکن ہو تو اس سے نکاح کرادیا جا ئے وہ ختنہ کردےاس کے بعد چاہے تو اسے چھوڑ دے یاکوئی کنیز شرعی واقف ہو تو وہ خریدی جائے۔اور اگر یہ تینوں صورتیں نہ ہو سکیں تو حجام ختنہ کردے عــــــہ کہ ایسی ضرورت کے لئے ستر دیکھنا دکھانا منع نہیں۔درمختار میں ہے:
ینظر الطبیب الی موضع مرضھا بوقت ضرورت بقدر ضرورت طبیب جائے مرض
عــــــہ: فتاوی افریقہ بھی یہ مسئلہ دیکھیں۔
جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم وسلامت۔بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ براہ مہربانی اس کا جواب بہت جلد مرحمت فرمائے گا کیونکہ اس جگہ پر خط عرصہ سے پہنچتا ہے بوجہ برف کے جواب کے واسطے عرصہ دو ماہ کا ہونا چاہئے۔بندہ کو اس وقت سوا آپ کے اور کوئی یاد نہیں آیا امیدوار ہوں کہ اکثر یہاں کے لوگ ناواقف ہیں اس سوال کا جواب دیجئے گا۔فقط۔
جو شخص کہ قریب تیس برس کی عمر میں اسلام قبول کرے اس کی سنت کرانا جائز ہے یانا جائز فقط زیادہ تسلیم۔بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر ختنہ کی طاقت رکھتا ہو تو ضرور کیا جائے۔حدیث میں ہے کہ ایك صاحب خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوئے حضور پر نورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الق عنك شعر الکفر ثم اختتن۔رواہ الامام احمد وابوداؤد عن عثیم بن کلیب الحضر می الجھنی عن ابیہ عن جدہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ زمانہ کفر کے بال اتار پھر اپنا ختنہ کر(اس کو امام احمد اور امام ابوداؤد نے عثیم بن کلیب حضرمی جہنی سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کی ہے۔ت)
ہاں ا گر خود کر سکتا ہو توآپ اپنے ہاتھ سے کرلے یا کوئی عورت جو اس کام کو کرسکتی ہو ممکن ہو تو اس سے نکاح کرادیا جا ئے وہ ختنہ کردےاس کے بعد چاہے تو اسے چھوڑ دے یاکوئی کنیز شرعی واقف ہو تو وہ خریدی جائے۔اور اگر یہ تینوں صورتیں نہ ہو سکیں تو حجام ختنہ کردے عــــــہ کہ ایسی ضرورت کے لئے ستر دیکھنا دکھانا منع نہیں۔درمختار میں ہے:
ینظر الطبیب الی موضع مرضھا بوقت ضرورت بقدر ضرورت طبیب جائے مرض
عــــــہ: فتاوی افریقہ بھی یہ مسئلہ دیکھیں۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الرجل یسلم فیؤبالغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵۲،مسند احمد بن حنبل حدیث ابی کلیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۴۱۵
بقدر الضرورۃ اذ الضرورات تتقدر بقدر ھاوکذا نظر قابلۃ وختان ۔ (خواہ وہ جائے پردہ ہو)کو دیکھ سکتا ہے۔اور قدر ضرورت محض اندازے سے ہوگی۔اسی طرح دایہ اور ختنہ کرنے والے کا معاملہ ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ و ختان کذا جزم بہ فی الھدایۃ والخانیۃ وغیرھما لان الختان سنۃ للرجال من جملۃ الفطرۃ لایمکن ترکھا اھ ملخصا۔ مصنف کا ارشاد ہے وختان اسی طرح ہدایہ اور خانیہ اور دیگر کتب میں اس پر یقین ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ مردوں کےلئے ختنہ سنت ہے اور ان فطری کاموں میں سے ہے کہ جس کا چھوڑنا مناسب نہیں اھ ملخصا(ت)
درمختار میں ہے:
وقیل فی ختان الکبیر اذا امکنہ ان یختن نفسہ فعل والا لم یفعل الا ان یمکنہ النکاح او شراء الجاریۃ و الظاھر فی الکبیرانہ یختن ۔ بڑی عمرکے آدمی کے ختنے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ خود اپنا ختنہ کرسکے تو خود کرے ورنہ کیا ہی نہ جائےہاں اگر اس کے لئے نکاح کرنا یا لونڈی خریدنا ممکن ہو تو ان سے ختنہ کرائے اور ظاہر یہ ہے کہ بالغ آدمی کا بھی ختنہ کیا جائے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الختان مطلق یشمل ختان الکبیر و الصغیر ھکذا اطلقہ فی النھایۃ کما قدمناہ واقرہ الشراح والظاھر ترجیحہ ولذا عبرھنا عن التفصیل بقیل ۔ ختنہ کرنا مطلق بلاقید ذکر کیا ہے لہذا یہ بڑے اور چھوٹے دونوں کو شامل جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے اور شارحین نے اس کو برقرار رکھا ہے لہذا بظاہر یہی راجح ہے اس لئے یہاں لفظ قیل سے تفصیل کی تعبیر فرمائی گئی۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ و ختان کذا جزم بہ فی الھدایۃ والخانیۃ وغیرھما لان الختان سنۃ للرجال من جملۃ الفطرۃ لایمکن ترکھا اھ ملخصا۔ مصنف کا ارشاد ہے وختان اسی طرح ہدایہ اور خانیہ اور دیگر کتب میں اس پر یقین ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ مردوں کےلئے ختنہ سنت ہے اور ان فطری کاموں میں سے ہے کہ جس کا چھوڑنا مناسب نہیں اھ ملخصا(ت)
درمختار میں ہے:
وقیل فی ختان الکبیر اذا امکنہ ان یختن نفسہ فعل والا لم یفعل الا ان یمکنہ النکاح او شراء الجاریۃ و الظاھر فی الکبیرانہ یختن ۔ بڑی عمرکے آدمی کے ختنے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ خود اپنا ختنہ کرسکے تو خود کرے ورنہ کیا ہی نہ جائےہاں اگر اس کے لئے نکاح کرنا یا لونڈی خریدنا ممکن ہو تو ان سے ختنہ کرائے اور ظاہر یہ ہے کہ بالغ آدمی کا بھی ختنہ کیا جائے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الختان مطلق یشمل ختان الکبیر و الصغیر ھکذا اطلقہ فی النھایۃ کما قدمناہ واقرہ الشراح والظاھر ترجیحہ ولذا عبرھنا عن التفصیل بقیل ۔ ختنہ کرنا مطلق بلاقید ذکر کیا ہے لہذا یہ بڑے اور چھوٹے دونوں کو شامل جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے اور شارحین نے اس کو برقرار رکھا ہے لہذا بظاہر یہی راجح ہے اس لئے یہاں لفظ قیل سے تفصیل کی تعبیر فرمائی گئی۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب النظروالمس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۲
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۷
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء دارحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۷
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء دارحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۵
ہندیہ میں ہے:
ذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ الحمامی کذا فی الفتاوی العتابیۃ ۔ امام کرخی نے جامع صغیر میں فرمایا کہ بالغ آدمی کا ختنہ حمام والا کرے۔یونہی فتاوی عتابیہ میں مذکور ہے۔(ت)
خلاصہ میں ہے:
الشیخ الضعیف اذا اسلم ولایطیق الختن ان قال اھل البصر لا یطیق یترک الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بہت بوڑھاشخص اگر اسلام قبول کرے اور بوجہ ضعف وکمزوری ختنہ نہ کرسکے یانہ کراسکے تو چند اہل بصیرت حضرات سے رائے لی جائے اگر وہ کہیں کہ واقعی یہ شخص ختنہ کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے بلاختنہ ہی رہنے دیا جائے اور اس کا ختنہ نہ کیا جائے الخ۔اور اﷲ تعالی سب کچھ جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۰ تا ۲۱۲: از گوالیار محکمہ ڈاك مرسلہ مولوی نور الدین احمد صاحب ۳ ذی القعدہ ۱۳۱۲ھ
مخدوم متاع ونیاز مندانہآداب نیاز کے بعدعرض پرداز مسائل ذیل کے جواب عنایت فرمائے جائیں:
(۱)داڑھی کا ارسال تابہ یکمشت تو معلوم ہے مگر اس کے حدو د کہاں تك ہیں یعنی چہرہ پر کل بال خواہ آنکھوں تك کیوں نہ ہوں داخل ریش ہیں یا کہاں تك اور خط بنوانے میں کہاں تك احتیاط مناسب ہے
(۲)نیچے کے ہونٹ کے نیچے جو وسط میں ذرا سے بال چھوڑ کر ادھر ادھر منڈاتے ہیں جیسے اس شکل میں اس کا منڈانا درست ہے یاکچھ نہ منڈائے خواہ لب زیریں کے نیچے سب بال ہی بال ہوں اور سوا منہ کے کوئی جگہ نہ بچی ہو۔
(۳)بال سر کے چھوڑنا تابگوش خواہ دوش تك یا سارے سر کے حجامت کرانا تو معلوم ہے لیکن چھوٹے چھوٹے بال بقدر تین چار حجامتوں کے رکھنا جیسا کہ آج کل شائع ہے اور پھر گردن پر سے ان کی درستی گردن کی صفائی یہ کہاں تك جائز ہے زیادہ نیاز۔
ذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ الحمامی کذا فی الفتاوی العتابیۃ ۔ امام کرخی نے جامع صغیر میں فرمایا کہ بالغ آدمی کا ختنہ حمام والا کرے۔یونہی فتاوی عتابیہ میں مذکور ہے۔(ت)
خلاصہ میں ہے:
الشیخ الضعیف اذا اسلم ولایطیق الختن ان قال اھل البصر لا یطیق یترک الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بہت بوڑھاشخص اگر اسلام قبول کرے اور بوجہ ضعف وکمزوری ختنہ نہ کرسکے یانہ کراسکے تو چند اہل بصیرت حضرات سے رائے لی جائے اگر وہ کہیں کہ واقعی یہ شخص ختنہ کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے بلاختنہ ہی رہنے دیا جائے اور اس کا ختنہ نہ کیا جائے الخ۔اور اﷲ تعالی سب کچھ جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۰ تا ۲۱۲: از گوالیار محکمہ ڈاك مرسلہ مولوی نور الدین احمد صاحب ۳ ذی القعدہ ۱۳۱۲ھ
مخدوم متاع ونیاز مندانہآداب نیاز کے بعدعرض پرداز مسائل ذیل کے جواب عنایت فرمائے جائیں:
(۱)داڑھی کا ارسال تابہ یکمشت تو معلوم ہے مگر اس کے حدو د کہاں تك ہیں یعنی چہرہ پر کل بال خواہ آنکھوں تك کیوں نہ ہوں داخل ریش ہیں یا کہاں تك اور خط بنوانے میں کہاں تك احتیاط مناسب ہے
(۲)نیچے کے ہونٹ کے نیچے جو وسط میں ذرا سے بال چھوڑ کر ادھر ادھر منڈاتے ہیں جیسے اس شکل میں اس کا منڈانا درست ہے یاکچھ نہ منڈائے خواہ لب زیریں کے نیچے سب بال ہی بال ہوں اور سوا منہ کے کوئی جگہ نہ بچی ہو۔
(۳)بال سر کے چھوڑنا تابگوش خواہ دوش تك یا سارے سر کے حجامت کرانا تو معلوم ہے لیکن چھوٹے چھوٹے بال بقدر تین چار حجامتوں کے رکھنا جیسا کہ آج کل شائع ہے اور پھر گردن پر سے ان کی درستی گردن کی صفائی یہ کہاں تك جائز ہے زیادہ نیاز۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ البا ب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴/ ۳۴۰
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثانی مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴/ ۳۴۰
الجواب:
جواب سوال اول:داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوںجبڑوںٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیںیوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تك نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا ممتاز ہوتے ہیں اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایك مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جداہوتے ہیں نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیںغرائب میں ہے:
کان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یقول للحلاق بلغ العظمین فانھما منتھی اللحیۃ یعنی حدھا ولذلك سمیت لحیۃ لان حدھا اللحی ۔ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما حجام سے فرمایا کرتے تھے کہ دو ہڈیوں تك پہنچ جاکیونکہ وہ دونوں داڑھی کی حدود یعنی آخری حصہ ہیں اسی لئے داڑھی کو"لحیہ"کہاگیا ہے کیونکہ اس کی حدود جبڑے(اللحی)تك ہیں۔ت)
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب تقلیم الاظفار میں تعریف علامہ ابن حجر ھی اسم لما نبت علی الخدین والذقن(داڑھی دراصل ان بالوں کا نام ہے جو دو رخساروں اور ٹھوڑی پر اگتے ہیں۔ت)کو موہوم پاکر اس پر اعتراض فرمایا:
قلت علی الخدین لیس بشیئ ولو قال علی العارضین لکان صوابا اھ ۔ یعنی میں ابن حجر کہتاہوںکہ علی الخدین(دونوں رخساروں پر)کہنا ٹھیك نہیں البتہ علی العارضین(دونوں گالوں پر)کہتے تو ٹھیك ہوتا اھ(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لابأس باخذ الحاجبین وشعروجہہ دوابروؤں اور چہرے کے بالوں کو کاٹنے میں
جواب سوال اول:داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوںجبڑوںٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضا اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیںیوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تك نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا ممتاز ہوتے ہیں اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایك مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جداہوتے ہیں نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیںغرائب میں ہے:
کان ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما یقول للحلاق بلغ العظمین فانھما منتھی اللحیۃ یعنی حدھا ولذلك سمیت لحیۃ لان حدھا اللحی ۔ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما حجام سے فرمایا کرتے تھے کہ دو ہڈیوں تك پہنچ جاکیونکہ وہ دونوں داڑھی کی حدود یعنی آخری حصہ ہیں اسی لئے داڑھی کو"لحیہ"کہاگیا ہے کیونکہ اس کی حدود جبڑے(اللحی)تك ہیں۔ت)
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری باب تقلیم الاظفار میں تعریف علامہ ابن حجر ھی اسم لما نبت علی الخدین والذقن(داڑھی دراصل ان بالوں کا نام ہے جو دو رخساروں اور ٹھوڑی پر اگتے ہیں۔ت)کو موہوم پاکر اس پر اعتراض فرمایا:
قلت علی الخدین لیس بشیئ ولو قال علی العارضین لکان صوابا اھ ۔ یعنی میں ابن حجر کہتاہوںکہ علی الخدین(دونوں رخساروں پر)کہنا ٹھیك نہیں البتہ علی العارضین(دونوں گالوں پر)کہتے تو ٹھیك ہوتا اھ(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لابأس باخذ الحاجبین وشعروجہہ دوابروؤں اور چہرے کے بالوں کو کاٹنے میں
حوالہ / References
غرائب
عمدۃ القاری شرح بخاری کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار محمد امین دمج بیروت ۲۲/۴۶
عمدۃ القاری شرح بخاری کتاب اللباس باب تقلیم الاظفار محمد امین دمج بیروت ۲۲/۴۶
مالم یتشبہ بالمخنث کذا فی الینابیع واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ہجڑوں سے مشابہت پیدا نہ ہواسی طرح ینابیع میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
جواب سوال دوم:یہ بال بداہۃ سلسلہ ریش میں واقع ہیں کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انھیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں۔وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں جنھیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں۔داخل ریش ہیں کما نص علیہ الامام العینی وعنہ نقل فی السیرۃ الشامیۃ(جیسا کہ امام بدرالدین عینی نے اس کی تصریح فرمائی اور ان سے سیرت شامیہ میں نقل کیا گیا۔ت)ولہذا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ جو کوئی انھیں منڈاتا اس کی گواہی رد فرماتے کما ذکرہ الشیخ المحدث فی مدارج النبوۃ(جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا۔ت)تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنھیں عربی میں فنیکین ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں کیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں داڑھی کے باب میں حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعفواللحی واوفرواللحی (داڑھیاں بڑھاؤ اور زیادہ کرو۔ت)ہے تو اس کے کسی جز کا مونڈنا جائز نہیں۔ لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے امیر المومنین عمر ابن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایسے شخص کی گواہی رد فرمائی۔ غرائب میں ہے:
نتف الفنیکین بدعۃ وھو جنبا العنفقۃ وھی شعر الشفۃ السفلی وشھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز وکان ینتف فنیکیہ فرد شہادتہ اھ وعنھا نقل فی الھندیۃ الی دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے اور وہ عنفقہ(بچی)کے دونوں جانب کے بال ہیں اور عنفقۃ لب زیریں کے بال ہیں ایك شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی عدالت میں (کسی معاملے میں)گواہی دی اور وہ شخص دونوں
جواب سوال دوم:یہ بال بداہۃ سلسلہ ریش میں واقع ہیں کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انھیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں۔وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں جنھیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں۔داخل ریش ہیں کما نص علیہ الامام العینی وعنہ نقل فی السیرۃ الشامیۃ(جیسا کہ امام بدرالدین عینی نے اس کی تصریح فرمائی اور ان سے سیرت شامیہ میں نقل کیا گیا۔ت)ولہذا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ جو کوئی انھیں منڈاتا اس کی گواہی رد فرماتے کما ذکرہ الشیخ المحدث فی مدارج النبوۃ(جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا۔ت)تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنھیں عربی میں فنیکین ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں کیونکر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں داڑھی کے باب میں حکم احکم حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعفواللحی واوفرواللحی (داڑھیاں بڑھاؤ اور زیادہ کرو۔ت)ہے تو اس کے کسی جز کا مونڈنا جائز نہیں۔ لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے امیر المومنین عمر ابن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایسے شخص کی گواہی رد فرمائی۔ غرائب میں ہے:
نتف الفنیکین بدعۃ وھو جنبا العنفقۃ وھی شعر الشفۃ السفلی وشھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز وکان ینتف فنیکیہ فرد شہادتہ اھ وعنھا نقل فی الھندیۃ الی دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے اور وہ عنفقہ(بچی)کے دونوں جانب کے بال ہیں اور عنفقۃ لب زیریں کے بال ہیں ایك شخص نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی عدالت میں (کسی معاملے میں)گواہی دی اور وہ شخص دونوں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
غرائب
صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
غرائب
قولہ السفلی وظاھر ان الاثر فی ذلك لخصوص النتف ففی معناہ الحلق وانما وقع التعبیر بہ نظرا الی ماکانوا تعودوہ کما فی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تنتفوا الشیب وقول الفقہاء یکرہ نتف الشیئ مع کراھۃ قصہ ایضا لشمول العلۃ وبہ تبین ان ماوقع فی المدارج الشریفۃ من ان فی حلق العنفقۃ وترکھا خلافا والا فضل ترکھا اماحلق طرفیھا فلا باس بہ اھ معربا محل تأمل حیث افادہ بظاھرہ کراھۃ التنزیہ وبمقابلتہ بافضلیۃ الترك الاباحۃ الخالصۃ مع ان العنفقۃ وطرفیھا جمیعا من اجزاء اللحیۃ وھی واجبۃ الاعفاء فلا ینبغی الاقدام علی ذلك مالم یثبت من حدیث صحیح اونص من امام المذہب صریح فلیتأمل۔ کوٹھوں کے بال اکھاڑنے والا تھا آپ نے اس کی گواہی رد کردی۔ فتاوی غرائب سے فتاوی عالمگیری میں اس کا قول "السفلی"تك نقل کیا گیا۔اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں اکھاڑنے کی خصوصیت کا کوئی اثر نہیں پس اسی کے معنی میں"حلق"ہے یعنی بال مونڈنا ہے۔اور بال اکھاڑنے سے تعبیر ان کی عادت کے مطابق واقع ہوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد مبارك ہے:سفید بال نہ اکھاڑا کرو۔ اور فقہائے کرام کا ارشادس فید بال اکھاڑنے مکروہ ہیں۔باوجود یہ کہ ان کے کترنے میں بھی کراہت ہے کیونکہ علت دونوں کو شامل ہے۔اس سے واضح ہوگیا کہ جو کچھ مدارج شر یف میں وار دہے وہ محل تامل یعنی غور وفکر کے لائق ہے کہ عنفقہ کے بال مونڈنے اور نہ مونڈنے میں اختلاف ہے اور بہتر یہ ہے کہ نہ مونڈے جائیں۔لیکن دونوں کناروں کے بال مونڈ دینے میں کوئی حرج نہیں(معرب عبارت پوری ہوگئی)کیونکہ شیخ کی عبارت کا بظاہر مفاد کراہت تنزیہی ہے اور اس کا تقابل"ترك افضل"خالص اباحت بتا رہا ہے حالانکہ عنفقہ اور داڑھی کی دونوں اطراف اجزائے داڑھی میں شامل ہیں اور ان کا چھوڑنا واجب ہے۔لہذا اس پر جرأت اقدام کسی طرح مناسب نہیں جب تك کسی حدیث صحیح سے یاامام مذہب کی طرف سے کسی صریح نص کے ساتھ ثابت نہ ہوپس اس میں گہری سوچ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ت)
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی نتف الشیب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۲
مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
ہاں اگر یہاں بال اس قدر طویل وانبوہ ہو کہ کھانا کھانےپانی پینےکلی کرنے میں مزاحمت کریں تو ان کا قینچی سے بقدر حاجت کم کردینا روا ہے۔خزانۃ الروایات میں تتارخانیہ سے ہے:
یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل اوالشرب ۔ زیریں لب کے دونوں کناروں کے بال کترنے جائز ہیں جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں۔(ت)
یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے نہ کہ مونڈنا فان المفاھیم معتبرۃ فی الکتب وکلام العلماء وبالاجماع ھذا ماعندی(کیونکہ مفہوم مخالفکتابوںکلام علماء میں ساتھ اجماع کے معتبر ہے میرے نزدیك تو یہی ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال سوم:یہ نئی نئی تراشیں سب خلاف سنت ہیں۔
فی الہندیۃ عن التتارخانیہ عن الروضۃ ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق واما الحلق ۔ فتاوی ہندیہ میں تتارخانیہ سے اور تتارخانیہ نے الروضہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے سر کے بالوں کو مونڈڈالنا یا بال رکھ کر ان میں مانگ نکالنا دونوں سنت عمل ہیں۔(ت)
گردن کی صفائی سے اگر قفا یعنی گدی کے بال منڈانا مراد ہے جس طرح آج کل بعض جہال کا معمولتو یہ صرف پچھنوں کی ضرورت سے جائز ہے۔بلاضرورت مکروہ۔
فی الہندیہ عن الینابیع عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ یکرہ ان یحلق کفاہ الا عند الحجامۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں ینابیع کے حوالے سے حضرت امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے حوالے سے روایت ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہیں سوائے پچھنے لگوانے کی ضرورت کے۔(ت)
اوراگر ان رونگٹوں کا صاف کرنا مقصود جو گدی کے نیچے صفحہ گردن پر تھوڑے تھوڑے متفرق
یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل اوالشرب ۔ زیریں لب کے دونوں کناروں کے بال کترنے جائز ہیں جبکہ کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں۔(ت)
یہ روایت بھی دلیل واضح ہے کہ بغیر اس مزاحمت کے ان بالوں کا کترنا بھی ممنوع ہے نہ کہ مونڈنا فان المفاھیم معتبرۃ فی الکتب وکلام العلماء وبالاجماع ھذا ماعندی(کیونکہ مفہوم مخالفکتابوںکلام علماء میں ساتھ اجماع کے معتبر ہے میرے نزدیك تو یہی ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال سوم:یہ نئی نئی تراشیں سب خلاف سنت ہیں۔
فی الہندیۃ عن التتارخانیہ عن الروضۃ ان السنۃ فی شعر الراس اما الفرق واما الحلق ۔ فتاوی ہندیہ میں تتارخانیہ سے اور تتارخانیہ نے الروضہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے سر کے بالوں کو مونڈڈالنا یا بال رکھ کر ان میں مانگ نکالنا دونوں سنت عمل ہیں۔(ت)
گردن کی صفائی سے اگر قفا یعنی گدی کے بال منڈانا مراد ہے جس طرح آج کل بعض جہال کا معمولتو یہ صرف پچھنوں کی ضرورت سے جائز ہے۔بلاضرورت مکروہ۔
فی الہندیہ عن الینابیع عن الامام الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ یکرہ ان یحلق کفاہ الا عند الحجامۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں ینابیع کے حوالے سے حضرت امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے حوالے سے روایت ہے کہ گدی کے بال مونڈنا مکروہ ہیں سوائے پچھنے لگوانے کی ضرورت کے۔(ت)
اوراگر ان رونگٹوں کا صاف کرنا مقصود جو گدی کے نیچے صفحہ گردن پر تھوڑے تھوڑے متفرق
حوالہ / References
خزانۃ الروایات باب فی شعور الانسان قلمی نسخہ ص۵۶۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
نکلتے ہیں تو ظاہرا موئے سینہ وپشت کے حکم میں ہونا چاہئے کہ جائز ہے اور ترك بہتر۔
فی الہندیۃ عن القنیۃ فی حلق شعرالصدر والظھر ترك الادب اھ واﷲ تعالی اعلم۔ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ قنیہ مذکور ہے سینہ اور پشت کے بال مونڈنے میں ترك ادب ہے یعنی بہتر نہیں۔اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
حلق وقصر ونتف وتنور یعنی مونڈناکترنااکھیڑنانورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں کہ مقصود اس موضع کا پاك کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل۔
فی صحیح مسلم ابن الحجاج رضی اﷲ تعالی عنہ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال قال الفطرۃ خمس اوخمس من الفطرۃ الختان و الا ستحداد وتقلیم الاظفار ونتف الابط وقص الشارب قال الشارح النووی واما الاستحداد فہو حلق العانۃ وھو سنۃ والمراد بہ نظافۃ ذلك الموضع انتھی ملخصا وبمثلہ قال الغزالی فی احیائہ وغیرہ فی غیرہ۔ صحیح مسلم بن الحجاج میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا امور فطرت پانچ ہیں۔یا یوں فرمایا پانچ کام فطرت میں سے ہیں:(۱)ختنہ کرنا(۲)زیر ناف کے بال مونڈنا(۳)ناخن کاٹنا(۴)بغلوں کے بال اکھیڑنا اور (۵)مونچھیں کترناشارح صحیح مسلم امام نووی نے فرمایا رہا استحداد تو وہ مقام ستر کے بال مونڈنے ہیں اور وہ عمل سنت ہے اور اس عمل سے اس جگہ کی طہارت مقصود ہے(تلخیص پوری ہوگئی)امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالی نے احیاء علوم الدین میں اور دوسروں نے دوسری کتابوں میں اس طرح صراحت فرمائی ہے۔(ت)
فی الہندیۃ عن القنیۃ فی حلق شعرالصدر والظھر ترك الادب اھ واﷲ تعالی اعلم۔ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ قنیہ مذکور ہے سینہ اور پشت کے بال مونڈنے میں ترك ادب ہے یعنی بہتر نہیں۔اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد اگر اپنے زیر ناف کے بال مقراض سے تراشے یا عورت استرہ لے تو جائز ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
حلق وقصر ونتف وتنور یعنی مونڈناکترنااکھیڑنانورہ لگانا سب صورتیں جائز ہیں کہ مقصود اس موضع کا پاك کرنا ہے اور وہ سب طریقوں میں حاصل۔
فی صحیح مسلم ابن الحجاج رضی اﷲ تعالی عنہ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال قال الفطرۃ خمس اوخمس من الفطرۃ الختان و الا ستحداد وتقلیم الاظفار ونتف الابط وقص الشارب قال الشارح النووی واما الاستحداد فہو حلق العانۃ وھو سنۃ والمراد بہ نظافۃ ذلك الموضع انتھی ملخصا وبمثلہ قال الغزالی فی احیائہ وغیرہ فی غیرہ۔ صحیح مسلم بن الحجاج میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا امور فطرت پانچ ہیں۔یا یوں فرمایا پانچ کام فطرت میں سے ہیں:(۱)ختنہ کرنا(۲)زیر ناف کے بال مونڈنا(۳)ناخن کاٹنا(۴)بغلوں کے بال اکھیڑنا اور (۵)مونچھیں کترناشارح صحیح مسلم امام نووی نے فرمایا رہا استحداد تو وہ مقام ستر کے بال مونڈنے ہیں اور وہ عمل سنت ہے اور اس عمل سے اس جگہ کی طہارت مقصود ہے(تلخیص پوری ہوگئی)امام غزالی رحمۃ اﷲ تعالی نے احیاء علوم الدین میں اور دوسروں نے دوسری کتابوں میں اس طرح صراحت فرمائی ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۸
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸
مگر حلق مر دمیں بہ نسبت قصر ونتف وتنور کے افضل ہے کہ احادیث خصال وعامہ کتب فقہ میں اس خصلت کا ذکر بلفظ حلق واستحداد وغیرہ۔
قال النووی والافضل فیہ الحلق ویجوز بالقص والنتف والنورۃ وفی الفتاوی الھندیۃ الافضل ان یقلم اظفارہ ویحلق عانتہ انتھی مختصر۔ اما م نووی نے فرمایا کہ زیر ناف بال ہٹانے کے لئے زیادہ بہتر عمل مونڈنا ہے البتہ کترنااکھیڑنا اورچونا وغیرہ لگانا بھی جائز ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ناخن کاٹے جائیں اور زیر ناف بال مونڈے جائیں اھ مختصرا(ت)
اور عورت کے لئے بعض علماء نے نتف(اکھاڑنا)حلق(مونڈنا)سے افضل قراردیا اور بعض علماء نے بالعکس ملاعلی قاری مرقاۃ میں پہلا مذہب اختیار کرتے ہیں۔اور حدیث صحیحین میں وارد:حتی تستحد المغیبۃ (یہاں تك کہ زیر ناف بال صاف کرے۔ت)اشعۃ اللمعات میں علامہ تورپشتی سے نقل کیا یہاں استحداد سے بال دور کرنا مراد ہے نہ کہ خاص استعمال قدسی ابن عربی محاکمہ کرتے ہیں کہ نوجوان عورت کو احتراز مناسب اور عمر رسیدہ کو مضرت نہیں۔اور نتف ایام ضعف میں باعث استر خائے فرج تو میانہ کو اس سے بچنا زیبا اور نوجوان میں بوجہ شباب قوت پر احتمال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۴: از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ درگاہ شریف ۲۴ رجب ۱۳۱۸ھ
"محلقین رءوسکم و مقصرین " (تم لوگ اپنے سروں کے بال منڈواتے اور کتراتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوگے۔ ت)سے سرمنڈانا اور کترانا مفہوم ہوتا ہے بابولوگ یا نیاچہرہ منڈاتے نہیں بہت چھوٹے چھوٹے بال رکھتے ہیں ذرا بڑھے کترا ڈالے۔کیا یہ شکل مقصرین سے مفہوم ہے فقہ میں کیا
قال النووی والافضل فیہ الحلق ویجوز بالقص والنتف والنورۃ وفی الفتاوی الھندیۃ الافضل ان یقلم اظفارہ ویحلق عانتہ انتھی مختصر۔ اما م نووی نے فرمایا کہ زیر ناف بال ہٹانے کے لئے زیادہ بہتر عمل مونڈنا ہے البتہ کترنااکھیڑنا اورچونا وغیرہ لگانا بھی جائز ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے کہ بہتر یہ ہے کہ ناخن کاٹے جائیں اور زیر ناف بال مونڈے جائیں اھ مختصرا(ت)
اور عورت کے لئے بعض علماء نے نتف(اکھاڑنا)حلق(مونڈنا)سے افضل قراردیا اور بعض علماء نے بالعکس ملاعلی قاری مرقاۃ میں پہلا مذہب اختیار کرتے ہیں۔اور حدیث صحیحین میں وارد:حتی تستحد المغیبۃ (یہاں تك کہ زیر ناف بال صاف کرے۔ت)اشعۃ اللمعات میں علامہ تورپشتی سے نقل کیا یہاں استحداد سے بال دور کرنا مراد ہے نہ کہ خاص استعمال قدسی ابن عربی محاکمہ کرتے ہیں کہ نوجوان عورت کو احتراز مناسب اور عمر رسیدہ کو مضرت نہیں۔اور نتف ایام ضعف میں باعث استر خائے فرج تو میانہ کو اس سے بچنا زیبا اور نوجوان میں بوجہ شباب قوت پر احتمال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۴: از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب مدرس اول مدرسہ عربیہ درگاہ شریف ۲۴ رجب ۱۳۱۸ھ
"محلقین رءوسکم و مقصرین " (تم لوگ اپنے سروں کے بال منڈواتے اور کتراتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوگے۔ ت)سے سرمنڈانا اور کترانا مفہوم ہوتا ہے بابولوگ یا نیاچہرہ منڈاتے نہیں بہت چھوٹے چھوٹے بال رکھتے ہیں ذرا بڑھے کترا ڈالے۔کیا یہ شکل مقصرین سے مفہوم ہے فقہ میں کیا
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۰۸
صحیح بخاری کتاب النکاح باب طلب الولد قدیمی کتب خانہ ۲/ ،صحیح مسلم کتاب الرضاع باب استحباب النکاح قدیمی کتب خانہ ۱/ ۴۷۴
القرآن الکریم ۴۸ /۲۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۰۸
صحیح بخاری کتاب النکاح باب طلب الولد قدیمی کتب خانہ ۲/ ،صحیح مسلم کتاب الرضاع باب استحباب النکاح قدیمی کتب خانہ ۱/ ۴۷۴
القرآن الکریم ۴۸ /۲۷
ثابت ہے
الجواب:
آیہ کریمہ میں حلق وتقصیر حج کا ذکر ہے۔تقصیر حج یہ کہ ہر بال سے بقدر ایك پورے کے کم کریں چہارمسر کے بالوں کی تقصیر واجب ہے کل کی مندوب ومسنون اسے عادی امور سے تعلق نہیں یہ طریقہ کہ ان کفرہ یا بعض فسقہ میں معمول ہے کہ چھوٹی چھوٹی کھونٹیاں رکھتے ہیں جہاں ذرا بڑھیں کتروادیں خلاف سنت ومکروہ ہے سنت یا سارے سر پر بال رکھ کر مانگ نکالنا یا سارا منڈانا۔
فی ردالمحتار عن الروضۃ السنۃ فی شعرا لراس اما الفرق واما الحلق ۔ فتاوی شامی میں"روضہ"سے نقل کیا گیا کہ سروں کے بالوں میں مانگ نکالنا سنت ہے یا تمام بال منڈوادینا سنت ہے۔ (ت)
اور کراہت اس لئے کہ وضع کفرہ وفسقہ ہے۔
فی الھندیہ عن الذخیرۃ والشامیۃ عن التتارخانیہ عن الذخیرۃ ان یحلق وسط راسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ فان فتلہ فذلك مکروہ لانہ یصیر مشابھا ببعض الکفرۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ فتاوی ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ اور فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے بحوالہ ذخیرہ منقول ہے اور وہ یہ کہ سر کے چوٹی کے بال منڈوادے اور باقی بال گوندھے بغیر چھوڑدے۔پھر اگر انھیں گوندھ ڈالے تو یہ عمل مکروہ ہے کیونکہ ایسا کرنا بعض کفار سے مشابہ ہوجائے گا(اورکفار سے مشابہت جائز نہیں)اور اﷲ تعالی پاك وبلند وبالا اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۵: از شہر کہنہ ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
جناب عالی! قصص الانبیاء میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصہ میں لکھا ہے کہ بی بی سارا نے بی بی ہاجرہ کے کان چھیدے اور ختنہ کرادی یہ سنت زن ومرد پر قیامت تك قائم رکھیں گے تو عورت کی ختنہ کیسی
الجواب:
آیہ کریمہ میں حلق وتقصیر حج کا ذکر ہے۔تقصیر حج یہ کہ ہر بال سے بقدر ایك پورے کے کم کریں چہارمسر کے بالوں کی تقصیر واجب ہے کل کی مندوب ومسنون اسے عادی امور سے تعلق نہیں یہ طریقہ کہ ان کفرہ یا بعض فسقہ میں معمول ہے کہ چھوٹی چھوٹی کھونٹیاں رکھتے ہیں جہاں ذرا بڑھیں کتروادیں خلاف سنت ومکروہ ہے سنت یا سارے سر پر بال رکھ کر مانگ نکالنا یا سارا منڈانا۔
فی ردالمحتار عن الروضۃ السنۃ فی شعرا لراس اما الفرق واما الحلق ۔ فتاوی شامی میں"روضہ"سے نقل کیا گیا کہ سروں کے بالوں میں مانگ نکالنا سنت ہے یا تمام بال منڈوادینا سنت ہے۔ (ت)
اور کراہت اس لئے کہ وضع کفرہ وفسقہ ہے۔
فی الھندیہ عن الذخیرۃ والشامیۃ عن التتارخانیہ عن الذخیرۃ ان یحلق وسط راسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ فان فتلہ فذلك مکروہ لانہ یصیر مشابھا ببعض الکفرۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ فتاوی ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ اور فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے بحوالہ ذخیرہ منقول ہے اور وہ یہ کہ سر کے چوٹی کے بال منڈوادے اور باقی بال گوندھے بغیر چھوڑدے۔پھر اگر انھیں گوندھ ڈالے تو یہ عمل مکروہ ہے کیونکہ ایسا کرنا بعض کفار سے مشابہ ہوجائے گا(اورکفار سے مشابہت جائز نہیں)اور اﷲ تعالی پاك وبلند وبالا اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۵: از شہر کہنہ ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
جناب عالی! قصص الانبیاء میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصہ میں لکھا ہے کہ بی بی سارا نے بی بی ہاجرہ کے کان چھیدے اور ختنہ کرادی یہ سنت زن ومرد پر قیامت تك قائم رکھیں گے تو عورت کی ختنہ کیسی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحظروالاباحۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحظروالاباحۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
الجواب:
اندام زن کے دونوں لبوں کے بیچ جو گوشت پارہ تندوبلند سرخ رنگ مثل تاج خروس کے ہے اس میں سے ایك ٹکڑا کھال کا جدا کرتے ہیں یہ ختنہ زنان ہے جہاں اس کا رواج ہے مستحب ہے ان بلاد میں اس کا نشان نہیں۔اگر واقع ہو تو جہال ہنسیںاوریہ مسئلہ شرعیہ پر ہنسنا اپنا دین برباد کرنا ہے تو یہاں اس پراقدام کی حاجت نہیں۔خود ایك مستحب بات کرنی اور مسلمانوں کو ایسی سخت بلا میں ڈالنا پسندیدہ نہیں۔
کما نصوا علیہ فی ترك عذبۃ العمامۃ حیث یستھزأ فی الجملۃ بھا ویشبھونھا بالذنب ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل وقد کلمنا علی عدۃ نظائر لھذا فی رسالتنا اطائب التھانی فی حکم النکاح الثانی۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ فقہاء نے پگڑی کا شملہ نہ چھوڑنے کی تصریح فرمائی ہے کہ جہاں کہیں اس سے مذاق اور استہزاء کیا جاتاہو اور عوام اسے"دم"سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائے اور جو کوئی اہل زمانہ کے حالات سے بے خبر ہو وہ بڑا جاہل اور نادان ہے اور ہم نے اس کے چند نظائر(امثال)پر اپنے رسالہ اطائب التہانی فی حکم النکاح الثانیعــــــــــہ(پاکیزہ مبارکبادیں دوسرا نکاح کرنے کے حکم میں)میں کلام کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۶: مرسلہ مولوی کازم الدین صاحب بنگالہ شہر کمرلہ تاریخ ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی کے لڑکا یا لڑکی پیدا ہوئی ولی وارث کو اس مولود کی ناف بریدہ کرناجائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کیا دلیلبالتفصیل تحریر فرمائے وگر ولی اور وارث نہ کرے کوئی دائی سے کروایا جائز ہے یانہیں۔اور اگر دائی سے اس کام کو کراتا ہے لیکن دائی کم یابی کے سبب سے فی لڑکا اتنا روپیہ مانگتا ہے اس کا ولی ووارث اتنا مزدوری دے کر یہ کام نہیں کرواسکتا اس صورت میں خود کرنا جائز ہے یانہیں اور اگر دائی اس کام کو نہیں کرتی بلکہ اس کی خواند کو بھیجتی ہے یا ملك کا رواج پڑ گیا ہے مردانہ دائی سے یہ کام کروانا ہے اب مسلمانوں کو اتفاق یہ ہوا چونکہ بیگانہ مرد عورت کے نفاس کی حالت میں جانا حرام ہے۔اگر شریعت میں خود بخود کرنا جائز نکلے اور مفتی بھی فتوی دے ہم لوگ خود کرنے کا تو اس حرام کو کیوں اختیار کریں بینوا
عــــــہ: رسالہ اطائب التہانی۔فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلد ۱۲ میں موجود ہے۔
اندام زن کے دونوں لبوں کے بیچ جو گوشت پارہ تندوبلند سرخ رنگ مثل تاج خروس کے ہے اس میں سے ایك ٹکڑا کھال کا جدا کرتے ہیں یہ ختنہ زنان ہے جہاں اس کا رواج ہے مستحب ہے ان بلاد میں اس کا نشان نہیں۔اگر واقع ہو تو جہال ہنسیںاوریہ مسئلہ شرعیہ پر ہنسنا اپنا دین برباد کرنا ہے تو یہاں اس پراقدام کی حاجت نہیں۔خود ایك مستحب بات کرنی اور مسلمانوں کو ایسی سخت بلا میں ڈالنا پسندیدہ نہیں۔
کما نصوا علیہ فی ترك عذبۃ العمامۃ حیث یستھزأ فی الجملۃ بھا ویشبھونھا بالذنب ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل وقد کلمنا علی عدۃ نظائر لھذا فی رسالتنا اطائب التھانی فی حکم النکاح الثانی۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ فقہاء نے پگڑی کا شملہ نہ چھوڑنے کی تصریح فرمائی ہے کہ جہاں کہیں اس سے مذاق اور استہزاء کیا جاتاہو اور عوام اسے"دم"سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائے اور جو کوئی اہل زمانہ کے حالات سے بے خبر ہو وہ بڑا جاہل اور نادان ہے اور ہم نے اس کے چند نظائر(امثال)پر اپنے رسالہ اطائب التہانی فی حکم النکاح الثانیعــــــــــہ(پاکیزہ مبارکبادیں دوسرا نکاح کرنے کے حکم میں)میں کلام کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۶: مرسلہ مولوی کازم الدین صاحب بنگالہ شہر کمرلہ تاریخ ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی کے لڑکا یا لڑکی پیدا ہوئی ولی وارث کو اس مولود کی ناف بریدہ کرناجائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کیا دلیلبالتفصیل تحریر فرمائے وگر ولی اور وارث نہ کرے کوئی دائی سے کروایا جائز ہے یانہیں۔اور اگر دائی سے اس کام کو کراتا ہے لیکن دائی کم یابی کے سبب سے فی لڑکا اتنا روپیہ مانگتا ہے اس کا ولی ووارث اتنا مزدوری دے کر یہ کام نہیں کرواسکتا اس صورت میں خود کرنا جائز ہے یانہیں اور اگر دائی اس کام کو نہیں کرتی بلکہ اس کی خواند کو بھیجتی ہے یا ملك کا رواج پڑ گیا ہے مردانہ دائی سے یہ کام کروانا ہے اب مسلمانوں کو اتفاق یہ ہوا چونکہ بیگانہ مرد عورت کے نفاس کی حالت میں جانا حرام ہے۔اگر شریعت میں خود بخود کرنا جائز نکلے اور مفتی بھی فتوی دے ہم لوگ خود کرنے کا تو اس حرام کو کیوں اختیار کریں بینوا
عــــــہ: رسالہ اطائب التہانی۔فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلد ۱۲ میں موجود ہے۔
توجروا واﷲ اعلم(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)
الجواب:
لڑکا یا لڑکی اس کی ناف کاٹنا اس کے ولی غیر ولی سب کو جائز ہے۔درمختارمیں ہے:
لاعورۃ لصغیر جدا ۔ بلا شبہہ چھوٹے بچے کی کوئی جگہ چھپانے کی نہیں۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے:
للاب ان یختن ولدہ الصغیر ۔ یعنی باپ کو جائز ہے کہ اپنے چھوٹے بچے کی ختنے کی کھال کاٹے۔
جب ختنے کی کھال کاٹنا باپ کو جائز ہے تو ناف کانال کاٹنا بدرجہ اولی جائز ہے اور ہر گز ضرور نہیں کہ خواہی نخواہی دایہ ہی سے نال کٹوائے اگر چہ وہ کتنی ہی مزدوری مانگےیہ محض ظلم ہے۔
اﷲ تعالی فرماتاہے:
"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" الہ تعالی کسی جان کو تکلیف میں نہیں ڈالتا مگر اس قدر جتنی اس میں ہمت اور گنجائش ہو۔(ت)
یہ جو سائل نے لکھا کہ بیگانہ مرد عورت کی نفاس کی حالت میں جانا حرام ہے یہ بھی محض بے معنی ہے بیگانہ مرد کا بے پردہ عورت کے پاس جانا ہر حالت میں حرام ہے۔اور پردہ کی حالت میں نفاس و غیر نفاس یکساں ہے اور نال کاٹنے کے لئے عورت کے پاس جانے کی کوئی حاجت بھی نہیں۔بچہ کاٹنے والے کے سامنے لاسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۱۹: از شیر گڑھ ڈاکخانہ خاص ضلع بریلی مکان سید احمد علی شاہ مرسلہ بندہ علی طالب عالم
(۱)زید کا طریقہ صوفیانہ ہے اور اس کے بال دراز ہیں یعنی کندھوں تك چھوٹے ہیں آیا وہ شعر طویل نماز کی صحت کے مانع ہے یانہیں
(۲)اور زید کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہوگی یانہیں غرضکہ وہ بال نماز کی صحت میں خلل پیدا کرینگے یانہیں
الجواب:
لڑکا یا لڑکی اس کی ناف کاٹنا اس کے ولی غیر ولی سب کو جائز ہے۔درمختارمیں ہے:
لاعورۃ لصغیر جدا ۔ بلا شبہہ چھوٹے بچے کی کوئی جگہ چھپانے کی نہیں۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے:
للاب ان یختن ولدہ الصغیر ۔ یعنی باپ کو جائز ہے کہ اپنے چھوٹے بچے کی ختنے کی کھال کاٹے۔
جب ختنے کی کھال کاٹنا باپ کو جائز ہے تو ناف کانال کاٹنا بدرجہ اولی جائز ہے اور ہر گز ضرور نہیں کہ خواہی نخواہی دایہ ہی سے نال کٹوائے اگر چہ وہ کتنی ہی مزدوری مانگےیہ محض ظلم ہے۔
اﷲ تعالی فرماتاہے:
"لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا" الہ تعالی کسی جان کو تکلیف میں نہیں ڈالتا مگر اس قدر جتنی اس میں ہمت اور گنجائش ہو۔(ت)
یہ جو سائل نے لکھا کہ بیگانہ مرد عورت کی نفاس کی حالت میں جانا حرام ہے یہ بھی محض بے معنی ہے بیگانہ مرد کا بے پردہ عورت کے پاس جانا ہر حالت میں حرام ہے۔اور پردہ کی حالت میں نفاس و غیر نفاس یکساں ہے اور نال کاٹنے کے لئے عورت کے پاس جانے کی کوئی حاجت بھی نہیں۔بچہ کاٹنے والے کے سامنے لاسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۱۹: از شیر گڑھ ڈاکخانہ خاص ضلع بریلی مکان سید احمد علی شاہ مرسلہ بندہ علی طالب عالم
(۱)زید کا طریقہ صوفیانہ ہے اور اس کے بال دراز ہیں یعنی کندھوں تك چھوٹے ہیں آیا وہ شعر طویل نماز کی صحت کے مانع ہے یانہیں
(۲)اور زید کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہوگی یانہیں غرضکہ وہ بال نماز کی صحت میں خلل پیدا کرینگے یانہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب شروط الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
(۳)فقراء کے واسطے بال بڑھانے کاحکم ہے یانہیں اگر حکم ہے تو کہاں تک کیونکہ بد مذہب اس طریقہ کے منکر ہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ہاں نصف کان سے کندھوں تك بڑھانا شرعاجائز ہے اور اس سے زیادہ بڑھانا مرد کو حرام ہے۔خواہ فقرا ہو ں خواہ دنیادار احکام شرع سب پریکساں ہیں زیادہ میں عورتوں سے تشبہ ہے اور صحیح حدیث میں لعنت فرمائی ہے اس مرد پر جو عورت کی وضع بنائے اور اس عورت پر جو مرد کی وضع بنائے اگر چہ وہ وضع بنانا ایك ہی بات میں ہو۔جو لوگ چوٹی گندھواتے یا جوڑا باندھتے یا کمر یا سینہ کے قریب تك بال بڑھاتے ہیں وہ شرعا فاسق معلن ہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نما زمکروہ تحریمی ہے یعنی پھیرنا واجب اگر چہ پڑھے ہوئے دس برس گزر گئے ہوںاور یہ خیال کہ باطن صاف ہونا چاہئے ظاہر کیسا ہی ہو محض باطل ہے۔حدیث میں فرمایا کہ اس کا دل ٹھیك ہوتا تو ظاہر آپ ٹھیك ہوجاتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: از شیر گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ عظیم اﷲ نائب مدرس ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلمان کوداڑھی کتروانا اور ٹھوڑی کھلوانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی اتنی کتروانہ کہ ایك مشت سے کم ہوجائے گناہ وناجائزہے۔یونہی ٹھوڑی پر سے کھلوانا حرام۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱و ۲۲۶:مسئولہ اکبر یار خاں از شہر کہنہ محصل چندہ مدرسہ اہلسنت وجماعت بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ
(۱)یہ کہ داڑھی کا طول ایك مشت و دو انگشت ہے یا کم یا کس قدر کہ جس سے کم رکھنے میں گنہگار ہوگا
(۲)یہ کہ منڈوانا استرے سے اور قینچی سے کترواناچھوٹا چھوٹا کرانا ایك ہی بات ہے یاقینیچی سے چاہے جس قدر کترواکر چھوٹا کردے اس میں حرج نہیں ہے
(۳)یہ کہنا کہ عرب شریف اسلام کا گھر ہے وہاں کے لوگ داڑھی کٹواکر چھوٹا کرلیتے ہیں اگر اور کوئی شخص داڑھی کتروائے تو کیا مضائقہ ہے۔ایسے کہنے والے شخص کی نسبت کیا حکم ہے
الجواب:
ہاں نصف کان سے کندھوں تك بڑھانا شرعاجائز ہے اور اس سے زیادہ بڑھانا مرد کو حرام ہے۔خواہ فقرا ہو ں خواہ دنیادار احکام شرع سب پریکساں ہیں زیادہ میں عورتوں سے تشبہ ہے اور صحیح حدیث میں لعنت فرمائی ہے اس مرد پر جو عورت کی وضع بنائے اور اس عورت پر جو مرد کی وضع بنائے اگر چہ وہ وضع بنانا ایك ہی بات میں ہو۔جو لوگ چوٹی گندھواتے یا جوڑا باندھتے یا کمر یا سینہ کے قریب تك بال بڑھاتے ہیں وہ شرعا فاسق معلن ہیں اور فاسق معلن کے پیچھے نما زمکروہ تحریمی ہے یعنی پھیرنا واجب اگر چہ پڑھے ہوئے دس برس گزر گئے ہوںاور یہ خیال کہ باطن صاف ہونا چاہئے ظاہر کیسا ہی ہو محض باطل ہے۔حدیث میں فرمایا کہ اس کا دل ٹھیك ہوتا تو ظاہر آپ ٹھیك ہوجاتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰: از شیر گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ عظیم اﷲ نائب مدرس ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلمان کوداڑھی کتروانا اور ٹھوڑی کھلوانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی اتنی کتروانہ کہ ایك مشت سے کم ہوجائے گناہ وناجائزہے۔یونہی ٹھوڑی پر سے کھلوانا حرام۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱و ۲۲۶:مسئولہ اکبر یار خاں از شہر کہنہ محصل چندہ مدرسہ اہلسنت وجماعت بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ
(۱)یہ کہ داڑھی کا طول ایك مشت و دو انگشت ہے یا کم یا کس قدر کہ جس سے کم رکھنے میں گنہگار ہوگا
(۲)یہ کہ منڈوانا استرے سے اور قینچی سے کترواناچھوٹا چھوٹا کرانا ایك ہی بات ہے یاقینیچی سے چاہے جس قدر کترواکر چھوٹا کردے اس میں حرج نہیں ہے
(۳)یہ کہنا کہ عرب شریف اسلام کا گھر ہے وہاں کے لوگ داڑھی کٹواکر چھوٹا کرلیتے ہیں اگر اور کوئی شخص داڑھی کتروائے تو کیا مضائقہ ہے۔ایسے کہنے والے شخص کی نسبت کیا حکم ہے
(۴)یہ کہ لبوں کے بال بڑھے ہوئے شخص کا جھونٹا پانی وغیرہ پینا کیساہے
(۵)یہ کہ ایسے لوگوں کی نسبت یعنی داڑھی منڈوانے والےکترنے والے۔لبوں کے بال بڑھانے والے کس خطا کے مرتکب ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہے
(۶)یہ کہ مثل داڑھی کے مقدار کے لبوں کے بال کی بابت کہ کس قد ر ہوں کیا حکم ہے اگر کوئی شخص لبوں کے بال منڈوائے یا بہت باریك کرے تو کیا قباحت ہے
الجواب:
(۱)داڑھی کا طول ایك مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہئے اس سے کم کرانا حرام ہے۔
(۲)قینیچی سے کترے خواہ استرے سےلے سب یکساں ہےہاں تھوڑی کترنے سے سب منڈا دینا سخت وخبیث تر ہے کہ حرام حرام میں فرق ہوتا ہے۔بھنگچرسشراب سب حرام ہیں مگر شراب سب میں بدتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)شریعت پر کسی کا قول وفعل حجت نہیں۔اﷲ ورسول سب پر حاکم ہیں اﷲ ورسول پرکوئی حاکم نہیںیہ فعل وہاں کے جاہلوں کا ہے اور جاہلوں کا فعل سند نہیں ہوسکتا کہیں کے ہوںایسا کہنے والا اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے او ر اگر ذی علم ہو کر ایسا کہتا ہے یاسمجھانے کے بعد بھی نہ مانے اصرار کئے جائے وہ سخت فاسق وگمراہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)اگر اسے وضو نہ تھا اس حالت میں اس نے پانی پیا اور لبوں کے بال پانی کو لگے تو پانی مستعمل ہوگیا۔مستعمل پانی کا پینا ہمارے امام رضی اﷲ تعالی عنہ کے اصل مذہب میں حرام ہے۔ان کے نزدیك وہ پانی ناپاك ہوگیا خود اس نے جو پیا ناپاك پیا اور اب جو پئے گا ناپاك پئے گا۔اور مذہب مفتی بہ پر مستعمل پانی کا پینا مکروہ ہے۔اس نے جو پیا مکروہ پیااور اب جو بچا ہوا پئے گا مکروہ پئے گا۔ہاں اگر اسے وضو تھا یا منہ دھلا تھا تو شرعا حرج نہیں۔اگرچہ اس کی مونچھوں کا دھوون پینے سے قلب کراہت کرے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)حد شرع سے کم داڑھی رکھنا حد شرع سے زیادہ مونچھیں رکھنا سب خلاف شرع اور مجوسیوں کی سنت اور نصرانیوں کی عادت ہے آدمی اس سے گنہگار ہوتاہے اور اس کی عادت رکھنے سے فاسق ہوجاتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۶)لبوں کی نسبت یہ حکم ہے کہ لبیں پست کرو کہ نہ ہونے کے قریب ہوں البتہ منڈاونا نہ چاہئے اس میں علماء کو اختلاف ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)یہ کہ ایسے لوگوں کی نسبت یعنی داڑھی منڈوانے والےکترنے والے۔لبوں کے بال بڑھانے والے کس خطا کے مرتکب ہیں ان کی نسبت کیا حکم ہے
(۶)یہ کہ مثل داڑھی کے مقدار کے لبوں کے بال کی بابت کہ کس قد ر ہوں کیا حکم ہے اگر کوئی شخص لبوں کے بال منڈوائے یا بہت باریك کرے تو کیا قباحت ہے
الجواب:
(۱)داڑھی کا طول ایك مشت یعنی ٹھوڑی سے نیچے چار انگل چاہئے اس سے کم کرانا حرام ہے۔
(۲)قینیچی سے کترے خواہ استرے سےلے سب یکساں ہےہاں تھوڑی کترنے سے سب منڈا دینا سخت وخبیث تر ہے کہ حرام حرام میں فرق ہوتا ہے۔بھنگچرسشراب سب حرام ہیں مگر شراب سب میں بدتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)شریعت پر کسی کا قول وفعل حجت نہیں۔اﷲ ورسول سب پر حاکم ہیں اﷲ ورسول پرکوئی حاکم نہیںیہ فعل وہاں کے جاہلوں کا ہے اور جاہلوں کا فعل سند نہیں ہوسکتا کہیں کے ہوںایسا کہنے والا اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے او ر اگر ذی علم ہو کر ایسا کہتا ہے یاسمجھانے کے بعد بھی نہ مانے اصرار کئے جائے وہ سخت فاسق وگمراہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)اگر اسے وضو نہ تھا اس حالت میں اس نے پانی پیا اور لبوں کے بال پانی کو لگے تو پانی مستعمل ہوگیا۔مستعمل پانی کا پینا ہمارے امام رضی اﷲ تعالی عنہ کے اصل مذہب میں حرام ہے۔ان کے نزدیك وہ پانی ناپاك ہوگیا خود اس نے جو پیا ناپاك پیا اور اب جو پئے گا ناپاك پئے گا۔اور مذہب مفتی بہ پر مستعمل پانی کا پینا مکروہ ہے۔اس نے جو پیا مکروہ پیااور اب جو بچا ہوا پئے گا مکروہ پئے گا۔ہاں اگر اسے وضو تھا یا منہ دھلا تھا تو شرعا حرج نہیں۔اگرچہ اس کی مونچھوں کا دھوون پینے سے قلب کراہت کرے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)حد شرع سے کم داڑھی رکھنا حد شرع سے زیادہ مونچھیں رکھنا سب خلاف شرع اور مجوسیوں کی سنت اور نصرانیوں کی عادت ہے آدمی اس سے گنہگار ہوتاہے اور اس کی عادت رکھنے سے فاسق ہوجاتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۶)لبوں کی نسبت یہ حکم ہے کہ لبیں پست کرو کہ نہ ہونے کے قریب ہوں البتہ منڈاونا نہ چاہئے اس میں علماء کو اختلاف ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
رسالہ
لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی ۱۳۱۵ھ
(چاشت کی روشنی میں داڑھیاں بڑھانے میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۲۷: از حیدرآباد ۲۰ جمادی الاخر ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ولید کہتا ہے داڑھی منڈانا حرام نہیں الحرام ماثبت ترکہ بدلیل قطعی لا شبھۃ فیہ (حرام وہ ہے جس کا چھوڑدینا ایسی قطعی دلیل سے ثابت ہوکہ جس میں کوئی شك وشبہ نہ پایاجائے۔ت)حرام وہ جس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو قرآن شریف میں تو اس کا کہیں حکم نہیں " یبنؤم لاتاخذ بلحیتی " (اے میرے ماں جائے! میری داڑھی نہ پکڑ۔ت)سے کوئی حکم نہیں نکلتا بلکہ ایك بات ہمارے لئے مفید البتہ پیدا ہوتی ہے کہ داڑھی بڑھانا بعض وقت مضر ہوتاہے دشمن نے بڑی داڑھی پکڑ کر مارنا شروع کیا تو پٹنا ہی پڑا۔سنن ابی داؤد میں یوں مروی ہے۔
عشر من الفطرۃقص الشارب واعفاء دس کام فطرت میں سے ہیں:مونچھیں کترناداڑھی
لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی ۱۳۱۵ھ
(چاشت کی روشنی میں داڑھیاں بڑھانے میں)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۲۷: از حیدرآباد ۲۰ جمادی الاخر ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ولید کہتا ہے داڑھی منڈانا حرام نہیں الحرام ماثبت ترکہ بدلیل قطعی لا شبھۃ فیہ (حرام وہ ہے جس کا چھوڑدینا ایسی قطعی دلیل سے ثابت ہوکہ جس میں کوئی شك وشبہ نہ پایاجائے۔ت)حرام وہ جس کی حرمت دلیل قطعی سے ثابت ہو قرآن شریف میں تو اس کا کہیں حکم نہیں " یبنؤم لاتاخذ بلحیتی " (اے میرے ماں جائے! میری داڑھی نہ پکڑ۔ت)سے کوئی حکم نہیں نکلتا بلکہ ایك بات ہمارے لئے مفید البتہ پیدا ہوتی ہے کہ داڑھی بڑھانا بعض وقت مضر ہوتاہے دشمن نے بڑی داڑھی پکڑ کر مارنا شروع کیا تو پٹنا ہی پڑا۔سنن ابی داؤد میں یوں مروی ہے۔
عشر من الفطرۃقص الشارب واعفاء دس کام فطرت میں سے ہیں:مونچھیں کترناداڑھی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۰ /۹۴
اللحیۃ الخ حدثنا موسی بن اسمعیل وداؤد بن شعیب قالا حدثنا حماد عن علی بن زید عن سلمۃ الخ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستنشاق بالماء ولم یذکر وا عفاء اللحیۃ وروی نحوہ عن ابن عباس قال خمس کلھا فی الرؤس ذکر فیہ الفرق ولم یذکر اعفاء اللحیۃ قال ابوداؤد روی نحوہ حدیث حماد عن طلق بن حبیب ومجاھد وعن بکر المزنی قولھم ولم یذکر اعفاء اللحیۃ ۔ بڑھانا الخ۔ہم سے موسی بن اسمعیل اور داؤد بن شعیب نے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیااس نے علی بن زید اس نے سلمہ سے روایت کیا۔الخ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امور فطرت یہ ہیں:کلی کرنا ناك میں پانی ڈالنااس میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں۔ یونہی عبداﷲ ابن عباس سے بھی روایت کی گئی (چنانچہ)آپ نے فرمایا:پانچ کام ہیں اور وہ سب سر کے متعلق ہیں ان میں سر میں مانگ نکالنے کا ذکر فرمایا مگر داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں فرمایا۔
امام ابوداؤد نے فرمایا:اسی جیسی حدیث حماد بواسطہ طلق بن حبیب او رمجاہد سے روایت کی گئی ہے اور بکر مزنی سے بھی۔ان سب کا قول مروی ہے مگر اس میں اعفاء اللحیۃ یعنی داڑھی بڑھانے کاذ کر نہیں۔ت)
حاصل اس کا یہ کہ ان نودس رواۃ نے یہ روایت کی کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس حدیث میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ مانگ کو فرمایا اس سے بھی معلوم ہوا کہ داڑھی بڑھانا بھی ویسی ہی سنت ہے جیسے مانگ کا رکھنامعہذا یہ حدیث مختلف فیہ تو ضرور ہے پس لائق اعتبار نہ رہی۔پھر صحیح بخاری میں یوں ہے:
خالفواالمشرکین قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مخالفت کرو مشرکین کیترشواؤ مونچھاور بڑھاؤ داڑھی۔
خالفوا المشرکین یہ جملہ"ففیہ نظر"اس واسطے کہ بعض مشرکین داڑھی بڑھاتے رہتے ہیں پس ان کی مخالفت یہ ہے کہ داڑھی منڈاؤاور بعض منڈاتے ہیں تو ان کی مخالفت یہ ہے کہ بڑھاؤ بہر حال بڑھانے اور منڈانے والے دونوں خالفوا المشرکین میں داخل ہیں کیونکہ مخالفت کا حکم عام ہے۔
امام ابوداؤد نے فرمایا:اسی جیسی حدیث حماد بواسطہ طلق بن حبیب او رمجاہد سے روایت کی گئی ہے اور بکر مزنی سے بھی۔ان سب کا قول مروی ہے مگر اس میں اعفاء اللحیۃ یعنی داڑھی بڑھانے کاذ کر نہیں۔ت)
حاصل اس کا یہ کہ ان نودس رواۃ نے یہ روایت کی کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس حدیث میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ مانگ کو فرمایا اس سے بھی معلوم ہوا کہ داڑھی بڑھانا بھی ویسی ہی سنت ہے جیسے مانگ کا رکھنامعہذا یہ حدیث مختلف فیہ تو ضرور ہے پس لائق اعتبار نہ رہی۔پھر صحیح بخاری میں یوں ہے:
خالفواالمشرکین قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مخالفت کرو مشرکین کیترشواؤ مونچھاور بڑھاؤ داڑھی۔
خالفوا المشرکین یہ جملہ"ففیہ نظر"اس واسطے کہ بعض مشرکین داڑھی بڑھاتے رہتے ہیں پس ان کی مخالفت یہ ہے کہ داڑھی منڈاؤاور بعض منڈاتے ہیں تو ان کی مخالفت یہ ہے کہ بڑھاؤ بہر حال بڑھانے اور منڈانے والے دونوں خالفوا المشرکین میں داخل ہیں کیونکہ مخالفت کا حکم عام ہے۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸
صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
جس مشرك کی چاہیں مخالفت کریں باقی رہا اس کا جواب"وقصواالشوارب واعفوا للحی"(مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔ت)مخفی نہ رہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہمیشہ درستگی اخلاق کے واسطے مبعوث ہوئےاسی لئے ہمارے پیغمبر آخر زمان بھی مبعوث ہوئےان پر دین کا مل اور نبوت ختم ہوگئی۔"الیوم اکملت لکم دینکم" آج کے دن ہم نے تمھارا دین تم پر کامل کردیا۔داڑھی بڑھانا اخلاق میں داخل ہے تو باوجود اس کے قرآن کامل کتاب اﷲ کی ہے۔اخلاقی احکام سے خالی ہے تو دین کامل نہ ٹھہرا۔لامحالہ کہنا پڑے گا کہ یہ اخلاق میں داخل نہیں اوراس سے ہمارا مطلب حاصل ہوجاتاہے۔
داڑھی بڑھانا مستحب البتہ ہے یا بہت ہوگا تو سنت۔لیکن یہ بھی حداعتدال تك
ریش بایدت دوسہ موئے وزنخداں پوشی نہ کہ درسا یہ اوبچہ دہد خر گوشی
(تجھے ایسی داڑھی چاہئے کہ جس کے چند بال ہوں جو ٹھوڑی چھپادیں۔نہ کہ ایسی کہ جس کے سائے میں خرگوش بچہ دے۔ت)
قول عرب ہے:
من طال لحیتہ فقد نقص عقلہ۔ جس کی داڑھی طویل(لمبی)ہو اس کی عقل کم ہوتی ہے۔(ت)
بغرض محال تسلیم بھی کرلیں کہ داڑھی بڑھانا فرض یا منڈوانا حرام ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے:
"و اذا حللتم فاصطادوا " (یعنی احرام سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرو۔شکار کرنا صیغہ امر میں فرمایا گیا جو علامت فرضیت ہے لیکن آج تك اس پر عمل درآمد نہ ہواسبب اس کا یہ ہے کہ یہ حکم طبائع پر موقوف رکھا گیا کہ جی چاہے تو شکارکرو ۔
حاصل یہ کہ شریعت کے بعض احکام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نہ کرنا موجب عتاب شرعی نہیں۔فرضیت یا حرمت قرآن ہی سے ثابت ہوسکتی ہے یا حدیث متواتر یا مشہور ہوحرام فرض کے مقابلہ میں آتاہے۔تو جب داڑھی منڈانا حرام ہوا تو رکھنا فرض ہوا مگر فرض کسی نے نہ لکھا
زقرآن سخن گفتہ ام وزحدیث سر از من نہ پیچد جزاب لہ خبیث
سخن راست گر تو بگوئی ہمے بدست حقائق بپوئی ہمے
پس اعفائے لحیہ چر اگوئی فرض تنت راخباثت مگر گشت مرض
داڑھی بڑھانا مستحب البتہ ہے یا بہت ہوگا تو سنت۔لیکن یہ بھی حداعتدال تك
ریش بایدت دوسہ موئے وزنخداں پوشی نہ کہ درسا یہ اوبچہ دہد خر گوشی
(تجھے ایسی داڑھی چاہئے کہ جس کے چند بال ہوں جو ٹھوڑی چھپادیں۔نہ کہ ایسی کہ جس کے سائے میں خرگوش بچہ دے۔ت)
قول عرب ہے:
من طال لحیتہ فقد نقص عقلہ۔ جس کی داڑھی طویل(لمبی)ہو اس کی عقل کم ہوتی ہے۔(ت)
بغرض محال تسلیم بھی کرلیں کہ داڑھی بڑھانا فرض یا منڈوانا حرام ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ اﷲ تعالی فرماتاہے:
"و اذا حللتم فاصطادوا " (یعنی احرام سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرو۔شکار کرنا صیغہ امر میں فرمایا گیا جو علامت فرضیت ہے لیکن آج تك اس پر عمل درآمد نہ ہواسبب اس کا یہ ہے کہ یہ حکم طبائع پر موقوف رکھا گیا کہ جی چاہے تو شکارکرو ۔
حاصل یہ کہ شریعت کے بعض احکام ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نہ کرنا موجب عتاب شرعی نہیں۔فرضیت یا حرمت قرآن ہی سے ثابت ہوسکتی ہے یا حدیث متواتر یا مشہور ہوحرام فرض کے مقابلہ میں آتاہے۔تو جب داڑھی منڈانا حرام ہوا تو رکھنا فرض ہوا مگر فرض کسی نے نہ لکھا
زقرآن سخن گفتہ ام وزحدیث سر از من نہ پیچد جزاب لہ خبیث
سخن راست گر تو بگوئی ہمے بدست حقائق بپوئی ہمے
پس اعفائے لحیہ چر اگوئی فرض تنت راخباثت مگر گشت مرض
گرایدوں کہ قرآں ہمی کامل ست پس اعفائے لحیہ چرا مضمر ست
(قرآن وحدیث کے حوالے سے بات کررہاہوں لہذا میری بات سے بیوقوف خبیث کے علاوہ کوئی برانہ منائیگا اگر تو سچی بات کہتا رہے گا تو حقائق کے ہاتھوں میں دوڑتارہے گا ____ پھر تو داڑھی بڑھانے کو کیوں فرض کہتاہے شاید تیرے جسم میں خباثت کا مرض پیدا ہوگیا ہے۔اے بے ہمت اگر قرآن مجید کامل ہے تو پھر اس میں داڑھی کا ذکر کیوں پوشیدہ ہے۔ت)انتہی۔یہ قول ولید کا کیسا اور داڑھی منڈوانے کاحکم کیا
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمدﷲ الذی ھدنا للاسلام ووفقنا لاقتفاء اثار انبیائہ الکرام و اجتناب اقذار الکفرۃ الانجاس الارجاس اللیام و افضل الصلوۃ والسلام علی سیدالھادین الی سبیل السلام*الذی اوتی القران ومثلہ معہ فی احکام الاحکام وان رغم انف الملحدین فی الدین الماردین الطغام وعلی الہ واصحابہ المتأدبین بادابہ الذین اداروا بالقتل والاسرر الھدم الرحی علی الجمع المقبوح المنبوح المحلوق اللحی من علوج الاردام ومجوس الاعجام فصلی اﷲ تعالی علی الحبیب والہ مظاھر جمالہ وعلینا معھم الی یوم القیمۃ o اﷲ تعالی کے نام سے ابتداء کررہاہوں جو بڑا رحم کرنے والا۔ مہربان ہے۔تمام تعریفیں اس اﷲ تعالی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت بخشی اور ہمیں انبیاء کرام کے آثار پر چلنے کی توفیق دی اور کمینے کافروں کی ظاہری باطنی گندگیوں (آلودگیوں)سے بچایا۔اعلی وافضل درود وسلام اس آقا کے لئے جو لوگوں کوسلامتی کی راہوں سے روشناس کرانے والے ہیں وہ جنھیں قرآن مجید اور اس کے ساتھ اس جیسا اور کلام احکام کی مضبوطی کے لئے عطا کیا گیا ہے اگرچہ امور دین میں کمینے(بے وقوف)بے دین سرکشوں کی ناك خاك آلود ہو اوردرود وسلام ہو آپ کی آل اورآپ کے اصحاب پر۔جو ان کے آداب سے ادب پانے والے ہیں۔وہ جنھوں نے قتل قید اور شکست کی ایسی چکی چلائی جو قوی کافروں اور عجم کے رہنے والے مجوسیوں کے ایسے گروہ پر جو بگڑے ہوئے بھونکے ہوئےاور داڑھیاں منڈوائے ہوئے تھے۔پس قیامت تك حبیب خدا ان کی آل اور ان کی معیت ہم سب پر اﷲ تعالی کی(بے مثال)رحمت ہو۔(ت)
(قرآن وحدیث کے حوالے سے بات کررہاہوں لہذا میری بات سے بیوقوف خبیث کے علاوہ کوئی برانہ منائیگا اگر تو سچی بات کہتا رہے گا تو حقائق کے ہاتھوں میں دوڑتارہے گا ____ پھر تو داڑھی بڑھانے کو کیوں فرض کہتاہے شاید تیرے جسم میں خباثت کا مرض پیدا ہوگیا ہے۔اے بے ہمت اگر قرآن مجید کامل ہے تو پھر اس میں داڑھی کا ذکر کیوں پوشیدہ ہے۔ت)انتہی۔یہ قول ولید کا کیسا اور داڑھی منڈوانے کاحکم کیا
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمدﷲ الذی ھدنا للاسلام ووفقنا لاقتفاء اثار انبیائہ الکرام و اجتناب اقذار الکفرۃ الانجاس الارجاس اللیام و افضل الصلوۃ والسلام علی سیدالھادین الی سبیل السلام*الذی اوتی القران ومثلہ معہ فی احکام الاحکام وان رغم انف الملحدین فی الدین الماردین الطغام وعلی الہ واصحابہ المتأدبین بادابہ الذین اداروا بالقتل والاسرر الھدم الرحی علی الجمع المقبوح المنبوح المحلوق اللحی من علوج الاردام ومجوس الاعجام فصلی اﷲ تعالی علی الحبیب والہ مظاھر جمالہ وعلینا معھم الی یوم القیمۃ o اﷲ تعالی کے نام سے ابتداء کررہاہوں جو بڑا رحم کرنے والا۔ مہربان ہے۔تمام تعریفیں اس اﷲ تعالی کے لئے ہیں جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت بخشی اور ہمیں انبیاء کرام کے آثار پر چلنے کی توفیق دی اور کمینے کافروں کی ظاہری باطنی گندگیوں (آلودگیوں)سے بچایا۔اعلی وافضل درود وسلام اس آقا کے لئے جو لوگوں کوسلامتی کی راہوں سے روشناس کرانے والے ہیں وہ جنھیں قرآن مجید اور اس کے ساتھ اس جیسا اور کلام احکام کی مضبوطی کے لئے عطا کیا گیا ہے اگرچہ امور دین میں کمینے(بے وقوف)بے دین سرکشوں کی ناك خاك آلود ہو اوردرود وسلام ہو آپ کی آل اورآپ کے اصحاب پر۔جو ان کے آداب سے ادب پانے والے ہیں۔وہ جنھوں نے قتل قید اور شکست کی ایسی چکی چلائی جو قوی کافروں اور عجم کے رہنے والے مجوسیوں کے ایسے گروہ پر جو بگڑے ہوئے بھونکے ہوئےاور داڑھیاں منڈوائے ہوئے تھے۔پس قیامت تك حبیب خدا ان کی آل اور ان کی معیت ہم سب پر اﷲ تعالی کی(بے مثال)رحمت ہو۔(ت)
رب انی اعوذبك من ھمزات الشیطین و اعوذبك رب ان یحضرونقال ربنا تبارك و تعالی:
"و اعرض عن الجہلین ﴿۱۹۹﴾ " اے میرے پروردگار! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوںاے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں ہمارے پروردگار نے ارشاد فرمایا جو پاك اور برترہے جاہلوں سے منہ پھیرلے۔
ولید پلید جس کی علمی لیاقت پرماشاء اﷲ خود اسی تحریر کا ایك ایك فقرہ گواہ:
(۱)خاك برسر مضامین الفاط تك ٹھیك نہیں نثرنثرہ نثار نظم نظم پردیں۔
(۲)عبارت ماثبت ترکہ ترجمہ جس کی حرمت۔
(۳)اصل عبارت خود مضر مقصود کہ ترك حلق یقینا قطعا متواتر بلکہ ضروریات دین سے ہے۔
(۴)ترجمہ دیکھئے تو دور موجود کہ حرام کی حدمیں حرمت ماخوذ۔
(۵)سنن ابی داؤد شریف سے نقل عجب مضحکہ خیز جہل وسفاہت ازروئے چالاکی کچھ براہ جہالت اصل حدیث حسن متصل مسند کہ نہ صرف سنن ابی داؤد بلکہ صحیح مسلم وسنن نسائی وجامع ترمذی وسنن ابن ماجہ ومسند احمدوغیرہا اجلہ کتب مشہورہ میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے مروی کہ خود حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم فرماتے ہیں:دس چیزیں اصل فطرت و شرائع قدیمہ مستمرہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والتحیۃ سے ہیں از انجملہ لبیں کتروانی داڑھی بڑھانی یہ حدیث جلیل جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں تخریج فرمایاامام ابوداؤد نے سکوت کیاامام ترمذی نے ھذا حدیث حسن (یہ حدیث حسن ہے۔ت)کہااس کی وقعت چھپانے کو سند تو سند یہ بھی نقل نہ کیا کہ کس کی روایت ہے۔(ام المومنین) کس کا ارشاد ہے(حضور افضل المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وعلیہا وسلم)دوسری حدیث کہ خود نفس اسناد میں امام ابوداؤد نے اس کی سند میں ارسال یا انقطاع
"و اعرض عن الجہلین ﴿۱۹۹﴾ " اے میرے پروردگار! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوںاے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں ہمارے پروردگار نے ارشاد فرمایا جو پاك اور برترہے جاہلوں سے منہ پھیرلے۔
ولید پلید جس کی علمی لیاقت پرماشاء اﷲ خود اسی تحریر کا ایك ایك فقرہ گواہ:
(۱)خاك برسر مضامین الفاط تك ٹھیك نہیں نثرنثرہ نثار نظم نظم پردیں۔
(۲)عبارت ماثبت ترکہ ترجمہ جس کی حرمت۔
(۳)اصل عبارت خود مضر مقصود کہ ترك حلق یقینا قطعا متواتر بلکہ ضروریات دین سے ہے۔
(۴)ترجمہ دیکھئے تو دور موجود کہ حرام کی حدمیں حرمت ماخوذ۔
(۵)سنن ابی داؤد شریف سے نقل عجب مضحکہ خیز جہل وسفاہت ازروئے چالاکی کچھ براہ جہالت اصل حدیث حسن متصل مسند کہ نہ صرف سنن ابی داؤد بلکہ صحیح مسلم وسنن نسائی وجامع ترمذی وسنن ابن ماجہ ومسند احمدوغیرہا اجلہ کتب مشہورہ میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے مروی کہ خود حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم فرماتے ہیں:دس چیزیں اصل فطرت و شرائع قدیمہ مستمرہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والتحیۃ سے ہیں از انجملہ لبیں کتروانی داڑھی بڑھانی یہ حدیث جلیل جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں تخریج فرمایاامام ابوداؤد نے سکوت کیاامام ترمذی نے ھذا حدیث حسن (یہ حدیث حسن ہے۔ت)کہااس کی وقعت چھپانے کو سند تو سند یہ بھی نقل نہ کیا کہ کس کی روایت ہے۔(ام المومنین) کس کا ارشاد ہے(حضور افضل المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیہم وعلیہا وسلم)دوسری حدیث کہ خود نفس اسناد میں امام ابوداؤد نے اس کی سند میں ارسال یا انقطاع
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۹۹
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،سنن ابی داؤد باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم
پریس لاہور ۱/ ۸،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار امین کمپنی کراچی ۲/ ۱۰۰
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،سنن ابی داؤد باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم
پریس لاہور ۱/ ۸،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار امین کمپنی کراچی ۲/ ۱۰۰
کاپتا بتاد یا تھا تابعی تك رکھتے ہیں تو مرسل ہوتی ہے۔صحابی تك پہنچاتے ہیں تو منقطع ہوئی جاتی ہے۔ناقل عاقل ابتداء سے اس کی سند نقل کرلایا۔جب اس پر آیا صاف قطع کرکے الی اخرہ پر دہ چھپایا حالانکہ اہل علم کے نزدیك اسی قدر نقل اس کا حال جاننے کو بس تھی ارسال وانقطاع سے قطع نظر کیجئے خود سند مین سلمہ بن محمد مجہول اور علی بن جدعان شیعی ضعیف واقع اصل عبارت سنن ابی داؤد یوں ہے:
حدثنا موسی بن اسمعیل وداؤد بن شبیب قالا حدثنا حماد عن علی بن زید عــــــــہ ۱ ۔عن سلمۃ عــــــــہ ۲ عن محمد بن عمار بن یاسر قال موسی عن ابیہ عــــــــہ۳ وقال داؤد عن عمار عــــــــہ ۴ بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان من الفطرۃ المضمضہ والا ستنشاق فذکر نحوہ ولم یذکر اعفاء اللحیۃ زادوا الختان الخ۔ موسی بن اسمعیل اور داؤد بن شبیب نے ہم سے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیااس نے علی بن زید اس نے سلمہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے روایت کیموسی نے کہا(عن ابیہ)یعنی اس نے اپنے باپ سے اسے روایت کیا۔داؤد نے کہا عن عمار بن یاسر یعنی اس نے عمار بن یاسر سے روایت کی(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:امور فطرت میں سے ہیں:کلی کرنا۔ناك میں پانی ڈالناپھر اس طرح حدیث بیان کی اور داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا اور ختنہ کرنے کااضافہ فرمایاالخ(ت)
(۶)پھر اس حدیث کو اس کے مخالف سمجھنا کیسی جہالت بے مزہ اس میں تو خود من تبعیضیہ موجود ہے کہ فرمایا خصال فطرت سے بعض چیزیں یہ ہیں خود معلوم ہواکہ بعض اور بھی ہیں۔تو داڑھی بڑھانے
عــــــہ۱: ضعیف من الرابعۃ ۱۲ (تقریب التہذیب ترجمہ ۴۷۵۰ علی بن زید بیروت ۱/ ۶۹۴)
عــــــہ۲: مجھول من الخامسۃ ۱۲ (تقریب التہذیب ترجمہ ۲۵۱۷ سلمہ بن محمد بیروت ۱/ ۳۷۹)
عــــــہ۳: مقبول من الثالثۃ ۱۲(تقریب التہذیب ترجمہ ۷۰۴۱ موسی بن ابی موسی بیروت ۲/ ۲۲۹)
عــــــہ۴: روایتہ عن جدہ مرسلہ ۱۲ میزان۔
حدثنا موسی بن اسمعیل وداؤد بن شبیب قالا حدثنا حماد عن علی بن زید عــــــــہ ۱ ۔عن سلمۃ عــــــــہ ۲ عن محمد بن عمار بن یاسر قال موسی عن ابیہ عــــــــہ۳ وقال داؤد عن عمار عــــــــہ ۴ بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ان من الفطرۃ المضمضہ والا ستنشاق فذکر نحوہ ولم یذکر اعفاء اللحیۃ زادوا الختان الخ۔ موسی بن اسمعیل اور داؤد بن شبیب نے ہم سے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیااس نے علی بن زید اس نے سلمہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے روایت کیموسی نے کہا(عن ابیہ)یعنی اس نے اپنے باپ سے اسے روایت کیا۔داؤد نے کہا عن عمار بن یاسر یعنی اس نے عمار بن یاسر سے روایت کی(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:امور فطرت میں سے ہیں:کلی کرنا۔ناك میں پانی ڈالناپھر اس طرح حدیث بیان کی اور داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا اور ختنہ کرنے کااضافہ فرمایاالخ(ت)
(۶)پھر اس حدیث کو اس کے مخالف سمجھنا کیسی جہالت بے مزہ اس میں تو خود من تبعیضیہ موجود ہے کہ فرمایا خصال فطرت سے بعض چیزیں یہ ہیں خود معلوم ہواکہ بعض اور بھی ہیں۔تو داڑھی بڑھانے
عــــــہ۱: ضعیف من الرابعۃ ۱۲ (تقریب التہذیب ترجمہ ۴۷۵۰ علی بن زید بیروت ۱/ ۶۹۴)
عــــــہ۲: مجھول من الخامسۃ ۱۲ (تقریب التہذیب ترجمہ ۲۵۱۷ سلمہ بن محمد بیروت ۱/ ۳۷۹)
عــــــہ۳: مقبول من الثالثۃ ۱۲(تقریب التہذیب ترجمہ ۷۰۴۱ موسی بن ابی موسی بیروت ۲/ ۲۲۹)
عــــــہ۴: روایتہ عن جدہ مرسلہ ۱۲ میزان۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸
کا اس میں ذکر نہ آنا حدیث ام المومنین کا کب مخالف ہوسکتا ہے اور یہ تو جاہلوں سے کیا کہا جائے اہل علم جانتے ہیں کہ ایسی جگہ عدد میں بھی حصر مقصود نہیں ہوتا بلکہ اعانت ضبط وحفظ کے لئے صرف مذکورات کا شمار کرناولہذا ہم اس حدیث دوم کی زیادات یعنی ختان وانتضاح کو بھی خصال فطرت سے مانتے ہیں اور حدیث اول کو بآنکہ اس میں عدد مذکور ہے اس کا نافی نہیں جانتے عشر من الفطرۃ(دس کام فطرت میں سے ہیں۔ت)نہیں الفطرۃ عشر(فطرتی کام دس ہیں۔ت)ہوتا جب بھی زیادہ کے منافی نہ تھا ولہذا ابوبکر ابن نے شرح ترمذی میں العربی خصال فطرت کا عدد تیس تك پہنچایا اتحاف السادۃ المتقین میں ہے:
مفہوم العدد لیس بحجۃ لانہ اقتصر فی حدیث ابی ھریرۃ علی خمس وفی حدیث ابن عمر علی ثلث وفی حدیث عائشۃ علی عشر مع ورود غیر ھا وقد تقدم انھا الثلثۃ عشر واوصلھا ابوبکر بن العربی الی ثلثین عدد کا مفہوم حجت نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں صرف پانچ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ حضرت عبداﷲ بن عمر کی حدیث میں تین پر اور ام المومنین سیدہ عائشہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)کی حدیث میں دس کا ذکر ہے حالانکہ ان کے علاوہ بھی امور وارد ہوئے ہیں(لہذا اگر مفہوم عدد حجت ہوتا تو ایسانہ ہوتا۔مترجم)اور اس سے قبل ذکر ہوا کہ امور فطرت تیرہ ہیں۔علامہ ابوبکر ابن عربی نے انھیں تیس تك پہنچایا ہے۔(ت)
فتاوی فقیر کے مجلد رابع میں مسئلہ بوجوہ افضیلت حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور تفصیل بازغ دیکھنی ہو تو فقیر کا رسالہ البحث الفاحص عن طرق احادیث الخصائص ملاحطہ کیجئے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھی فرمایا:
فضلت علی الانبیاء بستمسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں چھ باتوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا۔(مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
کہیں فرمایا:
اعطیت خمسا لم یعطھن احد من قبلی۔ مجھے پانچ چیزیں وہ عطاہوئیں کہ مجھ سے پہلے کسی کو
مفہوم العدد لیس بحجۃ لانہ اقتصر فی حدیث ابی ھریرۃ علی خمس وفی حدیث ابن عمر علی ثلث وفی حدیث عائشۃ علی عشر مع ورود غیر ھا وقد تقدم انھا الثلثۃ عشر واوصلھا ابوبکر بن العربی الی ثلثین عدد کا مفہوم حجت نہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں صرف پانچ کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ حضرت عبداﷲ بن عمر کی حدیث میں تین پر اور ام المومنین سیدہ عائشہ(رضی اﷲ تعالی عنہا)کی حدیث میں دس کا ذکر ہے حالانکہ ان کے علاوہ بھی امور وارد ہوئے ہیں(لہذا اگر مفہوم عدد حجت ہوتا تو ایسانہ ہوتا۔مترجم)اور اس سے قبل ذکر ہوا کہ امور فطرت تیرہ ہیں۔علامہ ابوبکر ابن عربی نے انھیں تیس تك پہنچایا ہے۔(ت)
فتاوی فقیر کے مجلد رابع میں مسئلہ بوجوہ افضیلت حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور تفصیل بازغ دیکھنی ہو تو فقیر کا رسالہ البحث الفاحص عن طرق احادیث الخصائص ملاحطہ کیجئے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھی فرمایا:
فضلت علی الانبیاء بستمسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں چھ باتوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا۔(مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
کہیں فرمایا:
اعطیت خمسا لم یعطھن احد من قبلی۔ مجھے پانچ چیزیں وہ عطاہوئیں کہ مجھ سے پہلے کسی کو
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الطہارۃ فصل فی اللحیۃ عشرالی آخرہٖ دارالفکر بیروت ۲/ ۴۲۹
صحیح مسلم کتاب المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۹
صحیح مسلم کتاب المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۹
الشیخان عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ نہ ملیں(امام بخاری ومسلم نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ایك حدیث میں ہے:
فضلت علی الانبیاء بخصلتین۔البزار عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں انبیاء پردوباتوں میں فضیلت دیا گیا۔(بزار نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویت کیا۔ت)
دوسری میں ہے:
ان جبرئیل بشرنی بعشر لم یؤتھن نبی قبلی ا بن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جبریل نے مجھے دس چیزوں کی بشارت دی کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں۔(ابن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم نے عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
طرفہ یہ کہ ان سب احادیث نہ صرف عدد کہ معدود بھی مختلف ہیں کسی میں کچھ فضائل شمار کے گئے کسی میں کچھ کیا یہ حدیثیں معاذا ﷲ باہم متعارض سمجھی جائیں گی یا دو یا دس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی فضیلتیں منحصرحاش ﷲ ان کے فضائل نامقصور اور خصائص نامحصوربلکہ حقیقۃ ہر کمال ہر فضل ہر خوبی میں عموما اطلاقا انھیں تمام انبیاء مرسلین وخلق اﷲ اجمعین پر تفضیل تام وعام مطلق ہے کہ جو کسی کو ملا وہ سب انھیں سے ملا اور جو انھیں ملا وہ کسی کو نہ ملا ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہا داری
(یارسول اللہ! جو جوخوبیاں تمام انبیاء کو دی گئیں وہ تمام تنہاآپ کو دے دی گئیں۔ت)
بلکہ انصافا جو کسی کو ملا آخر کس سے ملاکس کے ہاتھ سے ملاکس کے طفیل سے ملاکس کے پرتوسے ملاسی اصل ہر فضل ومنبع ہر جو دوسرا ایجادو تخم وجود سے۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ایك حدیث میں ہے:
فضلت علی الانبیاء بخصلتین۔البزار عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں انبیاء پردوباتوں میں فضیلت دیا گیا۔(بزار نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویت کیا۔ت)
دوسری میں ہے:
ان جبرئیل بشرنی بعشر لم یؤتھن نبی قبلی ا بن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جبریل نے مجھے دس چیزوں کی بشارت دی کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں۔(ابن ابی حاتم وعثمان الدارمی وابونعیم نے عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
طرفہ یہ کہ ان سب احادیث نہ صرف عدد کہ معدود بھی مختلف ہیں کسی میں کچھ فضائل شمار کے گئے کسی میں کچھ کیا یہ حدیثیں معاذا ﷲ باہم متعارض سمجھی جائیں گی یا دو یا دس میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی فضیلتیں منحصرحاش ﷲ ان کے فضائل نامقصور اور خصائص نامحصوربلکہ حقیقۃ ہر کمال ہر فضل ہر خوبی میں عموما اطلاقا انھیں تمام انبیاء مرسلین وخلق اﷲ اجمعین پر تفضیل تام وعام مطلق ہے کہ جو کسی کو ملا وہ سب انھیں سے ملا اور جو انھیں ملا وہ کسی کو نہ ملا ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہا داری
(یارسول اللہ! جو جوخوبیاں تمام انبیاء کو دی گئیں وہ تمام تنہاآپ کو دے دی گئیں۔ت)
بلکہ انصافا جو کسی کو ملا آخر کس سے ملاکس کے ہاتھ سے ملاکس کے طفیل سے ملاکس کے پرتوسے ملاسی اصل ہر فضل ومنبع ہر جو دوسرا ایجادو تخم وجود سے۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References
حیح البخاری کتاب التمیم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸، صحیح مسلم کتاب المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۹
مجمع الزوائد بحوالہ البزار کتاب النبوۃ باب عصمۃ من القرین دارالکتاب بیروت ۸/ ۲۲۵
مجمع الزوائد بحوالہ البزار کتاب النبوۃ باب عصمۃ من القرین دارالکتاب بیروت ۸/ ۲۲۵
ع فانما اتصلت من نورہ بھم
(اس کے نور سے ہی یہ سب کچھ ان تك پہنچا ہے۔ت)
انما مثلوا صفا تك للناس کما مثل النجوم الماء
(تمھاری صفات لوگوں کے لئے منعکس ہوگئیں جیسے ستارے پانی میں منعکس ہوجاتے ہیں۔ت)[ یعنی اصل صفات تو آپ کو بفضلہ تعالی عطا ہوئیں البتہ دیگر اہل فضل وکمال میں آپ کی صفات کا پرتو اورعکس ہے جیسا کہ پانی میں اس کے صاف وشفاف ہونے کی وجہ سے ستاروں کا عکس دکھائی دیتاہے۔مترجم]
یہ تقریر فقیر نے اس لئے ذکر کی یہ حدیث خمس من الفطرۃ(پانچ کام فطرت سے ہیں۔ت)یا الفطرۃ خمس(فطرتی کام پانچ ہیں۔ت)یا قول ابن عباس خمس کلھا فی الرأس(پانچ کام سب سر کے متعلق ہیں۔ت)دیکھ کر سفہا کو سودا نہ اچھلے۔
(۷)کمال سفاہت یہ کہ ایك سند کے سب راویوں کو جدا جدا شمار کرکے حکم لگادیا ان نودس رواۃ نے یوں روایت کی حالانکہ سلسلہ سند میں اگر یکے از دیگرے ہزار تك عدد رواۃ پہنچے تو وہ ایك ہی راوی کی روایت ہے اس میں تعدد نہیں ہوسکتا جب تك مرتبہ واحدہ میں متعدد رواۃ نہ ہوں ورنہ سند عالی سے نازل اشرف ہو خصوصا ان کے نزدیك جو کثرت رواۃ سے ترجیح مانتے ہیں حالانکہ یہ بالبداہۃ باطلوہ تو خیر گزری کہ یہ شخص خود سلمہ تك کوئی سند متصل نہ رکھتا تھا ورنہ آپ سمیت کوئی تیس چالیس گن دیتا کہ اتنے راویوں نے اعفاء ذکر نہ کیا۔
(۸)کچھ پڑھا لکھا ہوتا تو اپنی ہی نقل کردہ عبارت دیکھتا کہ ابوداؤد نے لم یذکر اعفاء اللحیۃ(اس نے داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا۔ت)بصیغہ واحد فرمایا ہے کہ اس راوی نے اعفاء لحیہ کاذکر نہ کیا یا لم یذکروا بصیغہ جمع ظاہرااپنی نقل میں جو لم یذکر وا اعتقاء اللحیۃ واقع ہوا اور واؤ طفہ کو واو جمع سمجھا اور سابق ولاحق کے تمام صیغ مفردہ ذکر زاد قال لم یذکر سے آنکھیں بند کرکے صاف"لم یذکروا"بنالیا کہ تمام رجال سند کو شامل ہو۔
(۹)لطیف تر یہ کہ ان سب رواۃ نے یہ روایت کی کہ آنحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس حدیث میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا بے علم بے چارہ"قولھم"کے معنی بھی نہیں جانتا اور ناحق وناروا آثار موقوفہ ومقطوعہ کہ قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ٹھہرائے دیتا ہے۔ابن عباس صحابی ہیں اور مجاہد وبکر وطلق تابعین یہ آثار خود انھیں حضرات کے اپنے قول ہیں نہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
(اس کے نور سے ہی یہ سب کچھ ان تك پہنچا ہے۔ت)
انما مثلوا صفا تك للناس کما مثل النجوم الماء
(تمھاری صفات لوگوں کے لئے منعکس ہوگئیں جیسے ستارے پانی میں منعکس ہوجاتے ہیں۔ت)[ یعنی اصل صفات تو آپ کو بفضلہ تعالی عطا ہوئیں البتہ دیگر اہل فضل وکمال میں آپ کی صفات کا پرتو اورعکس ہے جیسا کہ پانی میں اس کے صاف وشفاف ہونے کی وجہ سے ستاروں کا عکس دکھائی دیتاہے۔مترجم]
یہ تقریر فقیر نے اس لئے ذکر کی یہ حدیث خمس من الفطرۃ(پانچ کام فطرت سے ہیں۔ت)یا الفطرۃ خمس(فطرتی کام پانچ ہیں۔ت)یا قول ابن عباس خمس کلھا فی الرأس(پانچ کام سب سر کے متعلق ہیں۔ت)دیکھ کر سفہا کو سودا نہ اچھلے۔
(۷)کمال سفاہت یہ کہ ایك سند کے سب راویوں کو جدا جدا شمار کرکے حکم لگادیا ان نودس رواۃ نے یوں روایت کی حالانکہ سلسلہ سند میں اگر یکے از دیگرے ہزار تك عدد رواۃ پہنچے تو وہ ایك ہی راوی کی روایت ہے اس میں تعدد نہیں ہوسکتا جب تك مرتبہ واحدہ میں متعدد رواۃ نہ ہوں ورنہ سند عالی سے نازل اشرف ہو خصوصا ان کے نزدیك جو کثرت رواۃ سے ترجیح مانتے ہیں حالانکہ یہ بالبداہۃ باطلوہ تو خیر گزری کہ یہ شخص خود سلمہ تك کوئی سند متصل نہ رکھتا تھا ورنہ آپ سمیت کوئی تیس چالیس گن دیتا کہ اتنے راویوں نے اعفاء ذکر نہ کیا۔
(۸)کچھ پڑھا لکھا ہوتا تو اپنی ہی نقل کردہ عبارت دیکھتا کہ ابوداؤد نے لم یذکر اعفاء اللحیۃ(اس نے داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا۔ت)بصیغہ واحد فرمایا ہے کہ اس راوی نے اعفاء لحیہ کاذکر نہ کیا یا لم یذکروا بصیغہ جمع ظاہرااپنی نقل میں جو لم یذکر وا اعتقاء اللحیۃ واقع ہوا اور واؤ طفہ کو واو جمع سمجھا اور سابق ولاحق کے تمام صیغ مفردہ ذکر زاد قال لم یذکر سے آنکھیں بند کرکے صاف"لم یذکروا"بنالیا کہ تمام رجال سند کو شامل ہو۔
(۹)لطیف تر یہ کہ ان سب رواۃ نے یہ روایت کی کہ آنحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس حدیث میں داڑھی بڑھانے کا ذکر نہ کیا بے علم بے چارہ"قولھم"کے معنی بھی نہیں جانتا اور ناحق وناروا آثار موقوفہ ومقطوعہ کہ قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ٹھہرائے دیتا ہے۔ابن عباس صحابی ہیں اور مجاہد وبکر وطلق تابعین یہ آثار خود انھیں حضرات کے اپنے قول ہیں نہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ
وسلم وسلم کے ارشاد۔
تنبیہ: طلق سے ان کا قول بھی دونوں طرح مروی۔نسائی نے بسند صحیح ان سے دس کامل روایت کیں جن میں توفیر اللحیہ موجود۔
(۱۰)لطف برلطف یہ کہ ان سب نے اس کی جگہ مانگ روایت کی۔اﷲ اﷲ اتنا بے ادراك اور ایسا بیبیاکذرا کسی ذی علم سے عبارت ابی داؤد کا ترجمہ کراکر دیکھئے کہ وہ مانگ کا ذکرصرف اثرابن عباس میں بتاتے ہیں یا ان سب کی روایت یہی ٹھہراتے ہیں۔بے علم کے نزدیك گویا عدم ذکر اعفاء لحیہ کے معنی ہی یہ ٹھہرے ہیں کہ اس کی جگہ مانگ کا ذکر کیا۔
(۱۱)جب جہالت کی یہ حالت تو اس کی کیا شکایت کہ اپنے اس زعم باطل میں فرق واعفاء کا ذکر وشمار میں تبادل سمجھ کر دونوں کا حکم یکساں ٹھہرادیا۔ایسا ہوتا بھی تو اس کاحاصل صرف اتنا نکلتا کہ جس بات کا یہاں تذکرہ ہے یعنی خصال فطرت سے ہونااس میں دونوں شریك ہیں نہ یہ کہ سب احکام میں یکساں ہیں۔ عمدۃ القاری وفتح الباری وارشاد الساری شروح صحیح بخاری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
واللفظ للخطیب ھذا الخصال منھا ماھو واجب کالختان وما ھومندوب ولا مانع من اقتران الواجب بغیرہ کما قال تعالی
کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتواحقہ یوم حصادہ فایتاء الحق واجب والاکل مباح الفاظ خطیب بغدادی کے ہیں ان خصائل میں سے بعض واجب ہیں جیسے ختنہاور بعض مستحب ہیںاور کسی واجب کو دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور ملانے میں کوئی مانع نہیں جیسا کہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کھاؤ ان کا پھل جب وہ پھل لائیں اور کٹائی کے دن ان کا حق ادا کرو(یہاں آیت میں)حق ادا کرنا واجب ہے جبکہ کھانا مباح ہے(یہاں واجبغیر واجب دونوں کا یکجا ذکر ہوا)۔(ت)
(۱۲)پھر چالاکی یہ کہ اس کے متصل جوا مام ابوداؤد نے دوسری حدیث مرفوع حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او ر ایك اثر امام ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالی عنہ کا ذکر کیا کہ ان میں بھی داڑھی بڑھانے کو شمار فرمایا:ناقل عاقل اسے اڑا گیا۔عبارت سنن یہ ہے:
وفی حدیث محمد بن عبداﷲ بن ابی مریم عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ عن محمد بن عبداﷲ بن ابن مریم کی حدیث میں بواسطہ ابو سلمہ حضرت ابوہرہرہ سے روایت ہے کہ
تنبیہ: طلق سے ان کا قول بھی دونوں طرح مروی۔نسائی نے بسند صحیح ان سے دس کامل روایت کیں جن میں توفیر اللحیہ موجود۔
(۱۰)لطف برلطف یہ کہ ان سب نے اس کی جگہ مانگ روایت کی۔اﷲ اﷲ اتنا بے ادراك اور ایسا بیبیاکذرا کسی ذی علم سے عبارت ابی داؤد کا ترجمہ کراکر دیکھئے کہ وہ مانگ کا ذکرصرف اثرابن عباس میں بتاتے ہیں یا ان سب کی روایت یہی ٹھہراتے ہیں۔بے علم کے نزدیك گویا عدم ذکر اعفاء لحیہ کے معنی ہی یہ ٹھہرے ہیں کہ اس کی جگہ مانگ کا ذکر کیا۔
(۱۱)جب جہالت کی یہ حالت تو اس کی کیا شکایت کہ اپنے اس زعم باطل میں فرق واعفاء کا ذکر وشمار میں تبادل سمجھ کر دونوں کا حکم یکساں ٹھہرادیا۔ایسا ہوتا بھی تو اس کاحاصل صرف اتنا نکلتا کہ جس بات کا یہاں تذکرہ ہے یعنی خصال فطرت سے ہونااس میں دونوں شریك ہیں نہ یہ کہ سب احکام میں یکساں ہیں۔ عمدۃ القاری وفتح الباری وارشاد الساری شروح صحیح بخاری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
واللفظ للخطیب ھذا الخصال منھا ماھو واجب کالختان وما ھومندوب ولا مانع من اقتران الواجب بغیرہ کما قال تعالی
کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتواحقہ یوم حصادہ فایتاء الحق واجب والاکل مباح الفاظ خطیب بغدادی کے ہیں ان خصائل میں سے بعض واجب ہیں جیسے ختنہاور بعض مستحب ہیںاور کسی واجب کو دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور ملانے میں کوئی مانع نہیں جیسا کہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کھاؤ ان کا پھل جب وہ پھل لائیں اور کٹائی کے دن ان کا حق ادا کرو(یہاں آیت میں)حق ادا کرنا واجب ہے جبکہ کھانا مباح ہے(یہاں واجبغیر واجب دونوں کا یکجا ذکر ہوا)۔(ت)
(۱۲)پھر چالاکی یہ کہ اس کے متصل جوا مام ابوداؤد نے دوسری حدیث مرفوع حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او ر ایك اثر امام ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالی عنہ کا ذکر کیا کہ ان میں بھی داڑھی بڑھانے کو شمار فرمایا:ناقل عاقل اسے اڑا گیا۔عبارت سنن یہ ہے:
وفی حدیث محمد بن عبداﷲ بن ابی مریم عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ عن محمد بن عبداﷲ بن ابن مریم کی حدیث میں بواسطہ ابو سلمہ حضرت ابوہرہرہ سے روایت ہے کہ
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الزینۃ باب من السنن الفطرۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۷۴
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب دارالکتاب العربی بیروت ۸/ ۴۶۲
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب دارالکتاب العربی بیروت ۸/ ۴۶۲
النبی صلی تعالی علیہ وسلم واعفاء اللحیۃ عن ابراھیم النخعی نحوہ وذکر اعفا اللحیۃ والختان انھوں نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی اور داڑھی بڑھاناابراہیم نخعی سے اسی طرح کی روایت ہے انھوں نے داڑھی بڑھانا اور ختنہ کرنا دونوں کاذکر فرمایا۔ (ت)
(۱۳)کمال جہالت دیکھئے کہ اپنے مقام اجتہاد سے تنزل کرکے داڑھی بڑھانے کو فرض منڈانے کو حرام تسلیم کرتا اور اس تسلیم کی تقدیر پرامراباحت کے لئے ہونے سے جواب دیتا ہے بے عقل سے کون کہے کہ جب حرمت تسلیم پھراباحت کہاں۔
(۱۴۱۵۱۶)اﷲ عزوجل کے پاك مبارك رسولوں سے استہزاء انھیں بے اعتدالی کا مرتکب بتانا شرع مطہر کو بے اعتدالیوں کا پسند کرنے والا ٹھہراناموسی کلیم اﷲ وہارون نبی اﷲ علیہما الصلوۃ والسلام کی نسبت وہ ملعون الفاظ کہ دشمن نے بڑھی داڑھیالخ۔ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کی ریش مطہر بڑی ہونا قرآن عظیم سے ثابت جان کر پھروہ ناپاك ملعون شعر دو تین بال پر اعتدال بند اور شریعت وانبیاء کو بڑھانا پسندان باتوں کا جواب کفر ستان ہند میں کیا ہوسکتاہے۔مگر صبح قیامت قریب ہے۔
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"
قل اباللہ وایتہ ورسولہ""
والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾
" "
عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹ جایا کرتے تھے یا انھیں کس کروٹ پر پلٹنا ہوگا۔فرمادیجئے کیا اﷲ تعالی اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ ہنسی مزاح کرتے ہو اور جو لوگ اﷲ تعالی کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔(ت)
جب جہل و جہالت وشیوہ جاہلیت وبقیدی وجرأت کی یہ نوبت تو کلام وخطاب کا کیا محل اور حق کے حضور گردن جھکانے کی کیا امل مگرقرآن عظیم نے جہاں اعراض کاحکم بتایا "فاصدع بما تؤمر" (کھول کر بیان کردو جیسا کہ تم کوحکم دیا جاتا ہے۔ت) "لتبیننہ للناس" (لوگوں کے لئے واضح
(۱۳)کمال جہالت دیکھئے کہ اپنے مقام اجتہاد سے تنزل کرکے داڑھی بڑھانے کو فرض منڈانے کو حرام تسلیم کرتا اور اس تسلیم کی تقدیر پرامراباحت کے لئے ہونے سے جواب دیتا ہے بے عقل سے کون کہے کہ جب حرمت تسلیم پھراباحت کہاں۔
(۱۴۱۵۱۶)اﷲ عزوجل کے پاك مبارك رسولوں سے استہزاء انھیں بے اعتدالی کا مرتکب بتانا شرع مطہر کو بے اعتدالیوں کا پسند کرنے والا ٹھہراناموسی کلیم اﷲ وہارون نبی اﷲ علیہما الصلوۃ والسلام کی نسبت وہ ملعون الفاظ کہ دشمن نے بڑھی داڑھیالخ۔ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کی ریش مطہر بڑی ہونا قرآن عظیم سے ثابت جان کر پھروہ ناپاك ملعون شعر دو تین بال پر اعتدال بند اور شریعت وانبیاء کو بڑھانا پسندان باتوں کا جواب کفر ستان ہند میں کیا ہوسکتاہے۔مگر صبح قیامت قریب ہے۔
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"
قل اباللہ وایتہ ورسولہ""
والذین یؤذون رسول اللہ لہم عذاب الیم ﴿۶۱﴾
" "
عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹ جایا کرتے تھے یا انھیں کس کروٹ پر پلٹنا ہوگا۔فرمادیجئے کیا اﷲ تعالی اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ ہنسی مزاح کرتے ہو اور جو لوگ اﷲ تعالی کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔(ت)
جب جہل و جہالت وشیوہ جاہلیت وبقیدی وجرأت کی یہ نوبت تو کلام وخطاب کا کیا محل اور حق کے حضور گردن جھکانے کی کیا امل مگرقرآن عظیم نے جہاں اعراض کاحکم بتایا "فاصدع بما تؤمر" (کھول کر بیان کردو جیسا کہ تم کوحکم دیا جاتا ہے۔ت) "لتبیننہ للناس" (لوگوں کے لئے واضح
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۹ /۶۵
القرآن الکریم ۹ /۶۱
القرآن الکریم ۱۵ /۹۴
القرآن الکریم ۳ /۱۸۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
القرآن الکریم ۹ /۶۵
القرآن الکریم ۹ /۶۱
القرآن الکریم ۱۵ /۹۴
القرآن الکریم ۳ /۱۸۷
طور پر)بیان کردوت)بھی ارشاد فرمایالہذا ایضاح حق وازاحت باطل واستیصال شبہات و استحصال دلائل کے لئے یہ چند تنبیہیں مکتوب او رمسلمانوں کے حق میں حضرت حق سے حق پر استقامت مطلوبو ماتوفیقی الا باﷲ علیہ توکلت والیہ انیب(مجھے توفیق نہیں ہوسکتی سوائے اﷲ تعالی کے فضل وکرم کےاور میرا اسی پر بھروسا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔ت)
تنبیہ اول:مسلمانو ! تمھارے رسول کریم سید عالم عالم اعلم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو رب عزوجل نے علم اولین وآخرین عطا فرمایا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرقرآن عظیم اتارا "" ہر چیز کا روشن بیان "" ہر شیئ کی کا مل شرح"ما فرطنا فی الکتب من شیء " ہم نے کتاب میں کچھ اٹھانہ رکھا۔اس میں تمام احکام جزئیہ تفصیلیہ ہی نہیں بلکہ ازلا ابدا جمیع کوائن وحوادث بالاستیعاب موجود ہیں ۔امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے مروی کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب اﷲ فیہ نبأ ماقبلکم وخبر مابعد کم وحکم مابینکم رواہ الترمذی ۔ قرآن اس میں خبر ہے ہر اس چیز کی جو تم سے پہلے ہے اور ہر اس شے کی جو تمھارے بعد ہے اور حکم ہے ہر اس امر کا جو تمھارے درمیان ہے۔(اسے ترمذی نے روایت کیا۔ت)
عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
لوضاع لی عقال بعیر لوجدتہ فی کتاب اﷲ ذکرہ ابن ابی الفضل المرسی اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے تو قرآن عظیم میں اسے پالوں(ابن ابی الفضل مرسی نے
عــــــہ:ذکرالامام السیوطی ھذہ الایۃ فی النوع الخامس والستین من کتابہ الاتقان مفید ان المراد بالکتاب القران ۱۲۔ امام سیوطی نے اپنی مشہور تفسیر الاتقان فی علوم القران کی پینسٹھویں نوع میں اس آیت کریمہ کاذکر فرمایا ہے اور یہ فائدہ بیان فرمایا کہ (یہاں)آیت میں کتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔۱۲(ت)
تنبیہ اول:مسلمانو ! تمھارے رسول کریم سید عالم عالم اعلم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو رب عزوجل نے علم اولین وآخرین عطا فرمایا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرقرآن عظیم اتارا "" ہر چیز کا روشن بیان "" ہر شیئ کی کا مل شرح"ما فرطنا فی الکتب من شیء " ہم نے کتاب میں کچھ اٹھانہ رکھا۔اس میں تمام احکام جزئیہ تفصیلیہ ہی نہیں بلکہ ازلا ابدا جمیع کوائن وحوادث بالاستیعاب موجود ہیں ۔امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے مروی کہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب اﷲ فیہ نبأ ماقبلکم وخبر مابعد کم وحکم مابینکم رواہ الترمذی ۔ قرآن اس میں خبر ہے ہر اس چیز کی جو تم سے پہلے ہے اور ہر اس شے کی جو تمھارے بعد ہے اور حکم ہے ہر اس امر کا جو تمھارے درمیان ہے۔(اسے ترمذی نے روایت کیا۔ت)
عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
لوضاع لی عقال بعیر لوجدتہ فی کتاب اﷲ ذکرہ ابن ابی الفضل المرسی اگر میرے اونٹ کی رسی گم ہوجائے تو قرآن عظیم میں اسے پالوں(ابن ابی الفضل مرسی نے
عــــــہ:ذکرالامام السیوطی ھذہ الایۃ فی النوع الخامس والستین من کتابہ الاتقان مفید ان المراد بالکتاب القران ۱۲۔ امام سیوطی نے اپنی مشہور تفسیر الاتقان فی علوم القران کی پینسٹھویں نوع میں اس آیت کریمہ کاذکر فرمایا ہے اور یہ فائدہ بیان فرمایا کہ (یہاں)آیت میں کتاب سے قرآن مجید مراد ہے۔۱۲(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۸۹
القرآن الکریم ۱۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۶ /۳۸
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۱۲/ ۱۱۴
القرآن الکریم ۱۲ /۱۱۱
القرآن الکریم ۶ /۳۸
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۱۲/ ۱۱۴
نقل عنہ فی الاتقان ۔ اسے ذکر فرمایا الاتقان میں ان سے نقل کیا گیا۔(ت)
امیرالمومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لوشئت لاوقرت من تفسیر الفاتحۃ سبیعن بعیرا ۔ میں چاہوں تو سورہ فاتحۃ کی تفسیر سے ستر اونٹ بھروادوں۔
ایك اونٹ کے من بوجھ اٹھاتا ہے اور ہر من میں کے ہزار اجزاء حساب سے تقریبا پچیس لاکھ جزآتے ہیں۔یہ فقط سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے پھر باقی کلام عظیم کی کیا گنتی۔پھریہ علم علم علی ہے۔اس کے بعد علم عمراس کے بعد علم صدیق کی باری ہے"ذھب عمر بہ تسعۃ اعشار العلم"عمر علم کے نوحصے لے گئے۔کان ابوبکر اعلمنا ہم سب میں زیادہ علم ابوبکر کو تھا پھر علم نبی تو علم نبی ہے۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غرض قرآن عظیم وفرقان کریم میں سب کچھ ہے جسے جتنا علم اتنی ہی فہمجس قدر فہم اسی قدر علم۔
"و تلک الامثل نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون ﴿۴۳﴾ " ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں مگر انھیں صرف علم والے ہی سمجھ سکتے ہیں(ت)
کہاوتیں ارشاد تو سب کے لئے ہوئی ہیں پر ان کی سمجھ انھیں کو ہے جو علم والے ہیں۔پھر علم کے مدارج بے حد متفاوت "وفوق کل ذی علم علیم ﴿۷۶﴾" (ہر علم والے کے او پر ایك علم والا ہے۔ت)عالم ا مکان میں نہایت نہایات حضور سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام والتحیات۔ ولہذا ارشاد ہوا:
" انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارىک اللہ " ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب اتاری تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو کچھ آپ کو اﷲ تعالی دکھا دیا ہے اس کی روشنی میں(ت)
امیرالمومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لوشئت لاوقرت من تفسیر الفاتحۃ سبیعن بعیرا ۔ میں چاہوں تو سورہ فاتحۃ کی تفسیر سے ستر اونٹ بھروادوں۔
ایك اونٹ کے من بوجھ اٹھاتا ہے اور ہر من میں کے ہزار اجزاء حساب سے تقریبا پچیس لاکھ جزآتے ہیں۔یہ فقط سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے پھر باقی کلام عظیم کی کیا گنتی۔پھریہ علم علم علی ہے۔اس کے بعد علم عمراس کے بعد علم صدیق کی باری ہے"ذھب عمر بہ تسعۃ اعشار العلم"عمر علم کے نوحصے لے گئے۔کان ابوبکر اعلمنا ہم سب میں زیادہ علم ابوبکر کو تھا پھر علم نبی تو علم نبی ہے۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غرض قرآن عظیم وفرقان کریم میں سب کچھ ہے جسے جتنا علم اتنی ہی فہمجس قدر فہم اسی قدر علم۔
"و تلک الامثل نضربہا للناس وما یعقلہا الا العلمون ﴿۴۳﴾ " ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں مگر انھیں صرف علم والے ہی سمجھ سکتے ہیں(ت)
کہاوتیں ارشاد تو سب کے لئے ہوئی ہیں پر ان کی سمجھ انھیں کو ہے جو علم والے ہیں۔پھر علم کے مدارج بے حد متفاوت "وفوق کل ذی علم علیم ﴿۷۶﴾" (ہر علم والے کے او پر ایك علم والا ہے۔ت)عالم ا مکان میں نہایت نہایات حضور سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام والتحیات۔ ولہذا ارشاد ہوا:
" انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارىک اللہ " ہم نے آپ کی طرف سچی کتاب اتاری تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو کچھ آپ کو اﷲ تعالی دکھا دیا ہے اس کی روشنی میں(ت)
حوالہ / References
الاتقان فی علوم القرآن النوع الخامس والستون مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۲۶
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۸۶
القرآن الکریم ۲۹ /۴۳
القرآن الکریم ۱۲ /۷۶
القرآن الکریم ۴ /۱۰۵
الاتقان فی علوم القرآن النوع الثامن والسبعون مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۸۶
القرآن الکریم ۲۹ /۴۳
القرآن الکریم ۱۲ /۷۶
القرآن الکریم ۴ /۱۰۵
تو حضور کا جو کچھ حکم جو کچھ رائے جو کچھ طریقہ جو کچھ ارشاد ہے سب قرآن عظیم سے ہے "و ان الی ربک المنتہی ﴿۴۲﴾" (یقینا تمھارے پروردگار کی طرف ہی ہر کام کی انتہاء ہے۔ت)سب قرآن عظیم میں ہے " ان ہو الا وحی یوحی ﴿۴﴾ " (وہ تو صرف وحی ہے جو ان پر کی گئی۔ت)مگر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے علم تام وشامل سے جانا کہ آخر زمانہ میں کچھ بددین مکار بدلگام فاجر ایسے آنے والے ہیں کہ ہمارا جو حکم اپنی اندھی آنکھوں سے بظاہر قرآن میں نہ پائیں گے منکر ہوجائیں گے۔
" بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولما یاتہم تاویلہ کذلک کذب الذین من قبلہم فانظرکیف کان عقبۃ الظلمین ﴿۳۹﴾" بلکہ انھوں نے اس کو جھٹلایا جس کو بذریعہ علم وہ احاطہ نہ کرسکے حالانکہ ابھی ان کے پاس اس کی کوئی تاویل نہیں آتی تھی۔یونہی ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا پھردیکھو ظالموں کا کیسا(عبرتناک)انجام ہوا۔(ت)
لہذا حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرمایا:
الاانی اوتیت القران ومثلہ معہ الا یشك رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القران فما وجد تم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ رواہ الائمۃ احمد والدرامی وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ بالفاظ متقاربۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سن لو مجھے قرآن عطا ہوا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل۔ خبردار نزدیك ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تحت پرپڑا کہے یہی قرآن لئے رہو اس میں جوحلال پاؤ اسے حلال جانو جو حرام پاؤ اسے حرام جانوحالانکہ جو چیز رسول اﷲ نے حرام کی وہ اسی کی مثل ہے جو اﷲ نے حرام فرمائی۔(ائمہ کرام مثلا امام احمد دارمیابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے تقریبا ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
" بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولما یاتہم تاویلہ کذلک کذب الذین من قبلہم فانظرکیف کان عقبۃ الظلمین ﴿۳۹﴾" بلکہ انھوں نے اس کو جھٹلایا جس کو بذریعہ علم وہ احاطہ نہ کرسکے حالانکہ ابھی ان کے پاس اس کی کوئی تاویل نہیں آتی تھی۔یونہی ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا پھردیکھو ظالموں کا کیسا(عبرتناک)انجام ہوا۔(ت)
لہذا حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرمایا:
الاانی اوتیت القران ومثلہ معہ الا یشك رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بھذا القران فما وجد تم فیہ من حلال فاحلوہ وماوجدتم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اﷲ کما حرم اﷲ رواہ الائمۃ احمد والدرامی وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ بالفاظ متقاربۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سن لو مجھے قرآن عطا ہوا اور قرآن کے ساتھ اس کا مثل۔ خبردار نزدیك ہے کہ کوئی پیٹ بھرا اپنے تحت پرپڑا کہے یہی قرآن لئے رہو اس میں جوحلال پاؤ اسے حلال جانو جو حرام پاؤ اسے حرام جانوحالانکہ جو چیز رسول اﷲ نے حرام کی وہ اسی کی مثل ہے جو اﷲ نے حرام فرمائی۔(ائمہ کرام مثلا امام احمد دارمیابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے تقریبا ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۳ /۴۲
القرآن الکریم ۵۱ /۴
القرآن الکریم ۱۰ /۳۹
جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۱ وسنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب لزوم السنۃ ۲/ ۲۷۶،مسند احمد بن حنبل عن المقدام ۴/ ۱۳۱ وسنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ص۳،سنن الدارمی باب السنۃ قاضیۃ علی کتاب اﷲ دارالمحاسن القاہرہ ۱/ ۱۱۷
القرآن الکریم ۵۱ /۴
القرآن الکریم ۱۰ /۳۹
جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۱ وسنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب لزوم السنۃ ۲/ ۲۷۶،مسند احمد بن حنبل عن المقدام ۴/ ۱۳۱ وسنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ص۳،سنن الدارمی باب السنۃ قاضیۃ علی کتاب اﷲ دارالمحاسن القاہرہ ۱/ ۱۱۷
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لاالفین احدکم متکئا علی اریکتہ یاتیہ الامر مما امرت بہ اونھیت عنہ فیقول لاادری ماوجدنا فی کتاب اﷲ اتبعناہ۔رواہ احمد وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ والبیھقی فی الدلائل عن ابی رافع رضی اﷲ تعالی عنہ۔ خبردار! میں نہ پاؤں تم میں کسی کو اپنے تخت پر تکیہ لگائے کہ میرے حکم سے کوئی حکم اس کے پاس آئے جس کا میں نے امر فرمایا یا اس سے نہی فرمائی ہوتو کہنے لگے میں نہیں جانتا ہم تو جو کچھ قرآن میں پائیں گے اسی کی پیروی کریں گے۔ (امام احمدابوداؤدترمذیابن ماجہ اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اس کو حضرت ابو رافع رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
اور ایك حدیث میں ہے حضور والا صلوۃ اﷲ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا:
ایحسب احدکم متکئا علی اریکتہ قدیظن ان اﷲ لم یحرم شیئا الا مافی ھذا القران الا وانی واﷲ قد امرت ووعظت ونھیت عن اشیاء انھا لمثل القران او اکثررواہ ابوداؤد عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کیا تم میں سے کوئی اپنے تخت پر تکیہ لگائے گمان کرتا ہے کہ اﷲ نے بس یہی چیزیں حرام کی ہیں جو قرآن میں لکھی ہیں سن لو خدا کی قسم میں نے حکم دئے اور نصیحتیں فرمائیں اور بہت چیزوں سے منع فرمایا کہ وہ قرآن کی حرام فرمائی اشیاء کے برابر بلکہ بیشتر ہیں(امام ابوداؤد نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت)
اس منکر کا داڑھی بڑھانے کے حکم کو کہنا قرآن میں کہیں نہیں اور اسی بناء پر احادیث صحیحہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یہ کہہ کر رد کردینا کہ داڑھی بڑھانا اخلاق میں ہوتا تو قرآن میں کیوں نہ آتا وہی پیٹ بھرے بے فکرے بے نصیبے بے بہرے کی بات ہے جس کی پیشگوئی حضور
لاالفین احدکم متکئا علی اریکتہ یاتیہ الامر مما امرت بہ اونھیت عنہ فیقول لاادری ماوجدنا فی کتاب اﷲ اتبعناہ۔رواہ احمد وابوداؤد والترمذی و ابن ماجۃ والبیھقی فی الدلائل عن ابی رافع رضی اﷲ تعالی عنہ۔ خبردار! میں نہ پاؤں تم میں کسی کو اپنے تخت پر تکیہ لگائے کہ میرے حکم سے کوئی حکم اس کے پاس آئے جس کا میں نے امر فرمایا یا اس سے نہی فرمائی ہوتو کہنے لگے میں نہیں جانتا ہم تو جو کچھ قرآن میں پائیں گے اسی کی پیروی کریں گے۔ (امام احمدابوداؤدترمذیابن ماجہ اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں اس کو حضرت ابو رافع رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
اور ایك حدیث میں ہے حضور والا صلوۃ اﷲ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا:
ایحسب احدکم متکئا علی اریکتہ قدیظن ان اﷲ لم یحرم شیئا الا مافی ھذا القران الا وانی واﷲ قد امرت ووعظت ونھیت عن اشیاء انھا لمثل القران او اکثررواہ ابوداؤد عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کیا تم میں سے کوئی اپنے تخت پر تکیہ لگائے گمان کرتا ہے کہ اﷲ نے بس یہی چیزیں حرام کی ہیں جو قرآن میں لکھی ہیں سن لو خدا کی قسم میں نے حکم دئے اور نصیحتیں فرمائیں اور بہت چیزوں سے منع فرمایا کہ وہ قرآن کی حرام فرمائی اشیاء کے برابر بلکہ بیشتر ہیں(امام ابوداؤد نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا۔ت)
اس منکر کا داڑھی بڑھانے کے حکم کو کہنا قرآن میں کہیں نہیں اور اسی بناء پر احادیث صحیحہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو یہ کہہ کر رد کردینا کہ داڑھی بڑھانا اخلاق میں ہوتا تو قرآن میں کیوں نہ آتا وہی پیٹ بھرے بے فکرے بے نصیبے بے بہرے کی بات ہے جس کی پیشگوئی حضور
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۱ و سنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲/ ۲۷۹ وسنن ابن ماجہ مقدمۃ الکتاب ص۳
سنن ابی داؤد کتاب الخراج والامارۃ باب التعشیر اھل الذمۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۷۶
سنن ابی داؤد کتاب الخراج والامارۃ باب التعشیر اھل الذمۃ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۷۶
عالم ماکان ومایکون فرما چکے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔سچ فرمایا رب جل وعلانے:
فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾ " تمھارے پروردگار کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تك وہ آپس کے جھگڑوں میں تمھیں حاکم تسلیم نہ کرلیں۔پھر تمھارے فیصلہ سے اپنے دلوں میں ذرا سی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ اسے دل وجان سے بغیر کسی کھٹك کے مان لیں۔(ت)
قرآن عظیم قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اے نبی ! جب تك تیری باتیں دل سے نہ مان لیں ہرگز مسلمان نہ ہوں گے طوطے کی طرح زبان سے لاکھ کلمہ رٹے جائیں کیا ہوتاہے۔
تنبیہ دوم:مسلمانو! یہ گمراہ قوم جن کی پیشگوئی احادیث مذکورہ میں گزری صرف حدیثوں ہی کے منکر نہیں بلکہ حقیقۃ قرآن عظیم کو عیب لگانے والے اور دین متین کوناقص وناتمام بتانے والے ہیں حدیثیں تو یوں چھوڑ دیں کہ انبیاء صرف درستی اخلاق کے لئے آتے ہیں حدیثوں کی باتیں اخلاق سے ہوتیں۔تو قرآن میں کیوں نہ آتیں ورنہ قرآن اخلاقی احکام سے خالی اور دین ناقص ٹھہرتا ہے۔جب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیثیں یوں بیکار گئیں پھر اور کسی کی بات کا کیا ذکر۔
" فبای حدیثۭ بعدہ یؤمنون ﴿۵۰﴾" (پھر وہ اس کے بعد(قرآن مجید کے بعد)اور کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ت)
اب گنتی کے وہ احکام رہ گئے جن کی صاف تصریح کتاب اﷲ میں ہے ان کے سوا سب اخلاق سے خارج تہذیب واخلاق کے ہزاروں احکام جن میں کوئی ذی عقل نزاع نہ کرسکے معاذاﷲ اسلام کے نزدیك مہمل ومعطل اور تمامی دین باطل ومختلمثلا مردوں کا داڑھی مونچھ منڈواکر بال بڑھاکر چوٹی گندھواکر ہاتھ پاؤں میں مہندی رچا کر زنانہ کپڑے گوٹہ پھٹے مسالے کے پہن کر سرسے پاؤں تك جڑاؤں گہنوں سے بن ٹھن کر ہزاروں کے مجمع میں ناچنا بھاؤ بتانا کس آیت میں حرام لکھا ہے اعضائے رجولیت کٹاکر زنخنہ بنناناك پر انگلی رکھ کر تالیاں بجانا کس سورۃ میں منع آیا ہے۔وعلی ھذا القیاس ہزاروں افعال وسواس خناس اب منکر متکبر سے پوچھا جائے کہ ان افعال اور ان کے امثال کو معاذاﷲ ملت اسلام میں حلال بتاکر دین کو عیاذا باﷲ سخت بیہودہ ونامہذب بنائے گا یا شرما شرمی حرام ٹھہراکر نصوص قرآنیہ خالی پاکر معاذاﷲ قرآن عظیم کوناقص ناتمام بتائے گا ایسے حضرات کی تمام جدید تحقیقات شقیہ کا اندرونی بخاروہی پادریوں کو خفیہ اعانت دینا اوردین متین کامضحکہ اڑانا ہوتاہے " و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ
فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما ﴿۶۵﴾ " تمھارے پروردگار کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تك وہ آپس کے جھگڑوں میں تمھیں حاکم تسلیم نہ کرلیں۔پھر تمھارے فیصلہ سے اپنے دلوں میں ذرا سی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ اسے دل وجان سے بغیر کسی کھٹك کے مان لیں۔(ت)
قرآن عظیم قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اے نبی ! جب تك تیری باتیں دل سے نہ مان لیں ہرگز مسلمان نہ ہوں گے طوطے کی طرح زبان سے لاکھ کلمہ رٹے جائیں کیا ہوتاہے۔
تنبیہ دوم:مسلمانو! یہ گمراہ قوم جن کی پیشگوئی احادیث مذکورہ میں گزری صرف حدیثوں ہی کے منکر نہیں بلکہ حقیقۃ قرآن عظیم کو عیب لگانے والے اور دین متین کوناقص وناتمام بتانے والے ہیں حدیثیں تو یوں چھوڑ دیں کہ انبیاء صرف درستی اخلاق کے لئے آتے ہیں حدیثوں کی باتیں اخلاق سے ہوتیں۔تو قرآن میں کیوں نہ آتیں ورنہ قرآن اخلاقی احکام سے خالی اور دین ناقص ٹھہرتا ہے۔جب مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیثیں یوں بیکار گئیں پھر اور کسی کی بات کا کیا ذکر۔
" فبای حدیثۭ بعدہ یؤمنون ﴿۵۰﴾" (پھر وہ اس کے بعد(قرآن مجید کے بعد)اور کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ت)
اب گنتی کے وہ احکام رہ گئے جن کی صاف تصریح کتاب اﷲ میں ہے ان کے سوا سب اخلاق سے خارج تہذیب واخلاق کے ہزاروں احکام جن میں کوئی ذی عقل نزاع نہ کرسکے معاذاﷲ اسلام کے نزدیك مہمل ومعطل اور تمامی دین باطل ومختلمثلا مردوں کا داڑھی مونچھ منڈواکر بال بڑھاکر چوٹی گندھواکر ہاتھ پاؤں میں مہندی رچا کر زنانہ کپڑے گوٹہ پھٹے مسالے کے پہن کر سرسے پاؤں تك جڑاؤں گہنوں سے بن ٹھن کر ہزاروں کے مجمع میں ناچنا بھاؤ بتانا کس آیت میں حرام لکھا ہے اعضائے رجولیت کٹاکر زنخنہ بنناناك پر انگلی رکھ کر تالیاں بجانا کس سورۃ میں منع آیا ہے۔وعلی ھذا القیاس ہزاروں افعال وسواس خناس اب منکر متکبر سے پوچھا جائے کہ ان افعال اور ان کے امثال کو معاذاﷲ ملت اسلام میں حلال بتاکر دین کو عیاذا باﷲ سخت بیہودہ ونامہذب بنائے گا یا شرما شرمی حرام ٹھہراکر نصوص قرآنیہ خالی پاکر معاذاﷲ قرآن عظیم کوناقص ناتمام بتائے گا ایسے حضرات کی تمام جدید تحقیقات شقیہ کا اندرونی بخاروہی پادریوں کو خفیہ اعانت دینا اوردین متین کامضحکہ اڑانا ہوتاہے " و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ
کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)بہت اچھا اگر داڑھی منڈانا حرام نہیں کہ قرآن عظیم میں اس کے احکام نہیں تو جہاں اس پر عمل ہے یہ پوری شرافت کے افعال بھی برت کر دکھادیں کہ ان کی تحریم بھی قرآن میں کہیں نہیں۔پوری ہی گائے نہ کھائیے کہ دین نیچر کے کامل مومن کہلائیےاچھا نہ سہی قرآن میں کہیں ناك کٹانا بھی حرام نہیں لکھا الانف بالانف(ناك کے بدلے ناک۔ت)میں دوسرے کی ناك کاٹنے پر سزا ہے اپنی قطع کرانے کا ذکر کیا ہے ایك کاٹ کردوسری کہاں سے لائیے گا کہ الانف بالانف کا محل پائیے گا جہاں داڑھی منڈائی ہے۔یہ اونچی گوٹ آنکھوں کی اوٹ جس نے ناحق چہر ہ ناہموار کررکھا ہے اسے بھی دھتابتائیں لوگ چار ابرو کا صفایا بولتے ہیں یہ پانچوں گانٹھ کمیت ہوجائیں خیر آپ اس پر عمل نہ کریں مگر آپ کی تحریر تو ضرور ہانکے پکارے کہے گی کہ دین اسلام ایسا ناقص دین ہے جس میں ناك کٹانا حرام نہیں یا قرآن عظیم ایسی کتاب ہے جس میں ایسے جرموں پر کچھ الزام نہیں۔
تنبیہ سوم: منکر متکبر کا اثبات حرمت میں قرآن عظیم کے ساتھ حدیث متواترومشہور کانام لے دینا محض عیاری ودنیا سازی یاعجب کورانہ تناقض بازی ہے ہم پوچھتے ہیں جو کسی حدیث متواتر یا مشہور میں آئے قرآن عظیم میں بھی موجود ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو حدیث کی کیا حاجتاور اس تردید سے کیا منفعت اور اگر نہیں توا ب پوچھا جائےگا کہ وہ حکم داخل اخلاق ہے یانہیں۔ اگر ہے تو قرآن عظیم احکام اخلاقی سے خالی اور دین معرض نقص وبے کمالیاورنہیں تو تمھارا مطلب حاصل کہ ایسے حکم کا شرعی ہونا باطل۔بہت ہو تو مچھلی کا ساشکار سہیحرمت فرضیت کس نے کہیمسلمانو! دیکھتے جاؤ کہ ان حضرات کے تمام خیالات کا حاصل بے حاصل وہی ابطال شرع مطہر و اکمال بیقیدی اہل نیچر ہے وبس" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" (وہ لوگ جو ظالم ہیں انھیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پلٹا کھانے والے ہیں۔ت)
تنبیہ چہارم:بعینہ اسی دلیل سے اجماع بھی باطلپھر قیاس کس گنتی شمار میں رہےاور امر قرآنیہ منکر نے" و اذا حللتم فاصطادوا " (جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو۔ت)سے اس کا جواب بھی گھڑدیا۔ہر امر میں یہی احتمال قائمکیا معلوم کہ یہ انھیں احکام میں ہو جن کا نہ کرنا عقاب درکنار موجب عتاب بھی نہیں پھر ایك یہی چلتا فقرہ تمام نواہی قرآنیہ کو بس ہے کہ جس طرح امر کبھی اباحت کے لئے ہوتا ہے یونہی نہی بھی ارشادی ہوتی ہے غرض ایك ہی کرشمے میں شریعت محمدیہ کے تمام اوامر ونواہی بیکار اور معطل ہو کر رہ گئے۔سچ ہے انسانی آزادی اس کی منادی قید ملت کہاں کی علتمگر افسوس یہ آنکھوں کے اندھے عقل کے اوندھے سمجھے کہ
تنبیہ سوم: منکر متکبر کا اثبات حرمت میں قرآن عظیم کے ساتھ حدیث متواترومشہور کانام لے دینا محض عیاری ودنیا سازی یاعجب کورانہ تناقض بازی ہے ہم پوچھتے ہیں جو کسی حدیث متواتر یا مشہور میں آئے قرآن عظیم میں بھی موجود ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو حدیث کی کیا حاجتاور اس تردید سے کیا منفعت اور اگر نہیں توا ب پوچھا جائےگا کہ وہ حکم داخل اخلاق ہے یانہیں۔ اگر ہے تو قرآن عظیم احکام اخلاقی سے خالی اور دین معرض نقص وبے کمالیاورنہیں تو تمھارا مطلب حاصل کہ ایسے حکم کا شرعی ہونا باطل۔بہت ہو تو مچھلی کا ساشکار سہیحرمت فرضیت کس نے کہیمسلمانو! دیکھتے جاؤ کہ ان حضرات کے تمام خیالات کا حاصل بے حاصل وہی ابطال شرع مطہر و اکمال بیقیدی اہل نیچر ہے وبس" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" (وہ لوگ جو ظالم ہیں انھیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پلٹا کھانے والے ہیں۔ت)
تنبیہ چہارم:بعینہ اسی دلیل سے اجماع بھی باطلپھر قیاس کس گنتی شمار میں رہےاور امر قرآنیہ منکر نے" و اذا حللتم فاصطادوا " (جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو۔ت)سے اس کا جواب بھی گھڑدیا۔ہر امر میں یہی احتمال قائمکیا معلوم کہ یہ انھیں احکام میں ہو جن کا نہ کرنا عقاب درکنار موجب عتاب بھی نہیں پھر ایك یہی چلتا فقرہ تمام نواہی قرآنیہ کو بس ہے کہ جس طرح امر کبھی اباحت کے لئے ہوتا ہے یونہی نہی بھی ارشادی ہوتی ہے غرض ایك ہی کرشمے میں شریعت محمدیہ کے تمام اوامر ونواہی بیکار اور معطل ہو کر رہ گئے۔سچ ہے انسانی آزادی اس کی منادی قید ملت کہاں کی علتمگر افسوس یہ آنکھوں کے اندھے عقل کے اوندھے سمجھے کہ
آزاد ہوئے اور حقیقت دیکھو تو برباد ہوئے۔اﷲ واحد قہار کی بندگی سے سر نکالا اور ابلیس لعین کاپٹا گلے میں ڈالا بندگی تو ہر حال رہی اﷲ کی نہیں ابلیس کی سہی ع
ببیں کہ از کہ بریدی وباکہ پیوستی
(دیکھو تو سہی کہ تم نے کس سے تعلق توڑا اور کس سے جوڑا یعنی کس سے کٹ کر جدا ہوگئے اور کس سے وابستہ ہوکر مل گئے۔ت)
تنیبہ پنجم:مخالفت مشرکین کے وہ معنی لینا اورداڑھی رکھنے منڈانے دونوں میں مخالفت بتانا کلام پاك حضور سید لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کھلا استہزاء وتمسخر ہے۔اﷲ اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد اطہر اور ایك ناپاك بیباك بے ادراك کا کہنا کہ فیہ نظر(اس میں ایك اعتراض واشکال ہے۔ت)پھر اسے دیدہ ودانستہ بازیچہ بنانا
" یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وہم یعلمون﴿۷۵﴾" (وہ لوگ کتاب کو سمجھنے کے بعد اسے بدل ڈالتے ہیں جبکہ وہ(اس حقیقت کو) اچھی طرح جانتے ہیں۔ت)کا شیوہ دکھانا۔
اولا: دنیا میں کون اندھے سے اندھا خلاف مشرکین کا یہ مطلب سمجھے گا کہ مشرکین روٹی کھاتے ہیں تم بھوکے رہووہ پانی پیتے ہیں تم پیاسے مروخلاف مشرکین شعار مشرکین میں ہے نہ یہ کہ کوئی مشرك ہمارے بعض افعال اختیار کرےیا جس فعل کو ہماری شرع مطہر نے پسند فرمایا وہ کسی فرقہ مشرکہ سے بھی واقع ہو تو ہم چھوڑدیں۔
ثانیا: یہی معنی مراد ہوتے تو معاذاﷲ حکم کس قدر فضول ومہمل تھا۔جوبات ایك کام کرو تو بھی حاصل نہ کرو تو بھی حاصلاس کے لئے اس کام کاحکم دینا تحصل حاصل۔
ثالثا: ترجیح بلا مرجح اس کے عکس کا کیوں نہ حکم ہوا کہ خلاف مشرکین اس میں بھی تھا۔
رابعا: بلکہ ترجیح مرجوح کہ داڑھی منڈے مشرك مہینوں کی راہ دور ایران وغیرہ میں تھے اور داڑھی والے اہل عرب اپنے ہی وطن میں اپنے ہی شہروں میں۔تو خلاف مشرکین انھیں کے خلاف ظاہر ہوتا یوں تو کوئی ایرانی کبھی اتفاق سے آجاتا تو اپنی مخالفت پاتا پھر بھی خلاف مذہبی نہ سمجھتا بلکہ قومی و ملکی کہ اس ملك کے مسلم وکافر سب کو اپنے خلاف دیکھتا۔
خامسا: اﷲ اکبر اگر حدیث فقط اس قدر ہوتی کہ خالفوا المشرکین مشرکوں کا خلاف کرو۔
ببیں کہ از کہ بریدی وباکہ پیوستی
(دیکھو تو سہی کہ تم نے کس سے تعلق توڑا اور کس سے جوڑا یعنی کس سے کٹ کر جدا ہوگئے اور کس سے وابستہ ہوکر مل گئے۔ت)
تنیبہ پنجم:مخالفت مشرکین کے وہ معنی لینا اورداڑھی رکھنے منڈانے دونوں میں مخالفت بتانا کلام پاك حضور سید لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کھلا استہزاء وتمسخر ہے۔اﷲ اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد اطہر اور ایك ناپاك بیباك بے ادراك کا کہنا کہ فیہ نظر(اس میں ایك اعتراض واشکال ہے۔ت)پھر اسے دیدہ ودانستہ بازیچہ بنانا
" یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وہم یعلمون﴿۷۵﴾" (وہ لوگ کتاب کو سمجھنے کے بعد اسے بدل ڈالتے ہیں جبکہ وہ(اس حقیقت کو) اچھی طرح جانتے ہیں۔ت)کا شیوہ دکھانا۔
اولا: دنیا میں کون اندھے سے اندھا خلاف مشرکین کا یہ مطلب سمجھے گا کہ مشرکین روٹی کھاتے ہیں تم بھوکے رہووہ پانی پیتے ہیں تم پیاسے مروخلاف مشرکین شعار مشرکین میں ہے نہ یہ کہ کوئی مشرك ہمارے بعض افعال اختیار کرےیا جس فعل کو ہماری شرع مطہر نے پسند فرمایا وہ کسی فرقہ مشرکہ سے بھی واقع ہو تو ہم چھوڑدیں۔
ثانیا: یہی معنی مراد ہوتے تو معاذاﷲ حکم کس قدر فضول ومہمل تھا۔جوبات ایك کام کرو تو بھی حاصل نہ کرو تو بھی حاصلاس کے لئے اس کام کاحکم دینا تحصل حاصل۔
ثالثا: ترجیح بلا مرجح اس کے عکس کا کیوں نہ حکم ہوا کہ خلاف مشرکین اس میں بھی تھا۔
رابعا: بلکہ ترجیح مرجوح کہ داڑھی منڈے مشرك مہینوں کی راہ دور ایران وغیرہ میں تھے اور داڑھی والے اہل عرب اپنے ہی وطن میں اپنے ہی شہروں میں۔تو خلاف مشرکین انھیں کے خلاف ظاہر ہوتا یوں تو کوئی ایرانی کبھی اتفاق سے آجاتا تو اپنی مخالفت پاتا پھر بھی خلاف مذہبی نہ سمجھتا بلکہ قومی و ملکی کہ اس ملك کے مسلم وکافر سب کو اپنے خلاف دیکھتا۔
خامسا: اﷲ اکبر اگر حدیث فقط اس قدر ہوتی کہ خالفوا المشرکین مشرکوں کا خلاف کرو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۷۵
تو شایدکسی کچے جنونی پکے مجنونی کو ایسے جنون جاگتے مجنون لے بھاگتےمگر حدیث میں تو صراحۃ خود اس خلاف کی شرح فرمادی تھی۔اعفوا الشوارب واعفوا اللحی مشرکین کا یوں خلاف کرو کہ لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔اس کے یہ معنی لینا کہ ان کا خلاف کرکے بڑھاؤ خواہ ان کی مخالفت کرکے منڈاؤکیسی کھلی تحریف اور کیسا صریح استہزا ء ہے۔اﷲ اکبر مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وسعت علم جس طرح عجائب قرآن عظیم غیر متناہی ہیں یوہیں عجائب حدیث کی حد نہیں۔کریمہ: "ولا تزر وازرۃ وزر اخری وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ﴿۱۵﴾" (کوئی بندہ کسی دوسرے بندے کا بوجھ(بروز قیامت) نہیں اٹھائے گا اور ہم جب تك کوئی رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے یعنی اتمام حجت کے بغیر مبتلائے عذاب نہیں کرتے۔ ت)کے لطائف سے امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے شمار فرمایا کہ دونوں جملے دو۲ ہمشکل مسائل مختلف فیہا کا فیصلہ فرماتے ہیں۔پہلا مسئلہ اطفال مشرکین اور دوسرا اہل فترت پر دلیل شافی ہے ان دونوں کا ایك جگہ ارشاد ہونا نظم قرآنی کے عجب دقیقہ سے ہے ذکرہ فی رسالۃ فی الابوین الکریمین(امام سیوطی نے حضورا کرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے والدین کریمین کے اسلام کے موضوع پر جور سالہ تحریر فرمایا۔اس میں اس کا ذکر فرمایا۔ت)فقیر کہتا ہے امام احمد وطبرانی وضیاء نے ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تسرولواوائتزوا وخالفوا اھل الکتاب قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب ۔ پاجامہ پہنواور تہبند باندھو اور یہود ونصاری کا خلاف کرو اور لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں وافر کرو یہود ونصاری کا خلاف کرو۔
یہود ونصاری کے یہاں ستر کچھ ضروری نہیں ان کی قومیں اب تك ننگے نہانے کی عادی ہیں حدیث میں ان دوجملوں کا ایك جگہ ارشاد ہونا ایسے گمراہوں گمراہ پرستوں کے جنون کا کافی علاج ہے جس طرح داڑھی میں مخالفت اہل کتاب کے وہ معنی تراشے یونہی پاجامہ وتہبند میں یہی مطلب پہنائے کہ اہل کتاب ستر عورت کرتے بھی ہیں تو چاہے اس عادت کا خلاف کرکے پاجامہ پہنو چاہے اس کی مخالفت سے ننگے پھرواور پورے مہذب جنٹلمین بنو۔"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"
تسرولواوائتزوا وخالفوا اھل الکتاب قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب ۔ پاجامہ پہنواور تہبند باندھو اور یہود ونصاری کا خلاف کرو اور لبیں ترشواؤ اور داڑھیاں وافر کرو یہود ونصاری کا خلاف کرو۔
یہود ونصاری کے یہاں ستر کچھ ضروری نہیں ان کی قومیں اب تك ننگے نہانے کی عادی ہیں حدیث میں ان دوجملوں کا ایك جگہ ارشاد ہونا ایسے گمراہوں گمراہ پرستوں کے جنون کا کافی علاج ہے جس طرح داڑھی میں مخالفت اہل کتاب کے وہ معنی تراشے یونہی پاجامہ وتہبند میں یہی مطلب پہنائے کہ اہل کتاب ستر عورت کرتے بھی ہیں تو چاہے اس عادت کا خلاف کرکے پاجامہ پہنو چاہے اس کی مخالفت سے ننگے پھرواور پورے مہذب جنٹلمین بنو۔"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾"
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۱۵
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی امامہ باہلی المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۶۵۔۲۶۴
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی امامہ باہلی المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۶۵۔۲۶۴
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷
(عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ت)
تنبیہ ششم:فرض وواجب اور اسی طرح حرام ومکروہ تحریمی میں فرق دربارہ اعتقاد ہے کہ فرض وحرام کا منکر کافر ٹھہرتا ہے۔
امامطلقا کما علیہ ظواھر کلمات الفقہاء الامجاد اوعلی تفصیل فیہ کما علیہ الاعتماد۔ یا مطلقا جیسا کہ بزرگ فقہاء کرام کے ظاہری کلمات اس پر دلالت کرتے ہیں یا اس میں تفصیل ہے جیسا کہ اس پراعتماد ہے۔(ت)
بخلاف اخیرینمگر عمل میں دونوں کا ایك حکم مخالف میں گناہ واثم امتثال میں رجائے ثواب خلاف میں استحقاق غضب و عذاب۔کما صرح فی کل کتاب(جیسا کہ تمام کتب میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)اہل اسلام اپنے رب کے غضب سے ڈریں اور ان گمراہان گر کی چرب زبانیوں پر تو جہ نہ کریں بالفرض اصطلاح حنفی میں "ف ر ض یا ح را م" کا اختلاف نہ ہوا تو یہ فرض اصطلاحی تمھارے کس کام آئے گا جبکہ غضب جبار وعذاب نار کا استحقاق بہر حال موجود والعیاذ باﷲ الغفور الودود یقین جانو اس دن کو داڑھی منڈا واحد قہار کے حضور تمھارا حمایتی نہ بنے گا وہ آپ اپنی بھڑکائی آگ میں جلے بھنے گا آئندہ اختیار بدست مختارمسلمانو! اس کی ٹھیك مثال یہ ہے کہ کوئی گندہ ناپاك بھینس کا گوبر گدھے کی لید کھایا کرے۔جب اس سے کہا جائے تو(۰۰)کھاتا ہے کہے اسے(۰۰)(۰۰)نہیں کہتے یہ تولید گوبر ہے اس نجس سے یہی کہا جائے گا کہ یونہی سہی مگر ہرطرح تیرے منہ میں تو گندگی رہیمسلمانو! مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ سہی مگر بعد اصرار کبیرہ اور ہلکا جانتے ہی فورا اشد کبیرہ۔حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاصغیرۃ مع الاصرار رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اصرار سے کوئی گناہ چھوٹا نہیں ہوجاتا(بلکہ بڑا ہوجاتاہے) دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اس کو روایت کیا ہے اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو۔ (ت)
پھریہ ظالمین براہ چالاکی حرام حرام کی اصطلاح لئے ہوئے ہیں حقیقۃ مباح محض شیر مادر جانتے ہیں جب تو
"و اذا حللتم فاصطادوا " (جب تم حلال ہوجاؤ یعنی احرام کی پابندی ختم ہوجائے
تنبیہ ششم:فرض وواجب اور اسی طرح حرام ومکروہ تحریمی میں فرق دربارہ اعتقاد ہے کہ فرض وحرام کا منکر کافر ٹھہرتا ہے۔
امامطلقا کما علیہ ظواھر کلمات الفقہاء الامجاد اوعلی تفصیل فیہ کما علیہ الاعتماد۔ یا مطلقا جیسا کہ بزرگ فقہاء کرام کے ظاہری کلمات اس پر دلالت کرتے ہیں یا اس میں تفصیل ہے جیسا کہ اس پراعتماد ہے۔(ت)
بخلاف اخیرینمگر عمل میں دونوں کا ایك حکم مخالف میں گناہ واثم امتثال میں رجائے ثواب خلاف میں استحقاق غضب و عذاب۔کما صرح فی کل کتاب(جیسا کہ تمام کتب میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)اہل اسلام اپنے رب کے غضب سے ڈریں اور ان گمراہان گر کی چرب زبانیوں پر تو جہ نہ کریں بالفرض اصطلاح حنفی میں "ف ر ض یا ح را م" کا اختلاف نہ ہوا تو یہ فرض اصطلاحی تمھارے کس کام آئے گا جبکہ غضب جبار وعذاب نار کا استحقاق بہر حال موجود والعیاذ باﷲ الغفور الودود یقین جانو اس دن کو داڑھی منڈا واحد قہار کے حضور تمھارا حمایتی نہ بنے گا وہ آپ اپنی بھڑکائی آگ میں جلے بھنے گا آئندہ اختیار بدست مختارمسلمانو! اس کی ٹھیك مثال یہ ہے کہ کوئی گندہ ناپاك بھینس کا گوبر گدھے کی لید کھایا کرے۔جب اس سے کہا جائے تو(۰۰)کھاتا ہے کہے اسے(۰۰)(۰۰)نہیں کہتے یہ تولید گوبر ہے اس نجس سے یہی کہا جائے گا کہ یونہی سہی مگر ہرطرح تیرے منہ میں تو گندگی رہیمسلمانو! مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ سہی مگر بعد اصرار کبیرہ اور ہلکا جانتے ہی فورا اشد کبیرہ۔حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاصغیرۃ مع الاصرار رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اصرار سے کوئی گناہ چھوٹا نہیں ہوجاتا(بلکہ بڑا ہوجاتاہے) دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اس کو روایت کیا ہے اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو۔ (ت)
پھریہ ظالمین براہ چالاکی حرام حرام کی اصطلاح لئے ہوئے ہیں حقیقۃ مباح محض شیر مادر جانتے ہیں جب تو
"و اذا حللتم فاصطادوا " (جب تم حلال ہوجاؤ یعنی احرام کی پابندی ختم ہوجائے
حوالہ / References
الفردوس بماثور الخطاب للدیلمی حدیث ۷۹۴۴ ابن عباس دارالکتب العلمیہ بیروت ۵/ ۱۹۹
القرآن الکریم ۵ /۲
القرآن الکریم ۵ /۲
اور احرام کھول دو تو شکار کرسکتے ہو۔(ت) [یعنی حدود حرم سے باہر شکار تمھاری پسند اور چاہت پر موقوف ہے مترجم] کی مثال اور عقاب درکنار عتاب بھی نہ ہونے کا خیال ہے۔شیطان کے بڑھاوے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
"یعدہم ویمنیہم وما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۱۲۰﴾" شیطان ان سے وعدہ کرتاہے اور انھیں امید دلاتاہے اور شیطان ان سے سوائے دھوکے اور فریب کے کوئی وعدہ نہیں کرتا(یعنی اس کا ہر وعدہ سبز باغ اور فریب ہوتاہے)۔(ت)
انتباہ:سنا گیا کہ اس منکر متکبر کی طرح کوئی اور حضرت بھی اس مسئلہ میں مخالفت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر تلے ہوئے ہیں اس نے اباحت محضہ کا ڈنڈا پکڑا اور وہ اپنے زور زور میں اور راہ چلے ہیں کہ داڑھی منڈا نا حرام نہیں۔اور مکروہ تحریمی میں خود اختلاف ہے کہ وہ حرمت سے قریب ہے یا حلت سے نزدیك مسلمانو! راہ فریب سے دور
"ولا یغرنکم باللہ الغرور ﴿۵﴾" (اور ہر گز تمھیں اﷲ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی)یہ ان قائل صاحب کا محض افترائے گندہ وایجاد بندہ ہے آج تك جہاں میں کسی عالم نے مکروہ تحریمی کو قریب بحلت نہ بتایا تمام کتب مذہب موجود ہیں حضرات شیخین وامام محمد رضی اﷲ تعالی عنہم میں یہ اختلاف بتایا جاتاہے کہ ان کے نزدیك مکروہ تحریمی عین حرام ہے اور ان کے نزدیك اقرب بحرام۔ تنویرالابصار وغیرہ عامہ اسفار میں ہے:
کل مکروہ حرام عند محمد وعندھما الی الحرام اقرب ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہر مکروہ حرام ہے جبکہ امام صاحب اور امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیك حرام سے قریب تر ہے۔(ت)
اور عند التحقیق یہ بھی صرف اطلاق لفظ کا فرق ہے معنی سب کا ایك مذہب خود امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے ناقل کہ انھوں نے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی:اذاقلت فی شیئ اکرہ فما رأیك فیہ جب آپ کسی شیئ کو مکروہ فرمائیں تو اس میں آپ کی کیا رائے ہوتی ہے قال التحریم فرمایا حرام ٹھہرانا ذکر فی ردالمحتار عن شرح التحریم
"یعدہم ویمنیہم وما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۱۲۰﴾" شیطان ان سے وعدہ کرتاہے اور انھیں امید دلاتاہے اور شیطان ان سے سوائے دھوکے اور فریب کے کوئی وعدہ نہیں کرتا(یعنی اس کا ہر وعدہ سبز باغ اور فریب ہوتاہے)۔(ت)
انتباہ:سنا گیا کہ اس منکر متکبر کی طرح کوئی اور حضرت بھی اس مسئلہ میں مخالفت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر تلے ہوئے ہیں اس نے اباحت محضہ کا ڈنڈا پکڑا اور وہ اپنے زور زور میں اور راہ چلے ہیں کہ داڑھی منڈا نا حرام نہیں۔اور مکروہ تحریمی میں خود اختلاف ہے کہ وہ حرمت سے قریب ہے یا حلت سے نزدیك مسلمانو! راہ فریب سے دور
"ولا یغرنکم باللہ الغرور ﴿۵﴾" (اور ہر گز تمھیں اﷲ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی)یہ ان قائل صاحب کا محض افترائے گندہ وایجاد بندہ ہے آج تك جہاں میں کسی عالم نے مکروہ تحریمی کو قریب بحلت نہ بتایا تمام کتب مذہب موجود ہیں حضرات شیخین وامام محمد رضی اﷲ تعالی عنہم میں یہ اختلاف بتایا جاتاہے کہ ان کے نزدیك مکروہ تحریمی عین حرام ہے اور ان کے نزدیك اقرب بحرام۔ تنویرالابصار وغیرہ عامہ اسفار میں ہے:
کل مکروہ حرام عند محمد وعندھما الی الحرام اقرب ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہر مکروہ حرام ہے جبکہ امام صاحب اور امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیك حرام سے قریب تر ہے۔(ت)
اور عند التحقیق یہ بھی صرف اطلاق لفظ کا فرق ہے معنی سب کا ایك مذہب خود امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے ناقل کہ انھوں نے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی:اذاقلت فی شیئ اکرہ فما رأیك فیہ جب آپ کسی شیئ کو مکروہ فرمائیں تو اس میں آپ کی کیا رائے ہوتی ہے قال التحریم فرمایا حرام ٹھہرانا ذکر فی ردالمحتار عن شرح التحریم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۲۰
القرآن الکریم ۳۵ /۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظرولاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۵
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۴
القرآن الکریم ۳۵ /۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظرولاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۵
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۴
للامام ابن امیر الحاج عن مبسوط الامام محمد رحمہم اﷲ تعالی(فتاوی شامی میں اس کو شرح التحریر کے حوالے سے ذکر فرمایا جو امام ابن امیر الحاج کی تصنیف ہے انھوں نے مبسوط امام محمد سے نقل فرمایا(اﷲ تعالی ان سب پر رحم فرمائے)۔ت)
تنبیہ ہفتم:آیات قرآنیہ میں۔حق فرمایا ہمارے رب جل وعلا نے:
"فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾
ہے یوں کہ آنکھیں نہیں اندھی ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
ان بے بصیرتوں کو اگر کبھی کھلی آنکھوں سے قرآن عظیم کی زیارت نصیب ہوتی تو جانتے کہ داڑھی بڑھانے کی طرف اشارہ اس میں ایك دو نہیں بلکہ بکثرت آیات کریمہ میں موجودہے اس میں دو۲ طریق ہیں: اول طریق عموم:یہ دو۲ وجہ پر ہے:
وجہ اول:کہ صحابہ کرام وائمہ اعلام رضی اﷲ تعالی عنہم امثال مقام میں استعمال فرماتے رہے۔آیت ۱:قال اﷲ عزوجل:
"وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " جو کچھ یہ رسول کریم تمھیں دے اختیار کرو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
آیت ۲:قال تعالی:
" "اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم اے ایمان والو ! اطاعت کرو اﷲ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور اپنے علما کی۔
آیت ۳:قال عزوجل:
" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جو رسول کے فرمانے پر چلا اس نے اﷲ کاحکم مانا۔
رب تبارك وتعالی ان آیات اور ان کے امثال میں نبی کا حکم بعینہ اپنا حکم اور نبی کی اطاعت بعینہ اپنی اطاعت بتاتا ہے تو تمام احکام کہ احادیث میں ارشاد ہوئے سب قرآن عظیم سے ثابت ہیں جو اخلاقی حکم حدیث میں ہے کتاب اﷲ اس سے ہر گز خالی نہیں اگر چہ بظاہرتصریح جزئیہ ہماری نظر میں نہ ہو۔
تنبیہ ہفتم:آیات قرآنیہ میں۔حق فرمایا ہمارے رب جل وعلا نے:
"فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾
ہے یوں کہ آنکھیں نہیں اندھی ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
ان بے بصیرتوں کو اگر کبھی کھلی آنکھوں سے قرآن عظیم کی زیارت نصیب ہوتی تو جانتے کہ داڑھی بڑھانے کی طرف اشارہ اس میں ایك دو نہیں بلکہ بکثرت آیات کریمہ میں موجودہے اس میں دو۲ طریق ہیں: اول طریق عموم:یہ دو۲ وجہ پر ہے:
وجہ اول:کہ صحابہ کرام وائمہ اعلام رضی اﷲ تعالی عنہم امثال مقام میں استعمال فرماتے رہے۔آیت ۱:قال اﷲ عزوجل:
"وما اتىکم الرسول فخذوہ وما نہىکم عنہ فانتہوا " جو کچھ یہ رسول کریم تمھیں دے اختیار کرو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
آیت ۲:قال تعالی:
" "اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم اے ایمان والو ! اطاعت کرو اﷲ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور اپنے علما کی۔
آیت ۳:قال عزوجل:
" من یطع الرسول فقد اطاع اللہ " جو رسول کے فرمانے پر چلا اس نے اﷲ کاحکم مانا۔
رب تبارك وتعالی ان آیات اور ان کے امثال میں نبی کا حکم بعینہ اپنا حکم اور نبی کی اطاعت بعینہ اپنی اطاعت بتاتا ہے تو تمام احکام کہ احادیث میں ارشاد ہوئے سب قرآن عظیم سے ثابت ہیں جو اخلاقی حکم حدیث میں ہے کتاب اﷲ اس سے ہر گز خالی نہیں اگر چہ بظاہرتصریح جزئیہ ہماری نظر میں نہ ہو۔
احمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ سب ائمہ اپنی مسند وصحاح میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ انھوں نے فرمایا:
لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات لخلق اﷲ۔ اﷲ کی لعنت بدن گود نے والیوں اور گدوانے والیوں اور منہ کے بال نوچنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں کھڑکیاں بنانے والیوں اﷲ کی بنائی چیز بگاڑنے والیوں پر۔
یہ سن کر ایك بی بی خدمت مبارك میں حاضر ہوئیں اور عرض کی:میں نے سنا ہے آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ____فرمایا:
مالی لا العن من لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو فی کتاب اﷲ۔ مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اور جس کا بیان قرآن عظیم میں ہے۔
ان بی بی نے کہا:میں نے قرآن اول سے آخر تك پڑھا اس میں کہیں اس کا ذکر نہ پایا__ فرمایا:
ان کنت قراتیہ لقد وجدتیہ اما قرات مااتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا۔ اگر تم نے قرآن پڑھا ہوتا یہ بیان اس میں ضرور پاتیں۔کیا تم نے یہ آیت نہ پڑھی کہ جو رسول تمھیں دے وہ لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
انھوں نے عرض کی:ہاں ____ فرمایا:فانہ قد نھی عنہ تو بے شك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان حرکات سے منع فرمایا:
منکر دیکھے کہ اس کا خیال وہی ان بی بی کا خیال اور ہمارا جواب بعینہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا جواب ہے یانہیں۔یہ بی بی ام یعقوب اسدیہ ہیں کبارتابعین وثقات مصالحات سے
لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات لخلق اﷲ۔ اﷲ کی لعنت بدن گود نے والیوں اور گدوانے والیوں اور منہ کے بال نوچنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں کھڑکیاں بنانے والیوں اﷲ کی بنائی چیز بگاڑنے والیوں پر۔
یہ سن کر ایك بی بی خدمت مبارك میں حاضر ہوئیں اور عرض کی:میں نے سنا ہے آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ____فرمایا:
مالی لا العن من لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو فی کتاب اﷲ۔ مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اور جس کا بیان قرآن عظیم میں ہے۔
ان بی بی نے کہا:میں نے قرآن اول سے آخر تك پڑھا اس میں کہیں اس کا ذکر نہ پایا__ فرمایا:
ان کنت قراتیہ لقد وجدتیہ اما قرات مااتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا۔ اگر تم نے قرآن پڑھا ہوتا یہ بیان اس میں ضرور پاتیں۔کیا تم نے یہ آیت نہ پڑھی کہ جو رسول تمھیں دے وہ لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔
انھوں نے عرض کی:ہاں ____ فرمایا:فانہ قد نھی عنہ تو بے شك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان حرکات سے منع فرمایا:
منکر دیکھے کہ اس کا خیال وہی ان بی بی کا خیال اور ہمارا جواب بعینہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا جواب ہے یانہیں۔یہ بی بی ام یعقوب اسدیہ ہیں کبارتابعین وثقات مصالحات سے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۴۳۴،صحیح البخاری کتاب اللباس باب الموصولۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۹،سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب صلۃ الشعر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی الواصلۃ الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۲،سنن نسائی کتاب الزینۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۹۲
ہونے میں توکلام نہیں اور حافظ الشان نے فرمایا:صحابیہ سے معلوم ہوتی ہیں۔بہر حال ان کی فضیلت و صلاح قبول حق پر باعث ہوئی سمجھ لیں اور اس کے بعد حدیث کو حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتیں
کما رواہ البخاری من طریق عبدالرحمن بن عابس عنھا رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جیسا کہ امام بخاری نے عبدالرحمن بن عابس کے طریقہ سے۔اس نے بی بی صاحبہ سے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہے۔(ت)
ابنائے زمانہ سے گزارش کرنی چاہئے کہ ع
دلامردانگی زین زن بیاموز
(اے دل ! اس عورت سے مردانہ جرأت سیکھ۔ت)
ولکن الھدایۃ لن تنالا بلافضل من المولی تعالی
(لیکن تو ہر گز ہدایت نہں پاسکے گا اﷲ تعالی کے فضل کے بغیر۔ت)
ایك بار عالم قریش سے سید ناامام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے مکہ معظمہ میں فرمایا:مجھ سے جو چاہو پوچھو میں قرآن سے جواب دوں گا۔کسی نے سوال کیا:احرام میں زنبور کو قتل کرنے کا کیا حکم ہے فرمایا:
بسم اﷲ الرحمن الرحیممااتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا وحدثنا سفین بن عیینہ عن عبدالملك بن عمیر بن ربعی بن حراش عن حذیفۃ بن الیمان عن النبی صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم انہ قال اقتدوا بالذین من بعدی ابوبکر وعمر بسم اﷲ الرحمن الرحیمجو کچھ تمھیں رسول کریم عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں منع فرمائیں اس سے باز رہو "اﷲ عزوجل نے تو فرمایا کہ ارشاد رسول پر عمل کرو" (ہم سے سفیان بن عیینہ نے فرمایاا س نے عبدالملك بن عمیر سے اس نے ربعی بن حراش سے اس نے حذیفہ بن یمان سے انھوں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی۔ ت)کہ رسول اﷲ
کما رواہ البخاری من طریق عبدالرحمن بن عابس عنھا رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جیسا کہ امام بخاری نے عبدالرحمن بن عابس کے طریقہ سے۔اس نے بی بی صاحبہ سے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہے۔(ت)
ابنائے زمانہ سے گزارش کرنی چاہئے کہ ع
دلامردانگی زین زن بیاموز
(اے دل ! اس عورت سے مردانہ جرأت سیکھ۔ت)
ولکن الھدایۃ لن تنالا بلافضل من المولی تعالی
(لیکن تو ہر گز ہدایت نہں پاسکے گا اﷲ تعالی کے فضل کے بغیر۔ت)
ایك بار عالم قریش سے سید ناامام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے مکہ معظمہ میں فرمایا:مجھ سے جو چاہو پوچھو میں قرآن سے جواب دوں گا۔کسی نے سوال کیا:احرام میں زنبور کو قتل کرنے کا کیا حکم ہے فرمایا:
بسم اﷲ الرحمن الرحیممااتکم الرسول فخذوہ ومانھکم عنہ فانتھوا وحدثنا سفین بن عیینہ عن عبدالملك بن عمیر بن ربعی بن حراش عن حذیفۃ بن الیمان عن النبی صلی اﷲ تعالی تعالی علیہ وسلم انہ قال اقتدوا بالذین من بعدی ابوبکر وعمر بسم اﷲ الرحمن الرحیمجو کچھ تمھیں رسول کریم عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے تمھیں منع فرمائیں اس سے باز رہو "اﷲ عزوجل نے تو فرمایا کہ ارشاد رسول پر عمل کرو" (ہم سے سفیان بن عیینہ نے فرمایاا س نے عبدالملك بن عمیر سے اس نے ربعی بن حراش سے اس نے حذیفہ بن یمان سے انھوں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی۔ ت)کہ رسول اﷲ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس باب الواشمہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۹
حدثنا سفین عن مسعر بن کدام عن قیس بن مسلم عن طارق بن شھاب عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ انہ امر بقتل المحرم الزنبور ذکرہ الامام السیوطی فی الاتقان " صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہمیں حدیث پہنچی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ان دو کی پیروی کرو جو میرے جانشین ہونگے۔(ہم سے سفیان بن مسعر بن کدام نے بیان کیا انھوں نے قیس بن مسلم سے انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی)اور ہمیں امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے حدیث پہنچی کہ انھوں نے احرام باندھے ہوئےکو قتل زنبور کا حکم دیا(امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے اسے الاتقان فی علوم القرآن میں ذکر فرمایا۔ت)
وجہ ثانی:اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)
آیت ۴:قال جل ذکرہ(اﷲ جل جلالہ نے فرمایا:)
" لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر وذکر اللہ کثیرا ﴿۲۱﴾" البتہ بیشك تمھارے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چال طریقہ میں ا چھی ریت ہے اس کے لئے جو ڈرتاہو اﷲ اور پچھلے دن سے اور بہت یاد کرے اﷲ کی۔
اس آیہ کریمہ میں مولی جل وعلا اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کے طریق وروش پر چلنے کی ہدایت فرماتا اور مسلمانوں کو یوں جوش دلاتا ہے کہ دیکھو ہماری یہ بات وہ مانے گاجس کے دل میں ہمارا خوف ہماری یاد ہم سے امید قیامت سے دہشت ہوگی اور موافق مخالف حتی کہ نصاری ویہود ومجوس و ہنودوتمام جہاں جانتا ہے کہ اس سرورجہاں وجہانیاں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت دائمہ مستمرہ داڑھی رکھنی تھی جس پر تمام عمر مداومت فرمائی محافظت فرمائی تاکید فرمائی ہدایت فرمائی معاذ اﷲ کبھی تجویز خلاف نے گنجائش نہ پائیہم یہاں بعض احادیث جلیلہ کریمہ یاد کریں کہ ذکرحبیب نورعین وسرور جان و شادابی دل وسیرابی ایمان ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
وجہ ثانی:اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت)
آیت ۴:قال جل ذکرہ(اﷲ جل جلالہ نے فرمایا:)
" لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر وذکر اللہ کثیرا ﴿۲۱﴾" البتہ بیشك تمھارے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چال طریقہ میں ا چھی ریت ہے اس کے لئے جو ڈرتاہو اﷲ اور پچھلے دن سے اور بہت یاد کرے اﷲ کی۔
اس آیہ کریمہ میں مولی جل وعلا اپنے نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کے طریق وروش پر چلنے کی ہدایت فرماتا اور مسلمانوں کو یوں جوش دلاتا ہے کہ دیکھو ہماری یہ بات وہ مانے گاجس کے دل میں ہمارا خوف ہماری یاد ہم سے امید قیامت سے دہشت ہوگی اور موافق مخالف حتی کہ نصاری ویہود ومجوس و ہنودوتمام جہاں جانتا ہے کہ اس سرورجہاں وجہانیاں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت دائمہ مستمرہ داڑھی رکھنی تھی جس پر تمام عمر مداومت فرمائی محافظت فرمائی تاکید فرمائی ہدایت فرمائی معاذ اﷲ کبھی تجویز خلاف نے گنجائش نہ پائیہم یہاں بعض احادیث جلیلہ کریمہ یاد کریں کہ ذکرحبیب نورعین وسرور جان و شادابی دل وسیرابی ایمان ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حوالہ / References
الاتقان فی علوم القراٰن للسیوطی النوع الخامس والستون مصطفی البابی مصر ۲/ ۱۲۶
القرآن الکریم ۳۳ /۲۱
القرآن الکریم ۳۳ /۲۱
حدیث ۱:جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کثیر شعر اللحیۃ۔رواہ مسلم وعنہ عند ابن عساکر کثیر شعر الراس واللحیۃ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ریش مبارك میں بال کثیر وانبوہ تھے(اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ابن عساکر کے نزدیك انہی جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارك کے بال زیادہ تھے۔ت)
حدیث ۲:ہندبن ابی ہالہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فخما مفخما یتلالؤ وجہہ تلالؤالقمر لیلۃ البدر ازھر اللون واسع الجبین کث اللحیۃ رواہ الترمذی فی الشمائل والطبرانی فی الکبیر واللبیھقی فی الشعب و رواہ ایضا الرؤیانی والبیھقی فی الدلائل وابن عساکر فی التاریخ۔ حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عظمت والے نگاہوں میں عظیم دلوں میں معظم تھے چہرہ مبارك ماہ دوہفتہ کی طرح چمکتا جگمگاتی رنگکشادہ پیشانی گھنی داڑھی(اس کو امام ترمذی نے شمائل نبوی میں امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔نیز رؤیانی نے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عساکر نے تاریخ میں روایت کیا ہے۔ت)
حدیث ۳:امیرالومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:
بابی وامی کان ربعۃ ابیض مشربا بحمرۃ کث اللحیۃ رواہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ میرے ماں باپ ان پر قربانمیانہ قد کے تھےگورا رنگ جس میں سرخی جھلکتیگھنی داڑھی(ابن عساکر نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کثیر شعر اللحیۃ۔رواہ مسلم وعنہ عند ابن عساکر کثیر شعر الراس واللحیۃ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ریش مبارك میں بال کثیر وانبوہ تھے(اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ابن عساکر کے نزدیك انہی جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارك کے بال زیادہ تھے۔ت)
حدیث ۲:ہندبن ابی ہالہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فخما مفخما یتلالؤ وجہہ تلالؤالقمر لیلۃ البدر ازھر اللون واسع الجبین کث اللحیۃ رواہ الترمذی فی الشمائل والطبرانی فی الکبیر واللبیھقی فی الشعب و رواہ ایضا الرؤیانی والبیھقی فی الدلائل وابن عساکر فی التاریخ۔ حبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عظمت والے نگاہوں میں عظیم دلوں میں معظم تھے چہرہ مبارك ماہ دوہفتہ کی طرح چمکتا جگمگاتی رنگکشادہ پیشانی گھنی داڑھی(اس کو امام ترمذی نے شمائل نبوی میں امام طبرانی نے معجم کبیر میں امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔نیز رؤیانی نے اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عساکر نے تاریخ میں روایت کیا ہے۔ت)
حدیث ۳:امیرالومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:
بابی وامی کان ربعۃ ابیض مشربا بحمرۃ کث اللحیۃ رواہ ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ میرے ماں باپ ان پر قربانمیانہ قد کے تھےگورا رنگ جس میں سرخی جھلکتیگھنی داڑھی(ابن عساکر نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب اثبات خاتم النبوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۵۶
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۲
شمائل الترمذی جامع الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اﷲ امین کمپنی دہلی ص۲
کنز العمال برمزکر"عن ابی ہریرہ حدیث ۱۸۵۶۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۱۷۲
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۲
شمائل الترمذی جامع الترمذی باب ماجاء فی خلق رسول اﷲ امین کمپنی دہلی ص۲
کنز العمال برمزکر"عن ابی ہریرہ حدیث ۱۸۵۶۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۱۷۲
حدیث ۴:وہی فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضخم الھامۃ عظیم اللحیۃ رواہ البیھقی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سرمبارك بزرگ اور ریش بڑی تھی(اسے امام بیہقی نے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵:امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابیض اللون مشربا بحمرۃ ادعج العینین کث اللحیۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رنگ گوراسرخی آمیز آنکھیں بڑیخوب سیاہ داڑھی گھنی۔
حدیث ۶:انس رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احسن الناس قواما واحسن الناس وجھا واطیب الناس ریحا والین الناس کفا و کانت لہ جمۃ الی شحمۃ اذنیہ وکانت لحیتہ قد ملأت من ھھنا الی ھھنا وامرید یہ علی عارضیہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم پاك کی بناوٹ تمام جہان سے بہتر چہرہ تمام عالم سے خوب تر مہك سارے زمانے سے خوشبو ترہتھیلیاں اپنے رخساروں سے نرم تر بال کانوں کی لو تکپھر اپنے رخساروں پر اشارہ کرکے بتایا کہ) ریش مبارك یہاں سے یہاں تك بھری ہوئی تھی۔
حدیث ۷:وہی فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایبض الوجہ کث اللحیۃ احمرالاماقی اھدب الاشفاررواہا جمیعا ابن عساکر الکل مختصرا۔ رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا منہ گوراداڑھی گھنی آنکھوں کے سرخیپلکیں دراز(ان سب کو ابن عساکر نے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔ت)
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضخم الھامۃ عظیم اللحیۃ رواہ البیھقی ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا سرمبارك بزرگ اور ریش بڑی تھی(اسے امام بیہقی نے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵:امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ابیض اللون مشربا بحمرۃ ادعج العینین کث اللحیۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رنگ گوراسرخی آمیز آنکھیں بڑیخوب سیاہ داڑھی گھنی۔
حدیث ۶:انس رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احسن الناس قواما واحسن الناس وجھا واطیب الناس ریحا والین الناس کفا و کانت لہ جمۃ الی شحمۃ اذنیہ وکانت لحیتہ قد ملأت من ھھنا الی ھھنا وامرید یہ علی عارضیہ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جسم پاك کی بناوٹ تمام جہان سے بہتر چہرہ تمام عالم سے خوب تر مہك سارے زمانے سے خوشبو ترہتھیلیاں اپنے رخساروں سے نرم تر بال کانوں کی لو تکپھر اپنے رخساروں پر اشارہ کرکے بتایا کہ) ریش مبارك یہاں سے یہاں تك بھری ہوئی تھی۔
حدیث ۷:وہی فرماتے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ:
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایبض الوجہ کث اللحیۃ احمرالاماقی اھدب الاشفاررواہا جمیعا ابن عساکر الکل مختصرا۔ رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا منہ گوراداڑھی گھنی آنکھوں کے سرخیپلکیں دراز(ان سب کو ابن عساکر نے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔ت)
حوالہ / References
دلائل النبوۃ للبیھقی باب صفۃ راس رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۱۶
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۱۸
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۱
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۲
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۱۸
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۱
تہذیب تاریخ ابن عساکر باب صفۃ خلقہ ومعرفۃ خلقہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۲۲
امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:کث اللحیۃ تملؤ صدرہ ۔ریش مطہر گھنی سینہ منورہ کو بھرے ہوئے۔
یہاں"سینہ"سے مراد اس کا بالائی کنارہ ہے کہ گلے کی انتہا ہے صرح بہ الشراح وھوا لواضح الصراح(شارحین نے اس کی تصریح فرمائی جو بالکل واضح اور صاف ہے۔ت)اور عادت کریمہ تھی کہ کوئی امر کیسا ہی مرغوب وپسندیدہ ہو جب شرعا لازم ضروری نہ ہوتا تو بیان جواز کے لئے گاہے ترك بھی فرمادیتے یا قولا خواہ تقریرا جواز ترك بتادیتے اس لئے علمائے کرام نے سنت کی تعریف میں مع الترك احیانا اضافہ کیا یعنی جسے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اکثر کیا اور کبھی کبھی ترك بھی فرمادیا ہو۔ولہذا محققین فرماتے ہیں کہ ایسی مواظبت دائمہ ہمیشہ دلیل وجوب ہے۔ محقق علی الاطلاق فتح القدیر باب الاذان میں فرماتے ہیں:
عدم الترك مرۃ دلیل الوجوب ۔ ایك مرتبہ بھی نہ چھوڑنا وجوب کی دلیل ہے۔(ت)
نیز باب الاعتکاف میں فرمایا:
ھذہ المواظبۃ المقرونۃ بعدم الترك مرۃ لما اقتربت بعد الانکار علی من لم یفعلہ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم کانت دلیل السنۃ والا کانت دلیل الوجوب ۔ یہ دوام یعنی ہمیشگی جو کبھی ایك دفعہ بھی نہ چھوڑنے سے مقرون ہوجب ان صحابہ کرام سے جنھوں نے اسے نہ کیا ہو ان سے عدم انکار پر مقترن ہو تو دلیل سنت ہے ورنہ دلیل وجوب ہے۔(ت)
دوم طریق خصوص:اس میں بھی بحمداﷲ تعالی فیض جلیل قرآن جلیل سے آیات کثیرہ عبدذلیل پر فائض برکات ہوئیں فاقول: وباﷲ اتوفیق(پس میں اﷲ تعالی کی توفیق ومدد سے ہی کہتاہوں۔ت)یہ نفیس طریق وجوہ عدیدہ رکھتا ہے جن سے احیائے لحیہ کا امر یا طلب یا اس کے خلاف پر وعید یا مذمت ثابت ہو۔
وجہ ثالث ___ آیت ۵:قال تعالی وتقدس:
"و ان یدعون الا شیطنا مریدا ﴿۱۱۷﴾ لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک کافر نہیں پوجتے مگر شیطان سرکش کوجس پر خدا نے لعنت کی اور وہ بولا میں ضرور لے لوں گا تیرے
یہاں"سینہ"سے مراد اس کا بالائی کنارہ ہے کہ گلے کی انتہا ہے صرح بہ الشراح وھوا لواضح الصراح(شارحین نے اس کی تصریح فرمائی جو بالکل واضح اور صاف ہے۔ت)اور عادت کریمہ تھی کہ کوئی امر کیسا ہی مرغوب وپسندیدہ ہو جب شرعا لازم ضروری نہ ہوتا تو بیان جواز کے لئے گاہے ترك بھی فرمادیتے یا قولا خواہ تقریرا جواز ترك بتادیتے اس لئے علمائے کرام نے سنت کی تعریف میں مع الترك احیانا اضافہ کیا یعنی جسے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اکثر کیا اور کبھی کبھی ترك بھی فرمادیا ہو۔ولہذا محققین فرماتے ہیں کہ ایسی مواظبت دائمہ ہمیشہ دلیل وجوب ہے۔ محقق علی الاطلاق فتح القدیر باب الاذان میں فرماتے ہیں:
عدم الترك مرۃ دلیل الوجوب ۔ ایك مرتبہ بھی نہ چھوڑنا وجوب کی دلیل ہے۔(ت)
نیز باب الاعتکاف میں فرمایا:
ھذہ المواظبۃ المقرونۃ بعدم الترك مرۃ لما اقتربت بعد الانکار علی من لم یفعلہ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم کانت دلیل السنۃ والا کانت دلیل الوجوب ۔ یہ دوام یعنی ہمیشگی جو کبھی ایك دفعہ بھی نہ چھوڑنے سے مقرون ہوجب ان صحابہ کرام سے جنھوں نے اسے نہ کیا ہو ان سے عدم انکار پر مقترن ہو تو دلیل سنت ہے ورنہ دلیل وجوب ہے۔(ت)
دوم طریق خصوص:اس میں بھی بحمداﷲ تعالی فیض جلیل قرآن جلیل سے آیات کثیرہ عبدذلیل پر فائض برکات ہوئیں فاقول: وباﷲ اتوفیق(پس میں اﷲ تعالی کی توفیق ومدد سے ہی کہتاہوں۔ت)یہ نفیس طریق وجوہ عدیدہ رکھتا ہے جن سے احیائے لحیہ کا امر یا طلب یا اس کے خلاف پر وعید یا مذمت ثابت ہو۔
وجہ ثالث ___ آیت ۵:قال تعالی وتقدس:
"و ان یدعون الا شیطنا مریدا ﴿۱۱۷﴾ لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک کافر نہیں پوجتے مگر شیطان سرکش کوجس پر خدا نے لعنت کی اور وہ بولا میں ضرور لے لوں گا تیرے
حوالہ / References
الشفاء لحقوق المصطفٰی فصل ان قلت الخ عبدالتواب اکیڈمی ملتان ۱/ ۳۸
فتح القدیر باب الاذان مکتبہ نوریہ رضویہ پاکستان ۱/ ۲۰۹
فتح القدیر باب الاعتکاف مکتبہ نوریہ رضویہ پاکستان ۲/ ۳۰۵
فتح القدیر باب الاذان مکتبہ نوریہ رضویہ پاکستان ۱/ ۲۰۹
فتح القدیر باب الاعتکاف مکتبہ نوریہ رضویہ پاکستان ۲/ ۳۰۵
نصیبا مفروضا ﴿۱۱۸﴾ ولاضلنہم ولامنینہم ولامرنہم فلیبتکن اذان الانعم ولامرنہم فلیغیرن خلق اللہ " بندوں میں سے اپنا ٹھہرا ہوا حصہ اور میں ضرور انھیں بہکا دوں گا اور ضرور خیالی لالچوں میں ڈالوں گا اور ضرور انھیں حکم دوں گا کہ وہ چوپایوں کے کان چیریں گے اور بیشك انھیں حکم دوں گا کہ اﷲ کی بنائی چیز بگاڑیں گےھ۔
یہی وہ آیہ کریمہ ہے جس کی رو سے حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زنان مذکورہ پر لعنت فرمائی اور اس کی علت یہی خدا کی بنائی چیز بگاڑنی بتائیبعینہ یہی کیفیت داڑھی منڈانے کی ہے۔منہ کے بال نوچنے والیاں تغیر خلق اﷲ کرتی ہیں یوں ہی داڑھی منڈوانے والے تو یہ سب اسی فلیغیرن خلق اﷲ(تو وہ اﷲ تعالی کی بناوٹ میں تبدیلی کرینگے۔ت)میں داخل اور شیطان کے محکوم اور اﷲ ورسول کے ملعون ہیں۔امام جلال الدین سیوطی اکلیل فی استنباط التنزیل میں زیر آیہ کریمہ فرماتے ہیں:
یستدل بالایۃ علی تحریم الخصاء والوشم وما یحری مجراہ من الوصل فی الشعر وبردالاسنان و التنمص وھو نتف الشعر من الوجہ ۔ آیۃ مذکورہ سے استدلال کیاجاتاہے کہ خصی کرنےبدن گودنے اور ان جیسے دیگر اعمال مثلا بال جوڑنےدانتوں میں کشادگی پیدا کرنے اور چہرے کے بال نوچنے کی حرمت پر۔(ت)
تفسیر مدارك شریف میں ہے:
فلیغیرن خلق اﷲ بالخصاء اوالوشم او تغیر الشیب بالسواد والتخنث اھ باختصار۔ اﷲ تعالی کی بنائی ہوئی صورت کو تبدیل کریں گے یعنی خصی کرنےبدن گدوانے سفید بالوں کو سیاہ کرنے اور زنانہ اوصاف اپنانے میں۔(مختصرا عبارت مکمل ہوئی)۔(ت)
شیخ محقق اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث مذکور المغیرات خلق اﷲ(اﷲ کی بناوٹ کو بدلنے والی عورتیں۔ت)فرماتے ہیں:
علت وحرمت مثلہ وحلق لحیہ وامثال آں مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنا اور داڑھی مونڈنے یا منڈوانے
یہی وہ آیہ کریمہ ہے جس کی رو سے حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے زنان مذکورہ پر لعنت فرمائی اور اس کی علت یہی خدا کی بنائی چیز بگاڑنی بتائیبعینہ یہی کیفیت داڑھی منڈانے کی ہے۔منہ کے بال نوچنے والیاں تغیر خلق اﷲ کرتی ہیں یوں ہی داڑھی منڈوانے والے تو یہ سب اسی فلیغیرن خلق اﷲ(تو وہ اﷲ تعالی کی بناوٹ میں تبدیلی کرینگے۔ت)میں داخل اور شیطان کے محکوم اور اﷲ ورسول کے ملعون ہیں۔امام جلال الدین سیوطی اکلیل فی استنباط التنزیل میں زیر آیہ کریمہ فرماتے ہیں:
یستدل بالایۃ علی تحریم الخصاء والوشم وما یحری مجراہ من الوصل فی الشعر وبردالاسنان و التنمص وھو نتف الشعر من الوجہ ۔ آیۃ مذکورہ سے استدلال کیاجاتاہے کہ خصی کرنےبدن گودنے اور ان جیسے دیگر اعمال مثلا بال جوڑنےدانتوں میں کشادگی پیدا کرنے اور چہرے کے بال نوچنے کی حرمت پر۔(ت)
تفسیر مدارك شریف میں ہے:
فلیغیرن خلق اﷲ بالخصاء اوالوشم او تغیر الشیب بالسواد والتخنث اھ باختصار۔ اﷲ تعالی کی بنائی ہوئی صورت کو تبدیل کریں گے یعنی خصی کرنےبدن گدوانے سفید بالوں کو سیاہ کرنے اور زنانہ اوصاف اپنانے میں۔(مختصرا عبارت مکمل ہوئی)۔(ت)
شیخ محقق اشعۃ اللمعات میں زیر حدیث مذکور المغیرات خلق اﷲ(اﷲ کی بناوٹ کو بدلنے والی عورتیں۔ت)فرماتے ہیں:
علت وحرمت مثلہ وحلق لحیہ وامثال آں مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنا اور داڑھی مونڈنے یا منڈوانے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹،۱۱۸،۱۱۷
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت آیۃ ۴/۱۱۹ مکتبہ اسلامیہ میزان مارکیٹ کوئٹہ ص۸۲
مدارك التنزیل(تفسیر نسفی)تحت آیۃ ۴/ ۱۱۹ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۲
الاکلیل فی استنباط التنزیل تحت آیۃ ۴/۱۱۹ مکتبہ اسلامیہ میزان مارکیٹ کوئٹہ ص۸۲
مدارك التنزیل(تفسیر نسفی)تحت آیۃ ۴/ ۱۱۹ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۲۵۲
نیز ہمیں ست ۔ اور اس قسم کے دوسرے کام کرنے کے حرام ہونے کی یہی علت اور سبب ہے۔(ت)
وجہ رابع___ آیت ۶:قال مجدہ:
ذلک ٭ و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾" بات یہ ہے اور جو بڑائی کرے دین الہی کے شعاروں کی تو وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔
آیت ۷:قال عزشانہ:
"یایہا الذین امنوا لا تحلوا شعئر اللہ" اے ایمان ولو! حلال نہ ٹھہرا لو دین خدا کے شعاروں کو۔
شك نہیں کہ داڑھی شعار دین اسلام سے ہے۔امام بدرمحمود عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ختنہ کی نسبت نقل فرماتے ہیں:
انہ شعائر الدین کالکلمۃ وبہ یتمیز المسلم من الکافر ۔ ختنہ کرنا کلمہ شریف کی طرح شعائر اسلام میں سے ہے اس سے مسلمان اور کافر میں باہم امتیاز ہوتاہے۔(ت)
جب ختنہ حالانکہ امر خفی کلمہ طیبہ کے شعائر دین اور وجہ امتیاز مومنین وکافرین قرار پایا یہاں تك کہ مسلمانان ہند نے اس کا نام بھی"مسلمانی"رکھ لیا۔تو داڑھی کہ امر ظاہر ہے اورپہلی نظر اسی پر پڑتی ہے بدرجہ اولی شعائر الاسلام ومابہ الامتیاز کرام ولیام ہے اور بعض کفار کا اس میں شریك ہونا منافی شعاریت اسلام نہیں جس طرح ختنہ کرنے میں یہود شریك مسلمین ہیں خو د نفس آیات کریمہ ہی میں دیکھئے مورد نزول جانوران ہدی میں کہ حرم محترم کو قربانی کے لئے بھیجے جاتے ہیں انھیں شعار دین الہی فرمایا حالانکہ تمام مشرکین عرب اس فعل میں شریك تھے اور جب داڑھی شعار دین ہے اور بے شك یونہی ہے تو بحکم قرآن اس کے ازالہ کو حلال ٹھہرالینا حرام اور اس کی تعظیم تقوی قلوب کا کام۔
وجہ رابع___ آیت ۶:قال مجدہ:
ذلک ٭ و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾" بات یہ ہے اور جو بڑائی کرے دین الہی کے شعاروں کی تو وہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہیں۔
آیت ۷:قال عزشانہ:
"یایہا الذین امنوا لا تحلوا شعئر اللہ" اے ایمان ولو! حلال نہ ٹھہرا لو دین خدا کے شعاروں کو۔
شك نہیں کہ داڑھی شعار دین اسلام سے ہے۔امام بدرمحمود عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ختنہ کی نسبت نقل فرماتے ہیں:
انہ شعائر الدین کالکلمۃ وبہ یتمیز المسلم من الکافر ۔ ختنہ کرنا کلمہ شریف کی طرح شعائر اسلام میں سے ہے اس سے مسلمان اور کافر میں باہم امتیاز ہوتاہے۔(ت)
جب ختنہ حالانکہ امر خفی کلمہ طیبہ کے شعائر دین اور وجہ امتیاز مومنین وکافرین قرار پایا یہاں تك کہ مسلمانان ہند نے اس کا نام بھی"مسلمانی"رکھ لیا۔تو داڑھی کہ امر ظاہر ہے اورپہلی نظر اسی پر پڑتی ہے بدرجہ اولی شعائر الاسلام ومابہ الامتیاز کرام ولیام ہے اور بعض کفار کا اس میں شریك ہونا منافی شعاریت اسلام نہیں جس طرح ختنہ کرنے میں یہود شریك مسلمین ہیں خو د نفس آیات کریمہ ہی میں دیکھئے مورد نزول جانوران ہدی میں کہ حرم محترم کو قربانی کے لئے بھیجے جاتے ہیں انھیں شعار دین الہی فرمایا حالانکہ تمام مشرکین عرب اس فعل میں شریك تھے اور جب داڑھی شعار دین ہے اور بے شك یونہی ہے تو بحکم قرآن اس کے ازالہ کو حلال ٹھہرالینا حرام اور اس کی تعظیم تقوی قلوب کا کام۔
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۲
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۵ /۲
عمدہ القاری شرح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲/ ۴۵
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۵ /۲
عمدہ القاری شرح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲/ ۴۵
وجہ خامس___ آیت ۸:قال عزمجدہ:
" اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابرہیم حنیفا " میں نے تمھاری طرف وحی بھیجی کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کے دین کو اپناؤ(یعنی دین ابراہیمی کی پیروی کرو)جو ہر قسم کے باطل سے الگ تھلگ رہنے والے تھے(ت)
آیت ۹:قال سبحانہ وتعالی:
" قل بل ملۃ ابرہم حنیفا" تم فرماؤ بلکہ ہم ابراہیم کا دین لیتے ہیں۔(ت)
آیت ۱۰:قال جلت الاؤہ(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جس کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں۔ت):
"ومن یرغب عن ملۃ ابرہم الا من سفہ نفسہ" اور ملت ابراہیمی سے کون بے رخی کرسکتا ہے سوا اس کے جس کو اس کے نفس نے بیوقوف بناڈالا ہو۔(ت)
آیت ۱۱:قال توالت نعماءہ(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا بندوں پر جس کے انعامات مسلسل اور لگاتار ہیں):
"قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرہیم و الذین معہ " بے شك تمھارے لئے حضرت ابراہیم اور ان اہل ایمان حضرات کی زندگیوں میں جو ان کے ساتھی تھے۔بہترین اقتداء ہے۔(ت)
آیت ۱۲:قال جل ذکرہ(اﷲ تعالی جس کا ذکر بڑا ہے۔ارشاد فرمایا):
" لقد کان لکم فیہم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ و الیوم الاخر و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۶﴾ " بے شك تمھارے لئے ان میں(یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں میں)بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اﷲ تعالی اور قیامت پریقین رکھتا ہو اور جو کوئی ہمارے حکم سے منہ پھیرے تو بیشك اﷲ تعالی ہی بے پرواہ اور لائق تعریف ہے۔(ت)
ہر ذی علم جانتاہے کہ داڑھی بڑھاناملت ابراہیمی کا مسئلہ شریعت ابراہیمی کا طریقہ ہے اور ان
" اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابرہیم حنیفا " میں نے تمھاری طرف وحی بھیجی کہ جناب ابراہیم علیہ السلام کے دین کو اپناؤ(یعنی دین ابراہیمی کی پیروی کرو)جو ہر قسم کے باطل سے الگ تھلگ رہنے والے تھے(ت)
آیت ۹:قال سبحانہ وتعالی:
" قل بل ملۃ ابرہم حنیفا" تم فرماؤ بلکہ ہم ابراہیم کا دین لیتے ہیں۔(ت)
آیت ۱۰:قال جلت الاؤہ(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جس کی بڑی بڑی نعمتیں ہیں۔ت):
"ومن یرغب عن ملۃ ابرہم الا من سفہ نفسہ" اور ملت ابراہیمی سے کون بے رخی کرسکتا ہے سوا اس کے جس کو اس کے نفس نے بیوقوف بناڈالا ہو۔(ت)
آیت ۱۱:قال توالت نعماءہ(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا بندوں پر جس کے انعامات مسلسل اور لگاتار ہیں):
"قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرہیم و الذین معہ " بے شك تمھارے لئے حضرت ابراہیم اور ان اہل ایمان حضرات کی زندگیوں میں جو ان کے ساتھی تھے۔بہترین اقتداء ہے۔(ت)
آیت ۱۲:قال جل ذکرہ(اﷲ تعالی جس کا ذکر بڑا ہے۔ارشاد فرمایا):
" لقد کان لکم فیہم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ و الیوم الاخر و من یتول فان اللہ ہو الغنی الحمید ﴿۶﴾ " بے شك تمھارے لئے ان میں(یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں میں)بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اﷲ تعالی اور قیامت پریقین رکھتا ہو اور جو کوئی ہمارے حکم سے منہ پھیرے تو بیشك اﷲ تعالی ہی بے پرواہ اور لائق تعریف ہے۔(ت)
ہر ذی علم جانتاہے کہ داڑھی بڑھاناملت ابراہیمی کا مسئلہ شریعت ابراہیمی کا طریقہ ہے اور ان
آیات میں رب جل وعلا نے ہمیں ملت ابراہیم علی ابنہ الکریم وعلیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی اتباع کا حکم دیا اور معاذاﷲ اس سے اعراض کو سخت حماقت اور سفاہت فرمایا اور ان کی رسم وراہ اختیار کرنے کی کمال ترغیب دی اور آخر میں فرمادیا کہ جو ہمارے حکم سے پھرے تواﷲ بے نیاز بے پرواہ ہے اور ہر حال میں اسی کے لئے حمد ہے۔
وجہ سادس ___ آیت ۱۳:قال تقدست اسماؤہ(اﷲ تعالی جس کے اسماء پاك ہیںنے ارشاد فرمایا):
"اولئک الذین ہدی اللہ فبہدىہم اقتدہ " یہ انبیاء وہ ہیں جنھیں اﷲ عزوجل نے راہ دکھائی تو تو انھیں کی راہ کی پیروی کر۔
صدر کلام میں احمد ومسلم و ابوداؤد ونسائی وترمذی وابن ماجہ کی حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے گزری کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ الحدیث۔ دس چیزیں شرائع قدیمہ مستمرہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ہیں ازانجملہ لبیں تر شوانی اور داڑھی بڑھانی۔ الحدیث۔
مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ داڑھی بڑھانی راہ قدیم حضرات رسل علیہم الصلوۃ والتسلیم ہے اور اﷲ عزوجل نے فرمایا کہ راہ انبیاء کی پیروی کرو۔یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ آیہ کریمہ " لاتاخذ بلحیتی " (میری داڑھی نہ پکڑو۔ت)میں لحیہ کا فقط ذکر ہی نہیں بلکہ داڑھی بڑھانے کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ ہارون علیہ الصلوۃ والسلام بھی انبیائے کرام بلکہ بالخصوص ان اٹھارہ رسولوں میں ہیں جن کا نام پاك اس رکوع میں بالتصریح ذکر فرماکر ان کی اقتداء کا حکم ہوا
قال سبحانہ"و من ذریتہ داود و سلیمن و ایوب و یوسف و موسی و ہرون وکذلک نجزی المحسنین ﴿۸۴﴾" ۔ پاك پروردگار نے ارشادفرمایا اور ان کی اولاد میں سے داؤد سلیمانایوبیوسفموسی اور ہارون علیہم السلام ہوئے ہیں یونہی نیکی کرنیوالوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں(ت)
وجہ سادس ___ آیت ۱۳:قال تقدست اسماؤہ(اﷲ تعالی جس کے اسماء پاك ہیںنے ارشاد فرمایا):
"اولئک الذین ہدی اللہ فبہدىہم اقتدہ " یہ انبیاء وہ ہیں جنھیں اﷲ عزوجل نے راہ دکھائی تو تو انھیں کی راہ کی پیروی کر۔
صدر کلام میں احمد ومسلم و ابوداؤد ونسائی وترمذی وابن ماجہ کی حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے گزری کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ الحدیث۔ دس چیزیں شرائع قدیمہ مستمرہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ہیں ازانجملہ لبیں تر شوانی اور داڑھی بڑھانی۔ الحدیث۔
مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ داڑھی بڑھانی راہ قدیم حضرات رسل علیہم الصلوۃ والتسلیم ہے اور اﷲ عزوجل نے فرمایا کہ راہ انبیاء کی پیروی کرو۔یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ آیہ کریمہ " لاتاخذ بلحیتی " (میری داڑھی نہ پکڑو۔ت)میں لحیہ کا فقط ذکر ہی نہیں بلکہ داڑھی بڑھانے کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ ہارون علیہ الصلوۃ والسلام بھی انبیائے کرام بلکہ بالخصوص ان اٹھارہ رسولوں میں ہیں جن کا نام پاك اس رکوع میں بالتصریح ذکر فرماکر ان کی اقتداء کا حکم ہوا
قال سبحانہ"و من ذریتہ داود و سلیمن و ایوب و یوسف و موسی و ہرون وکذلک نجزی المحسنین ﴿۸۴﴾" ۔ پاك پروردگار نے ارشادفرمایا اور ان کی اولاد میں سے داؤد سلیمانایوبیوسفموسی اور ہارون علیہم السلام ہوئے ہیں یونہی نیکی کرنیوالوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۹۰
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸
القرآن الکریم ۲۰ /۹۴
القرآن الکریم ۶ /۸۴
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواك من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸
القرآن الکریم ۲۰ /۹۴
القرآن الکریم ۶ /۸۴
وجہ سابع___ آیت ۱۴:قال جل ثناؤہ(اﷲ تعالی بہت زیادہ تعریف کا حق رکھنے والی ذاتجس کی تعریف بڑی ہے۔نے ارشاد فرمایا):
"ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ " جوخلاف کرے رسول کا حق واضح ہوئے پر اور چلے راہ مسلمانان کے سوا راہ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں اور جہنم میں ڈالیں اور کیا بری پلٹنے کی جگہ۔
مسلم تو مسلم کفار تك جانتے ہیں کہ رو ز ازل سے مسلمانوں کی راہ داڑھی رکھنی ہے۔اہلبیت کرام وصحابہ عظام وائمہ اعلام اور ہر قرن وطبقہ کے اولیائے امت وعلمائے ملت بلکہ قرون خیر میں تمام مسلمان داڑھی رکھتے تھے یہاں تك کہ ازالہ تو ازالہ اگر خلقۃ کسی کی داڑھی نہ نکلتی اس پر سخت تاسف کرتا اور یہ ہر عیب سے بد تر عیب سمجھاجاتا علمائے کرام علامات قیامت میں گناکرتے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ داڑھیاں منڈائیں کتروائیں گے۔اس پیشگوئی کے مطابق یہ داڑھی منڈوں مخرشوں مترشوں کی تراشیں خراشیں کافروں مشرکوں کی دیکھا دیکھی مدتہا مدت کے بعد مسلمانوں میں آئیں وہ بھی رندواوباش وبدوضع لوگوں میںپھر ان میں بھی جو ایمان سے حصہ رکھتے ہیں اب تك اپنی اس حرکت کو مثل اورمعاصی وکبائر کے برا جانتے ہیں اور طریقہ اسلامی سے جدا سمجھتے بلکہ ان میں بعض خوش عقیدہ اپنے معظمین دینی کے سامنے لجاتے انھیں منہ دکھاتے شرماتے ہیں۔الحمدﷲ یہ ان کے ایمان کی بات ہے شامت نفس سے گناہ کریں لیکن اسے گناہ وقبیح جانیں مگر چوری سرزوری والوں سے خدا کی پناہ کہ داڑھی رکھنے پر قہقہے اڑا کر شعار اسلام کے ساتھ نفس اسلام وایمان بھی مونڈ کر پھینك دیں۔امام اجل عارف باﷲ سیدی محمد بن علی بن عباس مکی قدس سرہ الملکی کتاب مستطاب طریق المرید للوصول الی مقام التوحید پھر امام ہمام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
وھذالفظ المکی قال فی ذکر سنن الجسد ذکر ما فی اللحیۃ من المعاصی والبدع المحدثۃ قد ذکر فی بعض الاخبار ان ﷲ تعالی ملئکۃ یقسمون والذی زین یعنی یہ ذکر ہے کہ ان معصیتوں اور نو پیدا بدعتوں کا جولوگوں نے داڑھی میں نکالیں حدیث میں ہے اﷲ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں کہ قسم یوں کھاتے ہیں اس کی قسم جس نے فرزند ان آدم کو داڑھی سے
"ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جہنم وساءت مصیرا﴿۱۱۵﴾ " جوخلاف کرے رسول کا حق واضح ہوئے پر اور چلے راہ مسلمانان کے سوا راہ ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں اور جہنم میں ڈالیں اور کیا بری پلٹنے کی جگہ۔
مسلم تو مسلم کفار تك جانتے ہیں کہ رو ز ازل سے مسلمانوں کی راہ داڑھی رکھنی ہے۔اہلبیت کرام وصحابہ عظام وائمہ اعلام اور ہر قرن وطبقہ کے اولیائے امت وعلمائے ملت بلکہ قرون خیر میں تمام مسلمان داڑھی رکھتے تھے یہاں تك کہ ازالہ تو ازالہ اگر خلقۃ کسی کی داڑھی نہ نکلتی اس پر سخت تاسف کرتا اور یہ ہر عیب سے بد تر عیب سمجھاجاتا علمائے کرام علامات قیامت میں گناکرتے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ داڑھیاں منڈائیں کتروائیں گے۔اس پیشگوئی کے مطابق یہ داڑھی منڈوں مخرشوں مترشوں کی تراشیں خراشیں کافروں مشرکوں کی دیکھا دیکھی مدتہا مدت کے بعد مسلمانوں میں آئیں وہ بھی رندواوباش وبدوضع لوگوں میںپھر ان میں بھی جو ایمان سے حصہ رکھتے ہیں اب تك اپنی اس حرکت کو مثل اورمعاصی وکبائر کے برا جانتے ہیں اور طریقہ اسلامی سے جدا سمجھتے بلکہ ان میں بعض خوش عقیدہ اپنے معظمین دینی کے سامنے لجاتے انھیں منہ دکھاتے شرماتے ہیں۔الحمدﷲ یہ ان کے ایمان کی بات ہے شامت نفس سے گناہ کریں لیکن اسے گناہ وقبیح جانیں مگر چوری سرزوری والوں سے خدا کی پناہ کہ داڑھی رکھنے پر قہقہے اڑا کر شعار اسلام کے ساتھ نفس اسلام وایمان بھی مونڈ کر پھینك دیں۔امام اجل عارف باﷲ سیدی محمد بن علی بن عباس مکی قدس سرہ الملکی کتاب مستطاب طریق المرید للوصول الی مقام التوحید پھر امام ہمام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
وھذالفظ المکی قال فی ذکر سنن الجسد ذکر ما فی اللحیۃ من المعاصی والبدع المحدثۃ قد ذکر فی بعض الاخبار ان ﷲ تعالی ملئکۃ یقسمون والذی زین یعنی یہ ذکر ہے کہ ان معصیتوں اور نو پیدا بدعتوں کا جولوگوں نے داڑھی میں نکالیں حدیث میں ہے اﷲ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں کہ قسم یوں کھاتے ہیں اس کی قسم جس نے فرزند ان آدم کو داڑھی سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۱۵
بنی آدم باللحی وفی وصف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان کث اللحیۃ وکذلك ابوبکر وکان عثمان طویل اللحیۃ دقیقھا وکان علی عریض اللحیۃ قد ملأت مابین منکبیہ ووصف بعض بنی تمیم من رھط الاحنف بن قیس قال(وعبارۃ الاحیاء قال اصحاب الاحنف بن قیس)وددنا انا اشترینا للاحنف اللحیۃ بعشرین الفافلم یذکر حنفہ فی رجلہ ولا عورہ فی عینہ وذکر کراہیۃ عدم لحیتہ وکان عاقلا حلیما وقدروینا من غریب تاویل قولہ تعالی یزید فی الخلق مایشاء قال اللحی وذکر عن شریح القاضی قال(ولفظ الاحیاء قال شریح)وددت لو ان لی لحیۃ بعشرۃ الاف ففی اللحیۃ من خفایا الھوی ودقائق افات النفوس ومن البدع المحدثۃ ثنتا عشرۃ خصلۃ من ذلك النقصان منھا وذلك مثلۃ وذکر عن جماعۃ ان ھذا من اشراط الساعۃ اھ ملخصا۔ زینت بخشیرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حلیہ شریف میں سے ریش مبارك گھنی تھی اور ایسے ہی ابوبکر صدیق وعثمان غنی کی داڑھی دراز وباریك مولی علی کی داڑھی چوڑی سارا سینہ بھرے ہوئے رضی اﷲ تعالی عنہماحنف بن قیس(کہ اکابر ثقات تابعین وعلماء وحکمائے کاملین سے تھے زمانہ رسالت میں پیدا ہوئے ۶۷ھ یا ۷۲ھ میں وفات پائی)عاقل وحلیم تھے(پاؤں میں کج تھا ایك آنکھ جاتی رہی تھی داڑھی خلقۃ نہ نکلی تھی)ان کے اصحاب نہ اس کج پر افسوس کرتے نہ یك چشمی پر بلکہ داڑھی نہ ہونے کی کراہت ذکر کرتے اور کہتے ہمیں تمنا ہے کاش اگر بیس ہزار کو ملتی تو احنف کیلئے داڑھی خریدتے۔اور تفسیروں سے یہ آیۃ یزید فی الخلق مایشاء کی تفسیر میں ہمیں روایت پہنچی کہ اﷲ تبارك وتعالی بڑھاتاہے صورت میں جو چاہے اس سے داڑھی مرا دہے۔ شریح قاضی(کہ اجلہ ائمہ واکابر تابعین سے ہیں زمانہ رسالت میں ولادت پائی بلکہ کہاگیا صحابی ہیں امیر المومنین عمر فاروق پھر امیر المومنین مولی علی کی سرکار میں قاضی تھے امیر المومنین علی فتاوی میں ان سے رائے لیتے ۸۰ہجری سے پہلے یا بعد انتقال ہوا داڑھی خلقۃ نہ تھی)وہ فرماتے کہ مجھے آرزو ہے کہ کاش دس ہزار دے کر داڑھی مل جاتی تو داڑھی میں شیطانی خواہشوں کے خفایا اور نفسانی
حوالہ / References
قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب الفصل السادس والثلاثون دار صادر بیروت ۲/۱۴۲ تا ۱۴۴،احیاء العلوم النوع الثانی فیما یحدث فی البدع الخ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴
آفتوں کے دقائق اور نو پیدا بدعتوں سے بارہ باتیں لوگوں نے ایجاد کی ہیں ازانجملہ داڑھی کم کرنی اور یہ مثلہ یعنی صورت بگاڑنی ہے اور ایك جماعت علماء سے مروی ہواکہ یہ قیامت کی نشانیوں سے ہے۔انتہی۔مدارج شریف میں ہے:
آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پر میکرد سینہ را وہمچنیں لحیہ امیر المومنین عمر وعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ودرحلیہ حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ نوشتہ اند کہ کان طویل اللحیۃ عریضہا ۔ منقول ہے کہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کی داڑھی مبارك ان کے سینہ اقدس کو ڈھانپ دیتی تھی یا ڈھانپے ہوئی تھی۔اور اسی طرح امیر المومنین عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہم کی مبارك داڑھیاں تھیں کہ بڑی اور گنجان ہونے کی وجہ سے ان کے سینوں کو ڈھانپ دیتی تھیں۔ اور حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کے حلیہ مبارك میں تحریر کیا گیا ہے کہ آپ کی ریش مبارك دراز اور چوڑی تھی صلی اﷲ تعالی علی ابیہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم۔(ت)
وجہ ثامن ___ آیت ۱۵۱۶:قال تبارك شانہ فی البقرۃ وفی الانعام(اﷲ تعالی جس کی شان بابرکت ہے۔نے سورۃ بقرہ اور سورۃ انعام میں ارشاد فرمایا):
"ولا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۱۶۸﴾" شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بیشك شیطان وہ تمھارا دشمن ہے۔
آیت ۱۷:قال عزوعلا(اﷲ تعالی غالب اور بزرگ وبرتر ذات نے ارشاد فرمایا):
" یایہا الذین امنوا لا تتبعوا خطوت الشیطن و من یتبع خطوت الشیطن فانہ یامر بالفحشاء و المنکر" اے ایمان والو! شیطان کے رستے پر نہ چلو اور جو شیطان کی راہ چلے تو وہ یہی بے حیائی اور بری بات کاحکم کرتاہے۔
آیت ۱۸:قال عزمن قائل(کہنے والوں پر جو غالب اور حاوی ہے اس نے ارشاد
آوردہ اند کہ لحیہ امیر المومنین علی پر میکرد سینہ را وہمچنیں لحیہ امیر المومنین عمر وعثمان رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ودرحلیہ حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ نوشتہ اند کہ کان طویل اللحیۃ عریضہا ۔ منقول ہے کہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کی داڑھی مبارك ان کے سینہ اقدس کو ڈھانپ دیتی تھی یا ڈھانپے ہوئی تھی۔اور اسی طرح امیر المومنین عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہم کی مبارك داڑھیاں تھیں کہ بڑی اور گنجان ہونے کی وجہ سے ان کے سینوں کو ڈھانپ دیتی تھیں۔ اور حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کے حلیہ مبارك میں تحریر کیا گیا ہے کہ آپ کی ریش مبارك دراز اور چوڑی تھی صلی اﷲ تعالی علی ابیہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم۔(ت)
وجہ ثامن ___ آیت ۱۵۱۶:قال تبارك شانہ فی البقرۃ وفی الانعام(اﷲ تعالی جس کی شان بابرکت ہے۔نے سورۃ بقرہ اور سورۃ انعام میں ارشاد فرمایا):
"ولا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۱۶۸﴾" شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بیشك شیطان وہ تمھارا دشمن ہے۔
آیت ۱۷:قال عزوعلا(اﷲ تعالی غالب اور بزرگ وبرتر ذات نے ارشاد فرمایا):
" یایہا الذین امنوا لا تتبعوا خطوت الشیطن و من یتبع خطوت الشیطن فانہ یامر بالفحشاء و المنکر" اے ایمان والو! شیطان کے رستے پر نہ چلو اور جو شیطان کی راہ چلے تو وہ یہی بے حیائی اور بری بات کاحکم کرتاہے۔
آیت ۱۸:قال عزمن قائل(کہنے والوں پر جو غالب اور حاوی ہے اس نے ارشاد
حوالہ / References
مدارج النبوۃ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۵
القرآن الکریم ۲ /۱۶۸
القرآن الکریم ۲۴ /۲۱
القرآن الکریم ۲ /۱۶۸
القرآن الکریم ۲۴ /۲۱
فرمایا):
"یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾ "
"فان زللتم من بعد ما جاءتکم البینت فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم﴿۲۰۹﴾ ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر و الی اللہ ترجع الامور﴿۲۱۰﴾" اے ایمان والو! پورے اسلام میں داخل ہو اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو یقینا وہ تمھاراصریح بدخواہ ہے پھر اگر اس کی طرف جھکو بعد اس کے کہ تمھارے پاس آچکیں الہی حجتیں توجان رکھو کہ اﷲ زبردست حکمت والا ہے یہ لوگ کس انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئے ان پرعذاب خدا کا بادل کی گھٹائیں اور فرشتے اور ہوجائے ہونیوالی اور اﷲ ہی کی طرف پھرتے ہیں سب کام۔
جلالین میں ہے:
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عظموا السبت وکرھوا الابل بعد الاسلام یا ایھاالذین امنوا ادخلوا فی السلم الاسلام کافۃ حال من السلم ای فی جمیع شرائعہ فان زللتم ملتم عن الدخول فی جمیعہ عزیز لا یعجزہ شیئ عن انتقامہ منکم ھل ینظرون ینتظر التارکون الدخول فیہ قضی الامر تم امر اھلاکھم ۔ یعنی جب حضرت عبداﷲ سلام اور ان کے ساتھی رضی اﷲ تعالی عنہم کہ اکابر علمائے یہود سے تھے مشرف بہ اسلام ہوئے عادت سابقہ کے باعث تعظیم روز شنبہ کا ارادہ کیا اور گوشت شتر کھانے سے کراہت ہوئیرب عزوجل نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے ایمان والو! اسلام لائے ہو تو پورا اسلام لاؤ اسلام کی سب باتیں اختیار کرویہ نہ ہو کہ مسلمان ہو کر کچھ عادتیں کافروں کی رکھواور اگر نہ مانا تو خوب جان لو کہ اﷲ غالب حکمت والا ہے تم پر عذاب لاتے اسے کوئی روك نہیں سکتا پھر فرمایا جو مسلمان ہو کر بعض کفری خصلتیں اختیار کریں وہ کاہے کا انتظار کررہے ہیں یہی ناکہ آسمان سے ان پر عذاب اترے اور ہونے والی ہوچکے یعنی ہلاك وہ تمام کردئے جاہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
"یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾ "
"فان زللتم من بعد ما جاءتکم البینت فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم﴿۲۰۹﴾ ہل ینظرون الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر و الی اللہ ترجع الامور﴿۲۱۰﴾" اے ایمان والو! پورے اسلام میں داخل ہو اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو یقینا وہ تمھاراصریح بدخواہ ہے پھر اگر اس کی طرف جھکو بعد اس کے کہ تمھارے پاس آچکیں الہی حجتیں توجان رکھو کہ اﷲ زبردست حکمت والا ہے یہ لوگ کس انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئے ان پرعذاب خدا کا بادل کی گھٹائیں اور فرشتے اور ہوجائے ہونیوالی اور اﷲ ہی کی طرف پھرتے ہیں سب کام۔
جلالین میں ہے:
نزل فی عبداﷲ بن سلام واصحابہ لما عظموا السبت وکرھوا الابل بعد الاسلام یا ایھاالذین امنوا ادخلوا فی السلم الاسلام کافۃ حال من السلم ای فی جمیع شرائعہ فان زللتم ملتم عن الدخول فی جمیعہ عزیز لا یعجزہ شیئ عن انتقامہ منکم ھل ینظرون ینتظر التارکون الدخول فیہ قضی الامر تم امر اھلاکھم ۔ یعنی جب حضرت عبداﷲ سلام اور ان کے ساتھی رضی اﷲ تعالی عنہم کہ اکابر علمائے یہود سے تھے مشرف بہ اسلام ہوئے عادت سابقہ کے باعث تعظیم روز شنبہ کا ارادہ کیا اور گوشت شتر کھانے سے کراہت ہوئیرب عزوجل نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے ایمان والو! اسلام لائے ہو تو پورا اسلام لاؤ اسلام کی سب باتیں اختیار کرویہ نہ ہو کہ مسلمان ہو کر کچھ عادتیں کافروں کی رکھواور اگر نہ مانا تو خوب جان لو کہ اﷲ غالب حکمت والا ہے تم پر عذاب لاتے اسے کوئی روك نہیں سکتا پھر فرمایا جو مسلمان ہو کر بعض کفری خصلتیں اختیار کریں وہ کاہے کا انتظار کررہے ہیں یہی ناکہ آسمان سے ان پر عذاب اترے اور ہونے والی ہوچکے یعنی ہلاك وہ تمام کردئے جاہیں۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
ان آیات میں رب العزت جلا وعلا نے خصلت کفار اختیار کرنے پر کیسی تہدید اکید و وعید شدید فرمائیاور شك نہیں کہ داڑھی منڈانا کترنا خصلت کفار ہے۔عنقریب بعونہ تعالی بکثرت احادیث معتمدہ سے اس کا بیان آتاہے۔اور خود بیان کی حاجت کیا ہے کہ امر آپ ہی واضح اور نیز تقریرات سابقہ سے لائحاصل میں یہ خصلت ملعونہ مجوس ملا عنہ کی تھی ان سے اور کفار نے سیکھیجب عہد معدلت مہد امیر المومنین غیظ المنافقین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں عجم فتح ہوا اور کسری خبیث کا تخت ہمیشہ کے لئے الٹ دیا گیا۔مجوس منحوس کچھ اسلام لائے کچھ بقبول جزیہ رہے کچھ پریشان وسرگرداں دارالکفر ہندوستان میں آنکلے یہاں کے راجہ نے ان سے تعظیم گاؤ وتحریم مادرودختروخواہر کا عہد لے کر جگہ دی ہنود بے بہبود نے داڑھی منڈانا نوروز ومہرگان بنام ہولی ودیوالی مناناان میں آگ پھیلانا وغیرہ ذلك من الخصال الشنیعہ ان سے اڑایا مجوس ایران کہ مسلمان ہوئے تھے ان میں بہت بد باطن اپنی تباہی ملك و افسر وتاراج مال ودختر کے باعث دلوں میں حضرت امیر المومنین رضی اﷲ تعالی عنہ سے کینہ رکھتے تھے مگر مسلمان کہلا کر اسلام کی عزت وشوکت اسلام کی قوت ودولت اسلام کے تاج ومعراج یعنی امیر المومنین کی شان میں گستاخی کی کیا مجال تھی جب ابن صبا یہودی خبیث نے مذہب رفض ایجاد کیا اور شدہ شدہ یہ ناشدنی مذہب ایرانیوں تك پہنچا ان آتش پرست مغبچوں کی دبی آگ نے موقع پایا کہ اہااسلام میں بھی ایسا مذہب نکلا کہ امیر المومنین پر تبرا کہے اور خاصے مومنین بنے رہئے۔انھوں نے بہزار جان لبیك کہی اور نئے دین کی تاصیل تفریع بڑھ چلیباپ دادا کی قدیم سنتیں اپنا رنگ لائیں۔نوروز منائےداڑھیاں کتروائیںاتیان ادبارواباحت واعارت واجارت فرج کی کیاگنتی نکاح محارم تك منظور رہا مگر پردہ حریر عــــــہ میں مستور رہا۔
عــــــہ: اہلسنت شیعہ رابعضے مسائل قبیحہ طعن میکردند جمعے از علمائے مذہب ایشاں تدبیر دفع بایں صورت کردہ اند کہ از کتب خود آں مسائل محونمودند وکتب قدیمہ رامخفی ساختند مثل لواطت بامملوك وبامادر وخواہر لف حریر ۱۲ تحفہ اثنا عشریہ ملخصا۔ شیعان کے بعض قبیح مسائل پر اہلسنت طعن کرتے ہیں تو ان کے مذہبی علماء کے ایك گروہ نے ان باتوں کے جواب کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ اپنی کتابوں سے ان مسائل کو حذف کردیا (یعنی نکال دیا)اور پرانی کتابوں کو چھپالیا۔اپنے غلام کے ساتھ بدکاری کرناماں بہن کے ساتھ ریشم لپیٹ کر ہمبستری کرنا وغیرہ جیسے مسائل ۱۲ تحفہ اثنا عشریہ کی تلخیص۔
عــــــہ: اہلسنت شیعہ رابعضے مسائل قبیحہ طعن میکردند جمعے از علمائے مذہب ایشاں تدبیر دفع بایں صورت کردہ اند کہ از کتب خود آں مسائل محونمودند وکتب قدیمہ رامخفی ساختند مثل لواطت بامملوك وبامادر وخواہر لف حریر ۱۲ تحفہ اثنا عشریہ ملخصا۔ شیعان کے بعض قبیح مسائل پر اہلسنت طعن کرتے ہیں تو ان کے مذہبی علماء کے ایك گروہ نے ان باتوں کے جواب کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ اپنی کتابوں سے ان مسائل کو حذف کردیا (یعنی نکال دیا)اور پرانی کتابوں کو چھپالیا۔اپنے غلام کے ساتھ بدکاری کرناماں بہن کے ساتھ ریشم لپیٹ کر ہمبستری کرنا وغیرہ جیسے مسائل ۱۲ تحفہ اثنا عشریہ کی تلخیص۔
حوالہ / References
تحفہ اثنا عشریہ باب ثانی کیدسی وپنجم سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۵
ادھر اسلامی فاتحوں کی شیرانہ تاخت نے سیاہان ہند کے منہ سپید کردئے ہزاروں مارے لاکھوں قید کئے یہاں تك کہ ہندو کے معنی ہی غلام ٹھہر گئے۔یہاں کے نو مسلم مسلم تو ہوگئے مگر ہزاروں اپنے آبائی خصال کے پابند رہے۔داڑھیاں منڈائیںبسنت منائیںسادنی کریںچنریاں رنگائیںعورتیں بد لحاظی کے کپڑے پہنیںکنبے بھر کی سب غیریں سامنے آنے کے واسطے نہیں شادیوں میں معاذ اﷲ فحشسالی بہنوئی میں ہنسی کی ریتیہاں تك کہ بہت پوربی اضلاع میں چھوت اور چوکا تك مشہوداور اکثر دیہات میں ہولی دیوالیبلکہ اس سے زائد شیطنت موجودپھر اس عملداری میں شیوع نیچریت بے قیدی شرع آزادی نفس کے لئے سونے میں سہاگہکچھ اتباع فرنگکچھ زنانی امنگ صفائی رخسار کا نصیب جاگا۔لاجرم اس حرکت کے عادیوں کو چند حال سے خالی نہ پائے گا۔نسلا مجوسی یا مذہبا رافضی یا پوربی تہذیب کا دلدادہ نیچری یا جھوٹے متصوفہ یا مبتلائے رفض خفی یا باپ داداہندونومسلم غافل یا ان صحبتوں کا بگڑا آوارہ نیچری بہر حال اس کا مبداومنبع ومرجع وہی خصلت کفار جس سے خدا ناراض رسول بیزارجس پر قرآن عظیم میں وہ سخت وعید وہ قاہر مارآئندہ ماننے نہ ماننے کا ہر شخص مختاروالتوفیق باﷲ العزیز الغفار۔
تنبیہ ہشتم:احادیث میں:
حدیث ۱:امام مالك واحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ وطحاوی حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویحضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالفوا المشرکین احفواا لشوارب واوفروا اللحیۃ ۔ مشرکوں کا خلاف کرو مونچھیں خوب پست اور داڑھیاں کثیرووافر رکھو۔
یہ لفظ صحیحین میں ہے صحیح بخاری کی ایك روایت میں ہے:
انھکوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں مٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
مسلمترمذی ابن ماجہطحاوی کی ایك روایت میں ہے:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ خوب پست کرو ومونچھیں اور چھوڑ رکھو داڑھیاں۔
روایت امام مالك وابی داؤد۔
تنبیہ ہشتم:احادیث میں:
حدیث ۱:امام مالك واحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ وطحاوی حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویحضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خالفوا المشرکین احفواا لشوارب واوفروا اللحیۃ ۔ مشرکوں کا خلاف کرو مونچھیں خوب پست اور داڑھیاں کثیرووافر رکھو۔
یہ لفظ صحیحین میں ہے صحیح بخاری کی ایك روایت میں ہے:
انھکوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں مٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
مسلمترمذی ابن ماجہطحاوی کی ایك روایت میں ہے:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ خوب پست کرو ومونچھیں اور چھوڑ رکھو داڑھیاں۔
روایت امام مالك وابی داؤد۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵،صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰
صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰
اور ایك روایت مسلم وترمذی میں ہے:
ان رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر باحفاء الشوارب واعفا اللحی ۔ بے شك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا مونچھیں خوب پست کرنے اور داڑھیاں معاف رکھنے کا۔
حدیث ۲:احمد مسندمسلم صحیحطحاوی آثارابن عدی کاملطبرانی اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جزوا الشوارب وارخوااللحی خالفوا المجوس ۔ مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھنے دوآتش پرستوں کا خلاف کرو۔
امام احمد کی روایت میں ہے:
قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
طبرانی کی روایت میں ہے:
وفرواللحی وخذوا من الشوارب ۔ کثیر کرو داڑھیاں اور مونچھوں میں سے لو۔
دوسری روایت میں زائد کیا۔
وانتفوا الابط وقصوا الاظافیر ۔ اور بغلوں کے بال اکھاڑو اور ناخن کاٹو۔
ابن عدی کی روایت ہے:
واعفوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں خوب کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
اور ایك روایت مسلم وترمذی میں ہے:
ان رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر باحفاء الشوارب واعفا اللحی ۔ بے شك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا مونچھیں خوب پست کرنے اور داڑھیاں معاف رکھنے کا۔
حدیث ۲:احمد مسندمسلم صحیحطحاوی آثارابن عدی کاملطبرانی اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جزوا الشوارب وارخوااللحی خالفوا المجوس ۔ مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھنے دوآتش پرستوں کا خلاف کرو۔
امام احمد کی روایت میں ہے:
قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
طبرانی کی روایت میں ہے:
وفرواللحی وخذوا من الشوارب ۔ کثیر کرو داڑھیاں اور مونچھوں میں سے لو۔
دوسری روایت میں زائد کیا۔
وانتفوا الابط وقصوا الاظافیر ۔ اور بغلوں کے بال اکھاڑو اور ناخن کاٹو۔
ابن عدی کی روایت ہے:
واعفوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں خوب کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
ان رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر باحفاء الشوارب واعفا اللحی ۔ بے شك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا مونچھیں خوب پست کرنے اور داڑھیاں معاف رکھنے کا۔
حدیث ۲:احمد مسندمسلم صحیحطحاوی آثارابن عدی کاملطبرانی اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جزوا الشوارب وارخوااللحی خالفوا المجوس ۔ مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھنے دوآتش پرستوں کا خلاف کرو۔
امام احمد کی روایت میں ہے:
قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
طبرانی کی روایت میں ہے:
وفرواللحی وخذوا من الشوارب ۔ کثیر کرو داڑھیاں اور مونچھوں میں سے لو۔
دوسری روایت میں زائد کیا۔
وانتفوا الابط وقصوا الاظافیر ۔ اور بغلوں کے بال اکھاڑو اور ناخن کاٹو۔
ابن عدی کی روایت ہے:
واعفوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں خوب کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
اور ایك روایت مسلم وترمذی میں ہے:
ان رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امر باحفاء الشوارب واعفا اللحی ۔ بے شك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا مونچھیں خوب پست کرنے اور داڑھیاں معاف رکھنے کا۔
حدیث ۲:احمد مسندمسلم صحیحطحاوی آثارابن عدی کاملطبرانی اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جزوا الشوارب وارخوااللحی خالفوا المجوس ۔ مونچھیں کتراؤ اور داڑھیاں بڑھنے دوآتش پرستوں کا خلاف کرو۔
امام احمد کی روایت میں ہے:
قصوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں ترشواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
طبرانی کی روایت میں ہے:
وفرواللحی وخذوا من الشوارب ۔ کثیر کرو داڑھیاں اور مونچھوں میں سے لو۔
دوسری روایت میں زائد کیا۔
وانتفوا الابط وقصوا الاظافیر ۔ اور بغلوں کے بال اکھاڑو اور ناخن کاٹو۔
ابن عدی کی روایت ہے:
واعفوا الشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں خوب کٹاؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارت باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی اعفاء اللحیۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰،سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذالشارب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۱
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۶۲
مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۲۹
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۵۰۵۸ المکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۲۹
کنز العمال بحوالہ طس عن ابی ہریرہ حدیث ۱۷۲۴۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۵۶
الکامل لابن عدی ترجمہ حفص بن واقد بصری دارالفکر بیروت ۲/ ۷۹۹
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۶۲
مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۲۹
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۵۰۵۸ المکتبۃ المعارف ریاض ۶/ ۲۹
کنز العمال بحوالہ طس عن ابی ہریرہ حدیث ۱۷۲۴۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۵۶
الکامل لابن عدی ترجمہ حفص بن واقد بصری دارالفکر بیروت ۲/ ۷۹۹
حدیث ۳:امام ابوجعفر طحاوی شرح معانی الآثار میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولا تشبھوا بالیھود ۔ مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیوں کو معافی دو۔یہودیوں کی سی صورت نہ بنو۔
حدیث ۴:امام احمد مسندطبرانی کبیربیہقی شعب الایمان ضیاصحیح مختارہ ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب ۔ مونچھیں کترواؤ اور داڑھیوں کو کثرت دو۔یہودونصاری کا خلاف کرو۔
حدیث ۵:طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اوفوا اللحی وقصوا الشوارب ۔ پوری کرو داڑھیاں اور تراشو مونچھیں۔
حدیث ۶:ابن حبان صحیح میں اور طبرانی اور بیہقی میمون بن مہران سے راوی۔حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا:
ذکر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المجوس فقال انھم یوفرون سبالھم ویحلقون لحاھم فخالفوھم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مجوسیوں کا ذکر فرمایا وہ اپنی لبیں بڑھاتے اور داڑھیاں مونڈتے ہیں تم ان کا خلاف کرو۔
حدیث ۷:ابن عدی کامل۔بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداﷲ بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احفواالشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں خوب بڑھاؤ۔
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولا تشبھوا بالیھود ۔ مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیوں کو معافی دو۔یہودیوں کی سی صورت نہ بنو۔
حدیث ۴:امام احمد مسندطبرانی کبیربیہقی شعب الایمان ضیاصحیح مختارہ ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قصوا سبالکم ووفروا عثانینکم وخالفوا اھل الکتاب ۔ مونچھیں کترواؤ اور داڑھیوں کو کثرت دو۔یہودونصاری کا خلاف کرو۔
حدیث ۵:طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اوفوا اللحی وقصوا الشوارب ۔ پوری کرو داڑھیاں اور تراشو مونچھیں۔
حدیث ۶:ابن حبان صحیح میں اور طبرانی اور بیہقی میمون بن مہران سے راوی۔حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا:
ذکر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المجوس فقال انھم یوفرون سبالھم ویحلقون لحاھم فخالفوھم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مجوسیوں کا ذکر فرمایا وہ اپنی لبیں بڑھاتے اور داڑھیاں مونڈتے ہیں تم ان کا خلاف کرو۔
حدیث ۷:ابن عدی کامل۔بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداﷲ بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احفواالشوارب واعفوا اللحی ۔ مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیاں خوب بڑھاؤ۔
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب حلق الشارب ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۶۷
مسند احمد بن حنبل عن ابی امامہ بیروت ۵/۲۶۵ وشعب الایمان حدیث ۶۴۰۵ بیروت ۵/ ۲۱۴
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۳۳۵ و ۱۱۷۲۴ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۱۵۲ و ۲۷۷
السنن الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب کیف الاخذ من الشارب دارصادر بیروت ۱/ ۱۵۱
شعب الایمان حدیث ۶۴۳۰ ۵/ ۲۱۹ و الکامل لابن عدی ترجمہ حفص بن واقد بصری ۲/ ۷۹۹
مسند احمد بن حنبل عن ابی امامہ بیروت ۵/۲۶۵ وشعب الایمان حدیث ۶۴۰۵ بیروت ۵/ ۲۱۴
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۳۳۵ و ۱۱۷۲۴ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۱۵۲ و ۲۷۷
السنن الکبرٰی کتاب الطہارۃ باب کیف الاخذ من الشارب دارصادر بیروت ۱/ ۱۵۱
شعب الایمان حدیث ۶۴۳۰ ۵/ ۲۱۹ و الکامل لابن عدی ترجمہ حفص بن واقد بصری ۲/ ۷۹۹
حدیث ۸:ابوعبید اﷲ محمد بن مخلد دوری اپنے جزء حدیثی میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
خذوا من عرض لحاکم واعفوا طولھا ۔ داڑھیوں کے عرض سے لو اور ان کے طول کو معاف رکھو
حدیث ۹:خطیب بغدادی ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایاخذن احدکم من طول لحیتہ ۔ ہر گز کوئی شخص اپنی داڑھی کے طول سے کم نہ کرے۔
حدیث ۱۰:ابن سعد طبقات میں عبداﷲ بن عبداﷲ سے مرسلا راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لکن ربی امرنی ان احفی شاربی واعفی لحیتی ۔ مگر مجھے میرے رب نے حکم فرمایا کہ میں اپنی لبیں پست کروں اور داڑھی بڑھاؤں۔
اس حدیث کا واقعہ وہ ہے جو کتاب الخمیس فی احوال الانفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے کہ جب حضور پر نور سیدیوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہدایت اسلام کے فرامین بنام سلاطین جہاں نافذ فرمائے قیصر ملك روم نے تصدیق نبوت کی مگر بجہت دنیا اسلام نہ لایا مقوقش بادشاہ مصر نے شقہ والا کی کمال تعظیم کی اور ہدایا حاضر بارگاہ رسالت کئے سگ ایران خسرو پرویز قتلہ اﷲ نے فرمان اقدس چاك کردیا اور باذان صوبہ یمن کو لکھا دو۲ مضبوط آدمی بھیج کر انھیں یہاں بلائے۔باذان نے اپنے داروغہ بانویہ اور ایك پارسی خرخسرہ نامی کو مدینہ طیبہ روانہ کیا۔
انھما حین دخلا علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانا قد حلق لحاھما واعفیا شواربھما فکرہ النظر الیھما یہ دونوں جب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے داڑھیاں منڈائے اور مونچھیں بڑھائے ہوئے تھے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کی طرف
خذوا من عرض لحاکم واعفوا طولھا ۔ داڑھیوں کے عرض سے لو اور ان کے طول کو معاف رکھو
حدیث ۹:خطیب بغدادی ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایاخذن احدکم من طول لحیتہ ۔ ہر گز کوئی شخص اپنی داڑھی کے طول سے کم نہ کرے۔
حدیث ۱۰:ابن سعد طبقات میں عبداﷲ بن عبداﷲ سے مرسلا راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لکن ربی امرنی ان احفی شاربی واعفی لحیتی ۔ مگر مجھے میرے رب نے حکم فرمایا کہ میں اپنی لبیں پست کروں اور داڑھی بڑھاؤں۔
اس حدیث کا واقعہ وہ ہے جو کتاب الخمیس فی احوال الانفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے کہ جب حضور پر نور سیدیوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہدایت اسلام کے فرامین بنام سلاطین جہاں نافذ فرمائے قیصر ملك روم نے تصدیق نبوت کی مگر بجہت دنیا اسلام نہ لایا مقوقش بادشاہ مصر نے شقہ والا کی کمال تعظیم کی اور ہدایا حاضر بارگاہ رسالت کئے سگ ایران خسرو پرویز قتلہ اﷲ نے فرمان اقدس چاك کردیا اور باذان صوبہ یمن کو لکھا دو۲ مضبوط آدمی بھیج کر انھیں یہاں بلائے۔باذان نے اپنے داروغہ بانویہ اور ایك پارسی خرخسرہ نامی کو مدینہ طیبہ روانہ کیا۔
انھما حین دخلا علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانا قد حلق لحاھما واعفیا شواربھما فکرہ النظر الیھما یہ دونوں جب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے داڑھیاں منڈائے اور مونچھیں بڑھائے ہوئے تھے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ان کی طرف
حوالہ / References
کنز العمال حدیث ۱۷۲۲۵ بحوالہ ابی عبداﷲ محمد بن مخلد فی جزئہ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۵۳
تاریخ بغداد ترجمہ ۲۶۴۱ احمد بن الولید دارالکتب العلمیہ بیروت ۵/ ۱۸۷
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اخذ الرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من شاربہ دارصادر بیروت ۱/ ۴۴۹
تاریخ بغداد ترجمہ ۲۶۴۱ احمد بن الولید دارالکتب العلمیہ بیروت ۵/ ۱۸۷
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اخذ الرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من شاربہ دارصادر بیروت ۱/ ۴۴۹
وقال ویلکما من امرکما بھذا قالا ربنا یعنیان کسری فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکن ربی امرنی باعفاء لحیتی وقص شواربی ۔ نظر فرماتے کراہت آئی اور فرمایا خرابی ہو تمھارے لئے کس نے تمھیں اس کاحکم دیا۔وہ بولے ہمارے رب یعنی خسرو پرویز خبیث نے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مگر مجھے میرے رب نے داڑھی بڑھانے اور لبیں تراشنے کا حکم فرمایا۔
مسلمان اس حدیث کو یاد رکھیں کہ بانویہ خرخسرہ اس وقت تك نہ اسلام لائے تھے نہ احکام اسلام سے آگاہ تھے ان کی یہ وضع دیکھ کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی صورت دیکھنے سے کراہت کی تو جو مسلمان احکام حضور جان بوجھ کر مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خلاف مجوسیوں کے موافق ایسی گندی صورت بنائے وہ کس قدر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کراہیت وبیزاری کا باعث ہوگا۔آدمی جس حال پر مرتا ہے اسی حال پر اٹھتا ہے۔اگر روزقیامت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ مجوس کی صورت دیکھ کر نگاہ فرمانے سے کراہیت فرمائی تو یقین جان کہ تیرا ٹھکاناکہیں نہ رہامسلمان کی پناہاماننجاترستگاری جو کچھ ہے ان کی نظر رحمت میں ہےاﷲ کی پناہ اس بری گھڑی سے کہ وہ نظر فرماتے کراہیت لائیں۔والعیاذ باﷲ ارحم الراحمیناس کے بعد حدیث میں معجزہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ظہور خسرو پرویز مردود کا ہلاك باذان وبانویہ وخرخسرہ و غیرہم بہت اہل یمن کا مشرف باسلام ہونا مذکو رہے۔رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
حدیث ۱۱:سنن نسائی شریف میں ہے:
اخبرنا محمد بن سلمۃ(ثقۃ ثبت)ثنا ابن وہب(ثقۃ حافظ عابد)عن حیوۃ بن شریح(ثقۃ ثبت فقیہ زاھد)وذکر اخرقبلہ عن عیاش بن عباس(القتبانی ثقۃ)ان شییم محمد بن سلمہ نے ہم کو بتایا اور وہ معتبر اور عادل راوی ہے۔ابن وہب نے ہم سے بیان کیا وہ مستندحافظ اور عبادت گزار راوی ہے اس نے حیوۃ ابن شریح سے روایت کی جبکہ وہ معتبرعادلفقیہ اور زاہد یعنی دنیا سے بے رغبتی کرنے والا راوی ہے۔دوسروں نے اسے عیاش بن عباس سے پہلے ذکر کیا ہے۔یہ
مسلمان اس حدیث کو یاد رکھیں کہ بانویہ خرخسرہ اس وقت تك نہ اسلام لائے تھے نہ احکام اسلام سے آگاہ تھے ان کی یہ وضع دیکھ کر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی صورت دیکھنے سے کراہت کی تو جو مسلمان احکام حضور جان بوجھ کر مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خلاف مجوسیوں کے موافق ایسی گندی صورت بنائے وہ کس قدر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی کراہیت وبیزاری کا باعث ہوگا۔آدمی جس حال پر مرتا ہے اسی حال پر اٹھتا ہے۔اگر روزقیامت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ مجوس کی صورت دیکھ کر نگاہ فرمانے سے کراہیت فرمائی تو یقین جان کہ تیرا ٹھکاناکہیں نہ رہامسلمان کی پناہاماننجاترستگاری جو کچھ ہے ان کی نظر رحمت میں ہےاﷲ کی پناہ اس بری گھڑی سے کہ وہ نظر فرماتے کراہیت لائیں۔والعیاذ باﷲ ارحم الراحمیناس کے بعد حدیث میں معجزہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ظہور خسرو پرویز مردود کا ہلاك باذان وبانویہ وخرخسرہ و غیرہم بہت اہل یمن کا مشرف باسلام ہونا مذکو رہے۔رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
حدیث ۱۱:سنن نسائی شریف میں ہے:
اخبرنا محمد بن سلمۃ(ثقۃ ثبت)ثنا ابن وہب(ثقۃ حافظ عابد)عن حیوۃ بن شریح(ثقۃ ثبت فقیہ زاھد)وذکر اخرقبلہ عن عیاش بن عباس(القتبانی ثقۃ)ان شییم محمد بن سلمہ نے ہم کو بتایا اور وہ معتبر اور عادل راوی ہے۔ابن وہب نے ہم سے بیان کیا وہ مستندحافظ اور عبادت گزار راوی ہے اس نے حیوۃ ابن شریح سے روایت کی جبکہ وہ معتبرعادلفقیہ اور زاہد یعنی دنیا سے بے رغبتی کرنے والا راوی ہے۔دوسروں نے اسے عیاش بن عباس سے پہلے ذکر کیا ہے۔یہ
حوالہ / References
تاریخ الخمیس کتاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی کسرٰی مؤسسۃ شعبان بیروت ۲/ ۳۵
بن بیتان(القتبانی ثقۃ)حدثہ انہ سمع رویفع بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ یقول ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال یا رویفع لعل الحیاۃ ستطول بك بعدی فاخبر الناس انہ من عقد لحیتہ اوتقلد وترااواستنجی برجیع دابۃ او عظم فان محمدابرئ منہ ۔ القتبانی ہے جو معتبر و مستند آدمی ہے شییم بن بیتان القتبانی مستند ومعتبر راوی ہے اس نے بتایا کہ اس نے رویفع بن ثابت کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ت)یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت رویفع بن ثابت رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:اے رویفع! میں امید کرتاہوں کہ تو میرے بعد عمردراز پائے تو لوگوں کو خبر دینا کہ جو اپنی داڑھی باندھے یا کمان کاچلا گلے میں لٹکائے یا کسی جانور کی لیدگوبر یا ہڈی سے استنجاء کرے تو بے شك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس سے بیزار ہے۔
حدیث ۱۲:سنن ابی داؤد شریف میں اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا:
حدثنا یزید بن خالد(ثقۃ)نامفضل(ھو ابن فضالۃ المصری ثقۃ فاضل عابد)عن عیاش(ذاك ابن عباس الثقۃ)ان شییم بن بیتان اخبرہ بھذا الحدیث ایضا عن ابی سالم الجیشا نی(سفین بن ھانی محضرم وقیل لہ صحبتہ)عن عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما یذکر ذلك وھو معہ مرابط بحصن باب الیون ۔ یزید بن خالد نے ہم سے بیان کیا اور وہ معتبر و مستند راوی ہے۔مفضل(جو فضالہ مصری کے بیٹے معتبرفاضل اور عابد ہیں)نے ہم سے بیان کیا اس نے عیاش(وہ ابن عباس اور ثقہ ہے)سے شییم بن بیتان نے اسے یہ حدیث ابوسالم جیشانی کے حوالے سے بتائی(یعنی سفیان بن ہانی محضرم۔یہ بھی کہاگیا کہ اس کے لئے شرف صحبت ثابت ہے)اس نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ وہ یہ حدیث بیان فرماتے تھے جبکہ یہ ان کے ساتھ"باب الیون"کے قلعہ میں قید تھا۔(ت)
حدیث ۱۲:سنن ابی داؤد شریف میں اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا:
حدثنا یزید بن خالد(ثقۃ)نامفضل(ھو ابن فضالۃ المصری ثقۃ فاضل عابد)عن عیاش(ذاك ابن عباس الثقۃ)ان شییم بن بیتان اخبرہ بھذا الحدیث ایضا عن ابی سالم الجیشا نی(سفین بن ھانی محضرم وقیل لہ صحبتہ)عن عبداﷲ بن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما یذکر ذلك وھو معہ مرابط بحصن باب الیون ۔ یزید بن خالد نے ہم سے بیان کیا اور وہ معتبر و مستند راوی ہے۔مفضل(جو فضالہ مصری کے بیٹے معتبرفاضل اور عابد ہیں)نے ہم سے بیان کیا اس نے عیاش(وہ ابن عباس اور ثقہ ہے)سے شییم بن بیتان نے اسے یہ حدیث ابوسالم جیشانی کے حوالے سے بتائی(یعنی سفیان بن ہانی محضرم۔یہ بھی کہاگیا کہ اس کے لئے شرف صحبت ثابت ہے)اس نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی کہ وہ یہ حدیث بیان فرماتے تھے جبکہ یہ ان کے ساتھ"باب الیون"کے قلعہ میں قید تھا۔(ت)
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الزینۃ من السنن باب عقد اللحیۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۷۷۔۲۷۶
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب ماینہٰی عنہ ان یستنجی بہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب ماینہٰی عنہ ان یستنجی بہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶
یعنی اس طرح یہ حدیث حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حضرت عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالی عنہما نے روایت فرمائیحضرت شیخ محقق ومولانا عبدالحق محدث دہلوی لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں:
عقد لحیتہ الاکثرون علی ان المراد تجعید اللحیۃ بالمعالجۃ وانما کرہ ذلك لانہ فعل من لیس من اھل الدین وتشبہ بھم وقیل کانوا یعقدون فی الحروب فی زمن الجاھلیۃ تکبراو تعجبافامروا بارسالھا وذلك من فعل الاعاجم وقال التورپشتی یقتلونھا کذا فی مجمع البحار والاول ھو الوجہ اھ مختصرا۔ داڑھی باندھنے سے مراد اکثر اہل علم کے نزدیك کسی دوا وغیرہ سے اسے پیوست کرنا یا جوڑنا ہے اور اسے بایں وجہ ناپسند فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا فعل ہے اور طریقہ ہے جو دیندار نہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرنی ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت کے ایام گرمامیں ازراہ تکبر وعجب اپنی داڑھیوں کو باندھ دیا کرتے تھے اس لئے انھیں داڑھیاں کھلی اور آزاد چھوڑے رکھنے کا حکم دیا گیا اور یہ عجمیوں کی روش تھی اور طریقہ تھا اور علامہ تو رپشتی نے فرمایا لوگ ان کو مثل فتیلہ کے بٹ دیا کرتے تھے یونہی مجمع البحار میں مذکور ہے۔ اور پہلا قول ہی اصل سبب اور وجہ ہے عبارت مختصر مکمل ہوئی)۔(ت)
علامہ طیبی حاشیہ مشکوۃ پھر علامہ طاہر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:
عقد ای جعدھا بالمعالجۃ ونھی عنہ لما فیہ من التشبہ بمن فعلہ من الکفرۃ ۔ یعنی داڑھی باندھنے سے مراد اس کا مجعد ومرغول بنانا ہے کہ یہ کافروں کا فعل ہے اور اس میں ان سے تشبہ ہے۔
داڑھی چڑھانے والے حضرات کو ڈھانے باندھ باندھ کر داڑھی مجعد ومرغول کرتے اور متکبر ٹھاکروں جاٹوں کی صورت بنتے ہیں ان صحیح حدیثوں کو جن کے ہر ہر راوی کی ثقاہت وعدالت ہم نے تقریب التہذیب امام خاتم الحفاظ ابن حجر سے نقل کردی یادرکھیں اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بیزاری و بے علاقگی کو ہلکا نہ جانیں اور داڑھی منڈانے کترنے والے زیادہ سخت عذاب وآفت کے منتظر رہیں جب داڑھی باقی رکھ کر اس کی صفت وہیئت میں کافروں سے تشبہ اس درجہ باعث بیزاری محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوا تو سرے سے داڑھی قطع یاحلق کردینا اور پورے پورے مجوسیوں مچھندروں کی صورت
عقد لحیتہ الاکثرون علی ان المراد تجعید اللحیۃ بالمعالجۃ وانما کرہ ذلك لانہ فعل من لیس من اھل الدین وتشبہ بھم وقیل کانوا یعقدون فی الحروب فی زمن الجاھلیۃ تکبراو تعجبافامروا بارسالھا وذلك من فعل الاعاجم وقال التورپشتی یقتلونھا کذا فی مجمع البحار والاول ھو الوجہ اھ مختصرا۔ داڑھی باندھنے سے مراد اکثر اہل علم کے نزدیك کسی دوا وغیرہ سے اسے پیوست کرنا یا جوڑنا ہے اور اسے بایں وجہ ناپسند فرمایا کہ یہ ان لوگوں کا فعل ہے اور طریقہ ہے جو دیندار نہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرنی ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت کے ایام گرمامیں ازراہ تکبر وعجب اپنی داڑھیوں کو باندھ دیا کرتے تھے اس لئے انھیں داڑھیاں کھلی اور آزاد چھوڑے رکھنے کا حکم دیا گیا اور یہ عجمیوں کی روش تھی اور طریقہ تھا اور علامہ تو رپشتی نے فرمایا لوگ ان کو مثل فتیلہ کے بٹ دیا کرتے تھے یونہی مجمع البحار میں مذکور ہے۔ اور پہلا قول ہی اصل سبب اور وجہ ہے عبارت مختصر مکمل ہوئی)۔(ت)
علامہ طیبی حاشیہ مشکوۃ پھر علامہ طاہر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:
عقد ای جعدھا بالمعالجۃ ونھی عنہ لما فیہ من التشبہ بمن فعلہ من الکفرۃ ۔ یعنی داڑھی باندھنے سے مراد اس کا مجعد ومرغول بنانا ہے کہ یہ کافروں کا فعل ہے اور اس میں ان سے تشبہ ہے۔
داڑھی چڑھانے والے حضرات کو ڈھانے باندھ باندھ کر داڑھی مجعد ومرغول کرتے اور متکبر ٹھاکروں جاٹوں کی صورت بنتے ہیں ان صحیح حدیثوں کو جن کے ہر ہر راوی کی ثقاہت وعدالت ہم نے تقریب التہذیب امام خاتم الحفاظ ابن حجر سے نقل کردی یادرکھیں اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بیزاری و بے علاقگی کو ہلکا نہ جانیں اور داڑھی منڈانے کترنے والے زیادہ سخت عذاب وآفت کے منتظر رہیں جب داڑھی باقی رکھ کر اس کی صفت وہیئت میں کافروں سے تشبہ اس درجہ باعث بیزاری محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوا تو سرے سے داڑھی قطع یاحلق کردینا اور پورے پورے مجوسیوں مچھندروں کی صورت
حوالہ / References
لمعات التنقیح فی شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب آداب الخلا الفصل الثانی مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۵۰
مجمع بحار الانوار با ب العین مع القاف(عقد) مکتبہ دارالایمان ریاض ۳/ ۶۴۰
مجمع بحار الانوار با ب العین مع القاف(عقد) مکتبہ دارالایمان ریاض ۳/ ۶۴۰
بننا جس قدر موجب غضب وناراضی واحد قہار ورسول کردگار جل وجلالہ وصلی اﷲ تعالی وسلم ہوبجاہے۔
الآثار:حدیث ۱۳ و ۱۴:امام ابوطالب مکی قوت القلوب اور امام حکیم الامہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
رد عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ وابن ابی لیلی قاضی المدینۃ شھادۃ من کان ینتف لحیتہ ۔ یعنی امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ و عبدالرحمن بن ابی لیلی قاضی مدینہ طیبہ(کہ اکابر ائمہ تابعین واجلہ تلامذہ امیر المومنین عثمان غنی و امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہیں ان دونوں ائمہ ہدی نے)داڑھی چننے والے کی گواہی رد فرمادی۔
حدیث ۱۵:یہی دونوں امام مکی وغزالی فرماتے ہیں:
شھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز بشھادۃ وکان ینتف فینکیہ فرد شھادتہ ۔ ایك شخص نے سادس خلفاء راشدین امیر المومنین عمر بن عبد العزیز رضی اﷲ تعالی عنہ کے یہاں کسی معاملہ میں گواہی دی اور وہ اپنی داڑھی کا ایك خفیف حصہ جسے کوٹھے کہتے ہیں چناکر تاتھا امیر المومنین نے اس کی شہادت رد فرمادی۔
حدیث ۱۶ و ۱۷:امام محمد بن ابی الحسین علی مکی دقائق الطریقہ میں حضرت کعب احباروابی الجلد(جیلان بن فرادہ اسدی)رحمہم اﷲ تعالی سے ذکرفرماتے ہیں:
یکون فی اخر الزمان اقوام یقصون لحاھم اولئك لاخلاق لھم ۔ آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ داڑھیاں کتریں گے وہ نرے بے نصیب ہیں یعنی ان کے لئے دین میں حصہ نہیں آخر ت میں بہرہ نہیں والعیا ذ باﷲ رب العالمین(ہذا مختصر)
تنبیہ نہم:نصوص ائمہ کرام وعلمائے اعلام میں:
نص ۱ تا ۵:امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیر پھر علامہ زین بن نجیم
الآثار:حدیث ۱۳ و ۱۴:امام ابوطالب مکی قوت القلوب اور امام حکیم الامہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
رد عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ وابن ابی لیلی قاضی المدینۃ شھادۃ من کان ینتف لحیتہ ۔ یعنی امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ و عبدالرحمن بن ابی لیلی قاضی مدینہ طیبہ(کہ اکابر ائمہ تابعین واجلہ تلامذہ امیر المومنین عثمان غنی و امیر المومنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہیں ان دونوں ائمہ ہدی نے)داڑھی چننے والے کی گواہی رد فرمادی۔
حدیث ۱۵:یہی دونوں امام مکی وغزالی فرماتے ہیں:
شھد رجل عند عمر بن عبدالعزیز بشھادۃ وکان ینتف فینکیہ فرد شھادتہ ۔ ایك شخص نے سادس خلفاء راشدین امیر المومنین عمر بن عبد العزیز رضی اﷲ تعالی عنہ کے یہاں کسی معاملہ میں گواہی دی اور وہ اپنی داڑھی کا ایك خفیف حصہ جسے کوٹھے کہتے ہیں چناکر تاتھا امیر المومنین نے اس کی شہادت رد فرمادی۔
حدیث ۱۶ و ۱۷:امام محمد بن ابی الحسین علی مکی دقائق الطریقہ میں حضرت کعب احباروابی الجلد(جیلان بن فرادہ اسدی)رحمہم اﷲ تعالی سے ذکرفرماتے ہیں:
یکون فی اخر الزمان اقوام یقصون لحاھم اولئك لاخلاق لھم ۔ آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ داڑھیاں کتریں گے وہ نرے بے نصیب ہیں یعنی ان کے لئے دین میں حصہ نہیں آخر ت میں بہرہ نہیں والعیا ذ باﷲ رب العالمین(ہذا مختصر)
تنبیہ نہم:نصوص ائمہ کرام وعلمائے اعلام میں:
نص ۱ تا ۵:امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام فتح القدیر پھر علامہ زین بن نجیم
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴
احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴
احیاء العلوم عن کعب الاحبار النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۵
احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۴
احیاء العلوم عن کعب الاحبار النوع الثانی فصل فی اللحیۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۱۴۵
مصری بحرالرائق پھر علامہ ابوالاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکامپھر علامہ مدقق محمد بن علی دمشقی درمختار پھر علامہ سیدی احمد مصری حاشیہ مراقی الفلاح سب علماء کتاب الصوم میں فرماتے ہیں:
المعنی للکل واللفظ للحاشیۃ الدروالغرر الاخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما فعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل مجوس الاعاجم والیھود والھنود بعض اجناس الافرنج ۔ (مفہوم سب کا ایك ہے البتہ الفاظ حاشیہ الدرروالغرر کے ہیں) یعنی جب داڑھی ایك مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیك حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔
نص ۶ تا ۱۲:امام برہان الملۃ والدین فرغانی ہدایہ پھر امام زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق پھر علامہ نجم الدین طوری تکملہ بحرالرائق پھر علامہ شرنبلالی غنیہ پھر سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین حاشیہ کنز پھر علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ تنویر پھر علامہ سیدی محمد امین افندی ردالمحتار علی الدرالمختار سب علماء کتاب الجنایات مسئلہ جنایت بحلق لحیہ میں فرماتے ہیں:
یؤدب علی ذلك لارتکابہ المحرم(ھذا ھو الکل الا الطرفین فلفظھما)یؤدب علی ارتکاب مالایحل ۔ داڑھی مونڈنے والے کو سزادی جائے کہ وہ فعل حرام کا مرتکب ہوا(یہ سب کے الفاظ ہیں سوائے طرفین کے پس ان کے الفاظ یہ ہیں اسے ایسے کام کے کرنے پر سزادی جائے جوحلال نہیں۔ت)
نص ۱۳ تا ۱۷:علامہ تورپشتی مصابیح پھر علامہ طیبی شرح مشکوۃ پھر مولانا علی قاری مکی مرقاۃ پھر علامہ فتنی مجمع البحار پھر شیخ محقق لمعات میں فرماتے ہیں:
قص اللحیۃ کان من صنع الاعاجم وھو داڑھی تراشنا پارسیوں کا کام تھا اوراب توبہت
المعنی للکل واللفظ للحاشیۃ الدروالغرر الاخذ من اللحیۃ وھی دون القبضۃ کما فعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل مجوس الاعاجم والیھود والھنود بعض اجناس الافرنج ۔ (مفہوم سب کا ایك ہے البتہ الفاظ حاشیہ الدرروالغرر کے ہیں) یعنی جب داڑھی ایك مشت سے کم ہو تو اس میں کچھ لینا جس طرح بعض مغربی اور زنانے زنخے کرتے ہیں یہ کسی کے نزدیك حلال نہیں اور سب لے لینا ایرانی مجوسیوں اور یہودیوں اور ہندیوں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔
نص ۶ تا ۱۲:امام برہان الملۃ والدین فرغانی ہدایہ پھر امام زیلعی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق پھر علامہ نجم الدین طوری تکملہ بحرالرائق پھر علامہ شرنبلالی غنیہ پھر سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین حاشیہ کنز پھر علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ تنویر پھر علامہ سیدی محمد امین افندی ردالمحتار علی الدرالمختار سب علماء کتاب الجنایات مسئلہ جنایت بحلق لحیہ میں فرماتے ہیں:
یؤدب علی ذلك لارتکابہ المحرم(ھذا ھو الکل الا الطرفین فلفظھما)یؤدب علی ارتکاب مالایحل ۔ داڑھی مونڈنے والے کو سزادی جائے کہ وہ فعل حرام کا مرتکب ہوا(یہ سب کے الفاظ ہیں سوائے طرفین کے پس ان کے الفاظ یہ ہیں اسے ایسے کام کے کرنے پر سزادی جائے جوحلال نہیں۔ت)
نص ۱۳ تا ۱۷:علامہ تورپشتی مصابیح پھر علامہ طیبی شرح مشکوۃ پھر مولانا علی قاری مکی مرقاۃ پھر علامہ فتنی مجمع البحار پھر شیخ محقق لمعات میں فرماتے ہیں:
قص اللحیۃ کان من صنع الاعاجم وھو داڑھی تراشنا پارسیوں کا کام تھا اوراب توبہت
حوالہ / References
غنیہ ذوی الاحکام کتاب الصوم باب موجب الافساد مہری کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۸ وبحرالرائق ۲/ ۲۸۰،حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ۳۷۲ ودرمختار ۱/ ۱۵۲ و فتح القدیر ۲/ ۲۷۰
الہدایہ کتاب الدیات مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۸۴ وتبیین الحقائق ۶/ ۱۳۰ و بحرالرائق ۸/ ۳۳۱،غنیہ ذوی الاحکام مع الدرر کتاب الدیات ۲/ ۱۰۴ وطحطاوی علی الدرالمختار ۴/ ۲۸۰،فتح المعین ۳/ ۴۸۷ و ردالمحتار ۵/ ۳۷۰
الہدایہ کتاب الدیات مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۸۴ وتبیین الحقائق ۶/ ۱۳۰ و بحرالرائق ۸/ ۳۳۱،غنیہ ذوی الاحکام مع الدرر کتاب الدیات ۲/ ۱۰۴ وطحطاوی علی الدرالمختار ۴/ ۲۸۰،فتح المعین ۳/ ۴۸۷ و ردالمحتار ۵/ ۳۷۰
الیوم شعار کثیر من المشرکین کالا فرنج والھنود ومن لاخلاق لھم فی الدین من الفرق الموسومۃ بالقلندریۃ طھر اﷲ عنہم حوزۃ الدین ۔ کافروں کا شعار ہے جیسے فرنگیاور ہندو اور وہ فرقہ جس کا دین میں کچھ نہیں جو قلندریہ کہلاتے ہیں اﷲ تعالی اسلامی حدود کو ان سے پاك کرے۔
نص ۱۸ و ۱۹:کواکب الدراری شرح صحیح بخاری امام کرمانی ومجمع میں ہے:
فسبحنہ مااسخف عقول قوم طولوا الشارب واحفوا اللحی عکس ما علیہ فطرۃ جمیع الامم قد بدلوا فطرتھم نعوذ باﷲ ۔ سبحان اﷲ کس قدر پوچ عقل ہے ان لوگوں کی جنھوں نے مونچھیں بڑھائیں اور داڑھیاں پست کیں برعکس اس خصلت کے جس پر تمام امم الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فطرت ہے انھوں نے اپنی اصل خلقت ہی بدل دی خدا کی پناہ۔
نص ۲۰ تا ۲۲:اما م ابوالحسن علی ابن ابی بکر بن عبدالجلیل مرغینانی نے کتاب التجنیس والمزید میں اس کے عدم جواز کی تصریح فرمائی۔لمعات شرح مشکوۃ ونصاب الاحتساب باب السادس میں ہے:
ھل یجوز حلق اللحیۃ کما یفعلہ الجوالیقون الجواب لایجوز ذکرہ فی جنایۃ الھدایۃ وکراھۃ التجنیس ۔ یعنی سوالکیا داڑھی منڈانا جائز ہے جیسے جھولا شاہی فقیر کرتے ہیں جواب:ناجائز ہے ھدایہ کتاب الجنایات اور تجنیس کتاب الکراہیۃ میں اس کی تصریح ہے۔
نص ۲۳ و ۲۴:تبیین المحارم وردالمحتارمیں ہے:
ازالۃ الشعر من الوجہ حرام الااذا نبت للمرأۃ لحیۃ اوشوارب فلا تحرم ازالۃ بل تستحب ۔ منہ کے بال دورکرنا حرام ہے مگر جب کسی عورت کے داڑھی یا مونچھ نکل آئے تو اسے حرام نہیں بلکہ مستحب ہے۔
نص ۱۸ و ۱۹:کواکب الدراری شرح صحیح بخاری امام کرمانی ومجمع میں ہے:
فسبحنہ مااسخف عقول قوم طولوا الشارب واحفوا اللحی عکس ما علیہ فطرۃ جمیع الامم قد بدلوا فطرتھم نعوذ باﷲ ۔ سبحان اﷲ کس قدر پوچ عقل ہے ان لوگوں کی جنھوں نے مونچھیں بڑھائیں اور داڑھیاں پست کیں برعکس اس خصلت کے جس پر تمام امم الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فطرت ہے انھوں نے اپنی اصل خلقت ہی بدل دی خدا کی پناہ۔
نص ۲۰ تا ۲۲:اما م ابوالحسن علی ابن ابی بکر بن عبدالجلیل مرغینانی نے کتاب التجنیس والمزید میں اس کے عدم جواز کی تصریح فرمائی۔لمعات شرح مشکوۃ ونصاب الاحتساب باب السادس میں ہے:
ھل یجوز حلق اللحیۃ کما یفعلہ الجوالیقون الجواب لایجوز ذکرہ فی جنایۃ الھدایۃ وکراھۃ التجنیس ۔ یعنی سوالکیا داڑھی منڈانا جائز ہے جیسے جھولا شاہی فقیر کرتے ہیں جواب:ناجائز ہے ھدایہ کتاب الجنایات اور تجنیس کتاب الکراہیۃ میں اس کی تصریح ہے۔
نص ۲۳ و ۲۴:تبیین المحارم وردالمحتارمیں ہے:
ازالۃ الشعر من الوجہ حرام الااذا نبت للمرأۃ لحیۃ اوشوارب فلا تحرم ازالۃ بل تستحب ۔ منہ کے بال دورکرنا حرام ہے مگر جب کسی عورت کے داڑھی یا مونچھ نکل آئے تو اسے حرام نہیں بلکہ مستحب ہے۔
حوالہ / References
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبۃ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۶۷ و ۶۸،مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۴،شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۶
مجمع بحار الانوار باب الفاء مع الطاء تحت لفظ"فطر"مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴/ ۱۵۸
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۶۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۹
مجمع بحار الانوار باب الفاء مع الطاء تحت لفظ"فطر"مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴/ ۱۵۸
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۶۷
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۹
نص ۲۵ و ۲۶:مفہم شرح صحیح مسلم للعلامۃ القرطبی پھر اتحاف السادۃ المتقین میں ہے:
لایجوز حلقہا ولانتفھا ولاقص الکثیر منھا ۔ داڑھی کانہ مونڈنا جائز نہ چننا نہ زیادہ کترنا۔
نص ۲۷ امام شمس الائمہ کردری وجیزمیں فرماتے ہیں:
لایحل للرجل ان یقطع اللحیۃ ۔ مرد کو حلال نہیں کہ داڑھی کاٹے۔
نص ۲۸ تا ۳۰:بعینہ یہی الفاظ امام ابوبکر نےفرمائے اور ان سے نوازل اور نوازل سے نصاب الاحتساب باب ثامن میں منقول ہوئے۔نص ۳۱ و ۳۲:درمختار میں ہے:
فیہ(ای المجتبی)قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت فی البزازیۃ ولو باذن الزوج لانہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ والمعنی الموثر التشبہ بالرجال ۔ یعنی مجتبی شرح قدوری میں ہے عورت اپنے سر کے بال کاٹے تو گنہ گاروملعونہ ہوجائےبزازیہ میں فرمایا کہ اگر چہ شوہر کی اجازت سے اس لئے کہ خدا کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اسی لئے مرد پر داڑھی کا ٹنا حرام ہے اور علت گناہ مردوں کی وضع بنانی ہے یعنی عورت کو موئے سرتراشنے کی حرمت میں یہ علت ہے کہ یہ مردانی وضع ہے جس طرح مردکو ریش تراشنی حرام ہونے کی علت کہ عورتوں سے تشبہہ ہے اور وہ دونوں ناجائز۔
نص ۳۳:علامہ علی قاری شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
حلق اللحیۃ منھی عنہ ۔ داڑھی مونڈنے کی شرع میں ممانعت ہے۔
نص ۳۴:علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
اماحلقھا فمنھی عنہ لانہ عادۃ المشرکین ۔ داڑھی مونڈنا منع ہے کہ یہ کافروں کی عادت ہے۔
لایجوز حلقہا ولانتفھا ولاقص الکثیر منھا ۔ داڑھی کانہ مونڈنا جائز نہ چننا نہ زیادہ کترنا۔
نص ۲۷ امام شمس الائمہ کردری وجیزمیں فرماتے ہیں:
لایحل للرجل ان یقطع اللحیۃ ۔ مرد کو حلال نہیں کہ داڑھی کاٹے۔
نص ۲۸ تا ۳۰:بعینہ یہی الفاظ امام ابوبکر نےفرمائے اور ان سے نوازل اور نوازل سے نصاب الاحتساب باب ثامن میں منقول ہوئے۔نص ۳۱ و ۳۲:درمختار میں ہے:
فیہ(ای المجتبی)قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت فی البزازیۃ ولو باذن الزوج لانہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ والمعنی الموثر التشبہ بالرجال ۔ یعنی مجتبی شرح قدوری میں ہے عورت اپنے سر کے بال کاٹے تو گنہ گاروملعونہ ہوجائےبزازیہ میں فرمایا کہ اگر چہ شوہر کی اجازت سے اس لئے کہ خدا کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اسی لئے مرد پر داڑھی کا ٹنا حرام ہے اور علت گناہ مردوں کی وضع بنانی ہے یعنی عورت کو موئے سرتراشنے کی حرمت میں یہ علت ہے کہ یہ مردانی وضع ہے جس طرح مردکو ریش تراشنی حرام ہونے کی علت کہ عورتوں سے تشبہہ ہے اور وہ دونوں ناجائز۔
نص ۳۳:علامہ علی قاری شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
حلق اللحیۃ منھی عنہ ۔ داڑھی مونڈنے کی شرع میں ممانعت ہے۔
نص ۳۴:علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
اماحلقھا فمنھی عنہ لانہ عادۃ المشرکین ۔ داڑھی مونڈنا منع ہے کہ یہ کافروں کی عادت ہے۔
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرار الطہارۃ واما السنن فعشرۃ دارالفکر بیروت ۲/ ۴۱۹،المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ دارابن کثیر بیروت ۱/ ۵۱۲
درمختار بحوالہ البزازیہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
درمختار بحوالہ البزازیہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
شرح الشفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض فصل واما نظافۃ جسمہ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۴۳
نسیم الریاض فصل واما نظافۃ جسمہ الفکر بیروت ۱/ ۴۴۔۳۴۳
درمختار بحوالہ البزازیہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
درمختار بحوالہ البزازیہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
شرح الشفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض فصل واما نظافۃ جسمہ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۴۳
نسیم الریاض فصل واما نظافۃ جسمہ الفکر بیروت ۱/ ۴۴۔۳۴۳
نص ۳۵:اشعۃ اللمعات سے گزرا:
علت درحرمت حلق لحیہ ہمیں ست ۔ داڑھی مونڈنے کی وجہ حرمت یہی ہے۔(ت)
ص ۳۶:اسی میں ہے:
حلق کردن لحیہ حرام ست درویش فرنج وہنود جوالقیان ست کہ ایشاں راقلندریہ گویند داڑھی مونڈنا حرام ہے اور یہ فرنگیوںہندیوں اور جھولا شاہیوں جو قلندریہ کہلاتے ہیںکا طریقہ اور روش ہے۔(ت)
نص ۳۷:فتح المعین بشرح قرۃ العین میں ہے:یحرم حلق لحیۃ داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
فائدہ:جس طرح داڑھی مونڈنا کتروانا بالاتفاق حرام وگناہ ہے یونہی ہمارے ائمہ وجمہور علماء کے نزدیك اس کا طول فاحش کہ بےحد بڑھایا جائے جو حد تناسب سے خارج وباعث انگشت نمائی ہو مکروہ وناپسند ہے۔ امام قاضی عیاض پھر امام ابوزکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
تکرہ الشھرۃ فی تعظیمھا کما تکرہ فی قصھا وجزھا ۔ داڑھی کو حد شہرت تك بڑھانا یعنی بہت زیادہ طویل کرنا مکروہ ہے جیسا کہ اس کا کتروانا اور کاٹنا مکروہ ہے۔(ت)
اسی میں ہے:وکرہ مالك طولھا جدا (امام مالك نے داڑھی کا بیحد لمبا کرنا ناپسند فرمایاہے۔ت)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحضرت عبداﷲ بن عمر وحضرت ابوہرہ وغیرہما صحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کے افعال واقوال اور ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ ومحرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہما وعامہ کتب فقہ وحدیث کی تصریح سے اس کی حد یکمشت ہے۔ابھی نصوص علماء سے گزرا کہ اس سے کم کرنا کسی نے حلال نہ جاناقبضہ سے زائد کا قطع ہمارے نزدیك مسنون ہے بلکہ نہایہ میں بلفظ وجوب تعبیر کیا۔تفصیل اس کی بحر ونہر و درمختار اور اس کے حواشی وغیرہا کتب فقہ اور مرقاۃ ولمعات ومنہاج وغیرہ کتب حدیث اور قوت القلوب واحیاء العلوم وغیرہا کتب سلوك میں دیکھئے قول عرب کہ اس ناقل ناعاقل نے لکھا اور نہ اس کا قائل جانا نہ مقولہ ہی ٹھیك نقل کیا اس میں
علت درحرمت حلق لحیہ ہمیں ست ۔ داڑھی مونڈنے کی وجہ حرمت یہی ہے۔(ت)
ص ۳۶:اسی میں ہے:
حلق کردن لحیہ حرام ست درویش فرنج وہنود جوالقیان ست کہ ایشاں راقلندریہ گویند داڑھی مونڈنا حرام ہے اور یہ فرنگیوںہندیوں اور جھولا شاہیوں جو قلندریہ کہلاتے ہیںکا طریقہ اور روش ہے۔(ت)
نص ۳۷:فتح المعین بشرح قرۃ العین میں ہے:یحرم حلق لحیۃ داڑھی مونڈنا حرام ہے۔
فائدہ:جس طرح داڑھی مونڈنا کتروانا بالاتفاق حرام وگناہ ہے یونہی ہمارے ائمہ وجمہور علماء کے نزدیك اس کا طول فاحش کہ بےحد بڑھایا جائے جو حد تناسب سے خارج وباعث انگشت نمائی ہو مکروہ وناپسند ہے۔ امام قاضی عیاض پھر امام ابوزکریا نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
تکرہ الشھرۃ فی تعظیمھا کما تکرہ فی قصھا وجزھا ۔ داڑھی کو حد شہرت تك بڑھانا یعنی بہت زیادہ طویل کرنا مکروہ ہے جیسا کہ اس کا کتروانا اور کاٹنا مکروہ ہے۔(ت)
اسی میں ہے:وکرہ مالك طولھا جدا (امام مالك نے داڑھی کا بیحد لمبا کرنا ناپسند فرمایاہے۔ت)حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحضرت عبداﷲ بن عمر وحضرت ابوہرہ وغیرہما صحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین کے افعال واقوال اور ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ ومحرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہما وعامہ کتب فقہ وحدیث کی تصریح سے اس کی حد یکمشت ہے۔ابھی نصوص علماء سے گزرا کہ اس سے کم کرنا کسی نے حلال نہ جاناقبضہ سے زائد کا قطع ہمارے نزدیك مسنون ہے بلکہ نہایہ میں بلفظ وجوب تعبیر کیا۔تفصیل اس کی بحر ونہر و درمختار اور اس کے حواشی وغیرہا کتب فقہ اور مرقاۃ ولمعات ومنہاج وغیرہ کتب حدیث اور قوت القلوب واحیاء العلوم وغیرہا کتب سلوك میں دیکھئے قول عرب کہ اس ناقل ناعاقل نے لکھا اور نہ اس کا قائل جانا نہ مقولہ ہی ٹھیك نقل کیا اس میں
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۲
اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
فتح المعین شرح قرۃ العین مسائل الاکتحال والخضاب الخ مطبعۃ عامر الاسلام پور ہرس ص۲۱۹
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب السواك قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب السواك قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
اشعۃ اللمعات ترجمہ مشکوٰۃ کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۱۲
فتح المعین شرح قرۃ العین مسائل الاکتحال والخضاب الخ مطبعۃ عامر الاسلام پور ہرس ص۲۱۹
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب السواك قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب السواك قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
اسی طول فاحش ومفرط کی ناپسندی ہے ورنہ نفس طول تو سبزہ آغاز ہوتے ہی حاصل کہ بال اگر چہ ذرہ بھر ہوآخر جسم ہے اور جسم بے طول ناممکن تو مطلق طول کے مذمت نفس لحیہ کی مذمت ہوگی حالانکہ تمام عالم جانتا ہے کہ عرب کی قدیم قومی وملکی ومذہبی عادت ہمیشہ داڑھی رکھنی رہی ہے وہ اس کے نہ ہونے کی مذمت کرتے اور اسے سخت عیب جانتے جس کا کچھذکر اقوال امام شریح واصحاب امام احنف سے گزراقوت القلوب شریف میں امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
من عظمت لحیتہ جلت معرفتہ ۔ جس کی داڑھی عظیم یعنی بڑی ہو اس کی معرفت بڑی ہوگی۔(ت)
اس میں بعض ادیبوں سے نقل فرمایا:
فی اللحیۃ خصال نافعۃ منھا تعظیم الرجل والنظر الیہ بعین العلم والوقار ومنھا رفعہ فی المجالس والاقبال علیہ ومنھا تقدیمہ علی الجماعۃ وتعقیلہ ۔ داڑھی کے بہت فوائد ہیں جن میں سے(۱)ایك یہ کہ لوگوں میں داڑھی والے آدمی کی عزت ہوتی ہے(۲)لوگ اس کو عزت ووقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں(۳)مجالس میں اسے اچھی نشست دی جاتی ہے۔(۴)لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں(۵)جماعت میں اسے آگے کرتے ہیں(۶)داڑھی کے بغیر آدمیوں کے مقابلے میں داڑھی والے کو فضیلت دی جاتی ہے(ت)
اسی طرح احیاء العلوم میں ہے۔یہ زنخداں کے دو تین بال جو اس خلیع العذار کے نزدیك حداعتدال عرب اسے منحوس ومذموم جانتے اور عجم کیا اچھا سمجھتے ہیں یہاں تك کہ اس پر مثلیں زباں زد ہوئیں اور ہر عاقل جانتاہے کہ:
خیر الامور اوسطھا قال تعالی: "وکان بین ذلک قواما ﴿۶۷﴾" قال تعالی: سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ کے نیك بندے تنگی اور فراخی یعنی کنجوسی اور فضول خرچی
اسی طول فاحش ومفرط کی ناپسندی ہے ورنہ نفس طول تو سبزہ آغاز ہوتے ہی حاصل کہ بال اگر چہ ذرہ بھر ہوآخر جسم ہے اور جسم بے طول ناممکن تو مطلق طول کے مذمت نفس لحیہ کی مذمت ہوگی حالانکہ تمام عالم جانتا ہے کہ عرب کی قدیم قومی وملکی ومذہبی عادت ہمیشہ داڑھی رکھنی رہی ہے وہ اس کے نہ ہونے کی مذمت کرتے اور اسے سخت عیب جانتے جس کا کچھذکر اقوال امام شریح واصحاب امام احنف سے گزراقوت القلوب شریف میں امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
من عظمت لحیتہ جلت معرفتہ ۔ جس کی داڑھی عظیم یعنی بڑی ہو اس کی معرفت بڑی ہوگی۔(ت)
اس میں بعض ادیبوں سے نقل فرمایا:
فی اللحیۃ خصال نافعۃ منھا تعظیم الرجل والنظر الیہ بعین العلم والوقار ومنھا رفعہ فی المجالس والاقبال علیہ ومنھا تقدیمہ علی الجماعۃ وتعقیلہ ۔ داڑھی کے بہت فوائد ہیں جن میں سے(۱)ایك یہ کہ لوگوں میں داڑھی والے آدمی کی عزت ہوتی ہے(۲)لوگ اس کو عزت ووقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں(۳)مجالس میں اسے اچھی نشست دی جاتی ہے۔(۴)لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں(۵)جماعت میں اسے آگے کرتے ہیں(۶)داڑھی کے بغیر آدمیوں کے مقابلے میں داڑھی والے کو فضیلت دی جاتی ہے(ت)
اسی طرح احیاء العلوم میں ہے۔یہ زنخداں کے دو تین بال جو اس خلیع العذار کے نزدیك حداعتدال عرب اسے منحوس ومذموم جانتے اور عجم کیا اچھا سمجھتے ہیں یہاں تك کہ اس پر مثلیں زباں زد ہوئیں اور ہر عاقل جانتاہے کہ:
خیر الامور اوسطھا قال تعالی: "وکان بین ذلک قواما ﴿۶۷﴾" قال تعالی: سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ کے نیك بندے تنگی اور فراخی یعنی کنجوسی اور فضول خرچی
من عظمت لحیتہ جلت معرفتہ ۔ جس کی داڑھی عظیم یعنی بڑی ہو اس کی معرفت بڑی ہوگی۔(ت)
اس میں بعض ادیبوں سے نقل فرمایا:
فی اللحیۃ خصال نافعۃ منھا تعظیم الرجل والنظر الیہ بعین العلم والوقار ومنھا رفعہ فی المجالس والاقبال علیہ ومنھا تقدیمہ علی الجماعۃ وتعقیلہ ۔ داڑھی کے بہت فوائد ہیں جن میں سے(۱)ایك یہ کہ لوگوں میں داڑھی والے آدمی کی عزت ہوتی ہے(۲)لوگ اس کو عزت ووقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں(۳)مجالس میں اسے اچھی نشست دی جاتی ہے۔(۴)لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں(۵)جماعت میں اسے آگے کرتے ہیں(۶)داڑھی کے بغیر آدمیوں کے مقابلے میں داڑھی والے کو فضیلت دی جاتی ہے(ت)
اسی طرح احیاء العلوم میں ہے۔یہ زنخداں کے دو تین بال جو اس خلیع العذار کے نزدیك حداعتدال عرب اسے منحوس ومذموم جانتے اور عجم کیا اچھا سمجھتے ہیں یہاں تك کہ اس پر مثلیں زباں زد ہوئیں اور ہر عاقل جانتاہے کہ:
خیر الامور اوسطھا قال تعالی: "وکان بین ذلک قواما ﴿۶۷﴾" قال تعالی: سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ کے نیك بندے تنگی اور فراخی یعنی کنجوسی اور فضول خرچی
اسی طول فاحش ومفرط کی ناپسندی ہے ورنہ نفس طول تو سبزہ آغاز ہوتے ہی حاصل کہ بال اگر چہ ذرہ بھر ہوآخر جسم ہے اور جسم بے طول ناممکن تو مطلق طول کے مذمت نفس لحیہ کی مذمت ہوگی حالانکہ تمام عالم جانتا ہے کہ عرب کی قدیم قومی وملکی ومذہبی عادت ہمیشہ داڑھی رکھنی رہی ہے وہ اس کے نہ ہونے کی مذمت کرتے اور اسے سخت عیب جانتے جس کا کچھذکر اقوال امام شریح واصحاب امام احنف سے گزراقوت القلوب شریف میں امام ابویوسف رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
من عظمت لحیتہ جلت معرفتہ ۔ جس کی داڑھی عظیم یعنی بڑی ہو اس کی معرفت بڑی ہوگی۔(ت)
اس میں بعض ادیبوں سے نقل فرمایا:
فی اللحیۃ خصال نافعۃ منھا تعظیم الرجل والنظر الیہ بعین العلم والوقار ومنھا رفعہ فی المجالس والاقبال علیہ ومنھا تقدیمہ علی الجماعۃ وتعقیلہ ۔ داڑھی کے بہت فوائد ہیں جن میں سے(۱)ایك یہ کہ لوگوں میں داڑھی والے آدمی کی عزت ہوتی ہے(۲)لوگ اس کو عزت ووقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں(۳)مجالس میں اسے اچھی نشست دی جاتی ہے۔(۴)لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں(۵)جماعت میں اسے آگے کرتے ہیں(۶)داڑھی کے بغیر آدمیوں کے مقابلے میں داڑھی والے کو فضیلت دی جاتی ہے(ت)
اسی طرح احیاء العلوم میں ہے۔یہ زنخداں کے دو تین بال جو اس خلیع العذار کے نزدیك حداعتدال عرب اسے منحوس ومذموم جانتے اور عجم کیا اچھا سمجھتے ہیں یہاں تك کہ اس پر مثلیں زباں زد ہوئیں اور ہر عاقل جانتاہے کہ:
خیر الامور اوسطھا قال تعالی: "وکان بین ذلک قواما ﴿۶۷﴾" قال تعالی: سب سے بہتر کام میانہ روی والا ہوتا ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ کے نیك بندے تنگی اور فراخی یعنی کنجوسی اور فضول خرچی
حوالہ / References
قوت القلوب لابی طالب المکی الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳
قوت القلوب لابی طالب المکی الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳
السنن الکبرٰی کتاب صلوٰۃ الخوف باب ماورد من التشدید فی لبس الخز دارصادر بیروت ۳/ ۲۷۳
القرآن الکری۲۵/ ۶۷
قوت القلوب لابی طالب المکی الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳
السنن الکبرٰی کتاب صلوٰۃ الخوف باب ماورد من التشدید فی لبس الخز دارصادر بیروت ۳/ ۲۷۳
القرآن الکری۲۵/ ۶۷
" وابتغ بین ذلک سبیلا ﴿۱۱۰﴾" ۔وقال تعالی: " عوان بین ذلک " ۔ کے درمیان راہ اعتدال پر رہتے ہیں۔اﷲ تعالی نے فرمایا:ان دونوں کے درمیان راستہ اختیار کرواﷲ تعالی نے فرمایا:(وہ گائے)نہ بوڑھی ہونہ بچھیا بلکہ درمیانی عمر رکھتی ہو۔(ت)
کو سچ کے بارے میں امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقوال ووقائع بیہقی نے مناقب میں روایت اور امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں زیر حدیث:ایاکم والاشقر الارزق (لوگو ! گہری نیلی آنکھوں والے سے بچو۔ت)ذکر کئے جسے دیکھنا ہو وہاں دیکھے۔
تنبیہ دہم:بقیہ دلائل تحریم میں دلیل اول داڑھی منڈانا مثلہ یعنی صورت بگاڑنا ہے اور مثلہ حرام۔اب کتب فقہیہ سے کتاب الحج کا احرام باندھئے۔
نص ۳۸:ہدایہ میں ہے:
حلق الشعر فی حقہا مثلۃ کخلق اللحیۃ فی حق الرجال ۔ عورت کا بال مونڈنا مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنے کے مترادف ہے جیسا کہ مردوں کا داڑھی مونڈنا(ت)
نص ۳۹:کافی شرح وافی:
لاتحلق ولکن تقصرلان الحلق فی حقہا مثلۃ والمثلۃ حرام وشعر الراس زینۃ لھا کاللحیۃ للرجل کما لایحلق لحیتہ عنہ الخروج من الاحرام فکذ الاتحلق شعرھا ۔ (احرام کھولتے وقت)عورت سر کے بال نہ مونڈے بلکہ چوٹی سے کچھ بال کتر ڈالے کیونکہ بال مونڈنا ا سکے حق میں بمنزلہ مثلہ ہے اور مثلہ حرام ہے۔سرکے بال عورت کی زینت ہیں جیسے داڑھی مرد کے لئے زینت ہے۔جس طرح احرام کی پابندی سے آزاد ہونے کے لئے مرد کو داڑھی مونڈنے کا حکم نہیں اسی طرح عورت کے لئے سر کے بال مونڈنے کا حکم نہیں۔(ت)
نص ۴۰ و ۴۱:امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاسانی بدائع پھر علامہ قاری مسلك متقسط
کو سچ کے بارے میں امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقوال ووقائع بیہقی نے مناقب میں روایت اور امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں زیر حدیث:ایاکم والاشقر الارزق (لوگو ! گہری نیلی آنکھوں والے سے بچو۔ت)ذکر کئے جسے دیکھنا ہو وہاں دیکھے۔
تنبیہ دہم:بقیہ دلائل تحریم میں دلیل اول داڑھی منڈانا مثلہ یعنی صورت بگاڑنا ہے اور مثلہ حرام۔اب کتب فقہیہ سے کتاب الحج کا احرام باندھئے۔
نص ۳۸:ہدایہ میں ہے:
حلق الشعر فی حقہا مثلۃ کخلق اللحیۃ فی حق الرجال ۔ عورت کا بال مونڈنا مثلہ یعنی حلیہ بگاڑنے کے مترادف ہے جیسا کہ مردوں کا داڑھی مونڈنا(ت)
نص ۳۹:کافی شرح وافی:
لاتحلق ولکن تقصرلان الحلق فی حقہا مثلۃ والمثلۃ حرام وشعر الراس زینۃ لھا کاللحیۃ للرجل کما لایحلق لحیتہ عنہ الخروج من الاحرام فکذ الاتحلق شعرھا ۔ (احرام کھولتے وقت)عورت سر کے بال نہ مونڈے بلکہ چوٹی سے کچھ بال کتر ڈالے کیونکہ بال مونڈنا ا سکے حق میں بمنزلہ مثلہ ہے اور مثلہ حرام ہے۔سرکے بال عورت کی زینت ہیں جیسے داڑھی مرد کے لئے زینت ہے۔جس طرح احرام کی پابندی سے آزاد ہونے کے لئے مرد کو داڑھی مونڈنے کا حکم نہیں اسی طرح عورت کے لئے سر کے بال مونڈنے کا حکم نہیں۔(ت)
نص ۴۰ و ۴۱:امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کاسانی بدائع پھر علامہ قاری مسلك متقسط
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۱۱۰
القرآن الکریم ۲ /۶۸
المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ تحت حدیث ۲۷۴ دارالفکر بیروت ص۱۳۶
الہدایہ کتاب الحج فصل وان لم یدخل المحرم الخ المکتبہ العربیہ کراچی ۱/ ۲۳۵
کافی شرح وافی
القرآن الکریم ۲ /۶۸
المقاصد الحسنہ حرف الہمزۃ تحت حدیث ۲۷۴ دارالفکر بیروت ص۱۳۶
الہدایہ کتاب الحج فصل وان لم یدخل المحرم الخ المکتبہ العربیہ کراچی ۱/ ۲۳۵
کافی شرح وافی
میں فرماتے ہیں:
حلق اللحیۃ من باب المثلۃ ۔ داڑھی مونڈنا از قسم مثلہ کے ہے۔(ت)
نص ۴۲ و ۴۳:تبیین الحقائق وابوالسعود مصری:
حلق راسہا مثلۃ کحلق اللحیۃ فی الرجل ۔ کسی عورت کا اپنے سر کے بال مونڈنا مثلہ ہے(حلیہ بگاڑنا ہے)جیسے مرد کا داڑھی مونڈنا(ت)
نص ۴۴:نیز تبیین میں ہے:
لایاخذ من اللحیۃ شیئا لانہ مثلۃ ۔ مردداڑھی کا کوئی ضروری حصہ نہ کترائے کیونکہ ایسا کرنا مثلہ کے زمرے میں آتاہے۔(ت)
نص ۴۵ و ۴۶:بحرالرائق وطحطاوی علی الدرواللفظ للبحر:
لاتحلق لکونہ مثلۃ کحلق اللحیۃ ۔ کوئی عورت بال نہ مونڈے اس لئے کہ ایسا کرنا مثلہ ہے جیسے مرد کے لئے داڑھی مونڈنا مثلہ ہے۔(ت)
نص ۴۷:برجندی شرح نقایہ:
حلق الرأس فی حقھا مثلۃ کحلق اللحیۃ فی حق الرجل۔ عورت کے لئے اپنے سرکے بال مونڈنا مثلہ ہے جیسے مرد کے لئے داڑھی مونڈنا۔(ت)
نص ۴۸:شرح لباب:
اما المرأۃ فلیس لھا الاالتقصیر لما سبق من ان حلق رأسھا عورت کے لئے صرف بال کترنے جائزہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ عورت کا اپنے سر کے بال
حلق اللحیۃ من باب المثلۃ ۔ داڑھی مونڈنا از قسم مثلہ کے ہے۔(ت)
نص ۴۲ و ۴۳:تبیین الحقائق وابوالسعود مصری:
حلق راسہا مثلۃ کحلق اللحیۃ فی الرجل ۔ کسی عورت کا اپنے سر کے بال مونڈنا مثلہ ہے(حلیہ بگاڑنا ہے)جیسے مرد کا داڑھی مونڈنا(ت)
نص ۴۴:نیز تبیین میں ہے:
لایاخذ من اللحیۃ شیئا لانہ مثلۃ ۔ مردداڑھی کا کوئی ضروری حصہ نہ کترائے کیونکہ ایسا کرنا مثلہ کے زمرے میں آتاہے۔(ت)
نص ۴۵ و ۴۶:بحرالرائق وطحطاوی علی الدرواللفظ للبحر:
لاتحلق لکونہ مثلۃ کحلق اللحیۃ ۔ کوئی عورت بال نہ مونڈے اس لئے کہ ایسا کرنا مثلہ ہے جیسے مرد کے لئے داڑھی مونڈنا مثلہ ہے۔(ت)
نص ۴۷:برجندی شرح نقایہ:
حلق الرأس فی حقھا مثلۃ کحلق اللحیۃ فی حق الرجل۔ عورت کے لئے اپنے سرکے بال مونڈنا مثلہ ہے جیسے مرد کے لئے داڑھی مونڈنا۔(ت)
نص ۴۸:شرح لباب:
اما المرأۃ فلیس لھا الاالتقصیر لما سبق من ان حلق رأسھا عورت کے لئے صرف بال کترنے جائزہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ عورت کا اپنے سر کے بال
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الحج فصل واما الحلق والتقصیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۴۱،المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۱۵۲
تبیین الحقائق کتاب الحج فصل من لم یدخل مکہ الخ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ۲/ ۳۹،فتح المعین کتاب الحج فصل مسائل شتی تتعلق بافعال الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۴۹۶
تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۲ /۳۳
بحرالرائق کتاب الحج فصل من لم یدخل مکۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۵۵
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الحج نولکشور لکھنؤ ۱/ ۲۴۳
تبیین الحقائق کتاب الحج فصل من لم یدخل مکہ الخ المطبعۃ الکبرٰی الامیریۃ بولاق مصر ۲/ ۳۹،فتح المعین کتاب الحج فصل مسائل شتی تتعلق بافعال الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۴۹۶
تبیین الحقائق کتاب الحج باب الاحرام المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۲ /۳۳
بحرالرائق کتاب الحج فصل من لم یدخل مکۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۵۵
شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الحج نولکشور لکھنؤ ۱/ ۲۴۳
مثلۃ کحلق الرجل اللحیۃ ۔ مونڈنا مرد کے داڑھی مونڈنے کے مترادف ہے اورا یساکرنا مثلہ ہے۔
نص ۴۹:طریق المرید سے گزرا کہ النقصان منھامثلۃ (داڑھی(حد ضرورت سے)کم کرنا مثلہ ہے۔ت)
ان سب عبارات کاحاصل یہی ہے کہ مرد کے کو داڑھی منڈاناکترنا مثلہ ہے جیسے عورت کو سر منڈانایہ مسئلہ واضحہ جلیلہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام خواص وعوام اس سے آگاہ ہیں ہر ذی عقل مسلم جانتاہے کہ جیسے عورت کے حق میں گیسوبریدہ گالی ہے یونہی مرد کے لئے داڑھی منڈاہاں ناپاك طبائع کا ذکر نہیںبہتیر ے مرد زنانے بنتے محافل میں ناچتے۔اپنی ماں بہن کے پیچھے طبلہ بجاتے ہیں اور ان حرکات سے اصلا عار نہیں رکھتے جس طرح داڑھی رکھنا افعال قدیمہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ہے یونہی یہ اشارہ بھی اقوال قدیم رسل عظام سے:
اذا لم تستحی فاصنع ماشئت بیحیاباش وہر چہ خواہی کن۔ جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو مرضی آئے کرتے رہو۔(ت)
اب امام ابوالبرکات عبداﷲ نسفی کا ارشاد ابھی گزر ا کہ المثلۃ حرام(مثلہ کرنا یعنی اپنا حلیہ بگاڑنا حرام ہے۔ت)اشعۃ سے گزرا علت درحرمت مثلہ ہمیں ست (مثلہ کے حرام ہونے کی یہی علت اور وجہ ہے۔ت)
احادیث لیجئے کہ امید کرتاہوں مجموعا اس تحریر کے سوا شاید نہ ملیں:
حدیث ۱۸:امام احمد وبخاری ومسلم و نسائی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن اﷲ من مثل بالحیوان ۔ اﷲ کی لعنت اس پر جو کسی جاندار کے ساتھ مثلہ کرے۔
طبرانی نے بسند حسن ان سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
نص ۴۹:طریق المرید سے گزرا کہ النقصان منھامثلۃ (داڑھی(حد ضرورت سے)کم کرنا مثلہ ہے۔ت)
ان سب عبارات کاحاصل یہی ہے کہ مرد کے کو داڑھی منڈاناکترنا مثلہ ہے جیسے عورت کو سر منڈانایہ مسئلہ واضحہ جلیلہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام خواص وعوام اس سے آگاہ ہیں ہر ذی عقل مسلم جانتاہے کہ جیسے عورت کے حق میں گیسوبریدہ گالی ہے یونہی مرد کے لئے داڑھی منڈاہاں ناپاك طبائع کا ذکر نہیںبہتیر ے مرد زنانے بنتے محافل میں ناچتے۔اپنی ماں بہن کے پیچھے طبلہ بجاتے ہیں اور ان حرکات سے اصلا عار نہیں رکھتے جس طرح داڑھی رکھنا افعال قدیمہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ہے یونہی یہ اشارہ بھی اقوال قدیم رسل عظام سے:
اذا لم تستحی فاصنع ماشئت بیحیاباش وہر چہ خواہی کن۔ جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو مرضی آئے کرتے رہو۔(ت)
اب امام ابوالبرکات عبداﷲ نسفی کا ارشاد ابھی گزر ا کہ المثلۃ حرام(مثلہ کرنا یعنی اپنا حلیہ بگاڑنا حرام ہے۔ت)اشعۃ سے گزرا علت درحرمت مثلہ ہمیں ست (مثلہ کے حرام ہونے کی یہی علت اور وجہ ہے۔ت)
احادیث لیجئے کہ امید کرتاہوں مجموعا اس تحریر کے سوا شاید نہ ملیں:
حدیث ۱۸:امام احمد وبخاری ومسلم و نسائی حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن اﷲ من مثل بالحیوان ۔ اﷲ کی لعنت اس پر جو کسی جاندار کے ساتھ مثلہ کرے۔
طبرانی نے بسند حسن ان سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
حوالہ / References
المسلك المتقسط فی المنسك المتقسط مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۱۵۱
قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳
المعجم الکبیر حدیث ۶۵۷،۶۵۹۔۶۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷/ ۲۳۷،۲۳۸
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۲
صحیح البخاری کتاب الذبائح ۲/ ۸۲۹ و مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر ۱/ ۳۳۸
قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب الفصل السادس والثلاثون دارصادر بیروت ۲/ ۱۴۳
المعجم الکبیر حدیث ۶۵۷،۶۵۹۔۶۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷/ ۲۳۷،۲۳۸
اشعۃ اللمعات کتاب اللباس باب الترجل الفصل الاول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۲
صحیح البخاری کتاب الذبائح ۲/ ۸۲۹ و مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر ۱/ ۳۳۸
من مثل بالحیوان فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین ۔ جو کسی جاندار کے ساتھ مثلہ کرے اس پر اﷲ و ملائکہ وبنی آدم سب کی لعنت۔
حدیث ۱۹:شافعیاحمددارمیمسلمابوداؤدترمذینسائیابن ماجہطحطاویابن حبانبیہقیابن الجار وحضرت بریدہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے سپہ سالار کو وصیت فرماتے:
اغزوا بسم اﷲ فی سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ اغزوا ولاتغلوا ولا تغدروا ولاتمثلوا ولا تقتلوا ولیدا ۔ جہاد کرو اﷲ کے نام پر اﷲ کی راہ میں قتال کرو۔اﷲ کے منکروں سے جہاد کرو اور خیانت نہ کرو۔نہ عہد توڑونہ مثلہ کرو۔نہ کسی بچے کو قتل کرو۔
حدیث ۲۰:امام احمد مسند اور ابن ماجہ سنن اورقاضی عبدالجبار بن احمد اپنی امالی میں حضرت صفوان بن عسال رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں ایك لشکر میں بھیجا فرمایا:
سیروابسم اﷲ وفی سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ ولا تمثلوا ولا تغدرواولاتغلوا ولاتقتلوا ولیدا ۔ چلو خدا کے نام پر خدا کے راہ میں جہاد کرو خدا کے منکروں سے اور نہ مثلہ کرو نہ بدعہدی نہ خیانت نہ بچے کا قتل۔
حدیث ۲۱:حاکم مستدرك میں حضرت ابن الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
خذ فاغز فی سبیل اﷲ فقاتلوا من کفر باﷲ لاتغلوا ولا تمثلوا ولاتقتلوا ولیدا لے خدا کی راہ میں لڑ منکران خدا سے جہاد کروخیانت نہ کرو نہ مثلہ نہ بچوں کو قتل
حدیث ۱۹:شافعیاحمددارمیمسلمابوداؤدترمذینسائیابن ماجہطحطاویابن حبانبیہقیابن الجار وحضرت بریدہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے سپہ سالار کو وصیت فرماتے:
اغزوا بسم اﷲ فی سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ اغزوا ولاتغلوا ولا تغدروا ولاتمثلوا ولا تقتلوا ولیدا ۔ جہاد کرو اﷲ کے نام پر اﷲ کی راہ میں قتال کرو۔اﷲ کے منکروں سے جہاد کرو اور خیانت نہ کرو۔نہ عہد توڑونہ مثلہ کرو۔نہ کسی بچے کو قتل کرو۔
حدیث ۲۰:امام احمد مسند اور ابن ماجہ سنن اورقاضی عبدالجبار بن احمد اپنی امالی میں حضرت صفوان بن عسال رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں ایك لشکر میں بھیجا فرمایا:
سیروابسم اﷲ وفی سبیل اﷲ قاتلوا من کفر باﷲ ولا تمثلوا ولا تغدرواولاتغلوا ولاتقتلوا ولیدا ۔ چلو خدا کے نام پر خدا کے راہ میں جہاد کرو خدا کے منکروں سے اور نہ مثلہ کرو نہ بدعہدی نہ خیانت نہ بچے کا قتل۔
حدیث ۲۱:حاکم مستدرك میں حضرت ابن الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
خذ فاغز فی سبیل اﷲ فقاتلوا من کفر باﷲ لاتغلوا ولا تمثلوا ولاتقتلوا ولیدا لے خدا کی راہ میں لڑ منکران خدا سے جہاد کروخیانت نہ کرو نہ مثلہ نہ بچوں کو قتل
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ طب عن ابن عمر حدیث ۳۹۹۷۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۳۸
صحیح مسلم کتاب الجہاد ۲/ ۸۲ و سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد ۱/ ۳۵۲،جامع الترمذی ابواب الدیات ۱/ ۱۶۹ ابواب السیر ۱/ ۱۹۵ وسنن ابن ماجہ کتاب الجہاد ص۲۱۰،مسند احمد بن حنبل ۴/ ۲۴۰ و ۵/ ۳۵۸
سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص ۲۱۰ و مسند احمد بن حنبل ۴/ ۲۴۰
صحیح مسلم کتاب الجہاد ۲/ ۸۲ و سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد ۱/ ۳۵۲،جامع الترمذی ابواب الدیات ۱/ ۱۶۹ ابواب السیر ۱/ ۱۹۵ وسنن ابن ماجہ کتاب الجہاد ص۲۱۰،مسند احمد بن حنبل ۴/ ۲۴۰ و ۵/ ۳۵۸
سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص ۲۱۰ و مسند احمد بن حنبل ۴/ ۲۴۰
فھذا عھد اﷲ وسیرۃ نبیہ ۔ کہ یہ اﷲ تعالی کا عہد اور اس کے نبی کا شیوہ ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
حدیث ۲۲:بیہقی سنن میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے حدیث طویل میں راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب کوئی لشکر کفا ر پر بھیجتے فرماتے:
لاتمثلوا بادمی ولا بھیمۃ ۔ مثلہ نہ کرو نہ کسی آدمی کو نہ چوپائے کو۔
حدیث ۲۳ تا ۲۵:احمد وبخاری حضرت عبداﷲ بن زید اور احمد وابوبکر ابن ابی شیبہ حضرت زید بن خالد اور طبرانی حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن النھبۃ والمثلۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لوٹ اور مثلہ سے منع فرمایا۔
حدیث ۲۶ و ۲۷:ابن ماجہ ابوسعید خدری اور امام ابوجعفر طحاوی وسلیمان بن احمد طبرانی حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولفظ الطحاوی سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ینھی ان یمثل بالبھائم ۔ (رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا اور طحاوی کے الفاظ ہیں کہ میں نے سنا ہے۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے چوپایوں کو مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث ۲۸ تا ۳۰:ابوبکر بن ابی شیبہ وامام طحاوی وحاکم حضرت عمران بن حصین اور اولین وطبرانی حضرت مغیرہ بن شعبہ اور صرف اول حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ نے مثلہ سے
حدیث ۲۲:بیہقی سنن میں امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے حدیث طویل میں راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جب کوئی لشکر کفا ر پر بھیجتے فرماتے:
لاتمثلوا بادمی ولا بھیمۃ ۔ مثلہ نہ کرو نہ کسی آدمی کو نہ چوپائے کو۔
حدیث ۲۳ تا ۲۵:احمد وبخاری حضرت عبداﷲ بن زید اور احمد وابوبکر ابن ابی شیبہ حضرت زید بن خالد اور طبرانی حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن النھبۃ والمثلۃ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لوٹ اور مثلہ سے منع فرمایا۔
حدیث ۲۶ و ۲۷:ابن ماجہ ابوسعید خدری اور امام ابوجعفر طحاوی وسلیمان بن احمد طبرانی حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولفظ الطحاوی سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ینھی ان یمثل بالبھائم ۔ (رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا اور طحاوی کے الفاظ ہیں کہ میں نے سنا ہے۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے چوپایوں کو مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث ۲۸ تا ۳۰:ابوبکر بن ابی شیبہ وامام طحاوی وحاکم حضرت عمران بن حصین اور اولین وطبرانی حضرت مغیرہ بن شعبہ اور صرف اول حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ نے مثلہ سے
حوالہ / References
کنزالعمال برمزك عن ابن عمر حدیث ۱۱۲۸۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۴۳۴،المستدرك للحاکم کتاب الفتن دارالفکر بیروت ۴/ ۵۴۱
السنن الکبرٰی کتاب السیر باب ترك قتل من اقتال فیہ الخ دارصادر بیروت ۹/ ۹۱
صحیح البخاری کتاب الذبائح باب مایکرہ من المثلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۳۹،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن زید انصاری المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۰۷
سنن ابن ماجہ کتاب الذبائع باب النہی عن صبرالبہائم وعن المثلۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۷،شرح معانی الآثار کتا ب الجنایات باب کیفیۃ القصاص ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۱۷
السنن الکبرٰی کتاب السیر باب ترك قتل من اقتال فیہ الخ دارصادر بیروت ۹/ ۹۱
صحیح البخاری کتاب الذبائح باب مایکرہ من المثلہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۳۹،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن زید انصاری المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۰۷
سنن ابن ماجہ کتاب الذبائع باب النہی عن صبرالبہائم وعن المثلۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۷،شرح معانی الآثار کتا ب الجنایات باب کیفیۃ القصاص ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۱۷
عن المثلۃ ھذا حدیث الحاکم عن عمران ومثلہ لفظ الطبرانی عن ابن عمر وحدثنا المغیرۃ واسماء۔ منع فرمایا۔(حضرت عمرا ن کے حوالے سے یہ حاکم کی روایت ہے اور اس جیسے الفاظ امام طبرانی نے حضرت عبداﷲ بن عمر کے حوالے سے روایت کئے ہیں اور حضرت مغیرہ اورسیدہ اسماء نے ہم سے بیان فرمایا۔ت)
حدیث ۳۱:طبرانی امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی:
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ینھی عن المثلۃ ولو بالکلب العقور ۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنا کہ مثلہ کرنا منع فرماتے تھے اگر چہ سگ گزندہ کو۔
حدیث ۳۲ و ۳۳:ابن قانع وطبرانی وابن مندہ بطریق موسی بن ابی حبیب حضرت حکم بن عمیروحضرت عائد بن قرط رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتمثلوا بشیئ من خلق اﷲ عزوجل فیہ روح ۔ خلق اﷲ میں سے کسی ذی روح کو مثلہ نہ کرو۔
حدیث ۳۴ و ۳۵:ابوداؤد وطحاوی حضرت سمرہ بن جندب اور بخاری ومسلم قتادہ سے مرسلا راوی:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یحثنا علی الصدقۃ وینھانا عن المثلۃ وھذا لفظ ابی داؤد ولفظ الطحاوی قلما خطب خطبۃ الا امرنا فیھا حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صدقہ کرنے کی ترغیب دیا کرتے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھےیہ ابوداؤد کے الفاظ ہیں۔اور امام طحاوی کے یہ الفاظ ہیں کہ کوئی ایسا خطبہ
حدیث ۳۱:طبرانی امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی:
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ینھی عن المثلۃ ولو بالکلب العقور ۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنا کہ مثلہ کرنا منع فرماتے تھے اگر چہ سگ گزندہ کو۔
حدیث ۳۲ و ۳۳:ابن قانع وطبرانی وابن مندہ بطریق موسی بن ابی حبیب حضرت حکم بن عمیروحضرت عائد بن قرط رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتمثلوا بشیئ من خلق اﷲ عزوجل فیہ روح ۔ خلق اﷲ میں سے کسی ذی روح کو مثلہ نہ کرو۔
حدیث ۳۴ و ۳۵:ابوداؤد وطحاوی حضرت سمرہ بن جندب اور بخاری ومسلم قتادہ سے مرسلا راوی:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یحثنا علی الصدقۃ وینھانا عن المثلۃ وھذا لفظ ابی داؤد ولفظ الطحاوی قلما خطب خطبۃ الا امرنا فیھا حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صدقہ کرنے کی ترغیب دیا کرتے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھےیہ ابوداؤد کے الفاظ ہیں۔اور امام طحاوی کے یہ الفاظ ہیں کہ کوئی ایسا خطبہ
حوالہ / References
شرح معانی الاثار کتاب الجنایات ۲/ ۱۱۷ و المصنف لابن ابی شیبہ حدیث ۷۹۸۴ ۹/ ۴۲۳،المعجم الاوسط حدیث ۵۷۳۵ مکتبہ المعارف ریاض ۶/ ۳۴۴،المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۸۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۲/ ۴۰۳،کنزالعمال برمزك عن عمران حدیث ۱۱۰۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۳۹۱
المعجم الکبیر حدیث ۱۶۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱/ ۱۰۰
المعجم الکبیر حدیث ۳۱۸۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۳۱۸
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی النہی عن المثلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۶
المعجم الکبیر حدیث ۱۶۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱/ ۱۰۰
المعجم الکبیر حدیث ۳۱۸۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۳۱۸
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی النہی عن المثلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۶
بالصدقۃ ونھانا فیہا عن المثلۃ ولفظھما فی حدیث العرینین عن قتادۃ بلغنا ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان بعد ذلك یحث علی الصدقۃ وینھی عن المثلۃ وبمعناہ لابن ابی شیبہ والطحاوی عن عمران فی الحدیث المار۔ نہیں ہوتا تھا جس میں صدقہ کرنے کا حکم نہ فرماتے ہوں اور مثلہ کرنے سے منع نہ کرتے ہوں ان دونوں کے الفاظ حدیث "عرینین"میں بحوالہ حضرت قتادہ یہ ہیں:ہمیں یہ اطلاع پہنچی ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعدازیں صدقہ کرنے کی ترغیب دلاتے اور مثلہ کرنے سے منع فرماتے۔اور اسی کی ہم معنی ابن ابی شیبہ اور طحاوی کی گزشتہ حدیث بروایت حضرت عمران مذکور ہے۔(ت)
حدیث ۳۶:طبرانی کبیر میں حضرت یعلی بن مرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لاتمثلوا بعباداﷲ اﷲ کے بندوں کو مثلہ نہ کرو۔
حدیث ۳۷ و ۳۸:ابن عساکر وابن النجار حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور ابن ابی شیبہ مصنف میں عطا سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاامثل بہ کذا فیمثل اﷲ بی یوم القیمۃ ۔ حاصل یہ کہ جو یہاں مثلہ کرے گا روز قیامت اسے اﷲ تعالی مثلہ بنائے گا۔
حدیث ۳۹:بیہقی سنن میں صالح بن کیسان سے حدیث طویل میں راوی حضرت خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اﷲ تعالی عنہما کو سپہ سالاری پر بھیجتے وقت وصیت میں فرمایا:
حدیث ۳۶:طبرانی کبیر میں حضرت یعلی بن مرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لاتمثلوا بعباداﷲ اﷲ کے بندوں کو مثلہ نہ کرو۔
حدیث ۳۷ و ۳۸:ابن عساکر وابن النجار حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اور ابن ابی شیبہ مصنف میں عطا سے مرسلا راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاامثل بہ کذا فیمثل اﷲ بی یوم القیمۃ ۔ حاصل یہ کہ جو یہاں مثلہ کرے گا روز قیامت اسے اﷲ تعالی مثلہ بنائے گا۔
حدیث ۳۹:بیہقی سنن میں صالح بن کیسان سے حدیث طویل میں راوی حضرت خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیدنا صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اﷲ تعالی عنہما کو سپہ سالاری پر بھیجتے وقت وصیت میں فرمایا:
حوالہ / References
شرح معانی الاثار للطحاوی کتاب الجنایات باب کیفیۃ القصاص ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۱۷،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی النہی عن المثلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۶
صحیح البخاری کتاب المغازی باب قصہ عکل وعرینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰۲
المعجم الکبیر حدیث ۶۹۷ و ۶۹۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۲۲/ ۲۷۲
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر وابن النجار حدیث ۱۳۴۴۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/ ۴۰۸،المصنف لابن ابی شیبہ کتاب المغازی حدیث ۱۸۵۸۶ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴/ ۳۸۷
صحیح البخاری کتاب المغازی باب قصہ عکل وعرینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۰۲
المعجم الکبیر حدیث ۶۹۷ و ۶۹۸ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۲۲/ ۲۷۲
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر وابن النجار حدیث ۱۳۴۴۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/ ۴۰۸،المصنف لابن ابی شیبہ کتاب المغازی حدیث ۱۸۵۸۶ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴/ ۳۸۷
لاتغدرولا تمثل ولا تجبن ولا تغلل ۔ نہ عہد توڑنانہ مثلہ کرنانہ بزدلی نہ خیانت۔
حدیث ۴۰:سیف کتاب الفتوح میں متعدد شیوخ سے راویامیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے صوبہ ملك یمامہ مہاجربن ابی امیہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو فرمان بھیجا جس میں ارشاد ہے:
ایاك والمثلۃ فی الناس فانھا ماثم ومنفرۃ الا فی قصاص ۔ لوگوں کو مثلہ کرنے سے بچو کہ وہ گناہ ہے اور نفرت دلانے والا مگر قصاص وعوض میں۔
اﷲ اکبر! جب چوپایوں سے مثلہ حرامچوپائے درکنار کٹکھنے کتے سے ناجائز کتے سے بھی گزرئیے حربی کافر سے بھی منعتو مسلمان کا خود اپنے منہ کے ساتھ مثلہ کرنا کس درجہ اشد حرام وموجب لعنت وانتقام ہے والعیاذ باﷲ تعالی۔
حدیث ۴۱:طبرانی معجم کبیر میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مثلہ بالشعر فلیس لہ عنداﷲ خلاق ۔ جوبالوں کے ساتھ مثلہ کرے اﷲ عزوجل کے یہاں اس کا کچھ حصہ نہیں۔
والعیاذ باﷲ رب العالمین ____ یہ حدیث خاص مسئلہ مثلہ مو میں ہے بالوں کا مثلہ یہی جو کلمات ائمہ سے مذکور ہوا کہ عورت سر کے بال یا مرد داڑھی یا مرد خواہ عورت بھنویں کما یفعلہ کفرۃ الھند فی الحداد(جیسے ہندوستان کے کفار لوگ سوگ مناتے ہوئے ایسا کرتے ہیں۔ت)یا سیاہ خضاب کرے کما فی المناوی والعزیزی والحفنی شروح الجامع الصغیریہ سب صورتیں مثلہ مومیں داخل ہیں اور سب حرام۔
دلیل دوم:داڑھی منڈانازنانی صورت بنانا اور عورتوں سے تشبہ پیدا کرنا ہے اور مرد کو عورت عورت کو مرد سے کسی لباس وضعچال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت وبدن میں ظاہر کہ عورت ومرد کا جسم ظاہر میں مابہ الامتیاز یہی چوٹی داڑھی ہے۔اسی طرح تسبیح ملائکہ میں اشارہ وارد ہوا۔امام زیلعی تبیین الحقائق علامہ اتقانی غایۃ البیان علامہ طوری تکملہ بحر سب علماء کتاب الجنایات
حدیث ۴۰:سیف کتاب الفتوح میں متعدد شیوخ سے راویامیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے صوبہ ملك یمامہ مہاجربن ابی امیہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو فرمان بھیجا جس میں ارشاد ہے:
ایاك والمثلۃ فی الناس فانھا ماثم ومنفرۃ الا فی قصاص ۔ لوگوں کو مثلہ کرنے سے بچو کہ وہ گناہ ہے اور نفرت دلانے والا مگر قصاص وعوض میں۔
اﷲ اکبر! جب چوپایوں سے مثلہ حرامچوپائے درکنار کٹکھنے کتے سے ناجائز کتے سے بھی گزرئیے حربی کافر سے بھی منعتو مسلمان کا خود اپنے منہ کے ساتھ مثلہ کرنا کس درجہ اشد حرام وموجب لعنت وانتقام ہے والعیاذ باﷲ تعالی۔
حدیث ۴۱:طبرانی معجم کبیر میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مثلہ بالشعر فلیس لہ عنداﷲ خلاق ۔ جوبالوں کے ساتھ مثلہ کرے اﷲ عزوجل کے یہاں اس کا کچھ حصہ نہیں۔
والعیاذ باﷲ رب العالمین ____ یہ حدیث خاص مسئلہ مثلہ مو میں ہے بالوں کا مثلہ یہی جو کلمات ائمہ سے مذکور ہوا کہ عورت سر کے بال یا مرد داڑھی یا مرد خواہ عورت بھنویں کما یفعلہ کفرۃ الھند فی الحداد(جیسے ہندوستان کے کفار لوگ سوگ مناتے ہوئے ایسا کرتے ہیں۔ت)یا سیاہ خضاب کرے کما فی المناوی والعزیزی والحفنی شروح الجامع الصغیریہ سب صورتیں مثلہ مومیں داخل ہیں اور سب حرام۔
دلیل دوم:داڑھی منڈانازنانی صورت بنانا اور عورتوں سے تشبہ پیدا کرنا ہے اور مرد کو عورت عورت کو مرد سے کسی لباس وضعچال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت وبدن میں ظاہر کہ عورت ومرد کا جسم ظاہر میں مابہ الامتیاز یہی چوٹی داڑھی ہے۔اسی طرح تسبیح ملائکہ میں اشارہ وارد ہوا۔امام زیلعی تبیین الحقائق علامہ اتقانی غایۃ البیان علامہ طوری تکملہ بحر سب علماء کتاب الجنایات
حوالہ / References
السنن الکبرٰی کتاب السیر باب ترك قتل من لا قتال فیہ من الرھبان الخ دارصادر بیروت ۹ /۹۰
تاریخ الامم والملوك للطبری ذکر خبر حضرموت فی ردتہم دارالقلم بیروت ۳/ ۲۷۷
المجعم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۹۷۷ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۴۱
تاریخ الامم والملوك للطبری ذکر خبر حضرموت فی ردتہم دارالقلم بیروت ۳/ ۲۷۷
المجعم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۹۷۷ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۴۱
اور امام حجۃ الاسلام محمد غزالی کیمیائے سعادت میں ذکر کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ﷲ ملئکۃ تسبیحھم سبحن من زین الرجال باللحی والنساء وبالقرون والذوائب (لیس عند الاتقانی فی نسختی لفظ القرون) بے شك اﷲ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں جن کی تسبیح یہ ہے پاکی ہے اسے جس نے مردوں کو زینت دی داڑھیوں سے اور عورتوں کو گیسوؤں سےبلکہ داڑھی چوٹی سے بھی زیادہ وجہ امتیاز ہے کہ مرد چوٹی بناسکتا ہے اور عورت داڑھی نہیں نکال سکتی۔(میرے نسخہ میں اتقانی کے نزدیک"قرون"کا لفظ نہیں ہے)۔(ت)
ولہذا نص ۵۰ و ۵۱:امامین جلیلین قوت واحیاء میں فرماتے ہیں:
اللحیۃ من تمام خلق الرجال وبھا تمیز الرجال من النساء فی ظاھر الخلق ۔ داڑھی آفرینش مرد کی تمامی سے ہے اور اسی سے متمیز ہوتے ہیں مرد عورتوں سے ظاہری صورت میں۔
لاجرم بزازیہ ودرمختار وردالمحتار کے نصوص گزرے کہ عورت کو موئے سر مرد کو داڑھی کا قطع کرنا حرام ہے کہ اس میں ایك کادوسرے سے تشبہ ہے۔
نص ۵۲:سیدی عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الحکمۃ فی تحریم تشبہ الرجل بالمرأۃ وتشبہ المرأۃ بالرجل انھما مغیرات لخلق اﷲ ۔ مردعورت کا باہم تشبہ حرام ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ دونوں اس میں خدا کی بنائی چیز بدلتے ہیں۔
یہ اشارہ ہے اسی آیۃ کریمہ "فلیغیرن خلق اللہ " کی طرفیہ تو آیت تھی اب بتوفیق اﷲ تعالی احادیث لیجئے۔
حدیث ۴۲:امام احمد ودارمی وامام بخاری وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجۃ وطبرانی
ان ﷲ ملئکۃ تسبیحھم سبحن من زین الرجال باللحی والنساء وبالقرون والذوائب (لیس عند الاتقانی فی نسختی لفظ القرون) بے شك اﷲ عزوجل کے کچھ فرشتے ہیں جن کی تسبیح یہ ہے پاکی ہے اسے جس نے مردوں کو زینت دی داڑھیوں سے اور عورتوں کو گیسوؤں سےبلکہ داڑھی چوٹی سے بھی زیادہ وجہ امتیاز ہے کہ مرد چوٹی بناسکتا ہے اور عورت داڑھی نہیں نکال سکتی۔(میرے نسخہ میں اتقانی کے نزدیک"قرون"کا لفظ نہیں ہے)۔(ت)
ولہذا نص ۵۰ و ۵۱:امامین جلیلین قوت واحیاء میں فرماتے ہیں:
اللحیۃ من تمام خلق الرجال وبھا تمیز الرجال من النساء فی ظاھر الخلق ۔ داڑھی آفرینش مرد کی تمامی سے ہے اور اسی سے متمیز ہوتے ہیں مرد عورتوں سے ظاہری صورت میں۔
لاجرم بزازیہ ودرمختار وردالمحتار کے نصوص گزرے کہ عورت کو موئے سر مرد کو داڑھی کا قطع کرنا حرام ہے کہ اس میں ایك کادوسرے سے تشبہ ہے۔
نص ۵۲:سیدی عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
الحکمۃ فی تحریم تشبہ الرجل بالمرأۃ وتشبہ المرأۃ بالرجل انھما مغیرات لخلق اﷲ ۔ مردعورت کا باہم تشبہ حرام ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ دونوں اس میں خدا کی بنائی چیز بدلتے ہیں۔
یہ اشارہ ہے اسی آیۃ کریمہ "فلیغیرن خلق اللہ " کی طرفیہ تو آیت تھی اب بتوفیق اﷲ تعالی احادیث لیجئے۔
حدیث ۴۲:امام احمد ودارمی وامام بخاری وابوداؤد وترمذی ونسائی وابن ماجۃ وطبرانی
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتا ب الجنایات ۶/ ۱۳۰ و بحرالرائق کتاب الجنایات ۸/ ۳۳۱
قوت القلوب الفصل السادس والثلاثون ۲/ ۱۴۲ و احیاء العلوم النوع الثانی ۱/ ۱۴۴
الحدیقہ الندیہ ومن الآفات اضاعۃ الرجل اولادہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۵۸
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹
قوت القلوب الفصل السادس والثلاثون ۲/ ۱۴۲ و احیاء العلوم النوع الثانی ۱/ ۱۴۴
الحدیقہ الندیہ ومن الآفات اضاعۃ الرجل اولادہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۵۸
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹
حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشابھات من النساء بالرجال ۔ اﷲ کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی۔
طبرانی کی روایت یوں ہے:
ان امرأۃ مرت علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم متقلدۃ قوسافقال لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ایك عورت شانے پر کمان لٹکائے گزریفرمایا:اﷲ کی لعنت ان عورتوں پر جو مردانی وضع بنائیں اور ان مردوں پر جو زنانی۔
حدیث ۴۳:بخاریابوداؤ وترمذی انھیں سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المخنثین من الرجال والمترجلات من النساء وقال اخرجوھم من بیوتکم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں اور مردانی عورتوں پر۔اور فرمایا انھیں اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔
حدیث ۴۴:بخاریابوداؤدابن ماجہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اخرجوا المخنثین من بیوتکم ۔ زنانوں کو اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشابھات من النساء بالرجال ۔ اﷲ کی لعنت ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی۔
طبرانی کی روایت یوں ہے:
ان امرأۃ مرت علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم متقلدۃ قوسافقال لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ایك عورت شانے پر کمان لٹکائے گزریفرمایا:اﷲ کی لعنت ان عورتوں پر جو مردانی وضع بنائیں اور ان مردوں پر جو زنانی۔
حدیث ۴۳:بخاریابوداؤ وترمذی انھیں سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المخنثین من الرجال والمترجلات من النساء وقال اخرجوھم من بیوتکم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں اور مردانی عورتوں پر۔اور فرمایا انھیں اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔
حدیث ۴۴:بخاریابوداؤدابن ماجہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اخرجوا المخنثین من بیوتکم ۔ زنانوں کو اپنے گھروں سے نکال باہر کرو۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس ۲/ ۸۷۴۔سنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۰۔جامع الترمذی ۲/ ۱۰۲،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب فی المخنثین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۸،مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۳۹
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترھیب من تشبہ الرجل بالمرأۃ الخ مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۰۳
صحیح البخاری کتاب اللباس ۲/ ۸۷۴ و سنن ابی داؤد کتاب الادب ۲/ ۳۱۸ جامع الترمذی ابواب الادب ۲/ ۱۰۲
سنن ابن ماجہ ابواب الحدود باب المخنثین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱،کنز العمال بحوالہ احمد خ،د،ھ حدیث ۴۵۰۶۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۹۶
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترھیب من تشبہ الرجل بالمرأۃ الخ مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۰۳
صحیح البخاری کتاب اللباس ۲/ ۸۷۴ و سنن ابی داؤد کتاب الادب ۲/ ۳۱۸ جامع الترمذی ابواب الادب ۲/ ۱۰۲
سنن ابن ماجہ ابواب الحدود باب المخنثین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱،کنز العمال بحوالہ احمد خ،د،ھ حدیث ۴۵۰۶۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۹۶
حدیث ۴۵:ابوداؤد ونسائیوابن ماجہ وابن حبان بسند صحیح ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجل یلبس لبسۃ المرأۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس مرد پر کہ عورت کا پہناوا پہنے اور اس عورت پر کہ مرد کا۔
حدیث ۴۶:ابوداؤد بسند حسن عبداﷲ بن ابی ملیکہ سے راوی:
قال قیل لعائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ان امرأۃ تلبس النعل قالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء ۔ ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہ عنھا سے عرض کی گئی کہ ایك عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حدیث ۴۷:امام احمد بسند صحیح ایك تابعی ہذیلی سے راوی میں عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر تھا ایك عورت کمان لٹکائے مردانی چال چلتی سامنے سے گزری عبداﷲ نے پوچھا یہ کون ہے میں نے کہا ام سعید دختر ابو جہلفرمایا میں نے سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
لیس منا من تشبہ بالرجال من النساء ولا من تشبہ بالنساء من الرجال ورواہ الطبرانی عن عبد اﷲ مختصرا۔ ہمارے گروہ میں سے نہیں وہ عورت کہ مردوں سے تشبہ کرے اور نہ وہ مرد کہ عوتوں سے(اور اسے طبرانی نے عبد اﷲ بن عمرو بن عاص سے مختصرا روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۸:امام احمد بسند حسن اور عبدالرزاق مصنف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخنثی الرجال الذین یتشبھون بالنساء والمترجلات من النساء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں پر جو عورتوں کی صورت بنیں اور مردانی عورتوں پر جو مردوں کی شکل بنیں اور جنگل کے
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجل یلبس لبسۃ المرأۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس مرد پر کہ عورت کا پہناوا پہنے اور اس عورت پر کہ مرد کا۔
حدیث ۴۶:ابوداؤد بسند حسن عبداﷲ بن ابی ملیکہ سے راوی:
قال قیل لعائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ان امرأۃ تلبس النعل قالت لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء ۔ ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہ عنھا سے عرض کی گئی کہ ایك عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حدیث ۴۷:امام احمد بسند صحیح ایك تابعی ہذیلی سے راوی میں عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر تھا ایك عورت کمان لٹکائے مردانی چال چلتی سامنے سے گزری عبداﷲ نے پوچھا یہ کون ہے میں نے کہا ام سعید دختر ابو جہلفرمایا میں نے سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
لیس منا من تشبہ بالرجال من النساء ولا من تشبہ بالنساء من الرجال ورواہ الطبرانی عن عبد اﷲ مختصرا۔ ہمارے گروہ میں سے نہیں وہ عورت کہ مردوں سے تشبہ کرے اور نہ وہ مرد کہ عوتوں سے(اور اسے طبرانی نے عبد اﷲ بن عمرو بن عاص سے مختصرا روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۸:امام احمد بسند حسن اور عبدالرزاق مصنف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخنثی الرجال الذین یتشبھون بالنساء والمترجلات من النساء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی زنانہ مردوں پر جو عورتوں کی صورت بنیں اور مردانی عورتوں پر جو مردوں کی شکل بنیں اور جنگل کے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۰۰
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۰۰
المتشابھات بالرجال وراکب الفلاۃ وحدہ ۔ اکیلے سوار کو یعنی جو خطرہ کی حالت میں تنہا سفر کو جائے۔
حدیث ۴۹:طبرانی کبیر میں بسند صالح حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث و الرجلۃ من النساء و مدمن الخمر ۔ تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے دیوث اور مردانی عورت اور شراب کا عادی۔
حدیث ۵۰:احمدنسائیحاکم حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاینظراﷲ الیھم یوم القیمۃ العاق لوالدیہ والمرأۃ المترجلۃ المتشبھۃ بالرجال عــــــہ والدیوث ۔ تین شخصوں پر اﷲ تعالی روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا ماں باپ کا نافرمان اور مردانی عورت مردوں کی وضع بنانے والی اور دیوث۔
حدیث ۵۱:نسائی سنن اور بزار مسند اورحاکم مستدرك اور بیہقی شعب الایمان میں ان سے راوی:
عــــــہ: وفی طریقۃ لاحمد وروایۃ عبدالرزاق بعدھذا والمتبتلین الذین یقولون لانتزوج والمتبتلات اللاتی یقلن ذلك وراکب الفلاۃ وحدہ والبائت وحدہ ۱۲ منہ امام احمد کی دوسری سند کے ساتھ اور مصنف عبدالرزاق کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ مذکور ہیں وہ مرد جو عورتوں سے لاتعلق ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کرتے اور الگ تھلگ رہنے والی عورتیں جو یہی کچھ کہتی ہیں اور جنگل و بیابان میں اکیلا سفر کرنے والا سوار اور قوت مردمی کے باوجود تنہا رہنے والا مرد۔(ت)
حدیث ۴۹:طبرانی کبیر میں بسند صالح حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ ابدا الدیوث و الرجلۃ من النساء و مدمن الخمر ۔ تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے دیوث اور مردانی عورت اور شراب کا عادی۔
حدیث ۵۰:احمدنسائیحاکم حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاینظراﷲ الیھم یوم القیمۃ العاق لوالدیہ والمرأۃ المترجلۃ المتشبھۃ بالرجال عــــــہ والدیوث ۔ تین شخصوں پر اﷲ تعالی روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا ماں باپ کا نافرمان اور مردانی عورت مردوں کی وضع بنانے والی اور دیوث۔
حدیث ۵۱:نسائی سنن اور بزار مسند اورحاکم مستدرك اور بیہقی شعب الایمان میں ان سے راوی:
عــــــہ: وفی طریقۃ لاحمد وروایۃ عبدالرزاق بعدھذا والمتبتلین الذین یقولون لانتزوج والمتبتلات اللاتی یقلن ذلك وراکب الفلاۃ وحدہ والبائت وحدہ ۱۲ منہ امام احمد کی دوسری سند کے ساتھ اور مصنف عبدالرزاق کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ مذکور ہیں وہ مرد جو عورتوں سے لاتعلق ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کرتے اور الگ تھلگ رہنے والی عورتیں جو یہی کچھ کہتی ہیں اور جنگل و بیابان میں اکیلا سفر کرنے والا سوار اور قوت مردمی کے باوجود تنہا رہنے والا مرد۔(ت)
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۸۹۔۲۸۷
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب النکاح باب فیمن یرضی لاہلہ بالخبث دارالکتاب بیروت ۴/ ۳۲۷
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۳۴،سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۵۷
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۸۹
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب النکاح باب فیمن یرضی لاہلہ بالخبث دارالکتاب بیروت ۴/ ۳۲۷
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۳۴،سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۵۷
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۲۸۹
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ سے عاق اور دیوث اور مردانی عورت۔
حدیث ۵۲:بیہقی شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اربعۃ یصبحون فی غضب اﷲ ویمسون فی غضب اﷲ المتشبھون من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال والذی یاتی البھیمۃ والذی یاتی بالرجل ۔ چار شخص صبح کریں تو اﷲ کے غضب میں شام کریں تو اﷲ کے غضب ہیں زنانی وضع والے مرد اور مردانی وضع والی عورتیں اور جو چوپائے سے جما ع کرے اور اغلامی۔
حدیث ۵۳:طبرانی کبیر میں ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
اربعۃ لعنھم اﷲ فوق عرشہ وامنت علیھم ملئکۃ الذی یحصن نفسہ عن النساء ولایتزوج ولا یتسری لان لایولد لہ ولد الرجل یتشبہ بالنساء وقد خلقہ اﷲ ذکرا والمرأۃ تتشبہ بالرجال وقد خلقھا اﷲ انثی ومضل المسکین وفی اخری حاصل یہ کہ چا رشخصوں پر اﷲ عزوجل نے بالائے عرش سے دنیا وآخرت میں لعنت بھیجی اور ان کی ملعونی پر فرشتوں نے آمین کہی وہ مرد جسے خدائے تعالی نے نر بنایا اور وہ مادہ بنے عورتوں کی وضع بنائے اور عورت جسے خدانے مادہ بنایا اور وہ نر بنے مردانی وضع اختیار کرے اور اندھے کو بہکانے یا مسکین
عــــــہ: ھذا وعید اخر غیر مافی قرینۃ فالظاھر تعداد الورود ولا تغییر العبارۃ من الصحابی او راو بعد ہ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ یہ دوسری وعید ہے جو ساتھ والی روایت میں نہیں ہے بظاہر تعداد ورود مرا دہے صحابی سے تبدیلی عبارت مراد نہیں یا اس کے بعد کوئی اور راوی ہے اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث ورجلۃ النساء ۔ تین شخص جنت میں نہ جائیں گے ماں باپ سے عاق اور دیوث اور مردانی عورت۔
حدیث ۵۲:بیہقی شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اربعۃ یصبحون فی غضب اﷲ ویمسون فی غضب اﷲ المتشبھون من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال والذی یاتی البھیمۃ والذی یاتی بالرجل ۔ چار شخص صبح کریں تو اﷲ کے غضب میں شام کریں تو اﷲ کے غضب ہیں زنانی وضع والے مرد اور مردانی وضع والی عورتیں اور جو چوپائے سے جما ع کرے اور اغلامی۔
حدیث ۵۳:طبرانی کبیر میں ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
اربعۃ لعنھم اﷲ فوق عرشہ وامنت علیھم ملئکۃ الذی یحصن نفسہ عن النساء ولایتزوج ولا یتسری لان لایولد لہ ولد الرجل یتشبہ بالنساء وقد خلقہ اﷲ ذکرا والمرأۃ تتشبہ بالرجال وقد خلقھا اﷲ انثی ومضل المسکین وفی اخری حاصل یہ کہ چا رشخصوں پر اﷲ عزوجل نے بالائے عرش سے دنیا وآخرت میں لعنت بھیجی اور ان کی ملعونی پر فرشتوں نے آمین کہی وہ مرد جسے خدائے تعالی نے نر بنایا اور وہ مادہ بنے عورتوں کی وضع بنائے اور عورت جسے خدانے مادہ بنایا اور وہ نر بنے مردانی وضع اختیار کرے اور اندھے کو بہکانے یا مسکین
عــــــہ: ھذا وعید اخر غیر مافی قرینۃ فالظاھر تعداد الورود ولا تغییر العبارۃ من الصحابی او راو بعد ہ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ یہ دوسری وعید ہے جو ساتھ والی روایت میں نہیں ہے بظاہر تعداد ورود مرا دہے صحابی سے تبدیلی عبارت مراد نہیں یا اس کے بعد کوئی اور راوی ہے اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
حوالہ / References
شعب الایمان للبیہقی باب فی الغیرۃ والمذاق حدیث ۱۰۷۹۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷/ ۴۱۲،سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ ۱/ ۳۵۷ و المستدرك للحاکم کتاب الایمان ۱/ ۷۲
شعب الایمان باب فی تحریم الفروج حدیث ۵۳۸۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۳۵۶
المعجم الکبیر حدیث ۷۴۸۹ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۱۱۷
شعب الایمان باب فی تحریم الفروج حدیث ۵۳۸۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۳۵۶
المعجم الکبیر حدیث ۷۴۸۹ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۱۱۷
عنہ اربعۃ لعنوا فی الدنیا والاخرۃ وامنت الملئکۃ رجل جعلہ اﷲ ذکرا فانث نفسہ وتشبہ بالنساء وامرأۃ جعلھا اﷲ انثی فتذکرت وتشبھت بالرجال والذی یضل الاعمی ورجل حصور ولم یجعل اﷲ حصورا الایحیی بن زکریا علیہ السلام ۔ کو راستہ بھلانے والا اور وہ جو اولاد ہونے کے خوف سے نکاح نہ کرے نہ کنیز حلال رکھے راہبان نصاری کی طرح بن رہے۔
حدیث ۵۴:ا بن عساکر ابن صالح وہ اپنے بعض شیوخ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الملئکۃ رجلا تانث وامراۃ تذکرت ۔ والعیاذ باﷲ رب العالمین۔ اﷲ عزوجل اور فرشتوں نے لعنت کی اس مرد پر جو عورت بنے اور اس عورت پر جو مرد۔
دلیل سوم:داڑھی منڈا نا کتروانا شعا ر کفار میں ان سے تشبہ ہے اور وہ حرام۔
تنبیہ ہشتم کی متعدد احادیث میں گزرا کہ یہ خصلت شیعہ مجوس ویہود ومشرکین کی ہے اور نہم کے نصوص عدیدہ میں کہ مجوسیوں یہودیوں ہندؤوں فرنگیوں کی اور حدیث اول وسوم وچہارم میں گزرا مشرکوں کا خلاف کرو یہودیوں کی صورت نہ بنو اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
نص ۵۳ تا ۵۵:لمعات سے گزرا کہ داڑھی باندھنے والے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی بیزاری اس وجہ سے ظاہر فرمائی کہ اس میں بے دینوں سے تشبہہ ہے۔ علامہ طیبی وعلامہ طاہر سے گزرا کہ وجہ نہی مشابہت کفا رہے ۔
نص ۵۶ و ۵۷:بدائع امام ملك العلماء وشرح منسك متوسط میں ہے:
حدیث ۵۴:ا بن عساکر ابن صالح وہ اپنے بعض شیوخ سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الملئکۃ رجلا تانث وامراۃ تذکرت ۔ والعیاذ باﷲ رب العالمین۔ اﷲ عزوجل اور فرشتوں نے لعنت کی اس مرد پر جو عورت بنے اور اس عورت پر جو مرد۔
دلیل سوم:داڑھی منڈا نا کتروانا شعا ر کفار میں ان سے تشبہ ہے اور وہ حرام۔
تنبیہ ہشتم کی متعدد احادیث میں گزرا کہ یہ خصلت شیعہ مجوس ویہود ومشرکین کی ہے اور نہم کے نصوص عدیدہ میں کہ مجوسیوں یہودیوں ہندؤوں فرنگیوں کی اور حدیث اول وسوم وچہارم میں گزرا مشرکوں کا خلاف کرو یہودیوں کی صورت نہ بنو اہل کتاب کی مخالفت کرو۔
نص ۵۳ تا ۵۵:لمعات سے گزرا کہ داڑھی باندھنے والے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنی بیزاری اس وجہ سے ظاہر فرمائی کہ اس میں بے دینوں سے تشبہہ ہے۔ علامہ طیبی وعلامہ طاہر سے گزرا کہ وجہ نہی مشابہت کفا رہے ۔
نص ۵۶ و ۵۷:بدائع امام ملك العلماء وشرح منسك متوسط میں ہے:
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۷۴۸۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۴۲
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابن صالح حدیث ۴۳۹۸۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۷۳
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ المعارف العلمیہ ۲/ ۶۸
شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۶
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابن صالح حدیث ۴۳۹۸۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۷۳
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك مکتبہ المعارف العلمیہ ۲/ ۶۸
شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطہارۃ باب السواك ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۶
حلق اللحیۃ تشبہ بالنصاری ۔ داڑھی منڈانی نصاری کی سی صورت بنانی ہے۔
نص ۵۸:جب درمختار میں فرمایا داڑھی نہ رکھنا یہود وہنود کا کام ہے علامہ طحطاوی نے فرمایا:التشبہ بھم حرام ان سے تشبہ حرام ہے۔
نص ۵۹ و ۶۰:علامہ اسمعیل بن عبدالغنی حاشیہ درر وغرر پھر علامہ عبدالغنی بن اسمعیل حاشیہ طریقہ محمدیہ نوع ثامن آفات لسان میں فرماتے ہیں:
لبس زی الافرنج کفر علی الصحیح اھ مختصرا۔ فرنگیوں کی وضع پہننی صحیح مذہب میں کفر ہے اھ مختصرا۔
حدیث ۵۵:صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ابغض الناس الی اﷲ ثلثۃ ملحد فی الحرم ومتبغ فی الاسلام سنۃ الجاھلیۃ ومطلب دم امرئ بغیر حق لیھریق دمہ ۔ اﷲ عزوجل کوسب سے زیادہ دشمن تین شخص ہیں حرم شریف میں الحاد و زیادتی کرنے والا اور اسلام میں جاہلیت کی سنت چاہنے والا اور ناحق کسی کی خونریزی کے لئے اس کے قتل کی تلاش میں رہنے والا۔
علامہ طیبی سے مجمع البحار میں ہے:
اذا ترتب ھذا الوعید علی طالبہ فعلی المباشر اولی ۔ جب سنت جاہلیت کی طلب پر یہ وعید ہے تو برتنے والا بدرجہ اولی۔
حدیث ۵۶ و ۵۷:بخاری تعلیقا اور احمدوابویعلی وطبرانی کاملا حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور جملہ اخیرہ ابوداؤد ان سے اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن حضرت حذیفہ
نص ۵۸:جب درمختار میں فرمایا داڑھی نہ رکھنا یہود وہنود کا کام ہے علامہ طحطاوی نے فرمایا:التشبہ بھم حرام ان سے تشبہ حرام ہے۔
نص ۵۹ و ۶۰:علامہ اسمعیل بن عبدالغنی حاشیہ درر وغرر پھر علامہ عبدالغنی بن اسمعیل حاشیہ طریقہ محمدیہ نوع ثامن آفات لسان میں فرماتے ہیں:
لبس زی الافرنج کفر علی الصحیح اھ مختصرا۔ فرنگیوں کی وضع پہننی صحیح مذہب میں کفر ہے اھ مختصرا۔
حدیث ۵۵:صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ابغض الناس الی اﷲ ثلثۃ ملحد فی الحرم ومتبغ فی الاسلام سنۃ الجاھلیۃ ومطلب دم امرئ بغیر حق لیھریق دمہ ۔ اﷲ عزوجل کوسب سے زیادہ دشمن تین شخص ہیں حرم شریف میں الحاد و زیادتی کرنے والا اور اسلام میں جاہلیت کی سنت چاہنے والا اور ناحق کسی کی خونریزی کے لئے اس کے قتل کی تلاش میں رہنے والا۔
علامہ طیبی سے مجمع البحار میں ہے:
اذا ترتب ھذا الوعید علی طالبہ فعلی المباشر اولی ۔ جب سنت جاہلیت کی طلب پر یہ وعید ہے تو برتنے والا بدرجہ اولی۔
حدیث ۵۶ و ۵۷:بخاری تعلیقا اور احمدوابویعلی وطبرانی کاملا حضرت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے اور جملہ اخیرہ ابوداؤد ان سے اور طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن حضرت حذیفہ
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الحج فصل واما الحلق والتقصیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۴۱،المنسك المتوسط علی لباب المناسك مع ارشاد الساری دارالکتب العربی بیروت ص۱۵۲
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۶۰
الحدیقہ الندیہ النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۳۰
صحیح البخاری کتاب الدیات باب من طلب دم الخ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۲/ ۱۰۱۶
مجمع بحار الانوار باب السنن مع النون تحت لفظ السنن مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۳/ ۱۳۲
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم الخ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۶۰
الحدیقہ الندیہ النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۳۰
صحیح البخاری کتاب الدیات باب من طلب دم الخ قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی ۲/ ۱۰۱۶
مجمع بحار الانوار باب السنن مع النون تحت لفظ السنن مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۳/ ۱۳۲
صاحب سر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعل الذل والصغار علی من خالف امری ومن تشبہ بقوم فھو منھم ۔ رکھی گئی ذلت اور خواری اس پر جو میرے حکم کا خلاف کرے اور جو کسی قوم سے تشبہ کرے وہ انھیں میں سے ہے۔
علامہ طیبی سے مجمع وغیرہ میں ہے:
ای من تشبہ بالکفارفی اللباس وغیرہ فھو منھم اھ باختصار۔ یعنی جو کافروں سے لباس وغیرہ میں مشابہت کرے وہ انھیں کافروں میں سے ہے اھ باختصار
حدیث ۵۸:ترمذی وطبرانی حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من تشبہ بغیر نا لاتشبھوابالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وتسلیم النصاری الاشارۃ بالاکف ۔ ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے تشبہ کرےنہ یہود سے تشبہ کرو نہ نصرانیوں سے کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصاری کا ہتھیلیوں سے۔
حدیث ۵۹:مسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مرویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من عمل بسنۃ غیرنا ۔ جوہمارے غیر کی سنت پر عمل کرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
جعل الذل والصغار علی من خالف امری ومن تشبہ بقوم فھو منھم ۔ رکھی گئی ذلت اور خواری اس پر جو میرے حکم کا خلاف کرے اور جو کسی قوم سے تشبہ کرے وہ انھیں میں سے ہے۔
علامہ طیبی سے مجمع وغیرہ میں ہے:
ای من تشبہ بالکفارفی اللباس وغیرہ فھو منھم اھ باختصار۔ یعنی جو کافروں سے لباس وغیرہ میں مشابہت کرے وہ انھیں کافروں میں سے ہے اھ باختصار
حدیث ۵۸:ترمذی وطبرانی حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من تشبہ بغیر نا لاتشبھوابالیھود ولا بالنصاری فان تسلیم الیھود الاشارۃ بالاصابع وتسلیم النصاری الاشارۃ بالاکف ۔ ہم میں سے نہیں جو ہمارے غیر سے تشبہ کرےنہ یہود سے تشبہ کرو نہ نصرانیوں سے کہ یہود کا سلام انگلیوں سے اشارہ ہے اور نصاری کا ہتھیلیوں سے۔
حدیث ۵۹:مسند الفردوس میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے مرویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من عمل بسنۃ غیرنا ۔ جوہمارے غیر کی سنت پر عمل کرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب ماقیل فی الرماح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۰۸،مسنداحمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۵۰ و ۹۲،سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳،المعجم الاوسط حدیث ۸۳۲۳ مکتبہ المعارف ریاض ۹/ ۱۵۱
مجمع بحار الانوار باب الشین مع الباء مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۳/ ۱۷۸
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب ماجاء فی تبلیغ الاسلام آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۹۴
الفردوس بما ثور الخطاب عن ابن عباس حدیث ۵۲۶۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۴۱۵
مجمع بحار الانوار باب الشین مع الباء مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۳/ ۱۷۸
جامع الترمذی ابواب الاستیذان والآداب باب ماجاء فی تبلیغ الاسلام آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۹۴
الفردوس بما ثور الخطاب عن ابن عباس حدیث ۵۲۶۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳/ ۴۱۵
حدیث ۶۰:ابن حبان اپنی صحیح میں ابوعثمان سے راوی ہمارے پاس پیشگاہ خلافت فاروقی رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمان والا شرف صدور لایا جس میں ارشاد ہے:ایاکم وزی الاعاجم پارسیوں کی وضع سے دور رہو
تذییل حدیث ۶۱:ابن ماجہ حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یعمل بسنتی فلیس منی ۔ جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔
حدیث ۶۲:ابن عساکر حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من رغب عن سنتی فلیس منی ۔ جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ میرے گروہ سے نہیں۔
حدیث ۶۳:خطیب حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خالف سنتی فلیس منی ۔ جو میری سنت کا خلاف کرے وہ میرے زمرے سے نہیں۔
حدیث ۶۴:ابن عساکر حضرت ابن الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ بسنتی فھو منی ومن رغب عن سنتی فلیس منی ۔ جومیری سنت اختیار کرے وہ میرا اور جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ میرا نہیں۔
حدیث ۶۵:بیہقی شعب میں عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند صحیح راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تذییل حدیث ۶۱:ابن ماجہ حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یعمل بسنتی فلیس منی ۔ جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔
حدیث ۶۲:ابن عساکر حضرت ابوایوب انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من رغب عن سنتی فلیس منی ۔ جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ میرے گروہ سے نہیں۔
حدیث ۶۳:خطیب حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خالف سنتی فلیس منی ۔ جو میری سنت کا خلاف کرے وہ میرے زمرے سے نہیں۔
حدیث ۶۴:ابن عساکر حضرت ابن الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ بسنتی فھو منی ومن رغب عن سنتی فلیس منی ۔ جومیری سنت اختیار کرے وہ میرا اور جو میری سنت سے منہ پھیرے وہ میرا نہیں۔
حدیث ۶۵:بیہقی شعب میں عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند صحیح راوی:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
کشف الخفاء بحوالہ ابن حبان تحت حدیث ۱۰۱۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۸۳
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ابی ایوب حدیث ۱۸۱۴۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۹۸
تاریخ بغداد الخطیب ترجمہ ۳۶۷۸ دارالکتب العربی بیروت ۷/ ۲۰۹
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۹۳۴ ۱/ ۱۸۴ و حدیث ۲۲۷۵۴ ۸/۲۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۴
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ابی ایوب حدیث ۱۸۱۴۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۹۸
تاریخ بغداد الخطیب ترجمہ ۳۶۷۸ دارالکتب العربی بیروت ۷/ ۲۰۹
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۹۳۴ ۱/ ۱۸۴ و حدیث ۲۲۷۵۴ ۸/۲۴۴ موسسۃ الرسالہ بیروت
ان لکل عمل شرۃ ولکل شرۃ فترۃ فمن کانت فترتہ الی سنتی فقد اھتدی ومن کانت الی غیر ذلك فقد ھلك ۔
ربنا بقدرتك علینا وعجز نا لدیك وبغناك عنا وفا قتنا الیك لاتھلکنا بذنوبنا ولا تواخذنا بما عملنا ولا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین ربنا انك رؤف رحیم امین والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولانا محمد شفیع المذنبین والہ و صحبہ اجمعینامین۔ یعنی ہر کام کا ایك جوش ہوتاہے اور ہر جوش کو ایك فتور توجو فتور کے وقت بھی میری سنت ہی کی طرف رہے ہدایت پائے اور جو دوسری جانب ہو ہلاك ہوجائے۔
اے ہمارے پروردگار! ہم پرجو تجھے قدرت کاملہ حاصل ہے اس کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں اور ہمارا تیری بارگارہ میں عجز ونیاز اور تیری ہم سے بے نیازی اور ہمارا تیری طرف احتیاجہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاك نہ کرنا اور جو کچھ ہم نے کیا اس پر ہماری گرفت نہ کرنا اور ہمیں ظالموں کے لئے آزمائش نہ بنانااے ہمارے پروردگار ! یقینا تو بڑی شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ہماری دعا قبول فرما (آمین)سب تعریف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا مالك وپروردگا رہے اور ہمارے آقا ومولی پر اﷲ تعالی کی بے پایاں رحمتیں ہوں جو(حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)روزقیامت گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں اور ان کی تمام اولاد اور سب ساتھیوں پرمولا! اس دعا کو قبول فرماآمین!(ت)
خاتمہ
رزقنا اﷲ حسنھا(اﷲ تعالی اسے(یعنی خاتمہ کو)حسن وجمال سے نوازے۔ت)اب کہ بحمداﷲ تعالی کلام اپنے منتہی کو پہنچا اکثر ابنائے زماں کی ہمت اور دین وعلم کی جانب رغبت معلوم کسی دینی تحریر کے چند ورق دیکھنے بھی ان پربارگراں اور راستانوں دیوانوں کے دفتر الٹ جائیں سیری کہاںلہذا ہم بعض مضامین رسالہ کا ایك جدول میں خلاصہ لکھتے ہیں جنھیں اﷲ ورسول پر ایمان اور روز قیامت پر ایقان ہے ملاحطہ کریں کہ قرآن وحدیث ونصوص ائمہ وعلمائے کرام قدیم وحدیث میں داڑھی منڈانے کتروانے پر کیا کیا ہولناك سزائیں وعیدیںمذمتیںتہدیدیں واردہیںایمانی نگاہ کو یہ جدول ہی کافی۔اور جو تفصیل چاہے تو یہ
ربنا بقدرتك علینا وعجز نا لدیك وبغناك عنا وفا قتنا الیك لاتھلکنا بذنوبنا ولا تواخذنا بما عملنا ولا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین ربنا انك رؤف رحیم امین والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولانا محمد شفیع المذنبین والہ و صحبہ اجمعینامین۔ یعنی ہر کام کا ایك جوش ہوتاہے اور ہر جوش کو ایك فتور توجو فتور کے وقت بھی میری سنت ہی کی طرف رہے ہدایت پائے اور جو دوسری جانب ہو ہلاك ہوجائے۔
اے ہمارے پروردگار! ہم پرجو تجھے قدرت کاملہ حاصل ہے اس کا واسطہ دے کر سوال کرتاہوں اور ہمارا تیری بارگارہ میں عجز ونیاز اور تیری ہم سے بے نیازی اور ہمارا تیری طرف احتیاجہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاك نہ کرنا اور جو کچھ ہم نے کیا اس پر ہماری گرفت نہ کرنا اور ہمیں ظالموں کے لئے آزمائش نہ بنانااے ہمارے پروردگار ! یقینا تو بڑی شفقت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ہماری دعا قبول فرما (آمین)سب تعریف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا مالك وپروردگا رہے اور ہمارے آقا ومولی پر اﷲ تعالی کی بے پایاں رحمتیں ہوں جو(حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)روزقیامت گناہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں اور ان کی تمام اولاد اور سب ساتھیوں پرمولا! اس دعا کو قبول فرماآمین!(ت)
خاتمہ
رزقنا اﷲ حسنھا(اﷲ تعالی اسے(یعنی خاتمہ کو)حسن وجمال سے نوازے۔ت)اب کہ بحمداﷲ تعالی کلام اپنے منتہی کو پہنچا اکثر ابنائے زماں کی ہمت اور دین وعلم کی جانب رغبت معلوم کسی دینی تحریر کے چند ورق دیکھنے بھی ان پربارگراں اور راستانوں دیوانوں کے دفتر الٹ جائیں سیری کہاںلہذا ہم بعض مضامین رسالہ کا ایك جدول میں خلاصہ لکھتے ہیں جنھیں اﷲ ورسول پر ایمان اور روز قیامت پر ایقان ہے ملاحطہ کریں کہ قرآن وحدیث ونصوص ائمہ وعلمائے کرام قدیم وحدیث میں داڑھی منڈانے کتروانے پر کیا کیا ہولناك سزائیں وعیدیںمذمتیںتہدیدیں واردہیںایمانی نگاہ کو یہ جدول ہی کافی۔اور جو تفصیل چاہے تو یہ
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ھب عن ابن عمرو حدیث ۴۴۴۳۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۲۷۶
فتوی وافی اب جس میں عذاب الہی کی طاقت ہو نیچریان عنود کی بات سنےمجوس وہنود کی صورت بنےان جانگزاآفتوں کو گوارا کرے اور جسے محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے محبت ہواپنا منہ اسلامی بنائے شعائر اﷲ کی حرمت بجالائے شعائر کفر سے کنارہ کرے۔واﷲ الھادی وولی الایادی(اﷲ تعالی ہی سیدھی راہ دکھانے والا گوناگوں احسانات وانعامات کا مالك ہے۔ت)
جدول ان سزاؤں وعیدوں مذمتوں کی جو داڑھی منڈانے کتروانے والوں کے حق میں آیات واحادیث ونصوص مذکورہ سے ثابت ہیں
نمبر شمار سزا ومذمت فرمان عدالت میزان فرامین
۱ اﷲ ورسول کے نافرمان ہیں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ نو ۹۔ آیات ۱۲۷۸۱۳۱۵ تا ۱۸۳۲ حدیث ۱ تا ۱۰۱۹ تا ۳۸۴۰ تا ۵۸ ۴۱
۲ شیطان لعین کے محکوم ہیں۔ آیت ۵ ۱
۳ سخت احمق ہیں۔ آیت ۱۰ نص ۱۸۱۹ ۳
۴ اﷲ ان سے بیزار ہے۔ آیت ۱۴ ۱
۵ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیزار ہیں۔ حدیث ۱۱۱۳ ۲
۶ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایسی صورت دیکھنے سے کراہت آتی ہے۔ حدیث ۱۰ ۱
۷ یہودی صورت ہیں۔ حدیث ۳۴ نص ۱ تا ۵ ۷
۸ نصرانی وضع ہیں فرنگیوں سے مشابہ ہیں۔ حدیث ۴ نص ۱ تا ۵۱۳ تا ۱۷۳۶۵۶۵۷ ۱۴
۹ مجوس کے پیرو ہیں۔ حدیث ۲۶۔ نص ۱ تا ۵۱۳ تا ۱۷ ۱۲
۱۰ ہندوؤں کی صورت مشرکین کی سیر ت ہیں۔ حدیث ۱۔نص ۱ تا ۵۱۳ تا ۱۷۳۴۳۶ ۱۳
۱۱ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گروہ سے نہیں۔ حدیث ۴۷۵۸۵۹۶۱ تا ۶۴ ۷
۱۲ انھیں اپنے ہم صورتوں نصاری ویہود ومجوس و ہنود کے گروہ سے ہیں۔ حدیث ۵۶۵۷ ۲
جدول ان سزاؤں وعیدوں مذمتوں کی جو داڑھی منڈانے کتروانے والوں کے حق میں آیات واحادیث ونصوص مذکورہ سے ثابت ہیں
نمبر شمار سزا ومذمت فرمان عدالت میزان فرامین
۱ اﷲ ورسول کے نافرمان ہیں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ نو ۹۔ آیات ۱۲۷۸۱۳۱۵ تا ۱۸۳۲ حدیث ۱ تا ۱۰۱۹ تا ۳۸۴۰ تا ۵۸ ۴۱
۲ شیطان لعین کے محکوم ہیں۔ آیت ۵ ۱
۳ سخت احمق ہیں۔ آیت ۱۰ نص ۱۸۱۹ ۳
۴ اﷲ ان سے بیزار ہے۔ آیت ۱۴ ۱
۵ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیزار ہیں۔ حدیث ۱۱۱۳ ۲
۶ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایسی صورت دیکھنے سے کراہت آتی ہے۔ حدیث ۱۰ ۱
۷ یہودی صورت ہیں۔ حدیث ۳۴ نص ۱ تا ۵ ۷
۸ نصرانی وضع ہیں فرنگیوں سے مشابہ ہیں۔ حدیث ۴ نص ۱ تا ۵۱۳ تا ۱۷۳۶۵۶۵۷ ۱۴
۹ مجوس کے پیرو ہیں۔ حدیث ۲۶۔ نص ۱ تا ۵۱۳ تا ۱۷ ۱۲
۱۰ ہندوؤں کی صورت مشرکین کی سیر ت ہیں۔ حدیث ۱۔نص ۱ تا ۵۱۳ تا ۱۷۳۴۳۶ ۱۳
۱۱ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گروہ سے نہیں۔ حدیث ۴۷۵۸۵۹۶۱ تا ۶۴ ۷
۱۲ انھیں اپنے ہم صورتوں نصاری ویہود ومجوس و ہنود کے گروہ سے ہیں۔ حدیث ۵۶۵۷ ۲
۱۳ واجب التعزیر ہیں شہر بدر کرنے کے قابل ہیں۔ حدیث ۴۳۴۴۔ نص ۶ تا ۱۲ ۹
۱۴ مبدلین فطرت ہیں مغیر خلق اﷲ ہیں۔ نص ۱۸۱۹۳۵۳۸ تا ۴۹۵۲ ۱۶
۱۵ زنانے مخنث ہیں۔ حدیث ۴۳۴۸۔ نص ۱ تا ۵ ۷
۱۶ خدا کے عہد شکن ہیں۔ حدیث ۲۱ ۱
۱۷ ذلیل وخوار ہیں۔ حدیث ۵۶۵۷ ۲
۱۸ گھنونے قابل نفرت ہیں۔ حدیث ۴۰ ۱
۱۹ مردودالشہادت ہیں۔ حدیث ۱۳۱۴۱۵ ۳
۲۰ پورے اسلام میں داخل نہ ہوئے۔ آیت ۱۸ ۱
۲۱ ہلاکت میں ہیں مستحق بربادی ہیں۔ آیت ۱۸ حدیث ۶۵ ۲
۲۲ دین میں بے بہرہ آخرت میں بے نصیب ہیں۔ حدیث ۱۶۱۷۴۱ ۳
۲۳ عذاب الہی کے منتظر۔ آیت ۱۸ ۱
۲۴ اﷲ عزوجل کوسخت دشمن ومبغوض ہیں۔ حدیث ۵۵ ۱
۲۵ صبح ہیں تو اﷲ کے غضب میںشام ہیں تو اﷲ کے غضب میں۔ حدیث ۵۳ ۱
۲۶ قیامت کے دن ان کی صورتیں بگاڑی جائیں گی۔ حدیث ۳۷۳۸ ۲
۲۷ اﷲ ورسول کے ملعون ہیں دنیا وآخرت میں ملعون ہیںاﷲ و ملائکہ وبشر سب کی ان پر لعنت ہےفرشتوں نے ان کے لعنتی ہونے پر آمین کہی۔ ہشت احادیث ۱۸۴۲۴۳۴۵۴۶۴۸۵۳۵۴۔ ۸
۲۸ اﷲ تعالی ان پر نظر رحمت نہ فرمائے گا۔ حدیث ۵۰ ۱
۲۹ وہ بہشت میں نہ جائیں گے۔ حدیث ۴۹۵۱ ۲
۳۰ اﷲ عزوجل انھیں جہنم میں ڈالے گا۔ والعیاذ باﷲ تعالی آیت ۱۴ ۱
الحمدﷲ یہ مختصر رسالہ جس میں علاوہ زوائد کے اصل مقصد میں اٹھارہ۱۸ ایتوں بہتر۷۲ حدیثوں
۱۴ مبدلین فطرت ہیں مغیر خلق اﷲ ہیں۔ نص ۱۸۱۹۳۵۳۸ تا ۴۹۵۲ ۱۶
۱۵ زنانے مخنث ہیں۔ حدیث ۴۳۴۸۔ نص ۱ تا ۵ ۷
۱۶ خدا کے عہد شکن ہیں۔ حدیث ۲۱ ۱
۱۷ ذلیل وخوار ہیں۔ حدیث ۵۶۵۷ ۲
۱۸ گھنونے قابل نفرت ہیں۔ حدیث ۴۰ ۱
۱۹ مردودالشہادت ہیں۔ حدیث ۱۳۱۴۱۵ ۳
۲۰ پورے اسلام میں داخل نہ ہوئے۔ آیت ۱۸ ۱
۲۱ ہلاکت میں ہیں مستحق بربادی ہیں۔ آیت ۱۸ حدیث ۶۵ ۲
۲۲ دین میں بے بہرہ آخرت میں بے نصیب ہیں۔ حدیث ۱۶۱۷۴۱ ۳
۲۳ عذاب الہی کے منتظر۔ آیت ۱۸ ۱
۲۴ اﷲ عزوجل کوسخت دشمن ومبغوض ہیں۔ حدیث ۵۵ ۱
۲۵ صبح ہیں تو اﷲ کے غضب میںشام ہیں تو اﷲ کے غضب میں۔ حدیث ۵۳ ۱
۲۶ قیامت کے دن ان کی صورتیں بگاڑی جائیں گی۔ حدیث ۳۷۳۸ ۲
۲۷ اﷲ ورسول کے ملعون ہیں دنیا وآخرت میں ملعون ہیںاﷲ و ملائکہ وبشر سب کی ان پر لعنت ہےفرشتوں نے ان کے لعنتی ہونے پر آمین کہی۔ ہشت احادیث ۱۸۴۲۴۳۴۵۴۶۴۸۵۳۵۴۔ ۸
۲۸ اﷲ تعالی ان پر نظر رحمت نہ فرمائے گا۔ حدیث ۵۰ ۱
۲۹ وہ بہشت میں نہ جائیں گے۔ حدیث ۴۹۵۱ ۲
۳۰ اﷲ عزوجل انھیں جہنم میں ڈالے گا۔ والعیاذ باﷲ تعالی آیت ۱۴ ۱
الحمدﷲ یہ مختصر رسالہ جس میں علاوہ زوائد کے اصل مقصد میں اٹھارہ۱۸ ایتوں بہتر۷۲ حدیثوں
ساٹھ ارشادات علماء جملہ ڈیڑھ سو نصوص نے باطل کاازہاقحق کا احقاق کیاغرہ رجب روز جمعہ مبارك ۱۳۰۵ھجریہ قدسیہ کو قمر التمام وبدرسماء اختتام اور بلحاظ تاریخ لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی(چاشت کی روشنی داڑھیاں بڑھانے میں۔ت)نام ہوا۔
ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ وسراج افقہ سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین واخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے(اس خدمت کو)قبول فرما بے شك تو سب کچھ سننے جاننے والا ہے اﷲ تعالی ان کی ان پر(بے حساب)رحمتیں ہوں جو تمام مخلوق سے بہتر اور علم ودانش کا(روشن)چراغ ہیں جو ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں اور ان کی سب آل اور تمام صحابہ کرام پر بھی ہو(مولائے کریم)دعا قبول فرما اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ تمام خوبیاں اور تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے مربی ہے۔اﷲ تعالی کی ذات برتر اور سب سے زیادہ جاننے والی ہے۔ اور اس جلیل القدر کا علم سب سے زیادہ تام(کامل)اور بڑا محکم ہے۔(ت)
ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم وصلی اﷲ تعالی علی خیر خلقہ وسراج افقہ سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین واخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے(اس خدمت کو)قبول فرما بے شك تو سب کچھ سننے جاننے والا ہے اﷲ تعالی ان کی ان پر(بے حساب)رحمتیں ہوں جو تمام مخلوق سے بہتر اور علم ودانش کا(روشن)چراغ ہیں جو ہمارے آقا و مولا محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں اور ان کی سب آل اور تمام صحابہ کرام پر بھی ہو(مولائے کریم)دعا قبول فرما اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ تمام خوبیاں اور تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے مربی ہے۔اﷲ تعالی کی ذات برتر اور سب سے زیادہ جاننے والی ہے۔ اور اس جلیل القدر کا علم سب سے زیادہ تام(کامل)اور بڑا محکم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۲۸: مسئولہ عزیز الحسن طالب علم مدرسہ اہلسنت شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
سر کے بال مونڈھے سے زیادہ بڑھالینا جس طرح کہ آج کل کے متصوفوں نے اختیار کیا ہے جائز ہے یانہیں
الجواب:
صحاح احادیث میں لعنت فرمائی ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور عورتوں پر جو مردوں کی لہذا یہ حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ابوبکر علی محمد نو روز چہارشنبہ ۳ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
ایك شخص کھتری کا کام کرتا ہے اور کپڑے میں کنڈیں باندھنے کے لئے چند ناخون رکھوانے کی بہت ضرورت پڑتی ہے تو اب وقت ضرور ناخن رکھوانے کے لئے کیاحکم ہے۔تحریر فرمائیں فقط۔
الجواب:
چالیس۴۰ روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیںبعد چالس۴۰ روز کے گنہگار ہوں گےایك آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگاصحیح مسلم میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی و النسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترك اکثر من اربعین لیلۃ ۔ ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا(مسلم شریف کے الفاظ)مسند احمدابوداؤدجامع الترمذی اور سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں وقت لنا یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنےناخن کاٹنےزیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایك وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔(ت)
سر کے بال مونڈھے سے زیادہ بڑھالینا جس طرح کہ آج کل کے متصوفوں نے اختیار کیا ہے جائز ہے یانہیں
الجواب:
صحاح احادیث میں لعنت فرمائی ان مردوں پر جو عورتوں کی وضع بنائیں اور عورتوں پر جو مردوں کی لہذا یہ حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ابوبکر علی محمد نو روز چہارشنبہ ۳ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
ایك شخص کھتری کا کام کرتا ہے اور کپڑے میں کنڈیں باندھنے کے لئے چند ناخون رکھوانے کی بہت ضرورت پڑتی ہے تو اب وقت ضرور ناخن رکھوانے کے لئے کیاحکم ہے۔تحریر فرمائیں فقط۔
الجواب:
چالیس۴۰ روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیںبعد چالس۴۰ روز کے گنہگار ہوں گےایك آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگاصحیح مسلم میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی و النسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترك اکثر من اربعین لیلۃ ۔ ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا(مسلم شریف کے الفاظ)مسند احمدابوداؤدجامع الترمذی اور سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں وقت لنا یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنےناخن کاٹنےزیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایك وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔(ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹،سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی اخذا لشارب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۱،سنن النسائی ذکر التوقیت فی ذٰلك نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۷،جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء فی تقلیم الاظفار امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۰
درمختار میں ہے:
کرہ ترکہ وراء الاربعین ۔ چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای تحریما لقول المجتبی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید ۔ یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے۔المجتبی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر (مقبول) نہیںلہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے اھ(ت)
پیتل وغیرہ کے ناخن بنواکر ایسے کہ انگلیوں پر چڑھ سکیں مثلا ایك پورے کے قدر انگلی کی شبیہ جسے انگلی میں پہن لیا جائے اور اس پر ناخن بنا ہو ان سے کام لیا جائے یہ سونے چاندی کے جائز نہیں۔حتی کہ عورتوں کو بھی احتراز چاہئے کہ یہ صرف پہننا نہیں بلکہ دوسرے کام میں استعمال۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: از شہر بریلی مسئولہ خورشید حسین ۲۵ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے ہاتھ میں رعشہ ہے وہ استرہ نہیں لے سکتا خوف زخمی ہونے کا ہے تو وہ کیا کرے۔
الجواب:
نورہ استعمال کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: مرسلہ مرزا عبدا لرحیم بیگ مدرس مدرسہ جماعت نارواڑی محلہ رنچھوڑ لین کراچی بندر ۲۷ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك ہندو نومسلم ہوا ہے اب اس کا ختنہ کرنا شرع شریف سے کیا حکم ہے۔آیا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کون سی دلیل ہے اور کس ترتیب سے اور اگر ناجائز ہے تو کس وجہ سے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ)
الجواب:
ہاں ختنہ کاحکم ہے۔حدیث میں ارشاد ہوا:
کرہ ترکہ وراء الاربعین ۔ چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای تحریما لقول المجتبی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید ۔ یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے۔المجتبی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر (مقبول) نہیںلہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے اھ(ت)
پیتل وغیرہ کے ناخن بنواکر ایسے کہ انگلیوں پر چڑھ سکیں مثلا ایك پورے کے قدر انگلی کی شبیہ جسے انگلی میں پہن لیا جائے اور اس پر ناخن بنا ہو ان سے کام لیا جائے یہ سونے چاندی کے جائز نہیں۔حتی کہ عورتوں کو بھی احتراز چاہئے کہ یہ صرف پہننا نہیں بلکہ دوسرے کام میں استعمال۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: از شہر بریلی مسئولہ خورشید حسین ۲۵ شوال ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے ہاتھ میں رعشہ ہے وہ استرہ نہیں لے سکتا خوف زخمی ہونے کا ہے تو وہ کیا کرے۔
الجواب:
نورہ استعمال کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: مرسلہ مرزا عبدا لرحیم بیگ مدرس مدرسہ جماعت نارواڑی محلہ رنچھوڑ لین کراچی بندر ۲۷ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك ہندو نومسلم ہوا ہے اب اس کا ختنہ کرنا شرع شریف سے کیا حکم ہے۔آیا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کون سی دلیل ہے اور کس ترتیب سے اور اگر ناجائز ہے تو کس وجہ سے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ)
الجواب:
ہاں ختنہ کاحکم ہے۔حدیث میں ارشاد ہوا:
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
ر دالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
ر دالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
الق عنك شعر الکفر واختتن ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اپنے آپ سے کفر کے بال دور کردے اور ختنہ کرےاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۳۲ و ۲۳۳:از موضع بھوٹا بہوٹی بسوٹولانڈ علاقہ جام نگر کاٹھیا واڑ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صدیقی حنفی قادری ابن حاجی امیر میاں ۲۲ صفر المظفر ۱۳۳۶ھ
(۱)زید سوال کرتا ہے کہ اکثر عربستان میں لڑکیوں کو ختنہ کرنے کا رواج ہے۔اور ہند میں کیوں رواج نہیں
(۲)مسلمان کو مونچھ بڑھانا یہاں تك کہ منہ میں آئے کیاحکم ہے زید کہتاہے ترکی لوگ بھی مسلمان ہیں وہ کیوں مونچھ بڑھاتے ہیں
الجواب:
(۱)لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسیں گے اور یہ ان کے گناہ عظیم میں پڑنے کا سبب ہوگا اور حفظ دین مسلمانان واجب ہے لہذا یہاں اس کا حکم نہیں۔ اشباہ میں ہے:
لایسن ختانھا وانما ھو مکرمۃ ۔ لڑکیوں کا ختنہ کرنا سنت نہیں بلکہ وہ ایك عمدہ کام ہے۔ (ت)
منیہ المفتی پھر غمز العیون میں ہے:
وانماکان الختان فی حقہا مکرمۃ لانہ یزید فی اللذۃ ۔ لڑکیوں کے حق میں ختنہ ایك عمدہ فعل ہے کیونکہ اس سے لذت جماع میں اضافہ ہوتاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ختان المرأۃ لیس سنۃ بل مکرمۃ للرجال وقیل عورت کا ختنہ سنت نہیں بلکہ وہ مردوں کے لئے ایك اچھا طریقہ ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ
مسئلہ ۲۳۲ و ۲۳۳:از موضع بھوٹا بہوٹی بسوٹولانڈ علاقہ جام نگر کاٹھیا واڑ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صدیقی حنفی قادری ابن حاجی امیر میاں ۲۲ صفر المظفر ۱۳۳۶ھ
(۱)زید سوال کرتا ہے کہ اکثر عربستان میں لڑکیوں کو ختنہ کرنے کا رواج ہے۔اور ہند میں کیوں رواج نہیں
(۲)مسلمان کو مونچھ بڑھانا یہاں تك کہ منہ میں آئے کیاحکم ہے زید کہتاہے ترکی لوگ بھی مسلمان ہیں وہ کیوں مونچھ بڑھاتے ہیں
الجواب:
(۱)لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسیں گے اور یہ ان کے گناہ عظیم میں پڑنے کا سبب ہوگا اور حفظ دین مسلمانان واجب ہے لہذا یہاں اس کا حکم نہیں۔ اشباہ میں ہے:
لایسن ختانھا وانما ھو مکرمۃ ۔ لڑکیوں کا ختنہ کرنا سنت نہیں بلکہ وہ ایك عمدہ کام ہے۔ (ت)
منیہ المفتی پھر غمز العیون میں ہے:
وانماکان الختان فی حقہا مکرمۃ لانہ یزید فی اللذۃ ۔ لڑکیوں کے حق میں ختنہ ایك عمدہ فعل ہے کیونکہ اس سے لذت جماع میں اضافہ ہوتاہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ختان المرأۃ لیس سنۃ بل مکرمۃ للرجال وقیل عورت کا ختنہ سنت نہیں بلکہ وہ مردوں کے لئے ایك اچھا طریقہ ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارت باب الرجل یسلم یؤمر بالغسل آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵۲،مسند احمد بن حنبل عن ابی کلیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۴۱۵
الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰
الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ ادارۃ القرآن کرچی ۲/ ۱۷۰
سنۃ اھ وجزم بہ البزازی فی وجیزہ والحدادی فی سراجہ وقال فی الہندیۃ عن المحیط اختلف الروایات فی ختان النساء ذکر فی بعضھا انہ سنۃ ھکذا حکی عن بعض المشائخ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی فی ادب القاضی للخصاف ان ختان النساء مکرمۃ اھ ورأیتنی کتبت علیہ ای فیکون مستحبا وھو عند الشافعیۃ واجب فلا یترك مااقلہ الاستحباب مع احتمال الوجوب لکن الھنود لایعرفونہ ولو فعل احد یلومونہ و یسخرون بہ فکان الوجہ ترکہ کیلا یبتلی المسلمون بالاستھزاء بامر شرعی وھذ ا نظیر ماقال العلماء ینبغی للعالم ان لایرسل العذبۃ علی ظھرہ وان کان سنۃ اذا کان الجھال یسخرون منہ ویشبھون بالذنب سنت ہے اھ اور بزازی نے وجیز میں اس پر اظہار یقین کیا اور حدادی نے اپنی سراج میں اور فتاوی عالمگیری میں محیط سے نقل کیا ہے کہ عورتوں کے ختنہ میں اختلافات روایات ہے چنانچہ بعض میں یہ ذکر کیا گیا کہ وہ سنت ہے۔چنانچہ بعض مشائخ سے اسی طرح حکایت کی گئیاور شمس الائمہ حلوانی نے خصاف کی ادب القاضی سے ذکر کیا کہ عورتوں کا ختنہ عمدہ فعل ہے اھمجھے یاد ہے کہ میں نے اس پر تحریر کیا ہے کہ عورتوں کا ختنہ کرنا مستحب ہے لیکن شافعیوں کے نزدیك واجب ہے لہذا یسے کام کو نہ چھوڑا جائے جو کم سے کم مستحب ہے باوجود یہ کہ اس میں وجوب کا احتمال ہے لیکن ہمارے ہاں کے ہندی لوگ اس کو نہیں پہچانتےلہذا اگر یہاں کوئی ایسا کرے تو لوگوں اس کو ملامت کریں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے۔لہذا عمدہ وجہ اسے چھوڑدینا ہے تاکہ لوگ ایك حکم شرعی کے ساتھ ہنسی مذاق میں مبتلا نہ ہوجائیںاور اس کی نظیر (مثال)وہ ہے کہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا کہ عالم کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی پیٹھ پر(دستار کا)شملہ نہ چھوڑے اگر چہ یہ کام سنت ہے۔اگر ناواقف لوگ(اس فعل سے)مذاق اڑائیں اوراس کو
حوالہ / References
درمختار مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۷
فیقعون فی شدید الذنب ھذا واحتج البزازی علی استنانہ بان لوکان مکرمۃ لم تختن الخنثی لاحتمال ان یکون امرأۃ ولکن لا کالسنۃ فی حق الرجال اھ وتعقبہ العلامۃ ش فقال ختان الخنثی لاحتمال کونہ رجلا وختان الرجل لایترك فلذا کان سنۃ احتیاطا ولایفید ذلك سنیتہ للمرأۃ تأمل اھ و کتبت فیما علقت علیہ اقول:کان یتمشی ھذالولم یختن منھا الا الذکر اذ لامعنی لختان الفرج قصدا الی الختان لاحتمال الرجولیۃ وقد صرح فی السراج ان الخنثی تختن من کلا الفرجین ولا شك ان النظر الی العورۃ لاتباح لتحصیل مکرمۃ اھ دم سے تشبیہ دیں۔پھر اس طرح کی حرکت سے شدید گناہ میں پڑ جائیں۔اور امام بزازی نے(ختنہ کے)سنت ہونے پر استدلال کیا(اور دلیل پیش کی)اگر یہ کام صرف عمدہ اور اعزازی ہوتا تو پھر ہیجڑے کا ختنہ نہ کیا جاتا اس احتما ل پر کہ شاید عورت ہو لیکن یہ اسی طرح نہیں جیسے مردوں کے حق میں سنت ہے۔اھ علامہ"ش"نے بزازی کاتعاقب کیا اور فرمایا کہ ہیجڑے کا ختنہ کرنا اس کے مرد ہونے کے احتمال پر ہے۔اور مرد کا ختنہ کبھی متروك نہیںپھر اس لئے یہ احتیاطی سنت ہے۔اور یہ بات عورت کے لئے سنیت کا فائدہ نہیں دیتیغور اور سوچ کیجئے اھ میں نے اپنی تعلیق میں اس کے متعلق تحریر کیا ہے۔میں کہتاہوں کہ یہ بات چل سکتی تھی جبکہ ان میں سے سوائے مرد کے کسی کا ختنہ نہ کیا جاتا کیونکہ فرج(شرمگاہ)کے قصدا ختنہ کرنے کا صرف اس کی مردانگی (رجولیت)کے احتمال پر کوئی مفہوم اور مطلب نہیں۔اور سراج میں یہ صراحت کی گئی کہ ہیجڑے کے دونوں فرجوں (شرمگاہوں)کا ختنہ کیا جائےاور اس میں کوئی شك وشبہ نہیں کہ محل ستر(عورۃ)کو کسی عمدہ کام کے حصول کے لئے دیکھنا مباح نہیں ہوسکتا اھ
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ البزازی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۷۹
ردالمحتار بحوالہ البزازی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۷۹
السراج
ردالمحتار بحوالہ البزازی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۷۹
السراج
لکن ھذا ھو نص الحدیث فقد اخرج احمد عن والدابی الملیح والطبرانی فی الکبیر عن شداد بن اوس وکابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم بسند حسن حسنہ الامام السیوطی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال الختان سنۃ للرجال ومکرمۃ للنساء اقول: و لایندفع الاشکال بما فعل الامام البزازی فانہ ان فرض سنۃ فلیست کل سنۃ یباح لھا النظر الی العورۃ ومسھا الاتری ان الاستنجاء بالماء سنۃ ولا یحل کشف العورۃ فان لم یجد سترا وجب علیہ ترکہ وانما ابیح لہ ذلك فی ختان الرجل لانہ من شعائر الاسلام حتی لو ترکہ اھل بلدۃ قاتلھم الامام کما فی فتح القدیر یرو لیکن یہ صراحۃ حدیث ہے کہ امام احمد نے ابوالملیح کے والد کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں شداد بن اوس کی سند سے جیسا کہ ابن عدی نے سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے نیز امام سیوطی نے اس کی تحسین فرمائی(یعنی اس کو حدیث حسن قرارد یا)حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:ختنہ مردوں کے حق میں سنت ہے اور عورتوں کے لئے ایك عمدہ کام ہے۔
میں کہتاہوں کہ امام بزازی کی کارروائی سے اشکال دفع نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس کام کو سنت بھی فرض کرلیا جائے تو بھی نظر الی الفرج کا جواز کیسے ہوگا)اس لئے ہر سنت میں بھی یہ گنجائش نہیں کہ اس کی وجہ سے محل ستر(عورۃ)کو دیکھنا اور مس کرنا مباح ہوکیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی سے استنجا کرنا سنت ہے لیکن اگر کوئی باپردہ جگہ نہ ہو تو پھر بر سرعام کھلی جگہ ستر ننگا کرکے استنجا کرناجائز اورمباح نہیں۔بلکہ اس صورت میں ترك استنجا واجب ہے۔اور مردوں کے ختنہ میں اس کی اس لئے اجازت دی گئی کہ یہ کام شعائر اسلام میں سے ہے حتی کہ اگر کسی شہروالے اسے چھوڑ دیں تو امام ان سے جنگ
میں کہتاہوں کہ امام بزازی کی کارروائی سے اشکال دفع نہیں ہوتا کیونکہ اگر اس کام کو سنت بھی فرض کرلیا جائے تو بھی نظر الی الفرج کا جواز کیسے ہوگا)اس لئے ہر سنت میں بھی یہ گنجائش نہیں کہ اس کی وجہ سے محل ستر(عورۃ)کو دیکھنا اور مس کرنا مباح ہوکیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی سے استنجا کرنا سنت ہے لیکن اگر کوئی باپردہ جگہ نہ ہو تو پھر بر سرعام کھلی جگہ ستر ننگا کرکے استنجا کرناجائز اورمباح نہیں۔بلکہ اس صورت میں ترك استنجا واجب ہے۔اور مردوں کے ختنہ میں اس کی اس لئے اجازت دی گئی کہ یہ کام شعائر اسلام میں سے ہے حتی کہ اگر کسی شہروالے اسے چھوڑ دیں تو امام ان سے جنگ
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث اسامۃ الہذلی ۵/ ۷۵ والمعجم الکبیر ۷۱۱۲ و ۱۱۳ ۷ ۷/ ۷۴۔۲۷۳
التنویر وغیرہما ولیس ھذا منھا فان الشعار یظھر والخفاض مأمور فیہ بالاخفاء فسقط الاحتجاج ولا مخلص الا فی قصر ختانھا علی الذکر خلافالما فی السراج الا ان یحمل علی مااذ اختنت قبل ان تراھق۔واﷲ تعالی اعلم۔ لڑے(تاکہ وہ اسے قائم کرنے پر آمادہ ہوجائیں)جیسا کہ فتح القدیر اور تنویر اور ان دو کے علاوہ دوسری کتابوں میں ہے۔اور یہ اس میں سے نہیں۔اور شعار کو ظاہر کیا جاتاہے۔اور اس میں اخفاء کا حکم دیا گیا ہے اور استنجا کرنے میں بصورت پستی شرمگاہ چھپانے کا حکم دیا گیا لہذا استدلال ساقط ہوگیا۔اور اس سے کوئی چارہ کار نہیں کہ ختنہ کرنامرد پر بند رکھا جائے بخلاف اس کے جو کچھ سراج میں ہےمگر یہ کہ اس کا قول اس پر حمل کیا جائے کہ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ لڑکی کا ختنہ اس کے قریب البلوغ ہونے سے پہلے کرلیا جائے۔اور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔(ت)
(۲)مونچھیں اتنی بڑھانا کہ منہ میں آئیں حرام وگناہ وسنت مشرکین ومجوس ویہود ونصاری ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعلی درجہ کی حدیث صحیح میں فرماتے ہیں:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولاتشبھوا بالیہود۔ رواہ الامام الطحاوی عن انس بن مالك ولفظ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما جزوا الشوارب وارخوااللحی وخالفوا المجوس ۔ مونچھیں کتر کر خوب پست کر اور داڑھیاں بڑھاؤ یہودیوں اور مجوسیوں کی صورت نہ بنو۔(امام ابوجعفر طحاوی نے حضرت انس بن مالك سے اس کو روایت کیا ہے۔اور مسلم شریف کے الفاظ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہیں: ____ مونچھیں کترو اور داڑھیاں چھوڑو اور مجوس کی مخالفت کرو۔ت)
فوجی جاہل ترکوں کا فعل حجت ہے۔یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد۔واﷲ تعالی اعلم
(۲)مونچھیں اتنی بڑھانا کہ منہ میں آئیں حرام وگناہ وسنت مشرکین ومجوس ویہود ونصاری ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعلی درجہ کی حدیث صحیح میں فرماتے ہیں:
احفوا الشوارب واعفوا اللحی ولاتشبھوا بالیہود۔ رواہ الامام الطحاوی عن انس بن مالك ولفظ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما جزوا الشوارب وارخوااللحی وخالفوا المجوس ۔ مونچھیں کتر کر خوب پست کر اور داڑھیاں بڑھاؤ یہودیوں اور مجوسیوں کی صورت نہ بنو۔(امام ابوجعفر طحاوی نے حضرت انس بن مالك سے اس کو روایت کیا ہے۔اور مسلم شریف کے الفاظ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے مروی ہیں: ____ مونچھیں کترو اور داڑھیاں چھوڑو اور مجوس کی مخالفت کرو۔ت)
فوجی جاہل ترکوں کا فعل حجت ہے۔یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
شرح معانی الآثار للطحاوی کتاب الکراہیۃ باب حلق الشارب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۶۷
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۹
مسئلہ ۲۳۴:از علی گڑھ کٹرہ سعید خاں مرسلہ حافظ سعید احمد صاحب لکھنوی معرفت حافظ محمد عمرصاحب مسجد عطا شہید ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
طحطاوی حاشیہ درمختار جلد رابع میں ہے:
ورد فی بعض الآثار النھی عن قص الاظافر یوم الاربعاء فانہ یورث البرص ۔ بعض آثار میں بدھ کے دن ناخن کترنے کی ممانعت آئی ہے کہ اس کام سے مرض برص(پھلبہری)پیدا ہوتاہے۔ت)
اس کی سند کیا ہے اور یہ روایت کس درجہ کی ہے۔اور یہ روایت بظاہر معارض ہے روایت دیلمی کی:
ومن قلمھا یوم الاربعاء خرج منہ الوسواس و الخوف دخل فیہ الامن والشفاء ۔ جس نے بدھ کے روز ناخن کاٹے اس سے شیطانی وسوسے اور خوف نکل جائیں گے اور اس میں امن اور شفاء داخل ہو جائیں گی(ت)
تو ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا در صورت امتناع حافظ ابن حجر کے قول انہ یستحب کیفما احتاج الیہ(بال کاٹنے مستحب ہیں جس کیفیت(اور نوعیت سے)اس کی ضرورت پڑے۔ ت)کی صحت کی کیا صورت اور در صورت استحباب حافظ کے قول:
ولم یثبت فی کیفیتہ شیئ ولا فی تعیین یوم لہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ناخن کترنے کی کیفیت(کہ کس طریقے اور ترتیب سے کترے جائیں)اور کس دن کترے جائیں اس بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کچھ ثابت اور مروی نہیں۔(ت)
کی صحت کی کیا صورت ہوگی
الجواب:
اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیف مااتفق مستحب ومسنون ہے اور دن کی تعیین یا منع میں کوئی حدیث ثابت نہیںیوم الاربعاء ممانعت کی حدیث دونوں ضعیف ہیںاگر روز چہارشنبہ وجوب کا دن آجائے مثلا انتالیس۳۹ دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا
طحطاوی حاشیہ درمختار جلد رابع میں ہے:
ورد فی بعض الآثار النھی عن قص الاظافر یوم الاربعاء فانہ یورث البرص ۔ بعض آثار میں بدھ کے دن ناخن کترنے کی ممانعت آئی ہے کہ اس کام سے مرض برص(پھلبہری)پیدا ہوتاہے۔ت)
اس کی سند کیا ہے اور یہ روایت کس درجہ کی ہے۔اور یہ روایت بظاہر معارض ہے روایت دیلمی کی:
ومن قلمھا یوم الاربعاء خرج منہ الوسواس و الخوف دخل فیہ الامن والشفاء ۔ جس نے بدھ کے روز ناخن کاٹے اس سے شیطانی وسوسے اور خوف نکل جائیں گے اور اس میں امن اور شفاء داخل ہو جائیں گی(ت)
تو ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہوگا در صورت امتناع حافظ ابن حجر کے قول انہ یستحب کیفما احتاج الیہ(بال کاٹنے مستحب ہیں جس کیفیت(اور نوعیت سے)اس کی ضرورت پڑے۔ ت)کی صحت کی کیا صورت اور در صورت استحباب حافظ کے قول:
ولم یثبت فی کیفیتہ شیئ ولا فی تعیین یوم لہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ناخن کترنے کی کیفیت(کہ کس طریقے اور ترتیب سے کترے جائیں)اور کس دن کترے جائیں اس بارے میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کچھ ثابت اور مروی نہیں۔(ت)
کی صحت کی کیا صورت ہوگی
الجواب:
اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیف مااتفق مستحب ومسنون ہے اور دن کی تعیین یا منع میں کوئی حدیث ثابت نہیںیوم الاربعاء ممانعت کی حدیث دونوں ضعیف ہیںاگر روز چہارشنبہ وجوب کا دن آجائے مثلا انتالیس۳۹ دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۲
الموضوعات لابن الجوزی دارالفکر بیروت ۳/ ۵۳
المقاصد الحسنہ حدیث ۷۷۲ ص۳۶۲
الموضوعات لابن الجوزی دارالفکر بیروت ۳/ ۵۳
المقاصد الحسنہ حدیث ۷۷۲ ص۳۶۲
تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے اور یہ ناجائز ومکروہ تحریمی ہے کما فی القنیۃ والہندیۃ وغیرھما(جیسا کہ قنیہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)تو اس پر واجب ہوگا کہ بدھ کے دن تراشے لیکن اگر حالت سعت واختیار کی ہے تو بدھ کے دن نہ تراشنا مناسب کہ جانب خطر کو ترجیح رہتی ہے۔اور حدیث اگر چہ ضعیف ہے مگر حدیث صحیح صحیح بخاری وقد قیل (اور بیشك اس بارے میں کہا گیا ہے۔ت)اس کی مؤید ہے۔امام ابن الحاج مکی علیہ الرحمہ نے بدھ کے دن ناخن تراشنے چاہے پھر خیال کیا کہ حدیث میں ممانعت آئی ہے پھر کہا یہ سنت حاضرہ ہے اور حدیث ضعیفتراش لئے فورا مبتلائے برص ہوگئے۔شب کو زیارت اقدس سے مشرف ہوئے سرکار میں فریاد کیارشاد ہوا کیا تمھیں حدیث نہ پہنچی تھی عرض کی حضور میں نے خیال کیا کہ یہ سنت حاضرہ ہے اور حدیث ضعیفارشاد ہوا کیا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے فرمایا ہے۔پھر دست اقدس ان کے بدن پر مس فرمایا کہ فورا اچھے ہوگئے اٹھے تو اچھے تھےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۵: ازقادر گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسین حسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
تمام سرکامنڈا ناجائز ہے یانہیں اگر جائزہے تو حضور سرورکائنات یا حضرت مولائے کائنات سیدنا امام علی مرتضی یا حضرت امامین مطہرین یا حضرات صحابہ کرام یا اولیائے عظام ان حضرات نے سر منڈایا ہے یانہیں اور اس کا جواز فقہ سے ثابت ہے یانہیں
الجواب:
سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت تمام سرکے بال رکھنا ہے اور امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی سنت سارا سرمنڈانا۔
وقد روی رضی تعالی عنہ ان تحت کل شعرۃ جنابۃ ثم قال من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی ۔ بلا شبہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویت کی ہے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا اس وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں۔(ت)
مسئلہ ۲۳۵: ازقادر گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسین حسینی قادری رزاقی ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
تمام سرکامنڈا ناجائز ہے یانہیں اگر جائزہے تو حضور سرورکائنات یا حضرت مولائے کائنات سیدنا امام علی مرتضی یا حضرت امامین مطہرین یا حضرات صحابہ کرام یا اولیائے عظام ان حضرات نے سر منڈایا ہے یانہیں اور اس کا جواز فقہ سے ثابت ہے یانہیں
الجواب:
سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت تمام سرکے بال رکھنا ہے اور امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کی سنت سارا سرمنڈانا۔
وقد روی رضی تعالی عنہ ان تحت کل شعرۃ جنابۃ ثم قال من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی ۔ بلا شبہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راویت کی ہے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا اس وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ۱ /۳۳ وجامع الترمذی ابواب الطہارۃ ۱/ ۱۶
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۳
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ ۱ /۳۳ وجامع الترمذی ابواب الطہارۃ ۱/ ۱۶
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۳
دونوں صورتیں جائز ہیں آدمی اپنے لئے جس میں مصلحت سمجھےاور اول اولیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: از جونپور محلہ ملاٹولہ مرسلہ شاہ نظام الحق یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
مردوں کو مثل عورتوں کے لمبے بال کندھے سے نیچے رکھنے جائز ہیں یانہیں
الجواب:
حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء و المتشبھات من النساء بالرجالرواہ الائمۃ احمد و البخاری وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اﷲ کی لعنت ان مردوں پر کہ کسی بات میں عورتوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان عورتوں پر کہ مردوں سے(ائمہ حدیث مثلا امام احمدبخاریابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما) سے روایت کیا ہے۔ت)
ایك عورت مردوں کی طرح کمان کندھے پر لگائے جاتی تھی اسے دیکھ کریہ فرمایا۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ(امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت فرمایا۔ت)ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے عرض کی گئی کہ ایك عورت مردانہ خود پہنتی ہے فرمایا:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر کہ کوئی وضع مردانی
مسئلہ ۲۳۶: از جونپور محلہ ملاٹولہ مرسلہ شاہ نظام الحق یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
مردوں کو مثل عورتوں کے لمبے بال کندھے سے نیچے رکھنے جائز ہیں یانہیں
الجواب:
حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء و المتشبھات من النساء بالرجالرواہ الائمۃ احمد و البخاری وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اﷲ کی لعنت ان مردوں پر کہ کسی بات میں عورتوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان عورتوں پر کہ مردوں سے(ائمہ حدیث مثلا امام احمدبخاریابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما) سے روایت کیا ہے۔ت)
ایك عورت مردوں کی طرح کمان کندھے پر لگائے جاتی تھی اسے دیکھ کریہ فرمایا۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ(امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت فرمایا۔ت)ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے عرض کی گئی کہ ایك عورت مردانہ خود پہنتی ہے فرمایا:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر کہ کوئی وضع مردانی
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۲۵۴،صحیح البخاری کتاب اللباس باب المتشبھین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۴،سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰،جامع الترمذی کتاب الآداب باب ماجاء فی المتشبہات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۲
مجمع الزوائد کتاب الادب باب فی المتشبہین الخ دارالکتاب بیروت ۸/ ۰۳۔۱۰۲
مجمع الزوائد کتاب الادب باب فی المتشبہین الخ دارالکتاب بیروت ۸/ ۰۳۔۱۰۲
رواہ ابوداؤد عن ابن ابی ملکیۃ عنھا رضی اﷲ تعالی عنھا۔ اختیار کرے۔(امام ابوداؤد نے ابن ابی ملیکہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت فرمائی۔ت)
کمان یا جوتا اجزائے بدن نہیں۔جب ان میں مشابہت پر لعنت فرمائی تو بال کہ اجزائے بدن ہیں ان میں مشابہت اور کس درجہ سخت تر ہوگی۔ولہذا عورت کو حرام ہے کہ اپنے بال تراشے کہ اس میں مردوں سے مشابہت ہے یوہیں مردوں کو حرام ہے کہ اپنے بال عورتوں کی طرح بڑھائیں اور وجہ دونوں جگہ وہی مشابہت ہے کہ حرام وموجب لعنت ہے۔درمختار میں ہے:
قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت و المعنی المؤثر التشبہ ۔ کسی عورت نے اپنے سر کے بال کاٹے تو وہ اس کا م کی وجہ سے گناہگار ہوگی اور اس پر اﷲ تعالی کی لعنت ہوگی اور اس میں معنی موثر"تشبہ"ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای العلۃ الموثرۃ فی اثمھا التشبہ بالرجال فانہ لایجوز کالتشبہ بالنساء حتی قال فی المجتبی یکرہ غزل الرجل علی ھیأۃ غزل النساء واﷲ تعالی اعلم۔ عورت کے گناہگار ہونے میں اثر انداز ہونے والی علت مردوں سے مشابہت ہے اس لئے کہ وہ جائز نہیں۔جیسے مردوں کی عورتوں سے مشابہت درست نہیں۔یہاں تك کہ "المجتبی"میں فرمایا کہ مردوں کا عورتوں کی ہیئت پر سوت کاتنا مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۷: از موضع سران ڈاکخانہ بشندور تحصیل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحیہ دارز کو چار انگل زنخدان سے نیچے رکھ کر کٹانی چاہئے یا قبضہ مع استخوان لحیین رکھ کر کٹائی جائے
الجواب:
مستر سل چار انگل چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کمان یا جوتا اجزائے بدن نہیں۔جب ان میں مشابہت پر لعنت فرمائی تو بال کہ اجزائے بدن ہیں ان میں مشابہت اور کس درجہ سخت تر ہوگی۔ولہذا عورت کو حرام ہے کہ اپنے بال تراشے کہ اس میں مردوں سے مشابہت ہے یوہیں مردوں کو حرام ہے کہ اپنے بال عورتوں کی طرح بڑھائیں اور وجہ دونوں جگہ وہی مشابہت ہے کہ حرام وموجب لعنت ہے۔درمختار میں ہے:
قطعت شعر راسھا اثمت ولعنت و المعنی المؤثر التشبہ ۔ کسی عورت نے اپنے سر کے بال کاٹے تو وہ اس کا م کی وجہ سے گناہگار ہوگی اور اس پر اﷲ تعالی کی لعنت ہوگی اور اس میں معنی موثر"تشبہ"ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای العلۃ الموثرۃ فی اثمھا التشبہ بالرجال فانہ لایجوز کالتشبہ بالنساء حتی قال فی المجتبی یکرہ غزل الرجل علی ھیأۃ غزل النساء واﷲ تعالی اعلم۔ عورت کے گناہگار ہونے میں اثر انداز ہونے والی علت مردوں سے مشابہت ہے اس لئے کہ وہ جائز نہیں۔جیسے مردوں کی عورتوں سے مشابہت درست نہیں۔یہاں تك کہ "المجتبی"میں فرمایا کہ مردوں کا عورتوں کی ہیئت پر سوت کاتنا مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۷: از موضع سران ڈاکخانہ بشندور تحصیل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحیہ دارز کو چار انگل زنخدان سے نیچے رکھ کر کٹانی چاہئے یا قبضہ مع استخوان لحیین رکھ کر کٹائی جائے
الجواب:
مستر سل چار انگل چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۰
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۶۱
مسئلہ ۲۳۸:داڑھی کی حد شریعت نے کہاں تك مقرر کی ہے اور اگر کوئی شخص حد مقررہ سے کم رکھے تو کیا وہ منڈانے کے برابر ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤاجر پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی کم از کم چار انگل چھوڑنا واجب ہے۔اور اس سے کم رکھنا جائز نہیں حرام ہونے میں یہ بھی منڈانے کے مثل ہے اگر چہ منڈانا خبیث تر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹: ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی ایھا العلماء الکرام اندریں مسئلہ کہ مروی وماثور است کہ موئے مرغول سرآن سرور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بغیر از حلق بستہ کیفیت متکیف بودند یعنی گاہ بگوش وگاہ بدوش وگاہ از گوش فردو آمدہ و نزدیك بدوش رسیدہ آیا رجل امت اجابت آن تاجدار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رانیز لازم است کہ ہمیں جادہ مستقیم رااخذنمودہ سالك شوند باز وبرتقدیراول آیا کہدام صنف است از اصناف سنن ہدی ست کہ تارکش مستحق لوم و عتاب است یا زائد کہ تارکیش لائق ایں امر نبود چنانچہ در ر سالہ منارمی نویسند وھی نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساءۃ کالجماعۃ و الاذان والزوائد وتارکھا لایستوجب اسائۃ کسیر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی لباسہ وقعودہ اے علماء کرام! اﷲ تعالی تم پر رحمت کے پھول برسائے تمھارا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ مروی اور منقول ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سرمبارك کے (کسی قدر)گھنگھریالے مقد س بال منڈائے بغیرتین حالتوں میں سے کسی ایك حالت سے متصف تھے(۱)یعنی کبھی کانوں تک(۲)کبھی کندھوں تک(۳)اور کبھی کانوں سے نیچے لٹکے ہوئے اور کندھوں کے قریب پہنچے ہوئے تھے(اب سوال یہ ہے کہ)کیا تاجدار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت اجابت(یعنی امت مسلمہ)کے کسی مسلمان فرد کے لئے بھی یہی لازم اور ضروری ہے کہ وہ اسی ٹھیك طریقہ کواختیار کرکے اس پر چلے۔نیز پہلی صورت میں یہ سنن ہدی میں سے کونسی قسم ہے کہ جس کا چھوڑدینے والا ملامت اور سرزنش کے لائق ہے یا سنت زائدہ ہے کہ جس کا ترك کرنے والا سزا مذکور کے لائق نہیں چنانچہ رسالہ"منار"میں لکھتے ہیں سنت کی دو۲ قسمیں
الجواب:
داڑھی کم از کم چار انگل چھوڑنا واجب ہے۔اور اس سے کم رکھنا جائز نہیں حرام ہونے میں یہ بھی منڈانے کے مثل ہے اگر چہ منڈانا خبیث تر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹: ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی ایھا العلماء الکرام اندریں مسئلہ کہ مروی وماثور است کہ موئے مرغول سرآن سرور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بغیر از حلق بستہ کیفیت متکیف بودند یعنی گاہ بگوش وگاہ بدوش وگاہ از گوش فردو آمدہ و نزدیك بدوش رسیدہ آیا رجل امت اجابت آن تاجدار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رانیز لازم است کہ ہمیں جادہ مستقیم رااخذنمودہ سالك شوند باز وبرتقدیراول آیا کہدام صنف است از اصناف سنن ہدی ست کہ تارکش مستحق لوم و عتاب است یا زائد کہ تارکیش لائق ایں امر نبود چنانچہ در ر سالہ منارمی نویسند وھی نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساءۃ کالجماعۃ و الاذان والزوائد وتارکھا لایستوجب اسائۃ کسیر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی لباسہ وقعودہ اے علماء کرام! اﷲ تعالی تم پر رحمت کے پھول برسائے تمھارا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ مروی اور منقول ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سرمبارك کے (کسی قدر)گھنگھریالے مقد س بال منڈائے بغیرتین حالتوں میں سے کسی ایك حالت سے متصف تھے(۱)یعنی کبھی کانوں تک(۲)کبھی کندھوں تک(۳)اور کبھی کانوں سے نیچے لٹکے ہوئے اور کندھوں کے قریب پہنچے ہوئے تھے(اب سوال یہ ہے کہ)کیا تاجدار دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی امت اجابت(یعنی امت مسلمہ)کے کسی مسلمان فرد کے لئے بھی یہی لازم اور ضروری ہے کہ وہ اسی ٹھیك طریقہ کواختیار کرکے اس پر چلے۔نیز پہلی صورت میں یہ سنن ہدی میں سے کونسی قسم ہے کہ جس کا چھوڑدینے والا ملامت اور سرزنش کے لائق ہے یا سنت زائدہ ہے کہ جس کا ترك کرنے والا سزا مذکور کے لائق نہیں چنانچہ رسالہ"منار"میں لکھتے ہیں سنت کی دو۲ قسمیں
وقیامہ الخ رسالہ شرح نورالانوار قمر الاقمار۔ ہیں(۱)ایك سنت ہدیجس کا تارك مستحق اساءت ہے۔ جیسے نماز باجماعت اور اس کے لئے اذان۔(۲)دوسری قسم سنت زوائد کہ جس کا تارك اساءت کا سزاوار نہیں جیسے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مبارك عاداتپہننےبیٹھنے اور قیام میں الخ ۱۲ قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار (از مولانا عبدالحکیم لکھنوی)۔(ت)
الجواب:
عادت کریمہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بر تمام سرموئے داشتن است ا ز گوش تادوش درغیر حج وحجامت ہیچ گاہ حلق ثابت نیست امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم دائما حلق فرمودہ واز ان روکہ زیر ہر موجنابت ست مباد کہ آب بجائے نرسد و مے فرمود ومن ثم عادیت راسی ومن ثم عادیت راسی ومن ثم عادیت راسی وسنت خلفائے راشدین نیز سنت ست ہر چہ مناسب حال خود مبیند برآں عمل کنند موئے را اکرام باید فی الحدیث من کان لہ شعر فلیکرمہ اگر اکرام تواند و بحد اسراف نر ساند موئے داشتن بہتر ست ورنہ درحلق فارغ البال وبرہر چہ ازیں عمل کند مستحق لوم وعتابے نیست۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عادت عالیہ اپنے پورے سر مبارك پر بال رکھنے کی تھی اور یہ کیفیت کان سے کندھوں تك ہوتیلہذا بغیر حج کبھی سر منڈوانا ثابت نہیں البتہ مومنوں کے امیر حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم ہمیشہ بال منڈواتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تك پانی نہ پہنچےاور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بال رکھنے کا مخالف ہوںاور خلفائے راشدین کی سنت بھی درجہ سنت رکھتی ہے لہذا جو بھی اپنے حال کے مناسب سمجھے وہی روش اختیار کرےبہر حال بالوں کا احترام کرنا چاہئےچنانچہ حدیث پاك میں مذکور ہے جس آدمی کے بال ہوں اسے ان کا احترام واکرام کرنا چاہئے لہذا اگر عزت توقیر کرسکے اور اسے اسراف کی
الجواب:
عادت کریمہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بر تمام سرموئے داشتن است ا ز گوش تادوش درغیر حج وحجامت ہیچ گاہ حلق ثابت نیست امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم دائما حلق فرمودہ واز ان روکہ زیر ہر موجنابت ست مباد کہ آب بجائے نرسد و مے فرمود ومن ثم عادیت راسی ومن ثم عادیت راسی ومن ثم عادیت راسی وسنت خلفائے راشدین نیز سنت ست ہر چہ مناسب حال خود مبیند برآں عمل کنند موئے را اکرام باید فی الحدیث من کان لہ شعر فلیکرمہ اگر اکرام تواند و بحد اسراف نر ساند موئے داشتن بہتر ست ورنہ درحلق فارغ البال وبرہر چہ ازیں عمل کند مستحق لوم وعتابے نیست۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عادت عالیہ اپنے پورے سر مبارك پر بال رکھنے کی تھی اور یہ کیفیت کان سے کندھوں تك ہوتیلہذا بغیر حج کبھی سر منڈوانا ثابت نہیں البتہ مومنوں کے امیر حضرت مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم ہمیشہ بال منڈواتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تك پانی نہ پہنچےاور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بال رکھنے کا مخالف ہوںاور خلفائے راشدین کی سنت بھی درجہ سنت رکھتی ہے لہذا جو بھی اپنے حال کے مناسب سمجھے وہی روش اختیار کرےبہر حال بالوں کا احترام کرنا چاہئےچنانچہ حدیث پاك میں مذکور ہے جس آدمی کے بال ہوں اسے ان کا احترام واکرام کرنا چاہئے لہذا اگر عزت توقیر کرسکے اور اسے اسراف کی
حوالہ / References
نورا لانوار شرح المنار بحث سنن الہدی والزوائد مطبع علیمی دہلی ص۱۶۷
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۳
سنن ابی داؤد کتاب الرجل باب فی اصلاح الشعر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸،مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس الفصل الثانی المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۳۰
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۳
سنن ابی داؤد کتاب الرجل باب فی اصلاح الشعر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۸،مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس الفصل الثانی المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۳۰
حد تك نہ پہنچائے تو پھر بال رکھنے بہتر ہیں ورنہ منڈوا کر فارغ البال ہوجائے لہذا ان میں سے جو طریقہ اپنائے(اور اس پر عمل کرے)تو ملامت اورعتاب کا سزاوار نہ ہوگاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خاں صاحب رضوی ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ داڑھی منڈایا کترنے والا یا داڑھی چڑھانے والا میلاد شریف پڑھ سکتے ہے یانہیں اور داڑھی چڑھا کر نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ان لوگوں سے میلاد شریف نہ پڑھوایا جائےتبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ لوگوں پر شرعی طور پر اس کی توہین ضروری ہے۔(ت)
نماز پڑھنا بہرحال فرض ہے اس میں داڑھی چڑھی رکھنا مکروہ ہے۔کس قدر بیباکی ہے کہ عین حاضری دربار میں صورت مخالف حکم ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱: از فیروز آباد ضلع آگرہ جامع مسجد مسئولہ جناب محمد ناظم علی صاحب ۲۱ رجب المرجب ۱۳۳۹
علمائے دین وفضلائے واثقین ومفتیان شرع دین متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ داڑھی کتنی نیچی رکھنا چاہئے اور ریش مبارك حضور سرور عالم صلعم(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)اور حضرت علی کرم اﷲ وجہہ ورضی اﷲ تعالی عنہ نیز باقی اصحابہ کبائر رضوان اﷲ تعالی عنہم کی کس قدر نیچی تھی جواب سے معہ حوالہ کتب بہت جلد معزز فرمائیےبینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ایك مشت نیچی رکھنا واجب ہے اور اس کا تارك فاسق۔فتح القدیرودرمختار میں ہے:
اماالاخذ منھا وھی دون ذلک(ای القبضۃ)کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ ۔ داڑھی جب مشت بھر سے کم ہو تو اسے تراشنا اور کترنا جیسا کہ بعض اہل مغرب اور ہیجڑہ صفت مرد کرتے ہیں کسی نے اس کو مباح نہیں کہا۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خاں صاحب رضوی ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ داڑھی منڈایا کترنے والا یا داڑھی چڑھانے والا میلاد شریف پڑھ سکتے ہے یانہیں اور داڑھی چڑھا کر نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ان لوگوں سے میلاد شریف نہ پڑھوایا جائےتبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ لوگوں پر شرعی طور پر اس کی توہین ضروری ہے۔(ت)
نماز پڑھنا بہرحال فرض ہے اس میں داڑھی چڑھی رکھنا مکروہ ہے۔کس قدر بیباکی ہے کہ عین حاضری دربار میں صورت مخالف حکم ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱: از فیروز آباد ضلع آگرہ جامع مسجد مسئولہ جناب محمد ناظم علی صاحب ۲۱ رجب المرجب ۱۳۳۹
علمائے دین وفضلائے واثقین ومفتیان شرع دین متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ داڑھی کتنی نیچی رکھنا چاہئے اور ریش مبارك حضور سرور عالم صلعم(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)اور حضرت علی کرم اﷲ وجہہ ورضی اﷲ تعالی عنہ نیز باقی اصحابہ کبائر رضوان اﷲ تعالی عنہم کی کس قدر نیچی تھی جواب سے معہ حوالہ کتب بہت جلد معزز فرمائیےبینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ایك مشت نیچی رکھنا واجب ہے اور اس کا تارك فاسق۔فتح القدیرودرمختار میں ہے:
اماالاخذ منھا وھی دون ذلک(ای القبضۃ)کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ ۔ داڑھی جب مشت بھر سے کم ہو تو اسے تراشنا اور کترنا جیسا کہ بعض اہل مغرب اور ہیجڑہ صفت مرد کرتے ہیں کسی نے اس کو مباح نہیں کہا۔(ت)
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الدعا منہ والحدث فی الصلوٰۃ مکتبہ الکبرٰی مصر ۱/ ۱۳۴
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وامیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کی ریش مبارك اوائل سینہ تك تھی۔امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی ریش مبارك زیادہ تھی۔ریش تراشی کی مذمت میں ہمارا رسالہ لمعۃ الضحی فی اعفاء اللحی شائع ہوچکا ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے نام پاك کے ساتھ صلعم یا ص یا ء م یا صللم وغیرہا رموز لکھنا ممنوع اور سخت بیدولتی ہے امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں پہلا شخص جس نے ایسا اختصار کیا اس کا ہاتھ کاٹا گیادرود پورا لکھنا لازم ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
نوٹ
جلد ۲۲ داڑھی وحلق وقصر وختنہ و حجامت کے بیان پر ختم ہوگئی۔
جلد ۲۳ ان شاء اﷲ نماز وطہارت کے عنوان سے شروع ہوگی۔
_____________________________________________حدیث میں آیا ہے اور ایك مرفوع حدیث میں ہے کہ
__________________
نوٹ
جلد ۲۲ داڑھی وحلق وقصر وختنہ و حجامت کے بیان پر ختم ہوگئی۔
جلد ۲۳ ان شاء اﷲ نماز وطہارت کے عنوان سے شروع ہوگی۔
_____________________________________________حدیث میں آیا ہے اور ایك مرفوع حدیث میں ہے کہ







